جمعہ کے بارے امام اعظم و صاحبین کے اقوال
Category : Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین
Published by Admin2 on 2013/11/18

New Page 1

مسئلہ ۱۳۵۰: از ڈاک خانہ مہر گنج چڑنکی ضلع بریسال مکان منشی عبدالکریم مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۷جمادی الاولٰی  ۱۳۳۶ھ

یک فریق اسمہ دودمیاں متواطن فورید فوری اندصلوۃ جمعہ را بملک بنگالہ بلکہ ہند را حرام گویند چراینجا شہریست بمصداق قول امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ وینفذ الاحکام ویقیم الحدودایں تعریف نیست مگر اجرت تسبیح وتہلیل وغیر ذلک اخذمی کند ویک جماعت صلوۃ جمعہ رامی خوانند وایں دیار را شہر گویند بمطابق قول صاحبین وہو قول البعض وہوموضع اذا اجمتع اہلہ فی اکبر مساجدہ لم یسعھم فہو مصر بمصداق ایں کہ ملک بنگالہ وہند را شہر بگویند ونماز مذکور درو ادامی کنند مگر اجرت تسبیح تہلیل را حرام گویند وایں گو یندبمطابق قول امام اعظم حرام است و نزد صاحبین جائزست مگر قول متقدمین را اتباع می کنم ومتاخرین درپائے نشدم علی ہذا القیاس ایں ہرجماعت تنازع می کنند۔

ایک فریق جو فورید فوری میں رہائش پذیر ہیں ان کو دودمیاں کہا جاتا ہے ان کے نزدیک بنگالہ بلکہ تمام ہندوستان میں جمعہ حرام ہے کیونکہ یہاں جو شہر ہیں امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ کے قول کہ (وہاں حاکم احکام نافذ کرے اور حدود جاری کرے)کی تعریف پر پورے نہیں اترتے، حالانکہ وہ تسبیح وتہلیل پر اجرت لیتے ہیں ایک جماعت________ جمعہ ادا کرتی ہے اور اس علاقہ کو صاحبین کے قول کے مطابق شہر قرار دیتی ہے، اور بعض کا قول ہے کہ شہر کی اس تعریف'' ہر جگہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے تمام لوگ جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھتی ہو''کے مطابق ملک بنگالہ اور تمام ہندوستان کو شہر کہتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تسبیح و تہلیل پر اجرت حرام کہتے ہیں کہ امام اعظم کے قول کے مطابق حرام اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے مگرمیں مقتدمین کے قول کی اتباع کرونگا نہ کہ متاخرین کی،علی ہذالقیاس یہ دونوں جماعتیں آپس میں تنازع کررہی ہیں ۔(ت)

الجواب

آنکہ گویند المصر مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ نہ مذہب امام ست نہ قول صاحبین بلکہ روایت نادرہ مرجوحہ است و حاجت باونیست امصار دیار ہند وبنگالہ بلا شبہہ شہر ہائے دارالاسلام ست و جمعہ در انہا فرض وترک اومعصیت شدیدہ و انکار او ضلالت بعیدہ درمذہب امام وسائر ائمہ مامصر آنست کہ کوچہاوبازار ہائے دائمہ داشتہ باشد ومرا ورا روستاہا باشد چنانکہ اورا در اصلاح حال ضلع یا پرگنہ خوانند ودر و حاکمے باشد کہ بہ حشمت و سطوت خود دا دستم زدہ از ستمگراں تواں گرفت اگر چہ نہ گیرد ہمین ست معنی ینفذا لاحکام ویقیم الحدود الا ازہند و بنگالہ چہ گوئی خود حرمین محترمین بیز از مصریت خارج شوند واقامت جمعہ انجا حرام زیراکہ حدود ازصدہا سال مفقود مسدود شدہ است وبر تسبیح وتہلیل اجرت خواند گرفتن روا نیست اجارہ در امور مباحہ باشد نہ درطاعت ومعصیت کما حققہ المولی بن عابدین الشامی فی ردالمحتار والعقود الدریۃ وشفاء العلیل واﷲ تعالٰی اعلم۔

یہ جو شہر کی تعریف کررہے ہیں کہ وہ مقام جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے لوگوں کے لئے گنجائش و وسعت نہ رکھتی ہو یہ مذہب امام ہے نہ صاحبین کا قول بلکہ روایت نادرہ مرجوعہ ہے اور اس کی حاجت بھی نہیں ہندوستان اور بنگالہ بلاشبہہ شہر دارالاسلام ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اس کاترک سخت گناہ اور اس کا انکار شدید گمراہی ہے، امام اعظم اورباقی ائمہ کے ہاں شہر وہ ہوتا ہے جس کے کوچے ہوں اور دائمی بازار ہوں اور اس کے لئے دیہات ہوں جنھیں موجودہ اصطلاح میں ضلع یا پرگنہ کہا جاتا ہے اور وہاں کوئی نہ کوئی ایسا حاکم ہو جو اتنے اختیارات رکھتا ہو کہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاسکے اگر چہ وہ عملاً ایسا نہ کررہا ہو'' وہ احکام کو نافذ کرسکے اورحدود قائم کرسکے '' کایہی معنی ہے ورنہ ہند اور بنگلہ کی کیا بات ہوئی خود حر مین شریفین بھی شہر کی تعریف سے خارج ہوجائیں گے اور وہاں جمعہ حرام ہوگا کیونکہ حدود کا قیام صدیوں سے ختم اور بند ہوگیا ہے اور تسبیح و تہلیل پر اجرت لینا جائز نہیں کیونکہ کرایہ واجرت امور مباحہ میں ہوتی ہے نہ کہ امور طاعت ومعصیت میں جیساکہ ابن عابدین شامی ردالمحتار ، عقود الدریۃ اور شفاء العلیل میں اس کی تحقیق کی ہے ۔واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)