دیہات میں جمعہ جاری رکھیں یا ترک کر دیں؟
Category : Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین
Published by Admin2 on 2013/11/4

New Page 1

مسئلہ ۱۳۱۰: از مخدوم پور ڈاکخانہ نرہٹ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید رضی الدین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ   جناب مستطاب مخدومنا مولنٰا مولوی احمد رضا خاں صاحب زاد مجد ہم بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کے مکلف خدمت ہوں کہ اس موضع مخدوم پور قاضی چک میں اورنیز قرب وجوار میں اس کے نماز جمعہ و عیدین ہم لوگ مقلدین حنفی پڑھا کرتے ہیں اور جماعت جمعہ کی خاص اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترک کردوں، حضور کے نزدیک جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نمازِ عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو؟ شہر صاحب گنج یہاں س کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ

الجواب

جناب مکرم ذی المجد والکرم اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم وحمۃ اﷲ وبرکاتہ، فی الواقع دیہات میں جمعہ وعیدین باتفاق ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ممنوع وناجائز ہے کہ جونماز شرعا صحیح نہیں اس سے اشتغال روا نہیں،

فی الدرالمختار وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح ۱؎ اھ فی ردالمحتار ومثلہ الجمعۃ ۲؎ح ۔درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کا م میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں اھ ردالمحتار میں ہے اور اسی کی مثل جمعہ ہے ، ح ۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۴)

(۲؎ ردالمحتار     باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۱۱)

جمعہ میں اس کے سوا اور بھی عدمِ جواز کی وجہ ہے کما بیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی  میں بیان کیا ہے ۔ت) ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی ،

امام اکمل الدین بابرتی عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں: (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا ( فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلک )حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۱؎ الخ ( اور ان سے ) یعنی امام ابویوسف سے ہے ( جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے، خواتین اور غلام، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں ( سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں الخ (ت)

 (۱؎ عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر    باب صلٰوۃالجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ۲ /۲۴)

جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے،

واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔اﷲ تعالٰی کا فرمان حق ہے اور وہی راستہ کی ہدایت دیتا ہے اور اﷲکی ذات پاک ، بلند اور خوب جاننے والی ہے ۔(ت)