Hadith Section at Alahazrat Network Website
كتاب بدء الوحى، حدیث نمبر1
Category : Volume 1
Published by admin on 2011/11/29

New Page 1

قَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آمِينَ‏.‏

بسم الله الرحمن الرحيم

باب الوحی

وحی کا بیان

كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقول الله جل ذكره إنا أوحينا إليك كما أوحينا إلى نوح والنبيين من بعده

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اور اللہ عزوجل کا فرمان کہ ہم نے تمہاری طرف وحی کی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد والے نبیوں کی طرف وحی کی

حدیث1 ۔         حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏

(بخاری کتاب الایمان ۔ عتق۔ ہجرت ۔کتاب النکاح۔ ایمان والنذر ۔ کتاب الحیل ۔ اکراہ ۔ طلاق ۔ مسلم باب الامارۃ ۔ ابودائود طلاق،نسائی طہارت۔ طلاق۔ ایمان۔ ابن ماجہزہد۔ ترمذی مسندامام احمد دارقطنی ابن حبان بیہقی )

ترجمہ: حمیدی، سفیان، یحیی بن سعید انصاری، محمد بن ابراہیم تیمی، علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ مین نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 1سے ممبر پر یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا۔ اے لوگو اعمال 2نیت ہی پر ہیں۔ہر شخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی3 لہٰذا جس کی ہجرت4اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہو5تاکہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کی جانب ہو کہ اس سے شادی کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔

تشریحات

1:     سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

        یہ عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے انتالیس مردوں کے بعد، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے 6نبوی میں ایمان لائے۔13ھ 23جمادی الآخرہ بروز سہ شنبہ مسند خلافت پر متکمن ہوئے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام ابو لُو لو فیروز مجوسی نے نماز فجر میں زخمی کیا۔ تین دن کے بعد 28ذوالحجہ بروز دو شنبہ شہید ہوئے۔ روضۂ پاک میں حضرت صدیق اکبر کے پہلو میں دفن ہوئے۔ عمر مبارک 63سال ہوئی۔ دس سال چھ مہینے پانچ دن بڑی شان و شوکت کے ساتھ نیابت رسول کا حق ادا کیا۔ انہیں کے عہدخلافت میں وقت کے دو عظیم فرعون، قیصر روم و کسریٰ ایران کی ہزار ہا سالہ جابرانہ ظالمانہ سلطنتیں پاش پاش ہوئیں۔ عراق، ایران، مکران(بلوچستان)، شام ،فلسطین ، مصر وغیرہ بڑے ممالک اسلام کے زیرنگیں ہوئے۔ چار دانگ عالم میں اسلام کی ہیبت و شوکت بیٹھ گئی۔ جیسا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی تھی۔ (الاعلام)

        ابو حفص کنیت ، فاروق اعظم لقب ہے ۔ ان سے 537حدیثیں مروی ہیں۔ صحابہ میں عمر بن خطاب نام کے کوئی صاحب نہیں البتہ راویان حدیث میں اس نام کے چھ حضرات ہیں۔ صحابہ کرام میں عمر نام کے 23اور حضرات ہیں۔ اور عَمروْ نام کے دو سو سے زائد صحابہ کرام ہیں۔ عمر اور عَمروْ لکھنے میں یکساں ہی ہے اس لئے امتیاز کے لئے عمرو کے ساتھ واؤ لکھا جاتا ہے اور عمر بغیر واؤ کے جو واؤ کے ساتھ لکھا ہو وہ عمرو ہے۔ عین کے فتحہ اور میم کے جزم کے ساتھ اور جو عمر بغیر واؤ کے ہے یہ عین کے ضمہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس پر اہلسنت کا اجماع ہے کہ تمام امت سے افضل صدیق اکبر ہیں پھر فاروق اعظم پھر عثمان غنی پھر علی مرتضیٰ پھر عشرہ مبشّرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

[pagebreak]

اس حدیث کی حیثیت :

        ابن مندہ کی تصریح کے مطابق یہ حدیث علاوہ حضرت عمر کے حضرت علی و حضرت سعد و حضرت ابو سعید خدری، و عبداللہ بن مسعود، و عبداللہ بن عمر ، و انس ، و ابن عباس ، و معاویہ ، و ابوہریرہ ، و عُبادہ بن صامت ، و عتبہ بن عبدالاسلمیٰ و ہزال بن سُوید و عقبہ بن عامر و جابر و ابو ذر و عُتبہ بن منذر و عقبہ بن مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی مروی ہے۔ ابن مندہ کا یہ قول اگر صحیح ہے تو یہ حدیث متواتر ہے۔ مگر اکثر محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ حدیث صرف حضرت عمر ہی سے مروی ہے۔ اور ان کے بعد یحییٰ بن سعید انصاری تک اس کے راوی ایک ایک رہے۔ یحییٰ بن سعید کے بعد یہ حدیث پھیلی ابو سعید محمد بن علی قشاب نے کہا کہ ڈیڑھ سو اور ابن مندہ نے کہا کہ تین سو سے زائد۔ حافظ ابو موسیٰ مدینی اور ابو اسماعیل ہردی نے کہا کہ سات سو حضرات نے یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کو روایت کیا۔ اس پر کچھ کلام بھی کیا گیاہے۔ مگر عند التحقیق یہ حدیث صحیح غریب مشہور ہے۔

یہ اُمّ الاحادیث ہے:

        حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت حماد کو بیس باتوں کی نصیحت فرمائی تھی ان میں انیسویں یہ تھی کہ میں نے پانچ لاکھ حدیثوں میں سے پانچ حدیثیں منتخب کی ہیں ان پر اعتماد کرنا۔ پھر انہیں پانچوں حدیثوں کو ذکر فرمایا۔

سبب ارشاد:

        حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔ مکہ میں ایک شخص نے ام قیس نامی ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ ام قیس نے یہ شرط رکھی اگر تم مدینہ ہجرت کرکے چلو تو تم سے نکاح کرلوں گی۔ انہوں نے ہجرت کی اور ان دونوں کا نکاح ہوگیا۔ ان کو ہم لوگ مہاجر ام قیس کہتے تھے۔ (طبرانی معجم کبیر)اس پر علامہ ابن حجر نے اعتراض فرمایا کہ محض قیاس ہے۔ اس واقعہ کو سبب ارشاد ٹھہرانا درست نہیں اس لئے کہ روایتاً ثبوت ضروری ہے۔ اور روایت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

اسی طرح ابن بطال مشہور محدث نے بحوالہ ابن سراج یہ بتایا کہ اسلام سے پہلے عربی اپنی لڑکیوں کا نکاح عجمی نسل کے لوگوں سے نہیں کرتے تھے۔ اسلام میں ایسے نکاح ہونے لگے تو بہت سے عجمی النسل ہجرت کرکے مدینہ پہنچے کہ ہمارا نکاح عربی عورتوں سے ہوجائے۔ اس پر یہ ارشاد فرمایا۔ اسپر وہی ایراد ہے کہ اس کا کیا ثبوت کہ اسی وجہ سے یہ ارشاد فرما؟یا یہ کہنا کہ ان لوگوں نے ایسی روایت پر اطلاع پائی جبھی تو اسے سبب ٹھہرایا۔ یہ جواب پہلی وجہ میں بھی چل سکتا ہے کہ جن لوگوں نے مہاجر قیس کے واقعہ کوسبب ٹھہرایا انہیں بھی کوئی روایت معتمد ملی ہوگی۔ واللہ اعلم

[pagebreak]

2:      الاعمال         یہ عمل کی جمع ہے یہ اور فعل مراد ف ہیں۔ مگر عند الاطلاق افعال سے مراد افعال جوارح ہی ہوتے ہیں۔ اور اعمالعام ہے۔ افعال جوارح ،افعال لسان، افعال قلب، سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ جس کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔ جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال ہوا۔ کونسا عمل افضل ہے۔ فرمایا۔ اللہ اور رسول پر ایمان ، پوچھا گیا پھر کون؟ تو فرمایا۔ جہاد ،پھردریافت کیا گیا۔ پھر کون؟ فرمایا حج مقبول۔ یہ عبادات، محرمات، مکروہات، مباحات سب کو شامل ہے ۔ مگر یہاں مراد صرف اعمالِ صالحہ ہیں۔ اور بنظر دقیق مباحات بھی ۔

نیات:         نیت کی جمع ہے۔ نیت، دل کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں۔ خواہ وہ کسی چیز کا ہو۔ اور شریعت میں عبادت کے ارادے کو کہتے ہیں۔ (تلویح)

ارادہ ، عزم ، قصد: محققین کے نزدیک ارادہ اس صفت کو کہتے ہیں جس سے دو متساوی چیزوں میں ایک کو ترجیح دی جائے خواہ قدیم خواہ حادث۔ نیت، عزم،قصد تینوں میں ارادہ حادث مراد ہے۔ اسی لئے ان کا اطلاق باری تعالیٰ پر نہیں ہوتابخلاف ارادے کے کہ اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر بھی ہوتا ہے۔

        عزم ، وہ ارادہ ہے جو فعل پر مقدم ہو۔

        قصد ، وہ ارادہ ہے جو فعل سے متصل اور فعل کے ساتھ پایا جاتا ہو۔

        نیت ، وہ ارادہ ہے جو عمل سے متصل و مقترن ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں عمل کی غایت بھی ملحوظ ہو۔

مثلاً ایک شخص نے حج کا ارادہ کیا۔ سفر شروع کرنے تک عزم ہے۔ سفر شروع ہونے کے بعد قصد۔ اور اگر اس میں یہ بھی ملحوظ ہے کہ یہحج کا سفر ہے تو نیت۔

امام شافعی کا مذہب :        وضو میں نیت شرط ہے یا نہیں۔ امام شافعی وغیرہ کے نزدیک وضو میں نیت شرط ہے اس لئے اگر کسی نے وضو بغیر نیت کیا تو اس کا وضو صحیح نہ ہوا۔ اس وضو سے نماز نہ ہوگی۔ ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے۔

امام شافعی کا استدلال:      اس پر سب کا اتفاق ہے کہ الاعمال سے مراد عبادات ہیں۔ مطلقاہر عمل نہیں مثلاً مباح یا گناہ مراد نہیں۔ الاعمال پر الف لام استغراق کے لئے ہے۔ اس لئے اس میں تمام عبادات داخل ہیں۔ خواہ وہ مقصودہ ہوں خواہ غیر مقصودہ۔ اور اگر الف لام جنس کے لئے مانیں تو بھی یہی حاصل اس لئے کہ ’’انما‘‘حصر کے لئے ہے۔ نیز مسند الیہ کا معرفہ ہونا بھی مفید حصر ہے۔ اور جنس کا حصر اُسی وقت ہوگا جبکہ اس کے تمام افراد کا حصر ہو۔ اگر ایک فرد بھی خارج ہوگا تو جنس کا حصر نہ ہوگا۔

        باتفاق فریقین الاعمال کا مضاف محذوف ہے۔

        کسی خاص مضاف کے حذف پر کوئی قرینہ نہیں۔ اس لئے مضاف محذوف عام ہوگا۔ یعنی وجود، حصول وغیرہ ۔ تو اب مطلب یہ ہوا کہ کوئی عمل بغیر نیت کے موجود نہیں ہوتا۔ یہ باطل اس لئے کہ اذان، قرأت ،ذکر وغیرہ بہت سی عبادتوںکا وجود باتفاق فریقین ہوجاتا ہے۔ تو اب اس حدیث کے صدق کے لئے یہاں معنی مجازی مراد لینا لازم ہوا اور یہمعنی مجازی حکم ہے۔ اور حکم دو ہیں۔ دنیوی یعنی صحت و فساد۔ اور اخروی یعنی ثواب۔

        امام شافعی کے یہاں عموم مجاز مراد لینا جائز نہیں۔ اس لئے بیک وقت دونوں مراد نہیں ہوسکتے ان دونوں میں صرف ایک ہی مراد ہوگا۔ بہ نسبت ثواب کی صحت ، عمل سے قریب تر ہے۔ اس لئے کہ صحت عمل پر مرتب ہوتی ہے اور ثواب صحت عمل پر یعنی صحت کا ترتب عمل پر بلا واسطہ اور ثواب کا بواسطہ۔ اس لئے صحت مراد لینے کو ثواب پر ترجیح ہوئی اب حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جتنے بھی اعمال ہیں خواہ مقصودہ ہوں خواہ غیر مقصودہ سب کی صحت نیت پر ہے۔ اگر نیت ہے تو صحیح ورنہ فاسد۔ اس لئے وضو بھی بلا نیت صحیح نہیں۔

جواب:  اس استدلال سے یہ ثابت ہوا کہ کوئی عبادت نیت کے بغیر عبادت نہیں۔ اس سے ہمیں انکار نہیں۔ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ بلا نیت کوئی بھی عمل عبادت نہیں۔ حتیٰ کہ وضو و غسل بھی بغیر نیت عبادت نہ ہوں گے۔ مگر کسی عمل کا صحیح ہونا اور بات ہے اور اس کا عبادت ہونا اور بات۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شے فی نفسہ صحیح ہو مگر عبادت نہ ہو۔ جیسے نکاح اگر بلا نیت طاعت کیا عبادت نہ ہوا۔ مگر شرعاً صحیح ہے۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں اگر کسی نے بغیر نیت وضو کیا تو یہ وضو صحیح اگرچہ عبادت نہ ہوگا اس پر ثواب نہ ملے گا۔

[pagebreak]

        اس کی توضیح یہ ہے کہ عبادت کی دو قسمیں ہیں۔ مقصودہ جیسے نماز روزے ۔ ان سے مقصود حصول ثواب ہے۔ انہیں اگر بغیر نیت ادا کیا جائے تو یہ صحیح نہ ہوں گے اس لئے کہ ان سے مقصود ثواب تھا اور جب ثواب مفقود تو فواتِ مقصود کی وجہ سے اصل شے مفقود ۔

        دوسری عبادت غیر مقصودہ جو دوسری عبادتوں کے لئے ذریعہ ہوں جیسے نماز کے لئے چلنا، وضو ،غسل وغیرہ ۔ ان عبادات غیر مقصودہ کو اگرکوئی بہ نیت اطاعت کرے گا تو اسے ثواب ملے گا۔ اور اگر بلا نیت کرے تو ثواب نہیں ملے گا۔ مگر یہ ذریعہ وسیلہ ہونے کے اعتبار سے شرعاً صحیح ہوں گی اور ان سے نماز صحیح ہوجائے گی۔ اور شوافع کے استدلال سے ثابت ہوا تو یہ کہ بغیر نیت وضو عبادت نہیں۔ یہ ثابت نہ ہوا کہ وہ اس معنی کہ صحیح بھی نہ ہوا کہ نماز کے لئے ذریعہ بن سکے۔ یہ اگر عبادت نہ رہا تو کوئی خرابی نہیں۔ ان کا دوسرا اور اہم مقصد ذریعہ عبادت ہونا باقی رہا۔ جیسے چلنا کہ بے نیت طاعت مسجد کی طرف چلا تو یہ عبادت نہ ہوا مگر ذریعہ نماز تو ہوگیا۔ اسی طرح غسل طہارت ظاہری جس میں وضو بھی داخل ہے بے نیت صحیح اگرچہ عبادت نہیں۔

احناف کا استدلال: شوافع کے استدلال سے ثابت ہوا کہ چند باتیں انہیں بھی تسلیم ہیں۔ (1) اعمال سے مراد عبادات ہیں۔(2) نیت سے مراد نیت کا شرعی معنی ۔ارادہ طاعت ہے۔ (3) اور یہاں ’’الاعمال‘‘ کا مضاف محذوف ہے۔ (4) اور یہ ضرورۃ محذوف مانا گیا ہے۔ اب احناف کہتے ہیں: جو چیز ضرورۃً مقدر مانی جاتی ہے وہ بقدر ضرورت ہوگی ضرورت سے زیادہ ماننے میں مفاسد کا فتح باب ہے۔

        نیز اس کے حذف پر قرینہ بھی ہونا ضروری ہے۔ خواہ عقلی خواہ لفظی خواہ معنوی۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ کسی بھی عبادت کا ثواب بغیر نیت نہیں۔ نیز اس حدیث کا اخیر حصہ:

        ’’جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت عورت یا دنیا کے لئے ہو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘

        اس پر قرینہ ہے کہ کسی بھی عمل خیر پر ثواب نیت ہی سے ملے گا ۔ بغیر نیت کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ ان دو عقلی اور لفظی قرائن کی وجہ سے یہاں ثواب کا محذوف ماننا ضروری ہے۔ اور اتنے سے حذف کی ضرورت پوری ہوگئی اور ثواب حکم اخروی ہے تو حکم دنیوی یعنی صحت مراد لینا ساقط ۔ نیز اگر حکم کو محذوف مانیں اور مراد لیں دنیوی حکم یعنی صحت ۔ تو حدیث کا اخیر حصہ اول کے معارض ہوگا۔ کیونکہ انماالاعمال بالنیاتکا مطلب یہ ہوا کہ بغیر نیت عمل صحیح نہیں۔ یعنی اس کا وجود ہی نہیں۔ اور عامل بری ّ الذمہ نہیں۔ حالانکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بلا نیت اطاعت صرف حصول دنیا یا حصول عورت کے لئے ہجرت کرنے والے کی ہجرت کو ہجرت فرمایا۔ اور ان کو ادائے فرض سے بری الذمہ مانا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ یہ صحابہ تارک فرض ہو کہ فاسق ہوئے ۔ کیونکہ قبل فتح مکہ ہجرت فرض تھی۔ اور صحابہ کل عادل۔ تو ماننا پڑے گا کہ یہ ہجرت صحیح اور ایسے مہاجر بھی ہجرت کے فرض سے سبکدوش ہوگئے۔ اس لئے حدیث کے اول و آخر کو تعارض سے بچانے کے لئے ثواب کو محذوف ماننا لازم ۔ اب جبکہ ثابت ہوگیا کہ یہاں محذوف ثواب ہے۔ تو حدیث کا یہ مطلب ہوا کہ :

        اعمال کا ثواب نیت ہی پر ہے۔ بغیر نیت کسی عمل پر ثواب کا استحقاق نہیں۔

        بلکہ اب اس کی بھی حاجت نہ رہی کہ اعمال کو عبادات کے ساتھ خاص رکھا جائے۔ مباحات بھی اگر بہ نیت طاعت کئے جائیں تو ان پر بھی ثواب ملے گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب یہ مباحات عبادات ہوجائیں گے۔ مگر یہاں بحث یہ نہیں کہ کیا چیز مآل کے اعتبار سے عبادت ہوسکتی ہے۔ بلکہ گفتگو اس میں ہے کہ جو چیز فی الحال عبادت ہے وہی مراد ہے، یا جو فی الحال مباح ہے اور مآل کا رعبادات ہو وہ بھی مراد ہے۔

[pagebreak]

3:     صرف نیت پر ثواب:

        اول حصے میں ’’اعمال‘‘افعال جوارح و افعال قلب کو شامل تھا جس میں نیت بھی داخل ہے۔ مگر نیت کے لئے نیت ضروری قرار دینے میں تسلسل لازم آتا ہے کہ پھر اس نیت کے لئے بھی نیت ضروری ہوگی اسی طرح یہ سلسلہ غیر متناہی چلے گا۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ ’’وہاں اعمال‘‘سے نیت خارج ہے ’’انما الاعمال بالنیات ‘‘سے نیت کے سوا جملہ اعمال کا حکم بیان فرمانے کے بعد نیت کا حکم ارشاد فرمایا: کہ ہر شخص کو اس کی نیت ہی کا ثواب ملے گا۔

        اس کی تشریح اس حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ عزو جل نے فرمایا:

اذا ہمّ عبدی بسیئۃ فلا تکتبوھا واذا ہمّ بحسنۃ فلم یعملھا فاکتبوہا حسنۃ فان عملھا فاکتبوہا عشراً۔

ترجمہ: جب کوئی بندہ برائی کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھنا جب بندہ کسی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور نہ کرسکے تو ’’ایک نیکی لکھو‘‘ اور اگر اسے کرلے تو دس لکھو ۔ (بخاری کتاب التوحید ۔ مسلم کتاب الایمان)

        غزوۂ تبوک میں ارشاد فرمایا: مدینہ طیبہ میں کچھ لوگ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے رہ گئے ۔ ہمارے ساتھ نہیں آسکے وہ بھی ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب وہ ہمارے ساتھ شریک نہیں تو ثواب میں کیسے  شریک ہوگئے۔؟ فرمایا اپنی سچی نیت کی بدولت۔

        حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمار داری کی وجہ سے غزوہٗ بدر میں شریک نہ ہوسکے مگر اپنی نیت کی بدولت ثواب میں شریک ہیں۔ اور مال غنیمت میں بھی انہیں حصہ ملا۔ اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ آدمی اگر کسی نیک کام کرنے کا ارادہ کرے اور نہ کرسکے تو اس پر بھی ثواب ملے گا اسی کو دوسری حدیث میں فرمایا: ’’نیۃ المؤمن خیر من عملہ  ‘‘مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ اس طرح کی نیت پر ثواب بلا شرط ہے ۔ اور عمل پر بشرط نیت ہے۔ نیز نیت میں کوئی مشقت نہیں۔ اور عمل میں مشقت ہے

تفریع:  دو حکم کلی بیان فرمانے کے بعد اس پر دو جزئیے کی تفریع فرمائی ۔ حصر کے دو جز ہوتے ہیں۔ وجودی، عدمی۔ اسی طرح یہاں بھی ہیں ایک وجودی یعنی تمام اعمال کا ثواب نیت ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس پر ارشاد فرمایا: ’’جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے۔ ‘‘

        دوسرے عدمی یعنی کسی عمل پر بغیر نیت ثواب نہیں۔ اس پر فرمایا:

        ’’اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے سے شادی کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘

[pagebreak]

4:      ہجرت کے معنی :۱۔ہجرت کے معنی لغوی چھوڑنے کے ہیں۔ حدیث میں ہے:

            المہاجر من ھجر ما نہی اللہ عنہ           مہاجر وہ ہے جو چھوڑ دے وہ جن سے اللہ نے منع فرمایا۔

شریعت میں ہجرت دین بچانے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کو کہتے ہیں۔ ہجرت کبھی فرض ہوتی ہے کبھی واجب کبھی سنت کبھی مستحب کبھی حرام کبھی خلاف اولیٰ۔

۲۔     دنیا:    دُنُوٌّ، سے مشتق ہے’’فعلی ‘‘کے وزن پراسم تفضیل مؤنث ہے۔ دُنُوّ کے معنی قریب ہونا۔ دنیا کے معنی لغوی بہت زیادہ قریب ہونے والی۔ اور معنی عرفی سے مناسبت یہ کہ دنیا زوال و فنا کے بہت قریب ہے۔

        شریعت میں دنیا کسے کہتے ہیں۔ اس بارے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ آسمانون اور زمین میں ہے دنیا ہے۔ دوسرے یہ کہ تمام مخلوقات خواہ اعراض ہوں خواہ جواہر دنیا ہیں۔

ہجرت کے اقسام :  ۳۔    حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چار قسم کی ہجرت ہوئی:

        حبشہ کی ہجرت اولیٰ ،         حبشہ کی ہجرت ثانیہ

        قبل فتح مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت     قبائل عرب کی مدینہ کی طرف ہجرت

        احادیث میں جہاں کہیں ہجرت کا لفظ مطلق آیا ہے اس سے مراد مدینے کی طرف ہجرت ہے۔ اس کے علاوہ احادیث میں ہجرت کا اطلاق ان معانی پر بھی آیا ہے۔ (1) شرعی وجوہ کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا جیسا کہ بعض احادیث میں آیا ہے جب تک توبہ منقطع نہ ہوگی ہجرت بھی منقطع نہ ہوگی۔ اور توبہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد منقطع ہوگی (ابو داؤد ۔ نسائی) اور فرمایاجب تک جہاد ہے ہجرت ہے جب تک دشمن لڑتا رہے گا ہجرت ہے۔ (مسند امام احمد) اسی میں ایک حدیث یہ بھی ہے، ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی۔ زمین کے اچھے لوگ حضرت ابراہیم کی ہجرت کی جگہ( شام)میں منتقل ہوجائیں گے اور بقیہ زمین پر بد ترین لوگ رہ جائیں گے۔ (2) منہیات شرعیہ چھوڑنا۔

اس حدیث سے کتاب کے آغاز کا مقصد:       ہر کام پر ثواب چونکہ حسن نیت ہی پر مبنی ہے۔ اور نیت بد سے اچھے سے اچھا کام بیکار ہے۔ اس لئے امام بخاری نے اس حدیث سے کتاب کا آغاز کیا قاری و مقری ، شیخ و تلمیذ، تعلیم و تعلم بہ نیت خیر کریں کسی فاسد نیت سے نہ کریں ورنہ سب محنت اکارت اور رائیگاں ہے۔