دوران نماز حیض آئے تو اس نماز کی قضا ہے یا نہیں؟
Category : Women / خواتین
Published by Admin2 on 2012/4/24

New Page 1

مسئلہ ۱۴۲: از وطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب    ۲۔رمضان المبارک۱۳۱۰ھ

ماقولکم رحمکم اللہ تعالٰی ہٰذہ المسئلۃ دروسالہ طہارت کبرٰی نوشۃ است نونے نماز میگزاردہم دراثنائے صلاۃ حائضہ شد نماز قطع کندپس اگر نماز فرض بود بعد طہارت قضایش واجب نبود واگر نفل بود قضا واجب آید۔ بینوا توجروا۔

اللہ تعالٰی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے، اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے، رسالہ ''طہارتِ کبرٰی'' میں لکھا ہے: ''کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اور نماز کے دوران اسے حیض آجائے تو وہ نماز توڑدے پھر اگر وہ فرض نماز ہے تو حصولِ طہارت کے بعد اس کی قضا واجب نہ ہوگی اور اگر نفل نماز ہو تو واجب ہوگی۔ بیان کریں اجر پائیں۔ (ت)

الجواب:  دریں رسالہ اگرچہ بس یار جاخطا سرزدہ اماایں مسئلہ درست نوشتہ است فمثلہ فی البحر والدر و غیرہما من الاسفار الغرّ وجہش انچہ کہ ایں وقت بخیال میرسد آنست کہ نماز اگرچہ نفل باشد بشروع واجب گردد واگرقبل ازاتمام فسادےرونماید قضا لازم آید اما ایں حکم حکم شروع قصدی ست پس اگر کسے مثلاً نماز ظہر گزرا دہ فراموش کردوباز عقدش بربست پیش ازفراغ بیادش آمد ہمچناں بشکست قضا بردلازم نیست کہ ایں شروع بربنائے ظن غلط بودہمچناں چوں زن راحیض رسید پیداشد کہ نمازایں وقت برو واجب نبود وظن وجابے کہ بربنایش آغاز کردہ بود غلط برآمد ز یراکہ نزد مااعتبار مراآخر وقت راست کمانصوا علیہ پس قضا لازم نیا یدبخلاف نفل کہ شروع دروے نہ بظن وجوب بودونہ عروض حیض درآخر وقت مانع تنفل در اول ست پس شروع دروے صحیح بودچوں فاسد شدقضا واجب آمد۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

اس رسالے میں اگرچہ بہت جگہ غلطی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ صحیح لکھا گیا ہے اسی کی مثل البحرالرائق، درمختار اور ان کے علاوہ عمدہ کتب میں منقول ہے،اس کا سبب جو اس وقت خیال میں آرہا ہے یہ ہے کہ نماز اگرچہ نفل ہو شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اگر تکمیل سے پہلے کوئی فساد ظاہر ہو تو قضا لازم ہوگی لیکن یہ حکم اس نماز کا ہے جسے قصداً شروع کیا ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص نمازِ ظہر اداکرکے بھُول گیا ہو پھر اس کی نیت کرلی لیکن فارغ ہونے سے پہلے  یاد آگیا اور اسی حالت میں نماز توڑدی تو اس پر قضا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ شروع کرنا غلط گمان کی بنیاد پر تھا۔ اسی طرح جب عورت کو حیض آ یا تو اس وقت کی نماز اس پر فرض نہ تھی اس نے فرض خیال کرتے ہوئے شروع کردی تھی تو یہ خیال غلط ثابت ہوا کیونکہ ہمارے نزدیک  آخر وقت کا اعتبار ہے جیسے فقہاءِ کرام نے بیان فرما یا لہذا قضا لازم نہیں ہوگی بخلاف نفل کے کہ وہ نہ تو واجب سمجھ کر شروع کئے اور نہ ہی آخر وقت میں حیض کا شروع نفل پڑھنے سے مانع ہے لہذا نوافل کا شروع کرنا صحیح تھا جب فاسد ہوگئے تو قضا واجب ہوگئی۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم سب سے ز یادہ مکمل اور مستحکم ہے۔