ایمان و کفر کا بیان
Category : Part 01
Published by admin on 2012/7/25

New Page 1

ایمان و کفر کا بیان

 

    ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اﷲ عزوجل کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا(1)، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔(2) عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں(3)، نہ وہ کہ کوردہ(4) اور جنگل اور پہاڑوں

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ'': (إنّ الإیمان في الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالی، أي: تصدیق النبي بالقلب في جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ تعالی)۔ ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الإیمان، ص۱۲۰۔

     في ''المسامرۃ'' و''المسایرۃ''، الکلام فيمتعلق الإیمان، ص۳۳۰: (الإیمان (ھو التصدیق بالقلب فقط)، أي: قبول القلب وإذعانہ لما علم بالضرورۃ أنّہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بحیث تعلمہ العامۃ من غیر افتقار إلی نظر ولا استدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ والزکاۃ وحرمۃ الخمر ونحوہا، ویکفي الإجمال فیما یلاحظ إجمالاً کالإیمان بالملا ئکۃ والکتب والرسل، ویشترط التفصیل فیما یلاحظ تفصیلا کجبریل ومیکائیل وموسی وعیسی والتوراۃ والإنجیل، حتی إنّ من لم یصدق بواحد معین منھا کافر (و) القول بأن مسمی الإیمان ھذا التصدیق فقط (ہو المختار عند جمہور الأشاعرۃ) وبہ قال الماتریدي).

    ''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۵۹.

    ''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص ۲۰۲.

    ''الدر المختار'' کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.

2۔۔۔۔۔۔ في ''الہندیۃ''، کتاب السیر، الباب في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳: (إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم؛ لأنّہ من الضروریات)۔

    ''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۶۱.

3۔۔۔۔۔۔ وفسرت الضروریات بما یشترک في علمہ الخواص والعوام، أقول: المراد العوام الذین لہم شغل بالدین واختلاط بعلمائہ۔۔۔ إلخ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الوضوئ، ج۱، ص۱۸۱۔

4۔۔۔۔۔۔ یعنی کم آباد اور چھوٹا گاؤں، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔

 

[pagebreak]
 

 

کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔

    عقیدہ (۱): اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے(1)، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں(2)، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اﷲ(3) مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر عند اﷲ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔(4)

    عقیدہ (۲): مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں(5)، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في''المسایرۃ'': (ھو التصدیق بالقلب فقط)۔

     ''فتاوی رضویہ'' ، جلد ۱۴، ص ۱۲۴ پر ہے: (ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے)۔

2۔۔۔۔۔۔ في'' شرح العقائد النسفیۃ ''، مبحث الإیمان: ص۱۲۰۔۱۲۴: (أنّ الأعمال غیر داخلۃ في الإیمان لما مرّ من أنّ حقیقۃ الإیمان ھو التصد یق)۔

     في ''الحدیقۃ الندیۃ ''، ج۱، ص۲۸۲: (والأعمال بالجوارح خارجۃ عن حقیقتہ أي: حقیقۃ الإیمان).

3۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک۔

4۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، وشرحہ ''النبراس''، ص۲۵۰: ''((إنما الإقرار شرط لإجراء الأحکام في الدنیا) من حرمۃ الدم والمال وصلاۃ الجنازۃ علیہ ودفنہ في مقابر المسلمین وہہنا مذ ہب ثالث وہو أن الإقرار لیس برکن إلا عند الطلب فمن طلب منہ الإ قرار فسکت من غیر عذر فہو کافر عند اللہ سبحانہ (لما أن التصد یق بالقلب أمر باطن لا بد لہ من علا مۃ فمن صدق بقلبہ ولم یقر بلسانہ فھو مؤمن عند اللہ سبحانہ وإن لم یکن مؤمناً في أحکام الدنیا) وھذا إذا لم یکن مباشراً لعلامات التکذیب وإلا فھو کافر عند اللہ أیضاً خلافاً لبعضھم)۔

    وفي ''الدر المختار'': والإقرار شرط لإجراء الأحکام الدنیویۃ بعد الاتفاق علی أنّہ یعتقد متی طولب بہ أتی بہ، فإن طولب بہ فلم یقر فھو کفر عناد). ''الدرالمختار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.

5۔۔۔۔۔۔ وفي ''الدر المختار'': (من ہزل بلفظ کفر ارتد، وإن لم یعتقدہ للاستخفاف فہو ککفر العناد)۔

 

[pagebreak]
 

 

کہ بلا اِکراہِ شرعی(1) مسلمان کلمہ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجاءش نہیں۔(2)

    مسئلہ(۱): اگر معاذ اﷲ کلمہ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمہ کفر نہ کہے۔ (3)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

=    وفي شرحہ ''رد المحتار'': قولہ: (من ہزل بلفظ کفر) أي تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ، وھذا لا ینافي ما مر من أنّ الإیمان ہو التصدیق فقط أو مع الإقرار؛ لأنّ التصدیق وإن کان موجوداً حقیقۃ لکنہ زائل حکماً؛ لأنّ الشارع جعل بعض المعاصي أمارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور، وکما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورۃ فإنہ یکفر وإن کان مصدّقاً؛ لأنّ ذلک في حکم التکذیب، کما أفادہ في ''شرح العقائد''، وأشار إلی ذلک بقولہ: (للاستخفاف) فإن فعل ذلک استخفافاً واستہانۃ بالدین فہو أمارۃ عدم التصدیق، ولذا قال في ''المسایرۃ'': وبالجملۃ فقد ضم إلی التصدیق بالقلب، أو بالقلب واللسان فی تحقیق الإیمان أمور، الإخلال بہا إخلال بالإیمان اتفاقاً کترک السجود لصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ، وبالمصحف والکعبۃ، وکذا مخالفۃ أو إنکار ما أجمع علیہ بعد العلم بہ؛ لأنّ ذلک دلیل علی أن التصدیق مفقود، ثم حقّق أن عدم الإخلال بہذہ الأمور أحد أجزاء مفہوم الإیمان، فہو حینئذ التصدیق والإقرار وعدم الإخلال بما ذکر، بدلیل أنّ بعض ہذہ الأمور تکون مع تحقّق التصدیق والإقرار۔ ''رد المحتار''، ج۶، ص۳۴۳۔

     في ''الخانیۃ'': (رجل کفر بلسانہ طائعاً، وقلبہ علی الإیمان یکون کافراً ولا یکون عند اللہ تعالی مؤمناً)۔

    ''فتاوی قاضی خان''، کتاب السیر، ج۲، ص۴۶۷۔ انظر للتفصیل ''المسایرۃ''، ص۳۳۷۔۳۵۷۔

1۔۔۔۔۔۔ بغیر شرعی مجبوری کے۔

2۔۔۔۔۔۔ في''شرح العقائد النسفیۃ ''، ص۱۲۱: (إنّ التصدیق رکن لا یحتمل السقوط أصلاً)۔

     انظر ''النبراس''، أن الإیمان في الشرع ھو التصدیق، ص۲۴۹۔۲۵۰.

     ''فتاوی رضویہ'' میں ہے : (بلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ، اور عامہ علماء فرماتے ہیں کہ: اِس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اللہ بھی کافر ہوجائے گا کہ ُاس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اُس کی عظمت خیال میں نہ لایا) ۔

    ''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳ ۔ و ج۲۷، ص۱۲۵۔

    اسی میں ہے: (جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقا ًقطعاً یقینا اِجماعاً کافر ہے )۔ ''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۶۰۰ ۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۶: ((ومکرہ علیھا) أي: علی الردۃ، والمراد الإکراہ بملجیء من قتل أو قطع عضو أو ضرب مبرّح فإنّہ یرخص لہ أن یظھر ما أمر بہ علی لسانہ وقلبہ مطمئن بالإیمان).

 [pagebreak]

    مسئلہ (۲): عملِ جوارح (1) داخلِ ایمان نہیں(2)، البتہ بعض اعمال جو قطعاً مُنافی ایمان ہوں اُن کے مرتکب کو کافر کہا جائے گا، جیسے بُت یا چاند سورج کو سجدہ کرنا اور قتلِ نبی یا نبی کی توہین یا مصحَف شریف یا کعبہ معظمہ کی توہین اور کسی سنّت کو ھلکا بتانا، یہ باتیں یقینا کُفر ہیں۔(3)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    وفي ''التنویر'' و''الدر المختار'': (و) إن أکرہ (علی الکفر) باللہ تعالی أو سب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ''مجمع'' و''قدروي''۔ (بقطع أو قتل رخص لہ أن یظہر ما أمر بہ) علی لسانہ ویوري (وقلبہ مطمئن بالإیمان) ثم إن وری لا یکفر وبانت امرأتہ قضاء لا دیانۃ، وإن خطر ببالہ التوریۃ ولم یور کفر وبانت دیانۃ وقضاء ''نوزال'' و''جلالیۃ'' (ویؤجر لو صبر)۔

    وفي شرحہ ''رد المحتار'': قولہ: (ویؤجر لو صبر) أي: یؤجر أجر الشہداء لما روي أنّ خبیباً وعماراً ابتلیا بذلک فصبر خبیب حتی قتل، فسماہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم سید الشہداء وأظہر عمار وکان قلبہ مطمئناً بالإیمان، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((فإن عادوا فعُد))، أي: إن عاد الکفار إلی الإکراہ فعد أنت إلی مثل ما أتیت بہ أولاً من إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان وقلبک مطمئن بالإیمان، ابن کمال وقصتھما شہیرۃ)۔ ''رد المحتار''، کتاب الإکراہ،ج۹، ص۲۲۶۔۲۲۸۔

    وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإکراہ، الباب الثاني... إلخ، ج۵، ص۳۸: (وإن أکرہ علی الکفر باللہ تعالی أو سبّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بقتل أو قطع، رخص لہ إظھار کلمۃ الکفر والسبّ فإن أظھر ذلک وقلبہ مطمئن بالإیمان فلا یأثم وإن صبر حتی قتل کان مثابا).

1 ۔۔۔۔۔۔ اعضاء کے عمل۔

2 ۔۔۔۔۔۔ قد سبق تخریج ہذہ المسألۃ في العقیدۃ الأولی، ص۱۷۳.

3۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ'': ص۱۰۹ ۔ ۱۱۰ :(إنّ حقیقۃ الإیمان ہوالتصدیق القلبي فلا یخرج المؤمن عن الاتصاف بہ إلاّ بما ینافیہ، ومجرد الإقدام علی الکبیرۃ لغلبۃ شہوۃ أوحمیّۃ أو أنفۃ أوکسل خصوصاً إذا اقترن بہ خوف العقاب ورجاء العفو والعزم علی التوبۃ لاینافیہ نعم إذا کان بطریق الاستحلال والاستخفاف کان کفراً لکونہ علامۃ للتکذیب ولا نزاع في أنّ من المعاصي ما جعلہ الشارع أمارۃ للتکذیب وعلم کونہ کذلک بالأدلۃ الشرعیۃ کسجود الصنم وإلقاء المصحف في القاذورات والتلفظ بکلمات الکفر ونحو ذلک مما تثبت بالأدلۃ أنّہ کفر).

    وفي ''المسامرۃ'' و''المسایرۃ''، ص۳۵۴ :(یکفر من استخفّ بنبي أو بالمصحف أو بالکعبۃ، وہو مقتضٍ لاعتبار تعظیم کل منھا ؛ لأنّ اللہ جعلہ في رتبۃ علیا من التعظیم غیر أنّ الحنفیۃ اعتبروا من التعظیم المنافي للاستخفاف بما عظمہ اللہ تعالی ما لم یعتبرہ غیرہم، (ولاعتبار التعظیم المنافي للاستخفاف) المذکور (کفّر الحنفیۃ) أي: حکموا بالکفر (بألفاظ کثیرۃ وأفعال تصدر من المتہتکین) الذین یجترؤن بہتک حرمات دینیۃ (لدلالتہا) أي: لدلالۃ تلک الألفاظ والأفعال (علی

 [pagebreak]

یوہیں بعض اعمال کفر کی علامت ہیں، جیسے زُنّار(1) باندھنا، سر پر چُوٹیا(2) رکھنا، قَشْقَہْ(3) لگانا، ایسے افعال کے مرتکب کو فقہائے کرام کافر کہتے ہیں۔(4) تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو ان کے مرتکب کو از سرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(5)

    عقیدہ (۳): جس چیز کی حِلّت، نصِّ قطعی سے ثابت ہو(6) اُس کو حرام کہنا اور جس کی حُرمت یقینی ہو اسے حلال بتانا

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الاستخفاف بالدین، کالصلاۃ بلا وضوء عمداً، بل) قد حکموا بالکفر (بالمواظبۃ علی ترک سنۃ استخفافاً بہا بسبب أنّہا إنّما فعلہا النبي زیادۃ، أو استقباحہا) بالجر عطفاً علی المواظبۃ: أي: بل قد کفّر الحنفیۃ من استقبح سنۃ (کمن استقبح من) إنسان (آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو) استقبح منہ (إخفاء شاربہ).

    وانظر ''منح الروض الأزہر''، ص۱۵۲، و''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۳۔

1۔۔۔۔۔۔ وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں، اور عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔

     ''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۱، ص۱۶۲۔

2۔۔۔۔۔۔ وہ چند بال جو بچے کے سر پر منت مان کر ہندو رکھتے ہیں ۔ ''فرہنگ آصفیہ''، ج۱، ص۱۰۴۔

3۔۔۔۔۔۔ پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹیکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں۔ ''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۴، ص۲۵۴۔

4۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأ زہر'' للقاریئ، فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۵: (ولو شد الزنار علی وسطہ أو وضع الغل علی کتفہ فقدکفر، أي: إذا لم یکن مکرہاً في فعلہ، وفي ''الخلاصۃ'': ولو شد الزنار قال أبو جعفر الأستروشني: إن فعل لتخلیص الأساری لا یکفر، وإلا کفر)۔

    ''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ''اگر وہ وضع اُن کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زنار ، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کما سمعت آنفاً''۔ (''فتاوی رضویہ'' ، جلد۲۴، ص ۵۳۲) ۔

    ''فتاوی رضویہ'' میں ہے :''ماتھے پر قشقہ تِلک لگانا یاکندھے پر صلیب رکھنا کفر ہے ''۔ (''فتاوی رضویہ ''، جلد۲۴، ص ۵۴۹) ۔

     ''فتاوی رضویہ'' میں ہے : '' قشقہ ضرور شعارِ کفر ومنافیِ اسلام ہے جیسے زُنار، بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر ، اور چہرے میں کس جگہ ماتھے پر جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین ''۔     (''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳) ۔

5۔۔۔۔۔۔ في ''العقود الدریۃ''، باب الردۃ والتعزیر، ج۱، ص۱۰۱: (وقال في ''البزازیۃ'': ولو ارتد ۔والعیاذ باللہ تعالی۔ تحرم امرأتہ ویجدّد النکاح بعد إسلامہ ویعید الحج۔۔۔ إلخ)۔

6۔۔۔۔۔۔ جس چیزکا حلال ہونا ایسی صریح واضح اور یقینی دلیل سے ہو جس میں تاویل وتوجیہ کی کوئی گنجاءش ہی نہ ہو ۔

 [pagebreak]

کفر ہے، جبکہ یہ حکم ضروریاتِ دین سے ہو، یا منکر اس حکمِ قطعی سے آگاہ ہو۔ (1)

    مسئلہ (۱): اُصولِ عقائد میں تقلید جاءز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ استدلالی(2) کی حاجت نہیں، ہاں! بعض فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہے(3) ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''منح الروض الأزہر''، استحلال المعصیۃ، ص۱۵۲: (إذا اعتقد الحرام حلالاً، فإن کان حرمتہ لعینہ وقد ثبت بدلیل قطعي یکفر وإلاّ فلا بأن تکون حرمتہ لغیرہ أو ثبت بدلیل ظنيّ، وبعضھم لم یفرّق بین الحرام لعینہ ولغیرہ، فقال: من استحلّ حراماً وقد علم في دین النبي صلی اللہ علیہ وسلم تحریمہ کنکاح ذوي المحارم أو شرب الخمر أو أکل میتۃ أو دم أو لحم خنزیر من غیر ضرورۃ فکافر).

    فیہ في فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۸: (ومن استحلّ حراماً وقد علم تحریمہ في الدین: أي: ضرورۃ، کنکاح المحارم أو شرب الخمر أو أکل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر أي: في غیر حال الاضطرار ومن غیر إکراہ بقتل أو ضرب فظیع لا یحتملہ، وعن محمد رحمہ اللہ بدون الاستحلال ممن ارتکب کفر، أي: في روایۃ شاذۃ عنہ ولعلھا محمولۃ علی مرتکب نکاح المحارم فإن سیاق الحال یدل علی الاستحلال لبقیۃ المحرمات، واللہ أعلم بالأحوال، قال: والفتوی علی التردید إن استعمل مستحلاً کفر وإلاّ، لا)۔

    في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۶۸: (وقیل: إنّ من أحل ما حرم اللہ أو حرم ما أحل اللہ أو جحد بشیء مما أنزل اللہ فقد کفر باللہ وحبط عملہ المتقدم)۔

    ''فتاوی رضویہ'' میں ہے : ''کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جسے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریاتِ دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعتِمطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے ۔

    قال اللہ تعالٰی: (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلَالٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ )۔ اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں (اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ )یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تعالی پر جھوٹ باندھو (یاد رکھو) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ (ت)

    وقال اﷲ تعالٰی (نیز اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ ت): (اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ)۔

    اللہ تعالیٰ کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں (جو درحقیقت) ایمان نہیں رکھتے (ت)۔ (''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۲۱، ص۱۷۵) .

2۔۔۔۔۔۔ وہ علم جو دلیل کا محتاج ہو۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۱۷، الأنبیاء، تحت الآیۃ: ۵۳۔۵۴، ج۵، ص۴۹۱: (قَالُوْا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا لَہَا عَابِدِیْنَ قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُکُمْ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ) واعلم أنّ التقلید قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤوا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأنّ النبي علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکنہ یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ).

    وفي ''تفسیر روح البیان''، پ۲۵، الزخرف، تحت الآیۃ: ۲۲: (بَلْ قَالُوْا اِنَّا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا عَلٰی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰی اٰثَارِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ) ج۸، ص۳۶۱: وفیہ ذم للتقلید وہو قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأن النبی علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکن المقلد یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ، والمقصود من الاستدلال ہو الانتقال من الأثر إلی المؤثر ومن المصنوع إلی الصانع تعالی بأي وجہ کان، لا ملاحظۃ الصغری والکبری وترتیب المقدمات للإنتاج علی قاعدۃ المعقول فمن نشأ في بلاد المسلمین وسبح اللہ عند رؤیۃ صنائعہ فہو خارج عن حد التقلید کما في فصل الخطاب والعلم الضروري أعلی من النظري؛ إذ لا یزول بحال وہو مقدمۃ الکشف والعیان وعند الوصول إلی الشہود لا یبقی الاحتیاج إلی الواسطۃ.

    ''فتاوی رضویہ''، ج۲۹، ص۲۱۵ میں ہے: ''جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں کتاب سنت، اجماع قیاس،عقائد میں چار اصول ہیں کتاب، سنت ، سواد اعظم، عقل صحیح، تو جو اِن میں ایک کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیداً اھل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیں،تو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔ یوں ہی اقوالِ آئمہ سے استناد اسی معنیٰ پر ہے کہ یہ اھلسنت کا مذہب ہے ولھذا ایک دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جاءز نہ استناد کہ اب یہ تقلید ہوگی اور وہ عقائد میں جاءز نہیں،اس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اﷲو رسول جل و علا وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے،ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی،لھذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو وہ حق ہے اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب بدمذہب ملا کر کبھی اھلسنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکےﷲالحمد فقہ میں جس طرح اجماع اقوی الاَدِلّہ ہے کہ اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقیناً سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگرچہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہویونہی اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اھلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہے حق سوادِ اعظم کے ساتھ ہے اور ایک معنی پر یہاں اقوی الادلہ عقل ہے کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی سے ظاہر ہوئی ہے مگر محال ہے کہ سواد اعظم کا اتفاق کسی برہان صحیح عقلی کے خلاف ہویہ گنتی کے جملے ہیں مگر بحمدہ تعالیٰ بہت نافع و سود مند، فعضوا علیہا بالنواجذ ( پس ان کو مضبوطی سے داڑھوں کے ساتھ پکڑلو ۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم''۔

 

[pagebreak] 

 

اِسی بنا پر خود اھلِ سنّت میں دو گروہ ہیں: ''ماتُرِیدیہ'' کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ(1) کے متّبع ہوئے اور ''اَشاعرہ'' کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ اﷲ تعالیٰ(2) کے تابع ہیں، یہ دونوں جماعتیں اھلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے۔ (3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔۔۔۔۔۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی حنفی ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ '' امام المتکلمین'' اور ''امام الھدی'' کے لقب سے مشہور ہیں ، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقائدِ مسلمین کی وضاحت اور باطل عقیدہ والوں کی تردید میں کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے بعض کتابوں کے نام یہ ہیں : '' کتاب التوحید''، ''کتاب المقالات'' ، '' کتاب ردّ دلائل الکعبی'' اور ''کتاب تاویلات القرآن'' ، آپ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ساتھیوں کو ''سمرقند''کے ایک محلہ ''ماتُرید'' کی طرف نسبت کی وجہ سے ''ماتریدی'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۳۳ ہجری میں ہوا ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار سمرقند میں ہے ۔     ( ''الفوائد البھیۃ'' ، ص ۲۵۵ ، ''ہدیۃ العارفین''، ج۲، ۳۶۔۳۷، ''معجم المؤلفین ''، ج ۳ ، ص ۶۹۲)۔

2۔۔۔۔۔۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو الحسن علی بن اسماعیل بن اسحاق بن اسماعیل بن عبداللہ بن بلال ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب صحابی ئرسول حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر متکلمینِ اھل سنت کے رئیس ہیں، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب کو ''اشاعرہ'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: ''الفصول فی الرد علی الملحدین والخارجین عن الملۃ'' ،''الرد علی المجسمۃ'' ، '' کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین''، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۲۴ ہجری میں بغداد میں ہوا۔

(''النبراس''، ص۲۰، ''سیر أعلام النبلائ''، ج۱۱، ص۵۴۱ ''معجم المؤلفین''، ج۲، ص۴۰۵، ''الأعلام'' للزرکلي، ج۴، ص۲۶۳)۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''البریقۃ المحمودیۃ''، الباب الأول، النوع الثاني، ج۱، ص۲۰۰: (عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنھما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیأتین علی أمتي ما أتی علی بني إسرائیل حذو النعل بالنعل حتی إن کان منھم من أتی أمہ علانیۃ لکان في أمتي من یصنع ذلک وإن بني إسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملۃ وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: ومن ہي یا رسول اللہ قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي)) وہي أھل السنۃ والجماعۃ من الماتریدیۃ والأشاعرۃ، فإن قیل: کل فرقۃ تدعي أنّہا أھل السنۃ والجماعۃ، قلنا: ذلک لا یکون بالدعوی بل بتطبیق القول والفعل وذلک بالنسبۃ إلی زماننا إنما یمکن بمطابقۃ صحاح الأحادیث ککتب الشیخین وغیرھما من الکتب التي أجمع علی وثاقتہا کما في ''المناوي''، فإن قیل: فما حال الاختلاف بین الأشاعرۃ والماتریدیۃ؟ قلنا: لاتحاد أصولھما لم یعد مخالفۃ معتدۃ؛ إذ خلاف کل فرقۃ لا یوجب تضلیل الأخری ولا تفسیقہا فعدتا ملۃ واحدۃ، وأما الخلاف في الفرعیات وإن کان کثرۃ اختلاف صورۃ لکن مجتمعۃ في عدم مخالفۃ الکل کتاباً نصاً ولا سنۃ قائمۃ ولا)۔

[pagebreak]

اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اھلِ حق ہیں، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کرسکتا۔(1)

    مسئلہ (۲): ایمان قابلِ زیادتی و نقصان نہیں، اس لیے کہ کمی بیشی اُس میں ہو تی ہے جو مقدار یعنی لمبائی، چوڑائی، موٹائی یا گنتی رکھتا ہو اور ایمان تصدیق ہے اور تصدیق، کَیف یعنی ایک حالتِ اِذعانیہ۔(2) بعض آیات میں ایمان کا زیادہ ہونا جو فرمایا ہے اُس سے مراد مُؤمَن بہ ومُصدََّق بہ ہے، یعنی جس پر ایمان لایا گیا اور جس کی تصدیق کی گئی کہ زمانہ نزولِ قرآن میں اس کی کوئی حد معیّن نہ تھی، بلکہ احکام نازل ہوتے رہتے اور جو حکم نازل ہوتا اس پر ایمان لازم ہوتا، نہ کہ خود نفسِ ایمان بڑھ گَھٹ جاتا ہو، البتہ ایمان قابلِ شدّت و ضُعف ہے کہ یہ کَیف کے عوارض سے ہیں۔ (3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    في ''شرح المقاصد''، الفصل الثالث: في الأسماء والأحکام، المبحث الثامن حکم المؤمن والکافر والفاسق، ج۳، ص۴۶۴۔۴۶۵: (والمشہور من أھل السنۃ في دیار ''خراسان'' و''العراق'' و''الشام'' وأکثر الأقطار ہم الأشاعرۃ أصحاب أبي الحسن، علي بن إسماعیل بن إسحٰق بن سالم بن إسماعیل بن عبد اللہ بن بلال بن أبي بردۃ بن أبي موسی الأشعري صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أول مَن خالف أبا علي الجبائي، ورجع عن مذہبہ إلی السنّۃ، أي: طریقۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم والجماعۃ أي: طریقۃ الصحابۃ. وفي دیار ''ما وراء النہر'' الماتریدیۃ أصحاب أبي منصور الماتریدي تلمیذ أبي نصر العیاض، تلمیذ أبي بکر الجوزجاني صاحب أبي سلیمان الجوزجاني، تلمیذ محمد بن الحسن الشیباني رحمہ اللہ و''ماترید'' من قری ''سمرقند''، وقد دخل الآن فیہا بین الطائفتین اختلاف في بعض الأصول، کمسألۃ التکوین، ومسألۃ الاستثناء في الإیمان، ومسألۃ إیمان المقلد وغیر ذلک. والمحققون من الفریقین لا ینسبون أحدھما إلی البدعۃ والضلالۃ خلافاً للمبطلین المتعصبین)، انظر''مجموعۃ حواشي البھیۃ''، ''حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین علی شرح العقائد النسفیہ''، ج۲، ص ۳۱۔

    وانظر ''حاشیۃ العلامۃ مولانا ولي الدین علی حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین، ج۲، ص۳۱، و''النبراس''، بیان اختلاف الأشعریۃ والماتریدیۃ، ص۲۲، و''رد المحتار''، المقدمۃ، مطلب: یجوز تقلید المفضول مع وجود الأفضل، ج۱، ص۱۱۹۔

1۔۔۔۔۔۔ یعنی گمراہ اور فاسق نہیں کہہ سکتا۔

2۔۔۔۔۔۔ تصدیق، اعتماد ویقین کی ایک کیفیت کا نام ہے۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیہ''، ص۱۲۵۔۱۲۷: (إنّ حقیقۃ الإیمان لا تزید ولا تنقص لما مر من أنّہا التصدیق القلبي الذي بلغ حد الجزم والإذعان وھذا لا یتصور فیہ زیادۃ ولا نقصان حتی إنّ من حصل لہ حقیقۃ التصدیق فسواء أتی بالطاعات أو ارتکب المعاصي فتصدیقہ باق علی حالہ لا تغیر فیہ أصلا والآیات الدالۃ علی زیادۃ الإیمان محمولۃ علی ما ذکرہ أبو حنیفۃ أنھم کانوا آمنوا في الجملۃ ثم یأتي فرض بعد فرض وکانوا یؤمنون بکل فرض خاص وحاصلہ أنہ کان یزید بزیادۃ ما یجب بہ

 


 [pagebreak]

 

حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا تنہا ایمان اس اُمت کے تمام افراد کے مجموع ایمانوں پر غالب ہے۔ (1)

    عقیدہ (۴): ایمان و کفر میں واسطہ نہیں(2)، یعنی آدمی یا مسلمان ہوگا یا کافر، تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان ۱ ؎ ہو نہ کافر۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الإیمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال بعض المحققین: لا نسلم أنّ حقیقۃ التصدیق لا تقبل الزیادۃ والنقصان بل تتفاوت قوۃ وضعفاً)۔

    وانظر للتفصیل '' النبراس''، والإیمان لا یزید ولا ینقص، ص۲۵۷۔

    وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ رحمہ اللہ تعالی ''الزلال الأنقی من بحر سبقۃ الأتقی''، ج۲۸، ص۵۹۸۔۵۹۹۔

1۔۔۔۔۔۔ ((عن ھزیل بن شرحبیل، قال: قال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ : لووزن إیمان أبي بکر بإیمان أھل الأ رض لرجح بھم))۔ (''شعب الإیمان''، باب القول في زیادۃ الإیمان ونقصانہ... إلخ، الحدیث: ۳۶، ج۱، ص۶۹)۔

2۔۔۔۔۔۔ قال الإمام الرازي تحت ہذہ الآیۃ: (اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا)۔۔۔ إلخ في ''التفسیر الکبیر''، ج۶، ص۲۰۶: (احتج أصحابنا بہذہ الآیۃ علی أنہ لا واسطۃ بین أن یکون المکلف مؤمناً وبین أن یکون کافراً ، لأنہ تعالی اقتصر في ہذہ الآیۃ علی ذکر ہذین القسمین)۔

    في'' تفسیر البیضاوی''، پ۵، النساء: ۱۴۶، ج ۲، ص۲۷۳۔۲۷۴: ( اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُوْنَ أَنْ یُفَرّقُواْ بَیْنَ اللہ وَرُسُلِہِ ) بأن یؤمنوا باللہ ویکفروا برسلہ( وَیقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ) نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضھم، (وَیُرِیْدُوْنَ اَن یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ) طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر، لا واسطۃ؛ إذ الحق لا یختلف فإن الإِیمان باللہ سبحانہ وتعالی لا یتمّ إلاّ بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکل في الضلال کما قال اللہ تعالی: (فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلاَلُ)۔

    وفي ''تفسیر النسفي''، ص۲۶۲، تحت الآیۃ: (وَیُرِیْدُوْنَ اَن یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلکَ سَبِیْلاً ) (أي: دیناً وسطاً بین الإیمان والکفر ولا واسطۃ بینھما)۔

    اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ'' شریف میں فرماتے ہیں:

    (اقول وباللہ التوفیق: توضیح اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق ۔ت) یہ ہے کہ کافر نہیں مگر وہ جس کادین کفر ہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں، نہ ایک شخص کے ایک وقت میں دو دین ہو سکیں، فإنّ الکفر والإسلام علی طرفي النقیض بالنسبۃ إلی الإنسان لا یجتعمان أبداً ولا یرتفعان قال تعالی: (اِمَّا شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا) [پ۳۰، الدھر: ۳]، وقال تعالی: (مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ) [پ۲۱، الأحزاب: ۴]۔     ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۷۱۲۔

۱ ؎ ۔۔۔۔۔۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ہم بوجہ شبہ کے کسی کو نہ مسلمان کہیں نہ کافر جیسے یزید پلیدواسمٰعیل دھلوی۔ ۱۲ منہ

 


 [pagebreak]

 

    مسئلہ: نفاق کہ زبان سے دعوی اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے(1)، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔(2) حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ باطنی پر قرآن ناطق ہوا(3)، نیز نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔(4) اب اِس زمانہ میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع(5) کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتا، کہ ھمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے، جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو مُنافیِ ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۲۶: (وکفر نفاق، وہو أن یقرّ بلسانہ ولا یعتقد صحۃ ذلک بقلبہ)۔

     وفي ''تفسیر النسفي''، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۲۴: (ثم ثلث بالمنافقین الذین آمنوا بأفواھھم ولم تؤمن قلوبھم وھم أخبث الکفرۃ؛ لأنھم خلطوا بالکفر استھزاء وخداعا)۔

2۔۔۔۔۔۔ (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا) ( پ۵، النسآء: ۱۴۵)۔

3۔۔۔۔۔۔ (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱)۔

4۔۔۔۔۔۔ عن ابن عباس، في قولہ: (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِینَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) [التوبۃ: ۱۰۱]، قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم جمعۃ خطیباً، فقال: ((قم یا فلا ن فاخرج ؛ فإنّک منافق، اخرج یا فلا ن فإنک منافق))، فأخرجھم بأسمائھم ففضحھم، ولم یکن عمر بن الخطاب شھد تلک الجمعۃ کانت لہ، فلقیھم عمر وھم یخرجون من المسجد فاختبأ منھم استحیاء أنہ لم یشھد الجمعۃ، وظنّ أنّ الناس قد انصرفوا، واختبؤا ھم من عمر، وظنوا أنہ قد علم بأمرھم، فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا. فقال لہ رجل: أبشر یا عمر فقد فضح اللہ المنافقین الیوم، فھذا العذ اب الأول، والعذ اب الثاني عذ اب القبر))۔

('' المعجم الأوسط''، من اسمہ أحمد، الحدیث: ۷۹۲، ج۱، ص۲۳۱)۔

5 ۔۔۔۔۔۔ یعنی یقین۔

 

[pagebreak]
 

 

    عقیدہ (۵): شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا(1) اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں، ولہٰذا شرعِ مطہّر نے اھلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے نہیں ہوسکتا۔(2)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الأفعال کلھا بخلق اللہ تعالٰی، ص۷۸: (الإشتراک ھو إثبات الشریک في الألوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الأصنام )۔

    وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۱۳۱.

2۔۔۔۔۔۔ (اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ)(پ۶، المائدۃ: ۵)۔

    وفي ''تفسیر الخازن''، المائدۃ: ۵، ج۱، ص۴۶۷۔۴۶۸: ((وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ) یعني: وذبائح أھل الکتاب حلّ لکم وہم الیہود والنصاری ومن دخل في دینھم من سائر الأمم قبل مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم، فأما من دخل في دینھم بعد مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم وہو متنصر والعرب من بنيتغلب فلا تحل ذبیحتہ روي عن علي بن أبي طالب قال: لا تأکل من ذبائح نصاری العرب بني تغلب فإنھم لم یتمسکوا بشيء من النصرانیۃ إلا بشرب الخمر، وبہ قال ابن مسعود،۔۔۔۔۔۔۔ وأجمعوا علی تحریم ذبائح المجوس وسائر أھل الشرک من مشرکي العرب وعبدۃ الأصنام ومن لا کتاب لہ۔

    وقولہ تعالٰی: (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ) یعني: وأحلّ لکم المحصنات من أھل الکتاب الیہود والنصاری قال ابن عباس: یعني: الحرائرمن أھل الکتاب)۔

    انظر التفصیل لہذہ المسألۃ في رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن المسماۃ بـ''إعلام الأعلام بأنّ ہندوستان دار السلام''، ''الفتاوی الرضویۃ، ج۱۴، من ص۱۱۶إلی۱۲۲۔

    (وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ) (پ۲، البقرۃ: ۲۲۱)۔

    وفي ''تفسیر الخازن''، البقرۃ: ۲۲۱، ج۱، ص۱۶۰: (ومعنی الآیۃ ولا تنکحوا أیہا المؤمنون المشرکات حتی یؤمن أي: یصدقن باللہ ورسولہ وہو الإقرار بالشہادتین والتزام أحکام المسلمین)۔

    انظر ''الدرالمختار'' و''رد المحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطلب: مھم في وطء السراري اللاتي... إلخ، ج۴، ص۱۳۲تا۱۳۴۔ وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۶۲۱،۶۲۲.

 


 [pagebreak]

 

    امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ(1) لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا(2) اور کبھی شرک بول کر مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے۔ یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ ـ''شرک نہ بخشا جائے گا۔'' (3) وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ اﷲ عزوجل کی مشیت پر ہیں، جسے چاہے بخش دے۔ (4)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ اسلامی حکومت میں اھلِ کتاب یعنی عیسائیوں اور یہودیوں سے سالانہ ٹیکس۔

2۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: (قَاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ) التوبۃ: ۲۹، ج۲، ص۲۳۰: (فذہب الشافعي إلی أنّ الجزیۃ علی الأدیان لا علی الأنساب فتؤخذ من أھل الکتاب عرباً کانوا أو عجماً ولا تؤخذ من عبدۃ الأوثان)۔ و''الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، الجزء الثاني، ج۱، ص۴۰۱۔

    و''فتح القدیر''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج ۵، ص۲۹۱۔۲۹۲۔

    و''البنایۃ في شرح الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج۹، ص۳۴۶۔۳۴۷۔

3۔۔۔۔۔۔ ( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ )، ( پ۵، النسآء : ۴۸)۔

4۔۔۔۔۔۔ ( وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ) (پ۵، النسآء: ۴۸)۔

    في ''تفسیر روح البیان''، ج۲، ص۲۱۸: (( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) أي: لا یغفر الکفر ممن اتصف بہ بلا توبۃ وإیمان؛ لأنّ الحکمۃ التشریعیۃ مقتضیۃ لسدّ باب الکفر وجواز مغفرتہ بلا إیمان مما یؤدي إلی فتحہ ولأنّ ظلمات الکفر والمعاصي إنّما یسترہا نور الإیمان فمن لم یکن لہ إیمان لم یغفر لہ شيء من الکفر والمعاصی( وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ) أي: ویغفر ما دون الشرک في القبح من المعاصي صغیرۃ کانت أو کبیرۃ تفضلاً من لدنہ وإحساناً من غیر توبۃ عنہا لکن لا لکل أحد بل (لِمَنْ یَّشَائُ) أن یغفر لہ ممن اتصف بہ فقط أي: لا بما فوقہ)۔

    وفي ''روح المعاني''، الجزء الخامس، ص۶۸: (والشرک یکون بمعنی اعتقاد أنّ للہ تعالی شأنہ شریکاً إما في الألوہیۃ أو في الربوبیۃ ، وبمعنی الکفر ۔مطلقاً وہو المراد ہنا۔)۔

    في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۷۔۱۰۸: (الکبیرۃ وقد اختلف الروایات فیھا فروی ابن عمر أنّہا تسعۃ: الشرک باللہ۔۔۔إلخ)۔

     وفي ''مجموعۃ الحواشي البہیۃ''، ''حاشیۃ عصام الدین'' تحت ہذہ العبارۃ، ج۲، ص۲۱۸: (المراد مطلق الکفر وإلاّ لورد أنواع الکفر غیرہ)۔

    في ''عمدۃ القاریئ شرح صحیح البخاري''،ج۱، ص۳۰۵: (المراد بالشرک في ہذہ الآیۃ الکفر؛ لأنّ من جحد نبوۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مثلاً کان کافراً ولو لم یجعل مع اللہ إلھاً آخر والمغفرۃ منتفیۃ عنہ بلا خلاف وقد یرد الشرک ویراد بہ ما ہو أخص من الکفر کما فی قولہ تعالی: (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ ))۔

    وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔۲۷۷۔

 

[pagebreak]
 

 

 عقیدہ (۶): مرتکبِ کبیرہ مسلمان ہے(1) اور جنت میں جائے گا، خواہ اﷲ عزوجل اپنے محض فضل سے اس کی مغفرت فرما دے ، یا حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت کے بعد، یا اپنے کیے کی کچھ سزا پا کر، اُس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔ (2)

    مسئلہ: جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی(3) کہے، وہ خود کافر ہے۔(4)

    عقیدہ (۷): مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔ (5)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر، واللہ تعالی لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء من الصغائر والکبائر)۔

في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۲: (إنّ مرتکب الکبیرۃ لیس بکافر والإجماع المنعقد علی ذلک علی ما مرّ)۔

 ''فتاویٰ رضویہ''، ج ۲۱، ص۱۳۱ پر ہے: ''اھلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ''۔

 ('' الفتاوی الرضویۃ ''، ج۵، ص۱۰۱) .

2۔۔۔۔۔۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (وأھل الکبائر من المؤمنین لا یخلد ون في النار)۔

     في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۷: (وأھل الکبائر من ا لمؤمنین لا یخلد ون في النار وإن ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ،)۔۔۔ إلخ۔ في ''عمدۃ القاري''، ج۱، ص۳۰۵: (مذھب أھل الحق علی أنّ من مات موحداً لا یخلد في النار وإن ارتکب من الکبائر غیر الشرک ما ارتکب وقد جاء ت بہ الأحادیث الصحیحۃ منھا قولہ علیہ السلام: ((وإن زنی وإن سرق))۔ وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔

3۔۔۔۔۔۔ جنّتی۔

4۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ( کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیبِ قرآن عظیم ہے کما فی ''العالمگیریہ'' و غیرھا )۔

(''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۲۸) ۔

5۔۔۔۔۔۔ جو کسی منکرِ ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے ، امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ '' شفا شریف'' میں فرماتے ہیں : الإجماع علی کفر من لم یکفر أحداً من النصاری والیہود و کلّ من فارق دین المسلمین أو وقف فی تکفیرھم أو شک، قال القاضي أبو بکر: لأن التوقیف والإجماع اتفقا علی کفرھم فمن وقف فی ذلک فقد کذب النص والتوقیف أو شک فیہ، والتکذیب والشک فیہ لا یقع إلا من کافر۔    یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہود ونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کو کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شک لائے، امام قاضی ابوبکر باقلانی نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماعِ امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص وشریعت کی تکذیب کرتا ہے یا اس میں شک رکھتا ہے اور یہ امر کافر ہی سے صادر ہوتا ہے۔

 اسی میں ہے : کفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الإسلام أو وقف فیھم أو شک أو صحح مذھبھم وإن أظھر الإسلام واعتقد إبطال کل مذھب سواہ فھو کافر بإظھار ما أظھر من خلاف ذلک، اھ ملخصاً۔

    یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شک لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیک بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۴۴۳۔۴۴۴.

    وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۱، ص۳۷۸.

     '' فتاوی رضویہ'' میں ہے : ( اللہ عزوجل نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا: (قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) [پ۳۰، الکافرون: ۱] (اے نبی فرمادیجئے اے کافرو!) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اِسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو۔

 ''در مختار'' میں ہے : (شتم مسلم ذمیاً عزر، وفي ''القنیۃ'': قال لیہودي أو مجوسي: یا کافر یأثم إن شق علیہ)۔

    کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گی،''قنیہ'' میں ہے کسی یہودی یا آتش پرست کو''اے کافر'' کہا تو کہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا، (ت)۔ ('' الدر المختار''، کتاب الحدود، باب التعزیر، ج۶، ص۱۲۳، ملتقطاً)۔

 یوں ہی غیر سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو ''او کافر''کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔

    فإنہ لا یحل لمسلم أن یذل نفسہ إلا بضرورۃ شرعیۃ۔

تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔ (ت)۔

    مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔

 من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔(ت)

   (''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷)۔

اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہے، حدیث میں ہے

    ((أترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس))۔

    کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہنچائیں گے لھذا بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں۔ (ت)     ''نوادر الأصول'' للترمذي، الأصل السادس والستون والمائۃ، ص۲۱۳۔

    یہ کافر کہنابطور دُشنام نہیں ہوتا بلکہ حکم شرعی کا بیان، شرع مطہر میں کافر ہر غیر مسلم کا نام ہے۔

    قال اﷲ تعالٰی: (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ)۔ [پ۲۸، التغابن: ۲]۔

     اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں (ت)۔

    سوالِ حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو، اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہے کہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطۃ کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں) تواسلام کو کفر جانا۔

    لأنّ ماکان کفراً فضدہ الإسلام فإذا جعلہ إسلاماً فقد جعل ضدہ کفراً؛ لأن الإسلام لا یضادہ إلا الکفر والعیاذ باﷲ تعالٰی۔

    اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس کی ضد اسلا م ہے۔ پھر جب کفر کو اسلام ٹھرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی (یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا) کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اللہ تعالی کی پناہ (ت)۔          (''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۸۵۔۲۸۶)۔

 [pagebreak]

خاتمہ پر بِنا روزِ قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا، مگر ہم کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر ہی جانیں، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ کریں جو کافروں کے لیے ہیں، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں۔

    اِس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ'' میاں...! جتنی دیر اسے کافر کہو گے، اُتنی دیر اﷲ اﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔'' اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو...؟! مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،

 

نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے(1) اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔

    تنبیہ ضروری: حدیث میں ہے:

 

 ((سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ ثَلٰثًا وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِيْ النَّارِ إلاَّ وَاحِدَۃً.))

 

''یہ امت تہتّر فرقے ہو جائے گی، ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔''

    صحابہ نے عرض کی:

 

''مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟''

 

 

1۔۔۔۔۔۔ کل مذاہب کا ایک مآل سمجھ کر مختلف مذاہب کے لوگوں سے خصومت نہ کرنا اور دوست و دشمن سے یکساں برتاؤ رکھنا ۔

(''فرہنگ آصفیہ''، ج ۲ ، ص ۲۲۴)۔


 

 [pagebreak]

''وہ ناجی(1) فرقہ کون ہے یا رسول اﷲ ؟''

    فرمایا: ((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِيْ.))(2)

''وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں''، یعنی سنّت کے پیرو۔

     دوسری روایت میں ہے، فرمایا:

 

 ((ھُمُ الْجَمَاعَۃُ.))(3)

''وہ جماعت ہے۔''

    یعنی مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جسے سوادِ اعظم فرمایا اور فرمایا: جو اس سے الگ ہوا، جہنم میں الگ ہوا۔ (4) اسی وجہ سے اس ''ناجی فرقہ'' کا نام ''اھلِ سنت و جماعت'' ہوا۔(5) اُن گمراہ فرقوں میں بہت سے پیدا ہو کر ختم ہو گئے، بعض ہندوستان میں نہیں،

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ جہنم سے نجات پانے والا۔

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''، کتاب الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھذہ الأمۃ، الحدیث: ۲۶۵۰، ج۴، ص۲۹۲.

     و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الفتن، باب افتراق الأمم، الحدیث: ۳۹۹۳، ج۴، ص۳۵۳.

3۔۔۔۔۔۔ ''السنۃ'' لابن أبي عاصم، باب فیما أخبر بہ النبي علیہ السلام أن أمتہ ستفترق علی... إلخ، الحدیث: ۶۳، ص۲۲.

4۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ اللہ لا یجمع أمتي)) أو قال: ((أمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی ضلالۃ، وید اللہ علی الجماعۃ، ومن شذ شذ إلی النار)).

    ''سنن الترمذي ''، کتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعۃ، الحدیث: ۲۱۷۳، ج۴، ص۶۸.

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اتبعوا السواد الأعظم، فإنّہ من شذ شذ في النار))۔

    ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۴، ج۱، ص۵۵.

    وفي ''المرقاۃ''، ج۱، ص۴۲۱، تحت الحدیث: ۱۷۳ : (''ومن شذ'': أي: انفرد عن الجماعۃ باعتقاد أو قول أو فعل لم یکونوا علیہ شذ في النار، أي: انفرد فیہا، ومعناہ انفرد عن أصحابہ الذین ہم أھل الجنۃ وألقي في النار).

5۔۔۔۔۔۔ في ''المشکاۃ''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۱، ج۱، ص۵۴: ((وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلّہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: من ھي؟ یا رسول اللہ، قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي))۔                                          =


 [pagebreak]

 

ان فرقوں کے ذکر کی ہمیں کیا حاجت؟!، کہ نہ وہ ہیں، نہ اُن کا فتنہ، پھر ان کے تذکرہ سے کیا مطلب جو اِس ہندوستان میں ہیں؟! مختصراً ان کے عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے، کہ ھمارے عوام بھائی ان کے فریب میں نہ آئیں، کہ حدیث میں اِرشاد فرمایا:

 

 ((إِ یَّاکُمْ وَإِ یَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ.))(1)

 

''اپنے کو اُن سے دُور رکھو اور اُنھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں، کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔''

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 =    وفي ''المرقاۃ'' ج۱، ص۴۱۹، تحت ھذا الحدیث: (ھنا المراد ھم المھتدون المتمسکون بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدي، فلا شک ولا ریب أنّھم ھم أھل السنۃ والجماعۃ)، ملتقطاً.

    ''التوضیح''، ج۲، ص۵۲۸: (والمراد بالأمۃ المطلقۃ أھل السنۃ والجماعۃ وہم الذین طریقتہم طریقۃ الرسول والصحابۃ دون أھل البدع۔۔۔ إلخ۔

    في''حاشیۃ الطحطاوي''، ج۳، ص۱۵۳: (وقال تعالی:(وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا) قال بعض المفسرین المراد من(حَبْلِ اللَّہِ): الجماعۃ؛ لأنہ عقبہ بقولہ: ( وَلَا تَفَرَّقُوْا)، والمراد من الجماعۃ عند أھل العلم أھل الفقہ والعلم ومن فارقہم قدر شبر وقع في الضلالۃ وخرج عن نصرۃ اللہ تعالی ودخل في النار؛ لأنّ أھل الفقہ والعلم ہم المہتدون المتمسکوں بسنۃ محمّد علیہ الصلاۃ والسلام وسنۃ الخلفاء الراشدین بعدہ ومن شذ عن جمہور أھل الفقہ والعلم والسواد الأعظم فقد شذ فیما یدخلہ في النار فعلیکم معشر المؤمنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ بـ ''أھل السنۃ والجماعۃ''؛ فإنّ نصرۃ اللہ وحفظہ وتوفیقہ في موافقتہم، وخذلانہ وسخطہ و مقتہ في مخالفتھم، وہذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم في مذاہب أربعۃ وہم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اللہ ومن کان خارجاً عن ہذہ الأربعۃ في ھذا الزمان فہو من أھل البدعۃ والنار).

(''حاشیۃ الطحطاوي علی الدر''، کتاب الذبائح، ج۴، ص۱۵۲۔۱۵۳).

1۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، مقدمۃ الکتاب للإمام مسلم، باب النھي عن الروایۃ عن الضعفاء... إلخ، الحدیث: ۷، ص۹.