• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz Tarweeh / نماز تراویح > جسے عشاء کی جماعت نہ ملے کیا وہ وتر اکیلے پڑھے؟

جسے عشاء کی جماعت نہ ملے کیا وہ وتر اکیلے پڑھے؟

Published by Admin2 on 2012/10/20 (1295 reads)

مسئلہ ۱۱۰۹ :ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ    ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

بقلم خجستہ رقم عبارت فتاوٰی صاحب چنیں ترقیم آمدہ است کہ ہرآنکس کہ نماز فرض بجماعت گزاردہ است خود امام بودیابامام دیگرغیرایں امام اقتدا نمودہ اورامیرسدکہ دروتر ہم منفرد باید بودبدیں طورعلامہ شامی در ردالمحتار فرمودہ است فقط صاحبہا درفوائد الاعمال تصنیف قاضی محمد تقی صاحب فیروزپوری کہ فیروزپورہ از توابع ملک میوات ست وایں کتاب درعلم فقہ معتبرست ارقام فرمودہ کہ بعد نمازفرض درجہ واجب ست پس سبب سنت جماعت واجب راترک نماید وسنت را اداسازدکے روا بود بل لازم و واجب ست بعد ادائے نمازوترتراویح باقیماندہ اداکند اگرچہ بجماعت فرض بشمول نشدہ باشد ہمیں ست حکم کتب الفقہ ودرشامی جلد اول صفحہ ۴۷۶ ودر طحطاوی جلد اول صفحہ۲۹۷  ودردرالمحتار وتزکیۃ القیام مصنفہ مولٰینا صاحب عبدالحق محدث دہلوی نوشتہ است کہ اگرچہ جماعت فرض بدست نیامدہ باشد تاہم وتر راضروربجماعت ادانمودن درست ست یاقطعی حکم ممانعت ست مطلع فرمایند ایں گستاخی کہ ازیں احقرالبریہ رفتہ است معاف فرمایند وبخوف طول اصل عبارت موقوف داشتہ۔

آپ کے مبارک قلم سے فتوٰی یوں جاری ہوا ہے کہ جوشخص عشاء کی نماز یعنی فرض جماعت سے پڑھ چکاہے خواہ خودامام بنا، یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھ چکا ہو اس کو اس امام کے ساتھ باجماعت وترپڑھنے کااختیار ہے، ہاں جوشخص اکیلے فرض اداکرے اس کووتر بھی اکیلے پڑھنے چاہئیں علامہ شامی نے ردمحتارمیں یونہی بیان کیاہے فقط حالانکہ فوائد الاعمال جوکہ قاضی محمد تقی فیروزپوری کی تصنیف ہے اور فیروزپورمیوات کے علاقہ سے تعلق رکھتاہے اور یہ کتاب علم فقہ میں معتبرہے، اس میں انہوں نے لکھاہے کہ فرض کے بعد واجب کا درجہ ہے لہٰذا سنت جماعت کی وجہ سے واجب کو یعنی وتر کو ترک کرنا اور سنت یعنی تراویح کواداکرنا کب جائز ہوسکتاہے اس لئے لازم ہے کہ وتر باجماعت اداکرکے باقی تراویح کوبعد مین پڑھے اگرچہ اس نے فرض اکیلے ہی پڑھے ہوں، یہی حکم کتب فقہ میں ہے اور شامی جلداول صفحہ ۴۷۶، اور طحطاوی جلد اول صفحہ ۲۹۷، اور ردالمحتار اور تزکیۃ القیام مصنفہ مولانا عبدالحق محدث دہلوی میں لکھا ہے کہ اگرچہ فرض جماعت سے ادانہ کئے ہوں تب بھی ضروری ہے کہ وتر جماعت سے اداکرلے، اب سوال یہ ہے کہ فرض باجماعت ادانہ کئے ہوں تب بھی وترجماعت سے اداکرنا جائز ہیں یاجائز نہ ہونے کاقطعی حکم ہے، مطلع فرمائیں، اس فقیرسے اگرگستاخی ہوئی ہو تومعاف فرمائیں اور طوالت کے ڈرسے اصل عبارت موقوف کردی ہے۔(ت)

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب، مہربانا حکم مسئلہ ہمان ست کہ فقیر نوشت وانچہ ازچارکتاب آوردہ اند کہ جماعت وتر مطلق ضروری ولابدی ست درسہ پیشین اعنی حاشیہ شامی وطحطاوی ودرمختار زنہارازیں معنی نشانے نیست وتذکیۃ القیام رافقیر گاہے ندیدہ بلکہ نامش نشنیدہ ام اگرازتصانیف شیخ محقق قدس سرہ العزیز ست یقین دارم کہ ایں حکم درو ہرگز نباشد وچساں گمان بردہ آید کہ عالمے معتمد ہمچو شیخ مستند ایں چنیں کلامے بے سند برخلاف اجماع رقم زند ضروری و لابدی بمودنش درکنار علمارا اختلاف ست کہ افضل دروتر جماعت ست یابخانہ خویش تنہا گزاردن ائمہ افتا ہردوقول را تصحیح فرمودہ اند طرفہ آنکہ درمختار ہمیں قول اخیریعنی افضلیت انفرادر مذہب قرارداد و شیخ محقق درماثبت بالسنہ ہموں را مختار گفت و آنانکہ افضلیت جماعت رامرجح داشتند سپید نگاشتند کہ جماعت دروتر سنتے بیش نیست بلکہ سنیت اوازسنیت جماعت تراویح نازل تر ست ودربحرالرائق وغیرہ ہمیں بہ لفظ استحباب تعبیر رفت، اینک عبارت درمختار ھل الافضل فی الوترالجماعۃ ام المنزل تصحیحان لکن نقل شارح الوھبانیۃ مایقتضی ان المذھب الثانی و اقرہ المصنف وغیرہ۱؎۔

اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائیل فرما، میرے مہربان اس مسئلہ کاحکم وہی جو اس فقیرنے لکھاہے، اور انہوں نے جن چارکتابوں کے حوالہ سھ لکھاہے کہ وتر کوجماعت سے پڑھنا مطلقاً ضروری ہے ان میں سے تین یعنی شامی، طحطاوی اور درمختارمیں قطعاً اس مفہوم کاکوئی نشان تک نہیں ہے اورتزکیۃ القیام نام کی کتاب اس فقیرنے نہ دیکھی نہ سنی، اگرواقعی یہ کتاب شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی ہے توپھرمجھے یقین ہے کہ اس کتاب میں یہ حکم ہرگز نہ ہوگا حضرت شیخجیسے قابل اعتماد عالم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ایسی بے سند بات اور خلاف اجماع تحریرکردی ہے چہ جائیکہ انہوں نے ضروری اور لابدی قراردیا ہو۔ علماء میں تویہ اختلاف ہے کہ رمضان میں وتر باجماعت پڑھناافضل ہے یاتنہا گھرمیں، جبکہ ائمہ کرام نے دونوں باتوں کو صحیح قرار ہے اور شیخ محقق نے بھی اپنی کتاب ماثبت بالسنۃ میں اسی دوسرے قول کوترجیح دی ہے اور وہ لوگ جووتر کوجماعت سے پڑھنے کوافضل کہتے ہیں ان کے نزدیک بھی وتر باجماعت، سنت سے زیادہ نہیں بلکہ یہ سنت ان کے ہاں تراویح کے سنت سے کم درجہ ہے، اور بحرالرائق میں تو اس کواستحباب سے تعبیر کیاہے، درمختارکی عبارت یہ ہے کیا وتر کی جماعت افضل ہے یاگھرمیں پڑھنا، دونوں کی تصحیح موجود ہے، لیکن وہبانیہ کے شارح نے جونقل کیااس کامقتضی یہ ہے کہ دوسراقول مذہب ومسلک ہے اسی کو مصنف وغیرہ نے ثابت کیاہے،

 (۱؎ درمختار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)

شیخ فرماید اختلفوا فی الافضل فقال بعضھم الافضل الاجماعۃ وقال الاٰخرون الافضل ان یوترفی منزلہ منفردا وھو المختار۱؎۔(علامہ شامی قدس سرہ السامی فرمود رجع الکمال الجماعۃ فی شرح المنیۃ والصحیح ان الجماعۃ فیھا افضل الا ان سنیتھا لیست کسنیۃ جماعۃ التراویح۱ھ ملخصاً۲؎۔

اور شیخ عبدالحق نے یوں فرمایا ہے علماء نے وتر کے بارے میں اختلاف کیا کہ افضل جماعت ہے یاافضل یہ ہے کہ گھرمیں اکیلے پڑھے، اور یہ دوسرا قول ترجیح یافتہ ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا ہے کہکمال نے جماعت والے قول کوترجیح دی ہے اور منیہ کی شرح میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جماعت افضل ہے، لیکن وتر کی جماعت سنت، تراویح کی جماعت کی سنت کی طرح نہیں ہے۱ھ ملخصاً ۔

 (۱؎ ماثبت بالسنۃ        الفصل السابع    ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور    ص۳۰۲)

(۲؎ ردالمحتار            باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۵)

علامہ طحطاوی زیرقولش فی رمضان یصلی الوتر بھاای بالجماعۃ ''تحریرنمود'' ای استحبابا کما فی البحروظاھر ماسیأتی لہ انھا فیہ سنۃ کالتراویح۳؎پس روشن شد کہ نسبت کلام مذکور بایں علما غلط بودہ است واگرازحکم ضروری ولابدی بودن جماعت قطع نظر نمودہ آید تاہم نسبت بعلامہ شامی نسبت بمخالف ست زیراکہ اورحمہ اﷲ تعالٰی تصریح فرمودہ است کہ ہرکہ درفرض منفرد بوددر وترہم اقتدا نکند از علامہ شمس قہستای آورد واذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر۴؎ ۔

اور علامہ طحطاوی نے ماتن کے اس قول کہ 'رمضان میں وتر جماعت سے پڑھے' کے بعد لکھاہے کہ یہ استحباب ہے جیسا کہ بحر میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جو ان سے آگے آئے گا کہ رمضان میں وتر کی جماعت سنت ہے جیسے تراویح سنت ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مذکورہ بات ان علماء کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے اور لابدی اور ضروری حکم سے قطع نظر بھی علامہ شامی کی طرف اس بات کومنسوب کرنا ایک مخالف چیز کو منسوب کرناہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ اگرفرض جماعت سے نہ

پـڑھے ہوں تووتربھی جماعت سے نہ پڑھے، اور علامہ قہستانی کے حوالے

 

سے انہوں نے کہا ہے کہ جب فرض امام کی اقتدا میں نہ پڑھے ہوں تووتر میں اس کی اقتدا نہ کرے،۔

 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۹۷)

(۴؎ ردالمحتار            آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

باز خود گفت ینبغی ان یکون قول القھستانی معہ احتراز عن صلٰوتھا منفرد امالو صلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل۱؎۱ھ ۔اور علامہ نے خود فرمایا کہ علامہ قہستانی کا یہ کہنا کہ اس امام کے پیچھے فرض نہ پڑھے ہوں'' کامطلب یہ ہے اکیلے پڑھے ہوں، لیکن اگر اس نے فرض کسی دوسرے امام کی اقتدا میں پڑھے ہوں توپھر وترمیں امام کے ساتھ جماعت میں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے، غور کر۱ھ۔

 (۱؎ ردالمحتار        آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

ودردرمختاراین مسئلہ را اصلاً ذکرے نیست۔ مصنف وشارح اعظم اﷲ تعالٰی اجورھما وافاض علینا نورھما ہمیں نوشتہ اند کہ ہرکہ درتراویح منفرد بود درجماعت وترداخل می تواند شد حیث قالا لولم یصلھا ای التراویح بالامام اوصلاھا مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ۲؎ ایں مسئلہ رابامسئلہ ماچہ علاقہ کہ اینجا کلام درمنفرد فی الفرض ست نہ منفرد فی التراویح وضرورنیست کہ ھرکہ تراویح تنہاگزاردہ است درفرض نیز منفرد بودہ باشد بازشارح رحمہ اﷲ تعالٰی سوالے آوردہ است کہ اگرہمہ ہا جماعت تراویح راترک کردہ باشد آیا ایشاں رامی رسد کہ وتربجماعت گزارند اینجا، ہیچ حکمے ننمود وامربمراجعت کتب فرمود حیث قال بقی لو ترکھا الکل ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع۳؎ ۔

اور درمختارمیں ہے اس مسئلہ کابالکل ذکرنہیں ہے مصنف اور شارح (اﷲ تعالٰی ان کے اجر کو عظیم فرمائے اور ان کے نور کاہم پرفیضان فرمائے) دونوں نے لکھاہے کہ کسی نے صرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتاہے۔ انہوں نے یوں فرمایا اگراس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یاکسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو اس کو اس امام کے ساتھ وتر پڑھناجائزہیں لیکن اس مسئلہ کا ہمار ے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمارامسئلہ تواکیلے فرض پڑھنے والے کے بارے میں ہے نہ کہ اکیلے تراویح پڑھنے کے بارے میں ہے کیونکہ تراویح اکیلے پڑھنے کویہ لازم نہیں کہ فرض بھی اکیلے پڑھے ہوں۔ اس کے بعد شارح نے خود سوال اٹھایا کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح باجماعت نہ پڑھی ہوں و ان کویہ جائز ہوگا کہ وہ وتر باجماعت اداکریں۔ شارح نے یہ سوال بیان کرکے کوئی جواب نہ دیا بلکہ یہ کہا اس بارے میں کتب کودیکھاجائے، انہوں نے اس کویوں بیان فرمایا ''یہ بات باقی ہے کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح کی جماعت کوترک کیاہوتو وترجماعت سے پڑھ سکتے ہیں تو اس مسئلہ میں کتب کودیکھاجائے،

 (۲؎درمختار    آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)

(۳؎ درمختار    آخرباب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)

آرے علامہ حلبی محشی درجواب ایں سوال ازرائے وفہم خود چناں بحث کردکہ گوجماعت تراویح یکسر متروک باش تاہم مقتضائے تعلیل آن ست کہ جماعت وتررواباشد زیراکہ اونماز مستقل بنفسہ است وھذا نصہ علی مانقل العلامۃ الطحطاوی قولہ فلیراجع قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ بقولھم لانھا تبع، ان یصلی الوتر بجماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالٰی۱؎ایں جانیزچنانکہ دیدی کلام در منفرد فی الفرض نیست ۔

ہاں علامہ حلبی محشی نے ازخود اس سوال کے جواب میں اپنی رائے اور فہم سے یہ بحث کی ہے کہ اگرچہ تراویح کی جماعت متروک ہوگئی مگراب وتر کی جماعت کوترک نہ کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر ایک مستقل علیحدہ نماز ہے اور ان کابیان یہ ہے جیسا کہ علامہ طحطاوی نے ان کابیان نقل کیاہے ''کتب کی طرف رجوع کرو'' یہ اس علت کاقرینہ ہے جوانہوں نے سابقہ مسئلہ میں بیان کی ہے کہ تراویح تابع ہیں اس لئے اس کو جائز ہے کہ وہ وترباجماعت پڑھے، کیونکہ وترنہ توتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے۔ امام صاحب کے قول میں رحمہ اﷲ تعالٰی، آپ نے ملاحظہ کیاکہ یہاں بھی فرض اکیلے پڑھنے والے کے بارے میں بات نہیں ہے۔

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الوتروالنوافل    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۹۷)

نعم ربما یوھم قولہ ولاللعشاء، جوازبجماعۃ الوتر وان ترکوا جماعۃ الفرض اصلا لکنہ کما علمت خلاف المنقول وماکان لبحث ان یقبل علی خلاف المنصوص لاسیما وھو غیرمستقیم فی نفسہ اذ لیس قضیۃ التعلیل مامر کما افاد العلامۃ الشامی واحاد حیث قال قولہ بقی الخ الذی یظھر ان جماعۃ الوتر تبع لجماعۃ التراویح وان کان الوتر نفسہ اصلا فی ذاتہ لان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت بالاثر تابعۃ للتراویح علی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح کمایأتی ۱؎۱ھ

ہاں اس کاقول ''عشاء کے بھی تابع نہیں'' وہم پیداکرتاہے کہ وتر کی جماعت جائز ہے اگرچہ سب حضرات نے فرض کی جماعت کوترک کردیاہو، لیکن آپ کومعلوم ہے کہ یہ بات نقل کے خلاف ہے اور منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ وہ بحث خود بھی درست نہ ہو، کیونکہ علت والا معاملہ وہ نہیں جو بیان ہوا، جیسا کہ علامہ شامی نے خوب بیان فرمایا جہاں انہوں نے یہ کہا ''یہ بات باقی ہے الخ'' ان کایہ سوال اس بات کوظاہرکررہاہے کہ وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہے اگرچہ وترفی نفسہٖ مستقل نمازہے، کیونکہ وتر کی جماعت کاسنت ہونا، یہ نقل سے ثابت ہے کہ یہ تراویح کے تابع ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ علماء نے تراویح کے بعد وترباجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف کیاہے، جیسا کہ آئندہ آرہاہے۱ھ۔

 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

ومن فقیر درفتوی عربیہ کہ بجواب سوال مولوی محمد عبداﷲ صاحب پنجابی ھزاری بتاریخ نوزدہم شہرربیع الآخر ۱۳۰۶ہجریہ نوشتہ ام ایں مقام راباقضائے مراتب تنقیح وتوضیح رساندہ ام وباﷲ التوفیق سخن گفتن ماندازکتاب فوائد الاعمال مہربانا معتبر بودن کتابے نزد بعض معتقدین چیزے ومعتبر بودنش فی نفسہٖ چیزے دیگرست، باز اعتبار کتابے مستلزم آں نیست کہ ہرچہ درومذکور ست مختار ومنصور ست، زنہاردرکتب اجلہ ائمہ ہیچ یک کتابے نیابی کہ دربعض مواضع مجال نقدوتنقیح نداشتہ باشد تابتالیف مااحداث ہند، چہ رسد، مؤلف اگرایں مسئلہ را ازپیش خود گفتہ است بجوئے نیززدورنہ برولازم بود کہ نص کتاب آوردے یالااقل نام کتاب بردے، تنہا گفتش کہ ہمیں ست حکم کتب الفقہ، چگونہ قبول افتد حالانکہ درکتب فقہ ہمچومنیۃ الفقہاء وغنیہ وشرح نقایہ وردالمحتار تنصیص بخلافش می یابیم بازاگربرخاطر احباب گراں نیابد سخن ازنقد کلامش رانم وبرہمگناں واضح ولائح گردانم کہ ایں کلام چہ قدر، ازپایہئ فقاہت دورومہجور افتادہ است اوّلاً باید دانست کہ علماء رادروقت تراویح دوقول مذیل بطراز تصحیح ست یکے آنکہ وقتش مابین عشاء ووترست تاآنکہ بعد وتر روانبود چنانکہ بیش از فرض روا نیست صححہ فی الخلاصۃ ورجحہ فی غایۃ البیان بانہ الما ثور المتوارث ۱؎۱ھ ش عن البحر، دوم آنکہ بعد عشاء تاطلوع فجروہمیں ست ارجح التصحیحین عزاہ فی الکافی الی الجمہور وصححہ فی الھدایۃ و الخانیۃ والمحیط۲؎۱ھ ش عن الذین برمذہب اول ھرکرا چیزے ازتراویح باقی ماند وامام بوتربرخاست حکم ہمیں ست کہ بہ بقیہ تراویح اشتغال نماید وبجماعت وتردرنیاید زیرا کہ نزدایشاں پس ازوتر وقت تراویح فوت می شود۔

اور مجھ فقیر نے عربی فتوٰی جوکہ مولوی عبداﷲصاحب پنجابی ہزاری کے سوال کے جواب میں بتاریخ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۰۶ھ لکھاہے اس میں اس مقام پر خوب اعلٰی تنقیح وتوضیح سے کام لیاہے وباﷲ التوفیق، فوائد الاعمال کے متعلق بات کرناباقی ہے،میرے مہربان، کسی کتاب کامعتقدین کے ہاں معتبر ہونا  ایک بات ہے اور اس کتاب کی اپنی حیثیت میں معتبر ہونا اور بات ہے نیز کسی کتاب کے معتبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ اس میں جوکچھ موجود ہے وہ تمام معتبر ومختارہوہرگزایسانہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے ائمہ کرام کی کتابوں میں سے کوئی بھی کتاب ایسی نہیں کہ اس کے بعض مقامات قابل تنقید وتنقیح نہ ہوں،تو ہم نئے لوگوں کی کتابوں کے بارے میں یہ کیسےکہاجا سکتا ہے کہ ان میں سب کچھ درست ہے۔ فوائد الاعمال کے مصنف نے اگریہ مسئلہ خود اپنی طرف سے کہہ دیا تو اس کی کوئی حیثیت نہیںہے ورنہ ان پرلازم تھا کہ وہ کسی ایک کتاب کاہی حوالہ ذکرکردیتے اور صرف یہ کہہ دینا کہ کتب فقہ کایہ حکم ہے، کیسے قابل قبول ہوسکتاہے حالانکہ کتب فقہ مثلاً منیۃ الفقہاء ، غنیہ، شرح النقایہ اور ردمحتار میں ہم اس کا خلاف پاتے ہیں پھر اگردوستوں پرگراں نہ گزرے توہم اس کا تنقیدی جائزہ پیش کریں، اور ان پرواضح کردیں کہ ان کے بیان کی کیاحیثیت ہے اور یہ کہ فقہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اوّلاً معلوم ہوناچاہئے کہ تراویح کے وقت کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے اور اس میں دو قول ہیں جو کہ تصحیح کے معیار پر آتے ہیں: ایک یہ کہ تراویح کا وقت، نمازیعنی فرض عشاء اور وتر کے درمیان ہے اس بناپر فرض سے قبل تراویح جائزنہیں جس طرح کہ وترکے بعد جائز نہیں، اس قول کو خلاصہ میں صحیح قراردیاہے اور غایۃ البیان نے اس کو زمانہ بزمانہ منقول کہہ کر ترجیح دی ہے۱ھ۔ یہ شارح نے بحر سے نقل کیاہے، دوسراقول یہ ہے کہ اس کاوقت بعدازعشاء تاطلوع فجر ہے، یہی قول صحت میں راجح ہے اور کافی میں اس کو جمہور کی طرف منسوب کیاہے اور ہدایہ، خانیہ اور محیط میں اس کوصحیح قراردیاہے۱ھ۔ یہ شارح نے زین سے نقل کیاہے اب پہلے قول کے مطابق اگرکسی کی کچھ تراویح رہتی ہوں اور امام وتر شروع کرچکاہے اس کو یہ حکم ہے کہ وہ امام کے ساتھ وترنہ پڑھے بلکہ بقیہ تراویح کوپہلے پڑھے کیونکہ اس قول والوں کے ہاں وتر کے بعد تراویح کاوقت ختم ہوجاتاہے۔

 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۲۱)

(۲؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۲۱)

امام طاھربن احمد بخاری درخلاصہ فرمود یشتغل بالترویحۃ الفائتہ لانہ لایمکنہ الاتیان بھا بعد الوتر۱؎ وبرمذہب دوم بہردوامر مخیراست اما اختلاف درافضل افتاد ہرکہ دروتر انفرادرا بہتردانستہ نزد اواشتغال بترویحہ فائتہ رابس انداختن خوشتر وماناکہ ہمیں احب باشد وفقیر گویم چوں صحیح دوم جانب عدم صحت تراویح بعد وتراست ینبغی انسب مراعات آں باشد واﷲ تعالٰی اعلم۔

امام طاہربن احمدبخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں کہ وہ بقیہ تراویح اداکرے کیونکہ وتر کے بعد اس کوتراویح پڑھناممکن نہیں۔ اور دوسرے قول کے مطابق اس کو دونوں طرح اختیار ہے کہ بقیہ تراویح وترسے پہلے پڑھے یابعد۔ لیکن افضل ہونے میں ضرور اختلاف ہے کہ جولوگ وترتنہا پڑھنا افضل کہتے ہیں کہ تراویح پہلے پڑھے اور جو جماعت کوبہترجانتے ہیں ان کے نزدیک پہلے وترجماعت کے ساتھ پڑھ کراس کے بعد باقی ماندہ تراویح پڑھے، یہ تسلیم ہے کہ پسندیدہ امریہی ہے لیکن ایک قول میں وتر کے بعد تراویح جائزنہیں ہے، اس لئے یہ فقیر کہتاہے کہ اس قول کی رعایت زیادہ مناسب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الثالث فی التراویح        مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۶۳)

قال فی الدرالمختار وقتھا بعد صلاۃ العشاء الی الفجر قبل الوتر وبعدہ فی الاصح فلوفاتہ بعضھا وقام الامام الی الوتر اوتر معہ ثم صلی مافاتہ۲ ؎۱ھ قال فی ردالمحتار قولہ فلوفاتہ بعضھا الخ تفریع علی الاصح لکنہ مبنی علی ان الافضل فی الوتر الجماعۃ لاالمنزل وفیہ خلاف سیأتی فقولہ اوتر معہ ای علی وجہ الافضلیۃ۱؎ الخ ۔درمختارمیں کہا کہ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد تاطلوع فجر ہے وترسے قبل یا بعد یہ اصح قول ہے۔ پس اگرکچھ تراویح رہ جائیں اور امام وتر کے لئے کھڑاہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ وترپڑھے اور فوت شدہ تراویح اس کے بعد پڑھے۱ھ۔ اس پر ردمحتارمیں کہا (قولہ فلوفاتہ بعضہا الخ) یعنی ماتن کاقول کہ اگرکچھ تراویح رہ جائیں، یہ اصح قول پرتفریع ہے لیکن یہ تفریع اس بات پرمبنی ہے کہ وترگھر کی بجائے باجماعت پڑھنا افضل ہے اور اس میں اختلاف ہے جو آگے آرہاہے اور اس کا قول کہ امام کے ساتھ وترپڑھے یعنی مستحب یہ ہے۔

 (۲؎ درمختار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۸)

(۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۱)

بالجملہ بریک مذہب راہ ہمیں ست کہ بجماعت وترشرک نکند وبرمذہب دیگرنزد بعضے افضل ہمیں ست ونزد کہ صاحب فوائد نوشت مذہب ہیچ عالمے نیست نہ زنہارا از شرع بروے دلیلے۔ ثانیاً قول اوپس بسبب سنت، جماعت واجب راترک نماید وسنت راادا اسازد کے روابود طرفہ استدلالے ست اگر لفظ واجب صفت جماعت سنت بداہتہ غلط وباطل بالاگفتہ ایم کہ جماعت وترنزد ہیچ کسے واجب نیست واگرمضاف الیہ است پس دلیل واجح الاختلال، سخن درترک جماعت ست نہ درترک وتر پس قول او ''کے روابود'' کے روابود، الحاصل حکم ہمان ست کہ فقیر درفتوائے پیشیں نوشتہ ام وازردوقدح ہمچو کلمات سکوت اولی بود اگر ایضاح صواب وکشف ارتیاب مقصود نبودے، بازدرضمن بیان، مسائل نافعہ کہ بروئے کارآمد نفع خوبی ست کہ حامل بریں تحریر می تواند شد مہربانا سخن برانچہ نقل فرمودہ اند رواں کردم ورنہ فقیرکتاب فوائد الاعمال ہم ندیدہ ام، ندانم کہ اصل عبارتش چیست ومولفش کیست واﷲ تعالٰی اعلم۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ایک قول میں یہ متعین ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ وترنہ پڑھے اور دوسرے مذہب پرافضل یہ ہے کہ وترباجماعت نہ پڑھے، ایک قول کے مطابق اور دوسرے قول کے مطابق اگرچہ اقتداء اور جماعت افضل ہے تاھم جماعت کالازم ہونا اور واجب ہونا وترکے لئے کسی عالم کامذہب اور قول نہیں جیسا کہ فوائد الاعمال والے نے لکھاہے اور نہ ہی شرع میں اس پرکوئی دلیل ہے۔ ثانیاً اس کایہ کہنا کہ سنت کی وجہ سے جماعت واجب کاترک کرنا کیسے جائز ہوسکتاہے، یہ عجیب استدلال ہے، اس میں لفظ واجب اگر جماعت کی صفت ہے تویہ غلط اورباطل ہے کیونکہ وتر کی جماعت کسی کے ہاں بھی واجب نہیں ہے اور لفظ واجب جماعت کا مضاف الیہ ہے یعنی واجب کی جماعت، توپھریہ دلیل واضح طورپرخلل والی ہے کیونکہ بات تو ہورہی ہے جماعت کےترک میں نہ کہ واجب یعنی وتر کے ترک میں، اس کا یہ کہنا کہ ''کیسے جائزہوسکتاہے'' کیسے جائز اور درست ہوسکتاہے! الحاصل یہ کہ مسئلہ کاحکم وہی ہے جو اس فقیرنے پہلے فتوے میں لکھاہے، ایسی باتوں پربحث کرنے سے سکوت بہترتھا، اگردرست موقف کی وضاحت اور شکوک کودفع کرنا مقصود نہ ہوتا نیز بحث میں ضمنی مسائل ہیں جوکہ بروئے کارلانے میں مفیدہوسکتے تھے جن کی وجہ سے میں نے یہ بحث کی ہے ورنہ ضرورت نہ تھی، مہربانوں نے جیسے عبارت نقل کی اس کے مطابق میں نے تسلیم کرتے ہوئے جواب لکھ دیا ورنہ اس فقیرنے کتاب فوائد الاعمال نہیں دیکھی اور نہ یہ معلوم کہ اصل عبارت کیااور کتاب کامصنف کون ہے، واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article وتر کی بقیہ رکعت میں دعائے قنوت پڑھے یا نہیں؟ عشاء اکیلےگھر میں پڑھنے والا وتر باجماعت پڑھے؟ Next article
Rating 2.69/5
Rating: 2.7/5 (279 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu