ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/12

New Page 1

مسئلہ ۲۲۳:۲ رجب مرجب ۱۳۲۱ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراکِ جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراک جِن کی ہے تو اُن کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔ بینوا توجروا۔

الجواب: قوم جِنْ کے وفد جوبارگاہِ اقدس حضور پُرنور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراک طلب کی اُن سے ارشاد ہوا:

لکم کل عظم ذکر اسم اللّٰہ یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم ۱؎۔

 (۱؎ الصحیح لمسلم    باب الجہر بالقرأۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۸۴)

تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہ عزوجل کا نام پاک لیا جائے یعنی حلال مذکّٰی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اُس حال پر ہوگی جیسی اُس وقت تھی جب اُس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھُڑائی ہُوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ (م)

پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا:فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم ۲؎ رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

 (۲؎ الصحیح لمسلم    باب الجہر بالقرأۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۸۴)

ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے۔ (م) اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)