عورت سے ران یا پیٹ وغیرہ پر فراغت حاصل کرنا کیسا؟
Category : Women / خواتین
Published by Admin2 on 2012/4/24

New Page 1

سوال دوم: ا یامِ حیض میں اپنی عورت سے ران  یا پیٹ پر  یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا جائز ہے  یا نہیں۔ بینواتوجروا۔

الجواب: پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض ونفاس میں ز یر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تک کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔

فی الدرالمختار یمنع حل قربان ماتحت ازار یعنی مابین سرۃ ورکبۃ ولوبلاشھوۃ وحل ماعداہ مطلقا ۱؎ اھدُرمختار میں ہے: ''ازار کے نیچے یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا قُرب جائز نہیں اگرچہ بلاشہوت ہو اور اس کے علاوہ مطلقاً جائز ہے۔ اھ'' ۔

(۱؎ درمختار    باب الحیض   مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۱)

وفی ردالمحتار نقل فی الحقائق عن التحفۃ والخانیۃ یجتنب الرجل من الحائض ماتحت الازار عند الامام وقال محمد الجماع فقط ثم اختلفوا فی تفسیر قول الامام قیل لایباح الاستمتاع من النظر و غیرہ بمادون السرۃ الی الرکبۃ ویباح ماورائہ وقیل یباح مع الازار اھ ولایخفی ان الاول صریح فی عدم حل النظر الی ماتحت الازار والثانی قریب منہ ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اور ردالمحتار میں ہے: ''حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ ''امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک  مرد کو حائضہ عورت کی ازار کے نیچے سے اجتناب کرنا چاہئے''۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ''فقط جماع سے پرہیز کرے''۔ پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک دیکھنے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرنا بھی جائز نہیں اس کے ماسوا جائز ہے۔ اور ایک  قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (انتہی) مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے (جسم) کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد گنجائش نہیں اس کی طرف رجوع ہوتا ہے (انتہی) (یعنی قیاس نہیں کیا جاتا) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۲؎ ردالمحتار    باب الحیض    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۱۴)