چوری سے نقصان زکوۃ سے منہا کرنے کی نیت کرنا کیسا؟
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/10/29

New Page 1

مسئلہ ۷ :    ۱۲رجب ۱۳۳۱ھ

چار پانچ آدمی بزاز کے یہاں کپڑا خریدنے گئے اُن میں سے ایک نے کوئی کپڑا چُرالیا، بعد معلوم ہونے کے دُکاندار نے اس کومعاف کر دیا اور نیّت صدقہ یا زکوٰۃ کی کی، تو یہ نیت اس کی صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور یہ کپڑا صدقہ یا زکوٰۃ میں محسوب ہوگا یا نہیں؟

الجواب  :

اگر وُہ کپڑا ہنوز موجود ہے تو نہ وُہ صدقہ میں محسوب ہوگا، نہ زکوٰۃ میں، نہ اس کی معافی ہوگیفان الابراء عن الاعیان باطل(کیونکہ اعیان سے بری کرنا باطل ہے ۔ ت)ہاں اگر اسے ہبہ کردیاتو ہبہ ہوجائیگا ،اور اگر ہبہ کرنے سے زکوٰۃ یا صدقہ کی نیّت کی اور وُہ شخص اس کا مصرف ہو تو زکوٰۃ و صدقہ ادا ہوجائیں گے، اور اگر وُہ کپڑا اُس نے تلف کر دیا یہاں تک کہ اُس کا اُس پر تاوان لازم آیا اور اُس نے وہ تاوان معاف کر دیا تو معافی صحیح ہے اور نیت محمود ہو تو اجر پائے گا اور یہ خود ایک صدقہ نفل ہے مگر اس میں زکوٰۃ کی نیت صحیح نہیں، ہاں اس سے اتنے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی جتنا تاوان اس پر واجب تھا مگر یہ اُس کے دیگر اموال کی زکوٰۃ ہوسکے یہ نہ ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔