جو صرف لا الٰہ الااﷲ پڑھے،ایسے کی امامت کیسی؟
Category : Imam / امامت
Published by Admin2 on 2012/7/19

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۶۵: ایک شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الٰہ الااﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف کلمہ پڑھاتا ہے اورمحمد رسول اﷲبظاہراس کی زبان سے نہیں سُنا جاتا اور وُہ امامت بھی کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز امّت محمدیہ حنفیہ علٰی صاحبہا الصلٰو ۃ والسلام کی درست ہے یا نہیں؟

الجواب: صوفیہ کرام نے تصفیہ قلب کے لئے ذکرشریف لا الٰہ الا اﷲ رکھا ہے کہ تصفیہ حرارت پہنچانے سے ہوتا ہے اور کلمہ طیّبہ کا یہ جز گرم وجلالی ہے اور دوسرا جز کریم سرد خنک جمالی ہے، اگر ایسے ہی موقع پرصرف لاالٰہ الا اﷲکی تلقین کرتا ہے تو کچھ حرج نہیں اوراگر خود کلمہ طیبہ پڑھنے میں صرف لاالٰہ الا اﷲکافی سمجھتا ہے اور محمد رسول اﷲ سے احتراز کرتا ہے تو اس کی امامت ناجائزہے کہ یہ ذکر پاک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے معاذ اﷲ بے پرواہی پر دلیل ہے اور اگر واقعی اسے محمد رسول اﷲ کہنے سے انکار ہے یا یہ ذکر کریم اُسے مکروہ و ناگوار ہے توصریح کافرو مستوجب تخلید فی النار ،والعیاذ باﷲ تعالٰی،واﷲ تعالٰی اعلم۔