حوض دہ در دہ کے متفرق احکام
Category : Wudhu / Ablution / وضو
Published by Admin2 on 2012/4/23

New Page 1

مسئلہ ۱۲۶ : از پوربندرکاٹھ یا وار میٹھی مسجد مرسلہ سید غلام محمد صاحب۱۱۔شوال ۱۳۳۷ھ

امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولٰنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقائہم۔

بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایک  حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھّر لگانے سے مُنہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پُورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے،اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔بینوا توجروا۔

الجواب: وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ،

اگر پانی پتھّر سے نےچا ہے تو وہ دہ در دہ ہے نجاست سے بھی ناپاک نہ ہوگا جب تک اُس سے مزہ  یا رنگ  یا بُو نہ بدلے اور پانی اُس حد سے اونچا ہوکر پتھّر سے گھر جائے اور پتھر کے بےچ میں مساحت دہ در دہ سے کم ہے تو اب دہ در دہ نہ رہا ایک  خفیف قطرہ نجاست سے ساری سطح ناپاک ہوجائے گی ہاں وضو کےلئے ہاتھ ڈال کر پانی لینے سے مستعمل نہ ہوگا بے وضو پاؤں ڈال دینے سے مستعمل ہوجائےگا قابلِ وضو نہ رہے گا وضو کا مستعمل پانی اُس میں گرنے سے مستعمل نہ ہوگا جب تک مستعمل  غیر مستعمل سے ز یادہ  یا مساوی نہ ہوجائے اس کے پاک کردینے کو یہ کافی ہے کہ اوپر کا حصّہ پانی کا نکال دیں یہاں تک کہ صرف پتھر کے نےچے نےچے پانی رہ جائے جہاں سے دہ در دہ ہے وہ سب پاک ہے واللہ تعالٰی اعلم۔