وضو کے بچے ہوئے پانی سے استنجا کرنا کیسا ہے؟
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/11

New Page 1

مسئلہ ۲۱۷ : کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے لوٹے سے وضو کیا اس میں پانی بچ رہا، اُس بچے ہوئے پانی سے چھوٹا بڑا استنجا یا وضو کرنا کیسا ہے اور اُسے پھینک دینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب: پھینک دینا تو تضیعِ مال ہے کہ شرع میں قطعاً ممنوع اور وضو کرنا بیشک جائز، مگر یہ کہ اُس میں مائے مستعمل اس قدر گرگیا ہوکر غیر مستعمل پر غالب ہوگیا۔ رہا استنجا، جواز میں تو اُس کے بھی شُبہہ نہیں، نہ کسی کتاب میں اُس کی ممانعت نظیر فقیر سے گزری۔ ہاں اس قدر ہے کہ بقیہ وضو کیلئے شرعاً عظمت واحترام ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت کہ حضور نے وضو فرماکر بقیہ آب کو کھڑے ہوکر نوش فرمایا اور ایک حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستر۷۰ مرض سے شفا ہے۔ تو وہ ان امور میں آبِ زمزم سے مشابہت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔ تنویر کے آدابِ وضو میں ہے:وان یشرب بعدہ من فضل وضوئہ مستقبل القبلۃ قائما ۱؎۔وضو کے بعد وضو کا پسماندہ (پانی) قبلہ رُخ کھڑے ہوکر پئے۔ (ت)

 (۱؎ درمختار مع تنویر الابصار  باب مستحبات الوضوء  مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۳)

درمختار میں ہے: کماء زمزم ۱؎(آبِ زمزم کی طرح۔ ت)

 (۱؎ درمختار مع التنویر ، باب مستحبات الوضوء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۲۳)

جامع ترمذی میں سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے مروی کہ انہوں نے کھڑے ہوکر بقیہ وضو پیا پھر فرمایا:احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ۲؎۔میں نے چاہا کہ تمہیں دکھادُوں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ وضو کیونکر تھا۔

 (۲؎ جامع الترمذی باب وضوء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف کان    مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۱/۸)

ردالمحتار میں ہے: ماء زمزم شفاء وکذا فضل الوضوء وفی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی ومما جربتہ انی اذااصابنی مرض اقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فحصل لی الشفاء وھذا دابی اعتماداً علی قول الصادق صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی ھذا الطب النبوی الصحیح ۳؎ اھ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔

آبِ زمزم شفا ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی۔ ہدیۃ ابن العماد کی شرح میں علّامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وضو کے بقیہ پانی سے شفا حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں پس مجھے شفا حاصل ہوجاتی ہے نبی صادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس صحیح طب نبوی میں پائے جانے والے ارشاد گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم بالصواب (ت)

 (۳؎ ردالمحتار مطلب فی مباحث الشرب قائما    مطبوعہ مجتبائی دہلی  ۱/۸۸)