حضور کو خواب میں دیکھنے سے متعلق اشتہار کا حکم
Category : Misc. Topics / متفرق مسائل
Published by Admin2 on 2012/5/18

New Page 1

مسئلہ (۲۵۱) اس بنارس محلہ کتواپورہ۔ مرسلہ مولوی حاجی محمد رضا علی صاحب ماہِ رمضان ۱۳۰۸ھ

سوال: خلاصہ فتوائے مولوی صاحب موصوف کہ بطلب تصدیق نزد فقیر فرستادند

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

ایک اشتہار جو چھاپا گیا ہے اُس میں لکھا ہے کہ شیخ عبداللہ نامی بماہ ربیع الاول ۱۳۰۷ھ شبِ جمعہ روضہ مبارک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بیٹھے تھے اُن کو پیغمبرِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اونگھ میں باتیں کیں جب آنکھ کھلی سب مضمون اشتہار کاغذ پر لکھا قبر شریف پر دھرا تھا اور بہت باتیں اُس میں مکتوب میں درباب اس اشتہار کے کیا ارشاد ہے۔ بینوا ایہا العلماء رحمکم اللہ۔

الجواب وھو العلیم

کہتا ہے فقیر محمد رضا علی البنارسی الحنفی اُس میں جو علامات قیامت لکھے ہیں بے شک علامات صغرٰی سب اس زمانہ میں موجود ہیں اور اسلام میں ضعف خصوصاً ہندوستان میں اللہ تعالٰی سب مسلمانوں کو اور فقیر کو تو بہ نصیب کرے مگر اشتہار میں جو لکھا ہے کہ شیخ عبداللہ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خواب یا اونگھ میں فرمایا علماء کتب معتبرہ میں لکھتے ہیں اگر کوئی کہے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خواب میں ایسا فرمایا اگر قائل فاسق ہے تو بلاشک کاذب ہے اور متقی ہے تو دیکھیں گے کہ یہ حکم جو یہ شخص پیغمبر خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتا ہے اگر برابر ہے قرآن وحدیث اور نصوص قطعیہ شرعیہ اور فقہ کے تو یہ قول بھی واجب الاذعان اور واجب الاتباع ہے اور اگر مخالف ہے ہرگز معتبر اور واجب الاتباع نہیں کیونکہ جو کلمہ پیغمبر خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بیداری میں صحابہ کرام سے فرمایا اور متواتر منقول ہے اُسی کا اعتبار کریں گے مخالف کو اَضغاث احلام شمار کریں گے ورنہ تعارض آپ کے کلام میں لازم آئے گا۔

کذا ذکرہ الملا علی قاری فی المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمۃ وفی الحرز الثمین والعارف بن ابی جمرۃ الاندلسی المالکی فی بھجۃ النفوس شرح مختصر صحیح البخاری والشھاب احمد الخفاجی الحنفی فی نسیم الریاض وغیرھم فی کتبھم۔

اسی طرح ذکر کیا ہے ملّا علی قاری نے ''المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمہ'' اور ''الحرز الثمین'' میں۔ اور عارف ابن ابی جمرہ اندلسی نے ''بہجۃ النفوس'' میں جوکہ مختصر صحیح بخاری کی شرح ہے اور شہاب احمد خفاجی حنفی نے ''نسیم الریاض'' میں، اور دیگر علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں۔ (ت)

اور بھی فرمایا اللہ تعالٰی نے الیوم اکملت لکم دینکم ۱؎ ۔(آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے)

( ۱؎ القرآن    سورۃ المائدۃ ۵    آیت ۳)

کلامِ الٰہی اور کلام رسالت پناہی بعد اکمال کے اب منسوخ نہیں ہوسکتا الغرض کذب اس اشتہار کا کئی طور سے معلوم ہوتا ہے واللّٰہ العلیم الخبیر (اور اللہ علم اور خبر والا ہے) اُس میں لکھا ہے تارک الصلاۃ پر نمازِ جنازہ نہ پڑھیں، غسل نہ دیں، قبرستانِ اہلِ اسلام میں نہ دفن کریں، اُس کے ساتھ کھانا نہ کھائیں، عیادت نہ کریں۔ یہ سب مسائل خلافِ قرآن اور حدیث اور فقہ کے ہیں، خلاف اہلِ سنّت کے ہیں، خوارج سے ملتے ہوئے ہیں، ہمارے مذہب اہل سنّت میں ترکِ نماز گناہِ کبیرہ ہے اور ترکِ فرض اور ارتکابِ کبیرہ سے آدمی کافر نہیں ہوسکتا، ہاں کبیرہ کو کبیرہ نہ جانے تو بلاشک کافر ہے، منکر نصوصِ قطعیہ کا بلاشک کافر ہے، اور کلمہ گو کوغسل نہ دینا، نمازِ جنازہ نہ پڑھنا، مقابرِ اہلِ اسلام میں دفن نہ کرنا نہایت مذموم اور بڑے فساد اور بڑی اہانت کی بات ہے۔ اور تارک الصلاۃ کے کفر واسلام کا بحث درمیان ائمہ اربعہ کے معلوم ہے ہمارے امام اعظم تارک الصلاۃ کو کافر نہیں کہتے فاسق کہتے ہیں اور اس کو ادلہ شرعیہ سے ثابت کرتے ہیں اور مراد کُفر سے تعذیب مثل کفار کے ہے۔

کذا فی شرح الفقہ الاکبر ۲؎ لملاّ علی قاری ومیزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ وشرح الشیخ عبدالحق للمشکٰوۃ وغیرھا من الکتب المعتبرات۔

 (۲؎ شرح الفقہ الاکبر لملّا علی قاری    المعاصی تضر مرتکبہا الخ    مصطفی البابی مصر    ص۷۷)

ملّا علی قاری کی شرح فقہ اکبر میں،امام شعرانی کی میزان میں، رحمۃ الامّہ فی اختلاف الائمہ میں، شیخ عبدالحق کی شرح مشکوٰۃ میں اور دوسری معتبر کتابوں میں اسی طرح مذکور ہے۔ (ت)

اور نماز جنازہ تارک الصلاۃ پر چاہیے۔

قال اللہ تعالٰی: ولاتصل علٰی احد منھم مات ابدا ۱؎ (اور نہ نماز پڑھئے ان میں سے کسی ایک پر جو مرجائے، کبھی بھی۔) اس آیت میں منع صلاۃ اُوپر کافر کے ہے نہ مومن کے اور تارک الصلوٰہ کو قبرستان مسلمانوں میں دفن کرنا چاہئے

کذافی شرح المشکٰوۃ لعبد الحق الدھلوی وتکمیل الایمان(عبدالحق دہلوی کی شرح مشکوٰۃ میں اور تکمیل الایمان میں اسی طرح ہے) اور تارک الصلاۃ نجس نہیں اُس کے ساتھ بیٹھ کر دوسرے برتن میں کھانے میں کیا قباحت ہے، اور عیادت تارک الصلاۃ کی کیسے ممنوع ہوگی جبکہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عیادت یہود کی کی ہے خصوصاً واسطے تالیف قلوب کے بلاشک جائز ہے

کذافی الحدیث وتحقیق ھذہ المسئلۃ فی المشکٰوۃ ۲؎ والصحاح الستۃ وشروحھا

(حدیث میں اسی طرح ہے، اور اس مسئلے کی تحقیق صحاح ستّہ اور ان کی شروح میں ہے) بالجملہ نزدیک فقیر کے کل وصیت نامہ پر لوگ عمل کریں اور اللہ سے ڈریں مگر جو مسائل مخالف فقہ اور نصوص قطیعہ کے ہیں اُس پر ہرگز عمل نہ کریں ورنہ ثواب کے عوض میں عذاب ہاتھ آوے گا،

(۱؎ القرآن    سورہ التوبہ ۹    آیت ۸۴)

(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح    باب عیادۃ المریض    الفصل الاول        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص۱۳۴)

[pagebreak]

ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین اھدنا الصراط المستقیم الٰی اٰخر السورۃ۔    ۲۰ شعبان ۱۳۰۸ھ

اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔ تُو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے، ہدایت دے ہمیں سیدھے راستے کی۔ آخر سورۃ تک۔

الجواب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

قال الفقیر عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراللّٰہ تعالٰی لہ ولاسلافہ وبارک فیہ وفی اخلافہ۔ اٰمین!

کہتا ہے فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی، سُنّی، حنفی، قادری، بریلوی، اللہ تعالٰی اس کو اور اس کے اسلاف کو بخشے اور اس کو اور اس کے اخلاف کو برکت عطا فرمائے۔ آمین!

حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سے خواب میں مشرف ہونا اگرچہ بلاشبہہ حق ہوتا ہے یہ خواب کبھی اضغاث احلام سے نہیں ہوتی۔ حضور پُرنور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:

من راٰنی فی المنام فقد راٰنی فان الشیطان لایتمثل بی ۱؎۔جس نے مجھے خواب میں دیکھا اُس نے مُجھی کو دیکھا کہ شیطان میری مثال بن کر نہیں آسکتا۔ (م)

 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من راٰنی فی المنام الخ    مطبوعہ مجتبائی لاہور۲/۵۲)

رواہ احمد والبخاری والترمذی عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ اس کو احمد، بخاری اور ترمذی نے انس ابن مالک سے روایت کیا ہے۔ (ت)

اور فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم: من راٰنی فقدراٰی الحق فان الشیطان لایتریأبی ۲۔جس نے مجھے دیکھا اُس نے حق دیکھا کہ شیطان میری وضع نہ بنائے گا۔ (م)

(۲؎ صحیح البخاری    باب من رای النبی فی المنام ،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۱۰۳۶)

رواہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والاحادیث فی ھذا المعنی متواترۃ۔ اس کو احمد اور بخاری ومسلم نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے، اور اس مفہوم کی احادیث متواتر ہیں۔ (ت)

مگر از انجا کہ حالتِ خواب میں ہوش وحواس عالم بیداری کی طرح ضبط وتیقظ پر نہیں ہوتے، لہذا خواب میں جو ارشاد سُنے مثل سماع بیداری مورث یقین نہیں ہوتا اس کا ضابطہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جو ارشادات بیداری میں ثابت ہوچکے اُن پر عرض کریں اگر اُن سے مخالف نہیںفبھا سواء وجد مطابقۃ الصریح اولا(خواہ صراحۃً مطابقت ہو یا نہ۔  ایسی حالت میں اس کا ارشاد ماننا چاہئے اور مخالف ہے تو یقین کریں گے کہ صاحبِ خواب کے سُننے میں فرق ہوا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حق فرمایا اور بوجہ تکدر حواس کہ اثرِ خواب ہے اُس کے سُننے میں غلط آیا جیسے ایک شخص نے خواب دیکھا کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُسے میکشی کا حکم دیتے ہیں۔ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا حضور نے میکشی سے نہی فرمائی تیرے سُننے میں اُلٹی آئی، اس امر میں فاسق ومتقی برابر ہیں، نہ متقی کا سماع واجب الصحۃنہ فاسق کا بیان یقینی الکذب بلکہ ضابطہ مطلقاً یہی ہے جو مذکور ہوا پھر کافہ اہلسنت وجماعت کا اجماع قطعی ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں۔

قال اللّٰہ عزوجل وان طائفتٰن من المؤمنین اقتتلوا ۱؎۔اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے ''اور اگر مؤمنوں کی دو۲ جماعتیں لڑ پڑیں''۔ (ت)

(۱؎ القرآن        سورۃ الحجرات ۴۹    آیت ۹)

وقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر ۲۔اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے ''اگرچہ زنا کرے، اگرچہ چوری کرے، خواہ ابوذر کی ناک خاک آلُود ہوجائے''۔ (ت)

(۲؎ مشکوٰ ۃ المصابیح    کتاب الایمان     الفصل الاول    مطبوعہ مجطبائی دہلی     ص۱۴)

وقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم شفاعتی لاھل الکبائر من امتی ۳؎۔اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے ''اگرچہ زنا کرے، اگرچہ چوری کرے، خواہ ابوذر کی ناک خاک آلُود ہوجائے''۔

(۳؎ مسند احمد بن حنبل از مسند انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ  مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۳/۲۱۳)

[pagebreak]

اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے ''اگرچہ زنا کرے، اگرچہ چوری کرے، خواہ ابوذر کی ناک خاک آلُود ہوجائے''۔ (ت)

بلکہ مذہبِ معتمد ومحقق میں استحلال بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تک زنا یا شربِ خمر یا ترک صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریاتِ دین سے نہ ہو غرض ضروریات کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں اگرچہ ثابت بالقواطع ہوکہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اُس کا جس کی تصدیق نے اُسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریاتِ دین

کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمہ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔  ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں حالانکہ اُس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابتوقد فصل القول فی ذلک سیدنا العلامۃ الوالد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی بعض فتاوٰہ(اس موضوع پر سیدنا علامہ والد ماجد رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض فتاوٰی میں مفصل گفتگو کی ہے۔ ت) بالجملہ اس قدر پر تو اجماعِ اہلِ سنّت ہے کہ ارتکابِ کبیرہ کفر نہیں بااینہمہ تارک الصلاۃ کا کفر واسلام سے ہمارے ائمہ کرام میں مختلف فیہ اقول وباللّٰہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) اگرچہ کفر تکذیب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی بعض ماجاء بہ من عندربہ جل وعلا کانام ہے اور تکذیب صفت قلب مگر جس طرح اقوال مکفرہ اس تکذیب پر علامت ہوتے اور اُن کی بنا پر حکمِ کفر دیا جاتا ہے یوں ہی بعض افعال بھی اُس کی امارت اور حکم تکفیر کے باعث ہوتے ہیں۔

کالقاء المصحف فی القاذورات والسجود للصنم وقتل النبی والزنا بحضرتہ وکشف العورۃ عند الاذان وقراء ۃ القراٰن علی جھۃ الاستخفاف وکل مادل علی الاستھزاء بالشرع اوالاز دراء بہ۔

جیسا کہ قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنا، بُت کے لئے سجدہ کرنا، نبی کو قتل کرنا، اس کے رُوبرو زنا کرنا، اذان سُن کر شرمگاہ کو ننگا کرنا، قرآن کو تحقیر کے انداز میں پڑھنا، اس کے علاوہ ہر وہ عمل جو شریعت کے ساتھ استہزاء واہانت پر دلالت کرے۔ (ت)

یہ حکم اُس اجماع کا منافی نہیں ہوسکتا کہ نفس فعل من حیث ہو مبنائے تکفیر نہیں بلکہمن حیث کونہ علما علی الجحود الباطنی والتکذیب القلبی، والعیاذ باللّٰہ تعالٰی منہ (اس لحاظ سے کہ یہ باطنی انکار اور قلبی تکذیب کی علامت ہے والعیاذ باللہ۔ ت) صدر اول میں ترک نماز بمعنے کف بھی کہ حقیقۃً فعل من الافعال ہے اسی قبیل سے گنا جاتا۔

ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: کان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لایرون شیئامن الاعمال ترکہ کفراً غیر الصّلاۃ ۱؎۔اصحابِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کو کفر نہ جانتے۔ (م)

(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح    کتاب الصلاۃ    الفصل الثالث    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص۵۹)

[pagebreak]

رواہ الترمذی والحاکم وقال صحیح علی شرطھما وروی الترمذی عن عبداللّٰہ بن شقیق العضلی مثلہ۔

اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے بھی، اور کہا ہے کہ یہ بخاری ومسلم کی شروط کے مطابق ہے، اور ترمذی نے عبداللہ ابن شقیق عضلی سے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔ (ت)

ولہذا بہت صحابہ وتابعین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین تارک الصلاۃ کو کافر کہتے سیدنا امیر المومنین علی مرتضٰی مشکل کشا کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں: من لم یصل فھو کافر ۲

(جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے۔ م) رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی التاریخ۔

(۲؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلاۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۸۵)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: من ترک الصلاۃ فقد کفر ۳؎ (جس نے نماز چھوڑی وہ بیشک کافر ہوگیا۔ م) رواہ محمد بن نصر المروزی وابو عمر بن عبدالبر۔

(۳؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلاۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱/۳۸۶)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: من ترک الصلاۃ فلادین لہ ۱(جس نے نماز ترک کی وہ بے دین ہے۔ م) رواہ المروزی۔

(۱؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۸۵)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: من لم یصل فھو کافر ۲؎ (بے نماز کافر ہے۔ م) رواہ ابوعمر۔

(۲؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱/۳۸۵)

ابودردا ء رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: لا ایمان لمن لاصلاۃ لہ ۳؎ (بے نماز کیلئے ایمان نہیں۔ م) رواہ ابن عبدالبر۔

(۳؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۸۶)

[pagebreak]

ایضاً امام اسحٰق فرماتے ہیں: صح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان تارک الصلاۃ کافر وکذلک کان رأی اھل العلم من لدن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان تارک الصلاۃ عمدا من غیر عذر حتی یذھب وقتھا کافر ۴؎۔

سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بصحت ثابت ہُوا کہ حضور نے تارک الصلاۃ کو کافر فرمایا اور زمانہ اقدس سے علما کی یہی رائے ہے کہ جو شخص قصداً بے عذر نماز ترک کرے یہاں تک کہ وقت نکل جائے وہ کافر ہے۔ (م)

(۴؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۸۶ )

اسی طرح امام ابوایوب سختیانی سے مروی ہوا کہ ترک الصلاۃ کفر لایختلف فیہ ۵(ترکِ نماز بے خلاف کفر ہے۔ م)

ابن حزم کہتا ہے:

(۵؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۸۶)

قدجاء عن عمرو عبدالرحمٰن بن عوف ومعاذ بن جبل وابی ھریرۃ وغیرھم من الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ان من ترک صلاۃ فرض واحد متعمدا حتی یخرج وقتھا فھو کافر مرتد، ولایعلم لھؤلاء مخالف ۱؎

امیر المومنین عمر فاروق اعظم وحضرت عبدالرحمن بن عوف احد العشرۃ المبشرہ وحضرت معاذ بن جبل امام العلماء وحضرت ابوہریرہ حافظ الصحابہ وغیرہم اصحاب سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین سے وارد ہوا کہ جو شخص ایک نمازِ فرض قصداً چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے وہ کافر مرتد ہے۔ ابنِ حزم کہتا ہے اس حکم میں ان صحابہ کا خلاف کسی صحابی سے معلوم نہیں۔ م) انتہی ۔

(۱؎ الترغیب والترہیب    من ترک الصلٰو ۃ لعمد    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۹۳)

اور یہی مذہب حکم بن عتیبہ وابوداؤد طیالسی وابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب اور ائمہ اربعہ سے حضرت سیف السنۃ امام احمد بن حنبل اور ہمارے ائمہ حنفیہ سے امام عبداللہ بن مبارک تلمیذ حضرت امام اعظم اور ہمارے امام کے استاذ الاستاذ امام ابراہیم نخعی وغیرہم ائمہ دین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا ہے۔

ذکر کل ذلک الامام الحافظ زکی الدین عبدالعظیم المنذری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ۔یہ سب امام حافظ زکی الدین ٍعبدالعظیم منذری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ذکر کیا ہے۔ (ت)

اور اسی کو جمہور ائمہ حنبلیہ نے مختار ومرجح رکھا، امام ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:عند احمد فی الروایۃ المکفرۃ انہ یقتل کفرا، وھی المختارۃ عند جمھور اصحابہ، علی ماذکرہ ابن ھبیرۃ ۲؎

امام احمد اپنی تکفیر والی روایت کے مطابق اس بات کے قائل ہیں کہ اس کو کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔ یہی روایت ان کے اکثر اصحاب کے نزدیک مختار ہے، جیسا کہ ابن ہبیرہ نے بیان کیا ہے۔ (ت)

(۲؎ حلیۃ المحلی)

اور بیشک بہت ظواہر نصوص شرعیہ آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ علٰی صاحبہا افضل الصلٰو ۃ والتحیۃ اس مذہب کی مؤید،

کمافصل جملۃ منھا خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی الکتاب المستطاب، الکلام الاوضح فی تفسیرا لم نشرح، وفی سرور القلوب فی ذکر المحبوب، وفی جواھر البیان فی اسرار الارکان وغیرھا من تصانیفہ النقیۃ العلیۃ الرفیعۃ الشان ، اعلی اللّٰہ تعالٰی درجاتہ فی غرفات الجنان، اٰمین!

جیسا کہ ان میں سے کچھ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، خاتم المحققین سیدنا والد ماجد نے اپنی عمدہ کتاب الکلام الاوضح فی تفسیر الم نشرح میں، اور اسرار القلوب فی ذکر المحبوب میں، اور جواھر البیان فی اسرار الارکان میں اور اپنی دیگر ستھری، بلند مرتبہ وعالی شان کتابوں میں۔ اللہ تعالٰی جنت کے بالا خانوں میں ان کے درجے بلند فرمائے، آمین!

[pagebreak]

بالجملہ اس قول کو مذاہب اہلسنت سے کسی طرح خارج نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ایک جِم غفیر قدمائے اہلسنت صحابہ وتابعین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا مذہب ہے اور بلاشبہہ وہ اُس وقت وحالت کے لحاظ سے ایک بڑا قوی مذہب تھا صدر اول کے بعد جب اسلام میں ضعف آیا اور بعض عوام کے قلب میں سُستی وکسل نے جگہ پائی، نماز میں کامل چُستی ومستعدی کہ صدر اول میں مطلقاً ہر مسلمان کا شعار دائم تھی اب بعض لوگوں سے چھُوٹ چلی وہ امارت مطلقہ وعلامت فارقہ ہونے کی حالت نہ رہی لہذا جمہور ائمہ نے اُسی اصل اجماعی مؤید بدلائل قاہرہ آیات متکاثرہ واحادیث متواترہ پر عمل واجب جانا کہ مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں یہی مذہب ہمارے ائمہ حنفیہ وائمہ شافعیہ وائمہ مالکیہ اور ایک جماعت ائمہ حنبلیہ وغیرہم جماہیر علمائے دین وائمہ معتمدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا ہے کہ اگرچہ تارک نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہتے اور یہی ایک روایت حضرت امام احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ہے اس کی رُو سے یہ مذہب مہذب حضرات ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا مجمع علیہ ہے،

حلیہ میں فرمایا: ذھب الجمھور، منھم اصحابنا ومالک والشافعی واحمد فی روایۃ، الی انہ لایکفر۔ ثم اختلفوا فی انہ ھل یقتل بھذا الترک؟ فقال الائمۃ الثلاثۃ، نعم، ثم ھل یکون حداً اوکفراً؟ فالمشھور من مذھب مالک، وبہ قال الشافعی، انہ حد۔ وکذا عند احمد فی ھٰذہ الروایۃ الموافقۃ للجمھور فی عدم الکفر ۱؎۔

جمہور، جن میں ہمارے علماء بھی شامل ہیں اور مالک وشافعی اور ایک روایت کے مطابق احمد بھی، کی رائے یہ ہے کہ اس کو کافر نہیں کہا جائیگا۔ پھر ان میں اختلاف ہے کہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ تو تین اماموں نے کہا ہے کہ ہاں (قتل کیا جائے گا) پھر یہ قتل بطور حد ہوگا یا کفر کی وجہ سے؟ تو مالک کا مشہور مذہب یہ ہے کہ بطور حد ہوگا۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں اور احمد بھی، اپنی اس روایت کے مطابق جو جمہور کے موافق ہے، یعنی عدمِ کفر والی روایت۔ (ت)

 (۱؎ حلیۃ المحلی)

اور اس طرف بحمداللہ نصوص شرعیہ سے وہ دلائل ہیں جن میں اصلاً تاویل کو گنجائش نہیں بخلاف دلائل مذہب اول کہ اپنے نظائر کثیرہ کی طرح استحلال واستخفاف وجحود وکفران وفعل مثل فعل کفار وغیرہا تاویلات کو اچھی طرح جگہ دے رہے ہیں یعنی فرضیتِ نماز کا انکار کرے یا اُسے ہلکا اور بے قدر جانے یا اُس کا ترک حلال سمجھے تو کافر ہے یا یہ کہ ترکِ نماز سخت کفرانِ نعمت وناشکری ہے۔

کماقال سیدنا سلیمٰن علیہ الصلاۃ والسلام لیبلونی ءاشکرام اکفر ۱؎۔جیسا کہ سیدنا سلیمٰن علیہ السلام نے فرمایا ''تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزار بنتا ہوں یا ناشکرا''یایہ کہ اُس نے کافروں کا سا کام کیا،

 (۱؎ القرآن ،  سورہ النمل ۲۷،  آیت ۴۰)

الی غیر ذلک مماعرف فی موضعہ۔ ومن الجادۃ المعروفۃ ردالمحتمل الی المحکم، لاعکسہ، کمالایخفی، فیجب القول بالاسلام۔

اس کے علاوہ اور بھی توجیہات ہیں جن کی تفصیل ان کے مقام پر ملے گی، اور معروف راستہ یہی ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف لوٹایا جائے، نہ کہ اس کا اُلٹ، جیسا کہ ظاہر ہے، اس لئے اسلام کا ہی قول کرنا پڑے گا۔ (ت)

ادھر کے بعض دلائل حلیہ وغیرہا میں ذکر فرمائے از انجملہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:خمس صلوات کتبھن اللّٰہ علی العباد  (پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں)الٰی قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من لم یأت بھن فلیس لہ عنداللّٰہ عھد ان شاء عذبہ وان شاء ادخلہ الجنۃ ۲؎

 (۲؎ سنن النسائی    باب المحافظۃ علی الصلوات الخمس    نور محمد کارخانہ تجارت کراچی    ۱/۸۰)

 (جو اُنہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اُسے عذاب فرمائے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے) رواہ الامام مالک وابوداؤد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ (اسے امام مالک، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ یہ حدیث اُس کے اسلام پر نص قاطع ہے کہ اگر معاذ اللہ کافر ہوتا تو اس کے کہنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ دوسری حدیث میں ہے حضور اکرم سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

الدواوین ثلثۃ، فدیوان لایغفراللّٰہ منہ شیأ، ودیوان لایعبؤ اللّٰہ بہ شیأ، ودیوان لایترک اللّٰہ منہ شیأ، فاما الدیوان الذی لایغفراللّٰہ منہ شیئافالاشراک باللّٰہ، واما الدیوان الذی لایعبؤ اللّٰہ بہ شیئافظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ، من صوم یوم ترکہ اوصلاۃ ترکھا، فان اللّٰہ تعالٰی یغفر ذلک ان شاء متجاوز، واما الدیوان الذی لایترک اللّٰہ منہ شیئافمظالم العباد، بینھم القصاص لامحالۃ ۱؎۔رواہ الامام احمد والحاکم عن اُم المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا۔

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶/۲۴۰)

دفتر تین۳ ہیں، ایک دفتر میں سے اللہ تعالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایک دفتر کی اللہ عزوجل کو کچھ پرواہ نہیں اور ایک دفتر میں سے اللہ تبارک وتعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں سے اللہ عزوجل کچھ نہ بخشے گا دفتر کفر ہے اور وہ جس کی اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کو کچھ پرواہ نہیں وہ بندے کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں مثلاً کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی کہ اللہ تعالٰی چاہے تو اُسے معاف کردے گا اور درگزر فرمائے گا، اور وہ دفتر جس میں سے کچھ نہ چھوڑے گا وہ حقوق العباد ہیں اُس کا حکم یہ ہے ضرور بدلہ ہونا ہے۔ (م)اسے امام احمد اور حاکم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا (ت)

بالجملہ وہ فاسق ہے اور سخت فاسق مگر کافر نہیں وہ شرعاً سخت سزاؤں کا مستحق ہے ائمہ ثلٰثہ مالک وشافعی واحمد رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں اُسے قتل کیا جائے۔ ہمارے ائمہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم کے نزدیک فاسق فاجر مرتکب کبیرہ ہے اُسے دائم الحبس کریں یہاں تک کہ توبہ کرے یا قید میں مرجائے امام محبوبی وغیرہ مشایخ حنفیہ فرماتے ہیں کہ اتنا ماریں کہ خُون بہادیں پھر قید کریں یہ تعزیرات یہاں جاری نہیں لہذا اُس کے ساتھ کھانا پینا میل جول سلام کلام وغیرہ معاملات ہی ترک کریں کہ یونہی زجر ہو اسی طرح بنظر زجر ترک عیادت میں مضائقہ نہیں یہودی کی عیادت فرمانی بنظرِ تالیف وہدایت تھی یہاں اس کی عیادت نہ کرنی بنظر زجر ہے، دونوں مقاصد شرعیہ ہیں۔ رہی نماز جنازہ وہ اگرچہ ہر مسلمان غیر ساعی فی الارض بالفساد کے لئے فرض ہے۔

وھذا منہ، کقاتل نفسہ، بل اولی فان قتل نفسہ اشد من قتل مؤمن غیرہ، وقتل المؤمن اکبر عنداللّٰہ من ترک الصلاۃ۔ وقدقال فی الدر: من قتل نفسہ، ولوعمدا، یغسل ویصلی علیہ، بہ یفتی، وان کان اعظم وزراً من قاتل غیرہ ۲؎،

اور یہ انہی میں سے ہے جس طرح خودکشی کرنے والا۔ بلکہ بطریقِ اولٰی، کیونکہ خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے۔ اور درمختار میں کہا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کردے، خواہ جان بوجھ کر ہی، اس کو غسل دیا جائے گا اور نماز پڑھی جائے گی،اسی پر فتوٰی ہے، اگرچہ اس کا گناہ دوسرے کو قتل کرنے والے سے بڑا ہے۔

 (۲؎ درمختار        باب صلوٰۃ الجنازہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۲۲)

قال فی ردالمحتار: بہ یفتی: لانہ فاسق غیر ساعٍ فی الارض بالفساد، وان کان باغیا علی نفسہ، کسائر فساق المسلمین۔ زیلعی ۱؎۔

 (۱؎ درمختار    باب صلوٰۃ الجنازۃ    مطبوعہ مجتبائی مصر    ۱/۶۴۳)

شامی میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ یہ فاسق تو ہے مگر زمین میں فساد پھیلانے والا نہیں، اگرچہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، جس طرح باقی فاسق مسلمان۔ زیلعی۔ (ت)

مگر فرضِ عین نہیں فرض کفایہ ہے پس اگر علما وفضلا باقتدائے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی المدیون وفی قاتل فسہ بغرض زجر وتنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جُدا رہیں کوئی حرج نہیں، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلاً کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم وگنہگار ر ہیں گے، مسلمان اگرچہ فاسق ہو اُس کے جنازہ کی نماز فرض ہے الامن استثنی ولیس ھذا منھم (مگر جو مستثنی ہیں، اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔ ت) نماز پڑھنا اس پر فرض تھا اور جنازہ کی نماز ہم پر فرض ہے اگر اُس نے اپنا فرض ترک کیا ہم اپنا فرض کیونکر چھوڑ سکتے ہیں

، درمختار میں ہے: ھی فرض علٰی کل مسلم مات، خلا اربعۃ، بغاۃ، وقطاع طریق اذاقتلوا فی الحرب، ومکابر فی مصرلیلا، وخناق خنق غیر مرۃ ۲؎۔

 (۲؎ درمختار    باب صلوٰۃ الجنازۃ    مطبوعہ مصطفی البابی دہلی    ۱/۱۲۲)

نماز جنازہ ہر مسلمان کی فرض ہے، جبکہ وہ مرجائے۔ سوائے چار آدمیوں کے، باغی، ڈاکو جبکہ لڑائی میں مارے جائیں، رات کو شہر میں غنڈہ گردی کرنیوالا اور گلا گھُونٹنے والا جس نے کئی مرتبہ یہ کارروائی کی ہو۔ (ت)

اسی طرح غسل دینا، مقابرِ مسلمین میں دفن کرنا اماتنا اللّٰہ تعالٰی علی الاسلام الصادق، انہ رؤف رحیم، اٰمین۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ اٰمین۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔