پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامت شرائع الٰہیہ ہے دین وعقل ونسب ونفس ومال۔ عبث محض کے سوا تمام افعال انھیں میں دورہ کرتے ہیں اب اگر فعل (کہ ترک بمعنی کف کو کہ وہی مقدور وزیر تکلیف ہے نہ کہ بمعنی عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل ) اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبہ ضرورت ہے جیسے دین کے لئے تعلم ایمانیات و فرائض عین، عقل ونسب کے لئے ترک خمروزنا، نفس کے لئے اکل وشرب بقدر قیام بنیہ، مال کے لئے کسب ودفع غصب امثال ذٰلک (فتاویٰ رضویہ جلد21)۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کی حفاظت کرنے کے لئےا للہ تعالیٰ نے تمام شریعتوں کو قائم کیا ہے:
دین، عقل، نسب (نسل)،نفس (جان) اور مال۔
فضول کاموں کے علاوہ، انسان کے تمام کام ان ہی پانچ چیزوں کے گرد گھومتے ہیں۔
اب اگر کوئی کام (یا کسی برائی سے رکنا) ایسا ہو کہ اس کے بغیر ان پانچ چیزوں میں سے کسی کے ضائع ہونے یا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو، تو اسے “ضرورت” کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:
• دین کی حفاظت کے لیے ایمان کے بنیادی مسائل اور ضروری فرائض کا علم حاصل کرنا۔
• عقل اور نسل کو بچانے کے لیے شراب نوشی اور زنا جیسی برائیوں کو چھوڑنا۔
• جان (نفس) کو برقرار رکھنے کے لیے اتنا کھانا پینا کہ جسم قائم رہ سکے۔
• مال کے لیے حلال کمائی کرنا اور اسے ناجائز قبضے سے بچانا۔


