زکوۃ پیسوں کی بجائےکھانا یا کپڑے دینےکا کیاحکم ہے
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/10/27

New Page 1

مسئلہ ۴:کیا فر ماتے علمائے دین اس صور ت میں کہ اگر کسی شخص نے عوض اس زر زکوٰۃ کہ جو اس کہ ذمّہ واجب ہے محتاجو ں کو کھانا کھلادیا یا کپڑے بنادئے تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں؟بینو ا توجروا۔

الجواب : عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنادینا، انھیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائیگی خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں مگر ادائے زکوٰۃ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے  اسی واسطے اگر فقراء و مساکین کو مثلاًاپنے گھر بلا کر کھانا پکا کر بطریقِ دعوت کھلادیا تو ہر گز زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کہ یہ صورت اباحت ہے نہ کہ تملیک ، یعنی مدعو  اس طعام کو ملکِ داعی پر کھاتا ہے اور اس کا مالک نہیں ہو جاتا اسی واسطے مہمانو ں کو روا نہیں کہ طعامِ دعوت سے بے اذنِ دعوت میزبان گداؤں یا جانوروں کو دے دیں ، یا ایک خوان والے دوسرے خوان والے کو اپنے پاس کچھ اٹھا دیں یا بعد فراغ جو باقی بچے اپنے گھر لے جائیں۔فی الدرالمختار لو اطعم یتیما ناویا الزکوٰۃ لا یجزیہ الااذادفع الیہ المطعوم کما لو کساہ ۱؎ انتھی قولہ کما لو کساہ ای کما یجزیہ۲؎ ۱ھ طحطاوی عن الحلبی وفی الحاشیۃ الطحطاویۃ ایضا فی باب المصرف لا یکفی فیھا الاطعام الابطریق التملیک ولواطعمہ عندہ نا ویا الزکوٰۃلا یکفی ۳؎  انتھی۔درمختار میں ہے کہ کسی نے یتیم کو بنیتِ زکوٰۃکھانا کھلایا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی مگر اس صورت میں جب کھانا اس کے سپردکر دیا گیا ہو ، جیسا کہ اگراسے لباس پہنادیا گیا ہو انتہی قولہ ''کمالوکساہ'' یعنی اس صورت میں بھی زکوٰۃادا ہوجائیگی اھ طحطاوی عن الحلبی اور حاشیہ  طحطاویہ کے باب المصرف میں یہ بھی ہے کھانا کھلادینا کافی نہیں البتہ اگر مالک کردے توپھر کافی ہے، اور اگر کسی نے نیتِ زکوٰۃسے کھانا کھلایا تو کافی نہ ہوگاانتہی (ت)

(۱؎ درمختار          کتاب الزکوٰۃ        مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۹)

(۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ        دارالمعرفۃ بیروت        ۱ /۳۸۸)

(۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المصرف        دارالمعرفۃ بیروت            ۱ /۴۲۵)

ہاں اگر صاحبِ زکوٰۃ نے کھانا خام خواہ پختہ مستحقین کے گھر بھجوادیا یا اپنے ہی گھر کھلایا مگر بتصریح پہلے مالک کردیا تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی،فان العبرۃللتملیک ولا مدخل فیہ لا کلہ فی بیت المزکی اوارسالہ الی بیوت المستحقین وما ذکرہ الطحطاوی محمول علی الدعوۃ المعروفۃ فانھا المتبادرۃ منہ وانھا لا تکون الا علی سبیل الا باحۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔کیونکہ اعتبار تملیک کا ہے اس میں اس کا کوئی دخل نہیں کہ زکوٰۃ دینے والے کی گھر کھانا کھایا یا مستحق لوگوں کے گھر بھیج دیا ہو۔ اور جو طحطاوی نے ذکر کیا وہ دعوتِ معروفہ پر محمول ہے کیونکہ اس سے متبادر ہے کہ یہ دعوت بطورِ تملیک نہیں ہوتی بلکہ بطورِ اباحت ہوتی ہے، وا ﷲتعالےٰ اعلم (ت)