دروازے کو بند کرکےمزار کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟
Category : Namaz / Salat / Prayer / نماز
Published by Admin2 on 2012/8/26

New Page 1

مسئلہ ۹۸۶: ازسرکار پاک پٹن شریف ضلع منٹگمری درگاہ اقدس مرسلہ امام علی شاہ صاحب ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۱ھ

حق، حق، حق، جناب مولٰنا! السلام علیکم، مکلف ہوں کہ اس مسئلہ میں آپ کیافرماتے ہیں کہ کسی بزرگ کے آستانہ پاک میں اسی بزرگ صاحب مزار کے روضہ منورہ کے دروازے کوبند کرکے روضہ کے آگے ہی اگرنماز پڑھ لی جائے توشرعاً جائز ہے یانہیں؟ یہ مسئلہ اخبار دبدبہ سکندری میں لکھ دیاجائے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں۔ زیادہ نیازالمکلف فقیر محمد امام علی شاہ اولاد باباصاحب رحمہ اﷲ تعالٰی ازدرگاہ حضرت جناب بابا صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی گنج شکر قطب عالم اغیاث ہند پاک پٹن شریف ضلع منٹگمری

الجواب

جناب شاہ صاحب وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، صورت مذکورہ میں نمازجائز اور بلاکراہت جائز، اور قرب مزار محبوباں کردگار کے باعث زیادہ مثمر برکات وانوار و مورد رحمت جلیلہ غفار۔ خلاصہ و ذخیرہ و محیط و ہندیہ وغیرہا میں ہے:واللفظ لھذین قال محمد اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی المخرج والحمام والقبر۱؎ان دونوں کی عبارت یہ ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میں مسجد کے قبلہ کابیت الخلا، حمام اور قبر کی طرف ہونامکروہ جانتاہوں

 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب الخامس فی آداب المسجد الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۱۹)

 (الی قولہ اعنی المحیط) ھذا کلہ اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذہ المواضع حائط اوسترۃ امااذاکان لایکرہ ویصیر الحائط فاصلا۲؎۔ (محیط کے قول تک) یہ اس وقت ہے جب نمازی اور ان کے درمیان کوئی دیواریاسُترہ نہ ہو لیکن اگردرمیان کوئی چیز ہے تومکروہ نہیں اب دیوار ان کے درمیان فاصل ہوجائے گی۔(ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب الخامس فی آداب المسجد الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۲۰)

سرکاراعظم مدینہ طیبہ صلی اﷲ تعالٰی علٰی من طیبہا وآلہٖ وسلم میں روضہ انور حضوراقدس صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے نمازیوں کی صفیں ہوتی ہین جن کاسجدہ خاص روضہ انور کی طرف ہوتاہے مگرنیت استقبال قبلہ کی ہے، نہ استقبال روضہ اطہر کی۔ لہٰذا ہمیشہ علمائے کرام نے اسے جائز رکھا ہاں بلامجبوری مزاراقدس کوپیٹھ کرنے سے منع فرمایا اگرچہ نماز میں ہو، منسک متوسط اور اس کی شرح مسلک متقسط ملاعلی قاری میں ہے: (لایستدبر القبر المقدس) ای فی صلاۃ ولاغیرھا الالضرورۃ ملجئۃ الیہ۳؎۔ (مزاراقدس کی طرف پشت نہ کرے) نماز اور غیرنماز میں البتہ جب کوئی مجبوری وضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں(ت)

 (۳؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    باب زیارت سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم    مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت    ص۳۴۲)

نیز شرح مذکور میں ہے:لاتکرہ الصلٰوۃ خلف الحجرۃ الشریفۃ الا اذا قصدالتوجہ الٰی قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔حجرہ شریف کے سامنے نماز اداکرنا مکروہ نہیں مگر اس صورت میں جب توجہ سے مقصود ہی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قبرشریف ہو۔(ت)

 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    باب زیارت سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۳۲۲)

 (۱) امام اجل قاضی عیاض شرح صحیح مسلم شریف پھر(۲)علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ المصابیح پھر(۳)علامہ قاری مرقاۃ المفاتیح نیز(۴)علامہ محدث طاہر فتنی مجمع بحارالانوار نیز(۵)امام قاضی ناصرالدین بیضاوی پھر(۶)امام جلیل علامہ محمودعینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری پھر (۷)امام احمد محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح بخاری نیز (۸)امام ابن حجرمکی شرح مشکوٰۃ شریف پھر(۹)شیخ محقق محدث دہلوی لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں:وھذا لفظ الاولین،من اتخذ مسجدا فی جوار صالح اوصلی فی مقبرہ وقصد الاستظھار بروحہ اووصول اثر من اٰثار عبادتہ الیہ، لاللتعظیم لہ و التوجہ نحوہ، فلاحرج علیہ الاتری ان مرقد اسمٰعیل علیہ الصلاۃ و السلام فی المسجد الحرام عند الحطیم، ثم ان ذلک المسجد افضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ۲؎۔یعنی جس نے کسی نیک بندے کے قرب میں مسجد بنائی یامقبرہ میں نمازپڑھی اور اس کی روح سے استمداد و استعانت کاقصدکیایا یہ کہ اس کی عبادت کاکوئی اثرپہنچے، نہ اس لئے کہ نماز سے اس کی تعظیم کرے یانمازمیں اس کی طرف منہ ہوناچاہے تواس میں کوئی حرج نہیں، کیا دیکھتے نہیں کہ سیدنا اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزارشریف خاص مسجد الحرام میں حطیم کے پاس ہے پھر یہ مسجد سب سے افضل وہ جگہ ہے کہ نمازی نماز کے لئے جس کاقصد کرے۔

 (۲؎ شرح طیبی علٰی مشکوٰۃ المصابیح    الفصل الاول باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۲۳۵)

[pagebreak]

اخیرین کے لفظ یہ ہیں:خرج بذلک اتخاذ مسجد بجوار نبی او صالح والصلٰوۃ عند قبرہ لالتعظیمہ والتوجہ نحوہ بل لوصول مدد منہ حتی تکمل عبادتہ ببرکۃ مجاورتہ لتلک الروح الطاھرۃ فلاحرج فی ذلک لما ورد ان قبر اسمعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام فی الحجر تحت میزاب وان فی الحطیم وبین الحجر الاسود وزمزم قبرسبعین نبیا ولم ینہ احد عن الصلاۃ فیہ۱؎۔یعنی کسی نبی یاولی کے قرب میں مسجدبنانا اور ان کی قبرکریم کے پاس نمازپڑھنا نہ ان دو نیتوں سے بلکہ اس لئے کہ اُن کی مدد مجھے پہنچے اُن کے قرب کی برکت سے میری عبادت کامل ہو اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ وارد ہوا ہے کہ اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزارپاک حطیم میں میزاب الرحمۃ کے نیچے ہے اور حطیم میں اور سنگِ اسود وزمزم کے درمیان ستّرپیغمبروں کی قبریں ہیں علیہم الصلوٰۃ والسلام، اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی نے منع نہ فرمایا۔

شیخ محقق فرماتے ہیں: کلام الشارحین متطابق فی ذٰلک۲؎ تمام اصحاب شرح اس بارے میں یک ز بان ہیں۔

 (۱؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  باب المساجد ومواضع الصلاۃ    مطبوعہ معارف علمیہ لاہور     ۳ /۵۲

(۲؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     باب المساجد ومواضع الصلاۃ    مطبوعہ معارف علمیہ لاہور        ۳ /۵۲)

الحمدﷲائمہ کرام کے اس اجماع واتفاق نے جان وہابیت پرکیسی قیامت توڑی کہ خاص نماز میں مزارات اولیائے کرام سے استمداد واستعانت کی ٹھہرادی، اب توعجب نہیں کہ حضرات وہابیہ تمام ائمہ دین کو گور پرست کالقب بخشیںولاحول ولاقوۃ الاَّ باﷲ العلی العظیمپھر روضہ مبارک کادروازہ مبارک بند کرنے کی بھی ضرورت اس حالت میں ہے کہ قبرانور نمازی کے خاص سامنے ہو اور بیچ میں چھڑی وغیرہ کوئی سترہ نہ ہو اور قبراتنی قریب ہو کہ جب یہ خاشعین کی سی نمازپڑھے توحالت قیام میں قبر پرنظرپڑے، اور اگر مزارمبارک ایک کنارے کو ہے یابیچ میں کوئی سترہ ہے اگرچہ آدھ گز اونچی کوئی لکڑی ہی کھڑی کرلی ہو یامزارمطہر نماز کی جگہ سے اتنی دورہے کہ نمازی نیچی نظرکئے اپنے سجدہ کی جگہ نظرجمائے تومزارشریف تک نگاہ نہ پہنچے تو ان صورتوں میں دروازہ بند کرنے کی بھی حاجت نہیں یونہی نمازبلاکراہت جائزہے۔

 (۱)تاتارخانیہ پھر(۲)فتاوٰی علمگیریہ میں ہے:ان کان بینہ وبین القبر مقدار ما لوکان فی الصلٰوۃ و یمرانسان لایکرہ فھھنا ایضا لایکرہ۳؎۔اگرنمازی اور قبر کے درمیان اتنافاصلہ ہو کہ آدمی نماز میں ہو اور اس کے آگے سے کسی آدمی کاگزرنامکروہ نہ ہو تو یہاں بھی کراہت نہ ہوگی۔(ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ        الفصل الثانی فیمایکرہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۰۷)

 (۳)جامع مضمرات شرح قدوری پھر (۴) جامع الرموز شرح نقایہ پھر (۵) طحطاوی علی مراقی الفلاح و(۶)ردالمحتارعلامہ شامی میں ہے:لاتکرہ الصلٰوۃ الٰی جھۃ القبر الا اذا کان بین یدیہ بحیث لوصلی صلاۃ الخاشعین وقع بصرہ علیہ۱؎۔قبر کی طرف نمازپڑھنا مکروہ نہیں مگر اس صورت میں جبکہ نمازی خشوع سے نمازپڑھ رہاہو(جائے سجدہ پرنظرہو) توقبر پرنظرپڑے(ت)

 ( ۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    فصل فی بیان الاحق بالامامۃ    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۱۹۶)

یہ قلب وہابیت پرکیسا شاق ہوگا کہ مزارمبارک بلاحائل بے پردہ صرف چارپانچ گزکے فاصلے سے عین نماز میں نمازی کے سامنے ہے اور نمازبلاکراہت جائز، کیایہ فقہائے کرام کو قبر پرست نہ کہیں گے،والعیاذباﷲ رب العٰلمین۔یہ سب اُس صورت میں ہے کہ وہ بہ نیت فاسدہ نہ ہوں یعنی نماز سے تعظیم قبر کاارادہ یابجائے کعبہ نمازمیں استقبال قبرکاقصد۔ ایسا ہو تو آپ ہی حرام بلکہ معاذاﷲ نیت عبادت قبرہو توصریح شرک و کفرمگر اس میں مزارمقدس کی جانب سے حرج نہ آیا بلکہ اس شخص کافاسد ارادہ یہ فساد لایا اس کی نظیریہ ہے کہ کوئی ناخدا ترس کعبہ معظمہ کے سامنے اس نیت سے نمازپڑھے کہ وہ کعبہ کی طرف نہیں بلکہ وہ خود کعبہ کوسجدہ کرتاہے یا نمازتعظیم کعبہ کے لئے پڑھتاہے ایسی نماز بیشک حرام اور نیت عبادت کعبہ ہو توسلب اسلام مگراس میں کعبہ معظمہ کا کیاقصور ہے یہ تو اس کی نیت کافتورہے، یونہی جومزارات کے حضورہے اور مزارکریم مستورہے یا نظرخاشعین سے دورہے توفاسدنیت سے مازورہے اور تبرک واستمداد کی نیت سے ماجورہے کہ نمازو نیاز کااجتماع نورٌ علٰی نورہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔