• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Hadith > نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری > مقدمہ نزہۃ القاری

مقدمہ نزہۃ القاری

از: علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ

Published by admin on 2011/10/24 (8983 reads)
Page:
(1) 2 3 4 ... 9 »

New Page 1

مقدمہ

حدیث کی اہمیت

چند وہ احکام جو قرآن میں مذکور نہیں

قرآن کا ماننا رسول کے ماننے پر موقوف ہے

احادیث کے بغیر قرآنکی تفسیر نا ممکن ہے

دعویٰ اسلام کے بعد احادیث نہ ماننے کیگنجائش نہیں

منکرین حدیث کی دلیل

اس کا مفصل رد

عہد رسالت میں کتابت حدیث

آنحضور ﷺکے مکتوبات

حدیث لا تکتبواعنی کی بحث

عہد صحابہ میں کتابت حدیث

عہد تابعین میں کتابت حدیث

عمر بن عبدالعزیز کی اس طرف توجہ

تبع تابعین کے دور میں

اس دور میں باقاعدہ کتابیں تصنیف ہوئیں

حفظ حدیث کا شوق اور اہتمام

عہد نبوی میں حفظ احادیث

اہل عرب کا حافظہ

عہد صحابہ میں حفظ حدیث کا منظر

عہد تابعین کا حال

روایت میں احتیاط رواۃ کی تنقید

خلاصہ کلام

مقدمہ

حدیث کی اہمیت:

          یہ بات ہر دیندار مسلمان کو معلوم ہے کہ دین کے اصول و فروع اعتقادیات عملیات سب کی بنیاد قرآن و احادیث ہیں۔ اجماع امت اور قیاس کی جو بھی حیثیت ہے وہ کتاب اللہ و احادیث ہی کی بارگاہ سے سند ملنے کے بعد ہے۔ اور یہ دونوں واجب الاعتقاد والعمل ہونے میں مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ احادیث سے انکار کے بعد، قرآن پر ایمان کا دعویٰ باطل محض ہے۔ اس لئے کہ قرآن مجید نے ایک نہیں سینکڑوں جگہ رسول کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا۔ ارشاد ہے۔

 

وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الاللہ النساء ۔ آیت (64(

ہم نے رسول کو اسی لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔

          جگہ جگہ فرمایا، اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ کہیں فرمایا، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ بڑا کامیاب ہوا, جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ ضرور گمراہ ہوا۔ کہیں فرمایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملہ میں فیصلہ کے لئے بلائیں تو بلا دریغ یہ کہے کہ ہم نے سنا اور مانا۔ ارشاد ہے۔

انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللّٰہ و رسولہ لیحکم بینھم ان یقولوا سمعنا و اطعنا ۔ النور آیت (51)

مومنوں کو جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کر دیں تو ان کو ’’سمعنا و اطعنا ‘‘ کہنا ہی ضروری ہے۔

جن لوگوں نے رسول کے فیصلہ کو تسلیم کرنے میں چون و چما کیا اُن کے بارے میں صاف صاف فرما دیا کہ وہ مومن نہیں

فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما۔النساء آیت (65(

تیرے پرورد گار کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپسی تنازعات میں تمھیں حکم نہ مان لیں اور پھر اس فیصلہ پر اپنے جی میں کوئی کھٹک نہ پائیں اور اسکو کما حقہٗ مان لیں۔

یہاں تک کہ رسول کے پکارنے کو اللہ نے اپنا پکارنا قرار دیا۔ فرمایا۔

یا ایھا الذین امنوا استجیبوا للّٰہ واللرسول اذا دعاکم ۔الانفال آیت 24

اے ایمان والو جب اللہ اور رسول تمھیں پکاریں تو فوراً حاضر ہو۔

رسول کی نافرمانی تو بری بات ہے نافرمانی کی سر گوشی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ارشاد ہے۔

یا ایھا الذین امنوا اذا تناجیتم فلا تناجوا بالاثم والعدوان ومعصیت الرسول ۔ المجادلہ ۔ آیت (9(

اے ایمان والو چپکے چپکے کوئی باتکرو تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی بات نہ کرو۔

حتی کہ رسول کی نافرمانی کو منافقین کا طریقہ بتایا۔ فرمایا۔

و اذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللّٰہ والی الرسول رأیت المنافقین یصدون عنک صدودا ۔ النساء آیت (61)

جب ان سے کہا جائے کہ اللہ نے جو اتارا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو آپ دیکھیں گے کہ یہ منافق آپ سے منھ موڑ لیتے ہیں۔

یہاں تک کہ دوزخی دوزخ میں حسرت سے یہ کہیں گے۔

یوم تقلب وجوھھم فی النار یقولون یلیتنا اطعنا اللہ و اطعنا الرسولا ۔ الاحزاب ۔  آیت (66(

جب یہ لوگ آگ میں الٹ پلٹ کر بھونے جائیں گے تو کہیں گے کاش ہم نے اللہ اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی۔

یہاں تک کہ رسول کے فیصلہ کے بعد ایمان والوں کا یہ اختیار اللہ عزوجل نے سلب کر لیا کہ وہ مانیں یا نہ مانیں بلکہ انھیں سر تسلیم خم کرنا ہی ہے۔ ارشاد ہے۔

وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرأ ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ۔ ومن یعصاللہ و رسولہ فقد ضل ضلالا مبینا.الاحزاب آیت (36(

کسی مومن مرد یا عورت کو یہ گنجائش نہیں کہ اللہ و رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو انھیں اپنے اس معاملہ میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے وہ ضرور کھلا ہوا گمراہ ہے۔

رسول کی مخالفت پر ببانگ دہل عذاب کی دھمکی ارشاد ہوئی۔

ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ مانولی و نصلہ جھنم وساء ت مصیرا۔ النساء۔ آیت (115(

اس کے بعد کہ حق کا راستہ واضح ہوچکا جو بھی رسول کی مخالفت کرے اور ایمان والوں کے راستہ کو چھوڑ کر اور کوئی راستہ چلے ہم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم میں لے جائیں گے اور وہ بڑا ٹھکانہ ہے۔

فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ او یصیبھم عذاب الیم ۔ النور آیت (63(

جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ دنیا میں ان پر کوئی مصیبت نہ آن پڑے یا آخرت میں درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔

          قرآن مجید کے ان ارشادات پر غور کرو۔ قرآن مجید نے کس طرح جگہ جگہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور اللہ کے ساتھ ساتھ رسول کی نافرمانی پر وعید ارشاد فرمائی رسول کے بلانے کو اللہ نے اپنا بلانا قرار دیا۔ رسول کی نافرمانی کے لئے سرگوشی بھی منع فرمائی رسول کے فیصلہ کو واجب التسلیم قرار دیا۔ وہ ابھی اس حد تک کہ جو رسول کے فیصلے کو نہ مانے، اس میں ذرا بھی تردد کرے وہ مومن نہیں۔ رسول کے حکم سے روگردانی کرنے والوں کو منافق فرمایا۔ رسول کے حکم کو اس درجہ واجب الاتباع قرار دیا کہ رسول کے حکم کے بعد نہ ماننے کا کسی مومن کو حق نہ دیا۔ جو نہ مانے اس کے لئے جہنم کی وعید سنائی۔ کیا یہ سب باتیں اس کی دلیل نہیں کہ جس طرح اللہ عزوجل کا ہر ارشاد واجب التسلیم ہے اسی طرح رسول کا بھی ہر فرمان واجب الاعتقاد والعمل ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ اور رسول کے مابین تفریق کرنے والوں کو صاف صاف سنا دیا۔

و یریدون ان یفرتوا بین اللہ و رسلہ ویقولون نومن ببعض و نکفر ببعض و یریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا۔ اولئک ھم الکفرون حقا۔واعتدنا للکفرین عذابا مھینا ۔ النساء آیت (150-151(

اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول میں تفریق کر دیں اور کہتے ہیں کچھ کو ہم مانتے ہیں اور کچھ کو ہم نہیں مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں راستہ بنا لیں یہ لوگ ٹھیکافر ہیں۔ ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

          تو رسول کو واجب الاتباع نہ ماننے کا مطلب ہوا ان آیتوں کا انکار اور قرآن مجید کی کسی ایک آیت کا انکار پورے قرآن کا انکار ہے۔

افتؤمنون ببعض الکتب و تکفرون ببعض۔ البقرۃ (85)

کیا کچھ کتاب پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کے ساتھ کفر کرتے ہو؟

غور کیجئے بہت سے وہ احکام ہیں جو قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ صرف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اور وہ بھی قرآن کی طرح واجبُ العمل قرار پائے مثلاً

(1)     ’’اذان‘‘ قرآن پاک میں کہیں مذکور نہیں کہ نماز پنچ گانہ کے لئے اذان دیجائے مگر اذان عہد رسالت سے لے کر آج تک شعارِ اسلام رہی ہے اور رہے گی۔

(2)     "نماز جنازہ" قرآن میں اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں۔ مگر یہ بھی فرض ہے اس کی بنیاد ارشاد رسول ہی ہے۔

(3)     بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا قرآن میں کہیں حکم نہیں۔ مگر تحویل قبلہ سے پہلے یہی نماز کا قبلہ تھا یہ بھی صرف ارشاد رسول ہی سے تھا۔

(4)     جمعہ وعیدین کے خطبے کا کہیں قرآن میں حکم نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے اس کی بنیاد صرف ارشاد رسول ہی ہے ______ اور وہ بھی اس شان سے کہ اگر اس میں کوئی کوتاہی ہوئی تو کوتائی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی، مثلاً ایک بار جمعہ کا خطبہ ہورہا تھا۔ اسی اثناء ایک قافلہ آگیا کچھ لوگ خطبہ چھوڑ کر چلے گئے اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔

و اذا رأوا تجارۃ أولھواانفضواالیھا و ترکوک قائما ۔ قئل ما عند اللّٰہ خیر من اللھوومن التجارۃ واللہخیر الرازقین ۔ الجمعہ۔ آیت (11(

          یہ صرف اسی بناء پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول بھی واجب الاعتقاد والعمل ہے اس میں بھی کوتاہی کی وہی سزا ہے جو قرآن کے فرمودات میں کوتاہی کی ہے۔

          علاوہ ازیں قرآن خدا کی کتاب ہے، واجب القبول ہے، یہ کیسے معلوم ہوا؟ اللہ عزوجل نے آسمان سے لکھی لکھائی جلد بندھی ہوئی کتاب تو نازل نہیں کی اور اگر لکھی لکھائی جلد بندھی بندھائی کتاب اتارتا تو کیسے معلوم ہوتا کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔ کہیں سے بھی اڑ کر آسکتی ہے کوئی فریب کار کسی خفیہ طریقہ سے کہیں پہنچا سکتا ہے۔ اگر جبرئیل یا کوئی فرشتہ لے کر آتا تو کیسے پہنچانتے کہ یہ جبرئیل یا فرشتہ ہے۔ کوئی جن، کوئی شیطان، کوئی شعبدہ باز یہ کہہ سکتا ہے کہ میں جبرئیل ہوں میں فرشتہ ہوں یہ خدا کی کتاب لایا ہوں غرضکہ رسول کے مُطاع ماننے سے انکار کے بعد قرآن کے کتاب اللہ ہونے پر کوئی یقینی قطعی دلیل نہیں رہ جاتی، ساری دلیلوں کا منتہا یہ ہے کہ رسول نے فرمایا۔ یہ خدا کی کتاب ہے، یہ جبرئیل ہیِں، یہ آیت لے کے آئے ہیں۔ کتاب اللہ کی معرفت اور کتاب اللہ لے کر آنے والے ملک مقرب جبرئیل کی معرفت، قول رسول ہی پر موقوف ہے۔ اگر رسول کا قول ہی ناقابل قبول ہوجائے تو کتاب اللہ کا کوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔ غور کیجئے رسول نے لاکھوں باتیں ارشاد فرمائیں انھیں میں یہ فرمایا۔ مجھ پر یہ قرآن نازل ہوا۔ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجھ پر یہ سورت نازل ہوئی سننے والے صحابہ کرام نے ان کو کتاب اللہ جانا اور مانا اور جن ارشادات کے بارے میں یہ نہیں فرمایا۔ احادیث ہوئیں۔ اب کوئی بتائےایک منہ سے دو قسم کی باتیں نکلیں ایک قسم مقبول اور دوسری مردود۔یہ کس منطق سے درست ہوگا ایک قسم کو مردود قرار دینے کا مطلب ہوگا دوسری قسم کو بھی مردود قرار دینا۔ غرضیکہ حدیث کو ناقابل قبول ماننے کے بعد قرآن کا بھی ناقابل قبول ہونا لازم ہے۔

          علاوہ ازیں اگرچہ قرآن کریم میں تمام چیزوں کا بیان ہے۔ مگر ان میں کتنی چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے مجمل اور مُبہم ہیں مثلاً عبادات اربعہ نماز روزہ زکوٰۃ جج کو لے لیجئے۔ قرآن مجید میں ان سب کا حکم ہے۔ مگر کیا قرآن مجید سے ان عبادات کی پوری تفصیل کوئی بتا سکتا ہے۔ اگر احادیث کو ناقابل اعتبار ٹھہرا دیا جائے۔ تو پھر ان عبادات پر عمل کیسے ہوگا کیونکہ ان سب کی ہیئت ان سب کی تفصیل احادیث ہی سے معلوم ہوئی ہے۔ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صلو کما رأیتمون یصلی ۔ متفق علیہ

 اس طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ عبادات سے قطع نظر قرآن مجید کی سیکڑوں آیات وہ ہیں کہ اگر ان کی توضیح احادیث میں مذکور نہ ہوتی تو وہ لاینحل رہ جائیں مثلاً۔ ارشاد ہے۔

الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ اذ اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔ التوبہ آیت (40(

اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے (تو رسول کا کچھ نہیں بگڑے گا) اللہ نے ان کی اس وقت مدد کی جب کافروں کی شرارت سے انھیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جبکہ دونوں غار میں تھے جب رسول اپنے ساتھی سے فرماتے تھے غم نہ کھائو اللہ ضرور خود ہمارے ساتھ ہے۔

          احادیث سے قطع نظر کر کے کوئی بتا سکتا ہے۔ کہ کافروں نے کیا شرارت کی تھی۔ رسول کو کہاں سے باہر تشریف لے جانا پڑا یہ ساتھی کون تھے یہ غار کون تھا۔ اور کیوں ساتھی کو تسلی تشفی دینے کی حاجت پیش آئی۔ دوسری جگہ فرمایا۔

لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ۔ التوبہ آیت (25(

اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمہاری مدد فرمائی۔

یہ جگہیں کون کون سی ہیں؟ صرف قرآن سے کوئی بتا سکتا ہے۔ اور فرمایا

و علی الثلثة الذین خلفوا۔         التوبہ آیت﴿ 118﴾

ان تینوں پر اللہ کی مہربانی ہوئی جن کے معاملہ کو ملتوی فرما دیا گیا تھا۔

یہ تینوں کون تھے ان کا معاملہ کیا تھا۔ کیوں ان کا معاملہ ملتوی کیا گیا۔ کیا بغیر احادیث کے ان سوالوں کے جوابات دینا ممکن ہے۔ اور ارشاد ہے۔

لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ ۔ فیہ رجال یحبون ان یتطھروا۔ التوبہ۔ آیت (108(

جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ پہلے ہی دن سے اس لائق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اس میں ایسے لوگ ہیں جو اچھی طرح پاکی پسند کرتے ہیں۔

یہ مسجد کون سی ہے۔ یہ لوگ کون ہیں۔ احادیث سے قطع نظر کر کے کوئی بتائے تو؟۔

یہ چند مثالیں ہیں ورنہ قرآن میں اس کی صدہا مثالیں موجود ہیں کہ اگر احادیث میں ان کی توضیح نہ ہوتی تو ان کا ابہام کسی طرح دور ہی نہیں ہوسکتا تھا۔

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان کے بعد قول رسول کو حق نہ تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

اسی وجہ سے عہد صحابہ سے لے کر آج تک تمام امت بلانکیر منکر قرآن کی طرح احادیث کو واجب الاعتقاد واجب العمل مانتی چلی آئی ہے۔ البتہ اس زمانے میں بعض کلمہ گوئی کا دعویٰ کرنے والے ایسے پیدا ہوگئے ہیں جو احادیث کو نا قابل قبول مانتے ہیں لیکن دیگر بد مذہبوں کی طرح دامن بچا کر یوں کہتے ہیں کہ قول رسول ضرور حجت ہے۔ مگر آج جو احادیث کا ذخیرہ ہے وہ رسول کے اقوال و اعمال کا مجموعہ نہیں۔ یہ عجمی نو مسلموں نے سازش کر کے اپنی من مانی باتوں کو رسول کی طرف منسوب کر دیا ہے یہ قطعاً لائق اعتبار نہیں۔

          اپنے اس دعویٰ پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں آج احادیث کے جو دفتر ملتے ہیں ان میں کوئی بھی نہ عہد نبوی میں مرتب ہوا نہ عہد صحابہ مین حتی کہ عہد تابعین میں بھی مرتب نہ ہوا یہ سب دفاتر دوسری تیسری صدی اور اس کے بعد مدون کئے گئے ہیں اتنی لمبی مدت تک لاکھوں لاکھ احادیث یاد رکھنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اور عجیب بات ہے کہ اکثر محدثین عجمی النسل ہیں۔ امام بخاری بخارا کے، امام مسلم نیشا پور کے امام ترمذی ترمذ کے ابو داؤد سجستان کے ابن ماجہ قزوین کے باشندے تھے۔ اور یہ وہ مسلم الثبوت محدثین ہیں کہ فن حدیث میں ان کی ہر بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔ منکرین حدیث کے اس دعوے کی بنیاد اس پر ہے کہ دوسری صدی سے پہلے احادیث لکھی نہیں گئیں صرف زبانی یاد داشت پر اعتماد رہا۔ اب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ احادیث کی کتابت کا متن عہد رسالت ہی میں شروع ہوا ہے اور ہر دور میں تسلسل کے ساتھ باقی رہا۔ تو ان کے دعویٰ کا کوئی وزن نہیں رہ جائے گا اس لئے ہم پہلے ناظرین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کتابت حدیث کا کام عہد رسالت ہی سے شروع ہوچکا تھا۔ اور ہر عہد میں تسلسل کے ساتھ باقی رہا۔

Page:
(1) 2 3 4 ... 9 »

Navigate through the articles
Previous article امتنان وتشکّر
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (229 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu