بچوں کے گلے میں تعویذ ڈلنے کا حکم
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/14

New Page 1

مسئلہ ۲۴۶: از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب    رمضان ۱۳۳۰ھ

بچّوں کے گلے میں بچّوں کے ماں باپ بچّوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اُوپر اُس کے کپڑا پاک چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایک دو آیت، بچّے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب: تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جُداگانہ میں رکھ کر بچّوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اُس میں بعض آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے، ہاں افضل احتراز ہے، درمختار میں ہے:

رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخولالخلاء بہ والاحتراز افضل ۱؎غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)

 (۱؎ دُرمختار    کتاب الطہارۃ     مطبوعہ مجتبائی دہلی   ۱/۳۴)

ردالمحتار میں ہے: الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الاٰن بالھیکل والحمائل المشتمل علی الاٰیات القراٰنیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب ۲؎۔

ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے، نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)

 ( ۲؎ ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی، ۱/۱۳۱)

بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرک ہے۔

وانما الاعمال بالنیات ۳؎ وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللّٰہ۔اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اونٹوں کی رانوں پر لکھا ''اللہ کی راہ میں روکا ہوا''۔ (ت)

(۳؎ صحیح البخاری    باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲)

اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔

اوّلاً :قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور اُن کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اُسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن، جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل، اُس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اُس کتاب کے ورق کو بھی چھُونا جائز۔

ثانیاً :اُس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلافِ شرع ہے کہ اُس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلافِ مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃً منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا:کان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ الشَّدِّ لَھا لئلا یکون فی صورۃ المنع فاشبہ الغلق علی باب المسجد ۱؎۔متقدمین، قرآن پاک کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)

 (۱؎ تبیين الحقائق    فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ    مطبوعہ بولاق مصر    ۱/۱۶۸)

ثالثاً :قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعاً مکروہ ناپسند ہے، امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کے پاس قرآن مجید باریک لکھا ہُوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب  اللّٰہ۔  رواہ ابو عبید فی فضائل القراٰن کتاب اللہ کی عظمت کرو۔(ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)

امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنّفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنّف میں روایت کیا، اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا  رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے اسے مصاحف میں بیان کیا۔ت)

درمختار میں ہے: یکرہ تصغیر مصحف ۵؎ (قرآن پاک کو چھوٹی تقطیع میں لانا مکروہ ہے۔ ت)

 (۵؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۲۴۵)

ردالمحتار میں ہے: ای تصغیر حجمہ ۶؎ (یعنی اس کا حجم چھوٹا کرنا۔ ت)

 (۶؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     مصطفی البابی مصر    ۵/۲۴۷)

تو اس قدر چھوٹا بنانا کہ معاذ اللہ ایک کھلونا اور تماشہ ہوکس طرح مقبول ہوسکتا ہے اور وہ جری لوگ یہ فعل مردود نہیں تعویذوں کی خاطر کرتے ہیں اگر مسلمان ان کو تعویذ نہ بنائیں تو کیوں خریدیں اور نہ خریدیں تو وہ کیوں اسے چھاپیں تو ان کا تعویذ بنانا ان کے اُس فعل کا باعث ہے اور اُس کے ترک میں اُس کا انسداد تو اس کا تعویذ بنانا ضرور مستحق الترک ہے اس دلیل کی تفصیل جلیل ہمارے رسالہ الکشف الشافیافی حکم فونوجرافیا میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔