بائیں ہاتھ سےمعذورکی نماز و امامت کا حکم
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/11

New Page 1

مسئلہ ۲۱۸: حاجی اللہ یار خان صاحب    ۲۲ رمضان مبارک ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصلی کے بائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگ گئی ہے کہ حرکت نہیں کرسکتا پانی سے استنجا کرنے سے معذور ہے البتہ داہنے ہاتھ سے ڈھیلوں سے صاف کرسکتا ہے ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے اور امامت اس کی جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب: دہنے ہاتھ سے استنجا اگرچہ ممنوع وگناہ ہے صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہی فرمائیکمااخرجہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (جیسا کہ امام احمد اور شیخان (امام بخاری ومسلم) رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ت) مگر جب عذر ہے تو کچھ مواخذہ نہیںفان الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔ ت) درمختارمیں ہے:کرہ تحریما بیمین ولاعذر بیسارہ ۱؎ اھ ملخصا۔بائیں ہاتھ میں کوئی عذر نہ ہو تو دائیں ہاتھ سے (استنجا) مکروہِ تحریمہ ہے اھ ملخصا

 (۱؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)

اور نجاست جب مخرج بَول وبراز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں اُن کے بعد پانی لینا فقط سنّت ہے درمختار میں ہے:الغسل بالماء بعد الحجر سنۃ ۲؎ اھ ملخصا۔ علی ماحققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وتبعہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج فی الحلیۃ۔

 (۲؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی      ۱/۵۶)

پتھر (استعمال کرنے) کے بعد پانی سے دھونا سنّت ہے اھ ملخصا جیسا کہ محقق علی الاطلاق رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ 

یہ سنّت بھی اگرچہ باقی سننِ مؤکدہ کے مثل ہے جس کا ترک بیشک باعثِ کراہت، مگر حالتِ عذر ہمیشہ مستشنیٰ ہوتی ہے اور ترک سنت صحتِ نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اُس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدردرم سے زیادہ ہوتو اُس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے:

یجب ای غسلہ ان جاوز المخرج نجس مانع ویعتبر القدر مانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء ۳؎۔

 (۳؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی         ۱/۵۶)

اگر (طہارت سے) مانع نجاست مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب اور نماز سے مانع نجاست کے اندازے کا اعتبار اس نجاست سے ہوگا جو جائے استنجا کے علاوہ ہے۔

ایسی حالت میں اگر پانی پر کسی طرح کسی ہاتھ سے سے قدرت نہ پائے تو اُس کی اپنی نماز ہوجائے گی، درمختار میں ہے:لوشَلّتا سقط اصلا ۴؎ (اگر دونوں ہاتھ شَل ہوجائیں تو طہارت بالکل ساقط ہوجائیگی۔ ت) مگر امامت نہیں کرسکتا کمالایخفی واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ مخفی نہیں، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

 (۴؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۶)