زکوۃ کن کن اشیاء پر واجب ہے؟
Category : Zakat / زکٰوۃ
Published by Admin2 on 2014/11/4

New Page 1

مسئلہ ۲۸/۳۱ : ازشہر ملوک پور  مرسلہ جناب سید محمد علی صا حب نائب ناظر فرید پور ۳۰رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :(۱)زکوٰۃ زیور طلائی و نقرئی پر کس حساب سے دی جائے، آیا قیمتِ خرید پر یا جو قیمت اس کی خرید کرنے سے ملتی ہے؟(۲) زرِ نقدپر زکوٰۃ ۸  سیکڑہ ہے یا اس سے کم و بیش؟

(۳)زکوٰۃ کن کن اشیاء پر واجب ہے ؟(۴)صدقہ فطر و زکوٰۃ والدین کی جانب سے اولاد اور اولاد کی جانب سے والدین جبکہ خور دونوش یک جا ہو دے سکتے ہیں؟

الجواب :(۱) سال تمام پر بازار کے بھاؤسے جو قیمت ہو اس کا لحاظ ہوگا، اگر مختلف جنس سے زکوٰۃ دینا چاہیں مثلاًسونے کی زکوٰۃ میں چاندی ،ورنہ سونے چاندی کی خود اپنی جنس سے زکوٰۃ دیں تو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا کچھ لحاظ نہیں۔ (۲)صاحبین کا یہی مذہب ہے اور اس میں فقیر کا نفع زیادہ ہے اور دینے والے کو بھی حساب کی آسانی ہے۔

(۳)سونا چاندی اور مالِ تجارت اور چرائی پر چھوٹے ہوئے جانور۔ (۴)خورد و نوش یکجا ہو یا ان میں دوسرے کی طرف سے کوئی فرض وواجب مالی ادا کرنے کے لیے اس کی اجازت کی حاجت ہے،اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اس کی زکوٰۃ ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کردی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہُوئی تو ادا نہ ہوگیواﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔