کاروبار میں لگی رقم، نفع، ادھار پر زکوۃ کا حساب
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/11/4

New Page 1

مسئلہ ۲۲: مرسلہ عبدا لصبور صاحب سوداگر ۶ ذی الحجۃ ۱۳۲۱ھ

ایک شخص نے ایک ہزار روپے کسی روزکار میں لگائے، بعد سال ختم ہو نے کے اُس کے پاس مال دوسو۲۰۰ روپیہ کا رہا اور قرض میں پانچ سو روپیہ رہااور نقد چار سو روپیہ مع منافع ایک سو رہا، آیا کُل گیارہ سو روپیہ کی زکوٰۃ نکا لی جائے یا کس قدرکی؟

الجواب: سالِ تمام پرکُل گیارہ سو کی زکوٰۃ واجب ہے مگر چار سو نقداور دو سو کا مال ، ان کی زکوٰۃ فی الحال واجب الادا ہے اور پانچسو کہ قرض میں پھیلا ہُوا ہے جب اس میں سے بقدر گیارہ روپےتین آنے ۲-۲/۵ پائی کے وصول ہوتا جائے اُس کا چالیسواں حصّہ ادا کرتا ہے اور اگر فی الحال سب کی زکوٰۃ دے دے تو آئندہ کے با ربار محاسبہ سے نجات ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔