عورت حالت حیض و نفاس میں مراقبہ کرسکتی ہے یا نہیں
Category : Women / خواتین
Published by Admin2 on 2012/4/24

New Page 1

مسئلہ ۱۴۴ از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب    ۲۔شوال ۱۳۱۴ھ۔

عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے  یا نہیں اور اسی حالت میں بیٹھ کر مرشد سے توجہ لے سکتی ہے  یا نہیں؟ بحوالہ کتاب مع عبارت ارقام فرمائیں۔

الجواب: ہاں اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں:کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یذکر اللّٰہ علٰی کل احیانہ ۱؎ رواہ الامام احمد ومسلم وابوداو،د والترمذی وابن ماجۃ۔''رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر فرماتے تھے''۔ اس (حدیث) کو امام احمد، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔ (ت)

 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب فی الرجل یذکر اللہ علٰی  غیر طہور    مطبع مجتبائی پاکستان    ۱/۴)

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان المؤمن لاینجس ۲؎ رواہ الستۃ عن ابی ھر یرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔

''مومن ناپاک نہیں ہوتا'' اسے چھ ائمہ حدیث (اصحابِ صحاح ستّہ) نے حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)

(۲؎ جامع ترمذی ، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب ،طبع مجتبائی پاکستان    ۱/۱۷)

دُرمختار میں ہے:لاباس لحائض وجنب بقراء ۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔حائضہ اور جنبی کے لئے دُعاؤں کے پڑھنے، انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

 (۳؎ درمختار،  باب الحیض، مطبع مجتبائی پاکستان    ۱/۵۱)