استنجاء کا سنت طریقہ
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/11

New Page 1

مسئلہ ۲۱۹:۴:  جمادی الاخرٰی ۱۳۱۲ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اور اصحابوں نے پیشاب کے بعد اکثر مرتبہ استنجا پانی سے کیا یا ڈھیلوں سے؟ بینوا توجّروا۔

الجواب: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عادت اس باب میں مختلف تھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر مٹّی سے استنجا فرماتے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ پانی سے۔ کشف الغمہ میں ہے:

کان عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یبول کثیرا ثم یمسح بالتراب اوالحائط ثم یقول ھکذا علمنا ولم یبلغنا انہ کان یغسلہ بالماء بعد وکان حذیفۃ لایجمع بین الماء والحجر اذابال وکذلک عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما فکانا یغسلان بالماء فقط ۱؎۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ پیشاب کرتے پھر مٹّی یا دیوار سے خشک کرتے اس کے بعد فرماتے ''ہمیں اس طرح معلوم ہے''۔ اور ہم تک یہ بات نہیں پہنچی کہ اس کے بعد وہ پانی کے ساتھ دھوتے ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پیشاب کرتے تو پانی اور پتھّر کو جمع نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی طریقہ تھا یہ دونوں صرف پانی سے دھوتے تھے۔

 (۱؎ کشف الغمہ    فصل فی کیفیۃ الاستنجاء    مطبوعہ دارالفکر بیروت، لبنان    ۱/۴۸)

اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دونوں صورتیں ثابت ہیں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیشاب کے بعد پانی سے استنجا فرماتے۔

احمد والترمذی وصححہ والنسائی عنھا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قالت مرن ازواجکن ان یغسلوا اثر الغائط والبول فان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یفعلہ ۲؎۔

 (۲؎ جامع الترمذی    باب الاستنجاء بالماء    مطبوعہ  کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۱/۵)

امام احمد، ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضائے حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھوڈالیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی یونہی کرتے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ 

اور وہی (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) روایت فرماتی ہیں کہ ایک بار حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانی لیکر کھڑے ہوئے۔ فرمایا: کیا ہے؟ عرض کی:استنجے کے لئے پانی۔ فرمایا: مجھ پر واجب نہیں کیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد پانی سے طہارت کروں۔

ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قالت بال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فقام عمر خلفہ بکوزمن ماء فقال ماھذا یاعمر فقال ماء تتوضؤ بہ قال ماامرت کلما بلت ان اتوضأ ولوفعلت لکانت سنۃ ۱؎۔امام ابوداؤد اور ابن ماجہ رحمہما اللہ نے سندِ حسن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پانی کا لوٹا لے کر کھڑے ہوگئے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: اے عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ پانی ہے آپ اس سے وضو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر ایسا کروں تو سنّت بن جائے گا۔ 

(۱؎ سُنن ابوداؤد شریف    کتاب الطہارۃ، باب فی الاستبرائ    مطبوعہ آفتاب عالم پرس لاہور    ۱/۷)

حلیہ میں ہے: المراد بالوضوء ھنا الاستنجاء بالماء کماذکرہ النووی ۲؎۔یہاں وضو سے استنجا کرنا مراد ہے جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے 

(۲؎ حلیہ)

   (مذکورہ کتاب دستیاب نہ ہوسکی)

اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈھیلے اور پانی دونوں سے استنجا جائز ہے جس سے کرے گا کافی ہوگا اور افضل یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرےفی الھندیۃ عن التبیےن الافضل ان یجمع بینھما ۳؎(فتاویٰ عالمگیری میں التبیين سے منقول ہے کہ دونوں کو جمع کرنا افضل ہے۔ ت)واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم مکمل ومحکم ہے۔

 (۳؎ فتاویٰ ہندیۃ    الفصل الثالث فی الاستنجاء        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۴۸)