• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > اپنی خواہش نفسانی پر دوسری مسجد بنا لینا کیسا ہے؟

اپنی خواہش نفسانی پر دوسری مسجد بنا لینا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/11/5 (960 reads)

مسئلہ۱۱۲۹:  از گوہالباڑی ضلع مالوہ انگریز  آبا د ڈاکخانہ بھولاہاٹ مرسلہ شیخ غریب اﷲ صاحب ۴ رجب ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بستی میں مسلمانان ہم قوم ہم مذہب قریب دواڑھائی سو گھر کے رہتے ہیں اور ایک مسجد پختہ عرصہ دس بارہ برس سے کہ بنوائی ہوئی انھیں مسلمانان کی ہے اور ایک دل ایک رائے ہو کر اسی مسجد میں نماز پنجگانہ جمیع مسلمانان باشندہ بستی مذکورہ اداکرتے ہیں اتفاق وقت کہ بعد چند سال کے دو مسلمان رئیس میں جو  رہنے والے اسی بستی کے ہیں جھگڑا وتکرار دنیاوی دربارہ زمین خواہ کسی امر دنیاوی کے برپا ہوا اور ہنوز  ہے یا نہیں ہے کہ منجملہ دو کے ایک نے بلا سبب اپنے زورنفسانی وضد میں آکر چالیس پچاس گھر مسلمانوں کو شامل اپنے لے کر اُس مسجد مذکورہ سے روگرداں ہوا اور ہوکر ایک مسجد گیا ہی جسے پھو س کہتے ہیں اپنے مکان کے قریب تعمیر کرا کر نماز پنجگانہ مع ہمراہیان خود اداکرتا ہے تو کیا رہتے ہوئے مسجد پختہ کے کہ مسجد ہذا سے مسجد گیااندازی دوسو قدم پر واقع ہے اور ان دونو ں کے راستہ درمیان کسی طرح کا خوف جان ومال کا نہیں ہے نماز پنج وقتی مسجد گیاہ میں اداہوسکتی ہے کہ نہیں؟ اس کے جواز ولاجواز سے جہاں تک تعمیل فرماکر ممتاز فرمایا جائے گا عین نوازش واکرام ہے اور ان دونوں رئیسوں کا بلکہ سائرمسلمانان کا فیصلہ ہے مکرر آنکہ اُن لوگوں نے جتنے روز تک اُس مسجد گیاہ میں جان بوجھ کر نماز پڑھی تو اُن سبھوں کی نماز ہوئی یا نہیں، اور بصورت نکلنے حکمِ جواز آمنّاصدقناو بصورت نکلنے ناجواز ان مسلمانوں روگردانوں پر ازروُئے شرع شریف کے کیا لازم آسکتا ہے اور ان لوگوں کو جماعت میں پھوٹ ڈالنے والا کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے پر کیا حکم مطابق شرع کے جاری کیا جائےگا اور  وہ لوگ کیا کہے جاسکتے ہیں؟ آگاہ فرمایا جائے۔بینوا توجروا۔

الجواب

جتنی نمازیں ان لوگوں نے اس نئی مسجد میں پڑھیں ان کی صحت اور ان سے ادائے فرض میں تو اصلاً شبہہ نہیں اگر چہ یہ مسجد انھوں نے کسی نیت سے بنائی ہو،

لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجد اوطھورا فایمارجل من امتی ادرکتہ الصلوٰۃ فلیصل۱؎۔

کیونکہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا : میری خاطر ساری زمین مسجد اور پاک کردی گئی ہے ، میرا امتی جہاں نماز کا وقت پائے وہاں ہی ادا کرلے(ت)

 ( ۱؎ صحیح البخاری        کتاب الصّلٰوۃ     باب قول النبی جعلت لی الارض مسجداالخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۶۲)

ہاں یہ کہ وہ مسجد شرعاً مسجد ہوئی یا نہیں ، اور اس میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں اور یہ لوگ جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے ہوئے یا نہیں۔ یہ امور اُن لوگوں کی نیت پر موقوف ہیں، اگر یہ مسجد انھوں نے بغرض نماز خالص اﷲ عزوجل ہی کے لئے بنائی اگر چہ اس پر باعث باہمی رنجش ہوئی کہ بسبب رنج ایک جگہ جمع ہونا مناسب نہ جانا اور نماز  بمسجد ادا کرنی نہ چاہی، لہٰذا یہ مسجد بہ نیت بجا آوری نماز ہی بنائی تو اس کے مسجد ہونے اور اس میں نماز جائز و ثواب ہونے میں کوئی شبہ نہیں

لانہ وقف صدرعن اھلہ فی محلہ علی وجھہ ( کیونکہ یہ وقف ہے اہل وقف سے محلِ وقف میں طریق کے بمطابق وقف ہوئی ہے۔ت)

اوراس نیت کی حالت میں یہ لوگ جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے بھی نہیں ٹھہرسکتے کہ اُن کا مقصود اپنی نماز با جماعت ادا کرنا ہے ، نہ دوسروں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنا ، یہاں تک کہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اہل محلہ کو جائز ہے کہ بغرضِ نماز ایک مسجد کی دو مسجدیں کرلیں ۔

درمختارمیں ہے:لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحد او عکسہ لصلوۃ لالدرس اوذکر۲؎۔

اہل محلہ دو مساجد کو ایک یا اس کا عکس کرسکتے ہیں مگر نماز کے لئے ، درس یا ذکر کے لئے ایسا نہیں کرسکتے(ت)

( ۲؎ درمختار        آخر باب مایفسدالصلٰوۃ الخ            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت        ۱/۹۴)

اشباہ میں ہے:لاھل المحلۃ جعل المسجد الواحد مسجدین والاولی ان یکون لکل طائفۃ مؤذن۳؎۔

اہل محلہ ایک مسجد کو دو مساجد بناسکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ ہر گروہ کے لئے الگ مؤذن ہو۔(ت)

( ۳؎ الاشباہ والنظائر    القول فی احکام المسجد   مطبوعہ  ادارۃ  القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/۲۳۴ ۶۳۵ )

اور ا گر یہ نیت نہ تھی مسجداﷲ کے لئے نہ بنائی بلکہ اس سے مقصود اگلی مسجد کو ضرر  پہنچانا اور اس کی جماعت کا متفرق کردینا تھا تو بیشک یہ مسجد نہ ہوئی ، نہ اس میں نماز کی اجازت بلکہ نہ اس کے قائم رکھنے کی اجازت، اور اس صورت میں یہ لوگ ضرور تفریق جماعت مومنین کے وبال میں مبتلاہوئے کہ حرام قطعی وگناہ عظیم ہے۔

قال اﷲتعالٰی والذین اتخذوامسجدا ضرارا وکفرا وتفریقا بین المؤمنین ۱؎ الایۃ

اﷲتعالٰی کا فرمان ہے : اور وہ لوگ جنھوں نے مسجدنقصان کا ذریعہ، کفر اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیداکرنے کا ذریعہ بنایا

 ( ۱؎ القرآن        ۹/۱۰۷)

مگر نیت امر باطن ہے اور مسلمان پر بد گمانی حرام وکبیرہ، اور ہر گز مسلمان سے متوقع نہیں کہ اس نے ایسی فاسد ملعون نیت سے مسجد بنائی۔

قال اﷲ تعالٰی ولا تقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئِک کان عنہ مسئولا ۲؎۔

اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: نہ پیچھے لگ اس چیز کے جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ سمع، بصر اور دل ہر ایک کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔(ت)

( ۲؎ القرآن        ۱۷/۳۶)

تو بے ثبوت کافی شرعی ہرگز اس برُی نیت کا گمان کرنا جائز نہیں بلکہ اسی پہلی نیت پر محمول کریں گے اور مسجد کو مسجد اور اس میں نماز کو جائز ثواب اور اس کی آبادی کو بھی ضرور سمجھیں گے۔


Navigate through the articles
Previous article سنیوں کی مسجد میں شیعہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو؟ مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے؟ Next article
Rating 2.87/5
Rating: 2.9/5 (264 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu