شرعی معذور کے احکام
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/4/25

New Page 1

مسئلہ ۱۵۶: از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب    ۷۔جمادی الاولٰی ۱۳۱۳ھ

ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلٰوۃ بذلک الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناک فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی فی غدان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

 

اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں رُوئی رکھے بغیر ایک نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاک رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصاً جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخِ ذَکر میں رُوئی رکھنے میں کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے قرآن وسنّت اور اقوالِ سلف سے اس طرح تفصیل سے بیان فرمائیں کہ مزید گنجائش نہ رہے اور کل (بروز قیامت) اللہ سبحانہ، وتعالٰی کی طرف سے عظیم ثواب کے مستحق ہوں، اِن شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)

الجواب: الحمدللّٰہ وحدہ اذاکان احتشاؤہ یردمابہ کماوصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ قال فی الدر یجب ردعزرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ ولوبصلاتہ مؤمنا وبردہ لایبقی ذاعذر ۱؎ اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ والمسألہ ظاھرۃ وفی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ ولیسفلہ ولیربط العضو الی فوق ۔

تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو یکتا ہے۔ اگر رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایک کی امامت کراسکتا ہے اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ دُرمختار میں ہے:''حسبِ طاقت عذر کو دُور کرنا یا کم کرنا واجب ہے اگرچہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذریعے وہ اور اس کو دُور کرنے کے بعد وہ معذور نہیں رہے گا اھ البحرالرائق وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زادِ راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں رُوئی کا اضافہ  کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے رُوئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اور اوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔

 (۱؎ درمختار    فروع من باب الحیض    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۳)

وذکر العلامۃ الشامی فی ردالمحتار ان من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحوورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثرالرطوبۃ التی یحاف خروجھا وینبغی ان یغیب فی المحل لئلا تذھب الرطوبۃ الی طرفھا الخارج وللخروج من خلاف الشافعی وقدجرب ذلک فوجد انفع من ربط المحل لکن الربط اولٰی اذاکان صائما لئلا ےیفسد صومہ علی قول الامام الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اعلم اھ ۱؎۔

علّامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جَو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتّا وغیرہ بٹ کراسیعضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے وہ رطوبت کے باقیماندہ اثر کو جس کے نکلنے کا ڈر ہے جذب کرلے گا اور چاہے کہ اسے اندر غائب کردے تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک کے خلاف عمل کرنے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کا متعدد بار تجربہ کیا گیا اور اسے باندھنے سے زیادہ نافع پایا لیکن جب روزہ دار ہو تو باندھنا زیادہ بہتر ہے تاکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول پر (بھی) اس کا روزہ نہ ٹوٹے اھ

 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجائ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۳)

اقول:  لکن مجرد الربط لایسد الخلۃ لصاحب السلس فھویجب علیہ الاحتشاء کماذکرنا ولامراعاۃ للخلاف فی اتیان الواجبات وعندی احسن من وضع المفتول ان یأخذو رقۃ لھاصلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھندی فیطویہ طیا ویحتشی بہ بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسد المجری فان خشی الخروج ربط المحل الٰی فوق کماوصفنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اقول :(میں کہتا ہوں) سلسل البول والے کیلئے محض باندھنا سوراخ کو بند نہیں کرتا اس میں (رُوئی وغیرہ) داخل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور واجب کی ادائیگی میں اختلاف (سے بچنے) کی رعایت نہیں کی جاتی اور میرے نزدیک بٹی ہوئی چیز رکھنا نہایت اچھّا ہے وہ یوں کہ ایک پتّا جو سخت ہونے کے ساتھ کچھ نرم بھی ہو، جیسے ہندی کھجور کا پتّا ہوتا ہے، لیا جائے اور خوب لپیٹ کر سوراخ میں اس طرح داخل کرے کہ اس کا درمیانی حصّہ داخل ہوجائے اور کنارے آلہ تناسل کے کنارے کے پاس رہ جائیں۔ جریان کو بند کرنے کیلئے یہ طریقہ نہایت نافع اور زیادہ مناسب ہے اگر نکلنے کا ڈر ہو تو اُوپر سے اس جگہ کو باندھ دے، جیسا کہ ہم نے طریقہ بیان کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)