ڈھیلے اور پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ آجاتا ہو تو؟
Category : Taharat / Purity / کتاب الطہارت
Published by Admin2 on 2012/5/14

New Page 1

مسئلہ ۲۴۴: از مدرسہ منظرِ اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہ بہاری    ۳ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ڈھیلے اور پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ پیشاب کا ہمیشہ آجاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب:  اگر پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ آتا ہے تو صرف ڈھیلے سے استنجا کرے اگر پیشاب روپے بھر سے زائد جگہ میں نہ پھَیلا ہوتو ڈھیلے ہی سے پاک ہوجائے گا اور اگر ڈھیلے سے استنجا پر قطرہ آتا ہے اور پانی سے بند ہوجاتا ہے تو پانی سے استنجا ضرور ہے اور اگر دونوں طرح آتا ہے تو انتظار کرنا اور وہ تدبیريں بجالانا جن سے قطرہ رکے واجب ہے اور اگر کسی طرح نہ رُکے اور ایک نماز کا وقت اول سے آخر تک گزر جائے کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ پائے تو وہ معذور ہے جب تک نماز کے ہروقت میں کم ازکم ایک بار آتا رہے گا اُسے وضو تازہ کرلینا کافی ہوگا واللہ تعالٰی اعلم۔