• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Hadith > نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری > شرح بخاری کی تکمیل پر ہدیہ تبریک

شرح بخاری کی تکمیل پر ہدیہ تبریک

از: علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ

Published by admin on 2011/10/23 (1789 reads)

New Page 2

سم الله الرحمن الرحیم

فقیہ اعظم ہند مولانا مفتی شریف الحق امجدی مد ظلہ العالی کی خدمت میں

شرح بخاری کی تکمیل پر ہدیہ تبریک[1]

          زندگی اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم عطیہ ہے کہ اگر اس کا ایک ایک لمحہ رب کریم کا شکر ادا کرنے کے لیے صرف کر دیا جائے اور ہر بن موصد ہزار زبانوں میں تبدیل ہو کر رب کریم کی حمد اور سپاس گزاری میں محو ہوجائے تو یکے از ہزار بھی ادا نہ ہوسکے۔

          اس جہان رنگ و بو میں ہزاروں افراد پیدائش کے مرحلے سے گزرتے ہیں اور ہزاروں موت کی مہیب وادیوں میں اتر جاتے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہیں جو مقصد زندگی کو سمجھتے ہیں اور اسے پورا کرنے کے لیے اپنی سی جدوجہد کرتے ہیں؟ کہنے والے نے سچ کہا ہے ؎

عمر ہا باید کہ تا یک مرد حق پیدا شود

یا جنید اندر خراساں یا اویس اندر قرن

          سر زمین پاک و ہند وہ مردم خیز خطہ ہے جہاں سے ہزاروں ایسے افراد پیدا ہوئے جو نہ صرف خود صراط مستقیم پر گامزن تھے۔ بلکہ ان گنت بندگان خدا کے لیے نقوش کف پائے مصطفی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) روشن کر گئے اور بقول شیخ سعدی ’’ویں جہد می کند کہ بگیرد غریق را‘‘ کا مصداق ثابت ہوئے۔

          ایسی ہی ایک شخصیت فقیہ اعظم ہند‘ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی مدظلہ العالی ہیں‘ جو بلا شِہہ نادر روز گار فقیہ اور پاک و ہند کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ‘ مبارک پور کے ناظم تعلیمات اور شعبہ افتاء کے صدر نشین ہیں۔ ان کے ماتحت متبحر فضلاء کی ایک جماعت ہے جو امت مسلمہ کو پیش آنے والے مسائل میں قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں راہنمائی فراہم کرتی ہے۔

          حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی موجودہ دور کے پاک و ہند کے علماء اہل سنت و جماعت کی صف اول کے ممتاز ترین عالم اور جامع الصفات شخصیت ہیں۔ وہ بیک وقت فقیہ بھی ہیں اور محدث بھی‘ مدرس بھی ہیں اور مناظر بھی۔ وہ خطیب بھی ہیں اور ادیب بھی۔ معقولات کے متبحر فاضل بھی ہیں اور منقولات کے بحر مواج بھی۔ غیرت ملی کا پیکر بھی ہیں اور عشق خدا و رسول (جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مجسمہ بھی۔ انہیں بجا طور پر امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز کے پیر خانے کے موجودہ سجادہ نشٌن حضرت پروفیسر ڈاکٹر سید امین میاں مدظلہ العالی نے ’’فقیہ اعظم ہند‘‘ ایسے پر شخوہ لقب سے نوازا ہے۔ جس پر ہندوستان کے اکابر علماء اہل سنت نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ اس عظمت و جلالت کے ساتھ وہ اخلاق جمیلہ کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان میں اسلاف کی سادگی اور اصاغر نوازی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔

          حضرت مفتی صاحب مدظلہ 1340ھ/ 1921ء کو مردم خیز قصبہ گھوسی‘ ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت صدر الشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ (صاحب بہار شریعت) کے ساتھ جا ملتا ہے۔ آ: کی ارجمندی ہے کہ آپ کو اس وقت کے متحدہ پاک و ہند کے اساطین علم و فضل اور مقتدایان رشد و ہدایت سے اکتساب فیض کا موقع ملا۔ ابتدائی عربی کتب سے لے کر صدرا‘ حمد اللہ‘ ہدایہ اور ترمذی شریف تک کتب درس نظامی دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ‘ مصباح العلوم‘ مبارک پور (جو اس وقت جامعہ اشرفیہ‘ مبارک پور کے نام سے شحرئہ آفاق ہے) میں پڑھنے کا مواقع ملا اور جلالہ العلم‘ حافظ ملت مولانا شاہ عبدالعزیز مراد آبادی کے فیض علم سے بہرہ ور ہوئے۔ شوال المکرم 1361ھ/ 1942ء میں مدرسہ مظہر اسلام‘ مسجد بی بی جی‘ بریلی شریف میں محدث اعظم پاکستان مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد چشتی قادری کے پاس صحاح ستہ پڑھ کر دورئہ حدیث کی تکمیل کی۔ حضرت صدر الشریعہ کے یہ دو شاگرد حافظ ملت اور محدث اعظم پاکستان وہ ہیں جن کا علمی اور روحانی فیض نہ صرف پاک و ہند کے گوشے گوشے میں پہنچا ہوا ہے‘ بلکہ دنیا کے دیگر ماملک میں بھی جلوہ گر ہے۔ مفتی صاحب ان دونوں کے فیض و برکت کے جامع ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد اکابر کے فیض یافتہ ہیں۔

          حضرت مفتی صاحِ مدظلہ العالی سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ امجدیہ میں نہ صرف حضرت صدر الشریعہ‘ بدر الطریقہ مولانا محمد امجد علی اعظمی کے مرید ہیں بلکہ ان کے خلیفہ مجاز بھی ہیں۔ حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا خاں بریلوی اور احسن العلماء حضرت سید شاہ حسن حیدر میاں‘ سابق سجادہ نشین مار ہرہ شریف نے بھی انہیں اجازت و خلافت سے نوازا۔ مختصر یہ کہ اکابر عصر کی عنایات اور نوازشات کا ایک ایسا مجموعہ تیار ہوا جسے آج دنیا شارح بخاری اور فقیہ اعظم ہند کے محترم القاب سے جانتی اور پہچانتی ہے۔

          حضرت شارح بخاری کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے حضرت صدر الشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمی سے درس بخاری شریف لیا اور چودہ ماہ ان کی خڈمت میں رہ کر کار افتاء کا تجربہ حاصل کیا۔ گیارہ سال دارالعلوم مظہر اسلام‘ بریلی شریف میں مدرس بھی رہے اور حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خاں کی راہنمائی میں فتوے بھی لکھتے رہے۔ اس دور میں تقریباً پچیس ہزار فتوے آپ کے قلم لکھے گئے ہوں گے۔ افسوس کہ وہ فتوے محفوظ نہیں رہ سکے۔ اس کے علاوہ متعدد مدارس میں معقولات و منقولات کی آخری کتابیں اور دورئہ حدیث بھی پڑھاتے رہے۔ 1396ھ/ 1976ء سے شہرستان علم و فن الجامعہ الاشرفیہ‘ مبارک پور میں تشریف فرما ہیں اور اس وقت صدر مفتی بھی ہیں اور ناظم تعلیمات بھی‘ جدید مسائل کی تحقیق کے لیے قائم ’’مجلس شرعی‘‘ کے سر پرست بھی ہیں۔

          حضرت فقیہ اعظم ہند نے تصانیف کا بھی اچھا ذخیرہ تیار کیا ہے۔ ان میں سر فہرست نزہتہ القاری شرح بخاری ان کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ جس پر وہ بلا شبہ ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔ الحمد للہ! یہ شرح نوجلدوں میں مکمل ہوگئی ہے اور چھپ بھی گئی ہے۔ اس شرح کا آغاز مولانا یٰسین اختر مصباحی (دہلی) اور مولانا افتخار احمد قادری (مدینہ منورہ) کی تحریک پر ہوا۔ اختصار کے پیش نظر مکرر احادیث کا ذکر صرف ایک دفعہ کیا ہے اور بخاری شریف کے ابواب ذکر نہیں کیے ورنہ احادیث کو مکرر لانا ضروری ہوت۔البتہ اہم تراجم ابواب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور ابواب کے ذکر کا فائدہ ’’احکام مستخرجہ‘‘ کا عنوان قائم کر کے پورا کر دیا گیا ہے۔ ہر حدیث کا نمبر لگا دیا گیا ہے اور اس کے اہم مضمون کو سامنے رکھ کر عنوان بھی قائم کردیا ہے۔ یہ حوالہ بھی دے دیا گیا ہے کہ حدیث بخاری شریف اور صحاح ستہ کی دیگر کتب میں کہاں کہاں واقع ہے؟

          مقدمہ میں دیگر ضروری معلومات کے علاوہ خاص طور پر تین عنوانوں پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ (1)مسامحات بخاری (2)امام اعظم کی مختصر سوانح اور (3)فقہ حنفی کا تعارف۔ شرح بخاری میں حدیث کا صحیح ترجمہ اور صحیح مطلب بیان کرنے کے ساتھ ہی حضرات حنفیہ اور شافعیہ کے اختلاف کی نشاندہی بھی کی گئی ہے اور دلائل سے بتایا ہے کہ مذہب حنفی کو کیوں ترجیح ہے؟ اسی طرح اعتقادی مباحث میں مسلک اہل سنت و جماعت کی حقانیت اور برتری اس طرح بیان کی ہے کہ تسلیم کے بغیر چارہ نہیں رہتا۔

          مختصر یہ کہ موجودہ دور میں اردو میں لکھی گئی یہ مکمل اور بہترین شرح ہے۔ جو علمائ‘ وکلائ‘ مدرسین‘ طلبہ اور عوام و خواص کے لیے یکساں مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت شارح بخاری کو دنیا اور آخرت میں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے اور اس شرح کو ملت اسلامیہ کے لیے مفید اور مقبول بنائے۔

          1996ء میں شارح بخاری نے حضرت ڈاکٹر سید محمد امین میاں‘ سجادہ نشین مار ہرہ شریف کے ہمراہ زابیا‘ زمبابوے‘ حرمین شریفین اور پاکستان کا سفر کیا۔ 28 اگست کو حضرت شارح بخاری جناہ حاجی ابوبکر (کراچی) کے ہمراہ جامعہ نظامیہ رضویہ‘ لاہور تشریف لائے۔ حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی مدظلہ‘ راقم الحروف اور دیگر اساتذہ و طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ تصویر کو جائز قرار نہیں دیتے‘ تو آپ کا پاسپورٹ کس طرح بن گیا؟ انہوں نے فرمایا: ہمارے ایک شاگرد نے ہمیں ناشتے کی دعوت دی۔ ان کے ہاں گئے تو ہماری تصویر بنا لی گئی۔ فلیش کی چمک دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ کو بیرونی دورے پر بھجوانے کے لیے پاسپورٹ بنوانا ہے‘ اس کے لیے آپ کی تصویر لی گئی ہے۔

          روانہ ہونے لگے تو مجھے فرمایا کہ آپ کے پاس وقت ہو تو ہمارے ساتھ چلیں۔ مجھے کیا انکار ہوسکتا تھا؟ حاجی ابوبکر صاحب گاڑی چلا رہے تھے۔ پہلے حضرت پیر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر حاضری دی‘ پھر حضرت میراں حسین زنجانی کے مزار پر حاضری کے لیے روانہ ہوئے۔ دو موریہ پل کے پاس پہنچے تو بارشوں کیوجہ سے جل تھل کا سماں تھا۔ گاڑی وہیں چھوڑی اور ٹانگے پر سوار ہو کر حضرت میراں حسین زنجانی کے مزار پر پہنچے۔ مغرب کی نماز ادا کی۔ واپسی پر ڈیفنس کی ایک کوٹھی پر لے گئے جہاں کھانا بھی کھایا اور حضرت شارح بخاری سے گھڑی کے چین کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔ حضرت سٹیل کے چین کو جائز قرار دیتے ہیں۔ رات گئے واپسی ہوئی۔

          31 اگست کو راقم الحروف کراچی میں حضرت سید محمد شاہ دولہا بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کھار اور‘ کراچی کے عرس میں شریک ہوا۔ رات کے بارہ بجے راقم بعنوان ’’کرامات اولیاء اور بعد از وصال استمداد‘‘ مقالہ پیش کر رہا تھا کہ حضرت شارح بخاری‘ لاہور سے فیصل آباد اور ملتان ہوتے ہوئے کراچی تشریف لائے اور اسی وقت عرس کی محفل میں پہنچ گئے۔ راقم کے بعد حضرت نے پر مغز خطاب فرمایا اور ابتدا میں چند کلمات راقم کے بارے میں فرمائے۔ اگرچہ راقم اپنے آپ کو ان کا اہل نہیں سمجھتا‘ تاہم حضرت کے اخلاق کریمانہ اور اصاغر نوازی کی جھلک دکھانے کے لیے ذیل میں نقل کر رہا ہوں۔ حضرت نے فرمایا:

          مجھ سے پہلے رئیس القلم مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری تقریر کر رہے تھے‘ وہ تقریر کے بھی بادشاہ ہیں‘ تحریر کے بھی بادشاہ ہیں‘ تدریس کے بھی بادشاہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو روحانیت کے بھی بادشاہ ہوں گے۔ (او کما قال)

          ایسے کلمات اپنے سے کم درجہ شخص کے لیے وہی کہہ سکتا ہے جس کے سینے میں سمندر کی وسعت ہو۔

          راقم مقالہ پڑھ کر اپنی قیام گاہ پر چلا گیا۔ رات ڈیڑھ بجے کا وقت ہوگا کہ حضرت شارح بخاری نے ٹیلی فون کے ذریعے حکم دیا کہ میری قیام گاہ‘ حاجی ابو بکر صاحب برکاتی کی کوٹھی پر آجائو۔ چنانچہ راقم رات کے دو بجے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات وہیں گزاری۔

          1998ء میں راقم انڈیا گیا تو ممبئی‘ دہلی‘ بریلی شریف سے ہوتا ہوا 11 نومبر کو ٹرین (کاشی) کے ذریعے چھ بجے صبح بنارس پہنچا۔ سربراہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور‘ عزیز ملت حضرت مولانا عبدالحفیظ مدظلہ العالی کے ہونہار صاحبزادے مولانا نعیم الدین اور مولانا نفسیا احمد استقبال کے لیے اسٹیشن پر موجود تھے۔ یہ حضرات اس فقیر کو لے کر گاڑی پر روانہ ہوئے۔ نوبجے صبح کا وقت ہوگا‘ جب ہم اہل سنت و جماعت کے ہندوستان میں سب سے بڑے ادارے الجامعہ الاشرفیہ‘ مبارک پور پہنچے اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ طلباء راستے کے دونوں طرف قطاریں بنا کر کھڑے ہیں۔ گاڑی سیدھی دارالحدیث کے عظیم الشان گنبد کے پاس جا کر کھڑی ہوئی‘ باہر نکلا تو سب سے پہلے حضرت شارح بخاری مدظلہ العالی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں ممبئی کے پاس کوٹے جارہا ہوں۔ وہاں ایک مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے‘ میں چاہتا تھا کہ آپ سے ملاقات کر کے روانہ ہوں…… اللہ اکبر! یہ ہیں بڑے لوگوں کی بڑی باتیں‘ اس کے بعد دیگر اساتذہ اور طلباء سے ملاقات ہوئی۔ الجامعہ الاشرفیہ کی زیارت اور وہاں کے اساتذہ اور طلباء سے ملاقات کر کے جو مسرت ہوئی‘ اس کے بیان سے زبان و قلم عاجز ہے۔ یاد رہے کہ دہلی سے روانگی کے بعد مفکر اسلام حضرت مولانا یٰسین اختر مصباحی مدظلہ نے ٹیلی فون کے ذریعے جامعہ اشرفیہ‘ مبارک پور فقیر کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ اسی لیے مولانا نعیم الدین اور مولانا نفیس احمد بنارس کے اسٹیشن پر استقبال کے لیے تشریف فرما تھے۔

          جامعہ اشرفیہ میں فقیر کے دیرینہ کرم فرما اور پیکر اخلاص مولانا محمد احمد مصباحی‘ محدث کبیر حضرت علامہ مولانا ضیاء المصطفیٰ (شیخ الحدیث) فاضل نوجوان اور محقق مولانا مفتی نظام الدین‘ ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر مولانا مبارک حسین مصباحی‘ مولانا بدر عالم مصباحی‘ مولانا زاہد علی سلامی اور دیگر اساتذہ سے بھی ملاقات ہوئی جو فقیر کی یادوں کے البم کا قیمتی اثاثہ ہے۔

          ہمارے ہاں یہ رسم ہے کہ کسی اہم شخصیت کی رحلت کے بعد ان کے عرس کا اہتمام کرتے ہیں‘ ان کی سوانح اور خدمات پر کوئی کتابچہ یا کسی ماہنامے کا نمبر شائع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ اہتمام بھی خال خال شخصیات کے لیے ہوتا ہے‘ لیکن زندگی میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ ان کی دینی‘ علمی اور روحانی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جائے یا ان کے حالات اور علمی افادات قلم بند کیے جائیں۔

          الحمد للہ! اب کسی قدر سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔ حضرت شارح بخاری مولانا مفتی شریف الحق امجدی اس اعتبار سے بھی خوش قسمت ہیں کہ اہل سنت کے اصحاب فکرو دانش نے ان کی حیات مبارکہ میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

          اس تبدیلی کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں جو اہل سنت و جماعت کو بیداری اور کار خیر کی دعوت دیتی ہیں:

-1      1994ء میں جامعہ اشرفیہ‘ مبارک پور کے طلباء نے شارح بخاری سیمیننار منعقد کیا جس کے لیے دو سو کے قریب مقالات شارح بخاری پر لکھے گئے۔

-2      رضا اکیڈمی‘ ممبئی نے جولائی 1991ء میں ایک سیمینار منعقد کیا‘ جس کا عنوان تھا ’’امام احمد رضا کی قلمی خدمات‘‘ اس سیمینار میں علامہ یٰسین اختر مصباحی‘ بانی دارالقلم‘ دہلی کو ’’امام رضا ایوارڈ‘‘ اور گیارہ ہزار روپے نقد پیش کیے گئے۔

-3      رضا اکیڈمی‘ ممبئی نے ہی 7 فروری 1998ء کو ایک سیمینار منعقد کیا اور پانچ جلیل القدر علماء کو ’’امام احمد رضا ایوراڈ‘‘ اور پچیس ہزار روپے نقد پیش کیے۔ ان میں سر فہرست شارح بخاری مدظلہ العالی ہیں۔ امام احمد رضا ایوارڈ (برائے 1992ء) باقی ارباب فضل و کمال اور اصحاب علم و قلم کے نام یہ ہیں:

          ملک التحریر: علامہ ارشد القادی مدظلہ العالی‘ امام احمد رضا ایوارڈ (برائے 1993ء(

          بحر العلوم مولانا مفتی عبدالمنان اعظمی مدظلہ العالی‘ امام احمد رضا ایوارڈ (برائے 1994 ء(

          مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت مفتی غلام محمد خان ناگپوری‘ امام احمد رضا ایوراڈ (برائے 1995 ء(

          فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی جلال الدین امجدی‘ امام احمد رضا ایوارڈ (برائے 1996 ء(

          ان حضرات کے حالات اور ان کی خدمات کے لیے ملاحظہ ہو ’’سوغات رضا‘‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی‘ ممبئی۔

-4      1420ھ/1999ء میں علامہ یٰسین اختر مصباحی نے ’’شارح بخاری‘‘ کے نام سے 288 صفحات پر مشتمل کتاب لکھی ہے‘ جسے دائرہ البرکات‘ قصبہ گھوسی‘ ضلع مئو نے شائع کیا ہے۔

-5      6 نومبر 1999ء کو رضا اکیڈمی‘ ممبئی کے زیر اہتمام ’’جشن شارح بخاری‘‘ منایا گیا‘ جس میں شارح بخاری مدظلہ کو شرح بخاری مکمل کرنے پر ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کیا گیا۔

          یاد رہے کہ رضا اکیڈمی‘ ممبئی جواں سال‘ مجاہد سنیت جناب محمد سعید نوری اور جناب عبدالحق رضوی کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ رضا اکیڈمی‘ ممبئی نے اہل سنت و جماعت کی عام روش سے ہٹ کر لٹریچر کی اشاعت اور تقسیم پر توجہ دی ہے۔ اب تک اکیڈمی فتاویٰ رضویہ کی قدیم اشاعت کے عکس کے علاوہ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے ایک سو رسائل بیک وقت حسین و جمیل ٹائٹل کے ساتھ شائع کرچکی ہے۔ درس نظامی کی کثیر التعداد کتب بھی شائع کی ہیں اور ہر سال دیدہ زیب اور حیرت انگیز حد تک خوبصورت کیلنڈر بھی شائع کرتی ہے۔

-6      ادارہ تحقیقات امام احمد رضا‘ کراچی/ اسلام آباد بھی کئی سال سے رضویات پر کام کرنے والے محققین کو امام احمد رضا ایوارڈ (طلائی تمغہ) دیتا ہے‘ جامعہ ازہر شریف اور جامعہ عین شمس‘ قاہرہ کے تین اساتذہ کو بھی ’’امام احمد رضا ایوارڈ‘‘ دے چکا ہے۔

-1      بساتین الغفران (امام احمد رضا بریلوی کے عربی دیوان) مرتب و محقق‘ جناب شیخ سید حازم محمد احمد المحفوظ‘ استاذ کلیتہ اللغات والترجمہ‘ جامعہ ازہر۔

-2      ساٹھ کتابوں کے مصنف اور ’’سلام رضا‘‘ کو منظوم عربی ترجمہ اور ایک سو پانچ صفحات کا مقدمہ لکھنے والے ڈاکٹر حسین مجیب مصری‘ استاذ کلیتہ الاداب‘ جامعہ عین شمس‘ قاہرہ۔

-3      دکتور رزق مرسی ابو العباس‘ استاذ اللغہ العربیہ و آدابھا ‘ کلیہ الدراسات الاسلامیہ والعربیہ‘ جامعہ الزہر ‘ جن کی نگرانی میں فاضل نوجوان ممتاز احمد سدیدی فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ‘ لاہور نے جامعہ ازہر میں پانچ سو چھتیس صفحات پر مشتمل مقالہ برائے ایم فل لکھا‘ جس کا عنوان ہے۔

          الامام احمد رضا خان البریلوی الھندی شاعرا عربیا

          اور بحمدہ تعالیٰ اس میں ’’بتقدیر ممتاز‘‘ کامیابی حاصل کی۔

          یہ صورت حال یقینا خوش آئند ہے۔ اگر ارباب تحقیق قلم کاروں کے اعزاز و تکریم کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ دن دور نہیں جب ہمارے ہاں کسی قسم کے لٹریچڑ کی کمی نہیں ہوگی۔

          اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بصد عجز و نیاز دعا ہے کہ حضرت شارح بخاری‘ فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی مدظلہ کا سایہ تادیر عزت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھے‘ ان کے بکثرت جانشین پیدا فرمائے اور اہل سنت و جماعت کو لٹریچر کی قوت اور اہمیت کا ہمہ گیر شعور عطا فرمائے۔ آمین۔

13 شوال المکرم 1420ھ                                                                                محمد عبدالحکیم شرف قادری

21 جنوری 2000ء                                                                                       شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ

                                                                                                          لاہور پاکستان


 

[1]                     یہ مقالہ حضرت فقیہ اعظم ہند کی حیات میں لکھا گیا تھا‘ حضرت نے ملاحظہ بھی فرمایا اور ایک مکتوب میں پسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا‘ افسوس کہ 6 صفر مطابق 11 مئی 1421ھ / 2000ء بروز جمعرات صبح کی نماز کے بعد رحلت فرما گئے‘ رحمہ اللہ تعالی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔


Navigate through the articles
دیباچہ نزہة القاری شرح صحیح البخاری Next article
Rating 2.81/5
Rating: 2.8/5 (100 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu