سونےچاندی کے زیور و نقد کی تین سال کی زکوۃ کا حساب
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/11/4

New Page 1

مسئلہ ۱۸: از شہربریلی محلہ ملوکپور مولوی شفاعت اﷲصاحب طالب علم مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ۳ ربیع الآخر ۱۳۳۱ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعی متین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ ہندہ عرصہ تین سال سے زیور طلائی و نقرئی کی حسبِ تفصیل ذیل اور نقد روپے کی عرصہ تین سال سے مالک ہے ،اس کے علاوہ اثاث البیت ضروری خرچ کا بھی رکھتی  ہےاور روپیہ مذکور میں سے چار روپے ماہوار عرصہ تین سال سے متواتر خرچ ہوتا رہا ہے اب مسماۃ مذکورہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہے کس طرح سے ادا کرے، بیان فرمائے، زیور طلائی ۴ تولے ۱۰ ماشے ۳ سُرخ ، زیور نقرئی (مععہ) نقد روپیہ( صما مہ)۔

الجواب : بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زیور ہر سال اتنا ہی رہا کم و بیش نہ ہُوا تو ہر سال جو سونے کا نرخ تھا اُس سے ۴ تولے ۶ ماشے ۳ سرخ کی قیمت لگا کر  زیور نقرہ کے وزن میں شامل کی جائے گی اور ہر ساڑھے باون تولے چاندی پراس کا چالیسواں حصّہ ، پھر ہر ساڑھے دس تولے چاندی پر اس کاچالیسواں حصہ واجب آئے گا ، اخیر میں جو ساڑھے دس تولے چاندی سے کم بچے معاف رہے گی، ہر دوسرے سال اگلے بر سوں کی جتنی زکوٰۃ واجب ہوتی آئی مال موجود میں سے اتناکم ہو کر باقی پر زکوٰۃ آئے گی، تین سال سے یہ نقد روپیہ بھی بدستور حساب میں شامل کیا جائیگا اور ہر دوسرے سال جتنے روپے خرچ ہوگئے کم کرلئے جائیں گے، یُوں تین سال کا مجموعی حساب کرکے جس قدر زکوٰۃ فرض نکلی سب فوراًفوراًادا کردینی ہو گی اور اب تک جوادا میں تاخیر کی  بہت زاری کے ساتھ اُس سے توبہ فرض ہے اور آئندہ ہر سال تمام پر فوراًادا کی جائے ۔ یہ اگلے تین برسوں میں اس کے سال تمام ہونے کے دن سونے کا بھاؤدریافت کرنے میں وقت ہو تواحتیاطاً زیادہ سے زیادہ نرخ لگالے کہ زکوٰۃ کچھ رَہ نہ جائے، واﷲتعالیٰ اعلم۔