نابالغ کے پیچھے نماز تراویح جائز ہے یا نہیں؟
Category : Namaz Tarweeh / نماز تراویح
Published by Admin2 on 2012/9/14

New Page 1

مسئلہ ۱۰۶۱: ازپیلی بھیت مدرسہ پنجابیاں مرسلہ حافظ محمداحسان صاحب ۱۰/رمضان المبارک۱۳۱۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ کے پیچھے نمازتراویح جائزیاناجائز اور جس حافظ کاسن چودہ سال کا ہو وہ بلوغ میں داخل ہے یاخارج؟ اور شرعاً حد بلوغ کی ابتداء ازروئے سن کےَ سال سے معتبرہے؟ بیّنواتوجروا

الجواب

مسئلہ میں اختلاف مشائخ اگرچہ بکثرت ہے مگراصح وارجح واقوی یہی کہ بالغوں کی کوئی نمازاگرچہ نفل مطلق ہو نابالغ کے پیچھے صحیح نہیں۔

ہدایہ میں ہے :المختار انہ لایجوز فی الصلوات کلھا۳؎۔مختاریہی ہے کہ تمام نمازوں میں جائزنہیں۔(ت)

 (۳؎ الہدایہ                باب الامامت        مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی    ۱ /۱۰۳)

بحرالرائق میں ہے :وھو قول العامۃ کمافی المحیط وھوظاھر الروایۃ۱؎۔اکثرعلماء کایہی قول ہے اور یہی ظاہرروایت ہے۔(ت)

 (۱؎ بحرالرائق        باب الامامت    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۵۹)

اور اقل مدت بلوغ پسرکے لئے بارہ سال اور زیادہ سے زیادہ سب کے لئے پندرہ برس ہے اگر اس تین سال میں اثر بلوغ یعنی انزالِ منی خواب خواہ بیداری میں واقع ہو فبہا ورنہ بعد تمامی پندرہ سال کے شرعاً بالغ ٹھہرجائے گا اگرچہ اثراصلاً ظاہرنہ ہو،فی التنویر بلوغ الغلام بلانزال فان لم یوجدفیھا شیئ منھا فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثتن عشرۃ سنۃ ھوالمختار ملخصا۲؎۔تنویرمیں ہے لڑکااحتلام سے بالغ ہوجاتاہے اگر احتلام نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہوگا، اسی پرفتوٰی ہے، کم از کم مدت بارہ سال ہے، یہی مختارہے۱ھ ملخصا(ت)

 (۲؎ درمختار        فصل بلوغ الغلام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۳ /۱۹۹)

پسر چاردہ سالہ کابالغ ہونا اگرمعلوم ہو(اگرچہ یونہی کہ وہ خود اپنی زبان سے اپنابالغ ہوجانا اور انزال منی واقع ہونا بیان کرتاہے اور اس کی ظاہرصورت وحالت اس بیان کی تکذیب نہ کرتی ہو) تووہ بالغ ماناجائے گا ورنہ نہیں۔فی الدر المختار فان راھقا بان بلغا ھذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر کذا قیدہ فی العمادیۃ وغیرھا فبعد سنتی عشرۃ سنۃ یشترط شرطا اخر لصحۃ اقرارہ بالبلوغ وھو ان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وھما حینئذ کبالغ حکما فلایقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال حالہ۳؎الخ۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔درمختارمیں ہے اگروہ اس عمر کو پہنچے کہ قریب البلوغ ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم بالغ ہیں تو ظاہراً کوئی بات ان کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کی تصدیق کی جائے گی، اسی طرح عمادیہ وغیرہ میں اسے مقیدکیاگیا ہے اور بارہ سال کے بعد صحت اقرار بلوغ کے لئے ایک اور شرط لگائی گئی ہے کہ اسی طرح کے لڑکوں کو احتلام ہوتا ہو ورنہ ان کادعوٰی قول نہ ہوگا شرح وہبانیہ، اور اب وہ دونوں بالغ کے حکم میں ہوں گے احتمال کی وجہ سے اقرار کے بعدان کاانکار بلوغ قابل قبول نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

 (۳؎ درمختار        فصل بلوغ الغلام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۳ /۱۹۹)