جہاں جمعہ ہوتا ہو وہاں احتیاط ظہر پڑھنا کیسا ہے؟
Category : Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین
Published by Admin2 on 2013/11/8

New Page 1

مسئلہ ۱۳۳۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جہاں پر حکم مصر رکھتا ہے اور بنا بر قول معتبر کے وہاں جمعہ ہوتا ہو ان میں احتیاط ظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اور جو لوگ اس کو نہیں پڑھتے ہیں جمعہ پڑھنے سے ظہر ساقط ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر اس کا ثبوت شرع میں ہو تو اس کو کس نیت سے پڑھنا چاہئے اور جو اس کا مانع ہو ازروئے شرع شریف کے کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلائل الشرعیۃ وتوجروا بالبراھین العقلیۃ ( دلائل شرعیہ سے بیان کرو اور براہینِ عقلیہ سے اجر پاؤ، ت)

الجواب

بلاشبہ جو اسلامی مصر ہو اور وہاں ایک ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو اور امام میں کوئی شبہہ نا جوازیِ امامت کا نہ ہو وہاں احتیاطی ظہر پڑھنا ممنوع وبدعت ہے مگر یہ بات آج عامہ بلاد میں کہیں نہیں سوا حرمین شریفین وغیرہما ، بعض بلاد کے، یونہی جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو جس نے سب سے اول جماعت میں پڑھا اسے احتیاطی ظہر کی اجازت نہیں، اور جہاں مصریت میں شبہہ ہو یا امام یا اس کی ماذونیت میں یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور اپنی جماعت سب سے پہلے ہو نا معلوم نہیں وہاں اگر شبہہ ضعیف ہے احتیاطی ظہر مستحب ہے اور قوی ہے تو واجب ، مگر اس کا حکم خواص کے لئے ہے عوام کو حاجت نہیں تحملا للضرر الادنی مخافۃ الاقوی( بڑے ضرر سے ڈرتے ہوئے ادنٰی  ضرر کو برداشت کرتے ہوئے ۔ت) خواص یہ نیت کریں کہ پچھلی وہ ظہر جو میں نے پائی اور ادا نہ کی اور یہ خطرہ بھی نہ آنے پائے کہ جمعہ ہوگیا تو یہ میرے نفل ہیں ، ورنہ فرض، نہ جمعہ کی نیت کے وقت تردد ہو کہ تردد منافی نیت ہے، جو منع کی جگہ منع کرتا ہے حرج نہیں اور جو استحباب کی جگہ منع کرتا ہے احمق ہے اور وجوب کےمحل پرمنع کرتا ہے تو گنہگار ہے

وتفصیل المسألۃ فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق ( مسئلہ کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور یہ اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم