شوہر کے کہنے کے باوجود بیوی زیور کی زکوۃ نہ دے تو؟
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/11/4

New Page 1

مسئلہ۲۱: از مفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاک خانہ ایکہگر سرائے مرسلہ محمد نواب صا حب قادری و دیگر سکانِ مفتی گنج ۲۷ رمضان شریف ۱۳۱۸ھ

زید کی بیوی ہندہ صاحبِ نصاب ہے اور مال ازقسم زیورات ہے جو خاص ہندہ کی ملکیت ہے یعنی وُہ اپنے میکے سے لائی ہے زید اس کو ہدایت ادائے زکوٰۃ کی کرتا ہے مگر اس کی سمع قبول میں نہیں آتی ہے تویہ فرمائیے کہ شوہر سے اُس کے عصیاں پر مواخذہ ہے یا نہیں اور اس کی طرف سے درانحالیکہ اس کی آمدنی وجہ کفاف سے بیش نہیں ،ادائے زکوٰۃ کا مکلّف شرعاً ہو سکتا ہے یا نہیں اور اُس عورت پر زجر اور فہمائش کی ضرورت ہو تو کس حد تک، اور اگر زید نے اپنے روپیہ سے کچھ زیور بنواکر ہندہ کو دیا ہو تو اس زیور پر کیا حکم ہے؟

الجواب : زیور کہ ملکِ زن ہے اس کی زکوٰۃ ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگر چہ اموالِ کثیرہ رکھتا ہو، نہ اس کے دینے کا اس پر کچھ وباللاتزروازرۃ وزرا خری ۱؎ (کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگی۔ ت)

 (۱؎ القرآن ۶ /۱۶۴)

اس پر تفہیم و ہدایت اور بقدر مناسب تنبیہ و تاکید(جس کی حالت اختلاف حالات مرد وزن سے مختلف ہوتی ہے ) لازم ہےقواانفسکم و اھلیکم نارا ۱؎ (اپنے آپ اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔ ت)

 (۱؎ القرآن ۶۶ /۶)

اور وُہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی مِلک کردیا اُس پر بھی یہی حکم ہے، اور اگر مِلک نہ کیا بلکہ اپنی ہی مِلک میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیاتو بیشک اس کی زکوٰۃ مرد کے ذمّہ ہے جبکہ خود دیا یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل عن الحاجۃ الاصلیہ ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔