• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > مسجد میں طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں؟

مسجد میں طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں؟

Published by Admin2 on 2012/11/14 (899 reads)

مسئلہ۱۱۵۹: از علی گڑھ کالج مسئو لہ حضرت مولانہ محمد سیلمان اشرف صاحب بہاری(رحمۃ اﷲ علیہ) پروفیسر دینیات ، خلیفہ اعلٰیحضرت رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۳۳۲ھ

مسجد مین طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں؟ کیا نمازیوں کے پیشِ نظر گُل بوٹے چمکتے دمکتے مخل صلوٰۃ نہیں؟ کیا اس طرح کی زیبائش مسجد کی من جہت معبد ہونے کے شایان شان نہیں؟ محض مختصر جواب اس کا تحریر فرماکر فقیر کو ممنون فرمائیں،یہاں مسئلہ درپیش ہے کالج کی مسجد منقش ومطلا کی جارہی ہے۔ فقط

الجواب : مساجد میں زینت ظاہری زمانہ سلف صالحین میں فضول وناپسند تھی کہ اُن کے قلوب تعظیم شعائر اﷲ سے مملوتھے ولہٰذا حدیث میں مباہاۃ فی المساجد کو اشراط ساعت سے شمار فرمایا ، اور عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما نے فرمایا:لتزخر فُنَّھا کما زخرفت الیھود والنصارٰی۱؎۔

تم مساجد کو اسی طرح مزیّن کروگے جس طرح یہود ونصارٰی نے مزیّن کیں۔(ت)

 ( ۱؎ الصحیح البخاری        کتاب الصّلوٰۃ    باب بنیان المسجد    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۶۴)

تبدل زمان سے علماء نے تزیینِ مساجد کی اجازت فرمائی کہ اب تعظیم ظاہر مورث عظمت فی العیون ووقعت فی القلوب ہوتی ہے فکان کتحلیۃ المصحف فیہ من تعظیمہ( یہ ایسے ہی ہے جیسے تعظیم کی خاطر قرآن حکیم کو طلا کی صورت میں لکھا جائے۔ ت) مگر اب بھی دیوار قبلہ عموماً اور محراب کو خصوصاً شاغلاتِ قلوب سے بچانے کا حکم ہے بلکہ اولٰی یہ ہے کہ دیوار یمین وشمال بھی ملہیات سے خالی رہے کہ اُس کے پاس جو مصلّی ہو اُس کی نظر کو پریشان نہ کرے۔ ہاں گنبدوں ، میناروں، سقف اور دیواروں کی سطح کہ مصلیوں کے پس پشت رہے گی ان میں مضائقہ نہیں اگر چہ سونے کے پانی سے نقش ونگارہوں بشرطیکہ اپنے مال حلال سے ہوں، مسجد کا مال اُس میں صرف نہ کیا جائے، مگر جبکہ اصل بانیِ مسجد نے نقش ونگار کئے ہوں یا واقف نے اس کی اجازت دی ہو یا مالِ مسجد کا فاضل بچاہو، اور اگر صرف نہ کیا جائے تو ظالموں کے خوردبُرد میں جائے گا پھر جہاں جہاں نقش ونگار اپنے مال سے کرسکتا ہے اس میں بھی دقائق نقوش سے تکلف مکروہ ہے سادگی ومیانہ روی کا پہلو ملحوظ رہے۔ امام ابن المنیرشرح جامع صحیح میں فرماتے ہیں:استنبط منہ کراھۃ زخرفۃ المساجد لاشتغال قلب المصلی بذلک اولصرف المال فی غیر وجھہ نعم اذاوقع ذلک علی سبیل تعظیم المساجد ولم یقع  الصرف علیہ من بیت المال فلا باس بہ ولو اوصی بتشیید مسجد وتحمیرہ وتصفیرہ ونفذت وصیتہ لانہ قد حدث الناس فتاوی بقدرمااحد ثوا وقد احدث الناس مؤ منھم وکافرھم تشیید بیوتھم و تزیینھا ولو بنینا مساجدنا باللبن وجعلنا ھا متطامنۃ بین الدورالشا ھقۃ وربما کانت لاھل الذمۃ لکانت مستھانۃ۱؎

اس سے مساجد کا مزیّن کرنا مکروہ ثابت ہوتاہے کیونکہ اس میں نمازی کے دل مشغول یا مال کاغلط طور پر استعمال لازم آتا ہے، ہاں جب یہ تزیین مساجد کی تعظیم کی خاطر ہو اور بیت المال سے نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کسی شخص نے مسجد کو پختہ کرنے اور اسے سرخ وسفید کرنے کی وصیت کی تو اس کی وصیت نا فذ ہوگی کیونکہ لوگوں میں فتوٰی اُن کے حال کے مطابق ہوتاہے اب لوگ خواہ مومن ہیں یا کافر ہرکوئی اپنے گھر کو مزیّن کررہاہے ،اب اگر ہم اپنی مساجد کو کچی اینٹوں سے بنائیں گے اور انھیں بلند عمارات کے درمیان چھوٹا بنائیں تو ان کی توہین ہوگی جبکہ یہ مکانات اہل الذمہ کے بھی ہوسکتے ہیں (ت)

 (۱؎ارشاد الساری     بحوالہ ابن المنیر    باب بنیان المسجد    مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت    ۱/ ۴۴۰)

درمختار میں ہے:(ولا باس بنقشہ خلامحرابہ) فانہ یکرہ لانہ یلھی المصلی ، ویکرہ التکلف بدقائق النقوش ونحوھا ، خصوصا فی جدارالقبلۃ قال الحلبی وفی حظر الجتبٰی وقیل یکرہ فی المحراب د ون السقف والمؤخر انتہی وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدارالقبلۃ فلیحفظ (بجص وماء ذھب) لو(بمالہ)الحلال )لامن مال الوقت) فانہ حرام (وضمن متولیہ لو فعل) النقش اوالبیاض الا اذا خیف طمع الظلمۃ فلا باس بہ کافی، والا اذاکان لاحکام البناء اوالواقف فعل مثلہ لقولھم انہ یعمر الوقف کما کان وتمامہ فی البحر۱؎۔

 (مسجد کو محراب کے علاوہ منقش کرنے مین کوئی حرج نہیں) کیونکہ محراب کا نقش ونگارنمازی کو مشغول کردیتا ہے ، البتہ بہت زیادہ نقش ونگار کے لئے تکلف کرناخصوصاً دیوارِ قبلہ میں مکروہ ہے ۔ حلبی اور مجتبٰی کے باب الخطر میں ہے کہ محراب کا منقش کرنا مکروہ ہے چھت  یا پچھلی دیوار کا منقش کرنا مکروہ نہیں اھ اور ظاہر یہی ہے کہ محراب سے مراد دیوارِ قبلہ ہے، پس اسے محفوظ کرلو (چونے اور سونے کے پانی سے) اگر (اپنے مال) حلال سے ہو  (مال وقف سے نھیں)کیونکہ وہ حرام ہے( متولی نے اگر کیا تو وہ ضامن ہوگا) نقش یا سفیدی البتہ جب ظالموں سے مال وقف کو خطرہ ہو تو کوئی حرج نہیں ،کافی اور اس صورت میں جب یہ بنا کی پختگی کے لئے یا واقف نے خود ایسے کیا ہو کیونکہ فقہاء نے فرمایا کہ وقف کی مرمت حسب سابق کرنا ہے۔ اس کی تفصیل بحر میں ہے۔ (ت)

( ۱؎ درمختار        باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۹۳)

ردالمحتار میں بحر سے ہے:واراد وا من المسجد داخلہ فیفید ان تزیین خارجہ مکروہ۲؎  اھ

   یہاں انھوں نے داخلِ مسجد مراد لیا ہے جو واضح کررہا ہے کہ باہر مسجد کی تزیین مکروہ ہے اھ

 ( ۲؎ ردالمحتار     باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا       مطبوعہ مصطفےٰ البابی مصر        ۱ /۴۸۷)

رایتنی کتبت علیہ مانصہ، اقول فی ھذہ الاستفادۃ نظر ظاھر، بل الظاھر منہ جوازہ بلاکراھۃ بالشروط الثلثۃ ان یکون بمالہ الحلال ولا یتکلف دقائق النقوش لان خارج المسجد لیس محل الھاء المصلی، وفیہ تعظیمہ فی العیون وزیادۃ وقعتہ فی القلوب و تغیب الناس فی حضورہ تعمیرہ، و کل ذلک مطلوب محبوب،وانما الامور بمقاصدھا ، وانھا لکل امرئ مانوی۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم

میں نے اس پر جو لکھا وہ یہ ہے کہ اس استفادہ میں نظر ظاہر ہے بلکہ ظاہریہ ہے کہ ؟شروط ثلٰثہ کے ساتھ بلاکراہت جائز ہے یہ کہ اپنا مال حلال کا ہو اور نقوش میں تکلّف نہ ہوکیونکہ خارج مسجد نمازی کو مشغول نہیں کرتا اس میں دیکھنے میں تعظیم اور دلوں میں وقعت کا اضافہ اور لوگو ں کا حضور وآبادی میں شوق کا سبب ہے اور ان میں سے ہر شئی مطلوب محبوب ہے، اور امور کا اعتبار ان کے مقاصد پر ہوتا ہے، ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

( ۳؎ جدالممتار علی ردالمحتار    باب احکام المسجد         المجمع الاسلامی مبارکپور ، انڈیا        ۱ /۳۱۵)


Navigate through the articles
Previous article مسجد میں بطور زیبائش گملے پھول لگانا کیسا ہے؟ مسجد میں استعمالی جوتا رکھنا چاہئے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.72/5
Rating: 2.7/5 (238 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu