Tag: Islamic Terms

تحیّۃُ:الوضو: وضوکے بعداعضاء خشک ہونے سے پہلے دورکعت نمازپڑھنا۔ (ماخوذازبہارشریعت، حصہ۴،ص۲۴
تَرْخِیْم :منادیٰ کے آخری حرف کوتخفیفاًگرادیناترخیم کھلاتاہے ۔ ماخوذ ازتسہیل النحوص، ۷۴
تَصْفِیْق:سیدھے ہاتھ کی انگلیاں الٹے ہاتھ کی پشت پرمارنے کو تصفیق کہتے ہیں۔ ( ماخوذ ازدر مختار مع ردالمحتار،ج ۲، ص ۴۸۶
 تَعدِیل ارکان :رکوع وسجود وقومہ وجلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی قدر ٹھہرنا۔ (بہارشریعت، حصہ۳،ص۸۶)
كسي كے قول و فعل كو اپنے اوپر لازمِ شرعي جاننا يه سمجھ كر كہ اسكا كام همارے لئے حجت ہے كيونكہ يه شرعي محقق ہے. جيسا كه حنفي مسائلِ شرعسيه ميں امامِ اعظم امام ابوحنيفہ رحمة الله عليه كا قول و فعل اپنے لئے دليل سمجھتے هيں اور دلائلِ شرعيه ميں نظر نہيں كرتے. […]
تکبیرات تَشْرِیق :عرفہ یعنی نویں ذوالحَجّۃ الحرام کی فجر سے تیرھویں کی عصر تک ہر فرض نمازکے بعدبلند آواز کے ساتھ ایک بار اللہ اکبر،اللہ اکبر،لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا۔ (ماخوذ ازنماز کے احکام ،ص ۴۴۷)
تَلبِیہ:وہ وِرْد جو عمرہ اورحج کے دوران حالت احرام میں کیاجاتا ہے ۔ یعنی لَبَّیْک ط اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک الخ پڑھنا۔
45 تَنْعِیم:وہ جگہ جہاں سے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران عمرے کے لئے احرام باندھتے ہیں اور یہ مقام مسجد الحرام سے تقریباً سات 7 کلو میٹر جانب مدینہ منورہ ہے اب یہاں مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا بنی ہوئی ہے ۔ اس جگہ کو لوگ ”چھوٹاعمرہ” کہتے ہیں
نمازِتہجّد :نمازعشاپڑھ کرسونے کے بعدصبح صادق طلوع ہونے سے پہلے جس وقت آنکھ کھلے اٹھ کر نوافل پڑھنانمازتہجد ہے۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۷،ص ۴۴۶
تولہ :بارہ ماشے کاوزن (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۶
ثَمن:بائع اورمشتری آپس میں جوطے کریں اسے ثمن کہتے ہیں۔(ردالمحتار، ج۷،ص۱۱۷،ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۱۸۴)
وه شرعي محصول جو اسلامي حكومت اهلِ كتاب سے ان كي جان و مال كے تحفظ كے عوض ميں وصول كرے جزيہ كہلاتا ہے تفسيرِ نعيمي ج 10 ص 254
جِزْیہ :وہ شرعی محصول جواسلامی حکومت اھل کتاب سے ان کی جان ومال کے تَحفُّظ کے عوض میں وصول کرے ۔ تفسیر نعیمی، ج ۱۰،ص ۲۵۴
جعرانہ:مکہ مکرمہ سے تقریبا چھبیس۲۶ کلو میٹر دور طائف کے راستے پر واقع ہے ۔یہاں سے بھی دوران قیام مکہ شریف عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے ۔ اس مقام کو عوام ”بڑا عمرہ ”کہتے ہیں۔
جَلسہ:دونوں سجدوں کے درمیان سیدھابیٹھنا۔ بہارشریعت ،حصہ۳،ص۸۶
جماعت نوافل بِالتّد اعِیْ :تداعی کالغوی معنی ہے ایک دوسرے کوبلانا جمع کرنا،اورتداعی کے ساتھ جماعت کامطلب ہے کہ کم ازکم چار آدمی ایک امام کی اقتداکریں۔(دیکھئے تفصیل فتاوی رضویہ، ج۷،ص ۴۳۰۔۴۳۷
نمازِچاشت :آفتا ب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النھارشرعی تک دویاچاریابارہ رکعت نوافل پڑھنا ۔(ماخوذاز بہار شریعت، حصہ۴،ص۲۴،۲۵
حاجتِ اصلیہ :زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہووہ حاجت اصلیہ ہے مثلاًرہنے کامکان،خانہ داری کاسامان وغیرہ۔ (ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ ۵،ص۱۵)
جن چیزوں سے صرف وضولازم ہوتاہے ان کوحدث اصغر کہتے ہیں۔ بہارشریعت ،حصہ۲،ص۴
جن چیزوں سے غسل فرض ہوان کوحدث اکبر کہتے ہیں۔ بہارشریعت ،حصہ۲،ص۴
حرام قطعی :جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً ثابت ہو،یہ فرض کا مُقابِل ہے۔ (رکن دین، ص۴،وبہارشریعت ،حصہ۲،ص ۵)
حَرَم :مکہ معظمہ کے چارو ں طر ف میلوں تک اس کی حدود ہیں اور یہ زمین حرمت وتقدس کی وجہ سے ”حرم”کھلاتی ہے۔ ہر جانب اس کی حدو د پرنشان لگے ہیں حرم کے جنگل کا شکار کرنا نیز خود رو درخت اور تر گھاس کا ٹنا ، حاجی ، غیر حاجی سب کے […]
حَطِیم:کعبہ معظمہ کی شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل میں فصیل (یعنی باؤنڈری )کے اندر کا حصہ ”حطیم”کعبہ شریف ہی کاحصہ ہے اور اس میں داخل ہونا عین کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہونا ہے ۔
حِل:حدو د حرم سے باہر میقات تک کی زمین کو ”حِل ”کہتے ہیں ۔ اس جگہ وہ چیزیں حلال ہیں جو حرم میں حرام ہیں ۔ جو شخص زمینِ حل کا رہنے والا ہو اسے ”حلّی ”کہتے ہیں ۔
حَلْق:احرام سے باہر ہونے کے لئے حدو د حرم ہی میں پورا سر منڈوانا۔