• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz Tarweeh / نماز تراویح > عشاء اکیلےگھر میں پڑھنے والا وتر باجماعت پڑھے؟

عشاء اکیلےگھر میں پڑھنے والا وتر باجماعت پڑھے؟

Published by Admin2 on 2012/10/22 (2177 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۱۱۰ :مرسلہ مولوی محمدعبداﷲصاحب پنجابی ہزاری مدرس اول مدرسہ عربیہ بریلی ۱۹  ربیع الآخر شریف ۱۳۰۶ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی الرجل الذی اقتدی بالامام فی التراویح وقد صلی الفرض فی بیتہ اومع غیرذلک الامام ھل یصلی الوتر بالجماعۃ ام لا والوتر بالجماعۃ تابع لرمضان ام لجماعۃ الفرض بینواتوجروا۔اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے، آپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے فرض اکیلے گھرمیں پڑھے یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھے کیاوہ شخص باجماعت تراویح والے امام کے پیچھے وترباجماعت پڑھ سکتاہے یانہیں؟ اور وتر باجماعت رمضان کے تابع ہے یافرض کی جماعت کے تابع ہیں، بیان کروا اجرپاؤ۔(ت)

الجواب

من صلی الفرض منفرد الایدخل فی جماعۃ الوتر ومن صلاھا جماعۃ ولوخلف غیرھذا الامام فلہ ان یأتم بہ فی الوتر ای وان لم یکن ادرک التراویح معہ ھو الصحیح المعتمد فی الغنیۃ شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی، اذا لم یصلی الفرض مع الامام فعن عین الائمۃ الکرابیسی انہ لایتبعہ فی التراویح ولاالوتر وکذا اذا لم یتعابعہ فی التراویح لایتابعہ فی الوتر وقال ابویوسف البانی اذا صلی مع الامام شیئا من التراویح یصلی معہ الوتر وکذا اذالم یدرک معہ شیئا منھا وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ وھو الصحیح ذکرہ ابواللیث وکذا قال ظھیرالدین المرغینانی لوصلی العشاء وحدہ فلہ ان یصلی التراویح مع الامام وھو الصحیح حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض اولا وحدہ ثم یتابعہ فی التراویح وفی القنیۃ لوترکواالجماعۃ فی الفرض لیس لھم ان یصلواالتراویح جماعۃ لانھا تبع للجماعۃ۱؎۱ھ

جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ وتر کی جماعت میں شریک نہ ہو اور جس نے فرض جماعت سے اداکئے ہوں اگرچہ کسی دوسرے کی جماعت کے ساتھ پڑھے ہوں وہ اس وتر پڑھانے والے کے ساتھ جماعت میں شریک ہوسکتاہے اگرچہ اس نے اس امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں، یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے، منیہ کی شرح غنیہ میں علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا کہ جب فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے تو عین الائمہ کرابیسی سے روایت ہے کہ وہ تراویح اور وترامام کے ساتھ نہ پڑھے اور یوں اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہو و بھی وہ وتر امام کے ساتھ نہ پڑھے، اور ابویوسف البانی نے فرمایا کہ اگر امام کے ساتھ کچھ تراویح پڑھ لی ہوں تو اس کے ساتھ وترپڑھ سکتاہے اور یوں ہی اگر اس نے تراویح جماعت سے کچھ بھی نہ پڑھی ہوں تو وہ شریک ہوسکتاہے، اور اگر اس نے ایسے ہی تراویح کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتاہے، یہی صحیح ہے ا س کو ابولیث نے ذکر کیاہے اور ظہیرالدین مرغینانی نے بھی یہی کہاہے کہ اگر اس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں توتراویح امام کے ساتھ پڑھ سکتاہے یہی صحیح ہے حتی کہ اگر وہ امام کے فرض پڑھالینے کے بعد اور تراویح میں شروع ہونے کے بعد مسجدمیں آیا تو اس کوچاہئے کہ پہلے اکیلے فرض پڑھ کر بعد میں تراویح کی جماعت میں شریک ہو۔ اور قنیہ میں ہے اگرکچھ لوگوں نے فرض کی جماعت ترک کردی تو ان کو تراویح باجماعت نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ تراویح فرض باجماعت کے تابع ہیں۱ھ ۔

 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    باب التراویح        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۱۰)

وقال فی ردالمحتار عند قولہ لولم یصلھا (ای التراویح) بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ، فی التتارخانیۃ عن التتمۃ انہ سئل علی بن احمد عمن صلی الفرض و التراویح وحدہ اوالتراویح فقط ھل یصلی الوتر مع الامام فقال لا۱ھ ثم رأیت القھستانی ذکر تصحیح ماذکرہ المصنف (ای من جوز الوتر جماعۃ لمن صلی التراویح منفردا ای و الفرض جماعۃ قال الشامی ثم قال (یعنی القھستانی) لکنہ اذا لم یصلی الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر۱؎۱ھ۔

اور ردمحتار میں اس کے قول پر، اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں تو اس کو وترامام کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے''۔ تتارخانیہ میں تتمہ سے نقل ہے کہ علی بن احمد سے سوال کیاگیا کہ وہ شخص جس نے فرض اور تراویح اکیلے پڑھے ہوں یاصرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں کیا وہ وترامام کے ساتھ پڑھ سکتاہے؟ توانہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں پڑھ سکتا۱ھ۔ پھر میں نے قہستانی کومصنف کی تصحیح ذکرکرتے ہوئے پایا، یعنی جس نے تراویح اکیلے اور فرض جماعت سے پڑھے ہوں تو اس کو وتر جماعت سے پڑھنے کی اجازت ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ قہستانی  نے  پھرفرمایا: لیکن اگرفرض اس نے جماعت سے نہ پڑھے ہوں تووتربھی باجماعت نہ پڑھے۱ھ۔

 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

قلت وعزاہ القھستانی للمنیۃ وھی منیۃ الفقہاء لامنیۃ المصلی کماظنہ بعج المتصدین للفتوی فی عصرنا فنسبہ الی عدم مطابقۃ النقل للمنقول عنہ قال الشامی فقولہ (یعنی المصنف) ولولم یصلھا ای وقد صلی الفرض معہ لکن ینبغی ان یکون قول القہستانی معہ احتراز عن صلٰوتھا منفردا۲؎ قلت فیکون علی وزان قول الغنیۃ المار، اذا لم یدرک معہ شیئا منھا، فانما اراد بہ الانفراد لامایشمل الادراک مع غیرہ، بدلیل قولہ عطفا علیہ ''وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ'' قال الشامی امالوصلاھا (یعنی الفریضۃ) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل۳؎ انتھی۔

میں کہتاہوں کہ اس بات کو قہستانی نے منیہ کی طرف منسوب کیاہے یادرہے کہ یہ منیۃ الفقہاء مراد ہے منیۃ المصلی نہیں جیسا کہ بعض معاصرفتوٰی نویسوں کویہاں غلط فہمی ہوئی ہے اورانہوں نے نقل کو اصل کے مطابق نہ ہونے کی شکایت کی ہے علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف کاقول کہ اگر اس نے تراویھ امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یعنی فرض امام کے ساتھ پڑھے ہوں، لیکن مناسب یہ ہے کہ قہستانی کا ''معہ'' کہنا، یہ تراویح اکیلے پڑھنے کی صورت کوجداکرناہے۔ میں کہتاہوں یہ غنیہ کے گزشتہ قول ''جب امام کے ساتھ کچھ تراویح نہ پڑھے'' کے انداز پر ہے کہ اس سے مراد اکیلے پڑھنا ہے نہ کہ وہ معنی جس میں کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھنا شامل ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے امام کے ساتھ پڑھنے کو علیحدہ عطف کے ذکرکیاہے۔ اور علامہ شامی نے فرمایا: اور اگر اس نے فرض کسی اور امام کے ساتھ جماعت میں پڑھا ہو اور پھروتر اس امام کے پیچھے پڑھ لے توکوئی کراہت نہیں، غورکر، انتہی۔

 (۲؎  ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

(۳؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)

اقول معلوم ان الضمیر فی قولہ لایتبعہ للامام مطلقا لالخصوص ھذا الامام فان من صلی الفریضۃ منفردا لیس لہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر لامع ھذا الامام ولامع غیرہ فکذلک فی قولہ معہ وبالجملۃ فالمتحصل شیئان احدھما ان المنفرد فی الفرض ینفرد فی الوتر اوماوقع فی ''منھیۃ الدر الفرید فی مسائل الصیام والقیام للعید'' للفاضل المفتی محمد عنایت احمد علیہ رحمۃ الاحد، ان لم یصلی الفرض بجماعۃ فلہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر وعزاہ لحاشیۃ الطحطاوی فسھو۔ وانا قد راجعت المعزی الیہ فلم اجدہ ناصابما ظن، نعم قدتشم من بعض کلماتہ رائحۃ ذلک حیث قال عند قول الدرالمختار لوترکھا الکل (یعنی جماعۃ التراویح) ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع۱؎ قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ (ای لوترکوا الجماعۃ فی الفرض لم یصلوا التراویح بجماعۃ) بقولھم لانھا تبع ان یصلی الوتر جماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالٰی انتھی ۱؎ حلبی  انتھی  فقد یوھم قولہ ''ولاللعشاء'' جواز الوتر بجماعۃ ولولم یصل ھو بل الکل الفرض بھا لکنہ کما علمت خلاف المنصوص فان الذی فی ردالمحتار عن شرح النقایۃ عن المنیۃ ان لم یحمل علی مامر کان ادخل فی الرد علی ھذا الایھام واما ماذکر انہ لیس بتبع عند الامام فنعم ونعم الجواب عنہ ماافاد المولی المحقق ابن عابدین ان اصالتہ فی ذاتہ لاتنافی کون جماعتہ تبعا۔

میں کہتاہوں یہ بات واضح ہے کہ ''لایتبعہ'' میں ضمیر کامرجع خاص امام نہیں بلکہ کوئی بھی ہوسکتاہے، کیونکہ جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ کسی امام کے ساتھ وترباجماعت نہیں پڑھ سکتا خواہ یہ امام ہو یا کوئی اور ہو، اور اسی طرح اس کے قول ''معہ'' میں بھی ضمیر کامرجع عام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یہاں د وچیزیں حاصل ہوئیں، ایک یہ کہ جس نے فرض اکیلے پڑھے وہ وتربھی اکیلے پڑھے۔ دررالفرید فی مسائل الصیام والقیام والعیدجوکہ فاضل مفتی محمدعنایت احمد علیہ الرحمۃ کی کتاب ہے، کے منہیہ میں جومذکورہے کہ اگرکسی نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں تو وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتاہے، اور اس بات کو انہوں نے حاشیہ طحطاوی کی طرف منسوب کیاہے، تو یہ سہوہے۔ حالانکہ میں نے حاشیہ طحطاوی کودیکھا ہے میں نے اس میں یہ بات صراحۃً مذکورنہ پائی، ہاں علامہ طحطاوی کی ایک عبارت سے اس بات کی بوآتی ہے، جہاں انہوں نے درمختار کے اس قول ''اگرسب نے جماعت تراویح کو ترک کردیا ہوتو کیا وہ وترجماعت سے اداکرسکتے ہیں، اس بارے میں رجوع کرناچاہئے'' پرلکھاہے کہ سابقہ مسئلہ کی تعلیل کی طرف رجوع کرنے کااشارہ ہے یعنی وہ سابقہ مسئلہ یہ ہے کہ ''اگر فرض باجماعت کوانہوں نے ترک کیا ہو تو تراویح جماعت سے ادانہ کریں'' اس مسئلہ کی تعلیل یہ ہے ، جس کو انہوں نے یوں بیان کیاہے، کیونکہ تراویح تابع ہیں، وہ وتر کو اس صورت میں جماعت کے ساتھ پڑھے کیونکہ وترتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے تابع ہیں امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک، انتہی حلبی انتہی، اس میں اس کا قول کہ وترعشاء کے تابع نہیں ہے، وہم پیداکرتاہے کہ اس کے یا سب کے فرض باجماعت پڑھے بغیر وتر کو باجماعت پڑھنا جائز ہے لیکن یہ بات علماء کی نص کے خلاف ہے ردالمحتارمیں شرح نقایہ سے اور اس نے منیہ سے نقل کرتے ہوئے جو ذکرکیاہے اگر اس کوگزشتہ مفہوم پرمحمول نہ کیاجائے تو وہ اس وہم کابہترین رَد ہے اور یہ بیان کہ وترامام صاحب کے نزدیک عشاء کے تابع نہیں ہیں، ہاں یہ درست ہے۔ اور اس کابہترین جواب وہ ہے جس کو آقا محقق ابن عابدین نے بیان فرمایا ہے کہ وتر فی ذاتہٖ اصل ہیں اور ان کی جماعت کاعشاء کے تابع ہونافی ذاتہٖ اصل ہونے کے منافی نہیں ہے۔

 (۱؎ درمختار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۹)

(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ بیروت    ۱/ ۲۹۷)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article جسے عشاء کی جماعت نہ ملے کیا وہ وتر اکیلے پڑھے؟ تراویح کی جماعت میں عشاء کی دوسری جماعت کا حکم Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (297 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu