کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱2)؟
Category : Taharat / Purity / کتاب الطہارت
Published by Admin2 on 2012/3/6

New Page 1

مسئلہ ۸۰ ۱۰ ربیع الآخر     ۱۳۱۸ھ: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایامِ وبا میں گورنمنٹ کی طرف سے جو دوا کنوؤں میں واسطےاصلاح  پانی کے ڈالی جاتی ہے اور رنگ پانی کا سُرخ ہوجاتا ہے اور ذائقہ میں بھی فرق آجاتا ہے وہ پانی طاہر ومطہر اور قابل پینے اور وضو کے ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب: جب تک نجاست پر علم نہیں پانی طاہر مطہر ہےنص علیہ فی ردالمحتار وغیرھا والاصل فی الاشیاء الطہارۃ ۱؎(ردمحتار وغیرہا میں اس کو صراحۃً ذکر کیا ہے اور اشیاء کا اصل حکم طہارت ہے۔ ت) یوں ہی جب تک حرمت پر علم نہیں پانی حلال ومشروب ہے فان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ۲؎واللّٰہ سبحٰنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔ (پس بےشک اشیاء میں اصل، اباحت ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)

 (۱؎ ردالمحتار        فصل فی البئر        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۶)

(۲؎ قاعدہ سادسۃ من القواعد    الاشباہ والنظائر    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۷)