• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے؟

مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے؟

Published by Admin2 on 2012/11/5 (1592 reads)
Page:
(1) 2 »

مسئلہ ۱۱۳۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے ؟ بینواتوجروا

الجواب

اقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق ( اﷲتعالٰی کی توفیق سے اور اس کے ذریعے تحقیق تک وصول ہوتا ہے۔ت)

تحقیق یہ ہے کہ علمائے کرام ۱۱مسئلوں میں مسجد صغیر وکبیر میں فرماتے ہیں : ایک مسئلہ صحت اقتداواتصال صفوف کہ مسجد بقعہ واحدہ ہے اس میں امام ومقتدی کا فصل مائع صحت اقتدا نہیں اگر چہ امام محراب میں اورمقتدی یا صف قریب باب ہو مگر مسجد کبیر میں حکم مثل صحرا ہے کہ اگر امام وصف میں اتنا فاصلہ ہو جس میں دو صفیں ہوسکتیں تو اقتدا صحیح نہ ہوگی۔ دوسرے مسئلہ اثم مرورپیش مصلی کہ مسجد میں دیوار قبلہ تک جائز نہیں جب تک بیچ میں حائل نہ ہو ہاں مسجد کبیر مثل صحراہے کہ مصلی جب خاشعین کی سی نماز پڑھے کہ نگاہ موضع سجود پر جمائے رہے تو اسں حالت میں جہاں تک اس کی نظر پہنچے کہ نظر کا قاعدہ ہے جھاں جمائئ جاے اس سے کچھ آگے بڑھتی ہے  وہاں تک گزرنا ممنوع وناجائز ہے اس سے آگے روا، ان دونوں مسئلوں میں مسجد کبیر سے ایک ہی مراد ہے یعنی نہایت درجہ عظیم ووسیع مسجد جیسی جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر تھی یا جامع قدس شریف کہ تین مسجدوں کا مجموعہ ہے ، باقی عام مساجد جس طرح عامہ بلاد میں ہوتی ہیں سب ان دونوں حکموں میں متحد ہیں اگر چہ طول وعرض میں سو سو گز ہوں،

امام وقع فی القھستانیۃ عندذکرالمسجد الصغیر، ھواقل من ستین ذراعا، وقیل من اربعین وھوالمختار، کمااشارالیہ فی الجواھر ۱؎ وفی الطحطاوی قولہ اوبمسجد کبیر ھو ماکان اربعین ذراعافاکثر والصغیر ماکان اقل من ذلک وھوالمختار قھستانی عن الجواھو ۲؎ وفی الشامیۃ۳ ؎ ۔ بمثلہ بالسند المذکور فرأیتنی کتبت علیہ فیما علقت علی ردالمحتار مانصہ

قہستانیہ میں مسجد صغیر کے تذکرہ میں جو ہے کہ وہ ساٹھ گز سے کم ہوتی ہے بعض کے نزدیک چالیس گز ، یہی مختارہے ۔ اسی کی طرف جواہر میں اشارہ ہے۔ طحطاوی میں ہے کہ اس کا قول '' یا مسجد کبیر جو چالیس گز یا اس سے زائد ہو اور صغیر وہ ہے جو اس سے چھوٹی ہو، یہی مختاہے''۔ قہستانی عن الجواہر اور شامیہ میں سند مذکور کے ساتھ اسی طرح ہے ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ردالمختار کے حاشیہ میں لکھا،

 ( ۱؎ جامع الرموز     فصل مایفسد الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران    ۱/۲۰۱)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارباب مایفسدالصلوٰۃ        مطبوعہ دارالمعرفۃبیروت        ۱/۲۶۸)

( ۳؎ ردالمحتار        باب یفسد الصلوة  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/۶۳۴)

اقول وباﷲ التوفیق یظھرلی ان ھذاخطاء بل الحاصل ھھنا فی الصغیر والکبیر ماتقدم فی الکتاب (اعنی ردالمحتار عن الامداد) فی مسئلۃ الفصل ا لمانع عن الاقتداء انہ لایمنع الافی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس وذلک لانھم عللو کراھۃ المروربین یدیہ فی المسجد الصغیر الی جدارالقبلۃ بان المسجد بقعۃ واحۃ کما فی شرح الوقایۃ وفی شرحنا ھذاوقد ذکر محشینا فی تقریرہ مسألۃ الفصل لمانع فقال بخلاف المسجد الکبیر فانہ جعل فیہ مانعا الخ فانظر ای کبیر ذٰلک ماھو الاالکبیر جدا کمسجد القدس ، وما ذکر القھستانی عن الجواھر فانما کان فی الدار فی مسئلۃ الفصل لافی المسجد کما مرت عمارۃ الجواھر (حیث قال العلامۃ المحشی۱؎) فی القھستانی ف؎: البیت کا لصحراء والاصح انہ کالمسجد، ولھذا یجوزالاقتداء فیہ بلا اتصال الصفوف کما فی المنیۃ اھ ولم یذکر حکم الدارفلیراجع، لکن ظاھر التقیید بالصحراء والمسجد لکبیر جداان الدار کالبیت تامل ، ثم رأیت فی حاشیۃ المدنی عن جواھر الفتاوی ان قاضی خاں سئل عن ذلک ،فقال، اختلفوا فیہ، فقدرہ بعضھم بستین ذراعاوبعضھم قال ان کانت اربعین ذراعافھی کبیرۃ والا فصغیرۃ، ھذاھوالمختار اھ وحاصلہ ان الدار الکبیرۃ کالصحراء والصغیرۃ کالمسجد، وان المختار فی تقدیر الکبیرۃ اربعون ذراعا۲؎

اقول (میں کہتا ہو) اﷲکی توفیق سے مجھ پر یہ واضح ہوا کہ یہ خطاوغلط ہے بلکہ صغیر وکبیر مسجد میں حاصل وہی چیز ہے جو کتاب (یعنی ردالمختار میں امداد کے حوالے سے )اس فصل کے تحت گزرا جو'' اقتدا سے مانع کے بیان '' میں ہے اس مسجد میں مانع ہے جو بہت ہی بڑی ہو مثلاً مسجد قدس کیونکہ فقہاء نے مسجد صغیر میں قبلہ کی جانب نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع  پر جو علت بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ مسجد ایک ہی ٹکڑا کی طرح ہے جیسا کہ شرح الوقایہ اور ہماری اس شرح میں ہے اور ہمارے محشی نے فاصل مانع کو بیان کرتے ہوے کہا بخلاف مسجد کبیر کے، کیونکہ اس میں مانع بنایا گیا ہے الخ غور کرو بڑی کونسی مسجد ہے وہ وہی ہو گی جو بہت ہی بڑی ہو مثلاً

مسجد قدس جو کچھ قہستانی نے جواہر سے نقل کیا ہے وہ گھر میں مسئلہ فصل کے بارے میں ہے نہ کہ مسجد کے بارے میں ، جیسے کہ عبارت جواہر سے گزرا (کیونکہ اسکے الفاظ یہ ہیں کہ علامہ محشی نے قہستانی میں کہا کہ گھر کھلے میدان کی طرح ہے اور اصح یہ ہے کہ بیت، مسجد کی طرح ہوتا ہے اسی لئے اس میں بلا اتصال صفوف بھی اقتداجائز ہوتی ہے جیساکہ منیہ میں ہے اھ اور دار کا حکم بیان نہیں کیا ، چاہے کہ غور کیا جائے لیکن ظاہراًصحرا یا مسجد کبیر کو بہت بڑا قرار دینا اگاہ کررہا ہے کہ دار کا حکم گھروالا ہے تامل ، پھر میں نے حاشیہ مدنی میں جواہر الفتاوٰی سے دیکھا کہ قاضی خاں سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا اس میں اختلاف ہے بعض نے ساٹھ گز کہا ہے بعض نے کہا کہ اگر چالیس گز ہوتو بڑی مسجد ورنہ چھوٹی، اور یہی مختار ہے اھ حاصل یہ ہے کہ بڑی دار صحرا کی طرح اور چھوٹی دار مسجد کی طرح ہے اگرچہ مختار بڑی مسجد کیلئے چالیس گز ہوناہی ہو۔

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article امام فتنہ باز ہو اسے مسجد ضرار کہہ سکتے ہیں؟ ضد اور مخالفت میں دوسری مسجد بنا لینے کا حکم Next article
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (259 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu