چوہا راب کے گھڑے میں گر جائے تو؟
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/4/28

New Page 1

مسئلہ ۱۶۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چُوہا راب کے گھڑے میں گر کر مر گیا پھُولا پھٹانہ تھا نکال دیا۔ یہ راب پاک یاناپاک، اور طریقہ تطہیر کیا ہے۔ بینوّوا توجّروا۔

الجواب: اگر وہ راب جمی ہوئی ہے جب تو چوہے کی گرد کی تھوڑی راب نکال دیں باقی سب پاک ہے۔

فقدعُدَّ فی الدرالمختار وغیرہ التقویر من المطھرات ۳؎ ۔دُرمختار وغیرہ میں کُھرچ کر نکالنے کو پاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔

  ( ۳؎ درمختار باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۴)

قال العلامۃ الشامی ای تقویر نحو سمن جامد من جوانب النجاسۃ وخرج بالجامد المائع وھو ماینضم بعضہ الی بعض فانہ ینجس کلہ مالم یبلغ القدر الکثیر اھ فتح ۴؎ اھ ملخصا۔علامہ شامی نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست کے اطراف میں جما ہوا (مثلاً) گھی کھُرچنا، لفظ ''جامد'' سے مائع نکل گیا یعنی جو ایک دوسرے سے ملا ہوا ہو وہ تمام کا تمام ناپاک ہے جب تک کثیر کی حد کو نہ پہنچے اھ فتح القدیر، انتہی (خلاصہ)۔ (ت)

 (۴؎ ردالمحتار    باب الانجاس   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۱)

اور اگر پتلی تھی تو سب ناپاک ہوگئی اور اس کے پاک کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ جس قدر راب ہواُتنا ہی پانی اُس میں ملاکر جوش دیں یہاں تک کہ پانی جل جائے، تین بار ایسا ہی کریں مگر اس میں وقت ہے اور عجب نہیں کہ راب خراب ہوجائے۔

قال العلامۃ خسروفی الدرر لوتنجس العسل فتطھیرہ ان یصب فیہ ماء بقدرہ فیغلی حتی یعود الی مکانہ ھکذا ثلث مرات ۱؎ اھ ملخصا۔  ( ۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام    باب تطہیر الانجاس        مطبوعہ دار السعادۃ بیروت    ۱/۴۵)

[pagebreak]

علامہ خسرو نے الدرر میں فرمایا: اگر شہد ناپاک ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں اتنا ہی پانی ڈال کر جوش دیا جائے یہاں تک کہ صرف شہد رہ جائے تین بار اسی طرح کیا جائے (انتہی) تلخیص۔

وفی ردالمحتار عن شرح الشیخ اسمٰعیل عن جامع الفتاوی ھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی ۲؎ اھ۔اور ردالمحتار میں شرح شیخ اسمٰعیل سے ہے انہوں نے جامع الفتاوٰی سے نقل کیا کہ یہ حضرت امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے امام محمد رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے، لیکن اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اھ (ت)

 (۲؎ ردالمحتار، مطلب فی تطہیر الدھن والعسل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۴۵)

اور تحقیق یہ ہے کہ پانی ملاکر جوش دینا کچھ شرط نہیں اصل مقصود یہ ہے کہ پانی کے اجزاء اس شَے کے اجزا سے خوب خلط ہوکر پانی تین بار جُدا ہوجائے یہ بات اگر صرف پانی ملاکر حرکت دینے سے حاصل ہوجائے کافی ہے۔

کماصرح بہ فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری وحققہ العلامۃ الخیر الرملی فی فتاواہ وایدہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار فراجعہ۔جیسا کہ مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی ہے، علّامہ رملی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق فرمائی اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں اس کی تائید کی ہے پس اس کی طرف رجوع کرو۔ (ت)

دُوسرا طریقہ سہل وعمدہ یہ ہے کہ اُس میں ویسی ہی پتلی راب ڈالتے رہیں یہاں تک کہ بھر کر ابلنا شروع ہو اور اُبل کر ہاتھ دو ہاتھ بہہ جائے سارا گھڑا پاک ہوجائے گا یا دُوسرے گھڑے میں پاک راب لیں اور دونوں کو بلندی پر رکھیں نیچے خالی دیگچہ رکھ لیں اُوپر سے دونوں گھڑوں کی دھاریں ملاکر چھوڑیں کہ ہوا میں دونوں مل کر ایک دھار ہوکر دیگچہ میں پہنچیں ساری راب پاک ہوجائے گی،یوں راب ضائع بھی نہ ہوجائے گی مگر اس میں احتیاط یہ ہے کہ ناپاک راب کی کوئی بُوند دیگچہ میں پاک راب سے نہ پہلے پہنچے نہ بعد، ورنہ وہ پاک بھی ناپاک ہوجائیگی لہذا بہتر یوں ہے کہ پاک کی دھار پہلے چھوڑیں بعدہ، اس میں ناپاک کی دھار ملائیں اور ناپاک کا ہاتھ پہلے روک لیں بعدہ، پاک کا ہاتھ روکیں اس میں اگر ناپاک راب گھڑے میں باقی رہ جائے اور پاک ختم ہوجائے دوبارہ پاک گھڑے میں دیگچہ سے بھر لیں اور باقیماندہ کے ساتھ جاری کردیں کہ دیگچہ میں جتنی پہنچ چکی ہے پاک ہوئی ہے اور یہ طریقے کچھ راب ہی سے خاص نہیں ہر بہتی چیز اپنی جنس سے ملاکر یونہی پاک کرسکتے ہیں دودھ سے دودھ، تیل سے تیل، سرکہ سے سرکہ، رس سے رس وعلٰی ہذا القیاس۔

فی القھستانی المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی واما بالخلط مع الماء ۱؎ الخ۔قہستانی میں ہے مائع، جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کی جنس سے ملاکر دھار چھوڑنے سے پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے، تمرتاشی میں ایسے ہی ہے، اوریا پانی کے ساتھ ملاکر پاک کیا جائے الخ۔ (ت)

اس مسئلہ کی تحقیق تام ردالمحتار میں ہے۔ من شاء فلیرجع الیہ ۲؎ (جو تحقیق حاصل کرنا چاہے وہ ردالمحتار کی طرف رجوع کرے الخ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

 (۱؎ جامع الرموز    فصل یطہر الشیئ الخ    مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۹۵)

(۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ   مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۱۲۴)