حافظ قرآن قصاب ہو اسے امام بنانا کیسا؟
Category : Imam / امامت
Published by Admin2 on 2012/7/30

New Page 1

مسئلہ نمبر۷۶۴: از مقام چھاؤنی میرٹھ قصبہ کنکر کڑہ     مرسلہ پیر سخاوت حسین صاحب ممبر جامع مسجد ۹ شوال ۱۳۳۷

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حافظ ِقرآن پاک ہے اور امامت جامع مسجد کی کرتا ہے اور پابند ِصوم صلوٰۃہے زوجہ اس کی پردہ نشین ہے مگر قوم سے شخص مذکور قصاب ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:  اگر اس کی طہارت ونماز صحیح ہے اور مذہب کا وہابی یا دیوبندی وغیرہ بے دین وبددین نہیں سنّی صحیح العقیدہ ہے اور فاسق ومعلن نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی بیشک جائز ہے،قصاب ہونا کوئی مانع امامت نہیں،متعدد اکابرِدین نے یہ پیشہ کیا ہے، ہاں اگر جماعت والے اس سے نفرت کرتے ہوں اور اس کی امامت کے باعث جماعت میں کمی پڑے اور دوسراامام سنّی صحیح العقیدہ قابلِ امامت موجود ہوتو اس دوسرے کی امامت اولیٰ ہے۔

فقدکرھواخلف ابرص شاع برصہ لاجل التنفیر مع انہ لا خطیئۃ لہ فیہ۔فقہا نے نفرت کے پیش نظر ایسے صاحب ِبرص کے پیچھے نماز کو مکروہ قرار دیا ہے جس کا برص مشہور (پھیل گیا) ہو، باوجود اس بات کے کہ اس میں اس کا اپنا ذاتی کوئی گناہ نہیں(ت) واللہ تعالٰی اعلم