مکمل نصاب کی کیا تفصیل ہے
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/11/4

New Page 1

مسئلہ ۱۹: از درؤ ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲصاحب دکاندار ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ پُورا نصاب کتنا ہوتا ہے جیساکہ علمی خطبہ کے اندر تحریر کرچکے ہیں وُہ ٹھیک ہے اُن کا قول یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے سونا ہو یا ساڑھے باون تولے چاندی ہو ، دونوں میں سے ایک چیز ہو وُہ اہلِ زکوٰۃ اہلِ نصاب ہوگیا علمائے دین کو غورکرناچاہئے کہ ساڑھے باون تولے چاندی ہے اور گھر میں چار چھ آدمی کھانے والے اور خرچ کرنے والے ہیں تو وُہ شخص اہلِ نصاب اہلِ زکوٰۃ ہوگیا ، دوسری گزارش یہ ہے کہ مالا بد منہ میں لکھا ہوا ہے کہ کارروائی سے زیادہ ہو سال بھر اُس پر گزر جائے ، یعنی حاجت سے زائد ہو تو جس قدر ایک شخص کے پاس پچاس روپے کا کپڑا تجارت کا ہے اور اس سے اس کی اوقات بسری ہوتی ہے ساٹھ روپیہ کا زیور ہر وقت کے پہننے کا ہے اور اسیؔ روپے اس کے پاس نقد ہیں اور گھر میں کھانے کو کل ایک مہینے کا ہے اور پچانوے روپے مہر عورت کا ہے یعنی قرضدار ہے وہ مال نصاب کا ہوگیا یا نہیں، حضور!ہم لوگوں کا آپ پر یقین کامل ہے جب تک کوئی حکم حضور کے یہاں سے نہ ملے گا ہم کچھ نہیں کرسکتے اور ایک تحریر پیشترحضور کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اس کا کوئی جواب نہیں ملا، حضور کو غور کرنا چاہئے ، یہاں پر حضور مولوی کبھی کچھ فرماتے ہیں کبھی کچھ۔ شرع کے اندر رخنہ  بازی ہے ہم لوگوں کا یقین آپ پر ہے آپ جیسا لکھیں گے ویسا ہم مانیں گے آپ کے خلاف نہیں کرسکتے ، ایک مسئلہ کو چارجگہ دریافت کر و علیحدہ علیحدہ راہ ہوگی اس کی کیا وجہ ہے ، رائے کا اتفاق کیوں نہیں ہے ہم لوگوں کو بہت پریشانی ہوتی ہے کوئی مطلب ٹھیک نہیں ہم لوگوں پر عنایت فرمائیے اور دلی مراد پوری کیجئے۔

الجواب : فی الواقع سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے  اور چاندی کا ساڑھے باون تولے ہے ان میں سے جو اُس کے پاس ہو اور سال پُورا اس پر گزر جائے اور کھانے پہننے مکان وغیرہ ضروریات سے بچے اور قرض اسے نصاب سے کم نہ کردے تواُس پر زکوٰۃ فرض ہے اگر چہ پہننے کا زیور ہو زیور پہننا کوئی حاجت اصلیہ نہیں، گھر میں جو آدمی کھانے والے ہوں اس کا لحاظ شریعت  مطہرہ نے پہلے ہی فرمالیا،سال بھر کے کھانے پینے پہننے تمام مصارف سے جو بچا اور سال بھر رہا اُسی کا تو چالیسواں حصّہ فرض ہوا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ تمھیں آخرت میں بھی عذاب سے نجات ملے جس سے آدمی تمام جہان دے کر چھوٹنے کو غنیمت سمجھے اور دُنیا میں تمھارے مال میں ترقی ہو برکت ہو یہ خیال کرنا کہ زکوٰۃ سے مال گھٹے گا نِراضعفِ ایمان ہے۔ مولیٰ تعالیٰ قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے کہ وُہ زکوٰۃ کو ترقی و افزونی دیتا رہے جسے وہ بڑھائے وہ کیونکر گھٹ سکتا ہے، یہ خیال کہ اس وقت سوروپیہ سے ڈھائی روپے حکم ماننے میں اُٹھادیں گے تو آئندہ بال بچّے کیا کھائیں گے، محض شیطانی وسوسہ ہے۔ زکوٰۃ سے اگر برکت بھی ملتی تو ڈھائی روپیہ سَو میں سے کم ہو جاتا رزق نہ چھینتا ، آئندہ سال اگر مال بڑھ گیا کہ سال بھر کا بال بچّوں سب کا خرچ ہُوا وُہ روپیہ بدستور رکھے رہے جب تو اس وسوسہ کا جھوٹ ہونا علانیہ ظاہر ہوجائے گا اور اگر اُن میں سے کھانے پینے کی حاجت پڑی یہاں تک کہ نصاب سے کم رہ گیا تو اب آپ سے کوئی زکوٰۃ نہ مانگے گا مگر بال بچّوں کی فکر اگلے سال کے لیے کیا ہوگی ، وُہ جو جمع تھے کھانے پینے میں اٹھ گئے اور اب زکوٰۃ بھی نہیں جس کے سر الزام دھرو، آگے کیونکر جیو گے، ایسی کمزوریاں شیطان سکھاتا ہے، عورت کا مہر جس کا مطالبہ بعد موت یا طلاق ہوتا ہے اور عمر بھر ادا کا خیال تک نہیں آتا اُسے زکوٰۃ نہ دینے کا حیلہ نہ بنانا چاہئے۔ وھو تعالیٰ اعلم۔