Home Page

 

Random Quotes from Fatawa Razaviah of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمۃ اللہ علیہ

غذائے روح وہ ہے جس کی طرف شریعتِ محمدیہ بلاتی ہے اور جس کی طرف شریعتِ مطہرہ بلاتی ہے اس پر وعدہء جنت ہے اور جنت ان چیزوں پر موعود ہے جو نفس کو مکروہ ہیں اور غذائے نفس وہ ہے جس سے شریعتِ محمدیہ منع فرماتی ہے اور جس سے شریعتِ کریمہ منع فرماتی ہے اس پر وعیدِ نار ہے اور نار کی وعید ان چیزوں پر ہے جو نفس کو مرغوب ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشہوات (صحیح البخاری، مسلم جنت ان چیزوں سے گھیر دی گئی ہے جو نفس کو ناگوار ہیں اور دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ دی گئی ہے جو نفس کو ناپسند ہیں

— What is the food of soul

Source: Fatawa Razaviah Volume 24

About Alahazrat Network

Alahazrat Network is a digital Islamic knowledge platform dedicated to presenting the scholarly legacy of Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi (رحمہ اللہ). Explore authentic Books, Articles and key extracts, on Aqeedah, Fiqh, and Tasawwuf.


اعلیٰ حضرت نیٹ ورک ایک علمی اسلامی پلیٹ فارم ہے جو امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ اور اہلِ سنت کے اکابر علماء کی علمی میراث کو محفوظ اور عام فہم انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہاں عقائد، فقہ اور تصوف سے متعلق مستند کتب، مضامین اور منتخب اقتباسات دستیاب ہیں۔

Read & Search Holy Quran Online

Explore with our advanced Ayah-based search engine. Featuring the authentic Kanzul Iman (Urdu/English) and Tafseer Khazain ul Irfan. Database format for effortless learning—jump to any Surah or Ayah with Translation On/Off toggles.

🔔 Recently Uploaded

Stay updated with the latest books and scholarly articles added to our network.

Browse New Uploads


Imām Aḥmad Riḍā Khān al-Ḥanafī (1856–1921) (Alahazrat) was a great Sunni scholar and jurist. His books preserve authentic Ahl-e-Sunnah beliefs and guide Muslims in Aqeedah, Fiqh, and spirituality. Read more: All Books • Download: Downloads.


کتبِ اعلیٰ حضرت۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے عظیم امام، فقیہ اور مجدد تھے۔ آپ کی تصانیف عقائدِ اہلِ سنت کی حفاظت کرتی ہیں اور دین میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مکمل کتب: یہاں کلک کریں • ڈاؤن لوڈ: یہاں کلک کریں۔

فتاوی الحرمین بر جف ندوۃ المین

Read More

فتاویٰ رضویہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان الحنفی القادری البریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ عظیم الشان فقہی و اعتقادی مجموعہ ہے جو فقہ حنفی کی علمی تاریخ میں ایک بے مثال حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مجموعہ اسلامی فقہ، عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، فتاویٰ رضویہ آج بھی علما، مفتیانِ کرام، طلبۂ علم اور عام مسلمانوں کے لیے ایک مستند مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف فتاویٰ کا مجموعہ نہیں بلکہ فقہِ اسلامی، عقیدۂ اہلِ سنت اور دین فہمی کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے، جو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتا رہے گا سیاست، جدید مسائل اور امت کو درپیش نت نئے سوالات پر اعلیٰ حضرت کے مدلل اور مستند فتاویٰ پر مشتمل ہے۔


Fatawa Razaviah is the monumental collection of juridical and theological verdicts authored by the great Imām of Ahl al-Sunnah, Imām Aḥmad Riḍā Khān al-Ḥanafī al-Qādirī al-Baraylawī (رحمة الله عليه). This extraordinary work occupies a unique position in the intellectual history of the Muslim world and the Indian subcontinent. Fatawa Razaviah is not merely a collection of legal opinions; it is a comprehensive intellectual legacy that continues to guide scholars, jurists, students, and the wider Muslim community. Its relevance, authority, and scholarly rigor make it an enduring reference for understanding Islamic law and Sunni theology across generations.

Fatawa Ridawiyyah Volume 4

العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah Alahazrat Mujaddid Imam…

Read More

Fatawa Razaviah Volume 25 in Typed Format

#3047 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم ط



پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں:
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
#3048 · پیش لفظ
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
(۸)حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسول الکریم تقریبا چودہ۱۴ سال کے مختصر عرصہ میں پچیسویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی چوبیس جلدوں کی تفصیل سنین اشاعتکتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
#3049 · پیش لفظ
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
#3050 · پیش لفظ
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلح کتاب المضاربۃکتاب الامانات کتاب العاریۃکتاب الھبہ کتاب الاجارۃکتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہ کتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہمدہمیازدہمدواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشار و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی
#3051 · پیش لفظ
معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائےعام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر و الاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پر ہوا لہذا اکیسویں جلد سے مسائل حضرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبداالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کوانتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپوراستفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
پچیسویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلدیازدہم مطبوعہ المجدد احمدرضا اکیڈمی کراچی کے شروع سے آخرتك ۱۸۳سوالوں کے جوابات اورمجموعی طورپر ۶۵۸ صفحات پرمشتمل ہے۔اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیاہے۔اس سے قبل گیارہویںبارہویںتیرہویںسولہویںسترہویںاٹھارہویںانیسویں اوربیسویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں۔
پیش نظرجلد بنیادی طورپر مندرجہ ذیل عنوانات کے مباحث جلیلہ پرمشتمل ہے :
o کتاب المدانیات
o کتاب الاشربہ
o کتاب الرھن
o باب القسم
o کتاب الوصایا
تاہم متعدد دیگرعنوانات سے متعلق کثیرمسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں لہذا مذکورہ بالا بنیادی عنوانات کے تحت مندرج مسائل و رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہےنیز اس جلد میں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگرکہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا درج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ ابواب کی فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔انتہائی وقیع اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
#3052 · پیش لفظ
(۱)حقہ المرجان لمھم حکم الدخان (۱۳۰۷ھ)
حقہ اورتمباکونوشی کاحکم شرعی
(۲)الفقہ التسجیلی فی عحین النارجیلی (۱۳۱۸ھ)
تاڑی سے خمرشدہ آٹے کاشرعی حکم
(۳)الشرعیۃ البھیۃ فی تھدید الوصیۃ (۱۳۱۷ھ)
وصیت کی جامع ومانع تعریف اوراس کی اقسام کابیان
نوٹ: رسالہ "المنی والدررلمن عمد من آردر"فتاوی رضویہ قدیم جلدہشتم(کتاب الاجارہ)اورجلدیازدہم(کتاب المدانیات) دونوں میں شامل تھا۔ہمارے خیال میں مقدم الذکر مقام ہی اس کے لئے انسب ہےچنانچہ ہم نے اس کو فتاوی رضویہ جدید جلد۱۹(کتاب الاجارہ)میں شامل اشاعت کردیاہے لہذا اس جلد میں کتاب المدانیات سے اس کو خارج کردیاہے۔

رجب المرجب ۱۴۲۴ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
ستمبر۲۰۰۳ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#3053 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
کتاب المداینات
(مداینات کابیان)

مسئلہ ۱: ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسٹیٹ مرسلہ ملا حاجی یعقوب علی خاں ۲۱ذیقعدہ ۱۳۱ اھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین عظام شرع نبیاس مسئلہ میںکہ ہندوکفار سے کسی اہل اسلام نے قرضی لیاتھااور قضاء عنداﷲ وہ قرضخواہ واصل جہنم ہوا اور اس کاکوئی ورثہ باقی نہیں تو اس کے قرضہ کے اداکی کیاصورت ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جوشخص مرجائے اورکوئی وارث نہ چھوڑے نہ کسی کے نام وصیت کی ہوتو اس کے مال کامستحق بیت المال ہے اوربیت المال کے ایسے مال کے مستحق مذہب جمہورپر فقراء مساکین عاجزین ہیں کہ ان کے کھانے پینےدواداروکفن دفن میں صرف کیاجائے۔ درمختارمیں ہے:
ورابعھا الضوائع مثلامالا یکون لہ اناس وارثونا ۔ اوران میں چہارم ضوائع(گری پڑی اشیاء)ہیں مثلا وہ شئی جس کالوگوں میں سے کوئی وارث نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References & الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ باب العشر €∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۰€
#3054 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
ردالمحتار میں ہے:
الضوائع اللقطات مثل مالا ای مثل ترکۃ لاوارث لھا اصلااولھا وارث لایردعلیہفمصرفہ المشھور اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم فیعطی منہ نفقتھم وادویتھم وکفنھم وعقل جنایتھم کما فی الزیلعی وغیرہ وحاصلہ ان مصرفہ العاجزون الفقراء اھ ملتقطا۔ ضوائع یعنی لقطے(گری پڑی اشیاء)پس ماتن کا قول"مثل مالا" یعنی اس ترکہ کی مثل جس کا سرے سے کوئی وارث نہ ہو یا ایساوارث ہو جس پر(بچاہواترکہ)ردنہیں کیاجاتا۔چنانچہ اس کا مشہور مصرف وہ لقیط ہے جو محتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کے لئے کوئی ولی نہ ہوںاس میں سے ان کو خرچہدوائیں کفن کے اخراجات اورجنایات کی دیتیں دی جائیں گی جیساکہ زیلعی وغیرہ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کا مصرف عاجز فقراء ہیں اھ التقاطا۔(ت)
اوریہ حکم جیسامال مسلم کے لئے ہے یونہی مال کافر کے لئے بھیعالمگیری میں ہے:
من مات من اھل الذمۃ ولاوارث لہ فمالہ لبیت المال کذا فی الاختیار شرح المختار۔ ذمیوں میں سے کوئی مرگیا اور اس کاکوئی وارث نہیں تو اس کامال بیت المال میں رکھاجائے گا۔اختیارشرح مختارمیں یونہی ہے۔(ت)
پس ایسی صورت میں وہ مال فقراء کو دے دے نہ اس نیت سے کہ اس صدقہ کاثواب اس کافرکوپہنچے کہ کافراصلا اہل ثواب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ خبیث مرگیا اورموت مزیل ملك ہے تو اب وہ اس کامالك نہ رہا بلکہ حق بیت المال ہوا توفقراء کو بذریعہ استحقاق مذکوردیاجاتاہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲: ازبنارس محلہ پزکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۵رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالی الی یوم الدیناس میں کہ زیداکبرآباد سے چل کر شب کوتین بجے دہلی کے اسٹیشن پراترا اوروہاں سے تین آنے کرایہ کو ایك
حوالہ / References ردالمختار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۴€
#3055 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
گاڑی کے سرائے میں آیا اوروہاں آکرگاڑی بان کوکرایہ دینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالاتو پیسے نہ تھے گاڑی بان سے کہاکہ صبح کو آن لے لینااس نے کہا اچھازیدصبح کو دس بجے تك اسٹیشن پرگاڑی بان کامنتظر رہا وہ نہ آیا بعد دس بجے کے زیدشہر میں اپناکام کرنے کوچلاگیا اپنے سب کام سے فارغ ہوکر شام کی گاڑی میں سوارہوکر اپنے گھرچلاآیا وہ گاڑی بان کاکرایہ اس کے ذمے رہے گا تو اس کو زید کب کیسے اداکرے بینواتوجروا۔
الجواب:
اسٹیشن پرجانے والی گاڑیاں اگرکوئی مانع قوی نہ ہوتو ہرگاڑی کہ آمدورفت پرضرورآتی جاتی ہیں۔اگرزیداسٹیشن پرتلاش کرتا ملنا آسان تھا اب بھی خودیابذریعہ کسی متدین معتمد کے تلاش کرائے اگرملے دے دئیے جائیںورنہ جب یاس ونا امیدی ہو جائے اس کی طرف سے تصدق کردے اگرپھربھی وہ ملے اور اس تصدق پرراضی نہ ہوتو اسے اپنے پاس سے دے
کما ھو شان اللقطۃ وسائر الضوائع۔ جیساکہ لقطہ اوردیگر گری پڑی اشیاء کاحال ہوتاہے۔(ت)
تنویرالابصارودرمختار میں ہے:
(علیہ دیون ومظالم جھل اربابھا ولیس)من علیہ ذالک(من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ وان استغرقت جمیع مالہ)ھذا مذھب اصحابنا لانعلم بینھم خلافا کمن فی یدہ عروض لم یعلم مستحقیھا اعتبارا للدیون بالاعیان(و)متی فعل ذلک(سقط عنہ المطالبۃ من اصحاب الدیون(فی العقبی) مجتبی اس پرقرض اورمظالم ہیں جن کے مالکوں کاپتہ نہیں اور وہ مقروض ان مالکوں کی معرفت سے نا امیدہوچکاہے تو اس پر ان قرضوں کے برابر اپنے مال سے صدقہ کرنا ضروری ہے اگرچہ اس کا سارامال اس میں ختم ہوجائےہمارے ائمہ کا یہی مذہب ہے۔ہمارے علم میں ان کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں۔جیسے کسی شخص کے پاس ایساسامان ہو جس کے مستحقین معلوم نہیں قرضوں کواجناس پرقیاس کرتے ہوئےاور جب اس نے ایساکردیا یعنی صدقہ کردیاتو آخرت میں اصحاب دیون کی طرف سے اس پر سے مطالبہ ساقط ہوگیا۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب اللقطۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۶۶€
#3056 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
انہیں میں ہے:
(فان جاء مالکھا)بعد التصدق(خیر بین اجازۃ فعلہ ولوبعدھلاکھا)ولہ ثوابھا(اوتضمینہ) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اگرصدقہ کردینے کے بعد مالك آگیا تواس کو اختیار دیاجائے گا کہ چاہے صدقہ کرنے والے کے فعل کو جائزقراردے اگرچہ اجازت لقطہ کی ہلاکت کے بعد ہو اس کاثواب مالك کوملے گا اور اگرچاہے تو اس کوضامن ٹھہرائے۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳: ازبنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور ۵شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدصاحب علاقہ وجائداد اپنا ایك موضع جس میں گودام بیل اس کے متعلق مکانات وبنگہ واصطبل وگاڑی خانہ وغیرہ تھے وقدرے اپنے دوسرے موضع سے بعوض چھ ہزارروپے کے بدست عمرو بیع میعادی مدت دس سال کی کرتاہے اورخالد عم زادہ زید جس کا کاروبارسب زید سے علیحدہ عمرو مشتری سے یہ شرط کرتاہے کہ بیع میعادی کرلو سارا انتظام اس موضع کا ہم بطور ٹھیکہ دار کے کریں گے فقط تم کو نفع دوسوپچاس روپے سالانہ دیاکریں گے اورمابقی بعدادائے مال گزاری سرکار ودیگر مصارف ہم لیں گے ہم اس کے ذمہ کارہیں اور کسی امر سے تم کو تعلق نہ رہے گا ووقت انقضائے میعاد فورا تمہارا روپیہ ادا کردیاجائے گا اوراندرمیعاد تم اپنا روپیہ چاہوگے تو قبل چندماہ ہم کو اطلاع دیناکہ ہم یعنی زید روپیہ واپس کردیں گے اوراگراندرمیعادہم کوروپیہ مہیاہوجائے گا توہم دے کراپنی جائداد واپس لیں گے اورکسی نوع کی مداخلت تم کو حاصل نہ رہے گی یہ قول خالد ٹھیکہ دار کاہے اگرعمروشرط مذکورکے ساتھ معاملہ کرلے تو جائز ہوگایانہیں درصوت عدم جواز کے کس طور سے معاملہ مذکورتوجائزہوسکتاہے
الجواب:
یہ صورت بیع وفاکی ہے اوربیع وفامذہب محقق ومنقح میں عین رہن ہے۔
فی ردالمحتار قدمنا انفا عن جواھر الفتاوی انہ الصحیح قال فی الخیریۃ والذی علیہ الاکثر ردالمحتار میں ہے ابھی ابھی ہم جواہر الفتاوی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ یہ صحیح ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے اکثر علماء کامؤقف یہ ہے کہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب اللقطۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۶۵€
#3057 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید امام قلت للامام ابی الحسن الماتریدی قد فشاھذا البیع بین الناس وفیہ مفسدۃ عظیمۃ وفتواك انہ رھن وانا ایضا علی ذلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا ونظھرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوانا وقدظھرذلك بین الناس فمن خالفنا فلیبرز نفسہ ولیقم دلیلہ الخ۔ یہ رہن ہے اور کسی حکم میں یہ رہن سے مختلف نہیں ہے۔ سیدامام نے فرمایا میں نے ابوالحسن ماتریدی سے کہاکہ یہ بیع لوگوں میں پھیل گئی ہے اور اس میں فسادعظیم ہے جبکہ آپ کافتوی ہے کہ یہ رہن ہے اورمیں بھی اسی پرقائم ہوں۔ چنانچہ درست بات یہ ہے کہ ہم ائمہ کو اس پر جمع کر کے متفق ہوں اور اس کو لوگوں میں ظاہرکریںتوانہوں نے فرمایا کہ اس وقت ہمارافتوی معتبر ہے اوروہی لوگوں میں ظاہرہے توجو ہماری مخالفت کرے وہ اپنا مؤقف ظاہرکرے اور اس پردلیل قائم کرے الخ(ت)
اور رہن میں کسی طرح کے نفع کی شرط بلاشبہہ حرام اورخالص سودہے بلکہ ان دیارمیں مرتہن کامرہون سے انتفاع بلاشرط بھی حقیقۃ بحکم عرف انتفاع بالشرط ربائے محض ہے۔
قال الشامیقال ط قلت والغالب من احوال الناس انھم انمایریدون عندالدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مایعین المنع۔ شامی نے کہاکہ ط نے فرمایا میں کہتاہوں غالب حال لوگوں کایہ ہے کہ وہ رہن سے نفع کاارادہ رکھتے ہیں اگریہ توقع نہ ہوتو قرض ہی نہ دیں اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کے حکم میں ہوتاہے۔یہ بات عدم جواز کومتعین کرتی ہے۔(ت)
بالجملہ جبکہ دیہات اس بیع بے معنی کے سبب ملك زید سے نہ نکلے توعمرو کو ان کی توفیر سے کسی جز کااستحقاق نہیںنہ وہ ملك غیرکواجارہ پردے سکتاہےنہ رہن واجارہ ہرگز جمع ہوسکتے ہیںنہ یہ صورت اجارہ دیہات کہ ان بلاد میں جاری جس کاحاصل اجارہ توفیر ومحاصل ہوتاہے نہ اجارہ زمین کہ وہ تواجارہ مزارعین زمین ہےکسی طرح صورت جواز نہیں رکھتی ہے کماحققناہ بتوفیق اﷲ تعالی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۴۶€
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۱۱€
#3058 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
فی فتاونا(جیساکہ اس کی تحقیق ہم اﷲ تعالی کی توفیق سے ہم اپنے فتاوی میں کرچکے ہیں۔ت)غرض یہ حیلہ باطلہ اصلابکارآمد نہیںہاں اس کی صورتوں میں ایك صورت یہ ہے کہ مثلا زیدچھ ہزار روپے عمرو سے دس سال کے وعدے پرلیاچاہتاہے اور عمرو ڈھائی سو روپے سال نفع کاخواستگار ہے تو زید اپنی کوئی شے عمروکے ہاتھ چھ ہزارروپے نقد کو بیچے اورعمرو روپے اداکرکے شے بیع پرقبضہ کرلے اس وقت تك کوئی ذکر وشرط درمیان نہ ہواس بیع کوصرف زبانی طورپر بجالائیں بلکہ حقیقتا بیع مقصود ہو۔ پھرعمرو وہی شے زیدکے ہاتھ آٹھ ہزارپانسوروپے بوعدہ دہ سال فروخت کرےیہ زیادت کہ ایك بیع صحیح میں بتراضی طرفین ہوئی حلال و رواہے۔فتاوی امام اجل قاضی خان میں ہے:
رجل لہ علی رجل عشرۃ دراھم فاراد ان یجعلہا ثلثۃ عشر الی اجل قالوا یشتری من المدیون شیئا بتلك العشرۃ ویقبض المبیعثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشرالی سنۃ فیقع التجوز عن الحرام ومثل ھذا مروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ امر بذلك رجل طلب من رجل دراھم لیقرضہ بدہ دوازدہ فوضع المستقرض متاعا بین یدی المقرض فیقول للمقرض بعت منك ھذا المتاع بمائۃ درھم فیشتری المقرض ویدفع الیہ الدراھم ویاخذ المتاع ثم یقول المستقرض بعنی ھذا المتاع بمائۃ و عشرین فیبیعہ لیحصل للمستقرض مائۃ درھم و یعود الیہ متاعہ ویجب للمقرض علیہ مائۃ و عشرون درھما الخ۔ ایك شخص کے دوسرے پر دس درہم قرض ہیں اور وہ چاہتاہے کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ تیرہ درھم ہوجائیں تو علماء نے کہاکہ وہ مقروض سے انہی دس درھموں میں کوئی شے خریدے اور اس کو اپنے قبضہ میں لے کر پھرتیرہ درھم کے عوض ایك سال کے ادھار پرمدیون کے ہاتھ فروخت کردےتو اس طرح حرام سے اجتناب واقع ہوجائے گا اسی کی مثل نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا:ایك شخص نے دوسرے سے دس درھم قرض مانگا اس شرط پرکہ وہ بارہ درھم واپس کرے گا تو قرض خواہ اپنی کوئی چیز قرض دہندہ کے سامنے رکھ کرکہے کہ میں نے یہ چیز سودرھم کے عوض تمہارے ہاتھ فروخت کی۔قرض دہندہ اس کوخریدکر سو درھم اداکردے اور وہ چیز اپنے قبضہ میں لے لے۔پھرقرض خواہ کہے کہ یہ چیزتومیرے ہاتھ ایك سوبیس درھم میں فروخت کردے تاکہ قرضخواہ کو سو درھم بھی مل جائیں اور اس کاسامان بھی اس کے پاس لوٹ آئے اور قرض دہندہ کے لئے اس پرایك سوبیس
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع فصل فیمایکون فرارًا عن الربٰو ∞نولکشورلکھنؤ ۲ /۴۰۶€
#3059 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
درھم واجب ہوجائیں الخ۔(ت)
پھراگر زیدمیعاد کے اندر زراصل یعنی چھ ہزارروپے اداکرے گا توبحساب دوسوپچاس روپے سالانہ اس وقت تك جتنالازم ہواہوگا اسی قدر اداکرناہوگا مثلا پانچ برس میں روپے اداکردئیے توصرف ساڑھے بارہ سوزیادہ ہوں گے اور دوبرس میں توفقط پانچ سو اورچھ مہینے میں تو صرف سوا سو وعلی ھذالقیاستنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
قضی المدیون الدین المؤجل قبل الحلول اومات فحل بموتہ فاخذ من ترکتہ لایأخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الابقدر مامضی من الایام وھو جواب المتاخرین قنیہ وبہ افتی المرحوم ابوالسعود افندی مفتی الروم وعللہ بالرفق للجانبین۔ مدیون نے دین مؤجل کومیعاد سے پہلے اداکردیا یا مدیون مر گیا جس کی بناپر دین حالی ہوگیا(مؤجل نہ رہا)چنانچہ میت مدیون کے ترکہ سے لے لیاگیا تواب قرضخواہ وہ نفع نہ لے جو اس کے اورمدیون کے درمیان طے پایاتھا مگربقدر ایام گزشتہ کے اوریہ ہی جواب متاخرین کاہے(قنیہ)اورمفتی روم ابو السعود آفندی نے یہی فتوی دیا اوردونوں جانبوں کی رعایت کو اس کی علت قراردیاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ یأخذ من الخ صورتہ اشتری شیئا بعشرۃ نقد اوباعہ لآخر بعشرین الی اجل ھو عشرۃ اشھر فاذاقضاہ بعد تمام خمسۃ اومات بعدھا یأخذ خمسۃ و یترك خمسۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کاقول لایخذ من الخ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چیز دس درھم نقد کی خریدی اوردوسرے کے ہاتھ بیس درھم کے عوض دس مہینے کے ادھار پرفروخت کی۔پھرمدیون نے اگر پانچ ماہ بعد وہ مرگیا تو صاحب دین پانچ درھم نفع لے اورپانچ درہم چھوڑدے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴: ازگوالیار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلا ہندہ کا شوہر زیدفوت ہوا اس نے مال ازقسم
حوالہ / References الدرالمختار مسائل شتی قبیل کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۱€
ردالمحتار مسائل شتی قبیل کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۲€
#3060 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
زیوروکپڑے اورمکانات چھوڑے اور ہندہ کااس جائداد متروکہ زیدسے زائدہے اورہندہ نے اپنے دین مہر میں جوجائداد کہ شوہر ہندہ نے چھوڑی اورہندہ کے قبضہ میں ہے توبعد وفات ہوجانے اپنے شوہرکے جائداد مذکور کوہندہ لے لے توہندہ کولے لینا اس جائداد کاپہنچتاہے یانہیں دوسرے یہ کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعد فوت ہونے شوہر کے ہندہ نے وقت تیارہونے جنازہ اپنے شوہر کے دین مہر اپناجوذمہ شوہر اپنے کے ہاتھ وہ معاف کردیا حالانکہ ہندہ معاف کرنے مہرسے انکارکرتی ہے توآیا ہندہ کے مہر میں وراثت جاری ہوگی یانہیں اوردوسرے وارث زید کادعوی دین مہرمیں چل سکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
تقریر وبیان سائل سے ظاہرہواکہ جائداد اگرچہ پہلے سے قبضہ ہندہ میں ہے مگر زید نے اپنی حیات میں یہ مال وجائداد ہندہ کو اس کے مہرمیں نہ دیاتھا بلکہ خود ہندہ نے بعدفوت شوہر ترکہ شوہر اپنے دین مہر میں لے لیا پس صورت مستفسرہ میں جبکہ حسب اظہار سائل تعدادزرمہرقیمت ترکہ سے زائدہے تووارثوں کے لئے ترکہ میں اصلا ملك ثابت نہ ہوئی۔ اشباہ والنظائرمیں ہے:
الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔ جوقرض تمام ترکہ کومحیط ہو وہ ملك وارث سے مانع ہوتاہے۔ (ت)
ترکہ میں جس قدر زرنقد تھا ہندہ کا اسے اپنے مہرمیں لے لینا صحیح وواجبی ہوااور اتنے روپے مہرمیں سے اداہوگئے۔ عالمگیری میں ہے:
ان ترك المیت صامتا مثل مھرھا کان لھا ان تاخذ مھرھا من الصامت لانھا ظفرت بجنس حقھا۔ اگرمیت نے اپنی بیوی کے مہر کے برابرنقدی چھوڑی تو وہ اس میں سے اپنا مہروصول کرسکتی ہے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس وصول کرنے پرقادرہوگئی ہو۔(ت)
باقی مال نہ تووارث بے ادائے بقیہ مہراپنی میراث میں لے سکتے ہیں نہ ہندہ بے رضامندی دیگرورثہ اپنے مہر میں لے سکتی ہے بلکہ اسے بیچ کرہندہ کاباقی مہراوراسی طرح اوردین بھی اگرذمہ زید ہو اداکیاجائے گا اورکوئی وارث کچھ نہ پائے گا خواہ دیگرورثہ اپنے پاس سے مہروغیرہ دین اداکرکے جائداد
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۴€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۵۳€
#3061 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
بیع سے بچالیں۔اشباہ میں ہے:
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا ۔ وارث کو حق پہنچتاہے کہ وہ میت کاقرض اداکرکے ترکہ کو بیع سے بچالے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ لوگوں کا وہ بیان معافی مہربہ ثبوت شرعی ثابت نہ ہو یعنی اگردومرد یا ایك مرد دوعورت مسلمان نمازی پرہیزگار جونہ کسی گناہ کبیرمیں مبتلاہوں نہ کسی گناہ صغیرہ میں اصرار رکھتے ہوں نہ کوئی فعل سفلہ میں آوارہ وضعی کاکرتے ہوں اوران کی عقل ویادقابل اعتماد ہو اورا س معاملہ میں ان کابیان گمان وتہمت طرفداری سے پاك ہو(کہ ان سب شرائط کی تفصیل کتب فقہ میں مذکورہے)ایسے گواہ شہادت شرعیہ دیں کہ ان کے سامنے ہندہ نے مہرمعاف کردیا تومعافی ثابت ہوجائے گی اورہندہ دعوی مہرنہ کرسکے گی اوراگرگواہوں میں ان سات شرطوں میں سے ایك بھی کم ہے توان کابیان نامقبول اوردعوی ہندہ نامسموع ونامعقولپھربرتقدیر ثبوت معافی مہرہندہ میں دیگرورثہ کا کوئی دعوی نہیں یہ محض جہالت ہے معافی کے یہ معنی کہ وہ باوجود ذمہ زید پر تھاساقط ہوگیانہ یہ کہ کوئی مال زیدکوملا جس میں وارث حصہ دارنہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵: ۲۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے یافتنی مبلغ نوے روپے ذمہ بکرکے واجب الادا ہیں جس کا اقرار بکرنے زیدسے کیاکہ مبلغ نوے روپے عرصہ نوسال میں بحساب دس روپے سالانہ اداکیاکروں گا روپیہ آخرسال فصل پردیا کروں گا اگرکسی سال کاروپیہ وعدہ مندرجہ اقرارنامہ پر ادانہ کروں توکل روپیہ یکمشت فورا اداکروں گا اورزیدکو اختیارہے کہ بشرط وعدہ خلافی ایك قسط کےکل روپے یکشمت مجھ سے لے لے۔تواب یہ امر دریافت طلب ہے کہ درصورت وعدہ خلافی ایك قسط کے کل روپیہ یکمشت واجب الادا ہوا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مسئلہ میں بلاشبہہ کل روپیہ یکمشت واجب الاداہوگیا۔فتاوی خلاصہفتاوی بزازیہ وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
لوقال کلما حل نجم ولم تؤد اگرکہاکہ وقت مقررہ پرقسط ادانہ کی گئی تو مال
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
#3062 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
فالمال حال صح وصار حالا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حالی ہوجائے گا(مؤجل نہیں رہے گا)توصحیح ہے اورمال حالی ہوجائے گا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶: ازاجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی صاحب ۱۱/محرم الحرام ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام ومفتیان پابندشرع خیرالانام اس مسئلہ میں کہ ہری سنگھ چودھری کاقرضہ واجب الادا رحیم الدین پرہے اوردونوں فوت ہوگئے اورکوئی وارث شرعی نہیں رکھتے کہ قرض ادا کیاجائے کیونکہ قرضہ غیرمسلم پرہے توبدلا ایك دوسرے کی نیکی پرموقوف ہے اعنی سوائے ایمان کے نیکی اس کے قرض خواہ کودینا لائق اعتبار اوراگرمعرکہ اعمال نیك ہے تومدعا علیہ کی نیکی مدعی کو دینا لابد اورمدعا علیہ بری اورکافر مستحق نیکی نہیں کہ اہل اسلام ہوکہ اس کی بدی سوائے شرك وکفراورنہیں اورشرك وکفراہل اسلام پرعائدنہیں ہوتا اس صورت میں تصفیہ اہل اسلام اوراہل نار کس طور سے ہوگابیان فرمادیں بحوالہ کتب۔
الجواب:
اگروہ کافرحربی ہے تو اس کے مال کے سبب مسلمان پرحق العبد لازم نہیں جس کاتصفیہ درکار فان اموالھم مباحۃ غیر معصومۃ(کیونکہ حربی کافروں کامال مباح ہے معصوم نہیں۔ت)ہاں بطورغدر وعہد شکنی لیاہوگناہ وحق اﷲ ہے جس پر مواخذہ یاعفواﷲعزوجل کی مشیت میں ہے)
الاتری ان من دخل دارھم مستأمنا فاخذ غدرا فاحرز بدارنا ملك ملکا خبیثا فالخبث للغدر و الملك للاستیلاء علی مال مباح فالاحراز انما ھو شرط التملك لانتفاء العصمۃ ارأیت ان اغار مسلمون علی دارالحرب فغنموا اموالا فماتوا قبل ان کیاتونہیں دیکھتا کہ جومسلمان امن لے کر حربیوں کے ملك میں گیا اوران کامال دھوکہ سے اپنے ملك میں سمیٹ لایاتو ملك خبیث کے ساتھ مالك ہوا۔خبث تودھوکہ کی وجہ سے اورملك اس لئے کہ مال مباح پرقابض ہواہے۔لہذا اس مال کو قبضہ میں لے کرمحفوظ کرنامالك ہونے کے لئے شرط ہے عصمت کے منتفی ہونے کی وجہ سے۔بھلادیکھو تواگرمسلمان دارالحرب پرحملہ آورہوکرمال غنیمت
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۸€
#3063 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
یحرزوا ولم تصل الاموال الی من اخذت منہ اتکون الحربیون خصماء المسلمین فی ذلك عنداﷲ کلا نعلم ان الاثم فی العذر لحق الشرع لالحق الکافر۔ پائیں اور اس کو جمع کرکے محفوظ مقام تك پہنچانے سے قبل ہی مرجائیں توکیا اﷲ تعالی کے ہاں اس مال کے بارے میں وہ حربی کفارمسلمانوں سے مخاصمہ کریں گے ہرگزنہیں۔ تو معلوم ہواکہ دھوکہ کی صورت میں گناہ حق شرع کی وجہ سے ہے نہ کہ حق کافر کی وجہ سے۔(ت)
اور وہ کافرذمی ہے تواگریہ قرض اس نے سچی نیت سے لیا اور اس کے ادا کاقصدرکھتاتھا اورقدرت نہ پائی کہ مرگیا تومسلمان پر اس کے باعث عذاب نہ ہوگا کہ قرض لینا گناہ نہیں اوراداپر قادرنہ ہونا اس کافعل نہیں۔اور اﷲ عزوجل بے کسی گناہ کے عذاب نہیں فرماتا۔رہا اس کا حق اسے اﷲ تعالی جس طرح چاہے راضی فرمادے گا اگرچہ اس پرکسی عذاب یاہول کی تخفیف سے ہرکافر پرکفر ومعاصی سب کے سبب عذاب ہے۔قال تعالی:
"ما سلککم فی سقر ﴿۴۲﴾ قالوا لم نک من المصلین ﴿۴۳﴾" الایۃ۔ مسلمان کافروں سے کہیں گے تمہیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا تو وہ کہیں گے ہم نمازنہیں پڑھتے تھے(ت)
جزاءکفرتخلید فی النار والعذاب ہے اس میں تخفیف امکان شرعی نہیں رکھتی
فان التخفیف فی التابید ابطال لہ رأسا وفیہ تبدیل القول وھو محال۔ ہمیشگی میں تخفیف اس کا ابطال ہے اور اس میں قول باری تعالی کی تبدیلی لازم آتی ہے جوکہ محال ہے۔(ت)
باقی بالائی عذابوں ہولوں میں حسب ارادہ الہیہ تخفیف سے کوئی مانع نہیںاوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ اموال الناس یرید اداءھا ادی اﷲ عنہ۔رواہ احمد والبخاری وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جولوگوں کامال بہ ارادہ ادالے اﷲ تعالی اس کی طرف سے ادا فرمادے(اس کو امام احمدبخاری اورابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۷۴ /۴۳۔۴۲€
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب من اخذاموال الناس الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲€۱
#3064 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم:
من ادان دیناینوی قضاءہ اداہ اﷲ عنہ یوم القیمۃ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن میمونۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسند صحیح۔ جوکوئی دین اپنے ذمہ کرے اوراس کی ادا کی نیت رکھتاہے اﷲ عزوجل روزقیامت اس کی طرف سے ادافرمادے(اس کی طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسندصحیح روایت کیا۔ت)
اوراگربدنیتی اورناجائز طریقے سے لیاتوضرورگناہ وحق العبدہے ذمی کامال معصوم ہے اور وہ ان حقوق میں مثل مسلمانوں کے سمجھاجاتاہے اس صورت میں علماء فرماتے ہیں کہ اس کابدلہ عذاب ہی ہےوالعیاذباﷲ تعالی۔ولہذا فرماتے ہیں کہ ذمی کاحق مسلمان کے حق سے سخت ترہے۔فتاوی خانیہ آخرکتاب الغصب میں ہے:
مسلم غصب من ذمی مالااوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیمۃ لانہ اخذ مالامعصوما والذمی لایرجی منہ العفو ویرجی ذلك من المسلم فکانت خصومۃ الذمی اشد وعندالخصومۃ لایعطی ثواب طاعۃ المسلم الکافر لانہ لیس من اھل الثواب ولاوجہ ان یوضع علی المسلم وبال کفرالکافر فیبقی فی خصومتہ۔ کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچوری کیاتوروزقیامت اس کو سزادی جائے گی کیونکہ اس نے مال معصوم لیا حالانکہ ذمی سے معافی کی امیدبھی نہیں کیونکہ وہ تومسلمان سے متوقع ہےلہذا خصومت ذمی زیادہ شدیدہے۔خصومت کے وقت مسلمان کی عبادت کا ثواب کافرکو نہیں دیاجائے گا کیونکہ وہ ثواب کا اہل نہیں اورنہ ہی کفرکافرکاوبال مسلمان پرڈال دینے کی کوئی وجہ ہے لہذا اس کی خصومت برقرار رہے گی۔(ت)
جواہرالاخلاطی کتاب الاستحسان میں ہے:
لم غصب المسلم من ذمی اوسرق منہ یعاقب المسلم ویخاصمہ اگرمسلمان نے ذمی سے کچھ غصب کیایا اس کی چوری کی تومسلمان کوسزادی جائے گی اورذمی
حوالہ / References المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۴۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۳ /۴۳۲،€کنزالعمال برمزطب عن میمونہ ∞حدیث ۱۵۴۲۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۲۲۱€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الغصب فصل فی براءۃ الغاصب الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۴۹۳€
#3065 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
الذمی یوم القیمۃ فظلامۃ الکافر اشد من ظلامۃ المسلم لان الکافر من اھل النار ابدا ویقع لہ التخفیف بالظلامات التی قبل الناس فلایرجی منہ ان یترکھا اوالمسلم یرجی منہ العفو ۔ قیامت کے روز اس سے خصومت کرے گا لہذا کافرپرظلم مسلمان پر ظلم سے سخت ترہے کیونکہ کافر دائمی جہنمی ہے اور لوگوں کی اس پرجو زیادتیاں ہیں ان کے سبب سے اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی لہذا اس سے یہ امیدنہیں کہ وہ ان زیادتیوں کومعاف کرے گاالبتہ مسلمان سے معافی کی توقع جاسکتی ہے۔(ت)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ بیان آفات الرجل میں ہے:
الفقھاء قالوا ان العذاب یوم القیمۃ علی الانسان فی حق الحیوان متعین لانہ لایمکن المسامحۃ ولا القصاص بالحسنات والسیئات وکذا الذمی اذاطلمہ المسلم فان العذاب فیہ متعین ان لم یستحل منہ فی الدنیا قال الوالد رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ علی شرح الدرر مسلم غصب اوسرق مال ذمی یؤخذ بہ فی الاخرۃ وظلامۃ الکافر وخصومتہ اشد لانہ اما ان یحملہ ذنبہ بقدرحقہ اویاخذ من حسناتہ والکافر لایاخذ من الحسنات ولا ذنب للدابۃ ولا تؤھل لاخذ الحسنات فیتعین العقاب اھ باختصار۔ فقہاء نے فرمایاہے حیوان پر ظلم کی وجہ سے قیامت کے روز انسان پرعذاب کاواقع ہونامتعین ہے کیونکہ اس میں معافی اورنیکیوں اوربرائیوں سے بدلہ ممکن نہیں۔ایساہی ذمی جس پرمسلمان نے ظلم کیاہوتو اس مسلمان پرعذاب متعین ہے جبکہ دنیامیں اس سے معاف نہ کرالیاہو۔حضرت والد رحمہ اﷲ تعالی نے شرح الدررپر اپنی شرح میں فرمایا کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیا یاچرایا تو اس پرآخرت میں مؤاخذہ ہوگاحالانکہ ذمی کا ظلم وخصومت سخت ترین ہے کیونکہ یاتو وہ اپنے گناہ اپنے حق کے مطابق مسلمان پرڈالے یا اس کی نیکیاں لے حالانکہ کافرنہ تو مسلمان کی نیکیاں لے سکتا ہے اورنہ اس کے گناہ مسلمان پرڈالے جاسکتے ہیں چارپائے کاکوئی گناہ نہیں ہوتا اور نیکیوں کاوہ اہل ہی نہیں لہذا عذاب متعین ہوا اھ اختصار(ت)
حوالہ / References جواھرالاخلاطی فصل فیما یکرہ لبسہ وفیمالایکثر ∞قلمی نسخہ ص۲۳۸۔۲۹۷€
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ الخ المکتبۃ النوریۃ ∞رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۷€
#3066 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
شرح فقہ اکبربحث توبہ میں ہے کہ:
اذا غصب مسلم من ذمی مالا اوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیمۃ لان الذمی لایرجی منہ العفو فکانت خصومۃ الذمی اشد ۔ جب کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچرایا تو اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن عذاب دیاجائے گا کیونکہ ذمی سے عفو کی توقع نہیں لہذا ذمی کی خصومت زیادہ سخت ہے۔
مگریہ اسی حالت میں ہے جبکہ بدلہ لیناہی مشیت رب العزۃ عزجلالہ ہوورنہ ممکن ہے کہ وہ کافرکے دل میں ڈالے کہ معاف کردے یاکسی تخفیف کے بدلے اس سے معاف کرادے
فانہ اذاجاز التخفیف عنہ بظلمات لہ قبل الناس کما فی الجواھر فلیجزایضا جزاء العفو تخلیصا للمسلم وقد قال الطحطاوی ثم الشامی عند قول الدر من الحظر قبیل مسائل المسابقۃظلم الذمی اشد من ظلم المسلم مانصہ لانہ یشدد الطلب علی ظالمہ لیکون معہ فی عذابہ ولامانع من طرح سیئات غیرالکفر علی ظالمہ فیعذب بھا بدلہ ذکرہ بعضھم اھ فکذا لامانع من ان یقال لہ ان یفوت من المسلم طرحنا منك کذا وکذا من سیئاتك فیعفو۔ اس لئے کہ جب لوگوں کی ذمی پر زیاتیوں کی وجہ سے اس کے عذاب میں تخفیف جائز ہے جیساکہ جواہرمیں ہے تویہ بھی جائزہے کہ اﷲ تعالی مسلمانوں کی خلاصی کے لئے ذمی کو معاف کرنے کا کچھ بدلہ دے کراس کی خلاصی کرادے۔ طحطاوی نے کہا پھرشامی نے در کے خطرمیں مسائل سابقہ سے تھوڑا پہلے اس قول کہ"ظلم ذمی ظلم مسلمان سے اشد ہے" پرکہا یہ اس لئے ہے کہ ذمی اپنے اوپر ظلم کرنے والے پرسخت مطالبہ کرے گا تاکہ وہ ظالم بھی اس کے ساتھ عذاب میں شریك ہو اور کفرکے سوائے ذمی کے گناہ ظالم پرڈالنے میں کوئی مانع نہیں چنانچہ وہ ان کے بدلے عذاب میں مبتلاہوگااس کو بعض علماء نے ذکرکیا ہے اھ اسی طرح اس سے بھی کوئی مانع نہیں کہ ذمی کوکہاجائے اگرتو مسلمان کومعاف کر دے توتیرے یہ یہ
حوالہ / References منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر ومنہا بحث التوبۃ الخ مصطفی البابی ∞مصر ص۵۹۔۱۵۸€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۷،€حاشیۃ الطحطاوی علٰی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۲۰۱€
#3110 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
گناہ مٹا دئیے جائیں تو وہ معاف کردے۔(ت)
بالجملہ یہ معنی ہرگزنہیں کہ ظلم ذمی پر عذاب واجب وقطعی وضروری الوقوع ہے کہ یہ مذہب اہلسنت کے صریح خلاف ہے۔ہمارے نزدیك کفرکے سوا کسی گناہ کاعذاب ضروری الوقوع نہیں۔
قال تعالی " ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " کما نبھت علیہ فی ھامش الحدیقۃ ھھنا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوروہ شرك کے سوا جس کے گناہ چاہے معاف فرمادے۔جیساکہ اس بات پر میں نے حدیقہ کے حاشیہ میں تنبیہ کی ہے۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۷: ازبنارس محلہ جمال ٹولہ مرسلہ ماسٹربدرالدین ۴ رجب ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مختلف لوگوں سے قرض لے کر اپنے نکاح کی تقریب میں خرچ کیا اورایك ڈگری کوبھی جوعدالت دیوانی سے اس پرجاری ہوئی تھی بے باق کیا بعدہاس نے اپنا حق وحصہ موروثی جائداد کادوسوکاقرارے کر اس زوجہ کے دین مہرمیں جوساڑھے پانسو کاتھا بیع کرکے رجسٹری کرادیا بیعنامہ میں زیدنے یہ بھی تحریرکیاہے کہ اگرمیری جائداد اورقرارپائے تو بقیہ مہراس سے اداکیاجائےزیدفوت ہوگیا اوراس کی کوئی دوسری جائدادنہیں ہے اس وقت تقسیم جائدادموروثی کے واسطے اوران انواع واقسام کے نزاع کے واسطے جودرمیان فریقین ہیں جوپنچ مقررہوئے ہیں قرضہ دہندوں نے پنچ کے یہاں درخواست کی ہے کہ متوفی کی جائداد سے دلایاجائےزیدنے بیوی اورایك پسرنابالغ چھوڑا ہے۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگرزیدنے اپنی کل جائداد بحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی زوجہ کے مہرمیں بیع کردی اورباقی قرضخواہوں کوکچھ نہ دیا تو اگرچہ زید پربحال بدنیتی گناہ ہومگر قرضخواہوں کو اس جائداد سے کہ اب ملك زوجہ زیدہے اصلا مطالبہ کااختیار نہیں ان کا مطالبہ آخرت پر رہاہاں اگر اس کے سوا اورجائداد یامال زیدکا ثابت ہو تو اس میں توقرضخواہ حصہ رسد حقدارہوں گے اور زید کا بیعنامہ میں لکھناکہ اس سے بھی بقیہ مہراداکیاجائے مسموع نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۴۸€
#3111 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
مسئلہ ۸: ازشہرکہنہ ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزیدنے بکرکوروپیہ بوعدہ ادائے مال کسی قسم کے دیابکرنے بموجب وعدہ روپیہ کے عوض میں تھوڑا مال روپیہ سے اداکیا اورکچھ روپیہ زیدکا ذمہ بکر کے باقی رہابعدازاں بکر فرار ہوگیا یا فوت ہوگیا یانادار ہوگیا اب زیدکوبکر کے عوض کا روپیہ خالد سے بلا رضامندی خالد کے بوجہ کسی قسم کے دباؤ کے وصول کرنا جائزہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگرنہ خالدنے بکرکی ضمانت مال مذکورکرلی تھی نہ اس کامطالبہ اپنے اوپر تھانہ خالد کو بکرکامال وراثۃ پہنچاتو اس کوبکر کے مطالبہ میں ماخوذکرنا محض طلم وغصب ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری "۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کابوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹: مسئولہ جناب مرزاعبدالقادربیگ صاحب بریلی محلہ نواباں ماہ ربیع الآخر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدایك یاچنداشخاص کے زرنقد کاقرضدار ہے جو اس کی آمدنی ہوتی ہے وہ اس کو بفراغت خرچ کرڈالتاہے اورزیادہ دستیاب ہونے پر عمارت بنوانے وتجارت کرنے پرتیار ہوجاتاہے تقاضہ اوروعدہ ہونے پر بھی ادائیگی کی فکرنہیں کرتاہے قرضہ بڑھانے کے خیال میں رہتاہےاس عمل پر چندمثالیں ان بزرگان بے نفس کی کہ جواتفاقیہ جزوی قرضدار رہے ہوں یاکسی مجبوری سے قرضہ کی حالت میں اس دارفانی سے رحلت فرماہوئے ہوں زیداپنی صفائی پیش کرتاہے اورکہتاہے کہ وعدہ کرلینامیراکام تھا اورپوراکرنا اﷲ تعالی کاکام ہے۔پس قرضہ کوبزرگان دین پر اور وعدہ پرقرضہ کی ادائیگی کی فکرنہ کرنے کو اﷲ تعالی پرمنسوب کرناکیساہے اوراگر اسی ٹال مٹول میں قرضخواہ وقرضدار دونوں فوت ہوگئے تویوم جزا اور روزحساب کیا اورکیونکراس کامعاملہ طے ہوگا عنداﷲ جواب تفصیل عطافرمایاجائے۔
الجواب:
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لی الواجد یحل عرضہ ہاتھ پہنچتے ہوئے کا ادائے دین سے سرتابی کرنا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۷ /۱۵€
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب لصاحب الحق مقال الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳€
#3112 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
ومطل الغنی ظلم ۔ اس کی آبرو کوحلال کردیتاہے یعنی اسے براکہنا اس پر طعن و تشنیع کرناجائز ہوجاتا ہے اورغنی کادیرلگاناظلم ہے۔
اشباہ والنظائرمیں ہے:
خلف الوعد حرام ۔ وعدہ جھوٹاکرنا حرام ہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایۃ المنافق ثلث اذا احدث کذب واذا وعد اخلف واذا أتمن خان اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان الاحادیث فی المعنی کثیرۃ۔ منافق کی تین نشانیاں ہیںجب بات کرے جھوٹ کہےاور جب وعدہ کرے خلاف کرےاور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔(یاجیسا کہ آپ نے فرمایا اور اس معنی میں احادیث کثیر ہیں۔ت)
صورت مستفسرہ میں زیدفاسق وفاجرمرتکب کبائرظالمکذابمستحق عذاب ہے۔اس سے زیادہ اورکیا القاب اپنے لئے چاہتا ہےاگراس حالت میں مرگیا اوردین لوگوں کا اس پرباقی رہا اس کی نیکیاں ان کے مطالبہ میں دی جائیں گی اور کیونکردی جائیں گی تقریبا تین پیسہ دین کے عوض سات سو نمازیں باجماعت کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار والعیاذباﷲ العزیز الغفار (جیساکہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔اﷲ عزیز غفار کی پناہ۔ت)جب اس کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں گے ویلقی فی النار اور آگ میں پھینك دیاجائے گایہ حکم عدل ہےاور اﷲ تعالی حقوق العباد معاف نہیں کرتا جب تك بندے خود معاف نہ کریںاورسلف صالحین کے احوال طیبہ کو اپنے ان مظالم کی سندقراردینا اورزیادہ وقاحت اوردین متین پرجرأت ہےاس پرفرض ہے کہ اپنے حال پر رحم کرے اوردیون سے پاك ہوموت کودورنہ جانے آگ کا عذاب سہانہ جائے گا۔اﷲ تعالی توفیق دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب فی الاستقرارض باب مطل الغنی ظلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳€
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۰۹€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب علامۃ المنافق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
#3113 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
مسئلہ ۱۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید پرعمرو کاقرضہ آتاہے اورزید کاروپیہ بکرکے ذمہ ہے عمرونے بطورخود بلاحوالہ زیدبکرسے وہ روپیہ کہ جو اس پرزید کا آتاتھا اپنے قرضہ میں جوزیدپرتھالے لیااوربکرنے بلاحوالہ وبغیر اجازت زیدعمروکو وہ روپیہ دے دیا اب بکر زیدکاروپیہ دیتے وقت وہ روپیہ کہ جو عمروکو زیدکے قرض میں بغیراجازت زید دے چکا تھا وضع کرتاہے اورزید اس کے مجرادینے سے انکارکرتاہے لہذا دریافت طلب امریہ ہے کہ بکر ان روپیوں کے مجرا لینے کامستحق ہے یانہیں اور زید پران کامجرادینالازم ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اس صورت میں بکران روپوں کے مجرالینے کامستحق نہیںنہ زید پران کامجرادینا لازم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱: ۲۹ربیع الاول شریف یوم دوشنبہ ۱۳۳۳ھ ازکلکتہ ۴۵ کولوٹولہ اسٹریٹ
ایك خاص کمپنی جس کے مالك ومختار سب کے سب نصرانی المذہب ہیں ان کا اعلان ہے کہ جوشخص ۳۰برس کی عمرسے پینتالیس سال کی عمرتك یعنی کامل پندرہ سال تك ہرسال چھہترروپے آٹھ آنے کمپنی کودیاکرے توپندرہ برس کی مدت گزرنے کے بعد اس کوکمپنی ایك ہزارر وپے دے گیمعاہدہ ہونے کے بعد مدت معینہ ختم ہونے سے پہلے مثلا دومہینے یادوسال چارسال کے بعد وہ شخص مرگیا تویہی کمپنی اس کے وارثوں کوپورے ایك ہزارروپیہ دے گیرقم معینہ مذکورہ سالانہ کی تعداد کامل پندرہ سال کی مجموعہ گیارہ سوسینتالیس۱۱۴۷ روپیہ آٹھ آنے ہوتی ہے ایسی صورت میں روپیہ جمع کرنااورکمپنی سے مذکورہ شرط کے ساتھ روپیہ وصول کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
یہ صورت قمارکی ہے اورمیعاد عمروہ رکھی ہے جس میں غالب حیات ہے۔حدیث میں فرمایا:
اعمار امتی مابین الستین الی السبعین ۔ میری امت کی عمریں ساٹھ اورسترسال کے درمیان ہوں گی۔(ت)
اوربحال حیات ظاہرہے کہ ایك سوپینتالیس روپے آٹھ آنہ کانقصان ہے کافرکے ساتھ ایسامعاملہ
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب الامل والاجل ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۲۲€
#3114 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
جس میں غالب پہلو اپنے نقصان کاہوجائزنہیں کما نص علیہ فی فتح القدیر(جیساکہ فتح القدیرمیں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲: مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ اسلامیہ سانگو ور ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۶صفر۱۳۳۵ھ
ایك مسلمان نے اپنامکان ظاہرکرکے ایك مسلمان کے ہاتھ فروخت کردیاگیا اورجب تحقیق کی گئی تووہ مکان ایك ہندو جومرگیا اس کانکلافروشندہ نے دھوکہ سے بوجہ رہن ملك خود ظاہرکرکے بیع کردیا اورمتوفی کی صلب سے کوئی اولادنہیں ہے تومشتری کایہ عمل شریعت میں قابل مواخذہ تو نہیں ہے اوروہ اس مکان کو ملك اپنی تصورکرے گا یانہیں یاروپیہ اپناواپس لے سکتاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فتوی اس پر ہے کہ اس زمانہ میں جنس غیرسے بھی دین وصول کرسکتے ہیں جبکہ وہ ہندو اس کامدیون تھا اورمرگیا تویہ اس مکان کو اپنے دین میں لاسکتا ہے اگر اس کی قیمت دین کے برابر یادین سے کم ہے جب توظاہرہے اس نے جومکان کواپناظاہرکرکے بیع کیابیع صحیح ہوئی مشتری مالك ہوگیاہاں اگرقیمت مکان دین سے زائد ہےتوبقدرقیمت اس کی ملك ہوسکتاہے اپنا دین اس سے وصول کرے اورجو زائدبچے فقراء پرتصدق۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳: ازنگریاسادات ڈاکخانہ میرگنج ضلع بریلی محمدتقی صاحب ۷ شوال ۱۳۳۵ھ
زیدکے سوروپے تمسکی سودکے عمروکے ذمہ واجب الادا تھے عمرونے قضاکی اس کے ورثانے زمین مکفول کوایك عرصہ تك زید کے قبضہ میں چھوڑکر روپیہ اداکردیا لیکن تمسك بوجہ عزیز داری ویگانگت کے زید سے حاصل نہ کیا ورثائے عمرونے اس جائداد کوبدست دیگراشخاص بیع کردیا زیدنے اس بیع میں کچھ مزاحمت بوجہ اس کے کہ اس کامطالبہ وصول ہوچکا تھا نہیں کی مسماۃ ہندہ پھوپھی عمرونے بھی سو روپے زیدسے تمسکی قرض لئے تھے۔
بکر شوہرمسماۃ ہندہ نے ازراہ طمع نفسانی کہ بشمول چندکسان بہ تقرر حصص باہمی نوشتہ عمرو موسومہ زیدکوبراہ چالاکی وفریب دہی خالہ زیدسے حاصل کرکے نالش موسومہ عمرو منجانب زیددائرکی اور بعدحصول ڈگری تمام زرڈگری حاصل کرناچاہا جس سے زیدبلاوجہ بے ایمان ودغاباز مشہور ہوکر زبان زدخلائق ہواجب زید نے اپنے کوبلاوجہ متہم ہوتے دیکھاتوکل مطالبہ زر ڈگری خودوصول کرلیا اور فرضی اشخاص نالش مثل بکروغیرہ کوکچھ نہیں دیازیدنے مسماۃ ہندہ پراپنے روپے کی نالش کی بکر شوہر
#3115 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
مسماۃ ہندہ نے منجانب مسماۃ مذکورہ کچہری میں بذریعہ اظہارحلفی بیان کیاکہ تمسك کالکھنا صحیح ہے مگرداددست روپے کی نہیں ہوئی روپیہ ہم نے نہیں لیاہے فرضی لکھ دیاہے اس کاکاتب بکرشوہرمسماۃ ہندہ کاتھا چونکہ تاریخ فیصلہ التواہوگئی تھی سب عزیزو اقارب نے باہمی فیصلہ کی بابت کہا توبکرنے صاف جواب دے دیا کہ جب تك اس ڈگری موسومہ عمرو میں ہمارے حصہ کاروپیہ نہ دیں گے ہم اس روپے سے قطعی انکار کریں گے پھرہم نے یہ روپیہ اس میں مجراکرلیاچنانچہ ایساہی ہوا حسب شریعت یہ صورت اس زرجائز متصورہوگی یانہیں یاہندہ تا یوم النشور مواخذہ دار اداکی رہے گی۔
الجواب:
وہ کارروائی بکروغیرہ نے وصول شدہ روپے دوبارہ زیدسے حاصل کرنے کی کی حرام قطعی تھی اور اس کے بعدورثاء عمرونے کہ وہ روپیہ خودوصول کریں حرام وخبیث ہوا وہ سب کے سب مستحق نارہوئے۔
قال ﷲ تعالی"یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! آپس میں ایك دوسرے کامال ناحق نہ کھاؤ۔(ت)
اب یہ کارروائی جوبکرنے اپنی زوجہ کی طرف سے کی یہ بھی حرام درحرام ہے دائن کادین مارلینا حرام اوراس حرام وخبیث روپے میں جوزید سے حاصل کئے حصہ مانگناحرام اس نجس کارروائی سے عمرو کایہ روپیہ جوہندہ پر ہے اگرمارابھی گیاتو ہندہ حشرتك اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الیدما اخذت حتی تردھا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی حتی کہ اداکردے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴: ازلکھیم پورکھیری مرسلہ عباداﷲ خیاط ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میری ماں نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارے والدنے ایك بقال مشرك سے مبلغ بیس روپے بوعدہ چوبیس روپے قرض لیا تھا جس کو عرصہ تخمینا تیس برس کاہوگااس کے چندروزبعد کہ وہ اس قرض کوادانہیں کرپائے تھے ان کا انتقال ہوگیابقال مذکور سے والدہ نے کہاکہ میں محنت کرکے اداکروں گی کیونکہ کوئی سرمایہ اس وقت موجود
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۲۹€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب انّ العاریۃ مودّاۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۵۲€
#3116 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
نہ تھا بقال نے یہ کہا تھا کہ یہاں خود ہی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان سے میں کیالے لوں ہم سب بہن بھائی چھوٹے تھے میں شیر خوار تھا اب والدہ صاحبہ کے فرمانے پرمجھے خیال ہواکہ میں بفضلہ تعالی بطفیل نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس وقت اس قابل ہوں کہ ان کاقرض معلوم ہونے پراداکروں بدریافت معلوم ہواکہ جس سے قرض لیاتھا وہ مرگیا اوراس کالڑکابھی مر گیا جس ضامن مسلمان کی معرفت لیا تھا ان کابھی انتقال ہوگیا یہ بھی نہیں معلوم کہ انہوں نے توادا نہیں کردیا والدہ کو اس کا بھی علم نہیں ہے ایك سال سے برابردریافتتلاش کی کہ اس کے وارث کا پتہ چل جائے تواداکروں اب تك کوئی وارث اس کانہیں معلوم ہوا ایسی حالت میں شرع شریف سے کیاحکم ہے کہ میرے باپ پرقیامت میں اس قرض کابار نہ رہے بقال سے ہمیشہ بلا سودی لین دین تھا سوا اس روپیہ کے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جبکہ یہ قرض تھا آپ کے والد پراصلا بیس روپے واجب الاداتھے
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬" اﷲتعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! وعدے پورے کرو۔ (ت)
اور جبکہ پہلے کبھی اس سے سودوغیرہ کوئی رقم ناجائزنہ لی تھی تواس کے کل یابعض اس سے مجرا بھی نہیں ہوسکتے اس کایہ کہنا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان سے کیالوں آپ کے والد کومطالبہ سے بری کرنانہیں تھا ضامن اگراداکردیتا تو اس ضامن مسلم کا دین رہتا وہ اس سے آسان تھا یہاں وہ بھی معلوم نہیں لیکن جبکہ بنیا اوراس کابیٹابھی مرگیا اوراس کے وارث کاپتہ نہیں یہ مال فقراء کے لئے ہوا آپ کسی مسلمان فقیر کوکہ مالك نصاب نہ ہو بیس روپے دے دیجئے نہ اس نیت سے کہ اس کافرکو ثواب پہنچے کہ یہ حرام بلکہ کفرہے بلکہ اپنے والد پر سے مطالبہ اتارنے کی نیت کیجئے یہ فقیر غیر شخص ہوناضروری نہیں بلکہ اگر آپ کی والدہ چھپن روپے کے مال کی مالك نہ ہوں تو انہیں کو اس نیت دے دیجئے کہ بیس روپے اس بنیئے کے جو والد پرقرض تھے اور وارث کوئی نہ رہا وہ قرض اداکرتا ہوں بعونہ تعالی وہ بری الذمہ ہوجائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۱€
#3117 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
مسئلہ ۱۵: از رامپور بلاسپور دروازہ مرسلہ حضرت مولانا مولوی سیدزادہ احمدمیاں صاحب دامت برکاتہم ۵ شوال ۱۳۳۷ھ
بملاحظہ گرامی حضرت مولانا صاحب دامت برکاتہمبعدہدیہ سلام مسنون مدعا انگارہوںیہ خط میرے ملنے والے نہ اس غرض سے بھیجاہے کہ میں اس کے استفتاء کاجواب جوخط کے آخرمیں ہے جناب کے دارالافتاء سے منگادوں بنظرسہولت میں بجنسہ وہ خط روانہ خدمت عالی کرکے مستدعی ہوں کہ جواب باصواب باحوالہ کتاب مرحمت ہومیں بفضلہ تعالی خیریت سے ہوں اور امیدہے کہ حضرت کامزاج بھی قرین صحت ہوگا۔
استفتاء
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے دوشخص بکر وخالد سے روپیہ قرض لیاعدم ادائیگی پربکر قصاب نے زیدپرنالش کی۔زیدنے سب روپیہ صرف بکر کواداکردیا خالد کہتاہے کہ روپیہ زید سے دلوایاجائے کچہری کاحکم ہے کہ ڈگری زید پر ہوا اور روپیہ خالد کو بکرسے دلایاجائے۔
الجواب:
حضرت والا دامت برکاتہم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہسوال بہت مجمل ہے دوشخصوں سے قرض لیناتین طرح ہوتاہے سو روپے بکرنے الگ دئیے خالد نے الگسوبکرلایا سوخالدوہ ملاکر دونوں نے زیدکو دئیےدوسوروپے خالد وبکرکے شرکت عقد کے تھے وہ انہوں نے اس دئیےاگریہ نالش یکجائی ہے توپہلی صورت نہ ہونابتائے گی وہ جب بھی محتمل رہیں گی اورحکم جدالینا ہے اور ہرشق پرحکم بتادینا خلاف مصلحتلہذا سائل کوتعیین صورت وتفصیل واقعہ کے ساتھ سوال کرناچاہئے کہ بعونہ تعالی جواب دیاجائے۔
مسئلہ ۱۶: ازمقام چالیس گاؤں خاندیس مرسلہ ابراھیم خاں سوداگرچرم یکم ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرے اوپر مہرکادعوی میرے سالے مظہرعلی خاں نے کیا ہے اورمیری بیوی دو برس کے قریب ہواکہ فوت ہوچکی ہے اوردعوی مدعی میں تحریرکیا ہے کہ میری بہن نے مہرجومبلغ پانچ سوروپے کاتھا فروخت کیا ہے اورمقدمہ زیر تجویز کچہری ہے آیافروخت کرنا مہرکاجائزہے یانہیں اورمظہرعلی خاں جومیراسالہ ہے اس کودعوی کرنے کاحق حاصل ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
#3118 · کتاب المداینات (مداینات کابیان)
الجواب:
مہر اوردیون کے مثل ایك دین ہے اوردین کی بیع غیرمدیون کے ہاتھ باطل ہے لہذا اس بناپر مدعی کودعوی کا اصلا حق نہیں ہاں اگر اس اپنی بہن کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہوتو اپنے حصہ کادعوی کرے وہ جدابات ہے۔اشباہ والنظائرمیں ہے:
بیع الدین لایجوز ولوباعہ من المدیون او وھبہ جاز۔ دین کی بیع ناجائزہے اگرمدیون پربیچایاہبہ کردیا توجائزہے۔ (ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ وغیرہا میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: ازعلی گڑھ محلہ بنی اسرائیل مرسلہ مولوی احسان علی صاحب مدرس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنی بیوی ہندہ متوفیہ یازندہ کامہرایك ساتھ ادانہ کرسکے تواس کوحاکم شرع بذریعہ قسط اداکرنے کے لئے حکم کرسکتا ہے یانہیں
الجواب:
زندہ کے واجب الادامہرکی قسط بندی اس کی مرضی سے ہوسکتی ہے اور مردہ کے مہرکی قسط بندی اس کے وارثوں کی مرضی پر ہے حاکم اس پر جبرنہیں کرسکتا فان الحق لھا اولھم لاللقاضی(کیونکہ حق بیوی یاوارثوں کاہے نہ کہ قاضی کا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱۳€
#3119 · کتابُ الاشربہ (اشربہ کابیان)
کتاب الاشربہ
(اشربہ کابیان)

مسئلہ ۱۸: ماہ صیام عظام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تھوڑی سی افیون مرض کی غرض سے کھاناجائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
بضرورت دوا قلیل المقدار افیون کہ اس قدرسے نشہ وسروریاعقل وحواس میں تغیر وفتور اصلا نہ پیداہو استعمال کرناجائزہے اورشوق کی راہ سے بطور مشغلہ کھاناجس طرح عام کھانے والے اپنے پیچھے لت لگالیتے ہیں مطلقا جائزنہیں اگرچہ نشہ نہ کرے اگرچہ بوجہ اپنی قلت کے اس قابل ہی نہ ہو۔ردالمحتارمیں ہے:
البنج والافیون استعمال الکثیر المسکرمنہ حرام مطلقا واما القلیل فان کان للھوحرم وان للتداوی فلا اھ ملتقطا۔ بھنگ اورافیون کاکثیراستعمال جونشہ لائے مطلقا حرام ہے اوراس میں قلیل اگرلہو کے لئے ہے تو حرام اوراگرعلاج معالجہ کے لئے ہے توحرام نہیں اھ التقاط(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۴€
#3120 · کتابُ الاشربہ (اشربہ کابیان)
کھانےوالے کی خاص نیت سے خداکوخبرہے بعض دواکانرابہانہ ہی کرتے ہیںانہیں مفتی کافتوی نفع نہ دے گا
" واللہ یعلم المفسد من المصلح" (اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ت)اور اس خبیث چیز کی بدخو ہے کہ چند روز میں گھرکرلیتی ہے اورپھرچھڑائے نہیں چھوٹتی اوربتدریج پاؤں پھیلاتی ہے یہاں تك کہ تھوڑی مدت میں آدمی کوخاصا افیونی کرلیتی ہے والعیاذباﷲ تعالیاطباء لکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے باطن کی جھلیوں میں سوراخ ہوجاتے ہیں اس کے سوا دوسری کسی بلاسے نہیں بھرتے ناچارعادت ڈالنی پڑتی ہے کمانقلہ العلامۃ الشامی عن تذکرۃ داؤد الانطاکی(جیساکہ علامہ شامی نے داؤد انطاکی کے تذکرہ سے اس کونقل کیاہے۔ت)حتی الامکان بچے اوراگرایسی ہی ضرورت شدیدہ ہوتوخالی کھانے سے یہ بہترمعلوم ہوتاہے کہ مرض کے مناسب کسی نسخہ میں اتنا جز شریك کرلیں کہ ایك دن کی قدرشربت میں بہت قلیل مقدار آئے جس پرنشہ وغیرہ کاگمان نہ ہو اس تقدیرپراس کی صورت بھی اہل لہو کی مستعمل صورت سے جداہوجائے گی اورموضع تہمت پرموقوف بھی نہ ہوگاحدیث نقل کرتے ہیں:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم۔ جواﷲ تعالی اوریوم آخرت پرایمان رکھتاہے وہ ہرگز تہمت والی جگہوں پروقوف نہیں رکھتا(ت)
حدیث میں ہے:ایاك ومایسؤ الاذن (اس چیزسے بچ جوکانوں کوگنہگارکرے۔ت)
حدیث میں ہے:ایاك ومایعتذر (اس کام سے بچ جس سے معذرت کرنی پڑی۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہاتم واحکم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۵€
مراقی الفلاح علٰی ہامش حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ ∞نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۲۴۹،€حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب مایفسدالصوم ویوجب القضاء ∞نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۳۷۱€
مسندامام احمدبن حنبل حدیث ابی الغادیۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۷۶€
المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکربیروت ∞۴ /۳۲۶€
#3121 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
رسالہ
حقۃ المرجان لمھم حکم الدخان ۱۳۰۷ھ
(مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۹: ازبنگالہ طالب حق
چہ می فرمایند(کیافرماتے ہیں)علمائے دینحقہ پینا یاتمباکو کھاناکیساہے حرام یامکروہ
#3122 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
انی رأیت فی الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین واکتبہ بعینہ۔
الحدیث السابع والعشرون:اخبرنی سیدی الوالد قال کان رجل من اصحابنا لایمز التنباك ولکنہ کان قداھیاء القذرۃ لاضیافہ فرای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی النوم اوالیقظۃ لاادری ای ذلك کانمقبلا الیہ ثم اعرض وخرج من ذلك المکان قال فشد فشددت الیہ و قلت یارسول اﷲ(صلی اﷲ تعالی علیك وسلم)ماذنبی فقال فی بیتك القذرۃ ونحن نکرھھا۔
الحدیث الثامن والعشرون:اخبرنی سیدی الوالد کان رجلان من الصالحین احدھما عالم عابد والاخر عابد لیس بعالم فرایا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فی ساعۃ واحدۃ کانہ اذن للعابد ان یدخل فی مجلسہ ولم یاذن للعالم فسال العابد میں نے"الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین"میں دیکھاجس کو بعینہ لکھ رہاہوں۔
ستائیسویں حدیث:میرے والدصاحب نے مجھے بتایاکہ ہمارے دوستوں میں سے ایك مردخود توتمباکو نوشی نہیں کرتاتھا لیکن مہمانوں کے لئے اس نے حقہ تیارکر رکھاتھا معلوم نہیں خواب میں یابیداری میں اس نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی دراں حالیکہ آپ اس کی طرف متوجہ تھے پھرآپ نے اس سے اعراض فرمایااس شخص نے کہاکہ آپ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)تیزی سے اس مکان سے نکل گئےمیں تیزی سے آپ کی طرف گیا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! میراگناہ کیا ہے توآپ نے فرمایا:تیرے گھرمیں گندگی(حقہ)ہے جو ہمیں ناپسندہے۔
اٹھائیسویں حدیث:میرے والد صاحب نے مجھے خبردی کہ دونیك مرد تھے جن میں سے ایك عالم وعابد اوردوسرا عابد تھا مگرعالم نہیں تھا ان دونوں نے خواب میں بیك وقت نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی توآپ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے عابد کو اپنی مجلس میں داخل ہونے کی اجازت عنایت فرمائی جبکہ عالم کواجازت نہ بخشیچنانچہ عابد نے
#3123 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
بعض القوم عن ذلك فقال ھو یمزالتنباك والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکرھہ فلما کان الغد دخل علی العالم فوجدہ یبکہ لما رای اللیلۃ فاخبرہ عن السبب فتاب عن ساعتہ ثم رایا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ من اللیلۃ الاتیۃ علی صورۃ واحدۃ کانہ اذن للعالم وقربہ منہ۔ والسلام ثم السلام۔ بعض لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کہ وہ تمباکونوشی کرتاہے اورنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کو ناپسند فرماتے ہیں۔جب صبح ہوئی تو وہ عابد عالم کے پاس گیا تو اسے رات والی خواب کی وجہ سے روتے ہوئے پایاچنانچہ عابد نے عالم کو(حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی ناراضگی کے) سبب کی خبردی تو عالم نے اسی وقت تمباکونوشی سے توبہ کر لی۔پھرآئندہ رات کو ان دونوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوایك ہی صورت پردیکھا گویاکہ آپ نے عالم کواپنی مجلس میں داخلہ کی اجازت فرمائی اوراسے اپنا قرب بخشا۔ والسلام ثم السلام۔
الجواب:
حق یہ ہے کہ معمولی حقہ جس طرح تمام دنیا کے عامہ بلاد کے عوام وخواص یہاں تك کہ علمائے عظام حرمین محترمین زادھمااﷲ شرفا وتکریما میں رائج ہے شرعا مباح وجائزہے جس کی ممانعت پرشرع مطہر س اصلا دلیل نہیں تواسے ممنوع وناجائزکہنا
۱یا احوال قلیان سے بے خبری پرمبنی
کما عرض للکثیر من المتکلمین علیہ فی بدوظھورہ قبل اختبارہ و وضوح امرہ فقیل مسکر و قیل مضر و جیساکہ اس پرگفتگو کرنے والے بہت سے حضرات کو اس کے پرکھنے اوراس کی حقیقت کے واضح ہونے سے پہلے شبہ لاحق ہواچنانچہ کسی نے کہا یہ نشہ آور ہےکسی نے کہانقصان دہ
حوالہ / References الدرالثمین معہ المسلسلات والنوادر ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ص۶۲€
#3124 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
قیل مضر مطلقا کالسموم عــــــہ وقیل وقیل۔ ہے کسی نے کہازہریلی چیزکی طرح مضرہےاسی طرح کسی نے کچھ اورکسی نے کچھ کہا۔(ت)
۲ یابعض احوال عارضہ بعض فساق متناولین کی نظرپرمبنی
کقول من قال انہ ممایجتمع علیہ الفساق کاجتماعھم علی المحرمات وقول اخر انہ یصد عن ذکراﷲ وعن الصلوۃ۔ اس شخص کے قول کی طرح جس نےکہاکہ اس پر فاسق لوگ جمع ہوتے ہیں جیسے وہ محرمات پرجمع ہوتے ہیںاوردوسری بات یہ کہی گئی کہ یہ اﷲتعالی کے ذکر اورنماز سے رکاوٹ بنتاہے(ت)
۳ یابعض عوارض مخصوصہ بعض بلادوبعض اوقات کے لحاظ سے ناشی جن کاحکم ان کے غیر اعصار وامصارکو ہرگزشامل نہیں
کمن احتج بالنھی السلطانی علی کلام فیہ للعلامۃ النابلسی۔ جیسے وہ شخص نے نہی سلطانی کے ساتھ استدلال کیاحالانکہ علامہ نابلسی کااس میں کلام ہے۔(ت)
۴یا محض مفتریات کاذبہ ومخترعات ذاہبہ پرمتفرع
کتھور من تفوہ ان کل دخان حرام وجعلہ حدیثا عن سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام و کجرأۃ من قال اجمعوا علی جیسے اس شخص کی جسارت جس نے کہاکہ ہردھواں حرام ہے اوراس پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث گھڑی اورجیسے اس شخص کی جرأت جس نے کہا اس کی حرمت پ اجماع ہے

عــــــہ:والافلا دواء ولاغذاء بل ولاشیئ فی عالم الخلق من ھذا القبیل متمحضا للنفع خالصا عن الضرر حتی الشھدالذی نطق القران العزیز بان فیہ شفاء للناس والبان البقرا المنصوص فی الاحادیث انھا شفاء ۱۲منہ۔ ورنہ توکوئی دواغذا بلکہ کوئی چیزبھی ایسی نہیں جومحض نافع ہو اورضرر سے بالکل خالی ہو حتی کہ شہد جس کے متعلق قرآن ناطق ہے کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے اور گائے کادودھ جس پرحدیث کی نص ہے کہ یہ شفاء ہے ۱۲منہ(ت)
#3125 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
حرمتہ والاجماع حجۃ۔ اوراجماع حجت ہے۔(ت)
فقیرنے اس باب میں زیادہ بے باکی متقشفہ افغانستان سے پائی کہ چندکتب فقہ پڑھ کرتقشف وتصلف کوحد سے بڑھاتے اورعامہ امت مرحومہ کوناحق فاسق وفاجربتاتے ہیں اور جب اپنے دعوی باطل پردلیل نہیں پاتے ناچارحدیثیں گھڑتے بناتے ہیںمیں نے ان کی بعض تصانیف میں ایك حدیث دیکھی کہ:
من شرب الدخان فکانما شرب دم الانبیاء۔ جس نے حقہ پیاگویا پیغمبروں کاخون پیا۔
اوردوسری حدیث یوں تراشی:
من شرب الدخان فکانما زنی بامہ فی الکعبۃ۔ جس نے حقہ پیاگویا اس نے کعبہ معظمہ میں اپنی ماں سے زناکیا۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون(بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)جہل بھی کیابد بلا ہے خصوصا مرکب کہ لادواہے۔مسکین نے ایك مباح شرعی کے حرام کرنے کو دیدہ ودانستہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بہتان اٹھایا اورحدیث متواتر من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار کا اصلا دھیان نہ لایارسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جومجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ باندھے اپناٹھکانہ جہنم بنالے۔
اللھم تب علینا وعلیہ ان کان حیا واغفرلنا ولہ ان کان میتا ۔ اے اﷲ! ہماری توبہ قبول فرما اور اس کی بھی اگر وہ زندہ ہے اورہماری مغفرت فرما اوراس کی بھی مغفرت فرما اگروہ مرچکاہے۔(ت)
۵یاقواعد شرع میں بیغوری اور نظروفکرکی بیطوری سے پیدا
کزعم من زعم انہ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ ومنہ زعم ان فیہ استعمال الۃ العذاب یعنی النار وذلك حرام وھذا من البطلان جیسے اس شخص کاگمان جس نے کہا یہ بدعت ہے اور ہربدعت ضلالت ہے اور اسی سے یہ گمان کہ اس میں آلہ عذاب یعنی آگ کا استعمال ہوتاہے اور وہ حرام ہے۔حالانکہ اس کابطلان واضح ترین ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱€
صحیح مسلم باب تغلیظ الکذب علٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷€
#3126 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
بابین مکان قالہ المحدث عــــــہ۱ الدھلوی فیما نسب الیہ باستعمال الماء المعذب بہ قوم نوح علیہ الصلوۃ والسلام قلت وفی الترویح بالمراوح استعمال الۃ عذاب عادواما اصلاح العصری اللکھنوی عــــــہ۲ بزیادۃ قید علی ھیأۃ اھل العذاب۔
فاقول:لایجدی نفعا والالم یجز الاغتسال بماء حار قال تعالی "یصب من فوق رءوسہم الحمیم ﴿۱۹﴾ وما ذا یزعم الزاعم فی دخول الحمامافیکون علی ھذا حرامامنھیا عنہ لذاتہ بل من الکبائر اما مطلقا علی ما اختارھذاالفاضل من کون تعاطی المکروہ تحریما من الکبائر وبعد الاعتیاد علی ماعلیہ الاعتماد من کونہ فی نفسہ من الصغائر و ذالك لان الحمام کما افاد العلامۃ المناوی فی التیسیر اشبہ شیئ بجھنمالنار من تحت والظلام من فوق
یہ ہی کہا محدث دہلوی(مولاناشاہ عبدالعزیز)علیہ الرحمہ نے جوان کی طرف منسوب کہ اس میں اس پانی کااستعمال ہے جس کے ساتھ نوح علیہ الصلوۃوالسلام کی قوم کو عذاب دیاگیا قلت(میں نے کہا)پنکھے کے ساتھ ہوا لینے میں اس آلہ کا استعمال ہے جس کے ساتھ قوم عاد کوعذاب دیاگیا۔رہامعاصر لکھنوی(مولاناعبدالحی)کا اصلاح کے لئے یہ قیدبڑھانا کہ وہ اہل عذاب کی ہیئت پر ہے۔
فاقول:(تومیں کہتاہوں یہ)کچھ مفیدنہیں ورنہ لازم آئے گا کہ گرم پانی کے ساتھ غسل کرناجائزنہ ہواﷲ تعالی فرماتا ہے کہ ان(جہنمیوں)کے سروں پرکھولتاہوا پانی ڈالاجائے گا۔ توایساگمان کرنے والا حمام میں داخل ہونے سے متعلق کیاکہے گاکیایہ حراممنہی عنہ لذاتہ بلکہ کبائرمیں سے ہے یاتومطلقا جیساکہ فاضل مذکور کامختارہے کہ مکروہ تحریمی کا ارتکاب کبائرمیں سے ہے یاعادت بنالینے سے جیساکہ معتمد ہے کہ فی نفسہ یہ صغائر سے ہےیہ اس لئے کہ حمام امام مناوی کی تیسیرمیں ذکر کردہ افادہ کے مطابق جہنم کے مشابہ ترین ہےاس کے نیچے آگے اوراوپردھواں ہےاس میں بے چینی

عــــــہ۱:المراد بہ مولانا الشاہ عبدالعزیز المحدث الدھلوی۔
عــــــہ ۲:المرد بہ المولوی عبدالحی اللکنوی اس سے مراد مولانا الشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ہیں۔(ت)
اس سے مراد مولوی عبدالحی لکھنوی ہیں۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۲ /۱۹€
#3127 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
وفیہ الغم والحبس والضیق ولذا لما دخلہ سیدنا سلیمن نبی اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام تذکربہ النار وعذاب الجبار اخرج العقیلی والطبرانی وابن عدی والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اول من دخل الحمامات وصنعت لہ النورۃ سلیمن ابن داؤد فلما دخلہ وجد حرہ وغمہ فقال اوہ من عذاب اﷲ اوہ قبل ان لایکون اوہ قلت وبھذا یرد حدیث التشبہ باھل النار وحدیث الملابسۃ بالنار کمالایخفی علی اولی الابصار۔ حبس اورتنگی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام حمام میں داخل ہوئے تو انہیں آ گ اورعذاب جباریاد آگیا۔عقیلیطبرانیابن عدی اوربیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے بیان کیا اس کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك مرفوع کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جوحمام میں داخل ہوئے اور اس کے لئے چونا تیارکیا وہ سیدنا سلیمان بن داؤدعلیہما السلام ہیںجب وہ اس میں داخل ہوئے تو اس کی گرمی اوربے چینی کوپاکرفرمایا اﷲ تعالی کے عذاب کادردیہ تو درمندہوتا ہے قبل اس کے درمندی نہ ہو۔قلت(میں کہتاہوں کہ)اس کے ساتھ اہل نار سے مشابہت اورنار سے ملابست کی حدیث وارد ہے جیسا کہ ارباب بصیرت پرپوشیدہ نہیں۔(ت)
ولہذا علمائے محققین واجلہ معتمدین مذاہب اربعہ نے بعد تنقیح کاروامعان افکاراس کی اباحت کاحکم فرمایا و ھو الحق الحقیق بالقبول (اوریہی حق ہے جوقبول کرنے کے لائق ہے۔ت)علامہ سیدی احمدحموی غمزالعیون والبصائر میں فرماتے ہیں:
یعلم منہ حل شرب الدخان۔ اس سے معلوم ہواکہ حقہ پینا حلال ہے۔(ت)
اس قاعدہ سے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے حقہ پینے کی حلت معلوم ہوئی۔علامہ عبدالغنی
حوالہ / References الضعفاء الکبیر ∞ترجمہ ۹۵€ اسمٰعیل بن عبدالرحمن الداؤدی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۸۴ و ۸۵،€شعب الایمان ∞حدیث ۷۷۷۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶ /۱۶۰€
غمزعیون البصائر مع اشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸€
#3128 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
بن علامہ اسمعیل نابلسی قدس سرہما القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
من البدع العادیۃ استعمال التتن و القھوۃ الشائع ذکرھما فی ھذا الزمان بین الاسافل والاعیان والصواب انہ لاوجہ لحرمتھما ولالکراھتھما فی الاستعمال الخ۔ بدعات عادیہ سے ہے حقہ اورکافی کاپینا جن کاچرچا آج کل عوام وخواص میں شائع ہے اورحق یہ ہے کہ ان کی حرمت کی کوئی وجہ ہے نہ کراہت کی۔
علامہ محقق علاء الدین دمشقی درمختار میں عبارت اشباہ نقل کرکے فرماتے ہیں:قلت فیفھم منہ حکم التتن شامی میں ہے:وھو الاباحۃ علی المختار یعنی اس سے تمباکو کاحکم مفہوم ہوتاہے اور وہ اباحت ہے مذہب مختارمیں۔ پھرفرمایا:
وقدکرھہ شیخنا العمادی فی ھدیتہ الحاقا لہ بالثوم والبصل بالاولی۔ ہمارے استاد عبدالرحمن بن محمد عمادالدین دمشقی نے اپنی کتاب ہدیہ میں اسے لہسن وپیاز سے ملحق ٹھہراکرمکروہ رکھا۔
علامہ سیدی ابوالسعودپھرعلامہ سیدی احمدطحطاوی نے حاشیہ درمختارمیں فرمایا:
لایخفی ان الکراھۃ تنزیھیۃ بدلیل الالحاق بالثوم والبصل والمکروہ تنزیھا یجامع الجواز۔ پوشیدہ نہیں کہ یہ کراہت تنزیہی ہے جیسے لہسن اورپیاز کی اورمکروہ تنزیہی جائزہوتاہے۔
علامہ حامد آفندی عمادی بن علی آفندی مفتی دمشق الشام فتاوی مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں علامہ محی الدین احمدبن محی الدین حیدر کردی جزری رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل فرماتے ہیں:
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الدلیل علی قبح البدع والنہی عنہا المکتبہ ∞نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۴۳۔۱۴۲€
الدرالمختار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱€
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۶€
الدرالمختار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاشربہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۲۲۷€
#3129 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
فی الافتاء بحلہ دفع الحرج عن المسلمین فان اکثرھم مبتلون بتناولہ مع ان تحلیلہ ایسرمن تحریمہ وماخیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بین امرین الا اختارایسرھما واما کونہ بدعۃ فلا ضرر فانہ بدعۃ فی التناول لافی الدین فاثبات حرمتہ امرعسیر لایکاد یوجد لہ نصیر۔ حلت قلیان پرفتوی دینے میں مسلمانوں سے دفع حرج ہے کہ اکثراہل اسلام اس کے پینے میں مبتلاہیں معہذا اس کی تحلیل تحریم سے آسان ترہے اورحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب دوکاموں میں اختیار دئیے جاتے جوان میں زیادہ آسان ہوتا اسے اختیارفرماتےرہا اس کابدعت ہونا کچھ باعث ضررنہیں کہ یہ بدعت کھانے پینے میں ہے نہ کہ امورددین میںتو اس کی حرمت ثابت کرنا ایك دشوارکام ہے جس کاکوئی معین ویاورملتانظرنہیں آتا۔
علامہ خاتمۃ المحققین سیدی امین الملۃ والدین محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمحتار حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
للعلامۃ الشیخ علی الاجھوری المالکی رسالۃ فی حلہ نقل فیھا انہ افتی بحلہ من یعتمد علیہ من ائمۃ المذاھب الاربعۃ۔ علامہ شیخ علی اجہوری مالکی رحمہ اﷲ تعالی نے حقہ کی حلت میں ایك رسالہ لکھا جس میں نقل فرمایا کہ چاروں مذاہب کے ائمہ معتمدین نے اس کی حلت پرفتوی دیا۔
پھرفرماتے ہیں:
قلت والف فی حلہ ایضا سیدنا العارف عبدالغنی النابلسی رسالۃ سماھا الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان وتعرض لہ فی کثیر من تالیفہ الحسان واقامۃ الطامۃ الکبری حلت قلیان میں ہمارے سردار عارف باﷲ حضرت عبدالغنی نابلسی رحمہ اﷲ تعالی نے بھی ایك رسالہ تالیف فرمایاجس کا "الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان"نام رکھا اور اپنی بہت تالیفات نفیسہ میں اس سے تعرض کیا اورحقہ کی حرمت یاکراہت ماننے والے پر
حوالہ / References العقود الدریۃ بحوالہ محی الدین الکردی الجزری، فی الرد علی من افتی بحرمۃ شرب الدخان∞، ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۳۶۶€
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۵€
#3130 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
علی القائل بالحرمۃ اوبالکراھۃ فانھما حکمان شرعیان لابدلھما من دلیل ولادلیل علی ذلك فانہ لم یثبت اسکارہ ولاتفتیرہ ولااضرارہ بل ثبت لہ منافع فھو داخل تحت قاعدۃ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ وان فرض اضرارہ للبعض لایلزم منہ تحریمہ علی کل احد فان العسل یضر باصحاب الصفراء الغالبۃ وربما امرضھم مع انہ شفاء بالنص القطعی ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل وقد توقف النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع انہ ھو المشرع فی تحریم الخمر ام الخبائث حتی نزل علیہ النص القطعی فالذی ینبغی للانسان اذاسئل عنہ سواء کان ممن یتعاطاہ اولاکھذا العبد الضعیف وجمیع من فی بیتہ ان یقول ھو مباح لکن رائحتہ تستکرھھا الطباع فھو مکروہ طبعا لاشرعا الی اخر ما اطال بہ رحمہ اﷲ تعالی۔ قیامت کبری قائم فرمائی کہ وہ دونوں حکم شرعی ہیں جن کے لئے دلیل درکار۔اوریہاں دلیل معدوم کہ نہ اس کانشہ لانا ثابت ہوانہ عقل میں فتورڈالنا نہ مضرت کرنابلکہ اس کے منافع ثابت ہوئے ہیں تو وہ اس قاعدہ کے نیچے داخل کہ اصل اشیاء میں اباحت ہےاوراگرفرض کیجئے کہ بعض کوضررکرے تواس سے سب پرحرمت ثابت نہیں ہوتیجن مزاجوں پرصفرا غالب ہوتاہے شہد انہیں نقصان کرتاہے بلکہ بارہا بیمارکر دیتاہے با آنکہ وہ بنص قرآنی شفا ہےاوریہ احتیاط کی بات نہیں کہ حرمت یاکراہت ٹھہراکرخدا پرافترأ کردیجئے کہ ان کے لئے دلیل کی حاجت بلکہ احتیاط مباح ماننے میں ہے کہ وہی اصل ہےخود نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہ بنفس نفیس صاحب شرع ہیں شراب جیسی ام الخبائث کی تحریم میں توقف فرمایا جب تك کہ نص قطعی نہ اترا توآدمی کوچاہئے جب اس سے حقہ کے بارے میں سوال کیاجائے تو اسے مباح ہی بتائے خواہ پیتاہویانہ پیتاہو جیسے میں اور میرے گھرمیں جس قدرلوگ ہیں(کہ ہم میں کوئی نہیں پیتا مگر فتوی اباحت ہی پردیتاہوں)ہاں اس کی بو طبیعت کرناپسند ہے تووہ مکروہ طبعی ہے نہ کہ شرعیاورہنوز علامہ مذکورکاکلام طویل اس کی تحقیق میں باقی ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۶€
#3131 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
بالجملہ عندالتحقیق اس مسئلہ میں سواحکم اباحت کے کوئی راہ نہیں ہے خصوصا ایسی حالت میں کہ عجما وعربا وشرقا وغربا عام مومنین بلاد وبقاع تمام دنیاکو اس سے ابتلا ہے توعدم جوازکاحکم دینا عامہ امت مرحومہ کومعاذاﷲ فاسق بنانا ہے جسے ملت حنفیہ سمحہ سہلہ غرابیضا ہرگزگوارا نہیں فرماتیاسی طرف علامہ جزری نے اپنے اس قول میں اشارہ فرمایاہے:
فی الافتاء بحلہ دفع الحرج عن المسلمین۔ اس کے حلال ہونے کافتوی دینے میں مسلمانوں سے دفع حرج ہے(ت)
اور اسے علامہ حامد عمادی پھر منقح علامہ محمدشامی آفندی نے برقراررکھا:
اقول:ولسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامران عموم البلوی من موجبات التخفیف شرعا وماضاق امر الااتسع فاذا وقع ذلك فی مسئلۃ مختلف فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر ولایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذلك فی باب الاباحۃ والحرمۃ ولذا تراہ من مسوغات الافتاء بقول غیرالامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کما فی مسئلۃ المخابرۃ وغیرھا مع تنصیصھم بانہ لایعدل عن قولہ الی قول غیرہ الا لضرورۃ بل ھو اقول:(میں کہتاہوں کہ)ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگرکسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تووہ حلال ہوجاتاہے بلکہ مقصدیہ ہے کہ عموما بلوی شرعی طورپر اسباب تخفیف میں سے ہےکوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیداہوجب یہ معاملہ ایك اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کوتنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کوترجیح ہوگی۔خادم فقہ پرپوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت ونجاست میں جاری ہے۔ایسے ہی حرمت واباحت میں بھی جاری ہے یہی وجہ ہے کہ تو اس ضابطہ کو امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے غیرکے قول پر فتوی دینے کے مجوزات میں دیکھتا ہے جیساکہ مسئلہ مخابرہ وغیرہ میں حالانکہ ائمہ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ بلاضرورۃ امام اعظم علیہ الرحمۃ کے قول سے عدول نہیں کیاجائے گا بلکہ یہ ضابطہ
حوالہ / References العقود الدریۃ فی الرد علی من افتٰی بحرمۃ شرب الدخان ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۶۶€
#3132 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
من مجوزات المیل الی روایۃ النوادر علی خلاف ظاھرالروایۃ کما نصوا علیہ مع تصریحھم بان ما یخرج عن ظاھرالروایۃ فھو قول مرجوع عنہ وما رجع عنہ المجتہد لم یبق قولا لہ وقد تشبث العلماء بھذا فی کثیر من مسائل الحلال والحرام ففی الطریقۃ وشرحھا الحدیقۃ فی زماننا ھذا لا یمکن الاخذ بالقول الاحوط فی الفتوی الذی افتی بہ الائمۃ وھو مااختارہ الفقیہ ابواللیث انہ ان کان فی غالب الظن ان اکثرمال الرجل حلال جاز قبول ھدیتہ ومعاملتہ والالا اھ ملخصاوفی ردالمحتار من مسئلۃ بیع الثمار لایخفی تحقق الضرورۃ فی زمانناولاسیما فی مثل دمشق الشاموفی نزعھم عن عادتھم حرجوماضاق الامر الااتسع ولایخفی ان ھذا مسوغ للعدول عن ظاھر الروایۃ اھ ملخصا وفی مسئلۃ العلم فی الثوب ظاہرالروایہ کے خلاف روایت نوادر کی طرف میلان کے لئے بھی مجوز ہے جیساکہ علماء نے نص فرمائی باوجودیکہ وہ تصریح فرماچکے ہیں کہ جوقول ظاہرالروایۃ سے خارج ہے وہ مرجوع عنہ ہے اور جس قول سے مجتہد رجوع کرلے وہ اس کا قول نہیں رہتاعلماء نے بہت سے مسائل حلال وحرام میں اس سے استدلال کیا ہے۔طریقہ اور اس کی شرح حدیقہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں قول احوط کولیناجس پرائمہ کرام نے فتوی دیاہے ممکن نہیں۔اسی کوفقیہ ابواللیث نے اختیارفرمایا ہےکہ اگرکسی شخص کے اکثر مال کے حلال ہونے کاگمان غالب ہو تواس کاہدیہ قبول کرنا اوراس کے ساتھ معاملہ کرنا جائزہے ورنہ نہیں اھ اختصاراورردالمحتار میں پھلوں کی بیع کے مسئلہ میں ہے ہمارے زمانے میں اس کی ضرورت کا متحقق ہونا پوشیدہ نہیں خصوصا شام کے شہردمشق میںاور ان کو عادت سے ہٹانے میں حرج ہےاورکوئی تنگ معاملہ نہیں جس میں وسعت نہ آئےمخفی نہیں کہ یہ بات ظاہر الروایہ سے عدول کی مجوز ہے اھ تلخیص۔اورکپڑے پرنقش و نگار کے مسئلہ میں ہے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء من المجتہدین ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶ /۲۷۰€
الحدیقۃ الندیۃ الباب الثالث الفصل الثانی ∞مکتبہ نوررضویہ فیصل آباد ۲ /۷۲۰€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فیمایدخل فی البیع تبعًا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۹€
#3133 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
ھو ارفق باھل ھذا الزمان لئلا یقعوا فی الفسق و العصیان اھ وفیہ من کتاب الحدود ومقتضی ھذا کلہ ان من زفت الیہ زوجتہ لیلۃ عرسہ ولم یکن یعرفھا لایحل لہ وطؤھا مالم تقل واحدۃ اواکثر انھا زوجتك وفیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ اھ ملخصا الی غیرذلك من مسائل یکثر عدھا ویطول سردھا فاندفع ماعسی ان یوھم من قول الفاضل اللکنوی ان عموم البلوی انما یؤثر فی باب الطھارۃ والنجاسۃ لافی باب الحرمۃ والاباحۃ صرح بہ الجماعۃ اھ۔ کہ اس میں اہل زمانہ کے لئے نرمی ہے تاکہ وہ فسق اورگناہ میں مبتلانہ ہوں اھاوراسی کے کتاب الحدود میں ہے اوراس تمام کامقتضی یہ ہے کہ اگرشب زفاف شوہر کے پاس اس کی بیوی بھیجی جائے تو اس وقت تك اس کے لئے وطی حلا ل نہیں جب تك وہ عورت ایك یاکئی بار اس کوکہہ نہ دے کہ وہ اس کی بیوی ہے حالانکہ اس میں حرج عظیم ہے کیونکہ اس سے امت کوگنہگار بنانا لازم آتاہے اھ تلخیص۔اس کے علاوہ کئی مسائل جن کی تعداد کثیر اوران کو بیان کرنے میں طوالت ہے۔اس سے فاضل لکھنوی کے قول سے پیداہونے والا یہ وہم دور ہوگیا کہ عموم بلوی صرف طہارت ونجاست میں مؤثر ہے نہ کہ حرمت واباحت میں۔جماعت علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے اھ۔(ت)
ہاں بنظربعض وجوہ سے تنزیہی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ محقق علائی وعلامہ ابوالسعود وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے الحاقابالثوم و البصل افادہ فرمایا۔
علی مراء فیہ لبعض الفضلاء مع کلام فی ذلك المراء۔ اس میں بعض فضلاء کو شك ہے باوجودیکہ اس شك میں کلام ہے۔(ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
الحاقہ بما ذکر ھو الانصاف۔ اس کامذکور کے ساتھ الحاق کرناہی انصاف ہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
ردالمحتار کتاب الحدود باب الوطئ الذی یوجب الحد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۱۱۵€
ترویح الجنان بتشریح حکم الدخان للکھنوی
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۶€
#3134 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
اقول:(میں کہتاہوں)یہیں سے ظاہرکہ اس وجہ کو موجب کراہت تحریم جاننا
کما جزم بہ الفاضل اللکنوی فی فتاواہ وتردد فیہ فی رسالۃ واضطرب فیہ کلام المحدث الدھلوی(ھو مولانا الشاہ عبدالعزیز المحدث الدھلوی)فیما نسب الیہ فاوھم اولا انہ یوجب کراھۃ التحریم و عاد اخرا فقال التنزیہ۔ جیسا کہ فاضل لکھنوی نے اپنے فتاوی میں اس پر جز فرمایا اورایك رسالہ میں تردد فرمایا۔اور اس مسئلہ میں(حضرت مولاناالشاہ عبدالعزیز)محدث دہلوی کی طرف منسوب کلام مضطرب ہےپہلے انہوں نے وہم کیاکہ یہ مکروہ تحریمی ہے پھر رجوع کرکے فرمایا کہ مکروہ تنزیہی ہے۔(ت)
سراسرخلاف تحقیق ہے ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)پھرکراہت تنزیہ کاحاصل صرف اس قدر کہ ترك اولی ہے نہ کہ فعل ناجائزھو۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ کراہت جامع جواز واباحت ہے جانب ترك میں اس کا وہ رتبہ ہے جوجہت فعل میں مستحب کاکہ مستحب کیجئے توبہترنہ کیجئے توگناہ نہیںمکروہ تنزیہی نہ کیجئے توبہترکیجئے توگناہ نہیںپس مکروہ تنزیہی کوداخل دائرہ اباحت مان کرگناہ صغیرہ اوراعتیاد کوکبیرہ قراردینا کما صدرعن الفاضل اللکنوی وتبعہ السید المشھدی ثم الکردی(جیساکہ فاضل لکھنوی سے صادر ہواپھر اس کی اتباع سیدمشہدی پھرکردی نے کی۔ت)سخت لغزش وخطائے فاسد ہے یارب مگروہ گناہ کون ساجوشرعا مباح ہو اور وہ مباح کیساجوشرعا گناہ ہو۔فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اس خطائے شدید کے رد میں ایك مستقل تحریر مسمی بہ جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیہ تحریر کی وباﷲ التوفیقثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)یوہیں ما نحن فیہ میں تین وجہ سے کراہت تنزیہہ ٹھہراکر کراہت تحریم کی طرف مرتقی کردینا کما وقع فیما نسب الی المحدث الدھلوی(جیسا کہ محدث دہلوی کی طرف منسوب تحریر یں واقع ہوا۔ت)محض نامقبولقطع نظر اس سے کہ ان وجوہ سے اکثر محل نظرشرع سے اصلا اس پردلیل نہیں کہ جوچیز تین وجہ سے مکروہ تنزیہی ہو مکروہ تحریمی ہے ومن ادعی فعلیہ البیان(جودعوی کرے بیان دلیل اسی پرواجب ہے۔ت)خود محدث دہلوی کے تلمیذرشیدمولانا رشیدالدین خاں دہلوی مرحوم اپنے رسالہ عربیہ میں صاف لکھتے ہیں کہ علمائے محققین حقہ میں کراہت تنزیہی مانتے ہیں حیث قال(جہاں فرمایا۔ت):
اما المحققون القائلون بکراھتہ تنزیھا فھم ایضا تشبثوا بالروایات القہیۃ مثل ماقال صاحب الدر المختار الخ۔ جومحققین کراہت تنزیہی کے قائل ہیں انہوں نے بھی فقہی روایات سے استدلال کیاہے جیساکہ صاحب درمختار نے کہا الخ
#3135 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
اور اسی میں تصریح ہے کہ مالت مشائخنا الیھا اسی کراہت تنزیہہ کی طرف ہمارے اساتذہ نے میل کیا۔ اس رسالہ پرشاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ رفیع الدین صاحب کی تقریظیں ہی شاہ صاحب نے اسے:
تحریرانیق وتقریر رشیق وصحیح المبانی ومستحکم المعانی وموافق روایات ومطابق درایات۔ عمدہ تحریرخوبصورت تقریرصحیح عبارت والیمستحکم معانی والیروایات کے موافق اوردرایات کے مطابق(ت)بتایا
اورشاہ رفیع الدین صاحب نے:
استحسنت غایۃ الاحسان مانثر بنایہ من جواھر لآلیۃ فی مبانیہ ومعانیہ ۔ انتہائی مستحسن ہیں موتیوں کے جواہر جواس کے بانی نے اس کی عبارت اورمعانی میں بکھیرے ہیں۔(ت)فرمایا
توظاہرا دوسری تحریر کی نسبت غلط ہے یا اس میں تحریفیں واقع ہوئیں اور اس پردلیل یہ بھی ہے کہ اس تحریر کے اکثرجوابات مخدوش ومضمحل اورخلاف تحقیق باتوں پر مشتمل ہیں اورنسبت بہمہ جہت صحیح ہی مانئے تو رسالہ تلمیذ کی مدح وتقریظمناقض ومعارض ہوگی وہ تحریرپائیہ اعتبار سے یوں بھی گرگئی۔اور اس سے بھی قطع نظرکیجئے تومقصود اتباع حق ہے نہ تقلید اہل عصر و اتباع زیدوعمروواﷲ الھادی و ولی الایادی۔
الحاصل معمولی حقہ کے حق میں تحقیق حق وتحقیق یہی ہے کہ وہ جائزومباح اورغایت درجہ صرف مکروہ تنزیہی ہے یعنی جونہیں پیتے اچھا کرتے ہیں اورجوپیتے ہیں برانہیں کرتے۔
فان الاساءۃ فوق کراھۃ التنزیہ کما حققہ العلامۃ الشامی ۔ کیونکہ اساءۃ مکروہ تنزیہی سے اوپرہے جیساکہ علامہ شامی نے اس کی تحقیق فرمائی(ت)
البتہ وہ حقہ جوبعض جہال بعض بلادہند ماہ مبارك رمضان شریف میں وقت افطار پیتے اوردم لگاتے اورحواس ودماغ میں فتور لاتے اوردیدہ ودل کی عجیب حالت بناتے ہیں بیشك ممنوع وناجائز وگناہ ہے اوروہ بھی معاذاﷲ ماہ مبارك میں۔اﷲ عزوجل ہدایت بخشے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرمفتر چیزسے نہی فرمائی اور اس حالت کے حالت تفتیر ہونے میں کچھ کلام نہیں۔
حوالہ / References ردالمحتار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۱۸،۳۸۱€
#3136 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
احمد و ابوداؤد بسند صحیح عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر ۔ امام احمد اورابوداؤد سے بسندصحیح حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرنشہ آورچیز اور مست کر دینے والی شے سے منع فرمایا۔(ت)
اور ایك صورت ممانعت کی اوقات خاصہ کے لئے اورپیداہوگی رائحہ کریہہ کے ساتھ مسجد میں جاناجائز نہیں
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربن مصلانا فان الملئکۃ تتأذی ممایتأذی منہ بنوادم ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادگرامی کے مطابق کہ جو اس درخت خبیثہ(یعنی تھوم)کوکھائے وہ ہماری مسجدوں میں نہ آئے کہ جس بات سے آدمیوں کواذیت ہوتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت کرتے ہیں۔(ت)
تواگرحقہ سے منہ کی بو متغیر ہوبےکلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیںاسی قدر سے خود حقہ پرحکم ممانعت نہیں جیسے کچالہسن پیازکھانا کہ بلاشبہہ حلال ہے اور اسے کھاکر جب تك بو زائل نہ ہو مسجد میں جانا ممنوع مگرجوحقہ ایساکثیف و بے اہتمام ہوکہ معاذاﷲ تغیرباقی پیداکرے کہ وقت جماعت تك کلی سے بھی بکلی زائل نہ ہو توقرب جماعت میں اس کاپینا شرعاناجائزکہ اب وہ ترك جماعت وترك سجدہ یابدبو کے ساتھ دخول مسجد کاموجب ہوگا اوریہ دونوں ممنوع وناجائزہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرممنوع کی طرف مؤدی ہو ممنوع وناروا ہے
وقدحققنا المسألۃ مع نظائرھا فی کتاب الوقف من فتاونا بما یتعین الرجوع الیہ ولایجوز التغافل عنہ۔ اس مسئلہ کی تحقیق اس کے نظائر سمیت کتاب الوقف میں ہم نے اپنے فتاوی میں اس طورپرکردی ہے کہ اس کی طرف رجوع متعین ہے اور اس سے غفلت ناجائز ہے۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳،€مسنداحمدبن حنبل عن ام سلمہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۳۰۹€
المعجم الصغیر باب الالف من اسمہ احمد دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۲۲€
#3137 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
یہیں سے تمباکوکھانے کاحکم واضح ہوگیا وہ فی نفسہ نباتات مباحہ سے ہے جس کی ممانعت اکل پر شرع مطہرہرگز دال نہیں تو اسے بعد وضوح حال حرما یا مکروہ تحریمی کہنا شرع پرجرأت وتہمت ہےہاں غایت وہی تنزیہی کراہت ہےاقول:بلکہ حقہ سے اشد کہ دھواں منہ میں قائم نہیں رہتا تمباکوئے کشیدنی اگرکثیف نہو اورحقہ جلد جلد تازہ کیاجائے ہربارپانی بدلاجائے تواس سے تغیر رائحہ ہوتاہی نہیں خصوصا جبکہ تمباکو خوشبو دارہو اورحالت متوسط پربھی اس سے جوتغیرہوتاہے بہت سریع الزوال ہواہے کلیوں سے فورا جاتارہتاہے اوربے کلی بھی تھوڑی دیر میں ہوائیں اسے لے جاتی ہیں بخلاف تمباکوئے خوردنی کہ اس کاجرم منہ میں دبارہتا ہے اورمکرر استعمال سے تمام دہن اس کی کیفیت کریہہ سے متکیف ہوتا اور اس کی بو میں بس جاتا ہے تواس کی کراہت تنزیہی حقہ سے زائدہے اور اس میں ایك دقیقہ اورہے تمباکوکھانے کازیادہ رواج عورتوں میں ہےاورشوہراگراس کا غیرعادی اوراس کی بوسے متأذی ہوتوعورت کے لئے اس کااستعمال حد ممانعت تك پہنچے گا۔
لما فیہ من مناقضۃ ماقصد الشرع من الایتلاف والتحبب الی الازواج۔ کیونکہ اس میں میاں بیوی کے درمیان اس باہمی انس ومحبت کی ممانعت ہے جوشرعا مقصود ومطلوب ہے۔(ت)
بلکہ عورت عادیہ نہ ہو اوراس کی بوسے ایذا پائے توشوہر کے لئے بھی اس کی کراہت اشد ہوجائے گی کہ عورت کے حق میں شوہرکو ایذادینا یا اسے اپنے بعض بدن مثل زبان ودہن سے تمتع دشوارکردینااگرچہ سخت ناپسند شرع ہے مگرمرد کوبھی حکم "] وعاشروہن بالمعروف " (ان سے اچھا برتاؤکرو۔ت)کی ہدایتاوران کی ایذا سے ممانعتاور ان کی دلداری ودلجوئی کی طرف دعوت ہے اوراکثر کثافت وبے احتیاطی اس حد کو پہنچی کہ رائحہ کریہہ لازم دہن ہوجائےکلی وغیرہ سے نہ جائے برابروالے کو ایذاپہنچائےتوایسے تمباکوکا استعمال بیشك ناجائز وممنوع ہے کہ اب وہ خواہی نخواہی ترك جماعت ومسجدکاموجب ہوگا اوریہ حرام ہے معہذا ایسے تغیر کے ساتھ خودنمازپڑھناتلاوت قرآن کرناسوئے ادب وگستاخی ہے والعیاذباﷲ تعالی ھذا ھوحق التحقیقواﷲ سبحنہ ولی التوفیق۔
اما ماذکر السائل من حدیثی الدرالثمین فاقول: لامتمسك فیھما سائل نے درثمین کے حوالے سے جودوحدیثیں ذکرکی ہیں تو میں کہتاہوں کہ ان میں ممانعت کے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۱۹€
#3138 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
للقائل بالمنع معلوم ضرورۃ من الدین ان نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکذلك سائر اخوانہ من الانبیاء والمرسلین وکذلك سائر اخوانہ من الانبیاء والمرسلین والملئکۃ المقربین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیھم اجمعین کلھم طیبون نظیفون یحبون الطیب ویکرھون الروائح الکریھۃ ثم لم یورث ھذا فی الثوم والبصل واخواتھما من المباحات حرمۃ ولامنعا مع مانطقت بہ الاحادیث الجلیلۃ الصحیحۃ مسموعات الصحابۃ الکرام فی الیقظۃ مرویات الائمۃ الاعلام علی جمادۃ الحجیۃ فی الشریعۃ من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اکل الثوم والبصل والکراث فلایقربن مسجدنا و غیرذلك من الاحادیث فکیف بحکایۃ منام یحکیھا بعض المتأخرین عن بعض من لم یسم وھذا سیدنا جابر بن عبداﷲ الانصاری رضی اﷲ تعالی عنھما راویا ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من اکل ثوما اوبصلا فلیعتزلنا اوقال فلیعتزل مسجدنا ولیقعد فی بیتہ وان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتی بقدر فی خضرات من بقول قائل کے لئے کوئی دلیل معلوم نہیں ہوتی یہ بات ضروریات دین سے معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمیونہی دیگرانبیاء ومرسلین اورملائکہ مقربین علیہم الصلوۃ والسلام تمام کے تمام صاف ستھرے ہیںخوشبو کوپسند اوربدبوکاناپسندکرتے ہیں۔پھرمحض بدبوکاپایاجانا توتھوم اور پیازوغیرہ مباح اشیاء میں بھی حرمت وممانعت کوثابت نہیں کرتا باوجودیکہ اس پر وہ عظیم الشان احادیث صحیحہ وارد ہیں جو صحابہ کرام نے بیداری کی حالت میں سنی ہیں اورائمہ اعلام سے اس طریقے پرمروی ہیں جوشریعت میں حجت ہےجیسے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ جس نے تھومپیاز اورگندنا کھایا وہ ہرگز ہماری مسجدکے قریب نہ آئےاس کے علاوہ دیگراحادیث مبارکہ۔توپھرنیند کی حالت کی حکایت سے کیسے حرمت ثابت ہوسکتی ہے جس کوبعض متأخرین نے بعض نامعلوم حضرات سے حکایت کیا۔ سیدنا حضرت جابربن عبد اﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جس نے تھوم یاپیاز کھایا وہ ہم سے یاہماری مسجد سے الگ رہے اوراپنے گھر میں بیٹھے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں ایك ہنڈیا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوما اوبصلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۹€
#3139 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
فوجد لہا ریحا فقال قربوھا الی بعض اصحابہ وقال کل فانی اناجی من لاتناجی رواہ الشیخان وھذا سیدنا ابوایوب الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہ قائلا کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا اتی بطعام اکل منہ وبعث بفضلہ الی وانہ بعث الی یوما بفضلۃ لم یأکل منھا لان فیھا ثوما فسألتہ حرام ھو قال لاو لکنی اکرھہ من اجل ریحہ قال فانی اکرہ ماکرھت رواہ مسلم فھذا شیئ اخر غیرالمنع الشرعی وانما الکلام فیہواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ پیش کی گئی جس میں مختلف قسم کی سبزیاں تھیںآپ نے ان کی بوکوناگوار پایاتو بعض اصحاب کے قریب کرنے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا اس کوکھاؤ کیونکہ میں اس سے سرگوشی کرتاہوں جس سے تم نہیں کرتے۔اس کوبخاری ومسلم نے روایت کیا۔ سیدنا حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں کھانالایاجاتاتو آپ اس میں سے تناول فرماتے اورجو بچ جاتا وہ میری طرف بھیج دیتےایك دن آپ نے میرے پاس سبزی بھیجی جس میں سے خود کچھ نہ کھایا کیونکہ اس میں تھوم تھامیں نے آپ سے پوچھا کیایہ حرام ہےتو آپ نے فرمایا کہ حرام نہیں لیکن میں اس کوناگوار بوکی وجہ سے پسندنہیں کرتا۔توحضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا جس کو آپ پسندنہیں کرتے میں بھی اس کوپسندنہیں کرتا اس کومسلم نے روایت کیا۔تویہ ایك دوسری چیز ہے جو ممانعت شرعی کے علاوہ ہے حالانکہ کلام توممانعت شرعیہ میں ہے۔اﷲ تعالی پاك ہے اور سب سے بڑا
حوالہ / References صحیح البخار کتاب الاذان باب ماجاء فی الثوم النی والبصل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۸،€صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثومًا وبصلًا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۹€
صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۸۳€
#3140 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
عالم ہے اور اس شرف وبزرگی والے کاعلم زیادہ تام اورزیادہ پختہ ہے۔(ت)

__________________________
مسئلہ ۲۰: ازکلکۃ دھرم تلا نمبر۱ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۵جمادی الآخر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکۃ میں نمکین بسکٹوں میں منشی تاڑی بغرض خمیر ملائی جاتی ہے شیریں میں نہیں مگرمیدہ گوندھنے کے ظرف دونوں کے ایك ہی ہیں اوروہ تخۃ جس پربسکٹ بنائے جاتے ہیں وہ بھی ایک ہی ہوتاہے نمکین بسکٹ کے سیربھر آٹے میں پاوبھرتاڑی ملائی جاتی ہے نمکین کا کھاناجائز ہے یانہیں اورشیریں کاکیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائے۔ت)۔
الجواب:
جوبہتی چیزنشہ رکھتی ہو مذہب صحیح میں اس کاقطرہ قطرہ نہ صرف حرام بلکہ نجس بھی ہے ھذا ھو قول محمد وھو الصحیح وعلیہ الفتوی(یہ ہی امام محمدعلیہ الرحمہ کاقول ہےیہی صحیح ہے اور اسی پرفتوی ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں نمکین بسکٹ مطلقا حرام ونجس ہیںاورشیریں میں تین صورتیںاگرثابت ہوکہ ان کے میدہ یاخمیر میں بھی اس نجاست کے اجزاء ضرور مخلوط ہوتے ہیں تویہ بھی حرام وناپاکاوراگرتحقیق ہوکہ یہ محفوظ رہتے ہیں مثلا انہیں التزام ہے کہ جب نمکین کے بعد شیریں بناتے ہیں تو دست وظروف کوبقدرکافی دھوڈالتے ہیں اس کے بعد شیریں کامیدہ گوندھتے بناتے ہیں اگرچہ اس دھونے سے ان کی نیت تطہیر نہ ہو بلکہ صرف اس خیال سے کہ ان میں نمکینی نہ آجائے یا اورکسی وجہ سے یہ دھونا ایساواقع ہوتاہے کہ نجاست کے اجزاء دست وظروف سے زائل ہوجاتے ہیں توشیریں مطلقا حلال وطیباوراگرمشکوك ومحتمل ہو مثلا ایك دن میں جس قدریکے بعد دیگرے بنتے ہیں ان میں تو
#3141 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
شست وشونہیں ہوتی توناکافی وناقابل تطہیرمگردوسرے دن جوبنانا شروع ہوتاہے تورات کے باسی برتن خوب دھولئے جاتے ہیں اورہمیشہ پہلے نمکین بنانے کا التزام نہیں بلکہ کبھی نمکین کبھی شیریں سے ابتداکرتے ہیں تو اس صورت میں شیریں کامعاملہ محتمل رہاممکن کہ بعد تطہیر پہلے ہی بنے ہوںممکن کہ پہلے نمکین بن کریہ بلاتطہیر بنائے گئے اوران میں اجزائے نجاست مل گئے ہوںاس تقدیرپرجن خاص میٹھوں کی نسبت معلوم ہوکہ ان میں خلط نجاست واقع ہوا وہ حرام جن کی نسبت تحقیق ہوکہ ان میں نہ ہوا وہ طیب حلال جن کی نسبت کچھ علم ہو انہیں حرام یاناپاك نہیں کہہ سکتے
فان الاصل ھو الحل والطھارۃ فلایعارضہ الاحتمال ولیس للیقین بالشك زوال۔ بیشك اصل حل وطہارت ہے چنانچہ احتمال اس کامعارضہ نہیں کرسکتا اورنہ ہی یقین شك کے ساتھ زائل ہوسکتاہے۔(ت)
ان کاحکم ہندوؤں کی بنائی ہوئی مٹھائیدودھدہیملائی وغیرہا اشیاء کاہوگا کہ کھاناحلال اقوربچنابہترفتوی جواز اورتقوی احترازیہ سب اس تقدیرپرہے کہ نمکین میں انہیں مسکرتاڑی ڈالنے کا التزام ہوخواہ یوں کہ بازار میں مسکرہی ملتی ہے وہ وہیں سے لیتے ہیں یایوں کہ جس غرض سے ڈالتے ہیں وہ مسکرہی سے حاصل ہوتی ہے غیرمسکرکام نہیں دیتیاواگریہ دونوں امرنہ ہوں بلکہ وہ کبھی مسکرکبھی غیرمسکر ہرقسم کی تاڑی ڈالاکرتے ہیں کوئی خاص التزام نہیں تواب نمکین بسکٹوں پرمطلقا حرمت کاحکم نہیں بلکہ ان کا حال وہ ہوگا جو صورت ثالثہ میں شیرین کاتھا کہ جس خاص کاحال معلوم حکم معلوم ورنہ کھانا روابچنا اولی۔تاڑی چندساعت دھوپ کی حرارت پاکرجوش لاتی ہے اورمسکرہوجاتی ہے یاجس گھڑی میں لی گئی اس میں پہلی تاڑی کا اثرہوتو اپنی شدت لطافت کے سبب یوں بھی سکرلے آتی ہے ورنہ اگرکوراگھڑا وقت مغرب باندھیں اور وقت طلو ع اتار کر اسی وقت استعمال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا یہ اگر ثابت ہوتو اس وقت تك وہ حلال وطاہرہوتی ہے جب جوش لائی ناپاك وحرام ہوئیپھرکہاجاتاہے کہ س کے بعد بھی اس کی یہ حالت دیرپانہیں رہتی بلکہ کچھ مدت کے بعد ترش ہوکرسرکہ ہوجاتی ہے جس طرح تذکرہ طبیب داؤد انطاکی میں نارجیل کی نسبت ہے:
قدیفسد طلعہ اوجریدہ ویلقم کوزا فیسیل منہ لبنویسمی السیندی یبقی یوما علی الحلاوۃ و الدسومۃ ولہ کبھی اس کاگابھا یاٹہنی فاسد ہوجاتے ہیں اور کوزے کادھانہ بند ہوجاتاہے تو اس سے دودھ بہنے لگتاہے جس کوسیندھی کہاجاتا ہے اس کی حلاوت اورچکنائی ایك دن باقی رہتی ہے اس کے
#3142 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
افعال اشد من الخمر وھو خیر منھا ثم یکون خلا بالغاقاطعا۔ افعال شراب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں اوریہ اس سے بہتر ہے پھریہ تندوتیزسرکہ بن جاتاہے۔(ت)
مگرمیرمحمدمومن کے لفظ تحفہ میں یہ ہیں:
حلاوت او تایك روزباقی ست بعدازیك روزمانندسرکہ ترش می شود ۔ اس کی حلاوت ایك دن باقی رہتی ہے پھروہ ترش سرکہ بن جاتاہے۔(ت)
لیکن سرکہ ہوجانے اورمثل سرکہ ترش ہوجانے میں فرق ہےغرض اگرثابت ہوکہ تاڑی ایك وقت تك مسکرنہیں ہوتی یا ایك وقت کے بعد مسکرنہیں رہتی اورانہیں خاص مسکرہی کے ڈالنے کا التزام نہیں بلکہ دونوں طرح کے استعمال کرتے ہیں جب تو حکم یہ ہےاوراگرثابت ہواکہ اس مدت مقررہ کے بعد اس کے اجزا خواہی نخواہی سرکہ ہوجاتے ہیں اگرچہ آٹے میں مل کر تنور میں پك چکے ہوں تواس مدت کے گزرنے پربسکٹ مطلقا حلال ہوجائیں گے
لان الحرمۃ کانت لمجاور وقد تبدل عینہ قال فی الدرالمختار لوعجن خبز بخمر صب خل فیہ حی یذھب اثرہ فیطھر فی ردالمحتار لانقلاب مافیہ من اجزاء الخمر خلا۔ کیونکہ حرمت مجاور کی وجہ سے ہے اور اس کا عین بدل گیاہے اور درمختارمیں ہے اگر شراب میں آٹا گوندھ کر روٹی پکائی گئی حتی کہ شراب کااثر جاتارہا تووہ پاك ہوجائے گی۔ردالمحتارمیں ہے اس لئے کہ اس کی حقیقت بدل کرسرکہ بن گئی ہے۔(ت)
اوراگریہ امورناثابت ہوں توحکم وہی ہے کہ اول مذکور ہواواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱: ازگلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سیدمحمدیوسف علی صاحب ۱۰شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوشخص شراب پیئے وہ کیساہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
حوالہ / References تذکرۃ اولواالالباب لداؤد انطاکی حرف النون ذکرنارجیل مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۳۲۷€
تحفۃ المؤمنین علٰی ھامش مخزن الادویۃ تحت لفظ نارجیل ∞نولکشورکانپور ص۵۵€۳
الدرالمختار کتاب الطہارت باب الانجاس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۶€
ردالمحتار کتاب الطہارت باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۳€
#3143 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
الجواب:
اللھم احفظنا والمسلمین برحمتك یاارحم الراحمین(اے اﷲ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کومحفوظ رکھ اپنی رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے۔ت)شراب حرام اور پیشاب کی طرح ناپاك اور اس کاپیناسخت گناہ کبیرہ اورپینے والافاسق فاجرناپاك بیباك مردود وملعون مستحق عذاب شدید وعقاب الیم ہےوالعیاذباﷲ رب العالمیناﷲ ورسول جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پرسخت سخت وعیدیں ہولناك تہدیدیں فرمائیںہ یہاں صرف بعض پر اکتفاکرتے ہیں:
حدیث(۱): رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایشرب الخمر حین یشربھا وھو مؤمن رواہ الشیخان غیرھما عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان ٹھیك نہیں رہتا(اس کو شیخین وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حدیث(۲):(رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد مبارك ہے:)
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الخمر عشرۃ عاصرھا ومعتصرھا وشاربھا وحاملھا و المحمولۃ الیہ و ساقیھا وبائعھا واکل ثمنھا والمشتری لھا والمشتراۃ لہ رواہ الترمذی وابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ورجالہ ثقات۔ یعنی جو شخص شراب کے لئے شیرہ نکالے اورجونکلوائے اور جو پئیے اورجو اٹھاکرلائے اور جس کے پاس لائی جائے اور جو پلائے اورجوبیچے اورجو اس کے دام کھائے اورجو خریدے اور جس کے لئے خریدی جائے ان سب پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی(اس کوترمذی اورابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیااوراس کے رجال ثقہ ہیں۔ت)
حدیث(۳):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاشربہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۶،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان نقصان الایمان بلامعاصی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵€
سنن ابن ماجہ ابواب الاشربہ باب لعنت الخمر الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۵۰،€جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمرالخ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۵۵€
#3144 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
من زنی وشرب الخمرنزع اﷲ منہ الایمان کما یخلع الانسان القمیص من راسہ۔رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوزناکرے یاشراب پیئے اﷲ تعالی اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سر سے کرتاکھینچ لے(اسے امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حدیث(۴):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ مدمن الخمر وقاطع الرحم ومصدق بالسحر ومن مات مدمن الخمر سقاہ اﷲ جل وعلامن نھرالغوطۃقیل ومانھر العوطہقال نھریجری من فروج المومسات یؤذی اھل النار ریح فروجھن۔رواہ احمد وابن حبان فی صحیحہ وابو یعلی عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے:شرابی اوراپنے قریب رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنے والا اورجادوکی تصدیق کرنے والا۔ اورجوشرابی بے توبہ مرجائے اﷲ تعالی اسے وہ خون اورپیپ پلائے گاجودوزخ میں فاحشہ عورتوں کی بری جگہ سے اس قدربہے گا کہ ایك نہرہوجائے گا دوزخیوں کوان کی فرج کی بدبوعذاب پرعذاب ہوگی وہ سخت بدبوگندی پیپ جوبدکار عورتوں کی فرج سے بہے گی اس شرابی کو پینی پڑے گی۔
(والعیاذباﷲ تعالی)(اس کو امام احمدابن حبان نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے روایت کیا اور اس کی تصحیح کی۔اورابویعلی نے اس کوسیدنا ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)مسلمان ذرا آنکھیں بندکر کے غوکرے کہ شراب چھوڑنا قبول ہے یا اس پیپ کے گھونٹ نگلناوالعیاذباﷲ رب العلمین۔
حدیث(۵):رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مدمن الخمران مات لقی اﷲ شرابی اگربے توبہ مرے توا ﷲ تعالی کے حضور
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الایمان اذازنی العبد خرج منہ الایمان دارالفکربیروت ∞۱ /۲۲€
مسندامام احمدبن حنبل عن ابی موسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۳۹۹،€المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ ذکرثلثۃ لایدخلون الجنۃ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۴۶،€مواردالظماٰن باب مدمن الخمر ∞حدیث ۱۳۸۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۳۵€
#3145 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
کعابدوثن۔رواہ احمد بسند صحیح عندنا وابن حبان فی صحیحہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اس طرح ہوگا جیسے کوئی بت پوجنے والا(اس کو امام احمد نے بسندصحیح روایت کیا اورابن حبان نے اپنی صحیح میں اس کو سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت فرمایا ہے۔ت)
حدیث(۶):رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن احد یشربھا فیقبل اﷲ لہ صلوۃ اربعین لیلۃ ولایموت وفی مثانتہ منھا شیئ الاحرمت بھا علیہ الجنۃ فان مات فی اربعین لیلۃ مات میتۃ جاھلیۃ۔
والعیاذباﷲ تعالی۔ جوشخص شراب کی ایك بوند پیئے چالیس روز تك اس کی کوئی نمازقبول نہ ہوارجومرجائے اور اس کے پیٹ میں شراب کا ایك ذرہ بھی ہوتو جنت اس پرحرام کردی جائے گی اورجوشراب پینے سے چالیس دن کے اندرمرے گا وہ زمانہ کفر کی موت مرے گا۔(ت)
حدیث(۷):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقسم ربی بعزتہ لایشرب عبد من عبیدی جرعۃ من خمرالاسقیتہ مکانھا من حمیم جھنم معذبا او مغفورا لہولایسقیھا صبیا صغیرا الاسقیتہ مکانھا من حمیم جھنم معذبا اومغفوراولایدعھا عبد من عبیدی من مخافتی الاسقیتھا ایاہ من حظیرۃ میرے رب نے اپنی عزت کی قسم یادفرمائی کہ میراجوبندہ ایك گھونٹ شراب کاپیئے گا میں اسے اس کے بدلے جہنم کاوہ کھولتاہواپانی پلاؤں گا اس کی بخشش تکاورجوکسی چھوٹے کو پلائے گا جب بھی اس کی سزامیں وہ پانی پلاؤں گا اس کی بخشش تکاورمیراجوبندہ میرے خوف سے شراب چھوڑے گا اسے اپنے پاك دربار میں پلاؤں گا(اس کو
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۲۷۲،€موارالظماٰن باب مدمن الخمر ∞حدیث ۱۳۷۹€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۳۵€
المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ ان اعظم الکبائر شرب الخ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۴۷€
#3146 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
القدس۔رواہ احمد عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام احمد نے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲: ازبریلی سائل منشی احمد علی محرر چوکی چونگی قلعہ بریلی ۱۱صفر۱۳۱۴ھ
علمائے دین نے حقہ کوحرام مطلق قراردیا ہے یا مکروہ کیا وہ شخص زیارت حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مشرف نہ ہوگا جو حقہ پیتا ہے اگرچہ درودشریف بکثرت پڑھتاہو اورکیا اس کا تحفہ حضورقبول نہ فرمائیں گے
الجواب:
دم لگانا جس سے ہوش وحواس میں فرق آتاہے حرام ہے اورسادہ حقہ ہرگز حرام نہیںنہ اس کا پیناکسی طرح کاگناہ ہےہاں اگربو رکھتاہے توخلاف اولی ہے جیسے کچی پیازکھانااوریہ جاہلانہ خیالات کہ حقہ پینے والا زیارت اقدس حضورپرنوررحمۃ للعلمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معاذاﷲ محروم ہے یاحضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معاذاﷲ اس کاتحفہ درودشریف قبول نہ فرمائیں گےیہ سب دروغ بے فروغ اورحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافترا ہےبہت بندگان خدا حقہ پینے والے خواب میں زیارت جمال جہاں آرائے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بارہامشرف ہوئے اورحضور رؤف ورحیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غایت کرم ومہربانی کے کلمات ارشاد فرمائے۔
" قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی اذا لامسکتم خشیۃ الانفاق وکان الانسن قتورا ﴿۱۰۰﴾ " اے محبوب! فرمادیں اگرتم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالك ہوتے توانہیں بھی روك رکھتے اس ڈرسے کہ خرچ نہ ہوجائیںاور آدمی بڑاکنجوس ہے۔(ت)
اگربادشاہ بردرپیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن
(اگربادشاہ بوڑھی عورت کے دروازے پرآئے تو اے سردار! تومونچھیں مت اکھاڑ۔ت)
ہاں ورد درود مبارك کے وقت حقہ نہ پیئے اورپی چکاہو توکلی مسواك سے منہ صاف کرکے ورد شروع
حوالہ / References مسندامام احمدبن حنبل عن ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۲۵۷€
القرآن الکریم ∞۱۷ /۱۰۰€
#3147 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳: ازبراہم پور ۲۱ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افیون کھانی کیسی ہے افیونی فاسق ومستحق عذاب ہے یانہیں اورجولوگ اس کی ہمراہی کریں اس کی مددکریں وہ کیسے ہیں افیونی کوکھاناکھلانا جائزہے یانہیں اورکھانے کے علاوہ دام دئیے جائیں یا نہیں جبکہ اس کی عادت سے معلوم ہے کہ وہ انداموں کوافیون میں صرف کرے گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
افیونی ضرورفاسق ومستحق عذاب ہےصحیح حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر۔رواہ الامام احمد وابوداؤد عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسند صحیح۔ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرچیزکہ نشہ لائے اور ہرچیزکہ عقل میں فتورڈالے حرام فرمائی(اس کو امام احمد اور ابوداؤد نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسندصحیح روایت فرمایاہے۔ت)
اورمخالفت شرع میں کسی کی مددکرنی ہمراہی لینی خود مخالفت شرع کرنی ہے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" و لا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ" اورتمہیں ان پرترس نہ آئے اﷲ تعالی کے دین میں۔(ت)
افیونی اگربھوکامحتاج ہو تو اس کے بھوکے ہونے کی نیت سے کھانا دینے حرج نہیں بلکہ ثواب ہے کہ بھوکے کتے کاپیٹ بھرناباعث اجر ہے آدمی توآدمی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فی کل کبد حراء رطبۃ اجر۔ ہرترجگہ والی شیئ میں ثواب ہے۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳،€مسنداحمدبن حنبل عن ام سلمہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۳۰۹€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۲€
صحیح البخاری ابواب مظالم والقصاص باب الآبار علی الطریق الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۳،€مسنداحمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۲۲۲€
#3148 · حُقّۃ المرجان لمھم حکم الدّخان (مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
اورکھانے کے علاوہ دام نہ دئیے جائیں جبکہ معلوم ہوکہ انہیں افیون میں صرف کرے گا۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اورگناہ اورزیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴: ازشہرکہنہ مرسلہ سیدعبدالواحد متھراوی ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شراب کاحرام ہونا اس کے نشہ کی وجہ سے ہے یا ادویہ کے سڑکرتیارہونے کی وجہ سے
الجواب:
شراب کاشراب ہونا جو ش آنے اورنشے لانے کی حالت پرموقوف ہےدوائیں اگرسڑائی جائیں اور ان میں نشہ لانے کاجوش نہ پیدا ہو تو وہ شراب نہ ہوں گی جیسے بعض مصفی عرقوں میں ادویہ کی تعفین کی جاتی ہے اوربغیرسڑائے صرف آنچ دینے یادھوپ دکھانے یاگرم ہوامیں ٹھہرنے سے وہ جوش آجائے جیسے آب ونقوع انگور وخرما تربوز شکرآمیختہ اورتاڑی وغیرہ میں تو وہ شراب ہوجائے گیپھرشراب ہوجائے تو اس کی حرمت اس قدرپینے پرموقوف نہ رہے گی جونشہ لائے بلکہ وہ نجاست غلیظہ اور مطلقا حرام ہے اگرچہ ایك بوندکما حققہ الائمۃ فی عامۃ الاسفار(جیساکہ عام کتابوں میں ائمہ کرام نے اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
________________
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۲€
#3149 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
رسالہ
الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی ۱۳۱۸ھ
(فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۵: ازرنگون گلی نمبر۲۵ دواخانہ حکیم عبدالعزیز صاحب مرسلہ جناب مرزاعبدالقادربیگ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلے تھوڑے آٹے میں مسکرتاڑی کے نیچے کی تاڑی جسے روٹی گادکہتے ہیں ملاکر خمیرکیاگیا پھریہ آٹاخمیرشدہ پندرہ بیس سیر آٹے میں ملاکرخمیرکیا اوراس کی روٹی پکائی اس روٹی کی نسبت کیاحکم ہے اوراگر فرض کیاجائے کہ اس گادمیں قوت سکریہ باقی نہ رہی تھی تواس خمیری روٹی کاکیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
رنگون میں بخلاف مانڈلہ پاؤ روٹی وتنوری روٹی دونوں کاعام طورپرخمیر تاڑی سے کیاجاتاہے اورہزارہا مسلمان اسی روٹی کوکھاتے ہیںیہاں اورکلکتے میں عام ہےیہاں دوعالم کہتے ہیں کہ اس روٹی کی نسبت حکم حرمت کانہیں ہے مگراحتیاط کرنا اولی ہے۔میں نے جناب مولانا جلال الدین صاحب دہلوی مقیم مانڈلہ سے بذریعہ خط دریافت کرایا جواب آیاکہ جناب موصوف نے حکم حرمت کا دیاآج کل مولوی عبدالحمیدصاحب واعظ پانی پتی یہاں تشریف رکھتے ہیں انہوں نے بھی کھانا ترك کردیا
#3150 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اس کے جواب کی بہت ضرورت ہے امید ہے کہ آپ کے فیض تحریر سے صدہامسلمان اس معصیت سے بچ جائیں گے۔یہ بلایہاں عام ہے جملہ قسم کی روٹیوں میں اس کاخمیردیاجاتا ہے۔فقط
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ الذی حرم علینا فی الدنیا الخمور ووعدنا فی الجنۃ الشراب الطھور والصلوۃ والسلام علی من حمانا المنکرات و حرم علینا برحمتہ المسکرات وعلی الہ وصحبہ الشاربین من کاس التکریم لالغوفیھا ولاتاثیم افاض اﷲ علینا من فیضھم فنصیب فللارض من کأس الکرام نصیب۔ اﷲ کے نام سے شروع جوبہت مہربان اوررحم فرمانے والا ہےتمام تعریفیں اس معبود کے لئے ہیں جس نے دنیا میں ہم پرشرابیں حرام کی ہیں اورجنت میں ہمیں شراب طہور عطافرمانے کاوعدہ کیاہے اوردرودوسلام ہو اس ذات پر جس نے ہمیں منکرات سے روکا اوراپنی رحمت سے نشہ آور اشیاء کوہم پرحرام فرمایااورآپ کے آل واصحاب پر جوعز کے پیالے سے پینے والے ہیں جس میں بیہودگی اورگنہگاری نہیں اﷲ تعالی ان کے فیض سے ہمیں بھی عطافرمائے کہ ہم بھی اس کو پالیںاورسخیوں کے جام سے زمین کے لئے حصہ ہوتا ہے۔ (ت)
قول منصورومختار میں تاڑی وغیرہرمسکرپانی کاقطر ہ قطرہ مثل شراب حرام ونارواہے اورنہ صرف حرام بلکہ پیشاب کی طرح مطلقا نجاست غلیظہ ہے۔یہی مذہب معتمد اوراسی پرفتوی ہے۔تنویرالابصارمیں ہے:
حرمھا محمد مطلقا وبہ یفتی۔ امام محمد علیہ الرحمہ نے اس کومطلقا حرام قراردیا اور اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ذکرہ الزیلعی وغیرہ واختارہ شارح الوھبانیۃ۔ اس کو زیلعی وغیرہ نے ذکرکیا اور شارح وہبانیہ نے اس کو اختیارفرمایا۔(ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶€۰
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۰€
#3151 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ وغیرہ کصاحب الملتقی والمواھب والکفایۃ والنھایۃ والمعراج وشرح المجمع وشرح دررالبحار والقہستانی والعینی حیث قالوا الفتوی فی زماننا بقول محمد لغلبۃ الفساد الخ۔ اس کے قول وغیرہ سے مرادیہ حضرات ہیں جیسے صاحب ملتقی صاحب مواہبصاحب کفایہصاحب نہایہصاحب معراج صاحب شرح المجمعصاحب شرح دررالبحارقہستانی اورعینی کیونکہ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں غلبہ فساد کے سبب فتوی امام محمدکے قول پرہے الخ(ت)
غنیہ ذوی الاحکام میں ہے:
قال فی البرھان والحقھا محمد کلھا بالخمر فی المشھور عنہ کالشافعی ومالکی وبہ یقتی ۔ برہان میں کہاکہ امام محمد نے ان تمام کومشہورقول میں شراب کے ساتھ ملحق کیاہے جیساکہ امام شافعی وامام مالك کہتے ہیںاور اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔(ت)
طحطاوی علی الدرمیں ہے:
قال الحموی واعلم ان الاصح المختار فی زماننا ان کل ما اسکر من الاشربۃ المذکورۃ بعمومھا کثیرہ وقلیلہ حرام وھو قول محمد لحدیث کل مسکر حرام۔ حموی نے کہاجان لوکہ ہمارے زمانے میں اصح ومختاریہ ہے کہ مذکورہ نشہ آور شرابوں میں سے علی العموم ہرایك کاقلیل وکثیرحرام ہے اوریہ ہی امام محمدکاقول ہےاس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ہرنشہ آورحرام ہے۔(ت)
وجیزکردری میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی قلیلہ وکثیرہ حرام قالوا و بقول محمد نأخذ ومذھب محمد انہ حرام نجس الخ۔ امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا:اس کاقلیل وکثیرحرام ہےعلماء نے کہاہم امام محمدکے قول سے اخذکرتے ہیں اورامام محمد کا مذہب یہ ہے کہ یہ نجس ہے الخ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۹€۳
غنیہ ذوی الاحکام علی الدررالحکام کتاب الاشربہ ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۸€۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاشربہ المکتبۃ العربیہ∞،کانسی روڈ،کوئٹہ ۴ /۲۲۵€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الاشربہ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲۷۔۱۲۶€
#3152 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
خلاصہ میں نوازل فقیہ ابواللیث سے ہے:
عند محمد حرام شربہ قال الفقیہ وبہ ناخذ۔ امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیك اس کاپینا حرام ہےفقیہ نے کہاہم اسی کولیتے ہیں۔(ت)
فتاوی ہندیہ میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
ذکرمحمد رحمہ اﷲ تعالی فی الکتب کل ماھو حرام شربہ اذا اصاب الثوب منہ اکثر من قدرالدرھم یمنع جوازالصلوۃ قالوا وھکذا روی ھشام عن ابی یوسف حکی عن الفضلی انہ قال علی قول ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی یجب ان یکون نجسا نجاسۃ خفیفۃ والفتوی علی انہ نجس نجاسۃ غلیطۃ اھ اعلم ان المحقق صاحب البحر کان بحث فی البحر ترجیح التغلیظ بناء علی اصل مھدہ سابقا و نازعہ اخوہ المدقق فی النھر محتجا بما فی المنیۃ صلی وفی ثوبہ دون الکثیر الفاحش من السکر اوالمنصف تجزیہ فی الاصح اھ وذکرفی الدرخلاف الاخوین و لم یزد وقال العلامۃ امام محمدعلیہ الرحمہ نے کتاب میں فرمایا کہ جس شیئ کاپینا حرام ہے اگروہ مقدار درھم سے زائدکپڑے کولگ جائے تو اس کپڑے میں نماز ممنوع ہوگی۔علماء نے کہاکہ ہشام نے امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے یونہی روایت کیاہے۔فضلی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کے قول پرضروری ہے کہ وہ کپڑا نجاست خفیفہ کے ساتھ نجس ہواورفتوی اس پر ہے کہ وہ نجاست غلیظ کے ساتھ نجس ہے اھجان لوکہ امام محقق صاحب البحرنے بحرمیں اس پربحث کرتے ہوئے نجاست غلیظہ کو ترجیح دی اور اس کی بنیادایسے قاعدہ پر رکھی جس کو انہوں نے اولا مقرر فرمایااور ان کے بھائی مدقق نے نہرمیں ان کی مخالفت کی استدلال کرتے ہوئے اس مسئلہ سے جومنیہ میں مذکور ہے کہ کسی شخص نے اس حال میں نمازپڑھی کہ اس کے کپڑوں میں شراب یا انگورکاشیرہ لگاہواتھا جوکہ کثیرفاحش نہ تھا تو مذہب اصح میں اس کی نمازہوگئی اھ درمیں دونوں بھائیوں کا
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاشربہ المکتبۃ العربی ∞کانسی روڈ کوئٹہ ۴ /۲۰۵€
فتاوٰی ھندیۃ کتاب الاشربہ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۱€۲
النہرالفائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۷€
#3153 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ابراھیم الحلبی فی حواشی الدربعد ذکرما فی المنیۃ ھو نص فی التخفیف فکان ھو الحق لان فیہ الرجوع الی الفرع المنصوص فی المذھب واما ترجیح صاحب البحر فبحث منہ اھ ونقلہ العلامۃ الطحطاوی مقرا علیہ واستدرك علیہ المحقق الشامی بمافی شرح النقایۃانھا غلیظۃ فی ظاھر الراویۃ خفیفۃ علی قیاس قولھما اھ ثم قال"ینبغی ترجیح التغلیظ فی الجمیع یدل علیہ مافی غرر الافکار من کتاب الاشربۃ حیث قال وھذہ الاشربۃ عند محمد وموافقیہ کخمر بلاتفاوت فی الاحکام و بھذا یفتی فی زماننا اھ"قال فقولہ بلاتفاوت فی الاحکام یقتضی انھا مغلظۃ فتدبر اھ۔اقول: عدم التفاوت وان سلم ففی الا شربۃ الثلثۃ المحرمۃ بالاتفاق بین ائمتنا وھی الباذق والسکر والنقیع و فیھا کلام الغرر اما سائر الا شربۃ المسکرۃ المحرمۃ عند محمد مطلقا فالتفاوت اختلاف ذکرکیاہے اس پراضافہ نہیں کیا۔علامہ ابراہیم نے منیہ کے مذکورہ مسئلہ کے ذکرکے بعد حواشی در میں فرمایا یہ تخفیف میں نص ہے اوریہی حق ہے کیونکہ اس میں اس فرع کی طرف رجوع ہے جو مذہب میں منصوص ہے۔رہی صاحب بحر کی ترجیح تو وہ ان کی بحث ہے اھ علامہ طحطاوی نے اس کو برقراررکھتے ہوئے نقل فرمایاعلامہ شامی نے اس کی اصلاح فرمائی اس کے ساتھ جو شرح نقایہ میں ہے کہ ظاہرالروایہ میں یہ نجاست غلیظہ ہے اورشیخیین کے قول کے مطابق خفیفہ ہے اھ پھرفرمایا کہ ان سب میں ترجیح نجاست غلیظہ کو ہونی چاہئے۔اس پردلیل وہ ہے جوغررالافکار کی کتاب الاشربہ میں ہےجہاں فرمایا کہ یہ تمام شرابیں امام محمدعلیہ الرحمہ اوران کی موافقت کرنے والوں کے نزدیك تمام احکام میں بلاتفریق خمر کی طرح ہیں اورہمارے زمانے میں فتوی اسی پر دیاجاتاہے اھ فرمایا کہ اس کاقول"بلاتفاوت"تقاضاکرتاہے کہ یہ نجاست غلیظہ ہے پس غورکر اھ۔اقول:(میں کہتاہوں) عدم تفاوت اگرتسلیم کرلیاجائے تو ان تین شرابوں جن کی حرمت پرہمارے ائمہ کرام متفق ہیں یعنی باذقسکراور نقیع میں غرر کاکلام ہےاورباقی وہ نشہ آورشرابیں جوامام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیك مطلق حرام ہیں ان میں تفاوت
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الحلبی کتاب الطہارۃ باب الانجاس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۱۳€
ردالمحتار بحوالہ الحلبی کتاب الطہارۃ باب الانجاس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۱۳€
#3154 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فیہا بین حیث لایحد بشرب القلیل منھا بخلاف الخمر فلایفید التغلیظ فی الجمیع والعجب من ھؤلاء الجلۃ غفلواکلھم عن نص صریح فی المذھب مذیل بآکد الفاظ الفتوی بل التغلیظ فی المنصف منصوص علیہ فی المتون کالوقایۃ والنقایۃ والاصلاح وغرر الاحکام والتنویر وغیرھا وبما نقلنا سقط ما فی النھر واستغنی عن بحث البحر وتبین ان الکل غلیظۃ علی المفتی بہ واﷲ الحمد۔ ظاہر ہے کیونکہ ان کے قلیل میں حدجاری نہیں ہوتی بخلاف خمرکےلہذا یہ تمام میں حرمت غلیظہ کافائدہ نہ دے گا۔اوران تمام بزرگوں پرحیرت ہے کہ وہ تمام اس نص سے غافل رہے جو مذہب میں صریح اورالفاظ فتوی کوزیادہ مؤکد طورپر ظاہرکرنے والی ہے بلکہ منصف کی حرمت غلیظہ پرتومتون میں نص واردہے جیسے وقایہنقایہاصلاحغررالاحکام اورتنویر وغیرہ۔ا ورجوہم نے نقل کیااس سے وہ اعتراض ساقط ہوگیا جو نہر میں ہےاوربحرکی بحث سے بھی استغناء حاصل ہوگیا اور ظاہرہوگیا کہ مفتی بہ قول کے مطابق سب میں نجاست غلیظہ ہےاوراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔(ت)
اس مذہب پرجبکہ مسکرتاڑی کے اجزاء روٹی میں شریك ہوں تو وہ روٹی ضرورحرام وناپاك ہے اوراس کابیچنا بھی حرام و ناروااوراس کے دام بھی مال حراماورپہلے تھوڑے آٹے میں تاڑی ملاکرخمیرکرنا پھریہ خمیرآردکثیرمیں نفع نہ دے گا اگر آٹے میں پانی ڈال کرگوندھ جانے سے پہلے خمیرملایا جب تو ظاہرہے کہ اس ناپاك خمیرسے وہ ساراپانی ناپاك اوراس سے سب آٹانجس ہوگیااوراگرگوندھ کرتیارہوجانے کے بعد بھی خمیردیاتوبھی یہ طریقہ ہرگزنہیں کہ آٹے میں ایك کنارے کویاصرف بیچ میں خمیررکھ دیا اورسب آٹا اس کی ہواسے خمیرہوگیا بلکہ ضرور وہ خمیر آٹے میں خوب ملاتے خلط کرتے ہیں کہ اس کے اجزا تمام آرد میں مل جاتے ہیں یوں بھی حکم حرمت ہی رہا کسی حلال چیز میں حرام چیزکااگرچہ پاك ہوایساخلط ہوجانا اسے حرام کر دیتاہے اوریہ توحرام وناپاك دونوں تھادرمختارمیں ہے:
لوتفتت فیہ نحو ضفدع جازالوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ۔ اگرچہ پانی میں مینڈك جیساجانورریزہ ریزہ ہوجائے گا تواس پانی کے ساتھ وضوتوجائزہے مگر اس کو پیناجائزنہیں اس لئے کہ مینڈك کاگوشت حرام ہے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب المیاہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵€
#3155 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حلیہ میں ہے:
قال شیخنا وبہ صرح فی التجنیس فقال یحرم شربہ ۔ ہمارے شیخ ن فرمایا اوراسی کے ساتھ تجنیس میں بھی تصریح کی گئی ہےفرمایا اس کوپیناحرام ہے(ت)
اورگاد میں نشہ نہ ہونابھی نفع نہ دے گا جبکہ عدم سکراس وجہ سے ہوکہ اس میں ثقل زیادہ ہےاجزائے رقیقہ کہ مورث تفریج وتبخیر سکری ہوتے ہیں اتنے نہیں کہ ان کااثرظاہرہواوپرمعلوم ہولیاکہ ہرمسکرپانی کاقطرہ قطرہ ذرہ ذرہ شراب کی طرح حرام اورپیشاب کی طرح نجس ہے اور گادان اجزاسے خالی نہیں ہوسکتی اوربالفرض خالی ہو تو ناپاك توضرورہے کہ آخراسی پیشاب کاتلچھٹ ہے۔ہدایہ میں ہے:
یکرہ شراب دردی الخمر والامتشاط بہ لان فیہ اجزاء الخمر والانتفاع بالمحرم حرامولایحد شاربہ ان لم یسکر لان الغالب علیہ الثفل فصارکما اذا غلب علیہ الماء بالامتزاج اھ۔ شرا ب کا تلچھٹ پینا اور اس کے ساتھ بالوں کوکنگھا کرنامکروہ ہے کیونکہ اس میں شراب کے اجزاء ہیں اورحرام سے انتفاع بھی حرام ہےتلچھٹ پینے والے پر حد جاری نہیں کی جائے گی اگروہ نشہ نہ دےکیونکہ اس میں غالب میل کچیل ہوتی ہے تو وہ ایساہی ہوگیاجس میں پانی کی ملاوٹ غالب ہوجائے اھ (ت)
مگرامام الاطباء داؤد انطاکی نے تذکرہ میں تصریح کی کہ سیندھی یعنی وہ پانی کہ تاڑی کی طرح ناریل کے درخت سے لیاجاتاہے صرف یکشبانہ روزمسکررہتا ہے اس کے بعد سخت تندوتیز سرکہ ہوجاتا ہے۔
حیث ذکر فی ذکر النارجیل قد یفسد طلعہ اوجریدہ ویلقم کوزافیسیل منہ لبن ویسمی السیندی یبقی یوما علی الحلاوۃ والدسومۃ ولہ افعال اشد من الخمر وھو خیر منھا ثم یکون خلابالغا قاطعا ۔ کیونکہ انہوں نے نارجیل کے ذکرمیں فرمایاکہ اس کاگابھا اورٹہنی کبھی فاسد ہوجاتی ہے اورکوزاکا دھانا بندہوجاتاہے اس سے دودھ بہنے لگتاہے جس کو سیندھی کہتے ہیں وہ ایك دن تك اپنی حلاوت اورچکنائی پربرقرار رہتاہے اوراس کے افعال شراب سے سخت ترہیں اور وہ اس سے بہترہے پھروہ تندوتیزسرکہ بن جاتاہے۔(ت)
حوالہ / References التعلیق المجلی بحوالہ حلیۃ المحلی فصل فی البئر ∞مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۲۳€
الہدایۃ کتاب الاشربہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۹۷۔۴۹۶€
تذکرہ اولوالالباب لداؤد انطاکی حرف النون ذکرنارجیل مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۳۲۷€
#3156 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
تاڑی اورسیندھی قریب قریب ہیں کہ تاڑی بھی نارجیل ہی کی ایك نوع ہے اگرثابت ہوکہ یہ بھی ایك وقت معین شبانہ روز خواہد زائد کے بعد سرکہ ہوجاتی ہے اورگاد میں قوت سکریہ نہ رہنا اس بناپرہے تو اب اس کی طہارت وحلت میں شبہہ نہیں اور روٹی جوایسی گادسے خمیر کی جائے یقینا حلال وطیباور اس کی بیع رواہےیونہی اگرپایہ ثبوت کوپہنچے کہ مدت مقررہ پر اس کے اجزاء ضرورسرکہ ہوجاتے ہیں یہاں تك کہ وہ جز بھی آتے میں مل کر آگ پر پك چکے تو اس صورت میں اس مدت کے مرور پرروٹی کی طہارت وحلت وجوازبیع کاحکم ہوجائے گا اگرچہ ابتداء اس میں مسکراجزاء ملے ہوں کہ جب وہ اجزاء مسکر نہ رہے سرکہ ہو گئے طاہروحلال ہوگئے اورروٹی کی حرمت ونجاست جوانہیں کے باعث تھی زائل ہوگئی۔درمختارمیں ہے:
لوعجن خبز بخمر صب فیہ خل حتی یذھب اثر فیطھرہ۔ اگرشراب میں آٹا گوندھ کررو ٹی پکائی گئی اور اس میں سرکہ ڈالاگیا جس سے شراب کااثرجاتارہا توپاك ہوجائے گی۔(ت)
رد المحتارمیں ہے:
لانقلاب مافیہ من اجزاء الخمر خلا۔ کیونکہ اس میں جوخمر کے اجزأتھے وہ سرکہ کی طرف منقلب ہو گئے ہیں(ت)
اوراس کاثبوت قابل قبول نہ ہو تو وہی حکم نجاست وحرمت رہے گا
لان موجبھا معلوم ودلیل المزیل معدوم والیقین لایزول بالشک۔ کیونکہ اس کاموجب معلوم اور دلیل مزیل معدوم ہے اوریقین کبھی شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔(ت)
یہ سب بربنائے مذہب مفتی بہ تھا اوراصل مذہب کہ شیخین مذہب رضی اﷲ تعالی عنہما کاقول ہے
اعنی طھارۃ المثلث العنبی والمطبوخ التمری و الزبیبی وسائر الاشربۃ من غیرالکرم میری مرادپاك ہونا اس انگوری شراب کا جس کا دوثلث خشك ہوگیاہوکھجور اورزبیب کاجس کوپکایاگیاہو اورانگور اورکھجورکے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الانجاس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۶€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۳€
#3157 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
والنخلۃ مطلقا وحلھا کلھا دون قدر الاسکار۔ علاوہ تمام شرابوں کاپاك ہونا اور ان کاحلال ہونا جبکہ مقدار مسکر سے کم ہوں۔(ت)
حاشایہ بھی قول ساقط وباطل نہیں بلکہ بہت باقوت ہے خوداصل مذہب یہی ہے اوریہی جمہورصحابہ کرام حتی کہ حضرات اصحاب بدررضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی ہےیہی قول امام اعظم ہےعامہ متون مذہب مثل مختصرقدوری وہدایہ و وقایہ و نقایہ وکنز وغرر واصلاح وغیرہا میں اسی پرجز واقتصارکیااکابرائمہ ترجیح وتصحیح مثل امام اجل ابوجعفرطحاوی وامام اجل ابوالحسن کرخی واما مشیخ الاسلام ابوبکر خواہرزادہ وامام اجل قاضی خاں وامام اجل صاحب ہدایہ رحمہم اﷲ تعالی نے اسی کوراجح ومختار رکھا بلکہ خودامام محمد نے کتاب الآثار میں اسی پر فتوی دیا اسی کو بہ ناخذ(ہم اسی کولیتے ہیں۔ت)فرمایاعلمائے مذہب نے بہت کتب معتمدہ میں اس کی تصحیح فرمائی یہاں تك کہ آکدالفاظ ترجیح علیہ الفتوی سے بھی تذییل آئی۔خزانۃ المفتین میں ہے:
فی الھدایۃ والنھایۃ وفتاوی قاضی خان وظھیرالدین والخلاصۃ وفتاوی الکبری وفتاوی اھل سمرقند والحمیدی الاصح ماعلیہ ابوحنیفۃ وابویوسف رحمھما اﷲ تعالی ۔ ہدایہنہایہفتاوی قاضیخانفتاوی ظہیرالدینخلاصہفتاوی کبریفتاوی اہل سمرقند اورحمیدی میں ہےکہ اصح وہ ہے جس پرامام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رحمہمااﷲ تعالی ہیں۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
وھو الصحیح لان الخمر موعودۃ فی العقبی فینبغی ان یحل من جنسہ فی الدنیا انموذجا ترغیبا کما فی المضمرات ولئلا یلزم تفسیق الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم ۔ اوریہی صحیح ہے کیونکہ شراب آخرت میں موعود ہے لہذا ترغیب کے لئے اس کی جنس میں سے دنیا میں حلال ہونا چاہئے جیسامضمرات میں تاکہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو فاسق قراردینالازم نہ آئے۔(ت)
ہندیہ میں فتاوی کبری سے ہے :
العصیراذاشمس حتی ذھب ثلثاہ یحل شربہ عند ابی حنیفۃ و انگورکاجوس جب دھوپ میں دوثلث خشك ہوجائے توامام ابو حنیفہ اورامام ابویوسف علیہما الرحمۃ کے
حوالہ / References خزانۃ المفتین کتاب الحدود فصل فی الشرب ∞قلمی نسخہ ۱ /۱۸۶€
جامع الرموز کتاب الاشربہ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران۳ /۳۳۳€
#3158 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی وھو الصحیح ۔ نزدیك اس کاپیناحلال ہوتاہےاوریہی صحیح ہے۔(ت)
درمنتفی میں ہے:
وصحح غیرواحد قولھما۔ متعدد علماء نے شیخین کے قول کوصحیح قراردیاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لبن الرماك اذا اشتدلم یحل وصحح فی الھدایۃ حلہ۔ گھوڑی کادودھ جب جوش کھاکرگاڑھا ہوجائے توحلال نہیں ہدایہ میں اس کے حلال ہونے کو صحیح قراردیاگیاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
بہ یفتی ای بتحریم کل الاشربۃ وکذا بوقوع الطلاق قال فی النھر وفی الفتح وبہ یفتی لان السکر من کل شراب حرام وعندھما لایقع بناء علی انہ حلال وصححہ فی الخانیۃ ۔ اسی کے ساتھ ہی فتوی دیاجائے گا یعنی تمام شرابوں کی حرمت کااوراسی طرح طلاق کے واقع ہونے کا۔نہرمیں کہاہے کہ فتح میں ہے اسی کے ساتھ فتوی دیاجائے گا کیونکہ نشہ ہر شراب سے حرام ہوتاہےاور شیخین کے نزدیك طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ حلال ہے۔خانیہ میں اسی کو صحیح قراردیاہے(ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے:
فی فتاوی قاضی خان المتخذ من غیرالعنب والتمر مثل السکر والعسل والفانیذ والحنطۃ والشعیر و الذرۃ ومااشبہ ذلك اذاغلا واشتد وقذف بالزبد و طبخ فتاوی قاضیخان میں ہے کہ انگور اورکھجور کے غیر یعنی شکر شہدمصریگندمجوجوار اور ان جیسی دیگراشیاء سے بنائی ہوئی شرابیں جب جوش کھاکرگاڑھی ہوجائیں اور ان پرجھاگ آجائے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الاشربۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۱۲€
الدرالمنتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۷۲€
الدرالمختار کتاب الاشربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۰€
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۳€
#3159 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ادنی طبخۃ یحل فی قول الشیخین واختلف فی قول محمد قیل یحل شربہ مادون السکر وقیل لایحل اصلا وعنہ ایضا انہ قال اکرہ ذلك وان لم یطبخ فعن الشیخین روایتیان فی روایۃ لایحل شربہ کنقیع الزبیب غیرالمطبوخ وفی روایۃ یحل شربہ و ذکرفی الفتاوی المنصوریۃ ان الفتوی علی انہ لا یشترط الطبخ لحلہ ۔ اوران کوتھوڑا ساپکالیاجائے توشیخین کے نزدیك حلال ہیں اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے قول میں اختلاف ہےبعض نے کہاجو نشہ والی مقدارسے کم ہوں حلال ہیں اور بعض نے کہاکہ مطلقا حلال ہیں اورانہیں اسے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں اس کو مکروہ جانتاہوں اوران کوپکایانہ جائے توشیخین سے دوروایتیں ہیں ایك روایت میں اس کاپینا حلال نہیں ہے جیساکہ کہ زبیب کاوہ رس جس کوپکایانہ گیاہواور ایك روایت میں ہے کہ اس کاپیناحلال ہے۔فتاوی منصوریہ میں مذکورہے فتوی اس پرہے کہ اس کے حلال ہونے کے لئے پکاناشرط نہیں۔(ت)
فتح اﷲ المعین میں ہے:
من ادلۃ حلہ ماقال فی الاختیارعن ابن ابی لیلی قال اشھد علی البدریین من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم یشربون النبیذ فی الجرار الخضر وقد نقل ذلك عن اکثر الصحابۃ ومشاھیر ھم قولاوفعلا حتی قال ابوحنیفۃ انہ مما یجب اعتقاد حلہ لئلا یؤدی الی تفسیق الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم ۔ اس کے حلال ہونے کے دلائل میں سے ایك دلیل وہ ہے جو اختیارمیں ابن ابی لیلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بدری صحابہ کرام کے بارے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ سبزصراحیوں میں نبیذ پیتے تھے اوریہ بات اکثرمشاہیرصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے قولا اورفعلا منقول ہے یہاں تك کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنا واجب ہے تاکہ صحابہ کرام کوفسق کی طرف منسوب کرنا لازم نہ آئے۔(ت)
حوالہ / References شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الاشربہ ∞نولکشورلکھنؤ ۳ /۱۸۸€
فتح المعین کتاب الاشربہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۴۲۳€
#3160 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
خانیہ میں ہے:
لابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی ماروی ان رجلا اتی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بمثلث قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ما اشبہ ھذا بطلاء الابل کیف تصنعونہ قال الرجل یطبخ العصیر حتی یذھب ثلثاہ ویبقی ثلثہ فصب عمر رضی اﷲ تعالی عنہ علیہ الماء وشرب ثم ناول عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ ثم قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا رابکم شرابکم فاکسروہ بالماء وعن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا ذھب ثلثا العصیر ذھب حرامہ وریح جنونہ و روی عن ابراھیم النخعی رحمہ اﷲ تعالی مایرویہ الناس کل م سکر حرام خطاء لم یثبتانما الثابت کل سکرحرام وکذا مایرویہ الناس ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام لیس بثابت و ابراھیم النخعی رحمہ اﷲ تعالی کان حبرا فی الحدیث ۔ امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کی دلیل وہ روایت ہے کہ ایك شخص سیدحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں ثلث لے کرآیاآپ نے فرمایا یہ اونٹوں کے طلاء کے ساتھ بہت مشابہت رکھتاہے تم اس کوکیسے بناتے ہو اس نے کہاہم انگور کے رس کو پکاتے ہیں یہاں تك کہ اس کادوثلث خشك ہوجاتاہے اورایك ثلث باقی رہ جاتاہے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پرپانی ڈال کر پی لیاپھر حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ کودے دیاپھر حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب تمہیں تمہاری شراب شك میں ڈالے توپانی سے اس کی تیزی کوتوڑدو۔ اور حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب انگور کے شیرہ کادوثلث پکانے سے خشك ہوجائے تو اس کی حرمت اور نشہ جاتا رہتاہےاور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ لوگ جویہ روایت کرتے ہیں کہ ہرمسکر(نشہ آور)حرام ہےیہ غلط ہے اورثابت نہیں ہےالبتہ ثابت یہ ہے کہ ہرسکر(نشہ)حرام ہےاسی طرح لوگوں کایہ روایت کرنا کہ جومسکرہے اس کاقلیل وکثیرحرام ہے ثابت نہیں حالانکہ ابراہیم نخعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ حدیث متبحر عالم ہیں۔ (ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب الاشربۃ فصل فی معرفۃ الاشربۃ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۶۷۴€
#3161 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
لابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی الآثار التی وردت فی اباحۃ النبیذ الشدید قولا وفعلا ذکرھا محمدرحمہ اﷲ تعالی فی الکتاب وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی فی الکتاب وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انہ قال من شرائط السنۃ والجماعۃ ان لا یحرم النبیذ الجرلان فی تحریمہ تفسیق کبار الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھموعنہ انہ قال لا احرم النبیذ الشدید دیانۃ ولااشربہ مروئۃ اجمع کبار الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم علی اباحۃ النبیذ واحتاطوا فی شربہ لاجل الاختلاف وکذا السلف عدھم کانوا یشربون نبیذ الجر بحکم الضرورۃ لاستمراء الطعام ۔ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالی کی دلیل وہ آثار ہیں جوقولا اورفعلا گاڑھی نبیذ کی اباحت پروارد ہیں۔اس کو امام محمدعلیہ الرحمہ نے کتاب میں ذکرفرمایا۔امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذکوحرام نہ قراردینا سنت وجماعت کی شرائط میں سے ہے کیونکہ اس کو حرام قرار دینے میں صحابہ کبار رضی اﷲ تعالی عنہم کی طرف فسق کو منسوب کرنا لازم آتاہےاورانہی سے منقول ہے کہ میں گاڑھی نبیذ کو از راہ دیانت حرام قرارنہیں دیتا اوربطورمروت اس کونہیں پیتا۔نبیذ کی اباحت پرصحابہ کبار رضی اﷲ تعالی عنہم کا اجماع ہے مگروہ بسبب اختلاف کے اس کو پینے میں احتیاط کرتے تھے۔اسی طرح ان کے بعد اسلاف کسی ضرورت کے تحت گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ پیتے تھے مثلا کھاناہضم کرنے کے لئے۔(ت)
خلاصہ میں ہے:
عن محمد بن مقاتل الرازی انہ قال لواعطیت الدنیا بحذافیرھا ماشربت المسکر یعنی نبیذ التمر والزبیب ولو اعطیت الدنیا بحذافیرھا ما افتیت بانہ حرام ۔ محمدبن مقاتل رازی نے کہااگر مجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی مسکریعنی کھجوراورزبیب کانبیذنہیں پیوں گااوراگرمجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی اس کے حرام ہونے کافتوی نہیں دوں گا۔(ت)
غایۃ البیان علامہ اتقانی میں ہے:
واحتج ابوحنیفۃ وابویوسف فی قولہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاشربۃ فصل فی معرفۃ الاشربۃ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۶۷۶€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاشربۃ ∞مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۰۵€
#3162 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
الاخر بقولہ تعالی" یایہا الذین امنوا انما الخمر والمیسر و الانصاب و الازلم رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ﴿۹۰﴾ انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العدوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فہل انتم منتہون ﴿۹۱﴾"وقد بین العلۃ فی تحریم الخمر وھی الصدعن ذکراﷲ وعن الصلاۃ وایقاع العداوۃ و ھذہ المعانی لاتحصل بشرب القلیل فلوخلینا و ظاھر الآیۃ لکنا نقول بان القلیل من الخمر لایحرم و لکن ترکنا الظاھر فی القلیل من الخمر بالاجماع ولا اجماع فیما تنازعنا فیہ من الاشربۃ علی حرمۃ القلیل منھا مباحا علی علۃ ظاھر الایۃ لانہ مما لا یورث العداوۃ والبغضاء ولاالصد عن ذکر اﷲ وعن الصلوۃ ۔ تعالی علیہ نے اپنے دوسرے قول میں اﷲ تعالی کے اس ارشاد سے استدلال کیاہے کہ"اے ایمان والو! بیشك خمرجوابت اورپانسے نجس ہیں شیطانی عمل سے توان سے بچوتاکہ تم فلاح پاؤبیشك شیطان خمراور جوئے سے تمہارے درمیان بغض وعداوت ڈالنا چاہتاہے اورتمہیں اﷲ تعالی کے ذکراور نماز سے روکتاہے توکیا تم باز آؤگے"۔تحقیق یہاں تحریم خمر کی جو علت بیان کی گئی وہ ذکرالہی اورنماز سے روکنا اوربغض و عداوت واقع کرنا ہے اوریہ امورقلیل کے پینے سے حاصل نہیں ہوتے اگر ہم آیت کریمہ کو اس کے ظاہر پر چھوڑتے تو یوں کہتے کہ خمرمیں سے قلیل حرام نہیں ہے لیکن ہم نے اجماع کے ساتھ آیت کریمہ کے ظاہر کوترك کر دیاہے اورجو شرابیں ہمارے درمیان متنازعہ ہیں ان کے قلیل کی حرمت پر اجماع واقع نہیں ہوالہذا ان کاقلیل آیت کریمہ کے ظاہر کی وجہ سے مباح رہے گا کیونکہ وہ نہ توبغض وعداوت کاموجب ہے اور نہ ہی ذکرخداونماز سے روکتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال شیخ الاسلام خواھرزادہ رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ ذکرابن قتیبۃ فی کتاب الاشربۃ باسنادہ عن زیدبن علی بن الحسین علی رضی اﷲ تعالی عنھم انہ شرب ھو واصحابہ نبیذا شدیدا فی ولیمۃ فقیل لہ یا ابن رسول اﷲ حدثنا شیخ الاسلام خواہرزادہ نے اپنی شرح میں فرمایا کہ ابن قتیبہ نے کتاب الاشربہ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت زید بن علی بن حسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم کے بارے میں ذکرکیاکہ انہوں نے اوران کے ساتھیوں نے ایك ولیمہ میں گاڑھی نبیذ پی تو ان سے کہاگیا اے ابن رسول! ہمیں نبیذسے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ
حوالہ / References غایۃ البیان
#3163 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بحدیث سمعتہ من ابائك عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی النبیذ فقال حدثنی ابی عن جدی علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال ینزل امتی علی منازل بنی اسرائیل حذوا لقذۃ بالقذۃ والنعل بالنعل ان اﷲ تعالی ابتلی بنی اسرائیل بنھر طالوت واحل لھم منہ الغرفۃ وحرم منہ الری وان اﷲ ابتلاکم بھذہ النبیذ و احل منہ الری وحرم منہ السکر وحدیث ابن زیاد الذی رویناہ عن ابن عمر فی مسئلۃ الخلیطین من ادل ادلائل وان المراد مارواہ الخصم القدر المسکر لاالقلیل لان احد رواۃ الحدیث الذی احتج بہ الخصم ابن عمر فلوکان القلیل ھو المراد لم یعمل بخلاف مارواہ ولم یفسقہ ابن زیاد وکذلك قول ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما حرمت الخمر بیعنھا والسکر من کل شراب دلیل علی ان المراد من حدیث الخصم القدر المسکر لاالمسکر لان احد رواۃ تعالی علیہ وسلم کی وہ حدیث سنائیں جوآپ نے اپنے آباؤ اجداد سے سنی ہے توانہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حدیث بیان کی میرے والد نے انہوں نے میرے جد حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم سے کہ میری امت بنی اسرائیل کے طورطریقے اپناکریوں ان کے برابرہوجائے گی جیسے تیرتیر کے اورجوتاجوتے کے برابرہوتا ہےاﷲ تعالی نے بنی اسرائیل کاامتحان نہرطالوت کے ساتھ لیاکہ ان کے لئے چلوبھرپانی حلال اورسیرہوکر پینا حرام کیا اورتمہارا امتحان اﷲ تعالی نے اس نبیذ کے ساتھ لیا اس کوسیرہوکر پیناحلال اورحدنشہ تك پیناحرام کیا ہے۔ حدیث ابن زیاد جس کو ہم نے مسئلہ خلیطین میں حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاوہ اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اورمخالف نے جوروایت کیا ہے اس سے مراد قدر مسکرہے نہ کہ قلیلکیونکہ مخالف نے جس حدیث سے استدلال کیاہے اس کے راویوں میں سے ایك سیدنا ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہ ہیں۔اگر اس سے قلیل مرادہوتا وہ اپنی روایت کے خلاف نہ کرتے اور نہ ہی ابن زیاد ان کی طرف فسق کومنسوب کرتے۔اسی طرح ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کاقول کہ خمرتو بعینہ حرام ہے جبکہ باقی شرابوں سے نشہ آور حرام ہے اس بات کی دلیل ہے کہ مخالف کی روایت کردہ حدیث سے مراد قدرمسکر ہے نہ کہ قلیل
#3164 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ذلك الحدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما فیبعد فی العقول ان یروی ابن عباس حدیثا ثم یقول بخلافہوقد اطنب الکرخی رحمہ اﷲ فی روایۃ الآثار عن الصحابۃ والتابعین بالاسانید الصحاح فی مختصرہ فی تحلیل النبیذ الشدید ترکنا ذکرھا مخافۃ التطویل و الحاصل ان الاکابر من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واھل بدرکعمروعلی وعبداﷲ بن مسعود وابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنھم کانوایحللون شرب النبیذ وکذاالشعبی و ابراھیم النخعی وقال فی شرح لاقطعوقدسلك بعض الجہال فی ھذہ المسئلۃ طریقۃ قصدبھا الشنیع والفسوق عندالعواملما ضاق علیہ طریق الحجۃ فقال روی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال لیشربن ناس من امتی الخمر ویسمونھا باسماء قال ھذا القائل وھم اصحاب ابی حنیفۃ وھذا کلام جاھل بالاحکام والنقل والآثار ومتعصب قلیل الورع لایبالی ماقال ثم یقال لھذا القائل مارمیت بھذا القول اصحاب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وانما السلف الصالح اردت کیونکہ حدیث مذکورکے راویوں میں سے ایك سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہمابھی ہیں اوریہ بات عقل سے بعید ہے کہ ابن عباس رضی ا ﷲ تعالی عنہما ایك حدیث روایت فرمائیںپھرخود اس کے خلاف فرمائیںگاڑھی نبیذکے حلال ہونے سے متعلق صحابہ وتابعین کے آثارکوصحیح سندکے ساتھ روایت کرنے میں امام کرخی علیہ الرحمۃ نے اپنی مختصرمیں بہت طوالت فرمائی ہم نے طوالت کے ڈرسے ان کے ذکر کو ترك کردیا۔خلاصہ یہ کہ اکابر اصحاب رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور اہل بدر جیسے حضرت عمرعلیعبداﷲ ابن مسعود اورابومسعود رضی اﷲ تعالی عنہم نبیذ کے پینے کو حلال قراردیتے تھے اوریہی موقف ہے شعبی اورابراہیم نخعی کا۔ شرح اقطع میں ہے کہ ایك جاہل نے اس مسئلہ میں ایساراستہ اختیارکیاجس سے اس کا مقصدلوگوں کے ہاں برائی اورفسق کو رائج کرناہےجب اس کے لئے دلیل کاراستہ تنگ ہوگیاتو اس نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کافرمان ہے میری امت میں سے کچھ لوگ ضرور شراب پئیں گے اور اس کے مختلف نام رکھ لیں گےوہ لوگ امام ابوحنیفہ کے اصحاب ہیں۔یہ اس کا کلام ہے جواحکامنقل اورآثارسے جاہل اور متعصب اورتقوی میں بہت گھٹیا ہےاس کی پروانہیں کرتا کہ وہ کیاکہہ رہاہے۔پھراس قائل کو کہاجائے کہ جوکچھ تو نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی کے اصحاب کی طرف منسوب کیاہے اس سے تیرا
#3165 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ولم یمکنك التصریح بذلك لان اصحاب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ما ابتدعوا فی ذلك قولا بل قالوا ماقالہ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و وجوہ التابعین وزھادھم وکیف یظن بعمر وعلی وابن مسعود وابن عباس و عمار بن یاسر وعلقمہ بن الاسود انھم شربوالخمر غلطا فی اسمھا حتی استدرك علیھم ھذالقائل حقیقۃ الاسم ویحسن الظن بنفسہ و یسیئ الظن بلسفہان ھذہ الجرأۃ فی الدینوقال شیخ الاسلام خواھر زادہ فی شرحہ روی ان رجلا سال ابراھیم الحربی فی مدینۃ الاسلام فی جامع المنصور بالجانب الغربی فقال لنا امام یشرب النبیذا فأصلی خلفہ فقاللہ ابراھیم ارأیت لوادرکت علقمۃ والاسوداکنت تصلی خلفھما قال نعم ولم یفھم السائل الجواب فاعاد السوال فقال لہ ابراھیم قد اجبتکوالقیاس مع ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی لان اﷲ تعالی لم یحرم شیئا یقصدہ الناس من المحرمات فی الدنیا الااباح مایغنی عنہ الاتری انہ لما حرم ارادہ سلف صالحین ہیں جس کی تصریح کرناتیرے لئے ممکن نہیں کیونکہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے اصحاب نے یہ کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ وہی کچھ کہاہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کے صحابہ اور معزز و زاہد تابعین نے کہاہے۔اس کاکیاگمان ہے حضرت عمرعلیابن مسعودابن عباسعماربن یاسر اورعلقمہ بن اسود رضی اﷲ تعالی عنہم کے بارے میںکیا انہوں نے نام تبدیل کرکے شراب پی۔حتی کہ اس قائل نے ان پر حقیقی نام کے ساتھ اصلاح کی اوراپنے بارے میں حسن ظن جبکہ اسلاف کے بارے میں براگمان کیا بلاشبہہ یہ دین میں جسارت ہے۔شیخ الاسلام خواہرزادہ نے اپنی شرح میں کہا مروی ہے کہ ایك شخص نے مدینۃ الاسلام کی جامع منصورکی جانب غربی میں ابراہیم حربی سے سوال کیا کہ ہمارا امام نبیذ پیتاہے کیاہم اس کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں توابراہیم نے کہاتیراکیاخیال ہے اگرتوعلقمہ واسود کو پالے تو کیاتو ان کے پیچھے نمازپڑھے گا اس نے کہاہاں حالانکہ وہ سائل ابراہیم حربی کے جواب کو نہ سمجھ سکا چنانچہ اس نے دوبارہ وہی سوال کیاتوابراہیم نے فرمایابیشك میں تجھے جواب دے چکاہوں۔قیاس امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کامؤید ہے کیونکہ اﷲ تعالی نے دنیامیں محرمات میں سے کوئی چیزحرام نہ فرمائی جس کاقصد لوگ کرتے ہیں مگراس میں سے اتناکچھ مباح فرمایاجس سے لوگوں کی حاجت پوری ہوتی ہو۔کیاتونے
#3166 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
لحم الخنزیر والمیتۃ اباح انواعا من اللحوم تغنی عنھا ولما حرم نکاح المحارم والجمع بین المحارم اباح من الاجنبیات کذلك ھھنا فالشراب المطرب شیئ یقصدہ الناس فلما حرم منہ انواعا یجب ان یکون نوع منہ مباحا یغنی عنہ ویقوم مقامہ وذلك فیما قالاہفاما من حرم جمیع انواع الاشربۃ المطربۃ بحیث لایوجد من جنسہ مباح یکون ذلك خلاف الاصول وخلاف الاصول لایجوز اھ باختصار۔ دیکھانہیں کہ اﷲ تعالی نے جب خنزیرومردارکاگوشت حرام فرمایتا توکچھ اقسام گوشت کی حلال بھی فرمادیں جس سے لوگ اپنی حاجت پوری کرتے ہیں اور جب محرمات سے نکاح اوردوآپس میں محرم عورت کونکاح میں جمع کرنا حرام کیاتوغیرمحرم عورتوں کے ساتھ نکاح کوحلال فرمایا۔اسی طرح یہاں شراب کے مسئلہ میں ہوگا کیونکہ فرحت بخش شراب بھی ایك شیئ ہے جس کالوگ قصد کرتے ہیں۔جب اﷲ تعالی نے اس کی کچھ انواع کوحرام کیاتو اس کی کوئی قسم حلال بھی ضرور ہوگی جس سے لوگ نفع اٹھائیں اوروہ اس کے قائم مقام ہوجائے اور یہ بات شیخین کے قول میں حاصل ہوتی ہےلیکن جنہوں نے شراب کی فرحت بخش تمام اقسام کوحرام قراردیاکہ اس کی جنس میں سے کوئی نوع بھی مباح نہیں پائی جاتی تویہ خلاف اصول ہے اورخلاف اصول جائزنہیں اھ باختصار(ت)
محررمذہب سیدنا امام محمدرضی اﷲ تعالی عنہ کتاب المؤطا میں فرماتے ہیں:
اخبرنا مالك اخبرنا داؤد بن الحصین عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ عن محمود بن لبید الانصاری عن عمر بن الخطاب حین قدم الشام شکی الیہ اھل الشام وباء الارض اوثقلھا قالوا لا یصلح لنا الا ھذا الشراب قال اشربوا لعسل قالوا لایصلحنا العسل قال لہ رجل من اھل الارض ھل لك ان حضرت امام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنی سند کے ساتھ ہمیں خبردی کہ امیرالمومنین حضرت عمربن الخطاب رضی اﷲتعالی عنہ جب شام تشریف لائے تواہل شام نے اپنی سر زمین پر وباء اورگرانی کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس شراب کے علاوہ کوئی علاج موافق نہیں آتا۔آپ نے فرمایا شہد پیوانہوں نے کہا ہمیں شہدموافق نہیں آتا۔اسی علاقے کے
حوالہ / References غایۃ البیان
#3167 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اجعل لك من ھذا الشراب شیئا لایسکر قال نعم فطبخوہ حتی ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ فاتوا بہ الی عمر بن الخطاب فادخل اصبعہ فیہ ثم رفع یدہ فتبعہ یتمطط فقال ھذا الطلاء مثل طلاء الابل فامرھم ان یشربوہ فقال عبادۃ بن الصامت احللتھاواﷲ قال کلا واﷲ ما احللتھا اللھم انی لااحل لھم شیئا حرمتہ علیھم ولااحرم علیھم شیئا احللتہ لھم قال محمد (رحمۃ اﷲ تعالی علیہ)وبھذا ناخذ لاباس بشرب الطلاء الذی قد ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ وھو لایسکر فاما کل معتق یسکر فلاخیرفیہ ۔ ایك شخص نے کہا اے امیرالمومنین کیاآپ رغبت رکھتے ہیں کہ میں آپ کے لئے ایسی شراب تیار کروں جونشہ نہ دے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ان لوگوں نے انگورکے شیرہ کو اس حد تك پکایاکہ دوتہائی خشك ہوکر ایك تہائی رہ گیا وہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس لائے۔آپ نے اس میں انگلی داخل کرکے باہرنکالی تو وہ آپ کی انگلی کے ساتھ چمٹ گیا۔ آپ نے فرمایا یہ اونٹوں کی طلاء کی مثل طلاء ہے۔آپ نے ان لوگوں کوفرمایا کہ اس کوپیو۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا کیا بخدا آپ نے اس کو حلال قرار دے دیاہے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:ہرگز نہیں بخدامیں نے اس حلال نہیں کیااے اﷲ! جو چیز تو نے ان پرحرام کی ہے میں اس کوان پر حلال نہیں کرتا اورجوتو نے ان پرحلال کیامیں اس کو ان پرحرام نہیں کرتا۔امام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایا:ہم اسی سے اخذ کرتے ہیں کہ ایسے طلاء کے پینے میں کوئی حرج نہیں جس کا دوتہائی خشك ہوکر ایك تہائی باقی رہاہو اوروہ نشہ نہ دے۔لیکن ہر پرانی نشہ آورشراب میں کوئی خیرنہیں۔(ت)
نیزکتاب الآثارمیں فرماتے ہیں:
حوالہ / References موطاامام محمد کتاب الحدود باب نبیذالطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۷۔۲۱۶€
#3168 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اخبرا ابوحنیفۃ عن سلیمان عــــــہ۱ الشیبانی عن ابن زیاد عــــــہ۲ انہ افطرعندعبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھمافسقاہ شرابا لہ ہمیں امام ابوحنیفہ نے سلیمان شیبانی سے خبردی انہوں نے ابن زیاد سے روایت کی کہ انہوں نے(ابن زیاد)نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس روزہ

عــــــہ ۱:ھو ابواسحق سلیمان الکوفی من ثقات التابعین ورجال الستۃ ۱۲منہ۔
عــــــہ ۲:السید المرتضی الاشبہ انہ محمد بن زیاد احد شیوخ شعبۃ روی عن ابی ھریرۃ حدیث الرجل جبار ذکرہ المنذری فی مختصر السنن وھو من اقران ابن سیرین قلت ھو ابن زیاد الجمحی ابوالحارث المدنی نزیل بعد البصرۃ ثقۃ ثبت من رجال الستۃ روی الدارقطنی فی السنن من طریق ادم بن ابی ایاس عن شعبۃ عن محمد بن زیاد عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال الرجل جبار ھذا ما ابداہ السید ظنا والمنصوص علیہ انہ عبداﷲ قال الامام البدر محمود فی البنایۃ بعد ذکر الحدیث ابن زیاد ھو عبداﷲ ابن زیاد اھ۔
یہ ابواسحاق سلیمان بن ابی سلیمان کوفی جوثقہ تابعین اورصحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں۱۲منہ(ت)
سیدمرتضی نے کہاحق سے اشبہ ہے کہ یہ محمدبن زیادشعبہ کے شیوخ میں سے ایك ہیں انہوں نے"الرجل جبار"والی حدیث کوحضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے یہ بات امام منذری نے مختصرالسنن میں ذکرکی اوریہ امام ابن سیرین کے ہم زمان ہیں۔میں کہتاہوں یہ ابن زیاد جمحی ابوالحارث مدنی ہیں جوبعد میں بصرہ میں مقیم ہوگئے ثقہ ہیں صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں دارقطنی نے سنن میں آدم بن ایاس کے طریق سے عن شعبہ عن محمدبن زیادعن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا"الرجل جبار"سیدمرتضی نے اپنے گمان کی بیان پر یہ بیان کیاہے جبکہ منصوص یہ ہے کہ وہ عبداﷲ ہیںامام بدرالدین محمود نے بنایہ میں ابن زیادکی اس حدیث کے بعد کہا ابن زیاد سے مراد عبداﷲ بن زیادہے اھ۔ (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References مختصرالسنن
سنن الدارقطنی کتاب الحدود والدیات ∞۲۱۵€ نشرالسنۃ ∞ملتان ۳ /۱۵۴€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴ /۳۳۸€
#3169 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فکانہ اخذ فیہ فلما اصبح قال ما ھذا الشراب ماکدت اھتدی الی منزلی فقال عبداﷲ مازدناك علی عجوۃ و زبیبقال محمد وبہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ ۔ اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد قال کنت اتقی النبیذ فدخلت علی ابراھیم وھو یطعم فطعمت معہ فاوتی قدحا من نبیذ فلما رأی ابطائ عنہ قال حدثنی علقمۃ عن عبداﷲ بن مسعود انہ کان ربما طعم عندہ ثم دعا بنبیذ لہ تنبذہ افطارکیاتو آپ نے ابن زیاد کواپنے ہاں سے شراب پلائی توگویاکہ اس نے ابن زیاد میں کچھ اثرکیاجب صبح ہوئی توابن زیاد نے کہایہ کیاشراب ہے یوں لگاکہ میں اپنے گھر کی طرف راہ نہ پاؤں گا۔حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ہم نے توآپ کے لئے عجوہ اورزبیب پرکوئی شیئ زیادہ نہیں کی۔امام محمدنے فرمایا ہم اسی سے اخذ کرتے ہیں اوریہی امام ابوحنیفہ کاقول ہے۔ہمیں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت حماد سے خبردی انہوں نے کہاکہ میں نبیذ سے پرہیزکرتا تھا میں ابراہیم کے پاس گیاوہ کھاناکھا رہے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ کھاناکھایا پھرنبیذکا ایك پیالہ لایاگیا جب ابراہیم نے مجھے اس سے پس وپیش کرتے ہوئے دیکھا توکہا مجھے علقمہ نے عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ میں بسا اوقات ان کے ہاں کھانا

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قلت یعنی ابامریم الاسدی الکوفی من ثقات التابعین ورجال البخاری فی التھذیب ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال فی تھذیبہ قال العجلی کوفی ثقۃ وقال الدارقطنی ثقۃ ۔ میں کہتاہوں ابن زیاد یعنی ابومریم اسدی کوفی جوثقہ تابعین اور بخاری کے راویوں میں شمارہیںتہذیب میں ہے کہ ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں ذکرکیاہے اورتہذیب والے نے فرمایا کہ عجلی نے کہاکہ وہ کوفی ثقہ میں شمارہیںدارقطنی نے کہا وہ ثقہ ہیں۔(ت)
حوالہ / References کتاب الآثار لامام محمد باب النبیذ الشدید ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۳€
تہذیب التہذیب ترجمہ عبداﷲ بن زیاد الکوفی ۳۷۹ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۵ /۲۲۱€
#3170 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
سیرین ام ولد عبداﷲ فشرب و وسقانی ۔اخبرنا ابوحنیفۃ قال حدثنا ابواسحق السبیعی عن عمرو بن میمون الاودی عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ قال ان للمسلمین جزورا لطعامھم وان العتق منھا لآل عمروانہ لایقطع ھذہ الابل فی بطوننا الا النبیذ الشدید۔اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان عمررضی اﷲ تعالی عنہ اتی باعرابی قدسکرفطلب لہ عذرا فلما اعیاہ(الاذھاب عقل)قال احبسوہ فاذاصح فاجلدوہ ودعا بفضلۃ فضلت فی ادواتہفذاقھا فاذا نبیذ شدید ممتنع فدعا بماء فکسرہ(وکان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ یحب الشراب الشدید)فشرب وسقی جلسائہ ثم قال ھذا اکسروہ بالماء اذا غلبکم شیطانہ ۔اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن کھاتاپھرانہوں نے نبیذطلب فرمائی جوان کی ام ولد سیرین نے ان کے لئے تیار کی تھی جس کو ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے خود بھی پیا اورمجھے بھی پلائی۔ہمیں امام ابوحنیفہ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی کہ حضرت عمر ابن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا عمدہ اونٹ مسلمانوں کے کھانے کے لئے ہیں اوران میں سے پرانے حضرت عمر(رضی اﷲ تعالی عنہ) کے لئے ہیںاوربیشك ان اونٹوں کوپیٹوں میں سوائے گاڑھی نبیذ کے کوئی شے ہضم نہیں کرتی۔ہمیں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ایك اعرابی لایاگیا جو نشے میں تھا آپ نے اس سے عذرپوچھا توسوائے خرابی عقل کے اس کو عاجز پایاآپ نے فرمایا اس کو روك رکھو جب ہوش میں آئے تو اس کو کوڑے لگاؤاورحضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے برتن میں بچی ہوئی شراب منگوائی اوراسے چکھا تو وہ گارھا نبیذتھا جوکہ ممتنع ہے۔پھرآپ نے پانی منگوایا اور اس نبیذ کی تیزی کو توڑا(حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ گاڑھی شراب کوپسند فرماتے تھے)پھراسے پیا اورشرکاء مجلس کو پلایا۔پھرفرمایا کہ جب اس شراب کاشیطان تم پرغالب آجائے تو پانی سے اس کی تیزی توڑدیاکرو۔ہمیں امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے
حوالہ / References کتاب الآثار لامام محمد باب النبیذ الشدید ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸€۳
کتاب الآثار لامام محمد باب النبیذ الشدید ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۳و۱۸۴€
#3171 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ابراھیم انہ کان یشرب الطلاء قدذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ ویجعل لہ منہ نبیذفیترکہ حتی اذا اشتد شربہ ولم یربذلك بأساقال محمد وھو قول ابی حنیفۃ۔اخبرنا ابوحنیفۃ قال حدثنا الولید بن سریع(مولی عمروبن حریث)عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ انہ کان یشرب الطلاء علی النصف قال محمد ولسنا ناخذ بھذاولاینبغی لہ ان یشرب من الطلاء الاما ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ وھو قول ابی حنیفۃ۔ اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم قال مااسکرہ کثیرہ فقلیلہ حرام خطاء من الناس انما ارادوالسکر حرام من کل شراب۔ ابراہیم سے خبردی کہ وہ ایساطلاء پیتے تھے جس کا دوتہائی خشك ہوکر ایك تہائی بچ گیا ہو اس سے ان کے لئے نبیذ بنائی جاتی تھی تو وہ اس کو چھوڑے رکھتے یہاں تك کہ جب وہ جوش کھاکر سخت ہوجاتی تو اس کوپی لیتے اوراس میں وہ کوئی حرج نہ دیکھتے۔امام محمد نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کایہی قول ہے۔ ہمیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے خبر دی انہوں نے فرمایا کہ ہمیں ولیدبن سریع(مولی عمروبن حریث)نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے بارے میں حدیث بیان کی کہ وہ ایساطلاء پیتے تھے جس کانصف خش ہوگیا ہوتا۔امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ ہم اس سے اخذنہیں کرتے اور انہیں ایساطلاء نہیں پیناچاہئے سوائے اس کے کہ اس کادوتہائی خشك ہوکرایك تہائی رہ جائےاوریہی قول ہے امام ابو حنیفہ کا۔ہمیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے حماد سے اور انہوں نے ابراہیم سے خبردی کہ ابراہیم نے فرمایا کہ ہروہ شراب جس کا کثیر نشہ آورہو اس کاقلیل حرام ہےیہ لوگوں کی خطا ہے بیشك اس سے مراد یہ ہے کہ ہرشراب سے نشہ حرام ہے۔(ت)
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
حدثنا فھد ثنا ابونعیم قال ثنا مسعربن کدام عن ابی عون الثقفی عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر حضرت عبداﷲ بن شدادبن الہاد سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ خمرپرتو بعینہ حرمت واقع ہوئی اور اس کے ماسوا دیگر شرابوں کی نشہ آور مقدار
حوالہ / References کتاب الآثار لامام محمد باب نبیذ البطیخ والعصیر ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۴€
کتاب الآثار لامام محمد باب الشرب فی الاوعیۃ والظروف ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۵€
#3172 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بعینھا والسکر من کل شراب فاخبر ابن عباس ان الحرمۃ وقعت علی الخمربیعنھا وعلی السکر من سائر الاشربۃ سواھا فثبت بذلك ان ماسوی الخمر التی حرمت مما یسکر کثیرہ قدابیح شرب قلیلہ الذی لا یسکر علی ماکان علیہ من الاباحۃ المتقدمۃ تحریم الخمر وان التحریم الحادث انما ھو فی عین الخمر و السکرممافی سواھا من الاشربۃ فاحتمل ان تکون الخمر المحرمۃ ھی عصیر العنب خاصۃ واحتمل ان یکون کل ماخمر من عصیر العنب وغیرہ فلما احتمل ذلك وکانت الاشیاء قد تقدم تحلیلھا جملۃ ثم حدث تحریم فی بعضہالم یخرج شیئ مماقداجمع علی تحلیلہ الاباجماع یاتی علی تحریمہ ونحن نشھد علی اﷲ عزوجل انہ حرم عصیرالعنب اذا حدثت فیہ صفات الخمر ولانشھد علیہ انہ حرم حرام ہےحضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے خبردی کہ بیشك حرمت خمر پرتو بعینہ واقع ہوئی جبکہ باقی شرابوں کی اتنی مقدار حرام ہے جونشہ آورہو چنانچہ ثابت ہوگیاکہ خمرکے علاوہ جس کی زیادہ مقدارنشہ لائے وہ حرام ہے اور اس کی قلیل مقدارجونشہ نہ لائے وہ حسب سابق مباح ہے جیساکہ خمرکے حرام ہونے سے پہلے مباح تھی اورجوحرمت نئی نازل ہوئی وہ عین خمر اوردیگرشرابوں کے نشہ کے بارے میں ہے چنانچہ اس بات کا احتمال ہے کہ حرام شدہ خمرخاص کھجوروں کارس ہےاوریہ بھی احتمال ہے کہ ہروہ چیز جس سے خمر بنے وہ حرام ہے چاہے وہ انگورکارس ہویاکچھ اورتوجب اس بات کااحتمال موجود ہے اورتمام اشیاء شروع میں حلال تھیں پھر بعد میں تحریم واردہوئی تو جس شیئ کے حلال ہونے پراجماع ہے وہ حلال ہونے سے اس وقت تك نہیں نکلے گی جب تك اس کے حرام ہونے پر اجماع واقع نہ ہو اور ہم اس بات پرگواہی دیتے ہیں اﷲ تبارك وتعالی نے انگور کے رس کوحرام فرمایا جب اس میں خمر کی صفات پیداہوجائیں اورہم یہ گواہی نہیں دیتے کہ انگورکے رس کے علاوہ جن اشیاء میں یہ صفت پیدا ہو جائے اسے بھی اﷲ تعالی نے حرام کیا لہذا جس چیزکے حرام ہونے پر ہم گواہی دیتے ہیں وہ خمرہے جس کے معنی پرہم یقین رکھتے ہیں جیساکہ اس کے نازل کئے جانے پرہمارا ایمان ہے اورجس چیز کی حرمت پرہم گواہی نہیں دے سکتے
#3173 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ماسوی ذلك اذا حدث فیہ مثل ھذہ الصفۃ فالذی نشھد علی اﷲ تعالی بتحریمہ ایاہ ھو الخمر الذی امنا بتاویلھا من حیث قدامنا بتاویلھا والذی لانشھد علی اﷲ انہ حرم ھوالشراب الذی لیس بخمر فماکان من خمر فقلیلہ وکثیرہ حرام وماکان مما سوی ذلك من الاشربۃ فالسکر منہ حرام وما سوی ذلك منہ مباح ھذا ھو النظر عندنا وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالی غیر نقیع الزبیب والتمرخاصۃ فانھم کرھوا ولیس ذلك عندنا فی النظر کما قالواولکن اصحابنا خالفوا ذلك للتاویل الذی تاولواعلیہ حدیث ابی ھریرۃ وانس الذین ذکرنا وشیئ رووہ عن سعید بن جبیر انہ قال فی ذلك ھی الخمر فاجتنبھا۔ کہ اس کو اﷲ نے حرام کیاہے وہ خمرکے علاوہ دوسری شرابیں ہیں چنانچہ جوخمرہے اس کاقلیل اورکثیر سب حرام ہے اورجو اس کے ماسوا دیگرشرابیں ہیں ان میں سے نشہ آورمقدار حرام ہے باقی مباح ہے ہمارے نزدیك یہی قیاس ہے اوریہی قول ہے امام ابوحنیفہامام ابویوسف اور امام محمدکارحمۃ اﷲ تعالی علیہمجبکہ کشمش اورکھجور کے رس کوانہوں نے مکروہ قرار دیااورہمارے نزدیك قیاس میں ایسانہیں جیساکہ انہوں نے کہا(اس لئے کہ جوبات ہم متفق علیہ دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ رس چاہے کچاہو یاپکا دونوں صورتوں میں برابر ہے اور پکانے سے وہ حلال نہیں ہوسکتا جبکہ وہ پکانے سے پہلے حلال نہیں تھا البتہ ایساپکانا جواس کو رس کی حد سے نکال دے اوروہ شہد کی تعریف میں داخل ہوجائے تواب اس کاحکم وہی ہوگا جو شہدکا ہے۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ کشمش اورکھجور کاپکاہوا رس بالاتفاق مباح ہے۔اب قیاس کاتقاضایہ ہے کہ ان دونوں میں بھی حکم ایساہی ہولہذاکھجور اورانگور کانبیذ اور پکاہوا رس برابرہوگئے جس طرح انگور کاکچارس اوراس کاپکایا ہوا برابرہے یہی قیاس ہے)لیکن ہمارے اصحاب نے اس میں اختلاف کیا اس تاویل کی بنیاد پرجو انہوں نے حضرت ابوہریرہ اورحضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہما کی حدیثوں میں بیان کی جن کوہم ذکر کر چکے اوراس حدیث کی بنیادپربھی جوانہوں نے حضرت سعیدبن جبیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اس کے بارے میں فرمایاکہ یہ خمرہے لہذا اس سے بچو۔(ت)
اسی میں ہے:
حدثنا فھد(فذکر بسندہ)عن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انہ فہد نے اپنی سندکے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سفرمیں تھے کہ
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب الخمرالمحرمۃ ماھی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۵۷۔۳۵۶€
#3174 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
کان فی سفر فاتی بنبیذ فشرب منہ فقطب ثم قال ان نبیذ الطائف بلہ غرام فذکر شدۃ لااحفظھا ثم دعا بماء فصب علیہ ثم شرب۔حدثنا ابوبکرۃ (بسندہ) عن عمروبن میمون قال شھدت عمرحین طعن فجائہ الطبیب فقال ای الشراب احب الیك قال النبیذ فاتی بنبیذ فشرب منہ فخرج من احدی طعنتیہ۔حدثنا روح بن الفرج(بسندہ)عن عمر و بن میمون مثلہ وزاد ان عمر کان یقول انا نشرب من ھذاالنبیذ شرابا یقطع لحوم الابل فی بطوننا من ان یؤذینا قال وشربت من نبیذہ فکان اشد النبیذ ۔ قلت ورواہ ابن ابی شیبۃ حدثنا ابو الاحوص عن ابی اسحق عن عمروبن میمون قال قال عمر انا لنشرب ھذا آپ کی خدمت میں نبیذلائی گئی جسے آپ نے پیاپھرماتھے پرشکن ڈالا اورفرمایا طائف کی نبیذ میں ہلاکت ہے اور اس کی شدت کاذکرفرمایا جومجھے یادنہیں۔اس کے بعد پانی منگواکر اس پرڈالا پھر نوش فرمایا۔حضرت ابوبکرہ اپنی سند کے ساتھ عمروبن میمون سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں اس وقت حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضرہوا جب آپ کونیزہ چبھوکر زخمی کردیاگیاتھا آپ کے پاس طبیب آیا اورکہا کہ آپ کوکونسا مشروب زیادہ پسند ہے آپ نے فرمایا نبیذ۔چنانچہ نبیذلائی گئی توآپ نے اس کو پیاجو آپ کے دوزخموں میں سے ایك سے باہرنکل گئی۔روح بن فرج نے اپنی سند کے ساتھ عمروبن میمون سے اسی کی مثل روایت کی مگراس میں یہ اضافہ کیاکہ حضرت عمروبن میمون نے بتایاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے تھے ہم اس نبیذ سے ایسامشروب پیتے ہیں جوہمارے پیٹوں میں اونٹ کے گوشت کونقصان دینے سے روکتاہے۔راوی کہتاہے میں نے ان کے نبیذ سے پیاجوسخت ترین نبیذتھا۔میں کہتاہوں اس کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہمیں ابوالاحوص نے حدیث بیان کی انہوں نے ابواسحاق سے انہوں نے عمروبن میمون سے انہوں نے کہاکہ حضرت عمر
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
#3175 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
الشراب الشدید لنقطع بہ لحوم الابل فی بطوننا ان تؤذینافمن رابہ من شرابہ شیئ فلیمزجہ بالماء حدثنا وکیع ثنا اسمعیل بن ابی خالد عن قیس بن ابی حازم ثنی عتبۃ بن فرقد قال قدمت علی عمرفدعا بشرب من نبیذ قد کادان یصیر خلافقال اشرب فاخذتہ فشربتہ فما کدت ان اسیغہ ثم اخذہ فشربہ ثم قال یاعتبۃ انانشرب ھذا النبیذ الشدید لنقطع بہ لحوم الابل فی بطوننا ان تؤذینا قلت واسمعیل ھذاھوالامام الحافظ المتفق علی جلالتہ احمسیکوفیثقۃثبتمن رجال الستۃ و حفاظ التابعین وقیس من لایجھل امام ثقۃ حافظ جلیل مخضرم کوفی من رجال الستۃ واکابر التابعین و عتبۃ بن فرقد رضی اﷲ تعالی عنہ صحابی نزل الکوفۃ فالحدیث صحیح علی شرط الشیخین مسلسل بالکوفیین من لدن ابی بکر الی اخرالسند۔ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ بیشك ہم یہ سخت شراب اس لئے پیتے ہیں تاکہ یہ ہمارے پیٹوں میں اونٹوں کے گوشت کی اذیت کو ختم کرے جس شخص کواس شخص کی شراب شك میں ڈالے تو وہ اس میں پانی ملالے۔ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی اس نے کہاکہ ہمیں اسمعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ مجھے عتبہ بن فرقد نے بتایاکہ میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضرہوا تو آپ نے نبیذ کامشروب منگوایا یاجو سرکہ ہونے کے قریب تھا اورفرمایاپیومیں نے اس کو لے کرپیاتومجھے کچھ خوشگوار نہ لگاپھر آپ نے اس کو لے کرپیا اور فرمایا اے عتبہ! ہم یہ سخت نبیذ اس لئے پیتے ہیں کہ یہ ہمارے پیٹوں میں اونٹوں کے گوشت کی ایذارسانی کوختم کرے۔میں کہتاہوں کہ یہ اسمعیل وہی ہی جوامام حافظ ہیں ان کی بزرگی پر اتفاق ہے احمسیکوفیثقہثبتصحاح ستہ کے رجال اور حفاظ تابعین میں سے ہیں۔اورقیس مجہول نہیں وہ امام ثقہحافظ جلیلمخضرمکوفیصحاح ستہ کے رجال اور اکابر تابعین میں سے ہیں۔اورعتبہ بن فرقد رضی اﷲ تعالی عنہ صحابی ہیں جو کوفہ میں قیام پذیر ہوئےپس حدیث شرط شیخین پر صحیح ہے جس کے راوی ابوبکر سے لے کر آخرسند تك مسلسل کوفی ہیں۔ ہمیں روح نے اپنی سند کے
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث۳۹۲۷ و ۳۹۲۸€ الجزء الثامن مع الجزء السابع∞/۱۴۲،۱۴۳€
#3176 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حدثنا روح(بسندہ)عن سعیدبن ذی لعوۃ قال اتی عمر برجل سکران فجلدہ فقال انما شربت من شرابك فقال وان کان۔حدثنا فھد(بسندہ)عن سعیدبن ذی حدان او ابن ذی لعوۃ قال جاء رجل قد ظمئ الی خازن عمر فاستسقاہ فلم یسقہ فاتی بسطیحۃ لعمر فشرب منھا فسکر فاتی بہ عمر فاعتذر الیہ فقال انما شربت من سطیحتك فقال عمر انما اضربك علی السکر فضربہ عمر قلت و رواہ الدارقطنی فی سننہ عن طریق سعید بن ذی لعوۃ ایضا ان اعرابیا شرب من اداوۃ عمر نبیذا فسکربہ فضربہ الحد فقال الاعرابی انما شربتہ من اداوتك فقال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انما جلدناك بالسکر ۔وروی ابوبکر بن ابی شیبۃ ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ایك نشے والا شخص لایاگیا آپ نے اسے کوڑے لگائے اس نے کہامیں نے آپ کی شراب میں سے ہی پیا ہے توآپ نے فرمایا اگرچہ ایساہو۔ہمیں فہدنے اپنی سندکے ساتھ حدیث بیان کی کہ ایك شخص پیاساتھا وہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے خازن کے پاس لایا اورپانی مانگا تو اس نے پانی نہ پلایا پھرحضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے ایك مشکیزہ لایاگیا اس شخص نے اس میں سے پی لیا تو اسے نشہ آگیا اس کو حضرت عمر فاروق کے پاس لایاگیا آپ نے اس سے عذرطلب کیا اس نے کہاکہ میں نے تو آپ کے مشکیزہ س پیاہے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نشہ کی وجہ سے تجھے کوڑے لگاؤں گاپھر آپ نے اسے کوڑے لگائے۔ میں کہتاہوں اس کودارقطنی نے اپنی سنن میں سعیدبن ذی لعوۃ کے طریق سے بھی روایت کیاکہ بیشك ایك اعرابی نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے برتن سے نبیذ پیا تو اس کو نشہ ہوا حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پر حد جاری فرمائیاعرابی نے کہامیں نے توآپ کے برتن سے پیا ہےحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہم نے تجھے نشہ کی وجہ سے کوڑے لگائے ہیں۔
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
سنن الدارقطنی کتاب الاشربہ ∞حدیث ۷۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ الجزء الرابع ∞ص۲۶۰€
التعلیق المغنی علٰی سنن الدارقطنی بحوالہ العقیلی ∞حدیث ۷۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ الجزء الرابع ∞ص۲۶۰€
#3177 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فی مصنفہحدثنا علی بن مسھر عن الشیبانی عن حسان بن مخارق قال بلغنی ان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ سایر رجلا فی سفروکان صائما فلما افطراھوی الی قربۃ لعمر معلقۃ فیھا نبیذ فشرب منھا فسکر فضربہ عمرالحد فقال لہ انما شربت من قربتك فقال لہ عمر انما جلدناك لسکرك قلت وھذا امثل طرقہ وما یخشی فی البلاغ من الانقطاع فلایضر عندنا وعند الجمھور القابلین لمراسیل۔ وروی عبدالرزاق اخبرنا ابن جریح عن اسمعیل ان رجلاعب فی شراب نبیذ لعمربن الخطاب بطریق المدینۃ فسکر فترکہ عمر(رضی اﷲ تعالی عنہ)حتی افاق فحدہ ۔فقال الطحاوی حدثنا ابوبکربن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں روایت فرمایاکہ ہمیں علی بن مسہر نے اپنی سندکے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ایك شخص کے ساتھ سفر میں تھے اور وہ روزہ دارتھاجب اس نے افطارکیاتووہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے ایك مشکیزہ کی طرف مائل ہواجو لٹکا ہواتھا اور اس میں نبیذ تھا اس نے پیا جس سے اسے نشہ ہوگیاتوحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پرحد لگائی تو اس نے کہا میں نے تو آپ کے مشکیزہ سے پیاہےحضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہم نے تجھے تیرے نشے کی وجہ سے کوڑے لگائےمیں کہتاہوں یہ اس حدیث کے طرق میں سے عمدہ ترین ہے اوراس میں جوانقطاع کاخدشہ ہے وہ ہمیں نقصان نہیں دیتااور نہ جمہور کوجومرسل حدیثوں کو قبول کرتے ہیں۔عبدالرزاق نے روایت کیاکہ ہمیں ابن جریج نے اسمعیل سے خبردی کہ ایك شخص نے مدینہ کے راستے میں حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے نبیذکوایك ہی سانس میں پیا تو اسے نشہ ہوگیا حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے کچھ دیرچھوڑے رکھا یہاں تك کہ اسے افاقہ ہوا پھر اسے حدماری۔امام طحاوی نے فرمایاکہ
حوالہ / References المصنَّف لابن ابی شیبۃ کتاب الحدود النبیذ من رأی فیہ حدًا ∞حدیث ۸۴۵۰€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۹ /۵۴۴€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۷۰۱۵€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۲۴€
#3178 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فھد(بسندہ)عن ابن عمر قال اتی(یعنی امیر المومنین)بنبیذ قداحلف واشتد فشرب منہ ثم قال ان ھذا لشدید ثم امر بماء فصب علیہ ثم شرب ھو واصحابہحدثنا محمد بن خزیمۃ (بسندہ)عن ابن عمر(رضی اﷲ تعالی عنہ)ان عمر انتبذ لہ فی مزادۃ فیھا خمسۃ عشر او ستہ عشرفاتاہ فذاقہ فوجدہ حلوافقال کانکم اقللتم عکرہ عــــــہ ۔ حدثنا ابن ابی داؤد ہمیں فہدنے اپنی سند کے ساتھ ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ حضرت عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں نبیذلایاگیاجو متغیر اورسخت ہوچکاتھا آپ نے اس میں سے پیا پھرفرمایا بیشك یہ سخت ہےپھرپانی لانے کاحکم دیا اوراس پرپانی ڈالاپھر آپ نے اور آپ کے اصحاب نے اس کوپی لیا۔ہمیں محمدبن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے ایك مشکیزے(توشہ دان)میں جوکہ پندرہ سولہ رطل کے برابرتھا نبیذبنایاگیا آپ تشریف لائے اسے چکھا اورمیٹھا پایا توفرمایا گویاکہ تم نے اس کاتلچھٹ کم کردیا ہے۔ ہمیں ابن ابی داؤد

عــــــہ: عکرالنبیذ العتیق اذا اضیف الی الجدید عجل اشتدادہ وھذا معنی ماروی النسائی فی سننہ عن سعید بن المسیت انہ کان یکرہ کل شیئ ینبذ علی عسکر وایضا عنہ انہ قال فی النبیذ خمرہ دردیہ اھ ای جعلہ عکرہ مسکرا فکأن امیرالمؤمنین انکر علیھم تقلیل العسکر حتی بقی الی الان حلوا ولم یشتد واﷲ تعالی اعلم قالہ الفقیر المجیب غفراﷲ تعالی منہ ۱۲منہ عــــــہ:"عکرالنبیذ"پرانا نبیذ جوتازہ نبیذکے ساتھ ملانے سے جلد تیزی حاصل کرتاہے۔نسائی کی اپنی سنن میں سعیدبن مسیب سے روایت ہے کہ وہ پرانے نبیذ میں ملائے ہوئے ہرنبیذ کوناپسندکرتے تھے نیز ان سے نبیذ کے متعلق یہ روایت کہ اس کو پرانے نبیذ نے نشہ آور بنادیاکامعنی یہی ہےگویا امرالمومنین رضی اﷲ عنہ نے قلیل پرانے نبیذ میں ملاوٹ کر ناپسندفرمایاکہ اس وجہ سے ابھی تك وہ میٹھا ہے اورشدیدنہ ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔یہ مجیب غفراﷲ تعالی کابیان ہے۱۲منہ۔
حوالہ / References سنن النسائی ذکرمایجوز شربہ من الانبذہ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۵€
#3179 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
(یبلغہ الی)عبدالرحمن بن عثمن قال صحبت عمر بن الخطاب الی مکۃ فاھدی لہ رکب من ثقیف سطیحتین من نبیذفشرب عمراحدھما ولم یشرب الاخری حتی اشتد مافیہ فذھب عمر فشرب منہ فوجدہ قداشتد فقال اکسروہ بالماء قلت ورواہ عبدالرزاق۔قال الطحاوی فلما ثبت بما ذکرنا عن عمر اباحۃ قلیل النبیذ الشدید وقد سمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول کل مسکر حرام کان مافعلہ دلیلا ان ماحرم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من النبیذ الشدید ھو السکر منہ لاغیر فاما ان یکون سمع ذلك من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قولا اوراہ رأیا فرأیہ عندنا حجۃ ولاسیما اذا کان فعلہ المذکور بحضرۃ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمن بن عثمان نے کہاکہ میں نے مکہ مکرمہ کی طرف سفرکے دوران حضرت عمرابن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحبت اختیار کی قبیلہ بنی ثقیف کے ایك وفد نے آپ کی خدمت میں نبیذ کے دومشکیزے بطورہدیہ پیش کئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان میں سے ایك پی لیا اوردوسرے کونہیں پیا یہاں تك کہ اس میں شدت آگئی پھرجب آپ نے اس کوپیا تو اس کوشدید پایا اورفرمایا پانی سے اس کی تیزی کوتوڑدو۔میں کہتاہوں اس کوعبدالرزاق نے روایت کیا۔امام طحاوی نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ان واقعات مذکورہ سے جب نبیذ شدید کی قلیل مقدارکامباح ہونا ثابت ہوگیا حالانکہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے کہ ہرنشہ آورحرام ہے تو آپ رضی اﷲ تعالی عنہ کافعل اس بات کی دلیل ہوگاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نبیذ شدید سے جو حرام فرمایا وہ نشہ آورمقدار ہے نہ کہ اس کاغیر چاہے توحضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا ہو یا ان کی اپنی یہ رائے ہوکیونکہ ہمارے نزدیك ان کی رائے حجت ہے خصوصا جب کہ آپ کایہ فعل مذکورصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی موجودگی میں واقع
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
#3180 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فلم ینکرہ علیہ منھم منکر فدل علی متابعتھم ایاہ علیہ وھذا عبداﷲ بن عمر وھواحد النفر الذین رووا عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکر حرام وقد روی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماحدثنا ابوامیۃ البغدادی ثنا ابونعیم ثنا عبدالسلام عن لیث عن عبدالملك بن اخی القعقاع بن شوذب عن ابن عمر قال شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتی بشراب فادناہ الی فیہ فقطب فردہ فقال رجل یارسول اﷲ احرام ھو فرد الشراب ثم عادبماء فصبہ علیہ ذکرمرتین اوثلثا ثم قال اذا اغتلمت ھذہ الاسقیۃ علیکم فاکسروا متونھا بالماء قلت ورواہ النسائی فی سننہ بسندین بمعناہ احدھما اخبرنا زیادبن ایوب ثناھشیم اخبرنا العوام عن عبددالمالك بن نافع ہوا اوران میں سے کسی نے انکارنہیں کیا تو ان سب کا جناب فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی متابعت کرناان کے اس فعل کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی کہ ہر نشہ آورحرام ہے۔انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم سے وہ حدیث روایت کی جوہمیں ابوامیہ بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی کہ حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا آپ کے پاس شراب لائی گئی آپ نے اس کو اپنے منہ کے قریب کیاپھرماتھے پرشکن ڈالی وراس کورد فرما دیاایك شخص نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیایہ حرام ہے توحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پھروہ شراب لوٹائی اوراس میں پانی ڈالا اس کادوتین بار ذکرکیا پھرفرمایا جب یہ مشکیزے تم پرسخت ہوجائیں توپانی کے ساتھ ان کی تیزی کو توڑدیاکرو۔میں کہتاہوں اس کو امام نسائی نے اس کے معنی کے ساتھ دوسندوں سے روایت فرمایاجن میں سے ایك یہ ہے کہ ہمیں زیادبن ایوب نے خبردی انہوں نے کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی ہشیم نے انہوں نے کہا ہمیں عوام نے عبدالملك
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۶۰۔۳۵۹€
#3181 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال قال ابن عمر والاخر اخبرنی زیاد بن ایوب عن ابی معویۃ ثنا ابواسحق الشیبانی عن عبدالملک الخ۔قال الطحاوی حدثنا وھب بن عثمان البغدادی ثناابوھمام ثنی یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ عن اسمعیل بن ابی خالد ثنا قرۃ العجلی ثنی عبدالملك ابن اخی القعقاع عن ابن عمر مثلہ قلت بھذا السند رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ فقال حدثنا وکیع عن اسمعیل بن ابی خالد الخ بنحوہ قال الطحاوی حدثنا محمدبن عمروبن یونس ثنی اسباط بن محمد عن الشیبانی عن عبدالملك بن نافع قال سألت ابن عمر فقلت ان اھلنا ینبذون نبیذا فی سقاء لوانھکتہ لاخذ فی فقال ابن عمر انما البغی علی من اراد البغی شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند ھذا الرکن واتاہ رجل بقدح من نبیذ ثم ذکرمثل حدیث ابی امیۃ غیر انہ بن نافع سے خبردی انہوں نے کہاکہ حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہمانے فرمایااوردوسری سندیہ ہے کہ مجھے زیادبن ایوب نے ابومعاویہ سے خبردی انہوں نے کہاہمیں ابواسحاق شیبانی نے عبدالملك سے حدیث بیان کی الخ۔امام طحاوی نے فرمایا ہمیں وہب بن عثمان بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اس اس کی مثل حدیث بیان کی۔میں کہتاہوں اسی سند کے ساتھ اس کو ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں روایت فرمایا اورکہا ہمیں وکیع نے اسمعیل بن ابی خالد سے بیان کی الخ۔امام طحاوی نے فرمایا ہمیں محمدبن عمروبن یونس نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ عبدالملك بن نافع نے کہامیں نے ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے گھر والے مشکیزے میں نبیذبناتے ہیں اگرمیں اس کوزیادہ پی لوں تو وہ میرے اندرنشہ پیداکرتی ہے۔توابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایاگناہ اس پر ہے جوگناہ کا ارادہ کرے میں اس رکن کے پاس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اورآپ کے پاس ایك شخص نبیذ کاپیالہ لایا پھر ابن عمر نے حدیث ابن امیہ کی مثل ذکرفرمایاسوائے اس کے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکراخبارالتی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۲
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبار التی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۲
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۶۰€
المصنف ابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۲۶۲€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۳۹€
#3182 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال فاکسروھا بالماء ففی ھذا اباحۃ قلیل النبیذ الشدید واولی الاشیاء بنا اذ کان قدروی عنہ ھذا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وروی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکرحرام ان نجعل کل واحد من القولین علی معنی غیرمعنی الاخر فیکون قولہ کل مسکر حرام علی المقدار الذی یسکر والحدیث الاخر علی اباحۃ قلیل النبیذ الشدید اخبرنا فھدبن محمدبن سعید ثنا یحیی بن الیمان عن سفین عن منصور عن خالد بن سعد عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال عطش النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حول الکعبۃ فاستسقی فاتی نبیذ من نبیذ السقایۃ فشمہ فقطب فصب علیہ من ماء زمزم ثم شرب فقال رجل احرام ھو فقال لا قلت و رواہ النسائی بھذا السند نحوہ فقال اخبرنا الحسن بن اسمعیل بن سلیمن اخبرنا یحیی بن یمان اس کی تیزی کوپانی کے ساتھ توڑو۔اس حدیث میں تیزنبیذکی قلیل مقدار کی اباحت ہےجب ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے یہ حدیث نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی توانہی کے حوالے سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ ہرنشہ آورحرام ہےتوہمارے لئے اولی یہ ہے کہ ہم ان دونوں حدیثوں میں سے ہرایك کو دوسری کے مفہوم کے غیرپرمحمول کریںچنانچہ آپ کایہ ارشاد کہ"ہرنشہ آورحرام ہے"اس مقدار پرمحمول ہوگا جونشہ دیتی ہے اوردوسری حدیث نبیذ شدید کی قلیل مقدار کے مباح ہونے پرمحمول ہوگی۔ہمیں فہدبن محمد نے اپنی سند کے ساتھ ابوسعید رضی اﷲ تعالی عنہ سے خبردی انہوں نے کہا نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوکعبہ شریف کے پاس پیاس لگی تو اپ نے پانی مانگا چنانچہ آپ کی خدمت میں ایك مشکیزے سے نبیذلائی گئی آپ نے سونگھا اورتیوری چڑھائی پھراس پر زمزم کاپانی ڈالا پھرنوش فرمایاتو ایك شخص نے کہاکیایہ حرام ہے آپ نے فرمایاکہ نہیں۔قلت(میں کہتاہوں)اس کو امام نسائی نے اسی سند کے ساتھ بیان فرمایا اورکہاکہ ہمیں حسن بن اسمعیل بن سلیمان نے خبردی انہوں نے کہاکہ ہمیں یحیی بن یمان نے خبردی الخ
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۶۰€
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکراخباالتی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳€
#3183 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
الخورواہ الدارقطنی حدثنا احمدبن عبداﷲ الوکیل ثنا علی بن حرب نایحیی بن الیمان الخ و رواہ عبدالرزاق عن مجاھد مرسلا قال عمدالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی السقایۃ سقایۃ زمزم فشرب من النبیذ فشد وجھہ ثم امربہ فکسر بالماء ثم شربہ فشد وجھہ ثم امربہ الثالثہ فکسر بالماء ثم شرب ۔قال الطحاوی حدثنا علی بن معبد ثنایونس ثنا شریك عن ابن اسحق عن ابی بردۃ عن ابی موسی عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ قال بعثنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا ومعاذا الی الیمن فقلنا یارسول اﷲ ان بھاشرابین یصنعان من البروالشعیر احدھما یقال البر والشعیر احدھما یقال لہ المزر والاخر یقال لہ البتع فما نشرب فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کودارقطنی نے روایت کیا اورکہاکہ ہمیں احمدبن عبداﷲ الوکیل نے حدیث بیان کی اور انہوں نے کہاکہ ہمیں علی بن حرب نے اورانہوں نے کہاکہ ہمیں یحیی بن یمان نے حدیث بیان کی الخ اوراس کوعبدالرزاق نے مجاہد سے مرسلا روایت کیا انہوں نے کہاکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زمزم کے مشکیزوں میں سے ایك مشکیزہ کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے نبیذنوش فرمایا پھر مشکیزے کامنہ مضبوطی سے باندھ دیا پھر آپ نے حکم دیا تو پانی کے ساتھ س کی تیزی کوتوڑا گیا پھر آپ نے اس کونوش فرمایا اورمشکیزے کامنہ مضبوطی سے باندھ دیاپھرتیسری مرتبہ حکم فرمایا اوراس کی تیزی کوپانی سے توڑا گیا پھر آپ نے نوش فرمایا۔امام طحاوی نے فرمایا کہ ہمیں علی بن معبد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور معاذ بن جبل کویمن کی طرف بھیجا ہم نے کہایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وہاں دوشرابیں ہیں جوگندم اورجو سے بنائی جاتی ہیں ان میں سے ایك کومزراوردوسری کوبتع کہا جاتاہے توکیاہم اسے پئیں تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الاشربہ ∞حدیث ۸۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرہ ∞۴ /۲۶۳€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۷۰۲۱€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۲۶€
#3184 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اشربا ولاتسکرا فدل ذالك ان ماذکرہ ابوموسی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من قولہ کل مسکر حرام انما ھو علی المقدرالذی یسکر لاعلی العین التی کثیرھا یسکر وقد روینا حدیث ابی سلمۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فی جواب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للذی سالہ عن البتع بقولہ کل شراب اسکر فھو حرام فان جعلنا ذلك علی قلیل الشراب الذی لیسکر کثیرہ ضاد جواب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لمعاذ و ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنھما وان جعلناہ علی تحریم السکر خاصۃ وافق حدیث ابی موسی واولی الاشیاء بناحمل الآثار علی الوجہ الذی لاتتضادحدثنا ابن مرزوق (بسندہ)عن شماس قال قال عبداﷲ(یعنی ابن مسعود)رضی اﷲ تعالی عنہ ان القوم یجلسون علی الشراب وھو یحل لھم فمایزالون حتی یحرم علیھم۔ حدثنا محمد بن خزیمۃ(بسندہ) "پیو اورنشہ میں مت آؤ"۔یہ حدیث دلیل ہے کہ ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے جوحدیث ذکرفرمائی کہ"ہرنشہ آورحرام ہے"وہ نشہ آور مقدارپرمحمول ہے نہ کہ اس شیئ کے عین پرجس کا کثیر نشہ آورہے اورہم حدیث ابی سلمہ بحوالہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا روایت کرچکے ہیں جونبی کریم صلی اﷲ تعالی وآلہ وسلم کے اس جواب کے بارے میں ہے جوبتع سے متعلق سوال کرنے والے شخص کو آپ نے دیا وہ یہ کہ"ہرشراب جونشہ دے وہ حرام ہے"اگراس حدیث کو ہم اس شراب کے قلیل پرمحمول کریں جس کاکثیر نشہ دیتاہے تویہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس جواب کے خلاف ہے جو آپ نے حضرت معاذاورابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہما کودیا۔اوراگر اس کوہم خاص نشہ کی حرمت پرمحمول کریں تویہ حدیث ابوموسی کے موافق ہوجاتاہے اور ہمارے لئے اولی یہ ہے کہ ہم تمام آثار کوایسے معنی پر محمول کریں کہ ان میں باہمی تضاد نہ رہے۔ہمیں ابن مرزوق نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ قوم شراب نوشی کے لئے بیٹھتی جب وہ ان کے لئے حلال تھا وہ ایساکرتے رہے یہاں تك کہ وہ ان کے لئے حرام ہوگیا۔ہمیں محمدبن خزیمہ نے اپنی سند کے
#3185 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عن علقمۃ بن قیس انہ اکل مع عبداﷲ بن مسعود خبزا ولحما قال فاتینا بنبیذ شدید نبذتہ سیرین فی جرۃ خضراء فشربوا منہحدثنا ابن داؤد (بسندہ)عن علقمۃ قال سألت ابن مسعود عن قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی المسکر قال الشربۃ الاخیرۃ۔حدثنا ابوبکرۃ ثنا بواحمد الزبیری ثنا سفین عن علی بن بذیمۃ عن قیس بن حبترقال سألت ابن عباس عن الجر الاخضر والجر الاحمر فقال ان اول من سأل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ذلك وفد عبدالقیس فقال لا تشربوا لا فی الدباء ولافی المزفت و لافی النقیر واشربوا فی الا سقیۃ فقالوا یارسول اﷲ فان اشتد فی الاسقیۃ قال صبوا علیہ من الماء وقال لھم فی الثالثۃ اوالرابعۃ فاھریقوہ۔حدثنا محمد بن خزیمۃ ثنا عبداﷲ بن رجاء ثنا اسرائیل عن علی بن بذیمۃ عن قیس بن حبتر ساتھ حضرت علقمہ بن قیس سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا انہوں نے کہا پھرہمارے پاس تیزنبیذلایاگیا جس کو سیرین نے سبزگھڑے میں تیارکیا انہوں نے اسے پیا۔ ہمیں ابی داؤد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علقمہ سے حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ میں نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے مسکر کے بارے میں رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قول سے متعلق سوال کیاتوانہوں نے کہاکہ وہ آخری گھونٹ ہے۔ہمیں ابوبکرہ نے اپنی سندکے ساتھ قیس بن حبترسے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے سبز اورسرخ گھڑوں کے بارے میں سوال کیاتوانہوں نے فرمایا سب سے پہلے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے وفد عبدالقیس نے سوال کیاتھا تونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: "دباءمزفت اورنقیرمیں مت پیو اورمشکیزوں میں پیو۔ "انہوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم! اگر مشکیزوں میںوہ تیز ہوجائے تو آپ نے فرمایا:"اس پر پانی ڈال دو"۔اورآپ نے انہیں تیسری یاچوتھی مرتبہ فرمایا کہ"اسے انڈیل دو"۔ہمیں محمد بن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی۔قلت(میں کہتاہوں)اس کو
#3186 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عن ابن عباس مثل ذلك قلت ورواہ ابوداؤد فی سننہحدثنا محمد بن بشار ثنا ابواحمد الی اخرہ سند ا ومتنا نحوہ وزاد ثم قال ان اﷲ حرم علی او حرم الخمر والمیسر والکوبۃ قال وکل مسکر حرام قال سفین فسالت علی بن بذیمۃ عن الکوبۃ قال الطبلورواہ عبدالرزاق عن ابی سعید قال کنا جلوساعندالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال جاءکم وفد عبدالقیس الحدیث بطولہ وفیہ فان رابکم فاکسروہ بالماء اھ ولیس فیہ مابعدہقال الطحاوی ففی ھذا الحدیث ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اباح لھم ان یشربوا من نبیذ الاسقیۃ وان اشتد فان قال قائل فان فی امرہ باھراقہ دلیلا علی نسخ الاباحۃ قیل لھم کیف یکون ابوداؤد نے اپنی سنن میں روایت کیاکہ ہمیں محمدبن بشارنے ابواحمد سے حدیث بیان کی الخ جوکہ سند اور متن دونوں کے اعتبارسے اس کی مثل ہےاور اس میں یہ زائد ہے پھرفرمایا کہ بیشك اﷲ نے مجھ پرحرام کیا یایوں فرمایاکہ خمرجوا اورکوبہ حرام کردئیے گئے اورہرنشہ آورحرام ہے۔سفیان نے کہا کہ میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا کہ طبل(ڈھول)اور اس کوعبدالرزاق نے ابوسعید سے روایت کیا ابوسعیدنے کہاکہ ہم نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے توحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس وفدعبدالقیس آیاہے(طویل حدیث ذکرکی)اور اس حدیث میں ہے کہ اگرتمہیں وہ(نبیذ) شك میں ڈالے توپانی سے اس کی تیزی کوتوڑدو الخ اوراس میں حدیث کابعدوالاحصہ نہیں ہے۔امام طحاوی نے فرمایا کہ اس حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس کے لئے مشکیزوں کی نبیذ کوپینامباح فرمایا اگرچہ اس میں تیزی آئے۔اگرکوئی کہنے والاکہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کوانڈیلنے کاحکم دیایہ اباحت کے نسخ کی دلیل ہے اس کوکہاجائے گا یہ کیسے
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۶۱۔۳۶€۰
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب فی الاوعیۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۶۴€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۶۹۳۰€ المجلس العلمی ∞۹ /۰۲۔۲۰۱€
#3187 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ذالك وقدروی عن ابن عباس من کلامہ بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرمت الخمر لعینھا والسکر من کل شراب وقد ذکرنا ذالك باسنادہ وکیف یجوز علی ابن عباس مع علمہ وفضلہ ان یکون قدروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مایوجب تحریم النبیذ الشدید ثم یقول حرمت الخمر لعینھا والسکر من کل شراب ولکن معنی حدیث قیس انہ لم یأمنھم علیہ ان یشرعوا فی شربہ فیسکروا فامرھم باھراقہ ذالك وقدروی فی مثل ما ھذا ماحدثنا محمدبن خزیمۃ ثنا عثمن بن الھیثم بن الجھم المؤذن ثنا عوف بن ابی جمیلۃ ثنی ابو القموص زیدبن علی عن احد وفد عبدالقیس او یکون قیس بن النعمان فانی قدنسیت اسمہ انھم سألوہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الاشربۃ فقال لا تشربوا فی الدباء ولافی النقیر واشربوا فی السقاء الحلال الموکأ علیہ علیھا فان اشتد منہ فاکسروہ بالماء فان اعیاکم فاھریقوہ حدثنا ربیع المؤذن ثنا اسد بن موسی ثنا مسلم بن خالد ثنی زید ہوسکتاہے حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کایہ کلام مروی ہے کہ خمر لعینہ حرام کی گئی اورہرشراب میں سے نشہ کی مقدارحرام کی گئیہم اس حدیث کو اس کے اسناد کے ساتھ ذکرکرچکے ہیںاورابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے لئے اپنے عمل وفضل کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کریں جونبیذ شدید کی حرمت کو ثابت کرے اورپھریہ فرمائیں کہ خمر تو لعینہ حرام ہے جبکہ باقی ہرشراب میں سے نشہ آور مقدارحرام ہے لیکن حدیث قیس کامعنی یہ ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یہ ڈرہواکہ وہ اس کوپی کر نشہ میں آئیں گے لہذا اس کوانڈیل دینے کاانہیں حکم دیااوراسی کی مثل مروی ہے اس حدیث میں جوہمیں محمدبن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ وفد عبد القیس میں شریك ایك شخص سے حدیث بیان کی یا وہ راوی قیس بن نعمان تھاراوی کہتاہے مجھے اس کانام بھول گیاہے کہ وفد عبدالقیس نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے شرابوں کے بارے میں سوال کیا توآپ نے فرمایا کہ کدو اور کھرچی ہوئی لکڑی میں مت پیو اورایسے مشکیزوں میں پیو جن کے منہ باندھے گئے ہوں اگر اس نبیذ میں شدت آجائے توپانی سے اس کی شدت توڑو اگروہ تمہیں عاجز کردے توپھراسے انڈیل دو۔ہمیں ربیع المؤذن نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان
#3188 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بن اسلم عن سمی عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا دخل احدکم علی اخیہ المسلم فاطعمہ طعاما فیاکل من طعامہ ولایسأل عنہ فان اسقاہ شرابا فلیشرب منہ ولایسأل عنہ فان خشی منہ فلیکسرہ بشیئففی ھذا الحدیث اباحۃ شرب النبیذ فان قال قائل انما اباحہ بعد کسرہ بالماء و ذھاب شدتہ قیل لہ ھذا کلام فاسد لانہ لوکان فی حال شدتہ حراما لکان لایحل وان ذھبت شدتہ بصب الماء علیہ الاتری ان خمرالوصب فیھا ماء حتی غلب الماء علیھا ان ذالك حرام فلما کان قدابیح فی ھذا الحدیث الشراب الشدید اذا کسر بالماء ثبت بذلك انہ قبل ان یکسر بالماء غیر حرام فثبت بما رویناہ فی ھذاالباب اباحۃ مالایکسر من النبیذ الشدید وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالی۔ کی انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایك اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے تو وہ اس کوکھاناکھلائے اس کو چاہئے کہ وہ کھاناکھالے مگراس سے کھانے کاسوال نہ کرے اوراگروہ اس مشروب سے نشہ کاڈرمحسوس کرے توپانی وغیرہ سے اس کی تیزی کوتوڑ دےاس حدیث میں نبیذ کی اباحت کاثبوت ہےاگر کوئی شخص کہے کہ پانی کے ساتھ اس کی سختی ختم کرنے کے بعد اسے مباح قراردیاگیاہے جبکہ اس کی شدت ختم ہوجاتی ہے تو اس کوکہاجائے گا کہ تیرایہ کلام فاسد ہے اس لئے کہ اگروہ شدت کی حالت میں حرام ہوتووہ حلال نہیں ہوسکتی اگرچہ پانی انڈیلنے کے ساتھ اس کی شدت ختم ہوجائےکیاتم نہیں دیکھتے کہ اگرخمر میں اس قدرپانی ملایاجائے کہ وہ اس غالب آجائے تو وہ حرام ہی رہے گااس حدیث میں جب تیز شراب(نبیذ)کو مباح قراردیاگیاہے جب پانی کے ساتھ اس کی شدت ختم کردی جائےاس سے ثابت ہوگیا کہ پانی انڈیل کرتیزی ختم کرنے سے پہلے وہ حرام نہیں تھی لہذا جوکچھ ہم نے اس باب میں روایت کیااس سے تیزنبیذ کامباح ہونا ثابت ہوگیا جبکہ وہ نشہ نہ دےاوریہی قول ہے امام ابوحنیفہامام ابویوسف اور امام محمدرحمۃ اﷲ تعالی علیہم کا۔(ت)
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربہ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۶۲۔۳۶۱€
#3189 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
زیادۃ احادیث
اخبرنا سوید قال اخبرنا عبداﷲ عن السری بن یحیی ثنی ابوحفص امام لنا و کان من اسنان الحسن عن ابی رافع ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی قال اذا خشیتم من نبیذ شدتہ فاکسروہ بالماء قال عبداﷲ بن قبل ان یشتد اخبرنا زکریا بن یحیی (بسندہ)عن سعید بن المسیب یقول تلقت ثقیف عمربشراب فدعا بہ فلما قربہ الی فیہ کرھہ فدعا بہ فکسرہ بالماء فقال ھکذا فافعلوا قلت ورواہ عبدالرزاق والبیھقی۔
(مزیدحدیثیں): سنن نسائی شریف میں ہے:
امام نسائی نے اپنی سند کے ساتھ ابو رافع سے روایت کیاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب تمہیں نبیذکی تیزی کاڈر ہو توپانی سے اس کی تیزی کوتوڑدیاکرو۔عبداﷲ نے فرمایا کہ تیزی آنے سے پہلے ایساکرو۔امام نسائی نے اپنی سندکے ساتھ سعیدبن مسیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا کہ قبیلہ بنی ثقیف نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں مشروب پیش کیاآپ نے اس کو طلب فرمایا جب اپنے منہ کے قریب کیاتو وہ اچھا نہ لگاپھراس کومنگوایا اور پانی کے ساتھ اس کی تیزی کوکم کرکے فرمایا:ایساہی کرو۔میں کہتا ہوں اس کو عبدالرزاق اوربیہقی نے روایت کیا۔(ت)
اسی میں ہے:
عن ابن سیرین قال بعہ عصیرا ممن یتخذہ طلاء و لایتخذہ خمرا عن سوید بن غفلۃ قال کتب عمر بن الخطاب الی بعض عمالہ ان ارزق المسلمین من الطلاء ذھب ثلثاہ وبقی ثلثۃ و رواہ عبدالرزاق وابو نعیم ابن سیرین نے کہاکہ انگورکاشیرہ اس کے ہاتھ بیچو جواس سے طلاء بناتا ہے اس کے ہاتھ مت بیچو جوخمربناتا ہے۔سیدبن غفلہ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے بعض عاملوں کولکھا مسلمانوں کو ایساطلاء پینے دیجئے جس کادوثلث جل کرخشك ہوجائے اور ایك تہائی رہ جائے۔ اس کوعبدالرزاق اورابونعیم
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکراخبار التی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۳۳)€
سنن النسائی کتاب الاشربہ الکراھۃ فی بیع العصیر ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۳€۴
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۳۴€
#3190 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فی الطب وعن ابی مجانۃ عن عامر بن عبداﷲ انہ قال قرأت کتاب عمربن الخطاب الی ابی موسی اما بعد فانھا قدمت علی عیر من الشام تحمل شرابا غلیظا اسود کطلاء الابل وانی سألتھم علی کم یطبخونہ فاخبرونی انھم یطبخونہ علی الثلثین ذھب ثلثاہ الاخبثان ثلث ببغیہ وثلث بریحہ فمرمن قبلك یشربونہ ۔قلت ومن ھذا الطریق رواہ سعید بن منصور فی سننہ وفیہ کتب عمر الی عمار رضی اﷲ تعالی عنھما ثم روی النسائی عن عبداﷲ بن یزید الخطمی قال کتب الینا عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ اما بعد فاطبخوا شرابکم حتی یذھب منہ نصیب الشیطان فان لہ اثنین ولکم واحد ۔قلت صححہ الحافظ فی الفتح و رواہ سعید بن منصور و البیھقی وسیأتی حدیث کتابہ بطریقین اخرین نے طب میں ابومجانہ سے بحوالہ عامربن عبداﷲ روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کامکتوب گرامی بنام ابوموسی اشعری پڑھا جس میں آپ نے لکھا کہ میرے پاس شام کا ایك قافلہ آیا جس کے پاس سیاہ رنگ کی گاڑھی شراب تھی جیسے اونٹوں کاطلاء ہوتا ہےمیں نے ان سے سوال کیاکہ تم اس کو کس قدر پکاتے ہوتوانہوں نے بتایا وہ اس کے دوتہائی کوجلادیتے ہیں جن میں خبث ہے ایك تہائی سرکا اورایك تہائی بوکا یعنی ایك تہائی باقی رہ جاتاہے توتم اپنی طرف سے لوگوں کو کہہ دو کہ اس کوپی لیاکریں۔میں کہتا ہوں اسی طریق سے اس کوسعیدبن منصور نے اپنی سنن میں روایت کیاہےاس میں ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار رضی اﷲ تعالی عنہما کولکھا پھرامام نسائی نے اس کو عبداﷲ بن یزید خطمی سے روایت کیا انہوں نے کہاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے ان کو لکھا:امابعداپنی شرابوں کوا س حد تك پکاؤ کہ ان سے شیطان کاحصہ جل جائے اوراس کے لئے دو حصے(دوتہائی)اورتمہارے لئے ایك حصہ ہے۔میں کہتاہوں اس کو حافظ نے فتح میں صحیح قراردیااور س کو سعیدبن منصور اوربیہقی نے روایت کیا۔عنقریب حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کاخط دو۲ اور طریقوں سے بھی آرہاہے۔
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء الخ ∞نورمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء الخ ∞نورمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
#3191 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ثم روی النسائی عن الشعبی قال کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یرزق الناس الطلاء یقع فیہ الذباب ولا یستطیع ان یخرج منہ عن داؤد سألت سعید اما الشراب الذی احلہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ قال الذی یطبخ حتی یذھب ثلثاہ ویبقی ثلثہ قلت و رواہ ابن ابی شیبۃ قال حدثنا عبدالرحیم بن سلیمن عن داؤد بن ابی ھند قال سألت سعید بن المسیب فذکرہثم روی النسائی عن سعید بن المسیب ان ابا الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ کان یشرب ماذھب ثلثاہ و بقی ثلثہ عن قیس بن ابی حازم عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ ان کان یشرب من الطلاء ذھب ثلثاہ وبقی ثلثۃ عن یعلی بن عطاء قال سمعت سعید بن المسیب وسألہ اعرابی عن شراب یطبخ علی النصف فقال پھر اس کو امام نسائی نے شعبی سے روایت کیاکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ لوگوں کوطلاء پلاتے تھے اس میں اگرمکھی گرجائے تونکل نہیں سکتی تھی(یعنی بہت گاڑھی ہوتی تھی) داؤد نے کہامیں نے سعید سے سوال کیاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے کون سی شراب کوحلال کیاتھا انہوں نے بتایاکہ جس کے دوتہائی جل کرخشك ہوجائیں اورایك تہائی باقی رہ جائے۔میں کہتاہوں اس کوابن ابی شیبہ نے روایت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں عبدالرحیم بن سلیمان نے داؤدبن ابی ہند سے بیان کی انہوں نے کہاکہ میں نے سعیدبن مسیب سے سوال کیاپھرمذکورہ حدیث کوذکرکیاپھرنسائی نے سعید بن مسیب سے روایت کیاکہ ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ ایسا شراب پیتے تھے جس کادوتہائی خشك ہوجاتااورایك تہائی باقی رہ جاتا۔قیس بن ابی حازم نے ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ وہ ایساطلاء پیتے تھے جس کادوتہائی خشك ہوجاتا اورایك تہائی باقی رہ جاتا۔یعلی بن عطاء نے کہاکہ میں نے سعید بن مسیب کوکہتے ہوئے سناجب ان سے ایك اعرابی نے ایسی شراب کے بارے میں سوال کیاجس کانصف پکانے سے خشك ہوگیا انہوں نے جواب دیا
#3192 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
لاحتی یذھب ثلثاہ ویبقی الثلث عن یحیی بن سعید عن سعد بن المسیب قال اذا طبخ الطلاء علی الثلث فلاباس بہ عن بشیر بن المھاجر قال سألت الحسن عما یطبخ من العصیر قال تطبخہ حتی یذھب الثلثان ویبقی الثلث عن انس بن سیرین قال سمعت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ یقول ان نوحا علیہ الصلوۃ والسلام نازعہ الشیطان فی عود الکرم فقال ھذا لی وقال ھذالی فاصطلح علی ان لنوح ثلثھا و للشیطان ثلثیھا عن عبدالملك بن طفیل الجزری قال کتب الینا عمر بن عبد العزیز ان لا تشربوا من الطلاء حتی یذھب ثلثاہ ویبقی ثلثہ وکل مسکر حرام ۔ کہ یہ حلال نہیں یہاں تك کہ اس کادوتہائی جل کرایك تہائی باقی رہ جائے۔یحیی بن سعیدنے سعیدبن مسیب سے روایت کی انہوں نے کہا کہ جب طلاء ایك ثلث تك پکایاجائے تواس کے پینے میں کوئی حرج نہیں۔بشیربن مہاجرنے کہاکہ میں نے حسن سے پکائے ہوئے شیرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا تو اس کواس حد تك پکاکہ اس کادوثلث خشك ہوجائے اورایك ثلث باقی رہے۔انس بن سیرین نے کہامیں نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کوفرماتے ہوئے سناکہ شیطان نے حضرت نوح علیہ السلام سے انگور کے درخت کے بارے میں جھگڑا کیاشیطان نے کہایہ میرا ہے اورنوح علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ میراہے پھراس بات پر صلح ہوئی اس کاایك تہائی نوح علیہ السلام کے لئے اوردوتہائی شیطان کے لئے۔عبدالملك بن طفیل جزری نے کہاکہ ہماری طرف عمربن عبدالعزیز نے لکھاتم طلاء مت پیویہاں تك کہ اس کا دو تہائی خشك ہوجائے اورایك تہائی باقہ رہ جائے اورہرنشہ آورحرام ہے۔(ت)
مسند سیدناالانام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
ابوحنیفہ عن ابی عون عــــــہ عن امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے ابوعون سے انہوں نے

عــــــہ: فی النسخۃ التی شرح علیھا العلامۃ العلی القاری ابوحنیفۃ عن ملاعلی قاری نے جس نسخہ پرشرح لکھی ہے اس میں ابوحنیفہ عن ابی عون محمد الثقفی الحجازی ہے (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء الخ ∞نورمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
#3193 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر لعینھا قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب ۔وفی بعض روایات المسند ابوحنیفۃ عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رواہ الحارثی من طریق محمد بن بشر عن الامام وفی اخری ابو حنیفۃ عن عون بن ابی جحیفۃ عن ابن عباس عبداﷲ ابن شداد سے انہوں نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی آپ نے فرمایا خمرلعینہ حرام کی گئی چاہے قلیل ہویاکثیرباقی ہرشراب میں سے نشہ آور مقدار حرام ہے۔مسندکی بعض روایات میں یوں ہے کہ امام ابوحنیفہ نے ابوعون سے انہوں نے عبداﷲ ابن شداد سے اورانہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیاس کوحارثی نے بطریق محمدبن بشر امام صاحب سے روایت کیا۔دوسری سند میں یوں ہے امام ابوحنیفہ نے عون بن ابی جحیفہ سے اورانہوں نے ابن عباس

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابی عون محمد الثقفی الحجازی عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال القاری الظاھرانہ محمد بن ابی بکر بن عوف الثقفی الحجازی روی عن انس بن مالك وعنہ جماعۃ اھ اقول: الحدیث انما یعرف بابی عون محمد بن عبیداﷲ الثقفی الکوفی وھو الصواب والاأدری لفظ الحجازی افادہ الشارح او وقع من بعض النساخ ۱۲منہ۔ اس پرملاعلی قاری نے فرمایا ظاہریہ ہے کہ وہ محمدبن ابی بکربن عوف الثقفی الحجازی جوانس بن مالك سے روایت کرتے ہیں اوران سے جماعت نے روایت کی ہےاھمیں کہتاہوں یہ حدیث ابی عون محمد بن عبیداﷲ الثقفی الکوفی سے معروف ہے اور یہی درست ہے اورمجھے معلوم نہیں کہ حجازی کالفظ شارح نے ذکرکیا ہے یایہ کسی نقل کرنے سے واقع ہواہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References مسندالامام الاعظم کتاب الاطعمۃ والاشربۃ الخ ∞نورمحمدکارخانہ کتب خانہ کراچی ص۲۰۲€
شرح مسندالامام الاعظم لملاعلی القاری فائدہ حرمۃ خمروکل مسکرات ∞مکتبہ توحید وسنۃ پشاور ص۲۵۶€
#3194 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فذکرہ رواہ طلحۃ من طریق یحیی الیمانی وحماد ابن الامام عن الامام وھکذا اوردہ العلاء ابن اتر کما فی الجوھر النقی قال المرتضی والمحفوظ فی مسند الامام ما ذکرناہ اولا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ قال رأیت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ وھو یاکل طعاما ثم دعا بنبیز فشرب فقلت رحمك اﷲ تشرب النبیذ والامۃ تقتدی بك فقال ابن مسعود رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یشرب النبیذ لولا انی رأیتہ یشربہ ماشربتہ ۔ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم انہ قال قول الناس کل مسکر حرام خطؤمن الناس انما اراد وان یقولوا السکر حرام من کل شراب ۔ابوحنیفۃ عن حماد عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ بیشك نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاپھر وہی حدیث ذکرکیاس کوطلحہ نے بطریق یحیی یمانی وحماد ابن امام ابوحنیفہ امام صاحب سے روایت کیا۔اسی طرح علاء ابن اتر نے اس کو وارد کیاجیسا کہ جواہرالنقی میں ہےمرتضی نے کہامسندامام اعظم میں محفوظ وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکرکیا۔امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے روایت کیعلقمہ نے کہاکہ میں نے عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کو کھانا تناول فرماتے ہوئے دیکھاپھرانہوں نے نبیذ منگوائی اور اسے پیا تومیں نے کہا اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے آپ نبیذ پیتے ہیں حالانکہ امت آپ کی اقتداء کرتی ہےابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہمانے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کونبیذ پیتے ہوئے دیکھا اگرمیں نے آپ کو نبیذ پیتے ہوئے نہ دیکھاہوتومیں اس کونہ پیتا۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے روایت کی ابراہیم نے کہاکہ لوگوں کا یہ قول لوگوں کی خطاہے کہ ہر نشہ آورحرام ہےاس سے مرادیہ ہے کہ وہ یوں کہیں ہرشراب سے نشہ حرام ہے۔امام ابوحنیفہ سے حماد سے انہوں نے حضرت انس
حوالہ / References مسندالامام الاعظم کتاب الاطعمۃ والاشربۃ الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۰۲۔۲۰€۱
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۸۹€
#3195 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بن مالك انہ کان ینزل علی ابی بکر بن ابی موسی الاشعری بواسط فیبعث برسول الی السوق یشتری لہ النبیذ من الخوابی ابوحنیفۃ عن حماد قال کنت اتقی النبیذ فدخلت علی ابراھیم وھو یطعم فطعمت معہ فناولنی قدحا فیہ نبیذ فلما رأی اتقائی منہ قال حدثنی علقمۃ عن عبداﷲ بن مسعود انہ کان ربما طعم عندہ ثم دعا بنبیذ لہ تنبذہ لہ سیرین ام ولدہ فشرب وسقانی ۔ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم انہ قال کتب عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ الی عماربن یاسر رضی اﷲ تعالی عنھما وھو عامل لہ علی الکوفۃ اما بعد فانہ انتھی الی شراب من الشام من عصیر العنب وقد طبخ وھو عصیر قبل ان یغلی حتی ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ فذھب شیطانہ وبقی حلوہ وحلالہ فھو شبیہ بطلاء بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ وہ ابوبکر بن ابوموسی اشعری کے پاس واسط میں اترے توانہوں نے بازار میں قاصدبھیجا تاکہ وہ ان کے لئے خوابی سے نبیذ خریدے۔ امام ابوحنیفہ نے حماد سے روایت کی حماد نے کہامیں نبیذ سے پرہیزکرتا تھا میں ابراہیم کے پاس گیا وہ کھاناکھارہے تھے میں نے ان کے ساتھ کھاناکھایا مجھے انہوں نے ایك پیالہ دیاجس میں نبیذتھی جب انہوں نے مجھے اس سے بچتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا مجھے علقمہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ وہ(علقمہ)بسااوقات ابن مسعود کے ساتھ کھاناکھاتےپھرانہوں نے نبیذطلب فرمائی جوسیرین نے ان کے لئے تیار کی تھی جوان کی ام ولد ہےانہوں نے نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایاامام ابوحنیفہ نے حماد سے اورانہوں نے ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے عماربن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف خط لکھاجبکہ وہ کوفہ کے عامل تھےامابعد! میرے پاس شام سے انگور کے رس کی شراب پہنچی جس کو پکایا گیا ہے دراں حالیکہ وہ پکانے سے انگورکا شیرہ تھی یہاں تك کہ اس کادوتہائی جل گیا اورایك تہائی باقی رہ گیاتواس کا شیطان چلا گیا توا س کی مٹھاس وحلت باقی رہی گئیاور وہ اونٹوں کے
حوالہ / References جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتب الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۹۱۔۱۹€۰
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتب الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۹۱۔۱۹۰€
#3196 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
الابل فمر من قبلك فیتوسعوا بہ شرابھم قلت وروی عبدالرزاق عــــــہ حدثنا معمر بن عاصم عن الشعبی قال کتب عمربن الخطاب الی عماربن یاسر امابعد فانھا جاءتنا اشربۃ من قبل الشام کانھا طلاء الابل قد طبخ حتی ذھب ثلثاہ الذی فیہ خبث الشیطان وریح جنونہ وبقی ثلثہ فاصطنعہ وامر من قبلك ان یصطنعوہ ورواہ الخطیب فی تلخیص المتشابہ عن الشعبی عن حبان الاسدی قال اتانا کتاب عمر فذکرہ بلفظ ذھب شرہ وبقی خیرہ طلاء کے مشابہ ہے تم اپنی طرف سے حکم دے دوکہ لوگ اپنی شرابوں میں گنجائش پیداکریں۔میں کہتاہوں امام عبد الرزاق نے روایت کیاکہ ہمیں معمرنے عاصم سے اور انہوں نے شعبی سے حدیث بیان کی کہ حضرت عمرابن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے عماربن یاسر کوخط لکھاامابعد! بیشك ہمارے پاس شام کی طرف سے کچھ شرابیں آئی ہیں گویا کہ وہ اونٹوں کاطلاء ہیں جنہیں پکایاگیا یہاں تك کہ اس کادو ثلث جل گیا جس میں خبث شیطان اوراس کے جنون کی بو تھی باقی ایك تہائی رہ گیااس کوبناؤ اور لوگوں کوبنانے کااپنی طرف سے حکم دواوراس کو تلخیص المتشابہ میں خطیب نے شعبی سے اور انہوں نے حبان اسدی سے روایت کیاحبان نے کہاکہ ہمارے پاس حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کاخط آیا اس میں حبان نے یہ لفظ ذکر کیا ہے کہ اس کاشر

عــــــہ: ھکذا اعزاہ لعبد الرزاق الامام البدر فی البنایۃ والامام خاتم الحفاظ فی الجامع الکبیر ووقع فی تعلیقات مؤطا الامام محمد لبعض المعاصرین عزوہ لابن ابی شیبۃ وکانہ شبہ علیہ احد المصنفین بالاخر۱۲منہ۔ عــــــہ:اور امام بدرالدین عینی نے بنایہ میں اور امام عسقلانی نے جامع الکبیر میں اس کوعبدالرزاق کی طرف منسوب کیاجبکہ مؤطا امام محمد کی تعلیقات میں ایك معاصر(علامہ عبدالحی لکھنوی)نے اس کو ابن ابی شیبہ کی طرف منسوب کیاہوسکتاہے علامہ لکھنوی کومصنف عبدالرزاق اورمصنف ابن ابی شیبہ میں اشتباہ ہوگیا ہو ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتب الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۹۱€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۱۷۱۲۰€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۵۵€
#3197 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فاشربوہ ابوحنیفہ عن حماد عن ابراھیم انہ قال فی الرجل یشرب النبیذ حتی یسکر قال القدح الاخیر الذی سکر منہ ھو الحرام ۔ زائل ہوگیا اورخیرباقی رہا لہذا تم اس کو پیو۔امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے روایت کیاانہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو نبیذپیتایہاں تك کہ اسے نشہ آجاتافرمایا آخری پیالہ جس سے نشہ ہوا وہ حرام ہے۔(ت)
عقودالجواہرمیں ہے:
فی مصنف ابن ابی شیبۃ حدثنا علی بن مسھر عن سعید بن ابی عروبۃ عن قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان ابا عبیدۃ ومعاذ بن جبل واباطلحۃ رضی اﷲ تعالی عنھم کانوا یشربون من الطلاء ما ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ قلت ورواہ ایضا ابومسلم الکجی وسعید بن منصور فی سننہ کما فی العمدۃ قال ابوبکر حدثنا وکیع عن الاعمش عن میمون(ھو ابن مھران)عن ام الدرداء قالت کنت اطبخ لابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ الطلاء ماذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ ۔حدثنا ابن فضیل عن مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ہمیں علی بن مسہر نے سعیدبن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اورانہوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی حضرت انس نے فرمایا کہ ابوعبیدہمعاذبن جبل اورابوطلحہ رضی اﷲ تعالی عنہم ایسا طلاء پیتے جس کادوثلث جل کرایك ثلث باقی رہتا۔میں کہتا ہوں کہ اس کوابومسلم الکجی اور سعیدبن منصور نے بھی اپنی سنن میں روایت کیاجیساکہ عمدہ میں ہے۔ابوبکر نے کہا ہمیں وکیع نے اعمش سے انہوں نے ام درداء سے حدیث بیان کی ام درداء نے کہاکہ میں ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے طلاء پکاتی جس کادوتہائی جل کرایك تہائی باقی رہ جاتا۔ہمیں ابن فضیل نے
حوالہ / References تلخیص المتشابہ ∞حدیث ۱۰۵۲€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۵۱۵€
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ ∞سمندری ۲ /۱۹۲€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۰۳۹€ ادارۃ القرآن ∞۸ /۱۷۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۰۳۹€ ادارۃ القرآن ∞۸ /۱۷۱€
#3198 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عطاء بن السائب عن ابی عبدالرحمن قال کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یرزقنا الطلاء فقلت لہ ماھیأتہ قال ابواسود یاخذہ احدنا باصبعہ حدثنا وکیع عن سعید بن اوس عن انس بن سیرین قال کان انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سقیم البطن فامرنی ان اطبخ لہ طلاء حتی ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ فکان یشرب منہ الشربۃ علی اثر الطعام حدثنا ابن نمیر ثنا اسمعیل عن مغیرۃ عن شریح ان خالد بن الولید رضی اﷲ تعالی عنہ کا یشرب الطلاء بالشام ۔ عطابن سائب سے انہوں نے عبدالرحمن سے حدیث بیان کی کہ حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ ہمیں طلاء پلاتے میں نے کہا اس کی ہیئت کیاہوت ابواسود نے کہاکہ ہم میں سے کوئی ایك اس کو اپنی انگلی کے ساتھ لے سکتاتھا(یعنی وہ بہت گاڑھا ہوتاتھا)ہمیں وکیع نے سعیدبن اوس سے انہوں نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تومجھے حکم دیاکہ میں ان کے لئے طلاء پکاؤں یہاں تك کہ وہ دوتہائی جل کرایك تہائی باقی رہ جاتا توآپ اس میں سے کچھ کھانے کے بعد نوش فرماتے۔ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اسمعیل نے مغیرہ سے انہوں نے شریح سے حدیث بیان کی کہ حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ تعالی عنہ شام میں طلاء پیاکرتے تھے(ت)
سنن دارقطنی میں ہے:
حدثنا محمد بن احمد بن ھارون نا احمد بن عمربن بشر ناجدی ابراھیم بن قرۃ نا القاسم بن بھرام ثنا عمر وبن دینار عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال مر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ہمیں محمدبن احمد بن ہارون نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدینہ میں ایك قوم پرگزرے انہوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم! ہمارے پاس بنائی ہوئی ایك
حوالہ / References المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۴۰۶۱€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۱۷۶€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۴۰۴۶€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۱۷۲€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۴۰۵۸€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۱۷۵€
#3199 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قوم بالمدینۃ قالوا یارسول اﷲ ان عندنا شرابا لنا افلانسقیك منہ قال بلی فاتی بعقب اوقدح غلیظ فیہ نبیذ فلما اخذہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقربہ الی فیہ قطب قال فدعا الذی جاء بہ فقال خذہ فاھرقہ فلما ان ذھب بہ قالوا یارسول اﷲ ھذا شرابنا ان کان حراما لم نشربہ فدعا بہ فاخذہ ثم دعا بماء فصبہ علیہ ثم شرب وسقی وقال اذاکان ھکذا فاصنعوا بہ ھکذا ۔ شراب ہے کیا اس میں سے ہم آپ کونہ پلائیں آپ نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں۔آپ کی خدمت میں ایك پیالہ پیش کیاگیا جس میں تیزنبیذ تھیجب آپ نے اس کوپکڑا اورمنہ کے قریب کیاتوتیوری چڑھائی اوراس شخص کوبلایا جولایا تھا اورفرمایا اس کولے جاؤ اور انڈیل دو۔جب وہ شخص اس نبیذ کولے کرچلاگیا لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! یہ ہماری شراب اگرحرام ہے توہم اس کونہ پئیں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کودوبارہ طلب فرمایا اسے پکڑا پھرپانی منگواکر اس میں ڈالا پھر پیا اور پلایا اور فرمایا جب نبیذ ایسی ہو تو اس کے ساتھ اس طرح کیا کرو۔ (ت)
اسی میں ہے:
عن وکیع عن شریك عن فراس عن الشعبی ان رجلا شرب من اداوۃ علی بصفین فسکر فضربہ الحد۔ وکیع سے شریك سے فراس سے شعبی سے روایت ہے کہ ایك شخص نے صفین میں حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کے برتن سے شراب پی تو اسے نشہ ہوگیا آپ نے اس پرحد لگائی۔ (ت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
حدثنا عبدالرحیم بن سلیمن عن مجالد عن الشعبی عن علی نحوہ وقال فضربہ ثمانین ۔ ہمیں عبدالرحیم بن سلیمان نے مجالد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے علی سے ایسے ہی حدیث بیان کی اورکہا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے اسی کوڑے لگائے۔(ت)
حوالہ / References نصب الرایۃ بحوالہ الدارقطنی کتاب الاشربۃ احادیث فی الباب الخ المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۹€
سنن الدارقطنی کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۸۰€ دارالمحاسن لطباعۃ القاھرہ الجزئالرابع ∞ص۲۶۱€
المصنّف ابن ابی شیبہ کتاب الحدود النبیذ من رأی فیہ حدًا ∞حدیث ۸۴۵۵€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۹ /۵۴۵€
#3200 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
کامل ابن عدی میں ہے:
حدثنا ابوالعلاء الکوفی بمصر ثنامحمد بن الصباح الدولابی نانصربن المجدر قال کنت شاھدا حین ادخل شریك ومعہ ابوامیۃ الذی رفع الی المھدی ان شریکا حدثہ عن الاعمش عن سالم عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال استقیموا لقریش ما استقاموا لکم فاذا ازاغوا عن الحق فضعوا سیوفکم علی عواتقکم فقال المھدی لشریك حدثت بھذا قال لاقال ابوامیۃ علی المشی الی بیت اﷲ تعالی وکل مالی فی المساکین صدقۃ ان لم یکن حدثنی فقال شریك علی مثل الذی علیہ ان کنت حدثتہ قال فکان المھدی رضی فقال ابو امیۃ یا امیرالمومنین عندك ادھی العرب انما یعنی علیہ مثل الذی علیہ من الثیاب قل لہ فلیحلف مثل الذی حلفت فقال صدقت احلف کما حلف فقال شریك قد حدثتہ ہمیں ابوالعلاء کوفی نے مصرمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی محمدبن صباح دولابی نے انہوں نے کہاکہ ہمیں نصربن مجدر نے خبردی کہ میں اس وقت حاضرتھا جب شریك کوداخل کیاگیا اس کے ساتھ ابوامیہ تھا جس نے مہدی کے پاس مقدمہ دائر کیاتھا کہ شریك نے اسے اعمش سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاقریش کے لئے سیدھے رہو جب تك وہ تمہارے لئے سیدھے رہیں جب وہ حق سے ٹیڑھے ہوجائیں توتم اپنی تلواریں اپنے کندھوں پررکھ لو۔مہدی نے شریك سے کہا تو نے یہ حدیث بیان کی اس نے کہانہیںابوامیہ نے کہامجھ پربیت اﷲ شریف کی طرف جانالازم ہے اورمیراسارا مال مسکینوں پرصدقہ ہے اگر اس نے مجھے یہ حدیث بیان نہ کی ہو شریك نے کہا مجھ پر اسی کی مثل ہے جو اس پر ہے اگرمیں نے اس کویہ حدیث بیان کی ہو۔راوی نے کہاگویاکہ مہدی شریك کی بات پر راضی ہوگیا۔ابوامیہ نے کہا اے امیر المومنین! آپ کے پاس عرب کاسب سے بڑاچالاك شخص موجودہے اس نے جوکہاہے کہ مجھ پر اس کی مثل ہے جواس پر ہے اس قول سے اس کی مراد کپڑے ہیں آپ اسے حکم دیں کہ وہ میری طرح قسم کھائے۔مہدی نے کہا تو نے سچ کہا اورمہدی
#3201 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فقال ویل علی شارب الخمر یعنی الاعمش وکان یشرب المصنف لوعلمت موضع قبرہ لاحرقتہ قال شریك لم یکن یھودیا کان رجلا صالحا الخ۔ نے شریك کوکہا تم قسم کھاؤ جیساکہ ابوامیہ نے قسم کھائی توشریك نے یہ کہاکہ میں نے یہ حدیث بیان کی ہےتواس نے کہاشراب پینے والے یعنی اعمش پرہلاکت ہواور وہ ایسی شراب پیتاتھا جس کانصف جل کرخشك ہوجاتا اگرمجھے اس کی قبر کی جگہ معلوم ہوتی تومیں اس کوجلادیتاشریك نے کہا وہ یہودی نہیں تھا وہ ایك نیك مرد تھاالخ۔(ت)
صحیح بخاری شریف میں ہے:
رای عمروابوعبیدۃ ومعاذبن جبل شرب الطلاء عل الثلث وشرب البراء وابوجحیفۃ رضی اﷲ تعالی عنھماعلی النصف اھ۔
تقدمت اسانید الثلثۃ الاول ووصل الاخیرین ابن ابی شیبۃ کما فی العمدۃ۔
اضافہ افاضۃ:نزیدك عدۃ أبحاث تفیدك بعون اﷲ تعالی:
الاول تقدم تسعۃ احادیث من المرفوع وروی العقیلی من طریق عبدالرحمن بن بشر الغطفانی عن ابی اسحق عن الحارث عن علی کرم اﷲ وجھۃ حضرت عمرابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہم ایسی طلاء کوحلال سمجھتے جس کادوتہائی جل کر ایك تہائی رہ جائے جبکہ حضرت براء اورابوجحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہما وہ طلاء پیتے جس کانصف جل کرخشك ہوگیاالخ۔
پہلی تینوں حدیثوں کی سندیں گزرچکیں اورآخری دونوں کو ابن ابی شیبہ نے موصول فرمایا جیساکہ عمدہ میں ہے۔
اضافہ افاضہ:ہم تیرے لئے چندبحثوں کااضافہ کرتے ہیں جو اﷲ تعالی کی توفیق سے تجھے فائدہ دیں گی:
پہلی بحث: نومرفوع حدیثیں گزرچکی ہیںاور عقیلی نے بطریق عبدالرحمن بن بشر غطفانی ابواسحق سے انہوں نے حارث سے انہوں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہسے روایت کی کہ میں نے
حوالہ / References الکامل فی ضعفاء الرجال ابن عدی شریك بن عبداﷲ بن الحارث بن شریك بن عبداﷲ نخعی الخ دارالفکرللطباعۃ النشر ∞۴ /۱۳۳۷€
صحیح البخاری کتاب الاشربۃ باب الباذق ومن نہی عن کل مسکر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۸€
#3202 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الاشربۃ عام حجۃ الوداع فقال حرم اﷲ الخمر بعینھا والسکر من کل شراب واخرجہ مطولا من طریق محمد بن الفرات الکوفی عن ابی اسحق السبیعی وفیہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتی بقعب نبیذ فذاقہ فقطب وردہ فقام الیہ رجل من ال حاطب فقال یارسول اﷲ ھذا شراب اھل مکۃ قال فصب علیہ الماء حتی رغا ثم شرب فقال حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراب (فتلك عشرۃ کاملۃ)و قداخرج ھذا الکلام من دون القصۃ اعنی حرمت الخمر بعینھا الخ ابوالقاسم الطبرانی فی معجمہ الکبیر عن سعید بن المسیب عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وتقدم بوجھین مرسل و متصل من مسند الامام عن ابن شداد وعن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کانت اثنی عشر حدیثا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حجۃ الوداع والے سال شرابوں کے بارے میں سول کیا توآپ نے فرمایا اﷲ تعالی نے خمر کوبعینہ حرام فرمایا اورہرشراب کے نشہ کو حرام فرمایا اورعقیلی نے طوالت کے ساتھ بطریق محمد بن فرات کوفی ابواسحق سبیعی سے اس کی تخریج کی۔اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں نبیذ کا ایك بڑا پیالہ لایاگیا آپ نے اسے چکھا تیوری چڑھائی اوراسے لوٹا دیا۔آپ کی خدمت میں آل حاطب سے ایك شخص کھڑا ہوا اورکہا یارسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیك وسلم! یہ مکہ والوں کی شراب ہے۔راوی نے کہاکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس پرپانی انڈیلا یہاں تك کہ اس میں جھاگ آگئی پھراسے پی لیا اورفرمایا خمر بعینہ حرام ہے اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔یہ دس حدیثیں مکمل ہوگئیں۔اس کلام کی قصہ مذکورہ"یعنی شراب بعینہ حرام ہے الخ"کے بغیر تخریج کی ابو القاسم طبرانی نے اپنی معجم کبیرمیں سعیدبن مسیب سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےاور مسند امام اعظم کے حوالے سے دووجہیں یعنی"مرسل ومتصل "ابن شداد اور ابن عباس سے گزرچکیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائیتوا س طرح یہ بارہ۱۲ حدیثیں ہوگئیں
حوالہ / References الضعفاء الکبیر ترجمہ عبدالرحمن بن بشر∞۹۱۴€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۳۲€۴
الضعفاء الکبیر ترجمہ محمدبن فرات الکوفی ∞۱۶۸۱€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۴ /۲۴۔۱۲۳€
#3203 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
منھا الصحیح ومنھا الحسن وجل بقیتھا لیس فیھا مایسقطھا عن درجۃ الاعتبار وحیز الانجیار والحسن ولولغیرہ کاف للاحتجاج فکیف وقد وجد لذاتہونشیر الی بعض تفاصیل ماھنا حدیث ابن عمر اعلہ النسائی بعبد الملك بن نافع قال لیس بالمشہور ولایحتج بحدیثہ اقول: فلم یقل لا یکتب وقال فی التقریب مجہول وکذا قالہ ابو حاتم والبیھقیقال الامام البدر بعد نقل کلامھما قلت و ذکرہ ابن حبان فی الثقات من التابعین اھ اقول: قدروی ھذا الحدیث عنہ العوام عند النسائی واللیث عند الطحاوی وابواسحق الشیبانی عندھما و قرۃ العجلی عند الطحاویوابن ابی شیبۃ فارتفعت جھالۃ العین ولم یذکر بجرح قط ان میں سے بعض صحیح اوربعض حسن ہیںاورباقی متعدد وہ ہیں جن میں کوئی ایسی چیزنہیں پائی گئی جو ان کو درجہ اعتبار سے ساقط کردےاورحسن اگرچہ لغیرہ ہو استدلال کے لئے کافی کافی ہوتی ہےتو پھرکیاحال ہوگا جبکہ حسن لذاتہ پائی جائے! ہم اس کی کچھ تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: حدیث ابن عمر کی امام نسائی نے عبدالملك بن نافع کے سبب سے تعلیل فرمائی اورکہاکہ وہ مشہورنہیں اوراس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی اقول:(میں کہتاہوں کہ)امام نسائی نے یوں نہیں کہاکہ اس کی حدیث لکھی نہیں جاتی تقریب میں ہے کہ وہ مجہول ہےابوحاتم اوربیہقی نے یوں ہی کہا۔امام بدرنے ان دونوں کاکلام نقل کرنے کے بعدکہا قلت (میں کہتاہوں کہ)ابن حبان نے اس کو ثقہ تابعین میں ذکرکیاہےاھاقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث اس سے عوام نے روایت کی نزدیك امام کسائی کےاورلیث نے روایت کی امام طحاوی کے نزدیکاورابواسحق شیبانی نے روایت کی ان دونوں کے نزدیکاورقرۃ العجلی نے روایت کی امام طحاوی اور ابن ابی شیبہ کے نزدیکتواس طرح جہالت عین مرتفع ہوگئی اورجرح بالکل ذکرنہ کی گئیروایت
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۲
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ عبدالملك بن نافع ∞۴۲۳۸€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۶۲۱€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ ∞مکۃ المکرمۃ ۴ /۳۴۴€
#3204 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
البتۃ فغایتہ ان کان مستورا لاسیماوھو من القرون المشہود لھا بالخیرالتابعین والمستورمقبول عندنا والجمہور کمابیناہ فی"الھاد الکاف فی حکم الضعاف" فالحدیث لاینزل ان شاء اﷲ عن درجۃ الحسن۔ حدیث ابی مسعود اعلہ بیحیی بن یمان قال لایحتاج بحدیثہ لسوء حفظہ وکثرۃ خطائہ اقول: یحیی من رجال مسلم والاربعۃقال الحافظصدوق عابد یخطیئ کثیرا وقد تغیر اھ وقد تابعہ الیسع بن اسمعیل عن زید بن الحباب عن سفین قال ابن الجوزی والیسع ضعیف قلت قال فی المیزان ضعفہ الدار قطنی اھ وھو کما تری جرح مجرد حدیث ابن عباس من طریق القاسم بن بھرامقال ابن الجوزی تفرد بہ اس کی یہ ہے کہ وہ مستور ہے خصوصا وہ ان زمانوں میں ہے جن کے لئے غیر کی شہادت دی گئی یعنی تابعین سے اور مستور ہمارے نزدیك اورجمہور کے نزدیك مقبول ہے جیساکہ ہم نے اس کو"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"میں بیان کیا۔چنانچہ ان شاء اﷲ العزیز یہ حدیث درجہ حسن سے نہیں گرے گی۔امام نسائی نے یحیی بن یمان کے سبب سے حدیث ابی مسعود کی تعلیل کرتے ہوئے کہاکہ حافظہ کی کمزوری اور کثرت خطاء کی وجہ سے یحیی کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتیاقول:(میں کہتاہوں)یحیی بن یمان امام مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہےحافظ نے کہاکہ وہ صدوق عابد ہے خطا زیادہ کرتا ہے اوروہ متغیرہوا الخ اس کی متابعت کی یسع بن اسمعیل نے زیدبن حباب کے حوالے سے جس نے سفیان سے نقل کیاابن جوزی نے کہا کہ یسع ضعیف ہے۔قلت(میں کہتاہوں)میزان میں کہاکہ دارقطنی نے اس کو ضعیف قراردیاالخ اور وہ جیساکہ تودیکھتاہے کہ جرح مجردہےحدیث ابن عباس بطریق قاسم بن بہرام ہےابن جوزی نے کہاکہ وہ اس میں متفرد ہےابن حبان نے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبار التی اعتل بہاالخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳€
تقریب التہذیب حرف الباء ∞ترجمہ ۷۷۰۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۳۰۹€
العلل المتناہیۃ کتاب الاشربۃ تحت ∞حدیث ۱۱۲۴€ دارنشرالکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۲ /۱۸۷€
میزان الاعتدال ترجمہ الیسع بن اسمٰعیل ∞۹۷۸۴€ دارالمعرفۃ بیرت ∞۴ /۴۴۵€
#3205 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال ابن حبان لایجوز الاحتجاج بہ بحال اھ قلت فانما منع الاحتجاج وھذا اوھاھن فیما اعلم حدیث الحارث عن علی اعلہ فجرحہ بعبدالرحمن بن بشر قال مجھول فی الروایۃ و النسب وحدیثہ غیر محفوظ وانما یروی ھذا عن ابن عباس من قولہ اھ وقال الذی لایعرف والخبر منکر اھ اما الطریق المطول فاوھن واوھی فیہ ابن الفرات کذبہ احمد و ابوبکر بن ابی شیبۃ وقال خ منکرالحدیث ثم مدارہ علی الحارث وفیہ مالایجھل حدیث ابن عباس المذکور اخرااقول: لعل المحفوظ موقوف ھکذا رواہ الحفاظ عن ابن عباس قولہ کما ستسمع ان شاء اﷲ تعالی نعم ان ثبت الرفع بطریق جید فلك ان تقول زیادۃ ثقۃ فتقبل و یعضدہ مرسل عبداﷲ بن شداد المار کہاکہ کسی حال میں اس سے استدلال جائزنہیں اھ قلت (میں کہتاہوں)اس سے استدلال کومنع کیاگیا اورمیرے علم کے مطابق یہ کمزورعلت ہے وہ حدیث جو حارث نے علی سے لی اس کی تعلیل کی گی اور اس پرجرح کی گئیعبدالرحمن بن بشرکے سبب سے کہاکہ وہ روایت ونسب میں مجہول ہے اوراس کی حدیث غیرمحفوظ ہےاوریہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ان کاقول روایت کرتاہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اورحدیث منکرہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اور حدیث منکر ہے الخ رہاطریق طویل وہ انتہائی کمزور اور ضعیف ہے اس میں ابن فرات ہے جس کو امام احمد اورابوبکر بن ابی شیبہ نے جھوٹاکہا۔خ نے کہاکہ منکر الحدیث ہے پھر اس کامدارحارث پرہے اوراس میں وہ ہے جومجہول نہیں۔ ابن عباس کی دوسری مذکور حدیثاقول:(میں کہتاہوں) شایدمحفوظ موقوف ہےیونہی حفاظ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ان کاقول روایت کیاجیساکہ عنقریب ان شاء اﷲ توسنے گاہاں اگراس کا مرفوع ہونابطریق جید ثابت ہو جائے تویہ کہہ کرثقہ راوی نے زائد بات کی ہے لہذامقبول ہے اور اس کی تائید عبداﷲ بن شداد کی مرسل حدیث کرتی ہے۔
حوالہ / References العلل المتناھیہ کتاب الاشربہ تحت ∞حدیث ۱۱۲۳€ دارنشرالکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۲ /۱۸۶€
نصب الرایہ کتاب الاشربہ تحت الحدیث التاسع المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۶€
میزان الاعتدال ترجمہ عبدالرحمن بن بشر الغطفانی ∞۴۸۲۱€ دارالمعرفۃ بیرت ∞۲/ ۵۵۰€
تہذیب التہذیب ترجمہ محمد بن الفرات ∞۶۴۸€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۹ /۳۹۷€
#3206 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حدیث زید الشھید لم اقف علی اول سندہ فاﷲ تعالی اعلم امازید عن آبائہ الکرام فمن اصح الاسانید۔حدیث ابی ھریرۃ اقول: فیہ مسلم بن خالد شیخ الامام الشافعی وثقہ ابن حبان وابن معین وقال مرۃ ضعیف وقال ابن عدی حسن الحدیث وقال خ منکرالحدیث وجملۃ القول فیہ کما فی التقریب فقیہ صدوق کثیر الاوھام قلت و العامۃ کالبخاری وابن المدینی وابی حاتم وابی داؤد و الناجی علی تضعیفہ ومع ذاك فلیس ممن یسقط حدیث ابی موسی اقول: فیہ شریك ولاعلیك من شریك الرجل من رجال مسلم والاربعۃ والبخاری فی التعالیق وقد وثقہ یحیی بن معین قال النسائی لیس بہ بأسوقال الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ کان شریك حسن الحدیث اماما فقیھا ومحدثا مکثرا لیس فی الاتقان کحماد حدیث زیدشہید کی سند کے اول پر میں واقف نہیں ہوا اﷲتعالی خوب جانتاہے لیکن زید کی روایت اس کے آباء کرام سے صحیح ترین سندوں میں سے ہے۔حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اقول:(میں کہتاہوں)اس میں مسلم بن خالد ہے جوامام شافعی علیہ الرحمہ کاشیخ ہےابن حبان اورابن معین نے اس کو ثقہ قراردیااورایك مرتبہ کہاکہ ضعیف ہے۔ابن عدی نے کہاحسن الحدیث ہےخ نے کہا منکر الحدیث ہےان کے بارے میں تمام قول ہیں جیساکہ تقریب میں ہے کہ وہ فقیہصدوق اورزیادہ وہم والاہے قلت(میں کہتاہوں)عام محدثین کرام جیسے بخاریابن المدینیابوحاتم ابوداؤد اورناجی اس کوضعیف قراردیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ساقط الاعتبارنہیں ہے۔حدیث ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ اقول:(میں کہتاہوں)اس میں شریك ہے وہ امام مسلم اصحاب اربعہ اورتعالیق میں امام بخاری کے رجال میں سے ہے۔یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قراردیا۔ نسائی نے کہا اس میں کوئی خرابی نہیں۔ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں کہاکہ شریك حسن الحدیثامام فقیہ محدث اور مالدار شخص تھا مگر اتقان میں حماد
حوالہ / References میزان الاعتدال ترجمہ مسلم بن خالد ∞۸۴۸۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۰۲،€تہذیب التہذیب ترجمہ مسلم بن خالد ∞۲۲۸€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱۰ /۱۲۹€
تقریب التہذیب حرف المیم ترجمہ مسلم بن خالد ∞۶۶۴۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۱۷۸€
#3207 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بن زید الخ وفی تھذیب التھذیب قال العجلی کوفی ثقۃ وکان حسن الحدیثقال عبدالرحمن وسألت ابی عن شریك وابی الاحوص ایھما احب الیك قال شریك وقد کان لہ اغالیط وقال ابن عدی الغالب علی حدیثہ الصحۃوقال ابن سعد کان ثقۃ مامونا کثیرا الحدیث وکان یغلطوقال ابوداؤد ثقۃ یخطی عن الاعمش وقال ابراھیم الحری کان ثقۃ وقال معویۃ بن صالح سألت احمد بن حنبل عنہ فقال کان عاقلا صدوقا محدثا شدیدا علی اھل الریب والبدع الخ لا سیما وروایتہ ھھنا عن ابی اسحق و قدقال الامام احمد بن حنبل شریك فی ابی اسحق اثبت من زھیر و اسرائیل وزکریا قال وسمع منہ قدیما وقال یحیی بن معین شریك فی ابی اسحق احب الینا من اسرائیل و لامعجز فی السند سوی ھذا غیران الفضیل بن زید کی مثل نہیں تھا الخ۔اورتہذیب التہذیب میں ہے عجلی کوفی نے کہاکہ شریك ثقہ اورحسن الحدیث ہے۔عبد الرحمن نے کہاکہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ شریك اور ابوالاحوص میں سے آپ کو زیادہ پسند کون ہے توانہوں نے کہاشریکحالانکہ اس کی کئی غلطیاں بھی ہیں۔ابن عدی نے کہا اس کی حدیث پرغالب صحت ہے۔ابن سعد نے کہاکہ وہ ثقہمامون اورکثیرالحدیث ہے حالانکہ وہ غلطی کرتاہے۔ ابو داؤد نے کہاکہ وہ ثقہ ہے اوراعمش سے روایت میں خطاکرتا ہے۔ابراہیم حربی نے کہاثقہ ہے۔معاویہ بن صالح نے کہا میں نے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایاکہ وہ عاقلصدوقمحدث اور شك وبدعت والوں پرسخت ہے الخ خصوصا یہاں پر اس کی ابو اسحاق سے روایت۔اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا شریك ابواسحق کے بارے میں اثبت ہے بنسبت زہیراسرائیل اور زکریا کےحالانکہ اس سے بہت پہلے سناہے یحیی بن معین نے کہاکہ شریك ابواسحق کے بارے میں میرے نزدیك اسرائیل سے زیادہ پسندیدہ ہے۔اس کوسوائے س کے سندمیں کوئی عاجزکرنے والانہیں۔مگرفضیل
حوالہ / References تذکرۃ الحفاظ ترجمہ شریك بن عبداﷲ∞۶۳€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۱ /۲۱€۴
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۴ /۳۳۵ تا ۳€۷
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۴ /۳۳€۴
میزان الاعتدال ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۳۶۹۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۷۱€
#3208 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
برمرزوق یرویہ عن ابی اسحق وفیہ قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اشربا ولاتشربا مسکرا تا بعہ عبداﷲ بن رجاء عن اسرائیل عن ابی اسحق اوعن شریك عنہ علی اختلاف النسخ رواھما الطحاوی ۔واخرجہ البخاری فی المغازی من طریق سعید بن ابی بردہ عن ابیہ عن ابی موسی وفیہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکر حرام واحضرہ النسائی و اخرج کذلك من طریق طلحۃ الایامی واخری من جھۃ الشیبانی کلیھما عن ابی بردۃ واخرج من طریق اسرائیل عن ابی اسحق عن ابی بردۃ وفیہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اشرب ولاتشرب مسکرا ۔ومن طریق ابی بکر بن ابی موسی عن ابیہ وفیہ قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تشرب مسکرا فانی بن مرزوق نے اس کو ابواسحق سے روایت کیااورا س میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ پیو اور نشہ کی حدتك مت پیو۔اس کی متابعت کی عبداﷲ بن رجاء نے انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابواسحق سے روایت کییاشریك نے ابواسحاق سے روایت کی یعنی نسخوں میں اختلاف ہے۔ان دونوں کو امام طحاوی نے روایت کیا۔امام بخاری نے مغازی میں بطریق سعید بن ابوبردہ تخریج کی سعیدنے ابوبردہ سے اورانہوں نے ابوموسی اشعری سے روایت کی اوراس میں یوں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہرنشہ آور حرام ہے۔امام نسائی نے اس کو ذکرکیا اوراسی طرح بطریق طلحہ ایامی اورایك دوسری روایت کی بطریق شیبانی تخریج کیدونوں ہی ابوبردہ سے مروی ہیں اوربطریق اسرائیل تخریج کی اسرائیل نے ابواسحاق سے اور اس نے ابوبردہ سے روایت کیاس میں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ پی اورنشے کی حد تك مت پی اوربطریق ابوبکر بن ابوموسی بحوالہ تخریج کیاس میں یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نشہ کی حد تك مت پی اس لئے کہ میں نے
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۶۰€
صحیح البخاری کتاب المغازی باب بعث ابوموسٰی ومعاذالی الیمن الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۲۲€
سنن النسائی کتاب الاشربہ تحریم کل شراب اسکر ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۲۵€
#3209 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حرمت کل مسکر وقد علمت ان لاتنافی بین ھذہ و بین روایۃ اشربا ولاتسکرا فان المسکر ھو المسکر بالفعل کما ان القاتل ھو القاتل بالفعل لامن یقدرعلیہ ویصح منہ فاذن تتوافق الآثار ولاتتضاد کما سمعت من کلام الامام الطحاوی حدیث القیسی اقول: ھذا حدیث حسن رجالہ کلھم ثقات۔قال فی المیزان اما محمد بن خزیمۃ شیخ الطحاوی فمشھور ثقۃ اھ ونص فی التقریب فی بقیۃ الرجال انھم ثقات غیران قال فی عثمان الموذن من رجال البخاری ثقۃ تغیر فصار تلقن اھ وقد نص المحقق علی الاطلاق فی باب الشھید من الفتح ان الآخذ من المختلط اذا لم یعلم متی اخذ منہ لم ینزل الحدیث عن الحسن حدیث قیس بن حبتر عن ابن عباس اقول: حدیث حسن صحیح ہرنشہ آورکوحرام کردیاہے۔تحقیق تجھے معلوم ہوگیاکہ اس روایت میں اوردوسری روایت میں جس میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ پیو اور نشہ میں مت آؤکوئی منافات نہیںاس لئے کہ نشہ آور وہی ہے جوبالفعل نشہ آور ہوجیساکہ قاتل وہی ہے جوبالفعل قاتل ہو نہ کہ وہ جو قتل پر قادرہو۔ تو اس طرح آثارمیں باہم موافقت ہوگئی اورکوئی تضادنہ رہاجیساکہ امام طحاوی کے کلام سے تونے سنا۔حدیث قیسی اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدی حسن ہےاس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔میزان میں کہاکہ محمدبن خزیمہ جو امام طحاوی کاشیخ ہے وہ مشہور اورثقہ ہے الخ۔تقریب میں باقی رجال کے بارے میں تصریح کی گئی کہ وہ ثقہ ہیںمگر عثمان الموذن کے بارے میں کہاکہ وہ امام بخاری کے رجال میں ہے ثقہ ہے متغیرہوگیا تھا اسے تلقین کی جاتی تھی الخ۔محقق علی الاطلاق نے فتح کے باب میں الشہید میں تصریح کی کہ مختلط سے حدیث لینے والا اگریہ نہ جانے کہ کباس سے حدیث لی تو وہ حدیث حسن کے درجہ سے نہیں گرتی۔حدیث قیس بن حبتر بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہمااقول:(میں کہتا ہوں)حدیث حسن صحیح ہے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ تفسیرالبتع والمرز ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۲€۵
میزان الاعتدال ترجمہ محمدبن خزیمہ ∞۷۴۸۶€ دارالمعرفۃبیروت ∞۳ /۵۳۷€
تقریب التہذیب ترجمہ عثمان بن الہیثم ∞۴۵۴۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۶۶۶€
فتح القدیر
#3210 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
لامغمز فیہ اصلا رجالہ کلھم ثقات اجلاء۔حدیث ابن مسعود من اصح الاحادیث واجلھا مروی بلسلۃ الذھب کما تری وﷲ الحمد۔
الثانی:الآثار فی الباب عن امیرالمؤمنین قدتواترت ولم تقدر الخصوم علی ردھا فعدلوا الی التاویل وادعاء الرجوع اما التاویل فاسند النسائی عن ابن المبارك ماتقدم من قولہ من قبل ان یشتد واسند عن عتبۃ بن فرقد قال کان النبیذ الذی یشربہ عمر بن الخطاب قد خلل ۔اقول: من نظر الآثار التی اتت عن امیرالمومنین کالشمس تیقن ان لامساغ لھذین التاویلین فیھا اصلا وان لم تکن فیھا جلائل تصریحات الاشتداد لکان حسبك مافی المؤطا من قول عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ احللتھا واﷲ فای مساغ کان لھذا لوکان لم یشتد او اس میں کوئی عیب نہیں ا س کے تمام رجال بلندمرتبہ ثقہ ہیں۔حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ صحیح ترین اور عظیم ترین احادیث میں سے ہے جو بطور سلسلۃ الذھب مروی ہے جیساکہ تودیکھتاہے اوراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔
دوسری بحث:اس باب میں امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ سے تواتر کے ساتھ آثار منقول ہیں۔مخالفین ان کے رد پر قادرنہیںلہذا انہوں نے تاویل کی طرف عدول کیا اور رجوع کا دعوی کیارہی تاویل تو وہ یوں کہ امام نسائی نے ابن مبارك سے امیرالمومنین کے اس قول مذکورکے بارے میں بیان کیاکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ سخت ہوجائے۔اورعتبہ بن فرقد سے بیان کیاکہ جونبیذ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ پیتے تھے وہ سرکہ بنالی گئی ہوتی۔ اقول:(میں کہتاہوں)جس نے ان آثار میں نظر کی جو امیر المومنین سے سورج کی طرح واضح طورپرمنقول ہیں وہ یقین کرلے گا کہ ان دونوں تاویلوں کی ان میں گنجائش نہیں اگرچہ اس میں نبیذ کی شدت کے بارے میں عظیم تصریحات نہ بھی ہوتیںتومجھے عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا مؤطا میں منقول وہ قول کفایت کرتاکہ انہوں نے امیرالمومنین سے کہاکہ بخدا کیا اپ نے اس کو
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکراخبار التی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۳
مؤطاالامام مالك کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر ∞مہرمحمدخانہ کراچی ص۶۹۵€
#3211 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
تخلل واما ادعاء الرجوع فقال النسائی مما یدل علی صحۃ ھذا حدیث السائب فذکر ما اسند مالك عن ابن شھاب عن السائب بن یزید ان عمر بن الخطاب خرج علیھم فقال انی وجدت من فلان ریح شراب فزعم انہ شراب الطلاء وانا سائل عما شرب فان کان مسکرا جلدتہ فجلدہ عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ الحد تاما اھ ورواہ ایضا الشافعی وعبد الرزاق وابن وھب وابن جریر والطحاوی والبیھقی وتبعہ الزرقانی فی شرح المؤطا فقال تحت حدیث محمود بن لبید المار عن المؤطا کان عمرا جتھد فی تلك المرۃ ثم رجع عنہ فحد ابنہ فی شرب الطلاء کما مر اھاقول: رحم اﷲ ابا عبدالرحمن کان مذھب امیر المؤمنین حلال کردیااگروہ نبیذ سخت نہ ہوئی یاسرکہ بن چکی ہوئی تو اس قول کی کیاگنجائش بنتی۔رہارجوع کادعوی توامام نسائی نے کہاکہ اس کے صحیح ہونے کی دلیل حدیث سائب ہےاس کے بعد پھروہ حدیث ذکرفرمائی جس کومالك نے ابن شہاب انہوں نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ عنہ ان کے ہاس آئے اور فرمایا کہ میں نے فلاں سے شراب کی بو پائی ہے اور گمان کیا کہ وہ شراب طلاء ہےاگر وہ نشہ آور ہوئی تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پرمکمل حد جاری فرمائی الخاور اس کوامام شافعیعبدالرزاقابن وہبابن جریر طحاوی اور بیہقی نے بھی روایت کیااورزرقانی نے شرح مؤطا میں اس کی پیروی کرتے ہوئے اس حدیث محمودبن لبید کے تحت فرمایاجوکہ مؤطا کے حوالے سے گزرگئی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے اس مرتبہ اس بارے میں اجتہاد فرمایاتھا پھر اس سے رجوع فرمالیاچنانچہ طلاء کے پینے پرحد جاری فرمائیجیساکہ گزراالخ۔اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی ابوعبدالرحمن پررحم فرمائے۔امیرالمومنین
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ۲ /۳۳€۱
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الاشربہ جامع تحریم الخمر ∞تحت حدیث ۱۶۴۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۴€
#3212 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
تحلیل القلیل والحد فی الکثیر اما سمعت الی قولہ فی جواب المعتذر انما شربتہ من قربتك انما جلدناك لسکرك فان جلد فی السکر فاین الدلیل علی حرمۃ القلیل و لیت شعری متی رجع وقد شربہ فی طعنتہ التی انتقل فیھا الی الفراد لیس العلی کما تقدم من حدیث عمروبن میمون۔
الثالث:حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراباخرجہ النسائی فقال اخبرنا ابوبکر بن علی اخبرنا القواریری ثنا عبدالوارث قال سمعت ابن شبرمۃ یذکرہ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب وھو کما تری رضی اﷲ تعالی عنہ کامذہب یہ تھاکہ قلیل حلال ہے اورحد کثیر میں جاری فرمائی۔کیاتونے امیرالمومنین کاوہ جواب نہیں سنا جوآپ نے اس شخص کودیا جس نے یہ عذر پیش کیاتھا کہ میں نے آپ کے مشکیزے سے شرا ب پی ہے جواب یہ تھاکہ ہم نے تجھے نشہ کی وجہ سے کوڑے لگائے ہیں تو اس میں قلیل کی حرمت پردلیل کہاں سے آئیکاش میرا علم حاضرہو آپ نے رجوع کب فرمایاحالانکہ آپ نے اسے نیزے کے اس زخم کے موقع پرنوش فرمایاجس زخم میں آپ فردوس اعلی کی طرف منتقل ہوگئے جیساکہ حدیث عمروبن میمون کے حوالہ سے گزرچکا۔
تیسری بحث:حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کہ خمر بعینہ حرام کی گئی اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔امام نسائی نے اس کی تخریج کیچنانچہ فرمایا ہمیں ابوبکر بن علی نے خبردی انہوں نے کہاہمیں قواریری نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ میں نے ابن شبرمہ کوعبداﷲ بن شداد بن الہاد سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ذکرکرتے ہوئے سناابن عباس نے کہاکہ خمرکا قلیل وکثیر حرام کردیاگیا اور ہرشراب سے نشہ حرام ہےاور وہ جیساکہ تو دیکھتا ہے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۱€
#3213 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
سند نظیف نفیسابوبکر ھو احمد بن علی بن سعید ثقۃ حافظوالقواریری عبیداﷲ بن عمربن میسرۃ ثقۃ ثبت من رجال الشیخینوعبدالوارث ھو ابن سعید بن ذکوان ثقۃ ثبت من رجال الستۃ وابن شبرمۃ ثقۃ فقیہ من رجال مسلموعبداﷲ بن شداد ثقۃ فقیہ جلیل من رجال الستۃ ولد علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علہ وسلم ومثلہ او انظف واجود ماقدمنا من سند الامام الطحاویفھد ھو ابن سلیمن بن یحیی ثقۃوابونعیم ھوالفضل بن دکین ثقۃ ثبت من رجال الستہ من کبار شیوخ خبینہ الحافظ ابوکر بن ابی خیثمۃ اذا روی ھذا الحدیث فی تاریخہ فقال حدثنا ابونعیم الفضل بن دکین ثنا مسعرعن ابی عون کما سیأتیومسعر من لایجھل ثقۃ ثبت فاضل فقیہ من رجال الستۃ وابوعون ھو محمد بن عبیداﷲ الثقفی ثقۃ من رجال الستۃ الا ابن ماجۃوعبداﷲ عبداﷲ بیدان ابا عبدالرحمن صاف ستھری عمدہ سند ہے۔ابوبکر احمد بن علی بن سعیدثقہ اور حافظ ہے۔قواریری عبیداﷲ بن عمربن میسرہ ثقہثبت اور شیخین کے رجال میں سے ہے۔عبدالوارث ابن سعید بن ذکوان ثقہثبت اور اصحاب صحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ابن شبرمہ عبداﷲ ابوشبرمہ ثقہفقیہ اورامام مسلم کے رجال میں سے ہے۔عبداﷲ بن شدادثقہفقیہ جلیل اور صحاح ستہ کے رجال میں سے ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوااور اس کی مثل یا اس سے زیادہ نظیف اورزیادہ جیدامام طحاوی کی وہ سندہے جسے ہم پہلے ذکرکر آئے۔فہدابن سلیمان بن یحیی ثقہ ہے۔ابونعیم فضل بن دکین ثقہثبتصحاح ستہ کے رجال اوربڑے شیوخ میں سے ہے"خ"اس کو حافظ ابوبکر بن خیثمہ نے بیان کیا جب انہوں نے اپنی تاریخ میں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ابونعیم فضل بن دکین نے حدیث بیان کی انہوں نے مسعرسے انہوں نے ابوعون سےجیساکہ عنقریب آئے گا۔ مسعروہ ہے جومجہول نہیں ثقہثبتفاضلفقیہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ابوعون محمدبن عبیداﷲ ثقفی ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے سوائے ابن ماجہ کے اور عبداﷲ عبداﷲ ہے مگرجب ابوعبدالرحمن
#3214 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حاول ان یخدشہفاتی بوجھین احدھما ان ابی شبرمۃ لم یسمعہ عن عبداﷲ بن شداد اخبرنا ابوبکر بن علی ثنا سریج بن یونس ثنا ھشیم عن ابن شبرمۃ قال حدثنی الثقۃ عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر بعینھا قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب اھ۔اقول: الحمد ﷲ قد علم الثقۃاخرج البزار فی مسندہ حدثنا محمد بن حرب ثنا ابو سفین الحمیری ثنا ھشیم عن ابن شبرمۃ عن عمار الدھنی عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فذکرہ قال وقد رواہ عن ابوعون عن عبداﷲ بن شداد و رواہ عن ابی عون مسعر والثوری و شریك لانعلم رواہ عن ابن شبرمۃ عن عمار الدھنی عن ابن شداد عن ابن عباس الا ھشیم ولا عن ھشیم الا ابوسفین ولم یکن نے ارادہ کیاکہ اس پرعیب لگائے تو وہ دو وجہیں لایا جن میں سے ایك یہ ہے کہ ابن ابی شبرمہ نے اس کو عبداﷲ بن شداد سے نہیں سنا۔ہمیں خبردی ابوبکر بن علی نےانہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی سریج بن یونس نے اورانہیں بیان کی ہشیم نے ابن شبرمہ سے انہوں نے کہاکہ مجھے حدیث بیان کی ثقہ نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے انہوں نے فرمایا کہ خمربعینہ یعنی قلیل وکثیرحرام کر دی گئی اور ہرشراب سے نشہ حرام کیاگیاالخ۔اقول:(میں کہتا ہوں)الحمدﷲ معلوم ہوگیاکہ وہ ثقہ ہے۔بزازنے اپنی مسند میں تخریج کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں محمدبن حرب نے حدیث بیان کی اورانہیں ابوسفیان حمیری نے انہیں ہشیم نے ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی اورابن شبرمہ نے عمار الدھنی سے اس نے عبداﷲ بن شداد سے اوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی پھراسی حدیث کو ذکرکیا اورکہاکہ اس کو روایت کیاہے ابوعون نے عبداﷲ بن شداد سے اوراس کو روایت کیا ابوعون سے مسعرثوری اور شریك نے اورمعلوم نہیں کہ اس کو روایت کیاہے ابن شبرمہ سے انہوں نے عماردہنی سے انہوں نے ابن شداد سے انہوں نے ابن عباس سے سوائے ہشیم کےاورنہ ہشیم سے سوائے ابوسفین کے۔اور یہ
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکراخبار التی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۱€
#3215 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ھذا الحدیث الا عند محمد بن حرب وکان واسطیا ثقۃ اھقلت وابوسفین الحمیری ھو سعید بن یحیی صدوق وسط من رجال البخاری قال الحافظ المنذری فی الترغیب ثقۃ مشہور اھ و قدقال الذھبی فی المیزان فی بیان مجاھیل الاسم اعنی تعیین من ابھم اسمہ عبداﷲ بن شبرمۃ عن الثقۃ فی الخمر جاء مبینا انہ عمار الدھنی اھ وعمارھوابن معویۃ ابومعویۃ الکوفی صدوق من رجال الستۃ الاالبخاری قال الذھبی وثقۃ احمد وابن معین وابوحاتم والناس وماعلمت احدا تکلم فیہ الا العقیلی فتعلق علیہ بما سألہ ابوبکر بن عیاش اسمعت عن سعید بن جبیر قال لاقال فاذھب اھقلت وناھیك توثیق الائمۃ وانہ شیخ شعبۃ والسفیانین حدیث نہیں مگر محمدبن حرب کے نزدیکاور وہ واسطی ہیں اور ثقہ ہیں اھقلت(میں کہتاہوں)ابوسفین حمیری وہ سعید بن یحیی ہے جو صدوقوسط اوربخاری کے رجال میں سے ہے۔حافظ منذری نے ترغیب میں کہاکہ وہ ثقہ مشہور ہے الخ۔ذہبی نے میزان میں ان لوگوں کے بیان میں جن کے نام مجہول اورمبہم ہیں ان کی تعیین کرتے ہوء کہاکہ اس کانام عبداﷲ بن شبرمہ ہے اس نے خمر کے معاملے میں ثقہ سے روایت کی وہاں اس بات کو واضح کیاہے کہ وہ عمار الدھنی ہے الخ عمار وہ ابن معاویہ ابومعاویہ کوفیصدوق اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے سوائے بخاری کے۔ذہبی نے کہاکہ اس کو احمدابن معینابوحاتم اور کئی لوگوں نے ثقہ قراردیا ہے۔ میں نہیں جانتاکہ کسی نے اس میں کلام کیا ہے سوائے عقیلی کے۔چنانچہ عقیلی نے ا س پر معلق کیاجو اس سے ابوبکربن عیاش نے پوچھا کہ کیا تو نے سعیدبن جبیرسے سنااس نے کہا نہیں تو ابوبکرنے کہاکہ جا الخقلت(میں کہتاہوں)تجھے یہ بات کافی ہے کہ جن ائمہ کرام نے عمار کی توثیق کی ہے وہ شیخ شعبہ اوردوسفیان
حوالہ / References نصب الرایۃ بحوالہ البزارفی مسندہ کتاب الاشربۃ تحت الحدیث التاسع المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۷€
الترغیب والترھیب
میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عبداﷲ ابن شبرمۃ ∞۱۰۹۲۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۶۰۳€
میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عماربن معاویہ ∞۶۰۰۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۱۷۰€
#3216 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ولاعلیك من دندنۃ العقیلی فقد اخذ یلین ذاك الجبل المشامخ علی بن المدینی الذی قال فیہ البخاری ما استصغرت نفسہ الا عندہ وقد اورد الامام موسی الکاظم فی الضعفاء فحسبنا اﷲ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲوبالجملۃ ان کان ابن شبرمۃ یرسلہ تارۃ ویبھم اخری ویبین مرۃ فتبین العدل فکان ماذاثم اخذ ابو عبد الرحمن یلین ھذا بھشیم قال وھشیم بن بشیر کان یدلس و لیس فی حدیثہ ذکر السماع من ابن شبرمۃ۔اقول: ھشیم ثقۃ ثبت من رجال الستۃ وقد بت سماعہ ھذا الحدیث عن ابن ابی شبرمۃ اخرج ابوبکر بن ابی خیثمۃ قال حدثنا ایوب عن یزید بن ھارون عن قیس ثنا ابی ثنا ھشیم اخبرنی ابن شبرمۃ عن عبد اﷲ بن شداد عن ابن عباس قال حرمت الخمر بعینھا قلیلھا وکثیرھا و ہیںاورتومت توجہ دے عقیلی کی بھنبھناہٹ کی طرفوہ تو علی مدینی جیسے بلند پہاڑ کونرم اورکمزور قراردیتاہے جس کے بارے میں امام بخاری نے کہاکہ میں اپنے آپ کوچھوٹا نہیں سمجھتا مگر علی بن مدینی کے پاساوراس نے امام موسی کاظم کوضعفاء میں وارد کیاپس اﷲ تعالی ہی ہمیں کافی ہے اور اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ کسی کوگناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت۔خلاصہ یہ کہ ابن شبرمہ کبھی اس میں ارسال کرتاہے کبھی اس کومبہم بیان کرتاہے اورکبھی اس کو ظاہرکرتاہے۔پس عدل ظاہر ہوگیا تویہ کیا ہے پھرابو عبد الرحمن اس کو ہشیم کے سبب سے نرم قراردینے لگے اور کہاکہ ہشیم بن بشیر تدلیس کرتاتھا اوراس کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع کاذکرنہیں۔اقول:(میں کہتاہوں)ہشیم ثقہثبت اور اصحاب ستہ کے رجال میں سے ہے اوراس کا اس حدی کوسننا ابن شبرمہ سے ثابت ہے۔ابوبکربن ابوخثیمہ نے تخریج کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ایوب نے یزید بن ہارون سے انہوں نے قیس سے حدیث بیان کیقیس نے کہامجھے میرے باپ نے انہوں نے کہامجھے ہمشیم نے انہوں نے کہامجھے ابن شبرمہ نے عبداﷲ بن شداد سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما حدیث بیان کیابن عباس نے کہا کہ خمر بعینہ یعنی قلیل وکثیر حرام کردی گئی اور
#3217 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
السکر من کل شراب وقد علمت من کلام البزار ان عامۃ الحفاظ انما رووہ عن ابن شبرمۃ عن ابن شداد ولم یدخل بینھما رجلا الا ھشیم حیث عنعن ووافق الجماعۃ حیث نص علی سماع نفسہ من ابن شبرمۃ وسماع ابن شبرمۃ من ابن شداد صحیح فاذن انما کان الاولی بالطرح کونہ بواسطۃ انہ لم یثبت بسند یثبت وثانیھا ان خالفہ ابوعون اخبرنا محمد بن عبداﷲ بن الحکم ثنا محمد(غندر)ح واخبرنا الحسین بن منصور ثنا احمد بن حنبل ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبہ عن مسعر عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قالت حرمت الخمر بعینھا قلیلھا و کثیرھا والمسکر من کل شراب لم یذکر ابن الحکم قلیلھا وکثیرھااخبرنا الحسین بن منصور ثنا احمد بن حنبل ثنا ابراھیم بن ابی العباس ثنا شریك عن عباس بن ذریع عن ابی عون ہرشراب سے نشہ حرام کیاگیااورتحقیق بزارکے کلام سے تجھے معلوم ہوچکاکہ عام حفاظ نے اس کو روایت کیا۔ابن شبرمہ سے اس نے ابن شداد سے ان دونوں کے درمیان سوائے ہشیم کے کسی مرد کو داخل نہیں کیا۔ہشیم نے جہاں عنعنہ کے طورپرحدیث بیان کی اس میں انہوں نے جماعت کی موافقت کی کیونکہ انہوں نے اس بات پرنص کی کہ ان کا ابن شبرمہ سے سماع اورابن شبرمہ کا ابن شداد سے سماع صحیح ہے تو اس صورت میں اس کاترك اولی ہے کیونکہ سندثابت سے اس کاثبوت نہیں ہوااوردوسری وجہ یہ کہ ابوعون نے اس کی مخالفت کیہمیں خبردی عبداﷲ بن حکم نےاس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی محمدیعنی غندرنےاس نے کہاہمیں خبر دی حسین بن منصورنےاس نے کہا ہمیں امام احمد بن حنبل نےانہوں نے کہا ہمیں محمدبن جعفرنےانہوں نے کہاہمیں شعبہ نے مسعر سےاس نے ابوعون سےاس نے عبداﷲ ابن شداد سےاس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے حدیث بیان کی کہ خمر بعینہ یعنی قلیل وکثیر حرام کر دیاگیا اور ہرشراب سے نشہ آور مقدار حرام ہے۔ابن حکم نے قلیل وکثیر کاذکرنہیں کیا۔ہمیں حسین بن منصور نے خبر دیاس نے کہا ہمیں امام احمد بن حنبل نےاورانہیں ابراہیم ابن ابوالعباس نےانہیں ابن شریك نے حدیث بیان کی اور شریك نے عباس بن ذریع سےاس نے ابوعون سے
حوالہ / References حواشی مسند امام الاعظم بحوالہ ابی بکر بن ابی خیثمہ فی تاریخہ کتاب الاطعمہ والاشریۃ ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ص۲۰۳،€سنن النسائی ذکر اخبارالتی اعتل بہا ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ۲ /۳۳۱€
#3218 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال حرمت الخمر قلیلھا وکثیرھا وما اسکر من کل شراب قال ابوعبدالرحمن وھذا اولی بالصواب من حدیث ابی شبرمۃ ۔اقول:رحم اﷲ ھؤلاء المحدثین لوانا قدمنا روایۃ الامام العابد الفاضل شریك الذی کان یخطی کثیراوقد تغیر ولم یحتج البخاری ولامسلم فی شیئ من الاصول وقال یحیی بن سعید ضعیف جداوقال ابن المثنی مارأیت یحیی ولاعبدالرحمن حدثا عن شریك شیئا وقال عبدالجبار بن محمد قلت لیحیی بن سعید زعموا ان شریکا انما خلط بآخرہ قال مازال مخلطا و عن ابن المبارك قال لیس حدیث شریك بشیئ وقال الجوز جانی سیئ الحفظ مضطرب الحدیث مائل وقال ابراھیم بن سعیدالجوھری اخطاء شریك فی اربعمائۃ حدیث وروی معاویۃ بن صالح عن ابی معین صدوق ثقۃ الاانہ اذا خالف فغیرہ اس نے عبداﷲ بن شداد سے اوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہماسے روایت کی کہ خمر کاقلیل وکثیرحرام کردیا گیااورہرشراب سے وہ مقدار حرام کردی گئی جونشہ دے۔ ابو عبدالرحمن نے کہایہ ابن شبرمہ کی حدیث سے درست ہونے میں اولی ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی ان محدثین کرام پررحم فرمائے۔اگرہم امام عابد فاضل شریك کی روایت کاعیب تسلیم کرلیں جوکثرت سے خطاکرتے اورمتغیر ہو گئے۔امام بخاری اورامام مسلم کسی بھی اصول میں اس سے استدلال نہ کرتے۔یحیی بن سعید نے کہاوہ بہت ضعیف ہے۔ ابن مثنی نے کہا میں نے نہیں دیکھانہ عبدالرحمن نے شریك سے کوئی حدیث بیان کی۔عبدالجبار بن محمد نے کہاکہ میں نے یحیی بن سعید کوکہاکہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ شریك نے آخرمیں خلط ملط کیاہے اس نے کہاکہ وہ ہمیشہ خلط ملط کرتارہا۔ ابن مبارك نے کہاکہ حدیث شریك کوئی شے نہیں۔ جوزجانی نے کہاکہ وہ کمزورحافظے والامضطرب حدیث والا اور کجروتھا۔ابراہیم بن سعید جوہری نے کہاکہ شریك نے چارسو حدیثوں میں خطاکی۔معاویہ بن صالح نے ابومعین سے روایت کی کہ وہ صدوق اورثقہ ہے مگرجب وہ کسی کی مخالفت کرے تو اس کا
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکراخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۱
میزان الاعتدال ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۳۶۹۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۷۰€
#3219 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
احب الینا منہ وقال مرۃ ثقۃ الا انہ یغلط ولاتتیقن وقال الدار قطنی لیس بالقوی فیما ینفرد بہ وقال ابواحمد الحاکم لیس بالمتین وکذلك قلت انت مرۃ یا اباعبدالرحمن انہ لیس بالقوی وقال الازدی کان صدوقا الا انہ سیئ الحفظ کثیرالوھم مضطرب الحدیث کما فی تھذیب التھذیب علی عــــــہ۱ روایۃ ابن شبرمۃ ذاك الامام الشھیر الثقۃ الفقیہ المحتج بہ فی صحیح مسلم وثقہ احمد وابوحاتم فضلا عن حدیث الامام الاجل الثقۃ الثبت مسعر لکانوا قاموا باشد الانکار ثم الرجل عــــــہ۲ مدلس قال عبدالحق الاشبیلی کان یدلس وقال ابن القطان کان مشھورا بالتدلیس وقد عنعن فمالکم تنقمون عنعنۃ ھشیم ذاك الجبل الشامخ ثم تعودون تحتجون بعنعنۃ شریك واما شعبۃ فقد تفرد بہ من بین الجماعۃ ونقص غیرمجھے اس کی بنسبت زیادہ پسند کرتاہے۔مرۃ نے کہاکہ وہ ثقہ ہے مگر وہ غلطی کرتاہے اورثابت نہیں رہتا۔دارقطنی نے کہاکہ شریك ان حدیثوں میں قوی نہیں جن میں وہ منفرد ہے۔ابواحمد حاکم نے کہاکہ وہ متین نہیں۔اوریوں ہی اے عبدالرحمن! ایك بار تونے کہاکہ وہ قوی نہیں ہے۔ازدی نے کہاکہ وہ صدوق تھا مگروہ کمزورحافظے والاکثیرالوہم اور مضطرب الحدیث تھاجیساکہ تہذیب التہذیب میں ابن شبرمہ کی روایت پرہے کہ وہ مشہور امامثقہفقیہ اورمقتدی ہے۔صحیح مسلم میں ہے کہ امام احمدنے اس کو ثقہ قراردیا۔ ابوحاتم نے اس کو امام اجل ثقہ ثبت مسعر کی حدیث سے افضل قراردیا تولوگوں نے اس کاشدید انکارکیاپھروہ مدلس شخص ہےعبدالحق اشبیلی نے کہاکہ وہ تدلیس کرتاتھا۔ابن قطان نے کہاکہ وہ تدلیس میں مشہورتھا۔تحقیق اس نے عنعنہ کے ساتھ روایت کی تمہیں کیاہے کہ تم ہشیم کے عنعنہ کو براسمجھتے ہوجوکہ ایك بلندپہاڑ ہے پھرلوٹ کرشریك کے عنعنہ سے استدلال کرتے ہو مگر شعبہ اس کے ساتھ جماعت میں سے متفرد ہےاس سلسلہ میں

عــــــہ۱: متعلق باقول رحمہ اﷲ ھولاء المحدثین لوانا قدمنا۔ عــــــہ۲ ای شریک۔
حوالہ / References میزان الاعتدلال ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۳۶۹۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۷۰و۲۷۱€
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷ €دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳۶€
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳€۷
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳۷€
#3220 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
علیك الامر فی ذلك روی ھذا الحدیث عن ابن عباس سعید بن المسیب وعون بن ابی جحیفۃ و عکرمۃ وعبداﷲ بن شداد اما الاولان فروی عنھما الرفع الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما تقدمو اما عکرمۃ وقال الطبری فی تھذیب الآثار حدثنا محمد بن موسی ثنا عبداﷲ بن عیسی ثنا داؤد بن ابی ھند عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرم اﷲ الخمر بعینھا والسکر من کل شراب واما ابن شداد فروی عنہ ابوعون وعمار الدھنی وابوشبرمۃ علی الوجوہ التی علمت وعیاش العامری عن ابی بکربن ابی خثیمۃ قال حدثنا محمد بن الصباح البزار اخبرنا شریك عن عیاش العامری عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراب وقال وعیاش العامری ھو عیاش بن عمر قلت ثقۃ من رجال مسلم وسلیمن الشیبانی وعنہ شعبۃ عن ابن ابی خثیمۃ ایضا تجھ پرمعاملہ ناقص ہوگیا۔اس حدیث کو ابن عباس سے سعیدبن مسیبعون بن ابوجحیفہعکرمہ اورعبداﷲ بن شداد نے روایت کیا۔پہلے دونوں سے تونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك مرفوع ہونا مروی ہے جیساکہ گزرچکا۔
رہاعکرمہتوطبری نے تہذیب الآثار میں کہاکہ ہمیں محمدبن موسی نے انہیں عبداﷲ بن عیسی نے انہیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما حدیث بیان کیابن عباس نے کہاکہ اﷲ تعالی نے خمرکو بعینہ اورہر شراب سے نشہ کوحرام فرمایا۔رہا ابن شداد تو اس سے ابو عونعماردہنی اورابوشبرمہ نے ان وجوہ پر روایت کیاجو تو جان چکا۔عیاش عامری نے ابوبکر ابوخثیمہ سے روایت کی انہوں نے کہاکہ ہمیں محمدبن صباح البزار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں شریك نے عیاش عامری سے خبردی اورانہوں نے عبداﷲ بن شداد سے اور اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ خمربعینہ حرام کی گئی اور ہرشراب سے نشہ حرام ہے۔اورعیاش عامری وہ عیاش بن عمر ہے۔قلت(میں کہتاہوں)وہ ثقہ ہے اورامام مسلم اور سلیمان شیبانی کے رجال میں سے ہے اوراسی سے شعبہ نے بھی ابن ابی خثیمہ کے نزدیك روایت کیا
حوالہ / References البنایۃ بحوالہ الطبرانی فی التہذیب کتاب الاشربہ المکتبۃ الامدایۃ ∞مکۃ المکرمۃ ۴ /۳۲۸€
حواشی مسندالامام الاعظم بحوالہ ابی بکربن ابی خثیمہ فی تاریخہ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۰۳€
#3221 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وبلغہ الی ام المومنین میمونۃ حیث قال حدثنا علی الجعد اخبرنا شعبۃ عن سلیمان الشیبانی عن عبداﷲ بن شداد عن عبداﷲ بن عباس عن خالتہ میمونۃ بنت الحارث رضی اﷲ تعالی عنھم ورواہ عن ابی عون الامام الاعظم وسفین الثوری ومسعر بن کدام و عبداﷲ بن عیاش وقدوقعت روایتھم جمیعا فی مسند الامام وشریك و ابوسلمہ عند البزار۔ورواہ عن مسعر ابونعیم الفضل بن دکین عند الطحاوی وابن ابی خیمۃ ومن طریقہ القاسم بن اصبغ فقال حدثنا احمد بن زھیر(یعنی ابابکر بن ابی خیمہ)نا ابونعیم الفضل بن دکین عن مسعر عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال حرمت الخمر بعینھا القلیل منھا والکثیر والسکر من کل شراب قال البدر محمود عینی فی البنایۃ قال ابن حزم صحیحقال جس کو اس نے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ تعالی عنہا تك پہنچایا جہاں اس نے یہ کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی علی الجعد نےاس نے کہاکہ ہمیں خبردی شعبہ نے سلیمان شیبانی سے اوراس نے عبداﷲ بن شداد سے اس نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اورانہوں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی اور اس کو ابوعون سے امام اعظمسفیان ثوریمسعر بن کدام اور عبداﷲ بن عیاش نے روایت کیا ان سب کی روایت سیدامام اعظم میں واقع ہے۔اور بزارکے نزدیك اس کو شریك اور ابو سلمہ نے روایت کیاطحاوی اورابن ابی خیمہ کے نزدیك اس کو مسعر سے ابونعیم فضل بن دکین نے روایت کیا اوراسی کے طریق سے قاسم بن اصبغ نے روایت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں احمدبن زہیر یعنی ابوبکر بن ابی خیمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں ابونعیم فضل بن دکین نے مسعرسے حدیث بیان کی اورمسعر نے ابوعون سےاس نے عبداﷲ ابن شداد سے اور اس نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ ابن عباس نے فرمایا خمربعینہ یعنی اس کا قلیل وکثیر اورہرشراب سے نشہ حرام کردیاگیا۔بدرمحمود عینی نے بنایہ کہاکہ ابن حزم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔اس نے
حوالہ / References البنایہ بحوالہ قاسم بن اصبغ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴ /۳۲۸€
#3222 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وتابعہ ابانعیم جعفر بن عون فرواہ عن مسعر کذلك الخ وکذا تابعہ قال ابن حزم صحیح خلاد بن یحیی عند ابی نعیم فی الحلیہ وسفین الثوری وشعبۃ وسفین وابراھیم ابنا عیینۃ رفعہ عن مسعر فقال عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما فی الحلیۃ و بالجملۃ ھؤلاء اربعۃ عن ابن عباس منھم ابن شداد وعنہ خمسۃمنھم ابوعون وعنہ ستۃ منھممسعر وعنہ سبعۃمنھم شعبۃ لم یذکر احد منھم والمسکر بزیادۃ المیم الاشعبۃ قال ابونعیم تفرد شعبۃ بلفظہ عن مسعر فیہ فقال والمسکر من کل شراب اھ فروایۃ الجماعۃ ھی الاحق بالقبول ان فرض التنافی واین التنافی فان المسکر من کل شراب اومااسکر من کل شراب یحتمل القدر المسکر من کل شراب احتمالا جلیاواضحا فکیف یقضی بالمحتمل علی المتعین ابونعیم جعفربن عون کی متابعت کی چنانچہ اس کومسعر سے اسی طرح روایت کیا الخ ابن حزم نے کہاکہ صحیح ہے۔خلاد بن یحیی نے ابونعیم کے نزدیك حلیہ میں اورسفیان ثوری شعبہ سفیان بن عیینہ اورابراہیم بن عیینہ نے مسعر کے حوالے سے اس کومرفوعا روایت کیامسعر نے کہاکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے جیساکہ حلیہ میں ہے۔خلاصہ یہ ان چاروں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاانہیں میں سے ابن شداد ہے جس سے پانچ حدیثیں مروی ہیںانہیں میں سے ابوعون ہے جس سے چھ حدیثیں مروی ہیںانہیں میں سے مسعر ہے جس سے سات حدیثیں مروی ہیںانہیں میں سے مسعرہے جس سے سات حدیثیں مروی ہیںانہیں میں سے شعبہ ہےسوائے شعبہ کے ان میں سے کسی نے بھی لفظ مسکر میم کی زیادتی کے ساتھ ذکرنہیں کیا۔ ابونعیم نے کہاکہ مسعر سے یہ روایت کرنے میں شعبہ متفردہے کیونکہ اس کہاکہ ہرشراب میں مسکرحرام ہے الخ اگران میں تنافی فرض کی جائے توشعبہ کی بنسبت جماعت کی روایت قبولیت کی زیادہ حقدار ہے اوران میں تنافی کہاں ہے اس لئے کہ ہرشراب میں سے مسکر یاہرشراب میں سے وہ جو نشہ دے وہ ہرشراب میں سے مقدار مسکر کاواضح احتمال رکھتی تو محتمل کے ساتھ متعین پرکیسے فیصلہ کیاجاسکتا ہے اوراﷲ تعالی
حوالہ / References البنایہ بحوالہ قاسم بن اصبغ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴ /۳۲۸€
حلیۃ الاولیاء ترجمہ مسعربن کدام ∞۳۸۹€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۷/ ۲۲۴€
#3223 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وباﷲ التوفیق وبہ ثبت وﷲ الحمد ان اباعون لم یخالف شعبۃ عن مسعر سائر الجملۃ من مسعر وعن ابی عون وعن ابن شداد وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھموالعجب من الامام ابن الھمام کیف تبع النسائی علی ھذا الکلام وزعم ان لفظ السکر تصحیف وما التوفیق الا باﷲ الخبیر اللطیف والحمدﷲ رب العلمین۔
الرابع:حدیث الطحاوی عن علقمۃ سالت ابن مسعود عن قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی السکر قال الشربۃ الاخیرۃ رواہ الدارقطنی فی سننہ عن عمار بن مطرثنا جریر بن عبدالحمید عن الحجاج عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداﷲ فی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال عبداﷲ ھی الشربۃ التی ہی کی طرف سے توفیق ہے اوراس توفیق سے ہی ثابت قدمی ہے اوراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔بیشك ابوعون نے ابوشبرمہ کی مخالفت نہیں کی البتہ شعبہ نے مسعر سے روایت کرتے ہوئے باقی تمام حضرات کی مخالفت کی جوانہوں نے مسعرسے کی اورمسعر نے ابوعون سےاس نے ابن شداد سےاوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی اورامام ابن الہمام پرتعجب ہے کہ انہوں نے اس کلام پر نسائی کی پیروی کیسے کرلی! اوریہ گمان کیاکہ لفظ مسکرغلط ہے اور نہیں ہے توفیق مگر اﷲ تعالی سے جوخبر رکھنے والا باریك بین ہےاورسب تعریفیں اس اﷲ کے لئے ہیں جوسب جہانوں کا پروردگار ہے۔
چوتھی بحث:طحاوی کی سند علقمہ سے کہ میں نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نشہ سے متعلق قول کے بارے میں سوال کیاتوانہوں نے کہاوہ آخری گھونٹ ہے۔اس کودارقطنی نے اپنی سنن میں عماربن مطرسے روایت کیاعمارنے کہاہمیں جریر بن عبد الحمید نے حجاج سےاس نے حماد سےاس نے ابراہیم سے اس نے علقمہ سےاوراس نے عبداﷲ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کے بارے میں حدیث بیان کی کہ ہرنشہ آورحرام ہےعبداﷲ نے کہاکہ وہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۶۱€
#3224 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اسکرتك ثم اسند عن عمار بن مطر ثنا شریك عن ابی حمزۃ عن ابراھیم قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال ھی الشربۃ التی اسکرتك قال ھذا اصح من الذی قبلہ ولم یسندہ غیر الحجاج واختلف عنہ وعمار بن مطر ضعیف وحجاج ضعیف وانما ھو من قول ابراھیم النخعی ثم اخرج عن ابن المبارك انہ ذکر عندہ حدیث ابن مسعود کل مسکر حرام ھی الشربۃ التی تسکرك فقال ھذا حدیث باطل اھ وتبعہ المحقق فی الفتحاقول:سند الطحاوی حدثنا ابن ابی داؤد ثنا نعیم وغیرہ انا حجاج عن حماد الخ ولیس فیہ عمار کما تری و الحجاج ھو ابن ارطاۃ من رجال مسلم والاربعۃ وھو و ان کان من شیوخ شعبۃ وشعبۃ من قد علم فی شدۃ ورعہ واحتیاطہ وقد کان یقول اکتبوا نشہ دیا۔پھردارقطنی نے اس کا اسناد بیان کیاعماربن مطرسے اس نے شریك سےاس نے ابوحمزہ سےاس نے ابراہیم سے کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاقول کہ ہرنشہ آورحرام ہےفرمایاوہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا ۔دارقطنی نے کہایہ پہلی سند سے زیادہ صحیح ہےسوائے حجاج کہ کسی نے اس کا اسناد بیان نہیں کیااوراس سے روایت میں اختلاف ہے۔عماربن مطر ضعیف ہےیہ ابراہیم نخعی کاقول ہے۔پھرابن المبارك سے اس کی تخریج کی کہ اس کے پاس حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کہ"ہرمسکرحرام ہے" سے مراد وہ گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیاتو ابن المبارك نے کہایہ حدیث باطل ہے اھ۔اور اس کی پیروی کی محقق نے فتح میں۔اقول:(میں کہتاہوں)طحاوی کی سندیہ ہے کہ ہمیں ابن داؤد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں نعیم وغیرہ نے حدیث بیان کیا نہوں نے کہاہمیں حجاج نے حماد سے خبردی الخ اس میں جیساکہ تونے دیکھاعمارنہیں ہے اورحجاج وہ ابن ارطاۃ ہے جو مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہے۔وہ اگرچہ شعبہ کے شیوخ میں سے ہے۔اورشعبہ کے تقوی واحتیاط میں سختی جانی ہوئی ہے کہاکرتے تھے حجاج بن ارطاۃ اورابن اسحاق سے لکھ لیاکرو
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الاشربۃ وغیرھا ∞حدیث ۲۳و۲۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ∞ ۴ /۲۵۰و۲۵۱€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ وغیرھا باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۶۱€
#3225 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
عن حجاج ابن ارطاۃ وابن اسحق فانھما حافظان وقد اثنی علیہ غیر واحد منھم الثوری وابوحاتم بیدانہ کثیرالتدلیس قال الذھبی اکثر مانقم علیہ التدلیس وقال ابوحاتم یدلس عن ضعفاء فالحدیث وان لم یصح عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کما قالہ عبداﷲ لکنہ قدصح عن ابراھیم کما قدمناہ عن مسند الامام اعظم عن حماد عنہ فماکان ینبغی لابی عبدالرحمن ان یقول لیس کما یقول ابوعونلانفھم بتحریمھم اخرالشربۃ و تحلیلھم ما تقدمھا اماما تعلل بہ قائلا لاخلاف بین العلم ان المسکر بکلیتہ لایحدث علی الشربۃ الاخر دون الاولی والثانیۃ بعدھا۔اقول: ارایت اذا کان لایسکر المسك والعنبر والزعفران واشباھھا کیونکہ وہ دونوں حافظ ہیں۔نیزمتعدد ائمہ نے اس کی تعریف کی جن میں ثوری اورابوحاتم شامل ہیں سوائے اس کے کہ وہ تدلیس میں کثرت کرتا ہے۔ذہبی نے کہااکثر اس پرجس شیئ میں ملامت کی جاتی ہے و تدلیس ہے۔ابوحاتم نے کہاکوہ تدلیس کرتاہے اورضعفاء میں سے ہے۔تویہ حدیث اگرچہ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح نہیں جیساکہ عبداﷲ نے کہامگر ابراہیم سے صحیح ہے جیساکہ ہم مسندامام اعظم کے حوالے سے ذکر کرچکے ہیں کہ حماد نے ابراہیم سے روایت کی۔لہذا ابوعبدالرحمن کوایسانہیں کہناچاہئے تھا کہ ابن عون کا کہنادرست نہیں کیونکہ ان کا آخری گھونٹ کوحرام اور اس سے پہلے والے گھونٹ کوحلال قراردینا ہمیں سمجھ نہیں آتا لیکن ابو عبدالرحمن کاوجہ بیان کرتے ہوئے یہ کہناکہ مسکرکے آخری گھونٹ پر اثرانداز ہونا اورپہلے اور دوسرے پرنہ ہونا اورپہلے اوردوسرے پرنہ ہونا علمی اعتبارسے یہ فرق درست نہیں ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)تیراکیاخیال ہے کہ کستوری عنبرزعفران اوران جیسی دیگراشیاء
حوالہ / References میزان الاعتدال ترجمہ حجاج بن ارطاۃ ∞۱۷۲۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۶۰€
میزان الاعتدال ترجمہ حجاج بن ارطاۃ ∞۱۷۲۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۶۰€
تہذیب التہذیب ترجمہ حجاج بن ارطاۃ ∞۳۶۵€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۲ /۱۹۷€
#3226 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
الا اذا بلغ عشر حبات مثلا فاذا تناول رجل حبۃ فھل تناول الحرام فان قلت نعم فقد اعظمت القول وان قلت لا قلنا فان تناول اخری حتی بلغ تسعا فلابد ان تقول فی الکل بالحل قلنا فاخبرنا اذا تناول العاشرۃ فسکر فان قلت الآن ایضا حل فقداعظمت القول وان قلت حرم فقد قضیت علی نفسك ولا شك ان السکر انما اتی للمجموع لکن الحرمۃ انما ھی للاکلۃ الاخیرۃ دون الاولی والتی تلیھا ای تسع و من عرف ان المعلول و ھی الحرمۃ المعلولۃ بالکسر المعلول بالعشر انما یتحق عند تحقق الجزء الاخیرمن اجزاء العلۃ عرف المرام ولم تذھب بہ الاوھام۔وبھذا التقریر وﷲ الحمد تبین انزھاق ما لمع بہ الشوکانی فی نیل الاوطار ناقلا عن الطبری ما نصہ یقال لھم(ای لائمتنارضی اﷲ تعالی عنھم) اخبرونا عن الشربۃ التی یعقبھا السکر اھی التی اسکرت مثلا اگرنشہ نہ دیں جب تك وہ دس رتی کے برابر نہ ہو جائیں۔جب کسی شخص نے ان میں سے ایك رتی کے برابر کھایا تو کیااس نے حرام کھایااگرتوکہے کہ ہاتوتونے بہت بڑی بات کہہ دی اوراگرکہے کہ نہیں توہم کہیں گے کہ اگردوسری رتی کھائی توکیاحکم ہے یہاں تك کہ نوتك پہنچ جائے۔تیرے لئے اس سے چھٹکارا نہیں کہ توان سب کے حلال ہونے کاقول کرے۔پھرکہیں گے کہ بتاؤاگروہ دسویں رتی کھائے اورنشہ آجائے توا ب کیاحکم ہے۔اگرتوکہے کہ اب بھی حلال ہے تو تم نے بہت بڑی بات کہہ دی۔اوراگرکہے کہ حرام ہے توخود اپنے خلاف تونے فیصلہ دے دیا۔اس میں کوئی شك نہیں نشہ اس مجموعے سے آیا ہے لیکن حرمت آخری رتی کوکھانے پرہے نہ کہ پہلی اوراس کے بعد والیوں پرجوکہ نو ہیں۔جس نے یہ سمجھاکہ معلول جوکہ وہ حرتم ہے جس کی علت نشہ ہے وہ معلول پوری دس رتیاں ہیں مگراس کاتحقق علت کی آخرجزء کے تحقق کے وقت ہواتو اس نے مقصدکوپہچان لیا۔ اس کو وہم نہ بہکائے گا۔الحمدﷲ اس تقریر سے شوکانی کانیل الاوطار میں حد سے تجاوزکرناظاہرہوگیا دراں حالیکہ وہ طبری سے نقل کرنے والا ہے جس کی اس نے تصریح کی کہ ان (ہمارے ائمہ)کوکہاجائے گاکہ اس گھونٹ کے بارے میں بتاؤ جس کے بعد نشہ آیاہے کہ کیااس نے ماقبل والے گھونٹوں کے بغیر
#3227 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
صاحبھا دون ماتقدم من الشراب ام اسکرت باجتماعھا مع ماتقدم واخذت کل شربت بحظھا من الاسکار فان قالوا انما احدث لہ السکر الشربۃ الآخرۃ التی وجد خبل العقل عقبھا قیل لھم وھل ھذہ التی احدثت لہ ذالك الا کبعض ماتقدم من الشربات قبلھا فی انھا لو انفردت دون ماقبلھا کانت غیرمسکرۃ وحدھاوانھا انما اسکرت باجتماعھا واجتماع عملھا فحدث عن جمیعھا السکر اھ۔فان التقریر بحذا فیرہ جار فی الحبۃ العاشرۃ من المسك ونظرائہ والوھم انما نشاء من عدم الفرق بین الجزء الاخیر وبین سائر العلل الناقصۃ المقدمۃ علیہ وکذا استبان بحمداﷲ انخساف مازوق بہ الشوکانی تحت حدیث"کل شراب اسکر فھو حرام" بقولہ ان الشراب اسم جنس فیقتضی ان یرجع التحریم الی الجنس کلہ کمایقال ھذا الطعام مشبع الماء مرو یرید بہ الجنس و کل جزء منہ یفعل ذلك الفعلفاللقمۃ تشبع العصفور وماھو اکبر منھا یشبع ماھو اکبر من العصفور نشہ دیا یاماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکر نشہ دیا اور ہرگھونٹ کانشہ دینے حصہ ہےاگر وہ کہیں کہ اس کونشہ آخری گھونٹ نے دیا ہے جس کے بعد اس کی عقل میں خلل واقع ہوا تو ان کو کہاجائے گاکہ یہ آخری پہلے والے گھونٹوں کی طرح ہی ہے اس بات میں کہ اگر یہ ان سے منفردہوتا تو اکیلے نشہ نہ دیتا۔اس نے ماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکرنشہ دیاہےلہذا ثابت ہوگیاکہ نشہ ان تمام گھونٹوں کے مجموعہ سے پیداہواہے اھبیشك یہی تقریر تمام شقوں کے ساتھ کستوری اور اس جیسی دیگراشیاء میں جاری ہوتی ہے۔ وہم صرف اس لئے پیداہواکہ آخری جزء اوراس سے پہلے والی باقی ناقص علتوں میں فرق نہیں کیاگیا۔یونہی الحمدﷲ حدیث "ہرشراب جونشہ دے وہ حرام ہے"کے تحت شوکانی کایہ کلام بھی زنگ آلود ہوگیاجس کو اس نے یوں منقش کیاکہ شراب اسم جنس ہے جو اس بات کاتقاضاکرتاہے کہ تحریم تمام جنس کی طرف لوٹے جیساکہ کہاجاتاہے طعام سیرکرنے والا ہے اور پانی سیرب کرنے والا ہےیہاں طعام اور پانی سے مراد جنس ہے اورجنس کی ہرجزء جنس والا عمل کرتی ہےچنانچہ طعام کا ایك لقمہ چڑیا کا پیٹ بھردیتاہے اوراس سے زیادہ مقدار چڑیا سے بڑے جانور کاپیٹ بھردیتی
حوالہ / References نیل الاوطار کتاب الاشربۃ باب مایتخذمنہ الخمرالخ مصطفی البابی ∞مصر ۸ /۲۰۲€
#3228 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وکذلك جنس الماء یروی الحیوان علی ھذا الحد فکذلك النبیذ ۔اقول:نعم وقع التحریم علی الجنس مقیدا بصفۃ الاسکار فاذا اسکر حرم والا لاوانما انشدك اﷲ والانصاف اذا قیل لك انھاك عن کل طعام اشبع ھل یفھم منہ النھی عن الاکل مطلقا ولولقمۃ اولقیمۃ اصغر ماتکونماھذہ الامکابرۃ الاتری ان الاجماع ماض علی تحریم کل ضار کالسموم والطین وغیرذلك ثم لم ینطلق ھذالحکم الا الی قدریضرك ایاك لامایضرولو ذبابا اونملۃوقد اخرج احمد وابوداؤد وعن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر و معلوم ان من الادویۃ ما اذااکثر منہ اورث التفتیر والتحذیر ثم لم یرجع التحذیر الا الی ذلك القدر الکثیر ولو کان الامر کما زعمت لوجب القول بحرمۃ المسك و ہے اسی طرح پانی کی جنس عمل کرتی ہے اوریہی حال نبیذکا ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ہاں تحریم جنس پرواقع ہے درانحالیکہ وہ نشہ آورہونے کی صفت سے مقید ہے۔لہذا جب نشہ دے توحرام ہے ورنہ نہیں۔میں تجھے اﷲ تعالی کی قسم دے کر انصاف کامطالبہ کرتاہوں کہ جب تجھے کہاجائے کہ میں تجھے ہرایسے طعام سے منع کرتاہوں جوسیرکردے توکیا اس سے مطلق طعام کی ممانعت سمجھی جائے گی اگرچہ ایك لقمہ کی مقدار یا اس سے بھی کمترہو یہ تومحض انکارحق ہےکیا تم نہیں دیکھتے کہ ہرنقصان دہ چیز کی حرمت پراجماع جاری ہے جیسے زہراورکیچڑوغیرہپھریہ حکم نہیں جاری ہوتا مگراتنی مقدار پرجوتجھے نقصان پہنچائے نہ مطلق نقصان پہنچانے والی شیئ پراگرچہ وہ مکھی یاچیونٹی کونقصان پہنچائےامام احمد وابو داؤد نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورعقل میں خلل ڈالنے والی چیزسے منع فرمایا۔یہ بات معلوم ہے کہ بعض دوائیوں کی زیادہ مقدارعقل میں خلل ڈالتی ہے جس سے پرہیز کرنالازمی ہے۔پھر یہ پرہیزاورممانعت صرف اسی مقدار کثیر کی طرف لوٹی ہے۔اگرمعاملہ ایسے ہوتاجیسے تونے گمان کیا ہے توکستوری اوراس جیسی
حوالہ / References نیل الاوطار کتاب الاشربۃ باب مایتخذ منہ الخمرالخ مصطفی البابی ∞مصر ۸ /۲۰۱€
سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳€
#3229 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
امثالہ مطلقا وکل ذلك خلاف الاجماع ھذا ثم اتفقت المراجعۃ الی البنایۃ فرایت الامام البدر محمود ارحمہ اﷲ تعالی اتی ھھنا بکلام حسن نقلا عن الامام تاج الشریعۃ زاد فیہ من النظائر فاحببت ایرادہ قال روح روحہالحرام ھو المسکر و اطلاقہ علی ماتقدم مجاز وعلی القدح الاخیر حقیقۃ وھو مراد فلایکون المجاز مرادا وقد قال تاج الشریعۃ المسکر مایتصل بہ السکر بمنزلۃ المتخم من الطعام وھو مایتصل بہ من التخمۃ فان تناول الطعام بقدر مایغذیہ حلال ومایتخم وھوالاکل فوق الشبع حرام ثم المحرم منھما وھو المتخم وان کان لایکون ذلك متخما الاباعتبار ماتقدمہ من الاکلات وکذلك فی الشراب وقد قال ابویوسف رحمہ اﷲ ذلك مثل دم فی ثوب مادام قلیلا فلاباس بالصلوۃ فیہ فاذا اکثر لم یحل ومثل رجل ینفق علی نفسہ واھلہ من کسبہ اشیاء کی مطلقا حرمت کاقول کرناواجب ہوتاحالانکہ یہ سب خلاف اجماع ہے۔پھربنایہ کی طرف مراجعت کا اتفاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ امام بدرمحمود رحمہ اﷲ تعالی نے یہاں پرامام تاج الشریعۃ سے نہایت عمدہ کلام نقل فرمایا جس میں کئی نظائر کااضافہ کیا۔اس کلام کویہاں ذکرکرنامجھے پسندہے۔اس نے کہااس کی روح کشادہ ہوکہ حرام وہ ہے جونشہ آورہے۔اس سے پہلے والی شراب پرحرام کااطلاق مجازا ہے جبکہ آخری پیالہ پر اس کا اطلاق حقیقتا ہے اور وہی مراد ہے لہذ امجاز مراد نہیں ہوگا۔اورتاج الشریعۃ نے فرمایاکہ نشہ آور شراب جس کے ساتھ نشہ متصل ہے وہ بدہضمی پیداکرنے والے طعام کی طرح ہے اور وہی طعام ہے جس کے ساتھ بدہضمی متصل ہے اس لئے کہ بقدرغذاطعام کھاناحلال ہے۔اورجوبدہضمی پیدا کرتاہے وہ وہ ہے جوسیرہوجانے کے بعد کھایاجائے وہ حرام ہے۔پھر اس میں سے حرام وہی ہے جوبدہضمی پیداکرنے والاہے اگرچہ پہلے والے لقموں کااعتبارکئے بغیر وہ بدہضمی پیدا نہیں کرتااوریہ حکم شراب میں ہوگا۔امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ یہ کپڑے میں لگے ہوئے خون کی طرح ہے کہ جب تك وہ قلیل ہو اس کپڑے میں نمازاداکرنے میں کوئی خرابی نہیں اورجب وہ زیادہ ہوجائے توحلال نہیں۔اور اس شخص کی طرح ہے جو اپنی کمائی میں سے اپنی ذات اور
#3230 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
فلاباس بذلك فاذا اسرف فی النفقۃ لم یصلح لہ ذلك ولاینبغی وکذلك النبیذ لابأس ان یشربہ علی طعامہ ولاخیر فی السکر منہ لانہ اسراف واظھر من ذلك ان الضمان یضاف الی واضع المن الاخیر فی السفینۃ وان لم یحصل الغرق بدون ماتقدم من الامناء وھذا لانہ لایوجد التلف حکما بما تقدم من الامناء وانما وجد ذلك بفعل فاعل مختار فاضیف الغرق لولی المن الاخیر فکذاھنا اضیف السکر الی القدح الاخیر الذی یحصل بہ السکر حقیقۃ لاما تقدم من الاقداح اھ۔ثم ان البیھقی فی المعرفۃ اراد الرد علی حدیث الحجاج بوجہ آخر فذکر مارواہ ابن المبارك عن الحسن بن عمروالفقیمی عن فضیل بن عمروعن ابراھیم قال کانوا یقولون اذا سکرلم یحل لہ ان یعود فیہ ابدا اپنے اہل وعیال پرخرچ کرتاہے جس میں کوئی حرج نہیں مگر جب وہ خرچ میں زیادتی کرے تو اس کے لئے یہ درست نہیں اوراسے ایسانہیں کرناچاہئے۔اسی طرح کھانے کے اوپرنبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں مگراس سے نشہ میں کوئی بھلائی نہیں کیونکہ یہ اسراف ہےاوراس میں زیادہ ظاہربات یہ ہے کہ ضمان اس شخص کی طرف منسوب ہوتاہے جس نے کشتی میں آخری من رکھااگرچہ اس سے پہلے رکھے جانے والے منوں کے بغیر کشتی کاغرق ہونامتحقق نہیں ہوا۔اوریہ اس لئے ہے کہ پہلے والے منوں سے حکمی طورپرتلف نہیں پایاگیاتووہ فاعل مختارکے فعل سے پایاگیا لہذا غرق کی نسبت آخری من والے کی طرف کی جائے گی۔یوں ہی یہاں نشہ کی اضافت آخری پیالے کی طرف کی جائے گی جس سے حقیقتا نشہ حاصل ہوانہ کہ پہلے والے پیالوں کی طرف الخ۔پھربیہقی نے المعرفہ میں حدیث حجاج پرایك اوروجہ سے ردکرناچاہا تو ذکرفرمایا جس کوابن مبارك نے حسن بن عمروفقیمی سےاس نے فضیل بن عمروسے اور اس نے ابراہیم سے روایت کیاابراہیم نے کہا وہ کہتے تھے کہ جب کسی کونشہ آجائے تو اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ کبھی بھی اس نشہ والی نبیذ کی طرف عود کرے۔
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴ /۳۴۳€
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی فی المعرفۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیۃ ∞۴ /۳۰۶€
#3231 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قلت واسندہ النسائی من طریق ابن ابی زائدۃ عن الحسن بن عمر بالسند قال کانوا یرون ان من شرب شرابا فسکر منہ لم یصلح ان یعود فیہ قال البیھقی فکیف یکون عند ابراھیم قول ابن مسعود ھکذا(یعنی مارواہ الحجاج)ثم یخالفہ قال فدل علی بطلان ما رواہ الحجاج بن ارطاۃ اقول:لاننکر ان حدیث الحجاج لایصلح الاحتجاج لکن فی الرد بھذا الوجہ خفاء لایخفی فان القول وان لم یصح عن عبداﷲ قد ضح عن ابراھیم فاذا لم یمنعہ ھذا عن قول نفسہ فکیف یمنع ان یکون عندہ عن عبداﷲ مثلہ اما ابوعبدالرحمن فجعل ھذا خلافا عن ابراھیم فی اذا قالذکرالاختلاف علی ابراھیم فی النبیذ فروی ھذا ثم قال اخبرنا سوید اخبرنا عبد اﷲ عن ابی عوانۃ عن ابی مسکین قال سالت ابراھیم قلت انا ناخذ دردی الخمر اوالطلاء فننظفہ قلت(میں کہتاہوں)امام نسائی نے اس کو بطریق ابن ابی زائدہ حسن بن عمر سے مسندا بیان کیاکہ و ہ یہ سمجھتے تھے کہ جس نے شراب پی اوراس کو نشہ آگیا اس کے لئے ایسی شراب کی طرف عود کرنا درست نہیں۔بیہقی نے کہاکہ ابراہیم کے نزدیك ابن مسعود کاقول اس طرح کیسے ہوگیا یعنی جس کو حجاج نے روایت کیا پھراس کی مخالفت کی اس نے کہاکہ اس کے بطلان پردلیل وہ ہے جس کوحجاج بن ارطات نے روایت کیا۔اقول:(میں کہتاہوں)ہم اس بات کاانکارنہیں کرتے کہ حدیث حجاج قابل استدلال نہیں لیکن اسے اس وجہ کے ساتھ رد کرنے میں خفاء ہے جوکہ مخفی نہیں اس لئے کہ یہ قول اگرچہ عبداﷲ سے صحیح نہیں مگرابراہیم سے صحیح ہے کہ جب اس نے اپنا قول ہونے سے انکار نہیں کیاوہ کیسے انکار کرے گا اس کے نزدیك عبداﷲ سے اس کی مثل منقول ہے لیکن ابو عبدالرحمن نے اس کو ابراہیم کی نقل کے خلاف قرار دیا ہے انہوں نے اس کو ذکرالاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ کے باب میں روایت کیاپھرکہاکہ ہمیں خبردی سویدنےاس نے کہا ہمیں خبردی عبداﷲ نے ابوعوانہ سےاس نے ابومسکین سے کہ میں نے ابراہیم سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ ہم خمریاطلاء کاتلچھٹ لیتے ہیں پھراس کو صاف کرتے
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۵
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۶€
#3232 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ثم ننقع فیہ الزبیب ثلثاثم نصفیہ ثم ندعہ حتی یبلغ فنشربہ قال یکرہ اھ فزعم ان فی ھذین خلاف ماثبت عن ابراھیم من تحلیل القلیل۔ اقول:ولامتمسك لہ فی شیئ منھما فان معنی الاول علی مانری واﷲ تعالی اعلم ان من استخفہ الشیطان فی شراب فلم یصبر علی قلیلہ حتی اکثر فاسکر لا ینبغی لہ ان یعود فیہ کیلا یستجرہ العدو اخری فیکون معناہ علی وزان قول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایلدغ المؤمن من جحر مرتین او یکون المعنی لایعود الی ما اسکر فقد علمہ بالتجربۃ وذلك ان من ظن فی شراب انہ لایسکر منہ ثلث کؤس مثلا فشرب فسکر لم یحل لہ ہیں پھرتین دنوں تك اس میں کشمش بھگو دیتے ہیں پھر اس کوصاف کرکے رکھ چھوڑے ہیں یہاں تك کہ وہ تیزی کی حد تك پہنچ جاتا ہے پھر اس کوپی لیتے ہیں توابراہیم نے کہایہ مکروہ ہے الخ ابوعبدالرحمن نے گمان کیاان دونوں میں اس کے خلاف ہے جوقلیل مقدارکے حلال ہونے سے متعلق ابراہیم سے ثابت ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ان دونوں روایتوں میں ابوعبدالرحمن کے لئے ستدلال کی کوئی گنجائش نہیںاس لئے کہ پہلی کامعنی جیساکہ ہم سمجھے ہیں اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے یہ ہے کہ بیشك جس کی نظرمیں شیطان نے شراب کوہلکاکردیااس نے قلیل پرصبرنہیں کیایہاں تك کہ زیادہ پی کرمست ہوگیا تو اس کو دوارہ شراب کی طرف نہیں لوٹنا چاہئے تاکہ دشمن پھر اس کو نہ کھینچ لے۔چنانچہ اس کا معنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرح ہوگیاکہ مومن ایك سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈساجاتا یا اس کامعنی یہ ہے کہ جس شراب کانشہ آورہونا اس کوتجرہ معلوم ہوگیا اس کی طرف عود نہ کرے۔اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کاگمان تھا اس شراب کے تین گلاس مجھے نشہ نہیں دیں گے اس نے تین گلاس پی لئے تو اس کونشہ آگیا اب ہمیشہ کے لئے اس کو
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاختلاف علٰی ابراھیم ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۵€
کنزالعمال عن ابی ھریرہ ∞حدیث ۸۳۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱ /۱۶۶€
#3233 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
العود الی الثالثۃ ابداواما الاثر الآخر فانما الکراھۃ فیہ لاجل دردی الخمر والطلاء بالاشتراك یطلق علی معان بینھا العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکاممنھا العصیر العنبی الذی ذھب اقل من ثلثیہوھو الباذق والذی ذھب نصفہ وھو المصنف والذی ذھب ثلثاہ وھو المثلث والذی ذھب ثلثہ وھو الباذق قال ویسمی بالطلاء کل ماطبخ من عصیر العنب مطلقا والکل غیر المثلث حرام کثیرہ وقلیلہ نجس نجاسۃ غلیظۃ کالخمر عندنا وعند الجمھور خلافا للامام الشافعی و الاوزاعی وبعض الظاھریۃ والمعتزلۃ واﷲ تعالی اعلم۔
الخامس:قال النسائی حدثنا عبیداﷲ بن سعید عن ابی اسامۃ قال سمعت ابن المبارك یقول ما وجدت الرخصۃ فی المسکر عن احد صحیحا الاعن ابراھیم ۔اقول:رحم اﷲ الامام الجلیل و تیسرے گلاس کی طرف عود حلال نہیں رہا۔رہی دوسری اثرتو اس میں خمروطلاء کے تلچھٹ کی وجہ سے جوحرمت ہے اوروہ بطوراشتراك کئی معنوں پر بولی جاتی ہے جنہیں علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں بیان فرمایا ہے ان میں انگور کے جس شیرہ کا دوتہائی سے کم جل کرخشك ہوجائے اس کو باذقجس کانصف خشك ہوجائے اس کومنصف اور جس کادو تہائی خشك ہوجائے اس کومثلث اورجس کا ایك تہائی خشك ہوجائے اس کوباذق کہاجاتاہے۔اورفرمایا کہ انگور کے جس شیرہ کو پکایاجائے اس کومطلقا طلاء کہتے ہیں الخ مثلث کے سواتمام خمر کی طرح حرام اوران کا قلیل وکثیرنجاست غلیظہ کے ساتھ نجس ہے۔ہمارے نزدیك اورجمہور کے نزدیك بخلاف امام شافعی اوزاعیبعض ظاہریہ اورمعتزلہ کے۔اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔
پانچویں بحث:امام نسائی نے کہاہمیں عبیداﷲ بن سعید نے ابو اسامہ سے حدیث بیان کی کہ میں نے ابن مبارك کویہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے نشہ آورنبیذکے بارے میں سوائے ابراہیم کے کسی سے رخصت صحیح نہیں پائی۔
اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی امام جلیل پر
حوالہ / References غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالحکام کتاب الاشربۃ ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۸€۷
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکر الاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ ∞نورمحمدکارخانہ کراچی ۲ /۳۳۵€
#3234 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
نفعنا ببرکاتہ فی الدنیا والاخرۃ بلی قد صح عن امیرالمومنین عمر وقد مرحدیث مالك عن داؤد بن الحصین من رجال الستۃ قال الحافظ ثقۃ الا فی عکرمۃ عن واقد بن عمروثقۃ من رجال خ عن محمود بن لبید صحابی صغیر وفیہ قول عبادۃ احللتھا واﷲ وفیہ ادعی الزرقانی ان کان عمراجتھد فی تلك المرۃ ثم رجع عنہ کما تقدم حدیث ابی حنیفۃ عن ابی اسحق السبیعی ثقۃ من رجال الستۃ و لم یکن ابوحنیفۃ لیذھب الیہ بعد ما اختلط فیاخذ عنہ کما نص علیہ المحقق حیث اطلق وذکرناہ فی منیرالعین عن عمروبن میمون مخضرمہ مشھورثقۃ عابد نزل الکوفۃ من رجال الستۃ وبہ وبماتقدم من روایۃ ابن ابی شیبۃ عن ابی الاحوص عن ابی اسحق عن عمروبن میمون ابوالاحوص رحم فرمائے اور ہمیں دنیاوآخرت میں ان کی برکات سے نفع پہنچائے۔کیوں نہیںتحقیق امیرالمومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی صحت ثابت ہےاورحدیث مالك بروایت داؤد بن حصین گزرچکی جوکہ صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔حافظ نے کہاوہ ثقہ ہے مگراس روایت میں جو عکرمہ نے واقدبن عمروسے کی کہ وہ ثقہ اور"خ"کے رجال میں سے ہیںمحمودبن لبید صحابی صغیرسے روایت ہے اور اس میں حضرت عبادہ کایہ قول مذکورہے کیاآپ نے بخدااس کوحلال کردیا اس میں زرقانی نے دعوی کیاکہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس موقع پراجتہاد کیاپھراس سے رجوع کرلیاجیساکہ پہلے گزراحدیث ابی حنیفہ بروایت ابو اسحق سبیعی وہ ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہےاس کے اختلاط کے بعد امام ابوحنیفہ اس کے پاس جاکرحدیث اخذ نہ کرتے جیساکہ اس پرمحقق علی الاطلاق نے نص فرمائی اورہم نے اس کومنیرالعین میں عمروبن میمون مخضرم سے ذکر کیا ہے وہ مشہورثقہ عابدہے جوکہ کوفہ میں ٹھہرے صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔اس روایت سے اورماقبل میں مذکورحدیث ابن ابی شیبہ سے جوانہوں نے اپنی سند کے ساتھ ابوالاحوض سلام بن سلیم ثقہ ازرجال صحاح ستہ سے روایت کی ان دونوں
حوالہ / References تقریب التہذیب حرف الدال ترجمہ داؤد بن الحصین ∞۱۷۸۵€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۲۷۸€
مؤطا امام مالك کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ص۶۹۵€
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الاشربۃ جامع تحریم الخمر ∞حدیث ۱۶۴۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۴€
#3235 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ھو سلام بن سلیم ثقۃ المصیصی من رجال الستۃ تأید الحدیثان الماران للطحاوی عن عمروو احدھماحدثنا ابوبکرۃ ثنا ابوداؤد ثنا زھیربن معویۃ عن ابی اسحق عن عمروبن میمون والاخر حدثنا روح بن الفرج ثنا عمروبن خالد نازھیرنا ابواسحق عن عمروبن میمون رجالھما جمیعا ثقات الجلاء ابوبکرۃ ھوبکاربن قتیبۃ و ابوداؤد ھو الطیالسی ثقۃ حافظ من رجال مسلم والاربعۃ اھل الستۃ فقد کنی عنہ خ فی تفسیر المدثر حیث قال فی سند حدیث مرفوع حدثنی محمد بن بشار نا عبدالرحمن بن مھدی وغیرہ قالا حدثنا حرب بن شداد الخ غیرہ ھو ابوداؤد کما بینہ ابونعیم فی مستخرجہ وزھیر قۃ ثبت من رجال الستۃ وروح بن الفرج شیخ الطحاوی ھو القطان المصری ثقۃ گزشتہ حدیثوں کی تائید ہوگئی جوانہوں نے عمرو سے روایت کی ہیںان میں سے ایك یہ ہے کہ ہمیں ابوبکرہ نےان کو ابوداؤد نےان کو زہیربن معاویہ نے ابواسحق سے حدیث بیان کی اورابواسحق نے عمروبن میمون سے روایت کی۔
دوسری حدیث یہ ہے کہ ہمیں روح بن الفرج نےان کوعمرو بن خالدنےان کو زہیرنے ابواسحق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عمروبن میمون سے روایت کی۔ان دونوں حدیثوں کے تمام رجال جلیل القدرثقہ ہیں۔ابوبکرہ وہ بکاربن قتیبہ ہے۔ابوداؤد طیالسی ثقہحافظمسلم وسنن اربعہ کے رجال میں سے ہیں اور اصحاب صحاح ستہ میں سے ہیں۔خ نے سورۃ المدثر کی میں ان سے بطورکنایہ روایت کی ہے جہاں اس نے سند مرفوع میں کہاکہ مجھے حدیچ بیان کی محمدبن بشارنےاس نے کہاہمیں حدیث بیان کی عبدالرحمن بن مہدی اور اس نے غیرنےانہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی حرب بن شداد نے الخ اس کے غیرسے مرادابوداؤد ہیں جیسا کہ ابونعیم نے اپنی مستخرج میں بیان کیا۔زہیرثقہثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔روح بن الفرج امام طحاوی کے شیخ ہیں وہ قطان مصری ثقہ
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵€۹
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵€۹
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ المدثر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳۲€
#3236 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وثقہ فی تھذیب التھذیب وعمرو بن خالد شیخ روح وتلمیذ زھیر ھوالحرانی الخزاعی ثقۃ من رجال البخاریفبموافقۃ الامام ومتابعۃ سلام زال ماکان یخشی من سماع زھیر عن ابن اسحق اخیرا۔و حدیث ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان عمراتی باعرابیصحیح علی اصولنا فان الجمہور علی قبول المراسیل ولاسیما مراسیل ابراھیم فقد قال الامام احمد مرسلات سعید بن المسیب اصح المرسلات و مرسلات ابراھیم النخعی لابأس بھا ذکرہ فی التدریب وقد اخرج ابن عدی عن یحیی بن معین قال مراسیل ابراھیم صحیحۃ الاحادیث تاجر البحرین وحدیث القھقھۃ قال فی نصب الرایۃ اما حدیث القھقھۃ فقد عرف واما حدیث تاجر البحرین فرواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ ثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابراھیم ہیں تہذیب التہذیب میں ان کی توثیق کی گئی ہے۔عمروبن خالد روح کے شیخ اورزہیر کے شاگرد ہیں وہ حرانی خزاعیثقہ اور بخاری کے رجال میں سے ہیں لہذا امام کی موافقت اور سلام کی متابعت کے سبب سے اس خدشہ کاازالہ ہوگیا جوابو اسحق سے زہیر کے سماع سے متعلق کیاجارہاتھا الخ۔
حدیث ابوحنیفہ جوانہوں نے حماد سے اورحمادنے ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ایك اعرابی کولایاگیا ہمارے اصول کے مطابق صحیح ہے اس لئے کہ جمہور کامؤقف یہ ہے کہ مراسیل خصوصا ابراہیم کی مراسیل مقبول ہیں۔امام احمد نے فرمایا سعیدبن مسیب کی مراسیل صحیح ترین مراسیل ہین اورابراہیم نخعی کی مراسیل میں کوئی حرج نہیں۔یہ تدریب میں مذکورہے۔ابن عدی نے یحیی بن معین سے تخریج کی کہ ابراہیم کی مراسیل صحیح ہیں سوائے تاجرالبحرین اورقہقہہ کی حدیث کے۔نصب الرایہ میں کہا حدیث قہقہہ تومعروف ہے۔۔رہی حدیث تاجرالبحرین تو اس کوابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں یوں روایت کیاہے کہ ہمیں وکیع نے اوران کواعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی
حوالہ / References تہذیب التہذیب ترجمہ روح بن الفرج ∞۵۵۴€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۲ /۲۹€۷
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ سمندری ∞۲ /۱۱۲€
تدریب الراوی النوع التاسع المرسل وبیان اطلاقہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸€
نصب الرایہ کتاب الطہارت فضل فی نواقض الوضوء المکتبۃ الاسلامیہ ۱ ∞/۵۲€
#3237 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال جاء رجل فقال یارسول اﷲ انی رجل تاجر اختلف الی البحرین فامرہ ان یصلی رکعتین یعنی القصر اھ وکذا حدیث کتاب عمر المروی فی المسند بالسند۔وحدیث الطحاوی حدثنا فھد ثنا عمرب حفص ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی ابراھیم عن ھمام بن الحارث عن عمر انہ کان فی سفر الحدیث عمربن حفص ثقۃ من رجال الشیخین وابوہ حفص بن غیاث ثقۃ من رجال الستۃ وابراھیم ھوالنخعی و ھمام النخعی ثقۃ من رجال الستۃ وحدیثہ حدثنا فھدثنا عمربن حفص ثنا ابی عن الاعمش ثنی حبیب بن ابی ثابت عن نافع عن ابن عمر قال امر بنبیذ لہ الحدیثرجالہ کلھم ثقات ابراہیم نے کہاکہ ایك شخص نے حاضرہوکر عرض کی یارسول اﷲ(صلی اﷲ علیہ وسلم)! میں ایك تاجر شخص ہوں باربار بحرین جاتارہتاہوںتوآپ نے اس کوحکم دیاکہ وہ دورکعتیں یعنی نمازقصر پڑھاکرے اھ یونہی حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے خط والی حدیث جوکہ مسندمیں سندکے ساتھ مروی ہے۔اور امام طحاوی کی حدیث کہ ہمیں فہدنےاس کوعمربن حفص نےاس کواس کے باپ نےاس کواعمش نےاس کو ابراہیم نے ہمام بن حارث سے حدیث بیان کیہمام نے حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ وہ سفرمیں تھے(الحدیث)۔عمربن حفص ثقہ اورشیخین کے رجال میں سے ہیں اور ان کاباپ حفص بن غیاث ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ابراہیم وہ نخعی ہیں۔ہمام نخعی فقہ اور صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔اوراس کی حدیث یہ ہے کہ ہمیں فہد نے اوران کی عمربن حفص نےان کوان کے باپ نے اعمش سے حدیث بیان کیکہامجھے حبیب بن ابی ثابت نے نافع سے اورانہوں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ آپ نے اپنے لئے نبیذکاحکم دیا(الحدیث)۔اس حدیث کے تمام رجال ثقہ ہیں۔
حوالہ / References نصب الرایۃ کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ الاسلامیہ ∞۱/ ۵۲€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
تقریب التہذیب ترجمہ عمربن حفص ∞۴۸۹۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۷۱۴€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
#3238 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حبیب ثقۃ امام جلیل من رجال الستۃ وقد سمع ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم قالہ البخاری قلت وھو من اقران نافع لیس بین موتھما الا سنۃ اوسنتان فلودلس لامکنہ ان یقول عن ابن عمرلکن اوضح وبین فرحمہ اﷲ تعالیوحدیثہ حدثنا ابن ابی داؤد ثنا ابوصالح ثنی اللیث ثنا عقیل عن ابن شھاب اخبرنی معاذ بن عبدالرحمن بن عثمن اللیثی عــــــہ ان اباہ عبدالرحمن بن عثمان قال صحبت عمر الحدیث۔ابن ابی داؤد ھو ابراھیم ثقۃ صح لہ الطحاوی فی رفع الیدینوعبد الرحمن بن عثمان صحابیوالبقیۃ کلھم ثقات حبیب ثقہامام جلیل اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔اس نے ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما اور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے حدیث سنی ہے یہ امام بخاری نے کہاہے۔ قلت(میں کہتاہوں)وہ نافع کاہمعصر ہے ان دونوں کی موت کے درمیان ایك یادو سال کافرق ہےاگروہ تدلیس کرتاتو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ یوں کہتاعن ابن عمرلیکن اس نے تدلیس نہیں کیبلکہ وضاحت فرمائیاﷲ تعالی اس پررحم فرمائے۔امام طحاوی کی حدیث ہے کہ ہمیں ابوداؤد نےانہیں ابوصالح نےاس کولیث نےاس کو عقیل نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ابن شہاب نے کہاکہ مجھے معاذ بن عبدالرحمن بن عثمان لیثی نے خبردی کہ اس کے باپ عبد الرحمن بن عثمان نے کہامیں نے حضرت عمررضی اﷲتعالی عنہ کی صحبت پائی(الحدیث)۔ابن ابی داؤد وہ ابراہیم ہے جوکہ ثقہ ہے۔امام طحاوی نے رفع یدین کے بارے میں اس کی حدیث کوصحیح قراردیا۔عبدالرحمن بن عثمان صحابی ہیں۔اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں

عــــــہ:وقع فی نسخۃ طبع اللیثی وانما ھوالتیمی کما فی الاصابۃ والتقریب ۱۲منہ عــــــہ:مطبوعہ نسخہ میں اللیثی ہے جبکہ یہ تیمی ہے جیساکہ اصابہ اور تقریب میں ہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References میزان الاعتدال بحوالہ البخاری ترجمہ حبیب ابن ابی ثابت ∞۱۶۹۰€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۵۱€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
#3239 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
مشھورون من رجال البخاری فان الصحیح انہ خرج فی الصحیح لعبداﷲ بن صالح ابی صالح کاتب اللیث قالہ المنذری فی الترغیب والذھبی فی المیزان ۔وحدیث النسائی اخبرنا زکریا بن یحیی ثنا عبدالاعلی ثنا سفین عن یحیی بن سعید سمع سعید بن المسیب یقول تلقت ثقیف الخ زکریا ثقۃ حافظ والبقیۃ ثقات مشاھیر من رجال الستۃ۔ وحدیثہ اخبرنا محمدبن عبدالاعلی ثنا المعتمر سمعت منصورا عن ابراھیم عن نباتہ عن سوید بن غفلۃ الخ محمد ثقۃ نباتہ مقبول والبقیۃ کلھم ثقات مشھوررون من رجال الستۃ وبالطریق رواہ عبدالرزاق عن اور بخاری کے رجال میں سے مشہور ہیں کیونکہ صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبداﷲ بن ابوصالح کاتب اللیث کے لئے اس کی تخریج کییہ بات منذری نے ترغیب میں اور ذہبی نے میزان میں کہی۔اورنسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں زکریا بن یحیی نے خبردی اس نے کہاہمیں عبدالاعلی نےاس نے کہاہمیں سفیان نے یحیی بن سعید سے حدیث بیان کی اس نے سعیدبن مسیب کوکہتے ہوئے سناکہ بنی ثقیف کے لوگوں نے حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کوایك شراب پیش کی الخ۔زکریا ثقہ اور حافظ ہےاورباقی تمام راوی ثقہ ہیں اور صحاح ستہ کے رجال میں سے مشہور ہیں۔امام نسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں محمدبن عبدالاعلی نے خبردی اس نے کہاہمیں معتمر نے حدیث بیان کی کہ میں نے منصور کوابراہیم سے روایت کرتے ہوئے سنااس نے نباتہ سے اور اس نے سوید بن غفلہ سے الخ۔محمدثقہ ہےنباتہ مقبول ہے اورباقی تمام راوی ثقہ ہیں اورصحاح ستہ کے رجال سے مشہورہیں اور اسی طریق سے اس کو عبدالرزاق
حوالہ / References میزان الاعتدال ترجمہ عبداﷲ بن صالح ∞۴۳۸۳€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۴۴۰€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۳
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ محمدبن عبدالاعلٰی ∞۶۰۸۰€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۰۲€
تقریب التہذیب ∞ترجمہ نبابۃ کوفی ۷۱۱۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۲۴۰€
#3240 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
منصور۔وحدیثہ اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن ھشام عن ابن سیرین ان عبداﷲ بن یزید الخطمی قال الخ ھم کما تری کلھم ائمۃ اجلاء ثقات اثبات مشھورون من رجال الستۃ غیر سوید بن نصر فمن رجال الترمذی والنسائی ثقۃ معروف راوی الامام الجلیل عبداﷲ بن مبارك وھو المراد بعبداﷲ وھشام ھو الدستوائی وعبداﷲ بن یزید صحابی وقدمنا ان الحافظ صححہ فی الفتح۔وحدیثہ اخبرنا محمد بن المثنی ثنا ابن ابی عدی عن داؤد سالت سعید الخ ابن ابی عدی محمد بن ابراھیم وداؤد ھوابن ابی ھند وسعید ھو ابن المسیب والسند کلہ ثقات من رجال الستۃ الا داؤد فمن عدا البخاری فھذہ اکثر من عشرۃ احادیث صحاح عن امیر المومنین رضی اﷲ تعالی عنہ نے منصورسے روایت کیا۔امام نسائی کی حدیث ہے ہمیں سویدنے خبردی اس نے کہا ہمیں عبداﷲنے ہشام سے اور اس نے ابن سیرین سے ہمیں خبردی کہ عبداﷲ بن یزید خطمی نے کہا الخ وہ تمام راوی جیساکہ تودیکھتاہے جلیل القدر ائمہثقہثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے مشہورہیں سوائے سویدبن نصرکے وہ ترمذی اورنسائی کے رجال میں سے ہے ثقہ ہے معروف ہے۔راوی امام جلیل عبداﷲابن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ہیں اورعبداﷲ سے وہی مراد ہے۔ ہشام وہ دستوائی ہے۔عبداﷲ ابن یزید صحابی ہیں۔ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ حافظ نے فتح میں اس کی تصحیح کی۔امام نسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں محمد بن مثنی اس نے کہاکہ ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث بیان کی داؤد سے اس نے کہامیں نے سعید سے پوچھا الخ۔ابن ابی عدی محمدبن ابراہیم ہے۔داؤد وہ ابن ابی ہند ہیں۔سعید وہ ابن مسیب ہیں۔سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں سوائے داؤد کے کہ وہ بخاری کے علاوہ باقیوں کے رجال میں سے ہیں۔یہ دس سے زائد صحیح حدیثیں ہیں جوامیرالمومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہیں
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
#3241 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
وکذا صح عن ابن مسعود وعن ابنہ عامر ابی عبیدۃ وعن علقمۃ وعن حماد فان ابا حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداﷲ ان لم یفق مالکا عن نافع عن ابن عمر فلاینزل عنہ ولاعن شیئ مماقیل اصح الاسانید عندنا و عند کل من نوراﷲ بصیرتہ بنورالانصافوعن ابن عباس کما علمت مر تصحیحہ عن ابن حزم وکذا عن عتبۃ بن فرقد السلمی وکذلك صحت الاثار وحسنت فی الطلاء مثلثا اومنصفا وغیرہ عن انس بن مالك حدیثہ الاول عن الولید بن سریع الکوفی صدوق ۔والثانی عندالنسائی قال اخبرنا اسحق بن ابراھیم ثنا وکیع ثنا سعد بن اوس عن انس بن سیرین رجالہ کلھم ثقات اوراسی طرح ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ ان کے بیٹے عامر ابوعبیدہعلقمہ اورحماد سے صحیح حدیث منقول ہے۔بیشك یہ سند ابوحنیفہ نے حماد سےاس نے ابراہیم سےاس نے علقمہ سے اور اس نے عبداﷲ سے روایت کی اگرنہیں فوقیت رکھتی اس سند پرجومالك نے نافع سے اوراس نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی تو اس سے کمتر بھی نہیں ہےاورنہ اس شیئ سے جس کے بارے میں کہاگیاکہ یہ تمام سندوں سے صحیح ترین ہے۔ہمارے نزدیك اورہر شخص کے نزدیك جسے اﷲ تعالی نے نورانصاف کے ساتھ نورانی بصیرت عطا فرمائیاورابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے جیسا کہ توجان چکا ابن حزم سے اس کی تصحیح گزرچکی ہے۔اور یونہی عتبہ بن فرقد سلمی سےاسی طرح صحیح اورحسن آثار اس طلاء کے بارے میں وارد ہیں جومثلث ہو(یعنی جس کادوثلث خشك ہوگیا)یا منصف ہو جس کا نصف خشك ہوگیا یا اس کے علاوہ۔حضرت انس بن مالك سے ان کی پہلی حدیث ولید ابن سریع کوفی سے مروی ہے جوصدوق ہے۔اوردوسری نسائی سےانہوں نے کہاکہ ہمیں اسحق بن ابراہیم نے خبردی اس نے کہاہمیں وکیع نے اس نے کہاہمیں سعدبن اوس نے انس بن سیرین سے
حوالہ / References تقریب التہذیب ترجمہ الولید بن سریع ∞۷۴۵۱€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۲۸۵€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوزشربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
#3242 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
مشھورون من رجال الستۃ الاسعدا وسعدان کان ھوالعبسی الکوفی کما یظن من روایۃ وکیع فثقۃ وثقہ العجلی ویحیی و ابوحاتم وذکرہ ابناحبان و شاھین فی الثقات قال الحافظ لم یصب الأزدی فی تضعیفہ وان کان ھوالعدوی البصری کما یفھم من تھذیب التھذیب فصدوق لاینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن و ثقۃ ابن حبان وغیرہوالثالث عند ابن ابی شیبۃ عن وکیع بعین ھذا السند وعن ابن سیرین عند النسائی اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن ھارون بن ابراھیم عن ابن سیرین قال بعہ الخ ھذا کما تری سند صحیح ھارون ثقۃ ۔وعن علی امیر المؤمنین کرم اﷲ تعالی وجہہ حدیثہ عند النسائی حدیث بیان کیاس کے تمام رجال ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے مشہورہیں سوائے سعد کے اورسعد اگرعبسی کوفی ہے جیسا کہ وکیع کی روایت سے گمان کیاجاتاہے تو وہ ثقہ ہے۔ اس کو عجلییحیی اورابوحاتم نے ثقہ قراردیا ہےاس کابن حبان اورشاہین نے ثقہ راویوں میں ذکرکیاہے۔حافظ نے کہا کہ اس کوضعیف قراردینے میں ازدی نے درست نہیں کیا اوراگروہ عدوی بصری ہے جیساکہ تہذیب التہذیب میں سمجھاجاتاہے تووہ صدوق ہے اس کی حدیث درجہ حسن سے ساقط نہیں ہوتی۔ابن حبان وغیرہ نے اس کو ثقہ قراردیا۔اور تیسری حدیث ابن ابی شیہ کے نزدیك وکیع سے بعینہ اسی سند کے ساتھ ہے اور ابن سیرین سے امام نسائی کے نزدیك یوں ہے کہ ہمیں خبردی سوید نے اس نے کہاہمیں خبردی عبداﷲ نے ہارون بن ابراہیم سے اور اس نے ابن سیرین سے انہوں نے کہا اس کو بیچ دوالخ یہ جیساکہ تودیکھتا ہے صحیح سندہے ہارون ثقہ ہے۔اورامیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے ان کی حدیث امام نسائی کے نزدیك یوں ہے کہ ہمیں
حوالہ / References تقریب التہذیب ترجمہ سعدبن اوس ∞۲۲۳۹€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۳۴۳€
تہذیب التہذیب ترجمہ سعدبن اوس ∞۸۷۱€ دائرۃالمعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۳ /۴۶€۷
سنن النسائی کتاب الاشربۃ الکراھۃ فی بیع العصیر ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ ھارون بن ابراہیم ∞۷۲۴۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۲۵۷€
#3243 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن جریر عن مغیرۃ عن الشعبی قال کان علی یرزق الخ رجالہ کلھم ثقات وکلھم ماخلا سویدا من رجال الستۃ جریرھو ابن عبدالحمید صاحب منصور و مغیرۃ ھو ابن مقسم کوفیان بنیانوشاھدہ ابن ابی شیبۃ بسند جید اما حدیث ضربہ الحد من سکر من اداوتہ فطریق الدارقطنی فیہ حسنشریك من قدعلمت و فراس من رجال الستۃ وثقہ احمد ویحیی والنسائی قال القطان ما انکرت من حدیثہ الاحدیث الاستبراء وبہ یعتضد طریق ابی بکرفیہ مجالد تکلم فیہ الناس وقال الحافظ لیس بالقوی وقد خرج لہ مسلم والاربعۃ۔وعن ابی الدرداء وعن امہ حدیثہ عندالنسائی اخبرنا زکریا بن یحیی خبردی سوید نے اس نے کہاہمیں خبردی عبداﷲ نے جلیل سے اس نے مغیرہ سے اس نے شعبی سے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ لوگوں کوشراب دیتے تھے الخ۔اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔سویدکے سواتمام صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں جریر وہ ابن عبدالحمید ہے جوکہ منصورکاصاحب ہے۔مغیرہ وہ ابن مقسم ہیںجریرومغیرہ دونوں کوفی ہیںاوراس حدیث کے شاہد ابن ابی شیبہ نے جیدسندکے ساتھ ذکرکیالیکن وہ حدیث کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس شخص کو حد لگائی جس نے آپ کے مشکیزے سے نبیذ پی اوراس کونشہ ہو گیاوہ بطریق دارقطنی حسن ہےشریك جس کے بارے میں توجان چکا ہے اورفراس صحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ اس کوامام احمدیحیی اورنسائی نے ثقہ قراردیا۔قطان نے کہا میں نے اس کی حدیث کا انکارنہیں کیاسوائے حدیث استبراء کے۔اور طریق ابوبکر کواسی سے قوت ملی۔اس میں مجالد ہے جس میں لوگوں نے کلام کیا۔حافظ نے کہا وہ قوی نہیں ہے اس کے لئے امام مسلم نے اوراصحاب سنن اربعی نے تخریج کی۔ابوالدرداء اورام درداء سے اس کی حدیث مرو ی ہے امام نسائی کے نزدیك حدیث اس طرح ہے کہ ہمیں زکریا بن یحیی نے خبردی
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
میزان الاعتدال ترجمہ فراس بن یحیٰی ∞۶۶۹۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۴۳€
#3244 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ثنا عبدالاعلی ثنا حماد بن سلمۃ عن داؤد عن سعید بن المسیب ھذا سند صحیح نظیفزکریا ھو خیاط السنۃ سکن دمشق و عبدالاعلی ھو ابن مسھر ابومسھرالدمشقیوحماد من لایجھل و داؤد ھو ابن ابی ھند کلھم ثقات جلۃ مشاھیر و حدیثھما عندابی بکر والسند کما رأیت من اجل الاسانید میمون بن مھر ان ثقۃ فقیہ وعن ابی موسی الاشعری رواہ النسائی بطریق سوید عن عبداﷲ عن ھشیم اخبرنا اسمعیل بن ابی خالد عن قیس بن ابی حازم عن ابی موسی ھؤلاء کلھم من اکابرالائمۃ الثقات الاثبات کما لایخفی وعن سعید بن المسیب بالطریق عــــــہ عن سفین عن یعلی بن عطاء یعلی ثقۃ من رجال مسلم و اس نے کہاہمیں عبدالاعلی نے اس کو حماد بن سلمہ نے داؤد سے حدیث بیان کی اوراس نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔یہ سندصحیح اورستھری ہے زکریاوہ خیاط السنۃ ہے جودمشق میں سکونت پذیرہوا۔عبدالاعلی وہ ابن مسہر ابومسہر دمشقی ہے۔حماد یہ مجہول نہیں ہے۔داؤد وہ ابن ابی ہند ہے۔وہ تمام ثقہبرگزیدہ اورمشہورہیں۔ابوبکرکے نزدیك ان کی حدیث اورسندجیساکہ تونے دیکھا مضبوط ترین سند ہے۔میمون بن مہران ثقہ اورفقیہ ہے۔اورابوموسی اشعری سے مروی ہے اس کو نسائی نے بطریق سوید عبداﷲ سے اوراس نے ہشیم سے روایت کیا۔ہشیم نے کہاہمیں اسمعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے اور اس نے ابوموسی اشعری سے خبر دی۔یہ تمام اکابرائمہ میں سے ہیں ثقہ اورثبت ہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔سعید بن مسیب سے اسی طریق سے سفیان سے مروی ہے سفیان نے یعلی بن عطاء سے روایت کی۔یعلی ثقہ اورمسلم کے رجال میں سے ہے اس نے

عــــــہ: ای طریق سوید بن عبداﷲ ۱۲منہ
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ زکریا بن یحیٰی ∞۲۰۳۳€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۳۱۴€
تقریب التہذیب ترجمہ میمون بن مہران ∞۷۰۷۵€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۲۳۷€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ یعلٰی بن عطاء ∞۷۸۷۴ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۴۱€
#3245 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
قال اخبرنا احمدبن خالد عن معن ثنا معویۃ بن صالح عن یحیی بن سعید احمد بغدادی ثقۃ معن القزاز ویحیی المدنی کلاھما ثقۃ ثبت من رجال الستۃومعویۃ صدوق من رجال الخمسۃو عن الحسن البصری بالطریق عن بشیر بن المھاجر مختلف فیہ وثقہ ابن معین وغیرہ وقال النسائی لیس بہ بأس واخرج لہ مسلم والاربعۃ وقال ابو حاتم لایحتاج بہ قلت وقول احمد منکر الحدیث ربما لایکون للحرج کما بیناہ فی غیرھذا الکتاب فاذن حدیثہ فی عدادالحسنوعن عمر بن عبد العزیز بالطریق عن عبد الملك بن طفیل الجزری مقبول وعن ابی عبیدۃ وعن معاذ بن جبل وقد علق عنہما البخاری جازماوعن ابی طلحۃ اسند عن ثلثتھم رضی اﷲ تعالی عنھم ابوبکر وغیرہ والسند کلہ من جلۃ ثقات رجال الستۃ عن خالد بن الولید۔ کہاہمیں احمدبن خالد نے معن سے خبردی اس نے کہا ہمیں معاویہ بن صالح نے یحیی بن سعید سے حدیث بیان کیاحمد بغدادی ثقہ ہے۔معن القزاز اور یحیی مدنی دونوں ثقہثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔حسن بصری سے اسی طریق کے ساتھ بشیربن مہاجر سے مروی ہے جس میں اختلاف کیاگیا۔ابن معین وغیرہ نے اسے ثقہ قراردیا۔ نسائی نے کہااس میں کوئی خرابی نہیں۔مسلم اوراصحاب سنن اربعہ نے اس کے لئے تخریج کی۔اورابوحاتم نے کہاکہ وہ قابل استدلال نہیں۔قلت(میں کہتاہوں)امام احمد کاقول"منکر الحدیث"بسااوقات حرج کے لئے نہیں ہوتا جیساکہ ہم نے اس کتاب کے غیرمیں بیان کیاہےچنانچہ اس کی حدیث کا شمارحسن میں ہوگا۔اورعمربن عبدالعزیز سے اسی طریق کے ساتھ عبدالملك بن طفیل جزری سے روایت ہے جوکہ مقبول ہے۔ابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے امام بخاری نے بطورجزم تعلیق بیان کیاورابوطلحہ سے۔ابوبکر وغیرہ نے ان تینوں سے مسندا حدیث بیان کی۔تمام سند کے راوی برگزیدہثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں اورخالد بن ولید رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔(ت)
(رسالہ الفقہ التسجیلی ختم ہوا)
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
میزان الاعتدال ترجمہ بشیربن المہاجر ∞۱۲۴۳€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۳۰۔۳۲€۹
تقریب التہذیب ترجمہ عبدالملك بن الطفیل ∞۴۲۰۳€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۶۱۶€
#3246 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
مسئلہ ۲۶ تا ۲۸: ازمسجدجامع مسئولہ حامدحسین خاں بن الطاف علی ۶جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
جناب مولوی صاحب معظم ومکرم دام ظلکم! یہ چندامور حضورسے دریافت کئے جاتے ہیں:
(۱)اول یہ کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پیشتر اورجونبی گزرے ہیں ان کے وقت میں شراب حلال تھی یاحرام
(۲)دوسرے یہ کہ ایك شخص نے بیان کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہنے آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت میں شراب پی اورحالت نشہ میں نماز میں سورۃ غلط پڑھی
(۳)اورتیسرے یہ بیان کیاکہ حضرت امیرحمزہ صاحب نے حالت نشہ میں ایك اونٹنی بلاذبیحہ کا دل اورجگرکھایا۔
الجواب:
(۱)اگلی شریعتوں میں بلکہ خود شریعت اسلام کی ابتداء میں شراب کی تحریم نہ تھی ہاں نشہ ہمیشہ ہرشریعت میں حرام رہاہے۔
(۲و۳)امیرالمومنین سیدنا مولاناعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی نسبت امرمذکور کابیان کرنے والا اگر اس شان اقدس مرتضوی پرطعن چاہتاہے توخارجی ناصبی مردودجہنمی ہے ورنہ بلاضرورت شرعیہ عوام کوپریشان کرنے والا سفیہاحمقبد عقلبے ادب ہے۔یہی حال سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت کا ہے بلکہ اس میں قائل نے جھوٹ ملایاہے اسے توبہ لازم ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ :
کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اطاعت والدین وبرادران واجب ہے یا فرض اوردرصورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلا زناکرناچوری کرناڈاڑھی منڈانا یاکتروانا ترك اطاعت واجب ہے یا اب بھی اطاعت کرنا چاہئے اوراگربعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یاچھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ ڈاڑھی منڈانا یازناکرنا یاچوری کرنا چھوڑدواوراس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ توضرور کروں گا۔اس حالت میں اطاعت کرے یا نہیں اوراگروہ شخص توبہ سے انکارکرے توکافرہوا یا نہیں
الجواب:
اطاعت والدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ امور جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتاہاں اگروہ کسی ناجائز بات
#3247 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیںلاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ت) ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے اگرمان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرےاوران کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ توضرور کروں گا یا توبہ سے انکارکرنا دوسراسخت کبیرہ ہے مگرمطلقا کفرنہیں جب تك کہ حرام قطعی کوحلال جاننا یاحکم شرع کی توہین کے طور پرنہ ہواس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی ہاں اگر معاذاﷲ یہ انکاربروجہ کفر ہو تو وہ مرتد ہوجائیں گےاورمرتد کے لئے مسلمان پرکوئی حق نہیں۔رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کاہمسر نہیںہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے اوربلاوجہ شرعی ایذارسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۰:بیجاپور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ فقیرمحمدبن حافظ سلیمان میاں محلہ بھوڑواڑہ ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانے میں جوشراب مہوہ سے بناتے ہیں اور عرق کی طرح کھینچے جاتے ہیں اور اس کانام شراب ہے اور تمام ملك میں مستعمل ہے پس ایك حکیم صاحب فقہ اوراہل علم ہے ان کی رائے ہے کہ تیزاب کی طرح نکالاجاتاہے اگرچہ بسبب مسکر کے حرام تو ہے لیکن دوا میں استعمال کرنایادواکے واسطے پیناجائز ہے اورآٹھ قسم فقہ میں جوہے اس میں سے کسی قسم میں یہ شراب نہیں ہاں سکر کرے جب حرام ہے دوامیں پینا تھوڑاپیناکسی بیماری میں حرام نہیں اورحد اس پر نہیں۔یہ کہنا حکیم صاحب کاصحیح ہے یاغلط اور اس پر ایك درمختار کامسئلہ افیون بھی پیش کرتے ہیں۔
الافیون حرام الا لصاحب التداوی وغیرہ۔ افیون(افیم)حرام ہے سوائے اس شخص کے جو بطورعلاج استعمال کرے(ت)
کی طرح اس کوبھی سمجھنا یاخمر کے موافق یہ شراب کیسے ہے اورحکم اس کا کیاہے بینواتوجروا اجرکم اﷲ اجروافیا۔
الجواب:
صحیح یہ ہے کہ مائعات مسکرہ یعنی جتنی چیزیں رقیق وسیال ہوکرنشہ لاتی ہیں خواہ وہ مہوہ سے بنائی جائیں یاگڑیاناج یالکری یاکسی بلاسے وہ سب شراب ہیں ان کاہرقطرہ حرام بھی اورپیشاب کی طرح نجس وناپاك بھی اوران سے نشہ میں شراب کی طرح حد بھی ہے اورصحیح یہ ہے کہ دوا میں بھی ان کااستعمال حرام ہی ہے بخلاف ان چیزوں کے جوبغیرسیال ہونے کے نشہ رکھتی ہیں جیسے افیونمشك وزعفران وغیرہ
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل بقیہ حدیث حکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۶۶ و۶۷€
#3248 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
کہ یہ ناپاك نہیں اوربقدرسکر مطلقا حرام ہیں یونہی بقصد لہو وفساد بھی مطلقا حرام اگرچہ بقدرسکر نہ ہوورنہ مقدارقلیل بغرض صحیح مثل دواوغیرہ بے تشبہ فاسقین حلال ہےتودرمختارکی اس عبارت کومہوہ کی شراب سے کوئی تعلق نہیںدرمختارمیں ہے:
حرمھا محمد مطلقا قلیلھا وکثیرھا وبہ یفتی وھو نجس ایضا ولوسکرمنھاالمختار فی زماننا انہ یحدوبہ یفی اما عند قصد التلھی فحرام اجماعا اھ ملتقطا۔ امام محمد نے اس کو مطلقا حرام قراردیاہے چاہے قلیل ہو یا کثیراوراسی پرفتوی ہےاوروہ نجس بھی ہےاگراس سے نشہ آئے توہمارے زمانے میں مختار یہ ہے کہ اس پرحد جاری کی جائے گی اسی پرفتوی ہے اورلہوولعب کے ارادے سے پینا بالاجماع حرام ہے اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقا الا فی المعائعات لمعنی خاص بھا واما الجامدات فلا یحرم منھا الاالکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ الخ۔ خلاصہ یہ ہے کہ کثیر نشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست لازم نہیں آتی سوائے مائعات کے اس معنی کی وجہ سے جو ان کے ساتھ خاص ہے۔لیکن جامد اشیاء میں سے صرف زیادہ مقدار جوکہ نشہ آور ہے وہی حرام ہے۔اور اس کے حرام ہونے سے اس کانجس ہونالازم نہیں آتا الخ(ت)
درمختارمیں ہے:
المحرم شرعا لایجوز الاتنفاع بہ للتداوی ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جوچیزشرعا حرام ہے اس سے علاج معالجہ کے لئے نفع حاصل کرنا جائزنہیں۔(ت)واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: ۴/صفرمظفر۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںحرمت بنگ مثل حرمت شراب کے ہے
حوالہ / References درمختار کتاب الاشربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۰€
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۳€
درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۰€
#3249 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
یا اس سے کم ہے اورپینے والا بنگ کامرتکب کبیرہ ہے یاصغیرہ اورمستحل اس کاکافرہے یامبتدع یا زندیق اگرکوئی طبیب کسی شارب خمرکوبجائے شراب کے استعمال بنگ تجویزکرے اوراس طبیب کا منشایہ ہوکہ استعمال بنگ سے پینا شراب کاچھوٹ جائے گا تویہ حلال ہوگایاحرام اوراس کامجوز گنہگار ہوگایانہیں اورنشہ بنگ کا اس مضمون حدیث میں کہ کل مسکر حرام (ہرنشہ آور حرام ہے۔ت)وایضا مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام (جس کا کثیرنشہ آور ہو اس کاقلیل بھی حرام ہے۔ت)داخل ہے یانہیں اگرکوئی شخص اس کے رنگ سے کپڑا رنگے اوراس کپڑے سے نمازپڑھے توجائزہوگایاناجائز عبارت فتاوی بزازیہ سے توصراحتا اس کی نجاست معلوم ہوتی ہے جیساکہ منقول ہے:
قال محمد رحمۃ اﷲ علیہ ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام وھو نجس ایضا قالوا وبقول محمدناخذ انتھی۔ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا جس کاکثیر نشہ دے اس کاقلیل بھی حرام ہے اور وہ نجس بھی ہے۔علماء کرام نے کہا کہ ہم امام محمد کے قول سے اخذ کرتے ہیں انتہی(ت)
الجواب:
خمر کی حرمت قطعیہ بلکہ ضروریات دین سے ہے اس کے ایك قطرہ کی حرمت کامنکر قطعا کافر ہے باقی مسکرات میں یہ حکم نہیں۔ ہاں بنگ وغیرہ کسی چیز سے نشہ کی حرمت کامنکرگمراہ ومخالف اجماع ہے شراب کی حرمت بعینہا ہے اوربنگ کی حرمت بعلت اسکار ہے نشہ بازی بنگ یاافیون کسی بلاد سے ہومطلقا کبیرہ ہےشراب کسی طرح کی ہو صرف حرام ہی نہیں بلکہ اس کی ایك ایك بوند نجس ناپاك ہے ھوالصحیح وعلیہ الفتوی(وہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ت)اوربنگ وافیون وغیرہما اشیاء جن کی خشکی میں بھی نشہ ہے ان کامسکرہونا ان کے بائع وسیال پانی کی مثل بہنے والی ہونے پر موقوف نہیں وہ نجس نہیں ان کا نشہ حرام ہے یہیں سے ظاہرہواکہ بنگ کے رنگ سے یابنگ کپڑے میں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاحکام باب امرالوالی اذاوجّہ امیرین الی موضع ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۶۳،€صحیح مسلم کتاب الاشربۃ باب النہی عن الانتاذ فی المذقت الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۶۷،€جامع الترمذی ابواب الاشربۃ باب ماجاء فی شارب الخمر ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۸€
جامع الترمذی ابواب الاشربۃ باب ماجاء مااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الاشربۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۷€
#3250 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بندھی ہو تونمازجائز ہے وہ کل مسکر حرام میں داخل ہے فانھا عرفیۃ عامۃ ای مادام مسکرا(اس لئے کہ یہ عرفیہ عامہ ہے یعنی جب تك وہ نشہ آورہے۔ت)مگر ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام میں صرف مسکرات مائعہ مرادہیں جن کانشہ لانا ان کے سیال کرنے سے ہوتاہے ورنہ مشك وعنبر وزعفران بھی مطلقا حرام ونجس ہوجائیں کہ حد سے زیادہ ان کاکھانا بھی نشہ لاتاہے یقینا نشہ جبکہ مطلقا اجماعا قطعی ہے شراب سے ہوخواہ بنگ وغیرہا کسی شیئ خراب سےتوشرابی کوبجائے شراب بنگ سے کمی تجویز محض جہالت ہے اورضرور معصیت ہےحرام کاکرنااور رائے دینادونوں حرام ہیںدوسرے کوایك حرام سے بچانے کے لئے خود بھی حرام کا ارتکاب اوراسے بھی دوسرے حرام میں ڈالنا کیامقتضائے عقل ودیانت ہے۔قال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکرکروجب تم ہدایت پرہوتو گوئی گمراہ تمہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقا الا فی المائعات لمعنی خاص بھا اما الجامدات فلا یحرم منھا الا الکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ خلاصہ یہ ہے کہ کثیرنشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست مطلقا لازم نہیں آتی سوائے مائعات یعنی بہنے والی اشیاء کےاس معنی کی وجہ سے جوان کے ساتھ خاص ہے رہیں جامدات یعنی ٹھوس اشیاء تو ان میں سے صرف کثیر نشہ آور مقدارہی حرام ہے اوراس کی حرمت سے اس کی نجاست لازم نہیں آتی۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲: المرسل عبدالحکیم ازملك بنگالہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارہ میں کہ بعض جاہل بلکہ عالم یہ کہتے ہیں کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۱۰۵€
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۵ /۲۹۳€
#3251 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
حقہ پینا مکروہ ہے اوراس کاپانی اگرکپڑے پرگرجائے توکپڑاناپاك ہوجائے گا۔
الجواب:
حقے کے پانی کو ناپاك بتانا محض جہالت اورشریعت مطہرہ پرافتراہےاورحقہ جس طرح بعض جاہل افطاررمضان کے وقت پیتے ہیں جس سے کہ حواس میں خلل آتاہے ضرورناجائزاورگناہ ہےاور تکیے وغیرہ کاحقہ جومدتوں تازہ نہ ہوتاہواور کریہہ بدبودے مکروہ ہےاورعام حقہ جیساکہ اہل تہذیب پیتے ہیں جس میں بدبو نہیں ہوتی وہ محض مباح ہےوقدفصلناہ فی فتاوانا(اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: ازمارہرہ بنام شیخ امیراحمد ۱۲جمادی الاولی ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادویہ انگریزی استعمال ہوں یانہ ہوں اوراگرہوں تووہ کون سی ہے جس کوبلاتکلف استعمال کرلیںاورعام فتوی ان کامطلوب ہے کل ادویات کی نسبت قابل استعمال اورناقابل استعمالآیا کل ادویہ ممنوع ہیں یاوہ صرف جن میں اثر شراب ہے خواہ پینے کی ہو خواہ مالش کی ہوجواب جلد آئے تاکہ استعمال اورعطریات کابھی معلوم ہوجائے کہ کل عطرمنع ہیں جس میں آمیزش شراب کی ہوبظاہر آمیزش شراب معلوم ہوتی ہومگراس میں خلط ہو اورایسے عطریات کی مالش کیئے جائیں یاسونگھے جائیں اس کی تفصیل بھی ہوجائے۔
الجواب:
انگریزی رقیق دوائیں جوٹنچرکہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ ہوتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہےان کاکھانا حراملگانا حرامبدن یاکپڑے یادونوں کی مجموع پرملاکر اگرروپیہ بھرجگہ سے زیادہ میں ایسی شیئ لگی ہوئی نمازنہ ہوگی ہاں خشك دواجس میں کسی نجاست کی خلط کاحال معلوم نہ ہو لگاناجائزہے اوراگرکسی حرام شیئ کا اختلاط معلوم نہ ہو تو کھانے کی بھی اجازت ہےاورافضل احتیاط ہے۔انگریزی عطروں کاحال فقیر کومعلوم نہیں سوا اس کے کہ بہت بدبو کریہہ الرائحہ ہوتی ہیں رقیق اشیاء میں ان کی قوت رکھنے کے لئے ڈاکٹری نسخوں میں اسپرٹ ہی کامطلقا استعمال ہے لہذا ان سے احتراز ہی چاہئےاوراگرثابت ہوجائے کہ ان میں اسپرٹ ہے تو ان کانہ صرف لگانا بلکہ سونگھنا بھی ناجائزہے کہ شراب کے مول لینے والے اٹھانے والے پربھی لعنت فرماتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References مسئلہ ۳۴: بتاریخ ۲۸جمادی الاول ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروزقیامت حقہ پینے والے سے حضور سرورکائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام روئے مبارك پھیر لیں گے اوردرودشریف اس کاپڑھنا قبول نہ ہوگا،یہ بیان غلط ہے یاصحیح؟ €&بیّنواتوجروا€∞۔
الجواب:
یہ سب دروغ کاذب ہے اورشریعت مطہرہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراء،حقہ تومباح ہے،اگربفرض غلط حرام بھی ہوتا تواتنا گناہ نہ ہوتا جس قدررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کرنا کبیرہ شدیدہ ہے جس کے بعد بس کفرہی کادرجہ ہے €&ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،واﷲ تعالٰی اعلم۔€∞
مسئلہ ۳۵،۳۶: مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب ازبہرام پورضلع مرشدآباد بنگال ۲۱صفر۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتے ہیں کہ تاڑی کے خمیر سے ڈبل روٹی پکائی جاتی ہے مسلمانوں کے لئے کھاناکیساہے؟
(۲)اس ملك میں اکثر کھجوروں کارس نکالتے ہیں اس رس کاگڑ بناتے ہیں اکثرکھیربھی پکاتے ہیں اگرتازہ رس جوکہ شیریں ہوتاہے اورلوگ پیتے بھی ہیں دودھ یاکہ خمیرملاکرتاڑی بناتے ہیں تاڑی کے پینے سے نشہ ہوتاہے مسلمانوں کے لئے یہ کیساہے،ازروئے شرع جواب فرمائیے۔اﷲ تعالٰی اجرعطافرمائے گا۔
الجواب:
(۱)اگرثابت ہوتو اس سے احتراز چاہئے۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
(۲)جب تك اس میں نشہ نہیں حلال ہے اور اس کی کھیر اورگڑ بھی جائزہیں اورنشہ لانے کے بعد حرام بھی ہیں اورپیشاب کی طرح نجس بھی۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۳۷: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی وانمباڑ
اسپرٹ کااستعمال خوردنی اشیاء میں یارنگ وغیرہ میں جائزہے یانہیں؟ بہت سے لوگ اس کو شراب کہتے ہیں۔
الجواب:
اسپرٹ واقعی شراب بلکہ سب شرابوں سے تیزوتند ہے حتّٰی کہ اپنی تیزی کے سبب سم ہوگی
#3252 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
مذہب معتمد مفتی بہ یہ ہے کہ ہربائع مسکرکا ایك قطرہ بھی حرام اورنجس ہے لہذااشیائے خوردنی نیزادویہ میں اس کا استعمال مطلقا حرام ہے انگریزی ٹنچروں میں عموما اسپرٹ ہوتوکھانے پینے کے سوارنگنے وغیرہ میں جہاں خود اس کاچھونا لگانا پڑے وہ بھی ممنوع وناجائزہے صرف کپڑوں میں فقیرکے نزدیك عموم بلوی حکم طہارت ہے اخذا باصل المذھب والتفصیل فی فتاوینا (اصل مذہب کااعتبارکرتے ہوئےاورتفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)
مسئلہ ۳۸: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی دانمباڑ
پاؤروٹی جوہندوستان میں اکثر جگہ تاڑی کے لگاؤ سے پکاتے ہیں اس کااستعمال جائزہے یانہیں اورجونہ معلمو ہوکہ یہ روٹی تاڑی سے بنی ہے اس کاکھاناکیساہے اورجوتاڑی شامل ہواس کوجان کرجوکھائے اس پرتوبہ لازم ہے یانہیں اور وہ شخص حرام شیئ کاحلال سمجھنے والا ہوایانہیں
الجواب:
مسئلہ تحریم حلال کوتویہاں کوئی تعلق نہیں جب تك نشہ کوحلال نہ جانے
لانھا فی الحرمۃ القطعیۃ ولیست فی تلك المشروبات الا فی الخمر المسکر حرام قطعا اجماعا۔ اس لئے کہ یہ حرمت قطعیہ میں ہے حالانکہ ان مشروبات میں حرمت قطعیہ نہیں سوائے نشہ آورخمر کے کہ وہ بالاجماع حرام قطعی ہے(ت)
اورجب یہ معلوم نہ ہوکہ یہاں روٹی میں تاڑی پڑتی ہے یانہیں تو اس کاکھانا بھی حرام نہیں لان الاصل الاباحۃ ولایثبت حکم بالشک(کیونکہ اصل اباحت ہے اورشك کے ساتھ کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ت)ہاں اہل تقوی کوبچنابہتر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فمن اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ۔ جوشبہات سے بچا اس نے اپنے دین اورعزت کوبچالیا۔(ت)
اورنہ بچیں تومواخذہ نہیں۔اشباہ ودرمختارمیں ہے:
لیس زماننا زمان اتقاء الشبھات ۔ ہمارازمانہ شبہات سے بچنے کازمانہ نہیں(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرألدینہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳€
الاشباہ واالنظائر الفن الثانی کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۰€۸
#3253 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
اور جہاں تاڑی پڑنا معلوم ہو تو اس سے احتراز لازم ہے لان کل مائع مسکر نجس وحرام(کیونکہ ہربہنے والی نشہ آور شیئ حرام اورنجس ہے۔ت)مگر جب ثابت ہواکہ اس میں وہ تاڑی ملائی جایت ہے جونشہ کی حالت تك نہ پہنچی یا اس طرح ملائی جاتی ہے کہ نمك وغیرہ کی وجہ سے اس کانشہ قطعا زائل ہوجاتاہے اس وقت جوازہوگا اورنرااحتمال کہ شاید نشہ نہ رہاہو کافی نہ ہوگا لان الیقین لایزول بالشک(کیونکہ یقین شك سے زائل ہوتاہے۔ت)اس صورت میں جو اسے کھائے اس پرتوبہ لازم ہے اور ہاتھ اورمنہ اوربرتن پاك کرنابھی جبکہ شیریاشوربا میں کھائی گئی ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹: ازڈاك خانہ مہرگنج محلہ چرلکھی ضلع ہریسال ملك بنگالہ مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یك جماعت ظاہرشدہ اندتمباکو راحرام گویند وحقہ نوشید راحرام زادہ گویندقول امام وصاحبان را اتباع نکنند۔ ایك جماعت ظاہرہوئی جس کے لوگ تمباکوکو حرام اورحقہ پینے والے کو حرامزادہ کہتے ہیں۔وہ لوگ امام صاحب اور صاحبین کی اتباع نہیں کرتے(ت)
الجواب:
تمباکو خوردن وکشیدنوشمیدن ہمہ رواست کما حققنا ہ فی حقۃ المرجانوقد قال فی غمز العیون منہ یعلم حل شرب الدخان وآنکہ حرام زادہ گفت تعدی برشرع کردو ظلم برمسلمانان عجب ست کہ بمقتضائے حدیث حرامزادہ نباشد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایبغی علی الناس الا ولد بغی اومن فیہ عرق منہ وہرکہ اتباع ائمہ نکندبری ازاتباع نتواں بود متبع شیطان ست تمباکو کھاناپینااور سونگھنا سب جائزہے جیساکہ ہم نے رسالہ "حقۃ المرجان"میں اس کی تحقیق کی ہے۔غمزالعیون میں فرمایا کہ اس سے تمباکونوشی کاحلال ہونامعلوم ہوا۔اور جس نے حرامزادہ کہا اس نے شریعت پرزیادتی اورمسلمانوں پر ظلم کیا۔عجب نہیں کہ وہ خود حدیث کے تقاضے کے مطابق حرامزادہ ہو۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو زناکاروہی قراردیتاہے جو ولدزناہویااس میں زنا کی کوئی راگ ہو اور جوائمہ کرام
حوالہ / References غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸€
شعب الایمان ∞حدیث ۶۶۷۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵ /۲۸۶،€کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی ∞حدیث ۳۰۴۵۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۱۹€
#3254 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
گومتبع ائمہ مباش۔واﷲ تعالی اعلم کی اتباع نہیں کرتا وہ اتباع سے بری نہیں ہوتاوہ شیطان کی اتباع کرنے والا ہوتاہے اگرچہ ائمہ اتباع کرنے والانہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۰ تا ۴۲: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپورنعمت بوڑھا ۹محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کھجورکارس جو اس کے درخت کو چھیل کر ہنٹنی کے پاس سے نکالتے ہیں اس کاپینا کیساہے
(۲)تاڑکاپھل جس میں رس ہوتاہے اس رس کونکال کرتاڑی پیتے ہیں اورنشہ کی وجہ سے بدمست ہوجاتے ہیں لیکن پھل کھانے سے نہیں۔بدمست ہوجانا پھل کھانا کیساہے
(۳)تاڑی جونشہ کی چیزہے اس کاسرکہ بناکرکھانا کیساہے
الجواب:
(۱)جب تك نشہ نہ لائے جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)پھل کھاناجائزہے اورتاڑی پیناحرام۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)جب حقیقۃ سرکہ ہوجائے جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۳: اخترحسین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۳صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ سوائے شراب کے بھنگافیونتاڑیچرس کوئی شخص اتنی مقدار میں پیئے کہ اس سے نشہ نہ آئے وہ شخص حرام کامرتکب ہوا یا نہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
نشہ بذاتہ حرام ہےنشہ کی چیزیں پیناجس سے نشہ بازوں کی مشابہت ہو اگرچہ نشہ تك نہ پہنچے یہ بھی گناہ ہے یہاں تك کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ خالص پانی دورشراب کی طرح پینا بھی حرام ہے ہاں اگردواکے لئے کسی مرکب میں افیون یابھنگ یا چرس کا اتنا جزڈالاجائے جس کا عقل پراصلا اثرنہ ہوحرج نہیں بلکہ افیون میں اس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ معدے میں سوراخ کردیتی ہے جوافیون کے سواکسی بلاسے نہیں بھرتے توخواہی نخواہی بڑھانی پڑتی ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۴: شہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ عبدالرحیم تاریخ ۲۱ ماہ شعبان ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك سائل کوچہ وبازار میں
#3255 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
پھرتاہے اورہرایك سے سوال کرتاہے کہ مجھے اﷲ کے واسطے روٹی یاکپڑا یاپیسہ دو۔بعض دیتے ہیں اوراکثرنہیں دیتے۔اول اکثروں کے واسطے جونہیں دیتے ہیں کیاحکم ہے ونیز ایك شخص کسی دوسرے شخص سے کہتاہے کہ تواپنی بیٹی کا اﷲ کے واسطے میرے ساتھ نکاح کردےلیکن وہ نہیں کرتااس کے واسطے کیاحکم ہے ونیز ایك شخص کسی صاحب ریاست وامارت سے کہتاہے کہ ایك ہزارروپیہ مجھے اﷲ کے واسطے دے دے مگروہ نہیں دیتا اس کے واسطے کیاحکم ہے بعض سائل ان الفاظ میں سوال کرتے ہیں کہ خداو رسول کے واسطے مجھے کچھ دویاکوئی شخص کسی سے کہہ بیٹھے کہ خداورسول کے واسطے مجھے معاف کرو ان پرہرشخص کے واسطے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے بالتفصیل جواب عنایت ہو۔یہ سوالات خالصا لوجہ اﷲ ہیں اس رو رعایت کسی کی نہ پائی جائےجو شرع شریف کا حکم ہو وہ بیان فرمائیے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ملعون من سأل بوجہ اﷲ وملعون من سئل بوجہ اﷲ ثم منع سائلہ مالم یسأل ھجرارواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ ملعون ہے جواﷲ کاواسطہ دے کرکچھ مانگے اورملعون ہے جس سے خداکاواسطہ دے کرمانگاجائے اس سائل کو نہ دے جبکہ اس نے کوئی بیجاسوال نہ کیاہو(اس کوطبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سأل باﷲ فاعطی کتب لہ سبعون حسنۃرواہ البیھقی فی شعب الایمان عن جس سے خداکاواسطہ دے کرکچھ مانگاجائے اور وہ دے دے تو اس کے لئے سترنیکیاں لکھی جائیں(اس کوبیہقی نے شعب الایمان
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادعیۃ باب السؤال بوجہ اﷲ الکریم دارالکتاب بیروت ∞۱۰ /۱۵۳،€الترغیب والترھیب السائل ان یسأل بوجہ اﷲ ∞حدیث ۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۰۱،€کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی ∞حدیث ۱۶۷۲۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۵۰۲€
کنزالعمال بحوالہ ھب عن ابن عمر ∞حدیث ۱۶۰۷۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۳۶۳€
#3256 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما بسندصحیح۔ میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اورمروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سألکم باﷲ فاعطوہ وان شئتم فدعوہ۔رواہ الامام الحکیم الترمذی فی النوادر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جو تم سے خدا کاواسطہ دے کرمانگے اسے دو اور اگرنہ دینا چاہو تواس کابھی اختیار ہے(اس کو امام حکیم ترمذی نے نوادر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لایسأل بوجہ اﷲ الا الجنۃ۔رواہ ابوداؤد والضیاء عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ اﷲ کے واسطے سے سوائے جنت کے کچھ نہ مانگاجائے(اس کو امام ابوداؤد اورضیاء نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
علمائے کرام نے بعد توفیق وتطبیق احادیث یہ حکم منقح فرمایاکہ اﷲ عزوجل کاواسطہ دے کرسوا اخروی دینی شیئ کے کچھ نہ مانگا جائے اور مانگنے والااگرخدا کاواسطہ دے کرمانگے اوردینے والے کا اس شیئ کے دینے میں کوئی حرج دینی یادنیوی نہ ہوتو مستحب وموکد دیناہے ورنہ نہ دے بلکہ امام عبداﷲ بن مبارك رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جوخدا کاواسطہ دے کرمانگے مجھے یہ خوش آتاہے کہ اسے کچھ نہ دیاجائے یعنی تاکہ یہ عادت چھوڑدےاس تفصیل سے سب سوالات کاجواب واضح ہوگیا۔جوخداکا واسطہ دے کربیٹی مانگے اور اس سے مناکحت کسی دینی یادنیوی مصلحت کے خلاف ہے یا دوسرا اس سے بہترہے توہرگزنہ مانا جائے کہ دخترکے لئے صلاح واصلح کالحاظ اس بیباك سے اہم واعظم ہے اور روپیہ پیسہ دینے میں اپنی وسعت وحالت اور سائل کی کیفیت وحاجت پرنظردرکار ہے اگریہ سائل قوی تندرست گدائی کاپیشہ ورجوگیوں کی طرح ہے توہرگز ایك پیسہ نہ دے کہ اسے سوال حرام اوراسے دیناحرام پراعانت کرناہے دینے والا گناہگارہوگااوراگرصاحب حاجت ہے اور
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحکیم عن معاذ ∞حدیث ۱۶۲۹۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۴۰۷€
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب کراھیۃ المسألۃ بوجہ اﷲ تعالٰی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۵€
#3257 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
جس سے مانگا اس کاعزیزوقریب بھی حاجتمند ہے اوراس کے پاس اتنانہیں کہ دونوں کی مواسات کرے تواقربا کی تقدیم لازم ہے ورنہ بقدرطاقت ووسعت ضروردے اورروگردانی نہ کرے۔یہ سوالات کاجواب تھا اور اتنی بات اورگزارش ہے کہ بے ادب سائل ہونانہ چاہئےسوال کیاجائے علمائے کرام سے کہ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متیناورآخرمیں یہ ہدایت کی جائے کہ رورعایت کسی کی نہ پائی جائےیہ کھلی دریدہ دہنی ہےعلمائے دین ومفتیان شرع متین کو کسی کی رو رواعایت سے کیاتعلقجواحکام الہیہ ہیں بتاتے ہیں جو کسی کی رورعایت سے معاذاﷲ قصدا حکم غلط بتائیں وہ علمائے دین کب ہوئے نائبان شیطان ہوئےعوام پر علمائے دین کاادب باپ سے زیادہ فرض ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الاالمنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ رواہ ابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ تین شخص ہیں جن کے حق کوہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلا منافق ازانجملہ ایك بوڑھا مسلماندوسرا عالم کہ مسلمان کو نیك بتائےتیسرا بادشاہ مسلمان عادل۔(اس کوابوالشیخ نے توبیخ میں حضرت جابر سے اورطبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
پہلے بھی ایك سوال میں یہ تنبیہ وتوبیخ کے کلمات اس سائل نے لکھے تھے اس پرچشم پوشی کی گئی اب یہ دوسری بار ہے لہذا اطلاع دی گئی سائل کواگران الفاظ کے لکھنے کی ضرورت ہے ہی توشروع سوال میں کیافرماتے ہیں علمائے دینمطلق نہ لکھاکرے جس سے توہین علماء پیداہو بلکہ خاص اس فقیرکانام لکھ کر اخیرمیں جیسے الفاظ چاہے لکھے واﷲ الھادی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۸۱۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸ /۲۳۸،€کنزالعمال بحولہ ابی الشیخ والتوبیخ ∞حدیث ۴۳۸۱۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۳۲€
#3258 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کتاب الرھن
(رہن کابیان)

مسئلہ ۴۵: ۲۲صفر ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیئ مرہونہ کو اپنے استعمال میں لانا یا اس میں سکونت کرنا کسی طور سے جائز ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
کسی طرح جائزنہیںحدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔اخرجہ الحارث عن سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجھہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ یعنی قرض کے ذریعہ سے جومنفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔(اس کی تخریج حارث نے سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے کی اور حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے اس کونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی خود شرح درمختارمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی الباب الثانی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3259 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو ممایعین المنع انتھی اقول:ولاشك ان ھذا بعینہ حال اھل الزمان یعرفہ منھم کل من اختبر ومعلوم ان احکام الفقہ انما تبنی علی الکثیر الشائع ولاتذکر حال شذت و ندرت فیہ الجواز کما نص علیہ المحقق حیث اطلق فی فتح القدیر وغیرہ من العلماء الکرام فالحکم فی زماننا ھو اطلاق المنع لایرتاب فیہ من لہ المام بالعلموالکلام ھھنا وان کان طویلا فجملۃ القول ماذکرنا واﷲ تعالی اعلم۔ اوراگریہ نفع اٹھانا مطلوب نہ ہوتو وہ قرض کے لئے درہم ہی نہ دیں گےاوریہ بمنزلہ شرط کے ہوگیا اس لئے کہ جوچیز معروف ہو وہ مشروط کی طرح ہوتی ہے اوریہ بات ممانعت کو معین کرتی ہے انتہیمیں کہتاہوں کہ بیشك بعینہ یہی حال ہمارے زمانہ والوں کا ہے جس کو ہرباخبرشخص جانتا ہےاور یہ بات معلوم ہے کہ فقہی احکام کی بنیاد کثرت سے واقع ہونے والے مروج حال پرہوتی ہے اوراس حال کاتذکرہ نہیں کیاجاتا جس میں جواز شاذونادرہو۔جیساکہ اس پرمحقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اوردیگر علماء کرام نے نص فرمائی ہے۔چنانچہ ہمارے زمانہ میں مرہون سے نفع حاصل کرنے کی مطلقا ممانعت کاحکم ہےاوراس میں علم سے کچھ بھی تعلق رکھنے والے شخص کو شك نہیں ہوگا۔یہاں گفتگو اگرچہ طویل ہے مگراجمالی بات وہی ہے جوہم نے ذکرکردی۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۶: ۲۲/صفر۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان مثلا سوروپیہ کو زیدنے عمرو کے پاس رہن رکھاعمرو نے اس خیال سے کہ مجھ کومکان مرہونہ میں سکونت ناجائزہے بکرہندو کے ہاتھ بعوض اسی قدر پرزررہن کے رہن کردیا اوراپنااتناہی روپیہ بلا کسی نفع کے بکر سے لے لیااب اس مکان میں عمرو کوبکر سے کرایہ پر لے کرسکونت اختیارکرنا جائزہے یانہیں اورمعاملہ مذکورہ شرعا درست ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
#3260 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الجواب:
شرع مطہر نے عقدرہن صرف اس لئے مشروع فرمایاہے کہ قرض دہندہ کواپنے روپیہ کا اطمینان ہوجائے اوروصول نہ ہونے کا اندیشہ جاتارہے اس کی مالیت سے ایك حق مرتہن کا متعلق ہوجاتاہے اورعین شیئ میں سواحفظ وحبس کے کوئی استحقاق نہیں ہوتا مرہون کے رہن یا اجارہ کااسے اختیارنہیں کہ وہ شے اس کی مملوك نہیں صرف اس کے پاس محبوس ہے۔
فی الدرالمختار لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا لاباستخدامہ ولاسکنی ولالبس ولااجارۃ ولااعارۃ الخ وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن شرح الطحاوی لیس للمرتھن ان یرھن الرھن۔ درمختارمیں ہے مرتہن کومرہون کے روك رکھنے کااختیارہے اس سے کسی قسم کانفع اٹھانے کی اجازت نہیںنہ اس سے خدمت لینے کینہ سکونت کینہ پہننے کینہ اجرت پردینے کی اورنہ عاریت پردینے کی الخردالمحتارمیں ہے تاتارخانیہ سے بحوالہ شرح الطحاوی منقول ہے کہ مرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون کورہن پردے دے۔(ت)
یہاں تك کہ اگربے اذن راہن ان تصرفات کاارتکاب کرے گا گنہگارہوگا اورغاصب ٹھہرے گا۔
کما نص علیہ فی غایتہ ولذالوھلك ھلك بالقیمۃ بالغۃ مابلغت لابالدینفی الدرالمختار ضمن بایداعہ واعارتہ واجارتہ واستخدامہ وتعدیہ کل قیمتہ اھ وفی الھندیۃ عین الرھن امانۃ فی ید جیساکہ غایۃ البیان میں اس پرنص کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ اگرمرہون ہلاك ہوجائے تو وہ قیمت کے بدلے میں ہلاك ہو جائے گا چاہے جتنی بھی قیمت ہوجائے نہ کہ قرض کے بدلے میں درمختارمیں ہے کہ مرتہن مرہون کی کل قیمت کا ضامن ہوگا جبکہ وہ مرہون کو ودیعت رکھےعاریت پردے اجارہ پردےاس سے خدمت لے یاتعدی کرے الخ ہندیہ میں ہے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۶€
ردالمحتار کتاب الرھن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۹€
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
#3261 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
المرتھن بمنزلۃ الودیعۃ ففی کل موضع لوفعل المودع بالودیعۃ لایغرم فکذلك اذا فعل المرتھن ذلك بالرھن اھ ملتقطا کہ مرہون شیئ بعینہ مرتہن کے ہاتھ میں امانت ہے جیسا کہ ودیعت۔چنانچہ جس جگہ ودیعت میں کچھ تصرف کرنے سے اس شخص پرتاوان لازم نہیں آتا جس کے پاس ودیعت رکھی گئی اسی طرح وہاں رہن میں جب مرتہن کوئی تصرف کرے تو اس پربھی تاوان لازم نہیں آئے گااھ(التقاط)(ت)
اوراگرباذن راہن واقع ہوں تو یہ تصرفات اگرچہ جائزونافذہوں گے مگروہ رہن زائل ہوجائے گا اورمرتہن مذکورمرتہن نہ رہے گا
فی الدرالمختار الاجارۃ والرھن من اجنبی اذا باشرھا احدھما باذن الاخر یخرج عن الرھن ثم لایعود الابعقد مبتدأ لانھا عقود لازمۃ بخلاف العاریۃ اھ ملخصا۔ درمختارمیں ہے اجنبی شخص سے مرہون کااجارہ یاعقدرہن جبکہ راہن اورمرہون میں سے کوئی ایك دوسری کی اجازت سے اس کامباشر ہوتو وہ رہن سے خارج ہوجاتاہے پھرسوائے نئے عقد کے رہن کی طرف عود نہیں کرتا اس لئے کہ مذکورہ بالاعقود لازم ہیں بخلاف عاریت کے الخ ملخصا(ت)
بہرحال یہ حیلہ عمرو کوکچھ مفیدنہیں کہ اگرزید کااذن نہ تھا تویہ عقود مال غیر میں تصرف بےجا وگناہ ہے نہ اس مکان میں رہنا جائزاوراگرباذن زیدواقع ہوئے یابعد وقوع اس نے جائز کردئیے تواجارہ صحیح اورمکان میں سکونت حلال بعداجازت اورجو کرایہ ہو اس کامالك زیدمگرمکان رہن سے نکل گیا۔
فی شرح الطحاوی ثم التتارخانیۃ ثم الشامیۃ ان رھن باذن الراھن صح الثانی وبطل الاول اھوفی الھندیۃ ان آجر المرتھن شرح طحاوی پھرتاتارخانیہ پھرشامیہ میں ہے اگرمرتہن نے راہن کی اجازت سے مرہون شیئ کو کسی کے پاس رہن رکھا تودوسرا رہن صحیح اورپہلا باطل ہوگیا الخ ہندیہ میں ہے کہ
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الرہن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶€۵
الدرالمختار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴€
ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیۃ عن شرح الطحاوی کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۹€
#3262 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
من اجنبی بامرالراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھن الخ۔ اگرمرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی کو اجارہ داری پر دی تو وہ رہن سے نکل جائے گی اوراجرت راہن کے لئے ہوگی الخ(ت)
شقوق اس مسئلہ میں بکثرت ہیں
لان رھن المرتھن اما ان یکون باذن الراھن اولا و علی الثانی اما ان یجیز اویرد اولا ولافھذہ اربعۃ وعلی کل منھا مثلہا فی الاجارۃ فتکون ستۃ عشر و ان جعل الاولان من التشقیقین واحدا لاتحاد الحکم فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ کما فی الخیریۃ فتبقی تسعۃ۔ کیونکہ مرتہن کامرہون کو رہن رکھنا یاتوراہن کی اجازت سے ہوگا یاایسانہیں ہوگابصورت ثانی راہن اجازت دے دے گا یارد کردے گا یانہ اجازت دے گا اور نہ ہی رد کرے گا تو اس طرح چارصورتیں ہوجائیں گی پھر ان میں سے ہرایك میں یوں ہی چار صورتیں اجارہ کی بنیں گیچنانچہ مجموعی احتمالات سولہ ہوجائیں گے اوراگردونوں تشقیقوں کی پہلی صورت کو اتحاد حکم کی وجہ سے ایك بنادیاجائے کیونکہ اجازت لاحقہ وکالت سابقہ کی طرح ہوتی ہے جیساکہ خیریہ میں ہےتوباقی نوصورتیں بچیں گی(ت)
لیکن حاصل حکم اسی قدرہے کہ یاتو رہن معدوم یایہ اجارہ بےجا اورسکونت ناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۷: ۲۲/صفر۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرتہن سے مکان مرہون کرایہ پرلینا مالك مرہون یاغیرمالك کومباح ہے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
مرتہن سے راہن کاشیئ مرہون کوکرایہ پرلینااصلا وجہ صحت نہیں رکھتاکہ مالك کااپنی ملك کو
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶€۴
الفتاوی الخیریۃ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۶€
#3263 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
دوسرے سے کرایہ پرلینامحض بے معنی ہے۔
فی الہندیۃ آجرھا من الراھن لاتصح الاجارۃ۔ ہندیہ میں ہے مرتہن نے مرہون شیئ راہن کو اجرت پردی تواجارہ صحیح نہیں ہوگا۔(ت)
اوراجنبی کوبھی مرتہن سے اجارہ پرلینامباح نہیں کہ وہ غیرمالك ہے اورکرایہ پردینے کااصلا اختیارنہیں رکھتاتو جس طرح مرتہن اس فعل سے گناہ گارہوگا کہ اس نے ملك غیر میں تصرف بیجا کیااس لئے کرایہ اسے حلال نہ ہوگابلکہ شرع حکم دے گی کہ خیرات کردے یاراہن کودے دے اوریہ اولی ہے کما حققناہ فی تحریر مستقل(جیساکہ ہم نے مستقل تحریرمیں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)اسی طرح یہ مستاجر بھی جبکہ جانتاہوکہ مکان اس کی ملك نہیں بلکہ اس کے پاس بطوررہن ہے اس سے کرایہ پرلے کرمبتلائے گناہ ہوگا کہ یہ غیر کے مکان میں بے اس کے اجازت کے رہا اورمرتہن کوگناہ پرمعاون ہوا
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ومن القواعد المقررۃ ان ماحرم اخذہ حرم اعطائہ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:"اورگناہ اورزیادتی پرباہم مددنہ کرو" اورمسلمہ قواعدمیں سے ہے کہ جس چیزکالیناحرام اس کادینا بھی حرام ہوتاہے۔(ت)
ہاں اگریہ اجار ہ باذن راہن واقع ہویاراہن بعد وقوعاجازت دے دے توبیشك عقد جائزونافذ اوررہنا حلال ومباح ہوجائے گا مگر اس تقدیرپر درحقیقت راہن سے اجارہ لیناہوانہ مرتہن سے ولہذا بعد اجازت جوکرایہ آئے گا اس کامالك راہن ہوگا اوراس صورت میں مکان مرہون رہن سے نکل جائے گا کما فی الھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۸: ازجالندھر محلہ راستہ بھگواڑہ دروازہ مرسلہ میاں شمس الدین شعبان ۱۳۱۰ھ
گروی زمین ومکانات سے نفع اٹھانا جائزہے یانہیں
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۴€
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۸۹€
#3264 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الجواب:اس قسم کے قول منقح ومحرر واصل محقق ومقرریہ ہے کہ بربنائے قرض کسی قسم کانفع لینا مطلقا سودوحرام ہے
حدیث میں ہے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۔رواہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمومنین المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوقرض کوئی نفع کھینچ کرلائے وہ سود ہے۔اس کوحارث نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
اوراگراس بنا سے جدا ویسی ہی باہمی سلوك کے طورپر کوئی نفع وانتفاع ہوتووہ مدیون کی مرضی پرہے اس کے خالص رضاواذن سے ہوتو روا ورنہ حراماب یہ بات کہ یہ انتفاع بربنائے قرض ہے یابطورسلوك اس کے لئے معیار شرط وقراردادہے یعنی اگر قرض اس شرط پردیاکہ نفع لیں گے تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوااوراگرقرض میں اس کاکچھ لحاظ نہ تھا پھر آپس کی رضا مندی سے کوئی منفعت بطوراحسان ومروت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوك ہے نہ بربنائے قرض تومدار کارشرط پر ٹھہرا یعنی نفع مشروط سود اورنفع غیرمشروط سودنہیں بلکہ باذن مالك مباحپھرشرط کی دوصورتیں ہیں:نصا یعنی بالتصریح قرارداد انتفاع ہوجائےاورعرفا کہ زبان سے کچھ نہ کہیں مگربحکم رسم ورواج قرارداد معلوم اوردادوستد خودہی ماخوذومفہوم ہو ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام وسودہے
فان المعہود کالمشروط لفظا۔ اس لئے کہ بے شك جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ ایساہی ہوتاہے جیسے لفظوں میں مشروط ہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
قالوا اذا لم تکن المنفعۃ مشروطۃ ولامتعارفۃ مشائخ نے کہاجومنفعت مشروط نہ ہو اورنہ ہی متعارف ہوتو اس میں کوئی
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فیما یدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹€
#3265 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
فلاباس ۔ حرج نہیں۔(ت)
فتح القدیرمیں ہے:
فی الفتاوی الصغری وغیرھا ان کان النفع مشروطا فی القرض فھو حرام والقرض بھذا الشرط فاسد و الاجازالاتری انہ لو قضاہ احسن مما علیہ لایکرہ اذا لم یکن مشروطا وقالوا وانما یحل ذلك عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاھرفان کان یعرف ان ذلك یفعل لذلك فلا اھ ملخصا۔ فتاوی صغری وغیرہ میں ہے کہ اگرقرض میں نفع کی شرط لگائی گئی تونفع حراماورقرض اس شرط کے ساتھ فاسد ہوگا اور اگرشرط نہیں لگائی گئی توجائزہے۔کیاتونہیں دیکھتا کہ جس پر قرض ہے اگروہ قرض سے زیادہ بہترواپس کرے تو یہ مکروہ نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔مشائخ نے کہا عدم شرط کی صورت میں یہ حلال تب ہوگا جب زیادہ واپس کرنے کا عرف ظاہرنہ ہواوراگریہ معروف ہے توپھرایسا کرنا جائز نہیں اھ اختصار۔(ت)
منح الغفار میں جواہرالفتاوی سے ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھوربا والافلا باس بہ۔ جب شرط لگادی گئی تویہ ایساقرض ہوگیاجس میں نفع ہے لہذا وہ سودہوا اور اگرمشروط نہیں توکوئی حرج نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ما فی الجواھر یصلح للتوفیق وھو وجیہوذکر وا نظیرہ فیما لو اھدی المستقرض للمقرض جوکچھ جواہر میں ہے وہ موافقت کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ وجیہ ہے۔اس کی نظیرمشائخ نے ذکرکی کہ جب مقروض قرض دہندہ کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الحوالہ∞ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷€۰
فتح القدیر کتاب الحوالہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۵۶€
ردالمحتار بحوالہ جواھر الفتاوٰی کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
#3266 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
ان کانت بشرط کرہ والافلا۔ ہدیہ دے تواگر اس کی شرط لگائی گئی ہے تب تو مکروہ ہے ورنہ نہیں۔(ت)
جب یہ اصل کلی معلوم ہولی حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ اگرمکان وغیرہ شیئ مرہون سے مرتہن کابذریعہ سکونت وغیرہ نفع لینا مشروط ہوچکاہے جیساکہ دخلی رہن ناموں میں اس کی صاف تصریح ہوئی ہے جب تو اس کاصریح سودحرام ہوناظاہرورنہ غالب عرف وعادت رسم ورواج زمانہ صراحۃ حاکم ابنائے زمان اسی نفع کی غرض سے قرض دیتے ہیں اورلینے دینے والے سب بغیرذکر اسے قراریافتہ سمجھتے ہیںاگرمرتہن جانے کہ مجھے انتفاع نہ ملے گا ہرگز عقدنہ کرے اورراہن بوجہ قرض دبا ہوا نہ ہوتوکبھی مجبورا اجازت انتفاع نہ دے ولہذا مرتہن اس نفع وسود کواپناحق واجب جانتے ہیں اورراہن کواس پرمجبورکرتے ہیںتویہ انتفاع اگرچہ لفظا مشروط نہ ہو عرفا بیشك مشروط ومعہود ہے توحکم مطلق حرمت وممانعت ہے۔علامہ احمد طحطاوی پھر علامہ محمدشافعی قدس سرہما ایساہی حواشی درمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ رہن کے وقت وہ مرہون سے نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیںاگرنفع متوقع نہ ہوتو قرض پر درھم ہی نہ دیں گےاوروہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف کاحکم مشروط کے حکم کی مثل ہوتاہے اوریہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
ہاں اگرمرتہن بے لحاظ انتفاع قرض دے اورصرف بغرض وثوق وصول جوتشریع رہن سے مقصود شارع ہے رہن لے اور عاقدین وقت عقد صراحۃ شرط کرلیں مرتہن کسی طرح نفع اٹھانے کامجازنہ ہوگا
وذلك لان ماصار معروفا لایصیر مرفوعا بالسکوت یہ اس لئے ہے کہ جوچیز معروف ہوچکی ہو وہ چپ رہنے سے مرفوع نہیں ہوجاتی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
#3267 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
فلایکفی عدم الشرط بل شرط العدم کی یفوق الصریح الدلالۃ۔ لہذا شرط نہ لگانا کافی نہیں بلکہ عدم نفع کی شرط ضروری ہوگی تاکہ صریحدلالت پرفوقیت پاجائے۔(ت)
پھرراہن اپنی خوشی سے مرتہن کوانتفاع کی اجازت دے اور مرتہن صرف بربنائے اجازت نہ کہ اپنا استحقاق جان کر نفع اٹھائے اور حال یہ ہو کہ اگر راہن اس وقت روک دے تو فورا رك جائے یعنی بعد اس شرط عدم انتفاع کے مالك نے برضائے خودمکان رہن میں رہنے کااذن دیا یہ آکر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے منع کیا تومعا بازرہے اوراصلا چون وچرانہ کرے توایسا انتفاع جب تك رضائے راہن رہے حلال ہوگامگرحاشا ہندوستان میں اس صورت کی صورت کہاںاﷲ عزوجل مسلمانوں کی اصلاح فرمائےآمین! واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۹: ۴/رجب ۱۳۱۲ھ:
زیدنے عمرو سے مبلغ دوہزارروپے بلاسود قرض لئے ایك موضع اپنابطوررہن کے عمرو کے قبضہ میں دے دیاتو فیراس موضع کی تقریبا تین سوروپیہ ہے اس صورت میں بعوض حق المحنت تحصیل وصول زر وادائے سامان حاکم وقت ودیگرکاروبار متعلقہ موضع مذکورکے مبلغ دس روپیہ ماہوار کے حساب سے ایك سوبیس روپیہ سالانہ عمرو کو دیناچاہتاہےپس لینا اجرت مذکورکا عمروکوزید سے بحالت مسطورہ شرعا جائزہے یانہیں اورزید کے کاموں کاانجام دینااور توفیروصول کرکے پہنچانا باخذاجرت وحق المحنت درست ہے یانہیں
الجواب:
رہن واجارہ باہم دوعقد متنافی ہیں کہ شرعا جمع نہیں ہوسکتے جو ان میں بوصف نفاذ دوسرے پرواردہوگا اسے باطل کردے گا کما نص علیہ الکبار فی معتمدات الاسفار(جیساکہ اس پرمعتمد کتابوں میں علماء کبارنے نص فرمائی ہے۔ت) تو رہن دیہات کایہ طریقہ کہ زمین مزارعین پرکے اجارہ پررہے اورگاؤں مرتہن کے پاس رہن ہو محض باطل وبے معنی ہے بلکہ یہ رہن اجازت مستاجران زمین پرموقوف رہے گا اوراگروہ باطل کردیں گے رہن باطل ہوجائے گا اجازت دیں گے تو ان کااجارہ باطل ہوکر ان کی طرف سے استعفاء قرارپائے گا پھربعد استعفاءجب رہن صحیح ہواتو اب زمین زراعت پرنہیں اٹھ سکتی اگرراہن بے اجازت مرتہن زمین
#3268 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
اٹھائے گا اجازت مرتہن پرموقوف رہے گیاگرباطل کرد ے گا اجارہ زمین باطل ہوجائے گا رہن قائم رہے گااجازت دے گاتو رہن باطل اجارہ زمین صحیح ہوجائے گابہرحال رہن واجارہ دونوں جمع ہوں یہ ہرگزنہ ہوگا کل ذلك مصرح بہ فی الکتب الفقھیۃ(اس تمام کی تصریح فقہ کی کتابوں میں کردی گئی ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں کہ زید نے اپناگاؤں عمروکے پاس رہن رکھاظاہرہے کہ مزارعین دہ سے استعفاء نہ لیا ہوگا کما ھو المعروف والمعھود فی ھذا العھود(جیساکہ اس زمانے میں مشہور و معروف ہے۔ت)توشرعا وہ رہن صحیح ہی نہ ہوااوراگربالفرض استعفاء لے بھی تواب کہ مزارعوں کے پاس اجارہ پرہے ضرور ہے کہ یہ اجارہ بعد رہن یا راہن نے کیا اور مرتہن سے اسے جائز رکھا کہ تحصیل زر اجارہ پر نوکر رکھناچاہتاہے یامرتہن نے کیا اور راہن نے اسے جائز کردیاکہ تحصیل زراجارہ پراسے نوکر رکھناچاہتاہے بہرحال گاؤں رہن سے نکل گیا اب نہ زید راہن نہ عمرو مرتہننوکری کااختیارہے قرضہ عمروذمہ زیدجدارہا۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۵۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس بارے میں کہ ایك مکان پرپختہ زیدکا اوربعد فوت زیدکے وہ مکان بیچ قبض ودخل دونوں لڑکوں زیدکے رہاایك طفل کلاں کا نام عمرواورطفل خورد کانام بکر بباعث تنگدستی کے بکرحصہ اپنا غیر شخص کے ہاتھ مبلغ چہارصد روپیہ کو فروخت کرتاتھا عمرونے ظلم تعدی کرکے مبلغ تین سوروپیہ کوخریدلیا اس میں سے مبلغ ایك سوروپیہ نقدبکرکودئیے اوربالعوض مبلغ صدروپیہ کے مکان سکونت اپنے کا عمرونے پاس بکر کے رہن دخلی کردیا بعدہ وہ مکان بکرایہ سہ روپیہ ماہواری کرایہ پر بکرنے دے دیا وہ کرایہ لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صحت بیع اگربکرنے مکان مرہون باجازت عمروکرایہ پردیا تورہن باطل ہوگیا اورزرکرایہ عمروکو ملے گا بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اورجوعمرو کی اجازت نہ تھی توزرکرایہ بکرکا ہے مگراس کے لئے وہ مال طیب نہیں زرخبیث کو اپنے صرف میں نہ لائے مانع اجابت دعا ہوتاہے کما فی الحدیث(جیساکہ حدیث میں ہے۔ت)بلکہ تصدق کردے یا مالك کو دے دے کما فی غمزالعیون للحموی عن البزازیۃ ونحوہ فی الھندیۃ عن فتاوی قاضی خان(جیساکہ حموی کی غمز العیون میں بحوالہ بزازیہ منقول
#3269 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
ہے اور اسی کی مثل ہندیہ میں فتاوی قاضی خان سے منقول ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۱:ازریاست رام پور
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ ہندہ اززید نابالغ کہ دراں زمان ہشت سالہ بودقرضے گرفت ومکان خود بمیعاد دوماہ نزد اوگروداشت و ہندہ بدستور دراں مکان ساکن بود پس ازاں زید آں مکان رابذریعہ مرتہنی بعمر وپسر ہندہ بحساب یازدہ روپیہ چہار آنہ ماہوار بکرایہ داددرکرایہ گرفتن لفظ عمروہم چنیں بودہ کہ مکان فلانی اززید بچندیں اجرت ماہانہ بکرایہ گرفتم واقرار میکنم کہ تاانفکاك رہن اجرت ماہ بماہ دہم ویك اقرارنامہ نوشت کہ میان دوماہ میعاد مندرجہ رہن نامہ موضع مینی عوض مکان نزدمرتہن رہن خواہم کرد روپیہ کرایہ یکساں بمرتہن دہم لیکن عمرو دران مکان یکروزھم سکونت نور زیدبمکان مملوك خود کہ ہمدراں محلہ واقع است ساکن ماند نہ آں مکان فارغ بودکہ ہندہ خود دروسکونت میداشت کہ ازیں بیاز دہ ماہ فك رہن و تبدیلش بموضع مینی رونمود زیدتاچارونیم سال ازمطالبہ اجرت کیاارشاد ہے آپ کااے علماء کراماﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے آٹھ سالہ نابالغ زید سے قرض لیااوراپنا مکان دوماہ کی مدت کے لئے اس کے پاس رہن رکھ دیااس کے باوجود ہندہ حسب سابق اس مکان میں مقیم رہیپھرزید نے وہ مکان بحیثیت مرتہن لے کرہندہ کے بیٹے عمرو کو گیارہ روپے چارآنے کے ماہانہ کرائے پر دے دیا کرائے پر مکان لیتے ہوئے عمرو نے یہ الفاظ کہے کہ میں نے فلاں مکان زید سے اتنے ماہانہ کرائے پرلیااور میں اقرار کرتا ہوں کہ رہن کے چھڑانے تك ہرماہ کرایہ اداکرتارہوں گا اورایك اقرار نامہ لکھا کہ رہن نامہ میں مندرج دوماہ کی مدت میں موضع مینی مرتہن(زید)کے پاس مکان کے بدلے رہن رکھ دوں گااورکرائے کے روپے باقاعدگی سے ادا کرتا رہوں گالیکن عمرو نے ایك دن بھی اس مکان میں رہائش اختیارنہیں کی بلکہ اپنے مکان ہی میں رہا جواسی محلے میں ہے۔ وہ مکان فارغ نہیں تھا کیونکہ خود ہندہ اس مکان میں رہائش پذیرتھیگیارہ ماہ میں رہن کی واگزاری اور موضع مینی کے ساتھ اس کی تبدیلی رونماہوئی زید ساڑھے چار
#3270 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مہرسکوت برلب نہابعد ایں قدر مدت مدید برائے اجرت یافتن استغاثہ کردگواہانش بوقوع رہن واجارہ شہادت دادہ بیاں می کنند کہ مدعاعلیہ پس ازتصدیق اجارہ نامہ وسپردنش بمدعی قبضہ برمکان کردبہ متعلقان خویش دروسکونتورزید بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکارست حالاازعلمائے دین متین ایدھم اﷲ بتوفیقہ استفسار میرودکہ درصورت مذکورہ حکم شرعی چیست ورہن واجارہ مسطورہ صحیح است یانہ و زر کرایہ کل یابعض برذمہ عمروواجب الادا ست یاچہ وگواہی مذبور صالح استناد وشایان اعتماد است یاخیر۔بینواتوجروا۔ سال تك کرائے کے مطالبے سے خاموش رہااس طویل مدت کے بعد اس نے کرایہ وصول کرنے کے لئے دعوی کر دیااس کے گواہوں نے گواہی دی کہ عقدرہن بھی پایاگیا اور عقد اجارہ بھی پایاگیاگواہوں نے یہ بھی بیان کیاکہ مدعاعلیہ نے کرایہ نامہ کی تصدیق اوراسے مدعی کے سپرد کرنے کے بعد مکان پرقبضہ کیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیار کرلیبلکہ اب بھی مدعاعلیہ کاقبضہ اس مکان پر ظاہرو باہر ہے۔اب علماء دین متین سے دریافت کیاجاتاہے اﷲ تعالی اپنی توفیق سے انہیں تقویت عطافرمائے کہ صورت مذکورہ میں شرعی حکم کیاہے کیارہن اوراجارہ مذکورہ صحیح ہے یا نہیں اورکرایہ پورایااس کاکچھ حصہ عمرو کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں اورمذکورہ گواہی قابل اعتماد ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
رہن مذکورہ ہرگزصحیح نیست واگرنباشد دروجز تقرر اجل تاایں قدرہم افساد رابسنداست فی الاشباہ الاجل فی الرھن یفسدہ ہم چنیں آں اجارہ نیزوجہ صحت ندارد کہ تقریر سوال سپیدمی گوید کہ مدت درپردہ جہالت ماندنفس ایجاب وقبول ازذکر اجل رہن مذکور ہرگزصحیح نہیں ہےاگراس میں مدت کے معین کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تو یہ بھی رہن کے فاسد کرنے کے لئے کافی تھاالاشباہ میں ہےرہن میں مدت کامقرر کرنااسے فاسد کردیتاہےاسی طرح اس اجارہ(کرائے پردینے)کے صحیح ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہےسوال کی عبارت سے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۴€
#3271 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
راسامعزول وآں لفظ کہ تا فکاك رہن کرایہ ماہ بماہ دہم وعدہ ایست جداگانہ ازسنخ قبول بیگانہ اواگرنہ آنچناں گیریم تافکاك رہن خود امریست تامعین چہ دانی امروزمے شود یا دردہ سال ومعلوم ہست کہ جہالت مدت دراجارہ فساد آرد فی الدرالمختار کل ماافسد البیع یفسدھا کجھالۃ مدۃ اھ ملخصا پس درصورت مستفسرہ بحساب اجرمثل حدیث باید کرد یعنی یازدہ روپیہ چارآنہ کلایابعضا چیزے لازم نیاید بلے اگراینجا سخن مے تو اں گفت اجرمثل حدیث باید کرد یعنی آنچہ اجرت ہمچو خانہ در ہمچوجائے درہمچوزمانے باشد بشرطیکہ برزرمسمی نیفزاید کما ھو حکم الاجارۃ الفاسدۃ اذا فسدت لالجھالۃ المسمی لیکن دراجارہ فاسدہ اجرمثل ھم لازم نیاید الابدوشرط یکے حقیقت انتفاع مستاجر بداں چیز مستاجر کہ قوۃ تمکن واضح ہے کہ مدت اجارہ مجہول رہیمحض ایجاب وقبول کامدت کے ذکرسے کوئی نہیں ہےاوریہ کہنا کہ ہرماہ کرایہ دیتارہوں گا صرف ایك وعدہ ہے جس کاقبول کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہےاوراگراس پہلو کونہ لیاجائے تو"رہن کی واگزاری تک"یہ خود غیرمعین(اورمجہول ہے)کیاپتا آج ہوتاہے یادس سال میںاور یہ تومعلوم ہی ہے کہ اجارہ میں مدت کامجہول ہونااسے فاسد کردیتاہےدرمختارمیں ہے: جو چیز بیع کوفاسد کردیتی ہے اجارہ کوبھی فاسد کردے گی جیسے مدت کی جہالت اھ تلخیص۔لہذا جس صورت کے بارے میں سوال کیاگیاہے اس میں بیان کردہ کرائے یعنی گیارہ روپے اور چارآنے کے حساب سے تمام کرایہ یااس کاکچھ حصہ لازم نہیں آتا ہاں اس جگہ اگربات کی جاسکتی ہے تو"اجرمثل"کی بات کرنی چاہئےیعنی ایسی جگہ اورایسے وقت میں ایسے گھرکا جو کرایہ ہوسکتاہے بشرطیکہ بیان کردہ کرائے سے زیادہ نہ ہو جیسے کہ اجارہ فاسد کاحکم ہے جبکہ وہ فاسد ہو لیکن بیان کردہ کرائے کی جہالت کی وجہ سے نہ ہولیکن فاسد اجارے میں اجر مثل بھی تب لازم آتاہے جب دوشرطیں پائی جائیں: (۱)کرائے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الاجارہ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
#3272 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
انتفاع راینجا برگ وبارنیست فی الاشباہ التمکن من الانتفاع یوجب الاجر الافی مسائل الاولی اذاکانت الاجارۃ فاسدۃ فلا یجب الابحقیقۃ الانتفاع کما فی فصول العمادی دوم وقوع تسلیم ازجانب مواجر بروجہ اجارہ کما فی غمزالعیون والبصائر عن البزازیۃ انما یجب الاجر فی الفاسد بحقیقۃ الاستیفاء اذا وجد التسلیم من جہۃ الاجارۃ وفی الہندیۃ بعد ماوجب الاستیفاء حقیقۃ انما یجب الاجر اذا وجد التسلیم الی المستاجر من جھۃ المواجر پس درصورتیکہ عمرو مستاجر دراں مکان یکروز ھم سکونت نورزید نہ آں مکان فارغ بودکہ خودہندہ مابلکہ دروسکونت میداشت دگرہیچ مپرس کہ مواجرین رہن عقد تاچند سال تناسخ فکر کردند یافکاك رہن و تبدیل پرلینے والاکرائے کی چیز سے حقیقۃ نفع اٹھائےکیونکہ نفع حاصل کرنے کی قوت کا اس جگہ کوئی اعتبارنہیں ہے۔الاشباہ میں ہے:حقیقۃ نفع حاصل کرنے پرقادرہونا کرائے کو واجب کرتاہے مگرچندمسائل میں(۱)جب اجارہ فاسد ہوتو اجر صرف اس وقت واجب ہوگا جب حقیقۃ نفع حاصل کیاجائے گا جیسے فصول عمادی میں ہے۔(۲)اجرت پردینے والا بطور کرایہ کرایہ دار کے سپرد کردےجیسے کہ غمزالعیون والبصائر میں بزازیہ سے نقل کیاگیاہے کہ اجارہ فاسدہ میں کرایہ صرف اس وقت واجب ہوتاہے جب حقیقۃ بھرپور نفع حاصل کیا جائے اوربطورکرایہکرایہ دار کوچیزسپردکی جائے۔فتاوی ہندیہ(عالمگیری)میں ہے کہ جب حقیقۃ بھرپور نفع حاصل کرناپایاجائے تو کرایہ صرف اس صورت میں واجب ہوگا جب کرایہ پردینے والا کرائے کی چیز کوکرایہ دارکے سپرد کردے گا۔ پس جس صورت میں کرائے دار عمرونے اس مکان میں ایك دن بھی قیام نہیں کیانہ ہی وہ مکان خالی تھاکیونکہ ہندہ جو اس مکان کی مالك تھی اس مکان میں رہائش پذیرتھییہ مت پوچھئے کہ رہن کوبطور کرایہ دینے والوں نے کتنے سال عقد کو فسخ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۵۰€
غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۵۰€
الفتاوی الہندیہ کتاب الاجارہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۴۱۴€
#3273 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مرہون درچہ قدرمدت پدید آمدکائنا ماکان وانگہے ازاجرت برذمہ اولازم نیست زیراکہ چوں حقیقت انتفاع پربہوائے عدم کشاید لزوم اجرنیزعنان معائش درگوتمکن ھزار باشد و خود ازینجاچہ مے پرسی کہ جائے تمکن ہم مفقود ست زید راگو کہ ازگریبان عمرو دست کوتاہ دارد از شہادت شہدائے زیدہم اینجا کارے نکشاید وآبے برروئے کارنیاید کہ ازبیان شان بر تقدیر استجماع شرائط قبول ہمیں قدربثبوت می پیوندد کہ مدعاعلیہ براں مکان قبضہ آورد باوابستگان خویش دروسکونت کرد ازکجاکہ مدعی نیزآں مکان را از سامان خود تفریغ نمودہ بدست مدعا علیہ سپرد وخود باتوگفتہ ایم کہ مجرد سکونت بے تسلیم مواجر بروجہ اجارہ اینجا ثمرے ندارد می تواند کہ سکونت عمروبرسبیل ہماں انبساط معہود کہ درمیان اصول وفروع بودہ باشد کہ اولاد راچنانکہ دانی اگرچہ مساکیں جداگانہ باشدگاہے از سکونت نزد والدین ھم مانع نیست نہ ازیں بیاں گواہان مدت انتفاع رنگ کرنے کی فکرکی ہوگی یارہن کوچھڑانے اوررہن رکھی ہوئی چیزکو تبدیل کرنے پرکتنی مدت صرف ہوئی ہوگیبہر صورت عمروکے ذمہ پر کرایہ لازم نہیں ہےاس لئے کہ جب حقیقت انتفاع ہوائے عدم میں پرکھولتی ہے توکرائے کالازم ہونابھی اپنی لگام پھیرلے گا(یعنی جب حقیقۃ نفع حاصل نہیں کیاگیاتو کرایہ بھی لازم نہیں ہے۱۲مترجم)اگرچہ نفع حاصل کرنے کی قوت ہزارمرتبہ ہوآپ اس جگہ کیاپوچھتے ہیں کہ یہاں تونفع حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں ہےزید کو کہیں کہ عمروکاگریبان چھوڑدےزیدکے گواہوں کی گواہی سے بھی اس جگہ کوئی کام نہیں بنتا اورپانی کارآمد ثابت نہیں ہوتاکیونکہ قبولیت کی شرطیں جمع ہونے کی صورت میں بھی ان کے بیان سے صرف یہی بات ثا بت ہوتی ہے کہ مدعاعلیہ نے اس مکان پرقبضہ کرلیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیار کرلییہ بات کہاں سے ثابت ہوئی کہ مدعی نے بھی وہ مکان اپنے سامان سے خالی کرکے مدعالیہ کے سپرد کیا۔ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ محض رہائش کا اس جگہ کوئی فائدہ نہیں ہے جب تك کہ مالك بطور کرایہ کرائے دار کے سپرد نہ کرے
#3274 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
ظہوریافت وقول ایشاں کہ بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکار ست باچہ کارآید کہ قبضہ انتفاع وتمکن انتفاع را شامل واینجا محض تمکن ازثمر عاطل کما قد القینا علیك سخن گفتنی مانداز اقرار نامہ کہ مدعا علیہ بتحریرش پرداخت اگرنیك بنگری ہماناسراسر لغوومہمل ست وبربیانش حکمے نمی رسد اینکہ مجرد وعدہ وآں ھم بچیزے کہ شرعا وجہ صحت ندارد ازچہ رومواخذہ و مدعی رامطالبہ رواباشدبالجملہ ہرچند دراجارہ ملك غیر بے رخصت شرع مطہر اگرپیش از استیفائے منافع اجازتے از مالك رونماید استحقاق اجرت مرعاقد مؤاجر رامی باشد شرع فرمائش دہدکہ بصدقہ دہ یابدامان مالك نہ کما فی منیۃ المفتی والخانیۃ والغمز والھندیۃ وغیرہ اما در صورت مستفسرہ بربنائے وجوہ مذکورہ گردن عمرو ازباراجرت آں فرومی بینم فقیر غفراﷲ تعالی لہ ایں مباحث را ہوسکتاہے کہ عمرو کی رہائش اسی معلوم بے تکلفی پرمبنی ہو جو ماں باپ اوراولاد کے درمیان ہوتی ہےجیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ مسکین اولاد اگرچہ الگ رہتی ہو ان کے لئے گاہے بگاہے والدین کے پاس رہنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہےگواہوں کے اس بیان سے نفع حاصل کرنے کی مدت بھی واضح نہیں ہوتی اوران کایہ کہنا کہ"تاحال مدعاعلیہ کا اس مکان پرقبضہ ظاہروباہر ہے"کس کام آئے گا کیونکہ قبضہ دونوں صورتوں کوشامل ہے(۱)نفع حاصل کرنے اور(۲)نفع حاصل کرنے کی قوت(یعنی بالفعل اور بالقوۃ نفع حاصل کرنے کو شامل ہے)اور اس جگہ صرف نفع حاصل کرنے کی قوت بے فائدہ ہےجیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔کہنے والی ایك بات رہ گئی اوروہ یہ کہ مدعاعلیہ نے جو اقرارنامہ تحریرکیاوہ بالکل لغو اور مہمل ہےاس کے بیان پرکوئی حکم نہیں لگایا جا سکتااس نے صرف ایك وعدہ کیاہے اور وہ بھی ایسی چیز کاجو شرعا صحیح نہیں ہےلہذا نہ تومواخذہ ہوسکتاہے اورنہ ہی مدعی کا مطالبہ جائزہے۔مختصر یہ کہ غیر کی ملکیت کوشریعت مطہرہ کی اجازت کے بغیر کرائے پردینے میں اگرمنافع کے حاصل کرنے سے پہلے مالك اجازت دے بھی دے
#3275 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
درفتوی مفصلہ ہرچہ تمامتررنگ ایضاح واداست ازانجامی بایدگرفت کہ دریں رہ پالغزرفتار نہایت ضرررساں وسخت و دشوار گزاریاں پیشیں راکارچہ بلادشوار افتادہ است " کل حزبۭ بما لدیہم فرحون ﴿۵۳﴾ " والعلم بالحق عند واھب العلوم عالم کل سر مکتوم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد البدر والہ وصحبہ الاقمار و النجوم۔ کرائے کامستحق وہ ہے جو کرائے کاعقد کرنے والاہےشریعت مبارکہ کاحکم ہے کہ یا توصدقہ کردے یاپھرمالك کوواپس کر دے جیسے کہ منیۃ المفتیخانیہغمزالعیونعالمگیری وغیرہ میں ہےجس صورت کے بارے میں سوال کیاگیاہے اس میں وجوہ مذکورہ بالا کی بناپرمجھے عمرو کی گردن کرائے کے بوجھ سے آزاد نظرآتی ہے۔فقیراﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائےنے ان مباحث کو ایك تفصیلی فتوے میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے اس کامطالعہ کیاجائےکیونکہ اس راستے میں لغزش کھانے والا پاؤں بہت نقصان دہ ہے اور یہ راستہ بہت مشکل اوردشوارہے پہلے حضرات کو اس معاملے میں بڑی دشواری پیش آئی ہےہرگروہ اپنی رائے پرخوش ہےحق کا علم اس کے پاس ہے جو علوم کادینے والا اورہرراز کا جاننے والاہے۔اﷲ تعالی ہمارے آقا ومولاچودھویں کے چاند محمدمصطفی اورآپ کی آل اورصحابہ کرام ہدایت کے چاندوں اور ستاروں پررحمتیں نازل فرمائے۔آمین!(ت)
مسئلہ ۵۲: ازقصبہ پاڑہم ضلع میں پوری پرگنہ مصطفی آباد مسئولہ محمدصادق علی خاں صاحب ۲۵ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ مسماۃ زینب نے پانچ بسوہ زمینداری ایك موضع کی بقرارداد مبلغ(سالہ ۱۳۹)مالیانہ حق مالکانہ کے مسمی خالد سے واسطے معاش اپنے کے تا مدت گیارہ سال رہن دخلی کی اورمرتہن یعنی خالد مذکور قابض شیئ مرہون ہوابعد چند سال مسماۃ زینب راہنہ فوت ہوئی توبعدازیں بحث مقدمہ اثبات وراثت مسماۃ مریم مدعیہ وارثہ راہنہ جس میں سوت راہنہ اوردوسرا مرتہن جائداد مرہونہ مدعاعلیہما مجیب تھے ازروئے شرع محمد علیہ الصلوات والتسلیم
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۳/ ۵۳€
#3276 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
شے مرہون جزا یعنی ۱۶ بسوانسہ ۱۳کچوانسہ اورایك ثلث کچوانسہ ملکیت حقیت راہنہ کی اورمدعیہ وارثہ کی ٹھہری اورجزا شے مرہون یعنی ۴بسوہ ۳سوانسہ ۶ کچوانسہ اور۲ثلث کچوانسی شیئ مرہون مال غصب اورحقیت ملکیت شخص ثالث جوفریق مقدمہ مذکورنہ تھا قرارپائیچنانچہ ۱۶بسوانسہ ۳کچوانسہ اورایك ثلث کچوانسہ مدعیہ وارثہ راہنہ کوملے اوربعد ازیں فك الرہن بھی ہوگئی اور۴بسوہ ۳بسوانسہ ۶ کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ یعنی بمقدار مال غصب معلق رہے چنانچہ آج تك وہ مال غصب بہ قبضہ رہن قائم مقام مرتہن ہے اور اب وارثہ راہنہ بھی مرچکی ہے مگر اس کی اولاد باقی ہے یعنی وارثہ راہنہ کی تومسئلہ فرماؤ بقیدنام وباب کتاب کے جس سے مسئلہ اخذکرو کہ حق انفکاك رہن مذکورہ بالاکا وارثان وارثہ راہنہ کو ہے یانہیں اجردے تم کو اﷲ صاحب نیك اجر۔
الجواب:
بلاشبہہ ہے۔تقریرسوال وبیان سائل سے واضح کہ یہاں شخص ثالث نہ فریق مقدمہ تھا نہ راہنہ یا اس کے وارث اپنے غصب کے مقرتوبالائی طورپرغاصب سمجھ لینا ان کے حق فك کو کیا زائل کرسکے جبکہ علماء تصریح فرماتے ہوں کہ راہن اگراقرار بھی کردے کہ شیئ مرہون دوسرے کی ملك ہے تاہم اسے یہی حکم دیں گے کہ فك رہن کراکر مالك کوواپس دےدرمختار باب التصرف فی الرہن میں ہے:
لورھن شیئا ثم اقر بالرھن لغیرہ لایصدق فی حق المرتھن ویؤمربقضاء الدین وردہ الی المقرلہ۔ اگرکوئی شیئ رہن رکھی پھرراہن نے اقرارکیاکہ مرہون شیئ کسی اورکی ملك ہے تومرتہن کے حق میں راہن کی تصدیق نہیں کی جائے گی اورراہن کوحکم دیاجائے گا قرض کی ادائیگی کا اورمرہون شیئمقرلہ کی طرف لوٹانے کا۔(ت)
معہذا جب ملك غیربے اذن غیرکوئی شخص راہن کودے توراہن غاصب اورمرتہن مثل غاصب الغاصب ہوتاہے۔ہدایہ باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل میں ہے:
ان مات العبد المرھون فی یدالمرتھن ثم استحقہ رجل اگرمرہون غلام مرتہن کے قبضے میں مرگیا پھر کوئی اورشخص اس کامستحق نکل آیا تو اس کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴€
#3277 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
فلہ الخیار ان شاء ضمن الراھن و ان شاء ضمن المرتھن لان کل واحد منھما متعد فی حقہ بالتسلیم او بالقبض۔ اختیارہوگا چاہے توراہن کوضامن ٹھہرائے اورچاہے تومرتہن کو۔کیونکہ دونوں میں سے ہرایك مستحق کے حق میں تعدی کرنے والا ہے بسبب رہن کی سپردگی کے یابسبب اس پرقبضہ کرنے کے۔(ت)
غایۃ البیان علامہ اتقانی باب مذکورمیں ہے:
ای متعد فی حق المستحق اما الراھن فبتسلیم الرھن الی المرتھن واما المرتھن فبالقبض فصار الراھن کالغاصب والمرتھن کغاصب الغاصب۔ یعنی مستحق کے حق میں تعدی کرنے والا ہے۔راہن اس لئے کہ اس نے مرہون شے مرتہن کے سپردکی اورمرتہن اس لئے کہ اس نے مرہون پرقبضہ کیالہذا راہن غاصب کی مثل اورمرتہن غاصب سے غصب کرنے والے کی مثل ہوگیا۔ (ت)
راہن جب کہ مالك سے غاصب اورمرتہن کامدیون ہواتوآخر اسے یہی حکم ہوگا کہ مرتہن کا دین دے اورمالك کو اس کی شیئ واپس کرے اورجب مرتہن اپنا دین پالیتاہے تواسے کوئی حق حبس نہیں رہتا اور جس سے وہ چیز لی تھی یعنی راہن اگرچہ وہ حقیقۃ غاصب ہی ہو اسے سپرد کردینے سے بری الذمہ ہوجاتاہے۔عالمگیری کتاب الغصب باب ثانی عشرمیں ہے:
غاصب الغاصب یرد الی الغاصب الاول لیخرج عن العھدۃ۔ غاصب سے غصب کرنے والا غاصب اول کی طرف مغصوب کولوٹادے تاکہ ذمہ داری سے نکل جائے۔(ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں بعد ادائے دین وارثان راہنہ کوشیئ مرہون واپس دینے میں مرتہن یا اس کے قائمقام کوئی عذر نہیں ہوسکتا اب اگرحقیقتا اس میں شخص ثالث کا
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الرھن باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۳€۷
غایۃ البیان کتاب الرھن باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل
الفتاوی الہندیۃ کتاب الغصب الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۴۸€
#3278 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
حصہ ہے توورثہ راہنہ پرفرض ہوگا کہ مستحق کو اس کاحق پہنچائیں۔یہ دوسری بحث ہے جس سے مرتہن کو تعلق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۳: مسئولہ حاجی غلام حضرت ۵رجب المرجب ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زیدکچھ زیورسونے کاعمرو کے پاس لے کر گیاکہ مجھے روپے کی ضرورت ہے زیور رکھ لو اورروپیہ دے دو میں روپیہ دے کرزیور اپنا لے لوں گا عمرونے کہااس وقت میرے پاس روپیہ نہیں زیدنے کہاتم کسی اور سے یہ کام کرادوعمرو وہ زیوربکرکے پاس لے گیااورزید کامقولہ بکرسے کہابکرنے جواب دیابیس روپے تولہ کے حساب سے اس زیورکے دام دیتاہوں اورایك ماہ تك وعدہ پرواپسی کرتاہوں یك ماہ تك اگرروپیہ نہ دیا تومیں واپس نہ کروں گا عمرونے یہ شرط منظورکرکے روپیہ لے لیا۔زیدکاروپیہ عمروکے پاس قبل وعدہ کے جمع تھا زیدنے اپنے زیور کاتقاضاعمرو سے کیا اورکرتا رہاعمرو اپنے کاروبار میں مصروف تھا بکرسے تقاضا مابین وعدہ نہ کرسکا یہاں تك کہ وعدہ سے عرصہ زیادہ ہوگیا اب عمرو نے بکرسے زیدکا وہ زیورطلب کیا اور روپیہ دیناچاہا توبکرنے زیورواپس کرنے سے انکار کیااور کہامیں نے بعد گزرنے وعدے کے زیور فروخت کردیالیکن بدون اطلاع اوربلااجازت زید وعمرو کے فروخت کیااوروہ زیور اس قدرروپیہ سے جو زید کودیاگیاتھا سوائی قیمت سے بھی زائد کا تھا پس صورت مسئولہ میں شرع شریف کاکیاحکم ہے آیا وہ بکرکو وہ زیور واپس کرنالازم ہے یانہیں اور اس کے نفع کامالك اورنقصان کامتحمل زیدیا عمرویابکر بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ صورت بیع الوفا کی ہے اوربیع الوفا مذہب معتمدین محض رہن ہے اورمرتہن جب بلااذن راہن شیئ مرہون کو بیع کردے تووہ بیع اجازت راہن پر موقوف رہتی ہے بشرطیکہ شیئ مبیع ہنوز موجودہواوراگرمشتری کے پاس ہلاك ہوجائے توراہن کواختیار ہوتاہے کہ مرتہن یامشتری جس سے چاہے اپنی چیزکاتاوان لے لے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل باع رجلا اخر دارا بثمن معلوم الی اجل معلوم بیعا معادا ایك شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس نے دوسرے شخص کے ہاتھ معین ثمنوں کے عوض مدت معلومہ تك کے لئے گھربیچا ایسی بیع کے
#3279 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
علی انہ فی شھر کذا یحضر الثمن ویسترجع الدارثم مضی الزمن المعین بینھما ولم یقدر البائع علی الثمن الا بعد مدۃ والثمن دون قیمۃ الدار فھل للبائع دفع الثمن واسترجاع الداراجاب یجبر المشتری علی قبول الثمن من البائع ورد الدار علیہوالذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام اھ ملخصا۔ ساتھ جولوٹائی جائے گی اس شرط پرکہ فلاں مہینے بائع ثمن حاضر کردے گااورگھر واپس لے لے گا۔پھران دونوں کے درمیان طے شدہ مدت گزرگئی درآنحالیکہ بائع ثمن حاضر کرنے پرقادرنہ ہوا مگر اس کے کچھ عرصہ بعد وہ دینے پرقادر ہواجبکہ ثمن قیمت سے کم ہیں۔توکیابائع کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ثمن دے کرگھرواپس لے۔اس کایہ جواب دیاگیاکہ مشتری کوبائع سے ثمن وصول کرنے اورگھرواپس لوٹانے پر مجبورکیاجائے گا۔اکثر مشائخ اس مؤقف پرہیں کہ یہ بیع رہن ہے کیونکہ اس میں اوررہن میں کسی بھی حکم میں فرق نہیں اھ تلخیص(ت)
جواہرالفتاوی پھرحاشیہ جامع الفصولین پھرردالمحتار میں ہے:
حکمہ حکم الرھن وھو الصحیح ۔ اس کاحکم وہی ہے جورہن کاحکم ہے اوروہی صحیح ہے۔(ت)
اسی طرح جواہرالاخلاص میں ہے کما رأیتہ فیھا(جیساکہ میں نے اس میں دیکھاہے۔ت)شرح الطحاوی پھرجامع الرموزپھر حاشیہ شامی میں ہے:
توقف علی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز و الافلاولہ ان یبطلہ ویعیدہ رھناولوھلك فی ید المشتری قبل الاجازۃ لم تجزالاجازۃ بعدہ و مرتہن اگرمرہون کوبیچ دے تویہ بیع راہن کی اجازت پر موقوف ہوگی۔اگرراہن نے اجازت دے دی توجائزورنہ نہیں۔راہن کواختیارہے کہ بیع کوباطل کرکے اسے رہن کی طرف لوٹادے
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۵€
ردالمحتاربحوالہ جواھرالفتاوٰی کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۶€
#3280 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
للراھن ان یضمن ایھما شاء۔ اگرمرہون مشتری کے قبضہ میں راہن کی اجازت سے قبل ہلاك ہوجائے تواس کے بعد کی اجازت جائزنہیں اورراہن کواختیارہوگاکہ مرتہن اورمشتری میں سے جسے چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت)
درمختاروردالمحتار میں ہے:
ضمن بتعدیہ(کالبیع بلااذن قھستانی)کل قیمتہ(ای بالغۃ مابلغت لانہ صار غاصبااتقانی)فیسقط الدین بقدرہ اھ مختصرا۔ مرتہن اپنی تعدی کی وجہ سے(جیساکہ بلااجازت بیع قہستانی)کل قیمت کاضامن ہوگا(یعنی وہ قیمت جس قدربھی ہواتقانی)لہذا اس کے برابر قرض ساقط ہوجائےاھ اختصار (ت)
پس صورت مستفسرہ میں بکر پرلازم ہے کہ زیورہنوزنہیں بیچا توفورا اپنا دیاہواروپیہ لے کرکل زیورواپس کردے اوراس مہمل و باطل قراردادکی آڑنہ لے اوراگربکرنے واقع میں بیع کردیا اورزیورہنوز مشتری کے پاس موجودہے توزید کواختیارہے چاہے اس میں بیع کوجائزکردے اورزرثمن تمال وکمال خود لے یارد کردے اگررد کردے تومشتری پرفرض ہے کہ روپے واپس کرے اوراگرزیور تلف ہوگیایااب اس کاپتانہیں چلتاقابو سے باہرہے توزید اس کاپوراتاوان بکر سے لے سکتاہے مثلا اگربکرنے ستر روپے اسے دئیے اورزید کابازار کے بھاؤ سے سوروپے کانکلاتو بکرکے سترروپے ساقط برابر ہوگئے زیادہ کے تیس روپے زید کو دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۴: ازشہرکہنہ مرسلہ عبدالصمدصاحب ۸ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کوشیئ مرہون سے نفع اٹھانا بہ اجازت راہن جائزہے یانہیں
الجواب:
مرہون سے انتفاع حرام محض ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۷€
الدرالمختار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷،€ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۳€
#3281 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا۔ جوقرض منفعت کو کھینچ لائے وہ سود ہے(ت)
بہ اجازت راہن نفع اٹھانے کے یہ معنی تھے کہ قرض کے دباؤ سے نہ ہو اور اس کی اجازت ہی کاپابند رہے جب وہ خوشی سے کہہ دے انتفاع کرے اور جس وقت منع کردے فوراباز رہے مثلا اس نے اپنی خوشی سے کہہ دیا کہ مکان میں رہو یہ آکررہا اسی وقت اس نے کہہ دیا مجھے منظورنہیں توفورا نکل جائے کچھ عذرحیلہ درمیان میں نہ لائے ایسایہاں ہرگزنہیں ہوتابلکہ قطعا دباؤپررہتے ہیں اورراہن دباؤہی کے باعث اجازت دیتاہے اوروہ رجسٹری کے کاغذوں میں لکھی جاتی ہے کہ اس کے سبب انتفاع بالجبرکرسکیں اوراگرلاکھ کہے کہ نکل جاؤ ہرگزنہ نکلیں گے اوریہی جواب دیں گے کہ پہلے ہماراقرض دے دو تو جائیں تویہ صورت اجازت سے اصلا متعلق نہیں بالاجماع حرام ورباہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۵۵: ازجائس رائے بریلی محلہ زیرمسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲ صاحب ۲/ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرہون شیئ سے فائدہ اٹھانا مثلا زمین رہن رکھا اس کوجوتتاہے اور اس میں زراعت بوتا ہے اور اس کے مینڈھ وغیرہ بندھواتاہے اس کے نیچے اس کامنافع کھاتاہے اور اس کوقیاس کرتاہے بکری اورگھوڑے کے اوپر جائزہے اس کے منافع کھانایانہیںفقط
الجواب:
مرتہن کو مرہون سے نفع اٹھانا حرام اورنراسودہے
کما افادہ العلامۃ الطحاوی و العلامۃ الشامی فی حاشیتی الدروحققناہ فی فتاویناواﷲ تعالی اعلم۔ جیساکہ علامہ طحاوی اورعلامہ شامی نے درمختارکے حاشیوں میں افادہ فرمایاہے ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۶: ازریاست رامپور متصل کوتوالی مکان مرحوم مجددی مرسلہ مولوی احمدحسین صاحب ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
چند شخص نے ایك ملك مشترك اپنے چندشخصوں کے پاس بالاشتراك رہن کی زررہن
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3282 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
لے لیااورملك پرمرتہنان کوقبضہ دے دیا رہن نامہ میں یہ لکھ دیاکہ ہم نے منافع ملك مرہون مرتہنان کوہبہ معاف کردیا اوربخش دیا۔اکثرراہنان مرگئے اوربعض زندہ ہیں۔مرتہنان نے بعد موت راہنان متوفی منافع ملك مرہون زائدازمقدار زر رہن حاصل کریں یہ ارشاد فرمایاجائے کہ منافع مذکورہ حق جائز وشرعی مرتہنان کاہے یانہیں اورباوجود اس کے کہ مرتہنان نے منافع ملك مرہون بقدرمقدار زر رہن یازائد از زر رہن خود کاوصول کرلیا پھربھی وہ مستحق پانے زررہن کے ہیں یاوارثان راہن زر رہن یافتنی مرتہن کومنافع وصول شدہ میں مجراومحسوب کرسکتے ہیں اوربلاادائے زردیگر ملك کوچھڑاسکتے ہیںہبہ وبخشش زرمنافع مذکورہ رہن نامہ عموما اوربعد موت راہنان خصوصا کیااثررکھتے ہیں۔بینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زرمنافع مرہون مرتہنوں کے حق میں ضرورحرام اورسودہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربااخرجہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اس کی تخریج کی(ت)
عقودالدریہ میں محیط سے ہے:
لیس للمرتھن ولاللراھن ان یزرع الارض ولا یؤاجرھا لانہ لیس لھما الانتفاع بالرھن ۔ راہن اورمرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون زمین میں کاشت کریں کیونکہ انہیں رہن سے نفع اٹھانا جائزنہیں۔(ت)
اشباہ میں ہے:
یکرہ للمرتھن الانتفاع بالرھن باذن الراھن۔ راہن کی اجازت سے مرتہن کو رہن سے انتفاع مکروہ ہے۔(ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
العقود الدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵€۸
الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۳€
#3283 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
تہذیب وجامع المضمرات میں ہے:
یکرہ للمرتھن ان ینتفع بالرھن وان اذن لہ الراھن۔ مرتہن کورہن سے انتفاع مکروہ ہے اگرچہ راہن اجازت دے دے۔(ت)
درمختار میں ہے:
قال المصنف وعلیہ یحمل ماعن محمد بن اسلم انہ لایحل للمرتھن ذلك ولو بالاذن لانہ ربا۔ مصنف نے کہا اوراسی پرمحمول ہے وہ جو محمدبن اسلم سے مروی ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھاناجائز نہیں اگرچہ راہن کے اذن سے ہوکیونکہ وہ سود ہے۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
فی الجامع لمجد الائمۃ عن عبداﷲ بن محمد بن اسلم انہ لایحل لہ ان ینتفع بشیئ منہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن فی الربالانہ یستوفی دینہ فتکون المنفعۃ ربا۔ مجدالائمہ کی جامع میں عبداﷲ بن محمد بن اسلم سے منقول ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھانا جائزنہیں اگرچہ راہن نے اس کی اجازت دی ہوکیونکہ یہ سود کی اجازت ہے اس لئے کہ مرتہن اپنا قرض پوراوصول کرتاہے تومنفعت سودہوگی۔(ت)
تحقیق یہ ہے کہ انتفاع مرتہن جب مشروط ہوجائے توباہم اس کی قرارداد عمل پرآئے توبالاجماع حرام ہے اورجوامرعرف ظاہر سے معلوم ومعہود ہو وہ بلاذکربھی مثل مشروط ہے اورشك نہیں کہ اب انتفاع مرتہنان کی بلاضرور دائروسائر وعالمگیرہے تو رہن میں اگر اس کاذکربھی نہ آتا عرفا مشروط قرارپاتا اورحرام ہوتاراہنوں کی اجازت قطعا اسی عرف پرمبنی اور اسی قرض کے دباؤ سے ناشیئ ہے یہ نہ ہو توہرگزوہ اجازت نہ دیں کہ ہماری جائداد کامنافع زیدوعمرولیں اورہم نہ پاسکیںمرتہنوں کاقرض دینابھی اسی منافع پرہے اوروہ ضرور
حوالہ / References الدرالمختار بحوالہ التہذیب کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€۷
الدرالمختار بحوالہ التہذیب کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€۷
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۳€
#3284 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
راہنوں کو اس پرمجبورکرتے ولہذا دستاویز میں لکھالیتے ہیں اور اگربعد تحریرراہن انہیں انتفاع سے منع کریں کبھی بازنہ رہیں گے بلکہ تاادائے زررہن اپناحق جانیں گےیہ نہ ہرگز راہنوں کی طرف سے بطور خود محض احسانا بے دباؤ اپنے ملك کی منفعت جب تك اپناجی چاہے مباح کرناہے نہ مرتہنوں کی طرف سے نرے اجنبی طورپربے کسی دعوی بے کسی داب کے صرف اجازت دہندہ کی خوشی پرجب تك وہ چاہے اس کی ملك سے نفع پاتاہے بلکہ قطعا وہی شرط وقرارداد لزومی اوروہ بالاجماع حرام ورباہے
طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع واﷲ تعالی اعلم۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ورنہ قرض پردرہم نہ دیں گے اور یہ شرط کی طرح ہوگیاکیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کو متعین کرتاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
راہنوں کا منافع مرتہنوں کوہبہ کردینامحض لغوبے معنی ہے منافع کہ ہبہ کئے گئے اس وقت موجود نہ تھے اورمعدوم کاہبہ باطل ہے اورباطل کے لئے کوئی اثرنہیں۔فتاوی خیریہ میں ہے:
وبھذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاھر۔ اور اسی سے معلوم ہوگیاکہ دونوں قریوں سے اب جو آمدنی حاصل ہوگی اس کا ہبہ بدرجہ اولی صحیح نہیں کیونکہ ہبہ کرنے والے نے ابھی خود اس پرقبضہ نہیں کیاتو کسی کو اس کامالك کیسے بناسکتاہے اوریہ ظاہرہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۱€
#3285 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۵۷: ازشہر متصل کچی سرائے مرسلہ ابوتراب بوساطت محمدعبدالرشیدصاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تین سال کاہواکہ ایك دکان زیدنے(ماصہ عہ ۱۲۵) روپیہ پر رہن دخلی بمیعاد پانچ سال حسب فتوی ایك مولوی صاحب کے لیاتھا(یعنی اس عرصہ میں جوکچھ اس کی مرمت میں صرف ہواوہ میرااورکچھ آمدنی اس مدت میں ہوگی وہ میری ہوگی جب روپیہ واپس کروگے دکان چھوڑدوں گا)اورتین سال تك اسی طرح کرتارہا یعنی اس کی مرمت وغیرہ اپنے پاس سے کرکے منافع کولیتارہااب وہی مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہےاب آپ حضرات سے التجا ہے کہ مولومی صاحب کے ان قولوں میں کو ن صحیح ہے اگر وہ واقعی حرام ہے تو اس مدت تین سال میں جوکچھ روپیہ مولوی صاحب نے کھلایااس کاگناہ کن پرہوگا اور وہ روپیہ کس طرح پاك ہوسکتاہے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مولوی صاحب ماخوذوگنہگارہیں کہ انہوں نے حرام غذا کو حلال بتایا اورایك مسلمان کو حرام کھانے میں مبتلاکیااوریہ مسئلہ کوئی ایساخفی نہ تھا کہ عالم پرمخفی رہتارہازید اس کی دوحالتیں ہیںوہ مولوی صاحب جس کے فتوی پر اس نے عمل کیاکوئی ایساہی نام کامولوی تھا جب توزیدبھی ماخوذوگنہگارہےعوام کویہ حکم ہے کہ علمائے معتمدین مفتیان مستندین کے فتوی پر عمل کریں نہ یہ کہ ہر کس وناکس سے پوچھ کراوراگروہ عالم معتمد تھا توجب تك اس فعل کے حرام ہونے پر زیدکو اطلاع نہ ہوئی اس کے لئے امیدآسانی ہے کہ اس نے ایك عالم معتمد کے فتوی پرعمل کیا وہ اسی قدرکرسکتاتھا۔
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا"۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کسی جان پربوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۸: ازشہربریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ جناب سیدحاجی ابوالحسن صاحب پارچہ فروش ۲۵/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
زیدوعمرو نے ایك جائداد باہمی خریدی اورنفع نقصان اس کابرابر ٹھہرایا اسی جائداد کاایك جز ایك اورشخص کے پاس رہن تھا مبلغ (سہ لہ۸۸)روپے پرتو اس کوکہاگیاکہ توہماری
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۶€
#3286 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
جائداد واگزاشت کردے اس نے جواب دیاکہ میں مع سود روپیہ لوں گازیدنے ایك دستاویز اسی شخص کے نام ایك دوسرے شخص سے جس کا وہ مقروض تھا خریدی پھرچند مدت تك وہ دستاویز زید کے پاس رہی بعد کو اس سے کہاگیا کہ تو ہماری جائداد کاجزچھوڑدے اس نے بخوف دستاویز خریدکردہ کے(ما)روپے چھوڑدیا اب زیدعمرو سے کہتاہے کہ مجھے(ماصہ عہ۱۲۵) روپے میرے حصے کے دے اب عمرو پرازروئے شریعت(ما صہ عہ ۱۲۵)اسے دینالازم ہے(یاللعہ للعہ۴۴)کہ نصف(مہ لہ) ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہواکہ زید نے سوروپے دے کر فك رہن کرایا اورکاغذ میں مرتہن سے ڈھائی سو روپے پانالکھ لیا اس صورت میں اس کا سواسوروپے مانگنا محض ناجائزہے صرف پچاس(مہ۵۰)روپے لے سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۹: ازریاست رامپور محلہ گنج مرسلہ شیخ محمدنور ۳/صفرمظفر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زیدنے ۲۴/اگست ۱۸۹۸ء کوایك دستاویز بہ مضمون بیع نامہ بعوض مبلغ پانصدروپیہ بابت یکمنزلہ دکان مملوکہ خود بنام عمروتحریرکی ہے جس میں شرط مندرجہ ذیل تحریرہے:
مضمون شرط
اگرمیں بائع اندرمدت دس سال کے کل زرثمن یکمشت مشتری کواداکروں تو مبیعہ مذکورہ واپس لے لوں ورنہ بعد انقضائے میعادمذکور کے اسی زرثمن میں یہی بیع قطعی تصور ہوگی لہذا بیعنامہ بالوفا لکھ دیاگیا کہ سندہو۔
عمروفوت ہوگیا زیدنے دکان مذکور پراپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ دکان کاخود وصول کیا ورثائے عمرونے اول زید پرعدالت میں دعوی دلا پانے دخلی کاباستحقاق رہن کیاعدالت سے ڈگری باستحقاق رہن دلاپانے دخلی کی ہوگئی مگرتاہنوز ورثائے عمرو نے دخلی حاصل نہیں کیا ہے اب ورثائے عمروبنام زید دعوی کرتے ہیں کہ جس قدرکرایہ زید نے ایام قبضہ رہنے میں کرایہ دار سے وصول کیاہے وہ ہم کو زید سے دلایاجائےزیدیہ عذر کرتاہے کہ ورثائے عمروشرعا مجھ سے رقم زرکرایہ جومیں نے اپنی مملوکہ دکان سے وصول کیاہے مجھ سے دلاپانے کے مستحق نہیں ہیں شرعا کیاہوناچاہئے جواب بحوالہ کتب فقہ تحریر فرمائیے۔
#3287 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
بینواتوجروا فقط سائل زید۔
الجواب:
بیع بالوفاء خالص رہن ہے رہن سے زیادہ کچھ اثرنہیں رکھتی۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ جامع الفصولین عن جواھر الفتاوی ھذا البیع باطل وھو رھن وحکمہ حکم الرھن وھو الصحیح۔ درمختارمیں حاشیہ جامع الفصولین سے بحوالہ جواہرالفتاوی منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے اور وہ رہن ہے اس کا حکم رہن کے حکم کی طرح ہے اور وہی صحیح ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قدفشاھذا البیع بین الناس و فیہ مفسدۃ عظیمۃ وفتواك انہ رھن وانا ایضا علی ذلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا و نظھرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوانا وقد ظھر ذلك بین الناس فمن خالفنا فیہ فلیبرز نفسہ و لیقم دلیلہ۔ اوراکثرمشائخ اس مؤقف پرہیں کہ بے شك وہ رہن ہے اورکسی حکم میں رہن سے مختلف نہیں ہے۔سیدامام نے کہا کہ میں نے امام الحسن ماتریدی سے کہایہ بیع لوگوں میں پھیل چکی ہے اوراس میں فساد عظیم ہے۔آپ کا فتوی یہ ہے جس کے ساتھ میں بھی متفق ہوں کہ یہ رہن ہےدرست بات یہ ہے کہ ہم ائمہ کرام اجماع کرلیں اور اس پرمتفق ہو جائیںاس فتوی کولوگوں میں ظاہرکریںتوانہوں نے فرمایا کہ آج کل ہمارافتوی معتبرہے اوروہ لوگوں میں ظاہرہے۔لہذا جوہماری مخالفت کرے اس کوچاہئے کہ وہ خود ظاہرکرے اور اپنی دلیل قائم کرے۔(ت)
اورشرع مطہر میں رہن واجارہ دوعقدمتنافی ہیں کہ کسی حال جمع نہیں ہوسکتے جو چیز
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۶۴€
الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۶€
#3288 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کسی کے اجارہ میں ہے اگرمالك اسے رہن کرے گا یہ رہن اجازت مستاجر پرموقوف رہے گا اگروہ جائزکردے اوراپنا قبضہ چھوڑ کر مرتہن کاقبضہ کرادے تواجارہ جاتارہے گا رہن پوراہوجائے گا ورنہ رہن تمام نہ ہوگا اوراجارہ باقی رہے گااورجوچیز کسی کے رہن ہے اگرمالك اسے اجارہ پر دے یہ اجارہ اجازت مرتہن پرموقوف رہے گا اگر وہ جائزکردے اوراپنا قبضہ مرتہنی چھوڑ کر قبضہ مستاجر کرادے تورہن جاتارہے گا اجارہ نافذہوجائے گا اور ردکردے تواجارہ باطل ہوجائے گا اور رہن بدستور رہے گایہ جوعوام زمانہ میں رائج ہے کہ مکان یادکان کرایہ پر ہے وہ اجارہ قائم رکھ کر مالك اسے رہن رکھ دیتاہے اور روز رہن سے اس کرایہ کامستحق مرتہن سمجھاجاتا ہے محض بیہودہ وبے معنی وحرام ہے اوراصلا کوئی عقد شرعی نہیں کہ اجارہ میں بھی قبضہ کی حاجت ہےاذلایمکن الانتفاع الابہ(اس لئے کہ اس کے بغیر نفع اٹھانا ممکن نہیں۔ت)اوررہن تو بے قبضہ تمام ہی نہیں ہوتا۔
فقال اﷲ تعالی "" (تورہن ہوقبضہ میں لیاہوا۔ت)اورشیئ واحد وقت واحد میں دو مختلف جہت سے دو قبضوں میں نہیں ہوسکتی۔فتاوی خیریہ میں ہے:
اذا کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر و کان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجروان کان مقبوضا فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر احق بہ من المرتھنوان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجز صاحب القبض السابق العقد المتأخر لانفساخ السابق بالاجارۃ منہ للعقد اللاحق۔ اگرمکان پربطور رہن قبضہ ہو نہ کہ بطوراجارہ تورہن معتبر ہوگا اورمرتہن اس کی مالیت کا بنسبت مستاجر کے زیادہ حقدار ہوگااوراگر قبضہ بطور اجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تومستاجر اس کا زیادہ حقدارہوگا بنسبت مرتہن کےاوراگر اس کے ساتھ دونوں کاقبضہ متصل ہوگیا تودونوں میں سے اس کااعتبارہوگا جو تاریخ میں مقدم ہے جب تك سابق قبضے والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے کیونکہ اس کی طرف سے بعد والے عقد کی اجازت سے پہلے والاعقد فسخ ہوجائے گا۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۳€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الرھن دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۹۳۔۱۹۲€
#3289 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
بیان سائل سے معلوم ہواکہ یہ دکان پہلے سے بنیے کے پاس کرایہ پرتھیاوراب تك کرایہ پرہے کرایہ دار نے کسی وقت مرتہن کے لئے خالی نہ کی نہ اپناقبضہ چھوڑکر عمروکاقبضہ کرایا اس صورت میں یہ رہن محض ناتمام وبے اثروبے معنی ہے وارثان عمرو کوکوئی دعوی دخلیابی کانہ پہنچتاتھا حاکم کو ایسابے اصل دعوی سننابھی نہ تھا نہ کہ ڈگری دیتاکہ قبضہ جورہن میں شرط ہے کہ باذن راہن ہونہ یہ کہ قاضی جبرا قبضہ دلادے عقد کہ ناتمام رہاقاضی کو اس کے تمام کرنے پرجبرکاکیااختیارعالمگیریہ میں ہے:
لایجوز الرھن الامقبوضا وشرط صحۃ القبض ان یأذن الراھن فان قبض بغیر اذن الراھن لم یجز قبضہ اھ مختصرا۔ رہن جائزنہیں جب تك اس پرقبضہ نہ کیاجائےاوراس کے قبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے۔اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتوجائزنہیں ہوا اھاختصارا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
ان ادعی المرتھن الرھن مع القبض یقبل برھانہ علیھما وان ادعی الرھن فقط لایقبل لان مجرد العقد لیس بلازم۔ اگرمرتہن نے رہن کا قبضے سمیت دعوی کیاتو اس کے گواہ رہن اورقبضے پرقبول کرلئے جائیں گے۔اوراگرفقط رہن کا دعوی کیاتو قبول نہیں کیاجائے گا کیونکہ محض عقد سے رہن لازم نہیں ہوتا۔(ت)
اور جب خودعمروکاکوئی حق اس دکان میں ثابت نہیں تو ورثاء عمرو کاکیاحق ثابت ہوسکتاہےسائل کاکہنا کہ زیدنے دکان مذکور پر اپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ خود وصول کیا اسی غلط فہمی پرمبنی ہے جوعوام میں پھیلی ہوئی ہے کہ شیئ مواجرکے رہن کوبھی با وصف بقائے اجارہ اپنے زعم میں رہن صحیح وتام سمجھتے ہیں ورنہ حقیقۃ قبضہ مستاجرکا ہے اورملك زیدکی ہے اورعمرو کی ہنوز نہ مرتہنی پوری ہوئی نہ اس کاکوئی قبضہبالجملہ شك نہیں کہ زر کرایہ کامالك خاص زید ہے عمرو وارثان عمرو
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳€۳
العقود الدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵۹€
#3290 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کا اس میں کچھ حق نہیں یہاں تك کہ اگرکوئی رہن صحیح وتام ہواورمرتہن بلااجازت راہن اسے کرایہ پر دے یابے اجازت دے اورراہن جائزکردے تواس صورت میں بھی کرایہ کامالك خاص راہن ہوتاہے اورکرایہ پراٹھانے سے رہن باطل ہوجاتاہے۔
عقودالدریہ میں ہے:
امرأۃ باعت دارھا من رجل بیع وفاء منزلا منزلۃ الرھن ثم ان الرجل اجرھا باذنھا من بعلھا باجرۃ معلومۃ قبضھا الرجل ویزعم ان الاجرۃ لہ تکون الاجرۃ للراھنۃ وبطل الرھن۔ کسی عورت نے اپناگھر کسی مرد کے ہاتھ بیع وفاءکے طور پر فروخت کیا درانحالیکہ اس کو بمنزلہ رہن کے کیاپھرمشتری مردنے وہی مکان اس عورت کے شوہر کوایك معین اجرت کے عوض اجارہ پردے دیا اوراجرت پریہ گمان کرتے ہوئے قبضہ کیا کہ یہ اجرت اس کے لئے ہے تو یہ اجرت راہنہ کے لئے ہوگی اوررہن باطل ہوجائے گا۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
واجرہ احدھما بغیر اذنہ ثم اجاز صاحبہ صحت الاجارۃ وبطل الرھن وتکون الاجرۃ للراھن۔ راہن اورمرہون میں سے کسی ایك نے دوسرے کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھردوسرے نے اس کو جائزقراردے دیا تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اور اجرت راہن کے لئے ہوگی۔(ت)
یہاں کہ رہن سرے سے خود ہی بے قبضہ وناتمام ہے اورکرایہ دینے والا خود زید مالك دکان ہے توعمرویاوارثان عمروکازرکرایہ میں کوئی حق ہونامحض بے معنی ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰: ازکانپور محلہ پٹکاپور مطبع نظامی مرسلہ مولوی ا بوسعیدصاحب سوم صفر۱۳۲۶ھ
زیدنے اپنی جائداد رہن کرکے کچھ روپیہ عمروسے قرض لیاشرائط رہن یہ تھے:میعاداس رہن کی صرف ایك مہینہ ہے اگربعد میعاد فورا فك نہ کرالوں تویہی دستاویز
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۲۵€۴
الفتاوی کتاب الرھن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵€
#3291 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
رہن نامہ بجائے بیعنامہ اوریہی زررہن بجائے زرثمن مقررہوگا اورجائداد مرہونہ بیع شدہ سمجھی جائے گی اور اسی وقت سے قبضہ جائداد مرہونہ پرمرتہن کامالکانہ ہوجائے گا اورمرتہن مثل میرے ان تمام حقوق کے مالك کامل مشتریانہ ہوجائیں گے جومجھ کوجائداد مرہونہ میں اس وقت حاصل ہیں لہذا یہ چندکلمہ بطور دستاویز بیع بالوفاء کے لکھ دئیےاس رہن کے پہلے سے ایك مکان میں خود راہن رہتاتھا باقی مکانات ودکانات میں کرایہ دارراہن کی طرف سے تھے بعد اس رہن کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیا کہ کرایہ عمرو مرتہن کودیاکریں اورجس مکان میں خود راہن رہتاتھا اس کاکرایہ بھی ایك مدت تك راہن اداکرتارہا۔ اب حضرات علمائے کرام مدظلہم العالی سے بکمال ادب یہ سوال ہے:
(۱)صورت مذکورہ میں شرعا جائداد مرہونہ بعد گزرنے ایك ماہ کے رہن رہی یابیع ہوگئی
(۲)جوکرایہ جائدادمرہونہ کاکرایہ داروں اورنیززیدراہن سے عمرومرتہن کووصول ہوتارہا وہ ملك راہن تھا یاملك مرتہن شرعا اصل زررہن میں محسوب ہوتاگیایانہیں
(۳)عمرو مرتہن کو اب اسی قدر اصل روپیہ رہن کالیناحلال ہے جوبعد مجرائے کرایہ وصول شدہ کے باقی ہو یاکل زررہن بدون وضع کرایہ وصول شدہ کے لیناحلال ہے۔
(۴)جس وقت زیدراہن اس قدرروپیہ جوبعد وضع کرایہ وصول شدہ کے عمرومرتہن کااصل زر رہن باقی ہواداکرے توعمرو مرتہن پرجائداد مرہونہ چھوڑدینا واجب ہے یانہیں
الجواب:
وہ بیع بھی باطل محض اوروہ رہن بھی محض بے معنیاورمرتہن کے لئے وہ زرکرایہ کہ خود راہن یااورکرایہ داروں سے لیتارہا حرام محضاورجبکہ دین بھی روپے تھے اورکرایہ کہ لیاگیا وہ بھی روپے ہیں بسبب اتحاد جنس مقاصد ہوگیا یعنی جس قدر زر کرایہ عمرو کووصول ہوا دین میں مجراہوگا اصل زر ہن میں اس مجرائی کے بعد جو باقی ہے اسی قدر کا مطالبہ عمروکو حلال ہے زیادہ حرام ہے اورجائداد ہنوزکامل مرہون ہوئی ہی نہیں چھوڑنا نہ چھوڑنا کچھ معنی نہیں رکھتازید کو اختیارہے کہ بے ادائے بقیہ زر دین اپناقبضہ جائداد پررکھے عمروصرف اپنے بقیہ دین کا مطالبہ کرسکے گا جائداد کے قبضہ پر جبرکااسے کوئی اختیارنہیںبیع تویوں باطل محض ہے کہ ایك شرط پر معلق کی گئی اوربیع قابل تعلیق نہیں۔اشباہ میں ہے:
#3292 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
تعلیق التملیکات بالشرط باطل کالبیع والشراء۔ تملیك والے معاملات کوشرط کے ساتھ معلق کرنا باطل ہے جیسے بیع اورشراء۔(ت)
اورہن یوں بے معنی ہے کہ وہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
قال اﷲ تعالی ""۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تورہن ہو قبضہ میں لیاہوا۔(ت)
قدوری میں ہے:
الرھن یتم بالقبض۔ رہن کی تکمیل قبضہ سے ہوتی ہے۔(ت)
اورجب رہن ہنوزتام نہیں ہوا تومرتہن کوتحصیل قبضہ پرجبرنہیں پہنچتانہ بے اذن راہن قبضہ کرسکتاہے۔عالمگیری میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی فی کتاب الرھن لایجوز الرھن الا مقبوضا کذا فی المحیط و شرط صحۃ القبض ان یاذن الراھن فان قبض بغیراذن الراھن لم یجز قبضہ۔ (مختصرا) امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے کتاب الرھن میں فرمایا قبضہ کے بغیررہن جائزنہیںمحیط میں یوں ہےاورقبضہ صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتو اس کا قبضہ جائزنہ ہوامختصرا۔(ت)
راہن کواختیارہے کہ بے ادائے دین اپناقبضہ رکھے۔عنایہ میں ہے:
ان قبضہ المرتھن علی ھذا الوجہ تم العقد ولزم وان لم یقبضہ فان الراھن بالخیار بین التسلیم اگرمرتہن نے مرہون پررہن کی بناپرقبضہ کرلیاتو عقد تام اور لازم ہوگاورنہ راہن کو سونپنے اورنہ سونپنے کااختیار
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الشرط ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۳€
القدوری کتاب الرھن ∞مطبع مجیدی کانپور ص۱۰۰€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۳€
#3293 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
وعدمہ ۔ ہوگا۔(ت)
یہاں کہ تمام اشیائے مرہونہ یاقبضہ مستاجران میں تھیں یاقبضہ خود مالك مکان میں اوربعد رہن بھی مالك ومستاجران ہی کا قبضہ رہا تومرتہن کاقبضہ متحقق نہ ہوا اور رہن بے اثروبے معنی رہا جوکچھ زرکرایہ عمرونے وصول کیا محض ناحق تھا اور اصل دین میں مجراہوکرصرف باقی زراصل کا اس کو مطالبہ جائزرہا۔عقودالدریہ میں ہے:
رھن زید دارہ عند عمروبدین ثم اجر عمرو الدار من زید مدۃ معلومۃ باجرۃ معلومۃ قبضھا من زید فالاجرۃ باطلۃ فلیرجع زید بمادفع ان لم یکن من جنس الدین وان کان من جنسہ تقع المقاصۃ۔ زیدنے اپناگھر قرض کے عوض عمروکے پاس رہن رکھا پھرعمرونے وہی گھر معین مدت کے لئے معین اجرت کے بدلے میں زیدکوبطوراجارہ دے دیا اورزید سے اجرت وصول کری تو وہ اجرت باطل ہے۔زیدکوچاہئے کہ جوکچھ اس نے دیا وہ اس سے واپس لے اگروہ دین کی جنس سے نہیں ہے۔ اور اگروہ دین کی جنس سے ہے تو وہ قرض میں مجراہوگا۔(ت)
اوربالفرض اگریہ خیال قابل تقسیم ہوسکے کہ زید کاکرایہ داروں اورعمرو کاسامنا کرادینا اور ان سب کی اس پرتراضی گویااس کی مفید ہوئی کہ آج سے عقد اجارہ کہ زیدومستاجران میں تھا بتراضی فریقین منتہی ہوکرعمرو ومستاجرین میں باذن زید عقد اجارہ منعقد ہوا اور اسی قدرکو قبضہ مرتہن فرض کرلیاجائے تواب بھی ہماں آتش درکاسہ(وہ سب کچھ کاسہ میں رہا۔ت)کا مضمون ہوگا مرتہن جب باذن راہن شیئ مرہون کسی شخص ثالث کوبطوراجارہ دے رہن فورا باطل ہوجاتاہے اوراجرت کامالك خاص راہن قرارپاتاہے تومرتہن نے جوکچھ لیا غصب تھا دین سے مجراہوکر صرف باقی زراصل کااسے مطالبہ پہنچے گا اورجائداد اس کی رہن سے نکل گئی باقی لے کر چھوڑنا کیامعنی۔ہندیہ میں ہے:
لوآجر واحد منھما(ای من الراھن والمرتھن)باذن اگران دونوں(راہن ومرتہن)میں سے کسی ایك نے دوسرے کی اجازت سے مرہون شیئ
حوالہ / References العنایۃ علی الہدایۃ علٰی ھامش فتح القدیر کتاب الرھن ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۹/ ۷€۰
العقودالدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۲۵۴€
#3294 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
صاحبہ اوبغیر اذنہ ثم اجاز صاحبہ صحت الاجارۃ و بطل الرھن فتکون الاجرۃ للراھنوکذلك لو استاجرہ المرتھن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جددالقبض للاجارۃ ھکذا فی شرح الطحاوی ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اجرت پر دے دی یادوسرے کی اجازت کے بغیردی پھر دوسرے نے اس کی اجازت دے دی تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اوراجرت راہن کے لئے ہوگی اوریونہی اگر مرتہن نے مرہون کو اجارہ پرلے لیا اجارہ صحیح اوررہن باطل ہوگیا جبکہ اجارہ کے لئے نیاقبضہ پایاگیا یونہی شرح الطحاوی میں ہے۔اوراﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۶۱: ازمقام قصبہ بلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سیدمحمد تجمل حسین صاحب ڈاکٹر
مخدوم ومکرم بندہ حضرت مولوی احمدرضاخاں صاحب بعد سلام علیك کے التماس ہے کہ میں نے ایك مکان رہن یاقبضہ لیا تین سو روپے پراوریہ مکان اوردکان ایك ہندوکا ہے اوراسی شخص نے پھرمجھ سے یہ مکان دکان تین روپے مہینے پرکرائے پرلے لیا ہے میعاد دوسال کی ہے مگرشرط یہ بھی دستاویز مذکورمیں ہے کہ اگراندردوسال کے مکان دکان نہ چھڑاسکے تورہن نامہ بجائے بیعنامہ کے سمجھاجائے مجھ کو یہ علم نہ تھا کہ یہ فعل ناجائزہے اوربراہ بندہ نوازی اس مسئلہ سے مطلع فرمائیے کہ جوکرایہ نامہ میں نے لکھا ہے وہ روپے لوں یا نہ لوں جائزہے لینا یانہیںاوروہ روپیہ کسی غریب یاکسی حاجتمند کودیاجاسکتاہے یعنی کسی کام میں یہ روپیہ کرایہ کاصرف ہوسکتاہے یانہیں اگریہ روپیہ کسی کام میں آسکتاہے توخیراوراگرکسی کام میں نہیں آسکتا تواتنے روپے کو کیاکیاجائے یاجس کے یہ روپیہ ملے اسی کو واپس کیاجائے جواب صاف مرحمت ہو۔ایك شخص مجھ سے کہتاہے کہ اگریہ روپیہ ناجائزہے اورآپ اپنے صرف میں نہیں لاسکتے ہیں تومیں قرضدارہوں جس کی ادامیرے امکان سے باہرہے مجھ کو دے دیجئے کہ میں قرضہ اداکروں۔
الجواب:
سیدصاحب سلمہ فی الواقع رہن دخلی بھی سودہے اورشیئ مرہون کاراہن کوکرایہ پر دینااوراس سے کرایہ لینابھی سودہے اور سود لینا حرام مگر جب کہ وہ شخص ہندوہے اگراس نے کسی مسلمان سے سودلیاہوتواس سے یہ رقم نہ بہ نیت سود بلکہ اس نیت سے کہ اس نے
حوالہ / References الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۶۔۴۶۷€
#3295 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
جوناجائزرقم لی تھی وہ اس مسلمان کی اس پرشرع کی روسے آتی ہوئی وصول کرکے مستحق کوپہنچاتاہوں لیناجائزہے۔اوراگریہ اندیشہ ہوتاکہ لوگوں میں سودخواری سے نام مشہورہوگا اورجس طرح براکام براہے برانام بھی پسندیدہ نہیں تویہ جوازخالص بلا کراہت ہوتا یونہی یہ بھی کہ سودکی نیت نہ کی جاتی بلکہ ایك نامسلم غیرذمی کامال طریق جائزقانونی سے لے کر اس محتاج مدیون مسلمان کی مدد کرتے جو آپ سے استمداد کررہاہے اورمساکین مسلمین کے صرف میں لاتے کوئی حرج نہ رکھتا غرض ان نیتوں کے ساتھ حرام نہیں برے نام کے سبب بچناچاہئے فقطواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۲۶۳: ازدھاروپور مرسلہ جناب فوجدارخاں صاحب ۱۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ
علمائے دین واتباع شرع متین کیافرماتے ہیں ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی اہل ہنود کی حقیت اگرچہ رہن دخلی رکھی جائے اوراس کی مالگزاری سرکاری سال بہ سال بموجب بندوبست سرکاری سرکارکواداکی جائے تواس کامنافع جوکچھ اراضی میں ہوگا وہ سود میں شمارکیاجائے گا یانہیں یاکیاحکم ہے
(۲)اگرکسی اسامی دخیل کارکی اراضی موروثی چندسال معین کے لئے رہن رکھی جائے اوراس اراضی مرہونہ کالگان زمین دار کو رہن دارسال بسال اداکرے تو اس اراضی کے کاشت کرنے سے جوکچھ منافع ہوگا اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)ہندو کی حقیت رہن دخلی لینا اوراس سے منافع حاصل کرنا کوئی حرج نہیں مگرشرط یہ ہے کہ اپنے قرض پرنفع لینے یاسود کی نیت نہ کرے بلکہ یہ کہ ہندوکی رضامندی سے اس کے مال پرقبضہ جائزہے اوراس مباح سے نفع حاصل کیاجاتاہے
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بے شك عملوں کادارومدار نیتوں پرہوتاہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)دخیل کار زمین موروثی کاشرعا مالك نہیں ہوتا اس پرقبضہ کے بعد اصل مالك یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دارکوتامدت رہن اداکرتا رہے
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
#3296 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ دخیل کارکوہم نے قرض دیا ہے اوراس کی ملك رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے لیتے ہیں کہ یہ نیت غلط وباطل ہے اورقصدگناہ سے گناہگارہوگا بلکہ یہی نیت کرے کہ زمین زمین دار کی ہے دخیل کار سے اتنے دنوں کے لئے مل گئی ہے اورہم نے مالك سے اجازت لے کر کاشت کی ہے لہذاہم کواپنی کاشت کانفع حلال ہے اس میں حکم یکساں ہے خواہ وہ دخیل کارمسلمان ہویاہندو
لانہ رھن ملك غیرہ فالمالك ان لم یقع منہ اجازۃ الرھن واذن لھذا فی الزرع بالاجر المعھود فھذہ اجارۃنافذۃ وقدکان الرھن موقوفا علی اجازتہ وکل موقوف طرأ علیہ بات بطل وان فرض انہ اجاز الرھن ولودلالۃ فالرھن الی اجل فاسدوالفاسد واجب الفسخ ویستبد بہ کل منھما فلما آجر من ھذا بطل الرھن لان الرھن والاجارۃ متنافیان لایجتمعان کما صرحوا بہواﷲ تعالی اعلم۔



قال فی ردالمحتار فی مسئلۃ من اعارلیرھن افتی فی الحامدیۃ فیما لوقید العاریۃ بمدۃ معلومۃ اس لئے کہ یہ ملك غیرکارہن ہےچنانچہ مالك نے اگررہن کی اجازت نہ دی اورمرہون زمین میں معین اجرت کے بدلے کاشت کی اجازت دے دی تویہ اجارہ نافذ ہوگا۔ اور تحقیق رہن اس کی اجازت پرموقوف تھا اورہر موقوف جب اس پرقطعیت طاری ہوتو وہ باطل ہوجاتاہے اوراگرفرض کرلیاجائے کہ اس نے رہن کی اجازت دی اگرچہ بطور دلالت ہوتو یہ ایك مدت تك رہن ہواجوکہ فاسد ہےاورفاسد کافسخ واجب ہوتا ہے۔عاقدین میں سے ہرایك اس کو فسخ کرنے میں مستقل ہوتاہے کہ جب مالك نے اس کواجارہ پردے دیا تورہن باطل ہوگیا کیونکہ رہن اوراجارہ آپس میں متنافی ہیں جوجمع نہیں ہوسکتے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی۔ اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
رد المحتارمیں اس شخص کے بارے میں کہاجس نے کوئی شئے بطورعاریت دی تاکہ اسے رہن رکھے۔حامدیہ میں فتوی دیا ہے کہ اگر عاریت کومعین مدت کے ساتھ مقید کیا ہے
#3297 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
ومضت المدۃ بان للمعیر اخذھا من المستعیر قال وبہ افتی فی الخیریۃ والاسمعیلیۃ ومثلہ فی فتوی ابن نجیم قائلاولیس لہ مطالبتہ بالرھن قبل مضی المدۃ فاذا مضت وامتنع من خلاصہ من المرتھن اجبر علیہ اھ اقول:ولایخالفہ مافی الذخیرۃ استعارہ لیرھنہ بدینہ فرھنہ بمائۃ الی سنۃ فللمعیر طلبہ منہ وان اعلمہ انہ یرھنہ الی سنۃ اھ لان الرھن ھنا فاسدلتأجیلہ کما مروکلامنا فی تاجیل العاریۃ تأمل اھ واﷲ تعالی اعلم۔ اور وہ مدت گزرچکی ہے تو معیر اس کو مستعیر سے لے سکتا ہے۔فرمایااسی کے ساتھ خیریہ اوراسمعیلیہ میں فتوی دیاہے اوراسی کی مثل فتاوی ابن نجیم میں ہے کہ معیر کو مدت گزرنے سے پہلے رہن کے مطالبہ کااختیارنہیں اور جب مدت گزرجائے اور وہ مرتہن سے عاریت والی شیئ چھڑانے سے انکاری ہو تو اس پرجبرکیاجائےاھ میں کہتاہوں یہ اس کے مخالف نہیں جو کچھ ذخیرہ میں ہے۔مستعیر نے اس لئے عاریت پرلیاکہ وہ اس شیئ کواپنے قرض کے بدلے رہن رکھے گا چنانچہ اس نے اس شیئ کو سوروپے کے بدلے میں ایك سال تك کے لئے رہن رکھاتومعیراس کامطالبہ کرسکتاہے اگرچہ مستعیر نے اسے بتادیاہوکہ وہ سال تك رہن رکھے گا کیونکہ رہن یہاں مدت مقررکرنے کی وجہ سے فاسد ہے جیساکہ گزرگیا۔اورہماراکلام عاریت کی مدت مقررکرنے میں ہے غوکرواھ اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۶۴: ازملك کاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسی خان محمد ۸جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
(نوٹ)ادھارخریدا اوراطمینان کے لئے پاس زیور رہن رکھاجائزہے یانہیں
الجواب:
جائزہے۔پھراگرزیورمرتہن کے پاس تلف ہوجائے تو اگرجنس کے بدلے رہن تھا مثلا نوٹ روپوں کوخریدا اورچاندی کا زیور رہن رکھایااشرفیوں کو مول لیااورسونے کازیور گروی کیا جب تو اس کاوزن معتبرہوگااوراگرخلاف جنس کے بدلے رہن تھا مگر نوٹ روپوں کوخریدا اورسونے کا زیور رہن رکھا یااشرفیوں کومول لیااورچاندی کازیور گروکیاتوزیور کی قیمت معتبرہوگی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۔۳۳۰€
#3298 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مثلا نوٹ سوروپے کومول لیااورچاندی کازیورکہ وزن میں سوروپے بھراورقیمت میں دوسوروپے کاتھا رہن رکھااور وہ جاتارہا تو برابرہوگئے کہ وزن یکساں تھا اوراگرپچاس روپے بھر کازیور رہن کیا جوقیمت میں سوروپے کاتھا اورتلف ہوگیاتودین میں سے صرف پچاس ساقط ہوئے کہ یہاں قیمت میں سوروپے کاتھا رہن رکھا اور وہ ہلاك ہوگیاتوبرابر ہوگئے دین ساقط ہوگیاکہ یہاں قیمت کااعتبارہےدرمختار میں ہے:
صح رھن الحجرین والمکیل والموزون فان رھن بخلاف جنسہ ھلك بقیمتہ وھو ظاھر وان بحنسہ ھلك ھلك بمثلہ وزنا اوکیلا لاقیمۃ ولاعبرۃ بالجودۃ عند المقابلۃ بالجنس ثم ان تساویا فظاھر وان الدین ازید فالزائد فی ذمۃ الراھن وان الرھن ازید فالزائد امانۃدرر وصدرالشریعۃ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ اورصحیح ہے رہن رکھناسونےچاندی اور کیلی ووزنی چیزوں کا۔ اگراس نے مذکورہ چیزوں کو ان کی جنس کے خلاف کے عوض رہن رکھااور مرھون ہلاك ہوگیاوہ قیمت کے ساتھ ہلاك ہوا اوریہ ظاہرہے۔اوراگرمذکورہ چیزیں انکی جنس کے مقابل رہن رکھیں اور مرھون ہلاك ہوگیاتو وہ اپنی مثل قرض کے مقابل ہلاك ہوگا باعتبار وزن یاکیل کے نہ کہ باعتبار قیمت کے۔ اورجنس کے ساتھ مقابلہ کے وقت مرھون کے کھرے ہونے کاکوئی اعتبارنہیں۔پھراگرقرض اورمرہون برابرہیں توظاہر ہےاوراگرقرض زائد ہے تو وہ زائد راھن کے ذمے ہوگا۔اور اگرمرھون زائدہے تو وہ زائد امانت ہوگادرر وصدر الشریعۃ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۵: حیدرآباد دکن محلہ قاضی پورہ دفتر قادری تفسیر مرسلہ جناب مولوی سیدعبدالجبار صاحب سلمہ ۱۰شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکرسے زیدنے مکان رہن لیا اوراب زید اس مکان کے کرایہ سے یاخودرہ کرمنتفع ہوناچاہتاہے آیا درست و جائزہے یانہیں زیدکابیان ہے کہ کچھ خفیف ترمیم یاآہك پاشی میں اپنی ذات سے کرلیتاہوں اس صور ت میں کیاانتفاع جائزہوسکتاہے بینواتوجروا۔
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الرھن باب مایجوز ارتہانہ الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۰€
#3299 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الجواب:
مرتہن کو رہن سے کسی طرح کاانتفاع جائزنہیںنہ رہ کر نہ کرایہ پرسب حرام اورسودہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربورواہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔اس کو حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کیا۔(ت)
یہاں جوانتفاع ہوت اہے معروف ومعہود ہے اور معروف مشروط اورمشروط بالاجماع حرام اوروہ یقینا روپے کے دباؤ سے ہوتاہے تویہاں اذن راہن کی صورت متحقق نہیں اگرچہ حیلہ باطلہ کے طورپراس کانام کرلیا ہے کہ انتفاع بالاذن کے یہ معنی ہیں کہ نہ اس کی شرط ہو نہ اس پراصرار بلاشرط اگرراہن بطورخود مثلا کسی وقت سکونت کی اجازت دے توصرف اس کے اذن کی بنا پر رہناچاہئے اوراس میں اپنے کو ہروقت اس کے اذن کامحتاج جانے یہاں تك کہ وہ اس وقت کہہ دے کہ باہرنکل جاؤ تو وہ فورا بلا عذر چلاجائے یا اس نے اجازت دی اورنہ اسباب لایا ایك قدم دروازے کے اندر اورایك باہر ہے کہ راہن نے کہہ دیامجھے منظور نہیں توفورا قدم باہرنکال لے یہ صورت اذن راہن کی ہے مگرحاشا اس کاوجود کہاں بلکہ بالیقین بزوررہتے ہیں اورتا ادائے دین راہن ہرگزنہیں منع کرسکتا ہے اور منع کرے تو ہرگزنہیں مانتے۔لاجرم حکم مطلقاتحریم ہے۔طحطاوی علی الدر المختارپھر رد المحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انہم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع انتھی۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن دیتے وقت نفع حاصل کرنے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ وہ قرض کے لئے درھم ہی نہ دیں گے۔اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔انتہی(ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
#3300 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
آہك پاشی وغیرہ کاحیلہ مفیدنہیں کہ اگراسے اجرت ٹھہرائیں تو اول تورہن واجارہ دو عقدمتنافی ہیں جمع نہیں ہوسکتے اوررہن چھوڑکر اجارہ مانیں تواجرت مجہول ہے اورایسااجارہ حرام اورعاقدین گنہگار اوردونوں پر اس کافسخ واجباور وہ نہ کریں توحاکم پر لازم کہ جبرا فسخ کردے دفعا للمعصیۃ کما فی الدرالمختار وغیرہ(معصیت سے بچتے ہوئے جیساکہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶: ازبھڑوچ مسئولہ محمدعبدالرشید خاں صاحب ۱۹محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس عمرونے باغ وزمین گرورکھا چندعرصہ میں عمرومع آل اولاد مرگیا اب اس کے باغ وزمین کاواپس لینے والاکوئی نہ رہا وہ باغ وزمین زیدہی کے پاس ہےاب اگرزید اس باغ و زمین کی آمدنی کے روپے سے خیرات وحج کرے توازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں
الجواب:
اگروہ باغ وزمین اس کے روپے سے جو اس نے راہن کردیاتھا زیادہ قیمت کی ہوں جیساکہ اکثراشیاء مرہونہ میں یہی ہوتاہے تو یہ اس سب کامالك نہیں ہوسکتا بقدراپنے روپے کے لے سکتاہے باقی فقرائے مسلمین کاحصہ ہے جبکہ فی الواقع مالك کاکوئی وارث نہ رہا ہو جس قدراس کاحصہ ہے اس سے حج کرسکتاہے اورتصدق سب کاممکن ہے اپنے حصہ کا باختیار خوداورحصہ فقراء اس طرح کہ وہ انہیں کامال ہے اوراگر اس کی مالیت اس کے روپے سے کم یابرابر ہو تو اس سب کو اپنے دین میں سے لے سکتاہے
علی مانقل الفتوی علیہ فی ردالمحتار ان فی زماننا اخذ حقہ من خلاف جنسہ۔ جیساکہ اس پرفتوی منقول ہے۔ردالمحتارمیں ہے کہ ہمارے زمانے میں اس کو خلاف جنس سے اپناحق وصول کرنے کا اختیارہے۔(ت)
اس وقت اس سے حج وتصدق کاجواز خود ظاہرہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب السرقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۰۰،€ردالمحتار کتاب الحجر∞۴/ ۹۵€ وکتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞۴/ ۲۷۱€
#3301 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۶۷: ازقصبہ دوکانہ خاص پاڑھم ضلع مین پوری مرسلہ حکیم ظہورالدین صاحب ۱۷ربیع الآخر۱۳۱۰ھ
جناب فضیلت مآب فیض اکتساب دام اقبالکمبعد سلام علیکم آنکہ مژدہ صحتوری مزاج کامدام دعاگو درجواب باصواب کاآپ کے اسلامی معاملات شہرہ ویکتائے آفاق ہے منتظر مثل ماہی بے آب ہوں۔
یہ مسئلہ بذریعہ سوال مندرجہ ذیل صدرکے بجواب مندرجہ تحت کہ جس کے نقل منسلك ہذا ہے آنجناب نے عرصہ گزرا کہ حل فرمایاتھا تو۴بسوہ ۳ سوانسہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ مال غصب اس وقت معلق تھا کہ بعدہ جس کادعوی ورثائے شخص کو ثالث نے باستحقاق مستحقہ مجوزہ عدالت بابت دخلیابی بانفکاك الرہن وزیرعدالت کہ جو ۱۳مئی ۱۸۹۱ء کو بعارض تمادی قانون انگریزی ڈسمس ہواتواب جوورثاء راہنہ کو جو ۱۶سوانسہ ۱۳کچوانسہ اورایك ثلث کچوانسہ اورمنجملہ پانچ بسوہ رہن کردہ مذکورہ کی پاچکے ہیں اس ۴بسوہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ ملکیت مال معلق کو فك الرہن کرادیں تواب بھی ہوسکتاہے یاکہ بوجہ اس کے ورثائے شخص ثالث مستحقہ کادعوی ڈسمس ہونے سے قائم مقام مرتہن شرعا مالك اصل ہوگیا اورورثہ راہنہ غاصبہ کوانفکاك الرہن کاکوئی حق باقی نہ رہا اوراگرشرعا استحقاق ہے تو اب بصورت استحقاق ورثہ راہنہ فك الرہن کرادیں تو اصل مالك یہ بھی رہے گی یاکہ ورثائے شخص ثالث کو استحقاق پھربھی ورثہ راہنہ پرپہنچانے کا رہے گا یاکہ کوئی حق ورثائے ثالث کا اب بوجہ اس کے اس کا دعوی ڈسمس ہوچکاہے نہیں رہا امید کہ جیسی صورت شرعا ہوبجواب مفصل صاف بحوالہ کتب بواسطے خداورسول جوابا ارقام فرماکر معززممتازفرمائیںوالسلام
الجواب:
اٹھارہواں سال ہے کہ ذی القعدہ ۱۳۱۳ھ میں یہ مسئلہ یہاں سے لکھاگیاوہی جواب اس کا اب بھ ہے جو جب تھا حق انفکاك وارثان راہنہ کو ہے ادائے دین مرتہن راہنہ ہی کے ترکہ سے ہوگا جزء معلق کی نسبت اگرثابت یاوارثان راہنہ کومعلوم ہے کہ وہ شخص ثالث کا ہے تو ان پرفرض ہے کہ بعد انفکاك وارثان ثالث کوپہنچادیں شرع مطہر میں تمادی سے حق نہیں جاتا جوہرہ نیرہ کتاب الطلاق باب اللعانپھراشباہ والنظائر فن ثانی کتاب القضاء والشہادت والدعاوی میں ہے:
#3302 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الحق لایسقط بتقادم الزمان قذفا اوقصاصا اولعانا او حقا لعبد۔ حق زیادہ زمانہ گزرجانے کے سبب سے ساقط نہیں ہوتاچاہے قذف ہو یاقصاص ہویالعان ہو یاحق عبد ہو۔(ت)
اوراگرنہ ان کو معلوم نہ کوئی ثبوت تو وہ جز بھی ملك راہنہ سمجھاجائے گا جو اس پرقابض تھی اورجس نے بدعوی مالکانہ اس کو رہن کیا لان القبض دلیل الملک(کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل ہے۔ت)اس صورت میں وہ خودوارثان راہنہ کا ہے بہرحال وارثان مرتہن کاکسی طرح نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸: ازلکھنؤ نئی سڑك جوتابازار نخاس مرسلہ حاجی قدرت اﷲ خاں تاجر جفت پاپوش ۵جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
استفتاء مزید(یعنی نسبت مسئلہ آمدہ ازکانپور ۳صفر۱۳۲۶ھ)
واقعات مندرجہ استفتاء سابق میں لکھاہے(بعدا س زمین کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ عمرومرتہن کو دیا کریں)اس کی نسبت عمرومرتہن نے ظاہرکیاہے کہ صحیح واقعہ اس طرح ہے کہ بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایك ماہ کے بعد راہن نے کرایہ داروں سے کہاکہ کرایہ عمرومرتہن کودیاکریںاگریہ صحیح واقعہ استفتاء میں تحریرہوتا توفتوی یہ ہوتاکہ شرعا بیع صحیح ہوگئی اورکرایہ وصول شدہ ملك مرتہن ہے۔لہذا حضرات علمائے کرام مدظلہم العالی کی خدمت والا میں بکمال ادب گزارش کہ عبارت استفتاء منسبلکہ(بعد اس رہن کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیاکریں) عبارت صحیح یہ ہے کہ(بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایك ماہ کے بعد کرایہ داروں سے راہن نے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیا کریں)پس اس تصحیح واقعہ وتبدیل عبارت کے بعد احکام مندرجہ فتوی میں کیاتبدیلی ہوگیاور کیا اس صورت میں جائداد بیع ہو جائے گی اورکرایہ وصول شدہ ملك مرتہن ہوگابملاحظہ حالات مندرجہ استفتاء سابق وتصحیح واقعہ مندرجہ استفسار مزیدہذا وفتوی منسلکہ جواب بحوالہ کتب عطاہو۔
حوالہ / References الاشباہ والنظائر بحوالہ الجوہرۃ النیرہ،الفن الثانی،کتاب القضاء والشہادت الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۵۳€
#3303 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الجواب:
اس تبدیلی سے ایك تغیرضرورہوا سوال سابق میں اگرعبارت یوں صاف مصرح ہوتی تو جواب میں بہت تخفیف رہتیعبارت اولی سے ظاہریہ تھاکہ رہن کے بعد ہی راہن نے کرایہ داروں سے ایساکہہ دیااورجب کہ یہ شرط رہن نامہ نہ تھا کہ اس میں حصول بیع وملك مرتہن انقضاء میعاد ایك ماہ وعدم فك رہن پرمشروط تھا پیش ازمیعاد رہن کے اس کہہ دینے سے ناواقف کو وہم ہوسکتاتھا کہ راہن نے کرایہ داروں سے اپنااجارہ فسخ کرکے مرتہن سے اجارہ کرادیا اورگویا اس طرح رہن پرمرتہن کاقبضہ ہوگیا جس کے دفع کوفتوائے سابقہ میں وہ تقدیرلکھی گئی نیزیہ وہم ہوسکتاتھا کہ جب کہ اجازت قبل میعاد بربنائے شرط نہیں تو یہ راہن کامرتہن کومحض احسانا بلاشرط اپنی طرف سے منافع مرہون کی اجازت دیناہواتووہ کرایہ حق مرتہن میں حلال ہونا چاہئے۔تنویرالابصارمیں ہے:
لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا الاباذن۔ مرتہن کومرہون کے روك رکھنے کااختیار ہے نہ کہ اس سے کسی قسم کانفع حاصل کرنے کاسوائے اس کے کہ راہن اس کو اجازت دے دے۔(ت)
جواہرالفتاوی پھرمنح الغفار پھرردالمحتارمیں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ وھو ربا والالا باس۔ اگرمرہون سے نفع اٹھانے کی شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہو گیا جس میں منفعت ہے اور وہ سودہے۔اوراگرشرط نہیں لگائی گئی توکوئی حرج نہیں۔(ت)
اور اس جواب کی حاجت ہوتی جسے ہم نے اپنے فتاوی میں منقح کیا جس کاخلاصہ یہ کہ محض بروجہ تبرع واحسان اجازت انتفاع یہاں لفظ بے معنی واسم بے مسمی ہے یقینا قرض ہی کے دباؤ سے اجازت ہوتی ہے مرتہن اسے اپناحق سمجھتے ہیں اور معروف مثل مشروط ہے تو وہ
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۶€
ردالمحتار بحوالہ الجواھر کتاب الرہن داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
#3304 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
خالص ربا ہی ہے۔ طحطاوی علی الدرالمختارپھرردالمحتارمیں ہے:
والغالب من احوال الناس انھم یریدون عندالدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن رکھتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ قرض پر درہم ہی نہ دیں گےاوریہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہوتاہے اور وہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
نیز یہ وہم ہوسکتاتھا کہ شرعا بوجہ تعلیق وعدم قبضہ نہ یہاں بیع ہوئی نہ رہن تمام اوریہ اجازت پیش ازمیعاد اس قرارداد پرمبنی نہیں کہ کہاجائے جب وہ عقد باطل ہوا یہ اجازت بھی باطل ہوگئی اذا بطل المتضمن بطل المتضمن(جب متضمن باطل ہوگیا تو متضمن بھی باطل ہوگیا۔ت)بلکہ یہ ایك اجازت مستقلہ ہے تواپناعمل کرے گی لصدورھا عن اھلھا فی محلھا(اس لئے کہ یہ اپنے اہل سے اپنے محل میں صادرہوئی۔ت)اورجواب کی حاجت ہوتی ہے کہ رہن نہ سہی قرض تو ہے اوراسی کی وجہ سے یہ اجازت ہے ورنہ راہ چلنے کے لئے کہہ دیتاکہ میری تمام مکانات دکانات کاکرایہ آج سے فلاں کودیاکرو اورخود اپنے مکان سکونت کاکرایہ دینا اس پردلیل قاطع ہے تواجازت اگرچہ مستقلہ ہے اجازت حرام وربا ہے اور ربا ہندہ کی اجازت سے حلال نہیں ہو سکتاہے۔ حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو قرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔اس کو حارث بن ابی اسامہ نے بروایت امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیاہے۔(ت)
امام عبداﷲ ابن محمد ابن اسلم سمرقندی نے فرمایا:
اذن لہ فی الربا لانہ یستوفی راہن کامرتہن کومرہون سے نفع اٹھانے کی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3305 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
دینہ کاملا فتبقی لہ المنفعۃ فیکون ربا وھذا امر عظیم ۔ اجازت دینا سود کی اجازت ہے کیونکہ وہ اپنا قرض مکمل وصول کرتاہے تو اس کے لئے نفع باقی رہا جوکہ سودہوگیا اور یہ امرعظیم ہے۔(ت)
اس پراعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ فضل ربانہیں بلکہ فضل مستحق بالعقد اوریہ جبکہ پیش ازمیعاد ووقت قرارداد ہے مستحق بالعقد نہیں اورپھر اسی تنبیہ کی ضرورت ہوتی کہ:
المعھود عرفا کالمشروط لفظا۔ جوعرف میں معہود ہو وہ لفظوں میں مشروط کی مثل ہے۔(ت)
غرض اس عبارت سابقہ میں متعدد اوہام اوراس کے دفع کی مؤنت تھی اب کہ سوال میں آپ کی تصریح ہوگئی کہ حسب قرارداد وبعد مرورمیعاد اسی شرط کی بنا پر راہن نے یہ اجازت دی سب مؤنتیں اٹھ گئیں اورخود ہی ظاہرہوگیاکہ یہ اجازت اسی شرط باطل پرمبنی تھی اورباطل پرجوکچھ مبنی ہو باطل ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ما کان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل ان کان مائۃ شرطا فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق۔رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ عنہا۔ ان لوگوں کاکیاحال ہے جوایسی شرطیں لگاتے ہیں جوکتاب اﷲ میں نہیں ہیںجو شرط بھی کتاب اﷲ میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ سوشرطیں ہوں پس اﷲ کافیصلہ زیادہ حق والا ہے اور اﷲ کی شرط زیادہ مضبوط ہے۔اس کو شیخین نے ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
تو اس تبدیل سے احکام فتوائے سابقہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی بلکہ اوران کی تائید وتوکید ہوگئی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ عبداﷲ ابن محمدبن اسلم السمرقندی کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷،€صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان الولاء لمن اعتق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴€
#3306 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۶۹: ازمقام مذکور ۸جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ قبل اس کے دوعریضے خدمت اقدس میں روانہ کئے ہیں مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی افسرمدرس مدرسہ ندوہ کی رائے یہ معلوم ہوئی کہ وہ منافع جائداد مرہونہ ملك مرتہن بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عالمگیری میں ایك جزئیہ موجودہے الاأن یأذن الراھن(مگریہ کہ راہن اجازت دے دے۔ت)براہ دستگیری عاجز ان اس کے متعلق جوتحقیق صحیح حضوروالا کی رائے میں ہو اس سے آگاہ فرماکے سرفرازی بخشی جائے بعید بندہ نوازی سے نہ ہوگازیادہ حدادب۔عریضہ قدرت اﷲ خاں ازلکھنؤنئی سڑك جوتابازار۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآج چوتھا روزہے جواب فتوی حاضرکرچکاہوںغالبا اس کے وصول سے پہلے آپ نے یہ کارڈ لکھا۔اس فتوی میں اس وہم کے تین رد موجودہیں:
(۱)یہاں رہن ہی نہیں محض قرض ہے اورقرض پرنفع سوداورسودکسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔
(۲)اگررہن بھی مانیے تواجازت راہن جسے شرع اجازت مانتی ہے یہاں عنقا ہے ہرگز محض اس کی اجازت بروجہ احسان و تبرع کے طورپر نفع نہیں لیتے بلکہ دین کے دباؤ سے جس پر اس مرتہن کاراہن کودربارہ کرایہ نوٹس دیناشاہدہے احسان وغیرہ پر نوٹس نہیں ہوتا لاجرم اسے اپناحق سمجھا اوربالجبرحاصل کرناچاہاپھراجازت سے ہوناکیسا۔
(۳)ان سب سے قطع نظرہوتو جب سائل نے تصریح کردی کہ یہ اجازت بعد انقضائے میعاد بربنائے قراردادتھی توقطعا نفع کی شرط ہوگئی اوردین پرجونفع شرط کرلیاجائے بالاجماع رباوحرام قطعی ہے اسے بہ اجازت راہن لینانہیں کہہ سکتے بلکہ معاہدہ فاسدہ محرمہ۔
ولاحول ولاقوۃ الابالرب العلی العظیم وھو تعالی اعلم۔ بلندی وعظمت والے رب کی توفیق کے بغیر نہ توبچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
#3307 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۷۰: ازریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مرسلہ حامدعلی خاں صاحب ۱۸جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ازروئے شرع مبین اندریں مسئلہ کہ زیدبکرکامقروض ہے بکرنے زید پرعدالت میں دعوی دائرکرکے عدالت سے اپنے وصول کرلینے قرضہ کی ڈگری حاصل کی ہے زیدکوایك جائداد متروکہ عمرواپنے مورث اعلی سے منجملہ ۱۶سہام کے ۶سہام شرعا پہنچیجائدادمتروکہ عمرواس کی حیات سے منجانب عمروایك شخص کے پاس رہن دخلی ہے اورکوئی جائداد زیدکی سوائے سہام مذکورہ نہیں ہے جس سے وصول ڈگری ہوسکے اندریں صورت بکرحق وحصہ مرہونہ زیدبہ تحفظ حق مرتہنی بکرعدالت سے نیلام کراکر زرڈگری اپناوصول کرنے کامختارہے یانہیں اگرشے مرہونہ مذکورہ شرعا بغیرانفکاك نیلام نہیں ہوسکتی اورکیاصورت ہوسکتی ہے کہ بکراپنازرڈگری زید سے وصول کرسکے بکرمجبورا کل زررہن یافتنی مرتہن قابض عدالت میں داخل کرکے اور انفکاك کرکے حق وحصہ زیدجائداد مذکورہ سے نیلام کرادے اوربصورت مذکورہ بکر زر رہن اداکردہ خود کو دے کربکر حصہ داران شرکاء زید سے شرعا وصول کرنے کامختارہوگا یانہیںفقط
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہواکہ وہ جائداد گاؤں ہے اوراس کی زمین زمانہ عمروسے مزارعوں کواٹھی ہوئی ہے وہ اس پربدستور قابض رہے ان سے زمین نکالی نہ گئی اوراسی حالت پروہ گاؤں ایك شخص کے پاس دخلی رکھ دیااورواقعی یہاں پر یہی معمول ہے یوں ہی کرتے ہیں اجارہ مقدم ہوتاہے رہن مؤخر بلاتخلیہ مزارعین ہرگزنہ زمین سے دست بردارہوتے ہیں نہ اپنا عقد فسخ کرتے ہیں بلکہ اسی مقبوض فی اجارہ کو محض زبانی وکاغذی باتوں سے معا مقبوض فی الرہن تصورکرلیاجاتاہے حالانکہ شیئ واحد پر وقت واحد میں دوقبضہ مختلف واردنہیں ہوسکتے توحقیقۃ رہن بے قبضہ وبے اثررہتاہے اگرچہ براہ نادانی اسے زمین پرقبضہ ہونا سمجھیں اور رہن دخلی کہیںاعتبارحقائق کاہے نہ مزعومات عوام کالہذا اس صورت میں اصل حکم شرعی یہ ہےرہن سرے سے جائزہی نہیںنہ مرتہن کوجائداد میں کوئی حق کہ اورقرضخواہوں پرمقدم ہوحاکم زیدکوحکم دے کہ اپنے سہام بیچ کرڈگری اداکرے اگر وہ نہ مانے حاکم نیلام کردے اور حق مرتہنی کوئی نہیں جس کاتحفظ کیاجائے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
الواجب فی ذلك شرعا النظر فی اس میں شرعی طورپرواجب یہ ہے کہ دونوں
#3308 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کلا العقدین(الرھن والاجارۃ)فان کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر وکان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجر ومن سائر غرماء المیت وان کان مقبوضا فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر(ای الذی عجل الاجرۃ)احق من المرتھن ومن سائر الغرماء(حتی یستوفی الاجرۃ المعجلۃاھ در)وان خلا العقدان عن القبض کان جمیع الغرماء اسوۃ فیہ یتقاسمونہ بقدر حقوقھم وان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجزصاحب القبض العقد المتاخر لانفساخ السابق بالاجازۃ منہ اللعقد اللاحق وکل ھذہ الاحکام صرح بھا علمائنا الاعلام اھ مختصرا موضحا بزیادۃ مابین الاھلۃ۔ عقدوں یعنی رہن واجارہ میں نظرکی جائے۔اگراس گھرپرقبضہ بطوررہن ہے نہ کہ بطور اجارہ تووہ معتبرہوگا اورمرتہن مرہون کی مالیت کا مستاجر اورمیت کے دیگرقرضخواہوں سے بڑھ کرحقدارہوگااوراگرقبضہ بطوراجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تو کرایہ دار(جس نے پیشگی کرایہ اداکردیاہے)مرتہن اوردیگر قرضخواہوں سے بڑھ کر مرہون کی مالیت کاحقدارہوگا(یہاں تك کہ وہ پیشگی اداکیاہواکرایہ پوراوصول کرلےاھ در)اور اگردونوں عقد قبضہ سے خالی ہوں تو تمام قرضخواہ اس میں برابرہوں گے جواپنے اپنے حقوق کے مطابق اس کو تقسیم کریں گے۔اوراگردونوں عقدوں میں سے ہرایك کے ساتھ قبضہ متصل ہے توجو قبضہ تاریخ میں مقدم ہے اس کااعتبار کیاجائے گاجب تك سابق قبضہ والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے دے کیونکہ اس کی طرف بعد والے عقد کی اجازت کے باعث پہلا عقد فسخ ہوجائے گا۔ان تمام احکام کی ہمارے علماء کبارنے ایسی تصریح فرمائی جو مختصرمگرچاند سے بڑھ کرواضح ہے۔(ت)
اوراس کے سوا یہاں ایك اورنکتہ ہے رہن تو شرع میں نہیں ہوتا مگردخلیقال تعالی "" (اﷲ تعالی نے فرمایا:تورہن قبضہ میں کیاہوا۔ت)
حوالہ / References الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الرھن دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۹۲ و ۱۹۳€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۳€
#3309 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مگرعوام جسے رہن دخلی کہتے ہیں جس میں مرہون سے مرتہن کاانتفاع شرط ہوتاہے جیسے مکان رہن میں اس کا رہنا یادیہہ رہن کی توفیر لینایہ قطعا سوداورمحض حرام اورمردودہے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کردی۔ت)حدیث میں ہے:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے(ت)
جواھرالفتاوی میں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھو ربا۔ جب شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہوگیا جس میں منفعت ہے اور وہ سود ہے(ت)
اورازآنجا کہ مزارعوں سے عقد کرنے والا راہن ہی ہوا
لانہ العاقد والمنافع انما تتقوم بالعقد۔ کیونکہ عقد کرنے والا راہن ہے اورمنافع عقد کے ساتھ قائم ہوتے ہیں(ت)
تنویرمیں ہے:
ماھو بدل عن المنفعۃ کالکسب و الاجرۃ یکون للراھن۔ جومنفعت کابدل ہے جیسے کسب واجرت وہ راہن کا ہے۔(ت)
توراہن نے مرتہن نے اتنی توفیرپائی کہ اس کے تمام وکمال دین کے برابریازائدتھی اوردین وتوفیرایك جنس ہوں مثلا روپے قرض دئے تھے اورمزارعوں پربھی لگان میں روپیہ ہی دیاہے نہ بٹائی تومرتہن نے اپنادین وصول پالیا اور وہ چاہے یانہ چاہے مقاصہ ہوگیا یعنی یہ توفیر کہ اس نے لی غصبا تو اس قدرراہن کادین مرتہن پرلازم ہوا اورجبکہ یہ اس مقدار کوپہنچ گیا تھا جتنا اس کا دین راہن پرتھا دونوں کامعاوضہ ہوااتنی توفیر کا تاوان مرتہن پر سے جاتارہا اورمرتہن کادین راہن پرسے اترگیا اورجائداد رہن سے نکل گئی اب اسے اس پرکوئی حق ومطالبہ باقی نہیں ہے ڈگری داربلامزاحمت اپناحصہ زید سے وصول کرےاشباہ والنظائر
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
ردالمحتار بحوالہ الجواہر الفتاوٰی کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷€
#3310 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
میں ہے:
اخرالدینین قضاء للاول۔ دوقرضوں میں سے بعد والاپہلے کی ادائیگی ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
للزوج علیھا دین وطلبت النفقۃ لاتقع المقاصۃ بدین النفقۃ بلارضاء الزوج بخلاف سائر الدیون لان دین النفقۃ اضعف فصار کاختلاف الجنس فشابہ مااذاکان احدالحقین جیداوالاخرردیالاتقع التقاص بلاتراض۔ خاوندکابیوی پرقرض ہے اوربیوی نے نفقہ کامطالبہ کیاتوخاوند کی رضامندی کے بغیر قرض میں سے نفقہ کامجرانہیں ہوگا بخلاف دوسرے قرضوں کے کیونکہ نفقہ کاقرض ضعیف ہوتاہے تو وہ اختلاف جنس کی طرح ہوکر اس صورت کے مشابہ ہوگیا جس میں دو حقوں میں سے ایك جید اوردوسرا ردی ہوتا ہےجس میں باہمی رضامندی کے بغیر دونوں کو ایك دوسرے کابدلہ قرارنہیں دیاجاتا۔(ت)
اوراگرلگان روپے سے ہوا اور موت راہن تك مرتہن کی توفیر بقدراپنے دین کے نہ ملی اگرچہ ایك ہی روپیہ کم ہو تو اس صورت میں اگرچہ جائداد راہن سے نہ نکلی اور اسے حق حبس حاصل ہےدرمختارمیں ہے:
لایکلف من قضی بعض دینہ تسلیم بعض رھنہ حتی یقبض البقیۃ۔ جس مرتہن کابعض قرض ادا کردیاگیاہو اس کو بعض رہن راہن کے حوالے کرنے کا مکلف نہیں ٹھہرایاجائے گا جب تك وہ اپناباقی قرض وصول نہ کرلے۔(ت)
ولہذا وہ صورت کہ صرف بقدرسہم زیدادائے دین کرکے اتنے حصے کو فك کرالیں بے رضائے مرتہن ناممکن ہے اوربعد موت راہن جوتوفیرمرتہن لیتارہا اس سے مقاصہ نہ ہوگا کہ اب عاقد
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۴€۷
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۴۹€
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
#3311 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
خود مرتہن ہے توبعد کی توفیر کایہ خود ہی مالك ہوگا
لما قدمنا ان المنافع فی الاجارۃ وتتقوم الابالعقد فلایملکھا الا العاقد کائنا من کان۔ ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ منافع کاقیام عقد کے ساتھ ہی ہوتاہے لہذا سوائے عاقد کے چاہے وہ کوئی ہو مکان کامالك نہیں ہوتا۔(ت)
اگرچہ بوجہ ربا ملك خبیث وحرام ہے اوراس پر فرض ہے کہ یہ توفیر مالکان جائداد کو دے اوریہی بہترہے یاتصدق کردے کما حققناہ فی فتاوینا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگرازانجا کہ ملك حرام ہے اور اولی یہی ہے کہ مالکوں کو دے تومرتہن کے لئے خیریہی ہے کہ بعد موت راہن بھی اگرتوفیر بقدردین وصول ہوگئی جائداد سے دست بردار ہو۔ یونہی توفیر اگرروپیہ نہ تھی بلکہ بٹائی ہے تو اس کا غلہ بھی اگرموت راہن تك یا اس کے بعد آج تك اتناوصول ہوگیاکہ بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت دین کے برابر ہو جب بھی اس کے لئے بہتریہی ہے کہ اپنادین وصول سمجھے اورجائداد چھوڑدے بلکہ جتناروپیہ یاغلہ دین سے زائد آیا ہو مالکان جائداد کو واپس دے۔عقود الدریہ میں ہے:
یرد ما قبض علی المالك وھو الاولی ثم سئل أیلزم المسمی للمالك ام للعاقد فقال للعاقد ولایطیب لہ بل یردہ علی المالک۔ مرتہن نے جوکچھ قبضہ میں لیا ہے وہ مالك کو لوٹادے وہی اولی ہے۔پھرپوچھا گیاکہ مقررشدہ بدل مالك کے لئے لازم ہوگا یا عاقد کے لئے فرمایا عاقد کے لئے مگر وہ اس کے لئے اچھا انہیں بلکہ وہ مالك کو لوٹادے۔(ت)
وجیزکردری وغمزالعیون میں ہے:
اجر المرتھن الرھن من اجنبی بلااجازۃ الراھن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا کالغاصب اویردھا علی المالک۔ مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیر مرہون کو اجارہ پردے دیا تو آمدن مرتہن کے لئے ہوگی تو وہ غاصب کی طرح اس کو صدقہ کرے یا مالك کو لوٹادے۔(ت)
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۱۱۰€
غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر کتاب الرہن ادارۃ القرآن ∞کراچی۲/ ۱۳۔۱۱۲€
#3312 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
خیریہ میں ہے:
والثانی افضل لخروجہ من الخلاف۔ اختلاف سے نکلنے کے لئے دوسری صورت افضل ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ یہاں رہن تسلیم کرلیں ورنہ ہم ثابت کرچکے کہ سرے سے رہن جائزہی نہیں بہرحال ان صورتوں میں مرتہن کوکوئی مزاحمت پہنچتی ہی نہیں اوراگرابنائے زمانہ اسے نہ مانیں نہ مجوزین سے اس تجویز کی امیدہوکہ مدت سے نہ صرف کفاربلکہ دنیابھر کے عامہ حکام نے اپنے تراشیدہ قوانین باطلہ کے آگے شرع مطہر کے احکام حقہ عادلہ کو منسوخ سمجھ رکھا ہے توبکر فقط اتنادین کہ حصہ زید پر ہے اداکرکے اتنااستخلاص کرالےاوراگریہ ناممکن ہو جب تك کل دین ادا نہ کیاجائے تومرتہن کاسارا مطالبہ اداکرکے جمیع جائداد رہن سے چھڑا کراپنا دین حصہ زید سے وصول کرے اور جوکچھ اس میں سے مرتہن کودینا پڑے وہ تمام وکمال ورثاء عمرو سے وصول کرے کہ جو شخص دوسرے کادین بے اس کے کہے بطورخود اداکرے وہ اس وقت متبرع ٹھہرتاہے کہ اس کی ادا میں مضطرنہ ہو اورجسے بے اس کے چارہ کارنہ ہو وہ متبرع نہیں اور اسے اصل مدیون سے وصول کرنے کا اختیاردیاجاتاہے اوراپنے حق تك بے اس کے نہ پہنچ سکنے کی بھی صورت اضطرار ہے جیساکہ یہاں ہے۔در مختارمیں ہے:
اشتری اثنان شیئا وغاب واحد منھما فللحاضر دفع کل ثمنہ ویجبر البائع علی قبول الکل ودفع الکل للحاضر ولہ قبضہ وحبسہ عن شریکہ اذا حضر حتی ینقد شریکہ الثمن۔ دوشخصوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر ان میں سے ایك غائب ہوگیاتو جو حاضرہے اس کے لئے جائزہے کہ وہ کل ثمن اداکرے اوربائع کو کل ثمن وصول کرنے اور کل مبیع حاضر مشتری کےحوالے کرنے پر مجبورکیا جائے گا ۔اورحاضر مشتری کو حق حاصل ہے کہ وہ مبیع کو اپنے قبضہ میں لے کردوسرے شریك سے روك رکھے یہاں تك کہ وہ شریك سے اس کے ثمن وصول کرلے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃبیروت ∞۲/ ۱۲۵€
الدرالمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۱€
#3313 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
قولہ غاب واحد منھما قید بہ لان لوکان حاضرا یکون متبرعا بالاجماع لانہ لایکون مضطرا فی ایفاء الکل اذیمکنہ ان یخاصمہ الی القاضی فی ان ینقد حصتہ ولیقبض نصیبہ فتح ۔ ماتن کاقول کہ"دونوں میں سے ایك غائب ہوجائے"یہ قید اس لئے لگائی کہ اگر وہ حاضرہوتو کل ثمن اداکرنے والا بالاتفاق متبرع ہوگا کیونکہ وہ کل ثمنوں کی ادائیگی پرمجبور نہیں۔اس لئے کہ قاضی کے پاس مخاصمہ کرکے وہ اپنے حصے کے ثمن دے کر اپنے حصے کامبیع حاصل کرسکتاہے فتح۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
رھن الاب من مال طفلہ شیئا بدین علی نفسہ جاز ولوادرك الابن و مات الاب لیس للابن اخذہ قبل قضاء الدین ویرجع الابن فی مال الاب ان کان رھنہ لنفسہ لانہ مضطر کمعیرالرھن۔ باپ نے اپنے ذاتی قرض کے عوض اپنے بیٹے کی کوئی چیزرہن رکھ دی تو جائزہے اگربیٹا بالغ ہوگیا اورباپ مرگیا ہے توقرض کی ادائیگی سے پہلے بیٹا مرہون کولینے کاحقدار نہیں۔وہ بیٹاباپ کے مال میں رجوع کرے گا اگرباپ نے وہ چیز اپنی ذات کے لئے رہن رکھی ہوکیونکہ بیٹا اس میں مجبورہے جیسے رہن کو عاریت پردینے والا۔(ت)
ردالمحتارمسئلہ معیرمیں ہے:
لانہ یرید بذلك تخلیص ملکہ فھو مضطرالیہ ۔ کیونکہ اس عمل سے اس کامقصد اپنی ملکیت کی خلاصی کراناہے چنانچہ وہ اس میں مجبورہے۔(ت)
اورشرعا اگرچہ یہ مرتہن مرتہن نہ ہو یا اس کا دین بتمامہ توفیر سے اداہوگیا جس کے سبب
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۱۷€
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴€
ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۳۱€
#3314 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
اس کا مطالبہ شرعا باطل ہو مگرقانون زمانہ کے اعتبار سے اسے بے اس کے دئیے اپنے حق تك وصول ناممکن ہے تو ادامیں مضطرہوا اوررجوع کااختیارملا۔غرض مدارکاراضطرار پرہے نہ اس مطالبہ کے حق ہونے پردرمختارمیں ہے:
وکذا النوائب ولو بغیر حق کجبایات زماننا فانھا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقھا حتی لواخذت من الاکار فلہ الرجوع علی مالك الارض وعلیہ الفتوی ۔ یونہی شاہی ٹیکسوں کی کفالت صحیح ہے اگرچہ وہ ناحق ہوں جیسے ہمارے زمانے میں مظالم سلطانیہ کیونکہ وہ مطالبہ میں قرضوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدترہیں یہاں تك کہ اگر مزارع سے وہ مظالم وصول کئے گئے تووہ زمین کے مالك کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اسی پرفتوی ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی اخراجارات القنیۃ برمزظھیرالدین المرغینانی وغیرہ المستأجر اذا اخذ منہ الجبایۃ الراتبۃ علی الدور والحوانیت یرجع علی الاجر وکذا لاکار فی الارض وعلیہ الفتوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قنیہ کی کتاب الاجارات کے آخرمیں ہے ظہیرالدین مرغینانی وغیرہ نے ظاہرکیاہے کہ اگرکرایہ دار سے مروج ٹیکس جوکہ گھر اوردکانوں پرعائد ہے وصول کیاگیا تو وہ آجر کی طرف رجوع کرے گا۔اورفتوی اسی پرہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳: مسئولہ ظہورالدین صاحب ۲۶صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)اگرایك مسلمان کچھ زیور دوسرے مسلمان کے پاس لے کرگیا اوراس سے کچھ روپیہ قرض لیا اور زیوراپنا اس کے پاس روپیہ کی ضمانت میں رکھ دیا جس مسلمان کے پاس زیوررکھاگیاہے وہ زیورکاحق حفاظت یا کرایہ حاصل کرسکتاہے یانہیںاوراگرلے تو جائزہوگایانہیں
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الکفالۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶€
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۸۲€
#3315 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
زیورجس کے پاس رکھاگیا وہ بندہ خدا سود سے بچناچاہتاہے اور اس طرح سے نفع حاصل کرناچاہتاہے۔
(۲)اگرایك مسلمان دوسرے مسلمان کے پاس کچھ روپیہ لینے گیا اوراس روپیہ کی ضمانت میں ایك دستاویز لکھا جس میں کوئی جائداد منقولہ یاغیرمنقولہ اس روپیہ کی ضمانت میں تحریر کی اب جس مسلمان نے کہ روپیہ دوسرے مسلمان کو دیا اوراس جائداد کی حفاظت کرنے کاروپیہ مانگتاہے لہذا اس کو لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
مکرر یہ ہے کہ یہ سناہے کہ حضونے رہن دخلی کی کوئی ایسی صورت نکالی ہے جو جائزہے امیدہے کہ اس سے بھی مطلع فرمایا جاؤں گا۔
(۳)مکرر یہ کہ شرعی طورپر ایسی کون کون سی صورتیں پیداہوسکتی ہیں کہ جن سے مسلمان آپس میں ایك دوسرے سے یا غیرقوم سے روپیہ کالین دین کرسکیں اورفائدہ اٹھاسکیںامیدکہ ایك یا دوصورتیں تحریرفرمادی جائیں جو حسب تصریح فقہائے کرام ثابت یا حدیث نبوی میں واقع ہوں۔اﷲ تعالی اس کا اجردے گافقط۔
الجواب:
(۱)زیورکہ روپیہ کی ضمانت میں دیاگیااس کے معنی بعینہ رھن رکھنے کے ہیں اوررہن کی حفاظت ذمہ مرتہن ہے کہ وہ اسی کے حق میں محبوس ہے اس پراجرت لینے کے کوئی معنی نہیں اگرلے گا خالص سودہوگایہ نفع جائزنہیں ہوسکتا بلکہ قطعی حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)جائداد ضمانت میں دینایہاں دوطریقے پررائج ہےایك یہ کہ جائداد مالك ہی کے پاس رہتی ہے اور وہ دائن کولکھ دیتا ہے کہ یہ میں نے تیرے دین میں مکفول کی ہے اسے کفالت یا استغراق کہتے ہیں یہ شرعا محض باطل ومہمل ہےنہ اس میں کسی حق حفاظت کاوہم ہوسکتاہے کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی نہیں جاتی۔دوسری صورت رہن دخلی کی ہے وہ خود ہی حرام و سودہے۔تیسری صورت جوشرعی ہے اور یہاں جاری نہیں وہ یہ کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی جائے اورمرتہن صرف اس پرقبضہ رکھے کسی طرح کانفع اس سے حاصل نہ کرےیہ صورت جائز اوریہی رہن شرعی ہے اور اس کی حفاظت کا وہی حکم ہے جو جواب اول میں گزراکہ اس پر کچھ لینا محض سوداورحرام قطعی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)رہن دخلی کے جواز کی یہاں کوئی شکل نہیںنہ میں نے نکالی ہے نہ کوئی نکال سکتاہے اس کے
#3316 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
جواز کی صرف یہ صورت ہے کہ زیدنے عمروکے پاس اپنا مکان رہن رکھا اورکوئی شرط اس کی سکونت کی قرارنہ پائیپھرزیدنے محض اپنی خوشی سے صرف بطوراحسان اسے سکونت کی اجازت دی اور وہ اس کی اجازت ہی کی بناپر اس میں رہناچاہتاہےنہ اس پراصرارکرے گا نہ قرض کابارڈالے گا یہاں تك کہ اگراس نے اجازت دی اوریہ مکان میں رہنے کو آیا ایك پاؤں دروازے کے باہر اورایك اندر ہے کہ اس نے کہا اب میں اجازت نہیں دیتا توفورا پاؤں باہرنکال لے ایسارہنا ہوتوممکن ہےمگرکیایہاں ایسی صورت کااحتمال ہےحاشاہرگزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۴ و ۷۵: مرسلہ محمدسبحان ازموضع پوراکوٹھی ڈاکخانہ شمشیرنگر ضلع گیا ۱۶صفرالمظفر۱۳۳۵ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں مسلمانوں کی رائے ہے کہ شاہراہ بیچ بستی کے جوعام لوگ کوفائدہ پہنچ سکے ایك کنواں پختہ تیارکریں اورقیمت چرم قربانی کا اس میں خرچ کریں کیونکہ اس بستی میں ایك شخص کو کسی کو لیاقت نہیں جو ایك آدمی کنواں بندھواسکے پانی پینے کی ازحدتکلیف ہے ایسی حالت میں قیمت چرم قربانی کنویں میں خرچ کرنا جائزہے یانہیں جواب سے سرفرازفرمایاجائے۔
(۲)ہم نے ایك بیگھہ کھیت گرویں مبلغ پچاس روپے اس شرط پردے کر لیاکہ تاادائے روپیہ ہم نے اس کھیت کو آباد کیااوراس کی مالگزاری لگان وغیرہ ہرسال اداکرتے گئے اور پیداوار اس کی اپنے مصرف میں لائے اس طورکاکھیت لیناجائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)قربانی کی کھال ہرنیك ثواب کے کام میں صرف ہوسکتی ہے حدیث میں ہے:
کلواوادخرواواتجروا۔ کھاؤذخیرہ کرو اور کارثواب میں خرچ کرو۔(ت)
ہاں جس نے دام حاصل کرنے کے لئے بیچی ہوئی ہو اس پرلازم ہے کہ وہ دام فقیروں ہی کو دے۔حدیث میں ہے:
من باع جلد اضحیۃ جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل حدیث نبیشۃ الہذلی المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۷۶۔۷۵€
#3317 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
لااضحیۃ لہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کی قربانی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)کاشت کارکھیت کامالك نہیں ہوتانہ اسے بے اجازت زمین دار رہن کرنے کا اختیاراوریہاں اگرزمیندار بھی اجازت دے گا تو نہ اس طرح کہ کھیت معطل ہے اوراس کی لگان نہ ملے بلکہ یونہی کہ کھیت تم جوتو اورلگان اداکرویہ اجارہ ہوگا نہ کہ رہناس صورت میں اس نے جوروپیہ اس کاشتکار کودیا وہ اس کے ذمہ رہا اورکھیت کامستاجراس کی جگہ یہ ہوگیا اسے کھیت سے کوئی تعلق نہ رہازمیندار کواختیارہے اس کے پاس رکھے خواہ اسے واپس دےیہ جوکچھ جوتے بوئے اس کا ہے لگان زمین دارکا ہے اوراس کاقرض کاشتکار پرہےصورت شرعی تو اس میں یہ ہےاوراگریہ سمجھتے ہیں کہ کھیت اسی کاشتکار سابق کے اجارہ میں ہے ہمارے پاس رہن ہے اورزمیندار نے بھی اسے مستاجر نہ بنایابلکہ اس کو رکھا اور اس نے اس کاقائمقام ٹھہراکر لگان لیا تویہ صورت باطل ہے مرتہن کو رہن سے نفع لیناجائزنہیں توامرناجائزکاقصدکیا اورناجائز کاقصدبھی گناہ ہے اگرچہ واقع کے خلاف ہوکہ یہ نہ رہن شرعی ہے نہ رہن واجارہ جمع ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۶: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگودریاست کوٹہ راجپوتانہ ۱۰/ربیع الاول شریف۱۳۳۵ھ
ایك کاشتکار کی زمین ملکیت سرکاری اس کاکھاتہ بند ہے اوروہ لگان اس کافی بیگہ دوروپیہ ماہوار بابت کاشت کاردیتارہتاہے یہی زمین اس نے رفع ہونے کی غرض سے مبلغ ایك صدروپے یا اس سے زیادہ کم میں کسی مسلمان کے رہن بالقبض کردی اب مرتہن نے اس کوکاشت کیا اوروہی سرکاری زمین کاجو سابق کاشتکار دیاکرتاتھا سرکارنے اس سے وصول کرلیایا اس نے کسی قدر منافع پردے کرشخص کوکاشت کرادی توجومنافع زمین سرکاری سے مرتہن نے بحالت ادائیگی کھاتہ معہودہ سرکاری حاصل کیا وہ زر رہن میں محبوس کرے گا یاکیا
الجواب:
رہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتے یہ زمین کہ اجارہ میں ہے رہن نہ ہوئی اورظاھرا یہاں یہ بھی نہیں ہوتاہے کہ گورنمنٹ اس کی جگہ اس کومستاجر زمین سمجھے بلکہ مستاجروہی رہتاہے
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ک۔ھق عن ابی ھریرہ ∞حدیث ۱۲۲۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۹۴€
#3318 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
اور یہ مثل ذیلی اور اس کا اس زمین سے انتفاع نہیں مگر بربنائے قرض اورقرض کے ذریعہ سے جو نفع حاصل کیاجائے جائزنہیں۔ حدیث میں ہے:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا ۔ جوقرض نفع لائے وہ سودہے۔(ت)
لگان جومرتہن نے گورنمنٹ کواداکی خود کاشت کی اوراس کے بدلے دی نہ راہن کی طرف سےتو اس کاجس طرح راہن سے مطالبہ کوئی وجہ نہیں رکھتاہاں اگر راہن کہے کہ میرے ذمہ جولگان ہے وہ اداکیا کراب وہ اس بناپراداکرتاہے تو اس کامطالبہ راہن سے کرسکتاتھا اسی طرح جب کہ اس نے زمین میں کاشت کی توجوپیداوار ہے اس کایہی مالك ہے اگرچہ یہ انتفاع اس کو ناجائز تھا اس کے سبب زررہن سے کچھ ساقط نہ ہوگا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۷و۷۸: ازموہن پور مسئولہ سالاربخش خیاط ۱۲/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کھیت رہن ۶بیگہ مبلغ ایك سوروپیہ میں رکھاگیا اورلگان اس کا ۶روپیہ ہے اورکاشت خود کرتے ہیں توجائزہے یانہیں
(۲)زمین داری ۱۲بسبانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اورلگان سرکاری ۳۵روپیہ ہیں وہ جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)صورت مسئولہ میں اگرموروثی کھیت دخلیکار آسامی سے بالعوض ایك سوروپے کے رہن رکھاہے تو اس میں خود کاشت کرنا اس وقت تك جائزنہیں کہ اصل مالك یعنی زمین دار سے اجازت حاصل کریں دخلیکار آسامی موروثی ہونے سے شرعا مالك نہیں ہوتاصورت جواز یہ ہے کہ اس پرقبضہ کے بعد اصل مالك یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دار کوتامدت رہن اداکرتارہے اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے دخلیل کار کوقرض دیاہے اوراس کی ملك رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3319 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
لیتے ہیں کہ یہ نیت غلط وباطل ہے اورقصدگناہ سے گناہگارہوگا بلکہ یہی نیت کرے کہ زمین زمیندار کی ہے دخیل کار سے اتنے دنوں کے لئے مل گئی ہے اورہم نے مالك سے اجازت لے کر کاشت کی ہے لہذاہم کواپنی کاشت کانفع حلال ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)مواضعات کادخلی رہن جیسا کہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہےحدیث میں ارشاد فرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا۔ جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کو جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۷۹: اودے پورمیواڑ مرسلہ احمدخاں وکیل دربار مارواڑ متعینہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
جناب عالی! عرض ہے کہ زمین داری ۱۲بسوانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اور لگان سرکاری ۳۵روپیہ میںوہ جائزہے یانہیں
مواضعات کادخلی رہن جیساکہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہےحدیث میں ارشادفرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔ جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کوجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3320 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۸۰ تا ۸۳: ازریاست رام پور مرسلہ منابھائی ۲۰صفر۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مبلغ ایك ہزارروپیہ پرچند قطعہ دکانات ومکانات اپنے جو بقبضہ کرایہ داران زید کی طرف سے تھیں بذریعہ رہن نامہ مصدقہ بکرکے پاس رہن کیں بعدازاں اس زررہن پر مبلغ پانچسوروپیہ اوراضافہ کرکے دوسری دستاویز بحوالہ دستاویز سابقہ تصدیق کرادی دستاویز مذکور میں اقرار تسلیم قبضہ بکر نے تحریر کرالیا اوریہ بھی دستاویز میں تحریر کرالیاکہ جومنافع بذریعہ سکونت وغیرہ کرایہ داروں سے مرتہن وصول کرے وہ حق مرتہن ہے چنانچہ مبلغ چارہزارنوسوپینتالیس روپے بکرنے بذریعہ زیدکرایہ داران سے وصول پائے اورحسب مضمون دستاویز ودکانات کوکرایہ پرقائم رکھ کر اس کرایہ کی منفعت بکرنے حاصل کی اس کے بعد پھر بکرنے عدالت میں نالش زررہن بغرض نیلام جائداد مرہونہ دائرکی۔
زید مدعاعلیہ کویہ عذرات ہیں:
(۱)قبضہ مرتہن مرہونہ پرنہیں ہوا اس وجہ سے کہ مرہونہ پہلے سے بقبضہ کرایہ داران تھی جس کامرتہن کو خوداقرار ہے اوررہن میں قبضہ واقعیہ وتسلیم خاص کی ضرورت ہے تصریحات فقہیہ سے ظاہرہوتا ہے کہ تسلیم وقبضہ کی تحریرکافی نہیں ہے۔ در مختارمیں فاذا سلمہ وقبضہ المرتھن (جب راہنمرہون سونپ دے اورمرتہن اس پرقبضہ کرلے۔ت)یوں نہیں ہے کہ فاذا کتب تسلیمہ وقبض المرتھن (جب اس کی سپردگی کی تحریرہوگئی اورمرتہن نے قبضہ کرلیا۔ت)
(۲)دستاویز میں یہ الفاظ ہیں کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے یہ اذن راہن برائے اجارہ ہے چنانچہ منافع کرایہ مرتہن نے بذریعہ اجازت راہن کے حاصل کئے اور یہ صورت ہے اجارہ دینے کی مرتہن کاباذن راہن کے اوریہ امر
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶€۵
کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3321 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مبطل رہن رہے یہ ماناکہ نئے دکانداروں کوبکرنے دکان نہ دی لیکن پرانے دکانداروں کوقائم رکھ کر منفعت بااجازت راہن حاصل کی۔
(۳)رہن میں زیادتی فی الدین حضرت امام الائمہ سیدابوحنیفہ الکوفی وحضرت امام محمد رحہمااﷲ تعالی کے نزدیك جائزنہیں حالانکہ پہلے ایك ہزارروپے میں رہن ہونااس کے بعد پانسوروپے اورلے کر ایك ہزارپانسو میں رہن ہونا خودبکرکوتسلیم ہے۔اورامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کا اس زیادتی فی الدین کوجائزکہناحجت نہیں ہے کہ فتوی اختلاف کی صورت میں امام صاحب کے قول پرہوتاہے چہ جائیکہ ان کے ساتھ امام محمد بھی ہیں۔درمختارمیں ہے:
والاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق۔ اصح یہ ہے کہ سراجیہ وغیرہ میں ہے کہ فتوی مطلقا امام اعظم کے قول پرہے۔(ت)
(۴)بکرمرتہن نے جوزرکرایہ تعدادی چارہزارنوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کرایہ داروں سے بذریعہ زید وصول کیا ہے وہ حق راہن یعنی زیدہے چنانچہ
وان باذنہ فللمالك کما فی درمختار وتکون الاجرۃ للراھن کما فی قاضی خاں اگر اس کی اجازت سے ہے تواجرت مالك کے لئے ہے جیساکہ درمختارمیں ہے کہ اجرت راہن کے لئے ہوگی جیساکہ فتاوی قاضی خاں میں ہے۔(ت)
اس پربین دلیلیں ہیں(بکرمدعی یہ کہتاہے)
(۱)اقرارقبضہ جبکہ دستاویز میں تحریرہے تو ضرورت کسی دیگرثبوت کی نہیں کیونکہ مکانات مرہونہ کو راہن نے جب اپنے حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا جس پردستاویز شاہد ہے تو مرتہن کاقبضہ پوراہوگیا۔
(۲)دستاویز کے یہ الفاظ کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے اور اس پربذریعہ راہن مرتہن کاعملدر آمد بہ صورت اجارہ باذن راہن ہے اوراجارہ باذن راہن مبطل ہی نہیں ہوتا بلکہ
حوالہ / References الدرالمختار رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴€
الدرالمختار کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۸€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الرہن فصل فیمایجوز رھنہ ومالایجوزالخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۹۵€
#3322 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
دینامرتہن کاباذن راہن مبطل ہوتاہے یہاں اجارہ دینا مرتہن کاثابت نہیں کیونکہ اس نے دکانات پرنئے دکانداروں کونہیں بٹھایا۔
(۳)زیادتی فی الدین امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك جائزہے اورمعاملات میں اکثر فتوی انہیں کے قول پر ہوتا ہے۔دریافت طلب امریہ ہے کہ شرعا عذرات مندرجہ بالابکرکے صحیح ہیں یا اقوال زیدکے صحیح ہیں ہرسوال کاجواب بالتفصیل نمبروار بحوالہ کتب فقہ عنایت ہوبینوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور روزحساب اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عذرات زید صحیح ومسموع اورشبہات بکر باطل ومدفوع ہیں۔
(۱)رہن اوریہ اجارہ تو دو عقد ہیں جن کا حکم قبضہ کادست نگررہن بے قبضہ باطل اوراجارہ بے قبضہ نفاذ سے عاطل۔بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
القبض شرط جواز الرھن لقولہ سبحنہ وتعالی "" وصف سبحنہ وتعالی الرھن بکونہ مقبوضا فیقتضی ان یکون القبض فیہ شرطا ولانہ عقد تبرع للحال فلایفیدالحکم بنفسہ کسائر التبرعات۔ جواز رہن کے لئے قبضہ شرط ہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ"تورہن ہو قبضہ میں دیاہوا"اﷲ سبحانہ وتعالی نے رہن کو اس وصف کے ساتھ موصوف فرمایاکہ وہ مقبوض ہو۔یہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ رہن پرقبضہ شرط ہواوراس لئے بھی رہن حال کے لئے عقدتبرع ہے توباقی تبرعات کی طرح باعتباراپنی ذات کے حکم کافائدہ نہیں دیتا۔(ت)
اسی میں شرائط نفاذ اجارہ میں ہے:
الحکم فی الاجارۃ المطلقۃ لایثبت بنفس العقد عندنا لان العقد فی حق الحکم ینعقد علی حسب حدوث المنفعۃ فکان العقد فی حق الحکم مضافا اجارہ مطلقہ میں ہمارے نزدیك نفس عقد سے حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حکم کے حق میں عقد اجارہ منفعت کے پیدا ہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔چنانچہ حکم کے حق میں عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوتاہے
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الرھن ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۳۷€
#3323 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الی حین حدوث المنفعۃ فیثبت حکمہ عند ذلك حتی لوانقضت المدۃ من غیر تسلیم المستأجر لا یستحق شیئا من الاجر ولومضی بعد العقد مدۃ ثم سلم فلا اجرلہ فیما مضی لعدم التسلیم فیہ۔ لہذا منفعت کے پیداہونے کے وقت حکم ثابت ہوتا ہے یہاں تك کہ اگرمدت اجارہ گزرگئی اورآجرنے شیئ مستاجر کے حوالے نہ کی تو اجرت میں سے کسی شیئ کاحقدارنہ ہوگا۔اور اگرعقد کے بعد کچھ مدت گزرگئی پھرآجرنے وہ شیئ مستاجر کے حوالے کی گزری ہوئی مدت کی اجرت کاحقدارنہیں ہوگا کیونکہ اس میں سپردگی نہیں پائی گئی۔(ت)
رہن قبضہ مرتہن چاہتا ہے کہ اس کامقتضی حبس ہے اورحبس بے قبض ناممکن اوراجارہ قبضہ مستاجر چاہتاہے کہ اس سے مقصود انتفاع ہے اورانتفاع بے قبض نامتصور اورشیئ واحد کاوقت واحد میں دومختلف قبضوں میں ہونا محالولہذا اگرراہن بہ اجازت مرتہن یامرتہن باجازت راہن شے مرہون شخص ثالث کے اجارہ میں دے یاراہن خودمرتہن کو اجارہ دےتینوں صورتوں میں رہن باطل ہوجاتا ہے۔بدائع میں ہے:
لیس لہ ان یؤاجرہ من اجنبی بغیر اذن المرتھن لان قیام ملك الحبس لہ یمنع الاجارۃ ولان الاجارۃ بعقد الانتفاع وھو لایملك الانتفاع بہ بنفسہ فکیف یملکہ غیرہ ولوفعل وقف علی اجازتہ فان ردہ بطل وان اجازجازت الاجارۃ وبطل عقدالرھن لان الاجارۃ اذا جازت وانھا عقد لازم لایبقی الرھن راہن کے لئے جائزنہیں کہ مرتہن کی اجازت کے بغیرمرہون شیئ کسی اجنبی کواجارہ پردے دے کیونکہ مرتہن کاملك حبس اجارہ سے مانع ہے اوراس لئے بھی کہ اجارہ کی بنیاد انتفاع پرہے جبکہ راہن خودمرہون سے انتفاع کامالك نہیں تو کسی غیرکو اس کامالك کیسے بناسکتا ہےاوراگرراہن نے ایساکردیا تو یہ مرتہن کی اجازت پرموقوف ہوگا اگرمرتہن نے اسے رد کردیا توباطل ہوجائے گا اوراگراس نے اجازت دے دی تو اجارہ جائزجبکہ عقدرہن باطل ہوجائے گا کیونکہ اجارہ جب جائز ہوگا اور وہ عقدلازم ہے۔
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الاجارہ فصل واما شرائط الرکن الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۴/ ۱۷۹€
#3324 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
ضرورۃ والاجرۃ للراھن لانھا بدل منفعۃ مملوکۃ لہ وولایۃ قبض الاجرۃ لہ ایضا لانہ ھو العاقد وکذا لیس للمرتھن ان یؤاجرہ من غیرالراھن بغیر اذنہ لان الاجارۃ تملیك المنفعۃ والثابت لہ ملك الحبس لاملك المنفعۃ فکیف یملکھا من غیرہ فان فعل وقف علی اجازۃ الراھن فان اجاز جاز وبطل الرھن لما ذکرنا وکانت الاجرۃ للراھنوولایۃ قبضھا للمرتھن لان العاقد ھو المرتھنولایعود رھنا اذا انقضت مدۃ الاجارۃلان العقد قد بطل فلایعود الابالاستیناف۔ تورہن ضرورۃ باقی نہیں رہے گا اوراجرت راہن کی ہوگی اس لئے کہ وہ راہن کے مملوك کی منفعت کابدل ہے۔اوراجرت پرقبضہ کی ولایت بھی اسی کوحاصل ہے کیونکہ عقد کرنے والا وہی ہے۔اوراسی طرح مرتہن کے لئے جائزنہیں کہ وہ مرہون شیئ راہن کے غیرکو اس کی اجازت کے بغیراجارہ پر دے کیونکہ اجارہ منفعت کی تملیك ہے جبکہ مرتہن کے لئے ملك حبس ثابت ہے نہ کہ ملك منفعت تو وہ کسی غیرکو اس کا مالك کیسے بناسکتا ہے۔اگرمرتہن نے ایسا کردیا تو وہ راہن کی اجازت پرموقوف ہوگا اگراس نے اجازت دے دی تواجارہ جائزاوررہن باطل ہوجائے گا اس دلیل کی وجہ سے جس کو ہم ذکرکرچکے ہیںاوراجرت راہن کے لئے ہوگی جبکہ اجرت پر قبضہ کی ولایت مرتہن کوحاصل ہوگی کیونکہ عقد کرنے والا وہی مرتہن ہے۔اوروہ شیئ رہن کی طرف عودنہیں کرے گی جبکہ اجارہ کی مدت ختم ہوچکی ہوکیونکہ عقد رہن باطل ہو چکا تو وہ عودنہیں کرے گا مگریہ کہ نئے سرے سے عقد کیا جائے۔(ت)
اسی میں ہے:
یخرج المرھون عن کونہ مرھونا ویبطل عقد الرھن بالاجارۃ بان آجرہ الراھن من اجنبی باذن المرتھن او المرتھن مرہون شیئ مرہون ہونے سے نکل جائے گی اورعقد رہن اجارہ کے ساتھ باطل ہوجائے گااس صورت میں کہ راہن نے وہ شیئ مرتہن کی اجازت سے یامرتہن نے راہن کی اجازت
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الراہن فصل وامّا حکم الرھن الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی ۶/ ۱۴۶€
بدائع الصنائع کتاب الراہن فصل وامّا حکم الرھن الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی ۶/ ۱۴۷€
#3325 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
باذن الراھن اواستاجرہ المرتھن۔ سے کسی اجنبی کواجارہ پر دے دی یامرتہن خود اس کو اس اجرت پرلے لے۔(ت)
یہاں کہ فریقین کواقرارہے کہ دکان ومکان رہن سے پہلے سے منجانب زیدکرائے پرہیں اور جب سے اب تك برابرقبضہ کرایہ داران میں ہیں کبھی ان سے خالی نہ کرائی گئیںتوتخلیہ کہ شرط رہن تھا کبھی نہ ہوا اوررہن سرے سے ناجائزوناتمام رہاعــــــہ۔
عوام عموما اورآج کل کے قانون دان خصوصا نرے زبانی یاکاغذ کے تلفظ کو قبضہ کہتے اورسمجھتے ہیں نہ وہ تخلیہ کے معنی سے آگاہ ہیں نہ اس کی
عــــــہ:مشی فی الہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا علی ان القبض شرط اللزوم فلایتم الرھن الا بہقال فی العنایۃ وھو اختیار شیخ الاسلام وھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الا مقبوضا ومثلہ فی کافی الحاکم الشہید ومختصر الطحاوی والکرخی اھ قال الکرخی انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و الحسن بن زیاد وصححہ فی الذخیرۃ قھستانی و المجتبی درمختاروالمحیط ھندیۃ وبہ جزم ہدایہملتقی اورتنویروغیرہ میں یہ روش اختیارکی ہے کہ رہن میں مرہون پرقبضہ کرناعقد کے لازم ہونے کے لئے شرط ہے۔چنانچہ اس کےبغیرعقد تام نہیں ہوتا۔عنایہ میں کہا اور وہی شیخ الاسلام کامختارہے اور وہ عام مشائخ کی روایت کے مخالف ہے۔امام محمدنے فرمایا کہ مرہون پرقبضہ ہوئے بغیر رہن جائزنہیں ہوتا اور اسی کی مثل حاکم شہید کی کافی اورامام طحاوی کی مختصر اورامام کرخی کی مختصر میں ہے الخ کرخی نے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہامام ابویوسفامام محمد اورحسن بن زیاد کاقول ہےاس کوذخیرہ میں صحیح قراردیا (قہستانی)اور مجتبی میں اس کو صحیح قراردیا(درمختار)اورمحیط میں اس کو صحیح قرار دیا (ہندیہ) (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل امابیان مایخرج بہ المرہون الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۷€۱
الہدایہ کتاب الرھن ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۱۳€
العنایۃ علٰی ھامش فتح القدیر کتاب الرھن ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۶€
#3326 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
حاجت جانتے ہیں زید اگراپنا مکان جس میں اس کامال اسباب رکھاہواہے عمروکوہبہ کرے اور کنجی اسے دے دے وہ کہیں گے قبضہ دے دیا حالانکہ ہرگزشرعا قبضہ نہ ہوا کہ تخلیہ نہ ہوا۔بدائع میں ہے:
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ )
فی البدائع کما تری وکذا ذکرہ فی الرھن من العقود الدریۃ انہ الصحیحاقول:والہدایۃمع مشیہ علی انہ شرط اللزوم کلامہ فی الدلائل فی مسئلۃ لایجوز رھن المشاع وغیرھا یدل علی انہ شرط الانعقاد فتدبرہ و راجع العنایۃ ونتائج الافکار وکذا التنویر مع اتباعہ للہدایۃ قال لایصح رھن المشاع قال فی الدر الصحیح انہ فاسد اھ تامل وراجع ما علقنا علی ردالمحتار ویستفاد من العنایۃ ان معنی شرط الجواز عند قائلیہ ان الرھن باطل ان لم یقبض فاخترناہ لما علمت لہ من القوۃ ۱۲منہ غفرلہ۔ اوراسی پربدائع میں جزم کیاجیساکہ تودیکھ رہا ہےاوریونہی عقود الدریہ کی کتاب الرھن میں ذکرکیا کہ بے شك وہ صحیح ہے۔میں کہتاہوں ہدایہ کی اس روش کے باوجود کہ قبضہ شرط لزوم ہے رھن مشاع وغیرہ کے عدم جواز پردلائل کے ضمن میں صاحب ہدایہ کاکلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبضہ شرط انعقاد ہے۔پس اس میں غورکراورعنایہ اورنتائج الافکار کی طرف رجوع کر۔یونہی تنویرمیں ہدایہ کی اتباع کرتے ہوئے کہاکہ مشاع کارہن صحیح نہیں۔درمیں کہاصحیح یہ ہے کہ وہ فاسد ہے الخ غور کراور ردالمحتار پرہماری تعلیق کی طرف رجوع کر۔عنایہ سے مستفاد ہے کہ شرط جواز کامعنی اس کے قائلین کے نزدیك یہ ہے کہ اگرمرہون پر قبضہ نہیں ہوا تو رہن باطل ہے۔چنانچہ ہم نے اسی کواختیار کیا ہے جیسا کہ تو اس کی قوت کوجان چکاہے ۱۲منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶€۸
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۸€
#3327 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
وعلی ھذا یخرج مااذا وھب دارا فیھا متاع الواھب و سلم الدار الیہ اوسلم الدار مع مافیھا من المتاع فانہ لایجوزلان الفراغ شرط صحۃ التسلیم و القبض ولم یوجد۔ اور اسی سے اس صورت کاحکم ظاہرہوجاتا ہے کہ جب کسی نے ایساگھر ہبہ کیا جس میں واہب کاکچھ سامان موجودہے اور اس نے وہ گھر موہوب لہ کے حوالے کردیا یا اس نے وہ گھر اس میں پڑے ہوئے اپنے سامان سمیت موہوب لہ کے حوالے کردیا تو یہ ہبہ جائزنہیں ہوگا کیونکہ موہوب کو خالی کرنا سپردگی اورقبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گی۔(ت)
دستاویز میں کہ بکرکوقابض کردینا مسطوریقینا اس سے یہی محاورہ جہال منظورتوبکرکااس سے استدلال ہباء منثوراوراگرفرض کیجئے کہ اسے شرط قبضہ ہی پرمحمول رکھیں تو اب دو۲ وجہ سے مردودہے:
اولا: جب یقینا معلوم کہ کرایہ داروں سے تخلیہ کرکے قبضہ کسی وقت نہ دلایا پہلے سے اب تك کرایہ داروں کاقبضہ مستمرہے اوراوپربیان ہوچکاکہ شے واحد پروقت واحد میں دومختلف قبضے محالتو یہ اقرار بالمحال ہوااوراقرار بالمحال باطل ونامسموع ہے مثلا بھائی اقرار کرے اوررجسٹری کرادے کہ متروکہ پدری اس میں اور اس کی بہن میں بذریعہ میراث پدر نصف نصف ہے یہ اقرارمردودہے بہن اس سے استدلال نہیں کرسکتی کہ وہ شرعا محال ہے لہذاثلث سے زیادہ نہ پائے گی۔یوں ہی یہاں باوصف استمرار قبضہ مستاجر ان قبضہ مرتہن شرعا محال ہےلہذا اقرار واجب الابطال ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
الاقرار بشیئ محال باطل کما لواقرلہ بارش یدہ التی قطعھا خمسمائۃ درھم ویداہ صحیحتان لم یلزمہ شیئ کما فی محال شیئ کااقرار باطل ہے جیسے کسی کے لئے پانچسوروپے دیت کااقرارکیااس کے ہاتھ کے بدلے میں جو مقرنے کاٹاہے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ سلامت ہیں تومقر پرکچھ بھی لازم
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الہبہ فصل واما الشرائط ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۲۵€
#3328 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
التاتارخانیۃ وعلی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السھام لوارث وھو ازید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالا شرعا مثلا لومات عن ابن وبنت فاقر الابن أن الترکۃ بینھما نصفان بالسویۃ فالاقرار باطل لما ذکرنا اھ وقیدہ السید العلامۃ زیرك زادہ فی حاشیتہ علی الاشباہ کما رأیت فیھا و نقلہ السید العلامۃ الحموی فی الغمز بلفظہ قیل و اقرہ بان یزید فی اقرارہ بالارثقال اذ یتصوران یکون الترکۃ بینھما نصفین بالوصیۃ مع الاجازۃ او غیرھا من وجوہ التملیك کما ھوظاھر اھ اقول: یمکن التنصیف بینھما بالارث ایضا کما اذا ماتت عن زوج و نہیں جیساکہ تتارخانیہ میں ہے۔اسی بنیاد پرمیں نے فتوی دیاہے کہ کسی انسان کاکسی وارث کے لئے اس قدرسہام کا اقرارکرناباطل ہے جو اس کے شرعی مقررحصے سے زائد ہو کیونکہ یہ شرع کی روسے محال ہے مثلا کوئی شخص ایك بیٹا اور ایك بیٹی چھوڑ کر فوت ہوا بیٹے نے اقرار کیاکہ ترکہ ان دونوں کے درمیان برابری کے طورپرنصف نصف ہے تویہ اقراراس دلیل کی وجہ سے باطل ہوگا جس کو ہم ذکرکرچکے ہیں الخ سید علامہ زیرك زادہ نے اشباہ پراپنے حاشیہ میں اس کو مقید کیا جیساکہ میں نے اس کے حاشیہ میں دیکھا اور سیدعلامہ حموی نے غمز میں لفظ"قیل"کے ساتھ نقل کرکے اس کو برقرار رکھامقید بایں صورت کیاکہ مقراپنے اقرار میں میراث کاذکر بڑھائے کیونکہ یہ بات متصورہے کہ ترکہ ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان وصیت کے سبب سے نصف نصف ہوجائے گا وصیت کی اجازت کے ساتھ یا اس کے علاوہ دیگروجوہ تملیك کے ساتھ جیساکہ ظاہرہے الخ میں کہتاہوں ان دونوں کے درمیان میراث کے اعتبار سے بھی ترکہ کانصف نصف ہوناممکن ہے جیسے کوئی خاتون فوت ہوگئی
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۵€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۵€
#3329 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
بنت منہ وابن من زوجھا الاول ثم مات ھذا الزوج ولم یرثہ الابنتہ فلا بدان یزید فی الاقرار بارثھما عن ھذا المورث۔ جس کے ورثاء میں اس کاخاوند اور اسی خاوند سے ایك بیٹی اوراپنے پہلے خاوند سے ایك بیٹا ہے پھر یہ خاوند فوت ہوگیا جس کاوارث سوائے اس کی بیٹی کے اور کوئی نہیں لہذا مقرکے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اقرار میں اسی مورث سے ان دونوں کے وارث بننے کی قید کااضافہ کرے۔(ت)
ثانیا: بالفرض زیدقبضہ بکرکامقر ہے مگربکر خوداپنے قبضہ سے منکرہے کہ تسلیم کرتاہے کہ اب تك قبضہ مستاجران مستمر ہے اورمقرلہ جب اقرار کی تکذیب کرے اقرارباطل ہوجاتاہے۔ اشباہ میں ہے:
المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ الخ واستثنی سبعۃ اشیاء لیس ھذا منھا۔ مقرلہ جب مقرکو جھٹلادے تو اس کااقرار باطل ہوجائے گا الخ صاحب اشباہ نے سات چیزوں کا استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ بکر کاکہنا کہ حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا صریح غلط ہے۔
(۲)بلاشبہہ جب باتفاق فریقین یقینا ثابت کہ دکان ومکان پہلے سے کرایہ پرہیں اوریہ کہ راہن ومرتہن دونوں اس اجارے اور اس کی بقا پرراضیمرتہن اب تك اس کرایہ سے متمتع ہوتارہا توبعد رہن اگریہ اجارہ ازجانب راہن ہے تومرتہن کا اذن ہے اور ازجانب مرتہن فرض کیجئے تو راہن کا اذن ہےاورہم بدائع ملك العلماء سے لکھ آئے کہ دونوں صورتوں میں رہن باطل ہے نیزفتاوی امام قاضی خان وفتاوی عالمگیریہ وغیرھامیں ہے:
ان آجر المرتھن من اجنبی بامر الراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھنوان آجرہ الراھن من اجنبی مرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی اجنبی کو اجارہ پردے دی وہ رہن سے نکل جائے گی اوراجرت راہن کے لئے ہوگیاوراگرراہن مرتہن کے حکم سے اجنبی کو اجرت
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار الفن الثالث ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹€
#3330 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
بامر المرتھن یخرج من الرھن والاجرللراھن۔ پردے دے تو وہ رہن سے نکل جائے گی اور اجرت راہن کے لئے ہوگی۔(ت)
بکرکاکہنا ہے کہ اجارہ باذن راہن مبطل رہن نہیں ہوتا۔اگریہ مقصود کہ کسی شخص ثالث فضولی کاباذن راہن اجارہ میں دینا مبطل رہن نہیں جب تك مرتہن بھی اس پرراضی نہ ہوتو صحیح ہے مگر معاملہ دائرہ سے بے علاقہیہاں کسی فضولی نے اجارہ نہ دیا اوربالفرض ہو بھی تو راہن ومرتہن دونوں کی رضا موجودبہرحال رہن باطل ہوگیا۔خانیہ وہندیہ میں ہے:
ان آجرھا اجنبی بغیر اذن الراھن والمرتھن ثم اجازا جمیعا کان الاجرللراھن ویخرج من الرھن۔ اگراجنبی شخص نے راہن ومرتہن کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھر دونوں نے اکٹھی اجازت دے دی تو اجرت راہن کے لئے ہوگی اور وہ شے رہن سے نکل جائے گی۔(ت)
اوراگریہ مقصود کہ مرتہن کاباذن راہن اجارہ دینا مبطل رہن نہیں تو صریح کذب اورتمام کتب کے خلاف ہے اوریہ عذر کہ یہاں اجارہ نیا مرتہن کا ثابت نہیں کہ اس نے نئے دکاندار کونہ بٹھایا محض باطل وبے اثرہے
اولا: مرتہن کا اجارہ دینا ثابت نہ سہی راہن کا اجارہ دینا اوراس پرمرتہن کی رضاتوثابت ہے یہ کیا بطلان رہن کو بس نہیں۔
ثانیا: عقد اجارہ وقتا فوقتا نیاہوتا ہے کہ منفعت بتدریج پیداہوتی ہے اسی تدریج سے اجارہ تجدید پاتا ہے۔بدائع میں ہے:
الطاری فی باب الاجارۃ مقارن لان المعقود علیہ المنفعۃ وانھا تحدث شیئا فشیئا فکان کل جزء یحدث اجارہ کے باب میں مقارنت طاری ہوتی ہے کیونکہ اس میں معقود علیہ منفعت ہوتی ہے اور وہ وقتا فوقتا بتدریج پیداہوتی رہتی ہےچنانچہ منفعت کی ہرجزجوپیداہوتی ہے وہ
حوالہ / References الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن فی تصرف الراھن الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۵۔۴۶€۴
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن فی تصرف الراھن الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵€
#3331 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
معقودا علیہ مبتدأ ۔ نئے سرے سے معقود علیہ بنتی ہے(ت)
ہدایہ میں ہے:
الاجارۃ تنعقد ساعۃ فساعۃ حسب حدوث المنفعۃ۔ اجارہ وقتا فوقتا منفعت کے پیداہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
(جواز العقد لیس باعتبار أن المعدوم جعل موجودا حکما وکیف یقال ذلك والموجود من المنفعۃ لایقبل العقد لانہ عرض لایبقی زمانین فلایتصور فیہ التسلیم بحکم العقد والقدرۃ علی التسلیم شرط لجواز العقد وما لایتصور فیہ التسلیم لایکون محلا للعقد بل باعتبار ان العین التی ھی سب وجود المنفعۃ اقیمت مقام المنفعۃ فی حق صحۃ الایجاب و القبول وفی حق وجوب التسلیم اذ العین ھی التی یمکن تسلیمھا دون العرض فانعقد فی حقھا فی الحال فوجب علیہ تسلیمھا اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبارسے نہیں کہ معدوم کو حکمی طور پر موجود بنادیاگیاہےاور یہ کیسے کہاجاسکتاہے حالانکہ جو منفعت موجود ہو وہ عقد کوقبول نہیں کرتی اس لئے کہ وہ عرض ہے جودوزمانوں میں باقی نہیں رہتیلہذا اس میں عقد کے حکم سے سپردگی متصورنہیں جبکہ سپردگی پرقادر ہونا عقد کے لئے شرط جواز ہےاور جس میں سپردگی متصورنہیں وہ عقد کا محل نہیں ہوسکتابلکہ اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبار سے ہے کہ عین شیئ جو کہ وجود منفعت کا سبب ہے اس کو ایجاب و قبول کی صحت اورسپردگی کے وجوب کے حق میں منفعت کے قائمقام کردیاگیاہے اس لئے کہ اس عین ہی کی سپردگی ممکن ہے نہ کہ عرض کیلہذا اس عین کے حق میں فی الحال عقد منعقد ہوجائے گا اورآجر پر اس کی سپردگی واجب ہوگی
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الاجارۃ وامّا شرائط الرکن ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۴/ ۱۸۷€
الہدایۃ کتاب الاجارۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۱€
#3332 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
وصار العقد مضافا غیر منعقد للحال فی حق المنفعۃ لأن اقصی مایتصور العقد علی المنفعۃ ان یکون العقد مضافا الی وقت حدوثھا فینعقد العقد فی کل جزء من المنفعۃ علی حسب وجودھا شیئا فشیئا وھو معنی قولنا ان عقد الاجارۃ فی حکم عقود متفرقۃ یتجدد انعقادھا علی حسب حدوث المنافع وانما قامت العین مقام المنفعۃ تصحیحا للعقد فی حق الانعقاد والتسلیم ضرورۃ عدم تصورھما فی المنفعۃ ولاضرورۃ فیحق الملك فی البدل اذا ماثبت للضرورۃ یثبت بقدرھا فلا یظھر فی حق ملك البدل کما لا یظھر فی حق ملك المنفعۃ فیکون العقد مضافا الی وقت حدوثھا غیر منعقد للحال فی حقھما اھ وانما سقناہ لما فیہ من الفوائد ولایکفینا بعضہ کما لایخفی۔ اور منفعت کے حق میں کہ عقد مضاف ہوگا فی الحال منعقدنہیں ہوگا کیونکہ منفعت پرعقد میں انتہائی تصوریہ ہے کہ عقدمنفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہو۔چنانچہ عقد منفعت کی ہرجز میں اس کے تدریجا موجود ہونے کے مطابق منعقدہوگا۔اوریہی معنی ہے ہمارے اس قول کاکہ"اجارہ کا عقد متفرق عقود کے حکم میں ہے جن کا انعقاد منافع کے پیداہونے کے مطابق متجدد ہوتا رہتاہے۔ انعقاد اورسپردگی کے حق میں ان دونوں کاتصور معدوم ہے اور بدل کے اندرملك کے حق میں کوئی مجبوری نہیں اس لئے کہ جس شے کاثبوت ضرورت کی وجہ سے ہو اس کاثبوت بقدر ضرورت ہوتاہےچنانچہ وہ ملك بدل کے حق میں ظاہر نہیں ہوگا جیساکہ ملك منفعت کے حق میں ظاہرنہیں ہوتاوہ عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوگا اوران دونوں کے حق میں فی الحال منعقدنہیں ہوگا الخ بے شك ہم نے اس عبارت کو ان فوائد کی وجہ سے ذکرکیا ہے جو اس میں موجودہیں ورنہ ہمیں اس میں سے بعض عبارت کافی ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاجارہ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۰۷€
#3333 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
توبعد میں جو ساعت آئی اس میں نیاعقد اجارہ ہوا یہ اگرمرتہن کی طرف سے باذن راہن ہے تو بلاشبہہ مرتہن نے جدیداجارہ کیا اور اس کے لئے دکانداروں کو جدیدہوناکیاضرور عقدنیاہونا چاہئے وہ بے شك حاصل۔کیااگرمرتہن باذن راہن اسی مستاجر کو دے جسے پہلے راہن دے چکاتھا تو رہن باقی رہے گا۔دوسرے کودے توجاتارہے گا اس کاقائل نہ ہوگا مگرسخت جاہلمرتہن کے عقد اجارہ باذن راہن کوتمام کتابوں نے مبطل رہن رکھا ہے نہ کہ صرف بحال تبدیل مستاجر۔رہن پراجارہ نافذہ کاورود ہی اسے باطل کرتا ہے کہ دوام حق حبس جو شرط رہن ہے زائل ہوتاہے۔تعین مستأجر کو اس میں کیادخل۔بدائع میں ہے:
الاجارۃ تبطل الرھن۔ اجارہ رہن کو باطل کردیتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اخبراﷲ سبحانہ وتعالی المرھون مقبوض فیقتضی کونہ مقبوضا مادام مرھونا۔ اﷲ سبحانہ وتعالی نے خبردی ہے کہ مرہون مقبوض ہو۔یہ خبر اس کے مقبوض ہونے کا تقاضاکرتی ہے جب تك وہ مرھون ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الرھن فی اللغۃ عبارۃعن الحبس قال اﷲ تعالی عزوجل" کل امری بما کسب رہین ﴿۲۱﴾"ای حبیس فیقتضی ان یکون المرھون محبوسا مادام مرھونا و لولم یثبت ملك الحبس علی الدوام لم یکن محبوسا علی الدوام فلم یکن مرھونا۔ رہن لغت میں حبس کانام ہےاﷲ تبارك وتعالی نے فرمایا: ہرشخص اپنے کئے میں مرہون یعنی محبوس ہےاس کاتقاضایہ ہے کہ مرہون جب تك مرہون ہے محبوس ہو اور اگرملك حبس دائمی طورپر ثابت نہ ہوئی تو وہ دائمی طورپر محبوس نہ ہواچنانچہ وہ مرہون نہ ہوا۔(ت)
اسی سے گزرا:
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الرھن ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴€۷
بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل وامام الشرائط الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴€۲
بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل واما حکم الرھن ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۵€
#3334 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الاجارۃ اذاجازت لایبقی الرھن ضرورۃ۔ اجارہ جب جائز ہوجائے توضروری ہے کہ وہ رہن باقی نہ رہے۔(ت)
(۳)بے شك زیادت فی الدین ناجائزہےیہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ہےاوراسی پرمتون و شروحاوریہی من حیث الذیل اقویکما یظھر بمراجعۃ البدائع والتبیین وغیرھا(جیساکہ بدائع اورتبیین وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہرہوتا ہے۔ت)اوربیشك فتوی ہمیشہ قول امام پرہے مگربضرورتاس بارے میں ہمارا مبسوط رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام طبع ہوچکاہےبکرکاقول کہ معاملات میں اکثر فتوی قول امام ابویوسف پرہوتا ہے غلط ہے یہ صرف مسائل متعلقہ وقف وقضا میں کہاجاتاہے اوروہ بھی کوئی ضابطہ نہیں کہ بے تصحیح صریح اس سے خلاف قول امام وخلاف متون وشروح تصحیح کرلیں مگریہ بحث یہاں کوئی نتیجہ خیزنہیںنہ اس کی اصلا حاجتجبکہ ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ یہ رہن خودہی باطل محض ہےپھربحث زیادت کی کیاگنجائش!
(۴)چارہزار نوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کہ بکرکے کرایہ داروں سے وصول کئے وہ ضرور حق زیدہیں بکرکا ان میں کوئی حبہ نہیں کہ یہ اجارہ راہن باذن مرتہن ہے یاعلی التنزل اجارہ مرتہن باذن راہن مگرہم کتب معتمدہ بدائع امام ملك العلماء وفتاوی امام قاضی خان وفتاوی عالمگیریہ سے ثابت کرآئے کہ دونوں صورتوں میں اجرملك راہن ہے فقط فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں کرایہ داروں سے کرایہ وصول کرنے کا حق بھی راہن ہی کو ہےاوردوسری صورت میں مرتہن کو کہ وہی عاقد ہے وہی وصول کرے اورراہن کو دے دے خود اس میں سے کچھ نہیں لے سکتالہذا بکرپرلازم ہے کہ اپنا قرض پندرہ سومجراکرکے تین ہزارچارسوپینتالیس روپے آٹھ آنے زیدکو ادا کرےدستاویز میں زیدکالکھنا کہ جو منافع مرتہن وصول کرے حق مرتہن ہے باطل وبے اثرہے کہ تغییرحکم شرع ہےاوراگریہ تاویل کی جائے کہ اگرچہ واقع میں عندالشرع وہ حق زید ہے مگرزید کایہ لکھنا اپنی طرف سے بکر کو ان منافع کا ہبہ ہے جب بھی باطل ہے کہ منافع بوقت تحریرمعدوم تھے اورمعدوم کاہبہ باطل۔بدائع میں ہے:
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل وامّا حکم الرھن ∞یچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۶€
#3335 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
لاتجوز ھبۃ مالیس بموجود وقت العقد بان وھب مایثمر نخلہ العام وما تلداغنامہ السنۃ ونحوذلك بخلاف الوصیۃ والفرق ان الھبۃ تملیك للحال وتملیك المعدوم محال والوصیۃ تملیك مضاف الی مابعد الموت والاضافۃ لاتمنع جوازھا و لاسبیل لتصحیحہ بالاضافۃ الی مابعد زمان الحدوث لان التملیك بالھبۃ ممالایحتمل الاضافۃ الی الوقت فبطل اھواﷲ تعالی اعلم۔ جوشیئ عقد کے وقت موجودنہ ہو اس کا ہبہ جائزنہیں اس کی صورت یہ کہ کوئی شخص ان پھلوں کاہبہ کرے جو اس سال اس کے درختوں پر لگیں گے یااپنی بکریوں کے ان بچوں کاہبہ کرے جو اس سال وہ جنیں گی اور اسی کی مثل دوسری اشیاء بخلاف وصیت کےدونوں میں فرق یہ ہے کہ ہبہ کے لئے تملیك ہے اورمعدوم کی تملیك محال ہے اوروصیت ایسی تملیك ہے جو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے اور منسوب ہونا وصیت کے جواز کومنع نہیں کرتازمانہ حدوث کے مابعد کی طرف نسبت کرکے ہبہ کو صحیح قراردینے کاراستہ نہیں کیونکہ ہبہ میں تملیك وقت کی طرف نسبت کا احتمال نہیں رکھتی لہذا وہ باطل ہےاھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب مفتی عبدالقادرصاحب مفتی کچہری دیوانی ریاست ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
مرہونہ پربعد عقدرہن مرتہن کاقبضہ شرعی ہوگیااس کے بعد بطورعاریت یااجارہ یا غصب مرہونہ راہن کے قبضہ میں پہنچ گیا تو علمائے محققین سے سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں عقد رہن باطل ہوجائے گا یاوہ علی حالہ باقی رہے گا اورکیامرتہن کو بربنائے رہن مذکوراسترداد مرہونہ کااستحقاق شرعا حاصل ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صور مذکورہ میں عقدرہن باطل نہ ہوگا اورمرتہن کو استرداد مرہون کاحق رہے گاعاریت وغصب میں توظاہرکہ منافی رہن نہیں عقد اجارہ البتہ منافی رہن ہے ولہذا اگر
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الہبہ فصل وامّا الشرائط الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۱۹€
#3336 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مرتہن باذن راہن یاراہن باذن مرتہن شخص ثالث کویاراہن مرتہن کو اجارہ دے تورہن باطل ہوجائے گا مگریہاں کہ مرتہن نے راہن کو اجارہ دیا خود اجارہ ہی باطل ہوگا کہ مالك کو اس کی ملك اجارہ دینا کیا معنیاورجب اجارہ باطل ہوامنافی رہن نہ پایاگیا اورعقدبحالہ باقی رہا والمسائل مصرح بھا فی البدائع وغیرھا(اور ان مسائل کی بدائع وغیرہ میں تصریح کردی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: ازہوڑہ محلہ کوکربھوکا مکان مداربخش گنیر مرسلہ جان محمدصاحب ۲۸/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھیت رہن لیناجائزہے یانہیں
الجواب:
کھیت کہ زمین دار کی ملك ہو وہ بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتا اوراگر اس کی اجازت سے ہو یایہ رہن رکھنے والا خود اس زمین کامالك ہے تورہن صحیح ہوجائے گا مگر اس میں کھیتی کرنی ناجائزہوگی۔حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۔ جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۶: ازقصبہ نگرام ضلع لکھنؤ مرسلہ خضرمحمد ۱۱/صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس ملك میں عملداری غیرمسلم کی ہو اور ہرطرح سے انہیں استیلاہو اورمسلمان باشندے مغلوب ہوں وہاں اگر کوئی غیرمسلم جائداد کسی مسلمان کے یہاں رکھے اوربخوشی خاطرجائداد کے منافع کو اس مسلمان کے لئے حلال کردے توبقول حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یہ منافع مسلمان کے لئے سود تونہ ہوں گے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں سود نہیںہاں یہ سود کی نیت سے لے تو اپنی نیت پرگنہگار ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3337 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مسئلہ ۸۷: ازشہربریلی مدرسہ منظراسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زمین کو عمر کے پاس رہن رکھا مدت پانچ سال کی عمر اس زمین کو خرچ دے کرتصرف کرسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
کاشتکار بے اجازت زمیندار زمین کورہن نہیں رکھ سکتا اوربااجازت زمیندار ہوتو وہ اجارے پر نہ رہے گی اجارہ رکھیں گے کہ خراج دے اورکاشت کرےتو رہن نہ رہے گا نہ زید کو زمین سے تعلق رہے گا عمرکاشتکار مستقل ہوجائے گاروپیہ زیدپر قرض رہا وہ اداکرے اور اس کے بعد زمین واپس لینے کا اسے اختیارنہ ہوگاہاں اگر عمرخود چھوڑدے چھوڑدے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸: ۲۰/ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی کے پاس کوئی چیزرہن رکھے اوروہ مرتہن اس چیزپر برابرسودلیتا رہےاور فرض کرو کہ اس نے دوسوروپیہ کاسود لیااب وہ شخص جس کی وہ چیزہے رہن چھٹانا چاہتا ہے تو وہ مرتہن یہ کہتاہے کہ دوسوروپیہ میں سے میں تم کو پانچ روپیہ واپس دیتاہوں اس شرط پرکہ تم شریعت کی روسے جوسود کہ تم نے دیا ہے معاف کرو لیکن مالك چیزاس خوف سے کہ یہ پانچ روپیہ بھی ہاتھ سے جاتے ہیں معاف کرنے پر راضی ہوجائے تویہ معافی جائزہوگی یاناجائزاگرناجائز ہے تو اس کی کیاصورت ہوگی اور ایسی صورت میں مرتہن کو اپنے سود کاکتناحصہ دیناچاہئے
الجواب:
مرتہن پرفرض ہے کہ جتنا سودلیاہے سب راہن کوواپس دے اور یہ اولی ہے یا فقرائے مسلمین پرتصدق کرے اس میں سے اپنے صرف میں ایك حبہ لانا اسے حرام ہے اوراگر صرف کرچکاہے اس کامعاوضہ راہن یافقیروں کودینافرض ہےراہن کے معاف کئے سے معاف نہ ہوگا کہ یہ اس کا آتاہوانہیں جو اس کے چھوڑے سے چھوٹ جائے
الاتری انہ لایجب علی الآخذ ردہ الیہ انما حکموا علیہ کیاتونہیں دیکھتاکہ لینے والے پرواجب نہیں کہ وہ راہن کو واپس کرے۔مشائخ نے
#3338 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
بالاولویہ۔ اس کے اولی ہونے کافیصلہ دیا ہے(ت)
بلکہ وہ اﷲ واحدقہار کے غضب کاخبیث مال ہے کسی حال میں مرتہن کے لئے حلال نہیں ہوسکتااگرتوبہ بھی کرے گا تومقبول نہیں جب تك وہ سارالیاہواراہن یافقراء کونہ دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹ تا ۹۱: مرسلہ نیازالدین احمد ۱۶جمادی الاخری ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان صورتوں میں کہ:
(۱)شیئ مرہون میں تصرف جائزہے یانہیں
(۲)ہمارے اطراف میں ایك قطعہ زمین اس طورپرلیتے ہیں کہ مثلا صاحب زمین کو سوروپے اس عہدوپیمان وقول پردیتے ہیں کہ صاحب زمین روپیہ اداکرسکے تو زمین مرتہن کے قبضہ سے چھوٹ کرراہن کے قبضہ میں آجاتی ہے اس میں بات اتنی ہے کہ مرتہن زمین کاخراج اداکرتے ہیں اورپیداوارزمین کوخودلیتے ہیں اورجس وقت وہ دئیے ہوئے روپے لے گا وہ سو روپے پورپورا لے گا۔
(۳)یہ صورت بعینہ دوسری ہے مگر ذرابیش وکم یہ ہے کہ دلیل اس طورپرلکھتے ہیں کہ اگر راہن مدت معہودہ میں روپیہ ادانہ کرے توزمین فروخت کرکے مرتہن کے قبضہ میں ہمیشہ کے لئے آجاتی ہے۔
الجواب:
مرتہن کومرہون سے انتفاع حرام ہے۔حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔(ت)
زمین رہن رکھنے والا اگرخود مالك زمین ہے جیسے زمین دار معافیدار اگرچہ خراج گورنمنٹی بطورمالگزاری یاابواب اس پرہوجب تو یہ وہی صورت مرہون سے انتفاع کی ہے اور حرام ہےاوراگررہن رکھنے والا کاشتکار ہے اورخراج وہ لگان ہے کہ زمین دار کو دیا جاتاہے تو اسے بے اجازت زمیندارنہ رہن رکھنے کااختیارنہ اسے رہن لینے کا۔اب کہ رہن رکھ دی اورمرتہن نے زمیندار کو لگان دی اوراس نے قبول کیایہ عقد اجارہ زمیندار و
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3339 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
مرتہن میں ہوارہن باطل ہوگیا اورپہلا کاشتکارزمین سے بے تعلق ہوگیایہ مرتہن ہی کاشتکار ہوگیا زراعت اسے جائزہے اور اس کاروپیہ پہلے کاشتکار پرفرض ہے جب وہ روپیہ دے اس پرزمین چھوڑنا لازم نہیں جب تك سال تمام پرزمین دار اس سے نہ چھڑائے اوردوسری صورت جس میں میعاد گزرجانے پرزمین کا فروخت ہوجانا ہے اگرمالك زمین نے زمین رکھی تو رہی ہے اور یہ شرط مردود اوراگرکاشتکار نے رہن رکھی توزمین فروخت ہوجانے کابطلان اوربھی ظاہراسے پرائی زمین بیع کردینے کاکیا اختیار غرض یہ سب جاہلانہ طریقے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۲: ۱۶/رجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زمین علی وجہ الرہن خریدنا جائزہے یانہ
الجوا ب:
علی وجہ الرہن خریدنا بعینہ رہن لیناہے اس پرتمام احکام رہن کے ہوں گےخریدار کو اس سے نفع اٹھانا حرامدین اگرچہ بعد میعاد ملے زمین واپس نہ دیناحرامواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳: ازشہر محلہ روہیلی ٹولہ متصل مسجدجہان خاں مسئولہ طالب علم بنگالی ۱۳شوال ۱۳۳۸ھ
زیدنے بکر سے ایك بیگہ زمین مبلغ ایك صدروپیہ دے کرلے لی اس شرط پر کہ جب تك روپیہ ادانہیں کریں گے زمین ان کے قبضہ میں رہے گی اورنفع بھی اٹھائیں گے اوراصل روپے میں سے مبلغ عہ ہرسال میں کم ہوتاجائے یہ شرعا جائزہے یانہیں
الجواب:
یہ صورت رہن واجارہ جمع کرنے کی ہے اور وہ جمع نہیں ہوسکتے رہن یوں باطل ہواکہ دوروپے سال اجرت منافع زمین رہن ٹھہرےاجارہ یوں فاسد ہواکہ مدت مجہول رہی کہ جب تك روپیہ اداہولہذایہ شرعا جائزنہیں گناہ ہےاس کافورا فسخ کرنا دونوں پرواجب ہے زمین فورا واپس کردے یا اس اجارہ فاسدہ کو فسخ کرکے ازسرنوصحیح اجارہ متعین مدت کرلے جس میں یہ شرط نہ ہو کہ تاادائے قرض زمین پرقبضہ رہے گارہااس کاقرض ہے اسے اختیارہے کہ اب وصول کرے یاجب چاہےقرض کے لئے
#3340 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کوئی میعاد لازم نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴: اظہارالحق ساکن چندوسی محلہ کاغذی مکان شیخ عبدالحق صاحب ۱۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زیدایك مکان کا مرتہن ہے اگر وہ اس مکان کو راہن سے عاریۃ لے کر اس میں سکونت اختیارکرے یا اس کو کرائے پر اٹھائے تو یہ فعل اس کاجائزہے یانہیں بحوالہ کتب تحریرفرمائیے۔
الجواب:
بہ اجازت راہن عاریۃ رہے کہ جس وقت راہن منع کرے فورا سکونت چھوڑدے مقفل کرکے صرف قبضہ رہن رکھے جائزہے اورکرایہ پرچلانا بے اجازت راہن ہوتوحرام ہے اورباجازت ہوتورہن جاتارہا کرایہ کامالك راہن ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵: ازمیران پورکٹرہ ضلع شاہ جہان پور مسئولہ محمدصدیق بیگ صاحب ۲۵/محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی اہل ہنود سے زمین دخلی رکھ کرپانچ برس کے واسطے اس میں زراعت خودکرے یاان کوبونے پرکسی دوسرے کودے دے کیسا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
ہنود سے اس عقد کے کرنے میں کوئی حرج نہیں لجواز العقود الفاسدۃ مع من لیس ذمیا ولامستامنا(کیونکہ فاسد عقود ایسے کافروں کے ساتھ جائزہیں جوذمی اورمستامن نہ ہوں۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ و ۹۷: ازالہ آباد مسئولہ سیدسبحن الحسن صاحب ۷ربیع الآخر۱۳۳۹ھ
(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك فٹن گاڑی مبلغ ۲۰۰روپیہ میں دخلی رہن رکھی راہن نے ہرقسم کی مالکانہ اجازت بخوشی دی راہن نے اس کوکرایہ مبلغ ۷روپیہ ماہوار پردے دیایہ کرایہ جائزہے یانہیں
(۲) دوسری یہ کہ زیدنے ایك گھوڑا اپنا اس میں لے کر ڈالا اورکرایہ پر اس شخص کو جس سے دخلی رہن رکھی ہے مبلغ سوروپیہ ماہواردے دی۔بینواتوجروا۔
#3341 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
الجواب:
(۱) یہ حرام ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہوربا ۔جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)
(۲) یہ بھی حرام ہےمالك کو اس کی شے کرایہ پردینا اوربھی بے معنی ہےہاں اگررہن سے بازآئے اوراس کی گاڑی اسے واپس دے اوراپنا گھوڑا سات روپے مہینے کرایہ پردے توجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ مہی پور موضع کلقند مدرسہ ملك بنگال مسئولہ فصل علی صاحب ۴/رمضان ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے شرع متین ومفتیان دین مبین اندریں مسئلہ کہ شخصی چندبیگہ اراضی خود نزد کسے رہن داشتہ بعوضش یك صد روپیہ قرض گرفت ومرتہن بایں شرط کہ تامدت ایفائے زرمقروض اززمین مرہونہ بادائے خراج زمینداران بکاشتکاری خودخواہد داشتقرض دادپس ایں چنیں قرض دادن جائزست یانہبینواتوجروا۔ کیافرماتے ہیں علمائے شرع متین ومفتیان دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی چندبیگھہ زمین کسی شخص کے پاس رہن رکھی اوراس کے بدلے ایك سوروپیہ قرض لیامرتہن نے اس شرط پرقرض دیاکہ مقروض سے قرض کی وصولی تك مرہون زمین کاخراج زمینداروں کودینے کے عوض اس زمین میں کاشتکاری کرے گا توکیاایساقرض دیناجائزہے یانہیں بیان کرواجرپاؤگے(ت)
الجواب:
قرض دادن رواست وآں شرط فاسد وبیجاست وآں رہن باطل وبے معنی ست دردرمختار ست کل ماکان مبادلۃ مال بمال یفسد بالشرط الفاسد کالبیع ومالافلا قرض دینا جائزہے اوروہ شرط فاسد وبے جا ہے اوررہن باطل وبے معنی ہےدرمختارمیں ہے:جس عقد میں مال کا مبادلہ مال سے ہو وہ شرط فاسد کے ساتھ فاسد ہوجاتاہے جیسا کہ بیعاورجوعقدایسانہ ہو
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الحارث ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
#3342 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
کالقرض راہن مالك زمین نبود ونہ ازمالك برائے رہن استعارہ نمود کاشتکاری برائے اوگزاشت وخراج زمیندارہم بسرش داشت چوں زمیندارایں معنی رضا داد وخراج ازیں مقرض گرفت ایں عقد اجارہ میان زمین دارومقرض شدو راہن برکراں ماند وذلك ان الراھن والاجارۃ عقد ان متنافیان لایجتمعانواﷲ تعالی اعلم۔ وہ فاسد نہیں ہوتا جیساکہ قرض۔راہن زمین کامالك نہیں تھا اورنہ اس نے مالك سے رہن کے لئے زمین عاریت پرلیاس نے مرتہن کے لئے کاشتکاری چھوڑی اورزمیندار کاخراج بھی مرتہن کے سرپررکھ دیاجب زمیندار نے اس پررضامندی ظاہر کردی اورزمین کاخراج قرض دہندہ سے لے لیاتویہ عقد اجارہ زمیندار اورقرض دہندہ کے درمیان ہوااورراہن ایك طرف رہ گیا۔اوریہ اس لئے کہ رہن واجارہ دومتنافی عقدہیں جو جمع نہیں ہوسکتے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۹۹: ازرنگون سکی منٹولی سربرٹ مکان ۲۱کمرہ ۱۳مسئولہ محمدابراہیم خطیب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زیدنے اپنی جائداد عمروکے پاس رہن رکھی عمرونے زیدکی موجودگی میں مدت رہن ختم ہونے سے پیشترہی کوٹ سے اجازت لے کر بے اطلاع اس کی جائداد مرہونہ کو بیع کردیااب زید اس بیع کوفسخ کرے گایانہیں اور ثمن بیع اداکرکے اپنی جائداد واپس لے سکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
زیدبے شك اس بیع کو فسخ کرسکتاہے اورزرثمن اداکرنا اس کے ذمہ نہیںزرثمن کامطالبہ مشتری اس مرتہن سے کرے گا زید کے ذمہ صرف زررہن ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
توقف علی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز و الافلاولہ ان مرتہن کی بیع راہن کی اجازت پرموقوف ہوگی اگر اس نے اجازت دی توجائزورنہ جائزنہیں ہوگی راہن کواختیارہے کہ وہ بیع کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع باب المتفرقات مایبطل بالشرط ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
#3343 · کتاب الرھن (رہن کابیان)
یبطلہ ویعیدہ رھنا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ باطل کردے اوراسے رہن کی طرف لوٹادے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۰: ازآول ضلع رہتك مسئولہ محمدجمال مہتمم مدرسہ رونق الاسلام ۴/شوال ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع رہن جائزہے یانہیں زیدکہتا ہے کہ جائزہے اور اس کے لئے کتاب درمختار مطبع منشی نولکشور ص۵۵۴ کی عبارت پیش کرتاہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ مرہون شیئ کانفع باجازت راہن جائزہے۔کیازیدکی دلیل صحیح ہے مگرقول ثانی درمختار کہ متقی کے لئے جائزنہیں یہ بھی سودہے۔زیدکہتاہے کہ اتقانہایت مشکل ہے اوریہ متقی کے لئے ہے مگرعمروکاجواب ہے کہ ہرمسلمان متقی ہے توکیاعمروکاجواب صحیح ہے اور کیاہرمسلمان متقی ہے اورتقوی اورفتوی میں کچھ فرق ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
تحقیق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ مرتہن کورہن سے انتفاع جس طرح رائج ہے قطعا مطلقا اجماعا حرام ہے اول تو وہ شرط سے ہوتاہے رہن نامہ میں لکھاجاتاہے اورپھراذن بھی حقیقتا اذن نہیں عــــــہ ۔
مسئلہ ۱۰۱: مدرسہ منظراسلام مرسلہ محمداحمدطالب علم بنگالی مورخہ ۲۴رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے بکر سے ہزارروپیہ لیااور اپنامکان بکرکے پاس دخلی رہن چھوڑا یعنی جب تك زید وہ روپیہ نہ دے سکے اتنے روز بکرکواختیارخاص ہے چاہے وہ خود اس مکان میں رہے بسے یادوسرے شخص کے پاس کرایہ پردے کرروپیہ لےآیااس صورت میں بکرکے لئے ملکیت ثابت ہے اوربکرکامکان سے کرایہ وصول کرنا مطابق شرع شریف سودہے یانہیں
الجواب:
خودرہنا بھی حرام اورکرایہ لینابھی سود۔اگرکرایہ پردیاتوازآنجاکہ اجازت زید سے تھا کرایہ کامالك زیدہوا اوراب مکان رہن سے نکل گیا۔واﷲ تعالی اعلم
عــــــہ: یہ فتوی ناتمام ہے۔عبدالمبین نعمانی۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۷€
#3344 · باب القسم (قسم کابیان)
باب القسم
(قسم کابیان)

مسئلہ ۱۰۲: ازمحلہ بہاری پوربریلی مرسلہ ریاض الدین احمد ۲۹رجب ۱۳۳۸ھ
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاک کی قسم کھانا یا اس کااٹھا لیناگناہ ہے یانہیں آپ کوتکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایک شخص سے کہاگیا کہ اگرتوسچاہے توقرآن شریف کواٹھالے۔اس کا اس نے یہ جواب دیا کہ میں سچائی میں ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اٹھاسکتاکیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہرحالت میں گناہ ہےدوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہےمہربانی فرماکر مطلع فرمائیے کہ ان دونوں باتوں میں کونسی بات سچی ہے
الجواب:
جھوٹی بات پرقرآن مجید کی قسم کھانا یااٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہےاورسچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتاہے مگریہ قسم بہت سخت کرناہے بلاضرورت خاصہ نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
__________________
#3345 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
کتاب الوصایا
(وصیتوں کابیان)

مسئلہ۱۰۳: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سیدناسیدابوالحسین احمدنوری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین قدس اﷲ تعالی اسرارھم العزیزہ سے ایك بزرگ نے اپنے آباء کرام کے سجادہ نشین اورجائداد وقضیہ در گاہ وخانقاہ وقف کردہ امراء اسلام کے متولی تھے بنام اپنے صاحبزادہ حامد اور اپنے نبیرہ احمدبن محمد کے لئے وصیت فرمائی یہ دونوں بعد میرے متولی تمام جائداد ومصارف درگاہ خانقاہ اورجملہ امور متعلقہ ریاست درگاہی وخانقاہی میں شریك مساوی رہیں اورمیری جائداد مملوکہ سے احمدبن محمدنبیرہ میراثلث حصہ بموجب وصیت شرعیہ پائے اور اس وصیت کو ایك کاغذپرتحریرفرمایا اورجناب ممدوح نے اپنی صاحبزادی کو اس قدرحصہ کہ بعد وفات انہیں پہنچناتصورکیاجاتاخواہ اس سے کم اپنی حیات میں اس شرط پر دے کر قبض ودخل کرادیا کہ اب ان کے لئے میراث میں حق نہ ہوا اوریہ تخارج برضامندی ان کی واقع ہوااورصاحبزادی صاحبہ کی طرف سے حکام کے یہاں تصدیق اس مضمون کی گزرگئی کہ میں نے اپنا حصہ پالیا اب مجھے بعدانتقال حضرت مورث کچھ دعوی ترکہ میں نہ رہا جناب ممدوح نے یہ مضمون بھی اسی وصیت نامہ میں ذکرفرمایا آیا اس صورت میں وہ وصیت کہ حضرت موصوف نے دربارہ تولیت فرمائی اوروصیت ثلث مال مملوك نسبت احمدبن محمدشرعا جائزاورنافذ ہے یانہیں اوریہ تخارج کہ حضرت ممدوح اورصاحبزادی صاحبہ میں و اقع ہوا شرعا معتبرہے یانہیں
#3346 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اگرنامعتبرہوتووصیت نامہ مذکورہ میں اس کاذکر آجانا کل وصیت نامہ کوباطل کردے گا یاصرف اسی قدر نامعتبراورباقی وصایائے مذکورہ صحیح اورمقبول رہیں گے اسی طرح اس کاغذ میں یہ بھی ذکرفرمایاتھا کہ بعد میرے اگراہل خانہ میری زندہ رہیں توخبرگیری ان کی جائداد اوراحمد بن محمدبقدرمعتدبہ کرتے رہیں یہ امران دونوں کے ذمہ ہے مگربی بی صاحبہ مورث کے سامنے ہی گزرگئیں آیایہ کلمات بھی کچھ منافی صحت وصایائے مذکورہ ہیں یا نہیں اوربی بی صاحبہ اگربعد کوزندہ رہتیں توعام اس سے کہ یہ فقرہ ان کی رضا سے تحریرہے یابے رضا بہرتقدیر وہ اس تحریر کی بناء پر ترکہ سے محروم رہتیں یانہیں اگرنہ رہتیں تو دعوی ان کاحامدپرتھا کہ بعدا خراج ثلث وصیت کل جائداد متروکہ پروہی قابض ہوا یا احمدموصی لہ پربھی کہ ثلث بحکم وصیت اس نے پایا بعد وصال حضرت ممدوح کے حامد اوراحمددونوں نے اس وصیت نامہ کو معتبراورمقبول رکھا اورباہم بطریق مصالحت یہ امرقرارپایا کہ جس طرح جائداد مملوکہ میں احمدبن محمد کے لئے ثلث ہے یونہی تولیت اوقاف بھی اثلاثا رہے کہ دو ثلث میں حامد اورایك میں احمدمتولی اورمتصرف ہوں آیا برتقدیر وفرض بطلان کلی وصیت نامہ مذکورہ یہ مصالحہ کہ باہم حامد اوراحمدمیں واقع ہوامعتبر ہے یانہیں اوردرصورت صحت وصیت نامہ اس صلحنامہ کاکیاحکم ہے اوراگرمتولی دربارہ اوقاف دو امر کی وصیت کرے کہ ایك ان میں سے مطابق تعامل قدیم ہے اوردوسرا مخالف تو اس مخالف کے بطلان سے کل وصیت باطل قرارپائے گی یاصرف یہی امرمخالف اوراگرمتولی وقف کسی شخص کے نام تولیت کرے تویہ وصیت اس کی مطلقا معتبررہے گی یا متولیان سابق کا تعامل یہاں بھی دیکھاجائے گا اوراگران میں آج تك وصیت تولیت کارواج نہ تھا تومتولی حال کی وصیت بسبب مخالفت تعامل باطل ہوجائے گی۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
دربارہ تولیت اوقاف مذکورہ حامداوراحمدکے نام بزرگ ممدوح کی وصیت کہ دونوں شریك مساوی ہوں صحیح ونافذ ہے اورتولیت محل جریان ارث نہیں جس میں حق وارث کالحاظ ہوکہ ثلث سے زائد میں وصیت بے اذن ورثاء نفاذنہ پائے۔
فی الوجیزان مات القیم و قداوصی الی احد فوصی القیم بمنزلۃ القیم ۔وفی وقف العلمگیریۃ عن الحاوی وجیزمیں ہے اگرمتولی مرجائے اوروہ کسی کے لئے وصیت کرے تو اس متولی کا وصی متولی کے حکم میں ہوتاہے۔
عالمگیریہ کے باب الوقف میں حاوی
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوقف النوع الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۵۲۔۲۵۱€
#3347 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ان مات احدالوصین واوصی الی جماعۃ لم یتفرد واحد بالتصرف ویجعل نصف الغلۃ فی یدالجماعۃ الذین قاموامقام الوصی الھالک سے منقول ہے اگردوصیوں میں سے ایك مرگیا اوروہ ایك جماعت کے بارے میں وصیت کرگیا تواکیلے تصرف میں مستقل نہ ہوگا اوروقف غلہ میں سے نصف اس جماعت کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا جومرنے والے کے قائمقام ہوئی۔(ت)
پس دونوں صاحب شرعا متولی اوقاف مذکورہ ہوئے اورایسے ہوئے کہ ایك بے دوسرے کے تصرفات قوامت میں مستقل نہیں ہوسکتا۔
فقد صرحوا فی الوقف والوصایا ان القوامۃ والوصایاۃ اذاکانت الی اثنین لم یجز ان ینفرد احدھما عن الاخر۔ تحقیق مشائخ نے وقف ووصایا کے بارے میں تصریح کی کہ تولیت اوروصیت جب دوشخصوں کے لئے ہوتوان میں سے کسی ایك کا دوسرے سے منفردہوناجائزنہیں۔(ت)
اوراحمدبن محمدکے نام جائداد مملوك میں ثلث کی وصیت توبدیہی الصحت والنفاذہے۔
فلقد قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ تعالی تصدق علیکم بثلث اموالکم فی اخراعمارکم او کما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ تحقیق نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اشاد فرمایابیشك اﷲ تعالی نے تمہاری عمروں کے آخرمیں تمہارے تہائی مال کے ساتھ تم پر صدقہ فرمایا یاجیساآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔(ت)
نہ احمد بن محمدباوجود حامدوارث نہ وصیت قدرثلث سے متجاوزکہ کل یامقدار زائدمیں اجازت ورثاء کی احتیاج ہوتی۔
فی تنویرالابصارویجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجزالوارث ذلک الخ۔ تنویرالابصار میں ہے کہ اجنبی کے لئے ایك تہائی کی وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کوجائزنہ رکھیں الخ۔(ت)
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۱€۰
مجمع الزوائد باب الوصیۃ بالثلث دارالکتاب العلمیۃ بیروت ∞۴/ ۲۱۲€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷€
#3348 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
رہامسئلہ تخارج بحالت مورث کہ بزرگ موصوف نے اپنی حیات میں صاحبزادی صاحبہ کو کچھ عطافرماکر میراث سے علیحدہ کردیا اوروہ بھی راضی ہوگئیں کہ میں نے اپناحصہ پالیا اوربعدانتقال مورث کے ترکہ میں میراحق نہیںاشباہ میں طبقات علامہ شیخ عبدالقادر سے اس صورت کاجوازنقل کیا اوراسے علامہ ابوالعباس ناطفی پھرجرجانی صاحب خزانہ پھرشیخ عبدالقادر پھرفاضل زین الدین صاحب اشباہ پھرعلامہ سیداحمدحموی نے مقررومسلم رکھااورفقیہ ابوجعفر محمدبن یمانی نے اس پرفتوی دیااورایساہی فقیہ محدث ابوعمرو طبری اوراصحاب احمدبن ابی الحارث نے روایت کیا۔
کماقال العلامۃ زین قال الشیخ عبدالقادر فی الطبقات فی باب الھمزۃ فی احمدقال الجرجانی فی الخزانۃقال ابوالعباس الناطفی رأیت بخط بعض مشائخنارحمھم اﷲفی رجل جعل لاحدبنیہ دارا بنصیبہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جازوافتی بہ الفقیہ ابوجعفر محمد بن الیمانی احد اصحاب محمد بن شجاع البلخی وحکی ذلك اصحاب احمد بن ابی الحارث وابوعمروالطبری انتھی۔ قال الفقیرالمجیب غفراﷲ تعالی لہ مستند ذلك الی خط بعض المشائخ وھذا وان لم یرد علیہ ان الخط لایعمل بہ الا فی بعض صور مستثناۃ کما فی عامۃ الکتب وذلك لان خط المفتی من الصور المستثناہ فقد قال العلامۃ الحموی فی شرح احکام جیساکہ علامہ زین نے کہا شیخ عبدالقادرنے طبقات کے باب الہمزہ میں احمدکے ذکرمیں کہاجرجانی نے خزانہ میں کہا ابو العباس ناطفی نے کہاکہ میں نے بعض مشائخ رحمۃ اﷲ علیہم کے خط سے اس شخص کے بارے میں دیکھا جس نے اپناکوئی مکان اپنے ایك بیٹے کو حصہ کے طورپردے دیا اس شرط پرکہ وہ باپ کی موت کے بعد وارث نہیں بنے گا تویہ جائزہےاسی کے ساتھ فتوی دیا فقیہ ابوجعفر محمد بن یمانی نے جومحمد بن شجاع بلخی کے اصحاب میں سے ہیں۔اوراسی کی حکایت کی احمد بن ابوالحارث اورابوعمروطبری کے اصحاب نےانتہی۔ فقیر مجیب غفراﷲتعالی لہ کہتاہے کہ اس کوبعض مشائخ کے خط کی طرف منسوب کرنے پر اگریہ اعتراض واردنہیں ہوتاکہ خط بعض استثنائی صورتوں کے سواقابل عمل نہیں ہوتا جیساکہ عام کتابوں میں ہے کیونکہ مفتی کاخط انہی استثنائی صورتوں میں سے ہے۔تحقیق علامہ حموی
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۲€
#3349 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الکتابۃ من غمز العیون والبصائریجوزالاعتماد علی خط المفتی اخذا من قولھم یجوز الاعتماد علی اشارتہ فالکتابۃ اولی انتھیلکن فیہ جھالۃ الا ان یقال ان المشائخ کلھم ممن یستند بقولہ فلاتضرجھالتہ کما یقال فی کثیر من المسائل قال بعضھم یجوز وبعضھم لاوان سلم فمعتمدنا تقریر تلك الفحول التحاریر اما قول العلامۃ الحموی فی شرح مانحن فیہقولہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جاز ای صح اقول:یتأمل فی وجہ صحۃ ذلك فانہ خفی انتھی فاقول: ھذا کما تری صریح فی القبول اذا ذعن رحمہ اﷲ ان لہ وجھا صحیحا ولکنہ خفی حری التامل ولولاذلك لقال ھذا مما لاوجہ لہ فلایعول علیہوھذا مما لایخفی علی العارف باسالیب نے شرح احکام الکتابۃ میں بحوالہ غمزالعیون والبصائر کہامفتی کے خط پراعتماد جائزہے مشائخ کے اس قول کااعتبار کرتے ہوئے کہ مفتی کے اشارہ پر اعتماد جائزہے کیونکہ کتابت اشارہ سے اولی ہوتی ہے انتہیلیکن اس میں جہالت ہے مگریہ کہ یوں کہاجائے کہ تمام مشائخ وہ ہیں جن کے قول سے استناد کیاجاتاہے تواب جہالت مضرنہ ہوگی جیساکہ بہت سے مسائل میں کہاجاتاہے ان میں سے بعض نے کہاکہ جائزہے اوربعض نے کہاکہ نہیں جائزہےاگراس کوتسلیم کربھی لیاجائے توہمارا معتمدان جید متبحرعلماء کی تقریرہے۔رہاہمارے زیربحث مسئلہ کی شرح میں علامہ حموی کافرمان کہ مرنے والے کایہ کہنا کہ یہ اس شرط پرہے کہ باپ کی موت کے بعد اس بیٹے کے لئے کوئی میراث نہ ہوگی یہ جائزاورصحیح ہےتو میں کہتاہوں اس کی وجہ صحت میں تامل کرناچاہئے کیونکہ یہ خفی ہے انتہی۔میں کہتاہوں جیساکہ تودیکھ رہاہے یہ قبول میں صریح ہے کیونکہ علامہ حموی رحمۃ اﷲ علیہ نے اذعان فرمایا کہ اس کے لئے وجہ صحیح ہے لیکن وہ خفی ہے جوتامل کے لائق ہےاگرایسانہ ہوتاتوحضرت علامہ یوں فرماتے کہ اس کے لئے کوئی وجہ نہیں لہذا اس پراعتماد نہ کیاجائے اوریہ بات کلام کے اسلوبوں کو
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹۸€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۲€
#3350 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الکلام۔ جاننے والے پرپوشیدہ نہیں۔(ت)
پس اس روایت اورائمہ کی تقریر وافتاء وحکایت کی بناپر یہ تخارج بھی صحیح اورجائزواقع ہوااور صاحبزادی صاحبہ کو بعدانتقال مورث کوئی دعوی نہیں پہنچتا اوراگریہ روایت بوجہ قلت شہرت یا عدم ظہورعلت پایہ اعتبارسے ساقط مانی جائے توضرور یہ تخارج باطل قرارپائے گا مگر اس کے کاغذوصیت میں مذکور ہونے سے وصایائے مذکورکیوں باطل ہونے لگیں ھذا باطل صریح(یہ واضح طورپرباطل ہے۔ت) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر ایك شیئ کی وارث اوراجنبی کے لئے بالمناصفۃ وصیت کی وہ وصیت وارث کے حق میں باطل اوراجنبی کے نصف میں صحیح اورنافذ رہے گی۔
ففی تنویرالابصارولاجنبی ووارثہ اوقاتلہ لہ نصف الوصیۃ وبطل وصیتہ للوارث والقاتل انتھی ومثلہ فی عامۃ الکتب۔ تنویرالابصارمیں ہے کہ اجنبی اوروارث یا اجنبی اورقاتل کے لئے وصیت کی تواجنبی کووصیت کانصف ملے گا جبکہ وارث اورقاتل کے بارے میں اس کی وصیت باطل ہوگی انتہیاور اسی کی مثل عام کتابوں میں ہے۔(ت)
سبحان اﷲ! جب عقد واحد ولفظ واحد میں شیئ واحد کہ دوشخصوں کے نام وصیت کی اورایك کے لئے شرع نے اجازت نہ دی صرف اسی کے حق میں باطل ہوئی اور اس بطلان نے نصف باقی تك سرایت نہ کیتوجہاں عقد متعدد لفظ متعدد معقود علیہ متعدد اورایك عقد ان میں سے باطل ہو ان دونوں کے ایك کاغذ میں ذکر کردینے سے کیونکراس کابطلان اس تك ساری ونافذ ہوجائے گاایسی بے اصل وجہ سے وصایائے مذکور کاابطال کوئی عاقل تجویز نہیں کرسکتا اوریہیں سے ظاہرہوگیاسوال اخیر کا جواب کہ اوقاف صحیحہ شرعیہ میں جب بوجہ جہالت شرط واقف معمول قدیم پرمستقر اعتبار رہے توجو وصیت اس کے مطابق ہوگی جائزاورجومخالف ہوگی باطلاورباطل کابطلان جائزتك سرایت نہ کرے گا کما اوضحناہ مع انہ کان واضحا (جیساکہ ہم نے اس کی وضاحت کردی باوجودیکہ یہ واضح تھا۔ت) اورانہیں وجوہ سے وہ فقرہ کہ وصیت نامہ میں جناب بی بی صاحبہ کی نسبت تحریرہوا صحت وصایائے سابقہ میں خلل اندازنہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی تحریربی بی صاحبہ کو برتقدیر حیات بعد مورث ترکہ سے حاجب نہ تھی گویہ تحریر ان کی رضا سے واقع ہوئی
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۶€
#3351 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
فان الارث سبب ضروری للملك حتی ان الوارث یرث ویملك سھمہ ولوقال الف مرۃ انی ترکت حقی والمسئلۃ فی الاشباہ وغیرھا۔ اس لئے کہ وارث ہوناملك کے لئے سبب ضروری ہے یہاں تك کہ وارث اپنے حصے کاوارث ومالك بن جاتاہے اگرچہ ہزار بارکہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑدیاہے اور یہ مسئلہ اشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
ہاں اگر وہ زندہ رہتیں توان کادعوی حامد پرتھا جس نے بعد اخراج وصیت کل متروکہ پرقبضہ کیاکہ حق ورثہ صرف انہیں دوثلث میں تھا ثلث وصیت ان کے حق سے جداہے تواحمدبن محمد جس نے بحکم وصیت ثلث پایا برتقدیر حیات بی بی صاحبہ اوربرتقدیر بطلان تخارج صاحبزادی صاحبہ دونوں کے دعوے سے بایں معنی بری ہے کہ ان کے ظہور حصص سے اس کے ثلث میں کمی نہیں آسکتی بلکہ بحکم وصیت کل جائداد سے ثلث کامل اسے دیں گے اوردوثلث باقی ماندہ ورثہ بحصص شرعیہ تقسیم کرلیں گے
وذلك لان الوصیۃ مقدمۃ علی الارث ومعلوم انہ لا یزاحم شیئ شیئا الا اذا کانا فی مرتبۃ واحدۃ ولو سلمت مزاحمۃ المتاخر للمقدم لم یبق المتقدم مقدما والمتاخر متاخرا ھذا خلففثبت ان الموصی لہ ملك الثلث من دون المزاحم الاتری ان الوصیۃ لاتزاحم الدیون لتقدم الدیون علیھا فکذلك المیراث لایزاحم الوصیۃ بعین ذلك الوجہ وھذا ظاھر جدا۔ اوریہ اس لئے کہ وصیت میراث پرمقدم ہےاور یہ بات معلوم ہے کہ کوئی شیئ کی مزاحمت نہیں کرسکتی جب تك وہ دونوں ایك ہی مرتبہ میں نہ ہوں۔اگرمتاخر کی مقدم کے لئے مزاحمت تسلیم کرلی جائے تومقدم مقدم نہ رہے گا اورمتأخر متأخر نہ رہے گا۔یہ خلاف مفروض ہے۔لہذا ثابت ہوگیا کہ جس کے حق میں وصیت کی گئی وہ بغیرکسی مزاحم کے تہائی مال کامالك ہوگیا۔کیاتم نہیں دیکھتے کہ وصیت قرضوں کی مزاحمت نہیں کرتی کیونکہ قرضے اس پرمقدم ہیں۔یوں ہی بعینہ اسی وجہ سے میراث وصیت کی مزاحمت نہیں کرتی اوریہ خوب ظاہر ہے۔(ت)
اب باقی رہامسئلہ صلحنامہ پرکلام جب وصیت بزرگ موصوف دربارہ تولیت بھی صحیح قرارپائی اورحامداوراحمددونوں نصف نصف جائداد کے قسیم ٹھہرے تونظرفقہی اسے مقتضی ہے اگراحمد کے لئے تفویض عام اور نقل تولیت کامطلقا اختیارشرط واقف خواہ تعامل قدیم سے ثابت نہ ہو تو یہ صلحنامہ وجہ صحت نہیں رکھتا اوراحمد اگرلاکھ بارثلث خواہ ربع خواہ سدس پر مصالحہ کرے شرع ہرگزقبول
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۶۰€
#3352 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
نہ فرمائے گیاور اسے نصف کامل کامتولی رکھے گی کہ احمد کی طرف سے یہ صلح اور نصف چھوڑ کر ثلث پرراضی ہونادرحقیقت تولیت سدس سے اپنے نفس کو عزل کرناہے اور متولی کو بے علم واطلاع قاضیعزل نفس کااختیارنہیں اوراگر ہزاربارعزل کرے گا معزول نہ ہوسکے گا واین القاضی واین العلم(اورکہاں ہے قاضی اورکہاں ہے علم۔ت)بحرالرائق میں ہے:
اذا عزل نفسہ عند القاضی فانہ ینصب غیرہ ولا ینعزل بعزل نفسہ مالم یبلغ القاضی وبمثلہ فی اسفار اخر۔ جب متولی قاضی کے پاس خود کو معزول کرے تو قاضی اس کی جگہ کسی اور کومقررکردے گا اور جب تك متولی قاضی تك اطلاع نہ پہنچائے وہ خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوگااوراسی کی مثل دوسری کتابوں می مذکورہے۔(ت)
اگربغرض باطل وتقدیر غلط وصیت نامہ کومہمل وکان لم یکنٹھہرایاجائے تاہم یہ اجازت شرع حامد اوراحمد بن محمد سے جومتولی قرارپائے گا اسے ترك تولیت بعض برمصالحہ صرف بشرائط مذکورہ جائزٹھہرے گا والالابالجملہ وصیت نامہ صحیح ہو کماھو الحق یاباطل کما فرضبہرطور صحت صلحنامہ وترك تولیت بعض اسی تفویض عام اوراختیار تام کے ثبوت پرمتوقف
لما تقرر من ان النظار اذا لم یکونوا مرضی بمرض الموت فھم کمثل الوکلاء لیس لھم ان یعزلوا انفسھم الابخیرۃ من الواقف اوالقاضی اوثبوت التفویض العام الیھم کماصرح بہ فی الدرالمختارو ردالمحتار وغیرھما من الاسفار وھذا کلہ واضح عند من لہ اجالۃ نظر فی کلمات القوم۔ بسبب اس کے جوثابت ہوچکاہے کہ متولی جب تك مرض الموت میں مبتلا نہ ہوں وہ وکیلوں کی طرح ہیں انہیں یہ اختیار نہیں کہ وہ خود کو معزول کرلیں جب تك واقف یاقاضی کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کااختیارنہ ہو یا جب تك انہیں تولیت کی تفویض عام نہ ہو۔جیساکہ درمختار اورردالمحتار وغیرہ ضخیم کتب میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔اوریہ تمام ہراس شخص پرروشن وواضح ہے جس کی نظرقوم کے کلام کے نتائج پرہے۔(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۲۳۴،€ردالمحتاربحوالہ بحرالرائق کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۱۲€
#3353 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اورمتولی وقف کو وصیت تولیت کامطلقا اختیارہے خواہ نظارپیشیں میں ایسی وصیت کارواج ہویانہ ہو حتی کہ یکے بعد دیگرے ہزار متولی گزرے اورا ن میں کسی نے تولیت کی وصیت نہ کی تاہم متولی حال کواختیاروصیت حاصل ہے۔فتح القدیر وبزازیہ ووالولجیہ ومجتبی وسراجیہ وخانیہ وتاتارخانیہ وذخیرہ برہانیہ واشباہ النظائر وشروح حموی وبیری ودرمختاروحواشی طحطاوی وشامی وعقوددریہ و فتاوی خیریہ وہندیہ وغیرذلك عامہ کتب میں اس مسئلہ کی تصریح اوراس سے بحث کرتے ہیں کوئی تحقیق تعامل کی قیدنہیں لگاتا۔
والفتاوی الخیریۃ افصح بیانا واوضح تبیانا لذلکحیث قال بعد نقل المسئلۃ عن التتارخانیۃ والبزازیۃ وعزوہ الی کثیر من الکتب حتی قال فی الخانیۃ والظھیریۃ وغیرھما والعبارۃ للخانیۃ ولو ان الواقف جعل رجلا متولیا و شرط انہ ان مات ھذا المتولی لیس لہ ان یوصی الی غیرہ جازھذا الشرط انتھیوالفقیہ یفھم من ھذہ العبارۃ الابلغیۃ فی اثبات الولایۃ لوصی الناظر المذکور اذ التنصیص علی جواز الشرط لدفع توھم یطرأ علیہ بعدم الجواز کما یدریہ من اکثر من معاشرۃ نفائس ابکار عباراتھم اذ مثل ذلك یقال فی مثل ھذہ المسائل التی کثر نقلھا ودورانھا بینھمحتی کانھا مقررۃ فی علم کل فقیہ فیستغنی عن ذکرھا بذکر مایتفرع علیھا ویتشعب منھا و ھذہ المسئلۃ کذلك فتاوی خیریہ اس مسئلہ میں زیادہ فصیح بیان اور واضح تفصیل والا ہےجہاں اس نے تاتارخانیہ اوربزازیہ سے مسئلہ نقل کرنے کے بعد کہا اور اس کو علماء نے بہت سی کتابوں کی طرف منسوب کیاہے یہاں تك کہ خانیہ اورظہیریہ وغیرہ میں جبکہ عبارت خانیہ کی ہے اگرواقف نے کسی شخص کو متولی بناتے ہوئے شرط لگائی کہ یہ متولی مرتے وقت غیرکے لئے ولایت کی وصیت نہیں کرسکتا تویہ شرط جائزہےا نتہی۔اورفقیہ اس عبارت سے متولی مذکورکے وصی کے لئے اثبات ولایت میں مبالغہ سمجھتاہے اس لئے کہ جواز شرط پرنص کرنا اس وہم کے ازالہ کے لئے ہے جو اس کے عدم جواز پرطاری ہوتاہے جیساکہ عمدہ ونفیس عبارات علماء سے زیادہ ممارست رکھنے والاشخص اس کوجانتاہےاوریونہی کہاجاتاہے اس قسم کے مسائل میں جوع لماء کے درمیان بکثرت منقول اوردائرہیںیہاں تك کہ ہرفقیہ کے علم میں وہ اس طرح پختہ ہوگئے ہیں ان کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ ان اصول کوذکر کردیا جائے جن سے یہ مسائل متفرع ومستنبط ہوتے ہیںاوریہ مسئلہ بھی ایساہی ہے
حوالہ / References &فان کتب المذھب طافحۃ بھا الخ۔€ ∞کیونکہ ان سے کتابیں بھری پڑی ہیں الخ۔(ت)€
∞تقریر علماء سے واضح کہ اگرشروط واقف اس کے ذکرسے عاری ہوں تاہم یہ اختیارقیم کوحاصل،پھر عدم تعامل کیامضر ہوسکتاہے،€
&لان التعامل لایعتمد علیہ الا لکونہ مظن شرط الواقف کما صرح بہ فی الذخیرۃ والخیریۃ ورد المحتار وغیرھا من الاسفار۔€ ∞اس لئے کہ تعامل پر اعتمادنہیں کیاجاتا مگراس کے لئے کہ وہاں شرط واقف پائے جانے کاگمان ہوتاہے جیساکہ ذخیرہ، خیریہ اورردالمحتار وغیرہ کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)€
∞بلکہ کلمات علماء موضح کہ یہ اختیار دلالۃً مشروط ہے گوصراحۃً مذکورنہ ہوپھرتعامل وعدم تعامل کی کیاحاجت ہے۔€
&قال العلّامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ علی الدر المختار،وجہ الاستحسان ان الاول لما اوصی الیہ فقد علم ان الوصی لایعیش ابداولم یحب ان تکون امورۃ ضائعۃ فصار کانہ اذن لہ بان یوصی الٰی غیرہ بطریق الدلالۃ وان لم یاذن لہ بالافصاح ولوکان اذن لہ بالافصاح جاز لہ ان یوصی الٰی غیرہ فکذٰلك اذا اذن لہ بالدلالۃ الخ قلت ومعلوم ان المتولی کالوصی کما فی جامع الفصولین والاشباہ وکذا بالعکس کما فی العقود الدریۃ والوقف والوصیۃ اخوان یستقیان من مورد واحد وینزع مسائل احدھما € ∞علامہ سیدطحطاوی نے درمختارکے حاشیہ میں فرمایا استحسان کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلے وصی نے دوسرے کووصیت کی تو اسے یقین ہوگیاکہ وصی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا اوراس نے اس بات کو پسندنہ کیا کہ وقف کے معاملات ضائع ہوجائیں توگویا اس کی طرف سے بطور دلالت غیر کووصی بنانے کی اجازت ہوگئی اگرچہ اس نے صراحۃً اس کی اجازت نہیں دی۔ اگروہ صراحۃً اجازت دیتاہے تو اس کے لئے غیرکو وصی بنانا جائزہوتا،پس یہی حکم بطوردلالت اجازت کی صورت میں بھی ہوگا الخ میں کہتاہوں یہ بات معلوم ہے کہ متولی وصی کی مثل ہے جیساکہ جامع الفصولین اوراشباہ میں ہے۔اسی طرح اس کاعکس ہے جیساکہ عقودالدریہ میں ہے اوراسی طرح وقف اوروصیت ایك دوسرے کے مُشابہ ہیں ایك ہی گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں اور ایك کے مسائل €
#3354 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
من الاخر کما فی عدۃ مواضع من الخیریۃ والعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ۔ دوسرے سے اخذ کئے جاتے ہیں جیساکہ خیریہ اور عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کے متعدد مقامات پرمذکورہے۔(ت)
اورنظر دقیق حاکم کہ اس نفس وصیت کو مخالف تعامل سمجھنا ہی محض باطل کہ منافات فعل اور کف میں ہے نہ فعل وترك بمعنی عدم وقوع فعل میںکما ھو المقرر فی اصولنا معشر اھل السنۃ و الجماعۃ(جیساکہ ہمارے یعنی اہل سنت وجماعت کے اصول میں مقررہے۔ت) یہاں تك کہ ہمارے ائمہ کالعلامۃ المحقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الھمام والفاضل الشیخ زین بن نجیم المصری وغیرھما(جیسا کہ علامہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمدبن ہمام اور عظیم فاضل شیخ زین بن نجیم مصری اوران دونوں کے علاوہ دیگرعلماء۔ت) تصریح فرماتے ہیں کہ ترك بمعنی مذکور زیرقدرت عبدداخل نہیں۔
وھذا نص الاشباہ فی المبحث الاول فی حد النیۃ من القاعدۃ الثانیۃ بعد ذکر معناھا اللغوی وفی الشرع کما فی التلویح قصدالطاعۃ والتقرب الی اﷲ تعالی فی ایجاد الفعل انتھی ولایرد علیہ النیۃ فی التروك لانہ کما قدمناہ لایتقرب بھا الااذاصار الترك کفا وھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لاالترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر انتھی۔ یہ نص ہے اشباہ کی جومبحث اول میں نیت کی تعریف کی تعریف کے بارے میں ہےقاعدہ ثانیہ میں نیت کالغوی معنی بیان کرنے کے بعد مذکور ہےاوراصطلاح شرع میں جیساکہ تلویح میں ہے نیت کہتے ہیں ایجاد فعل میں طاعت اور اﷲ تعالی کاتقرب حاصل کرنے کاقصد کرنااور اس تعریف پر ترك فعل کی نیت کے ساتھ اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اس کے ساتھ تقرب حاصل نہیں کیاجاسکتا مگراس وقت جب ترك بمعنی کف یعنی رکناہو اوروہ فعل ہے اورنہی میں بندے کو اسی کے ساتھ مکلف بنایا جاتاہے نہ کہ ترك بمعنی عدم اس لئے کہ وہ بندے کی قدرت میں داخل نہیں جیساکہ تحریرمیں ہے انتہی۔(ت)
اورجب ایساہو تو اس میں اتباع غیرمقدوراورجہاں اتباع ناممکن مخالفت کاکیامحل
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۴۶€
#3355 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
قلت وبھذا لم یحرم علینا فعل کل مالم یفعلہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولاالاصحاب ولا التابعون اذ لیس کل ترك کفا وانما التاسی فی الکف فالمعیار ھوالغرض علی قواعد الشرع فما حسنہ فھو حسن وماقبحہ فھو قبیح ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔ میں کہتاہوں اس سے ثابت ہواکہ ہم پر ہروہ فعل حرام نہیں جس کو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمآپ کے صحابہ اور تابعین نے نہ کیا ہو کیونکہ ہرترك کف نہیں اوربیشك اقتداء توکف یعنی منع کرنے میں ہے۔چنانچہ معیار قواعدشرع پر انحصارہے جس چیزکوشرع نے حسن قراردے دیاوہ حسن اور جس کو قبیح قراردے دیا وہ قبیح ہے۔ایسے ہی تحقیق چاہئے اور اﷲ تعالی توفیق کامالك ہے۔(ت)
ہاں اگرشرط واقف میں تصریح منع ہے کہ متولیوں کواختیاروصیت نہیں توبیشك اب وصیت روا نہ رہے گی
لان الصریح یفوق الدلالۃ کما مر عن الخانیۃ و الظھیریۃ وغیرھما قلت یعنی اذا کان الوقف صحیحا شرعیا بحسب مراعاۃ شروطہواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم و صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد وآلہ وصحبہ وبارك وسلم۔ اس لئے کہ صریح دلالت سے برترہے جیساکہ خانیہظہیریہ وغیرہ سے گزرچکا۔میں کہتاہوں مراد اس سے یہ ہے کہ جب وقف شرعی طورپر صحیح ہو اس کی شرطوں کی رعایت کرنے کے اعتبار سےاﷲ پاك اوربلندوبرترخوب جانتاہے اس کاعلم اتم اوراس کاحکم مستحکم ہے۔اﷲ تعالی درودنازل فرمائے ہمارے سرداراورآقا محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور آپ کی آل اوراصحاب پراوربرکت وسلام نازل فرمائے(ت)
مسئلہ ۱۰۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج ایك سال کے بعد مرض الموت رہتاہے یانہیں اوربعض کتب میں جوعدم خوف موت کی قید ہے اس کے کیامعنی ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جمہورائمہ کے نزدیك فالج ودق وسل وغیرہا امراض مزمنہ جب ایك سال تك تطاول کریں مرض الموت نہیں رہتے اورایسے مریض کے تمام تصرفات شرعا مثل صحیح کے ہیں مختصرا امام مجتہد علامہ ابوجعفر طحاوی اورفتاوی امام قاضی خاں اور فتوی امام ابو العباس شماس اورامام عبداﷲ جرجانی اورامام شمس الائمہ حلوانی اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۵۷€
#3356 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
فتاوی التمرتاشی اورجامع الفتاوی اورفصول عمادیہ اوردررعلامہ خسرو اور مفتاح اورغمزالعیون علامہ احمدحموی اورمجتبی زاہدی اور فتاوی خیریہ اوردرمختار اورحاشیہ علامہ حلبی اورردالمحتار علامہ شامی اورفتاوی حامدیہ اورعقودالدریہ اورفتاوی ہندیہ وغیرہا متون وشروح وفتاوی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے یہاں تك کہ علامہ محمدبن عابدین افندی شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے متون وشروح کے اطلاق وعموم پرنظرفرماکر حاشیہ درمختارمیں تصریح کردی کہ اگرفالج وغیرہ امراض مذکورہ ایك سال کے بعد صاحب فراش بھی کردیں اورمریض چلنے پھرنے سے معذورمطلق ہوجائے جب بھی اسے مرض موت نہ کہاجائے گا کیونکہ ایك سال تك تطاول ہوگیا
حیث قالقال فی المعراجوسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذلك علی ان یقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول: والظاھرانہ مقید بغیر الامراض المزمنۃ التی طالت ولم یخف منہ الموت کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش ومنعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلا یخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تامل انتھی ملخصا۔ جہاں فرمایا کہ معراج میں کہا ہے صاحب منظومہ سے مرض الموت کی حدکے بارے میں سوال کیاگیاتواس نے کہاہمارا اعتماد اس مسئلہ میں اس بات پرہے کہ مریض اپنی حاجات کے لئے گھرسے باہرنہ جاسکے الخ میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم دیرتك رہنے والی بیماریوں کے غیرکے ساتھ مقیدہے جو لمبی ہوجاتی ہیں اوران میں موت کا خوف نہیں ہوتا جیسے فالج وغیرہاگرچہ وہ مریض کوصاحب فراش بنادیں اوراسے حاجات کے لئے نکلنے سے روك دیں۔یہ بات اس کے مخالف نہیں جس پراصحاب متون اورشارحین چلے۔غورکرو انتہی تلخیص(ت)
اوروہ جو بعض کتب میں عدم خوف موت کی قید ہے بہت علماء مثل صاحب مفتاح وعلامہ احمد حموی شارح اشباہ وعلامہ ابراہیم حلبی وعلامہ امین الملۃ والدین شامی وغیرھم رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ کوئی قیداحترازی نہیں بلکہ بعد تطاول ان امراض کے حال کی شرح ہے یعنی جب سال گزرجاتاہے تو ان امراض سے وہ خوف نہیں رہتا جسے شرع مرض الموت میں اعتبارکرتی ہے۔
قال فی الفتاحان تطاول ذلك فلم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ مفتاح میں کہاکہ اگروہ بیماری لمبی ہوجائے تو اس سے موت کاخوف نہیں رہتا۔یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کے لئے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
#3357 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ اھ ونقلہ الائمۃ المذکورون واقرواعلیہ۔ وضاحت کرنے والا ہے اس کو ائمہ مذکورہ نے نقل فرمایا اور اس کو برقراررکھا۔(ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
لیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذلك المرض عند طولہ۔ اس کاقول تو اس سے موت کاخوف نہ ہو یہ تقیید نہیں بلکہ بیماری کے لمبا ہوجانے کے وقت اس کے حال کابیان ہے۔(ت)
اوراسی طرح فتاوی عالمگیری میں تخصیص کی کہ فالج وغیرہ امراض جو اول اول شروع ہوتے ہیں تو اس وقت خوف ہلاك ہوتاہے
حیث قال والمقعدوالمفلوج والاشل والمسلول اذاتطاول ذلك فصار بحال لایخاف منہ الموت فہو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذامات من ذلك فی تلك الایام وقدصار صاحب فراش فہو مریض یخاف بہ الھلاک انتھی ملخصا قولہ فصار بحال یخاف منہ الموت الفاء للتفریع یعنی ان التطاول یتضرع علی عدم الخوف بل اذا قیدفی الاخر باول مااصابہ۔ جہاں فرمایا کہ اقعادفالجلنج اورتپ دق کے مریضوں کی بیماری جب لمبی ہوجائے اور وہ اس حال میں ہوجائیں کہ موت کاخوف نہ رہے تو وہ صحت مند کے حکم میں ہیں یہاں تك کہ ان کاتمام مال کوہبہ کردیناصحیح ہے لیکن جب شروع میں یہ بیماریاں لاحق ہوں تو وہ اسی بیماری کی وجہ سے انہی دنوں میں مرجائے تحقیق وہ صاحب فراش ہوا ایسی بیماری میں مبتلا ہوکہ جس سے موت کاخوف ہوتاہے انتہی تلخیصاس کا قول کہ"وہ مریض اس حال میں ہوجائے کہ خوف موت نہ رہےاس میں فصار پرفاء تفریع کے لئے ہے یعنی بیماری کے لمبے ہونے پرعدم خوف متفرع ہوتا ہے(ت)
اوراگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیسے بعض کاقول ہے تاہم نفس خوف موت بالاجماع کافی نہیں کیونکہ اس قدر
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ الحموی کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ الحموی کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲۰€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الرابع فصل فی اعتبارحالۃ الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰۹€
#3358 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول کبھی خالی نہیں ہوتا اگرچہ سالہاسال گزرجائیں پھراس قید کے لگانے سے کیا فائدہ ہوگا بلکہ اعلی درجہ کاخوف واندیشہ شدیددرکارہے۔
فی ردالمحتار عن الکفایۃ ثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔ ردالمحتار میں کفایہ کے حوالے سے منقول ہےپھر خوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف۔(ت)
اوراس خوف کی امام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی وغیرہ علماء نے یوں تفسیر کی کہ جب ان امراض سے یہ نوبت پہنچے کہ اپنی حوائج کے لئے گھر سے باہرنہ نکل سکے تواس وقت خوف موت کہاجائے گا۔
فی تنویرالابصار من غالب حالہ الھلاك بمرض او غیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالح خارج البیت۔ تنویرالابصار میں ہے کہ غالب حال اس کاہلاکت ہوبیماری سے یا اس کے غیرسے اس طورپر کہ بیماری نے اس کو اسی قدر کمزورکردیاہو جس سے گھر کے باہر وہ اپنے معاملات و ضروریات قائم رکھنے سے عاجز ہوگیاہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد ۔ یہی زیادہ صحیح ہے جیسے فقیہ مسجد کی طرف آنے سے عاجزہو جائے۔(ت)
اوراس قید کے لگانے کے بعد بھی امام شامی فرماتے ہیں:
فان قلت ان مرض الموت ھو الذی یتصل بہ الموت فما فائدۃ تعریفہ بما ذکرقلت فائدتہ ان قد تطول سنۃ فاکثر کما یأتی فلایسمی مرض الموت وان اتصل اگرتوکہے کہ مرض الموت تو وہ ہے جس کے ساتھ موت مقترن ہو۔پھرموت کی یہ تعریف جوذکرکی گئی اس کاکیافائدہ ہے۔میں کہتاہوں کہ بیماری کبھی سال یا اس سے زائد عرصہ تك لمبی ہوجاتی ہے جیساکہ آرہاہے تواس بیماری کومرض الموت نہیں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳€۵
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۵€
#3359 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
بہ الموت۔ کہاجاتااگرچہ اس کے ساتھ موت مقترن ہوجائے(ت)
اوراس خوف کی دوتمثیلیں درمختارمیں یہ لکھیں کہ جہازپر سوارتھا جہازٹوٹ گیا ایك تختہ پربہتارہ گیا یا شیرنے حملہ کیا اور اسے اپنے منہ میں لے لیا توجب تك اس کے منہ میں ہے وہ وقت اس خوف کا ہے۔
حیث قال اوبقی علی لوح من السفینۃ اوافتراسہ سبع وبقی فی فیہ۔ جہاں فرمایا کہ وہ کشتی کے ایك تختہ پرپڑارہ گیا یا کسی درندے نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اورابھی تك اسی حال میں باقی ہے۔(ت)
بالجملہ مجرد خوف بالاجماع کافی نہیں بلکہ اس قسم کاخوف ہوناچاہئے جیسے گھڑی ساعت کانقشہ کہتے ہیں وہ مرض مرض الموت گناجائے گا اوریہ بات اسی وقت ہے جب صاحب فراش ہوجائے یاگھر سے باہرنکلنے کی طاقت نہ رہی مثلا عالم ہو تو مسجد تك نہ جا سکےاسی طرح ردالمحتارمیں اسمعیلیہ سے نقل کرتے ہیں۔
من بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت وتعتبر تبرعاتہ من کل مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لایتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ۔ جس شخص کوکچھ بیماری ہے جس کی شکایت وہ کرتا ہے اوربسااوقات وہ بازار کی طرف نکلتاہے اوراپنے امورسرانجام دیتاہےاس سے وہ مرض الموت کامریض نہیں ہوتاچنانچہ اس کے تمام مال میں اس کے تبرعات معتبرہوں گےجب وہ کسی وارث سے بیع کرے یا اس کوکچھ ہبہ کرے تو یہ باقی وارثوں کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگا(ت)
اورفتاوی خیریہ میں ہے:
حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لا یمنع الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغین مطلقا صحیح نافذ باجماع علمائنا جب وہ وصف مذکور سے متصف ہے اوراس کا مرض اسے اپنی ضرورت کی ادئیگی سے نہیں روکتا تواس کااپنی اولادمیں سے کسی ایك کے لئے ہبہ کرنا اورباقیوں کیلئے بیع کرنامطلقا بالاجماع صحیح اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۲۰ و ۵۲۱€
الدرالمختار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۶€
ردالمحتار کتاب الاقرار باب اقرار المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۶۱€
#3360 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
صرحوابہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نافذہے۔علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح فرمائی جیسے دقسل اورفالج وغیرہ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۵ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کوعارضہ فالج ہوااور وہ عروض عارضہ کے ساڑھے تین برس بعد یاہبہ یاکوئی تصرف وارث یا غیروارث کسی کے نام کرے تو وہ تصرف شرعا جائزرہے گا یانہیں اورمرض شرعا مرض الموت قرارپائے گا یاغیربینواتوجروا۔
الجواب:
ہمارے ائمہ کرام نے فالج ودق وسل وغیرہا امراض مزمنہ کے مرض الموت ہونے کے لئے سال بھر کی حد مقرر فرمائی ہے اگر اس کے اندر موت ہو تووہ مرض الموت قرارپاتے ہیں اور جب ایك سال سے تجاوزہوجائے تواس مریض کاحکم شرعا بعینہ مثل صحیح وتندرست کے ٹھہرتاہے اورجوکچھ تصرفات بیع خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث خواہ غیروارث کسی کے نام کرے مثل تصرفات صحیح کے صحیح ونافذ قرارپاتاہے۔
فی الفتاوی للامام قاضی خاناذا تصرف بعد سنۃ فہو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھی وفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوی التمرتاشیفسراصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال صحتہ وفی الطحاوی فی مختصرہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ امام قاضی خان کے فتاوی میں ہے جب مریض نے ایك سال بعد تصرف کیاتو وہ صحیح کی مثل ہے اور اس کے تصرفات جائز ہیںانتہی۔فتاوی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوی تمرتاشی مذکور ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی ہےاگر وہ اس بیماری پر ایك سال قائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات ایسے ہی ہوں گے جیسے تصرفات وہ حالت صحت میں کرتاتھا۔طحاوی اس کی مختصر اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کی تصنیف العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ
حوالہ / References الفتاوی الخیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۸€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفۃ رجل الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۴۰€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطلاق الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۴۶۳€
#3361 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الشامی رحمہ اﷲ تعالی فسر التطاول بسنۃ فلو تصرف بعد سنۃ من مرضہ فھو کتصرفاتہ حال الصحۃ ھکذا کان شیخنا ابوعبداﷲ الجرجانی یقول ھذا اللفظ الواقعات وبھذا اللفظ اوردہ فی جامع الفتاوی عمادیۃ الخ۔وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ المصرح بہ فی غیر ماکتاب من کتب ابی حنیفۃ ان المقعدوالمفلوج والمسلول اذا اتصف کل داء منھم بالطول فحکم تصرف کل واحد منھم حکم تصرف الصحیح کما صرح بہ فی الجامع الصغیر فکان ھو الصحیح فاذا علمت ذلك علمت ان المدۃ المذکورۃ فوق ماقدروہ اضعافا فان اصحابنا قدروالمرض یطول بعام والمدۃ سبعۃ اعوام والاشھر الزوائد وقع زائدھا الیھا مضافا لاسیما مع کونہ یخرج ویجیئ فی حوائجہ ویقضی من ذلك بعض مصالحہ فاذا ثبت ذلك لدی الحاکم الشرعی صح جمیع ماصدرمنہ مع زوجتہ واذا تعارضت بینۃ طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی گئی ہے اگراس نے سال کے بعد حالت مرض میں تصرف کیا تو وہ اس کے حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات کی مثل ہے۔ہمارے شیخ ابوعبداﷲ جرجانی یونہی فرماتے تھےیہ لفظ واقعات کے ہیںاورانہی لفظوں کے ساتھ جامع الفتاوی عمادیہ میں وارد ہے الخ۔فتاوی خیریہ میں ہے کہ مخلوق کے نفع کے لئے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کی متعدد کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اپاہجمفلوج اورسل کامریض جب لمبی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو ان میں سے ہرایك کاتصرف صحتمند شخص کے تصرف کی مثل ہوتاہے جیساکہ اس کی تصریح جامع صغیر میں ہے گویاکہ وہ صحت مندہے۔جب تونے یہ جان لیاتوسمجھ لیا ہوگا کہ مدت مذکورہ ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنازیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایك سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزید ہےیہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصا جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اوربعض ضروریات کواداکرتاہےجب حاکم شرعی کے پاس یہ ثا بت ہوگیا توکچھ معاملہ اس مریض کا اپنی بیوی کے ساتھ صادرہوا وہ صحیح ہوگا۔اگرصحت ومرض کے گواہوں میں
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۶۶€
#3362 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الصحۃ والمرض فالبینۃ الصادرۃ من الزوجۃ بانہ کان فی صحتہ مرجحۃ لانھا المدعیۃ والورثۃ ینکرون و البینۃ للمدعی لاللمنکر صرح بہ غیرماواحد من علمائنا وحیث طال مابہ واتصف بما فھنا بہ نفذ جمیع تصرفہ مع الزوجۃ باتفاق اھل المذھب وائمتہ والنظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا و الحاقۃ بالحیوانات وکلامہ بجوارھا واﷲ اعلم ۔وفی الدررللعلامۃ خسروھذہ امراض مزمنۃ فمن عرض لہ واحدمنھا وتصرف بشیئ من التبرعات ثم مات قبل تمام سنۃ مشتملۃ علی الفصول الاربعۃ کان المرض مرض الموت فتعتبر تصرفاتہ من الثلث وان مات بعدتمامھا لم یکن مرض الموت لانہ اذا سلم فی الفصول التی کل منھا مظنۃ الھلاك صار المرض بمنزلۃ طبع من طبائعہ وخرج صاحبہ من احکام المرض حتی تعارض ہوتوبیوی کی طرف سے صحت پرپیش کئے گئے گواہوں کوترجیح ہوگی کیونکہ بیوی مدعیہ اورورثاء منکر ہیں جبکہ گواہ مدعی کے ہوتے ہیں نہ کہ منکر کے۔ہمارے متعدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے۔جب اس کی بیماری طوالت اختیارکی گئی اور وہ سال سے بڑھ گئی توبیوی کے ساتھ اس کے تمام تصرفات نافذ ہوگئے۔اس پرتمام اہل مذہب اورائمہ مذہب کااتفاق ہے۔مکلف کی عبارت قابل عمل بنانا اس کو لغو قراردے کر مکلف کو حیوانات اوراس کے کلام کو جانوروں کی آواز کے ساتھ ملحق کرنے سے اولی ہےاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔علامہ خسرو کی درر میں ہے یہ لمبی بیماریاں ہیں ان میں اگرکسی کوکوئی لاحق ہوجائے اوروہ حالت مرض میں تبرعات میں کچھ تصرف کرے پھربیماری کوچارموسموں پر مشتمل سال پوراہونے سے پہلے وہ مرجائے تو اس کی بیماری مرض الموت قرار پائے گی اورایك تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے۔اوراگروہ بیمای کوسال پوراہونے کے بعد مرا تو اس کی یہ بیماری مرض الموت نہ ہوگی اس لئے کہ جب وہ چاروں موسموں میں سلامت رہاحالانکہ ان میں سے ہرایك میں ہلاکت کاگمان تھا توگویا یہ بیماری اس کے طبائع میں سے ہوگئیچنانچہ اس بیماری والامرض کے احکام سے
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۷۶ و ۷۷€
#3363 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
لایشتغل بالتداوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خارج ہوگیایہاں تك کہ اس نے علاج کرانا بھی چھوڑدیا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرایك شخص کو فالج ہوکہ ہاتھ پاؤں بالکل رہ جائیں اورزبان تکلم پر قادرنہ ہوپھرعلاج سے دست وپامطلقا صحیح ہوجائیں اورزبان بھی تعبیرمطلب سے عاجز نہ ہو اپنی حوائج کے لئے اندر باہر آئے جائے چلے پھرے سفرکرے صرف زبان پربقیہ مرض کے سبب گونہ ثقل تکلم باقی ہو اور حدوث مرض کو ساڑھے تین برس گزرچکے ہوں ایسی حالت میں وہ کوئی تصرف بیع یا ہبہ یاکچھ اوروارث خواہ غیروارث کے نام کرے تو وہ تصرف شرعا صحیح ونافذ قرارپائے گایانہیں اور ایك سال گزرنے کے بعد فالج مرض الموت رہتاہے یانہیں اوربعض نے جو قید عدم خوف موت کی لگائی ہے اس کے کیامعنی ہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ شخص بالاجماع شرعا صحیح وتندرست ہے اور اس کے تمام تصرفات کیسے ہی ہوں اورکسی کے ساتھ ہوں مثل تصرفات صحیح مطلق صحیح نافذکہ اول عامہ کتب میں سال گزرنے کے بعد فالج ودق وسل وغیرہ کومرض موت قرارہی نہ دیا اورسائل کہتاہے کہ یہاں ساڑھے تین برس گزرچکے تھے
فی الفتاوی الامام قاضیخان اذا تصرف بعد سنۃ فھو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھیوفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوی التمرتاشی فسر اصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال فتاوی امام قاضی خان میں ہے کہ مریض جب سال بعد تصرف کرے تو وہ صحت مند کی طرح ہے اوراس کے تصرفات جائزہیںانتہی۔فتاوی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوی تمرتاشی ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی ہے۔جب مریض ایك سال تك بیماری پرقائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات اس کی حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات
حوالہ / References الدررالحکام شرح غررالاحکام کتاب الوصایا ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲/ ۴۳۱،۴۳€۲
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفۃ الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۴۰€
#3364 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
صحتہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ معنی قولہ طال ذلك ارادبہ سنۃ وکذا صاحب السل اذا اتی علیہ سنۃ فھو بمنزلۃ الصحیح ھکذا ذکر عن ابی العباس الشماس وکذا ذکر الطحاوی فی مختصرہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ الشامی رحمۃ اﷲ علیہ فسرالتطاول بسنۃ فلوتصرف بعد سنۃ من مرضہ فہو کتصرفاتہ حال الصحۃ ھکذا کان شیخنا ابوعبد اﷲ الجرجانی یقول ھذا لفظ الواقعات بھذا اللفظ اوردہ فی جامع الفتاوی عمادیۃ الخوفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ المصرح بہ فی غیرما کتاب من کتب الحنفیۃ ان المقعد والمفلوج والمسلول اذا اتصف کل داء منھم بالطول فحکم تصرف الصحیح کما صرح بہ فی جامع الصغیر فکان ھو الصحیح فاذا علمت ذلك علمت ان کی مثل ہے۔العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے۔ اس کے قول"اس کی بیماری لمبی ہوگئی"کامعنی یہ ہے کہ اس کوسال ہوگیا۔یونہی سل کی بیماری والے کو جب حالت مرض میں سال گزرجائے توبمنزلہ صحتمند کے ہےیوں ہی مذکور ہے ابوالعباس الشماس سےاوراسی طرح امام طحاوی نے اپنی مختصر میں اس کوذکرفرمایا ہے۔علامہ شامی کی تصنیف العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ طوالت مرض کی تفسیرایك سال کے ساتھ کی گئی ہے۔لہذا اگرکوئی اپنی بیماری کے سال بعد تصرف کرے تو حالت صحت میں تصرفات کی مثل ہوگا۔یونہی ہمارے شیخ ابوعبداﷲ جرجانی کہاکرتے تھے۔ یہ لفظ واقعات کے ہیں اوران ہی لفظوں کے ساتھ جامع الفتاوی عمادیہ میں واردہے الخ۔فتاوی خیریہ میں ہے کہ مخلوق کے نفع کے لئے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی متعدد کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اپاہجمفلوج اور سل کامریض جب لمبی بیماری میں مبتلاہوجائے تو ان میں سے ہرایك کاتصرف صحتمند شخص کے تصرف کی مثل ہوتاہے جیسا کہ اس کی تصریح جامع صغیر میں ہے گویا کہ وہ صحتمند ہے۔ جب تونے یہ جان لیاتوسمجھ لیاہوگا کہ مدت مذکورہ
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الطلاق الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶€۳
العقودالدریۃ کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶€۶
العقودالدریۃ کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶۶€
#3365 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
المدۃ المذکورۃ فوق ماقدروہ اضعافا فان اصحابنا قدروا المرض الذی یطول بعام والمدۃ سبعۃ اعوام والاشھر الزوائد وقع زائدھا الیھا مضافا لاسیما مع کونہ یخرج ویجیئ فی حوائجہ ویقضی من ذلك بعض مصالحہ فاذا ثبت ذلك لدی الحاکم الشرعی صح جمیع ماصدر منہ مع زوجتہ واذا تعارضت بینۃ الصحۃ والمرض فالبینۃ الصادرۃ من الزوجۃ بانہ کان فی صحۃ مرجحۃ لانھا المدعیۃ والورثۃ ینکرون والبینۃ للمدعی لاللمنکر صرح بہ غیرما واحد من علمائنا وحیث طال مابہ واتصف بما فھنا بہ نفذ جمیع تصرفہ مع زوجتہ باتفاق اھل المذھب وائمتہ والنظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقۃ بالحیوانات وکلامہ بحوارھا واﷲ اعلم۔
وفی الدررللعلامۃ خسروھذہ امراض مزمنۃ فمن عرض لہ واحد منھا وتصرف بشیئ من التبرعات ثم ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایك سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزید ہےیہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصا جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اور بعض ضروریات کواداکرتاہے۔جب حاکم شرعی کے پاس یہ ثابت ہوگیاتو کچھ معاملہ اس مریض کااپنی بیوی کے ساتھ صادر ہوا وہ صحیح ہوگیا۔اگرصحت ومرض کے گواہوں میں تعارض ہوتوبیوی کی طرف سے صحت پرپیش کئے گئے گواہوں کوترجیح ہوگی کیونکہ بیوی مدعیہ اورورثاء منکرہیںجبکہ گواہ مدعی کے ہوتے ہیں نہ کہ منکر کے۔ہمارے متعدد علماء نے اس کی تصریح کی ہےجبکہ اس کی بیماری طوالت اختیارکرگئی اوروہ سال سے بڑھ گئی تو بیوی کے ساتھ اس کے تمام تصرفات نافذ ہوگئے۔اس پرتمام اہل مذہب اور ائمہ مذہب کا اتفاق ہے۔ مکلف کی عبارت قابل عمل بنانااور کو لغو قرار دے کرمکلف کو حیوانات اوراس کے کلام کوجانوروں کی آواز کے ساتھ ملحق کرنے سے اولی ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔اورعلامہ خسرو کی دررمیں ہے یہ لمبی بیماریاں ہیں ان میں سے اگرکوئی کسی کو لاحق ہوجائے اوروہ طوالت مرض میں تبرعات میں
حوالہ / References الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۷۶ و ۷۷€
#3366 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مات قبل تمام سنۃ مشتملۃ علی الفصول الاربعۃ کان المرض مرض الموت فتعتبر تصرفاتہ من الثلث وان مات بعدتمامھا لم یکن مرض الموت لانہ اذا سلم فی الفصول وفی کل منھا مظنۃ الھلاك صار المرض بمنزلۃ طبع من طبائعہ وخرج صاحبہ من احکام المرض حتی لایشتغل بالتداوی۔ کچھ تصرف کرے پھربیماری کوچارموسموں پرمشتمل سال پورا ہونے سے پہلے وہ مرجائے تو اس کی بیماری مرض الموت قرار پائے گی اورایك تہائی سال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے۔ اوراگروہ بیماری کوسال پوراہونے کے بعد مرا تو اس کی یہ بیماری مرض الموت نہ ہوگیاس لئے کہ جب وہ چاروں موسموں میں سلامت رہا حالانکہ ان میں سے ہرایك میں ہلاکت کاگمان تھا تو گویا یہ بیماری اس کے طبائع میں سے ہوگئی چنانچہ اس بیماری والامرض کے احکام سے خارج ہوگیا یہاں تك کہ اس نے علاج کرانا بھی چھوڑدیا(ت)
یہاں تك کہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اطلاق متون وشروح پرنظرکرکے تصریح فرمادی کہ فالج وغیرہ کوبعد تطاول وازمان مرض موت نہ کہناچاہئے اگرچہ صاحب فراش ہو اورچلنے پھرنے سے معذورکردیں
حیث قال فی المعراج وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذلك علی ان لایقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول:و الظاھرانہ مقید بغیرالامراض المزمنۃ التی طالت و لم یخف منھا کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش و منعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلایخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تأمل انتھی ملخصا۔ جہاں معراج میں کہاکہ صاحب منظومہ سے سوال کیاگیاکہ مرض الموت کی حدکیاہےتوانہوں نے فرمایااس مسئلہ میں ہمارا اعتماد اس پرہے کہ مریض اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہرجانے پرقادرنہ ہو الخمیں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم امراض طویلہ کے غیرکے ساتھ مقیدہے جن کی طوالت اس حد تك ہوجاتی ہے کہ موت کاخوف جاتارہتاہے جیسے فالج وغیرہ اگرچہ یہ مریض کو صاحب فراش بنادیں اوراس کو اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہر جانے سے روك دیںلہذا یہ اس کے خلاف نہ ہوا جس پراصحاب متون وشروح قائم ہیںیہاں غورکروانتہی(تلخیص)۔(ت)
حوالہ / References الدررالحکام شرح غررالحکام کتاب الوصایا ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲/ ۴۳۱،۴۳€۲
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
#3367 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اوربعض کتب میں کہ عدم خوف موت کی قیدکرکے اکابرعلماء ارشاد فرماتے ہیں یہ کوئی قیدجداگانہ نہیں بلکہ مجردایضاح وبیان واقع ہے یعنی طول سنۃ کے بعد مریض کایہ حال ہوجاتاہے کہ وہ مرض طبعی ہوجاتا ہے اورخوف موت کاغلبہ نہیں رہتاہے۔ علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
والظاھران قولہ کالفالج الخ تصویر للمرض اذالحال ولم یخف منہ الموت ولیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذلك المرض عند طولہ ثم رأیت الحموی فی شرحہ قال ان تطاول ذلك فلم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ ونقلہ عن المفتاح انتھی۔ ظاہریہ ہے کہ اس کاقول کالفالج(مثل فالج کے) مرض کی صورت کابیان ہے اس لئے کہ طوالت مرض کے سبب مریض کاحال یہ ہوجاتاہے کہ اس پرموت کاخوف نہیں رہتا اور اس کا قول کہ اس کو موت کاخوف نہیں رہتاتقیید نہیں بلکہ اس مرض کے لمباہوجانے کے وقت اس کے حال کا بیان ہے۔پھرمیں نے حموی کودیکھا انہوں نے اس کی شرح میں یوں کہاکہ اگربیماری لمبی ہوجائے توموت کاخوف نہیں رہتایہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے۔یہ مفتاح سے منقول ہےانتہی۔(ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ ولم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ حموی عن المفتاح۔ اس کاقول کہ"اس سے موت کاخوف نہیں رہتا"یہ جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہےاس کوحموی نے مفتاح سے نقل کیاہے۔(ت)
آخرنہ دیکھاکہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے سال گزرنے کے بعد فالج وغیرہ کو لم یخف منہ الموت(اس کوموت کاخوف نہیں رہتا۔ت)کی مثال میں داخل فرمایا اگرچہ اس حد کو پہنچ گئے ہوں کہ چلنے پھرنے سے معذور اورصاحب فراش کردیں کما سبق نقلہ انفا فافھم وتدبر(جیساکہ اس کامنقول ہونابھی گزراہے۔غوروتدبرکرو۔ت) اور اس کی وجہ وہی ہے جوہم ابھی دررعلامہ خسرو سے نقل کرآئےعالمگیریہ میں تصریح ہے کہ شروع مرض فالج میں خوف ہلاك ہوتاہے اوربعد تطاول کے
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲€۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲۰€
#3368 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
وہ مریض مثل صحیح کے گناجاتاہے۔
حیث قال والمقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ذلك فصار بحال لایخاف منہ فھو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذا مات عن ذلك فی تلك ایام وقدصار صاحب الفراش فھو مریض یخاف بہ الھلاک ۔انتھی ملخصا۔ جہاں فرمایا اقعادفالج اور سل کے مریضوں کامرض جب لمبا ہو جائے اوروہ اس حال میں پہنچ جائے اس سے موت کاخوف نہ رہے تو وہ صحتمند کی طرح ہوجاتاہے یہاں تك کہ کل مال میں اس کا ہبہ صحیح ہوتاہے لیکن شروع میں جب امراض ہوتے ہیں اگرانہی ایام میں مریض ہوگیا درانحالیکہ وہ صاحب فراش تھا تو وہ ایسامریض ہوتاہے جس کو موت کاخوف عارض ہوتاہے انتہی تلخیص(ت)
ثانیا:اگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیساکہ فاضل قہستانی کاگمان ہے تاہم مجردخوف اندیشہ سے مرض الموت نہ ہوجائے گا کیونکہ اس قدر سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول خالی کبھی نہیں ہوتے اگرچہ دس برس گزرجائیں بلکہ خوف غالب واندیشہ شدیددرکارہے۔
فی ردالمحتار عن الکفایۃثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔ ردالمحتار میں بحوالہ کفایہ ہے۔پھرخوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف(ت)
اوراس خوف کوفاضل قہستانی نے یوں تفسیرکیاکہ اگرروزبروزحال اس کابدتراورمرض ترقی پذیرہوتاجائے تواسے مرض کہیں گے۔
حیث قال وان لم یکن واحد منھما بان لم یطل مدتہ بان مات قبل سنۃ او خیف موتہ بان یزداد یوما فیوما انتھی۔ جہاں فرمایا اگران مریضوں میں سے کوئی اس حال میں نہ ہوکہ اس کی موت مؤخرہوگئی ہوبایں طورکہ وہ سال گزرنے سے پہلے مرگیا وہ یا اس کو موت کاخوف لاحق ہو بایں طور دن بدن بیماری بڑھ رہی ہو۔انتہی(ت)
بالجملہ اگراطلاق وتوجیہ جماہیرعلماء کی طرف لحاظ کریں جب توساڑھے تین برس گزرناہی صحت ونفاذ تصرفات کے لئے بس ہے اوراگررائے فاضل قہستانی پرعمل کیاجائے توصورت مستفسرہ
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الرابع فصل فی اعتبارحالۃ الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰€۹
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
جامع الرموز کتاب الوصایا ∞مکتبۃ الاسلامیۃ گنبدقاموس ایران ۴/ ۶۸۲€
#3369 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
میں جو معنی خوف موت کے علماء نے قراردئیے ہیں ہرگزموجود نہ تھے کہ مرض پہلے سے بہت کم تھا اوراپنے حوائج کے لئے آناجاناچلنا پھرنا سفرکرناعلاوہ۔
فی ردالمحتار عن الاسمعیلیۃمن بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت و تعتبر تبرعاتہ من مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لا یتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ وفی العقود الدریۃ سئل فی مفلوج تطاول بہ فلجہ قدرثلث سنین فوھب فی ھذہ الحالۃ جمیع مالہ من زیدوارثہ وسلمہ ذلك ثم مات بعد عدۃ اشھر عنہ لاغیر فھل الھبۃ صحیحۃ الجواب نعم والمفلوج الذی لایزداد مرضہ کل یوم فھو کالصحیح کما فی الخانیۃ وفی الفتاوی الخیریۃ حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لایمنعہ الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغبن مطلقا صحیح نافذصرحوا بہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج ۱لخ۔ ردالمحتارمیں اسمعیلیہ سے منقول ہے جو شخص کسی بیماری میں مبتلاہو اوربازار کی طرف جاتاہے اوراپنی حوائج کوپوراکرتاہے تو وہ مرض الموت کامریض نہیں ہے۔اس کے مال میں تبرعات معتبرہیں۔جب وہ اپنے کسی وارث سے بیع کرے یا ہبہ کرے وہ باقی وارثوں کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا۔عقود دریہ میں ہے ایسے مفلوج کے بارے میں سوال کیاگیا جس کا مرض فالج تین سال تك لمباہوگیا۔اس نے اسی حالت میں اپناتمام مال اپنے ایك وارث زیدکوہبہ کرکے اس کے حوالے کردیا۔پھراس کے چندماہ بعد وہ مرگیا توکیااس کایہ ہبہ صحیح ہوگا۔جواب یہ ہے کہ ہاںاوروہ مفلوج جس کامرض ہر روز بڑھ نہ رہا ہو وہ صحتمند کی مثل ہے جیساکہ خانیہ میں ہے۔ فتاوی خیریہ میں ہے جب وہ وصف مذکورپرہے اور اس کا مرض ضروریات پوراکرنے کے لئے گھرسے نکلنے سے مانع نہیں تو اس کااپنی اولاد میں سے ایك کے لئے ہبہ کرنااور باقیوں کے لئے غبن کے ساتھ بیع کرنامطلقا صحیح اور نافذ ہے۔علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح کی ہے جیسے تپ دقسل اورفالج الخ۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۶۱€
العقودالدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۳۰€۷
الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۸€
#3370 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
پس باتفاق روایات وباجماع ائمہ صورت مسئولہ میں وہ مرض مرض موت نہ تھا اوروہ تصرفات بیع ہوں خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث کے ساتھ ہوں خواہ غیروارث کے ساتھ ہوں قطعا مطلقا صحیح ونافذ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: ۶۸۷
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں ایك مکان اورایك دکان کہ قریب سولہ سوروپیہ کی قیمت تھی چھ سوروپیہ کواپنے شوہر ودخترکے ہاتھ بیع کی بعدپندرہ روز کے مرگئیاس صورت میں یہ بیع جائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع صحیح نہیں کہ مرض موت میں کم قیمت کوباتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم اﷲ ناجائزہے اوروارث کے ہاتھ تو برابرقیمت کوبھی بے اجازت دیگرورثہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك جائزنہیں۔
فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انتھی ملخصا۔ تلویح میں ہے اگر کسی وارث کے ہاتھ ترکہ کی کوئی معین شیئ اس کی برابرقیمت کے ساتھ بیچی توامام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیك جائزنہیں انتہیتلخیص۔(ت)
مسئلہ ۱۰۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں کل مہر اپناشوہر کوبخش دیا صرف اس میں سے پانسو روپیہ پانچ دینار کی نسبت کہاکہ اس قدرمیں معاف نہیں کرتی اس کے مالك بعد میرے والدین ہیںپس ازاں ہندہ نے زوج ووالدین وچارخواہرچھوڑکر انتقال کیا اب مادروپدرہندہ معافی مہراورشوہران پانسوروپیہ پانچ دینار کے والدین کو دینے میں کلام کرتاہے اس صورت میں ترکہ ہندہ کس حساب سے تقسیم ہوگا اوراس قدر مہرمعاف اورمابقی کی وصیت کہ والدین کوکی تھی صحیح ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References التوضیح والتلویح مع الحاشیۃ التوشیح فصل فی الامور المعترضہ علی الاھلیۃ سماویہ الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ص۶۶۳€
#3371 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الجواب:
صورت مسئولہ میں ہبہ مہرشوہر کوکہ ہندہ سے اس کی مرض موت میں واقع ہواتھا اورورثہ باقین اس کی اجازت نہیں دیتے باطل ہوگیا اسی طرح ان پانسوروپیہ پانچ دینار کی وصیت کہ والدین کے لئے کی تھی اسی وجہ سے صحیح نہ رہی کما ھو مصرح فی کتب الفقہ(جیساکہ فقہ کی کتابوں میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) پس کل مہرہندہ ذمہ شوہرلازم اوراس کے ترکہ میں سب وارث مشترك برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مقدم کالدین والوصیۃ الصحیحۃ(جیسے قرض اورصحیح وصیت) کل مہرہندہ اورجوکچھ ا س کاترکہ ہو چھ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوج اورایك مادراوردوپدرکوملیں گے اور خواہروں کوکچھ نہ پہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص قریب موت کے ایك وارث کومنجملہ اورورثہ کے زبانی وصیت کرجائے کہ فلاں وارث کومال میراملے اورفلاں وارث کونہ ملےیہ وصیت درست ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگروصیت مذکورہ کوورثہ میت سے کوئی عاقل بالغ روانہیں رکھتا تو وہ وصیت اس وارث موصی لہ کے حصہ میں باطل محض ہوگئی اوران وارثوں میں کوئی مجنوں یانابالغ اجازت کوروارکھتاہے تو نامعتبرہے اورجوسب وارث جائزرکھتے ہیں اور وہ سب عاقل بالغ ہیں تو وصیت مذکورہ حق موصی لہ میں تمام وکمال وجائزونافذ ہوجائے گی پس بعدادائے دیون مقدمہ علی الوصایا اگر ذمہ میت ہوںکل یابعض جس قدر کی نسبت وصیت کی ہے اس وارث موصی لہ کودیاجائے گا اور جوان میں بعض جائزرکھتے اوربعض ناجائزتوجوجائزرکھتے ہیں بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں بقدران کے حصص کے وصیت نافذہوجائے گی اور بقدرحصوں اجازت نہ دینے والوں اوراطفال ومجانین کے اگرچہ وہ جائزبھی رکھیں باطل وکان لم یکن(گویاکہ ہوئی ہی نہیں۔ت) تصورکی جائے گی اورمیت کایہ کہناکہ فلاں وارث کومیرامال نہ ملے محض لغووعبث ہے توریث ورثہ بحکم شرع ہے کہ کسی کے ابطال سے اس کابطلان ممکن نہیں۔حتی کہ خود وارث کو اختیارنہیں کہ حق ارث سے دستبردارہو کما صرح بہ العلماء قاطبۃواﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم(جیساکہ تمام علماء اس کی تصریح فرماچکے ہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کاعلم اتم اورمستحکم ہے۔ت)
#3372 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مسئلہ ۱۱۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کسی قدرروپیہ اپنے برادرحقیقی عمروکے پاس کسی مقام سے حالت صحت خود مرض الموت میں بطور امانت بھیجا اوربذریعہ خطوط واسطے نگہداشت امانت کے اکثر تاکیدکودم واپسیں تك کام فرمایا اوردوایك خط میں عمرواوربکر برادرزادے اپنے کو یہ بھی لکھاکہ تم دونوں اس روپیہ کو آپس میں تقسیم کرلینا اوراسی طرح حفظ امانت کی تاکید کی۔اب زیدنے انتقال کیااور سواعمرو کے کوئی وارث اس کانہیں پس عندالشرع زرامانت کس طرح تقسیم کیاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ وصیت بکروعمرودونوں موصی لہما کے حق میں صحیح ہوگئی۔
فی الدر عن ابن الکمال والولوالجیۃ لواوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃ الخ۔ درمیں کمال اور ولوالجیہ کے حوالہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے اور کوئی دوسرا وارث موجودنہیں تو وصیت صحیح ہے الخ(ت)
پس اگرنصف اس زرامانت کاکل متروکہ زید کے بعدادا باقی رہا ہو ثلث سے زائدنہیں یازائد ہے مگرعمرو اس زیادت کوحق بکر میں جائزرکھتاہے تو وہ زرامانت عمروبکر میں بالمناصفہ تقسیم ہوجائے گا ورنہ اس روپیہ سے بقدرثلث متروکہ مذکورہ کے بکرکودیاجائے۔باقی ماندہ سب عمروکا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: ۲۵/ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے جائداد اورچنداولاد نابالغ اورایك پسرجوان لائق نیك اطوارچھوڑا جس نے بعد پدر اپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کومثل اپنے بچوں کے پرورش کیا اور ان کے مال کی نگہداشت اوران کی غوروپرداخت میں بجان ودل مصروف رہا مگرزیدنے اپنے بچوں یاان کے مال کی نسبت کسی کووصیت نہ کی تھی اس صورت میں ہمارے بلاد میں ابن کبیران نابالغوں کے اموال میں دیانت وامانت کے ساتھ تصرفات جائزہ وشرعیہ کااختیار
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
#3373 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
رکھے گا اورمثل وصی ماذون ومختار سمجھاجائے گا یانہیں اگرنہیں تو ان اولاد وجائداد کااختیار کسے دیاجائے گابینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔(ت)
الجواب:
اقول:متوکلا علی العلیم الخبیر الکریم الاکرم مستجیرا بذیل کرمہ عن زیغ البصر وزلۃ القدم۔ میں علیم وخبیر اور سب سے بڑھ کررحم فرمانے والے پرتوکل کرتے ہوئے اورآنکھ کی کجی اورقدم کی لغزش سے اس کے دامن کرم کی پناہ مانگتے ہوئے کہتاہوں۔(ت)
ہمارے بلاد میں جبکہ یتیموں پرنہ باپ کاوصی ہونہ حقیقی دادا نہ دادا کاوصی توان کاحقیقی جوان بھائی اگرلائق وامین ہو مثل وصی سمجھاجائے گااورامانت ودیانت اوربچوں پررحمت وشفقت کے ساتھ جن تصرفات کاشرعا وصی کواختیارہوتاہے اسے بھی ہوگا اگرچہ صراحتا باپ نے اس کو وصی نہ بنایاہو کہ یہاں عرفا ودلالۃ وصایت ثابت ہے ہمارے بلاد میں عادت فاشیہ جاری ہے کے باپ کے بعد جوان بیٹے اموال وجائداد میں تصرف کرتے اوراپنے نابالغ بہن بھائیوں کی پرورش وخبرگیری میں مصروف رہتے ہیں لوگ اگرنابالغ بچوں کے ساتھ کوئی جوان بیٹا بھی رکھتے ہیں تو بے غم ہوتے ہیں کہ ہمارے بعد ان کا خبرگیراں موجود ہے اورصرف نابالغ ہی بچے ہوں تو محزون وپریشان ہوتے ہیں کہ سرپرستی کون کرے گا یہ عادت دائرہ سائرہ دلالۃ اذن تعہدوتصرف ہے والثابت عرفا کالثابت شرطا(جوعرف کے اعتبار سے ثابت ہو وہ ایسے ہی جیسے شرع کے اعتبارسے ثابت ہو۔ت)فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت من البیع و الشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی فان القاضی ینصبہ وصیا فاخذ ھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالی گلی والوں میں سے کوئی شخص میت کے مال میں تصرف کرتا ہے جبکہ اس میت کاکوئی وارث اوروصی نہیںمگریہ شخص جانتاہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے تو قاضی اس شخص کو میت کاوصی مقررکردے گاچنانچہ اس شخص نے میت کامال لے لیا اورمعاملہ قاضی کے پاس نہ لے گیا اور مال کو خراب کردیاابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ اس
#3374 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل اھ اقول:جواز تصرفہ من دون وصایتہ بناء علی علمہ ان لورفع الی القاضی لنصبہ لیس الا اعتمادا علی صلاحیۃ الا ذن عند القاضی مع عدم تحقق الاذن اصلا فالاعتماد علی اذن نفس المورث الواقع المتحقق دلالۃ بحکم العادۃ الفاشیۃ المطردۃ و مقاصد الناس المعروفۃ المعھودۃ اولی واجدر۔ شخص کاتصرف جائزہے اھ میں کہتاہوں وصی کے بغیر اس کے تصرف کاجواز اس بنیاد پر ہے کہ وہ جانتاہے کہ معاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تو وہ اس کو متولی مقررکردے گا یہ محض قاضی کے پاس صلاحیت اذن پربھروسہ کرتے ہوئے ہے باوجودیکہ وہاں بالکل متحقق نہیںتوپھر خودمورث کے اذن پربھروساکرنا جوکہ دلالۃ واقع ومتحقق ہےاس عادت کے حکم سے جولوگوں میں جاری وساری ہے اور ان مقاصدکے حکم سے جو لوگوں میں مشہورومعروف میں اولی اورزیادہ لائق ہے۔(ت)
اوربلاشبہہ قطعا معلوم کہ جولوگ مال واولاد صغار وکباررکھتے ہیں عام حالت دیکھ کر خوب سمجھتے ہیں کہ یوں ہی ہمارے بعد بھی ولدکبیر تعہد جائداد وپرورش اولاد میں ہماراقائم مقام ہوگا بلکہ اس امر کی آرزوتمنا رکھتے ہیں اوریقینا اس پرراضی ہوتے ہیں اگران سے کہاجائے تمہارے بعد تمہاری جائداد اورچھوٹے چھوٹے بچے ان کے شقیق وشفیق یعنی تمہارے بیٹے سے چھین کرایك اجنبی کوسپردکردئیے جائیں جسے نہ مال کا درد ہو نہ بچوں پرترس توہرگزہرگز اس امر کو قبول نہ کریں گے توعرفاودلالۃ اذن وتفویض متحقق اور بیشك اگرنظرفقہی سے کام لیجئے تواس وصایت معروفہ کومعتبر رکھنے کی شدیدضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اس کے ابطال میں مقاصد شرع کابالکل خلاف بلکہ عکس مرادوقلب مقصود۔
وذلك لان عامۃ الناس فی بلادنا یموتون من دون تصریح بایصاء ویخلفون اموالا وعقارا واولاد صغارا لاجدلھم وربما تکون فیھم بنات قاصرات فلولم تعتبرالوصایا المعھودۃ التی یعلم کل احد اور یہ اس لئے ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ صراحتا وصیت کئے بغیر فوت ہوجاتے ہیں جو اپنے پیچھے مال جائداداورچھوٹی ناسمجھ اولاد چھوڑجاتے ہیں انکادادا نہ ہو جن میں بسا اوقات ناتواں بچیاں بھی ہوتی ہیں۔اگریہ معروف وصیت معتبرنہ ہو جس کے بارے میں ہرکوئی جانتاہے جب
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الوصی ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۵۴€
#3375 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اذا رجع الی وجدانہ الصحیح ان الورث کان راضیا علیھا وان لوسئل عنھا لافصح بھا لزم تلف الاموال والضیاع وضیاع الاولاد اذلم یبق من یقوم بامرھم بحکم الشرع فاما ان یترك المال سائبۃ والاولاد ھملا فھذا الضیاع المردود واما ان ینزع الامر من ید الشقیق الشفیق ویفوض الی اجنبی سحیق فھذا ھو قلب المراد وعکس المقصود فوجب المصیر الی ماقلنا والتعویل علی دلالۃ الاذن کما عولنا واﷲ الموفق۔ وہ اپنے صحیح وجدان کی طرف رجوع کرے کہ مرنے والا اس پر راضی تھا اوراگراس سے سوال کیاجاتاتو وہ اس کی تصریح کر دیتاتو اموال واسباب کابرباد ہونا اوراولاد کاضائع ہونالازم آئے گا کیونکہ کوئی ایساشخص باقی نہ رہا جو بحکم شرع ان کے معاملات کا نگران ہو۔اب یاتو اموال واولاد کو بغیرنگران ومتولی کے چھوڑدیاجائے تویہ اس کاضائع کرنا ہے جوکہ مردود ہے پھر شفیق بھائی سے نگرانی واپس لے کرشکستہ دل اجنبی کوسونپ دی جائے تومقصود ومراد کے برعکس ہوگیالہذا ہمارے قول کی طرف رجوع کرنا اوردلالت اذن پراعتماد کرناضروری ہے جیساکہ ہم نے اس پراعتماد کیاہے اوراﷲ تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والاہے۔(ت)
بلکہ غمزالعیون والبصائرمیں ہے:
روی ان جماعۃ من اصحاب محمد بن الحسن رضی اﷲ تعالی عنہ حجوا فمات واحد فاخذواماکان معہ فباعوہ فلما وصلوا الی محمد سألھم فذکروا لہ ذلك فقال لولم تفعلوا ذلك لم تکونوا فقھاء وقرأ واﷲ یعلم المفسد من المصلح اھ اقول:فاذا ساغ تصرف احد من الرفقۃ مروی ہے کہ امام محمدبن حسن علیہ الرحمہ کے اصحاب نے حج کیا اور ان میں سے ایك ساتھی مرگیا توانہوں نے اس کامال و متاع جو اس کے پاس تھافروخت کردیا۔جب وہ امام محمدعلیہ الرحمہ کے پاس پہنچے توامام صاحب نے ان سے پوچھا انہوں نے یہ واقعہ آپ کوبتایاجس پرامام محمدنے فرمایا اگرتم ایسانہ کرتے توتم فقہاء نہ ہوتے اور امام محمدعلیہ الرحمہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی"اوراﷲ تعالی فسادکرنے والے کوسنوارنے والے سے"اھ۔
حوالہ / References غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الغصب ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۹۹€
#3376 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
لعدم تیسرالرجوع الی القاضی فی الطریق فالاخ الماذون لہ دلالۃ مع انعدام القاضی الشرعی اصلا اولیعــــــہ۔ میں کہتاہوں جب راستے میں قاضی کی طرف رجوع میسرنہ ہونے کی صورت میں ایك ہمسفر کو تصرف کی اجازت ہے تو بھائی جوکہ دلالۃ ماذون ہے اورقاضی شرع بھی بالکل معدوم ہے تو اس کو بطریق اولی تصرف کی اجازت ہوگی۔(ت)
فتاوی کبری پھرفتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا تصرف واحد من اھل السکۃ فی مال الیتیم من البیع والشراء ولاوصی للمیت وھو یعلم ان الامر لورفع الی القاضی حتی ینصب وصیا وانہ یاخذ المال گلی والوں میں سے کسی نے یتیم کے مال میں بیع وشراء وغیرہ تصرف کیاجبکہ میت کاکوئی وصی نہیں اوروہ محلہ دار شخص جانتا ہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تووہ متولی مقرر کر دے گاتو وہ اس کامال لے اورخرچ

عــــــہ:لکن فی وصایا الانقروی ص۴۱۸ مانصہ وعن محمد فیمن مات عن ابنین صغیروکبیر وترك الفافانفق الکبیر علی الصغیر خسمائۃ وھو لیس بوصی قال ھو متطوع فی ذلك وان کان ترك طعاما اوثوبا فاطعمہ والبسہ الکبیر لایضمن الکبیر استحسانا من وصایا البزازیۃ قبیل نوع فی تصرف المریض اھ قلت الجواب ان ھذا ھو حکم الاصل وکلامنا فی الضرورۃ کما تری فافھم۱۲منہ۔ لیکن انقروی کے وصایا ص۴۱۸ میں ہے جس کی عبارت یہ ہے:امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ ایك شخص دوبیٹے ایك بڑا اورایك چھوٹا چھوڑکرفوت ہوا اورہزارترکہ چھوڑاتوبڑے نے چھوٹے پرپانچ سو خرچ کردیا حالانکہ وہ وصی نہ تھاتوامام محمد نے فرمایایہ پانسوبڑے کی طرف سے تطوع شمارہوگا اوراگرمرنے والے نے غلہ اورکپڑے ترکہ چھوڑا اوربڑے نے چھوٹے کو وہ غلہ طعام میں اورکپڑے لباس میں دئیے توبڑاضامن نہ ہوگا یہ حکم استحسان ہےبحوالہ مریض کے تصرف کی نوع سے تھوڑا پہلے (بزازیہ کی بحث وصایا)
الجواب: میں کہتاہوں کہ یہ اصل حکم ہے جبکہ ہمارا کلام ضرورت میں ہے جیساکہ دیکھ رہے ہوسمجھو ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References الفتاوی الانقرویہ کتاب الوصایا دارالاشاعۃ العربیۃ ∞افغانستان ۲/ ۴۱۸€
#3377 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
یفسدہ افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائز للضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی کرے۔قاضی دبوسی نے فتوی دیاہے کہ بوجہ ضرورت اس کا تصرف جائزہے۔قاضی خاں نے کہایہ استحسان ہے اوراسی پرفتوی دیاجاتاہے(ت)
فصول عمادی پھرجامع الرموز پھردرمختارمیں ہے:
لغیرالوصی التصرف لخوف متغلب وعلیہ الفتوی ۔ غلبہ خوف کے وقت غیروصی کے لئے تصرف جائزہے اوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
درمنتقی پھرردالمحتارمیں ہے:
انما لم یحصر التصرف فی الوصی اشارۃ الی جواز تصرف غیرہ کما اذاخاف من القاضی علی مالہ ای مال الصغیر فانہ یجوز لواحد من اھل السکۃ ان یتصرف فیہ ضرورۃ استحسانا وعلیہ الفتوی اھ اقول:فاذا جاز التصرف لو احد من الجیران لمکان الضرورۃ مع وجود القاضی من دون اذن مورث و لاقاضی اصلا فلان یجوز للشقیق الشفیق عند عدم القاضی الشرعی مع تحقق اذن المورث دلالۃ لکان احری واجدر واجدی واولی۔ تصرف کووصی میں منحصرنہ کرنے میں اشارہ ہے کہ وصی کے غیرکاتصرف بھی جائزہے جیسے قاضی کی طرف سے نابالغ یتیم کے مال پر خوف ہوتو گلی والوں میں سے کسی کو اس کے مال میں بوجہ ضرورت تصرف کرنا بطوراستحسان جائزہے۔ اوراسی پرفتوی ہےاھ میں کہتاہوں جب بوجہ ضرورت مورث اورقاضی کی اجازت کے بغیر ایك پڑوسی کوتصرف کی اجازت ہے باوجودیکہ قاضی موجودہے توشفیق بھائی کے لئے قاضی کی عدم موجودگی میں تصرف کاجائزہونااولی وانسب ہےجبکہ مورث کی طرف سے بطوردلالت اجازت بھی متحقق ہے۔(ت)
غرض فقیربحول القدیر جزم کرتاہے کہ ایسی صورت میں ابن کبیر کی صحت تصرف وثبوت وصیانت بحکم دلالت میں کوئی محل شبہ نہیں۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح اوراﷲ تعالی جانتاہے بگاڑنے والے کوسنوارنے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۵€
درمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۸€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۶€
#3378 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ وارجوان لو عرض کلامی ھذا علی الفقہاء الفحول نظروا الیہ بعین الرضا وتلقوا طرا بالتحسین و القبولواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ والے سے۔جواپنے اہل زمانہ کو نہ پہچانے اورفتوی میں اس کے مکان کوملحوظ نہ رکھے وہ جاہل ہے اوراس کاقول وبیان باطل ہے۔میں امیدکرتاہوں کہ اگر میرایہ کلام فقہاء کے سامنے پیش کیاجائے تو وہ اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے اورتحسین وقبول کے ساتھ اس کا استقبال کریں گے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۲: ۲۷ربیع الاول ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایك زوجہ اورایك پسربالغ اورایك دختربالغہ اوردولڑکیاں نابالغہ چھوڑکرفوت ہوانابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں جب وہ بالغ ہوئیں تو بکرنے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اورجوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے خود اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یاشادی کاخرچ بکر کے پاس نہ ہو صرف دوبہنوں کاخرچ پرورش وشادی اپنے مال متروکہ مشترکہ سے کیااس صورت میں یہ خرچ بکرکو ان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرامل سکتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہاں تین چیزیں ہیں:
(۱)خرچ پرورش
(۲)شادی کے مصارف بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اورخرچ کرتے ہیں جیسے برات کاکھاناخدمتیوں کاانعامسمدھیانہ کے جوڑےدولھا کی سلامیسواریوں کاکرایہبرات کے پان چھالیہ وغیرہ ذلک۔
(۳)دلہن کاجہیز۔
بتوفیق اﷲ ہرایك کا حکم علیحدہ سنئے۔
خرچ پرورش:بیشك بحکم دیانت بحالت عدم وصی وارثان کبیر کو وارثان صغیر کی پرورش کرنا اور ان کے کھانےپہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں ان کے لئے خریدنا اوران امورمیں ان کامال بے اسراف وتبذیر ان پراٹھانا شرعا جائزہے جبکہ وہ بچے ان کے پاس ہوں اگرچہ یہ ان پروصایت وولایت مالیہ
#3379 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
نہ رکھیں۔تنویرالابصار ودرمختار وردالمحتار وغیرہا اسفارمیں ہے:
جازشراء مالابد للصغیر منہ(کالنفقۃ والکسوۃ و استئجار الظئرمنح)وبیعہ ای بیع مالابد للصغیر منہ لاخ وعم و ام وملتقط ھو فی حجرھم ای فی کنفھم والالا ۔ نابالغ کے لئے نفقہ اورلباس وضروری اشیاء خریدنادودھ پلانے والی کو اجرت پرحاصل کرنامنح(ت)اسی طرح نابالغ کی خاطر ضروری اشیاء فروخت کرنابھائیچچاماں اور اس کو اٹھانے والے کے لئے جائزہے بشرطیکہ وہ نابالغ ان کی زیر پرورش اورزیرنگرانی ہو ورنہ نہیں۔(ت)
علامہ شامی قول درمختار:
لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ ولاولایتہ الا فی مسائل ۔ غیرکے مال میں اس کی اجازت وولایت کے بغیر تصرف کرنا سوائے چندمسائل کے ناجائزہے(ت)
کی شرح میں بضمن مسائل استثناء ارشاد فرماتے ہیں:
کذا لوانفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی کلدیانۃ اھ ملخصا۔اقول:ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شہادۃ الاوصیاء عن الطحاوی عن الفصول حیث قال ورثۃ صغاروکبار وفی الترکۃ دین وعقار فھلك بعض المال وانفق الکبار البعض علی انفسھم وعلی الصغار فما ھلك فھو جیساکہ بعض اہل محلہ کاایسی مسجد کے محاصل میں سے اس کی چٹائیوں وغیرہ پرخرچ کرنا جس مسجد کا کوئی متولی نہیں یابڑے وارثوں کاایسے چھوٹے وارثوں پرخرچ کرنا جس کاکوئی وصی نہیں ان سب پر ازروئے دیانت کوئی ضمان نہیں اھ تلخیص۔ میں کہتاہوں یہ بات امام کے اس قول کے مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے جوانہوں نے فصول کے حوالے سے شہادت اوصیاء میں فرمایا کہ کسی کے ورثاء چھوٹے بھی ہیں اوربڑے بھی جبکہ ترکہ میں دین اورجائداد ہے۔پھرکچھ مال ہلاك ہوگیا اور کچھ بڑوں نے چھوٹوں پرخرچ کیا۔جوہلاك ہواوہ توسب پرہے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۶،€ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۰€
الدرالمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۷€
#3380 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
علی کلھم وما انفقہ الکبار ضمنوا حصۃ الصغار ان کانوا انفقوا بغیر امرالقاضی اوالوصی وماانفقوہ بامراحدھما حسب لھم الی نفقۃ مثلھم اھ فان ھذا عند وجودالوصی وما مرفعند عدمہ لاسیما فی بلادنا فافھم۔ اورجوبڑوں نے چھوٹوں پرخرچ کیا ہے اگر وہ قاضی یا وصی کی اجازت کے بغیر خرچ کیاہے توچھوٹوں کے حصہ کے ضامن ہوں گے اوراگر ان میں سے کسی کی اجازت سے خرچ کیا توان کے لئے مثلی نفقہ میں شمار کرلیاجائے گااھ بیشك یہ اس صورت میں ہے کہ وصی موجود ہو اورجوپہلے گزرا وہ وصی کی عدم موجودگی کی صورت میں ہے خصوصا ہمارے ملك میں۔پس سمجھو(ت)
پس جوکچھ بکرنے ان لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگرنفقہ مثل کادعوی کرے توبیشك دیانۃ مجراپائے گا۔
فانہ کان ماذونالہ فی ذلك من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذبہ الظاھر الاتری الی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی اوقاض لفقد انھما ھھنا رأسا وانت تعلم ان المفتی انما یفتی بالدیانۃ بل قد اثبتنا عرش التحقیق بتوفیق کیونکہ وہ اس مسئلہ میں شریعت کی طرف سے ماذون تھا۔لہذا وہ ضامن نہیں بلکہ امین ہوگا۔اس کا قول قبول ہوگا جب تك وہ ایسا دعوی نہ کرے جس کو ظاہر جھٹلاتاہے۔کیاتم نہیں دیکھتے جو ہم نے بحوالہ فصول ذکرکیاہے۔اس میں مثلی نفقہ کی حد تك شمار کرنے کا فیصلہ دیاگیا جبکہ مالك اذن یعنی وصی یاقاضی کی طرف سے اذن موجودہوحالانکہ شرع مطہر مالك اذن ہونے کازیادہ حقدارہے توہمارے اس زیربحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایاگیاہے اگرچہ وصی یاقاضی کی طرف سے نہیں پایاگیاکیونکہ وہ دونوں یہاں بالکل مفقود ہیں اور تو جانتاہے کہ مفتی دیانت کے ساتھ فتوی دیتاہے بلکہ ہم نے مولی سبحنہ وتعالی کی توفیق
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء المکتبۃ العربی ∞کوئٹہ ۴/ ۳۴۵€
#3381 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
المولی سبحنہ وتعالی فی کتاب الوصایا من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ ان الابن الکبیر فی امصارنا ھذہ فی اعصارنا ھذہ یقوم مقام وصی ابیہ علی الاولاد الصغار من دون حاجۃ الی تصریح بالوصایۃ لوجود الاذن والتفویض دلالۃ بحکم العرف الفاشی المطرد مع تحقق الضرورۃ الملجئۃ الی اعتبار تلك الدلالۃواﷲ یعلم المفسد من المصلح ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہوقدبینا المسئلۃ بحول القدیر جل مجدہ بما یتعین المراجعۃ الیہ وحینئذ فالامراظھر۔ سے فتاوی رضویہ کی کتاب الوصایا میں بلندپایہ تحقیق سے ثابت کیاہے کہ ہمارے شہروں میں ہمارے اس زمانے میں بڑا بیٹانابالغ اولادپر باپ کے وصی کے قام مقام ہوتاہے باوجویکہ اس کے وصی ہونے کی تصریح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لئے اذن وتفویض بطوردلالت موجودہوتی ہے اس عرف کے حکم سے جوجاری وساری ہے۔علاوہ ازیں وہ ضرورت بھی متحقق ہے جودلالت مذکورہ کااعتبارکرنے پر مجبورکرتی ہے۔اوراﷲ تعالی جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔جواپنے اہل زمانہ کونہیں پہچانتااورفتوی میں اس کے مکان کو ملحوظ نہیں رکھتا وہ جاہل ہے اوراس کا قول وبیان باطل ہےہم نے اﷲ تعالی قدرت والے کی عطاکردہ قوت سے مسئلہ کو اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کردیاہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا متعین ہوگیا۔اب معاملہ زیادہ ظاہرہے۔(ت)
اورنفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت میں ایسے بچوں پراتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدرہوتاہے اتنا مجراپائے گا۔عالمگیری میں ہے:
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط۔ مثلی نفقہ وہ ہے جو فضول خرچی اورضرورت سے کمی کرنے کے درمیان ہو۔محیط میں یونہی ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ماینفق علی مثلھم فی تلك المدۃ جوخرچ کیاجاتاہے ان کی مثل پر اس مدت میں(ت)
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۵€
ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۶۰€
#3382 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مصارف شادی:عبارت سوال میں مذکورکہ دونوں قاصرہ وقت شادی جوان تھیں اورسائل نے بعد استفسار بذریعہ تحریراظہار کیاکہ مصارف عروسی وجہیز عروس سب بکرنے محض اپنی رائے سے کئے والدہ کاانتقال دونوں قاصرہ کی شادی سے پہلے ہوا اوربہنیں ان کی شادیوں میں عام بیگانوں کی طرح شریك ہوئیںنہ ان سے دربارہ صرف کوئی استفسارہواتھا نہ ان کا کوئی اذن تھا نہ ان قاصرات سے کہاگیاکہ ہم یہ صرف تمہارے حصہ سے کرتے یایہ جہیز تمہارے حصہ میں دیتے ہیں اورواقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنواریوں سے پوچھ کرنہیں ہوتے نہ ان سے اس امرمیں کوئی اذن لیاجاتاہے پس اگربیان مذکورصحیح ہے تو جو کچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہوئے وہ دلہن کے حصہ میں مجرانہیں ہوسکتے۔
لانا وان قلنا بوصایۃ بکردلالۃ کما اشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ۔ اس لئے اگرچہ ہم بطوردلالت بکر کے وصی ہونے کا قول کر چکے ہیں جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے مگر وہ ولایت بالغوں کے بلوغ سے منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتارمیں عنایہ سے ہے:
انھم(یعنی الورثۃ الکبار)اذا کانوا حضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذاکان علی المیت دین الخ۔ جب بڑے ورثاء حاضرہوں تو وصی کوترکہ میں تصرف کابالکل اختیارنہیں مگرجب میت پر قرض ہو الخ۔(ت)
توان مصارف میں جوکچھ بکرنے صرف کیابہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جسے کسی سے مجرانہ پائے گا سب صرف اسی کے حصے پرپڑے گا خواہ ضمنا خواہ قصاصادوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃ اذن دیایہ بری رہیں گے اگرچہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا وہ خاموش رہے ہوں اذلاینسب الی ساکت قول(چپ رہنے والے کی طرف قول کو منسوب نہیں کیا جاتا۔ت)اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا اگرکسی نے غیرکو اپنا مال تلف کرتے دیکھا اورچپ رہاتویہ تلف کرنے کا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۴€
#3383 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
باتلافہ ۔ اذن نہ ہوگا۔(ت)
خصوصا اگران میں کوئی اس وقت نابالغہ ہوکہ نابالغ کااذن بھی معتبرنہیں
فانہ لیس من اھل التبرع ولالاحد ان یتبرع من مالہ۔ اس لئے کہ وہ اہل تبرع میں سے نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ اختیارہے کہ وہ اس کے مال میں تبرع کرے۔(ت)
بزازیہ وبحرالرائق وردالمحتار وتنویرالابصار وسراج وہاج وغیرہ میں ہے:
الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال اوتملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا اھ اقول: ھذا افادون فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھما وکیل عن صاحبہ و ماذون التصرف فی المال من جانبہ فکیف بالشریك شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصوا علیہ۔ ہبہ اورقرض اور جس صورت میں مال کو تلف کرنا یابغیر عوض کے مالك بناناپایاجائے یہ جائزنہیں جب تك صراحتا اس کی اجازت نہ دی گئی ہواھمیں کہتاہوں یہ ممانعت شرکت عنان ومفاوضہ میں ہے باوجودیکہ ان میں ہر ایك دوسرے کا وکیل ہوتاہے اورہرایك کو دوسرے کی طرف سے تصرف کی اجازت ہوتی ہے توپھرکیساحکم ہوگا شرکت عین کے شریك کا کیونکہ وہ تودوسرے بھائی کے حق میں محض اجنبی ہوتاہے اور اس کو دوسرے کے حصہ میں تصرف کی اجازت نہیں ہوتی جیساکہ علماء نے اس پرنص کی ہے(ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے:
التجھیزلایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذلك ان کا ن من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ ملخصا۔ لوگوں کا اجتماع اوران کے کھانے کااہتمام تجہیزمیں داخل نہیں ایساکرنے والا اگروارثوں میں سے ہو تویہ خرچ کرناخود اس کے اپنے حصے سے شمارکیاجائے گا اور وہ اس خرچ میں متبرع ہوگااورایساہی ہوگا اگروہ اجنبی ہوالخ ملخصا(ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۸۵€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۴۵€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۶۷€
#3384 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
دلہن کاجہیز:وہ اگربکر نے بطورہبہ نہ دیا بقصد مجرائی دیا توہبہ دیناکچھ اثرپیدانہ کرے گا جبکہ باہم کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ آئی کہ یہ اشیاء تیرے فلاں حصہ کے معاوضہ میں دیتے ہیں اس کے بعد کل ترکہ یاترکہ کی فلاں قسم میں تیراحصہ نہ ہوگا نہ بالیقین یہ ہواکہ اموال منقولہ کی ہرجنس جداجداجوڑکردلہن کا حصہ نکال کر ہرچیز سے خاص جس قدر اس کے حصہ میں آیا بے کمی بیشی ایك ذرہ کے اس کے لئے جداکرلیااوروہی اس کے جہیزمیں دیاہو
فضلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الاستبداد فی القیمیات۔ چہ جائیکہ مثلی اشیاء پراقتصارہونااورقیمتی چیزوں میں تبدیلی کو ترجیح دینے سے بچنا۔(ت)
نہ اجناس مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکنیہاں تك کہ قاضی کو بھی اس کا اختیارنہیں کما نصوا علیہ فی الکتب جمیعا (جیساکہ اس پر تمام کتابوں میں علماء نے نص کی ہے۔ت)توغایت درجہ اس قدررہا کہ بکرنے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دلہن کے حصے میں مجرالیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقدشرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہرلمامرصلح وتخارج یوں نہیں کہ کل ترکہ یا اس کی قسم سے حصہ دلہن کا ساقط نہ کیاگیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا کہ اب فلاں قسم ترکہ میں میرا کوئی دعوی نہ رہا اگرچہ میراحصہ مقدارجہیز سے زائد نکلے نہ ایسا امربے تصریح رضامندی فقط ایك طرف کے خیال پرعقد ٹھہرسکتاہے فان العقد ربط ولا بد فی الربط من شیئین معھذا(اس لئے کہ عقد توربط کانام ہے اورربط کے لئے دوچیزوں کاہونا ضروری ہے۔ت)عندالحساب جہیزکی لاگت میں اختلاف پڑناممکن بلکہ مظنون توقطع نزاع جس کے لئے صلح وتخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا
ومامن شیئ خلا عن مقصودہ الابطل و جھالۃ المصلح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الی منازعۃ والامنعت۔ نہیں ہے کوئی جومقصود سے خالی ہو مگریہ کہ وہ باطل ہے اور جس شیئ پرصلح ہورہی ہو اس کی جہالت صرف اس وقت جواز صلح سے مانع نہیں ہوتی جب اس سے کوئی جھگڑا پیدانہ ہو ورنہ مانع ہوتی ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ ۔ صلح شرع میں ایسے عقد کوکہتے ہیں جوجھگڑے کورفع کرے اورخصومت کو ختم کرے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الصلح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱€
#3385 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح اھ ملخصین۔ ایسی جہالت جوجھگڑے کاباعث ہو وہ جوازصلح سے رکاوٹ ہےاھ تلخیص(ت)
رہی بیع وہ اگربتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکرکہتا میں نے یہ جہیزبعوض ان اشیائے متروکہ کے جوبمقدار مالیت جہیز تیرے حصہ میں آئیں بیع کیا اوردلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیزکی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اورکیاکیا اشیاء حصہ عروس میں آئیں گی یہاں تك کہ اس قدربھی نہ ہوابلکہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکرنے ایك امرسمجھ کرجہیزسپردکیایہ بھی خبرنہیں کہ اس وقت قلب عروس میں کیانیت تھی اسے کیونکر کوئی عقد شرعی قراردے سکتے ہیں۔
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظھر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضاء النفسی۔ اوریہ بات معلوم ہے کہ کوئی عقد محض نیت سے تام نہیں ہوتابلکہ اس کے لئے کسی ایسی چیز کا ہوناناگزیرہے جس سے دلی ارادہ ظاہرہو اور وہ دلی طورپر رضامندی کی دلیل ہو۔(ت)
فتح القدیرمیں ہے:
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول اوفعل اھ نعم المظھر قدیکون نصا وھو اللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالۃ کالمساومۃ و اخذ الثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لا حاجۃ الی البیان للعرف العام کالخبز مثلا حیث یکون لہ اس کارکن ایسافعل ہے جودونوں ملکوں کے باہمی تبادلہ پر رضامندی کی دلیل ہوچاہے قول سے یافعل سےاھہاں اس کوظاہر کرنے والی چیزکبھی نص ہوتی ہے جیسے وہ لفظ جوایجاب وقبول کے لئے مقررہیں اورکبھی دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤتاؤ طے کرنااور دستی لین دین کی بیع میں ثمن بیان کرنے کے بعد اس کولے لینااورجہاں عرف عام کی وجہ سے بیان کی حاجت نہ ہو مثلاروٹی کی قیمت جب معلوم ہو اس میں
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ بحوالہ النہایۃ کتاب الصلح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۳۱€
فتح القدیر کتاب البیوع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵€
#3386 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذلك دلیل علی البیع واخذ المشتری علی الشراء اما ھھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلا من قبل العروس ولئن سلمت الرضا فالتعاطی ھھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عندالبعض وبہ یفتی وھوارجع التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل والبدل ھھنا کما علمت مجھول فلم ینعقد البیع اجماعا۔ کوئی اختلاف نہ ہوتو بائع کادکان کھول کربیع کے لئے بیٹھنا اور روٹی تیارکرنا بیع کی دلیل ہے اورمشتری کااس کو لے لینا خریداری کی دلیل ہے۔مگر یہاں زیربحث مسئلہ میں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کربھی لی جائے تو دلہن کی طرف سے بالکل دلالت موجودنہیں۔اگراس کی رضامندی کو تسلیم کرلیاجائے تویہاں تعاطی صرف ایك طرف سے ہے۔وہ اگرچہ بعض کے نزدیك جائزہےاسی کے ساتھ فتوی دیا جاتا ہے اوردونوں تصحیحوں میں سے یہ زیادہ راجح ہے۔لیکن اس کوجائز قراردینے والے کے نزدیك بدل کابیان ضروری ہے اوریہاں جیسے کہ توجانتاہے بدل مجہول ہے لہذا بالاجماع بیع منعقدنہ ہوئی۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ وفی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احدھما کان لنص محمد رضی اﷲ تعالی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع ھکذا حکی فتوی شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك بیع تعاطی میں شرط دونوں طرفوں سے دیناہےکفایہ میں یونہی ہے اوراسی پراکثر مشائخ ہیںبزازیہ میں ہے کہ یہی مختارہےایساہی بحرالرائق میں ہے۔اورصحیح یہ ہے کہ اگرایك قبضہ کرے توکافی ہے کیونکہ امام محمدعلیہ الرحمہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی دومیں سے ایك بدل پر قبضہ کرلینے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ثمن اور مبیع دونوں کوشامل ہے جیساکہ النہرالفائق میں ہے اور یہ قائل شرط قراردیتاہے اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے ثمن کے بیان کرنے اورمبیع کے سونپنے کو۔
#3387 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذا فی المحیط ۔ اوریونہی منقول ہے شیخ امام ابوالفضل کرمانی کافتوی جیساکہ محیط میں ہے۔(ت)
پس واضح ہواکہ جہیزدینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تویہ دینااصلا کوئی اثرتبدل ملك پیدانہ کرے گابلکہ وہ مال جس کی ملك تھا بدستور اسی کی ملك پررہے گا اب معرفت مالك درکار ہے جوچیزیں عین متروکہ تھیں مثلا زیوربرتنکپڑے وغیرہ کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہ جہیزمیں دئے گئے وہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترك تھیں اب بھی مشترك رہیں گی اورجواشیاء بکرنے خریدکردیں وہ سب مطلقا ملك بکرکی تھیں اوراب یہی خاص اسی کے ملك پرہوں گی اگرچہ مال مشترك سے خریدی ہوں
لما علم من ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ۔ کیونکہ معلوم ہے کہ بیع جب نفاذ پائے تومشتری پرنافذ ہوجاتی ہے(ت)
غایت یہ کہ مال مشترك سے خریدنے میں بکرباقی ورثہ کے حصص کاذمہ دارہوگا کما نقلنا فی مواضع من فتاوینا عن رد المحتار(جیساکہ ہم ردالمحتارکے حوالے سے اپنے فتاوی میں متعدد مقامات پرنقل کرچکے ہیں۔ت)پھر اس قسم یعنی مملوکات بکرپردلہن کاقبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک(کیونکہ یہ مالك کے مسلط کرنے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ت)پس جس چیزکودلہن نے استہلاك نہ کیا بغیراس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاك ہوگئی اس کاتاوان دلہن پرنہ آئے گا اورجو اس کے فعل و تعدی سے تلف ہوئی اس کی قیمت بکرکے لئے دلہن کے ذمہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذا تعدی(کیونکہ امین جب زیادتی کرے تووہ ضامن ہوتا ہے۔ت)اورجوباقی ہو وہ بعینہ بکرکوواپس دے اورقسم اول یعنی عین متروکہ سے جوکچھ جہیزمیں دیاگیا اس پردلہن کاہاتھ دست ضمان ہوگایعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاك ہوجائے مطلقا تاوان آئے گا
و ذلك لان بکراقد تعدی علی حصص الشرکاء بتجھیز الاخت من مال مشترك وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقل وکل یدمترتبۃ علی یدضمان۔ کیونکہ بکرنے شرکاء کے حصوں میں تعدی کی اس لئے کہ اس نے مال مشترك سے بہن کاجہیزبناکر اس کے حوالے کردیا کہ وہ اس کو پہنےاستعمال کرے اور تصرف میں مستقل ہو جائے۔ ہرقبضہ جودست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References الفتاوٰی الہندیۃ کتاب البیوع الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۹€
#3388 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
پس باقی ورثاء جنہوں نے اذن نہ دیا مختاررہیں گے کہ جو کچھ ہلاك ہواچاہیں اپنے حصوں کاتاوان بکرسے لیں لانہ الغاصب (کیونکہ وہ غاصب ہے۔ت)چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب(کیونکہ وہ غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ت) فتاوی خیریہ میں ہے:
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء الخ۔ جوقبضہ دست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتا ہے لہذا چارپائے کے مالك کو اختیارہے کہ جس کو چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت)
اوروہ بکریادلہن جس سے ضمان لیں اسے دوسرے پر دعوی نہیں پہنچتا
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ واما العروس فلانھا قبضت لنفسھا لالبکر۔ بکرپرتو اس لئے کہ وہ غاصب ہے اوردلہن نے اس کے مسلط کرنے سے اس پرقبضہ کیاہے۔رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ اس نے اپنے لئے قبضہ کیاہے بکرکے لئے نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں بزازیہ سے ہے:
وھب الغاصب المغصوب اوتصدق او اعاروھلك فی ایدھم وضمنواللمالك لایرجعون بما ضمنواللمالك علی الغاصب لانھم کانواعاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنوا علی الغاصب لانھم عملوا لہ الخ۔ غاصب نے مغصوب چیزکسی کوہبہ کردی یاصدقہ کردی یا عاریت پردے دیوہ چیز ان لوگوں کے ہاتھ میں ہلاك ہوگئی اور وہ اصل مالك کے ضامن ہوگئے تو اب یہ لوگ غاصب پر رجوع نہیں کرسکتے اس تاوان کے بارے میں جو انہوں نے مالك کودیا کیونکہ وہ مغصوب پرقبضہ میں اپنے لئے عمل کرنے والے ہیں بخلاف مرتہنمستاجر اوراس شخص کے جس کے پاس غاصب نے مغصوب چیزودیعت رکھی۔یہ لوگ اگر بصورت ہلاکت مالك کو تاوان اداکریں تواس کے لئے غاصب پررجوع کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا(ت)
اورجوکچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الہیہ پرتقسیم ہوجائیں یہ سب احکام اس صورت
حوالہ / References الفتاوٰی الخیریہ کتاب الغصب المعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۹€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۶€
#3389 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
میں تھے کہ بکرنے جہیز بطورہبہ نہ دیاہواوربیشك اس امرمیں کہ ہبہ کی نیت تھی یامجرائی کیبکرکاقول قسم کے ساتھ معتبرہوگا
لانہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین و الفتاوی الخیریۃ وغیر ماکتاب وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرۃاقول:ولیس فی تجھیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابایدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاباء والامھات فی بلادنا وکیف ویکون الظاھر قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاھر ح انھم یریدون الاحتساب علیھن من انصبائھن۔ کیونکہ وہ دینے والاہے لہذا وہ دینے کی جہت کوزیادہ بہتر جانتاہے جیساکہ اشباہجامع الفصولین اورفتاوی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہےاورعلماء نے اس پرمتعددمسائل میں نص فرمائی ہے۔میں کہتاہوں بھائی جب بہنوں کے لئے جہیز بنائیں جبکہ وہ بہنیں مالدارہوں اوربھائیوں کے زیرقبضہ ترکہ میں شریك ہوں تو ایساکوئی عرف ہمارے شہروں میں جاری وساری نہیں جو اس کو ہبہ قراردے بخلاف ماں باپ کے۔تو واجب کے باقی رہتے ہوئے اس کاقصد تبرع ہوناکیسے ظاہرہوگا بلکہ ظاہریہاں یہ ہے کہ بھائی اس کو بہنوں کے حصوں میں سے شمار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔(ت)
اسی طرح اگربکرنے دل میں نیت ہبہ کی مگردلہن نے ہبہ جان کرقبضہ نہ کیا بلکہ مثلا اپنے حصہ کا معاوضہ یاحصے میں مجرائی سمجھ لیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایاگیا
فان القبول فرع العلم وھی اذالم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔ اس لئے کہ قبول فرع ہے علم کی۔جب اس خاتون نے اس کو ہبہ سمجھاہی نہیں تو اس کاہبہ کوقبول کرناکیسے متصورہوگا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وکذا بقولہ اذنت الناس جمیعا فی ثمر نخلیمن اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناسمن اخذ شیئا یونہی اس کایہ کہناکہ میں نے اپنے درختوں کے پھل کے بارے میں تمام لوگوں کواجازت دے دی ہے تولوگوں کو خبر پہنچ گئی جس نے جوکچھ لے لیاہے وہ اسی کاہے ایساہی
#3390 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
یملکہ کذا فی المنتقی وظاھرہ ان من اخذہ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لا یخفی اھاقول:ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واراد أخذھا واقر وقال قلت حین خلیت سبیلھا من اخذ فھی لہ او انکرفاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للاخذ سواء کان حاضرا سمع ھذہ المقالۃ اوغاب فبلغہ الخبر اھ ووجہہ ظاھرفانہ اذا علم بمقالۃ الواھب فیکون الاخذ علی جھۃ الاتھاب ویقوم القبض مقام القبول بخلاف ما اذالم یعلم فانہ لم یتحقق القبول قطعا و ھو مدار ثبوت الملك للموھوب لہ قطعا سواء جعل رکنا کما نص علیہ فی التحفۃ والولوالجیۃ منتقی میں ہے۔اس سے ظاہریہ ہے کہ جس شخص تك واھب کی یہ بات نہیں پہنچی اس نے جوکچھ لیاوہ اس کامالك نہ ہوگا الخمیں کہتاہوں اوراس کی مثل خلاصہ کے حوالے سے ہندیہ میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے چارپائے کوچھوڑدیا اور کسی انسان نے اس کو پکڑ کر سنبھال لیا پھراس چارپائے کا مالك آیا جو اس کولیناچاہتاتھا۔اس نے اقرارکیاکہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت کہاتھا کہ جوا س کو پکڑلے یہ اسی کاہے یا اس نے انکارکیامگرگواہوں سے یہ بات ثابت ہوگئی یا اس کو قسم کھانے کاکہاگیا اوراس نے انکارکردیا۔ان تمام صورتوں میں وہ چارپایہ پکڑنے والے کاہوگا چاہے وہ خود حاضرتھا وراس نے مالك کی یہ بات سنی تھی یاغائب تھا اوراس تك اس کی خبر پہنچی اھ۔اس کی وجہ ظاہرہے کیونکہ جب اس کو واھب کے اس قول کاعلم ہوگیا تو اس کالینا ہبہ کولینے کے طورپرہوا اورقبضہ کرنا قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے کہ جب اسے واہب کے اس قول کاعلم نہ ہواہوکیونکہ اس صورت میں قبول کرنا بالکل متحقق نہیں حالانکہ موہوب لہ کے لئے ملك کے ثبوت کادارومدار قطعی طورپر قبول کرنے پرہے۔چاہے قبول کورکن
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الہبہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۸€۴
الفتاوٰی الہندیہ کتاب الہبہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۳۸۲€
#3391 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
والکافی والکفایۃ والتبیین و البحرومجمع الانھر و الدرالمختار وابی السعود وغیرھا من کتب الکبار و ھو ظاھر الھدایۃ وملتقی الابحر وغیرھما من الاسفار الغر اوشرطا کما نص علیہ فی المبسوط و المحیط و الھندیۃ وغیرھا و افادفی البدائع انہ الاستحسان و ان الاول قول زفر علی کل فاتفق القولان علی انہ لا تملك فیھا بدون القبول وھو الذی نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد حققنا المسئلۃ بتوفیق اﷲ تعالی علی ھامش ردالمحتاربما لامزید علیہ۔ بنایاجائے جیساکہ تحفہولوالجیہکافیکفایہتبیینبحرمجمع الانہردرمختار اورابوالسعود وغیرہ بڑی بڑی کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ہدایہ اورملتقی الابحروغیرہ عظیم کتابوں سے بھی یہی ظاہرہوتا ہے۔چاہے اس کو شرط بنایاجائے۔جیساکہ مبسوطمحیط اورہندیہ وغیرہ میں اس پرنص ہے۔بدائع میں افادہ کیاہے کہ یہ استحسان ہے۔اورپہلاقول امام زفرکاہے۔ بہرصورت دونوں قول اس پرمتفق ہیں کہ ہبہ میں قبول کے بغیرملك ثابت نہیں ہوتا اوراسی پر خانیہ وغیرہ میں نص کی گئی ہے۔ہم نے ردالمحتارکے حاشیہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں(ت)
تواس حالت میں بھی وہ اشیاء بدستورملك اصل مالك پرآئیں گی خواہ بکرہو یاسب شرکاءاوراحکام سابقہ عودکریں گےہاں اگر بکرکاارادہ ہبہ قولا یافعلا یادلالۃ کسی طرح ظاہرہوا جس کے سبب دلہن نے اسے ہبہ ہی سمجھ کرقبضہ کیاتوالبتہ ایجاب وقبول دونوں متحقق ہوگئے۔
فان القبض بوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفی۔ کیونکہ بطورہبہ قبضہ کرنا قبول ہے اگرچہ ناقص ہے جیساکہ قابل تقسیم چیزکوبلاتقسیم ہبہ کرنے کی صورت میں ہوتاہے کیونکہ بطور دلالت رضامندی میں وہ سب برابرہیںجیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
ولوالوجیہ میں ہے:
القبض فی باب الھبۃ جارمجری الرکن فصار کالقبول ۔ ہبہ کے باپ میں قبضہ کرنا رکن کے قائمقام ہے لہذا یہ قبول کی مثل ہوگیا۔(ت)
پس جو اشیاء بکرنے خریدکر جہیزمیں دیں اگرچہ مال مشترك سے خریدی ہوں دلہن ان کی مالک
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الولوالجیۃ کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
#3392 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مستقل ہوگئی اوربکرپر اس مال مشترك میں اورورثہ کے حصص کاتاوان آیا جن کے بے اذن یہ شراء واقع ہوا یہاں تك کہ خود اس دلہن کے حصے کابھی جس نے جہیزپایا۔
فان البدل وان الیھا وصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملك لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علی حدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔ کیونکہ بدل اگرچہ اس دلہن تك پہنچ گیا لیکن شراء کا نفاذبکر پرہواچنانچہ اس کے لئے ملك ثابت ہوگئی اورضمان تام ہوگیا پھر اس کادلہن کودینا الگ ہبہ ہے جوبکرکے اپنے مال سے ہوا لہذا اس سے دلہن کے حصہ کاتاوان ساقط نہیں ہوگا(ت)
اورجوکچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں توہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذنہ ہوا۔اذ لا اذن منھم ولاولایۃ علیھم(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اجازت ہے اورنہ ہی ان پرولایت ثابت ہے۔ت)توان کے حصے توہرحال دلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اورضمان کاوہی حکم کہ انہیں اختیار ہے چاہیں بکرپرڈالیں یا دلہن پر جس پرڈالیں دوسرے سے مجرانہ پائے گا کما قدمنا عن البزازیۃ(جیساکہ بزازیہ کے حوالے سے ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت)رہا بکرکااپناحصہ جہیزمیں جومال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ملتاتھاجب توبکرکے حصے میں بھی ہبہ صحیح نہ ہوا لانھا ھبۃ مشاع فیما یقسم(کیونکہ یہ قابل تقسیم چیزمیں بلاتقسیم ہبہ ہے۔ت)اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پر رہے گا اورجوکچھ دلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاك ہوگا اس میں حصہ بکرکاتاوان خاص دلہن پرپڑے گا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولاتفید الملك فی ظاھرالروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لا یملکہ فیکون مضمونا علیہ الخ ملخصا وتمامہ فیھا وفی ردالمحتار۔ ایسی غیرمنقسم چیزکاہبہ صحیح نہیں جوتقسیم کااحتمال رکھتی ہو اور ظاہرالروایہ کے مطابق وہ مفید ملك نہ ہوگا۔امام زیلعی نے کہا اگرغیرمنقسم حالت میں اس کوسونپ دیاتوملك ثابت نہ ہوگا چنانچہ اس پرضمان آئے گا الخ تلخیص۔اس کی مکمل بحث فتاوی خیریہ اورردالمحتار میں ہے۔(ت)
اسی طرح اگر مال ناقابل تقسیم ہو مگردلہن نہ جانے کہ اس میں بکرکاحصہ کس قدرہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اوربعد ہلاك وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پرآئے گا۔بحرالرائق میں ہے:
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب الہبہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۲€
#3393 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
یشترط فی صحۃ ھبۃ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرا معلوما حتی لووھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز ۔ ناقابل تقسیم چیز کے غیرمنقسم طورپرہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کی مقدار معلوم ہو یہاں تك کہ اگرکوئی غلام میں اپنے حصہ کو ہبہ کردے حالانکہ اسے اپناحصہ معلوم نہیں تویہ جائزنہیں(ت)
محیط امام سرخسی میں ہے:
واذا علم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی نقلھما فی الفتاوی الھندیۃ۔ جب موہوب لہ کوواھب کے حصہ کاعلم ہوتو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك اس کوجائز ہوناچاہئے۔ان دونوں کوفتاوی ہندیہ میں نقل کیاہے۔(ت)
جامع الفصولین میں فتاوی امام فضلی سے ہے:
اذا ھلك افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذ الفاسدۃ مضمونۃ علی مامر۔ اگروہ ہلاك ہوجائے تو میں ذی رحم محرم کوہبہ فاسدہ کرنے والے کی طرف رجوع کافتوی دوں گا کیونکہ ہبہ فاسدہ کی صورت میں ضمان آتا ہے جیساکہ گزرگیا(ت)
اور اگر دلہن کومعلوم تھا تواس قدرمیں ہبہ صحیح ونافذ وتام ولازم ہوگیا اوران اشیاء میں دلہن اپنے اوربکردونوں کے حصص کی مالك ہوگئی باقی ورثہ کے حصے بدستور دست عروس میں حکم ضمان پر ہیں جن کاحکم بارہاگزرا اوراول سے آخر تك سب صورتوں میں جو مشترك چیزیں دلہن کے ہاتھ میں تلف ہوئیں ان میں دلہن اپنے حصے کاتاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اسکامال اسی کے ہاتھ میں ہلاك ہوا اوربکرنے اس کے حصے پرکوئی تعدی نہ کی۔
فانہ انما سلم الملك لید من ملك کیونکہ اس نے توایسے کے ہاتھ میں دے دیا جو
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸،€بحرالرائق کتاب الہبہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۸۶€
الفتاوی الہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الہبہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸€
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ الخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۷€
#3394 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
فما ھلك فی یدھا فعلیھا ھلکھذا کلہ من اولہ الی اخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماءاعظم اﷲ اجورھم یوم الجزاء فما اصبت فمن اﷲ تعالی ولہ الحمدعلیہ ومااخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرا فان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرافاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمدﷲ علی فیضہ الجلیلواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اس کامالك ہوگیا۔اب جودلہن کے ہاتھ میں ہلاك ہوا توا سی کے ضمان پرہلاك ہوا۔یہ سب کچھ رب قدیر کے فیض سے فقیرکے دل میں ڈالاگیا۔میں نے اس کوبطور تفقہ علماء کرام کے اقوال سے اخذ کیا۔اﷲ تعالی قیامت کے روزان کوعظیم اجرعطافرمائے۔جوکچھ میں نے درست کہا اس پراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے اورجومیں نے غلطی کی تو وہ میراپنا قصور ہے۔میں اسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔وہ اس کوبہت مضبوط بنائے۔اس لئے کہ ان مسائل کی ضرورت زیادہ واقع ہوتی ہےاس خوبصورت تفصیل کوغنیمت سمجھواوراﷲ تعالی کے فیض جلیل پرتمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۳: ازشہرکہنہ ۷ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مجیداﷲ خاں ولد کالے خاں ساکن شہرکہنہ نے اپنی جائداد موروثی دین مہرمیں زوجہ کو دی یعنی مسماۃ امیربیگم کوبعدہ مجیداﷲ خاں مذکور کاانتقال ہوگیا بعدازاں جائدادمرقومہ بالاکا داخل مسماۃ امیربیگم کے نام بذریعہ گواہان کے ہوا یہ شخص گواہ تھے عنایت اﷲ خاں صاحب ولدکالے خاں صاحبدیگرگواہ شفیع علی خان صاحب ولد کالے خان صاحبمجیداﷲ خاں مرقومہ بالاکی ایك لڑکی تھی امیربیگموالدہ دخترنے اس کی شادی کردی چند عرصہ کے بعد نصف جائداد جوبذریعہ مہرکے شوہر اپنے سے پہنچی تھی دخترمذکورہ کودے دی اوراس کا داخل خارج بھی کردیا بگواہی عنایت اﷲ خاں صاحب وشفیع علی خاں صاحب اور پٹی بانٹ اس وجہ سے نہیں ہوسکا کہ اس زمین میں جگہ جگہ غار تھے دوسرے یہ کہ والدہ اوردختر میں اتفاق بھی بہت تھا حتی کہ تاحیات دخترسے جدانہیں ہوئیبعدہ مسماۃ امیربیگم کی حیات میں دخترجس کے نام نصف جائداد کی تھی فوت ہوگئی مگرمسماۃ امیربیگم نے وہ جائداد واپس نہیں لی اس پرقابض اوردخیل داماد رہا اور ہے اورجس وقت امیربیگم کی علالت تھی اس وقت میں دامادمذکور سے وصیت کی کہ برخوردار من میری
#3395 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
تیمارداری کرو اوربعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو اورجوکچھ تیمارداری میں خرچ ہو وہ روپیہ نصف جائداد باقیماندہ جومیرے نام ہے اس سے وصول کیجیو ورنہ میں حشرمیں دامنگیرہوں گی اورجوجائداد میں نے اپنی دختر کے نام کی تھی وہ تم کو بخوشی بخشی چونکہ تم نے میری خدمت مثل فرزندبطن کے کی ہے اورکرتے ہووصیت کے بعد مسماۃ امیربیگم کا انتقال ہوگیاداماد مذکورنے قرض دام کرکے تجہیزوتکفین کی اورخرچ تیمارداری کیا اب مسماۃ امیربیگم کوانتقال کئے ہوئے عرصہ چندہوا اورمسماۃ امیربیگم کے وارث یہ ہیں دوبھائی چچازاد اوردو شوہر کی ہمشیریں حیات ہیںیہ جائداد جس کاذکر ہے کس طرح پرتقسیم ہوگی اورقرضہ جوداماد مذکورنے خرچ تیمارداری میں اور تجہیزوتکفین میں کیا کس طرح وصول کرے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ ہبہ کہ امیربیگم نے بنام اپنی دخترکے کیابوجہ مشاع وغیرمنقسم ہونے زمین کے محض باطل ہوگیا۔تتمۃ الفتاوی پھرمشتمل الاحکام پھرفتاوی خیریہ میں ہے:
ھبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح ۔ غیرمنقسم کاہبہ باطل ہے اوریہی صحیح ہے(ت)
اورداخل خارج کہ ایك عقد باطل پرمبنی ہوا خود باطل وبے اثراسی طرح اس کاموہوب مذکورکی نسبت اپنے داماد سے کہنا میں نے تجھ کوبخوشی بخشی کہ وہ بھی ہبہ ہے اوربوجہ شیوع باطل۔
فی الشامی عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضی خاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما۔ شامی میں بحوالہ طحطاویبحوالہ مکیبحوالہ امام قاضی خان وغیرہ ہے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہے اگرچہ حکما وصیت ہے۔(ت)
پس وہ زمین تمام وکمال ملك وترکہ امیربیگم ہے جس میں وارثان دختریاخواہران شوہر کا اصلا کچھ حق نہیں صرف امیربیگم کے دونوں چچازاد بھائی برتقدیر عدم موانع ارث وانعدام وارث دیگراس کے مستحق ہیں کہ بعدادائے دین ووصیت آپس میں نصف نصف کرلیں داماد مورثہ نے جوکچھ اس پر اس کی بیماری وتیمارداری میں اٹھایا وہ امیربیگم پراس کاقرض ہے کہ ترکہ امیربیگم سے لے سکتاہے فانہ لما انفق بامرھا وقد افصحت بالرجوع لم یکن متبرعا(کیونکہ جب
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۳€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۳۵€
#3396 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اس نے مرحومہ کے امرسے خرچ کی اوراس نے رجوع کی تصریح کی تویہ متبرع نہ ہوا۔ت)اسی طرح جوکچھ کفن ودفن بطریق سنت میں صرف کیا ہو وہ بھی اس کادین ہے بشرطیکہ امیربیگم کے حال کے مناسب عرف وعادت کے لحاظ سے جس قیمت کا کفن دینا چاہئے تھا اس سے بیش قیمت نہ دیا ہو ورنہ قیمت کفن اصلا مجرانہ پائے گا۔تنویرالابصارودرمختاروردالمحتارمیں ہے:
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ ای الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث وفی القیمۃ وقع الشراء لہ(لانہ متعد فی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی )۔ اگروصی نے میت کے مثلی کفن میں زیادتی کی باعتبار تعداد کے توزائد کاضامن ہوگا(مگرجب اس کو اس کی وصیت کی گئی ہو اور وہ مال کے ایك تہائی سے پوری ہوسکتی ہو)اوراگرباعتبار قیمت کے زیادتی کی تویہ خریداری وصی کے لئے واقع ہوگی(کیونکہ اس نے قیمت کی زیادتی میں تعدی کی اور وہ زیادتی ممتازنہیں لہذا وہ میت کے لئے کفن کی خریداری میں متبرع ہوگا۔رحمتی)(ت)
اسی طرح جوکچھ کفن دفن کے سوافاتحہدرودوسومچہلمعورتوں کے جمع ہونےان کے پان چھالیہ کھانے پینے وغیرہ معمولی باتوں میں صرف ہوا اس کابھی ایك حبہ مجرانہ ملے گا لوجوہ کثیرۃ وحسبک(متعدد وجوہات کی وجہ سے اورتجھے اتناہی کافی ہے کہ۔ت)قول امیربیگم "بعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو"وصیۃ مھملۃ باطلۃ لانفاذ لھا اصلا(وصیت مہمل وباطل ہے جس کابالکل نفاذ نہیں۔ت)
علامہ سائحانی مسئلہ تنویرالابصار وغیرہ اوصی بان یتخذ الطعام بعد موتہ للناس ثلثۃ ایام فالوصیۃ باطلۃ (کسی نے وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد تین دن لوگوں کے لئے کھانا تیار کیاجائے تو یہ وصیت باطل ہے۔ت)کی تعلیل میں لکھتے ہیں:
انھا وصیۃ للناس وھم لایحصون کما لوقال اوصیت للمسلمین ولیس فی اللفظ مایدل علی الحاجۃ فوقعت تملیکا من مجھول کیونکہ یہ وصیت لوگوں کے لئے ہے جن کاشمار نہیں ہوسکتا جیساکہ اگروہ کہے کہ میں نے مسلمانوں کے لئے وصیت کی ہے درانحالیکہ لفظوں میں ایسی کوئی چیزنہیں جوحاجت پر دلالت کرے تویہ مجہول
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا باب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۷،€ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۴€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۲€
#3397 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
فلم تصح اھ ش۔ کی تملیك واقع ہوئی ہولہذا صحیح نہیں اھ۔(ت)
پھرجس قدر دین اس کاذمہ امیربیگم ثابت ہوا اسی کے لائق زمین کاٹکڑا بیچ کر اپنادین وصول کرسکتاہے یاوارثان امیربیگم اپنے پاس سے اس کا دین ادا کرکے خالص کرلیں۔ردالمحتارکے باب الوصی میں ہے:
اذاکان علی المیت دین اواوصی بوصیۃ ولم تقض الورثۃ الدیون ولم ینفذوا الوصیۃ من مالھم فانہ یبیع الترکۃ کلھا ان کان الدین محیطا وبمقدار الدین ان لم یحط ولہ بیع مازاد علی الدین ایضا عندابی حنیفۃ خلافالھما قال فی ادب الاوصیاء و بقولھما یفتی کذا فی الحافظیۃ والقنیۃ وسائر الکتب اھ ملخصاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جب میت پرقرض ہو یا اس نے کوئی وصیت کی ہو اورورثاء نے اس کاقرض اپنے مال سے ادانہ کیا اورنہ ہی اس کی وصیت کونافذ کیاتو وصی تمام ترکہ کوبیچ سکتاہے اگرقرض اس کو محیط ہو اورقرض ترکہ کومحیط نہ ہو توقرض کے برابر ترکہ میں سے بیچ سکتاہے۔امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك قرض سے زائد ترکہ کوبھی بیچ سکتاہے بخلاف صاحبین کے۔ادب الاوصیاء میں کہاکہ فتوی صاحبین کے قول پردیاجائے گا۔ ایسا ہی حافظیہقنیہ اوردیگرکتابوں میں ہےاوراسی کی مثل بزازیہ میں ہےاھ تلخیص(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴: ازوطن مرسلہ نواب مولوی سلطان علی خان صاحب ۲رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
چہ می فرمایند علماء رحمہم اﷲ تعالی دروصیت مطلقہ موصی لہم مردوزن باشند تقسیم برایشاں مساوی شودیاللذکرضعف الانثی۔ کیافرماتے ہیں علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم وصیت مطلقہ کے بارے میں جومردوں اورعورتوں کیلئے کی گئیتو کیاان سب پربرابرتقسیم ہوگی یامذکر کے لئے مؤنث سے دگناہوگا
کیافرماتے ہیں علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم وصیت مطلقہ کے بارے میں جومردوں اورعورتوں کیلئے کی گئیتو کیاان سب پربرابرتقسیم ہوگی یامذکر کے لئے مؤنث سے دگناہوگا
الجواب:
چوں صراحۃ واشارۃ بہیچ گونہ تفصیل وتفضیل جب صراحۃ اوراشارۃ کسی قسم کی تفصیل موجودنہیں
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ السائحانی کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۶€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۴€
#3398 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
احدالنوعین علی الآخرمستفاد نباشد بہرہرہمہ علی السویہ بخش کنند لعدم الفضل بعدم الفصل پس اگرمثلا برائے اولاد زیدوصیت کند پسران ودختران ہمہ برابر باشند واگربرائے ورثہ زید پس للذکر مثل حظ الانثیین زیراکہ تعبیر بلفظ ورثہ دلیل است برآنکہ حیثیت وراثت او ملحوظ داشتہ پس ہم بحساب وراثت خواہند یافت وتمامہ فی ردالمحتار من الوصیۃ للاقارب۔واﷲ تعالی اعلم۔ اورنہ ہی ایك نوع کی دوسری نوع پرکوئی فضیلت سمجھی جارہی ہےلہذا ہرایك کوبرابربرابر حصہ دیں گے کیونکہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہوگیلہذا مثال کے طورپر اگرزید کی اولاد کے لئے وصیت کرے اس میں بیٹے اور بیٹیاں سب برابرہوں گےاوراگرزید کے ورثاء کے لئے وصیت کرے اس صورت میں مذکرکاحصہ دو مؤنثوں کے حصہ کے برابرہوگا اس لئے کہ لفظ ورثاء کے ساتھ تعبیر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے وراثت کی حیثیت کو ملحوظ رکھاہے۔چنانچہ وہ وراثت کے حساب سے حصہ پائیں گے۔پوری تفصیل ردالمحتارکے باب الوصیت للاقارب میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۵: ازمیرٹھ بازارلال کرتی مرسلہ جناب مولوی محمدعبدالسمیع صاحب ۴/رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق ومدقق جناب مولانا محمداحمدرضا خاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہبعد اتحاف ہدیہ سلام مرفوع برائے خورشیدانجلائے باداس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے کہ ایك عورت نے وصیت کی تھی کہ ایك شخص کو کہ یہ سوپچاس روپیہ میراہے اس کایہ بندوبست کیجیوکہ جب کوئی موسم کامیوہ چلا کرے میری فاتحہ اس پر دلاکرتقسیم کردیاکرووصی نے ایساہی کیالیکن ایسابھی کیاکہ اس مال مذکورسے کوئی کتاب دینی غریب طالب علم کو دلوادیاوریہ بھی کیاکہ دہم وچہلم کی تواریخ معینہ میں مساکین کوکھانا کھلادیا فاتحہ دلاکراورایك دوخرچ ایسے کئے کہ اس عورت کے مرنے کی خبرسن کرجودوایك جگہ سے آدمی آئے تھے اوراس عورت کاکوئی ولی نہ تھا جو ان کی مہمانی کرتاان کی مہمانی میں بھی روپیہ مذکورہ سے کچھ صرف ہوااب یہ سب اخراجات بقیاس قاعدہ نذرکا اس میں تعین زمان و مکان ومال وانفاق کی قید پرنظررکھناواجب نہیں ہے جائزہوئی یانہیں۔وصی نے ان سب کومصرف خیرسمجھ کو صرف کردیاکہ مقصود فاتحہ میوہ جات سے ایصال ثواب ہے ایصال ثواب ہوگیا اب
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۳۸€
#3399 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
جودس بیس روپیہ باقی ہے اس کاارادہ ہے کہ مدرسہ میں دے دوںاب آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں میرارجحان توجواز کی طرف ہوتاہے۔
الجواب:
رائے سامی قرین صواب ہے اس لفظ میں کہ تقسیم کردیا کیجونہ کسی قوم محصورین کے لئے وصیت ہے نہ لفظ منبیئ حاجت توظاہر بطلان وصیت
کما ھو مقتضی الضابطۃ المعروفۃ فی الوصایاقال فی الدرالمختار والاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی وھو معلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت وتمامہ فی الاختیار۔ جیساکہ وصیتوں کے بارے میں معروف ضابطہ کاتقاضا ہے درمختارمیں فرمایاضابطہ یہ ہے کہ وصیت جب ایسے اسم کے ساتھ واقع ہوجوحاجت کی خبردے جیساکہ فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئےتویہ وصیت صحیح ہوگی اگرچہ جن کے بارے میں وصیت کی گئی وہ غیر منحصر ہوںجیساکہ گزرچکاکیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئیاوریہ معلوم ہے اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبرنہ دیتاہو تو اس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی اگر وہ منحصرہیں تووصیت صحیح ہوگی اوراس وصیت کوتملیك قراردیاجائے گا اور اگروہ منحصر نہیں تو وصیت باطل ہوگیاس کی پوری تفصیل اختیارمیں ہے۔(ت)
مگراس کاکہنا"میری فاتحہ دلاکر"یہ بتارہاہے کہ تقسیم مساکین پرمقصود تولفظ میں اشعار بحاحت وقربت موجود گویا یوں کہاکہ ہرموسم میں اس کامیوہ خریدکرلوجہ اﷲ مساکین پرتقسیم کردیاکرو یہ قطعا وصیت صحیحہ جائزہے۔
کذا ھذا فی الھندیۃ عن الخانیۃ مریض قال بالفارسیۃ صددرھم از من بخشش کنید قال الشیخ الامام ابو بکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲ تعالی ھی یوں ہی ہندیہ میں بحوالہ خانیہ منقول ہے کہ ایك مریض نے فارسی زبان میں کہا"میری طرف سے سودرہم بخشش کر دو"۔ شیخ امام ابوبکرمحمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہایہ وصیت باطل ہے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰€
#3400 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
باطلۃ لان ھذا للاغنیاء والفقراء جمیعا ولوقال صددرھم از من رواں کنید قال کانت الوصیۃ جائزۃ لان ھذا اللفظ یراد بہ القربۃ۔ کیونکہ یہ اغنیاء اورفقراء سب کے لئے ہے۔اور اگرکہا"میری طرف سے سودرہم رواں کردو"تو امام ابوبکر نے کہاکہ وصیت جائزہےکیونکہ اس لفظ سے قربت مراد ہوتی ہے۔ (ت)
اورمذہب صحیح اورمفتی بہ میں موصی جس چیز کی مساکین کے لئے وصیت کرے وصی کواختیارہے کہ وہ نہ دے اس کی قیمت تصدق کردے وبالعکس یعنی روپے خیرات کرنے کی وصیت ہوتو چیزخریدکر صدقہ کرسکتاہے۔
فیھا عنھا رجل اوصی بان یتصدق عنہ بالف درھم فتصدقوا عنہ بالحنطۃ او علی العکس قال ابن مقاتل یجوز ذلك وقال الفقیہ ابواللیث وبہ ناخذ ولو اوصی بان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبد ولو قال اشتر عشرۃ اثواب وتصدق بھا فاشتری الوصی عشرۃ اثواب لہ ان یبیعھا ویتصدق بثمنھا اھ ملخصا۔ ہندیہ میں خانیہ ہی کے حوالے سے ہے ایك شخص نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے ہزاردرہم صدقہ کئے جائیں توانہوں نے اس کی طرف سے گندم صدقہ کردی یامعاملہ اس کے بر عکس ہوا۔ابن مقاتل نے کہایہ جائزہے۔فقیہ ابواللیث نے کہا ہم اسی سے اخذکرتے ہیں۔اوراگروصیت کی کہ اس کا یہ غلام بیچ دیاجائے اوراس کی قیمت صدقہ کردی جائے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔اوراگرکہادس کپڑے خریدو اوران کوصدقہ کردو۔پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ ان کپڑوں کو بیچ دے اوران کی قیمت صدقہ کردے الخ تلخیص(ت)
یونہی اس کے کلام سے اس صدقہ کاچندموسم بدفعات اداکرنانکلتاہے اس کااتباع بھی ضرورنہیں وصی کواختیارہے کہ ایك وقت میں سب روپیہ تصدق کردے
فیھا عنھا لوقال اوصیت ہندیہ میں خانیہ سے ہی منقول ہےاگرکہا
حوالہ / References الفتاوی الہندیہ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۹€۵
الفتاوی الہندیہ کتاب الوصایا الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۴€
#3401 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ مائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ الاولی ولایوزع علی السنۃ اھ وفیھا عن الخلاصۃ عن النوازل لو اوصی بان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جاز۔ "میں نے وصیت کردی کہ میرے ترکہ کے ثلث میں سے ہر سال سودرہم صدقہ کئے جائیں"تو اس صورت میں وصی پہلے ہی سال پورے ثلث کو صدقہ کردے اور اس کوسالوں پرتقسیم نہ کرےاھ ہندیہ میں بحوالہ خلاصہ نوازل سے منقول ہے اگروصیت کی کہ دس دنوں میں صدقہ کیاجائےاوروصی نے ایك دن میں صدقہ کردیاتوجائزہے۔(ت)
پس وصی نے جوکتاب اس مال سے خریدکرکے مسکین کودی یامساکین کوکھاناکھلایا سب جائزوبجاواقع ہوایونہی اب جوروپیہ باقی ہے جائزکہ مدرسہ کے طلبہ مساکین کو نقدیاکپڑا یاکھانا یا کتابیں خریدکردے دے خواہ امداد طلبہ مساکین کو جوتنخواہ مقررہو اس میں صرف کردے غرض جس قدر وجوہ تصدق ہیں سب کااختیار رکھتاہے رہاوہ کھانا کہ اہل تعزیت کوکھلایا اگروہ محل تصدق تھے اور انہیں بطور تصدق کھلایاجائزہوااوراگراغنیاء تھے ناجائزاوراس قدر روپے کاتاوان ذمہ وصی لازممگریہ کہ اسے دھوکا ہوا اور اپنے نزدیك محل صدقہ جان کرتصدق کیاہو
فیھا عن التاتارخانیۃ سئل عن رجل اوصی بثلث مالہ للفقراء فاعطی الوصی الاغنیاء وھو لایعلم قال محمد رحمہ اﷲ تعالی لایجزیہ والوصی للفقراء ضامن فی قولھم جمیعا۔ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہےاس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے فقیروں کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی اوروصی نے لاعلمی میں اغنیاء کو دے دیاامام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ یہ کفایت نہ کرے گا۔اورتمام ائمہ کے قول کے مطابق وصی فقیروں کے لئے ضامن ہوگا۔(ت)
اسی طرح اگر کھانا بطورتملیك نہ تھا بلکہ جس طرح دعوت میں برسبیل اباحت کھلایاجاتاہے کہ
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن مسائل شتی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳€۵
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن مسائل شتی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳€۴
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن مسائل شتی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۵€
#3402 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
کھانے والوں کو طعام کامالك نہیں کیاجاتا ہے بلکہ ملك مالك پراس کے اذن سے تصرف کرتے ہیںتوبھی ناجائزاورتاوان لازم ہوگا
فانہ انما کان مامورا بالتصدق ولاتصدق الا بالتملیك ولاتملیك فی الاباحۃ وکل ذلك ظاھر عــــــہ عند من لہ المام بالفقۃواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ اس کو توفقط صدقہ کرنے کاحکم دیاگیاتھا اورصدقہ تملیك کے بغیرنہیں ہوتا۔اوراباحت میں کوئی تملیك نہیں۔ یہ سب کچھ اس شخص کے لئے ظاہرہے جس کو فقہ کے ساتھ کچھ بھی تعلق ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بحالت شدت مرض میں کہ امیدحیات قطع ہوچکی تھی اور طاقت حس وحرکت بالکل نہ تھی مگرہوش وحواس باقی تھے ایك دستاویز ہبہ نامہ اپنی دخترکے نام اس طورپرلکھی کہ اس میں ایك دکان خاص اپنی مملوکہ اورایك مکان کہ واقع میں مملوك دخترہی تھاشامل اوراسی حالت میں ایك حویلی اپنی ماں کو بقدر سہام شرعی اس کے لائق ہوگی ہبہ لکھ دی اورزرثمن معاف کردیا اوراپنے خرچ دفن کے لئے تیس روپیہ اپنی بیٹی کے سپرد کر دئیے اوروصیت کردی کہ یہ روپے میری تجہیزوتکفین میں خرچ کرنا اگرزیادہ ضرورت ہوتو میرے زیور سے کوئی چیزبیع کر ڈالنا اورایك دکان جومیرے مال سے باقی ہے اس میں سے ڈائی سوروپے جومجھ پرقرض ہیں اداکرنا اورکچھ مسجد وغیرہ میں خرچ کرنا اورمیرے بھائیوں کودینا اس وقت کسی شخص نے کہا تمہارے بھائی مسکین ہیں اورحاجتمندہیں ان کاحق پوراداکرنا خرچ مسجدوغیرہ سے اولی ہے توکہا جوشریعت سے ہو اوربہتر ہو بعدہ ہندہ نے ایك دختر اورتین برادرحقیقی اورماں چھوڑکرانتقال کیا اس صورت میں اشیائے منقولہ وغیرمنقولہ کس طرح تقسیم ہوں گی اورہرایك کوکتناکتناپہنچے گا اوروہ دستاویز جائزیاناجائزاور بھائیوں کاحق پورا دیاجائے گا یانہ اورخرچ تجہیزوتکفین میں کیاداخل ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ ہندہ نے اسی حالت میں دوایك روزبعد وفات پائی توصورت مستفسرہ میں وہ
عــــــہ:ھھنا سقط ولعلہ عند صح۱۲ اختررضاخاں ازہری غفرلہ
#3403 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مرض بلاشبہہ مرض الموت تھا
فی الدرالمختار قیل مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجرید بزازیۃ و المختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش قھستانی عن ھبۃ الذخیرۃ ۔ درمختارمیں ہے کہاگیاہے کہ مرض الموت یہ ہے کہ مریض اپنی حاجتوں کے لئے گھرسے نہ نکل سکےاسی پراعتماد کیاہے تجرید میں(بزازیہ)اورمختاریہ ہے کہ اس کے سبب سے غالب موت ہو اگرچہ وہ صاحب فراش نہ ہو اور یہ بات قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ سے نقل کی۔(ت)
اگرچہ ہوش وحواس بالکل صحیح ہوں کہ اختلال کچھ مرض الموت کے لئے شرط نہیں
والالم تکن تبرعاتہ نافذۃ فی الثلث موقوفۃ فی الزائد مثلا بل بطلت عن اخرھا کمالایخفی۔ ورنہ یوں نہ ہوگا کہ اس کے تبرعات ایك تہائی میں نافذہوں اور اس سے زائدمیں موقوف ہوںبلکہ یہ وصیت سرے سے ہی باطل ہوگی جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
پس ہندہ نے جومال اپنااپنی دخترکو ہبہ کیابشرطیکہ اپنی زندگی میں دخترکا قبضہ کاملہ کرادیا ہو اورجوکچھ اپنی ماں کے ہاتھ بیچا اور وہ زر ثمن کہ ماں کو معاف کیا اوردکان باقیماندہ سے بعد ادائے قرض جوبھائیوں کوکچھ دیناکہاچاروں تصرف اجازت باقی ورثہ پر موقوف ہیں ہبہ بنام دختر میں مادروبرادران کی اجازت درکارہے اوربیع وہبہ ثمن بنام مادرمیں دختروبرادران اوربھائیوں کو کچھ دینے کے باب میں مادرودخترکی اجازت چاہئے جس تصرف کوباقی سب ورثہ جائزرکھیں گے بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں پورانافذہوجائے گا جیسے باقی ورثہ سے کوئی اجازت نہ دے بالکل باطل ہوجائے گا اورجسے بعض اجازت دیں بعض نہ دیں تو صرف اجازت دہندہ عاقل بالغ کے حصہ میں نفاذ پائے گا باقی کے حصہ میں باطل وبے اثرہوگا توجس چیزمیں باقی سب ورثہ کی اجازت معتبرشرعیہ ہوگئی وہ تمام وکمال اسی کو ملے گی جس کے نام ہندہ نے کردی دوسری کے ورثہ اس میں سے اصلا حصہ نہ پائیں گے اورکسی کی اجازت نہ ہوئی تو وہ کل ترکہ میں شامل کی جائے گی اوربعض کی ہوئی اوربعض کی نہ ہوئی تواجازت نہ دینے والے اس میں سے حصہ پائیں گے اوردینے والوں کاحصہ اسے جس کے نام وہ چیزکی گئی تھی
حوالہ / References الدرالمختارکتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۰€
#3404 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اوربھائیوں کے نام وصیت میں کچھ دینا ہے جس کی مقدار ہندہ نے معین نہ کی تو ان کی تعین مقدار مادرودخترکے متعلق ہوگی اگر دونوں اس وصیت کوجائزرکھیں تودونوں سے کہاجائے گا تواپنے حصہ سے جومناسب سمجھے بنام وصیت انہیں دےاوران سب صورتوں میں اجازت وہ معتبرہوگی جو بعد موت ہندہ واقع ہوئی مثلا حیات ہندہ میں کسی تصرف کوکوئی وارث تسلیم کرچکاتھا اس کی موت کے بعد اب جائزنہیں رکھتا تو وہ اجازت نہ دیناہی ٹھہرے گا مگربعدموت اجازت دے کرپھرنے کاکسی کو اختیارنہیں مثلا موت ہندہ پرکسی وارث نے ان میں سے کسی تصرف کی اجازت دے دی تو اس کی طرف سے اجازت ہوگئی اوراس کے حق میں نافذ ہوچکااب اس سے رجوع نہیں کرسکتا۔رہی مسجد وغیرہ کے لئے وصیت جبکہ ہندہ نے اسے قائم نہ رکھا بلکہ کہہ دیاجو شریعت میں بہتر ہوتوحکم شرع یہ ہے کہ تہائی مال سے کم کی وصیت اگرچہ مستحب ہے مگرجب ورثہ محتاج ہوں اورانہیں اس کے متروکہ سے ہرایك کواتنانہ پہنچتاہوجو اسے غنی کردے تووصیت کا ترك ہی اولی ہےاورغنی ہونے کی مقدار یہ ہے کہ ہروارث محتاج کو کم سے کم چارہزاردرہم کے قدر مال پہنچے جویہاں کے روپے سے گیارہ سو بیس روپے ہوتے ہیں پس اگرہندہ کا مال جوشرعا بعد لحاظ مسائل مذکورہ بالا اس کاترکہ قرارپائے بعد ادائے دین واخراج وصیت دس ہزاراسی روپے کی مالیت کا رہے تو وصیت بنام مسجد وغیرہ نافذ کی جائے گی اوراس کے مقدار کابیان پانچوں وارثوں کے متعلق ہوگا جوان کاجی چاہے دے دیں جب اتنی مالیت قابل تقسیم ورثہ رہے توہربھائی کو گیارہ سوبیس کاپہنچے گا جواسے غنی کردے گا اورایسی حالت میں وصیت افضل ہے اوراگراتنی مالیت نہ بچے تو وصیت بنام مسجد وغیرہ منسوخ ہوگئی کہ اس صورت میں افضل ترك وصیت ہے اورتجہیز وتکفین سے مصارف غسل وکفن ودفن بقدرسنت مراد ہیں فاتحہ درود کے خرچ اس میں شامل نہیں
فی الدرالمختار اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ و وقفہ و ضمانہ کل ذلك حکمہ کحکم وصیۃ اھ درمختارمیں ہے مریض کاآزادکرنابیع میں سہولت برتناہبہ کرناوقف کرنا اوراس کاضامن ہونا ان میں سے ہرایك کاحکم وصیت کے حکم کی طرح ہےاھ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۷€
#3405 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
فی ردالمحتار قولہ ھبتہ اما اذا مات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کما صرح بہ قاضیخاں وغیرہ عن المکی اھ۔وفی الدرلالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ وھم کبار عقلاء فلم تجز اجازۃ صغیرومجنون ولواجاز البعض وردالبعض جاز علی المجیز بقدرحصتہ اھ و فیہ وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی وفی ردالمحتار ولوبمثل القیمۃ وان مات منہ و لم تجز الورثۃ بطل فتح اھوفی الدر ولاتعتبر اجازتھم حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ اھ ردالمحتارمیں ہے کہ ماتن کاقول"اس کاہبہ کرنا"اس کامطلب یہ ہے کہ موت سے پہلے اس پرقبضہ ہوجائےلیکن اگروہ مر گیا اورقبضہ نہ کیا تووصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ مریض کا ہبہ درحقیقت ہبہ ہے اگرچہ حکما وصیت ہے جیساکہ قاضیخان وغیرہ نے مکی کے حوالے سے اس کی تصریح کی الخ۔درمختارمیں ہے کسی وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے دوسرے وارثوں کی اجازت کے اس حال میں کہ وہ بالغ اورعاقل ہوںلہذا نابالغ اورمجنون کی اجازت جائز نہیں۔اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے رد کردیا اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے برابر جائزہے اھ اسی میں ہے کہ مریض کی بیع کسی وارث کے لئے باقی وارثوں کی اجازت پر موقوف ہوگیردالمحتارمیں ہے اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہواگروہ مرگیا اوروارثوں نے اجازت نہیں دی تو وہ بیع باطل ہوگئیفتح اھ۔درمختارمیں ہے کہ اس کی زندگی میں وارثوں کی اجازت بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعد اھ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۳۵€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی ۲/ ۳۱۹€
الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی ۲/ ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی ∞۴/ ۱۳۹€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷€
#3406 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
وفیہ اذا اوصی بالزیادۃ علی الثلث اولقاتلہ اولوراثہ فاجازتھا الورثۃ حیث لایکون لھم المنع بعد الاجازۃ بل یجبرواعلی التسلیم لما تقرر ان المجاز لہ یتملکہ من قبل الموصی عندنا وعند الشافعی من قبل المجیز اھ وفیہ وبجزء او سھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم اھ فی رد المحتار مثلہ الحظ والشقص و النصیب والبعض جوھرۃ اھ و فی الدر ندبت باقل منہ ولو عندغنی ورثتہ او استغنائھم بحصتھم کما ندب ترکھا بلاغنی او استغناء لانہ ح صلۃ وصدقۃ اھ فی رد المحتار صیرورتھم اغنیاء بان یرث کل منھم اسی میں ہے کہ جب ایك تہائی سے زائد کی وصیت کی یا اپنے قاتل کے لئے وصیت کی یااپنے کسی وارث کے لئے وصیت کی اوردوسرے وارثوں نے اس کی اجازت دے دیتو اب ان وارثوں کو اجازت دینے کے بعد روکنے کااختیارنہیںبلکہ اس کو سونپنے پروہ مجبور کئے جائیں گے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی کہ جس کے لئے اجازت دی گئی ہمارے نزدیك وہ وصیت کرنے والے کی طرف سے مالك بنتاہے اورامام شافعی کے نزدیك اجازت دینے والے کی طرف سے اھاوراسی میں ہے کہ اپنے مال کی ایك جزء یاایك حصہ کی وصیت کی تو اس کا بیان وارثوں کے سپردہوگا ان کو کہاجائے گا کہ جو حصہ چاہو اس کو دے دواھ۔ردالمحتارمیں ہے اسی کی مثل حکم ہوگا اگر مرنے والے نے اپنے مال میں کسی حظشقصنصیب یا بعض کی وصیت کیجوھرہ الخ۔درمختارمیں ہے ایك تہائی مال سے کمتر میں وصیت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ وصیت وارثوں کی مالداری کے ساتھ ہو یا میراث کے حصوں کی وجہ سے ان کو استغناء حاصل ہورہاہو جیساکہ وارثوں کے مالدارنہ ہونے اورمیراث کے حصوں کے سبب
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۔۳۲€۶
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۴€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۹€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۸€
#3407 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اربعۃ الاف درھم علی ماروی عن الامام اویرث عشرۃ الآف درھم علی ماروی عن الفضلی القھستانی عن الظھیریۃ واقتصر الاتقانی علی الاول اھ وفی الدر و للموصی الرجوع عنھا بقول صریح او فعل الخ وفی الطحطاوی علی الدرالتجھیز لایدخل السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ الخ۔ مستغنی نہ ہونے کی صورت میں وصیت کو ترك کرنا مستحب ہے کیونکہ اس صورت میں ترك وصیت صلہ رحمی اورصدقہ ہےاھ۔ردالمحتارمیں ہے ان کے غنی ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ ہرایك ان میں سے چارہزار درہم کا وارث بنے جیسا کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے منقول ہےیادس ہزار درہم کا وارث بنے جیساکہ امام فضلی قہستانی سے بحوالہ ظہیریہ منقول ہےاتقانی نے قول اول پراقتصارکیااھ۔ در مختارمیں ہے کہ موصی کو وصیت سے رجوع کااختیارہے چاہے صریح قول کے ساتھ رجوع کرے یافعل کے ساتھ الخ۔ درمختارکے حاشیہ طحطاوی میں ہے کہ دعاودرودختم قل وچہلملوگوں کا اجتماع اورکھانے کااہتمام وغیرہ تجہیزمیں داخل نہیں کیونکہ یہ امورلازمہ میں سے نہیں الخ۔(ت)
ان سب مسائل مذکورہ کے بعد جو متروکہ ہندہ ٹھہرے بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین واجزائے وصیت برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین اٹھارہ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم مادراورنودختر اوردودوہربرادر کوملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مری اس نے اپنی حیات میں وصیت کی کہ میراجوکچھ ہے وہ سب راہ خدا یعنی تعمیرمسجد وغیرہ میں خرچ کیاجائے۔اب ازروئے شرع کے جو حکم ہو وہ کیاجائے اوراس کے وارثوں میں ایك زوج اوردودختر اورماں باپ اورایك برادر اورایك ہمشیرہ اس نے چھوڑی اورزیور ساختہ زوج کا وہ زوج کے پاس ہے کس کا حق قرارپائے گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ ان وارثوں میں دونوں لڑکیاں نابالغہ ہیں اورزیور کہ زوج نے بنایا صرف پہننے کو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۱۸€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۶۷€
#3408 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
دیاتھا عورت کو ہبہ نہ کیاتھاوہاں تملیك کاعرف ہےبلکہ یونہی پہننے کوبنادیتے ہیں۔پس صورت مستفسرہ میں اگرسب بیان واقعی ہیں توزیورساختہ زوج ملك زوج ہے اس میں ورثہ زوجہ کاکچھ حق نہیں اورمتروکہ عورت سے اگراس پرکوئی دین ہو اداکیاجائے اس کے بعد جوباقی بچے اس کا ایك ثلث تعمیرمسجد وغیرہ میں حسب وصیت صرف کردیں اگرچہ ورثہ راضی نہ ہوں دو ثلث کہ باقی رہے اس کی تقسیم برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین پندرہ سہام میں سے زوج کے تین ماں باپ کے دودوہردختر کے چارچار اوربرادر وخواھر کاکچھ نہیں پھرایك ثلث میں وصیت نافذ کرنے کے بعد دوثلث باقی ماندہ سے دونوں بیٹیوں کاحصہ توضرورہے دیاجائے گا کہ بوجہ نابالغی ان کے حق میں وصیت کسی طرح عمل نہیں کرسکتی باقی تینوں وارثوں میں جوشخص وصیت کی اجازت نہ دے اس کاحصہ اسے دیاجائے گا اورجو جائزرکھے اس کاحصہ بھی وصیت کے مطابق صرف کردیاجائے گاواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۸: ۱۰جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی محبوب علی نے اپنی حالت صحت ونفاذ تصرفات میں اپنی جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام بعوض اس کے دین مہرکے منتقل کردی بعدہ محبوب علی کاانتقال ہوااب ہندہ نے ایسی حالت میں کہ اسے مرض فالج ہوچکاتھا جسے ایك سال سے زائد گزرا اوراب کوئی حالت اس کی ترقی روزانہ اوراس سے غلبہ خوف ہلاك کی نہ تھی بلکہ مزمن ہوچکاتھا وہ جائداد اپنے شوہر کے بھانجے کو اس کے حسن خدمت کے صلہ میں ہبہ کی اورشرعی اورنیز قانونی تکمیل کردیہندہ ہنوززندہ ہےاب زید کہ محبوب علی کے چچاکی اولاد میں اور اس کاعصبہ ہے اس ہبہ پر فرض ہوتا اور جائداد میں اپنا حصہ بتاتاہے اس صورت میں اس کایہ دعوی مسموع اورہبہ مذکورہ باطل ومرفوع ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہبہ مذکورہ تام وکامل اوردعوی زیدنامسموع وباطلمحبوب علی نے جو جائداد اپنی صحت میں اپنی زوجہ کو بعوض دین مہردے دی محبوب علی وورثہ محبوب علی کو اس سے کچھ تعلق نہ رہاہندہ اس کی مالك مستقل ہوگئی مالك کو اختیار ہے کہ اپنی صحت میں اپنا مال جسے چاہے دے دے کسی کو اس پراعتراض نہیں پہنچتازیداگرچہ بذریعہ وراثت محبوب علی مدعی ہے تووراثت محبوب علی کومال ہندہ سے کیاعلاقہاوراگر وہ ہندہ کابھی وارث شرعی اوراس بناپر مدعی ہے تاہم حیات مورث میں دعوی وراثت کیامعنیہاں اگرکوئی شخص مرض موت میں اپنا مال کسی کو ہبہ کرے تو
#3409 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
وہ ہبہ بمنزلہ وصیت ہوتاہے جس کااثر یہ کہ بعد موت واہب اس کے ورثہ کوثلث کو کل متروکہ واہب کے لحاظ سے اگرہبہ میں کچھ زیادت ہوئی ہو تو صرف اس مقدار زائد میں اختیار اعتراض ہے زندگی واہب میں یہ اعتراض بھی نہیں پہنچتا کہ ابھی اس مرض کا مرض ہونا ہی معلوم نہیںکیامعلوم کہ شفاہوجائے تومرض موت نہ رہے کہ مرض موت تو وہ مرض مہلك ہے جس میں موت واقع ہوجائے معہذا حیات مورث میں اس کے ثلث مال کی تعیین بھی ناممکن جس سے خیال کرسکیں کہ یہ ہبہ اس حد کے اندریا اس سے زائدہےکیامعلوم کہ جو مال اب ہے اس سے زائد اسے کسی وجہ سے اورحاصل ہوجائے کہ جسے اس وقت ثلث سے زائد تصورکرتے ہیں ثلث سے کم رہ جائےپھرہندہ کامرض مذکور کومرض موت کی اصل جنس ہی سے خارج کہ جو مرض مزمن ہوجائے وہ مرض موت نہیں رہتا اگرچہ اس میں موت واقع ہو۔بالجملہ دعوی زیداصلا کسی طرح کوئی وجہ صحت نہیں رکھتا۔درمختار کتاب الاقرارمیں ہے:
تصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعد الموت ۔ مریض کے تصرفات نافذ ہوتے ہیں البتہ موت کے بعدوہ ختم ہوجاتے ہیں(ت)
ہدایہ میں ہے:
لامعتبر باجازتھم فی حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عندالموت ۔ موصی کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبرنہیں کیونکہ یہ ثبوت حق سے قبل ہوئی اس لئے کہ وارثوں کاحق تو موت کے وقت ثابت ہوتاہے(ت)
عالمگیری میں ہے:
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ ۔ وارث ہونے یانہ ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوتاہے نہ کہ وصیت کے وقت(ت)
درمختارمیں ہے:
ھبۃ مقعد وفالج ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف مقعدمفلوج اورسل کے مریض کا ہبہ کاکل مال میں نافذ ہوتاہے جبکہ بیماری سال تك لمبی ہوگئی اور
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الاقرار باب القرار المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۷€
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۹۰€
#3410 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
موتہ منہ لانھا امراض مزمنۃ اھ ملخصا موت کا خوف اس بیماری سے نہ رہا ہو کیونکہ یہ لمبی بیماریاں ہیں اھ تلخیص(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف کفایۃ ۔ خوف سے مراد خوف کاغالب ہونا ہے نہ کہ نفس خوفکفایۃ (ت)
اسی میں ہے:
المانع من التصرف مرض الموت وھو مایکون سببا للموت غالبا وانما یکون کذلك اذاکان بحیث یزداد حالا فحالا الی ان یکون اخرہ الموت ۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ تصرف سے مانع مرض الموت ہے اور وہ غالبا موت کاسبب ہوتی ہے۔اور بیشك ایسااس لئے ہوتاہے کہ بیماری دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تك کہ اس کی انتہاء موت پرہوتی ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۹: ۲۲/رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ مرسلہ جمیل احمد صاحب پیلی بھیت محلہ پکریا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد سے بقیدحیات اپنے عمرو کے واسطے اوربعد انتقال عمرو کی زوجہ کے واسطے مبلغ دوروپیہ مشاہرہ مقررکیاتھا بقضائے الہی زیداورعمرو نے انتقال کیا اورزوجہ عمرومتوفی موجود ہے اس حالت میں زوجہ مذکورہ اس مشاہرہ مقررہ کی جوزید نے یعنی بقیدحیات مقررکیاتھا شرعا ورثاء زیدسے مستحق پانے کی ہے یانہیں
الجواب:
سائل مظہرکہ بعد انتقال سے مراد بعد انتقال عمروہے تویہ وصیت نہ ہوئی فان الوصیت انما تکون مضافۃ الی مابعد الموت(کیونکہ وصیت تو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ت)بلکہ صرف اپنی زندگی تك ایك تبرع کاوعدہ تھا ولا جبر علی تبرع ولاعلی وفاء وعد(تبرع اور وعدہ پوراکرنے پرجبرنہیں ہوتا۔ت)اورسائل مظہر کہ زیدنے اپنی حیات تك وعدہ وفابھی کیا انتقال عمرو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۲۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲€۳
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
#3411 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
سے پیشترہواغرض صورت مذکورہ میں خواہ وفائے وعدہ ہوایانہ ہوا زوجہ عمرو اس مشاہرہ کامطالبہ نہ ورثائے زید سے کرسکتی ہے نہ ترکہ زیدسے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۰: مسئولہ نواب محمدمیاں خاں صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك موضع کی نسبت وصیت کی کہ میرے باپ کے اورمیرے وقت سے جو جو جس جس کامقرر ہے وہ اس کی توفیر سے ادا ہوتارہےخالد نے موضع مذکور کاٹھیکہ لیا اورتین برس تك حقوق مستحقین کو نگاہ رکھا اب اس نے بالکل بند کرلیا شرعا خالد کازندہ زید کو ایسااختیار حاصل ہے یانہیں اوروصیت مذکورۃ الصدرشرعا درست ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وصیت جبکہ ثلث کل متروکہ موصی بعدادائے دین سے زائد نہ ہوتو واجب النفاذ ہے وارث بھی اسے بند نہیں کرسکتے نہ کہ کارندہ یاٹھیکیدار توکل موضع مذکور اگرثلث متروکہ زید سے زائد نہیں تو یہ وصیت بتمامہا ہمیشہ نافذ رہے گی۔
فی التنویر تجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجز الوارث ذلک اھ۔واﷲ تعالی اعلم تنویر میں ہے اجنبی کے لئے ایك تہائی میں وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کی اجازت نہ دے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۱: ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۸صفر۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچھ روپے اوربعض چیزیں اپنی بہن کو دے کر یہ کہاکہ اسے اپنے پاس رکھو یا تووقتا فوقتا ہم لے لیاکریں گے یااگرہمارا انتقال ہوگیا تو تم اس کوہمارے نام پرصدقہ کردینا ہم کو تم سے امیدہے کہ تم ہمارے بعد صدقہ کردوگی بخلاف باپ کے کہ ان سے امیدنہیں اس کے بعد وہ شخص کچھ دن پیچھے مرگیا اب وارث اس کی بی بی اوراس کاباپ ہے توآیا بہن حسب وصیت بھائی کے ان روپوں اورچیزوں کوبلااطلاع ورثہ صدقہ کردے یاورثہ کے حوالے کر دے خواہ وہ صدقہ کریں یا نہ کریں مگرامیدصدقہ کی نہیں پائی جاتی۔بینواتوجروا۔
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷€
#3412 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الجواب:
اگر وہ مال کل متروکہ شخص مذکور بعد ادائے مہرودیگر دیون کے ثلث سے زائدنہیں تووصیت بلااجازت ورثہ نافذہ ہے بہن کہ وصیہ ہے بلااطلاع ورثہ صدقہ کرسکتی ہے اوراگرزائد ہے تو صرف قدرثلث تصدق کرسکتی ہے زیادہ میں حاجت اجازت ورثہ ہے اگراجازت نہ دیں قدر زائدانہیں واپس دے اوراگرمہریا اورکوئی دین تمام ترکہ کومحیط ہے تووصیت اصلا نافذنہیں سب مال دین میں دیاجائے گا مثلا مورث نے تین سوروپے کامال وصیہ کے پاس رکھوایا اورسات سوروپے کااورمتروکہ ہے اور اس پرمہروغیرہ کوئی دین نہیں توظاہرہے کہ تین سوروپیہ ہزارروپے کے ثلث سے کم ہیں یا اس صورت میں مثلا سوروپے کامہروغیرہ دین ہے توہزارمیں سے دین کے سو نکل کر نوسورہے یہ تین سوروپے ان کے ثلث سے زائدنہیں ان دونوں صورتوں میں پورا تین سو کامال بہن تصدق کردے اور اگرمہروغیرہ دیون کی مقدارچارسوروپے ہے توبعدادائے دیون چھ سوبچیں گے تین سومیں اس کے ثلث سے سوروپے زائد ہیں لہذا دوسوتصدق کرے اورسوکاتصدق اجازت ورثہ پرموقوف ہے اوراگرہزار روپے یا اس سے زائدمقدار مہرودیون ہے توکچھ تصدق نہ کرے سب ان کی ادامیں صرف کیاجائے۔
والاحکام کلھا واضحۃ جلیلۃ معلومۃ متداولۃ فی عامۃ الکتب الفقھیۃ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اوراحکام تمام کے تمام واضحروشنمعلوم اورفقہ کی عام کتابوں میں موجودہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲: ۲۲/صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے پاس(ماصہ) روپے بکرکے جمع ہیں اوربکر مرگیا اور اس کی وارث ایك بی بی ہے کہ اس نے اب دوسرانکاح کرلیاہے اورایك بھائی حقیقی اوردوبھائی چچازادہیں توہرایك کو اس میں سے کس قدرحصہ ملنا چاہئے اورسوائے اس کے ارادہ بکرکاحج کا تھا اورحج اس پرفرض بھی تھا لیکن مرتے وقت کوئی وصیت اس روپے کی بابت نہیں کی تھی سو اس صورت میں زید اگرچاہے تو اس کی طرف سے حج بھی کراسکتاہے یانہیں فقط مکرریہ کہ مرتے وقت بکرکے حواس بھی درست نہیں تھے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کو اس روپے میں کسی تصرف کا اختیارنہیں کہ وہ امانت دارتھا اب اس امانت کے مالك وارثان بکرہوئے زیدپرواجب ہے کہ سب روپے انہیں واپس دے۔
#3413 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
قال اﷲ تعالی " ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اہلہا " ۔ (اﷲ تعالی فرماتاہے)بیشك اﷲعزوجل حکم دیتاہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچادو۔
روپے اور جوکچھ ترکہ بکر ہوبرتقدیر عدم موانعات ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دین ومہرووصیت چارسہم پرمنقسم ہوکرایك سہم اس کی زوجہ اورتین حقیقی بھائی کوپہنچیں گے چچازادبھائیوں کا کچھ حق نہیںنکاح ثانی کرلینا عورت کے مہر یا میراث کوساقط نہیں کرتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۳ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے وقت فوت گواہوں کے روبروکہاکہ میراکچھ قرض میری بہنوں پرآتاہے وہ میں نے بعوض ان کے حصے کے اپنے ترکہ میں معاف کیا اب وارث میری صرف دودختر ہیںبعدہ چاروں وارث اپنے چھوڑکر فوت ہوااس صورت میں ترکہ اس کا کس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
تخارج وغیرہ کوئی عقد نسبت ترکہ کہ حیات مورث میں ہو صحیح نہیں تو یہ قول زید کا کأن لم یکن(نہ ہونے کے برابرہے۔ ت) اب اگرخواہریں اس کی اس بات پرراضی ہوجائیں کہ بدلہ عــــــہ قرضہ کے ترکہ سے دست بردارہوں تو سب ترکہ زید بالمناصفہ اس کے دختروں کوپہنچے گا اورخواہروں کوکچھ نہ ملے گا اوراگرنہ راضی ہوں توکل ترکہ مع اس قرضہ کے جوخواہروں پرہے برتقد صدق مستفتی وعدم موانع ارث و تقدیم امورکا داء الدین واجراء الوصیہ وانحصار ورثہ فی المذکورین چھ سہام پرمنقسم ہو کر دو دوسہم دختروں اورایك ایك خواہروں کو ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگریتامی کے اولیاء واوصیاء ان کے مال سے قدرے شیرینی وغیرہ کوئی چیزہدیۃ کسی کوبھیجیں تو اسے لینا جائزیاناجائز اوراگربغرض تالیف قلوب ومحابت یابجہت قرابت رحمی اس شرط پر لے کہ اتنا ہی یا اس سے زیادہ معاوضہ کروں گا توکیاحکم ہے بینواتوجروا۔
عــــــہ:لعل الصواب قرضہ کے بدلہ ۱۲ ازہری غفرلہ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴/ ۵۸€
#3414 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الجواب:
وہ ولی جسے مال یتیم میں تصرف جائزہو تین ہیںباپ کاوصیدادا اوردادا کاوصی۔ان کے سوا اوراقارب اگرچہ مادروبرادر وعم و خواہرہوں انہیں راسا تصرف فی المال کااختیارنہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ احداربعۃ الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ اھ ملخصا۔ درمختارمیں ہے اس کا ولی چارمیں سے کوئی ایك ہوگا باپ پھر اس کاوصی۔دادا پھراس کا وصی اھ تلخیص۔(ت)
اب رہے اولیائے ثلثہ انہیں بھی یہ مجال نہیں کہ مال یتیم کسی کوبخش دیں یاہدیۃ دیں یاکسی طرح کا تبرع اس سے عمل میں لائیںنہ مہدی الیہ یاموہوب لہ کو اس کالیناجائزاگرچہ ہزار قرابت رحمی رکھتایا تالیف ومحابت کاقصدکرتاہو۔
قال تبارك وتعالی" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " (اﷲ تبارك وتعالی نے فرمایا)جولوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں یونہی ہے کہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور جلدپیٹھیں گے دہکتی آگ میں(ت)
اورشرط عوض بھی کچھ نافع نہیں کہ ہبہ بشرط العوض اگرچہ انجام میں بیع ہوجاتی ہے مگرابتداء ہبہ ہے اور وہ یہاں محض ناجائزیہاں تك کہ ہمارے امام کے نزدیك باپ کو بھی اختیارنہیں کہ اپنے نابالغ بچہ کامال بشرط عوض کسی کو دے۔
فی الدرالمختار من الھبۃ عن الخانیۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولوبعوض لانھا تبرع وفیہ ایضا لایخفی ان ماھو تبرع ابتداء ضارفلا یصح باذن ولی الصغیرکقرض اھ۔ درمختار کے باب الہبہ میں خانیہ سے منقو ل ہے کہ باپ کو یہ جائزنہیں کہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے کچھ ہبہ کرے اگرچہ اس پرکچھ بھی لے کیونکہ یہ تبرع ہے۔اسی میں یہ بھی ہے پوشیدہ نہ رہے کہ جو ابتداء کے اعتبارسے تبرع ہو وہ مضرہے چنانچہ ولی صغیر کی اجازت سے صحیح نہیں ہوسکتا جیسے قرض اھ(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶€۰
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۰€
الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶€۰
الدرالمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
#3415 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
البتہ اگروصی یتیم مال یتیم کوان لفظوں سے ہدیہ کردے کہ میں نے یہ چیزتجھے بعوض اتنے مال کے ہدیہ دی اوراس مال کی تعین وتبیین کردے اورمہدی لہ قبول کرے اور وہ یعنی جسے ہدیہ دیاگیا نہ میت کاوارث ہو نہ اس وصی کا ایساقریب کہ اس کی گواہی اس کے لئے جائزنہ ہو یعنی اصول وفروع ماں باپ دادا دادی نانا نانی بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسانواسیتو یہ صورت جائزہے بشرطیکہ اس میں غبن فاحش نہ ہوکہ ہبہ بالعوض ابتداء وانتہاء ہرطرح بیع ہے اوربیع وصی بشرائط مذکورہ روا۔
فی الدر المختار الھبۃ بشرط العوض المعین فھی ھبۃ ابتداء وبیع انتھاء وھذا اذاقال وھبتك علی ان تعوضنی کذا اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتھاء وقید العوض بکونہ معینا لانہ لوکان مجھول بطل اشتراطہ فیکون ھبۃ ابتداء وانتہاء اھ ملخصا وفی تنویرالابصار صح بیعہ وشرائہ من اجنبی بما یتغابن الناس اھ فی ردالمحتار قولہ من اجنبی ای عن المیت وعن الموصی فلو باع ممن لا تقبل شھادتہ اومن وارث المیت لایجوز ۔ درمختارمیں ہے جوہبہ عوض معین کی شرط کے ساتھ مشروط ہو وہ ابتداء کے اعتبارسے ہبہ اور انتہاء کے اعتبارسے بیع ہےیہ اس صورت میں ہے جب واہب یوں کہے میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ فلاں چیز مجھے عوض میں دے لیکن اگر یوں کہے کہ میں نے تجھے فلاں چیز کے مقابلے میں ہبہ کیاکہ یہ ابتداء و انتہاء دونوں کے اعتبارسے بیع ہے اورعوض کے ساتھ معین ہونے کی قید اس لئے لگائی کہ اگروہ مجہول ہو توشرط لگانا باطل ہوگیا چنانچہ یہ ابتداء وانتہاء دونوں کے اعتبارسے ہبہ ہوگااھ تلخیص۔تنویرالابصارمیں ہے اس کی بیع وشراء اجنبی کے ہاتھ اتنے غبن کے ساتھ صحیح ہے جتنالوگوں میں چلتاہےاھ رد المحتارمیں ماتن کے قول "من اجنبی"کے تحت مذکورہے یعنی وہ میت اوروصی سے اجنبی ہو۔اگرایسے کے ہاتھ بیچا جس کی شہادت وصی کے حق میں مقبول نہیں یامیت کے وارث کے ہاتھ بیچاتوجائزنہیں(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶€۴
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۷€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۳€
#3416 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مسئلہ ۱۲۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ محمدیوسف کی حیات میں اس کی زوجہ نے انتقال کیا ایك پسر اورایك دختر وارث چھوڑےمہراس کا ذمہ محمدیوسف کے رہامحمدیوسف نے نکاح ثانی کیاطرفداران زوجہ ثانیہ نے محمدیوسف کے مرض موت میں سب مال واسباب اس کابنام زوجہ ثانیہ محمدیوسف کے لکھواکر رجسٹری کرادی وہ عورت اب اس پرقابض ہے اس صورت میں شرعا وہ تحریر محمدیوسف کی بنام زوجہ ثانیہ جائزہے یانہیں اور مہرزوجہ اولی کا ترکہ محمدیوسف سے جس پر زوجہ ثانیہ قابض ہے ادا کیاجائے گا یانہیں اوراس کے پسر ودخترکوبھی اس میں سے کچھ ملے گایانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ عقد کہ محمدیوسف سے اس کے مرض موت میں صادرہواا گرہبہ نہیں توبدون اجازت اوروارثوں کے صحیح نہیں کہ ہبہ مرض موت کا مثل وصیت کے ہے اوروصیت وارث کے لئے وقت وجوددیگرورثہ کے بلااجازت اوروں کے نافذنہیں
فی فتاوی قاضیخان لان ھبۃ المریض وصیۃ والوصیۃ للوارث باطل ۔ فتاوی قاضی خان میں ہے مریض کاہبہ کرنا وصیت ہے اور وارث کے لئے وصیت باطل ہے۔(ت)
اوراگربیع ہے تویاکم قیمت کو ہے پس وراثت سے بغیراجازت اورورثہ کے اتفاقا یاقیمت مساوی کو ہے تومذہب امام اعظم میں خلافا للصاحبین جائزنہیں بہرتقدیر جب یہ عقد ناجائزٹھہرا تو اول مہر زوجہ اولی اوراسی طرح ثانیہ کااگرثابت ہوتوترکہ سے علی السویہ اگربرابرہوں ورنہ رسدی اداکیاجائے گا مابقی برتقدیر عدم موانع ارث وانحصارورثہ فی المذکورین وتقدیم باقی امورمقدمہ علی المیراث کاجراء الوصیۃ واداء الدین چوبیس۲۴ سہام پرمنقسم ہوکر تین سہام زوجہ ثانیہ کوا ور چودہ پسر اورسات دخترکو پہنچیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۶:(سوال دستیاب نہ ہوا)
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگرمحب اﷲ کا اپنی بھانجی کے لئے یہ الفاظ کہنا اوروصیت کرناثابت ہوتو درصورت عدم اجازت ورثہ بر تقدیر صدق استفتاء وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین بعد
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاقرار فصل فی اقرارالمریض ∞نولکشورلکھنؤ ۳/ ۶۲۴€
#3417 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ادائے قرض ومہر زوجہ اگر ذمہ محب اﷲ ہوں جومال باقی بچے گا اس کاتہائی جگاکوملے گا اوردوتہائی باقی چارسہام پرمنقسم ہوکر ایك سہم عجوبہ اورتین چھدا کوپہنچیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد سے ایك حقیت کی بنام اپنی نواسی سلمی بنت لیلی اور حقیت اورپانچ روپیہ ماہوار ملاکرنے کیاپنے پانچ بھتیجوں کے نام وصیت کیاورایك بیٹی لیلی اورپھرپانچ بھتیجے حقیقی اور ایك بھتیجی علاتی اوربھاوج اوربھتیجیاں اورایك بھائی کہ پہلے سے مفقودالخبرہے وارث چھوڑکرانتقال کیااس صورت میں ترکہ اس کا شرعا کس طرح منقسم ہوگا اوربرادر مفقودکے لئے اگرکچھ حصہ امانت رکھاجائے گا تو وہ حصہ اس کی بی بی بیٹی کے قبضہ میں دے دیں گے یا کیابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اول ہندہ پرجودین ہواداکیاجائے بعدہ جوباقی بچے اس کے تین حصے مساوی کئے جائیں کہ ایك حصہ میں دونوں جائداد موصی بہا جن کی وصیت بنام سلمی دخترلیلی وبنام برادرزادگان ہوئی ہے داخل ہوں اوراس حصہ کانام مثلا"ثلث وصیت"رکھیں دوثلث باقیماندہ سے بالفعل ایك ثلث لیلی کو دے دیاجائے اس کانام"ثلث وراثت"فرض کیجئے تیسراحصہ کہ باقی رہا اسے"ثلث موقوف"سے نامزد ٹھہرائیےاب ثلث وصیت ہے کہ حسب اظہارزبانی سائل ان وصایا کے لئے کافی بلکہ زائد ہے جس قدر جائداد کی وصیت بنام سلمی بنت لیلی کی ہے بالفعل اس کانصف سلمی کودیاجائے باقی کل جائداد تاظہور حیات مفقود کسی ایسے امین دیانتدار کے ہاتھ میں امانت رہے جس طرح کسی طرح اس میں تصرف بے جا اور ایك پیسہ ناحق لینے کاگمان نہ ہو۔
قال العلامۃ البدر العینی رحمۃ اﷲ علیہ فی البنایۃ و یوضع علی یدعدل الی ان یظھر المستحق ۔ علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا بنایہ میں ہے کہ مستحق کے ظاہرہونے تك اس کو کسی عادل کے قبضہ میں رکھ دیاجائے گا۔(ت)
اب اس امین کے ہاتھ میں ثلث موقوف توتمام وکمال ہے اورثلث وصیت سے نصف وصیت سلمی نکال کرباقیماندہ اس کی امانت میں ہے اس باقیماندہ کی جائداد تین نوع پرہے:
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب المفقود المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ∞ ۲/ ۹۵۱€
#3418 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
۱ ایك تووصیت سلمی کانصف ثانیاسے حصہ نمبراول کہئے۔
۲دوسری جائداد وصیت شدہ بنام برادرزادگاناسے حصہ نمبردوم ٹھہرائیے۔
۳تیسرے پارہ حال تعیین وصیت ہےاسے حصہ نمبرسوم قراردیجئے۔
توامانت امین میں چارقسم کی جائداد ہوئیتینوں حصے یہ اورایك ثلث موقوف بالاشتراکاب یہ امین فصل بفصل ان چاروں قسم کی جائداد کاحساب دخل وخرج جداجدا تفصیل وارلکھتارہے اورہرحصہ کا خرچ ومالگزاری اسی کی آمدنی سے نکالے جوپس انداز ہو اسے تفریق سے جمع کرتارہے یہاں تك کہ مفقود کا حال ظاہر ہویاشرع اس کے حق میں کچھ حکم فرمائے اورظہور حال مفقود کی نسبت دو۲صورتیں ہیں:
۱ ایك یہ کہ اس کی زندگی بعد موت ہندہ کے ثابت ہو اگرچہ اس کے بعد ایك آن جی کرانتقال کرگیایااب تك زندہ ہو۔
۲دوسرا یہ کہ ہندہ سے ایك آن پہلے سے اس کی وفات تحقیق ہو اس قدرزمانہ تك اس کاکچھ حال مرنے جینے کانہ کھلے کہ اس کے شہروطن میں اس کے ہمعمروں سے کوئی زندہ نہ رہے اس وقت ایك شخص کو پنچ قراردے کر مقدمہ اس کے حضور پیش کریں اور وہ بوجہ مرور مدت مذکور اس کی موت کاحکم کردے(پچھلی صورت میں)توکچھ وقت نہیں ثلث وصیت کا حصہ نمبراول اورآج تك جو اس حصہ کے واصلات ہوں سب سلمی کودے کر اس کی وصیت پوری کردی جائےاوربھتیجے اس صورت میں بحکم وصیت کچھ نہ پائیں گے کہ جب مفقود کاانتقال ہندہ سے پہلے ٹھہرا تویہ وارث ہوئے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ باطلپس بعدادائے دین واخراج وصیت سلمی جس قدرمتروکہ ہندہ باقی رہے مع ثلث وراثت وثلث موقوف وواصلات حصہ ۲وحصہ۳ وواصلات ثلث موقوف سب برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین دس سہم پرمنقسم ہوکرپانچ سہم لیلی اورایك ایك ہربرادرزادہ حقیقی کودیاجائے(اور پہلی صورت پر)یعنی جبکہ بعد ہندہ مفقود کازندہ رہنا ثابت ہو اس تقدیر پرثلث موقوف مع اس کے واصلات کے مفقود یا اس کے ورثہ کو دے دیاجائے اورثلث وراثت تولیلی نے پہلے ہی پالیاتھا باقی رہا ثلث وصیت اس میں سے حصہ نمبردوم مع واصلات اوربھتیجوں کودے دیاجائے اورحصہ۱ و۳ بدستورامین کے ہاتھ میں رہیں اوران کی واصلات جمع شدہ سے روزموت ہندہ سے آج تك حساب پانچ روپیہ ماہواری کالگاکر جوروپیہ حساب سے نکلے بھتیجوں کو دیا جائے اور زرواصلات سے جوباقی بچے دست امین میں رہے اورہمیشہ ان دونوں حصص کی توفیر سے پانچ روپیہ ماہوار بھتیجوں کو دیاکرے اگرکمی پڑے توواصلات باقیماندہ سے پوراکرے اور بچ رہے تواپنے پاس امانت رکھے
#3419 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
یہاں تك کہ پانچوں اپنی اپنی اجل کو پہنچ کر انتقال کرجائیں اوران میں سے جوگزرتاجائے اس کاحصہ ماہوار اس کے وارثوں کونہ ملے بلکہ وہ پورا پانچ روپیہ مشاہرہ باقیماندہ بھتیجوں میں بٹتارہے یہاں تك کہ اگران میں سے ایك بھی باقی رہے تو وہی پانچ روپیہ بالاستیعاب پاتارہے جب ان میں سے کوئی باقی نہ رہے توحصہ۱ جووصیت سلمی میں سے دست امین میں امانت تھا اوراس کے واصلات سے کچھ بچاہو تو وہ بھی سلمی کو دے کہ اس کی وصیت پوری کردی جائے اورحصہ۳ مع اس کی واصلات کے اگرکچھ باقی ہولیلی ومفقود میں نصف نصف منقسم ہوجائے اس وقت امین کاہاتھ خالی اورہرایك اپنے اپنے حق کوپوراپہنچ جائے گا اوربھاوج بھتیجیاں علاتی بھتیجا ہرصورت میں محروم رہیں گے نہ وہ حصہ جومفقود کے لئے امانت رکھاگیاہے اس کو عورت یادختر اپنے قبضہ میں کرسکتی ہے بلکہ جس طرح ہم نے تفصیل کی اسی طرح امین کے ہاتھ میں رہے گایہ ہے حکم شرع کا اورشرع ہی کے لئے حکم ہے۔
والوجہ فی ذلك ان الترکۃ اذا انتظرت مفقود الایعطی منھا احدمن المستحقین ورثۃ کانوا اوموصی لھم الا اقل نصیبہ المتیقن بہ علی کل من حالتی حیاۃ المفقود ومماتہ وامر العصبات اعنی بھم ابناء اخیھا دائربین ان یکون المفقود حیا فیحجبھم و لیستحقوا منہ مااوصی لھم بہ وان یکون میتا فیرثوا فلاتنفذ لھم الوصیۃ من دون اجازۃ الورثۃ الباقین فوصیتھم ووراثتھم کلاھما مشکوك فیھما بالمرۃ فلا یعطوا بالفعل شیئا ولاتسمع دعوی الملك الا بتفسیر اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکہ جب مفقود کامنتظرہو تواس میں سے وارثوں اورجن کے لئے وصیت کی گئی ہے کوکچھ نہیں د یاجائے گا مگروہ جومیت کی دوحالتوں یعنی حالت حیات اورحالت ممات میں سے جس حالت میں کمترملتاہے کیونکہ یہ یقینی ہے۔اورعصبات یعنی بھتیجوں کامعاملہ دوحالتوں کے درمیان دائرہے۔ایك یہ کہ مفقود زندہ ہو اور ان کے لئے حاجب بنے۔اس صورت میں ان کو وہ شیئ ملے گی جس کی ان کے حق میں وصیت کی گئی ہے اوردوسری یہ کہ مفقود مردہ ہو تو اس صورت میں وہ وارث بنیں گے اوردیگر وارثوں کی اجازت کے بغیران کے لئے وصیت نافذ نہ ہوگی چنانچہ ان کی وصیت و میراث دونوں یکبارگی مشکوك ہیں لہذا انہیں بالفعل کچھ نہیں دیاجائے گا۔اوران کادعوی ملك مسموع نہ ہوگا جب تك وہ سبب ملك کی
#3420 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
السبب والتفسیر غیرممکن فتعین التاخیر۔ تفسیرنہ بیان کریں اورتفسیرممکن نہیں لہذا تاخیر متعین ہو گئی۔(ت)
مسئلہ ۱۲۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے انتقال کیا اوردودختر اورایك ہمشیرہ حقیقی چھوڑیاورنیزبحالت صحت وثبات عقل یہ وصیت کی کہ میری جو دخترکلاں میرے سامنے مرگئی ہے اوراس سے ایك پسر اورایك دخترباقی ہے میری جائداد سے جو حصہ شرعی کہ میری بڑی بیٹی کو پہنچے اس جائداد کے مالك اس مرحومہ کے بچے ہیں اگر اس وصیت میں فرق ہوگا تو بروزحشردامن گیر ہوں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرالفاظ وصیت یہی تھے تو وہ باطل وبے اثرہے کہ وصیت اس حصہ شرعی کی نسبت ہے جوترکہ موصی سے دخترکلاں کوپہنچے اورصورت واقعہ میں دخترکلاں کوشرعا کچھ نہیں پہنچتا تووصیت اصلا کسی شیئ سے متعلق نہ ہوئی اور موصی لہا کاکوئی استحقاق نہ ہوا۔
اوصی بعین اوبنوع من مالہ کثلث غنمہ فھلك قبل موتہ بطلت الوصیۃ ولایتعلق حق الموصی لہ بشیئ کما فی العالمگیریۃ وغیرھا لعدم مایتعلق بہ فکیف اذا لم یوجد اصلا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اپنے مال میں سے کسی عین یانوع کی وصیت کی جیسے بکریوں کے ایك تہائی کے بارے میں وصیت کیپھروہ عین یانوع موصی کی موت سے پہلے ہلاك ہوگئی تووصیت باطل ہو جائے گی اوراس کے ساتھ وصیت کاحق متعلق نہ ہوگا جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے کیونکہ وہ شیئ معدوم ہوگئی جس کے ساتھ وصیت متعلق ہوتی پھر کیسے باطل نہ ہوگی اس صورت میں جبکہ سرے سے وہ شیئ پائی ہی نہیں گئی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۹: سوال دستیاب نہ ہوا۔
الجواب:
وصیت زوجہ کے لئے بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں البتہ اگردین مہرواجب الاداہے تو وہ تقسیم ترکہ سے مقدم ہوگا پس برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر چالیس سہام پر منقسم ہوکر
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰۶€
#3421 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
پانچ سہم وکالت بیگم اورچودہ کریم الدین ونصیرالدین اورسات فضیلت بیگم کوملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنو نے اپنی جائداد اپنی زوجہ اگھانی کے ہاتھ بعوض دین مہرکے بیع کیپھراگھانی ورثہ حسب تفصیل ذیل چھوڑ کرفوت ہوئیاب سنونے اپنی موت کے دوایك روزپیشتر بحالت علالت ایسی کیفیت میں کہ صاحب فراش ہوگیاتھا اورطاقت نشست وبرخاست نہ رہی تھی اپنی بیٹی معصومہ کے ہاتھ بیع کی اور مر گیا اورباقی ورثہ بیع ثانی کی اجازت نہیں دیتےاس صورت میں وہ انتقال سنوکاکہ اس نے اپنی زوجہ کے ہاتھ کیا شرعا صحیح ونافذ ہے یانہیں اوراس انتقال ثانی کاکیاحکم ہے اورترکہ اگھانی کااس کے ورثہ پرکس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
سنونے کہ اپنی جائداد بعوض دین مہراپنی زوجہ کے ہاتھ بیع کی اس کی صحت میں شبہہ نہیںبعد اس انتقال کے اس جائداد کی مالك اگھانی قرارپائے گی اور وہ اسی کاترکہ ٹھہرے گاپھراس کی وفات کے بعد سنونے جواپناحصہ اپنی بیٹی کے ہاتھ مرض موت میں بیع کیا اورباقی وارث اسے روانہیں رکھتے تو وہ بیع باطل محض ہوگئی اور وہ حصہ بھی حسب فرائض کل ورثہ پرمنقسم ہوجائے گا۔
فی الخانیۃ ومن الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم یجز الورثۃ بطل البیع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خانیہ میں ہے اگرمریض نے مرض الموت میں اپنے کسی وارث کے ہاتھ اپنے مال میں سے کوئی عین شیئ فروخت کی توبیع موقوف رہے گی۔اگروہ صحت مند ہوگیا تو بیع جائزہو جائے گی۔اوراگراسی بیماری میں مرگیا اورباقی وارثوں نے اجازت نہ دی تو بیع باطل ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع فصل فی البیع الموقوف ∞نولکشورلکھنؤ ۱ /۳۵۳€
#3422 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مسئلہ ۱۳۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نذرعلی کے تین زوجہ اورتین پسراورتین دخترزوجہ اولی سے ایك پسر ذو الفقارعلیاور زوجہ ثانیہ سے دوپسر اوردودختراور زوجہ ثالثہ سے ایك دختر۔ذوالفقارعلی نے روبرو شیخ نذرعلی کے انتقال کیاایك زوجہ اورایك پسرمحمد باقروارث چھوڑےشیخ نذرعلی نے اپنی حیات میں روبرو دیگرورثہ کے محمدباقر پسرذو الفقارعلی کوکہ عندالشرع محجوب تھا عوض دین مہراپنی زوجہ یعنی والدہ ذوالفقارعلی کے جوترکہ کہ شیخ ذوالفقارعلی کوبواجب شرع بعد شیخ نذرعلی کے ملتا وہ بنام نہاد محمدباقرکردیا اورجملہ ورثاء نے قبول کرلیا حیات شیخ نذرعلی میں زوجہ اولی وثانیہ نے بھی رحلت کی اوربعدانتقال شیخ نذرعلی کے ایك زوجہ کے دوپسرتین دخترایك محمدباقر پسرذوالفقارعلی وارث رہے۔
الجواب:
پسرکے لئے وصیت بشرطیکہ پسرموجودنہ ہو جائزہے کہ یہ تقدیر واندازہ ہے نہ وصیت بمال الغیر اذلاحق لابن مات قبل ابیہ فی ترکۃ ابیہ(اس لئے کہ باپ سے پہلے مرجانے والے بیٹے کاباپ کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ت)ہدایہ میں ہے:
اذا اوصی بنصیب ابنہ فالوصیۃ باطلۃ ولواوصی بمثل نصیب ابنہ جاز لان الاول وصیۃ بمال الغیر لان نصیب الابن مایصیبہ بعدالموت والثانی وصیۃ بمثل نصیب الابن ومثل الشیئ غیرہ وان کان یتقدربہ فیجوز اھ قلت وقیدہ الشراح بمااذاکان الابن موجودا قالوا وان لم یکن اگراپنے بیٹے کے حصے کی وصیت کی تو وصیت باطل ہے۔اور اگربیٹے کے حصے کے مثل کی وصیت کی توجائزہےکیونکہ پہلی صورت میں مال غیر کی وصیت ہے کیونکہ بیٹے کاحصہ وہ ہے جو اس کوباپ کی موت کے بعد حاصل ہوگا اور دوسری صورت میں بیٹے کے حصہ کی مثل وصیت ہے اورشیئ کی مثل شیئ کاغیرہوتی ہے اگرچہ شیئ کے ساتھ اس کااندازہ کیاجاتا ہے چنانچہ یہ جائزہوگی اھ میں کہتاہوں شارحین نے اس کے ساتھ قید لگائی یہ کہ جب بیٹاموجودہو۔انہوں نے کہاکہ
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۹۔۶۵۸€
#3423 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
موجوداصحت الوصیۃ وبھذا التفصیل اتی فی الدرالمختار معزیا للعنایۃ حاشیۃ الھدایۃ والجوھرۃ وشرح التکملۃ۔ اگربیٹا موجودنہ ہوتو وصیت صحیح ہوگی۔اوریہی تفصیل در مختارمیں لائی گئی جس کوہدایہ کے حاشیہ عنایہجوہرہ اورشرح التکملہ کی طرف منسوب کیاگیا۔(ت)
پس بلاشبہہ یہ تصرف صحیح اوربوجہ قبول محمد باقرنافذہوکر سہام موصی لہا بعد محمدباقرکے اس کے ورثہ شرعی کی طرف منتقل ہو گئے امام النساء ان سے اپنے حصہ کی مالك ہوئی اب کہ بوجہ کبرسن وپیرانہ سال اس کے عقل میں قصور اورحواس میں فتور اس درجہ ہوگیاکہ نجاست وطہارت میں تمیزنہیں کرتی اورقلت فہم و اختلاط کلام وفساد تدبیر اسے لازمتو وہ معتوہہ ہے اورکل تصرفات قولیہ سے محجورہ۔
قال الفاضل المحقق محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین الدمشقی الحصکفی فی الدرالمختار فی تفسیر الحجر ھو منع من نفاذ تصرف قولی وسببہ صغر و جنون یعم القوی والضعیف کما فی المعتوہ اھ ملتقطاقال شیخہ العلام خیرالملۃ والدین الرملی فی فتاواہ ان کان قلیل الفھم مختلطا فاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم فھو المعتوہ و مثلہ فی العالمگیریۃ وغیرہ۔ فاضل محقق محمدبن علی بن محمد علاء الدین دمشقی حصکفی نے حجر کی تفسیرکرتے ہوئے درمختارمیں فرمایاکہ وہ تصرف قولی کو نفاذ سے روکنا ہے اوراس کاسبب نابالغ ہونا اورمجنون ہونا ہےعام ازیں کہ جنون قوی ہو یاضعیف جیساکہ معتوہ میں ہوتاہے الخ التقاطان کے شیخ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ اگروہ تھوڑی سمجھ والا گفتگو میں خلط ملط کرنے والا اورفاسد تدبیروالا ہے لیکن وہ کسی کو مارتانہیں اور نہ ہی گالیاں دیتاہے تو وہ معتوہ ہے اوراسی کی مثل عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
پس ایسی حالت میں اگراس نے کسی کے آمادہ کرنے خواہ اپنی خواہش سے وصیت کی توہرگز نافذ نہ قرارپائے گی اورتوریث ترکہ امام النساء حسب بیان مجیب اول ہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیت بثلث المال المکتبۃ الامدایۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴/ ۵۹۹€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲€۳
الدرالمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹€۸
الفتاوی الہندیۃ کتاب الحجر الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۴€
#3424 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مسئلہ ۱۳۲: ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ رامپورہ مرسلہ شیخ عبدالمجیدصاحب سب سروئیر ۱۴محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین نسبت مسائل ذیل کےزید کی منکوحہ اولی متوفی سے ایك پسر بکربالغ اور منکوحہ ثانی موجودہ سے دوپسرعمروسعد نابالغ بعد وفات زیدباقی ہیںزیدپرجوقرض تھا بکرنے اداکیا اور نیزواسطے خرچ شادی وخوردونوش نابالغان کے اپنے نام یابشمول نام مادرقرض لے کر صرف کیا اس قرض سے کچھ اداہوا کچھ باقی ہےاب عمروسعد بھی بالغ ہیں اوردرباب تقسیم جائداد وادائے قرضہ سابق وحال تنازع ہےلہذا علمائے شریعت مطلع فرمائیں کہ مکانات موروثی کس طرح تقسیم ہوں اور قرضہ سابق وحال حسب سہام کل شرکاء پرچاہئے یاقرضہ سابق وحال میں کچھ تفریق ہے اورجومکان بکرنے اپنے روپے سے خریدا اس میں دوسرے برادران کوحصہ پہنچتاہے یانہیں اورمنکوحہ اولی جوزیدکے حیات میں فوت ہوگئی اس نے اپنی وفات کے وقت زیدکو مہرمعاف کردیاتھا اورمنکوحہ ثانیہ نے کہ اب زندہ ہے وقت وفات زید مہر معاف کردیا اورہماری برادری میں مہروں کایہی دستورہے یہ بھی واضح ہو کہ بعد وفات زید کھانا جملہ شرکاء کایکجارہا۔جب نابالغ بالغ ہوئے علیحدہ ہوگیا۔بینوا توجروا۔
الجواب:
قرض مورث کہ بکرپسربالغ نے اداکیا تمام وکمال ترکہ مورث سے مجراپائے گا جبکہ وقت ادا تصریح نہ کردی ہوکہ مجرانہ لوں گا۔
فی فتاوی قاضیخان والعالمگیریۃ وغیرھما بعض الورثۃ اذا قضی دین المیت کان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ انتھی مختصرا۔وفی جامع الفصولین والاشباہ وغیرھما لواستغرقہا دین لا یملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لواداہ من مال نفسہ مطلقا فتاوی قاضی خان اورعالمگیریہ وغیرہ میں ہے کسی وارث نے میت کاقرض اداکیاتو اسے میت کے مال اورترکہ کی طرف رجوع کاحق حاصل ہے انتہی۔جامع الفصولین اوراشباہ وغیرہ میں ہے اگردین ترکہ کومحیط ہے تووارث میراث کے ساتھ اس ترکہ کامالك نہیں بنے گامگریہ کہ قرض خواہ میت کو بری کر دے یامیت کے وارث نے ادائیگی کے وقت بشرط تبرع قرض اداکیاہولیکن اگراس نے مطلقا اپنے مال سے قرض اداکیا ہو
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۵€
#3425 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
بلاشرط تبرع او رجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر الترکۃ مشغولۃ بدینہ فلایملکہا ۔ نہ اس میں تبرع کی شرط ہو اورنہ ترکہ میت کی طرف رجوع کی تومیت پر اس کادین ثابت ہوجائے گا توترکہ قرض اداکرنے والے وارث کے دین کے ساتھ مشغول ہوگا لہذا وہ اس کامالك نہیں بنے گا۔(ت)
جوروپیہ بکر یازوجہ زیدنے قرض لے کرشادی نابالغان میں صرف کیا اس کامطالبہ صرف اس قرض لینے والے پرہے نابالغوں کے ساتھ اس کااحسان سمجھاجائے گا اسی طرح جوکچھ قرض لے کرخوردونوش نابالغان میں اٹھایا وہ بھی ان سے مجرانہ ملے گا جبکہ یہ قرض لینے والا مورث کی جانب سے ان نابالغوں کا وصی نہ تھا یعنی زیداسے کہہ نہ مرا تھا کہ جائداد یانابالغ اولادتیری سپردگی میں دیتاہوں یاان کی غورپرداخت تیرے متعلق ہے یااس کے مثل اورالفاظ جودلیل وصایت ہوں۔
فی ردالمحتار عن الحاوی المختار للفتوی مافی وصایا المحیط بروایۃ ابن سماعۃ عن محمد مات عن ابنین صغیروکبیروالف درھم فانفق علی الصغیر خمسمائۃ نفقۃ مثلہ فھو متطوع اذا لم یکن وصیا الخ وفی لقطۃ الدرالمختار ھو متبرع لقصورولایتہ اھ وثمہ فی ردالمحتار عن البحر لان الامر متردد بین الحسبۃ والرجوع بلایکون دینا بالشک اھ۔ ردالمحتار میں حاوی سے منقول ہے۔فتاوی کے لئے مختار وہ ہے جومحیط کے کتاب الوصایا میں بروایت ابن سماعہ امام محمد سے منقول ہے کہ کوئی شخص دو بیٹے ایك نابالغ اورایك بالغ چھوڑکرفوت ہوا اورہزاردرھم ترکہ میں چھوڑے پھربڑے نے چھوٹے پرمثلی نفقہ کے ساتھ پانچسو درھم خرچ کئے تووہ اپنی طرف سے بطور احسان خرچ کرنے والا ہوگاجبکہ وہ وصی نہ ہو الخ درمختار کے باب لقطہ میں ہے وہ احسان کرنے والاہے بسبب اس کی ولایت کے قاصرہونےکے الخ یہاں ردالمحتار میں بحرسے منقول ہے کہ یہ معاملہ اجروثواب اوررجوع کے درمیان دائرہے۔چنانچہ یہ
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲€
ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۸€
الدرالمختار کتاب اللقطۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۶€
ردالمحتار کتاب اللقطۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۲۲€
#3426 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
بسبب شك کے دین نہیں ہوسکااھ۔(ت)
جومکان بکرنے اپنے روپے سے اپنے نام خریدااس میں سے دوسرے کاکچھ حق نہیںمہرکہ زوجہ اولی نے اپنے مرتے وقت شوہرکوبخشااس کی معافی بکروغیرہ دیگروارثان زوجہ اولی کی اجازت پر موقوف ہے اگر انہوں نے جائزنہ رکھا تومعاف نہ ہوا اوراس کامطالبہ ترکہ زید سے ہوسکتا ہے۔
فی العالمگیریۃ مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ۔ عالمگیریہ میں ہے ایك مریض عورت نے اپنامہر خاوند کوہبہ کردیا پس اگروہ مرض الموت کے ساتھ مریض ہے تووہ ہبہ دیگروارثوں کی اجازت کے بغیرصحیح نہیں ہوسکا۔(ت)
ہاں زوجہ ثانیہ نے کہ وقت وفات زیداپنا مہر معاف کیاوہ معاف ہوگیا پس صورت مستفسرہ میں ترکہ زید سے قرضہ بکر(جوبابت ادائے قرضہ سابقہ اس کے لئے ترکہ پرلازم ہوا)اور زوجہ اولی کے مہر سے بعد اسقاط چہارم کہ خود حصہ زید ہواکل یابعض(جس قدر بوجہ عدم اجازت وارثان زوجہ ذمہ زیدلازم رہا)اوراسی طرح اوردیون جوزیدپر ہوں اداکرکے ثلث باقی سے اس کی وصیتیں اگر کی ہوں)نافذ کرکے جو بچے برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین چوبیس سہام پرتقسیم کریں تیس سہم زوجہ ثانیہ اور سات سات ہرپسرکودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: ازبیجناتھ پاڑہ رائے پور ممالك متوسطہ مرسلہ شیخ اکبرحسین صاحب متولی مسجد و دبیرمجلس انجمن نعمانیہ ۶جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فیض النساء بیگم سوتیلی ماں نے خدیجہ بی بی کانکاح حسام الدین داروغہ جنگل کے ساتھ کیاوالدین خدیجہ مرچکے تھےفیض النساء بیگم بعض اموال اپنے خدیجہ بی بی کے پاس عاریت بتاتی ہےحسام الدین کہتاہے کہ خدیجہ بی بی بہت دنوں بیماررہی اس کی بیماری میں میراذاتی روپیہ بہت ساخرچ ہوا متوفیہ کالڑکامتوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا ماں کی جائداد کالڑکا مالك ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کاوارث ہوا متوفیہ کی سوتیلی ماں کاکوئی حق نہیںلہذا مفتیان شرع متین سے سوال ہے کہ حسب فہرست صرفہ حسام الدین نے وقت بیماری وغیرہ میں جوصرفہ کیا وہ حسام الدین پانے کا حقدارہے یانہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبہ الباب الحادی عشرفی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۳€
#3427 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
الجواب:
اگرخدیجہ بی کے کوئی اوروارث نہ تھانہ اس پراس بیان شوہرکے سواکسی اورکا ایسادین ہے جو اس سے ملاکر مقدارترکہ سے بڑھ جائےنہ اس کے پسر متوفی پرکسی کااتنادین آتاہے کہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوہر وغیرہ اداکرکے باقی سے جوحصہ پسرکوپہنچے اس کی مقدار سے زائدہو جب تویہ شوہر کادعوی محض بے معنی ہے کہ خدیجہ بی کے پاس کا اگرکچھ مال حسب بیان فیض النساء بیگم ملك فیض النساء بیگم ہوناثابت ہوتو اس میں سے خرچ دوائے خدیجہ بی پانے کے کوئی معنی نہیں وہ توفیض النساء بیگم کوواپس دیا جائے گا اور جب خدیجہ کاسوائے پسروشوہر اوراس پسرکے سوائے پدرکوئی وارث نہ رہا توجومال خدیجہ کاٹھہرے اس کاوارث صرف حسام الدین ہےدوسرے کسی دائن کااگرخدیجہ بی پرکچھ آتاہو تو جس حالت میں ترکہ اس کے دین کو گھٹاسکے نہ نہ کرنا بڑھاسکے اسی طرح جبکہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوھر وغیرہ اداکرکے بھی جوبچتاہے اس میں سے حصہ پسر دین پسرکوکافی ہے توشوہر کاترکہ پردین کادعوی نہ اپنے استحقاق کوبڑھاسکے نہ نہ کرنا گھٹاسکےبہرحال دعوی وعدم دعوی ہرصورت میں اس کا استحقاق ایك ہی مقدارپررہتاہے خواہ اس پر دین ثابت کرکے قرض میں لے لے یا بے ثابت کئے میراث میں لےایسافضول دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا ہاں اگرخدیجہ بی کے بعد اس کاکوئی وارث بھی رہا(کہ نظر بتقریر سوال وہ اس کی نانی ہی ہوسکتی ہے تو دعوی شوہرنافع ہے تاکہ میراث سے پہلے یہ بذریعہ دین بعض یاکل متروکہ لےیونہی اگردوسرے دائن کا دین ایساہے کہ اس کے دعوی سے مل کرمقدار ترکہ سے زائد ہوجائے گا تونافع ہے کہ ترکہ دونوں دین پر حصہ رسد بٹ جائےاسی طرح اگرپسر متوفی پرویسادین ہوتونافع ہے کہ اول شوہرکادین ترکہ خدیجہ بی سے اداکیاجائے گااگرکچھ نہ بچے گا دائن پسر کچھ نہ پائے گا اوربچے گاتوباقی سے جس قدر حصہ پسرہے وہ اس میں سے لینے کامستحق ہوگااوربے دعوی زائد میں سے پاتا وھذا کلہ ظاھر بادنی حساب(یہ تمام ادنی حساب کے ساتھ ظاہرہے۔ت)ان صورتوں میں دعوی شوہرالبتہ قابل سماعت ہےاب حکم مسئلہ یہ کہ اگر حسام الدین نے بطور خودا پنی زوجہ کے دو ادارو میں اپنامال صرف کیاتو دعوی باطل ہے اور واپسی کامستحق نہیں۔
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ غیر مضطر الیہ فلایرجع علیہ اذ لم یکن نافذ لتصرف فیما لدیہ کما ابانت عنہ فروع جمۃ جب کوئی غیرکے معاملے میں اس کی اجازت کے بغیرخرچ کرے اور وہ اس خرچ کرنے میں مجبورنہ ہوتو اسے رجوع کا حق نہیں اس لئے کہ جوکچھ اس کے پاس ہے اس میں اس کا تصرف
#3428 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
مصرح بھا فی کلمات الائمۃ۔ نافذنہیں ہے جیساکہ اس سے پیشترفروع ظاہرہیں جن کی ائمہ کرام کے اقوال میں تصریح کی گئی ہے۔(ت)
بلکہ اگرخدیجہ بی نے درخواست بھی کی کہ میراعلاج کرو اور اس کے سوا کوئی شرط رجوع وواپسی درمیان نہ آئی نہ وہاں عرف عام سے ثابت ہوکہ ایسی صورت میں شوہر جوکچھ معالجہ زوجہ میں اٹھائے اس سے واپس پائے توبھی حسام الدین کو دعوی نہیں پہنچتا لعدم مایوجبھا من نص اوعرف(کسی نص یاعرف کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جو اس کو واجب کرے۔ت)ہمارے بلاد کاتوعرف یہ ہے کہ شوہر جواپنی بی بی کے علاج میں صرف کرتاہے وہ یاعورت کسی کے خیال میں واپسی کاوہم بھی نہیں گزرتا ہاں اگرخدیجہ بی سے صراحۃ واپسی کی شرط ہوگئی تھی یاوہاں کے عرف عام کی روسے استحقاق واپسی ثابت ہے تو ضرور اختیار واپسی ہوگا فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا(کیونکہ جو باعتبار عرف کے معہود ہو ایسے ہی ہے جیسے باعتبار لفظ کے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔ت)درمختارمیں ہے:
لارجوع ولوبامرہ الا اذا قال عوض عنی علی انی ضامنلعدم وجوب التعویض بخلاف قضاء الدین (و)الاصل ان(کل مایطالب بہ الانسان بالحبس والملازمۃ یکون الامر بادائہ مثبتا للرجوع من غیر اشتراط الضمان ومالافلا)الا اذا شرط الضمان ظھیریۃ الخ قلت وانت تعلم ان الدواء ممالایجب اصلا فضلا عن ان یکون لہ مطالب من جھۃ العبد فضلا عن ان یکون طلبہ بحبس اوملازمۃ فلارجوع فیہ من دون شرط شیئ من ھذہ الاصول۔ اس میں رجوع نہیں اگرچہ اس کے امرسے خرچ کرے مگریہ کہ جب کہے تومیری طرف سے بدلہ دے اس شرط پرکہ میں ضامن ہوں کیونکہ تعویض واجب نہیں بخلاف قرض کی ادائیگی کے۔اورضابطہ یہ ہے کہ جس چیزکاانسان سے حبس و ملازمہ کے ساتھ مطالبہ کیاجاتاہے اس کی ادائیگی کاامر رجوع کوثابت کرنے والاہے ضمان کی شرط لگائے بغیراوراگر ایسانہ ہو تورجوع ثابت نہ ہوگا جب تك ضمان کی شرط نہ لگائے ظہیریہ الخ۔میں کہتاہوں توجانتاہے کہ دوا ان چیزوں میں سے جوبالکل واجب نہیں چہ جائیکہ بندے کی طرف سے اس کاکوئی مطالبہ کرنے والا ہو اورچہ جائیکہ اس کامطالبہ حبس و ملازمہ کے ساتھ ہولہذا اس میں کسی اصول کی شرط کئے بغیر رجوع کا حق نہ ہوگا(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۲€
#3429 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
عقودالدریہ میں ہے:
ماجری بہ العرف فی الرجوع علی الامر یرجع اھ اقول:ھذہ مسئلۃ اضطربت فیھا اقوال العلماء اصلا وفرعا فاصلوا اصولا لاتنضبط وفرعوا فروعا لاتلتئم واراد العلامۃ الشامی تحریرھا فی العقود فلم یتھیألہ الا الاقتصار علی بعض فروع نقلت مع طرح جمیع الاصول التی اصلت وللعبد الضعیف ھھنا کلام ذکرتہ فیما علقت علیھا وھذا الذی اخترتہ ھنا واضح جلی لاخفاء بہ ان شاء اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس چیز کا آمرپررجوع کرنے میں عرف جاری ہو وہاں رجوع کرے گااھ۔میں کہتاہوں اس مسئلہ میں علماء کرام کے اقوال اصول وفروع کے اعتبارسے مضطرب ہیں۔انہوں نے کچھ ایسے اصول بنائے جو منضبط نہیں اور کچھ ایسے فروع ذکرکئے جو مجتمع ومربوط نہیں۔علامہ شامی علیہ الرحمہ نے عقود میں ان کی تحریرکرنے کاارادہ فرمایا تو انکو میسرنہ ہوا سوائے بعض فروع پر اقتصارکرنے کے جونقل کئے گئےباوجودیکہ انہوں نے وہ اصول چھوڑدئیے جووضع کئے گئے ہیں۔اور اس عبدضعیف کایہاں کچھ کلام ہے جس کو میں نے شامی پر اپنی تعلیقات میں ذکرکیا ہے۔اور وہ جس کومیں نے یہاں اختیارکیاوہ بالکل واضح وروشن ہے اس میں ان شاء اﷲ تعالی کوئی پوشیدگی نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۴: ازریاست مرسلہ ۲۸/محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ۱۲۷۸ہجری میں انتقال کیا اوراپنے چاروں بیٹے محمدزکریامحمدیحییمحمد عیسیمحمدموسی بالغ ونابالغ اوربیٹی بالغہ اورحافظ محمدعظیم صاحب خسر ۳۸سال۲۰سال۱۲سال کے سامنے یہ وصیت کی اس وصیت کو سب ورثاء نے تسلیم کیا اور اس پر عملدرآمد کیا اب یحیی و عیسی اپنا بقیہ ورثہ تقسیم کراتے ہیں اوربڑابھائی مصرف خورد ونوش وپارچہ وخرچ شادی یحیی وعیسی جواس نے اپنے پاس سے زید کے انتقال کے بعد سے ان پرکیا ہے طلب کرتا ہے یحیی و عیسی یہ عذرکرتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے ہم پرصرف کیا تبرعا واحسانا تھا یہ ہم سے مجرانہ ہوناچاہئے نیزبروقت وصیت ہم نابالغ تھے اورقطع نظر اس ۱۳۰۳ھ میں جوتحریرفریابین برادران ہوئی جس میں محمدیحیی نے
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الکفالۃ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳€
#3430 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
آمدنی کاحساب سمجھ کر ۴ روپے ماہوار اپنے حصے کے لئے منظورکئے ہیں اوراب تك لیتے ہیں اوروصیت پر علمدرآمد ہوا توتم میں کسی نے انکارنہیں کیابلکہ تسلیم وقبول تحریری موجود ہے چنانچہ نقل وصیت نامہ و نقل تحریر دیگر حسب ذیل ہے زید کی جائداد جو الور میں ہے وہ اب تك غیرمنقسم اورایك ہی مکان میں سب ورثاء رہتے ہیں اوراس کی تقسیم بھی چاہتے ہیں زکریا تقسیم پرراضی ہے مگرکہتاہے کہ جولاگت بعد انتقال زیدمیں نے اپنے پاس سے اس پرلگائی ہے مجھ کو ملنی چاہئے یحیی وعیسی کہتے ہیں کہ تم نے بلاوجہ پہلی عمارت کوڈھایا اورنئی عمارت بنائی ہم اس کے ڈھانے کانقصان تم سے لیں گے نئی عمارت بنانے کاتم کو بلارضامندی ہمارے اختیارنہ تھازکریاجواب دیتا ہے کہ بوجہ بوسیدگی تم سب کے سامنے ہنگام شادی محمدعیسی جس میں اب تك وہی رہتاہے ایك ضلع خام تھا ازسرنوپختہ میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنایا اور ضلع اپنے واسطے پختہ بنایا اس وقت تم میں سے کسی نے انکارنہیں کیا اوراب تك تم ہم سب وہیں رہتے ہیں ازروئے شرع شریف ان سب امورکا جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا۔
نقل وصیت نامہ
والدماجد حکیم غلام نجم الدین مرحوم نے اپنے انتقال سے تخمینا اٹھائیس روز پہلے روبروئے جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب وبرادران عزیز محمدیحییمحمدعیسی ومحمدموسی کہ مجھ کوجو وصیت فرمائی میں اس وقت مضمون وصیت روبروئے جناب ماموں صاحب موصوف وبرادران عزیز مذکور کے بیان کرتاہوں اگرمیرے بیان میں کچھ خلاف ہے تواصلا ح فرمادیں اوراگرمیرابیان صحیح ہے تو اس کاغذ کو تصدیق کریںفقط۔میرے والد نے مجھے محمدزکریا سے یہ فرمایا کہ میں نے تمہاری اورتمہاری ہمشیر کی شادی کردی تم دو کے فرض سے میں اداہوا۔محمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی کی شادی باقی ہیں دہلی کی محلسرا اور دیوان خانہ فروخت کرکے ان کی شادی کردینا اورتمہاری والدہ کاجوزیورہے وہ ان تینوں کے چڑھاوے میں چڑھادینا۔باقی مکانات دہلی کے اورظروف اورپارچہ وغیرہ جوہے اس کو بموجب شرع شریف کے تم پانچوں بہن بھائی تقسیم کرلینا فقط۔
مبلغ دوصدروپیہ دوشخصوں کو دے کر ایك کومیرے واسطے اوردوسرے کو اپنی والدہ کے واسطے حج پربھیجناباقی مکانات اورچاہ واراضی وباغ وتنخواہ جوالور میں ہے اس کاتومختارہے اگرمحمدیحیی و عیسی وموسی تیری تابعداری کریں توتم فرزندوں کی طرح ان کی پرورش کرتے رہنا اگرتیری تابعداری نہ کریں تو اپناسرکھائیں فقط۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ہجری
#3431 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
بقلم بندہ امراؤعلی۔
یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیادرست ہے۔ العبدمحمدموسی العبد محمدیحیی العبدمحمدعیسی العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم
العبدمحمدعظیم گواہ نوشتہ محمدعبدالرحمن علی
جوکچھ مجھ محمدزکریانے بموجب وصیت والد ماجد کے تعمیل کی اورکرتارہوں گا وہ مراتب اس صفحے پر درج ہیں اور آپ صاحب اس سے رضامند ہیں تو اس پراپنے اپنے دستخط کریں۔فقط مرقوم ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطا بق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ
والدہ ماجدہ کازیور برادران عزیزمحمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی کو میں نے تقسیم کردیا اورظروف وپارچہ مجھ محمدزکریا ومحمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی وہمشیرہ عز یزہ نے حسب وصیت والد مغفور باہم تقسیم کرلیا اورمحلسرااوردیوان خانہ کوتومیں نے فروخت نہیں کیابلکہ اپنے پاس سے عزیزمحمدیحیی ومحمدعیسی کی تومیں نے شادی کردی اورمحمدموسی کاحج ہوگیا اورباقی مکانات واقعہ دہلی بھی حسب وصیت تقسیم کئے جائیں ان شاء اﷲ تعالی اورباقی مکانات وتہوار وچاہ واراضی وباغ وتنخواہ الورکی جوبلاشرکت غیرے حسب وصیت والد ماجد میرے قبضے میں ہےمگرحویلی میں جس طرح ہم سب بھائی رہتے ہیںاسی طرح میں اور میری اولاد اوروہ اوران کی اولاد بدستور ہیں اورکھانے پینے کوجوخدامجھ کو دے جس طرح آج تك محمدعیسی ومحمدموسی کھاتے پیتے رہے ہیں اسی طرح کھلاتاپلاتارہوں گااورمحمدیحیی کودوروپیہ اورمحمدعیسی کو(۸ /)اورمحمدموسی کو ۱۲/ ماہواردیتارہوں گا مبلغ دوصدروپیہ جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب کی معرفت دوشخصوں کودے کر حج کوبھیج دئیے فقط مرقوم صدربقلم امراؤعلی
یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیا درست ہے۔العبدمحمدعیسی العبدمحمدیحیی عفی عنہ العبدمحمد موسی عفی عنہ العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم العبدمحمدعظیم گواہ شد محمدعبدالرحمن نقل تحریر
سابق میں ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ کوجووصیت نامہ والد مرحوم کاروبروئے جناب ماموں صاحب حاجی حافظ محمد عظیم مرحوم کے تحریرہواتھا اس وقت عزیزمحمدیحیی کودوروپیہ ماہوار دینا تجویزہواتھا چنانچہ آج تك دیاگیااب پھر عزیز مذکورنے کہاکہ میراگزارہ اس میں نہیں ہوتا کچھ زیادہ مقررہوجائےاس واسطے مجھ زکریانے اراضی بارانی وچاہ جال والا وچاہ تاج خاں والا کی آمدنی بوقوف عزیزمحمدیحیی دوسوساٹھ روپیہ مشخص کراکرعزیزمذکورکاحصہ للعہ ۷/ ماہوار کاقرار پایا مگر عزیز مذکور نے چارروپیہ چارآنے ماہوار اس میں سے لینے منظورکئے بشرط اس کے کہ مجھ سے چاہت کی مرمت وغیرہ کا مصارف نہ لیاجائے۔مجھ محمدزکریاکویہ بھی منظورہے کہ میں۴/للعہ ماہوار جب تك اراضی عطیہ سرکار ہمارے قبضہ میں ہے
#3432 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
خواہ آمدنی میں کمی ہو یابیشی عزیزمحمدیحیی کواپنی زیست بھردیتارہوں گا اوربعد میرے آمدنی یہ دوچاہات مذکورہ واراضی بارانی و باغ یعنی جملہ آمدنی ان مواضعات کی وجملہ مصارف شکست ریخت مرمت وغیرہ متعلقہ ان کے ہمگی دس حصوں مفصلہ ذیل پرتقسیم ہوجائے اورجو حصہ دارمرجائے تو اس کے حصہ داراس کے وارث یعنی فرزند یا دختریازوجہ کوملتارہے اورجوحصے دار بلا وارث فوت ہو اس کا حصہ سب پرتقسیم ہوجائےتفصیل حصص یہ ہے:محمدزکریامحمدیحییمحمدعیسیمحمدموسیہمشیرہ عزیزہ پھوپھی صاحبہ ان میں سے دودوحصے چاروں بھائی لیتے ہیں اورایك ایك حصہ ہمشیرہ عزیزہ اورپھوپھی صاحبہ لیتی رہیں فقط۔
بقلم احقرالعبادامراؤ علی مرقومہ ہشتم جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ مطا بق ۱۳فروری۱۸۸۶ء
العبد محمدزکریا العبدبندہ محمدیحیی عفی عنہ العبدمحمدعیسی عفی عنہ العبد محمدموسی عفی عنہ گواہ شد محمدفضل حق عفی عنہ
الجواب:
اول:تنخواہ پربھائیوں کادعوی باطل بیجاہے کہ وہ اجرت ہے اوراجرت میں غیراجیر کا حق نہیںعقد اجارہ جو ان کے باپ سے تھا موت پدرپرختم ہوگیا۔
فان الاجارۃ لامعنی لبقائھا بعد ھلاك الاجیر۔ کیونکہ اجیرکے فوت ہوجانے کے بعد اجارہ کے باقی رہنے کاکوئی معنی نہیں ہے(ت)
اب کہ برادر سے عقدجدیدہوا اس میں کیاحقتوایك ہوسکتاہے بلکہ اگراس تنخواہ کو بطور منصب ہی فرض کیجئے توبتصریح علماء منصب وپنشن بھی موروث نہیں بعد فوت منصبداررئیس جس کا نام مقررکردے وہی مستحق ہے باقی ورثہ کاکچھ حق نہیں۔فتح القدیر وردالمحتارمیں ہے:
العطاء صلۃ فلایورث ویسقط بالموت ۔ عطیہ ایك صلہ ہے وراثت نہیں ہے اورموت سے پہلے یہ صلہ ختم ہوجاتاہے(ت)
دوم:محمدزکریا نے جوکچھ محمدیحیی ومحمدعیسی کی شادیوں میں اپنے پاس سے صرف کیا اگریہ صرف بعد بلوغ محمدموسی تھا جبکہ وہ بھی اجازت وصیت شامل ہولیا توتمام کمال ترکہ سے مجراپائے گا کہ زکریا وصی تھا اوریہ مورث کی وصیت جسے بقیہ ورثہ نے نافذ رکھا اوربوجہ بلوغ ان سب کی تنفیذ شرعا معتبرتھی تووصیت
حوالہ / References ردّالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۸۲€
#3433 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
کاوارثوں کے لئے ہونامضرنہیں
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر اس صورت میں کہ باقی وارث اسے جائزقراردیں(ت)
اوروصیت میں جبکہ اس کی تنفیذ کسی شیئ کوبیچنے کے ساتھ مذکور ہوتووصی پراس کااتباع لازم نہیں اسے رواہے کہ وہ شیئ نہ بیچے اوردوسرے مال سے وصیت نافذ کرے۔ آدب الاوصیاء میں ہے:
فی المحیط والظھیریۃ والخلاصۃ اوصی بان یکفنہ من ثمن ھذا العین قال ابوالقاسم للوصی ان یکفنہ من ثمن عین اخر ولایبیع تلك العین و تلك العین تکون للورثۃ وان وجد لما اوصی ببیعہ مشتریا ولا یضمن الوصی۔ محیطظہیریہ اورخلاصہ میں ہے کسی نے وصیت کی کہ فلاں معین چیزکے ثمن سے اس کوکفن دیاجائے ابوالقاسم نے فرمایا وصی کو اختیارہے کہ کسی دوسرے چیزکے ثمن سے کفن دے اوراس معین چیز کوفروخت نہ کرے اوریہ معین چیز سب ورثاء کی مشترکہ قرارپائے گی اگرچہ جس چیز کو فروخت کرنے کی وصیت تھی اس کاکوئی خریدار بھی موجود ہوایسی صورت میں وصی ضامن نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
فی الخاصی اوصی بان یتصدق منہ کذا وکذا وقرا من الحنطۃ وعین لثمن تلك الحنطۃ نوعا من اموالہ کثمن دارہ فجعل الوصی من غیر ذلك المال قال خاصی میں ہے کسی نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے اتنی اتنی مقدارگندم کی صدقہ کی جائے اوراس گندم کی قیمت کے لئے اس نے اپنے اموال میں سے کوئی نوع متعین کردی جیسے اپنے گھرکی قیمتوصی نے کسی اورمال سے صدقہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹،€کنزالعمال بحوالہ ق عن عمروبن خارجہ ∞حدیث ۴۶۰۷۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۶۱۷€
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی تنفیذالوصیۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۔۳۱۲€
#3434 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
جازلہ ذلك الا ان یکون فیما عینہ دلیل علی التعیین کان یکون ماعینہ معروفا بالطیب وسائرہ بالخبث فیخص الطیب بالوصیۃ فلایشتری من المال الخبیث۔ کردیاتوجائزہے مگراس صورت میں کہ جوکچھ موصی نے متعین کیا اس میں تعین پردلیل موجودہے مثلا جس شیئ کو اس نے معین کیا وہ پاکیزگی کے ساتھ معروف ہے اوردیگراشیاء خبث کے ساتھ معروف ہیں تو اس صورت میں پاکیزہ شیئ کووصیت کے ساتھ خاص کیاجائے گا اوروصی خبیث مال سے خریداری نہیں کرے گا۔(ت)
اورقطع نظر اس سے کہ وصی جب اپنے مال سے وصیت نافذ کرے تو قول مفتی بہ پراسے مطلقا حق رجوع وواپسی ہے یہاں کہ وصیت عباد کے لئے تھی اوروصی وارث ہے باتفاق علماء اسے حق رجوع حاصل ہواخانیہ وہندیہ وغیرہما میں ہے:
وصی انفذ الوصیۃ من مال نفسہ قالوا ان کان ھذا الوصی وارثا یرجع فی ترکۃ المیت والا فلایرجع وفیہ ان کانت الوصیۃ للعباد یرجع لان لھا مطالبا من جھۃ العباد وکان کقضاء الدین وان کانت الوصیۃ ﷲ تعالی لایرجع وقیل لہ ان یرجع فی الترکۃ علی کل حال و علیہ الفتوی۔ وصی نے اپنے مال میں سے وصیت نافذ کردیعلماء نے کہا اگریہ وصی وارث ہے توترکہ میت میں رجوع کرے گا ورنہ نہیںاوراسی میں ہے اگروہ وصیت بندوں کے لئے ہے تو رجوع کرے گا اس لئے کہ اس وصیت کے لئے بندوں کی جہت سے کوئی مطالبہ کرنے والاہے تویہ دین کی ادائیگی کی طرح ہوگئیاوراگروصیت اﷲ تعالی کے لئے ہے تورجوع نہیں کرے گا۔اورایك قول یہ ہے کہ وہ ہرحال میں ترکہ میت میں رجوع کرے گا۔فتوی اسی پرہے۔(ت)
اوراگرقبل بلوغ محمدموسی ہوا توحصہ محمدموسی اس صرف سے بری رہے گا کہ نابالغ کی اجازت کوئی چیزنہیںنہ اس کی طرف سے کوئی ولی یاوصی خواہ کوئی شخص اسے تصرف کی اجازت دے سکتاہے
حوالہ / References آداب الاوصیاء فصل فی تنفیذالوصیۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱€۴
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۴€
#3435 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
لکونہ ضررا محضا(اس کے محض نقصان ہونے کی وجہ سے۔ت)اوریہیں سے ظاہرہواکہ اس صورت میں بعد بلوغ محمد موسی کااس تصرف گزشتہ پرراضی ہونا یا اسے جائزکرنا بھی بکارآمدنہ ہوگا۔
لکونہ وقع ولامجیز وکل تصرف کذا فھو باطل کما فی الدر وغیرہ والاجازۃ انما تلحق الموقوف لاالباطل کمابینہ فی الفتح وغیرہ۔ بسبب اس کے کہ یہ واقع ہوا دراں حالیکہ کوئی اس کی اجازت دینے والانہیں۔اور ہروہ تصرف جوایساہو وہ باطل ہوتاہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اوراجازت فقط موقوف کو لاحق ہوتی ہے نہ کہ باطل کوجیساکہ اس کوفتح وغیرہ نے بیان کیاہے۔(ت)
سوم:خوردونوش برادران میں جوکچھ محمدزکریا نے اپنے پاس سے صرف کیا اس میں سے محمدموسی نابالغ کے مصارف زمانہ نابالغی کے مجراپائے گا
فی الخانیۃ والھندیۃ بعد العبارۃ المذکورۃ وکذا الوصی اذا اشتری کسوۃ للصغار اواشتری ماینفق علیھم من مال نفسہ فانہ لایکون متطوعا ۔ خانیہ اورہندیہ میں مذکورہ بالاعبارت کے بعد ہے اوریونہی وصی نے جب اپنے مال سے نابالغ کے لئے لباس خریدار یاوہ شیئ خریدی جو اس پرخرچ کرے گا تووہ احسان کرنے والانہ ہوگا(ت)
اوربالغوں پرجو صرف کیا اگر بطورخودبے ان کے امرکے تھا نہ شرط رجوع کرلی تھی جیساکہ عبارت سوال سے ظاہرہے تومحمد زکریا کاتبرع واحسان تھا جس کامعاوضہ ان سے نہیں لے سکتا
لعدم الولایۃ علیہ بالبلوغ ولم یکن مضطرا فیما فعل ولاامروہ ولاشرط الرجوع ففیم یرجع وھذا ظاھر جدا عند من خدم نفائس کلامھم۔ کیونکہ بلوغ کی وجہ سے وصی کو اس پرولایت نہیں رہی نہ وہ اس فعل میں مجبورہےنہ انہوں نے وصی کوحکم دیا اورنہ رجوع کی شرط کی گئی تووہ کس چیز میں رجوع کرے گایہ خوب ظاہرہے اس شخص کے نزدیك جس نے فقہاء کے عمدہ کلام کی خدمت کی۔(ت)
خانیہ میں ہے:
لوقال انفق من مالکعلی عیالی اوفی بناء داری یرجع بما انفق اگرکہاتو اپنے مال میں سے میری اہل وعیال یا میرے گھر کی تعمیرپرخرچ کر تواس نے جوکچھ
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵€۵
فتاوی قاضی خاں کتاب الکفالہ فصل فی الکفالۃ بالمال ∞نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷€
#3436 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
وکذا لوقال اقض دینی یرجع علی کل حال ولوقضی نائبۃ غیرہ بامرہ رجع علیہ وان لم یشترط الرجوع ھو الصحیح۔ خرچ کیا وہ اس کے بارے میں رجوع کرے گا۔اسی طرح اگر کہا تو میراقرض ادا کردے تو وہ ہرحال میں رجوع کرے گا اور اگرکسی کی حاجت اس کے امرپرپوری کردی تو وہ رجوع کرے گا اگرچہ رجوع کی شرط نہ لگائی گئی ہویہی صحیح ہے۔(ت)
فصول عمادیہ وفتاوی حامدیہ میں ہے:
من قضی دین غیرہ بغیر امرہ لایکون لہ حق الرجوع علیہ۔ جس نے دوسرے کاقرض اس کے حکم کے بغیر اداکردیا اس کو رجوع کاحق نہیں(ت)
انہیں میں ہے:
المتبرع لایرجع علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ ۔ احسان کرنے والاغیرپررجوع نہیں کرتا جیساکہ کوئی کسی کا قرض اس کے حکم کے بغیر اداکردے(ت)
چہارم:زیورزوجہ میں موصی کی وصیت اسی قدراثرڈال سکتی تھی جس قدر اس زیورسے موصی کاحصہ شوہری ہوتاباقی حصص کہ ملك اولاد تھے ان کی نسبت اس کی وصیت محض بے معنی ہے اذلاتصرف لابن آدم فیما لایملک(اس لئے کہ ابن آدم کوایسی چیزمیں تصرف کاحق نہیں جس کاوہ مالك نہ ہو۔ت)تویحیی وعیسی وموسی کو وہ کل زیوردے دینااگرچہ باجازت جملہ ورثہ ہو خود انہیں ورثہ کے حصص میں اصلا مؤثرنہ ہوگا کہ غایت درجہ ان کی یہ اجازت اجازت تملیك بلامعاوضہ ہوگی کہ عین ہبہ ہے اورہبہ مشاع باطل اورباطل کی اجازت مہمل۔ہدایہ میں ہے:
من اوصی من مال رجل لاخر بالف بعینہ فاجاز صاحب المال بعد موت الموصی فان دفعہ فھو جائز ولہ ان یمنع لان ھذا تبرع بمال الغیر فیتوقف علی اجازتہ واذااجاز یکون تبرعا منہ ایضا فلہ جس نے کسی شخص کے لئے غیرکے مال سے ایك ہزارمعین درہموں کی وصیت کردی اورموصی کی موت کے بعد اس غیر یعنی مالك مال نے اس کی اجازت دے دی پھراگر اس نے وہ مال اس کے سپردکردیا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے تو جائزہے اورمالك کواختیارہے کہ وہ مال کو روك لے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ فصل فی الکفالۃ بالمال ∞نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸€۹
فتاوی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۶€۹
العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰€۳
العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳€
#3437 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ان یمتنع من التسلیم ۔ کیونکہ غیرکے مال سے تبرع ہے تویہ اس غیر کی اجازت پرموقوف ہوگا اورجب اس نے اجازت دے دی تویہ اس کی طرف سے بھی تبرع و احسان ہوگا لہذا اسے اختیارہوگا کہ وہ سپردگی سے انکارکردے(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
لان العقد الموقوف اذالحقہ الاجازۃ صار مضافا الی المجیز فاذا اضیف الیہ صار ذلك ھبۃ منہ والھبۃ لاتتم الابالتسلیم۔ کیونکہ موقوف عقد کو جب اجازت لاحق ہوتی ہے تو وہ اجازت دینے والے کی طرف منسوب ہوجاتاہےجب اس کی طرف منسوب ہوگیاتو یہ اسی کی طرف سے ہبہ ہوا اورہبہ سپردگی کے بغیرتام نہیں ہوتا(ت)
تومحمدزکریاکاخود اپناحصہ اس کی ملك سے نکلا نہ خدیجہ بیگم کاحصہ اس کی ملك سےاگرزیورباقی ہے تو حصہ شوہری موصی چھوڑکر سب ورثہ اپنے اپنے حصے اس سے لے سکتے ہیںاوراگریحیی وعیسی وموسی نے ہلاك کردیا توباقیوں کے حصص کے تاوان دین رہا موصی کاحصہ شوہری کہ وہی محل نفاذوصیت تھا نظرکی جائے کہ چڑھاوا جودولھا کی طرف سے دلہن کوجاتاہے وہاں عرف شائع میں دلہن کی ملك سمجھاجاتاہے یاملك پردولہا ہی کے رہتاہے اوردلہن کوپہننے کے لئے دیاجاتاہےاگردلہن کی ملك سمجھاجاتاہے تو اس حصے میں بھی وصیت باطل ہوئی کہ اب یہ وصیت حقیقۃ دلہنوں کے لئے تھی اوردلہنیں وقت موت موصی تك معدوم تھیں کہ دلہن ہونابعد نکاح صادق ہوتاہے اورنکاح موت موصی سے ایك مدت کے بعد ہوئے اورمعدوم کے لئے وصیت باطل ہے کہ وہ تملیك اورمعدوم صالح تملیك نہیںولہذا حمل کے لئے وصیت میں شرط ہے کہ اس کاباپ زندہ ہے توچھ مہینے کے اندرپیداہواورمرگیا یاطلاق بائن دے دی اورعورت عدت میں ہے تو دوبرس کے اندر پیداہواکہ اس وقت اس کاوجود ہویدا ہوا۔ تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ھی تملیك مضاف الی مابعد الموت بطریق التبرع و شرائطھا کون الموصی اھلا للتملیك والموصی لہ حیا وقتھا تحقیقا وہ تملیك ہے جوبطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اوراسی کی شرائط میں سے ہے کہ موصی تملیك کی اہلیت رکھتاہو اور جس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ بوقت
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۶۶€
غایۃ البیان
#3438 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
اوتقدیرالیشمل الحملوصحت للحمل ان ولد لاقل من ستۃ اشھر لو زوج الحامل حیاولومیتا وھی معتدۃ حین الوصیۃ فلاقل من سنتین بدلیل ثبوت نسبہ اختیار وجوھرہ اھ ملتقطا۔ وصیت حقیقتا یاتقدیرا زندہ ہو تاکہ یہ حمل کوبھی شامل ہے حمل میں وصیت تب صحیح ہوگی وہ چھ ماہ سے کم مدت میں پیداہوجائے جبکہ حاملہ کاشوہر زندہ ہو اوراگر وہ مردہ ہے اور حاملہ عورت بوقت وصیت معتدہ ہے تواس صورت میں حمل کے لئے وصیت تب صحیح ہوگی جب دوسال سے کم مدت میں پیداہو اوراس پردلیل اس مدت میں اس کے نسب کاثابت ہوناہےاختیاروجوہرہ اھ التقاط۔
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وقتھا اقول:فی التاتارخانیۃ الموصی لہ اذاکان معینا من اھل الاستحقاق یعتبر صحۃ الایجاب یوم اوصی ومتی کان غیر معین یعتبر صحۃ الایجاب یوم موت الموصی فلواوصی بالثلث لبنی فلان ولم یسمھم ولم یشرالیھم فھی للموجودین عندموت الموصی وان سماھم اواشار الیھم فالوصیۃ لھم حتی لوماتوا بطلت الوصیۃ لان الموصی لہ معین فتعتبر صحۃ الایجاب یوم الوصیۃ قولہ لاقل من ستۃ اشھراذلو ماتن کاقول"بوقت وصیت"میں کہتاہوں تاتارخانیہ میں ہے جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اگر وہ مستحقین میں سے متعین ہے توصحت ایجاب کا اعتباروصیت کے دن سے کیا جائے گا اورجب وہ غیرمتعین ہے توصحت ایجاب کااعتبار موصی کی موت کے دن سے کیاجائے گااگرفلاں کے بیٹوں کے لئے ایك تہائی کی وصیت کی اوران کانام نہیں لیا نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیا تویہ وصیت صرف ان کے لئے ہوگی جو موصی کی موت کے وقت موجودہوں گے۔اوراگران کانام لیا یا ان کی طرف اشارہ کیاتو وصیت خاص انہی کے لئے ہوگی۔ اگر وہ مرگئے تو وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ جس کے لئے وصیت کی گئی وہ متعین ہے۔لہذا صحت ایجاب کااعتبار وصیت والے دن سے ہوگا۔ماتن نے کہاکہ چھ ماہ سے کم مدت میں حمل پیداہو۔یہ اس لئے
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷ و ۳۱۸€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵ و۱۶€
#3439 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ولد لستۃ اشھر او لاکثر احتمل وجودہ وعدمہ فلا تصحافادہ الاتقانیقولہ ولومیتا مثل الموت الطلاق البائن ۔ ہے کہ اگرپورے چھ ماہ پریا اس سے زائد مدت میں پیداہوا توبوقت وصیت اس کاوجود وعدم دونوں محتمل ہوئےلہذا وصیت صحیح نہ ہوئیماتن کاقول کہ اگروہ مردہ ہوطلاق بائن بھی موت کی طرح ہے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
شرطھا کون الموصی اھلا للتملیك و الموصی لہ اھلا للتملک۔ وصیت کے لئے شرط یہ ہے کہ موصی تملیك کااہل ہو اورجس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ مالك بننے کااہل ہو۔(ت)
ولہذا صحت وصیت کے لئے شرط ہے کہ یا تواہل حاجت کے لئے واقع ہوجیسے بنی فلاں کے یتیموں یابیواؤں کے لئے کہ اس تقدیر پروصیت حضرت حق عزوجل کے لئے واقع ہوگی اور وہ معلوم ہے ورنہ وہ لوگ معدودقابل شمارہوں جیسے زیدکے بیٹے کہ انہیں تملیك صحیح ہوسکے اوردونوں صورتیں نہ ہوں مثلا سیدوں یاشیخوں کے لئے تو وصیت باطل ہے درمختارمیں ہے:
الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی و ھومعلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت۔ اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبردے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی اگروہ قابل شمارنہ ہوں جیساکہ گزرچکاہے کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئی ہے اور وہ معلوم ہے اوراگرایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوجوحاجت کی خبردیتاہے تواس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی ہے اگروہ قابل شمار ہیں تب تو وصیت صحیح ہوگی اوراس کوتملیك قراردیاجائے گاورنہ وصیت باطل ہوگی۔(ت)
ولہذ اگروارثان فلاں کے لئے وصیت کی اورفلاں ابھی زندہ ہے توصحت وصیت کے لئے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۱۸€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۹€۰
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰€
#3440 · کتاب الوصایا (وصیتوں کابیان)
ضروری ہے کہ وہ اس موصی سے پہلے مرجائے تاکہ وارثان فلاں کالفظ صادق آئے ورنہ وصیت باطل ہوجائے گیایسی جگہ ذات شخص کاوجودکافی نہیں بلکہ ذات مع اس وصف کے وجودہونا درکار جس وصف کے لحاظ سے وصیت واقع ہوئی ہے۔
فی الدرالمختارشرط صحتہا فی الوصیۃ لورثۃ فلان ومافی معناھا کعقب فلان موت الموصی لورثتہ اولعقبہ قبل موت الموصی لان الورثۃ والعقب انما یکون بعد الموت فلومات الموصی قبل موت الموصی لورثتہ اوعقبہ بطلت الوصیۃ لورثتہ اوعقبہ لان الاسم لایتناولھم الا بعدالموت اھ مختصراوفی رد المحتار قولہ لان الاسم لایتناولھمفکانت وصیۃ لمعدوم۔ درمختارمیں ہے فلاں کے وارثوں یا اس کے ہم معنی یعنی فلاں کے پسماندگان کے لئے وصیت کی تو اس وصیت کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ جس کے وارثوں اورپسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ موصی سے پہلے مرے کیونکہ اس کے مرنے کے بعد ہی وہ لوگ اس کے وارث یا پسماندگان بنیں گے اوراگرموصی اس سے پہلے مرگیا اورجس کے وارثوں اور پسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ ابھی زندہ ہے تو اس کے وارثوں یا پسماندگان کے لئے وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ ان پرلفظ ورثاء اورپس ماندگان کااطلاق تو اس کے مرنے کے بعد ہوگااھ اختصار۔ردالمحتارمیں ہے اس کاقول کیونکہ لفظ ورثاء اورپس ماندگان کا ان پراطلاق نہیں ہوتالہذا یہ معدوم کے لئے وصیت ہوئی۔(ت)
اوراگربحکم عرف چڑھاوا دولہا کی ملك ہوتاہے۔(یہ جواب ناتمام دستیاب ہوا)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۹ و ۳۳۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴۰€
#3441 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
رسالہ
الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیۃ ۱۳۱۷ھ
(کشادہ راستہ وصیت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)

مسئلہ ۱۳۵: ازرنگون مکان نمبر۸۵ و۸۶ گلی نمبر۳۱ مرسلہ شیخ عبدالعزیز سرکار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی رحمۃ واسعۃ فی الدنیا والآخرۃ اس میں کیافرماتے ہیں کہ زیدکے دو وطن تھے ایك قدیم اور دوسرا جدیداوردوہی بیویاںایك وطن قدیم میں شادی کرائی ہوئیدوسری وطن جدیداعنی شہررنگون میں بطریق شادی مطابق شرع محمدی نکاح میں لائی ہوئیزیدنے بفضلہ تعالی رنگوں میں بہت کچھ کمایاپھریہیں کی کمائی سے وطن قدیم اوررنگون دونوں جگہ میں جائداد معتدبہ پیداکی لیکن وطن قدیم تخمینا پانچ ہزار روپیہ سالانہ آمدنی کی کل جائداد کوبحیلہ اپنے وطن قدیم کی ایك مسجد پر وقف کرنے کے جوکہ دس بارہ روپیہ ماہواری کے خرچ کی حاجت نہیں رکھتی وطن قدیم کی بی بی کی اولاد پر روك دیا اور وقف نامہ میں لکھ دیا کہ متولی اس وقف کے یہی لوگ رہیں جوکچھ مصارف مسجد سے بچے اپنے کام میں لائیں۔رنگون کی بیوی کے بطن کی اولاد کو اس میں سے ایك حبہ نہیں دیا اوررنگونی جائداد میں سے وطن قدیم والی اولاد کو حصہ بھی دیا اوراس جائداد کے نفع سے کئی ہزارروپیہ لوگوں کودینے کی اورپچاس روپیہ ماہواری اس مسجد وطن قدیم پرخرچ کرنے کی وصیت بھی کہ چنانچہ یہ امرنقل وصیت نامہ مرسل مع استفتاء سے بخوبی واضح ہوگاپس چونکہ زیدکی یہ وصیت رنگونی ورثہ کی مضرت یعنی حق تلفی اور وطن قدیم کے ورثہ کی منفعت کے لئے ہےلہذاچند باتیں عرض کرتاہوں:
#3442 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
۱اول: علی مافی کتب الفقہموصی کوتووصیت کرنامستحب ہے لیکن ورثہ پراس کااداکرنا واجب ہے کہ اگرنہ کریں گے توماخوذہوں گے یاکیا
۲دوم: زید کی یہ وصیت بکیفیت وعبارت کذائیتین(اعنی مجموعہ ترکہ کے نفع سے نہ اس کے کسی جزومعین کے نفع سے اور بایں عبارت کہ اس قدرروپیہ میری تجہیزوتکفین کے لئے رکھیں اوراتناروپیہ میرے ملك کے لئے غرباء کے لئے رکھیں)شرعا صحیح ہے یانہیں
۳سوم: زیدکے قول(اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکواس طرح فرمان وصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومینوسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایك ہزارروپیہ برائے میری تجہیزوتکفین کے جمع رکھیں الی قولہ اورماہ بماہ مبلغ ۵۰ روپیہ موضع سالولامیرا پاڑہ کی مسجدکے اخراجات کے لئے دیاکریں)کاخلاصہ مضمون یہ ہے یانہیں کہ لکڑی کی تجارت کے نفع اورمکانات واراضی کے کرایہ سے سوامبالغ ٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے باقیماندہ مبالغ سے اتنایوں کریں اوراتنایوں کریں اعنی زیدکایہ قول متضمن استثنائے مبالغ معلومہ کوہے یانہیں
۴چہارم: وصیت ازقبیل معاملات ہے یانہیں
۵پنجم:برتقدیر زیدکے قول مذکور کے متضمن استثنائے مبالغ معلومہ اوروصیت کے ازقبیل معاملات ہونے کے جیسے کہ بقول معتبر:
لایجوزان یبیع ثمرۃ ولیستثنی منھا ارطالا معلومۃ۔ یہ جائزنہیں کہ وہ پھل فروخت کرے اوراس میں سے کچھ معین رطل مستثنی کرلے۔(ت)
بیع ثمرہ باستثنائے ارطال معلومہبوجہ احتمال عدم وجودماسوائے ارطال مستثناۃ کے جائزنہیں ایسے ہی اس کے قیام پربجامع تملیك وصیت دراہم باستثنائے دراہم معلومہ بوجہ مذکورناجائزہوگی یانہیں اوریہ امر ظاہرہے کہ بسااوقات ایساہوتا ہے کہ سواٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے مکانات واراضی وتجارت سے وصول نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔
۶ششم: زیدکی یہ وصیت متضمن مضرت ہے اوربعض شارحین مشکوۃ شریف حدیث مرفوع ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع فصل فی دخول بناء الراد فی البیع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۲€
#3443 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
المخرج فی مسندالامام احمد وجامع الترمذی و سنن ابی داؤد وابن ماجۃ ان الرجل لیعمل والمراۃ بطاعۃ اﷲ ستین سنۃ ثم یحضرھما الموت فیضار ان افی الوصیۃ فتجب لھما النار ثم قرء ابوھریرۃ من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیر مضارالآیۃ۔ جس کی تخریج مسندامام احمدجامع ترمذیسنن ابن ماجہ اور سنن ابی داؤد میں کی گئی ہے کہ بیشك کوئی مرد اور عورت ساٹھ سال تك اﷲ تعالی کی طاعت وعبادت میں مصروف عمل رہتے ہیںپھر انہیں موت آتی ہے تو وہ وصیت میں نقصان پہنچاتے ہیں چنانچہ ان کے لئے جہنم واجب ہوجاتی ہے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی:"میت کی وصیت یاقرض نکالنے کے بعد رانحالیکہ اس وصیت میں وہ نقصان پہنچانے والانہ ہو۔(ت) کی شرح میں ایسی وصیت کومکروہ لکھتے ہیں
اورصاحب درمختارکے قول لانھا حینئذ وصیۃ بالمکروہ (اس لئے کہ اب یہ وصیت ہے مکروہ کے ساتھ۔ت)جوکہ صاحب تنویرالابصار کے قول اوصی بان یطین قبرہ اویضرب علیہ قبۃ فھی باطلۃ (اگرکسی کووصیت کی کہ وہ اس کی قبرکی لپائی کرے یا اس پرگنبد بنائے تویہ وصیت باطل ہے۔ت)کے تحت ہے)وصیت مع الکراہت کابطلان ثابت ہے علامہ شامی صاحب در کے قول مذکرکے تحت لکھتے ہیں:
مقتضاہ انہ یشترط لصحۃ الوصیۃ عدم الکراھۃ و قدم اول الوصایا انھااربعۃ اقسام وانھا مکروھۃ لاھل فسوق و مقتضی ماھنابطلانھا اللھم الا ان یفرق الخ۔ اس کاتقاضایہ ہے کہ وصیت کے صحیح ہونے کے لئے عدم کراہت شرط ہے جبکہ کتاب الوصایا کے شروع میں کہاگیاہے کہ وصیت کی چارقسمیں ہیں اوریہ کہ فاسقوں کے لئے وصیت مکروہ ہے اورجوکچھ یہاں ہے اس کاتقاضااس وصیت کے بطلان کاہےاے اﷲ! مگریہ کہ فرق کیاجائے الخ(ت)
پس اس وصیت کے بطلان کی یہ تقریر صحیح ہے یانہیںبرتقدیر ثانی علامی شامی نے جوتقریر
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۳۳،€سن ابی داؤد کتاب الوصایا باب فی کراہیۃ الاقرار فی الوصیۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۴۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۴۱€
#3444 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وصیت مکروہہ لاہل فسوق کی صحت کی اللھم سے آخرتك کی ہے اس کے صحیح ہونے کی وجہ سے یاکسی اور وجہ سے۔
۷ہفتم:موصی کے وطن قدیم والی اولادنے صرف اپنے فائدہ کی وصیتوں پرعمل کیا اور اس کی ان وصیتوں پرعمل نہیں کیا:
(۱)اورمیری وصیت ان کو(یعنی وصیان مذکور)کرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہمگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ اورمطالبات و یافتنی آئندہ کی بابت کرایہ مکانات یا اراضی بنام میرے وصول کریں۔
(۲)اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکو اس طرح فرمان اوروصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبارکارخانہ لکڑی جاری رکھیںپس موصی کی وصایا میں سے بعض پرعمل نہ کرنے اوربعض پر کرنے سے کل وصایا میں کچھ خلل آئے گایا نہیں
۸ہشتم: موصی کی وصیت(اورمیں نیزمیرے وصیان مذکورکواختیاردیتاہوں کہ میرے جمیع نابالغ ورثہ کے امین اورحامی ہو رہیں الی قولہ مطابق شرع محمدی تقسیم کردیں)کی روسے وصیوں پروثہ صغار کے کل سہام کو بعینہ رکھنا لازم ہوگاان میں بلاوجہ کسی وجہ سے تصرف بیع وغیرہ کرنے کے مجازہوں گے ان سب باتوں کاجواب مفصل ومدلل رحمت فرمائیں اوراجراﷲ سے پائیں عرض ضرورہے۔
رنگون کے چندعلماء کووصیت کے بارے میں حکم بنایا گیاتھا انہوں نے اس کی صحت کاحکم دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ وصیت بالمنافع ہے اوروصیت بالمنافع جائزلہذا یہ بھی جائزہے۔اب بہ اجازت انہیں علماء کے آپ حضرت سے اس کی اپیل کی گئی ہے خوب غورفرماکر جواب باصواب سے ممنون فرمائیں۔
نقل ترجمہ وصیت نامہ اززبان انگریزی
میکہ شیخ حاجی محمدبھولو سرکارلائق ساکن نمبر۳۱ گلی شہر رنگون مالکی مکانات وکارخانہ ہائے ظاہرکرتاہوں کہ جوکچھ تحریرات سابق اس کے منجانب میری ہو سب کی سب کوخرید ومنسوخ کرکے یہ میری وصیت صحیح کے کرتاہوں اوربحالت صحت ذات نفس اور ثبات عقل اظہارکرتاہوں کہ بایں وصیت نامہ میں اپنے داماد میاں رحیم بخش اورفرزندان خودشیخ میاں عبدالعزیز لائق اورشیخ میاں عبدالغنی لائق الحال ساکنان شہر رنگون مذکورالفوق کو اورشیخ میاں عبدالواحد لائق الحال ساکن موضع سالمولا میراپاڑہ ضلع بردوان اورملامقصد صاحب تاجرلکڑی الحال شہررنگون کواپنی وصیان واسق عــــــہ بنایاہوں اورمیری یہ وصیت ان کوکرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہملگی
عــــــہ:کذا فی الاصل ۲ا ازہری غفرلہ۔
#3445 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
میری یافتنی ومطالبات موجودہ اورمطالبات ویافتنی آئندہ کے بابت کرایہ مکانات یاسکینات یااراضی بنام میرے وصول کریں اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکو اس طرح فرمان اوروصیت کرتاہوں کہ میرے بعد میری موت کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومیونسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایك ہزار روپیہ برائے میری تجہیزوتکفین جمع رکھیں اورمبلغ پانسوروپیہ میرے وطن میں غرباء کے خیرات کے لئے رکھیں اورمیرے دامادمذکور میاں رحیم بخش کومبلغ دوہزارروپیہ دیں اورمیرے برادرزادہ شیخ حاجی محمداسحاق لائق کومبلغ دوسوروپیہ دیں اور مبلغ ایك سوروپیہ بنوبی بی زوجہ برادرمرحوم خود کودیں اورنسارن بی بی زوجہ برادرمرحوم خودکومبلغ ایك سوروپیہ دیں اور دھنوبی بی کومبلغ ایك سوروپیہ دیں اورماہ بماہ مبلغ پچاس روپیہ موضع سالمولا میراپاڑہ کی مسجد کے اخراجات کے لئے دیاکریں اور میں نیز اپنے وصیان مذکورکوایك یاجملہ مکانات جوکہ قسم خودمیں معروف یعنی پانچواں درجہ لاٹ نمبر۲۱۲۲ بلال ایچ اے پر واقع ہیں اگران کافروخت کرنامناسب سمجیں اوراس زرفروختگی سے کچھ مال غیرمنقولہ میرے ورثہ کی منفعت کے لئے خرید کریں اورمیں نیز میرے وصیان مذکورکواختیار دیتاہوں کہ میرے جمیع نابالغ مذکوراپنے سن بلوغ کوپہنچیں اورجب ہرایك اپنے سن بلوغت کوپہنچ جائیں ان کے حقوق جومیری جائداد میں ہیں مطابق شرع محمدی کے تقسیم کردیں اورمیں اپنی وصیان مذکور کونیزاختیاردیتاہوں کہ بایں امرکہ میرے وطن میں ہرماہ محتاجوں اورمسکینوں کواس قدر خیرات دیاکریں کہ جوصاحبان موصوف کی نظرمیں مناسب آئیں۔لہذا ان چندکلمات کوبطورسند لکھ دیاہوں کہ عندالحاجت کام آئے۔
رنگون مؤرخہ ۱۵/ماہ مئی ۱۸۹۴ء دستخط حاجی محمدبھولوسرکاربزبان بنگلہ
ایں وصیت نامہ دستخط شدہ واعلان نمودہ واظہارکردہ شدہ بحضرات شاہدین مرقوم الذیل:
منشی مرادبخششیخ محمداسحق لعل محمدوشیخ سخاوت حسین
نقل مطا بق اصل نمودہ شد معین الدین غفرلہ
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)
جواب سوال اول: وصیت نافذہ شرعیہ اگرچہ فی نفسہ واجبہ نہ ہو اپنے حد نفاذ تك کہ ثلث مال باقی بعداداء الدین سے محدودہے واجب التسلیم ہے جس طرح وقف کہ واقف پر اس کی انشاء واجب نہیں اوربعد انشاء لازم وواجب العمل ہے بلکہ نفس وقف در کنار شرائط واقف مثل نص شارع
#3446 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
واجب الاتباع ہیں کما نصوا علیہ بشرائطہ(جس طرح فقہاء نے شرائط سے متعلق نص فرمائی ہے۔ت)ورثہ اگر وصیت کو روکیں ردکریں گنہگارہوں گے اوردوسرے کے حق پرظالم وستمگارقرآن عظیم نے ورثہ کاحق وصیت سے مؤخررکھاہے:
" من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکالنے کے بعد۔(ت)
یہی آیت ثبوت ایجاب میں بس ہے کہ ورثہ کو ان کاحق پہنچانا ضرورۃ فرض ہے اور وہ بنص قرآن تقدیم وصیت پرمحول
ومالایتأتی الواجب الابہ وجب ان یحکم بایجابہ۔ جس کے بغیر واجب حاصل نہ ہو تو اس کے ایجاب کاحکم واجب ہے۔(ت)
بالجملہ اس کی تسلیم اور اس میں ترك مزاحمت ورثہ پرقطعا واجب ہے اگرچہ تنفیذواداذمہ وصی ہو یہی حال جملہ تبرعات مالیہ کا ہے کہ مالك پرواجب نہیں اوربعدوقوع وتمامی دوسراان میں مزاحمت نہیں کرسکتالاجرم علماء نے ایجاب کونفس حقیقت وصیت میں داخل مانا اس کی تعریف ہی یوں کی:
"الوصیۃ مااوجیھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ الذی مات فیہ"کما فی نتائج الافکار عن النہایۃ عن الایضاح۔ وصیت وہ ہے جس کاایجاب موصی پنے مال میں کرے موت کے بعدیا اس بیماری میں جس میں وہ مرا۔جیساکہ نتائج الافکار میں نہایہ سے بحوالہ ایضاح منقول ہے۔(ت)
یایوں ہے:
ایجاب بعد الموت کما فی الوقایۃ والنقایۃ قلت وسیأتیك غایۃ التحقیق فانتظر۔ وہ ایجاب ہے موت کے بعدجیساکہ وقایہ اور نقایہ میں ہے۔ میں کہتاہوں اس کی انتہائی تحقیق عنقریب آرہی ہے۔ انتظار کر۔(ت)
جواب سوال دوم:صحت وصیت کوکسی خاص جزء معین کی تعیین ضروری نہیں خواہ وصیت
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۱۲€
نتائج الافکار(وھو تکملۃ فتح القدیر)بحوالہ النہایۃ کتاب الوصایا ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹ /۳۴۱€
النقایۃ مختصر الوقایۃ کتاب الوصایا ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۹۳€
#3447 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
بالمنافع ہو مثل غلہ وکرایہ خواہ بالاجزاء مثل ثلث وربع خواہ بدراہم وسکہ مثل ہزاروپانصد وصدروپیہ
کما تواترت بہ المسائل وسیأتیك ان الجھالۃ لا تمنع الوصیۃ حتی لواوصی بجزء مجہول منمالہ و لم یبین مقدار نفسہ فضلا عن تعیین مایقع فیہ صح و یکون البیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ما شئتم و ھذا کلہ واضح عند من لہ ادنی المام بالعلم۔ جیساکہ اس کے ساتھ مسائل تواتر سے واردہیں عنقریب تیرے سامنے آرہاہے کہ جہالت وصیت سے مانع نہیں یہاں تك کہ اگرکسی نے اپنے مالی میں سے مجہول جزئ کی وصیت کی خود اس کی مقدارہی بیان نہیں کی چہ جائیکہ اس کی تعین کرتا جس میں وصیت واقع ہے تویہ وصیت صحیح ہے اوراس کابیان وارثوں کے ذمہ ہوگا۔انہیں کہاجائے گا کہ جوتم چاہو اس کو دے دو۔یہ تمام واضح ہے ہراس شخص کے لئے جس کوعلم کے ساتھ معمولی سا تعلق ہے۔(ت)
یوں ہی پانسوروپیہ غربائے وطن پرخیرات کی وصیت بھی بدیہی الصحۃ محاورہ ہندہ میں غرباء فقراء کوکہتے ہیں اورفقراء شہرفلاں کے لئے وصیت جائزاگرچہ مذہب مفتی بہ میں انہیں فقراء کی تخصیص لازم نہیں ہرجگہ کے فقیروں کودے سکتے ہیں ہاں افضل انہیں کودیناہے
فی الدرالمختارفی المجتبیاوصی بثلث مالہ للکعبۃ جاز ویتصرف لفقراء الکعبۃ لاغیر وکذا للمسجد و للقدس وفی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم۔ درمختارمیں بحوالہ مجتبی ہے کسی نے کعبہ شریف کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی تو یہ وصیت جائز ہے اورمال صرف کعبہ شریف کے فقیروں پرخرچ کیاجائے گا کسی اورپر نہیں۔یہی حکم مسجداور بیت المقدس کے لئے وصیت کاہے اورفقراء کوفہ کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیرپر خرچ کرنابھی جائزہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃالافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جازوھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی و قال محمد خلاصہ میں کہاہے کہ افضل فقراء کوفہ پرہی خرچ کرناہے اگران کے غیرکو دے دیاتب بھی جائزہےیہ امام ابویوسف کا قول ہے۔اوراسی پرفتوی دیاجاتاہے۔امام محمد رحمہ اﷲ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۔۳۲۱€
#3448 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
لایجوز ۔ نے فرمایاکہ یہ جائزنہیں ہے۔(ت)
اوراگر وہاں غریب اپنے معنی اصلی یعنی مسافر ہی کے لئے بولاجاتا ہے تومسافروں کے لئے بھی وصیت صحیح ہے کہ یہ لفظ بھی حاجتمندی سے خبردیتاہے۔
قال اﷲ تعالی" انما الصدقت للفقراء والمسکین الی قولہ تعالی وابن السبیل "۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:صدقات فقیروں کے لئے اورمسکینوں کے لئے ہیںاﷲ تعالی کے قول ابن السبیل یعنی مسافرتك ۔(ت)
اوروصیت جب غیر محصورلوگوں کے لئے ہے تو اس کامناط صحت یہی دلالت حاجت ہے۔
فی الدرالمختار الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی وھو معلوم و ان کان لاینبئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والابطلت۔ درمختارمیں ہے وصیت میں اصل یہ ہے کہ جب وہ ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبر دیتاہے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگیاگرچہ اس قبیلے کے یتیم قابل شمارنہ ہوںجیساکہ گزرچکاکیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئی اور وہ معلوم ہےاوراگر وصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوتو پھرجن کے لئے وصیت کی گئی اگروہ قابل شمارہیں تو وصیت صحیح ہے اوراس کوتملیك قراردیا جائے گا اوراگروہ قابل شمارنہیں تووصیت باطل ہے۔(ت)
ہاں مستحق یہاں بھی فقرائے مسافرین ہوں گے نہ اغنیاء۔
فی وجیز الامام الکردری نوع من الفصل الثانی من کتاب الوصایا اوصی لاھل السجون اوالیتامی او الارامل اوابناء السبیل اوالغارمین اوالزمنی یعطی فقراء ھم لاغنیائھم اھ۔ قیدیوں یا یتیموں یابیواؤں یامسافروں یامفروضوں یااپاہجوں کے لئے وصیت کی توان کے فقراء کودیاجائے گا نہ کہ ان کے مالداروں کوالخاوراسی کی مثل کافی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۶€
القرآن الکریم ∞۹ /۶۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۸€
#3449 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ومثلہ فی سادس وصایا الھندیۃ عن الکافی۔ امام کردری کی وجیز میں کتاب الوصایافصل ثانی کی ایك نوع میں ہے کسی شخص نے کے حوالے سے ہندیہ کے وصایا کی فصل سادس میں ہے۔(ت)
رہی تجہیزوتکفین کے لئے وصیت وہ صرف حدمسنون وکفن متوسط تك مقبول ہے اس سے زیادہ میں باطل ونامعمولمثلا سوروپیہ میں تجہیزبقدرسنت وکفن میانہ ہوسکتی تھی اوراس کے لئے ہزار روپے کی وصیت کی تو ۹۰۰ روپیہ میں وصیت باطل ہے۔فتاوی انقریہ میں ہے:
لواوصی الرجل بان یکفن ھو بعشرۃ الاف فانہ یکفن بکفن الوسط من غیر سرف ولاتقتیرقاضی خان فیما تجوز وصیتہ من کتاب الوصایاوفی المنیۃ الوصیۃ بالاسراف فی الکفن باطلۃ۔ اگرکسی شخص نے وصیت کی کہ اسے دس ہزاردرھم کاکفن پہنایاجائے گا جس میں نہ توفضول خرچی ہوگی اورنہ کمی کی جائے گی۔یہ بات قاضی خاں کی کتاب الوصایا فیماتجوز وصیتہ میں مذکورہےاورمنیہ میں ہے کہ کفن میں اسراف کی وصیت باطل ہے۔(ت)
جواب سووال سوم:زیدکایہ قول ان کاموں کے شمارمیں ہے جو اس نے اپنے اوصیاء کوسپردکئے جس طرح ایك کام یہ بتایاکہ جملگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ وآئندہ وصول کریں۔یونہی ایك کام یہ تفویض کیاکہ کارخانہ جاری رکھیں اورمنافع سے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اسے استثناء قراردینے سے مستثنی ومستثنی منہ میں ایك جملہ اجنبیہ مستقلہ بے گانہ فاصل ہونالازم آئے گاکہ اس کے متصل یہ لفظ ہیں"ہزار روپے برائے تجہیزوتکفین جمع رکھیں"اس سے ہرگز وہ روپیہ مراد نہیں ہوسکتا جوبعد موت موصیکارخانہ جاری رہ کراس کے منافع سے آئندہ وصول ہونا متوقع سمجھاجائے کہ حاجت تجہیزوتکفین بعد موت فوری ہے نہ کہ بعد بقاء کارخانہ منافع مشکوکہ آئندہ پرمحمول وھذا ظاھر جدا(اور یہ خوب ظاہرہے۔ت)معہذا اس عبارت میں کہ"ہزار روپے تجہیزکورکھیں اور پانسو غرباء کوخیرات کے لئے اورفلاں کو دوہزاردینااور فلاں کو دوسواورفلانہ وفلانہ کو سو سوروپے دیں"اس تخصیص پرکوئی دلیل نہیں کہ یہ روپے منافع آئندہ سے دئیے جائیںوما لا دلیل علہی لامصیر الیہ(اورجس پر دلیل نہ ہو اس کی طرف رجوع نہیں ہوتا۔ت)لاجرم جملہ اولی وہی ایك کام کی سپردگی ہے اورجمل مابعد میں وصیت تکفین سے یہاں تك کوئی جملہ وصیت بالمنافع نہیں بلکہ وصیت بدراہم مرسلہ ہیں جس کا اصلی حکم یہ ہوتا ہے کہ اگر
حوالہ / References الفتاوی الانقرویۃ کتاب الوصایا دارالاشاعۃ العربیۃ ∞کوئٹہ پاکستان ۲ /۴۰۹€
#3450 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اتنے روپے بوجہ عدم تجاوز حد شرعی وصیت کے مجموع وصایا کے لئے ثلث باقی بعداداء الدین ہے تمام وکمال قابل نفاذ تو اگرفی الحال ترکہ میں موجودہیں سب ابھی دے دئیے جائیں ورنہ ان کے لائق حصہ جائداد بیچ کر اداہوں
فی ردالمحتار عن المنح عن السراجاذا اوصی بدراھم مرسلۃ ثم مات تعطی للموصی لہ لوحاضرۃ و الاتباع الترکۃ و یعطی منھا تلك الدراھم۔ ردالمحتارمیں منح سے بحوالہ سراج منقول ہے کہ جب کسی نے مطلق درھموں کی وصیت کی پھرمرگیا تو وہ درھم اس شخص کو دئیے جائیں گے جس کے لئے وصیت کی گئی ہے اگر درھم حاضرہیں ورنہ ترکہ بیچ کر اس میں سے وہ درہم دئیے جائیں گے۔(ت)
مگریہاں وصیت ثلث درکنار جمیع مال کے دوچند سے بھی متجاوز ہے کہ تنہا مسجدکے لئے ماہوار کی وصیت کل مال کی وصیت تو وہی ہوگئیباقی تین ہزارروپے کی وصایائے مذکورہ معینہ علاوہ رہیں
فی الہندیۃ اوصی بان ینفق علی فلان خمسۃ کل شھر ماعاش وعلی فلان وفلان عشرۃ کل شھر ماعاشا و اجازت الورثۃ یقسم المال بین الموصی لہ بخمسۃ و الموصی لھما بعشرۃ نصفین فیوقف نصف المال علی صاحب الخمسۃ والنصف علی صاحبی العشرۃ لان الموصی لہ بالخمسۃ موصی لہ بجمیع المال وصیۃ واحدۃ و الموصی لھما بجمیع المال وصیۃ واحدۃ فکانہ اوصی لھذا بجمیع المال ولھما بجمیع المال فیقسم المال بینھم نصفین عندالکل وان لم تجز الورثۃ یقسم الثلث نصفین عندالکل کذا فی المحیط اھ مختصرا۔ ہندیہ میں ہے کسی شخص نے وصیت کی کہ فلاں شخص پر جب تك وہ زندہ رہے پانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اورفلاں اور فلاں شخص پرجب تك وہ دونوں زندہ رہیں دس درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اوروارثوں نے اس کی اجازت دے دی تومال اس شخص کے درمیان جس کے لئے پانچ درہم کی وصیت کی گئی اوران دونوں کے درمیان جن کے لئے دس درہموں کی وصیت کی گئی نصف نصف تقسیم کیاجائے گاچنانچہ نصف مال پانچ درہم والے کے لئے اور نصف دس درہم والوں کے موقوف رکھاجائے گااس لئے کہ جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی اس کے لئے تمام مال کے ساتھ ایك وصیت کی گئی اورجن دوکے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی ان کے لئے بھی تمام مال کے ساتھ ایك وصیت کی گئی گویا کہ موصی نے اس کے لئے تمام
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۳۱€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۹€
#3451 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مال کی وصیت کی اوران دونوں کے لئے بھی تمام مال کی وصیت کی۔لہذا تمام ائمہ کے نزدیك ان کے درمیان مال نصف نصف تقسیم ہوگا۔ اوراگروارثوں نے اجازت نہ دی توتمام ائمہ کے نزدیك تہائی مال ان کے درمیان نصف نصف تقسیم کیاجائے گا۔محیط میں یونہی ہے اھ (اختصار) (ت)
صرف تین ہزاراس لئے کہ تجہیزوتکفین توحاجات اصلیہ سے ہے اوردین مہربھی مقدم تو ان کے وصایا کے مرتبے میں یہی تین ہزاررہے۔
فی العقود الدریۃسئلت عن رجل اوصی بالف یخرج منھا تجھیزہ وکتفینہ والباقی منھا لعمل میراث و اوصی بخمسمائۃ لزیدوبمثلھا لعمارۃ مسجد کذا و بمثلہ لعمارۃ مسجد کذا ایضا ولہ مملوك قیمتہ خمسمائۃ ایضا اعتقہ منجزافی مرض موتہ واوصی لہ بالف و خمسمائۃ وخمسین وبلغ ثلث ترکتہ ثلثۃ الاف وثمان مائۃ وبلغت نفقۃ تجھیزہ ثلثمائۃ فکیف تقسم فاجبت کلفۃ التجھیز الشرعی من اصل المال فکانہ استثناھا من الالف فیکون الباقی من الالف لعمل المیراث سبعمائۃ وتصیر جملۃ الوصیۃ اربعۃ الاف و مائتین وخمسین وقد ضاق الثلث العقودالدریہ میں ہے مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس نے ہزاردرھم کی وصیت کی کہ اس میں سے اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے اورباقی نیك کاموں پرخرچ کیاجائے اوراسی نے زیدکے لئے پانچسودرہم اورفلاں مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ سودرہم اورمزید فلاں مسجد کی تعمیرکے لئے بھی پانچ سودرہم کی وصیت کی۔اوراس کاایك غلام تھا اس کی قیمت بھی پانچسودرہم تھی جس کو اس نے اپنی مرض موت میں بطور تنجیزآزاد کردیا اوراس کے لئے ایك ہزارپانچ سو پچاس درہم کی وصیت کیاوراس کے ترکہ کاتہائی حصہ تین ہزارآٹھ سوتك پہنچااوراس کی تجہیزوتکفین کاخرچ تین سو تك پہنچا تواب اس کی وصیت کیسے تقسیم کی جائے گی میں نے اس کاجواب دیا شرعی تجہیزوتکفین کاخرچ اصل مال سے ہوگا گویا اس نے ہزارمیں سے اس کومستثنی کیاہے تو اس طرح نیك کاموں پرخرچ کرنے کے لئے ہزار میں سے سات سودرہم باقی بچےاور اس کی وصیت کا مجموعہ چارہزار دوسوپچاس ہواجوترکہ کے تہائی حصہ میں سے نہیں نکل سکتا۔چنانچہ وصیت صرف مال
#3452 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
عنھا فینفذ الثلث فقط الخ۔ کے تہائی حصہ میں نافذکی جائے گی فقط(ت)
پھرسب میں پچھلی وصیت ہے کہ وصیان مذکور ہرماہ محتاجوں کواس قدرخیرات دیاکریں جونظرمیں مناسب آئے دوبارہ کل مال کی وصیت ہے کہ اس کی تعیین مقدارمیں اگرچہ اوصیاء کواختیار دیاہے اوریہ اختیارصحیح اورایسی وصیت جائز ہے۔
کما اذا اوصی بجزء اوسھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم کما فی الدر المختار وعامۃ الاسفار وفی ردالمحتار عن التبیین لانہ مجھول یتناول القلیل والکثیر والوصیۃ لاتمتنع بالجھالۃ و الورثۃ قائمون مقام الموصی فکان الیھم بیانہ اھ قلت فالوصی المفوض الیہ بنص الموصی اولی بذلك کمالایخفی۔ جیسے کسی شخص نے اپنے مال میں سے ایك جزیا ایك سہم کی وصیت کی تواس کابیان وارثوں کے ذمے ہوگا انہیں کہاجائے گاکہ جوکچھ رقم تم چاہو اس کودے دوجیساکہ درمختاراورعام کتابوں میں ہے۔ردالمحتارمیں تبیین کے حوالے سے منقول ہے کیونکہ وہ مجہول ہے قلیل وکثیر دونوں کوشامل ہے اور وصیت بسبب جہالت کے ممنوع نہیں ہوتی اوروارث موصی کے قائم مقام ہوتے ہیں لہذا اس کابیان انہیں کوسونپاجائے گا الخ میں کہتاہوں کہ وہ وصی اس کازیادہ حقدارہے جس کے سپرد معاملہ موصی کی نص سے ہواہے جیساکہ پوشیدہ نہیں (ت)
مگریہ کوئی مقدار تجویزکریں آخرکچھ نہ کچھ ماہوارکی وصیت ہوگی اوروہ بلاتفرقہ کثیروقلیل مطلقا جمیع مال کی وصیت ہے
کما علمت انفا عن العلمگیریۃ وفیھا ایضا عن المبسوط لواوصی بان ینفق علیہ خمسۃ دراھم کل شھرمن مالہ فانہ یحبس جمیع الثلث لینفق علیہ منہ کل جیساکہ عالمگیریہ کے حوالہ سے ابھی ابھی توجان چکا ہےاسی میں بحوالہ مبسوط ہے کہ اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے فلاں پرپانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں تواس کے ترکہ کا ایك تہائی حصہ پورا روك لیاجائے گاتاکہ اس میں سے موصی
حوالہ / References العقودالدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الوصایا ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۱€۱
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۴€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۹€
#3453 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
شھر خمسۃ کمااوجبہ الموصی و یستوی ان امربان ینفق علیہ فی کل شھرمنہ درھما اوعشرۃ دراھم اھ والسرفیہ ان الوصیۃ بشیئ للفقراء کل شھر مؤبدۃ لانھایۃ الی اخر الدھر والغلال بمعرض الزوال و معتور التبدل بالتکثر والتقلل فلایدری متی تفنی و متی تحصل ومتی تقل والی ماتصل فوجب ابقاء جمیع الثلث مصونا لھا قال فی الھندیۃ متصلا بما مر قبلہ اوصی بعشرین درھما من غلتہ کل سنۃ لرجل فاغل سنۃ قلیلا وسنۃ کثیر فلہ ثلث الغلۃ کل سنۃ یحبس وینفق علہ کل سنۃ من ذلك عشرون درھما ما عاش ھکذا اوجبہ الموصی وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین فلھذا یحبس ثلث الغلۃ علی حقہ اھ قلت واطلقوہ فشمل کی وصیت کے مطابق ہرمہینے پانچ درہم خرچ کئے جائیں اوراس میں حکم برابرہوگا اگروہ ایك درھم یا دس درھم ماہانہ خرچ کرنے کاحکم دے الخ اس میں رازیہ ہے کہ فقیروں کے لئے ماہانہ کچھ خرچ کرنے کی وصیت دائمی ہوتی ہے اورآخرتك اس کی انتہانہیں ہوتی جبکہ محاصل معرض زوال میں ہوتے ہیں اور ان میں زیادتی اورکمی کے ساتھ تغیروتبدل ہوتا رہتا ہے معلوم نہیں کب تك ختم ہوجائیں اور کب حاصل ہوں اورکب ختم ہوجائیں اور وہ کب کہاں تك پہنچے۔لہذاپورے تہائی کو وصیت کے لئے محفوظ رکھناواجب ہے۔ہندیہ میں مذکورہ بالا عبارت سے ماقبل قریب ہی کہاہے کہ کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے لئے اپنی جائداد کی پیداوار میں سے بیس درہم سالانہ کی وصیت کی اورچونکہ پیداوارکسی سال تھوڑی اورکسی سال زیادہ ہوتی ہے لہذا اس کے لئے ہرسال پیداوار کاتہائی حصہ روك رکھاجائے گا اورسالانہ اس پر جس کے لئے وصیت کی گئی ہے بیس درہم خرچ کئے جاتے رہیں گے جب تك وہ زندہ ہے۔اسی طرح موصی نے ایجاب کیاہے۔ اوربسااوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی اسی لئے اس شخص کے حق میں جس کے لئے وصیت کی گئی پیداوار کاتہائی حصہ روك رکھاجاتاہے الخ میں کہتاہوں انہوں نے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع فی الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲€۸
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع فی الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۸€
#3454 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ما اغل مما کثراوقل مع ان الوصیۃ محدودۃ بسنین معدودۃ قدر ماعسی ان یعیش الموصی لہ فکیف بجھۃ لا انقطاع لھا۔ اس کو مطلق رکھاکہ یہ شامل ہے جب تك پیداوار حاصل ہوتی ہے گی چاہے وہ پیداوار کثیرہو یاقلیل باوجودیکہ وصیت چند معدود سالوں کی حد تك محدود ہے یعنی جب تك وہ شخص زندہ رہے گا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے توپھر یہ وصیت ایسی جہت سے کیسے ہوئی جس کے لئے انقطاع نہیں۔(ت)
توحاصل یہ ٹھہراکہ زیدنے اپنے کل مال کی وصیت اس مسجد کے لئے کی اورنیزکل کی وصیت فقرأ کوماہوار کے لئے اوران کے علاوہ پانسوروپے مطلقا فقراء یاخاص فقراء مسافرین کواوردینے کہے اور ڈھائی ہزار ان اشخاص معلومین کووصیۃ دئیے جملہ اموال وصایا دوبار جمیع مال اورتین ہزار روپے ہوئے پر ظاہر کہ کل مال بھی ان وصایا کے نصف کی بھی گنجائش نہیں رکھتا تواب اس کے دریافت کی حاجت ہوگی کہ ان میں کون کون وصیت کس کس حد پر نفاذپائے گی کتنا کتنا ہروصیت میں دیاجائے گا کون سی وصیت بوجہ ازحجیت تقدیم پائے گی کونسی مرجوح ٹھہرکرتاخیرکردی جائے گی اس کاحساب صحیح بتانے کے لئے یہ جانناضرورکہ کل مال بعد تجہیز وتکفین مسنون وادائے دیون کی مقدار کس قدرہے میت نے ترکہ میں زرنقد کتناچھوڑا جائداد منقولہ وغیر منقولہ متروکہ خالصہ یعنی بعد تجہیزوتکفین وقضائے دیون کی قیمت بازار کے بھاؤ سے کیاہے وارثوں میں بالغ کتنے ہیں ان میں کون کون کس کس وصیت کو کس حدتك جائزرکھتاکون کون اجازت نہیں دیتاہے ان امور سے سوال میں کچھ مذکورنہیں نہ سائل نے اس بحث سے استفسارکیالہذا ہم بھی مطوی وملتوی رکھیں اگر دریافت منظورہو امورمسطورہ بتفصیل تام بتاکر سوال کیاجاسکتاہے۔
جواب سوال چہارم: تقسیم عبادات ومعاملات میں عبادات سے مطلقا حقوق اﷲ مراد ہوتے ہیں خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے ارکان اربعہ یاقربات محضہ جیسے عتق ووقف حتی کہ نکاح بھی خواہ عبادت یاقربت مع معنی عقوبت جیسے کفارات اورمعاملات حقوق العباد ہیں مثل بیع واجارہ وہبہ واعارہ وغیرہ اوریہاں نظرمقصود اصل کی طرف ہے اصل مقصود تقرب الی اﷲ ہے تو عبادت ہے یامصالح عباد تومعاملہ
فاجتماعھما کما فی النکاح لایقدح فی التقسیم وقدتکفل ببیان کل ذلك فی ردالمحتار صدر ان دونوں کااجتماع جیساکہ نکاح میں ہے تقسیم میں مانع نہیںتحقیق اس تمام کے بیان کی ردالمحتار میں کتاب البیوع کے آغاز پرکفالت
#3455 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کتاب البیوع۔ کی گئی ہے(ت)
پھروصیت دوقسم ہےایك تملیك مثلا زید یاعمرویاابنائے فلاں وغیرہم معین ومحصور اشخاص کے لئے یہ صورت اغنیاء وفقراء سب کے لئے ہوسکتی ہےصورت اولی معاملات سے ہے مثل ہبہ اورثانیہ عبادات سے مثل صدقہدوسری قربت بلاتملیك مثل وصیت بوقف وعتق ودیگر اعمال پھروصیت برائے ارباب حاجت غیرمحصورین بوجہ عدم انحصار تملیك نہیں ہوسکتی یہ صرف قربت وازقبیل عبادات ہے۔
یرشدك الی ھذا ماقدمنا عن الدر من الاصل فی الوصیۃ الخ وفی الھندیۃ عن المحیط عن فتاوی الامام ابی اللیث فیما لواوصی بثلث مالہ لاعمال البر ان کل مالیس فیہ تملیك فھو من اعمال البرحتی یجوز صرفہ الی عمارۃ المسجد وسراجہ دون تزیینہ الخ ومسائل الباب اکثر من ان تحصی۔ اقول: وبہ ظھران ماذکر فی عامۃ الکتب فی حد الوصیۃ انھا تملیك مضاف الی مابعد الموت علی وجہ التبرع فھو تحدید لہ باعتبار احدنوعیہ والحد الجامع ما قدمنا عن النتائج عن النھایۃ عن اس کی طرف تیری رہنمائی کرتی ہے وہ بات جو درکے حوالے سے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی وصیت میں اصل یہ ہے الخ اورہندیہ میں بحوالہ فتاوی امام ابواللیث محیط سے منقول ہے اس صورت کے بارے میں کہ اگرکسی نے نیك کاموں کے لئے اپنے مال کے تہائی کی وصیت کی یہ کہ جس میں تملیك نہ ہو وہ نیك کاموں میں سے ہے یہاں تك کہ اسے مسجد کی تعمیر اورچراغ کے لئے خرچ کرنا جائزہے نہ کہ اس کی زیب و زینت کے لئے الخ اس باب کے مسائل شمار سے زائدہیں۔میں کہتا ہوں اوراس سے ظاہرہوگیا وہ جوعام کتابوں میں وصیت کی حد یعنی تعریف کے بارے میں مذکور ہے کہ بے شك وصیت ایسی تملیك ہے جوموت کے مابعد کی طرف بطور تبرع منسوب ہوتی ہےیہ وصیت کی تعریف اس کی دو نوعوں میں سے ایك کے اعتبارسے ہوئی اورجامع تعریف وہ ہے جسے ہم نتائج سے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۷€
#3456 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الایضاحوالاولی مااسلفنا عن الوقایۃ والنقایۃ لعدم تقییدہ بالمال فیعم ما اذا اوصی بان یدفن فی مقبرۃ کذا بثوب فلان الزاھد فقد قال فی الخلاصۃ و البزازیۃ والشرنبلالیۃ وردالمحتار وغیرھا یراعی شرائطہ ان لم یلزم مؤنۃ الحمل فی الترکۃ اھ قلت و المراد بالموت مایعم الحکمی وھو مرض الموت و الاولی التصریح بہ لکن ھذا لابد من تخصیصہ بالمال فان الایجابات الغیر المالیۃ کامرہ اجیرہ او ابنہ ان اسقنی اواخذ منی لاتعد وصیۃ وان کانت فی مرض الموت بخلاف المضاف الی مابعدہ کما لایخفی فاذن احق مایقال فی حدھا ایجاب مضاف الی مابعد الموت او الی منجزفی مرض الموت فاحفظہ۔واﷲ التوفیق۔ بحوالہ نہایہ بحوالہ ایضاح پہلے نقل کرچکے ہیںاور اولی تعریف وہ ہے جسے ہم بحوالہ وقایہ ونقایہ پہلے ذکرکرچکے کیونکہ اس میں مال کی قیدنہیں لگائی گئی۔لہذا وہ شامل ہوگئی اس صورت کوکہ جب کسی نے وصیت کی کہ اس کوفلاں قبرستان میں فلاں زاہد کے کپڑوں میں دفن کیاجائے۔ خلاصہ بزازیہشرنبلالیہ اورردالمحتار وغیرہ میں کہاہے وصیت کی شرائط کا لحاظ کیاجائے گا اگرترکہ میں باربرداری کاخرچہ لازم نہ آئے الخ۔میں کہتاہوں موت سے مراد وہ ہے جوموت حکمی کوشامل ہے اوروہ مرض الموت ہےاوراس کی تصریح کرنا اولی ہےلیکن اس میں مال کی تخصیص ضروری ہے اس لئے کہ ایجابات غیرمالیہ جیسے کسی شخص کا اپنے اجیریا بیٹے کو حکم دینا کہ مجھے پانی لاکرپلاؤ یامیری خدمت کرو۔ان کاشمار وصیت میں نہیں ہوتا اگرچہ یہ مرض الموت میں ہوں بخلاف اس کے کہ وہ موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوجیساکہ پوشیدہ ہیں۔تو اس صورت میں وصیت کی تعریف یوں کرنا اولی وانسب ہے کہ وہ ایساایجاب ہے جوموت کے مابعد کی منسوب ہویااس کی طرف منسوب ہو جس کی تنجیزمرض الموت میں کی گئی ہے۔اس کو محفوظ کرلے۔اوراﷲ ہی کی طرف سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔(ت)
بالجملہ مطلق وصیت نہ عبادات سے ہے نہ معاملات سے بلکہ دونوں میں داخل دونوں کوشامل۔
حوالہ / References الفتاوی البزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۴۰€
#3457 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
جواب سوال پنجم: وجہ مذکورسے وصیت پرکوئی اثرعدم جواز کانہیں پڑسکتا اس وجہ کی نہ بناصحیح ہے نہ مبنی درستنہ وصیت کابیع پر قیاس مقبول۔
اولا جواب سوال سوم میں معلوم ہولیا کہ یہاں سرے سے استثناء ہی نہیں۔ثانیا ہو بھی توقول صحیح ومعتمد ظاہرالروایۃ یہی ہے کہ ارطال معلومہ کااستثناء بیع میں بھی روا۔ہدایہ میں بعد عبارت مذکورہ سوال ہے:
لان الباقی بعدالاستناء مجھول قال رضی اﷲ تعالی عنہ قالوا ھذا روایۃ الحسن وھو قول الطحطاوی اما علی ظاھرالروایۃ ینبغی ان یجوز لان الاصل ان ما یجوزا یرادالعقد علیہ بانفرادہ یجوز استثناہ من العقد وبیع فقیرمن صبرۃ جائزفکذا استثنائہ بخلاف استثناء الحمل واطراف الحیوان لانہ لا یجوز بیعہ فکذا استثناءہ اھ باختصار۔ کیونکہ استثناء کے بعد باقی مجہول ہے۔مصنف رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہاعلماء نے کہاہے کہ یہ روایت امام حسن کی ہے اور وہی طحاوی کاقول ہے۔لیکن ظاہرالروایۃ پر اس کوجائز ہونا چاہئے اس لئے کہ ضابطہ یہ ہے جس شیئ پربطور انفراد عقدکا واردہونا جائزہو عقد سے اس کااستثناء بھی جائزہوتاہے۔ڈھیر میں سے ایك بوری کی بیع جائزہے تواسی طرح اس کااستثناء بھی جائزہوگا بخلاف حمل اورجانورکے اجزاء کےکیونکہ ان کی بیع جائزنہیںاسی طرح ان کااستثناء بھی جائزنہیں اھ (اختصار) (ت)
تنویرالابصارمیں ہے:
ماجاز ایراد العقد علیہ بانفرادہ صح استثناؤہ منہ فصح استثناء ارطال معلومۃ من بیع ثمر نخلۃ۔ جس پربطورانفراد عقدکاواردکرنا جائزہے اسکا استثناء بھی عقد سے جائزہے۔چنانچہ درخت کے پھل کی بیع سے معین رطلوں کااستثناء صحیح ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۲و۳۳€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹€
#3458 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
لصحۃ ایراد العقد علیھا ولوالثمر علی رؤس النخل علی الظاھر ۔ کیونکہ اس پرعقد کووارد کرنا صحیح ہے اگرچہ ظاہرروایت کے مطابق جوپھل درختوں کے اوپرہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ(علی ظاھر)متعلق بقولہ فصح ومقابل ظاھرالروایۃ الحسن عن الامام انہ لایجوز واختارہ والطحاوی والقدوری لان الباقی بعدالاستثناء مجہول۔ ماتن کاقول"علی ظاھر"اس کے قول"فصح"سے متعلق ہے اور ظاہر الروایت کے مقابلے میں حسن کاقول ہے جوامام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے منقول ہے کہ یہ استثناء جائزنہیں ہے۔ اسی کواختیارکیاہے امام طحاوی اورقدوری نےکیونکہ استثناء کے بعد جوبچتاہے وہ مجہول ہے۔(ت)
ثالثا بیع میں عدم جوازہی معتمدسہی تواس کادائرہ بہت تنگ ہے اوروصیت کاباب نہایت وسیع۔ابھی سن چکے کہ بیع حمل ناجائزہے اوروصیت بالحمل قطعا روا۔
فی الدرصحت للحمل وبہ کقولہ اوصیت بحمل جاریتی اودابتی ھذہ لفلان۔ درمیں ہے کہ حمل کے لئے وصیت اورحمل کے ساتھ وصیت صحیح ہے جیسے موصی کایوں کہناکہ میں نے اپنی اس لونڈی یا اس جانور کے حمل کی فلاں شخص کے لئے وصیت کی۔(ت)
بیع شروط فاسدہ سے فاسد ہوتی ہے اوروصیت پران کاکچھ اثرنہیںولہذا بیع کنیز سے استثناء حمل روانہیں اوروصیت سے صحیح۔
فی الہدایۃ اشتری جاریۃ الاحملھا فالبیع فاسد لانہ بمنزلۃ اطرف الحیوان لاتصالہ بہ خلقۃ وبیع الاصل یتناولھا فالاستثناء ہدایہ میں ہے کسی شخص نے لونڈی خریدی مگراس کا حمل نہ خریدا توبیع فاسدہے کیونکہ حمل حیوان کے اعضاء کی مثل ہے اس لئے کہ حمل خلقی طورپرحیوان کے ساتھ متصل ہے اور اصل کی بیع اس کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۱€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۸€
#3459 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یکون علی خلاف الموجب فیصیر شرطا فاسد اوالبیع یبطل بہ والھبۃ والصدقۃ والنکاح لاتبطل بل یبطل الاستثناء وکذا الوصیۃ لاتبطل لکن یصح الاستثناء لان الوصیۃ اخت المیراث والمیراث یجری فیما فی البطن اھ ملخصا۔ شامل ہےتویہ استثناء موجب کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرط فاسد ہوا اوربیع شرط فاسد کے ساتھ باطل ہوجاتی ہے۔ ہبہصدقہ اور نکاح باطل نہیں ہوتے بلکہ استثناء باطل ہو جاتا ہے۔یونہی وصیت باطل نہیں ہوتی لیکن اس میں استثناء صحیح ہوتاہے اس لئے کہ وصیت میراث کی بہن ہے اور میراث اس میں جاری ہوجاتی ہے جوپیٹ میں ہے اھ (تلخیص)(ت)
جہالت بیع میں مفسد ہے اور وصیت کومضرنہیں کماقدمنا عن الشامی عن الزیلعی(جیساکہ ہم شامی سے بحوالہ زیلعی پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت)اوربیع میں استثنائے ارطال معلومہ سے روایت فساد کی علت یہی جہالت تھی کما سمعت عن الھدایۃ وردالمحتار ومثلہ فی الفتح وغیرہ(جیساکہ توہدایہ اورردالمحتارسے سن چکاہے اوراسی کی مثل فتح وغیرہ میں ہے۔ت) تو وصیت کااس پرقیاس کھلامع الفارق ہے۔
رابعا علت منع یہی سہی کہ شاید اتنے ہی رطل پیداہوں تویہ بھی وصیت میں اصلا خلل اندازنہیں
کما اسلفنا عن الھندیۃ عن المحیط من قولہ وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین۔ جیساکہ ہم ہندیہ سے بحوالہ محیط اس کایہ قول ذکرکرچکے ہیں کہ بسا اوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔(ت)
خامسا: وقت محاصل وغلہ قری وبساتین وغیرہا کی صحت وصیت میں شبہ نہیں کتب فقہ میں اس کے لئے باب جداگانہ موضوع اور شك نہیں کہ ان اشیاء پرجومحصول جانب سلطنت سے معین ہوتاہے وہ عرفا معلوم الادا ومعہودالاستثناء ہے والمعھود عرفا کالمشروط لفظا(جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ اس کی مثل ہوتاہے جو لفظ کے اعتبارسے مشروط ہو۔ت) توجو استثناء بے ذکرکئے خودہی مذکورہے اس کی تصریح کیامفسد ہوسکتی ہے وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۶€۳
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۸€
#3460 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
جواب سوال ششم: بطلان وصیت کے لئے تقریرمذکوراصلا صحیح نہیںاوپرگزراکہ وصیت دوقسم ہے:تملیك وقربت۔ وانا اقول وباﷲ التوفیق(اورمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ ہی کی ہے۔ت)کراہت منافی تملیك ہرگزنہیں ہوسکتی
الاتری ان البیوع الفاسدۃ محرمۃ وتفید الملك فاذا جامع الملك الحرمۃ فمابالك بالکراھۃ۔ کیاتونہیں دیکھتاکہ بیوع فاسدہ حرام ہیں اورملك کافائدہ دیتی ہیں۔جب ملك حرمت کے ساتھ جمع ہوگیا توکراہت کے ساتھ جمع ہونے میں تیراکیاخیال ہے۔(ت)
اورمنافی قربت بھی صرف اس صورت میں ہے کہ شیئ فی نفسہ مکروہ ہو اوریہ جبھی ہوگا کہ وہ اصلا نوع قربت سے نہ ہو
فان الندب والکراھۃ متنافیان لایسوغ اجتماعھما من جھۃ واحدۃ۔ کیونکہ ندب اورکراہت آپس میں متنافی ہیں لہذا ایك ہی جہت سے ان کا اجتماع جائزنہیں(ت)
بخلاف کراہت عارضی کہ زنہارمنافی قربت نہیں ہزارجگہ ہوتاہے کہ شیئ فی نفسہ قربت ہو اوراسے خارج سے کراہت عارض جیسے آستین چڑھائے ہوئے نمازپڑھناعلماء نے کراہت ومعصیت سے بطلان وصیت پرصرف دوصورت خاصہ میں استثناء کیا ہے جہاں تملیك نہیں اورفعل فی نفسہ مکروہ ہےحاصل استدلال یہ کہ یہاں تملیك نہ ہونا تو ظاہراوراس ظہور ہی کے باع یہ مقدمہ مطوی فرما جاتے ہیںرہی قربت وہ یوں نہیں ہوسکتی کہ فعل خودمکروہ ہے اورایسا مکروہ قربت نہیں ہوسکتا تو دونوں نوع وصیت منتفی ہوئیں اوربطلان لازم آیا
فان انتفاء الاقسام باسرھا قاض بانتفاء المقسم راسا۔ تمام اقسام کامنتفی ہونا مقسم کے منتفی ہونے کاتقاضا کرتا ہے۔(ت)
بخلاف دوصورت باقی اعنی صورت تملیك وصورت قربت ذاتی وکراہت عارضی کہ ان میں ہرگزکراہت سے بطلان پرحجت نہیں پاتے بلکہ صراحۃ صحت وصیت ارشاد فرماتے ہیں تینوں صورتوں کے شواہدلیجئے:
صورت اولی:کی دو۲مثالیں یہی ضرب قبہ وتطیین قبرہیں یعنی جب بہ نیت تزیین ہوکہ اپنی قبرکو مزین کرانا فی نفسہ نوع قربت سے نہیں بخلاف اس صورت کے کہ بقائے نشان مقصود ہوکہ یہ فعل شارع صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے معہود۔
#3461 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کما فعل بقبر عثمن بن مظعون رضی اﷲ تعالی عنہ و وضع حجرا لیتعرف بھا قبرہ ویدفن الیہ من مات من اھلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما اخرجہ ابوداؤد فی سننہ بسند جید۔ جیساکہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ تعالی عنہ کی قبرپرپتھرنصب فرمایا تاکہ اس پتھر کے سبب قبر کی پہچان رہے اورحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان مبارك سے وصال فرمانے والے افراد کو اس قبرکے قریب دفن کیاجائےجیساکہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں جید سند کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے۔(ت)
اس سے نفع وانتفاع میت زائرین حاصل یہ مقصدمحمود ہے اور ہرمقصد محمودقربات میں معدود۔درمختارمیں زیرعبارت مذکورہ سوال ہے:
قدمنا فی الکراھیۃ انہ لایکرہ تطیین القبور فی المختار الخ زادفیھا وفی الجنائزعن السراجیۃ لاباس بالکتابۃ ان احتج الیھا حتی لایذھب الاثر و لایمتھن ۔ ہم باب الکراہیۃ میں ذکرکرچکے ہیں کہ قول مختارمیں قبروں کی لپائی مکروہ نہیں الخ اسی کے باب الجنائز میں بحوالہ سراجیہ یہ اضافہ کیاکہ قبرپرلکھنے کی اگرضرورت ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں تاکہ س کانشان نہ مٹے اوراس کی توہین نہ کی جائے۔(ت)
خانیہ میں ہے:
اوصی بعمارۃ قبرہ للتزیین فھی باطلۃ۔ زینت کے لئے قبر پرعمارت کی وصیت کی تو یہ وصیت باطل ہے۔(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب فی جمع الموتی فی قبروالقبریعلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۱€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳€۰
الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۔۱۲۵،€الفتاوی السراجیۃ کتاب الجنائز باب الدفن ∞مطبع نولکشورلکھنؤ ۲€۴
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مایکون وصیۃ ∞مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۳۶€
#3462 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اذا اوصی بان یطین قبرہ اویوضع علی قبرہ قبۃ فالوصیۃ باطلۃ الا ان یکون فی موضع یحتاج الی التطیین بخوف سبع اونحوہ سئل ابوالقاسم عن من دفع الی ابنتہ خمسین درھما فی مرضہ وقال ان مت فاعمری قبری وخمسۃ دراھم لك واشتری بالباقی حنطۃ وتصدقی بھا قال الخمسۃ لہا لاتجوز وینظرالی القبر الذی امر بعمارتہ فان کان یحتاج الی العمارۃ للتحصین لاللزینۃ عمرت بقدر ذلك والباقی تتصدق بہ علی الفقراء وان کان امر بعمارۃ فضلت علی الحاجۃ الذی لابدمنھا فوصیۃ باطلۃ ۔ کسی نے وصیت کی کہ اس کی قبرکی لپائی کی جائے اوراس پر گنبدبنایاجائے تووصیت باطل ہوگی۔مگریہ کہ وہ ایسی جگہ ہو جہاں اس کی ضرورت ہے تومکروہ نہیں۔مثلا وہاں کسی درندے وغیرہ کا خوف ہو۔ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے اپنی بیٹی کو بیماری کی حالت میں پچاس درہم دے کرکہا اگرمیں مرجاؤں تو میری قبرتعمیرکرانا اورپانچ درھم تیرے ہیں باقی سے گندم خریدکر اسے صدقہ کردینا۔ابوالقاسم نے کہاکہ بیٹی کے لئے پانچ درہموں کی وصیت جائزنہیں۔اورقبرکودیکھاجائے گااگروہاں قبرکی حفاظت کے لئے عمارت کی محتاجی ہے توبقدرحاجت وہ تعمیر کرائے لیکن زینت کے لئے جائزنہیں اورجوباقی بچے وہ فقراء پر صدقہ کردے۔اگرموصی نے قدرحاجت سے زائد عمارت کا حکم دیاتو اس کی وصیت باطل ہوگی۔(ت)
بزازیہ میں ہے:
عمارۃ القبران لتحصین یجوز وان لتزیین فالوصیۃ ایضا باطلۃ ویصرف الکل الی الفقراء۔ قبر کی عمارت اگرحفاظت کے لئے ہے تو وصیت جائزہے اور اگرزیبائش کے لئے ہے تو ناجائزوباطل ہے۔لہذا وہ سب مال فقراء پرخرچ کیاجائے گا۔(ت)
مثال سوم:وصیت کی کہ اسے ٹاٹ کاکفن دیں اورگلے میں طوق پاؤں میں بیڑیاں ڈال کردفن کریں یہ امرنامشروع کی وصیت ہے مقبول نہ ہوگی اوربطورمشروع دفن کریں گے۔
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۶€
فتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۹€
#3463 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی ان یدفن فی مسح کان اشتراہ ویغل و یقید رجلہ فھذہ وصیۃ بمالیس بمشروع فبطلت ویکفن بکفن مثلہ ویدفن کما یدفن سائر الناس۔ ہندیہ میں بحوالہ محیط منقول ہے جب کسی نے وصیت کی کہ اسے ٹاٹ میں کفن دیاجائے جو اس نے خریدا ہے اوراس کو طوق پہنایاجائے وراس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی جائیں تو چونکہ یہ شرعی طورپرناجائزکام کی وصیت ہے لہذا باطل ہوگی اس کوکفن مثلی دیاجائے گا اوردیگرلوگوں کی طرح دفن کیا جائے گا۔(ت)
مثال چہارم:وصیت کی کہ مجھے میرے گھرمیں دفن کریں باطل ہے کہ یہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص اورامت کے حق میں نامشروع ہےخلاصہ وبزازیہ وتاتارخانیہ وہندیہ وغیرہ میں ہے:
واللفظ للثالثۃ اوصی بان یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الا ان یوصی ان یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین ۔ لفظ تیسری کتاب یعنی تاتارخانیہ کے ہیں۔اگر کسی نے وصیت کی اس کو اپنے گھرمیں دفن کیاجائے تو وہ وصیت باطل ہوگی سوائے اس کے وہ یوں کرے کہ اس کے گھر کو مسلمانوں کے لئے قبرستان بنادیاجائے۔(ت)
صورت ثانیہ: یعنی وصیت تملیك باوصف کراہت صحیح ہے اس کی ایك سند وہی ہے جو سوال میں بحوالہئ شامی مسطورکہ فساق کے لئے وصیت مکروہ ہے اورباوجودکراہت صحیح سنددوم۔ وجیزامام کردری میں ہے:
الثانی معصیۃ مطلقا کالوصیۃ للنائحۃ والمغنی ان لم یکن یحصون لایصح وان لقوم باعیانھم صح ۔ دوسری مطلقا گناہ ہے جیسے نوحہ کرنے والی عورت اورگویے کے لئے وصیت۔اگروہ قابل شمار نہ ہوئے توصحیح نہیں اور معین قوم کے لئے توصحیح ہے۔(ت)
تبیین الحقائق پھرردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۶۔۹€۵
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹€۵
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۶€
#3464 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الوصیۃ انما صحت باعتبار التملیك لھم ۔ یہ وصیت تومحض ان کے لئے تملیك کے اعتبارسے صحیح ہے۔(ت)
یہ کیسے نصوص صریحہ ہیں کہ وصایائے تملیك اگرچہ معصیت ہوں صحیحہ ہیں۔سند سوم کافرحربی کے لئے وصیت باوصف ممانعت صحیح ونافذ ہے۔
مطلقا علی ما اختارہ الائمۃ الجلۃ طاھر بن عبد الرشید البخاری و الامام السغناقی اول شراح الھدایۃ والامام النسفی صاحب الکنز والوافی و الامام حافظ الدین البزازی اوبشرط الاستیمان علی مامشی علیہ فی الغرر الدرر والتنویر والدر و اجعلہ فی الخانیۃ اجماعا وفی المقام تحقیق انیق اتینابہ فیما علقنا علی ردالمحتار لولاغرابۃ المقام لاسعفنابہ۔ بغیر کسی طرط کے جیساکہ بزرگ ائمہ کرام یعنی طاہرین عبد الرشیدبخاریہدایہ کے شارح اول امام سغناقیکنزو وافی کے مصنف امام نسفی اورامام حافظ الدین برازی نے اختیارکیا یامستامن ہونے کی شرط کے ساتھ جیساکہ غرردررتنویر اوردرمیں اس کو اپنایاہے۔اس مقام پر نہایت عمدہ تحقیق ہے جس کو ہم نے رد المحتار پراپنی تعلیق میں ذکرکیاہے۔ اگر مقام کی اجنبیت نہ ہوتی تو ہم اس کو یہاں ذکرکرتے۔(ت)
خلاصہ ونہایہ وکافی ووجیزمیں ہے:
واللفظ للاولالوصیۃ لاھل الحرب باطلۃوفی السیر الکبیر مایدل علی الجواز والتوفیق بینھما انہ لاینبغی ان یفعل ولوفعل یثبت الملک۔ اورلفظ پہلی کتاب کے ہیں کہ اہل حرب کے لئے وصیت باطل ہے اورسیرکبیرکی عبارت جواز پردلالت کرتی ہے۔ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اہل حرب کے لئے وصیت نہ کرنی چاہئے لیکن اگرکردے توملك ثابت ہوجائے گا۔(ت)
صورت ثالثہ:یعنی وصیت قربت صحیح ہے اگرچہ نظر بخارج کراہت ہواس کے دلائل وہ تمام مسائل ہیں جن میں قربت کے لئے ثلث سے زائد وصیت کوصحیح مانا اورورثہ اجازت دیں توپوری مقدار
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الوصایا باب وصیۃ الذمی المطبعۃ الکبری ∞بولاق مصر ۶ /۲۰€۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا جنس آخرفی الفاظ الوصیۃ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۳۰
#3465 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
میں نافذجاناپرظاہرکہ ہنگام قیام ورثہ مثلا کل مال کی وصیت ممنوع ہے وہی بعض شراح مشکوۃ اعنی علامہ ابن فرشتہ اسی حدیث کے نیچے اسی قول میں فرماتے ہیں:
فیضاران الوصیۃ ای یوصلان الضرر الی الوار بسبب الوصیۃ للاجنبی باکثر من الثلث الخ۔ وہ دونوں وصیت میں ضرر پہنچائیں یعنی اجنبی کے حق میں تہائی سے زائد کی وصیت کرکے وارث کونقصان پہنچائیں الخ(ت)
جلالین میں زیرآیت ہے:
(اواثما)بان تعمد ذلك بالزیادۃ علی الثلث او تخصیص غنی مثلا۔ (یاگناہ کیا)بایں صورت کہ تہائی سے زائد کا قصد کیایاغنی کو وصیت کے ساتھ مختص کیا(ت)
مگر ازانجاکہ فعل فی نفسہ قربت اورمنع بوجہ عارضی یعنی تعلق حق ورثہ ہے باطل نہ ہوئی ورنہ اجازت ورثہ سے بھی نافذنہ ہوسکتی۔
فان الباطل لاوجود لہ والمعدوم لاینفذ بالتنفیذ۔ کیونکہ باطل کاکوئی وجودنہیں ہوتااورمعدوم کسی کے نافذ کرنے سے نافذنہیں ہوتا(ت)
میں ایں وآن سے استدلال کرتاہوں قرآن عظیم دلیل اکبرہے کہ وصیت باوصف ظلم ومعصیت صحیح ومعتبرہے۔
قال اﷲ عزوجل " فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینہم فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیم﴿۱۸۲﴾ "۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا)جوکسی کی وصیت میں ظلم یاگناہ پراطلاع پائے پس ورثہ اورموصی لہم میں صلح کرادے تواس پر گناہ نہیں بے شك اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
وصیت بحال کراہت اگرباطل ہوتی توباطل پر صلح کے کیامعنی تھے اوروہ موصی لہم کیوں قرارپاتے۔معالم میں ہے:
قال الاخرون انہ اراد بہ انہ دوسروں نے کہا اس سے مرادیہ ہے کہ جب
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح بحوالہ ابن الملك باب الوصایا الفصل الثانی ∞تحت حدیث ۳۰۷۵ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶ /۲۵€۷
تفسیرجلالین تحت آیت ∞۲ /۱۸۲€ اصح المطابع الدھلی النصف الاول ∞ص۲۶€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۲€
#3466 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اذا اخطأ المیت فی وصیتہ اوجار معتمدا فلاحرج علی ولیہ او وصیہ او والی امورالمسلمین ان یصلح بعد موتہ بین ورثتہ وبین الموصی لھم ویرد الوصیۃ الی العدل والحق۔ میت نے وصیت میں خطا کی یاجان بوجھ کر ظلم کیا تو ولی یاوصی یامسلمانوں کے امورکے والی کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ موصی کی موت کے بعد اس کے وارثوں اوروصیت والوں کے درمیان صلح کرادیں اوروصیت کوعدل وحق کی طرف لوٹادیں۔(ت)
ثم اقول وباﷲ التوفیق(پھرمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)سراس میں یہ ہے کہ شرع مطہرکسی حرکت لغو وبے معنی کومشروع ومقررنہیں فرماتی تمام عقود وافعال ومعاملات کی صحت فائدے پراعتماد رکھتی ہے فائدہ خواہ دوسرے کاہو اگرچہ محض دنیوی خواہ اپنااگرچہ صرف اخروی اور جوعبث محض ہے ہرگزصحیح نہیں ولہذا ایك روپیہ اسی کے مثل وہمسردوسرے روپے کے بدلے بیچنا یامکان کے مساوی شرکائے مشاع کا اپناحصہ دوسرے کے حصے سے بدلنا یاکسی کی سکونت کو سکونت کے عوض اجارہ میں دیناصحیح نہ ہوا۔درمختارمیں ہے:
خرج بمفید مالایفید فلایصح بیع درھم بدرھم استویا وزنا وصفۃ ولامقایضۃ احدالشریکین حصۃ دارہ بحصۃ الاخر(صیرفیہ)ولااجارۃ السکنی بالسکنی اشباہ ۔ مفید کی قید سے غیرمفید نکل گئی چنانچہ وزن وصفت میں برابر ایك درہم کی دوسرے درہم کے بدلے بیع صحیح نہیں اورنہ ہی ایك مکان کے دوبرابر شریکوں میں سے ایك کا دوسرے سے اپنے حصے کاتبادلہ صحیح ہے(صیرفیہ)اور سکونت کے بدلے سکونت کواجارہ پردیناصحیح نہیں(اشباہ)۔(ت)
خصوصا وہ عقود جوبرخلاف قیاس بنظرحاجات ناس مشروع ہوئے وہ توحاجت پرہی اعتماد کیاچاہیںولہذا نا قابل سواری بچھڑے کاسواری کے لئے اجارہ جائزنہ ہواکہ قیاس جوازاصل اجارہ کانافی اورداعی جوازیعنی حاجتبوجہ عدم قابلیت یہاں منتفی۔
فی الفتح من باب العنین لم یجز استئجارالحجش للحمل فتح کے باب العنین میں ہے سواری کی صلاحیت نہ رکھنے والے بچھیرے کوسواری اورباربرداری
حوالہ / References معالم التنزیل علی ھامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ∞۲ /۱۸۲€ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۵۰€
الدرالمختار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲€
#3467 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
والرکوب۔ کے لئے کرائے پرلینا جائزنہیں(ت)
وصیت بھی انہیں عقودمجوزہ للحاجہ سے ہے۔
فی الہدایۃ القیاس یابی جوازھا لانہ تملیك مضاف الی حال زوال مالکیتہ ولو اضیف الی حال قیامھا بان قیل ملکتك غدا کان باطلا فھذا اولی الا اناستحسناہ لحاجۃ الناس الیھا الخ۔ ہدایہ میں ہے قیاس تواس کے جوازسے مانع ہے کیونکہ وصیت ایسی تملیك ہے جوموصی کی مالکیت کے حال زوال کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اگراس کی نسبت اس حالت کی طرف کی جائے جب مالکیت قائم ہوتی ہے یعنی یوں کہاجائے میں نے تجھے آئندہ کل اسی کامالك کردیاتو یہ باطل ہوگی۔چنانچہ بطلان مالکیت والی حالت میں اس کا بطلان بدرجہ اولی ہوگا مگرہم نے بطوراستحسان اس کو جائزقراردیاکیونکہ لوگوں کواس کی حاجت ہے الخ(ت)
توبے فائدہ محض اس کی تشریع معقول نہیں حالت تملیك وافعال قربت میں حصول فائدہ ظاہر اورمعصیت عارضہ غایت یہ کہ مثل بیع وقت اذان جمعہ یانماز عصروقت زردی فرض کردے منافی صحت نہیں ہوسکتی بخلاف اس صورت کے کہ نہ تملیك نہ سرے سے قربتایسی ہی جگہ کہاجائے گاکہ وصیت امرمکروہ ونامشروع کی ہےلہذا صحیح نہیں کہ موجب صحت یعنی حاجت معدوم ہے معہذا ہم اوپرواضح کرآئے کہ وصیت ایجاب ہے اورایجاب لحق وغیرہ ہو جیسے تملیك میں یا لحق نفسہ جیسے قربات میں جہاں کوئی نفع نہیں ایجاب کیوں ہونے لگا۔
فی الہندیۃ عن المحیط لواوصی بان یباع عبدہ ولم یسم المشتری لایجوز الا ان یقول وتصدقوا بثمنہ اویقول بیعوہ نسیۃ ویحط الی الثلث عن المشتری الخ وفیھا عن المبسوط اوصی بعبدہ ان یباع ولم یزد علی ہندیہ میں محیط سے منقول ہے اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کاغلام بیچ دیاجائے اورخریدارکومتعین نہیں کیا توجائزنہیں مگر یہ کہ یوں کہے کہ اس کی قیمت کو صدقہ کردو یاکہے کہ اس کو ادھار پربیچ دو اورمشتری سے تہائی تك قیمت کم کردے الخ اور اسی میں بحوالہ مبسوط ہے کسی نے اپنے غلام کے
حوالہ / References فتح القدیر باب العنین ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳€۵
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۰€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۶€
#3468 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ذلك واوصی بان یباع بقیمتہ فہو باطل لانہ لیس فی ھذہ الوصیۃ معنی القربۃ لیجب تنفیذھا لحق الموصی ۔ بارے میں وصیت کی کہ اسے بیچ دیاجائے ور اس سے زائد کچھ نہ کہایا وصیت کی کہ غلام کو اس کی قیمت کے ساتھ بیچ دیاجائے تویہ باطل ہے اس لئے کہ اس وصیت میں قربت کامعنی موجودنہیں تاکہ موصی کے حق کے لئے اس کونافذ کرناواجب ہوتا۔(ت)
بحمداﷲ اس تحقیق انیق نے کوئی دقیقہ تدقیق فروگزاشت نہ کیا۔علامہ شامی کاکلام مذکوربھی بطرف خفی اسی تقریر منیرکی طرف مشیر۔
حیث قال اللھم الا ان یفرق بان الوصیۃ اما صلۃ اوقربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت بخلاف الوصیۃ لفاسق فانھا صلۃ لھا مطالب من العباد فصحت وان لم تکن قربۃ کالوصیۃ لغنی لانھا مباحۃ ولیست قربۃ الخ۔ جہاں شامی نے کہا اے اﷲ! مگریہ کہ یوں فرق کیاجائے کہ بیشك وصیت یاتوصلہ ہوتی ہے یاقربت حالانکہ یہ ان دونوں میں سے نہیں ہے چنانچہ باطل ہوجائے گی بخلاف اس وصیت کے جوفاسق کے لئے ہو اس لیے کہ وہ صلہ ہے اوربندوں میں سے کوئی اس کامطالبہ کرنے والاموجودہے چنانچہ وہ صحیح ہوگی اگرچہ وہ قربت نہیں جیسے غنی کے لئے وصیتکیونکہ وہ مباح ہے اور قربت نہیں ہے الخ(ت)۔
اب مانحن فیہ کودیکھئے تواس میں وصایائے تملیك ہیں یاوصایائے قربت کوئی وصیت ایسی نہیں جوفی نفسہ ان دونوں سے خالی ہو تو وجہ مذکورسے اس کے بطلان پراستدلال باطل وعاطل ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(ایسے ہی تحقیق چاہئے اوراﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے۔ت)
جواب سوال ہفتم:اوصیاء کابعض وصایا بجانہ لانا وصیت میں کیاخلل ڈال سکتاہے تنفیذوصیت حق موصی لہ یاصرف حق موصی ہے اوروہ ان کے گناہ سے بری۔
قال اﷲ تعالی" فمن بدلہ بعدما سمعہ فانما اثمہ علی الذین اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:توجووصیت کوسن سناکربدل دے اس کاگناہ انہیں بدلنے
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور۶ /۱۱۳€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۴۱€
#3469 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یبدلونہ ان اللہ سمیع علیم﴿۱۸۱﴾" ۔ والوں پرہے بے شك اﷲ سنتاجانتاہے(ت)
جواب سوال ہشتم:ہاں بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون وانفاذ وصایا جوسہام ورثہ نا بالغین کوپہنچیں گے وصی بلاوجہ شرعی ان کی بیع وتبدیل اورکسی فعل مخالف حفظ کامجازنہیں کہ وصی محافظ ہے نہ متلف ولہذا ان کی جائداد منقولہ کوبیچ سکتاہے کہ س کی بیع ازقبیل حفظ ہے جبکہ یتیم کا اس میں ضرر نہ ہو اورغیرمنقولہ کوہرگزنہیں بیچ سکتامگرچندصوراستثناء میں۔
فی الہندیۃللوصی ان یبیع کل شیئ الترکۃ من المتاع و العروض والعقاراذا کانت الورثۃ صغارا اما بیع ما سوی العقار فلان ماسوی العقار یحتاج الی الحفظ و عسی ان یکون حفظ الثمن ایسر وبیع العقار ایضا فی جواب الکتابقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ ماقال فی الکتاب قول السلف کذا فی فتاوی قاضی خانوجواب المتاخرین انہ انما یجوز بیع عقار الصغیر اذاکان علی المیت دین ولاوفاء لہ الامن ثمن العقار اویکون للصغیر حاجۃ الی ثمن العقار او یرغب المشتری فی شراءہ بضعف القیمۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الکافی اھوفی الدر ہندیہ میں ہے وصی کو اختیارہے کہ وہ ترکہ کی ہرشیئ کو فروخت کرے چاہے وہ اسباب وسامان کے قبیلہ سے ہویاغیر منقول جائداد جبکہ ورثاء نابالغ ہوں۔غیرمنقولہ جائداد کے ما سوا کی بیع تواس لئے جائزہے کہ اس کی حفاظت کی خاطر اس کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ ثمنوں کی حفاظت زیادہ آسان ہو اورکتاب کے حکم کے مطابق غیرمنقول جائداد کی بیع بھی جائز ہے۔شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نے کہاکہ کتاب میں جو کہاہے وہ اسلاف کاقول ہےیونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ اورمتأخرین نے اس کا حکم یہ بیان کیاہے کہ نابالغ کی غیر منقول جائدادکو فروخت کرنا صرف اس صورت میں جائزہے جب میت پر اس قدرقرض ہوکہ وہ اس جائداد کی قیمت کے بغیر پورانہیں ہوتا یانابالغ کواس جائداد کی قیمت کی محتاجی ہویا خریداراس جائدادکودگنی قیمت پرخریدنے کی رغبت رکھتاہے فتوی اسی پرہے جیساکہ کافی میں ہے الخدرمیں ہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۱€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۴۴€
#3470 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
جازبیعہ عقار صغیر من اجنبی لامن نفسہ بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ اولکونہ غلاتہ لاتزید علی مؤنتہ او خوف خرابہ اونقصانہ اوکونہ فی ید متغلب درر واشباہ ملخصا قلت وھذا لو البائع وصیا لامن قبل ام اواخ فانھما لایملکان بیع العقار مطلقا الخ و فی الشامیۃ عن الرملی عن الخانیۃ فی مسئلۃ بیع المنقول لنسیئۃ ان کان یتضرربہ الیتیم بان کان الاجل فاحشا لایجوزا اھ واﷲ تعالی اعلم۔ نابالغ کی غیرمنقول جائدادکواجنبی کے ہاتھ دگنی قیمت پربیچنا جائزہے وصی خود نہیں خریدسکتا۔یونہی نابالغ کے نفقہ یامیت کے قرض کی ادائیگی یاایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچنا جائز ہے جس وصیت کانفاذ اس جائیداد کو بیچے بغیر نہیں ہو سکتا یا اس جائداد کی پیداوار اس کے اخراجات سے زیادہ نہیں یا اس جائداد کے خراب ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابر کے قبضہ میں چلے جانے کاخوف ہوتوبھی بیع جائزہےدرر واشباہ (تلخیص)اوریہ تب ہے کہ بائع ماں کی طرف سے یابھائی کی طرف سے وصی نہ ہوکیونکہ یہ دونوں غیرمنقول جائداد کوبیچنے کامطلقا اختیارنہیں رکھتے الخ اورشامیہ میں بحوالہ خانیہ رملی سے منقول ہے کہ منقول جائداد کی ادھارپربیع اگریتیم کے لئے نقصان دہ ہوبایں صورت کہ ادھار کی مدت بہت زیادہ ہو توجائزنہیں الخ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
_________________
رسالہ
الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیۃ(۱۳۱۷ھ)
ختم ہوا
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۳€
#3471 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۳۶: ۱۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ مرسلہ حافظ محمودحسین صاحب تلمیذومریدگنگوہی صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مہاجرہ ہندی مدنی نے کہ اس کی جائداد ہندوستان میں واقع ہے اس طرح وصیت کی تھی کہ میری جائداد کامنافع ایك ثلث یہاں مدینہ منورہ علی صاحبہا افضل التسلیم والتحیۃ بھیج دیاجایاکرےاورصورت یہ ہے کہ ہندوستان میں اس کے بعض اقارب قریبہ بلکہ ذی رحم محرم حاجتمند ومفلس موجود ہیں کہ اس درجہ قریب رشتہ دارمدینہ منورہ میں موصیہ کے نہیں ہیںپس اس صورت میں اگر اس کی وصیت کاروپیہ یہاں ہندوستان میں اس کے اقربائے قریبہ حاجتمند ومفلس کودیاجائے تو وصیت اداہوگی یانہیں اورکیاافضل ہے مدینہ منورہ بھیجنایا یہاں قریب ذی رحم حاجتمند ومفلس کودینا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جہاں کے فقراء کودیں گے وصیت اداہوجائے گی کچھ خاص مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری نہیں ہرجگہ کے فقراء کودیناجائز ہے۔خلاصہ پھرشرنبلالیہ پھردرمختارمیں ہے:
لواوصی لفقراء بلخ فاعطی غیرھم جاز عند ابی یوسف وعلیہ الفتوی۔ اگر کسی نے وصیت کی بلخ کے فقیروں کے لئے۔اور وصی نے ان کے غیر کودے دیا توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك جائزہےاوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
شرح القدوری للزاہدی میں ہے:
فی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم ۔ کوفہ کے فقیروں کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیر کودیناجائزہے(ت)
قاضی خان پھرہندیہ میں ہے:
رجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء قال الشیخ الامام ابونصر رحمہ اﷲ کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے کچھ حاجی فقراء پرصدقہ کیاجائے توکیا ان کے غیرپرصدقہ کرناجائز ہے شیخ امام ابونصرعلیہ الرحمہ نے کہاکہ جائزہے کیونکہ امام ابویوسف
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۵€
الدرالمختار بحوالہ المجتبٰی کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲€
#3472 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تعالی یجوز ذلك لما روی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فی رجل اوصی بان یتصدق علی فقراء مکۃ قال یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء۔ علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جس نے فقراء مکہ پرصدقہ کرنے کی وصیت کیامام ابویوسف نے فرمایا کہ ان کے علاوہ دوسرے فقراء پرصدقہ کرنا جائزہے۔(ت)
ہاں افضل یہی ہے کہ مدینہ منورہ بھیجیں اتباعا للوصیۃ وخروجا عن الخلاف(وصیت کی اتباع کے لئے اوراختلاف سے نکلنے کے لئے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃالافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جاز وھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی وقال محمد لایجوز اھ قلت والاول موافق لقولھم فی النذر بالغاء تعیین الزمان والمکان والدرھم والفقیر۔ واﷲ تعالی اعلم عــــــہ ۔ خلاصہ میں کہا افضل یہی ہے کہ انہی پرخرچ کیاجائے اور اگران کے غیرکو دے دیاتو جائزہےیہی امام ابویوسف علیہ الرحمہ کاقول ہے اوراسی کے ساتھ فتوی دیاجاتاہے۔امام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ جائزنہیں الخ۔میں کہتاہوں پہلا قول مشائخ کے اس قول کے موافق ہے جونذرمیں زمان مکاندرھم اورفقیر کی تعیین کولغوقراردینے سے متعلق ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۷: ۱۱/جمادی الاولی ۱۳۱۹ ھ ازانجمن اسلامیہ بریلی
چندسوال متعلقہ انتظام یتیم خانہ مسلمانان پیش کئے جاتے ہیں بموجب شرع شریف جواب مرحمت ہوں خدااس کااجرعطا فرمائے
پہلاسوال:بعض لوگ میت وغیرہ کے استعمال کپڑے ایسے بھیج دیتے ہیں جوایتام کے جسم پر درست نہیں آتے یاان کے استعمال کے لائق نہیں ہوتےپس نادرست کوبعد قطع برید درست کراکے ایتام کے استعمال میں لانا اورناقابل استعمال کوفروخت کرکے یتیموں کی پرورش میں صرف کرناکیساہے
دوسراسوال:بعض لوگ کلام مجید جدید وغیرمستعمل متعدد اوربعض میت کے تلاوت کایتیم خانے
عــــــہ:الجواب اس عورت کی وصیت پر عمل واجب ہےاور وہ ثلث مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری ہے گوہندوستان کے فقراء اس جگہ کے فقرأ سے زیادہ ضرورت مند ہوں۔بندہ رشیداحمدگنگوہی عفی عنہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفہ ∞مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۴۳€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۶€
#3473 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
میں عطاکرتے ہیں اوران کی تعداد یتیموں کی تعداد سے زیادہ ہوجاتی ہے دینے والے بعض یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ضرورت سے زیادہ ہوں ہدیہ کرکے قیمت پرورش ایتام میں صرف کی جائے مگربعض بدون کسی بیان کے بھیج دیتے ہیں پس قسم آخرکو درحالیکہ ضرورت سے زیادہ ہوں ہدیہ کرکے قیمت کوایتام کے مصارف میں لاسکتے ہیں اورنیزیہ ہی قسم کسی غیرایتام کو تلاوت کے واسطہ دے سکتے ہیں یانہیں
تیسراسوال:یتیم خانہ میں بعض لوگ میت کے استعمال کاپلنگ نواڑوغیرہ کاجویتیموں کی معمولی چارپائیوں سے بہت زیادہ قیمتی اورعمدہ ہوتاہے بدون کسی بیان کے بھیج دیتے ہیں اگر وہ بعض ایتام کے کام میں لایاجائے تو دوسروں کی دلشکنی ہوتی ہے لہذا اس کو فروخت کرکے قیمت دیگرمصارف ایتام میں دی جائے یاقیمت سے معمولی چارپائیاں یتیموں کے واسطے بنوادی جائیں توکیساہے
چوتھاسوال:جوچندہ کہ یتیموں کے مصارف کے لئے آتاہے اسی سے یتیم لڑکوں کی رسم ختنہ اور یتیمات کی رسم نکاح کی جاتی ہے پس نکاح میں جو براتی دولہا کی طرف سے آتے ہیں ان کوکھاناکھلانا زرمذکورہ سے کیساہے
الجواب:
مصحف شریفکپڑےپلنگ وغیرہ جوکچھ لوگ یتیموں کوبھیجتے ہیں ظاہرہے کہ اس سے مقصود تصدق ہوتاہے اورتصدق تملیك ہے۔
وھبۃ المشاع فیمالایقسم صحیحۃ وقبض من یعولھم یکفی عن قبضھم کمانصواعلیہ وجماعۃ المسلمین حیث لاولایۃ ولاقضاۃ من الاسلام کالقضاۃ فی النظر للایتام وامثال ذلك من المھام کما صرحوا بہ فی غیر مامقام۔ ناقابل تقسیم شیئ کاغیرمنقسم طورپرہبہ صحیح ہےاوریتیموں کے کفیلوں کاقبضہ ان کی طرف سے کافی ہے جیساکہ اس پر مشائخ نے نص فرمائیجہاں یتیموں کے ولی اورقاضی اسلام موجودنہ ہوں تووہاں یتیموں کی دیکھ بھال اوراس قسم کے دیگر اہم امورکے لئے مسلمانوں کی جماعت قاضیوں کے قائم مقام ہوتی ہے جیساکہ مشائخ نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی۔(ت)
توجماعت مسلمین کوکہ اس کام پرمعین ہیں رواہے کہ کپڑے قطع برید کرکے مصارف یتامی میں لائیں یاناقبل استعمال ملبوس اور پلنگ اورحاجت سے زائد مصاحف شریفہ ہدیہ وبیع کرکے زرثمن کاریتامی میں خرچ کریں مگرمال یتیماں دوسرے کو عاریۃ نہیں دے سکتے اگرچہ تلاوت کے لئے قرآن مجید فانہ تبرع ولاولایۃ فی التبرع(کیونکہ یہ تبرع ہے اورتبرع میں ولایت نہیں ہوتی۔ت)
#3474 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
زرچندہ سے یتیموں کاختنہ کرسکتے ہیں اوربرایتوں کومعمولی کھانادینابھی جائز بشرطیکہ سراف نہ ہو صرف بقدرکفایت ہو۔
فی ردالمحتار عن القنیۃ لایضمن ماانفق فی المصاھرات بین الیتیم والیتیمۃ وغیرھما فی خلع الخاطب اوالخطیبۃ وفی الفضیافات المعتادۃ والھدایا المعھودۃ وفی اتخاذ ضیافۃ لختنۃ للاقارب والجیران مالم یسرف فیہ اھ مختصرا۔واﷲ اعلم۔ ردالمحتارمیں بحوالہ قنیہ منقول ہے یتیم لڑکے اوریتیم لڑکی وغیرہ کی شادی کے موقع پر دولہا اوردلہن کے جوڑوںعادت کے مطابق دعوتوںعرف کے مطابق تحائف اورختنہ کے موقع پرعزیز واقارب اورپڑوسیوں کی دعوت میں جوکچھ خرچ کیاجائے اس پرتاوان لازم نہیں آتا جب تك اس میں فضول خرچی نہ کی جائے اھ مختصرا۔(ت)
مسئلہ ۱۳۸: ۲۷/جمادی الاولی ۱۳۲۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنامکان ودکان اپنی زوجہ کے نام بیع کردیاتھا زوجہ نے انتقال کیا۔زید کے تین بچے نابالغ اپنی ماں کے وارث ہیں۔اب زیدکے پاس کچھ نہیں کہ اس سے اپنا اوران نابالغوں کاکھانا پینا چلے۔زیدنیك چلن ہے مال برباد کرنے والانہیں وہ نیك نیتی سے چاہتاہے کہ اپنااوراپنے نابالغ بچوں کاحصہ بیچ کرتجارت کرے جس سے ان سب کارزق پیداہو۔اس صورت میں زید ان حصوں کے بیچنے کااختیاررکھتاہے یانہیںبینواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں اگرزیدنیك چلن ہے اولاد کامال برباد کرنے کااس پراندیشہ نہیں اوربیع مناسب اورمعقول قیمت کو ہوتو اسے ان حصوں کے بیچنے کااختیارہےعقودالدریہ میں فصول عمادی سے ہے:
الحاصل ان بیع الاب عقار الصغیر بمثل القیمۃ یجوز اذاکان محمودا اومستورا اواذاکان مفسدا خلاصہ یہ کہ باپ کانابالغ کی غیر منقولہ جائداد کومثلی قیمت کے ساتھ فروخت کرنا جائزہے جبکہ وہ نیك چلن یاپوشیدہ حال والاہواوراگر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۶۳€
#3475 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
لایجوز الابضعف القیمۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ وہ بدچلن اورفسادی ہے توپھرسوائے دگنی قیمت کے اسے فروخت کرناجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۹( ا): ۳۰جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدکفایت اﷲ کی دوزوجہزوجہ اولی نجم النساء کے بطن سے حافظ عبدالحقاحسان الحق دوپسراورعجائب النسائلطیف النساءحبیب النساءجمیل النساء چاردختر سب بالغاورزجہ ثانیہ حمید النساء عرف ننھی کے بطن سے فضل حقضیاء الحقریاض الحق تین پسر اوراحمدی بیگم ایك دخترسب نابالغاورننھی کی ایك دختر بالغہ کریم النساء ہے جسے دیر ورثہ نطفہ حاجی کفایت اﷲ سے نہیں بناتے بلکہ ربیبہ کہتے ہیں حمیدالنساء حیات شوہر میں انتقال کرگئی حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض الموت میں بشمول نجم النساء ایك وصیت نامہ سات امرپرمشتمل لکھا۔اول ظاہرکیاہے کہ جائداد مندرجہ وصیت نامہ ہردوکاتبان کی ہے ابتداء کام نقدی وجائداد وکاتبہ نمبر۲ سے شروع ہوااور اضافہ وترقی ہوتی رہی اور وہ جز حصہ ہشتمی زوجیت و دین مہرکاتبہ کاجائداد مصرحہ تحت میں شامل ہے جائدادونقدی ایسی مخلوطہ ہے جس کو علیحدہ دکھانا بلاضرورت ہے خاص کرجب ہردوکاتبان کا منشا دلی یہ ہے کہ جائداد مصرحہ تحت تمام اولاد مصرحہ ذیل پرحسب شرع شریف بلااستثناء کسی جز کے تقسیم ہوجائے اورکسی اولاد کے ساتھ کوئی خاص رعایت نہ دکھائی جائے توایسی حالت میں جائداد تمام اولاد پرحسب شرع شریف تقسیم مطابق وصیت نامہ ہذاہوگی۔کاتب نمبر۱ نے تیاری تحریری وصیت نامہ ہذاکی کی تھی کاتبہ نمبر۲ نے بھی کاتب نمبر۱ سے خواہش کی کہ کاتب نمبر۱ کی جائداد عین کاتبہ نمبر۲ کی جائداد کی ہے تمام اولاد پربذریعہ وصیت نامہ ہذامنتقل ہوہردوکاتبان نے اپنی خوشی سے وصیت نامہ ہذاتمام اولاد مندرجہ تحت کے نام تحریر کیاکہ جائداد بحیثیت موجودہ بعد ہمارے ہم لوگوں کے قبضہ میں رہے اورہماری اولاد کوپوری واقفیت ہوجائے کہ کون جزجائداد کا ان کی ملکیت میں رہے گا۔
دوم:حاجی کفایت اﷲ نے کچھ دیہات ودکان ومکان اپنی تندرستی میں احسان الحق وفضل الحق وکریمن کے نام کردئیے تھے اس وصیت میں وہ بھی شامل کئے اورلکھاوصیت نامہ کی یہ بھی ضرورت ہوئی کہ اکثر جائداد فرضی بعض اولاد کے نام تھی اس کی بابت احتمال تھا کہ کوئی تحریر نہ ہو تو وہ اولاد تنہااپنی
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۲۳€
#3476 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ملکیت سمجھے۔
سوم:تحریرکیاجاتاہے کہ کاتب نمبر۱ کی زوجہ ثانی حمیدالنساء کامہرایك سوپندرہ روپے کا تھا وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیا۔
چہارم:نابالغان مذکورین پر ولایت کایہ انتظام لکھاولی جائداد حافظ عبدالحق واحسان الحق نابالغان کے رہیں گے ولی ذات نابالغان اﷲ جلائی والدہ کاتب وصاحب النساء ہمشیرہ کاتب رہیں گی ان کی سرپرستی ونگرانی وحفاظت میں ان کے ساتھ نابالغ رہیں گے ولی جائداد آمدنی نابالغان سے(۸۰لہ)روپیہ ماہوارسپردہردوولی ذات بنام پرورش نابالغان کرے گا عقدوتعلیم حسب رائے ہردو ولی ذات ہوگی۔
پنجم:کچھ جائداد حاجی کفایت اﷲ نے مصارف خیر کے لئے بحال تندرستی پہلے وقف کی تھی اس کی تفصیل بھی اسی وصیت نامہ میں بغرض یادگار درج کی اورایك بنگلہ نمبری ۱۶۷ قیمتی دس ہزارروپے جدید وقف اس وصیت نامہ میں کیاہے ہے مقدارثلث متروکہ سے بدرجہاکم ہے اوریہ سب اوقاف تمام ورثہ کوتسلیم ہیں۔
ششم:تمام اولاد مذکورین گیارہ اشخاس کے نام جداجدا بتفصیل جائداد غیرمنقولہ لکھی ان میں کریم النساء کا نام بھی ہرجگہ بزمرئہ اولادلکھااوراس کے لئے بھی دیگر دختروں کے برابرحصہ جداگانہ مشخص کیااگرچہ مکان اورایك دکان کہ اول سے اس کے نام تھی وہ بھی شامل حصہ کی جس طرح ایك موضع کہ احسان الحق اورایك موضع ایك مکان کہ فضل حق کے نام اول سے تھے ان کے حصص میں داخل کئے اورلکھاکہ ہم لوگوں نے اپنی تمام اولادکویکجاکرکے وصیت نامہ ہذالکھا اورجوجائداد اولاد کے نام درج ہے ان کی رضا سے تحریرہوئی کوئی کمی بیشی جائداد میں نہیں نیزلکھاجس جائداد کے محاذمیں جس وارث اولادکانام ہے وہ اس جائداد کامالك ہوگا۔عنوان فہرست تقسیم میں لکھا جوجائداد غیرمنقولہ اولادکے قبضے میں آئے گی وہ ہراولاد کے نام کے مقابل درج کی جاتی ہے جس کو تمام اولادبالغ وولی نابالغان نے بقدر حصہ شرعی حساب لگاکر قبول ومنظورکیا ہے۔
ہفتم:حاجی کفایت اﷲ نے اپنی والدہ اﷲ جلائی کوجائداد سے کچھ نہ دیا مگرآخرمیں اتنالکھاہے کہ کاتب نمبر۱ عرصہ سے(لعہ عہ/)ماہواری اپنی والدہ اوران کی دخترصاحب النساء کے اخراجات کے واسطے دیتارہاہے میری خواہش تمام اولاد ذکور واناث سے ہے کہ مثل میرے مبلغان مذکورہ اپنی جائداد کی آمدنی سے ذکور دو ہرحصہ اناث اکہراجملہ(ہہ/)کے رقم والدہ وصاحب النساء کو تاان کی حیات
#3477 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
دیتے رہیں۔۹/دسمبر۲ء کویہ وصیت نامہ تحریرہوا اور۱۳/دسمبر۲ء کوحاجی کفایت اﷲ موصی نے وفات پائی رجسٹری اس کی بعد موت موصی ۱۸/دسمبر کومعرفت حافظ عبدالحق پسرکلاں کے ہوئی بعد فوت موصی والدہ موصی اﷲ جلائی اپنے حصہ شرعی سدس کی طالب ہوئی نجم النساء اوراس کی اولاد بطنی نے باستناد وصیت نامہ حصہ دینے سے انکارکیا ۲۷/مئی ۳ء کو اﷲ جلائی نے نجم النساء وجملہ اولادیازدہ گانہ کومدعاعلیہ بناکرنالش دائرکی اورعرضی دعوت میں نسبت وصیت نامہ لکھا دستاویز مظہرہ مدعاعلیہم کا مدعیہ کوکوئی علم نہیں تاریخ مظہرہ مدعی علیہم کے قبل اوربعد حاجی کفایت اﷲ میں قابلیت اظہارارادہ اورتحریر اور سمجھنے مضمون کی نہ تھی نجم النساء نے اپنے بیان تحریری میں لکھاکہ حاجی کفایت اﷲ بہت کم مایہ شخص تھے مدعاعلیہا کے سرمایہ سے حاجی کفایت اﷲ نے تجارتیں کرکے نفع کثیر حاصل کیا اورجائداد خریدکیں واقعی مالك جائداد کی مدعاعلیہا ہےمدعاعلیہا نے حسب خواہش شوہروبنظر رفع نزاع باہم ورثاء بلالحاظ ملکیت جائداد خود اوردین مہریافتنی اپنا برضامندی جملہ ورثاء مدعاعلیہا اورشوہر مدعاعلیہا نے وصیت نامہ تحریر کیاجملہ ورثاء اورنیز کریم النساء نے وصیت نامہ تسلیم کرکے موافق حصص مندرجہ وصیت نامہ اپنا اپنا قبضہ جائداد پرکیا اورکاغذات مال میں اپنا نام درج کرالیا بیان مدعیہ کابابت نادرستی حواس حاجی کفایت اﷲ کے محض غلط ہے جبکہ مشورہ بابت تحریر وصیت نامہ کے ہوا تھا اس وقت بھی مدعیہ نے کہامیرے واسطے کچھ جائدادنہ چاہئے(عہ/)ماہوار مجھ کوکافی ہے اب مدعیہ کو استحقاق دعوی جائدادکانہیں درحالیکہ تمام جائداد سرمایہ مدعاعلیہا سے کفایت اﷲ نے پیداکی تو واقعی جملہ مالك جائداد مدعاعلیہا ہے کفایت اﷲ کا اس میں کچھ حق نہیں اگرجائداد میں کوئی جزء متروکہ حاجی کفایت اﷲ قرارپائے اوروصیت نامہ ناجائزٹھہرے توبلاادائے مبلغ(صہ)ہزاردین مہریافتنی ذمگی حاجی کفایت اﷲ شرعا وراثت جاری نہیں ہوسکتی ہنوز تنقیح نہ ہوئی تھی کہ جملہ تیرہ اشخاص فریقین بالغوں کی طرف سے اصالۃ اورنابالغوں کی جانب سے ولایۃ اقرارنامہ ثالثی ۱۳/ اگست ۳ء کوتحریرہوا جس میں لکھاگیا کہ ہم مقران کے تنازع بابت تقسیم ترکہ حاجی کفایت اﷲ کے ہے ہم سب کی خواہش ہے کہ ثالثان جائدادمنقولہ وغیرمنقولہ مفصلہ ذیل ترکہ حاجی کفایت اﷲ کی تقسیم حسب احکام شرع شریف باہم مقران کردیں۔زردادنی مفصلہ ذیل جو ذمہ حاجی کفایت اﷲ مرحوم واجب الاداہے اس کومنجملہ مقران کے صرف حافظ عبدالحق اداکریں گے۔
سیدعبدالستار صراف کانپور جیون لال
(سا/) (ماصہ عہ /) (مہ معہ)
#3478 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
علاوہ اس کے اورکوئی دادنی نہیں۔ثالثان جوفیصلہ جوازی یاناجوازی وصیت نامہ مناسب سمجھیں کریں ثالثی میں نجم النساء کی درخواست بایں مضمون گزری کہ در واقع مالك جائداد کی مدعاعلیہا ہے اگرکوئی جز جائداد متروکہ حاجی کفایت اﷲ قرارپائے اور وصیت نامہ ناجائزہو توبلاادا(مہ صہ)دین مہریافتنی مدعاعلیہا وراثت جاری نہیں ہوسکتی بہ نسبت عذرات مذکورہ تنقیح قائم کی جائے۔ثالثوں میں اس پراختلاف ہوا ہردوکی رائے میں یہ درخواست ناقابل سماعت ہوئی کہ مہرنجم النساء کی بحث امورمفوضہ سے نہیں ایك کی رائے اس کے خلاف ہے کہ اقرارنامہ میں تقسیم حسب احکام شرع شریف کی درخواست نہیں اورتقدیم مہرحکم شرع شریف ہےاب حضرات علماء کرام سے امور ذیل کا استفسار ہے:
(۱)کیاوصیت نامہ مذکورہ کلایاجزء قابل نفاذہے
(۲)اگروصیت نامہ باطل قرارپائے توجائداد حسب بیان نجم النساء مملوکہ نجم النساء ٹھہرے گی حالانکہ اس کے نام کوئی جزی جائدادنہ تھی یاتمام وکمال ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہوکر تقسیم ہوگی۔
(۳)کیانسبت نادرستی حواس حاجی کفایت اﷲ اﷲ جلائی کادعوی قابل سماعت ہے
(۴)جائداد میں کہ حالت تندرستی حاجی کفایت اﷲ سے احسان الحق وفضل حق وکریمین کے نام تھیں وہ انہیں کی ٹھہرے گی یا حسب بیان وصیت نامہ ان کے نام فرضی قرارپاکر شامل تقسیم ہوں گی
(۵)کیاحمیدالنساء کامہر(مہعہ)ہونا اوریہ کہ وہ حیات حمیدالنساء میں اداکردیاگیا حسب تصریح وصیت نامہ ماناجائے گا۔
(۶)کیاکریم النساء دختر کفایت اﷲ قرارپائے گی یاحسب بیان نجم النساء وغیرہ ربیبہ۔
(۷)کیانجم النساء کی درخواست مذکورہ قابل سماعت ہے ثالثی میں اس کی نسبت کوئی تنقیح قائم کی جائے
(۸)کیانابالغوں پرولایت ذات ومال حسب بیان وصیت نامہ رہے گی یاکس طرح
(۹)کیااﷲ جلائی کادعویئ نسبت ششم حصہ شرعی صحیح ہے یاماہوار کے سوا اس کااستحقاق نہیں
(۱۰)زیورطلائی ونقرئی مندرجہ نمبر۳۱ فہرست اقرارنامہ جسے لکھاہے کہ بنگال بینك کانپور میں مورث نے امانت رکھاہے مگر بموجب مشہور حالت کے وہ زیورمتروکہ حمیدالنساء ہے کس کا قرارپائے گا اورتقسیم مال میں شامل ہوگا یابحق نابالغان اولاد حمید النساء محفوظ رہے گا۔
#3479 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
(۱۱)زرمجتمع شملہ بینك مذکور نمبر۴۴ فہرست اقرارنامہ کی نسبت بینك مذکورکے بھیجے حساب سے معلوم ہواہے کہ ۱۱دسمبر ۲ء کو فوت حاجی کفایت اﷲ سے دوروز پہلے اس میں سے بارہ ہزار پانسوبارہ روپے حافظ عبدالحق کی معرفت آئے۔حافظ عبدالحق نے روبروئے ثالثان لانا اس روپے کامانااورکہامیں نے اپنے باپ کولاکردے دیامگر اس روپے کاذکرنہ وصیت نامہ میں ہے نہ کوئی وارث اسے قبول کرتاہے نہ موصی کا کسی کو دینا ظاہر ہوتاہے اور نہ اس وقت کی حالت موصی کی اس قدر زرکثیر وتصرف کرنے کے معلوم ہوتی ہے یہ رقم کس حساب میں درج ہوگی۔بینواتوجروا۔
کاغذات نقول وصیت نامہ وعرضی دعوی وبیان تحریری نجم النساء واقرار نامہ ودرخواست نجم النساء بغرض ملاحظہ حاضرہیں۔
مسئلہ ۱۳۹(ب): ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقدمہ مذکورہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ میں چندجلسے ثالثان کے قائم ہوئے لیکن بجائے اس کے کوئی امرمتنازعہ کاتصفیہ عمل میں آئے تنازعوں کی بحثوں نے روزبروز ترقی پکڑلی جس کے دیکھنے سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ یہ مقدمہ پنچایت سے طے نہ ہوگا اور عدالت کے جھگڑوں میں یہ سب جائداد برباد اورتلف ہوجائے گی اورفریقین تباہ ہو خاص کرنابالغین بے زبان اوربے قصور باوجودبروئے ترکہ صاحب جائدادہونے کے خرچہ معینہ ان کانہیں ملتا خرچہ کی وجہ سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں نہ کوئی تعلیم کا ان کی انتظام ہے اگراب بھی کوئی انتظام ان کی جائداد کے تحفظ کانہ ہوا اوریہ جھگڑے طے نہ ہوئے تویہ مظلوم خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ان وجوہات پرغورکرکے بعض فریق مقدمہ نے سبقت کی اس امرمیں کہ فیمابین کہ مصالحت سے بعض سے چھٹاکریابعض کودلاکر امورمتنازعہ کاقلع قمع کرکے آئندہ جھگڑوں کاباب مسدود کرنے کا قصدکیاچونکہ بالغبن مختارہیں اپنے اپنے حقوق چھوڑنے کے اورکمی وبیشی یعنی دینے کی چونکہ ایسی صورت میں کمی بیشی آنے سے جس کی بعض حصص میں کمی واقع ہوتی رہی اس کااثرنابالغوں پرہی پڑتارہا جس اثرہرشریك مقدمہ کے حق میں موجب وبال ہےاور عنداﷲ ماخوذی ہےلیکن انجام کار کی مصلحتوں پرغورکرنے سے ظاہر حال دلالت کرتاہے کہ اگرمجوزین بلالحاظ اپنے منافع ذاتی اوراغراض نفسانی کے محض بغرض دفع فساد ورفع نزاع باہمی مسلمانوں کے اور نیزبے جاضائع ہونے مسلمانوں کے مال کے بالخصوص تحفظ جائداد نابالغان کے تصفیہ باہمی میں کوشش کریں اورآئندہ جھگڑے پیداہونے والوں کوبچانے کی غرض سے جوجونقصان بظاہرحال نابالغوں کے حصہ جائداد میں واقع ہوتے ہیں حسب ذیل ہیں:
#3480 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
(۱)یہ کہ جائداد پیلی بھیت کے دکانات ومکانات جواز روئے قیمت کے باعتبارزیادہ اورآمدنی کم ہے لیکن مدعیہ کواپنی سکونت پیلی بھیت کی وجہ سے نافع ہے اوراس کی خواہش کے موافق دی گئی۔
(۲)مہرمسماۃ نجم النساء زوجہ مورث کاباوجود اقرارنامہ اور وصیت نامہ درج نہ ہونے کے دلایاگیا۔
(۳)خرچہ نالشات ہردوفریق کااز روئے بیان حلفی ہرفریق کہ جس قدربیان کریں جملہ جائداد سے اول منہا ہومابقی جائداد ازروئے حصص شرعی تقسیم کی جائیگی اورتقررقیمت اورحصص اس قاعدہ سے قرارپایاہے جیساکہ اس سے کچھ زمانہ قبل سب شرکاء کے آپس کی رضامندی سے ایك فہرست تیارکی تھی اور اس وقت بسبب نہ طے پانے بعض نزاع کے ملتوی ہوگیا تھا نفاذ اس کا۔
(۴)جوجائداد ازقسم دھات ودکان ومکان بنام محض ورثاء مسمیان احسان الحق وکریم النساء بالغان وفضل حق نابالغ مورث نے اپنی حالت صحت میں نامزدکردیا تھا اوران کی تحریرات بھی باضابطہ ان کے ناموں سے ہو چکی تھی مگروصیت نامہ اورنیز اقرار نامہ ثالثی میں ان کے مالکوں نے اورفضل حق نابالغ کی طرف سے بولایت شیخ عبدالعزیز کے جن کی ولایت بعض ورثاء کی جانب سے قراردی گئی ہے بشمول جملہ جائداد کی جملہ ورثاء پر تقسیم کردیناقبول ومنظورکیا ہے۔
(۵)زرمجتمع شملہ بینك جونمبری ۴۴ اقرارنامہ کے تحت میں بلاتعداد لکھے بھی اورحساب بینك مذکورکے آنے سے تعدادی بارہ ہزارپانسوبارہ روپیہ حافظ عبدالحق کالانا دو روز قبل وفات مورث کے معلوم ہوا لیکن حافظ عبدالحق اس مجرادینے سے انکارکرتے ہیں اس بناء پر ك بوقت دستخط کرنے اقرار نامہ ثالثی کے اس میں سے بعض وارث احسان الحق وغیرہ کوکوئی جز دلانے کے بعد مابقی کامطالبہ نہ کرنا بعض ورثاء نے بوعدہ زبانی یاکسی خاص تحریری رقعہ کے ذریعہ سے قبول ومنظور کرلیا ہے ایا اس رقعہ کاباربحق نابالغان بھی پڑے بخیال مصلحت مرقومہ بالاکے توکیاحکم رکھتا ہے۔
(۶)بمد ۳۱ اقرارنامہ کے زیرطلائی ونقرئی بنگال بینك میں امانت رکھانا لکھا ہے اوربموجب بیانات مشہورہ کے نابالغان کی والدہ متوفی حمیدن کازیور واسطے نابالغوں کے بینك میں رکھایا تھا اس کی
#3481 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تقسیم بھی بشمول جملہ ترکہ ہوگی یابحق نابالغان امانت رہے گا۔
(۷)علاوہ مدات مرقومہ صدرکے اورکسی قسم کابھی نزاع کا تصفیہ بغرض دفع نزاع کیاجائے جس میں نابالغان کاکسی قسم کانقصان متصورہو اورنیز ہرشش دفعات مذکورہ بالاکے بموجب کرنا بغرض دفع نزاع اورتحفظ اموال کے قاعدہ شرعیہ کے خلاف ہوگایاموافق اورنیز اس میں سعی کرنے والے ماجورہوں گے یاگنہگاربیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
نابالغوں خصوصا یتیموں کامال آگ ہے انہیں نقصان دینے ولاسخت کبیرہ شدیدی کامرتکب ہے ان کامال یا ان کے مال میں سے ایك ذرہ دیدہ ودانستہ خودغصب کرنے والا اگرچہ کسی فیصہ کے زورسے ہویادوسرے کودے دینے یادلادینے والایاان کی ادنی حق تلفی پراضی ہونے والاسب شدید عذاب جہنم کے مستحق ہیں۔حق سبحانہوتعالی قرآن عظیم میں فرماتاہے:
" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " بے شك جولوگ یتیموں کامال ناحق کھائیں وہ اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اورعنقریب بھڑکتے دوزخ میں غرق ہوں گے۔
کاغذات مقدمہ ملاحظہ ہوئے امورذیل معلوم رہیں:
اولا:جوجائدادیں احسان الحق وکریم النساء کے نام صحت مورث میں ہوچکی تھیں وہ اب ضرور ان کی نہ رہیں بلکہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہیں کہ وصیت نامہ میں ان کانام فرضی ہونالکھااورانہوں نے تسلیم کیااوراقرارنامہ میں صراحۃ ان کاترکہ حاجی کفایت اﷲ ہونامان لیا۔فضل حق اگربالغ ہوتا اور اسی طرح قبول کرنا اس کابھی یہی حال ہوتا مگروہ نابالغ ہے اورکوئی ولی کوی وصی کوئی حاکم نابالغ کے مال میں اس کانام فرضی ہونامان لینے کا اختیارنہیں رکھتا وصیت نامہ میں حاجی کفایت اﷲ کالکھوانا اصلا قابل التفات نہیںکیاکوئی شخص کوئی جائداد ہبہ یابیع کرکے مدعی ہوکہ یہ انتقال فرضی تھا توصرف اس کے کہنے سے مان لیا جائے گا ہرگزنہیں۔اوریہ شبہہ کہ روپیہ حاجی کفایت اﷲ کاتھا اس نے خریدکر اپنے پسرنابالغ کے نام جائداد کی جب تك چاہا دی اب نہیں دیتا محض مہمل وبے معنی ہے اگر اس کاثبوت مان بھی لیاکہ روپیہ درحقیقت حاجی متوفی کاتھا نابالغ کو اس کی ماں یا اورکسی سے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۱۰€
#3482 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
پہنچا تھا تو اس سے جائداد مذکور بھی متوفی کاہونا کیونکرلازم آیا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب۔ باپ کے مال سے خریداری سے لازم نہیں آتاکہ مبیع باپ کے لئے ہو۔(ت)
باپ جوچیز اپنے نابالغ بچے کے نام خریدے وہ اس کے لئے ہبہ ہوتی ہے اورباپ ہی کے قبضہ سے نابالغ کی ملك ہوجاتی ہے۔
ردالمحتارجلد۴ص۷۷۴:
الاب اشتری لھا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذلك فی صحۃ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ اھ منح۔ باپ نے اپنی بچی کے لئے اس کی صغرسنی میں یا اس کے بالغ ہونے کے بعد کچھ خریدار اوراس کے سپردکردیا اوریہ کام اس نے اپنی صحت کے زمانے میں کیا تو دیگروارثوں کا اس پرکوئی حق نہیں وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا اھ منح(ت)
عقودالدریہ ج۲ص۲۸۰ و ۲۸۱:
ذکر فی الذخیرۃ والتجنیسامرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لا تملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ والام تملك ذلك ویقع قبضا عنہ احکام الصغار من البیوع۔ ذخیرہ اورتجنیس میں مذکورہے کسی عورت نے نابالغ بیٹے کے لئے اپنے مال سے جائداد خریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کےلئے خریداری کی مالك نہیں اورجائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور وہ اس کی مالك ہے اورجائداد پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگااحکام الصغارمن البیوع۔(ت)
تو موضع ومکان جومتوفی نے فضل حق نابالغ کے نام خریدا اگرچہ روپیہ متوفی ہی کاتھا فضل حق کی
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۱۹€
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۶€
العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۳۷€
#3483 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ملك ہوگیا اب اس کانام فرضی بتانا اس ہبہ سے رجوع کرناہے اوراولاد کوہبہ کرکے رجوع باطل محض ونامسموع۔در مختار جلد۴ص۷۹۱:
لووھب لذی رحم محرم منہ نسبا ولوذمیا او مستامنالایرجع۔ اگرکسی نے اپنے نسبی ذی رحم کوہبہ کیااگرچہ وہ ذمی یامستامن ہوتواب رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
درمختارجلد۴ص۷۹۲:
لوکانا ای العبدومولاہ ذارحم محرم من الواھب فلا رجوع اتفاقا ۔ اگروہ دونوں یعنی غلام اور اس کامالك واہب کے ذی رحم محرم ہوں توبالاتفاق رجوع نہیں ہوسکتا۔
پس فرض ہے کہ جو موضع ومکان فضل حق کے نام تھے وہ خاص اس کے سمجھے جائیں اوراس تقسیم سے جدا رہیں اوروہ باقی تمام متروکہ کہ کفایت اﷲ میں برابرکاحصہ دیاجائے۔
ثانیا: نجم النساء اقرارنامہ میں صراحۃ مان چکی ہے کہ ان تین رقوم مصرحہ اقرارنامہ کے سوا اورکوئی دادنی ذمہ حاجی کفایت اﷲ نہیں تو اس کادعوی مہرساقط ہوگیابالغین اختیاررکھتے ہیں کہ باوصف سقوط دعوی بھی اس کابار اپنے سرلیں مگرکسی نابالغ پراس کابارڈالنااپنے سرعذاب الہی کاوبال لیناہے۔
ثالثا: اس سوال میں سائل نے مہرحمیدالنساء والدہ نابالغان کاذکرنہ کیا۔سوال اول میں اس کاتذکرہ تھا اورملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرہوا کہ حاجی کفایت اﷲ نے اس کا مہر(ماصہ عہ)کاظاہر کیااوریہ کہ وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیامگرکبھی مدیون کاقول خفت مقداردین یا اس کے اداکردینے کے بارے میں مقبول نہیں ہوسکتا اگر گواہان عادل شرعی سے حمیدالنساء کامہراداہوجانا ثابت ہے فبہا ورنہ لازم کہ مہرمثل تك حمیدالنساء کامہر قائم اوراس میں سے چہارم حصہ شوہر اورایك حصہ کریم النساء بالغہ (جبکہ وصیت نامہ کوتسلیم کرچکی ہو)ساقط کرکے باقی اولاد نابالغان حمیدالنساء کے حصے ان نابالغوں کودئیے جائیں۔
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
#3484 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
رابعا: زرشملہ بنك کی نسبت اگرگواہان عادل شرعی سے ثابت ہوکہ یہ روپیہ بنك سے لانے کے لئے حاجی کفایت اﷲ نے حافظ عبدالحق کومامورکیاتھا جب تو حافظ عبدالحق کابیان کہ میں نے اپنے والد کولاکردے دیا حلف کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا کہ اب وہ وکیل ہوا اوروکیل امین ہے اورامین کاقول قسم کے ساتھ مقبول ہے ورنہ اس میں سے بھی حصہ نابالغان ہرگزنہیں چھوٹ سکتابعد اس تحریر کے دوسرے جلسے میں حافظ عبدالحق نے اقرارکیا کہ وہ روپیہ شملہ بنك سے لایا اپنے نام سے بنك میں جمع کردیا تو وہ اس روپے کامتغلب ہوابقیہ ورثہ کاحصہ اس کے ذمے عائدہے بالغوں کوچھوڑ دینے کا اختیار ہےیتیموں کاحق کوئی نہیں چھوڑسکتااس کابیان کہ ساڑھے تین ہزاروالدنے اس کاقرضہ اداکرنے کو اسے دئیے ہرگزمقبول نہیںبلکہ بالفرض اگر گواہان شرعی سے ثابت بھی ہوجائے کہ حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض مذکورمیں اتنے ہزار حافظ عبدالحق کودے دئیے کہ اپنا قرضہ اداکرلو جب بھی نابالغوں کاحصہ اورنیز ان بالغوں کاجو اس دینے کوجائزنہ رکھیں دینا آئے گاکہ ہبہ مرض میں وصیت ہے اور وارث کے لئے وصیب بے اجازت ورثہ نافذنہیں ہوسکتی وارث موصی لہ جوکچھ قبل موت موصی تصرف میں لا چکتا ہے بعد موت موصی جو ورثہ اجازت نہ دیں ان کاحصہ واپس دینا پڑتا ہےدرمختارجلدپنجم۶۶۷:
اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ ووقفہ وضمانہ کل ذلك حکمہ کحکم وصیۃ۔ مرض الموت کے مریض کاآزاد کرناکم قیمت پربیچناہبہ کرنا وقف اورضمان سب کاحکم وصیت کے حکم کی مثل ہے۔(ت)
ایضاص۶۴۴:
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے دیگروارثوں کی اجازت کے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
عالمگیری جلدچہارم ص۱۴۱:
مریض وھب غلاما لامرأتہ فقبضتہ مریض نے اپنی بیوی کوغلام ہبہ کردیا بیوی نے اس پر
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
#3485 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
واعتقتہ ثم مات المریض فالعتق نافذ وتتضمن القیمۃ کذا فی خزانۃ المفتین ۔ قبضہ کیا اورآزاد کردیا۔پھرمریض مرگیا توعتق نافذ ہوگا اور بیوی اس کی قیمت کی ضامن ہوگی۔یوں ہی خزانۃ المفتین میں ہے۔(ت)
درمختارجلد۴ص۷۱۲:
اقرفی مرض موتہ لوارثہ یؤمر فی الحال بتسلیمہ الی الوارث فاذا مات یردہبزازیۃوفی القنیۃتصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعدالموت۔ مریض نے اپنی مرض الموت میں کسی وارث کے لئے کچھ اقرارکیا تو اسی وقت وہ شیئ وارث کے سپردکرنے کاحکم دیا جائے گا۔پھرجب مریض ہوگیا تووارث وہ شیئ واپس لوٹائے گا (بزازیہ)اور قنیہ میں ہے کہ مریض کے تصرفات نافذہوتے ہیں البتہ اس کے مرنے کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں۔(ت)
کفن دفن بقدرمسنون میں جوروپیہ صرف کیا وہ ضرورمجراہوگا باقی فاتحہ درودخیرات سوم وغیرہ کے مصارف صرف اس صرف کرنے والے پرپڑیں گے اجازت نہ دینے والے ورثہ پرنہ آئیں گے خصوصا یتیم بچے کہ ان کے حصے مطلقا محفوظ ہیں نہ ان کی طرف سے کوئی اجازت دے سکتا ہے۔طحطاوی حاشیہ درمختار جلدچہارم:
التجھیزلایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع و الموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیہ و یکون متبرعا وکذا لوکان اجنبیا۔ تجہیزمیں فاتحہدرودوخیراتلوگوں کوجمع کرنا اورکھانے کااہتمام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ ضروری امور میں سے نہیں ہیں لہذا یہ اموبجالانے والااگروارثوں میں سے ہے تواس کے حصہ سے مجراہوگا اوراس میں احسان کرنے والا ہوگا۔ایساہی حکم اجنبی کابھی ہے۔(ت)
توصرف بقیہ چھ ہزارسے حصہ نابالغان دیناکافی نہیں بلکہ کفن دفن بقدرسنت میں جودس بیس روپے صرف ہوں مجراکرکے باقی پورے بارہ ہزارپانسوبارہ ہیں کامل حصص نابالغان دیاجانا لازم ہے
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰€۲
الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
#3486 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
شیخ حبیب اﷲ کامطالبہ جانے اورحافظ عبدالحقوعدہ کرنے اورخط لکھنے والے جانیں اورحافظ عبدالحقیتیموں پران باتوں کاکچھ اثرنہیں پڑسکتا۔احسان الحق کواگرہزار پہنچے ہیں وہ اس کے حصے میں مجرا ہوں گےشیخ حبیب اﷲ کامطالبہ ترکہ پرنہیں۔
خامسا: زیورامانت بنگال بنك کامعاملہ شہادت عادلہ پر ہے اگرثابت ہوکہ وہ ملك حمیدالنساء تھا تواس میں نابالغوں کے حصے بحق نابالغان محفوظ رکھے جائیں گے اوراگرملك حاجی کفایت اﷲ ثابت ہوتوسب ورثہ پرتقسیم ہوگا۔
سادسا: خرچہ نالشات بقدرضروری ومعمولہ جوکچھ نابالغوں کی طرف سے ان کے کسی ولی یاوصی شرعی نے بلااسراف اٹھایا وہ ضرورنابالغوں پرپڑے گا اس سے زائد ایك پیسہ ان پرڈالنا حرام ہے نابالغین مختارہیں کہ آپس میں اپنے حقوق کا جس طرح چاہیں فیصلہ کرلیں۔
سابعا: تشخیص قیمت جائداد وتعیین حصص وغیرہ کسی امرمیں کوئی نقصان نابالغوں کی طرف رکھنا محض حرام قطعی ہے اوراﷲ واحدقہار ان کی طرف سے حساب لینے والاہے اصل احکام شرعیہ یہ ہیں باینہمہ اگرولی نابالغان اوران کے حقیقی خیرخواہ اہل ایمان یقینی قطعی طورپربلاشك وشبہہ وبلامکروحیلہ جانیں کہ یہ تصفیہ ہی نابالغوں کے حق میں خیرہے اوراس میں جو نقصان ان بیکس مظلوموں کوپہنچتاہے وہ اس نقصان عظیم سے ہلکا ہے جوبحال عدم تصفیہ یقینا انہیں پہنچنے والاہے توشریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ:
من ابتلی بلیتین اختار اھونھما۔ جوشخص دوبلاؤں میں مبتلاہو ان میں سے ہلکی کواختیارکرے۔
ایسی صورت محض مجبوری وضرورت میں جونابالغوں کی اصلاح چاہے گا اور وہ ایساہوگا جیسا آکلہ پیدا ہونے پرہاتھ یاپاؤں کاٹ دیناکہ یہ معاملہ بالغ ونابالغ سب کے ساتھ رواہے کہ فسادعظیم کافساد قلیل سے دفع ہے۔
" واللہ یعلم المفسد من المصلح" اﷲ خوب جانتاہے کہ کون مفسدہے اورکون اصلاح چاہتاہے۔
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۳€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
#3487 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ادب الاوصیاء جلد۲ص۲۰۸:
ذکرفی الخانیۃ والخلاصۃ والعمادیۃ والحافظیۃانہ لایجوز ان یصالح الوصی باقل من الحق ان کان الخصم مقرابہ ومقضیا علیہ اوللموصی بینۃ عادلۃ علیہ والاجاز لانہ فی الاول متلف لبعض الحق فلا یجوز وفی الثانی محصل للبعض بقدر الامکان وفیہ من النظر مالایخفی فیجوز۔ خانیہخلاصہعمادیہ اور حافظیہ میں مذکور ہے وصی کے لئے جائزنہیں کہ وہ حق سے کمتر پرصلح کرے جبکہ خصم اقراری ہو اوراس پرفیصلہ ہوچکاہو یاموصی کے پاس عادل گواہ موجود ہوں ورنہ جائزہے کیونکہ پہلی صورت میں وصی بعض حق کو برباد کرنے والا ہے لہذا جائزنہیںاوردوسری صورت میں وہ مقدوربھربعض کوحاصل کرنے والا ہے اوراس میں نگرانی موجودہےجیساکہ پوشیدہ نہیںلہذاجائزہے۔(ت)
اسی میں ہے ص۲۰۹:
فیہ تحصیل بعض الحق للیتیم فی حال توی کلہ فلا شك فی خیریتہ۔ اس یتیم کے بعض حق کوحاصل کرناہے جبکہ تمام ہلاك ہو رہاہے تواس کے خیرہونے میں کوئی شك نہیں(ت)
اسی میں ہے ص۲۸۷:
ذکر فی النوازل والخانیۃسلطان نزل دارالوصی فقیل لہ ان لم تعط السلطان شیئا استولی علی الدار و العقار فاعطی لہ شیئا من العقار قال ابوالقاسم یجوز مصانعتہ ۔ نوازل اورخانیہ میں مذکورہے کوئی بادشاہ وصی کے گھرمیں وارد زہوا اوروصی کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کوکچھ نہ دیا تووہ مکان اورجائدادپرقبضہ کرلے گا چنانچہ وصی نے اس کوکچھ جائداددی۔ابوالقاسم نے فرمایا وصی کایوں نرمی کرناجائز ہے۔(ت)
احکام الصغار جلددوم ص۷۳و۷۴:
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الصلح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰€۸
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الصلح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰€۹
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الضمان ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۷€
#3488 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ھو قول ابن سلمۃ وھو استحسان وعن الفقیہ ابی اللیث عن ابی یوسف رحمہ اﷲ انہ کان یجیز للاوصیاء المصانعۃ فی اموال الیتامی واختیار ابن سلمۃ موافق لقول ابی یوسف وبہ یفتی والیہ اشار فی کتاب اﷲ تعالی(اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا)اجاز العیب فی مال الیتیم مخافۃ اخذ المتغلب ذکرہ قاضی خان فی وصایا فتاویہوفیھا ایضا وصی انفق علی باب القاضی من مال الیتیم فاعطی علی وجہ الاجازۃ لایضمنقال محمد بن الفضل رحمہ اﷲ لایضمن مقدار اجر المثل والغبن الیسیر ومااعطی علی الرشوۃ کان ضامنا وفیھا رجل مات واوصی الی امرأتہ وترك ورثۃ صغارا فنزل سلطان جائردارھم فقیل لھا ان لم تعطہ شیئا استولی علی الدار والعقار فاعطتہ شیئا من العقار قالوا وہ ہی قول ابن سلمہ کاہے اوروہ استحسان ہے۔فقیہ ابواللیث سے بحوالہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ منقول ہے کہ وہ یتیموں کے مال میں نرمی اختیار کرنے کی وصیوں کواجازت دیتے تھے۔ابن سلمہ کامختار امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے قول سے موافقت رکھتاہے اوراسی کے ساتھ فتوی دیاجاتاہے۔اوراﷲ تعالی کی کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے"وہ جوکشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی کہ دریامیں کام کرتے تھے تومیں نے چاہاکہ اس کوعیب دارکردوں"اس میں کسی جابرکے قبضہ کے ڈرسے یتیم کے مال کوعیب دار کرنے کی اجازت ہے۔اس کوقاضی خان نے اپنے فتاوی کی کتاب الوصایا میں ذکر کیاہے۔اسی میں یہ بھی ہے کہ وصی نے قاضی کی کچہری میں یتیم کا مال خرچ کیا۔اگربطور اجارہ دیاہے توضامن نہیں ہوگا۔ محمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہاکہ مثلی اجرت اورغبن یسیر کی حد تك ضامن نہیں ہوگا۔لیکن اگر اس نے یتیم کامال بطور رشوت دیا ہے توضامن ہوگا۔اسی میں ہے کہ ایك مرد فوت ہوااوراس نے اپنی بیوی کووصی مقررکیا اورچھوٹے ورثاء بھی چھوڑےپھرکوئی جابربادشاہ ان کے گھرمیں اترا اور اس عورت کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کو کچھ نہ دیا تووہ پورے گھر اورجائداد پرجبرا قبضہ کرلے گا۔چنانچہ عورت نے جائداد میں سے کچھ بادشاہ کو دے دیا تومشائخ نے
#3489 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یجوز مصانعتھا ۔ کہاکہ اس کی یہ نرمی جائز ہے۔(ت)
یہ اسی حالت میں ہے جبکہ نہ ماننے میں اس سے عظیم ترنقصان پہنچنے کایقین ہوفقط موہوم ضررکے لئے موجود مان لینا حلال نہیں۔پھربھی فرض قطعی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو عرق ریزی کی جائے کہ یہ ظلم ان بیکسوں پرسے دفع ہویاجتناکم ہوسکے کم ہو۔پھربھی یہ جواز صرف ادھر سے رہے گا وہ ظالمین جو اس طرح دباکریتیموں کاحق لیں گے ان کے لئے وہ خالص آتش جہنم ہے وہ سخت عذاب الہی کے لئے مستعد رہیں۔والعیاذباﷲ تعالیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جواب سوال ششم:کریم النساء کاجبکہ کسی اورشخص کی دختر ہونامعروف ومشہور وثابت نہیں اور وہ اپنے آپ کودخترحاجی کفایت اﷲ کہتی ہے اوراس کی عمر اس کی قابلیت رکھتی ہے تو ایسی حالت میں قطع نظر تمام تحریرات وخطوط کفایت اﷲ کے صرف یہ وصیت نامہ جسے یہ لوگ جوکریم النساء کے نسب پرمعترض ہیں تسلیم کررہے ہیں دلیل کافی وحجت وافی تھاجس کے بعد معترضین کا اعتراض ہرگز مسموع نہ ہوتا اوروہ ضرور دخترحاجی کفایت اﷲ قرارپائی کہ وصیت نامہ میں جابجا اولاداپنی اولاد ہماری اولاد لکھ کرانہیں کے نام کی فہرست میں کریم النساء کوبھی مثل دیگر دختران داخل کیا اور سب کوحصہ شرعی بلاکم وبیش پہنچنا لکھنا۔درمختارمیں ہے:
وان اقر لغلام مجھول النسب فی مولدہ فی بلدھو فیھا وھما فی السن بحیث یولد مثلہ لمثلہ انہ ابنہ و صدقہ الغلام لوممیزا والا لم یحتج لتصدیقہ کما مر حینئذ ثبت نسبہ ولوالمقر مریضا واذا ثبت شارك الغلام الورثۃ۔ اگرکسی نابالغ لڑکے کے بارے میں جس کانسب معلوم نہیں اس کے وطن میں یا اس شہر میں جس میں وہ وارد ہے یہ اقرار کیاکہ یہ میرابیٹا ہے درانحالیکہ دونوں کی عمر ایسی ہے کہ اس جیسا اس کابیٹا ہوسکتا ہے اورلڑکے نے اس کی تصدیق کردی جبکہ لڑکا باتمیزہو ورنہ اس کی تصدیق کی ضرورت نہیں جیسا کہ گزرچکاہےچنانچہ صورت مذکورہ میں اس کانسب ثابت ہوجائے گا اگراقرارکرنے والا مریض ہو جب نسب ثابت ہو گیا تو وہ لڑکا باقی وارثوں کاشریك ہوگا۔(ت)
حوالہ / References جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین فی مسائل الوصایا ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳ و ۷۴€
الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۷€
#3490 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نہ کہ خود سب معترضین و غیر معترضین اقرارنامہ میں بالاتفاق اسے بنت حاجی کفایت لکھ چکے تواب اس کے دختر کفایت اﷲ ہونے میں کوئی شك نہیں وہ مثل دیگر دختران نہ بذریعہ وصیت بلکہ بوجہ وراثت حصہ پائے گی۔
جواب سوال ہشتم:وصیت نامہ جہاں تك نابالغوں یاان وارثوں کے حقوق پرجو اسے جائزنہیں رکھتے اثررسان ہے مردودوباطل ہے جوبالغ وارث اسے مان رہے ہیں صرف ان کے باہمی حقوق پراس کا اثر مقبول ہوسکتاہے۔درمختارمیں ہے:
لم تجزاجازۃ صغیرومجنون ولو اجاز البعض ورد البعض جازعلی المجیز بقدر حصتہ۔ نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیں۔اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے انکار کیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کی مقدار میں جائزہے۔(ت)
وصیت نامہ میں ماں کوحصہ مادری اصلا نہ دیااوروہ اس پرراضی نہیں نابالغ کاموضع ومکان اسم فرضی ٹھہراکر تقسیم میں شامل کرلیا اوریوں اسی کے مال سے اس کاحصہ پوراکیا اوریہ محض ظلم ہے نابالغوں کے مال کامہر ایك خفیف مقدار بتاکر وہ بھی اداہوجانا لکھایہ ہرگزبے بینہ عادلہ مقبول نہیںلہذا تقسیم وصیت نامہ واجب الرد ہے بلکہ فضل حق کاموضع ومکان خالصا اسی کو دے۔حمیدالنساء کامہراداہوجانا گواہان عادل شرعی سے ثابت نہ ہو تو مہرمثل تك اداکرے پھرجوکچھ متروکہ حاجی کفایت اﷲ منقول وغیرمنقول ہے سب سے اس کی ماں کوچھٹا اورنجم النساء کوآٹھواں دیکر باقی سب بیٹوں اورمع کریم النساء سب دختروں پر " للذکر مثل حظ الانثیین " (مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابرہے۔ت)ازسرنو تقسیم کریں نابالغوں کے حصے بلا تقسیم یك جا رہیں بالغوں کے حصے کا انہیں اختیارہے جس طرح چاہیں باہم تصفیہ کرلیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۰: ازپٹنہ محلہ لودی کڑہ مرسلہ جناب قاضی عبدالوحیدصاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت میں جو چیزہبہ کی جائے اس پراحکام ہبہ کے ہوں گے یاوصیت کے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
#3491 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الجواب:
ہبہ اگرچہ مرض الموت میں ہو حقیقۃ ہبہ ہے تمام شرائط ہبہ درکارہوں گی بلاقبضہ تمام نہ ہوگا مشاع ناجائزہوگا واہب اگرقبل قبضہ کاملہ موہوب لہ انتقال کرجائے ہبہ باطل ہوجائے گا غرض وہ بہمہ ووہ ہبہ ہے اوراسی کے احکام رکھتاہے مرض الموت میں ہونے کاصرف اتنا اثر ہے کہ وارث کے لئے مطلقا اوراجنبی کے واسطے ثلث باقی بعدادائے دیون سے زیادہ میں بے اجازت دیگرورثہ نافذ نہ ہوگا اجازت وارث عاقل بالغ نافذالتصرف کی بعد وفات مورث درکارہے اس کی حیات میں اجازت دینی نہ دینی بیکارہے۔پس اگرمورث مثلااپنے پسرکواپنے مرض الموت میں کوئی شیئ ہبہ کرے اورقبضہ بھی پوراکرادے اوراس کے انتقال کے بعددیگرورثہ اسے نہ مانیں وہ یکسرباطل ہوجائے گا اوربعض مانیں اوربعض نہ مانیں تو اس نہ ماننے والے کے حصے کے لائق باطل قرارپائے گا۔نویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
ھبتہ ووقفہ وضمانہ کوصیۃ فیعتبر من الثلث۔ مریض کاہبہوقف اورضمان اس کی وصیت کی مثل ہےلہذا ایك تہائی میں سے معتبرہوں گے۔(ت)
ردالمحتارعلی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ وھبتہ ای اذا اتصل بھاالقبض قبل موتہاما اذامات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کماصرح بہ قاضیخاں وغیرہ اھ طحطاوی عن المکیقولہ حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لا حقیقۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت وھذہ ماتن کاقول"وراس کاہبہ"اس سے مرادیہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے قبضہ اس کے ساتھ مقترن ہوجائے لیکن اگروہ مرگیا اوراس پرقبضہ نہ ہوا تووصیت باطل ہوجائے گی اس لئے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہی ہے اگرچہ باعتبارحکم کے وصیت ہےجیساکہ قاضیخاں وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی اھ طحطاوی میں بحوالہ مکی منقول ہے کہ ماتن کاقول"اس کا حکم وصیت کے حکم کی مثل ہے"یعنی
حوالہ / References الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷€
#3492 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
التصرفات منجزۃ فی الحال زیلعی ۔ ایك تہائی سے اعتبارکرنے کی حیثیت سے نہ کہ حقیقت وصیت کے اعتبارسے اس لئے کہ وصیت ایسے ایجاب کوکہتے ہیں جوموصی کی موت کے بعد ثابت ہوتاہے جبکہ یہ تصرفات فی الحال نافذہیںزیلعی۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لا لوارثۃ الاباجازۃ ورثتہ وھم کبار عقلاء فلم تجز اجازۃ صغیر ومجنون ولواجاز البعض وردالبعض جاز علی المجیز بقدر حصتہ۔ وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے اس کے کہ دیگر ورثاء اس کی اجازت دیں دراں حالیکہ وہ ورثاء عاقل وبالغ ہوں چنانچہ نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیںاگربعض نے اجازت دی اوربعض نے رد کردیا تو اجازت دینے والے پربقدراس کے حصہ کے جائزہوگی۔(ت)
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
انما یصح قبولھا بعد موتہ لان اوان ثبوت حکمہا بعد الموت فبطل قبولھا وردھا قبلہ واﷲ تعالی اعلم۔ وصیت کوقبول کرناموصی کی موت کے بعد ہی صحیح ہوتاہے کیونکہ وصیت کے حکم کے ثبوت کا وقت موصی کی موت کے بعدہے لہذااس کی موت سے پہلے وصیت کوقبول کرنااوررد کرنا باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر واہب مرض الموت میں اپنی جزیاکل املاك کوکسی ایك وارث کی بلارضامندی دیگرورثاء کے ہبہ کردے تویہ صحیح ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ ہبہ حقیقۃہبہ اورحکما وصیت ہےاگر واہب نے اپنی وصیت میں موہوب لہ کوقابض نہ کردیایاشیئ قابل تقسیم مشاع و مشترك تھی اوربلاتقسیم قبضہ کرادیا اورمرگیا جب توہبہ محض باطل ہوگیاکہ اجازت ورثہ سے بھی نافذ نہیں ہوسکتا۔درمختار موانع الرجوع میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۳۵€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€۹
الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
#3493 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
المیم موت احد العاقدین بعدالتسلیم فلوقبلہ بطل ۔ میم سے مرادیہ ہے کہ سپردگی کے بعد واہب اور موہوب لہ میں سے کسی ایك کامرجانااگرسپردگی سے پہلے مرگیا توعقد ہبہ باطل ہوگیا۔(ت)
اوراگرحیات واہب میں باذن واہب قبضہ کاملہ یاشیئ غیرقابل تقسیم پرمشاعا قبضہ ہولیا تو اب اس ہبہ کانفاذ موت واہب کے بعد اجازت صحیحہ باقی ورثہ پر موقوف ہے صحت اجازت کے لئے اجازت دہندہ کاعاقل بالغ ہونا ضرورہے اگر باقی وارث سب عاقل بالغ ہیں اورسب نے بعد موت مورث اس ہبہ کوجائز رکھاتمام وکمال نافذہوجائے گا اوراگربعض نے اجازت دی اور بعض نے نہ مانایا بعض اجازت دہندہ نابالغ یا مجنون تھے توصرف اسی عاقل بالغ مجیز کے حصے کے قدرنفاذ پائے گا باقی نافذنہ ہوگا اورہبہ شیوع کہ بعض ورثہ کی عدم اجازت سے پیداہوا باقی میں نفاذہبہ کومنع نہ کرے گا کہ شیوع وہ مبطل ہبہ ہے جوابتدا سے ہونہ شیوع طاری کہ بعد کولاحق ہو۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
قال(ای محمدرضی اﷲ تعالی عنہ)فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذامات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم بان ھبۃ المریض ھبۃ عقد او لیست بوصیۃ واعتبارھا من الثلث ماکانت لانھا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض و قدتبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھوالثلث واذاکان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطھا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اصل میں کہاکہ مریض کاہبہ اورصدقہ جائزنہیں مگراس وقت جبکہ ا س پر قبضہ کرلیاگیا ہو پس اگر اس پرقبضہ ہوگیاتوایك تہائی میں جائزہوگااوراگر واہب سپردگی سے پہلے مرجائے تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔یہ جانناضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقد کے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے۔اوراس کا ایك تہائی سے اعتبارکرنا اس وجہ سے نہیں کہ وہ باعتبارمعنی کے وصیت ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور مریض نے ہبہ کےساتھ تبرع کیا ہے تو اس کاتبرع صرف اسی حد تك لازم ہوگا جوشرع نے اس کے لئے مقررکی ہے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
#3494 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب کذا فی المحیط ۔ اور وہ تہائی مال ہےجب یہ تصرف عقد کے اعتبارسے ہبہ قرارپایا تواس کے لئے ہبہ کی تمام شرطوں کاپایاجانا شرط ہوگا اورہبہ کی شرطوں میں سے ایك یہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے وہ شخص اس پرقبضہ کرلے جس کے لئے ہبہ کیاگیاہےمحیط میں یونہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لاتجوز الوصیۃ للوارث عندنا الا ان یجیزھا الورثۃ ولاتعتبراجازتھم فی حیات الموصی حتی کان لھم الرجوع بعد ذلك کذا فی فتاوی قاضی خان و لایمنع الشیوع صحۃ الاجازۃولو اجاز البعض وردالبعض یجوزعلی المجیز بقدر حصتہ وبطل فی حق غیرہ کذا فی الکافیوالاجازۃ انما یجوز اذا اجازہ وھو عاقل بالغ صحیح کذا فی خزانۃ المفتین۔ اھ مختصرا۔ ہمارے نزدیك وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے اس کے کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں اوران کی اجازت موصی کی زندگی میں معتبرنہیں ہوگی یہاں تك کہ وہ اجازت کے بعد رجوع کرسکتے ہیں۔یونہی فتاوی قاضیخان میں ہے۔ اورغیرمنقسم ہونا اجازت کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہوتا اگربعض وارثوں نے اجازت دے دی اوربعض نے رد کردیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے مطابق جائزہوگی اور اس کے غیرکے حق میں باطل ہوگیکافی میں یونہی ہے۔ اجازت اسی وقت ہوگی جب اجازت دینے والا عاقل بالغ صحت مند ہوخزانۃ المفتین میں یونہی ہے اھ (اختصار)۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
المانع عن تمام القبض شیوع مقارن للعقد لا طاری ۔ قبضہ کی تمامیت سے مانع وہ شیوع ہے جو عقد کے ساتھ مقترن ہونہ کہ وہ جو اس پر طاری ہو۔(ت)
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الہبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۰و۹۱€
الدرالمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
#3495 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لاطارئ اقول منہ مالووھب دارا فی مرضہ ولیس لہ سواھا ثم مات و لم یجز الورثۃ الھبۃ بقیت الھبۃ فی ثلثھا وتبطل فی الثلثین کما صرح بہ فی الخانیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کاقول"کہ اس پرطاری نہ ہو"میں کہتاہوں اگر کسی نے مرض الموت میں اپنامکان ہبہ کردیا اورسوائے اس مکان کے اس کی ملکیت میں کچھ نہیںپھروہ مرگیا اوروارثوں نے ہبہ کی اجازت نہ دی توہبہ اس کے ایك تہائی میں باقی رہے گا جبکہ دوتہائی میں باطل ہوجائے گاجیساکہ خانیہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت کی کیا تعریف ہے اورکس کس مرض پر اس کااطلاق ہوتاہے اورکب تك اس کی مدت مقرر ہے کہ قبل اس کے مرض الموت نہ کہاجاسکے۔
الجواب:
شرعا کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لئے دو۲باتیں درکارہیں کہ وہ دونوں جمع ہوں تو مرض الموت ہے اور ان میں ایك بھی کم ہو تو نہیں۔
(۱)اس مرض میں خوف ہلاك واندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہواگراصلا خوف موت نہیں یا ہے توضعیف ومغلوب ہے تومرض موت نہیں اگرچہ اتفاقا موت واقع ہوجائے۔
(۲)اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے موت کاسبب کوئی اورہوجائے مثلا زیدکوہیضہ یاطاعون ہو اورابھی اسے انحطاط کافی نہ ہواتھا خوف ہلاك غالب تھا کہ سانپ نے کاٹا مرگیا یاکسی نے قتل کردیا تو ز اس مرض میں جوتصرفات کئے وہ مرض الموت میں تھے اگرچہ موت اس مرض سے نہ ہوئی اوراگر انحطاط کافی ہوگیاتھا کہ غلبہ خوف ہلاك جاتارہا اوراب اتفاقا اسی مرض خواہ دوسرے سبب سے مرگیا تووہ تصرفات مرض کے نہ تھے اگرچہ حال اشتداد ہی میں کئے ہوں کہ انحطاط مرض وزوال خوف نے اسے مرض الموت نہ رکھا یوں ہی اگربحال انحطاط وعدم خوف تصرفات کئے اوران کے بعد پھر اشتداد ہوکرخوف غالب اورہلاك واقع ہواتو یہ تصرفات
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
#3496 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
حالت مرض کے نہ ہوں گے کہ بحال غلبہ خوف نہ تھے اگرچہ ان سے قبل وبعد غلبہ تھا۔ ردالمحتارمیں ہے:
فی نورالعینقال ابواللیث کونہ صاحب فراش لیس بشرط لکونہ مریضا مرض الموت بل العبرۃ للغلبۃ والغالب من ھذا المرض فھو مرض الموت وان کان یخرج من البیت وبہ کان یفتی الصدر الشھید ثم نقل عن صاحب المحیط انہ ذکر محمد رضی ا ﷲ تعالی عنہ فی الاصل مسائل تدل ان الشرط خوف الھلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش اھ۔ نورالعین میں ہے:ابواللیث نے کہاکہ مریض کاصاحب فراش ہونا اس کے مرض الموت کے مریض ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اعتبارغلبہ کا ہےاوراس کابیماری سے غالب گمان موت کا ہوتو وہ مرض الموت ہوگی اگرچہ وہ گھر سے نکلتاہواوراسی کے ساتھ صدر الشہید فتوی دیتے تھے۔پھرصاحب محیط سے منقول ہے کہ بیشك امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اصل میں کچھ ایسے مسائل ذکر فرمائے ہیں جواس بات پردلالت کرتے ہیں اس بیماری میں ہلاکت کے خوف کاغالب ہوناشرط ہے نہ کہ مریض کاصاحب فراش ہونا اھ(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
ان صارصاحب فرش بعد التطاول فھو کمرض حادث حتی تعتبر تصرفاتہ من الثلث اھ۔ اگر وہ بیماری کے لمباہونے کے بعد صاحب فراش ہوا تو وہ نوپید بیماری ی مثل ہے یہاں تك کہ تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے اھ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حاصلہ انہ ان صار قدیما بان تطاول سنۃ ولم یحصل فیہ ازدیاد فھو صحیح امالومات حالۃ الا زدیاد الواقع قبل التطاول اوبعدہ فھو مریض ۔ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اگربیماری پرانی ہوگئی بایں صورت کہ سال کومحیط ہوگئی اور اس میں بیماری کی شدت حاصل نہیں ہوئی تو وہ صحت مند ہوگا۔لیکن اگر وہ بیماری کی شدت کی حالت میں مرگیا چاہے وہ شدت بیماری کی طوالت سے پہلے واقع ہوئی یا اس کے بعد تو وہ مریض قرارپائے گا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العری بیروت ∞۲ /۵۲۰€
ردالمحتار بحوالہ الزیلعی کتاب الوصایا داراحیاء التراث العری بیروت ∞۵ /۴۲€۳
ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العری بیروت ∞۲ /۵۲۱€
#3497 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
درمختارمیں ہے:
مات فیہ بذلك السبب اوبغیرہ کان یقتل المریض اویموت لجھۃ اخری ۔ وہ اس بیماری میں مرا اسی بیماری کے سبب سے یا کسی اورسبب سے مثلا اس مریض کوقتل کردیا وہ کسی اور وجہ سے مرجائے(ت)
مسئلہ ۱۴۳: ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ ۱۰/صفر۱۳۲۳ھ ازمکان سیدفرزندعلی مرحوم
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ مسمی زیدنے بعد فوت ہونے کے ایك منکوحہ اوردولڑکے اور دو دخترچھوڑےمسمی بکرپسر زید نے بعد فوت ہونے زید کے کل اخراجات خانگی اورپرورش نابالغان کا اپنے ذمہ لیاحتی کہ بکر نے بذریعہ معاش نوکری کی پرورش حتی الوسعت کیبعدہاس کی ایك لڑکی جو حد سن بلوغ تك پہنچی اس کانکاح بقانون شرع متین کے کردیا اورمسمی بکربوجہ نکاح کرنے دختر زید کے مقروض ہوگیا تاہنوز قرضہ ادانہیں ہوا اب ایك لڑکا زید کاجونابالغ تھا سن بلوغ پہنچ کر آمادہ اس بات پر ہے کہ جو چیز زیدکی ہے اس کامالك میں ہوں اوربکر سے کہاکہ تو نے اپناحصہ فروخت کرکے اس پرصرف نہیں کیا اب تیراکچھ نہ رہا زیدنے فوت ہون کے بعد اپنی ملکیت میں ایك منزل حویلی پختہ اورتین درخت املی اورایك درخت جامن کا اورایك نیب کااوراملی برد عــــــہ۱نے علاوہ حویلی پختہ کے اورایك قطعہ باغ تخمینا دوبیگھہ کاچھوڑامسمی بکرپسر زید چند مدت بیکار رہا اوردودرخت املی اورایك درخت جامن برائے خوردونوش نابالغان کے فروخت کرکے خوب سرے عــــــہ۲ کی اورقطعہ باغ کو فروخت کرکے نکاح دختر زیدفوت شدہ کے صرف کیا اب ایك درخت املی ایك درخت نیب کا اوراملی برد عــــــہ۳ نے اورایك منزل حویلی پختہ کل املی بردنے اورحویلی کے تخمینا عــــــہ۴ دوبیگھہ ہوا اب شیئ موجودہ میں زید کا بموجب حصص رشد شرعی کے کس طرح حصہ ہوناچاہئے۔تعداد اولادزید چاراولاددولڑکے دودختربیوہ منکوحہ ایکایك دختر نکاح شدہ شامل ہے فقط۔
الجواب:
بیان مسائل سے واضح ہواکہ دودرخت املی کااورایك جامن کابیچ کردونوں بھائیوں اور
عــــــہ۱ و عــــــہ۲ و عــــــہ۳ و عــــــہ۴: کذا فی الاصل ۱۲ ازہری غفرلہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶€
#3498 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نابالغہ اورماں کے خورد ونوش میں صرف ہوئے خواہر کتخذا اس صرف سے علیحدہ تھی اورباغ بیچ کر صرف اس خواہر کتخذا کی شادی میں صرف ہو ا اور اس سے بھی کام نہ چل سکتاکہ وہ صرف اسی روپیہ کو بکا اس میں سے اس کا جہاز عــــــہ اور معمولی ضروری مصارف نہ ہوسکتے تھے اس کے لئے بکر نے قرض لیا اور قرض میں اس سے مجرالینے کی نیت نہیں اورنکاح میں ضرورت خرچ سے زیادہ نہ اٹھایا اور زیدنے اپنے انتقال سے تھوڑی دیرپہلے اپنی زوجہ ان بچوں کی ماں سے کہا تم فکرنہ کروبلکہ بکر ایسا نہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچنے دے اسے میں چھوڑے جاتاہوں یہ تم کو کسی وقت دغانہ دے گا اگریہ یہاں ثابت ہو جب تو ظاہر ہے کہ زیدنے اپنے بڑے بیٹے بکرکو اپنی اولادوجائداد پروصی کردیا اوران سے ان تمام تصرفات کاجو وصی کے لئے ثابت ہوتے ہیں اختیار ملااوراگریہ ثابت نہ بھی ہو جب بھی ہمارے بلاد میں ایسی صورت میں بڑا بیٹا لائق ہونہار حکما وصی ہوتاہے۔
ھذا ھوالثابت دلالۃ والثابت دلالۃ کالثا بت لفظا وقد حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاونا بما لا مزید علیہ۔ یہ وہ ہے جوبطور دلالت ثابت ہے اورجوبطور دلالت ثابت ہو اس کی مثل ہے جوصراحۃ لفظ کے ساتھ ثابت ہو۔اس کی تحقیق اﷲ تعالی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں۔(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت فی البیع والشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی ینصبہ وصیافاخذھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالی انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل۔ اگراہل محلہ میں سے کسی شخص نے میت کے مال میں بیع و شراء وغیرہ کا تصرف کیاجبکہ اس میت کا نہ تو کوئی وارث ہے اورنہ ہی وصیلیکن وہ شخص جانتاہے کہ اگر معاملہ قاضی کے پاس لے جائے تو قاضی اس کو وصی مقررکردے گااس شخص نے میت کامال لے لیا اورقاضی کے پاس معاملہ نہ لے گیا اوراس مال کوبرباد کردیا۔امام ابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ وہ اس شخص کے تصرف کوجائزقراردیتے تھے(ت)

عــــــہ:یعنی جہیز۱۲ ازہری غفرلہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الوصی فی مال الیتیم ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۵۴€
#3499 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فتاوی کبری وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائز للضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی۔ قاضی الدبوسی نے فتوی دیاکہ اس کاتصرف ضرورت کے لئے جائزہے۔امام قاضی خان نے کہایہ استحسان ہے اوراسی کے ساتھ فتوی دیاجائے گا۔(ت)
پس بیعیں کہ بکرنے کیں جائزہوئیںدرختوں کاروپیہ جن جن کے صرف میں آیا انہیں پر پڑے گاکتخذا لڑکی اس سے جدارہے گی اورباغ کاروپیہ تنہا اسی لڑکی پرپڑے گااگریہ اس کے تمام حصے کے برابرتھا تواس نے اپناتمام پورا عــــــہ حصہ پایا اوراگرکم تھا توجتناباقی اتناپائے گی اوراگرزیادہ تھا توجس قدر زائد گیاوہ بکرکے اپنے حصے پرپڑے گا یاماں کی اجازت تھی تووہ بھی اس کے تاوان میں شریك ہوکر باقی ورثہ بری رہیں گے کل جائداد زیدجس قدراس نے وقت انتقال چھوڑی تھی بعدادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا اڑتالیس حصے ہوکر چھ سہم بیوہ زیدکے ہوں اورچودہ چودہ ہرہرپسراور سات سات ہردختر کے اوران میں سے وہ اشیاء جوبك کے کتخذا کے صرف میں الگ اس کے حصے مجراہوں اورجو اوروں کے صرف میں آئیں ان کے حصے سے مجراہوں جوباقی رہیں ان میں جس جس کا جس قدرباقی رہااس حساب سے تقسیم ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۴:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)یہ کہ مسماۃ ہندہ لاولدفوت ہوئی اورشوہر و والد و والدہ وہمشیرہ اورچاربھائی حسب ذیل وارث چھوڑے:
شوہر والد والدہ ہمشیرہ بھائی بھائی بھائی بھائی
خالد زید کبری صغری بکر حامد محمود مسعود
(۲)یہ کہ ہندہ مرحومہ نے دو۲روزقبل ازفوت اپنی حالت مرض الموت میں اپنے والد زید سے وصیت کی کہ میں نے کچھ روپیہ بہ نیت حج چھوڑا تھا مگرمجھ کوموقع بسبب نہ دستیاب ہونے محرم ہمراہ سفرکے میسرنہیں ہوا اوردوسروں کے ذریعہ سے حج کرانے میں بسبب کمیابی امانت دار کے
عــــــہ: کذا فی الاصل وھومکررکماتری۱۲ ازہری غفرلہ
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۵۵€
#3500 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مجھ کو اطمینان حاصل نہیں لہذا وہ روپیہ حامداورمحمود کے پاس جمع ہے اورجوکچھ زیور میرامیرے گھرمیں ہے اس جملہ مالیت میں ہے حق وراثت میرے شوہر کا اداکیاجائے اس وجہ سے کہ ان کوحاجت رہتی ہے بعد اس کے جوکچھ زرمالیت باقی رہے اس کو میرے والدزیداپنی رائے کے موافق تعمیرچاہ وغیرہ خیرات وصدقات میں صرف کردے اس واسطے کہ مرحومہ کے گمان میں باقی ورثاء کاحق لیناخیال میں نہ تھا اوریہ بھی وصیت کی کہ نو روزہ رمضان کے فوت شدہ کی میرے ذمہ قضاہے اس کافدیہ بھی دیاجائے اس کے بعد اس کے والد زید نے سوال کیاکہ کچھ نمازوں کی بھی قضاہمارے ذمہ ہے جواب دیاکہ میں نے ہمیشہ نمازاداکی ہے لیکن مجھ کو یادنہیں شایدابتدائے عمرمیں کوئی نمازیں قضاہوئی ہوںپس اس وصیت کے بعدمرحومہ نے قضاکی۔
(۳)یہ کہ بروزقضاقبل ازدفن اس کے والد زیدنے چنددیگراشخاص معززین کی موجودگی میں شوہر خالدوبعض ورثاء ذکورکوبلاکر اس وصیت کا اظہارکرکے یہ ظاہرکیاکہ میری رائے میں قبل صدقات نافلہ کے تحقیق کرکے اس کے ذمہ نمازوں کی فوت اگرکچھ ثابت ہوتو ہمراہ فدیہ صوم کے فدیہ نمازوں کابھی اداکیاجائےچنانچہ اسی بناء پر اس کی سسرال کی بوڑھی مستورات سے دریافت کیا توانہوں نے جواب دیاکہ ہمارے یہاں غیربلوغت کی حالت میں بیاہ کرآئی ھی اورنمازیں اداکرتی تھی مگرہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ حسب رواج جیساکہ نئی عروسوں کوحیادامنگیر ہوتی ہے ایسی حالت میں شاید کوئی نمازیں قضاہوئی ہوں اس بناء پربعض حاضرین جلسہ نے تین ماہ اوربعض نے چھ ماہ کی قضانمازوں کے فدیہ اداکرنے کاتخمینہ کیا ازاں بعد وارثان موجودہ مرقومہ بالا سے دریافت کیاگیا کہ تم اپناحق وراثت لیتے ہو اس کے جواب میں شوہر خالدنے بے ساختہ کہاکہ مجھ کو نہیں چاہئے ہے اس کے ذمہ کے حقوق اورفدیہ وغیرہ اداکرو اور اس کے صدقات میں صرف کرواگراس میں کسی قدرکمی دس پانچ روپیہ کی باقی رہے تواورمجھ سے لے لو چونکہ وقت میں گنجائش نہ تھی اس کی تکفین کی عجلت تھی بایں وجہ دوسرے وقت پر اس تعمیل کوملتوی رکھاگیا قبل ازدفن صرف نو روزے کافدیہ داکردیاگیا۔
(۴)یہ کہ ایسی حالت میں کیااحتیاطی نمازوں کافدیہ اداکیاجائے گا اوراگرفدیہ احتیاطی نمازوں کا اداکیاجائے گاتوکس قدرزمانہ کی نمازوں کا اداکیاجائے گا یامالیت مرقوم الصدر نقدات میں زیورات شامل کرنے سے جومقدار سفرحج کوکافی ہوسکتاہے ادائے حج اس کے ذمہ فرض متصورہوگا توکیاقضائے حج دوسرے شخص کوبھیج کرواجب ہوگی اورکیا دیگرصدقات نافلہ
#3501 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
پرمقدم متصورہوگا یابموجب وصیت متوفیہ کے صرف متروکہ کا دیگر صدقات نافلہ میں کرنالازم ہوگا۔
(۵)یہ کہ زید مرحومہ کاوالد ان صورتوں مرقومہ بالامیں کس طرح اپنے ذمہ کے حقوق وصیت کواداکرکے گلوخلاصی حاصل کرےبیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہندہ کے صرف تین وارث شرعی ہیں:شوہرماںباپباپ کے ہوتے بہن بھائیوں کاکوئی استحقاق نہیںترکہ میں حق شوہر نصف ہےاس کے اخراج کے بعد جمیع نصف باقی کی نسبت اس کی وصیت ہے کہ حسب رائے پدرتعمیر چاہ وغیرہ خیرات میں صرف کیاجائے باپ اس وصیت کونافذکرچکا اورزبانی اظہارسائل سے معلوم ہواکہ ماں ہنوز ساکت ہے نہ اس نے انکارکیانہ اجازت دیپس اگرماں بھی اجازت دے دے تونصف متروکہ شوہرکودیں اورنصف حسب رائے پدر امورمذکورہ میں صرف ہوتعمیر چاہ جس کا اس نے خاص نام لیاکی جائے اورباقی صدقات وخیرات میں صرف کیاجائے ان صدقات میں پدرکو رواہے کہ ہندہ کی نمازوں کے فدیہ کی نیت کرلے کہ یہ نیت نہ مانع صدقہ ہے نہ مخالف وصیت۔یہ اندازہ کہ اس کے ذمہ کتنی نمازوں کا فدیہ ہوگا یہاں نہیں ہوسکتا اس کے اعزہ ہی اس کاحال جانتے ہوں گے۔جب اس پر کسی نمازکی قضا لازم رہتی معلوم نہیں اوروہ ہمیشہ سے پابندنماز تھی توفدیہ نمازلازم نہیں اورشبہہ کے لئے احتیاط کرے توبعد تعمیر چاہ جوکچھ دے سب میں فدیہ نمازکی نیت سے کوئی مانع نہیں اگرواقع میں کوئی نماز قضا تھی امید ہے کہ اس کافدیہ ہوجائے ورنہ صدقہ بہرحال ہےمگرحج میں اسے صرف نہ کرے کہ وہ صراحۃ حج کرانے سے انکارکرچکی کہ مجھے کسی پراطمینان نہیں۔اورلفظ خیرات ہمارے عرف میں حج بدل پرصادق نہیںاوراگرماں بھی اجازت نہ دے توکل ترکہ کہ اٹھارہ حصے کرکے نوحصے شوہرکو دئیے جائیں اورایك حصہ ماں کوباقی آٹھ حصے وصیت مذکورہ میں صرف کردیں۔
وذلك لان الوصیۃ وان کانت تقدم علی الارث لکنھا انما لاحقت ھھنا النصف الباقی بعد اخراج نصیب الزوج ففی ھذا تنفذ بقدر ثلث کل المال لعدم الدین من دون حاجۃ الی اجازۃ الوالدین فاذا خرج النصف و الثلث بقی السدس فثلثہ اوریہ اس لئے ہے کہ وصیت اگرچہ میراث سے مقدم ہوتی ہے مگریہاں وہ شوہر کاحصہ نکلانے کے بعد باقی بچنے والے نصف کولاحق ہوئی چنانچہ اسی نصف باقی میں کل مال کے ثلث کے برابر وصیت نافذکی جائے گی کیونکہ قرض میت پر نہیں ہے اوروالدین سے اجازت کی ضرورت نہیںجب کل مال میں سے نصف اورایك تہائی نکل گیا باقی کل مال کا چھٹا حصہ
#3502 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
للام وھو الجزء الواحد من ثمانیۃ عشر جزء وثلثاہ فی الوصیۃبحکم التنفیذ من الاب۔ بچاچنانچہ اس چھٹے حصے کاتہائی ماں کودیاجائے جوکہ کل مال کے اٹھارہ حصوں میں سے ایك ہے اوراس چھٹے حصے کے باقی دوثلث وصیت میں دے دئیے جائیں گے اس لئے کہ باپ کی طرف سے وصیت کانافذ کرنے کاحکم ہوچکاہے(ت)
یہ نصف کہ شوہرکو پہنچا اس کی نسبت اگرچہ وہ کہہ چکاہے کہ مجھ کونہیں چاہئے اس کے ذمہ کے حقوق وفدیہ وصدقات میں صرف کرو مگر ارث ساقط کئے ساقط نہیں ہوتی لانہ جبری کما فی الاشباہ وغیرہ(اس لئے کہ میراث جبری ہے(اختیاری نہیں) جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ت)اوراس نصف کی نسبت وصیت نہ تھی کہ اس کا یہ قول وصیت کی اجازت قرارپائے اوراس کو اختیار نہ رہےلاجرم وہ مختار ہے اگرحصہ لیناچاہے تولے سکتاہے اوراگرہندہ کے لئے صرف کردیناچاہئے تویہ بھی کرسکتاہے اور اس پروہ پابندی نہیں جووصیت ہندہ میں تھیاور اس قدر میں شك نہیں کہ اجازت دے کر اپنے قول سے پھرجانے میں اگرچہ حکما اس پرجبرنہیں لانہ متبرع ولاجبر علی متبرع(کیونکہ وہ متبرع ہے اورمتبرع پرجبرنہیں ہوتا۔ت)مگرقول سے پھر جانا شرعا بھی مذموم ہے تو وہ اگرثابت قدمی چاہے تومناسب یہ ہے کہ اس نصف سے ہندہ کی جانب سے حج بدل کرادے کہ یہ فرض اس پررہ گیاہے حق صحبت اسی کوچاہتاہے کہ اس دین شدید سے اس کی گلوخلاصی کرادے اوراگراس کانصف حج کے لئے کافی نہ ہوتاہو اورماں نے ہنوز اجازت وصیت نہ دی اوردیناچاہتی ہے تومناسب یہ ہے کہ وہ بھی وصیت کی اجازت نہ دے بلکہ اپنا حصہ کہ کل مال کا اٹھارہواں ہے اسی نصف شوہر میں شامل کردے پھربھی کچھ کمی رہے تو حسب وعدہ شوہر اپنے پاس سے دس پانچ اورملادے باقی باپ پوراکردے غرض جس طرح ممکن ہو اس کی طرف سے حج بدل میں سعی جمیل بجالائیں کہ یہ اس پرسے سختی کاٹالنا ہوگااورجوکسی مسلمان پرسے سختی دورکرے گا اﷲ تعالی روزقیامت اس پرسے سختیاں دورفرمائے گا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرج عن مسلم کربۃ فرج اﷲ عنہ کربات یوم القیمۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جس نے کسی مسلمان سے ایك سختی کودورکیا قیامت کے دن اﷲ تعالی اس سے کئی سختیوں کودورفرمائے گا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب لایظلم المسلم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۰€
#3503 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر وارثان مذکورحاضرین جلسہ مرقومہ استفسار نمبراول مندرجہ سوال سوم جواپناحق وراثت لینے سے انکار کرچکے ہیں اور اس کو ادائے فدیات وصدقات کرنے کی اجازت دے چکے ہیں اگروہ اپنے قول سے رجوع کرکے اپناحق وراثت لینے کی خواہش کریں توایسی شکل میں کیا وہ اپنا حق وراثت پانے کے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
جواب سوال اول میں معلوم ہولیاکہ بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حق نہیں اورباپ اپنی اجازت سے نہیں پھرسکتا کہ وہ وصیت کی اجازت تھی اور وارث جب بعد موت مورث وصیت کوجائزکردے اس سے پھر رجوع کرنے اوراپناحق وراثت مانگنے کا اختیارنہیں رکھتا شوہر رجوع کرسکتاہے کہ اس کے حق کے متعلق وصیت نہ تھی وہ اجازت اس کی اپنی خوشی سے تھی جس پرقائم رہے تومحبوب ومندوب ہے ورنہ جبر نہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان ہے دنیائے ناپائیدار سے رحلت کی اورپندرہ اشرفی قیمتی دوسوپچیس روپے کی صندوقچی میں سے بعد مردن کے برآمدہوئیں اوراس کے برادرحقیقی نے اپنے پاس رکھیں کہ متوفی کے سالے کی بی بی نے ظاہرکیاکہ متوفی نے اس روپیہ کے بارہ میں مجھ سے وصیت کی ہے کہ دفع مذکورہ میرے فوت کے بعد حسب تفصیل ذیل خرچ کردینا کہ مبلغ دس روپیہ ہرنوچندی جمعرات کو دس جمعرات تك بقدر سوروپیہ کے فاتحہ میں میری صرف کردینا بالقصہ مبلغ ایك سوپچیس کہ کسی مرد مسلمانوں کودے کرواسطے حج بدل کے بھیج دینا یہ رقم برآمد شدہ مجھ کو دے دو چنانچہ حوالے بی بی موصوفہ کے وہ روپیہ کردئیے گئے اب سوائے بی بی موصوفہ کے وصیت کاکوئی گواہ مرد یاعورت نہیں ہے دوسری ایك بات قابل ظاہرکرنے کی اورہے ایك وصیت نامہ جوکہ متوفی نے اپنی حیات میں مع ساڑھے روپیہ کے بنام اراکین برادری کے تحریرکیاہے اس میں بھی کچھ ذکربی بی صاحبہ کی وصیت کا نہیں ہے اب وہ رقم مذکورہ بی بی صاحبہ موصوفہ کوحوالہ ورثہ کردیناجائز ہے یانہیں اور ورثاء اس رقم کولے سکتے ہیں یانہیں کیاحکم شرع شریف کاہےخلاصہ دعوی ورثہ متوفی بی بی صاحبہ موصوفہ غیرکفوناخواندہ ہیں جدی نہیں ہیںتنہاعورت کابیان قابل یقین ہے یانہیںبی بی صاحبہ بیوہ ہیں ورثاء سے کوئی تعلق نہیںوصیت نامہ میں کوئی ذکروصیت بی بی صاحبہ کانہیں ہے۔
#3504 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الجواب:
تنہا عورت کابیان حجت نہیں ورثاء بالغین کواختیارہے اگرچاہیں اس کی بات پر اعتبارکرکے خواہ اس احتیاط سے کہ شاید میت نے یہ وصیت بھی کہ اسے جائزوجاری کردیں اورچاہیں نہ مانیں اور مان سکتے ہوں توماننا بہتر ہے اس لئے کہ وہ عورت کوئی اپنے نفع کی بات نہیں کہتی۔عورت کو اگرخوب تحقیق صحیح یاد ہے کہ اس نے وصیت مذکورہ کی ہے اور وہ مورث کے ثلث ترکہ بعدادائے دین سے کم ہو تو اسے ضرور ہے کہ وہ وصیت میں حسب وصیت اسے لگادے وارثوں کوباختیار خودہرگز واپس نہ دے مگر وارثوں کواختیارہے کہ اگراس وصیت کاسوابیان عورت کے کوئی ثبوت نہیں توتسلیم نہ کریں اورجبرا وہ روپیہ کہ اب خود ان کی ملك ہوگیا عورت سے لے لیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۷: غلام علی ساکن بریلی علاقہ ترائی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص فوت ہوگیا اوراس کے وارثوں میں ایك حقیقی بھانجی ہے جس کو مرتے وقت اس نے ۱۸گاؤمادہ اورتین جاموس مادہ دینے کی وصیت کی ان کےسوا اس کےباقی مال متروکہ کاجودعوی کرتے ہیں اوراپنے آپ کو وارث قرار دیتے ہیں وہ یہ لوگ ہیں:ماموں زاد بھائیچچازادبھائیچچازادبہن۔ان لوگوں میں کون کون وارث جائز اورمستحق ترکہ پانے کا اور کس کس کاکتنا کتناحصہ ہے اور کس طرح تقسیم ہوناچاہئے ازروئے علم فرائض کے بینواتوجروا۔
الجواب:
اس صورت میں صرف اس کے چارچچازادبھائی وارث ہیں باقی کوئی وارث نہیں ہے یہ اٹھائیس گائیںپانچ بھینسیں اگر بعد ادائے دین اس کے تہائی ترکہ کی مقدار تك یا اس سے کم ہوں تویہ دونوں وصیتیں تمام وکمال پوری کردی جائیں مثلا ان ۳۳ جانوروں کی قیمت اگر تین سوروپیہ کی ہو اور متوفی پرکچھ دین آتاہو تو اسے اداکرکے جو باقی بچا وہ نوسوروپیہ یازیادہ کاہے مع ان چاروں کے جب تو یہ سب جانور جس طرح اس نے وصیت کی ہے اس کے بھانجی اورپھوپھی زاددونوں کی وصیت سے حصہ رسد کم کرلیں باقی وصیت بے اجازت چچازادبھائیوں کے نافذ نہ ہوگی یہ عام حکم ہے اور خاص طورپر اس کاحساب چاہیں تواتنی باتیں بتانے پر ہوسکتا ہے:
(۱)زیدکاکل مالجانورزمینمکانزرنقدگھرکا اسباب وغیرہ کتنی مالیت کاہے۔
(۲)زیدپرکوئی قرض یا کسی کادین یاعورت کامہرآتاتھایا نہیںاگرآتاتھا توکس قدر۔
#3505 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
(۳)ان سب جانوروں میں ہرایك کی قیمت کتنی ہے۔
(۴)چاروں چچازادبھائی اس وصیت کوپوراکرنے پر راضی ہیں یاسب ناراض ہیں یاکون کون راضی ہے کون کون ناراض۔
(۵)جوراضی ہیں وہ دونوں شخصوں کے لئے وصیت کامل پرراضی ہیں یافقط ایك کے لئےاگرفقط ایك کے لئے راضی ہیں تو بھانجی کے واسطے یاپھوپھی زادبھائی کے لئےان باتوں کا ٹھیك ٹھیك معلوم ہونے پرصحیح حساب بتایاجاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۸: ازپراناشہرمحلہ فراشی ٹولہ مسئولہ جناب کفایت اﷲ صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید سے بکرنے ایك دفعہ چھ سوچھیانوے روپیہ دستگردان قرض لئے زیدنے بارہا تقاضا کیابکرنے اقراردینے کاکیا زیدنے اپنے انتقال سے پیشتر ایك وصیت نامہ لکھا وصیت نامہ میں وہ روپیہ اپنی زوجہ کے دین مہر میں لکھاکہ بکرسے روپیہ وصول ہوکر میری زوجہ کودے دوجب بکربھی فوت ہوگیا وصیت نامہ مصدقہ حکام مدینہ طیبہ موجودہے یہ مہرکاروپیہ شرعا بکرکے وارثوں کے ذمہ ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
بکرنے اگرکچھ ترکہ چھوڑا تو یہ روپیہ اوراگرذمہ بکرکچھ اورقرض ودین ہوتو وہ بھی اس ترکہ پرلازم ہے اوراس میں سے کل (بحال تنگی متروکہئ وزیادت دیون)حصہ رسد اداکیاجاناواجب ہےاگربکرنے کچھ ترکہ نہ چھوڑا تو وارثان بکرپرکچھ مطالبہ نہیں۔یوں ہی اگر ترکہ چھوڑا تو جتنا وصول ہوسکے وصول ہوباقی کا مطالبہ بکرپرآخرت کے لئے رہاوارثوں پرمواخذہ نہیں۔پھریہ جو وصیت زیدنے اپنی زوجہ کے لئے کہ اگر گواہوں سے ثابت ہوکہ اس کامہراتنا یا اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ اس سے زائدورت کامہرمثل ہویایہ بھی نہیں توبقیہ ورثہ زید عاقل بالگ اس زیادت پرراضی ہوں تویہ رقم پوری زوجہ زیدکواس کے مہرمیں دی جائے گی اوراگر نہ گواہوں سے ثابت کہ مہراس قدریا اس سے زائدبندھاہے اوریہ رقم عورت کے مہرمثل سے زائد ہے اوربقیہ ورثہ زیداس پر راضی نہیں توعورت کوصرف مہرمثل تك دیاجائے گا زیادہ حسب فرائض زوجہ زید ودیگر وارثان زیدپرتقسیم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
#3506 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۴۹:ازجواہرپور ڈاك خانہ شیرگڈھ ضلع بریلی مرسلہ خان صاحب دلاورحسین قاسمی قادری برکاتی ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
قبلہ ایمانیاں وکعبہ روحانیاں وجان ایماں بخش ایں بیجان مقبول بارگاہ صمدیت مولانا ومرشدنا اعلحضرت ادام اﷲ تعالی برکاتہم وافضالہمبعدبجاآوری مراسم سرافگندگی وآداب دست بستہ کے گزارش خدمت کفش برادران حضورمیں یہ ہے کہ جوترکہ متوفیہ کنیزك حضورمیں اس کے دو نابالغ لڑکے حضورکے غلام زادہ اورایك پدراور ایك شوہر ہیں اورمتاع ترك مختلف طورپرہے زیوروپارچہائے پوشیدنی وبرتن واثاث البیت اس کی تقسیم میں نہایت تفکرہے ا س میں سے قریب چارسوروپے کے زیورفروخت ہوگیاجس کاروپیہ موجودہے اورپانسوروپے کے قدراوراسباب وزیورباقی ہے جس کافروخت ہونانہیں معلوم اور ہو توعرصہ میں ہیں اورکم قیمت پراب چونکہ نابالغ شریك ہیں اس کی فروخت میں بھی خوف ہے پھر ا س کی حفاظت اپنی طبیعت قطعی اس بار کونہیں اٹھاتی دنیاکے مال ومتاع اورفرزندان حتی کہ مادر وپدرسے بھی دلچسپی نہیں اگراطاعت والدین اورتعلیم فرزندان فرض نہ ہوتی توکسی طرح یہ بارپسندنہ ہوتاحضور ہی کے قدموں پریہ زندگانی مستعار بسرکی جاتی اور اس امرکی حضور سے التجاہے کہ ایسانصیب ہویہ امریقینی ہے کہ حضورکسی وقت اپنے سگ دور افتادہ کو توجہ باطنی سے فراموش نہ فرماتے ہوں گے اگرحضور کاتصرف باطنی معاذاﷲ ایك دم کوجداہوجائے تویہ اندوہگیں طالب طلب حضور ازحضورمسلمان نہ رہے اور جان سے بیکارہوجائے اس مال میں سے اپناحصہ لینے کاقصد بیت اﷲ شریف کے قصد سے ہے اورکوئی سبیل بظاہرنہیں معلوم ہوتی ورنہ لڑکوں اورپدرکے نام با آسانی تقسیم ہوجاتا اگرایسے ممکن ہوکہ بقیہ اسباب تخمینے سے تقسیم کرلیاجائے اور روپیہ حساب سے پدرکاحصہ پدرکو دے دیاجائے اورلڑکوں کاحصہ مع زرنقد کے خریدلیاجائے اور یہ ان کے حصے کے روپے بطورقرض میرے پاس رہیں جب وہ بالغ ہوں تو اداکردیئے جائیں اس وقت مجھ کو ان کے تصرف کااختیارحاصل ہوجائے تو اس میں بہت آسانی ہوجائے کیونکہ بہت چیزیں ایسی ہیں کہ فروخت بھی نہیں ہوسکتیں مثل پارچہائے پوشیدنی زنانہ اوران کابیچنا بھی معیوب معلوم ہوتاہے جبکہ یہ احقر غلامان اس پرشریعت کی روسے قابض ہوجائے گا تو اختیار خداکی راہ میں دے دینے کاہوجائے گا ورنہ وہ رکھے رکھے بیکارہوجائیں گے یااپنے میں مشغول کریں گے جس سے طبیعت عاری ہے جیسا ارشاد ہوتعمیل کی جائےاورکیایہ بھی ممکن ہے کہ اس کے باپ اس میں سے کچھ لے لیں اوربقیہ کومعاف کردیں یابلا تقسیم کچھ نقد لے کرمیرے ہاتھ فروخت کردیں جیساکہ حضورنے فرمایاتھا کہ اپنی خوشی سے اس کے
#3507 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
عوض ایك رومال لے لیں توبھی عہدہ برآئی ہوسکتی ہے اورایسی حالت میں یہ رومال دے کر راضی ہونے میں لفظ معافی کی ضرورت ہوگی یایہ رومال صرف اس کی قیمت ہوجائے گا۔تکلیف دہی کی معافی فرمائیں اوراپنی محبت عطا۔عریضہ ادب سگ بارگاہ دلاورحسین
الجواب:
۷۸۶
۹۲
بملاحظہ محب خدا غلام بارگاہ مصطفی جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جوان صالح سعید مفلح خاں صاحب محمددلاورحسین خاں صاحب قادری برکاتی حفظہ اﷲ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
حق سبحانہوتعالی آپ کو اپنی اوراپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت کاملہ میں ابد الآباد تك سرشار رکھے اوراپنی مرضیات کی توفیق دے۔والدین کی خدمت بچوں کی تربیت یہ بھی عین کاردین ورضائے رب العالمین ہے۔ریاضت ومجاہدہ نام کاہے کاہے اسی کاکہ رضائے الہی میں اپنی خواہش کے خلاف کرنا۔خدمت والدین وتربیت اولادرضائے رب العزت ہے اور اب کہ آپ کی طبیعت ان تعلقات سے بھاگتی ہے رضائے الہی کے لئے اس کاخلاف کیجئے یہی ریاضت ہوگیتعلقات سے نفرت وہ محمودہوتی ہے جس میں حقوق شرعیہ تلف نہ ہوں ورنہ وہ بے تعلقی نفس کادھوکہ ہوتاہے کہ اپنی تن آسانی کے لئے شرعی تکالیف سے بچناچاہتاہے اوراسے دنیا سے جدائی کے پیرایہ میں آدمی پرظاہرکرتاہے۔فقیردعاکرتاہے کہ اﷲ تعالی آپ کو اپنا کرلے اورہمیشہ اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق بخشے اور آپ کے طفیل میں اس نالائق ننگ خلائق کی بھی اصلاح قلب واعمال و تحسین احوال وافعال وتحصیل مرادات وآمال فرمائے اعدائے دین پرمظفر ومنصور رکھے خاتمہ ایمان وسنت پر کرےآمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحابہ وابنہ واحزابہ اجمعین آمین والحمدﷲ رب العلمین۔
مشترك مال تقسیم کرکے نابالغوں کاحصہ جداکرنے کا ان کے باپ کومطلقا اختیارہوتاہے اور ایسی تقسیم تووصی کوبھی رواہے کہ وارثان بالغین حاضرین کاحصہ جداکرکے ان کو دے دے اور نابالغوں کے حصے بلاتقسیم الگ کرلے تو آپ کو بدرجہ اولی جائزہے کہ بچوں کے ناناکے ساتھ تقسیم کرکے بچوں کاحصہ جداکرلیجئے نیزباپ کوجبکہ فاسق وفاسد نہ ہوجائزہے کہ ا ن کے ایسے اموال بازار کے بھاؤپر خودخریدلے بازارکے بھاؤ میں چیز کی اصل لاگت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ اس حالت میں موجودہ پر
#3508 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
بازارمیں بیچیں تو کیادام اٹھیں گے۔پہننے کے کپڑوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نیاتازہ جوڑا اسی وقت بازارمیں بیچئے تو ہرگز آدھے دام بھی نہیں لگتے نہ کہ استعمال پہنے ہوئے نہ کہ ایسامال جس کابکنادشوار اور رکھے رکھے بیکارہوجائے گا اندیشہ اسے خریدلینے میں توبچوں کاسراسر نفع ہے نیز اس کو رواہے کہ بچوں کامال قرضوں خریدلے یعنی قیمت فی الحال نہ دی جائے گی بلکہ اتنے دنوں کے وعدہ پر مگرروپیہ بیع نہیں ہوسکتا ہاں باپ اپنی حاجتمندی کی حالت میں اس میں سے بقدرضرورت خرچ کرسکتاہے اوران کا روپیہ خود بطور قرض لے لینے کابھی باپ کو اختیارہے یانہیں اس میں علماء مختلف ہیں بہت کتابیں جواز کی طرف ہیں باپ اگر دین دارمتدین خداترس ہو تو اس کے لئے جواز پرفتوی دینے میں کچھ باك نہیں آپ بفضلہ تعالی ان صفات کے جامع ہیں پھر جو کچھ ان کے مال سے قرض لیجئے یاقرضوں ایك میعاد معین پر خریدئیے اس کا کاغذ لکھ دینا چاہئے کہ کسی وقت بچوں کوضرر نہ پہنچے اوراس سب سے بہتراورخالص بے دغدغہ یہ صورت ہے اگرممکن ہوکہ اس ترکہ میں نابالغوں کاجتناحصہ ہے مثلا اگر سب ترکہ نو سوروپے کی مالیت کاہے توبچوں کاحصہ سواپانسو روپے ہوا اس کے عوض اتنے یا اس سے کچھ خفیف زیادہ مالیت کی اپنی جائداد زمین یامکان یادکان یاگاؤں میں سے بچوں کے نام بیع کردیجئے اورکاغذ لکھ دیجئے کہ باپ برابرقیمت کوبھی اپنامال بچوں کے ہاتھ بیچ سکتاہے یوں ترکہ میں جس قدر ان کا حصہ اور زیورواسباب میں ہے سب آپ کاہوجائے گا جوچاہئے کیجئے پھر وہ جائداد کہ جوبچوں کےنام آپ بیچیں گے اس کے حفظ ونگہداشت و غور پر داخت و تحصیل و تصرف کا اختیار بھی بچوں کے بالغ ہونے تك آپ ہی کوہوگااوراگرآپ کے پاس مال نہ ہو تو اس کی آمدنی س آپ بقدرکفایت اپنے کھانے پہننے کابھی صرف کرسکیں گے جس میں بچوں کاضرر نہ ہوگا اوراگرآپ خود اس کے کام اہتمام سے بچناچاہیں تویہ بھی رواہوگا کہ کسی ہوشیارکارگزار دیندار دیانتدار کوکارکن بنائیں یوں ہی ہر طرح سبکدوشی ہوسکتی ہے۔رہا نانا کاحصہوہ اگریونہی آپکومعاف کردیں تومعاف نہ ہوگا یاقبل تقسیم آپ کو ہبہ کردیں توجائزنہ ہوگا بلکہ تقسیم کرکے ان کو سپرد کردیجئے پھروہ چاہیں توآپ کو ہبہ کردیں یابلاتقسیم اپناحصہ آپ کے ہاتھ بیچ کر زرثمن معاف کردیں اور اس صورت میں ضرور ہوگا کہ زرثمن اتناٹھہرے جس کا وزن اس قدرچاندی کے چھٹے حصے سے زائد ہوجوترکہ کے نقدوزیوروغیرہ میں ہے کہ یہی چھٹاحصہ مرحوہ کے باپ کا ہے یایوں کریں کہ اپنا حصہ مثلا ایك کتاب کے عوض آپ کے ہاتھ بیع کردیں وہ کتاب ہی اس کامعاوضہ ہوجائے گی اورپھر معافی کی کوئی حاجت نہ رہے گی اگرچہ کتاب چار ہی ورق کی ہویونہی ان کے تمام حصے کے عوض
#3509 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یك رومال دے کربھی بیع ہوسکتی ہے فقط باہمی رضادرکار ہے۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
وکان الوصی قسم بین الورثۃ وعزل نصیب کل انسان فھذا علی خمسۃ اوجہ الاول ان تکون الورثۃ صغاراکلھم لیس فیھم کبیر وفی ھذا لوجہ لاتجوز قسمتہ اصلا وھذا بخلاف الاب اذا قسم مال اولادہ الصغار ولیس فیھم کبارفانہ یجوز(ثم قال)الرابع اذاکانوا صغار اوکبارافعزل نصیب الکبار وھم حضورفدفعہ الیھم وعزل نصیب الصغار جملۃ ولم یفرز نصیب کل واحد من الصغار جاز ۔ اگروصی نے وارثوں میں میراث تقسیم کی اورہروارث کاحصہ الگ کردیا توا س میں پانچ صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ تمام وارث نابالغ ہوں ان میں سے کوئی بھی بالغ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کی تقسیم بالکل جائزنہیں بخلاف باپ کے کہ اگر وہ اپنی نابالغ اولاد کامال تقسیم کردے جن میں کوئی بالغ نہ ہوتوجائزہے(پھرفرمایا)چوتھی صورت یہ ہے کہ وارثوں میں بالغ بھی ہوں اورنابالغ بھی ہوںپھراس نے بالغوں کاحصہ الگ کرکے ان کو دے دیا جبکہ تمام بالغ ورثا حاضر ہیں اورنابالغوں میں سے ہرایك کا حصہ الگ الگ نہ کیا توجائزہے۔(ت)
تنویرالابصارمیں ہے:
بیع الاب مال صغیر من نفسہ جائز بمثل القیمۃ وبما یتغابن فیہ ۔ باپ اگرنابالغ کے مال کی بیع اپنی ذات سے کرے تومثلی قیمت کے ساتھ اورمعمولی غبن کے ساتھ جائزہے۔(ت)
والوالجیہ وجامع الفصولین وادب الاوصیاء میں ہے:
للاب شراء مال طفلہ بیسیر الغبن لابفاحشۃ ۔ باپ کے لئے جائزہے کہ وہ اپنے نابالغ بیٹے کامال تھوڑے سے غبن کے ساتھ خریدلے نہ کہ زیادہ غبن کے ساتھ۔(ت)
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۴€۳
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳€۷
آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲€
#3510 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نیزادب الاوصیاء فصل الضمان میں ہے:
فی ھبۃ فتاوی القاضی ظھیرالدین لوکان الاب فی فلاۃ ولہ مال فاحتاج الی طعام ولدہ باکلہ بقیمتہ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاب احق بمال ولدہ اذا احتاج الیہ بالمعروف و المعروف ان یتناولہ مجانا فقیرا و بالقیمۃ غنیا۔ فتاوی قاضی ظہیرالدین کے باب الھبۃ میں ہے اگر باپ بیانان میں ہو اوراس کاکائی مال بھی ہےپھر وہ اپنی اولاد کے طعام کی طرف محتاج ہوا تو وہ قیمت کے ساتھ اس کوکھا سکتاہے کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ باپ اگراولاد کے مال کا محتاج ہو تو وہ معروف طریقے سے اس کو لینے کازیادہ حقدارہے اورمعروف طریقہ یہ ہے کہ اگرباپ فقیرہے تو وہ اس کو مفت میں لے لے اوراگرغنی ہے توقیمت کے ساتھ لے لے۔(ت)
اسی میں ہے:
وفی العدۃاجمعوا علی انہ لیس للوصی قضاء دینہ من مال الصبی وفی الصغری وللاب ذلك لانہ بمنزلۃ بیع مال الصبی من نفسہ ویمبلکہ الاب بمثل القیمۃ بخلاف الوصی حیث یلزم فی بیعہ الخیریۃ۔ عدہ میں ہے مائخ کااس بات پراجماع ہے کہ وصی نابالغ بچے کے مال سے اپنا قرض اداکرنے کااختیار نہیں رکھتا۔اورصغری میں ہے کہ باپ کوایساکرنے کااختیارہے اس لئے کہ یہ نابالغ کے مال کو اپنی ذات پربیچنے کے قائم مقام ہے اورباپ مثلی قیمت کے ساتھ ایساکرنے کا اختیاررکھتاہے بخلاف وصی کے کیونکہ باپ کے اس کو بیچنے سے خیرہونا لازم ہے۔(ت)
اسی طرح فتاوی امام قاضی خاں میں ہے نیزادب الاوصیاء فصل القرض میں ہے:
لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن وعند محمد لایضمن کالاب ۔ اگوصی نے نابالغ کے مال سے قرض لیاتو وہ ضامن ہوگا اور امام محمد کے نزدیك ضامن نہیں ہوگا جیساکہ باپ ضامن نہیں ہوتا(ت)
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الضمان∞ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸€۳
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الضمان∞ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹€۰
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴€
#3511 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
خلاصہ میں ہے:
لیس للوصی اقراض مال الصبی ولااستقراضہ وعن محمد لہ الاستقراض کالاب اھ اقول:وظاھر قولہ کالاب الاتفاق علی ان للاب الاستقراض غیر ان محمدا ربما استشھد بخلافیۃ علی اخری تنبیھا علی منازع الاقوال۔ وصی کے لئے مال صغیر کو قرض پردینا اور اس کو قرض پرلیناجائز نہیں۔اورامام محمد کے نزدیك اس کو قرض پرلیناجائزہے جیساکہ باپ کے لئے جائزہے اھ میں کہتاہوں کہ اس کاقول"کالاب" (مثل باپ کے)ظاہرا اس پردلالت کرتاہے کہ باپ کے لئے مال صغیر کوقرض پرلینے کے جوازپر اتفاق ہے سوائے اس کے کہ امام محمدعلیہ الرحمہ دوسری صورت کے اختلاف ہونے پراستشہاد کرتے ہیں اقوال کے مختلف ہونے پرتنبیہ کرنے کے لئے۔(ت)
ادب الاوصیاء میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:
وفی قضاء الجامعاخذ الاب مال صغیر قرضا جاز وفی الخلاصۃانہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی ۔ جامع کے باب القضاء میں ہے باپ کامال صغیر کوبطور قرض لیناجائز ہے۔خلاصہ میں ہے کہ اصل کے باب الرہن میں امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا:بیشك باپ وصی کی طرح ضامن ہوگا(ت)
اسی کی فصل الاباق میں شرح مختصرالطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے:
للاب ان یدفعہ(ای مال الصغیر)الی غیرہ مضاربۃ اوبضاعۃ وان یضارب ویبضع بنفسہوان یودع مالہ عند انسان وان یعیر لاحد استحسانا لاقیاسا و وان یرھن مالہ بدین نفسہ فلوھلك الرھن یضمن باپ کو اختیار ہے کہ وہ مال صغیر کسی غیرکوبطور مضاربت و بضاعت دے دےاورخود بھی اس کوبطور مضاربت و بضاعت لے سکتا ہے اوریہ بھی اسے اختیارہے کہ وہ مال صغیر کسی کے پاس ودیعت رکھے یاکسی کوبطور عاریت دے دے یہ بطوراستحسان ہے نہ کہ بطورقیاس۔اور یہ کہ وہ مال صغیر کو اپنے قرض کے بدلے میں رہن
حوالہ / References آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین بحوالہ خلاصہ فصل فی الاسباق∞ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۔۱۲€۰
آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین بحوالہ خلاصہ فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴€
#3512 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
قدر مایصیر مؤدیا منہ دینہ ومثلہ فی ھذا کلہ الوصی (ملخصا) رکھے پھراگر وہ رہن ہلاك ہوگیاتو یہ اس کاضامن بنے گااور ان سب صورتوں میں وصی باپ کی مثل ہے(ملخصا) (ت)
اسی میں ہے:
فی الخلاصۃ ورھن القوانسی ومختارات النوازل لوباع الوصی مال الصبی اوالاب من غریم نفسہ تقع المقاصۃ بینھما ویضمن الصبی الثمن عند الطرفین و لایقع عند ابی یوسف وکذا الحکم فی بیع الاب ۔ خلاصہرہن القوانس ااورمختارات النوزل میں ہے اگر وصی یا باپ نے مال صغیر کو اپنے قرض خواہ کے ہاتھ بیچ دیا توثمن اس قرض کا بدل واقع ہوگااور وہ وصی یاباپ صغیر کے لئے ثمن کے ضامن ہوں گے۔یہ طرفین کے نزدیك ہے۔امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك وہ بدل واقع نہیں ہوگایہی حکم باپ کی بیع کی صورت میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی فتاوی الدیناری الوصی اذا باع مال الیتیم باجل جاز ومثلہ الاب وفی الخلاصۃ والمنیۃللوصی البیع بالنسیئۃ ان لم یخف تلفہ بالحجود والانکار ولا المنع عند حصول الاجل وانقجائہ ولم یکن الاجل بعیدافاحشا ذکرہ فی کل من الولوالجیۃ والخانیۃ اھ۔ اقول: وبما مر فتاوی دیناری میں ہے کہ وصی اگرمال یتیم کو ایك مدت تك ادھار پربیچ دے توجائز ہے اورباپ بھی اسی کی مثل ہے۔ خلاصہ اور منیہ میں ہے وصی کوادھار پربیع کرناجائزہے اگریہ خوف نہ ہو کہ مال بسبب انکار کے ضائع ہوجائے گا اورنہ یہ ڈر ہوکہ مدت گزرجانے کے باوجود مشتری ثمن نہیں دے گا اور نہ ہی وہ مدت بہت زیادہ لمبی ہوگی۔یہ تمام ولوالجیہ اورخانیہ سے منقول ہے اھ۔میں کہتاہوں
حوالہ / References آداب الاوصیاء علٰی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۲€۰
آداب الاوصیاء علٰی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴€۳
آداب الاوصیاء علٰی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۴€
#3513 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
من فرع المقاصۃ ومن نص الاسبیجابی ان الوصی فیہ کالاب یعکر علی دعوی الاجماع المار عن العدۃ و یقدح فیھا ایضا مافی غمزالعیون اخر الفرائض عن فوائد صاحب المحیطاذا استقرض(ای الوصی)مال الیتیم ھل یصح فی قول الامام لایملك وقد اختلف المشائخ فقال بعضھم ان کان الوصی ملیایملك والافلا والاصح انہ لایملک اھ ۔ وفی قرض ادب الاوصیاء وفی نوادرھمشامسمعت محمدا یقول لیس للوصی ان یستقرض مال الیتیم عند ابی حنیفۃ واما انا فلا اری بہ باسا ان فعل ذلك ولہ وفاء بما استقرض ومثلہ فی المنتفی والعتابیۃ والخانیۃ الخ وتمامہ فیہ نعم الاظھر احوط ھو المنع کیف وھو مذھب الامام۔اقول: ماقبل میں مذکور بدل واقع ہونے والی فرع سے اوراسبیجابی کی اس نص سے کہ"وصی مثل باپ کے ہے"وہ دعویئ اجماع گدلا ہوجاتاہے جو بحوالہ عدہ گزراہے اوراس کووہ بات بھی مجروح کرتی ہے جوغمزالعیون کے باب الفرائض کے آخرمیں صاحب محیط کے فوائد سے منقول ہے کہ وصی اگرمال یتیم کو قرض پرلے تو کیا وہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق صحیح ہوگا اس میں مشائخ کا اختلاف ہوا ان میں سے بعض نے کہا اگر وصی مالدار ہے تو اس کو ایسا کرنے کااختیار ہے ورنہ نہیں اور اصح یہ ہے کہ اس کو ایساکرنے کااختیارنہیں اھ ۔ آداب الاوصیاء کے باب القرض اورنوادرہشام میں ہے میں نے امام محمد علیہ الرحمہ کویہ کہتے ہوئے سناکہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیك وصی کومال یتیم قرض پرلینے کااختیارنہیں لیکن میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتااگر اس نے ایساکیا اور اس کے پاس اس قرض کواداکرنے کے لئے مال موجود ہوتو حرج نہیں اور اسی کی مثل منتقیعتابیہ اورخانیہ میں ہے الخ اور اس کی مکمل بحث آداب الاوصیاء میں ہےہان زیادہ ظاہراور زیادہ محتاط منع ہی ہےکیسے نہ ہو جبکہ وہ امام ابوحنیفہ
حوالہ / References غمزعیون البصائرمع الاشباہوالنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ / ۱۳۱€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الفرائض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳۔۱۷۲€
#3514 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ولك ان تجیب عن فرع الرھن بانہ لیس تملکا ولا اھلاکا فلایقاس علیہ الاسقراض ولااداء دین نفسہ من مال الصبیاما لزوم الضمان فی الرھن فحکم الھلاك العارض و فی صورۃ المقاصۃ ایضا انما صدرمنہ البیع وھو سائغ لہ والمقاصۃ وقعت لان الحقوق ترجع الیہ وکم من شیئ یثبت ضمنا ولا یثبت قصدا۔واﷲ تعالی اعلم۔ علیہ الرحمہ کامذہب ہے۔میں کہتاہوں تو رہن والی فرع کا جواب یوں دے سکتاہے کہ وہ نہ توتملك ہے اورنہ ہلاك کرنا لہذا اس پرقرض لینے اور مال صغیر سے اپناقرض اداکرنے کو قیاس نہیں کیاجاسکتا۔رہارہن میں ضمان کالازم ہونا تو وہ ہلاك عارض کاحکم ہے اوربدل واقع ہونے والی صورت میں بھی بیع تو اس سے اس حال میں صادرہوئی کہ وہ اس کے لئے جائز تھی اورثمن کاقرض کے لئے بدل واقع ہونا اس لئے ہے کہ حقوق بائع کی طرف لوٹتے ہیں اور بہت سی اشیاء ضمنا ثابت ہوتی ہیں اورقصدا ثابت نہیں ہوتیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
نیزادب الاوصیاء فصل اباق میں ہے :
فی المنتقی یجوز للوصی شراء مال الیتیم لنفسہ وبیعہ مال نفسہ من الیتیم فاذا رفع ذلك الی القاضی ان رأی خیراابرمہ والزمہ والافسخہ ونقضہ قال ومثلہ بیع الاب وشرائہ حیث یکون للقاضی فسخہ ان لم یکن خیراللیتیم یعنی الابن لکن عدم الخیریۃ فی الاب کونہ ناقصا عن ثمن المثل نقصانا لایتغابن فیہ الناس ۔واﷲ تعالی اعلم منتقی میں ہے وصی کے لئے جائزہے کہ وہ مال یتیم کواپنے لئے خریدے یا اپنامال یتیم پربیچے پھر جب یہ معاملہ قاضی کے پاس پہنچے تو اگروہ اس میں بھلائی دیکھے تو اس کوپکااور لازم کر دے ورنہ اس کوفسخ کردے اور اسی کی مثل باپ کی خریدو فروخت ہےاگر وہ یتیم بیٹے کے حق میں خیرنہ ہوتو قاضی ا س کو فسخ کرنے کا اختیار رکھتاہے لیکن باپ کی صورت میں خیرکانہ ہوتاتب ہوگاکہ جب وہ خریدوفروخت ثمن مثلی سے اس قدرکم ہو جس قدرکمی کاغبن لوگوں میں رائج نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۵€
#3515 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۵۰: ۳۰/ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس امرمیں کہ زیدنے ایك مکان بحالت مرض الموت بی بی کے کہنے سے بی بی کے نام بعوض دوسو روپے مہرکے منتقل کردیاتھا حالانکہ قبل اس کے بی بی نے مہرمعاف کردیاتھا اوربی بی نے اس غرض سے مکان منتقل کرایاتھا کہ قرضہ سے بچ جائے_____________________زید اس تحریر کے تیسرے روزمرگیا اورایك لڑکا ایك لڑکی اور بی بی چھوڑے اول بی بی نے سواسوروپے میں رہن رکھا اوراب فروخت کرتی ہے اورلڑکا لڑکی بدستور قابض ودخیل ہیںایسی صورت میں کہ کس قدرحصہ پاسکتے ہیں اوریہ انتقال زیدکاکیاحکم رکھتاہےبینواتوجروا۔
الجواب:
انتقال کی یہ غرض اگرثا بت ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انتقال فرضی ہواور جب زیداقرارکررہا ہے کہ اس پرزوجہ کامہرباقی ہے اور اس کے عوض میں یہ جائداد دیتا ہے تواس کے وارثوں کادعوی کہ عورت پہلے اپنا مہرمعاف کرچکی ہے تھی مسموع نہیں۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
رجل اقر لامرأتہ بمھر الف درھم فی مرض موتہ و مات ثم اقامت الورثۃ البینۃ ان المرأۃ وھبت مھرھا من زوجہا فی حیاۃ الزوج لاتقبل والمھر لازم باقرارہ وکذا فی الخلاصۃ۔ کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے ایك ہزار درہم مہرکا اقرارکیااور وہ مرگیا پھر اس بات پرگواہ قائم ہوگئے کہ عورت نے شوہر کی زندگی میں اپنا مہرشوہر کوہبہ کردیاتھا تو یہ گواہ قبول نہیں کئے جائیں گے اورشوہر کے اقرار کی وجہ سے مہرلازم ہوگا۔خلاصہ میں یونہی ہے۔(ت)
مگرجبکہ مہرروپے تھے ان کے عوض مکان دینا بیع ہے اورزید کومرض الموت تھا اورعورت اس کی وارث ہے اوروارث کے ہاتھ مریض کاکوئی چیزبیچنا اگرچہ برابرقیمت کوہو بے اجازت دیگرورثہ کے باطل ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ مریض نے مرض الموت میں اپنے وارث کاہاتھ
حوالہ / References الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الاقرار الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۱۷۶€
#3516 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع ۔ اپنے مال سے کوئی خاص شیئ فروخت کیپھراگر وہ مریض صحت مندہوگیا تو اس کی بیع جائز ہوگی اوراگر وہ کسی بیماری سے مرگیا اوروارثوں نے بیع کی اجازت نہ دی توبیع باطل ہوجائے گی(ت)
پس اگردیگرورثہ اس انتقال کوجائز نہیں رکھتے تو یہ بیع باطل ہوگئی مکان بدستور متروکہ زید ہوا البتہ دوسوروپے مہرکے دینے رہے بعدادائے مہرودیگردیون مکان ودیگر متروکہ زیدحسب شرائط فرائض چوبیس سہام ہوکرتین سہم زوجہ چودہ پسرسات دخترکوملیںتنہاعورت کواس کی بیع کااختیارنہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: مرسلہ حافظ محمدایازازقصبہ نجیب آباد ۲۸جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
بکرنے اپنے ترکہ میں دولڑکے زیدعمرواورایك مکان مسکونی چھوڑا۔چندمدت کے بعد بڑے بھائی زیدکا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اورایك لڑکارہ گیااس متوفی کی جانب سے ایك شخص شریك اورمختارکل کاروبارتھا۔بکرکے دوسرے لڑکے عمرونے نصف حصہ مکان اپنے بھائی متوفی زید کامنجانب پسرنابالغ متوفی معرفت مختار متوفی پچاس روپے کو بیع خرید کوبیعنامہ مختارسے لکھا لیا کہ جس پرمختارنے پسرمتوفی کے دستخط اپنے ہاتھ سے کردئیے اورایك دستخط اپنے خود کردئیے لیکن رجسٹری نہیں ہوئی اور گواہان حاشیہ بھی سب فوت ہوچکے بعد تحریر وغیرہ کے ایك مکان یا زمین جوزیردیوار مکان مبیع مذکور کے تھی اسی پچاس روپے سے جواوپردے چکے تھے پسرمتوفی وبیوہ متوفی مذکورکوبکرکے چھوٹے لڑکے عمرو نے خریددی اوراس کابیعنامہ پسرمتوفی یعنی اپنے برادر زادہ کے نام تحریر کرادیا جس کی عمر ۳۴ برس کی تھی پس اس وقت بیوہ متوفی زیداپنے پسر نابالغ کولے کر اس مکان میں چلی گئی جوان کو خریددیاتھااب وہ مکان متروك بکر بالکل سارا اس کے چھوٹے لڑکے عمروکے پاس رہا مکان متروك بکرکچھ پختہ وکچھ خام تھا عمرونے اپنی لاگت سے اس خام کوبھی پختہ کرلیا قریب ماصہ روپے کے اس میں صرف ہوئے اورعرصہ ۳۲ برس سے برابر اس عمروکی اس میں سکونت ودخل ہے اب عرصہ دوتین برس کے عمرو کے برادرزادہ نے اس مکان ترکہ بکر میں اپنے باپ متوفی زیدکانصف حصہ طلب کیاہے اوراس برادرزادہ کی عمراس وقت قریب ۳۸برس کی ہے جب سے بالغ ہوا تھا جب سے کوئی جھگڑا نہیں کیاتھا اب
حوالہ / References الفتاوٰی الھندیۃ کتاب البیوع الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴€
#3517 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کرتاہے اوربرادرزادہ یہ بیان کرتاہے کہ وہ پچاس روپے جس سے مجھ کومکان چچاعمرونے خریدکردیاتھا وہ میں نے ۱۷برس ہوئے کہ واپس چچا صاحب کو دے دئے ہیں اورچچایہ کہتے ہیں کہ ہم نے واپس نہ لئے تھے اوراس امرکا طرفین سے کوئی گواہ دیدہ موجودنہیں ہے شنیدہ معتبرنہیں۔اب یہ معاملہ پنچایت میں پیش ہےاب دریافت طلب یہ امرہیں:
(۱)جوبیعنامہ مختارنے نابالغ کی طرف سے کردیاوہ بیع درست ہوئی یانہیں
(۲)اگربیع درست نہ ہوئی تونصف حصہ چچاونصف حصہ برادرزادہ کاہوگایانہیں
(۳)جوچچانے بعدخریدلینے مکان متروکہ کے(ماصہ)کی تعمیراپنی لاگت سے کی وہ اس کو ملناچاہئے یانہیں
(۴)۳۲ برس سے جوچچاصاحب نے اس مکان متروك میں خالصا سکونت کی ان کاکرایہ نصف کاحقدار برادرزادہ ہے انہیں
(۵)جوبرادزادہ بیان کرتاہےکہ میں نے چچاکوپچاس روپیہ واپس دے دئیے ہیں اگرچچا حلف اٹھالیں تو میں مکان سے دست بردارہوتاہوں ورنہ میں حلف اٹھاتاہوں اس صورت میں کس کاحلف معتبرہے اورکس کو حلف دلایاجائے
(۶)اگربیعنامہ مذکورہ ۱جائزتسلیم ہو اوربرادرزادہ نے پچاس روپے کاحلف کیاہو تو اس کو پچاس روپے ہی دلائے جائیں گے یاکیا ہوگا کیونکہ جب مکان کی بیع جائزہوچکی ہو
(۷)اگرمکان کی بیع ناجائز ہے توبعد حلف برادرزادہ کے نصف حصہ مکان برادر زادہ کاقرارپائے گایانہیں اوربابت لاگت اور کرایہ مکان کیاعمل درآمدہوگا
مسائل متذکرہ بالا میں نہایت جھگڑے اورفساد واقع ہیں لہذا موافق شرع شریف ارشاد فرمادیجئے اجرعظیم وثواب دارین ہوگا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)مکان ۳۴برس سے عمرو کے قبض وتصرف میں ہے اورپسر زید کوبالغ ہوئے بھی بیس برس سے زیادہ زمانہ گزرا اوروہ اتنی مدت مدید تك ساکت رہا یہ اگرچہ اسے مستلزم ہوتاکہ اب پسرزید کا دعوی نہ سناجاتا مگرجبکہ عمروتسلیم کرتاہے کہ واقعی یہ نصف مکان پسر زید کی ملك کا اقرار اوراس سے اپنی طرف انتقال ملك کادعوی ہوا اورکوئی دعوی بے دلیل مقبول نہیں اورہرمقراپنے اقرارپر
#3518 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ماخوذ ہے اوربعد اقرارکوئی تمادی مخل نہیں ہوتیاگر سوبرس کے بعد کوئی اقرارکرے کہ یہ شیئ فلاں کی ملك ہے تو وہ اقرار اس مقرپرحجت ہوگا اورسوبرس گزرجانا کچھ خلل نہ ڈالے گا۔علامہ خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالی کے فتاوی خیریہ میں ہے:
دعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع محتاج الی بینۃ ینوربھما دعواہ ولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترك المدعوی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذ باقرارہولوکان فی یدہ احقابا کثیرۃ لاتعد وھذا مالایتوقف فیہ ۔ مورث سے ملك حاصل کرنے کادعوی مورث کی ملکیت کا اقرار اوراس سے ملکیت کے مقرکی طرف منتقل ہونے کادعوی ہےچنانچہ مدعاعلیہ گواہ لانے کامحتاج ہوگا اورمدعاعلیہ مدعی بن جائے گا اورہرمدعی ایسی گواہی کامحتاج ہوتاہے جس کے ساتھ اس کادعوی روشن ہو۔اقرار مذکورکے ہوتے ہوئے مدت مذکورہ تك اس کاقبضہ اسے کچھ نفع نہیں دے گا۔یہ ترك دعوی کے باب سے نہیں بلکہ اقرار کے سبب مؤاخذہ کے باب سے ہے۔جس شخص نے غیرکے لئے کسی شیئ کا اقرار کیا اس کے اقرار کے سبب سے وہ شیئ اس سے لے لی جائے گی اگرچہ وہ بے شمار اس کے قبضے میں رہی ہو اوریہ ایسامسئلہ ہے جس پرتوقف نہیں کیاجاتا۔(ت)
ذریعہ انتقال جوعمرو نے بتایا کہ مختارپدرسے بیعنامہ کرالیامحض باطل وبے اثرہے اول توزید کی زندگی میں اس کامختارہونازید کے بعد اس کی اواد پروصی ہونا نہیں زید کے مرتے ہی وکالت ختم ہوگئی۔تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ینعزل الوکیل بموت احدھما۔ دونوں میں سے کسی ایك کی موت کے سبب سے وکیل معزول ہوجاتاہے(ت)
اوراگرثابت بھی ہوکہ یہ مختاروصی بھی تھا تواگریہ پچاس روپے اس نصف مکان کی واقعی قیمت کے
حوالہ / References الفتاوی الخیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۰ و ۸۱€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار باب عزل الوکیل ∞مطبع مجتبائی دہلی۲ /۱۱۳€
#3519 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
پورے دونے یادونے سے بھی زائدنے تھے جیساکہ یہی ظاہرہے تو صورت مذکورہ میں اسے بیع مکان کا اختیار اصلا نہ تھاوصی نابالغ کی جائدادغیرمنقولہ دوچند قیمت سے کم کوتوصرف معدودصورت ضرورت میں بیچ سکتاہے میت پرکوئی دین ایساہوکہ بغیر اس کے بیچے ادانہ ہوسکے گا یا اس نے کچھ روپوں کی ایسی وصیت کی کہ اسے بیچ ہی کرپوری ہوسکے گی یامکان گراجاتاخراب ہواجاتاہے اورمرمت کے لئے کچھ پاس نہیں یاکسی ظالم نے دبالیا ہے کہ نہ بیچے تومفت ہاتھ سے جائے یانابالغ کے کھانے پینے کو اس کے سواکچھ نہیں وہ جائداد یاکرایہ ومحصول کی چیزہے اوراس کی آمدنی اسی کو لگ جاتی ہے۔درمختارمیں ہے:
وجاز بیعہ عقار صغیر بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ او لکونہ نملاتہ لاتزید علی مؤنتہ اوخوف خرابہ او نقصانہ اوکونہ فی ید متغلبدررواشباہ ۔ملخصا وصی کے لئے جائزہے کہ وہ نابالغ کی غیرمنقولہ جائداد کو دگنی قیمت پریاصغیر کے نفقہ کے لئے یامیت کے قرض کی ادائیگی کے لئے یا اس کی ایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچ دے جس وصیت کانفاذ اس جائداد کوبیچے بغیر نہیں ہوسکتا نیزاس جائداد کی پیداوار اس پرخرچ سے زائد ہو یا اس جائداد کے ویران ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابرکے ہاتھ لگ جانے کا ڈرہوتوبھی اس کوبیچ سکتاہےدررواشباہ(ملخصا)(ت)
ظاہرہے کہ یہاں ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا ان بلادمیں نہ ہرگز یہ امید ہے کہ نصف مکان جس میں پختہ عمارت بھی ہے صرف پچیس روپے یا اس سے بھی کم ہوتونظر بظاہرہوا کہ عمرو نے اپنانفع خیال کیااپنے لئے مکان خالص کرلیناچاہا اورجوقیمت اپنی خواہش کے موافق چاہی اس پرایك اجنبی سے جسے یتیم کاکیادرد ہوتا فیصلہ کرالیا اوراس کے عوض دوسرامکان یتیم کوخریددیا غرض صورمذکورہ میں مختار کو اس بیع کاکچھ اختیارنہ تھا تویہ بیع فضولی ہوئی اوروقت عقد اس کاکوئی اجازت دینے والانہ تھا کہ ان چند عذروں کے سواجب خودوصی کواختیار بیع نہیں تو غیروصی بدرجہ اولی کہ فضولی جوایساعقد کرے جس کانافذ کرنا اس وقت کسی کامنصب نہ ہو وہ عقد محض باطل ہوتاہے۔درمختارباب الفصولی میں ہے:
کل تصرف صدرمنہ ولہ مجیز ہرتصرف جوفصولی سے صادرہو دراں حالیکہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷€
#3520 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا ۔ بوقت عقد اس کی اجازت دینے والاکوئی موجود ہو تووہ عقد اس کی اجازت پرموقوف ہوجائے گا اورجس کی اجازت دینے والا بوقت عقد کوئی نہ ہو وہ بالکل منعقدنہیں ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں جامع الفصولین سے ہے:
لوطلق او وھب مالہ اوتصدق بہ اوباع مالہ محاباۃ فاحشۃ اوشری شیئا باکثر من قیمتہ فاحشا اوعقد عقدا ممالوفعلہ ولیہ فی صباہ لم یجز علیہ فھذہ کلھا باطلۃ وان اجازھا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لامجیز لہا وقت العقد ۔ نابالغ نے اگرطلاق دی یااپنامال ہبہ کیایا اسے صدقہ کیایا اپنامال بہت زیادہ کم قیمت پرفروخت کیایاکوئی شیئ اس کی اصل قیمت سے بہت زیادہ قیمت کے بدلے خریدی یاکوئی ایسا عقد کیاکہ اگراس کاولی اس کی صغرسنی میں وہ عقد کرتا تو جائز نہ ہوتا۔یہ تمام عقود باطل ہیں۔اوراگرنابالغ ہونے کے بعد ان کی اجازت دے دی تو وہ جائزنہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ وقت عقد ان کی اجازت دینے والا کوئی نہیں تھا۔(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
یتیم باع جدہ عقارہ بغیر مسوغ صرح فی التتارخانیۃ عن المنتقی انہ باطل۔ یتیم کے دادانے یتیم کی غیرمنقولہ جائداد بلاجواز بیچ دی تاتارخانیہ میں منتقی سے اس بات پرتصریح منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے(ت)
اورجب وہ بیع باطل ہوئی توپچاس روپے جوقیمت کے قراردئیے تھے وہ بھی ملك عمرو سے نہ نکلے کیلایجتمع البدلان فی ملك واحد(تاکہ ملك واحد میں دونوں بدل جمع نہ ہوں۔ت)اگرعمرو نے یہ روپے پسر زید کونہ دئیے تھے جب توظاہرکہ اس کی ملك اس کے پاس تھی اوراگردے دئیے تھے اورپھر دوسرا مکان خریدنے کے لئے اس سے لے کر بائع مکان دوم کودئے تھے تو جس وقت پسر زید سے واپس لئے عمرو کے روپے عمروکوپہنچ گئے اورپسر زید پران کامطالبہ نہ رہا۔درمختارمیں ہے:
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۶€
الفتاوی الخیریہ کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۱۷€
#3521 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
والاصل ان المستحق بجھۃ اذ اوصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبرواصلا بجھۃ مستحقہ ان وصل الیہ من المستحق علیہ والافلاوتمامہ فی جامع الفصولین۔ ضابطہ یہ ہے کہ کسی شیئ میں ایك جہت سے استحقاق ثابت ہوا اور وہ کسی دوسری جہت سے مستحق تك پہنچ گئی تواس میں اسی جہت مستحقہ سے موصول ہونے کا اعتبار کیاجاتا ہے بشرطیکہ وہ شیئ مستحق تك اس شخص کی طرف سے پہنچتی ہو جس پراستحقاق ثابت ہوا ورنہ یہ حکم نہ ہوگا۔اس کی مکمل بحث جامع الفصولین میں ہے(ت)
پھرجبکہ عمرونے بھتیجے کو دوسرامکان خریددیا اور اس کی قیمت اس روپے سے اداکی جو عمرو ہی کی ملك تھا تو یہ مکان عمرو کی طرف سے اس کوہبہ ہواقیمت کامطالبہ پسرزید سے نہ ہوگا۔ احکام الصغار پھرعقوددریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملك الشراء للولدوتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ۔ ایك عورت نے اپنے مال سے اپنی نابالغ اولاد کے لئے جائدادخریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کے لئے خریداری کی مالك نہیں اور وہ جائداد اولاد کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی۔(ت)
پسرزید جوپچاس روپے عمروکو واپس کرنے کادعوی کرتاہے جب تك شہادت شرعیہ سے ثبوت نہ ہو مقبول نہیںہاں اگرگواہان عادل سے ثابت ہوجائے یاپسر زیدحاکم کے یہاں گواہ نہ دے اور عمروسے حلف مانگے اس پرعمرو حلف سے انکارکردے تویہ پچاس روپے عمروپر ثابت ہوجائیں گے اور ازانجاکہ پسرزیدنے اس گمان سے دئیے کہ یہ حق عمرہیں ان کی واپسی شرعا مجھ پرلازم ہے حالانکہ واقع میں ایسانہ تھا تو یہ روپے بھی عمرو پسرزید کو واپس دے گا۔ خیریہ پھرحامدیہ میں ہے:
فی شرح النظم الوھبانی لشیخ الاسلام عبدالبران من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ شیخ الاسلام عبدالبر کی تصنیف شرح النظم الوہبانی میں ہے اگر کوئی کسی کو ایسی شیئ دے جس کا دینا اس پرواجب نہیں تووہ اس شیئ کو واپس لے سکتاہے مگراس وقت نہیں لے سکتا جب
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲€۸
العقودالدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۳۳۷€
#3522 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
القابض اھ وقد صرحوا بان من ظن ان علیہ فبان خلافہ یرجع بما ادی ولوکان قداستھلکہ رجع ببدلہ۔ اس نے وہ شیئ بطور ہبہ دی اوراس پرقبضہ کرنے والے نے اسے ہلاك کردیا الخ تحقیق مشائخ نے تصریح فرمائی کہ کسی کوگمان ہواکہ اس پرکسی کاقرض ہے پھر اس کے خلاف ظاہرہواتو جوکچھ اس نے اداکیااس میں رجوع کرسکتاہے اور اگراس کو وصول کرنے والے نے ہلاك کردیاہوتواس کے بدل کے ساتھ رجوع کرے گا۔(ت)
ان روپوں کے دعوی میں حلف چچا پر ہے پسرزیدکاحلف معتبرنہیںاوراگرچچا حلف کرے تویہ روپے اس پرلازم نہ آئیں گے مکان پراس کااثرنہ ہوگا پسرزیدکاکہناکہ چچاحلف کرلیں تو میں مکان سے دستبردار ہوتاہوں مہمل وباطل ہے کہ دستبرداری ان اشیاء سے نہیں جن کوکسی شرط پر معلق کرسکیں۔ردالمحتارمیں ہے:
علل فی الخلاصۃ لعدم صحۃ تعلیق الرجعۃ بالشرط بانہ انما یحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ ولایحلف بالرجعۃ اھ بمعنی انہ لایقال ان فعلت کذا فعلی ان اراجع زوجتی کما یقال فعلہ حج او عمرۃ اوغیرھما مما یحلف بہ ۔ رجوع کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی عدم صحت کے بارے میں خلاصہ میں یہ تعلیل بیان کی کہ شرط کے ساتھ معلق کرنے کااحتمال وہ چیز رکھتی ہے جس پرحلف جائزہو جبکہ رجوع کاحلف جائزنہیں اھ معنی یہ ہے کہ یوں نہیں کہا جائے گا اگرمیں نے ایساکیاتو مجھ پرلازم ہے کہ میں اپنی بیوی سے رجوع کروں جیساکہ یوں کہاجاسکتاہے کہ اگرمیں ایسا کروں تومجھ پرحج یاعمرہ وغیرہ لازم ہوگا یعنی ایسی چیزکا ذکرکیا جس کے ساتھ حلف جائزہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وعزل الوکیل(ای لایصح تعلیقہ)بان قال عزلتك علی ان تہدی الی شیئا اوان قدم فلان لانہ لیس مما یحلف بہ فلایجوز اوروکیل کومعزول کرنے کی تعلیق صحیح نہیںاس کی صورت یہ ہے کہ یوں کہے کہ اگرتو مجھے کوئی شیئ ہدیہ دے یا اگرفلاں شخص آئے تو میں نے تجھے معزول کیا اس لئے کہ یہ چیزیں ایسی نہیں
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الوقف الباب الثالث ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱ /۲۲۷€
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد ویصح تعلیقہ بہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۵€
#3523 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تعلیقہ بالشرط عینی ۔ جن کے ساتھ حلف جائزہولہذا ان کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنا جائزنہیں ہوگا۔(ت)
پھر جب نصف مکان پسرزید کاٹھہرا اوراس میں عمرو نے اپنے روپے سے عمارت جدید بنائی مکان تقسیم کیاجائے جتنی عمارت عمرو حصہ پسر زید میں ہے عمرو پر لازم ہے کہ اپنی عمارت اس کے حصے سے اکھیڑ کر خالی کردے اور اگر اس میں زمین پسر زید کو نقصان کثیرپہنچے توپسرزیدکواختیارہوگا کہ وہ عمارت خود لے لے اوراس کی اتنی قیمت عمروکودے دے جواکھیڑے ہوئے عملہ کی ہوتی ہے اوراس میں سے اس کے اکھیڑنے کی اجرت مجراکرلے مثلا یہ عمارت حالت موجودہ پرنرخ رائج سے ساٹھ روپے کی ہوتی ہے اوراکھیڑلی جائے تو ٹوٹا ہواعملہ تیس روپے کا رہ جائے اور دو روپے اس کے اکھڑوانے کی مزدوری میں صرف ہوئے توپسرزید اٹھائیس روپے عمرو کودے اورعمارت اپنی ملك کرلے۔ تنویرالابصارمیں ہے:
من بنی اوغرس فی ارض غیرہ بغیر اذنہ امر بالقلع والرد وللمالك ان یضمن لہ قیمۃبناء اوشجر امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ۔ کسی شخص نے دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیربنادی یادرخت لگادئےے تواس کو درخت اکھیڑنے اور زمین واپس کرنے کاحکم دیاجائے گااور زمین کے مالك کواختیار ہے کہ وہ اس عمارت یادرخت جس کو اکھاڑنے کاحکم دیاگیاہے کی قیمت کا ضمان دے دے اگراکھاڑنے سے زمین کونقصان ہوتاہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
وھی اقل من قیتمہ مقلوعا مقدار اجرۃ القلع فان کانت قیمۃ الارض مائۃ و قیمۃ الشجر المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع درھم بقیت تسعۃ دراھم فالارض مع ھذا الشجر اور اس قیمت میں اکھاڑی ہوئی عمارت یادرخت کی قیمت سے اکھاڑنے کی اجرت کے برابرکمی کی جائے گی چنانچہ اگرزمین کی قیمت سودرھم ہواوراکھڑے ہوئے درخت کی قیمت دس درہم ہوجبکہ اکھاڑنے کی اجرت ایك درہم ہو تو اس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۶€
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۷€
#3524 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تقوم بمائۃ وتسعۃ دراھم فیضمن المالك التسع منح ۔ ایك درہم کونکال کے درخت کی قیمت نودرہم بچی لہذا س درخت کی قیمت سمیت ایك سو نودرہم میں پڑی تو مالك نودرھم ضمان دے گامنح۔(ت)
اورجبکہ نصف مکان بدستور پسر زید کی ملك ٹھہرااوروہ اس وقت یتیم تھا توجس دن کہ کل مکان پرعمرو نے قبضہ کیااس وقت سے پسرزید کے بالغ ہونے تك جتنی مدت گزری زیادہ سے زیادہ گیارہ برس اورکم سے کم آٹھ برس ہوگی اس مدت میں ملك زید کاکرایہ مثل عمرو کے ذمہ واجب الاداہے جب تك عمرونے عمارت جدیدنہ بنائی تھی اس حیثیت موجودہ پرنرخ عام سے جو اس مکان کاکرایہ ہوتا ہے کانصف دیناآئے گا اور جس نے عمارت قدیم منہدم کردی تھی توجوکچھ اس میں قابل تاوان تھا اس کاتاوان عمروپرآئے گا اوراس کے بعد سے جوخالی زمین کاکرایہ مثل ہو زمان بلوغ تك وہ واجب آئے گا کہ یہ مال یتیم تھا اورمال یتیم پر قبضہ کرنے سے بلاعقداجارہ اجرت مطلق لازم آتی ہے اگرچہ تصرف کرنے والا یتیم کاشریك ہو خواہ بدعوی خریداری وغیرہ تصرف کرے۔درمختارمیں ہے:
منافع الغصب استوفاھا اوعطلھا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال الیتیم فعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریك وبہ افتی ابن نجیم اومعدا للاستغلال الا فی المعد اذا سکن بتاویل ملك کبیت سکنہ احد الشرکاء اوعقد کبیت الرھن سکنہ المرتھن غصب کے منافع پرضمان نہیں چاہے غاصب نے ان منافع کو حاصل کیاہویاانہیں معطل رکھاہوسوائے تین صورتوں کے کہ ان میں غصب کے منافع پرمثلی اجرت واجب ہوتی ہے وہ یہ ہیں کہ مغصوب وقف ہو یامغصوب یتیم کا مال ہوتو معتمد مذہب کی بنیاد پرشریك پراجرت واجب ہوگی اوراسی کے ساتھ فتوی دیا ابن نجیم نےیا وہ مغصوب کرایہ حاصل کرنے کے لئے تیارکیاگیاہو مگرغاصب اس میں ملك کی تاویل کے ساتھ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۲۴€
#3525 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
سکنہ المرتھن ثم بان للغیر معداللاجارۃ فلاشیئ علیہ اھ ملتقطا۔ سکونت پذیرہواہو جیسے وہ گھرجس میں اس کے شرکاء میں سے کوئی ایك سکونت اختیارکرے یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس میں رہائش پذیرہو جیسے رہن کامکان جس میں مرتہن نے سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ مکان کسی غیرشخص کا ہے جواجارہ کے لئے بنایاگیاہے تواس پرکچھ بھی ضمان نہیں ہوگا اھ (التقاط۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ الا فی المعدافاد ان الاستثناء من قولہ اومعدا فقط وان الوقف ومال الیتیم یجب فیہ الاجر علی کل حال ولذا قدم الشارح انہ لو شری دارا وسکنہا فظہرت وقفا اولصغیر لزمہ الاجر صیانۃ لھما و قدمنا انہ المختار مع انہ سکنھا بتاویل ملك او عقد فاحفظہ فقد یخفی علی کثیر۔ ماتن کے قول"الافی المعد"(مگریہ اس کو بنایاگیاہو)نے اس بات کافائدہ دیاہے کہ استثناء فقط ماتن کے قول"معدا" سے ہےاوریہ کہ بے شك وقف اورمال یتیم کسی صورت میں ہوبہرحال اجرت واجب ہوگیاسی واسطے شارح پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کسی نے کوئی گھرخریدا اس میں سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ وقف ہے یا کسی نابالغ کاہے تو اس پراجرت لازم ہوگی ان دونوں کی حفاظت کے لئے۔اورہم نے پہلے بیان کیاکہ بیشك یہی مختارہے حالانکہ وہ مالك یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس گھرمیں سکونت پذیرہوا۔اس کویاد کر لے۔تحقیق یہ بہت سے افراد پرمخفی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لزمہ اجرالمثل قال الحموی ھو مبنی علی تصحیح المحیط و ھوالذی ینبغی اعتمادہ وقال الشیخ شرف الدین اسے مثلی اجرت لازم ہے۔حموی نے کہاکہ وہ محیط کی تصحیح پرہے اور وہ وہی ہے جس پر اعتمادچاہئے۔شیخ شرف الدین نے کہا وہی
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۰۹۔۲۰۸€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۳۲€
#3526 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ھوالمختار کما فی التجنیس والمزید قلت وھو ما اعتمدہ فی وقف البحر ومشی علیہ الشارح وافتی بہ فی الخیریۃ وغیرھا فلیحفظ۔ مختار ہےجیساکہ تجنیس اورمزیدمیں ہے۔میں کہتاہوں اسی پربحر کے باب الوقف میں اعتماد کیاہے اور اسی پرشارح علیہ الرحمہ چلے ہیں اور اسی کے ساتھ خیریہ وغیرہ میں فتوی دیاگیا ہے اسے یادرکھناچاہئے۔(ت)
اسی کے آخرکتاب الشرکہ میں ہے:
ولوکان وقفا ومال یتیم یلزمہ اجرۃ شریکہ علی ما اختارہ المختارون وھو المعتمد۔ اگر وہ وقف یامال یتیم ہے تو اس کے شریك کی اجرت لازم ہے جیساکہ اس کواختیارکیاہے اختیارکرنے والوں نے۔اور وہی معتمدہے(ت)
یہ سب اس کانتیجہ ہے کہ یتیم کے مال میں بے احتیاطی برتی۔ہاں اگر گواہا عادل سے ثابت ہوجائے کہ مختار زید نے عمرو کے ہاتھ پسرزید کاحصہ بیع کیااور وہ مختارزیدکاوصی تھا اوراس وقت یہ نصف مکان مع اس وقت کی عمارت کے پچیس روپے یا اس سے بھی کم قیمت کاتھا تو البتہ عمرو اس دعوی سے بری ہوجائے گاپھر اس صورت بعیدازقیاس میں کہ بیع مذکورجائزٹھہرے پچاس روپے واپس دینے پر جس کادعوی پسرزیدکرتاہے اس سے حلف نہ لیاجائے گا بلکہ وہی حکم ہے کہ پسر زید اس واپسی کے گواہ دے اورنہ دے سکے توعمروکاحلف چاہے تو عمرو سے حلف لیں اگرحلف کرلے پسر زیدکادعوی واپسی باطل ہواور عمرو حلف سے انکارکردے توپچاس روپے پسرزید کودے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۲۱۵۳: مسئولہ بنگالی ۲۶/رجب ۱۳۲۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك یتیم نے کنویں میں سے پانی اپنے واسطے یادوسرے شخص کے واسطے بھرااور اس پانی کو یتیم نے بجبریا اپنی خوشی سے پھرکنویں میں ڈال دیا ان دونوں صورتوں میں اس کنویں کاپانی قابل استعمال رہا یانہیں بینوا توجروا۔
(۲)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نابالغ نے کنویں سے پانی اپنے یاکسی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۱۸€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۵۷€
#3527 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
دوسرے شخص کے واسطے بھرااس پانی سے بالغ شخص کووضوکرناپیناوغیرہ جائزہوگا یانہیں اورہرشیئ نابالغ کی خریدی ہوئی یا لائی ہوئی کاشخص بالغ کو استعمال جائزہوگا یانہیں اوروہ نابالغ خود اپنی اولاد ہویاغیرسب کاایك حکم ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)نابالغ جس پانی کا مالك ہو خواہ یوں کہ اس نے اپنے یاکسی کے لئے کنویں سے بھرااورکنویں کی حد سے باہر نکال لیااس کے پاس برتن میں اپنی ملك پانی اس کنویں سے جداتھا اوروہ خود اس نے بخوشی یابجبرکنویں میں ڈال دیا یاکسی اورنے اس کی اجازت سے خواہ بے اجازت کنویں میں الٹ دیا غرض کسی طرح نابالغ کی ملك پانی کنویں میں مل گیا تو اب جب تك اس میں وہ پانی رہے گااس بچہ کے سواکوئی کسی طرح اس کاپانی استعمال نہیں کرسکتااس میں بچہ کی ملك ملی ہوئی ہے اس کے ہبہ یامباح کر دینے کاکسی کواختیارنہیںنہ اس کی بیع ممکن کہ بیع میں تسلیم پرقدرت شرط ہے ا وراس پرقبضہ دلاناممکن نہیں۔اشباہ میں ہے:
ملأ الصبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لم یحل لاحد ان یشرب منہ۔ نابالغ بچے نے حوض سے کوزہ بھرا پھراسی میں انڈیل دیا تو کسی کے لئے حلال نہیں کہ اس سے پانی پیئے۔(ت)
اس کاچارہ کاریہ ہے کہ جتنا پانی اس نے کنویں میں ڈالا اتنایا اس سے زائد بھرکر اس نابالغ کودے دیاجائے یا وہ خود بھرلے اس کے بعد باقی پانی مباح ہوجائے گا کماحققناہ علی ھامش الغنیۃ(جیساکہ غنیہ کے حاشیے میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کنویں کی من سے جب پانی باہرنکلتاہے بھرنے والے کی ملك ہوجاتاہےنابالغ کی ملك میں کسی کوتصرف کااختیارنہیں ہاں ماں باپ کہ فقیرہوں بقدرحاجت تصرف کرسکتے ہیںیہ کلیہ جوچیزنابالغ کی ملك ہو خواہ خریدکی ہوئی یاکسی طرح کی لائی ہوئی اس میں فقیر والدین کے سواکوئی تصرف نہیں کرسکتا اوراس کی ملك نہ ہو تو مالك کی اجازت سے تصرف ہوسکتا ہے۔
فی غمزالعیون عن شرح المجمع غمزالعیون میں بحوالہ ذخیرہ شرح المجمع سے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۵۰€
#3528 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
عن الذخیرۃاذاجاء صبی بالکوز من ماء مباح لا یحل لابویہ ان یشربا منہ اذا کانا غنیین لان الماء صار مملوکا لہ ولایحل لھما الاکل من مالہ بغیر حاجۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ منقول ہے اگربچہ مباح پانی سے کوزہ بھرلائے تو اس بچے کے مالدارماں باپ کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس کوزے سے پانی پئیں کیونکہ وہ پانی اس بچے کی ملکیت ہوگا اورماں باپ کو حاجت کے بغیربچے کامال کھانا حلال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۴: ازشہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ قاضی محمدعیوض صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد نے بحالت مرض سوروپے زیدکے پاس امانۃ جمع کئے اوروصیت کی کہ تندرست ہوگئی تویہ روپیہ لے کرحج کوجاؤں گی اوراگرمرگئی توتم کواختیار ہے کہ کسی کارخیر میں صرف کردینا اس میں سے میرے کسی رشتہ دارکو ایك حبہ نہ دیاجائےدوبارہ اس ماہ کے بعد سو روپے اور زید کے پاس جمع کئے اوروصیت کی کہ یہ رقم دوبارہ جمع شدہ بعد میرے مرنے کے تجہیز وتکفین اور ایك سال تك میری فاتحہ درودمیں خرچ ہوں اوررقم سابق جس کی وصیت کرچکی ہوں اس کارخیرمیں اٹھائی جائے اب وصیت سے ایك ماہ بعد مسماۃ کاانتقال ہوگیا(للعہ )اس کی تجہیزوتکفین فاتحہ میں صرف ہوئے جس کو ابھی سال نہ ہوا(ماہہ)باقی ہیں اورپہلی رقم بجنسہ موجودہے کل(ما )باقی ہیں ہندہ کی ایك ہمشیرہ حقیقی دوسری بھتیجی جس کاباپ بیس سال سے مفقودالخبرہے اورایك ہندہ کے شوہر ثانی کی لڑکی ہے وہ ہندہ کی دخترنہیں اب کس طرح تقسیم ہو بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ کی بہن کے بیان سے واضح ہواکہ ہندہ نے ان روپوں کے سوا اتنی چیزیں اورچھوڑیں چوڑیاں (صہ/)توڑا(ص/)بالی پتے (صہ/)کڑے()پانچ برتن وزنی تخمینا سوسیران میں چوڑیاں اپنی موت سے آٹھ دن پہلے سے اپنے جیٹھ کی نواسی کودے دیں اورتوڑے اوربالی پتوں کی بھی اسی کے لئے وصیت کیکڑوں اوربرتنوں میں کوئی وصیت نہ کیاس کی تجہیزوتکفین میں بیس روپے اٹھے اورچوالیس روپے کے کھانے پکواکر صرف مساکین کودئیےہندہ کابھائی جس وقت مفقود ہوا اس کی عمر چالیس سال تھی اورہندہ پرکوئی اعتراض نہیں برتقدیر صدق جملہ بیانات مذکوربیس روپے کہ
حوالہ / References غمزعیون البصائرمع الاشباہ النظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۵۰€
#3529 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تجہیز وتکفین میں صرف ہوئے وہ توحاجت اصلیہ میں اٹھے شامل وصایانہیںوصیت گویا ان روپوں میں ایك سواسی کی ہے اورپندرہ کی اس نواسی کے لئے کل وصیت ایك سوپچانوے کی ہے اورجملہ متروکہ دوسوآٹھ روپےاس کی تہائی انہتر روپے پانچ آنے چارپائییہاں تك بے اجازت ورثہ نافذ ہوگی اورثلث جب وصایا پرتنگی کرے تواس کاقاعدہ یہ ہے کہ جووصیت ثلث کو مجموع وصایاسے ہے اسی نسبت سے ہروصیت نفاذ پائے گی مثلا ثلث اگرمجموع وصایا کانصف ہے توہروصیت اپنے نصف میں نافذ ہوگی اورتہائی توتہائیوعلی ہذالقیاس۔غایۃ البیان میں شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے:
الوجہ فی ذلك ان تجمع الوصایا کلھا وینظر الیھا والی الثلث والی نقصانہ من الوصایا فان کان النقصان مثل نصف الوصایا ینقص من کل وصیۃ نصفھا وان کان النقصان مثل ثلثھا ینقص من کل وصیۃ ثلثھا نحو ما اذا بلغت الوصایا الف درھم لاحدھم مائۃ و للاخر مائتان وللاخر ثلثمائۃ وللاخر مائتان و للاخر ثلثمائۃ وللاخر اربعمائۃ وثلث مالہ خمسمائۃ فالنقصان من خمسمائۃ الی مبلغ الوصایا مثل نصفھا خمسمائۃ فینقص من کل وصیۃ نصفھا لصاحب المائۃ خمسون ولصاحب المئتین مائۃ وعلی وصیتوں کے مجموعے سے کتناکم ہے اگروہ کمی وصیتوں کے نصف کے برابرہے تو ہروصیت سے اس کا نصف کم کردیا جائے گا اور اگر کمی وصیتوں کے مجموعے کی تہائی کے برابر ہے تو پر وصیت میں سے اس وصیت کاتیسرا حصہ کم کردیاجائے گا جیسے کسی شخص نے مجموعی طورپرہزاردرہموں کی وصیت کی یعنی ایك شخص کے لئے سودرہمدوسرے کے لئے دوسو درہمایك اور شخص کے لیے تین سو درہم اورمزید ایك شخص کے لئے چارسودرھم کی وصیت کی جبکہ اس کے مال کاتہائی حصہ پانچ سودرہم ہےتواس طرح وصیتوں کے مجموعے سے کمی نصف کے برابرہوئی یعنی پانچ سودرہم کم ہیں چنانچہ ہر وصیت میں سے نصف کم کردیاجائے گایعنی سوکی وصیت والے کوپچاس اوردوسو والے کو دودرھم دیں گے اوراسی پر دیگرکوقیاس
#3530 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ھذالقیاس ۔ اس میں توجیہ یہ ہے تمام وصیتوں کوجمع کرکے ان وصیتوں اور میت کے مال کی ایك تہائی کو دیکھاجائے گاکہ وہ تہائی مال کرلو۔ (ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یایوں کریں کہ ہروصیت کوجونسبت مجموعہ وصایا سے ہے ہرایك کے لئے اتناہی حصہ ثلث سے دیں جووصیت مجموع وصایا کی نصف ہو اس کے لئے ثلث کا نصف دیںاورجو ربع ہو اس کے لئے ربعوقس علیہدونوں طریقوں کاحاصل ایك ہے اگرثلث کاحصہ دریافت کرنا ہوکہ اس میں سے فلاں وصیت کوکیاملے گا تویہ طریقہ کہ فقیرنے ذکرکیاعمل میں لائیںاوراگروصیت کسی عین مثلا گہنے یابرتن یامکان وغیرہ کی ہے معلوم کرناچاہیں کہ اس عین کا کتناحصہ دیاجائے گا تووہ پہلاطریقہ برتیں مثلا پہلے طریقہ پرجونسبت(لع صہ ۵/)کو(ماصہ لعہ)یادوسوآٹھ کوپانچ سوپچاسی بلکہ سولہ کوپینتالیس سے ہے اسی نسبت پر ہر وصیت دی جائے گی یعنی ہروصیت سے ۴۵ /۱۶ نافذکریں گےچوڑیاں اورتوڑا اوربالی پتے ہرایك سے اتناہی حصہ جیٹھ کی نواسی کاہے اورہرایك سے ۴۵ /۲۹ وارثوں کااگران تینوں چیزوں کی قیمت(صہ ۶۵)ہے تو ان میں سے وصیت کاحصہ پانچ روپیہ پانچ آنے چار پائی ہوگی اوردوسرے طریقہ پرجبکہ ان کی قیمت(صہ عہ)ہے اورمجموع وصایا ۱۹۵ تویہ وصیت اس مجموع کاتیرہواں حصہ ہوئی توثلث یعنی(لعہ ۵ /۴)پائی کاتیرہواں حصہ اس کا نصیب ہوگا جس کے وہی(صہ ۵ /۴)پائی ہوئے۔______________________ یوں ہی دونوں حسابوں پرکارخیر کے لئے سوروپوں کی وصیت تھی اس کاحصہ پینتیس روپے پونے نوآنے ایك صحیح دوتہائی پائی(صہ۰۸/۔۱۔۳ /۲)پائی آئے گا اورفاتحہ کی وصیت اسی ۸۰ روپے میں رہی تھی اس کاحصہ اٹھائیس روپے سات آنے ایك صحیح ایك تہائی پائی(مہ عہ/ ۱۔۳/ ۱)پائی۔فاتحہ میں اس کے حصہ سے زائد اٹھادئیے مگرفاتحہ بھی جبکہ صرف مساکین پرصرف کی گئی کارخیرہے اورمجموعہ ان دونوں وصیتوں کے حصول کا جو کارخیر و فاتحہ کے لئے تھیں چونسٹھ روپے ہوئے ان میں سے چوالیس اٹھ گئے اور اس نے سال بھرمیں اٹھانے کوکہاتھا وہ سال سے پہلے ہی اٹھادئیے اس میں بھی کچھ حرج نہ ہوا بلکہ جلدی ہی بہترتھی
حوالہ / References غایۃ البیان
#3531 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فی الھندیۃ عن الخانیۃ عن الجامعاذا اوصی بثلث مالہ للمساکین یتصدق منہ کل سنۃ ثمانیۃ دراھم اوقال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ مائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ لاولی ولایوزع علی السنۃ۔ ہندیہ میں بحوالہ جامع وخانیہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپنا تہائی مال مسکینوں کودینے کی وصیت کی اس طورپرکہ ہر سال اس کے تہائی مال سے ان پراٹھارہ درہم صدقہ کئے جائیں یا یوں کہامیں نے اس بات کی وصیت کی ہے کہ میرے مال کے تہائی حصے سے ہر سال سو درہم صدقہ کئے جائیں یایوں کہا میں نے اس بات کی وصیت کی ہے کہ میرے مال کے تہائی حصہ سے ہرسال سودرہم صدقہ کئے جائیںتو اس صورت میں وصی پورے تہائی مال کو پہلے ہی سال صدقہ کردے اور اس کو سالوں پرتقسیم نہ کرے۔ (ت)
تواب فقط بیس روپے کارخیرمیں اورخرچ کردیں اوراتناحصہ چوڑیوںتوڑےبالی پتوں کا یعنی ہرایك میں سے ۴۵ /۱۶ اس وصیت کاحصہ ہواباقی ان تین گہنوں میں ہرایك کا ۴۵/ ۲۹ اورکڑے اور برتن پورے اورایك سوسولہ روپے۔یہ سب حق ورثہ رہےبھتیجی یاشوہرثانی کی لڑکی تواصلا وارث نہیں صرف بہن وارث ہے اور وہ مفقودالخبربھائیلہذا وہ جسے ہندہ نے امین ووصی کیاتھا بیس روپے کارخیرمیں خرچ کردےبہن اورجیٹھ کی نواسی تقسیم چاہیں توان تینوں گہنوں کے ۴۵/ ۱۶ جیٹھ کی نواسی کو دے دے اورہرایك کی دوتہائی بھائی کے لئے اٹھارکھے یہاں تك کہ اس مفقود کی عمر سے ستربرس گزرجائیںاگریہ صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمرمیں مفقودہواتھا اورمفقود ہوئے بیس برس گزرے تودس برس اور انتظارکریں اگر اس دس برس میں وہ زندہ ظاہرہوتویہ دوتہائی اسے دے دیںاوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ کے بعد مرگیا تو یہ دوتہائی اس کی بیٹی وغیرہ اس کے ورثہ کو دے دیں جومفقود کی موت کے وقت اس کے وارث تھےاگریہی بہن بیٹی اس کے وارث تھے توان دوتہائی کانصف مفقود کی بیٹی کو دیں اورنصف بہن کواوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ دے پہلے مرگیا یا اسکی عمر سے ستر برس گزرجائیں اوراس کی موت حیات کا کچھ حال نہ معلوم ہو تویہ دوتہائی بھی ہندہ کی بہن ہی کودے دیں۔ادب الاوصیاء میں ہے:
ذکر فی الذخیرۃ والخانیۃ والخلاصۃ والحافظیۃان قسمۃ الاب ووصیہ ولوبمراتب جائزۃ علی ذخیرہخانیہخلاصہ اورحافظیہ میں مذکورہے کہ باپ اور وصی کی تقسیم نابالغ پرہرشیئ میں جائزے اگرچہ کئی مرحلوں میں ہوجب تك کہ
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۶ /۱۳۵€
#3532 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الصبی فی کل شیئ مالم یکن بفاحش الغبن وکذا قسمۃ الجد الصحیح ووصیہ عند عدم الاب ووصیہ و کذا تجوز قسمۃ ھؤلاء علی الکبیر الغائب فی غیر العقار وکذا قسمۃ وصی نحوالام من العم وابنہ و الاخ وابنہ ان کانت(ای القسمۃ)فی عروض ترکۃ الموصی ولم یکن ھناك من ھو اقوی منہ من الاوصیاء اھ باختصار۔ غبن فاحش کے ساتھ نہ ہویونہی جدصحیح اوراس کے وصی کی تقسیم جبکہ باپ اوراس کاوصی نہ ہوںاسی طرح مذکورہ بالاحضرات کی تقسیم بالغ غائب پراس کی منقولہ جائدادمیں جائزہے یونہی ماں کے وصی کی تقسیم اس حصہ میں جونابالغ کو ماں کی طرف سے ملا۔یہی حکم چچااس کے بیٹےبھائی اور اس کے بیٹے کے وصی کی تقسیم کا ہوگا جب کہ وہ تقسیم ترکہ موصی کے سامان میں جاری ہوا اوروہاں ان سے اقوی کوئی وصی موجودنہ ہو اھ(اختصار)(ت)
اسی میں خانیہ سے ہے:
ان کانوا(ای الورثۃ)کبارا کلھم وبعضھم غائب فقاسم الوصی مع الحاضرین برضاھم وامسك انصباء الغائبین جازت قسمتہ۔ اگروہ وارث بالغ ہوں تمام یابعض غائب ہوں اوروصی حاضرین کی رضامندی سے ان میں میراث تقسیم کردے اور جو غائب ہیں ان کے حصے روك لے تویہ تقسیم جائزہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے:
فی جامع الصغیراذا قاسم(ای الوصی)للموصی لہ بالثلثفان کانت الورثۃ صغاراکلھم او غائبین فقاسمہ واعطاہ الثلث واملك الثلثین للورثۃ جاز مقاسمتہ و ان کان جامع الصغیرمیں ہے کہ جب وصی اس شخص کے لئے ثلث مال کامقاسمہ کرلے جس کے لئے وصیت کی گئی پھراگر تمام ورثاء نابالغ ہیں یاتمام غائب ہیں تو اس نے مقاسمہ کرکے تہائی مالوصیت والے کو دے دیا اوردوتہائی وارثوں کے لئے روك لیا تو اس کامقاسمہ جائز ہے
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القسمۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۲۔۲۵€۱
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القسمۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۵۳€
#3533 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
بعضھم صغارا اوغائبا تجوز مقاسمۃ الوصی فیما سوی عقار الغائبین أما لوقاسم للورثۃ علی الموصی لہ بان کان الموصی لہ ھو الغائب وامسك لہ الثلث لم تجز مقاسمتہ ومثلہ فی الولوالجیۃ واستدل بان الوصی قائم مقام الموصی والورثۃ خلف عن الموصی فکان الوصی قائما مقام الورثۃ فتصح مقاسمتہ للموصی لہ عن الورثۃ والموصی لہ لیس بخلف عن الموصی فلایقوم الوصی مقامہ فلاتجوز مقاسمتہ للورثۃ عن الموصی لہ وھذا معنی ما فی الجامع الصغیر والھدایۃ والسراجیۃ والخلاصۃ والمنیۃ والغنیۃ والبنیۃ وغیرھا اھ مختصرا۔ اوراگران میں سے بعض نابالغ یاغائب ہیں تو وصی کامقاسمہ غائب وارثوں کی غیرمنقول جائداد کے ماسوا میں جائزہوگااور اگراس نے وارثوں کے لئے وصیت والے شخص پرمقاسمہ کیابایں صورت کہ وہ وصیت ولاشخص غائب تھااوروصی نے اس کے لئے تہائی مال روك لیا تو اس کامقاسمہ جائزنہیں اور اسی کی مثل ولوالجیہ میں ہےاوراستدلال یوں کیاگیاہے کہ وصی موصی کے قائم مقام ہے اور ورثاء موصی کے پسماندگان ہیں توگویاوصی وارثوں کے قائم مقام ہوگیا لہذا وصیت والے شخص کے لئے اس کا وارثوں سے مقاسمہ کرنا صحیح ہےاور وصیت والاشخص موصی کاجانشین نہیں لہذا وصی اس کے قائم مقام نہیں ہوگا تووصیت والے شخص سے وارثوں کے لئے اس کامقاسمہ جائزنہیں ہوگااوریہی معنی ہے اس کاجو کچھ جامع صغیرہدایہسراجیہخلاصہمنیہغنیہ اور بنیہ وغیرہ میں ہے الخ(اختصارا)۔(ت)
مسئلہ ۱۵۵: ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ غوریانہ خورد مرسلہ عبدالحمید صاحب معرفت حافظ علی بخش صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور ۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مرحومہ نے اپنے دم واپسیں اپنے زیورات کے بارہ میں یہ وصیت کی کہ اس کو فروخت کرکے میرے نام کاایك چاہ بنوادیاجائے کہ جس میں مجھ کو ثواب ملے لیکن یہاں جامع مسجدمیں جب کثرت نمازیوں کی ہوتی ہے توصحن مسجدمیں بھی دوایك صفیں نمازیوں کی ہوجایاکرتی ہیں ایام گرما میں بوجہ تمازت آفتاب زمین بھی نہایت گرم رہتی ہے اوراوپر کی دھوپ اوربھی ان نمازیوں کے لئے جوصحن میں ہوتے ہیں
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی القسمۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۷۔۲۵۶€
#3534 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
باعث تکلیف ہوتی ہے پس ایسی صورت میں اگرمرحومہ کی وصیت کو نہ خیال کیاجائے اوربجائے تعمیر چاہ کے صحن مسجد میں ایك سائبان ٹین کاتعمیرکرایاجائے کہ جس سے نمازیوں کوآرام ملے تووصیت مرحومہ کی وجہ سے کسی قسم کانقص شریعت کی روسے تونہیں ہے کیونکہ مرحومہ کی وصیت چاہ کے بارے میں ہوئی ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب: وصیت میں ایسی تبدیلی جائزنہیں
لان حفرۃ البئر قربۃ مقصودۃ فلاتغیر کما حققناہ فی ما علی ردالمحتار علقناہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ کنواں کھودنا قربت مقصودہ ہے لہذا اسے غیر سے بدلانہ جائے گا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار پراپنی تعلیق میں کردی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۶: ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالرب صاحب ساکن درئیس برہ ۱۶شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کل جائداد اپنے بیٹے عمروکے نام ہبہ کردی اورقبضہ تام کرادیا بعد کو عمرو کا انتقال ہوگیا اورعمرو نے دولڑکے کے نابالغ اور ایك لڑکی نابالغہ اورایك زوجہ اوروالدین چھوڑےان میں سے ہرایك کو موافق فرائض کے حصص پہنچے اور کاغذات مال میں عملدآمدہوگیااس کے بعد لڑکی کابھی انتقال ہوگیا اس نے ایك دادا اور دادی اورایك دختر اورشوہر چھوڑے ان کو اس کی جائداد سے حصص شرعی پہنچے اورکاغذات مال میں تکمیل ہوگئی لیکن چونکہ اس گھر میں ذکورمیں سے عاقل وبالغ کوئی سوائے زیدکے نہ رہا لہذا زیدہی سب کی طرف سے کل حصص کاکارکن ومنتظم رہا بالغان کی طرف سے باجازت اورنابالغان کی طرف سے بولایات اورکسی کاحساب وروپیہ اپنی حیات بھرعلیحدہ نہ کیا اورنہ کسی کی آمدنی اس کے قبضہ میں دی بلکہ اپنی اور سب کی آمدنی مخلوط اپنے ہی پاس رکھی اورجہاں چاہا محض اپنی رائے سے اس مشترك کی آمدنی سے صرف کرتارہا یعنی سب شرکاء کے ضروری اخراجات علاوہ خیرات ومیراث مثل بناء مسجدوچاہ وپل اورجائداد خریدکروقف کرنا اورروپیہ غرباء عرف وعجم کوتقسیم کرنا اورحج کے واسطے ضرورت سے زائد ہمراہ لے جانا اوراپنے دوست واحباب ورعایا کو قرض اتنادینا جس کی امیدوصول نہیں اور ان امورمیں سے کچھ نہ کسی شریك بالغ یانابالغ کی اجازت سے تھا اورنہ ان میں کوئی راضی تھا بلکہ نابالغوں
#3535 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نے بعد بلوغ اوربالغان نے جب یہ حالت دیکھی توان کو شاق گزرا مگرچونکہ زیدسب کابزرگ اورذی رعب شخص تھا اس واسطے کوئی اس سے تاحین حیات نہ اپناحساب اورنہ اپنی آمدنی طلب کرسکا اور نہ اپناحصہ اس کے قبضہ سے نکال کرخود قابض ہوسکا البتہ زید نے اول حصہ جائداد کاجوترکہ پسر سے اس کو پہنچاتھا ہردونبیرگان کے نام بیع کرکے امین باززرثمن یہ الفاظ تحریرکرائے کہ کل زرثمن ہم نے بوجہ محبت قلبی مشترکان کوبخش دیا اوردوسری حصہ جائداد کاجوترکہ دخترپسر سے پہنچاتھا دونوں نبیروں کے نام بیعنامہ لکھا اوراس میں یہ لکھا کہ زرثمن تمام وکمال وصول پایا زیدنے اس کے بعد اس مشترکہ آمدنی سے اپنے نام سے خرید کی اورزیدکا ایك مکان بھی ذاتی تھا اس نے جائداد اورمکان کا بیعنامہ بھی نبیرگان مذکورکے نام کردیا اوراس میں بھی کل زر ثمن کی وصولیابی تحریرکردی مگریہ دونوں وصولیابیاں فرضی تھیں اور اس سے بھی زرثمن کامعاف کرنا مقصود تھا پہلے اور دوسرے بیعنامہ کے وقت ایك نبیروبالغ اوردوسرا نابالغ تھااورتیسرے بیعنامے کے وقت دونوں بالغ تھےان بیعناموں میں کسی سے قبل زبانی کوئی بیع نہ ہوئی تھی نہ کسی طرف سے کوئی ایجاب یاقبول ہواسوائے اس کے کہ زیدنے تحریربیعنامہ سے پہلے اپنے مکان پرنبیروں سے کہاہم چراغ سحری ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اپنی جائداد تم دونوں کے نام نصف نصف کردیں کہ ہمارے بعد جھگڑانہ ہو۔نبیروں نے کہابہت اچھا۔اس کے بعد شہرجاکر انہوں نے یہ بیعنامے تحریرکرادئے اوراس کی تکمیل کو نبیروں نے قبول رکھا اور جس قدر زرثمن بیعناموں میں لکھاگیا کسی وقت وہ اس مال کی قدرنہ تھا جوزیداول مصارف بالائی میں بلارضا واجازت نبیرگان صرف کرتا رہا وہ مال زرثمن سے ہمیشہ زائد تھااب زید کاانتقال ہوگیا اس نے آمدنی مشترکہ سے کچھ زرنقد اوراثاث البیت چھوڑا اورکچھ اپنا ذاتی روپیہ چھوڑا اوراشخاص مذکورین مشارکین الحصص میں سے یہ یہ ورثاء چھوڑے دونبیرگانایك زوجہعلاوہ ازیں ایك زوجہ مع دختر اپنی چھوڑی کہ مذکورین سابق سے نہ تھیاب امردریافت طلب یہ ہے کہ اس جائداد کازید منتظم وکارکن تھا اورزید نے بلارضامندی مالکان تصرفات مذکورہ بالا کئے وہ زیدپرقرضہ ہوگایانہیں در صورت قرضہ قرارپانے جو زرنقد ملك زید تھا وہ قرضہ میں دیاجائے گایاترکہ تقسیم ہوگا اورجوجائداد زید نے اپنے نبیرگان کے نام بیعنامہ بصور مختلفہ مذکورہ بالابیع کی وہ یا زرثمن معاف شدہ قرضہ میں مجراہوگا یانہیں اورمشترکہ روپیہ اوراثاث البیت کس طرح تقسیم ہوگابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مال مشترك سے جس قدر روپیہ زید نے خیرات ومبرات مذکورہ میں
#3536 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
صرف کیا اس میں سے حصہ نابالغان کاتاوان اس پرلازم ہونا تو ظاہر ہے لانہ لایملك التبرع بمالھم(اس لئے کہ وہ نا بالغوں کے مال میں تصرف کامالك نہیں۔ت)یونہی قرض مذکورہ کہ وہ بھی تبرع ہے۔ادب الاوصیاء میں عمدہ وولوالجیہ وقنیہ و خلاصہ سے ہے:
لایقرض الاب ولاوصیہ مال الیتیم۔ باپ اوروصی یتیم کے مال کو قرض پرنہیں دے سکتے۔(ت)
یوں ہی جبکہ بالغوں کی بھی رضاواجازت نہ تھی تو ان کابھی تاوان زیدپرعائد اگرچہ انہوں نے زید کو صرف کرتے دیکھا اور اس کے رعب سے کچھ نہ کہہ سکے۔اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ۔ اگرکوئی شخص کسی کواپنامال بربادکرتے دیکھ کر چپ رہا تویہ اس کی طرف سے برباد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔(ت)
ظاہرہے کہ زرنقد یاجوترکہ زیدنے چھوڑا اس سے ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے اور یہ تاوان بھی زیدپردین ہیں توجب تك ادانہ ہولیں ورثائے زید کو ترکہ نہ پہنچے گاجائداد کہ زیدنے اپنے نام خریدی اسی کی ملك ہوئی اگرچہ اس کی قیمت زرمشترك سے ادا کی اس سے شرکاء کاجائداد خریدکردہ میں حصہ نہیں ہوجاتا ہاں زرثمن کہ مال مشترك سے دیاہے ہرشریك کا اس میں جتنا حصہ تھا اتنے کاتاوان زیدپر آیاکہ یہ بھی اگلے تاوانوں میں شامل ہوگا۔ردالمحتارمیں ہے:
مااشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک۔ شرکاء میں سے اگرکسی نے کوئی چیز اپنی ذات کے لئے خریدی تووہ اسی کی ہوگی اوروہ ثمن میں سے دیگرشرکاء کے حصوں کا ضامن ہوگا جبکہ اس نے ادائیگی مال مشترك سے کی ہو۔ (ت)
توظاہرہواکہ تینوں بیعنامے صحیح ہوئے ہرایك میں زید نے اپنی ہی ملك نبیران کے نام بیع کی اورنبیرے ان سب مبیعوں کے مالك ہوگئے۔
حوالہ / References آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷€۴
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۸۵€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳ /۳۳۸€
#3537 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
والبیعان الاولان وان لزم فیھما تفریق الصفقۃ لان احد المبیع منہما کان صغیرا ثم البیع فی حقہ بمجرد الایجاب والاخر بالغا تاخر فی حقہ الی قبولہ لکنہ لیس تفریقا علی البائع بل منہ فلا یضرلانہ انما کان یمنع لحقہ فاذا رضی بہ فلاحرج کمن باع صبرۃ طعام کل فقیز بدرھم جاز البیع فی فقیز واحد و للمشتری الخیار لتفرق الصفقۃ علیہ کما فی الھدایۃ لاللبائع وان تفرقت علیہ ایضا لان التفرق جاء منہ فیکون راضیابہ کما فی البنایۃ۔ پہلی دونوں بیعوں میں اگرچہ تفریق صفقہ لازم ہے کیونکہ جن دولڑکوں کے نام بیع کی گئی ان میں سے ایك نابالغ ہے پھر اس نابالغ کے حق میں بیع فقط ایجاب سے ہوئی اور دوسرا چونکہ بالغ ہے لہذا اس کے حق میں بیع اس کے قبول کرنے پر موقوف ہوگئی لیکن صفقہ میں یہ تفریق بائع پر لازم نہیں آئی بلکہ اسکی طرف سے لازم آئی چنانچہ یہ نقصان دہ نہیں۔ اس لئے کہ ممانعت تو اس کے حق کی وجہ سے تھی جب وہ اس پر راضی ہے توکوئی حرج نہیںجیسے کسی نے گندم کا ڈھیربیچاکہ ہربوری ایك درہم کی ہے تویہ بیع ایك بوری میں جائزہوگئی اورچونکہ مشتری پر صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے لہذا اس کو اختیارہے جیساکہ ہدایہ میں ہے بائع کو اختیارنہیں ملے گا اگرچہ اس پربھی صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے کیونکہ یہ متفرق ہونا اس کی طرف سے لازم آیاہے تو اس طرح وہ اس پرراضی ہواجیساکہ بنایہ میں ہے۔(ت)
تویہ جائدادیں اس تاوان کی زیرپانہیں ہوسکتیںرہے ان کے زرثمن پچھلے دونوں بیعنامے جن میں زرثمن کافرضی وصول لکھ دیا ان کامطالبہ نبیروں پرسے ساقط نہ ہوا اگرچہ اس سے مقصود یہی ہوکہ زرثمن مشتریوں کو معاف ہوجائے کہ شرع میں دربارہ عقودومعاملات معانی الفاظ پر نظرہےنہ مقاصد واغراض پرورنہ حیل شرعیہ یکسرباطل ہوجائیں وقد حققناہ فی کاسرالسفیہ الواھم(اور اس کی تحقیق ہم نے رسالہ کاسرالسفیہ الواھم میں کردی ہے۔ت)یہاں لفظ اقراروصول ہے اوروہ نہ ہبہ ہے نہ ابرابلکہ ایك غلط خبرتو مجرد
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۷€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ∞۳ /۲۱€
#3538 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نیت سے دین ساقط نہ ہوجائے گا اقرارکاذب ودیانۃ توباطل ومحض بے اثرہے اورقضاء بھی جبکہ اس کاراضی ہوناثابت ہوجیساکہ یہاں ہے کہ خودنبیروں کو اس کے فرض ہونے کااقرار ہے بلکہ یہاں جبکہ زیدپرنبیروں کامطالبہ تاوان حقیقۃ موجودتھا تواقرار وصول کوفرضی ٹھہرانے کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ اپنامطالبہ ثمن ان کے مطالبہ تاوان کی مجرائی سے وصول پانا مراد ہوسکتاہے اورمعنی صحیح و صادق بنتے ہوئے اقرارغلط وکاذب پرمحمول نہ کریں گے ہاں پہلابیعنامہ جس میں ہبہ ثمن لکھاہے یہ ہبہ نبیرہ نابالغ کے لئے صحیح ہوگیا اوربالغ کے حق میں صحیح نہیں کہ باپ یا داداجب اپنے نابالغ بچہ کے نام بیع کریں توبیچاکہتے ہی بیع تمام ہوجاتی ہے اوریہی ایك لفظ ایجاب قبول دونوں قرارپاتاہے۔درمختارمیں ہے:
وینعقد ایضا بلفظ واحد کما فی بیع القاضی والوصی والاب من طفلہ و شرائہ منہ فانہ لوفور شفقتہ جعلت عبارتہ کعبارتین۔ اس کا انعقاد ایك ہی لفظ کے ساتھ بھی ہوجاتاہے جیساکہ قاضی اور وصی کی بیع۔اورباپ کی بیع وشراء اپنے نابالغ بیٹے کے لئےاس لئے کہ کمال شفقت کی وجہ سے اس کی عبارت دوعبارتوں کی طرح بنادی گئی ہے۔(ت)
ادب الاوصیاء میں ہے:
فی شرح الطحاوی الجد الصحیح کالاب فی ذلك یعنی عند عدمہ۔ شرح طحاوی میں ہے کہ اس مسئلہ میں جد صحیح بھی باپ کی طرح ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی میں۔(ت)
اورشك نہیں کہ بیعناموں میں پہلے شیئ کی بیع کرنا لکھاجاتاہے اس کے بعد ثمن ہبہ کرنا تویہ ہبہ حق نابالغ میں بعد تمامی بیع واقع ہوا اورصحیح ہوگیاتو اس بیعنامہ کے نصف ثمن کو جونبیرہ نابالغ کے لئے ہبہ ہوا اس نابالغ کے آتے ہوئے تاوانوں میں مجرانہ کریں گے کہ ہبہ تملیك بلاعوض ہے اور مجراہونا معاوضہ توخلاف تصریح زید اسے معاوضہ نہیں کہہ سکتے۔عالمگری میں ہے:
من علیہ الدین وھب مالا جس شخص پرقرض ہواگر وہ کچھ مال قرض کے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲€
#3539 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
من رب الدین یملکہ رب الدین بالھبۃ لابالدین کذا فی المحیط ۔ مالك کوبطورہبہ دے دے تووہ بطورہبہ اس کامالك بن جائے گا نہ کہ بطور قرض کی وصولی کے۔محیط میں یونہی ہے۔(ت)
مگرنصف ثمن کہ دوسرے نبیرئہ نابالغ کوہبہ کیایہ ہبہ باطل ہواکہ حسب تصریح مسائل یہاں کوئی بیع پہلے نہ ہوئی تھی یہی بیعنامہ ایجاب بیع تھااوراس میں ہبہ ثمن لکھاگیا اورحق بالغ میں نفس ایجاب سے بیع تمام نہ ہوئی اورثمن واجب نہیں ہوتا جب تك بیع کے دونوں رکن ایجاب وقبول متحقق نہ ہولیں تویہ ہبہ اس وقت ہواکہ ابھی ثمن اس نبیرہ بالغ پرواجب ہی نہ ہوا تھا اور ہبہ قبل وجوب باطل ہے۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوقال بعتك ھذا الشیئ بعشرۃ دراھم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جازالبیع ولایبرء المشتری عن الثمن لان الثمن لایجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان برأ قبل السبب فلایصح۔ اگرکسی شخص نے کہایہ شیئ میں نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض فروخت کردی اوردس درہم تجھے ہبہ کردئیے پھر مشتری نے قبول کرلیا توبیع جائزہوگئی اورمشتری ثمنوں سے بری نہ ہوگاکیونکہ ثمن قبول بیع کے بعد واجب ہوتے ہیں تو جب اس نے قبول سے پہلے ثمنوں سے مشتری کوبری قرار دے دیاتویہ بری کرنا سبب سے پہلے ہوالہذا صحیح نہیں ہوگا۔ (ت)
مشترك روپے اوراثاث البیت سے اس زوجہ اورنبیران کے ذاتی حصے الگ کرلئے جائیں گے جو اس میں شریك تھے اورجب کوئی ذریعہ تمیز نہ ہو تو زید اوریہ تینوں اس زر واثاث میں بحصہ مساوی شریك مانے جائیں گے
کما ھو حکم شرکۃ الملك المنصوص علیہ فی الخیریۃ و رد المحتار وغیرھما۔ جیساکہ شرکت ملك کاحکم ہے جس پرفتاوی خیریہ اوردالمحتار وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔(ت)
(توحاصل یہ ٹھہراکہ)زوجہ اوردونوں نبیرے کہ اس جائداد میں شریك تھے جن کاکارکن زید تھا
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸€۵
فتاوی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی احکام البیع ∞نولکشورلکھنؤ ۲ /۳۴۹€
#3540 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ان تینوں کی آمدنیاں حساب کی جائیں پھرہرایك کاخرچ اس سے مجراکیاجائے باقی کہ زید نے مصارف مذکورہ خیرات ومبرات وقرض مردہ خریداری جائداد بنام خود میں صرف کردیا اس حصہ میں حصہ رسد زوجہ اور ہرنبیرہ کا تاوان زید پرآیااب زوجہ کایہ تاوان تو پورا واجب الاداہے اوردونوں نبیروں کے تاوانوں سے ہردوبیعنامہ اول کانصف زرثمن بھی ساقط کیاجائے جوجو باقی رہے وہ ان دونوں کا تاوان ہےاب زید پردونوں زوجہ سے جس جس کاجتنا مہرواجب الاد ہواوران کے سوا اگرکوئی اور دین زید پرآتا ہو وہ سب ان تینوں تاوانوں کے ساتھ ملاکر یہ مجموع دیون ترکہ زید سے حصہ رسد اداکئے جایں خواہ وہ اس کاذاتی روپیہ ہو یا اس زر واثاث البیت مشترك کاحصہاگر ان کے ادا سے کچھ نہ بچے کوئی وارث وراثۃ کچھ نہ پائے ورنہ باقی حسب شرائط فرائض سولہ سہام ہوکرایك ایك سہم ہرزوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین ہرنبیرہ کوملیں گے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۷: ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ مجیدگنج مرسلہ محمدحسین ولد مولی بخش ۲۰شوال ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے بھائی اوربہنوں کی جائداد بطریقہ جائزہ خرید کراپنی زوجہ کے نام لکھا دی اب اس شخص کے دوبیٹے ہیں(ایك بیٹی بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا اوراب اس کی جانب سے کوئی دعویدارنہیں مگر اس کا شوہر ہے آیا وہ شرعا حقدارہے یانہیں)شخص مذکور نے اپنے انتقال سے پیشتر اپنے حصہ کی جائداد اورنیز نئی خرید کردہ جائداد جو بی بی کے نام لکھ دی تھی اپنے دونوں بیٹوں میں کسی طرح تقسیم نہ کی اب اس شخص کی بی بی نے ایك کاغذ بنواکر باقی جائداد بھی بعوض مہراپنے نام کرالی اورمشہور کردیاکہ یہ کاغذمیرے خاوند ے سامنے کالکھاہواہے مگریہ بات محلہ میں مشہورہے کہ یہ کاغذ جعلسازی سے تیارکیاگیاہے اوربات بھی یہی ہے اس شخص کے بڑے بیٹے نے اپنے والد کے حین حیات اس وجہ سے تنگ آکر کہ ساس بہو میں اکثر لڑائی رہتی ہے اپنا مکان تبدیل کرلیاتھا اب والد کے انتقال پرجب وہ بالکل مختارہوگئیں تو محلہ کی مستورات اورچھوٹے بیٹے کی لگائی بجھائی سے ان کی رنجش اوربڑھ گئی اورمرنے سے ۱۔۲ /۱ ماہ پیشتر تمام جائداد اسی چھوٹے بیٹے کے نام ہبہ کرادیہبہ سے چندروز پیشتر بڑے بیٹے نے تمام اہل برادری کو اپنی والدہ کے سامنے جمع کیا اوراپنی خطا ہوئی ہو اور جب نہ ہوئی ہو جب معاف کرائی اورانہوں نے معاف کیپھربھی پندرہ بیس روز بعد انہوں نے تمام جائداد کا ہبہ نامہ چھوٹے بیٹے کے نام کر دیا میں نے دیوانی میں اپنے بھائی پر اپنے حصے کی نالش کی ہے آیامیں اس جائداد میں حقدارہوں یانہیں
#3541 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
الجواب:
مجرد تحریراگرچہ رجسٹری شدہ ہوکوئی چیز نہیں جب تك گواہان شرعی سے ثابت نہ ہوپس اگردوگواہ عادل موجودہوں کہ شخص مذکورنے پنی صحت میں وہ جائداد بعوض مہربنام زوجہ کردی تودیگرورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا عورت نے کہ اپنے چھوٹے بیٹے کوہبہ کردی اگرقبضہ تامہ اپنی حیات میں دلادیا تو چھوٹا بیٹا اس کامالك مستقل ہوگیا ہاں اگر قبضہ کاملہ نہ دلایا اورعورت کاانتقال ہوگیاتوہبہ باطل ہوگیا اوراب وہ جائداد متروکہ زن قرارپاکراس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے بڑابیٹا بھی اپنا حصہ شرعی پائے گا اوراگرگواہان شرعی سے مہرمیں دینے کاثبوت نہیں تواب یہ دیکھاجائے گاکہ مہرکچھ باقی تھا یاسب معاف یااداہوگیاتھااگرکچھ باقی نہ تھا یاجتنا باقی تھا وہ اس جائداد کی قیمت سے جوشوہر کے نام تھی کم تھا توعورت کوکوئی استحقاق نہ تھا کہ وہ سب جائداد بعوض مہراپنے نام کرلیتی اوراب جواس نے اس جائداد کوچھوٹے بیٹے کانام ہبہ کیا محض باطل ہوا اگرچہ قبضہ دلادیاہو
لانھا ھبۃ مشاع وھی باطلۃ حتی لاتملك بالقبض فی الصحیح۔ اس لئے کہ وہ غیر مقسوم کاہبہ ہے اوروہ باطل ہے یہاں تك اس میں قبضہ سے بھی ملك ثابت نہیں ہوتایہ صحیح قول کے مطابق ہے(ت)
اس تقدیر پربعدادائے مہروغیرہ دیون ونفاذ وصایا جووارثان شخص مذکور ہوں ان پرحسب فرائض تقسیم ہوگیدختر اگرباپ کے بعد زندہ رہی ہوتو وہ بھی حصہ پائے گی اوراگرپہلے مرگئی تو اس کاکچھ حق نہیں اس کے شوہرکادعوی باطل ہے ہاں اگرمہر کل یا جتنا باقی تھا اس جائداد کی قیمت کے برابر یازائدتھا توایك فتوی اقطع کی بناء پرعورت اسے اپنے مہرمیں لے سکتی تھی اوراب کہ وہ ما بلکہ ہوگئی اس کاحکم وہ پہلی صورت کاہوگیاکہ چھوٹے بیٹے کے نام س کاہبہ صحیح ہوگیا اگرقبضہ دلادیا اورباقی وارثوں کاکچھ حق نہ رہا اورقبضہ کاملہ نہ ہوا توجائداد متروکہ زن ٹھہرکروارثان زن پر تقسیم ہوگی جن میں بڑابیٹابھی ہے اوراس صورت میں پسر کلاں خواہ کسی وارث کو اس پردعوی بیکار ہے مگریہ کہ مہراپنے پاس سے اداکردے توحسب اصل مذہب جائداد سے اپناحصہ لے سکتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئہ ۱۵۸: ازکچہری چیف کورٹ ریاست بہالپور مرسلہ محمددین صاحب جج ۲۳رمضان المبارك ۱۳۳۲ھ
(۱)آج یہ مسل پیش ہوئے فتاوئے مصدرہ میں جوسوال زیربحث اکثرطے ہوچکے ہیں
#3542 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ان کے اس حکم درمیانی میں تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہےذیل میں ان سوالات کاذکر کیاجاتاہے جن میں:
(الف)ابھی تك اطمینان کی ضرورت ہے موصی اگر دوشخصوں کے حق میں وصیت کرے جن میں سے کچھ مال وارث کے نام اور دوسرا کچھ مال ایك شخص اجنبی کے نام جیساکہ اس مقدمہ کی صورت ہے توکیا ایسی وصیتیں جائزاورقابل نفاذہیںاگرسوال اول کاجواب جواز وصایا متعددہ ہوتوپھر یہ دیکھنا ہے کہ پہلے کون سی وصیت کونافذکرنا چاہئےآیا اس وصیت کوجوایك وارث کے حق میں کی گئی یا اس وصیت کوجوایك اجنبی شخص کے حق میں کی گئی ہےاجنبی شخص کے حق میں چونکہ وصیت زائدعلی ثلث المال ہے اس لئے وارث کے اعتراض پراس وصیت کانفاذ ثلث المال تك محدود کرناپڑے گایاکس طرحایسی صورت میں اگر بحق الوارث ناقابل نفاذقراردی جائے یا اس کانفاذ نفاذوصیت بحق وارث سے مقدم قراردیاجائے توثلث المال میں جمیع مال موصی کاثلثنفاذ وصیت کے لئے شمارکیاجائے گا یازیورات کو جن کی نسبت متوفی نے شاہ محمدکے نام کوئی وصیت نہیں کی علیحدہ رکھ کر باقی ماندہ کے ثلث پروصیت نافذ ہوگیدونوں صورتوں میں جوجائزقراردی جائے اس کی سند ہونی چاہئے بعد نفاذ وصایا اورادائے فرض ورثاء کے جومال باقی ترکہ متوفی کابچ رہے اس کی تقسیم میں علماء میں بحث اوراختلاف ہے اس کا اقتباس یہ ہے:
(۱)باقیماندہ مال اس اصول پر کہ نفاذوصیت لزائد علی ثلث المال(ایك تہائی سے زائد مال کی۔ت)کااب کوئی مزاحم نہیں رہااب موصی لہ بزائد علی ثلث المال کوملناچاہئے۔
(۲)باقیماندہ مال کااب چونکہ کوئی حقدارنہیں رہا اورزوجہ موجودہے اس لئے ردعلی الزوجین کے فتوی کے مطابق زوجہ کودیاجائے۔
(۳)باقیماندہ کی تقسیم بعدادائے فرائض ودیون وفرائض وصایا کی جوترتیب ہوسکتی ہے وہ حسب ذیل مستحق بالترتیب ہوں گے:
۱ذوی الفرائض۲عصبات۳ردذوی الارحام۴مقرلہ۵موصی لہ بمازاد علی الثلث۶ردعلی الزوجین۷بیت المال۔
اسی ترتیب کی روسے بمازادعلی الثلث کودیاجائے۔
___________________________________فقرہ بالاکی صورت نمبر۲۳ میں علماء کا
#3543 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اختلاف تقدم وتاخر ردعلی الزوجین اورموصی لہ بکل المال کے ہے اور اس حقوق کے متعلق بحث بھی فتاوی میں بہ تفصیل درج ہےایك جزئی سنداس قسم کی زیربحث ہے جس میں علماء متاخرین نے بیت المال کوبوجہ فسادوعدم وجود بیت المال کے ردعلی الزوجین سے متاخرکردیاہےاور موصی لہ بکل المال کو ردعلی الزوجین پرمقدم رکھنے کے متعلق کوئی سند صریح اورجزیئ ظاہرنہیں کی گئی صرف مندرجہ ذیل استشہاد میں کی گئی جن کودوسرے علماء اسی متاخرین اورمتقدمین کی بحث میں لاکر رد علی الزوجین سے مؤخرخیال کرتے ہیں۔ملاحظہ ہوں فتاوی۔
یہ سوالات ہیں جوابھی تك تصفیہ طلب ہیںنقول فتاوی علماء نے منسلکہ مسل معہ نقل استفتاء و نقل وصیت نامہ خدمت میں مولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مرسل ہوں اورالتماس کی جائے کہ ان تمام فتاوی کوملاحظہ فرمائیںاوران سوالات حل طلب کے متعلق اپنی رائے کامعہ استناد جواب تحریر فرماکربہت جلد مرحمت فرمائیںمبلغ(صہ/)بذریعہ منی آرڈر مولوی صاحب کی خدمت میں بھجوادیئے جائیںاوریہ بھی التماس ہوکہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوی معلوم ہوتواطلاع بخشیںملاحظہ فتاوی سے اختلاف علماء کے تمام جزئیات اورصورتیں واضح ہوں گیہرایك فتوی پرعلیحدہ علیحدہ نمبردئیے گئے ہیں مقدمہ چونکہ عرصہ سے دائرہے اس لئے نتیجہ کے بھجوانے کے لئے استدعاکی جاتی ہے کہ بہت جلدی عدالت ہذا میں بھجوایاجائےتحریر۱۷/اگست۱۳۱۳ھ
(مسماۃ عالمون بنام شاہ محمددعوی جائداد بروئے وراثت)
نقل وصیت نامہ ادا
میکہ واحد بخش ولددین محمدذات شیخ نومسلم پیشہ نان بائی عمرتخمینا(صہ للعہ)سال حال مقیم خانپور ریاست بہاولپورکاہوں بجمعی حواس خمسہ وہوش عقل بلااجبار واکراہ احدیکہ اقرارکرتاہوں اورلکھ دیتاہوں اس بات پرکہ مظہربعارضہ بیماری تپ دق کے بیمار ہے اور یہ بیماری ایك ایسی بیماری ہے کہ اس سے نجات قسمت اورخدادادزندگی پرشفایابی حاصل ہوتی ہے اوراب مجھ کوایسے نازك وقت پراپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام بھی کرناضرورہے تاکہ پسماندگان میرے میں کوئی تکرارمداربرپانہ ہو پس اب میں اس طرح پراپنا انتظام کرتاہوں کہ چونکہ میراکوئی فرزندنرینہ یامدینہ نہیں ہے صرف ایك عورت نوجوان ہے جس پریہ بھروساکم ہے کہ بعد موتیدگی میرے کے وہ میرے حق میں رہے اوریہ ضرور ہے کہ میری جائداد بعد میرے تباہ و خراب ہوجائے اس کایہ انتظام ہے کہ زیورات ذیل کنٹھمالہ طلائی ۸یاپانچ لڑی قیمتی(یاعہ ۲۰)کڑیاں نقرہ ایك جوڑا قیمتی یك صدروپیہچندن ہارایك قیمتی مبلغ(صہ)تولہ طلائیاورایك عدد قیمتی(عہ /)
#3544 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
عطردانایك قیمتی مبلغ سے بازوبند نقرہایك جوڑہ قیمتی سے کنگن نقرہدانوال ایك جوڑہ قیمتی مبلغ(عہ)کل جملہ مبلغ(ماعہ عہ) کے زیوراتمندرجہ بالا اپنی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوملے گا ان زیورات سے کسی کا تعلق اور واسطہ نہ ہوگامیری زوجہ مسماۃ عالم خاتون مذکورہ بالاکے ہیںماسوائے اس کے میری جائداد غیرمنقولہ ازقسم مکانات رہائش بمقام نوشہرہ ہیں اوروہ پیداکردہ مظہرکے ہیں ان کاانتظام اس طورپر رہے گا کہ وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں ولد مسکرخاں ذات نانبوچی سکنہ خان پور کے اور مالك بھی یہی رہے گا اگرمظہر کی عورت مظہرکے حق میں رہ کرگزارہ کرے تو اس کوفقط حق آسائش کاحاصل رہے گاوہ یعنی تاحق مظہرآبادرہے گیرہن اوربیع مسماۃ عالم خاتون زوجہ ام کواختیار ہرگزنہ ہوگا اوراگروہ کسی دوسری جگہ اپناعقد نکاح کرادے یا جدید خاوندکرے تواس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق اورواسطہ نہ ہوگا مالك اورقابض شاہ محمدخاں مذکورہے اور اس کو اختیارہے کہ اس کو فروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا یعنی غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن گلی ومسی وکٹ وغیرہ دیگچہ ہامسی و تھالی کلاں مسی وکٹورہ کٹ وچارپائی ہائے وغیرہ جملہ سامان خانہ دارری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گابموقع محفل امامین شہیدین شریفین شاہ محمدخاں جملہ برتن ہائے میں سے گلیم دری کلاں وغیرہ لے جائے اوراستعمال کرے سب کچھ شاہ محمدخاں کے اختیار میں ہوگا زوجہ ام مسماۃ عالم خاتون کوضرورت استعمال کے لئے دئیے جائیں گے بشرطیکہ وہ فروخت یابیع روپوش نہ کرے ورنہ کلہم اشیاء مندرجہ بالا کامالك شاہ محمد خاں ہے جس نے میری خدمت گزاری اور وفاداری ازحدکی ہے بعد انتقال میری بھی تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت آخر کو پورا انجام دے گا۔یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گی جب تك میں حیات موجودہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے اورقابل عمل ہوں گی لہذا ایں چند حروف بطور وصیت نامہ لکھ دیتاہوں کہ سندرہے اوروقت حاجت کے کام آئے۔
المرقوم ۲۲صفر۱۳۳۱ھ مطابق ۲۳فروری ۱۹۱۱ء
استفتاء
مسمی واحدبخش مرگیاہے صرف ایك بیوہ مسماۃ عالمون چھوڑگیاہے دیگرکوئی اس کاوارث نہیں مرنے سے قریب ایك یادوماہ یا پندرہ یوم وہ چہارپائی بند ہوگیا اس کوتپ دق کی بیماری تھی اسی بیماری میں وہ فوت ہواہوش اس کو آخرتك رہیمرنے سے ایك ہفتہ پہلے اس کے معالج نے یہ کہہ دیاتھا کہ وہ اب نہ بچے گا اوراس
#3545 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
لئے اس کاعلاج کرنابھی چھوڑ دیاتھامرنے سے قریب تین چاریوم پہلے ۲۳فروری ۱۳۱۱ھ کو واحدبخش مذکور نے ایك وصیت تحریری تکمیل کیاس وصیت کی ایك نقل شامل ہذا کی جاتی ہے یہ شاہ محمدموصی کانہ رشتہ دار نہ ہم قوم ہےمتوفی ایك نومسلم تھاجو اپنے آپ کووصیت میں شیخ نومسلم پیشہ نان بائی لکھتاہےاسی شاہ محمد کے گھر میں وہ مراجس نے اس کی تجہیز وتکفین وغیرہ کیاب دعوی جائداد متوفی کاباہم اس شاہ محمد کے اورعالم خاتون بیوہ موصی کے ہےموخرالذکر مدعیہ ہے وہ مانتی ہے کہ شاہ محمد مدعاعلیہ نے پاس اس کو زیورات قیمتی(سماعہ عہ)(جس کاذکر وصیت میں ہے)بعد وفات موصی دے دئیے ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ شاہ محمد مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات واثاث البیت ظروف وغیرہ مالیت(ماعہ ۱۴/)اوردومنزل مکانات قیمت آٹھ سوروپے ازترکہ شوہرش مذکور موجود ہیںوہ بھی شرعا تنہا مدعیہ کو ملناچاہئے مدعاعلیہ کاکوئی حق نہیںوصیت کی تکمیل اورجوازی دونوں کو وہ تسلیم نہیں کرتی جوزیورات قیمتی سماعہ ورثہ مدعیہ کو ملے ہیں ان کی نسبت وہ یہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہرمیں شوہردے گیاہےشاہ محمد مدعاعلیہ کو وصیت کی تعمیل پراقرار ہے وہ کہتاہے کہ وصیت جائزہے اوریہ کہ مدعیہ حرام کاری کرتی ہے اس لئے بروئے وصیت مکانات میں نشست کی بھی حقدارنہیں رہی اوریہ کہ وصیت کومدعیہ نے وصیت اورنیز بعدوفات شوہر خودقبول کیاتھا سوال یہ ہیں:
(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراگرہوئی تواس سے جوازی وصیت پرکیا اثرپڑتاہے
(۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تك جائز رہ سکتی ہے یعنی جائدادمتوفی میں مدعیہ کوکیا حصہ ملناچاہئے
(۳)جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں کیاان میں سے مدعاعلیہ کوکوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یایہ کہ ان زیورات کوچھوڑ کرباقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سوال ۲ ان کے پائے جائیں۔
(۴)جواخراجات تجہیز وتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصے پرچارج ہوں گے یعنی یا یہ کہ مدعاعلیہ کے حصہ پران کابارہوگا
(۵)مکان میں جوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کو حق رہائش دیاگیاہے کیاوہ شرعا جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کوبروئے سوال۲ ایك حصہ مکان تملیك قطعی دے دیاجائے۔
#3546 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
(۶)حق متوفی میں رہنے کی شرط پرمدعیہ کے ظروف وغیرہ کابھی دیاجانادرج وصیت ہے کیایہ چیزہے اوربلحاظ سوال ۲اثرپذیرہوسکتاہے
(۷)جوحصہ جائداد متوفی میں ہردوفریق کاسوال ۲قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ میں جداجدا دیاجاسکتاہے یاکہ بالکل جائداد منقولہ غیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہے۔۱۷جنوری
سوال ۲:زید اس طرح وصیت کرکے مرگیاہے کہ بعد مرنے میرے کے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کامالك عمرو ہے میری تجہیزوتکفین بھی کرے گا اورﷲ میری ارواح کوبھی دے گا بعد وفات زیدکے عمرونے وصیت مذکورہ کوقبول کرکے ایفاء امورات میں لگ گیامتوفی کاوارث بجزایك زوجہ اورکوئی نہیں ہے اب زوجہ متوفی کہتی ہے کہ یہ تمام مال متروکہ شوہرخود صرف میراہی حق ہے میں دوسرے شخص کو دینانہیں چاہتیپس شرع شریف میں یہ وصیت جائزہے یاکسی طرح اورزوجہ کا حق مال متروکہ میں کیاہے اوروصیت کاحصہ کیاہے بینواتوجروا۔
نقل جواب ۱
مندرجہ سوال حالات میں مسمی واحد بخش کی متروکہ جائدادمیں سے پہلے اس کی تجہیزوتکفین شرعی کاجس میں رواجی صدقات و خیرات شامل نہیں ہیں خرچ اداکرنے کے بعد اس کی بیوہ مسماۃ عالم خاتون کاحق مہر جس قدرعدالت کی رائے میں ثابت ہوادا کریں گے اس حق مہراداکرنے کے بعد جس قدرجائداد منقولہ یاغیرمنقولہ باقی بچے اس کے تین حصے کرکےدوحصہ مسمات عالم خاتون بیوہ واحدبخش کو اورایك حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔اس مختصرجواب کے بعد عدالت کے سولات کانمبروار جواب دیا جاتاہے:
(۱)یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اورشرعا جائزہے۔
(۲)عالم خاتون مدعیہ کے اعتراض کرنے پرجائداد متروکہ کے جبکہ اس میں سے واحد بخش کی شرعی تجہیز وتکفین کا خرچ اورعالم خاتون کے حق مہرکی رقم نکالی جاچکی باقی کے تیسرے حصہ میں جائزہوگی اس سے زائد میں جائزنہیں ہوگی اس لئے اس باقیماندہ جائداد میں سے دوحصے عالم خاتون کو اورایك حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔
(۳)زیورات قیمتی(سماعہ عہ)کی بابت اگریہ ثابت ہوجائے کہ یہ زیورات عالم خاتون کے حق مہر کے عوض میں دئیے گئے ہیں توپھر ان میں شاہ محمدخاں کاکچھ بھی حق نہیں ہے لیکن اگر ان تمام زیورت کے
#3547 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تیسرے حصہ میں اوردوسری صورت میں باقی ماندہ زیورات کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردونوں صورتوں میں باقی دوحصے عالم خاتون کے حق ہوں گے۔
(۴)تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہیں پڑے گا۔
(۵)مسماۃ عالم خاتون کورہائش کا حق شرعا حاصل نہیں ہے اس بات میں واحدبخش کی وصیت لغو اوربے اثر رہے گی۔
(۶)ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ ان کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہے اوردوحصے مسمات عالم خاتون کاحق ہے لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کو دے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جوان ظروف میں ہے وہ واحد بخش کی جائداد غیرمنقولہ سے پوراکردیاجائے۔
(۷)فریقین یعنی عالم خاتون اورشاہ محمدخاں کا اصل حق توموجودہ جائداد متروکہ واحد بخش ہی میں ہے لیکن اگرکوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت لینے پر رضامند ہوجائے توعدالت کو لازم ہوگا کہ اس فریق کوقیمت دے دے لیکن کسی فریق کوخواہ وہ عالم خاتون ہویا شاہ محمدخاں اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا شرعا عدالت کے اختیارسے باہر ہے۔
نوٹ:متوفی کی اولادنہ ہونے کی صورت میں بعداداکرنے خرچ تجہیزوتکفین اوراداکرنے حق مہریاایسی ہی اورقرضوں کے جس قدرباقی بچے اس باقیماندہ ترکہ کے تیسرے حصہ میں سے وصیت اداکرنے کے بعد جوباقی بچے اس میں سے چہارم حصہ بیوہ کاحق ہوتاہے۔لیکن اگر متوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دار موجودنہ ہو جیساکہ موجودہ سوال کی صورت میں ہے توبعدادائے خرچہ تجہیزوتکفین اورادائے حق مہر ودیگرقرضوں اورادائے حصہ وصیت کے جس قدر باقی بچے وہ سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ کتاب درمختاروردالمحتاروغیرہ میں صاف لکھاہواہے ھذاواﷲ اعلم بالصواب۔
نقل جواب۲
(نقل فتوی مولوی صاحب برانڈامولویان)
ھوالملھم بالحق والصواب(یہ حق اوردرستگی کے ساتھ الہام کیاگیا۔ت)
شرعا یہ وصیت صحیح اورنافذ ہے کیونکہ وصیت کنندہ عاقل بالغ ہے اورزوجہ کاحق مال متروکہ متوفی سے سدس ہے اورباقی عمرو موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں بھی صرف کرے مثلا تعمیرمسجد کی کرادے یا پل تیارکرادے یاطلبائے علم دین اسلام کو دےروایات کتب معتبرہ اس پردال صریح الدلالۃ
#3548 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اورواضح البیان ہے۔
شواھد:
فی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ ومات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجز فلھا السدس و الباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فیبقی الثلثان فلھاربعھما وھو سدس الکل درمختار قولہ فلھا ربعھما لان الارث بعد الوصیۃ ففرضھا ربع الثلثین الباقین شامی ۔کذلك لومات الرجل عن امرأتہ و اوصی بمالہ کلہ لاجنبی واوصی بمالہ کلہ لاجنبی ولم تجز المرأۃ فللمرأۃ السدس وخمسۃ اسداسہ للموصی لہ لان الثلث صار مستحقا بالوصیۃ بقیت الشرکۃ فی ثلثی المال دلائل:
فتاوی نوازل میں ہے ایك شخص نے اپنے تمام مال کی کسی مرد کے لئے وصیت کی اورمرگیا درانحالیکہ سوائے ایك بیوی کے اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑاپھراگربیوی نے اجازت نہ دی تواس بیوی کوکل مال کاچھٹاحصہ اورباقی اس شخص کوملے گا جس کے لئے وصیت کی گئی اس لئے کہ وصیت والے مرد کو ایك تہائی توبلا اجازت ملے گا باقی دوتہائی بچاتو بس بیوی کودو تہائی میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور وہ کل مال کاچھٹاحصہ بنتا ہے(درمختار)۔ماتن کاقول کہ"بیوی کودوتہائی کاچوتھا حصہ ملے گا"وہ اس لئے ہے کہ میراث وصیت کے بعد ہوتی ہے چنانچہ بیوی کافرضی حصہ باقی بچنے والے دوتہائی میں سے چوتھا ہوگا(شامی)۔اسی طرح اگرکوئی شخص ایك بیوی چھوڑکر مرااورتمام مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کرگیا اورعورت نے وصیت کی اجازت نہیں دی تواس صورت میں عورت کو کل مال کاچھٹا(۶ /۱)ملے گااورباقی پانچ حصے(۶ /۵)وصیت والے شخص کو ملیں گے۔اس لئے کہ وہ شخص وصیت کے سبب سے ایك تہائی کامستحق ہوگیا اوردوتہائی
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۰€
#3549 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فللمرأۃ ربع ذلك والباقی للموصی لہ لان الوصیۃ مقدمۃ علی بیت المال فتاوی عالمگیری ۔وکذلك فی الفتاوی الخلاصۃاوصی بثلث مالہ ﷲ تعالی فھی باطلۃ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البر در مختار ۔قولہ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البر قدمنا عن الظھیریۃ انہ المفتی بہ ای لانہ وان کان کل شیئ ﷲ تعالی لکن المراد التصدق لوجھہ تعالی تصحیحا لکلامہ بقرینۃ الحال شامی ولو اوصی بالثلث فی وجوہ الخیر یصرف الی القنطرۃ او بناء المسجد اوطلبۃ العلم کذا فی تاتارخانیۃ فتاوی عالمگیری وھکذا فی فتاوی خلاصۃولامن صبی غیر ممیز اصلا ولوفی وجوہ الخیر خلافا للشافعی مال میں شرکت باقی رہیچنانچہ عورت کو اسی کا چوتھاحصہ ملے گا اورباقی وصیت والے شخص کو ملے گا کیونکہ وصیت بیت المال پرمقدم ہے(فتاوائے عالمگیری)۔اسی طرح فتاوی خلاصہ میں ہے اگرکسی نے اپنے تہائی مال کی اﷲ تعالی کے لئے وصیت کی تووہ باطل ہے۔امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا کہ"اس کو نیکی کے کاموں میں خرچ کیاجائے گا"ہم بحوالہ ظہیریہ پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ بیشك فتوی اسی پر ہے اس لئے کہ اگرچہ ہرشیئ اﷲ تعالی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراد اﷲ تعالی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراداﷲ تعالی کی رضاکے لئے صدقہ کرناہے تاکہ قرینہ حالیہ کی وجہ سے موصی کاکلام صحیح قرار دیاجاسکے(شامی)۔اوراگرنیکی کے کاموں میں تہائی کی وصیت کی تو وہ مال پلمسجد کی تعمیر اورطالبعلموں پرخرچ کیاجائے گایونہی تاتارخانیہ میں ہے(فتاوی عالمگیری) ۔ایسا ہی فتاوی خلاصہ میں ہےاورنابالغ تمیزنہ رکھنے والے بچے کی وصیت بالکل نافذنہیں ہوتی اگرچہ نیکی کے کاموں کے لئے ہو بخلاف امام شافعی
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۰۵€
الدرالمختار کتاب الوصایا الباب الثالث ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲€
ردالمحتار کتاب الوصایا الباب الثالث داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۶€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۷€
#3550 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وکذا لاتصح من ممیزالافی تجھیزہ وامر دفنہ وعلیہ تحمل اجازۃ عمر رضی اﷲ عنہ لوصیۃ یافع رضی اﷲ عنہ یعنی المراھق درمختار علی حسب اظھار السائل۔واﷲ تعالی اعلم۔ علیہ الرحمہ کے۔اسی طرح تمیز رکھنے والے نابالغ کی وصیت بھی صحیح نہیں مگر تجہیزوتکفین میں اس کی وصیت صحیح ہے۔ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کاقریب البلوغ لڑکے کی وصیت کوجائزقراردینااسی تجہیزوتکفین پرمحمول ہے(درمختار)۔یہ حکم سائل کے اظہار کے مطابق ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
بحقیقۃ الحال وصدق المقال(ہمہ)مستفتی نے بعد تکمیل استفتاء ہذا کے بیان کیاکہ متوفی نے چند زیورات معدودہ شخصہ معہودہ کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیاتھا یعنی کہہ گیاتھا کہ بعد وفات میری کے ان زیورات مذکورات کی مالك میری زوجہ ہےپس اس کاجواب شرعا یہ ہے کہ جس چیز کی نسبت متوفی نے اپنی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ چیز سالم متوفی کی زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت کے اپنے خاوند سے لے سکتی ہے
والشاھد فیہ لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃ ابن کمال درمختار ھذا ما عندی ولعل عند غیری ابلغ من ھذا۔ اس پردلیل یہ ہے کہ اگرمرد نے اپنی بیوی کے لئے یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے وصیت کی درانحالیکہ وہاں کوئی اوروارث نہیں تو وصیت صحیح ہےابن کمال(درمختار)یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے ہوسکتاہے میرے غیرکے پاس اس سے بڑھ کر موجودہو۔(ت)
استفتاء:ماقولکم رحمکم اﷲ(تمہاراکیاارشادہے اﷲ تعالی تم پررحم فرمائے۔ت)اندریں صورت ایك شخص مسمی واحد بخش جوعرصہ سے مریض تھا اپنے مرض الموت میں مرنے سے دودن پہلے بدیں مضمون وصیت کی کہ چونکہ میں بیمار ہوں اورحیات ناپائیدار پراعتبارنہیں ازاں بعد میں وصیت کرتاہوں کہ فلاں فلاں زیورات قیمتی(سماعہ عہ)میرے مرنے کے بعد میری زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوبعوض حق المہردئیے جائیں اورماسوائے اس کے کل جائدادمیری کامالك مسمی شاہ محمدخاں ہوگا
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€۹
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
#3551 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
بعد کرنے اس وصیت کے فوت ہوگیا اورواضح رہے کہ واحدبخش متوفی وصیت کنندہ کابغیرعالم خاتون کے جو اس کی زوجہ ہے اور کوئی وارث نہیں شاہ محمدموصی لہ ایك اجنبی آدمی ہےاب دریافت طلب یہ امرہے کہ شرعا ایسی وصیت کوکیاحکم ملتاہے بوقت موجودگی وارث دیگراجنبی کے واسطے وصیت جائزہے یانہ اگرجائزہے توجمیع مال سے یاثلث میں عورت کوشرعا اس کے متروکہ سے کچھ حصہ ملے گایانہیں اوراگرملے گا تو کیا بینواتوجروا۔
نقل جواب ۳ وباﷲ التوفیق
شرعا بوقت موجودگی ورثہ میت بجمیع مال نافذنہیں ہوسکتیثلث سے جاری ہوگی ثلث یعنی مال متروکہ سے تیسرے حصہ سے زیادہ وصیت کرناناجائزہے جن جن زیورات کے بارہ میں مسمی واحدبخش متوفی بعوض حق المہر مسماۃ عالم خاتون زوجہ خود کے دینے کی وصیت کرگیا ہے وہ اس کافرض تھا اوراس کااداکرنا اس کوفرض تھا
ویبدأ من ترکۃ المیت بتجھیزہ ثم دینہ۔کنز الدقائق۔ ترکہ میت میں سے ابتداء اس کی تجہیزوتکفین سے کی جائے گی پھر اس کاقرض اداکیاجائے گا(کنزالدقائق)۔(ت)
اس کے ماسوا باقیماندہ اشیاء منقولہ وغیرمنقولہ متروکہ واحدبخش متوفی موصی میں سے ثلث یعنی تیسراحصہ شاہ محمدموصی لہ کوشرعا دیاجائے گا
ولاتصح بمازاد علی الثلث ۱۲کنزالدقائق۔
ولاتجوزبمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ ۱۲ھدایہ
وتجوز بالثلث للاجنبی عند عدم المانع وان لم یجز الوارث ذلك لاالزیادۃ تہائی مال سے زائد پروصیت صحیح نہیں(کنزالدقائق)(ت)
تہائی مال سے زائد پر وصیت جائزنہیں کیونکہ وہ وارثوں کاحق ہے ۱۲(ہدایہ)(ت)
اجنبی کے لئے تہائی مال کی وصیت جائزہے جبکہ کوئی مانع موجودنہ ہو اگرچہ وارث اس کی اجازت نہ دے۔تہائی سے زائد کی وصیت
حوالہ / References کنزالدقائق کتب الفرائض∞ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۳€۳
کنزالدقائق کتاب الوصایا ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۱€۴
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۱€
#3552 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
علیہ ۱۲ الدرالمختار ۔ جائزنہیں ۱۲ الدرالمختار(ت)
اورباقی اس کی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کودیاجائے گا کیونکہ ربع اس کوبالفریضہ ملتاہے
فللزوجات حالتان الربع بلاولد والثمن مع الولد۱۲ الدرالمختار۔
والربع للزوجات اذا لم یکن ولد و ولدابن ۱۲جوھرہ نیرہ۔ بیویوں کی دوحالتیں ہیںاگرمرنے والے شوہرکی اولادنہ ہوتوبیویوں کوکل مال کاچوتھا حصہ اوراولادہوتوآٹھواں حصہ ملتاہے۱۲درمختار(ت)
اوربیویوں کوچوتھاحصہ ملے گا اگرمرنے والے شوہر کی اولادنہ ہوتو۱۲جوہرہ نیرہ(ت)
اورباقی بھی مساۃ عالم خاتون کوبالرد ملتا ہے یعنی بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے اس پریعنی زوجہ پر رد کیاجائے گا
قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاءالدرالمختار ۔

قولہ وفی الاشباہ قال فی القنیۃ و یفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال و فی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علی و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما میں کہتاہوں کہ اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پرمیراث کورد کیاجائے گا۔اس کاذکر ہم کتاب الولاء میں کرآئے درمختار۔ (ت)
اوراس کاقول کہ"اشباہ میں ہے"قنیہ میں فرمایاہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گااورزیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك فرضی حصہ کی وصولی کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ اسی پرلوٹادیاجائے گا۔اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف میراث کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€۷
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۵€۵
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الفرائض ∞مکتبہ امدایہ ملتان ۲ /۴۰€۹
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
#3553 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتأخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحیی ابن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام۔ ردالمحتار شرح الدرالمختار۔ لوٹاجائے گا۔اورمستصفی میں کہاآج کے دورمیں فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہے۔یہی قول ہمارے متأخر علماء کاہے۔ حدادی نے کہاکہ آج کل فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہے۔احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہا بہت سارے مشائخ نے زوجین پررد کافتوی دیا جبکہ ان کے علاوہ عزیزواقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ حکمران بگڑچکے ہیںردالمحتار شرح الدرالمختار(ت)
عبارت کتب معتبرہ مرقومۃ الفوق سے ظاہرہے کہ جمیع مال سے ایك ثلث مسمی شاہ محمدخاں موصی لہ لے گا اوردوثلث مسماۃ عالم خاتون زوجہ متوفی کوملیں گے۔واﷲ اعلم بالصواب عندہ ام الکتاب۔۲۰/رجب المرجب ۱۳۲۹ھ۔(مفتی مولوی محمدمجید صاحب لاہوری نے تحریرفرمایا)مگرائمہ متاخرین یہ فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلی قسم کے حصے داران پربحصہ رسدی رد ہوسکتا ہے اسی طرح دوسری قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو جوکچھ بچا ہواترکہ ہو وہ احدالزوجین کودے دیں گے یعنی موصی لہ بکل المال کونہ دیں گے انتہی خلاصہ دو ورق کایہ دوسطریں ہیں ۔
نقل جواب ۴
(تردید منجانب علمائے ریاست بہاولپور)
ہمارے ہاں بھی مسلم اورماعلیہ العمل یہی قول متاخرون کا ہے جو الیوم رد علی الزجین(آج کل زوجین پر رد۔ت)پرفتوی ہے اور سیدنا امیرالمومنین عثمان ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث اور ان سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کاماعلیہ اورشامی میں اس سے جواب نقلا عن روح الشروح کمال الوضوح(روح الشروح سے کامل وضاحت کے ساتھ نقل کرتے ہوئے۔ت)کے مبین ہے تاہم مع قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کو بالرأس والعین منظورہے مگرتاسف اس کم توجہی مفتی صاحب پرہے کہ ردعلی الزوجین کامحل الوقوع اورموقعہ ملحوظ نہ کرنااوربلاتامل اس کے موصی بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل اورنقل ہے اورسراسر تحکم وتعسف اوردعوی بلادلیل ہے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مرادایہ بیان فرمائی ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3554 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کہ لفساد بیت المال(بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت)چنانچہ مفتی صاحب نے بھی خود تحریرکیاہے اوریہ تو ایك دفعہ بھی نہیں لکھا کہ لفساد الوصیۃ لجمیع المال(کل مال کی وصیت کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت)اس سے صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزوجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتی بہ ہے اس کادرجہ صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتی بہ ہے اس کادرجہ صرف بیت المال سے مقدم ہے چنانچہ بنات المعتق وذوی ارحامہ والبنت والابن من الرضاع(معتق کی بیٹیوںاس کے ذوی الارحاماس کی رضاعی بیٹی اوراس کے رضاعی بیٹے۔ت)کوبیت المال سے تقدیم ہے
کما حققناہ الشامی رحمہ اﷲ تحت قولہ فی الاشباہ نقل عن معراج الدرایۃ۔ جیساکہ اس کی تحقیق علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے مصنف کے قول فی الاشباہ کے تحت معراج الدرایہ سے نقل فرمائی ہے۔(ت)
نہ یہ کہ ردعلی الزوجین کومستحقین پرتقدیم ہے بلکہ رد علی ذوی الفروض النسبیہ وذوی الارحام موصی لہ بکل المال (نسبی ذوالفرض پرردذوی الارحام اور وہ جس کے حق میں تمام مال کی وصیت کی گئی۔ت)جواہل استحقاق ہے یہ سارے فریق ردعلی الزوجین سے مقدم ہیں اب جزئ صریح اس امرکی کہ:
الموصی لہ بجمیع المال مقدم علی الرد علی الزوجین۔ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی وہ زوجین پررد سے مقدم ہے۔(ت)
ہدیہ ناظرین ہے
وفی السراجی ثم الموصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال ان لم یکن احدالمذکورین فالمال کلہ للموصی لہ لان منعہ عن زیادۃ الثلث کان للمضرۃ بالورثۃ وقدانتفی بھا سراجی میں ہے پھروہ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی پھربیت المالاگران میں سے کوئی موجودنہ ہوجن کا ذکر کیاگیاہے توسارا مال اس شخص کودیں گے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئیاس لئے کہ اس کے لئے تہائی مال سے زائد کی ممانعت وارثوں کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
السراجی فی المیراث خطبۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۵و۶€
#3555 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وان کان احدالزوجین فالباقی لہ وان کان وارث غیرھما فللموصی لہ الثلث۱۲شیخ الاسلام ضیاء السراج السراجی۔
وفی المستصفی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدمہ المستحق لعدم بیت المال ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ والفتوی الیوم بالرد علیھما اذا لم یکن للباقی مستحق لان الظلمۃ لایصرفون مال بیت المال الی مصرفہ مستصفی۔ ضرر کی وجہ سے تھی اور وہ یہاں منتفی ہے۔اور اگر زوجین میں سے کوئی ہے توباقی اس کو دیں گے۔اوراگران دونوں کے علاوہ کوئی وارث ہے توپھرجس کے حق میں کل مال کی وصیت ہے اس کوایك تہائی دیں گے ۱۲شیخ الاسلام ضیاء السراج السراجی۔مستصفی میں ہے آج کل فتوی زوجین پر لوٹانے کے ساتھ ہے جبکہ کوئی اورمستحق موجودنہ ہو بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ۔اورفتوی آج کل زوجین پرلٹانے کاہے جبکہ باقی کاکوئی اورمستحق موجودنہ ہو اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کے مال کو اس کے مصرف میں خرچ نہیں کرتے(مستصفی)(ت)
جونقل مستصفی کامفتی صاحب نے شامی سے تحت قولہ وفی الاشباہ لکھاہے معلوم ہوتاہے کہ تمام قول کو اول سے آخرتك نہیں دیکھااگردیکھتے اورغورکرتے توعند عدم المستحق کی قیدضرور ساتھ لگاتے جو اس قول میں درج ہے اورہرجگہ رد ہے صرف ناتمام جزئ نقل کرکے خوش ہورہے ہیں نقل میں ماقبل اورمابعد کے لحاظ چاہئے تاکہ نقل صحیح اورتمام ہونہ کہ ناقص اورغلطہاں اگر دیدہ ودانستہ دیکھ کرنہیں لکھا توسفسطہ اورمکابرہ ہے۔
ولیستوضح لك معنی المستحق ویاتیك تحقیقہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالی۔ اورتیرے لئے مستحق کے معنی کی وضاحت کرتے اوراس کی تحقیق آرہی ہے عنقریب ان شاء اﷲ تعالی۔(ت)
اب توجہ فرمائیے کہ یہ فریق ایك دوسرے کے عدیل اورردیف ہیں سوائے بیت المال کے
حوالہ / References ضیاء السراج حاشیۃ السراجی خطبۃ الکتاب ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص€۴
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3556 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
سارے فریق ردعلی الزوج سے مقدم ہیں۔
ثم رد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم بعدھم مولی الموالاۃ کما مر فی کتاب الولاء ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ لم یثبت فلوثبت حقیقۃ و زاحم الورثۃ ثم بعدھم الموصی لہ بمازاد علی الثلث و لوبالکل ثم یوضع فی بیت المال ۱۲درمختار۔


قولہ ثم ذوی الارحام ای یبدأ بھم عند عدم ذوی الفروض النسبیۃ والعصبات فیاخذون کل المال اوما بقی عن احدالزوجین لعدم الرد علیھما ۱۲ شامی ۔


قولہ ولہ الباقی ای ان لم یوجد احد ممن تقدم فلہ کل المال الا ان وجد احد الزوجین پھرنسبی ذوی الفروض پران کے حقوق کے مطابق ردکرنا پھر ذوی الارحام پھران کے بعد مولی المولاۃ۔جیساکہ کتاب الولاء میں گزرا۔اوراس کو زوجین میں سے ایك کا فرضی حصہ نکالنے کے بعد جوباقی بچے گا وہ ملے گا۔پھروہ خص جس کے لئے کسی غیرپرنسب کااقرار کیاگیاہو اورنسب ثا بت نہ ہوااور اگرحقیقۃ اس کانسب ثابت ہوگیا تو وہ وارثوں میں شریك ہوجائے گا۔پھران کے بعد وہ شخص جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہو اگرچہ کل مال کی ہو پھربیت المال میں رکھا جائے گا۔(درمختار)۔(ت)
ماتن کاقول"پھرذوی الارحام"اس کامطلب یہ ہے کہ ذوی الارحام سے ابتداء ہوگی جبکہ نسبی ذوی الفروض اورعصبات نہ ہوں تو وہ ذوی الارحام کل مال لیں گے یا وہ مال لیں گے جو زوجین میں سے ایك کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد باقی رہ جائے کیونکہ زوجین پردنہیں ہوتا ۱۲ شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"اس کے لئے باقی ہے"یعنی اگر ماقبل میں مذکور افراد میں سے کوئی موجود نہ ہوتو کل مال اسی کاہے مگرجب زوجین میں سے
حوالہ / References درمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۴۔۳۵۳€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۷€
#3557 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فلہ الباقی عن فرضہ ۱۲ شامی ۔
قولہ ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ فیعطی کل المال الا اذاکان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۱۲ شامی۔
قولہ لم یثبت ای یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنی ولذا صح رجوعہ عنہ ولاینتقل الی فرع المقرلہ و لااصلہ ۱۲ شامی ۔
(قولہ ثم بعدھم)ای اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فیکمل لہ وصیتہ لان منعہ عما زاد علی الثلث کان لاجل الورثۃ فان لم یوجد احدمنھم فلہ عندنا ماعین لہ کملا سید ولا یخفی ان المراد انہ کوئی موجود ہو تو اس کے فرضی حصہ کے بعد باقی بچے گا وہ اس کوملے گا ۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"پھروہ جس کے لئے غیرپرنسب کااقرار کیا گیاہے"یعنی اس کوکل مال دیاجائے گا مگرجب زوجین میں سے کوئی ایك موجود ہوتو اس کے فرض حصہ کے بعد جوباقی بچاہو اس کو ملے گا۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"نسب ثابت نہیں ہوا"یعنی یہ اقرار باعتبار معنی کے وصیت ہے اسی لئے اس سے رجوع کرناصحیح ہے اوریہ اقرار نہ تومقرلہ کی فرع کی طرف منتقل ہوگا اورنہ ہی اس کی اصل کی طرف ۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول"پھران کے بعد"یعنی مقدم الذکر تمام مفقود ہوں تو ابتداء اس شخص سے کی جائے گی جس کے لئے تمام مال کی وصیت کی گئی ہے اور اس کے لئے وصیت کی تکمیل ہوگی کیونکہ تہائی مال سے زائد کی وصیت وارثوں کی وجہ سے ممنوع تھیجب ورثاء میں سے کوئی ایك بھی موجدنہیں تو ہمارے نزدیك وہ تمام وصیت والے کودیں گے جس کاتعین موصی نے اس کے لئے کیاہے(سید)اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۸€
#3558 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یاخذ الزائد بطریق الاستحقاق بلاتوقف علی اجازۃ فلایرد ان اخذ الزائد لایشترط فیہ عدم الورثۃ اذ لواجازوا جاز۱۲شامی ۔ پوشیدہ نہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ وہ تہائی مال سے زائد بطوراستحقاق لے گاکسی کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا چنانچہ یہ اعتراض واردنہ ہوگا کہ زائد کے لینے کے لئے وارثوں کامعدوم ہوناشرط نہیں کیونکہ اگروہ اجازت دیں توزائد کالینا جائزہوتاہے ۱۲شامی(ت)
اس عبارت لایخفی(پوشیدہ نہیں۔ت)سے مخفی نہیں ہے بلکہ صاف ظاہرہے کہ موصی لہ بکل المال مستحق ہے اور وہ رد علی الزوجین پرمقدم ہے ھذا ماوعدناہ من قبل والحمدﷲ علی الوفاء(یہ وہ ہے جس کاوعدہ ہم نے ماقبل میں کیاتھا اس کے پورا کرنے پرتمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں۔ت)اور قولہ لم یثبت(اس کاقول کہ ثابت نہیں۔ت)کی تحقیق علامہ شامی رحمہ اﷲ سے کھل گیاکہ جب اقرارمذکور کومعنی وصیت قراردیاگیا اورمقرلہ مذکور جمیع مال کامستحق بنابعداخراج اصل فرض احدالزوجین سے تویہ شان وصیت کا ہے پس اس میں کوئی شك نہ رہا کہ وصیت بجمیع المال کوتقدیم ہے ردعلی الزوجین پر۔ الان حصص الحق(اب حق واضح ہوگیا۔ت)
قولہ ثم یوضع فی بیت المال ای ان لم یوجد موصی لہ بالزائد یوضع کل الترکۃ فی بیت المال اوالباقی ان وجد موصی لہ بمادون الکل۱۲شامی ماتن کاقول"پھربیت المال میں رکھاجائے گا"یعنی جب ایسا شخص نہ پایا جائے جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہے تو اس صورت میں کل مال اورتہائی سے زائد اورکل سے کم وصیت والے شخص کے ہوتے ہوئے باقی مال بیت المال میں رکھاجائے گا۱۲شامی(ت)
باقی رہایہ امرکہ آیاردعلی الزوجین اورادخال الترکۃ فی بیت المال میں سے کون مقدم ہے سو متقدمین کے نزدیك بیت المال مقدم ہے کیونکہ اس نیك عصرمیں بیت المال صلاحیت میں تھے اور مصرفون مستحقوں میں خرچ ہوتے تھے اورمتاخرون کے نزدیك بسبب فساد بیت المال کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۸€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۸€
#3559 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ردعلی الزوجین مقدم ہے بیت المال پراور الیوم فی زماننا ھذا مفتی بہ(اور آج کے ہمارے زمانے میں اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔ ت)یہ قول ہے اورہمارا مسلك بھی یہی ہے اورعمل ہمارابھی اسی پر ہے۔
وفی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۱۲شامی۔ قنیہ میں ہے ہمارے زمانے میـں بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گا۱۲شامی(ت)
صاف ظاہرہےکہ ردعلی الزوجین مقابل اورمربوط بیت المال سے ہے نہ کہ وصیت بکل المال سے وھدایۃ الانصاف من اﷲ الھادی (اورانصاف کی ہدایت ہدایت دینے والے اﷲ تعالی کی طرف ہے۔ت)بڑے تعجب کی بات ہے کہ اتنے درازعرصہ تك علمائے لاہور نے اپنے دعوی الرد علی الزوجین مقدم علی الوصیۃ لجمیع المال(زوجن پرد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی۔ت)کی ضعیف جزئی بھی ثابت نہ کیصرف نکمی تطویل سے اوراق لکھ لکھ کرتضییع اوقات عزیزہ کی فرمائیصرف ردعلیہما کے مسئلہ معروفہ کولکھ بھیجاجن کا انکار بھی کسی کونہ تھا سو وہ مسئلہ ایسابے موقعہ فرمایاجس کی تردید سے کتاب مملوومشحون ہیں علمایان ریاست نے اپنے دعوی الوصیۃ بکل المال مقدم علی الزوجین(تمام مال کی وصیت مقدم ہے زوجین پرردکرنے سے۔ت)پرپہلے ابتدائے مسئلہ میں اور اب اس تردید کے ضمن میں کیا صاف صاف واضح جزئیات اظہر من الشمس ہدیہ ناظرین کئے ہیںانصاف فرمایاجائے۔
تذییل: ہم کومعلوم ہوتاہے کہ جن مفتی صاحبان لاہور نے پہلے استفتاء بھیجاتھا اب ہماری تردید پہلے کو ملاحظہ فرماکر وہ صاحبان موصوفہ توبنظرالانصاف خیرالادصاف لب بسکوت ہو رہے ہیں اب اس دوسری مرتبہ مولوی مفتی محمد مجیدصاحب کو اشتعال آیاتوانہوں نے قلم اٹھایا اب یقین ہے کہ اس جواب کوملاحظہ فرماکر وہ بھی تسلیم فرمائیں گے اورتحسین کاتحفہ ہم داعیان بالخیر کی طرف ارزانی فرمائیں گے خداوندکریم کرے کہ ان کاشعلہ اس پانی سے مطفی ہوا اوربجھ جائے
ورجاء القبول والثواب من اﷲ تعالی وھو اعلم واحکم بالصواب۔ قبول وثواب کی امیدتعالی سے ہے درستگی کوخوب جاننے والا اورمضبوط وبہترحکم ولاہے(ت)
محررہ بتاریخ ۱۶/اگست ۱۲ء
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
#3560 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نقل جواب۵: متوفی کے اقرارنامہ میں یہ الفاظ ہیں مالك اور قابض شاہ محمد خاں مذکور ہے یعنی غرضیکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے یہ جملہ شرائط میرے قابل قبول ہوں گے جب تك میں حیات میں موجودہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گیان لفظوں سے تملیك بعدالموت جس کووصیت کہتے ہیں ثابت نہیں ہوئی توشرعا اس کاکیانام ہے بیان کیجئے:
سوالات عدالت
(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئیاوراگرہوئی تواس سے جوازی پرکیا اثرپڑتا ہے
(۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت مدعیہ اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تك جائز رہ سکتی ہے یعنی جائداد مدعیہ کوکیاحصہ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو کیاحصہ ملناچاہئے
(۳)جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں اس میں سے مدعاعلیہ کو کوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یاکہ ان زیورات کوحصہ بناکر باقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سول۲اس کے پائے جائیں۔
(۴)اخراجات تجہیزوتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں وہ مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصہ میں چارج ہوں گے یاکہ مدعا علیہ کے حصہ پران کابار ہوگا
(۵)مکان میں جوخوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کوحق رہائش دیاگیا وہ شرعا جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کی بروئے سوال ۲ ایك حصۃ مکان بتملیك قطعی دیدیاجائے
(۶)حق متوفی میں رہنے کی شرط پرمدعیہ کوکسی ظروف وغیرہ کابھی دیاجانادرج وصیت ہے کیایہ جائز ہے اوربلحاظ سوال ۳ اثرپذیرہوسکتاہے
(۷)جوحصہ جائدادمتوفی میں ہردو فریق کابروئے سوال ۲ قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ ۲ وغیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہیں۔
جواب شر ع شریف
شرعا یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اور اس سے جوازی وصیت پریہ اثرپیدا ہواکہ حق الارث
#3561 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
شرعی مدعیہ کے ماسوائے مدعاعلیہ کوملے جو موصی لہ ہے جیساکہ جواب سوال۲ میں ہرایك کاحق ظاہرکیاجائے گامدعیہ نے اس وصیت پراعتراض کیا اس شرعا جائدادمتوفی میں سے مدعیہ وارث شرعیہ کو ۶ /۱ حصہ ملناچاہئے مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث شرعی کے واسطے وصیت ناجائزہے بلکہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اور خودعبارت وصیت نامہ کی متحمل قوی یہ ہے اورحق مہردین ہوتاہے اس ئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے مدعاعلیہ موصی لہ کاتعلق ان زیورات کے ساتھ نہ سمجھاجائے ماسوائے زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے اخراجات تجہیزوتکفین کابارحصہ مدعاعلیہ پرجو اس نے اپنے اختیار سے اپنے مال سے خرچ کیاہےصرف خرچ کرنے دفن میت کاچھ سات روپیہ تك آخردس روپیہ تك اس کابار فریقین پر ہے اس قدرسے زیادہ خرچ کابارخرچ کرنے والے پرہےبعد وفات متوفی کے مدعیہ کاحق سوائے چہارم مابقی من الدین والوصیۃ کے کوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کانہیں ہے صورت متنازعہ میں مال متوفی منقولہ وغیرمنقولہ سےاگرمدعیہ کو(۶ /۱) حصہ تقسیم کرکے بطورتملیك قطعی دے دیاجائے توحق سے اس کے پورے ہوچکے اس میں کوئی اثرنہیں ہے۔شرعا ظروف وغیرہ کابھی بلحاظ سوال نمبر۲۔ ۶ /۱ حصہ مدعیہ کوتقسیم کرکے دے دیاجائے فوت ہونے متوفی کے بعد مال متروکہ متوفی کاعلی حسب حصص شرعی جبرا تملیك ورثاء باقیماندہ کے ہوجاتاہے بعد فوتیدگی صرف تقسیم کرنے متروکہ کے حاجت ہوتی ہے اس صورت میں مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے ہرحصہ سے ۶ /۱حصہ بجنسہ لے سکتی ہے اگرباختیار خود اپنے حصہ ۶ /۱ فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔
الان نکتب الروایات الفقھیۃ عن المعتبرات الحنفیۃ وفی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ و مات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجزفلھا السدس والباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فبقی الثلثان فلھا ربعھما وھو سدس الکل درمختار اب ہم احناف کی معتبرکتابوں سے فقہی روایات تحریر کرتے ہیں۔فتاوی نوازل میں ہے کوئی شخص کل مال کی وصیت کسی مردکے لئے کرکے مرگیا اورسوائے بیوی کے کوئی وارث نہیں چھوڑااگربیوی نے اس وصیت کی اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کاچھٹا حصہ ملے گا اورباقی موصی لہ کوملے گا کیونکہ وہ ثلث کابغیر اجازت حقدار ہے باقی دوثلث بچے جن میں سے بیوی چوتھائی کی حقدار ہے جبکہ یہ چوتھائی کل کاچھٹاحصہ ہےدر مختار۔
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
#3562 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وعلی ھذا اذا ترك زوجۃ لاوارث لہ غیرھا واوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا سدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس لانھا لاتستحق من المیراث شیئا حتی یخرج الثلث للوصیۃ فاذا اخرج الثلث استحقت ربع الباقی ومابقی بعد ذلك یکون للموصی لہ بالجمیع واصلہ من اثنی عشر للموصی لہ اربعۃ وھو الثلث یبقی الثلثانثمانیۃ للزوجۃ ربعھا اثنان یبقی ستۃ تعودللموصی لہفیکون لہ عشرۃ من اثنی عشر وذلك خمسۃ اسداسھا جوھرۃ النیرۃ شرح قدوریوھکذا فی فتاوی الھندیۃ وردالمحتار والدر المختار وھذہ الکتب من معتبرات الحنفیۃوان لم تجز واوصی لھا ایضا اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا وردالمحتار فی قولہ لاالزیادۃ علیہ الخ۔ اسی بنیاد پر اگرکسی نے بیوی کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑا اورکسی مرد کے لئے کل مال کی وصیت کرگیا توبیوی کوکل مال کاچھٹا(۶/۱)حصہ اور وصیت والے مردکو باقی پانچ چھٹے ملیں گے اس لئے کہ جب تك کل مال سے تہائی حصہ بطور وصیت نہ نکال لیاجائے اس وقت تك بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی مستحق نہیں اور جب تہائی حصہ نکال لیاگیا توباقی کے چوتھائی کی مستحق ہوگیپھرجوباقی بچ گیا وہ کل مال کی وصیت والے شخص کوملے گااس کی اصل بارہ سے ہے یعنی کل مال کے بارہ حصے بنائے جائیں گے جن سے ایك تہائی یعنی چارحصے بطوروصیت وصیت والے شخص کوملیں گے باقی دو تہائی یعنی دوحصے بیوی کوملیں گے پھرجوچھ باقی بچ گئے وہ وصیت والے شخص کی طرف لوٹ جائیں گے تو اس طرح وصیت والے شخص کوبارہ میں سے دس حصے مل گئے جوکہ چھ میں سے پانچ ۶/ ۵ ہوئے(جوہرہ نیرہ شرح قدوری) ایسا ہی فتاوی ہندیہردالمحتار اور درمختارمیں ہے جوکہ فقہ حنفی کی معتبرکتابیں ہیںاوراگربیوی نے اجازت نہ دی جبکہ اس نے پہلے اس کے لئے بھی وصیت کی تھی اس کی وضاحت جوہرہ میں ہے اسی کی طرف رجوع کرناچاہئےیہ بات شامی میں ماتن کے قول"لاالزیادۃ علیہ"کے تحت مذکورہے الخ(ت)
اورصاحبان انجمن مستشارالعلماء لاہورنے نے اس صورت موجودہ میں ۳ /۱ حصہ یعنی سوم حصہ مدعاعلیہ کابتایا جوموصی لہ تھا اور۳ /۲ حصہ یعنی دوثلث حصہ مدعیہ کابتایا یہ اثربے غوری اورکمال بے توجہی
حوالہ / References الجوہرۃ النیرۃ کتاب الوصایا ∞مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ /۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
#3563 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
صاحبان کاہےاورمحض رائے اپنی لکھ دی اوراس بارہ میں روایت ندارددراصل مسئلہ شرعی اس طورپرنہیںہے بلکہ مسئلہ شرعی اس طورپرہے جومولوی صاحبان خانپورنے لکھاہے یعنی ۶ /۱ حصہ مدعیہ وراثہ کاہے اور۶ /۵ حصہ مدعا علیہ موصی لہ کاہے اور اسی مطلب پرروایات کتب معتبرہ مذہب حنفیہ ناطقہ ہیں اور میرابھی اتقان ان صاحبان سے ہے اوروجہ غلطی صاحبان انجمن کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ قول دیکھاہے کہ فی زماننامذھب متاخرین کی ایك صورت خاص ہے اورصورت متنازعہ مغائراس کے ہے یعنی صورت خاص یہ ہے کہ متوفی کے حقداروں میں سے صرف ایك زوجہ اس کی موجودہے اور ماسوائے اس کے کوئی حقدارنہ ہوئے اورصورت متنازعہ میں زوجہ کے سوائے دوسرا حقدار بھی موجودہے جوموصی لہ بجمیع المال ہے تواس صورت خاص میں ۴ /۱ یعنی چہارم حصہ ارثی یعنی سہ ربع باقی ماندہ زوجہ کو بالردملناچاہئے کیونکہ اگرسہ ربع باقیماندہ اس کونہ دئیے جائیں تومذہب متقدمین کے مطابق بیت المال کے سوائے دوسری جگہ نہیں ہے سوبسبب فاسد ہونے بیت المال کے فتوی متاخرین کایہ ہے کہ یہ سہ ربع باقیماندہ بھی زوجہ متوفی پررد کئے جائیں کہ وہ وارث شرعی ہے اوربیت المال سے فائق ہے اوریہ فتوی متاخرین کاعندالکل مسلم ہے اگرچہ آج تك اس کاردعمل نہیں ہواالامانحن فیہ میں جاری نہیں ہوسکتا
کما مر وقال المحقق احمدبن یحیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالردعلیہما اذالم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام۱ھ وفی المستصفی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عندعدم المستحق لعدم بیت المال اذالظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ ۱ھ اقول ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذلك ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأملردالمحتار فی قولہ وفی الاشباہ الخ جیساکہ گزرچکاہے محقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہا کہ اکثرمشائخ نے زوجین پررد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ دیگراقارب معدوم ہوںکیونکہ ہمارے زمانے میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے وہ بیت المال کوصحیح مصرف میں خرچ نہیں کرتے ۱ھ اقول:(میں کہتاہوں)ہم نے یہ بھی نہیں سناکہ ہمارے زمانے میں کسی نے ایسافتوی دیاہے شاید اس کے مخالف متون ہونے کی وجہ سے۔تواس میں تأمل چاہئے۔یہ بات ردالمحتارکے کتاب الفرائضبیان الردباب العول میں ماتن کے قول"وفی الاشباہ الخ"کے تحت
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3564 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
فی کتاب الفرائض فی بیان الرد فی باب العول۔قال علمائنا رحمھم اﷲ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجھیزہ بلا تبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعدالدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ سراجی ۔ولالوارثۃ وقاتلہ مباشرۃ لاتسببا کما مرالاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ السلام ولاوصیۃ الوارث الاان یجیزھا الورثۃ یعنی عندوجود وارث اخرکما یفیدہ اخرالحدیث وسنحققہ ۱۲درمختار ۔ مذکورہے۔ہمارے علماء رحمۃ اﷲ تعالی علیہم نے فرمایا کہ میت کے ترکہ کے ساتھ بالترتیب چارحقوق وابستہ ہوتے ہیں سب سے پہلے میت کے مال سے زیادتی یاکمی کئے بغیرتجہیزو تکفین کااہتمام کیاجائے گاپھرباقی بچے ہوئے تمام مال سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گے۔پھرقرض کی ادائیگی سے بچ جانے والے مال کے تہائی سے اس کی وصیت نافذکی جائے گی۔پھرجوباقی بچ گیا اسے کتاب اﷲسنت اوراجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا(سراجی)۔وارث اور قاتل المباشرۃ نہ کہ بالسبب کے لئے وصیت جائزنہیں مگریہ کہ دیگر ورثاء اس کی اجازت دے دیں جیساکہ گزرچکانبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دوسرے ورثاء اس کی اجازت دے دیں یعنی جب کوئی دوسرا وارث موجود ہوجیساکہ حدیث کا آخر اس کافائدہ دیتا ہے۔ہم عنقریب اس کی تحقیق کریں گے(درمختار)۔ (ت)
نقل جواب ۶
یہ فقہ کامسلم الثبوت ہے کہ مصارف تجہیزوتکفین شرعی اورادائے قرض کے بعد جس قدرجائداد منقولہ غیرمنقولہ باقی بچے اس کے تیسرے حصہ میں وصیت جاری اورنافذہوسکتی ہے اوراگرمتوفی نے تیسرے حصے سے زیادہ کی وصیت کی تھی تواس زائد علی الثلث پرنافذہونا وارثوں کی اجازت پر موقوف رہتاہے یعنی اگروہ نفاذ کی اجازت دیں تونافذہوگی ورنہ نافذنہ ہوگی کتاب ہدایہ میں ہے:
ولاتجوز بمازاد علی الثلث الا تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں مگر
حوالہ / References السراجی مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۳و€۴
الدالمختار کتاب الوصایا ∞۲ /۳۱۹€
#3565 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم وھم اسقطوہ۔ یہ کہ دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں اوروہ ورثاء بالغ ہوںکیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے اورانہوں نے اپناحق ساقط کردیاہے۔(ت)
چونکہ مسئلہ زیرکتب زیربحث میں متوفی واحدبخش کی بیوہ موجودہے جو اس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳ /۱ حصہ سے زیادہ ہے بغیراجازت عالم خاتون بیوہ متوفی کے نافذ نہیں ہوسکتیادائے وصیت کے بعد جس قدرجائداد بچے اس میں سے ۴ /۱ حصہ یعنی چہارم حصہ کی جواصلی ترکہ کا ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ ہوتاہےعالم خاتون بیوہ واحدبخش کاحق ہے۔ کتاب سراجی میں ہے:
یبدأ بتکفیہ وتجھیزہ بلاتبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔ ابتداء میت کی تجہیز وتکفین سے کی جائے گی نہ تواس میں فضول خرچی اورنہ ہی ضرورت سے کمی کی جائے گیپھرجوباقی بچا اس تمام سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گےپھرقرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کی تہائی سے میت کی وصیتیں نافذ کی جائیں گیپھرجوباقی بچا اسے کتاب وسنت اور اجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا۔(ت)
نیزکتاب مذکورمیں ہے:
للزوجات حالتان الربع للواحدۃ فاعدۃ عند عدم الولد اوولد الابن وان سفل ۔ بیویوں کی دوحالتیں ہیںاگرمرحوم خاوند کی اولادیا اس بیٹے کی اولاد نیچے تك کوئی نہ ہو تو ان کوکل مال کاچوتھائی حصہ ملتا ہے چاے ایك بیوی ہویامتعدد۔(ت)
جب ترکہ میں سے ۳ /۱ حصہ یعنی تیسرے حصہ من حیث الوصیۃ اور ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ عالم خاتون
حوالہ / References الہدایہ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵€۱
السراجی مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ۳ و €۴
السراجی فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۱€
#3566 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کے من حیث الارث دے دیاگیا تواب واحدبخش کے ترکہ میں سے ۱ /۳ یعنی آدھا ترکہ باقی رہ جاتاہے اب سوال یہ ہے کہ باقی ترکہ کس کو دیاجائےشاہ محمد کویاعالم خاتون کو
یہ مسلم الثبوت مسئلہ ہے کہ اگرحصہ داروں کوجس میں کوئی عصبہ نہ ہو ان کے مقرری حصہ دینے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو وہ بھی حصہ داران پربحصہ رسدی ردکردیاجائے لیکن حصہ دار دوقسم کے ہوتے ہیںایك وہ حصہ دارجومتوفی کے برادری کے ہیں مثلا متوفی کی دختراس کی ماںاس کی ہمشیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ حصہ دارہیں کہ جن سے صرف نکاح کاتعلق ہے یعنی وہ متوفی کاشوہر ہے اگرمتوفی عورت ہو یاوہ متوفی کی بیوہ ہواگرمتوفی مردہوائمہ متقدمین کایہ مذہب ہے کہ وہ بچاہواترکہ پہلے ہی قسم کے حصہ داران پررد کیاجائے گا اوردوسرے قسم کے حصہ داران پریعنی شوہریابیوہ پر اس کارد نہیں ہوگا اوردرصورتیکہ صرف دوسرے ہی قسم کے حصہ دارہوں ہوگے اور بچاہواترکہ بہ ترتیب ان کو دے دیاجائے گا جورد کے درجہ کے بعد والے ہیں مثلا ذوی الارحام کو اور ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولی الموالات اور مولی المولات بھی نہ ہو ں تو مقرلہ النسب پر غیرکومقر لہ النسب پر غیر بھی نہ ہوں توموصی لہ بالزائد علی الثلث کوموصی لہ بالزائد علی الثلث بھی نہ ہو یا اسے دے کربھی کچھ بچ رہے توبیت المال کودیں گےعلمائے علاقہ بہاولپور نے بزارمیں جونقل فرمائے ہیں وہ اس مذہب متقدمین کے موافق ہیں مگرائمہ متاخرین فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلے قسم کے حصہ داران پربحصہ رسدی ردہوسکتاہے اسی طرح دوسرے قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اوراگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتوجوکچھ بچاہواترکہ ہو وہ احد الزوجین یعنی شوہر کودرصورتیکہ متوفی عورت ہویاعورت کودرصورتیکہ متوفی مرد ہودے دیں گے۔یہی قول حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہےاور اسی قول متاخرین پرفتوی دیاگیاہےپس اس مفتی بہ قول کے موافق واحدبخش متوفی کے ترکہ میں ہے جو ۴ /۳ یعنی آدھی جائداد عالم خاتون کوبحیثیت رد کے ملے گی اور ۶ /۱ اس کو بحیثیت میراث کے پہلے ہی مل چکی ہے توظاہرہے کہ عالم خاتون کو اس کے شوہر کے ترکہ میں سے ۶ /۴ یا ۳ /۲ مل جائے گی اورشاہ محمدموصی لہ صرف وصیت کی حیثیت سے ۳ /۱ حقداررہے گااب ہم وہ روایتیں نقل کئے دیتے ہیں جن سے متاخرین کے ردعلی الزوجین کا قائل ہوناہواورپھراس کا مفتی بہ ہوناثابت ہو۔کتاب درمختارمیں ہے:
فان فضل عنھا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد اگرمیت کاترکہ فروض سے بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ موجودنہ ہوتووہ بچاہوامال پھر
#3567 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ذلك الفاضل علیھم بقدرسھامھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایردعلیھماوقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجز فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال۔ ذوی الفروض پران کے حصوں کے مطابق لوٹادیاجائے گا کیونکہ بیت المال میں فسادآچکا ہےمگرزوجین پرردنہیں کیا جائے گاعثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایاکہ زوجین پربھی رد کیاجائے گا۔مصنف وغیرہ نے یونہی کہاہےمیں کہتاہوں اختیار میں یقین کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے تواس کی طرف رجوع کر۔میں کہتاہوں اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پر ردکہاجائے گا۔(ت)
کتاب ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وفی الاشباہ الخ قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفسادبیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتاخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمدبن یحیی بن سعد التفتازانی افتی مصنف کاقول"الاشباہ میں ہے"قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پر ردکافتوی دیاجاتاہے۔زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں ایك کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پر ردکردیاجائے گا۔یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف رد کردیاجائے گا۔مستصفی میں کہاکہ آج کے دورمیں زوجین پرردکافتوی ہے اوریہ ہی ہمارے متاخرین علماء کاقول ہے حدادی نے کہا آج کے دورمیں زوجین پر ردکا فتوی ہے۔محقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہاکہ بہت سے مشائخ نے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
#3568 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کثیرمن المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما ۔ زوجین پرردکافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ دیگر اقارب معدوم ہوں۔(ت)
مندرجہ بالا روایتوں سے ردعلی الزوجین کامذہب متاخرین نیزاسی کامفتی بہ ہونا بوضاحت ثابت ہوگیا اوراب معلوم ہوگیاکہ علماء علاقہ بہاولپور کی منقولہ روایتیں متقدمین کے مذہب کے موافق ہیں مگر مفتی بہ متاخرین کاقول ہے اراکین مستشار العلماء کو معلوم تھا کہ عام اورمشہور قول عدم الردعلی الزوجین کے موافق عالم خاتون کو صرف ۶ /۱ حصہ مل سکتاہے لیکن کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ایك عام اور مشہورقول کے واسطے قول بالرد علی الزوجین کوجس پرفتوی بھی دیاگیا ہے چھوڑدیں اورخاص کرجبکہ وہ بالکل معقول بھی ہوکیونکہ بعض صورتوں میں جبکہ تمام حصے داروں کے مقرری حصے دینے سے متوفی کاترکہ قاصرہو جس کو علم الفرائض کی اصطلاح میں عول کہتے ہیں تو سب حصے داروں کے حصوں میں سے رسدی طورپر کم کرلیتے ہیں اوراس میں زوجین کومستثنی کرتے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب متوفی کے ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو اس بچے ہوئے کے دینے سے زوجین کومستثنی کردیں اوران کوکچھ بھی نہ دیں خاص کر جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ داربھی موجودنہ ہوغرض قول بالردعلی الزوجین کوجومعقول بھی ہے اورمفتی بہ بھی ہے جیساکہ مندرجہ بالا روایتوں سے ثابت ہوتاہے چھوڑدینا اورقول بعدم الردعلی الزوجین پرعمل کرنا خصوصا جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہو روایت اوردرایت دونوں کے برخلاف ہے۔
نوٹ:وصیت نامہ پرغور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ واحدبخش متوفی نے شاہ محمدخاں کے حق میں کچھ بھی وصیت نہیں کی ہے بلکہ اس کوصرف اپناکارپرداز اوروصی مقررکیاہے چنانچہ وہ اسی وصیت نامہ میں لکھتاہے کہ بعد فروخت یاکہ رہن زر رہن یازربیع میرے تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا اب اگروصیت بحق شاہ محمدہوگی توواحدبخش کایہ کہناکہ بعد فروخت یا رہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا بے معنی ہوجاتاہے کیونکہ اگرشاہ محمدخاں موصی ہوتا تووہ وصیت کاخود مالك ہوتا اورجوچاہتا وہ کرتا اس لئے شاہ محمد خاں کوبحیثیت وصیت کے تیسراحصہ جائدادکاملے گا وہ اس لئے ملے گا ہ وہ بحق واحدبخش کردے یانہاس لئے کہ وہ خود اس کامالك بن جائے ھذا واﷲ اعلم بالصواب۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3569 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نقل جواب۷
حامدا ومصلیا نے کاغذ مندرجہ مسل مقدمہ استفتاء عدالت وصیت نامہ فتوی علمائے لاہورفتوی علمائے ریاست دیکھے جواب استفتاء چندمقدمات کی تمہید پرموقوف ہے جومسلم فقہ میں مبین ومبرہن ہے۔
تمہیدمیت کے ترکہ میں سے سب سے مقدم جمیع مال سے خرچ تجہیزوتکفین ہے اس کے بعد مابقی میں سے ادائے دیون اس کے بعد مابقی میں سے تنفیذوصیت بالثلث اس کے بعد مابقی کی تقسیم علی فرائض اﷲوصیت زائد علی الثلث اس وقت نا جائزہے جبکہ متضمن ابطال حق ورثہ ہواوراگرورثہ مال متروکہ کے متعلق نہ ہومثلا کوئی وارث موجودنہ ہویاوار موجودہو اور ابطال حق نہ ہویاورثہ اپنے اضرار اورابطال حق کو قبول کرلیں تو وہ وصیت زائد علی الثلث جائزونافذہوگی۔
قال فی الجوھرۃ لان الامتناع لحقھم فیجوز باجازتھم وقال العلامۃ ابوالسعود فلولم یکن وارث ولوحکما صحت الوصیۃ بالکل لان المانع من الصحۃ تعلق حق الوارث وقال فی فتح القدیر فالوصیۃ بالزیادۃ علی الثلث تتضمن ابطال حقھم وذلك لایجوز من غیر اجازتھم۔ جوہرہ میں کہا اس لئے کہ ممانعت وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے لہذا ان کی اجازت سے جائزہوجائے گی۔علامہ ابوالسعود نے کہااگرکوئی وارث موجودنہ ہو۔اگرچہ حکمی طورپرتوکل مال کے ساتھ وصیت صحیح ہوگی کیونکہ صحیح ہونے سے رکاوٹ توحق وارث کا اس سے متعلق ہونا ہے۔فتح القدیر میں کہاتہائی سے زائد کی وصیت وارثوں کے حقوق کے ابطال کو متضمن ہے اور وہ ان کی اجازت کے بغیرجائزہیں ہے۔(ت)
اگر زائد علی الثلث اجنبی کووصیت کی اورصرف احدالزوجین وارث موجودہے اوراس نے اس وصیت کوقبول نہ کیا تو اس کااثر صرف اسی قدر ہوگاکہ اول ثلث بطوروصیت نکال کرباقیماندہ
حوالہ / References الجوھرۃ النیرۃ کتاب الوصایا ∞مکتہ امدادیہ ملتان ۲ /۳۸€۹
فتح المعین کتاب الوصایا ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۵۲€۸
نتائج الافکار(تکملہ فتح القدیر) کتاب الوصایا المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ ∞سکھر ۹ /۳۴۶€
#3570 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
تمام مال میں سے ربع یانصف حصہ احدالزوجین نکالاجائے گا اورمابقی بعداحدالزوجین کل یاجز موصی لہ کوبقدروصیت دیا جائے گااوربعدازاں اگرکچھ باقی رہے گاتوبیت المال میں داخل کیاجائے گا تووصیت بثلث المال اس مال کی وصیت سے مقدم ہے جومال ثلث کے بعد باقی رہاہے اور اس کی بھی یہی وصیت کی گئی ہے زوجین کےلئے عدم جواز وصیت کابھی مشروط بایں شرط ہے کہ کوئی دوسراوارث موجودہو۔اوراگردوسراکوئی وارث موجودنہ ہوتو احدالزوجین کی وصیئت للآخرصحیح ونافذ ہے حاصل یہ کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہوتو پھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویا بالمنفعت۔
قال فی ردالمحتار والاتصح کما لو اوصی احدالزوجین للاخر ولاوارث غیرہ۔ ردالمحتارمیں کہاورنہ صحیح ہے جیساکہ خاوندبیوی میں سے کوئی ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ وارث موجودنہ ہو۔(ت)
ردعلی الزوجین کاحق بیت المال سے اضعف ہے لفساد بیت المال۔اشباہ میں ہے:
انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال ۔ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔(ت)
ردالمحتامیں ہے:
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال ۔ قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پرردکافتوی دیاجائے گا۔(ت)
پس اگربیت منتظم ہے تومستحقین سے باقیماندہ مال بیت المال میں داخل کیاجائے گا اور اگربیت المال نہیں ہے یاہے اورمنتظم نہیں ہے اوراندیشہ ہے کہ وکیل بیت المال سے اس مال کوبیت المال میں داخل نہ کرے اوراپنے اوراپنے خدام کے صرف میں لائے تواس صورت میں ضرورۃ زوجین پر حسب فتوی متاخرین ردکیاجائے گا اوربعدتمہید مقدمہ مذکورہ اس استفتاء کاصحیح جواب
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۶€
الدرالمختاربحوالہ الاشباہ کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶€۱
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3571 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
یہ ہے کہ واحدبخش متوفی کے جمیع مال متروکہ میں سے سب سے اول اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے گاجس میں رواجی صدقات وخیرات داخل نہیں بشرطیکہ مدعاعلیہ نے یہ خرچ اپنے ذاتی مال میں سے بلااجازت مدعیہ کونہ کیاہواوراگرایساکیاہو توتبرع ہوکر اس کابار اس کی ذات پر رہے گانہ مدعیہ پربعدازاں اگرمتوفی نے مدعیہ کو دین مہرمیں زیورات کی وصیت کی ہے چنانچہ اس کااعتراف ہے اور مدعاعلیہ نے بھی زیورات اس کوتسلیم کرکے قبول کرلیاہے توزیورات اس کودین مہرمیں دیئے جائیں گے اوراگر بالفرض دین مہرمیں نہیں دیئے بلکہ محض وصیت کی تواس صورت میں باقیماندہ تمام مال میں سے دین مہر زوجہ اداکیاجائے گا بعدازاں وصیت جاری کی جائے گی صورت موجودہ میں واحدبخش نے تین وصیتیں کی ہیں جواس تمام مال کو مستغرق ہیں ایك وصیت زوجہ کوکی ہے جوصرف زیورات کے متعلق ہے خواہ یہ وصیت محضہ ہو یاوصیت اداء دین مہرکے لئے ہو جیساکہ زوجہ کااقرار اوردوسری وصیت زوجہ کو ہے جومکان کے سکنی اورظروف کے استعمال کے متعلق ہے اورتیسری وصیت باقی ماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کو کی ہے جس کومدعیہ نے قبول نہیں کیاہے اوروہ وصیت ثلث مال سے زائد کی ہے پس صورت موجودہ میں بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین مہرکے لئے ہوجیساکہ زوجہ کااقرارہے اوردوسری وصیت زوجہ کو ہے جو مکان کے سکنی اورظروف کے استعمال کے متعلق ہے اورتیسری وصیت باقیماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کوکی ہے جس کو مدعیہ نے قبول نہیں کیاہے اوروہ وصیت ثلث مال سے زائد کی ہے پس صورت موجودہ میں بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین مہر اس طرح نفاذ وصیت کیاجائے گا کہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہواہے توزیورچھوڑکر باقیماندہ خواہ مکانات ہیں یاظرف وغیرہ ایك ثلث یعی ۱۲/۴ اول شاہ محمدکودیاجائے گا اورباقیماندہ میں سے چوتھائی حصہ ۸ /۲ جو زوجہ کا ہے یعنی سدس کل ۱۲ /۲ اس کودیاجائے گا پھرباقیماندہ ۱۲/ ۶ بھی بعدم المزاحم شاہ محمد کو دیاجائے گا اورتصحیح سہامات کی بارہ سے ہوگی تمام جائدادمنقولہ اورغیرمنقولہ علاوہ زیورات بارہ سہام ہوکراول چارسہام بحکم وصیت بالثلث شاہ محمدکودئے جائیں گے بعدازاں باقی ماندہ آٹھ سہام میں سے دوسہام جو ربع مابقی ہے اورسدس کل ہے عالم خاتون زوجہ کودئیے جائیں گےبعدازاں چھ سہام باقیماندہ بھکم وصیت زائدعلی الثلث لعدم المزاحم شاہ محمدکودئیے جائیں گےپس شاہ محمدکواس مال میں سے ۱۲ /۱۰ سہام ملین گے اورعالم خاتون زوجہ کو اس مال میں سے جس کی وصیت شاہ محمدکوکی ہے ۱۲ /۲ سہام دئیے جائیں گے۔روایات ذیل ملاحظہ ہوں:
قال العلامۃ السعود فی فتح المعین ولواوصت بکل ما لھا لزوجھا کان الکل لہنصفہ بطریق الارث ونصفہ بطریق الوصیۃ قھستانی عن قاضیخان وکذا یستحق الزوج الکل اذا علامہ ابوالسعود نے فتح المعین میں فرمایا اگرعورت نے اپنے شوہر کے لئے کل مال کی وصیت کی تو تمام مال شوہرکا ہوگا نصف بطورمیراث اورنصف بطوروصیت۔قہستانی میں بحوالہ قاضیخان منقول ہے یونہی خاوندکل مال کامستحق ہوگاجبکہ
#3572 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اوصت لہ بالنصفثم قالوانما قیدوا بالزوجین لان غیرھما لایحتاج للوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم قال العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار فاذا اوصی بما زاد عل الثلث ولم یکن الاوارث یردعلیہ و اجازھا فالبقیۃ لہ وان اجاز من لایرد علیہ ففرضہ فی البقیۃ وباقیھا لبیت المالفلواوصی بثلثی مالہ و اجازت الزوجۃ فلھا ربع الثلث واحد من اثنی عشر مخرج الثلثین وربع الباقیولبیت المال ثلثۃ ولزید ثمانیہ و ان لم تجزواوصی لہا ایضا اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا ۔قال فی الجوھرۃ فی شرحہ ولا یجوز مازاد عورت نے اس کے لئے نصف مال کی وصیت کی ہوپھرکہاکہ مشائخ نے زوجین کے ساتھ قیدلگائی ہے کیونہ ان دونوں کے علاوہ جو ورثاء ہیں انہیں وصیت کی محتاجی نہیں اس لئے وہ رد یارشتہ داری کی وجہ سے کل کے وارث بن جاتے ہیں۔علامہ ابن عابدین نے ردالمحتارمیں کہا اگرتہائی سے زائد کی وصیت کی اور اس کاصرف ایك ایساوارث موجودہے جس پرردکیا جاتاہے اوراس نے وصیت کی اجازت دے دی تو باقی مال اس کاہے۔اوراگرایسے وارث نے اجازت دی جس پررد نہیں کیا جاتا تو اس کافرضی حصہ باقی سے نکال کرجوبچ گیاوہ بیت المال میں رکھاجائے گا۔اگرکسی نے دوتہائی مال کی وصیت کی اور اس کی بیوی نے اجازت دے دی توبیوی کو ایك تہائی کاچوتھا حصہ ملے گا جوکہ بارہ میں سے ایك بنتاہے اوربارہ مخرج ہے دوتہائی اورباقی کی چوتھائی کا۔چنانچہ بارہ میں سے بیت المال کے لئے تین اور زیدجس کے لئے وصیت کی گئی تھی کے لئے آٹھ حصے ہوں گے۔اوراگربیوی نے اجازت نہ دی حالانکہ یہ پہلے اس کے لئے بھی وصیت کرچکا ہے تواس کو جوہرہ میں خوب واضح کیاہے اسی کی طرف رجوع کرو
حوالہ / References فتح المعین کتاب الوصایا ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۲۹۔۵۲۸€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
#3573 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
علی الثلث یعنی اذاکان ھناك وارث یجوز ان یستحق جمیع المیراث اما اذاکان لایستحق المیراث اما اذا کان لایستحق جمیع المال کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی ذلك ولایمنع من ذلك استحقاقھما مایرثانہ لانھما یستحقان سھما من المیراث لایزاد علیہ بحال فمازاد علی ذلك فھو مال المریض لاحق فیہ لاحد فجاز ان یوصی بہ و علی ھذا قال محمد رحمہ اﷲ اذاترکت المرأۃ زوجا ولم تترك وارثا غیرہ واوصت لاجنبی بنصف مالھا فالوصیۃ جائزۃ ویکون للزوج ثلث المال وللموصی لہ النصف وبقی السدس جوہرہ میں اس کی شرح میں کہاتہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں اگر وہاں کوئی ایساوارث موجود ہوجوکل مال کا وارث بن سکتاہے لیکن جوکل مال کامستحق نہیں بن سکتا جیسے خاوند اوربیوی تووہ تہائی مال سے زائد کی وصیت کرسکتا ہے۔ اورزوجین جس حصہ میراث کے مستحق ہیں وہ اس سے مانع نہیں کیونکہ وہ میراث کے ایك خاص حصہ کے وارث ہوتے ہیں اس پرکسی حال میں اضافہ نہیں ہوتاجو اس سے زائد ہے وہ مریض کامال ہے اس میں کسی کاحق نہیں لہذا جائزہے کہ وہ اس کی وصیت کرجائے۔امام محمدعلیہ الرحمۃ نے فرمایا اگر کوئی عورت خاوند کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے اورکسی اجنبی شخص کے لئے نصف مال کی وصیت کرجائے تووصیت جائزہوگی۔اس صورت میں شوہر کوایك تہائی اوروصیت والے شخص کو نصف مال ملے گا۔باقی رہا چھٹاحصہ وہ بیت المال کاہے۔اورشوہرکے لئے کل کاتہائی حصہ اس لئے ملے گا کہ شوہر وصیت کامال نکالنے کے بعد ہی میراث کامستحق ہوگا۔چنانچہ پہلے وصیت والے شخص کے لئے کل مال سے تہائی حصہ بطور وصیت نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ شخص ہرحال میں اس کامستحق ہے باقی دوتہائی مال بچاتو شوہراس دوتہائی میں سے نصف یعنی ایك تہائی کابطور میراث مستحق ہوگا۔باقی ایك ثلث بچ گیا اس میں سے
#3574 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
لبیت المال وانما کان للزوج الثلث لانہ لایسحق المیراث الابعد اخراج الوصیۃ فیحتاج الی ان یخرج الثلث اولاللموصی لہ لانہ یستحقہ بکل حال فیبقی الثلثان یستحق الزوج نصفہ میراثا یبقی الثلث السدس للموصی لہ تکملۃ للنصف ویبقی السدس لایستحق لہ فیکون لبیت المال وکذا اذااوصت بذلك لزوجھا کان المال کلہ لہ نصفہ میراثا ونصفہ وصیۃ لانہ لایستحق الوصیۃ قبل المیراث بخلاف الاجنبی لان الزوج وارث وانما جازت لہ الوصیۃ لانہ لاوارث لھا تقف صحۃ الوصیۃ علی اجازتہوعلی ذلك اذا ترك زوجۃ لاوارث لہ غیرھا واوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا السدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس لانھا لاتستحق من المیراث شیئا حتی یخرج الثلث للوصیۃ فاذا خرج الثلث استحقت ربع الباقی وما بقی بعد ذلك یکون للموصی لہ بالجمیع واصلہ من اثنی عشرللموصی لہ اربعۃ وھو الثلث یبقی الثلثان ثمانیۃ للزوجۃ ربعھا اثنانیبقی ستۃ تعودللموصی لہ فیکون لہ عشرۃ وصیت والے شخص کوچھٹا حصہ دیں گے تاکہ کل کانصف مکمل ہوجائے اورایك چھٹاحصہ باقی بچا جس کاکوئی مستحق نہیں لہذا وہ بیت المال کاہےیونہی اگراس عورت نے شوہرکے لئے نصف مال کی وصیت کی توتمام مال شوہرکاہوجائے گا نصف بطورمیراث اورنصف بطوروصیتکیونکہ شوہرمیراث سے پہلے وصیت کامستحق نہیں ہوتابخلاف اجنبی کے اس لئے کہ شوہروارث ہے۔بیشك شوہرکے لئے یہ وصیت جائز ہے کیونکہ کوئی ایساوارث موجودنہیں جس کی اجازت پروصیت کاصحیح ہوناموقوف ہو۔اوراسی کی بنیادپر اگرکسی کابیوی کے سوا کوئی وارث نہ ہواور وہ اجنبی شخص کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کرجائے توبیوی کوچھٹا حصہ(۶ /۱)ملے اور جس کے لئے وصیت کی گئی اس کوپانچ حصے (۶ /۵)ملیں گے کیونکہ بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی اس وقت تك مستحق نہیں ہوگی جب تك وصیت کے لئے کیونکہ بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی اس وقت تك مستحق نہیں ہوگی جب تك وصیت کے لئے ایك تہائی مال ترکہ سے نکال نہ لیاجائے جب ایك تہائی مال ترکہ سے نکال نہ لیاجائے جب ایك تہائی مال نکل گیاتوبیوی باقی(جوکہ دوتہائی ہے)کے چوتھے حصے کی مستحق ہوگیپھربیوی کے حصہ کے بعد جوبچ گیاوہ اس شخص کودے دیاجائے گا جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی ہےاس میں کل مال کی وصیت کی گئی ہےاس میں کل مال کے بارہ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے وصیت والے کوایك تہائی یعنی چارحصے دیں گے باقی دوتہائی یعنی آٹھ حصے بچے جن کا
#3575 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
من اثنی عشرو ذلك خمسۃ اسداسھا ۔ چوتھائی یعنی دوحصے بیوی کے ہیں باقی چھ حصے وصیت والے شخص کی طرف لوٹ جائیں تو اس طرح اس کے کل حصے بارہ میں سے دس ہوجائیں گے جوکہ چھ میں پانچ(۶ /۵)بنتے ہیں۔(ت)
بعدازاں سوالات عدالت کانمبروار جواب بتفصیل ہے یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی ہے اور موافق اس تفصیل کے جو مجمل جواب میں گزرچکی ہے شرعا صحیح ونافذہے وصیت بحق شاہ محمد زائد علی الثلث ہے عالم خاتون زوجہ نے اگر اس کوقبول نہیں کیا تواس کانفاذ حسب ذیل تقسیم ہوکرہوگا۔زیورات اگرمتوفی نے مہرمیں دئیے ہوں تو زیورات پروصیت کابارہوگا بلکہ تمام زیورات اس کوملیں گے۔ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳ /۲سہاممدعاعلیہ کو ۳ /۱ سہام اوردیگرجائداد ومکانات وظروف وغیرہ میں سے مدعیہ ۱۲ /۲ اورمدعاعلیہ کو۱۲ /۱۰ سہام ملیں گے کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھرربع باقی ماندہ۸ /۲ یعنی سدس کل ۱۲ /۲ مدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ یعنی نصف ۱۲ /۶ مدعاعلیہ کوملے گا جوزیورات قیمتی(سماعہ عہ)بروئے وصیت مدعیہ کودئیے گئے ہیں اگروہ مہر میں دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت کچھ حق نہیں ہے اوراگرمحض بطوروصیت دئیے گئے ہیں توان میں مدعاعلیہ کابروئے وصی بالثلث حق ثلث ہوگا اوراس صورت میں تمام زیورات میں ۳ /۱ سہام مدعاعلیہ کواور ۳ /۲ مدعیہ کو ملیں گے۔لیکن اس شق ثانی پر نفاذوصیت سے بیشتر مدعیہ کامہرکل مال سے اداکیاجائے گا اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین متوفی کی اپنے مال سے بلا اطلاق وبلااجازت مدعیہ کی ہے چونکہ یہ صرف تبرع ہے لہذا اس خرچ کابارصرف مدعاعلیہ کے مال پر ہے اورمدعیہ پر اس کامطلق بارنہ ہوگا اوراگر باجازت مدعیہ اپنے مال سے تجہیز وتکفین کی ہے یامتوفی کے ترکہ میں سے تو اس کابارمتوفی کے تمام ترکہ پر ہوگا جوہر دومدعاعلیہ اورمدعیہ کے متعلق ہوگا۔حق سکنی مکانات اورحق استعمال ظروف وغیرہ کے جو موصی نے عالم خاتون زوجہ کو وصیت کی ہے اس وصیت کے بار سے ثلث مال جوبطور وصیت شاہ محمدکواول ملے گا بری رہے گا البتہ علاوہ ثلث مال کے جو شاہ محمدکوبعداخراج ثلث ملے گا اس میں مدعیہ کو تانکاح ثانی حسب وصیت حاصل رہے گاکیونکہ زوجہ کی وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی ہاں زائد علی الثلث کے مساوی ہے لہذازائد علی الثلث یعنی ۱۲/۶ میں اس کانفاذ اس طرح ہوگا کہ رقبہ کی وصیت شاہ محمد کے لئے اور منفعت کی وصیت مدعیہ کے لئے قراردی جائے گی جوحصہ مدعیہ کااور مدعاعلیہ کا جائدادمنقولہ یاغیرمنقولہ میں ہے اس کے متعلق ہرایك فریق کواختیارہے کہ وہ فریق ثانی سے بشرطیکہ
حوالہ / References الجوھرۃ النیرۃ کتاب الوصایا ∞مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ /۹۰۔۳۸۹€
#3576 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
وہ رضامند بھی ہو قیمت لے ورنہ حسب سہامات مذکورتقسیم کرالے شرعا قیمت لینے کے متعلق کسی فریق پر جبرنہیں ہوسکتا۔
الحاصل:تعین حصص مدعیہ ومدعی کے متعلق جواب علمائے ریاست صحیح ہے اورمستشارالعلماء لاہور صحیح نہیں ہے زیورات کے متعلق شرعی بایں تفصیل ہے کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کو مرض الموت سے پہلے تملیکا دے دئیے ہیں اور وصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں ان پرکوئی بارحتی کہ تجہیزوتکفین اوروصیت کا بھی نہیں ہوگا اوراگرمرض موت میں وصیت کی ہے تواگربعوض دین مہرہوتو البتہ اس صورت میں تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنی نہ ہوں گے بشرطیکہ مدعاعلیہ نے بلااجازت مدعیہ اپنے مال سے خرچ نہ کیاہو لیکن وصیت بالثلث کے بارسے مستثنی ہوں گے یعنی بعدخرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گےاوراگربعوض دین مہرنہ ہوتوبعد تجہیزوتکفین اول دین مہراداکیاجائے گابعدازاں بحکم وصیت بالثلث زیورات میں سے بھی ۳ /۱ یعنی ۳ /۲ ثلث مدعا علیہ کوملے گا باقیماندہ ۳ /۲ حصہ زیورات مدعیہ کو ملیں گےپس حکم عدم جواز وصیت صحیح نہیں اورنیزحکم بعدم جواز وصیت بالمنفعت بھی صحیح نہیں بلکہ اس کانفاذ علاوہ ثلث کے ہوگاصورت موجودہ میں علماء انجمن مستشارالعلماء کادعوی بطلان وصیت اورجواز ردعلی الزوجین کے متعلق صحیح نہیں ہے کیونکہ رد علی الزوجین کاتعلق اس صورت کے ساتھ جس جگہ حقوق متقدمہ سے باقیماندہ کوبیت المال کے لیے قرار دیا ہے اور جس صورت میں حقوق تمام ترکہ کو مستغرق ہوں اور بیت المال تك نوبت نہ پہنچے جیساکہ وہاں بیت المال کے لئے کچھ نہیں باقی رہا توردعلی الزوجین کاحکم ہرگزنہیں ہوسکتاکیونکہ بحکم مقدمہ خامسہ ردعلی الزوجین کے جوازکاحکم ہرگزنہیں ہوسکتا بیت المال کے فساد کے ساتھ مشروط ہے اگربیت المال منتظم موجودہوتوردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا لہذ حکم ردعلی الزوجین حکم تفویض بیت المال سے بھی مؤخرہوا صورت موجودہ میںاور فرض زوجہ تمام باقیماندہ ترکہ کومستغرق ہیں باقی ماندہ ترکہ کاکوئی فرد ان حقوق متقدمہ کے بعد باقی نہیں رہتا پس نہ تفویض بیت المال کاحکم ہوسکتاہے نہ ردعلی الزوجین کا۔پس یہ بحث اس جگہ نہایت تعجب انگیز ہےچنانچہ اس کی تشریح اورتردید اپنی تحریر مندرجہ مسل کافی طورپرکردی ہے اپنی دوسری تحریر میں ایك نوٹ لکھتے ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ واحد بخش نے شاہ محمد کوحفاظت جائداد کی وصیت کی ہےنہ تملیك کیلہذا وہ وصی ہے نہ موصی لہ چونکہ اس کی تردید علمائے ریاست نے کافی طورپر فرمائی ہے لہذا ہم کو اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے فقط واﷲ اعلم وعلمہ
#3577 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
اتم واحکم۔
نقل جواب ۸
میں نے حضرات علمائے کرام کے فتاوی معہ کاغذات متعلقہ مسل مقدمہ کو غورسے پڑھا اوربارباربغرض تنقیح امرمتنازعیہ فیہ حوالہ جات کتب فقہ میں تدبرکیاچنانچہ حسب ذیل فیصلہ پر آگاہ ہوابتوفیقہ تعالی اس میں توکلام نہیں کہ ردعلی الزوجین میں فقہائے متاخرین کااختلاف ہے یعنی فقہائے متقدمین قطعا ردعلی الزوجین کے قائل نہیں ہیں اورفقہائے متاخرین ردمذکور کے قائل ہیں نیزاس میں کلام نہیں کہ فتوی متاخرین کے قول پرہے چنانچہ صاحب ردالمحتارفرماتے ہیں:
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا الفساد بیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ وکذا البنت و الابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالرد علیہما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام الی اخرہ۔ قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گازیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك کے فرضی حصہ کو وصول کرنے کے بعد جوکچھ بچ جائے وہ اسی پررد کردیاجائے گا یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف لوٹایاجائے گا۔ مستصفی میں کہا آج کے زمانے میں فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہےمحقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہا بہت سے مشائخ نے فتوی دیا ہے کہ زوجین پررد کیاجائے گا جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ ان دونوں میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے ہیں الخ۔(ت)
اب بحث طلب بات رہ جاتی ہے کہ فقہائے متاخرین جن کے قول پرفتوی ہے ذوی الارحام مول الموالاتمقرلہ بالنسب علی الغیرموصی لہ بجمیع المال ان چاروں کے نہ ہونے کی صورت میں ردمذکورکے قائل ہیںصاحب درمختار کی عبارت مندرجہ ذیل سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجہ میں اورانہیں کے ساتھ ردعلی احدالزوجین کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3578 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
قائل ہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
والرد ضدہ(ای ضد العول)کما مر وحینئذ فان فضل عنہا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد الفاضل علیھم بقدر سھامھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایرد علیھما وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت جزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاء۔ ردضد ہے عول کیجیساکہ گزراتواب جب فروض سے کچھ بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ وہاں موجودنہ ہوتو وہ بچاہوام ال بالاتفاق ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا سوائے زوجین کےحضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ زوجین پربھی رد کیاجائے گاایساہی مصنف وغیرہ نے کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں جزم کیا ہے کہ یہ راوی کاوہم ہے توتم اسی کی طرف رجوع کرو۔میں کہتاہوں اشباہ میں ہے ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔اس کاذکرپہلے ہم کتاب الاولیاء میں کرآئے ہیں۔(ت)
اگرفقہائے متاخرین کے نزدیك ردعلی الزوجین کادرجہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوتاتو حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ اور مصنف صاحب اشباہ کے اختلاف کویہاں یعنی ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے ساتھ ملاکر بیان کی کیاضرورت تھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پرجودلیل کتاب روح الشروح سے منقول ہے اس سے یہی صاف ظاہرہے کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ ردعلی الزوجین اور ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ایك ہی درجہ پررکھتے ہیں کیونکہ اس میں رد کو عول پرقیاس کیاگیاہے اورظاہرہے کہ عول میں ذوی الفروض النسبیہ اوراحدالزوجین برابرہیں توپھر ردمیں بھی ان کوبرابرہوناچاہئے متاخرین کی طرف سے ردعلی الزوجین کی دلیل میں فساد بیت المال بیان کیاجاتاہے اس سے یہ شبہہ ہوتاہے کہ جب ترکہ کے بیت المال میں جانے کا موقعہ ہوتو اس کے فاسد ہوجانے کے باعث ردعلی الزوجین ہوناچاہئے اورجب بیت المال میں جانے کاموقعہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہے تو رد علی الزوجین بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوناچاہئے لیکن درمختار کی عبارت مسطورہ بالاسے معلوم ہوتاہے کہ اس میں رد علی ذوی الفروض النسبیہ کی دلیل سے ہی فسادبیت المال ہی کوپیش کیاہے توچاہئے کہ ردعلی ذوی الفروض النسبیہ بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
#3579 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
ہی ہو اور اس کاتوکوئی قائل بھی نہیں ہے۔حاشیہ ضیاء السراج وغیرہ سے جوجزئیات علماء نے نقل کئے ہیں وہ سب متقدمین کے مذہب پرمبنی ہیں جوزیادہ تر مروج اورمشہورہےاسی لئے ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
اقول:ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذلك ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأمل لکن لایخفی ان المتون موضوعۃ لنقل ماھو المذھب وھژذہ المسئلۃ مما افتی بھا المتاخرون علی خلاف اصل المذھب۔ میں کہتاہوں ہم نے اپنے زمانے میں سنابھی نہیں کہ کسی نے ایسافتوی دیاہوشاید متون سے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے۔پس تأمل چاہئےلیکن پوشیدہ نہیں کہ متون نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیںاور یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن میں متاخرین نے اصل مذہب کے خلاف فتوی دیاہے۔(ت)
بہرکیف اگرکسی صاحب کوکوئی ایسی صریح روایت مل جائے کہ فقہائے متاخرین موصی لہ بجمیع المال کے نہ ہونے کی صورت میں ردعلی الزوجین کے قائل ہیں توخاکسار اوردیگراراکین مستشار العلماء کواپنی رائے بدل دینے میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا لیکن حضرات مفتیان نے ابھی تك اس امرکوپایہ ثبوت تك نہیں پہنچایا وہ روایات وجزئیات جن سے معلوم ہوتاہے کہ موصی لہ بجمیع المال کے ہوتے ہوئے ردعلی الزوجین نہیں ہوگا وہ بتمامہا فقہائے متقدمین کے قول پرمبنی نہیں ہے اوراس قول کے موافق اگرموصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتو بھی ردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتوردعلی الزوجین ہوگاورنہ نہیںاورمیرے خیال میں یہ کسی کابھی مذہب نہیںبہرصورت جزئیات مندرجہ فتاوی متعلقہ مسئلہ ہذا جن سے موصی لہ بجمیع المال کوردعلی الزوجین پرمقدم رکھاگیاہے وہ مذہب متقدمین پرمبنی ہیں نہ متاخرین پرجومتاخرین پرجومفتی بہ مذہب ہے اوراگریہ امرقطعا ثابت ہوجائے کہ وہ مذہب متاخرین پرمبنی نہیں تو حضرات علماء ریاست کافتوی صحیح ہے مگربنظرامعان صاف معلوم ہوتاہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
#3580 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
کہ اس امرکوکسی مفتی نے صاف نہیں کیالہذا خاکسار کافیصلہ اس مسئلہ میں وہی ہے جس کو انجمن مستشارالعلماء لاہورنے اپنے فتوی میں لکھ دیاہے اورجس کے ساتھ یہی متفق ہیں اس مسئلہ میں اس سے زیادہ بحث فضول ہے اورفیصلہ عدالت کے لئے کافی ہے فقط واﷲ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔فقط
الجواب:
(جواب امام احمدرضاخاں علیہ الرحمۃ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ رب العلمین وبہ ثم برسولہ نستعین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہے جوکل جہانوں کاپروردگار ہے اوراسی سے پھراس کے رسول سے ہم مددچاہتے ہیں اﷲ تعالی اپنے رسول پردورودسلام اوربرکتیں فرمائے اورآپ کی تمام آل واصحاب پر۔(ت)
الحمدﷲ یہاں فتوی پرفیس نہیں لی جاتی " ان اجری الا علی رب العلمین ﴿۱۰۹﴾" (میرا اجرتواسی پرہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ ت)منی آرڈر واپس کردیاسوالات اوران کے متعلق آٹھ فتوے ملاحظہ ہوئےمفتیوں کے نام نہ لکھناعجیب نہ تھا ایك فتوی میں دوسرے کاجوذکرتھا وہ لکھ کرمحوکردیاگیایابیاض چھوڑی ہے یہاں اس سے کوئی بحث نہیں بعونہ عزوجل تحقیق سے کام ہے مگراتنی گزارش مناسب ہے بحمدہ تعالی یہاں مسائل میں نہ کسی دوست کی رعایت ہےہمارے رب عزوعلانے نہ فرمایا:
" یایہا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" اے ایمان والو! انصاف پرخوب قائم ہوجاؤ اﷲ کے لئے گواہی دیتے ہوئے چاہے اس میں تمہارا اپنانقصان ہو۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۶/ ۱۰۹€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۳۵€
#3581 · الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
نہ کسی مخالف سے ضد اورنفسانیت۔کیاہمارے مولی تبارك وتعالی نے نہ فرمایا:
" ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقوی ۫" اورتم کو کسی قوم کی عداوت اس پرنہ ابھارے کہ انصاف نہ کروانصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔(ت)
مولی سبحانہ وتعالی کی عنایت پھرمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اعانت سے امیدواثق ہے کہ لایخافون لومۃ لائم سے بہرئہ وافی عطافرمایاہےوﷲ الحمداسی بنا پر بہت افسوس کے ساتھ گزارش کہ آٹھوں فتووں میں اصلا ایك بھی صحیح نہیں اکثرسراپاغلط ہیں اوربعض مشتمل براغلاط۔اب ہم بتوفیق اﷲ تعالی اولا: کچھ مسائل کاافادہ کریں اورہرافادہ پرجوفوائد متفرع ہوئے اس کے ساتھ لکھیں جن سے وضوح احکام کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوکہ ان فتووں نے کہاں کہاں کیاغلطیاں کیں اوران کے علاوہ کیاکیا ضروری باتیں ان کی نظر سے رہ گئیں۔مفتی صاحبوں نے انصاف فرمایاتو یہ امرباعث ناراضی نہ ہوگابلکہ وجہ شکرکہ مقصود بیان حق واظہاراحکام ہے کہ کسی کے طعن والزاماوریہ امرقدیم سے معمول علمائے اسلام۔
ثانیا:پانچوں سوالات حال کے جواب دیں۔
ثالثا: ساتوں سوالات سابق کے جواب لکھیں جوان مفتیوں سے کئے گئے اورجواب غلط وناقص ہےیہ اس لئے کہ محکمہ قضاء نے جن امورکی نسبت تحریرفرمادیاہے کہ فتاوی مصدرہ میں جوسوال زیربحث آکرطے ہوچکے ہیں ان کے ذکرکی ضرورت نہیں ان میں بھی اظہارحق ہوکہ قابل اطمینان بات صاف نہ ہوئی تھی اس کاحق ہمیں خود ہی تھا اور اس تحریر دارالقضا کے بعد بدرجہ اولی کہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوی معلوم ہوتو اطلاع بخشیں۔
رابعا:حکم اخیرلکھیں کہ اس مقدمہ میں دارالقضاء کوکیاکرناچاہئے۔وماتوفیقی الاباﷲ علیہ توکلت والیہ انیب(اورمیری توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔میں نے اسی پربھروساکیااوراسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۸€
#3582 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
افادات والتفریعات
(افادے اورتعریفیں)
افادہ اولی
شاہ محمدخاں مکانات واثاث البیت کاضرور موصی لہ ہے آغاز وصیت نامہ میں ہے وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں کے رہیں گے اورمالك بھی یہی رہے گا اگرصرف"زیرحفاظت"کہتا شاہ محمدخاں وصی ہوتا مگراس فقرہ نے کہ مالك بھی رہے گا ظاہر کردیاکہ مقصودوصیت ہے نہ کہ وصایت۔پھرکہامالك وقابض شاہ محمدخاں مذکور ہےپھرکہا غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اس"وغیرہ"کی یوں تشریح کی ہے علاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔پھرکہاکل اشیاء مندرجہ بالا کامالك شاہ محمدخاں ہے۔غرض جابجا تملیك کی تصریح کی اورپرظاہرکہ یہ تملیك بلامعاوضہ بروجہ تبرع واحسان ہے اورآخرمیں کہا یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گے جب تك میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیںبعد میں بموجب بالا تقسیم ہوں گےصاف واضح کردیاکہ یہ تملیك مضاف الیہ مابعد الموت ہے توقطعا وصیت ہوئی۔ امام اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں:
الوصیۃ فی الشریعۃ تملیك مضاف الی مابعد الموت بطریق التبرع ۔ وصیت شریعت میں ایسی تملیك کوکہتے ہیں جو بطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت)
ہاں وصیت نامہ میں مالك وقابض شاہ محمدخاں مذکورہے کے بعد یہ لکھاہے کہ اس کواختیار ہے کہ اس کوفروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اور میری ارواح پر بخش دے گا اسے منافی تملیك سمجھنا صریح غلط ہے وہ خود اس کے متصل ہی کہتاہے یعنی غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانا ت وغیرہ کا ہے خود اسی کلام کی تفسیرتملیك سے کررہاہے تو اسے تملیك سے جداکرنا توجیہ القول بمالایرضی بہ قائلہ(قول کی ایسی توجیہ کرناجس پر قائل
حوالہ / References العنایۃ علی ھامش فتح القدیر کتاب الوصایا باب صفۃ الوصایا الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۴۲€
#3583 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
راضی نہ ہو۔ت)ہے اورجب مالك شاہ محمد خاں ہواتوجملہ مذکورہ کسی طرح وصیت یعنی اسے وصی بنانے کامفیدنہیں ہوسکتاکہ وصی وہ ہے جسے موصی مال میں تصرف کااختیاردے نہ وہ جسے ایك مال کامالك کرکے پھر اس سے درخواست کرے کہ وہ اپنا مال بیچ کر اس کے کام میں خرچ کردے یہ سوال ہوانہ کہ ایضا ظاہرہے کہ وصایت مثل وکالت دوسرے کواپنی جگہ قائم کرناہے بلکہ وصایت عین وکالت ہے فرق اس قدرکہ وکالت حیات میں ہوتی ہے اوروصایت بعد موت۔خانیہ پھررد المحتار میں ہے:
انت وکیلی بعد موتی یکون وصیا انت وصیی فی حیاتی یکون وکیلا لان کلامنھما اقامۃ للغیر مقام نفسہ فینعقد کل منھما بعبارۃ الآخر۔ تومیرے مرنے کے بعد میراوکیل ہے تووہ وصی بن جائے گا۔ اورتومیری زندگی میں میراوصی ہے تواس سے وہ وکیل بن جائے گا کیونکہ ان دونوں میں ہرایك کسی غیر کواپنا قائمقام بناناہے لہذا ان میں سے ہرایك دوسرے کی عبارت کے ساتھ منعقدہوجائے گا۔(ت)
مال اگراپنی ملك پررکھ کر اس سے کسی تصرف کے لئے کہتاتوضرور اسے اپنی جگہ قائم کرنا ہوتااورجب مال اس کی ملك کرچکاتو اب موصی کااس میں کیا مقام رہا جس پر اسے قائم کرتاہے ولوجہ اجلی وصایت باب ولایت واطلاقات سے ہے یعنی دوسرے کو اختیار دینااسے نافذالتصرف بناناولوالوجیہ پھرادب الاوصیاء میں ہے:
ایصاء المیت نقل الولایۃ الی الوصی۔ میت کاوصیت کرنا اپنی ولایت کو وصی کی طرف منتقل کرناہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ان فی الوکالۃ والاذن للعبد اطلاقا عماکانا ممنوعین عنہ من التصرف فی مال المؤکل والمولی۔ اس لئے کہ وکالت اوراپنے غلام کواذن دینے میں اس چیز کی اجازت دیناہے جس سے پہلے اس کے لئے ممانعت تھی یعنی مؤکل اورمولا کے مال میں تصرف کرنا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاوصیاء باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴۷€
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الایصاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۶€
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴ /۲۳۔۲۲۲€
#3584 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
توضرورہے کہ اس کے اختیار دینے سے اسے اختیار ملے اور جس مال کاآدمی خود مالك ہوگیا اس کااختیار خود اس کی مالکیت اسے دے گی اگرچہ شیئ کی مالکیت دوسرے کے دئیے سے ہو جیسے ہبہ کہ موہوب لہ بعد ملك جو اس میں تصرفات کرے گا اپنے اختیار ذاتی سے کرے گا نہ کہ واہب کی نیابت سے اگرچہ موہوب لہ پرملك واہب کے دئیے سے ملی تو جس طرح تملیك عین بلا عوض فی الحیاۃ یعنی ہبہ سے حصول اختیارات کے باعث موہوب لہ واہب کاوکیل نہ ہوجائے گایوں ہی تملیك عین بلاعوض بعد الممات یعنی وصیت مال سے حصول اختیارات کے سبب موصی لہ موصی کاوصی نہیں ہوسکتا۔وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہر ہے۔ت)
وبوجہ اخصر یہ تملیك ہے اورکوئی اطلاق تملیك نہیں تویہ اطلاق نہیں اورہروصایت اطلاق ہے تویہ وصایت نہیں وھوالمطلوب قیاس ثانی کاصغری پہلے کانتیجہ ہے اورکبری کاثبوت ردالمحتار سے گزرا اورقیاس اول کاصغری بدیہی ہے اورکبری کاثبوت اس عبارت درمختار سے ہے۔
کل ماکان من التملیکات اوالتقییدات یبطل تعلیقہ بالشروط والاصح لکن فی اسقاطات والتزامات یحلف بھما یصح مطلقا وفی اطلاقات وولایات وتحریضات بالملائم بزازیۃ۔ جوکچھ تملیکات وتقییدات میں سے ہے وہ اس کی تعلیق شرط کے ساتھ باطل ہے ورنہ صحیح ہےلیکن اسقاطات والتزامات جن پرقسم کھائی جاتی ہے ان میں شرط کے ساتھ تعلیق مطلقا صحیح ہے جبکہ اطلاقاتولایات اور ترغیبات میں بشرط مناسب جائزہےبزازیہ۔(ت)
تنبیہ:قاعدہ فقہیہ یہ ہے کہ اگر مملك بالکسر کہ تملیك بلاعوض کے ساتھ مملك بالفتح کی کسی مصلحت میں خرچ یااستعمال کرناذکر کرے تو اسے مشورہ ٹھہراتے ہیں مملك پر اس کی پابندی ضرورنہیں ہوتی کہ جب وہ مالك ہوگیا اسے اختیارہے جہاں چاہے اٹھائے مثلا یہ کپڑا میں نے تجھے دیا کہ تو اسے پہنے یا یہ مکان تجھے ہبہ کیاکہ تو اس میں سکونت کرے۔تنویرالابصارمیں ہے:
تصح بایجاب کوھبت ونحلت واطعمتك ھذا الطعام وداری لك ھبۃ تسکنھا۔ یہ ایجاب سے صحیح ہوجاتاہے جیسے کہا کہ میں نے ہبہ کیامیں نے بخوشی بخشامیں نے یہ طعام تجھے دے دیا اورمیرا گھر تیرے لئے ہبہ ہے کہ تو اس میں رہائش رکھے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹۔۱۵۸€
#3585 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
درمختار میں ہے:
لان قولہ تسکنھا مشورۃ فقد اشار علیہ فی ملکہ بان یسکنہ فان شاء قبل مشورۃ وان شاء لم یقبل۔ کیونکہ اس کاقول کہ"تو اس میں رہائش رکھے"ایك مشورہ ہے جو واہب نے موہوب لہ کی ملکیت میں دیا اگرچاہے تومشورہ قبول کرلے ورنہ نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
کقولہ ھذا الطعام لك تاکلہ اوھذا الثوب لك تلبسہ بحر ۔ جیسے واہب کاقول کہ یہ کھانا تیرے لئے ہے کہ تو اس کوکھائے یایہ کپڑے تیرے لئے ہے کہ تو اس کوپہنےبحر۔(ت)
اوراگرخود اپنی یا اس چیزیاصالح استحقاق شخص ثالث کی کوئی مصلحت ذکرکرے تواسے شرط فاسد قراردے کرتملیك کوصحیح اور شرط کوباطل کرتے ہیں۔مثلا یہ غلام میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھر میری یازید کی خدمت کرےیا اس شرط پرکہ تواسے آزاد کردے۔درمختارمیں ہے:
حکمھا انھا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فھبۃ عبد علی ان یعتق تصح و تبطل الشرط۔ ہبہ کاحکم یہ ہے کہ وہ شرط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتاچنانچہ غلام کاہبہ اس شرط پرکہ موہوب لہ اس کو آزاد کردے صحیح ہے اورشرط باطل ہوجائے گی۔(ت)
نہ یہ کہ زید اپنی مصلحت ذکرکرے توسرے سے تملیك ہی اڑادیں اوراسی ذکرمصلحت کو اس کے بطلان کاقرینہ ٹھہرادیں۔یوں ہوتاتویہ کہناکہ میں نے زیدکو اس غلام کامالك کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھربعد مجھے واپس کردے ہبہ نہ ہوتا عاریت قرارپاتا حالانکہ یہ باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
ردالمحتار کتاب الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۹€
الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۸€
#3586 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
قال اصحابنا جمیعا رحمھم اﷲ تعالی اذاوھب ھبۃ وشرط فیھا شرطا فاسدا فالھبۃ جائزۃ والشرط باطل کمن وھب لرجل أمۃ فاشترط علیہ ان یردھا علیہ بعد شھر کذا فی السراج الوھاج۔ ہمارے تمام اصحاب رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایاکہ جب کسی نے ہبہ کیااوراس میں کوئی فاسدشرط لگادی تو ہبہ جائزاور شرط باطل ہے۔جیسے کسی نے لونڈی اس شرط پرہبہ کی کہ ایك ماہ بعد موہوب لہوہ لونڈی واہب کولوٹادے گاسراج وہاج میں یوں ہی ہے۔(ت)
افادہ ثانیہ
جس طرح الفاظ مذکورہ سے شاہ محمدخاں کو وصی سمجھنا باطل ہے یوں ہی ان مکانوں کی وصیت تجہیزوتکفین وایصال ثواب کے لئے ٹھہرانا حلیہ صواب سے عاری وعاطل ہے وہ تومکانات کوشاہ محمدخاں کی ملك کرچکااوراختیار بیع رہن کاملك پرمتفرع ہونا بدیہی۔وہ یہ نہیں کہتاکہ شاہ محمد پر لازم ہے کہ ان کو بیع یا رہن کرکے روپیہ میری تجہیز وتکفین وفاتحہ میں اٹھا دے بلکہ یہ کہتا ہے کہ شاہ محمد ان کامالك ہے اسے بیع ورہن کااختیارہے ہاں اگربیع یارہن کرے تو اس صورت میں کہتاہے کہ روپیہ میری ارواح پربخش دے گا۔اس جملہ کو اگراس کے ظاہر پررکھیں توخبرہے جس کاحاصل شاہ محمدخاں اورموصی کی دوستی کابیان ہے کہ مجھے اس سے یہ امیدہے ولہذا میں اسی کو اپنے مال کامالك کرناچاہتاہوں جس طرح آخرمیں کہاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کا مالك شاہ محمدخاں ہے جس نے میری خدمت ازحدکی ہے بعدانتقال میری تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت اخیر کوپوراانجام دے گا اوراگرخبر بمعنی امرلیں توحاصل یہ ہوگاکہ شاہ محمدخاں اگربیع یارہن کرے توروپیہ میری ارواح پربخشدےیہ ایصال ثواب کی وصیت نہیں ہوسکتا بعد اس کے کہ مکانات ملك موصی لہ کرچکاپرائی ملك میں اسے وصیت کاکیااختیار رہا وصیت ایجاب ہے اورملك غیر میں اس کے کہے سے کوئی بات واجب نہیں ہوسکتی مالك کو اختیارہے کہ مانے یانہ مانے ایضاح پھرنہایہ شرح ہدایہ پھرنتائج الافکارمیں ہے:
الوصیۃ مااوجبھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ وصیت وہ ہے کہ موصی اپنے مال میں اس کا ایجاب کرے اس کی موت کے بعد یا ایسی
حوالہ / References الفتاوی الہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۶€
#3587 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الذی مات فیہ ۔ بیماری میں جس کے اندروہ مرا۔(ت)
تفریعات
(۱)فتوی ۶ کا ادعاکہ وصیت نامہ پرغورسے معلوم ہوتاہے کہ متوفی نے شاہ محمدکے حق میں کچھ بھی وصیت نہ کی بلکہ صرف اپنا وصی مقررکیاہےمحض باطل ہے۔
(۲)فتوی ۶ کا اس ادعاپرجملہ مذکورہ میری ارواح بخش دے گاسے استدلال کہ وصیت بحق شاہ محمد متوفی ہوتی تویہ کہنابے معنی ہو جاتاخود بے معنی اورصحیح وباطل کاقلب کردیناہے جیساکہ تنبیہ میں واضح ہوا۔اس نے مطلقا کہاہے کہ مالك محمدشاہ خاں مذکور ہے اور اس کے بعد وہ الفاظ کہ بعد فروخت یا رہن الخ جملہ مستقلہ ہیں کہ اس جملہ کی قیدوشرط نہیں ہوسکتے۔بحرالرائق متفرقات البیوع جلد۶ میں ہے:
فی بیوع الذخیرۃ اشتری حطبا فی قریۃ شراء صحیحا وقال موصولا بالشراء من غیرشرط فی الشراء احملہ الی منزلیلایفسد العقد لان ھذا لیس بشرط فی البیع بل ھو کلام مبتدأ بعد تمام البیع فلایوجب فسادہ اھ فعلی ھذا لواستاجرقریۃ اوارضا للزراعۃ ثم قال بعدتمامھا ان الحرث علی المستأجر لاتفسد لانہ لم یکن شرطا فیھا وانما یکون شرطا لوقال علی ان الحرث علیہ فلیحفظ ھذا فانہ یخرج علی کثیر من المسائل۔ بیوع ذخیرہ میں ہے کسی نے ایك قریہ میں ایندھن خریدا صحیح خریداری کے ساتھ پھر اس سے متصل بلاشرط کہااس کو میرے گھرتك لے چلو تو عقد فاسدنہ ہوگا کیونکہ یہ بیع میں شرط نہیں بلکہ بیع مکمل ہوجانے کے بعدنیاکلام ہے جوموجب فسادنہیں اھ اسی پرمبنی ہے یہ مسئلہ کہ کسی نے زراعت کے لئے دیہات یازمین کرایہ پرلی پھربیع کے مکمل ہونے کے بعد کہا کہ کاشت کرنا کرایہ دار کے ذمہ ہوگاتو اجارہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ یہ اجارہ میں شرط نہیں وہ توتب ہوتی کہ یوں کہتا اس شرط پرکہ کاشتکاری کرایہ دارکے ذمہ ہوگیاس کومحفوظ کر لیناچاہئے کیونکہ اس سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوسکتی ہے۔(ت)
اوراگربفرض غلط اس کے معنی یہ قراردے لیجئے کہ شاہ محمد کی تملیك کو اس شرط سے مشروط
حوالہ / References نتائج الافکار(تکملہ فتح القدیر)کتاب الوصایا ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۴۱€
بحرالرائق کتاب البیوع باب المتفرقات ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۸۸€
#3588 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کرتاہے یعنی میں نے شاہ محمدخاں کو وصیۃ ان مکانات کامالك کیااس شرط پرکہ اگر وہ بیع یا رہن کرے توروپیہ میری فاتحہ میں اٹھائےتواولا: ہم ثابت کرچکے کہ تملیك بلاعوض میں ایسی شرط باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہوگی۔
ثانیا: ہم پوچھتے ہیں اس صورت میں بعد موت موصی کے مکانات ملك موصی سے خارج ہوگئے ملك موصی لہ میں داخل ہوئے یانہیںاگرکہتے ہو ہاں تومقصود حاصل کہ مالك پر اس کی ملك میں جبرکیامعنیاوراگرکہتے ہونہیں تو کیوںحالانکہ موصی نے وصیت کی اورموصی لہ قبول کرچکااوروصیت بعد قبول ناقل ملك ہے۔ اشباہ میں ہے:
الموصی لہ یملك الموصی بہ بالقبول ۔ جس کے لئے وصیت کی گئی وہ وصیت والی چیز کوقبول کرنے سے اس کامالك ہوجاتاہے۔(ت)
اوریہ کہنامحض نادانی ہوگاکہ وصیت تومشروط تھی جب تك شرط نہ پائے جائے گییہ شرط فی الوصیۃ بالشرط اورتعلیق الوصیۃ بالشرط میں فرق نہ کرنے سے ناشیئ ہوگا یہاں اگرہے تواول ہے نہ ثانی کہ سرے سے مبطل وصیت ہے کہ وصیت تملیك ہے اورتملیکات تعلیق بالخطرقبول نہیں کرتیںدرمختارمیں ہے:
کل ماکان من التملیکات اوالتقییدات یبطل تعلیقہ بالشرط۔ جوکچھ تملیکات یاتقییدات میں سے ہے اس کوشرط کے ساتھ معلق کرناباطل ہے(ت)
معہذا وہ کیاشرط تھی کہ نہ پائی گئی آیا روپیہ صرف فاتحہ کرنانہ ہواتویہ توبحال بیع ورہن شرط تھا بیع ورہن خود ہی نہ پائے گئے رہابیع ورہن کرناتویہ شرط ہی نہ کئے گئے تھے شرط لازم کی جاتی ہے اوربیع ورہن کااس نے اختیار بتایاہے نہ کہ ایجاب۔
(۳)فتوی۶ کاقول کہ اسلئے شاہ محمدخاں کوبحیثیت وصیت تیسرا حصہ جائدادکاملے گا اس لئے کہ بحق واحدبخش خیرات کردے نہ اس لئے کہ وہ خود اس کامالك بن جائےبنائے فاسد علی الفاسدہےبلکہ بلاشبہہ وہ وصیت بحق شاہ محمد ہے اس لئے کہ وہ خود اس کامالك کرچکا
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۳€
الدرالمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
#3589 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
موصی نے جابجا جس کی صریح تصریح کی مگرفتوی کہتاہے کہ موصی خود اپنی مرادنہ سمجھامرادیہ ہے جوہم کہتے ہیں۔
(۴)بفرض باطل ایساہوتابھی تویہ الفاظ کہ میری ارواح کوبخش دے گا موصی نے صرف مکانات کی نسبت لکھے ہیں باقی وصیت کی نسبت نہیں فتوی۶ کاتومطلقا سب جائدادپریہی حکم لگادینااور پوراثلث خیرات کے ٹھہرادیناصریح ظلم یاعدم فہم ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت مانگتے ہیں۔ت)
(۵)یہی خطا فتوی۲ کو آڑے آئی لکھازوجہ کاحق متروکہ متوفی سے سدس ہے باقی موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں صرف کرے جب باقی موصی لہ کاہوچکاپھروجوہ خیرمیں صرف کرنے کا اس پرایجاب کیامعنیاگروہ کرے گاتبرع ہوگا اورتبرع پرجبرنہیں " ما علی المحسنین من سبیل " (احسان کرنے والوں پرکوئی راہ نہیں۔ت)
(۶)بلکہ فتوی۲ کی غلطی فتوی۶ سے بڑھ کرہے اس نے توشاہ محمد کے لئے وصیت مانی ہی نہ تھی تو اسے گنجائش ملی کہ خیرات کے لئے وصیت ٹھہرادے اگرچہ یہ سرتاپاغلط تھا اس نے اس سے عجیب ترراہ اختیارکی کہ تمام باقی بعد فرض الزوجہ کی وصیت شاہ محمدکے لئے مانی پھر اسی پرخیرات کاحکم لگادیا یعنی شیئ واحد کی وصیت عمروکے لئے بھی ہے اوربعینہ اس شیئ کی وصیت اﷲ عزوجل کے لئے بھی ہے حالانکہ یہ بداہۃ محال ہے۔
(۷)فتوی ۲ نے اس مطلب پرعبارات یہ نقل کیں:
(۱)اوصی بثلث مالہ ﷲ تعالی ۔
(۲)لواوصی بالثلث وجوہ الخیر ۔
(۳)لاتصح من ممیزالافی تجھیزہ ۔ اﷲ تعالی کے لئے اس نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی(ت)
اگراس نے نیکی کے کاموں کے لئے تہائی کی وصیت کی(ت)
باتمیزصغیرکی وصیت صحیح نہیں مگرصرف اس کی تجہیز میں۔ (ت)
اورنہ دیکھاکہ جب میں باقی کی وصیت عمرو کے لئے مان چکا توان عبارات کاکیامحل رہا۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹ / ۹۱€
ردالمحتار کتاب الوصایا ∞۲/ ۳۲۲€
الفتاوی الہندیۃ الباب الثانی ∞۶/ ۹۷€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞۲/ ۳۱۹€
#3590 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
افادہ ثالثہ
عالم خاتون بھی ضرور موصی لہا ہے مکانات واثاث البیت کے باب میں اس کے لئے وصیت المنفعۃ ہوناتوبدیہی اورنظربرسیاق و سباق وصیت نامہاس زیورکی بھی اس کے لئے وصیت ہے ابتداء وصیت نامہ میں ہے مجھ کو اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام ضروری ہے کہ پس ماندگان میں تکرارنہ ہو اس کاانتظام یہ ہے کہ زیورات ذیل زوجہ کو ملے گاالخ پھرمکانات واثاث البیت کے وصیت بنام شاہ محمدخاں کی جس کاحاصل یہ تقسیم ہوئی کہ وہ زیورعالم خاتون کے اورمکانات واثاث البیت شاہ محمدخاں کے۔آخرمیں لکھایہ جملہ شرائط بعدمیرے قابل تعمیل ہوں گے جب تك میں حیات ہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے صاف واضح ہوگیاکہ دونوں کے لئے تملیك بعدالموت کررہا ہے تو اس کازیورمذکورکی نسبت کہنامیری زوجہ کے ہیں ایسا ہی ہے جیسامکانات کوکہامالك شاہ محمدخاں ہے اوروارث کے لئے وصیت بلاشبہہ جائزہے جبکہ اورکوئی وارث نہ ہوردالمحتاربیان شرائط وصیت میں ہے:
وکونہ غیروارث ای ان کان ثمۃ وارث اخر والاتصح کمالواوصی احدالزوجین للاخرولاوارث غیرہ۔ اوراس کاغیروارث ہونایعنی جب وہاں کوئی اوروارث ہوورنہ صحیح ہےجیساکہ زوجین میں ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ کوئی اوروارث نہ ہو(ت)
درمختارمیں ہے:
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ اولم یکن لہ وارث سواہ کما فی الخانیۃ حتی لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃابن کمال ۔ وارث کے لئے وصیت جائزنہیں مگراس وقت دیگرورثاء اجازت دے دیں یاکوئی اوروارث موجودہی نہ ہوجیساکہ خانیہ میں ہےیہاں تك اگرخاوند نے بیوی کے لئے بیوی نے خاوند کے لئے وصیت کی اوروہاں کوئی دوسرا وارث موجود نہیں تووصیت صحیح ہوگیابن کمال۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۱۶€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
#3591 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
تفریعات
(۸)فتوی ۵ کاقول مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث کے واسطے وصیت جائزہے۔ مسئلہ وارث واحدکے حکم سے غفلت ہے۔
(۹)طرفہ یہ کہ خود فتوی۵ نے سند میں عبارت درمختار لالوارثہ الخ(وارث کے لئے جائزنہیں۔ت)نقل کی جس کے آخرمیں موجود یعنی عندوجودوارث اخر (دوسرے وارث کی موجودگی میں۔ت)
(۱۰)زیوربعد موت عوض مہر میں دئیے جانے کولکھنابھی وصیت ہوا لکونہ ایجابا بعد الموت(موت کے بعد ایجاب ہونے کی بناپر)توفتوی۵ کاکہناکہ بلکہ یہ زیورات حق مہرکے عوض سمجھے جائیں اوراسے منافی وصیت جانناعجیب ہے۔
(۱۱)استفتاء مرتبہ ڈسٹرکٹ ججی خانپور کے سوال میں آتاہے کہ جوزیورات مدعیہ کوملے ہیں ان کی نسبت وہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہر میں شوہردے گیاان سے بھی ہرگز مفہوم نہ ہواکہ یہ دیاجاناصحت میں تملیك فی الحال تھا جب وہ لکھ گیاکہ میرے بعد یہ زیور میری زوجہ کے ہیں تو ضرور وصیت ہی ہوئی اگرچہ بعوض مہردینامرادہو اوراس صورت میں عورت کاکہناکہ مجھ کوحق مہر میں شوہردے گیا بلاشبہہ صادق ہے توفتوی۵ کاقول کہ بلکہ زیورات مہرکے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے محض نامفید مقصودہے۔
(۱۲)ہم واضح کرچکے ہیں کہ وصیت نامہ کاصریح مفاد تملیك بعدالموت ہے وہ نص کرچکاکہ جب تك میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیں بعد میں تقسیم ہوں گے توفتوی۵ کاقول کہ خودعبارت وصیت نامہ کامحمل قوی یہ ہےعجیب ہے۔
افادہ رابعہ
وصیت جس طرح رقبہ شیئ کی صحیح ہے یوں ہی تنہامنفعت کییونہی یہ بھی کہ ایك کے لئے رقبہ کی وصیت کرے دوسرے کے لئے منفعت کی پہلی صورت میں متروکہ ملك وارثہ ہوگا اوراس کی
حوالہ / References ∞الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
#3592 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
منفعت ملك موصی لہ اوردوسری صورت میں پہلاموصی لہ رقبہ شیئ کامالك ہوگا اوردوسرا اس کی منفعت کا۔بہرحال وہ شیئ بغرض انتفاع موصی لہ بالمنفعت کے قبضہ میں رہے گی ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کواس کی بیع کااختیارنہ ہوگا جب تك موصی لہ بالمنفعۃ کو اس سے انتفاع کاحق باقی رہےمثلا سال بھر کے لئے وصیت منافع کی توسال بھرتك اورموصی لہ کی زندگی تك تو اس کی حیات تک۔ ہدایہ میں ہے:
تجوزالوصیۃ بخدمۃ عبدہ وسکنی دارہ سنین معلومۃ وتجوزبذلك ابدافان خرجت رقبۃ العبد من الثلث یسلم الیہ لیخدمہ وان کان لامال لہ غیرہ خدم الورثۃ یومین والموصی لہ یوما بخلاف الوصیۃ بسکنی الداراذاکانت لاتخرج من الثلث حیث تقسم عین الدار اثلاثا للانتفاع لانہ یمکن القسمۃ بالاجزاء وھواعدل للتسویۃ بینھما زمانا وذاتا ولو اقتسموا الدارمھایاۃ تجوز ایضا لان الحق لھم ولیس للورثۃ ان یبیعوا مافی ایدیھم من ثلثی الدار لان حق الموصی لہ ثابت فی سکنی جمیع الدار ولہ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم اذا خرب مافی اپنے غلام کی خدمت اورگھرکی سکونت کی وصیت معین سالوں کے لئے جائزہے اوردائمی وصیت بھی جائزہےپھراگر غلام کی گردن یعنی اس کی قیمت موصی کے تہائی مال سے نکل سکتی ہے توغلام موصی لہ کوسونپ دیاجائے گاتاکہ اس کی خدمت کرےاوراگرموصی کاسوائے اس غلام کے کوئی اورمال نہیں تووہ غلام دودن وارثوں کی اوایك دن موصی لہ کی خدمت کرے گابخلاف گھر کی سکونت سے متعلق وصیت کے کہ اگرگھر تہائی مال سے نہیں نکل سکتا تواس سے نفع اٹھانے کے لئے تہائیوں کے اعتبارسے خود گھرکوتقسیم کرلیاجائے گا کیونکہ گھر کے اجزاء کی تقسیم ممکن ہے اوریہ تقسیم زمان وذات کے اعتبار سے زیادہ عدل پرمبنی ہےاوراگر انہوں نے باریوں کے اعتبار سے تقسیم کرلیاتب بھی جائزہے کیونکہ یہ انکااپناحق ہے وارثوں کویہ اختیارنہیں کہ وہ اپنے زیرقبضہ دوتہائی گھر کو فروخت کریں کیونکہ موصی لہ کے لئے تمام گھر میں سکونت کا حق ثابت ہےجب موصی لہ کے زیرقبضہ تہائی حصہ خراب ہو جائے تواس کے وارثوں
#3593 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
یدہ والبیع یتضمن ابطال ذلك فمنعوا عنہ ۔ (ملخصا) کے زیرقبضہ دوتہائی مکان میں مزاحمت کاحق ہے جبکہ بیع اس حق کے ابطال کو متضمن ہے لہذا وارثوں کوا س سے روکاجائے گا۔ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
ولواوصی لہ بخدمۃ عبدہ ولاخر برقبتہ وھو یخرج من الثلث فالرقبۃ لصاحب الرقبۃ والخدمۃ علیھا لصاحب الخدمۃ لانہ اوجب لکل منھا شیئا معلوما ثم لما صحت الوصیۃ لصاحب الخدمۃ فلولم یوص فی الرقبۃ بشیئ لصارت الرقبۃ میراثا للورثۃ مع کون الخدمۃ للموصی لہ فکذا اذا اوصی بالرقبۃ لانسان اخراذ الوصیۃ اخت المیراث من حیث ان الملك یثبت فیھما بعدالموت ۔(ملخصا) اگرایك شخص کے لئے غلام کی خدمت اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی وصیت کی درآنحالیکہ وہ تہائی مال سے نکل سکتا ہے تورقبہ صاحب رقبہ کے لئے جبکہ اس پرخدمت صاحب خدمت کے لئے ہوگی کیونکہ موصی نے ہرایك کے لئے وصیت میں کچھ معین شیئ ثابت کردیپھرجب صاحب خدمت کے لئے وصیت صحیح ہوجائے اوررقبہ میں وہ کسی کے لئے وصیت نہ کرے تو رقبہ وارثوں کی میراث ہوگا باوجودیکہ خدمت موصی لہ کے لئے ہوگی۔اوریہی حکم ہوگااگر اس نے رقبہ کی وصیت کسی دوسرے انسان کے لئے کردی کیونکہ وصیت میراث کی بہن ہے اس حیثیت سے کہ ان دونوں میں ملك موت کے بعد ثابت ہوتی ہے۔ملخصا(ت)
اسی طرح اورکتب جلیلہ میں ہے اوریہیں سے ظاہرہواکہ اگردویادس مکانوں کے سکنی کی زیدکے لئے وصیت کی تواگرچہ وہ ان میں سے ایك ہی میں سکونت کرے گا جس کااسے اختیارہوگا کہ ان میں سے جس مکان میں چاہے رہے مگروہ سب مکان اس کے حق کے لئے مدت حق تك محبوس رہیں گے ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کوان کی بیع کا اختیارنہ ہوگاکہ اس کاحق ہرمکان میں
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۸۰۔۶۷€۹
الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۸۲€
#3594 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ثابت ہے اورہرمکان کی نسبت محتمل ہے وہی باقی رہے اورسب کسی آفت سے منہدم ہوجائیں تو اگر ان میں بعض کومالکان رقبہ بیچ سکیں توموصی لہ بالمنفعۃ کاحق ضائع ہونے کااحتمال ہے۔
وانظر الی قول الہدایۃ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم وثم لم تثبت لہ الوصیۃ الا فی الثلث فکیف وقد اوصی لہ بکل۔ ہدایہ کے قول پرنظر کروکہ موصی لہ کووارثوں کے زیرقبضہ گھرمیں مزاحمت کاحق ہے اورپھر نہیں ثابت ہوئی اس کے لئے وصیت مگرتہائی مال میں توکیساحال ہوگا جبکہ اس نے کل مال کی وصیت کردی ہے۔(ت)
اوراس کے لئے ہرگزشرط نہیں کہ وہ اپنی ملك میں کوئی شے ایسی نہ رکھتا ہو جس سے یہ منفعت حاصل کرسکے جو اپناذاتی مکان رکھتاہو اس کے لئے وصیت یاسکنی کی ممانعت نہیں نہ یہ امرمانع نفاذوصیت ہووھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
تفریعات
(۱۳)یہیں سے ظاہرکہ فتوی ۷ کہ اس احتمال کی کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کومرض الموت سے پہلے تملیکا دے دئیے ہیں اوروصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں یہاں کوئی گنجائش نہیں۔
(۱۴)تملیك مضاف الی مابعد الموت اگرچہ حالت صحت میں ہو وصیت ہے کہ فتوی ۷ کایہاں مطلق تملیك کہنااورشق مقابل کواگرمرض الموت میں وصیت کی ہے مرض سے مقیدکرناضیق بیان ہےہدایہ میں فرمایا:
کل مااوجبہ بعد الموت فھو من الثلث وان اوجبہ فی حال صحتہ اعتبارا بحال الاضافۃ دون حال العقد۔ ہر وہ تملیك جس کاایجاب موت کے بعد کیاہو تووہ تہائی مال میں نافذہوگی اگرچہ اس کاایجاب حالت صحت میں کیاہو حالت اضافت کااعتبارکرتے ہوئے نہ کہ حال عقد کا۔(ت)
(۱۵)فتوی ۵کاقول بعد وفات متوفی کے مدعیہ کاکوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کا
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنٰی والخدمۃالخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۸۰€
الہدایۃ کتاب الوصایا باب العتق فی مرض الموت ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۶۹€
#3595 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
نہیں۔نہ فقط وصیت نامہ بلکہ سوال سائل کوبھی نہ سمجھنے پرمبنی ہےسائل نے یہ نہ پوچھاتھاکہ جس طرح حیات میں زوجہ کا نفقہ وسکنی شوہرپرہے آیا بعد وفات شوہربھی یہ حق باقی رہتے ہیں جس کاجواب نفی میں دیاجائے وہ تو اس حق سکنی کوپوچھتاہے جس کی اس کے لئے موصی نے وصیت کی ہے اس کاانکار کرنااوراپنی طرف سے اس میں نان نفقہ دلادینا کیامعنی رکھتاہے۔
(۱۶)یوں ہی مستفتی نے وصیت مذکورہ دربارہ ظروف کودریافت کیاتھاکہ زوجہ کے لئے جائزاور اپناحصہ پانے کے بعد بھی نافذ ہے یانہیں فتوی ۵ نے وصیت نامہ وسوال سائل ومسئلہ وصیت بالمنفعۃ سب سے ذہول فرماکرلکھ دیاکہ اس میں کوئی اثر نہیں۔
(۱۷)اس سے عجیب ترفتوی ۱کاقول ہے کہ عالم خاتون کورہائش کاحق حاصل نہیں اس باب میں واحدبخش کی وصیت لغووبے اثر رہے گیفتوی ۵ نے تووصیت سے ذہول کیاحیات کے نفقہ وسکنی کے مثل کسی حق بعدالوفاۃ سے استفسارسمجھا مگرفتوی اولی نے صراحۃ وصیت مان کر محض بلاوجہ شرعی اسے لغووبے اثرکردیایہ عجیب منطق ہےکیاشرعا وصیت بالسکنی باطل ہے یاخاص زوجہ تنہاوارثہ کے لئے باطل ہے اورجب کچھ نہیں تو اسے لغوکہناہی لغونہیں صریح باطل ہے۔
(۱۸)سوال ۶کوفتوی ۱ بھی مثل فتوی ۵ نہ سمجھاکہ استفسار اس وصیت کے جواز سے ہے جس کا جواب اثبات میں دیناواجب تھایا یہاں بھی اپنی اسی منطق کی بناپروصیت کولغوٹھہرالیاہے۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ت)
افادہ خامسہ جلیلہ مشتمل برفوائد جزیلہ
فائدہاصل یہ ہے کہ ترکہ میں تجہیزوتکفین کے بعد سب سے مقدم دین ہے پھراجنبی کے لئے ثلث تك وصیت پھروارث کی میراث پھروارث منفردکے لئے وصیت اوراجنبی کے لئے ثلث سے زائدکی وصیت ہے یہ دونوں مرتبہ واحدہ میں ہیں ثلثہ پیشیں کی تقدیم اورباہم ترتیب معروف ومشہور ہے اورمیراث کاوصیۃ للوارث اورمافوق الثلث وصیۃ للاجنبی پرتقدم ہے اگروہ وارث کل مال بذریعہ ارث پاسکتاہے توثلث وصیت کے بعد کل میراث ہی ٹھہرے گا اس کی وصیت اپنے نفاذ کامحل ہی پائے گی یونہی اجنبی کی وصیت قدرزائد علی الثلث میں معطل رہ جائے گی یعنی جبکہ وارث اجازت نہ دے ورنہ وصیت ثلث کے مثل ارث مجیزپر تقدم پائے گی اوراگربذریعہ میراث صرف بعض کامستحق ہے اور وہ نہیں مگرزوجین کہ ربع یانصف سے زائدکے مستحق نہیں تو ثلث وصایاکے بعد
#3596 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
باقی کاربع یانصف انہیں ارثا پہنچے گا پھرجوبچااس میں ان کی وصیت اوراجنبی کی زیادہ ازثلث وصیت حصہ رسد نفاذ پائے گی اگرچہ ان کے خواہ اجنبی خواہ ہرایك کے لئے کل مال کی وصیت ہو بالجملہ وصیت زائدللاجنبی حصہ میراث میں نافذنہ ہوگی اور وصیت للوارث نہ اس میں نافذ ہونہ ثلث اجنبی میں اس مراعات ترجیح پرہرایك کی وصیت ملحوظ رہے گی یہ ہے ان دونوں کی باہم تساوی اور میراث کاان پرتقدم۔مثلا میت نے صرف ایك زوجہ وارث چھوڑی اورکل مال کی وصیت اس کے لئے جداکی اور زیدکے لئے جداکہ ہرایك موصی لہ بجمیع المال ہوااس صورت میں ترکہ بارہ سہم ہوکرپانچ سہم زوجہ کوملیں گے اورسات زید کو۔اس لئے کہ اولا زیدکوثلث دیاکہ میراث پرمقدم ہے ۴ہوکرباقی ۸کاربع یعنی ۲زوجہ نے ارثالئے۶بچےزیدکی وصیت کل مال یعنی پورے ۱۲سہام کی تھی وہ حصہ میراث۱۲/۲ میں نافذنہیں ۱۲/۱۰بچے جن میں سے ۱۲/۴ پاچکاہے باقی ۱۲/۶رہے اور زوجہ کی وصیت بھی پورے ۱۲سہام کی تھی وہ نہ اس ۱۲/۴ میں جاری ہوسکتی ہے جوزیدنے ابتداء پائے نہ ان ۱۲/۲ میں جوخود زوجہ نے ارثالئے تو اس کی وصیت بھی ۱۲/۶رہی دونوں برابرہوئے تو۶باقی ان میں نصف نصف ہوکرزوجہ کے ۵زیدکے ۷ ہوئےقس علیہ۔
اقول:ولعل السرفی تقدیم ارث الوارث علی الوصیۃ لہ ان الارث جبری فبمجرد مامات المورث اوفی اخرجزء من اجزاء حیاتہ علی القولین فیہ لمشائخ بلخ والعراق انتقل الملك فی قدر المیراث الی الوارث غیرمتوقف علی شیئ بخلاف الوصیۃ فانھا تتوقف علی قبولہ فنفاذھایعقب القبول وقبولہ یعقب الموت والارث یقارن الموت اویتقدمہ فتاخرت ضرورۃ اما الوصیۃ للاجنبی فالمال باق فیھا الی الثلث علی ملك الموصی نظرالہ من الشارع کما نصوا میں کہتاہوں شایدوارث کی میراث کو اس کے حق میں وصیت سے مقدم کرنے میں رازیہ ہے کہ میراث جبری ہےمحض مورث کی موت یا اس کی زندگی کے آخری جزء میں جیساکہ مشائخ بلخ وعراق کے قول ہیں بقدرمیراث ملك وارث کی طرف منتقل ہوجاتی ہے بخلاف وصیت کے کہ وہ قبول پرموقوف رہتی ہے چنانچہ وصیت کا نفاذ قبول اورقبول موت کے بعد ہوتاہے جبکہ میراث موت کے ساتھ مقترن یا اس سے مقدم ہوتی ہے تووصیت میراث سے بداہۃ مؤخر ہوئیرہی اجنبی کے لئے وصیت تو اس میں مال ایك تہائی تك شارع کی طرف موصی کی ملك پرباقی رہتاہے جیساکہ اس پرمشائخ نے
#3597 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
علیہ واشار الیہ فی الھدایۃ فلایجری فیہ الارث مالم یردالموصی لہ فاذا قبل فقد تقدم وملکہ من دون ان یلحقہ ملك الوارث۔ نص کی ہے اوراسی کی طرف ہدایہ نے اشارہ فرمایاہے تواس میں اس وقت تك میراث جاری نہیں ہوگی جب تك موصی لہ اس کوردنہ کردے اگر وہ اس وصیت کوقبول کرلے تواس کی ملکیت مقدم ہوگی بغیراس کے اس کے ساتھ کسی وارث کاحق ملحق ہو۔(ت)
درمختارکتاب الاقرارمیں ہے:
لولم یکن وارث اخر واوصی لزوجتہ اوھی لہ صحت الوصیۃ واما غیرھما فیرث الکل فرضا او ردافلایحتاج لوصیۃ شرنبلالیۃ۔ اگرکوئی اوروارث موجودنہ ہوخاوندبیوی کے لئے یابیوی خاوندکے لئے وصیت کرے تو یہ وصیت صحیح ہوگیلیکن جوان دونوں کاغیرہے وہ بطورفرض یابطور ردکل مال کاوارث ہو جائے گالہذا وہ وصیت کامحتاج نہیںشرنبلالیہ(ت)
اسی کے وصایا میں ہے:
وانما قیدوابالزوجین لان غیرھما لایحتاج الی الوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم۔ زوجین کی قیدمشائخ نے اس لئے لگائی کہ ان کاغیروصیت کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ وہ بطور ردیابطوررشتہ داری کل مال کا وارث بن جاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ترك امرأۃ واوصی لھابالنصف ولاجنبی بالنصف یعطی للاجنبی اولاالثلث وللمرأۃ ربع الباقی ارثا کسی شخص نے بیوی چھوڑدی اوراس کے لئے اپنے نصف مال کی وصیت کی جبکہ نصف مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کی توپہلے اجنبی کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۶€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
#3598 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
والباقی یقسم بینھما علی قدر حقوقھما تاتارخانیۃ۔ تہائی مال دیں گے پھرباقی سے چوتھا حصہ بیوی کو میراث دیا جائے اورجوباقی بچا وہ ان دونوں میں ان کے حقوق کے مطابق تقسیم کیاجائے گاتاتارخانیہ(ت)
فتاوی خانیہ وفتاوی ہندیہ میں ہے:
اذامات الرجل وترك امرأۃ ولیس لہ وارث غیرھا و اوصی للاجنبی بجمیع مالہ ولامرأتہ بجمیع مالہ یاخذ الاجنبی ثلث المال بلامنازعۃ وللمرأۃ ربع ما بقی وھو السدس بحکم المیراث ویبقی نصف المال یکون بینھما وبین الاجنبی نصفین۔ اگرکوئی مردمرااور ایك بیوی چھوڑی جس کے علاوہ کوئی اور وارث موجودنہیںاور اس نے ایك اجنبی شخص کے لئے کل مال کی وصیت کی اوربیوی کے لئے بھی کل مال کی وصیت کی تواجنبی شخص تہائی مال بغیرکسی منازعت کے لے گا پھرباقی میں سے چوتھا حصہ بیوی کوبطورمیراث جوکل کاچھٹاحصہ بنتا ہےباقی کل نصف بچ گیا جوبیوی اوراجنبی پربرابر برابرتقسیم ہوگا۔(ت)
امام اجل نسفی کافی شرح وافی کتاب الوصایا باب المتفرقات میں زوجہ موصی لہا کی نسبت فرماتے ہیں:
ماکان مستحقالھا بحکم الارث لاتستحقہ بحکم الوصیۃ۔ جس حصہ کی مستحق وہ بطورمیراث ہے اس کی مستحق بطور وصیت نہیں ہوگی۔(ت)
اس کے ایك ورق بعد زوج موصی لہ کی نسبت فرمایا:
حق الزوج کان فی النصف ایضا بالوصیۃ ولکن بطل فی السدس لانہ اخذ الثلث بحکم الارث شائعا فخرج السدس عن محل خاوند کاحق نصف میں بھی بطوروصیت تھالیکن وہ چھٹے حصے میں باطل ہوگیاکیونکہ وہ ایك تہائی بطورمیراث مشترکہ مال میں سے لے چکاہے لہذا وہ چھٹاحصہ وصیت کے محل سے نکل گیاتو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۔۴۲۰€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۶/ ۱۱€۷
الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات
#3599 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الوصیۃ فبطلت وصیتہ فی ذلك ضربا و استحقاقا عند الکل فبقی حقہ فی الثلث ۔ اس میں سب کے نزدیك ضرب واستحقاق کے اعتبارسے وصیت باطل ہوگئی لہذا اس کا حق تہائی میں باقی رہا۔(ت)
نیزاسی میں عبارت اولی کے بعد فرمایا:
ان اوصی لکل واحد من الزوجۃ ولاجنبی بکل مالہ لہ سبعۃ و لھا خمسۃ لان الوصیۃ للاجنبی یقدم علی الارث فیعطی لہ الثلث من ستۃ ولہا ربع مابقی بحکم الارث بقی ثلاثۃ بینھما نصفان عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فحق الاجنبی کان فی کل المال وقد استوفی سھمین فلایضرب بذلك ولایضرب ایضا بما اخذت بحکم الارث وذلك سھم فانما یضرب بثلاثۃ والمرأۃ لاتضرب بالثلث الذی اخذ الاجنبی اولالان الوصیۃ للاجنبی بقدر الثلث وصیۃ قویۃ فتبطل وصیتھا بذلك القدر فلاتضرب المرأۃ بذلك ولابالسھم الذی اخذت ارثا وانما یضرب بثلاثۃ فاستویا اگربیوی اوراجنبی میں سے ہرایك کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کی تواجنبی کے لئے سات اوربیوی کے لئے پانچ حصے ہوں گے کیونکہ اجنبی کے لئے وصیت میراث سے مقدم ہوتی ہےچنانچہ اس کوچھ میں سے ایك تہائی دیاجائے گا پھر بیوی کوباقی کاچوتھائی بطورمیراث ملے گا باقی تین بچے جوان دونوں کے درمیان امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیك نصف نصف ہوں گے کیونکہ اجنبی کاحق کل مال میں تھا جبکہ وہ دوحصے وصول کرچکاہے تواب ان کو وہ شامل نہیں کرے گا اور اس کوبھی شامل نہیں کیاجائے گاجوبیوی بطورمیراث لے چکی جوکہ ایك حصہ ہے چنانچہ وہ فقط تین حصوں میں شریك ہوگا اورعورت اس تہائی میں شریك نہ ہوگی جواجنبی پہلے لے چکا ہے کیونکہ وصیت تہائی مال تك اجنبی شخص کے لئے مضبوط وصیت ہے لہذا عورت کی وصیت اتنی مقدار میں باطل ہو جائے گی چنانچہ عورت نہ تو اس حصہ میں شراکت کرے گی اورنہ اس حصہ میں جس کوبطورمیراث حاصل کر چکی۔شراکت
حوالہ / References الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات
#3600 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فی الضرب فی الثلاثۃ الباقیۃ فتخرج المسئلۃ من اثنی عشر۔ صرف تین حصوں میں رہ گئی لہذا ان تین باقی حصوں میں وہ دونوں برابرکے شریك ہیں اس لئے مسئلہ بارہ سے بنے گا۔(ت)
فائدہ۲:جب ایك شخص کے لئے وصیت رقبہ اوراس کے بعد متصلا خواہ برسوں کے فصل سے وصیت منفعت کی جائے توموصی لہ اول صرف مالك رقبہ ہوتاہے اوراسی قدرمیں اس کے لئے وصیت مستفادہوتی ہے منفعت میں اس کاکوئی حق نہیں ہوتا مثلا مکان کی وصیت زیدکے لئے اور اس کے دس برس بعد سکونت مکان مذکورکی وصیت عمروکے لئے کردی توزیدصرف رقبہ مکان پائے گا سکونت تاحیات عمرویاجب تك کے لئے موصی نے کہاصرف حق عمرو رہے گی اوریہ ٹھہرے گا کہ زیدکے لئے خالی رقبہ مکان کی وصیت تھی۔ہدایہ میں فرمایا:
اسم الرقبۃ لایتناول الخدمۃ وانما یستخدمہ الموصی لہ بحکم ان المنفعۃ حصلت علی مبلکہ فاذا اوجب الخدمۃ لغیرہ لایبقی للموصی لہ فیہ حق۔ رقبہ کااسم خدمت کوشامل نہیں۔موصی لہ تو اس سے خدمت اس وجہ سے لیتاہے کہ منفعت اس کی ملکیت پر حاصل ہےپس جب خدمت اس نے کسی اور کے لئے ثابت کردی تو اب موصی لہ کے لئے اس میں کوئی حق نہ رہا۔(ت)
اسی طرح کافی میں فرمایا اوراتنااوربڑھایا:
وکذا اسم الدار لایتناول السکنی واسم النخیل الا یتناول الثمرۃ۔ اسی دارکااسم سکونت کواوردرختوں کااسم پھل کو شامل نہیں ہوتا۔(ت)
عنایہ میں فرمایا:
وصیۃ الرقیۃ والخدمۃ فان الموصول والمفصول فیھما فی الحکم سواء۔ خدمت ورقبہ کی وصیت چاہے اکٹھے ہویا الگ الگ ہووہ حکم میں برابرہے(ت)
حوالہ / References الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات
الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ۴/ ۶۸€۳
الکافی شرح الوافی
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا باب السکنی الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۹/ ۴۱۳€
#3601 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فائدہ۳:وصیت شیئ اگرچہ وضعا تملیك منفعت شے نہیں مگرالتزاما ضرورمفیدتملیك منفعت شے ہے ولہذا اگرپہلے عمروکے لئے وصیت منفعت کی اس کے بعد شیئ کی وصیت زیدکے لئے کی اگردونوں وصیتیں متصلا کیں جب تومنفعت والے منفعت اوررقبہ والے کورقبہ کہ ایساکلام متصل دلیل توزیع وتقسیم ہوتاہے ولہذا اگرکہاکہ یہ انگشتری زیدکودینا اوراس کانگ عمروکویایہ مکان زیدکودیں اوراس کاعملہ عمرو کوتوبالاتفاق صاحبین زیدکے لئے خالی انگشتری بے نگ اورزمین بلاعمارت ہوگی اورعملہ اورنگ تنہاعمروکاحالانکہ انگشتری نگ کوبھی شامل تھا اورمکان میں عملہ بھی داخل تھاکافی میں ہے:
ان اوصی بھذہ الامۃ لفلان وبحملھا لاخراوبھذہ الدار لفلان وببنائھا لاخراوبھذا الخاتم لفلان و بفصہ لاخر فان وصل فلکل واحد مااوصی(الی قولہ) لان ذلك بمنزلۃ دلیل التخصیص والاستثناء فیتبین بہ انہ اوجب لصاحب الخاتم الحلقۃ خاصۃ دون الفص الاتری انہ لواوصی بالجاریۃ واستثنی حملا صح الاستثناء۔ اگریوں وصیت کی لونڈی فلاں کے لئے اوراس کاحمل فلان کے لئے یہ مکان فلاں کے لئے اور اس کی عمارت فلاں کے لئے یایہ انگوٹھی فلاں کے لئے اوراس کانگینہ فلاں کے لئے ہے اگریہ وصیتیں متصلا کیں توہرایك کووہی ملے گا جس کی وصیت اس کے لئے کی ہے(اپنے اس قول تک)اس لئے کہ تخصیص و استثناء کی دلیل ہے۔اس سے ظاہرہوگیاکہ موصی نے انگوٹھی والے کے لئے حلقہ خاص کیاہے بغیرنگینے کے۔کیاتم نہیں دیکھتے کہ اگرلونڈی کی وصیت کی اورحمل کومستثنی کردیاتو استثناء صحیح ہے۔(ت)
اوراگروصیت رقبہ وصیت منفعت کے بعدکلام مفصول میں کی اوراس میں منفعت کا نام نہ بھی لیاجب بھی مالك رقبہ زیدہوگا اورمنفعت عمروزیدمیں نصف نصف ہوجائے گی۔بدائع امام ملك العلماء مسعودپھرعالمگیریہ میں ہے:
لوابتدأبالتبع فی ھذہ المسائل ثم بالاصل بان اوصی بخدمۃ اگران مسائل میں ابتداء تابع سے کی پھراصل کی وصیت کی مثلاپہلے خدمت کی وصیت کسی
حوالہ / References الکافی شرح الوافی
#3602 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
العبد لانسان ثم بالعبد لاخراواوصی بسکنی ھذہ الدار لانسان ثم بالدار لاخرا اوبالثمرۃ لانسان ثم بالشجرۃ لاخر فان ذکر موصولا فلکل واحد منھما ماسمی لہ بہ وان ذکر مفصولا فالاصل للموصی لہ بالاصل والتبع بینھما نصفان۔ شخص کے لئے کی پھرخود غلام کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاسکونت کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھر اسی گھرکی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاپھل کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھردرخت کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کر دیاگروصیتوں کاذکرمتصلا کیا ہے تب توہرایك کووہی ملے گاجس کااس نے نام لیااوراگردونوں وصیتوں کے ذکرمیں فاصلہ کیاتوپھرجس کے لئے اصل کی وصیت ہے اس کواصل ملے گا اورتابع ان دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔(ت)
تواگروصیت رقبہ اصلا مفیدتملیك منفعت نہ ہوتی توبحال فصل تنصیف منفعت کی وجہ نہ تھی ہاں وصیت رقبہ کے بعد دوسرے کے لئے وصیت منفعتاول کے لئے استحقاق منفعت کے لئے مانع ہوکر اس کے لئے تملیك مجرد رقبہ رہ جاتی ہےاور جب مانع نہ ہوگا دونوں ثا بت ہوں گییہ وضعا اوروہ التزاماکافی میں عبارت مذکورہ آنفا کے بعد فرمایا:
وانما تستحق ھذہ الاشیاء بملك الاصل اذالم یوجد المانع وھنا وجود المانع وھو الوصیۃ للثانی۔ ان تمام اشیاء میں ملك اصل کا استحقاق تب ہوگا جب کوئی مانع نہ ہو اوریہاں مانع موجودہے اوروہ ہے دوسرے کے لئے وصیت۔(ت)
فائدہ۴:وصیت منفعت بمنزلہ وصیت رقبہ ہے جس شیئ کی منفعت کسی کے لئے وصیۃ قراردی گویا اسے خود وہ شیئ اس کی حیات یاایك زمانہ معین تك وصیۃ دی اوراگرایك شیئ کارقبہ زیداورمنفعت عمروکے لئے رکھی توگویا اس شیئ کی دونوں کے لئے وصیت کی زیدکے لئے مطلق اورعمرو کے لئے وقت محدود انتفاع تك ولہذا صاحب منفعت حساب ثلث وضرب حصص میں صاحب رقبہ کا ہمسرہوتاہے اورتنگی ثلث کے وقت اس کامزاحم ہوکراس کی وصیت کو
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۲۵€
الکافی شرح الوافی
#3603 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
گھٹاتا ہے جب اس کی مدت ختم ہوجاتی ہے صاحب رقبہ اس وقت اپنی وصیت کی تکمیل پاتاہےکافی میں فرمایا:
الوصیۃ بالخدمۃ مالم یستوف الموصی لہ کمال حقہ بمنزلۃ الوصیۃ بالرقبۃ۔ جب تك خدمت کاموصی لہ اپناحق پوراوصول نہیں کرلیتااس وقت تك وہ بمنزلہ رقبہ کی وصیت کی ہے۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لوکان لہ ثلثۃ اعبد فاوصی برقبۃ احدھم لرجل و قیمتہ ثلثمائۃ و بخدمۃ الثانی لاخر وقیمتہ خمسمائۃ و قیمۃ الثالث الف جازلکل واحد ثلثۃ ارباع وصیتہ یعطی لصاحب الرقبۃ ثلثۃ ارباعھا ویخدم لصاحب الخدمۃ ثلثۃ ایام وللورثۃ یوما لان الوصایا جاوزت الثلث لان ثلث المال ستمائۃ والوصایا کانت ثمانمائۃ وکان ثلث المال ثلثۃ ارباع الوصایا کذا فی محیط السرخسیواذا مات صاحب الخدمۃ استکمل صاحب الرقبۃ عبدہ کلہ اگرکسی شخص کے تین غلام ہیںاس نے ایك غلام کے رقبہ کی ایك شخص کے لئے وصیت کی جس کی قیمت تین سودرھم ہےاور دوسرے غلام کی خدمت کی وصیت کسی اورشخص کے لئے کی جس کی قیمت پانچ سودرہم ہے جبکہ تیسرے غلام کی قیمت ایك ہزاردرھم ہے تودونوں میں سے ہرایك کے لئے تین چوتھائی(۴/۳)وصیت جائزہوگی چنانچہ پہلے موصی لہ کو اس کی وصیت کے غلام کاتین چوتھائی ملے گا اورصاحب خدمت کی وصیت کاغلام تین روز اس کی اورایك روزوارثوں کی خدمت کرے گا کیونکہ وصیتیں تہائی مال سے بڑھ گئیںتہائی مال توفقط چھ سودرھم ہے جبکہ وصیتیں آٹھ سودرہم ہوچکی ہیں تو اس طرح کل مال کاتہائی حصہ وصیتوں کاتین چوتھائی (۴/۳)ہوگیا۔محیط میں یوں ہی ہے۔اگرصاحب خدمت مر گیاتو صاحب رقبہ اپناوصیت کاغلام پورالے لے گا۔اسی طرح اگر وہ غلام مرجائے جو
حوالہ / References الکافی شرح الوافی
#3604 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
وکذلك ان مات العبد الذی کان یخدم ولوکانت قیمۃ العبید سواء کان لصاحب الخدمۃ نصف خدمۃ العبد و لصاحب الرقبۃ نصف رقبۃ الاخر کذا فی المبسوط۔ خدمت کرتاہے تب بھی یہی حکم ہوگا۔اگرغلاموں کی قیمت برابرہوتوصاحب خدمت کے لئے نصف خد مت اورصاحب رقبہ کے لئے نصف رقبہ ہوگا۔مبسوط میں یوں ہی ہے۔(ت)
فائدہ ۵:یہیں سے ظاہرہواکہ جس کے لئے وصیت رقبہ ہواسے وصیت منفعت کی حاجت نہیں کہ وہ بحکم ملك مختارانتفاع ہوگا اس کے ساتھ مطلقا یاکسی وقت خاص میں اختیار انتفاع کا ذکراسی لازم کااظہار ہوگانہ کہ اس کے لئے وصیت بالمنفعۃ جوبوجہ عدم حاجت لغووبے اثرہے جس طرح تنہاوارث غیرزوجین کے لئے وصیت کما تقدم عند الدر المختار وعن غنیۃ ذوی الاحکام (جیساکہ درمختار اورغنیہ ذوی الاحکام کے حوالے سے گزرچکاہے۔ت)
فائدہ ۶:وصیت میں مقصد موصی پرنظرلازم ہے۔ہدایہ وکافی میں دربارہ موصی لہ بخدمۃ العبد ہے:
لیس للموصی لہ ان یخرج العبد من الکوفۃ الا ان یکون الموصی لہ واھلہ فی غیر الکوفۃ فیخرجہ الی اھلہ للخدمۃ ھنالك اذاکان یخرج من الثلث لان الوصیۃ انما تنفذ علی مایعرف من مقصود الموصی فاذا کانوا فی مصرہ فمقصودہ ان یمکنہ من خدمتہ فیہ بدون ان یلزمہ مشقۃ السفر واذا کانوا فی غیرہ فمقصودہ ان یحمل العبد الی اھلہ لیخدمھم۔ موصی لہ کویہ اختیارنہیں کہ وہ غلام کوکوفہ سے نکالے ہاں اگرموصی لہ اوراس کے اہل خانہ غیرکوفہ میں رہتے ہیں تو غلام کونکال کرلے جاسکتاہے کیونکہ وصیت اس مقصود پر نافذہوتی ہے جوموصی سے معلوم ہو۔اگرموصی لہ اور اس کے اہل خانہ موصی کے شہرمیں رہتے ہیں تواب موصی لہ کا مقصود یہ ہے کہ وہ سفر کی مشقت کے لزوم کے بغیر اس کی خدمت کرسکے اوراگر وہ اس شہر کے غیرمیں رہتے ہیں تواب مقصود یہ ہوگا کہ موصی لہ اس غلام کووہاں اپنے اہل خانہ کے پاس لے جائے تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکے۔(ت)
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۶/ ۱۲۶€
الھدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی والخدمۃ الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۸۲۔۶۸۱€
#3605 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فائدہ۷:دربارہ مہرمہرمثل تك عورت کاقول مع الیمین بلابینہ معتبرہے جبکہ زوجیت معروف ومعلوم ہو فتاوی خانیہ میں قبیل فصل رجوع عن الوصیۃ ہے۔
ان ادعت المرأۃ مقدار مھر مثلھا یدفع الیھا اذا کان النکاح ظاھرا معروفا ویکون النکاح شاھدالہا۔ اگرعورت نے مہرمثل کادعوی کیاتو اس کودیاجائے گا جبکہ نکاح ظاہرومعروف ہواورنکاح ہی اس کاشاہد ہوگا۔(ت)
اسی کے باب الوصی پھرہندیہ میں ہے:
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلھا یدفع ذلك الیھا۔ اگرنکاح معروف ہوتوعورت کاقول مہرمثل کی حدتك مقبول ہوگا اوروہ اس کو دیاجائے گا۔(ت)
فائدہ۸:مہربھی مثل سائردیون ہے اوردین کاتعلق مالیت سے ہے نہ عین سے ولہذا ورثہ کواختیار ہوتا ہے کہ دائن کادین اپنے پاس سے دے کرترکہ اپنے لئے بچالیں اگرچہ دین مستغرق ہوجس کے سبب ورثہ کے لئے ترکہ میں اصلا ملك ثابت نہیں ہوتی۔
جامع الفصولین واشباہ میں ہے:
واستغرقھا دین لایملکھا بالارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ الخ اگرقرض پورے ترکہ کومحیط ہو تومیراث کے طورپرکوئی اس کامالك نہیں بنے گا سوائے اس قرض خواہ میت کوبری کردے یاکوئی وارث اس کواداکردے الخ(ت)
اشباہ میں اس کے بعد فرمایا:
وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین لو مستغرقا۔ وارث کواختیارہے کہ قرض اداکرکے ترکہ کو واگزارکرالے جبکہ قرض پورے ترکہ پرحاوی ہو۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا فصل مسائل مختلفہ ∞نولکشورلکھنؤ۴/ ۸۴۶€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا باب الوصی فصل فی تصرفات الوصی الخ ∞۴/ ۸۵۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
#3606 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فائدہ۹:وصیت جہت موصی سے تملیك ہے تو اس کے بتائے سے تجاوزنہیں کرسکتی وصیت اگرحصہ شائعہ مثل نصف مال یا ثلث متروکہ کی ہوتو توضرورترکہ باقیہ بعداداء الدین کے ہرجز میں شائع ہوگی مگراعیان معینہ کی وصیت صرف انہیں اعیان پر مقتصررہے گی ان کے غیر سے ایك حبہ نہ پاسکے گا یہاں تك کہ اگروہ اعیان ثلث مال یا اس سے بھی کم ہوں اورتمام وکمال بحکم وصیت اسے ملتے ہوں اوران میں سے کسی منازعت کے سبب کچھ کم ہوجائے تواس کی وصیت اسی کم میں نفاذپائے گی باقی ترکہ سے اس کی تکمیل نہ کی جائے گی کہ یہ ایجاب بلاموجب ہے اور وہ محض باطل ولہذا اگر ترکہ پندرہ سوروپے نقداورتین سوروپے کا اسباب یازمین وغیرہ ہو اوراس تمام اسباب وزمین کی وصیت زیدکے لئے کی اوراپنے مال کے ۶/۱ کی وصیت عمرو کے لئے تو مجموع ترکہ اٹھارہ سوہوا اورمجموع وصایاچھ سوکہ اس کاثلث ہے اورثلث تك وصیت بلااجازت نافذ ہے توچاہئے تھاکہ دونوں موصی لہ کی وصیت پوری نافذکرتے اسباب وزمین زیدکودے دیتے اور تین سوروپے کہ سدس مال ہے عمروکو مگرایسانہ کریں گے بلکہ عمرو کودوسوپچاس روپے نقد دیں گے اورپچیس کی قدرزمین واسباب اورباقی صرف پونے تین سوروپے کااسباب زید پائے گا زرنقد سے اس کی وصیت پوری نہ کریں گے کہ زرنقد میں اس کاکوئی حق نہ تھا اس تقسیم کی وجہ وہی ہے کہ عمرو کے لئے سدس مال کی وصیت ترکہ کے ہرجزنقدوجنس وجائداد ہرشیئ کے ۶/۱ کی وصیت ہے تو اسے پندرہ سونقدکابھی سدس چاہئے اور اسباب وزمین کابھی سدس۔سدس نقد میں اس کا کوئی منازع نہیں وہ(ماصہ)اسے دے دئیے ہیں سدس جائدادمیں زیداس کا منازع ہے وہ کہے گا کہ تمام وکمال بحکم وصیت میراہے عمروکہے گا اس میں سے بھی ۶/۱ میراہے تواس مال کا ۶/۵ زیدکے لئے بلا نزاع ہے اور۶/۱ میں زیدوعمرو متنازع ہیں توبحکم انصاف وہ ان میں نصفانصف ہوکر اسباب وزمین کا ۱۲/۱ عمروپائے گا اور ۱۲/۱۱ زید اور اس کے سوازید کونقد سے کچھ نہ ملے گا۔ردالمحتارمیں ہے:
لواوصی لرجل بسیف قیمتہ مثل سدس مالہ ولاخر بسدس مالہ ومالہ سوی السیف خمسمائۃ فللثانی سدسھا وللاول خمسہ اگرکوئی کسی کے لئے اپنی تلوارکی وصیت کرے جس کی قیمت اس کے کل مال کے چھٹے حصے کے برابرہے اوردوسرے شخص کے لئے اپنے کل مال کے چھٹے حصے کی وصیت کی جبکہ تلوار کے علاوہ موصی کامال پانچسودرہم ہے۔اس
#3607 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اسداس السیف وسدس السیف بینھما لان منازعتھما فی سدس السیف فقط فینصف بینھما ۔ صورت میں دوسراشخص پانچ سودرہم میں سے چھٹاحصہ پائے گا اورپہلا شخص تلوارکی قیمت کے چھ حصوں میں سے پانچ(۶/۵)حصے لے گاجبکہ تلوارکاچھٹاحصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا کیونکہ دونوں کی منازعت فقط اسی چھٹے حصے میں ہے لہذا ان کے درمیان نصف نصف ہوگا۔(ت)
فائدہ۱۰:وصیت اجنبی کہ ثلث تك نافذہے اس کے حساب ثلث کے لئے کل متروکہ بعدالدین ملحوظ ہوگا وہ چیزیں بھی جن کی اس کے لئے وصیت ہے اور وہ بھی جن کی اس کے لئے وصیت نہیں مگر اس کاحق ان اشیاء سے ہرگز متجاوزنہ ہوگا جن کی وصیت اس کے لئے ہے جیساابھی مسئلہ مذکورہ میں گزرا بالجملہ وصیت کاثلث تك نفاذوصیت معینہ کووصیت شائعہ نہ کردے گا اس کااثر صرف اس قدرہوگا کہ باقی بعددین جس قدرمال ہے جس کی وصیت کی ہے اور جس کی نہیں سب کاثلث لے کردیکھیں گے کہ جن اعیان مخصوصہ کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کی مالیت اس ثلث کی مقدار سے کم ہے یابرابریازائددوصورت اولی میں وہ تمام اعیان موصی لہ کودے دئیے جائیں گے اورصورت ثالثہ میں ان میں سے صرف اتنا حصہ پائے گا جوثلث کل باقی بعد اداء الدین کی مقدار تك ہے نہ یہ کہ جس چیز کی اس کے لئے وصیت نہ کی اس کابھی ثلث محض بلااستحقاق اس کو دے دیاجائے یہ سخت جہالت فاحشہ ہے کتب مذہب کے صدہانصوص اس کے اوپرناطقاور یہی مسئلہ کہ ابھی ردالمحتارسے گزرا کافی اورادنی خادم فقہ پر یہ امرخود بدیہیات واضحہ سے ہے کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
فائدہ۱۱:اقرارکے بعد کسی تفتیش کی حاجت نہیںنہ حقوق العبادمیں بلادعوی قاضی کواختیارحکمنہ اسے ایسی بات کی تکذیب پہنچتی ہے جس میں کوئی معارض ہوکہ وہ قطع خصومت کے لئے مقررہواہے نہ کہ انشاء خصومت کے واسطے۔ہدایہ میں فرمایا: الاقرار موجب بنفسہ (اقرار خودموجب ومثبت ہے۔ت)تنویرمیں ہے:
القضاء فصل الخصومات وقطع قضاء توجھگڑوں کافیصلہ کرنااورتنازعات کو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۸€
الہدایۃ کتاب الدعوی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۰۱€
#3608 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
المنازعات۔ ختم کرناہے(ت)
درمختارمیں ہے:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضروالا کان افتاء۔ ایك خصم کے دوسرے حاضرخصم پرصحیح دعوی کے بعد ورنہ یہ افتاء ہوگا(ت)
ردالمحتارمیں فواکہ بدایہ سے ہے:
اتفق ائمۃ الحنفیۃ والشافعیۃ علی انہ تشترط لصحۃ الحکم واعتبارہ فی حقوق العباد الدعوی الصحیحۃ۔ اس پرائمہ حنفیہ شافعیہ کااتفاق ہے قضاء کے صحیح ہونے اور حقوق العباد میں اس کے معتبرہونے کے لئے صحیح دعوی ہونا شرط ہے(ت)
فائدہ۱۲:زوجہ کے لئے یہاں دووصیتیں ہیں۔
وصیت منفعت کہ مکانوں میں رہے ظروف استعمال کرے یہ وصیت انہیں اعیان میں ہے جن کی وصیت شاہ محمداجنبی کے لئے ہے توثلث کل مال بعداداء الدین کے جتنا حصہ مکانات واسباب کاآئے اس میں نافذنہ ہوگی کہ وصیت اجنبی وصیت وارث سے مقدم ہے کما فی الفائدۃ الاولی(جیساکہ پہلے فائدہ میں ہے۔ت)اوریہاں اگریہ وہم گزرتاکہ وصیت رقبہ کرکے اس کے لئے وصیت منفعت کردینے سے اول کے لئے صرف رقبہ کی وصیت رہ جاتی ہے منفعت میں اس کاکچھ حق نہیں رہتا کما فی الفائدۃ الثانیۃ(جیساکہ دوسرے فائدہ میں ہے۔ت)وصیت اجنبی کہ مقدم ہے اپنے محل نفاذ میں مقدم ہوگی نہ کہ اس شے میں جس کی اس کے لئے وصیت ہی نہیں یعنی منفعت کہ اس میں اجنبی کے لئے وصیت معدوم ہے معدوم کی تقدیم کیا معنیتو اس کاجواب ہماری تقریر سابق سے واضحوصیت منفعت بھی بمنزلہ وصیت رقبہ ہے ثابت ہوتو اس کی مزاحم ہوتی ہے کما فی الفائدۃ الرابعۃ(جیساکہ چوتھے فائدہ میں ہے۔ت)اورمنفعت میں اس کاحق نہ رہنا اسی بناپرہوتاہے کہ یہ مانع آتی ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ(جیساکہ تیسرے فائدہ میں ہے۔ت)اوروصیت وارث جب وصیت اجنبی سے مؤخرہے تواس کے مقابل مضمحل ہوگی اوراس کے رقبہ میں کالعدمنہ کہ اس کی مانع ومزاحمپھربقدرثلث نفاذوصیت اجنبی کے بعد مرتبہ ارث کا
حوالہ / References الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷€۱
الدرالمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۲۹۸€
#3609 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ہے کما فی الفائدۃ الاولی(جیساکہ پہلے فائدہ میں ہے۔ت)اورجوکچھ ارثا ملك زوجہ ہوگا اس میں اسے وصیت منفعت کی حاجت بھی نہیں ان دونوں کے بعد جوحصہ مکانات واسباب کابچا اس میں زوجہ کی وصیت نفاذپائے گی اوراس میں سے موقع محفل حضرات طیبات امامین شہیدین رضی اﷲ تعالی عنہما کہ جس قدر ظروف کی شاہ محمد کوحاجت ہوگی اس وقت خاص پراتنے ظروف زوجہ کواستعمال کے لئے نہ دئیے جائیں گے موصی نے اس وقت شاہ محمد کے لئے ان کااستعمال لکھاہے یہ اگرچہ شاہ محمدکے لئے وصیت بالمنفعۃ نہیں کما فی الفائدۃ الخامسۃ(جیساکہ پانچویں فائدہ میں ہے۔ت)مگروصیت زوجہ سے اتنے وقت اخراج کے لئے کافی ہے
لما تقدم عن الہدایۃ والکافی انہ انما لم یکن للموصی لہ بالعین حق فی المنفعۃ مع مبلکہ للرقبۃ للایصاء بہا لغیرہ وتجرید الرقبۃ فی الوصیۃ لہ فلم یثبت لہ فوق مااثبت الموصی اماھنا فقد اثبت لہ الانتفاع فی الوقت الخاص فکان معزولاعما اوصی بہ لغیرہ وکان کأن یقول اوصیت لھا بالمنفعۃ الاوقت کذا ولواقتصر علی ھذا لم یکن للزوجۃ الانتفاع فی الوقت المستثنی وکان ذلك للاجنبی الموصی لہ بحکم الملك فاذا صرح بکونہ لہ فیہ فبالاولی۔ اس دلیل کے ساتھ جو ہدایہ وکافی کے حوالہ سے گزرچکاکہ عین کے موصی لہ کے لئے رقبہ میں ملکیت کے باوجودمنفعت میں کوئی حق نہیںاس لئے وصیت میں اس کے لئے رقبہ کی تخصیص اورمنفعت کی وصیت کسی اورکے لئے کی گئی ہے لہذاموصی کے مقصود سے زائد اس کے لئے کچھ ثابت نہ ہوگا لیکن یہاں تو اس کے لئے خاص وقت میں انتفاع کااثبات ہے توجس چیزکی وصیت اس کے غیرکے لئے ہے اس میں وہ معزول ہوگا۔گویاموصی یوں کہے میں نے عورت کے لئے نفع اٹھانے کی جووصیت کی سوائے فلاں وقت کےاگراسی پر اقتصارکرتاتوبھی بیوی کومستثنی وقت میں انتفاع کاحق نہ ہوتا اوریہ اجنبی شخص کے لئے بطورملك ثابت ہوتا جب اس نے اس کی تصریح کردی توبدرجہ اولی یہ حکم ہوگا۔(ت)
اورپرظاہرکہ اس کے بعد زوجہ کے لئے وصیت استعمال سے یہ مقصود موصی نہیں کہ محفل امامین رضی اﷲ تعالی عنہما کے وقت استعمال شاہ محمد کومنع کردے یااس وقت کی ضروری اشیاء سے
#3610 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
صرف نصف حاجت روائی شاہ محمد کے لئے رکھے نصف درجہ کودے بلکہ مقصود یہی ہے کہ اس وقت خاص جن اشیاء کی حاجت ہوشاہ محمد استعمال کرے باقی اوقات میں زوجہ اپنے صرف میں رکھے اورمقاصد موصی پرنظرلازم ہے کما فی الفائدۃ السادسۃ (جیساکہ چھٹے فائدہ میں ہے۔ت)
وصیت زیورجس کی نسبت اگرچہ وصیت نامہ میں کوئی تصریح معاوضہ نہیں مگر زوجہ کہتی ہے کہ میرے مہر میں دئیے ہیں اوراس کایہ کہنادعوی نہیں بلکہ اقرارہے مہرمثل تك اس کاقول بلابینہ معتبرتھا کما فی الفائدۃ السابعۃ(جیساکہ ساتویں فائدہ میں ہے۔ت)اوروصیت نامہ میں زیورکی خالص وصیت اس کے نام لکھی ہے یہاں نہ کوئی دوسرا وارث ہے کہ زوجہ کامعارض ہو اس سے کہے کہ تیراحق دین میں ہے نہ عین میں کمافی الفائدۃ الثامنۃ(جیساکہ آٹھویں فائدہ میں ہے۔ت)یاکہے تیرے لئے وصیت بے میری اجازت کے باطل ہے۔نہ زیورکے کسی جز کو شاہ محمدکے لئے وصیت ہے نہ اس کی وصیت کہ ثلث کل مال کی مقدار تك حق تقدم رکھتی ہے اسے اس زیورکے کسی ذرہ کی مستحق بناسکتی ہے کما فی الفائدۃ التاسعۃ(جیساکہ نویں فائدہ میں ہے۔ ت)اگرچہ وصیت محضہ للزوجہ ہوجب بھی اجنبی کے لئے صرف حساب ثلث میں ملحوظ ہوگانہ کہ اس کاکوئی حبہ اسے ملے کما فی الفائدۃ العاشرۃ(جیساکہ دسویں فائدہ میں ہے۔ت)نہ کل زیور زوجہ کے لئے بعوض مہرماننا شاہ محمد کے حساب ثلث پرکوئی اثر ڈال سکتاہے۔اگرزیور مہرمثل سے کم یابرابر ہے جب تو ظاہر کہ مہرمثل کی مقدار تك زوجہ کا قول مسلم اور وہ شاہ محمد کی وصیت پر مقدم اور اگر بالفرض مہر مثل سے زائد ہو جب بھی یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ سب زیور بعوض مہرحق زوجہ ماننے میں شاہ محمد کا حصہ ثلث مکانات واسباب میں کم ہوجائے گا فرض کیجئے کہ زیور ۳۲۲ روپے کا ہے اورمہرمثل ۲۰۲ کااورمکانات واسباب جن کی وصیت شاہ محمدکے لئے ہے ۱۲۰۰ کے تواگرکل زیوربحق مہرزوجہ کے لئے ماناجائے تووہ ثلث جس میں وصیت اجنبی ہوگی صرف مکانات واسباب کاثلث رہاجبکہ اس کے سوا اورکوئی متروکہ نہ ہو شاہ محمد ان میں سے صرف ۴۰۰کے قدربحکم وصیت مقدمہ پائے گا اوراگرفقط مہرمثل تك زوجہ کومہرمیں دیں توبعدادائے مہرمتروکہ ۱۳۲۰ بچے گا ۱۲۰۰ کے مکانات اسباب اور۱۲۰ کاباقی زیور جس کاثلث ۴۴۰ تومکانات واسباب سے ۴۰ روپے کے قدرشاہ محمدکے حق مقدم میں بڑھ جائیں گے یہ وہم اس وقت ہوسکتاہے کہ بحال کمی مہرمثل کل زیور زوجہ کومرتبہ مہرمثل تك تقدم ہے اورزیادہ ان مہرمثل بعوض مہرمثل ہونا محاباۃ ہے اور وہ زوجہ کے لئے وصیت ہے اورزوجہ کے لئے وصیت خود اس کی میراث سے بھی مؤخرہے
#3611 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کمافی الفائدۃ الاولی(جیساپہلے فائدہ میں میں ہے۔ت)تووصیت اجنبی سے دودرجہ مؤخرہے جب تك وصیت مقدمہ اجنبی ادا نہ ہولے زیور زائدازمہرمثل ضرورمتروکہ ہی ٹھہرکر حساب ثلث میں محفوظ رہے گا اورشاہ محمد کومکانات واسباب کے حصہ مقدمہ میں کچھ نقصان نہ پہنچے گا بہرحال اس کے اس قول سے کسی کاکچھ ضررنہیں تواس میں اس کاکوئی مخاصم نہیں پھرقاضی کس وجہ سے اس کی تکذیب کرسکتاہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ عشرۃ(جیساکہ گیارہویں فائدہ میں ہے۔ت)زوجہ اگر اس بیان میں سچی ہے فبہا اوراگر اس نے غلط کہاتو یہ اسی کے حق میں مضرہوا اسے صاف اختیارتھا کہ مہرکادعوی جداکرتی جس میں مہرمثل تك اس کاقول معتبررہتا اوریہ زیوربحکم وصیت جدا لیتی کہ اس میں اس کامعارض نہ تھا مگر اس نے ایسانہ کیا بلکہ اسی زیورہی کواپنے مہرمیں دیاجانابتایاتویہ اس کااپنے ہی حق میں اضرارہواولہذا نہ دعوی بلکہ اقرارہوا اوربعداقرار حاجت تفتیش کیامعنی کما فی الفائدۃ المذکورۃ(جیساکہ مذکورہ بالافائدہ میں ہے۔ت)اور سب پرعلاوہ یہ کہ ادھرزوجہ نے یہی زیوراپنے مہرکے عوض بتائے ان سے جداکوئی دعوی مہرنہ رکھا ادھرشاہ محمدنے وہ تمام وکمال زیور اس کے تسلیم کرکے اسے سپرد کردئیے اب خواہ ان سب کو اس کاوہ حق مہرماناجو وصیت شاہ محمد پرمقدم رہتایا بعض کوحق مہربعض کو اوراس کے لئے وصیت یاکل کو وصیت جو وصیت شاہ محمد سے مؤخررہتی مگرجب یہ اسے نافذکرچکا اپنے حق کو ساقط کردیا جیسے وارث کہ زائد از ثلث میں وصیت اس کے حق ارث سے مؤخرہے مگروہ اجازت دے دے تو وہ مؤخرہی مقدم ہوجاتی اوراس قدرمیں اجازت دہندہ کاحق ارث ساقط ہوجاتاہے یہاں تك کہ اگر وصیت کل مال کی تھی اورسب ورثہ عاقلین بالغین نے اجازت دے دی کل مال موصی لہ کا ہوجائے گا اورکوئی وارث کچھ نہ پائے گا توعالم خاتون کا مہراورکل زیوراس کی ملك ہونا اورشاہ محمد کاضربا یااستحقاقا اس سے کچھ معلق ہونایہ سب مسائل طے شدہ اورفریقین کے متفق علیہ ہیں جن میں انہیں کوئی نزاع نہیں اور وہ ان کے خالص حقوق تھے جن کے ابقاء اسقاط کا انہیں اختیار مطلق تھاتواب قاضی مفتی کسی کواصلا حق نہیں کہ ان طے شدہ امورکوزیربحث لائے ان کے لئے کوئی تفتیش اپنی طرف سے قائم کرے فریقین میں ایك کودوسرے پر اس بارے میں کوئی دعوی نہیں یہ خود مدعی بنے اور اس متفق علیہ کونزاعی قراردے کما فی الفائدۃ المذکورۃ ایضا(جیساکہ یہ بھی فائدہ مذکورہ میں ہے۔ت)
#3612 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
تفریعات
(۱۹)فتوی ۱ کاقول بعد اس کے عالم خاتون کامہرجس قدر عدالت کی رائے میں ثابت ہواداکریں گے نافہمی ہے۔
(۲۰)فتوی۱ کاکہناہے اگرثابت ہوجائے کہ یہ زیورمہر کے عوض دئیے گئے اقرارمیں تفتیش ہے۔
(۲۱)فتوی۱ کی اس پرتفریع کہ توان میں شاہ محمد خاں کاکچھ حق نہیں مفہوم غلط ہے شاہ محمد خاں کازیورمیں کسی طرح کچھ حق نہیں اگرچہ مہرکے عوض دیاجاناثابت نہ بھی ہو۔
(۲۲)فتوی۱ نے اس مفہوم باطل ہی پرقناعت نہ کی بلکہ آگے اس ظلم صریح کی تصریح کردی کہ لیکن اگران زیورات کامہرمیں دیاجانا ثابت نہ ہو توزیورات کے تیسرے حصہ میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردوحصے عالم خاتون کےانا ﷲ وانا الیہ راجعون (بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)شاہ محمدخاں وارث نہیں زیورکی اس کے لئے وصیت نہیںوصیت نہ ہونا درکنارموصی نے صراحۃ زیورکو اس کی وصیت سے جداکردیاکہ بعد ذکرزیور کہا ماسوااس کے میری جائداد الخ مگریہ فتوی کہتاہے کہ موصی کودینے نہ دینے سے کیاہوتاہے ہم جودیتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (بلندی وعظمت والے اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ لڑائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
(۲۳)فتوی۷ نے اورکمال کیازوجہ کاوہ قول اقرار مان کرپھراگرمگرکودخل دیاکہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہوا ہے توزیورچھوڑ کرایك ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا۔
(۲۴)فتوی۷ نے اوربھی قدم عشق پیشتربہترکی ٹھہرائی یعنی زوجہ کاقول اقراربھی ٹھہرایا اور شاہ محمد کی تسلیم بھی مانی پھربھی فریقین کی متفق علیہ بات بات طے شدہ نہ جانی کہ سب سے اول تجہیزوتکفین کاخرچ اداکیاجائے بعدازاں اگرمتوفی نے مدعیہ کو دین مہر میں زیورات کی وصیت کی ہے(چنانچہ اس کااعتراف ہے اورمدعاعلیہ نے بھی زیورات اس کوتسلیم کرکے قبول کر لیا ہے)توزیورات اس کودین مہرمیں دئیے جائیں گے۔
(۲۵)فتوی۷ ان دونوں کی تصریحوں خوداپنے اقراروں اعترافوں کے ساتھ ایك فرض غلط کی راہ نکالی ہے اگربالفرض دین مہر میں نہیں دئیے بلکہ محض وصیت کی توباقی تمام مال میں سے مہرزوجہ
#3613 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اداکیاجائے گا یہ فرض بے معنی کس لئے اورفتوی متعلقہ دارالقضاء میں اس کاکیامحل۔
(۲۶)فتوی۷ نے اس تفریع میں ڈگری بلادعوی بھی فتوی اول کی طرح دی اورآگے چل کرکہا مدعیہ کا مہر کل مال سے ادا کیا جائے گا زوجہ تو کہہ رہی ہے کہ مجھے یہ زیو ر مہر میں دیا فتوی کہتا ہے نہیں نہیں تمام مال میں سے تجھے مہرملے گا اگرچہ کل مال کو مستغرق ہو اور موصی لہ کے لئے کچھ نہ بچے۔
(۲۷)فتوی۷ کومنظورنہیں کہ یہاں کسی غلطی میں فتول اول سے پیچھے رہے بلاوصیت استحقاق اجنبی میں بھی اس کاساتھ دیاکہ زیورات اگرمہرمیں دئیے تو زیورات پروصیت کابارنہ ہوگا ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳/ ۲ مدعاعلیہ کو۳/ ۱۔
(۲۸)بلکہ فتوی۷ کایہاں بھی قدم پیشترہے اس نے صاف ماناکہ زیوروں کی وصیت شاہ محمدخاں کے لئے نہیں پھربھی اسے تہائی کاحصہ دار کردیا۔زیورکایہ حکم لکھ کرآگے کہااوردیگرجائدادمکانات ظروف وغیرہ سے مدعیہ ۱۲/ ۲ مدعاعلیہ ۱۲/ ۱۰ کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھر ربع باقیماندہ یعنی سدس کلمدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ مدعاعلیہ کو اگریہ فتوی زیورکی بھی اس کے لئے وصیت مانتا تویہی حکم اس پربھی کرتاکہ نہ کہ شاہ محمد کوزیورکا۳/ ۱ اورباقی اموال کے۶/ ۵۔
(۲۹)فتوی۷ نے اس باطل صریح پراستدلال کی بھی جرأت کی یوں بھی اسے فتوی ۱ پرفوقیت رہی کہ اس کے آگے زیوروں کوکہا اگرمحض بطور وصیت دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت بالثلث حق ثلث ہوگاپھرکہا اگربعوض دین مہرنہ ہو تو بحکم وصیت بالثلث زیورات میں بھی ۳/ ۱مدعاعلیہ کو ملے گا۳/ ۲زیورات مدعیہ کو۔اس کامنشاوہی غلط شدیدوبعیدہے کہ ثلث کل مال کے لحاظ سے وصیت کی تنفیذوصیت معینہ کووصیت شائعہ کردی ہے جس کاردبلیغ فائدہ نہم ودہم میں گزرا۔سبحن اﷲ۔
حساب کے لئے ثلث ہرشیئ کالحاظ کیا ہواکہ ثلث ہرشیئ میں اس کی ملك ہی پیداہوگئی اگرچہ اس شیئ کااسے اصلا استحقاق نہیں نہ اس کے لئے وصیتبلکہ اس کی وصیت سے جداہونے کی صاف تصریحولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(بلندی و عظمت والے اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیرنہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
(۳۰)فتوی۱ نے یہاں ایك اورغلطی کی اگرزیور بعوض مہر دیاجانا ثابت نہ ہونے کی حالت میں اس کے نزدیك ان کاثلث شاہ محمد کوملناتھا تومطلقا یہ کہتاکہ اگرزیور مہرکے عوض دئیے گئے توا ن میں شاہ محمدخاں کاکچھ حق نہیں غلط برغلط ہے اگرزیور مقدارمہر سے زائدہوئے توقدرزیادت میں زوجہ کے لئے وصیت بالمحاباۃ ہوئی اور وہ اجنبی کے حق ثلث کو باطل نہیں کرتی بلکہ خود اس کے حضور مضمحل ہوجاتی ہے۔
#3614 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(۳۱)فتوی۷ نے بھی یہاں غلطی میں اس کاساتھ دینے کی منت مانی ہے اس نے بھی جابجا وہی تصریحات کیں بلکہ صافترکہا کہ زیورات اگرمتوفی نے مہرمیں دئیے ہوں توزیورات پروصیت کابارنہ ہوگا تمام زیورات اس کوملیں گے ورنہ مدعاعلیہ کو۳/۱ پھرکہا اگروہ مہر میں دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کا بروئے وصیت کچھ حق نہیں اورمحض بطوروصیت دئیے گئے تو مدعاعلیہ کاثلث۔پھرکہاوصیت اگر بعوض مہرہوتو زیورات وصیت بالثلث کے بار سے مستثنی ہوں گے گویاان صاحبوں کے نزدیك کوئی مال بعوض دین دینے کی وصیت کرناخود اس مال کودین کردیتاہے کہ اس کااداکرنا مطلقا وصیت سے مقدم ہوجاتاہے اگرچہ ایك روپیہ دین کے عوض ہزار روپیہ کامال دینے کی وصیت کی ہو۔
(۳۲)فتوی۷ نے یہاں بھی قدم پیشترکی آن نہ چھوڑی یہ ٹھہری کہ بعوض مہرکے وصیت ہونا تمام وکمال زیوروں کودین کے مرتبہ میں کردے گا کہ ان کااداکرنا وصیت للاجنبی سے مقدم ہوگا اوربعوض مہر دئیے جانے کاثبوت نہیں مگربیان زوجہ تواب اس ادعا سے اپنانفع اورموصی لہ کاضررچاہتی ہے کہ وہ وصیت جووصیت نامہ میں بلامعاوضہ لکھی ہے جووصیت اجنبی سے مؤخر رہتی بمعاوضہ بتاکر وصیت اجنبی سے مقدم کئے لیتی ہے تو اب اس کاقول توصرف اقراربلکہ صاف دعوی ہوااوراگرمدعی محض اپنے زبانی دعوی پرڈگری نہیں پاسکتا تویہ کہناکہ اگردین مہرتمام زیورسے حسب اقرارزوجہ اداہواہے تو زیور چھوڑ کر باقیماندہ ایك ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا عجب درعجیب ہے۔
(۳۳)اگرفتوی۷ وہ بھاری غلطی کہ ایك صورت میں کہ بلاوصیت وبلااستحقاق شاہ محمد کوزیوروں میں تہائی کاحصہ دار کردیانہ بھی کرتا جب بھی اس کامطلقا یہ کہناکہ اگروصیت بعوض مہر ہوتوزیورات وصیت بالثلث کے بار سے مستثنی ہوں گے یعنی بعد خرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گے صحیح نہ تھا کہ اگرزیور مہرسے زائد ہیں توقدرزیادت میں وصیت بالثلث کے بارسے مستثنی نہیں ہوسکتے ثلث میں وہ بھی محسوب ہوتے اگرچہ ان میں سے شاہ محمدخاں کو کچھ نہ دیاجاتا انہیں مطلق مستثنی شاہ محمد کی تسلیم نے کردیانہ کہ وصیت بعوض مہرہونے نے۔
(۳۴)یونہی فتوی۵کاقول کہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اورخودعبارت وصیت نامہ کی محمل قوی ہے اورمہردین ہے اس لئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے وہی طرفہ منطق ہے محمل وصیت نامہ کاحال تو اوپرگزرا اوربالفرض اس کی عبارت محتمل ہو تومحض قوت احتمال غایت درجہ ظاہرہے اورظاہر حجت استحقاق نہیں ہوسکتاہدایہ وغیرہ تمام کتب معﷲ میں تصریح ہے کہ:
#3615 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الظاھر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق۔ ظاہرحجت دفاع ہے حجت استحقاق نہیں(ت)
اب نہ رہا مگرخود مدعیہ کاقول اسے اپنے حق میں حجت مان لینا نرالا قانون ہے زیور اگرمہرسے زائدہیں تو وہ سب کیونکر دین سمجھ کر وصیت وارث دونوں سے مقدم کردئیے جائیں۔
(۳۵)فتوی۳ نے اوربھی دون کی لی کہ جن زیورات کے بارے میں متوفی بعوض مہرزوجہ کے دینے کی وصیت کرگیاہے وہ اس کاقرض تھا اس کااداکرنا اس کوفرض تھاقرض وفرض کاقافیہ ملالیا اگرچہ مہرشرعا قرض نہیں ہوتاقرض ودین میں عموم وخصوص ہےخیریہ بات کہ بعوض مہردینے کی وصیت کرگیاہے وصیت نامہ میں توکہیں نہیںعورت کابیان ہے اورہوبھی توبحال کمی مہرمحاباۃ ہے نہ قرض ہے نہ فرض۔
(۳۶)فتوی۷ نے یہاں ایك اورغلطی کی کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہو توپھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویابالمنفعۃوہ حصہ اوریہ سب کلی دونوں غلط ہیں اجنبی کی وصیت بالثلث بھی اس کی مانع اوراس سے مقدم ہے۔
(۳۷)فتوی۷ کوخود اپناکہا یادنہ رہاآگے چل کرکہاحق سکنی مکانات وحق استعمال ظروف وغیرہ کی جوزوجہ کووصیت کی ہے اس کے بار سے ثلث مال جو شاہ محمد کواول ملے گا بری رہے گاکیونکہ زوجہ کے لئے وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی۔اب یہ وصیت للزوجہ کابے مزاحمت حق ورثہ اورمزاحم قوی ومرجح کدھر سے نکل آیایہ صاف تناقض ہے۔
(۳۸)یونہی فتوی۲ کاقول کہ جس چیزکی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ سالم زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت لے سکتی ہے اس سے ذہول ہے کہ وارث کے لئے وصیت میراث سے مؤخرہے توبعد اجرائے میراث جوباقی بچے اتنی چیزبذریعہ وصیت لے سکے گی نہ کہ سالم۔نسأل اﷲ السلامۃ۔
افادہ سادسہ
وصیت ضرورمقیدبشرط ہوسکتی ہے اوروہ زبان موصی پرہے ایك شخص کے لئے متعدد وصایا میں اگر ایك وصیت کوکسی شرط سے مقیدکردے دوسری کونہ کرے یاایك کو ایك شرط سے مقیدکرے
حوالہ / References الہدایۃ کتاب ادب القاضی باب التحکیم مسائل شتّی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷€
#3616 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
دوسری کودوسری سے توجس طرح اس نے کہاہے اسی پرعمل واجب ہوگاجوجس شرط سے مقید اسی سے مقیدرہے گی نہ کہ دوسری کی قیدسےاورجومطلق ہے مطلق رہے گی نہ کہ ازپیش خود اسے بھی مقیدکرلیاجائے المطلق یجری علی اطلاقہ (مطلق اپنے اطلاق پرجاری رہتاہے۔ت)قاعدہ اجماعیہ ہے اور القران فی الذکر لایستلزم القران فی الحکم(ذکرمیں اقتران حکم میں اقتران کومستلزم نہیں۔ت)ضابطہ وفاقیہ جمع محققین ہے اور المطلق لایحمل علی المقید فی حادثتین(دوحادثوں میں مطلق کومقید پرمحمول نہیں کیاجاسکتا۔ت)قاعدہ مطردہ حنفیہ ہے موصی نے زوجہ کے لئے صرف وصیت سکونت کو اس شرط سے مقید کیاکہ مظہرکی عورت مظہرکے عقدمیں رہ کر گزارہ کرے تو اس کوفقط حق آسائش کاحاصل رہے گا یعنی تاحق مظہر اباد رہے گیوصیت ظروف میں یہ شرط نہ لگائی توصرف وصیت سکونت مکانات اس قیدسے مقید ہوگی یعنی جب تك نکاح ثانی نہ کرے اسے حق سکونت رہے گا اوراگرنکاح کرلے گی یہ حق جاتا رہے گا مگروصیت ظروف مطلق رہے گی استعمال ظروف کااسے اختیاررہے گا اگرچہ نکاح ثانی کرلے۔
وھھنا فی تقیید الوصیۃ بعدم التزوج دقیقۃ انیقۃ نبھنا علیھا فیما علقنا ردالمحتار من متفرقات البیوع۔ اوریہاں وصیت کوشادی نہ کرنے کی قید سے مقیدکرنے میں انتہائی نفیس باریك نکتہ ہے جس پرہم نے ردالمحتار باب متفرقات البیوع پراپنی تعلیق میں خبردارکیاہے۔(ت)
رہاشاہ محمدخاں کاادعاکہ مدعیہ(معاذاﷲ)حرام کاری کرتی ہے اس لئے بروئے وصیت مکانات میں نشست کی بھی حقدار نہ رہی اول تو ایسی ناپاك بات ہے جس کی نسبت رب عزوجل کا ارشاد ہے:
" یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷﴾ اﷲ تمہیں نصیحت فرماتاہے کہ پھر ایسانہ کہنااگر ایمان رکھتے ہو۔
اور جس کی نسبت ہم کو ہدایت فرماتا ہے کہ اسے سنتے ہی فورا کہیں: " سبحنک ہذا بہتن عظیم ﴿۱۶﴾" پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔اور جس کی نسبت حکم فرماتاہے کہ اگر وہ چارگواہ نہ لائیں
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۷€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۶€
#3617 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(چاروں مردثقہ عادل جنہوں نے نہ کوئی گناہ کبیرہ کیاہو نہ کسی گناہ صغیرہ کے عادی ہوں نہ کوئی حرکت خلاف مروت ان سے صادر ہوئی ہو اورچاروں یك زبان گواہی دیں کہ ہم نے اس عورت کو اپنی آنکھوں سے زناکرتے دیکھا اوراس طرح دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی)ایسے چارگواہ نہ لاسکیں" " فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾ تووہی اﷲ کے نزدیك جھوٹے ہیں۔پھر ان کی سزا بیان فرماتاہے:
" فاجلدوہم ثمنین جلدۃ و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا " ان کو اسی کوڑے مارو اورکبھی ان کی گواہی نہ مانو۔
کیاشاہ محمدخاں اپنے اس اتہام پرایسے چارگواہ پیش کرسکتاہے اورجب نہیں لاسکتا تووہی عنداﷲ جھوٹاہے اوراسی کوڑوں کامستحق ہےاوراگربفرض باطل وہ سچابھی ہوتاجب بھی اس کاکہناکہ اب وہ نشست کی بھی حقدارنہ رہی غلط تھا موصی نے حق سکونت کوعورت کی پارسائی سے مشروط نہ کیا بلکہ اس شرط سے کہ وہ نکاح ثانی نہ خود کرے نہ دوسرے کی وکالت ووساطت سےوہ خود اپنی شرط کامفہوم بتاتاہے کہ اگر وہ کسی دوسری جگہ اپنا عقدنکاح کرائے یاجدید خاوندکرے تو اس کے ساتھ اس کاکوئی تعلق اور واسطہ نہ ہوگا عورت کہ نکاح ثانی نہ کرے روزقیامت اپنے شوہرکوملے گی جبکہ دونوں نے ایمان پروفات پائی ہو۔
اللھم ارزقنا الوفاۃ علی الایمان بجاہ حبیبك الکریم یارحمن علیہ وعلی الہ افضل واکمل التسلیمات ما بقیت الجنان۔ اے اﷲ اے مہربان! ہمیں اپنے حبیب کریم کے صدقے ایمان پروفات نصیب فرمااپنے حبیب کریم اور ان کی آل پر افضل واکمل درود سلام نازل فرماتارہ جب تك جنتیں باقی ہیں۔(ت)
اوراگر دوسرا شوہر کرے تو اس کے نکاح میں مرجائے اس دوسرے کوبشرط ایمان ملے گاکما فی حدیث۔اوراگر اس سے بھی بیوہ ہوگئی غرض کسی شوہرکے نکاح میں نہ مری تو اسے روزقیامت اختیاردیاجائے گا کہ ان شوہروں میں جسے چاہے پسندکرلے وہ اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ زیادہ نیك سلوك سے معاشرت کرتاتھا
کما فی حدیث اخروالتطبیق بینھما جیساکہ دوسری حدیث میں ہے ان دونوں حدیثوں
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۳€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
#3618 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ماذکرنا کما بیناہ فی فتاونا۔ میں تطبیق وہ ہے جیسا ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا۔(ت)
بہرحال نکاح ثانی سے عورت یاتوشوہر اول کے لئے رہتی ہی نہیں یا اس کے لئے اس کارہنا مشکوك ہوجاتاہے بخلاف بدکاری کہ وہ اسے حق شوہر سے باہرنہیں کرتی حق کاابطال حق اقوی سے ہوتاہے نہ کہ ناحق وباطل طغوی سے جیسے بحال حیات اس کے باعث نہ نکاح میں فرق آئے نہ شوہرکو اس سے جدائی لازم ہو۔درمختارمیں ہے:
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۔ بدکار عورت کوطلاق دیناخاوند پرواجب نہیں۔(ت)
(۳۹)فتوی۷ کاوصیت سکنی ووصیت ظروف وغیرہا دونوں کوقیدعدم نکاح ثانی سے مقیدکرنا کہ حق سکنی وحق استعمال ظروف وغیرہ مدعیہ کو تانکاح ثانی حاصل رہے گاصحیح نہیں۔
افادہ سابعہ
وصیت نامہ کے کسی لفظ کامفادنہیں کہ شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال ہوزیوروں کوجدا کرکے بھیاس کے لفظ یہ ہیں ماسوا اس کے میری جائدادغیرمنقولہ ازقسم مکانات ہیں وہ پیداکردہ مظہرکے ہیں وہ زیرحفاظت شاہ محمدخاں رہیں گے اورمالك بھی یہی رہے گا۔یہاں سے صرف مکانات کی وصیت ہوئی آگے کہاعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وچارپائی وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔اس سے اثاث البیت کی وصیت ہوئی خاتمہ پر اس نے انہیں اشیائے معینہ میں وصیت کاانحصار کردیاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کامالك شاہ محمدخاں ہے تومندرجہ بالا مکانات واثاث البیت کے سوااگرکچھ ترکہ ہو وہ زیروصیت نہ آیا اوراستفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ زوجہ دعوی کرتی ہے کہ مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات ازترکہ شوہرش موجودہیں توجب تك اس دعوی کابطلان ثابت نہ ہو شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال کیونکر ٹھہرسکتاہے۔ہاں موصی نے ذکرمکانات واختیارفروخت ورہن مکانات کے بعد یہ لفظ بھی لکھاکہ غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے۔یہ وغیرہ اسی اختیار بیع ورہن پرمحمول ہے کہ اس نے اس کے متصل ہی بلافصل یہ لفظ لکھے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری الخ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۴€
#3619 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اگروغیرہ سے کل متروکہ جمیع مملوکہ مراد ہوتاتو اس کے علاوہ کہناباطل ہوجائے گا اورکلام عاقل بالغ کامہما امکن محمل صحیح پر حمل کرناواجب۔معہذا اگرچہ یہ محمل متعین نہ ہوتو احدالاحتمالین بلکہ انصافا اقوی الاحتمالین ہے تومکانات واثاث البیت کے غیر میں وصیت ثابت نہ ہوئی اوریہاں عدم ثبوت ثبوت عدم ہے۔
اذ الوصیۃ ایجاب یحدثہ الموصی فلاوجوب بلا ایجاب فلاثبوت لوجوب بلاثبوت ایجاب و الوجوب فی القضاء مرھون بالثبوت فاذلاثبوت لاوجوب وھو المطلوب۔ کیونکہ وصیت ایك ایساایجاب ہے جس کو موصی صادر کرتاہےتوایجاب کے بغیر وجوب نہیں ہوتاچانچہ ایجاب کے ثبوت کے بغیر وجوب کاثبوت نہیں ہوتا اورقضاء میں وجوب محتاج ہے ثبوت کا۔جب ثبوت نہیں تووجوب نہیںوہی مطلوب ہے۔(ت)
تفریعات
(۴۰)فتوی۱ کاقولمہرکے بعد جس قدرجائداد بچے تین حصے کرکے ایك حصہ شاہ محمد خاں کودیں۔
(۴۱)فتوی۵ کاقو ل شرعا جائدادمتوفی میں سے مدعیہ کو ۶/۱ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو ۶/۵ پھر اس کاقول ماسوی زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے پھر اس کی تصریح کہ صورت متنازعہ میں زوجہ کے ساتھ دوسراحقدار بھی موجودہے جوموصی لہ بجمیع المال ہے۔
(۴۲)فتوی۶ کاقولجب ترکہ میں سے ۶/۱ من حیث الوصیۃ اور۶/۱ عالم خاتون کومن حیث الارث دے دیاگیاتوآدھا ترکہ باقی رہتاہے۔
(۴۳)یونہی فتوی۷ کاقول کہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہواہے توزیور چھوڑکر باقیماندہ خواہ مکانات ہیں یا ظروف وغیرہ ۱۲/۲ اس کودیاجائے گا۱۲/۶ شاہ محمد کونیز اس کی تصریح کہ تین وصیتیں کی ہیں جو اس کے تمام مال کو مستغرق ہیں نیز اس کی صاف ترتصریح کہ تیسری وصیت باقیماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کوکی ہےیہ سب بے ثبوت محض وبلاافادہ وصیت نامہ صرف اپنی طرف سے شاہ محمد کوموصی لہ بجمیع المال یابجمیع ماسوی علی المہرٹھہرالیناہے اوراگردعوی زوجہ ثابت ہوجائے کہ ان کے سوا اورزیور بھی متروکہ موصی شاہ محمدکے پاس موجود ہیں توصریح حق تلفی
#3620 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اوردوبارہ ظلم ہوگاکہ مستحق کونہ دینا اورنامستحق کودینا شاہ محمد کیونکر بلاوصیت کل جائداد باقیماندہ کو ۶/۵لے لے گا۔
(۴۴)فتوی ۵نے اس طلب پرعبارت درمختاروجوہرہ پیش کیں اول میں صراحۃ تھا۔
اوصی لرجل بکل مالہ فلھا السدس والباقی للموصی لہ ۔ خاوند نے کسی مرد کے لئے پورے مال کی وصیت کی توبیوی کو کل مال چھٹا حصہ(۶/۱)اورباقی موصی لہ کو ملے گا۔(ت)
دوم(جوہرہ)میں تھا:
اوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا السدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس۔ اگرخاوند نے اجنبی مرد کے لئے اپنے تمام مال کی وصیت کی تو اس کی بیوی کو کل مال کاچھٹا حصہ(۶/۱)ملے گا اورموصی لہ کوچھ میں سے پانچ(۶/۵)حصے ملیں گے۔(ت)
حکم وہ نقل کرناجواجنبی کے لئے وصیت بجمیع المال کی حالت میں ہو اوراسے وہاں منطبق کردینا جہاں اس کاہرگزثبوت نہیں۔
(۴۵)یونہی فتوی۷ نے بھی اس پریہی عبارت جوہرہ نقل کی یعنی حداوسط کااشتراك ثابت نہیں اور تعدیہ ہوگیا۔
(۴۶)فتوی۲ نے بھی یہی حکم لکھاکہ زوجہ کاحق سدس ہے باقی موصی لہ کامگر اس پراس حکم میں اعتراض نہیں کہ سوال جواس کے یہاں پیش ہوااس میں سائل ہی نے ایك غلط عبارت موصی کی طرف سے لکھ دی تھی کہ بعد میرے میری جائداد منقولہ غیرمنقولہ کامالك عمرو ہے اس کامفاد ضرور وصیت بجمیع المال ہے اگرچہ وصیت نامہ میں اس کاکہیں نشان نہیں تو مجیب سے جیساسوال ہواویساجواب دیا مگراب فتوی ۲ کایہ اطلاقی حکم کہ جس چیز کی زوجہ کے واسطے وصیت کی وہ سالم زوجہ کی ہے بذریعہ وصیت لے سکتی ہے صریح غلط ہے اس کے سامنے سائل کایہ بیان ہواہے کہ چندزیورات کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیا یعنی کہہ گیاکہ بعد میرے ان زیورات کی مالك میری زوجہ ہے اس بیان پروہ جواب باطل ہے زوجہ کے لئے وصیت وارث کے لئے ہے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€۹
الجوہرۃ النیرہ کتاب الوصایا ∞مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۰€
#3621 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اوروارث کی وصیت اجنبی کی وصیت سے دو۲ درجہ مؤخرہے باقی کلام مباحث سابقہ سے واضح۔
افادہ ثامنہ
یونہی استفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ شاہ محمدخاں دعوی کرتاہے کہ وصیت کومدعیہ نے بوقت وصیت اورنیزبعدوفات شوہر خودقبول کیاتھایہ دعوی بہت واجب اللحاظ ہے اگر اس کاثبوت ہوجائے توپھرزوجہ مکانات واثاث البیت سے بحق میراث کچھ نہ پائے گی اوربعد قبول اس کا اعتراض ہرگزنہ مسموع ہوگا اوراس کادعوی بوجہ تناقض مدفوع ہوگا ہدایہ میں فرمایا:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ ولامعتبر باجازتھم حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عند الموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف مابعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق فلیس لھم ان یرجعوا عنہ لان الساقط متلاش۔ تہائی سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیںاسکی زندگی میں اجازت معتبرنہیں کہ وہ ثبوت حق سے قبول ہوئی کیونکہ حق توموصی کی موت کے وقت ثابت ہوگا لہذا انہیں موصی کی موت کے بعد ردکرنے کا اختیارہے بخلاف موت کے بعد کی اجازت کیونکہ وہ ثبوت حق کے بعدہوئی لہذا اس سے رجوع نہیں کرسکتے اس لئے کہ جوساقط ہوجائے وہ لاشیئ ہوجاتاہے۔ (ت)
البتہ منفعت کی وصیت کہ ثلث کے بعد میں نافذہوگی نافذرہے گی اوریہ خود اسی دعوی موصی لہ سے ظاہرکہ وصیت کومدعیہ نے بعد وفات شوہرقبول کیاوصیت میں وصیت منفعت کی تصریح ہے تو اس کاقبول اس کاقبول ہے نہ کہ اس سے عدولقبول کا حاصل یہ کہ موصی جوکرگیامنظورہے اوروہ یہ کرگیا کہ مکانات واثاث البیت کامالك شاہ محمدکواورمنفعت کااختیار زوجہ کو۔
وھذا ظاھر جدانعم ماابطلہ الشرع وھو وصیتھا الی حق الثلث اوریہ خوب ظاہرہےہاں جس کو شرع نے باطل کیاہے تو تہائی کے حق تك اس کی وصیت
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
#3622 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فلیسا الیھا قبولہ کمالایخفی۔ ہے جسے قبول کرنے کااختیاراس کے پاس نہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
تفریعات
اس امرمہم کے لحاظ سے سب فتووں نے ذہول کیاجن جن کے سامنے استفتائے ججی خانپور پیش ہوا۔
(۴۷)فتوی ۱کاقول مہرکے بعد جس قدر بچے دوحصے عالم خاتون کودیں۔
(۴۸)فتوی۵ کاقول مدعیہ نے وصیت پراعتراض کیااس پرمدعیہ کو۶/۱ملناچاہئے۔
(۴۹)فتوی۶ باقی سے ۴/۱ عالم خاتون کاحق ہے سب محل تفصیل میں یکطرفی حکم ہے۔
(۵۰)فتوی۵ نے اعتراض مدعیہ کے ساتھ استناد کیااورلحاظ نہ کیاکہ اگربعد موت شوہر قبول کرچکی تو اب اعتراض کااسے کیاحق رہا۔
(۵۱)یونہی فتوی ۱ نے کہاکہ مدعیہ کے اعتراض پرتیسرے حصہ کے زائد میں جائزنہ ہوگیکیا اگر اعتراض بعدالقبول ہویہ دونوں فتوے تووصیت بالمنفعت کے بھی قائل نہیں انہیں تویہ کہنالازم تھاکہ اگرزوجہ قبول کرچکی تودامن جھاڑکراٹھ کھڑی ہو اس کے لئے میراث ووصیت کچھ نہیں کہ مطلقا اسے پورے دوثلث دے دیں۔
(۵۲)فتوی۵ نے خودہی درمختار سے عبارت نقل کی:
ان لم تجز فلہا السدس۔ اگربیوی نے اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔(ت)
اورحکم میں یہ قید بھلادی۔
(۵۳)فتوی۶ نے آپ ہی کہاتھا کہ اگروہ اجازت دے دیں نافذہوگیپھرکس طرح مطلقا حکم مذکورلگادیا۔
(۵۴)فتوی۷ نے خودہی کہاکہ اگرورثہ اپنے اضرار کوقبول کرلیں تووہ وصیت زائدعلی الثلث جائزونافذہوگی پھرمطلقا یہ حکم کس لئے کہ دوسہام جوربع مابقی ہے عالم خاتون کو۔
(۵۵)ہاں فتوی۷ نے یہ علاج کیاکہ وصیت باقی تمام مال کی شاہ محمدکوکی ہے جس کومدعیہ نے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
#3623 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
قبول نہ کیا۔یہ جزی حکم کس بناپرحالانکہ سوال میں دونوں پہلوتھے۔
افادہ تاسعہ
اگرزوجہ کاقبول ثابت نہ ہو تووصیت کابے اجازت وارث ثلث سے زائد میں نافذنہ ہونا ان ورثہ کے ساتھ ہے جن کے حقوق میراث کے بعد کچھ نہ بچے زوجین کہ کسی حال میں ان کاحق ارث ربع یا نصف سے زائد نہیںوصیت میں ثلث پرزیادت جہاں تك ان کے حق کے معارض نہیں یعنی زوجہ کے ساتھ ثلث کے علاوہ نصف مال اورزوج کے ساتھ ثلث کے علاوہ دوسرے ثلث میں اس کانفاذ ان کی اجازت ورضاپر موقوف نہیںہاں ارث پرحق تقدم صرف ثلث تك ہے جس کابیان اوپرگزرا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ ثلث سے زیادہ موصی لہ بالزائد کوبے ان کی اجازت کے ملتے ہی نہیں یہ محض باطل ہےنوازل امام فقیہ ابواللیث پھرفتاوی حامدیہجوہرہ نیرہ پھرعقودالدریہ وغیرہا میں ہے:
الوصیۃ بمازاد علی الثلث غیرجائزۃ اذاکان ھناك وارث یجوز ان یستحق جمیع المال اما اذاکان لا یستحق جمیع المیراث کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی الثلث ۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت ناجائزہے جبکہ کوئی ایساوارث موجودہو جوتمام مال کامستحق بن سکتاہے لیکن اگر وہ وارث تمام مال کامستحق نہ بن سکتاہو جیسے خاوند اوربیویدوتہائی سے زائد کی وصیت کرناجائزہوگا۔(ت)
تفریعات
(۵۶)فتوی ۱ کاوصیت شاہ محمد کے لئے کہناکہ مدعیہ کے اعتراض کرنے پرتیسرے حصہ میں جائزہوگی زائدمیں جائزنہ ہوگی اس لئے دوحصے عالم خاتون کودیں گے۔
(۵۷)یونہی فتوی ۳ کاقول کہ بوقت موجودگی ورثہ وصیت ثلث سے جاری ہوگی ثلث سے زیادہ ناجائزہے۔
(۵۸)اسی طرح فتوی۶ کاادعاہے کہ مسئلہ زیربحث میں متوفی کی بیوہ موجودہے جواس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳/۱ سے زیادہ ہے بدون اجازت عالم خاتون کے نافذنہیں
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۳۰۹€
#3624 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ہوسکتیسب باطل اورمسئلہ لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ (تہائی مال سے زائد کی وصیت ورثاء کی اجازت کے بغیر جائزنہیں ہوتی۔ت)میں ورثہ سے مراد علماء کی نافہمی پر مبنی ہے۔
(۵۹)فتوی۳ نے اورترقی کی کہ صریح مخالفت عبارت اپنی سندٹھہرائی عبارت ہدایہ:
لاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت اس لئے جائزنہیں کہ وہ وارثوں کاحق ہے۔(ت)
صاف ارشاد فرمارہی تھی کہ یہ عدم جواز معارضہ حق وراثت کے سبب ہے زوجہ کاحق وراثت ربع سے زیادہ کہاں ہے کہ باقی نصف مال میں معاوضہ کرے۔
(۶۰)یہی خوش فہمی فتوی۶ نے دکھائی عبارت ہدایہ یہ سنائی:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ لان الامتناع لحقھم۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے ورثاء اجازت دے دیں کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے۔(ت)
اورجملہ تعلیل کونہ دیکھاکہ صراحۃ اس کے خلاف ہےمگریہ اخلاط ان فتاوائے سہ گانہ کی اس شدید غلط فہمی پرمبنی ہیں جس کا کشف افادہ آخرمیں آتاہے ان شاء اﷲ تعالی۔
افادہ عاشرہ
کسی تقسیم میں نہ حاکم کو یہ جبرپہنچتاہے نہ ایك حصہ دار کو رواہے کہ بے رضائے دیگربجائے عینقیمت لے مگربمجبوری محض جہاں بے اس کے مساوات ناممکن ہونہ زنہار حاکم کویہ اختیارکہ بے رضائے فریقین مختلف الجنس اشیاء میں ایك کاحصہ کہ اس جنس میں ہو دوسرے کودے دے اوراس کے بدلے دوسری جنس دوسرے کے حصے سے اسے دلائے۔درمختارمیں ہے:
اعلم ان الدراھم لاتدخل فی یہ جان لے کہ درھمزمین اورگھر کی تقسیم میں داخل
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
#3625 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
القسمۃ لعقار اومنقول الابرضاھم فلو کان ارض و بناء اومنقول قسم بالقیمۃ عند الثانی وعندالثالث یرد من العرصۃ بمقابلۃ البناء فان بقی فضل ولا یمکن التسویۃ ردالفضل دراھم للضرورۃ و استحسنہ فی الاختیار۔ نہیں ہوتے مگراس وقت جب شرکاء اس پرراضی ہوں۔چنانچہ اگرزمینعمارت یا مال منقول ہوتواس کی تقسیم امام ابو یوسف کے نزدیك قیمت کے اعتبارسے ہوگیاورامام محمدکے نزدیك زمین کو عمارت کے مقابل پھیردیاجائے گاپھر اگرکچھ عمارت زائد بچ جائے زمین دے کردونوں میں برابری ممکن نہ ہوتو مجبورا اس زیادتی کے برابر درھم پھیرے جائیں گے۔اختیارمیں ہے اس کومستحسن قراردیاہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لاتدخل فی القسمۃ الدراھم والدنانیر الا بتراضیھم لانہ لاشرکۃ فی الدراھم والقسمۃ من حقوق الاشتراك لانہ یفوت بہ التعدیل فی القسمۃ واذا کان ارض و بناء فعن ابی یوسف انہ یقسم علی اعتبار القیمۃ لانہ لایمکن اعتبار المعادلۃ الا بالتقویم۔ شرکاء کی باہمی رضامندی کے بغیردراھم ودنانیر تقسیم میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ دراہم میں کوئی شراکت نہیں اور تقسیم حقوق اشتراك میں سے ہےاس لئے بھی کہ اس سے تقسم برابری فوت ہوجاتی ہے۔اورجب زمین مع عمارت ہو توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك قیمت کے اعتبارسے تقسیم ہوگی کیونکہ اس کے بغیر برابری کااعتبارممکن نہیں۔ (ت)
اورروایت مذکورہ امام محمد کے بیان میں فرمایا:
اذا بقی فضل ولایمکن تحقیق التسویۃ بان لاتفی الوصیۃ بقیمۃ البناء حینئذ یردللفضل دراھم لان الضرورۃ فی ھذا القدر جب عمارت میں کچھ زیادتی باقی رہی اورزمین کی قیمت لگاکر بھی وصیت میں مساوات ممکن نہیں تواب وہ زیادتی بامر مجبوری دراھم سے لوٹائی جائے گی کیونکہ مجبوری فقط اتنی ہی مقدار
حوالہ / References الدرالمختار کتاب القسمۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۰€
الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۴€
#3626 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فلایترك الاصل الابھا وھذا یوافق روایۃ الاصل۔ میں ہے لہذا سوائے اس کے اصل کونہیں چھوڑاجائے گا۔اور یہ مبسوط کی روایت کے موافق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایقسم الجنسین بعضہما فی بعض لانہ لااختلاط بین الجنسین فلایقع القسمۃ تمییزابل تقع معاوضۃ وسبیلھا التراضی دون جبرالقاضی۔ دوجنسوں کی تقسیم میں بعض کو دوسری بعض میں داخل نہیں کیاجائے گا کیونکہ دوجنسوں میں اختلاط نہیں ہوتا تواس طرح تقسیم تمییز کے لئے نہیں بلکہ معاوضہ کے لئے واقع ہو گی اور اس کی صورت صرف باہمی رضامندی ہے نہ کہ جبر قاضی۔(ت)
تفریعات
(۶۱)فتوی۱ کاقول کہ اگر کوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت پررضامند ہوجائے توعدالت کولازم ہوگا کہ اس فریق کو قیمت دے دے لیکن کسی فریق کو اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا عدالت کے اختیارسے باہرہے ناقص وقاصر ہے ایك فریق کے رضامند ہونے سے عدالت کولازم درکنار جائزبھی نہیں کہ اسے قیمت دلادے جب تك دوسرافریق بھی قیمت دینے پرراضی نہ ہواسے قیمت لینے پرمجبورکرنا اختیارسے باہرہے تواسے قیمت دینے پرمجبورکرناکب اختیارمیں داخل ہے۔
(۶۲)فتوی۵ نے اس سے بھی زیادہ بے تکان کہاکہ مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے توہرچیز۶/۱ حصہ بجنسہ لے سکتی ہے اگرباختیار خودقیمت اپنے حصے کی فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔
(۶۳)طرفہ ترفتوی۱کایہ قول ہے کہ ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ تیسرے حصہ میں شاہ محمد کاحق اوردو حصے مسماۃ کاحق ہیں لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کودے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جو ان ظروف میں ہے وہ جائداد غیرمنقولہ سے پورا
حوالہ / References الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۱۵۔۴۱€۴
الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۲€
#3627 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کردیاجائے۔اب یہاں ایك فریق کی رضابھی شرط نہ رہی خود ہی حاکم کو مشورہ دیاجارہاہے کہ یوں کردو۔لطف یہ کہ یہاں اس سے سوال بھی نہ تھا سوال یہ تھا کہ ظروف وغیرہ کادیاجانا بھی درج وصیت ہے کیایہ جائزہےاس کاجواب یہ ہوتاہے جوپیش نظرہےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
افادہ حادیہ عشر
اجنبی کہ نہ وارث ہو نہ وصی اگرمیت کی تجہیزوتکفین بطورخود کرے تو اسے ترکہ میں رجوع کااختیارنہیں وہ اس کاتبرع ٹھہرے گا جب تك وارث کے اذن واجازت سے نہ ہوااوروارث کی اجازت بھی کافی نہیں جب تك اس کاامرنہ ہوا اورتحقیقا اس کاامربھی کافی نہیں جب تك واپسی کی شرط نہ کرلی ہو مثلا زیدنے وارث سے کہامیں اس کی تجہیزوتکفین کئے دیتاہوں جوخرچ ہوگا ترکہ سے لے لوں گا وارث نے سکوت کیازیدنے اس کہنے پرلوگوں کوگواہ کرلیا اوراپنے مال سے تجہیزوتکفین کی ایك حبہ واپس نہ پائے گا کہ یہ بلااذن وارث تھی یازیدنے وارث سے کہامیت میرادوست یا میرامعظم تھا میں چاہتاہوں کہ اس کی تجہیزوتکفین میں خود کروں اس نے کہااچھایاوارث ہی نے اس سے کہاکہ اگرتم اس کی تجہیزوتکفین کاثواب لیناچاہوتو تمہیں اجازت ہے اس نے کہامنظوردونوں صورتوں میں وارث کی اجازت ہوئی اوراختیار رجوع نہیں کہ بے امروارث ہےیاوارث نے کہا میت تمہارا دوست تھا یاتمہارا پیریااستاد تھا تم پربھی اس کاحق ہے اس کی تجہیزوتکفین تمہیں اپنے مال سے کرواس نے کہا بسرو چشماس میں وارث کابھی امرہوا اوررجوع نہیں کہ اس کی شرط نہ کی گئیہاں وارث نے کہاتم اس کی تجہیزوتکفین کردوجوخرچ ہوگا ترکہ سے تمہیں دے دیاجائے گاتواب بلاشبہہ اختیاررجوع ہے۔عیون پھرتاتاخانیہ پھرنہج النجاۃ پھر تنقیح الحامدیہ میں ہے:
اذا کفن الوارث المیت من مال نفسہ یرجع و الاجنبی لایرجع ۔ اگروارث نے میت کواپنے مال سے کفن پہنایا تورجوع کر سکتاہے ا وراجنبی ایساکرے تو رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھارافغانستان۲/ ۳۲۷€
#3628 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ردالمحتارمتفرقات البیوع مسئلہ تکفین میں ہے:
لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث اولم یشھد ولوکفن الوصی من مال نفسہ لیرجع کان لہ الرجوع۔ اگرغیروارث نے میت کووارث کے حکم کے بغیر اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارنہیں ہوگا چاہے وارث کوگواہ بنایاہویانہیں اوراگروصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارہوگا۔(ت)
مجمع الفتاوی پھرنورالعین پھرتنقیح مغنی المستفتی میں ہے:
امراحد الورثۃ انسانا بان یکفن المیت فکفن ان امرہ لیرجع علیہ یرجع کما فی انفق فی بناء داری وھو اختیار شمس الاسلام وذکرالسرخسی ان لہ ان یرجع بمنزلۃ امرالقاضی اھ قلت والتعلیل دلیل التعویل ثم التقدیم دلیل التقدیم ثم الاختیار من الفاظ الفتوی۔ اگروارثوں میں سے ایك نے کسی شخص کوکہاکہ وہ میت کو کفن پہنادے اوراس نے پہنادیا اب اگروارث نے اس کو رجوع کاکہا تورجوع کرسکے گاجیساکہ کوئی کسی کو کہے تو میرے گھرکی عمارت میں خرچ کروہی شمس الاسلام کا اختیار ہےاورامام سرخسی نے ذکرفرمایاکہ اس کوبمنزلہ امرقاضی رجوع کااختیارہے اھ میں کہتاہوں کہ تعلیل دلیل تعویل ہےپھر تقدیم دلیل تقدیم ہے پھر اختیارفتوی کے الفاظ میں سے۔(ت)
یہاں شرط رجوع درکنار امرزوجہ برکنار اجازت زوجہ کابھی ثبوت نہیں بلکہ ظاہریہی ہے کہ شاہ محمد نے بطور خود یہ تجہیزوتکفین کی موصی نے اسی کے گھرمیں وفات پائی اس کا اس کایارانہ تھا اوراس نے اس پراحسان کیاکہ اپنے دونوں مکان اورجملہ اسباب خانہ داری اپنی زوجہ سے چھڑاکر اس کووصیت کرگیا اوراس نے وصیت نامہ میں دوجگہ اس سے اپنی تجہیزوتکفین درخواست تھی اورسوال فتوائے دوم جس کی طرز ادابتارہی ہے کہ وہ شاہ محمدکامرتب کرایاہواہے
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھار افغانستان ۲/ ۳۲€۷
العقودالدریۃ بحوالہ مجمع الفتاوٰی کتاب الکفالہ ∞ارگ بازارقندھار افغانستان ۱/ ۰۳۔۳۰۲€
#3629 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اس میں یہ لفظ ہیں زید وصیت کرگیاکہ بعد میرے میری جائداد منقولہ غیرمنقولہ کامالك عمرو ہے میری تجہیزوتکفین بھی کرے گا اورﷲ میری ارواح بھی دے گا بعد وفات زیدعمرونے وصیت مذکورہ کو قبول کرکے ایفائے امورات ایصاء میں لگ گیا جس سے صاف واضح کہ یہ تجہیز وتکفین بربنا ئے درخواست ووصیت نامہ تھی نہ بربنائے امرعالم خاتونتوکوئی امرایساثابت نہیں جس سے یہ خرچ اسے واپس دلایاجائے بلکہ اس کے خلاف کاثبوت ظاہرہے توحکم واپسی نہیں ہوسکتا ثم اقول:یہاں ایك دقیقہ اورہے تجہیزوتکفین ضرورجمیع حقوق متعلقہ بہ ترکہ پرمقدم ہے
اما المتعلق بعین کالمرھون والمبیع المحبوس بالثمن ودارمستأجرۃ قدم اجرتھا وعین جعلھا مھرا والمقبوض بالبیع الفاسد فانہ اذامات الراھن اوالمشتری اوالاجر اوالزوج اوالبائع فی ھذہ الصور علی الولاء قدم حق المرتھن اوالبائع اوالمستاجر او المرأۃ اوالمشتری علی تجھیزالمیت فانما ذلك لتعلقھا بالمال قبل صیرورتہ ترکۃ کما فی الدر المختار وردالمحتار ۔ لیکن وہ حق جوعین سے متعلق ہے جیسے رہن رکھی ہوئی چیز وہ مبیع جوثمن کے بدلے روکاگیاہےوہ اجارہ کامکان جس کا کرایہ پیشگی اداکیاگیاہےوہ عین شیئ جس کومہر بنایاگیاہے اور وہ شیئ جس شیئ پربیع فاسد کے ذریعے قبضہ کیاگیا۔ان صورتوں میں اگرراہنمشتریآجرخاوندیابائع اسی حال پر مرگیا تومذکورہ حقوق یعنی مرتہنبائعمستاجربیوی یا مشتری کاحق تجہیزمیت پرمقدم ہوگا یہ اس لئے ہے کہ یہ حقوق مال کے ترکہ ہونے سے پہلے ہی اس سے متعلق ہوگئے ہیںجیسا کہ درمختاراورردالمحتارمیں ہے۔(ت)
مگریہ تقدیم تجہیزوتکفین کوہے نہ اس دین کوکہ بسبب تجہیزوتکفین عائد ہو وہ اگرہے تو مثل سائردیون ایك دین ہے نہ کہ اور جملہ دیون پر مقدم اولا: تمام علماء نے یبدأ بتجھیزہ(اس کی تجہیزسے ابتداء کی جائے گی۔ت)فرمایا ہے کہیں یبدأ بدین تجھیزہ(اس کی تجہیزکے قرض سے ابتداء کی جائے گی۔ت)بھی آیاہے۔
ثانیا: علماء نے اسے لباس حیات پرقیاس فرمایاہے کہ زندگی میں تن کے کپڑے دائن کو
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۲،€ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۴۔۴۸۳€
#3630 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
نہ دئیے جائیں گے یاکپڑوں کی حاجت ہے تو اس قدردین میں نہ دیں گےشریفہ میں فرمایا:
انما کان قضاء الدین مؤخرا عن الکفن لانہ لباسہ بعد وفاتہ فیعتبربلباسہ فی حیاتہ الاتری انہ یقدم علی دینہ اذلایباع ماعلی المدیون من ثیابہ مع قدرتہ علی الکسب ۔(ملخصا) بیشك قرض کی ادائیگی کفن سے مؤخر اس لئے ہے کہ کفن مرنے کے بعد میت کالباس ہےلہذا اس کو اس کی زندگی کے لباس پرقیاس کیاجائے گا کیانہیں دیکھتے ہوکہ زندگی میں لباس قرض پر مقدم ہوتاہےاس لئے کسب کی قدرت رکھنے والے مدیون کے کپڑے فروخت نہیں کئے جاتے۔(ملخصا)(ت)
اورپرظاہرکہ زیدکے مدیون نے اگرعمرو سے قرض لے کرکپڑے بنائے توعمروکوزید پرکوئی ترجیح نہ ہوگی دونوں دین یکساں ہوں گے دین پرتقدم لباس کوتھی نہ کہ دین لباس کو شرع میں اس کی کہیں اصل نہیں توواجب کودین تکفین بھی دیگر دیون پر اصلا مقدم نہ ہوبلکہ کفن دہندہ اسوہ غرباء ہو۔درمنتفی پھر ردالمحتارمیں ہے:
الاصل ان کل حق یقدم فی الحیاۃ یقدم فی الوفاۃ اھ ویضم منہ علی العرف الفقھی ان مالایقدم فی الحیاۃ لایقدم فی الوفاۃ۔ اصل یہ ہے کہ جوحق زندگی میں مقدم ہوتاہے وہ موت میں بھی مقدم ہوتاہے اھ اورعرف فقہ میں اس کے ساتھ یہ ضابطہ ملایاجاتاہے کہ جوزندگی میں مقدم نہ ہو وہ وفات میں بھی مقدم نہیں ہوتا۔(ت)
ثالثا: علماء اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ میت کوبرہنہ رکھناجائزنہیں کہ تعظیم مسلمان مردہ و زندہ کی یکساں ہے۔تبیین الحقائق میں فرمایا:
المرء یقدم نفسہ فی حیاتہ فیمایحتاج الیہ من النفقۃ والسکنی والکسوۃ علی اصحاب الدیون فکذا انسان اپنی ذات کوزندگی میں اپنی ضروری حاجات یعنی نفقہ سکونت اورلباس میں قرضخواہوں پرمقدم رکھتاہے اسی طرح وفات
حوالہ / References الشریفۃ شرح السراجیہ خطبۃ الکتاب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص€۵
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت∞۵/ ۴۸۴€
#3631 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
بعد وفاتہ یقدم تجھیزہ وھو محترم حیاومیتا فلا یجوز کشف عورتہ و فی الاثر لعظام المیت من الحرمۃ مالعظام الحی ۔(ملخصا) کے بعد اس کی تجہیزوتکفین کومقدم رکھاجائے گا انسان زندہ و مردہ دونوں حالتوں میں محترم ہے لہذا اس کوبرہنہ کرنا جائز نہیںحدیث میں ہے میت کی ہڈیوں کااحترام وہی ہے جو زندہ کی ہڈیوں کاہے۔ملخصا(ت)
اورپرظاہرکہ یہ علت نفس تجہیزمیں ہے نہ دین تجہیزمیں۔
رابعا: علماء فرماتے ہیں یہاں دوچیزیں ہیں:حق للمیت اور وہ تجہیزہےاور حق علی المیت اور وہ دین ہےاوراول ثانی پرمقدم ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم میں فرماتے ہیں:
اعلم ان الحقوق المتعلقۃ بالترکۃ ھنا خمسۃ بالاستقراء لان الحق اما للمیت اوعلیہ اولاوالاول التجہیزوالثانی الدین الخ۔ توجان لے کہ بیشك میت کے ترکہ سے متعلق حقوق بطور استقراء پانچ ہیں اس لئے کہ حق یاتو میت کے لئے ہوگا یا اس پر ہوگا یاایسانہیں ہوگا بصورت اول تجہیزہے اوربصورت ثانی قرض الخ(ت)
ظاہرہے کہ دین تجہیزمثل سائردیون حق علی المیت ہے نہ کہ حق للمیتتومرتبہ دیون ہی میں ہوگا نہ مرتبہ تجہیزمیں۔
خامسا: جس طرح یہ دین حاجت سترکے لئے تھا اور بہت دیون بھی آدمی اپنے کھانے پینے پہننے رہنے وغیرہاحاجات اصلیہ کے اپنی حیات میں لیتاہےتوشیئ اپنے مثل پرکیسے مقدم ہوسکتی ہےیوں ہی مہرمثل بھی وہ دین کہ حاجت اصلیہ کے سبب لازم آتاہے۔ ھدایہ باب اقرارالمریض میں ہے:
النکاح من الحوائج الاصلیۃ وھو بمھرالمثل ۔ نکاح حاجات اصلیہ میں سے ہے اور وہ مہرمثل کے ساتھ ہوتاہے۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر۶/ ۳۰۔۲۲€۹
الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین)∞سہیل اکیڈمی لاہور۲/ ۱۹€۳
الہدایۃ کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۴۰€
#3632 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
تودین تجہیز اس پرمقدم ہونے کے کوئی معنی نہیں فقیر نے جدالممتارمیں اس مسئلہ کااستظہار کیاتھا اوراب یہ اس کی تحقیق تام ہے وباﷲ التوفیق عبارت اس کی یہ ہے:
ونصوا علی ان الوصی اوالوارث اذا کفن من مال نفسہ کفن المثل یرجع فی الترکۃ ویظھر لی انہ یکون المکفن حینئذاسوۃ للغرباء لاتقدیم لحقہ علی حقوقھم وان کان دینہ لاجل التکفین فان تقدیم التجھیز کان لحاجۃ المیت اعتبارا بحالۃ الحیاۃ وقد اندفعت حاجتہ ولم یبق الااداء الدین فیکون کمثل سائر الدیون الاتری ان المدیون ان کان محتاجا الی اللباس یقدم علی اداء الدیون وان البسہ رجل من مال نفسہ شارطا علیہ الرجوع کان کاحد الدائنینوایضا ربما یستدین الرجل فی حیاتہ لاکلہ وشربہ و مالابدمنہفالذی ادانہ لھذا کیف یتأخر عن الذی ادانہ لمثل الحاجۃ بعد الموتواﷲ تعالی اعلم۔ اھ۔ مشائخ نے اس پرنص فرمائی کہ وصی یاوارث جب اپنے مال میں سے میت کومثلی کفن پہنادے تووہ ترکہ میں رجوع کرے گا۔میرے لئے یہ بات ظاہرہوئی ہے کہ اس صورت میں وہ کفن دینے والاباقی غرباء کے مساوی ہوگا دوسروں کے حق پر اس کاحق مقدم نہ ہوگا اگرچہ اس کایہ قرض تکفین کی وجہ سے ہے کیونکہ تجہیزکومقدم کرنا میت کی حاجت کے لئے اس کی زندگی کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔اورتحقیق وہ حاجت پوری ہوچکی اورنہ باقی رہا مگرقرض کااداکرنا تو وہ مثل باقی قرضوں کے ہوگیا۔کیاتونہیں دیکھتا کہ مقروض جب لباس کا محتاج ہوتو وہ قرض کی ادائیگی پرلباس کو مقدم رکھتاہے۔ اور اگرکوئی شخص اپنے مال سے اس کو لباس پہنادے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس پررجوع کرلے گا تو وہ دیگر قرضخواہوں میں سے ایك ہوجائے گا نیزبسااوقات کوئی شخص اپنی زندگی میں کھانے پینے اوردیگر ضروری اشیاء کے لئے قرض لیتاہے تو جس شخص نے ان ضروریات کے لئے قرض دیاوہ اس شخص سے کیسے متأخرہوگا جس نے موت کے بعد ایسی ہی حاجت کے لئے اس کو قرض دیااوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References جدالممتارعلی ردالمحتار
#3633 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
تو اگرشاہ محمدبامرزوجہ بشرط رجوع تجہیزوتکفین کرتاجب بھی غایت درجہ میں دین مرتبہ دین میں رہتا نہ کہ مرتبہ تجہیزوتکفین میں ہوکرمہروغیرہ دیون پرمقدم ہوجاتاکہ یہ محض بلاوجہ بلکہ بے معنی ہے۔
ومن ادعی فعلیہ البیان ولایستطیع الی ان یؤب القارظان۔ جودعوی کرے دلیل بیان کرنا اس کے ذمے ہے اوروہ دلیل نہیں لاسکے گا یہاں تك کہ سلم کے پتے چننے والے واپس آئیں(ت)
تفریعات
(۶۴۶۵)فتوی۱ کاقول تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہ پڑے گا۔
(۶۶۶۷)فتوی ۵ کاقول خرچ دفن کرنے کا چھ سات روپے تك آخر دس روپے تك اس کا بار فریقین پرہے۔
(۶۸۶۹)فتوی۷ کاقول جمیع متروکہ میں سے سب سے اول تجہیزکاخرچ نکال لیاجائے گا نیزاس کاقول وصیت اگربعوض دین مہر ہوتو تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنی نہ ہوں گے الخ سب دودووجہ سے غلط ہیں اولا بلاثبوت موجوب رجوع بلکہ بعدظہور مانع رجوعحکم رجوع دیناثانیا اسے مرتبہ تجہیزوتکفین میں رکھنا۔
(۷۰)فتوی۷ کاقول اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین اپنے مال سے بلااطلاع وبلااجازت مدعیہ کی ہے اس کابار صرف مدعاعلیہ کے مال پرہوگااورباجازت مدعیہ اپنے مال سے کی ہے یامتوفی کے ترکہ سے تو اس کابار متوفی کے تمام ترکہ پرہوگابھی صحیح نہیں فقط اجازت مدعیہ رجوع کے لئے کافی نہیں طرفہ یہ کہ شق اول میں بلااطلاع کالفظ بڑھادیا جو اس کاموہم کہ صرف باطلاع وارث ہونا ہی رجوع کوبس ہے۔
افادہ ثانیہ عشرجامع فوائد غرر
فائدہ۱۳:ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالی عنہم کااصل مذہب یہ ہے کہ اصحاب فرائض میں کہ۱ زوجین پرردنہیں ان کے فرض سے جو بچے اورکوئی ۲عصبہ نسبی و۳سببی نہ ہو توباقیماندہ ۴ذوی الارحام کودیں گےوہ ۵نہ ہوں تومولی الموالاۃ کو۶وہ نہ ہوتومقرلہ بالنسب علی الغیرکو۷وہ نہ ہوتو موصی لہ بالزائد
#3634 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کو۸وہ نہ ہو یا اسے دے کربھی بچے تووہ باقی فقراء مسلمین کاحق ہے مسلمانوں کے بیت المال میں رکھیں مثل تمام اموال ضائعہ کے جن کا کوئی مالك وارث نہ ہو ان تمام مراتب اوران کی ترتیب میں ائمہ وعلمائے حنفیہ کرام متقدمین ومتاخرین کسی کو اصلا خلاف نہیں جمیع کتب سلف وخلف میں آج تك برابر اسی طرح لکھتے اوراسی پرعمل کرتے فتوے دیتے آئے اورجبکہ ترتیب مراتب کے یہ معنی ہیں کہ محل استحقاق رتبہ متقدمہ میں رتبہ متاخرہ کونہ دیاجائے گابلکہ وہ اس وقت پائے گا کہ رتبہ متقدمہ موجودنہ ہو جیسے جمیع صورمیں یا اس کے حق کے بعد بھی کچھ باقی بچے جیسے اصحاب فرائض وعصبات یااحدالزوجین ومراتب نازلہ یاموصی لہ بالزائد دون الکل وبیت المال میں اوربیت المال کاکوئی حصہ معین نہیں کہ اس کے بعد کچھ بچے نہ زمان برکت نشان سلف میں اس کے عدم کی صورت تھی لہذا ائمہ متقدمہ نے اسے آخرالمراتب رکھازمانہ متاخرین میں جبکہ بیت المال فاسد ہو اورفاسد مثل معدوم ہے تواب بیت المال آخرالمراتب نہ رہا اورصورت یہ پیداہوئی کہ ۴ذوی الارحام نہ ہوں تو۵مولی الموالاۃ کو۶وہ نہ ہوتو مقرلہ کووہ نہ ہوتو ۷موصی لہ بالزائدکووہ نہ ہوتو۸بیت المال کواوروہ بھی نہ ہوجیسے زمانہ متاخرہ میں تواب کس کو۔
اس کے لئے ائمہ متاخرین نے ۹نواں مرتبہ ردعلی الزوجین نکالاا ورزوجین بھی نہ ہوں تو۱۰بنات معتق کووہ بھی نہ ہوں تومعتق کے ۱۱ذوی الارحام کووہ بھی نہ ہوں تومیت کے اولادرضاعی کوکوئی عاقل نہ کہے گاکہ ان مراتب اربعہ کے احداث سے علماء متاخرین اس ترتیب مجمع علیہ مراتب سابقہ کوتوڑنا چاہتے ہیں حاشا اس پرتوہمارے تمام علماء کاقطعی اجماع بلانزاع ہے بلکہ از انجا کہ مرتبہ اخیرہ اب مرتبہ اخیرہ نہ رہا اس کے بعد اورمراتب بڑھاتے ہیں تویہ چاروں مراتب جدیدہ بالیقین بیت المال منتظم سے مؤخرہیںاوربیت المال منتظم موصی لہ بالزائد سے مؤخرہے توقطعا یقینا یہ چاروں مراتب موصی لہ بالزائد سے بدرجہا مؤخر ہیںعلماء نے جس طرح ردعلی الزوجین کامرتبہ نکالایہ تینوں مراتب بنات معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی بھی نکالےنہایہ پھرتبیین الحقائق پھراشباہ والنظائرپھر منح الغفارپھردرمختارکتاب الولاء میں ہے:
واللفظ لہ لومات المعتق ولم یترك الاابنۃ معتقہ فلاشیئ لھا ویوضع مالہ فی بیت المال ھذا ظاھر الروایۃ وذکر الزیلعی معزیاللنھایۃ ان اورلفظ درمختارکے ہیں کہ اگرمعتق مرگیا اورسوائے معتق کی بیٹی کے اس کے پسماندگان میں کوئی نہیں تو اس کوکچھ نہیں ملے گااورمعتق کامال بیت المال میں رکھ دیاجائے گایہ ظاہر الروایۃ ہےاورزیلعی نے نہایہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے
#3635 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
بنت المعتق ترث فی زماننا لفساد بیت المال وکذا ما فضل عن فرض احد الزوجین یرد علیہ وکذا المال یکون للابن اوالبنت رضاعاکذا فی فرائض الاشباہ واقرہ المصنف وغیرہ ۔ ذکرکیاکہ معتق کی بیٹی ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے وارث ہوگی یونہی زوجین میں کسی ایك کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پررد کردیاجائے گا۔اوراسی طرح ترکہ کامال رضاعی بیٹے یابیٹی کو ملے گا۔الاشباہ کی کتاب الفرائض میں یونہی ہےاورمصنف وغیرہ نے اس کو برقراررکھاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ومثلہ فی الذخیرۃ قال وھکذا کان یفتی الامام ابو بکر البرزنجری والقاضی الامام صدر الاسلام لانھا اقرب الی المیت من بیت المال فکان الصرف الیھا اولی اذلوکانت ذکرا تستحق المالقولہ ترث فی زماننا عبارۃ الزیلعی یدفع المال الیھا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت حقولہ وکذا مافضل الخ عزاہ فی الذخیرۃ الی فرائض الامام عبد الواحد الشھیدقولہ للابن اوالبنت رضاعا عزاہ فی الذخیرۃ الی محمد رحمہ اﷲ تعالی ۔ اسی کی مثل ذخیرہ میں فرمایاا ورایسے ہی فتوی دیتے تھے امام ابوبکر البرزنجری اورقاضی امام صدرالاسلام۔کیونکہ معتق کی بیٹی بیت المال کی بنسبت میت کے زیادہ قریب ہے۔چنانچہ مال کو اس کی طرف پھیرنااولی ہےکیونکہ اگروہ مذکرہوتی تو مال کی مستحق ہوتی۔ماتن کاقول"وہ ہمارے زمانے میں وارث بنے گی"۔زیلعی کی عبارت ہے اس کو مال بطورمیراث نہیں دیاجائے گا بلکہ اس لئے دیاجائے گا کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے ح۔ماتن کاقول"اوریونہی جوبچ جائے الخ"اس کو ذخیرہ میں فرائض امام عبدالواحد شہید کی طرف منسوب کیاہے۔ماتن کاقول"رضاعی بیٹا یابیٹی"اس کو ذخیرہ میں امام محمدعلیہ الرحمہ کی طرف منسوب کیاہے۔ (ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الولاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۴€
ردالمحتار کتاب الولاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۷۶€
#3636 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الرحیق المختوم میں ہے:
بنت المعتق فلاشیئ لھا فی ظاھرالروایۃ وافتی بعضھم بدفعہ لھا لکن لابطریق الارث بل لکونھا اقرب الناس الیہ بل ولذی ارحامہ بل وللولد رضاعا کما یرد علی الزوجین فی زماننا کما فی القنیۃ والزیلعی عن النھایۃ والاشباہ اقرہ فی المنح وسکب الانھر۔ ظاہرالروایہ میں معتق کی بیٹی کے لئے کچھ نہیںاوربعض مشائخ نے اس کو دینے کافتوی دیاہے لیکن بطور میراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے زیادہ قریب ہے بلکہ معتق کے ذوی الارحام بلکہ اس کی رضاعی اولاد کو دینے کابھی فتوی دیاہے جیساکہ ہمارے زمانے میں زوجین پر رد کیاجاتاہے۔جیساکہ قنیہزیلعی بحوالہ نہایہاورالاشباہ میں ہے اسی کو برقراررکھاہے منح اور سکب الانہرنے۔(ت)
کیاکوئی عاقل وہم کرسکتاہے کہ یہ مراتب موصی لہ بالزائد پرمقدم ہیں زیداگر اپنے کل مال کی وصیت عمرو کے لئے کرجائے اورکوئی وارث نہ رکھتا ہوایك لڑکی ہو جس نے اس کی زوجہ کادودھ کہ اس سے تھا پیاہے توزید کی وصیت نافذ نہ کریں گے اورثلث سے زائد اس دودھ کی لڑکی کودے دیں گے یہ بلاشبہہ باطل ومردود وخلاف اجماع ہے یہ سب مراتب جدیدہ اس امرمیں یکساں ہیں کہ سب مرتبہ اخیرہ کے بعد رکھے گئے ہیں۔
فائدہ۱۴:اقول:زیادت علی الثلث میں موصی لہ کاحق صرف وارث سے مؤخرہے اور غیروارث پرمقدمولہذا بیت المال پر مقدم ہے کہ بیت المال ہمارے نزدیك وارث نہیں۔علامہ سیدشریف شرح سراجیہ پھرعلامہ شیخی زادہ مجمع الانہر پھرعلامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں:
اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فتکمل لہ وصیتہ لان منعہ عمازاد علی الثلث کان لاجل جب وہ معدوم ہوجائیں جن کاپہلے ذکرہوا تو پھر اس سے ابتداء کی جائے گی جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی۔ چنانچہ اس کی وصیت پوری کردی جائے گی اس لئے کہ
حوالہ / References الرحیق المختوم شرح قائد المنظوم(رسائل ابن عابدین)∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۲۱۸€
#3637 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الورثۃ فاذالم یوجد منھم احد فلہ عندنا ماعین لہ کملاوانما اخرذلك عن المقرلہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت کاممنوع ہونا وارثوں کی وجہ سے تھا جب ان میں سے کوئی موجودنہیں توہمارے نزدیك موصی لہ کومکمل طورپر وہ دے دیں گے جس کی تعیین اس کے لئے موصی نے کی ہے۔موصی لہ اس شخص سے مؤخراس لئے ہے کہ جس کے لئے میت نے نسب کااقرارکیاہے کہ اقراروالے کو ایك قسم کی میت سے قرابت حاصل ہے بخلاف موصی لہ کے۔(ت)
اوران مراتب اربعہ جدیدہ کودیاجانا بطورارث نہیں تو واجب کہ موصی لہ بالزائد ردعلی الزوجین وباقی مراتب ثلثہ پرمقدم ہو۔
امام فخرالدین زیلعی تبیین میں فرماتے ہیں:
لومات المعتق ولم یترك الا ابنۃ المعتق فلاشیئ لبنت المعتق فی ظاھر الروایۃ اصحابنا ویوضع مالہ فی بیت المال وبعض مشائخنا کانوا یفتون بدفع المال الیہا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت فکانت اولی من بیت المال الاتری انھا لوکانت ذکراکانت تستحقہ ولیس فی زماننا بیت المال ولو دفع الی السلطان اوالی القاضی لایصرفہ الی المستحق ظاھرا وعلی ھذا مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ لانہ اقرب اگرمعتق مرگیا اورمعتق کی بیٹی کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑا تو ظاہرالروایہ میں ہمارے اصحاب کے نزدیك معتق کی بیٹی کو کوئی شے نہیں ملے گی اورسارا مال بیت المال میں رکھ دیا جائے گاہمارے بعض مشائخ معتق کی بیٹی کومال دینے کافتوی دیتے تھے مگربطورمیراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے لہذا وہ بیت المال کی بنسبت اولی ہے۔کیاتم دیکھتے نہیں کہ اگر وہ مذکر ہوتی تومال کی مستحق ہوتی۔اورہمارے زمانے میں بیت المال نہیں ہے اوراگروہ مال بادشاہ یاقاضی کودیاجائے توبظاہر مستحق پرخرچ نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۸،€مجمع الانہر شرح ملتقی الابہر کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۷۴۸،€الشریفیۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۱€
#3638 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الناس الیہ ولایوضع فی بیت المال وکذا الابن والبنت من الرضاع یصرف الیھما اذا لم یکن ھناك اقرب منھما ذکرھذہ المسائل فی النھایۃ۔ پررد کیاجاتاہے کیونکہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے اوروہ بچاہوامال بیت المال میں نہ رکھاجائے گااسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف مال کولوٹایاجائے گا اگر وہاں ان سے بڑھ کر کوئی قریبی موجودنہ ہویہ مسائل نہایہ میں مذکورہیں۔(ت)
یہ کلام فہیم کے لئے نص صریح ہے کہ ردعلی الزوجین وراثۃ نہیں بلکہ اسی طرح ہے جیسے مفاسد بیت المال فاسد سے بچنے کورضاعی اولاد کودیاجاتاہے نیز اس پردلیل انہیں امام جلیل کا ارشادہے کہ اصحاب ردپرردبجہت عصوبت ہے۔
حیث قال الاخذ بطریق الرد لیس بفرض وانما ھو بطریق العصوبۃ۔ جہاں فرمایا بطورردلینا یہ فرض کے طورپرنہیں بلکہ عصبہ کے طورپرہے۔(ت)
اورظاہرہے کہ زوجیت عصوبت نہیںنیزانہیں کاارشادہے:
الرد علی ذوی السھام اولی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت۔ ذوی الفرض پررد کرنا ذوی الارحام سے اولی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرب رکھتے ہیں سوائے زوجین کے اس لئے کہ ان دونوں کی میت سے کوئی قرابت نہیں۔(ت)
نیزامام اجل نسفی کاشرح وافی میں ارشاد:
الردباعتبارالرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم۔ ردقرابت کے اعتبارسے ہے یہاں تك کہ زوجین پرقرابت کے نہ ہونے کی وجہ سے ردنہیں کیاجاتا۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الولاء المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۷€۸
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۷€
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
الکافی شرح الوافی
#3639 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
لاجرم رحیق المختوم میں تصریح فرمائی:
ان الرد انما یستحق بالرحم والزوجان لیسا بذوی رحم فلذا استثناھماوقیل یرد علیھما لفساد بیت المال و قدمنا فی عصبۃ العتق ان ذلك لابطریق الارث۔ (ملخصا) بیشك رد کا استحقاق قرابت کی وجہ سے ہے زوجین چونکہ قرابت نہیں رکھتے اس لئے وہ دونوں مستثنی ہیں۔اورکہاگیاہے کہ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پر رد کیا جائے گاا ورہم معتق کے عصبہ میں بیان کرچکے ہیں کہ وہ بطور میراث نہیں۔ملخصا(ت)
توزوجین کہ باہم اجنبی ہوں اور کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوں ان پرردبجہت ارث نہیں ہوسکتا اور اسے ارث ٹھہرانا کتاب اﷲ پرزیادت ہےتو وہ نہیں مگر اسی وجہ مذکور اولاد رضاعی پراورموصی لہ کامانع نہ تھا مگر حق ارث تو ردعلی الزوجین اس کامانع نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے مؤخر رہناواجبوھو المقصود والحمدﷲ الودود۔
فائدہ۱۵:اقول:ردعلی الزوجین اگرمرتبہ میں فرض کیاجائے تو ردکی چارصوتوں سے جن پرمتقدمین متاخرین سب کی کتب اجماع کئے ہوئے ہیں دومنسوخ ہوجائیں کہ اب ذوی الفروض میں من لایردعلیہ کوئی نہ رہا مرد مرے اورایك زوجہ ایك دختر چھوڑے توجمیع کتب متقدمین ومتاخرین حنفیہ میں مسئلہ آٹھ سے کرتے ہیں ایك زوجہ کاکہ صرف اس کافرض ہے اورسات دختر کے چارفرضا اورتین رداہم بہت شکرگزارہوں گے اگرکسی متاخرسے متأخر حنفی معتمد مثلا علامہ طحطاوی یاعلامہ شامی وغیرہما کسی کے کلام میں دکھادیں کہ صورت مذکورہ میں زوجہ ودخترکونصف نصف دلایاہواگرکہئے زوجین پررد ہے تومگر ذوی الفروض النسبیہ پررد سے مؤخرہے یعنی وہ ہوں توانہیں پررد ہوگا نہ ان پرتو اسی کی سند کسی معتمد اگلے پچھلے کے کلام سے دکھائیے جب مذہب منسوب باامیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ لیاگیا اورعول پرقیاس کیاگیا اوراسی زعم پرعدم رد کے خلاف روایت ودرایت بتایاگیا تووجہ تفرقہ کیا۔
فائدہ۱۶:اقول:نہ سہی اگرردعلی الزوجین کومتاخرین نے مرتبہ ردمیں رکھاہے توآخر کسی متاخر نے ذوی الارحام پرمقدم کیاہوگا کہ باجماع حنفیہ رد ان پرمقدم ہے اسی کی تصریح
حوالہ / References الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین)باب الرد ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۲۳۰€
#3640 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کسی متاخر سے متاخر حنفی معتمد کے کلام میں دکھادیجئے کہ آدمی مرے اور زوجہ یازوج اورحقیقی نواسا نواسی بھتیجی بھانجا بھانجی چھوڑے تو سارامال زوج یازوجہ کوملے گانواساکچھ نہ پائے گا اورکیونکر دکھاسکتے ہیں کہ وہ اجماع حنفیہ کے خلاف ہے۔امام نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
اجمعوا علی ان ذوی الارحام لایحجبون بالزوج والزوجۃ ای یرثون معھما فیعطی الزوج والزوجۃ نصیبہ ثم یقسم الباقی بین ذوی الارحام کما لو انفرد وامثالہ زوج وبنت بنت وخالۃ وبنت عم فللزوج النصف والباقی لبنت البنت۔ مشائخ کااس پراجماع ہے کہ ذوی الارحام خاوند اوربیوی کی وجہ سے محروم نہیں ہوتے یعنی ان دونوں کی موجودگی میں وارث بنتے ہیں چنانچہ خاوند یابیوی کوفرضی حصہ دے کرباقی ذوی الارحام میں تقسیم کردیاجائے گا جیساکہ ان کے منفرد ہونے کی صورت میں کیاجاتااس کی مثال یہ ہے کہ کوئی عورت فوت ہوئی اوراس نے یہ ورثاء چھوڑے خاوندنواسیخالہ اور چچاکی بیٹی تو اس صورت میں نصف خاوندکوملے گا باقی نواسی کو ملے گا۔(ت)
اس مسئلہ بدیہیہ میں تشکیك کرنے والے اگراپنے ہی کارنامے یاد کریں توغالبا ایسابے معنی فتوی کبھی نہ دیا ہوگا بلکہ ہمیشہ فرض احدالزوجین دلاکر باقی نواسے وغیرہ کوپہنچایاہوگا۔
فائدہ۱۷:اقول:اگلی کارروائیاں یاددلانے کی کیاحاجتاورممکن کہ بہتوں کوکبھی مسئلہ ذوی الارحام کااتفاق ہی نہ ہواہواب حال کے یہی فتاوی نہ دیکھے جوکہ مقدمہ میں پیش نظر ہیںفتوی اولی میں ہے اگرمتوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دارموجودنہ ہو تو بعدادائے حصہ وصیت جس قدر بچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔فتوی سوم میں ہے بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے زوجہ پرردکیاجائے گا۔فتوی ششم میں ہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتو بچاہوا ترکہ احدالزوجین کو دے دیں گے۔ فتوی سوم ششم وہشتم نے اس پرعبارت بھی نقل کی ہے:
الرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما۔ زوجین پررد اس صورت میں ہوگا جب ان کے ماسوا اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہو۔(ت)
حوالہ / References الکافی شرح الوافی
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
#3641 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مگر نسی ماقدمت یداہ کا کیاعلاج۔
فائدہ۱۸:تمام کتب شاہد ہیں کہ اس فتوی متاخرین کی علت فساد بیت المال ہے کہ عبارات سابقہ سے واضح اورخود ان خلافی فتووں نے نادانستہ اسے باربار نقل کیا۔فتوی سوم وششم و ہفتم سب میں بحوالہ ردالمحتارقنیہ سے ہے:
یفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۔ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررد کافتوی دیاجائے گا۔(ت)
نیزان میں بحوالہ شامی محقق علامہ تفتازانی سے ہے:
افتی کثیر من المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام۔ بہت سارے مشائخ نے زوجین پررد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ پیشوابگڑچکے ہیں۔(ت)
نیزان سب میں بحوالہ درمختاراشباہ سے ہے:
یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال ۔ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررد کیاجائے گا۔(ت)
اﷲ عزوجل عافیت بخشے ہرتھوڑی عقل والابھی ان عبارات کوبنگاہ اولین دیکھتے ہی فورا سمجھ لیتاکہ زوجین پررد اس عارض کے سبب ضرورۃ ماناہے اگریہ عارض نہ ہو یعنی بیت المال منتظم ہو توباقیماندہ اسی میں رکھاجائے گا اورزوجین پررد نہ کیاجائے گا تورد علی الزوجین موصی لہ بالزائد سے دومرتبہ مؤخر ہوانہ کہ زبردستی اس پرمقدم کردیاجائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(بلندی اورعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرنہ کسی کوگناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ نیکی کرنے کی قوتہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
فائدہ۱۹:اقول:شافعیہ رحمہم اﷲ تعالی کے نزدیك بیت المال وارث ہے ولہذا وہ بحالت عدم عصبہ اصحاب فرائض نسبیہ پربھی رد نہیں کرتے بعد کے مراتب ذوی الارحام ومولی الموالاۃ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
#3642 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ومقرلہ وموصی لہ بالزائد کاکیاذکرہےتو ان کے نزدیك مستحقین صرف چارہیںاصحاب فرائض پھرعصبات نسبیہ پھرسببیہ پھر بیت المال۔کافی میں ہے:
مافضل عن فرض ذوی الفروض ولامستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم الاعلی الزوجین عندنا وھوقول عامۃ الصحابۃ رضوان اﷲ تعالی علیھموقال زید الفاضل لبیت المال ولایردعلیھم و بہ قال مالك والشافعی رحمھم اﷲ تعالی وقیل مسألۃ الرد مبنیۃ علی مسألۃ ذوی الارحام اذالرد باعتبار الرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم و عند مالك والشافعی رحمھما اﷲ تعالی لم یستحق ذووالارحام شیئا ومصب المال بیت المال فکذا الفاضل عن فرض ذوی الفروض مصبہ بیت المال اھ اقول:وعندی الاظھر عکسہ ای تبنی مسألۃ ذوی الارحام علی مسألۃ الرد فان قرابۃ ذوی السھام اقوی فلما تعارض عندھما بیت المال و ذوی الفروض سے جوکچھ بچ جائے اوراس کاکوئی مستحق نہ ہو تو ہمارے نزدیك زوجین کے علاوہ ذوی الفروض پران کے حقوق کے برابر ردکیاجائے گا یہی قول عام صحابہ کرام کا ہے رضی اﷲ تعالی عنہم۔حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جوبچ گیا وہ بیت المال کاہے ذوی الفروض پر ردنہیں کیاجائے گااوریہی فرمایا امام شافعی اورامام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہما نے۔اورکہاگیاہے کہ ردکامسئلہ ذوی الارحام کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ردقرابت ورشتہ داری کے اعتبار سے ہوتا ہے یہاں تك کہ رشتہ داری نہ ہونے کی وجہ سے زوجین پررد نہیں کیاجاتا امام مالك اورامام شافعی رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك ذوی الارحام کسی شیئ کے مستحق نہیں اورمال رکھنے کی جگہ بیت المال ہےیونہی جوذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچ گیا اس کورکھنے کی جگہ بھی بیت المال ہے اھ۔میں کہتا ہوں میرے نزدیك زیادہ ظاہر اس کاعکس ہے یعنی ذوی الارحام کامسئلہ رد کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ذوی الفروض کی قرابت زیادہ قوی ہے توجب وہ امام
حوالہ / References الکافی شرح الوافی
#3643 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
قدم علی الرد علیھم لم تعارضہ قرابۃ ذی الرحم الاولی وکانہ رحمہ اﷲ تعالی لذا عبرہ بقیل۔ شافعی اورامام مالك کے نزدیك بیت المال کے معارض ہے تو بیت المال ذوی الفروض پررد سے مقدم ہوگیاذوی الارحام کی قرابت بدرجہ اولی مزاحم نہیں ہوگی گویامصنف علیہ الرحمہ نے اسی واسطے اسے قیل سے تعبیرفرمایاہے۔(ت)
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی شافعی میں ہے:
اسباب التوریث القرابۃ والنکاح والولاء والاسلام اھ فالقرابۃ لذی سھم والعصبۃ النسبیین والنکاح لذی السہم السببی والولاء للعصبۃ السببیۃ و الاسلام لاھل بیت المال۔ وارث بننے کے اسباب قرابتنکاحولاء اوراسلام ہیں پس قرابت تونسبی ذوی الفروض اورنسبی عصبہ کے لئے ہے اور نکاح سببی ذوی الفروض کے لئے ہے اورولاء سببی عصبہ کے لئے ہے اوراسلام بیت المال والوں کے لئے ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قلنا لایرد علی اصحاب الفروض ولایورث ذو والارحام۔ ہم کہتے ہیں کہ ذوی الفروض پرردنہیں کیاجائے گا اورنہ ذوی الارحام کووارث بنایاجائے گا۔(ت)
مگرفساد بیت المال کے وقت وہ بھی ردعلی اصحاب الفروض النسبیہ اوران کے بعد توریث ذوی الارحام کے قائل ہوئے ہیں اور اس کی علت وہی فساد بیت المال بتاتے ہیںسیدعلی السراجی میں ہے:
عندالشافعیۃ ان بیت المال ان کان منتظما یقدم علی ذوی الارحام والرد وان لم ینتظم ردا ولاعلی ذوی الفروض النسبیۃ بنسبۃ فرائضھم ثم یصرف شافعیہ کے نزدیك بیت المال اگرمنتظم ہوتو وہ ذوی الارحام اور رد پرمقدم ہوتاہے اوراگروہ منتظم نہ ہوتو پھر اولا نسبی ذوی الفروض پران کے فرضی حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا پھر ذوی الارحام کی طرف پھیراجائے گا ان کے
حوالہ / References انوارلاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃا لجمالیہ ∞مصر ۲/ ۲€
انوارلاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃا لجمالیہ ∞مصر ۲/ ۳€
#3644 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الی ذوی الارحام ولامیراث عندھم اصلا لمولی الموالاۃ ولاللمقرلہ بالنسب علی الغیر ولاللموصی یجمع المال۔ نزدیك مولی موالاۃ اورنسب کے اقراروالے شخص اورکل مال کے موصی لہ کے لئے کوئی میراث نہیں۔(ت)
تبیین میں ہے:
ان کثیرامن اصحاب الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ منھم ابن سریج خالفوہ وذھبوا الی توریث ذوی الارحام وھو اختیار فقہائھم للفتوی فی زماننا لفساد بیت المال وصرفہ فی غیرالمصارف۔ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے بہت سارے اصحاب جن میں ابن سریج بھی ہیں نے اس کی مخالفت کی اوروہ ذوی الارحام کو وارث بنانے کی طرف گئے ہیں اوریہی ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے ان کے فقہاء کامختارہے۔بیت المال کے فاسدہونے کی وجہ سے اورمصارف کے غیرمیں اس کے خرچ ہونے کی وجہ سے۔(ت)
انوارشافعیہ میں ہے:
ان لم ینتظم ای بیت المال فالصحیح المرجح المفتی بہ ان یرد الفاضل منھم علیھم ویورث ذو والارحام ان فقدوا۔ اگربیت المال منتظم نہ ہو تو صحیح راجح مفتی بہ قول یہ ہے کہ ذوی الفروض سے بچاہوا انہیں پر رد کیاجائے گا اوراگر وہ مفقود ہوں تو ذوی الارحام کو وارث بنایاجائے گا۔(ت)
توفساد بیت المال کے وقت مسئلہ ردمیں ہمارا ان کااتفاق ہوگیا ہم توردمانتے ہی تھے اوراب بوجہ فساد وہ بھی ماننے لگے یہ معنی ہیں عبارت درمختار:
ان فضل عن الفروض ولاعصبۃ یردالفاضل علیھم اجماعا لفساد اگرذوی الفروض سے کچھ بچ جائے اورکوئی عصبہ موجودنہ ہوتوبچاہوا بالاجماع ذوی الفروض
حوالہ / References الشریفۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱€۱
تبیین الحقائق کتاب الفرائض ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
الانوار لاعمال الابرار کتاب الفرائض ∞مطبعۃ الجمالیۃ مصر ۲/ ۲€
#3645 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
بیت المال الاعلی الزوجین۔ پرلوٹادیاجائے گا بوجہ بیت المال کے فاسد ہونے کے سوائے زوجین کے۔(ت)
توفساد بیت المال علت اتفاق ہے نہ کہ ہمارے نزدیك ذی سہم نسبی پررد کی علت جسے ادنی طالب علم بھی نہ کہے گاپھرعلت ہے توصرف اتفاق شافعیہ کی ورنہ مالکیہ سے منقول کہ بحال فساد بھی ردنہیں کرتے۔لاجرم ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لفساد بیت المال علۃ لقولہ اجماعا ولایظھر لان المشھور من مذھب مالك انہ لبیت المال و ان لم یکن منتظما۔ مصنف کاقول"بوجہ فساد بیت المال"علت ہے اس کے قول اجماعا کی اوریہ ظاہر نہیں کیونکہ امام مالك کے مذہب سے مشہورہے کہ ذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچاہوا مال بیت المال کاہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ اجماعا لفساد بیت المال ھذہ العلۃ غیرظاھرۃ بالنظرللقول بالرد عندنا فان الرد عندنا مقدم علی بیت المال وان کان منتظما وان کان علۃ لقولہ اجماعا لایظھر ایضا لان القول بالرد حینئذ قول بعض الشافعیۃ والمشھور من مذھب المالکیۃ انہ لبیت المال وان لم یکن منتظما۔ ماتن کاقول"بالاجماع بوجہ فساد بیت المال"یہ علت ہمارے نزدیك رد کے قول کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہرنہیں کیونکہ ہمارے نزدیك ردبیت المال پرمقدم ہے اگرچہ بیت المال منتظم ہو اوراگریہ ماتن کے قول اجماعا کی علت ہو تو بھی ظاہرنہیں کیونکہ اس صورت میں ردکاقول بعض شافعیہ کاقول ہےاورمالکیہ کے مذہب سے مشہوریہ ہے کہ وہ بیت المال کے لئے ہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت∞ ۵/ ۵۰۲€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃالعربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۹۴€
#3646 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فائدہ۲۰:قول ذی سہم نسبی پر رد کی علت ہمارے نزدیك فسادبیت المال ٹھہرانا افسدفاسدات ہےاولا:ہمارے ائمہ کے نزدیك وہ کوئی امرعارضی نہیں کہ بضرورت ماناگیا بلکہ عصوبت کے بعد حق راجح قول مستقل ہے کہ قرابت ذوی الارحام پربھی مقدم ہے نہ کہ دیگر مراتب نازلہ۔ہمارے علماء نے اسے آیت واحادیث وارشادات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ثابت فرمایاہے نہ کہ فسادبیت المال کی ناچاری سے۔تبیین الحقائق میں ہے:
لناقولہ تبارك وتعالی واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اﷲ وھو المیراث فیکون اولی من بیت المال ومن الزوجین الافیما ثبت لھما بالنص وکان ینبغی ان یکون ذلك لجمیع ذوی الارحام لاستوائھم فی ھذا الاسم الا ان اصحاب الفرائض قدموا علی غیرھم من ذوی الارحام لقوۃ قرابتھم الاتری انھم یقدمون فی الارث فکانوا احق بہ ومن حیث السنۃ ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دخل علی سعد یعودہ فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم ان لی مالا ولایرثنی الاابنتی الحدیث ولم ینکر علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حصرالمیراث علی ابنتہ ہماری دلیل اﷲ تبارك وتعالی کایہ ارشادہے"اوررشتہ والے اﷲ کی کتاب میں ایك دوسرے سے زیادہ قریب ہیں الآیۃ"۔ اوروہ میراث ہے چنانچہ ان پرردبیت المال سے اولی ہوگا اور زوجین سے بھی اولی ہوگا سوائے اس کے جو زوجین کے لئے نص سے ثابت ہے اورچاہئے کہ بچے ہوئے کارد تمام رشتہ داروں کے لئے برابرہو کیونکہ اس نام میں سب برابر ہیں مگر اصحاب فرائض باقی رشتہ داروں پراپنی قرابت کی قوت کی وجہ سے مقدم ہیں۔کیاتونہیں دیکھتا کہ وہ میراث میں مقدم ہیں تو وہ رد کے بھی زیادہ حقدارہوں گے اوریہ حکم سنت سے بھی ثابت ہے۔مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سعد رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے توانہوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم میرا کچھ مال ہے اورسوائے میری ایك بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں (الحدیث)انہوں نے اپنی بیٹی پرمیراث کومنحصرکیااورنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پرانکار نہیں فرمایا۔اگر
#3647 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ولولا ان الحکم کذلك لانکر علیہ ولم یقرہ علی الخطا لاسیما فی موضع الحاجۃ الی البیان وکذا روی ان امرأۃ اتت الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ انی تصدقت علی امی بجاریۃ فماتت امی وبقیت الجاریۃ فقال وجب اجرك ورجعك الیك فی المیراث جعل الجاریۃ راجعۃ الیھا بحکم المیراث وھذا ھوالرد۔ حکم ایسانہ ہوتا تو آپ ضرور انکارفرماتے اورانہیں خطاپربرقرار نہ رہنے دیتے خصوصا جبکہ بیان کی ضرورت ہو۔یونہی مروی ہے کہ ایك عورت نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اورکہایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم میں نے اپنی ماں پرایك لونڈی صدقہ کی اب میری ماں فوت ہوگئی اوروہ لونڈی باقی رہ گئی تو آپ نے فرمایا تیرا اجر ثابت ہوچکا اوروہ لونڈی میراث میں تیری طرف لوٹ آئی۔تو آپ نے بطورمیراث وہ لونڈی اس کی طرف لوٹائی اور یہی رد ہے۔(ت)
اقول:پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے اوردوسری حدیث عبدالرزاق نے مصنف اورسعیدابن منصور نے سنن اورابن جریر نے تہذیب الآثار میں اور بریدہ بن الخصیب الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے اوراس کے لفظ یہ ہیں:
فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لك اجرك وردھا علیك المیراث۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے تیرا اجرثابت ہے اور وہ لونڈی میراث نے تیری طرف لوٹا دی۔(ت)
یہ لفظلفظ مذکور تبیین سے ادل علی المقصود ہیں کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ سیدشریف نے آیت کریمہ سے استدلال کرکے حدیث اول سے اورزیادہ نفیس وجہ سے استدلال کیااوربعض اوراحادیث جلیلہ زائدکیںفرماتے ہیں:
وایضا لما دخل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی سعد بن ابی وقاص یعودہ جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ کی
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۶۴۷€
کنزالعمال برمزعب،ص وابن جریر فی التہذیب ∞حدیث ۳۰۷۰۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/ ۸۳€
#3648 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
قال سعد اما انہ لایرثنی الا ابنۃ لی فاوصی بجمیع مالی قال لاقال فاوصی بنصفہ قال لاالحدیث الی ان قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الثلث خیروالثلث کثیر فقد ظھران سعدا اعتقدان البنت ترث جمیع المال ولم ینکر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومنعہ عن الوصیۃ بمازاد علی الثلث مع انہ لاوارث لہ الاابنۃ واحدۃ فدل ذلك علی صحۃ القول بالرد اذلولم تستحق الزیادۃ علی النصف بالرد تجوزلہ الوصیۃ بالنصف وفی حدیث عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورث الملاعنۃ ای جمیع المال عن ولدھا ولایکون ذلك الابطریق الرد وفی حدیث واثلۃ بن الاسقع انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال تحرز المرأۃ میراث لقیطھا وعتیقھا عیادت کرنے تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہاسوائے ایك بیٹی کے میراکوئی وارث نہیںکیامیں اپنے تمام مال کی وصیت کردوں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ نہیں۔انہوں نے عرض کی:نصف کی وصیت کردوں آپ نے فرمایا:نہیں(الحدیث)یہاں تك کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:تہائی بہترہے اورتہائی بہت ہے۔اس حدیث سے ظاہرہواکہ حضرت سعدرضی اﷲ تعالی عنہ کااعتقاد تھاکہ بیٹی تمام مال کی وارث بن سکتی ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انکارنہیں فرمایا اورآپ نے تہائی مال سے زائد کی وصیت سے انہیں منع فرمایاباجودیکہ سوائے ایك بیٹی کے ان کاکوئی وارث نہیں تھاتویہ دلیل ہے اس بات پرکہ ردکاقول صحیح ہے کیونکہ اگروہ بیٹی بذریعہ ردنصف سے زائد کی مستحق نہ ہوتی تو ان کے لئے نصف کی وصیت جائزہوتی۔عمروبن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعان والی عورت کو اپنی ولد کے تمام مال کا وارث بنایا۔اوریہ بذریعہ رد ہی ہوسکتاہے۔اورواثلہ بن اسقع کی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ عورت اپنے لقیط یعنی جوبچہ اسے گمشدہ ملاہے اور اپنے آزاد شدہ
#3649 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
والابن الذی لوعنت بہ۔ غلام یالونڈی اوراپنے اس بیٹے جس کے سبب اس عورت کے ساتھ لعان کیاگیاکی میراث کوسمیٹ لیتی ہے۔(ت)
ثانیا: سراجیہ وتبیین وعامہ کتب حنفیہ میں ہے:
ھو قول عامۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم وبہ اخذ اصحابنا۔ عام صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کاوہی قول ہے اورہمارے اصحاب نے اسی سے اخذ کیاہے۔(ت)
اقول:امام سفین ثوری کتاب الفرائض اورعبدالرزاق مصنف اورسعیدبن منصور سنن میں عامرشعبی سے راوی:
قال کان علی کرم اﷲ تعالی وجھہ یرد علی کل ذی سھم سھمہ الا الزوج والمرأۃ۔ حضرت علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا ہرذی فرض پر اس کاحصہ رد کیاجائے گا سوائے شوہراوربیوی کے۔(ت)
سعیدبن منصور وبیہقی انہیں سے راوی:
ان علیارضی اﷲ تعالی عنہ قال فی ابن الملاعنہ ترك اخاہ وامہ لامہ الثلث ولاخیہ السدس ومابقی فھو رد علیھما بحساب ماورثا۔ بیشك حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ نے لعان والی عورت کے ایسے بیٹے کے بارے میں فرمایاجو ایك بھائی اور ماں چھوڑکرمرگیاکہ اس کی ماں کاحصہ کل مال سے تہائی ہے جبکہ بھائی کاحصہ چھٹاہے اورجوباقی بچا وہ ان دونوں پران کے میراث والے حصہ کے حساب کے مطابق رد ہوگا۔(ت)
امام اجل طحاوی سویدبن غفلہ سے راوی:
ان رجلا مات وترك ابنۃ ایك مرد فوت ہوا جس کے پسماندگان میں ایك بیٹی
حوالہ / References الشریفۃ شرح السراجیۃ باب الرد ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۷€۵
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۷€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض ∞حدیث ۹۱۱۲۸€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/ ۲۸۶€
السنن الکبری کتاب الفرائض باب میراث ولدالملاعنۃ دارصادربیروت∞۶/ ۲۵۸€
#3650 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
وامرأۃ ومولاہ قال سوید انی جالس عند علی کرم اﷲ تعالی وجھہ اذجاءتہ مثل ھذہ القصۃ فاعطی ابنتہ النصف وامرأتہ الثمن ثم رد مابقی علی ابنتہ ولم یعط المولی شیئا۔ ایك بیوی اورایك اس کاآزاد کیاہواغلام ہےحضرت سویدنے کہاکہ میں حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے پاس بیٹھاہواتھا کہ آپ کے پاس ایك خاتون ایساہی قصہ لے کرآئی تو آپ نے مرنے والے شخص کی بیٹی کونصف اوراس کی بیوی کوآٹھواں حصہ دیاپھرجوبچ گیا وہ اس کی بیٹی پررد فرمادیا اور اس کے آزاد شدہ غلام کوکچھ نہیں دیا۔(ت)
بیہقی نے اسے مختصرا روایت کیا:
کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یعطی الابنۃ النصف و المرأۃ الثمن ویرد مابقی علی الابنۃ۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ مرنے والے کی بیٹی کوکل مال کانصف اوربیوی کوکل مال کاآٹھواں حصہ دیتے تھے اورباقی کو بیٹی پرردفرمادیتے تھے۔(ت)
سعیدبن منصورنے امام شعبی سے روایت کی:
انہ قیل لہ ان اباعبیدۃ ورث اختا المال کلہ فقال الشعبی من ھو خیر من ابی عبیدۃ قد فعل ذلك کان عبداﷲ بن مسعود یفعل ذلک۔ حضرت ابوعبیدہ کے بارے میں امام شعبی کوکہاگیاکہ انہوں نے بہن کوکل مال کاوارث بنایاہے توامام شعبی نے فرمایاکہ جوابوعبیدہ سے بہترہے اس نے ایساکیاہے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ایساکرتے تھے۔(ت)
سنن بیہقی میں ہے:
عن جریر عن المغیرۃ عن اصحابہ فی قول زید بن ثابت وعلی بن ابی طالب جریر نے مغیرہ سے انہوں نے آپ کے اصحاب سے حضرت زیدبن ثابتحضرت علی بن ابی طالب
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الفرائض باب مواریث ذوی الارحام ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۷€۱
السنن الکبرٰی کتاب الفرائض باب المیراث بالولاء دارصادربیروت ∞۶/ ۲۴۲€
کنزالعمال برمزص ∞حدیث ۳۰۵۶۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/ ۴۶€
#3651 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم اذا ترك المتوفی اباہ ولم یترك احدا غیرہ فلہ المال۔ اورحضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے اس قول کے بارے میں روایت کیاہے کہ جب مرنے والا باپ کوچھوڑجائے اوراس کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے توتمام مال باپ کا ہوگا۔(ت)
عبدالرزاق نے حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
انہ قضی فی ام واخ من املاخیہ السدس ومابقی لامہ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے ماں اور اخیافی بھائی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بھائی کو چھٹاحصہ اور باقی سب ماں کوملے گا۔(ت)
کیاامیرالمومنین مولی علی وسیدنا عبداﷲ بن مسعود وعامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے عہد کرامت عہد میں بھی بیت المال فاسد تھا۔
ثالثا: احادیث صحاح وحسان سے گزرا کہ خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اصحاب فرائض پررد فرمایا معاذاﷲ کیا زمانہ اقدس میں بھی انتظام بیت المال نہ تھا ایسے مسئلہ جلیلہ کوکہ عہدرسالت وزمانہ صحابہ سے ثابت ومستمرہے آخرزمانہ کے فساد پرمبنی کرناکس درجہ نادانیاوردانستہ ہوتوکیسی سخت بے ادبی ہے۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فائدہ۲۱:امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے رد علی الزوجین ثابت نہیں وقائع عین موردہرگونہ احتمال ہوتے ہیں شوہر جبکہ چچا کابیٹا اورتنہاوارث ہوکل مال پائے گا نصف فرضا نصف عصوبۃ اسے رد سے کیاعلاقہ۔درمختارمیں ہے:
قال عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ یرد علیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا زوجین پر بھی رد کیاجائے گا۔مصنف وغیرہ نے ایساہی کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں اس پرجزم کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے۔(ت)
حوالہ / References السنن الکبرٰی کتاب الفرائض باب ترتیب العصبۃ دارصادربیروت∞۶/ ۲۳۸€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض باب الخالۃ العمۃ الخ ∞حدیث ۱۹۱۱۷€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/ ۲۸۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
#3652 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
رحیق المختوم میں ہے:
بل الذی صح عنہ الرد علی الزوج فقط وتاویلہ ان کان ابن عم فاعطاہ الباقی بالعصوبۃ۔ بلکہ ان سے جومرتبہ صحت کوپہنچاہے وہ فقط خاوند پرردہے جس کی تاویل یہ ہے کہ وہ خاونداپنی بیوی کاچچازادتھاچنانچہ آپ نے باقی اس کو بطورعصبہ عطافرمایا۔(ت)
بلکہ امام ابراہیم نخعی سے منقول کہ صحابہ کرام میں کوئی بھی ردعلی الزوجین کاقائل نہ تھا طحطاوی میں عجم زادہ علی الشریفیہ سے ہے:
نقل عن ابراھیم النخعی انہ لم یکن احد من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول انہ یردعلی الزوجین اھ اماقولہ خبرالمثبت اولی فاقول: الشان اولا فی الثبوت روایۃ واین الثبوت وثانیا درایۃ لما علمت من تاویلہ۔ ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ اصحاب رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں سے کوئی ایك بھی نہیں کہتاتھا کہ زوجین پررد کیاجائے گا اھ لیکن اس کاقول کہ خبرمثبت اولی ہے۔تو میں کہتا ہوں کہ اولا ثبوت میں روایت ہےاورکہاں ہے ثبوت۔ثانیا درایت ہے جس کی تاویل توجان چکاہے۔(ت)
اوربالفرض امیرالمومنین سے منقول ہے تویہ کہ زوجین پربھی رد فرماتے ہیں یہ اصلا کہیں نہیں کہ اورکوئی رشتہ دارمتوفی نہ ہوتو اس وقت ردعلی الزوجین کرتے ہیں امیرالمومنین کی طرف اس کی نسبت باطل وفریہ محض ہے۔
فائدہ۲۲:عول پرقیاس سے ہمارے علمائے کرام جواب شافی دے چکے۔ تبیین الحقائق میں ہے:
ادخال النقص علی الزوجین بالعول مما یوافق الدلیل النافی لارثھما لان ارثھما ثبت بالنص علی خلاف القیاس واخذ الزیادۃ مما یخالف زوجین پرعول کی وجہ سے کمی کاآنا اس دلیل کے موافق ہے جو زوجین کی میراث کے منافی ہے۔کیونکہ ان کاوارث بنناخلاف قیاس نص سے ثابت ہے اورزوجین کازائدکولینا اس
حوالہ / References الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین)باب الرد ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۲۳€۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۹۴€
#3653 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الناس فی لارثھما فلایمکن اثباتہ بالقیاس لان ماثبت علی خلاف القیاس یقتصرعلیہ۔ دلیل کے مخالف ہے جوزوجین کی میراث کے منافی ہے۔چنانچہ اس کوقیاس سے ثابت کرنا ممکن نہیں کیونکہ جوخلاف قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد پرمنحصررہتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الرد علی ذوی السھام اولی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت وارثھما نظیرالدین فان صاحب الدین لایرد علیہ مافضل بعد قضاء الدین فکذا لایرد علیھما مافضل من فرضھما اھ اقول:ای واذاضاق المال عن الدیون دخل النقص علی کل دائن بحساب دینہ فکذا الزوجان ینقصان ولایزادان۔ ذوی الفروض پرردذوی الارحام سے اولی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرابت رکھتے ہیں سوائے زوجین کےکیونکہ ا ن کی میت کے ساتھ کوئی قرابت نہیں ہوتی۔اوران کاوارث بننا قرض کی طرح ہےتو جس طرح قرض کی ادائیگی سے بچا ہوا مال صاحب قرض پرردنہیں کیاجاتا اسی طرح زوجین کے فرضی حصوں سے بچاہوامال ان پردنہیں کیاجائے گا اھ میں کہتاہوں جب ترکہ کامال قرضوں سے کم ہوجائے تو ہرصاحب قرض پر اس کے قرض کے حساب سے کمی واقع ہوتی ہے اسی طرح زوجین کے حصے کم تو ہوجاتے ہیں مگرزائدنہیں ہوتے۔(ت)
روح الشروح پھرطحطاوی پھرشامی میں ہے:
میراث الزوجین علی خلاف القیاس لان وصلتھما بالنکاح وقد انقطعت بالموت وماثبت علی خلاف القیاس نصا یقتصر علی مورد النص ولانص فی الزیادہ علی فرضھما زوجین کی میراث خلاف قیاس ہے کیونکہ ان دونوں کااتصال نکاح کی وجہ سے ہے جوموت کے سبب سے ختم ہوچکا ہے۔ اورجوکچھ خلاف قیاس نص سے ثابت ہو وہ موردنص میں منحصر رہتاہے اورزوجین کے فرضی حصوں سے زائد
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴€۷
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
#3654 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ولما کان ادخال النقص فی نصیبھما میلاللقیاس النافی لارثھما قیل بہ ولم یقل بالرد لعدم الدلیل فظھر الفرق و حصحص الحق۔ کے بارے میں کوئی نص نہیں۔جب زوجین کے حصوں میں کمی کاواقع ہونا اس قیاس کی طرف مائل ہے جوان کی میراث کے منافی ہے تو اس کاقول کردیاگیااوررد کاقول نہیں کیاگیا کیونکہ اس پردلیل معدوم ہے لہذا فرق ظاہر اورحق خوب واضح ہوگیا۔(ت)
فائدہ۲۳:اقول:ردعلی الزوجین کاماننا دوطرح ہےایك یہ کہ اسے حق اصلی مستقل ردعلی اصحاب السہام النسبیہ ماناجائے دوسرے یہ کہ اس کاکوئی حق خاص نہیں مال ضائع بلامستحق ہے اورایسے مال کاٹھکانابیت المال مگروہ اب فاسد ونامنتظم ہے لہذا بیجامصارف میں صرف ہونے سے یہی بہترہے کہ زوجین کودے دیاجائے کہ میت سے بہ نسبت نرے بیگانوں کے اقرب ہیں اول کی علت عول پرقیاس ہے کہ جب وقت تنگی انہیں ان کے حق سے کم ملتاہے تو وقت بیشی انہیں بھی اورذوی الفروض کی طرح زائدملناچاہئے کہ الغنم بالغرم نقصان اٹھائیں تونفع بھی پائیںاوردوم کی علت فساد بیت المال ہےیہ دونوں علتیں باہم متضاد ہیں جن کا اجتماع محال ہےپہلی کامقتضی ان کااستحقاق ہے اوردوسری کامقتضی عدم استحقاق کہ اصل موضع بیت المال مانا اور اس کے فساد کے سبب ایك طرف پھیرا اوربیت المال اسی مال کامحل ہے جس کاکوئی خاص مستحق نہ ہو تو ان دونوں کوجمع کرنا جمع بین الضدین ہےہمارے علماء نے کہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس روایت کوثابت نہ مانایاقول عام صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کو اس پر مرجح جانا اورقیاس علی العول کوبے محل بتایاردعلی الزوجین نہ ماناانہیں ان کا مستحق نہ جانا بیت المال تك جمیع مراتب کو اس پرمرجح رکھا ہاں جب بیت المال میں فسادآیا بضرورت اخیردرجہ انہیں اورایك درجہ بنت معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی کودلایا اگرہمارے علماء روایت مذکورہ کوامیرالمومنین سے ثابت مان کر اس مسئلہ میں برخلاف عامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم ان کی تقلید فرماتے یہ قیاس علی العول کوصحیح وماخوذٹھہراتے توفساد بیت المال سے ہرگزتعلیل نہ کرتے نہ ذوالارحام سے لے کرموصی لہ بالزائد تك تمام مراتب نازلہ الرد کو اس پرتقدیم دیتے کہ اب وہ بالاستقلال مثل فرض باقی کے بھی مستحق ٹھہراتے تومثل فرض اس حق میں بھی تمام نازلات عن الرد
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی کتاب الفرائض باب العول المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۹۴€
#3655 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
پرمقدم رہتے
وھذا کلہ واضح جدا عند من الم بالفقہ الماما ونظر بالانصاف ماقدمنا اوالقی السمع وھو شھید۔ یہ سب کچھ اس شخص کے نزدیك خوب واضح ہے جس کو فقہ سے کچھ تعلق ہے اوروہ ماقبل میں مذکورہمارے بیان کو انصاف کی نظرسے دیکھے یاکان لگائے اس حال میں کہ متوجہ ہو۔(ت)
فائدہ۲۴:اقول:درمختار میں اول اپنے ائمہ کامذہب بیان فرمایاکہ زوجین پرردنہیں پھر یہ کہ امیرالمومنین سے ردمنقول ہوا پھر یہ کہ امیرالمومنین سے اس کے ثبوت میں کلام ہےپھر یہ کہ فساد بیت المال کے باعث ہمارے زمانہ میں ان پررد کردیں گےاس سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے درجہ میں اوران کے ساتھ ردعلی الزوجین کے ہر گزقائل نہیں کہ وہ درجہ استحقاق کاہے اوریہ درجہ اس مال کاہے کہ ضائع وبلامستحق ہو کما علمت ماقدمنا(جیساکہ توجان چکاہے اس بیان سے جس کوہم پہلے ذکرکرچکے۔ت)مستحق ونامستحق کوایك درجہ میں ٹھہرادینا کیساباطل فاحش ہے نیز عبارت در مختار سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی الزوجین کوسب میں اخیر مرتبے یعنی بیت المال منتظم سے بھی پیچھے رکھتے ہیں کہ بحال فساد انہیں دیتے ہیںروشن ہواکہ فساد نہ ہوتوانہیں نہ دیاجائے گا بلکہ بیت المال ہی میں رکھاجائے گا عبارت درمختار میں یہ دوقاہردلیلیں نہ ہوتیں جب بھی ہمارے علماء کااجماع ہے کہ القران فی الذکر لایستلزم القران فی الحکم (ذکرمیں اقتران کو حکم میں اقتران لازم نہیں۔ت)تمام کتب میں اسے تعلیلات فاسدہ سے ٹھہرایا ہے نہ کہ ان روشن براہین کے ہوتے ہوئے یہاں ذکر کرنے سے یہ گمان فاسدلیجانا کہ علماء ردعلی الزوجین کو ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجے میں اور اسی کے ساتھ مانتے ہیں ورنہ یہاں بیان نہ آتا یہ اولا سخت جہل شدید ہے کہ ادنی طالبعلم سے بھی بعیدہے۔ثانیا اب معنی عبارت درمختار یہ ہوں گے کہ ازانجاکہ بیت المال فاسد ہوگیا لہذا علماء نے ردعلی الزوجین اصلی مرتبہ ردمیں رکھ دیااورذوی الارحام ومن تحتہم سب پرمقدم کردیا یعنی فاسد توہوگا بیت المال اورمارے جائیں گے ذوی الارحام ومولی الموالاۃ ومقرلہ وموصی لہ بالجمیع سب کے سبگناہ ہوگا ایك سے اورپکڑے جائیں گے پانچیہ کون سی شریعت ہےبفضلہ تعالی درمختارتوایسے جنون سے منزہ ہے زیادہ کیاگزارش ہو۔
فائدہ ۲۵:اقول:بفضلہ تعالی یہ مسئلہ ہم نے ایسے طورسے بیان کیاجس میں کسی
#3656 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
عاقل کو اصلا جائے ریب نہ رہے ایسے دلائل قاہرہ کے بعد زیادہ ترتصریح کی حاجت نہیں ہوتی اوراگراب بھی ہوس باقی ہو تو حاشیہ درمختار میں سیدعلامہ طحطاوی کاقول ادنی ذی فہم کوکافی ووافی۔فرماتے ہیں:
الذخیرۃ ان الفاضل من سھام الزوجین لایوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الی المیت من جہۃ السبب من غیرھما وکذا الابن والبنت من الرضاع انتھی روح الشروح وفی حاشیۃ المولی عجم زادہ عن الخانیۃ ذکرالامام عبدالواحد الشھید فی فرائضہ ان الفاضل عن سہام الزوج والزوجۃ لا یوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الناس الی المیت من جھۃ السبب فکان الدفع الیھما اولی من غیرھما انتھی وقولہ لایوضع فی بیت المال کقول الذخیرۃ السابق یدل علی ان الدفع الیھما متعین لا ان الدافع مخیربین الدفع الیھما والی بیت المال کما توھمہ اخرا لعبارۃ بل ربما یکون المراد انھما اولی من نحو الجیران لما جری بینھما من الزوجیۃ ۔(ملخصا) ذخیرہ میں ہے زوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والا مال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ زوجین کودے دیاجائے گا کیونہ وہ بنسبت غیرکےسبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں۔یہی حکم رضاعی بیٹے اور رضاعی بیٹی کا ہے انتہی روح الشروح۔مولی عجم زادہ کے حاشیہ میں خانیہ سے منقول ہےامام عبدالواحد شہیدنے اپنے فرائض میں ذکرکیاکہ خاوند اوربیوی کے فرضی حصوں سے بچاہوامال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ ان ہی کو دے دیاجائے گا کیونکہ وہ سبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں بنسبت غیرکےلہذا ان کودینا غیرکودینے سے اولی ہے انتہی۔امام عبدالواحد کاقول مثل ذخیرہ کے قول کے کہ "بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا"اس بات کی دلیل ہے کہ زوجین کودینامتعین ہے۔ایسانہیں کہ انہیں دینے یابیت المال میں رکھنے کااختیارہے جیساکہ عبارت کے آخرسے وہم ہوتا ہے بلکہ بسااوقات مراد یہ ہوتی ہے کہ زوجین پڑوسیوں کی بنسبت اولی ہیں کیونکہ ان میں زوجیت کاتعلق جاری ہوا ہے۔(ت)
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۷۲€
#3657 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
زوجین کودینا اوروں کودینے سے اولی بتانے سے جویہ احتمال پیداہواکہ اگرزوجین کونہ دیں اوربیت المال فاسد میں دے دیں جب بھی جائزہو اگرچہ خلاف اولی ہوکہ ان کودیناصرف اولی ہی تھا اس کے رفع کو اسی عبارت امام عبدالواحد شہید کاسباق اور نص ذخیرہ پیش کیاکہ نہیں بلکہ انہیں کودیاجائے بیت المال فاسد میں رکھنے کی اجازت نہیں اب اولویت کے لئے مفضل علیہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوئی توہمسائے بتائے اولا اگرزوجین پرردمرتبہ رد میں ہوتا تو خاص مراتب مستحقین میں چار موجودتھے خصوصا ذوی الارحامتوانہیں سے اولویت کیوں نہ بتائی جاتی خارج المراتب سے ہمسایوں کولانے کے لئے کیامعنی تھے۔ثانیا زوجین کے ہوتے ہوئے ہمسایوں کودینے کااگرجواز نہ ہوتاتو تفضیل اولویت کو بیت المال سے پھیرکر ہمسایوں پررکھنا ہوتاکہ یہاں بھی وہی ایہام رہاتو واجب کہ زوجین کے ہوتے جائزہوکہ ان پرردنہ کریں اورہمسایوں کودے دیں اگرچہ زوجین پر رداولی ہے اوربداہۃ معلوم کہ ہمسائے میراث میں مستحق نہیں تواگرزوجین مستحق رد ہوتے جیران کودینا حلال نہ ہوتا لیکن حلال ہے توزوجین مستحق رد نہیں اورموصی لہ قطعا مستحق ہے اورمستحق کی نامستحق پرتقدیم بدیہی۔
فائدہ۲۶:اس سے بھی سیری نہ ہو تومستصفی پھرمعراج الدرایہ پھرعلامہ شامی کاارشاد:
الفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدم المستحق لعدم بیت المال اذ الظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ۔ آج کے زمانہ میں فتوی اس پرہے کہ زوجین پرردکیاجائے گاکیونکہ بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے مستحق معدوم ہے اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کو اس کے مصرف پر خرچ نہیں کرتے۔(ت)
صریح جزئیہ ہے زوجین پر رد اس وقت بتاتے ہیں جب کوئی مستحق نہ ہو اورشك نہیں کہ موصی لہ بالزائد مستحقین سے ہے اگراس میں بھی شك ہوتو یہی علامہ شامی موصی لہ بالزائد کی نسبت فرماتے ہیں:
ان المراد انہ یاخذ الزائد بطریق مرادیہ ہے کہ وہ بطور استحقاق زائدمال
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
#3658 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الاستحقاق ۔ کو لے گا۔(ت)
توصاف روشن ہواکہ موصی لہ بالزائد کے ہوتے ردعلی الزوجین نہ ہوگا۔فتوی۴ نے کہ یہ عبارت درمختار:
ثم مولی الموالاۃ ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین۔ پھرمولی الموالاۃ اوروہ زوجین کے فرضی حصے سے بچ جانے والا مال لے گا۔(ت)
اوریہ عبارات شامی پیش کیں کہ ذوی الارحام کوفرمایا:
یاخذون کل المال اومابقی عن احد الزوجین لعدم الرد علیھما۔ وہ کل مال لیں گے یازوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والامال لیں گے کیونکہ ان پرردنہیں ہوتا۔(ت)
مولی الموالاۃ کوفرمایا:
ان وجداحد الزوجین فلہ الباقی عن فرضہ۔ اگرزوجین میں سے کوئی ایك موجودہوتو اس کے فرض حصہ سے جوباقی بچاوہ مولی الموالاۃ کوملے گا۔(ت)
مقرلہ کو فرمایا:
اذا کان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۔ اگرزوجین میں سے کوئی ایك موجودہے تواس کو فرضی حصہ دے کرجوبچ گیا وہ مقرلہ کودیاجائے گا۔(ت)
یہ البتہ کافی نہ تھیں اورمخالف کوان پرصریح گنجائش تھی کہ یہ قول ائمہ متقدمین پرہے جوزوجین پرردنہیں مانتے الاتری الی قولہ لعدم الرد علیھما(کیاتو اس کے قول کونہیں دیکھتا کہ زوجین پرردنہیں۔ت)اسی طرح مقرلہ کی نسبت یہ ارشاد علامہ شامی پیش کیا:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۸€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۳€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
#3659 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنی۔ یہ اقرارمعنی کے اعتبارسے وصیت ہوگا۔(ت)
اوراس سے استنباط کیاکہ وصیت بالزائد ردعلی الزوجین پرمقدم ہے اس کابھی اولا وہی جواب تھاواقول:ثانیا یہ اقراراگرچہ قضاء معنی وصیت میں ہوا اس لئے کہ اس کانسب ثابت نہ ہو اورنہ درجہ نسب میں جاکر مزاحم ورثہ ہوتا کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ت)مگروصیت اجنبی محض سے ضرور اقوی ہے کہ دیانۃ احتمال صدق مقر رکھتا ہے ولہذا اسے ایك نوع قرابت گنتے ہیں۔سیدعلی السراجیہ ومجمع الانہرودرمختار وفتح المعین وغیرہا میں ہے:
وانما اخر ذلك عن المقر لہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔ تہائی سے زائدمال کے موصی لہ کومقرلہ سے مؤخر اس لئے کیاکہ مقرلہ کوایك قسم کی قرابت حاصل ہے بخلاف موصی لہ کے۔(ت)
لاجرم وباجماع حنفیہ موصی لہ بالزائد سے اقوی اوراس پرمرجح وبالاہے توردعلی الزوجین پراس کی تقدم تقدیم وصیت بالزائد کومستلزم نہیں لیکن کلام مذکور مستصفی کسی طرح اس تاویل کو قبول نہیں کرتا کہ یہ مذہب متقدمین کے موافق ہے یہاں توخاص مسلك متاخرین ہی بیان فرمارہے ہیں توقطعا واضح ہواکہ متاخرین اگرچہ ردعلی الزوجین کے قائل ہوئے مگرجبکہ موصی لہ بالزائد بھی نہ ہو ورنہ عدم ردعلی الزوجین پرحنفیہ کرام کااجماع ہے اسانید پیش کردئیے فتوی۴ میں صرف ایك یہی سند مستصفی مصفی ومستصفی ہے۔
فائدہ۲۷:اقول:اگراس سے بھی تسکین نہ ہوتو حاشیہ درمختار میں علامہ سیدطحطاوی کا ارشاد لیجئےعبارت مذکورہ درمختار یردعلیھم اجماعا لفساد بیت المال (بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے بالاجماع ان پررد کیاجائے گا۔ت)پرفرماتے ہیں:
محل ھذا التعلیل القول بالرد علی الزوجین وبنات المعتق وارحامہ فانہ اذا لم یکن من مراتب المستحقین اس تعلیل کامحل زوجینمعتق کی بیٹیوں اوراس کے ذوی الارحام پرردکاقول ہے کیونکہ جب مستحقین کے مراتب میں سے کوئی نہ رہا سوائے بیت المال
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۸€
الشریفیۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہورص۱€۱
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
#3660 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الابیت المال فان ھؤلاء یقدمون علیہ لہذہ العلۃ۔ کے تویہ مذکورہ لوگ بیت المال پرمقدم ہوں گے۔(ت)
کیسی صریح تصریح ہے کہ اصحاب فرائض بلکہ تجہیزوتکفین سے بیت المال تك جتنے مراتب بیان کئے گئے ان میں سے بیت المال کے سوا کوئی مرتبہ موجودنہ ہوتو اس وقت متاخرین کے نزدیك زوجین پررد کرتے ہیں موصی لہ بالزائد کابھی ان مراتب میں ہونا ایسی بات نہیں جس میں کوئی آنکھوں والاشبہہ کرسکےتوصاف روشن ہواکہ موصی لہ بالزائد بھی اگرنہ ہوگا توسب سے اخیردرجے زوجین پررد کریں گےاب اتناباقی رہ گیاکہ کتاب میں صاف نام لے کر لکھاہوتا کہ شاہ محمد کی وصیت زائدہ عالم خاتون پر رد سے مقدم ہے ایساجزئیہ البتہ نہیں مل سکتا نسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
تفریعات
(۷۱تا۷۴)فتوی۱۳۶۸ کاموصی لہ بالزائد کے ہوتے زوجہ پرردکرنا اجماع جمیع ائمہ کاخرق اورمحض ایجادبندہ ہے
" ما انزل اللہ بہا من سلطن "" (اﷲ تعالی نے اس پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ت) اتنے امرمیں یہ چاروں فتوے مشترك ہیں۔
(۷۵تا۷۸)موصی لہ بالزائد کامرتبہ ہرغیروارث سے مقدم ہے اورزوجین ماورائے ربع ونصف میں وارث نہیں کما فی الفائدۃ الرابعۃ عشر(جیساکہ چودھویں فائدہ میں ہے۔ت)ان چاروں نے عکس کیا۔
(۷۹تا۸۲)چاروں نے تصریحات کتب معتمدہ کاصریح خلاف کیا کما فی الفوائد الثلثۃ الاخیرۃ(جیساکہ آخری تین فوائدمیں ہے۔ت)
(۸۳تا۸۶)چاروں نے ردعلی الزوجین کوسب وارثوں سے مؤخر اورموصی لہ بالزائد پرمقدم کیا کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر (جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت)یہ ترتیب نوساختہ متقدمین متاخرین تمام عالم میں کسی کے مسلك پرمنطبق نہیں۔
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۹۴€
القرآن الکریم ∞۱۲/ ۴۰€
#3661 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(۸۷تا۸۹)فتوی ۱ نے اسی ترتیب ایجادی کاحوالہ درمختار اورردالمحتار وغیرہ پررکھاعبارت فائدہ۱۷ میں گزری اورتوضیح مراد عنقریب آتی ہے یہ ان تینوں پرافتراء ہے اس ترتیب کا نشان نہ درمختارمیں ہے نہ ردالمحتار میں نہ وغیرہ میں۔
(۹۰تا۹۲)فتوی۱ کاقول مذکوربعدادائے حصہ وصیت جس قدربچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔اقول:حصہ وصیت سے مراد وصیت بالغۃ مابلغت ہے یاصرف ثلث مال تکاول عین مراد اورخود اپنے فتوی کا راد ہے واقعی ثلث یانصف یاا س سے بھی زائد جتنی وصیت موصی لہ کی ہے وہ ثلث تك ترجیحا نافذ ہوگی پھرزوجہ اپنا فرض پائے گی پھرباقی وصیت تمام وکمال نافذکریں گے اس کے بعد بھی اگرکچھ بچے اورکوئی مستحق نہ ہو تو یہ باقیماندہ زوجہ پررد کریں گے یہاں کہ شاہ محمد کے لئے وصیت قدرثلث سے بہت زائد تھی صرف مقدار ثلث پر محدود کرکے دوتہائی زوجہ کو دلادینا باطل محض ہوا اوربرتقدیر ثانی اگر مراد وہ صورت ہے کہ وصیت ہی ثلث سے زائد نہ ہوجب بھی صحیح اورخود اپنے فتوی کاردنجیح ہے واقعی تہائی سے زیادہ وصیت ہی نہ کی ہوتوجتنی وصیت ہے موصی لہ کوپھراحدالزوجین کاحصہ مقررہ اس کودے کرباقی کاجب کوئی مستحق نہیں احدالزوجین پررد کردیں گے مگریہاں تو وصیت ثلث سے زائدتھی وہ زوجہ پرکیونکر ردہوئیاوراگرمرادعام ہے کہ اگرچہ وصیت ثلث سے زائد یاجمیع مال کی ہوصرف ثلث وصیت دیں گے باقی سب زوجہ کوپہنچائیں گے ربع فرضا وباقی ردا اوربے شك یہی مراد مفتی ہے تویہ قطعا باطل محض اوردرمختار وردالمحتار اوروغیرہ تینوں پرافتراہے کسی کتاب معتمدمیں ہر گز صاف نہیں لکھاکہ وصیت زائد علی الثلث اور زوجہ ہوتووصیت صرف ثلث تك نافذکرکے باقی سب زوجہ کو دیں گے۔
(۹۳تا۱۰۱)فتوی۳ وفتوی۶ وفتوی۸ ہرایك نے تین عبارتیں نقل کیں جوصریح اس کا رد تھیں اورنادانستہ انہیں اپنی سندبنایا کما فی الفائدۃ الثانیۃ عشر(جیساکہ بارہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۲۱۰۳)فتوی۶۸ نے ردعلی الزوجین کومرتبہ رد مان کر رد کی چارصورت مجمع علیہا سے جن میں خلاف کی بواصلا کسی کتاب متقدم یامتأخر میں نہیں دوصورتیں صاف کردیں کما فی الفائدۃ الخامسۃ عشر(جیساکہ پندرھویں فائدہ میں ہے۔ ت)فتوی۸ میں تو اس کی تصریح ہے اورفتوی۶ نے قیاس علی العول پربڑا زوردیااوراس سے مرتبہ رد میں رکھنا صاف لازم
#3662 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کما فی الفائدۃ الثالثۃ والعشرین(جیساکہ تئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۴۱۰۵)فتوی۶۸ پرلازم کہ زوج وزوجہ کے ساتھ تمام ذوی الارحام کوہمیشہ محروم کریں اوریہ اجماع حنفیہ کے خلاف ہے کما فی الفائدۃ السادسۃ عشر(جیساکہ سولہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۶۱۰۷)بااینہمہ فتوی۶۸ کاماننا کہ متوفی کے اقارب سے کوئی بھی موجودہوتو زوجین پررد نہ کریں گے صریح تناقض ہے کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر(جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۸)فتوی۶ کابرخلاف مذہب وبرخلاف عامہ صحابہ کرام روایت منسوبہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہم سے استناد مخدوش ہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین(جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۹۱۱۰)فتوی۶ کابرخلاف مذہب قیاس علی العول پراعتماد محض مردودائمہ مذہب کے روشن جوابوں سے آنکھیں بند کرکے خودحکم مذہب کوبے وجہ اوراس پرعمل کو روایت ودرایت دونوں کے برخلاف کہناسخت ودریدہ دہنی وجسارت مطرود۔کما فی الفائدۃ الثانیۃ والعشرین(جیساکہ بائیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۱)فتوی۶ کاقول کہ اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو بچاہوا ترکہ احدالزوجین کودیں گے یہی قول حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہے امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ پرافتراء کی حد کو پہنچاہے امیرالمومنین سے اس قید کے ساتھ ہرگز یہ کہیں منقول نہیں۔کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین(جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۲)فتوی۸ کاقول کہ درمختار سے معلوم ہوتاہے کہ اس میں ردعلی الفروض النسبیہ کی دلیل میں بھی فسادبیت المال ہی کوپیش کیا ہے محض نافہمی ہے۔کما فی الفائدۃ التاسعۃ عشر(جیساکہ انیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۳)فتوی۸ کازعم مذکور کہ ذوالفروض النسبیہ پرردکی علت ہمارے مذہب میں بھی فسادبیت المال ہے محض باطل وخیال محال ہے کما فی الفائدۃ العشرین والثالثۃ والعشرین(جیساکہ بیسویں اورتئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۴۱۱۵)فتوی۸کاقول کہ درمختارکی عبارت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردہی کے
#3663 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
درجہ میں رد علی الزوجین کے قائل ہیں جہل بعیدبھی ہے اورظلم شدیدبھی۔کما فی الفائدۃ الرابعۃ والعشرین(جیساکہ چوبیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۶)فتوی۸ کاقول مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہو تو ردعلی الزوجین ہوگا ورنہ نہیں اورمیرے خیال میں یہ کسی کامذہب نہیں اپنی سخت ناواقفی کااظہار اورکمال نادانی کااقرارہے جو اس کے خیال میں کسی کامذہب نہیں قطعا وہی مسلك متاخرین ہے اورجواس کے خیال میں مختارمتأخرین ہے قطعا کسی حنفی کامسلك نہیں کما ظھر وزھر اظھروازھر من الشمس والقمر(جیساکہ ظاہروروشن ہوااورسورج وچاندسے بڑھ کر ظاہراورروشن ہواہے۔ت)
(۱۱۷تا۱۲۱)فتوی۴ نے جو پانچ عبارات درمختار وردالمحتار پیش کیں سب بے محل وناکافی تھیں کما فی الفائدۃ السادسۃ و العشرین(جیساکہ چھبیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۲)فتوی۴ کی عبارت اخیرہ سے استنباط ہرگزنہیں کمافیھا۔
(۱۲۳)فتوی۴ کاقول سیدناامیرالمومنین ذی النورین کی حدیث اوران سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کا ماعلیہ اورشامی میں جواب مبین ہے تاہم قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کوبالراس والعین منظورہے مگر رد علی الزوجین کا موقع ملحوظ نہ کرنا اورموصی لہ بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل ونقل ہے جب اسے مذہب امیرالمومنین مان لیا اوراسے اورعول پرقیاس کوبالراس والعین منظورکرلیا تواب ردعلی الزوجین آپ ہی مرتبہ رد میں آگیا اوراسے مان کراسے موصی لہ بالزائد سے مؤخرٹھہرانا ہی خلاف عقل ونقل ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ والعشرین(جیساکہ تئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۴)فتوی۴ کاقول ہمارے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مرارا یہ بیان فرمائی ہے لفساد بیت المال وہ قول اورقیاس عول تسلیم کرکے اس کے جواب میں یہ تعلیل پیش کرناخلط مبحث وجمع بین الضدین ہے کمافیھا۔
تنبیہ:اگرچہ فتوی۴ نے بھی جا بجاموصی لہ بجمیع المال سے بحث کی اوراسی کانام لیا جس سے ظاہر کہ شاہ محمدکاموصی لہ بالجمیع ہونا اسے بھی مسلم حالانکہ اس کاثبوت نہیں کما تقدم(جیسے کہ پیچھے گزرا۔ت)مگرازانجاکہ فتوی۴ مقدمہ دائرہ کابیان احکام نہیں
#3664 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
کرتا وہ صرف ایك بحث تقدیم وتاخیر ردعلی الزوجین پرتقریرہے جس پر شاہ محمد کے موصی لہ بجمیع یا بالزائد دون الکل ہونے سے کچھ اثرنہیں پڑتا اورممکن کہ وہ اس نے مشائعۃ للخصوم لکھاہو لہذا یہ اس کے اغلاط میں معدودنہ ہوا۔
الحمدﷲ تحقیق اپنے ذروہ علیا کوپہنچی اورتمام مسائل متعلقہ کاانکشاف منتہی کو۔اب بتوفیقہ تعالی جواب سوالات کی طرف توجہ کریں اورصرف بیان حکم پرقناعت اکثرحکم کی دلیل وسند افادات میں واضح ہوچکیوﷲ الحمد۔
جواب استفتائے چیف کورٹ بہاولپور
(ا)اجنبی کے نام وصیت ثلث متروکہ بعداداء دین تك مطلقا نافذہے اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں اورزائدعلی الثلث میں بے اجازت ورثہ نافذ نہیں اگروارث احدالزوجین کے سواہو اوراگرصرف احدالزوجین وارث ہوتو ثلث تك وصیت اجنبی تقدیما نافذہوگی پھرباقی کاربع یانصف زوجہ یازوج کودے کر مابقی میں بقیہ وصیت اجنبی نافذکریں گے اگرچہ زوجہ یازوج اجازت نہ دےرہی وصیت وارث وہ بے اجازت ورثہ مطلقا نافذنہیں اوراگرتنہا وہی وارث ہوتواس کے لئے وصیت صحیح ہےپھراگراس کے ساتھ کسی اجنبی کے لئے وصیت بھی نہیں تووارث اگرغیرزوج وزوجہ ہے توکل مال بحکم میراث لے لے گا اسے وصیت کی حاجت نہیںاور اگرزوج یازوجہ ہے توپہلے اپنافرض لے کرباقی میں اس کی وصیت عمل کرے گی اب بھی کچھ بچاتو اسی کوبحکم رد ملے گا۔اوراگرکسی اجنبی کے لئے بھی وصیت ہے تواگراس نے وصیت وارث کو قبول کرلیا حق تقدم کہ وصیت اجنبی کو ملتا ساقط ہوگیا ورنہ اجنبی کی وصیت ثلث مال تك اول نافذکرکے باقی سے وارث کومیراث دیں گے اگروہ وارث غیر احد الزوجین ہے کل باقی ارثا لے لے گا اورخود اس کے لئے جووصیت تھی نفاذکامحل نہ پائے گیاوراگراحدالزوجین ہے تو اس باقی سے اس کا فرض ربع یانصف دے کراس کے بعد جوبچے اس میں اس کی وصیت اوراگراجنبی کی وصیت ہنوزناتمام رہی تھی تو اس کے ساتھ بھی دونوں حسب حصص نافذ ہوں گے ان سے کچھ نہ بچاتوظاہرورنہ جوباقی رہا احدالزوجین کوبحکم رددے دیں گے۔
(ب)اس کاجواب سوال اول میں آگیا۔
(ج)اس کے بھی فقرہ اول کاجواب ہوگیااوردوم کاجواب کہ بعدادائے دین جس قدر
#3665 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
بھی باقی بچے خواہ اس کی وصیت اجنبی کے لئے کی یانہ کی اس سب کاثلث نفاذوصیت اجنبی میں لحاظ کیاجائے گا وصیت نافذ انہیں اشیاء میں ہوگی جن کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کے ماوراء اور کسی شیئ سے کچھ نہ پائے گا ہاں وصیت حصہ شائعہ مثل ربع مال وغیرہ کی ہے توجملہ متروکہ بعدادائے دین میں بقدر وصیت حصہ دارہوگا۔
(د)وصیت اجنبی بمازادعلی الثلث ردعلی الزوجین پرشرعا باجماع ائمہ حنفیہ مقدم ہے اقوال اقتباس شدہ میں جوخلل وزلل ہیں اوپرواضح ہوچکے۔
(ہ)اس کامفصل جواب شافی ووافی افادہ ثانیہ عشرہ میں گزرا اورنصوص صریح سے ثابت کردیا کہ متاخرین کے نزدیك بھی ردعلی الزوجین کامرتبہ وصیت زائدہ سے دودرجے مؤخرہے واﷲ تعالی اعلم۔
جواب استفتائے ججی خانپور
(۱)ہاں یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراس سے جواز وصیت پرکوئی اثرخلاف نہیں پڑتا۔
(۲)اگرثابت ہوکہ مدعیہ بعد وفات شوہروصیت شاہ محمد کوقبول کرچکی تھی جیساکہ شاہ محمدکادعوی ہے توبے اعتراض مدعیہ محض نامسموع اورشاہ محمد کے لئے وصیت اپنی اخیر حد تك جائزونافذ ورنہ اعتراض کااتنااثرہوگا کہ ثلث کل مال بعداداء الدین کی حد تك صرف مکانات واثاث البیت میں وصیت شاہ محمد نافذکرکے باقی کل مال مکان واسباب وغیرہ سب کاربع زوجہ کودیں گے پھرصرف باقی مکانات واثاث البیت شاہ محمد کوبحکم وصیت ملیں گے باقی جوکچھ بچا سب زوجہ کاہوگا وصیۃ خواہ ردا۔
(۳)ان زیوروں سے مدعاعلیہ کوکسی حال کوئی ذرہ نہیں مل سکتا وہ تمام وکمال عالم خاتون کے ہیں انہیں چھوڑکر باقی تمام مال کے لحاظ سے جواب نمبر۲ کاحکم جاری کریں گے مگرمکانات واثاث البیت کے سواکوئی اور زیورمتروکہ بھی شاہ محمد کے پاس ہے جیساکہ دعوی زوجہ ہے تو اس میں سے شاہ محمد کوحصہ نہ دیں گے اس کاحصہ صرف مکانات واثاث البیت میں ہوگا۔
(۴)اخراجات تجہیزوتکفین کابارترکہ خواہ عالم خاتون کے حصے پرہونے کایہاں کچھ ثبوت نہیں بلکہ صورت روداد سے ظاہرکہ وہ صرف ایك تبرع تھا کہ شاہ محمدنے اپنے محسن کے ساتھ اس کی درخواست پرکیا۔
#3666 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(۵)ہاں وہ وصیت شرعا جائزومؤثرہے اوراسے ایك حصہ مکان بحکم جواب نمبردوم وراثۃ ملنا اس کے نفاذ کاکچھ مانع نہیں۔پس اگر مدعیہ اعتراض سے پہلے وصیت مدعاعلیہ کوقبول کرچکی تھی توجملہ مکانات واثاث البیت کامالك شاہ محمدخاں ہے اوردوثلث مکانات میں حق وآسائش عالم خاتون کوتاوقتیکہ وہ نکاح ثانی نہ کرے اوراگرمدعیہ نے اس کی وصیت کونہ ماناتھا توثلث کل مال کے حد تك مکانات واثاث البیت کاحصہ شاہ محمدکو ایك ربع عالم خاتون کو ملے گا ان دونوں حصص کے بعد جوحصہ مکانات بچا اس میں وقت مذکورتك عالم خاتون کوحق سکونت بحکم وصیت ہوگا۔
(۶)ہاں ظروف میں بھی وصیت استعمال زوجہ کے لئے جائزہوئی اگرچہ بروئے جواب نمبر۲ کچھ حصہ ظروف کی وہ مالك مستقل ہوجائے اورحق متوفی میں رہنے کی شرط اس وصیت میں نہ تھی یہ وصیت تاحیات زوجہ نافذرہے گی اگرچہ وہ نکاح ثانی کرلے اوراس کانفاذ اسی طورپر ہوگا کہ بحال قبول وصیت دوثلث کل ظروف ورنہ بعداخراج وصیت تاحدثلث مال واخراج حصہ ربع باقی میں نافذہوگی اوربہرحال خاص موقع محفل امامین شہیدین کہ جس قدرظروف کہ شاہ محمدکوضرورت ہواتنے اس وقت خا ص میں اس وصیت زوجہ سے مستثنی ہوں گے۔
(۷)جوحصہ مال میں جس کاہے اس کے عین سے ا س کودیاجائے گا قیمت لینادینا صرف رضامندی ہردوفریق پرمنحصرہے اس میں حاکم کوکسی چیزکااختیارنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حکم اخیر
(۱)(سماعہ عہ)کہ وہ زیورتمام وکمال عالم خاتون کے ہیں شاہ محمدخاں کااس میں کچھ حق نہیں اور ازانجاکہ وہ ان میں ملك عالم خاتون تسلیم کرکے عالم خاتون کوتسلیم کرچکا اب وہ نفاذ وصیت شاہ محمد خاں کے لئے ثلث مال میں محسوب بھی نہ ہوں گے۔
(۲)وہی زیور حسب اقرار زوجہ مہرزوجہ میں ہیں اس سے زائد کسی تفتیش کی حاکم کوحاجت نہ بلادعوی قضاکی اجازت۔
(۳)خرچ تجہیزوتکفین شاہ محمدخاں نے تبرعا کیالہذا ترکہ اس بار سے بھی بری ہوا اب نہ رہی مگر عالم خاتون کے میراث اورمکانات اثاث البیت میں مدعی ومدعاعلیہ دونوں کی وصیت مدعیہ کا دعوی کہ شاہ محمد کے پاس ترکہ کے اورزیوربھی ہیں شاہ محمد کادعوی کہ مدعیہ بعدوفات شوہراس کی وصیت کوقبول کرچکی ہےاب چار۴ صورتیں ہیں:
#3667 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اول:دونوں دعوے ثابت ہوں مثلا شاہ محمد نے اورزیوروں کااقرارکرلیا یاعالم خاتون نے اسے گواہوں سے ثابت کردیا یاشاہ محمدپرقسم رکھی اوروہ قسم کھانے سے انکارکرگیا یونہی عالم خاتون نے قبول وصیت بعد وفات شوہرکااقرار کرلیایاشاہ محمد نے اسے گواہوں سے ثابت کردیایا عالم خاتون پرقسم رکھی اور وہ قسم کھانے سے انکارکرگئی۔
دوم:دونوں بے ثبوت رہیں۔
سوم:عالم خاتون کادعوی ثابت ہو اورشاہ محمدخاں کاپایہ ثبوت کونہ پہنچے۔
چہارم:اس کاعکس۔
صورت اولی میں جملہ مکانات واثاث البیت کامالك شاہ محمدخاں ہے اوران کے دوثلث سے انتفاع کاحق عالم خاتون کوہے مکانات سے تانکاح ثانی اوراثاث البیت سے مطلقا اگرچہ نکاح ثانی کرلے صرف ظروف بقدرضرورت محفل امامین رضی اﷲ تعالی عنہما اس وقت خاص میں مستثنی ہیں بہرحال اثاث البیت سے کوئی چیز مطلقا جب تك عالم خاتون زندہ ہے اوردوثلث مکانات سے جب تك وہ نکاح نہیں کرتی شاہ محمدخاں بیچ نہیں سکتارہا وہ دوسرازیور کہ شاہ محمدکے پاس ہے اس کی تنہا مالك عالم خاتون ہے ربع فرضا باقی ردا۔
صورت ثانیہ میں مکانات واثاث البیت کاایك سدس عالم خاتون کا پانچ سدس شاہ محمدخاں کے ہیں اورنصف مکانات واثاث البیت سے حسب تفصیل مذکور صورت اولی عالم خاتون کوحق انتفاع ہے اوراسی تفصیل سے اس نصف کے بیع کا شاہ محمدخاں کواختیارنہیں۔
صورت ثالثہ میں مکانات واثاث البیت اوروہ زیور دوم سب کی قیمت لگاکر اس کے ثلث کے حد تك شاہ محمدکو مکانات واثاث البیت سے دیاجائے باقی مکانات واثاث البیت اورکل زیور دوم ان سب کاربع عالم خاتون وراثۃ پائے اس کے بعد مکانات واثاث البیت میں حصہ رہا اس کے رقبہ کامالك شاہ محمدخاں اوربتفصیل سابق اس کی منفعت کی مالك عالم خاتون اورتین ربع باقیماندہ زیوردوم عالم خاتون کوبحکم رد۔
صورت رابعہ کاحکم مثل صورت اولی ہے سوائے حکم زیوردوم کہ وہ اس صورت میں موجودنہیں۔
تنبیہ:ظاہرمرادیہ کہ متوفی کے ذمہ اورکوئی دین نہیں اس بناپریہ تمام تفاصیل ہیں اوراگر اوربھی دین ہوتواب یہ تحقیق بھی لازم ہوگی کہ وہ پہلے زیور کہ(سماعہ عہ)کابتایاگیا عالم خاتون کے
#3668 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مقدارحصہ سے زائدہے یانہیں اس تقدیرپر تقسیم میں بہت تبدیل راہ پائے گا اگریہ صورت ظاہرہوتواس دین کی تعداد اورمہر مثل کی مقدار اس کے متعلق تمام امورکی تحقیق کے بعد صورت موجودہ بتاکر سوال کرناچاہئے۔
وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمدوالہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم امین والحمدﷲ رب العلمین۔ توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔اوراﷲ تعالی ہمارے سردارومالك محمدمصطفی اورآپ کے تمام آل واصحاب پردرود سلام اور برکت نازل فرمائےآمین۔اورتمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵۹: ازشہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمراحمدسوداگر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
ہندہ کے نہ ماں باپ بھائی بہن نہ اورکوئی رشتہ دارہے جوسوائے زیدکے وارث ہوہندہ کے پاس ذاتی اس کااسباب پندرہ بیس روپیہ کاتھا اوردوتین سوروپیہ کااسباب زیدکادیاہواہے جوزیدکے پاس ہےزید سے ہندہ نے اپنے مال کی بابت کچھ نہ کہا زیدنے ہندہ سے کہاکہ تم منت مانوکہ اچھے ہونے پرمیں کنواں بنواؤں گی اگرتم مرجاؤگی تومیں کنواں اورمرمت مسجد کرادوں گا تمہارے مال میں سے ایك حبہ نہ لوں گا میں جودے چکاوہ تمہاراہے میں وہ ان شاء اﷲ خیرات کردوں گا بلکہ اپنے پاس سے اورجومجھ کومیسرہوگا لگادوں گاہندہ نے اورشخصوں سے کہاکاش میں مرجاؤں تومیراکل مال بیچ کر مسجدیاکنواں بنادیناکہ مجھ کو ہمیشہ ثواب ملتارہےزید سے اس وجہ سے نہ کہا کہ زیدخود کہاکرتاتھا کہ میں تمہارا مال خیرات کردوں گاپس اس صورت میں زید وہ مال بیچ کر کنواں اوریامرمت مسجدکراسکتا ہے یانہیں کیونکہ سوائے زید کے اس کاکوئی وارث نہیں ہےکنواں بنوادینے کا زیادہ ثواب ہے یامرمت مسجدکا مردہ کوکس سے زیادہ ثواب ملے گا اور کس سے اسے زیادہ نفع ہوگا کیاحکم شریعت ہے
الجواب:
جومال ہندہ کا تھا وہ توتھا ہی جو زیدنے بنواکردیااس کی بھی ہندہ مالك ہوگئیبعد وفات ہندہ اس کے نصف کازیدوراثۃ مالك ہوا اگر اس کی وصیت کوقائم رکھتاہے اوریہی
#3669 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اسے چاہئے کہ وہ وعدہ کرچکاہے وعدہ خلافی نہ چاہئے جب تووہ کل مال حسب وصیت صرف کردے ورنہ نصف صرف کرنا ضرورہوگا مسجد کی اصل عمارت اگراپنی بقا کےلئے محتاج مرمت ہے تو وہ ہی کنویں سے افضل ہے اوراگرمرمت گچکاری اور سفیدی سے مرادہے توکنواں اس سے افضل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰: ازکاٹھیاواڑ دھوراجی محلہ سپاہی گران مرسلہ حاجی عیسی خان محمدصاحب ۲۹ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
یہ وصیت نامہ قابل عمل ہے یانہیں اگرقابل عمل نہیں ہے تویہ لوگ جن کوفیصلہ کرنے کے واسطے کرگیاہے کیاکرناچاہئے اگر اس وصیت نامہ پرعمل نہ کرادیں تومقدمہ کورٹ کوجائے گا اگرحقدار کمی بیشی پرباہم راضی ہوجائیں تو عمل کرایاجائے موصی کومرے ہوئے چھ سات برس کاعرصہ ہوگیا اس درمیان میں خوردونوش اورایك لڑکی کی شادی اسی مال سے ہوئی۔اس کی کیاصورت ہے اور وہ لڑکی بالغہ ہے شریعت کے مطابق تقسیم پرحصہ زوجہ کوکم ملتاہے اور وصیت کے مطابق ٹھیك ملتا ہے وہ وصیت پرراضی ہے اس صورت میں اس کوزیادہ دے کر باقی حصہ سب شریعت کے مطابق ہوں تو بہ جائزہے جن کوموصی وصیت کرگیا اورحکم مقررکرگیا ہے عدم جواز کی صورت میں ان کوکیاکرناچاہئےکنارہ کشی یاحکم کرنا علاتی بھائی کے مال سے حصہ ترکہ مثل حقیقی کے ہے یاکم وبیش
الجواب:
ملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرکہ حاجی محمدنورمحمدصاحب نے اپنی زوجہ آئی حور اوردودختر آمنہ و حلیمہ اوربرادرزادے چھوڑکر انتقال کیااوراپنے مال میں ایك طویل وصیت کی جس کاخلاصہ یہ ہے کہ چارچارہزارچارچارسوروپے دونوں دختروں کودئیے جائیں فرزندعائشہ کے نام جو رقم کمپنی میں جمع ہے اس کی لڑکی حلیمہ کو دی جائے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ کودی جائے جب اس کاانتقال ہوجائے اس کے بعد ہزارہزارروپے لڑکیوں کواوردئیے جائیں اوربقیہ ملکیت بھتیجوں پربرابرتقسیم کردی جائے اور میری روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے ہزارروپیہ مدرسہ کو دیاجائے بعد انتقال زوجہ یہ تین ہزاروضع کرکے باقی کل بھتیجوں کو دینے کے لئے مختاروں کو حکم کرتاہوں چھ شخصوں بلکہ سات یعنی زوجہ کو بھی اپناوصی کیاکہ لکھاکہ مختاروں یعنی اوصیائے مذکورین کوآئی حور کی زندگی میں اس کی صلاح کے موافق عمل کرنا چاہئے نیزلکھامیری زوجہ کے مشورہ سے
#3670 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
صرف کریں۔
اب یہاں تین قسم کی وصیتیں ہیں:
اول:حلیمہ بنت عائشہ کے نام اس کا حکم یہ ہے کہ عائشہ حاجی محمد کی بیٹی کہ اس کے سامنے انتقال کرگئی جیساکہ عبارت وصیت نامہ سے مفہوم ہوتا ہے جورقم کمپنی میں اس کے نام سے جمع ہے اگر وہ رقم عائشہ کی ذاتی تھی جب تو بعد وفات عائشہ حاجی محمداس میں سے صرف اپنے حصہ پدری کامالك ہوا اگر عائشہ نے وارث یہی دختر حلیمہ اورباپ چھوڑے تو بعد عائشہ نصف رقم حاجی محمد کی ہوئی اور اگرعائشہ کے اوروارث بھی رہے مثل شوہروغیرہ توحساب فرائض سے جوحصہ حاجی محمدکانکلے بہرحال یہ وصیت کہ حاجی محمد نے حلیمہ بنت عائشہ کے لئے کی وہ صرف اس حصہ پر نافذہوگی جو اس روپے میں حاجی محمدکاہوا اوراگروہ رقم عائشہ کی ذاتی نہ تھی بلکہ حاجی محمدنے اپنے مال سے اس کے نام جمع کی تھی تو اس میں دوصورتیں ہیں اس وقت اگرعائشہ نابالغہ تھی تو کل رقم عائشہ کی ہوگئی
فان الجمع باسمہا تملیك ھذا عرفا وھبۃ الاب للصغیر تتم بمجرد الایجاب۔ بیشك اس کے نام سے جمع کرنا عرف کے اعتبارسے تملیك ہےاورنابالغ کے لئے اس کے باپ کاہبہ فقط ایجاب سے تام ہوجاتاہے۔(ت)
یونہی اگربالغہ تھی اورجمع کرنے سے پہلے حاجی محمد نے عائشہ کو وہ رقم دے کر قبضہ کراکر اس کے بعد جمع کی جب بھی کل رقم عائشہ کی ہوئی ان صورتوں کابھی وہی حکم ہوگاجوعائشہ کے ذاتی مال ہونے میں تھا اوراگرعائشہ اس وقت بالغہ تھی اوراسے بے قبضہ دلائے یہ رقم اس کے نام جمع کردی اورتاوفات عائشہ باذن پدر اس کے قبضہ میں نہ آئی توہبہ باطل ہوگیا
لان موت احدالعاقدین قبل التسلیم یبطلھا کما فی الدر وغیرہ۔ کیونکہ سپردگی سے پہلے عاقدین میں سے کسی ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہےجیساکہ دروغیرہ میں ہے(ت)
اس صورت میں وہ کل رقم ملك حاجی محمد ہے اور وہ سب حلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ہے۔
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
#3671 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
دوم:ہزارروپے مدرسہ کے لئےیہ وصیت اگرچہ اس نے انتقال زوجہ کے بعد رکھی مگروصیت قابل اضافت بزمانہ آئندہ ہے لانہا لاتکون الامضافۃ لما بعدالموت(کیونکہ وصیت نہیں ہوتی مگر اس حال میں کہ وہ موت کے بعد کی طرف منسوب ہو۔ت)درمختارمیں ہے:
ماتصح اضافتہ الی الزمان المستقبل الایصاء و الوصیۃ۔ جس کی نسبت آئندہ زمانے کی طرف صحیح ہوتی ہے وہ ایصاء ووصیت ہے۔(ت)
تو اس کانفاذبعد انتقال زوجہ ہی ہوگا۔یہ دونوں وصیتیں یعنی جورقم بنام عائشہ جمع ہے کل یا اس میں سے جوحصہ حاجی محمدہو اور ہزارروپے مدرسہ کے یہ مجموع اگرحاجی محمدکے ثلث مال سے زائدنہیں تمام وکمال بے اجازت ورثہ نافذہوں گے ورنہ تا حدثلثاوراگر ان کامجموعہ ثلث مال سے بھی بڑھتاہوتوثلث مال حاجی محمدان دونوں وصیتوں پرحصہ رسدتقسیم ہوگا۔
سوم:باقی وصیتیں دونوں دختروں اورزوجہ کے نام ابتداء اوربعد موت زوجہ دونوں دختروں اوربھتیجوں کے لئےیہ سب وصیتیں وارث کے لئے ہیں اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ اصلا مقبول نہیں۔
کما فی الکتب قاطبۃ وفی الحدیث ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ جیساکہ تمام کتابوں میں ہے۔حدیث میں ہے کہ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدار کو اس کا حق عطافرمادیاخبردار وارث کے حق میں وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
پس اگرورثہ اس وصیت پرراضی نہ ہوں توثلث متروکہ میں حلیمہ بنت عائشہ اورمدرسہ کی وصیتیں حسب تفصیل بالانافذکرکے جو مقدارحلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ٹھہرے اسے دے دیں اورجوحصہ مدرسہ کاثابت ہو یعنی مجموع ہردووصیت مدرسہ و حلیمہ بنت عائشہ ثلث مال سے زائد نہ ہونے کی حالت میں پورے ہزارروپے ورنہ بحساب حصہ رسد جتنا روپیہ مدرسہ کا ٹھہرے اس کے لئے محفوظ رکھیں کہ اس کانفاذ بعد انتقال زوجہ ہوگا بقیہ جائداد منقولہ وغیرمنقولہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۴€
سنن ابی داؤ کتاب الوصایا∞۲/ ۴۰€ وجامع الترمذی ابواب الوصایا ∞۲/ ۳۳،€سنن ابن ماجہ ابواب ∞الوصایاص۱۹۹€ وسنن النسائی کتاب الوصایا ∞۲/ ۱۲۹€
سنن الدارقطنی کتاب الفرائض ∞حدیث ۴۰۸۱€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۳۷€
#3672 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
سب حسب فرائض تقسیم کردیںیوں کہ اس میں آٹھواں حصہ زوجہ کا اوردوثلث آمنہ وحلیمہ بنت موصی کے باقی بھتیجوں کا۔ اگر اس پرناراضی ہوتو مختاروں کوخلاف حکم شرع کرنےکاکوئی اختیارنہیں۔مقدمہ کورٹ کوجائے خواہ کچھ ہوبحال عدم اجازت دیگرورثہ مختاروں کویہ بھی جائزنہیں کہ زوجہ کو اس کے حق شرعی سے زیادہ دیاتو باقیوں پر مطابق شرعی تقسیم کریں بلکہ جب ایك وارث کو اس کے حق شرعی سے زائد دے کرباقی حصے مطابق شرعی تقسیم کب ہوئی کہ شریعت سے ان کازائد تھا اور دیاکم۔مختاران مذکورین وصی ہیں حکم نہیں نہ بے رضائے فریقین کوئی حکم بن سکتاہے اگرچہ موصی اسے حکم بناتاکہ موصی کو نزاع ورثہ فیصل کرنے کے لئے کسی کوحکم بنانے کااختیارنہیں۔
اذ لیس لہ علیھم ولایۃ الحکم لاسیما بعد الموت فکیف یولی علیھم غیرہ للحکم۔ کیونکہ موصی کوخود ان پرحکم کی ولایت حاصل نہیں خصوصا موت کے بعدتو وہ کسی دوسرے کو ان پرحکم کاولی کیسے بنا سکتاہے۔(ت)
لہذا اگر ورثہ راضی نہ ہوں مختاروں کو کنارہ کشی لازم ہے اپنی طرف سے کچھ حکم نہیں کرسکتے ہاں ورثہ سب عاقل بالغ ہوں اورآپس میں جیسی کمی بیشی پرچاہیں راضی ہوجائیں تو وہ اس کااختیار رکھتے ہیں اس کے مطابق عمل کرایاجائے لان الحق لھم ولاحجر علیھم من الشرع(کیونکہ حق ان کاہے اوران پرشرع کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ت)
مسئلہ ۱۶۱: ازشہربریلی مرسلہ اہلیہ کلاں حکیم اکرام الدین صاحب مرحوم معرفت عبداﷲ ملازم محلہ کٹرہ بروزشنبہ بتاریخ ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
حضرت مولوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی بعدسلام مسنون کے یہ عرض ہے کہ جناب والا سے مجھے ایك سوال کاجواب حاصل کرنا مقصود ہے یہ کہ ایك شخص نے دوسرے شخص کو کسی ضرورت کے پوراکرنے کوبطریق قرض کچھ زیوردیااوریہ کہاکہ یہ زیور رہن کرکے اپناکام انجام دے لوبعد کو واگزاشت کراکے دے دیناکچھ عرصہ کے بعد یعنی واگزاشت زیور سے قبل دائن یعنی مالك زیور کاانتقال ہوگیا مدیون کوایك ثالث شخص کی زبانی یہ دریافت ہواہے کہ دائن قبل انتقال کے یہ وصیت کی ہےکہ اگر میرا انتقال ہوجائے توزیورواگزاشت کرنے کے بعد یہ زیورمجھ دائن کے بیٹے کونہ دیاجائے بلکہ میرے پوتے کودیا جائے۔اطلاعا یہ بھی عرض ہے کہ دائن کی وصیت بیان کرنے والے ایك معمولی شخص ہیں کچھ مقدس یا ابراربرگزیدہ شخص نہیں پھربھی ممکن ہے کہ دائن نے بعالم بدحواسی وہ وصیت کردی ہو مریض کے مرض کی شدت میں یامرنے سے کچھ وقت پہلے
#3673 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
حواس درست نہیں رہتے ہیں اکثراوقات ایساہوتاہےیہ بھی اطلاع کرنے کی ضرورت ہے کہ دائن کاپسرجو ہے وہ شراب خوار نہیں ہے قماربازنہیں ہے کسی طرح کی بدچلنی یاآوارگی کی بھی بالکل شہرت نہیں ہے بجائے اس کے بہت غریب اورتنگدست آدمی ہےمرحوم کاپوتاجو ہے وہ بعمرپانزادہ سالہ ہے اورسعادت مندنیك چلن نہیں ہے اس کی آوارگی سے یہ ضروراندیشہ ہے کہ اگریہ زیور دائن کے پوتے کودیاجائے گا توضرور ضائع کردے گازیورقیمتی کم وبیش پانچسوروپے کا ہےاس ہفتہ میں زیور واگزاشت ہوگیاہے اب یہ زیور دائن کے پسرکودیناچاہئے یاکہ پوتے کو جواب مناسب مع دستخط ومہرمرحمت فرمایاجائےفقط۔
الجواب:
جس نے زیور عاریت لیاتھا اسے چاہئے مالك زیور کے سب وارثوں کو جمع کرکے ان کے سپردکردےاوراگرصرف ایك بیٹاہی اس کا وارث ہے تو اسی کو دے دے وہ وصیت اس شخص سے تعلق نہیں رکھتینہ یہ اسے بطورخود نافذکرنے کاکچھ اختیار رکھتاہے خصوصا اس حالت میں کہ وہ ابھی پایہ ثبوت کوبھی نہیں پہنچیایك شخص اور وہ بھی ثقہ نہیںوہ وصیت اگر مالك نے واقع میں کی ہے تو جسے کی ہے توایساکرناوہ وصی ہوااس کے ذمہ اس کی فکرہے ورثہ اگر صرف اس بیان پر وصیت تسلیم کرلیں اور سب عاقل بالغ ہوں ثلث مال میں نافذکریں اوراگرنہ مانیں تو اسے گواہان شرعی سے ثبوت دیناہوگا بے ثبوت نافذنہ کی جائے گی یہ وصیت اگرخودہی عاریۃ لینے والے کوکی ہے تو اس کے لئے یہی حکم ہے۔وھوتعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۲: ازضلع نینی تال موضع درؤ اشفاق حسین خاں روزشنبہ بتاریخ ۲۶رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ مورث عثمان خان مرحوم نے ایك رقم بخیال مصرف خیر ایك عزیزامین صاحب کے امانت رکھ دی تھی جس کو بارہ برس گزرگئے ہنوزآدھی رقم موجودہے اسی زمانہ میں عثمان خاں مرحوم کے مرنے کے بعد ہی ایك لڑکے اوردوبیٹی مرنے سے کام خراب ہوگیااب ایك نورچشم اندھی اوردوپوتی اورایك بہوزندہ موجودہیں پردہ نشین اندھی لا وارث بیٹی وبہوخواہش ظاہرکرتی ہیں کہ ہمارے باپ کی خیراتی رقم امانت شدہ سے ہمارے اورہمارے دوسرے بچوں نابالغ کے خیرات میں ہے مزورمش عــــــہ معلوم ہوجائے تودوسروں کی خیرات
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
#3674 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اوردردرکی امداد سے بچیںاب امین صاحب چراغ سحری صدسالہ نے بوجہ پیری وپیرانہ سالی اپنے جملہ کاراپنے سعادت مندبرخوردار کے تفویض فرماکر امیدکرلی ہے کہ مثل امین صاحب کے نیك کاموں مصرف خیرکی رقم ضروریات تعمیرمسجدوں وبیاہ شادیوں میں محتاجوں کوحسب ضرورت آئندہ تقسیم کردی جائے گی لہذا اس رقم مصارف خیر سے مورث اعلی کی بیٹی پردہ نشین اپنی اوراپنی بھتیجیوں کی تعلیم وخوردنوش کےواسطے بمدخیرات خیرات مانگتی ہیں امین صاحب اس معاملہ رقم مصرف خیر کو علماء کی رائے پرچھوڑتے ہیں پس بمقابلہ امانت دائمی ورفتہ رفتہ مستحسن طریقہ پرخرچ وصرف ہونے کے برخلاف ان بچوں کے ترتیب وتعلیم قرآن حقیقی اندھی لاوارث بیٹی نمازی پردہ نشین کی صرف طعام وبیوہ بہوباعصمت کی خورش وصرف بطریقہ خیرات میں رقم خرچ وواپس دے دینے سے امین صاحب مخدوم مواخذہ گیرخداورسول کے نہیں ہوسکتے ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
عثمان خاں نے اگروہ رقم امین صاحب کے پاس خیرات کرنے کے لئے امانت رکھی اوراس کے ساتھ کوئی لفظ وصیت کانہ تھا کہ بعد میرے جومال بچے وہ بھی یونہی خیرات ہویاہواکرے جب توعثمان خاں کے مرتے ہی وہ مدباطل ہوگئی اورباقیماندہ جس قدر رقم تھی وارثان عثمان خاں کی ملك ہوگئی اب امین کوجائزنہیں کہ کوئی پیسہ بے ان کی اجازت صحیحہ کے خیرات کرے اورلازم ہے کہ باقی تمام رقم وارثان عثمان کوواپس دے اوراگرالفاظ وصیت تھے توان لفظوں کی تفصیل اور یہ کہ باقیماندہ رقم املاك عثماں خاں بعدادائے دین کے قدرثلث سے زائدہے یانہیںزائد ہے توکس قدراوربعدعثمان خاں امین نے اس میں سے کچھ خرچ کیا یانہیںکیاتوکس قدراور باجازت یابلااجازتان سب باتوں کی تفصیل اوریہ بھی کہ عثمان خاں پر کوئی دین تھایانہیںاور تھا تو کس قدر۔ان سب باتوں کی تفصیل معلوم ہونے پر جواب دیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۳: ازنینی تال موضع وڈاکخانہ کچہا یك شنبہ ۲۶رجب ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اٹھارہ سوروپیہ عمرکے پاس جمع کرکے اپنے حقیقی بھتیجے اورحقیقی داماد سے کہا کہ جس وقت دوہزارروپیہ ہوجائیں گے تو اس وقت رقم مذکورہ سے کوئی جائداد خریدکرکے وقف کردوں گااس پربرادرزادہ نے بخیال دوراندیشی سے کہاکہ اس رقم موجودہ سے آج ہی کسی مدرسہ اسلامیہ کی امدادفرمائیے تاکہ آپ کے روبرو یہ رقم خرچ ہو جائےتب زیدنے جواب دیاکہ رقم ہنوزپوری نہیں ہےپھرزیدنے بیٹے سے کہاکہ چھوٹا لڑکا میراجو
#3675 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اس وقت خواندگی میں ہے بشرط نیك چلنی وسعادتمندی کے رقم مذکورکواس کے سپردکردوں گاتاکہ بعد موت میری کے فی سبیل اﷲ آمدنی اس روپیہ کی خرچ کرتارہے اوراصل روپیہ قائم رکھے درصورت بدچلنی کے جائدادخریدکرکے خانہ کعبہ کے نام کردوں گا۔ہنوزمشرط مختلف خیالات اورتنہا کی ہوئی وصیت اورتعداد رقم دوہزارروپے پورے نہ کرسکے تھے کہ زیدصاحب کا انتقال ہوگیا اورتعدادی انیس سوپچیس روپے کی رقم کارخیر کے سوادوسرے جائدا ملك توسوروپے کے خریدشدہ ذاتی اورمتروکہ خوشدامن زیدوسالی لاولد وزوجہ منکوحہ خودقیمتی صدسوروپیہ کے مالك بن کراپنی حیات میں ثبات عقل کے ساتھ مبلغ پندرہ سوروپیہ کے کل جائداد ملك سہ برخورداران بالغ ونابالغ کے نام بسبب بخل وبیم حق رسی مردونورچشمان شادی شدہ کے تحریر رجسٹری کرادی تحریرشدہ جائداد اوررجسٹری کے ڈھائی تین اندازا زیادہ سے زیادہ چارسال کے بعد سب سے بڑالڑکا میرااس کے شرعی حصہ سے جومتروکہ تھا پھر دوبارہ ہمشیریں کوجبریہ محروم رکھاگیااب زید کی حقیقی بیٹی نابینانمازی عمرپچپن سالہ اورسالی کا لڑکا عمرپینتالیس برس اورلڑکی سالی کی عمرپچاس برس بحلف نائب رسول اﷲ کے سامنے شہادت دینے کوتیارہیں اوربیان کرتے ہیں کہ چشم دیدگفتگو وزوجہ ہندہ زمانہ علالت ونیزعلالت سے قبل بصورت رضامندی وبصورت مناقشہ ماں باپ زندہ ومردہ عورت یگانہ وغیرہ وعزیز سے روبرومیرے یامیرے باپ کے سامے یاہمارے یاہمارے خالوپھوپا کے بالمشافہ لینے زیدکے روبرو ہمیشہ ہمیشہ یہ دریافت ہوتارہے کہ رقم عدم معافی قرض دی مہرکے جوتعدادی پانچہزاروپیہ پچاس اشرفی محمدشاہی بتلاتے ہیں دوسراقرضہ زرنقد کسی دوسرے شخص کازیدپرنہ تھا جن کے بالعوض زیدنے اپنی زندگی میں بامیددائمی چراغ روشن خیالی سے انفیاط حقوق نورچشمان کرکے صرف مردفرزندوں کوکل اپنی جائداد ملك معافی پرمثل ذات خودمالك اصلی بنادیاتھا اور خود سرپرست اورولی بن کرآمدنی ملك فرزندان اپنے قبضہ میں اورآمدنی پیشہ ملازمت سے مبلغ دوہزارروپے کی رقم پوری نہ کرسکتے تھے کہ فوت ہوگئے حضورکے فتوی کے جواب میں پرسش دین کے جواب میں حلفا دریافت حال کرکے واقعات اصلی لکھے گئے لیکن زیدصاحب نے اپنی زندگی یابیماری میں کوئی خاص مجمع جمع کرکے یاکسی بالغ بیٹابیٹی کے مشورہ سے یادیگرشہادت معتبرورثاء یاعزیز ورثاء کی موجودگی میں حالات مذکورہ وتذکرہ وصیت میں اپنی اصلی اصل رائے ظاہرمصرف خیرنہیں کی ہاں صرف عمر صاحب سے زیدنے چندمزید روپے کے جمع کرنے کے ہنگامہ عــــــہ تذکرہ کردیاتھا کہ اس مال جمع کوکارخیر میں خرچ کردینا عمر صاحب نے
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
#3676 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اس زیدکے قول کوبطور وصیت تصورکرکے دوثلث روپیہ وارثان زیدکو اورایك ثلث روپیہ سے کچھ روپے حصہ بلااجازت وارثان مذکوردوایك کام میں مثل جدید مسجدبنانے میں اورسیدصاحب کی لڑکی کے مصارف جہیزمیں اورچاہ بنانے میں خرچ کر دیااب یہ فعل عمرصاحب کاجائزہے یانہیںاوروصیت اس قسم کی درست ہے یانہیںبقیہ روپیہ ثلث کابعد عرصہ بارہ برس کے بھی یعنی نیك کاموں میں خرچ کرنے سے بچاہوا اب قریب قریب تین سوپچیس روپیہ کے عمرصاحب کے پاس موجودہے اس روپے کوپانے کے واسطے مورث اعلی زیدکی بیٹی اندھی اوردوپوتے بعمرایك سال وہفت سالہ ہیں مصرف خیرسے اپنے رفع محتاجی کے واسطے خیرات مانگتی ہے محتاجی وپریشانی کے سبب موجودہ عدالت کے خرچ وصرف جدابجائے جھگڑا عدالت سے وامیں۔منجملہ اصلی رقم ثلث مبلغ چھ سوپچاس کے اب تین سوپچیس باقی ہیں۔حقدارزیدکی نورچشمی نابینازیدکے فرزند خالد کی بیوہاولادحقیقی تین بچے ہفت سالہ وایك سالہ دوسرابچہدوسرازیدکافرزند بکرلاوارث مرازوجہ سے دین شرعی وصول کیا۔ صرف اتنے ہی حقدار موجودہیںاس زمانہ میں جبکہ زیدکاروپیہ تقسیم ورثاء پرہوناچاہئے تھاتوصرف کے فرزند خالدو بکرونور چشمی زندہ تھے۔روپیہ ثلث بھی محض مصروفیت عــــــہ۱ زبانی پر تقسیم ہوکر باقی رہا اب وہ پارسال جملہ فوت ہوگئے۔
الجواب:
یہ سوال متعددبار آیا اورہربار مختلف اورخود اس بارکہ سب سے مشورہ سے لکھاجانا بیان کیا اس ایك ہی پرچہ میں اختلاف ہے۔ اوپرلفظ یہ ہیں کہ خرچ کردوں گا اورآخرمیں کہ خرچ کرنا سائل نے وقت استفسار بیان کیاکہ یہ صرف عمرو مدعی وصیت کابیان ہے اور وہ بھی اتناہی بیان کرتا ہے کہ یہ کہاتھا کہ خرچ کردینااس سے زائد لفظ اضافت معتبرہ فی الایصال عـــــہ۲ نہ تھا صورت واقع اگریہ ہے تووہ وصیت نہ ہوئی وہ تمام وکمال روپیہ بعدمرگ زیدوارثان زیدکی ملك ہواان میں سے جس عاقل بالغ نے عمروکے ان تصرفات کواپنی طرف سے جائزرکھا ہوفبہا اوراگرعمرو کے بیان سے دھوکہ کھاکروصیت سمجھ کراجازت دی ہوتو وہ اجازت بھی معتبرہ نہیں کہ غلط گمان کی بناء پر ہے ولاعبرۃ بالظن
عــــــہ۱: اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
عــــــہ۲:کذا فی الاصل ولعل الصواب فی الایصاء۔ازہری غفرلہ
#3677 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
البین خطأہ (جس کی خطا ظاہرہو اس میں ظن کااعتبارنہیں۔ت)
اورجوعاقل وبالغ نہ تھا اس کی اجازت توکسی طرح معتبرنہیںصرف اس پہلی صورت کے سوا یعنی جس عاقل بالغ نے نہ بربنائے وصیت بلکہ ازطرف خود اجازت دی ہو اس کے حصہ کے سوا باقی تمام ورثاء کے حصص اس روپے سے کہ عمرونے مساجد وغیرہ میں صرف کیا ان کاتاوان دینا عمروپر فرض ہے اوربقیہ جوتین سوپچیس رہ گیاہے لازم ہے کہ وارثان کو دے ورنہ حق العباد میں گرفتاررہے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴: مسئولہ شیخ محمدانعام الہی صاحب سوداگر لیمپ صدربازار میرٹھ ۵صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنی بیماری میں اپناجملہ زرنقد وزیورواسباب وغیرہ جوذاتی تھا اور بوقت شادی دیاگیاتھا وہ اورجوشوہر زیدکے یہاں سے شادی میں چڑھایاگیاتھا جس کو زیدنے دین مہرمیں نہیں دیا اورنہ ہبہ کیاوہ کل کا کل اپنے برادرحقیقی وغیرہ کو وصیت کرکے فوت ہوگئیاب عندالشرع شوہر اپنے مال کا جوبطریق رسم ورواج کے چڑھایاگیاتھا جس کو اس نے ہبہ نہیں کیاتھا مالك ہے یانہیں اور زوجہ کے مال میں سے شوہر کاحصہ ہے یا نہیں اورمسماۃ متوفیہ لاولد کی وصیت کل مال میں اپنے شوہرکے جاری ہوسکتی ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
چڑھاوے کاحکم اس قوم کی رسم ورواج پرموقوف ہے اگر ان میں عرف یہ ہے کہ عاریۃ چڑھاتے ہیں اور زوجہ کی ملك نہیں کرتے تو وہ چڑھاوے کی مالك نہیں اور اس میں اس کی وصیت باطل ہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃ تملیك کردی ہوکہ میں نے تجھے اس کامالك کردیایاتجھے ہبہ کردیا اوراگروہاں عرف یہ ہوکہ بطورتملیك ہی چڑھاتے ہیں توزوجہ بعد قبضہ مالك ہوگئی اوراس میں اسی کااختیارہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃ نفی تملیك کرکے چڑھایاہوکہ میں تجھے اس کامالك نہیں کرتا ملك میری ہی رہے گالاولد زوجہ کے ترکہ میں شوہرکانصف ہے مگردین ووصیت کے بعد وصیت تہائی مال میں بے اجازت ورثہ نافذ ہوگی مگر عورت کاباپ یادادا اس کے بعد رہا توبھائی کے حق میں وصیت جائزہے ورنہ بے اجازت ورثہ اصلا جائزنہیں کہ وہ خود وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعۃ عشرہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۹۳€
#3678 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مسئلہ ۱۶۵: مرسلہ مستجاب خاں صاحب از ریواڑی ضلع گوڑگانوں ۹صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ زید حج کوجاتے وقت حاجی علی جان والوں کے پاس سے سات سوروپیہ کی ہنڈوی لکھوالے گا اوران کی بہی میں یہ الفاظ لکھواگیاکہ اگرمیں یہ روپیہ ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا تومسماۃ ثمرالنساء بیگم کوجومیری حقیقی بھاوج ہے برمکان مولوی محمدسعیدکوچہ پنڈت دہلی میں روپیہ مل جائے اورزبانی بھی مولوی محمد سعیدصاحب سے اوردوتین شخصوں سے کہہ گیاکہ میں نے فلاں صاحب کے یہاں سے سات سوروپے کی ہنڈوی لکھوالی ہے اوربہی میں مذکورہ بالابیان لکھوادیاہے اس کے بعد وہ جب حج کوگیاتواثنائے راہ میں زیدموت ہوگیاچونکہ متوفی کنوارا ولاولدتھا اورحقیقی بھتیجابھی نہیں چھوڑاتھا اس لئے زیدکے متروکہ مال کے اس کے چچازادبھتیجے عصبہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرکے قابض ومالك ہوگئےجائدادمتروکہ حسب ذیل ہے:
(۱)مکان مالیتی تقریبا دوہزارروپیہ
(۲)دوہزارروپے نقدجوبنك میں جمع تھے۔
(۳)پانچسوروپے جو ڈاك خانہ میں جمع تھے۔
میزان کل چارہزارپانچ سوروپے۔
مبلغ سات سوروپے جوزیدکی بھاوج نے حاجی علی جان والوں کے یہاں سے بہی کی تحریر کے مطابق وصول کئے تھے ان کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ہماراہی حق ہے اب سوال صرف یہ ہے کہ آیا عندالشرع وہ عصبات مذکورہ ان سات سوروپے کے مستحق ہیں یابہی کی تحریراورزبانی دوتین شہادتوں کے سبب مسماۃ مذکور ثمرالنساء بیگم اس کی مالك حقدارہے کیونکہ ہنڈوی کی رقم مذکورہ رقومات کی نسبت ایك تہائی سے کم ہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
زیدکاوہ لکھوانا کہنا نہ مرض الموت میں تھانہ اس میں اپنے بعدکاذکر ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا معنی موت میں متعین نہیں لہذا کسی طرح وصیت کی حد میں نہیں آسکتا فلاں کومل جائے ہبہ وودیعت دونوں کومحتمل اورودیعت اقل تو وہی متعینمعہذا اوراگرہبہ صریح ہوتا جب بھی قبضہ ثمرالنساء بعد موت واہب ہواتوموت قبل قبضہ سے ہبہ باطل ہوگیا
فی الدرالمختار من موانع الرجوع درمختار موانع الرجوع میں ہے کہ میم سے مراد
#3679 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
والمیم موت احدالعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل۔ واہب اورموہوب لہ میں سے ایك کی موت ہے سپردگی کےبعداوراگرسپردگی سے قبل موت واقع ہوئی توہبہ باطل ہوجائے گا۔(ت)
بہرحال اس سات سومیں ثمرالنساء بیگم کاکوئی حق نہیں واجب ہے کہ ورثہ کوواپس دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: مسئولہ مادی حسین صاحب بریلی محلہ ذخیرہ ۱۴شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بعزم حج بیت اﷲ شریف اپنی حقیت ملك کو فروخت کیا اوراپناسکونتی مکان زید(اپنے ہمشیرزادہ)کی لڑکیوں کے نام نصف نصف باضابطہ لکھ دیا اورقبل روانگی اپنی حقیت کی قیمت میں سے مبلغ پچاس روپیہ اس نیت سے کہ زیدمذکورکی کنواری دخترکے نکاح میں کام آئیں گے زوجہ عمرو کے پاس بطورامانت چھوڑے اوریہ کہاکہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زید کی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے اس کی خبر زیدکونہ کرنا اگرکسی نوع سے اس روپیہ کی خبر اس کوہوبھی جائے تواس کوہرگزنہ دیاجائے وعلاوہ ازیں چھ عدد بالیاں طلائی زید مذکورکی بڑی دخترکے پاس ہندہ نے چھوڑیں جس کاعلم پورے طورپرنہیں کہ کس غرض سے چھوڑیںآیا اس کوہبہ کردیں یاکیاکریںکوئی کہتاہے کہ زید کی دونوں لڑکیوں کی ہیںکوئی کہتاہے کہ ہندہ اپنی موت حیات اورفاتحہ درودکے واسطے چھوڑگئی ہےزیدکی بڑی لڑکی کہتی ہے کہ مجھے دے ڈالی ہیں میں مالك ہوںغرض اس کے بعد ہندہ ہمراہ زید مذکورمعہ اس کی کنواری دخترکے مکہ معظمہ زادھا اﷲ شرفاوتعظیما چلی گئی بعدحج مدینہ طیبہ جاکرہندہ نے قضا کی اورزیدمع اپنی کنواری دخترکےواپس وطن آیا ہندہ نے اپنی وفات کے بعد دو چچیرے بھائی چھوڑے جن میں سے ایك بھائی کاانتقال ہوگیا اوراس نے دوپسر اورایك دختر منکوحہ اپنے وارث چھوڑےزیدمذکور کی دخترکاعقد اس کے نانادادی کے صرف سے ہوگیا کیونکہ عجلت کی وجہ سے زوجہ عمروسے ہندہ متوفی کے امانتی روپیہ کابروقت نکاح زیدکی لڑکی کے بندوبست نہ ہوسکا جواس دم کام آتا اب زوجہ عمروسے ہندہ متوفیہ کے روپیہ کی ہرطرف سے مانگ ہے زیدکہتاہے کہ ہندہ کاروپیہ مجھے دینااس معنی کرکہ ہندہ نے اس کوطفولیت سے پالا
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
#3680 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اورپرورش کیاہے اورزیدکی لڑکی مذکورہ کہتی ہے کہ مجھے ملناچاہئے اس لئے کہ میری شادی کے واسطے ہندہ چھوڑگئی تھی۔ اور ہندہ کے چچیرے بھائی متوفی کے وارث کہتے ہیں کہ ہم ہندہ متوفیہ کے متروکہ پانے کے بذریعہ اپنے پدرمتوفی کے مستحق ہیں اگر ہندہ متوفیہ کاروپیہ دیاجائے تو ہم کودیاجائےصورت مسطورہ میں ہندہ متوفیہ کاروپیہ کس کوملناچاہئے اوربالیان مذکورہ بالا کا کیاکرناچاہئےفقط۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فقط نیت سے کچھ نہیں اوریہ الفاظ کہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زیدکی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے یہ بھی حد وصیت میں نہیں آتے صرف اسی قصدونیت کااظہارکرتے ہیں بالیاں کہ وہ زیدکی بڑی لڑکی کے پاس چھوڑگئی صرف اس کے کہنے سے کہ مجھے دے ڈالی ہیں اس کی نہیں ہوسکتیں جب تك گواہان شرعی سے ثبوت نہ ہوگا لہذا وہ پچاس روپیہ اوربالیاں سب متروکہ ہندہ ہیں حسب شرائط فرائض اس کے چچازادبھائی موجود اوردوسرے بھائی کی اولاد وزوجہ کوہرایك کو بقدراس کے حصے کے دئیے جائیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۷: مسئولہ حاجی محمدنوراﷲ ازمحلہ قاضی ٹولہ بریلی ۲۴شوال ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ مرض الموت میں ابراء دین یاہبہ مال یازوجہ کو مرض الموت میں انتقال کے چند روز قبل معاف کردینامہرکادرست ونافذہے یانہیں دیوبندی وتھانوی وغیرہم کہتے ہیں کہ اس کابھی نفاذثلث سے ہوگا۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
مرض الموت میں ابراء یاہبہ مال کاہو یادین کاوصیت ہے۔اوروصیت وارث کےلئے بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے اور شوہروارث ہے۔درمختارباب اقرارالمریض میں ہے:
ابراؤہ(ای المریض)مدیونہ وھو مدیون غیرجائز ای لایجوز ان کان اجنبیا وان وارثا فلایجوز مطلقا سواء کان المریض مدیونا اولا۔ مریض کااپنے مقروض کوقرض سے بری کرنا جبکہ خودمریض مقروض ہوناجائزہے یعنی اگرمقروض اجنبی ہو اوراگروہ مقروض اس مریض کاوارث ہوتومطلقا ناجائزہے چاہے مریض مقروض ہویانہ ہو۔(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۶€
#3681 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ہاں اگرشوہر وقت موت زن وارث نہ رہے مثلا عورت کوطلاق دے دی پھروہ مرگئی تواب یہ ابراء وہبہ ثلث سے نافذہوگا وارث ہونے نہ ہونے میں وقت موت مورث کااعتبارہے۔ درمختارکتاب الوصایامیں ہے:
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ علی عکس اقرار المریض للوارث۔ واﷲ تعالی اعلم کسی کے وارث یاغیروارث ہونے کااعتبارمورث کی موت کے وقت ہوگا نہ کہ وصیت کے وقت۔یہ حکم وارث کے لئے مریض کے اقرار کے برعکس ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۸: ازاسلام نگرضلع بدایون مرسلہ محمدنوشہ علی صاحب سب اسسٹنٹ سرجن شفاخانہ ۸ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ہندہ نے اپنی جائداد فروخت کرکے زرثمن اپنی بھانجی کے پاس بطورامانت رکھا اوربارہا اس نے یہ وصیت اپنے دیگررشتہ داروں سے کی کہ میری خوردونوش اورمصارف تجہیزوتکفین کے بعد جس قدرروپیہ باقی رہے اس کو حسب منشاتجویز علمائے دین کسی خیراتی مصرف میں لگادیاجائے اگرمیری وصیت پرعمل نہیں کیاگیا توحشرمیں اس کے خلاف کرنے والوں کے دامنگیر ہوں گی ہندہ مذکورہ کایہی روپیہ ذریعہ اوقات بسری تھا چنانچہ اسی وجہ سے وہ کسی خیراتی کام میں نہ لگاسکی ہندہ کی حالت حیات میں اس کے کچھ رشتہ دار اورورثاء میں سے کسی سے اس کوکچھ امدانہ ملی اب ہندہ فوت ہوئی اس کے ورثاء میں سے دوبھائی اورایك بیوہ بہن اورایك بیوہ بھاوج موجودہیں بھائی دونوں مرفع حال ہیں بہن بیوہ کی خبرگیری اس کاداماد کرتاہے بیوہ بھاوج کاایك سوتیلا لڑکاہے جوبہت کم مددکرتاہے۔دریافت طلب یہ امرہے کہ بحالت مذکورہ بالاوصیت پرکہاں تك عمل ہوگا یاکل ترکہ میں یا جزوترکہ خیرات کردیاجائے گااوراس کاصرف کرنے کامجازکون ہوگاآیاامین یا ورثاء اورصحیح مصرف اس کاکیاہے اگر ورثاء میں سے کسی کوحق پہنچاتو ان کے حصص شرعی کیاہوں گے
الجواب:
اس کے مال میں سے اگراس پرکچھ قرض ہواداکرکے باقی کی تہائی میں یہ وصیت نافذہوگی باقی دوتہائی بہن بھائی کاحق ہےدو حصے بھائیوں کے اورایك بہن کااورثلث وہاں کے علماء
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۸€
#3682 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
اہلسنت کی صوابدید سے کسی مصرف خیرمیں صرف کیاجائے اوریہ صرف اس کے ہاتھ سے ہوگا جن کویہ وصیت کی تھی کہ ایساکرنا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۹: ازدرگاہ مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز ڈاکخانہ سندیلہ ضلع ہردوئی مرسلہ سیدفراست حسین صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ فخرالنساء نے وفات پائی اورورثہ ذیل چھوڑے:
مسماۃ فخرالنساء ناکتخذامرد
خال خالہ جدہ یعنی نانی عم الاب ابن عم الاب اخت حقیقیہ
سید واجد علی صدیقۃ النساء والدہ سیدواجدعلی سیدمحمدذکی سیدفراست حسین قمرالنساء
لہذا صورت مسئولہ میں کون شخص وارث حقدارہے اوراس کاحصہ کتناہے اورکون محجوب الارث ہے نیز یہ امرواضح رہے کہ مسماۃ فخرالنساء کے قبضے میں وہ جائدادہے کہ اس کواس کے والد ریاست حسین نے پہلے اپنی زوجہ رؤف النساء یعنی مادرفخرالنساء کو دین مہرمیں دے دیپھرمسماۃ رؤف النساء نے اپنے مرض موت میں بذریعہ وصیت نامہ کے سیدواجدعلی کوولی بناکر اپنے ہر دودخترمسماہ فخرالنساء وقمرالنساء کودے دی سیدواجد علی ماموں مسماۃ قمرالنساء نے کچہری بندوبست میں بدرخواست وبرضامندی اپنی بنام دختران فخرالنساء وقمرالنساء کے داخل خارج کرادیا۔
الجواب:
اگررؤف النساء کے یہی تین وارث تھے دودختر اورایك بھائیاوررؤف النساء نے دختروں کے نام وصیت کی تووہ کل جائداد اس بناء پر کہ برادرنے اس وصیت کوجائزونافذکیا دونوں دختروں کی ملك ہوگئی سیدواجدعلی کااس میں کچھ حق نہ رہا۔حدیث میں ہے:
لاوصیۃ للوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ خبردار وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
اب کہ فخرالنساء نے انتقال کیا نصف یہ جائداد کہ اس کاحصہ ہے اوراس کے علاوہ اورجومتروکہ فخرالنساء ہوحسب شرائط فرائض چھ سہام منقسم ہوکرایك سہم نانی اورتین سہم قمرالنساء اور
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الفرائض ∞حدیث۴۰۸۱€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۳۷€
#3683 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
سیدمحمدذکی کو ملیں گے سیدفراست حسین بوجہ بعد درجہ اورسیدواجدعلی وصدیقۃ النساء بوجہ ذوی الارحام ہونے کے محروم ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۰: ازرائے پورگول بازارسی بی مرسلہ محمداسمعیل بیگ ۱۰جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی بیوی ہندہ سے زیدکے ایك لڑکا بکرتھابکرکی دوبیبیاں شکورن وغفورن تھیںشکورن سے دولڑکے اورغفورن سے ایك لڑکا بکرکے تھابکراپنے والد زیدکی زندگی ہی میں انتقال کرگیالڑکے تینوں نا بالغ تھےاسی عرصہ میں زیدکاانتقال بھی ہوگیاشکورن نے اپنے دونوں لڑکوں کاحصہ جوبکرکے والد زیدکے ترکہ سے انہیں پہنچتاتھا چونکہ دونوں لڑکے نابالغ تھے اس لئے بہ حیثیت ولی جائزغفورن نے اپنی ملکوں کوفروخت کردیاپس دریافت طلب یہ امرہے کہ آیا یہ بیع جائزہے یاکیا اورشکورن اپنے دونوں نابالغ لڑکوں کی طرف سے ازروئے شرع شریف ولی قرارپاسکتی ہے یانہیں
الجواب:
ماں کواصلا اختیارنہیں ہے کہ وہ نابالغوں کاحصہ بیع کرےنہ مال کی ولایت ماں کو ہوتی ہے
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم قاض کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ نابالغ کے مال میں اس کاولی اس کاباپ ہےپھرباپ کاوصی پھرنابالغ کاداداپھردادا کا وصیپھرقاضی۔جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
مسئلہ۱۷۱: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی عبدالغنی صاحب بنگال ۱۹صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرباپ اپنی نابالغ لڑکی کامہرقبل شادی کے زوج یاوالی زوج سے اداکرے اوراس مہر کولڑکی کی شادی میں صرف کرے خواہ اپنے پاس سے صرف کرسکتاہے یانہیں اس خیال سے کہ جب لڑکی بالغ ہوگی تولڑکی سے معاف کرالوں گایااداکردوں گا توجائزہوگا یانہیں اوراگرلڑکی بالغ ہو اورلڑکی کے اذن سے صرف کرے توکیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الوکالۃ ∞۲/ ۱۰۹،€ کتاب الماذون ∞۲/ ۲۰۳ مطبع مجتبائی دہلی€
#3684 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
الجواب:
بالغہ کی اجازت سے صرف کرسکتاہے اورنابالغ کی شادی میں بقدر معروف خرچ کرسکتاہے اوراپنے صرف میں بطور قرض اٹھالینے کے جواز میں اختلاف ہے احتیاط بچناہے اگرصرف کرلے گا عوض دے گایالڑکی بالغہ ہوکرمعاف کردے تویہ بھی صحیح ہے۔ادب الاوصیاء میں ہے:
فی العمدۃ لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن وعند محمد لایضمن کالابوفی قضاء الجامع اخذ الاب مال صغیرہ قرضا جازوفی الخلاصۃ انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصیوفی الخانیۃ لیس للوصی قضاء دینہ بمال الیتیم وللاب ان یقضی بہ وذکر شمس الائمۃ السرخسی عدم الجواز للاب ایضا واﷲ تعالی اعلم۔ عمدہ میں ہے اگروصی نے نابالغ بچے کے مال سے قرض لیا تو اس کاتاوان دے گا۔اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے نزدیك وصی باپ کی طرح تاوان نہیں دے گا۔قضاء الجامع میں ہے باپ کا بطورقرض اپنے نابالغ بیٹے کامال لیناجائزہے۔خلاصہ میں ہے کہ مبسوط کی کتاب الرہن میں مذکورہے بے شك باپ وصی کی طرح تاوان دے گا۔اورخانیہ میں ہے کہ وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کے مال سے اپنا قرض اداکرے اورباپ کوایسا کرنے کااختیار ہے۔شمس الائمہ سرخسی نے باپ کے لئے بھی عدم جواز کوذکرکیاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۲: ازسہمونہ ڈاکخانہ شیش گڈھی ضلع بریلی مسئولہ عنایت اﷲ صاحب ۱۶بیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بیوہ لاولد نے کچھ روپیہ ایك شخص کے پاس جمع کیا اورکہاکہ اس روپیہ کو تجارت میں لگاؤ اوراس کامنافع نصف مجھ کودینااورنصف تم اپنے حق محنت میں لینا اوربعد میرے مرنے کے اس روپیہ میں سے میری تجہیزوتکفین کرنا باقی جوبچے وہ خیرخیرات فاتحہ وغیرہ میں صرف کردینا۔اس کے دوبرس بعد اب مسماۃ ہندہ کاانتقال ہوا چونکہ ورثہ میں اولاد توہے نہیں شوہر کاانتقال پہلے ہوچکاصرف ایك بھائی حقیقی متوفی کا اور
حوالہ / References آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی۲/ ۷۵۔۱۷۴€
#3685 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
دوبہنوں کی اولاد بھانجی بھانجے ہیں۔اب گزارش یہ ہے کہ روپیہ جمع شدہ جوبعدگوروکفن باقی بچاہے وہ بموجب کہنے مسماۃ متوفی کے صرف کیاجائے یا وہ روپیہ اورگھرکامال اسباب ورثاء موجودہ بھائی بھانجوں پرتقسیم کردیاجائےاورتقسیم کیاجائے تو ہرایك کا کیاحصہ ہوگا
الجواب:
کفن دفن بقدر سنت کے بعد جوبچااس کاتہائی خیرات کیاجائے اورزیادہ کی اجازت بھائی سے لی جائے اگرنہ دے یااجازت دینے کے قابل نہ ہومثلا نابالغ ہوتودوتہائی بھائی کو دیاجائے بھانجی بھانجوں کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: ازآگرہ محلہ قرولپاڑہ مکان ۱۷۹۵ ۱۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں منجملہ اپنے زرنقد واثاث البیت کے کچھ زرنقد اپنے حقیقی بھائی خالد کے نام جمع کیا جس محکمہ میں وہ ملازم تھا اورجیساکہ اس محکمہ کاقاعدہ تھاکہ تمہارے فوت ہوجانے کے بعد یہ روپیہ کس کو دیاجائے ہرسال اس محکمہ کے قواعد کے مطابق ہمیشہ تصدیق کرتارہا جس کے نام یہ روپیہ میں نے جمع کردیاہے اسی کویہ روپیہ ملے تخمینا دس سال بعد زیدکاانتقال ہوگیا۔زیدنے ایك زوجہ سعیدہ اوردونابالغ لڑکے رشیدوعزیز چھوڑے نیزچاربھائی حقیقی مع خالد چھوڑے رشیدچند روز بعد مرگیا جواثاث البیت اورزرنقد بقدر(سما۶۰۰)کے وزیوروغیرہ پرزوجہ تنہاقابض ہوگئی وہ روپیہ جو زیدنے خالد کے نام جمع کیاتھا اس کا مالك وہ حقیقی بھائی خالدہے یازوجہ یالڑکا
الجواب:
زیدکے کل متروکہ سے اول دین مہراوردیگردیون اگراس کے ذمہ ہوں اداکئے جائیں اگر کچھ باقی نہ رہے تو نہ خالد کچھ پائے گانہ کوئی وارثاوراگربعدادائے مہرودیون کچھ باقی بچے تو اس کی تہائی میں یہ وصیت جواس نے خالد کے نام کی ہے بلارضائے دیگرورثہ نافذہوگیاوراسی طرح اور وصیت اگر اس نے کسی کے نام کی وہ بھی اسی ثلث میں شریك ہوگابعدادائے دیون جوباقی بچے اس کے ثلث سے یہ روپیہ جوبنام خالد اس نے جمع کیاہے زائدنہیں توتمام وکمال زرجمع شدہ خالد کودیاجائے گاجبکہ اوروصیت اس کے معارض نہ ہو ورنہ حصہ رسدبانٹ دیں گےاوراگریہ روپیہ اس کوکافی نہیں توادائے مہرودیون کے بعد جتنی تہائی ہو اتنی میں وصیتیں نافذہوں گی زیادہ پر ورثہ راضی نہ ہوں تو وہ نہ دلائی جائے گی۔واﷲ تعالی اعلم
#3686 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مسئلہ ۱۷۴: ازبمبئی پوسٹ۱۶ماہم مرسلہ عبدالمجیدصاحب دہلوی ۱۶جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی جائداد کے کرایہ کی آمدنی میں یہ وصیت کی کہ کچھ رقم معین مکہ شریف و مدینہ شریف وبغداد شریف کے سادات کو دی جائے اورباقی رقم میں چند ایام مقررہ میں طعام پکاکر مساکین کوکھلایاجائے اور کچھ رقم معین دومسجدوں میں دی جائے مگربعد فوت زید کے اس جائداد کے متولیان یہ کرتے ہیں کہ بجائے سادات کے امیروں کی سفارش سے اس رقم کوواسطے شادی کردینے ان لڑکیوں کے جن کے والدین غریب ہیں دیتے ہیں وردیگررقم معین کودو مسجدوں میں دیتے ہیں اورباقی رقم معین میں چند ایام مقررہ میں طعام پکارکر تھوڑا مساکین میں اورتھوڑا ذی ثروت لوگوں کو کھلاتے ہیں۔زید کی وصیت کے بموجب کیاجائے وہ درست ہے یاجومتولیان کرتے ہیں وہ درست ہے جوکارخیر ہوموافق حکم شریعت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
جورقم اس نے دونوں مسجدوں کے لئے معین کی ہے وہ انہیں کودی جائے گیجو رقم اس نے مساکین کے کھانے کے لئے معین کی ہے اس میں سے اہل ثروت کودینادرست نہیںاورجو رقم سادات حرمین طیبین وبغدادمقدس کے لئے معین کی ہے اگر انہیں بلادطیبہ کے سادات مساکین کوبھیجی جائے توبہترہے ورنہ یہاں کے مساکین پربھی صرف ہوسکتی ہے قیدبلاد کااتباع ضروری نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۷۵: ازقصبہ ادرن ضلع قلابہ علاقہ کولین احاطہ بمبئی مرسلہ ابراہیم صاحب موتی ۱۲رمضان۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں تین ہزارچھ سوتیس روپے کی وصیت حسب ذیل طریقہ پرکی:
(۱)اپنی زوجہ کی فاتحہ خوانی پرسالانہ تین سوروپے خرچ کرنا۔
(۲)خودکی فاتحہ پر سالانہ تین سوروپیہ۔
(۳)قرآن شریف کے پڑھنے والوں کوایك سوتیس روپے سالانہ دیاجانا۔
(۴)ماہ محرم میں مولودشریف پڑھوانا اوربارہویں محرم کوکھاناکھلانے پرخرچ کرناسالانہ پانچسوروپیہ۔
#3687 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(۵)گیارہویں شریف کے مہینے میں مولودشریف پڑھوانا اورکھاناکھلانے پرخرچ کرنا سالانہ پانچسوروپے۔
(۶)رمضان میں روٹی پاؤ وغیرہ مسجد میں بھیجنے پر خرچ کرنا سالانہ ایك سو پچیس روپے۔
(۷)حاجیوں کوبرائے بیت اﷲ شریف دینافی حاجی پانچ حاجیوں کوجس پرسالانہ خرچ ایك سوپچاس۔
(۸)ما سالانہ مکہ مکرمہ بھیجنا۔
(۹)مامہ عہ روپے سالانہ مدینہ طیبہ۔
(۱۰)بغدادمقدس کوسالانہ قا۔
(۱۱)حضرت پیربابا ملنگ صاحب کی درگاہ پرجوپہاڑہے پچاس روپیہ سالانہ۔
(۱۲)مہایم شریف سالانہ مہ۔
(۱۳)میلاد شریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیاز اورکھانا کھلانے پرخرچ کرنا سالانہ ایك ہزارروپیہ۔
اوپرلکھی ہوئی رقمیں جس جس مہینے میں خرچ کرنے کی ہیں یہ اس میں خرچ ہوسکتی ہیں یابعد بھی جائزہیں یاناجائز اورجورقم میلادالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کھانے کی ہے اگر اس میں سے کچھ رقم بچالی جائے اورکسی اچھے کاموں میں صرف کی جائے مثلا مساکین ویتیم وبیوہ اورعلمائے دین وغیرہا کوتوجائزہے یانہیں اوردوسری جوچھوٹی چھوٹی رقمیں ہیں مثلا قرآن عظیم پڑھنے والوں کی اس میں اگربڑی رقموں سے لے کرخرچ کردیں توجائزہے یاکیاوصیت کرنے والے نے جس وقت وصیت کی اس وقت حالات اورتھی اورموجودہ حالت اورہے یعنی اس وقت قحط سالی اورہرایك شیئ گراںاگرموجودہ حالت کومدنظررکھ کرغرباء وغیرہا کوبجائے کھاناکھلانے کے اگرنقد روپیہ دیاجائے توجائزہے یاکیا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اصل حکم یہ ہے کہ سالانہ تین ہزارچھ سوتیس روپے امورخیر وسبیل اﷲ میں صرف ہوجانا لازم ہے وہ خاص صورتیں کہ زیدنے مقررکیں ان کی تعیین لازم نہیں ان مہینوں میں ہو یا ان کے غیرمیں کھاناکھلاناہو یامساکین کونقد دیناکچھ رقم بچاکر ہویاکلانہیں مقامات کوبھیجیں یایہاں۔ہم نے جدالممتارتعلیقات ردالمحتارکتاب الصوم میں اس بیان کو مبسوط لکھاہے وہیں سے چندحوالوں کاالتقاط کافی ہے۔
#3688 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فی وصایا الھندیۃ اوصی ان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبدولوقال اشترعشرۃ اثواب وتصدق ثمنھا و عن محمد لواوصی بصدقۃ الف درھم بعینھا فتصدق الوصی مکانھا من مال المیت جازرجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراءقال الشیخ الامام ابونصر یجوز ذلك کما روی عن ابی یوسف فی رجل اوصی ان یتصدق علی فقراء مکۃ قال یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء وعلیہ الفتویوفی النوازل لواوصی ان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جازکذا فی الخلاصۃ و یتأتی اکثر ھذا المسائل متنا وشرحا وحاشیۃ فی الایمان والوصایا۔ ہندیہ کے کتاب الوصایا میں ہے کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کایہ غلام بیچ کراس کے ثمن مسکیوں پرصدقہ کئے جائیں تو وصیوں کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔ اور اگرکہاکہ دس کپڑے خریدکران کوصدقہ کرو۔پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ کپڑے بیچ دے اوران کے ثمنوں کوصدقہ کردے۔امام محمدعلیہ الرحمہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے ہزارمعین درھم صدقہ کرنے کی وصیت کی وصی نے ان کی جگہ میت کے مال میں سے صدقہ کردیا تو جائزہے۔ایك شخص نے اپنے مال میں سے حاجی فقراء پرکچھ صدقہ کرنے کی وصیت کی توان کے علاوہ دیگر فقراء پرصدقہ کرنا جائزہے یانہیںشیخ امام ابونصر نے فرمایایہ جائزہے جیساکہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جس نے فقراء مکہ پرصدقہ کرنے کی وصیت کی۔امام ابویوسف نے فرمایا کہ ان کے علاوہ دیگرفقراء پرصدقہ کرنابھی جائزہے۔اوراسی پرفتوی ہے۔نواز ل میں ہے اگرکسی نے دس دن صدقہ کرنے کی وصیت کی اوروصی نے ایك ہی دن میں صدقہ کردیاتوجائزہے۔خلاصہ میں یونہی ہے۔ان میں سے اکثرمسائل متنشرح اورحاشیہ کے اعتبارسے کتاب الایمان اورکتاب الوصایا میں آتے ہیں۔(ت)
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۴€
#3689 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مگرحق یہ ہے کہ نظر بحال زمانہ تعیین وتحدیدنہ ہونے کی حالت میں دستبردبعض متولیان سے بچنادشوارہے اورجواز مخالفت جوازموافقت کا نافی نہیں اوران نیازمندیوں کااظہار جوموصی نے ان وصایا میں ذکرشریف ومزارات طیبہ سے مرعی رکھا اور اس کامرعی رہنا ہی انسبمیلاد مقدس کے عوض اورکسی کارخیر میں صرف کردیں تو مسلمانوں کوذکرشریف کانفع کب پہنچا اس کے بعد زوجہ کے قبورپرتلاوت قرآن عظیم سے جونزول رحمت اوران امتیوں کے لئے انس وطمانیت ہو وہ بغیر اس کے کیونکر ہوگاتومناسب یہی ہے کہ جن طرق کی اس نے وصیت کی وہی جاری رہیںہاں ان سے اہم مصرف کی ضرورت ہو توبنگرانی ارباب دین ودیانت ان میں سے بچاکر اس میں سے صرف کریں اورانہیں بھی بقدر میسرجاری رکھیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷: ازعلی گڈھ محلہ بنی اسرائیل مرسلہ مولوی احسان علی صاحب مدرس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
(۱)زیدکابیان ہے کہ میری بیوی ہندہ نے مرض الموت میں چارروزقبل مہرمعاف کردیاہےاورگواہ میں چارشخص یعنی ایك اپنی حقیقی ماں اورایك حقیقی بہن اور ایك اجنبی مرد اور ایك اجنبی عورت پیش کرتاہوں مہرمعاف ہوایانہیںاورگواہی ایسے معاملہ میں کیسے لوگوں معتبرہے
(۲)زیدباحلف بیان کرتاہے کہ میری بیوی نے مہرمعاف کردیاہےعندالشرع اس کاقول صحیح ہے یانہیں
الجواب:
(۱)گواہی ہرمعاملہ میں ثقہ معتمدلوگوں کی معتبرہےماں باپ کی گواہی اولاد کے حق میں معتبرنہیں۔مرض موت میں ہبہ حکم وصیت میں ہے اورزوج وارث ہے اور وارث کے لئے وصیت بے اجازت باقی ورثہ باطل ہے۔
لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
تو اگرشہادت کافیہ سے ثابت ہوجائے جب بھی بے اجازت دیگرورثہ جائزنہیںواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الفرائض ∞حدیث ۴۰۸۱€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۳۷€
#3690 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
(۲)اصلا معتبرنہیں
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔واﷲ تعالی اعلم گواہ مدعی پراورقسم منکرپرہوتی ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۸: نعمت علی خاں بوڑرھا ازپنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پورضلع مظفرپور ۹محرم الحرام۱۳۳۹ھ
اگرباپ نے بیٹے سے وصیت کی کہ اتناروپیہ یااتنی زمین یاکوئی سامان فلاں کودینابیٹے نے نصف یاتہائی یاچوتھائی وصیت اداکیا توبیٹاقیامت کے دن جوابدہ ہوگا یانہیںاگربیٹے نے موصی لہسے کچھ دے کربقیہ معاف کرالیاتویہ جائزہے یانہیں
الجواب:
اگروہ وصیت بعدادائے دین مال متروکہ کی تہائی سے زائدنہ تھی توکل کااداکرنا اس پر لازم ہے اورزائد ہے توتہائی تك کاادا کرناضروری ہے اس سے اگرکچھ کمی کرے گا ماخوذہوگا اورمعافی دین کی ہوتی ہے۔
مسئلہ ۱۷۹: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ مسیت خاں یکم صفرالمظفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ لاولد عرصہ دراز سے بعارضہ چنددرچندبوجہ تپ کہنہ کے مبتلارہ کرفوت ہوئی اس نے اپنے وارث ایك شوہراورایك بھائی اورایك بہن حقیقی اورایك برادر زادہ اورایك بھتیجی جن کاباپ بموجودگی متوفیہ کے فوت ہوگیا ہے وارث چھوڑےشوہرنے متروکہ متوفیہ طلب کیاتومتوفیہ کی بہن اوربھائی کہتے ہیں کہ متوفیہ کی یہ وصیت ہے کہ تم مال واسباب ازقسم زیوروزرنقد یعنی جملہ اشیاء البیت کوخود تقسیم کرلیناشوہرکونہ دینایہ ظاہرکرنامشارالیہم کاشوہرمتوفیہ کو وراثت سے محروم کرتاہے اگرنہیں کرتاہے توکس قدرشوہراپناحصہ بموجب شرع شریف کے پانے کامستحق ہے اورزیور اثاث البیت متروکہ متوفیہ کاجوہے وہ فراہم کردہ شوہرکاہے اورجومتروکہ متوفیہ کے والد سے پہنچاتھا وہ متوفیہ نے اپنے بھائی کے ہاتھ بیع کردیا اوریہ وصیت کردی کہ اس روپیہ سے میری تجہیزوتکفین کرنا۔
برادرحقیقی ہمشیرحقیقیبھتیجا جس کاباپ بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔بھتیجی جن کاباپ
حوالہ / References کنزالعمال ∞حدیث ۱۵۲۸۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۱۸۷€
#3691 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔
الجواب:
سائل نے بیان کیاہے کہ متوفیہ نے اپنی موت سے چارمہینے پیشتربھائی کے ہاتھ بیع کی وہ اس وقت بھی بعارضہ دق مبتلا تھی اور حالت خطرناك تھیاگریہ بیان صحیح ہے تووہ بیع معتبرنہیں
لان البیع من وارث فی مرض الموت لایصح عند الامام وان کان بمثل القیمۃ۔ اس لئے کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ بیع امام اعظم کے نزدیك جائزنہیں اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہو۔(ت)
زیور واثاث البیت جوشوہرنے بنادیاتھا اگرعورت کومالك نہ کردیاتھا تواس کامالك شوہرہی ہے اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اوراگرمالك کرکے قبضہ دے دیاتھا عورت کاہے جس طرح وہ جہیزکہ باپ کے گھر سے لائیان اشیاء کی نسبت بہن اوربھائی کے لئے عورت کی جووصیت بتائی جاتی ہے بے اجازت شوہر باطل ہے
لحدیث صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدارکو اس کاحق عطافرمادیا ہےخبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
ان احکام کے لحاظ سے جوترکہ متوفاۃ کاٹھہرے مع مہراگرذمہ شوہرہو حسب شرائط فرائض چھ۶ حصے ہوکر تین حصے شوہر اوردوسہم برادراورایك بہن کوملے گا بھتیجے بھتیجی کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۰: ازبریلی صدربازار مسئولہ عبدالغفورخاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت نے ایك بزرگ کے ہاتھ پراپنے پیشہ سے توبہ کی اورسلسلہ بیعت میں داخل ہوئی اورمرنے تك اس پرقائم رہی اور
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الوصایا ∞۲/ ۴۰€ وجامع الترمذی ابواب الوصایا ∞۲/ ۳۳،€سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا∞ ص۱۹۹ €وسنن النسائی کتاب الوصایا ∞۲/ ۱۲۹€
#3692 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
نیك چلنی کی زندگی بسرکیبیماری کی حالت میں اس نے یہ وصیت کی کہ اگر میں اسی بیماری میں جانبرنہ ہوں تومیری کل جائداد منقولہ اورغیرمنقولہ اورکل زرنقد میرے مرشد کاحق ہے دوسراکوئی وارث اس کا نہیں وہ جس طورپر چاہیں صرف کریںاب مسماۃ کاانتقال ہوگیا اس کی جائدادومکان زرنقد ازروئے شرع اسلام کس کوپہنچتاہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل سے معلوم ہواکہ اس کاکوئی وارث نہیں صرف اس کی ایك ماں سنی جاتی ہے کہ کافرہ ہے اس صورت میں جومال شرعا اس کامتروکہ ہو وہ تمام وکمال اس کاہے جس کے لئے اس نے وصیت کی یہ مال وہ ہوگا جو اس نے وجہ حلال سے حاصل کیایااگرچہ زرحرام سے خریدا مگر اس پر عقدونقد جمع نہ ہوئے یعنی یہ نہ ہواکہ زرحرام دکھاکرکہاہو اس کے بدلے دے دینا اورپھرثمن میں وہی دیا اورجومال عین حرام اس کے پاس ہے کہ خود زنایاغناکی اجرت میں اسے ملاوہ اس کی ملك نہیں اس میں وصیت جاری نہ ہوگی وہ فقراء پرتقسیم کیاجائے اورجس کی خریداری میں عقد ونقد زرحرام پرجمع ہوگئے ہوں وہ بھی خبیث ہے لینانہ چاہئے فقراء کودیں۔و اﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۱: ازسگرام پورہ سورت مسئولہ نورمحمدغلام رسول ۲۹صفر۱۳۳۹ھ
نورمحمد مذکورنے اپنی حیات میں مکان رہن رکھ کرکئی مدت بعد مرحوم لڑکے مذکوراورحاملہ عورت کوچھوڑکرگزرگیا بعدہ لڑکی پیداہوئی مذکورعورت نے اس مکان کواپنے خاوندکے اجناس میں اسباب کوبیچ کرمکان چھڑایا بعدمذکور عورت نے اس مکان کوبیچ ڈالالڑکے اورلڑکی کی پرورش اس کے ماموں نے کیبعد میں عورت بھی اورلڑکابھی گزرگیا فقط صغیر لڑکی مذکور مریم بی حال عاقلہ بالغہ ہوئی ہے اوراپنے والد کی میراث طلب کرتی ہےسوال اتناہے کہ ماں کوبچوں کی پرورش کاحق تھا نہ کہ صغیرہ کاورثہ بیچ ڈالنے کا یہ خلاصہ کی شرع موجب ضرورت ہے۔
الجواب:
اگر عورت کامہرترکہ کومحیط تھا اوراس نے وہ مکان اپنے مہرمیں لے لیاکہ اورکوئی سبیل اس کے اداکی نہ تھی تووہ بیع جائزہے ورنہ ورثہ کادعوی اس پرپہنچتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: ازعلی گڑھ مسئولہ جناب آل احمدخلف سیدصفدرعلی صاحب پیشکارچونگی ۲۴جمادی الاولی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے مجمع میں یہ کہاکہ تم گواہ رہو میں نے
#3693 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
فلاں عورت غائب کا اس مردحاضر سے نکاح کردیا اوریہ شخص نکاح کرنے والا اس عورت کاشرعی ولی نہیں ہے اورپھراس عورت کو اس طرح نکاح کردینے کی خبرپہنچی اس عورت نے اس کوقبول ومنظورکرلیا توکیایہ نکاح جائزومکمل ہوجائے گا اوراگرمہر کی تعدادبیان نہیں کی گئی کہ کس قدرمہرواجب ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
اگراس مردحاضرنے اسی وقت قبول کرلیاتھا تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا بشرطیکہ یہ مردحاضر اس عورت کاکفوہو نسب مذہب چال چلنپیشے کسی بات میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کانکاح عورت کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہویاعورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہوان صورتوں میں جبکہ عورت نے خبرپاکر اس نکاح کوقبو کرلیا نافذوتام ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج اوطلاق ولہ مجیزحال وقوعہ انعقد موقوفا۔ فضولی سے جوتصرف صادرہو جیسے کسی کی شادی کرنایاطلاق دینااور اس کے وقوع کے وقت کوئی اس کی اجازت دینے والا موجودہوتو اس کاانعقاد موقوف ہوجاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ای علی اجازۃ من یملك ذلك العقد۔ یعنی اس شخص کی اجازت پرموقوف ہوتاہے جواس عقد کامالك ہے۔(ت)
ہاں اگر جس سے نکاح ہواکفو بمعنی مذکورنہ تھا اورعورت کاکوئی ولی زندہ تھا اوراس نے پیش ازنکاح شخص مذکورکوغیرکفوجان کرصراحۃ ا س نکاح کی اجازت نہ دی تھی تویہ نکاح سرے سے باطل ہواعورت کی اجازت سے جائزنہیں ہوسکتا درمختارمیں ہے:
یفتی فی غیرالکفوبعدم جوازہ اصلا ۔واﷲ تعالی اعلم غیرکفو میں اس کے بالکل عدم جواز کافتوی دیاجاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتا ب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€
ردالمحتار کتا ب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۵€
الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱۰/ ۱۹۱€
#3694 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
مسئلہ ۱۸۳: ازبزم حنفیہ خواجگان منزل لاہور مسئولہ محمدعبدالحمیدصاحب قادری رضوی ۲۴جمادی الاولی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نامی قمرالدین عرصہ ۴۰یوم سے وفات ہوگیا ہے اب ذیل ورثاء موجود ہیں اس کاترکہ کس طرح تقسیم ہوناچاہئے۔بینواتوجروا مذہب حنفیہ
قمرالدین
زوجہ اخ اخ اخت اخت اخ الاب
(۱)زوجہ میت کی اس کی تمام پسماندہ جائداد پرقبضہ کربیٹھی ہے۔
(۲)میت نے کس قسم کی کوئی جائداد کے متعلق وصیت نہیں کی ہے۔
(۳)اخ۲ مرحوم بھائی کے مکان میں ہی رہائش پذیراوراس کے تمام کاروبار میں اس کامعاون ومددگار رہاہےحضرت سلامت اس مسئلہ کولاہور کے کسی مفتی نے ہاتھ نہیں لگایا۔لہذا بزم حنفیہ لاہورکے معرفت حضرت قبلہ مدظلہ العالی کے دارالافتائے اہلسنت وجماعت میں بھیجاجاتاہےصورت متنازعہ محظورہے لہذا جواب باصواب سے جلدی ممنون فرمایاجائے۔
الجواب:زوجہ کامہرجتنا واجب الاداہے اگرکل متروکہ شوہرکے برابریااس سے زائد ہے تو اس کا کل متروکہ پرقبضہ کرنا ایك دعوی صحیح کی بناء پرہے جب دین جائداد مستغرق ہوتوجب تك ادا نہ کرلے اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔
قال تعالی " من بعد وصیۃ توصون بہا اودین "۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اس وصیت کے بعد جو تم کرجاتے ہو یاقرض کی ادائیگی کے بعد۔(ت)
ہاں وارثوں کویہ حق ہے کہ اگرجائداد دینے پرراضی نہ ہوں مہراپنے پاس سے استحسانا اداکردیں اس وقت عورت کولازم ہوگا کہ جائداد چھوڑدے اورصرف اپناحصہ شرعی لے اوراگر اس کے لئے کوئی مہرواجب الادانہ رہا یاجتنا ہے وہ قدرمتروکہ سے کم ہے توکل جائداد پراس کاقبضہ کرناظلم ہے کہ دین غیرمستغرق مانع ملك ورثہ نہیں۔جامع الفصولین واشباہ ونظائر
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴/ ۱۲€
#3695 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
وغیرہما میں ہے:
لواستغرقھا دین لایملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امالواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع اوالرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین فلایملکھا۔ اگرقرض میت کے ترکہ کومحیط ہوتوکوئی اس ترکہ کابطور میراث مالك نہیں بنتامگریہ کہ جب قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یامیت کاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کے ساتھ اس قرض کواداکردےہاں اگر کوئی اپنے مال سے اس قرض کو اداکردے بغیرتبرع یا رجوع کی شرط کےتو اس کے لئے میت پرقرض ثابت ہوجائے گا تواس طرح ترکہ قرض میں مشغول ہوجائے گا۔چانچہ وارث اس کامالك نہیں بنے گا۔(ت)
نیزاشباہ میں ہے:
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا۔ وارث کواختیارہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کوچھڑالے اگرچہ قرض ترکہ کومحیط ہو(ت)
خلاصہ میں ہے:
المرأۃ تاخذ مھرھا من الترکۃ من غیررضی الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وان کانت الترکۃ شیأ یحتاج الی البیع فتبیع ماکان یصلح وتستوفی صداقھا ان کانت الوصیۃ من جہۃ زوجھا اولم تکن ۔ عورت اپنامہروارثوں کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں سے لے سکتی ہے اگرترکہ درہموں یا دیناروں کی صورت میں ہو۔ اور اگرترکہ ایسی شیئ ہے جس کوبیچنے کی ضرورت ہے تو وہ اس چیز کو بیچ لے جس میں بیع کی صلاحیت ہے اوراپنامہر پوراوصول کر لےشوہرکی طرف سے اس کی وصیت ہویانہ ہو۔(ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰€۴
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۴۱€
#3696 · افادات والتفریعات (افادے اورتعریفیں)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الحموی فی شرح الکنز نقلا عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الاشقر عن شرح القدوری للاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق و الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان۔ حموی نے کنزکی شرح میں علامہ مقدسی سے نقل کیاانہوں نے اپنے دادا اشقرسے اخصب کی شرح قدوری کے حوالے سے ذکرکیاکہ خلاف جنس سے اپناحق لینے کاعدم جواز متقدمین کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ حقوق میں شریعت کی اطاعت کرتے تھے۔اورآج کے دورمیں فتوی اس پرہے کہ جس مال سے بھی حق وصول کرنے پرقادر ہو اس کالیناجائزہے۔(ت)
بہرحال جس صورت میں یہ ترکہ ورثہ کو پہنچے حسب شرائط فرائض ۸ سہام کئے جائیں دوزوجہ کواوردودوہربھائی اورایك ایك ہربہن کو اوراخ للاب یااخ لاب یعنی چچاہویاسوتیلابھائی وہ کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
______________
نوٹ
جلد۲۵ کتاب المداینات سے شروع ہوکر کتاب الوصایا
کے عنوان پرختم ہوئیجلد۲۶ ان شاء اﷲ کتاب الفرائض سے شروع ہوگی۔
____________________________________
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۵€
#19697 · الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی (فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
مسئلہ ۳۴: بتاریخ ۲۸جمادی الاول ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروزقیامت حقہ پینے والے سے حضور سرورکائنات علیہ الصلوۃ والسلام روئے مبارك پھیر لیں گے اوردرودشریف اس کاپڑھنا قبول نہ ہوگایہ بیان غلط ہے یاصحیح بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ سب دروغ کاذب ہے اورشریعت مطہرہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافتراءحقہ تومباح ہےاگربفرض غلط حرام بھی ہوتا تواتنا گناہ نہ ہوتا جس قدررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کرنا کبیرہ شدیدہ ہے جس کے بعد بس کفرہی کادرجہ ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۳۶: مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب ازبہرام پورضلع مرشدآباد بنگال ۲۱صفر۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتے ہیں کہ تاڑی کے خمیر سے ڈبل روٹی پکائی جاتی ہے مسلمانوں کے لئے کھاناکیساہے
(۲)اس ملك میں اکثر کھجوروں کارس نکالتے ہیں اس رس کاگڑ بناتے ہیں اکثرکھیربھی پکاتے ہیں اگرتازہ رس جوکہ شیریں ہوتاہے اورلوگ پیتے بھی ہیں دودھ یاکہ خمیرملاکرتاڑی بناتے ہیں تاڑی کے پینے سے نشہ ہوتاہے مسلمانوں کے لئے یہ کیساہےازروئے شرع جواب فرمائیے۔اﷲ تعالی اجرعطافرمائے گا۔
الجواب:
(۱)اگرثابت ہوتو اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)جب تك اس میں نشہ نہیں حلال ہے اور اس کی کھیر اورگڑ بھی جائزہیں اورنشہ لانے کے بعد حرام بھی ہیں اورپیشاب کی طرح نجس بھی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی وانمباڑ
اسپرٹ کااستعمال خوردنی اشیاء میں یارنگ وغیرہ میں جائزہے یانہیں بہت سے لوگ اس کو شراب کہتے ہیں۔
الجواب:
اسپرٹ واقعی شراب بلکہ سب شرابوں سے تیزوتند ہے حتی کہ اپنی تیزی کے سبب سم ہوگی
Read More

Books by Other Sunni Scholars

This section presents the valuable writings of eminent ‘Ulamā of Ahl-e-Sunnah wa’l-Jamā‘ah, including Mawlānā Naqī ‘Alī Khān, Mawlānā Ḥasan Riḍā Khān, Muftī-e-A‘ẓam Hind, and many other distinguished Sunni scholars. Their works span diverse fields such as Islamic creed, jurisprudence, Hadith, spirituality, refutation of deviant ideologies (Deobandi, Wahabi, Shia, Qadyani etc.), and the preservation of orthodox Sunni beliefs. These books reflect the continuation of the classical Sunni scholarly tradition—rooted in Qur’ān and Sunnah—providing authentic guidance, intellectual clarity, and a firm defense of the beliefs and practices of Ahl-e-Sunnah across generations.


یہ حصہ اہلِ سنت و جماعت کے جلیل القدر علما کی قیمتی تصانیف پر مشتمل ہے، جن میں مولانا نقی علی خان، مولانا حسن رضا خان، مفتیِ اعظمِ ہند اور دیگر ممتاز سنی علماء کرام کی معرکہ آرا کتب شامل ہیں۔ علماءِ اہل سنت کی یہ تصانیف مختلف اسلامی علوم کا احاطہ کرتی ہیں، جیسے عقائدِ اسلامیہ، فقہ، حدیث، تصوف اور اخلاقیات۔ ان کتب میں خاص طور پر باطل اور گمراہ فرقوں (دیوبندی، وہابی، شیعہ، قادیانی وغیرہ) کے نظریات کا تحقیقی و مسکت رد پیش کیا گیا ہے۔ یہ علمی ذخیرہ دراصل اس قدیم سنی علمی روایت کا تسلسل ہے جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، اور جو ہر دور میں مسلمانوں کو علمی پختگی، فکری صفائی اور عقائدِ حقہ کے تحفظ کے لیے مستند رہنمائی فراہم کرتا رہا ہے۔


The intellectual brilliance of Alahazrat Imam Ahmad Raza and eminent Sunni scholars has become a focal point for modern academia. Scholarly research and Ph.D. / MPhil theses are being completed at prestigious universities across the globe, exploring his contributions to mathematics, law, philosophy, and theology. This section hosts a curated collection of research papers and academic dissertations that bridge the gap between traditional Islamic sciences and contemporary academic standards.


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور دیگر اکابرینِ اہل سنت کی علمی و فکری جہات آج عالمی جامعات میں تحقیق کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر کی معروف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ حضرت کے سائنسی، فقہی اور فلسفیانہ نظریات پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے تحقیقی مقالات (Thesis) لکھے جا رہے ہیں۔ اس گوشے میں ہم نے ان علمی و تحقیقی شہ پاروں کو جمع کیا ہے جو قدیم اسلامی علوم اور جدید تعلیمی معیار کے درمیان ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتے ہیں، تاکہ محققین اور طلبہ ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔


This specialized collection features insightful biographies and critical analyses written by renowned scholars to explore the multifaceted life of Alahazrat Imam Ahmad Raza. These works provide deep perspectives on his spiritual journeys, historical impact, and his defense of Sunni Islam. From detailed historical records to thematic studies on his unique methodology, these books serve as an essential guide for anyone seeking to understand the person behind the monumental scholarly works.


یہ حصہ ان مستند سوانح عمریوں اور تحقیقی مطالعہ جات پر مشتمل ہے جو جید علمائے کرام اور محققین نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی حیات اور خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے تحریر فرمائے ہیں۔ ان کتب میں اعلیٰ حضرت کے عشقِ رسول ﷺ، علمی بصیرت، اور ملتِ اسلامیہ کے لیے آپ کی تاریخی جدوجہد کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ علمی ذخیرہ ان قارئین کے لیے ایک بہترین راہنما ہے جو اعلیٰ حضرت کی شخصیت، آپ کے تقویٰ اور آپ کے علمی مقام و مرتبہ کو تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں۔


Explore a diverse range of scholarly articles and modern perspectives on the monumental contributions of Alahazrat Imam Ahmad Raza. These writings simplify complex theological and legal discussions for the contemporary reader while maintaining academic rigor. In Sha Allah, we will be presenting hundreds of well-researched articles here, covering every aspect of Alahazrat’s vast legacy to provide a continuous stream of knowledge for our global audience.


اس حصے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی ہمہ گیر علمی خدمات پر لکھے گئے جدید اور تحقیقی مضامین پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ مضامین پیچیدہ علمی و فقہی مسائل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عام فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ، ہم یہاں سینکڑوں تحقیقی مضامین اور مقالات کا ایک وسیع ذخیرہ پیش کریں گے، تاکہ قارئین کو اعلیٰ حضرت کی علمی بصیرت اور دینِ متین کے تحفظ کے لیے آپ کی جدوجہد کے ہر گوشے سے متعلق تازہ اور مستند معلومات ملتی رہیں۔


Books on Quran & Uloom ul Quran

Sciences of the Quran & Principles of Interpretation

This specialized section is dedicated to Uloom ul Quran (Sciences of the Quran) and the authentic interpretation of the Divine Word. It features monumental works that explore the history of revelation, principles of Tafseer, and the miraculous nature of the Quranic text. These books are curated to provide deep scholarly insights and enhance spiritual understanding for students of knowledge and researchers alike.


یہ حصہ علوم القرآن اور قرآن کریم کی مستند تفسیری روایات پر مبنی کتب کے لیے مختص ہے۔ یہاں آپ کو وحی کی تاریخ، اصولِ تفسیر، اعجازِ قرآن اور متنِ قرآن سے متعلق وہ نادر کتب ملیں گی جو علمی بصیرت اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ ہیں۔ یہ علمی ذخیرہ بالخصوص ان محققین اور طلبہ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جو قرآنِ مجید کے معانی و مفاہیم کی گہرائیوں کو مستند ذرائع سے سمجھنا چاہتے ہیں۔

Books on Hadith & Ilm-e-Hadith

Preserving the Prophetic Legacy through Rigorous Science

This section is dedicated to the primary collections of Hadith and the foundational Ilm-e-Hadith (Science of Hadith). It features monumental commentaries (Shuruhaat), works on the biographies of narrators (Asma-ur-Rijal), and the principles of authentication (Usul-e-Hadith). These books provide the necessary tools to understand the sayings and actions of the Prophet ﷺ with the scholarly precision practiced by the classical masters of the Ahl-e-Sunnah.


یہ حصہ کتبِ حدیث اور علمِ حدیث کی عظیم الشان روایت کے لیے وقف ہے۔ اس میں احادیثِ مبارکہ کے مستند مجموعے، ان کی شروحات، اور اصولِ حدیث (حدیث کی پرکھ کے قواعد) پر مبنی نادر کتب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسماء الرجال اور جرح و تعدیل جیسے اہم فنون پر وہ علمی کام پیش کیا گیا ہے جو سنتِ رسول ﷺ کی حفاظت اور اس کی صحیح تفہیم کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، تاکہ قارئین مستند سنی روایات کی روشنی میں علمِ حدیث سے فیضیاب ہو سکیں۔




Connect with Alahazrat Network

 

Find Knowledge by Subjects / Topics


 

Scroll to Top