جہاں کوئی شراب پئے وہاں نماز پڑھنا کیسا؟
Category : Namaz / Salat / Prayer / نماز
Published by Admin2 on 2012/5/30

New Page 1

مسئلہ (۳۲۰) از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گونا باور ریلوے ڈاک خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب محرر منشی محمد امین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور۴ رمضان المبارک ۱۳۲۵ھ

بخدمت فیض درجت جناب مولانا ومرشد نامولوی احمد رضا خان صاحب دام اقبالہ بعد السلام علیک واضح رائے شریف ہوکہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظرتوجہ بزرگانہ جواب سے معزّز فرمایا جاؤں، اوّل(۱) یہ کہ جس مکان میں کوئی شخص شراب پئے اس میں نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں۔ دوسرے(۲) یہ کہ جائے نماز برابر کسی شخص کی چارپائی کے بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اُس صورت میں کہ اُس چارپائی پر وہ شخص سوتا ہو یا بیٹھا۔ بینوا توجروا۔

الجواب :  مکرمی السّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اگر وہ شخص وہاں اُس وقت شراب پینے میں مشغول نہیں، نہ وہاں شراب کی نجاست ہے تو ایسے وقت وہاں نماز پڑھ لینے میں حرج نہیں اور اگر بالفعل وہ شخص شراب پی رہا ہے تو بلاضرورت وہاں نماز نہ پڑھے کہ شراب خور پر بحکم احادیث صحیحہ لعنتِ الٰہی اُترتی ہے اور محلِ نزولِ لعنت میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اس لئے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قومِ ثمود کی جائے ہلاک میں نماز نہ پڑھی کہ وہاں عذاب نازل ہُوا تھا نیز شراب پیتے وقت شیطان حاضر اور اس کا غلبہ واستیلا ظاہر ہے اور محل غلبہ شیطان میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اسی لئے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شبِ تعریس جب نمازِ فجر سوتے میں قضا ہُوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو حکم فرمایا کہ نماز آگے چل کر پڑھو کہ یہاں تمہارے پاس شیطان حاضر ہوا تھا حالانکہ وہ فوت قصدی نہ تھاسوتے سے آنکھ بحکمتِ الٰہی نہ کھلی تھی اور اگر وہ مکان ہی شراب خوری کا ہوکہ فسّاق فجّار اپنایہ مجمع ناجائز وہاں کیا کرتے ہوں جب تو بدرجہ اولٰی وہاں نماز مکروہ ہے کہ اب وہ مکان حمام سے زیادہ مرجع وماوائے شیاطین ہے اور علماء نے حمام میں کراہت نماز کی یہ وجہ ارشاد فرمائی کہ وہ شیطان کا ماوٰی ہے

کمافی ردالمحتار وغیرہ۔ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

 (۲)    اگر کوئی شخص چارپائی پر بیٹھا خواہ لیٹا ہے اور اس طرف اس کی پیٹھ ہے تو اس کے پیچھے جانماز بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر اُس طرف پیٹھ کیے سورہا ہے جب بھی مضائقہ نہیں، مگر سوتے کے پیچھے پڑھنے سے احتراز مناسب ہے دو۲ وجہ سے، ایک یہ کہ کیا معلوم اس کے نماز پڑھنے میں وہ اس طرف کروٹ لے اور ادھر اس کا مُنہ ہوجائے، دوسرے محتمل ہے کہ سوتے میں اس سے کوئی ایسی شے صادر ہو جس سے نماز میں اسے ہنسی آجانے کا اندیشہ ہو

المسألۃ فی ردالمحتار عن الغنیۃ والوجہ الاول مما زدتہ(یہ مسئلہ درمختار میں غنیہ سے منقول ہے اور پہلی وجہ کا میں نے اضافہ کیا ہے) (ت) واللہ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔