• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Hadith > نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری > دیباچہ نزہة القاری شرح صحیح البخاری

دیباچہ نزہة القاری شرح صحیح البخاری

از: علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ

Published by admin on 2011/10/23 (3955 reads)

New Page 2

بسم الله الرحمٰن الرحیم

دیباچہ

اس کتاب کو ناظرین کے ہاتھوں تک پہنچانے میں مجھے کتنی دشواریاں اٹھانی پڑیں اس کی داستان بہت طویل ہے۔ طباعت کے سلسلے میں سب سے پہلا مرحلہ سرمایہ کا تھا۔ ………… یہ مسئلہ سب سے زیادہ مشکل تھا۔ مگر اس سلسلے میں عزیز سعید مولانا حافظ عبدالحق صاحب سلمہ استاذ الجامعۃ الاشرفیہ نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ یہاں تک کہدیا کہ آپ لکھیں تو میں چھپواؤں گا۔ پھر انھیں کی کوششوں سے سرمایہ اکٹھا ہوا۔ اور انھیں کی مسلسل انتھک محنتوں سے یہ کتاب چھپ گئی۔ اب اللہ عزوجل کی تائید سے پہلا حصہ کسی نہ کسی طرح آپ کے مطالعہ میں ہے۔ طباعت کے سلسلے میں جن حضرات نے تعاون فرمایا۔ ان کے اسمائے گرامی کی فہرست الگ صفحہ پر درج کر دی گئی ہے۔ ان میں فخر ملّت عالی جناب الحاج سیٹھ علی محمد احمد‘ لکی موٹر ٹریننگ اسکول ڈنوگری بمبئی اور ان کے بھائی محسن مِلّت عالی جناب الحاج سیٹھ محمد ابراہیم احمد صاحب مالک فرینڈ اسٹورس بھنڈی بازار بمبئی نے اتنی بڑی رقم عطا فرمائی کہ ہماری جماعت میں اب تک شاید ہی کسی نے کسی مذہبی کتاب کی اشاعت کیلئے دی ہو۔ ان دونوں صاحبان نے یہ ثابت کر دیا کہ اس دور الحاد میں بھی علم دین کے پرستار زندہ ہیں۔ اور زندہ رہیں گے۔ مولیٰ عزوجل انھیں اور ان کی آئندہ نسل کو ہمیشہ ہمیشہ دارین میں اس کا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے۔

          دوسرے معاونین بھی لائق صدستائش ہیں کہ انھوں نے بھی اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی نشرو اشاعت میں اپنی توفیق کے مطابق بھر پور حصہ لیا۔ رب العزت تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ میرے ان سر پرستوں کو دارین میں اپنے خزانہ غیر متناہیہ سے اتنا عطا فرما، جو تیری شان وسعت کے لائق ہے۔

          نیز تمام ناظرین سے بھی میری عاجزانہ التماس ہے کہ وہ ان تمام معاونین کے لئے صمیم قلب سے دعائے خیر فرماتے رہیں۔

          عزیزی مولانا بدر عالم مدرس دارالعلوم حنفیہ غوثیہ بجحر ڈیہہ بنارس اور مولوی علیم الدین پورنوی سلمہما نے بڑی جانفشانی سے مسودے کو صاف کیا ہے۔ نیز جناب مولانا عبدالمبین صاحب صدر المدرسین مدرسہ قادریہ چیریا کوٹ اور عزیز سعید مولانا حافظ عبدالحق، مولوی اشرف رضا، مولوی خورشید انور سلمہم نے پروف ریڈنگ (کاپی کی تصیح) بڑی عرق ریزی کے ساتھ کی۔ اللہ عزوجل ان سب لوگوں کو عالم با عمل و بافیض بنائے۔ ان سے دین کی مقبول و نمایاں خدمات لے۔ ان کے فیض کو عام کرے دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

          سوائے جناب عبدالمبین صاحب نعمانی کے یہ لوگ نو آموز ہیں۔ ہوسکتا ہے کتابت کی غلطاں اب بھی رہ گئی ہوں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لو لیہ والصلوۃ علی حبیہ و علی الہ و صحبہ ۔

          میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ جیسا کاہل انسان ، اصح کتب بعد کتاب اللہ کی شرح لکھ سکے گا۔ لیکن قادر مطلق جس سے جو چاہے کام لے لے۔ ہوا یہ کہ جب الجامعۃ الاشرفیہ کے عظیم دارالافتاء کی ذمہ داری مجھے سُپرد کی گئی۔ اور میں ''اشرفیہ'' حاضر ہوگیا تو فاضلان گرامی جناب مولانا افتخار احمد۔ اور جناب مولانا یٰسین اختر صاحب، استاذانِ ادب جامعہ اشرفیہ نے مجھے اس بات پر مجبور کیا کہ میں کوئی اہم تصنیفی کام کروں۔ میرے سامنے نا تمام اشرف السیر کا کام تھا میں نے یہ سوچا کہ اسی کو مکمل کر دوں لیکن دارالافتاء سے جن کا تعلق ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ سارا وقت اسی کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی اثناء میں جناب مولانا عبدالمنّان صاحب کلیمی بضد ہوگئے کہ فتاوی امجدیہ پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ چونکہ فتاوی امجدیہ مکمل پڑھ کر حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ کو سُنا چکا تھا۔ اسلئے شاید مجھ سے زیادہ موزوں آدمی مل بھی نہیں سکتا تھا۔ پہلی ہی جلد پر نظر ثانی و تصحیح اور تحشیہ میں کافی وقت صرف ہوگیا۔ پہلے حصے سے فراعت ہوئی۔ تو پھر ان دونوں حضرات کا اصرار بڑھا۔ تقریباً روزانہ یہ لوگ تقاضا کرتے پھر ازراہ عنایت ان لوگوں نے اپنا تعاون بھی پیش کیا۔ ابتدا میں سوچا کہ اشرف السیر کو مکمل کرلوں۔ مگر اس میں ان لوگوں کا وقت بہت ضائع ہوتا۔ کتنی جگہ مجھے غور و خوص کرنا پڑتا۔ اس لئے انھیں حصرات کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ بخاری شریف کا ترجمہ کردیا جائے۔ چنانچہ یہ کام 1396ھ میں شروع ہوا۔ بھی چند حدیثوں کا ترجمہ ہو پایا تھا کہ آنکھ کی تکلیف شروع ہوگئی۔ چھ ماہ تک مسلسل علاج کے بعد اطمینان ہوا تو پھر کلیمی صاحب فتاوی امجدیہ کی دوسری جلد لے کے پہنچے۔ اس میں تقریباً سال بھر گذر گیا۔ اس سے فراغت کے بعد پھر ان دونوں حضرات نے تقاضا شروع کیا۔ بالآخر 18ربیع الآخر1402ھ م 13فروری  1982ء کو پھر ترجمے کا کام شروع ہوا۔ اسی اثناء میں حضرت مولانا محمد احمد صاحب بھیروی صدر المدرسین مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمد آباد تشریف لائے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ کہیں کہیں کچھ ضروری تشریحی نوٹ بھی لگا دیں تو بہتر ہوتا۔ انکے مشورے کے بعد تشریحی نوٹ جگہ جگہ لگا دیئے۔ کہ یک بیک مولانا یٰسین اختر اور مولانا افتخار احمد صاحبان ریاض چلے گئے۔ اور کام بالکل بند ہوگیا۔ اس کے بعد عزیز سعید مولانا حافظ عبدالحق اس پر ابھارتے رہے۔ روزانہ تقاضا کرتے رہے۔ آخر کار 21ذوالحجہ 1402ھ 10اکتوبر 1982ء شب شنبہ سے کام شروع کر دیا۔ خیال آیا کہ ترجمے کیلئے شروح دیکھنی پڑتی ہیں اس میں سے نوٹ کے لئے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ تو ایک متوسط درجے کی مستقل شرح ہی نہ کیوں لاکھ ڈالوں۔ اس طرح میں نے یہ شرح لکھنی شروع کر دی۔ اس سلسلے میں مجھے جو جو دشواریاں اٹھانی پڑی ہیں ان کا تذکرہ فضول ہے۔ رب قدیر متعالی کا شکر ہے کہ اس کا پہلا حصہ پریس جارہا ہے۔

خصوصیات

(1)     کتاب کو بہت طویل ہونے سے بچانے کے لئے میں نے مکرر احادیث کو صرف ایک بار لیا ہے۔ وہ بھی جہاں میں نے مناسب جانا وہاں۔ البتہ حدیث کے مختلف الفاظ کو اکٹھا کر دیا ہے۔ ابتداء جب تک مولانا افتخار احمد اور مولانا یٰسین اختر صاحبان کا تعاون رہا تو کوشش یہ کی۔ کہ مختلف روایتوں کے مختلف الفاظ عربی متن کے ساتھ ایک ہی جگہ جمع کر دیا جائے۔ اور قوسین کے درمیان رکھ کر حوالہ دے دیا جائے۔ مگر ان حضرات کے جانے کے بعد میں یہ تو نہ کرسکا۔ البتہ شرح میں تکمیل کا عنوان قائم کر کے مختلف روایتوں کے الفاظ کے ترجمے کو جمع کر دیا ہے۔

(2)     ابواب کو بالکل ذکر نہیں کیا۔ اس لئے کہ پھر احادیث کو مکرر لانا ضروری ہو جاتا۔ مگر اہم ابواب پر شرح میں کلام پورا پورا مذکور ہے۔ نیز ابواب کے ذکر سے جو فائدہ تھا۔ وہ ایک عنوان۔ احکام مستخرجہ قائم کر کے پورا کر دیا گیا ہے۔

(3)     جو حدیث جن صحابی سے مروی ہے ان کے حالات بالتزام بیان کر دیئے ہیں۔ کہیں کہیں بعض تابعین کا بھی ذکر آگیا ہے۔

(4)     میں نے ہر حدیث پر نمبر لگا دیا ہے اور حدیث کے اہم مضمون کو سامنے رکھ کر اس کا ایک عنوان بھی قائم کر دیا ہے۔

(5)     حدیث بخاری شریف میں کہاں کہاں ہے۔ اور صحاح ستہ میں کہاں کہاں ہے۔ اس کے حوالے حاشیے میں دیدیئے ہیں۔ عینی میں اس کی تفصیل ہے۔ مگر علامہ عینی صرف کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ معلوم کر کے یہ حدیث کس کتاب میں ہے۔ حدیث کی تلاش میں دشواری کم تو ہوجاتی ہے۔ مگر بہت کچھ باقی رہتی ہے۔ اس لئے میں نے باب کا بھی حوالہ دیدیا ہے۔

          شروع میں صرف ابواب لکھ دیتا تھا۔ مگر بعد میں بعض اعزہ کے اصرار پر بخاری کے صفحات کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن دوسری کتابوں کے حوالے میں اس کا التزام نہ کرسکا۔ البتہ بعد میں ’’المعجم الفھوس لالفاظ الحدیث ‘‘سے حوالے نقل کر دیئے ہیں اس سلسلے میں آپ کو اعداد ملیں گے۔ ان کا حل یہ ہے کہ مسلم شریف کے حوالے میں یہ حدیث کا نمبر ہے۔ مثلاً یہ لکھا ہے۔ ایمان ۵۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کتابُ الایمان کی پانچویں حدیث۔ مسلم کے علاوہ بقیہ کتابوں میں یہ ابواب کے نمبر ہیں مثلاً ابو داؤد طھارۃ ۔ ۵۔ لکھا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کتاب الطہارت کے پانچویں باب میں یہ حدیث ہے۔ اس سے بھی ناظرین کو بہت کچھ آسانی ہوجائیگی۔

          یہ پانچ اہم خصوصیت اس شرح کی ہے۔ بقیہ وہ عام باتیں جو شرح میں ہونی چاہیے ان سب کو بقدر ضرورت لانے کی کوشش کی ہے۔ اختلافی مباحث میں، میں نے بھر پور کوشش کی ہے کہ لہجہ تلخ و ترش نہ ہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ یہی پائیں گے۔ البتہ مقدمہ میں کہیں کہیں صبر کا دامن چھوٹ گیا ہے۔ اس کے لئے میں کسی سے معذرت کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

          ع ۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں۔

          مقدمے میں، میں نے تین باتیں بالقصد اضافہ کی ہیں۔ ایک "مسامحات بخاری "دوسری "حضرت امام اعظم کی مختصر سوانح حیات" اور تیسری "فقہ حنفی کا تعارف" اس کی کیا ضرورت تھی یہ وہیں مذکور ہے۔

          اب کتاب ناظرین کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کا مجھے احساس ہے کہ مجھ سے غلطیاں ہوئی ہونگی۔ اکابر اقران احباب سب سے درخواست ہے کہ اگر انھیں کہیں کوئی غلطی ملے تو مجھے مطلع کریں۔ اس پر پوری سنجیدگی سے غور کروں گا۔ اگر ان کی رائے درست ہوگی تو اسے تسلیم کرلے میں مجھے کوئی عار نہ ہوگا۔

          رخصت ہوتے ہوئے ان حضرات سےجواس کتاب سے فائدہ حاصل کریں۔ درخواست ہے کہ میرے لئے میرے اساتذہ میرے ماں باپ میرے تمام متعلقین اور میرے تمام معاونین کے لئے فلاح دین و دنیا کی دعاء کریں۔

          اے عفو و غفور کریم و رحیم، معبود مجھے اس کا احساس ہے کہ اس کتاب میں مجھ سے ضرور غلطیاں ہوئی ہونگی ان سب کو معاف فرما۔ تو جانتا ہے کہ کوئی بھی غلطی دانستہ نہیں۔ میرے علم و فہم کی کوتاہی کی بنا پر ہے۔ آئندہ میرے دماغ میرے قلم میری زبان کو غلطی سے محفوظ فرما۔ اور اسے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

          اے بے نیاز مولیٰ تیری بارگاہِ قدس میں انتہائی عجز و الحاح کے ساتھ التجا ہے۔ کہ اپنے اس بندہء بے نواکی،اس نا چیز کوشش کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما۔ اسے میری نجات اور اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا۔ امین بجاہ حبیہ سید لمرسلین علیہ وعلیھم الصلوۃ والتسلیم۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العم

می توائی کہ دہی اشک مراحسن قبول

اے کہ دُرّساختہ قطرہء بارانی را!

 

محمد شریف الحق مجدی                                      

خادم الافتاء الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

8/ بجے شب سہ شنبہ

۳/ محرم الحرام  1404ھ 10/ اکتوبر 1983ء


Navigate through the articles
Previous article شرح بخاری کی تکمیل پر ہدیہ تبریک امتنان وتشکّر Next article
Rating 2.65/5
Rating: 2.6/5 (159 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu