پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/14

New Page 1

مسئلہ ۲۳۹: ازِ بیکانیر  مارواڑ  محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب    ۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے کہ اس کی ممانعت ہے کہ وہاں نہ تھوکے، بینوا توجروا۔

الجواب: ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا مُنہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو اس کا لعاب ناپاک جگہ پر ڈالنا بیجا ہے، ردالمحتار میں ہے:لایبزق فی البول ۱؎ اھ قلت والدلیل اعم کماعلمت۔پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی الفرق بین الاستبراء والاستنقاء والاستننجاء    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۴)

البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔