عیسائی کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی شیرینی کا حکم
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/9

New Page 1

مسئلہ ۱۸۳: از نینی تال متصل سوکھاتال مرسلہ حافظ محمد ابراہیم خان محرر پیشی ڈائریکٹر کرنیل میجر ریاست گوالیار ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ

حضرت محذومی دامت برکاتہم بعد آداب خادمانہ التماس خدمت اطہر کہ مسئلہ مندرجہ ذیل سے جلد غلام کو سرفراز فرمائیں، عیسائی کے ہاتھ کی چھُوئی ہوئی شیرینی قابلِ استعمال ہے یا نہیں۔ مثلاً زید عیسائی ہے اور بکر مسلمان ہے زید نے بازار سے مٹھائی لی اور بکر کو قبل اپنے کھانے کے احتیاط کے ساتھ دے دی تو بکر استعمال کرسکتا ہے یا نہیں۔ بکر مسلمان اپنے یہاں سے کتھّا چُونا زید کو دے دیتا ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو بکر اپنے یہاں سے پانی وغیرہ اُس کتھے چُونے میں ڈال دیتا ہے اور اپنے ہی یہاں کے پانی سے بکر پان وغیرہ بھگودیتا ہے بلکہ زید خود احتیاط رکھتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو پانی بکر کے یہاں سے اُس میں استعمال کے واسطے منگوالیتا ہے اس حالت میں بکر پان زید کے ہاتھ کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب : نصارٰی کے مذہب میں خونِ حیض کے سوا شراب پیشاب پاخانہ غرض کوئی بلااصلا ناپاک نہیں وہ ان چیزوں سے بچنے پر ہنستے اور اپنی ساختہ تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں تو اُن کا ظاہر حال نجاست سے متلوث ہی رہتا ہے۔

امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:یتعین علی من لہ امران یقیم من الاسواق من یشتغل بھذا السبب (یرید بیع الاشربۃ الدوائیۃ کشراب العناب وشراب البنفسج وغیر ذلک) من اھل الکتاب لان النصاری عندھم ابوالھم طاھرۃ ولایتدینون بترک نجاسۃ الادم الحیض فقط فالشراب الماخوذ من النصاری الغالب علیہ انہ متنجس ۱؎۔صاحبِ اختیار کا فرض ہے کہ وہ ان اہل کتاب کو بازاروں سے اٹھادے جو اس کام میں مشغول ہیں (یعنی دوائیوں پر مبنی مشروبات جیسے عناب اور بنفشہ وغیرہ کا شربت بیچتے ہیں) کیونکہ عیسائی اپنے پیشاب کو پاک سمجھتے ہیں اور وہ خونِ حیض کے علاوہ کسی نجاست کو چھوڑنے کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ لہذا عیسائیوں سے حاصل کردہ مشروب غالب گمان کے مطابق ناپاک ہوتا ہے۔ (ت)

 (۱؎ المدخل    فصل فی ذکر الشراب الذی یستعملہ المریض    مطبعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت    ۴/۱۵۴)

استفسارات رد نصارٰی کے سترھویں استفسار میں ہے مسلمان لوگ بَول وبراز اور خُون سے آلُودہ رہنے کو عقلاً بھی نامستحسن جانتے ہیں اور عیسائی لوگ اس بات پر اُنہیں ہنسا کرتے ہیں تو ان کی چھوئی ہُوئی تر چیزوں کا استعمال شرعاً مطلقاً مکروہ ناپسند جیسے بھیگے ہوئے پان اگرچہ مسلمان ہی کے پانی سے بھیگے ہوںکماحققنا ذلک فی کتابنا الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر(جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب ''الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر'' میں تحقیق سے بیان کیا ہے۔ ت) اور اس کے سوا یہاں ایک دقیقہ انیقہ اور ہے جو اس کراہت کو تر وخشک دونوں کو شامل اور اشد وکامل کرتا ہے شرع مطہر میں جس طرح گناہ سے بچنا فرض ہے یونہی مواضع تہمت سے احتراز ضرور ہے اور بلاوجہ شرعی اپنے اوپر دروازہ طعن کھولنا ناجائز اور مسلمانوں کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنے کے اسباب کا ارتکاب ممنوع اور انہیں اپنے سے نفرت دلانا قبیح وشنیع۔ احادیث واقوالِ ائمہ دین سے اس پر صدہا دلائل ہیںوقد ذکرنا بعضھا فی کتاب الحظر من فتاوٰنا وفی غیرہ من تصانیفنا منھا الحدیث الصحیح بشروا ولاتنفروا ۲؎ (ہم اپنے فتاوٰی کی ''کتاب الحظر'' اور دوسری تصانیف میں اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے اس سے ایک صحیح حدیث یہ ہے: خوشخبری دو متنفر نہ کرو۔

 (۲؎ صحیح البخاری    باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۱۶)

وحدیث ایاک ومایعتذرمنہ ۱؎ (جس بات سے عذر پیش کرنا پڑے اس سے بچو۔ ت)

 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین    بیان ذم الحرص والطمع    مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان    ۸/۱۶۰)

وحدیث ایاک ومایسوء الاذن ۲؎ (جو بات کان کو اچھی نہ لگے اس سے بچو۔ ت)

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث ابو الفادیہؓ     مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان    ۴/۸۶)

(مجمع الزوائد    باب فیما یجنب من الکلام مطبوعہ دارالکتاب بیروت لبنان    ۸/۹۵)

وحدیث من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الاٰخر فلایقفن مواقف التھم الی غیر ذلک من النصوص ۳؎ (جو شخص اللہ تعالٰی اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمتوں کی جگہ پر کھڑا نہ ہوا اسکے علاوہ دیگر نصوص ہیں،

 (۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراک الفریضہ مطبوعہ  کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۴۹)

تو اپنا کھتا چونہ دینا اپنے پانی سے پان بھگونا ساری احتیاط کرنا مگر پان عیسائی کے ہاتھ کا ہونا اس میں سوا اس کے کیا نفع ہے کہ مسلمان نفرت کھائیں بدنام کریں متہم جانیں غیبت میں پڑیں اسی طرح جب اُس کے یہاں کی شیرینی ان مفاسد کا دروازہ کھولتی ہو تو اُس سے بھی احتراز شرعاً درکار واللہ تعالٰی اعلم۔