ایک سلام سے دس رکعت تراویح پڑھانا کیسا
Category : Namaz Tarweeh / نماز تراویح
Published by Admin2 on 2012/9/14

New Page 1

مسئلہ ۱۰۶۰ : از کھنڈوہ ضلع برہان پور مسجد دارالشفاء مرسلہ محمد مسلم صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک پیرزادہ سیدصاحب نے نمازتراویح میں بہ یک سلام دس رکعت سفر کی حالت میں امامت سے پڑھادئے جماعت معترض ہوئی کہ نماز ناجائزہوئی۔ سیدصاحب نے کہا کہ منیۃ المصلی میں صاف طور پر بلاکراہت بیک سلام جائزہے وہ عبارت یہ ہے:ولوصلی التراویح کلھا بتسلیمۃ واحدۃ وقد قعد علی راس کل رکعتین جاز ولایکرہ لانہ اکمل، ذکرہ فی المحیط۔اگرتمام تراویح ایک سلام کے ساتھ اداکریں اور ہردورکعت کے بعد نمازی نے قعدہ کیاتوجائزہے مکروہ نہیں کیونکہ یہ اکمل ہے۔ محیط میں اس کوذکرکیاگیاہے۔(ت)

اس پرسیدصاحب کوبراکہنا اور نماز کو ناجائز وحرام کہنا ان کے حق میں کیساہے؟

الجواب

نماز کوناجائزوحرام کہناباطل ہے اور سیدکی توہین وبے ادبی سخت گناہ ہے اور صحیح اس مسئلہ میںیہ ہے کہ نماز ہوگئی دسوں رکعتیں تراویح میں شمار ہوں گی مگرخلاف ومکروہ ضرورہوئیں منیہ کا قول لایکرہ (مکروہ نہیں۔ت) خلاف صحیح ہے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہےقول المصنف ولایکرہ لانہ اکمل مخالف لما ذکر فی الخلاصۃ وغیرھا انہ یکرہ۱؎ (مصنف کا قول، کہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ یہ اکمل ہے خلاصہ وغیرہ کے مخالف ہے کیونکہ وہاں لکھا ہے مکروہ ہے۔ت)

 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی        فصل فی النوافل    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۰۵)

حلیہ شرح منیہ میں ہے:وھو مشکل بانہ خلاف المنقول واذا قالوا بکراھۃ الزیادۃ علی ثمان فی مطلق التطوع لیلا فلان یکونوا قائلین بکراھتہا فیماکان منہ مسنونا اولی فلاجرم ان فی النصاب و خزانۃ الفتاوٰی والصحیح انہ لو تعمد ذلک یکرہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔یہ مشکل ہے کیونکہ یہ منقول کے خلاف ہے اور جب انہوں نے رات کے نوافل مطلقہ کو آٹھ سے زائد پرکراہت کاحکم نافذ کیاہے تو انہیں تراویح جو کہ مسنون ہیں میں کراہت کاحکم بطریق اولٰی جاری کرنا چاہئے۔ لاجرم نصاب اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ اگر کسی نے عمداً ایساکہا تو مکروہ ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

 (۲؎ التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی    فصل فی السنن    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۳۹۹)