• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > صحن میں اکثر جماعت ہوتی ہو کیا وہ مسجد کے حکم میں ہے

صحن میں اکثر جماعت ہوتی ہو کیا وہ مسجد کے حکم میں ہے

Published by Admin2 on 2012/10/31 (3061 reads)
Page:
(1) 2 3 4 5 »

مسئلہ۱۱۱۶: از قصبہ کٹھور، اسٹیشن سائن ضلع سورت، ملک گجرات،مسجد پُر ب والے، مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ عربی کھٹو رو سیٹھ بانا بھائی صاحب مہتمم مدرسہ  ۲۷جمادی الاولٰی۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس صحنِ مسجد کے حکم پر مو سم گرما میں ہمیشہ نماز فرض با جماعت مغرب و عشاء و فجر اور کبھی عصر بھی ادا کی جا ئے، اور  یہ مسجد چو نکہ برسرِ بازار واقع ہے اس واسطے آمد ورفت نمازیو ں کی زیادہ ہے عصر و مغرب کو کبھی جماعت ہو چکی ہو تو اکثر آدمی آکر اُس صحن پر اکیلے فرض نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی دوچار آدمی آگئے تو  وہا ں پر جماعت بھی کرلیتے ہیں اور مو سم اعتدال ربیع  و خریف میں بھی کبھی معمولی جماعت صحنِ مذکو ر  پر ہو  جا یا کرتی ہے، اب صحنِ مذکو ر کو حکم مسجد کا دیا جائے  یا نہیں؟ اس پر جنبی وغیرہ ناپاک آدمی کا بلا عذر شرعی کے جانا جا ئز  ہے  یا نہیں ؟ وہ شخص باہم مناظرہ کرتے ہیں ایک کے نزدیک صحن مذکور مسجد ہے اور جنبی کا اس پر جانا حرام، اور دوسرے کے نزدیک مصلی عید کے حکم میں ہے جنبی کو اس پر جانا جائز ہے ،دلیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے شہر سُورت میں اندرون مسجد کو جماعت خانہ اور صحنِ مسجد کو خارج بولتے ہیں، دوسری دلیل یہ کہ فنا اور حریم مسجد اور  صحنِ مسجد باعتبار مفہوم  کے متحد ہیں فنا اور حریم مسجد پر جب جنبی کو جانا جائز ہو توصحن پر بھی جائز ہوگا کس واسطے کو فناء کو حکم مصلی عیدکا ہے اورعلماۓ سورت میں سے دو۲عالم صحن مذکورحکم مسجد کا فرماتے ہیں ان دونوں عالموں میں سے ایک عالم صاحب اس شخص کے جو صحنِ مسجد کو خارجِ مسجدکہتا ہے استاد بھی ہیں،اب ہر ایک مناظرین مرقومہ بالا میں سے ایک دوسرے کو مفسد کہتا ہے مفسد فی الدّین ہے اور مصلح عندالشرع کون ؟ اور لفظ فناء مسجد اور حریم مسجد کے معنی صحن مسجد کے سمجھنا صیحح ہیں یاغلط؟ اور دوسرے یہ کہ ساکنانِ شہر سورت کا عرف کہ اندرون مسجد جماعت خانہ اور صحنِ مسجد خارج مسجد بولنا یہ عندالشرع معتبر ہے یا نہیں؟ اور کس قدریں نمازیں ہر سال میں اُس صحن پر ادا کی جائیں کہ وہ صحن مسجد بن جائے؟ اُس صحن کی مسجد بن جانے میں سوائے نماز کے اور کوئی دوسری شرط بھی عندالشرع معتبر  ہو تو  تحریر فرمائیں۔بینوا توجروا۔

الجواب

بسم اﷲالرحمن الرحیم

الحمدﷲ والصلوٰۃوالسلام علی رسول اﷲ

صحنِ مسجد قطعاًجزیہ مسجد ہے جس طرح صحنِ دار جزءِ دار ،  یہا ں تک کہ اگر قسم کھائی زیدکے گھر نہ جاؤں گا، اور صحن میں گیا بیشک حانث ہو گا

کما یظھر من الھدایۃ والھندیۃ والدرالمختار وردالمختار و عامۃ الاسفار(جیسا کہ ہدایہ، ہندیہ، دُرمختار، ردالمختاراور عام کتب میں ہے، ت)

اسی طرح اگر قسم کھائی مسجد سے باہر نہ جاؤں گا اور صحن میں آیا ہر گزحانث نہ ہو ا، ولہذا معتکف کو صحن میں آنا جانا بیٹھنا رہنا یقینا روا، یہ مسئلہ اپنی نہا یت وضا حت وغایت شہرت سے قریب ہے کہ بدیہیات اولیہ سے ملتحق ہو، جس پر تما م بلادمیں عام مسلمین کے تعامل وافعال شاہد عدل، جن کے بعد اصلاًاحتیاج دلیل نہیں ، ہاں جو  دعوٰی خلاف کرے اپنے دعوے پر دلیل لا ئے ، اور ہر گز نہ لاسکے گا

حتی یلج الجمل فی سم الخیاط

 (یہا ں تک کہ اونٹ سو ئی کے سوراخ میں داخل ہو جائے۔ت)

مدعیِ خلاف نے کہ صحنِ مسجد کے مسجد نہ ہونے پر دو دلیلیں پیش کیں،ایک عام جس میں دلیل کی صورت بھی نہیں بلکہ محض دعوٰی ہے دلیل ہے دوسری خا ص مساجد سورت سے متعلق دونو ں محض باطل و زاہق۔ فقیر غفراﷲتعالٰی اس مسئلہ واضحہ کی ایضا ح کو بحکم ضرورت صرف دس وجہیں ذکرکرتا ہے جن سے حکم انجلائے تام پائے اور دونو ں دلیل خلاف کا ازالہ اوہام ہو جائے ، اسی کے ضمن میں اِن شاء اﷲ تعالٰی تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہو جائے گا۔

فاقول وباﷲالتوفیق وافاضۃالتحقیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالٰی ہی تو فیق اور تحقیق عطا کرنے والا ہے)

اوّلا ًمسجد اس بُقعہ کا نام ہے جو  بغرض نمازِ پنجگانہ وقف خالص کہا گیا

وتمام تعریفہ مع  فوائد قیودہ فی الوقف من کتابنا العطایاالنبویۃ فی ا لفتاوی الرضویۃ (مسجد کی کامل تعر یف اور اس کے تمام قیود کے فوائدکی تفصیل ہما رے فتاویـــــ

''العطایا النویہ فی الفتاوی الرضویۃ''کے باب الوقف میں ملاحظہ کیجئے۔

یہ تعریف با لیقین صحن کو بھی شامل 'اور عمارات و بنایا سقف وغیرہ ہر گز  اس کی ماہیت میں داخل نہیں یہاں تک کہ اگر عمارت اصلاً نہ ہو صرف ایک چبوترہ یا محدودمیدان نماز کے لئے وقف کردیں قطعاً مسجد ہوجائے گا اور تمام احکامِ مسجد کااستحقاق پائے گا۔

فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ذخیرہ وفتاوٰی علمگیریوغیرہا میں ہےرجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوافیھا بجماعۃان قال صلوا فیھاابداا وامرھم  بالصلٰوۃ مطلقا و نوی الابدصارت الساحۃ مسجدا لو مات لا یورث عنہ ۱؎ اھ ملخصاً

ایک آدمی کی کُھلی جگہ ہے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہاں نماز اداکرو، اب اگر اس نے یہ کہاکہ یہاں ہمیشہ تم نماز  پڑھو، یا اتنا کہا نماز  پڑھو مگر نیّت ہمیشہ کی ،تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی _____ اگر وُہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ زمین وراثت میں شامل نہ ہو گی اھ ملخصاً(ت)

(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب الحادی عشرفی المسجد ومایتعلق بہ    مطبوعہ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور  ۲  /  ۲۵۵)

Page:
(1) 2 3 4 5 »

Navigate through the articles
Previous article حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں؟ موجودہ مسجد کے بالکل قریب نئی مسجد بنا لینا کیسا Next article
Rating 2.62/5
Rating: 2.6/5 (265 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu