غیراللہ کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز ہے یا نہیں؟
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/3/1

New Page 1

مسئلہ ۶۵ : از مہندرگنج سکول ہیڈ مولوی ضلع گار وہیلس تورا ملک آسام مرسلہ نجم الدین احمد صاحب     ۱۸ ربیع الاول شریف ۳۱ ھ

حضرت قبلہ مولانا فاضل صاحب لطف بیکران بر غریب بادچہ ارشاد فرما یند دریں مسئلہ کہ درعلاقہ فقیر درگار ہے بنام شاہ کمال ازمدت درازست مردمان ازدور دور برائے تعمیل نذر ونیاز بزوبقرہ آوردہ بسم اللہ گفتہ ذبح  مینمایندو خادم درگاہ بتعجیل تمام پوست آن ذبیحہ راکشیدہ بعدیا قبل دباغت  میفروشند اوقاتش ازیں شغل بسر مےشود علمائے چند دریں دیار گویند کہ انتفاع ازچرم غیر اللہ جائز نیست اگرچہ بروقتِ ذبح بسم اللہ خواندہ شود وبعضے گویند کہ بلاشبہ جائز ست زیراکہ غیر اللہ مثل مردار ست چوں پوست مردار ازدباغت پاک شودچرم غیر اللہ نیز ازدباغت شود ایں چنین بحث وتکرار ہنوزپایان نرسید لہذا بخدمت اقدس حضرت عرض اینست کہ خریدوفروخت قبل یابعد دباغت پوست ذبیحہ غیر اللہ درست ست یانہ مع دلیل بحوالہ کتاب رقم درزیدہ ودستخط بالمہر عنایت سازند وعنداللہ اجر جزیل وصول نمایند۔

حضرت قبلہ مولانا فاضل مجھ پر آپ کی مہربانی ہوگی آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ میرے علاقہ میں شاہ کمال کے نام سے ایک درگاہ شریف ہے وہاں دُور دُور سے لوگ آکر نذر ونیاز کے طور پر گائے یا بکری لاکر بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرتے ہیں وہاں کے خادم ذبح کرنے کے فوراً بعد اس کا چمڑا اتارتے ہیں اور رنگنے سے قبل یا بعد فروخت کرتے ہیں اورر اس سے ان کی گزراوقات ہوتی ہے۔ اس علاقہ کے کچھ مولوی حضرات کہتے ہیں کہ غیر اللہ کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز نہیں ہے اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالٰی کا نام پڑھا جائے، اور بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ بلاشبہ جائز ہے کیونکہ اگر یہ جانور مردار کی طرح حرام بھی ہو تو اس کا چمڑا (دباغت) رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ یہی بحث وتکرار جاری ہے لہذا آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ غیر اللہ کے ذبیحہ کا چمڑا رنگنے سے پہلے یا بعد فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں دلیل اور حوالہ کتاب لکھیں اور دستخط ومہُر لگائیں اور اللہ کے ہاں بھاری اجر حاصل کریں۔

الجواب: آں چرمہا بنفس ذبح پاک  میشودہیچ حاجت دباغت ندار د خرید وفروخت واستعمال آنہما مطلقاً رواست مسلمانان(۱) جانوران کہ برائے اولیائے کرام قدست اسرار ہم ذبح  میکنندز نہار عبادت غیر نمی خواہند ایں بدگما نی شدید ست وبدگمانی ازطریق اسلامی بعیدقال اللہ یٰایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎

یہ چمڑے صرف ذبح کرنے سے ہی پاک ہوجاتے ہیں خریدوفروخت یا دیگر استعمال کیلئے رنگنا ضروری نہیں ہے مسلمان جن جانوروں کو اولیاء اللہ کیلئے ذبح کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد یانیت ہرگز غیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی یہ بہت بڑا بہتان ہے جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اور اسلام میں بدگمانی ناجائز ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا اے مومنو! بدگمانی سے بچو اور بدگمانی گناہ ہے۔

 (۱؎ القرآن    ۴۹/۱۲)

وقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ جھوٹی بات ہے۔

 (۲؎ جامع للبخاری    باب قول اللہ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی من الوصایا    قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۳۸۴)

ودرمختار فرمود انالانسی الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الاٰدمی بھذا النحر ۳؎ و ردالمحتار ست ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۴؎۔

اور درمختار میں فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی نہیں کرسکتے وہ اس ذبح سے غیر اللہ کے تقرب اور عبادت کی نیت کرتا ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ عبادت کے بارے میں گمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اس گمان سے مسلمانوں کو کافر بنانا ہے اور مسلمان سے یہ بات بعید ہے۔

 (۳؎ الدرالمختار        کتاب الذبائح            مجتبائی دہلی        ۲/۲۳۰)

(۴؎ ردالمحتار           کتاب الذبائح         مصطفی البابی مصر    ۵/۲۱۸)

[pagebreak]

باز اگر گیرم کہ بعض آرند گانِ جہاں، ہمچنان خواشند اگر ذابح برائے(۲) خدا ذبح کردونام اوعزو علاگرفت حلال شد کہ اعتبار نیت وقول ذابح راست کما حققناہ فی رسالتنا الصغیرۃ حجما الکبیرۃنفعا ان شاء اللّٰہ تعالٰی سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء ومولٰی سبحنہ وتعالٰی در قرآن عظیم فرماید مالکمان لاتأکلوا مما ذکر اسم اللّٰہ علیہ ۱؎شمارا چیست کہ نخورید ازانچہ برآں نام خدا گرفتہ شدہ است۔

اور اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ ہے تو بھی جب ذبح کرنے والے نے اس پر اللہ تعالٰی کا نام پڑھ لیا تو وہ جانور حلال ہوجاتا ہے کیونکہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قول کا اعتبار ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کو ایک چھوٹے رسالے میں ثابت کیا ہے اگرچہ وہ رسالہ فائدہ میں اِن شاء اللہ بڑا ہے اس کا نام ''سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء'' ہے اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے تمہیں کیا ہوا کہ جس پر اللہ تعالٰی کا نام ذکر کیا گیا تم اس کو نہیں کھاتے۔

 (۱؎ القرآن    ۶/۱۱۹)

واگرازیں ہم گزریم وفرض کنیم کہ ذابح معاذ اللہ بہ نیت عبادت غیر کشت ومرتد گشت تاازینہم آنچہ لازم آید حرمت ذبیحہ است نہ نجاست پوست کہ نزد امام قاضی خان مذہب(۱) ارجح آنست کہ ذبح مطلقاً تطہیر جلد میکند اگرچہ ذابح مرتد یا مجوسی باشد۔ دربحرالرائق ست قد قدمنا عن معراج الدرایۃ معزیا المجتبی ان ذبیحۃ المجوسی وتارک التسمیۃ عمدا توجب الطھارۃ علی الاصح وان لم یکن ماکولا وکذا نقل صاحب المعراج فی ھذہ المسئلۃ الطھارۃ عن القنیۃ ایضا ھنا ویدل علی ان ھذا ھو الاصح ان صاحب النھایۃ ذکر ھذا الشرط بقیل معزیا الی فتاوی قاضی خان ۲؎

اس کو بھی اگر چھوڑیں اور ہم فرض کرلیں کہ معاذاللہ کہ ذبح کرنے والے نے غیر اللہ کی عبادت کی نیت سے جانور کو کاٹا اور وہ مرتد ہوگیا تب بھی جانور حرام ہوگا مگر اس کا چمڑا نجس نہ ہوگا، امام قاضی خان کے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ ذبح مطلقاً چمڑے کو پاک کردیتا ہے خواہ ذبح کرنے والا مرتد یا مجوسی ہو۔ بحرالرائق میں ہے کہ مجتبیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہم نے معراج الدرایہ سے پہلے نقل کیا ہے کہ مجوسی یا قصداً بسم اللہ نہ پڑھنے والے کا ذبیحہ بھی پاک ہے اگرچہ وہ کھانے کیلئے حرام ہے، یہی صحیح ہے نیز صاحبِ معراج نے بھی اس مسئلہ کو قنیہ سے نقل کیا اور کہا کہ پاک ہے۔ اس کے اصح ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ صاحبِ نہایہ نے اس شرط کو قیل کے ساتھ ذکر کیا اور اس کو قاضی خان کی طرف منسوب کیا ہے۔

 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۰۶)

درفتاوائے امام اجل قاضی خان فخرالدین او زجندی ست مایطھر جلدہ بالدباغ یطھر لحمہ بالذکاۃ ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقیل یجوز بشرط ان تکون الذکاۃ من اھلھا فی محلھاوقد سمی ۱؎ اھ

اور امام اجل قاضی خان فخرالدین اوزجندی کے فتاوٰی میں ہے کہ وہ جانور جس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے ذبح کرنے سے اس کا گوشت پاک ہوجاتا ہے اس کوشمس الدین حلوانی رحمہ اللہ تعالٰی نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا بشرطیکہ ذبح کا عمل اپنے محل میں اہلیت والے شخص سے صادر ہو اور بسم اللہ بھی پڑھی ہو۔ (ت)

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی النجاسۃ        نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۰)

اقول فافادبحکم المقابلۃ ان الذکاۃ فی القول الاول مطلقۃ ولوغیر شرعیۃ والمسألۃ فی اللحم تدل علی حکم الجلد بالاولی ففیہ ترجیحان لعدم اشتراط الشرعیۃ الاول ماذکر من ذکرہ القول الثانی بقیل والثانی انہ قدم الاول وھو انما یقدم الاظھر الاشھر کمانص علیہ فی خطبتہ فیکون ھو المعتمد کمافی الطحطاوی والشامی۔

میں کہتا ہوں کہ حکم مقابلہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہلے قول میں ذبح عام ہے خواہ غیر شرعی ہو، اور گوشت کے حکم سے چمڑے کا حکم بطریق اولیٰ معلوم ہوا، یہاں ذبح کیلئے شرع کی شرط نہ ہونے پر دو ترجیحات ہیں اوّل یہ کہ دوسرے قول کو قیل کے ساتھ ذکر کرنا، اور دوسری یہ کہ پہلے قول کو مقدم ذکر کرنا کیونکہ وہ مشہور اور واضح قول کو پہلے لاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود یہ بات اپنے خطبہ میں کہی ہے لہٰذا یہ پہلا قول قابلِ اعتماد ہے جیسا کہ طحطاوی اور شامی میں ہے۔ (ت)

اماقول الدر ھل یشترط لطھارۃ جلدہ کون ذکاتہ شرعیۃ قیل نعم وقیل لا والاول اظھر لان ذبح المجوسی وتارک التسمیۃ عمدا کلا ذبح ۲؎ اھ فاقول نعم ذلک فی حق الحل اماطھارۃ الجلد فلا تتوقف علیہ وانما ھی لان الذبح یعمل عمل الدباغ فی ازالۃ الرطوبات النجسۃ ۳؎ کما فی الھدایۃ بل لانہ یمنع من اتصالھا بہ والدباغ مزیل بعد الاتصال ولما کان الدباغ بعد الاتصال مزیلا ومطھراکانت الذکاۃ المانعۃ من الاتصال اولی ان تکون مطھرۃ ۱؎ کمافی العنایۃ ولاشک ان ھذا یعم کل ذبح فکان کما اذا دبغ مجوسی فالاظھر مااختارہ الامام قاضیخان ھذا ولعل الاوفق بالقیاس والا لصق بالقواعد ماذکر تصحیحہ فی التنویر والدر والقنیۃ ایضا وبہ جزم الاکمل والکمال وابن الکمال فی العنایۃ والفتح والایضاح وبالجملۃ ھماقولان مصححان وھذا اوفق وذاک ارفق فاختر لنفسک والاحتیاط اولٰی۔

لیکن درمختار کا یہ قول کہ کیا چمڑے کے پاک ہونے کیلئے شرعی ذبح شرط ہے، بعض نے کہا کہ ہاں اور بعض نے کہا نہیں۔ اور اول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ مجوسی اور بسم اللہ کو قصداً چھوڑنے والے کا ذبح کالعدم ہوتا ہے، میں کہتا ہوں کہ ہاں حلال ہونے کے معاملہ میں تو ایسے ہے لیکن چمڑے کے پاک ہونے کا حکم اس پر موقوف نہیں ہے اور یہ اس لئے کہ ذبح کرنے والا اپنے عمل میں دبّاغ کا عمل کرتا ہے کہ وہ نجس رطوبات کو نکال دیتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے بلکہ ذبح کا عمل چمڑے سے ناپاک رطوبتیں لگنے سے منع کرتا ہے جبکہ دباغت کا عمل ناپاک رطوبتوں کو لگنے کے بعد زائل کرتا ہے اور دباغت جوکہ رطوبات کو لگنے کے بعد زائل کرتی ہے، سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے تو ذبح سے بطریق اولیٰ پاک ہوگا کیونکہ وہ رطوبات کو چمڑے کے ساتھ لگنے سے روک دیتا ہے جیسا کہ عنایہ میں ہے اور بلاشبہ یہ چیز ہر ذبح میں پائی جاتی ہے جیسا کہ ہر دباغت سے پاک ہوجاتا ہے خواہ مجوسی ہی دباغت کرے لہذا ظاہر حکم و ہی ہے جس کو قاضی خان نے بیان کیا ہے، اس کو محفوظ کرو۔ ہوسکتا ہے جس قول کی تصحیح تنویر، دُر اور قُنیہ نے کی وہ بھی قیاس کے موافق اور قواعد کے مطابق ہو۔ اسی کو اکمل، کمال اور ابن کمال نے عنایہ، فتح اور ایضاح میں اختیار کیا ہے۔ حاصل یہ کہ صحیح شدہ یہ دونوں قول ہیں ایک قیاس وقاعدہ کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا آسانی کا باعث ہے اپنے طور پر جسے چاہو پسند کرو مگر احتیاط بہتر ہے۔

 (۲؎ الدرالمختار        باب المیاہ        مجتبائی دہلی        ۱/۳۸)

(۳؎ الہدایۃ        قبیل فصل فی البئر    المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱/۲۴)

(۱؎ العنایۃ مع الفتح القدیر        مطبوعہ سکھّر    ۱/۸۳)

واگر ازینہم گرزیم وگیریم کہ ذابح معاذ اللہ مرتد شدوذبیحہ بجمیع اجزائہا نجس گشت بریں تقدیر نیز دباغت راموجب طہارت ندانستن جہل عظیم وباطل باجماع ائمہ ماست فقد قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایما اھاب دبغ فقد طھر۲؎  واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اور اگر ہم اس کو بھی درگزر کریں اور تسلیم کرلیں کہ ذابح معاذ اللہ مرتد ہے اور ذبیحہ کے چمڑے سمیت تمام اجزاء ناپاک ہیں تب بھی دباغت کے عمل سے چمڑے کو پاک نہ ماننا جہالت ہے اور باطل ہے کیونکہ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر چمڑا رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس    بیروت    ۱/۲۱۹)