• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Hadith > نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری > مقدمہ نزہۃ القاری

مقدمہ نزہۃ القاری

از: علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ

Published by admin on 2011/10/24 (17320 reads)
Page:
« 1 2 3 (4) 5 6 7 ... 9 »

عہد تابعین میں کتابت حدیث:

          لیکن اب تک جو بھی ہوا۔ انفرادی طور پر اپنے شوق و ذوق کے مطابق ہوا۔ پھر ان صحائف میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ جن بزرگ نے جن سے جو حدیث جب سنی لکھ لی۔ یہاں تک کہ اس اہم و بنیادی کام پر سب سے پہلے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کو توجہ ہوئی۔ اور انھوں نے باقاعدہ تدوین احادیث کے لئے وقت کے ممتاز افراد کو مقرر فرمایا۔ مثلاً ابو بکر بن عمرو بن حزم قاضی مدینہ قاسم بن محمد بن ابی بکر۔ ابو بکر محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری سعد بن ابراہیم وغیرہ۔ نیز اسی دور میں ربیع بن صحیح اور سعد بن عروبہ اور شعبی نے بھی احادیث کی تدوین شروع کر دی تھی۔

          دارمی میں ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قاضی مدینہ ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ احادیث رسول و احادیث عمر اور مئوطا میں اتنا زائد ہے اور ان کے مثل دیگر صحابہ کے آثار جمع کر کے لکھو کیونکہ مجھے علم کے ضائع ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔ بخاری کتاب العلم میں یہ زائد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کے علاوہ اور کچھ نہ قبول کیا جائے۔ اور علم کو خوب پھیلاؤ۔ اور بیٹھو تاکہ جو نہیں جانتا ہے وہ سیکھے۔ اس لئے کہ علم اس وقت تک ضائع نہ ہوگا جب تک اسے راز نہ بنا لیا جائے۔ بخاری ج 1ص 20،

          اس خادم کا خیال کہ اتنا حصہ۔ رسول اللہ کی احادیث کے علاوہ اور کچھ نہ قبول کیا جائے۔ حضرت امام بخاری یا کسی راوی کا اضافہ ہے۔ امام بخاری نے تعلیقًا ذکر کیا ہے۔ اور دارمی اور موطا میں مسنداً ہے۔ اس لئے خود امام بخاری کے طور پر دارمی اور موطا کی روایت مقدم ہوگی۔ خود امام بخاری نے سند کے ساتھ جو ذکر کیا ہے۔ وہ صرف۔ ذہاب العلماء تک ہے۔

          جب یہ فرمان ابو بکر بن حزم کے پاس پہنچا تو انھوں نے احادیث کے کئی مجموعے تیار کرائے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ انھیں بارگاہِ خلافت میں بھیجیں لیکن ابھی بھیجنے نہیں پائے تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا 101ھ میں وصال ہوگیا۔ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے محدّث اور امام زہری کے استاذ تھے۔

          احادیث میں ام المومنین حضرت عائشہ کی مرویات کو بہت بڑی اہمیت ہے۔ اس لئے کہ ان سے فقہ و عقائد کے بنیادی مسائل ماثور ہیں اس لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان کی احادیث جمع کرنے کا زیادہ اہتمام کیا تھا۔ عمرہ بنت عبدالرحمن کو حضرت عائشہ نے خاص اپنی آغوش میں کرم میں پالا تھا۔ یہ بہت ذہین عالمہ فاضلہ تھیں۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ کہ احادیث عائشہ کی یہ سب سے بڑی حافظہ تھیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے، قاضی ابو بکر بن عمر ابن حزم کو خاص ہدایت کی کہ عمرہ کے مسائل، اور روایات کو قلم بند کر کے بھیجا جائے۔

          ابو بکر محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری المتوفی 124ھجو امام زہری کے نام سے متعارف ہیں اور ان کو ابن شہاب بھی کہا جاتا تھا۔ ان کی عادت یہ تھی کہ محدثین کی حدیثیں سنتے جاتے تو اپنے ساتھ تختیاں اور کاغذ لئے رہتے جتنا سنتے لکھتے جاتے۔ تذکرۃ الحفاظ ج 1 ص 106۔

          صالح بن کیسان کہتے ہیں کہ میر اور زہری کا زمانہ طالب علمی میں ساتھ تھا۔ زہری نے مجھ سے کہا آؤ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں لکھیں۔ چنانچہ ہم دونوں نے حدیثیں لکھیں۔ کنز العمال ۵ 238،

          حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مختلف دیا اور امصار سے احادیث کے لکھے ہوئے دفتر کے دفتر جمع کئے اور انھیں امام زہری کے حوالہ کیا کہ انھیں سلیقے سے مرتب کریں۔ تدریب الراوی۔

          معمر کا کہنا ہے کہ امام زہری کی لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرے کئی اونٹوں پر لادے گئے۔ امام زہری اس وقت کے اعلم علماء تھے۔ حدیث وفقہ میں ان کا کوئی مثل نہ تھا۔ تمام اجلہ محدثین اصحاب ستہ حتی کہ امام بخاری کے بھی شیخ الشویخ ہیں۔ انھوں نے احادیث اس لگن و محنت سے جمع کیں کہ مدینہ طیبہ کے ایک ایک انصاری کے گھر جا جا کر مرد، عورت، بچے، بوڑھے جو مل جاتا اس سے حتی کہ پردہ نشیں عورتوں سے بھی پوچھ پوچھ کر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احوال و اقوال سنتے اور لکھتے۔

          ان کی تصنیفات کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ جب ولید بن یزید کے قتل کے بعد روایات و احادیث کے صحائف ولید کے کتب خانے سے منتقل کئے گئے تو صرف امام زہری کی مرویات و تصانیف گھوڑوں ،گدھوں پر لاد کر لائی گئیں۔

          امام زہری نے احادیث کے جمع کرنے کے ساتھ ان کو سند کے ساتھ بیان کرنے کا طریقہ ایجاد کیا اسی واسطے ان کو علم اسناد کا واضع کہا جاتا ہے۔

          ابن شہاب زہری نے احادیث کی جمع و ترتیب و تہذیب کا جو کام شروع کیا اسے انکے لائق تلامذہ ہمیشہ ترقی دیتے گئے یہاں تک کہ انھیں کے مشہور تلمیذ جلیل امام مالک بن انس متوفی 179ھ نے موطا لکھی۔ جن میں احادیث کو فقہی ابواب کے مطابق ترتیب وار جمع کیا۔

          سعد بن ابراہیم بھی بہت بڑے عالم اور محدث تھے۔ یہ مدینہ منورہ کے قاضی تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے بھی احادیث کے دفتر کے دفتر لکھوائے اور تمام بلاد اسلامیہ میں بھجوائے۔

          ہشام بن الفار کا بیان ہے کہ عطا بن رباح تابعی (متوفی 114ھ)سے لوگ حدیث پوچھ پوچھ کر انھیں کے سامنے لکھتے جاتے تھے۔ دارمی ص 69،

          سلمان بن موسیٰ کہتے ہیں میں نے نافع (متوفی 117ھ) کو دیکھا کہ وہ حدیثیں بیان کرتے اور ان کے تلامذہ ان کے سامنے لکھتے جاتے۔ دارمی،

          ایک شخص حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (متوفی 110ھ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا میرے پاس آپ کی بیان فرمودہ کچھ حدیثیں لکھی ہوئی ہیں۔ کیا میں ان کی آپ سے روایت کرسکتا ہوں۔ انھوں نے اجازت دیدی۔ ترمذی ج 2ص 932۔

          حمید الطویل نے بھی حضرت حسن بصری کی کتابیں نقل کی تھیں۔ تہذیب التہذیب ج 3 ص 39

          ابو قلابہ (متوفی 104ھ) نے وفات کے وقت اپنی کتابیں ایوب سختیانی کو دینے کی وصیت کی تھی۔ اس وصیت کے مطابق یہ کتابیں شام سے اونٹ پر لاد کر لائی گئیں۔ ایوب نے بتایا کہ اس کا کرایہ بارہ چودہ درہم دیئے تھے۔ تذکرۃ الحفاظ ج 1 ص 88۔

          ابراہیم نخعی کہتے ہیں سالم بن ابی الجوزاء (متوفی 101ھ) حدیثیں لکھا کرتے تھے۔ سالم نے بعض صحابہ کرام سے بھی حدیثیں سنی ہیں۔ ترمذی ج 2ص 238، دارمی ص 66،

Page:
« 1 2 3 (4) 5 6 7 ... 9 »

Navigate through the articles
Previous article امتنان وتشکّر
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (471 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu