غیر مقلدین وہابیوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
Category : Imam / امامت
Published by Admin2 on 2012/7/22

New Page 1

مسئلہ نمبر ۶۲۹: ازبریلی محلہ سرخہ        ۲۷محرم الحرام ۱۳۱۹ھ

علمائے دین ومفتیان شرع متین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ گروہ وہابیین یعنی فرقہ غیر مقلدین داخل ہے اہل سنت وجماعت میں خارج ان سے اور فرقوں ضالہ سے اور ہم مقلدوں کو ان کے ساتھ مخالطت اور مجالست کرنا اور ان کو اپنی مساجد میں باوجود خوفِ فساد کے آنے دینا درست ہے یا نہیں،اور ان کے پیچھے نمازپڑھناکیساہے ؟

بینوابالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل۔

الجواب: فی الواقع فرقہ غیر مقلدین گمراہ بددین ضالین مفسدین ہیں انھیں امام بنانا حرام ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے ، ان کی مخالطت آگ ہے ۔صورۃمذکورہ سوال میں انھیں مساجد میں ہرگزہرگز نہ آنے دیاجائے۔

قال اﷲ تعالٰی:

وعھدنا الٰی ابراہیم واسمٰعیل ان طھرابیتی ۱؎۔ہم نے ابراہیم واسمٰعیل سے یہ وعدہ لیا کہ وہ میرے گھر کو صاف رکھیں گے۔(ت)

 (۱؎ القرآن        ۲/۱۲۵)

حدیث میں ہے:امرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان تنظف وتطیب۲؎۔حضور اکرمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے اور انھیںستھرا ونظیف اور خوشبوداررکھنے کا حکم دیا۔(ت)

 (۲؎ سنن ابو داؤد    باب اتخاذ المساجد فی الدور        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۶۶)

نجاستیں درکنار قاذورات مثل آب دہن و آب بینی باآنکہ پاک ہیں مسجد سے ان کو دور کرنا واجب تو بدمذہب گمراہ لوگ کہ ہر نجس سے بدتر نجس ہیں۔حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اھل البدع شرالخلق والخلیفۃ ۱؎۔بد مذہب تمام مخلوق سے بد تمام جہان سے بد تر ہیں۔

 (۱؎ کنز العمال    البدع والرفض من الاکمال     مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱/۲۲۳

جامع الصغیر مع فیض التقدیر        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳/۶۴)

دوسری حدیث میں ہے:اصحاب البدع کلاب اھل النار۲؎۔بدمذہب لوگ جہنمیوں کے کُتّے ہیں۔

 (۲؎ کنز العمال     فصل فی البدع     مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت        ۱/۲۱۸

جامع الصغیر مع فیض القدیر        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۵۲۸)

توایسے لوگوں کو خصوصاً بحال فتنہ وفساد وہابیہ کی عادت قدیم ہے باوصف قدرت مساجد میں کیونکہ آنے دیا جاسکتا ہے ۔

قال اﷲ تعالٰی :

والفتنۃ اشد من القتل ۳؎۔فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے۔

 (۳؎ القرآن        ۲/۱۹۲)

عینی شرح بخاری و درمختار وغیرہما میں تصریح ہے کہ مسجد سے موذی نکال دیا جائے ولو بلسانہاگرچہ صرف زبانی ایذ دیتا ہو۔نجاستیںدھونے سے پاک ہو جاتی ہیں اور بد مذہبع  :        ہرچہ شوئی پلید تر باشد           (جتنی بار دھویا جائے پلید ہی رہتا ہے)

اعاذنااﷲ منھم ومن حالھم وعقائدھم واعمالھم بجاہ نبیہ الکریم علیہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم۔اﷲ تعالٰی اپنے پیارے نبی علیہ وآلہ افضل الصلٰوۃ والسلام کے صدقے میں ان سے ان کے حال اور عقائد اعمال محفوظ رکھے۔(ت)