Random Quotes from Fatawa Razaviah of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمۃ اللہ علیہ
اسلامی سن میں تاریخ کا آغاز غروبِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ہے اور عقل سلیم بھی یہی گوارا کرتی ہے کہ ظلمت نور سے پہلے ہے
Source: Al Malfooz Part 1
About Alahazrat Network
Read & Search Holy Quran Online
Explore with our advanced Ayah-based search engine. Featuring the authentic Kanzul Iman (Urdu/English) and Tafseer Khazain ul Irfan. Database format for effortless learning—jump to any Surah or Ayah with Translation On/Off toggles.
🔊 Listen Audio Naats
🔔 Recently Uploaded
Stay updated with the latest books and scholarly articles added to our network.
Browse New UploadsFatawa Razaviah Volume 4 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 3 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 2 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 1A and 1B in Typed format
Fatawa Razviah Vol. 27 Typed
امام احمد رضا دین اسلام کے پاسبان
From the Books of Alahazrat Imam Ahmad Raza
إزاخة العيب بسيف الغيب
Izākhatu’l Áyb bi Sayfi’l Ghayb Izakhat ul Aib bi Saif il Ghaib عیب کو دور…
إعتقاد الأحباب في الجميل والمصطفى والآل والأصحاب
Iýtiqād al-Aĥbāb fī Al-Jamīl wa’l Muşţafā wa’l Āli wa’l Aş’ĥāb Aitiqad ul Ahbaab fil Jamil…
دامان باغ سبحن السبوح
سبحٰن السبوح کے باغ کا دامن نظریہ ء امکان کذب کا رد بلیغ 1307 A.H….
Fatawa Ridawiyyah Volume 26 فتاویٰ رضویہ جلد
الزلال الأنقى من بحر سبقة الأتقى
Az-Zulāl al-Anqā min Baĥri Sabqati’l Atqā Az Zulal ul Anqa min Bahri Sabqat ul Atqa…
حجب العوار عن مخدوم بهار
مخدوم بہار کی پردہ پوشی غیر مقلدوں کی طرف سے مخدوم بہار شرف الدین احمد…
الأحلى من السكر لطلبة سكر روسر
دفع زيغ زاغ۔ رامی زاغیان
نزول آيات فرقان به سكون زمين وآسمان
حاجزالبحرين الواقي عن جمع الصلاتين
تفاسير الأحكام لفدية الصلوة والصيام
الجد السديد في نفي الإستعمال عن الصعيد
The Grand Encyclopedia: Fatawa Ridawiyyah
Fatawa Razaviah Volume 3 in Typed Format
پیش لفظ
علم وفضل کے آفتاب نیم روز زہدوتقوی کے بدرمنیر تحقیق وتدقیق کے در بے بہا سیاست صادقہ کے گوہرنایاب اور تحریک عشق رسالت کے قافلہ سالارامام احمد رضابریلوی قدس سرہ سے ہرذی شعور علم دوست اور حق شناس فرد متعارف ہی نہیں اس مرد حق آگاہ کی دینی ملی روحانی اور سیاسی خدمات کامعترف بھی ہے اور خوشہ چین بھی۔
کسی بھی عظیم شخصیت کی دینی ملی اور قومی خدمات کو پس پردہ لے جانے اور ملت اسلامیہ کو اس کے علمی جواہر پاروں سے محروم رکھنے کے لیے بنیادی طورپر دو باتیں کارفرماہوسکتی ہیں :
۱۔ مخالفین کاجھوٹا پروپیگنڈا۔
۲۔ اپنوں کی ناقص منصوبہ بندی۔
حضرت امام احمدرضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہجن کے علمی تحقیقی شہ پاروں سے عرب وعجم کے مسلمانوں نے شمع علم روشن کی اور افریقہ ویورپ کے باسیوں کو آپ سے اکتساب فیض کاشرف حاصل ہوا کا علمی اور تحقیقی خزانہ انگریز اور ہندو کی شاطرانہ چال کانگریس کے ہمنوا نام نہاد مسلمانوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور نام لیواؤں عقیدت مندوں اور محبت کادم بھرنے والوں کی ناقص منصوبہ بندی کی دبیز تہوں کے نیچے دب کررہ گیاتھا۔
الحمدلله ! اب دردمند اور حساس مسلمانوں کی کوشش سے مخالفت تعصب اور لاشعوری کی یہ دبیزتہیں ہٹنے لگیں رضوی علم وفضل کے آسمان پرچھاجانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے مہیب بادل
رضافاؤنڈیشن لاہوربھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے بانی مخدوم ملت استاذالعلماء مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ کی علم دوست فرض شناس اور دردمند شخصیت سے کون واقف نہیں۔ حضرت مفتی صاحب مدظلہ کی خاموش تبلیغ وتحریک نے گلستان سنیت میں جتنے پھول کھلائے ہیں ان کی عطربیز مہک نے شرق وغرب اور شمال وجنوب کو معطر کررکھا ہے۔ الله تعالی حضرت مفتی صاحب کی مساعی کو برکات سے اور ان کے اہم علمی دینی منصوبوں کو تکمیل کے زیور سے آراستہ فرمائے آمین!
رضافاؤنڈیشن نے خیابان رضا سے جس اہم پھول کاانتخاب کیا ہے وہ اپنوں اور بیگانوں سب سے داد تحسین وصول کرچکا ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ تحقیقی اعتبار سے فتاوی رضویہ کی نظیرملنا ناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے۔ ایک ایک مسئلے پردلائل کے انبار لگادینا بلاشبہ حضرت امام احمدرضابریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہہی کاحصہ ہے۔
“ مشتے نمونہ ازخروارے “ کے مطابق حضرت فاضل بریلوی کی فقہی بصیرت اور تحقیقی صلاحیت کی صرف ایک جھلک پیش خدمت ہے۔ پانی کے حصول یااس کے استعمال سے عجز کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے عام کتب فقہ اور فتاوی میں اس عجز کی چندصورتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن امام احمدرضارحمۃ اللہ تعالی علیہنے پانی سے عجز کی ایک سو پچھتر۱۷۵ صورتیں بیان کی ہیں لیکن اس کے باوجود خودپسندی اور بڑائی کے اظہار کی بجائے عجز اور فروتنی کامجسمہ بنے نظرآتے ہیں۔ خود فرماتے ہیں :
“ الحمدلله ! یہ پانی سے عجز کی پونے دوسو ۱۷۵ صورتیں اس رسالہ کے خواص سے ہیں کہ اس کے غیر میں نہ ملیں گی اگرچہ جوکچھ ہے علماء کرام ہی کا فیض ہے ۔ “
دور جدید کے تقاضوں کے مطابق فتاوی رضویہ کوآسان اور دلکش پیرائے میں قارئین تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت تھی چنانچہ رضافاؤنڈیشن نے الله تعالی کی ذات پربھروساکرتے ہوئے اس اہم ذمہ داری کابیڑا اٹھایا اور عزم صمیم کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھ دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے فتاوی رضویہ کی پہلی جلد کانصف اول عربی عبارات کے ترجمہ حوالہ جات کی تخریج
فتاوی رضویہ جلد سوم
شروع شروع میں خیال تھاکہ فتاوی رضویہ کہ پہلی جلد(مکمل) اور دوسری جلد سے طہارت کی بحث کو تین جلدوں میں شائع کیاجائے لیکن پہلی دو جلدوں کی طباعت سے اندازہ ہوا کہ کتاب الطہارت کی مکمل بحث چارجلدوں کی متقاضی ہے لہذا یہ تمام بحث چار۴ضخیم جلدوں میں مکمل ہوگی۔
پیش نظرجلد پرانی جلد کے صفحہ ۴۸۴ سے ۷۳۵تک کے مضامین پرمشتمل ہے۔ اس جلد میں انسٹھ ۵۹ سوالات کے جوابات (فتاوی) اقول کے عنوان سے ۱۳۲۱ علمی فوائداور۵۰۱ تطفلات ومعروضات مندرج ہیں ۔
اس جلد میں بنیادی طور پر طہارت سے متعلق تین موضوعات پرگفتگو کی گئی ہے :
(۱) پانی کی طبع یعنی رقت وسیلان۔
(۲) کنویں کے مسائل۔
(۳) تیمم سے متعلق تمام ضروری ابحاث۔
پیش نظر جلد میں درج ذیل چھ۶ رسائل بھی شامل ہیں :
(۱) الدقۃ والتبیان لعلم الرقۃ والسیلان ۱۳۳۴ھ (پانی کی)رقت وسیلان کاواضح بیان
(۲) حسن التعمم لبیان حدالتیمم ۱۳۳۵ھ تیمم کی ماہیت وتعریف کابہترین بیان
(۳) سمح الندری فیما یورث العجز من الماء ۱۳۳۵ھ پانی سے عجز کی پونے دوسو۱۷۵ صورتوں کابیان
(۴) الظفر لقول زفر ۱۳۳۵ھ وقت کی تنگی کے باعث جواز تیمم کے بارے میں امام زفررحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کی تقویت۔
(۵) المطر السعید علی نبت جنس الصعید۱۳۳۵ھ جنس زمین سے کیامراد ہے ۔ (تحقیقی بیان)
فتاوی رضویہ جلد اول (قدیم) کے حاشیہ پرمبسوط فوائد کویک جا کرکے “ فوائدجلیلہ “ کے نام سے چوتھی جلد کے آخر میں لایاجارہاہے۔ ان فوائد کی ترتیب وتبویب کافریضہ فاضل جلیل مولانا محمدعبدالستارسعیدی ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہورنے انجام دیاہے۔
رضافاؤنڈیشن کے ارکان ہندوستان کے عظیم محقق علامہ محمد احمدمصباحی(بھیروی) دامت برکاتہم العالیہ کے بے حد ممنون ہیں جنہوں نے اپنی گوناگوں علمی مصروفیات کے باوجود مختصروقت میں باب التیمم سے آخرتک کی عربی عبارات کانہایت سلیس اور شستہ ترجمہ فرمایا۔
علامہ محمداحمد مصباحی(بھیروی) حضرت حافظ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کے قابل فخرشاگرد اور برصغیرپاک وہندکی مایہ نازمادرعلمی “ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور (ہندوستان) کے شیخ الادب ہیں۔ آپ قدیم وجدید علوم کے ماہر کئی علمی تحقیقی کتب کے مصنف اور مترجم ہیں۔ حضرت امام احمدرضابریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے متعدد رسائل اور فتاوی کو ترجمہ تحقیق اور تحشیہ کے بعد عام اردو خوان حضرات کے لیے آسان بناچکے ہیں۔ اس وقت فن لغت پرایک مبسوط اور وقیع کتاب تحریر کررہے ہیں۔
علامہ مصباحی امام احمدرضابریلوی قدس سرہ کی علمی شخصیت اور آپ کی تحقیقات جلیلہ کو علم ودانش کی دنیا میں متعارف کرانے میں نمایاں کردار اداکرنے والے ادارے المجمع الاسلامی مبارک پور کے روح رواں ہیں۔ اور بقول علامہ بدرالقادری(ہالینڈ) علامہ محمداحمد مصباحی حضرت حافظ ملت علیہ الرحمۃکی نگاہ کیمیا کاانتخاب اور ان کی پاکیزہ دعاؤں کاثمرہ ہیں۔ الله تعالی علامہ محمداحمدمصباحی مدظلہ کی دینی وملی خدمات کوشرف قبولیت اور امت مسلمہ کوان کے علمی جواہرپاروں سے استفادہ کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!
قارئین کرام!رضافاؤنڈیشن نے ایک علمی ذخیرہ آپ کے حوالے کردیا ہے اس کوبہتر سے بہترین کی طرف لے جانے کے لیے اپنے قیمتی مشوروں اور اس اہم منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنی پرخلوص دعاؤں سے نوازتے رہئے۔ الله تعالی ہم سب کاحامی وناصر ہو۔ آمین بجاہ نبیہ الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم!
۴شعبان المعظم ۱۴۱۲ھ * محمدصدیق ہزاروی
۹فروری۱۹۹۲ء جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اب فقیر بتوفیق الملك القدیر عزجلالہ اسباب ثلثہ پر کلام اور ہر ایك کے متعلق ابحاث مہمہ ذکر کرے۔
زوال طبع اس میں چند ابحاث ہیں :
بحث اول معنی طبیعت۔
اقول : طبع آب سے مراد اس کا وہ وصف ہے کہ لازم ذات ومقتضائے ماہیت ہو جس کا ذات سے
وقال السیدان ط و ش طبعہ ای وصفہ الذی خلق الله تعالی علیہ
(سید طحطاوی اور سید شامی نے فرمایا پانی کی طبیعت یعنی اس کا وہ وصف جس پر الله تعالی نے پانی کو پیدا کیا ہے۔ ت
اقول : (۱) ھذا یشمل اللون والطعم والریح ولم یعدھا احدمن الطبع (۲) ویلزمہ ان لایجوز الوضو ء بما انتن اوتغیر لونہ اوطعمہ بطول المکث مثلا لخروجہ اذن عن طبع الماء وھو خلاف اجماع من یعتدبہ (۳) وکذا یردہ اجماع اصحابنا المذکور فی ۱۱۶ الی غیر ذلك عــہ من الاستحالات۔
میں کہتا ہوں کہ یہ تعریف رنگ ذائقہ اور بو پر مشتمل ہے حالانکہ کسی نے ان چیزوں کو پانی کی طبیعت میں شمار نہیں کیا اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ ایسے پانی سے وضو جائز نہ ہو جو بدبودار ہوچکا ہو یا زیادہ دیر پڑے رہنے کی وجہ سے اس کا رنگ اورذائقہ تبدیل ہوچکا ہو کیونکہ اس وجہ سے وہ پانی اپنی طبیعت سے خارج ہوچکا ہے حالانکہ یہ بات معتبر اجماع کے خلاف ہے اور یوں ہی یہ بات ہمارے اصحاب (احناف) کے اجماع جس کا ذکر بحث ۱۱۶ میں ہوچکا ہے سے مردود ہے اس قسم کے بہت سے استحالات لازم آئیں گے۔ (ت)
بحث دوم : طبع آب کی تعیین عامہ علماء نے اسے رقت(۱) وسیلان سے تفسیر کیا اور یہی صحیح ہے ایضاح و
عــہ منھاان لایجوزالوضوء بماء حار ولابارد ولو باثر ریح لانہ لم یبق علی وصفہ الذی خلق علیہ ونقول لایخلواان الماء بدوخلقہ حارا اوباردا اومعتدلا وایاما کان لم یجز الوضوء بالباقیین الا ان یقال ان المراد بالوصف الثلثۃ لاغیر فانھا ھی المتعارف فیما بینھم عنداطلاق اوصاف الماء ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
ان محالات میں سےایك یہ کہ لازم آئے گا کہ گرم یا ٹھنڈا پانی خواہ ہوا سے سرد ہو سے وضو جائز نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پانی اپنی اصلی طبیعت سے خارج ہوچکاہے کیونکہ اس وصف پر باقی نہ رہا جس پر اس کو پیداکیاگیا تھا یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پانی کی پیدائش گرم تھی یا سرد تھی یا معتدل تھی جو بھی قرار دی جائے تو دوسری دو صورتوں میں وضو جائز نہ ہو الا یہ کہ یوں کہا جائے کہ پانی کی طبیعت صرف تین وصف رنگ بو اور ذائقہ ہیں اور کوئی وصف گرم سرد وغیرہ معتبر نہیں ہے کیونکہ پانی کے یہی تین وصف متعارف ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کے جاوصاف کا جب ذکر ہوتا ہے تو یہی تینوں اوصاف متعارف ہوتےہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(طبع آب رقت وسیلان ہے۔ ت) اسی طرح فتح وغیرہ سے مستفاد یہی فروع میں بہت کلمات کا مفاد
کما یظھر بمراجعۃ ماتقدم واقتصر القھستانی و عبدالحلیم علی الرقۃ وعلیہ مشی فی الغنیۃ عندذکرالضابطۃ کمامر فی ۲۸۷ وتراہ مفادکلام الاکثرین فی الفروع اذا تذکرت ماسلف اقول : وھو حسن وجیہ لماقدمناان الرقۃ تستلزم السیلان ومنھم من اقتصر علی السیلان کالزیلعی والحلیۃ جوالدرر فی ذکر الضابطۃ۔
اقول : یحمل علی السیلان المعھود من الماء فیستلزم الرقۃیدل علیہ قول الغنیۃ طبعہ سرعۃ اھ فھذہ مسالك تؤل الی شیئ واحد لکن ثمہ مایخالفھا ففی الدر والدرر طبعہ السیلان والارواء والانبات اھومثلہ فی چلپی علی صدرالشریعۃ واقتصرعلیہ الوانی فی حاشیۃ الدررمن الاخیرین علی الانبات قال نوح افندی ثم السید الازھری ثم ط ثم ش اقتصر علیہ لاستلزمہ الارواء دون العکس فان
جیساکہ گزشتہ بحثوں کے پیش نظر ظاہر ہوتا ہے قہستانی اور عبدالحلیم نے صرف رقت کو پانی کی طبیعت قرار دیاہے غنیہ نے بھی ضابطہ کو ذکر کرتے ہوئے اسی کو اپنایاہے جیسا کہ بحث ۲۸۷ میں گزرا اور جب گزشتہ ابحاث کو تو یاد کرے تو تجھے معلوم ہوگا کہ اکثر حضرات کے کلام کا ماحصل یہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہی خوبصورت وجہ ہے کیونکہ ہم نے پہلے ذکر کیاہے کہ رقت سیلان کو مستلزم ہے اور بعض حضرات نے صرف سیلان کو پانی کی طبیعت قرار دیا ہے جیسا کہ زیلعی اور حلیہ نے کہاہے اور درر نے اس کو ضابطہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اس قول کو پانی کے معینہ سیلان پر محمول کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ سیلان رقت کو مستلزم ہے اس پر غنیہ کا یہ قول دلالت کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی طبیعت جلد بہنا ہے اھ یہ تمام مسالك ایك ہی چیز کی طرف راجع ہیں مگر یہاں ان کے مخالف بھی قول ہے جیسا کہ در اور درر میں ہے کہ پانی کی طبیعت سیلان سیرابی اور اگانا ہے۔ اور صدرالشریعۃ کے حاشیہ پر چلپی میں بھی اسی طرح ہے اور درر کے حاشیہ میں الوانی نے صرف انبات (اگا نے) کو ہی لیا ہے نوح آفندی پھر سید ازہری اور پھر طحطاوی
وفی خزانۃ المفتین عن الاختیار شرح المختار طبع الماء کونہ سیالا مرطبامسکنا للعطش اھ
وفی مراقی الفلاح طبعہ ھو الرقۃ والسیلان والار واء والانبات اھ قال السید ط فی حاشیتہ الرقۃ والسیلان اقتصر علیھما فی الشرح عــہ وھو الظاھر لان الاخیرین لایکونان
اور شامی نے کہا ہے کہ الوانی نے اس لئے صرف انبات کو لیا ہے اور سیرابی کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ انبات کو سیرابی لازم ہے اور سیرابی کو انبات لازم نہیں ہے کیونکہ شربت سیراب تو کرتے ہیں لیکن انبات نہیں کرتے اھ اور جوہرہ میں ہے کہ پانی کی طبیعت رقت سیلان اور پیاس بجھانا ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں الاختیار شرح المختار سےمنقول ہے کہ پانی کی طبیعت سیال تر کرنا اور پیاس بجھانا ہے اھ اور مراقی الفلاح میں ہے
عــہ اقول : (۱) ومن العجب اقتصار البنایۃ علی الارواء اذقال طبع الماء کونہ مرویا لانہ یقطع العطش قال وقیل قوۃ نفوذہ اھ
اقول : ھذا ھو قضیۃ رقتہ وسیلانہ (۲) فالعجب تزییف ھذا واختیار طبع لاتعلق لہ بماھنا قال وقیل کونہ غیر متلون اھ
اقول : ھذا خلاف المشھود والمشہور (۳) ودوار فی الکتب ذکر لون الماء (۴) وقد جاء
اقول : تعجب ہے کہ بنایہ نے صرف سیرابی پر اکتفا کیاہے جہاں انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی طبیعت سیراب کرنا ہے کیونکہ اس سےپیاس بجھتی ہے اور انہوں نے کہاکہ بعض نے پانی کو قوت سرایت کو کہا ہے اھ
میں کہتا ہوں کہ یہ تو پانی کی رقت اور سیلان کا معاملہ ہے اس کو کمزور بنانااور ایسی چیز کو طبیعت بتانا جس کا یہاں کوئی تعلق نہیں ہے تعجب انگیز بات ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض نے پانی کی طبیعت غیر متلون (بے رنگ) ہونا بتایا ہے اھ
میں کہتا ہوں کہ یہ بات مشاہدہ اور شہرت دونوں کے خلاف ہے اور کتب میں پانی کے رنگ کا باربار ذکر ہے (باقی برصفحہ ایندہ)
کہ پانی کی طبیعت رقت سیلان سیراب کرنا اور اگانا ہے اھ۔ سید طحطاوی نے اس کے حاشیہ میں فرمایا کہ انہوں نے شرح میں صرف رقت اور سیلان کو ہی ذکر کیاہے کیونکہ ظاہر یہی ہے اس لئے کہ آخری دونوں یعنی سیراب کرنا اور انبات (اگانا)سمندر کے نمکین پانی میں نہیں پائے جاتے ا ھ کیونکہ آخری دو وصف (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی مرسل صحیح رواہ الامام الطحاوی عن راشد ابن سعد عن سید المرسلین صلی الله علیہ وسلم الماء لاینجسہ شیئ الا ماغلب علی ریحہ اوطعمہ اولونہ وھو فی ابن ماجۃ موصولا من حدیث راشد بن سعد عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الماء طھور ولا ینجسہ الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ والاخراج علی طبعہ ان لایبقی لہ اثر الغلیان اھ کذا وھو فی نسخۃ سقیمۃ جدا ولعلہ مایقبل ای طبعہ ان یرتفع وینخفض عندالاغلاء اقول : وھو ایضا من اثر الرقۃ والسیلان والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
امام طحاوی نے صحیح مرسل کے طور پر راشد بن سعد سےروایت کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایاکہ پانی کو ناپاك کر نے والی کوئی چیز نہیں ماسوائے اس کے جو اس کے ذائقہ بو اور رنگ پر غالب ہوجائے اور یہ حدیث ابن ماجہ میں موصولا راشد بن سعد نے ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہسےروایت کی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ پانی پاك کرتا ہے اس کو ناپاك کر نے والی صرف یہی صورت ہے کہ جب کوئی چیز اس کی بو ذائقہ اور رنگ پر غلبہ پالے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض نے کہاکہ پانی کی طبیعت یہ ہے کہ اس میں ابلالنے کی صلاحیت باقی ہو اور اس کو طبیعت سےخارج کر نے کیلئے ضروری ہے کہ اس میں ابلالنے کا اثر باقی نہ رہے اھ کمزور ترین نسخے میں ایسےہی ہے ہوسکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ پانی کی طبیعت یہ ہے کہ ابالنے میں وہ بلالند وپست ہوسکے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی رقت وسیلان کا اثر ہے والله اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : وھذاوجیہ فان الاصل عدم العارض وان کان لایتم الاستدلال علیہ بقولہ عزوجل وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھمابرزخا وحجرا محجورا
فان المرج ھوالخلط والارسال ولایلزم ان یکون فی بدء خلقھما بل بعد تغیر احدھما بعارض والله تعالی اعلم فلواکتفی الخادمی بھذا کان رداعلی دعوی ان الثلثۃ من طبع الماء لکنہ اراد قبلہ النقض علی قاعدۃ المتن فی منع الوضوء فانعکس علیہ الامر اذردد فبددفقال ان ارید المجموع من حیث ھو مجموع فیرد بماء البحر اذلیس فیہ ارواء وانبات وان ارید واحد منھا فبنحوماء البطیخ اذفیہ ارواء ولم یجز بہ الوضوء اھ
سمندری پانی میں نہیں ہوتے اھ
اور اس سےدرر پر تعقیب کی گئی ہے تو اس کا جواب الوانی ابو السعود ط اور ش نے یہ دیا کہ اس کی طبیعت میں انبات ہے مگر اس کا عدم انبات کسی عارض کی وجہ سےہے جیسےگرم پانی میں ہوتا ہے اھ اور اس کو خادمی نے رد کیا کہ گرم پانی کی طرح سمندری پانی اپنی طبیعت سےزائل نہیں ہوا ہے کسی عارض کی وجہ سے بلالکہ اگر اس کو اس کی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تب بھی اس میں عدم انبات ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں یہ بات مدلل ہے کہ اصل عارض کا نہ ہونا ہے اگرچہ اس پر استدلال الله تعالی کے قول و هو الذی مرج البحرین هذا عذب فرات و هذا ملح اجاج-و جعل بینهما برزخا و حجرا محجورا(۵۳) سےتام نہیں ہوتا کیونکہ مرج کے معنی ملانے اور چھوڑ نے کے ہیں اور یہ لازم نہیں کہ یہ صورت ان کی ابتداء تخلیق میں ہو بلالکہ ان میں سےکسی ایك کو عارض کی وجہ سےمتغیر ہو نے کے باعث ہو والله تعالی اعلم تو اگر خادمی اسی پر اکتفا کرلیتے تو یہ اس دعوی کا رد ہوجاتا کہ یہ تینوں چیزیں پانی کی طبیعت ہیں لیکن انہوں نے اس سےقبل نقض کا ارادہ کیا وضو کے ناجائز ہو نے کے بارہ میں متن کے قاعدہ پر لیکن معاملہ الٹ ہوگیا اس لئے کہ انہوں نے تردید کی اور تفریق کی پس فرمایا اگر تینوں کا من حیث المجموع کا ارادہ کیاجائے تو اس کا رد سمندر کی پانی سےکیا جائےگا کہ اس میں نہ اگانا ہے اور نہ زرخیزی
فان قلت لم لایقال انہ صرف الکلام من المنطوق الی المفھوم ولاشك ان المفھوم منہ ھو ھذا ای الجواز بما بقی علی طبعہ ۔
اقول : لیس ھذا مفھومہ بل مفھومہ الجواز بمالم یزل طبعہ فیبقی التعکیس کما کان لانہ اذا ارید بالطبع المجموع
(حالانکہ اس سےوضو جائز ہے) اور اگر ان میں سےایك کا ارادہ کیا جائے تو تربوز کے پانی وغیرہ سےرد ہوگا کہ اس میں سیراب کرنا ہے لیکن اس سےوضو جائز نہیں اھ (ت)
میں کہتا ہوں متن کا قاعدہ وہ ہے جو منقول ہوا ان کے قول لابماء زال طبعہ الخ میں اور اگر مجموع کا ارادہ کیا جائے تو سمندری پانی سےاعتراض نہ ہوگا کہ اس کے تمام اوصاف زائل نہیں ہوئے ہیں کیونکہ اس میں سیلان باقی ہے اور اگر ان میں سےایك کا ارادہ کیا جائے تو تربوز کے پانی سےاعتراض نہ ہوگاکیونکہ اس میں ایك وصف انبات زائل ہوا ہے یہ تقریر اس صورت میں کہ جب تربوز کا مخلوط مادہ مراد لیا جائے اور اگر اس سےخارج کیا ہوا پانی مراد لیا جائے توپھرتقریراس کے برعکس ہوگی اوریوں کہاجائے گاکہ اگر تینوں امور کا مجموعہ مراد ہو تو پھر تربوز کے پانی سےاعتراض وارد ہوگا کیونکہ اس سےتینوں کا زوال نہیں ہے بلالکہ اس میں سیلان اور سیرابی باقی ہے اور اگر تینوں میں سےکسی ایك کو طبیعت قرار دیا جائے تو سمندری پانی سےاعتراض ہوگا کہ اس کے دو وصف زائل ہوئے ہیں اگانا اور سیراب کرنا ہاں اگر متن کی عبارت یوں ہوتی کہ وضو جائز ہے اس پانی سےجو اپنی طبیعت پر باقی ہو تو نقض وہ ہوتا جو ذکر کیا۔ (ت)
اگر یہ کہا جائے کہ یہ کیوں نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کلام کو منطوق سےمفہوم کی طرف پھیر دیا ہے اور کچھ شك نہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے یعنی جو پانی اپنی طبیعت پر باقی ہو اس سےوضو جائز ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ اس کا مفہوم نہیں بلالکہ اس کا مفہوم اس پانی سےوضو کا جواز ہے جس کی طبیعت ختم نہ ہوئے ہو تو تعکیس ایسی ہی رہے گی کیونکہ جب
اقول : ان خص الایرادبعبارۃ الخزانۃ کماھوظاھرسیاقہ فلاوجہ لہ لورودہ علی الاول ایضاسواء بسواء فان ماء بعض الفواکہ لایسلبہ الرقۃ ایضاکمالایسلبہ الارواء وان عممھما فلاوجہ لہ فان اعتبار الرقۃ مجمع علیہ وقد مشی ھوایضاعلیہ فی ضابطتہ
طبیعت سےمجموعہ کا ارادہ کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے وضو جائز ہے اس پانی سےجس سےکل زائل نہ ہوں تو سمندری پانی سےاس پر اعتراض وارد نہ ہوگا کیونکہ اس میں سیلان کا وصف باقی ہے اور جب ایك کا ارادہ کیا جائے تو معنی یہ ہوں گی وضو جائز ہے اس پا نی سےجس سےکچھ زائل نہ ہوا ہو تو بطیخ کے پانی سےاعتراض وارد نہ ہوگاکہ اس سےایك انبات کا وصف زائل ہے بخلاف آپ کے اس قول کے “ وضو جائز ہے اس پانی سےجو اپنی طبیعت پر باقی ہو “ کیونکہ اگر کل کا ارادہ کیا جائے تو جواز کا دارومدار کل کے باقی رہنے پر ہوگا تو سمندری پانی پر اعتراض وارد ہوگا اگر بعض کا ارادہ کیا جائے تو بطیخ کے پانی سےاعتراض ہوگا۔ اس کو یادرکھو۔ علامہ برجندی نے فرمایا مراد جنس پانی کی طبیعت ہے اور وہ رقت وسیلان ہے اسی طرح کہاگیا ہے اور خزانہ میں ہے پانی کی طبیعت اس کا سیال ہونا تر کر نے والا ہونا پیاس کے لئے ت سکےن بخش ہونا ہے اور مخفی نہ رہے کہ بعض پھلوں کا پانی ایسا ہی ہوتا ہے تو اگر وہ پانی میں مل جائے اور غالب ہوجائے تو چاہئے کہ اس سےوضو جائز ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں اگر اعتراض بطور خاص خزانہ کی عبارت پر ہے جیسا کہ سیاق سےظاہر ہے تو اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ اول پر بھی برابر سےوارد ہے کیونکہ بعض پھلوں کے پانی سےرقت سلب نہیں ہوتی جیسےاس سےسیرابی سلب نہیں ہوتی اور اگر وہ دونوں کو عام ہے تو اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رقت کا اعتبار اجماعی ہے اور وہ بھی اپنے ضابطہ میں اسی پر
ثم اقول : الذی یظھرلی ان الزائدین علی الرقۃ والسیلان انماارادوا بیان طبع الماء فی نفسہ لاطبع لولاہ لم یجز الوضوء کیف وھم قاطبۃ اذااتواعلی الفروع لایبنون
چلے ہیں جیسا کہ ان شاء الله تعالی آیندہ فصل میں آئے گا تو اس صورت میں متن پر اعتراض کرنا چاہئے تھا کیونکہ انہوں نے پاك کے ملنے میں صرف اس کا وضو کے جواز سےاستثناء کیا ہے جو پانی کو اس کی طبیعت سےخارج کردے یا پکنے کی وجہ سےاس کو تبدیل کردے اور اس پھل کے پانی کی ملاوٹ میں ان میں سےکوئی چیز نہیں ہے تو اگر متن پر رد کا ارادہ کیا ہے تو اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے فرمایا ہے “ اور اگر اس کے ساتھ کوئی طاہر چیز مل جائے “ اور عرف فیصلہ کر نے والا ہے کہ یہ بات اسی وقت کہی جائے گی جبکہ پانی زائد ہو کیونکہ خلط مغلوب ہی کی طرف مضاف ہوتی ہے تو پانی اور دودھ کے ملانے میں اگر دودھ زائد ہو تو کہا جاتا ہے یہ دودھ ہے جس میں پانی ہے یا پانی زائد ہے تو کہا جائےگا یہ پانی ہے جس میں دودھ ملا ہوا ہے اس پر مجمع الانہر میں تنبیہ کی ہے اور فرمایا کہ مثلا سرکہ جب پانی میں مل جائے اور پانی مغلوب ہو تو کہا جاتا ہے سرکہ میں پانی مخلوط ہے یہ نہیں کہتے کہ پانی میں سرکہ ملا ہوا ہے اھ تو یہ اس صورت کو شامل نہیں جبکہ پھلوں کے پانی پر پانی کا غلبہ ہوجائے اور خلاصہ یہ کہ میں اس اعتراض کا نہ محل پاتا ہوں اور نہ محمل والله تعالی اعلم۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ پانی کی طبیعت میں رقت اور سیلان پر دو چیزوں کی زیادتی کا قول کرتے ہیں وہ فی نفسہ پانی کی طبیعت کا ارادہ کرتے ہیں نہ کہ اس طبیعت کا کہ اگر وہ نہ ہو تو وضو جائز نہ ہو اور یہ کیسےہوسکتا ہے کہ جب وہ فروع کے
بیان پر آتے ہیں تو معاملہ کو رقت وسیلان پر ہی مبنی کرتے ہیں اور ان میں سےکوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ اگر پانی میں اگانی اور سیراب کر نے کی صلاحیت ختم ہوجائے تو اس سےوضو جائز نہ ہوگا اس سےمعاملہ صاف ہوگیا ولله الحمد (ت)
بحث سوم معنی رقت وسیلان کی تحقیق اور ان کا فرق۔
قال العلامۃ الشرنبلالی رحمہ الله تعالی فی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح (الغلبۃ فی الجامد باخراج الماء عن رقتہ) فلاینعصرعن الثوب (وسیلانہ)فلا یسیل علی الاعضاء سیلان الماء اھ
اقول : اولا (۱)لایخفی علیك ان الانعصارمن الثوب اخص تحققامن السیلان فلاینعصر الا مایسیل ولایجب انعصار کل سائل کالدھن والزیت والسمن واللبن والعسل کل ذلك یسیل لانھا من المائعات وما المیع الا السیلان اواخص قال فی القاموس ماع الشیئ یمیع جری علی وجہ الارض منبسطا فی ھینۃ
قال فی تاج العروس کالماء
علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی نے نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں کہا (جامد میں غلبہ کا تحقق پانی کو اس کی رقت سےخارج کر نے پر ہے) پس وہ کپڑے میں سےنچوڑا نہ جاسکے گا (اور اس کا سیلان) سےاخراج یہ کہ وہ اعضاء پر پانی کی طرح بہہ نہ سکے گا اھ (ت)
میں اولا کہتا ہوں کہ سیلان کی نسبت کپڑے سےنچوڑا جانا تحقق کے اعتبار سےاخص ہے تو وہی نچوڑا جاسکتا ہے جو بہتا ہو اور ہر بہنے والی چیز کا نچوڑا جانا لازم نہیں جیسےتیل گھی دودھ اور شہد یہ سب بہنی والی چیزیں ہیں کیونکہ یہ مائع ہیں اور مائع کا مطلب ہی بہنی والی چیز ہے یا مائع سیلان سےاخص ہے قاموس میں ہے ماع الشیئ یمیع زمین پر کسی چیز کا پھیل کر بہنا۔ تاج العروس میں ہے جیسےپانی اور خون۔ اور قاموس میں ہے
سال یسیل
جاری ہوا اھ اور ان میں سے کسی چیز کو نچوڑا نہیں جاتا ہے اور اسی لئے نجاست حقیقیہ کو ان سےپاك کرنا جائز نہیں۔ ہدایہ میں فرمایا اس کا پاك کرنا پانی اور ہر مائع سےجائز ہے جو خود پاك ہو اور نجاست کا اس سےزائل کرنا بھی ممکن ہو جیسےسرکہ گلاب کا پانی وغیرہ یعنی وہ چیزیں جو نچوڑے جا نے سےنچوڑی جاسکیں محقق نے فتح میں فرمایا “ ان کا قول جب نچوڑا جائے تو نچڑ جائے سےتیل روغن زیتون دودھ اور گھی خارج ہوجاتے ہیں بخلاف سرکہ اور باقلاء کے پانی کے جو گاڑھا نہ ہو اھ اور منیہ میں ہے کہ اگر شہد سےدھویا جائے یا گھی سےیا تیل سےتو جائز نہیں کیونکہ یہ نچوڑے جا نے سےنہیں نچڑتے ہیں حلیہ میں فرمایا اس لئے کہ یہ چیزیں اپنے محل سےچپکی ہوئی ہوتی ہیں اور شہد کی قوام کی سختی اس کو کپڑے میں داخل ہو نے سےمنع کرتی ہے اھ اور مراقی الفلاح میں ہے تیل سےپاك نہ ہوگا کیونکہ وہ خود نہیں نکلتا ہے “ ط “ نے
فان قلت انہ رحمہ الله تعالی تدارکہ فی الشرح بتقیید السیلان بسیلان کالماء وظاھر ان المراد بہ الماء الصافی الذی لم یخالطہ شیئ ولم یتغیرعن صفتہ الاصلیۃ ولا تسیل تلك المائعات مثلہ لکونہ ارق اماالذی یسیل کسیلانہ فلابد ان ینعصرکانعصارہ فان کان کل منعصر یسیل کالماء تساوی الرقۃ وھذاالسیلان والا کانت الرقۃ اعم وعلی کل لایلزم المحذورفانہ کلماانتفت انتفی غایتہ ان یبقی ذکر السیلان مستدرکاعلی تقدیر خصوصہ اما علی التساوی فلاغروفی جمع المتساویین تاکیدا۔ اقول فیہ عـــہ نظر بالنسبۃ الی بعض
اس کے حاشیہ میں فرمایا تو نجاست کیسےنکالے گا۔ اور ۲۸۶ میں گزرا کہ یہ پانی کے اطلاق کو باقی رہنے کا وہم پیدا کرتا ہے جبکہ رقت منتفی ہو اور سیلان باقی ہو حالانکہ ایسا نہیں۔ (ت)
اگریہ اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے شرح میں اس کا تدارك اس طرح کیا ہے کہ سیلان کو مقید کیا ہے اس سیلان سےجو پانی کی طرح ہو اور ظاہر ہے کہ اس سےمراد صاف پانی ہے جس میں کوئی چیز ملی نہ ہو اور وہ اپنی اصلی صفت سےمتغیر نہ ہوا ہو اوریہ مائعات اس کی طرح نہیں بہتے کیونکہ پانی زیادہ پتلا ہے بہرحال وہ چیز جو پانی کی طرح بہے تو ضروری ہے کہ وہ پانی کی طرح نچڑے تو اگر ہر نچڑ نے والی چیز پانی کی طرح بہتی ہو تورقت اور یہ سیلان مساوی ہوجائیں گی ورنہ تو رقت اعم ہوگی اور ہر صورت میں کوئی محذور لازم نہ آئے گا کیونکہ جب رقت منتفی ہوگی تو سیلان منتفی ہوگا نتیجہ یہ کہ سیلان کا ذکر مستدرك ہوگا برتقدیر اس کے خاص ہونے کے اور تساوی کی شکل میں تو متساویین کے جمع ہونی میں کوئی حرج نہیں تاکیدا۔ (ت)
میں کہتا ہوں دودھ کے بعض اقسام کے اعتبار
عـــہ فان قلت الیس ھذا عین ماقدمت انفا فی البحث الاول فی تبیین کلام التبیین وغیرہ اواقتصروا علی السیلان فقلت یحمل علی السیلان المعھود من الماء فیستلزم الرقۃ اقول : نعم شتان ماھما فالسیل کمسیل الماء یستلزم الرقۃ بالمعنی الذی حققت لا الانعصار کالالبان ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اگر آپ اعتراض کریں کہ کیا یہ بیان آپ کے اس بیان کے عین مطابق نہیں ہے جو ابھی آپ نے تبیین وغیرہ کے کلام کی وضاحت کرتے ہوئے پہلی بحث میں فرمایا کہ “ انہوں نے صرف سیلان کو کافی قرار دیا ہے “ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ اس سیلان کو پانی والے سیلان پر محمول کیا جائےگا جس کو رقت لازم ہے۔ میں کہتا ہوں دونوں مختلف ہیں سیلاب کے پانی کی رقت میں نچڑ نے کی وہ صلاحیت نہیں جو خالص پانی کی رقت میں ہے سیلاب کے پانی کی رقت دودھ کی رقت جیسی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وثانیا : (۱)افاد رحمہ الله تعالی ان کل مالاینعصر لیس برقیق فعکسہ کل رقیق ینعصر* وفیہ نظر لایستتر* فان الدھن رقیق ولاینعصر* والامر فی اللبن اظھر امارقۃ الدھن فلما صرحوا ان المعتبر فی المقدارالمانع من (۲) النجاسۃ الغلیظۃ وزن الدرھم فی الشیئ الغلیظ ومساحتہ فی الرقیق کتب المذھب طافحۃ بذلك وفی البحر وفق الھندوانی بان روایۃ المساحۃ فی الرقیق والوزن فی الثخین واختار ھذا التوفیق کثیرمن المشائخ وفی البدائع ھوالمختارعندمشائخ ماوراء النھروصححہ الزیلعی وصاحب المجتبی واقرہ فی فتح القدیر اھ وفی الغنیۃ قال الفقیہ ابو جعفر یقدر
سےاس میں اعتراض ہے بلالکہ بکری کا دودھ بعض پانیوں کے اعتبار سےزائد رقیق ہوتا ہے اگر مان بھی لیا جائے تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ہر وہ چیز جو پانی کی طرح بہتی ہو وہ نچڑتی بھی ہو کیونکہ یہ جائز ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز ہو جو اس کے نچڑ نے سےمانع ہو نہ کہ بہنے سےجیسےچکناہٹ تو اگر ہر نچڑ نے والی چیز اس کی طرح بہنے والی ہو تو رقت اخص مطلق ہوجائے گی ورنہ من وجہ ہوگی اور بہرصورت محذور لوٹ آئےگا۔ اور ثانیا علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو نچڑ تی نہیں وہ رقیق نہیں ہے تو اس کا عکس یہ ہوگا کہ ہر رقیق چیز نچڑتی ہے اور اس میں ظاہری نظر ہے کہ تیل رقیق ہے مگر نچڑتا نہیں اور دودھ کا معاملہ زیادہ ظاہر ہے اور تیل کی رقت توجیسا کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ معتبر وہ مقدار جو نجاست غلیظہ کے مانع ہے گاڑھی چیز میں ایك درہم کا وزن ہے اور رقیق میں ایك درہم کی پیمائش معتبر ہے کتب مذہب اس سےپر ہیں اور بحر اور ہندوا نی میں ہے کہ مساحت کی روایت رقیق میں اور گاڑھی میں وزن کی ہے اور اس توفیق کو بہت سےمشائخ نے پسند کیاہے اور بدائع میں ہے کہ ماوراء النہر کے مشائخ کے نزدیك یہی مختار ہے اور اس کو زیلعی اور صاحب مجتبی نے صحیح قرار دیا ہے اور اس کو فتح القدیر میں برقرار رکھا ہے اھ اور غنیہ میں ہے فقیہ ابو جعفر نے کہا ہے جو نجاستیں جسم والی ہیں ان میں وزن سےاندازہ
ثم (۱)اختلفوا فی دھن متنجس اصاب الثوب اقل من درھم ثم انبسط فزاد قال الاکثرون یمنع الصلاۃ لانہ الان اکثر قال فی المنیۃ بہ یؤخذ وقال جمع انما العبرۃ بوقت الاصابۃ المسألۃ دوارۃ فی الکتب کالفتح والبحر والدر وغیرہا وھوصریح دلیل علی ان الدھن من الرقیق والالم یتصورالاختلاف لان البسط لایزیدہ وزنا وقال فی الغنیۃ اصابہ دھن نجس اقل من قدرالدرھم ثم انبسط یمنع الصلاۃ لان مساحۃ النجاسۃ وقت الصلوۃ اکثرمن قدرالدرھم وتحقیقہ ان المعتبر فی المقدارمن النجاسۃ الرقیقۃ لیس جوھر النجاسۃ بل جوھر المتنجس عکس الکثیفۃ اھ فثبت ان من الرقیق مالاینعصر۔
لگایا جائے گا اور رقیق میں پھیلاؤ کا اعتبار کیا جائےگا جیسےمائع خون اور ان کی موافقت کی ان کے بعد والوں نے اور کہا کہ وہی صحیح ہے اھ پھر فقہاء کا اختلاف ہے ناپاك تیل میں جو کسی کپڑے کو ایك درہم سےکم مقدار میں لگ جائے پھر پھیل جائے اور زائد ہوجائے اکثر نے فرمایا یہ مانع صلوۃ ہے کیونکہ یہ اب زائد ہے منیہ میں فرمایا اسےکو لیا جائے گا اور ایك جماعت نے فرمایا اس وقت کا اعتبار ہوگا جبکہ یہ لگا ہو یہ مسئلہ عام طور پر کتب میں موجود ہے جیسےفتح بحر اور در وغیرہ اور یہ صریح دلیل ہے اس امر کی کہ تیل رقیق ہے ورنہ تو اختلاف ہی متصور نہ تھا کیونکہ پھیلنے سےاس کا وزن زائد نہ ہوگا اور غنیہ میں فرمایا اگر اس کو نجس تیل لگا ایك درہم سےکم پھر پھیل گیا تو نماز نہ ہوگی کیونکہ نجاست کی پیمائش نماز کے وقت درہم کی مقدار سےزائد ہوگئی ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ رقیق نجاست میں معتبر جوہر نجاست نہیں بلکہ نجس ہو نے والی چیز کاجوہر ہے یہ کثیفہ نجاست کا عکس ہے اھ تو ثابت ہوا کہ بعض رقیق چیزیں وہ ہیں جو نچڑتی نہیں۔ (ت)
وانا اقول : (۲) وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (میں کہتا ہوں اور الله تعالی کی توفیق سےتحقیق کی گہرائی تك پہنچا جاسکتا ہے۔ ت) اہل سنت(۳) حفظہم الله تعالی کے نزدیك ترکیب اجسام اگرچہ جواہر فردہ متجاورہ غیر متلاصقہ سےہے اور یہی حق ہے فقیر نے بحمدلله تعالی اپنے فتاوی کلامیہ میں اسے
اللھم کبر سنی و رق عظمی فاقبضنی الیك غیرعاجزولاملوم۔
اے الله میری عمر بڑی ہوگئی اور میری ہڈی پتلی ہوگئی پس مجھے عاجز اور شرمسار کئے بغیر اپنے دربار میں حاضر کرلے۔ (ت)
شیشہ کہ باریك دل کا ہو زجاج رقیق۔ قال قائلھم ع :
رق الزجاج ورق الخمر فاشتبھا
(ترجمہ : شیشہ پتلا(باریک)ہوا اورشراب پتلی ہوئی یوں دونوں آپس میں مشابہ ہوئے۔ ت)
بالجملہ(۱) رقت ودقت متقارب ہیں رقیق پتلا دقیق باریک۔
اقول : مگردقت میں کمی عرض کی طرف لحاظ ہے ولہذا خط کو دقیق کہیں گے اور رقت میں کمی عمق کی جانب تو سطح رقیق ہے یہ وہ ہے جو نظر بمحاورت خیال فقیر میں آیا پھر تاج العروس میں اس کی تصریح پائی۔
حیث قال قال المناوی فی التوقیف الرقۃ کالدقۃ لکن الدقۃ یقال اعتبار المراعاۃ جوانب الشیئ والرقۃ اعتبارا بعمقہ ۔
فرمایا کہ مناوی نے توقیف میں فرمایا رقت مثل دقت ہے لیکن دقۃ میں کسی چیز کے کناروں کا اعتبار ہوتا ہے اور رقت میں اس کی گہرائی کا۔ (ت)
اسی لئے تالاب یا نالے میں جب پانی تھوڑی دل کا رہ جائے اسےرق ورقارق کہتے ہیں قاموس میں ہے :
الرقارق بالضم الماء الرقیق فی البحر اوالوادی لاغزر لہ اھ وقدم مثلہ فی الرق الا قولہ لاغزرلہ فزادہ الشارح۔
رقارق بالضم پتلا پانی دریا یا وادی میں جو گہرا نہ ہو اھ اور اس کی مثل الرق میں گزرا اس کے قول لاغزر کا ذکر نہیں اس کا اضافہ شارح نے کیا ہے۔ (ت)
نیز اسی میں ہے :
استرق الماء نضب الایسیرا ۔
نیز اس میں ہے پانی رقیق ہوا یعنی قلیل گہرائی والا ہو۔ (ت)
اقول : یہ رقت (۲)بالفعل ہے اور مائع کا اس قابل ہونا کہ چھاننی میں باریك اجزاء پر منقسم ہو سکے
ثم اقول : جانب زیادت انتہائے رقت تو جواہر فردہ پر ہے کہ ان سےزیادہ باریکی محال ہے باقی ایك مائع دوسرے کے اعتبار سےرقیق اضافی ہے گائے کا دودھ ہر حال میں بھینس کے دودھ سےرقیق ہے مگر برسات کی گھاس چرے اور کھلی اور دانہ کھائے تو خود اس کی پہلی صورت کا دودھ دوسری سےرقیق تر ہے یوں ہی یہ اختلاف بکری کے دودھ سےنہ جمی ہوئی راب تك متفاوت ہے اور جانب کمی اس کی انتہا اختتام سیلان پر ہے۔ جب شی سائل نہ رہے گی یہاں سےظاہر ہوا کہ رقیق بالقوہ وسائل بجائے خود متساوی ہیں ہر رقیق بالقوہ سائل ہے اور ہر سائل رقیق بالقوہ عام ازیں کہ کپڑے سےنچڑ سکے جیسے پانی یا نہیں جیسےتیل گھی شیر شہد وغیرہا۔ اب رہا یہ کہ جب رقت مبحوث عنہا اجزائے لاتتجزی سےاخیر حد مائع تك بتفاوت شدید پھیلی ہوئی ہے تو یہاں جس مقدار کی انتفا پر زوال طبع آب کہتے ہیں اس کی تحدید کیا ہے۔ پانی کس حد کی رقت تك نامتغیر کہا جائے گا اور کیسا ہو کر زائل الطبع کہلائے گا یہی اصل مقصد بحث ہے اس کا انکشاف بعونہ تعالی بحث آئندہ کرتی ہے
وبالله التوفیق* ولہ الحمد علی ھدایۃ الطریق* وصلی الله تعالی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اولی التحقیق۔
بحث چہارم : رقت معتبرہ مقام کی حدبست۔
اقول : رأیت العبارات فیہ علی ثلثۃ مناھج۔
الاول : قال فی الغنیۃ لاتجوزبالمقیدکماء الزردج اذا کان ثخیناامااذاکان رقیقاعلی اصل سیلانہ فتجوز کماء المد ونحوہ ثم قال مادام رقیقا یسیل سریعا کسیلانہ عند عدم المخالطۃ فحکمہ حکم الماء المطلق ثم قال وضابطہ بقاء سرعۃ السیلان کماھو طبع الماء قبل المخالطۃ ثم قال (لوبل الخبز فی الماء ان بقیت رقتہ)کماکانت (جازوان صار ثخینا لا اھ)
میں کہتا ہوں میں نے اس سلسلہ میں تین قسم کی عبارات دیکھیں :
پہلی : غنیہ میں فرمایامقید سےجائز نہیں جیسےزردج کاپانی جبکہ گاڑھا ہو اور جب گاڑھا نہ ہو اور اصلی سیلان پر ہو توجائز ہے جیسےسیلاب وغیرہ کا پانی۔ پھر فرمایا جب تك رقیق ہو جلدی بہتا ہو جیسےمخالطت کے نہ ہونے کے وقت بہتا ہے تو اس کا حکم مطلق پانی جیسا ہے پھر فرمایا اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ تیزی سےسیلان کا باقی رہنا جیسا کہ وہ پانی کی طبیعت ہے مخالطت سےپہلے پھر فرمایا (اگر روٹی پانی میں تر ہوگئی تو اگر اس کی رقت باقی ہے)
فالضمیر فی رقتہ ربمایشیرالی مامال الیہ فی الغنیۃ وقد یعارضہ المقابلۃ بصیرورتہ ثخینالکن قالا بعدہ فی ماء الزعفران وغیرہ یعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء فان کانت اجزاء الماء غالبۃ ویعلم ذلك بقائہ علی رقتہ جازالوضوء وانکانت اجزاء المخالط غالبۃ بان صار ثخینا زالت عنہ رقتہ الاصلیۃ لم یجز اھ۔
الثانی : قال فی العنایۃ ایضا فی المطبوخ مع الاشنان ونحوہ یجوز التوضی بہ الا اذاصار غلیظا بحیث لایمکن تسییلہ علی العضو اھ
ولفظ الحلیۃ عن البدائع والتحفۃ والمحیط الرضوی والخانیۃ وغیرھا اذاصار غلیظا بحیث لایجری علی العضو اھ
جیسےکہ پہلے تھی (تو جائز ہے اور اگر گاڑھا ہوگیا تو جائز نہیں) اھ اور عنایہ اور بنایہ میں ہے کہ جس پانی میں پتے گر گئے ہوں اس سےوضو کے جواز میں شرط یہ ہے کہ اس کی رقت باقی ہو اور جب گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ
تو رقتہ کی ضمیر بسا اوقات اس کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کی طرف وہ غنیہ میں مائل ہوئے اور اس کا معارضہ “ بصیر ورتہ ثخینا “ کے تقابل سےہوسکتا ہے لیکن ان دونوں نے اس کے بعد فرمایا زعفران وغیرہ کے پانی میں کہ اس میں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا تو اگر پانی کے اجزاء غالب ہوں اور اس کا علم اس کی رقت سےہوگا تو اس سےوضو جائز ہے اور اگر مخالط کے اجزاء غالب ہوں بایں طور کہ وہ گاڑھا ہو اس سےاس کی اصلی رقت زائل ہوگئی تو جائز نہیں اھ (ت)
دوسرے یہ کہ عنایہ میں بھی ہے کہ جس پانی میں اشنان وغیرہ پکائی جائے تو اس سےوضو جائز ہے سوائے اس کے کہ وہ اتنا گاڑھا ہوجائے کہ اس کو اعضاء پر بہایا نہ جاسکے اھ
اور حلیہ میں بدائع تحفہ محیط رضوی اور خانیہ وغیرہ سےہے کہ جب وہ اتنا گاڑھا ہوجائے کہ اعضاء پر نہ بہہ سکے اھ
اور تبیین حلیہ اور درر
الثالث : قال المحقق فی الفتح لاباس بالوضوء بماء السیل مختلطا بالطین ان کانت رقۃ الماء غالبۃ فان کان الطین غالبا فلا اھ وفی اجناس الناطفی والمنیۃ ان لم تکن رقۃ الماء غالبۃ لایجوز اھ وفی الذخیرۃ والتتمۃ والحلیۃ الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب صفۃ الرقۃ من الماء ویبدلھا بضدھا وھی الثخونۃ اھ وفی الخانیۃ فی ماء الزعفران والزردج ان صار متماسکا لایجوزاھ وفی الخلاصۃ ان کان رقیقایستبین الماء منہ یجوز وان صار نشاستج لایجوز اھ وفی فتاوی الامام فقیہ النفس توضأ بماء السیل یجوز وان کان ثخینا کالطین لا اھ وفی الھدایۃ والکافی فی مطبوخ الاشنان الا ان یغلب ذلك علی الماء فیصیر کالسویق
میں ہے کہ اگر وہ اعضاء پر جاری ہو تو غالب پانی ہی ہوگا اھ (ت)تیسرے یہ کہ محقق نے فتح میں فرمایا وہ پانی جس میں کیچڑ ملی ہوئی ہو اگر وہ اعضاء پر بہتا ہو تو اس سےوضو میں حرج نہیں اور اگر اس میں مٹی غالب ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور ناطفی کی اجناس میں اور منیہ میں ہے اگر پانی کی رقت غالب نہ ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور ذخیرہ تتمہ حلیہ میں ہے کہ اجزاء کے اعتبار سےغلبہ اس انداز میں کہ پانی کی رقت ختم ہوجائے اور اس کی ضد یعنی گاڑھا پن اس میں پیدا ہوجائے اھ اور خانیہ میں ہے زعفران اور زردج کا پانی اگر گاڑھا ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور خلاصہ میں ہے کہ اگر اتنا رقیق ہو کہ پانی اس سےالگ ظاہر ہوتا ہو تو وضو جائز ہے اور اگر نشاستہ بن گیا ہو تو جائز نہیں اھ اور فقیہ النفس کے فتاوی (قاضیخان) میں ہے سیلاب کے پانی سےوضو جائز لیکن اگر گاڑھا ہو تو جائز نہیں جیسےکیچڑ اھ اور ہدایہ اور کافی میں ہے
وفی الخانیۃ وان صار ثخینا مثل السویق لا اھ
وفی البدائع الا اذاصار غلیظا کالسویق المخلوط لانہ حینئذ یزول عنہ اسم الماء ومعناہ ایضا اھ وفی الکافی ثم الھندیۃ اذا کان النبیذ غلیظا کالدبس لم یجز الوضوء بہ اھ وفی الخلاصۃ ھذا (یرید الاختلاف فی جواز الوضوء) اذا کان حلوا رقیقا یسیل علی الاعضاء فان کان ثخینا کالرب لایجوزبالاجماع اھ۔ وفی البدائع عــہ
ان کان غلیظا کالرب لایجوز بلاخلاف اھ فظاھرالاول ان لایسری التغیراصلا الی رقۃ الماء وسرعۃ سیلانہ۔
کہ وہ پانی جس میں اشنان پکائی جائے مگر یہ کہ وہ پانی پر ایسی غالب ہوجائے کہ وہ ستو بن جائے کیونکہ اب اس پر پانی کا نام نہیں بولا جائے گا اھ اور خانیہ میں ہے اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ اور بدائع میں ہے کہ اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے کیونکہ اس صورت میں اس پر پانی کا نام نہیں بولا جائے گا اور نہ ہی معنا وہ پانی رہے گا اھ اور کافی ہندیہ میں ہے کہ جب نبیذ گاڑھا ہو جیسا شیرہ تو اس سےوضو جائز نہیں اھ اور خلاصہ میں ہے یہ (جواز وضو میں اختلاف مراد ہے) جبکہ میٹھا رقیق ہو اور اعضاء پر بہتا ہو اور اگر شیرہ کی طرح گاڑھا ہو تو بالاجماع جائز نہیں اھ اور بدائع میں ہے کہ جب شیرہ کی طرح گاڑھا ہوجائے تو بلاخلاف جائز نہیں اھ تو اول کا ظاہر یہ ہے کہ تغیر پانی کی رقت کی طرف اور اس کی سرعت سیلان کی طرف سرایت نہ کرے۔ (ت)
عــہ قولہ فی البدائع بل تقدم فی عن الحلیۃ عنھاوعن التحفۃ والمحیط الرضوی والخانیۃ وغیرھا اذا صار غلیظابحیث لایجری علی العضو الخ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ان کا قول بدائع میں ہے بلالکہ ۱۰۷ میں حلیہ کی نقل ان سےگزری نیز تحفہ محیط رضوی اور خانیہ وغیرہا سےہے کہ جب اتنا گاڑھا ہوجائے کہ اعضاء پر نہ بہے الخ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : ولیس مراداقطعا فان الطین والنشاوالسویق المخلوط والدبس والرب من المائعات الممکن تسییلھاواذابلغ الماء الی ھذہ الحال لایشك احد فی ماحدث لطبعہ من التغیر والزوال وھل تری احدایسمی الطین والسویق ماء فالصواب ھوالثالث المنصوص علیہ صریحا فی کلام کبارالائمۃ والثانی یرجع الیہ باقرب تاویل کماتقدمت الاشارۃ الیہ فی صدر الکلام۔
بقی الاول فاقول : کلام العنایۃ فیہ قریب غیر بعید فانہ لم یفسرہ تفسیر الغنیۃ بزیادۃ ماقبل المخالطۃ والاناقض کلامہ فی الثانی وکلام الغنیۃ یفسرہ ھکذاوقد تفرد عــہ بہ فیمااعلم ثم یجعل ماء المد
میں کہتا ہوں یہ قطعا مراد نہیں کیونکہ سیلاب کے پانی میں کیچڑ مٹی ریت اور کوڑا کرکٹ ملا ہوا ہوتا ہے اور محال ہے کہ صاف پانی کی سےرقت پر باقی رہے اور وہ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ اپنی رقت اور اصل سیلان پر باقی ہے اور دوسرے کا ظاہر نفس سیلان پر اکتفاء کرنا ہے اور اس کو عنایہ میں زیادۃ امکان سےمؤکد کیا ہے تو وہ اسی حد تك پہنچا جس حد تك جامدات پہنچتی ہیں یہاں تك کہ وہ اسالت کی صلاحیت سےبالکل خارج ہوگیا تو وہ اول کے ساتھ نقیض کی دوطرفوں پر ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ قطعا مراد نہیں کیونکہ کیچڑ اور نشا(گارا) اور مخلوط ستو شیرہ اور راب ایسےمائعات میں سےہے جن کا بہانا ممکن ہے اور جب پانی اس حال پر پہنچ جائے تو کوئی بھی اس کی طبیعت میں پیدا ہونے والے تغیر پر اور زوال پر شك نہیں کرے گا کیا کوئی ستوؤں اور کیچڑ کو پانی کہتا ہے تو صحیح تیسرا ہے جس کی صراحت بڑے بڑے ائمہ کے کلام میں موجود ہے اور دوسرا اس کی طرف قریب ترین تاویل سےرجوع کرتا ہے جیسا کہ اس کی طرف صدر کلام میں اشارہ گزرا ہے۔ (ت)
پہلا باقی رہا تو میں کہتا ہوں عنایہ کا کلام اس میں قریب ہے دور نہیں کیونکہ انہوں نے اس کی تفسیر غنیہ کی طرح نہ کی اور اس میں مخالطۃ سےماقبل کااضافہ نہیں کیا ورنہ ان کا کلام دوسرے میں متناقض ہوتا ہے اور وہ اس میں متفرد ہیں جیسا کہ میں جانتا ہوں پھر سیلاب کے
پانی کو اس پانی کی طرح کرتے ہیں جو مخلوط نہ ہو تو کم از کم اضطراب تو ہے ہی تو ماخوذ وہی ہے جس پر اصحاب نے نص کی ہے والله تعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
ثم اقول : وبالله التوفیق ہماری تقریر سابق سےواضح ہوا کہ مائعات دو قسم ہیں ایك وہ جن کے اجزا میں اصلا تماسك نہیں جیسےنتھرا پانی دوسری جن میں نوع تماسك ہے جیسےشہد۔ یہاں سےجس طرح ان کی رقت وغلظت کا فرق پیدا ہوتا ہے کہ اول اپنے اتصال حسی کہ بہت باریك اجزاء پر تقسیم کرسکتا ہے بخلاف ثانی یوں ہی ان کے سیلان میں بھی تفاوت آئے گا اول جب جگہ پائے گا بالکل منبسط ہوجائےگا اول اصلا نہ رہے گا کہ اجزاء جو عدم وسعت کے سبب زیروبالا متراکم تھے وسعت پاکر سب پھیل جائیں گے کہ ہر جز طالب مرکز ہے اگر اجزائے بالا بالاہی ر ہیں بہ نسبت اجزائے زیریں مرکز سےدور ہوں گے جگہ پاکر بلا مانع دور رہنا مقتضائے طبیعت سےخروج ہے کہ عادۃ ممکن نہیں خلافا لجھلۃ الفلاسفۃ الذین یحیلونہ عقلالان الفاعل عندھم موجب وعندنا(۱)مختار تعلی الله مما یقول الظلمون علوا کبیرا وسبحن الله رب العرش عمایصفون (اس میں جاہل فلاسفہ کا اختلاف ہے جو اس کو عقلا محال قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیك فاعل موجب ہے اور ہمارے نزدیك مختار ہے تعالی الله مما یقول الظلمون علوا کبیرا وسبحان الله رب العرش العظیم۔ ت)بخلاف ثانی کہ اجزا میں ایك نوع تماسك کے سبب سب نہ پھیل سکیں گے ختم سیلان پر بھی مبدء سےمنتہی تك ایك ابھرا ہوا جرم نظر آئےگا جیسا کہ مرئی ومشاہد ہے کہ اگر پختہ زمین یا تخت یا سینی یا لو ہے کی چادر پر شہد بہائیے بہاؤ رکنے پر بھی یہاں سےوہاں تك اس سطح سےاونچا شہد کا ایك دل قائم رہے گا جسےخشك ہونے کے بعد چھیل سکتے ہیں بے اس کے کہ زمین کا کچھ حصہ چھلے لیکن اگر پانی بہائیے اور پورا بہہ جانے سےکوئی روك نہ ہو تو ختم سیلان کے وقت اس سطح پر اول تا آخر ایك تری کے سوا پانی کا کوئی دل نہ رہے گا ہمارے ائمہ اسی قسم اول کا نام رقیق اور ثانی کا کثیف رکھتے ہیں فقیرا سےروشن دلیل سےواضح کرے فاقول وبالله التوفیق یہ دلیل ایك قیاس مرکب ہے تین مقدمات پر مشتمل :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
المولی بحرالعلوم قال فی الارکان الاربعۃ الغلبۃ بالاجزاء بان تذھب رقۃ الماء علی ماکان الماء علیھا اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ لکن سیأتی بتوفیق الله تعالی التوفیق البازغ فانتظر منہ غفرلہ۔ (م)
آئے ہیں بحرالعلوم نے ارکان اربعہ میں فرمایا اجزاء کے ساتھ غلبہ یہ ہے کہ پانی کی رقت ختم ہوجائے۔
اس طور پر کہ پانی کے اجزاء مخالط کے اجزاء پر غالب ہوں (ت) انتظار کرو الله تعالی کی مدد سےاس کی روشن توفیق آتی ہے۔ (ت)
نجاسۃ لھاجرم کالروث ومالاجرم لہ کالخمر ۔
کوئی نجاست ایسی ہو کہ اس کا جرم (جسم) ہو جیسےلید اور وہ جس کا جرم نہ ہو جیسےشراب۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
النجاسۃ اما ان یکون لھا جرم کالروث اولا کالبول ۔
نجاست کا یا جرم ہوگا جیسےلید یا نہ ہو جیسےپیشاب۔ (ت)
امام ملك العلماءء بدائع میں فرماتے ہیں :
الواقع فی البئر اماان یکون مستجسدا اوغیر مستجسد فان کان غیر مستجسد کالبول والدم والخمر ینزح ماء البئر الخ ۔
کنویں میں گر نے والی چیز یا تو جسم والی ہوگی یا غیر جسم والی اگر غیر جسم والی ہو جیسےپیشاب خون اور شراب تو کنویں کا تمام پانی نکالا جائےگا۔ (ت)
مسئلہ کفش وموزہ(۲) میں متون وشروح وفتاوی عامہ کتب مذہب نے یہی ذی جرم وبے جرم کی تقسیم فرمائی اور ایسی مثالیں دی ہیں ازاں جملہ امام فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں :
الخف اذا اصابتہ نجاسۃ ان کانت مستجسدۃ کالروث والمنی یطھر بالحك وان لم تکن مستجسدۃ کالخمر والبول لا یطھر الا بالغسل وعن ابی یوسف رحمہ الله تعالی اذا القی علیھاترابا فمسحھایطھر لانھا تصیر فی معنی المستجسدۃ وبہ ناخذ ۔
موزے پر اگر نجاست لگ جائے تو اگر وہ جسد والی ہو جیسےلید اور منی تو وہ رگڑ دینے سےپاك ہوجائے گی اور اگر جسد والی نہ ہو جیسےشراب اور پیشاب تو دھوئے بغیر پاك نہ ہوگی اور ابو یوسف سےایك روایت یہ ہے کہ اگر اس پر مٹی ڈال کر رگڑ دے تو پاك ہوجائے گی کیونکہ اب یہ معنی جسد والی ہوجائے گی اور ہم اسی کو لیتے ہیں۔ (ت)
(۱) امام طاہر بخاری نے خلاصہ میں اسی حکم اخیر خانیہ کو ان لفظوں سےادا فرمایا :
غیر المنی من النجاسات ان کانت رقیقۃ کالخمر والبول لایطھر الا بالماء وعن ابی یوسف اذا القی التراب علی الخف فمسحھا یطھر لانہ یصیر فی معنی المستجسدۃ ۔
نجاستوں میں منی کے علاوہ اگر رقیق ہو جیسےشراب اور پیشاب تو صرف پانی سےہی پاك ہوگا اور ابویوسف سےایك روایت ہے کہ جب موزے پر مٹی ڈالی گئی اور اس کو پونچھ دیا گیا تو وہ پاك ہوجائےگا کیونکہ وہ معنی متجسد ہوگئی۔ (ت)
(۲) نجاست غلیظہ میں اعتبار مساحت ووزن درہم کہ رقیق وکثیف پر منقسم جس کی بعض عبارات بحث سوم میں گزریں اور ہدایہ میں ہے :
قیل فی التوفیق بینھما ان الاولی فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف ۔
ان دونوں میں تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلی رقیق میں ہے اور دوسری کثیف میں ہے (ت)
کافی میں ہے :
قال الفقیہ ابو جعفر الاولی فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف وھو الصحیح ۔
فقیہ ابو جعفر نے فرمایا : پہلی رقیق میں ہے اور دوسری کثیف میں ہے اور وہی صحیح ہے۔ (ت)
اسی طرح وقایہ ونقایہ واصلاح وملتقی وخلاصہ وبزازیہ وجوہرہ نیرہ وجواہر اخلاطی وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے :
وعبر فی الجوھرۃ الکثیف بالثخین وفی الجواھر بالغلیظ وزاد ھو الصحیح من المذھب ۔
اور جوہرہ میں کثیف کو ثخین سےتعبیر کیا ہے او جواہر میں غلیظ سے اور یہ زیادہ کیا کہ یہی صحیح مذہب ہے (ت)
قال الفقیہ ابو جعفر الھندوانی اذا اختلفت عبارات محمد فی ھذا فنوفق ونقول اراد بذکر العرض تقدیر المائع کالبول والخمر وبذکر الوزن تقدیر المستجسد ۔
فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا جب محمد کی عبارات مختلف ہوجائیں تو ہم تطبیق دیں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے عرض (چوڑائی) کے ذکر سےمائع کا اندازہ مراد لیا جیسے پیشاب اور شراب اور وزن سےجسم والی کی مقدار کا اراد کیا۔ (ت)
(۳) بعینہ اسی طرح امام زیلعی نے اول کو مائع دوم کو مستجسد سےتعبیر کرکے فرمایا وھذا ھو الصحیح (اور یہی صحیح ہے۔ ت) (۴) اسی طرح مراقی الفلاح میں ہے :
عفی قدر الدرھم وزنا فی المستجسدۃ ومساحۃ فی المائع ۔
مراقی الفلاح میں ایك درہم وزن کی مقدار نجاست متجسدہ میں معاف ہے اور ایك درہم کی مساحت مائع میں۔ (ت)
(۵) یہی فتاوی امام قاضی خان میں یوں ہے :
فی المستجسدۃ کالروث یعتبر وزنا وفی غیر المستجسدۃ کالبول والخمر والدم بسطا
اور نجاست متجسدۃ میں جیسےلید وزن کا اعتبار کیا جائےگا اور غیر متجسدہ میں پھیلاؤ کا جیسے پیشاب شراب اور خون۔ (ت)
ثانیا کتابوں سےنقل میں تغییر تعبیر۔
(۶) ہندیہ میں ہے :
الصحیح ان یعتبر بالوزن فی المستجسدۃ وبالمساحۃ فی غیرھا ھکذا فی التبیین
صحیح یہ ہے کہ متجسد نجاست میں وزن سےاعتبار کیا جائے گا اور اس کی غیر میں مساحت سے
اسی طرح تبیین کافی اور اکثر فتاوی میں ہے۔ (ت)
حالانکہ کافی میں رقیق اور تبیین میں میں مائع کا لفظ تھا کماعلمت۔
ثالثا : علماء کا اپنے ہی کلام میں تفنن تعبیر۔
(۷) بحر میں ہے :
(۱)اشتراط الجرم قول الکل لانہ لواصابہ بول فیبس لم یجزہ حتی یغسلہ لان الاجزاء تتشرب فیہ فاتفق الکل علی ان المطلق (ای الاذی الذی یصیب الخف مقید فقیدہ ابو یوسف بغیر الرقیق وقیداہ بالجرم والجفاف ۔
جرم کی شرط لگانا تمام کا قول ہے کیونکہ اگر کسی کو پیشاب لگ گیا اور خشك ہوگیا تو بلادھوئے کام نہیں چلے گا کیونکہ پیشاب کے اجزاء اس میں جذب ہوجاتے ہیں تو کل کا اس امر پر اتفاق ہے کہ مطلق (یعنی وہ گندگی جو موزے کو لگی ہے وہ مقید ہے تو ابویوسف نے اس کو غیر رقیق سےمقید کیا اور ان دونوں نے اس کو جرم اور خشك ہونے سےمقید کیا۔ (ت)
اس پر منحۃ الخالق میں فرمایا :
الحاصل انھم اتفقوا علی التقیید بالجرم وانفرد ابوحنیفۃ ومحمد بزیادۃ الجفاف ۔
حاصل یہ ہے کہ وہ سب جرم کی قید لگا نے پر متفق ہیں اور ابوحنیفہ اور محمد خشك ہو نے کی قید لگا نے میں متفرد ہیں۔ (ت)
(۸) اسی میں ہے :
لم یعف عن التشرب فی الرقیق لعدم الضرورۃ اذ قد جوز وا کون الجرم من غیرھا بان یمشی بہ علی رمل او تراب فیصیرلھا جرم ۔
رقیق میں سرایت کر نے کی وجہ سےمعاف نہیں کہ وہاں ضرورت نہیں اس لئے کہ انہوں نے اس امر کو جائز قرار دیا ہے کہ جرم اس کے غیر سےہو باینطور کہ ریت یا مٹی پر چلے اور جرم حاصل ہوجائے۔ (ت)
الحاصل بعد ازالۃ الجرم کالحاصل قبل الذلك فی الرقیق ۔
جرم کو زائل کر نے کے بعد وہی چیز حاصل ہوگی جو رقیق میں جرم کو زائل کئے بغیر ہوتی ہے۔ (ت)
(۱۰) غنیہ میں ہے :
عمل ابو یوسف باطلاقہ الا انہ استثنی الرقیق کما قال المصنف (وان لم یکن لھا جرم کالبول والخمر فلابد من الغسل) بالاتفاق ۔
ابو یوسف نے اس کے اطلاق پر عمل کیا البتہ انہوں نے رقیق کا استثنا ء کیاجیسا کہ مصنف نے فرمایا (اور اگر اس کا جرم نہ ہو جیسےپیشاب اور شراب تو اس کا دھونا لازم ہے) بالاتفاق۔ (ت)
(۱۱) اسی میں حدیث مطلق نقل کرکے قید لھا جرم کی تعلیل میں فرمایا :
قال فی الکفایۃ وغیرھا خرجت النجاسۃ الرقیقۃ من اطلاق الحدیث بالتعلیل الخ
کفایہ وغیرہ میں ہے رقیق نجاست حدیث کے اطلاق سےتعلیل کی وجہ سےنکل گئی الخ (ت)
(۱۲) اسی میں ہے :
من اصاب نعلہ النجاسۃ الرقیقۃ اذا استجسد بالتراب اوالرمل لومسحہ یطھر ۔
جس کے جوتے کو رقیق نجاست لگی پھر مٹی یا ریت کی وجہ سےمتجسد ہوگئی اب اگر وہ اس کو رگڑے تو پاك ہو جائے گی۔ (ت)
(۱۳) اسی میں ہے :
المختار للفتوی الطھارۃ بالدلك فی الخف ونحوہ سواء کانت ذات جرم من نفسھا اوبغیرھا کالرقیقۃ المستجسدۃ بالتراب رطبۃ کانت اویابسۃ ۔
فتوی کے لئے مختار موزہ وغیرہ کی طہارت میں یہ ہے کہ اس کو رگڑ لیا جائے چاہے خود اس کا اپنا جرم ہو یا کسی اور کی وجہ سےجیسےوہ جو مٹی میں مل جا نے کی وجہ سےجسم والی ہوجائے خواہ تر ہو یا خشک۔ (ت)
ھذا الاطلاق حجۃ لابی یوسف فی مساواتہ بین الرطب والیابس نعم علی ابی یوسف ان یقول بالطھارۃ فی الرقیق ایضا لان الاطلاق یتناولہ کما یتناول الکثیف مطلقا ۔
یہ اطلاق ابو یوسف کی حجت ہے وہ رطب ویابس میں فرق نہیں کرتے ہیں اس کے علاوہ ابویوسف پر لازم ہے کہ وہ رقیق میں بھی طہارت کا قول کریں کیونکہ اطلاق کثیف کی طرح اس کو بھی شامل ہے۔ (ت)
(۱۵) اسی میں اس جواب اور اس پر بحث نقل کرکے فرمایا :
علی ان فی البدائع ان ابایوسف فی روایۃ عنہ سوی فی طھارتہ بین ان تکون مستجسدۃ اومائعۃ ۔
علاوہ ازیں بدائع میں ہے کہ ابویوسف کی ایك روایت میں ہے کہ انہوں نے جسم والی اور مائع میں مساوات رکھی ہے۔ (ت)
رابعا صریح تفسیر۔
(۱۶) تنویر میں تھا :
عفی عن قدردرھم فی کثیف
(ایك درہم کی مقدار کثیف میں معاف ہے۔ ت)
درمختار میں اس کی تفسیر کی لہ جرم (جس کیلئے جرم ہو۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
قولہ لہ جرم تفسیر الکثیف
(ان کا قول لہ جرم کثیف کی تفسیر ہے۔ ت)
(۱۷) جامع الرموز میں ہے : الکثیف مالہ جرم والرقیق مالاجرم لہ (کثیف وہ ہے جس کاجرم ہو اور رقیق وہ ہے جس کا جرم نہ ہو۔ ت)شامی میں حلیہ سےہے :
عدمنہ(ای ممالہ جرم) فی الھدایۃ الدم وعدہ قاضیخان ممالیس لہ جرم ووفق فی الحلیۃ بحمل الاول علی
شمار کیاگیا ہے اس سے(یعنی اس سےجس کاجرم ہو) ہدایہ میں ہے خون کو اور اس کو قاضیخان نے اس میں شمار کیا جس کا جرم نہ ہو۔ اور حلیہ میں اسی طرح توفیق
کی گئی ہے کہ اول کو غلیظ پر محمول کیا جائے اور دوسری کو رقیق پر یہ تفسیر کا فائدہ دیتا ہے اگرچہ اس کا اس کیلئے سیاق نہیں ہے۔ ت)
بالجملہ اصطلاح فقہائے کرام میں رقیق وبے جرم ایك چیز ہیں۔
مقدمہ ثانیہ : جسم کثیف(۱) ہو خواہ رقیق اس کا بے جرم ہوناکیونکر متصور کہ جرم وجسم ایك شی ہیں اور اگر جرم بمعنی ثخن لیجئے یعنی عمق جسےدل کہتے ہیں تو جسم کو اس سےبھی چارہ نہیں کہ اس میں ابعاد ثلثہ ضرور ہیں لہذا خود علماء نے اس کی تفسیر فرمائی کہ بے جرم سے یہ مراد کہ خشك ہو نے کے بعد مثلا بدن یا کپڑے کی سطح سےابھرا ہو اس کا کوئی دل محسوس نہ ہو اگرچہ رنگ نظر آئے۔ ان مباحث میں اسی کو غیر مرئی بھی کہتے ہیں یعنی بنظر جرم نہ بنظر لون۔ تبیین الحقائق وبحرالرائق ومجمع الانہر وفتح الله المعین وطحطاوی علی المراقی و ردالمحتار وغیرہا میں ہے :
الفاصل بینھماان کل مایبقی بعدالجفاف علی ظاھرالخف فھو جرم ومالایری بعد الجفاف فلیس بجرم اھ۔
اقول : لم یردبظاھرہ ظھرہ لعدم اختصاص الحکم بہ بل بطنہ ھوالاکثراصابۃ انمااراد السطح الظاھرمن ظھرہ وبطنہ وقید بہ تحرزاعمایتشربہ داخل الخف فانہ لایختص بذی الجرم بل التشرب من الرقیق اکثروانمااحتاج الیہ لقولہ یبقی ولوقال یری لاستغنی عنہ کما فی مقابلہ فان البصر لایدرك الا ماعلی الظاھرولذااسقطہ السیدان الازھری وط لابدالھماالباقی بالمرئی (۲) ومن اغفل ھذا ابدل وابقی کما
دونوں میں فصل کر نے والی چیز یہ ہے کہ جو خشك ہو نے کے بعد موزے کے ظاہر پر نظر آئے تو وہ ذی جرم ہے اور جو خشك ہو نے کے بعد نظر نہ آئے وہ ذی جرم نہیں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں انہوں نے اس کے ظاہر سےاس کی پشت کاارادہ نہیں کیا ہے کیونکہ حکم اس کے ساتھ ہی مختص نہیں بلالکہ پشت کے اندرونی حصہ کو زیادہ پہنچتاہے بلالکہ ان کا ارادہ اس کی ظاہری سطح ہے خواہ پشت ہو یاباطن اور یہ قید اس لئے لگائی تاکہ اس سےاحتراز ہو سکے جس کو موزہ کا داخلی حصہ جذب کرلیتا ہے کیونکہ یہ جرم دار شیئ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلالکہ رقیق میں جذب زیادہ ہوتا ہے اور اس کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے یبقی فرمایا ہے اگر وہ یری فرماتے تو اس کی ضرورت نہ ہوتی جیسا کہ اس کے مقابل میں ہے
کیونکہ آنکھ تو صرف مقابل آ نے والی چیز کا ادر اك کرتی ہے اس لئے ازہری اور ط نے اس قید کو ساقط کردیا کیونکہ انہوں نے باقی کو مرئی سےبدل دیا ہے اور جس نے اس سےغفلت کی اسےبدلااور باقی رکھا جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے ہر وہ چیز جو خشك ہو نے کے بعد موزہ کے ظاہر پر نظر آئے وہ جرم دار ہے الخ اور اس سےزیادہ عجیب وہ ہے جو علامہ “ ش “ نے کیا جب مصنف نے در میں یہ فرمایا “ وہ ایسی چیز ہے جو خشك ہو نے کے بعد نظر آتی ہے اس پر “ ش “ نے فرمایا یعنی موزہ کے “ ظاہر “ پر گویا قید در سےساقط ہوگئی ہے تو انہوں نے اس کو زائد کردیا۔ (ت)
فتاوی ذخیرہ پھر حلیہ وبحر وعبدالحلیم میں ہے :
المرئیۃ ھی التی لھاجرم وغیرالمرئیۃ ھی التی لاجرم لھا ۔
مرئیہ جرم دار کو کہتے ہیں اور غیر مرئیہ اس کو جس کا جسم نہ ہو۔ (ت)
شرح طحاوی و فتاوی صغری وتتمہ ومنبع پھر بترتیب ان کے حوالہ سےعبدالعلی برجندی وشمس قہستانی وابن امیر الحاج حلبی وعبدالحلیم رومی نے غیر مرئیہ میں زائد فرمایا : سواء کان لھا لون اولم یکن ۔
ذخیرۃ العقبی میں ہے :
ذی جرم ھو کل مایبقی بعد الجفاف علی ظاھر الخف سواء کان جرمہ من نفسہ کالنجس المتعارف والدم والمنی والروث اومن غیرہ کالبول والخمر المتجسدبالرمل اوالتراب اوالرما دبان مشی علیھافالتصق بالخف اوجعل علیہ شیئ منھا ۔
جرم دار وہ نجاست ہے جو خشك ہو نے کے بعد موزے کے ظاہر پر نظر آئے خواہ اس کا جرم اسی کا ہو جیسےمعروف نجاستیں اور خون منی اور لیدیا اس کے غیر سےہو جیسےپیشاب اور شراب جو ریت یا مٹی یا راکھ میں ملنے کی وجہ سےجرم دار ہوگیا ہو مثلا اس پر چلا اور وہ موزے میں لگ گیا یا خود موزے پر ڈال لیا۔ (ت)
(ذی جرم)ھو کل مایری بعد الجفاف ولومن غیرھا کخمر وبول اصاب تراب بہ یفتی اھ
اقول : ولو (۱) اسقط ھو کل ماء لکان عــہ اخصر واظھر۔
جرم دار وہ نجاست ہے جو خشك ہو نے کے بعد نظر آئے خواہ اس کے غیر سےہو جیسےشراب اور پیشاب جس میں مٹی مل گئی ہو اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر وہ “ کل ماء “ کو ساقط کردیتا تو یہ مختصر ہوجاتا اور زیادہ اظہر ہوتا۔ (ت)
اس پر طحطاوی نے زائد کیا :
وما لایری بعد الجفاف فلیس بذی جرم اھ
اقول : واکتفی الدر عنہ بالمفھوم
اور جو خشك ہو نے کے بعد نظر نہ آئے وہ جرم دار نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں صاحب در نے اس کے مفہوم پر اکتفاء کیا ہے۔ (ت)
شامی نے کہا :
مفادہ ان الخمر والبول لیس بذی جرم مع انہ قدیری اثرہ بعد الجفاف فالمراد بذی الجرم ماتکون ذاتہ مشاھدۃ بحس
اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ پیشاب اور شراب جرم دار نہیں حالانکہ ان کا اثر کبھی خشك ہو نے کے بعد بھی نظر آتا ہے تو جرم دار سےمراد وہ ہے جس کی
عــہ اما کونہ اخصر فظاھر واما کونہ اظھر واحسن وازھر فلان رؤیۃ الشیئ تعم رؤیتہ بلالونہ بل لارؤیۃ ھھنا الا ھکذا فیوھم تناول ملون لایبقی لہ بعد الجفاف جرم شاخص فوق المصاب بخلاف مااذا اسقط لانہ یصیر صفۃ لجرم فیصیر نصافی المقصود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس کا مختصر ہونا تو ظاہر ہے اور اس کا اظہر واحسن ہونا یہ بھی ظاہر ہے کیونکہ کسی چیز کا دیکھنا اس کے رنگ کے دیکھنے کو بھی شامل ہے بلالکہ اس کی رؤیت یہاں اسی طرح ہے تو اس سےوہم ہوتا ہے کہ یہ اس رنگین کو شامل ہے جو خشك ہو نے کی بعد باقی نہیں رہتا ہے یعنی اس کا ابھرا ہوا جرم نہیں رہتا ہے بخلاف اس کے کہ اگر اس کو ساقط کردیا جائے کیونکہ یہ جرم کی صفت ہوجائے گا تو یہ مقصود میں نص ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ذات کا آنکھ سےمشاہدہ ہو سکے اور غیر جرم دار وہ ہے جو ایسےنہ ہو جیسا کہ ہم اس کو مع بحث کے ذکر کریں گے۔ (ت)
درمختار کی عبارت مذکورہ نمبر ۱۶ پر شامی میں ہے :
المراد بذی الجرم ماتشاھد بالبصر ذاتہ لااثرہ عــہ کمامرو یأتی ۔ ذی جرم سےمراد وہ ہے جس کی ذات آنکھ سےنظر آئے نہ کہ اس کا اثر جیسا کہ گزرا۔ (ت)
اسی طرح حلیہ میں ہے کما سیأتی۔
تحقیق شریف* فتح بہ اللطیف* علی عبدہ الضعیف* بفضلہ المنیف* اعلم ان ھذا المقام* زلت فیہ اقدام اقلام*
فالاول : قال الامام اکمل الدین البابرتی رحمہ الله تعالی فی العنایۃ عند قول الھدایۃ فی مسألۃ تطھیر النجاسۃ بازالۃ العین والغسل الی غلبۃ الظن بالطھارۃ النجاسۃ ضربان مرئیۃ وغیر مرئیۃ الخ مانصہ الحصر ضروری لدورانہ
یہ تحقیق ہے جو الله تعالی نے اپنے فضل سےاپنے کمزور بندے پر ظاہر فرمائی جان لے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں قلموں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔ (ت)
اول امام اکمل الدین بابرتی نے عنایہ میں فرمایا ہدایہ میں جہاں یہ ذکر ہے کہ نجاست کی تطہیر کیلئے نجاست کا دور کرنا اور دھونا ضروری ہے کہ طہارت کا غلبہ ظن ہوجائے یہاں بابرتی نے کہا کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں مرئیہ اور غیر مرئیہ الخ ان کی نص یہ ہے کہ حصر ضروری ہے اس لئے کہ یہ نفی اور
عــہ اقول ای مایشاھد اثرہ یعم مالایشاھد منہ الا الاثر فھو عطف علی ماتشاھد بحذف متعلقہ لاعلی ذاتہ کما یتوھم فیکون عدم رؤیۃ الاثر شرطا فی ذی الجرم ولیس کذلك ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی جس طرح اس کا اثر دیکھا جاتا ہے تاکہ اس کو بھی عام ہو جس کا مشاہدہ نہیں کیاجاتاہے صرف اس کے اثر کامشاہدہ ہوتا ہے تو اس کا عطف ماتشاھد پر ہے اس کا متعلق محذوف ہے “ ذاتہ “ پر عطف نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا ہے تو اثر کا نہ دیکھا جانا جرم دار میں شرط ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الثانی : فی تلك المسألۃ نقل القھستانی عبارۃ الصغری المارۃ ان غیر ذات جرم غیر مرئیۃ وانکان لھالون ۔
الثالث : فیھا نقل البرجندی عبارۃ شرح الطحاوی مثلہ ثم قال وھذا یخالف مافی بعض الشروح من ان غیر المرئی مالایری اثرہ بعد الجفاف والمرئی فی مقابلہ اھ
الرابع : فیھا نقل فی البحر عبارۃ الذخیرۃ وجعلھا معنی ماقال ھھنا فی غایۃ البیان ان المراد بالمرئی مایکون مرئیا بعد الجفاف ومالیس بمرئی ھو مالایکون مرئیا بعد الجفاف کالبول اھ وتبعہ ط۔
الخامس : فیھا نقل عبدالحلیم الرومی اثبات کے درمیان دائر ہے اور یہ اس لئے کہ نجاست خشکی کے بعد یا تو جرم دار ہوگی جیسےپاخانہ اور خون وغیرہ یا غیر جرم دار ہوگی جیسےپیشاب وغیرہ اھ ا س کی پیروی چلپی علی صدر الشریعۃ نے کی۔ (ت)
دوسرے اس مسئلہ میں قہستانی نے صغری کی عبارت نقل کی جو گزری کہ وہ نجاست کہ جس کا جرم نہ ہو مرئی نہ ہوگی اور اگرچہ اس کا رنگ ہو
تیسرے برجندی نے اس میں شرح طحاوی سےایسے ہی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ دوسری شروح سےمختلف ہے جن میں ہے کہ غیر مرئی وہ ہے جس کا اثر خشکی کے بعد نہ دیکھا جائے اور مرئی اس کے مقابل ہے اھ ۔
چوتھے بحر نے اس مسئلہ میں ذخیرہ کی عبارت نقل کی اور اس کو اس کے ہم معنی قرار دیا جو یہاں غایۃ البیان میں کہا کہ مرئی سےمراد وہ ہے جو خشکی کے بعد نظر آئے اور جو غیر مرئی ہے اس سےمراد وہ ہے جو خشك ہو نے کے بعد نظر نہ آئے جیسا کہ پیشاب اھ اور ط نے اس کی متابعت کی ہے۔
پانچواں اس میں عبدالحلیم رومی کی نقل
السادس : فیھا نقل فی الحلیۃ کلام الذخیرۃ والتتمۃ والیہ رد عبارۃ غایۃ البیان المذکورۃ فقال مراد بہ ماتکون ذاتہ مشاھدۃ بالبصر بعد الجفاف ومالا فلیس بینھا وبین مافی عامۃ الکتب مخالفۃ فی تفسیرھماوممایرشد الی ماذکرنا التمثیل المذکور فان بعض الابوال قدیری لہ لون بعد الجفاف اھ ۔
السابع : فیھا قال فی الشامی قولہ بعد جفاف ظرف لمرئیۃ وقید بہ لان جمیع النجاسات تری قبلہ وتقدم ان مالہ جرم ھو مایری بعد الجفاف فھو مساو للمرئیۃ و
شرح طحاوی منبع اور ذخیرہ سےہے جو گزری پھر انہوں نے برجندی کا کلام نقل کیا کہ وہ بعض شروح کے مخالف ہے پھر بحر کا کلام نقل کیا ہے اور اس نے اس کو اول کے ہم معنی کہا پھر ان پر رد کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ان دونوں میں مخالفت ہے کیونکہ کئی چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا جرم تو نہیں ہے مگر ان کا اثر ہے جیسےرنگ کہ اس کا اثر خشك ہو نے کے بعد بھی باقی رہتا ہے تو یہ پہلی صورت کے لحاظ سےغیر مرئی ہے اور دوسری کی لحاظ سےمرئی ہے اور راجح پہلا ہی ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ (ت)
چھٹا اس مسئلہ میں حلیہ میں ایك نقل ذخیرۃ اور تتمہ سے ہے اور اسی کی طرف غایۃ البیان کی مذکورہ عبارت کو موافق کیا ہے اور کہا ہے اس سے مراد وہ ہے جس کی ذات خشك ہونے کے بعد مشاہدہ میں آئے اور جو ایسا نہ ہو وہ مرئی نہیں تو اس میں اور جو عام کتب میں ہے کوئی مخالفت نہیں اور ہمارے قول پر دلیل وہ ہے جو مثال گزشتہ میں گزرا کیونکہ بعض پیشاب ایسا ہوتا ہے جس کا رنگ خشك ہونے کے بعد نظر آتا ہے اھ (ت)
ساتواں اس بحث میں شامی میں فرمایا کہ ماتن کا قول “ بعد جفاف “ یہ مرئیہ کا ظرف ہے اور یہ قید اس لئے لگائی ہے کہ تمام نجاستیں خشك ہونے سے قبل دیکھی جاسکتی ہیں اور یہ پہلے گزرا کہ جرم دار وہ ہے
الثامن : عبارۃ الکنز الصحیحۃ النجس المرئی یطھر بزوال عینہ وغیرہ بالغسل زاد فیھا مسکین مایفسدھااذقال (النجس المرئی) عینہ ثم قال (وغیرہ) ای غیر المرئی عینہ لکنہ تدارکہ بوصل قولہ وھو الذی لایری اثرہ
جو خشك ہونے کے بعد دیکھا جائے تو یہ مرئیہ کے مساوی ہے اور ہدایہ میں اس میں سے خون کو شمار کیا ہے اور قاضی خان نے خون کو ان چیزوں میں شمار کیا ہے جو جرم دار نہ ہوں۔ اور ہم نے حلیہ سے تطبیق نقل کی ہے کہ پہلے کو گاڑھے پر محمول کیا جائے اور دوسرے کو رقیق پر اھ پھر انہوں نے غایۃ البیان کی عبارت کو نقل کیا اور اس کے بعد تتمہ کی عبارت لائے پھر حلیہ کی گزشتہ تاویل کو ذکر کیا لیکن اس میں نظر ہے کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ رقیق خون اور پیشاب جس کا رنگ نظر آتا ہے کہ نجاست غیر مرئیہ سے ہو اور یہ کہ تین مرتبہ دھونے پر اکتفاء کیا جائے اور اس میں اثر کے زوال کی شرط نہ رکھی جائے حالانکہ ان کے کلام سے مفہوم یہ ہے کہ غیر مرئیہ وہ ہے جس کا کوئی اثر نظر آئے کیونکہ وہ اس میں صرف دھونے پر اکتفا کرتے ہیں بخلاف مرئیہ کے جس میں اثر کا زائل ہونا بھی شرط ہے تو مناسب وہی ہے جو غایۃ البیان میں ہے اور یہ کہ ان کی مراد پیشاب سے وہ ہے جس کا رنگ نہ ہو ورنہ وہ بھی نجاست مرئیہ ہوتا اھ (ت)
آٹھواں کنز کی عبارت ہے جو صحیح ہے کہ نجاست مرئیہ کا حکم یہ ہے کہ اس کے عین کے زوال کے بعد وہ طاہر ہوجاتا ہے اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صرف دھونے سے پاك ہوتا ہے مسکین نے اس میں یہ اضافہ کیا (کہ دیکھی جانے والی نجاست) یعنی جس کا جرم نظر آئے پھر کہا (اور اس کے علاوہ)
یعنی جس کا جرم نظر نہ آئے پھر اس کا تدارك اپنے اس قول سے کیا کہ جس کا اثر خشك ہونے کے بعد نظر نہ آئے اھ تو ان کے ذمہ صرف یہ اعتراض رہا کہ دونوں جگہ لفظ عین کا لانا فضول ہوا بلالکہ یہ خلاف مراد کا وہم پیدا کرتا ہے پھر تدارك کے ساتھ کلام کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ عین واثر میں فرق نہیں رہتا اور غالبا انہوں نے یہ قید قدوری کے کلام سے اخذ کی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی نجاست کہ اگر اس کا جرم نظر آتا ہے تو اس کی پاکی اس طرح ہوگی کہ اس کا جرم ختم ہوجائے اگر اس کا کوئی ایسا نشان باقی رہ جائے کہ اس کا ازالہ دشوار ہو تو حرج نہیں اور جس نجاست کا جرم نظر نہیں آتا تو اس کی طہارت یہ ہے کہ اسے دھویا جائے الخ تو مراد وہ جرم ہے جو نظر آتا ہے خواہ اس کا رنگ ہی نظر آئے جیسا کہ ان کے استثناء سےمفہوم ہوتا ہے جو عین سے ہے بلالکہ یہ طے شدہ امر ہے کہ انسانی آنکھ دنیا میں سوائے رنگ اور روشنی کے کچھ اور نہیں دیکھتی ہے
عــہ اقول کما فسرفی الصغری المرئی بھذا فسر غیر المرئی بقولہ مالاجرم لہ سواء کان لہ لون اولا کمافی جامع الرموز فکان اولی نقلہ لان الکلام ھھنا فی غیر المرئی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : مرئی کی صغری میں جس طرح تفسیر اس کے ساتھ کی ہے اس طرح غیر مرئی کی تفسیر یوں کی ہے کہ جس کا جرم نہ ہو خواہ اس کا رنگ ہو یا نہ ہو جیسا کہ جامع الرموز میں ہے تو اولی اس کا نقل کرنا ہے کیونکہ کلام یہاں غیر مرئی میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
العاشر : قال فی الجوھرۃ (اذا اصاب الخف نجاسۃ لھاجرم)ای لون و اثر بعدالجفاف کالروث والدم والمنی اھ فرد الصحیح الی الغلط الصریح۔
اقول : وتعرف مافی کل ھذہ بحرف واحد فاعلم ان المسائل ھھنا اربع مسألۃالتطہیر بازالۃ العین اوغلبۃ الظن ومسألۃ وقوع نجس فی حوض کبیر ومسألۃ الخف ومسألۃ التقدیر بوزن الدرھم اومساحتہ وزاد فی البدائع اخری مسألۃ الوقوع فی البئر فمسألۃ التطھیر والحوض الکبیر فریق وسائرھن فریق والمراد بالمرئی فی الفریق الاخر ھو المتجسد ای مایری لہ بعد الجفاف جرم شاخص فوق سطح المصاب ولا یکفی مجرد اللون وبغیر المرئی غیر
اور خلاصہ یہ کہ کلام تدارك کے ساتھ درست ہوگیا لیکن ابو السعود نے حموی سے نقل کرتے ہوئے اس کے مخالف معنی لینے کا ارادہ کیا ہے تو ان کے قول ھو الذی لایری اثرہ پر فرمایا کہ صغری میں اس کو “ قیل “ سے ذکر کیا ہے اور ابتدا اس طرح کی ہے کہ مرئی وہ ہے جس کا جرم ہو خواہ رنگ ہو یا نہ ہو اھ (ت)
نواں ان دونوں کی تفسیر علامہ “ ش “ نے موزے کی مسئلے میں صحیح طریقہ پر کی ہے پھر اس سے انحراف کیا اور فرمایا اس میں جو بحث ہے ہم اس کو ذکر کریں گے جیسا کہ گزرا یہ بحث ساتویں تحقیق میں آپ جان چکے ہیں۔ (ت)
دسواں جوہرہ میں کہا (جب موزے کو جرم دار نجاست لگ جائے) یعنی جس کا خشك ہونے کے بعد رنگ اور اثر ہو جیسے لید خون اور منی اھ تو صحیح سے انہوں نے صریحا غلط مطلب نکالا۔ (ت)
میں کہتاہوں جو کچھ مذکورہ ابحاث میں ہے وہ صرف ایك حرف سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دراصل یہاں چار مسائل ہیں پاك کرنے کیلئے نجاست کے عین کو زائل کردینا یا اس کے زوال کا غلبہ ظن حاصل ہونا بڑے حوض میں نجاست کے گرنے کا مسئلہ موزے کا مسئلہ وزن درہم سے اندازہ یا اس کی پیمائش کا لحاظ۔ اور بدائع میں ایك اور مسئلہ کا اضافہ کیا کنویں میں گرنے کا مسئلہ تو پاکی اور بڑے حوض کا مسئلہ ایك فریق ہے اور باقی دوسرا فریق ہے اور مرئی سے دوسرے فریق میں جسم والا مراد ہے یعنی جس کا جرم خشك ہونے کے بعد بھی ابھرا ہوا نظر آئے
اولا مااستدلوا بہ علی احکام للفریقین کمالایخفی علی من طالع الکتب المعللۃ کالبدائع والھدایۃ والتبیین والکافی والفتح والغنیۃ والحلیۃ والبحر وغیرھا من ذلك قول الھدایۃ اذا اصاب الخف نجاسۃ لھا جرم فجفت فدلکہ جازلان الجلد لصلابتہ لاتتداخلہ اجزاء النجاسۃ الا قلیلا ثم یجتذبہ الجرم اذا جف فاذا زال زال ماقام بہ وان اصابہ بول لم یجز وکذا کل مالاجرم لہ کالخمر لان الاجزاء تتشرب فیہ ولا جاذب یجذبھا اھ
وفی الحلیۃ لانھا مجرد بلۃ فتدخل فی اجزاء الخف ولاجاذب لھا اھ
اور اس میں صرف رنگ نظر آنا کافی نہیں ہے اور غیر مرئی سے مراد غیر متجسد ہے یعنی خشك ہوجانے کے بعد اس کا ابھرا ہوا جرم نظر نہ آئے اگرچہ اس کا رنگ باقی ہو یہ وہ ہے جو صغری تتمہ شرح طحاوی ذخیرہ اور منبع میں ہے اور مسئلہ تطہیر اور بڑے حوض میں مرئی سے مراد وہ ہے جو نظر میں آئے اگرچہ خشك ہوجائے اگرچہ صرف رنگ نظر آئے جرم نظر نہ آئے اور غیر مرئی سے مراد جو خشك ہونے کے بعد نظر نہ آئے یا پانی میں کوئی جرم ہو اور نشان نہ ہو یہ غایۃ البیان وغیرہ میں ہے اور اس تو زیع کی دلیل یہ ہے : (ت)
اولا : وہ جو انہوں نے استدلال کیا ہے مسائل کے فریقین کے احکام پر جیسا کہ مخفی نہیں اس پر جس نے ان کتب کا مطالعہ کیا ہے جو احکام کی علتیں بیان کرتی ہیں جیسے بدائع ہدایہ تبیین کافی فتح غنیہ حلیہ اور بحر وغیرہ۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے کہ اگر موزے کو کوئی جرم دار نجاست لگ جائے اور خشك ہوجائے تو وہ رگڑنے سے پاك ہوجاتا ہے کیونکہ کھال کی سختی کی وجہ سے اس میں نجاست کے اجزاء داخل نہیں ہوسکتے سوائے معمولی اجزاء کے اور جب موزہ خشك ہوگا تو ان اجزاء کو جرم جذب کرلے گا اور جب وہ جرم زائل ہوگا تو جو اس کے ساتھ ہوگا وہ بھی زائل ہوجائےگا اور اگر موزے پر پیشاب لگ جائے تو
جائز نہیں اور اسی طرح ہر اس نجاست کا حال ہے جس کا جرم نہ ہو جیسے شراب کیونکہ شراب کے اجزاء اس میں جذب ہوتے ہیں اور ان کاکوئی جاذب نہیں ہے اھ اور حلیہ میں ہے کیونکہ وہ محض تری ہے تو وہ موزے کے اجزاء میں داخل ہوگی اور اس کا کوئی جاذب نہیں اھ اور تم جانتے ہو کہ اس میں اثر کا کوئی دخل نہیں جو باقی رہا یا نہ رہا بخلاف مسئلہ تطہیر کے کیونکہ وہاں مقصود لگی ہوئی چیز کا ازالہ ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جبکہ مرئی میں ازالہ کا یقین ہو اور غیر مرئی میں غلبہ ظن ہو کیونکہ جب وہ محسوس نہ ہو تو اس کے زوال کا یقین کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں تو ظن غالب پر اکتفاء کرلیا گیا جس کو فقہی مسائل میں یقین کا قائم مقام سمجھا گیا ہے اور وہ نجاستیں جن کا جرم یا اثر ہو تو ان کے زوال کا حال ان کے زوال سے معلوم ہوجاتا ہے اور اس کی بقاء ان کے باقی رہنے سے معلوم ہوجاتی ہے کہ اثر تو عین سے قائم ہوتا ہے اور عرض ایك عین سے دوسرے عین کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے بدائع میں فرمایا اگر نجاست مرئیہ ہو جیسے خون اور اسی کی مثل
عــہ اقول استدل رحمہ الله تعالی علی ھذا باربعۃ اوجہ ھذااحسنھافاقتصرت علیہ تبعا للھدایۃ ولوذکرت سائرا لوجوہ بمالھا وعلیھا طال الکلام ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : صاحب بدائع نے اس پر چار طرح سے دلیل قائم کی ہے میں نے ہدایہ کی اتباع میں صرف اس کو بیان کیا ہے اور اگر میں تمام وجوہ کو ہمہ پہلو ذکر کرتا تو بات طویل ہوجاتی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وثانیا : عد ملك العلماء الدم من المرئی کمارأیت انفاوقدعدہ قبل ھذا بورقتین من غیر ذوات الجرم فقال ان کان غیر مستجسدکالبول والدم والخمر ینزح ماء البئر کلہ اھ وکذلك قول الھدایۃ مالاجرم لہ کالخمر ومعلوم ان الدم والخمر من ذوات اللون فعلم ان لاعبرۃ بہ فی مسألۃ الخف والبئر وکذا مسألۃ التقدیر لان اللون لااثر لہ فی الکثافۃ والرقۃ ولذا قال فی الخانیۃ فی غیرالمستجسدۃ کالبول والخمر والدم یعتبر القدر بسطا اھ بخلاف مسألۃ التطھیر المشروط فیھا زوال الاثر
تو اس کی طہارت اس کے عین کے زوال پر موقوف ہوگی اور اس میں عدد کا اعتبار نہیں کیونکہ نجاست عین میں ہے تو اگر وہ زائل ہوگا تو وہ زائل ہوگی اور وہ باقی ر ہے گا تو وہ باقی ر ہے گی اور اگر عین زائل ہوگیا تو اثر باقی نہ رہیگا اور اگر وہ اس قسم کا ہے کہ اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے تو اس کی طہارت کا حکم اس وقت تك نہیں لگایا جائے گا جب تك کہ اثر زائل نہ ہو کیونکہ اثر اس کے عین کا رنگ ہے نہ کہ کپڑے کا تو اس کی بقاء اس کے عین کی بقاء پر دلالت کرتی ہے اور اگر وہ ایسا ہے کہ اس کا اثر زائل نہیں ہوتا تو اس کے اثر کا باقی رہنا مضر نہیں کیونکہ حرج مدفوع ہے اھ ملتقطا تو اس طرح یہ دونوں حوض میں جدا ہوجائیں گے تو غیر مرئیہ معدوم ہوجائے گی اور مرئیہ باقی ر ہے گی اور اثر انداز نہ ہوگی یہاں تك کہ جب پانی کی پیمائش کم ہوگی تو پھر اثر انداز ہوگی۔ (ت)
اور ثانیا ملك العلماء نے خون کو مرئیہ میں سے شمار کیا ہے جیسے کہ آپ نے ابھی دیکھا حالانکہ دو ورق پہلے انہوں نے اس کو غیر جرم والی نجاستوں میں شمار کیا تھا فرمایا اگر وہ جرم دار نہ ہو جیسے پیشاب خون اور شراب توکنویں کا سارا پانی نکالا جائے اھ اور ہدایہ کا قول بھی ایسے ہے کہ جس کا جرم نہ ہو جیسے شراب اور یہ بات معلوم ہے کہ شراب اور خون رنگ والی چیزیں ہیں پس معلوم ہوا کہ موزہ اور کنویں کے مسئلہ میں رنگ کا اعتبار نہیں ہے اسی طرح اس میں مقدار کا اعتبار نہیں کیونکہ رنگ میں کثافت اور رقت کا اثر نہیں ہوتا اسی لئے خانیہ میں کہا کہ غیر جسم والی نجاستوں جیسے پیشاب شراب اور خون میں پھیلاؤ
عــہ کما حققناہ فی الاصل السادس والعاشر من الجواب الخامس فی رسالتنارحب الساحۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ رحب الساحۃ “ میں پانچویں جواب کے تحت چھٹے اور دسویں قاعدہ میں اس کی تحقیق کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وثالثا : لك العلماء عبرفی مسائل الفریق الاخیر بالمستجسد وغیر المستجسد او المستجسد و المائع ثم قال فی الفریق الاول النجاسۃ المرئیۃ قط لاتزول بالمرۃ الواحدۃ فکذا غیر المرئیۃ ولافرق سوی ان ذلك یری بالحس وھذا یعلم بالعقل اھ وھذا من اجلی نص علی ان المرئی بلونہ من المرئی فی مسئلۃ التطھیر۔
و رابعا : کذلك الامام تاج الشریعۃ عبر فی مسألۃ التقدیر بالکثیف والرقیق وفی مسألۃ الخف بذی جرم ومالاجرم لہ وقال فی مسألۃ التطھیر یطھر عمالم عــہ یراثرہ
کے اعتبار سے اندازہ ہوگا اھ بخلاف مسئلہ تطہیر کے کہ اس میں زوال اثر مشروط ہے جب تك کہ دشوار نہ ہو اس لئے اس کو اس میں ملك العلماء نے مرئی قرار دیا ہے۔ (ت)
ثالثا : آخری فریق کے مسائل میں ملك العلماء نے جسم والی اور غیر جسم والی یا جسم والی اور مائع سے تعبیر کیا پھر فرمایا کہ فریق اول میں نجاست مرئیہ کبھی ایك مرتبہ میں زائل نہیں ہوتی ہے تو اسی طرح غیر مرئیہ ہوگی اور کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ مرئیہ حس سے نظر آتی ہے اور غیر مرئیہ عقل سے معلوم ہوتی ہے اھ اور یہ بڑی واضح نص ہے مسئلہ تطہیر میں رنگ والی مرئیہ میں سے ہے۔ (ت)
اور چوتھا اسی طرح امام تاج الشریعۃ نے مقدار کے مسئلہ میں کثیف اور رقیق سے تعبیر فرمایا اور موزے کے مسئلہ میں جرم دار یا غیر جرم دار سے تعبیر کیا اور مسئلہ تطہیر میں فرمایا کہ جس نجاست کا اثر غیر مرئی ہو
عــہ ولکن اکرم بعقل الذی یری ھذا التصریح المفیض* ثم یقوم یفسر النقیض بالنقیض* وھو العصری اللکنوی اذقال فی عمدۃ الرعایۃ وھی التی لاجرم لھا ولاتحس بعد الجفاف سواء کان لہ لون ام لاکذا فی خزانۃ الفتاوی اھ فسبحن الله یقول التاج لم یراثرہ وھذا یفسرہ بمایری اثرہ اولا ولاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
لیکن آپ اس کی عقل کو داد دیں جس نے یہ تصریح دیکھ کر اس کی تفسیر اس کی نقیض کے ساتھ کردی اور یہ معاصر لکھنوی ہیں جنہوں نے عمدۃ الرعایۃ میں کہا کہ یہ وہ نجاست ہے جس کا جرم نہ ہو اور وہ خشك ہونے کے بعد محسوس بھی نہ ہو خواہ اس کا رنگ ہو یا نہ ہو خزانۃ المفتین میں ایسے ہے اھ پس سبحان الله تاج الشریعۃ تو یہ فرمائیں کہ “ وہ جس کا اثر نظر نہ آئے “ اور یہ صاحب اس کی تفسیر کرتے ہیں کہ اس کا اثر دیکھا جائے یا نہ دیکھا جائے لاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وخامسا : اتفقت المتون والاقدمون علی التعبیر فی مسألتی الخف والتقدیر بذی جرم وغیر ذی جرم والکثیف والرقیق وفی مسألتی التطھیر والحوض الکبیر بالمرئی وغیر المرئی لاشك ان المرئی لونہ مرئی بل لامرئی منہ الا اللون سواء کان کثیفا او رقیقا والذی لاجرم لہ شاخصا بعد الجفاف رقیق ولیس اللون جرما فتبین ان اللون معتبر فی ھذا الفریق دون الاخر ولومشت الشروح علی التفسیر فی الموضعین بماھو مؤدی نفس الالفاظ لم یقع الاشتباہ لکنھم کمافسروا فی مسألۃ التطھیر بما یری بعد الجفاف ومالایری
وہ تین مرتبہ دھونے سے پاك ہوگی تو انہوں نے واضح کردیا کہ جس کا اثر نظر آئے وہ نجاست مرئیہ ہے اور میں وہ نہیں کہتا جو غنیہ میں ان لم تکن النجاسۃ مرئیۃ کے تحت فرمایا یعنی اگر اس کا رنگ کپڑے کے رنگ سے مختلف نہ ہو اھ کیونکہ یہ مرئی کو رؤیۃ باللون میں منحصر کرتا ہے اور اس سے وہ خارج ہوجائےگا جس کا ابھرا ہوا جرم نظر آتا ہو حالانکہ وہ رنگ میں کپڑے کے رنگ کے موافق ہوتا ہے علاوہ ازیں ان کابیان مرئی اور غیر مرئی کے درمیان امتیاز کو ختم کردیتا ہے کیونکہ اس طرح ہر وہ چیز جو ایسی چیز کو لگ جائے جو اس کے رنگ میں مخالف ہو تو وہ مرئی ہوگی اور جب وہ ایسی چیز کو لگی جو رنگ میں اس کے موافق ہو تو غیر مرئی ہوگی۔ (ت)
پانچواں متون اور متقدمین علماء کا موزے اور مقدار کے مسئلہ میں جرم والی اور غیر جرم والی اور کثیف ورقیق کی تعبیر میں متفق ہیں اور تطہیر اور حوض کبیر کے مسائل میں مرئی اور غیر مرئی کی تعبیر میں اتفاق ہے اور کچھ نہیں کہ مرئی وہ ہے جس کا رنگ نظر آئے بلالکہ مرئی کا رنگ ہی نظر آتا ہے خواہ کثیف ہو یا رقیق ہو اور وہ کہ جس کا جرم خشك ہوجانے کی بعد ابھرا ہوا نظر نہ آئے وہ رقیق ہے اور رنگ کوئی جرم نہیں تو ظاہر ہوگیا کہ رنگ معتبر ہے اس تطہیر اور حوض کے فریق میں نہ کہ دوسرے فریق میں اور اگر شروح میں دونوں مقامات پر وہی تفسیر ہوتی جو نفس الفاظ سے مستفاد ہوتی ہے تو کوئی اشتباہ واقع نہ ہوتا لیکن انہوں نے تطہیر کے مسئلہ میں
اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ جو خشك ہوجانے کے بعد نظر آئے اور وہ جو خشك ہونے کے بعد نظر نہ آئے جیسا کہ غایۃ البیان سے گزرا اور اسی سے بحر شرنبلالیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح اور اسی کی مثل در وغیرہ میں ہے اسی طرح انہوں نے موزے کے مسئلہ میں دونوں کی تفسیر جرم دار اور غیر جرم دار سے کی جیسا کہ گزرا تو معا ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ دونوں جگہ مراد واحد ہے حالانکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تطہیر میں ظاہر ہے اور جرم کے دیکھنے نہ دیکھنے کے ساتھ فریق آخر میں یہ موؤل ہے تو یہی تحقیق انیق ہے اگر ان کی توجہ اس طرف ہوجاتی تو عنایہ اور چلپی فریق اول میں جسم والی اور غیر جسم والی سے مرئی اور غیر مرئی کی تفسیر نہ کرتے اور نہ قہستانی اس میں صغری کی عبارت نقل کرتے اور نہ برجندی طحاوی کی شرح کی عبارت نقل کرتے اور نہ وہ اس میں اور بعض شروح کی عبارات میں خلاف قائم کرتے اور نہ بحر اور ط دونوں عبارتوں کا ایك معنی بتاتے اور نہ اس بارے میں عبدالحلیم وہ نقل کرتے جو انہوں نے نقل کیا اور نہ وہ دونوں مواقع کا خلاف متعدد جگہ ثابت کرتے اور نہ وہ یہاں پہلے کو مضبوط قرار دیتے اور نہ حلیہ غایۃ کے کلام کو غیر محمل پر پھیرتے تاہم بعض پیشاب رنگ والے نظر آتے ہیں اس کو مثال کے طور پر ذکر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور وہ کلام کی مراد کو اس میں منحصر نہ کرتے اور نہ شامی کا کلام اس میں مضطرب ہوتا کہ مقدار کے بیان میں انہوں نے مرئی کو مرئی الجرم قرار دے کر پھر انہوں نے انکار کردیا اور نہ وہ غایۃ کے بیان کردہ کو بلاوجہ ترجیح دیتے ایسی چیز پر جو بالکل مخالف نہ تھی اور
نہ وہ عبارتوں کی توفیق کو دلیل بناتے کیونکہ خف کے مسئلہ میں جہاں ہدایہ نے کہا جب موزے کو ایسی نجاست لگ جائے جس کا جرم ہوتا ہے جیسے گوبر خون اور منی الخ اسی طرح مقدار کے مسئلہ میں خانیہ کا کلام جو ابھی گزرا یہ دونوں کلام دوسرے فریق کے بارے میں ہیں پس رقیق خون کا خف کے مسئلہ میں غیر مرئی ہونا تطہیر کے مسئلہ میں مرئی ہونے کے مخالف نہیں اور نہ دونوں رہنما علامہ مسکین کے کلام پر صغری کی عبارت سے اعتراض کرتے اور نہ جوہرۃ موزے کے مسئلہ میں جرم کی تفسیر رنگ سے کرتے کہاں رنگ اور کہاں جرم کہاں رنگ اور کہاں عین اور کہاں اثر مذکورہ تمام امور اس لئے پیدا ہوئے کہ دونوں مقاموں (فریقوں) میں فرق نہ کیا گیا اور یہ بہت واضح بے احتیاطی ہے اس بے احتیاطی کی توجہ کرنے والا یا توجہ دلانے والا مجھے کوئی نظر نہیں آیا والله الموفق ولارب سواہ وصلی الله تعالی مصطفاہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ (ت)
مقدمہ ثالثہ : ثابت ہواکہ رقیق وہ ہے کہ زمین وغیرہ جس شی پر پڑے خشك ہونے کی بعد اس کا دل محسوس نہ ر ہے اور بالبداہۃ ظاہر کہ یہ اسی شی میں ہوگا جو بہنے میں تمام وکمال پھیل جائے ورنہ اجزاء زیروبالار ہے تو ضرور دل محسوس ہوگا تو دلیل قطعی سے روشن ہوا کہ یہاں رقیق اس مائع قسم اول کا نام ہے یہ ہی وہ تحقیق معنی رقیق کہ ان سطور کے سوا نہ ملے گی وبالله التوفیق ولہ الحمد علی ھدایۃ الطریق۔
عــہ ای فالتوفیق فی محلہ فیطھر الخف من دم غلیظ بالحت ویقدر رقیق اصاب ثوبا بالمساحۃ لکن لایصح نقلہ الی مسألۃ التطھیر التی فیھا کلام الشامی فالدم الرقیق لایصح جعلہ فیھا غیر مرئی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی توفیق اپنی جگہ پر ہے غلیظ خون لگنے پر موزے کو رگڑ کر پاك کیا جاسکتا ہے اور وہ رقیق خون جو کپڑے کو لگے تو اس کے پھیلاؤ کی مقدار کا اندازہ کیا جائےگا لیکن اس حکم کو علامہ شامی کے بیان کردہ تطہیر کے مسئلہ میں منتقل نہیں کیا جائے گا لہذا اس مسئلہ میں رقیق خون کو غیر مرئی قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ (ت)
(۱) استہلاك (۲) اختلاط (۳) امتزاج
استہلاک : یہ کہ وہ شی اس میں مل کر گم ہوجائے پانی سے اس کا جرم ظاہر نہ ہو جیسے چھنا ہوا شربت کہ اس میں شکر کے اجزاء ضرور ہیں مگر ان کا جرم اصلا محسوس نہ رہا اسی بہائیے تو خالص پانی کی طرح اس کے سب اجزاء پھیل جائیں گے کہیں دل نہ ر ہے گا تو رقت بحال خود باقی ہے اگرچہ رقت اضافیہ میں ضرور فرق آئے گا کہ مخلوط ونامخلوط یکساں نہیں ہوسکتے۔
اختلاط : یہ کہ اس کا جرم کلا یا بعضا باقی ر ہے مگر پانی کو جرم دار نہ کرے بہانےمیں اس کےاجزاء الگ رہ جائیں اور پانی انہیں چھوڑ کر خود پھیل جائے جیسے بے چھنا شربت جس میں شکر یا بتاشوں کے کچھ ریزے رہ گئے ہوں ان ریزوں کو اختلاط تھا اور جس قدر کھل گئے ان کا استہلاك مگر ان میں کوئی پانی کے اجزاء پھیلنے کو مانع نہ ہوا۔
امتزاج : عــہ یہ کہ پانی اور وہ شی مل کر ایك ذات ہوگئے ہوں پانی اسے چھوڑ کر نہ بہ سکے بلالکہ ہر جگہ وہ اس کے ساتھ گھال میل ر ہے ظاہر ہے کہ یہ مجموع مرکب تمام وکمال نہ پھیل سکے گا اور ضرور جرم دار شی کی طرح ختم سیلان پر بھی دل رکھے گا۔ پہلی دو صورتوں میں پانی اپنی رقت پر ہے اول پر تو ظاہر کہ وہاں کوئی جرم محسوس ہی نہ ہو اور دوم پر جرم جدا ہے اور پانی جدا تو پانی بدستور رقیق ہی رہا جیسے کنکریلی یا سنگلاخ زمین میں تالاب کا پانی یا جس لوٹے میں پتھر لو ہے کے ٹکڑے ڈال دیے جائیں کوئی عاقل نہ کہے گا کہ اس سے پانی ہی رقیق نہ رہا بخلاف صورت سوم کہ بلاشبہ رقت زائل اور طبیعت متبدل ہوئی زوال طبع سے یہی مراد ہے ولله الحمد۔
اقول : اب بتوفیقہ تعالی سب اقوال متوافق ہوگئے اور اشارات علماء کے معنی واضح
اولا : رقت اضافیہ ضعف وقوت وقلت وکثرت میں بشدت متفاوت ہوتی ہے جس کا بیان اوپر گزرا اس کی انتہاتو شی کے جامد ہوجانے پر ہے جب تك سیلان کچھ بھی باقی ہے رقت باقی ہے اگرچہ کیسی ہی خفیف اور شك نہیں کہ تینوں صورتوں میں سیلان موجود تو رقت بھی موجود اگرچہ بتفاوت لہذا دو صورت اولی میں محقق علی الاطلاق نے رقت آب کو غالب بتایا اور صورت ثالثہ میں امام ناطفی نے مغلوب۔
ثانیا : رقت جس معنی پر محقق ہوئی یعنی بے جرم ہونا ختم سیلان کے بعد دل نہ رہنا اس میں تفاوت افراد نہیں دل اگر کچھ بھی ہوگا یہ رقت معدوم ہوجائے گی اصلا نہ ہوگا بحال خود باقی ر ہے گی لہذا دو صورت اولی کو غنیہ میں
عــہ ) کافی وکفایہ وبنایہ میں فرمایا : الامتزاج الاختلاط بین شیئین حتی یمتنع التمییز اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
امتزاج یہ ہے کہ دو۲ چیزیں آپس میں اس طرح مل جائیں کہ ان کے درمیان تمیز نہ ہوسکے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ثالثا : دو صورت اولی ہی کی طرف خلاصہ کا ارشاد کہ پانی اس میں آشکار ہو مشیر کہ جب تك امتزاج نہ ہو پانی کا ظہور ظاہر ومستنیر۔
رابعا : خانیہ کا ارشاد کہ اگر متماسك ہوجائے وضو جائز نہیں صورت ثالثہ ہی کا بیان ہے کہ دل باقی رہنا تماسك اجزاء ہی سے ہوتا ہے اور بحال تماسك دل ضرور رہتا ہے۔
خامسا : اسی کو علماء کرام نے رب ودبس ونشاستج وطین وسویق کی مثالیں دے کر بتایا کہ یہ سب اشیا اگرچہ سائل ورقیق اضافی ہیں مگر ان کے اجزا تماسك سے خالی نہیں ولہذا ختم سیلان پر ان میں ضرور دل رہتا ہے۔ رب بالضم میووں کا عرق کہ جوش دے کر قوام پر لایا گیااور غلیظ وبستہ ہوگیا دبس دوشاب اور اس کے مطلق سے دوشاب خرما مراد کہ عرق خرما بدستور نکال کر اتنا جوش دیں کہ انگلی سے اٹھائیں تو انگلی میں لپٹ آئے نشاستج بالفتح جسے عربی میں نشااور فارسی میں نشاستہ کہتے ہیں۔ نشاستج اس کا معرب ہے یہ کہ گیہوں پانی میں اتنی مدت تك بھگوئے جائیں کہ عفونت لے آئیں اور پوست چھوڑ دیں مغز باریك کوٹ کر صافی میں چھان کر رکھیں یہاں تك کہ گیہوں کے اجزا تہ نشین ہوجائیں پانی اوپر رہ جائے اسے پھینك کر تہ نشین کو سکھالیں ظاہر ہے کہ جب تك اجزاء تہ نشین نہ ہوں گے پانی سے ممتزج رہیں گے طین کیچڑ سویق ستو یہ مثالیں یاد رکھنے کی ہیں کہ غلظت کی صورت ذہن میں ر ہے ان کو ہم ایك مصرع میں جمع کریں
رب ودبس ونشاوطین وسویق ہرچہ زینگونہ شد نہ ماند رقیق
(راب شیرہ نشاستہ کیچڑ اور ستو ان میں سے جو بھی گاڑھا ہوجائے رقیق نہ ر ہے گا۔ ت)
سادسا : ہدایہ وبدائع وغیرہما میں سویق کو مخلوط سے مقید فرمانا صورت ثانیہ وثالثہ کے فرق کی طرف اشارہ فرماتا ہے پانی میں اگر ستو ڈال دیے کہ تہہ نشین ہوگئے نتھرا پانی یا خفیف آمیزش کا اوپر رہ گیاجو اسے جرم دار نہ کردے تو وضو جائز نہ ہوگا ولہذا کالسویق المخلوط فرمایایعنی گھلے ہوئے ستو کہ پانی سے ممتزج ہوجائیں الحمدلله کہ رقت مطلوبہ کی حد بندی اس وجہ رفیع پر ہوئی کہ اس رسالہ کے غیرمیں نہ ملے گی۔ اس کے بیان(۱) کا بھی ایك شعر اشعار تعریف مائے مطلق میں اضافہ کریں
رقت آن دان کہ بہ سیلان ہمہ یك سطح شود خالی ازجرم اگر مانع اوناید پیش
(رقت یہ ہے کہ بہنے پر سطح برابر ہو اور اس کا حجم نہ بنے بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو۔ ت)
یا یوں کہیے :
(رقیق وہ چیز ہے کہ بہاؤ کے ختم ہونے پر اس کے اجزاء کا حجم نہ بنے بلالکہ بہنے میں صرف ان کا تقدم وتاخر ہو۔ ت)
الحمدلله اس تقریر منیر سے فوائد کثیر حاصل ہوئے :
فائدہ ۱ : طبیعت اور اس کی بقاو زوال کا بیان۔
فائدہ ۲ : حقیقت سیلان اور اس کا فلسفہ اور جامدوسائل کا فرق اور یہ کہ اگر اوپر سے نشیب میں مثلا گیہوں کے دانے اور کوئی تختہ اور پانی گرائیں سب اپنی حرکت بالطبع سے متحرك ہوکر نیچے اتر جائیں گے مگر ان میں پانی ہی کی حرکت کو سیلان کہیں گے نہ ان دو کی اس کی وجہ کہ اول اجسام منفصلہ کی حرکات عدیدہ ہیں اور دوم جسم واحد کی حرکت واحدہ اور سوم جسم واحد متصل حسی کے اجزائے متجاورہ کی متوالی حرکات طبیعہ پے درپے کہ انکاك حسی نہ ہونے دیں اسی کا نام سیلان ہے۔
فائدہ ۳ : رقت مطلق کے معنی اور اس کے مواضع اطلاق۔
فائدہ ۴ : وہ امر اضافی ومقول بالتشکیك ہے۔
فائدہ ۵ : وہ اپنے نفس معنی کے لحاظ سے سیلان کے ساتھ مساوی بلکہ معنی شامل جامدات پر اس سے عام مطلقا ہے اور ہنگام اضافت عام من وجہ کہ شیر شتربہ اضافت شیربز رقیق نہیں اور سائل ہے اور گلاب کا شیشہ حلبی آئینہ کے اعتبار سے رقیق ہے اور سائل نہیں۔
فائدہ ۶ : مسائل خف وغیرہ میں معنی جرم وعدم جرم۔
فائدہ ۷ : ان میں معنی مرئی وغیر مرئی۔
فائدہ ۸ : مرئی وغیر مرئی معتبر مسئلہ تطہیر ومسئلہ حوض کبیر سے ان کا فرق۔
فائدہ ۹ : انظار ماہرین کی ان میں انواع انواع لغزش۔
فائدہ ۱۰ : رقت مطلوبہ ومصطلحہ ائمہ کے معنی یہ سب بھی روشن طور پر واضح ہوگئے۔
فائدہ ۱۱ : جرم میں بے جرمی کیونکر ہوتی ہے۔
فائدہ ۱۲ : نیز یہاں کلام ائمہ میں بمعنی تماسک۔
فائدہ ۱۳ : کہ رقت مطلوبہ وبے جرمی ایك شے ہیں اور غلظت یہ کہ بعد ختم سیلان دل باقی رکھے۔
فائدہ ۱۴ : رقت آب غالب ومغلوب یا موجودو مسلوب ہونے سے مراد یہ کہ ان کا ایك ہی مفاد۔
فائدہ ۱۵ : کہ یہ رقت سیلان سے خاص ہے اور اس کے بعد محل اثبات میں ذکر سیلان کی حاجت نہیں مثلا یوں کہنا کہ فلاں صورت میں رقت وسیلان باقی رہیں تو وضو جائز ہے ہاں یوں کہنے میں حرج نہیں کہ سیلان ورقت باقی رہیں کہ ذکر سیلان ذکر رقت سی مغنی نہیں اگرچہ تنہا ذکر رقت بس ہے تو اطناب ہوا نہ اہمال۔
فائدہ ۱۶ : محل نفی میں ذکر سیلان بحرف واو مضر وموہم خلاف مقصود ہے اور بحرف یا کہ تردید کیلئے ہے بیکار۔
فائدہ ۱۷ : کپڑے سے نہ نچڑ سکنا اس رقت سے خاص ہے دودھ رقیق ہے اور نچڑ نہیں سکتا۔
فائدہ ۱۸ : یہ رقت نہ معنی اضافی ہے نہ اس میں تشکیک۔
فائدہ ۲۰جلیلہ(۱) : پانی کی رقت زائل ہونا کچھ جامدات ہی کے خلط پر موقوف نہیں (۲) خلافا لما تظافرت علیہ کلمات الشراح واھل الضابطۃ(یہ اس کے خلاف ہے جس پر شراح حضرات اور اہل ضابطہ کا کلام گزر چکا ہے۔ ت)بلالکہ جرم دار مائعات مثل شہد وشیرہ و رب و دبس جب اس سے ایسے ممتزج ہوجائیں کہ بمعنی مذکور جرم دار کردیں ضرور رقت زائل اور طبیعت متبدل ہوجائے گی یہ فائدہ بہت ضروری یاد رکھنے کا ہے کہ فصل آئندہ میں کام دے گا ان شاء الله تعالی یہ ہے وہ تحقیق بازغ کہ مولی عزوجل کے فضل بالغ سے قلب فقیر پر فائض ہوئی ولله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کمایحب ربنا ویرضی* وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی الحبیب الکریم الرؤف الرحیم الارضی* والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماعلت سماء ارضا* والحمدلله رب العلمین۔
غلبہ غیر اس میں تین بحثیں ہیں :
بحث اول : کسی امر میں غلبہ مراد ہے۔
اقول : یہاں چار چیزیں ہیں : طبیعت اوصاف اجزا مقاصد۔ اور ان سب کے اعتبار سے غلبہ لیا گیا ہے غلبہ بحسب اوصاف توقول امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی ہے جس کا بیان بعونہ تعالی آگے آتا ہے باقی تین میں اعتبار غلبہ مجمع علیہ ہے غلبہ بحسب طبع وہی زوال رقت ہے اس کے اعتبار پر اجماع ظاہر اور غلبہ بحسب اجزا کہ خاص مذہب امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کہاگیا اور امام۱ برہان الدین عــہ صاحب ہدایہ وامام
عـــہ : ہدایہ میں زیر مسئلہ آب زردج فرمایا ھو الصحیح ( یہی صحیح ہے۔ ت) بنایہ میں ہے المروی عن ابی یوسف ھو الصحیح (جو امام ابویوسف سے مروی ہے وہ صحیح ہے۔ ت) نہایہ میں ہے قولہ ھو الصحیح احتراز عن قول محمد(اس کے قول ھو الصحیح سے امام محمد کے قول سے احتراز ہے۔ ت) نیز ہدایہ میں فرمایا الغلبۃ بالاجزاء لابتغیراللون(غلبہ اجزاء کے اعتبار سے تغیر لون سے نہیں۔ ت) بنایہ میں ہے اشار بہ ایضاالی نفی قول محمد(اس سے امام محمدکے قول کی نفی کا اشارہ بھی ہے۔ ت) عنایہ میں ہے نفی لقول محمد فانہ یعتبرالغلبۃ بتغیراللون والطعم (امام محمد کے قول کی نفی ہے کیونکہ وہ غلبہ باعتبار تغیرلون وطعم مراد لیتے ہیں۔ ت)کنز میں تھا اوغلب علیہ غیرہ اجزاء (یا اس پر غیر کا غلبہ بطور اجزاء ہو۔ ت) اس پر شارح ہروی نے فرمایا احترازعن قول محمد رحمہ الله تعالی اھ (یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول سے احتراز ہے۔ ت) ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : اس نسبت وتصحیحات وترجیحات کے یہ معنی نہیں کہ امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی اس کے قائل نہیں بلالکہ یہ کہ امام ابویوسف صرف اسی کو اعتبار فرماتے ہیں اور امام محمد اس کے ساتھ غلبہ اوصاف کو بھی ورنہ غلبہ بحسب اجزا جس معنی پر لیا گیا جن کی تفصیل بحولہ تعالی آتی ہے وہ سب بلاشبہ سب کو تسلیم ہیں۔
فلاتغرنك المقابلۃ الواقعۃ فی قول الفتح ان محمدایعتبرہ باللون وابایوسف بالاجزاء وقول الاجناس فی نمرۃ محمد یراعی لون الماء وابویوسف غلبۃ الاجزاء الاتری الی قول العنایۃ محمد یعتبر الغلبۃ باللون ثم الطعم ثم الاجزاء والصحیح قول
فتح کے کلام میں امام محمد اور امام ابویوسف کے اقوال کا مقابلالہ تجھے دھوکا میں مبتلا نہ کرے کہ امام محمد رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں اور اسی طرح الاجناس کا قول کہ نمبر ۱۰۷ میں مذکور ہوا کہ امام محمد پانی کے رنگ کا اور امام ابویوسف اجزا کے غلبہ کی رعایت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے دیکھا کہ عنایہ
کا قول ہے کہ امام محمد رنگ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں اور صحیح امام یوسف کا قول ہے کیونکہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوتا ہے کیونکہ مرکب کا وجود اجزا سے حاصل ہوتا ہے لہذا اس غلبہ کا اعتبار اولی ہے اور یہی وہ ضابطہ ہے جس کو ملك العلماء اور امام اسبیجابی رحمہماالله نے اپنایا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور اس کی تفصیل ان شاء الله تبارك وتعالی آئندہ بھی آر ہی ہے سمجھو اور قائم رہو۔ (ت)
رہا غلبہ بحسب مقاصد جسے اس کے لازم اعم زوال اسم سے تعبیر کرتے ہیں اس پر اجماع بھی ظاہر
کما مرمرارا منھا فی نمرۃ ۲۸۷ وان الامام الزیلعی قدنص علیہ وان اغفلہ فی ضابطتہ وان الخلاف انما کان فی نبیذ التمر لاجل النص علی خلاف القیاس ثم انقطع برجوع الامام ویأتی قول الحلیۃ۔
جیسا کہ متعدد بار نمبر۲۸۷ میں گزرا اور امام زیلعی نے اس پر نص کی ہے اگرچہ انہوں نے ضابطہ میں غفلت سے کام لیا ہے اور بیشك نبیذتمر میں اس کا خلاف ہے تواس لئے کہ اس بارے میں مخالف قیاس نص وارد ہوئی ہے اور یہ خلاف بھی امام ابوحنیفہ کی رجوع کی وجہ سے ختم ہوگیا اور حلیہ کا قول آئے گا۔ (ت)
بالجملہ ان تین پر اجماع میں شك نہیں اور یہاں تینوں طور پر اس کی تفسیر کی گئی۔
غلبہ طبع قدوری وہدایہ سے گزرا غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء (پانی کو غیر کے غلبہ نے اس کی طبیعت سےخارج کردیا۔ ت) ملتقی الابحر سے لابماء خرج عن طبعہ بغلبۃ غیرہ (نہ ایسے پانی سے جو غیر کے غلبہ کی وجہ سے اپنی طبیعت سے خارج ہوچکا ہو۔ ت)غررو نورالایضاح سے لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ (ایسے پانی سے وضو جائز نہیں جس کی طبیعت غیر کے غلبہ کے وجہ سے ختم ہوچکی ہو۔ ت)ہدایہ سے نمبر ۱۰۷ میں الا ان یغلب علی الماء فیصیر کالسویق المخلوط (مگر وہ پانی میں مل کر غالب ہوجائے
نیز غنیہ سے مالم یغلب علیہ بان اخرجہ عن رقتہ وضو جائز ہے جب تك غیر نے اس پر غلبہ پا کر رقت سے خارج نہ ردیا ہو۔ ت)نیز ذخیرۃ وتتمہ وحلیہ سے یغلب علی الماء حتی تزول بہ الرقۃ (وہ چیز پانی پر اس طرح غالب ہوجائے کہ پانی کی رقت زائل ہوجائے۔ ت)نمبر ۱۱۹ میں خانیہ سے ان غلبۃ الحمرۃ وصار متماسکا لایجوز (اگر پانی پر سرخی غالب ہوگئی اور وہ گاڑھا ہوگیا تو وضو جائز نہیں۔ ت) نیز خلاصہ سے ان غلب علیہ الحمرۃ وصار نشاستج لایجوز (اگر اس پر سرخی غالب ہوگئی اور وہ نشاستہ کی طرح ہوگیا تو وضو جائز نہیں۔ ت)
غلبہ مقاصد نمبر ۱۰۷ میں حلیہ وتتمہ وذخیرہ سے قول امام ابی یوسف گزرا ان غلب علی الماء حتی یقال ماء البابونج والاس لایجوز ۔ (اگر پانی پر اس طرح غلبہ ہوجائے کہ اس کو بابونہ کا عرق یا جوس کہا جائے تو وضو جائز نہیں۔ ت)
نمبر ۳۰۴ میں قول ملك العلما اذا خالطہ علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ (جب پانی پر اس طرح غلبہ پاتے ہوئے ملے کہ اس کا نام پانی نہ رہے۔ ت)عنایہ بنایہ غایۃ البیان میں ہے وان اراد بالاشربۃ الحلو المخلوط بالماء کالدبس والشھد المخلوط وبہ من الخل الخل المخلوط بالماء کانت نظیر عــہ ماء غلب علیہ غیرہ (اگر شربت سے مراد پانی میں مخلوط میٹھا ہو جیسا کجھور کا شیرہ اور شہد پانی ملا ہوا ہو اور سرکہ سے مراد وہ جس میں پانی ملا ہو تو یہ پانی پر غیر کے غلبہ کی نظیر ہوگی۔ ت) یونہی مجمع الانہر
عــہ اقول : لکن ھذا صحیح علی ماحملنا علیہ لاعلی (۱) ما حملوا لان عبارۃ الھدایۃ
اقول : لیکن یہ ہمارے بیان کردہ محمل پر درست ہے ان کے محمل پر درست نہیں کیونکہ ہدایہ کی عبارت(باقی برصفحہ ائندہ)
بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء اھ والشھد والدبس لایخلطان فی الاشربۃ بحیث یخرجان الماء عن رقتہ (۱) وان فرض فکیف یستقیم ھذا فی الخل فالصواب ماافاد فی الغایۃ اخراوفی العنایۃ والبنایۃ اولا انہ وان ارادبھا الاشربۃ المتخذۃ من الشجر کشراب الرمان والحماض وبالخل الخل الخالص کانا من نظیر المعتصر من الشجر والثمر اھ وقد نص علی عــہ
یوں ہے وہ پانی جس پر غیر غالب ہوجائے اور وہ پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دے اھ جبکہ شہد اور شیرہ کو پانی میں ملائیں تو ان کے ملنے میں پانی اپنی رقت سے خارج نہیں ہوتا اور بالفرض یہ مان لیا جائے تو سرکہ میں یہ بات کیسے درست ہوگی(کیونکہ سرکہ خود رقیق ہے پانی کی رقت کو ختم نہیں کرتا) لہذا غایۃ میں آخری اور عنایۃ اور بنایۃ میں اول جومفاد حاصل ہوا وہ درست ہے کہ اگر شربت سے انار کا یا لیموں وغیرہ کا جوس مراد ہو اور سرکہ سے خالص سرکہ (باقی برصفحہ ایندہ)
عــہ اقول : (۲)والعجب من الفاضل قرہ باغی فی حاشیۃ صدر الشریعۃ استظھر مالایصح واعرض عن نص صدر الشریعۃ الصحیح کانہ یرید الرد علیہ فقال الظاھران المراد من قول المصنف کالاشربۃ الاشربۃ التی تتخذمن الدبس والشھدوالسکر یخلطھا مع الماء فحینئذ یکون قولہ کالاشربۃ نظیر مازال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء وقولہ ماء الباقلاء والمرق نظیرمازال طبعہ بالطبخ اھ وفیہ کلام من وجوہ اخر لانطیل بھا ۱۲ منہ غفرلہ (م) اقول : فاضل قرہ باغی پر تعجب ہے کہ انہوں نے صدر الشریعۃ کے حاشیہ میں غلط کو ظاہر کیا اور صدر الشریعۃ کی صحیح نص سے اعراض کیا جس سے انہوں نے مصنف پر اعتراض کا ارادہ کرتے ہوئے کہاکہ ظاہر یہ ہے کہ مصنف کے قول کالاشربۃسے مراد وہ شربت ہیں جو شہد شیرہ اور شکر ملا کر پانی بنایا گیاہو تو اس صورت میں یہ شربت اس پانی کی نظیر بن جائیں گے جس پر غیر کے غلبہ کی وجہ سے اس کی طبع ختم ہوچکی ہو اور مصنف کا قول ماء الباقلاء والمرق اس پانی کی نظیر ہوگی جو پکانے کی وجہ سے طبع ختم کرچکا ہو اس فاضل کے کلام میں دوسری وجوہ سے اعتراض ہیں جن کے بیان سے ہم کلام کو طویل نہیں کرتے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ذلك فی شرح الوقایۃ وغیرہ نعم (۱) ذھب ھذا عن العلامۃ ابراھیم الحلبی فی متنہ الملتقی فاسقط ماکان فی اصولہ القدوری والوقایۃ من ذکر مااعتصرمن شجر اوثمر وابقی فی الامثلۃ الاشربۃ والخل وجعل الغلبۃ باعتبار المطبع حیث قال لابماء خرج عن طبعہ بغلبۃ غیرہ اوبالطبخ کالاشربۃ والخل وماء الورد والباقلاء والمرق اھ فلزمہ مالزم العنایۃ فی العنایۃ الاخری بالخل والاشربۃ وشیئ (۲) زائد وھو ماء الورد فلیس قطعا ماء خرج عن طبعہ بغلبۃ غیرہ اوبالطبخ (۳) وکذلك یرد ھذا علی الفرائد اماماردبہ علیہ فی مجمع الانھر اذقال لاوجہ لان یکون الخل مثالا لماغلب علیہ غیرہ وانکان مخلوطا بالماء فانہ لایصدق علیہ انہ ماء غلب علیہ غیرہ فان الخل اذا اختلط بالماء والماء مغلوب یقال خل مخلوط بالماء لاماء مخلوط بالخل تدبر اھ فاقول : لیس (۴) بشیئ اذلیس الکلام ھھنا فی بقاء اطلاق اسم الماء بل بیان للواقع ان ماء خلط بالخل والخل اکثر لایجوز الوضوء بہ
مراد ہو تو پھر یہ دونوں شجر وثمر کے جوس کی نظیر ہیں اھ شرح وقایہ وغیرہ میں یہ منصوص ہے ہاں علامہ ابراہیم چلپی سے یہ بات چھوٹ گئی ہے اور انہوں نے اپنے متن ملتقی میں اس کے اصول قدوری اور وقایہ کی عبارت میں مااعتصر من شجر اوثمر کے ذکر کو ساقط کردیا اور شربت اور سرکہ کی مثالوں کو باقی رکھا اور غلبہ کو طبع کے اعتبار سے قرار دیا اور یوں کہا جو پانی اپنی طبع سے غیر کے غلبہ یا پکانے کی وجہ سے خارج ہوچکا ہو تو اس سے وضو جائز نہیں جیسے شربت اور سرکہ عرق گلاب وباقلاء اور شوربا اھ تو ان کو عنایہ والی آخری دشواری لازم آئی جس کی وجہ سرکہ شربت اور مزید عرق گلاب کا ذکر ہے اور یہ قطعا ایسے پانی نہیں ہیں جو غیر کے غلبہ یا پکانے کی وجہ سے اپنی طبیعت سے یعنی رقت سے خارج ہوئے ہوں اور یہی اعتراض فرائد پر بھی لازم آتا ہے لیکن فرائد پر مجمع الانہر میں جو اعتراض کیا جہاں یہ کہا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ سرکہ کو غیر کے غلبہ کی مثال قرار دیا جائے اگرچہ وہ پانی سے مخلوط ہو کیونکہ جب سرکہ میں پانی ملایا جائے اور پانی مغلوب ہو تو اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایسا پانی ہے جس پر غیر کا غلبہ ہے کیونکہ سرکہ جب پانی میں ملے اور پانی مغلوب ہو تو کہا جاتا ہے یہ سرکہ ہے جس میں پانی ملایاگیا نہ کہ یہ پانی ہے جس میں سرکہ ملایا گیا تدبر اھ پس اس بارے میں (باقی برصفحہ ائندہ)
بحث دوم : غلبہ اجزاء سے کیا مراد ہے اقول یہ صحیح معتمد قول بھی ان تینوں اجماعی باتوں سے تفسیر کیا گیا اس سے ظاہر تو کثرت اجزا ہے یعنی پانی میں جو چیز ملے پانی سے مقدار میں زائد ہو اور نمبر ۲۶۲ میں گزرا کہ مساوی کا حکم بھی مثل زائد ہے۔
اقول : ومن العجب قول العلامۃ
میں کہتا ہوں اور مجھے علامہ شامی کے اس قول سے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولاشك انہ ماء وقد قلتم والماء مغلوب اما الاسم وقد اشار الیہ المتن اذعبر عنہ بالخل لابالماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہاں پانی کے نام کے اطلاق کی بقاء کا بیان نہیں ہے بىلکہ یہ تو بیان واقع ہے کہ جب پانی سرکہ میں ملے اور سرکہ غالب ہو تو اس سے وضو جائز نہیں ہے اور بیشك یہ پانی ہے تم نے خود اس میں پانی کا ذکر کیاکہ یہ پانی مغلوب ہے لیکن پانی کے نام کا مسئلہ تواس کی طرف ماتن نے اشارہ کرتے ہوئے اس کو سرکہ سے تعبیر کیا ہے پانی سے تعبیر نہیں کیا۔ (ت)
تعجب ہوا جس میں انہوں نے پانی کے مغلوب ہونے کی قید پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ مغلوب ہونا اکثر حالات کی بنا پر کہا گیا ورنہ بعض صورتوں میں پانی اور اس میں ملنے والی چیز کے مساوی ہونے پر بھی وضو ناجائز ہوتا ہے جیسے آئندہ آئےگا اھ (تعجب کی وجہ یہ ہے کہ علامہ نے مساوی کو بعض صورتوں میں مانع قرار دیا حالانکہ اجزاء کے لحاظ سے ملنے والی کا غلبہ ہو یا مساوات ہو دونوں کا حکم ایك ہے لہذا غیر کے اجزاء کی مساوات کلی طور پر مانع ہے) اگر علامہ شامی کی نظر میں کوئی مساوات والی مانع نہ بنتی ہو تو وہ کون سی صورت ہے (ت)
غنیہ میں ہے :
(الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء) بان تکون اجزاء الماء اکثر من اجزاء المخالط ۔
پانی کے اجزاء کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کے اجزاء اس میں ملنے والی چیز کے اجزا سے زیادہ ہوں (یعنی اگر پانی کے اجزاء مساوی ہوں تو پھر پانی مغلوب رہے گا)۔ (ت)
خزانۃ المفتین میں ہے :
العبرۃ فیہ بکثرۃ الاجزاء انکان اجزاء الماء اکثر یجوز التوضی بہ والافلا اھ وھو قطعۃ من الضابطۃ الشیبانیۃ وستأتی ان شاء الله تعالی۔
غلبہ میں پانی کے اجزاء اس میں ملنے والی چیز کے اجزا کی کثرت کا لحاظ ہے اگر پانی کثیر ہو تو وضو جائز ورنہ ناجائز ہے اھ یہ ضابطہ شیبانیہ کا ایك حصہ ہے عنقریب آئےگا ان شاء الله تعالی (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
غلبۃ غیرہ بان تکون اجزاء المخالط ازیدمن اجزاء الماء وھو قول ابی یوسف لانہ غلبۃ حقیقۃ لرجوعھا الی الذات بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الیغیر
کے غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ پانی میں ملنے والی چیز پانی سے زائد ہو یہ امام ابویوسف کا قول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل غلبہ وہی ہے جس کا تعلق ذات سے ہو اور اس کے خلاف رنگ کے غلبہ کا تعلق وصف سے
ہوتا ہے امام محمد نے اس کا اعتبار اس لئے کیا کہ وہ نظر آتا ہے۔ (ت)
یہی مضمون ابھی عنایہ سے گزرا حلیہ میں بحوالہ زاہدی زادالفقہا سے نیز بنایہ میں ہے :
تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء فان کان اجزاء الماء اکثر یجوز والا لا ۔
غلبہ میں اجزا کا اعتبار ہے اگر پانی کے اجزا غالب ہوں تو وضو جائز ورنہ نہیں۔ (ت)
جوہرہ نیرہ میں ہے :
الاصح ان المعتبر بالاجزاء وھو ان المخالط اذا کان مائعا فمادون النصف جائز فان کان النصف اواکثر لایجوز اھ۔
اقول : اراد بالمخالط الممازج وستعرف ان المائع غیر مقصورعلی الحکم وان کان الحکم مقصور علی المائع۔ صحیح ترین یہ ہے کہ غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہے اگر پانی میں ملنے والی چیز بہنے والی ہو تو اگر وہ نصف سے کم ہو تو اس پانی سے وضو جائز ہے اور اگر وہ ملنے والی چیز برابر ہو یا پانی سے زیادہ ہو تو پھر وضو جائز نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں پانی میں مخلوط چیز سے مراد وہ صورت ہے جب اس کے اور پانی کے اجزاء آپس میں ممتاز نہ رہیں اور آپ کو عنقریب معلوم ہوگا کہ ہر بہنے والی چیز کا یہ حکم نہیں ہے اگرچہ یہ حکم صرف بہنے والی چیز میں پایا جاتا ہے۔ (ت)
نمبر ۲۶۲ میں بدائع سے گزرا :
تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء فان استویا فی الاجزاء قالوا حکمہ حکم الماء المغلوب ۔
پانی کے غالب ہونے میں اس کے اجزاء کی کثرت کا اعتبار ہے اگر پانی کے اجزاء ملنے والی چیز کے مساوی ہوں تو اس پر فقہا نے فرمایا کہ ایسی صورت میں پانی مغلوب ہوگا۔ (ت)
اور اہل ضابطہ زیلعیہ عموما یہی کثرت اجزامراد لیتے ہیں نمبر ۱۱۵ میں مراقی الفلاح وابو السعود ومنحۃ الخالق سے گزرا : الغلبۃ بالوزن (غلبہ وزن کے اعتبار سے ہوگا۔ ت)
المعتبر کون اجزاءہ اکثر من اجزاء الماء ۔
معتبر یہ ہے کہ ملنے والی چیز کے اجزاء پانی کے اجزاء سے زیادہ ہوں۔ (ت)
بحر وطحطاوی میں :
العبرۃ للاجزاء فان کان الماء اکثر جاز وان مغلوبالا ۔
اعتبار اجزاء کا ہے اگر پانی کے اجزاء زیادہ ہوں تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر پانی کے اجزاء مغلوب ہوں تو وضو جائز ہیں۔ (ت)
درمختار میں :
بالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز والالا ۔
مطلق پانی کے اجزاء اگر نصف سے زیادہ ہوں تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
زوال رقت سے اس کی تفسیر
اقول : الرقۃ طبع الماء والطبع لازم الاجزاء وغلبۃ الملزوم تلزمھا غلبۃ اللازم فمغلوبیۃ الطبع تدل علی مغلوبیۃ الاجزاء ھذا ماظھرلی فی توجیہ ھذا التفسیرفافھم فلایخلو عن مقال فالاولی ان یقال تقیید لاتفسیرای المراد غلبۃ الاجزاء لامن حیث ذواتھا بل من حیث طبعھا ومقتضی ذاتھا فانقلت لم نسبت للاجزاء دون الکل اقول : لما اعلمناك ان الثخن لتماسك فی الاجزاء والرقۃ لعدمہ۔
میں کہتا ہوں رقت پانی کی طبیعت ہے اور طبع اجزا کو لازم ہے تو ملزوم کا غلبہ لازم کے غلبہ کو مستلزم ہے تو طبع (رقت) کی مغلوبیت اجزاء کی مغلوبیت پر دلالت کرے گی اس تفسیر میں مجھے یہ سمجھ آئی ہے غور کرو اس میں اعتراض ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کو تفسیر کی بجائے تقیید قرار دیا جائے یعنی یوں کہا جائے کہ غلبہ میں اعتبار تو اجزاء کاہوگا مگر اجزاء کی ذات کا لحاظ نہیں بلالکہ ان کی طبیعت کے لحاظ سے غلبہ معتبر ہوگا۔ اگر تو اعتراض کرے کہ تم نے اجزاء کی طبیعت کہہ کر طبیعت و اجزاء کی طرف منسوب کیا کل کی طرف کیوں منسوب نہیں کیا تو میں جواب دیتا ہوں کہ چونکہ گاڑھا اور غلیظ ہونا اجزاء کی طرف منسوب ہے لہذا اس کی ضد (رقیق ہونا) بھی اجزاء
وقایہ واصلاح سے گزرا :
لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء ۔
غیر کے اجزاء کے غلبہ کی وجہ سے جس پانی کی طبع زائل ہوچکی ہے اس سے وضو جائز نہیں (ت)
دونوں شرحوں سے گزرا :
ھو الرقۃ والسیلان
(طبع رقت وسیلان ہے۔ ت)
۰۷ میں حلیہ وتتمہ وذخیرہ سے گزرا :
الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب رقۃ الماء
(غیر کا اجزاء کےلحاظ سے ایسا غلبہ جس سے رقت ختم ہوجائے۔ ت)
شلبیہ میں منبع سے ہے :
المراد بغلبۃ الاجزاء ان تخرجہ عن صفۃ الاصلیۃ بان یثخن لاالغلبۃ باعتبار الوزن ۔
اجزاء کے اعتبار سے غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی کو صفت اصلیہ سے نکال دے کہ وہ گاڑھا ہوجائے نہ کہ وزن میں غلبہ ہوجائے۔ (ت)
ارکان اربعہ میں ہے :
الغلبۃ بالاجزاء بان تذھب رقۃ الماء ۔
اجزاء کا غلبہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے پانی کی رقت ختم ہوجائے۔ (ت)
عنایہ وبنایہ میں ہے :
الخلط یعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء فان کانت اجزاء الماء غالبۃ ویعلم ذلك بقائہ علی رقتہ جاز الوضوء بہ وانکانت اجزاء المخلوط غالبۃ بان صار ثخینا زال عنہ رقتہ الاصلیۃ لم یجز اھ ۔
پانی میں مخلوط چیز کا غلبہ یہ ہے کہ اس کے اجزا غالب ہوں اگر پانی کے اجزاء کا غلبہ ہو جو پانی کی رقت سے معلوم ہوتا ہے تو وضو جائز ہے ورنہ اگر ملنے والی چیز کے اجزاء کا غلبہ ہوجو پانی کے گاڑھا ہونے سے معلوم ہوتا ہے جبکہ پانی کی رقت اصلیہ ختم ہوجائے تو وضو ناجائز ہے اھ (ت)
اقول : ملحظہ الی ماوفق بہ فی البحربین ھذین القولین بانہ ان کان المخالط جامدا فغلبۃ الاجزاء فیہ بثخونتہ وان کان مائعا موافقا للماء فغلبۃ الاجزاء فیہ
میں کہتا ہوں مگر اس کے بعد اکمل نے دوسرے قول کی تصحیح میں ذکر کیاہے جو پہلے بحث اول میں گزر چکا ہے کہ مرکب کا وجود اس کے اجزاء سے حاصل ہوتاہے لہذا غلبہ میں اجزاء کا اعتبار بہتر ہے اس سے غلبہ میں کثرت اجزاء کا اعتبار بہتر ہے اس سے غلبہ میں کثرت اجزاء کا رجحان پایاجاتاہے جیسا کہ مجمع الانہر میں اس کو بیان کیا ہے کیونکہ ترکیب اجزا سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ طبع سے طبع تو ایك وصف اس کو لازم ہے اگر اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کااعتبار کیاجائے تو امام محمد کے قول کی نفی تام نہ ہوگی(جو کہ رنگ بو اور ذائقہ جیسے اوصاف سے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں)اگر طبع اور دیگر اوصاف میں یہ فرق کیا جائے کہ طبع پانی کیلئے وصف لازم اور رنگ وغیرہ وصف عارض ہیں تو یہ ترجیح سے ہٹ کر ایك نئی بحث ہوجائے گی کہ طبیعت پانی کی حقیقۃ ذاتیہ ہے اور دوسرے اوصاف مجازی اور عرضی ہیں اس کو محفوظ کرو اور بحر میں یہ ذکر ہے کہ حدادی نے کہا ہے کہ جامد میں اجزاء کا غلبہ ایك تہائی سے ہوجاتا ہے اور بہنے والی چیز کا پانی میں غلبہ نصف (مساوی) سے ہوجاتا ہے اھ اس پر عبدالحلیم نے کہا ہوسکتا ہے کہ شاید انہوں نے تجربہ کیا ہو اور جامد کی مذکورہ مقدار کے ملنے پر پانی مغلوب ہوا ہو اس لئے انہوں (حدادی) نے اس ایك تہائی کو مقرر کردیا جیسا کہ مقدسی کی شرح میں ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کا خلاصہ یہ ہے جو بحر میں ان دونوں قولوں میں موافقت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ پانی میں ملنے والی چیز جامد ہو تو پھر اس کے اجزا کے غلبہ کا مطلب پانی کا گاڑھا ہونا ہے اور وہ چیز
اقول : تقییدہ بالموافقۃ لاتباع الضابطۃ (۱) ولاتنس ماقدمناان الرقۃ ربماتزول بامتزاج مائع ایضااذاکان ذاجرم فالتوزیع غیرمسلم وبہ ظھرماقدمنا تحت قول الجوھرۃ۔
بہنے والی پانی کے موافق ہو تو اس کے غلبہ کا مطلب اس کی مقدار کا غلبہ ہے اھ گویا کہ حدادی نے یہ سمجھا کہ جب پانی میں جامد نصف برابر ہونے پر پانی مکمل گاڑھا ہوجاتا ہے تو ایك تہائی سے ضرور غلبہ ہوجاتا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)میں کہتا ہوں کہ بحر کا یہ کہنا بہنے والی چیز پانی کے موافق ہو محض ضابطہ کے لحاظ سے ہے یہ بات نہ بھولنا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ کبھی پانی کی رقت ایسے مائع (بہنے والی) سے زائل ہوجاتی ہے جو جرم والی ہو لہذا بحر کی مذکورہ تقسیم غیر مسلم ہے اسی سے وہ بات واضح ہوگئی جو ہم نے جوہرہ کے قول کے تحت کہی تھی۔ (ت)
زوال اسم سے تفسیر ۱۲۲ میں فتح وحلیہ سے گزرا :
صرح فی التجنیس ان من التفریع علی غلبۃ الاجزاء قول الجرجانی اذا طرح الزاج فی الماء جاز الوضوء ان کان لاینقش اذا کتب والا فالماء ھو المغلوب اھ
فان قلت ای نظر ھھنا الی الاجزاء حتی یسمی غلبۃ من حیث الاجزاء اقول بلالی لابدلصلاحیۃ النقش اوالصبغ بازاء قدرمعلوم من الزاج والعفص او الزعفران والعصفرقدرمخصوص من الماء حتی لو طرح فیہ اقل من القدر اوھذا القدر فی اکثر منہ لم ینقش ولم
تجنیس میں تصریح کی ہے کہ غلبہ اجزاء کی ایك تفریع جرجانی صاحب کا یہ قول ہے کہ جب پانی میں زاج (سیاہی) ڈالی جائے تو اگر لکھائی میں اس سے نقوش ظاہر نہ ہوں تو وضو جائز ہے ورنہ پانی مغلوب ہوگا اھ
اگر تو اعتراض کرے یہاں اجزاء کا اعتبار کیسے ہوا جس کی بنا پر یہ کہا جائے کہ یہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ ہے
(تو میں اس کے جواب میں) کہتا ہوں کہ کتابت میں نقوش ظاہر ہونے کی صلاحیت زاج عفص زعفران اور عصفر کی ایك خاص مقدار پانی میں ملانے سے حاصل ہوتی ہے اگر اس مقدار سے کم پانی میں ملائی جائے یا اتنی مقدار زیادہ پانی میں ملادی جائے تو کتابت میں رنگ ونقوش
ظاہر نہ ہوں گے لہذا پانی غالب ہوگا اور اگر ان مذکورہ چیزوں کے ملانے سے کتابت کا عمل درست ہوجائے تو معلوم ہوگا کہ پانی مغلوب ہے اور ان مذکورہ چیزوں کے اجزا غالب ہوگئے۔ (ت)
بحث سوم : ان میں کس معنی کو ترجیح ہے اقول ان میں تنافی نہیں دوشاب خرما کہ پانی میں برابر سے زیادہ ممتزج ہو وہاں کثرت اجزا اور زوال طبع وزوال اسم سب کچھ ہے پھر زوال اسم ان دونوں اور ان کے غیر کو بھی شامل ظاہر ہے کہ رقت نہ رہے تو پانی نہ کہلائے گا کیچڑ کو کوئی پانی نہیں کہتا اور اگر جنس دیگر برابر یا زائد مل جائے تو ارتفاع نام اظہر ہے کماتقدم قبیل الاضافات وفی نمرۃ ۲۶۲ (جیسا کہ اضافات کی بحث سے ذرا پہلے اور نمبر ۲۶۲ میں گزرا۔ ت) تو اس کا اعتبار عــہ دونوں سے مغنی اور سب صورتوں کو جامع تو قول امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہمیں اسی کا ارادہ الیق وانسب کہ محیط صور وضابطہ کلیہ ہو تعریف مطلق میں کہ چار سبب منع بیان ہوئے تھے سب اس میں آگئے ولہذا امام زیلعی نے فرمایا زوال الاسم ھو المعتبر فی الباب(نام کا ختم ہوجانا ہی اس بارے میں معتبر ہے۔ ت) حلیہ سے آتا ہے کہ یہی تمام اقوال کا مرجع ہے ولله الحمد وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم۔
طبخ باغیر یہاں دو بحثیں ہیں :
بحث اول : طبخ کی حقیقت اور یہ کہ اس کے صدق کو کیا کیا درکار اقول : وبالله التوفیق اسی میں چند امور کا لحاظ ضرور :
عــہ اقول : وبہ (۱)ظھران قصرالتفسیرعلی کثرۃ الاجزاء کماتوھمہ عبارۃ الغنیۃ ومجمع الانھر والجوھرۃ (۲)وغیرھا اوعلی زوال الطبع کماتوھمہ عبارۃ المنبع وغیرھا لیس کماینبغی وعلی ھذا یحمل مافعل فی العنایۃ والبنایۃ وغیرھما من التفسیر مرۃ بھذا ومرۃ بذاك ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں کہ غلبہ کی تفسیر میں صرف کثرۃ الاجزاء کو ذکر کرنا جیسا کہ غنیہ مجمع الانہر اور جوہرۃ وغیرہ کی عبارات سے وہم ہوتا ہے یا صرف زوال طبع کو سمجھنا جیسا کہ منبع وغیرہ کی عبارت سے وہم ہوسکتا ہے درست نہیں ہے بنایہ اور عنایہ میں غلبہ کی تفسیر کبھی یوں اور کبھی یوں کی گئے ہے (کہ غلبہ کی مواقع کے لحاظ سے تفاسیر مختلف ہیں) اس کی یہی وجہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الطبخ یشعر بالخلط والا فمجرد تسخین الماء بدون خلط لایسمی طبخا اھ زاد الشامی ای لان الطبخ ھو الانضاج استواء عــہ قاموس اھ
ای ومعلوم ان الماء لاینضج اقول : وعلیہ
کہ پکنا خلط کرنے سے عبارت ہے اگر صرف پانی گرم کیا جائے اور اس میں کسی چیز کا خلط نہ ہو تو اس کو پکنا نہیں کہیں گے اھ اس پر شامی نے یہ زیادہ کیا اور کہا “ پکنا مکمل طور پر پك کر اور بھن کر تیار ہونے کو کہتے ہیں “ قاموس
عــہ اقول : (۱) فھمہ رحمہ الله تعالی بالسین المہملۃ فاقتصرعلیہ وصوابہ بالمعجمۃ وتمامہ واقتدارا کمافی القاموس فالاشتواء الشی ومنہ الشواء ویکون بلاماء والاقتدار من القدر بالکسر ای الطبخ فی القدر قال فی القاموس القدار الطابخ فی القدر کالمقتدر قال فی تاج العروس یقال اقتدر وقدر مثل طبخ واطبخ ومنہ قولھم اتقتدرون ام تشتوون اھ ومعنی النضج ھو الادراك کما فی القاموس ویؤدی مؤداہ الاستواء بالمھملۃ فلذا ذھب الیہ وھلہ رحمہ الله تعالی ولم یعد نظرہ الی قولہ واقتدارا منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں کہ علامہ شامی نے “ استواء “ کو “ س “ مہملہ سے سمجھا لہذا یوں بیان کردیا اور صحیح یہ ہے کہ یہ ش معجمہ کے ساتھ “ اشتواء “ ہے اور قاموس میں مکمل یوں ہے “ اشتواء “ واقتدار ہے الاشتواء الشی اور اسی سے الشواء ہے بغیر پانی بھنی ہوئے چیز کو کہتے ہیں۔ الاقتدار قدر کسرہ کی ساتھ ہے جس کا معنی ہانڈی میں پکانا ہے قاموس میں بیان ہے القدار ہانڈی میں پکانے والا جیسے کہ المقتدر کایہی معنی ہے۔ تاج العروس میں ہے اقتدر اور قدر طبخ اور اطبخ کی طرح ہے۔ اسی لفظ سے عرب کہتے ہیں اتقتدرون ام تشتوون یعنی ہانڈی میں پکاؤ گے یا خشك بھونو گے اھ اور النضج کا معنی “ تیار ہونا “ ہے جیسا کہ قاموس میں ہے الاستواء (س مہملہ) بھی یہی معنی دیتا ہے اس لئے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکا خیال “ الاستوا “ کی طرف گیااور انہوں نے بعد والے لفظ اقتدارا کی طرف توجہ نہ فرمائی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اھ یعنی یہ بات معلوم ہے کہ پانی بھن کرتیار نہیں ہوتا میں کہتا ہوں اسی بنیاد پر وقایہ نقایہ وافی کنز ملتقی غرر تنویر نورالایضاح اور بے شمار لوگوں نے صرف طبخ کو ذکر کرکے یہی معنی مراد لیا ہے جبکہ اس کے ساتھ کسی دوسری چیز کے پکنے کا ذکر نہ کیا کیونکہ خود لفظ سے یہ معنی سمجھ آتا ہے اور اصلاح کے قول تغیر بالطبخ معہ(دوسری چیز کے ساتھ پك کر متغیر ہوجائے) اور ہدایہ کے قول غیر کے ساتھ مل کر پکے اور متغیر ہوجائے (جہاں طبخ ذکر کرنے کے باوجود اس کے ساتھ خلط کا ذکر کیا گیا)کو وضاحت کیلئے تجرید قرار دیں گے (یعنی طبخ کو خلط کے معنی سے خالی کرنے کے بعد خلط کو ذکر کیا ہے) اور اسی معنی کی بنا پر عنایہ اور بنایہ کے اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے طبخ کو خلط کے ساتھ ذکر کرنے کو قید قرار دیا اور کہا کہ طبخ کو خلط کے ساتھ مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پانی اکیلا پکایا جائے اور متغیر ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے اھ (یہ تضعیف اس لئے کہ خلط طبخ کے معنی کا جز ہے اس کو قیدبنانا درست نہیں) اور اسی بنا پر مسکین کے قول “ کسی پاك چیز کے ساتھ پکنے سے پانی میں تغیر الخ “ پر حموی کے اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسکین نے طبخ کے ساتھ غیر کے خلط کا ذکر کرکے مصنف کے کلام کو درست کیا ہے کیونکہ خلط کے بغیر طبخ وضو سے مانع نہیں ہے حموی کے اس قول پر سید ازہری نے یہی اعتراض کیا اور درست کیا والله تعالی اعلم بالصواب (ت)
(۲) جو چیز آگ پر رکھی جائے بالطبع نرم ہو کہ آگ کا اثر جلد قبول کرسکے جس سے اس کے اجزامتخلخل ہوجائیں پہلے جو صلابت تھی باقی نہ رہے خامی جاکر استعمال مطلوب کے لئے مہیا ہوسکے لوہے یا پتھر کنکر کو تنہا یا پانی میں
(۳) صرف اس شے کا یہ قابلالیت رکھنا کافی نہیں یہاں کہ آگ پر رکھی جائے کہ یہ امور بالفعل حاصل ہوجائیں اگر پہلے ہی جدا کرلی گئی پکانا نہ کہیں گے بلالکہ کچا رکھنا۔
(۴) بعد حصول اتنی دیر نہ ہو کہ زائل ہوجائیں اگر اثر نار اور بڑھاکہ استعمال مطلوب کی صلاحیت سے نقل گئے تو پکانا نہ کہیں گے بلالکہ جلانا وھذا التوسط ھوالانضاج (یہ واسطہ وہ تیار ہونا ہے۔ ت)
(۵) پکانے کو ضرور ہے کہ وہ شے مقصود ہو اگر پانی میں جوش دینے سے مقصود صرف پانی ہے مثلا اس کی اصلاح ورفع غائلہ وغیرہ کے لئے دوسری شے کا صرف اثر لے کر پھینك دیناتو اسے اس چیز کا پکانا نہ کہیں گے زخم دھونے کیلئے پانی میں نیم ڈال کر جوش دینے کو نہ کہا جائے گا کہ نیم کی پتی باریك رہے ہیں۔
تنبیہ پانی میں پکانے سے کبھی پانی بھی مقصود ہوتا ہے جیسے شوربا دار گوشت مگر یہ طبخ کیلئے لازم نہیں جیسے پانی میں شنجرف پکاتے نشاستہ کیلئے گیہوں آش کیلئے جواور وہ پانی پھینکے اور یہ چھ چھ بدلے جاتے ہیں امامافی المغرب قال الکرخی الطبیخ مالہ مرق وفیہ لحم اوشحم فاماالقلیۃ الیابسۃ ونحوھا فلا اھ (مغرب میں ہے کہ کرخی نے فرمایاطبیخ وہ ہے جس میں شوربا اور اس کے ساتھ گوشت اور چربی ہو لیکن خالص مشك بھونی ہوئی چیز وغیرہ کو طبیخ نہیں کیا جائےگا۔ ت)
فاقول : فی خصوص اللفظ لاعموم الطبخ (۱)کالشریب لماء لیس فی عذوبۃ وقد یشرب علی مافیہ والشروب ادون منہ ولایشرب الاضرورۃ کمافی التاج عن التہذیب عن ابی زید قال ومثلہ حکاہ صاحب کتاب المعالم وابن سیدہ فی المخصص والمحکم اھ فھو فی خصوص اللفظین لافی الشرب والشراب وسائر مشتقاتہ۔
پس میں کہتا ہوں خاص طبیخ لفظ کے بارے میں یہ قول ہے ورنہ عام طبخ میں یہ خصوصیت نہیں جیسا کہ شریب خاص ایسے مشروب کو کہا جاتا ہے جس میں میٹھا نہ ہو حالانکہ میٹھا بھی مشروب ہوتا ہے اور لفظ شروب اس سے بھی کم درجہ ہوتا ہے جس کو صرف ضرورت کے وقت پیا جاتا ہے اس کو تاج العروس میں تہذیب کے حوالہ سے ابوزید سے نقل کیا اور اس نے کہا کہ اس کو کتاب المعالم اور ابن سیدہ نے مخصص اور محکم میں بیان کیا ہے اھ لہذا یہ خاص معانی لفظ “ شریب “ اور “ شروب “ کے بارے میں ہیں اس مادہ سے دوسرے مشتقات شرب شراب وغیرہ کیلئے یہ خصوصیات نہیں ہیں۔ (ت)
بحث دوم : طبخ میں منع کس وجہ سے ہے ۲۱۷(۲) میں طبخ کی بحث گزری اور یہ کہ اس میں عبارات مختلف آئیں
اقول : یہی مختصر۲۰ امام ابو الحسن وہدایہ۲۱ امام برہان الدین سے مستفاد لانھما احلا الامر علی اخراج الماء عن طبعہ وذکرا فی الامثلۃ المرق (وہ دونوں معاملہ کا مدار اس پر رکھتے ہیں کہ پانی کو اس کی طبع سے نکال دے اس کی مثال میں شوربا ذکر کیا۔ ت) نیز ان دونوں نے زوال طبع کی مثال میں آب باقلا گنا ہدایہ۲۲ نے اسے مطبوخ پر حمل کیا اسی طرف کافی۲۳ نے اشارہ فرمایا بنایہ۲۴ وکفایہ۲۵ وعنایہ۲۶ وغایۃ۲۷البیان وفتح نے اسے مقرر رکھا نمبر ۸۹ میں جوہرہ۲۸ نیرہ کی عبارت گزری المراد المطبوخ بحیث اذابرد ثخن (ایسا مطبوخ مراد ہی جو ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہو جائے۔ ت) یہی مضمون کفایہ وبنایہ وغایہ نیز معراج۲۹ الدرایہ پھر شلبیہ۳۰ علی الزیلعی سے آتا ہے نیز ان دو سے نمبر ۲۱۷ میں گزرا اور یہ کہ انہوں نے یہی مفاد خانیہ ٹھہرایا اور یہی مطلب خانیہ۳۱ حلیہ نے بتایا کفایہ بھی اس میں شریك درایہ ہے کماسیأتی (جیسا کہ آئےگا۔ ت) بالجملہ عبارات اس پر متظافر ومتواتر ہیں اور اس درجہ تواتر کے بعد ہدایہ ونقایہ۳۲ و وافی۳۳ وکنز۳۴ واصلاح کی تعبیر تغیر طبع مراد لینا بہت واضح وآسان ہے۔
اقول : بلالکہ وہ نفس لفظ کا مفاد ہے کہ انہوں نے پانی کا تغیر لیا اور پانی ذات ہے نہ کہ وصف وصف عارض کا تغیر ذات کا تغیر نہیں عوارض بدلتے رہتے ہیں اور ذات بدستور رہتی ہے ذات نہ رہے تو عوارض بدلیں کس پر بخلاف وصف لازم کہ انتفائے لازم انتفائے ملزوم ہے اور اصل کلام میں حقیقت ہے جب تك وہ ممکن ہو مجاز ممکن نہیں جس طرح عنایہ میں فرمایا کہ الغلبۃ بالاجزاء غلبۃ حقیقیۃ (اجزاء کے لحاظ سے غلبہ حقیقی ہے۔ ت)
اقول : وبہ یضعف مافی جامع الرموز تحت قولہ اوغیرہ طبخا فیہ اشارۃ الی ان الغلبۃ مانعۃ فیما طبخ من ھذا الجنس سواء کانت بالاجزاء اوباللون اھ ویأتی دفع اخر۔
میں کہتا ہوں اور اسی سے جامع الرموز کی اس عبارت کی کمزوری سمجھی گئی ماتن کے قول “ اوغیرہ طبخا “ کے تحت ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس جنس میں پکانے سےغلبہ حاصل ہوگا یہ غلبہ اجزاء کے لحاظ سے ہو خواہ رنگ کے اعتبار سے ہو اھ آگے ایك اور اعتراض ہوگا۔ (ت)
لاجرم امام قوام الدین کاکی پھر علامہ احمد ابن الشلبی نے فرمایا :
عنی بالتغیر بالطبخ الثخانۃ والغلظ اھ وقد تقدم تمامہ فی ۲۱۷۔
پکانے کی بناء پر تغیر سے انہوں نے گاڑھا اور غلیظ مراد لیا ہے اھ اس کی پوری بحث ۲۱۷ میں گزر چکی ہے۔ (ت)
کفایہ میں ہے :
عنی بالتغیر الثخونۃ حتی اذاطبخ ولم یثخن بعد بل رقۃ الماء باقیۃ جاز الوضوء بہ ذکرہ الناطفی کذا فی فتاوی قاضی خان ۔
پکانے کےسبب تغیر سےانہوں نے گاڑھا ہونا مراد لیا ہےحتی کہ اگر پکایا اور گاڑھا نہ ہوا اور اس میں رقت باقی تھی تو اس سے وضو جائز ہوگا اس کو ناطفی نےذکر کیا ہےفتاوی قاضیخان میں ایسےہی ہے (ت)
بنایہ میں ہے :
م تغیر بالطبخ ش بان صار ثخینا حتی صار کالمرق حتی اذا طبخ و لم یثخن
متن میں تغیر بالطبخ پر شارح نے کہا کہ وہ گاڑھا ہوجائے حتی کہ شوربے جیسا ہوجائے لیکن اگر پکایا اور گاڑھا
نہ ہوا اور اس میں رقت باقی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
اسی طرح امام اکمل نے عنایہ میں نقل کرکے مقرر رکھا۔
ولو بلفظۃ قیل اذقال قولہ تغیر بالطبخ قیل المراد بالتغیر الثخونۃ فانہ یصیر مرقا ۔
اگرچہ قیل کے لفظ کے ساتھ ہے جبکہ انہوں نے ماتن کے قول تغیر بالطبخ پر کہا بعض نے کہا کہ اس تغیر سے مراد گاڑھا ہونا ہے کیونکہ وہ شوربا بن جاتا ہے۔ (ت)
اسی طرح غایۃ البیان میں ہے یہ تو عام بحث تھی رہی ان میں ہر کتاب پر خاص نظر۔
(۱) ہدایہ اقول متن میں زوال طبع تھا شرح نے اسے مقرر رکھ کر آب باقلاء وغیرہ سے مطبوخ مراد لیا پھر ان تغیر بالطبخ لایجوز التوضی بہ (اگر پکانے سے متغیر ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں۔ ت) فرمایا لاجرم وہی تغیر معہود ومقصود ھذا مایقتضی بہ موافقۃ الشرح لمشروحہ لکن فیہ اشکال قوی سنعود الی بیانہ اخر ھذا البحث بعونہ تعالی(شرح اور مشروح کی موافقت کا یہی تقاضا ہے لیکن اس میں ایك قوی اشکال ہے اس کو بیان کریں گے بحث کے آخر میں ان شاء الله تعالی۔ ت)
(۲) نقایہ اقول اس کی اصل وقایہ میں زوال طبع ہے اور خود امام صاحب نقایہ نے شرح میں اعتبار رقت کی تصریح فرمائی اگر کہیے ممکن کہ نقایہ میں رائے کو تغیر ہوا کہ جانب تغیر گئی اقول تالیف شرح تصنیف نقایہ سے متأخر ہے کمالایخفی علی من طالعہ (اس پر مخفی نہیں جس نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) اگر کہئے پھر تغیر سے تغییر کیوں فرمائی اقول وہی اشارہ غامضہ کہ ہم نے ۲۱۷ میں بیان کیا کہ طبخ میں زوال رقت کا بالفعل ظہور ضرور نہیں بلالکہ اس قابل ہوجانا کہ ٹھنڈا ہوکر رقیق نہ رہے کماتقدم التنصیص علیہ من الائمۃ الجلۃ وبہ اندفع مافی شرح نقایۃ البرجندی من الاستشھاد علی التغایر بجعل التغیر قسیم زوال الطبع کماقدمناہ ثمہ(جیساکہ اس پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تصریح گزر چکی ہے اور اسی سے علامہ برجندی کی شرح نقایہ میں تغایر کیلئے تغیر کو زوال طبع کے مقابل قرار دینے کو دلیل بنانے کا اعتراض ختم ہوگیا جس کو ہم نے وہاں ذکر کردیا تھا۔ ت)
عـــہ : تذکر ماتقدم فی ۲۱۷ من حمل البحر التغیر علی تغیر الاطلاق وقولی انہ لایتمشی فی عبارۃ النقایۃ والاصلاح۔
فان قلت ھلا قلت وفی نفس الکنز فان المفاھیم معتبرۃ فالکتب فاذا حمل التغیر علی تغیر الاطلاق کان المعنی لایجوز الوضوء بماتغیر عن اطلاقہ بالطبخ امالوتغیر عنہ بغیر الطبخ جاز وھو باطل۔
اقول : (۱) عبارۃ الکنز وان احتملت المفھوم احتملت ان یکون الطبخ مطلقاعلۃ موجبۃ لتغیر الاطلاق وحصول التقیید وان لم یتغیرالشیء ادعی البحر والمعلول لایتخلف عن علتہ فلایکون لھا مفھوم من ھذہ الجھۃ کأن تقول لایتوضؤ بماء غلب بکثرۃ اجزاء الممازج فلایحتمل انہ وجدت کثرۃ ولم یغلب بھا جاز بہ الوضوء لاستحالۃ انفکاك الغلبۃ عنھا۔
بحر کے اس قول جس میں انہوں نے “ تغیر “ سے اطلاق کا تغیر مراد لیا ہے جو نمبر ۲۱۷ میں گزرا اور میرے اس قول کو جس میں کہا تھا کہ یہ بات نقایہ اور اصلاح کی عبارت میں درست نہیں ہوگی کو یاد کرو۔
اگر تو اعتراض کرے کہ تم نے اس بارے کنز کا ذکر کیوں نہیں کیا حالانکہ کتب فقہ میں مفہومات کا اعتبار ہوتا ہے پس جب طبخ والے تغیر سے مراد اطلاق کا تغیر ہے تو پھر معنی یوں ہوگا کہ پکانے کی وجہ سے جو تغیر پانی کے اطلاق میں پیدا ہوا ہے اس سے وضو جائز نہ ہوگا اور اگر یہ اطلاق کا تغیر بغیر پکائے حاصل ہو تو اس سے وضو جائز ہوگا حالانکہ یہ باطل ہے۔
میں کہتا ہوں کہ کنز کی عبارت میں اگر مفہوم کا احتمال ہے تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ طبخ علی الاطلاق تغیر اطلاق کی علت مؤثرہ قرار پائے اور مطلق پانی کو مقید کرنے کی علت بن جائے اگرچہ طبخ کے ساتھ کوئی تغیر پیدا نہ ہو جیسا کہ بحر نے دعوی کیا ہے تو اب کوئی مفہوم پیدا نہ ہوگا کیونکہ کوئی معلول اپنی علت سے جدا نہیں ہوسکتا ہے یہ یوں ہوا جیسے تم کہو کہ پانی میں ملنے والی چیز کے اجزاء کی کثرت ہونے پر وضو جائز نہیں تو یہاں مفہوم مخالف پیدا نہیں ہوتا کہ یوں کہا جاسکے کہ کثرت بغیر غلبہ اگر پائی جائے تو وضو جائز ہوگا کیونکہ کثرت اجزاء غلبہ کیلئے علت موثرہ ہے جس کا جدا ہونا محال ہے۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
(بحر کی تاویل کی کمزوری تمہیں معلوم ہوچکی ہے اور نہر میں اس کا اعتراف ہوچکا ہے اور انہوں نے خانیہ کے اس بیان کو جس میں انہوں نے طبخ کے تغیر پر باقلا کی بو کو دلیل بنایا ہے پر اشکال وارد کیا ہے اور یوں کہا کہ ماتغیرہ بکثرۃ الاوراق پر طبخ کے عطف کرنے سے اعتراض پیدا ہوگا کیونکہ کثرت اوراق (پتوں کی کثرت) سے گاڑھا ہونے کی وجہ سے تغیر ہوتا ہے اور یہ محض پکانے سے تغیر ہوگا گاڑھا ہو یا نہ ہو ابوسعود نے ان سے یوں ہی نقل کیا ہے اھ۔ ت)
اقول : والاشکال مدفوع (۱) اولا بماعلمت من تواتر النصوص علی اعتبار الثخن
میں کہتا ہوں یہ اشکال مدفوع ہے اولا اس لئے کہ طبخ میں بھی گاڑھے پن کا اعتبار ہے جس پر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فان قلت الیس ان البحر حمل التغیر المذکور فی المتن علی زوال الاسم بالثخونۃ کماتقدم فی ۷۷ ولاشك ان قولہ بالطبخ داخل تحت ھذا التغیر فیکون المعنی اوثخن بالطبخ فلم لم تحتج علی البحر یقول نفسہ۔
اقول : لو ان یقول معنی التغیر ھو التقیید غیر انہ فی الاوراق بالثخن ففسرتہ بہ ھناك وفی الطبخ بنفسہ اماکلام الفقیر ھھنا فمبنی علی التحقیق والیہ اشرت بقولی وتأویل البحر قدعلمت مافیہ فافھم منہ غفرلہ۔ (م)
اگر تو اعتراض کرے کہ کیا بحر نے متن کی تفسیر میں تغیر سے مراد پانی کے نام کی تبدیلی گاڑھے پن کی وجہ سے نہیں لی جیسا کہ نمبر ۷۷ میں گزرا اور اس میں شك نہیں کہ اس کا قول “ بالطبخ “ بھی اس کے تحت ہے تو اب معنی یہ ہوا اوثخن بالطبخ یا پکانے سے گاڑھا ہوجائے تو آپ بحر کا رد خود اس کے اپنے قول سے کیوں نہیں کرتے
تو میں جواب دیتا ہوں کہ بحر یہ کہہ سکتے ہیں کہ تغیر سے میری مراد تقیید یعنی پانی کو مقید کرنا ہے مگر اوراق (پتوں) میں یہ تقیید گاڑھے پن سے ہوتی ہے اس لئے میں نے وہاں تغیر کی تفسیر گاڑھے پن سے کی ہے لیکن مجھ فقیر کا یہ کلام محض تحقیق پر مبنی ہے جس کی طرف میں نے (تاویل البحر قدعلمت مافیہ)بحر کی تاویل میں اعتراض تمہیں معلوم ہے کہہ کر اشارہ کیا تھا فافہم ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : اولا (۱) لیس الاولی بنا ان نحمل کلام الائمۃ علی الضعیف المھجور مع صحۃ المعنی الصحیح الموافق للجمھور وحدیث احد الاوصاف یأتی مافیہ
بعون الله تعالی۔
وثانیا : (۲) الامام النسفی حافظ الدین صاحب الکنز ھو القائل فی مستصفاہ ان اعتبار احد الاوصاف خلاف الروایۃ الصحیحۃ کما تقدم فی ۱۰۱۔ (۴) اصلاح اقول کان الاولی بہ الحمل علی مایوافق النصوص المتواترۃ
نصوص کا تواتر تمہیں معلوم ہے اور ثانیا اس لئے کہ تم سن چکے ہو کہ گاڑھا پن طبخ کو عادتا لازم ہے اور ثالثا اس لیے کہ ہم نے خانیہ کے اس کلام کا ماحاصل ۲۱۷ میں آپ کو بتایا تھا اور حموی اور پھر ابوسعود نے نہر کے اشکال کا یہ جواب دیا کہ اشکال تب ہوتا جب مصنف کثرت اوراق میں تغیر کی وجہ سے گاڑھا ہونے کو قرار دیتے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ گزرا کہ ان کے قول (وان غیر طاھر احد اوصافہ) کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی پاك چیز پانی کے تمام اوصاف کو متغیر کردے تو وضو جائز نہیں اگرچہ وہ گاڑھا نہ ہو اھ (ت)
میں کہتا ہوں اولا ہمارے لئے مناسب نہیں کہ ائمہ کرام کے کلام کو کسی ضعیف اور متروك پر محمول کریں جبکہ اس کا صحیح اور جمہور کے موافق معنی درست ہوسکتا ہو جس حدیث میں پانی کے کسی ایك وصف کی تبدیلی کا ذکر ہے اس کے بارے میں الله کی مدد سے آئندہ بحث آئے گی۔
اور ثانیاکنز کے مصنف امام حافظ الدین نسفی نے اپنی مستصفی میں کہا ہے کہ کسی ایك وصف کی تبدیلی والی روایت صحیح روایت کے خلاف ہے جیسا کہ ۱۰۱ میں گزرا۔
اصلاح میں کہتا ہوں کہ اس کو نصوص متواترہ کے موافق معنی پر محمول کرنا بہتر ہے لیکن علامہ
اقول : (۱) اولا مایفھم من تاج الشریعۃ(۲) بل الذی ھو نصہ ھو الموافق لمتواترات النصوص وثانیا (۳) مااستند الیہ من المرق قد جعلہ القدوری والھدایۃ والوقایۃ والملتقی والغرر والتنویر وغیرھا مماغلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء وتقدم انفا قول البنایۃ وقیل العنایۃ بالثخونۃ یصیر مرقا وثالثا (۴) قد علمت ان الثخن لازم الطبخ عادۃ (۵) و رابعا قدعرفت معنی الرقۃ ولاشك ان المرق اذاسال لاینبسط کلافقد تجسد۔
وزیر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنی منہیات میں فرمایا کہ “ یہاں سے معلوم ہوا کہ پکانے کی صورت میں پانی کا تغیر معتبر ہے پانی کا اپنی طبع سے نکلنا مراد نہیں جیسا کہ تاج الشریعۃ کے اس قول سے مفہوم ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ یا پکانے سے متغیر ہو تو اس سے وضو کیسے جائز ہو حالانکہ شوربے سے وضو جائز نہیں باوجود یکہ اس میں پکانے کی وجہ سے تغیر پایا جاتا ہے وہ تغیر ایسا نہیں کہ جس کی وجہ سے پانی رقت وسیلان کی حد سے نکل جائے اھ (ت)
میں کہتا ہوں اولا تاج الشریعۃ کے کلام سے یہ نہیں سمجھا جاتا بلالکہ انہوں نے جو نص کے طور پر بیان کیا وہ تو نصوص متواترہ کے موافق ہے اور ثانیا یہ کہ شوربے کے بارے میں انہوں نے تاج الشریعۃ کی طرف جو منسوب کیا اس کو قدوری ہدایہ وقایہ ملتقی غرر اور تنویر وغیرہا نے اس صورت میں سے بنایا جس میں غیر کے غلبہ کی بنا پر پانی اپنی طبع سے نکل جاتا ہے اور ابھی بنایہ کا قول اور عنایہ کا قیل گزرا کہ گاڑھے پن کی وجہ سے شوربا بنتا ہے ثالثا یہ کہ آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ عادی طور پر گاڑھا پن طبخ کو لازم ہے اور رابعا آپ کو رقت کا معنی معلوم ہوچکا ہے اور اس میں شك نہیں کہ شوربا جب بہتا ہے تو وہ پوری طرح پھیلتا نہیں۔ (ت)
اقول : وفیہ عندی اشکال قوی وذلك لان المراد بالتغیر بالطبخ اماتغیر الطبع اوتغیر الاوصاف لاسبیل الی الثانی۔
اولا لان کلام المتن فی زوال الطبع وھو مانع مطلقا بالاجماع ففیم التقیید بالمطبوخ وھذا ماقدمتہ فی ۔
وثانیا : کیف یراد بخروجہ عن طبعہ اشکال اور اس کے حل کا بیان الله تعالی کے فضل سے ہدایہ کے متن میں ہے کہ ایسے پانی سے وضو جائز نہیں جس پر غیر کا غلبہ ہوا ہو اور پانی کو اپنی طبع سے خارج کردیا ہو جیسا کہ شوربا زردج اور باقلاء کا پانی اس پر ہدایہ میں کہا کہ ماء الباقلا وغیرہ سے مراد پکانے سے متغیر ہونے والا پانی ہے اور اگر پکائے بغیر پانی متغیر ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے پھر انہوں نے پکانے کی وجہ سے متغیر ہونے والے پانی میں سے استثناء کرتے ہوئے فرمایا مگر وہ پانی جس میں ایسی چیز پکائی گئی ہو جس سے صفائی میں مبالغہ مقصود ہو جیسے اشنان الا یہ کہ اس پر اشنان غالب ہو کر مخلوط ستو کی طرح بنادے (یعنی گاڑھا کردے) تو وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کا نام پانی نہیں رہتا اھ (ت)
میں کہتا ہوں میرے نزدیك ہدایہ کی عبارت میں قوی اشکال ہے اس لئے کہ تغیر بالطبخ سے کیا مراد ہے تغیر الطبع ہے یا تغیر الاوصاف دوسرا یعنی تغیر الاوصاف مراد نہیں ہوسکتا۔
اولا اس لئے کہ مصنف پانی کی طبع کے زوال کے بارے میں کلام فرما رہے ہیں اور زوال طبع ہر طرح وضو سے مانع ہے اس پر اجماع ہے لہذا اس ورت میں پانی کے پکانے کی قید بے معنی ہے اور یہ بات میں پہلے ۸۹ میں کہہ چکا ہوں۔
ثانیا اس لئے کہ “ خروج عن طبع “ سے “ تغیر
وثالثا : فرق بین بین طبخ المتغیر والتغیر بالطبخ والمتحقق فی ماء الباقلاء والحمص والزردج وامثالھا ھو الاول لان مجرد خلط بعضھا بالماء ومکث بعضھا فیہ مغیرلوصفہ والخلط والمکث متقدمان علی حصول الطبخ وھوالانضاج کماھومعلوم مشھود فلم یحصل التغیربالطبخ بل ورد الطبخ علی المتغیر وشتان ماھماوکذالاسبیل الی الاول اولا یکون المعنی فان زال طبعہ بدون الطبخ یجوز التوضی بہ وھو بدیھی البطلان وثانیا یبطل استثناء المنظف من المطبوخ فان زوال الطبع لاثنیا فیہ وثالثا یتناقض الحکم والثنیافان قولہ الا اذاطبخ فیہ مایقصدبہ دل علی جواز التوضی بمازال طبعہ بطبخہ مع المنظف وھذا ھو الذی ابطلہ بالثنیاالاخیرۃ الا ان یغلب الخ فعلی کل من الوجھین ثلثۃ وجوہ من الاشکال ولم ارمن تعرض لشیئ من ھذا اوحام حولہ فضلاعمن رام حلہ وقد (۱) تبعہ علی الوجہ الاول فی الدرایۃ والشلبیۃ والکفایۃ والبنایۃ والدر فقال الاولان عنی بالتغیر الثخانۃ (الی قولھما ) ھذا اذا لم
فی الاوصاف بالطبخ “ کیسے مراد لیا جاسکتا ہے
اور ثالثا اس لئے کہ “ متغیر کو پکانے “ اور “ پکانے سے تغیر “ میں بڑا فرق ہے اور یہاں باقلی چنوں زردج وغیرہا کے پانی میں پہلی یعنی “ متغیر کا پکانا “ صورت پائی جاتی ہے کیونکہ ان میں سے بعض کے ملنے اور بعض کے پانی میں کچھ دیر پڑے رہنے سے ہی پانی متغیر ہوجاتا ہے اور اس کو پکانے کا مرحلہ بعد میں ہوتا ہے جس کو تیاری کا مرحلہ کہتے ہیں یہ بات مشاہدہ سے معلوم ہے پس یہاں طبخ سے تغیر نہ ہوا بلالکہ متغیر شدہ چیز پر طبخ واقع ہوا ہے اور ان دونوں میں فرق واضح ہے اسی طرح پہلی شق (یعنی تغیر الطبع مراد نہیں ہوسکتی) اولا اس لئے کہ اس صورت میں معنی یوں ہوگا کہ اگر پکائے بغیر پانی کی طبع زائل ہوجائے تو وضو جائز ہے حالانکہ یہ بدیہی طور پر غلط ہے(کیونکہ زوال طبع کے بعد کسی صورت میں وضو جائز نہیں ہے)اور ثانیا اس لئے کہ صفائی کی خاطر پکائی ہوئی چیز کا استثناء اس صورت میں درست نہ ہوگا کیونکہ زوال طبع بلااستثناء جس چیز سے بھی ہو تو وضو جائز نہیں ہے اور ثالثا اس لئے کہ اس صورت میں حکم اور استثناء دونوں ایك دوسرے کے مخالف ہونگے کیونکہ ہدایہ میں پہلے متغیر بالطبخ کے ساتھ وضو کو ناجائز قرار دے کر اس سے نظافت کے مقصد کیلئے پانی میں پکائی ہوئی چیز کو مستثنی کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نظافت کی خاطر پانی میں پکائی ہوئی چیز جس سے پانی کی طبع
والعجب (۱) ان لم یتنبہ لہ الشراح السادۃ (۲)حتی ط الاخذ علی المراقی بمایأت (۳) وقد اغتربہ الفاضل عبدالحلیم اذقال لااختلاف فی عدم جواز التوضی بماء زال طبعہ بالطبخ بخلاف مازال طبعہ بالخلط من غیرطبخ اھ
ویا سبحن الله من ذا الذی اجاز الوضوء بماء زال طبعہ ھذالایساعدہ عقل ولانقل وقدمرفی رابع ابحاث زوال الطبع انہ لایجوز بالاجماع بلا خلاف اھ
ختم ہوچکی ہو سے وضو جائز ہو حالانکہ یہی وہ صورت ہے جس کو دوبارہ استثناء سے باطل کیا ہے اور یوں کہا الا ان یغلب الخ (یعنی نظافت کی خاطر پانی میں پکائی ہوئی چیز سے وضو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ نظافت والی چیز پانی پر غالب نہ ہو یعنی اس چیز نے پانی کی طبع کو زائل نہ کیا ہو) پس ہدایہ کی عبارت میں دونوں احتمال تین تین وجوہ سے اشکال کے حامل ہیں میری نظر میں ان اشکال میں سے کسی ایك کو بیان کرنے یا ان کے قریب پھٹکنے والا کوئی نہیں چہ جائیکہ وہ ان کا حل پیش کرے ہدایہ کی عبارت تغیر بالطبخ کے دو احتمالوں میں سے پہلے احتمال کو درایہ شلبیہ کفایہ بنایہ اور در میں ذکر کیا گیا ہے پہلی دونوں کتب یعنی درایہ اور شلبیہ نے کہا کہ ہدایہ نے تغیر سے گاڑھا پن مراد لیا ہے اور اس کو آخر تك یوں بیان کیا یہ اس صورت میں ہے جب پکانے میں نظافت کا مبالغہ مقصود نہ ہو اور اگر یہ مقصد ہو تو پھر وضو جائز ہے جیسے اشنان اور صابون وغیرہ سے بشرطیکہ اس صورت میں اشنان وصابون کی وجہ سے پانی مخلوط ستوؤں کی طرح نہ بن جائے کیونکہ ایسا ہوجانے پراس کوپانی نہیں کہا جاتا اھ اور اسی طرح کا بیان دوسری دونوں کتب یعنی کفایہ اور بنایہ میں ہے اوردرنے یوں کہا ایسے پانی سے وضو ناجائز ہے پکانے سے جس کی طبع زائل ہوچکی ہو اور وہ طبع پانی کا سیلان ہے مگر جب پانی میں پکانے سے مقصد صفائی مقصود ہو تو وضو جائز ہوگا بشرطیکہ پانی کی رقت باقی ہو اھ اور تعجب ہے کہ سید شارح حضرات بھی اس اشکال کی طرف متوجہ نہ ہوئے حتی کہ
اولا : ان قول المتن ماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء لابدفیہ من التجوزوذلك لانہ جعلہ خارجا عن طبع الماء ثم سماہ ماء وماء خرج عن طبعہ حقیقۃ لایبقی ماء لماتقدم ان الطبع لازم الذات فتنتفی بانتفائہ وقد افادالمحقق علی الاطلاق فی الفتح ان ماسلب رقتہ لیس ماء اصلاکمایشیرالیہ قول المصنف فی المختلط بالاشنان فیصیرکالسویق لزوال اسم الماء عنہ اھ فلابدمن التجوزامافی الماء سماہ ماء باعتبارماکان وامافی الخروج سمی قرب الخروج خروجاوالثانی (۲) اکثر واقرب لان الاتی قریبا احق بالاعتبار من الفائت الساقط وایضا موضوع
طحطاوی بھی جنہوں نے مراقی الفلاح پر گرفت کی جو آئندہ آئے گی اور یہاں فاضل عبدالحلیم کو غلط فہمی ہوئی جہاں انہوں نے کہاکہ پکانے کی وجہ سے جس پانی کی طبع زائل ہوجائے تو اس سے وضو کے ناجائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس کے برخلاف جبکہ بغیر پکائے کسی چیز کے خلط سے پانی کی طبع زائل ہوجائے تو وضو جائز ہے اھ۔ یا سبحان الله وہ کون ہے جو زوال طبع کے بعد بھی پانی سے وضو کو جائز قرار دیتا ہو یہ ایسی بات ہے جو عقل ونقل کے مخالف ہے اور زوال طبع کی چوتھی بحث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ زوال طبع کے بعد وضو جائز نہیں ہے بلااختلاف یہ بات سب کو مسلم ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں الله تعالی سے ہی توفیق اور اس اشکال کی پریشانی کو کم کرنے والی کوشش ہے۔ اس اشکال کے حل کی بنیاد چند مقامات پر ہے۔
اولا یہ سمجھو کہ ہدایہ کے متن میں یہ قول “ ماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء “ جس پانی میں کوئی چیز مل کر اس پر غالب ہوکر اسے طبع سے خارج کردے اس قول میں مجاز لازمی ہے کیونکہ یہاں پانی کی طبع ختم ہوجانے کے باوجود اس کو پانی کہاگیا ہے حالانکہ پانی کی طبیعت ختم ہوجانے کے بعد وہ پانی نہیں رہتا ہے اس لئے کہ وہ بات پہلے کہی جاچکی ہے کہ طبع پانی کی ذات کو لازم ہے تو لازم کے ختم ہونے پر ذات کا خاتمہ ضروری ہے محقق مطلق نے فتح القدیر میں یہ واضح کیاہے کہ جب رقت ختم ہوجائے تو وہ پانی نہیں رہتا جیسا کہ مصنف نے کہا ستوؤں کی طرح گاڑھا ہونے والے اس پانی کو جس میں اشنان ملا ہو کے بارے میں کہاکہ اس کا نام پانی نہیں ہوگااھ لہذا یہاں مجاز ماننا ضروری ہے یہ مجاز لفظ ماء
وثانیا السبب ھھنا کمال الامتزاج کمانص علیہ فی الکافی والکفایۃ والبنایۃ وغیرھا وسیأتی ان شاء الله تعالی وکمال الامتزاج اثرہ فی الشیئ المخالط بغیر طبخ اخراج الماء عن الرقۃ بالفعل وفی المخالط طبخا جعلہ متھیأ للخروج بالقوۃ القریبۃ وذلك لان المخالط یریداثخانۃ والنار تلطفہ وترققہ فلایظھر اثرہ کما ھوالا اذا زال المعارض وبرد کما تقدم التنصیص علیہ عن الکتب الکثیرہ فی ۲۱۷۔
وثالثا : مجرد کمال الامتزاج مع
(پانی) میں ہوگا کہ قبل ازیں وہ پانی تھا(اس لئے مجازا زوال طبع کے بعد اسے پانی کہاگیا ہے)یا یہ مجاز لفظ “ خروج “ میں ماننا ہوگاکہ موجودہ پانی سے عنقریب اس کی طبع خارج ہونے والی ہے (اس لئے طبع سے اس کو خارج قرار دیا پہلی صورت میں ماکان اور دوسری میں مایکون کے اعتبار سے مجاز ہے)جبکہ مجاز کی دوسری (مایکون والی) قسم کا استعمال زیادہ ہے اور یہ اقرب الی الفہم بھی ہے کیونکہ عنقریب پائے جانی والی چیز اس چیز سے زیادہ معتبر ہے جو پائے جانے کی بعد ختم ہوچکی ہے نیز مجاز کی دوسری قسم کا یہاں اعتبار اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں اس پانی کی بحث ہے جس سے وضو جائز یا ناجائز ہے (یعنی پانی کا وجود ہونا ضروری ہے)نیزاس لئے بھی کہ دوسری قسم کے مجاز میں یہاں زیادہ فائدہ ہے یہ اس لئے کہ پانی موجودہونے پر یہ بتاناکہ اس سے وضو جائز نہیں زیادہ مفید ہے اس قول کے مقابلالہ میں کہ یوں کہا جائے جو پانی نہیں اس سے وضو منع ہے۔ (ت)
ثانیا اس پانی سے طبع کے زائل وخارج ہونے کا سبب یہ ہے کہ پانی میں کوئی چیز مکمل طور پر مخلوط ہوجائے جیسا کہ اس کو کافی کفایہ بنایہ وغیرہا نے واضح طور پر بیان کیا ہے اور عنقریب اس کا ذکر آئےگا ان شاء الله تعالی جبکہ کمال امتزاج (مکمل ملاوٹ) اگر بغیر پکائے ہو تو اس کا فوری اثر یہ ہوتا ہے کہ پانی کی رقت ختم ہوجاتی ہے (یعنی بالفعل ختم ہوجاتی ہے) اگریہ کمال امتزاج پکانے کی وجہ سے ہو تو پھر اس کا اثر یہ ہوتا ہے پانی کی رقت عنقریب ختم ہونی والی ہوتی ہے(یعنی بالفعل ختم نہیں ہوتی) کیونکہ ملاوٹ کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ پانی گاڑھا ہوجائے اور آگ کی حرارت اس کو پتلا رکھتی ہے جس کی وجہ سے کمال امتزاج کا اثر فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا لیکن جب رکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور یہ مخلوط ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو وہ گاڑھا ہوجاتا ہے جیسا کہ ۲۱۷ میں متعدد کتب کی تصریحات گزر چکی ہیں۔ (ت)
ثالثا محض کمال امتزاج جبکہ منظف میں بالفعل گاڑھا پن نہ ہو
............ وضو کیلئے مانع نہیں ہے اس کی وجہ (راز) کا ان شاء الله وبعونہ عنقریب بیان ہوگا جبکہ کافی میں کہا کہ پانی میں کسی چیز کو پکانے سے کمال امتزاج وضو سے مانع تب ہوگا جب کہ یہ امتزاج نظافت کیلئے جو کہ وضو کی غرض مطلوب ہے نہ ہو جیسا کہ اشنان وصابون جب تك ان کا ایسا غلبہ نہ ہوجائے جو پانی کو ستووں کی طرح گاڑھا کردے تو اس صورت میں وضو جائز نہیں کیونکہ اتنا گاڑھا ہونے پر اس کا نام پانی نہیں رہتا اھ جب یہ تین مقدمات آپ کو معلوم ہوگئے تو شیخ (صاحب ہدایہ) نے متن میں مذکور تغیر کو مجاز کی مذکور قسم ثانی قرار دیا ان ترجیحات کی بنا پر جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اس سے تمام اشکالات ختم ہوگئے کیونکہ متن کا حکم اس پانی کے بارے میں ہے جو ابھی تك پانی ہے اگرچہ کچھ دیر بعد وہ اپنی طبیعت کھو بیٹھے گا اس پانی کے بارے میں کہا کہ اس سےوضو جائز نہیں ہےتو اس صورت میں اس پانی کےتغیر (زوال رقت وطبع) کو طبخ (پکانے ) سےمقید کرنا ضروری ہے کیونکہ پکائے بغیر دوسری کسی صورت میں وضو سے مانع سبب (کمال امتزاج) پر دلیل نہیں پائی جاتی بلالکہ وہاں عدم سبب پر دلیل پائی جاتی ہے کیونکہ اگر وہ سبب (کمال امتزاج) پایا جاتا تو پانی مکمل طو رپر گاڑھا ہوتا پکانے کی صورت اس کے خلاف ہے جیسا کہ مذکور ہوا
فقالا ھذا من المصنف لیس علی ماینبغی فانہ متی طبخ بمالایقصد بہ النظافۃ لایرفع الحدث وان بقی رقیقا سائلا لکمال الامتزاج بخلاف مایقصد بہ النظافۃ فانہ لایمتنع بہ رفعہ الااذاخرج عنہ رقتہ وسیلانہ فالفرق بینھما ثابت وتسویۃ المصنف بینہما ممنوعۃ اھ۔
اقول اولا(۱) متی سوی وقد قال فی المنظف وصار ثخینا فاعتبر الثخونۃ بالفعل وقال فی غیرہ اذا برد ثخن فاعتبر التھیؤ للثخن
(اس کی وجہ یہ مذکور ہوئی کہ ٹھنڈا ہونے کی صورت میں کمال امتزاج سے گاڑھا پن فورا پیدا ہوجاتاہے جبکہ پکانے کی صورت میں حرارت گاڑھے پن سے مانع ہوتی ہے) ہاں پکانے کی صورت میں گاڑھے پن کے بغیر کمال امتزاج وضو کیلئے اس وقت مانع نہ ہوگا جب پانی میں نظافت کی غرض سے کوئی چیز پکائی گئی ہو بشرطیکہ اس سے بالفعل گاڑھا پن پیدا نہ ہو پس اب ہدایہ کی عبارت میں دونوں استثناء درست ہوگئے۔ اس جواب کی تقریر سے سید ابو سعود اور سید طحطاوی کا علامہ شرنبلالی پر اعتراض بھی ختم ہوگیا جو انہوں نے علامہ کی اس عبارت پر کیا جو علامہ نے مراقی الفلاح میں یوں کہی ہے “ چنے اور مسور جیسی چیزوں کو پانی میں پکانے سے جب پانی کی طبع زائل ہوجائے کہ ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں ہے جس طرح نظافت کے مقصد سے پانی میں پکائی ہوئی چیز (جیسی بیری کے پتے وغیرہ) جو کہ پکنے میں گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں ہے اھ اس پر دونوں حضرات نے یہ اعتراض کیا کہ مصنف (علامہ شرنبلالی) کا یہ کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ جب ایسی چیز پانی میں پکائی جائے جس سے نظافت مقصود نہ ہو تو اس سے طہارت جائز نہیں اگرچہ اس میں رقت وسیلان باقی ہو اس لئے کہ یہاں کمال امتزاج پایا جاتا ہے۔ لیکن جس چیز سے نظافت مقصود ہو تو وہاں جب تك رقت وسیلان ختم نہیں ہوتا اس وقت تك اس سے طہارت جائز ہے یہ فرق واضح ہے اور مصنف (شرنبلالی) کا دونوں صورتوں کو برابر قرار دینا درست نہیں ہے اھ (ت)میں کہتا ہوں اولا کہ علامہ شرنبلالی نے کب دونوں صورتوں کو برابر قرار دیا ہے حالانکہ انہوں نے نظافت والی چیز کے بارے میں کہا کہ گاڑھا پن پایا جائے تو انہوں نے یہاں گاڑھے پن کا بالفعل پایا جانا معتبر قرار دیا اور غیر منظف میں انہوں نے کہا جب ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہو تو یہاں انہوں نے
وثالثا : (۲)لئن سلم فالمنقول عن امامی المذھب ابویوسف ومحمد رحمہما الله تعالی ھو التسویۃ بین المنظف وغیرہ علی الروایۃ المشھورۃ عن ابی یوسف وعلی کلتاالروایتین عن محمد تذکر مااسلفنا فی ۱۰۷ عن الحلیۃ عن التتمۃ والذخیرۃ ان ابایوسف یعتبر فی المنظف سلب الرقۃ روایۃ واحدۃ واختلف الروایۃ عنہ فی غیرہ ففی بعضھا اعتبر سلب الرقۃ ای وھی المشھورۃ عنہ وفی بعضھا لم یشترطہ ای واکتفی بتغیر الاوصاف وھی الروایۃ الضعیفۃ المرجوحۃ وان محمدا اعتبر الغلبۃ باللون ای وھی الروایۃ المشھورۃ عنہ وفی بعضھا سلب الرقۃ بالفعل گاڑھے ہونے کا اعتبار نہیں کیا بلالکہ اس کے قابل ہونے کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
اور ثانیا ان دونوں کا یہ قول کہ غیر منظف سے وضو جائز نہیں اگرچہ اس کی رقت باقی ہو تو اس رقت کی بقا سے مراد اگر ٹھنڈا ہونے سے قبل ایسا ہو تو مصنف نے اس کا انکار نہیں کیا بلالکہ انہوں نے اس رقت پر یہ کہہ کر نص کردی کہ ٹھنڈا ہونے سے قبل رقیق ہو اور ٹھنڈا ہونے کے بعد گاڑھا ہو کیونکہ انہوں نے ٹھنڈا ہونے کے بعد رقیق کا اعتبار کیا ہے اور یہ کہ اس سے انہوں نے وضو کو ناجائز کہا اور اگر ان کی مراد یہ ہو کہ ٹھنڈا ہونےکے بعد بھی رقیق رہے تو پھر ان دونوں حضرات کا اس سے وضو کو منع کرنا درست نہیں ہے اور یہا ں کمال امتزاج ماننا درست نہیں ہے کیونکہ اگر اس وقت کمال امتزاج ہوتا تو پھر کچھ دیر بعد گاڑھا ہوجاتا۔ (ت)اور ثالثااور اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ علامہ شرنبلالی نے منظف اور غیر منظف پکنے والے دونوں کو برابر ومساوی قرار دیا ہے تو بھی یہ درست ہے کیونکہ امام ابویوسف اور امام محمد دونوں اماموں کے ہاں منظف اور غیر منظف دونوں برابر ہیں جیسا کہ امام ابویوسف سے مشہور اور امام محمد سے مشہور اور غیر مشہور دونوں طرح منقول ہے نمبر ۱۰۷ میں حلیہ تتمہ اور ذخیرہ کے حوالے سے ہم نے جو بیان کیاتھا اس کو یاد کرو وہ یہ کہ امام ابویوسف منظف میں رقت ختم ہونے کا اعتبار کرتے ہیں ان سے یہ ایك ہی روایت ہے جبکہ غیر منظف کے بارے میں ان سے مروی روایات مختلف ہیں بعض روایات میں وہ یہاں رقت کے خاتمہ کا اعتبار کرتے ہیں یہی روایت مشہور ہے۔ اور بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ یہ شرط نہیں لگاتے اور صرف اوصاف کی تبدیلی کااعتبار کرتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور امام محمد دونوں صورتوں میں غلبہ کیلئے رنگ کی تبدیلی کا اعتبار کرتے ہیں ان سے یہی مشہور روایت ہے۔ اور بعض روایات میں وہ
غلبہ میں رقت کے خاتمہ کا اعتبار کرتے ہیں اور انہوں نے منظف وغیر منظف کے فرق کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا لہذا اگر بقول دونوں معترضین حضرات علامہ شرنبلالی دونوں صورتوں کو امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کی اتباع میں مساوی قرار دیں تو کیاقباحت ہے جبکہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے بعدیہ دونوں امام ہی قابل اتباع ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
بالجملہ قول مشہور ومسلك جمہوریہی ہے کہ طبخ میں وجہ منع زوال رقت ہے یہی ہے وہ کہ ہم نے ۲۱۷ میں تحقیق کیا والان اقول :
(اور اب میں کہتا ہوں۔ ت) وبالله التوفیق(۱)(اور الله کی توفیق سے۔ ت) اوپر معلوم ہوا کہ یہاں چار چیزیں ہیں :
(۱) اجزا ء (۲) اوصاف (۳) طبیعت (۴) اسم۔ اور اعتبار اجزاء تین وجہ پر ہے : مقدار طبیعت اسم۔ طبخ میں علت منع کثرت اجزا لینا تو محتمل نہیں کہ یہ کثرت ہوگی
تو ابتدا سے نہ کہ بوجہ طبخ۔ یوں ہی تغیر لون وطعم وریح۔
اولا غالبا قبل حصول طبخ ونضج ہوجائے گا تو اسے بھی تغیر بالطبخ میں نہیں لے سکتے اور بعض جگہ کہ بعد تمامی طبخ ہو اسے علت قرار دینے پر عام مطبوخات تغیر بالطبخ سے نکل جائیں گے کہ ان میں تغیر وصف طبخ سے نہ ہوا۔
ثانیا : اس سب سے قطع نظر ہو تو اعتبار اوصاف مذہب صحیح معتمد کے خلاف ہے خود خانیہ میں اس کے خلاف کی تصحیح فرمائی کماتقدم مشروحافی ۱۰۱و۱۲۲فھذاردجدید(۲)علی مافی البحروالنھر(۳)مستندین الی عبارۃ الخانیۃ الحکم علی وجود ریح الباقلاء وجامع(۴) الرموز المعتبر تغیر اللون
(جیسا کہ واضح طور پر پہلے ۱۰۱ اور ۱۲۲ میں گزرا۔ پس یہ بحر اور نہر کے اس بیان کی نئی تردید ہے جو خانیہ کی عبارت کی طرف منسوب ہے جس میں حکم کی بنیاد باقلی کی بو پر ہے نیز یہ جامع الرموز کی تردید ہے جس نے رنگ کی تبدیلی کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
ثم اعتبار(۵)الریح فیہ نظر فان محمدا الناظر الی الاوصاف لم یعتبرھا فی المشھور عنہ انما اعتبر اللون ثم الطعم
پھر تغیراوصاف میں بو کا اعتبار محل نظر ہے کیونکہ خود امام محمد جنہوں نے اوصاف کا لحاظ کیا ہے بو کا اعتبار نہیں کرتے ان سے مشہور روایت یہی ہے
کہ وہ صرف رنگ اور پھر ذائقہ اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ ان شاء الله آئندہ آئےگا اور اگر بو کے اعتبار کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو بھی صرف اسی کا اعتبار کیوں۔ (ت)
باقی رہے دو طبیعت واسم۔ اعتبار طبیعت تو وہی قول مذکور جمہور ہے اور امام زیلعی واتقانی نے اعتبارا سم ذکر فرمایا۔
ففی التبیین ماتغیر بالطبخ لایجوز الوضوء بہ لزوال اسم الماء عنہ وھو المعتبر فی الباب اھ
ولما قال فی الھدایۃ ان تغیر بالطبخ لایجوز لانہ لم یبق فی معنی المنزل من السماء اذا النار غیرتہ اھ علله فی غایۃ البیان عــہ بزوال الاسم۔ تبیین میں ہے پکانے سے جو تغیر پانی میں پیدا ہوا اس سے وضو جائز نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں پانی کا نام ختم ہوجاتا ہے اور پانی کی تبدیلی میں اس کے نام کی تبدیلی ہی معتبر ہے اھ اور یوں ہی ہدایہ کے قول کی بنیاد پر جس میں ہے کہ اگر پکانے کی وجہ سے پانی میں تغیر پیدا ہوا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اب وہ آسمانی پانی کی کیفیت پر نہیں رہابلالکہ آگ نے اس کو متغیر کردیا ہے اھ غایۃ البیان میں وضو جائز نہ ہونے کی علت زوال اسم کو قرار دیا ہے۔ (ت)
اقول : وہ اعتبار طبیعت کے منافی نہیں کہ تغیر طبع قطعا موجب زوال اسم ہے مگر یہاں ایك دقیقہ اور ہے۔
فاقول : وبہ نستعین اوپر گزرا کہ طبخ(۲) میں کبھی پانی مقصود نہیں ہوتا تو یہاں زوال اسم بے زوال طبع نہ ہوگا لعدم صیرورتہ شیئا اخر لمقصود اخر (کیونکہ چیز دگر مقصد دگر کیلئے نہیں ہوئی۔ ت) اور کبھی خود بھی مقصود ہوتا ہے اس میں تین صورتیں ہیں : ایک : معہود کہ پانی قدر مناسب یا اس سے کم ہو یہ بعد طبخ طبع واسم دونوں میں متغیر ہوجائےگا۔
عــہ بل فی نفس الھدایۃ وایضاالکافی فیماطبخ المنظف فغلب علیہ لزوال اسم الماء عنہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
بلالکہ خود ہدایہ اور کافی میں بھی ہے کہ وہ پانی جس میں ایسی چیز جو نظافت کیلئے مفید ہو کو پکایا اور وہ چیز غالب ہوجائے تو پانی کا نام تبدیل ہوجائےگا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
سوم : زائد ہو مگر نہ اس درجہ مفرط اس میں محتمل کہ زوال طبع نہ ہو اور نام بدل جائے مثلا کہا جائے شوربا کس قدر زائد کردیا ہے بخلاف اس صورت کے کہ مثلا دیگچہ(۱) بھر پانی میں چھٹانك بھر گوشت پکائیں اسے کوئی شوربا نہ کہے گا جمہور نے بلحاظ معہودزوال طبع پر اقتصار فرمایا اور ان بعض نے شمول غیر معہود کیلئے بلفظ تغیر تعبیر فرمایا جس سے تغیر اسم مقصود ہے نہ تغیر وصف کہ طبخ پر موقوف نہیں وقد اشرنا الی ھذا فی ۲۱۷ عند التوفیق بین قولھم اذابرد ثخن وقول الغنیۃ غالبا والله تعالی اعلم (ہم ۲۱۷ میں اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں جہاں پر ان کے قول “ اذابرد ثخن “ اور غنیہ کےقول “ غالبا “ میں توفیق بیان کی والله تعالی اعلم۔ ت)
اقول : وبہ ظھر الفرق بین المنظف وغیرہ فانہ اذا زال الاسم حصل المنع ولایزول الاسم فی المنظف الابزوال الطبع بالفعل لانہ لایقصد بہ الامایقصد من الماء وھو التنظیف فھذا غایۃ التحقیق والله سبحنہ ولی التوفیق۔
میں کہتا ہوں اسی سے منظف (یعنی نظافت والی چیز کو پکانے ) اور غیر منظف کا فرق واضح ہوا کیونکہ پانی کانام بدل جانے پر وضو منع ہوجاتا ہے جبکہ منظف میں نام کی تبدیلی اسی صورت میں ہوتی ہے جب بالفعل پانی کی طبع ختم ہوجائے کیونکہ خالص پانی اور منظف دونوں کا مقصد نظافت کا حصول ہے یہ کامل تحقیق ہے الله تعالی ہی توفیق کامالك ہے (ت)
بالجملہ حاصل تنقید وتنقیح یہ ہے کہ اگر کلام(۲) طبخ معہودسے خاص ہو تو مدار زوال طبع پر ہے اور یہی ہے وہ جسے عامہ کتب معتمدہ نے اختیار کیا اور اس وقت منظف میں فرق یہ ہوگا کہ غیر منظف میں زوال بالقوۃ کافی ہے یعنی ٹھنڈی ہونے پر جرم دار ہوجائے اور منظف مثل صابون واشنان میں زوال بالفعل درکار اور اگر معہودو غیر معہود سب کو شامل کریں تو مدار زوال اسم پر ہے خواہ صرف زوال طبع کے ضمن میں پایا جائے جبکہ پانی مقصود نہ ہو یا صرف چیز دیگر مقصد دیگر کیلئے ہوجانے کے ضمن میں جیسے طبخ غیر معہود میں جبکہ زیادت مفرطہ نہ ہو خواہ دونوں کے ضمن میں جہاں طبخ معہود اور پانی مقصود اس وقت بجائے زوال طبع تغیر کہیں گے امام دقیق النظر حافظ الدین نسفی نے وافی وکنز میں یہی مسلك لیا اور نقایہ واصلاح وتبیین وغایۃ البیان نے ان کا اتباع کیا اب منظف وغیر منظف میں فرق یہ ہوگا کہ غیر منظف میں کبھی باوصف بقائے رقت زوال اسم ہوجاتا ہے بخلاف منظف۔ اس کی نظیریں غیر مطبوخ میں کثیر ہیں جیسے نبیذ وصبغ ومداد وغیرہا مسائل کثیرہ۔ یہ ہے وہ جس سے بتوفیقہ تعالی تمام کلمات ائمہ ملتئم ہوگئے ولله الحمد علی الدوام* وعلی نبیہ وذویہ
بحث دہم ارشادات متون پر نظر اقول ہم فصل دوم میں ثابت کر آئے کہ مائے طاھر غیر مستعمل کے فی نفسہ ناقابل وضو ہوجانے کے چار بلالکہ تین ہی سبب ہیں :
(۱) کثرت اجزائے مخالط جس میں حکما دوسری صورت مساوات بھی داخل۔
(۲) زوال رقت کہ جرم دار ہوجائے۔
(۳) زوال اسم جس سے یہاں اس کی وہ خاص صورت مراد کہ مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجائے۔ نیز فصل حاضر کی بحث دوم ابحاث غلبہ میں گزرا کہ غلبہ اجزاء کہ مذہب امام یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی ہے ان تینوں صورتوں پر بولا جاتا ہے بالجملہ مائے مطلق کی تعریف جو ہم نے محقق ومنقح کی اور امام ابویوسف کا مذہب کہ وہی صحیح صحیح ومعتمد ہے حرف بحرف متطابق ہیں ولله الحمد۔
اب متون کو دیکھئے تو وہ بھی ان تین سبب سے باہر نہیں انہیں کو وجہ منع ٹھہراتے ہیں اگر سب کااستیعاب نہیں فرماتے اور یہ کچھ نئی بات نہیں متون (۱) نہ متون جن کی وضع اختصار پر ہے بلالکہ شروح میں بھی جن کا کام ہی تفصیل وتکمیل ہے صدہا جگہ احاطہ صور نہیں ہوتا۔ بعض کی تصریح بعض کی تلویح کہ اشارت دلالت اقتضاء فحوی سے مفہوم ہوں اور کبھی بعض یکسر مطوی کمالایخفی علی من خدم کلماتھم وھذا من اعظم وجوہ العسر فی ادراك الفقہ والله المیسر لکل عسیر ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم (جیسا کہ یہ بات ان لوگوں پر مخفی نہیں جو مصنفین کی عبارات پر کام کرتے ہیں فقہ کے ادراك میں یہ مشکل مرحلہ ہے اور الله تعالی ہر مشکل کو آسان فرماتا ہے لاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ ت)یہاں اکثرمتون نے صرف سبب دوم یعنی زوال طبع کا ذکرفرمایا قدوری وبدایہ نے عبارت میں اس کی کچھ تفصیل نہ فرمائی ہاں مثالوں سے صورت طبخ وغیرہ کی طرف اشارہ کیاوقایہ وغرر ونورالایضاح نے اسے دو سببوں کی طرف مفصل کیاطبخ وغلبہ غیراور ملتقی نے تیسراسبب جزئی اور اضافہ کیاکثرت اوراق۔ پھر غلبہ غیر کو ان سب نے مطلق رکھا مگر اول نے کہ اجزا سے مقید کیا۔ اقول اور اس کا ارادہ ملتقی میں چاہئے ورنہ کثرت اوراق بھی غلبہ غیر ہی ہے بہرحال کثرت اجزاء و زوال اسم جن میں زوال زوال طبع نہ ہو ان چھ(۲) میں مذکور نہ ہوئے ہدایہ نے شرح میں ان کا اشعار فرمایا اول کا ان لفظوں سے الخلط القلیل لامعتبربہ فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء (قلیل ملاوٹ کا اعتبار نہیں صرف غالب کا اعتبار ہوتا ہے اور غلبہ میں اجزاء کا لحاظ ہوتا ہے۔ ت)دوم کا اشارہ خفیہ اس عبارت سے ان تغیر بالطبخ
اقول : اوراسے کثرت اوراق وطبخ سے مفصل فرماکر اشارہ کیا کہ زوال طبع طبخ سے ہو خواہ بلاطبخ اور اگر تغیر کو تغیر طبع ومقاصد دونوں کو عام لے کر کثرت اوراق میں صرف اول اور طبخ میں دونوں رکھیں تو بعض صور سبب سوم یعنی زوال اسم کی طرف بھی اشارہ ہوگا اصلاح نے دو سبب اخیر لیے زوال طبع واسم اقول مگر دونوں کی صرف بعض صورپر اقتصار کیا کہ اول کو غلبہ اجزاء اور دوم کو طبخ سے مقید کردیا نقایہ میں اگر تغیربمعنی زوال طبع ہو تو اپنی اصل وقایہ کی طرح ہے اور بمعنی زوال اسم لیں اور یہی انسب ہے تو مثل اصلاح دو سببوں کا ذکر ہوااقول اور بہرحال سبب اول میں وقایہ واصلاح سے اصلح کہ غلبہ اجزاء سے مقید نہ فرمایا۔
اقول : (۱)لکن فیہ اشکال قوی فان بالحکم الکلی والاستثناء انحصر سبب المنع فیما ذکر (۲) والعجب ان لم یتنبہ لہ الشارحان الفاضلان۔
اقول : ویمکن الجواب عن السبب الاول بان کلامہ مشعر بکون المخالط اقل اجزاء لما قدمنا فی ثانی ابحاث زوال الطبع ان الاختلاط ینسب الی اقل الخلیطین فکانہ قال یتوضو بہ وان خالطہ ماھو اقل اجزاء منہ الا اذا اخرجہ عن رقتہ
میں کہتا ہوں لیکن اس میں اشکال ہے کیونکہ کلی حکم اور استثناء کی وجہ سے وضو سے منع کا سبب صرف اس کا ذکر کردہ ہی ہوگا اور تعجب ہے کہ دونوں فاضل شارح حضرات کی توجہ اس طرف نہ ہوئی۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور پہلے سبب کا جواب یوں ممکن ہے کہ اس کے کلام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پانی میں ملائی ہوئی چیز کے اجزاء کم ہوں جیسا کہ ہم زوال طبع کی ابحاث میں سے دوسری بحث میں ذکر کرچکے ہیں کہ اختلاط کو کم اجزاء والی چیز کی طرف منسوب کیا جاتا ہے گویا اب اس کا کلام یوں ہوا
کہ اس پانی سے وضو جائزہے اگرچہ اس میں ملنے والی چیز کے اجزاء کم ہوں مگر جب یہ چیز پانی کی رقت کو ختم کردے یا پکنے کی صورت میں اس کے نام کو تبدیل کردے تو وضو ناجائز ہوگا لیکن اس جواب سے ایك اعتراض باقی رہا وہ یہ کہ تیسرے سبب (نام کی تبدیلی)کو صرف پکانے کی صورت سے مختص کردیا ہے۔ ہاں اگر یوں کہا جائے کہ دوسری صورت کی طرف دلالۃ اشارہ انہوں نے کردیا ہے کیونکہ نام کی تبدیلی جب آگ کے بغیر ہوگی تو یہ صورت زیادہ قوی ہوگی اس صورت سے جس میں صرف آگ سے ہی تبدیلی آسکتی ہے گویا یوں کہاکہ یا پانی کے نام کو تبدیل کردے خواہ پکانے کی وجہ سے ہو چہ جائیکہ پکائے بغیر خود بخود نام کی تبدیلی والی صورت پیدا ہوجائے اس تقریر سے اس کی طہارت تینوں اسباب کی طرف اشارہ کرے گی تو اب یہ بہترین عبارت قرار پائے گی یہ اس عبارت کی انتہائی توجیہ ہے والله تعالی اعلم (ت)
تنویرمیں اگرچہ زوال طبع کو طبخ سے مقید کیاگیامگر غلبہ غیر کو مطلق رکھاجس سے ظاہر غلبہ بکثرت اجزا ہے تو سبب اول اور بعض صور سبب دوم کاذکر ہوا اور اگر غلبہ کو بوجہ اطلاق غلبہ طبعا واسما واجزاء کو عام لیا جائے تواسی قدر اسباب ثلثہ کو عام ہوجائےگا اور ذکر زوال طبع بطبخ ازقبیل تخصیص بعد تعمیم ہوگا۔
بل اقول : کانہ رحمہ الله تعالی لاحظ ان زائل الطبع بالطبخ لم یغلبہ المخالط نفسہ بل النار غیرتہ فیکون العطف علی ظاھرہ واذن تکون ھذہ احسن العبارات وترتقی من الضوابط الجزئیۃ الی الکلیات۔
بلالکہ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے گویا یہ لحاظ کیاکہ پکانے کی وجہ سے طبع کا زوال پانی میں ملنے والی چیز کے غلبہ سے نہیں ہے ب لکہ آگ نے اس کو متغیر کیا ہے پس یہ عطف اپنے ظاہر پر رہا۔ اب یہ تمام عبارات میں احسن قرار پائی اور جزئی ضابطہ کی بجائے کلی ضابطوں میں شمار ہوگی۔ (ت)
متون کے ضوابط منع پر یہ نہایت کلام ہے ولله الحمد کما یرضاہ* والصلوۃ والسلام علی مصطفاہ* والہ وصحبہ ومن والاہ۔
تجوز بماء خالطہ طاھر فغیراحداوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ الزعفران والصابون والاشنان ۔
ایسے پانی سے وضو جائز ہے جس میں کسی پاك چیز نے مل کر اس کے ایك وصف کو تبدیل کردیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں زعفران صابون اور اشنان ملا ہو۔ (ت)
بعینہ اسی طرح ہدایہ ووافی ومنیہ میں ہے :
غیران ھذہ زادت بشرط ان یکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء الخ و زادا فی الامثلۃ الماء الذی اختلط بہ اللبن ۔
مگر انہوں نے ایك زائد بات کی کہ وصف کی تبدیلی میں پانی کے اجزاء کا غلبہ ہو الخ اور وافی اور منیہ نے ایك مثال زائد بھی بیان کی ہے کہ وہ پانی جس میں دودھ ملا ہو۔ (ت)
وقایہ کنز اصلاح اور مختار وغیرہا :
وان غیراحد اوصافہ طاھر اھ ومثلت الوقایۃ بامثلۃ القدوری والاصلاح بالتراب والزعفران۔
اگرچہ کسی پاك چیز نے پانی کا ایك وصف تبدیل کردیا ہو اھ وقایہ نے قدوری والی مثالیں ذکر کی ہیں اور اصلاح نے مٹی اور زعفران کی مثال دی ہے۔ (ت)
(۲)بعض اوصافہ کہ دو کو بھی شامل۔ بحر میں مجمع البحرین سے ہے :
نجیزہ بغالب علی طاھر کزعفران تغیربہ بعض اوصافہ ۔
ہم وضو کو جائز قرار دیتے ہیں اس پانی سے جو ملنے والی پاك چیز پر غالب ہو اور اس کے بعض اوصاف متغیر ہوجائیں یسے زعفران (ت)
وان غیر طاھر بعض اوصافہ کالتراب والزعفران والصابون ۔
اگرچہ پانی کے بعض اوصاف کو پاك چیز نے متغیر کر دیا ہو جیسے مٹی زعفران اور صابون۔ (ت)
(۳) کل اوصاف۔ غرر میں ہے :
وان غیر اوصافہ طاھرجامد کاشنان و زعفران وفاکھۃ و ورق فی الاصح ان بقی رقتہ ۔
اگرچہ پانی کے اوصاف کو کسی پاك جامد چیز نے تبدیل کردیا ہو جیسے اشنان زعفران پھل اور پتے جبکہ پانی کی رقت باقی رہے یہی اصح قول ہے (ت)
یہی مفادتنویر ہے :
فانہ ذکرمثلہ تبعالہ کعادتہ رحمھما الله تعالی وان ترك قولہ غیراوصافہ فقد دل علیہ بادارۃ الحکم علی بقاء الرقۃ مطلقا۔
کیونکہ انہوں نے بھی اس کی مثل کہااپنی عادت کے مطابق ان کی اتباع کرتے ہوئے اگرچہ انہوں نے غرر کا قول “ غیر اوصافہ “ کو چھوڑ دیاہے لیکن اس پر دلالت کیلئے انہوں نے حکم کو پانی کی رقت کی بقاء پر مطقا قائم رکھا۔ (ت)
ولہذا درمختار میں فرمایا :
وان غیرکل اوصافہ
(اگرچہ اس کے تمام اوصاف کو بدل دے۔ ت)
سادات ثلثہ حلبی طحطاوی شامی نے اسے مقرر رکھا نورالایضاح میں ہے :
ولایضر تغیر اوصافہ کلھا بجامد
(کسی جامد کی وجہ سے اگر پانی کے تمام اوصاف بدل جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ت)
اس پر شرح میں بڑھایا :
بدون طبخ ثم قال مستدلا علیہ لمافی صحیح البخاری ومسلم ان النبی صلی الله تعالی بدون طبخ (پکائے بغیر) پھر اس پر دلیل پیش کرتے ہوئے وہ روایت ذکر کی جس کو بخاری اور
اقول : تعقب علی الاستدلال بالحدیثین الاولین و الرابع لاعلی الحکم فقد سلمہ من قبل وسلم منہ الحدیث الثالث ثم قد علمت مماحققناان المغتفر فی المنظف تھیؤہ للثخن اما الاوصاف فلاعبرۃ بھا اصلا لکن یکفی منعا علی الدلیل۔
مسلم نے بیان کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس شخص کو جو کہ احرام کی حالت میں اونٹنی سے گرکر زخمی ہوا حکم فرمایاکہ وہ بیری کے پتوں والے پانی سے دھوئے۔ اور آپ نے قیس بن عاصم کو مسلمان ہونے پر بیری کے پتوں والے پانی سے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ اور خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے آٹے کے اثر والے پانی سے غسل فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجنابت کے غسل میں خطمی والے پانی کے استعمال کو کافی سمجھتے اھ شرح نورالایضاح کی عبارت پر سید طحطاوی نے تعاقب کیا اور کہا کہ بیری کے پتوں جیسی چیز پانی میں تغیر پیدا کرے تو معاف ہے اس حکم پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے تو صفائی مقصود ہے جبکہ
دوسری چیزوں میں یہ مقصد نہیں ہوتا ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں کہ سید طحطاوی نے شرح نورالایضاح پر تعاقب حکم کے بارے میں نہیں کیابلالکہ پہلی دو اور چوتھی حدیثوں سے استدلال پر تعاقب کیاہے لہذا حکم اور تیسری حدیث کو انہوں نے محفوظ رکھا پھر آپ کو ہماری تحقیق سے معلوم ہوچکا ہے کہ صفائی والی چیز میں گاڑھے پن کی استعداد تك معافی ہے اس میں اوصاف کا بالکل اعتبار نہیں ہے لیکن دلیل پر منع (اعتراض) کیلئے اتنا کافی ہے۔ (ت)
اور تحقیق یہی ہے کہ تینوں وصفوں کا تغیر بھی کچھ مضر نہیں جب تك موانع ثلاثہ مذکورہ سے کوئی مانع نہ پایا جائے
(۱)بیانہ ان النظار افتر قوافی العبارۃ الاولی مثلھا الثانیۃ فرقتین فریق یعتبر فیھا
اس کا بیان یہ ہے کہ پہلی عبارت (ایك وصف والی)اور دوسری عبارت(دو وصفوں والی) کے
بارے میں علماء کے دو فریق بن چکے ہیں ایك فریق ان عبارات میں مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہوئے پہلی عبارت میں دو وصفوں کی تبدیلی پر وضو کوناجائزکہتا ہے اور دوسرا عبارت میں مفہوم کا اعتبار نہ کرتے ہوئے وضو کو جائزکہتاہے اور یہ گروہ تمام اوصاف (رنگ بو ذائقہ)کی تبدیلی پر وضو ناجائز مانتا ہے لیکن پھر اس گروہ میں سے محقق لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تمام اوصاف کی تبدیلی سے عدم جواز صحیح قول کے خلاف ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اگر تمام اوصاف بھی تبدیل ہوجائیں تب بھی وضو جائز ہے (اس بحث کے بارے میں عبارات درج ذیل ہیں) امام زیلعی نے تبیین میں فرمایا کہ قدوری نے اشارہ کیا ہے کہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہوگااھ اسی طرح ہے درج ذیل کتب میں فتح بحر نہایہ میں بدایہ کی عبارت پر عنایہ۔ بنایہ۔ درایہ۔ کفایہ۔ غایۃ اتقانیہ شرح الطحاوی الخ ان میں سے پہلے دونوں نے کہاکہ ان کا “ قول احد اوصافہ “ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا لیکن ماہرین سے اس کا خلاف منقول ہے یہ کہہ کر پھر ان دونوں نے ۷۹ میں گزشتہ بحث کو ذکر کیا اور اس پر عنایہ میں
واغرب فی الکفایۃ واذ ذکرمامر ثم استدرك علیہ بما فی التتمۃ عن الفقیہ المیدانی من مسألۃ وقوع الاوراق فی الحوض المارۃ فی ۷۶ قال قال صاحب النھایۃ لماتغیرلون الماء بالاوراق لابدان یتغیر طعمہ ایضا فکان وصفان زائلین فصار موافقا لمااشار الیہ الکتاب اھاشار فی شرح الطحاوی الیہ
(طحاوی کی شرح میں ایسا ہی اشارہ کیا ہے)کا اضافہ کیا ہے اھ اور سعدی آفندی نے اس کی تائید کی ہے۔ اور ان کے بعد والے دونوں نے یہ کہاکہ “ ان قول احد اوصافہ “ میں اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا۔ لیکن صحیح روایات اس کے خلاف ہیں امام کرخی سے ایسا ہی مروی ہے اھ کفایہ نے یہی اشارہ ذکر کرکے پھر نہایہ والا ماہرین سے منقول قول کا حوالہ بیان کیا۔ اتقانی نے قدوری والا اشارہ ذکر کرکے پھر کہا ہمارے اصحاب کےظاہر قول کے مطابق اس سےوضو جائز ہے کیا طحاوی کی شرح میں موجود قول نہیں دیکھا الخاھ اور جوہرہ میں ہےکہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہےجیسا کہ شیخ نےاشارہ کیا ہےلیکن صحیح یہ ہےکہ وضو جائز ہے مستصفی میں ایسا ہے اھ یہ بات ۱۰۱ میں گزر چکی ہے اور یوں ہی ۷۱ میں حلیہ کے حوالہ سے مفہوم کے اعتبار کے بارے میں گزرا اور پھر اس کے رد میں مستصفی کی تصحیح کے حوالہ سے ۱۰۱ میں ذکر کرکے پھر نہایہ کے کلام کو ذکر کیا ہے فتح الله المعین میں ہے کہ ایك وصف کی قید سی دو وصف کی تبدیلی میں وضو کا عدم جواز سمجھ آتاہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اھ کفایہ میں عجیب انداز سے مذکورہ بات کوبیان کرکے پھر فقیرمیدانی سے تتمہ میں منقولہ مسئلہ سے اس پر استدراك کیااور وہ مسئلہ حوض میں پتے گرنے کے بارے میں ہے جو ۷۶ میں گزرا ہے توکفایہ نے کہا
اقول : والمراد فی صورۃ الاوراق کماافصح عنہ النھایۃ فلایقال قدیتغیر لونہ بقلیل من اللبن والزعفران لاطعمہ وبالجملۃ کان الحق ان یستدرك بماعن الاساتذۃ علی ماعن الفقیہ کمافعلوا (۱) لاالعکس کالکفایۃ وتبعہ مسکین فتعقب المفھوم بمانقل فی النھایۃ عن الاساتذۃ ثم عاد فقال لایتوضو وان اجازہ الاساتذۃ اھ ومثلہ تعقب ورجع فی مجمع الانھرثم قال لکن یمکن التوجیہ بان نقل صاحب النھایۃ محمول علی الضرورۃ فلاینافی القول بعدم الجواز عند الضرورۃ کمافی التحفۃ اھ
کہ صاحب نہایہ نے یہ بیان کیا کہ جب پتوں کی وجہ سے پانی کا رنگ تبدیل ہوگا تو لازمی طور پر اس کا ذائقہ بھی تبدیل ہوگا۔ تو دو وصف کی تبدیلی ہونے پر یہ کتاب کے موافق ہوجائے گا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اس سے اساتذہ (ماہرین) سے منقول شدہ موقف کارد نہیں ہوتا جس سے آپ آگاہ ہیں اس کے باوجود کہ یہ بات سب نے ذکر کی کہ جب رنگ بدلے گا تو ذائقہ بھی ضرور بدلے گا۔ نہایہ اور بنایہ نے اس کو قابل اعتماد نہ سمجھا اھ یہ آخری دونوں (کفایہ اور غایہ) کی عبارت تھی۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ پانی میں پتے گرنے کی وہ صورت مراد ہے جس کو نہایہ نے ذکر کیاہے لہذا اب یہ کہنے کی گنجائش نہیں کہ اگر پانی میں تھوڑاسا دودھ یازعفران ڈال دیاجائے تو پانی کا رنگ بدلنے کے باوجود اس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا تاہم حاصل یہ ہے کہ فقیہ میدانی پر اساتذہ سے منقول قول سے استدراك کرنا چاہیے تھا جیسا کہ دیگر حضرات نے کیا ہے کفایہ کی طرح اس کا عکس نہیں کرنا چاہئے تھا اور مسکین نے کفایہ کی پیرو ی میں مفہوم کا اعتبار کرتے ہوئے نہایہ میں ماہرین کے نقل کردہ قول پر تعاقب کیا اور پھر دوبارہ کہا کہ (دو وصف تبدیل ہوجانے پر)پانی سے وضو جائز نہیں ہے اگرچہ اساتذہ سے اجازت منقول ہے اھ اسی
طرح کا تعاقب و رجوع مجمع الانہر میں کیا اور پھر کہا لیکن یہ توجیہ ممکن ہے کہ صاحب نہایہ کی نقل کردہ ماہرین کی رائے ضرورت کیلئے ہو اور یہ بغیر ضرورت وضو ناجائز ہونے والی تحفہ میں مذکور موقف کے خلاف نہیں ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں مجمع الانہرنے اس بات میں حلیہ کی پیروی کی ہے اور آپ۷۷میں اس کا رد معلوم کرچکے ہیں۔ دوسرے فریق نے مفہوم مخالف کاانکار کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے فریق نے (ایك وصف یا بعض اوصاف کی تبدیلی کے بارے میں) لفظ “ ایک “ اور “ بعض “ کو بشرط لاغیر لیاہے اور اس دوسرے فریق نے لابشرط غیر لیاہے پس اس دوسری صورت میں تمام اوصاف شامل ہوں گے جیسا کہ جزئی کلی میں شامل ہوتی ہے اور ۱۰۱ میں زاہدی کے حوالہ سے شرح قدوری میں گزرامصنف کا یہ قول کہ ایك وصف کا ذکر تقییدکا فائدہ نہیں دیتا الخ اور اس کو حلیہ میں نقل کیا پھر کہا کہ یہ عدم تقیید واقع کے لحاظ سے ہوگی ورنہ لفظوں کا مفہوم مخالف تو اسی ایك وصف کی تبدیلی سے جو ازثابت کرتاہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اور اسی حقیقت پر اس تفریع کا بیان مبنی ہے جو آئندہ چنوں اور باقلی کے بارے میں کہ ان کو جب پانی میں ڈال کر ترکیا جس سے پانی کے تینوں اوصاف تبدیل ہوجائیں اھ اور جس تفریع کی طرف اشارہ کیاوہ منیہ کا قول اور اسی طرح چنے
وقال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر وقعت عبارۃ کثیر من المشائخ ھکذا غیراحد اوصافہ طاھر فتوھم بعض شراح الھدایۃ ان لفظ الاحد احترازعمافوقہ ولیس کذلك لما فی الینابیع لونقع الحمص اوالباقلاء فتغیرلونہ وطعمہ و ریحہ یجو زبہ الوضوء وقال فی النھایۃ المنقول عن الاساتذۃ فنقل مامر ثم قال واشار فی شرح الطحاوی الیہ اھ واقرہ الشرنبلالی وعبد الحلیم والمولی حسن العجیمی واید الخادمی بقولہ والقول ان مافی الھدایۃ غیرروایۃ النھایۃکماتوھم بعید اھ وقال علی قولہ ولیس کذلك وقد یجاب انہ (یرید التقیید باحد الاوصاف)فیمایخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ فان المخالط للماء اذالم یوافقہ
اور باقلی جب ان کو پانی میں ڈال کر تر کیا جائے اگرچہ اس کا رنگ ذائقہ اور بو بدل جائے ہے اھ اور جامع الرموز میں ہے کہ ہدایہ میں ایك وصف کا ذکرمقید کرنے کیلئے نہیں جیساکہ زاہدی میں ہے اور مضمرات میں اسی طرف اشارہ ہے اھ کنز کے قول احد اوصافہ اوجمیع اوصافہ (ایك وصف یا تمام اوصاف کی تبدیلی)پر علامہ احمد بن یونس شلبی نے یہ کہاکہ بشرطیکہ پانی اپنی خلقت پر باقی رہے اور یہ کہہ کر انہوں نے اھ کہالیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کس کی عبارت نقل کی ہے اور سیاق سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلام شیخ یحیی کا ہے۔ درر میں علامہ ملا خسرو نے کہا کہ بہت سے مشائخ کی عبارت یوں ہے غیر احدا وصافہ طاھر (پاك چیز ایك وصف کو تبدیل کردے)تو اس سے ہدایہ کے بعض شارحین کو وہم ہوا کہ لفظ احد(ایک) سے زائد کی نفی مقصود ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ینابیع میں ہے کہ اگر چنے باقلا پانی میں تر ہو کر اس کے رنگ اور ذائقہ اور بو کو تبدیل
عــہ لعل یحیی ھذا ھو الشیخ یحیی القوجحصاری صاحب الایضاح شرح الکنز والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
شاید اس یحیی سے مراد شیخ یحیی القو جحصاری صاحب ایضاح شرح کنز ہوں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : (۱) لکن تخصیص الکلام عــہ بالجامد
کردیں تو بھی اس سے وضو جائز ہے اور نہایہ میں کہا کہ اساتذہ سے منقول ہے اوران کے گزشتہ قول کو نقل کرکے کہاکہ طحاوی کی شرح میں اس طرف اشارہ ہے اھ شرنبلالی عبدالحلیم اور مولی ملاحسن عجیمی نے اس کو ثابت کیااور خادمی نے اس کی تائید کرتے ہوئے یوں کہا کہ یہ کہنا کہ ہدایہ کا بیان نہایہ کی روایت کے خلاف ہے یہ وہم بعید ہے اھ خادمی نے ملاخسرو کے قول مذکور ولیس کذلك کے بارے میں کہاکہ اس کا جواب یوں ہوسکتا ہے کہ ایك وصف کی قید وہاں زائد اوصاف کی نفی کرےگی جہاں پانی میں ملنے والی چیز تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو کیونکہ تمام اوصاف میں مخالف چیز اگر پانی کے دو یا تینوں اوصاف کو تبدیل کردے تو اس پانی سے وضو جائز نہ ہوگا ورنہ جائز ہوگا۔ میں نے یہاں کہاکہ یہی امام زیلعی کا جواب ہے جیسا کہ آئندہ آئے گا اھ پھر خادمی نے خود اس کا رد کرتےہوئے کہا زیر بحث کلام اوصاف میں پانی کے مخالف چیز کے بارے میں نہیں ہے خادمی کی مراد یہ ہے کہ ان غیرا حداوصافہ یہ قول پانی میں ملنے والی اس چیز کے بارے میں ہے جو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو اس قبیلہ سے نہیں جس میں یہاں کلام ہے کیونکہ یہ تو جامد چیز کے بارے میں بحث ہے جبکہ ضابطہ والوں نے اوصاف کااعتبار صرف بہنے والی چیزوں کے بارے میں کیا ہے جو آئندہ آئےگا جبکہ یہ غیر کے غلبہ والی بات ہے جو غرر نے اپنے کلام کے آخر میں ذکرکیاہے لیکن وہاں جامد میں تو رقت کا اعتبار ہے۔ پس اس کو اس پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں لیکن اوصاف کی تبدیلی کے
عــہ ای حکم الجواز مع تغیرفی الاوصاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : نعم اذاطوینا الکشح عن الضابطۃالحادثۃ وقصرناالنظرعلی نصوص المذھب و المذاھب المنقولۃ عن ائمۃ المذھب فھما مسلکان متخالفان لان جعل احد قیدا احتراز یایقضی باعتبار الغلبۃ بالاوصاف وھو مذھب محمد و جعلہ اتفاقیا یطرحہ وھومذھب ابی یوسف رضی الله تعالی عنھما وھذا ھو الاولی والاحزی لوجوہ تتلی۔
باوجود وضو کے جواز کو جامد چیز سے خاص کرنا ضابطہ مذکورہ کے بعدکی بات ہے حالانکہ امام زیلعی سے پہلے تمام حضرات کا کلام مطلق ہے حاصل یہ ہے کہ امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا یوں امام زیلعی پر سے اعتراض ساقط ہوگیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اہل ضابطہ کے دو مسلك ہیں اول یہ کہ ایك وصف کے ذکر کو قیدبناکر اس کو بہنے والی ایسی چیز کاحکم قرار دیا جو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو یہ امام زیلعی کا مسلك ہے اور دوسرا یہ کہ وصف واحد کے ذکر کو اتفاقی قید بنایا اور اس کو جامد کا حکم قرار دیا یہ درر اور اس کے موافق حضرات جیسے تنویر نورالایضاح کا مسلك ہے اور یہ دونوں مسلك درست ہیں اور ضابطہ کے موافق ہیں لہذا کوئی اعتراض نہیں صرف دونوں مسلکوں کے خلط سے اشتباہ پیدا ہوا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہاں اگرہم نئے ضابطہ سے صرف نظر کریں اور مذہب کے ائمہ کرام سے منقول انکی نصوص کا ہی لحاظ کریں تو پھر یہ دونوں مسلك مختلف ہیں کہ واحد وصف کے ذکر کو احترازی قید قرار دے کر اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا فیصلہ کیا جائے تو یہ امام محمد کا مسلك ہوگا اور اس ایك وصف کو اتفاقی قرار دے کر غلبہ میں اوصاف کے اعتبار کو ساقط قرار دیا جائے تو یہ امام ابویوسف کا مذہب ہوگایہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے حسب ذیل وجوہ کی بنا پر۔
عــہ ای حمل الزیلعی ذلك المطلق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی اوصاف کی تبدیلی کے باوجود وضو کے جواز کا حکم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وثانیا : (۲) النصوص مطلقۃ تشمل الجامد والمائع واعلی الله درجات الامامین برھان الدین الفرغانی وحافظ الدین النسفی اذ زادافی الامثلۃ الماء الذی خالطہ اللبن فاتیا بالتنصیص علی التعمیم وبطلان التخصیص ومحمدانما یقول باعتبار الاوصاف فی المائعات کما یأتی باعتبارالاوصاف فی المائعات کمایأتی تحقیقہ ان شاء الله تعالی فجعلہ للاحتراز یجعل النصوص خارجۃعن المذھبین والمتون ماشیۃ علی مالاوجودلہ فی المذھب وانما کان وضعھا لنقل المذھب۔
وثالثا : (۳) معلوم ان دلالۃ المفھوم غیر قطعیۃ ورب قیود تجیئ فی الکتب لامحترزلھا فحمل النصوص علی ھذا اولی ام جعل القید للاحتراز ثم القیام بالاعتراض۔
و رابعا : (۴) لاشك ان کل کل معہ بعضہ وماغیر الاوصاف فقد غیر احدھا
میں کہتا ہوں اول : یہ کہ آپ کو معلوم ہے کہ امام ابویوسف کا مذہب ہی قابل اعتماد اور صحیح ہے اور جب تك ممکن ہوگا ہم نصوص کو صحیح مذہب پر محمول کریں گے اور آگے نہیں پڑھیں گے۔
دوم : یہ کہ اس بارے میں نصوص میں اطلاق ہے جو جامد اور بہنے والی دونوں کو شامل ہے اس تعمیم پر امام برہان الدین فرغانی اور امام حافظ الدین نسفی(الله تعالی ان دونوں اماموں کے درجات کو بلند فرمائے) نے نص کرتے ہوئے اس مسئلہ کی مثالوں میں ایسے پانی کوجس میں دودھ ملا ہو کا اضافہ فرمایا جس سے تخصیص کا احتمال باطل ہوگیا اور امام محمد بہنے والی چیزوں میں اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ آئندہ اس کی تحقیق آئے گی ان شاء الله تعالی پس اب ایك وصف کے ذکرکو قید احترازی بنانے کیلئے تمام نصوص کو دونوں مذکور مذاہب سے خارج کرناہے اور متون باوجودیکہ وہ مذہب کی ترجمانی کیلئے وضع ہیں ان کو ایسے امور میں رواں کرتے ہیں جن کا مذہب میں وجود ہی نہیں ہے۔
اور سوم یہ کہ واضح طورپر معلوم ہے کہ مفہوم کی دلالت قطعی نہیں ہوتی کیونکہ کتب میں بہت سے قیود غیر احترازی آتی ہیں تو اب نصوص کو اس معنی پر محمول کرنا بہتر ہے یا قید کو احترازی بنا کر پھر اعتراض کا سامنا کیا جائے
چہارم یہ کہ اس میں شك نہیں کہ ہر کل کے ساتھ اس کا بعض بھی ہوتا ہے تو جب اوصاف کو
کوئی چیز تبدیل کرے گی تو ان میں سے ایك وصف کو بھی تبدیل کرے گی جبکہ ایك کو انفرادی صفت پر رکھنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی ضابطہ ہے کیاآپ نے فتاوی خیریہ کے اس مضمون پر غور نہیں کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “ واحدۃ “ کے لفظ سے وحدت کا وصف حاصل نہیں ہوتا (اسی لئے فقہاء کرام) نے اس بات پر نص کی ہے کہ اگر کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور اس کے دس غلام ہوں اور وہ یہ کہے اگر میں ایك بیوی کو طلاق دوں تو ایك غلام آزاد اگر دو کو طلاق دوں تو دو غلام آزاد اگر تین کو طلاق دوں تو تین غلام آزاد اگر چار کو طلاق دوں تو چار غلام آزاد اس کے بعد اس نے چاروں بیویوں کو ایك ساتھ یا متفرق طورپر طلاق دے دی تو اس کے دس غلام آزاد ہوجائیں گے پہلی کے ساتھ ایک دوسری کے ساتھ دو اور تیسری کے ساتھ تین اور چوتھی طلاق کے ساتھ چار غلام آزاد ہوں گے یوں کل دس عدد غلام آزاد ہوں گے(اس مسئلہ سے واضح ہوا)کہ اگر “ واحدۃ “ میں توحیدکے وصف کا اعتبار شرط ہوتا تو سب بیویوں کو ایك ساتھ طلاق دینے کی صورت میں ایك غلام کو آزادی والی صورت نہ بنتی کیونکہ ایك غلام کی آزادی ایك بیوی کی طلاق سے مشروط تھی جبکہ ایك ساتھ طلاق دینے میں ایك بیوی کو علیحدہ طلاق نہیں ہوئی بلالکہ چاروں بیویوں کو ایك ساتھ طلاق میں ایك طلاق ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں میرے نزدیك انصاف یہ ہے کہ احوال کے اختلاف کی بنا پر ہر محل میں
مفہوم کا حکم مختلف ہوتا ہے کیونکہ اگر یقین کر لیا جائے کہ انفرادی وصف کا حکم میں کوئی دخل نہیں ہوتا تو پھر جب کوئی شخص اپنے بیٹوں کو یہ کہے کہ جو تم میں سے ایك کی عزت کرے تم اس کی عزت کرو تو اس کلام سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جو تم سب کی عزت کرے تم اس کی عزت نہ کرو (حالانکہ اس بات سے یہ مفہوم نہیں سمجھتا) اس طرح کسی حنفی کا یہ قول کہ جس نے قرآن کی آیات میں سے ایك آیت پڑھی اس کی نماز درست ہے۔ اور کسی شافعی کا یہ قول کہ جس نے اپنے سر کے بالوں میں سے ایك بال کا مسح کرلیا اس کا وضو درست ہے۔ ان میں زیادہ آیات پڑھنے میں نماز کی اور زیادہ بالوں کے مسح سے وضو کی عدم صحت نہیں سمجھی جاتی فتاوی خیریہ کی مذکورہ صورت اسی باب سے ہے کیونکہ زیادہ کرنے پر حکم بھی زیادہ ہوجاتا ہے اسی طرح حکم ایك پر موقوف نہیں ہوگا۔
اسی قبیل سے الله تعالی کا یہ قول ہے کہ اگر مشرکین میں ایك مشرك پناہ طلب کرنے اور یہ قول کہ عورتوں میں سے ایك کو وافر دو اور یہ قول بھی کہ تم میں سے کوئی ایك بیت الخلاء سے فارغ ہو کیونکہ ان اقوال میں عدد زیادہ ہونے پر عدم حکم کا فہم نہیں ہوتا حتی کہ وہ لوگ جو عبارات میں مفہوم اخذ کرنے کے قائل ہیں وہ بھی زیادہ سے حکم کی نفی نہیں کرتے بلکہ عوام الناس کے کلام میں بھی اگر ایك کا عدد ذکر ہو تو اس سے مفہوم مخالف نہیں لیا اتاکیونکہ انفراد کا حکم میں دخل نہیں ہے۔ اور اگر انفراد کا حکم میں دخل ہو تو پھر مفہوم مخالف ثابت ہوجاتاہے جیسے کوئی
وخامسا : (۲) تمثیلھم بماء المد والماء الذی خالطہ الصابون من اجلی قرینۃ علی عدم ارادتھم المفھوم فان ماء السیل یکون متغیراللون والطعم معابل ربمایکون متغیرالثلاثۃ وکذلك الماء اذا خالطہ الصابون لایقتصرعلی تغییر وصف واحد قط و الزعفران ربما یتغیر بہ وصفان والثلثۃ واقتصارہ علی واحدنادر فی المعتاد وقد ارسلوہ ارسالا* وجعلوہ لما یغیراحد الاوصاف مثالا* وھذا وانکان فیہ مجال مقال* فماء المد والصابون
یہ کہے تم میں سے ایك کی عزت کرنے والے کی عزت نہ کرو اس جملہ سے واضح ہے کہ یہاں عزت نہ کرنے کا حکم صرف ایك کی عزت سے متعلق ہے اور اگر وہ سب کی عزت کرے تو عزت کرنے میں ممانعت نہ ہوگی اور اگر کسی نے یہ کہا جو شخص دو طلاقیں دے گاتواس کو رجوع کاحق ہو گا اس سے تین طلاقیں دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت نہیں ہوتاجبکہ ایك طلاق دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت ہوتاہے اس طرح دو طلاقوں کے حکم میں مفہوم کا فہم اور عدم فہم دونوں پائے جاتے ہیں پس اگر معاملہ واضح نہ ہو اور حکم کا فیصلہ کسی خارجی علت کے علم پر موقوف ہو توکسی پہلو پرحکم نفس کلام سے حاصل نہ ہوگا لہذا(یہاں پانی میں ملنے والی چیز سے وصف واحد کے ذکر میں) وضو کے جواز میں واحد یا بعض کا دخل ثابت ہو تو مفہوم مخالف ثابت ہوگا اور اگر واحد یا بعض کے عدم دخل کاعلم ہو تو پھر مفہوم ثابت نہ ہو گا اس لئے یہاں واحد کا قیداحترازی ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اوصاف سے تغیر کا اعتبار کیا جائے چونکہ یہ بات ثابت نہیں بلالکہ اس کا خلاف ثابت ہے لہذا مفہوم بھی ثابت نہ ہوگا خلاصہ یہ کہ اس احتمال کے بطلان پر دلیل قائم ہے لہذا یہ احتمال معتبر نہ ہوگا۔ (ت)
پنجم یہ کہ ان فقہاء کرام کا “ احد الاوصاف “ کے ذکر کے بعد اس کے مثال میں سیلاب کے پانی اور صابون والے پانی کا ذکر کرنا اس بات پر واضح قرینہ ہے کہ یہاں مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ سیلاب کا پانی رنگ اور ذائقہ دونوں میں بلکہ تینوں اوصاف میں متغیر ہوتا ہے اور یوں ہی جب پانی میں صابون ملتا ہے تو بھی صرف ایك وصف تبدیل نہیں ہوتا اور زعفران سے دو وصف بلکہ تینوں وصف متغیر ہوجاتے ہیں صرف ایك وصف کا متغیر ہونا عادۃ نادرہے۔ تو فقہاء کرام نے پابند کیے بغیر “ احدالاوصاف “ کو بطور مثال ذکر کیاہے اگرچہ یہاں بحث کی گنجائش ہوسکتی تھی لیکن سیلاب اور
صابون کے ذکرسے استدلال کافی ہے یوں معاملہ واضح ہوگیا اور اشتباہ ختم ہوگیا الحمدلله رب العلمین۔ (ت)
یہ ہے ضوابط متون کا بیان ضوابط پیشین نے مذہب امام ابویوسف کا اثبات کیا اور اس ضابطہ نے مذہب امام ثالث کی نفی اور اطلاق نے واضح کیا کہ پانی میں کوئی شے جامد ملے خواہ مائع مطلقا تغیر اوصاف غیر مانع اور دو امام اجل صاحب ہدایہ وصاحب کافی نے پانی میں دودھ ملنے کی مثال زائد فرما کر اس اطلاق کو پورا مسجل فرما دیا اور مذہب امام ابویوسف کہ اس قدر تصحیحات کثیرہ سے مشید تھا اطباق متون سے اورمؤکد ہوگیا اور بحمدالله یہی ہے وہ کہ مائے مطلق کی تعریف رضوی نے افادہ کیا ولله الحمد علی الدوام* وعلی نبیہ والہ الصلوۃ والسلام* علی مر اللیالی والایام*
ضابطہ ۶ : قول امام محمد رضی اللہ تعالی عنہجسے امام اسبیجابی وامام ملك العلماء نے اختیار کیا
وفی خصوص مسألۃ الاوراق فی الحوض مشی علیہ فی شرح الوقایۃ والمنیۃ ایضا مخالفۃ لنفسھا فیما مرعنھا فی الضابطۃ الخامسۃ ونقلھا الذخیرۃ والتتمۃ عن الامام احمد المیدانی وللحلیۃ میل الیہ فی المسألۃ علی تصریحاتھابخلافہ فی غیرھا وفیھا زعم چلپی فی ذخیرۃ العقبی انہ الاصح کما تقدم کل ذلك فی ۷۷ ۷۹ ۱۰۱ وغیرھا وذکر الامام ملك العلماء فی النبیذ المطبوخ ان الاقرب الی الصواب عدم جواز الوضو لغلبۃ التمر طعما ولونا کمایأتی فھذاماوجدت من ترجیحاتہ فی صور خاصۃ ولم ارالتصحیح الصریح لمطلق ھذاھذا القول الاماوقع فی الجوھرۃ ان الشیخ یریدالامام القدوری اختار قول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ
اور خاص طور پر حوض میں پتے گرنے کے مسئلہ میں امام محمد کے قول کو شرح وقایہ میں اختیار کیا اور منیہ نے بھی پانچویں ضابطہ میں مذکور اپنے قول کے خلاف اس کو اپنایا۔ امام احمد میدانی سے ذخیرہ اور تتمہ نے اس مسئلہ کو نقل کیا ہے حلیہ نے اس مسئلہ کی تصریحات پر امام محمد کے قول کو ترجیح دی جبکہ دوسرے مسائل میں انہوں نے اس کے خلاف کیا ہے اور چلپی نے ذخیرۃ العقبی میں امام محمد کے قول کو اس مسئلہ میں اصح کہا ہے جیسا کہ یہ تمام اقوال ۷۷ ۷۹ ۱۰۱ وغیرہ میں گزر چکے ہیں امام ملك العلماء نے پکائی ہوئی نبیذ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اقرب الی الصواب یہ ہے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس میں پانی پر کھجور کا رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ ہے جیسا کہ آئندہ ذکر ہوگا۔ امام محمد کے قول کے بارے میں میں نے یہ ترجیحات چند خاص صورتوں میں پائی ہیں اور اس قول کے اطلاق کے بارے میں صریح تصریح میں نے
نہیں دیکھی ماسوائے اس کے کہ میں نے جوہرہ میں پایا جس میں انہوں نے شیخ قدوری کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے امام محمد کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے کہا “ فغیر احد ا وصافہ “ اھ حالانکہ اس سے قبل جوہرہ نے کہا کہ شیخ نے اشارہ دیا ہے کہ اوصاف کا اعتبار ہے حالانکہ اصح یہ ہے کہ اوصاف کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اھ (ت)
اقول : یبتنی(۱)علی جعل احد عــہ للتقیید وقد علمت مافیہ(میں کہتا ہوں کہ جوہرہ کا “ احد اوصافہ “ کے ذریعہ امام محمد کے قول کی ترجیح سمجھنا لفظ “ احد “ کو قید بنانے پر موقوف ہے حالانکہ اس میں بحث تم معلوم کرچکے ہو۔ ت) اب یہاں بعض ابحاث ہیں۔
بحث اول تنقیح مذہب۔
اقول : اس قول کے نقل میں عبارات مختلف آئیں اور اشہر یہ ہے کہ پانی میں اگر کوئی بہتی ہوئی چیز ملے تو امام محمد اولا رنگ کا اعتبار فرماتے ہیں اگر اس کا رنگ پانی پر غالب آجائے قابل وضو نہیں ورنہ ہے اور جس کا رنگ پانی کے خلاف نہ ہو اس میں مزے کا لحاظ فرماتے ہیں اس کا مزہ غالب ہو تو وضو ناجائز ورنہ جائز اور جس کا مزہ بھی مخالف نہ ہو اس میں اجزاء پر نظر فرماتے ہیں اگر برابر یا زیادہ مقدار پر پانی میں مل جائے تو وضو صحیح نہیں ورنہ صحیح۔
فاولا تقدم فی ۱۰۷ عن الحلیۃ عن الذخیرۃ والتتمۃ محمد اعتبر غلبۃ المخلوط لکن فی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث اللون وفی بعضھا الی سلب الرقۃ اھ ونقل فی الفتح عن بعضھم ان
اولا ۱۰۷ میں حلیہ کا قول ذخیرہ اور تتمہ کے حوالہ سے گزرا ہے کہ امام محمد کا پانی میں مخلوط چیز کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں وہ رنگ کے لحاظ سے اور بعض میں رقت سلب ہونے کے لحاظ سے غلبہ قرار دیتے ہیں اھ اور فتح القدیر میں
عــہ اقول : وھذا (۲)ایضا من دلائل انھم لم یریدوالتقیید والا لکان اختیارالقول محمد وھذا نص الھدایۃ عبر باحد الاوصاف وصحح قول ابی یوسف ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں یہ بھی اس بات پر ایك دلیل ہے کہ فقہاء نے تقیید مراد نہیں لی ورنہ امام محمد کے قول کو ترجیح ہوجائے گی اور ہدایہ کی نص یہ ہے “ احد الاوصاف “ سے تعبیر کرکے امام یوسف کے قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)
بعض سے منقول ہے کہ امام محمد غلبہ میں رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں۔ اور محیط میں اس کا عکس بتایا ہے جبکہ اول زیادہ قوی ہے کیونکہ صاحب الاجناس نے امام محمد کے قول کو نصا نقل کیا ہے پھر اس کو حلیہ نے اجناس سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس پانی میں ریحان (گل بابونہ) اور اشنان بوٹی پکائے گئے ہوں تو جب تك اشنان کی وجہ سے پانی سرخ اور ریحان کی وجہ سے سیاہ ہوکر متغیر نہیں ہوتا اس وقت تك پانی غالب رہے گا لہذا اس سے وضو جائز ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام محمد پانی کے رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور مجمع الانہر کے غلبہ کی بحث میں گزرا کہ اجزاء کا غلبہ امام ابویوسف کا قول ہے اور امام محمد رنگ کا اعتبار کرتے ہیں ان سے صحیح طور یہی مروی ہے اھ جوہرہ نیرہ میں فتاوی ظہیریہ سے منقول ہے کہ امام محمد رنگ اور امام ابویوسف اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں اور جامع الرموز میں ہے کہ غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہوگا جیسا کہ امام ابویوسف کا قول ہے اور ایك روایت میں یہ قول امام محمد کا ہے لیکن مشہور قول امام محمد کا یہ ہے کہ وہ رنگ کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ ہدایہ کے حاشیہ میں ہے اھ پس ان مذکور حضرات اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے امام محمد کے
وثالثا : مرفی البحث المذکور عن العنایۃ محمد یعتبر الغلبۃ باللون ثم الطعم ثم الاجزاء اھ وفی التبیین ذکر الاسبیجابی ان الغلبۃ تعتبر اولا من حیث اللون ثم الطعم ثم الاجزاء اھ
ونقل فی الشلبیۃ عن یحیی عن الامام الاسبیجابی بلفظ ان الماء ان اختلط بہ طاھر فان غیر لونہ فالعبرۃ للون مثل اللبن والخل والزعفران یختلط بالماء وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فالعبرۃ للطعم مثل ماء البطیخ والاشجار والثمار والانبذۃ وان لم یغیر لونہ و
قول میں صرف رنگ کا ذکر کیا ہے۔ (ت)
ثانیا حلیہ میں محیط رضوی سے منقول ہے کہ امام محمد کے ہاں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہے رنگ اور ذائقہ کا اعتبار نہیں اور امام ابویوسف کے ہاں رنگ یا ذائقہ کا اعتبار ہے اگر دونوں نہ ہوں تو پھر وہ اجزاء کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور کہا کہ اس کو محیط میں نوادر اقوال میں شمار کیا ہے اھ اس بیان میں اگرچہ غلبہ کے معیار کی نسبت برعکس ہے جبکہ پہلی مذکورہ نسبت زیادہ قوی ہے تاہم اس بیان میں رنگ اور ذائقہ کی تردید اور پھر ان دونوں کے بعد اجزاء کا اعتبار مذکور ہے۔ (ت) ثالثا عنایہ سے منقول ہو کر گزشتہ بحث میں گزرا کہ امام محمد غلبہ میں رنگ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور تبیین میں ہے امام اسبیجابی نے ذکر کیا ہے کہ پہلے رنگ کے غلبہ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کیا جائے گا اھ اور شلبیہ میں یحیی کے ذریعہ امام اسبیجابی سے منقول ہے کہ اگر پانی میں کوئی پاك چیز مل جائے تو اس سے اگر رنگ متغیر ہوا تو رنگ کا اعتبار ہوگا جیسا کہ دودھ سرکہ اور زعفران ہو۔ اور اگر اس سے رنگ نہ بدلے بلالکہ ذائقہ بدلا ہو تو پھر ذائقہ کا اعتبار کیا جائےگا جیسا کہ تربوز کا پانی یا درختوں
اقول : لکن عبارۃ الزیلعی عنہ ماقد سمعت وقال القھستانی اخر نقلہ المار
پھلوں اور نبیذوں کا پانی ہو۔ اور اگر رنگ اور ذائقہ تبدیل نہ ہو تو پھر اجزاء کا اعتبار ہوگا جب پانی کے اجزاء پر ملنے والی چیز کے اجزاء غالب ہوجائیں تو وضو جائز نہ ہوگا جیسا کہ پھلوں کا جوس ہو اور اگر رنگ ذائقہ اور اجزاء کا غلبہ نہ ہو تو پھر وضو جائز ہوگا جیسا کہ انگور کا پودا کاٹنے پر اس سے جٹپکنے والا پانی ہو اھ اور ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے صرف شروع میں انہوں نے کہا کہ جب پانی میں کوئی چیز ملے تو اعتبار رنگ ذائقہ پھر اجزاء کا ہوگا پھر اس کا معنی ذکر کیا سواء بسواء سوائے اس کے کہ آخری شق میں کہا کہ اعتبار کثرت اجزاء کا ہے اگر پانی کے اجزاء غالب ہوں تو وضو جائز ہوگا ورنہ نہیں اھ اسی کے مثل جامع الرموز کی عبارت ہے جو یوں شروع ہوتی ہے کہ اگر ایسی پاك چیز ہو جو رنگ میں پانی کے مخالف ہو جیسے دودھ سرکہ جوس اس زعفران کا پانی وغیرہ تو اس میں رنگ کا اعتبار ہے الخ انہوں نے زعفران کے بجائے زعفران کے پانی کو ذکر کیا ہے۔ بنایہ میں بھی شرح قدوری زاد الفقہاءسےایسے ہی منقول ہے کہ زعفران کے ساتھ پانی کا لفظ بڑھایا ہے۔ اور یوں ہی حلیہ میں ہے اور اس کو زیلعی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اسبیجابی سے نقل کیا ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں کہ زیلعی کی امام اسبیجابی سے نقل کردہ عبارت آپ سن چکے ہیں قہستانی نے گزشتہ
اقول : ولیس فی الھدایۃ فلعلہ من تصحیفات الناسخ فھؤلاء رتبوا بین الکل واطلقوا الطاھر غیر مقیدیہ بالمائع وقد مثل الاسبیجابی والسمعانی والبرجندی بالزعفران لکن ابدلہ الحلبی والعینی والزاھدی و زاد الفقھاء وغیرھم بماء الزعفران۔
و رابعا : قال الامام ملك العلماء فی البدائع الماء المطلق اذاخالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلك علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ فھو بمعنی الماء المقید ثم ینظر ان کان الذی خالطہ مما یخالف لونہ لون الماء کاللبن وماء العصفر والزعفران و نحو ذلك تعتبر الغلبۃ فی اللون وان کان لایخالف
نقل شدہ عبارت کے آخر میں فرمایا لہذا پہلے رنگ پھر ذائقہ اور اس کے بعد اجزاء کا اعتبار ہوگا اھ اور برجندی میں ہے کہ ہدایہ میں مذکور ہے کہ غلبہ میں پہلے رنگ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کیا جائےگا پس اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو جیسے دودھ اور زعفران الخ (ت)
میں کہتا ہوں ہدایہ میں یہ مذکور نہیں ہوسکتا ہے کہ لکھنے والے کی طرف سے زیادتی ہو ان تمام حضرات نے تمام امور میں ترتیب کو تو ذکر کیا ہے لیکن پانی میں ملنے والی پاك چیز کو بہنے والی قید سے مطلق رکھا اور اس سے مقید نہ کیا اور اسبیجابی اور سمعانی اور برجندی نے اس پاك چیز کی مثال زعفران کو ذکر کیا لیکن حلبی عینی زاہدی زادالفقہاء وغیرہم نے مثال کو زعفران کے پانی سے مقید کیا۔ (ت)
رابعا امام ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا کہ مطلق پانی میں جب کوئی بہنے والی پاك چیز مل جائے جیسے دودھ سرکہ اور خشك انگور سے بنا ہوا شربت اور ان جیسی دوسری اشیاء جن کی وجہ سے پانی کا نام بدل جائے اور پانی مغلوب ہوجائے تو اس صورت میں وہ پانی مطلق نہ رہے گا بلالکہ مقید ہوجائےگا پھر اس کے بعد معلوم کیاجائے گا کہ جو چیز پانی میں ملی ہے اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو تو غلبہ میں رنگ کا اعتبار کیا جائے گا
وقیاس ماذکرناانہ لایجوز الوضو بنبیذ التمر لتغیر اسم الماء وصیرورتہ مغلوبا بطعم التمر فکان فی معنی الماء المقید وبالقیاس اخذ ابویوسف الا ان اباحنیفۃ ترك القیاس
جیسے دودھ عصفر اور زعفران کا پانی اور اگر وہ رنگ میں مخالف نہ ہو اگر وہ ذائقہ میں مخالف ہو تو غلبہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا جائے گا جیسے سفید انگور کا جوس اور اس کا سرکہ ہو اور اگر وہ چیز ان دونوں وصفوں میں مخالف نہ ہو تو پھر اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار ہوگا اور اگر دونوں کے اجزاء برابر ہوں تو اس صورت کو ظاہر روایت میں ذکر نہیں کیا گیا جبکہ فقہاء نے کہا ہے کہ اس صورت کا حکم بھی مغلوب والا ہوگا اس میں احتیاط ہے۔ یہ تفصیل اس صورت میں ہے جبکہ پانی میں ملنے والی چیز سے زیادہ نظافت مقصود نہ ہو اور اگر اس سے نظافت مقصود ہو اور اسی مقصد کیلئے اس کو پانی میں پکایا گیا ہو یا ملایا گیا ہو جیسے صابون اور اشنان کا پانی تو اس صورت میں اس سے وضو جائز ہوگا اگرچہ اس صورت میں پانی کا رنگ بو اور ذائقہ بھی تبدیل ہوجائے کیونکہ ابھی اس کو پانی کہیں گے اور پانی کی معنوی حیثیت یعنی تطہیر میں اضافہ ہوا ہے اسی لئے میت کو غسل دینے میں بیری کے پتوں سے پکایا ہوا پانی اور اشنان والا پانی استعمال کرنے کا طریقہ مروج ہے لہذا اس سے وضو جائز ہوگا ہاں اگر اس صورت میں پانی زیادہ گاڑھا ہو کر ستوؤں کی طرح ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کو پانی نہیں کہا جاتا اور نہ ہی اس میں پانی کی معنوی حیثیت باقی رہی ہے اور اگر پانی میں گارا غبار چونا نورہ پتے گرنے یا پھل گرنے یا دیر تك پانی پڑے رہنے کی وجہ سے مطلق پانی میں تغیر واقع ہوا تو اس
سے وضو جائز ہے کیونکہ ابھی پانی کا نام تبدیل نہیں ہوا اور اس کی معنوی حیثیت بھی باقی ہے نیز اس میں ظاہری ضرورت بھی ہے کیونکہ عام طور پر پانی کو مذکورہ چیزوں سے محفوظ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اسی قاعدہ کی بنا پر نبیذ تمر سے وضو ناجائز ہے کیونکہ اس پر پانی کا نام نہیں بولاجاتا اور وہ کھجور کے ذائقہ سے مغلوب ہوچکا ہے لہذا وہ مقید پانی ہے اس کے بارے میں امام یوسف نے قیاس پر عمل کیا ہے لیکن امام ابوحنیفہ اس بارے میں نص کے پائے جانے کی وجہ سے قیاس کو ترك فرمایا (اس کے بعد ملك العلماء نے نص کے بارے بحث فرمائی) اور اس کے بعد کہا پھر جس نبیذتمر میں اختلاف ہے اس کی معرفت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ پانی پر کچھ کھجوریں ڈال دی جائیں تو کھجوروں کی مٹھاس پانی میں منتقل ہوجائے پس جب تك وہ پانی پتلا میٹھا یا ترش رہے تو اس سے امام ابوحنیفہ کے نزدیك وضو جائز ہے اور اگر وہ نبیذ غلیظ ہوکر چاس (راب) کی طرح ہوجائے تو اس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے یہ مذکورہ صورت کچے نبیذ کیلئے ہے اور اگر اس کو کچھ قدرے پکالیا جائے تو اس کی رقت مٹھاس یا ترشی کے ساتھ باقی ہے تو اس میں بھی وہی اختلاف ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك وضو جائز ہے اور اگر وہ نبیذ کچا یا پکا ہونے کی صورت میں ابل جائے اور جھاگ چھوڑ دے جس کی وجہ سے اس میں شدت پیدا ہوجائے تو امام کرخی کی کتاب مختصر کی شرح میں قدوری نے ذکر کیا ہے کہ اس صورت میں امام کرخی اور ابوطاہر الدباس کا اختلاف ہے
امام کرخی اس سے وضو جائز کہتے ہیں اور ابوطاہر کے قول پر ناجائز ہے۔ امام کرخی کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ کا نام کچے اور پکے دونوں پر بولا جاتا ہے لہذا یہ دونوں صورتیں نص (حدیث) کے حکم میں داخل ہیں کیونکہ جب مطلق پانی میں کوئی پاك چیز بہنے والی مل جائے تو ہمارے اصحاب کے ہاں بلااختلاف اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ پانی غالب رہے تو یہاں چونکہ کھجور کے اجزاء پر پانی کے اجزاء غالب ہیں لہذا اس سے وضو جائز ہوگا۔ اور ابوطاہر کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ سے وضو کا جواز صرف حدیث سے ثابت ہے اور وہ حدیث کچے نبیذ کے بارے میں وارد ہوئی ہے امام کرخی کے اس قول کہ پانی میں بہنے والی پاك چیز کے ملنے سے وضو ناجائز نہیں ہوتا الخ کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ درست ہے لیکن اس صورت میں جبکہ کسی طرح بھی پانی پر غلبہ نہ پائے اور اگر ملنے والی چیز نے کسی طرح پانی پر غلبہ پالیا تو پھر وضو جائز نہیں ہے جبکہ یہاں مذکورہ صورت میں کھجور نے رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے پانی پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے اس کا غلبہ نہیں ہوا اس لئے اس سے وضو ناجائز ہوگا اور یہ ابوطاہر کا قول زیادہ درست ہے اھ امام ملك العلماء رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کے اس کلام کو ہم نے پورا کردیا ہے یہ بتانے کیلئے کہ اس میں بہت فوائد ہیں جو آپ کو آئندہ معلوم ہوں گے اگرچہ متفرق طور پر ان کا اکثر کلام
عــہ لعلہ کالماء المستعمل فسقط من قلم الناسخ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کالماء (جیسے پانی) ہوسکتا ہے یہ لفظ کالماء المستعمل (جیسے مستعمل پانی) ہو جس کو کاتب کے قلم نے پورانہ لکھا ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
خامسا : تراھم جمیعا لم یذکروا الرائحۃ بل نصوص عــہ (۱) النوادر والامام (۲) الاسبیجابی والامام ملك (۳)العلماء والمحیط (۴) الرضوی وزاد (۵) الفقہاء والامام (۶) الزیلعی (۷) وخزانۃالمفتین و (۸) العنایۃ (۹) والبنایۃ (۱۰) والزاھدی (۱۱) والبرجندی (۱۲) والقھستانی (۱۳)ویحیی وابن (۱۴) الشلبی وغیرھم ناطقۃ بنفی اعتبارھا حیث احالو الامر بعد اللون والطعم علی الاجزاء لاجرم ان قال بحرالعلوم فی رسائل الارکان لم اراعتبار الغلبۃ بالریح فی کتاب اھ۔
پہلے ذکر ہوچکا ہے اور رسائل الارکان میں فرمایا ہے کہ مطلق پانی میں جب کوئی بہنی والی چیز مل کر غالب ہوجائے تو وضو ناجائز ہے ورنہ وضو جائز ہے اور غلبہ کی پہچان یہ ہے کہ پانی میں ملنے والی مائع چیز اگر رنگ میں پانی کے مخالف ہو تو رنگ کو غلبہ کا معیار قرار دیا جائےگا جیسے دودھ زعفران اور عصفر کا پانی اور اگر وہ رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف ہو تو غلبہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا جائےگا جیسے عرق گلاب سفید انگور کا جوس اور اگر ان دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف نہ ہو جیسے پانی تو پھر غلبہ میں کثرت کا اعتبار ہوگا کنز کی بعض شروح سے فتح القدیر میں یوں بیان کیاگیا ہے اھ (ت) میں کہتا ہوں کہ فتح القدیر میں اس عبارت کا کوئی نشان نہیں ہے یہ کاتب کے قلم کی غلطی ہے تاہم رسائل الارکان کی اس عبارت میں پانی میں ملنے والی چیز کے بارے میں مائع ہونے کی نص ہے جس سے یہ مذکور حکم خاص ہے۔ (ت)خامسا آپ دیکھ رہے ہیں کہ فقہاء میں سے کسی نے بھی غلبہ میں بو والے وصف کو ذکر نہیں کیا بلالکہ درج ذیل کتب النوادر۱ الامام الاسبیجابی۲ الامام ملك العلماء۳ المحیط الرضوی۴ زاد الفقہاء۵ الامام الزیلعی۶ خزانۃ المفتین۷ العنایۃ۸ البنایۃ۹ الزاہدی۱۰ البرجندی۱۱ القہستانی۱۲ یحیی۱۳ اور ابن شلبی ۱۴ وغیرہم کی نصوص بو کے اعتبار کی نفی پر ناطق ہیں جہاں انہوں نے رنگ اور زائقہ کے بعد ذائقہ کی بجائے اجزاء کے غلبہ کو ذکر کیا ہے اسی لئے مجبورا بحرالعلوم کو رسائل الارکان میں کہنا پڑا کہ میں نے کسی کتاب میں غلبہ کیلئے بو کا اعتبار نہیں جدیکھا اھ (ت)
عــہ الاضافۃ للعھدای التی تقدمت ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
نصوص کی کتب مذکورہ کی طرف اضافت عہدی ہے یعنی گزشتہ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وسادسا : اغرب جدا فی الجوھرۃ فزعم بعد تصحیح قول ابی یوسف ومحمد اعتبر الاوصاف ان غیر الثلثۃ لایجوز وان غیر واحدا جاز وان غیراثنین لایجوز والشیخ ای القدوری اختارقول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ اھ ھکذا جاء الاختلاف والمسئول من الله تعالی التنقیح التطبیق اوالترجیح۔
میں کہتا ہوں کہ ہاں امام فقیہ النفس نے خانیہ میں کہا ہے کہ امام یوسف کے نزدیك غلبہ میں رنگ کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اور یہی صحیح ہے اور امام محمد کے قول پر غلبہ میں رنگ ذائقہ اور بو کے متغیر ہونے کا اعتبار کیا جائے گا اھ خانیہ کی اس عبارت کو نہایہ بنایہ حلیہ اور شلبیہ میں نقل کیا گیا ہے اور حلیہ میں اس کو نقل کرنے کے بعد زائد یہ کہا کہ امام محمد کے قول میں ذائقہ اور بو کا اعتبار ہے اھ اور نمبر ۲۱۷ میں خانیہ کا بھی قول گزرا ہے کہ اگر پانی میں باقلاء پکایا جائے اور اس کی بو پانی میں پائی جائے تو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔ (ت)
سادسا جوہرہ میں غریب ترین بات ہے انہوں نے امام یوسف کے قول کو صحیح قرار دینے کے بعد خیال ظاہر کیا کہ امام محمد اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر تینوں وصف تبدیل ہوجائیں تو وضوجائز نہیں ہے اور اگر ایك وصف تبدیل ہوجائے تو وضو جائز ہے۔ اور شیخ قدوری نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ایك وصف متغیر ہوجائے اھ یوں مذکورہ بالا عبارات میں پانی پر غلبہ کے معیار میں اختلاف واقع ہوا ہے اور اب الله تعالی سے تنقیح میں تطبیق یا ترجیح کا سوال ہے۔ (ت)
وستعلم بعون الله تعالی ان محمدا لم لم یعتبر الریح ثم اقتصارالاولین علی اللون لاینافی اعتبار غیرہ فان التنصیص علی شیئ لاینفی ماعداہ لاسیما واللون ھو الملحوظ اولا فان لم یکن فغیرہ وکذلك التردید فی اللون والطعم عدم تنصیص
ایك شذوذ ہے عنقریب آپ کو بعون الله یہ معلوم ہوجائے گا کہ امام محمد نے بو کا اعتبار کیوں نہیں کیا پھر یہ کہ پہلے حضرات کا صرف رنگ کو ذکر کرنا باقی اوصاف کی نفی نہیں ہے کیونکہ ایك چیز کا ذکر دوسری چیز کی نفی نہیں کرتا خصوصا جبکہ اوصاف میں سے رنگ کا اعتبار پہلے کیا جاتا ہو کہ اگر رنگ تبدیل نہ ہو پھر دوسرے اوصاف کی تبدیلی کا لحاظ کیا جائے گا یوں ہی رنگ اور ذائقہ میں سے کسی ایك کا بیان اگرچہ یہ ترتیب پر نص نہیں ہے لیکن یہ عدم ترتیب پر بھی نص نہیں ہے اس لئے ان دونوں کی ترتیب جس کو ایك جم غفیر نے ذکر کیا ہے قبول کرنا ضروری ہے رہی یہ بحث کہ (پانی میں ملنے والی چیز جس سے اوصاف تبدیل ہوتے ہیں) اس غلبہ کا حکم جامد چیز کو بھی شامل ہے جیسا کہ امام اسبیجابی کے اطلاق اور اس کی مثال میں زعفران کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے یا یہ حکم صرف مائع چیز کو ہی خاص ہے جیسا کہ امام ملك العلماء کی نص سے ظاہر ہے ۔
میری رائے میں دونوں احتمالات کی تائید میں دلائل ہیں جامد اور مائع دونوں کا حکم میں شامل ہونا پس اس پر میں کہتا ہوں اولا اس لئے کہ اس بحث کی ابتدا میں فتح اور حلیہ کی الاجناس سے نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جس میں ریحان اور اشنان کے پکے ہوئے پانی میں ان کے رنگوں کے اعتبار کے بارے میں محمد کی نص کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ وہ دونوں صرف جامد چیزیں ہیں۔ ثانیا اس لئے نمبر ۱۲۲ میں تجنیس کے حوالہ سے حلیہ اور فتح کی روایت گزر چکی ہے کہ جرجانی کا زاج اور عفص (گھاس) میں نقش کی صلاحیت کا اعتبار کرنا یہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کے اعتبار پر تفریع ہے یہاں قابل فہم یہ بات ہے کہ ان میں اوصاف کے اعتبار
فاقول اولا : تقدم فی صدر ھذا البحث عن الفتح والحلیۃ عن الاجناس عن نص محمد اعتبار الالوان فی طبیخ الریحان والاشنان وماھما الا من الجامدات وثانیا : مرفی عن الحلیۃ والفتح عن التجنیس ان اعتبار الجرجانی فی الزاج والعفص صلوح النقش تفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء فافھم ان علی اعتبارھا بالاوصاف یتقید بمجرد التلون وان لم یصلح النقش وثالثا : خص البدائع بالمائع ثم ذکران قیاسہ عدم الجواز نبیذ التمر لغلبۃ طعمہ فاعتبرہ فی الجامد و رابعا کذلك اجاب من قبل ابی طاھر فی مطبوخہ واحتج بغلبۃ اللون والطعم وقد عبرھھنا ایضا فی کلامی الکرخی والدباس بالمائع مع ان الکلام فی الجامد۔
اقول : ویظھرلی والله تعالی اعلم ان تغیرالطعم اواللون انمایکون بالامتزاج ولا یمتزج الجامدبالمائع الاان ینماع شیئ منہ فتسری الاجزاء فی الاجزاء الا تری ان السکر اذاخلط بالماء لایبقی منہ ممتازاعنہ الا شیئ قلیل وکذلك الاصباغ ولو وضعت حجرا اسوداحمراخضراصفر فی الماء لایتلون الماء بلونہ فظھران الامتزاج لایحصل فی مائع الا لمائع وان کان اصلہ جامدا فلعل ھذا ھو سرالتعبیر بالمائع مع الکلام فی الجامدا تقنہ فانہ ان شاء الله تعالی بحث نفیس۔
واما الخصوص فاقول اولا اجمعت الامۃ المرحومۃ واجماعھا حجۃمعصومۃعلی جواز الوضو بماء السیل مع العلم القطعی بتغیر لونہ بل ربما یتغیر الطعم والریح ایضا فثبت ان مجرد تغیر الاوصاف
کا تعلق صرف رنگ دار ہونے پر ہے نقش کی صلاحیت کا اس میں دخل نہیں ہے۔ ثالثا اس لئے کہ بدائع نے اس حکم کو مائع چیز کے ساتھ خاص کرنے کے بعد ذکر کیا کہ اس قاعدہ کے مطابق نبیذتمر سے وضو جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ذائقہ کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ یہ ذائقہ والی چیز تمر (کھجور) ہے جو کہ جامد ہے۔ رابعا یوں ہی بدائع نے ابوطاہر کی طرف سے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں جواب دیا اور یہاں بھی انہوں نے رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ کو دلیل بنایا ہے یہاں بھی امام کرخی اور دباس کے کلام میں اس کو مائع سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ بات جامد میں ہورہی ہے۔ ت)
میں کہتا ہوں کہ جامد کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ذائقہ اور رنگ کی تبدیلی امتزاج کے بعد پائی جاتی ہے جبکہ جامد چیز کا مائع (بہنے والی) چیز کے ساتھ امتزاج نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ جامد چیز میں بہاؤ پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے ایك کے اجزاء دوسرے کے اجزاء میں گرتے ہیں مثلا شکر جب پانی میں ملائی جائے تواس کا امتزاج ختم ہوجاتاہے صرف کچھ معمولی اجزاء جدا رہتے ہیں اسی طرح رنگ کامادہ بھی پانی میں گھل جاتا ہے لیکن اگر آپ کالا سرخ سبز اور زرد پتھر پانی میں رکھ دیں تو اس کی رنگت میں پانی متاثر نہ ہوگا تو واضح ہوگیاکہ امتزاج کیلئے مائع کامائع سے ملنا ضروری ہوتا ہے اگرچہ وہ اصلا جامد ہی ہو ہوسکتاہے کہ جامد میں گفتگو کے دوران اس کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہی راز ہو اس کو یاد رکھیں یہ نفیس بحث ہے ان شاء الله تعالی۔ (ت)اور اوصاف کی تبدیلی میں صرف مائع چیز کو خاص کرنے کی وجہ پس میں کہتا ہوں اولا اس لئے کہ اس امت کا اس بات پر اجماع ہے جبکہ یہ اجماع امت خطا سے محفوظ ہے کہ سیلابی پانی سے وضو جائز ہے حالانکہ یہ قطعی طور پر معلوم ہےکہ
وثانیا : ھذا اجماع ائمتنارضی الله تعالی عنھم ومنھم محمد ان التمراوالزبیب اوالتین مثلا اذا نقع فی الماء فانتقلت حلاوۃ منھا الیہ فحلا لم یبلغ الی ان یصیر نبیذا فانہ لایتقید ویجوز الوضو بہ اجماعا فمحمد لم یعتبر فیہ الطعم وقال بالجواز مع الاعتراف بتغیرہ بل وتغیر اللون والریح ایضا فمن المعلوم المشھودان اللون اسبق تغیرابھا من الطعم واذاتغیر یوجد لھاریح ایضا قطعا فقد تغیرت الاوصاف الثلثۃ بالجامدات ولم یضر بالاجماع مالم یغلب اجزاء بالمعنی الثالث اعنی صیرورتہ شیئا اخرلمقصد اخر وھذا ھو الفارق بین النبیذ والسیل فانہ لم یصرشیئا اخر ولازال عنہ اسم الماء وھذا ھو مذھب ابی یوسف فعلم ان مذھبہ مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع۔
اقول : وبہ خرج الجواب عن الشاھدین الاخیرین فان الکلام فیھمافی الانبذۃ فالمرادتغیر الطعم الی حدیزیل عنہ اسم الماء ویجعلہ نبیذا
اس کا رنگ بلالکہ ذائقہ اور بو تبدیل ہوئے ہوتے ہیں تومعلوم ہوا کہ جامد چیز کے ملنے سے صرف اوصاف کی تبدیلی کی بنا پر پانی کو مقید قرار نہیں دیاجاسکتا بالاجماع۔
ثانیا اس لئے کہ کھجور خشك انگور (میوہ) اور خشك انجیر کو پانی میں ڈالنے پر ان کی مٹھاس پانی میں منتقل ہوجائے اور ابھی نبیذ کی حد تك یہ تبدیلی پیدا نہ ہو تو اس شربت سے وضو کے جائز ہونے پر ہمارے تمام ائمہ کرام جن میں امام محمد بھی شامل ہیں کااجماع ہے(تو یہاں امام محمد نے تینوں اوصاف تبدیل ہوجانے کے باوجود ان کی تبدیلی کا لحاظ نہیں کیا) اور وضو کو جائز قرار دیاہے اجتماعی طور پر۔ پس امام محمد نے نبیذ میں طعم کا اعتبار نہیں کیا اور تغیر طعم کے باوجود جواز کا قول کیا ہے بلکہ تغیر لون اور ریح سے بھی جواز کا قول کیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان چیزوں کا رنگ ذائقہ سے جلد اثر انداز ہوتا ہے اور جب ذائقہ متغیر ہوگا تو بو بھی پائی جائے گی تو معلوم ہواکہ جامد سے تینوں وصف تبدیل ہونے کے باوجود اس شربت سے بالاتفاق وضو جائز ہے بشرطیکہ غلبہ اجزاء کا تیسرا معنی نہ پایا جائے یعنی کسی دوسرے مقصد کیلئے نئی چیز بن جانا نہ پایا جائے۔ نبیذ اور سیلاب میں یہی فرق ہے پس سیلاب کی طرح اس شربت نے پانی کا نام تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کوئی دوسری چیز بنا ہے جبکہ جامد چیز کے بارے میں امام ابویوسف کے مذہب کے موافق سب کا اتفاق ہے اختلاف صرف مائع چیز میں ہے۔
میں کہتا ہوں اس بحث سے زبیب اور تین کی نبیذوں کے متعلق جواب معلوم ہوگیا کہ جب ان کا نبیذ بن جائے تو ذائقہ تبدیل ہو کر وہ اپنا نیا نام لے لیتا ہے جس کے مقید ہونے میں کوئی اختلاف
وثالثا : تقدم فی ۱۲۲ عن الخانیۃ التوضو بماء الزعفران والزردج یجوز ان کان رقیقا والماء غالب فان غلبتہ الحمرۃ وصار متماسکا لایجوز وعن الخلاصۃ توضأ بماء الزردج اوالعصفر اوالصابون ان کان رقیقا یستبین الماء منہ یجوز وان غلبت الحمرۃ وصار نشاستج لا اھ فافادان المدارالثخن لامجرداللون فان کان غلبۃ اللون تحصل فی ھذہ الاشیاء قبل الثخن فقد صرحابعدم الاجتزاء بھا مالم یثخن وان کانت لاتحصل الا اذاثخن فقد بینا ان ذکر غلبۃ اللون لکونھا ھھنا دلیلا علی المناط وھو الثخن فکان وصار متماسکا اونشاستج عطف تفسیرلہ۔
اقول : وبہ تبین الجواب عن نص الاجناس فلم یکتف رحمہ الله تعالی بقولہ لم یتغیر لونہ حتی یحمراویسودبل اضاف الیہ وکان الغالب علیہ الماء وھذا ماعبر بہ الخانیۃ والخلاصۃ اذقالا بعد ذکر الحمرۃ وصار متماسکا بیدان المقام یحتاج
نہیں۔ (ت)
ثالثا اس لئے کہ نمبر ۱۲۲ میں خانیہ کے حوالہ سے گزراکہ زعفران اور زردج کے پانی سے وضو جائز ہے بشرطیکہ یہ پانی رقیق ہو اور پانی کا غلبہ ہو اور اگر یہ گاڑھا ہوجائے اور سرخی بھی غالب ہوجائے تو وضو جائز نہیں ہوگا اور خلاصہ کے حوالہ سے بھی گزراکہ زردج عصفر اور صابون والا پانی اگرپتلا ہو اور پانی اس میں غالب رہے تو وضو جائز ہے اور اگر سرخی غالب ہوجائے اور پانی گاڑھا ہو کر نشاستہ کی طرح لیپ ہوجائے تو وضو ناجائز ہے اھ اس سے معلوم ہوا کہ دارومدار گاڑھے وغلیظ ہونے پر ہے صرف رنگ کا اعتبار نہیں ہے لہذا ان چیزوں کے ملنے سے پانی کا رنگ اگر گاڑھا ہونے سے پہلے تبدیل ہو تو دونوں کی تصریح ہے کہ اس غلبہ کااعتبار نہیں ہے اور اگر گاڑھا ہوجانےکے بعد رنگ تبدیل ہو تو یہ گاڑھا ہونے کی دلیل ہے جس کو ہم نے بیان کردیا ہے پس گویا کہ گاڑھا ہونے اور نشاستہ بننےکا ذکر بطور عطف تفسیری ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اس سے الاجناس کی عبارت پر اس اعتراض کا جواب ظاہر ہوگیا کہ اس نے اپنے بیان میں صرف سرخ اور سیاہ رنگوں کے ذکرکو کافی نہ سمجھابلالکہ اس پر پانی کے غالب ہونے کا اضافہ بھی کیا چنانچہ خانیہ اور خلاصہ نے سرخی کو ذکر کرنے کے بعد گاڑھا ہونے کو جس مقصد کے لئے ذکر کیا ہے
اقول : و دقیق النظر یوضح الامر فان ھذا المعنی یوجب ان تغیراللون ینفی الجواز وان کان الغالب ھو الماء وھو خلاف الاجماع فان الغلبۃ ھو القطب الذی تدورعلیہ رحی ھذہ الاحکام عندجمیع ائمتناالاعلام اماسمعت قول الفتح ان اعتبارالغالب عدماعکس الثابت لغۃ وعرفا وشرعا اھ واذمن المعلوم ضرورۃ ان غلبۃالماء ھی العلۃ الکافیۃ للجواز و
وہی مقصد الاجناس کا ہے کہ مدار حکم کو ظاہر کیاجائے مگر یہ مقام سوچ کی باریکی اور قوی وصحیح فکر کو عمل میں لانے کا ہی نہیں بلالکہ الله تعالی کی توفیق کی طرف رجوع کرنے کا مقام ہے کہ یہاں ظاہر نظرمیں الاجناس اور خانیہ وخلاصہ کی عبارتوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے کیونکہ خانیہ اور خلاصہ نے دو چیزوں کو عدم جواز کے بارے میں ذکر کیا ہے ایك سرخی کا غلبہ اور دوسری چیز گاڑھا پن ہے انہوں نے اس سے یہ بتایا کہ صرف رنگ کی تبدیلی کافی نہیں ہے بلکہ گاڑھا پن بھی ضروری ہے کیونکہ وضو کے ناجائز ہونے کا دارومدار ان دونوں چیزوں پر ہے اور اجناس کی عبارت میں وضو کے جواز کیلئے رنگت کا سالم رہنا اور پانی کا غالب رہنا دو چیزوں کو ذکر کیاہے جس سے انہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دونوں چیزوں میں سے ایك ختم ہوجائے تو وضو کا جواز بھی ختم ہوجائےگا کیونکہ جواز کے حکم کا دارومدار دو چیزوں کے مجموعہ پر ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ یہاں دقیق نظر سے واضح ہوتا ہے کہ اگر دونوں چیزوں میں سے رنگ بدل جائے اور پانی کا غلبہ باقی رہے تو وضو ناجائز ہو حالانکہ یہ اجماع کے خلاف ہے کیونکہ غلبہ ہی وہ چیز ہے جو ان مسائل میں احکام کا معیار ہے جو کہ تمام ائمہ کرام کو تسلیم ہے کیا تم نے فتح کا قول نہیں سنا جس میں انہوں نے کہا کہ غلبہ کے عدم کا اعتبار شرعا عرفا اور لغۃ ثابت چیز کا عکس ہے (یعنی غلبہ کا وجود ثابت کا وجود ہے اور غلبہ کا عدم ثبوت کا عدم ہے) اھ
کیونکہ یہ بات واضح طور پر معلوم ہے کہ جب پانی کا غلبہ ہوگا تو اس سے وضو کا جواز ثابت ہوگا کیونکہ پانی کا غلبہ اس جواز کی علت ہے۔ اور عدم غلبہ عدم جواز کی علت ہے یہی وجہ ہے کہ امت میں سے کسی نے بھی پانی کے مغلوب ہونے پر وضو کو جائز نہیں کہا خواہ پانی کے اوصاف باقی رہیں یا تبدیل ہوجائیں ماسوائے امام اوزاعی کے ایك قول کے جو کہ ان کی طرف منسوب ہے اگر اس قول کا ثبوت ان سے مل جائے تو ایك شاذ قول کی شاذ حکایت ہوگی حالانکہ اس قول کے ثبوت میں کلام ہے لہذا اجناس کی عبارت میں سرخی (رنگ) کے غلبہ کو مستقل اور غلبہ سے علیحدہ علت یا تمام علت قرار دینا غلط ہے لہذا یہاں دو وجہیں ہوسکتی ہیں ایك یہ کہ اس سرخی کو ہی علت قرار دیا جائے اور اسی کو غلبہ کہا جائے اس صورت میں الاجناس کے قول “ کان الغالب علیہ الماء “ کو عطف تفسیری قرار دے کر رنگ کے تبدیل نہ ہونے کا بیان قرار دیاجائےگا اور دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے اس سرخی کو علیت سے الگ رکھا جائے اور اس کے ذکر کو پانی کے مغلوب ہونے کی علامت قرار دیا جائے کیونکہ یہ پانی میں ملنے کی انتہائی صورت کی نشان دہی کرتی ہے کیونکہ اشنان کی وجہ سے سرخی اور ریحان کی وجہ سے سیاہی پانی میں معمولی پکانے سے حاصل نہیں ہوتی بلالکہ کامل طور پر پکانے سے حاصل ہوتی ہے آپ کو معلوم ہے کہ یہاں مسئلہ کی یہ صورت فرض کی گئی ہے کہ اشنان اور ریحا ن
فان قلت : لعلھمافی غیرالمطبوخ فلایمنعان اعتبار الاوصاف فیہ ونص الاجناس انما ھو فیہ۔
اقول : اولا نصہ مخصوص بمایحدث فیہ تغیرالاوصاف بعد کمال الطبخ کماعلمت ولایقاس علیہ مایتغیر قبل الطبخ وھو الکثیر الغالب اذقبلہ لافرق بینہ وبین التی وقد انعقد الاجماع علی عدم اعتبارہ فیہ فیؤل الکلام الی ان
پانی میں پکائے گئے ہوں اس مسئلہ پر یہ کہا ہے کہ جب رنگ تبدیل نہ ہو اور پانی غالب ہو تو وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو اس بیان سے یہ واضح ہورہا ہے کہ ان دونوں چیزوں کو پانی میں ڈال کر رکھا جائے گا اور پھر آگ پر خوب پکانے کے بعد کامل امتزاج پیدا ہوجانے پر یقینا پانی مغلوب ہوجائےگا اس موقعہ پر سرخی یا سیاہی کی علامت کو ذکر کیاگیا ہے کیونکہ یہ نظر آتی ہے جبکہ دیکھنے کی حالت میں پانی کا مغلوب نظر نہیں آسکتا جب تك کہ وہ ٹھنڈا نہ ہوجائے ورنہ معمولی پکانے پر وہ تغیر پیدا نہیں ہوتا جو وضو کے لئے مانع ہو تاکہ اس کی نفی کی قید لگائی جائے اس سے الاجناس نے مکمل پکائے جانے کے ذکر پر حقیقت کو واضح کیا تاکہ حکم کی علت متعین ہوسکے الاجناس کی عبارت کا یہ محمل نفیس ہے اور یہی خانیہ اور خلاصہ کی عبارت کامفادہے ولله الحمد اور اس مذکور احتمال کی بنا پر استدلال ختم ہوجاتا ہے بلالکہ خانیہ اور خلاصہ کی عبارتوں سے اس احتمال کو ترجیح مل گئی ہے کیونکہ بعض روایات سے بعض کو ترجیح وتفسیر مل جاتی ہے نیز دونوں اجماع سچے گواہ کافی ہیں۔ (ت)
اگر آپ کا اعتراض ہو کہ (سیلاب کے پانی سے باوجودیکہ اس میں اوصاف متغیر ہیں اور نبیذ تمر سے وضو کے جواز پر) یہ دونوں اجماع کچے پانی کے بارے میں ہیں لہذا ان سے پکے ہوئے پانی میں اوصاف کے اعتبار کی نفی نہیں ہوگی جبکہ الاجناس کی نص پکائے ہوئے پانی سے متعلق ہے۔ (ت)
اس کے جواب میں میں کہتا ہوں اولا یہ کہ الاجناس کی نص اس صورت سے مخصوص ہے جس میں مکمل پکائے جانے کے بعد اوصاف کا تغیرپیدا ہو جیسا کہ آپ اوپر معلوم کرچکے ہیں اس پر پکانے سے قبل کے تغیر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا جبکہ پکانے سے قبل تغیر عام اور کثیر ہے۔ کیونکہ پکانے سے قبل تغیر اور
قال الامام الزیلعی التقییداما بکمال الامتزاج اوغلبۃ الممتزج فکمال الامتزاج امابالطبخ الخ وقال قبیل التیمم انہ بالطبخ کمل امتزاجہ وکمال الامتزاج یمنع اطلاق اسم الماء علیہ اھ
وقد قال قبل حدوث الضابطۃ ایضا الامام الجلیل النسفی فی الکافی ان بطلان الاطلاق بکمال الامتزاج وھو بطبخ الماء بخلط الطاھر الخ ویأتی تمامہ ان شاء الله واذن نقول بموجبہ ولایکون دلیلا علی اعتبار مجرد تغیر الاوصاف کمالایخفی فانکشف الامر ولله الحمد۔
بالکل کچے پانی کے تغیر میں کوئی فرق نہیں ہے حالانکہ بالکل کچے پانی کے بارے میں اجماع ہوچکا ہے کہ اس میں اوصاف کے تغیر کا اعتبار نہیں ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اوصاف کی تبدیلی وتغیر کا اعتبار صرف مکمل پکانے کے بعد ہوگا۔ یہ بات ہمارے لئے مضر نہیں ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ مکمل پکانے کے بعد پانی مغلوب ہوجاتا ہے جس کی بنا پر وضو کے عدم جواز کی علت پائی گئی ہے اس کو مغلوب کہہ کر تعبیر کردیااس کو مغلوبیت کے لازم یعنی اوصاف کی تبدیلی سے تعبیرکرو ثانیا اس لئے کہ کچے اورپکے ہوئے پانی میں پکانے کی وجہ سے امتزاج کامل ہوجاتا ہے جس کو تمام اہل ضابطہ نے ذکر کیا ہے۔ امام زیلعی نے کہاکہ پانی کو کمال امتزاج یااس میں ملی ہوئی چیز کے غلبہ سے مقید قرار دیا جاتا ہے اور کامل امتزاج پکانے سے حاصل ہوتا ہے الخ اور انہوں نے اس بات کو تیمم کی بحث سے تھوڑا پہلے بیان کیا اور کہا کہ پکانے سے امتزاج کامل ہوتا ہے اور اس کامل امتزاج کی وجہ سے اس کو مطلق پانی کہنا ممنوع ہوجاتا ہے اھ نیز ضابطہ کے بیان سے قبل جلیل القدر امام نسفی نے کافی میں فرمایا کہ پانی کا اطلاق کمال امتزاج سے ختم ہو جاتا ہےاور کمال امتزاج پانی میں پاك چیز کو ملاکر پکانے سے حاصل ہوتا ہے الخ یہ تمام بیان آئندہ آئےگا ان شاء الله تعالی
اماتمثیلہ بالزعفران فقداشبعنا الکلام علیہ فی ۱۲۲ الان لم یبق الااطلاق الامام الاسبیجابی اقول اولالنامندوحۃ عنہ فیماتقرر فی مقرہ (۱) ان المطلق فی کلامھم یحمل علی (۲)المقیدوان من عادتھم الاطلاق تعویلاعلی معرفۃالحذاق قالواویفعلونہ کیلا یدعی علمھم من لم یزاحمھم بالرکب کل ذلك مذکور فی ردالمحتار وغیرہ
وثانیا : ھذا لولم یجب التقیید فکیف و
وہاں ہم اس کے موجبات کو بیان کریں گے جبکہ یہ بیان صرف اوصاف کے تغیر کے اعتبار پر دلیل نہ بن سکے گا جیسا کہ واضح ہے۔ پس معاملہ واضح ہوگیا ولله الحمد۔ (ت)
(پانی میں ملنے والی چیز کے غلبہ میں اوصاف کی تبدیلی کا معیار جامد اور مائع)دونوں کوشامل ہونے پر مذکور شواہد میں سے دوسرے شاہد کی بحث باقی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کا وہ مفہوم نہیں جس کو ذکر کیا گیا ہے بلالکہ ان کادوسرا مذہب جو واضح ہے وہ یہ کہ امام ابو عبدالله الجرجانی نے پانی کومقید بنانے میں زاج اور عفص کی ملنے پر رنگ ریزی اور نقش ونگار کی صلاحیت کاذکر کیاجو کہ پانی کے رنگدار ہونے کی وجہ سے ہوسکتی ہے جبکہ پانی کے گاڑھا ہونے سے قبل بھی اس پر رنگ نمایاں ہوجاتاہے تو اس سے کسی کو یہ وہم ہوسکتا تھا کہ امام جرجانی نے غلبہ کیلئے صرف رنگ کو معیار قراردیا ہے اس لئے امام برہان الدین نے اس وہم کو باطل قرار دینے کیلئے تنبیہ کرتے ہوئے امام برہان نے فرمایاکہ امام جرجانی کا یہ قول رنگ کے غلبہ کی بجائے اجزاء کے غلبہ پر تفریع ہے کیونکہ غلبہ تین قسم پر ہے اور یہ اجزاء کا غلبہ تیسری قسم ہے۔ یوں تمام شواہد کی بحث ختم ہوئی۔ (ت)
امام اسبیجابی (کے اطلاق اور زعفران جو کہ جامد اور مائع دونوں کے شمول کی بنیاد ہے) میں سے زعفران کی مثال کے متعلق ہم سیر حاصل بحث کر چکے ہیں جو نمبر ۱۲۲ میں گزر چکی ہے اب صرف امام اسبیجابی کے اطلاق کی بحث باقی ہے۔ میں کہتا ہوں اولا یہ کہ اس بارے میں وسیع گنجائش ہے جیسا کہ اپنے مقام میں ثابت شدہ بات ہے کہ فقہاء کے کلام میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور ان کی عادت ہے کہ وہ مقید کی جگہ مطلق کو ذکر کردیتے ہیں کیونکہ ان کو
وثالثا لك ان تقول الجامد ایضا تعتبر فیہ غلبۃ الاوصاف اذا ادت الی غلبۃ الاجزاء باحد المعانی الثلثۃ کماعرفت فی النبیذ والزاج والعفص والعصفر والزعفران وکثیر من نظائرھا فمن ھذا الوجہ یصح الاطلاق وان کان نحو التغیرالمعتبرفی الجامدمغایراللمعتبر عندہ فی المائع بل قد یظن اتفاق النحوین من کلام البدائع المارفی ۳۰۴ حیث ناط الامر فی المائعات بزوال الاسم وذکر فی تفصیلہ غلبۃ اللون والطعم وزوال الاسم ھو المعتبر فی الجامدات ایضا بل علیہ مدار الباب کمامر مرار اوکان ینتج ھذا ان لاخلف بین الامامین الصاحبین الا فی التعبیر۔
اقول : وقد کان یعجبنی ھذا لان المنقول عن نص محمد انما ھی مسألۃ مطبوخ الاشنان والریحان وفیھا کمال الامتزاج الموجب للغلبۃ بالاجزاء لکن
ماہرین کے علم وتجربہ پر اعتماد ہے کہ (وہ مطلق کو مقیدسمجھیں گے)ماہرین فن نے کہاہے کہ فقہاء کرام یہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ ان کے علم میں کوئی نااہل شخص برابری کا دعوی نہ کرے یہ سب کچھ ردالمحتار وغیرہ میں مذکور ہے ثانیا امام اسبیجابی کے قول کو مقید کرنا ضروری ہے (کیونکہ سیلاب کے پانی سے وضو کے جواز پر اجماع امت اور نبیذتمر سے وضو کے جواز پر علماء احناف) کا اجماع یہ دونوں اجماع اس کے قول کی تقیید کو واجب کرچکے ہیں(کہ اوصاف کے تغیر کا اعتبار صرف مائع چیز کے ملنے پر ہوگا جامد میں نہیں) ثالثا آپ جامد چیز کے بارے میں اوصاف کے غلبہ کا اعتبار کہہ سکتے ہیں جبکہ یہ جامد چیز پانی میں اجزاء کے تینوں معانی میں سے کسی معنی کے لحاظ سے غلبہ کا سبب بن جائے جیسا کہ نبیذ زاج عفص عصفر اور زعفران وغیرہ کے بارے میں آپ معلوم کرچکے ہیں اس لحاظ سے جامد اورمائع دونوں میں اوصاف کے غلبہ کا اطلاق درست ہوسکتا ہے اگرچہ جامد میں تغیر مائع میں تغیر سے مختلف ہے بلکہ نمبر ۳۰۴ میں بدائع کی مذکور عبارت سے دونوں کے تغیر میں اتفاق کا گمان ہوتا ہے وہاں انہوں نے بہنے والی چیزوں(مائعات)میں تغیر کا معیار پانی کے نام کی تبدیلی کو قرار دیا ہے جس کی تفصیل میں انہوں نے رنگ اور ذائقہ کے غلبہ کو بیان کیا ہے حالانکہ یہی نام کی تبدیلی جامد چیزوں میں بھی تغیر کا معیار ہے بلکہ اس میں تغیر کا دارومدار نام کی تبدیلی ہے جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ صاحبین (امام ابویوسف وامام محمد) کے درمیان صرف تعبیر کا اختلاف ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مجھے یہ بات پسند ہے کیونکہ امام محمد سے جو نص منقول ہےوہ اشنان اور ریحان کےپکائے ہوئے پانی سےمتعلق ہےجبکہ اس مسئلہ میں پکانےکی وجہ سےایسا کامل امتزاج حاصل
ہوجاتا ہےجو اجزاء کےاعتبار سےغلبہ کا موجب بنتا ہے لیکن فقہاء کرام کی عبارات کا ظاہر مفہوم میرےلئے مانع ہےکہ میں صاحبین کےاختلاف کو صرف تعبیری اختلاف کہوں اگرچہ اس کو فتح القدیر میں محقق صاحب نےتعبیر کردیا یوں کہہ کر کہ بعض نےاس میں صاحبین کا اختلاف نقل کیا ہےکہ امام محمد رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کےغلبہ کا اعتبار کرتےہیں اھ
لیکن میرےنزدیك تحقیق یہ ہےکہ بدائع میں اس مقام پر پانی سےزوال اسم کا جو ذکر کیا ہےوہ اس معنی میں زوال اسم نہیں جس معنی میں غیر مائع میں معتبر ہےجس کا آئندہ بیان آئے گا ان شاء الله تعالی خلاصہ کلام یہ ہےکہ الحمدلله مکمل تحقیق وہ ہےجس کو امام ملك العلماء نےبدائع میں ذکر کیا ہےکہ امام محمد کا اختلاف صرف مائع چیز کے بارےمیں ہےاوریہ کہ وہ اس میں صرف رنگ نہیں بلالکہ ذائقہ کا بھی اعتبار کرتےہیں اور ان دونوں میں ترتیب کےقائل ہیں پہلےرنگ کا اور پھر اس کےبعد ذائقہ کا اعتبار کرتےہیں اور اگر یہ دونوں نہ پائے جائیں تو پھر وہ غلبہ میں اجزاء کی طرف حکم کو منتقل کرتے ہیں اور بو کا اعتبار نہیں کرتے یہی تنقیح مناسب ہے انعامات کے ہجوم پر الله تعالی کی حمد ہے اور صلوۃ وسلام تمام انبیاء کے سردار پر اور ان کی آل واصحاب پر آمین۔ اس کو محفوظ کر جوہرہ میں امام ابویوسف کے قول کو صحیح قرار دینے کے بعد علامہ حدادی نے خیال ظاہر کیا اور کہا کہ امام محمد نے تینوں اوصاف کی تبدیلی پر وضو کو ناجائز قرار دیا اور اگر
اقول : (۱)ھذا لیس بتوفیق بل تلفیق ثم النصوص متظافرۃ عن محمد انہ یعتبر اللون ثم الطعم لاانہ لایعتبرالوصف الواحد (۲)وکون ماء الدباء من جنس الماء غیر معول ولامقبول (۳) ومن نظر الفروع المارۃ علم انہ لایوافق القولین ومااتت بہ النصوص علی المذھبین ثم (۴)ھو خلاف الاجماع فی ماء المدفقداطبقو انہ مادام علی رقتہ یجوز الوضو بہ مع انہ ربما یغیر وصفین بل الثلاث وماھو الا الاختلاط مالیس من جنس الماء من تراب و رمل وغثاء وکذا (۵)اجماعھم علی جواز الوضو بمانقع فیہ تمروان حلا ولاشك ان تغیر اللون یسبقہ مالم یصر نبیذا فلم یعتبر وافیہ الاوصاف بل الاجزاء بالمعنی الثالث والله تعالی اعلم
ایك وصف تبدیل اور متغیر ہوجائے تو وضو کو جائز اور دو اوصاف کی تبدیلی پر ناجائز کہا ہے اور امام حدادی نے کہا کہ امام ابویوسف اور امام محمد کے اقوال میں موافقت یوں ہوگی اگر پانی میں ملنے والی چیز مائع ہو جو پانی کی ہم جنس ہو جیسے کد وکاجوس تو اس صورت میں غلبہ کیلئے اجزاء کا اعتبار ہوگا جیسا کہ امام ابویوسف نے کہا ہے اگر وہ پانی میں ملنے والا مائع ایسا ہو جو پانی کا ہم جنس نہ ہو جیسے دودھ۔ تو اس صورت میں غلبہ کے لئے اوصاف کا اعتبار ہوگا جیسے کہ امام محمد کا مسلك ہے۔ اور اس پر علامہ حدادی نے کہا شیخ قدوری نے امام محمد کےقول کو ترجیح دیتے ہوئے یوں کہا “ وہ ایك وصف کو تبدیل کرے اھ (ت)
میں کہتا ہوں یہ تو موافقت نہ ہوئی بلالکہ ایك نئی بات ہوئی کیونکہ تمام نصوص میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ امام محمد پہلے رنگ اور پھر ذائقہ کی تبدیلی کا اعتبار کرتے ہیں نہ کہ وہ ایك وصف کی تبدیلی کا اعتبار نہیں کرتے نیز کدو کے جوس کو پانی کا ہم جنس بتانا غیر معقول اور غیر مقبول ہے اور جس کو گزشتہ فروعات کا علم ہے وہ جانتا ہے کہ امام ابویوسف اور امام محمد کے اقوال میں موافقت نہیں ہے پھر علامہ حدادی کا یہ بیان سیلابی پانی میں اجماع کے بھی خلاف ہے کہ اس سے وضو جائز ہے جب تك رقت باقی رہے حالانکہ دو بلالکہ تینوں اوصاف اس میں تبدیل ہوتے ہیں باوجودیکہ یہ تبدیلی پانی کے ہم جنس کی وجہ سے نہیں بلالکہ مٹی ریت اور تنکے ملنے کی وجہ سے ہوتی ہے اسی طرح ان کا یہ بیان کہ کھجور ڈالنے سے میٹھے پانی میں اس اجماع کے بھی خلاف ہے جس میں اس سے
بحث دوم اس قول کی توجیہ احکام
اقول : وبالله التوفیق کتب معلله کو غالبا ہر خلافیہ میں خصوصا وہ خلاف کہ امام وصاحبین یا باہم صاحبین میں ہو دلائل فریقین بیان کرنے کا التزام ہوتا ہے اگرچہ خلافیات مشائخ میں ایسا اعتنا نہ کریں مگر اس خلافیہ میں دلیل قول امام محمد رحمہم اللہ تعالی تعالی کسی کتاب میں نظر فقیر غفرلہ المولی القدیر سے اصلا نہ گزری حتی کہ بدائع میں جس نے اس پر مشے فرمائی سوا اس لفظ کے کہ مجمع الانہر میں اعتبار رنگ پر لکھا لان اللون مشاھد (کیونکہ رنگ نظر آتا ہے۔ ت) حالانکہ اس قول کے چارجز ہیں ہر جز طالب توجیہ ہے یہ دو حرفی جملہ ایك جز کیلئے بھی وافی نہیں۔
فاولا : (۱) ماکل مشاھد معتبرا فالدلیل اعم من المدعی۔ وثانیا : (۲) ماکل معتبر مشاھدا فالدلیل اخص من المدعی وبالجملۃ لایلزم من کونہ مشاھدا اعتبارہ ولامن عدم مشاھدۃ اخر عدم اعتبارہ۔ وثالثا : ان (۳) خصت المشاھدۃ بالرؤیۃ خرج الطعم وقد اعتبرہ محمد وان اریدبھا الحس دخلت الریح ولم یعتبرھا۔
وانا اقول : وبربی ثم بنبیہ استعین جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ والہ و
پس اولا یہ کہ ہر مشاہدہ کی جانے والی چیز معتبر نہیں ہوتی (لہذا مجمع الانہر کا رنگ کے اعتبار میں رنگ کو مشاہدہ والا قرار دے کر دلیل بنانا درست نہیں) کیونکہ یہ دلیل عام ہے اور دعوی خاص ہے۔ (ت)
ثانیا : یہ کہ ہر معتبر چیز قابل مشاہدہ نہیں ہوتی پس یوں دلیل دعوی سے خاص ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ قابل مشاہدہ ہونے کو معتبر ہونا لازم نہیں اور یوں ہی دوسری چیز کے قابل مشاہدہ ہونے کو غیر معتبر ہونا لازم نہیں ہے۔ (ت)اور ثالثا یہ کہ اگر مشاہدہ کو دیکھنے سے مختص کیا جائے تو ذائقہ کا اعتبار نہ رہے گا حالانکہ امام محمد رضی اللہ تعالی عنہذائقہ کا اعتبار بھی کرتے ہیں اور اگر مشاہدہ سے مراد حس ہو تو پھر بو کا اعتبار بھی کرنا ہوگا حالانکہ وہ بو کا اعتبار نہیں کرتے۔ (ت)اور میں کہتا ہوں الله تعالی اور اس کے نبی صلی الله علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین کی امداد سے کہ
امام محمدرضی اللہ تعالی عنہگویا یوں فرماتے ہیں کہ رفع حدث کیلئے شرعا مطلق پانی کا استعمال ضروری ہے اور مطلق پانی وہ ہے جو پانی کا لفظ بولنے پر ذہن میں آئے اور اس میں شك نہیں کہ یہ ایك ایسی حقیقت ہے جو مشہور ومعروف اور ہر ایك کو معلوم ہے اس کو جاننے کیلئے کسی کو غیر سے سمجھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ یہ بتائے کہ پانی یہ ہے۔ لہذا مطلق پانی سے مراد یہی عام فہم حقیقت ہے۔ لہذا جب کسی دوسری بہنے والی چیز کا رنگ پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو دیکھنے والے کو ضرور تردد ہوتا ہے کہ کیا یہ پانی ہے یا کیا ہے تو جب کوئی دوسرا باخبر شخص بتائے تو اس کا تردد ہوتا ہے ورنہ نہیں پانی میں سب سے پہلے رنگ کا علم ہوتا ہے اور اگر رنگ پانی پر غالب نہ ہو تو پھر جب کلی کرنے کیلئے پانی منہ میں ڈالا جائے تو اس وقت دوسری مائع چیز کا ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے پھر اس کو تردد ہوتا ہے جو کہ دیکھنے پر رنگت کی تبدیلی سے نہ ہوا تھا پس یہ رنگ کی وجہ سے تردد اور ذائقہ کی وجہ سے تردد والا پانی مطلق پانی سے خارج ہوگا جہاں تك بو کا تعلق ہے تو وہ قرب وجوار میں پڑی ہوئی چیز کی خوشبو کا اثر ہوسکتا ہے ضروری نہیں کہ پانی میں مخلوط کسی چیز کی وجہ سے بو آرہی ہو رنگ اور ذائقہ اگر درست ہو تو استعمال کرنے والے کو کوئی تردد پیدا نہیں ہوتا کہ یہ خالص پانی ہے پس اگر پانی میں ریح کے بغیر کسی دوسری شیئ کی ملاوٹ ہو برابر یا غالب طور پر ہو تو استعمال کرنے والے کو تردد ہوگا مگر جب اسے کوئی خارج سے خبر دے
وبعبارۃ اخری اجمعنا ان ماصار شےا اخر لمقصد اخر لاتجوز بہ الطھارۃ وان لم تزل رقتہ ولابلغ الممازج الماء قدرا فاذن لیس الا لتغیر فی اوصافہ اذلوسلمت مع بقاء الطبع وغلبۃ القدر استحال ان یسلب عنہ اسم الماء من دون موجب فعلم ان التغیر فی الاوصاف ھھنا مقدم علی زوال الطبع ومغلوبیۃ القدر ثم ثم شےان زوال اسم الماء وتجدد اسم اخر وھذا یتوقف علی تھیؤہ لمقصد اخر والمنع منوط بالاول وان لم یوجد الاخر لان الشرع المطھر انما امر بالماء فاذا انسلب عنہ اسم الماء خرج المامور بہ وان لم یدخل فی مقصد اخر غیر ان الجامد یتبع فیہ الاول الاخر فلاینسلب اسم الماء بہ مالم یتھیاۃ لمقصد اخر کما تری فی السیل وماء القی فیہ قلیل سکر اونقع فیہ حمص اوتمر بخلاف المائع فانہ
تو اس وقت وہ جانے گا یہ پانی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ نفیس پانی کا ادراك کسی خارجی امداد کے بغیر ہوتا ہے اور یہ بات بھی واضح کہ پانی میں تردد پیدا کرنے میں کسی مائع چیز کا دخل ہوتا ہے اس کے برخلاف کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے رنگ یا ذائقہ کی تبدیلی کی وجہ سے استعمال کرنے والے کو اس وقت تك تردد نہیں ہوتا جب تك کسی دوسرے مقصد کیلئے تیاری سے پانی کے نام کو تبدیل نہ قرار دیا جائے۔ اس بات سے پانی میں جامد چیز اور مائع کے ملنے کا فرق واضح ہوجاتا ہے اور یوں امام محمد کے مذہب کے چاروں اجزاء واضح ہوئے۔ (ت)اور امام محمد کے مسلك کی ایك دوسرے انداز سے تقریر یہ ہے کہ ہم سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ پانی میں مخلوط چیز کے سبب کوئی اور مقصد مطلوب ہو اور کوئی اور چیز بن گئی ہو تو اگرچہ اس صورت میں پانی کی رقت باقی ہو اور پانی کی مقدار بھی ملی ہوئی چیز سے زیادہ ہو تو پھر بھی اس سے وضو جائز نہیں ہے اس کی وجہ صرف پانی کے اوصاف کی تبدیلی ہوسکتی ہے کیونکہ پانی کی رقت باقی اور اس کی مقدار غالب ہونے پر اوصاف میں بھی تبدیلی نہ ہو تو اس کو پانی نہ کہنا اور اس کو کوئی دوسرا نام دینا محال ہوگا۔ اس حقیقت کے اعتراف پر یہ کہ امر واضح ہوگیا کہ اس صورت میں پانی کی طبع کے زوال (رقت کے ختم ہونے) اور پانی کی مقدار کے مغلوب ہونے سے قبل اس کے اوصاف کی تبدیلی ہوگی۔
پھر یہاں دو۲ اور چیزیں ہیں ایك پانی کے اطلاق کا نہ ہونا دوسرا نئے نام سے موسوم ہونا پانی کو نئے نام سے تب موسوم کیا جاتا ہے جب اس کو کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہو لیکن طہارت کی ممانعت کا تعلق
وبہ انکشف مایترا ای ورودہ من ان ھذا یوجب اعتبار الاوصاف فی الجامدات ایضا وان لم یحصل التھیؤ لمقصد اخر ولانعنی القلیل حتی تقولوا ان القلیل مغلوب والمغلوب ھدر اجماعا بل الحد الذی یعتبر فیما یجعلہ شیئا
پہلی صورت یعنی پانی کے اطلاق کے زوال سے ہے اگرچہ وہاں دوسرا نام نہ بھی دیا گیا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے طہارت کیلئے پانی کے استعمال کا حکم دیا ہے اور جس چیز پر پانی کا نام اور اطلاق نہ رہا تو وہ مامور بہ (پانی) سے خارج ہوگی خواہ کسی دوسرے مقصد کیلئے ہو یا نہ ہو اور اس کو نئے نام سے موسوم کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو لیکن جامد چیز کے مخلوط ہونے پر یہ ضروری ہے کہ پہلی صورت (پانی کے اطلاق کی نفی) کے بعد دوسری صورت (نئے مقصد کیلئے تیاری کی وجہ سے نیا نام) کو ضرور لاحق ہوگی جیسا کہ آپ سیلابی پانی معمولی اور قلیل شکر والا پانی جس پانی میں چنے ڈالے ہوں یا جس پانی میں کھجور ڈال دی گئی ہو کو دیکھ سکتے ہیں (کہ ان صورتوں میں نہ صرف یہ کہ پانی کا اطلاق باقی ہے بلالکہ نئے مقصد کے لئے نیا نام بھی نہیں دیا گیا لہذا اس سے وضو جائز ہے)اس کے برخلاف وہ پانی جس میں کوئی مائع چیز ملائی گئی ہو تو اگر پانی کے اوصاف اس سے تبدیل ہوجائیں تو اس کو پانی کہنے اور اس پر پانی کا اطلاق کرنے میں تردد پیدا ہوتا ہے اور اس کا پانی ہونا ذہن میں نہیں آتا تو نام اور اطلاق پانی کیلئے نہ رہا لیکن نیا نام بھی اس کو نہ دیا گیا کیونکہ تردد کی وجہ سے پہلا نام ختم ہوگیا اور نیا نام ثابت نہ ہوسکا میرے نزدیك امام ملك العلماء کے کلام میں زوال اسم ماء سے یہی مراد ہے جہاں انہوں نے امام محمد کے قول کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔ جامد چیز میں اس کے برخلاف طہارت ممنوع ہوگی جبکہ اس کو نیا نام دیا گیا ہو جیسا کہ پہلے تحقیق ہوچکی ہے الله تعالی سے توفیق اور اسی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
اس تحقیق سے اس اعتراض کی حقیقت بھی منکشف ہوگئی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مائع کی طرح جامد میں بھی اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار کیا جاتا ہے اگرچہ جامد کو پانی میں ملا کر کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار نہ کیا گیا ہو یہ شبہ اس لئے ختم ہوجاتا ہے کہ بالاجماع ہم جامد کی وہ قلیل مدار مراد نہیں لے رہے
وبہ ظھر الجواب عن قولھم المار فی البحث الاول من ابحاث غلبۃ الغیر عن العنایۃ ومجمع الانھر ان الغلبۃ بالاجزاء غلبۃ حقیقیۃ اذوجود المرکب باجزائہ فکان اعتبارہ اولی بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الی الوصف
جو صرف مغلوب ہو کر کالعدم ہوجائے بلالکہ پانی میں شامل ہونے والے جامد کی اتنی مقدار مراد ہے جو کسی دوسرے مقصد کیلئے پانی کو دوسری چیز بنانے کیلئے معتبر ہوسکے تو جب جامد کی وجہ سے پانی میں اس حد تك تغیر پیدا ہوجائے تو لازمی طور پر وہاں پانی کا نام سلب ہوجائے گا خواہ نئے مقصد کیلئے نیا نام اس کو نہ بھی دیا گیا ہو اس کی مثال زردج (زردہ) والا پانی ہوسکتا ہے کہ جب پانی میں اتنا زردہ ڈالا جائے جس سے کسی چیز کو رنگ نہ دیا جاسکے تو اس صورت میں وہاں دوسرا مقصد تو حاصل نہیں مگر اس کو پانی نہیں کہا جاتا اس کے برخلاف زعفران والا پانی ہے لیکن جب زردہ کی اتنی مقدار ہو جس سے کسی چیز کو رنگا جاسکتا ہو تو یہ بھی ایك تغیر ہے جو دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے مگر دونوں صورتوں میں اس حد کا تغیر ہے کہ وہاں پانی کا نام سلب ہوجاتا ہے فرق صرف یہ ہے پہلے میں نئے مقصد کیلئے نیا نام نہیں ہے جبکہ دوسری صورت میں نئے مقصد کیلئے نیا نام ہے جب دونوں صورتوں میں پانی مغلوب ہوکر اپنا نام کھوبیٹھا ہے تو ان دونوں صورتوں میں اس سے وضو ناجائز ہوگا کیونکہ وضو کے منع ہونے کیلئے پانی کا مغلوب ہوجانا ہی معیار ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ پانی سے اس کے نام کو سلب کرنے والے دو سبب ہیں ایك نئے مقصد کیلئے تیار ہونا اور دوسرا اس کے پانی ہونے میں تردد پایا جانا۔ (ت)گزشتہ تحقیق سے علماء کے اس قول کا بھی جواب واضح ہوگیا جس کو انہوں نے غیر چیز کے غلبہ کی پہلی بحث میں عنایہ اور مجمع الانہر سے نقل کیا ہے کہ حقیقی غلبہ اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ مرکب چیز کا وجود اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا اجزاء کے غلبہ کا
وفی (۱) الدم ان خرج من الفم تعتبر الغلبۃ بینہ وبین الریق من حیث اللون فانکان احمر نقض الوضو وان اصفر لاکما فی التبیین والبحر وغیرھما وفی (۲) الدم خرج من اسنانہ فابتلعہ ان غلب علی الریق افطر ویعرف بوجدان طعمہ وعلیہ الاکثر وبہ جزم فی البزازیۃ واستحسنہ الکمال وشےخ الاسلام الغزی کمافی الدر عــہ وھذا التوزیع علی وفق مسلکی فاعتبر وفی الوضو اللون تقدیما لہ وفی الصوم الطعم لتعذر ادراك اللون وقلت : خاصۃ انت ایھا الامام الثانی (۳) فی لبن امرأۃ خلط بدواء انہ ان
اعتبار اولی ہے بخلاف رنگ والے غلبہ کے کیونکہ وہ وصف کی طرف راجع ہے۔ اس کا جواب اس لئے واضح ہے کہ بہت سی نجس چیزیں جب پانی میں ملتی ہیں تو وہاں اوصاف کے غلبہ کے اعتبار سے حدیث کی نص اور ہمارا اجماع بھی ہے اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں جب۱ منہ سے خون نکلے تو وہاں رنگ کے اعتبار سے غلبہ ہوتا ہے کہ اگر تھوك میں سرخی ہو تو خون غالب ہوگا اور اگر سرخی کی بجائے صرف زردی ہو تو تھوك غالب ہوتا ہے جس پر وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا حکم نافذ ہوتا ہے جیسا کہ تبیین بحر وغیرہما میں ہے اور جب۲ دانتوں سے خون نکلے اور روزہ دار اس کو حلق میں اتارلے تو اگر خون کا ذائقہ ہوا تو خون کو غالب قرار دے کر روزہ کے فساد کا حکم ہوگا اور اگر خون کا ذائقہ نہ پایا تو روزہ فاسد نہ ہوگا
عــہ عبارۃ وجیز الکردری لاشیئ اذاخرج الدم من بین اسنانہ والبزاق غالب فابتلعہ ولم یجد طعمہ وان غلب الدم اوتساویا فسد اھ ۔ ونظم الدران غلب الدم اوتساویا فسد والالا الا اذاوجد طعمہ بزازیۃ الخ اقول : فالثنیا باعتبار الغلبۃ بالاجزاء والحکم باعتبار الغلبۃ بالوصف فان المغلوب لاحکم لہ منہ غفرلہ۔ (م)
وجیز الکردری کی عبارت یوں ہے “ جب دانتوں سے خون نکلے اور اس پر تھوك کی غالب رہے تو کوئی حرج نہیں جبکہ نگلنے میں خون کا ذائقہ نہ پائے اور اگر تھوك پر خون غالب ہو یا برابر ہو تو وضو فاسد ہوگا اھ اور درمختار کی عبارت یوں ہے : “ اگر خون غالب ہو یا دونوں مساوی ہوں تو وضو فاسد ہوگا ورنہ نہیں الا یہ کہ خون کا ذائقہ پائے بزازیہ الخ میں کہتا ہوں کہ درمختار کی عبارت میں حکم میں وصف کے لحاظ سے غلبہ کو بیان کیا گیا ہے اور استشناء میں اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ مغلوب چیز کے لحاظ سے حکم نہیں ہوتا۔ (ت)
فان قلت : لم عدل محمد ھھنا عن الاوصاف الی الاجزاء قلت : لان الحکم فی الطھارۃ علی الماء فلزم المطلق وھھنا علی الرضاع (۱) والمص من الثدی غیر لازم بالاجماع فبقی وصول اللبن الی الجوف فما دام اللبن لبنا صدق الوصول ھذا ماظھرلی
یہی اکثر علماء کا موقف ہے اور اسی پر بزازیہ نے جزم کیا ہے کمال اور شےخ الاسلام الغزی نے اس کو پسند کیا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے اور مذکور تقسیم وترتیب میرے ضابطہ کے مطابق ہے کہ وضو کے بارے میں رنگ کا اعتبار پہلے ہوگا اور روزہ کے بارے میں ذائقہ کا اعتبار ہوگا کیونکہ روزہ کی صورت میں رنگ کا ادراك مشکل ہوتا ہے۔ اور(۳) میں خاص طور پر امام ثانی (امام یوسف) کے بارے میں کہتا ہوں کہ انہوں نے عورت کے دودھ کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ دوائی میں مل جائے اور دوائی کی وجہ سے اس دودھ کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہوجائے تو اس سے بچنے کیلئے رضاعت والی حرمت ثابت نہ ہوگی ورنہ حرمت ثابت ہوجائےگی۔ تبیین میں کہا ہے کہ منتقی میں امام یوسف سے مروی غلبہ کی یہ تفسیر کی گئی ہے کہ جب عورت کے دودھ میں دوائی ڈالی جائے جس سے دودھ کے رنگ اور ذائقہ میں سے ایك چیز بدل جائے اور دوسری تبدیل نہ ہو تو پھر کسی بچہ نے اس کو پی لیا تو حرمت ثابت ہوگی اور اگر دوائی کی وجہ سے دودھ کا رنگ اور ذائقہ دونوں تبدیل ہوجائیں اور ذائقہ اور رنگ باقی نہ رہے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اور امام محمد سے غلبہ کی تفسیر کو ولید نے یوں بیان کیا ہے کہ جب دواء نے دودھ کی حیثیت کو باقی رکھا تو اس سے حرمت ثابت ہوگی اھ۔ (ت)اگر آپ کا یہ اعتراض ہو کہ امام محمد نے یہاں غلبہ کے اعتبار میں اوصاف کی بجائے اجزا کی طرف کیوں عدول کیا ہے تو اس کے جواب کیلئے میں کہتا ہوں کہ طہارت کے معاملہ میں حکم کا تعلق پانی سے ہوتا ہے جس کو مطلق رکھنا ضروری ہے اور یہاں حکم کا تعلق رضاع سے ہے جس میں پستان سے چوسنا لازم نہیں ہے
اقول : وکان ابایوسف یقول رضی الله تعالی عنہ الارتیاب والالتباس لعارض لایغیر الذات لایخرج الشیئ عن حقیقتہ المتبادر الیھا الافھام عنہ سماع اسمہ کزید جاء متنکرا فلم یعرفہ الناس ولامعنی لزوال الاسم مع بقاء الحقیقۃ اجزاء ومقصودا کما قدمنا تحقیقہ ولربما یحصل الالتباس بخلط جامد فانہ لایغیر الا اذا انماع فاذا اتحد عملہ وعمل مائع کان اللبس علی حد سواء فانك ان القیت فی الماء عصفرا فاصفر وصار کماء الزردج لاتفرق بینہ وبین ماء القی فیہ ماء الزردج وقد اجمعنا علی اھدارہ مالم یتھیا لمقصد اخر والنجس لایؤثر فی تغییر ذات الماء کمامر منا تحقیقہ ان الماء النجس والمستعمل من الماء المطلق وانما یسلبہ وصف الطہارۃ فجاز البناء فیہ علی الاوصاف التی لاتتغیر بتغیرھا الذات بخلاف ماھنا فانہ مھما تبقی الذات سالمۃ یبقی داخلا تحت المطلق المامور بہ والمعتبر فی الوضو (۱)سیلان نجس بقوتہ ولانظر بعد ذلك الی امتزاجہ مع
بلالکہ بالاجماع یہاں دودھ کا حلق سے اندر اترنا معتبر ہے تو جب تك دودھ کی حیثیت باقی ہے اس وقت تك حلق میں وصول کا لحاظ باقی رہے گا امام محمد کے مذہب کی تقریر میں یہ میری رائے ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں امام یوسف گویا یوں فرماتے ہیں کہ عارضہ کی بنا پر کسی چیز میں تردد واشتباہ اس چیز کی ذات کو اپنی حقیقت سے خارج نہیں کرسکتا حقیقت اس کی وہی ہے جو اس کے نام سننے پر فہم میں آئے جیسا کہ زید اپنی حالت تبدیل کرکے آئے تو لوگ اس کو نہیں پہچانیں گے (اس کے باوجود وہ زید ہے) شیئ کا نام اس وقت تك ختم نہیں ہوتا جب تك شیئ کی حقیقت اجزاء اور مقصود کے اعتبار سے باقی ہو جیسے کہ ہم نے پہلے تحقیق کردی ہے یوں تو جامد چیز ملنے سے کبھی اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ جامد چیز پانی میں پگھل کر اور گھل کر ہی اس میں تبدیلی پیدا کرتی ہے لہذا جب مائع اور جامد دونوں کا عمل قدرے مساوی ہے تو دونوں سے اشتباہ وتردد کی صورت بھی برابر ہے یقینا آپ جب پانی میں عصفر ڈالیں گے تو پانی اسی طرح زرد ہوگا جس طرح زردہ والا پانی زرد ہوتا ہے آپ رنگ کی تبدیلی میں دونوں کا فرق واضح نہیں کر پائیں گے جبکہ ہم زردہ کے پانی کے معمولی رنگ کو کالعدم قرار دے چکے ہیں نجاست پا نی کی ذات کو تبدیل کرنے میں مؤثر نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے ہماری تحقیق گزر چکی ہے کہ ناپاك پانی اور مستعمل پانی مطلق پانی ہوتے ہیں صرف ان کا وصف طہارت منتفی ہوتا ہے لہذا نجاست کے
حکم کی بنیاد ایسے اوصاف پر ہوسکتی ہے جن کی تبدیلی سے پانی کی ذات تبدیل نہ ہو لیکن پانی میں پاك چیز ملنے کی وجہ سے تغیر کا حکم اس کے خلاف ہے کیونکہ یہاں اوصاف کی تبدیلی سے مطلق پانی کی ذات قابل استعمال ہونے میں سالم رہتی ہے۔ اور وضو کے فساد میں بدن سے نجاست کا اپنی قوت سے بہنا معتبر ہوتا ہے اس کے بعد اس نجاست کا پاك چیز سے امتزاج قلیل مقدار میں ہو یا کثیر مقدار میں اس کا کوئی لحاظ نہیں ہوگا تو تھوك کی سرخی سے منہ سے
نکلنے والے خون کی کثرت اور قوت سے خارج کی دلیل ہوگی اور تھوك کی زردی خون کے قلیل اور مغلوب ہونے کی دلیل ہوگی۔
امام زیلعی نے فرمایا ہے کہ منہ سے نکلنے والے خون میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اور خون اور تھوك مساوی ہوں تو بھی وضو فاسد ہوگا کیونکہ اس صورت میں تھوك اور خون مساوی قوت سے خارج ہوئے ہیں مغلوب کا معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ غالب کے تابع ہوتا ہے اور غلبہ کا اعتبار رنگ سے کیا جائے گا الخ پھر انہوں نے اس کے بعد فرمایا اگر خون کی قے آئے تو معلوم کیا جائے کہ یہ خون سر سے اترا ہے یا پیٹ سے ابھرا ہے اگر سر سے نازل ہوا ہو تو اس سے وضو فاسد ہوجائےگا خواہ وہ خون قلیل ہو یا کثیر ہو اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے
اور اگر وہ پیٹ کا خون بستہ ہو تو پھر منہ بھر کر قے ہونے پر وضو فاسد ہوگا یہی مختار مسلك ہے کیونکہ حقیقت میں وہ خون نہیں ہے بلالکہ وہ سوداء کا جلا ہوا مادہ ہے اور اگر وہ پیٹ سے ابھرا ہوا خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوجائےگا کیونکہ وہ پیٹ میں کسی زخم کا خون ہے جو ایسے مرحلہ میں پہنچ گیا یعنی خارج ہوکر ایسی جگہ پہنچ گیا جس جگہ کو پاك رکھنے کا حکم ہے اھ۔ اس کے بعد انہوں نے کنز کے اس قول لابلغما اودما غلب علیہ البصاق (یعنی جب بلغم کی یا ایسے خون کی قے ہو جس پر تھوك غالب ہو تو وضو فاسد نہ ہوگا) کے تحت کہا یہ حکم جب ہے کہ وہ خون منہ کا ہو اور اور اگر وہ پیٹ کا ہو تو پھر اس کی تفصیل ہم بیان کرچکے ہیں اھ یعنی یہی کہ اگر خون بستہ ہو تو منہ بھر قے ہونے پر وضو فاسد ہوگا ورنہ نہیں اور اگر خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوگا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں فرمایا کہ پیٹ سے آنے والے خون میں تھوك کی ملاوٹ منہ میں ہوتی ہے کیونکہ تھوك کا مقام منہ ہے پیٹ نہیں اس سے منہ سے نکلنے والے خون اور پیٹ سے آنے والے خون کا فرق واضح ہوگیا کیونکہ منہ سے نکلنے والے خون کا سبب تھوك ہے اور تھوك پر اس کا غلبہ اس کے خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے لیکن پیٹ سے
آنے والے خون کا معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس کا منہ تك آنا خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے اس لئے کہ وہ بہہ کر یہاں پہنچا یوں فرق واضح ہوا اھ۔ اور روزہ فاسد ہونے کا معیار یہ ہے کہ خارج سے کسی ایسی چیز کا پیٹ میں داخل ہونا جس سے بچاؤ مشکل ہو تو وہ معاف ہے اسی وجہ سے کلی کرنے کے بعد منہ میں باقی رہنے والی تری روزہ دار کو معاف ہے اور کوئی چیز کھانے کے بعد اگر اس کا قلیل اثر منہ میں باقی رہ جائے تو وہ بھی معاف ہے اور اگر کوئی ذائقہ والی چیز ہو تو وہ قلیل نہ ہوگی اس سے روزہ فاسد ہوگا۔ اس کی تحقیق فتح القدیر میں ہے انہوں نے فرمایا ہماری دلیل یہ کہ قلیل چیز دانتوں کے تابع ہو کر تھوك کی طرح ہوجائے گی لہذا اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا اس کو دانتوں کے تابع اس لئے قرار دیا ہے کہ کھائی ہوئی چیز کے اس اثر سے جو دانتوں کے اردگرد باقی ہوتا ہے سے بچنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ لعاب کے ساتھ مل کر حلق میں منتقل ہوجاتا ہے اس لئے روزہ کے فساد کا تعلق اس قلیل اثر سے نہ ہوگا بلالکہ کثیر اثر سے ہوگا روزہ کے لئے مفسد اور غیر مفسد اثر کے بارے میں مشائخ میں سے بعض نے
یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ اگر وہ اثر ایسا ہو جس کو حلق سے اتارنے کیلئے لعاب کی مدد ضروری ہو تو وہ قلیل اور غیر مفسد ہے اور اگر لعاب کے بغیر اس کو حلق سے اتارا جاسکے تو کثیر اور مفسد ہے یہ فرق خوب ہے کیونکہ حلق تك وصول کے باوجود روزے کا فاسد نہ ہونا اس بنا پر ہے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کیونکہ لعاب سے مل کر خودبخود وہ اثر حلق سے بغیر قصد اترجاتا ہے اور جو اثر قصدا اتارنا پڑا وہ معاف نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی مجبوری نہیں ہے اور کافی میں ہے کہ اگر تل کا دانہ چبایا تو روزہ فاسد نہ ہوگا لیکن اگر اس کا ذائقہ حلق میں پایا جائے تو فاسد ہوگا۔ یہ فرق بہت خوب ہے اھ۔ اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ روزہ اور وضو کے فساد میں رنگ اور ذائقہ کا اعتبار غلبہ کی وجہ سے نہیں لکہ اس لئے کہ ان دونوں وصفوں کی وجہ ان کے فساد کا معیار پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے شراب کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ شراب میں پانی قلیل یا مساوی ہو تو پینے والے کو حد لگے گی بشرطیکہ یہ شراب اس کے حلق سے نیچے اتر گئی اور اس میں پانی کثیر اور زیادہ تھا توحد نافذ نہ ہوگی بشرطیکہ نشہ نہ ہوا ہو اس کو بزازیہ میں ذکر کیا ہے یہاں فقہاء نے اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار کیا ہے ورنہ خبیث شراب تو اپنے سے کئی گنا زیادہ پانی میں مل کر بھی اوصاف میں غالب رہتی ہے لیکن رضاع کے مسئلہ میں بھی اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے خواہ وہ غلبہ اپنے تین معانی میں سے کسی معنی میں پایا جائے یہاں اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار نہیں ہے یہ امام محمد کا قول ہے جیسا کہ میں نے اس کو ردالمحتار کی تعلیقات میں ذکر کیا ہے اس کے علاوہ یہاں رضاع میں حکم کا معیار غذا گوشت پیدا کرنا اور ہڈی بنانے والی چیز کو پینا ہے تو دوسرے امام (امام ابویوسف) نے یہ گمان فرمایا کہ جب دوا عورت کے دودھ میں مل کر اس کے رنگ اور ذائقہ کو ختم کردے گی تو وہ دودھ کی قوت کو بھی ختم کردے گی جیسے طعام میں مل کر دودھ کی قوت ختم ہوجاتی ہے والله تعالی اعلم حجاب اٹھ گیا درستی کھل گئی الحمدلله والصلوۃ علی رسول الله وآلہ وصحبہ اجمعین آمین۔ (ت)
فصل رابع ضوابط کلیہ: الحمدلله ہمارے بیانات سابقہ نے واضح کردیا کہ دونوں مذہب امامین مذہب رضی اللہ تعالی عنہمادو۲ ضابطہ کلیہ ہیں :
اول ضابطہ یوسفیہ: کہ جب پانی کا سیلان زائل ہوجائے یا رقت نہ رہے اگرچہ بے کسی چیز کے ملنے یا اس میں اس کا غیر کہ مقدار میں برابر یا پانی سے زائد ہو مل جائے یا دوسری شے سے مل کر
دوم ضابطہ شیبانیہ: کہ اگر سیلان یا رقت نہ رہے تو مقید ہے اگرچہ بے خلط چیزسے ہو اور کسی چیز کے خلط سے مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجائے تو مقید ہے اگرچہ مخلوط جامد ہو اور اگر یہ صورتیں نہیں اور مخلوط شے جامد ہے تو مطلقا مائے مطلق ہے اگرچہ اوصاف بدل جائیں اور اگر مخلوط شے مائع ہے تو اولا رنگ دیکھیں گے اگر پانی پر اس کا رنگ اس درجہ غالب آیا کہ ناظر کو اس کے پانی ہونے میں اشتباہ پڑے مائع دیگر کا شبہ گزرے تو مقید ہوگیا اور اگر رنگ اتنا نہ بدلا تو مزے پر نظر ہوگی اگر مزہ اس حد التباس تك بدل گیا تو مقید ہے اور اگر رنگ ومزہ اس حد تك نہ بدلے تو بو کا لحاظ نہیں صرف یہ دیکھیں گے کہ وہ دوسرا مائع اگر مقدار میں پانی سے زائد یا برابر ہے مقید ہوگیا ورنہ مطلق ہے۔
سوم ضابطہ برجندیہ: کہ پاك چیز جو پانی میں ملے اگر جنس ارض سے ہے جیسے مٹی ہرتال چونا یا اس سے زیادت نظافت مقصود ہوتی ہے جیسے صابون وغیرہ اگرچہ پکنے میں ملے ان دونوں صورتوں میں جب تك پانی اپنی رقت پر باقی ہے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور اگر نہ جنس زمین سے ہے نہ اس سے زیادت نظافت مقصود تو اس کا خلط اگر پکتے میں ہوا اور اس سے پانی میں کچھ بھی تغیر آیا وضو جائز نہیں اگرچہ رقت باقی رہے مگر ظہیریہ نے اس میں بھی اعتبار رقت کیا اور اگر خلط بلاطبخ ہوا تو اس صورت میں امام محمد مطلقا اعتبار رنگ فرماتے ہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك اگر وہ بہتی ہوئی چیز ہے تو کثرت اجزا کا اعتبار ہے اگر پانی زیادہ ہے وضو جائز ورنہ نہیں اور غیر مائع میں وہی اعتبار رقت ہونا چاہئے کہ پانی اپنی رقت پر نہ رہے تو وضو ناجائز ورنہ جائز۔
قال رحمہ الله تعالی تفصیلہ ان الطاھر المخالط اما۱ من جنس الارض کالتراب والزرنیخ والنو رۃ اومن غیر جنس الارض وھو۲ اما ان لم یختلط بہ بالطبخ او۳اختلط بہ بالطبخ وحینئذ اما ان یقصد بہ النظافۃ کالاشنان اولا۴فھذہ اربعۃ اقسام وحکم الاقسام الثلثۃ الاول
(علامہ برجندی) رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی نے کہا کہ پانی میں پاك چیز ملنے کی تفصیل یوں ہے کہ وہ مٹی ہڑتال چونا جیسی جنس زمین سے ہوگی یا غیر جنس زمین سے پھر خواہ وہ پانی میں پکانے سے نہ ملے یا پکانے سے مل گئی اور ملانے سے مقصود طہارت میں مبالغہ ہے جیسے اشنان یا نہیں تو یہ کل چار(۴) صورتیں ہوئیں پہلی تین صورتوں میں تو یہ حکم ہے کہ اگر پانی غالب ہو تو وضو
جائز ہوگا ورنہ وضو جائز نہ ہوگا پہلی اور تیسری صورت میں ملنے والی شے کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کا پتلا پن جاتا رہے اور دوسری صورت میں امام محمد کے ہاں جب ملنے والی شے کا رنگ پانی پر غالب آجائے غلبہ ہوگا اور امام ابویوسف کے ہاں جب اس کے اجزاء غالب ہوجائیں تو غلبہ ہوگا چونکہ امام ابویوسف غلبہ بالاجزاء کے قائل ہیں بنابریں غیر مائع اشےاء کا غلبہ پانی کے پتلے پن کے زوال سے ہونا چاہے۔ امام ابویوسف سے ایك اور روایت بھی ہے کہ اگر ملنے والی شے سے طہارت میں مبالغہ مقصود نہ ہو مثلا صابن تو پانی وضو کے قابل مطلق نہ رہے گا چاہے اجزاء کا غلبہ ہو یا نہ ہو فتاوی ظہیریہ اور شرح ہدایہ کا مفہوم یہی ہے اور ہدایہ میں یہ مذکور ہے کہ اولا رنگ پھر ذائقہ پھر اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ رہا چوتھی صورت کا حکم جس کی طرف برجندی نے “ یا غیر جنس الارض پکانے سے ملے جس سے مبالغہ طہارت مقصود نہ ہو “ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔ تغیر کو مطلق رکھنے اور پانی کے طبعی حالت سے اخراج کے مقابل ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری شے کے پانی میں پکنے سے آنے والی تبدیلی وضو سے مانع ہے چاہے پانی کو طبعی حالت سے نکالے یا نہ نکالے یہ ہدایہ سے مفہوم ہے جبکہ خزانہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور فتاوی قاضی خان میں ہے کہ جب پانی میں لوبیا پکایا جائے اور اس کی بو محسوس ہونے لگے تو اس سے
وضو جائز نہ ہوگا فتاوی ظہیریہ میں ہے کہ چنے یا لوبیا پانی میں ابالے گئے اور ساکن ہونے پر پانی گاڑھا ہوگیا تو وضو جائز نہ ہوگا اور اگر پتلا پن برقرار رہا تو جائز ہوگا۔ یہاں تمام عبارات کو محض یکجا کرنے کی خاطر ذکر کردیا گیا ورنہ اس کا آخری حصہ تو پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے۔ (ت)
اقول : اس کا خلاصہ یہ کہ امام ابویوسف کے نزدیك مطلقا رقت آب پر مدار ہے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ کوئی بہتی چیز بغیر طبخ پانی میں ملے کہ اس میں کثرت اجزاء پر لحاظ ہے دوسرے یہ کہ جس چیز سے زیادت نظافت نہ مطلوب ہو طبخ میں ملے اس میں مطلق تغیر مانع ہے اور امام محمد کے نزدیك مطلقا اوصاف کا اعتبار ہے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ ملنے والی چیز جنس زمین سے ہو دوسری یہ کہ اس سے زیادت نظافت مطلوب ہو ان دونوں میں رقت پر نظر ہے ہماری تحقیقات وتنقیحات مذکورہ اور ائمہ کے نصوص وتصریحات مسطورہ پر نظر کرنے والا جانے گا جن جن وجوہ سے اس میں کلام ہے مثلا
اول مذہب۱ امام ابویوسف میں مقصد آخر کیلئے شیئ دیگر ہوجانے کا ذکر باقی رہ گیا اس میں رقت وکثرت اجزا کسی کا لحاظ نہیں۔
فان قلت الیس قال باعتبار الاجزاء علی قولہ وقد تقدم لك ان معناھا الثالث التھیؤ لمقصد اخر۔
اقول : لکن کلامہ بمعزل عنہ الاتری انہ خصھا فی الجامدات بانسلاب الرقۃ۔
اعتراض : کیا برجندی نے باعتبار الاجزاء کے الفاظ قد تقدم لك ان معناھا الثالث التھیؤ لمقصد اخر کے تحت نہیں کہے
جواب : برجندی کے کلام کا مقصد ہرگز وہ نہیں جو بیان کیا جارہا ہے کیونکہ اس نے اس صورت کو جامدات کے ملنے پر پانی کی رقت ختم ہوجانے کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے۔ (ت)
ثانی : یوہیں ۲ مذہب امام محمد میں اس کا ذکر نہ آیا حالانکہ وہ مجمع علیہ ہے جیسا کہ مسائل نبیذ و زعفران وغیرہا میں گزرا۔
ثالث۳ نمبر ۲۱۷ و بحث دوم ابحاث طبخ میں۳۱ کتابوں سے تصریح وتحقیق گزری کہ طبخ میں بھی رقت ہی مدار ہے مجرد تغیر وصف کا فی نہیں۔
خامس۲ نیز یہ کہ صاحبین رحمہم اللہ تعالیسے مذہب منقول میں دونوں کا ایك حکم ہے۔
(۳) السادس انما الغلبۃ قطب الرحی فلاتختص بھا الاقسام الاولی۔ (۴)السابع محمد لایقتصر علی اللون۔ (۵) الثامن مجرد الخلط بلاتغییر مالایمنع اجماعا فلابد من تقیید اطلاق ماذکر روایۃ عن الثانی فی القسم الثانی۔
(۶) التاسع قدمنا مافی استشھادہ باطلاق التغیر وجعلہ قسیما لزوال الطبع قلیل ۲۱۷۔
(۷) العاشر حققنا مفھوم الھدایۃ فی ثانی ابحاث الطبخ وان مافھم منہ من الاجتزاء بمجرد تغیر الوصف الذی استشھد علیہ بعبارۃ الخزانۃ اوالخانیۃ غیر مراد۔
(۸) الحادی عشر ذکرنا معنی کلام الخانیۃ فی ۲۱۷ وانہ لایؤید مایرید ۔
(۹) الثانی عشر ذکرنا فی ثانی ابحاث الطبخ مافی الاستناد بھا بثلثۃ وجوہ۔
چھٹا اعتراض : پہلی اقسام غلبہ کے ساتھ مختص نہیں ہیں حالانکہ غلبہ ہی اس مسئلہ کا مدار ہے۔
ساتواں اعتراض : امام محمد محض رنگ پر اکتفا نہیں کرتے۔
آٹھواں اعتراض : محض ملاوٹ بغیر پانی کی تبدیلی کے جو بالاجماع وضو سے مانع نہیں ہے لہذا قسم ثانی میں امام ابویوسف کی مطلق روایت کو مقید بنانا ضروری ہے۔
نواں اعتراض : ہم نے نمبر ۲۱۸ سے تھوڑا پہلے وہ اعتراض ذکر کیا ہے جو بحوالہ امام ابویوسف پانی میں تبدیلی کو مطلق رکھنے اور حالت طبعی سے نکلنے کا مقابل بنانے پر ہوتا ہے۔
دسواں اعتراض : ہدایہ کے مفہوم کی تحقیق پکانے کی مباحث میں سے بحث ثانی میں ہم بیان کرچکے ہیں اور یہ بھی کہ اس سے جو سمجھا جارہا ہے کہ صرف اس وصف کے تغیر پر اکتفاء کیا جائےگا جس پر خزانہ اور خانیہ کی عبارت شاہد ہے یہ مراد نہیں ہے۔
گیارھواں اعتراض : ہم خانیہ کے کلام کا صحیح مفہوم ۲۱۷ میں واضح کرچکے ہیں جو برجندی کے خیال کا مؤید نہیں ہے۔
بارھواں اعتراض : خانیہ کی عبارت کو سند بنانے پر ہم پکانے کی بحث ثانی میں تین وجوہ سے اعتراض کرچکے ہیں۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (الله تعالی کی توفیق سے میں کہتا ہوں اسی کی توفیق سے تحقیق کی گہرائی تك پہنچا جاسکتا ہے۔ ت) یہ فقیر حقیر غفرلہ الغفور القدیر اکابر کے حضور زبان کھولنے کی کیا لیاقت رکھتا ہے مگر بحمد المولی سبحنہ وتعالی جب دامن ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہمہاتھ میں ہو تو دل قوی ہوتا ہے۔ بیان امام فخر زیلعی رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کے دو۲ حصے ہیں :
پہلا ضابطہ تقیید یعنی پانی کس کس سبب سے مقید ہوکر آب مطلق لائق وضو نہیں رہتا یہ ان لفظوں میں تھا کہ تشرب۱ نبات یاکمال۲ امتزاج بطبخ غیر منظف یا غلبہ۳ غیر وبس اس میں صرف تین وجہ سے کلام ہے۔
اول۱ : یہ کلام نفیس وصحیح ورجیح ونجیح تھا اگر کلام آتی میں غلبہ غیر کو زوال رقت وغلبہ اوصاف وکثرت مقدار سے خاص نہ کرتے کہ زوال اسم وتبدل مقصود کو بھی شامل رہتا کماقدمنا فی مبحث غلبۃ الغیر۔
اقول : بلالکہ اب صرف غلبہ غیر پر قناعت بس تھی کہ تشرب نبات وامتزاج بالطبخ کو بھی شامل مگر اس تخصیص سے تقیید کا یہ اجماعی سبب اعنی تبدل مقصود باقی رہ گیا اور بس کہنا صحیح نہ ہوا اس کی تحقیق وتنقیح مستطاب اور کلام بحر وابو السعود سے جواب ۲۸۷ میں گزرا وبالله التوفیق یہ اعتراض اصل میں بحر کا ہے۔
دوم : تشرب نبات سے قاطر کرم کو کہ آپ ٹپکتا ہے خارج فرمانا اگرچہ ایك جماعت اکابر نے مانا تحقیق اس کے خلاف ہے اس کا بیان ۲۰۵ میں گزرا یہ اعتراض امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں کیا
فقال فی اثناء نقل الضابطۃ حین بلغ ھذا المحل مانصہ لکن عرفت مافی ھذا الحکم من الخلاف ومافی ھذا التعلیل
ضابطہ نقل کرتے ہوئے امام امیر الحاج نے یہاں پہنچ کر اپنے لفظوں میں یوں کہا لیکن اس حکم میں اختلاف اور بیان علت میں جو معنوی تعارض ہے اس سے
تم باخبر ہوچکے ہو جیسا کہ ہم نے کچھ ہی پہلے کافی سے بحوالہ محیط نقل کیا اور یہ بھی بتایا ہے کہ درحقیقت مضبوط بات بھی یہی ہے (ت)
اقول۱ : بلالکہ اس کے پانی ہی ہونے میں کلام ہے اس کا بیان حاشےہ ۲۰۷ میں گزرا ۔
سوم اقول : مطبوخ۲ منظف کا حکم باقی رہ گیا
فانہ اخرجہ من الطبخ بالقید ومن الغلبۃ بقولہ وغلبۃ الممتزج بالاختلاط من غیر طبخ ولاتشرب نبات ۔
کیونکہ اس کو طبخ اور غلبہ کی صورتوں سے خارج کردیا ہے۔ طبخ سے (غیر منظفات کی) قید لگاکر اور غلبہ سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ پانی میں ملنے والی چیز کا بغیر پانی اور بغیر سبزیوں کے چوسنے کے غلبہ ہو۔ (ت)
دوسرا ضابطہ غلبہ بے تشرب وبے طبخ وہ یہاں سے آغاز ہوا کہ اگر جامد شے ملی الی آخرہ۔
اقول : اول میں جو کچھ فرمایا منقول تھا ہے دوم ہی امام ممدوح کا ایجاد واجتہاد ہے جسے امام محقق علی الاطلاق پھر علامہ شرنبلالی پھر علامہ شامی نے بلفظ اقتحام تعبیر فرمایا کہ اقتحم عــہ شارح الکنز رحمہ الله تعالی التوفیق بین کلام الاصحاب باعطاء ضابط فی ذلك (شارح کنز علیہ الرحمۃ نے فقہاء کے مختلف اقوال کو موافق بنانے کے لئے ضابطہ دے کر اس میں سینہ زوری سے کام لیا ہے۔ ت) اور یہی معترك ایرادات ومجمع ہرگونہ مخالفات ہے۔
ازانجملہ چہارم ذکر ان چیزوں کا ہے جو کہ پانی کو مقید کریں نہ کہ پانی ہی نہ رکھیں اور سلب رقت ہو کر پانی ہی نہ رہے گا تو سبب سوم کی چاروں صورتوں سے پہلی حذف ہونی چاہئے یہ اعتراض امام ابن الہمام
عــہ ھذہ عبارۃ المحقق حیث اطلق ومثلہ للشامی ولفظ الشرنبلالی فی الغنیۃ کماقال الزیلعی المقتحم لھذا الضابط ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
یہ عبارت محقق مطلق (صاحب فتح القدیر) کی ہے اور شامی نے بھی یہی الفاظ کہے ہیں البتہ شرنبلالی نے غنیہ میں یوں کہا کہ جیسے زیلعی نے کہا کہ جو اس ضابطہ کا اختراع کنندہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حیث قال بعد نقل الضابطۃ والوجہ ان یخرج من الاقسام ماخالط جامدا فسلب رقتہ لان ھذا لیس بماء مقید والکلام فیہ بل لیس بماء اصلا کمایشےر الیہ قول المصنف الا ان یغلب فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ اھ ونقلہ فی منحۃ الخالق واقرہ۔
اقول : (۱) وما ھو الاشبہ الاخذ علی اللفظ اذلا اثرلہ علی الاحکام ومامثلہ فی الفقہ بنادر۔
ابن ہمام نے ضابطہ نقل کرنے کے بعد کہا بہتر یہ ہے کہ ان صورتوں میں سے جامد شے کے ملنے سے پانی کی رقت زائل ہوجانے کی صورت نکال دی جاتی کیونکہ یہ مقید پانی نہیں ہے جس میں کہ بات ہو رہی ہے بلالکہ یہ سرے سے پانی ہی نہیں جس کی طرف خود مصنف نے یوں اشارہ کیا کہ مگر یہ کہ غالب ہوکر ستو جیسی شے بن جائے کیونکہ اسے پانی نہیں کہا جاتا اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے اور ثابت کیا ہے (ت)میں کہتا ہوں حالانکہ یہ مناسب نہیں لفظی گرفت سے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور فقہ میں ایسی چیز نادر نہیں ہے۔ (ت)
پنجم : خرما جا مد ہے تو بحکم ضابطہ نبیذ سے وضو جائز ہونا چاہئے جب تك پانی رقیق رہے حالانکہ یہ خلاف صحیح ہے اور روایت جواز سے امام نے رجوع فرمائی۔
اقول : ۲ خر مے کی کیا تخصیص ہے کہ صحیح ومرجوح ومختار ومرجوع سے فرق کرنا پڑے کشمش مشمش انجیر وغیرہا سب جامد ہیں اور ان کی نبیذ سے وضو بالاجماع باطل اور بحکم ضابطہ جواز چاہئے۔
ششم : یوہیں زعفران جامد ہے تو اگرچہ تینوں وصف بدل دے بروئے ضابطہ جواز رہے جب تك رقت باقی ہو حالانکہ حکم منصوص عدم جواز ہے جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے یہ دونوں اعتراض علامہ صاحب بحرالرائق کے ہیں ان کا ذکر ۲۸۷ ۲۹۵ میں گزرا
مع ماحاول البحر من توجیھہ و رد النھر علیہ وتحقیق الرد بما لامزید علیہ وقدمنا ایضا فی ماورد فی مسألۃ الزعفران من عبارات ظواھرھا
اس کے ساتھ ہی صاحب بحرالرائق کی توجیہ اور صاحب نہر کے رد اور رد کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اور ہم نے پہلے بھی نمبر ۱۲۴ میں مسئلہ زعفران سے متعلق وہ روایات
اقول : وبہ ظھر ولله الحمد محمل مافی البحر اذقال بعد ماذکر تبعا للھدایۃ ان ماء الزعفران ماء مطلق عندنا ومقید عند الشافعی رضی الله تعالی عنہ مانصہ فان قیل (۱) لو حلف لایشرب ماء فشرب ھذا الماء المتغیر لم یحنث (۲) ولو استعمل المحرم الماء المختلط بالزعفران لزمتہ الفدیۃ (۳) ولو وکل وکیلا بان یشتری لہ ماء فاشتری ھذا الماء لایجوز فعلم بھذا ان الماء المتغیر لیس بماء مطلق قلنا لانسلم ذلك ھکذا ذکر السراج الھندی اقول ولئن سلمنا فالجواب امافی مسألۃ الیمین والوکالۃ فالعبرۃ فیھما للعرف وفی العرف ان ھذا الماء لایشرب واما فی مسألۃ المحرم فانما لزمتہ الفدیۃ لکونہ استعمل عین الطیب وان کان مغلوبا اھ۔ فالکلام فی ماء خالطہ زعفران قلیل فغیر لونہ ولم یجعلہ صالحا للصبغ فھذا ھو الباقی علی اطلاقہ الصالح للطھارۃ بہ وفیہ یستقیم قول العلامۃ السراج لانسلم
بھی ذکرکی ہیں جو بظاہر متنافی ہیں اور ان کا ایسا مطلب بھی بیان کیا ہے جو انہیں بے غبار بنادیتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں بحمدہ تعالی اس تقریر سے بحر کی وہ عبارت بھی واضح ہوگئی جو اس نے ہدایہ کی اتباع میں کہی کہ زعفران والا پانی ہمارے نزدیك مطلق پانی ہے اور امام شافعی کے ہاں مقید ہے ان کی عبارت یہ ہے کہ اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر کسی نے پانی نہ پینے کی قسم کھائی پھر زعفران ملا پانی پی لیا تو قسم نہیں ٹوٹے گی یونہی حالت احرام میں زعفران کے پانی سے غسل کرلیا تو فدیہ لازم آئےگا اور کسی کو پانی خریدنے کیلئے وکیل بنایا گیا ہو اور وہ زعفران ملا پانی خریدے تو یہ جائز نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ زعفران ملاپانی مطلق پانی نہیں ہوتا (جو آپ کے مسلك کے خلاف ہے) تو ہم جواب دینگے کہ ہم ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ سراج ہندی نے کہا میں کہتا ہوں کہ اگر ہم آپ کے اعتراضات کو درست تسلیم کر بھی لیں (تو بھی ہمارے مسلك کے خلاف لازم نہیں آتا) کیونکہ قسم اور وکالت کی صورتوں میں تو عرف کا اعتبار ہوتا ہے اور عرف میں ہے کہ ایسا پانی پیا نہیں جاتا اور احرام والے مسئلہ میں فدیہ لازم ہونے کی وجہ خوشبو کا استعمال ہے اگرچہ یہاں خوشبو مغلوب ہے پانی کا مقید ہونا نہیں ہے پس کلام اس
اقول : والالم یحنث بشرب ماء المد ولم یجز شراء الوکیل ممن احرزہ وھو کماتری وقد (۱) صرحوا ان الطیب ان طبخ فی طعام سقط حکمہ والا فالحکم للغالب فان غلب الطیب وجب الدم وان لم تطھر رائحتہ کما فی الفتح والا فلاشیئ علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ (۲)وان خلط بما یستعمل فی البدن کاشنان ونحوہ ففی ردالمحتار عن المسلك الملتقسط عن المنتقی ان کان اذانظر الیہ قالوا ھذا اشنان فعلیہ صدقۃ وان قالوا ھذا طیب علیہ دم اھ ۔ (۳) وماقالوا فیما خلط بمشروب ان الحکم فیہ للطیب مطلقا فان غلب وجب الدم والا فالصدقۃ الا ان یشرب مرارا فالدم فقد بحث فیہ فی البحر انہ ینبغی التسویۃ بین
زعفران ملے پانی میں ہوگا جس میں ا تنی تھوڑی مقدار میں زعفران ملا ہو جس سے پانی کا رنگ تو بدل گیا مگر وہ رنگنے کے قابل نہ ہو تو ایسا پانی خالص پانی شمار ہوگا اور علامہ سراج کا قول لانسلم الخ بھی درست رہے گا کہ ہم نہیں مانتے کہ زعفران والا پانی پینے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور یہ کہ محرم پر فدیہ لازم آجائےگا۔ اس پانی کو استعمال کرنے کی وجہ سے اور وکیل بالشراء زعفران والا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ یہ مطلق پانی ہے اور معمولی تبدیلی کا عرفا اور شرعا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور اگر معمولی تغیر کا اعتبار ہو تو قسم اٹھانے والے کی قسم سیلاب کا گدلا پانی پینے سے نہ ٹوٹے گی اور وکیل بالشراء گدلا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا حالانکہ اس کے غلط ہونے پر آپ بخوبی واقف ہیں پھر یہ کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر خوشبو کو کھانے میں پکایا جائے تو خوشبو کا حکم ساقط ہوجاتا ہے ورنہ بغیر پکائے حکم غالب اجزا پر لگایا جائے گا جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اگر خوشبو غالب ہوئی توقربانی دینا لازم ہوگا اگرچہ بو ظاہر نہ ہو ورنہ اس پر کچھ بھی لازم نہیں آئےگا البتہ اگر مغلوب ہونے پر بھی بو محسوس ہوتی ہو تو اس کھانے کا استعمال مکروہ ہے اگر اشنان جیسی بدن پر استعمال ہونے والی شے میں خوشبو ملی ہو تو ردالمحتار میں بحوالہ مسلك الملتقسط المنتقی سے منقول ہے کہ اگر لوگ اسے
اقول : علی ان ایجاب الصدقۃ فی المشروب بالطیب المغلوب لایوجب
اشنان قرار دیں تو صدقہ اور اگر خوشبو قرار دیں تو قربانی دینا لازم ہوگا پینے والی شے میں خوشبو ملنے کے بارے میں علماء نے کہا ہے کہ اگر خوشبو غالب ہو اور محرم ایسی شیئ پئے تو قربانی ورنہ صدقہ لازم ہوگا مگر مغلوب خوشبو والا پانی بار بار پئے تو قربانی لازم ہوجائے گی تو اس پر بحرالرائق نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جب کھانے اور پینے والی اشےاء میں خوشبو ملے اور وہ غالب نہ ہو تو ان اشےاء کا حکم یکساں ہونا چاہئے کہ یا تو دونوں صورتوں میں کھانے کی اشےاء کی طرح کچھ بھی لازم نہ ہو یا پینے والی اشےاء کی طرح دونوں میں صدقہ لازم ہو بحرالرائق کی تائید تبیین الحقائق کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ اگر ایك شخص نے کچا زعفران ملا کھانا کھایا تو قربانی لازم ہوگی ورنہ نہیں اور یہی حکم پینے کی اشےاء کا بھی ہے۔ اور بحرالرائق میں امام ابن امیر الحاج کی کتاب المناسك سے ایك بحث منقول ہے کہ اگر غالب خوشبو والی کوئی شے زیادہ مقدار میں کھاپی لی ہو تو کفارہ لازم ہوگا بصورت دیگر صرف صدقہ ہے اور اگر خوشبو کے بجائے غلبہ کھانے پینے کی شیئ کا تھا اور زیادہ مقدار میں استعمال کرلی تو صدقہ لازم ہوگا ورنہ کچھ بھی نہیں تو ان دونوں فقہاء نے کھانے اور پینے کی اشےاء کو حکم میں یکساں قرار دیا ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مغلوب خوشبو والے مشروبات پینے سے صدقہ کا لزوم اس کے مطلق پانی ہونے کے
منافی نہیں ہے۔ کیا یہ بات مشاہدہ میں نہیں کہ ایك دو قطرے عرق گلاب کے کئی رطل پانی کو خوشبودار بنادیتے ہیں مگر کوئی بھی عقلمند یہ نہیں کہتا کہ یہ پانی نہیں رہا جیسے کہ دودھ کو عنبر یا کستوری کی معمولی سی مقدار خوشبودار بنادیتی ہے مگر کوئی ذی ہوش نہیں کہتا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔
حاصل کلام یہ کہ جملہ جوابات زعفران کے ملنے سے رنگنے کے قابل نہ ہونے کی صورت میں درست ہوسکتے ہیں۔ ہدایہ کا قول بھی اسی بات پر دال ہے جو یوں ہے کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ تاحال مطلق پانی ہی کہلاتا ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اسے نیا نام نہیں دیا گیا اھ۔ پس جو پانی رنگنے کے قابل ہوجائے اسے بالکل علیحدہ نام دیا جاتا ہے کہ اسے رنگ کہا جاتا ہے پانی نہیں کہا جاتا ہے تو اسے پینے والا کیونکر حانث ہوگا اور اس کا خریدار وکیل کیونکر حکم عدولی کا مرتکب نہ ہوگا تو اس سے واضح ہوگیا کہ بحرالرائق کی اختیار کردہ راہ نہایت واضح اور درست ہے۔ علامہ سید الازہری کے اس قول کا محمل بھی یہی ہے جہاں انہوں نے کہا جان لو کہ زعفران جیسی جامد شے کے پانی میں ملنے کے بعد رقت اور سیلان کی بقاء کا اعتبار کرنا اور اوصاف میں تبدیلی کا اعتبار نہ کرنا استعمال کے جائز ہونے کو چاہتا ہے اگرچہ زعفران پانی کے رنگ کو بدل ڈالے کیونکہ اس پر ابھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے اس پر علامہ ازہری نے یہ اعتراض کرنے کے بعد کہ اس پانی کا استعمال منع ہے
کیونکہ محرم جب ایسا پانی استعمال کرے تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ تینوں سوال اور ہندی اور بحر کے جوابات بھی ذکر کیے تو علامہ ازہری کی مراد زعفران سے ہونے والا قابل معافی معمولی تغیر ہے جس میں استعمال کا جائز اور درست ہونا یقینی امر ہے۔ اس سے علامہ کی مراد ضابطہ پر بحرالرائق کے اعتراض کو تقویت دینا نہیں ہے کیونکہ یہ اعتراض صرف رنگنے کے قابل ہوجانے کی صورت میں وارد ہوتا ہے جس کے بعد استعمال کا جائز قرار دینا بے اصل ہے علامہ کے اس خیال پر ان کا قول لاطلاق اسم الماء علیہ دلالت کرتا ہے بلالکہ انہوں نے اپنا مقصد کھل کر اس وقت بھی بیان کردیا جب انہوں نے گزشتہ قول کے کچھ ہی بعد یہ کہا کہ یہ ساری بحث اس صورت میں ہے کہ جب پانی رنگ دینے کے قابل نہ ہوا ہو۔ اگر اس سے رنگ دینا ممکن ہوجائے تو نبیذتمر کی طرح اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔ یہ بحث بحرالرائق کی ہے اسے پوری طرح پہچانو اور پختہ کرو۔ (ت)
ہفتم : دودھ کو اقسام غلبہ کی قسم دوم میں شمار فرمانا محل کلام ہے بلالکہ وہ قسم اول میں ہے کہ بلاشبہ ایك جدا خوشبو رکھتا ہے جو پانی میں نہیں یہ اعتراض علامہ خیر رملی کا ہے
وقد تقدم فی ۱۳۴ وانہ تبعہ فیہ ش ووقع فی حاشےۃ مراقی الفلاح للعلامۃ ط تحت قول المتن مائع لہ وصفان فقط کاللبن لہ اللون والطعم ولارائحۃ لہ فیہ انہ یشم من بعضہ رائحۃ الدسومۃ اھ ۔
اقول : (۱) بل من کلہ وان خفی فی بعضہ الی ان یغلی کماقدمت۔
اور ۱۳۴ میں گزر چکا ہے کہ علامہ شامی نے اس اعتراض میں رملی کی اتباع کی ہے اور حاشےہ مراقی الفلاح میں جو علامہ طحطاوی کا ہے۔ متن کے اس قول کے تحت کہ “ وہ مائع چیز جس کے دو وصف ہوں جیسے دودھ ہے جس کا ذائقہ اور رنگ تو ہے مگر خوشبو نہیں ہے “ یہ اعتراض کیا ہے کہ بعض سے چونکہ چکناہٹ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی خوشبو نہیں اور یہ دو صفتوں والا مائع ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں بلالکہ ہر دودھ کی خوشبو ہوتی ہے اگرچہ بعض کی ابالنے تك مخفی رہتی ہے (ت)
وقدمر فی ۲۷۹ واشرنا ثمہ ان مرادہ مالالون لہ وان کان ظاھر سیاقہ حیث جعل اللبن مخالفا لماء فی وصفین اللون والطعم وقال فی ماء البطیخ یخالفہ فی الطعم فتعتبر الغلبۃ فیہ بالطعم اھ۔ انہ اراد مالایخالف منہ الماء الا فی الطعم کما قال العلامۃ الشرنبلالی فی مراقیہ ان بعض البطیخ لیس لہ الاوصف واحد اھ وتبعہ ابو السعود ثم ط وکذلك ش اذقال ماء البطیخ ای بعض انواعہ موافق للماء فی عدم اللون والرائحۃ مباین لہ فی الطعم اھ۔
اقول : وذلك لان مالایخالف منہ الماء فی الرائحۃ نادر بخلاف مایوافقہ فی اللون کمادل علیہ کلام العلامۃ الخیر ومالایخالف فی لون ولارائحۃ اندر والحاجۃ مندفعۃ بالحمل علی کثیر الوجود لانہ اذالم یخالفہ
اور ۲۷۹ پر گزرا ہے اور وہاں ہم نے اشارۃ یہ بھی بتایا تھا کہ علامہ رملی کی مراد خربوزے کا وہ پانی ہے جس کی رنگت نہ ہو اگرچہ علامہ کی اس گفتگو کا ظاہر سیاق یہ ہے کہ اس نے دودھ کو پانی سے رنگ اور ذائقہ میں مخالف بتایا ہے اور تربوز کے پانی کے متعلق کہا کہ پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہوتا ہے تو اس میں غلبہ کا اعتبار بذریعہ ذائقہ ہوگا اھ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے تربوز کی وہ قسم مراد لی ہے جو پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہو (رنگ اور بو میں نہیں)جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے اپنی مراقی الفلاح میں کہا کہ بعض تربوزوں کے لئے ایك ہی وصف ہوتا ہے اھ۔ شرنبلالی کی اتباع ابو السعود اور طحطاوی نے بھی کی اور شامی نے بھی یہی بات کہی ہے جہاں اس نے کہا کہ تربوز کا پانی یعنی اس کی بعض اقسام رنگ اور بو نہ ہونے میں پانی کے موافق اور ذائقہ میں مخالف ہوتی ہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں تربوز کا ایسا پانی جو بو میں پانی کے موافق ہو نادر ہوتا ہے بخلاف اس تربوز کے جس کا پانی رنگ میں پانی کے موافق ہو جیسا کہ علامہ رملی کی بات اس پر دال ہے اور وہ تربوز جو رنگ اور خوشبو دونوں میں پانی کے موافق ہو نادر تر ہوتا ہے اور ضرورت کثیر الوجود پر محمول کرنے سے پوری ہوجاتی ہے
وہ جب صرف دو صفتوں میں مخالف ہے تو یہ ضابطہ کافی ہوگا کہ دو اوصاف میں سے ایك بدل گیا ہو درانحا لیکہ ذائقہ بو سے زیادہ قوی ہو تو اس کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائےگا اور اسی سے ۳۰۲ میں مذکور مخالفت سے جواب حاصل ہوجائےگا۔ (ت)
یہ ہیں وہ ایرادات کہ کلام علماء میں تقریر ضابطہ پر نظر سے گزرے۔
وانا اقول : وبالله التوفیق ان کے سوا وہ محل ایرادات کثیرہ ہے اجمالا بھی اور تفصیلا بھی تفریعا بھی اور تاصیلا بھی۔ مثلا :
نہم : غیر تمر۱ کی نبیذ سے بھی وضو جائز ہو جب تك رقیق رہے حالانکہ خلاف اجماع ہے وقد ذکرناہ انفا (اور اس کو ہم ابھی ذکر کرچکے ہیں۔ت)
دہم : ہر شربت۲ سے جائز ہو حالانکہ خلاف نصوص متواترہ ہے دیکھو ۱۸۵ ۲۸۸۔
یاز دہم دو اخیساندہ۳ سے جائز ہو حالانکہ خلاف اصل مجمع علیہ ہے۔
دواز دہم : کسیس۴ مازو روشنائی مل کر لکھنے کے قابل کردے جب بھی جائز ہو اگر رقت نہ جائے یہ بھی اصل اجماعی کے خلاف ہے۔
سیز دہم تا پانزدہم۵ پینے کا پانی خوشبو کرنے کو گھڑے بھر میں قلیل کیوڑا گلاب بید مشك ڈالتے ہیں وہ یقینا وہی رہتا ہے جو مطلق آب کے نام سے مفہوم ہوتا ہے مگر بروئے ضابطہ پانی نہ رہا۔
شانز دہم و ہفدہم : زعفران۶ یا شہاب حل کیا ہوا پانی اگر پانی میں مل کر صرف رنگ بدلے اگر رنگنے کے قابل کردیا تو بالاجماع ورنہ امام محمد کے نزدیك اس سے وضو ناجائز ہے اور حکم ضابطہ سب کے خلاف جواز۔
ہیجدہم : یوں۷ ہی بودار پڑیا کا حل کیا ہوا پانی جبکہ بو غالب نہ ہو کہ بے اس کے بدلے رنگ بدل جائے۔
نوزدہم : سفید۸ انگور کا سرکہ جب صرف بو بدلے باتفاق ارشادات ائمہ جواز ہے اور حکم ضابطہ ممانعت۔
بستم وبست ویکم رنگین۹ سرکے جن کا مزہ یا بواقوی الاوصاف ہو جب صرف مزہ وبو تبدیل
فاقول : وبالله التوفیق
بست و دوم : جامد۱ زوال رقت پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان ۲۸۷ میں گزرا۔
بست وسوم : زوال۲ رقت کا جامد پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان رسالہ الدقۃ والتبیان میں گزرا
بست وچہارم : اول۳ ابحاث غلبہ غیر میں گزرا کہ قول صحیح ومعتمد ومذہب وظاہر الروایۃ قول امام ابویوسف ہے اور ضابطہ صراحۃ اس کے خلاف کہ اس میں اوصاف ساقط النظر اور اس میں اعتبار اوصاف۔
بست وپنجم : ضابطہ۴ ششم میں تحقیق وتنقیح قول امام محمد گزری کہ اولا صرف رنگ معتبر ہے اس میں خلاف نہ ہو تو صرف مزہ اس میں بھی خلاف نہ ہو تو اجزاء۔ ضابطہ کا حرف اس ترتیب کے خلاف ہے تو اسے دونوں امام مذہب سے صریح اختلاف ہے۔
اقول : (۵) والعجب ان الامام الفخر رحمہ الله تعالی ورحمنا بہ فی الدنیا والاخرۃ حاول ھھنا التوفیق بین ماجاء فی الباب عن الاصحاب مماظاھرہ الاضطراب وقدعد فیھا ھذا القول قول محمد ایضا لکن حیث اتی علی التوفیق لم یلم بہ اصلا وماکان لہ ان یلتئم مع صریح نقیضہ وھذا کلامہ رحمہ الله تعالی اعلم ان عبارات اصحابنا مختلفۃ فی ھذا الباب مع اتفاقھم ان الماء المطلق یجوز الوضو بہ ومالیس بمطلق لایجوز فعن۱ ابی یوسف ماء الصابون اذا کان ثخینا قد غلب علی الماء لایتوضأ بہ وانکان رقیقا
میں کہتا ہوں تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہاں سے امام الفخر رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی پر اور ان کے ذریعہ ہم پر دنیا وعقبی میں رحم فرمائے اس باب میں اصحاب احناف کے بظاہر مضطرب اقوال میں تطبیق دینا چاہتے ہیں اور امام محمد کے اس قول کو بھی ان مضطرب اقوال میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ تطبیق کی پوری گہرائی تك نہیں گئے اور صراحۃ ضد کی موجودگی میں گہرائی تك جانا ممکن بھی نہیں تھا ان کا کلام یہ ہے جان لو کہ اصحاب احناف کے مطلق پانی سے وضو کے جواز اور مقید کے ساتھ عدم جواز پر اتفاق کے باوجود اس باب میں عبارات کا اختلاف ہے۔ پس امام ابویوسف کے مطابق جب صابن کا پانی سخت ہوجائے کہ صابن پانی پر غالب ہوجائے تو وضو جائز نہ ہوگا پتلا ہونے کی
صورت میں وضو جائز رہے گا اشنان کے پانی کا بھی یہی حکم ہے اس کو غایۃ میں ذکر کیا ہے اور غایہ میں یہ بھی ہے کہ جب پانی پر مٹی غالب آجائے تو وضو جائز نہ رہے گا اور فتاوی ظہیریہ میں ہے جب تك پانی غالب رہے پھٹکڑی ڈالنے سے پانی سیاہ ہوجائے وضو جائز رہے گا اور یہی حکم مازوکا ہے۔ اسی میں ہے کہ امام محمد تو پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں اور امام ابویوسف اجزاء کا جبکہ محیط میں ان کا مسلك برعکس بیان ہوا ہے۔ ہدایہ میں ہے کہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے اسبیجابی نے کہا کہ غلبہ میں پہلے رنگ کا اعتبار ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ینابیع میں ہے کہ اگر چنے اور لوبیا پانی میں بھگویا جائے اور ذائقہ رنگ اور خوشبو بدل بھی جائے تو بھی وضو جائز رہے گا اور قدوری نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ دو صفتیں بدل جانے کے بعد وضو جائز نہیں رہتا۔ اس باب میں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی نوعیت کا اختلاف ہے تو کسی ایك تطبیق اور ضابطہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاکہ روایات کے درمیان تطبیق ہوجائے پھر انہوں نے ضابطہ ذکر کیا اور تمام اقوال کا مناسب موقع اور محل بیان کیا جیسا کہ ہم ۲۸۷ میں نقل کر آئے ہیں جو آٹھ نصیں اور چار محمل ہیں :
(۱) ملنے والی جامد شے ہو اور اس محمل پر پہلی تین اور
اقول : اولا(۱) اذاکان العبرۃ باللون فیما یخالفہ فیہ وحدہ اومع وصف اخر لافی الاوصاف جمیعا وکذا الطعم فکلام الامام الاسبیجابی امافیما لایخالف الا فی ذلك الوصف وحدہ اوفیما یخالف فی وصفین اواعم لاسبیل الی الاخیرین
ساتویں نص منطبق ہوتی ہے۔ (۲) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو تین اوصاف میں مخالف ہو اس پر آٹھویں نص منطبق ہوتی ہے۔ (۳) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو بعض اوصاف میں مخالف ہو اس پر امام محمد کی روایت کے مطابق چوتھی نص منطبق ہوتی ہے۔ (۴) جو مائع (سیال) جملہ اوصاف میں پانی کے موافق ہو اس پر پانچویں نص کا انطباق ہوتا ہے۔ باقی رہ گئی چھٹی جو مکمل طور پر امام محمد کا قول ہے تو اس کا محمل کوئی نہیں کیونکہ ضابطہ میں تفریق ہے اور نص میں ترتیب میں توترتیب اور عدم ترتیب کا کیا جوڑ البتہ بحرالرائق نے اس کو ایسے محمل پر لانے کی کوشش کی ہے جس کی اس فقیر کو کچھ سمجھ نہیں آتی بایں طور کہ اس نے کہا باقی رہا قول اس آدمی کا جس نے یہ کہا کہ اعتبار پہلے رنگ پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ جب ملنے والی مائع چیز کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو تو غلبہ رنگ کے اعتبار سے ہوگا اور اگر اس کا رنگ موافق ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا اگر ملنے والی شیئ کا ذائقہ پانی پر غالب آگیا تو وضو جائز نہ ہوگا اور اگر ملنے والی شیئ کا رنگ ذائقہ اور بو کسی میں پانی سے مختلف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا (جس کے اجزاء زائد ہوں گے غلبہ بھی اسی کا ہوگا) (ت)
میں کہتا ہوں اولا جب غلبہ میں اعتبار صرف رنگ کا ہے اس صورت میں کہ ملنے والی شے صرف ایك وصف (رنگ) کے اعتبار سے پانی کے مخالف ہو یا دونوں وصفوں میں نہ کہ جملہ اوصاف میں یونہی ذائقہ کا حکم ہے۔ تو علامہ اسبیجابی کا کلام یا تو اس شے میں ہوگا جو اسی ایك وصف (رنگ)
وایضا تبقی علیہ خمسۃ من سبعۃ فان المخالفۃ فی لون اوطعم او ریح اولون وطعم اولون وریح اوطعم و ریح اوفی الکل فکیف قصر الحکم علی اثنین۔ وثانیا : ھل (۱) ھو یعتبر الریح ام لا الثانی یرد الضابطۃ وعلی الاول
میں پانی کے مخالف ہو یا دو اوصاف میں یا جملہ اوصاف میں تو آخری دو صورتوں میں تو کسی طور گفتگو نہیں ہوسکتی کیونکہ جب وہ شے دو اوصاف میں پانی کے مخالف ہو تو جو وصف بھی تبدیلی کا باعث بنے گا پانی میں تغیر ہوجائے گا (اور معتبر ہوگا) تو پھر ایك وصف میں تغیر کو کیونکر منحصر کیا جاسکے گا (ت)نیز یہ کہ جب ایك شے کے رنگ اور ذائقہ دو اوصاف ہوں تو رنگ کو کس داعیہ کی وجہ سے مقدم کیا جائے گا اور ذائقہ کو مؤخر کیا جائےگا پہلی صورت میں(جب دو وصف نہ ہوں) معنی یہ ہوگا کہ جب ملنے والی شے کی مخالفت صرف رنگ میں ہو تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا۔ جب صرف ذائقہ میں مخالف ہو تو ذائقہ کا اور کسی وصف میں مخالف نہ ہونے کی صورت میں اجزاء کا اعتبار ہوگا تو سوال یہ ہے کہ یہ ترتیب کہاں سے آئی اور یوں ترتیب کیوں نہیں رکھی کہ پہلے اعتبار ذائقہ کا ہوگا پھر رنگ کا اور پھر اجزاء کا۔ یا یوں کہ پہلے اجزاء کا اعتبار ہو پھر ذائقہ پھر رنگ کا یا کسی اور طرح سے الٹ پلٹ ہو جبکہ یہ سب صورتیں باطل اور مہمل ہونے میں برابر تھیں۔ (ت)نیز یہ کہ اس ضابطہ کے مطابق پانی میں ملنے والی شے کی سات صورتوں میں سے صرف دو کا حکم معلوم ہوگا پانچ کا حکم باقی رہے گا وجہ حصریہ ہے مخالفت صرف رنگ میں یا صرف ذائقہ میں یا صرف بو میں یا رنگ وبو میں یا رنگ وذائقہ میں یا ذائقہ وبو میں یا تینوں میں ہوگی تو حکم کے بیان میں صرف دو پر کیوں اکتفا کیا گیا (ت)ثانیا یہ کہ اس کے ہاں بو کا اعتبار ہے یا نہیں عدم اعتبار کی صورت ضابطہ کو مسترد
وثالثا : (۱) عبارۃ الامام الاسبیجابی قدمناھا مع کثیر من موافقتھا صدر البحث الاول من الضابطۃ السادسۃ وھی بکل جملۃ منھا تخالف الضابطۃ وتأبی محملھا الموزع المبدد لاحکامھا اذیقول ان غیر لونہ فالعبرۃ لللون مثل اللبن وقدمنا ان اللبن یخالف فی الثلث فکیف اجتزء بواحد ۔
و رابعا : (۲) لم عین اللون وانتم القائلون کالامام الضابط ان کان لون اللبن اوطعمہ ھو الغالب لم یجز الوضوء۔
وخامسا : قال (۳) والخل وھذا فی کونہ ذا الثلاثۃ ابین من اللبن فمعلوم قطعا انہ یخالف الماء طعما وریحا وقد اعتبر اللون مخالف فی الثلاث ولم یعتبر وصفین بل واحدا۔
وسادسا : قال (۴) والزعفران وھذا
کرتی ہے اور اعتبار کی صورت میں اسے حذف کیا تو کیوں اور پھر حکم کو ذائقہ سے اجزاء کی طرف منتقل کرنا کیونکر درست ہوگا (جبکہ بو بھی اجرائے حکم کیلئے معتبر ہے)۔ (ت)
ثالثا امام اسبیجابی کی عبارت بہت سے موافقات کے ساتھ ہم نے چھٹے ضابطہ کی بحث اول کے شروع میں ذکر کی ہے اور اس کے ہر جملہ میں سے کچھ ضابطہ کے خلاف ہے اور اس کا نیا محمل اس کے احکامات کے اجراء سے عاری ہے (جو قدیم محمل پر جاری ہوتے ہیں) بایں طور کہ وہ کہتے ہیں اگر ملنے والی مائع چیز پانی کا رنگ تبدیل کردے تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا جیسا کہ دودھ ہے حالانکہ ہم کچھ ہی پہلے بیان کرچکے ہیں کہ دودھ تو تینوں اوصاف میں پانی کا مخالف ہوتا ہے تو ایك وصف کی تبدیلی کو اس نے وضو سے مخالفت کیلئے کیوں کافی قرار دیا ہے (ت)
رابعا انہوں نے دودھ میں صرف رنگ کو ہی کیوں متعین کیا ہے حالانکہ تمہارا بھی ضابطہ بنانے والے امام کی طرح یہ کہنا ہے کہ اگر دودھ کا رنگ یا ذائقہ غالب ہو تو وضو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
خامسا اس نے والخل (اور سرکہ بھی) کہا ہے جس کا دودھ کی نسبت تین اوصاف والا ہونا زیادہ واضح ہے تو قطعی طور پر معلوم ہوگیا کہ دودھ پانی سے ذائقہ اور بو میں مخالف ہوتا ہے جبکہ رنگ کے اعتبار سے مخالفت پہلے ہی تسلیم کرچکے ہو پس وہ تینوں وصفوں میں مخالف ہے اور انہوں نے دو وصفوں کا اعتبار نہیں کیا بلالکہ ایك کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
سادسا اس نے غلبہ رنگ کی مثال
وسابعا : قال وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فالعبرۃ للطعم (۱) نفی توز یعکم وراعی ترتیبہ وارشد انہ ان خالف لونہ فلاعبرۃ للطعم۔
وثامنا : قال مثل ماء البطیخ والاشجار والثمار والانبذۃ ھذا فیما لایلون (۲) ولاشك ان فیھا ذوات الرائحۃ ولربما کان ریحھا اغلب فلم یعتبرھا وقصر الحکم علی الطعم۔
وتاسعا : قال وان لم یغیر لونہ وطعمہ فالعبرۃ للاجزاء (۳) اسقط الریح رأسا وھو الحق الناصع کماقدمنا فی ۔
وعاشرا : قال فان غلب اجزاؤہ علی اجزاء الماء لایجوز الوضوء
دیتے ہوئے والزعفران کہا ہے اور یہ تین اوصاف جمع ہونے میں دودھ سے زیادہ واضح اور سرکہ کی نسبت ایك وصف پر کفایت کیلئے زیادہ جچتا ہے کیونکہ اس کا رنگ تبدیلی کا عمل سرعت سے انجام دیتا ہے اور جو سرکہ ایسا ہو وہ بھی اس کے حکم میں ہوگا ورنہ اس کا مقصود تو صرف رنگ کا اعتبار ہے نہ رنگ اس اعتبار سے کہ یہ دوسرے کی نسبت پہلے دوسری شے کو بدل دیتا ہے کیونہ وہ ویسے بھی کمزور ہوتا ہے۔ (ت)
سابعا : اس نے کہا کہ اگر پانی کا رنگ بدلنے کے بجائے ذائقہ بدلا تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا تو اس نے آپ کی تقسیم کی نفی بھی کردی اور اپنی ترتیب کی رعایت بھی ملحوظ رکھی اورساتھ ہی یہ بات بھی بتادی کہ اگر ملنے والی شے کا رنگ پانی سے مخالف ہو تو ذائقہ کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (ت)
ثامنا : اس نے کہا کہ تربوز درختوں پھلوں کے پانی اور نبیذوں کی مثل یہ تمام بے رنگ اشےاء ہیں مگر ان میں کچھ اشےاء بو والی بھی ہیں اور بعض اوقات ان کی بو غالب بھی ہوتی ہے مگر اس کا اعتبار نہیں کیا اور حکم کو ذائقہ پر ہی منحصر کر دیا۔ (ت)
تاسعا : اس نے یہ کہا کہ اگر رنگ اور ذائقہ نہ بدلے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا بو کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے حالانکہ یہ بظاہر حق بات تھی جیسا کہ ہم پہلے ۲۹۸ میں بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
عاشرا : اس نے یہ کہا کہ اگر اس کے اجزاء پانی کے اجزا پر غالب آجائیں تو پھل سے
الحادی عشر : (۲) اعتبر فی خزانۃ المفتین وفی العنایۃ عن زاد الفقھاء وفی جامع الرموز عن الزاھدی فی العصیر اللون مع ان طعمہ ربما کان
اسبق۔
الثانی عشر : (۳) ھو ذو الثلثۃ واجتزؤا بواحد۔
الثالث عشر : (۴) اعتبر البدائع فی ماء العصفر اللون ولم یلاحظ الریح وربما تکون اغلب۔
الرابع عشر : (۵) اعتبر البدائع
نچوڑے ہوئے پانی کی مانند اس سے بھی وضو جائز نہ ہوگا ورنہ انگور سے کاٹنے کے بعد ٹپکنے والا پانی پانی کی طرح اس پانی سے بھی وضو جائز ہوگا تو اس نے پھلوں سے نچوڑے ہوئے اور انگوروں سے ٹپکے ہوئے عرق کو پانی قرار دیا ہے اور پہلے کو پھل کے اجزاء کے ساتھ مغلوب الاجزاء قرار دیا ہے حالانکہ پھل ایك جامد چیز ہے تو انہوں نے اس جامد میں اجزاء کا اعتبار کیا نہ کہ رقت میں کیونکہ بعض اوقات پھل کا پانی رقیق ہوتا ہے مثلا ناریل یا تاڑی کا پانی یہ تو اسبیجابی کا کلام ہے جبکہ آپ نے توقول من قال کہا تو یہ ہر اس شخص کو شامل ہوگیا جو اس ترتیب کا قائل ہے۔ (ت)
گیارھواں خزانۃ المفتین اور عنایہ میں زاد الفقہاء سے اور جامع الرموز میں زاہدی سے ہے کہ پھلوں سے نچوڑے پانی میں رنگ کا اعتبار کیا گیا ہے حالانکہ بعض اوقات اس کا ذائقہ جلدی اثر دکھاتا ہے۔ (ت)
بارھواں یہ تین اوصاف والی شیئ ہے حالانکہ انہوں نے ایك وصف کی تبدیلی کو ہی کافی قرار دیا ہے۔ (ت)
تیرھواں بدائع نے عصفر کے پانی میں رنگ کا اعتبار کیا ہے اور بو کا لحاظ نہیں کیا حالانکہ بعض اوقات بو زیادہ غالب ہوتی ہے۔ (ت)چودھواں بدائع اور حلیہ نے انگور کے سفید
الخامس عشر : (۱) فی العینی عن زاد الفقھاء والقھستانی عن الزاھدی ان توافقا لونا وطعما کماء الکرم فالعبرۃ للاجزاء اھ۔ وانت تعلم ان الماء القراح لیس بارق منہ فاعبتروا فی الجامد الاجزاء۔
السادس عشر : (۲) کلامھم جمیعا نص مفسر فی اعتبار الترتیب فردہ الی التوزیع غیر مصیب ھذا کلہ بکلام الذین تسندون الیھم واماتأویلکم فالسابع عشر قولکم مرادہ ان المخالط المائع للماء انکان لونہ مخالفا فالغلبۃ من حیث اللون ۔
اقول : (۳) نعم ویعم باطلاقہ مایخالف فی اللون مع الباقیین فلم اجتزء بواحد۔
(۴) الثامن عشر : یشمل مایخالف فی اللون و وصف اخراسبق من اللون ففیم انتظر اللون۔
رنگ کے سرکہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا ہے حالانکہ بلاشبہ اس کی بو جلدی غالب آتی ہے۔
پندرھواں عینی میں زاد الفقہاء سے اور قہستانی میں زاہدی سے ہے کہ اگر پانی اور جوس ہم رنگ وہم ذائقہ ہوں جیسے انگور کا پانی ہے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا اور تم اس بات کو جانتے ہو کہ خالص پانی اس سے زیادہ پتلا نہیں ہوتا پس انہوں نے جامد میں اجزاء کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
سولھواں ان سب کی گفتگو ترتیب کا اعتبار کرنے میں واضح ہے تو اس کو بے ترتیبی کی طرف پھیرنا درست نہیں یہ ان علماء کے کلام کا خلاصہ ہے جو آپ کے ہاں بھی مستند ہیں بہرحال تمہاری تاویل اور یہی سترھواں ہے تمہارا قول ہے کہ اس کی مراد یہ ہے کہ پانی میں اگر مائع شیئ ملے اور اس کا رنگ پانی سے مختلف ہو تو غلبہ رنگ کا ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہاں یہ قول مطلق ہونے کی بنا پر ان تمام اشےاء کو بھی شامل ہے جو رنگ کے ساتھ دیگر اوصاف میں بھی پانی کے مخالف ہوں تو اس نے ایك وصف پر ہی اکتفاء کیوں کیا ہے
اٹھارھواں یہ اس شے کو شامل ہے جو رنگ میں اگرچہ مخالف ہو مگر اس کا دوسرا وصف رنگ سے قبل اثر انداز ہوجائے (ایك وصف کی تبدیلی تو ہوگئی) تو رنگ کا انتطار کیوں کیا جائےگا۔ (ت)
العشرون : (۲) قولکم وانکان لونہ لون الماء فالعبرۃ للطعم
اقول : نعم ویعم ماخالف بریح اسبق فانی یوافق الضابطۃ۔
(۳)الحادی والعشرون : لم شرط فیہ وفاق اللون فان العبرۃ فی الضابطۃ بالطعم مطلقا وان خالف فی اللون ایضا اذالم یکن ذاریح وکان طعمہ اسبق۔ بالمائع۔
(۴) الثانی والعشرون مثلہ الامام الاسبیجابی و زاد الفقہاء ثم البدر محمود والشمس القھستانی بالانبذۃ زاد الزاد والعینی المشمس فمن این التخصیص
(۵)الثالث والعشرون : قولکم وان کان لایخالفہ فی اللون والطعم والریح فالعبرۃ للاجزاء ۔ اقول : قال الامام البرھان فی
انیسواں امام اسبیجابی اور امام سمعانی نے خزانہ میں اور برجندی نے شرح النقایہ میں اس کی مثال زعفران کو قرار دیا ہے جبکہ آپ نے ضابطہ پر مدار رکھتے ہوئے مائع کے ساتھ مختص کیا ہے۔ (ت)
بیسواں آپ کا قول ہے کہ اگر اس کا رنگ پانی جیسا ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہاں یہ مثال جلد اثر کرنے والی بو والی شیئ کو بھی شامل ہوجائے گی تو یہ مثال ضابطہ کے مطابق کیونکر ہوگی (حالانکہ اعتبار تو مطلقا ذائقہ کا ہے) (ت)
اکیسواں اس نے رنگ کی موافقت کی شرط کیوں لگائی ہے کیونکہ ضابطہ میں مطلقا اعتبار ذائقہ کا ہے رنگ اگرچہ مخالف بھی ہو جبکہ شیئ بو والی نہ ہو اور اس کا ذائقہ جلد اثر کرنے والا ہو۔ (ت)
بائیسواں امام اسبیجابی اور زاد الفقہاء پھر بدر محمود اور شمس قہستانی نے اس کی مثال نبیذیں قرار دی ہیں جبکہ زاد اور عینی نے سورج سے گرم پانی کا بھی اضافہ کیا ہے تو مائع کے ساتھ تخصیص کس چیز کی ہوگی
تئیسواں تمہارا قول ہے کہ جب ملنے والی شے رنگ ذائقہ اور بو میں سے کسی میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا۔
میں کہتا ہوں کہ امام برہان نے ہدایہ میں
(۱) الرابع والعشرون : ذکرالریح لااثر لہ فی کلامھم وانما زید رعایۃ للضابطۃ کماعلمت فاذن انما صریح نصوصھم انہ ان لم یخالفہ فی اللون والطعم فالعبرۃ للاجزاء وھذا خلاف الضابطۃ۔
الخامس والعشرون : مما یسلك فی السلك ان البحر نقل عبارۃ عن المجمع واستصعب ردھا الی الضابطۃ ثم ابدی شےا ردہ علیہ الشامی فی حاشےتہ وعندی فی الکل نظر قال فی المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر کزعفران تغیر بہ بعض اوصافہ اھ۔ قال البحر تفید ان المتغیر لوکان وصفین یجوز اوکلھا لا قال ولایمکن حملہ علی شیئ کمالایخفی اھ۔
اس پانی کے بارے میں کہا جس میں صابن اشنان اور زعفران کی معمولی سی ملاوٹ ہوجائے چونکہ اس ملاوٹ سے بچنا ممکن نہیں لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں جیسا کہ اجزاء زمین کا حکم ہے اور اعتبار غالب کا ہوگا اور صحیح قول کے مطابق غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے تو مائع کی تخصیص کہاں چلی گئی! (ت)
چوبیسواں بو کا ذکر محض ضابطہ کی رعایت کیلئے کیا گیا ورنہ اس کے اضافہ سے آپ کو معلوم ہے کہ کوئی اور مقصد نہیں ہے بس اس صورت میں ان کی صریح نصوص یہ ہوں گی کہ اگر وہ ملنے والی شے پانی کے رنگ اور ذائقہ میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا اور یہ ضابطہ کے خلاف ہے۔ (ت)
پچیسواں بحرالرائق نے مجمع سے ایك روایت نقل کی ہے جسے ضابطہ پر منطبق کرنا مشکل ہوا تو اس نے وہ محمل بیان کیا جو شامی نے اپنے حاشےہ میں بیان کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ میرے نزدیك ہر ایك محل نظر ہے صاحب مجمع نے کہا ہم اس پانی سے وضو جائز کہتے ہیں جس کے بعض اوصاف زعفران ایسی پاك شیئ کے ساتھ ملنے سے بدل جائیں مگر وہ پانی غالب رہے۔ بحرالرائق نے کہا اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اگر دو صفتیں بدلیں تو وضو جائز
اقول : (۱) قدمنا فی الضابطۃ الخامسۃ تحقیق ان بعضا ھھنا یشمل الکل فماغیر الکل فقد غیر البعض فان اخترنا الضابطۃ قلنا قولہ تغیر بہ بعض اوصافہ صفۃ للزعفران لالطاھر حتی یکون قیدا فی الحکم بالغلبۃ وھی فی کل قسم بحسبہ اما بسلامۃ الاوصاف جمیعا اواکثرھا او
ہوگا یا سب بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا اور یہ بھی کہا کہ یہ ایسی عبارت ہے جس کو کسی شے پر محمول نہیں کیا جاسکتا کمالایخفی۔ یعنی چار محامل میں سے کسی پر بھی یہ محمول نہیں ہے کیونکہ ضابطہ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جو اس بات پر دال ہو کہ تمام اوصاف بدلنے پر تو وضو کرنا منع ہے اور دو کے بدلنے پر منع نہ ہو فرمایا جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوصاف سے اس کی مراد بعض کا کم تر حصہ ہے جو تین میں سے ایك وصف ہوتا ہے جیسا کہ قدوری کی عبارت اس کلام کی تصحیح میں وارد ہے اور اس کی شرح میں اس کا قول اس پر دلالت بھی کرتا ہے جو یہ ہے پس اس نے بعض اوصاف کو بدل دیا ہو یعنی ذائقہ یا رنگ یا بو کو تو اس نے انہیں کلمہ او کے ساتھ ذکر کیا ہے جو دو اشےاء میں سے ایك کیلئے ہوتا ہے اور کلمہ او کو من کے بعد ذکر کیا ہے جس نے ان مذکورہ اشےاء کو بعض کا بیان دیا ہے اور قدوری کی عبارت کی تبدیلی کا کوئی فائدہ بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ پانچویں ضابطہ میں ہم تحقیق کرچکے ہیں کہ یہاں بعض کل کو بھی شامل ہے تو جو شے جملہ اوصاف کو تبدیل کرے گی وہ بعض کو بھی تبدیل کرے گی اگر ہم ضابطہ ہی اختیار کرلیں تو میں کہتا ہوں کہ اس کا قول تغیر بہ بعض اوصافہ “ زعفران “ کی صفت ہے نہ کہ “ طاہر “ کی حتی کہ بعض اوصاف کا بدلنا حکم کیلئے قید ہو۔ پس حکم غلبہ کے اعتبار سے ہوگا اور غلبہ ہر قسم میں مختلف نوعیت
السادس والعشرون : وقال العلامۃ الشامی فی المنحۃ اقول قول المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر لایخلو اما ان یحمل علی الاعم من الجامد والمائع اوعلی الجامد فقط ولاسبیل الی حملہ علی الماء فقط لقولہ کزعفران فان حمل علی الاعم لایصح حمل البعض علی الواحد لان غلبۃ المخالط الجامد تعتبر بانتفاء الرقۃ لابالاوصاف فضلا
کا ہوگا یا توتمام اوصاف سلامت رہیں یا زیادہ اوصاف یا صرف پتلاپن اگرچہ اوصاف بدل جائیں اور یہ حکم جامد میں ہوگا جس میں زعفران بھی ہے تو پانی اس وقت تك غالب ہوگا جب تك اس کا پتلاپن باقی رہے اگرچہ اس کے بعض اوصاف بدل جائیں۔ چاہے کل اوصاف کے ضمن میں ہی تبدیل ہوئے ہوں تو اب قید لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ گفتگو پانی میں ہو رہی ہے اور جو سخت ہوجائے وہ پانی ہی نہیں رہتا تو مجمع کی عبارت کی ضابطہ کے ساتھ تطبیق یوں ہے اور اس میں کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ اگر مذہب کو ہی ملحوظ رکھیں اور کہیں کہ تغیر بہ بعض اوصافہ “ طاھر “ کی صفت ہے تو پھر معنی یہ ہوگا ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جس کے ساتھ کوئی پاکیزہ چیز مل کر اس کے بعض اوصاف کو بھی بدل دے یہاں تك کہ کل کو بھی جب تك پانی مقدار طبیعت اور نام کے اعتبار سے غالب رہے تو کلام بالکل صحیح اور بے غبار ہے۔ اس کی تصحیح کیلئے کسی تکلیف کی ضرورت نہیں کہ اس کا ارتکاب کیا جائے۔ (ت)
چھبیسواں علامہ شامی نے منحہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں کہ مجمع کا قول نجیزہ بغالب علی طاھر خالی نہیں یا تو جامد اور مائع دونوں پر محمول کیا جائےگا یا فقط جامد پر اور فقط مائع پر محمول کرنا درست نہیں بوجہ اس کے قول کزعفران کے پس اگر عام مراد ہو تو بعض کو وصف واحد پر محمول کرنا درست نہیں کیونکہ جامد ملنے والی شیئ کا غلبہ پتلا پن ختم ہوجانے سے ہوگا تمام اوصاف کی تبدیلی سے نہیں چہ جائیکہ ایك وصف کی تبدیلی سے
غلبہ ہو تیز ملنے والی مائع شے کو دیکھتے ہوئے تو ایك وصف کے ظاہر ہونے سے کسی صورت میں غلبہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جب وہ شے تمام اوصاف میں پانی کے مخالف ہو تو تمام یا اکثر اوصاف کا ظہور غلبہ کیلئے معتبر ہوگا اور اگر اسے فقط جامد پر محمول کریں تو آپ کو ہماری گفتگو کے ذریعہ اس پر وارد ہونے والا اعتراض معلوم ہے کہ اس میں غلبہ کا اعتبار پتلے پن کے زوال اور بہنے کی صلاحیت ختم ہونے سے ہوتا ہے اگرچہ تمام اوصاف بدل جائیں جب تك اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوجائے جیسا کہ قید آرہی ہے تو اب زعفران اور لوبیا کے پانی میں کوئی فرق نہ ہوگا پس وہ مجاز جو ینابیع اور ظہیریہ میں ہے کہ جیسے اس میں پتلا پن کے نہ ہونے کا اعتبار کیا ہے یونہی زعفران میں بھی ہونا چاہئے ہاں سمجھانے کے اعتبار سے مجمع کی عبارت قابل غور ہے کہ اگر تمام اوصاف بدل جائیں تو اس پانی سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ اپنے اطلاق پر نہیں رہا تو اسے پتلاپن کے نہ ہونے سے مقید کرنا ضروری ہے یا یہ کہا جائے کہ جب زعفران جیسی شے سے جملہ اوصاف بدل جائیں تو اس سے اکثر اوقات پانی کا نام زائل ہوجاتا ہے تو بحر والے کی عبارت کے بیان کردہ مفہوم پر محمول کرنا ممکن ہوجائےگا اور اگر اس کو اس پر محمول کیا جائے کہ بعض سے مراد ایك وصف ہے جیسا کہ شرح کی عبارت اعتراض کو قوی بناتی ہے تو پھر شرح کی عبارت کی یہ تاویل ضروری ہے کہ
وثانیا : (۲)اشتبہ علیہ رحمہ الله تعالی غلبۃ الماء الذی فیہ کلام المجمع فان غالبا فی کلامہ صفۃ الماء بغلبۃ المخالط فقال بالنظر الی المخالط المائع لاتثبت الغلبۃ فیہ بوصف واحد مطلقا الخ۔ ۔ ۔ وانما حقہ ان یقول بالنظر الی المخالط المائع لاتبقی غلبۃ الماء بعد تغیر وصف واحد مطلقا فانہ اذالم یخالف الماء الا فی وصفین فغیر واحدا فقد غلب علی الماء۔
وثالثا(۳) حاصل مااطال بہ رحمہ الله تعالی بعد تصحیحہ بماذکرنا ان مفاد العبارۃ علی ھذا الحمل غلبۃ المخالط اذاغیر اکثر من وصف والماء اذاغیر وصفا واحدا ھذا بالمنطوق وذاك بالمفھوم والاول باطل فی الجامد مطلقا ولابد من ارادتہ ولو فی ضمن العموم لقولہ کزعفران فان المناط فیہ الرقۃ وان غیر الاوصاف طرا والثانی باطل فی مائع لایخالف الا
مراد فقط ایك وصف کی تبدیلی نہیں یا او بمعنی واؤ کے ہے تو کلام درست ہوجائےگا اور الله تعالی الہام کرنے والا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولا (۱) تو سمجھانے کی بات کا حال تو ہم نے آپ کو سمجھادیا۔ ثانیا (۲)جس پانی کے غلبہ میں مجمع والا گفتگو کررہا ہے شامی علیہ الرحمۃ پر غلبہ کی نوعیت مشتبہ رہی کیونکہ اس کے ہاں اکثر وہ پانی مراد ہوتا ہے جس پر کوئی مائع چیز ملنے کے بعد غالب آجائے اور اس کے متعلق کہا ہے کہ ملنے والی مائع شے کے پیش نظر مطلقا ایك وصف کی وجہ سے غلبہ ثابت نہیں ہوتا الخ... اصل میں تو اسے یوں کہنا چاہئے تھا کہ ملنے والی مائع شیئ کو دیکھتے ہوئے پانی کا غلبہ ایك وصف کی تبدیلی سے قطعا باقی نہیں رہتا کیونکہ اگر شے پانی کے صرف دو وصفوں میں مخالف ہو اور ایك وصف کو تبدیل کردے تو پانی کا غلبہ جاتا رہے گا۔ ثالثا(۳) عبارت کی وہ تصحیح جو ہم نے ذکر کی ہے اس کے بعد بھی اس کی طویل گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اس صورت پر محمول کریں تو عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ملنے والی شیئ کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کے اکثر اوصاف بدل جائیں اور پانی کا غلبہ تب شمار ہوگا جب ایك وصف بدلے ثانی الفاظ سے اول مفہوم سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا جامد میں مطلقا باطل ہے اگرچہ عموم کے ضمن میں ہو مگر اس کا مراد لینا ضروری ہے کیونکہ اس نے کزعفران کہا ہے جس میں مدار پتلے پن پر ہے اگرچہ تمام اوصاف کو ہی بدل ڈالے
اقول : الاعتراض بالمائع ذھول عن سنن سلکہ ھھنا الامام الضابط واقتفی اثرہ البحر فانھما حملا کل مطلق فی النصوص علی صورۃ خاصۃ فکما حملا النوط بالرقۃ علی الجامد ولم یرد علیہ ان المائعات تمنع مع بقاء الرقۃ وحملا الغلبۃ بالاجزاء علی المائع الموافق ولم یرد علیہ انہ منقوض بغیرہ وحملا المنع بتغیر وصف واحد علی مائع یخالف فی وصف او وصفین ولم یرد علیہ النقض بمایخالف فی الثلاث فکذا اذاحملا المنع باکثر من وصف علی مایخالف فی الثلاث کیف یرد علیہ النقض بالمخالف فی وصفین (۱) وقد قبلتموہ فی عبارۃ القدوری والکنز والمختار ولم تمنعونہ فی عبارۃ المجمع۔
بقی حدیث الخصوص والعموم فاقول (۲) للبحر ان یختار العموم ولا یرد الایرادان (۳) فان التقیید ربما یکون حفظا للعلوم لالنفی ماعداہ کقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الحسن والحسین
اور دوسرا اس مائع میں باطل ہے جو صرف دو اوصاف میں مخالف ہو کیونکہ اس میں ایك بھی وصف بدل جانے سے وہ پانی پر غالب آجاتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ مائع کے ذریعے یہاں اعتراض امام ضابطہ کے طریق سلوك سے غفلت کی بناء پر ہے اور صاحب بحر نے بھی اس کی پیروی کی ہے کیونکہ یہ دونوں ہر مطلق کو نصوص میں ایك خاص صورت پر محمول کرتے ہیں جیسا کہ یہ پتلے پن سے مقید کو جامد پر محمول کرتے ہیں حالانکہ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ مائع اشیئاء تو پتلا پن باقی رہنے کے باوجود بھی مانع ہوجاتی ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مائع موافق میں غلبہ کو اجزاء کے غلبہ پر محمول کیا ہے اور اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ قاعدہ ٹوٹ جاتا ہے جب مائع غیر موافق ہو اور انہوں نے اس مائع میں جو پانی سے ایك یا دو اوصاف میں مخالف ہو وضو سے ممانعت کو ایك وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے اور اس پر تین اوصاف کے مخالف ہونے کا اعتراض نہیں کیا یونہی جب انہوں نے تین اوصاف میں مخالف ہونے کی صورت میں ممانعت کو ایك سے زیادہ وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے تو اس پر دو اوصاف میں مخالف مائع والا اعتراض کیونکر وارد ہوگا باوجودیکہ آپ قدوری کنز اور مختار کی عبارات میں اسے قبول کرچکے ہیں تو مجمع کی عبارت میں اسے کیوں منع کردیا (ت)رہی خصوص وعموم کی بات تو میں کہتا ہوں کہ صاحب بحر کیلئے یہ گنجائش ہے کہ وہ عموم کو اختیار کریں تو اب دونوں اعتراض وارد نہ
ہوں گے کیونکہ بعض اوقات قید کو عموم کے برقرار رکھنے کیلئے ذکر کیا جاتا ہے ماعدا کی نفی کیلئے نہیں جیسا کہ
آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں کیونکہ بزرگوں میں خلفاء اربعہ جیسے لوگ دونوں سے افضل موجود تھے۔ یہ قید درحقیقت غالب کیلئے قید نہیں ہے تو معنی یہ ہوگا کہ ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جو اس شیئ پر غالب ہو جس نے پانی کے بعض اوصاف کو تبدیل کیا ہو نہ اس پانی سے جس نے اس شیئ پر غلبہ حاصل کیا ہو جس نے پانی کے جملہ اوصاف میں تبدیل کردئے ہوں نہ ہی مغلوب کیلئے یہ قید ہے تو معنی یہ ہوا کہ ہم اس پانی سے وضو کو جائز رکھتے ہیں جس میں کوئی مغلوب شے مل کر اس کے بعض اوصاف کو تبدیل کردے نہ اس پانی کے ساتھ جس میں مغلوب ملے اور اس کے جملہ اوصاف کو بدل دے کیونکہ ان دونوں کا فساد ظاہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب دونوں صورتوں میں پانی غالب اور مخالط مغلوب ہے تو بغیر کسی قید کے اس سے وضو جائز ہوگا تو یہ دراصل مغلوب کی وضاحت ہوگی اور غلبہ کا اطلاق ہوتا ہی تب ہے جب مرجوع کا عمل بھی کسی حد تك باقی ہو کیونکہ بالکل عمل نہ ہونے کی صورت میں وہ نہ ہونے کے برابر ہوگا جو مضمحل کہلائے گا مغلوب نہیں کہلائے گا اور پتلے پن میں عمل پانی کے غلبہ کی نفی کردیتاہے تو پانی کے صرف اوصاف ہی رہ جائیں گے مگر یہ کہ جامد چاہے پانی کے تمام اوصاف میں بھی عمل کرے
ورابعا : بہ (۱) علم ان ارادۃ الواحد لایقوی الاشکال بل علی ھذا التقدیر بہ لہ الانحلال ولو (۲) ارید الاعم لقوی الاعضال فانہ یکون منطوق الکلام غلبۃ الماء اذاتغیر بالمائع لہ وصفان وھذا لاصحۃ لہ علی الضابطۃ اصلا۔
وخامسا : ان بنینا الکلام (۳) علی ماسبق
مغلوب ہی رہتا ہے جب تك پانی پتلا رہے گا تو اگر یہی جامد خصوصی طور پر اس کی مراد تھا تو اتنا کہنا ہی کافی تھا کہ اوصاف کو بدل دے۔ بعض کی قید لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ تو معلوم ہوا کہ صاحب مجمع دونوں کی اکٹھی تصویر بتانا چاہتے ہیں اور اس پانی میں عمل جس میں مغلوب جامد اور مائع دونوں کے ساتھ آئے۔ ایك وصف میں عمل کے سوا کچھ نہیں کہ جامد تمام اوصاف میں بھی عمل کرکے مغلوب رہتا ہے جبکہ مائع دو اوصاف میں عمل کرکے غالب ہوجاتا ہے تو یہ ضروری ہوا کہ واحد سے مراد بعض ہوتا کہ مغلوبیت عامۃ للصنفین کی تصویر درست ہو اور یہ مغلوبیت عامہ جامد میں مطلقا ہوتی ہے جبکہ مائع میں جملہ اوصاف میں مخالف ہونے پر ہوتی ہے تو اس پر غیر موافق مائع کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کیونکہ ان کی متعین کردہ راہ کے مخالف ہے۔ اور خود تم نے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کو ہر جگہ قبول کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ تصویر ہے جہاں وجود صورت ضروری ہے تاکہ جہاں جس کی تصویر بیان کی گئی ہے وہ صادق آسکے وہ تمام افراد کے احاطہ کو نہیں چاہتی بحرالرائق کے کلام کی میرے نزدیك یہی توجیہ ہے۔ (ت)
رابعا : (۴) اس سے معلوم ہوا کہ ایك کے ارادہ سے اشکال قوی نہیں ہوتا بلالکہ اعتراض کا دفاع ہوتا ہے اور عام مراد ہونے کی صورت میں تنگی بڑھ جاتی ہے کہ بایں صورت کلام کے لفظ یہ ہونگے کہ پانی کا غلبہ تب ہوگا جب اس سے دو وصفوں والے مائع میں تبدیلی ہو اور یہ ضابطہ کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے۔ (ت)خامسا : (۵) اگر ہم اعتراض کی بنیاد صاحب بحر
وسادسا : (۱) تأویلکم الاخران عند تغیر الاوصاف جمیعا بنحو الزعفران یزول اسم الماء غالبا خلاف المشاھد۔
وسابعا : (۲) خلاف النصوص کماتقدم فی حکم الانبذۃ وغیرھا۔
وثامنا : (۳) مبنی تأویلکم الاول الحمل علی الجامد خاصۃ اذھو الذی تدیرون فیہ الامر علی الرقۃ وعدمھا ومعلوم ان حدیث الرقۃ یعم فیہ المنطوق والمفھوم فکما ان جامدا غیر جمیع الاوصاف لایمنع مالم تنتف الرقۃ کذلك ماغیر بعضھا لایصلح مالم تبق الرقۃ فانتفی
کے ذہن میں موجود مفہوم کو الٹتے ہوئے اس پر رکھیں کہ یہ کلام ملنے والی چیز کے غلبہ کے بارہ میں ہے تو اعتراض کی قوت کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جب آپ یہ کہیں کہ ہر وہ مائع جو پانی کی ایك یا دوصفتیں بدل دے تو وہ پانی پر غالب آجائےگا تو اس پر تین اوصاف میں مخالف کا اعتراض لازم آتا ہے جیسے کہ ایك وصف مراد لینے کی صورت میں وارد ہوتا ہے اگرآپ کہیں کہ ہر مائع جو ایك وصف کو بدل دے وہ غالب ہے تو بھی یہی اعتراض وارد ہوگا تو یہ دونوں اشکال میں برابر ہیں۔ (ت)
سادسا(۶) تمہاری دوسری تاویل کہ زعفران ایسی شے کے ساتھ پانی کی جملہ صفات بدل جانے سے اکثر طور پر پانی کا نام سلب ہوتا ہے یہ مشاہدہ کے خلاف ہے۔ (ت)
سابعا(۷) نصوص کے بھی خلاف ہے جیسا کہ نبیذوں کے حکم میں گزرا۔
ثامنا(۸) تمہاری پہلی تاویل کی بنیاد علی الخصوص جامد پر ہے کیونکہ آپ کے ہاں پتلے پن کے وجود اور عدم وجود پر معاملہ کا مدار ہے اور یہ بات تو معلوم ہے کہ پتلے پن کی بات ظاہری اور ضمنی دونوں صورتوں کو شامل ہے تو جیسے پانی کے تمام اوصاف کو بدلنے کے باوجود جب تك رقت باقی رہے جامد وضو سے مانع نہیں ہے۔ یونہی جب وہ بعض
عــہ : لان الحکم یعم تغییر وصف واحد وذو الثلثۃ لایغلب بہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کیونکہ حکم وصف واحد کی تغییر کو عام ہے اور تین وصفوں والا اس سے مغلوب نہیں ہوتا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وتاسعا : (۹) بون(۱) بین بین ماء نقع فیہ الحمص والباقلاء وماء خلط بزعفران فارادۃ الامر فی الاول علی الرقۃ صحیحۃ وفی الثانی لاکماعلمت تحقیقہ مرارا ولله الحمد فھذہ ستون بحثا فاخرا حمد الربی اولا اخرا وقد تقدمت کثیر غیرھا ولیس یخفی خیرھا ومیرھا (۲) وکل خیر من عطاء المصطفی صلی علیہ الله مع من یصطفی الله یعطی والجیب القاسم صلی علیہ القادۃ الاکارم ما نال خیرا من سواہ نائل کلا لایرجی لغیرنائل منہ الرجا منہ العطامنہ المدد فی الدین والدنیا والاخری للابد
اوصاف کو بدلے تو رقت کے معدوم ہونے پر طہارت کی صلاحیت نہیں رکھے گا تو بعض اور کل کا فرق باقی نہ رہا قید ضائع گئی اور مفہوم باطل ہوگیا حاصل یہ کہ خاص کر جامد مراد لینے پر حکم منصوص ومنطوق کے خلاف وہم میں مبتلا کردینے والی بعض کی قید لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (ت)
تاسعا(۹) جس پانی میں چنے اور لوبیا بھگوئے گئے ہوں اور جس پانی میں زعفران مل گیا ہو بڑا دور کا فرق ہے تو پہلی صورت میں معاملہ کی بنیاد پتلے پن پر رکھنا درست ہے دوسری میں نہیں جیسا کہ کہ بار بار آپ کے علم میں آیا ولله الحمد
یہ ساٹھ بحثیں باعث فخر ہیں ابتداء اور انتہاء میں تعریف الله تعالی کیلئے ہے ان کے علاوہ بھی بہت سی گزر چکی ہیں ان میں سے اچھی اور کمزور کوئی بحث مخفی نہ رہی ہر اچھائی مصطفی (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی عطاء سے ہے خدا ان پر جملہ پسندیدہ لوگوں کے ساتھ رحمتیں بھیجے۔ رب دینے والا اور حبیب (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) تقسیم کرنے والے ہیں اور آپ پر قابل احترام قائدین درود بھیجتے ہیں آپ کے غیر سے کسی نے بھی بھلائی حاصل نہیں کی اور نہ کسی دوسرے سے کوئی حاصل کرنے والا امید رکھتا ہے امید بھی آپ سے عطا بھی آپ کی اور مدد بھی آپ کی دنیا اور آخرت میں ہمیشہ کیلئے۔ (ت)
بالجملہ ضابطہ کا یہ دوسرا حصہ مذہب امام ابویوسف ومذہب امام محمد ونصوص متواترہ مذہب سب کے خلاف ہے مذہب۳ حنفی میں یہ تفصیلیں کہیں نہیں ہاں کتب شافعیہ میں ان کے قریب تھیں شاید وہیں سے خیال امام ضابط میں رہیں۔ امام بدر محمود عینی بنایہ میں فرماتے ہیں :
امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکا مسلك جو ضبط میں لایا گیا وہ یہ ہے کہ پانی کے ایك وصف کو جب ایسی شیئ بدل دے جس سے پانی کا محفوظ رکھنا ممکن نہیں مثلا پانی پر پیدا شدہ جالا اور پانی پر جو نمك چونہ وغیرہ نظر آتا ہے تو اس سے وضو جائز ہوگا کیونکہ پانی کو اس سے بچایا نہیں جاسکتا اگر پانی کو اس شیئ سے بچانا ممکن ہے پھر اگر وہ مٹی ہو جو پانی میں ڈال دی گئی ہو تو اس کیلئے حکم پانی کا ہے کیونکہ یہ پاك کرنے کی صفت میں پانی کے موافق ہے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ پانی میں دوسرا پانی ڈال دیا جائے تو اس سے پانی کا رنگ بدل جائے اگر کوئی شے مٹی کے علاوہ ہو جیسے زعفران اور پانی کا خشك جالا جب باریك پیس کر اس میں ڈال دئے جائیں یا اس کے علاوہ کچھ ایسی اشیئاء ہوں جو پاك ہونے کے باوجود پاك کنندہ نہیں جس سے پانی تبدیل ہوجاتا ہو تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ غیر طہور شیئ کے ملنے سے پانی کا نام زائل ہوجاتا ہے تو یہ ایسے ہوگیا گویا گوشت مل گیا ہو بہنے والی شیئ اگر پانی میں تھوڑی ہو تو وضو جائز ورنہ ناجائز ہوگا قلت اور کثرت کی پہچان کیونکر ہوگی تو دیکھا جائےگا کہ اگر وہ چیز بعض صفات میں پانی کے موافق ہو جیسا کہ عرق گلاب جس کی خوشبو نہ ہو تو قلت وکثرت دو طریقوں سے معلوم ہوگی ایك یہ کہ اگر پانی کو غلبہ ہو تو اس کے ساتھ وضو جائز ہوگا اگر ملنے والی شے کا غلبہ ہو تو وضو جائز نہ ہوگا ان میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ شیئ اتنی مقدار میں ہو کہ وہ اوصاف میں
وحاصلہ ان العبرۃ بالاجزاء انما ھی فی المائع الموافق للماء فی جمیع الصفات والا فبالاوصاف وھذا ماوزع بہ فی الضابطۃ وان زاد التفصیل بالخلاف فی جمیع الاوصاف فیعتبر وصفان اوبعضھا فواحد والله سبحنہ وتعالی اعلم صلی الله تعالی وبارك وسلم علی سیدنا ومولینا الارأف الارحم شفیع الامم والہ وصحبہ وابنہ الکریم الغوث الاعظم امین۔
مختلف ہونے کے باوجود پانی کو متغیر نہ کرے تو وضو سے مانع نہ ہوگی اگر مطلق پانی کے ساتھ مستعمل پانی مل جائے تو اس کے دو۲ طریقے ہیں صحیح ترین طریقہ یہ ہے کہ مائع کی طرح اس میں بھی دو وجہیں ہوں گی اس طریقہ پر ان کے جمہور علماء نے یقین کیا ہے اور رافعی نے اسے صحیح قرار دیا ہے الخ... خلاصہ یہ کہ مائع جب تمام صفات میں پانی کے موافق ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا ورنہ صفات کا یہی تقسیم ضابطہ میں کی گئی ہے اگرچہ اختلاف کی صورت میں زیادہ تفصیل کی ہے کہ تمام اوصاف مختلف ہوں تو دو صفات کا ورنہ ایك کا اعتبار ہوگا والله سبحنہ وتعالی اعلم وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی سیدنا ومولنا الارأف الارحم شفیع الامم وآلہ وصحبہ وابنہ الکریم الغوث الاعظم آمین (ت)
پنجم ضابطہ نسفیہ: کہ جس پانی میں اس کا غیر ایسا مل جائے کہ تمیز نہ رہے اور وہ پانی پر غالب ہو تو پانی قابل وضو نہ رہا آب مقید ہوگیا ورنہ نہیں اور اس کا غلبہ دو طور پر ہے یا تو اجزاء سے کہ اس کے اجزاء پانی سے زائد[یعنی یابرابرہوں فان المساوی کالزائد احتیاطا کمامر عن البدائع (کیونکہ مساوی احتیاطا زائد کی طرح ہے جیسا کہ بدائع سے گزرا۔ ت)] یاکمال امتزاج سے اور یہ بھی دو طور پر ہے یادرختوں کے پی لینے سے یا پانی میں کوئی پاك چیز پکانے سے جیسے شوربا اور آب باقلا مگر یہ کہ اس سے زیادت نظافت مقصود ہو جیسے اشنان وصابون کہ ان کا پکانا مضر نہیں جب تك گاڑھا نہ کردے ۔ امام اجل ابو البرکات نسفی نے کافی شرح وافی میں فرمایا :
بطلان صفۃ الاطلاق بغلبۃ الممتزج وھی بکثرۃ الاجزاء اوبکمال الامتزاج وھو یطبخ الماء بخلط الطاھرکماء
پانی کے مطلق ہونے کی صفت کسی ملنے والی شیئ کے غلبہ سے باطل ہوگی غلبہ یا تو اجزاء بڑھ جانے سے ہوگا یا کامل طور پر گھل مل جانے سے اور وہ یوں
کہ پانی کو کسی پاکیزہ چیز کے ساتھ ملا کر پکایا جائے مثلا لوبیا کا پانی یا شوربا یا یہ امتزاج جڑی بوٹیوں کے پانی کو یوں جذب کرلینے کے بعد ہوگا کہ ان سے بغیر مشقت کے پانی کو الگ نہ کیا جاسکے پکانے سے امتزاج وضو سے اس وقت مانع ہوگا جب اس کے ملانے سے وضو کی کوئی غرض وابستہ نہ ہو مثلا صابون یا اشنان کو جب پانی میں پکایا جائے البتہ یہ بھی اگر پانی پر یوں غالب آجائیں کہ مخلوط ستو کی مثل شیئ بن جائیں تو پھر اس پانی سے بھی وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس پر پانی کا نام نہیں بولاجائےگا امتزاج دو اشیئاء کا یوں یکجان ہونا کہ انہیں جدا کرنا ممکن نہ ہو۔ (ت)
بعینہ اسی طرح کفایہ امام جلال الدین شرح ہدایہ میں ہے اقول : غلبہ ممتزج وکمال امتزاج اور اس کے اسباب طبخ وتشرب نبات یہ سب مضمون امام زیلعی نے یہیں سے اخذ فرمائے امام اجل نسفی نے غلبہ ممتزج صرف کثرت اجزاء سے لیا تھا انہوں نے اس میں سخن اوصاف اپنی طرف سے اضافہ فرمایا یہاں۱ سے بھی واضح ہوا کہ کافی وکفایہ تك جو ضابطہ مذہب حنفی میں تھا اس میں اس تفصیل کا پتا نہیں۔
ثم اقول : ضابطہ نسفیہ وہی مذہب امام ابویوسف ہے۔ ضابطہ چہارم بحث دہم میں گزرا کہ اس مذہب معتمد میں مانع چار بلالکہ تین ہی ہیں کثرت۱ اجزائے مخالط جس میں حکما تساوی بھی داخل اور۲ زوال رقت کہ زوال سیلان کو بالاولی شامل اور۳ زوال اسم یہاں کثرت اجزاء تووہی ہے اور کمال امتزاج بطبخ وتشرب باقی دو کی صور سے ہیں تو یہ ضابطہ بظاہر مثل عبارات متون ضابطہ جزئیہ ہے کہ ضابطہ یوسفیہ سے باہر نہیں اگرچہ سب صور کو محیط بھی نہیں۔
اقول : مگر حقیقۃ وہ کلیہ ہے بلاشبہ غلبہ ممتزج وکمال امتزاج بلالکہ صرف غلبہ ممتزج سے باہر کوئی سبب نہیں
(۲)وانماجعلھاجزئیۃتفسیرھماببعض صورھما فلوجعل التفسیر تصویر الاستقام*
اس کو ان کی بعض صورتوں کی تفسیر کا جزو قرار دیا ہے حالانکہ اگر اسے تفسیر بنانے کے بجائے تصویر بناتا
تو درست ہوتا یہاں بہت سی ایسی مباحث ہیں کہ جو ان اعتراضات وجوابات کو مکمل پڑھنے سے مخفی نہیں رہ سکتیں جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں الله الہام کرنے والا ہے۔ (ت)
ششم ضابطہ رضویہ: سبحن الله فقیر بھی کوئی شیئ ہے کہ احکام میں زبان کھول سکے حاشا ضابطہ وہی ضابطہ امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہہے۔ باتباع علماء اس کے اجمال کو مفصل کردیا ہے۔ تفاصیل میں خدمت گاری کلام اکابر کے صدقہ سے جن تحقیقات کاافاضہ ہوا ان پر ابتنائے شقوق کیا ہے جملہ ضوابط صحیحہ مذکورہ کو ایك دائرے کے احاطہ میں لیا ہے اس نے بیان کو اظہر واجمع وانور وانفع کرکے ضابطہ کے لئے خلعت جدت سیا ہے۔
فاقول : وبالله التوفیق(۱)دریانہر چشمےچاہ باران کا پانی حتی کہ شبنم اپنی حد ذات میں آب مطلق ہے جو کچھ ان کی جنس سے نہیں اگرچہ ان کی شکل ان کے اوصاف ان کے نام پر ہوپانی نہیں اس سے وضو وغسل نہیں ہوسکتا جیسے ماء الجبن دہی کا پانی درختوں پتھروں کامد مٹی کا تیل سیندھی تاڑی ناریل کدو تربوز کا پانی اگرچہ اس میں صرف پانی ہی ہو یوہیں جو کچھ پتوں شاخوں پھلوں پھولوں سے نکالا جائے یا کافور کے درخت انگور کی بیل کی طرح کاٹے سے یا آپ ہی ٹپکے یا نمك نوشادر کا فور وغیرہا کے پگھلنے یا سونے چاندی رانگ وغیرہا کے گلنے سے حاصل ہو ۔
(۲) جو کچھ حقیقۃ پانی ہے (اگرچہ بیچ میں پانی نہ رہا تھا جیسے اولے یاآسمانی برف یا کل کا جب پگھل جائے) یا تو اس میں کوئی اور چیز (اگرچہ اسی کی جنس سے ہو) داخل ہوگی یا نہیں اگر نہیں تو وہ مطلقا آب مطلق ہے لیکن اگر مائے مستعمل ہے جس کا بیان الطرس المعدل میں مفصل گزرا تو اس سے وضو وغسل جائز نہیں ورنہ مطلقا صحیح ہے اگرچہ بوجہ ملك غیر یا وقف یا کسی حاجت ضرور یہ کی طرف مصروف ہونے یا اور عوارض کے سبب جن کا بیان فصل اول میں گزرا اس سے وضو حرام یا مکروہ ہو اگرچہ بچوں کا ہاتھ پڑنے یا کافر کے چھونے یا کسی مشکوك شے کے گرنے سے اس کی طہارت میں اوہام پیدا ہوں جب تك نجاست ثابت نہ ہوجائے اگرچہ دیر تك بند رہنے سے اس کا رنگ بو مزہ بدل جائے یا ابتداء ہی سے بدلا ہوا ہو اگرچہ کسی تیز خوشبو یا بدبو شیئ کے قرب سے اس میں کتنی ہی بوئے خوش یا ناخوش پیدا ہوجائے ہاں اگر سردی سے جم جائے یا رقیق نہ رہے جیسے اولے برف اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تك پگھل کر پھر اصلی رقت پر نہ آجائے۔
(۳) اگر داخل ہوگی تو دو صورتیں ہیں یا تو پانی سے جدا رہے گی یعنی اس میں سرایت نہ کرے گی یا خلط ہوجائےگی
(۴) اگرپانی میں خلط ہوگی تو دو صورتیں ہیں وہ ملنے والی شیئ بھی اصل میں صرف پانی ہے یا اس کا غیر اگر صرف پانی ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اب بھی پانی ہی ہے یا نہیں اگر اب بھی پانی ہی ہے تو اس کے ملنے سے پانی مطلق تو مطلقا رہے گا ہی اس سے وضو بھی روا ہوگا مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ آب مستعمل اس میں مل جائے اور یہ مقدار میں اس سے زائد نہ ہو دوسرے یہ کہ نجس پانی پڑ جائے اور یہ دہ در دہ نہ ہو اور یہ وہیں ہوگا کہ وہ پانی بے کسی دوسری شیئ کے مختلط ہوجانے کے ناپاك ہوگیا جیسے آب قلیل میں خنزیر کا پاؤں یا بال پڑ گیا اور نکل گیا کہ پانی خالص ہی رہا خلط نہ ہوا اور ناپاك ہوگیا ورنہ جو خلط نجس سے نجس ہو اس کا ملنا اس قسم سے خارج ہوگا کہ یہ صرف پانی کا ملنا نہ ہوا۔
(۵) اگر وہ ملنے والی شیئ اب پانی نہیں (اور یہ نہ ہوگا مگر اولے یا برف میں کل کاہو خواہ آسمانی کہ یہی وہ صورت ہے کہ پانی بے خلط غیر پانی نہ رہے) تو اگر پانی کی رقت زائل کردے قابل وضو نہ رہے گا جب تك وہ شیئ پگھل کر پھر پانی نہ ہوجائے اور اگر رقت باقی ہے نہ یوں کہ اولے برف ابھی گھل کر پانی میں مخلوط نہ ہوئے پتھر کنکر کی طرح تہ میں پڑے ہیں کہ یہ تو تیسرا نمبر تھا بلالکہ یوں کہ مقدار میں اتنے کم تھے جن کے خلط سے رقت آب میں فرق نہ آیا تو اس سے وضو جائز ہے۔
(۶) اگر وہ شیئ غیر آب ہے اور پانی میں اتنی خلط ہوگئی کہ پانی اس سے مقدار میں زائد نہیں تو مطلقا قابل وضو نہیں۔
(۷) اگر پانی مقدار میں زیادہ ہے تو وہ شیئ نجس ہے یا طاہر اگر نجس ہے اور پانی دہ در دہ نہیں یا ہے تو نجاست سے اس کے رنگ یا مزے یا بو میں فرق آگیا تو پانی اگرچہ مطلق رہے قابل وضو درکنار بدن میں جائز الاستعمال رہا۔
(۸) اگر وہ دہ در دہ ہے اور کسی وصف میں تغیر نہ آیا تو نجاست کا حکم ساقط اور احکام بعض احکام آئندہ ہوں گے۔
(۹) اگر طاہر ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اس کا خلط آگ پر ہوا یا الگ۔ اگر آگ سے الگ ہوا اور وہ شیئ جامد ہے تو ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے اجماع سے اور مائع ہے تو مذہب صحیح معتمد میں پانی مطلقا آب مطلق ولائق وضو رہے گا اگرچہ رنگ مزہ بو سب بدل جائیں گے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ پانی رقیق ترہے اور ہم تحقیق کر آئے ہیں کہ یہ کچھ جامد ہی سے خاص نہیں بہت مائعات بھی مانعات رقت آب ہوتے ہیں دوسرے یہ کہ شربت شہد یا شربت شکر یا نبیذ و رنگ کی طرح مقصد دیگر کیلئے شیئ دیگر ہوجائے۔
عــہ : آب کثیر نجاست کے پڑنے سے ناپاك نہیں ہوتا جب تك اس کا کوئی وصف نہ بدلے اور ظاہر ہے کہ رنگ یا مزہ اسی وقت بدلیں گے جب اس نجس کے اجزاء پانی میں خلط ہوں اور یہاں وہ صورت مفروض ہے کہ خلط نہ ہو ہاں اگر کوئی نجس چیز اس درجہ قوی الرائحہ ہو کہ صرف اس کی مجاورت بلاخلط سے آب کثیر کی بو بدل جائے تو نجس ہونا چاہئے۔ والله تعالی اعلم منہ غفرلہ۔ (م)
آب مطلق وقابل وضو ہے۔
(۱۱) اگر وہ شے پك گئی تو تین صورتیں ہیں پکانے میں صرف پانی مقصود ہے یا صرف وہ شے یا دونوں پہلی دو صورتوں میں آب مطلق رہے گا جب تك اس قابل نہ ہوجائے کہ سرد ہو کر زوال رقت ہو صورت دوم کی مثالیں بحث اول طبخ میں شنجرف ونشاستہ وآش جو سے گزریں اور صورت اول کا بیان فصل خامس میں آتا ہے ان شاء الله تعالی۔
(۱۲) صورت سوم میں اگر پانی اس قدر کثرت سے ڈال دیا کہ نہ مقصود دیگر کیلئے ہوسکے گا نہ اس سے دلدار ہوگا تو مطلقا مطلق ولائق طہارت ہے۔
(۱۳) اگر اتنا کثیر نہ تھا مگر دلدار نہ ہوسکے گا تو جب مقصود دیگر کیلئے ہوجائےگا قابل وضو نہ رہے گا۔
(۱۴) اگر پانی دلدار ہوسکتا ہے تو اگر بالفعل گاڑھا ہوگیا کہ بہانے میں پورا نہ پھیلے گا مطلقا لائق وضو نہ رہا اگرچہ اس میں صابون ہی پکایا ہو جس سے زیادت نظافت مقصود ہوتی ہے۔
(۱۵) اگر بالفعل گاڑھا نہ ہوا مگر ٹھنڈا ہوکر ہوجائے گا تو دو صورتیں ہیں اگر وہ شے مثل صابون وغیرہ زیادت نظافت کیلئے ہے فی الحال اس سے وضو جائز ٹھنڈا ہونے کے بعد صحیح نہیں۔
(۱۶) اگر زیادت نظافت کیلئے نہیں تو اس سے فی الحال بھی وضو جائز نہیں۔
یہ ہے وہ تحقیق انیق کہ جمیع نصوص صحاح کو متناول اور جملہ ارشادات متون کو حاوی وشامل اور تمام تحقیقات سابقہ پر مشتمل اور سب فروع ممکنہ کے حکم صحیح کو بعونہ تعالی کافی وکافل والحمدلله رب العلمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی خاتم النبیین سید المرسلین وعلیھم جمیعا وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین والحمدلله رب العلمین (حمد الله رب العالمین کیلئے ہے اور افضل الصلوۃ واکمل السلام خاتم النبیین سید المرسلین پر اور تمام انبیاء پر اور آپ کے آل واصحاب اولاد اور گروہ سب پر آمین والحمدلله رب العلمین)
فصل خامس بعض جزئیات جدیدہ میں۔ بحمدہ تعالی کتاب میں تین سو سات (۳۰۷) جزئیات مذکور ہوئے۔
(۳۰۸) آب مقطر یعنی قرع انبیق میں ٹپکایا ہوا پانی کہ اجزائے ارضیہ وغیرہا کثافتوں سے صاف کرنے کیلئے سادہ پانی رکھ کر آنچ کریں کہ بخارات اٹھ کر اوپر کے پانی کی سردی پاکر پھر پانی ہو کر ٹپك جائیں یہ پانی کہ محض پانی کی بھاپ سے حاصل ہوا اس کا صریح جزئیہ اپنی کتب میں نظر فقیر سے نہ گزرا
مگر صرف وہی جو ہم نے نمبر ۱۹۰ میں بیان کیا اور وہ الدرر کے ایك فاضل محشی خادمی صاحب کے اس قول سے حاصل ہوا جس کو انہوں نے ایك بحث مباحثہ میں ذکر کیا جبکہ درر میں کہا نمك کے پگھلنے سے جو پانی بنا اس سے طہارت کے ناجائز ہونے کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانی ایك طبیعت کے انقلاب سے حاصل ہوا ہے تو اس پر علامہ خادمی نے اعتراض کرتے ہو ئے برف اور بخار کا حوالہ دیا (کہ اس سے جو پانی بنتا ہے وہ بھی تو طبیعت بدلا ہوا ہوتا ہے حالانکہ اس سے وضو جائز ہے)اس کے جواب میں کہا گیا کہ طبیعت سے مراد ایسی طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ تو اس سوال وجواب نے بخار سے بنے ہوئے پانی سے وضو کاجواز بیان کردیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اس سے مراد بارش اور کنویں کا پانی ہو کیونکہ یہ دونوں پانی بخارات کی تبدیلی سے بنتے ہیں۔ (ت)
اقول : مگر بعونہ تعالی حکم ظاہر ہے کہ وہ مائے مطلق اور اس سے طہارت جائز ہے کہ سمندر کے سوا آسمان وزمین کے عام پانی بخارات ہی سے بنتے ہیں اور گلاب وعرق گاؤ زبان وغیرہ وارد نہ ہوں گے کہ وہ بھی اگرچہ پانی ہی کے بخار ہیں مگر وہ سادہ پانی سے نہ اٹھے بلالکہ جس میں دوسری شے بھگوئی گئی ہے جس نے ان بخارات مستحیلہ کو مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر کردیا لہذا زوال اسم ہوگیا انہیں پانی نہیں کہا جاتا بلالکہ گلاب وعرق بخلاف آب تقطیر کہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا نہ مقصود بدلا نہ نام۔
اقول : (۱) البتہ ضابطہ امام زیلعی پر گلاب اور سب عرق وارد ہوں گے کہ جامد ہی چیزیں ملیں تو مدار بقائے رقت پر ہوا اور وہ باقی ہے تو یہ بخارات ازروئے ضابطہ آب مطلق ہی سے اٹھے اور پانی ہی ہوکر ٹپکے اس کے بعد کوئی بات انہیں وہ عارض نہ ہوئی جو بربنائے ضابطہ انہیں آب مقید کردے کہ مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجانا ضابطہ میں نہیں تو بحکم ضابطہ گلاب وہر عرق سے وضو ہوسکنا چاہئے حالانکہ بالاجماع جائز نہیں۔
ثم رأیت التصریح بھذا الفرع فی کتب السادۃ الشافعیۃ قال العلامۃ زین
پھر میں نے اس فرع کی تصریح شافعی مسلك کے علماء کی کتب میں دیکھی امام ابن حجر مکی کے شاگرد علامہ زین
ملیباری نے فتح المعین میں کہا کہ مطلق پانی وہ ہوتا ہے جس کو کسی قید کے بغیر پانی کہا جاسکے اگرچہ وہ ابلالنے والے پاك پانی کی بھاپ سے بنا ہو اھ اور ان کے استاد وشیخ کے فتاوی کبری فقہیہ میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ افریقہ میں ایك ایسا درخت ہے جو ہواؤں کے چلنے پر دھوئیں کی طرح ایك گیس چھوڑتا ہے اور وہ گیس بعد میں پانی کی طرح بہنے والی صورت اختیار کرلیتی ہے جو بالکل پانی معلوم ہوتی ہے۔ تو کیا درخت کی اس گیس کے پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا حکم پانی والا نہیں ہے بلکہ وہ بہنے والا مادہ ہے جو ابلنے والے پانی کے بخارات سے مختلف ہے کیونکہ یہ تو پانی سے بنتا ہے۔ اور وہ درخت کے پانی کی طرح ہے جس سے طہارت کا حصول بالکل جائز نہیں۔ (ت)
اقول : یہ اگر آب مطلق طاہر کے بخارات سے ہے قابل طہارت ہے۔
(۳۰۹) کبھی حمام کی چھت اور دیواروں سے پانی ٹپکتا ہے۔
(۳۱۰) آب غطا پانی گرم کیا بھاپ اٹھ کر سرپوش پر اندر کی جانب پانی کے کچھ قطرے بنے ہوئے ملتے ہیں۔ اقول وہ بدستور آب طہور ہے اس سے سریا موزوں کا مسح جائز ہے
لماعلمت انہ لیس الا من اجزاء الماء المطلق وتخلل الاستحالۃ الی البخار لایمنع کمیاہ الابأر والامطار۔
کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ مطلق پانی کے اجزاء سے بنا ہے اور درمیان میں بخارات کی صورت اختیار کرنا اس کیلئے مانع نہیں ہے جس طرح کنوؤں اور بارشوں کے پانی کہ وہ بھی پہلے بخارات کی صورت میں تھے۔ (ت)
(۳۱۱) کوئی اور چیز پکانے میں جو قطرات بخار چپن (ڈھکنا) پر ملیں۔
(۳۱۲) اصطبل وغیرہ محل نجاسات سے بخارات اٹھ کر ٹپکے پاك تو مطلقا ہیں جب تك ان میں اثر نجاست ظاہر نہ ہو
فی ردالمحتار فی الخانیۃ ماء الطابق عــہ نجس قیاسالا استحسانا وصورتہ اذا احرقت العذرۃ فی بیت فاصاب ماء الطابق ثوب انسان لایفسدہ استحسانا مالم یظھر اثر النجاسۃ فیہ وکذا الاصطبل اذا کان حارا وعلی کوتہ طابق اوکان فیہ کوز معلق فیہ ماء فترشح وکذا الحمام فیھا نجاسات فعرق حیطانھا وکواتھا وتقاطر قال فی الحلیۃ والظاھر العمل بالاستحسان ولذا اقتصر علیہ فی الخلاصۃ والطابق الغطاء العظیم من الزجاج اواللبن اھ
ردالمحتار میں خانیہ سے ہے ڈھکنے (سرپوش) کا پانی قیاس کے طور پر نجس ہے استحسان کے طور پر نجس نہیں اس کی صورت یوں ہوگی کہ کسی کمرے میں نجاست کو آگ سے جلانے کی بنا پر حرارت (سے مرطوب بخارات بن کر ڈھکنے پر جمع ہوکر ٹپکنے) پر وہ قطرے کسی کے کپڑوں کو لگے تو استحسان کے طور پر کپڑے ناپاك نہ ہوں گے جب تك ان قطرات میں نجاست کے اثرات ظاہر نہ ہوں اسی طرح اصطبل میں حرارت اور چھت پر ڈھکنا ہونے کی صورت میں یا وہاں کوئی پانی کا مٹکا ہونے کی صورت میں پانی ٹپکنا شروع کردے۔ اسی طرح کسی حمام میں اگر مختلف نجاستیں ہوں تو وہاں دیواروں اور چھت پر قطرے بن کر ٹپکنے لگیں حلیہ میں کہا تو ظاہر یہی ہے کہ استحسان پر عمل کیا جائےگا اسی لئے خلاصہ میں صرف استحسان والے حکم (طہارت) کو ذکر کیا گیا ہے اور طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (ت)
اقول : مگر طہور وقابل طہارت نہیں اگر آب مطلق کے سوا اور رطوبتوں سے ہوں کمالایخفی۔
(۳۱۳) سونٹھ کا پانی جنجریٹ۔
(۳۱۴) میٹھا پانی لیمینیڈ ان کا آب مطلق تو نہ ہونا صاف ظاہر۔
عــہ طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (م)
فانہ لاشك فی سرایۃ الھواء المذکور فی الماء عند فورانہ وتغییرہ طعمہ وجعلہ شیئا اخر لمقصود اخر۔
کیونکہ بلاشبہ مذکور ہوا (گیس سوڈا) پانی میں سرایت کرتی ہے جس سے پانی ابلتا ہے اور ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ (سوڈا گیس) پانی کو کسی اور مقصد کیلئے دوسری چیزبنادیتا ہے۔ (ت)
اقول : یہ تینوں(۱)پانی بھی ضابطہ پر وارد ہیں جبکہ ان کا اصطناع جامدات سے ہوکہ رقت ضرور باقی ہے
الا ان یدعی فی الثالث ان الھواء من المائعات لجریانہ منبسطاعلی ھینۃ بل ھو ابلغ فیہ من الماء لکونہ الطف منہ فھذا مائع یخالف الماء فی الطعم وقد غیرہ فتقید فلایخرج الفرع عن الضابطۃ۔
مگر تیسرے میں یہ دعوی کیا جائے کہ ہوا پرسکون طور پر پھیلتی چلی جاتی ہے لہذا ہوا بھی بہنے والی چیزوں میں سے ہے ب بلکہ یوں کہا جائے کہ ہوا زیادہ لطیف ہونے کی وجہ سے زیادہ پھیلتی ہے تو پھر ہوا پانی سے علیحدہ ایك بہنے والی چیز ہے جو اس سے ذائقہ میں مختلف ہے یوں ہوا نے پانی کو متغیر کردیا اور پانی مقید ہوگیا لہذا یہ فرع ضابطہ سے خارج نہ ہوگی۔ (ت)
(۳۱۶ ۳۱۷)یونہی آب افیون وبھنگ اگرچہ رقیق رہیں ناقابل وضو ہیں لغلبۃ الاجزاء بالمعنی الثالث (تیسرے معنی کے اعتبار سے اجزاء کا غلبہ ہے۔ ت) ضابطہ پر۲ وارد کہ جامدات ہیں اور رقت باقی۔
(۳۱۸) اقول : بلالکہ رقیق۳ چائے بھی خصوصا اس صورت میں کہ پانی کے جوش میں نہ ڈالیں بلالکہ آگ سے اتار کر اور رہنے دیں یہاں تك کہ اپنا عمل کرے اور اب وہ پانی چائے کہلائے کہ یہ صورت طبخ سے جدا اور اب بنص ضابطہ محض رقت پر مدار بلالکہ اگر اسے معنی طبخ میں داخل کریں کہ حرارت آب نے اس میں عمل کیا جب بھی ضابطہ پر وارد رہے گی کہ بتصریح امام ضابط وغیرہ ائمہ طبخ میں وجہ منع کمال امتزاج ہے اور ہم تحقیق کر آئے کہ مانع وہی ہے کہ موجب زوال رقت ہو اگرچہ سرد ہو کر توجب رقت باقی بروئے ضابطہ ہر طرح جواز چاہئے حالانکہ بلاشبہ بالاتفاق ناجائز ہے
لزوال الاسم وھو المعتبر فی الباب بتصریح الامام الضابط وسائر الائمۃ کیف وقد صار شیئا اخر لمقصود اخر۔
کیونکہ نام ختم ہوگیا ہے جو اس باب میں معتبر ہے اس کی تصریح امام ضابط اور باقی ائمہ نے کی ہے ایسا کیوں نہ ہوگا حالانکہ دوسرے مقصد کیلئے شے تبدیل ہوچکی ہے۔ (ت)
(۳۱۹ ۳۲۰)شلجم گاجر کے اچار کا تہ نشین پانی کہ گاڑھا ہوتا ہے وہ تو ظاہر اوپر کا رقیق پانی
(۳۲۱) گلاسوں میں زیادہ مقدار تك پانی بھر کر اوپر سے تیل ڈال کر روشن کرتے ہیں اقول ظاہر ہے کہ یہاں اسباب ثلثہ سے کوئی سبب مانع نہ پایا گیا جب تیل جل جائے یا نکل جائے آب خالص کے سوا کچھ نہ رہے گا تو اس سے طہارت جائز ہے۔
(۳۲۲) کبھی خوب صورتی کیلئے وہ پانی رنگین کرکے بھرتے ہیں اگر تغیر لون اتنا ہوا کہ رنگ ہوگیا تو اس سے وضوناجائز ہونا ظاہر اقول : وھو عندی محمل مایاتی عن العلامۃ السید ط (میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیك یہ علامہ سید طحطاوی کے آئندہ بیان کا محمل ہے۔ ت) اور اب(۲) ضابطہ پر وارد جبکہ یہ رنگ جامدات سے ہوا ہو ہاں اگر یہ حالت نہیں تو قضیہ اصول معتمدہ یوسفیہ جواز ہے والله تعالی اعلم۔
(۳۲۳) قدس شریف ملك شام میں بعض لکڑیوں کے ریشے زمین سے نکال کر پانی میں بھگوتے ہیں جس سے پانی سرخ ہوجاتا ہے اور دباغت یعنی چمڑا پکانے کے کام آتا ہے اس سے وضو جائز نہ ہونا چاہے اگرچہ رقیق رہے لصیرورتہ شیئا اخر لمقصد اخر (کیونکہ اب یہ دوسری چیز کسی اور مقصد کیلئے ہوچکی ہے۔ ت) اقول مگر اس۳ صورت میں ضابطہ پر وارد درمختار میں تھا کذا ماء الدابوغۃ (دباغت کا پانی بھی ایسے ہے۔ ت) علامہ سید طحطاوی نے فرمایا :
ای مثل ماء الکرم فی ان الاظھر عدم جواز رفع الحدث بہ واخبر بعض من یسکن بلد الخلیل علیہ الصلاۃ والسلام انھم یخرجون عروق حطب من الارض یضعونھا فی الماء فیحمر فیدبغون بہ الجلد ویسمونہ ھذا الاسم ونحوہ ماء الدبغۃ الاحمر الذی یضعونہ فی القنادیل بمصر للزینۃ ۔
یعنی انگور کے درخت کے پانی کی طرح اظہر اس سے طہارت کے بارے میں عدم جواز ہے۔ خلیل عليه الصلوۃ والسلام کے شہر میں رہنے والے ایك شخص نے بتایا کہ ہم زمین سے ایك لکڑی کی جڑیں نکال کر پانی میں ڈالتے ہیں جس سے وہ پانی سرخ ہوجاتا ہے پھر اس سے چمڑے کو رنگتے ہیں اس کا نام ماء الدابوغہ ہے اور اسی طرح مصر میں خوبصورتی کیلئے قندیلوں میں سرخ پانی رکھتے ہیں جس کو ماء الدبغہ کہتے ہیں۔ (ت)
(۳۲۴) تتہڑے میں دو چار پان خصوصا بنے ہوئے اگر پڑ جاتے ہیں سارا پانی رنگین کردیتے ہیں اقول : اس سے وضو میں حرج نہیں کہ طبخ میں وہ امتزاج مانع جو اسے گاڑھا ہونے کے قابل کردے۔
(۳۲۵) پان کھایا اور منہ میں اس کا معتدبہ اثر باقی ہے کلیاں کرکے منہ صاف کیا مشاہدہ ہے کہ ان کلیوں کا پانی اتنا رنگین ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد اسی لگن میں پورا وضو کیا جائے تو سارا پانی رنگ جاتا ہے اگر یہ وضو طاہر نے نہ بہ نیت قربت بلالکہ مثلا محض تبرید کیلئے کیا پانی قابل وضو رہے گا کہ اسباب ثلثہ منع سے کوئی سبب نہیں۔
اقول : اور ضابطہ۲ پر وارد جبکہ پان خوشبودار نہ ہو کہ ان کلیوں کا پان وہ مائع ہے کہ آب مطلق سے رنگ ومزہ دو وصفوں میں مخالف ہے اور ایك بدل دیا۔
(۳۲۶) جس گھڑے میں گنے کا رس تھا رس نکال کر پانی بھرا جائے بلاشبہ اس کا مزہ وبو بدل جاتے ہیں اور اس سے جواز وضو میں شك نہیں کہ وہ یقینا پانی ہی ہے۔
اقول : مگر ضابطہ۳ پر وارد کہ رس کے جو اجزاء گھڑے کی سطح اندرونی میں لگے رہ گئے تھے ضرور اجزائے مائع ہیں اور ان سے دو وصف بدل گئے۔
(۳۲۷) اسی گھڑے میں اگر پانی گرم کیا تو تغیر اور زیادہ ہوجائےگا اور ضابطہ۴ برجندیہ پر ناقض آئےگا۔
(۳۲۸) زخم دھونے کیلئے پانی میں نیم کے پتے ڈال کر جوش دیتے ہیں ان سے اس کا رنگ مزہ بو سب بدل جاتا ہے مگر رقت میں فرق نہیں آتا۔
اقول : مقتضائے اصول معتمدہ یوسفیہ اس سے وضو کا جواز ہے یہاں تك کہ اگر زخم اعضائے وضو پر تھا اس پانی سے دھونے کے بعد اسے دوسرے پانی سے دھونے یا مسح کی حاجت نہیں کہ یہاں غلبہ اجزا وغلبہ طبع نہ ہونا تو بدیہی اور زوال اسم بھی نہیں کہ وہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا کوئی دوسری چیز دوسرے مقصد کیلئے نہ ہوگیا مقصود زخم دھونا ہے اور یہ کام خود پانی کا ہے نیم کے پتے اس کے رفع غائلہ ودفع ضررکیلئے شامل کئے گئے تھے کہ سادے پانی کو زخم چرالے تو نقصان پہنچے ولہذا پتوں کے پکنے نہ پکنے پر یہاں نظر نہیں ہوتی کہ مقصود پانی ہے نہ پتے مگر ضابطہ برجندیہ پر صراحت۵ وارد کہ پانی طبخ میں متغیر ہوگیا۔
(۳۲۹ ۳۳۰) اقول : بعینہ اسی دلیل سے نطول وپاشویہ کا پانی بھی بحکم اصول معتمدہ قابل طہارت ہے یہاں تك کہ پاشویہ کے بعد پاؤں یا نطول کے بعد غسل میں سر یا اس موضع کا جہاں وہ پانی دھار نے میں پہنچا دوسرے پانی سے دھونا ضرور نہ رہا والله تعالی اعلم یہ صورتیں بھی وہی ہیں کہ مقصود صرف پانی ہے دھار نے امالہ میں تنہا گرم پانی بھی کام دیتا ہے دوائیں زیادت قوت کیلئے ہیں۔
اقول : یہ دونوں۶ بھی ضابطہ برجندیہ پر ظاہر الورود۔
(۳۳۱) حقے کا پانی اگرچہ دھوئیں کے سبب اس کا رنگ مزہ بو سب بدل جائیں قابل طہارت ہے
اقول : فرق وہی ہے کہ بارہا گزرا وہاں زوال اسم ہوگیا کہ اب اسے نرا پانی نہیں کہہ سکتے کہ مقصد دیگر کیلئے شیئ دیگر ہوگیا بخلاف اس کے کہ پانی ہی ہے کوئی دوسری چیز نہ ہوگیا۔ اعتبار مقاصد کا بیان بقدر کافی گزرا اور اس کی نظیر آب زردج وآب زعفران ہے کہ تغیر دونوں میں یکساں اور اول سے وضو روا جب تك رقت باقی رہے یہی صحیح ہے ھدایہ وغیرھا وقد مر فی ۸۱ (ہدایہ وغیرہ اور ہدایہ ۸۱ میں گزرا ہے۔ ت) اور دوم سے ناروا جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے اگرچہ رقت باقی رہے کماتقدم تحقیقہ فی ۱۲۲ (جیسا کہ اس کی تحقیق ۱۲۲ میں گزر گئی ہے۔ ت)
اقول : وبالله التوفیق اسے روشن تر کرے گا یہ کہ شوربا دار گوشت پکایا اگر قسم کھائی کہ گوشت نہ کھائےگا اس گوشت کے کھانے سے حانث ہوگا کہ اس امتزاج آب سے گوشت اپنی ذات میں نہ بدلا کہ اس کا مقصود بحالہ باقی لیکن اگر قسم کھائی پانی نہ پئے گا تو شوربا پینے سے حانث نہ ہوگا کہ اس امتزاج گوشت سے پانی بدل گیا کہ مقصود جدید کیلئے ہوگیا۔ یونہی دودھ میں شکر شہد بقدر شیرینی ملائی وہ دودھ ہی رہے گا سب اسے دودھ ہی کہیں گے لیکن پانی میں اس قدر ملائی اب اسے پانی کوئی نہ کہے گا شربت کہیں گے الی غیر ذلك مما یعلمہ المتفطن بالمقایسۃ (اس کے علاوہ دوسری چیزیں جن کو ایك ذہین آدمی قیاس کے ذریعے سمجھ سکتا ہے۔ ت)
(۳۳۲) زمین حبش میں ایك درخت ہے کہ جب ہوائیں چلتی ہیں اس سے دھواں سا نکلتا ہے اور مینہ کی طرح برس جاتا ہے بعینہ مثل پانی کے ہوتا ہے امام ابن حجر مکی نے فرمایا کہ اس سے وضو جائز نہیں کہ وہ پانی نہیں بلالکہ درختوں کی اور رطوبتوں کے مثل ہے کماتقدم
اقول : وقواعدنا لا تأباہ حتی عند من یجوز بقاطر الکرم فانہ عندہ ماء تشربہ حتی اذا ارتوی رد الفضل بخلاف ھذا والله تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے قواعد اس حقیقت کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ جن لوگوں نے انگور کے پودے سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ پودا خود پانی پیتا ہے اور جب وہ سیر ہوجاتا ہے تو وہ زائد پانی کو واپس پھینکتا ہے بخلاف اس کے۔ (ت)
(۳۳۳) نیز صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا اہل قافلہ زمین میں گڑھا کھودتے اور بعض درختوں کی شاخوں سے اسے چھپا دیتے ہیں کچھ دیر بعد اس غار کے اندر سے بخارات اٹھ کر ان شاخوں سے لپٹتے
قال بعد مامر و بلغنی ان القوافل بارض الحبشۃ اذا عدموا الماء حفر واحفرۃ ثم ستروھا بشیئ من الشجر وترکوھا مدۃ ثم یصعد بخار من الحفرۃ یعلق بالشجرۃ ثم یرشح مائعا علی ھیاۃ الماء ویجتمع منہ فی الحفرۃ مایکفیھم وھو غیر طھور کماھو ظاھر اذ ھو ماء شجر ایضا اھ۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا قافلہ والے زمین میں ایك گڑھا کھودتے ہیں اور بعض درختوں کی شاخوں سے گڑھے کو ڈھانپ دیتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد گڑھے سے اٹھنے والے بخارات اٹھ کر ان شاخوں کو مرطوب کردیتے ہیں جن سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور وہ گڑھا پانی سے بھرجاتا ہے جس سے قافلے والے اپنی ضرورت کو پورا کرتے ہیں یہ پانی بھی پاك کرنے والا نہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ بھی درخت کا پانی ہے اھ (ت)
اقول : ظاہرا یہ محل نظر ہے وہ بخارات درخت کے نہیں زمین ہی سے اٹھے اگر ان شاخوں کا اثر ان کو سردی پہنچاکر ٹپکا دینے میں ہے تو بظاہر وہ پانی ہی ہوئے شاخوں نے صرف وہ کام دیا جو آب باراں میں کرہ زمہریر کی ہوا دیتی ہے یا آب چاہ میں زمین کی سردی ہاں اگر ان کے لپٹنے سے ان شاخوں سے کوئی رطوبت نکل کر ٹپکتی ہے تو بیشك اس سے وضو جائز نہیں کہ وہ درخت کی تری ہے اور جب تك امر مشکوك رہے حکم عدم جواز ہی ہونا چاہئے کہ مامور بہ پانی سے طہارت ہے اور شك سے ماموربہ ادا نہیں ہوتا والله تعالی اعلم۔
(۳۳۴) ماء القطر پانی کی مٹی کے برتن سے رسے محمود ومصفی پانیوں میں ہے۔
(۳۳۵) یوں ہی پانی کہ ہڈیوں گولوں ریتے پر گزار کر ٹپکایا صاف کیا جاتا ہے۔
(۳۳۶) نشاستہ کا پانی جس کا بیان اواخر رسالہ الرقۃ والتبیان میں گزرا جب اجزائے گندم تہ نشین ہوکر نتھرا پانی رہ جائے یا خلط رہے تو اتنا کہ پانی کو دلدار نہ کرے وہ آب مطلق ہے اس سے وضو جائز ہے جبکہ بے وضو ہاتھ نہ لگاہو۔
(۳۳۷) آش جو کا پانی کہ بار بار بدلا جاتا ہے اگر ٹھنڈا ہوکر دلدار ہونے کے قابل نہ ہو آب مطلق ہے ورنہ نہیں۔
(۳۳۹) یوں ہی ماء الشعیر کہ جو جوش دیں یہاں تك کہ کھل کر مہرا ہوجائیں صاف کرکے مستعمل ہوتا ہے بوجہ کمال امتزاج پانی نہ رہا۔
(۳۴۰ ۳۴۱) یوں ہی ماء الاصول وماء البزور جڑوں اور تخموں کے جوشاندے۔
(۳۴۲) یوں ہی ماء الرماد کہ پانی میں بار بار راکھ ڈال کر ہر بار جوش دیتے ہیں پھر صاف کرتے ہیں مثل جوشاندہ دوا ہے۔
(۳۴۳) ماء النون کہ ماہی نمکسود سے پانی سا ٹپکتا ہے۔
(۳۴۴) ماء الجمہ بضم جیم وتشدید میم مفتوح کہ فارسی میں آبکمہ بسکون باوضم کاف وفتح میم مخفف کہتے ہیں دریائے چین وہرموز میں ایك قسم کی مچھلی کے پیٹ سے خاکستری رنگ پانی نکلتا ہے یہ دونوں سرے سے پانی نہیں۔
(۳۴۵ تا ۳۵۰) سونے چاندی تانبے رانگ لوہے سیسے کے پانی کہ ماء الذہب ماء الفضہ ماء النحاس ماء الرصاص ماء الحدید ماء الاسرب اور سب کو ماء المعدن کہتے ہیں اس کے تین معنی ہیں :
ایك یہ کہ انہیں آگ میں سرخ کرکے پانی میں بجھائیں جسے زرتاب آہن تاب وغیرہ کہتے ہیں۔ یہ ۱۳۶ میں گزرا۔
دوم : ان کا گداختہ جسے محلول زر وغیرہ کہتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ جنس آب ہی سے نہیں اس کا اشارہ فصل ثانی صدر بیان اضافات میں اور جزئیہ حاشیہ ۱۹۰ میں ازہری و وافی سے گزرا۔
سوم : وہ پانی کہ ان کی معاون میں ملتا ہے۔
اقول : ان کا تکون پارے اور گندھك سے ہوتا ہے اور ان کا دخان وبخار سے اور اس کا اجزائے مائیہ وہوائیہ سے اگر یہ وہ پانی ہے جس کے بعض سے بخار بناکہ دھوئیں سے مل کر زیبق ہوا اور وہ کبریت سے مل کر معدن یا اس بخار کا حصہ ہے کہ سردی پاکر پانی ہوگیا تو آب مطلق ہے اور اگر یہ وہ مادہ زیبق ہے جس کی مائیت میں کبریتی دخان ملا اور پارا بننے کیلئے مہیا کیا اور ہنوز قلت یبوست نے شکل آب پر رکھا تو آب مقید ہے یا پانی ہی نہ رہا والله تعالی اعلم۔
فوائد منثورۃ متفرق فائدے
(۱) لما اصلح المدقق العلائی فی الدر مغترفا
(۱) امام علائی نے در میں بحر سے اخذ کرکے امام فخر
اقول : (۱) مع قطع النظر عما قدمنا علی الفتح (۲) بینھما لون بعید فزائل الرقۃ لم یبق ماء عرفا ولا لغۃ بخلاف ھذا کماذکرنا فی الفصل الثانی قبیل الاضافات (۳) ولوسلم ھذا سقطت الاقسام کلھا علی التحقیق فان الاسباب ثلثۃ کثرۃ اجزاء المخالط و زوال الطبع والاسم وقد انکر المحقق الثانی وانتم الثالث والاول احق بالانکار منہ فما فیہ ماء ومثلہ اواکثر منہ لبن لیس ماء قطعا وانکان فیہ ماء۔ (۲) وقع فی شرح النقایۃ العلامۃ البرجندی بعد مانقل عن الھدایۃ ماقدمنا فی سادس
کے ضابطہ کی جب اصلاح کی بلالکہ اس کو نافذ کیا جیسا کہ ہم نے ۲۸۷ میں بیان کیا ہے کہ اس میں پانی کا نام باقی نہ رہنے کی قید زیادہ کرنی ہوگی جیسے نبیذتمر۔ تو علامہ شامی نے امام علائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس پر فتح القدیر سے ہمارا پہلے نقل ہوا کلام وارد ہوگا غور چاہئے اھ یعنی اس سے محقق صاحب فتح القدیر کا وہ کلام مراد ہے جو انہوں نے پانی کے اقسام میں رقت کے زائل ہونے کے بارے میں فرمایا ہے کہ رقت کے ختم ہوجانے پر اس کو پانی نہیں کہا جاتا جبکہ یہ بحث پانی کے بارے میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ فتح پر ہماری بیان کردہ بحث سے قطع نظر دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے کہ فتح میں جس کو بیان کیا ہے وہ خالی از رقت چیز ہے جس کو لغت اور عرف میں پانی نہیں کہا جاتا اور یہ جس کو علامہ علائی نے بیان فرمایا ہے اور اگر یہ (رقت ختم ہوگی تو پانی کا نام زائل ہوگا ورنہ نہیں) تسلیم کرلیا جائے تو پھر (پانی سے طہارت کے حصول منافی) تمام اقسام ساقط قرار پائیں گے کیونکہ(منافی) اسباب تین ہیں پانی میں ملنے والی چیز کے اجزاء کا غلبہ پانی کی طبیعت(رقت)کا زوال اور نام کی تبدیلی۔ ان میں سے محقق نے دوسرے اور تم نے تیسرے کا انکار کردیا اور پہلے کا انکار بطریق اولی ہوجائے گا پس جب پانی اور دودھ برابر ہوں یا دودھ زیادہ ہو تو اس کو پانی نہیں کہا جاتا حالانکہ اس میں پانی ہے (یعنی نام تبدیل ہوگیا حالانکہ اس کی رقت باقی ہے)۔ (ت)(۲) علامہ برجندی نے نقایہ کی اپنی شرح میں ہدایہ کے اس مضمون کو جسے ہم نے تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں
اقول : ولیس ایضا فی الھدایۃ ثم ھو خلاف (۱)امامی المذھب لما اعلمناك ھناك ان اعتبار الاجزاء دون الاوصاف مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع ثم قید (۲) الیابسۃ لایظھر لہ فائدۃ الا ان یقال ان الیابس ابطأ تحللا من الرطب فیدل علی طول مکثہ فی الماء فیکثر عملہ وفیہ ان العمل بالتحلل فالرطب اسرع عملا ولانظر الی مدۃ المکث والله تعالی اعلم۔ (۳) اثبتنا (۳)ولله الحمد عرش التحقیق علی ان العبرۃ فی الطبخ بزوال الطبع ولومالا او الاسم بالمعنی الثالث لابتغیر وصف او اوصاف وان محمداایضا لایعتبرھا فی الجامد واذا اعتبرھا فی المائع لایرسل ارسالا بل یرتب فیقدم اللون ثم الطعم ولایعتبر الریح اصلا کما بیناہ بکلام الامام ملك العلماء۔
بیان کیا ہے نقل کرنے کے بعد کہا جو یہ ہے۔ اور ہدایہ میں بھی ہے کہ اگر پانی میں خشك پھل پڑ جائے اور پانی پر اس پھل کا ذائقہ غالب ہوجائے تو اس پانی سے وضو جائز نہیں ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں کہ ہدایہ میں بھی نہیں اور اس کے علاوہ وہ مذہب کے ائمہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو وہاں بتایا ہے کہ (جامد چیز کے ملنے سے) بالاتفاق غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہے۔ اختلاف تو صرف بہنے والی چیز کے ملنے میں ہے پھر خشك کی قید بھی بے فائدہ ہے ہاں اگر یوں کہا جائے کہ خشك دیر سے گھلتا ہے اس لئے زیادہ دیر پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ (ذائقہ کے معاملہ میں) پھل کے گھلنے کا دخل ہے جبکہ پانی میں تازہ سبز پھل جلدی گھل جاتا ہے اس معاملہ میں پانی پڑے رہنے کا کوئی دخل نہیں ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۳) الله تعالی کا شکر ہے کہ ہم نے پوری تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ پانی میں پکانے کی صورت میں(ملنے والی چیز کے غلبہ کیلئے) پانی کے ایك وصف یا تمام اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار نہیں ہے بلالکہ اس صورت میں پانی کی طبیعت یا نام کے زوال کا اعتبار ہے اگرچہ بعد میں ہو نیز امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہبھی جامد چیز میں اس کا اعتبار نہیں کرتے وہ صرف بہنے والی چیز میں اس (وصف کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں وہ بھی
ہر طرح نہیں بلالکہ اوصاف کی ترتیب کے لحاظ سے پہلے رنگ پھر ذائقہ (کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں جبکہ بو کی تبدیلی کا وہ بالکل اعتبار نہیں کرتے جیسا کہ امام ملك العلماء کے کلام سے ہم نے واضح کیا ہے۔ (ت)ہم نے ملك العلماء کا کلام پہلے ذکر کیا ہے جہاں انہوں نے امام ابوطاہر کی طرف سے امام کرخی کو جواب دیتے ہوئے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں فرمایا کہ پانی میں بہنے والی کسی پاك چیز کے ملنے سے وضو جائز ہے بشرطیکہ وہ چیز پانی پر غالب نہ ہو اور اگر کسی وجہ سے وہ چیز غالب ہوجائے تو پھر وضو جائز نہ ہوگا اور یہاں (پکے ہوئے نبیذ) میں ذائقہ اور رنگ کے لحاظ سے غلبہ ہوا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ نہیں ہے اھ۔ اس کلام سے آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہو (کہ یہ ہماری مذکورہ بالاتحقیق کے خلاف ہے) کیونکہ نبیذ مذکور میں(جامد چیز ملنے اور پکے ہونے کے باوجود) وصف کا اور بدبو بدلنے کا اور اوصاف میں ترتیب نہ ہونے کا اعتبار ہے کیونکہ انہوں نے کسی طرح سے غلبہ کہا ہے جو صرف بو تبدیل ہونے اور رنگ والی چیز میں صرف ذائقہ بدلنے والی صورت کو بھی شامل ہے۔ یہ اس لئے(کہ ملك العلماء کے مذکور کلام میں غلبہ اجزاء یا زوال طبیعت کی بجائے کسی دوسرے مقصد کیلئے) نام کی تبدیلی والا غلبہ مراد ہے۔ اس بحث کی ابتداء میں ان کے حسب ذیل اقوال کو غور سے دیکھیں “ جب کوئی چیز اس طرح ملے کہ پانی کہنا درست نہ ہو “ اور کہا زیادہ صفائی کی غرض سے اگر کوئی چیز ملائی تو اس سے
وضو جائز ہے اگرچہ پانی کا رنگ بو اور ذائقہ تبدیل ہوجائے کیونکہ ابھی اس کا نام باقی ہے۔ اور کہا مگر جب وہ ستو کی طرح گاڑھا ہوجائے (توجائز نہیں) کیونکہ اب پانی نہیں کہا جائےگا “ اور کہا “ اگر پانی میں مٹی یا پتے یا پھل گرنے سے تبدیلی آئے تو وضو جائز ہے کیونکہ ابھی اس کا نام پانی ہے “ اور کہا “ ہمارے مذکورہ قاعدے پر نبیذ تمر سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس کا نام تبدیل ہوگیا ہے اور وہ کھجور کے ذائقہ سے مغلوب ہوگیا ہے “ ۔ ان اقوال کے بعد انہوں نے پکے ہوئے پانی میں ملاوٹ کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور کہا کہ امام کرخی نے اس سے وضو کو جائز کہا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ابھی پانی کے اجزاء غالب ہیں اس کا جواب امام ابوطاہر کی جانب سے ملك العلماء نے دیتے ہوئے مذکور کلام کیا ہے جس میں انہوں نے کسی وجہ سے پانی پر غلبہ کا ذکر کرکے نام بدلنے والا غلبہ مراد لیا ہے۔ (ت)اور ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ پانی کا نام نہ تو صرف بو کی تبدیلی سے زائل ہوتا ہے اور نہ ہی جامد چیز کے ملنے سے پانی سے اس کا نام زائل ہوتا ہے جب تك وہ کسی دوسرے مقصد کیلئے دوسری چیز نہ بن جائے اور یہاں نبیذ کے متعلق نام کی تبدیلی ذائقہ کی تبدیلی کے بغیر نہیں ہوتی جس کے سبب نبیذ بنتا ہے جیسے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے وہ پانی میں کھجوریں ڈالنے پر مٹھاس جب پانی میں منتقل ہوجائے اور کہا کہ نبیذ میٹھا ہوگا اور یہ پانی کے اطلاق سے خارج ہوگا جیسا کہ ہم بحث ۱۱۶ میں پہلے بیان کرچکے ہیں اسی لئے نبیذ بننے کا دارومدار ذائقہ پر ہے۔ (ت)اور اس تبدیلی میں اوصاف کی ترتیب کا دخل نہیں ہے کیونکہ نبیذ میں کسی وصف کی تبدیلی کی بجائے یہ خود ایسی تبدیلی ہے جس نے پانی کو تبدیل کرکے نبیذ کی
(۴)اکمال الکلام فی توجیہ قول محمد بالترتیب اقول : وبالله التوفیق لارب سواہ ان اضعف وصف فی الماء ریحہ بل لاریح لہ حقیقۃ کما اشار الیہ ابن کمال الوزیر اذقال فی الایضاح اوصافہ الطعم واللون والرائحۃ والتغیر علی الحقیقۃ فی الاولین دون الاخیر فلابد من المصیر الی
حقیقت میں بدل دیا ہے۔ کیا آپ نے نبیذ کیلئے کھجور کی مٹھاس کے منتقل ہونے کو بنیاد قرار دینے اور یہ کہنے پر کہ پانی کا نام تبدیل ہونے اور کھجور کے ذائقے سے مغلوب ہونے اور رنگ کی تبدیلی کا ذکر نہ کرنے پر غور نہیں کیا اگر صرف کسی وجہ سے غلبہ کافی ہوتاجیسا کہ غلط فہمی ہورہی ہے تو پھر وجہ میں رنگ کو ذکر کیا جاتا کیونکہ کھجوروں کے ذائقے سے قبل پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے تو چاہئے تھا کہ رنگ کی تبدیلی کو غلبہ کی وجہ بتایا جاتا اور ذائقہ جو بعد میں پیدا ہوا اس کو وجہ نہ بنایا جاتا اس کا ترك اس لئے کیا ہے کہ غلبہ سے مراد وہ ہے جو پانی کے نام کو ختم کرکے اس کو نبیذ بنادے یہ سب اس لئے کہ پانی کا نام بدلنے اور نبیذ بنانے میں صرف ذائقہ کی ضرورت ہے لہذا فرض کریں کہ اگر کھجور یا کوئی پھل ایسا ہو جس سے صرف ذائقہ تبدیل ہو اور پانی کو نبیذ بنادے تو اس کا حکم منع ہے (باقی رہا یہ سوال) کہ ملك العلماء نے ابو طاہر الدباس کی طرف سے جواب میں ذائقہ کے ساتھ رنگ کی تبدیلی کا ذکر کیوں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بطور حقیقت واقعہ بیان کیا ہے کہ ذائقہ کی تبدیلی سے قبل رنگ کی تبدیلی ضرور ہوتی ہے سمجھو اور اثبات کرو علماء کے نفیس کلام کو یوں سمجھنا چاہئے اور الله تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)(۴) “ اوصاف کی ترتیب کے بارے میں امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کے قول کی توجیہ میں کلام کو مکمل کرنا “ میں کہتا ہوں الله کے بغیر کوئی رب نہیں ہے اور وہی توفیق دینے والا ہے بلاشبہ پانی کا سب سے کمزور وصف اس کی بو ہے بلالکہ حقیقت میں اس کی بو نہیں ہے جیسا کہ ابن کمال وزیرنے اشارہ دیا ہے کیونکہ انہوں نے ایضاح میں کہا ہے کہ پانی کے اوصاف
ثم ھو شیئ لطیف رطب سریع الانفعال فماخالفہ فی شیئ من اوصافہ اثر فیہ قبل ان یبلغ الماء قدرا فلایتوقف تغیر الوصف علی تساوی القدر قط والتغیر فی الاضعف اسبق فماخالفہ فی اللون والطعم یکون تغییرہ اللون قبل ان یتغیر الطعم کماھو مشاھد فی النبیذ وغیرہ فمن قبل ھذا جاء الترتیب ان مایخالفہ لونا لایعتبر فیہ الا اللون لانہ ان غلب سلب لونہ اولا فاذا لم یسلبہ لم یسلب الطعم بالاولی واذا لم یغیرھما فکیف یساوی الماء قدرا فان تغیر الاوصاف اسبق بکثیر من تساوی المقدار فبعدم التغیر فی اللون یعلم انتفاء الاسباب جمیعا اعنی الغلبۃ من حیث اللون ومن حیث الطعم ومن حیث الاجزاء ویعلم ان المخالط مغلوب فلذا نیط الامر فیہ علی تغیر اللون وحدہ فان تغیر الطعم بعدہ فذاك والا فلا حاجۃ لحصول الغلبۃ باللون نعم مالایخالفہ فی اللون لایغیرہ وان غلب علیہ قدرا فیعتبر فیہ تغیر الطعم لکونہ اسبق من تساوی القدر فان لم یتغیر علم انتفاء التساوی بالاولی وثبت ان المخالط مغلوب
تین ہیں : ذائقہ رنگ اور بو ۔ تبدیلی پہلے دونوں وضعوں میں حقیقتا ہوتی ہے اور تیسرے میں نہیں ہوتی لہذا تبدیلی کا اطلاق مجاز کے عموم کے طور پر ہے اھ۔ اور دوسرے نمبر کا کمزور وصف پانی کا رنگ ہے حتی کہ بعض نے کہا کہ پانی کا رنگ نہیں ہے جیسا کہ آئندہ بحث آئے گی اور پانی کا سب سے قوی وصف اس کا ذائقہ ہے۔ (ت)
پھر پانی ایك لطیف چیز ہے جو تیزی سے متاثر ہوتا ہے لہذا جو چیز پانی کے اوصاف کے خلاف ہوگی وہ مقدار میں پانی کے مساوی ہونے سے قبل ہی پانی پر اثر انداز ہوجاتی ہے اور پانی کے اوصاف کی تبدیلی کیلئے پانی کی مقدار کے برابر ہونا ضروری نہیں نیز تبدیلی کا عمل سب سے پہلے پانی کے کمزور وصف میں ہوگا لہذا جو چیز رنگ اور ذائقہ میں پانی کے مخالف ہوگی وہ پہلے پانی کے رنگ کو اور اس کے بعد ذائقہ کو تبدیل کرے گی جیسا کہ نبیذ وغیرہ میں اس بات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ پانی کے اوصاف میں ترتیب کی بنیاد یہی چیز ہے لہذا اگر پانی میں ملنے والی چیز صرف رنگ میں مخالف ہے تو پانی پر اس کا غلبہ صرف رنگ کے تبدیل ہونے سے ظاہر ہوجائےگا اور اگر وہ چیز غلبہ کی صورت میں پانی کا رنگ تبدیل نہ کرسکے تو ذائقہ کو ہرگز تبدیل نہ کرسکے گی اور جب یہ چیز ابھی تك پانی کے اوصاف کو تبدیل نہیں کرسکی تو مقدار میں برابر ہونا دور کی بات ہے کیونکہ مقدار میں مساوی ہونے سے قبل اوصاف میں تبدیلی ہوا کرتی ہے لہذا جب پانی کا رنگ تك تبدیل نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابھی تك پانی میں تبدیلی کا کوئی سبب نہیں پایا گیا یعنی رنگ کی تبدیلی ذائقہ کی تبدیلی اور پانی کے اجزاء کے
فالحاصل ان ماخالفہ لونا اوطعما لاعبرۃ فیہ بغلبۃ الاجزاء لابمعنی انھا توجد ولا تعتبر مالم یتغیر لون اوطعم فانہ باطل بداھۃ وفیم ینتظر الاوصف مع ثبوت الخروج عن المائیۃ للمرکب قطعا بل بمعنی انھا لایحتاج الیھا لتعرف الغلبۃ لانھا لاتحصل ھھنا الاوقد غلب المخالط قبلھا وکذلك ماخالفہ لونا لاعبرۃ فیہ للطعم بالمعنی المذکور وھذا معنی مانص علیہ الرواۃ الثقاۃ فقصروا اعتبار الطعم علی مایوافقہ لونا واعتبار الاجزاء علی مایوافقہ فیھما ومثلوا لکل قسم باشیئاء علی حدۃ
وھذہ عبارۃ زاد الفقھاء ثم البنایۃ وغیرھما تعتبر الغلبۃ اولا من حیث
اعتبار سے تبدیلی یعنی اس کے اجزاء کم ہوگئے اور ملنے والی چیز کے اجزاء غالب ہوگئے اور جب تبدیلی کا کوئی عمل ظاہر نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابھی تك وہ چیز مغلوب ہے اور پانی غالب ہے اس لئے تبدیلی کے ظہور کے لئے صرف رنگ کو معیار قرار دیا گیا ہے کیونکہ باقی تبدیلیاں اس کے بعد ہوتی ہیں ورنہ رنگ میں تبدیلی کی کوئی حاجت نہیں ہے ہاں اگر کوئی چیز رنگ میں پانی کے مخالف نہ ہو تو اجزاء میں غلبہ کے باوجود اس کے ملنے پر پانی کا رنگ نہیں بدلے گا۔ تو اس صورت میں ذائقہ کا اعتبار ہوگا کیونکہ اجزاء کی تبدیلی (غلبہ) سے قبل ذائقہ کی تبدیلی معیار ہے اور جب ذائقہ کے لحاظ سے تبدیلی نہ ہوئی تو معلوم ہوجائےگا کہ اجزاء کے لحاظ سے بھی تبدیلی نہیں ہوئی (اگرچہ یہ چیز مقدار میں پانی کے مساوی یا غالب بھی ہوجائے) اور ثابت ہوگیا کہ ملنے والی چیز مغلوب ہے اگر ذائقہ تبدیل ہوگیا تو وہ غالب ہوگی اگرچہ مقدار میں برابر نہ ہو اگر ملنے والی چیز رنگ و ذائقہ دونوں تبدیل نہ کرے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ دونوں میں سے کسی کے مخالف نہ ہو کیونکہ اگر وہ مخالف ہوتی تو مساوی المقدار میں تبدیلی آجاتی تو ایسی صورت میں پانی پر غلبہ کا معیار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا(یعنی ملنے والی چیز کی مقدار پانی کے برابر یا زیادہ ہوجانے کو معیار قرار دیا جائےگا)۔ (ت)الحاصل جب رنگ اور ذائقہ کو تبدیل کرنے والی چیز پانی میں ملے گی تو پہلے رنگ دوسرے نمبر پر ذائقہ کو معیار غلبہ قرار دیا جائےگا ایسی صورت میں غلبہ کا معیار اجزاء کی مقدار کو نہیں بنایا جائے گا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رنگ اور ذائقہ میں مخالف چیز اگر مقدار کے لحاظ سے پانی کے مساوی یا زیادہ ہوجائے تب بھی غلبہ نہیں مانا جائےگا کیونکہ یہ واضح طور پر غلط ہے اس لئے کہ اجزاء کے غلبہ سے پانی مغلوب ہوکر اپنی طبع سے خارج ہوجاتا ہے اور وہ پانی نہیں رہتا بلالکہ وہ ایك مرکب چیز بن جاتا ہے بلالکہ ابھی اس معیار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ غلبہ کی پہچان ابھی اس سے کم درجہ کی تبدیلی سے ہوسکتی ہے رنگ کے لحاظ سے مخالف چیز کی موجودگی میں ذائقہ کے معتبر نہ ہونے کا بھی یہی مقصد ہے
(یعنی تبدیلی کی پہچان کے لئے پہلے معیار کی موجودگی میں دوسرے نمبر کے معیار کی ضرورت نہیں لیکن بعد کے نمبر والے معیار کے پائے جانے پر نچلے معیار کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے) ثقہ راویوں نے جو بیان کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ پانی میں ملنے والی چیز اگر رنگ میں موافق ہو تو ذائقہ اور اگر ذائقہ میں بھی موافق ہو تو پھر غلبہ کیلئے اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا۔ اور انہوں نے معیار کی ہر صورت کی مثال علیحدہ دی ہے۔ چنانچہ زاد الفقہاء اور بنایہ وغیرہا کتب میں مذکورہ بیان کی وضاحت یوں کی کہ غلبہ پہلے رنگ کے اعتبار سے ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اس کے ساتھ صرف رنگ میں تبدیلی ظاہر کرنے والی چیزوں کی مثال دودھ پھلوں کا جوس سرکہ اور زعفران کا پانی ذکر کی ہے۔ اور کہا کہ ان چیزوں کی وجہ سے جب پانی کا رنگ بدل جائے تو پانی کو مغلوب اور ان چیزوں کو غالب قرار دیا جائےگا اور انہوں نے رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف چیز جو پانی میں مل کر پانی کے ذائقہ کی تبدیلی کو ظاہر کردے کے بارے میں فرمایا اس میں ذائقہ معیار ہوگا اس کی مثال میں انہوں نے تربوز کا پانی دھوپ والا پانی اور نبیذ وں کو ذکر کیا ہے اور انہوں نے رنگ اور ذائقہ دونوں میں موافق چیزوں کی مثال میں انگور کے پودے کا پانی ذکر کیا ہے
جو پانی میں مل جائے تو پانی پر غلبہ کا اعتبار اجزاء کے لحاظ سے ہوگا (یعنی پانی کی مقدار کے مساوی یا زیادہ ہونے پر پانی کو مغلوب اور انگور کے پودے کے پانی کو غالب قرار دیا جائےگا) اسی طرح ملك العلماء خزانۃ المفتین حلیہ برجندی کی عبارتوں میں یہی مضمون مثالوں میں جزوی اختلاف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ بحرالرائق نے اگرچہ اپنی طرف سے بو کو بھی ذکر کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سب کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔ اور ہم نے قبل ازیں امام اسبیجابی کا جو کلام نقل کیا ہے کہ وہ چیز رنگ تبدیل کردے تو رنگ کا اعتبار اور رنگ کو تبدیل نہ کرے تو پھر ذائقہ کا اعتبار اور اگر رنگ اور ذائقہ دونوں کو تبدیل نہ کرے تو پھر اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا اھ تو اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز میں تبدیلی مذکورہ کی صلاحیت ہو ورنہ فعلیت کے لحاظ سے پانی میں ملی ہوئی چیز میں اگر اوپر والا معیار پایا جائے گا تو نیچے والا ضرور پایا جائے گا۔ یہ ممکن نہیں اوپر والا معیار پایا جائے اور نیچے والا نہ پایا جائے۔ مثلا جب پانی میں ملنے والی
واقول : من قبل الامام ابی یوسف ان اردتم تغیر وصف بدون زوال الاسم
چیز اپنی مقدار میں پانی کی مقدار کے برابر یا زیادہ ہوگی تو نچلے دونوں معیار یعنی ذائقہ اور رنگ والا معیار ضرور تبدیل ہوگا اور یوں ہی اگر وہ چیز ذائقہ والا معیار رکھتی ہے تو اس کے پائے جانے پر رنگ والا معیار ضرور پایا جائےگا یہ اس صورت میں جبکہ اوپر والے اور نیچے والے معیار میں موافقت ہو ورنہ اگر موافقت نہ ہوگی تو پھر تینوں معیاروں میں ترتیب لازمی نہ ہوگی بلکہ پھر مجمل طور تینوں کو معیار قرار دیں گے اور کہیں گے کہ جو بھی پایا جائےگا غلبہ پایا جائےگا۔ اس وضاحت کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ ضابطہ کو بیان کرنے والوں میں سے بعض نے ان معیاروں کی ترتیب کی رعایت نہیں کی اور انہوں نے یوں کہا کہ جو چیز پانی سے دو وصفوں میں مختلف ہے ان دو میں سے جو بھی تبدیل ہوگا تو پانی متغیر ہوجائےگا اور جو چیز تین اوصاف یعنی رنگ بو اور ذائقہ میں پانی سے مختلف ہو ان میں سے دو وصفوں میں تبدیلی ہوجانے سے پانی کو متغیر قرار دیں گے تو ان کی اس انداز کی تقریر پر میں نے ترتیب کو بیان کیا اور کہا تھا سب سے پہلے رنگ کی تبدیلی ہوگی اگرچہ ضابطہ شیبانیہ پر یہ اعتراض نہیں ہوتا جیسا کہ بو کی تبدیلی کے بارے میں ہم نے ان پر اعتراض کیا اگرچہ وہ ضابطہ شیبانیہ پر وارد نہیں ہوتا اس ضابطہ کا حکم زیلعیہ کے برخلاف بو والی چیزوں میں ظاہر ہے لیکن ذائقہ والی صورت کا پہلے ہونا اس لئے ہے کہ ضابطہ زیلعیہ نے رنگ والی چیز میں حکم کو رنگ کے ساتھ خاص کردیا تاہم اگر ذائقہ پہلے ہو تو حکم ثابت ہوگا اگرچہ اس ضابطہ کے تحت ذائقہ پہلے نہیں ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی کی طرف سے یہ اعتراض کرتا ہوں اگر پانی کا نام تبدیل
ہوئے بغیر کسی وصف کی تبدیلی مراد لیتے ہو تو یہ تسلیم نہیں ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے یا وصف کی تبدیلی سے پانی کے نام کی تبدیلی بھی مراد ہے تو یہ تسلیم ہے لیکن پھر رنگ کی تبدیلی کو مقدم کیوں کہتے ہو حالانکہ نام کی تبدیلی جس وصف سے ہوجائے وہی مؤثر ہوگا (اور رنگ کے اعتبار کو مفہوم قرار دینے کی وجہ میں) آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ رنگ ایك کمزور وصف ہے اس لئے وہ ذائقہ کی نسبت پہلے متغیر ہوجاتا ہے اس لئے ذائقہ کی تبدیلی اس سے پہلے نہیں ہوتی تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ جس طرح اثر کو قبول کرنے والی چیز کی کمزوری کے سبب فعل کی تاثیر جلدی ہوتی ہے کیونکہ وہ چیز رکاوٹ نہیں بنتی اسی طرح اگر فاعل قوی ہو تو بھی تاثیر جلدی ہوسکتی ہے کیونکہ فاعل کو روکا نہیں جاسکتا اور یوں ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا ذائقہ اتنا شدید ہو کہ وہ رنگ کے مقابلہ میں پانی پر پہلے اثر انداز ہو جائے اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ ضابطہ زیلعیہ رنگ سے قبل دوسرے کسی وصف کے موثر ہونے کو جائز قرار دینے میں درست ہے اور ضابطہ شیبانیہ حکم کے بارے میں تبدیلی کی صورتوں میں درست ہے کیونکہ یہ ضابطہ ان اوصاف کی تبدیلی کی صورتوں میں پانی کو مقید تسلیم نہیں کرتا خواہ یہ صورتیں واقع نہ ہوں تطفلات میں اس فقیر کے کلام کی یہ تحقیق ضابطہ زیلعیہ اور بحر کے بیان پر مبنی ہے اور حکم اور ضابطوں کے درمیان مخالفت کا اظہار امام محمدکے ضابطہ پر مبنی ہے کیونکہ عظیم اکابر کے سردار ہیں اس کو سمجھو اور الله تعالی کی حمد تیرا بہترین مال ہے۔ (ت)(۵) رنگ کی تبدیلی اجزاء اور مقدار کے لحاظ سے تبدیلی اور غلبہ پر مقدم ہے۔ ہمارے اس بیان سے علامہ برجندی کے ضابطہ پر ایك اعتراض ختم ہوجاتا ہے علامہ برجندی نے کہا ہے کہ پانی میں ملی ہوئی چیز جو
پکائے بغیر ملی ہو اس کے پانی پر غالب ہونے کا معیار امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك رنگ کی تبدیلی ہے اور امام یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اجزاء کا غالب ہونا ہے۔ اس سے بعض نے یہ اعتراض اٹھایا کہ امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہاجزاء کے غلبہ کا اعتبار نہیں کرتے اور یہ اعتراض غلط ہے جیسا کہ ہم نے تیسری فصل میں پانی پر غیر چیز کے غلبہ کی اول بحث میں واضح کردیا ہے وہ یہ کہ جس نے رنگ کی تبدیلی کو غلبہ کا معیار بنایا ہے اس نے یہ پابندی لگائی ہے کہ رنگ کی تبدیلی پہلے ہو۔ اسی طرح میں نے ضابطہ شیبانیہ میں اجزاء کی کثرت اور غلبہ کو صرف بہنے والی چیز کے بارے میں کہا ہے اور جامد کے بارے میں جب تك پانی کی رقت باقی ہو تو اس سے وضو کے جواز کو میں نے مطلق ذکر کیا ہے اور رقت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی ملحوظ ہے کہ کسی دوسرے مقصد کیلئے دوسری چیز نہ بن چکی ہو اور یہ اس لئے ہے کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقت اجزاء کے مساوی ہونے سے بہت پہلے ختم ہوجاتی ہے اور بحر سے حدادی سے مذکور بحث میں جو گزرا کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقت تہائی مقدار سے بھی قبل ختم ہوجاتی ہے یہ اس کا خلاصہ ہے جیسا کہ میں نے وہاں بیان کردیا ہے۔ (ت)
(۶) بعض۱ علماء کا خیال ہے کہ پانی بے لون ہے خود کوئی رنگ نہیں رکھتا
حتی عرفہ الفاضل احمد بن ترکی المالکی فی الجواھر الزکیۃ شرح المقدمۃ العشماویۃ بقولہ الماء جوھر لطیف سیال لالون لہ یتلون بلون انائہ اھ ۔
حتی کہ فاضل احمد بن ترکی المالکی نے مقدمہ عشماویہ کی شرح جواہر زکیہ میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ پانی ایسا لطیف بہنے والا جوہر ہے جس کا اپنا کوئی رنگ نہیں بلالکہ برتن کے رنگ سے رنگدار دکھائی دیتا ہے اھ۔ (ت)
اقول : و (۲) وقع فی صدر شرح المواقف بحث العلم بالحس الثلج مرکب من اجزاء شفافۃ لالون لھا وھی الاجزاء المائیۃ الرشیۃ اھ۔ وھو ظاھر فی نفی اللون عن الماء فان قلت منشأ النفی کونھا صغیرۃ جدا فلا یظھر لھا لون۔ اقول : کلا الا تری ان البخار یری لہ لون وما ھو الا لون الاجزاء المائیۃ وھی فیہ الطف منھا فی الثلج ولذا ینزل ذاك وھذا یعلو والصغیر جدا اذا انفرد لایری فلا یری لونہ واذا اجتمعت الصغار بنت ورئ لونھا کمافی البخار والد خان بل والھباء کماذکرناہ فی بعض حواشی اواخر الفصل الاول من رسالتنا النمیقۃ الانقی۔
میں کہتا ہوں کہ ان پر لازم تھا کہ وہ یوں تعریف کرتے کہ اس میں ملنے والی چیز سے رنگدار ہوتا ہے کیونکہ آخری جملہ بیان کا محتاج رہتا ہے اسی لئے اس کے محشی سفطی مالکی نے کہا ہے کہ شفاف ہونے کی وجہ سے برتن کا رنگ اس میں ظاہر ہوتا ہے جب سبز برتن میں ڈالیں اور سبزی پانی کو نہیں لگتی بلالکہ وہ رقت کی بنا پر برتن کے رنگ کیلئے حاجب نہیں بنتا اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ شرح مواقف میں علم بالحس کی بحث میں موجود ہے کہ برف شفاف اجزاء سے مرکب ہے اس کا کوئی رنگ نہیں ہے بلالکہ وہ پانی کے باریك اجزا ہیں اھ۔ پانی کے رنگ کی نفی میں یہ عبارت ظاہر ہے۔ اگر تو کہے ہوسکتا ہے کہ اجزاء باریك ہونے کی وجہ سے رنگ ظاہر نہ ہوتا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے ہرگز نہیں کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ بادل کے بخارات میں رنگ ظاہر ہوتا ہے اور یہ رنگ پانی کے اجزاء کا رنگ ہیں حالانکہ یہ اجزاء برف کے اجزاء سے زیادہ باریك ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برف اوپر سے گرتی ہے اور بخارات اوپر کو اٹھتے ہیں اور باریك اگر علیحدہ ہو تو وہ نظر نہیں آتا تو اس کا رنگ کیسے نظر آئےگا اور چھوٹے اجزاء جب جمع ہوں تو نظر آتے ہیں تو ان کا رنگ بھی نظر آئےگا جیسا کہ بخارات اور دھوئیں میں بلالکہ ذرات میں ایسا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ النمیقۃ الانقی کی پہلی فصل کے اواخر کے حواشی میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
اور صحیح یہ کہ وہ ذی لون ہے یہی امام فخر رازی وغیرہ کا مختار ہے جو کلام فقہا مسائل آب کثیر و آب مطلق وغیرہما
ان الماء طھور لاینجسہ الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ ۔
بےشك پانی پاك ہے اسے کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کی بو اور ذائقہ اور رنگ پر غالب ہوجائے۔ (ت)
سنن دار قطنی میں ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الماء طھور الاماغلب علی طعمہ او ریحہ اولونہ ۔
ہر پانی پاك کرنے والا ہے ماسوائے اس کے جس کے ذائقہ بو اور رنگ مغلوب ہوچکے ہوں۔ (ت)
امام طحاوی مرسل راشد بن سعدسے راوی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
الماء لاینجسہ شیئ الا ماغلب علی ریحہ اوطعمہ اولونہ ۔
پانی کو کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کے رنگ بو یا ذائقہ پر غالب ہوجائے۔ (ت)
اقول : اور اصل حقیقت ہے فلا ترد الریح (تو ریح کا ورود نہ ہوگا۔ ت) معہذا مقرر ہو چکا کہ ابصار عادی دنیاوی کیلئے مرئی کا ذی لون ہونا شرط ہے بلالکہ مرئی نہیں مگر لون وضیا تو پانی بے لون کیونکر ہوسکتا ہے ولہذا ابن کمال پاشانے اس کے حقیقۃ ذی لون ہونے پر جزم کیا کمامر انفا (جیسا کہ ابھی گزرا۔ ت) پھر اس(۱) کے رنگ میں اختلاف ہوا بعض نے کہا سپید ہے فاضل یوسف بن سعید اسمعیل مالکی نےحاشیہ عشماویہ میں یہی اختیار کیا اور اس پر تین دلیلیں لائے :
اول : مشاہدہ۔
دوم : حدیث کہ پانی کو دودھ سے زیادہ سپید فرمایا۔
سوم : برف جم کر کیسا سپید نظر آتا ہے۔
حیث قال فان قلت ما لون الماء الذی ھو قائم بذاتہ قلت المشاھد فیہ البیاض ویشھد لہ ماورد فی بعض الاحادیث فی وصف
جب کہا اگر تو کہے کہ پانی کا رنگ جو پانی میں پایا جاتا ہے وہ کیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ جو رنگ نظر آتا ہے وہ سفید ہے اور اس کی شہادت اس ایك حدیث
سنن الدار قطنی باب الماء المتغیر مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۲۸
شرح معانی الآثار باب الماء یقع فیہ النجاسۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸
سے بھی ملتی ہے جس میں پانی کی صفت میں کہا گیا ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے اور اس حقیقت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ پانی جم کر جب برف کی صورت زمین پر گرتا ہے تو اس کا رنگ انتہائی سفید نظر آتا ہے اھ۔ (ت)
اقول اولا : بلالکہ(۱) مشاہدہ شاہد کہ وہ سپید نہیں ولہذا آبی اس رنگ کو کہتے ہیں کہ نیلگونی کی طرف مائل ہو۔
ثانیا : سپید(۲) کپڑے کا کوئی حصہ دھویا جائے جب تك خشك نہ ہو اس کا رنگ سیاہی مائل رہے گا یہ پانی کا رنگ نہیں تو کیا ہے۔
ثالثا : دودھ(۳) جس میں پانی زیادہ ملا ہو سپید نہیں رہتا نیلا ہٹ لے آتا ہے۔
رابعا : بحر(۴) اسود واخضر واحمر مشہور اور اسی طرح ان کے رنگ مشہور ہیں اسود تو سیاہی ہے اور سبزی بھی ہلکی سیاہی ولہذا آسمان کو خضرا اور چرخ اخضر کہتے ہیں اور خط کو سبزہ۔ سانولی رنگت کو حسن سبز اور سرخی بھی قریب سواد ہے اگر حرارت زیادہ عمل کرے سیاہ ہوجائے جس طرح بعد خشکی خون۔ گہری سرخی میں بالفعل سیاہی کی جھلك ہوتی ہے انگور سبز پھر سرخ پھر سیاہ ہوجاتا ہے۔
خامسا : حدیث۵ مبارك دربارہ کوثر اطہر ہے۔
سقانا الله تعالی منہ بمنہ ورأفتہ وکرم حبیبہ وقاسم نعمتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وامتہ امین۔
الله تعالی اپنے احسان اور مہربانی اور اپنے حبیب اور قاسم نعمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کے آل واصحاب اور امت پر کرم سے ہمیں حوض کوثر سے سیراب فرمائے۔ آمین ۔ (ت)
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلق پانی کا رنگ سپید ہو اسی حدیث۶ میں اس کی خوشبو مشك سے بہتر فرمائی ۔ صحیحین میں عبدالله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
حوضی مسیرۃ شھر ماؤہ ابیض من اللبن و ریحہ اطیب من المسك ۔
میرا حوض ایك مہینے کی راہ تك ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سپید ہے اور اس کی خوشبو مشك سے بہتر۔
جامع للبخاری کتاب الحوض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۷۴
ابیض من الورق
چاندی سے بڑھ کر اجلا۔
حالانکہ پانی اصلا بو نہیں رکھتا خود حاشیہ فاضل سفطی میں دو ورق بعد ہے :
قولہ او ریحہ قال ابن کمال باشا لابد من التجوز فی قولھم تغیر ریح الماء لان الماء لیس لہ رائحۃ ذاتیۃ فالمراد طرأفیہ ریح لم یکن افادہ شیخنا الامیر اھ۔ وقد اسمعناك نص العلامۃ الوزیر۔
ابن کمال پاشا نے کہا پانی کی بو بدلنے والے قول میں مجاز ماننا ضروری ہے کیونکہ اس کی اپنی کوئی بو نہیں ہے لہذا اس قول سے وہ بو مراد ہوتی ہے جو پانی پر طاری ہوتی ہے۔ ہمارے شیخ امیر صاحب نے یہ نہیں بتایا حالانکہ ہم نے آپ کو علامہ وزیر صاحب کی تصریح بتادی ہے۔ (ت)
اس کی ضد جہنم ہے والعیاذ۱ بالله تعالی منہا جس کی آگ اندھیری رات کی طرح کالی ہے مالك وبیہقی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ا ترونھا حمراء کنارکم ھذہ لھی اشد سواد من القار ۔
کیا تم اسے اپنی اس آگ کی طرح سرخ سمجھتے ہو بےشك وہ تو تار کول سے بڑھ کر سیاہ ہے۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آگ کا اصل رنگ سیاہ ہو یا ہر آگ ایسی ہی ہو خود حدیث کا ارشاد ہے کہ اسے اس آگ سا سرخ نہ جانو۔
سادسا : بعد انجماد۲ کوئی نیا رنگ پیدا ہونا اس پر دلیل نہیں کہ یہ اس کا اصلی رنگ ہے خشك ہونے پر خون سیاہ ہوجاتا ہے اور مچھلی کی سرخ رطوبت سپید۔ اسی سے اس پر استدلال کیا گیا کہ وہ خون نہیں۔
سابعا : ۳ ہوا کہ ضیا سے۴ مستنیر ہورہی ہے جب جسم شفاف کے اندر داخل ہوتی ہے اس کے شفاف اور اس کے چمکدار ہونے سے وہاں ایك ہلکی روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے سپیدی نظر آتی ہے جیسے موتی یا شیشے یا بلور کو خوب پیسیں تو اجزاء باریك ہوجانے سے ضیاء ان کے مابین داخل ہوگی اور دقت فصل کے باعث ان باریك باریك اجزاء اور ان میں ہر دو کے بیچ میں اجزائے ضیا کا امتیاز نہ ہوگا اور ایك رنگ کہ دھوپ سے میلا اور ان کے اصلی رنگ سے اجلا ہے محسوس ہوگا یہ وہ سپیدی وبراقی ہے کہ ان میں نظر آتی ہے یوں ہی۵ دریا کے
موطا امام مالک ماجاء فی صفۃ جہنم میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۳۳
ثامنا : ۳ شفیف۴ اجرام کا قاعدہ ہے کہ شعاعیں ان پر پڑ کر واپس ہوتی ہیں ولہذا آئینہ میں اپنی اور اپنے پس پشت چیزوں کی صورت نظر آتی ہے کہ اس نے اشعہ بصر کو واپس پلٹایا واپسی میں نگاہ جس جس چیز پر پڑی نظر آئی گمان ہوتا ہے کہ وہ صورتیں آئینے میں ہیں حالانکہ وہ اپنی جگہ ہیں نگاہ نے پلٹتے میں انہیں دیکھا ہے ولہذا۵ ائینے میں دہنی جانب بائیں معلوم ہوتی ہے اور بائیں دہنی۶ ولہذا شے آئینے سے جتنی دور ہو اسی قدر دور دکھائی دیتی ہے اگرچہ سوگز فاصلہ ہو حالانکہ آئینہ کا دل جو بھر ہے سبب وہی ہے کہ پلٹتی نگاہ اتنا ہی فاصلہ طے کرکے اس تك پہنچتی ہے اب برف۷ کے یہ باریك باریك متصل اجزا کہ شفاف ہیں نظر کی شعاعوں کو انہوں نے واپس دیا پلٹتی شعاعوں کی کرنیں ان پر چمکیں اور دھوپ کی سی حالت پیدا کی جیسے پانی یا آئینے پر آفتاب چمکے اس کا عکس دیوار پر کیسا سفید براق نظر آتا ہے زمین۸ شور میں دھوپ کی شدت میں دور سے سراب نظر آنے کا بھی یہی باعث ہے خوب چمکتا جنبش کرتا پانی دکھائی دیتا ہے کہ اس زمین میں اجزائے صقیلہ شفافہ دور تك پھیلے ہوتے ہیں نگاہ کی شعاعیں ان پر پڑ کر واپس ہوئیں اور شعاع۹ کا قاعدہ ہے کہ واپسی میں لرزتی ہے جیسے آئینے پر آفتاب چمکے دیوار پر اس کا عکس جھل جھل کرتا نظر آتا ہے اور شعاعوں کے زاویے یہاں چھوٹے تھے کہ ان کی ساقیں طویل ہیں کہ سراب دور ہی سے متخیل ہوتا ہے اور وتر اسی قدر ہے جو ناظر کے قدم سے آنکھ تك ہے اور چھوٹے وتر پر ساقیں جتنی زیادہ دور جاکر ملیں گی زاویہ عــہ خورد تر بنے گا اور زوایائے۱۰ انعکاس ہمیشہ زوایائے شعاع کی برابر ہوتے ہیں اشعہ بصریہ اتنے ہی زاویوں پر پلٹتی ہیں جتنوں پر گئی تھیں ان دونوں امر کے اجتماع سے نگاہیں کہ اجزائے بعیدہ صقیلہ پر پڑی تھیں لرزتی جھل جھل کرتی چھوٹے زاویوں پر زمین سے ملی ملی پلٹیں لہذا وہاں چمکدار پانی جنبش کرتا متخیل ہوا والله تعالی اعلم۔
اقول : ھذا طریق وانشرط۱۲ شرط اخترنا طریق
میں کہتا ہوں یہ ایك راستہ ہے اور اگر
عــــہ : مثلا ا ح ب۔ ا ع ب۔ ا ہ ب۔ ا ر ب مثلثوں میں زاویہ قائمہ اور سب میں مشترك ہے تو ہر ایك کے باقی دو زاویے ایك قائمہ کے برابر ہیں لیکن زوایائے ح ا ب۔ ع ا ب۔ ح ا ب۔ ر ا ب علی الترتیب بڑھتے گئے ہیں کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے تو واجب کہ زوایائے ح۔ ع۔ ہ۔ ر اسی قدر چھوٹے ہوتے جائیں کہ ہر ایك اپنے زاویہ کا قائم تك تمام ہے چھوٹے کا تمام بڑا ہوگا بڑے کا چھوٹا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(اقول : ای السفھاء من بعض القدماء کماقدم وتبعھم ابناسینا والھیثم کمافی طوالع الانوار وشرح التجرید) فی کون الضوء شرطا لحد وث الالوان کلھا فاذا اخرج المصباح مثلا عن البیت المظلم انتفی الوان الاشیئاء التی فیھا واذا اعیدت صارت ملونۃ بامثالھا لاستحالۃ اعادۃ المعدوم عندھم ولاشك ان ھذا ابعد من حدوث البیاض فی الاجزاء الشفافۃ بمخالطۃ الھواء من غیر مزاج اھ۔
اقول : (۱) وقولھم مردود (۲) بحدیث البزار والحاکم وصححہ عن انس رضی الله تعالی عنہ عن (۳) النبی صلی الله علیہ وسلم
عضد صاحب کا راستہ اختیار کریں جنہوں نے کہا کہ یہ حق ہے اور سید صاحب نے بھی اس کی تائید کی وہ یہ کہ برف میں سفیدی نہ ہونے کا انکار ہے اور اس کے ساتھ مزید یہ قول کہ ہوا کی روشنی شفاف اجزاء میں سفیدی پیدا کرنے کا ایك سبب ہے اگرچہ یہاں کوئی ایسا مزاج نہیں جس کے بعد رنگ پیدا ہوتا ہو ان دونوں نے کہا کہ یہ بات حکماء کے قول سے بعید نہیں ہے۔ (ت)
(میں کہتا ہوں کہ حکماء سے مراد قدماء میں سے بعض بیوقوف ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے جن کی پیروی ابن سینا اور ابن ہیثم نے کی ہے جیسا کہ طوالع الانوار اور شرح تجرید ہے) یہ پیروی حکماء کے اس قول میں ہے جس میں حکماء نے تمام رنگوں کے پیدا ہونے میں روشنی کو شرط قرار دیا ہے مثلا اگر رات کو اندھیرے میں کمرے سے چراغ کو نکال لیا جائے تو کمرے میں موجود تمام رنگ دار چیزوں کا رنگ ختم ہوجائےگا اور جب دوبارہ چراغ کو کمرے میں داخل کیا جائے تو کمرے کی چیزیں پہلے رنگوں کی ہم مثل رنگ دار ہوں گی یہ اس لئے کہ ان کے نزدیك معدوم ہونے کے بعد کسی چیز کا اعادہ محال ہے (لہذا پہلا رنگ دوبارہ عود نہیں کرے گا بلالکہ اس کی مثل نیا رنگ پیدا ہوگا) اور بےشك یہ بات شفاف اجزاء میں ہوا کے ملنے سے کسی مزاج کے بغیر سپید پیدا ہونے سے بھی زیادہ بعید ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ ان کا یہ قول مردود ہے ایك حدیث کی بنا پر جس کو بزار اور حاکم نے صحیح طور پر روایت کیا ہے وہ یہ کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہنے
اقول : والوقف فیہ کالرفع اذا لم یکن اخذ عن الاسرائیلیات فقد اثبت لھا اللون مع الظلمۃ وعدم الضوء (۲) فاذن جوابنا خبر
حضور عليه الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے۔ اور بیہقی نے بعث میں روایت کیا جس کو ابو القاسم اصبہانی نے ان سے روایت کیا کہ حضور عليه الصلوۃ والسلام نے آیہ کریمہ و قودها الناس و الحجارة - (جہنم کا ایندھن کافر لوگ اور پتھر ہیں) تلاوت فرمائی اور اس پر آپ نے فرمایا کہ جہنم میں ایك ہزار سال آگ جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایك ہزار سال حتی کہ سفید ہوئی پھر ایك ہزار سال حتی کہ سیاہ ہوگئی۔ پس جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے جس کا شعلہ روشن نہ ہوگا۔ اسی حدیث کو ترمذی ابن ماجہ اور بیہقی نے ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا لیکن اس کے آخری جملے میں ہے کہ وہ آگ انتہائی سیاہ جیسے اندھیری رات ہے ترمذی نے اس حدیث کے موقوف ہونے کو اصح کہا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اس معاملہ میں یہ حدیث موقوف بھی مرفوع کی طرح ہے بشرطیکہ اسرائیلیات سے ماخوذ نہ ہو۔ اس حدیث میں حضور عليه الصلوۃ والسلام نے
عــہ مسلمان کہ سرور ولادت اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں روشنی کرتے ہیں اس کی بحث میں “ براہین اطعہ “ میں یہ۱ عبارت مولوی گنگوہی کی “ جو روشنی زائد از حاجت ہے وہ نار جہنم کی روشنی دکھانے والی ہے “ محض جہل وگزاف اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتو فرمائیں کہ وہ کالی رات کی طرح اندھیری ہے مگر اس کو اس میں روشنی سوجھی۔ (م)
شعب الایمان حدیث ۷۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۴۸۹
جامع للترمذی ابواب صفۃ جہنم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۸۳ ، سنن ابن ماجہ باب صفۃ النار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰
جہنم کی آگ کیلئے اندھیری اور روشن نہ ہونے کے باوجود رنگ کا اثبات فرمایا۔ پس اب برف کی سفیدی کے ثبوت کیلئے جو کہ پانی میں نہ تھا ہمارا جواب واضح ہے (ت)
اور بعض نے پانی کا رنگ سیاہ بتایا اور اس پر اس حدیث سے سند لائے کہ ام المومنین۱ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہماسے فرمایا :
والله یاابن اختی ان کنا لننظر الی الھلال ثم الھلال ثم الھلال ثلثۃ اھلۃ فی شھرین وما اوقد فی ابیات النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نار قلت یاخالۃ فما کان یعیشکم قالت الاسود ان التمر والماء ۔ رواہ الشیخان فی صحیحھما عن عروۃ عن ام المؤمنین رضی الله عنھا۔
اقول : وقد کثر ذلك فی الاحادیث وکلام العرب ومنھا الحدیث المسلسل بالاضافۃ قال السفطی بعد ماذکر حدیث ام المومنین بلفظ کنا نمکث لیالی ذوات العدد لانوقد نارا فی حجر رسول الله صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم وماھو الا الاسودان الماء والتمر اجیب بانھا رضی الله تعالی عنھا جعلت الماء اسود تغلیبات للتمر علی الماء لان التمر مطعوم والماء مشروب والمطعوم اشرف من المشروب اوان انیۃ مائھم اذذاك کان یغلب علیھا السواد
اے میرے بھانجے خدا کی قسم ہم ایك ہلال دیکھتے پھر دوسرا تیسرا دو مہینوں میں تین چاند اور کاشانہ ہائے نبوت میں اگ روشن نہ ہوتی عروہ نے عرض کی اے خالہ پھر اہل بیت کرام مہینوں کیا کھاتے تھے فرمایا : بس دو سیاہ چیزیں چھوہارے اور پانی (شیخین نے اپنی صحیحین میں عروہ سے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
میں کہتا ہوں کہ احادیث اور عربوں کے کلام میں یہ مضمون بکثرت موجود ہے اسی سلسلہ میں ایك حدیث جو مسلسل بالاضافت ہے سفطی نے حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ کہ ہم کئی راتیں بسر کرتے در انحالیکہ حضور عليه الصلوۃ والسلام کے حجروں میں آگ روشن نہ ہوتی اور (وہ خوراک) صرف دو سیاہ چیزیں پانی اور کھجور تھیں کو بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے کھجور کو غالب قرار دے کر پانی کو سیاہ فرمایا کیونکہ کھجور خوراك ہے اور پانی مشروب ہے اور خوراك کو مشروب پر فضیلت ہونے
اقول : اولا(۱) التغلیب (۲) تجوز فلایصار الیہ مالم یثبت ان الماء لاسواد لہ (۳) وثانیا : (۴) التغلیب فی الاسماء کالعمرین والقمرین دون وصفین متضادین فیقال لجید و ردی جیدان وطویل وقصیر طویلان وعالم وجاھل عالمان وھل یستحسن لمن اکل لحما وشرب ماء ان یقول ماھما الا الاحمران اللحم والماء ومن تناول تمرا ولبنا یقول ماھما الا الاسودان التمر واللبن وثالثا : (۵) قد قلتم ان الماء اذا وضع فی اناء اخضر فالخضرۃ لم تقم بالماء فکذلك سواد الشن ففیم التجوز بلادلیل۔
کی وجہ سے کھجور کو پانی پر غلبہ ہے یا اس لئے پانی کو سیاہ فرمایا کہ اس وقت ان کے پانی والے برتن گہرے رنگ دار ہونے کی بنا پر غالب طور پر سیاہ ہوتے تھے اور کہا کہ یہ ساری بحث ہمیں شیخ عیدروس سے حاصل ہوئی اور اس کی ہمارے شیخ نے توثیق بھی کی اور اس طرح ہمارے شیخ امیر کے حاشیہ میں بھی اور ہمارے بعض شیوخ نے فرمایا کہ پانی کا رنگ سیاہ ہے انہوں نے اس حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے۔ لیکن پہلی توجیہ ہی صحیح ہے غور کرو اھ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اولا تغلیب اگرچہ جائز ہے مگر جب تك کہ پانی کا سیاہ نہ ہو نا واضح نہ ہوجائے اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہے اور ثانیا تغلیب کا عمل ناموں (اسماء) جیسے قمرین (سورج اور چاند) اور عمرین (عمر فاروق اور ابوبکر صدیق رضی الله عنہما) میں جاری ہوتا ہے لیکن متضاد اوصاف میں جاری نہیں ہوتا تاکہ جیدان کہہ کر جیداور ردی مراد لیا جائے اور طویلان کہہ کر طویل اور چھوٹا مراد لیا جائے اور عالمان کہہ کر عالم اور جاہل مراد لیا جائے۔ کیا گوشت کھانے اور پانی پینے والے کو یہ کہنا مناسب ہوگا وہ صرف احمران (دو سرخ) ہیں یا کھجور اور دودھ تناول کرنے پر یہ کہنا مناسب ہوگا وہ صرف اسودان (دو سیاہ) ہیں۔ اور ثالثا تم نے خود کہا ہے کہ جب پانی سبز برتن میں رکھا جائے تو سبزی پانی کو نہیں لگتی پس اسی طرح مشکیزہ کا سیاہ رنگ ہو تو اس میں پانی کو کیونکر سیاہ کہا جاسکتا ہے بغیر دلیل مجاز کیسے ہوسکتا ہے۔ (ت)
اقول : حقیقت امر یہ ہے کہ پانی خالص سیاہ نہیں مگر اس کا رنگ سپید نہیں میلا مائل بیك گونہ
(۷) علماء کو۱ اس اجماع اعنی قول متیقن ناصالح نزاع کے بعد کہ سب پانیوں میں افضل وہ پانی ہے جو اس بحر بے پایاں کرم ونعم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انگشتان مبارك سے بارہا نکلا اور ہزاروں کو سیراب وطاہر کیا زمزم افضل ہے یا کوثر شیخ الاسلام سراج الدین بلقینی شافعی نے فرمایا کہ زمزم افضل ہے کہ شب اسرا ملائکہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا دل مبارك اس سے دھویا حالانکہ وہ آب کوثر لاسکتے تھے اور الله عزو جل نے ایسے مقام پر اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے اختیار نہ فرمایا مگر افضل شمس نے اس میں سراج کا اتباع کیا فتاوی علامہ شمس الدین محمد رملی شافعی میں ہے :
افضل المیاہ مانبع من بین اصابعہ صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم وقد قال البلقینی ان ماء زمزم افضل من الکوثر لان بہ غسل صدر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ولم یکن یغسل الابافضل المیاہ اھ
افضل ترین پانی وہ ہے جو حضور عليه الصلوۃ والسلام کی انگلیوں سے نکلا اور بلقینی نے فرمایا کہ زمزم کا پانی کوثر سے افضل ہے کیونکہ اس سے حضور عليه الصلوۃ والسلام کا سینہ مبارك دھویا گیا ہے اور اس کا دھونا افضل پانی سے ہی ہوسکتا تھا اھ (ت)
اس پر اعتراض ہوا کہ زمزم تو سیدنا اسمعیل عليه الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا اور کوثر ہمارے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تو لازم کہ کوثر ہی افضل ہو امام ابن حجر مکی نے جواب دیا کہ کلام دنیا میں ہے آخرت میں بےشك کوثر افضل ہے۔
اقول : تو یہ قول ثالث یا دونوں قولوں کی توفیق ہوا۔ فتاوی فقہیہ کی عبارت یہ ہے :
(سئل) ایما افضل ماء زمزم اوالکوثر (فاجاب) قال شیخ الاسلام البلقینی ماء زمزم افضل لان الملئکۃ غسلوا بہ قلبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین شقوہ لیلۃ الاسراء مع قدرتھم علی ماء الکوثر فاختیارہ فی ھذا المقام دلیل علی افضلیتہ
آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آب زمزم افضل ہے یا کوثر تو اس کے جواب میں فرمایا : شیخ الاسلام بلقینی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ آب زمزم افضل ہے کیونکہ معراج کی رات اس سے فرشتوں نے آپ (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کے قلب مبارك کو کھول کر غسل دیا تو کوثر کے استعمال پر قدرت کے باوجود زمزم کو ترجیح دینا اس کی افضلیت
کی دلیل ہے۔ زمزم کا حضرت اسمعیل علیہ السلام کو اور کوثر کا ہمارے نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو الله تعالی کی طرف سے عطیہ ہونا اس کو معارض نہیں کیونکہ کلام دنیاوی فضیلت میں ہے اور آخرت کے لحاظ سے بلاشبہ کوثر کو بہت بڑا اعزاز ہے جو ہمارے نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ملے گا اسی لئے الله تعالی نے انا اعطینك الکوثر کو اپنے لئے منسوب فرمایا جس پر نون متکلم دلالت کرتا ہے اور یہ بڑی عظمت ہے اور میری تقریر سے بلقینی پر وارد ہونے والے اعتراض کا جواب بھی معلوم ہوگیا اھ (ت)
اس وقت اس مسئلہ پر کلام اپنے علما سے نظر فقیر میں نہیں اور وہ کہ فقیر کو ظاہر ہوا تفضیل کوثر ہے۔
فاقول : وبالله التوفیق الافضل معنیان الاکثر ثوابا وھو فی المکلفین من یثاب اکثر وفی الاعمال ماالثواب علیہ اکبر ولامدخل لھذین فی زمزم والکوثر وان اول بالتعاطی ای ماتعاطیہ اکثر ثوابا فالکوثر غیر مقدور لنا فلایتأتی التفاضل من ھذا الوجہ ایضا ولا معنی لان یقال ان ثوابہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اکثر فی غسل الملئکۃ قلبہ الکریم باحدھما۔ فاذن لاکلام فیہ الابمعنی الاعظم شانا والارفع مکانا عندالله تعالی و
پس میں کہتا ہوں اور الله تعالی سے ہی توفیق حاصل ہے۔ افضل کے دو معنی ہیں ایك ثواب کے لحاظ کثرت ہے یہ معنی انسانوں میں جس کو ثواب حاصل ہو اور اعمال میں وہ عمل جس پر ثواب زیادہ مرتب ہو اس معنی کی دونوں مذکورہ صورتیں زمزم اور کوثر میں نہیں پائی جاسکتیں اور اگر اس معنی کی یہاں یہ تاویل کی جائے کہ ان کے لین دین میں زیادہ ثواب ہے تو پھر کوثر میں یہ معنی نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہماری قدرت سے باہر ہے اسلئے دونوں میں افضلیت کا تقابل نہیں پایا جاسکتا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں میں سے ایك کے ساتھ فرشتوں کا حضور عليه الصلوۃ والسلام کے قلب مبارك کو دھونا حضور عليه الصلوۃ والسلام کے لئے زیادہ ثواب ہے۔ (ت) اب صرف افضل کے دوسرے معنی میں بات ہوسکتی ہے اور وہ عندالله عظمت شان اور رفعت
مقام ہے اور اس معنی پر امام بلقینی کا استدلال تب ہی صحیح ہوسکتا ہے جب ہم حضور عليه الصلوۃ والسلام کے قلب مبارك دھونے کے بارے میں الله تعالی کی حکمتوں کو پیش نظر رکھیں اور یہ معلوم کرلیں کہ ان کے حاصل کرنے میں دونوں پانی زمزم اور کوثر مساوی ہیں اس کے باوجود الله تعالی نے زمزم کو پسند فرمایا لہذا افضل ہوا اس لئے کہ یہ اس کارروائی کیلئے زیادہ موافق اور زیادہ صلاحیت والا تھا اس لحاظ سے زمزم کا قدر ومنزلت کے اعتبار سے کلی طور پر اعظم ہونا لازم نہیں آتا۔ علاوہ ازیں حضور عليه الصلوۃ والسلام کو کسی دوسرے سے شرف حاصل نہیں ہوا بلکہ دوسروں نے حضور عليه الصلوۃ والسلام سے شرف پایا ہے الله تعالی اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے حضور عليه الصلوۃ والسلام کی رحمت سے نوازتا ہے تاکہ اس کو فضیلت دے جیسا کہ آپ کی ولادت پاك کیلئے رمضان کی بجائے ربیع الاول کو اور جمعہ کی بجائے سوموار کے دن کو اور کعبہ کی بجائے آپ کی جائے ولادت کو مشرف فرمایا۔ فضیلت کا مالك الله تعالی ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے وہ بڑے فضل والا ہے۔ لیکن امام ابن حجر کا جواب فضیلت کی توجیہ میں بہت واضح ہے کہ زمزم دنیا میں افضل ہے کیونکہ وہ ہمارے زیر تصرف ہے اور ہمیں اس پر
اقول : لو تم ھذا لکان کل ماء فی الدنیا افضل من الکوثر بعین الدلیل وھو کما تری بل الکلام (۱)کما علمت فی الارفع قدرا والاعظم فخرا وھذا لایختلف باختلاف الدار حتی یکون شیئ اجل قدرا عند الله تعالی من اخر فی الدنیا فاذا جاء ت الاخرۃ انعکس الامر کلا بل (۲)لا یظھر فی الاخرۃ الا ماھو عندہ تعالی ھھنا فما کان افضل فی الاخرۃ کان افضل فی نفسہ وماکان افضل فی نفسہ کان افضل حیث کان وقد اعترفتم ان الکوثر افضل فی الاخرۃ فوجب ان یکون لہ الفضل دنیا واخری کیف و (۳) زمزم من میاہ الدنیا وھو من میاہ الاخرۃ و للاخرة اكبر درجت و اكبر تفضیلا وایضا (۴) ماؤہ من الجنۃ ۔ قال صلی الله تعالی علیہ وسلم یغث فیہ میزابان
ثواب ملتا ہے جس سے ہمیں فضیلت میسر ہوتی ہے اور کوثر کا معاملہ اس کے خلاف ہے اگر دنیا میں کسی کو وہ نصیب ہوجائے تو وہ پانے والے کی فضیلت ہوگی یا الله تعالی کی طرف سے فضل ہوگا لامحالہ کوثر کسی فضیلت پر مرتب ہوگا اور فضیلت دینے والا (زمزم) افضل ہوتا ہے اور آخرت دارالعمل نہیں ہے تاکہ وہاں یہ وجہ پائی جائے اور وہاں کوثر کی فضیلت ظاہر ہوگی کیونکہ وہاں حضور عليه الصلوۃ والسلام پر انعامات سے یہ بڑا انعام ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اگر امام ابن حجر کی دلیل درست ہو تو اس سے لازم آئےگا کہ دنیا کے تمام پانی کوثر سے افضل ہوجائیں کیونکہ وہی دلیل یہاں پائی جاتی ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے بلالکہ یہاں فضیلت قدر و فخر کی عظمت وبلالندی مراد ہے اور فضیلت کا یہ معنی دنیا یا آخرت کے لحاظ سے نہیں بدلتا تاکہ دنیا میں ایك چیز دوسری کے مقابلالہ میں عندالله بڑی قدر والی ہو اور جب آخرت برپا ہو تو معاملہ الٹ ہوجائے ایسا ہرگز نہیں ہے بلالکہ آخرت میں عندالله وہی چیز قدر ومنزلت والی ظاہر ہوگی جو یہاں دنیا میں بھی ایسی ہوگی۔ اور جو چیز آخرت میں افضل ہوگی وہ ہر جگہ افضل ہوگی اور جب آپ نے آخرت میں کوثر کے افضل ہونے کا اعتراف کرلیا تو ضروری ہے کہ وہ دنیا وآخرت دونوں میں افضل ہو اور کیوں نہ ہو کہ زمزم دنیا کا پانی ہے اور کوثر
آخرت کا پانی ہے اور آخرت کا درجہ اور فضیلت بڑی ہے نیز کوثر کا پانی جنت سے نکلتا ہے۔ حضور عليه الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوثر میں دو میزاب (نالے)گرتے ہیں دونوں جنت سے آکر گرتے ہیں ایك سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔ اس حدیث کو حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے مسلم نے روایت کیا ہے اور حضور عليه الصلوۃ والسلام نے فرمایا غور کرو الله تعالی کا سامان گراں قیمت والا ہے اور الله تعالی کا سامان جنت ہے پھر کوثر حضور عليه الصلوۃ والسلام کی امت کیلئے وہاں زیادہ نفع مند ہے جو بھی اسے نوش کرے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا چہرہ کبھی سیاہ ہوگا اور الله تعالی نے کوثر حضور افضل الانبیا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر احسان فرمایا ہے لہذا کوثر ہی سب سے افضل ہے۔ دعا ہے ہمیں الله تعالی اپنے حبیب عليه الصلوۃ والسلام کے دست مبارك سے پلائے اور اس کوثر پر ورود ہمیں نصیب فرمائے۔ حضور پر الله تعالی کی رحمتیں سلامتی بزرگی شرف وکرم نازل ہو اور آپ کی برگزیدہ آل پر اور بزرگو ارصحابہ پر اور آپ کے سخی صاحبزادے اور آپ کی بہترین امت پر اور ان کی معیت اور صدقے اور سبب سے ہم پر بھی اے ہم پر ان کو بھیج کر احسان فرمانے والے الحمدلله رب العلمین۔ (ت)
مسئلہ ۵۶ : ۶ شوال ۲۰ھ مسئولہ مولوی عبدالشکور صاحب ارکانی
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ وضو کرتے وقت جس لوٹے سے وضو کرے اس میں اگر ہاتھ منہ
جامع للترمذی باب من ابواب القیمۃ امین کمپنی دہلی ۲ / ۶۸
الجواب : طاہر تو مطلقا ہے علی مذھب محمد المصحح المعتمد (امام محمد کے صحیح ومعتمد مذہب پر۔ ت) اور بقیہ اعضا کا اس سے دھونا بھی درست ہے جبکہ مستعمل پانی اس قدر کثرت سے نہ گرا ہو کہ غیر مستعمل پانی سے زائد ہوجائے فان المعتبر ھھنا الغلبۃ بالاجزاء کما فی التبیین والدر المختار وغیرھما والله تعالی اعلم (کیونکہ یہاں اجزاء کے اعتبار سے غلبہ معتبر ہے جیسا کہ تبیین اور درمختار میں ہے) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از شہر بریلی بروز شنبہ ۲۵ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حوض کا پانی بسبب گرمی یا پرانا ہونے سے جس میں بو اور رنگ تغیر ہوجائے اس میں وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور اسی مسئلہ میں گاؤں کے چاہ وغیرہ ان کا پانی اور رنگ اور بو آجاتی ہے اس سے وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور زید کہتا ہے اگر اس میں کوئی چیز کتا یا بلی وغیرہ گر جائے جس سے بو آجائے اور مزہ تبدیل ہوجائے تو ناپاك ہوجائے تو ناپاك ہوتا ہے اور آپ ہی خود مزہ اور رنگ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاك نہیں ہوتا ہے
الجواب :
رنگ یا بو یا مزہ اگر کسی پاك چیز کے گرنے یا زیادہ دیر ٹھہرنے سے بدلے تو پانی خراب نہیں ہوتا ہاں نجاست کی وجہ سے تغیر آجائے تو نجس ہوگا اگرچہ کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۵۸ : مقام کنپ ڈیسہ گجرات محلہ محمد پورہ معرفت پیش امام مولوی نظام الدین صاحب مرسلہ نثار احمد صاحب ۲۰ رمضان شریف ۳۴ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فقہاء حوض کی چاراقسام لکھتے ہیں : (۱) مدور (۲) مربع (۳) مثلث (۴) طول بلاعرض۔ آیا یہ چاروں قسمیں بلا اختلاف درست اور جائز ہیں یا ان میں سے کسی قسم میں اختلاف ہے اور جو قسم ان اقسام میں سے افضلیت رکھتی ہو استثناء کی جائے جواب سے بہت جلد تشفی فرمائیں۔
الجواب :
مدور مثلث مربع تو صرف اختلاف ہیات ہے اقسام جداگانہ نہیں جن کے احکام مختلف ہوں طول بلاعرض میں البتہ
مسئلہ ۵۹ : مسئولہ مولوی چودھری عبدالحمید خان صاحب رئیس سہاور مصنف کنز الآخرۃ ۷ محرم الحرام ۱۳۳۵ ہجری۔
آب مستعمل طاہر ہے غیر مطہر اور فقہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو پانی دہ در دہ سے کم ہو خواہ وہ دیگ میں ہو خواہ مٹکے یا لوٹے میں اگر اس میں محدث یا جنب کا ایك پورا بھی چھو جائے گا تو وہ مستعمل ہوجائےگا اور پھر وہ قابل طہارت نہ رہے گا کہ آب مستعمل مطہر نہیں۔ ایسی صورت میں بڑی مشکل یہ پڑتی ہے کہ ایك گروہ کثیر در کثیر مسلمانوں کا خاص کر گروہ اناث کا بالکل دارمدار سقوں کے پانی پر وضو وغسل کرنے کا ہے کہ سقے پانی لے کر گھروں میں بھرتے ہیں اور اسی پانی سے تمام گھر والے وضو وطہارت کرتے ہیں اور سقوں کی یہ حالت ہے کہ اول تو وہ بے نمازی ہوتے ہیں جن کو طہارت ونجاست کا کچھ امتیاز نہیں اس کے سوا یہ کہ وہ سقے نمازی ہی کیوں نہ ہوں لیکن ہمہ وقت باوضو نہیں ہوتے اور پانی کنویں سے جب کھنیچتے ہیں تو ڈول کی رسی کو دانتوں سے پکڑ کر ایك ہاتھ کی انگلیوں کو ڈول میں ڈال کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے مشك کے منہ پر رکھ کر پانی مشك میں بھرتے ہیں اور پھر جب وہ گھروں میں آکر پانی بھرتے ہیں تو مشك کا منہ کھول کر اور مشك کے منہ کے قریب اپنا ہاتھ رکھ کر گھڑے مٹکوں میں پانی بھرتے ہیں کہ وہ سب پانی ان کے ہاتھ کی کف دست پر ہو کر ظرف میں پہنچتا ہے اور ایسی حالت میں یقینی دو دو تین تین بار پانی مستعمل ہو کر گھڑے مٹکوں میں پہنچتا ہے اور اسی سے سب طہارت و وضو ہوتا ہے اس کے سوا عام نمازی مسلمان جس طریق سے مسجدوں میں کنویں سے پانی کھینچ کر لوٹوں اور مٹکوں میں بھرتے ہیں وہ بھی قریب قریب انہیں سقوں کی ترکیب کے عمل کرتے ہیں اور اسی سے
الجواب :
فی الواقع مذہب صحیح یہی ہے کہ بے وضو آدمی کا ناخن بھی اگر بغیر دھلا ہوا اس پانی میں کہ وہ دہ در دہ نہیں پڑ جائے تو وہ سب پانی مستعمل ہوجائےگا تصانیف امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ سے فتح القدیر امام ابن الہمام تك تمام کتابوں میں بالاتفاق یہی حکم ہے مگر شریعت۱ مطہرہ کا قاعدہ کلیہ ہے کہ استعمال درکنار دربارہ نجاست بھی اوہام وشکوك وظنون مجردہ پر نظر نہیں فرماتی ملاحظہ ہو پرانا استعمالیه جوتا کس قدر مظنہ نجاست ہے مگر حکم یہ ہے کہ جب تك نجاست معلوم نہ ہو کنویں میں گرنے سے کنواں ناپاك نہ ہوگا صرف تطییب قلب کیلئے بیس ڈول نکالے جائیں گے ناسمجھ بچے کا ہاتھ یا پاؤں پانی میں پڑ جائے بے علم نجاست پاك نہ ہوگا۔ گائے بکری کنویں میں گرجائے اور زندہ نکل آئے کنواں پاك رہے گا اگرچہ ان کے کھر اور رانوں کا پیشاب وغیرہ میں ملوث نہ ہونا بعید ازقیاس ہے یہاں تك کہ فاسقوں بے نمازیوں بلالکہ کافروں کے پاجا مے پر بھی حکم نجاست نہیں دیتے صرف کراہت مانتے ہیں۔ سقاوں کے بھرے ہوئے پانی میں تو ایسے ظنون بھی نہیں جس وقت وہ پانی لاکر برتنوں میں ڈالتے ہیں اس وقت تو ان کا ہاتھ پانی کی گزرگاہ پر ہوتا ہی نہیں ورنہ پانی کو برتن میں جانے سے روکے اور ادھر ادھر بہائے دہانے سے پانی نکلتا ہے اور ان کا ہاتھ مشك کے گلے پر ہوتا ہے مشک۲ بھرتے وقت جو بائیں ہاتھ سے اس کا منہ کھولتے اور ڈول سے پانی ڈالتے ہیں اس وقت وہ پانی جریان کی حالت میں ہوتا ہے جب تك مشك میں داخل ہو اس حالت میں تو اگر نجاست پر گزرے تو اسے بھی پاك کرتا ہوا جائےگا۔ رہا داہنا ہاتھ اکثر تو ڈول کے نیچے دیکھا گیا ہے اور ڈول نکالتے ہیں تو اس کی لکڑی پر ہاتھ رکھ کر اور بالفرض یہی ہو کہ اس کے اندر ہاتھ ڈالا کرتے ہوں تو پہلے ڈول میں کہ ہاتھ ڈالا وہ ضرور مستعمل ہوگیا اگر اس وقت بے وضو ہو نہ ہاتھ اس سے پہلے دھلا ہو مگر ساتھ ہی دھل گیا اب جو دوسرے ڈول میں ڈالا وہ مستعمل نہ ہوا مشك تین ڈول سے کم کی نہیں ہوتی ایك ڈول مستعمل اس میں پہنچا اور دو یا زائد غیر مستعمل تو ساری مشك کا پانی طاہر ومطہر ہوگیا اور یہ احتمال کہ ممکن ہے کہ پہلے ڈول کے بعد دوسرے ڈول میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے حدث واقع ہوا ہو ناقابل قبول ہے ایسے شاید ومحتمل پر عمل کیا جائے تو دین ودنیا دونوں کی عافیت تنگ ہوجائے غرض بہشتیوں کے ہاتھ کا بھرا ہوا پانی ضرور طاہر ومطہر ہے۔ رہیں عوام کی حرکات شریعت ان پر اور سب پر حاکم ہے ان کی بے پروائیں یا جہالتیں شرع پر حاکم نہیں ہوسکتیں یہ تو ایك سہل مسئلہ ہے جس میں بعض متأخرین علما کا خلاف بھی ملے گا۳ اجماعی فرائض وہ کہاں تك پورا کرتے ہیں وضو میں کہنیاں
مسئلہ ۶۰ : مرسلہ مولوی عبدالله صاحب از دوحد ضلع پنچ محال ملك گجرات مسجد غزنوی ۷صفر۳۵ہجری
تالاب کبیر میں اگر بوٹی یا زراعت کثرت سے ہو جیسا کہ ایك جگہ کے پانی کی حرکت سے دوسری جگہ کا پانی حرکت نہ کرے تو اس تالاب میں مقدار شرعی سے تھوڑی سی جگہ خالی کرکے کپڑے دھوئے جائیں تو پاك ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
تالاب جبکہ کبیر ہے تو اس میں زراعت کا اتصال پانی کو قلیل نہ کرےگا تھوڑی جگہ اگر زراعت سے صاف کرلی گئی تو وہ بھی اسی کبیر کا ٹکڑا ہے اور اسی کے حکم میں ہے جب تك نجاست سے رنگ یا مزہ یا بو نہ بدلے ناپاك نہ ہوگا نص علیہ فی الھندیۃ وغیرھا والله تعالی اعلم۔
جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہوا یا عمدا ڈوبے تو وہ پانی غسل ووضو کے قابل ہے یا نہیں
الجواب :
کسی حدث اکبر یا اصغر والے کا ہاتھ بغیر دھوئے جب کسی دہ در دہ پانی سے کم میں پڑ جائے گا اس سب کو قابل وضو وغسل نہ رکھے گا اور اگر ہاتھ دھو لینے کے بعد پڑا تو کچھ حرج نہیں۔ عورت حیض کی وجہ سے اس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہوجائے اس سے پہلے نہ اسے حدث ہے نہ حکم غسل اس کا ہاتھ پڑنے سے قابل وضو وغسل رہے گا والله تعالی اعلم۔
سوال۶۲دوم : اکثر بلاد ہند میں چاہ دہ در دہ سے کم ہیں اور جاہل مسلمان ان چاہ پر کھڑے ہو کر غسل کرتے ہیں اور ان کا آب غسل چاہ میں گرتا جاتا ہے اور اسی چاہ کے پانی سے اور مسلمان غسل کرتے ہیں غسل ان کا درست ہوا یا نہیں
الجواب : درست ہے کہ مستعمل پانی اگر غیر مستعمل میں پڑے تو اسی وقت اسے مستعمل کرے گا کہ مقدار میں اس کی برابر یا اس سے زائد ہوجا ئے چھینٹیں کنویں کے پانی سے کیا نسبت رکھتی ہیں ہاں اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ تھی اور اس کے پانی کی کوئی چھینٹ کنویں کے اندر پانی میں گری تو آپ ہی سارا کنواں ناپاك ہوجائےگا والله تعالی اعلم۔
سوال۶۳سوم : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو واسطے غسل کے چاہ پر گئے اور دونوں حالت جنابت میں ہیں زید نے چاہ سے آب نکال کر عمرو کو دیا عمرو نے غسل کیا لیکن زید کا ناپاك ہاتھ کئی بار آب اور ڈول سے لگا اس حالت میں پانی ناپاك ہوا یا نہیں اور غسل عمرو کا درست ہوا یا نہیں
الجواب : نجاست حکمیہ کہ جنابت سے ہوتی ہے اس حالت میں ڈول کو ہاتھ لگنے سے کوئی حرج نہیں البتہ اگر ہاتھ بغیر دھوئے انگلی یا ناخن یا کوئی حصہ ہاتھ کا پانی سے مس کرے گا تو وہ پانی اگرچہ ناپاك نہ ہوگا مگر غسل ووضو کے قابل نہ رہے گا پھر ہر بار اگر وہی حصہ ہاتھوں کا پانی میں ڈوبا جو اول بار ڈوبا تھا تو صرف پہلا پانی خراب ہوا تھا بعد کے پانی طاہر ومطہر قابل غسل ووضو ہیں اگر عمرو کے سارے بدن پر بعد کا پانی بہ گیا تو غسل اتر جائےگا اور اگر کچھ حصہ بدن پر صرف پہلی دفعہ کا پانی بہا یا ہر بار زید کے بے دھلے ہاتھ کا نیا حصہ پانی میں
سوال۶۴چہارم : بلاد ہند میں مسلمانوں کے گھروں میں ہندو کہارنیں پانی بھرتی ہیں ہندو کہاروں کے ہاتھ کے بھرے ہوئے سے غسل وضو درست ہے یا نہیں
الجواب :
درست ہے جبکہ ان کے ہاتھ ناپاك نہ ہوں بے دھوئے پانی میں نہ ڈوبیں ورنہ جائز نہیں والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۶۵ : از مہندرگنج سکول ہیڈ مولوی ضلع گار وہیلس تورا ملك آسام مرسلہ نجم الدین احمد صاحب ۱۸ ربیع الاول شریف ۳۱اھ
حضرت قبلہ مولانا فاضل صاحب لطف بیکران بر غریب بادچہ ارشاد فرما یند دریں مسئلہ کہ درعلاقہ فقیر درگار ہے بنام شاہ کمال ازمدت درازست مردمان ازدور دور برائے تعمیل نذر ونیاز بزوبقرہ آوردہ بسم الله گفتہ ذبح مینمایندو خادم درگاہ بتعجیل تمام پوست آن ذبیحہ راکشیدہ بعدیا قبل دباغت میفروشند اوقاتش ازیں شغل بسر مےشود علمائے چند دریں دیار گویند کہ انتفاع ازچرم غیر الله جائز نیست اگرچہ بروقت ذبح بسم الله خواندہ شود وبعضے گویند کہ بلاشبہ جائز ست زیراکہ غیر الله مثل مردار ست چوں پوست مردار ازدباغت پاك شودچرم غیر الله نیز ازدباغت شود ایں چنین بحث وتکرار ہنوزپایان نرسید لہذا بخدمت اقدس حضرت عرض اینست کہ خریدوفروخت قبل یابعد دباغت پوست ذبیحہ غیر الله درست ست یانہ مع دلیل بحوالہ کتاب رقم درزیدہ ودستخط بالمہر عنایت سازند وعندالله اجر جزیل وصول نمایند۔
حضرت قبلہ مولانا فاضل مجھ پر آپ کی مہربانی ہوگی آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ میرے علاقہ میں شاہ کمال کے نام سے ایك درگاہ شریف ہے وہاں دور دور سے لوگ آکر نذر ونیاز کے طور پر گائے یا بکری لاکر بسم الله پڑھ کر ذبح کرتے ہیں وہاں کے خادم ذبح کرنے کے فورا بعد اس کا چمڑا اتارتے ہیں اور رنگنے سے قبل یا بعد فروخت کرتے ہیں اورر اس سے ان کی گزراوقات ہوتی ہے۔ اس علاقہ کے کچھ مولوی حضرات کہتے ہیں کہ غیر الله کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز نہیں ہے اگرچہ ذبح کے وقت الله تعالی کا نام پڑھا جائے اور بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ بلاشبہ جائز ہے کیونکہ اگر یہ جانور مردار کی طرح حرام بھی ہو تو اس کا چمڑا (دباغت) رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ یہی بحث وتکرار جاری ہے لہذا آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ غیر الله کے ذبیحہ کا چمڑا رنگنے سے پہلے یا بعد فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں دلیل اور حوالہ کتاب لکھیں اور دستخط ومہر لگائیں اور الله کے ہاں بھاری اجر حاصل کریں۔
آں چرمہا بنفس ذبح پاك میشودہیچ حاجت دباغت ندار د خرید وفروخت واستعمال آنہما مطلقا رواست مسلمانان۱ جانوران کہ برائے اولیائے کرام قدست اسرار ہم ذبح میکنندز نہار عبادت غیر نمی خواہند ایں بدگما نی شدید ست وبدگمانی
ازطریق اسلامی بعید قال الله تعالی یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث درمختار فرمود انالانسی الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بھذا النحر و ردالمحتار ست ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۔
باز اگر گیرم کہ بعض آرند گان جہاں ہمچنان خواشند اگر ذابح برائے۲ خدا ذبح کردونام اوعزو علاگرفت حلال شد کہ اعتبار نیت وقول ذابح راست کما حققناہ فی رسالتنا الصغیرۃ حجما الکبیرۃ یہ چمڑے صرف ذبح کرنے سے ہی پاك ہوجاتے ہیں خریدوفروخت یا دیگر استعمال کیلئے رنگنا ضروری نہیں ہے مسلمان جن جانوروں کو اولیاء الله کیلئے ذبح کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد یانیت ہرگز غیر الله کی عبادت نہیں ہوتی یہ بہت بڑا بہتان ہے جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اور اسلام میں بدگمانی ناجائز ہے۔ الله تعالی نے فرمایا اے مومنو! بدگمانی سے بچو اور بدگمانی گناہ ہے۔ اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ جھوٹی بات ہے۔ اور درمختار میں فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی نہیں کرسکتے وہ اس ذبح سے غیر الله کے تقرب اور عبادت کی نیت کرتا ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ عبادت کے بارے میں گمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اس گمان سے مسلمانوں کو کافر بنانا ہے اور مسلمان سے یہ بات بعید ہے۔ اور اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ ہے تو بھی جب ذبح کرنے والے نے اس پر الله تعالی کا نام پڑھ لیا تو وہ جانور حلال ہوجاتا ہے کیونکہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قول کا اعتبار ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے
جامع للبخاری باب قول &الله€ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی من الوصایا قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۳۸۴
الدرالمختار کتاب الذبائح مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۰
ردالمحتار کتاب الذبائح مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۱۸
ازانچہ برآں نام خدا گرفتہ شدہ است۔ واگرازیں ہم گزریم وفرض کنیم کہ ذابح معاذ الله بہ نیت عبادت غیر کشت ومرتد گشت تاازینہم آنچہ لازم آید حرمت ذبیحہ است نہ نجاست پوست کہ نزد امام قاضی خان مذہب(۱) ارجح آنست کہ ذبح مطلقا تطہیر جلد میکند اگرچہ ذابح مرتد یا مجوسی باشد۔ دربحرالرائق ست قد قدمنا عن معراج الدرایۃ معزیا المجتبی ان ذبیحۃ المجوسی وتارك التسمیۃ عمدا توجب الطھارۃ علی الاصح وان لم یکن ماکولا وکذا نقل صاحب المعراج فی ھذہ المسئلۃ الطھارۃ عن القنیۃ ایضا ھنا ویدل علی ان ھذا ھو الاصح ان صاحب النھایۃ ذکر ھذا الشرط بقیل معزیا الی فتاوی قاضی خان
درفتاوائے امام اجل قاضی خان فخرالدین او زجندی ست مایطھر جلدہ بالدباغ یطھر لحمہ بالذکاۃ ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالی وقیل یجوز بشرط ان تکون الذکاۃ من اھلھا فی محلھا
اس کو ایك چھوٹے رسالے میں ثابت کیا ہے اگرچہ وہ رسالہ فائدہ میں ان شاء الله بڑا ہے اس کا نام “ سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء “ ہے الله تعالی نے قرآن پاك میں فرمایا ہے تمہیں کیا ہوا کہ جس پر الله تعالی کا نام ذکر کیا گیا تم اس کو نہیں کھاتے۔ اس کو بھی اگر چھوڑیں اور ہم فرض کرلیں کہ معاذالله کہ ذبح کرنے والے نے غیر الله کی عبادت کی نیت سے جانور کو کاٹا اور وہ مرتد ہوگیا تب بھی جانور حرام ہوگا مگر اس کا چمڑا نجس نہ ہوگا امام قاضی خان کے نزدیك راجح بات یہی ہے کہ ذبح مطلقا چمڑے کو پاك کردیتا ہے خواہ ذبح کرنے والا مرتد یا مجوسی ہو۔ بحرالرائق میں ہے کہ مجتبی کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہم نے معراج الدرایہ سے پہلے نقل کیا ہے کہ مجوسی یا قصدا بسم الله نہ پڑھنے والے کا ذبیحہ بھی پاك ہے اگرچہ وہ کھانے کیلئے حرام ہے یہی صحیح ہے نیز صاحب معراج نے بھی اس مسئلہ کو قنیہ سے نقل کیا اور کہا کہ پاك ہے۔ اس کے اصح ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ صاحب نہایہ نے اس شرط کو قیل کے ساتھ ذکر کیا اور اس کو قاضی خان کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور امام اجل قاضی خان فخرالدین اوزجندی کے فتاوی میں ہے کہ وہ جانور جس کا چمڑا رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے ذبح کرنے سے اس کا گوشت پاك ہوجاتا ہے اس کو
بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۶
اقول : فافادبحکم المقابلۃ ان الذکاۃ فی القول الاول مطلقۃ ولوغیر شرعیۃ والمسألۃ فی اللحم تدل علی حکم الجلد بالاولی ففیہ ترجیحان لعدم اشتراط الشرعیۃ الاول ماذکر من ذکرہ القول الثانی بقیل والثانی انہ قدم الاول وھو انما یقدم الاظھر الاشھر کمانص علیہ فی خطبتہ فیکون ھو المعتمد کمافی الطحطاوی والشامی۔ اماقول الدر ھل یشترط لطھارۃ جلدہ کون ذکاتہ شرعیۃ قیل نعم وقیل لا والاول اظھر لان ذبح المجوسی وتارك التسمیۃ عمدا کلا ذبح اھ فاقول نعم ذلك فی حق الحل اماطھارۃ الجلد فلا تتوقف علیہ وانما ھی لان الذبح یعمل عمل الدباغ فی ازالۃ الرطوبات النجسۃ کما فی الھدایۃ بل لانہ یمنع من اتصالھا بہ والدباغ مزیل بعد الاتصال ولما کان الدباغ بعد الاتصال مزیلا ومطھرا
شمس الدین حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا بشرطیکہ ذبح کا عمل اپنے محل میں اہلیت والے شخص سے صادر ہو اور بسم الله بھی پڑھی ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ حکم مقابلالہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہلے قول میں ذبح عام ہے خواہ غیر شرعی ہو اور گوشت کے حکم سے چمڑے کا حکم بطریق اولی معلوم ہوا یہاں ذبح کیلئے شرع کی شرط نہ ہونے پر دو ترجیحات ہیں اول یہ کہ دوسرے قول کو قیل کے ساتھ ذکر کرنا اور دوسری یہ کہ پہلے قول کو مقدم ذکر کرنا کیونکہ وہ مشہور اور واضح قول کو پہلے لاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود یہ بات اپنے خطبہ میں کہی ہے لہذا یہ پہلا قول قابل اعتماد ہے جیسا کہ طحطاوی اور شامی میں ہے۔ (ت)لیکن درمختار کا یہ قول کہ کیا چمڑے کے پاك ہونے کیلئے شرعی ذبح شرط ہے بعض نے کہا کہ ہاں اور بعض نے کہا نہیں۔ اور اول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ مجوسی اور بسم الله کو قصدا چھوڑنے والے کا ذبح کالعدم ہوتا ہے میں کہتا ہوں کہ ہاں حلال ہونے کے معاملہ میں تو ایسے ہے لیکن چمڑے کے پاك ہونے کا حکم اس پر موقوف نہیں ہے اور یہ اس لئے کہ ذبح کرنے والا اپنے عمل میں دباغ کا عمل کرتا ہے کہ وہ نجس رطوبات کو نکال دیتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے بلالکہ ذبح کا عمل چمڑے سے ناپاك رطوبتیں لگنے سے منع کرتا ہے
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
العنایۃ مع الفتح القدیر مطبوعہ سکھّر ۱ / ۸۳
واگر ازینہم گرزیم وگیریم کہ ذابح معاذ الله مرتد شدوذبیحہ بجمیع اجزائہا نجس گشت بریں تقدیر نیز دباغت راموجب طہارت ندانستن جہل عظیم وباطل باجماع ائمہ ماست
فقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم ایما اھاب دبغ فقد طھر والله تعالی اعلم۔
جبکہ دباغت کا عمل ناپاك رطوبتوں کو لگنے کے بعد زائل کرتا ہے اور دباغت جوکہ رطوبات کو لگنے کے بعد زائل کرتی ہے سے چمڑا پاك ہوجاتا ہے تو ذبح سے بطریق اولی پاك ہوگا کیونکہ وہ رطوبات کو چمڑے کے ساتھ لگنے سے روك دیتا ہے جیسا کہ عنایہ میں ہے اور بلاشبہ یہ چیز ہر ذبح میں پائی جاتی ہے جیسا کہ ہر دباغت سے پاك ہوجاتا ہے خواہ مجوسی ہی دباغت کرے لہذا ظاہر حکم و ہی ہے جس کو قاضی خان نے بیان کیا ہے اس کو محفوظ کرو۔ ہوسکتا ہے جس قول کی تصحیح تنویر در اور قنیہ نے کی وہ بھی قیاس کے موافق اور قواعد کے مطابق ہو۔ اسی کو اکمل کمال اور ابن کمال نے عنایہ فتح اور ایضاح میں اختیار کیا ہے۔ حاصل یہ کہ صحیح شدہ یہ دونوں قول ہیں ایك قیاس وقاعدہ کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا آسانی کا باعث ہے اپنے طور پر جسے چاہو پسند کرو مگر احتیاط بہتر ہے۔ (ت)
اور اگر ہم اس کو بھی درگزر کریں اور تسلیم کرلیں کہ ذابح معاذ الله مرتد ہے اور ذبیحہ کے چمڑے سمیت تمام اجزاء ناپاك ہیں تب بھی دباغت کے عمل سے چمڑے کو پاك نہ ماننا جہالت ہے اور باطل ہے کیونکہ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے اور خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر چمڑا رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
__________________
مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس بیروت ۱ / ۲۱۹
مسئلہ ۶۶ : از خیر آباد مرسلہ مولوی سید حسین بخش صاحب رضوی یکم ربیع الاول ۱۳۰۶ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گرگٹ چاہ افتادہ ہو اس کا پانی کس قدر نکالا جائے اور گرگٹ کس جانور کے برابر ہوسکتا ہے اگرچہ جثہ میں چھپکلی سے زیادہ اور خون رکھتا ہے بحوالہ کتاب ارشاد ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
گرگٹ چوہے کے حکم میں ہے اگر کنویں سے مردہ نکلے اور پھولا پھٹانہ ہو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے فتاوی خانیہ وفتاوی ہندیہ وغیرہما میں ہے :
اذا وقع فی البئر سام ابرص ومات ینزح منھا عشرون دلوافی ظاھر الروایۃ ۔
ظاہر روایت یہ ہے کہ اگر گرگٹ کنویں میں گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے۔ (ت)
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح میں شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں : مابین الفارۃ والھرۃ فحکمہ حکم الفارۃ الخ (چوہے اور بلی کے درمیانی جانور سب کا حکم چوہے جیسا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دلو وسط کی مقدار کیا ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
کنویں میں جب کوئی چیز گرجائے اور شرع مطہر کچھ ڈول نکالنے کا حکم دے جہاں متون متاخرین میں لفظ دلو وسط واقع ہوا یعنی مثلا چوہا گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول متوسط نکالے جائیں اس ڈول کی تعیین میں بھی اقوال مختلفہ ہیں کہ سات۷ تك پہنچتے ہیں مگر ظاہر الروایۃ ومختار۱ امام قاضی خان وصاحب۲ محیط ومصنف۳ اختیار ومولف۴ ہدایہ وغیرہم اکابر علماء یہی ہے کہ ہر کنویں کے لئے اسی کا ڈول معتبر ہوگا جس سے اس کا پانی بھرا جاتا ہے ہاں
عـــــہ : یہ فتوی فتاوی قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنف نے اپنے صغر سن میں لکھے ۱۲ (م)
مراقی الفلاح مسائل الاٰبار بولاق مصر ص۲۲
فی ردالمحتار عن شرح درر البحار اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراھم مائتان وستون درھما وبالاستار اربعون والاستار بکسرا لھمزۃ بالدراھم ستۃ ونصف وبالمثاقیل اربعۃ ونصف اھ
اقول : والدرھم المذکور ھھنا غیر الدرھم الشرعی المعتبر بوزن سبع کما یشھد بذلك جعلہ الاستار بالدراھم ستۃ ونصفا وبالمثاقیل اربعۃ ونصفا اذلوکان بوزن سبع لکانت اربعۃ مثاقیل ونصف بالدراھم ستۃ وثلثۃ اسباع لانصفا وایضا لوکان المن ۲۶۰ درھما بوزن سبعۃ لکان من المثاقیل مع انہ بحساب الاستار المذکور مائۃ وثمانون کمالایخفی علی المحاسب۔
ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے منقول ہے معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار۴ مد اور مد دو۲ رطل اور رطل نصف من اور من کا وزن دوسوساٹھ۲۶۰ درہم اور من استار کے حساب سے چالیس۴۰ استار کا ہوتا ہے اور استار کا وزن دراہم کے حساب سے ساڑھے چھ درہم اور مثاقیل کے حساب سے ساڑھے چار مثقال ہوتا ہے۔ اھ (ت)
میں کہتا ہوں کہ یہاں جس درہم کا ذکر کیا گیا ہے وہ شرعی درہم نہیں جس میں سات کا وزن معتبر ہے (یعنی دس درہم بمقابلالہ سات مثقال) اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے استار کے حساب میں ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) مثقال کو ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) دراہم کے برابر ذکر کیا ہے اور اگر سات کا وزن مراد ہوتا تو پھر ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) مثقال کے برابر ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) کی بجائے چھ دراہم اور ایك درہم کے تین ساتویں حصے (۷ / ۳ -۶) کہا جاتا نیز اگر من دوسوساٹھ۲۶۰ دراہم کا سات کے وزن پر ہوتا تو ایك سو بیاسی۱۸۲ مثقال من کی مقدار میں بیان کیا جاتا حالانکہ انہوں نے ایك سو بیاسی۱۸۲ مثقال کی بجائے ایك سو اسی۱۸۰ مثقال کہا جو کہ حساب دان پر مخفی نہیں۔ (ت)
ردالمحتار مطلب فی تحریر الصاع من الزکاۃ مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۳
مذکور وضاحت سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی نے اپنی مذکورہ بالا عبارت کے بعد جہاں یہ فرمایا کہ “ جاننا چاہئے کہ شرعی درہم چودہ قیراط کا ہوتا ہے حالانکہ اب سولہ قیراط والا متعارف ہوا پس جب صاع کو ایك ہزار چالیس (۱۰۴۰) شرعی دراہم کا قرار دیا جائے تو متعارف درہم کے حساب سے صاع نوسودس (۹۱۰) دراہم کا ہوگا “ الخ۔ اس میں علامہ نے دونوں اصطلاحوں میں خلط کردیا ہے کیونکہ صاع کا حساب ایك ہزار چالیس (۱۰۴۰) دراہم اس وزن سے بنتا ہے جس کو علامہ شامی نے خود اوپر یہاں ذکر کیا ہے کیونکہ جب صاع آٹھ رطل اور رطل بیس۲۰ استار اور استار اس درہم کے حساب سے ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) درہم بنتا ہے تو جب بیس۲۰ کو ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) میں ضرب دیں تو رطل ایك سو تیس(۱۳۰) درہم کا ہوگا جب اس کو آٹھ سے ضرب دیں تو ایك ہزار چالیس(۱۰۴۰) بنے اور جو درہم چودہ قیراط ہے وہ شرعی ہے جس میں سات والا وزن معتبر ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ لہذا تم سمجھو اور دراہم کا حساب چھوڑ کر مثاقیل کے حساب کا اعتبار کرو جو مختلف نہیں ہوتا۔ پس مثقال ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) ماشہ جبکہ استار ایك تولہ آٹھ ماشے دو۲ رتی ہوگا۔ اس طرح رطل تینتیس (۳۳) تولہ نوماشہ ہوگا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور الله تعالی سے ہی توفیق ہے۔ (ت)
اور یہ تفصیل کہ ہر کنویں کیلئے اسی کا ڈول معتبر رکھیں اور نہ ہو تو ایك صاع والا ڈول یہ گویا ان دونوں معتبر قولوں کی جمع وتوفیق اور قول فیصل ہے اور یہی فتاوی خلاصہ(۱) وشرح(۲) طحاوی وسراج(۳) سے ظاہر اور صاحب
فی الخانیۃ اذا وجب نزح بعض الماء بعدد من الدلاء فالمعتبر فی ذلك دلوھذہ البئر وفی (۲) الھدایۃ ثم المعتبر فی کل بئر دلوھا الذی یستقی بہ منھا وقیل دلویسع فیہ صاع وفی الخلاصۃ المعتبر فی کل بئر دلوھا فان لم یکن لتلك البئر دلوح ینزح بدلو یسع فیہ الصاع وھو ثمانیۃ ارطال وعن ابی حنیفۃ خمسۃ امناء وفی (۴) البحر الرائق واختلف فی تفسیر الدلو الوسط فقیل ھی الدلو المستعملۃ فی کل بلد وقیل المعتبر فی کل بئر دلوھا لان السلف لما اطلقوا انصرف الی المعتاد واختارہ فی المحیط والاختیار والھدایۃ وغیرھا وھو ظاھر الروایۃ لانہ مذکور فی الکافی للحاکم وقیل مایسع صاعا وھو ثمانیۃ ارطال وقیل عشرۃ ارطال وقیل غیر ذلک۔
خانیہ میں ہے کہ جب کنویں سے چند ڈول کے حساب کچھ پانی نکالا ہو تو اس کنویں کا ڈول معتبر ہوگا۔ اور ہدایہ میں ہے پھر ہر کنویں میں اس کا وہی ڈول معتبر ہوگا جس سے پانی نکالا جاتا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ایك صاع کی گنجائش والا معتبر ہے۔ اور خلاصہ میں ہے کہ ہر کنویں میں اس کا اپنا ڈول معتبر ہے اور اگر اس کا اپنا ڈول نہ ہو تو اس وقت اس کا پانی ایسے ڈول کے ساتھ نکالا جائے جس میں ایك صاع کی گنجائش ہو اور صاع آٹھ رطل ہے اور امام ابوحنیفہ سے پانچ من (دس رطل) کی روایت ہے۔ اور بحرالرائق میں ہے کہ درمیانے ڈول کی تعیین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہر علاقے میں وہاں کا مستعمل ڈول ہے اور بعض نے ہر کنویں میں استعمال ہونےوالا ڈول مراد لیا ہے کیونکہ اسلاف جب کسی چیز کو مطلق بولتے ہیں تو اس سے زیر عادت چیز مراد ہوتی ہے اسی کو محیط اختیار اور ہدایہ وغیرہا میں پسند کیا گیا ہے اور یہی ظاہر روایت ہے کیونکہ امام حاکم کی کتاب “ کافی “ میں یہی مذکور ہے۔ بعض نے درمیانہ ڈول ایك صاع کی گنجائش والے کو قرار دیا ایك صاع کے بارے میں بعض نے آٹھ رطل اور بعض نے دس رطل کہا ہے اس کے علاوہ اور بھی قول ہیں۔ (ت)
الہدایۃ فصل فی البئر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی مسائل البئر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
اور ظاہر یہ ہے کہ کنویں کا اپنا ڈول ہوگا یا نہیں اگر اپنا ڈول ہو تو وہی معتبر ہوگا ورنہ پھر ایك صاع والا ڈول بنوایا جائے گا اور یہ خلاصہ شرح طحاوی سراج وہاج کی عبارات سے ظاہر ہے اس صورت میں جنہوں نے ڈول کا اندازہ بیان کیا یہ اس وقت ہوگا جب کنویں کا اپنا ڈول نہ ہو جیسا کہ مخفی نہیں
اور درمختار میں ہے درمیانہ ڈول کنویں کا ڈول ہے اور اگر اس کا ڈول نہ ہو تو پھر ایك صاع والا ڈول ہوگا۔ اور فتاوی شامی میں ہے کہ ماتن کے قول اگر نہ ہو کا مطلب یہ اگر کنویں کا اپنا ڈول ہو تو وہی معتبر ہے اور اگر نہ ہو تو ایك صاع والا ڈول معتبر ہے۔ اس تفصیل کو بحر میں ذکر کیا ہے اور کہا کہ یہ خلاصہ شرح طحاوی اور سراج کے مضمون سے ظاہر ہوا۔ (ت)اس مقام میں بحث اور کلام ہے جس کا کچھ حصہ علامہ ابن عابدین (شامی) نے اس حاشیہ میں ذکر کیا ہے ہم نے مقصد کے حاصل ہوجانے پر طوالت کے خوف سے اس بحث کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف الفاظ سے ہے والله تعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ ۶۸ : ۲۸ رمضان ۱۳۰۵ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کنویں میں سے گائے یا بھینس کا پٹھا نکلا جو بندش کے کام میں آتا ہے نہیں معلوم کسی آدمی سے گرایا جانور نے ڈال دیا ثابت ہے گلا سڑا نہیں اس میں کنویں کیلئے کیا حکم ہے طاہر ہے یا نجس بینوا توجروا۔
الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
ردالمحتار فصل فی البئر مصفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
طاہر ہے مطلقا اگرچہ گل گیا ہو
فی التنویر شعرالمیتۃ وعظمھا وعصبھا طاھر اھ ملتقطا
اقول : وھذا فی العصب علی المشھورکما فی الدروکذا علی خلافہ اعنی روایۃ نجاسۃ عصب المیتۃ اذلا علم بان الواقع فی البئر ھو عصب المیتۃ دون المذبوح والیقین لایزول بالشك والله تعالی اعلم۔
تنویر میں ہے کہ مردار کی ہڈی بال اور پٹھے پاك ہیں اھ ملتقطا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ حکم مردار کے پٹھوں کے بارے میں مشہور قول پر مبنی ہے جیسا کہ در میں ہے اور اگر اس کے خلاف کا لحاظ کیا جائے یعنی مردار کے پٹھوں کو نجس والی روایت تو بھی حکم یہی ہوگا (کہ پانی پاك ہوگا) کیونکہ کنویں سے نکلنے والے پٹھے کے بارے میں معلوم نہیں کہ مردار کا ہے یا ذبح شدہ جانور کا ہے تو یہ شك یقین کو زائل نہیں کرے گا والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۶۹ : چہ میفر مایند علمائے دین ومفتیان شرع متین ایك ہندو نے ایك چیز ناپاك سے کنویں کو ناپاك کردیا یعنی نال بچہ آدمی کا کنویں میں ڈال دیا اور بدون معلوم ناپاکی کے دو تین روز مسلمانوں اور ہندؤوں نے پانی اس کنویں کا پیا اور کھانے پکانے کے صرف میں لائے تو اس صورت میں ان لوگوں کے ایمان میں کچھ خلل ہوا یا نہیں اور ڈالنے والے کے واسطے کیا سزا ہے اور پینے والے لوگ کس طرح طاہر ہوں اور کنواں کس طرح پر پاك کیا جائے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں بعد نکالنے نجاست کے سب پانی اس کنویں کا نکال ڈالیں اور اگر نال کے کنویں میں گرنے کا وقت معلوم ہوکہ اس نے فلاں روز فلاں وقت ڈالا تو اس وقت سے کنواں ناپاك قرار پائے گا اور اس مدت میں جن شخصوں نے اس سے وضو کیا وہ اپنے اعضائے وضو اور جو نہائے ہوں وہ تمام بدن پاك کریں اور اتنے دنوں کی نمازیں پھیریں اور جن کپڑوں کو وضو کرتے میں یا کسی طرح وہ پانی درم برابر جگہ میں لگ گیا ہو وہ پاك کئے جائیں اور اس پانی سے جو کھانا پکایا گیا اس کا بقیہ کتوں کو ڈال دیں اور برتن پاك کریں اور جن لوگوں نے اتنے دنوں نادانستہ وہ پانی پیا اور اس سے کھانا پکا کر کھایا ان پر کوئی گناہ نہیں نہ ان کے ایمان میں خلل آیا۔ یہ سب باتیں اس صورت میں ہیں کہ اس کے گرنے کا دن اور وقت معلوم ہو اور جو یہ امر متحقق نہ ہوسکے تو کنواں اسی وقت سے ناپاك ٹھہرے گا جب سے وہ نال اس میں دیکھا گیا اس سے پہلے کے وضو اور غسل اور نمازیں سب درست
غنیۃ المستملی فصل فی البئر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۰
مسئلہ ۷۰ : یکم رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کنویں میں پھکنا گر گیا اس وقت اس میں پیشاب نہ تھا بلالکہ بچے اس میں پھونك رہے تھے ان کے ہاتھ سے گر گیا یہ معلوم نہیں کہ گائے کا ہے یا بھینس کا پھکنا نکال لیا گیا اب کنویں کی نسبت کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
کنواں پاك ہے کہ مذبوح جانور ماکول اللحم کا پھکنا بالاتفاق اپنی ذات میں تو کوئی نجاست نہیں رکھتا
فی الدرالمختار کل اھاب ومثلہ المثانۃ والکرش دبغ طھر وفی التنویر وماطھر بہ طھر بذ کا ۃ ۔
درمختار میں ہے ہر چمڑہ اور ایسے ہی مثانہ اور گردے جب رنگ دیے جائیں تو پاك ہوجاتے ہیں اور تنویر میں ہے جو اس طرح پاك ہوجاتے وہ ذبح سے بھی پاك ہوجاتے ہیں۔ (ت)
یہاں اگر ذبح ہونا معلوم نہیں تو مردار سے ہونا بھی معلوم نہیں
والیقین لایزول بالشك اقول والمحل محل الطھارۃ والنجاسۃ دون الحل والحرمۃ فافھم۔
اور یقین شك کی وجہ سے زائل جنہیں ہوتا میں کہتا ہوں اور یہ محل طہارت ہے اور نجاست حلال وحرام کا محل نہیں ہے فافہم (ت)
رہا یہ کہ اس میں پیشاب ہوتا ہے اور عادۃ اسے پاك کرنے کے طور پر دھویا نہیں جاتا تو اس کے باطن میں وہ رطوبت بدستور لگی رہی یہ یہاں کچھ مضر نہیں کہ پھکنا معدن بول ہے اور نجاست جب تك اپنے معدن میں ہو اسے حکم نجاست نہیں دیا جاتا اس کے جوف میں کوئی ناپاك شے نہ تھی۔ غنیہ میں ہے :
(۱) السخلۃ اذا وقعت من امھا رطبۃ فی الماء لاتفسدہ کذا فی کتب الفتاوی
بکری کا بچہ اگر پیدا ہوتے ہی پانی میں گر جائے تو پانی نجس نہ ہوگا۔ کتب فتاوی میں ایسے ہی ہے
غنیۃ المستملی فصلی فی البئر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۰
ثم اقول : (۲) ولی فیہ نظر فان جلد السخلۃ لیس محل تلك الرطوبۃ بل رحم امھا ومنھا اصابتہ ثم (۳) یعکر علی حکم ھذہ المسألۃ ومسألۃ المثانۃ وامثالھما انھا لیست نجسۃ مادامت فیھا فاذا انتقلت صارت نجسۃ والماء اذا اصابھا اودخلھا فلاشك ان الرطوبۃ تنتقل منھا الیہ فکیف لایحکم بنجاسۃ لاختلاطہ بماھو نجس الان وان لم یکن محکوما بالنجاسۃ قبل الاتری ان (۴) دم الشھید طاھر مادام علیہ فتجوز صلاۃ حاملہ لکن ان اصابہ اوثوبہ قدر مانع من دمہ لم تجز لحصول الانفصال والانتقال کذا ھذا فھذا مایقتضیہ النظر ولکن الحکم دوار فی الفتاوی ولم ارمن تعرض لہ فتأمل وحرر لعل الله یحدث بعد ذلك امرا۔ والله تعالی اعلم۔
یہ اس لئے کہ بچے پر جو رطوبت ہے وہ ناپاك نہیں کیونکہ ابھی تك یہ نجاست اپنے محل میں ہے اھ میں کہتا ہوں کہ اس عبارت کا مقصد صرف علت کیلئے مفید امر پر استشہاد پیش کرنا ہے لیکن اصل مسئلہ صاحبین کے اس قول پر مبنی ہے کہ فرج (شرمگاہ) کی رطوبت نجس ہے مگر امام صاحب اور ایك روایت میں صاحبین کے نزدیك یہ رطوبت پاك ہے۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں کہ مجھے یہاں اعتراض ہے کیونکہ بکری کے بچے کی کھال اس رطوبت کا محل نہیں ہے بلالکہ اس کا محل تو اس کی ماں کا رحم ہے وہاں سے بچے کو رطوبت لگی ہے پھر دوبارہ اعتراض اس مسئلہ سمیت مثانہ وغیرہ کے مسئلہ پر ہے کہ یہ اس وقت تك نجس نہ ہوں گے جب تك یہ اپنے مقام میں ہیں لیکن جب وہاں سے منتقل ہوجائیں تو نجس ہوجائینگے اور ان کو پانی لگے یا اس میں پانی داخل ہو تو لازما ان کی رطوبت پانی میں منتقل ہوگی تو پھر کیسے پانی کو پاك کہا جاسکتا ہے جبکہ اب ناپاك چیز مل چکی ہے اگرچہ قبل ازیں اسی چیز پر ناپاکی کا حکم نہ تھا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ شہید کا خون جب تك اس پر ہے پاك ہے لہذا اس کو اٹھانے والے کی نماز جائز ہوگی لیکن جب یہ خون اٹھانے والے کے بدن یا کپڑے کو اتنی مقدار میں لگ جائے جو نماز کے لئے مانع ہو تو نماز جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ خون شہید سے جدا ہوکر دوسری جگہ منتقل ہوگیا ہے
مسئلہ ۷۱ : جناب مولوی صاحب۔ السلام علیکم۔ غوطہ خور ہندو تھا اور سب کپڑے اتار کر اس نے ایك چھوٹا سا کپڑا جو اسی کے استعمال میں رہتا ہے باندھ کر ایك ڈول اس کنویں کے پانی کا جس میں وہ جوتی نکالنے کو گیا تھا بلا ادائے ارکان غسل ڈال لیا تھا پس وہ کنویں میں گھس کر جوتی نکال لایا اور ایك جوتی پہلے کی بھی جو خدا جانے کب گری تھی وہ بھی نکلی جو گل سڑ گئی تھی ایسی حالت میں کتنے ڈول پانی کنویں میں سے نکلوانا چاہئے بعد گرنے جوتی کے اگر اس کنویں کا پانی ظروف گلی مثل سبو وغیرہ میں غلطی سے بھرا گیا تو ظروف قابل استعمال رہے یا نجس ہوگئے فقط والسلام۔
الجواب :
عنایت فرمائے من وعلیکم السلام اگر یقینا معلوم تھا کہ اس ہندو کے بدن یا کپڑے یا اس جوتے پر نجاست تھی تو کنویں کا سب پانی نکلوائیں اور مٹی کے جو برتن چکنے استعمالی ہوں تین بار یوں ہی دھوئیں ورنہ ہر بار سکھا سکھا کر اور خشك ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ کو تر کرے اور اگر ان چیزوں میں کسی کا نجس ہونا یقینا معلوم نہیں جب بھی احتیاطی حکم یہی ہے کہ سب پانی نکالیں اس لئے کہ کافر غالبا نجاست سے خالی نہیں ہوتا ہاں اگر بدن پاك کرکے خوب نہا کر پاك کپڑا باندھ کر جائے تو سب پانی کی حاجت نہیں جوتے کی نامعلوم حالت کے لحاظ سے تطییب قلب کو بیس۲۰ ڈول نکال لیں ردالمحتار میں ہے :
نقل فی الذخیرۃ عن کتاب الصلاۃ للحسن ان الکافر اذا وقع فی البئر وھو حی نزح الماء وفی البدائع انہ روایۃ عن الامام لانہ لایخلو عن نجاسۃ حقیقیۃ اوحکمیۃ حتی لواغتسل فوقع فیھا من ساعتہ لاینزح منھا شیئ اقول ولعل نزحھا للاحتیاط تأمل اھ
امام حسن کی کتاب الصلوۃ سے ذخیرہ میں نقل کیا گیا کہ کافر جب کنویں میں گرجائے اور زندہ ہو تو پانی نکالا جائے گا اور بدائع میں ہے کہ یہ امام صاحب سے مروی ہے۔ کیونکہ کافر عام طور پر نجاست حقیقی یا حکمی سے خالی نہیں ہوتا حتی کہ اگر وہ غسل کے فورا بعد کنویں میں گرا ہو تو کچھ پانی نہیں نکالا جائےگا۔ میں کہتا ہوں کہ کافر کے گرنے سے کنویں کے پانی نکالنے کا حکم احتیاط پر مبنی ہے غور کرو۔ اھ (ت)
(سئل) الامام (الخجندی عن رکیۃ) وھی البئر (وجد فیھا خف) ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات (لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا اھ۔ ملخصا۔
امام خجندی سے ایسے کنویں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں ایساجوتا گرا پایا گیا جس کو پہننے والے نے راستے میں چل پھر کر استعمال کیا ہو (اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کب سے کنویں میں گرا ہے جبکہ اس پر نجاست کا بھی کوئی اثر معلوم نہ ہو۔ تو کیا کنویں کے پانی کو ناپاك قرار دیا جائےگا تو امام خجندی نے فرمایا : نہیں اھ ملخصا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
لو وقعت شاۃ واخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر حتی لولم ینزح وتوضأ منہ جاز وذکر فی الکتاب الاحسن ان ینزح منھا دلاء ولم یقدر وعن محمد رحمہ الله تعالی فی کل موضع ینزح لاینزح اقل من عشرین دلوالان الشرع لم یرد بنزح مادون العشرین اھ۔ والسلام والله تعالی اعلم۔
اگر کنویں میں بکری گر جائے اور زندہ نکال لی جائے تو تسکین قلب کیلئے بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں پاك کرنے کیلئے نہیں حتی کہ اگر کسی نے بیس ڈول نکالے بغیر وضو کرلیا تو جائز ہوگا کتاب میں مذکور ہے کہ بہتر یہ ہے کہ کچھ ڈول نکالے جائیں یہاں تعداد بیان نہیں کی۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے کہ جہاں پر کنویں کو پاك کرنے کی ضرورت ہو تو وہاں بیس۲۰ ڈول سے کم نہ نکالے جائیں کیونکہ شریعت نے بیس۲۰ سے کم ڈول بیان نہیں کئے اھ والسلام والله اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۲ : موضع بکہ جیبی والا علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب الله خان مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳ رمضان ۱۳۱۱ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اگر مسجد کے کنویں سے عورتیں بے پردہ پانی بھر کرلے جایا کریں اس سے وضو کرکے نماز ادا کرنی چاہئے یا نہیں
الجواب :
فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
ردالمحتار میں ہے کہ تاترخانیہ میں ہے کہ جس کو اپنے برتنوں کپڑوں یا بدن پر نجاست ہونے نہ ہونے کا شك ہو تو جب تك یقین نہ ہو جائے اس وقت تك یہ پاك ہوں گے۔ راستوں میں واقع کنوؤں حوضوں اور مٹکوں جن میں سے چھوٹے بڑے مسلمان اور کافر سب پانی حاصل کرتے ہیں کا بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
لہنگے۱ والی عورتوں میں بعض کو یہ خیال ہوتا ہے کہ لہنگے میں میانی نہیں جو موضع بول پر حاجب ہو اور پانی بھرنے میں زور پڑتا ہے احتمال ہے کہ زور کے باعث کوئی قطرہ پیشاب وغیرہ کا ٹپکے اور حاجب نہ ہونے کے سبب کنویں میں جائے مگر یہ احتمالات ہیں شرع میں ان پر بنائے کار نہیں
الا تری ان نساء العرب لم یکن لاکثر ھن سراویل انما کن یأتزرن والمئزر ایضا لا حاجب فیہ ثم قد کن یستقین من الابار من دون نکیر ولا انکار والله تعالی اعلم۔
کیا معلوم نہیں کہ عرب کی اکثر عورتیں شلوار کی بجائے تہبند پہنتی تھیں حالانکہ تہبند میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اس کے باوجود وہ کنوؤں سے پانی نکالتی تھیں جس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۷۳ : ازشہر کہنہ مسئولہ علی حسن خان ۵ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چوبچہ کنویں کے کنارے پر ہے قریب غسل خانہ کے اور اس میں پانی بہنے کیلئے سوراخ بھی ہے غسل خانہ میں لوگ غسل جنابت وپاکی ہر طرح کا کرتے ہیں وضو کا پانی بھی اسی چوبچہ میں جاتا ہے اور سقاوہ کا بھی اور بہشتیوں کے بھرنے کا بھی اور ہر وقت سوراخ سے جاری رہتا ہے خلاصہ یہ کہ جنابت کا پانی کسی وقت اس میں جاتا ہے اور وضو وغیرہ کا ہر وقت جاتا رہتا ہے اس میں ایك پیچك گر کر کنویں میں گری کنواں پاك رہا یا ناپاك اور ایسے چوبچہ کے پانی کا کیا حکم ہے اور ایك ہندو ظاہری پلیدی سے پاك ہے مٹی نکالنے کو کنویں میں گھسا کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ اس چہ بچے میں پانی زیادہ گرتا اور ہر وقت جاری رہتا ہے تو اس کا پانی پاك ہے پیچك کہ اس میں گر کر کنویں میں گری کنواں ناپاك نہ ہوا بلالکہ غسل کا پانی خود بھی پاك ہے جب تك کوئی نجاست نہ دھوئی گئی ہو
مسئلہ ۷۴ : ازشہر کہنہ مرسلہ امجد علی خان وتلن خان ۳ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
جناب مولوی صاحب دام ظلہ۔ بعد سلام نیاز کے عرض ہے کہ اسی مضمون کا ایك سوال کل آپ کے پاس آیا تھا لیکن اس کے لکھنے میں کچھ فروگذاشت ہوگیا تھا اور مفتی سے جو سوال کیا جاتا ہے اس کا جواب دیتا ہے لہذا ہوہو جو حال تھا اس میں لکھ دیا اس کو ملاحظہ کرکے لکھ دیجئے ایك چوبچہ زیر غسل خانہ سواگز طول بارہ گرہ چوڑا بارہ گرہ عمیق ہے اور آٹھ گرہ اونچائی پر اس میں سوراخ لوٹے کی ٹونٹی کے برابر ہے اور چوبچہ میں پانی جنابت اور غیر جنابت غسل کا اور وضو کا اور کنویں پر جو بہشتی بھرتے ہیں ان کا گرا ہوا اور سقاوے میں برائے وضو جو لوٹوں میں بھرتے وقت تھوڑا سا گرتا ہے اور استنجا چھوٹا اور بڑا اور ایسے جنب جن کے نجاست لگی ہو ان کے غسل کا یہ سب پانی چوبچہ میں آتا ہے اور جب آٹھ گرہ سے زیادہ اونچا پانی اس میں ہوجاتا ہے تو نکلنا شروع ہوتا ہے ورنہ اس میں ٹھہرا رہتا ہے اور رنگ بو پانی کا تبدیل نہیں ہوا ہے لیکن اس چوبچہ کے پانی میں بو بھی آتی ہے اور مزہ کسی نے چکھا نہیں ہے تو ان صورتوں میں اس چوبچہ کا پانی پاك ہے یا ناپاك اور پاك ہے تو کس قسم کا اور ایك پیچك اسی چوبچہ میں ڈال کر کنویں میں ڈالی تھی تو کنواں پاك رہا یا ناپاك اور اگر ناپاك ہوا تو کس قدر ڈول نکلیں گے۔
الجواب :
شرع مطہر میں مدار نجاست علم پر ہے اور مدار طہارت نامعلومی نجاست پر۔ جس چیز کی نجاست معلوم نہیں وہ پاك ہے سقا وسقایہ و وضو وغسل بے جنابت وغسل جنابت سب کے پانی پاك ہیں اور استنجا ۱ جب ڈھیلے سے کرلیا جائے تو اصح مذہب پر طہارت ہوجاتی ہے اور اب جو پانی سے استنجا کریں تو وہ ناپاك نہیں ہوتا جبکہ نجاست نے مخرج جسے تجاوز نہ کیا ہو
فان الشرع قداعتبر الاحجار مطھرۃ لما علی المخرج دفعا للحرج علی خلاف القیاس فی سائر البدن کماقررہ فی الحلیۃ من اداب الوضوء فما جاوزہ اعنی المخرج
پاخانہ اور پیشاب کے مقام پر اگر نجاست صرف سوراخ (مخرج) تك محدود ہے تو شریعت نے اس حد تك طہارت کے لئے ڈھیلے کے استعمال کو معتبر قرار دیا ہے شریعت کا یہ حکم خلاف قیاس ہے اس سے
اقول : واخرج الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن خزیمۃ بن ثابت رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من استطاب بثلثۃ احجار لیس فیھن رجیع کن لہ طھور فھذا نص بحمدالله صریح فی المقصود وقد قال العلماء کما فی الغنیۃ وغیرھا انہ لایعدل عن درایۃ ماوافقتھا روایۃ فکیف اذا کان ثم اختلاف تصحیح فعلی ھذا القول فلیکن التعویل وبالله التوفیق۔
مقصد عوام سے حرج وتنگی ختم کرنا ہے جیسا کہ حلیہ کے آداب وضو میں اس کو بیان کیا ہے۔ پس وہ نجاست جو مخرج کی حد سے تجاوز کر جائے وہ ڈھیلے سے پاك نہ ہوگی بلالکہ وہ ڈھیلے کے استعمال سے خشك ہوجائے گی اور جب وہاں پانی لگے گا تو وہ جگہ ناپاك ہوجائے گی باہم مختلف کثیر عبارات کے مطالعہ سے اس ضعیف بندے کو یہی تحقیق حاصل ہوئی ہے جیسا کہ میں نے ردمحتار پر تعلیقات میں ذکر کیا ہے پھر ڈھیلے کا استعمال طہارت کا ذریعہ ہے اس پر فتح القدیر میں اس حدیث کو دلیل بنایا جس کو دارقطنی نے روایت کیا اور اس کو صحیح قرار دیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا اور فرمایا کہ دونوں چیزیں پاك کرنے والی نہیں ہیں بحر میں اس کی اتباع کی اور نہر میں اس کی تائید کی ہے جامع الرموز میں اس کو اصح کہا۔
میں کہتا ہوں طبرانی کبیر میں مصنف نے حسن سند کے ساتھ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جس نے صفائی کیلئے تین ڈھیلے استعمال کئے اور ان میں گوبر نہ ہو تو ان سے طہارت حاصل ہوجائےگی یہ حدیث صریح نص ہے جس میں مقصد واضح ہوتا ہے۔ اور علماء نے فرمایا جیسا کہ غنیہ وغیرہا میں ہے کہ جو استدلال سے ثابت ہو وہ روایت سے ثابت شدہ کے مساوی
المعجم الکبیر عن خزیمۃ بن ثابت حدیث ۳۷۲۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴ / ۸۷
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الثامن تعدیل الارکان سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵
اور غسل خانے میں جو نجاست پیش از غسل دھوئی گئی اگر ابھی اس کا پانی چہ بچہ میں نہ پہنچا تھا کہ اس کے بعد غسل کیا اور یہ کہ پاك پانی اسے بہا کر لے گیا تو زمین بھی پاك ہوگئی اور پانی بھی پاك رہا۔
فی ردالمحتار فی الذخیرۃ لواصابت الارض نجاسۃ فصب علیھا الماء فجری قدر ذراع طھرت الارض والماء طاھر بمنزلۃ الجاری ۔
ردمحتار میں ہے کہ ذخیرہ میں بیان کیا ہے کہ اگر زمین پر نجاست ہو تو جب اس پر پانی بہایا گیا اور وہ پانی ایك ہاتھ گز (ذراع) تك جاری ہوا تو زمین پاك ہوجائےگی اور پانی بھی جاری پانی کی طرح پاك ہوجائےگا۔ (ت)
اور اگر آب نجس چہ بچہ میں پہنچ گیا تھا اس کے بعد پاك پانی غسل و وضو وغیرہما کا بہتا آیا اور اس نے چہ بچہ کو جاری کردیا تو سارا پانی کہ چہ بچہ میں تھا پاك ہوگیا۔
فی ردالمحتار والعرف الان انہ متی کان الماء داخلا من جانب وخارجا من جانب اخر یسمی جاریا وان قل الداخل وبہ یظھر الحکم فی برك المساجد ومغطس الحمام مع انہ لایذھب بتبنۃ ۔
رد محتار میں ہے اور اب عرف یہ ہے کہ اگر پانی ایك جانب سے داخل ہو اور دوسری جانب سے خارج ہو تو اس کو جاری کہتے ہیں اگرچہ داخل ہونے والا قلیل ہو اس سے مسجد کی نالی اور حمام سے نکاسی کا حکم معلوم ہوا اس کے باوجود کہ وہ تنکے کو بہا کر نہیں لے جاتا۔ (ت)
اور پانی میں ٹھہرنے سے بھی بو آجاتی ہے یہ خواہی نخواہی مستلزم نجاست نہیں جب تك نجس چیز کے سبب بو میں تغیر نہ آیا ہو۔ غرض اس چہ بچہ میں اکثر اوقات زیادہ احتمالات طہارت کے ہیں اور بعض وقت ایك احتمال نجاست کا پس اگر ثابت ومتحقق ہو کہ جس وقت پیچك اس میں گری اس سے پہلے کسی شخص نے کوئی نجاست حقیقیہ دھوئی تھی اور تنہا اسی کا پانی چہ بچہ میں آیا ہوا تھا اور اس کے بعد پاك پانی نے آکر اسے بہانہ دیا تھا جب تو اس صورت خاص میں کنویں کی نجاست اور کل پانی نکالنے کا حکم دیا جائے گا اور اگر اس کا ثبوت تحقیقی طور پر نہیں تو چہ بچہ پیچك کنواں سب پاك ہیں احتمال سے کچھ نہیں ہوتا بلالکہ پاکی کیلئے ایك احتمال طہارت کافی ہے نہ کہ جہاں غالب وہی ہو۔
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
رد محتار میں ہے کہ بحر میں کہا ہے کہ ہم نے علم کی قید اس لئے لگائی ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر بھینس وغیرہ کنویں میں گر جائے اور زندہ نکال لی جائے تو کنویں سے پانی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ ظاہر طور ہر بھینس کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھینس کے پاك ہونے کا بھی احتمال ہے وہ یوں کہ ہوسکتا ہے بھینس کنویں میں گرنے سے متصل قبل کثیر پانی میں داخل ہوئی ہو اس کے ساتھ یہ بھی کہ طہارت اصل ہے اھ اور فتح القدیر میں بھی اسی طرح ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۵ : ۲۶ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مرغا اور مرغی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے ان کے نکالنے کو خشك کھانچا جس میں نجاست کا ہونا معلوم نہیں مرغی اس میں بند ہوا کرتی تھی ڈالا گیا اس صورت میں کنویں میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور ان کا نکالنا یا اس کے دام دینا اس شخص پر لازم ہوگا یا نہیں جس کی وہ مرغی ہے حالانکہ مرغی آپ مرغ سے بھاگ کر اس میں گری۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں اور کھانچے میں مرغی کا بند ہوا کرنا اس کی نجاست پر یقین کا موجب نہیں جیسے استعمالی جوتا اور خود جانوروں کے پنجے پاؤں اس کا تاوان اس پر اصلا نہیں جس کی وہ مرغی تھی اگر اس سے جبرا لیا جائے گا ظلم وحرام ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۶ : از در و تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۱۴ رجب ۱۳۱۵ھ
چھپکلی اگر کنویں میں گر کر مرجائے اور پھول یا پھٹ جائے تو کس قدر پانی کنویں سے نکالا جائے گا بینوا توجروا۔
الجواب :
سب کہ اس میں دم سائل ہوتا ہے فقیر نے خود اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا ہے ردالمحتار
قولہ سواکن بیوت ای ممالہ دم سائل کالفارۃ والحیۃ والوزغۃ وتمامہ فی الامداد(۲)۔
سواکن البیوت سے مراد وہ جانور جن میں بہنے والا خون ہو جیسے چوہا سانپ چھپکلی پوری بحث “ الامداد “ میں ہے۔ (ت)
فتاوی امام۳ اجل قاضیخان فصل النجاسۃ التی تصیب الثوب (کپڑے کو لگنے والی نجاست کی فصل۔ ت) میں ہے :
دم الحلمۃ والوزغۃ یفسد الثوب والماء ۔
حلمۃ (ایك قسم کا کیڑا ہے جو چمڑے کو لگ جاتا ہے اور اسے خراب کردیتا ہے) کا خون اور چھپکلی کا خون کپڑے اور پانی کو فاسد کردیتا ہے۔ (ت)
فتاوی (۴) عالمگیریہ میں ہے :
دم الحلمۃ والوزغۃ نجس اذا کان سائلا کذا فی الظھیریۃ(۵) فاذا اصاب الثوب اکثر من قدر الدرھم یمنع جواز الصلاۃ (۶) کذا فی المحیط ۔ اقول : والتقیید بالسیلان علی المعھود من اصلنا ان دم کل دموی لاینجس منہ الاسائلہ ولذا لاینقض دم الانسان وضوء ہ الا اذا کان سائلا۔
حلمۃ کا خون اور چھپکلی کا خون نجس ہے جب وہ بہنے والا ہو ظہیریہ میں ایسے ہے جب کپڑے کو مقدار درہم سے زیادہ لگ جائے تو نماز کے جواز سے مانع ہوگا ایسے محیط میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ خون کے ساتھ بہنے کی قید ہمارے مقررہ قاعدہ پر مبنی ہے کہ ہر خون والے کا صرف بہنے والا خون نجس ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کے وضو کو صرف بہنے والا خون توڑتا ہے۔ (ت)
لاجرم۶ خزانۃ المفتین میں برمز ظ اسی فتاوی ظہیریہ۷ سے ہے :
دم الوزغۃ یفسد الثوب والماء ۔
چھپکلی کا خون کپڑے اور پانی کو فاسد
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ التی تصیب الثوب نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
فتاوٰی ہندیۃ الاعیان النجاسۃ پشاور ۱ / ۴۶
خزانۃ المفتین
فتح۸ القدیر میں ہے :
دم الحلمۃ والاوزاغ نجس اھ۔
اقول : فقد اطلقوا والمراد المراد ولو شك فی دمویتھا لماساغ لھم الاطلاق کالامام فقیہ النفس۔
حلمۃ (ایك قسم کا کیڑا) اور چھپکلیوں کا خون ناپاك ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان فقہاء نے مطلق چھپکلی کو ذکر کیا ہے حالانکہ مراد خاص خون والی ہے اگر اس کے خون کے بارے میں شك ہوتا تو پھر ان کو اطلاق کی گنجائش نہ ہوتی جیسا کہ امام فقیہ النفس نے فرمایا۔ (ت)
فتاوی صاحب۹ بحرالرائق میں ہے :
سئل عن دم الوزغ ھل ھو طاھر ام نجس اجاب ھو نجس والله تعالی اعلم۔
ان سے چھپکلی کے خون کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ پاك ہے یا نجس تو انہوں نے جواب دیا وہ نجس ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مراقی الفلاح ۱۰ میں ہے :
سؤر سواکن البیوت ممالہ دم سائل کالحیۃ والوزغۃ مکروہ للزوم طوافھا وحرمۃ لحمھا النجس اھ۔
بہنے والے خون کے حامل گھروں میں رہنے والے جانوروں جیسے سانپ اور چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے ان کے حرام گوشت کی نجاست اور ان کے لازمی طواف (گھر میں چلنے پھرنے) کی بناء پر یہ حکم ہے۔ (ت)
در ۱۱ میں ہے :
سؤر الو زغۃ مکروہ لان حرمۃ لحمھا او جبت نجاسۃ سؤرھا لکنھا سقطت
چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے کیونکہ اس کے گوشت کی حرمت اس کے جھوٹے کو نجس ثابت کرتی ہے
فتاوٰی ابن نجیم علی حاشیۃ فتاوٰی غیاثیۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۶
مراقی الفلاح مع الطحطاوی بولاق مصر ص۱۹
لیکن نجاست کے وجوب کو طواف کی علت نے ساقط کردیا پس کراہیت باقی ہے۔ (ت)
غنیہ۱۲ ذوی الاحکام میں ہے :
ولھذا اذا ماتت فی الماء نجستہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس لئے جب وہ پانی میں مرجائے تو پانی کو ناپاك کردے گی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۷ : ازمسجد جامع مرسلہ مولوی احسان حسین صاحب ۳۰ صفر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مسلمان غسل اور پارچہ صاف کرکے واسطے نکالنے لوٹے کے کنویں میں داخل ہوا تو آیا اب شرعا بیس۲۰ ڈول نکالنے کا اس کنویں میں سے حکم دیا جائےگا یا نہیں اور فتوی کس پر ہے مع حوالہ کتاب بیان فرمائیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ بدن بھی پاك تھا اور جامہ بھی پاك اور حدث بھی نہ تھا کہ نہالیا تھا اور کنویں میں بھی حدث واقع نہ ہوا نہ اس میں بہ نیت قربت وضو یا غسل تازہ کیا تو اب بالاجماع ایك ڈول نکالنے کی بھی حاجت نہیں کنویں کا پانی بدستور طاہر مطہر ہے۔
فی ردالمحتار الطاھر اذا انغمس لایصیر الماء مستعملا بحر عن الخانیۃ والخلاصۃ اھ مختصرا والله تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے پاك آدمی جب پانی میں غوطہ خوری کرے تو وہ پانی مستعمل نہ ہوگا۔ بحر نے خانیہ اور خلاصہ سے نقل کیا ہے اھ مختصرا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۸ : ۶ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جگہ اہل ہنود کنویں میں اپنے لوٹے ڈالتے ہیں اور پانی بھرتے ہیں اور ان پر کھڑے ہوکر نہاتے ہیں اور اپنی دھوتییں دھوتے ہیں اسی طرح پر تمام چھینٹیں کنویں میں اندر جاتی ہیں ان سب حالات مذکورہ میں پانی کنویں کا پاك ہے یا ناپاک۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
حکم پاکی کا ہے جب تك نجاست یقینا نہ معلوم ہو صرف اس قدر کہ غالبا ان کے برتن کپڑے ناپاک
حاشیہ علی الدرر لمولیٰ خسرو فصل فی بئر دون عشر احمد کامل الکائنہ دار سعادت مصر ۱ / ۲۷
ردالمحتار مسئلۃ البئر حجط مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۸
وقد ذکر المسألۃ فی ردالمحتار فی العبید والکفار وفی نصاب الاحتساب فی خصوص کفرۃ الھند وفصلناھا بمالا مزید علیہ فی رسالتنا الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں یہ مسئلہ غلاموں اور کافروں کے بارے میں اور نصاب الاحتساب میں ہندوستان کے کفار کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ہم نے اس کی مکمل تفصیل اپنے رسالہ “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر “ میں بیان کردی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۹ : ازبزریا عنایت گنج شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اس گھر کی پیڑھی جس میں کہ چھوٹے بچے اور مرغیاں ہیں اور ہر چند کو اس پیڑھی میں کسی طرح کی نجاست ظاہری نہیں لگی ہے مگر ظن غالب ہے کہ اس پر ضرور بچے نے کبھی پیشاب کیا ہو یا مرغیوں کی نجاست اس کے پاؤں میں لگی ہو اگر یہ پیڑھی کنویں میں گر جائے تو پانی کنویں کا پاك رہا یا ناپاك ہوگیا اگر ناپاك ہوگیا تو کس قدر ڈول نکالے جائیں بینوا توجروا۔
الجواب :
پانی پاك ہے جب تك پیڑھی کی نجاست پر یقین نہ ہو صرف بیس۲۰ ڈول نکال لیے جائیں
تطییبا للقلب علی مافی الخانیۃ وغیرھا وذلك لان الیقین لایزول بالشك وقد حققنا المسألۃ فی رسالتنا الا حلی من السکر بمالا مزید علیہ والله تعالی اعلم۔
اطمینان قلب کیلئے جیسا کہ خانیہ وغیرہا میں ہے یہ اس لئے کہ شك کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا اس مسئلہ کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر “ میں بیان کردی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۸۰ : ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایام وبا میں گورنمنٹ کی طرف سے جو دوا کنوؤں میں واسطے
فتاوٰی ہندیۃ الاعیان النجاسۃ پشاور ۱ / ۴۷
الجواب :
جب تك نجاست پر علم نہیں پانی طاہر مطہر ہے نص علیہ فی ردالمحتار وغیرھا والاصل فی الاشیاء الطہارۃ (ردمحتار وغیرہا میں اس کو صراحۃ ذکر کیا ہے اور اشیاء کا اصل حکم طہارت ہے۔ ت) یوں ہی جب تك حرمت پر علم نہیں پانی حلال ومشروب ہے فان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔ (پس بےشك اشیاء میں اصل اباحت ہے والله تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۸۱ : از بریلی محلہ کوہاڑا پیر ۱۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کل تیسرے پہر مسجد کے کنویں پر آیا اور وہ ایك لڑکے غیر نمازی سے صرف یہ کہہ کر چلا گیا کہ یہ کنواں ناپاك ہے چھپکلی نکلی ہے شام کے وقت نمازیوں کو خبر ہوئی اور تحقیق کیلئے اس شخص کو تلاش کیا لیکن پتا نہیں چلا اور نہ چھپکلی کنویں کے پاس پڑی ہوئی نظر آئی جس سے اس کی حالت معلوم ہوتی۔ اب ایسی صورت میں وہ کنواں پاك ہے یا ناپاك اور ناپاك ہے تو کس قدر ڈول نکالنا چاہئے اور مسجد کے سقاوے میں جو ایك روز قبل کا پانی بھرا ہوا ہے اس سے نمازیوں نے مطلع ہوجانے پر وضو کیا اور نماز پڑھی اس کا کیا حکم ہے اور کسی وقت کی نماز لوٹائی جائے یا نہیں۔
الجواب :
جبکہ اس شخص کا نہ حال معلوم نہ پتا چلا اور اس سے ناقل صرف ایك لڑکا نابالغ یا بالغ بے نماز ہے نہ کنویں میں کوئی آثار نجاست معلوم ہوئے تو ایسی صورت میں حکم نجاست نہیں ہوسکتا کنواں بھی پاك سقایہ بھی پاك نمازیں بھی ٹھیک۔ اگر دل کا شبہ مٹادینا چاہیں تو صرف بیس۲۰ ڈول نکال دیں کافی ہے والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲ : از پیلی بھیت مسجد جامع مرسلہ حافظ شوکت علی صاحب ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود اپنے برتن سے بھریں مرد وعورت دونوں ان کا بھرنا پانی کا نمازی کی طہارت کو نقصان لائے گا یا نہیں جو شخص اس کو
قاعدہ سادسۃ من القواعد الاشباہ والنظائر سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
الجواب :
اگرچہ نجاست جب تك یقینا نہ معلوم ہو طہارت ہی مانتے ہیں مگر شك نہیں کہ ہنود کے برتن بدن سب نجاستوں پر مشتمل ہوتے ہیں جس قوم کے یہاں خود نجاست مطہر اور پاك کرنے والی مانی گئی ہو اور بچھیا کے موت گوبر کو پبتر کہیں یعنی پاك کرنے والا ان کی طہارت کی کیا ٹھیك ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ مسجد کا کنواں ان کے تصرف سے دور رہے جو شخص بلاضرورت شرعیہ مسلمانوں کا خلاف کرتا اور ان کے مقابل ہنود کو قوت دیتا ہے سخت خطرناك حالت میں ہے اور عالم۱ دین کی توہین کو ائمہ نے کفر لکھا ہے۔ مجمع الانہر میں ہے : الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر (صحیح العقیدہ سنی علماء اور اشراف کی توہین کفر ہے) ایسے شخص پر توبہ فرض ہے اگر نہ مانے اور اصرار کرے تو اس کے پیچھے ہرگز نماز نہ پڑھی جائے والله تعالی اعلم وعلمہ اتم۔
مسئلہ ۸۳ : از اڈیشنل منصفی اعظم گڈھ مرسلہ نبی حسن خان صاحب ۸ شوال ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك کنویں میں سے ایك کتا نکلا اور وہ مرا ہوا تھا یہ نہیں معلوم کہ کب گر گیا تھا اس کا پانی عدم واقفیت کی وجہ سے استعمال میں آتا رہا جس صبح کو وہ کتا برآمد ہوا اس سے قبل اس پانی سے سر دھویا یا فورا چادر سے اس کو پونچھ کر ترکی ٹوپی اوڑھی اس وقت سر میں نمی موجود تھی پانی کا کچھ نہ کچھ اثر ٹوپی میں ضرور پہنچا ہوگا اس حالت میں ٹوپی پاك رہی یا کہ ناپاک اور اس کنویں سے کتنا پانی نکالا جائے۔
الجواب :
کل پانی نکالا جائے جبکہ سر پونچھ ڈالا تھا تو ٹوپی ناپاك نہ ہوئی صرف نم باقی رہنا ناپاك کرنے کو کافی نہیں جب تك اتنی تری نہ ہو کہ نچوڑے سے بوند ٹپکے کماصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ منھا الدر وغیرہ (جیسا کہ معتبر کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے ان میں سے در وغیرہ بھی ہیں۔ ت) اور صاحبین کے قول پر تو کنویں کی ناپاکی کا اسی وقت سے حکم دیا جاتا ہے جب سے کوئی نجاست اس میں گرنا معلوم ہو اس سے
مسئلہ ۸۴ : از چتور گڈھ اودےپور میواڑ مرسلہ مولوی قاضی اسمعیل محمد صاحب امام مسجد چھیپاں ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں میں(جوکہ دہ در دہ نہیں ہے) ایك شخص کا مستعملہ جوتا پڑ گیا گرے ہوئے جوتے پر نجاست کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم نہیں مگر اس شخص کا باقیماندہ دوسرا جوتا اسی وقت دیکھا گیا تو اس پر نجاست کا اثر نہیں تھا کتب موجودہ درمختار علمگیریہ کبیری شرح منیۃ المصلی وغیرہا کتب فقہ میں دیکھا گیا تو بظاہر کوئی حکم صورت مسئولہ میں نہیں پایا گیا البتہ ایك عالم رکن الدین صاحب ساکن الور نے اپنے رسالہ رکن دین میں بلاحوالہ کتاب بایں عبارت کہ کنویں میں اگر جوتی گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے کیونکہ جوتی مستعملہ میں نجاست کا لگا رہنا یقینی ہے اور یہاں عام بلوی بھی نہیں کہ جس سے بچاؤ مشکل ہو چونکہ غایۃ الاوطار شرح درمختار میں ہے پس ان اقوال سے سخت حیرانی ہے کہ کون سا مسئلہ صحیح سمجھاجاوے آیا کنویں کا سارا پانی نکالا جائے یا پانی پاك سمجھا جائے امید کہ جواب اس کا مفصل بحوالہ کتب فقہ جلد تحریر فرمائیں کہ شرع شریف کے حکم پر عمل کیا جائے نمازیوں کو سخت تکلیف ہے۔ فقط
الجواب :
جبکہ اس کی نجاست معلوم نہیں پانی ناپاك نہ ہوا فان الیقین لایزول بالشك (شك کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے :
سئل الامام الخجندی رحمہ الله تعالی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف اونعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۔
امام خجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے ایسے کنویں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کوئی ایسا موزہ یا چپل گرا ہوا پایا گیا جو گلی کوچے میں پہن کر چلنے میں استعمال ہوا ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کنویں میں کب گرا اور اس پر نجاست کا اثر نہ ہو کیا پانی کے نجس ہونے کا حکم دیا جائےگا آپ نے فرمایا :
نہیں۔
حدیقۃ ندیۃ الصنف الثانی من الصنفین من الطہارۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۷۴
لووقعت الشاۃ حیۃ ینزح عشرون دلوالتسکین القلب لالتطھیر حتی لولم ینزح ویتوضأ جاز ۔
اگر زندہ بکری کنویں میں گری (اور زندہ نکال لی) تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں تاکہ اطمینان قلب ہوجائے کنویں کو پاك کرنے کی غرض نہیں حتی کہ اگر کوئی ڈول بھی نہ نکالا تو بھی وضو جائز ہے۔ (ت)
باقی ظنون کا جواب اور ایسے تمام مسائل کی تحقیق فقیر کے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵ : ازموضع منصور پور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر اشخاص کو دیکھا جاتا ہے کہ کنویں سے پانی کا ڈول نکال کر پانی صرف کے لائق لیتے ہیں باقیماندہ پانی کنویں میں لوٹ دیا کرتے ہیں اس کیلئے کیا حکم ہے۔
الجواب :
عاقل بالغ شخص اگر ایسا کرے کوئی حرج نہیں کہ پانی جب اس نے بھر کر باہر نکال لیا اس کی ملك ہوگیا جب اس نے باقی کنویں میں ڈال دیا تو اسے مسلمانوں کیلئے مباح کردیا اور عاقل بالغ اپنے مال کو مباح کرسکتا ہے ہاں مجنون اور نابالغ میں دقت ہے اس کی تحقیق عــہ ہماری تعلیقات علی ردالمحتار
میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۶ : از سیتاپور کوٹھی حضرت سید محمد صادق صاحب وکیل مرحوم مرسلہ صاحبزادہ صاحب مولانا مولوی حضرت سید محمد میاں صاحب زیدت مکارمہم ۴ رمضان ۱۳۳۲ھ
مولانا صاحب معظم ومکرم دام مجدہم۔ پس ازاہدائے سلام مسنون۔ صورت یہ ہے کہ گھر کے چاہ میں
عــہ اور اس کی تحقیق تام اور تفصیل کامل رسالہ عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی مندرجہ رسالہ النور والنو رق میں گزری۔ (م)
الجواب :
حضرت صاحبزادہ والا دامت برکاتہم۔ تسلیم مع التکریم۔ مخبر غیر ثقہ جس نے وہ گھڑا ڈالنے کی خبر دی اگر قلب پر اس کی بات نہ جمتی ہو اس بیان میں اس کی کوئی مصلحت ہو یا اتنا لاابالی ہوکہ محض بے سبب ایسے امور میں غلط باتیں کہتا ہو جب تو کنویں کی نجاست ہی کا حکم نہیں اور اگر تحری سے اس کی بات قلب پر جمےتو حکم تطہیر ہے مگر تطہیر بئر میں موالات شرط نہیں اعتبار اس کنویں کے ڈول کا ہے مگر یہاں کہ نزح کل منظور ہے عددا لحاظ دلو کیا ضرور ہے ہاں نصف ڈول نہ بھرنے میں اتنے بڑے ڈول کا اس ڈول سے ڈھائی گنا ہے۔ نہ بھرنا کافی نہ ہوگا جبکہ اس کنویں کے ڈول کا نصف یا ایسے ڈول کا جس میں ایك صاع ماش آئے بھرسکتا ہو مگر اس سے پہلے جو سو پچاس ڈول نکالے گئے تھے۔ وہ غالبا اس کمی کے پورا کرنے کو کافی بلالکہ زائد ہوں پھر یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ جمیع مافیہ وقت وقوع النجاسۃ کا اعتبار ہے جبکہ بوجہ قرب نہر پانی اس کنویں میں ہر وقت آتا رہتا ہے تو ختم پر جو زیادت رہی وہ اگر تازہ آئی ہوئی ہے ملحوظ نہیں مثلا مافیہ وقت الوقوع ہزار ڈول تھے ہزار نکال
مسئلہ ۸۷ : از بریلی محلہ خواب قطب مرسلہ محمد ابراہیم ۲۱ عیدالفطر ۱۳۳۲ھ
ایك چاہ پختہ جس کا قطر تین ہاتھ ہے اور جس میں اس وقت ۱۴ فٹ پانی موجود ہے اس میں ایك چوہا جو
عــہ فان قلت الیس (۱) ان القلیل عفو بلافرق بین البعر والروث والخثی والرطب والیابس والصحیح والمنکسر والفلاۃ والمصر ومالھا حاجز من البئر ومالاکل ذلك علی الصحیح المعتمد ولاشك ان مالصق من الخثی بالجرۃ قلیل فلا یحتاج الی التطھیر اصلا اقول : ھذا الحکم معلل بالضرورۃ فی التبیین لافرق بین الرطب والیابس والصحیح والمنکسر والبعر والخثی والروث بشمول الضرورۃ اھ وفی الفتح ھو الاوجہ لان الضرورۃ تشمل الکل اھ وفی التاترخانیۃ لوفیہ ضرورۃ وبلوی لاینجس والانجس اھ (۲) والضرورۃ فی الوقوع لا فی الالقاء قصدا قال فی ردالمحتار اذا رماہ فی الماء قصدا فانہ لاضرورۃ فی ذلك لکونہ بفعلہ اھ ولاشك ان الادلاء من الالقاء فینجس لاسیما فی ابار فی دور السلمین والمستقون من الکفرۃ لھم خادمون کما فی صورۃ السؤال والله تعالی اعلم۔ (م)
اگر یہ سوال ہو کہ مینگنی گوبر لید خشك ہو یا نہ ثابت ہو یا ریزہ ریزہ کنویں میں قلیل مقدار میں گر جائے کہ کنواں جنگل میں ہو یا شہر میں کنویں پر ڈھکنا ہویا نہ ہو تو وہ معاف ہے کنواں ناپاك نہ ہوگا اور بےشك گھڑے پر جو گوبر لگا ہے وہ قلیل ہوگا تو اس کے پاك کرنے کی اصلا حاجت نہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں کہ یہ حکم ضرورت کی بنا پر ہے تبیین میں ہے مینگنی گوبر لید خشك ہو یا تر ثابت ہو یا ریزہ ریزہ کنویں میں گر جائے تو بشمول ضرورت کوئی حرج نہیں ہے اھ اور فتح میں ہے یہی اوجہ ہے کیونکہ ضرورت سب کو شامل ہے اھ اور تاتارخانیہ میں ہے اگر اس میں ضرورت اور بلوی ہو تو نجس نہ ہوگا ورنہ نجس ہوگا اھ اور ضرورت نجاست کے خود بخود واقع ہونے میں ہے قصدا ڈالنے میں نہیں ردالمحتار میں فرمایا کہ جب اس نے نجس کو پانی میں قصدا پھینکا ہو تو ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ تو اس کا اپنا فعل ہے اھ اور بے شك ڈول کو اگر لٹکا کر ڈالا گیا تو کنواں نجس ہوجائےگا خاص طور پر وہ کنویں جو مسلمانوں کے شہروں میں ہوں اور مسلمانوں کو پانی پلانے والے ان کے خادم کافر ہوں جیسا کہ سوال کی صورت میں ہے والله تعالی اعلم (ت)
فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ۱ / ۸۷
الفتاوی التاتارخانیہ ، کتاب الطھارۃ ۱ / ۱۹۲
رد المحتار
الجواب :
کل پانی کا حکم ہے جتنا نجاست نکلنے کے وقت اس میں تھا دوسو۲۰۰ تین سو۳۰۰ کا تخمینہ بغداد مقدس کے کنوؤں کیلئے تھا اس میں ہزار ڈول پانی یا زائد ہوگا تین سو۳۰۰ سے کل کا حکم کیسے پورا ہوسکتا ہے سو۱۰۰ پچاس۵۰ ڈول پانی کھینچ کر پھرنا پا جائے کہ کتنا گھٹا اسی نسبت سے ڈول نکال لیے جائیں مثلا پچاس ڈول میں ایك فٹ گھٹا اور ۱۴ فٹ تھا تو ساڑھے چھ سو ڈول اور نکال لیے جائیں اور اگر کنویں۲ میں پانی کی آمد جلد نہیں تو اتنے ڈولوں کے بعد کہ اس میں نصف ڈول نہ بھر سکے گا اسے کہیں گے کہ پانی ٹوٹ گیا اور اگر آمد۳ جلد ہو تو جتنے ڈول حساب سے اس وقت تھے اتنے نکالنے پر کنواں پاك ہوجائےگا اگرچہ پھر اتنا ہی پانی اس میں موجود ہو اسے کہیں گے کہ پانی کل نکل گیا یعنی اس وقت موجود تھا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے ایك چاہ پختہ میں ایك نل پانی سے چار ہاتھ گہرا بائیس۲۲ ہاتھ کھڑا لگایا جس سے پانی بلندی پر لے گیا پانی جو نل کے ذریعہ سے پہنچا وہ اس پانی کے نجس ہونے سے جو پہلے سے چاہ مذکور میں تھا نجس ہوگا یا نہیں اور اس میں کمی و زیادتی گہرائی کا لحاظ ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو کیا مقدار ہوگی اور اسی طرح نل میں نجاست کے پڑنے سے سوائے نل کے جو پانی چاہ میں ہے نجس ہوگا یا نہیں ۔
الجواب :
پانی نہایت نفاذ ہے ولہذا ۴ شرع میں حکم ہے کہ جو شخص زمین افتادہ میں باذن سلطان کنواں کھودے اس کے چاروں طرف چالیس چالیس ہاتھ تك دوسرے کو کنواں کھودنے کی اجازت نہ دی جائے گی کہ اول کا پانی اس طرف کھنچ کر کم نہ ہوجائے۔ درمختار میں ہے :
حریم بئر اربعون ذراعا من کل جانب اذا حفرھا فی موات باذن الامام ۔
کنویں کا محفوظ دائرہ (حریم) چالیس ہاتھ (گز) ہر جانب سے ہوگا جب اسے غیر آباد زمین میں حکومت کی
ردالمحتار میں ہے :
المقصود من الحریم دفع الضرر کی لایحفر بحریمہ احد بئرا اخری فيتحول الیھا ماء بئرہ ۔
حریم کا مقصد کنویں کو نقصان سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ کوئی شخص کنویں کے دائرے (حریم) میں دوسرا کنواں کھود کر اپنے کنویں کی طرف پھیرنے سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ (ت)
کنویں کے۱ قریب نجس چہ بچہ کا ہونا اسے نجس کردیتا ہے بعض نے کہا پانچ ہاتھ سے کم تك بعض نے سات ہاتھ سے کم تک اور صحیح یہ ہے کہ جتنی دور سے نجاست کا اثر ظاہر ہو نجس کردے گا اگرچہ بیس۲۰ ہاتھ کے فاصلہ سے
درمختار میں ہے :
البعد بین البئر والبالوعۃ بقدر مالایظھر للنجس اثر ۔
کنویں اور نجس چہ بچہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ نجاست کا اثر کنویں میں ظاہر نہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی الخلاصۃ والخانیۃ والتعویل علیہ وصححہ فی المحیط بحر ۔
خلاصہ اور خانیہ کے حوالے سے ہے اسی پر اعتماد ہے اور محیط میں اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے بحر۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی روایۃ خمسۃ اذرع وفی روایۃ سبعۃ والحاصل انہ یختلف برخاوۃ الارض وصلابتھا ومن قدرہ اعتبر حال ارضہ ۔
اس میں پانچ ہاتھ اور سات ہاتھ کی روایتیں بھی ہیں الحاصل یہ فاصلہ زمین کی نرمی اور سختی اور اس کی مقدار کے لحاظ سے مقرر کیا جائیگا۔ (ت)
جب پانی بلامنفذ صرف مسام کے ذریعہ سے ایسی سرایت کرتا ہے تو جہاں نل لگے گا ضرور منفذ
الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر / ۱۶۳
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۲۔ ۱۶۳
مسئلہ ۸۹ : مسئولہ مولوی عبدالشکور ارکانی ۶ شوال ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کنویں میں سے کوئی جانور مردہ سڑا ہوا نکل آئے تو اس کنویں کے پانی کا کیا حکم ہے۔
الجواب :
اگر جانور میں دم سائل نہ تھا جیسے مینڈک بچھو مکھی بھڑ وغیرہ تو پاك ہے اور اگر دم سائل تھا تو ناپاك ہے کل پانی نکالیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۰ : از شہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل ۱۶ شوال شنبہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر رافضی نمازی کنویں میں گھسے تو پانی کنویں کا نکالا جاوے یا نہیں اور رافضی کے یہاں حقہ پینا چاہئے یا نہیں اگر پی لیا تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
رافضی۱ کے یہاں کچھ کھانا پینا نہ چاہئے وہ اہل سنت کو قصدا نجاست کھلانے کی کوشش کرتے ہیں سنیوں کے کنویں میں بھی اگر جائیگا تو پاخانہ نہ ہو تو پیشاب کر ہی دے گا احتراز ضرور ہے اور احتیاط اس میں ہے کہ ایسا ہوا تو کل پانی نکال دیا جاوے کماھو حکم کل کافر صرح بہ فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن کتاب الصلاۃ والله تعالی اعلم (جیسا کہ ہر کافر کا حکم ہے ذخیرہ کی کتاب الصلوۃ سے ردالمحتار نے نقل کرتے ہوئے اس کی تصریح کی ہے۔ ت)
مسئلہ۹۱ : از ضلع آرہ ڈاك خانہ وقصبہ رانی ساگر مسئولہ محمد یوسف بروز شنبہ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
ایك کنویں میں خنزیر گر گیا زندہ نکالا گیا اور وہ کنواں بہت بڑا ہے جس میں اندازا بارہ گز پانی ہے کس قدر پانی نکالنے سے پاك ہوگا۔
الجواب :
اس کے نکالنے کے وقت جتنا پانی کنویں میں تھا اس سب کا نکل جانا ضرور ہے اور خنزیر کے مردہ زندہ میں کچھ
مسئلہ ۹۲ : ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے یا بکری کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے تو کنواں پاك بتاتے ہیں تسکین قلب کیلئے دس بیس ڈول کا حکم اور بات ہے حالانکہ یقینا اس کے کھر اور پاؤں کا زیریں حصہ پیشاب وغیرہ میں روز آلودہ ہوا کرتا ہے تو حکم طہارت کس بنا پر ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اسی بنا پر سیدنا امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماسے ایك روایت نادرہ آئی کہ گائے بکری کے گرنے سے کنواں مطلقا ناپاك ہوجائیگا اگرچہ زندہ نکل آئیں اور اسی کو حاوی قدسی میں اختیار کیا۔ بدائع میں ہے :
روی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف فی البقر والابل انہ ینجس الماء لانھا تبول بین افخاذھا فلا تخلو عن البول ۔
گائے اور اونٹ کے بارے میں امام ابوحنیفہ اور ابویوسف رحمہم اللہ تعالیسے روایت ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا کیونکہ یہ جانور اپنی رانوں کے درمیان پیشاب گراتے ہیں جس کی وجہ سے رانیں پیشاب سے محفوظ نہیں رہتی ہیں۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
وعلی ما عن ابی حنیفۃ من ھذا الحکم المذکور مشی الحاوی القدسی ۔
اس مذکور حکم کے بارے میں امام صاحب کی روایت کی بنا پر حاوی قدسی اس پر چلے۔ (ت)
مگر مذہب صحیح ومشہور ومعتمد ومنصور یہی ہے کہ جب تك ان کے بدن پر کسی نجاست کا ہونا یقینا نہ معلوم ہو کنواں پاك رہے گا خانیہ وہندیہ میں ہے :
وقعت شاۃ وخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر حتی لولم ینزح وتوضأ جاز ۔
اگر کنویں میں بکری گری اور زندہ نکلی تو اطمینان قلبی کیلئے بیس ڈول نکالے جائیں پاك کرنے کیلئے نہیں حتی کہ اگر یہ ڈول نہ نکالے تو بھی وضو جائز ہوگا۔ (ت)
حلیہ
فتاوٰی قاضی خان فصل مایقع فی البئر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
ان وقع نحو شاۃ واخرج حیا فالصحیح انہ اذالم یکن فی بدنہ نجاسۃ فالماء طاھر اھ مختصرا۔
اگر بکری جیسا کوئی جانور گرا اور زندہ نکال لیا گیا تو صحیح مذہب یہ ہے کہ اگر اس کے بدن پر نجاست نہ ہو تو کنویں کا پانی پاك ہے اھ مختصرا۔ (ت)
امام محقق علی الاطلاق نے اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ اگرچہ امر مذکور ظاہر ہے مگر احتمال ہے کہ کنویں میں گرنے سے پہلے آب کثیر میں گزری ہوں کہ بدن پاك ہوگیا ہو فتح القدیر میں ہے :
الحاصل المخرج حیا ان کان نجس العین اوفی بدنہ نجاسۃ معلومۃ نزحت کلھا وانما قلنا معلومۃ لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طھارتھا بان سقطت(عہ) عقیب دخولھا ماء کثیرا ھذا مع الاصل وھو الطہارۃ تظافر علی عدم النزح والله سبحنہ و تعالی اعلم۔
الحاصل کنویں سے نکلا ہوا جانور اگر زندہ ہو اگر وہ نجس العین (خنزیر) ہو یا اس کے بدن پر نجاست کا علم ہو تو کنویں کا سارا پانی نکالا جائیگا ہم نے نجاست کے علم کی بات اس لئے کی ہے کہ فقہاء نے گائے وغیرہ کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ زندہ نکال لی جائے تو کنویں سے کچھ پانی نکالنا ضروری نہیں اگرچہ ان جانوروں کی رانوں کا پیشاب سے ملوث ہونا ظاہر بات ہے لیکن ان کے پاك ہونے کا پھر بھی احتمال ہوسکتا
عــہ قال فی المنحۃ قولہ بان سقطت ای النجاسۃ وضمیر دخولھا للبقر وماء بالنصب مفعول دخول اھ اقول بل ضمیر سقطت ایضا للبقر والمعنی سقطت فی البئر بعد دخولھا الماء الکثیر ولو کان کمافھم لقال بدخولھا مع مافيہ من تفکیك الضمائر من دون حاجۃ اھ منہ (م)
منحہ میں کہا ہے کہ “ سقطت “ کی ضمیر نجاست اور “ دخولھا “ کی ضمیر “ بقر “ کیلئے ہے اور “ ماء “ پر نصب “ دخول “ کا مفعول ہونے کی بنا پر ہے اھ میں کہتا ہوں بلالکہ سقطت کی ضمیر بھی بقر کیلئے ہے اور معنی یہ ہوا کہ گائے یا بھینس کثیر پانی میں داخل ہونے کے بعد کنویں میں گری اور اگر ایسے ہوتا جیسے انہوں (صاحب منحہ) نے سمجھا تو پھر بدخولھا کہتا حالانکہ ایسے ضمیروں کا اختلاف ہے جوکہ بلاوجہ ہے اھ منہ (ت)
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۷
ہے کہ جانور پیشاب کرنے کے بعد کثیر پانی میں داخل ہونے کے بعد کنویں میں گرے ہوں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ طہارت اصل ہے یہ دونوں چیزیں کنویں سے کچھ پانی نہ نکالنے کو واضح کرتی ہیں والله تعالی اعلم اور کہا گیا ہے کہ بکری کے گرنے پر کنویں کا سارا پانی نکالا جائے حالانکہ یہ قواعد سے بعید ہے جب تك یقینی طور اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو جیسے ہم نے بیان کیا ہے۔ (ت)
حلیہ وبحر وغیرہما میں اس پر ان کی تبعیت کی۔ : اقول : مگر لاکھوں ۱ جانور کہ گھروں میں بندھے کھاتے ہیں ان میں اس احتمال کی کیا گنجائش اور حکم بلاشبہ عام ہے______ تو دوسری توجیہ ضرور درکار والله الھادی وولی الایادی (الله تعالی ہادی اور مددگار ہے۔ ت) خاطر فقیر غفرلہ المولی القدیر میں مدت سے یہ خطور کرتا تھا یہاں جفاف وانتشار سبب طہارت ہوں یعنی جس۲ طرح زمین پر پیشاب پڑا اور خشك ہوگیا کہ اثر باقی نہ رہا زمین نماز کیلئے پاك ہوگئی اگرچہ اس سے تیمم نہیں ہوسکتا یوں ہی۳ ان کے بدن پر ان کا پیشاب لگ کر خشك ہونے کے بعد بدن پاك ہوجاتا ہے نیز۴ جس طرح جوتے میں کوئی جرم دار نجاست لگی اور چلنے میں ریت مٹی سے خشك ہوکر جھڑ گئی جوتا پاك ہوگیا یوں ہی جب۵ ان کی مینگنی گوبر بدن پر لگ کر خشك ہوکر لیٹنے لوٹنے بدن کھجانے سے جھڑ گئی بدن پاك ہوگیا مگر اس پر جرأت نہ کرتا تھا یہاں تك کہ بفضلہ تعالی فتاوی غیاثیہ میں اسکی تصریح دیکھی
حیث قال سئل ابونصر رحمہ الله تعالی من (۶) یغسل الدابۃ فيصیبہ من مائھا (۷) اوعرقھا قال لایضرہ قیل لہ فان کانت تمرغت فی روثھا وبولھا قال اذا جف وتناثر وذھب عینہ فلایضرہ فعلی عــہ ھذا
جہاں انہوں نے کہا ابونصر رحمۃ اللہ تعالی علیہسے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو جانور کو نہلا رہا ہو اور اس کو جانور کا پانی یا پسینہ لگ جائے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ کوئی ضرر نہیں اس پر یہ پوچھا گیا کہ اگر وہ جانور گوبر اور پیشاب سے ملوث ہو تو۔ جواب
عــــہ : اقول : وکذا ان علم نجاسۃ الذنب ومر علی الماء بحیث اذھب النجس فضرب بذنبہ بعد ذلك لایضرہ مااصابہ من بلله ۱۲منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں اسی طرح اگر گھوڑے کی دم پر نجاست کا علم ہو اور پانی میں گزرنے کی وجہ سے دم کی نجاست ختم ہوگئی ہو تو اس صورت میں سوار کو دم مارنے کی وجہ سے جو تری لگی وہ مضر نہ ہوگی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں انہوں نے کہا جب (جانور کے بدن) پر سے گوبر وغیرہ خشك ہوکر جھڑ جائے اور بدن اس سے صاف ہوجائے تو کوئی حرج نہیں اس بناء پر گھوڑے کے پانی میں گزرنے اور اس کی دم تر ہوجانے کے بعد اگر گھوڑے نے اپنی دم سوار کو ماردی تو کوئی ضرر اور حرج نہیں ہونا چاہئے۔ (ت)
پھر بحمدالله تعالی اس کی تائید بدائع امام ملك العلماء میں دیکھی کہ بکری۲ کا بچہ اسی وقت پیدا ہوا جب تك اس کا بدن رطوبت رحم سے گیلا ہے ناپاك ہے خشك ہوکر پاك ہوجائے گا یعنی صاحبین کے طور پر جن کے نزدیك رطوبت فرج نجس ہے ورنہ امام کے نزدیك وہ بحال تری پاك ہے
وھذا نصہ لوسقطت السخلۃ من امھا وھی مبتلۃ فھی نجسۃ حتی لوحملھا الراعی فاصاب عــہ بللھا الثوب اکثر من قدر الدرھم منع جواز الصلاۃ ولووقعت فی الماء فی ذلك الوقت افسدت الماء واذا یبست فقد ھرت ۔
اس کی عبارت یہ ہے جب بکری کا بچہ پیدا ہو اور وہ ابھی (رحم کی رطوبت) سے تر ہو تو ناپاك ہوگا حتی کہ اگر اس کو چرواہے نے اٹھا لیا اور اس بچے کی تری کپڑے کو لگ گئی تو اس کپڑے سے نماز جائز نہ ہوگی جبکہ کپڑے کو لگنے والی تری مقدار درہم سے زیادہ ہو اور اگر اس حالت میں بچہ پانی میں گرا تو پانی بھی ناپاك ہوجائیگا اور اگر وہ بچہ خشك ہوگیا تو پھر پاك ہے۔ (ت)
یہ ہے بحمدالله تعالی جوا ب شافی ولاحاجۃ بعدہ الی ماکنت وجھت بہ فی الاحلی من السکر
عــہ اقول فيہ نظر فالسخلۃ حین تقع من امھالا تستمسك بنفسھا فيکون عندھما حاملا للنجاسۃ وان لم یصب ثوبہ ولابدنہ منہ شیئ الا ان یقال ان الرطوبۃ مادامت علی السخلۃ فی معدنھا وقد اسلفنا ردہ فی مسألۃ المثانۃ تقع فی البئر منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں یہ قابل غور ہے بکری کا بچہ جب پیدا ہوتے گرا تو صاحبین رحمہم اللہ تعالیکے نزدیك بچے کے بدن پر نجاست ہے تو حامل نجاست ہونے کی وجہ سے اس کو اٹھانے والے کی نماز نہ ہوگی اگرچہ وہ رطوبت اٹھانے والے کے کپڑے یا بدن کو نہ لگی ہو مگر یہ کہا جاسکتا ہےکہ جب تك رطوبت بچے کے بدن پر ہے وہ اپنے معدن میں ہے حالانکہ اس بات کا ردہم مثانہ کے کنویں میں گرنے کے مسئلہ میں کرچکے ہیں۔ (ت)
بدائع الصنائع امابیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجسًا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۶
مسئلہ ۹۳ : از شہر بریلی مسئولہ نظیر احمد محلہ لودہی ٹوکہ شہر کہنہ بروز شنبہ ۲۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
اگر ناپاك کنویں سے کپڑا دھویا جائے یا نہایا جائے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ناپاك ہے تو اب جب معلوم ہوا کپڑے کو کیا کرے اور جو نہایا وہ بھی کیا کرے اور اگر اس پانی سے کھانا پکایا جائے تو اس کھانے کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کھانا پاك ہے یا ناپاک۔
الجواب :
کپڑے پاك کیے جائیں نہایا وضو کیا یا ہاتھ دھوئے غرض جتنے بدن کو پانی لگا اسے پاك کیا جائے کھانا کتوں کو ڈال دیا جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴ : از امر تسر تحصیل امرتسر ڈاك خانہ خاص وڈالہ ومرم مسئولہ شمس الدین صاحب ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۴ھ
حامی حمایت دین مفتی شرع مجتبی مولنا احمد رضا خان صاحب مدظل فيوضاتہ آپ اس مسئلہ کو کامل وجہ سے تحریر فرمائیں کہ ایك چاہ جس کا پانی تمام نکالنا دشوار ہے جب وہ ایسا ناپاك ہوجائے جس سے اس کا تمام پانی نکالنے کا حکم ہے یعنی وہ چشمہ دار ہے تو مثلا زید کہتا ہے کہ اس کا تمام پانی تین روز میں نکالا جائے اور ایك کہتا ہے کہ جب بقول مفتی بہ تین سو ڈول سے چاہ چشمہ دار پاك ہوسکتا ہے تو تین روز میں پانی نکالنے میں ایك تو وقفہ درمیان واقع ہوتا ہے اور دوم تکلیف مالایطاق ہے غرضکہ جس قدر ڈول نکالنے کا حکم ہے اگر اس میں وقفہ واقع ہو یعنی پانی حرکت سے ٹھہر جائے تو وہ ڈول کشیدہ محسوب ہوں گے یا نہیں وہ شخص باوجود جہالت کے قول مفتی بہ کا خلاف کرتا ہے وہ مستحق فتوی دینے کا ہے یا نہیں۔
الجواب :
جبکہ کنواں چشمہ دار ہے اس میں پانی پیمائش سے دریافت کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اور اس کا یہ آسان طریقہ ہے کہ رسی میں کوئی پتھر باندھ کر کنویں میں اس طرح چھوڑیں کہ رسی میں خم نہ آئے جس وقت پتھر تہ تك پہنچ جائے معا ہاتھ روك لیں پھر جس قدر رسی پانی میں بھیگی اسے ناپ لیں اور مثلا چار شخص پچیس۲۵ پچیس۲۵ ڈول جلد کھینچیں پھر اسی طرح ناپیں فرض کرو کہ ان سو۱۰۰ ڈولوں کے سبب ایك ہاتھ پانی کم ہوگیا اور پیمائش میں مثلا دس ۱۰ ہاتھ آیا نوسو۹۰۰ ڈول اور نکال لیں سو۱۰۰ وہ مل کر دس ہاتھ ہوجائیں گے پانی نکالنے میں صحیح مذہب یہی ہے کہ پے درپے ہونا ضرور نہیں اگر ایك ڈول روزانہ کرکے نکالیں جب تعداد مطلوب پوری ہوجائے گی کنواں پاك ہوجائے گا
مسئلہ ۹۵ : مرسلہ ملا محمد اسمعیل قصبہ کپاس محلہ مومناں علاقہ اودے پور ۲۱ صفر ۱۳۳۵ھ
چاہ چشمہ دار ہو اس میں چڑیا یا چوہا پڑ کر مرجائے اور پھول پھٹ جائے اور ریزہ ریزہ ہوجائے اس میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور ڈول کس قدر وزن پانی کا ہو۔ چڑیا۲ یا چوہا یا آدمی بے وضو یا بے غسل یا بے نمازی کنویں میں گر جائے اور زندہ نکل آئے تو کنویں کا پانی تمام نکالنا یا کس قدر ڈول نکالنا درست ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
کل۱ پانی نکالا جائے جتنے ڈول اس میں ہیں یا تو دو ثقہ مبصر جو پانی میں نگاہ رکھتے ہیں اندازہ کرکے بتائیں کہ اس میں اتنے ڈول پانی ہے اس قدر نکال دیں پاك ہوجائے گا اگرچہ نیا پانی برابر آتا رہے یا رسی میں پتھر باندھ کر کنویں میں اس طرح ڈالیں کہ رسی میں خم نہ آئے جب تہ کو پہنچ جائے نکال کر جتنی بھیگی ہو ناپ لیں اور مثلا سو۱۰۰ ڈول بتعجیل نکالیں اس کے بعد پھر رسی ڈال کر ناپیں سو ڈول میں جتنا گھٹا اسی کے حساب سے نکال لیں مثلا پہلی پیمائش میں پانی دس۱۰ ہاتھ تھا دوسری میں نو۹ ہاتھ رہا تو معلوم ہوا کہ سو۱۰۰ ڈول میں ایك ہاتھ گھٹتا ہے دس۱۰ ہاتھ پر ہزار ڈول چاہئے تھے سو نکل گئے نوسو۹۰۰ اور نکال دیں جہاں کل پانی نکالنا ہے ڈول کی مقدار معین کرنے کے کوئی معنی نہیں ہاں جہاں یہ حکم ہوتا ہے کہ بیس۲۰ سے تیس۳۰ یا چالیس۴۰ سے ساٹھ۶۰ ڈول تك نکالیں وہاں اس کی تعیین یہ ہے کہ ہر کنویں کیلئے اسی کا ڈول معتبر ہے اور جس کنویں کا کوئی خاص ڈول نہ ہو وہاں وہ ڈول جس میں ایك صاع ماش آسکے صاع دوسو ستر۲۷۰ تولے کا پیمانہ ہے۔ اگر۲ اس کے بدن پر کوئی نجاست ہونا تحقیق معلوم ہو تو کل پانی نکلے گا ورنہ بے وضو یا بے غسل آدمی کے گرنے میں بیس۲۰ ڈول اور چڑیا میں کچھ نہیں اور چوہے میں بیس۲۰ اگر اس کا منہ پانی کو پہنچا ہو ورنہ کچھ نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ : مرسلہ حکمت یار خان محلہ شاہ آباد ۲۴ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ایك کنواں ہے جس کا پانی کبھی نہیں ٹوٹتا اس میں سے ایك چوہا پھولا ہوا بودار نکلا اب اس کے پاك کرنے کی کیا صورت ہے اور ایسی صورت میں نماز لوٹائی جائیگی یا نہیں اگر لوٹائی جائے گی تو کے دن کی مفتی بہ قول تحریر فرمائیں۔
پانی توڑنے کی کوئی حاجت نہیں جتنا پانی اس میں موجود ہے اتنے ڈول نکال دیں پاك ہوجائیگا تین دن رات کی نماز کا اعادہ بہتر ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷ : مرسلہ حکمت یارخان محلہ شاد آباد ۲۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وماحی بدعت قاطع ظلمت حضرت مولانا قبلہ وکعبہ مدظلہ العالی کہ ایك مسئلہ بئر جو کہ کل حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اس کے وقوع کو آج چار دن ہوئے اور اسی دن ایك مولوی اہلسنت وجماعت سے وہ مسئلہ دریافت کیا گیا انہوں نے یہ کہا کہ جب اس کنویں کا پانی نہیں ٹوٹتا ہے تو تین سو ساٹھ۳۶۰ ڈول پانی نکالنے سے پاك ہوجائیگا کل حضور کے فتوے سے معلوم ہوا کہ کنواں پاك نہیں ہوا اب دریافت طلب ہے کہ صورت مذکورہ سے کنواں پاك ہوا یا نہیں وایضا صورت مذکور پر عمل کرکے اس روز سے برابر اسی سے وضو اور غسل کرکے نماز پڑھی جاتی ہے اب اس صورت میں حضور کا کیا حکم ہے۔
الجواب :
مولی تعالی معاف فرمائے وہ مسئلہ غلط بیان میں آیا وضو وغسل کرنے والوں کے بدن اور کپڑے ناپاك ہوئے وہ سب نمازیں بیکار گئیں اگر حرج عظیم بوجہ کثرت مبتلایان نہ ہو تو مذہب کا یہی حکم ہے کہ وہ سب لوگ اپنے بدن اور کپڑے پاك کریں اور یہ نمازیں پھیریں اور اس میں حرج شدید ہو تو شریعت حرج میں نہیں ڈالتی پھر ۳۶۰ ڈول وہ اور اتنے دنوں میں جتنے ڈول وضو اور غسل وغیرہ کیلئے نکلے وہ سب ملاکر اگر اس وقت کے موجود پانی کے اندازے تك پہنچ گئے کنواں اب پاك ہوگیا ورنہ جتنے باقی رہے ہوں اب نکال لئے جائیں والله تعالی اعلم۔
__________________
باب التیمم
مسئلہ ۹۸ : از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ شیخ امیر علی رضوی ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عیدین یا نماز جمعہ یا پنجگانہ کی جماعت تیار ہے زید بے وضو ہے اور اگر وضو کریگا تو نماز ختم ہوجائیگی ایسی حالت میں کون سی نماز میں بے وضو شامل ہوسکتا ہے
الجواب :
بے وضو کوئی نماز نہیں ہوسکتی عیدین یا جنازہ کی نماز جاتی رہنے کا اندیشہ ہو تو تیمم کرے جمعہ وپنجگانہ کیلئے وضو کرنا لازم ہے اگرچہ جمعہ وجماعت فوت ہوجائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۹۹ : مسئولہ مولوی سید خورشید علی صاحب ۱۱ ربیع الآخر شریف از بہیڑی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدت مسح موزہ میں غسل کی ضرورت ہوئی اور بسبب کسی عذر کے غسل نہیں کرسکتا تو تیمم بلا اتارنے موز ےکے کرسکتا ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
بیشك کرسکتا ہے تیمم میں موزہ اتارنے کی کچھ حاجت نہیں کہ وہ صرف چہرہ ودست پر دو۲ ضرب ہیں جن میں پاؤں کا اصلا حصہ نہیں۔
فی فصل المسح علی الخفين من الخانیۃ
خانیہ فصل المسح علی الخفين میں ہے : پیروں کا تیمم میں
کوئی حصہ نہیں اھ۔ ردالمحتار میں ہے موزے اتارنے میں کوئی فائدہ نہیں اتارنا تو غسل کیلئے ہے اھ(ت)
علماء نے جو فرمایا ہے کہ جنب کو موزہ اتارنا ضرور ہے وہ بحالت غسل ہے یعنی جس۱ طرح وضو میں مسح خفين جائز ہے غسل میں روا نہیں بخلاف تیمم کہ اس میں سرے سے پاؤں کا غسل یا مسح کچھ بھی نہیں تو اس میں نزع خف کی کیا حاجت۔ مسئلہ واضح ہے اور حکم ظاہر اور ردالمحتار کے باب التیمم میں ایك تصویر طویل سے اس کا جزئیہ بھی مستفاد فلیراجع عندہ ذکر النواقض (ردالمحتار میں یہ جزئیہ نواقض کے تحت دیکھ لیا جائے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰ : مرسلہ مولوی الله یار خان صاحب ازمکان منشی حبیب الله صاحب تحصیلدار کھنڈوا ضلع نماڑ ملك متوسط ۴ ربیع الاول ۱۳۰۸ھ۔
جناب فيض مآب حاوی معقول ومنقول کاشف دقائق فروع واصول جناب مولوی محمد احمد رضا خان صاحب ادام الله فيضہم وظلہم وبرکاتہم بعرض مستفيدان حضور ایك عبارت دریافت معنے کیلئے حاضر کی جاتی ہیں۔
ان باعہ بمثل القیمۃ اوبغبن یسیر لایجوز لہ التیمم وان باع بغبن فاحش تیمم والغبن الفاحش مالایدخل تحت تقویم المقومین وقال بعضھم تضعیف الثمن ۔
بیچنے والا پانی اگر مثل قیمت میں یا کچھ زیادہ کرکے فروخت کرے تو تیمم جائز نہیں اور اگر غبن فاحش کے ساتھ (بہت بڑھا کر) بیچے تو تیمم کرے۔ غبن فاحش یہ ہے کہ کسی چیز کے ماہرین اگر قیمتیں لگائیں تو اتنی زیادتی کے ساتھ اس کی قیمت نہ لگائیں۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ غبن فاحش کا معنی ہے قیمت دوگنا کردینا۔ (ت)
ایك ولایتی صاحب مد مقابل ہیں جو معنی مجھے ازراہ درس معلوم ہیں بیان کرتا ہوں قبول نہیں کرتے لہذا استفادہ کرتا ہے کہ مثل قیمت وغبن یسیر وغبن فاحش وتقویم مقومین کے معنی اردو میں ارشاد فرمائیں کہ بے علم بھی مستفيض ہوں والتسلیم۔
الجواب :
مثل۲ قیمت بازار کا بھاؤ اور غبن یسیر نرخ بازار سے تھوڑا بل اور فاحش بہت اور تقویم قیمت لگانا جو چیز
ردالمحتار باب مسح علی الخفين مطلب نواقض المسح مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۲
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ رضویہ لاہور ص۵۰
وھذا ھو الذی قدمہ فی مراقی الفلاح وعبر عن الاتی بقیل ومثل ذلك عبارۃ المنیۃ المذکورۃ فی السؤال وقد قال فی الغنیۃ انہ الاوفق لدفع الحرج
اسی کو مراقی الفلاح میں پہلے ذکر کیا اور اگلے قول کو قیل سے تعبیر کیا ہے اسی کے مثل منیۃ المصلی کی وہ عبارت ہے جو سوال میں ذکر ہوئی۔ اور غنیہ میں کہا کہ یہی قول دفع حرج اور ازالہ تنگی ومشقت سے زیادہ موافقت ومطابقت رکھتا ہے (ت) (اور دفع حرج کا شریعت میں خاص لحاظ ہے)
اس روایت پر جس جگہ اس قدر پانی کی قیمت دس۱۰ پیسے ہو اور بیچنے والا ساڑھے دس کو دے تو خریدنا واجب اور تیمم ناجائز اور زیادہ مثلا بارہ۱۲ یا گیارہ۱۱ کو دے تو تیمم ناجائز مگر اظہر واشہر والیق بالعمل وہ قول ہے جو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے نوادر میں منقول ہوا کہ یہاں دونی قیمت کا نام غبن فاحش ہے اور اس سے کم غبن یسیر مثلا اتنا پانی اس مقام کے بازاری نرخ سے ایك پیسہ کا ہے اور بیچنے والا دو۲ کو دے تو تیمم کرلے اور دو۲ سے کم کو تو خریدنا لازم اور تیمم ممنوع۔ اور قیمت دیکھنے میں اعتبار خاص اس جگہ کا ہے جہاں اسے اس وقت ضرورت آب ہے اگر وہاں کی قیمت کا پتہ نہ چلے تو جو جگہ وہاں سے قریب تر ہے اس کا اعتبار کرے۔ غنیہ میں ہے :
مالا یدخل تحت تقویم المقومین قدروہ فی العروض بالزیادۃ علی نصف درھم فی العشرۃ والنصف یسیر والماء من جملۃ العروض ۔
وہ قیمت جو نرخ لگانے والوں کے نرخ لگانے میں نہ آسکے سامانوں میں اس کی تحدید یوں کی گئی ہے کہ دس درہم کی چیز دس پر نصف درہم سے بھی زیادہ اضافہ کرکے دے۔ نصف درہم تك ہی زیادتی ہو تو یہ معمولی ہے پانی بھی سامانوں ہی کے ذیل میں داخل ہے۔ (ت)
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰
اختلفوا فی حد الغالی عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان کان لایبیع الا بضعف القیمۃ فھو غالی وقال بعضھم مالایدخل تحت تقویم المقومین فھو غالی ۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے گراں کی حد روایت کرنے میں علماء کا اختلاف ہوا ہے۔ ایك روایت یہ ہے کہ اگر دوگنا قیمت پر بیچتا ہے تو وہ گراں ہے۔ اور بعض نے کہا کہ جو نرخ لگانے والوں کے نرخ لگانے میں نہ آسکے وہ گراں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ان لم یعطہ الابثمن مثلہ اوبغبن یسیر ولہ ذلك فاضلا عن حاجتہ لایتیمم ولو اعطاہ باکثر یعنی بغبن فاحش وھو ضعف قیمتہ فی ذلك المکان اولیس لہ ثمن ذلك تیمم ۔
اگر پانی ثمن مثل پر یا تھوڑی زیادہ قیمت پر اسے دے اور اتنا اس کے پاس ضرورت سے فاضل موجود ہے تو تیمم نہ کرے۔ اور اگر بہت بڑھا کر غبن فاحش کے ساتھ دے یعنی اس جگہ جو قیمت ہے اس کا دوگنا مانگے یا اس کے پاس پانی کی قیمت موجود نہ ہو تو تیمم کرے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بثمن مثلہ ای فی ذلك الموضع بدائع وفی الخانیۃ فی اقرب المواضع من الموضع الذی یعز فيہ الماء قال فی الحلیۃ والظاھر الاول الا ان لایکون للماء فی ذلك الموضع قیمۃ معلومۃ کما قالوا فی تقویم الصید قولہ ولہ ذلك ای وفی ملکہ ذلك الثمن وقدمنا انہ لولہ مال غائب وامکنہ الشراء نسئۃ وجب بخلاف مالو وجد من یقرضہ بحر قولہ وھو ضعف قیمتہ ھذا مافی النوادر
صاحب درمختار کا قول “ ثمن مثل پر “ یعنی اس جگہ پانی کی جو قیمت ہے اسی قیمت پردے بدائع الصنائع اور خانیہ میں یہ ہے کہ جس جگہ پانی نایاب ہے اس سے قریب تر مقام میں جو قیمت ہے حلیہ میں کہا کہ ظاہر پہلا قول ہے مگر یہ صورت ہو کہ اس جگہ پانی کی کوئی معین ومعلوم قیمت نہ ہو (تو قریب تر مقام کا اعتبار ہوگا) جیسا کہ علماء نے شکار کی قیمت کے بارے میں فرمایا ہے۔ صاحب در مختار کا قول “ اتنا اس کے پاس ہو “ یعنی اس کی ملکیت میں اتنی قیمت ہو۔ اور یہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۴
اقول : وکذا اقتصر علیہ فی الکافی وغیرہ من المعتبرات فاعتمدت علی ھذا لکونہ روایۃ عن الامام رضی الله تعالی عنہ ولجلالۃ معتمدیہ ولکثرتھم ولتقدیم الخانیۃ ایاہ مع تصریحہ فی فاتحۃ کتابہ انہ انما یقدم الاظھر الاشھر ولان قیمۃ الماء المحتاج الیہ لطھر لا تزید غالبا علی نحوفلس لاسیما فی بلادنا فاعتبار زیادۃ جزء من تسعۃ عشر جزء من اجزاء فلیس مثلا مسقطۃ لوجوب الوضوء والغسل مع تیسر الثمن وتملکہ لہ بالفعل وفراغہ عن حاجاتہ مما یستبعد ولایسلم ان فيہ کثیر حرج یجب دفعہ فافھم۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
کہ اگر اس کی ملکیت میں مال ہے جو اس کے پاس نہیں اور ادھار خرید سکتا ہے تو خریدنا واجب ہے۔ اور اگر اس کی ملکیت میں نہیں مگر کوئی ایسا شخص مل گیا جو اسے قرض دے رہا ہے تو خریدنا واجب نہیں بحر اھ صاحب درمختار کا قول “ اور وہ اس کی قیمت کا دوگنا ہے “ ۔ یہ وہ روایت ہے تو نوادر میں ہے اور اسی پر بدائع اور نہایہ میں اکتفاء کی ہے تو یہی اولی ہے بحر اھ بتلخیص (ت)
میں کہتا ہوں اور اسی طرح کافی وغیرہ معتبر کتابوں میں اسی پر اکتفاء کی ہے تو میں نے بھی اسی پر اعتماد کیا اس لئے کہ یہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے اس پر اعتماد کرنے والے حضرات جلیل الشان ہیں ان حضرات کی تعداد بھی زیادہ ہے فقیہ النفس امام قاضیخان نے خانیہ میں اسے مقدم رکھا ہے اور آغاز کتاب میں وہ اس کی صراحت کرچکے ہیں کہ وہ اسی قول کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر (زیادہ ظاہر ومشہور) ہو اور اس لئے کہ کسی طہارت کیلئے جس قدر پانی کی ضرورت ہے اس کی قیمت قریبا ایك پیسہ سے زیادہ نہیں ہوتی اکثر اور خاص طور سے ہمارے بلاد میں یہی حال ہے تو اگر پانی کی قیمت مثلا ایك پیسے کے انیس حصوں میں سے ایك حصہ (۱۹ / ۱) کے برابر زیادہ ہے اور یہ قیمت اسے میسر ہے۔ بالفعل اس کا مالك بھی ہے اور اس کی ضروریات سے فاضل بھی ہے ان سب کے باوجود یہ مان لینا کہ اتنی سی زیادتی سے وضو اور غسل کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے ایك مستبعد امر ہے۔ یہ بھی قابل تسلیم نہیں کہ اس میں کوئی حرج اور تنگی ہے جسے دفع کرنا ضروری ہے اسے سمجھ لینا چاہئے والله سبحانہ وتعالی اعلم (ت)
ماقولکم رحمکم الله تعالی دریں باب کہ برائے جواز تیمم بضرب دست برچیزے کہ ازجنس زمین نباشد مثل وسادہ وبساط وجوخہ وحبوب ومعادن وغیرا ینہا بدون برداشتن دست ازان بغبار مرتفع فقط وجود غبارد ران بقدریکہ بوقت ضرب صرف چیزے درہوا دیدہ مے شود کافی ست یا لزوق غبار وظاہر شدن اثر آن بردست یابران بمد الید علیہ ضرورست۔ بینوا توجروا
ایسی چیز جو زمین کی جنس سے نہ ہو جیسے تکیہ فرش غلہ معدنیات وغیرہ ان پر تیمم جائز ہونے کیلئے ان پر کتنا غبار ہونا چاہئے کیا یہ کافی ہے کہ ان پر سے ہاتھ اٹھے تو غبار لے کر نہ اٹھے بلالکہ ان چیزوں پر صرف اس قدر غبار رہا ہو کہ ہوا میں کچھ دکھائی دیتا ہو۔ یا یہ ضروری ہے کہ ہاتھ میں غبار چپك جائے اور ایك ہاتھ پر دوسرا ہاتھ پھیرا جائے تو اس پر غبار کا اثر ظاہر ہو بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
امام اسبیجابی کہ از ائمہ ترجیح وتصحیح ست درشرح مختصر طحاوی فرمود کہ بودن غبار برچیزے چنان وظہور اثر ش بکشیدن دست بران ضرورست درجواز تیمم بدان۔
امام اسبیجابی جو ائمہ ترجیح وتصحیح سے ہیں انہوں نے مختصر طحاوی کی شرح میں فرمایا کہ ایسی چیز پر غبار کا ہونا اور اس پر ہاتھ پھیرنے سے غبار کا اثر ظاہر ہونا اس سے تیمم جائز ہونے کیلئے ضروری ہے۔
فی الدرالمختار تبعا لما فی البحرالرائق وقیدہ الاسبیجابی بان یستبین اثر التراب علیہ بمد الید علیہ وان لم یستبن لم یجز وکذا کل مایجوز التیمم علیہ کحنطۃ وجوخۃ فلیحفظ ۔
درمختار کے اندر بحرالرائق کے اتباع میں لکھا ہوا ہے کہ اس پر امام اسبیجابی نے یہ قید لگائی ہے کہ اس پر ہاتھ پھیرنے سے اس چیز پر مٹی کا اثر ظاہرو واضح ہو اگر واضح نہ ہو تو تیمم جائز نہیں۔ اسی طرح ہر وہ چیز جس پر تیمم جائز نہیں جیسے گیہوں اونی کپڑے کا ٹکڑا اسے یاد رکھنا چاہئے۔
وہر چند درعامہ متون واکثر شروح این مسئلہ رابارسال واطلاق آوردہ انداما(ف۱) قیدے زائد کہ امام معتمد افادہ فرماید از قبولش ناگزیر ست مادامیکہ خلافش
یہ مسئلہ اگرچہ عام متون اور اکثر شروح میں بغیر قید کے مطلقا ذکر ہوا ہے (اور کہا گیا ہے کہ معدنیات وغیرہ پر غبار وتراب ہو تو تیمم جائز ہے) لیکن ایك ایسی زائد
عــہ فتاوائے قدیمہ سے ہے کہ مصنف نے صغرسن میں لکھے ۱۲ (م)
قید جو کوئی معتمد امام افادہ فرمائیں اسے قبول کرنا ضروری ہے جب تك کہ اس کے خلاف دیگر ائمہ کے کلمات میں تصریح اور اس پر ترجیح نہ ہو خاص طور سے جب احتیاط کا مقام ہو تو امام معتمد کی بتائی ہوئی ایسی قید کا قبول کرنا اور ضروری ہے
صرح بہ العلماء فی مسئلۃ انتضاح البول مثل رؤس الابرومن لم یطمئن قلبہ فعلیہ بحاشیۃ الشامی۔
سوئی کے ناکہ کے برابر پیشاب کے چھینٹے پڑ جانے کے مسئلہ میں علماء نے اس کی تصریح کی ہے جسے اطمینان قلب نہ ہو حاشیہ شامی کا مطالعہ کرے۔
واین(۱) معنی منافی تقدیم متون نیست کہ آن فرع تضادست واین بیان مراد۔ ایسی قید قبول کرلینے پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ متون کو شروح پر تقدم حاصل ہے اور متون کے اطلاق کو چھوڑ کر شروح کی تقیید کو لیا جائے تو یہ تقدیم متون کے منافی ہوگا اس لئے کہ منافات کی بات تو اس وقت ہوگی جب دونوں میں تضاد ہو۔ یہاں تضاد نہیں بلالکہ بیان مراد ہے۔
ومن ثم قالوا ان عـــہ التخصیص دفع
اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ تخصیص دفع ہے
عـــــہ : فان قلت انما التخصیص المقارن اما المتراخی فناسخ اقول ذلك فی المثبت وھو کلام الشارع فاذا ورد مطلقا ثبت الحکم کما ورد فاذا خصص فرد انتسخ فيہ اما العلماء فرواۃ وقد علم انھم ربما یطلقون فی محل التقیید فالتخصیص ابانۃ لماطووہ وتکمیل لما رووہ فکان مقارنا منہ غفرلہ۔ (م)
اگر تو اعتراض کرے کہ تخصیص تو پہلے کلام سے مقارن ہوتی ہے جبکہ مؤخر ہو تو وہ ناسخ ہے اقول یہ قاعدہ حکم کو ثابت کرنے والے کلام کے بارے میں ہے جو صرف شارع علیہ السلام کا کلام ہے اس میں جب مطلق وارد ہوگا تو حکم بھی مطلق ہوگا اور اگر تخصیص وارد ہو تو وہ اطلاق کو رد کرکے اس کیلئے ناسخ ہوگی۔ لیکن علمائے کرام تو صرف راوی ہوتے ہیں اور تحقیق سے یہ بات معلوم ہے کہ علماء کرام قید والے مقام میں قید کی بجائے اطلاق سے کام لیتے ہیں پس تخصیص ان کے کلام میں اختصار کی وضاحت اور ان کے روایت کردہ حکم کی تکمیل ہوتی ہے لہذا یہاں تخصیص مقارن ہی تصور ہوگی۔ (ت)
آخر نہ دیدی کہ علامہ محقق زین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ دربحر رائق برومشی کردہ حکم جو خہ وغیرہ بربنائے قلت وجود این شرط دران از واستخراج می نماید وعلامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختار نیز بنائے حکم برین تفصیل مے نہد ومحققین کرام اصحاب بحر ونہر ومدقق علائی در درمختار استحسانش نمودہ ہرہمہ امر بحفظش می فرمایند ومحشیان اعلام تقریر ش مینمایند۔
فقد تحلی بحلیۃ المقبول کما یظھر کل ذلك بمراجعۃ کلماتھم والعلم بالحق عند واھب العلوم وعالم کل سرمکتوم۔
رفع نہیں (یعنی بعض افراد سے متعلق حکم خاص کردینے کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں داخل نہ تھے ان کو الگ کردیا یہ مطلب نہیں کہ جن کیلئے حکم ثابت تھا ان سے حکم اٹھادیا)۔ اور اس سلسلہ میں تو علماء کی صراحت موجود ہے۔ جیسا کہ شرح لباب ردالمحتار اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ مشائخ مذہب کا منصب ہے کہ وہ قیدوں کو بیان کریں (کوئی بات بظاہر مطلق نظر آرہی ہے حالانکہ وہ کسی قید سے مقید ہے تو ایسی قیدوں کی توضیح مشائخ مذہب ہی کا کام ہے) اس لئے یہ تقیید متون کی مخالفت نہیں وضاحت ہے۔ (ت)
آپ نے دیکھا نہیں کہ علامہ محقق زین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس قید کو قبول کرتے ہوئے بحررائق میں جو خہ وغیرہ کا حکم اس سے استخراج کیا ہے کیونکہ ان چیزوں میں یہ شرط کم ہی پائی جاتی ہے۔ صاحب درمختار کے استاد علامہ خیر الدین رملی بھی حکم کی بنیاد اسی تفصیل پر رکھتے ہیں۔ بحررائق نہرفائق کے مصنفين اور مدقق علائی صاحب درمختار جیسے محققین کرام نے اس قید کو مستحسن وپسندیدہ قرار دیا اور سبھی نے اسے یاد رکھنے کی تاکید کی اور محشیان اعلام نے اسے برقرار کھا۔ (ت)
ان ساری تائیدات کے پیش نظر یہ قید زیور قبول سے آراستہ وپیراستہ ہے جیسا کہ ان حضرات کے کلمات کی مراجعت اور ان کی عبارتوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے اور حق کا علم اس کے پاس ہے جو علوم عطا فرمانے والا ہے اور ہر راز نہاں کو جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۲ : از جائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی الله صاحب ۲ ربیع الاول شریف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو۲ نمازوں کو بلاعذر جمع کرنا اور بلا کوئی بیماری مہلك اور مضر کے تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
دو۲ نمازوں۱ کو بلاعذر جمع حقیقی کرنا کہ پہلی کا وقت کھو کر دوسری کے وقت میں پڑھیں یا دوسری کا وقت آنے سے
مسئلہ ۱۰۳ : مرسلہ سید محمد نور عالم صاحب مقام ڈھولنہ تحصیل ریلوے اسٹیشن کا سگنج ضلع ایٹہ۲ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ : خدمت مولنا الاعظم الافخم متع الله المسلمین بطول بقائکم
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔ مدت سے دولت دیدار سے محروم اور بے نصیب اور اقتباس انوار فوائد علمیہ سے بے بہر۔ تاآنکہ رسوم صوری مکاتبات اور دریافت خیریات سے بھی غافل۔ وائے برمن معہذا آپ کی یاد اور محبت دل میں موجود۔ من دانم وخدایم خدا یہاں وہاں اپنا خاص کرم مبذول رکھے آمین ضروری تصدیع اوقات منتظمہ یہ ہے کہ مشہور کیا گیا ہے کہ مذہب حنفی میں جس وضو سے کہ جنازے کی نماز پڑھے یا پڑھائے اس سے دیگر نمازیں صلوات مکتوبہ خمسہ ودیگر نوافل وغیرہ نہیں پڑھتے ہیں آیا پڑھتے ہیں یا حکم مذہب حنفی اور نمازوں کے پڑھنے کا اس وضو سے نہیں ہے جو امر محقق ہو وہ لکھ کر ممنون فرمائیے اور یہ بھی فرمائیے کہ کسی نے احناف میں سے لکھا ہے یا نہیں اور اس کی اصل کیا ہے باقی خیریت اور آپ کی عافيت مطلوب۔
الجواب :
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت اعظم افخم اجل اکرم عالم نور از نور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحضرت سیدنا ومولانا سید شاہ محمد نور عالم صاحب ادام الله تعالی نورہم وسرورہم۔
پس از آداب معروض الحمدلله کہ گوشہ خاطر عاطر میں اس خادم کی یاد جگہ رکھتی ہے ذلك من فضل الله علینا یہ مسئلہ کہ جہاں میں مشہور ہے کہ وضوئے جنازہ سے اور نماز نہیں پڑھ سکتے محض غلط وباطل وبے اصل ہے۔
مسئلہ۱ صرف اس قدر ہے کہ اگر نماز جنازہ قائم ہوئی عــہ اور بعض اشخاص آئے تندرست ہیں پانی موجود ہے مگر وضو کریں تو نماز ہوچکے گی اور نماز جنازہ کی قضا نہیں نہ ایك میت پر دو۲ نمازیں اس مجبوری میں انہیں اجازت ہے کہ تیمم کرکے نماز میں شریك ہوجائیں اس تیمم سے اور نمازیں نہیں پڑھ سکتے نہ مس مصحف وغیرہ امور موقوفہ علی الطہارۃ بجا لاسکتے ہیں کہ یہ تیمم بحالت صحت ووجود ماء ایك خاص عذر کیلئے کیا گیا تھا جو اس نماز جنازہ تك محدود تھا تو دیگر صلوت و
عـــہ قائم خواہ حقیقۃ ہوکہ نیت بندھ گئی یا جلد بندھنے کو ہے کہ وضو کرنے تك چاروں تکبیریں ہوچکیں گی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسئلہ ۱۰۴ : از شہر کہنہ بریلی مسئولہ اکبر علی خان ملازم مدرسہ اہلسنت یکم ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بعد نماز عصر تکونی باندھ کر ورزش کرتا ہے اس کا ستر کھلا ہوا ہے اور لوگ بھی وہاں پر موجود ہیں جب وہ ورزش سے فارغ ہوا تو نماز مغرب کا وقت اخیر ہوتا ہے ازروئے حکمت بعد ورزش جبکہ وہ پسینہ میں تر ہے وضو کرنا مضر ہے بدن میں درد ہوجانے کا اندیشہ ہے اس صورت میں اس کا وضو ساقط ہوا یا نہیں بلا تازہ وضو نماز پڑھ سکتا ہے یا تیمم کرے کیا چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے ورزش کے سبب جماعت کھونا حرام ہے نماز کا وقت تنگ ومکروہ کردینا منع ہے ایسی ورزش ناجائز ہے ورزش۲ سے وضو نہیں جاتا جب تك کوئی شے ناقض وضو صادر نہ ہو اگر وضو ہے تو اسی وضو سے نماز پڑھ لے اور جو وضو باقی نہ رہتا ہو تو ایسے وقت ورزش کرنا قصدا نہ چاہئے ورزش عشا یا صبح کے بعد بھی ہوسکتی ہے اور اگر واقع ہولی اور نماز یا جماعت کے فوت کا اندیشہ ہے اور اس وقت وضو کرے تو وجع مفاصل وغیرہ امراض پیدا ہونے کا صحیح خوف ہے تو تیمم کرکے نماز پڑھے اس انتظار کی حاجت نہیں کہ مثلا گھنٹے بھر جب رگیں رگیں ساکن ہوجائیں گی وضو کرکے پڑھے گا۔
فان العبرۃ للحال دون الاستقبال کمن بعد میلا من الماء فی السفر لیس علیہ التاخیر وان ندب۔
اس لئے کہ اعتبار موجودہ حالت کا ہے آئندہ کا نہیں۔ جیسے وہ شخص جو سفر میں پانی سے ایك میل دور پر ہو اس پر نماز کو مؤخر کرنا واجب نہیں اگرچہ مندوب ہے۔ (ت)
ہاں یہ بہتر وافضل ہے مگر جبکہ اس انتظار سے وقت جاتا یا مکروہ ہوتا یا جماعت فوت ہوتی ہو تو انتظار کی حاجت نہیں ابھی تیمم کرے اور نماز پڑھے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵ : از گونڈل علاقہ کا ٹھیا وار مسئولہ شیخ عبدالستار بن اسمعیل صاحب قادری رضوی ۱۸ رجب ۱۳۳۴ھ حقہ کا پانی پاك ہے یا ناپاک۔ مسافری میں اگر پانی نہ ملے تو بجائے تیمم کے حقے کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں
اس کا پانی نجس ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور دھوئیں کے سبب جو اس کے رنگ وبو ومزہ میں تغیر آجاتا ہے اس سے اس کے طاہر ومطہر ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔
ویجوز الوضوء بماء تغیر احد اوصافہ بخلط طاھر غیر مائع کما فی التبیین والفتح والبحر والدر وغیرھا۔
کسی غیر سیال پاك چیز کے ملنے سے جس پانی کا کوئی ایك وصف بدل جائے اس سے وضو جائز ہے جیسا کہ تبیین الحقائق فتح القدیر بحرالرائق درمختار وغیرہا میں ہے۔ (ت)
سفر میں اگر پانی نہ ملے اور یہ پانی بقدر کفایت موجود ہے تیمم نہ ہوگا اس سے وضو لازم ہوگا ۔ لقولہ تعالی فلم تجدوا مآء وھذا یجد ماء (“اور تم پانی حاصل نہ کرسکو “ ۔ جبکہ یہ پانی حاصل کرنے والا ہے۔ ت) البتہ اگر اس میں بو ہے تو یہ لازم ہوگا کہ ایسے وسیع وقت میں اس سے وضو کیا جائے کہ بو زائل ہونے تك کراہت نہ آئے جب بو جاتی رہے اس وقت نماز پڑھے اور اگر دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو انتظار نہ کرے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۶ : مسئولہ عابد خان معرفت منشی خدابخش صاحب ٹھیکیدار صدر بازار بریلی دوشنبہ۱۰شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص اپنی بی بی سے صحبت کرکے سوگیا اب اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جبکہ وقت نماز فجر بہت تنگ ہوگیا کہ اگر غسل کرتا ہے تو نماز قضا ہوئی جاتی ہے ایسے وقت میں ستر دھو کر نماز پڑھ لینا جائز ہے یا نہیں اگر بلاغسل نماز جائز نہیں تو کس وجہ سے جبکہ بی بی سے صحبت کرنا حلال ہے۔
الجواب :
جبکہ نماز کا وقت تنگ ہو نجاست دھو کر تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر نہا کر بعد بلالند آفتاب اس کا اعادہ کرے اور عورت سے صحبت حلال ہونے کے سبب طہارت کا حکم ساقط نہیں ہوسکتا۔ یہاں تین۳ صورتیں ہیں اگر۱ وقت ایسا تھا کہ بعد جماع غسل کرکے نماز کا وقت نہ ملے گا تو ایسی صورت میں جماع ہی حرام ہے کہ قصدا تفویت نماز ہے اور عورت ۲ کا زوجہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ ہر حال میں اس سے صحبت جائز ہو نماز ہے روزہ ہے احرام ہے اعتکاف ہے حیض ہے نفاس ہے اور بہت صورتیں ہیں کہ ان میں منکوحہ سے بھی صحبت حرام ہے اور اگر۳ وقت ایسا تھا
القرآن ۴ / ۴۲
مسئلہ ۱۰۷ : ۵ صفر ۱۳۳۵ھکیا فرماتے ہیں علمائے دین صاحب اس مسئلہ میں کہ بسبب ضعیفی کے تمام جوڑوں میں بدن کے درد رہتا ہے جاڑوں میں پیر دھونے سے کولھے اور کمر میں درد زیادہ ہوتا ہے ایك ہاتھ میں دو برس سے کہنی میں چوٹ لگ گئی ہے ہمیشہ درد رہتا ہے وضو کرنے میں کہنی سے نیچے ہاتھ دھوتا ہوں تو کہنی پر مسح کرلیتا ہوں اور کبھی پیروں پر بھی مسح کرلیتا ہوں اسی اندیشہ کی وجہ سے جمعہ کے روز نہانا بھی اتفاقا ہوتا ہے اس حالت میں پیر کا مسح اور ہاتھ کی کہنی کا مسح کرنا چاہئے یا نہیں اور کسی وقت میں تیمم بھی کرلیتا ہوں اور کبھی پورا وضو بھی۔
الجواب : جتنی بات پر قدرت ہے اتنی فرض ہے اگر پورے وضو پر قدرت ہے تو نہ مسح جائز نہ تیمم اور اگر کہنی یا پاؤں پر پانی ڈالنے سے ضرر ہوتا ہے تو اگر ہمیشہ نقصان ہوتا ہے ہمیشہ وہاں پوری جگہ مسح کرے باقی اعضاء دھوئے اور اگر ایسا ہے کہ جاڑے میں دھونا نقصان کرتا ہے گرمیوں میں نہیں یا ٹھنڈے وقت میں نقصان کرتا ہے گرم وقت میں نہیں تو جس وقت نقصان کرتا ہے اس وقت مسح کرے باقی اوقات دھوئے تیمم جائز نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸ : مرسلہ سید محمد فہیم ڈی ٹی ایس آفس دانا پور کھگول ضلع پٹنہ۱۲جمادی ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا ایك پاؤں عارضہ فيل پایہ میں مبتلا ہے بدیں وجہ اس پاؤں کا دھونا اس کے حق میں مضر ہے ایسی صورت میں وہ شخص اس پر بجائے غسل کے مسح کرسکتا ہے یا نہیں یا بجائے وضو کے صورت ہذا میں تیمم کرے گا۔ بینوا توجروا
الجواب :
اس صورت میں تیمم کی اجازت نہیں ہوسکتی بلالکہ ضرر نہ ہو تو پاؤں دھونا فرض ہوگا ضرر کرے تو مسح کا حکم لازم ہوگا مثلا ٹھنڈے وقت پاؤں دھونا ضرر کرتا ہے تو گرم وقت میں پاؤں دھوئے اور سرد وقت میں پاؤں پر مسح کرے یا سرد پانی سے دھونا نقصان دیتا ہے تو گرم سے پاؤں دھوئے مسح نہ کرے یا پاؤں کے ایك حصے پر پانی ضرر پہنچاتا ہے دوسرے پر نہیں اور وہ دوسرا حصہ یوں دھو سکتا ہے کہ نقصان والے حصے کو پانی
سوال۱۰۹ دوم : شخص مذکور الصدر کو بعد حاجت غسل کے تیمم پر اکتفاء کرنا جائز ہے یا نہیں کیونکہ استعمال پانی اس کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوچکا ہے۔
الجواب :
مرض تو صرف پاؤں میں ہے اس طرح نہائے کہ پاؤں کے اس حصے کو جسے پانی نقصان دیتا ہے پانی نہ پہنچے اتنے حصے پر مسح کامل کرلے تیمم جائز نہیں ہوسکتا اور نقصان کی وہی صورتیں ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں کہ فقط سرد وقت میں پانی نقصان دیتا ہے تو اس وقت نہا کر اتنی جگہ مسح کرکے نماز پڑھ لے جب گرم وقت آئے اتنی جگہ پر بھی پانی ڈال لے یا صرف ٹھنڈا پانی ضرر دیتا ہے تو اتنی جگہ گرم پانی سے دھوئے باقی بدن جیسے پانی سے چاہے دھوئے اور پاؤں کا اتنا حصہ دھونے سے بچائے جتنے پر پانی بہنا ضرر دیتا ہو خواہ یوں کہ خود وہاں مرض ہو یا یوں کہ اس پر پانی ڈالنا مرض کی جگہ تك پانی پہنچادے گا بچاؤ نہ ہوسکے گا یا یوں کہ پانی تو نہ پہنچے گا مگر یہاں کی سردی سے وہاں ضرر ہوگا۔ جتنی جگہ کسی طرح ضرر ہو اس کے ایك ایك ذرہ پر بالاستیعاب بھیگا ہاتھ پہنچے ورنہ غسل نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۰ : از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ شیخ امیر علی قادری رضوی ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ۱۲ بجے رات کے ہل چلانے جاتا ہے اور ہل چلاتے ہوئے وقت فجر کھیت پر ہوگیا اب نہ پانی موجود ہے اور نہ اب مسجد جاسکتا ہے کیونکہ مسجد بھی دور ہے اور پانی بھی دستیاب نہیں ہوسکتا ہے اب زید تیمم سے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر پانی اس کے کھیت سے جہاں اس وقت یہ ہے ایك میل یا زیادہ دور ہے تو تیمم کرسکتا ہے ورنہ ہرگز نہیں۔
فی الدرالمختار لبعدہ ولو مقیما فی المصر میلا ۔ والله تعالی اعلم
درمختار میں جواز تیمم کی صورتوں میں ہے : پانی سے ایك میل دور ہونے کی وجہ سے اگرچہ وہ شہر میں مقیم ہو۔ والله تعالی اعلم (ت)
زید صبح کو ایسے تنگ وقت میں سوکر اٹھا کہ صرف وضو کرکے نماز فجر ادا کرسکتا ہے مگر اس کو غسل کی حاجت ہے پس اس کو غسل کرکے قضا نماز فجر ادا کرنا چاہئے یا وقت ختم ہوجانے کے خیال سے غسل کا تیمم کرکے اور وضو کرکے نماز فجر ادا کرے اور بعدہ غسل کرکے نماز فجر کا اعادہ کرے۔ بینوا توجروا
الجواب :
تیمم کرکے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے بہ یفتی (اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
______________________
حسن التعمم لبیان حد التیمم
تیمم کی ماہیت وتعریف کا بہترین بیان(ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۱۱۲ : ۱۱ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں سوال اول تیمم کی تعریف وماہیت شرعیہ کیا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
تیممنا صعیدا طیبا من ساحۃ کرم الیہ یصعد الکلم الطیب* لیطھر قلوبنا والسنتنا فنستاھل ان نقول بنیۃ زکیۃ ومقول طیب۔
ان الحمدلله الذی انزل قران غیر ذی عوج* و ما جعل علیكم فی الدین
ہم نے اس میدان کرم کی سطح پاك (صعید طیب) کا قصد کیا جس تك پاکیزہ کلمے صعود وترقی پاتے ہیں تاکہ وہ ہمارے دلوں اور زبانوں کو طہارت وپاکیزگی بخش دے جس کے باعث ہم صاف ستھری نیت اور پاکیزہ زبان سے بولنے کے قابل ہوجائیں۔ یقینا ساری تعریف خدا کیلئے ہے جس نے ایسا قرآن نازل فرمایا جس میں ذرا بھی کجی نہیں اور
جس نے دین میں ہم پر کوئی تنگی نہ رکھی۔ ریت اور مٹی کے ذرات کی تعداد میں درود وسلام ہو رحمت رحمن اور احسان وہاب پر جو سہل وآسان دین لے کر تشریف لائے اور جن کے لئے زمین مسجد اور مطہر بنادی گئی کہ ان کی امت کا جو شخص بھی نماز کا وقت پا جائے وہ بزرگ ابوبکر کی آل پاك کی برکت سے فائدہ اٹھاتا ہوا نماز ادا کرے۔ اور ان کی آل ان کے اصحاب ان کے فرزند ان کے گروہ سب پر ہمیشہ ہمیشہ (درود وسلام ہو) (ت)
امام محقق ابن الہمام پھر ان کے اتباع سے بہت اعلام نے قرار دیا کہ حق یہ کہ وہ چہرہ وہر دو دست کا صعید یعنی جنس ارض طاہر سے مسح کرنا ہے یہ اجمال بہت تفصیل کا طالب فاعلم انہ جاء تحدیدہ فی کلماتھم علی ستۃ وجوہ (معلوم ہو کہ کلمات علماء میں تیمم کی تعریف چھ۶ طرح سے آئی ہے۔ ت)
الوجہ الاول مااختارہ عامۃ شراح الھدایۃ انہ القصد الی الصعید الطاھر للتطھیر وردہ المحقق فی الفتح واتباعہ بان القصد وھو النیۃ شرط لارکن واجاب عنہ العلامۃ ش بجوابین :
اولھما : ان الشرط ھو قصد عبادۃ مقصودۃ الی آخر مایأتی لاقصد نفس
تعریف اول وہ ہے جو ہدایہ کے عامہ شارحین نے اختیار کی : تطہیر کیلئے پاك سطح زمین کا قصد کرنا اعتراض فتح القدیر میں محقق ابن الہمام نے اور ان کے متبعین نے یوں رد کردیا کہ قصد یعنی نیت تیمم کیلئے شرط ہے رکن نہیں (اور تعریف میں اسے عین تیمم قرار دیا گیا ہے جس سے رکن ہونا ہی ظاہر ہے) علامہ شامی نے اس اعتراض کے دو۲ جواب دیے :
جواب اول : تیمم میں جو قصد ونیت شرط ہے وہ یہ کہ کسی عبادت مقصودہ کا قصد ہو خود سطح زمین کا قصد
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۱۰۶
اقول اولا : (۱) قصد الصعید مامور بہ فی القران العظیم فتیمموا صعیدا طیبا غیر ان القصد لابدلہ
من غایۃ وھی استباحۃ عــہ عبادۃ مقصودۃ الخ ولایقصد ذلك الا من استعمال الصعید قصدا فقصد الصعید لابد منہ ولاتحقق للتیمم الا بہ واذلیس کنا فھو شرط لاشك کنفس الصعید فانہ ایضا من شرائط التیمم کماقال العلامۃ نفسہ ان الشارح نبہ علی انہ ای قصد الصعید شرط وکذا الصعید وکونہ مطھرا کما افادہ ح فافھم اھ۔
وثانیا : (۲) تریدون بہ رد الایراد وان سلم ماذکرتم لما افاد الا یراد الا الازدیاد لانہ جعل حقیقۃ التیمم مالاتوقف لہ علیہ اصلا فضلا عن شرط نہیں۔
اقول : اولا صعید(سطح زمین) کے قصد کا تو قرآن عظیم میں حکم موجود ہے ارشاد ہے : فتیمموا صعیدا طیبا (تو پاك روئے زمین کا قصد کرو) یہ الگ بات ہے کہ قصد کی کوئی غایت ہونا ضروری ہے۔ اور وہ نماز کو مباح کرنے والے تیمم میں یہ ہے کہ کسی عبادت مقصودہ کا جواز چاہے الخ۔ اور یہ قصدا جنس ارض کے استعمال ہی سے مقصود ہوتا ہے تو جنس ارض کا قصد ضروری امر ہے جس کے بغیر تیمم کا ثبوت اور تحقق نہیں ہوسکتا۔ اور یہ قصد جب رکن نہیں تو اس کا شرط ہونا یقینی ہے۔ جیسے خود جنس زمین یہ بھی شرائط تیمم میں سے ہے جیسا کہ خود علامہ شامی نے فرمایا ہے کہ شارح نے اس پر تنبیہ کردی کہ جنس زمین کا قصد شرط ہے اور اسی طرح جنس زمین اور اس کا مطہر ہونا بھی شرط ہے جیسا کہ حلبی نے افادہ فرمایا فافہم اھ۔
ثانیا آپ اعتراض دفع کرنا چاہتے ہیں حالانکہ آپ کا جواب اگر تسلیم کرلیا جائے تو اس سے اعتراض میں اور اضافہ ہی ہوگا اس لئے کہ اس جواب نے تو تیمم کی حقیقت ایك ایسی چیز کو قرار دے دیا جس پر تیمم سرے سے موقوف ہی نہیں اس چیز کا رکن تیمم ہونا
عــہ ای فی التیمم المبیح للصلاۃ منہ غفرلہ۔
یعنی نماز کو مباح کرنے والے تیمم میں۔ (ت)
القرآن ۴ / ۴۲
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۸
والاخر ان المعافی الشرعیۃ لاتوجد بدون شروطھا فمن صلی بلاطھارۃ مثلا لم توجد منہ صلاۃ شرعا فلابد من ذکر الشروط حتی یتحقق المعنی الشرعی فلذا قالوا بشرائط مخصوصۃ کمامر اھ یرید مایأتی فی التعریف الثانی ان شاء الله تعالی۔
اقول : (۱) لاکلام فی ذکر الشروط بل فی جعل الشرط حقیقۃ المشروط کمایفيدہ بقولھم ھو قصد الصعید (۲) بخلاف قولھم بشرائط مخصوصۃ فانہ ذکر الشرط علی جھتہ ومرتبتہ فالاستناد بہ فی غیر محلہ (۳) وشیئ ماقط لایوجد بدون شرطہ عینا کان اومعنی شرعیا اوغیرہ لکن لایصیر بہ الشرط رکن المشروط حتی یحدبہ (۴) وکیف یسوغ ان یقال ان الصلاۃ ھی الطہارۃ وان کانت لاتوجد الابھا نعم یصلح عذرا لہ ماقال قبل الجوابین انہ لابد فی الالفاظ الاصطلاحیۃ المنقولۃ عن اللغویۃ ان یوجد فيھا المعنی اللغوی غالبا ویکون المعنی الاصطلاحی اخص
تو الگ رہا (یعنی عبادت مقصود ہ کا جواز چاہنے سے الگ کرکے صرف “ جنس زمین کو مقصود بنانے “ پر تیمم کا ثبوت موقوف ہی نہیں تو یہ رکن تیمم کیونکر ہوگا) (ت)
جواب دوم : شرعی معانی کا وجود ان کی شرطوں کے بغیر نہیں ہوتا۔ مثلا اگر کسی نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی تو اس سے نماز شرعی کا وجود نہ ہوا اس لئے شرطوں کا ذکر ضروری ہے تاکہ شرعی معنی کا تحقق ہوسکے اسی لئے علماء نے “ بشرائط مخصوصۃ “ کہا جیسا کہ گزرا اھ علامہ شامی کی مراد وہ الفاظ ہیں جو تعریف دوم میں آئیں گے ان شاء الله تعالی۔
اقول : شرطوں کے ذکر کرنے پر کوئی کلام نہیں بلالکہ کلام اس پر ہے کہ شرط ہی کو مشروط کی حقیقت کیسے بنا دیا گیا جیسا کہ ان کا قول “ ھو قصد الصعید “ (تیمم جنس زمین کے قصد کا نام ہے) بتا رہا ہے۔ اور تعریف دوم میں لفظ “ بشرائط مخصوصۃ “ کی حیثیت اس کے برخلاف ہے۔ اس میں شرط کو اس کی صحیح صورت اور مرتبہ میں رکھ کر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سے استناد بے محل ہے۔ کوئی بھی چیز خواہ عین ہو یا معنی شرعی یا اور کچھ اپنی شرط کے بغیر کبھی نہیں پائی جاتی لیکن اس سے شرط مشروط کارکن نہیں ہوجاتی کہ اس شرط کے ذریعہ اس کی تعریف کی جاسکے۔ نماز اپنی شرط طہارت کے بغیر وجود میں نہیں آتی لیکن کیا یہ کہنا روا ہوگا کہ نماز طہارت کا نام ہے ہاں اس تعریف میں “
قصد
الصعید “ ذکر کرنے کے عذر میں بیان کئے جانے کے قابل وہ ہے جو علامہ شامی نے مذکورہ دونوں جوابوں سے پہلے فرمایا کہ لغوی معانی سے منقول اصطلاحی الفاظ میں عموما لغوی معنی ضرور پایا جاتا ہے۔ اور اصطلاحی معنی لغوی معنی سے اخص ہوتا ہے۔ اسی لئے مشائخ نے حج کی تعریف یہ کی ہے کہ حج ایك خاص قصد ہے کچھ مخصوص اوصاف کی زیادتی کے ساتھ اھ حاصل یہ ہوا کہ یہ ایك تسامح ہے جو معنی منقول عنہ اور معنی منقول الیہ کے درمیان مناسبت بتانے کے پیش نظر روا رکھا گیا ہے۔ بعض تعریف کرنے والوں نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ جیسے عنایہ میں کہا ہے۔ لغت میں تیمم کا معنی قصد ہے۔ اور شریعت میں پاك ہونے کیلئے پاك سطح زمین کا قصد کرنا۔ تو تیمم کے شرعی نام میں لغوی معنی بھی موجود ہے اھ ہذا۔ (ت)
تیمم کی تعریف میں طاہر اور مطہر سے تعبیر کا فرق متون شروح فتاوی کی عامہ کتب کا “ طاہر “ سے تعبیر پر اتفاق ہے مگر تنویر الابصار میں “ طاہر “ کی بجائے “ مطہر “ کہا۔ درمختار میں مطہر سے تعبیر کا فائدہ بتایا کہ یہ کہنے سے وہ زمین خارج ہوگئی جو نجس ہوئی پھر خشك ہوگئی کیونکہ وہ مائے مستعمل کی طرح ہے یعنی طاہر تو ہے مطہر نہیں۔ تو اس زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے مگر اس سے تیمم کرنا جائز نہیں اسی لئے بحرالرائق میں کنز الدقائق کی عبارت پر گرفت
عنایۃ مع الفتح باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۶
الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
اقول : الطھارۃ لاتقبل التشکیك وانما التفاوت بمالانجس فيہ اصلا وما فيہ نجس قلیل معفوعنہ فيکون ھذا ھو الجواب ان المراد بالطاھر کامل الطھارۃ الذی لاعفو فيہ۔
وھذا ماافادہ الامام ملك العلماء فی البدائع اذقال (۱) ان احراق الشمس ونسف الریاح اثرھا فی تقلیل النجاسۃ دون استئصالھا والنجاسۃ وان کانت تنافی وصف الطھارۃ فلم یکن اتیانا بالمأموربہ فلم یجز فاما النجاسۃ القلیلۃ قدتمنع جواز الصلاۃ عند اصحابنا ولایمتنع ان یعتبر القلیل من النجاسۃ فی بعض الاشیاء دون
کی ہے کہ مصنف کو “ بمطھر “ کہنا چاہئے تھا تاکہ وہ خارج ہوجائے جس کا ہم نے ذکر کیا جیسا کہ ابن وہبان کے منظومہ میں “ مطھر “ سے تعبیر کی ہے اھ (ت)
اور قہستانی نے عجب بات کی نقایہ پر گرفت کرکے اس کی مراد کی طرف ایسے الفاظ میں اشارہ کیا کہ ان ہی الفاظ میں گرفت کا جواب بھی موجود تھا اگر وہ غور سے کام لیتے۔ نقایہ کی عبارت ہے : “ علی کل طاھر “ (ہر طاہر پر)۔ اس پر قہستانی نے کہا : یہ تعمیم تسامح سے خالی نہیں۔ اور مراد “ طاہر کامل “ ہے کیونکہ تیمم ایسی زمین پر جائز نہیں جو نجس ہوگئی پھر اس کا اثر جاتا رہا اھ۔ (ت)
اقول : طہارت قابل تشکیك نہیں (کہ حقیقی طور پر طاہر کامل وطاہر ناقص کی تقسیم ہوسکے) فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا طاہر ہوتا ہے جس میں ذرا بھی نجس چیز شامل نہیں۔ اور کوئی ایسا طاہر ہوتا ہے جس میں ایسا قلیل نجس ہوتا ہے جو معاف ہے تو نقایہ پر اعتراض کا یہی جواب ہے کہ طاہر سے مراد وہ کامل الطہارۃ ہے جس میں نجس قلیل عفو شدہ بھی نہیں۔ (ت)امام ملك العلماء نے بدائع الصنائع میں یہی افادہ فرمایا فرماتے ہیں : “ سورج کے تمازت اور ہواؤں کے اڑانے کا اثر صرف یہ ہوتا ہے کہ نجاست کم ہوجاتی ہے بالکل ختم نہیں ہوتی۔ اور نجاست اگرچہ کم ہو طہارت کے منافی ہے تو (وہ زمین جو نجس ہوکر خشك ہوگئی اس پر تیمم کرنے میں پاك زمین سے تیمم کا) جو حکم دیا گیا ہے اس کی بجاآوری نہ ہوسکے گی اس لئے اس سے تیمم جائز نہ ہوا۔ لیکن قلیل نجاست
اقول : لیست الطھارۃ ولاالنجاسۃ امرا اضافيا بل وصف یثبت للشیئ نفسہ امالاصلہ اولعارض (۱) وانما معنی الطھارۃ فی حق شیئ سوغ الاستعمال فيہ والنجاسۃ فيہ عدمہ ولایکون الابقاء نجس عفی عنہ فی حق شیئ دون اخر کما اشار الیہ ملك العلماء۔ (۲) ومنہ مایؤمر فيہ بالعصر البالغ فعصر زید جھدہ ولوعصرہ عمرو لقطر طھر فی حق زید لاعمر و کما فی الدر (۳) وغیرہ وبہ ظھر مافی قول البحر اذقال
ہمارے اصحاب کے نزدیك جواز نماز سے مانع نہیں اور یہ کوئی محال امر نہیں کہ بعض چیزوں میں قلیل نجاست کا اعتبار ہو اور دوسری بعض چیزوں میں نہ ہو۔ دیکھو کہ برتن میں اگر تھوڑی نجاست پڑ جائے تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر اتنی ہی تھوڑی نجاست کپڑے میں لگ جائے تو اس سے نماز جائز ہے (ت)اور یہی ان حضرات کا مطمع نظر ہے جنہوں نے فرمایا کہ وہ زمین نماز کے حق میں پاك ہے تیمم کے حق میں ناپاك ہے۔ مگر بحرالرائق میں اسے انکا ظاہر کلام قرار دیا۔
میں کہتا ہوں طہارت اور نجاست کوئی اضافی چیز نہیں (کہ کسی کہ بہ نسبت طہارت ہو اور کسی کی بہ نسبت نجاست) بلالکہ یہ ایسا وصف ہے جو خود شیئ کیلئے براہ راست یا کسی عارض کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے۔ کسی شیئ کے حق میں پاك ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز ہے اور ناپاك ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز نہیں۔ اور یہ اسی وقت ہوگا جب کچھ نجس جز باقی رہ گیا ہو جو کسی چیز کے حق میں معاف ہے اور دوسری چیز کے حق میں معاف نہیں۔ جیسا کہ ملك العلماء نے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ (ت)اور اسی سے وہ بھی ہے جس میں خوب نچوڑنے کا حکم ہے۔ اب زید نے اپنی طاقت بھر نچوڑا مگر عمرو اسے نچوڑتا تو ابھی کچھ اور ٹپکتا۔ یہ زید کے حق میں پاك ہے مگر عمرو کے حق میں نہیں۔ جیسا کہ
الدرالمختار بالمعنی باب الانجاس مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
اقول : (۱) مطمح نظرھم فی ھذا التعلیل ان الکتاب الکریم انما شرط صعیدا طیبا
درمختار وغیرہ میں ہے۔
اس تفصیل سے بحرالرائق کی عبارت میں جو خامی ہے ظاہر ہوگئی انہوں نے اسے نقل کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ حق یہ ہے کہ وہ زمین (نماز وتیمم) ہر ایك کے حق میں پاك ہے اور اس سے تیمم اس لئے ممنوع ہے کہ اس میں مطہر ہونے کی صفت مفقود ہے۔ جیسے مائے مستعمل میں یہ صفت مفقود ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حدیث میں نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا قول وارد ہے : “ میرے لئے زمین کو مسجد اور طہور بنایا گیا “ ۔ یہ استدلال اس بنیاد پر ہے کہ طہور بمعنی مطہر ہے۔ اور اس پر کلام گزر چکا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس تعلیل میں ان علماء کا مطمح نظر یہ ہے کہ قرآن کریم نے “ صعید طیب “ کی شرط
عــہ۱ اقول : فی (۲) جعلہ دلیلا براسہ نظر لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : (۳) الذی قدم صدر بحث المیاہ انکار ان یکون الطھور بمعنی المطھر لغۃ (۴) ولاشك ان المحاورات الشرعیۃ تظافرت علی ذلك منھا ھذا الحدیث فان کون الارض طاھرۃ لیس من خصائص ھذہ الامۃ بل کونھا طھورا وقد سلم المحقق علی الاطلاق الاجماع علی ان الطھور فی لسان الشرع مایطھر غیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : اسے مستقل دلیل بنانا نمایاں طور پر محل نظر ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (کیونکہ حدیث سے صرف یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ زمین مطہر ہے اس کو ماسبق سے ملائیں تو ایك دلیل مکمل ہوگی اور ماسبق سے الگ کردیں تو مدعا ثابت نہ ہوگا ۱۲ محمد احمد مصباحی) اقول : اس سے پہلے بحث میاہ کے شروع میں انہوں نے لغت میں طہور بمعنی مطہر ہونے کا انکار کیا ہے لیکن اس میں شك نہیں کہ طہور بمعنی مطہر ہونے پر شرعی محاورات کثرت سے موجود ہیں انہی میں سے یہ حدیث بھی ہے کیونکہ زمین کا طاہر ہونا اس امت کی خصوصیات میں نہیں بلالکہ زمین کا مطہر ہونا اس امت کے خصائص سے ہے اور محقق علی الاطلاق نے تو اس بات پر اجماع تسلیم کیا ہے کہ زبان شرع میں طہور وہ ہے جو دوسرے کو پاك کردے۔ (ت)
اما الحدیث فاقول : (۱) یفيد کالایۃ وصف الارض بانھا طھور فيثبت لکل ارض طاھرۃ لاتقییدہ التطھیر بما ھو منھا طھور فوق الطہارۃ اما قرربہ المحقق حیث اطلق ان الصعید علم قبل التنجس طاھرا وطھورا وبالتنجس علم زوال الوصفين ثم ثبت بالجفاف شرعا احدھما اعنی الطھارۃ فيبقی الاخر علی ماعلم من زوالہ واذا لم یکن طھورا لایتیمم بہ اھ۔
فاقول : (۲) لم یعلم کونھا طھورا الا بالکریمۃ والکریمۃ لم تشرط لطھوریتھا الاطیبھا وطھارتھا ومازالت الطھوریۃ الالزوال الطھارۃ فان عادت عادت فلابد من القول بما قالوا والمیل الی مامالوا۔
لگائی۔ اور طیب وہی ہے جو پاك ہو۔ اور پاکی سے اوپر ایك وصف کا اور اضافہ کرنا کتاب الله پر زیادتی ہے۔ اس لئے یہ (کہنا) ضروری ہے کہ جو زمین نجس ہوکر خشك ہوگئی وہ (تیمم کے حق میں) طاہر ہی نہیں تاکہ ماموربہ اس زمین کو شامل ہی نہ ہو۔ (ت)رہی وہ حدیث جو آپ نے پیش کی فاقول : یہ بھی آیت کی طرح زمین کیلئے طہور ہونے کی صفت کا افادہ کررہی ہے۔ تو یہ صفت ہر طاہر زمین کیلئے ثابت ہوگی۔ حدیث یہ افادہ نہیں کرتی کہ تطہیر کا عمل اسی زمین سے مقید ومخصوص ہے جو طاہر ہونے سے بڑھ کر مطہر ہو۔ لیکن محقق علی الاطلاق کی یہ تقریر کہ “ نجس ہونے سے قبل سطح زمین کا طاہر اور مطہر دونوں کا ہونا معلوم تھا۔ اور نجس ہونے سے دونوں صفتوں کا زوال اور ختم ہونا معلوم ہوا۔ پھر خشك ہونے سے دونوں میں ایك وصف یعنی طاہر ہونا شرعا ثابت ہوا تو دوسرا وصف اسی حال معلوم زوال پر باقی رہے گا (مطہر ہونے کا وصف ثابت نہ ہوسکے گا) اور جب مطہر نہ ہوگی تو اس سے تیمم جائز نہ ہوگا “ ۔ اھ (ت)
فاقول : زمین کا مطہر ہونا آیت ہی سے معلوم ہوا اور آیت نے مطہر ہونے کیلئے صرف پاکیزگی وپاکی کی شرط لگائی اور وصف طہارت ختم ہونے ہی کی وجہ سے مطہر ہونے کی صفت ختم ہوئی تو اگر طہارت کی صفت (خشك ہوجانے سے) لوٹ آئے تو مطہر ہونے کی صفت بھی لوٹ آئیگی
اس لئے اسی کا قائل ہونا پڑے گا جس کے قائل وہ حضرات ہیں اور اسی کی طرف مائل ہونا ہوگا جس کی طرف وہ مائل ہیں۔ (ت)
اقول : لیکن اس پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ خشك ہونے سے پاك ہوجانے والی زمین پر اگر پانی پہنچ جائے تو نجس ہوجائےگا اور زمین بھی پھر نجس ہوجائیگی۔ اس لئے کہ آب قلیل کیلئے قلیل وکثیر دونوں ہی نجاستیں برابر ہیں تو پانی نجس ہوجائےگا پھر زمین کو بھی نجس کردے گا۔ اور ہر وہ چیز جس کے متعلق کسی بہنے والی چیز کے بغیر پاك ہوجانے کا حکم کیا گیا ہے اس کے بارے میں دو تصحیحوں میں سے ایك یہی ہے کہ پانی پڑنے سے وہ پھر ناپاك ہوجائیگی جیسا کہ البحرالرائق میں “ وعفی قدر الدرھم “ سے قبل اس کی تفصیل موجود ہے اور محیط سے خاص مسئلہ زمین میں یہ نقل کیا ہے کہ اصح یہی ہے کہ نجاست لوٹ آئیگی۔ لیکن روایت مشہورہ یہ ہے کہ نجس نہ ہوگی اور یہی مختار ہے۔ خلاصہ اور یہی صحیح ہے خانیہ ومجتبی اور یہی اولی ہے کیونکہ متون میں طہارت کی صراحت موجود ہے اور پاك شیئ سے پاك پانی کا اتصال باعث نجاست نہیں۔ اور اسی کو فتح القدیر میں اختیار کیا اس لئے کہ جو دوبارہ نجس ہوجانے کے قائل ہیں ان کی بنیاد اس پر ہے کہ نجاست زائل نہیں ہوئی صرف کم ہوئی اھ البحرالرائق۔ (ت)
اقول : عــہ تحقیق اور نظر دقیق یہ ہے کہ یہ بھی
عــہ ملك العلماء کی عبارت بدائع سے یہ معلوم ہوا کہ زمین خشك ہوجانے سے نجاست بالکل زائل نہیں ہوتی کچھ (باقی برصفحہ ایندہ)
ان پر یعنی ملك العلماء اور شارحین پر لازم نہ آئیگا اور لازم نہ آنے کے ساتھ ان کے مقصود کیلئے مضر بھی نہیں۔ کپڑے وغیرہ میں جیسے ایك حد تك قلیل نجاست معاف ہوتی ہے کچھ خفيف وقلیل سی نجاست پانی میں بھی تو عفو ہوتی ہے سوئی کے ناکوں کی طرح پیشاب کے چھینٹے پڑ جائیں کنویں میں مینگنی پڑ جائے ایك دو یا کچھ اور جہاں تك کہ دیکھنے والا اسے قلیل ہی سمجھے تو ان سب کے معاف ہونے سے متعلق علماء کی صراحت موجود ہے۔ قلیل گوبر اور لید کا بھی یہی حکم ہے۔ تو خشك زمین پر جو خفيف سی نجاست رہ گئی ہے اس کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے کیونکہ جب زمین خشك ہوگئی اور نجاست کا اثر جاتا رہا یہاں تك کہ نہ رنگ باقی رہا نہ بو تو اس کے بعد جو کچھ رہ جاتا ہے وہ بس سوئی کے ناکوں کی طرح یا اس سے بھی کم تر ہوتا ہے (تو یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ ایسی خشك زمین پانی پڑنے کے بعد بھی پاك ہی رہے) یہاں پر متون وغیرہا میں جو طاہر کا لفظ آیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ استعمال جائز ہے (یہ معنی نہیں کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
باقی رہتی ہے اسی لئے اس سے تیمم جائز نہیں کیونکہ کتاب الله میں اس کیلئے صعید پاك کی شرط آئی ہے اور نجاست اگرچہ خفيف ہو طہارت کے منافی ہے لیکن قلیل نجاست جواز نماز کے منافی نہیں اس لئے اس زمین پر نماز کا جواز ہے۔ اب بحرالرائق کی منقولہ عبارت کی آخری سطر کی روشنی میں ملك العلماء کے نزدیك ایسی خشك زمین پانی لگنے سے پھر نجس ہوجانی چاہئے کیونکہ ان کی صراحت موجود ہے کہ زمین خشك ہوجانے سے نجاست کم ہوتی ہے ختم نہیں ہوتی۔ اقول کے بعد مصنف نے اس شبہ کا ازالہ فرمایا ہے ۱۲ محمد احمد اصلاحی
واقول : (۱) لیس کذلك بل قالوا للتطھیر یعنی المعروف المعھود من مسح
کہ وہ کامل طور پر ایسا پاك وطاہر ہے کہ ذرا بھی نجاست کا وجود نہیں) علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ کپڑے پر خشك منی ہو تو رگڑ دینے سے پاك ہوجائیگی۔ اور یہ قطعی طور پر معلوم ہے کہ رگڑ سے منی بالکل ختم نہیں ہوجاتی بلالکہ اس کے کچھ اجزاء باقی رہ جاتے ہیں۔ عین کے باقی رہتے ہوئے اجزائے نجس کی طہارت کا حکم دینا ممکن ہی نہیں پھر پاك ہونے کا کیا مطلب ہوا یہی کہ اب استعمال جائز ہے اور جو کچھ رہ گیا ہے وہ معاف ہے۔ اور یہ پانی کے حق میں بھی معاف ہی ہے۔ اس لئے کہ مختار یہی ہے۔ جیسا کہ خلاصہ میں ہے کہ پانی لگنے سے وہ پھر نجس نہ ہوگا۔ (ت)
اس تفصیل سے بحمدالله علما کے اس ارشاد کی صحت روشن ہوگئی کہ وہ خشك زمین نماز کے حق میں پاك ہے تیمم کے حق میں ناپاك ہے اور نجاست پڑنے کے بعد خشك ہوجانے والی زمین سے متعلق متون میں پاك ہونے کا جو حکم ہے اور ان علماء کے قول میں تیمم کے حق میں اس کے ناپاك ہونے کا جو حکم ہے دونوں میں کوئی مخالفت اور منافات نہیں۔ اور علماء کے جم غفیر نے تیمم سے متعلق صعید کو صرف طاہر وپاك سے مقید کرنے پر جو اکتفا کیا ہے یہ بالکل پاك وصاف ہے جس پر کوئی غبار نہیں اور الله تعالی ہی توفيق دینے والا ہے۔ (ت)تعریف مذکور “ القصد الی الصعید الطاھر للتطھیر “ (پاك سطح زمین کا قصد کرنا تطہیر کیلئے) سے کچھ لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس تعریف میں محض قصد کو تیمم کی حقیقت قرار دے دیا گیا ہے جس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔ اسی لئے درر کے حاشیہ میں فاضل رومی عبدالحلیم نے اس پر اعتراض کیا کہ اس تعریف سے “ استعمال “ سمجھ میں نہیں آتا حالانکہ استعمال کا رکن تیمم ہونا کوئی پوشیدہ امر نہیں اھ (ت)میں کہتا ہوں اس تعریف میں استعمال کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے اس میں للتطھیر موجود ہے
الوجہ الثانی : ماافادہ ملك العلماء فی البدائع وتبعہ کثیرون من اخرھم الدرر انہ استعمال الصعید فی عضوین مخصوصین علی قصد التطھیر بشرائط مخصوصۃ اھ ولفظ الامام الزیلعی فی ما حکی عنھم استعمال جزء من الارض علی اعضاء مخصوصۃ علی قصد التطھیر اھ
اقول : وقید الطاھر یستفاد من قصد التطہیر قال وفیہ نظر لانہ لایشترط ان یستعمل الجزء علی الاعضاء حتی یجوز بالحجرالاملس اھ وتبعہ علی ھذا الایراد غیر واحد ولاجل ھذا جعل فی
( “ پاك کرنے کیلئے “ ) صعید طاہر کا قصد کرنا) تطہیر سے مراد وہی ہے جو معروف ومعلوم ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ اب معنی یہ ہوا کہ تیمم یہ ہے کہ “ پاك سطح زمین کا قصد کرکے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرے “ ۔ یہی پوری بات قرآن کریم نے بھی افادہ فرمائی ہے “ پاك سطح زمین کا قصد کرو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو “ ۔ ہاں قرآن کریم کے بیان میں وہ خامی نہیں جو اس تعریف میں ہے وہ یہ کہ اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قصد اور تطہیر ومسح سبھی تیمم کا رکن ہیں (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قصد رکن نہیں شرط ہے) والله تعالی اعلم۔ (ت)
تعریف دوم : جس کا ملك العلماء نے بدائع میں افادہ فرمایا اور بہت سے حضرات نے ان کا اتباع کیا جس کے آخری لوگوں میں سے صاحب درر ہیں وہ یہ ہے : “ جنس زمین کا' دو خاص عضووں میں تطہیر کے ارادہ سے مخصوص شرائط کے ساتھ استعمال کرنا “ ۔ امام زیلعی نے حضرات علماء سے حکایت کرتے ہوئے جو الفاظ ذکر کیے وہ یہ ہیں “ زمین کے کسی جز کا خاص اعضاء پر تطہیر کے ارادہ سے استعمال کرنا اھ (ت)میں کہتا ہوں (اس تعریف میں صراحۃ صعید طاہر یا جزوطاہر کا ذکر نہیں مگر) طاہر کی قید “ قصد تطہیر “ کے لفظ سے مستفاد ہوجاتی ہے (کیونکہ غیر طاہر سے تطہیر ممکن نہیں) امام زیلعی نے فرمایا : “ اس تعریف میں نظر ہے اس لئے کہ تیمم کے اندر اعضاء پر
تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱ / ۳۶
تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱ / ۳۶
اقول : ولا دور فی لفظ الجوھرۃ فان محل التیمم معروف عند الناس والمقصود بیان حقیقتہ الشرعیۃ وردہ الشرنبلالی فی غنیتہ بانہ وان کان اصح من الوجہ الذی ذکرہ لایخفی مافیہ من وجہ اخر وھو انہ جعل مدلولہ القصد المخصوص وقد علمت ماذکرہ الکمال اھ فقد سلم تزییف الثانی وان نازع فی تصحیح الاول واجاب العلامۃ ابن کمال باشا فی الایضاح وتبعہ فی الدر وغیرہ۔
بان المراد من الاستعمال مایعم
جزو زمین کا استعمال شرط نہیں چکنے پتھر سے بھی تیمم جائز ہے۔ “
اس اعتراض پر متعدد حضرات نے ان کا اتباع کیا اور اسی لئے جوہرہ نیرہ میں تعریف اول کو “ اصح “ قرار دیا۔ جوہرہ میں یہ ہے : تیمم زمین کے کسی پاك جز کو محل تیمم میں استعمال کرنا اور کہا گیا کہ : تطہیر کے لئے صعید (سطح زمین) کا قصد کرنا۔ اور یہ تعریف زیادہ صحیح ہے اس لئے کہ پتھر سے بھی تیمم جائز ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں جوہرہ کی عبارت میں دور نہیں اس لئے کہ محل تیمم لوگوں کے نزدیك معروف ہے اور تعریف سے اس کی شرعی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے۔ جوہرہ میں مذکور دوسری تعریف پر شرنبلالی نے اپنی غنیہ میں یوں رد کیا ہے کہ : یہ اگرچہ اس لحاظ سے اصح ہے جسے جوہرہ نے ذکر کیا لیکن ایك دوسری جہت سے اس میں جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اس تعریف میں تیمم کا مدلول قصد مخصوص کو قرار دیا ہے اور اس پر کمال ابن ہمام نے جو اعتراض ذکر کیا ہے وہ معلوم ہے اھ (وہ یہ کہ قصد شرط ہے رکن نہیں) تو جوہرہ کی تعریف ثانی پر جو تردید ہے شرنبلالی نے اسے تسلیم کیا ہے اگرچہ انہوں نے اس کی تعریف اول کی تصحیح سے بھی اختلاف کیا ہے۔ ہماری نقل کردہ تعریف دوم پر جو اعتراض ہے علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح میں اس کا جواب دیا جو درمختار وغیرہ میں بھی ان کے اتباع میں مذکور ہے۔ (ت)
وہ یہ کہ “ استعمال سے مراد وہ ہے جو
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ درر لملّا خسرو مکتبہ کاملیہ بیروت ۱ / ۲۹
اقول : (۱) واغرب الرومی فی حواشی الدرر فقال بعد ذکرہ ھذا اذا کان المراد بالصعید التراب اما اذا کان بمعنی وجہ الارض فیشمل الحجر الاملس کما لایخفی اھ فکانہ فھم ان الاخذ علی لفظ الصعید انہ التراب ولایشترط بل یجوزبالحجر فاجیب بانہ تراب حکما ولایخفی علیك مافیہ من البعد البعید عن فھم المرام واجاب النھر بوجہ اخر فقال یمکن ان یقال ان التیمم بالاملس فیہ استعمال جزء من الارض اھ نقلہ السید ابو السعود الازھری وھو مال مافی مجمع الانھر اذ قال یمکن ان یجاب بان یراد من الجزء الجزء الحاصل من الارض والحجر ایضا من الارض والمراد باستعمالہ استعمالہ المعتبر شرعا تدبر اھ وتبعہ اعنی النھر ط فقال علی قول الدر استعمالہ حقیقۃ اوحکما لیعم التیمم بالحجر الاملس مانصہ۔
استعمال حکمی کو بھی شامل ہو اور یہ چکنے پتھر سے تیمم میں بھی موجود ہے۔ اھ (ت)
میں کہتا ہوں فاضل رومی نے حاشیہ درر میں عجیب بات کی اعتراض مذکور لکھنے کے بعد یہ کہا کہ “ یہ اعتراض اس وقت ہوگا جب صعید سے مراد مٹی ہو لیکن جب صعید بمعنی روئے زمین ہو تو یہ چکنے پتھر کو بھی شامل ہے جیسا کہ ظاہر ہے اھ گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ لفظ “ صعید “ پر گرفت کی گئی ہے کہ صعید تو مٹی کو کہتے ہیں اور تیمم کے لئے مٹی کا ہونا شرط نہیں بلالکہ پتھر سے بھی جائز ہے پھر اس کے جواب میں کہا گیا کہ پتھر بھی مٹی کے حکم میں ہے “ ۔ یہ سب باتیں فہم مقصد سے جس قدر بعید تر ہیں مخفی نہیں۔ اعتراض بالا کا النہرالفائق میں دوسری طرح جواب دیا ہے فرمایا ہے “ کہا جاسکتا ہے کہ چکنے پتھر سے تیمم کرنے میں بھی زمین کے ایك جز کا استعمال ہوتا ہے اھ “ ۔ اسے سید ابو السعود ازہری نے نقل کیا۔ یہی اس جواب کا بھی مآل ہے جو مجمع الانہر میں ہے۔ اس میں یوں فرمایا ہے : “ جواب دیا جاسکتا ہے کہ جز سے مراد زمین سے حاصل ہونے والا جز ہے اور پتھر بھی زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور استعمال سے
حاشیہ درر لمولٰنا عبدالحلیم مطبعہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۲۵
فتح المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۷
واوضحہ ش فقال لایخفی ان الحجر الاملس جزء من الارض استعمل فی العضوین للتطھیر اذلیس المراد بالاستعمال اخذ جزء منھا بل جعلہ الۃ للتطھیر و علیہ فھو استعمال حقیقۃ و ھو ظاہر کلام النھر فلاحاجۃ الی قولہ او حکما کماافادہ ط اھ ۔
اقول : (۱) لایرتاب احد انك اذاعمدت الی حجر املس فوضعت کفیك علیہ ثم مسحت بھما وجھك وذراعیك فقد استعملت الحجر فی التطھیر لکن اذا قیل
وہ استعمال مراد ہے جس کا شریعت میں اعتبار ہے غور کرو اھ اور طحطاوی نے نہر کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے درمختار کی عبارت “ استعمالہ حقیقۃ اوحکما لیعم التیمم بالحجر الاملس “ (اس کا حقیقۃ استعمال ہویا حکما تاکہ چکنے پتھر سے تیمم کو بھی شامل رہے) کے تحت یہ لکھا ہے :
“ یہ ایك سوال کا جواب ہے۔ حاصل سوال یہ ہے کہ تیمم تو چکنے پتھر پر بھی جائز ہے اور اس میں اس کا استعمال نہیں پایا جاتا۔ حاصل جواب یہ ہے کہ اس پر ہاتھوں کے رکھنے سے حکمی استعمال پالیا گیا۔ اور نہر فائق کی ظاہر عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کے رکھنے کی وجہ سے حکمی نہیں حقیقی استعمال موجود ہے اور جب یہ بات ہے تو “ اوحکما “ بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں اھ۔ (ت)
شامی نے اسے واضح کرکے یوں فرمایا : “ ظاہر ہے کہ چکنا پتھر زمین کا ایك جز ہے جو تطہیر کیلئے دونوں اعضاء میں استعمال ہوا کیونکہ استعمال سے یہ مراد نہیں کہ اس کے کسی جز کو لے لیا جائے بلالکہ یہ مراد ہے کہ اس کو آلہ تطہیر بنایا جائے۔ اور جب یہ بات ہے تو مذکورہ استعمال حقیقۃ استعمال ہے اور یہی عبارت نہر کا ظاہر ہے تو لفظ “ اوحکما “ کی کوئی ضرو رت نہیں جیسا کہ طحاوی نے افادہ فرمایا اھ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں کسی کو شك نہ ہوگا کہ جب کسی نے چکنے پتھر کا قصد کرکے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو رکھا پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح کیا تو تطہیر کے کام میں پتھر کو
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
(۲) اماجعلہ الۃ للتطھیر فکلام مجمل خفی لا یحصل بہ التعریف فانہ باطلاقہ یشمل مااذا ذرالتراب علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر فقد جعلہ الۃ لہ ولایصیر متیمما مالم یمسح بیدیہ علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر بعد وقوع التراب علیھا والمسألۃ
استعمال کیا۔ لیکن جب یہ کہا جائے کہ “ زمین کے کسی جز کو “ دونوں اعضاء میں “ یا “ دونوں عضووں پر “ استعمال کرنا جیسا کہ ان حضرات کی عبارتوں میں ہے تو اس سے ذہن اسی بات کی طرف جائے گا کہ دونوں عضووں کا زمین کے کسی جز کو مس کرنا۔ دیکھ لو سید طحطاوی نے استعمال کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : “ وہ چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا ہے اھ “ اسی کے مثل دوسرے حضرات نے بھی ذکر کیا ہے بلکہ خود علامہ شامی نے اس استعمال کے کچھ بعد یہ کہا ہے : “ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مخصوص مسح ہے۔ اھ اور اس میں شك نہیں کہ چکنے پتھر میں اور ہر ایسی چیز میں جس سے ہتھیلیوں میں کچھ بھی چپك نہ پائے دونوں عضووں کا جزو زمین سے مسح نہ پایا جائےگا اس میں بس دونوں اعضاء پر جزو زمین کا استعمال بالواسطہ ہی ہوا اور یہی استعمال حکمی کا معنی ہے۔ (ت)
اور وہ معنی جو علامہ شامی نے بتایا کہ جزو زمین کو آلہ تطہیر بنانا تو یہ مجمل وخفی کلام ہے جس سے تعریف حاصل نہیں ہوتی۔ اسے مطلق رکھا جائے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب آدمی مٹی اپنے چہرے اور کلائیوں پر تطہیر کی نیت سے چھڑك لے اس نے جزو زمین کو آلہ تطہیر تو بنالیا مگر تیمم کرنیوالا نہ ہوگا جب تك کہ چہرے اور کلائیوں پر مٹی پڑنے
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
ثم اقول : بل التحقیق عندی ان الاستعمال ھو المسح کمافسرہ السیدان ط وش وھو حقیقۃ التیمم کماحققہ المحقق حیث اطلق فلابد من وجودہ حقیقۃ بالمعنی الذی سنحققہ ان شاء الله تعالی فلا یکفی الاستعمال الحکمی والا لم یکن تیمما حقیقۃ لان الحقیقۃ الرکن حقیقۃ۔
(۱) بل الصعید ھو المنقسم الی الحقیقی وھو جزء من جنس الارض (۲) والحکمی وھو الکف الذی امس بہ علی نیۃ التطہیر فان الشرع المطھر امرنا ان نمسح وجوھنا وایدینا منہ وارشدناہ الی صفتہ بان نضع الاکف علیہ فنمسح بھا من (۳) دون حاجۃ الی ان یلتزق بھا شیئ منہ بل سن لنا ان ننفضھا ان لزق حتی یتناثر فعلم ان الجزء الملتزق ساقط الاعتبار بل مطلوب التجنب فما ھو الا ان الکفین بوضعھما المنوی یورثھما الصعید صفۃ التطھیر فیقومان ویفید ان
کے بعد ان پر بہ نیت تطہیر ہاتھوں سے مسح نہ کرے۔ اس مسئلہ پر کتب معتمدہ خانیہ خلاصہ خزانۃ المفتین ایضاح جوہرہ وغیرہا میں نص وتصریح موجود ہے ان شاء الله تعالی آگے اس کا ذکر بھی آئیگا۔ (ت)
ثم اقول : بلالکہ میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ استعمال وہی مسح کرنا ہے جیسا کہ حضرات طحطاوی وشامی نے تفسیر کی۔ اور یہی تیمم کی حقیقت ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے اس نے تحقیق کی۔ تو اس کا وجود حقیقۃ۔ اس معنی میں جس کی ان شاء الله تعالی ہم عنقریب تحقیق کررہے ہیں ضروری ہے اور حکمی استعمال کافی نہ ہوگا ورنہ حقیقۃ تیمم کرنے والا نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حقیقت وماہیت تو وہی ہے جو حقیقۃ رکن ہو۔ (ت) بلالکہ (تحقیق یہ ہے کہ) صعید ہی کی دو۲ قسمیں ہیں : حقیقی اور حکمی۔ حقیقی جنس زمین کا کوئی جز ہے اور حکمی وہ ہتھیلی ہے جو جنس زمین سے بہ نیت تطہیر مس کی گئی۔ اس لئے کہ شرع مطہر نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کریں۔ اور ہمیں اس کا طریقہ یہ بتایا کہ اس پر اپنی ہتھیلیوں کو رکھیں پھر ان سے مسح کرلیں اس کی ضرورت نہیں کہ ان میں جنس زمین سے کچھ چپك جائے بلالکہ ہمارے لئے مسنون یہ ہے کہ اگر کچھ لگ جائے تو ہتھیلیوں کو جھاڑ دیں تاکہ گردوغبار جھڑ جائے اس سے معلوم ہوا کہ جنس زمین کا وہ جز جو ہتھیلیوں سے چپك جاتا ہے ساقط الاعتبار
ہے بلالکہ اس سے بچنا مطلوب ہے۔ تو یہی ہوا کہ نیت کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں جب جنس زمین پر رکھ دی جاتی ہیں تو ان دونوں کے اندر جنس زمین تطہیر کی صفت پیدا کردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں اس کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور اسی کے حکم کا افادہ کرتی ہیں۔ اس لئے یہی دونوں صعید حکمی ہیں۔ یہ ہمارے رب تبارك وتعالی کے حکم کی بنا پر ہے جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں۔ (ت)
امام ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا تیمم ہر اس چیز سے جائز ہے جو جنس زمین سے ہو ہاتھ اس سے کچھ لگے یا نہ لگے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ جب تك ہاتھ میں جنس زمین کے اجزاء سے کچھ لگ نہ جائے تیمم جائز نہیں۔ تو ان کے نزدیك اصل یہ ہے کہ صعید کے کسی جز کا استعمال ضروری ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہ شرط نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ روئے زمین ہاتھوں سے مس ہو اور ان دونوں کو دونوں عضو پر پھیر لیا جائے۔ امام محمد کے قول کی دلیل یہ ہے کہ ماموربہ جنس ارض کا استعمال ہے اور وہ اسی طرح ہوگا کہ اس میں سے ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ مامور صرف اتنا ہے کہ صعید سے تیمم کرو ہاتھ سے چپکنے کی شرط نہیں۔ ماموربہ جب مطلق ہے تو اسے بلادلیل مقید کرنا جائز نہیں۔ اور ان کا یہ قول کہ استعمال شرط ہے تسلیم نہیں اس لئے کہ یہ چہرہ کی تغیر وتبدیل کا باعث ہوگا جو مثلہ کے مشابہ اور اہل جہنم کی نشانی ہے اسی لئے ہاتھوں کو جھاڑ دینے
کا حکم ہے بلالکہ شرط یہ ہے کہ روئے زمین پر لگاتے ہوئے ہاتھ کو چہرے اور ہاتھوں سے مس کردیا جائے بطور عبادت اس کا مکلف بنایا ہے جس کا معنی عقل کی دریافت میں نہیں۔ یہ حکم کسی ایسی حکمت کی بنا پر ہے جس کا علم خدا تعالی کو ہے اھ (ت)اور کافی امام نسفی میں ہے : واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرلیا جائے مٹی کا استعمال واجب نہیں کیونکہ مٹی کا استعمال مثلہ ہوگا اھ بدائع کے الفاظ پر غور کیا جائے قول امام محمد کے بیان میں ہے : “ صعید کے کسی جز کا استعمال اسی طرح ہوگا کہ اس سے ہاتھ میں کچھ چپك جائے “ ۔ قول امام اعظم کے بیان میں ہے : “ استعمال مشابہ مثلہ ہونے کا باعث ہوگا۔ “ اسی طرح کافی کے یہ الفاظ دیکھے جائیں : “ مٹی کا استعمال مثلہ ہے “ ۔ ان سب کو دیکھنے سے استعمال کی مراد معلوم ہوجائے گی اور ظاہر ہوجائے گا استعمال صرف آلہ تطہیر بنانے کا نام نہیں۔ (ت)
جب یہ ثابت ہوگیا کہ استعمال وہی مسح ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور حکم یہ ہے کہ دونوں عضووں کا صعید سے مسح کیا جائے۔ اور صعید سے صرف دونوں ہتھیلیوں کا مسح ہوتا ہے پھر ان دونوں سے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح ہوتا ہے اس سے یہ واضح ہوگیا کہ استعمال تو اپنے حکمی معنی پر ہی محدود ہے اور صعید حقیقی وحکمی دو قسموں کی طرف
کافی شرح وافی
الوجہ الثالث : قال شیخ الاسلام ابو عبدالله محمد بن عبدالله الغزی التمرتاشی رحمہ الله تعالی فی التنویر ھو قصد صعید مطھر واستعمالہ بصفۃ مخصوصۃ لاقامۃ القربۃ قال ش المصنف ذکر التعریفین المنقولین عن المشائخ والظاھر انہ قصد جعلھما تعریفا واحدا ثم ذکر ماقدمنا عنہ من اخذ المعنی اللغوی فی الشرعی وانہ لابد من ذکر الشروط حتی یتحقق المعنی الشرعی قال ولما کان الاستعمال وھو المسح المخصوص للوجہ والیدین من تمام الحقیقۃ الشرعیۃ ذکرہ مع القصد تتمیما للتعریف فاغتنم ھذا التحریر المنیف اھ
اقول : (۱) لاشك ان المصنف رحمہ الله تعالی یرید حدا واحد التیمم ولیس ھذا محل الاستظھار (۲) غیر انك قد علمت مافی جعل القصد من الحقیقۃ فلا یصح ان المسح من تمام الحقیقۃ وانہ ضمہ الی القصد تتمیما للتعریف وبالله التوفیق
منقسم ہے۔ یہ انتہائے تحقیق ہے اور خدا ہی کی توفیق ہے اور اسی کیلئے حمد ہے جیسا کہ اس کیلئے لائق ومناسب ہے۔ (ت)
تعریف سوم : شیخ الاسلام ابو عبدالله محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تنویر الابصار میں فرمایا : “ تیمم پاك کرنے والی سطح زمین کا قصد کرنا اور اسے قربت کی ادائیگی کیلئے مخصوص طریقہ پر استعمال کرنا “ ۔ شامی فرماتے ہیں : “ مصنف نے مشائخ سے منقول دونوں تعریفیں ذکر کردیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ دونوں کو ایك تعریف بنانا چاہتے ہیں۔ “ پھر علامہ شامی نے وہ لکھا ہے جس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا یعنی شرعی تعریف میں لغوی معنی کا ماخوذ ہونا اور یہ کہ شرعی معنی کے ثبوت وتحقق کیلئے شرطوں کا بھی ذکر ضروری ہے فرمایا : “ چونکہ استعمال۔ یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مخصوص مسح۔ تمام حقیقت شرعیہ ہے اس لئے تکمیل تعریف کیلئے قصد کے ساتھ اسے بھی ذکر کیا۔ اس عمدہ تحریر توضیح کو غنیمت سمجھو “ ۔ (ت)
اقول : مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہبلاشبہ تیمم کی ایك تعریف کرنا چاہتے ہیں تو اسے صرف “ ظاہر “ کہنے کا یہ موقع نہیں۔ بلالکہ یہ یقینی بات ہے۔ ہاں “ قصد “ کو تیمم کی حقیقت سے قرار دینے میں جو خرابی ہے وہ معلوم ہوچکی تو یہ درست نہیں کہ مسح تمام حقیقت سے ہے اور اسے قصد کے ساتھ اس لئے
ردالمحتار باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۸
الوجہ الرابع : قال المحقق وتبعہ البحر والشرنبلالی وابن الشلبی واخرون الحق انہ اسم لمسح الوجہ والیدین عن الصعید الطاھر والقصد شرط لانہ النیۃ اھ
اقول : ھو علی ماحققنا من معنی الاستعمال عین الثانی وان فارقہ علی مازعم العلامۃ ش ان الاستعمال جعلہ الۃ التطھیر (۱) والعجب من العلامۃ البحر تبع المحقق علی تصویب ھذا وفیہ التعبیر بطاھر دون مطھر فاذا کان ھذا ھو الحق فلم الاخذ علی الکنز ولھذا
ذکر کردیا کہ تعریف کی تکمیل ہوجائے (قصد رکن تیمم نہیں تو حقیقت تیمم کے بیان میں اسے شامل کرنا بھی درست نہیں)۔ اور توقیق وآگاہی خدا ہی کی جانب سے ہے۔ (ت)
پھر ہم یہ بتا چکے کہ دونوں تعریفیں دونوں باتوں۔ قصد واستعمال پر مشتمل ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پہلی میں ہے : استعمال کیلئے صعید کا قصد کرنا۔
دوسری میں ہے : قصد کے ساتھ صعید کا استعمال کرنا۔ تیسری میں ہے کہ تیمم قصد اور استعمال ہے۔ اور بہترین امور درمیانی ہے (تینوں میں سے دوسری تعریف کی عمدگی کی طرف اشارہ ہے ۱۲)
تعریف چہارم : محقق علی الاطلاق نے اور ان کی تبعیت میں بحر شرنبلالی ابن شلبی اور دوسرے حضرات نے فرمایا : “ حق یہ ہے کہ تیمم پاك جنس سے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کا نام ہے۔ اور قصد شرط ہے اس لئے کہ یہ تو نیت ہے “ ۔ اھ
اقول : ہم نے معنی استعمال کی جو تحقیق کی اس کی بنیاد پر یہ تعریف بعینہ تعریف دوم ہے۔ اگرچہ علامہ شامی نے جو گمان کیا کہ استعمال آلہ تطہیر بنانے کا نام ہے اس کی بنیاد پر یہ تعریف دوم سے جداگانہ تعریف ہے۔ اس تعریف میں “ طاہر “ کالفظ ہے “ مطہر سے تعبیر نہیں۔ اس کے باوجود تعجب ہے کہ صاحب بحر نے بھی اسے درست قرار دینے پر محقق علی الاطلاق کی پیروی کرلی۔ جب یہی حق ہے تو کنز الدقائق کے طاہر وپاك سے تعبیر کرنے پر
اقول : اخذ علی البحر لاتباعہ لہ فی الفرق بین الطاھر من الارض والمطھر والحق ان الصواب مع الکنز والمتون والمحقق والجم الغفیر فانما کان علیہ ان لایؤاخذ علی الکنز فی قولہ بطاھر (۱) وعلیکم ان تؤاخذوا علی قولہ ذلك لاھذا۔
الوجہ الخامس : قال العلامۃ ابن کمال الوزیر فی ایضاح اصلاحہ ھو طہارۃ حاصلۃ باستعمال الصعید الطاھر فی عضوین مخصوصین علی قصد مخصوص اھ وتبعہ فی مجمع الانھر والیہ یشیر قول البرجندی فی شرح النقایۃ التیمم فی اللغۃ القصد ثم نقل الی ھذہ الطھارۃ المخصوصۃ اھ
اقول : (۲) الطھارۃ حکم التیمم والاثر المترتب علیہ کما علی الوضوء ولیس الوضوء نفس الطھارۃ الا تری ان التیمم ماموربہ ولا یؤمر
انہوں نے مواخذہ کیوں فرمایا اسی لئے علامہ شامی نے بحررائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں فرمایا : “ انہیں “ مطہر “ کہنا چاہئے تھا جیسا کہ خود شارح مصنف کی عبارت “ بطاھر من جنس الارض “ کے تحت اس پر تنبیہ کریں گے “ ۔
اقول : علامہ شامی نے یہاں بحر پر مواخذہ کیا اس لئے کہ زمین طاہر اور زمین مطہر کی تفریق کے معاملہ میں شامی بھی بحر کے متبع ہیں۔ اور حق یہ ہے کہ “ طاہر “ سے تعبیر میں کنزالدقائق کتب متون محقق علی الاطلاق اور علماء کی جماعت کثیرہ ہی صواب ودرستی پر ہیں۔ تو بحر پر لازم تھا کہ کنز کی عبارت “ بطاھر “ پر مواخذہ نہ کریں۔ اور علامہ شامی پر لازم تھا کہ بحر نے وہاں جو مؤاخذہ کیا ہے اس پر گرفت کریں اور یہاں مواخذہ نہ کیا تو اس پر گرفت نہ کریں۔
تعریف پنجم : علامہ ابن کمال وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا : “ تیمم وہ طہارت ہے جو مخصوص ارادہ سے دو مخصوص عضووں پر پاك روئے زمین کے استعمال سے حاصل ہو “ اھ۔ مجمع الانہر میں بھی اسی کا اتباع کیا ہے اور نقایہ کی شرح میں برجندی کی یہ عبارت بھی اسی جانب اشارہ کررہی ہے : “ لغت میں تیمم کا معنی قصد ہے پھر شریعت میں یہ لفظ اس مخصوص طہارت کیلئے منقول ہوا “ ۔ اھ
اقول : طہارت تو تیمم کا حکم اور وہ اثر ہے جو اس پر مرتب ہوتا ہے جیسے یہی اثر وضو پر مرتب ہوتا ہے مگر وضو عین طہارت نہیں۔ دیکھیے کہ تیمم ماموربہ ہے اور مکلف کو اس کی بجا آوری اور اسے کرنے ہی کا تو حکم دیا جاتا ہے اور اسے کرنا وہی
ایضاح واصلاح للعلامہ وزیر ابن کمال
شرح النقایۃ للبرجندی فصل التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ بالسرور ۱ / ۴۳
الوجہ السادس : ھو ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین ھذا نص صاحب الشرع صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ فقد اخرج الدارقطنی وقال رجالہ کلھم ثقات والحاکم وقال صحیح الاسناد عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال التیمم ضربۃ للوجہ وضربۃ للذرعین الی المرفقین و رویاہ ھما والبہیقی فی الشعب من حدیث عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم التیمم ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین و روی من قول ابن عمر وصوبہ الدارقطنی۔ وقال الامام ملك العلماء فی البدائع ذکر ابویوسف فی الامالی
صعید کا استعمال ہے۔ اور اس استعمال سے حاصل ہونے والی طہارت مکلف کا کوئی عمل اور فعل نہیں۔ یہ توبہت کھلی ہوئی بات ہے جس کا علامہ جیسی شخصیت پر مخفی رہ جانا بعید ہے۔
تعریف ششم : تیمم دوضر بیں ہیں ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب کہنیوں سمیت ہاتھوں کیلئے۔ یہ صاحب شریعت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپھر صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا نص ہے۔ دار قطنی نے روایت کی اور کہا کہ اس کے تمام رجال ثقہ سے ہیں۔ اور حاکم نے روایت کی اور اسے صحیح الاسناد کہا۔ حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں سرکار نے فرمایا : “ تیمم ایك ضرب چہرے کیلئے ہے اور ایك ضرب کہنیوں تك کلائیوں کیلئے ہے “ ۔ اسے دارقطنی وحاکم نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یوں روایت کیا : “ تیمم دو۲ ضربیں ہیں ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک “ ۔ حضرت ابن عمر کے قول کی حیثیت سے بھی یہ مروی ہے اور اسے دارقطنی نے درست کہا ہے۔ امام ملك العلماء نے بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ امام ابویوسف نے امالی میں ذکر کیا کہ میں نے
سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۱۸۱
نصب الرایۃ باب التیمم المکتبۃ الاسلامیہ ۱ / ۱۵۱
سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۱۸۱
سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۱۸۰
امام ابوحنیفہ سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : “ تیمم دو ضربیں ہیں ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک “ ۔ میں نے عرض کیا کہ تیمم کا طریقہ کیا ہے تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا انہیں آگے بڑھایا اور پیچھے کیا پھر
عــہ : قال فی التبیین کیفیتہ (۱) ان یضرب بیدیہ علی الارض یقبل بھما ویدبر ثم یرفعھما وینفضھما الخ قال ابن الشلبی عن یحیی ای یحرکھما بعد انصرف اماما وخلفا مبالغۃ فی ایصال التراب الی اثناء الاصابع وان کان الضرب اولی من الوضع اھ
اقول : (۲) لیس ھذا محل ان الوصلیۃ بل محل لذا ای ولاجل ھذہ المبالغۃ کان الضرب اولی الا ان یقال المعنی انہ یقبل ویدبر زیادۃ فی ھذہ المبالغۃ وان کانت تحصل بالضرب المرجح علی الوضع ثم تعلیل الاقبال والادبار بھذا عزاہ فی الحلیۃ لبعضھم قال قال بعضھم انما یقبل بیدیہ علی الارض ویدبر حتی یلتصق التراب بیدیہ اھ ولہ تعلیل اخر
تبیین الحقائق میں ہے : تیمم کی کیفیت اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو زمین پر آگے کرتے ہوئے پیچھے لاتے ہوئے مارے پھر انہیں اٹھائے اور جھاڑ لے الخ۔ ابن شلبی نے یحیی سے نقل کرتے ہوئے کہا یعنی دونوں ہاتھوں کو مارنے کے بعد انگلیوں کے درمیان مٹی پہنچانے کے عمل میں مبالغہ کیلئے انہیں آگے اور پیچھے کو ہلائے۔ اگرچہ ضرب (ہاتھوں کو زمین پر مارنا) وضع (زمین پر صرف رکھنے) سے بہتر واولی ہے اھ
اقول : یہ ان وصیلہ (اگرچہ) کا موقع نہیں بلالکہ لذا (اسی لئے) کا موقع ہے (اگرچہ ضرب وضع سے اولی ہے کہ بجائے کہنا چاہئے کہ اسی لئے ضرب وضع سے بہتر ہے ۱۲ محمد احمد) یعنی اسی مبالغہ کیلئے تو ضرب بہتر ہے۔ مگر ان کی طرف سے معذرت میں یہ کہا جائے کہ معنی یہ ہے کہ تیمم کرنے والا ہاتھ آگے لے جائےگا اور پیچھے لائے گا تاکہ یہ مبالغہ زیادہ ہو اگرچہ نفس مبالغہ ضرب سے بھی حاصل ہوجاتا ہے جو وضع پر ترجیح یافتہ ہے۔ ہاتھوں کو آگے بڑھانے پیچھے لانے کی یہ جو علت بیان کی گئی ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
تبیین الحقائق و شلبی علی التبیین باب التیمم المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ / ۳۸
حلیہ
دونوں کو جھاڑا پھر ان سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوسری بار ہتھیلیاں زمین پر لے جاکر انہیں آگے بڑھایا اور پیچھے کیا پھر دونوں کو جھاڑا پھر اس سے دونوں کلائیوں کے ظاہر وباطن کا کہنیوں تك مسح کیا “ اھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نقلہ وردہ اذ قال اوجد ناك عن الامالی ان ذلك بعد ضربھما علی الارض فاندفع ماقیل انہ قبل الضرب معللا ایاہ بقولہ لیھیئ نفسہ للتیمم اھ ای یستحضر النیۃ۔ (۱) اقول : وقضیۃ التعلیل الاول ان لایسن ذلك حیث لاتراب کالرخام مع انھم یطلقونہ اطلاقا
بل لہ علۃ ثالثۃ ان شاء الله تعالی علی ما اقول : وھو امساس کل جزء من الکف بالارض لان سطح الکف غیر مستو فبمجرد الضرب یحصل المس لاجزاء الکف الناشرۃ دون الطافیۃ فیقبل ویدبر لامساس الکل ھذا یعم الکل والله تعالی اعلم۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
اسے حلیہ میں بعض علما کی طرف منسوب کیا اس میں یوں لکھا ہے کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ زمین پر ہاتھوں کو آگے لے جائےگا اور پیچھے لائیگا تاکہ مٹی ہاتھوں سے چپك جائے اھ
اور اس کی ایك دوسری تعلیل بھی ہے جسے حلیہ میں نقل کرکے رد کردیا کیونکہ انہوں نے فرمایا ہم نے تمہیں امالی سے نقل کرکے دکھادیا کہ یہ کام ہاتھوں کو زمین پر رکھنے کے بعد ہوگا تو وہ قول رد ہوگیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ضرب سے پہلے ہوگا اور اس کی علت میں بتایا گیا کہ تاکہ اپنے کو تیمم کیلئے تیار کرے اھ یعنی نیت مستحضر کرلے۔ اقول : پہلی تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں مٹی نہ ہو مثلا سنگ مرمر وہاں یہ مسنون نہ ہو حالانکہ اسے مطلقا مسنون بتاتے ہیں۔ اقول بلالکہ اس کی علت ایك تیسری چیز ہے ان شاء الله تعالی۔ وہ یہ کہ ہتھیلی کا ہر جز زمین سے مس کردیا جائے اس لئے کہ ہتھیلی کی سطح برابر نہیں ہے تو ہتھیلی کے ابھرے ہوئے اجزا کا مس ہونا تو ضرب ہی سے حاصل ہوجائےگا مگر دبے ہوئے اجزاء مس نہ ہوپائینگے تو ہاتھوں کو آگے پیچھے حرکت دے لے گا تاکہ ہر جز کو مس کردے یہ علت ایسی ہے جو (مٹی پر تیمم ہو یا سنگ مرمر پر) سب کو عام ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ترجمہ محمد احمد مصباحی)
حلیہ
التیمم ضربتان الخ یہی متون میں سے مختصر قدوری ہدایہ کافی وقایہ نقایہ اصلاح اور متعددمعتمد کتابوں کی عبارت ہے۔ یہ پوشیدہ نہیں کہ اس تعبیر کا ظاہر مدلول ومعنی یہی ہے کہ دونوں ضربیں تیمم کا رکن ہیں یہی سید امام ابو شجاع کا قول ہے اسی کو امام شمس الائمہ حلوانی نے اختیار کیا اسی کو خلاصہ میں صحیح کہا نصاب میں فرمایا کہ “ یہ استحسان ہے اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی احوط ہے “ ۔ درمختار میں ہے : یہی اصح واحوط ہے۔
اسی پر امام ناصرالدین نے جزم کیا ظہیریہ میں ہے : یہ عمدہ ہے اور اسی کو ہم لیتے ہیں “ اھ۔ جواہر الفتاوی اور منیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا اور غنیہ میں اسے برقرار رکھا اور صراحت فرمائی کہ یہ احوط ہے۔ حلیہ میں کہا کہ : “ یہی مدونہ میں امام مالك کا ظاہر قول ہے یہی امام شافعی کا جدید قول ہے اکثر علماء اسی کے قائل ہیں اس لئے کہ اس پر صریح حدیثیں وارد ہیں اھ۔ بلکہ امام ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا : “ لیکن اس کا رکن تو ہمارے اصحاب نے فرمایا : یہ دو ضربیں ہیں ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک “ ۔ اھ پھر امام مالک
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
فتاوٰی ظہیریہ
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۳
حلیہ
بدائع الصنائع ارکان التیمم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵
ونفاہ الامام علی الاسبیجابی والامام فقیہ النفس قاضیخان واختارہ فی البزازیۃ وبہ جزم فی نورالایضاح والامداد و رجحہ فی شرح الوھبانیۃ ونص علیہ ابن کمال وحققہ المحقق فی الفتح وتبعہ فی الحلیۃ والبحر اذ قال والذی یقتضیہ النظر عدم اعتبار ضربۃ الارض من مسمی التیمم شرعا فان المأموربہ المسح لیس غیر فی الکتاب قال تعالی فتیمموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم فیحمل قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم التیمم ضربتان اما علی ارادۃ الاعم من المسحتین او انہ خرج مخرج الغالب والله تعالی اعلم اھ۔
بامام شافعی زہری ابن ابی لیلی ابن سیرین وغیرہم کے مذاہب بیان کیے۔ سب میں یہ ہے کہ تیمم ایك ضرب ہے یا دو ضرب ہے یا تین ضرب ہے۔ تو افادہ فرمایا کہ ہمارے تینوں ائمہ اور ان تمام حضرات کا اس پر اجماع ہے کہ ضرب تیمم کا رکن ہے۔ ان کا اختلاف ہے تو اس بارے میں کہ ضرب کی تعداد اور انتہا کیا ہے ہاتھوں پر کہاں تك مسح کرنا ہے گٹوں تک یا کہنیوں تک یا بغلوں تک۔
امام علی اسبیجابی اور امام فقیہ النفس قاضی خان نے ضرب کے رکن تیمم ہونے کا انکار کیا اسی مذہب کو بزازیہ میں اختیار کیا اسی پر نورالایضاح اور امداد الفتاح میں جزم کیا اسی کو شرح وہبانیہ میں ترجیح دی اسی کی ابن کمال نے تصریح کی اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق کی اور حلیہ وبحر میں ان کا اتباع کیا۔ انہوں نے فرمایا : نظر کا تقاضا یہی ہے کہ شرعا تیمم کے معنی مسمی میں زمین پر ضرب کا اعتبار نہ ہو اس لئے کہ کتاب الله میں تو صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے : “ تو پاك سطح زمین کا قصد کرکے اپنے چہروں کا مسح کرو اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد “ تیمم دو۲ ضرب ہے “ یا تو اس پر محمول ہوگا کہ یہ زمین پر دو ضرب ہونے یا عضو پر دوبار مسح ہونے سے اعم اور دونوں ہی کو شامل ہے یا اس پر محمول ہوگا کہ ضرب والی صورت اکثر پائی جاتی ہے اس لئے یہ ارشاد بیان اکثر کے لحاظ سے وارد ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
احدھما : لوضرب یدیہ علی الارض فقبل ان یمسح احدث لایجوز المسح بتلك الضربۃ علی القول الاول لانھا رکن فصارکما لو احدث فی الوضوء بعد غسل بعض الاعضاء قال فی الخلاصۃ الاصح انہ لایستعمل ذلك التراب کذا اختارہ الشیخ الامام شمس الائمۃ کمالو اعترض الحدث فی خلال الوضوء اھ وقال القاضی الاسبیجابی یجوز کمن ملا ء کفیہ ماء فاحدث ثم استعملہ وبہ جزم فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین قال اذا اراد ان یتیمم فضرب ضربۃ واحدۃ ثم احدث فمسح بذلك التراب وجہہ ثم ضرب ضربۃ اخری للیدین الی المرفقین جاز اھ وعزاہ فی الخلاصۃ الی بعض نسخ الواقعات ونقل تصحیحہ فی جامع الرموز عن جامع المضمرات قائلا لواحدث قبل المسح لم یعد الضرب علی الاصح کمافی المضمرات اھ
وقال فی البحر
ضرب کی رکنیت اور عدم رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ دو۲ باتیں بتائی گئی ہیں :
ایك یہ کہ اگر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر مسح کرنے سے پہلے حدث کیا تو قول اول پر اس ضرب سے مسح جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ضرب رکن ہے تو ایسا ہوا جیسے وضو کے دوران بعض اعضاء دھونے کے بعد حدث کیا خلاصہ میں ہے : “ اصح یہ ہے کہ اس مٹی کو استعمال نہ کرے۔ اسی طرح اس کو امام شمس الائمہ نے اختیار کیا جیسے درمیان وضو اگر حدث عارض ہو “ اھ۔ اور قاضی اسبیجابی نے فرمایا کہ جائز ہے جیسے کسی نے ہتھیلیوں میں پانی بھر لیا پھر حدث کیا پھر اسی پانی کو استعمال کیا۔ اسی پر خانیہ اور خزانۃ المفتین میں جزم کیا۔ فرمایا : “ جب تیمم کا قصد کیا پھر ایك ضرب ماری پھر حدث کیا پھر اسی مٹی سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوسری ضرب کہنیوں تك ہاتھوں کے مسح کیلئے ماری تو جائز ہے “ اھ اس پر خلاصہ میں واقعات کے بعض نسخوں کا حوالہ دیا ہے۔ اور جامع الرموز میں جامع المضمرات سے اس کی تصحیح نقل کی ہے عبارت یہ ہے : “ اگر مسح سے پہلے حدث کیا تو قول اصح پر ضرب کا اعادہ نہیں جیسا کہ مضمرات میں ہے اھ “ ۔ اور البحرالرائق
فتح القدیر باب التیمم سکھر ۱ / ۱۱۰
فتاوٰی قاضی خان فصل فيما لایجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۰
جامع الرموز ، باب التیمم ، مطبعہ کریمیہ قزان ۱ / ۶۸
والاخر اذانوی بعد الضرب فمن جعلہ رکنا لم یعتبر النیۃ بعدہ ومن لم یجعلہ رکنا اعتبرھا بعدہ کذافی السراج الوھاج بحر۔
وھھنا فروع جمۃ تشھد للقول الثانی ذکرت فی المعتمدات من دون اشارۃ الی خلاف فیہا :
منھا۱ فی الفتح والبحر وغیرھما میں ہے : ہم پہلے بیان کرچکے کہ اگر دوسرے کو حکم دیا کہ اسے تیمم کرادے تو جائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرلے۔ تو اگر مامور نے آمر کی نیت کے بعد زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر آمر کو حدث ہوا تو شیح میں کہا ہے کہ اسے ابو شجاع کے قول پر آمر کے حدث سے باطل ہوجانا چاہئے اھ بحر میں فرمایا : اس عبارت کا ظاہر یہ ہوا کہ مامور کے حدث سے باطل نہ ہوگا اس لئے کہ مامور آلہ وذریعہ ہے اور اس کی ضرب آمر ہی کی ضرب ہے تو اعتبار آمر کا ہوگا۔ اسی لئے ہم نے آمر (حکم دینے والے) کی نیت کی شرط رکھی۔ مامور کی نیت کی شرط نہ لگائی اھ۔
دوسرا ثمرہ اختلاف یہ ہوگا کہ جب ضرب کے بعد تیمم کی نیت کی تو جن لوگوں نے ضرب کو رکن قرار دیا ہے انہوں نے بعد کی نیت کا اعتبار نہ کیا۔ اور جن حضرات نے اسے رکن نہیں مانا ہے انہوں نے ضرب کے بعد پائی جانے والی نیت کا اعتبار کیا ہے السراج الوہاج میں ایسا ہی ہے۔ بحر
اس مقام پر ایسے بہت جزئیات وفروع ہیں جن سے قول دوم (عدم رکنیت ضرب) کی تائید اور شہادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معتمد کتابوں میں مذکور ہیں اور کسی اختلاف کا کوئی اشارہ بھی نہیں۔ کچھ جزئیات یہاں پیش کئے جاتے ہیں:
جزئیہ۱ : فتح القدیر اور بحرالرائق وغیرہما
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
ومنھا۲ فی (۲) الخانیۃ والخلاصۃ لوقام فی مہب الریح اوھدم الحائط فاصاب الغبار وجھہ وذراعیہ لم یجز حتی یمسح وینوی بہ التیمم اھ وفی الدرر کنس دار ا او ھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ غبار فمسح جاز حتی اذا لم یمسح لم یجز وقال العلامۃ الوزیر فی ایضاح اصلاحہ قدذکر فی کتاب الصلوۃ لوکنس دارا اوھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ لم یجزہ ذلك من التیمم حتی یمریدہ علیہ ۔
میں ہے : “ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر آندھی سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر ان پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو کافی ہوگا اور اگر ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا “ ۔ اھ اور ظہیریہ پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر اس پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوجائے گا اور اگر مسح نہ کیا تو نہ ہوگا “ اھ۔ ایسا ہی تبیین میں بھی ہے
جزئیہ ۲ : خانیہ اور خلاصہ میں ہے : “ اگر آندھی کی گزرگاہ میں کھڑا ہوا یا دیوار ڈھائی غبار اس کے چہرے اور ہاتھوں پر لگ گیا جب تك تیمم کی نیت سے اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا “ اھ درر میں ہے : “ گھر میں جھاڑو دیا یا دیوار گرائی یا گیہوں ناپا اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا اس پر ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوگیا نہ پھیرا تو نہ ہوا “ ۔
اور علامہ وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا : “ کتاب الصلوۃ میں ذکر ہے کہ اگر گھر میں جھاڑو دیا یا دیوار گرائی یا گیہوں ناپا غبار اڑ کر چہرے اور ہاتھوں پر پڑگیا جب تك اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا “ اھ۔
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع من التیمم پشاور ۱ / ۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی نوع فیما یجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶
درر حکام لملّا خسرو باب التیمم مطبعۃ کاملیہ بیروت ۱ / ۳۱
ایضاح واصلاح
ومنھا۴ فی (۲) الخلاصۃ لوادخل راسہ فی موضع الغبار بنیۃ التیمم یجوز ۔
ومنھا۵ (۳) فیہا لوانھدم الحائط فظھر الغبار فحرك راسہ ینوی التیمم جاز والشرط وجود الفعل منہ ۔
ومنھا۶ (۴) فیہا وفی الخانیۃ وخزانۃ المفتین لوذر الرجل علی وجھہ ترابا لم یجز وان مسح ینوی بہ التیمم والغبار علیہ جاز عند ابی حنیفۃ رضی الله عنہ اھ ای ومحمد خلافا لابی یوسف رحمھما الله تعالی فانہ لایجیز التیمم بالغبار مع القدرۃ علی الصعید ۔
جزئیہ۳ : خانیہ خلاصہ تاتارخانیہ اور حلیہ میں ہے : “ جب تیمم کا ارادہ کرکے خاك میں لوٹا اور اس سے سارے جسم کو ملا اگر چہرے کلائیوں اور ہتھیلیوں پر مٹی پہنچ گئی تو تیمم ہوگیا اور چہرے اور کلائیوں پر نہ پہنچی تو نہ ہوا “ اھ۔
جزئیہ۴ : خلاصہ میں ہے : “ کسی غبار کی جگہ اپنا سر (اور دونوں ہاتھ) تیمم کی نیت سے داخل کیا (جس سے منہ اور ہاتھوں پر غبار پھیل گیا) تو تیمم ہوجائےگا “ ۔
جزئیہ۵ : اسی میں ہے : اگر دیوار گری جس سے گرد اٹھی اس میں اپنے سر کو تیمم کی نیت سے حرکت دی تو تیمم ہوگیا۔ تیمم کرنے والے سے فعل کا وجود شر ط ہے “ ۔
جزئیہ۶ : اس میں اور خانیہ وخزانۃ المفتین میں ہے : “ اگر آدمی نے اپنے چہرے پر مٹی گرائی تو تیمم نہ ہوگا اور غبار چہرے پر ابھی پڑا ہے بہ نیت تیمم ہاتھ پھیر لیا تو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك تیمم ہوجائےگا اھ“۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے یہاں بھی ہوجائے گا امام یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اختلاف ہے ان کے نزدیك سطح زمین سے تیمم پر قدرت ہوتے ہوئے
خلاصۃ الفتاوٰی نوع فیما یجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶
خلاصۃ الفتاوٰی ، نوع فیما یجوزبہ التیمم ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳۶
خلاصۃ الفتاوٰی ، نوع فیما یجوزبہ التیمم ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳۶
ومنھا۷ ومنھا۸ فرعان فی وجیز الامام الکردری (۱) ذر علی المحل التراب فاصابہ غبارہ او (۲) ادخل المحل فی مثار الغبار فوصل بتحریك المحل جاز لا ان وقف فی المھب فثار الغبار علی المحل بنفسہ الا ان یمسح بھذا الغبار المحل اھ
اقول : قولہ فوصل بتحریك المحل متعلق بکلتا مسئلتی الذر والادخال فالمعنی ذرفاصابہ غبارہ فحرك ینوی التیمم جاز لوجود الصنع منہ کمانص علیہ فی مأخذہ الخلاصۃ (۳) ان الشرط وجود الفعل منہ واشار ھو الیہ بقولہ لاان ثار الغبار علی المحل بنفسہ وقد قدم قبلہ
غبار سے تیمم جائز نہیں۔ جوہرہ نیرہ میں ہے : “ قولہ یمسح (ان کی عبارت “ ہاتھ پھیرے “ ) میں یہ اشارہ ہے کہ اگر چہرے پر گرد اڑائی اور ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا اور ایضاح میں عدم جواز کی تصریح بھی موجود ہے “ اھ۔
جزئیہ۷ ۸ : وجیز امام کردری میں دو۲ جزئیے ہیں : “ محل تیمم پر گرد اڑائی غبار اس پر گرا یا اعضائے تیمم کو غبار اڑانے کی جگہ لے گیا اور ان اعضاء کو حرکت دینے سے ان پر گرد پہنچ گئی تو تیمم ہوجائےگا۔ لیکن اگر آندھی کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا کہ غبار خود اڑ کر اعضائے تیمم پر پہنچا تو تیمم نہ ہوگا مگر اس گرد کے ساتھ محل تیمم پر ہاتھ پھیر لیا تو ہوجائے گا “ اھ
اقول : ان کی عبارت “ اعضا کو حرکت دینے سے ان پر گرد پہنچ گئی “ گرد اڑانے اور گرد اڑانے کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرنے دونوں ہی مسئلوں سے متعلق ہے۔ تو معنی یہ ہوا کہ گرد اڑائی کہ غبار اسے لگا پھر اعضائے تیمم کو بہ نیت تیمم حرکت دی تو تیمم ہوجائے گا کیونکہ خود اس کا عمل پالیا گیا۔ جیسا کہ اس کے ماخذ خلاصہ میں تصریح موجود ہے کہ خود اس سے فعل پایا جانا شرط ہے۔ صاحب وجیز نے بھی اس کی طرف ان الفاظ سے اشارہ کیا ہے کہ “ اگر غبار خود سے اڑ کر اعضائے تیمم پر پہنچا تو نہ ہوگا “ اور اس سے
فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ باب التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷
پہلے بھی بتا چکے ہیں۔ کہ “ تیمم متحقق ہونے کے لئے محل تیمم تک مٹی پہنچنے میں نیت کے ساتھ خود اس کا خاص عمل پایا جانا شرط ہے۔ اگر دونوں چیزیں نہ ہوں یا ایک نہ ہو تو تیمم نہ ہوگا “ اھ۔ اور صرف اڑانا وہ فعل مطلوب نہیں جیسے غبار اڑنے کی جگہ جانا اور وہاں تیمم کی نیت سے ٹھہرنا وہ فعل مطلوب نہیں۔ اس لئے کہ یہ عمل محل تیمم تک مٹی پہنچنے کا سبب بعید ہے۔ اور اسے جس فعل کا حکم دیا گیا ہے وہ مسح ہے یہ ایسا فعل ہے کہ خود اسی سے مٹی کا پہنچانا اور عضو وصعید کے درمیان اتصال متحقق ہوتا ہے۔ اور جب بہ نیت تیمم عضو کو حرکت دیے بغیر غبار کی جگہ صرف کھڑے ہونے کا اعتبار نہیں۔ کیونکہ غبار نیچے کی جانب اپنے میل طبعی کے باعث ازخود عضو تک پہنچتا ہے۔ تو غبار اڑانے کا اعتبار بدرجہ اولی نہ ہوگا۔ جیسا کہ متعدد کتابوں سے ہم اس کی تصریح پہلے نقل کرچکے۔ تو سمجھو اور ثابت رہو۔
یہ رہ گیا کہ غبار کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرنے کا مسئلہ خلاصہ میں مطلق ہے اور بزازیہ میں اعضائے تیمم کو حرکت دینے سے گرد پہنچنے کی قید سے مقید ہے۔ اور گرد اڑانے والا مسئلہ کتابوں میں مسح کی شرط کے ساتھ مذکور ہے اور بزازیہ میں مسح کے بدلے حرکت دینے کا ذکر ہے۔ تو عنقریب ان کلاموں کا منشا منکشف ہوگا اور ان سے چنا ہوا پھل سرراہ رکھ دیا جائے گا اس سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ ہم نے بزازیہ میں ذکر شدہ دونوں جزئیے چھٹے اور چوتھے
اقول : (۱) قد بان بطلان ما وقع للفاضل عبدالحلیم الرومی فی حاشیۃ الدرر اذقال بعد نقل مافی الخلاصۃ ان الشرط وجود الفعل منہ مانصہ اقول یظھر منہ انہ لوکال حنطۃ لیحصل التیمم بغبارہ کفی ان اصاب مواضع التیمم غبار کمالایخفی اھ۔ وبہ حول الدرر حتی اذالم یمسح لم یجز الی ان المراد اذا عــہ لم یمسح عند عدم وجود فعل منہ بنیۃ التیمم والذر علی الاعضاء اذالم یصلح للاعتبار مالم یمسح اویحرک اعضاء ہ فماابعد
جزئیے جسے الگ کیسے شمار کئے۔ و باللہ التوفیق۔
اقول : فاضل عبدالحلیم رومی نے حاشیہ درر میں خلاصہ کی عبارت “ اس سے فعل پایا جانا شرط ہے “ نقل کرنے کے بعد جو لکھا ہے اس کا غلط ہونا واضح ہوگیا ان کی عبارت یہ ہے : “ اقول : اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اس نے گیہوں اس لئے ناپا کہ اس کے غبار سے تیمم ہوجائے تو یہ کافی ہے اگر تیمم کی جگہوں پر غبار پہنچ گیا۔ یہ پوشیدہ نہیں “ ۔
اسی لئے فاضل رومی نے درر کی عبارت “ اذا لم یمسح لم یجز “ (ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوا) کو اس کے معنی سے پھیر کر یہ بنایا کہ : “ مراد یہ ہے کہ بہ نیت تیمم اس سے کوئی فعل نہ پائے جانے کی صورت میں جب ہاتھ نہ پھیرا (تو تیمم نہ ہوا) “ ۔ جب اعضاء پر گرد اڑانا قابل اعتبار نہیں جب تک کہ ہاتھ پھیرے یا اعضاء کو
عــہ فانقلت تأویل لاتحویل
اقول : کلا لواراد ان یسلک بالشرح ھذا المسلک لقال اشار بذکر المسح الی کل فعل یوجد منہ بنیۃ التیمم لاان یقدر فی کلامہ قیدا لا اثر لہ فی الکلام ولا اشارۃ فافھم منہ (م)
اگر کہا جائے کہ (یہ عبارت درر کی) تاویل ہے تحویل (اصل معنی سے دوسرے معنی کی طرف پھیرنا) نہیں ہے۔
اقول : ہرگز نہیں۔ اگر وہ اس روش پر شرح کو چلانا چاہتے تو یوں کہتے : “ مصنف نے مسح کا ذکر کرکے ہر اس فعل کی جانب اشارہ کیا ہے جو اس سے بہ قصد تیمم پایا جائے “ ۔ ایسا نہ کرتے کہ ان کے کلام کے اندر ایک ایسی قید مان لیں جس کا ان کے کلام میں نہ کوئی نام ونشان ہے نہ ہی کوئی اشارہ فافھم (ت)
وللہ در امام المذھب فی کتاب الصلاۃ اذا اتی بما فیہ فعل لہ من الکنس والھدم والکیل ثم اطلق عدم الجواز مالم یمر یدہ علیہ ارشادا الی ان ھذہ الافعال لاتکفی وان کانت بنیۃ التیمم ما لم یوجد المسح اما ما قال الفاضل الخادمی علی قول الدرر انہ یوھم ھذہ الافعال انہ لابد من کون الغبار اثر الفعل المتیمم ولیس کذلک اھ ای للفرع المار القاء الریح الغبار والفرع الخامس انھدام الجدار۔
فاقول : ھو فیہ مصیب لان الدرر ذکر ھذہ الافعال فی جانب الجواز فکان مثارا للتوھم ان الجواز مشروط بکون مایمسح بہ منہ ثائرا بفعلہ بخلاف عبارۃ کتاب الصلاۃ ففیھا ذکرھا فی جانب المنع فافادات تلک الفائدۃ العائدۃ
حرکت نہ دے تو گیہوں وغیرہ ناپنے دیوار گرنے جھاڑو دینے کا معتبر ہونا کس قدر بعید ہے- اور خدا ہی توفیق دینے والا ہے۔
کتاب الصلوۃ میں امام مذہب کی عبارت کیا ہی جامع کیا ہی خوب ہے انہوں نے جھاڑو دینا دیوار گرانا گیہوں ناپنا ذکر کیا جس میں خود تیمم کرنے والے کا فعل پایا جاتا ہے پھر مطلق طور پر ذکر فرمادیا کہ تیمم نہ ہوگا جب تک اس پر ہاتھ نہ گزارے تاکہ اس بات کی جانب رہنمائی ہو کہ جب تک ہاتھ پھیرنا نہ پایا جائے یہ افعال کافی نہیں اگرچہ بہ نیت تیمم ہوں۔ فاضل خادمی نے درر کی عبارت پر لکھا کہ “ یہ افعال اس بات کا وہم پیدا کرتے ہیں کہ غبار کو تیمم کرنے والے کے کسی فعل کا نتیجہ واثر ہونا ضروری ہے۔ جبکہ ایسا نہیں “ اھ۔ کیونکہ آندھی کے غبار ڈالنے کا جزئیہ اور دیوار گرنے سے متعلق پانچواں جزئیہ گزر چکا۔
فاقول : فاضل موصوف کا یہ کلام درست ہے اس لئے کہ درر میں یہ افعال جواز کے تحت مذکور ہیں جن سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ جواز اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس غبار سے مسح ہو وہ اس کے فعل سے اڑا ہو مگر کتاب الصلوۃ کی عبارت میں اس وہم کا موقع نہیں کیونکہ اس میں یہ افعال ممانعت کے تحت مذکور ہیں۔ اس لئے
ومنھا۹ فی (۱) المحیط ثم الھندیۃ صورۃ التیمم بالغبار ان یضرب بیدیہ ثوبا اولبدا او وسادۃ اومااشبھھا (۲) من الاعیان الطاھرۃعــہ التی علیھا غبار فاذا وقع الغبار علی یدیہ تیمم۔
ومنھا۱۰ فیھما قالا بعدما مر او ینفض ثوبہ حتی یرتفع غبارہ فيرفع یدیہ فی الغبار فی الھواء فاذا وقع الغبار علی یدیہ تیمم اھ
وہ عبارت مذکورہ عظیم فائدہ کی حامل ہے واللہ تعالی اعلم۔
جزئیہ۹ : محیط پھر ہندیہ میں ہے : “ غبار سے تیمم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کوئی کپڑا یا گدا یا تکیہ یا اسی طرح کی کوئی پاک چیز جس پر غبار پڑا ہوا ہو اس پر ہاتھ مارے جب ہاتھوں پر غبار آجائے تو اس سے تیمم کرلے “ ۔
جزئیہ ۱۰ : محیط وہندیہ ہی میں مذکورہ عبارت کے بعد ہے : “ یا اپنے کپڑے کو اس طرح جھاڑے کہ غبار بلالند ہو پھر اپنے ہاتھوں کو ہوا میں بلالند کرے جب اس کے ہاتھوں پر غبار پڑ جائے تو تیمم کرلے “ ۔ اھ
عــہ اقول : انما یشترط طھارۃ الغبار دون مایقع علیہ غیر ان الغبار یتنجس بوقوعہ علی نجس رطب اما اذا وقع بعد جفافہ فلاباس کما ذکر بعد اسطرعن النھایۃ اذاتیمم بغبار الثوب النجس لایجوز الا اذا وقع التراب بعدماجف الثوب اھ وذکرہ فی الحلیۃ وقال اشار الیہ فی التجنیس اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : صرف غبار کا پاک ہونا شرط ہے۔ جس چیز پر غبار پڑا ہو اس کا پاک ہونا شرط نہیں مگر یہ ہے کہ غبار کسی تر نجس چیز پر پڑنے سے نجس ہوجاتا ہے لیکن اس کے خشک ہونے کے بعد اس پر غبار پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ چند سطروں کے بعد نہایہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ : “ اگر نجس کپڑے کے غبار سے تیمم کرے تو نہ ہوگا مگر جب کپڑا خشک ہونے کے بعد گرد پڑی تو ہوجائے گا “ ۔ اھ اسے حلیہ میں بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرف تجنیس میں اشارہ موجود ہے اھ (ت)
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی التیمم پشاور ۱ / ۲۷
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی التیمم ، پشاور ، ۱ / ۲۷
حلیہ
ومنھا۱۱ (۱)فی الذخیرۃ ثم الھندیۃ لوشلت یداہ یمسح یدہ علی الارض و وجہہ علی الحائط ویجزیہ اھ
اقول : وھذا ربما یعتل فیہ بالضرورۃ فتکون الضربۃ رکنا محتمل السقوط کالقراء ۃ عن الاخرس فتلک عشرۃ کاملۃ لاضرب فیہا مع صحۃ التیمم۔ فالمحقق حیث اطلق سلک فیہا مسلکین اذقال بعد ذکر الفرع الاول یلزم فیہا اماکونہ قول
اقول : پہلے جو ذکر کیا کہ کپڑے پر اپنے ہاتھوں کو مارے یہ تیمم کی ضرب مطلوب نہیں یہ تو صرف اس لئے ہے کہ کپڑے سے غبار اٹھے ورنہ ہاتھوں پر غبار پڑنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ صعید پر جب بھی ہاتھ مارے تو وہ اس میں تطہیر کی صفت پیدا کردے گی پھر اس سے وہ مسح کرے گا اگرچہ ہاتھ پر کچھ بھی گردوغبار نہ لگا ہو اس مقصد کو انہوں نے بعد والی صورت سے واضح کردیا ہے جس میں صرف کپڑے کو جھاڑنے کا ذکر ہے۔
جزئیہ۱۱ : ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر دونوں ہاتھ شل ہوگئے ہوں تو زمین پر ہاتھ اور دیوار پر چہرہ پھیرے اسی سے اس کا تیمم ہوجائےگا “ ۔ اھ
اقول : اس جزئیہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ضرورت کی وجہ سے بغیر ضرب کے تیمم ہوگیا تو ضرب ایک ایسا رکن ہے جو ساقط ہوسکتا ہے جیسے نماز کا رکن قرأت گونگے سے ساقط ہے۔ تو اس جزئیہ کو چھوڑ کر وہ پورے دس جزئیے ہوئے جن میں ضرب نہ ہونے کے باوجود تیمم صحیح ہونے کا حکم ہے۔ ان سے متعلق محقق علی الاطلاق نے دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں اس طرح کہ انہوں نے پہلے جزئیہ کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ : “ اس میں لازم ہے کہ
وتبعہ اخوہ المحقق فی النھر والمدقق فی الدر فقالا المراد الضرب او ما یقوم مقامہ ونظم الدر بضربتین ولومن غیرہ اومایقوم مقامھا لما فی الخلاصۃ وغیرھا
یہ صرف ان حضرات کا قول ہو جو ضرب کو حقیقت تیمم سے خارج مانتے ہیں سب کا قول نہ ہو۔ یا یہ مانا جائے کہ ضرب اس سے عام ہے کہ زمین پر ہو یا بطور مسح کے عضو پر ہو اھ “ حلیہ میں اسے برقرار رکھا ہے اور بحر نے اس کی مخالفت کی ہے۔ حضرت محقق کی عبارت نقل کرنے کے بعد یہ لکھا : “ جاننا چاہیے کہ شرط یہ ہے کہ اس سے فعل پایا جائے چاہے مسح ہو یا ضرب ہو یا کچھ اور ہو کیونکہ خلاصہ میں یہ کہا ہے : (اس کے بعد جزئیہ۴ وجزئیہ۵ نقل کیا اور کہا) اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ یہ جزئیات ان حضرات کے قول پر مبنی ہیں جو ضرب کو حقیقت تیمم سے خارج مانتے ہیں لیکن جو لوگ اسے داخل تیمم مانتے ہیں وہ اس میں اس کے قائل نہیں ہوسکتے جسے ہم نے خلاصہ سے نقل کیا کیونکہ اس میں سرے سے ضرب کا وجود ہی نہیں نہ زمین پر نہ عضو پر۔ مگر یہ کہا جائے کہ ضرب سے ان کی مراد تیمم کا عمل ہے خواہ ضرب ہویا اور کچھ تو ہوسکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بعید ہے “ اھ۔ ان کے برادر محقق نے النہرالفائق میں اور مدقق علائی نے درمختار میں ان کی پیروی کی ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا : “ مراد یہ ہے کہ ضرب ہو یا وہ جو اس کے قائم مقام ہو “ ۔ اور درمختار کی عبارت یہ بھی ہے : “ دو ضربوں سے اگرچہ یہ دوسرے شخص سے صادر ہوں یاایسے فعل سے جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو کیونکہ خلاصہ وغیرہا
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
اقول : (۱) والعجب ان السید ط قال فاشار الشارح بقولہ اوما یقوم مقامھما الی اختیار ماقالہ الکمال اھ ثم قال علی قولہ وجود الفعل منہ اعم من ان یکون مسحا اوضربا اوغیرہ کمافی البحر اھ فاین ھذا مما اختار الکمال الا ان یقال ان المراد اختیار خروج الضرب عن مسمی التیمم وان لم یتابع المحقق علی رکنیۃ المسح بخصوصہ بل فعل مامنہ کتحریک الرأس اوادخالہ فی موضع الغبار ثم اعترض علی ھذا ایضا بقولہ وفیہ انھم اکتفوا بتیمم الغیر لہ ولافعل منہ اھ واجاب العلامۃ ش بان فعل غیرہ بامرہ
میں ہے کہ : “ اگر تیمم کی نیت سے اپنے سر کو حرکت دی یا اسے غبار کی جگہ داخل کیا تو جائز ہے اور شرط یہ ہے کہ اس سے فعل پایا جائے “ ۔ اھ
اقول : حیرت ہے کہ سید طحطاوی لکھتے ہیں کہ “ شارح نے اپنی عبارت “ اومایقوم مقامھما (یا وہ فعل جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو) سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا مختار وہ ہے جو کمال ابن ہمام نے فرمایا “ ۔ اھ۔ پھر شارح کی عبارت “ وجود الفعل منہ “ (اس سے فعل پایا جانا شرط ہے) کے تحت فرمایا : “ عام اس سے کہ وہ فعل مسح ہو یا ضرب ہو اور کچھ ہو جیسا کہ بحر رائق میں ہے “ ۔ اھ۔ تو یہ وہ کہاں رہا جو کمال ابن ہمام نے اختیار فرمایا! مگر یہ کہا جائے کہ مطلب یہ ہے کہ شارح نے بھی یہی اختیار کیا ہے کہ ضرب حقیقت تیمم سے خارج ہے اگرچہ انہوں نے اس سلسلہ میں محقق علی الاطلاق کی متابعت نہیں کی ہے کہ “ خاص مسح رکن تیمم ہے “ بلالکہ کوئی بھی فعل جو اس سے پالیا جائے جیسے سر کو حرکت دینا یا غبار کی جگہ داخل کرنا۔ پھر سید طحطاوی نے اس پر بھی یوں اعتراض کیا ہے : “ اس میں یہ خامی ہے کہ دوسرے کا اسے تیمم کرادینا بھی کافی مانا گیا ہے جب کہ خود اس کا کوئی فعل نہ پایا گیا “ اھ ۔ علامہ شامی نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل خود اسی کے فعل کے
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
طحطاوی علی الدر باب التیمم بیروت ۱ / ۱۲۷
اقول : (۱) ای خصوصیۃ لھذہ الصورۃ فان الفعل منہ موجود فی الضرب والمسح والتحریک والادخال جمیعا الا ان یرید بھذہ الصورۃ مااذاتیمم بنفسہ اما لویممہ غیرہ فلایشترط وجود الفعل منہ فح یکون ھذا مسلکا اخر فی الجواب وکان اذن حقہ ان یقول اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ
اقول : وبقی ان یقول امرہ من فعلہ ھکذا جری القیل والقال* وللعبد الضعیف لطف بہ مولاہ اللطیف عدۃ ابحاث فی ھذا المقال* ثم تحقیق وتوفيق یزول بہ الاشکال* بتوفیق الملک المھیمن المتعال*
قائم مقام ہے تو وہ معنی اسی کا ہے “ اھ۔ اور اس سے پہلے فرمایا کہ : “ اس صورت میں “ اس سے فعل پایا جانا شرط ہے۔ وہ مسح ہے یا حرکت دینا۔ اور یہ پالیا گیا۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ضرب ضروری نہیں جیسا کہ گزر چکا “ اھ۔
اقول : اسی صورت کی کیا خصوصیت ہے فعل تو اس سے ضرب مسح ادخال تحریک سبھی صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ اس صورت سے ان کی مراد یہ ہے کہ جب خود تیمم کرے لیکن اگر اس کو کوئی اور تمیم کرائے تو فعل اس سے پایا جانا شرط نہیں۔ تب یہ جواب کا ایک دوسرا طریقہ ہوگا اور اس وقت انہیں یوں کہنا چاہئے تھا : اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ (یاہم یہ کہیں کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل)۔
اقول : اب بھی کہنے کی ایک بات رہ گئی وہ یہ کہ اس کا حکم دینا ہی اس کا فعل ہے۔ اسی طرح یہاں قیل وقال جاری ہے۔ اس مقام پر بندہ ضعیف اب ۔ لطیف اسے لطف سے نوازے۔ کی چند بحثیں ہیں پھر ایک ایسی تحقیق اور تطبیق ہے جس سے اشکال دور ہوجاتا ہے۔ یہ سب خدائے بلالند ونگہبان کی توفیق سے ہے۔
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۴
فاقول : وبہ استعین۔
الاول احادیث کثیرۃ قولیۃ وفعلیۃ وردت بذکر الضرب فی التیمم بل ھو المعھود فی جل ماجاء فی صفتہ ولولا خشیۃ الاطالۃ لسردتھا ولا اقول کما قال(۱) فی غایۃ البیان ان الضرب لم یذکر فی الایۃ ولافی سائر الاثار وانما جاء فی بعضھا اھ اراد بہ الاخذ علی قول الامام النسفی فی المستصفی انھم انما اختارو الفظ الضرب وانکان الوضع جائزا لما ان الاثار جاء ت بلفظ الضرب اھ
ومن تتبع الاحادیث تبین لہ صدق کلام المستصفی فالاخذ لاوجہ لہ وان اقرہ علیہ البحر فھذا فی نفس ذکر الضرب امارکنیتہ فلا اعلم فیہ حدیثین صحیحین ولاحدیثا واحدا صریحا فضلا عن احادیث فقول الحلیۃ بہ قال اکثر العلماء لاحادیث صریحۃ بہ منھا ماعن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما (فذکر ماقدمنا
فاقول : اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔
بحث۱ : بہت سی قولی وفعلی حدیثیں ہیں جن میں تیمم کے اندر ضرب کا ذکر آیا ہے بلالکہ کیفیت تیمم سے متعلق بیشتر احادیث میں یہی معہود ومعروف ہے اگر تطویل کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہاں ان تمام احادیث کو ذکر کرتا اور میں اس طرح نہیں کہتا جیسے غایۃ البیان میں کہا ہے کہ : “ ضرب آیت میں مذکور نہیں اور تمام آثار میں بھی نہیں صرف بعض میں ہے “ اھ اس سے انہوں نے المستصفی للامام النسفی کی درج ذیل عبارت پر گرفت کرنی چاہی ہے : اگرچہ وضع یعنی صعید پر ہاتھ رکھ کر تیمم کرلینا بھی جائز ہے مگر ان حضرات کے لفظ ضرب اختیار فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ضرب آثار واحادیث میں وارد ہے “ اھ۔
جو احادیث کی چھان بین کرے گا اس پر عیاں ہوجائیگا کہ مستصفی کی عبارت بجا ہے تو اس پر گرفت بلاوجہ اور بے جا ہے اگرچہ بحر میں بھی اس گرفت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ احادیث میں ضرب کے صرف مذکور ہونے کی بات ہوئی اب یہ بات رہی کہ کیا احادیث میں اس کا رکن تیمم ہونا بھی مذکور ہے تو میرے علم میں تو اس بارے میں دو صحیح حدیثیں بلالکہ ایک بھی صریح حدیث نہیں۔ احادیث ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب حلیہ کا یہ اقتباس پڑھئے۔ فرماتے ہیں : “ اکثر علماء رکنیت ضرب کے قائل ہیں اس لئے کہ اس بارے میں “ صریح احادیث وارد ہیں انہی میں سے وہ حدیث ہے جو حضرت ابن عمر
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵
فیہ اولاان الحاکم لم یثن علیہ بل سکت عن تصحیحہ وعن تصحیح اسنادہ قال المحقق فی الفتح تبعا للامام الزیلعی المخرج سکت عنہ الحاکم وقال لااعلم احدا اسندہ عن عبیداللہ غیر علی بن ظبیان وھو صدوق اھ
اقول : (۱) الثناء علی(۲) الراوی لیس ثناء علی(۳) الروایۃ وکونہ صادقا فی نفسہ لاینافی کونہ ضعیفا فی حدیثہ کیف(۴) وقد تظافرت کلمات
رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے (اس کے بعد وہ الفاظ حدیث ہیں جو پہلے ہم نے تعریف ششم کے بعد ہی ذکر کیے ہیں فرمایا)
اسے حاکم نے روایت کیا اور اس کی ستائش کی۔ اور ان ہی میں سے وہ بھی ہے جو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے فرمایا : جب رخصت نازل ہوئی میں لوگوں کے درمیان موجود تھا سرکار نے ہمیں دو۲ ضربوں کاحکم دیا ایک چہرے کیلئے پھر دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کیلئے۔ بزار نے اس حدیث کی بسند حسن تخریج کی اھ “ اس عبارت میں حلیہ پر چند کلام ہیں :
اولا : حاکم نے اس کی ستائش نہ کی اس کی تصحیح سے بلالکہ اس کی اسناد کی تصحیح سے بھی سکوت اختیار کیا۔ نصب الرایہ میں اس کی تخریج فرمانے والے امام زیلعی کی تبعیت میں محقق علی الاطلاق نے بھی فتح القدیر میں فرمایا : “ حاکم نے اس سے سکوت اختیار کیا اور فرمایا کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے اس حدیث کو عبیداللہ سے مسند روایت کیا ہو سوائے علی بن ظبیان کے اور یہ صدوق (راست گو) ہیں اھ “ ۔
اقول : راوی کی تعریف وستائش روایت کی تعریف وستائش نہیں۔ اور راوی کا فی نفسہ صادق ہونا حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں۔ پھر راوی مذکور حدیث میں ضعیف کیسے نہ ہوں جبکہ
فتح القدیر باب التیمم سکھر ۱ / ۱۱۰
اقول : (۱) ولیس کذلک بل الرجل خیر دین فقیہ ضعیف عند المحدثین فی الحدیث لاجرم ان قال فی التقریب ضعیف۔
وثانیا : (۲) العجب استنادہ الی ھذا وترکہ حدیث جابر الصحیح الاسناد وتواردہ علیہ الامام السیوطی فی الجامع الصغیر۔
وثالثا : حدیث (۳) عمار رضی اللہ تعالی عنہ انما فیہ الامر بضربتین ولیس کل یؤمربہ رکنا وابعد منہ حدیث البزار عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فلفظہ علی ضعف اسنادہ فی التیمم ضربتان اھ
ائمہ فن انہیں بیک زبان ضعیف کہتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ابوحاتم پھر نسائی نے تو “ متروک “ بھی کہا ہے۔ بلالکہ اس سے بھی بڑھ کر ابن معین نے۔ جیسا کہ ان سے روایت کی گئی ہے۔ کذاب کہا جس سے دھوکا کھاکر تیسیر میں مناوی نے “ کذاب “ لکھ ڈالا۔
اقول : حالانکہ ایسا نہیں۔ آدمی پسندیدہ دین دار فقیہ ہیں۔ یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک حدیث میں ضعیف ہیں لاجرم تقریب میں کہا : ضعیف ہیں۔
ثانیا : یہ بھی عجیب بات ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے تو استناد کیا مگر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہماکی صحیح الاسناد حدیث کو چھوڑ دیا جامع صغیر میں امام سیوطی سے بھی یہی ہوا ہے۔
ثالثا : اب حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث لیجئے اس میں صرف اتنا ہے کہ “ ہمیں دو ضربوں کا حکم ہوا۔ “ اور ایسا نہیں کہ جس چیز کا بھی حکم دیا جائے وہ رکن ہو۔ اس سے بھی زیادہ بعید نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی روایت سے مسند بزار کی حدیث ہے۔ ایک تو اس کی سند ضعیف ہے دوسرے یہ کہ متن میں بس یہ ہے : “ فی التیمم ضربتان “
(تیمم میں دو۲ ضربیں ہیں) اھ
کشف الاستار عن زوائد البزار باب التیمم مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۵۹
اقول : بل روی مسلم عن معویۃ بن الحکم رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان ھذہ الصلاۃ لایصلح فیھا شیئ من کلام الناس انما ھی التسبیح والتکبیر وقراء ۃ القران ولیس التسبیح ولا التکبیر من ارکانھا وقال ملک العلماء فی البدائع صلاۃ الجنازۃ دعاء للمیت اھ ومعلوم ان لیس ارکانھا الا التکبیرات الاربع۔
الثانی : (۱) الوظائف البدنیۃ المحضۃ لاتجری فيھا النیابۃ فلایصلی احد عن احد ولایتوضؤ احد عن احد کذا لایتیمم احد عن احد وقد جوزنا
رابعا : بلالکہ “ التیمم ضربتان “ (تیمم دو ضرب ہے) یہ عبارت بھی رکنیت کے بارے میں صریح نہیں۔ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے یہ بیان غالب واکثر کے لحاظ سے وارد ہے عنقریب اس کی تحقیق آرہی ہے۔
اقول : بلالکہ امام مسلم نے حضرت معاویہ بن الحکم رضی اللہ تعالی عنہسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہ حدیث روایت کی ہے : “ لوگوں کی بات چیت میں سے کچھ بھی اس نماز کے اندر ہونے کے لائق نہیں نماز تو بس تسبیح وتکبیر اور قرآن کی قرأت ہے “ ۔ حالانکہ نہ تسبیح نماز کے ارکان میں سے ہے نہ تکبیر (اسی طرح “ تیمم “ دو ضرب ہے۔ یہ بھی محمول کو موضوع کا رکن بتانے کے معاملے میں صریح نہیں) ملک العلماء نے بدائع الصنائع میں فرمایا ہے : “ نماز جنازہ میت کیلئے دعا کرنا ہے “ اھ جیسا کہ معلوم ہے کہ ارکان نماز جنازہ چاروں تکبیروں کے سوا اور کچھ نہیں۔
بحث ۲ : جو محض بدنی اعمال ہیں ان میں نیابت نہیں چلتی۔ کوئی شخص دوسرے شخص کی طرف سے نماز نہیں پڑھ سکتا نہ کوئی دوسرے کی جانب سے وضو کرسکتا ہے اسی طرح ایک شخص کی طرف سے تیمم بھی نہیں کرسکتا۔ اور یہ جائز رکھا گیا ہے
الصحیح لمسلم باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰۳
بدائع الصنائع کیفیۃ صلٰوۃ الجنازۃ کراچی ۱ / ۳۱۳
الثالث : تحقیق ماافاد المحقق بقولہ ان المأموربہ مسح لاغیر ان الکتاب العزیز انما امر بقصد الصعید الطیب فالمسح منہ وھذا لاتوقف لہ علی الضرب فضلا عن دخولہ فی فسخ حقیقتہ (۱) فان من القت الریح الغبار علی عضویہ مثلا یتأتی لہ قصدہ للمسح منہ بامراریدہ علیہ من دون حاجۃ الی الضرب علی الارض نعم من لایجدہ علی اعضائہ یحتاج الی قصدہ من ارض اوجدار وذلک لایقتضی الرکنیۃ بل ولا الشرطیۃ فانما مثل الضرب علی الصعید في التیمم
کہ زید کو عمرو تیمم کرادے۔ اس صورت میں دونوں ضربیں مارنے کا عمل صرف عمرو سے صادر ہوا۔ بلفظ اصطلاحی دونوں ضربیں صرف عمرو کے ساتھ قائم ہیں۔ اب اگر یہی دو۲ ضربیں تمام تر ارکان تمیم ہیں تو لازم آیا کہ عمرو نے تیمم کیا اور زید پاک ہوا۔ اور اگر یہ دونوں ضربیں بعض ارکان تیمم ہیں تو لازم آیا کہ کچھ تیمم زید کے ساتھ لگا ہوا ہے او رکچھ عمرو کے ساتھ۔ پھر یہ دونوں مل کر سارا تیمم زید ہی کا ہوگیا۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی نظیر ہے (کہ کسی بدنی عمل کے سارے اجزاء وارکان عمرو ادا کرے اور وہ زید کا عمل ہوجائے یا ایک ہی فریضہ بدنیہ کا ایک جزء زید ادا کرے اور دوسرا جز عمرو بجالائے پھر دونوں مل کر سب زید کے حصہ میں آجائے اور اس کے سر سے فرض اتر جائے ۱۲ محمد احمد اصلاحی) یہ سب نامعقول اور ناقابل قبول ہے۔
بحث۳ : حضرت محقق نے جو افادہ فرمایا کہ ماموربہ صرف مسح ہے اس کی تحقیق یہ ہے کہ قرآن حکیم نے تو یہی حکم دیا ہے کہ پاکیزہ صعید کا قصد کرکے اس سے مسح کرو یہ کام ضرب پر موقوف نہیں ضرب کا اس کی حقیقت میں داخل ہونا درکنار۔ اس لئے کہ مثلا جس کے چہرے اور ہاتھوں پر آندھی سے گرد پڑ گئی اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ اسی گرد سے مسح کا قصد کرکے اس پر اپنا ہاتھ پھیرلے اسے زمین پر ضرب کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں جس کے اعضاء پر گردنہ ہو اسے کسی زمین یا دیوار سے مٹی کے قصد کی ضرورت ہے اور یہ بات رکنیت کیا شرط کی بھی مقتضی نہیں۔ کیونکہ تیمم میں صعید پر
الرابع : اتینا علی التاویل فاولہ ان الکلام انما جاء علی الغالب المعھود فان من النادر جدا وجد ان الغبار علی العضوین وکذا لم یعہد فی صفۃ التیمم ادخال الراس فی موضع الغبار اوالوقوف فی مثارہ وتحریک العضوین وانما المعروف المعھود ھو طریقۃ الضرب وبھا وردت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ ولما تمعک عمار رضی اللہ تعالی عنہ قال لہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان کان یکفیک ان تضرب بیدیک ثم تنفخ ثم تمسح بھا وجھک وکفیک رواہ الستۃ۔
ضرب کی حیثیت و ہی ہے جو وضو میں برتن میں چلو کے ذریعہ پانی لینے کی ہے جو بارش میں کھڑا ہو اسے چلو لینے کی کوئی ضرورت نہیں بارش ہی کافی ہے۔ ہاں جب ہاتھ سے پانی لئے اور بہائے بغیر وضو نہ ہوپائے تو اس کی ضرورت ہوگی۔ اور یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چلو سے پانی لینا وضو کے ارکان یا شرائط میں داخل ہے۔ یہ چیز بالکل واضح اور روشن ہے جس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ تو اس کے خلاف کسی بات پر نہ شارع عليه الصلوۃ والسلام کے کلام کو محمول کیا جاسکتا ہے نہ صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکے کلام کو۔
بحث۴ : اب ہم (کلام شارع اور کلام صاحب مذہب کی) تاویل پر آئے تو پہلی بات یہ ہے کہ یہ اکثری اور معروف حالت کے لحاظ سے ہے اس لئے کہ چہرے اور ہاتھوں پر پڑی ہوئی گرد ملنا بہت ہی نادر ہے یوں ہی غبار کی جگہ سر داخل کرنا یا گرد اڑنے کی جگہ کھڑا ہونا اور اعضائے تیمم کو حرکت دینا صفت تیمم میں معہود ومعروف نہیں۔ معروف ومعہود وہی ضرب کا طریقہ ہے اسی سے متعلق قولی اور فعلی حدیثیں وارد ہیں۔ جب حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہنے تیمم کیلئے زمین پر لوٹ پوٹ کیا تھا تو ان سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں سے زمین پر مارتے پھر پھونک دیتے پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیتے “ ۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں آئی ہے۔
الخامس : کما سلک المحقق بالحدیث مسلکین ذھب ایضا بتلک الفروع الاتیۃ علی خلاف القول الاول مذھبین ولم یتأت فیھا المسلک الاول ان الکلام علی الغالب فان الرکنیۃ توجب اللزوم فجعل المسلک الاول فیھا قصرھا علی القول الثانی ای فتکون تلک الفروع ایضا من ثمرات الخلاف وبہ جزم البحر وتبعہ ش۔
اقول : لیکن اس پر اس سے اعتراض وارد ہوگا جو ہم نے ملک العلماء سے (تعریف سادس کے بعد) نقل کیا کہ رکنیت ضربین پر ہمارے تینوں ائمہ کا اجماع ہے اسی سے دوسرے قول (عدم رکنیت ضرب) پر بھی معاملہ دشوار ہوگا۔ تو اس وقت حضرت محقق کی تاویل ثانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور اس پر کلام عنقریب آنے والا ہے۔
بحث ۵ : حضرت محقق نے حدیث کی تاویل میں دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں (ایک یہ کہ چوں کہ تیمم اکثر ضربوں ہی کے ذریعہ ہوتا ہے اس لئے یہ احادیث یہاں غالب واکثر کے طور پر آئی ہیں دوسرا یہ کہ ضرب اس سے عام ہے کہ زمین پر ہو یا عضو پر بطور مسح ہو ۱۲ فتح ۱ / ۱۱۱) اسی طرح وہ جزئیات جو قول اول (رکنیت ضربین) کے برخلاف آئے ہیں ان میں تاویل کے دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں (پہلا طریقہ یہ کہ جزئیات صرف ان حضرات کے قول پر ہیں جو ضرب کی عدم رکنیت کے قائل ہیں دوسرا یہ کہ لفظ ضرب سے زمین پر ضرب اور عضو پر مسح دونوں سے اعم معنی مراد ہے) حدیث میں ایک طریقہ تاویل یہ اختیار کیا تھا کہ یہ بلحاظ غالب واکثر ہے وہ تاویل یہاں نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ جب ضربوں کو رکن تیمم مان لیا گیا تو تیمم کیلئے ضرب کا وجود تو لازم ہوگیا کہ رکن کے بغیر شیئ کا ثبوت وتحقق ممکن ہی نہیں۔ اس لئے یہاں پہلا طریقہ تاویل یہ رکھا کہ یہ جزئیات صرف ان لوگوں کے قول پر ہیں جو ضرب کی عدم رکنیت کے قائل ہیں تو یہ
ثانیا : (۱) لوکانت مبنیۃ علی القول الثانی لکانت مخالفۃ لاجماع ائمتنا فکیف یسوغ المیل الیھا فضلا عن الجزم بھا من دون اشارۃ اصلا الی خلاف فیھا۔
ثالثا : (۲)اکثرتلک الفروع فی الخلاصۃ ومصنفھا الامام طاھر قدصحح القول الاول فکیف یمشی فيھا طرا علی خلاف ماھو الصحیح عندہ بل قد افاد انھا متفق علیھا کماھو قضیۃ صنیعھم جمیعا ولذا جزم بھا الدرمع تصریحہ
جزئیات بھی اختلاف مذہبین (رکنیت ضرب وعدم رکنیت) کا ثمرہ ہوں گی (جن کے نزدیک ضرب رکن تیمم نہیں ان کے یہاں جواز تیمم کی وہ صورتیں اور وہ جزئیات ہوں گے اور جن کے یہاں ضرب رکن تیمم ہے ان کے نزدیک ان صورتوں میں تیمم نہ ہوگا) اسی تاویل پر بحر نے جزم کیا ہے اور علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا ہے۔ (ت)
اقول : یہ تاویل درست مان لینے میں چند اعتراضات لازم آئیں گے اولا وہ جس کی طرف میں نے پہلے اشارہ کیا کہ یہ جزئیات تمام کتابوں میں اس طرح بیان کیے گئے ہیں کہ کسی نے اختلاف کی طرف کوئی اشارہ بھی نہ کیا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام حضرات کے نزدیک متفق علیہ ہیں اور یہ صرف بعض کے قول پر نہیں۔
ثانیا : اگر یہ جزئیات قول ثانی (عدم رکنیت ضربین) کی بنیاد پر ہوتے تو ہمارے ائمہ کے اجماع کے خلاف ہوتے۔ پھر ان کی جانب میلان کیونکر روا ہوتا۔ اور ان سے متعلق کسی اختلاف کا کوئی اشارہ کیے بغیر ان پر جزم کرلینا تو بدرجہ اولی ناروا ہوتا۔
ثالثا : ان جزئیات میں سے زیادہ تر خلاصۃ الفتاوی میں مذکور ہیں اور خلاصہ کے مصنف امام طاہر قول اول (رکنیت ضربین) کو صحیح قرار دے چکے ہیں۔ پھر ان تمام جزئیات میں وہ اپنے صحیح مذہب کے خلاف کیسے چلیں گے بلکہ انہوں نے تو یہ بھی افادہ کیا کہ یہ جزئیات متفق علیہ ہیں جیسا کہ دوسرے تمام حضرات کے طرز عمل کا بھی یہی مقتضی ہے اسی لئے درمختار میں ان جزئیات پر جزم کیا حالانکہ
رابعا : (۱) تقدم عن البدائع اجماع ائمتنا علی رکنیۃ الضربتین وھم المصرحون فی کتاب الصلوۃ بالفرع الثانی وھذا یقطع النزاع۔
السادس : اما مسلکہ الثانی المشترک فيہ الحدیث وتلک الفروع ان المراد بالضربتین اعم من الضرب علی الارض وعلی العضو ففیہ۔
اولا : کما (۲) اقول قد حقق المحقق ان حقیقۃ التیمم ھو المسح وان الضرب علی الارض لیس منھا فی شیئ فلا وجہ للتعمیم فی الضرب الرکن بل انما یقال ان المراد بالضربتین ھما المسحتان وحینئذ لایلائمہ قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ثم قول صاحب المذھب ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین اذلو ارید ھذا لقیل ضربۃ علی الوجہ واخری علی الیدین۔
وہ قول اول (رکنیت) کے احوط اور صحیح ہونے کے تصریح کرچکے ہیں۔
رابعا : رکنیت ضربین پر ہمارے ائمہ کا اجماع بدائع کے حوالہ سے بیان ہوا مگر اس کے باوجود خود ہی کتاب الصلاۃ میں جزئیہ دوم کی تصریح بھی کررہے ہیں۔ یہ بات فیصلہ کن اور قاطع نزاع ہے (اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جزئیات صرف عدم رکنیت ماننے والوں کے قول پر مبنی نہیں بلکہ متفق علیہ ہیں)
بحث۶ : اب رہی امام محقق کی دوسری تاویل جو حدیث اور مذکورہ جزئیات میں مشترک ہے کہ ضرب سے مراد ضرب علی الارض یا ضرب علی العضو سے اعم ہے۔ تو اس پر چند اعتراضات ہیں :
اولا : اقول : حضرت محقق خود تحقیق فرماچکے ہیں کہ تیمم کی حقیقت بس مسح ہے۔ اور ضرب علی الارض کا حقیقت تیمم میں کوئی دخل نہیں ۔ تو وہ ضرب جو تیمم کا رکن اور اس کی حقیقت میں داخل قرار دی گئی ہے اس کی تعمیم کرکے ضرب علی الارض کو بھی اس کے تحت لانے اور حقیقت تیمم میں داخل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ دونوں ضربوں سے مراد دونوں کا مسح (چہرے کا مسح اور ہاتھوں کا مسح) ہے۔ اور اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد پھر صاحب مذہب کا قول : ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین (ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب ہاتھوں کیلئے) تاویل مذکور کے مطابق نہ ہوگا اور موافق بھی نہ ہوگا کیونکہ
وثالثا : کما قال البحر انہ لایمشی فی فرعی الخلاصۃ اذلا ضرب فيھا علی الارض ولاعلی العضو اقول لکن(۲) مرجعہ الی مؤاخذۃ علی اللفظ فلوقال المحقق ان المراد بالضربتین المسحتان لم یرد انہ لاضرب ھھنا اصلا۔
ورابعا : کما ابدی البحر ایضا ان لیس ثمہ مسح ایضا وبہ اخذ الخادمی علی الدرر بل(۳) وعلی جلۃ العمائد الغرر کالظھیریۃ والخانیۃ والخلاصۃ وخزانۃ المفتین والجوھرۃ والایضاح والفتح والبحر وابن کمال حتی کتاب الصلاۃ لصاحب صاحب المذھب اذصرحوا جمیعا
اگر اس سے مراد ہوتا تو یوں ارشاد ہوتا ضربۃ علی الوجہ واخری علی الیدین (ایک ضرب چہرے پر اور ایک ضرب ہاتھ پر)
ثانیا : اقول : اس تاویل کی بنیاد پر ضرب کی رکنیت وعدم رکنیت کا اختلاف ہی اٹھ جائیگا اور اس کے تمام مذکورہ ثمرات بھی باقی نہ رہیں گے حالانکہ علماء جن میں خود حضرت محقق بھی ہیں اس اختلاف اور ثمرات کو ثابت مانتے ہیں۔
ثالثا : البحرالرائق کا اعتراض کہ یہ تاویل خلاصہ میں مذکور ان دو۲ جزئیوں میں جاری نہیں ہوسکتی (جن میں غبار کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرکے بہ نیت تیمم حرکت دے لینے کو کافی قرار دیا ہے) کیوں کہ ان میں نہ زمین پر ضرب ہے نہ عضو پر۔ اقول : مگر اس اعتراض کا مآل صرف لفظ پر گرفت ہے اگر حضرت محقق نے فرمایا ہوتا کہ دونوں ضرب سے مراد دونوں مسح ہے تو یہ اعتراض وارد نہ ہوتا کہ یہاں سے تو سرے سے ضرب ہی نہیں۔
رابعا : بحر ہی نے یہ اعتراض بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں (موضع غبار میں تحریک اعضا والی صورت میں) مسح بھی تو نہیں۔ اسی بنیاد پر محشی درر خادمی نے درر پر بلالکہ اکثر کتب معتمدہ جیسے ظہیریہ خانیہ خلاصہ خزانۃ المفتین جوہرہ ایضاح فتح القدیر البحرالرائق اور ابن کمال یہاں تک کہ صاحب مذہب کے شاگرد کی کتاب الصلوۃ پر بھی گرفت کی ہے۔ اس لئے کہ جیسا کہ گزر چکا ان تمام حضرات نے تصریح
واقول : اولا(۱) ذھب عنہ ان الخلاصۃ والبحر ایضا من المصرحین بانہ ان لم یمسح لم یجز کماقدمنا عنھما فی الفرعین الاولین والسادس۔
وثانیا : (۲) لونظر الی ماصرحوا فیہ بعدم الاجزاء الا بالمسح والخلاصۃ والبحر باجزاء التحریک لعرف الفرق وعلم ان لااخذ علی الدرر والجلۃ الغرر کماسینکشف لک سر ذلک ان شاء اللہ تعالی۔
وثالثا : نعود الی البحر
فرمائی ہے کہ “ اگر صرف اتنا ہوا کہ چہرے اور ہاتھوں پر غبار پہنچ گیا تو تیمم نہ ہوگا جب تک کہ بہ نیت تیمم اس پر ہاتھ نہ پھیرے “ ۔ خادمی نے کہا : “ فیہ مافیہ اس میں وہ خامی ہے جو اس میں ہے کیونکہ ابھی خلاصہ اور بحر کے حوالہ سے معلوم ہوا (کہ تحریک اعضا بھی کافی ہے) مگر یہ کہا جائے کہ مسح سے مراد وہ ہے جو حقیقۃ اور حکما دونوں مسح سے اعم ہے۔ اس طور پر لفظ مسح تحریک سر وغیرہ والی صورت کو بھی شامل ہوجائیگا “ ۔ اھ۔
اقول : اولا خادمی کو یہ خیال نہ رہا کہ خلاصہ اور بحر میں بھی یہ تصریح موجود ہے کہ اگر ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا جیسا کہ جزئیہ ۱ ۲ ۶ میں ان سے ہم نے نقل کیا ہے۔
ثانیا جس صورت میں حضرات علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ہاتھ پھیرے بغیر تیمم نہ ہوگا اور جس صورت میں خلاصہ اور بحر نے تحریک اعضاء کو کافی قرار دیا ہے دونوں میں اگر فاضل خادمی نے غور کیا ہوتا تو فرق واضح ہوجاتا اور انہیں معلوم ہوتا کہ درر اور کتب معتمدہ پر مؤاخذہ کی گنجائش نہیں جیسا عنقریب ان شاءاللہ اس کی حقیقت واضح ہوگی۔
ثالثا : اب ہم بحر کی طرف رجوع کرتے ہیں
درر شرح الغرر لابی سعید خادمی باب التیمم مطبع عثمانیہ بیروت ۱ / ۲۸
لکنی اقول : (۲) وبربی استعین انما مسح شیئ بشیئ امرار ھذا علیہ وامساسہ بہ روی الطبرانی فی الصغیر عن سلمان الفارسی رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمسحوا بالارض فانھا بکم برۃ
قال فی التیسیر بان تباشروھا بالصلاۃ بلاحائل وقیل اراد التیمم اھ وقال فی النھایۃ والدر النثیر ومجمع البحار ارادبہ التیمم وقیل اراد مباشرۃ ترابھا بالجباہ فی السجود من غیر حائل والامر ندب لاایجاب اھ۔
اقول : (۳)وھو ظاھر السوق والتعلیل فکان ھو الاولی کما فعل فی التیسیر وفی ابن اثیر وتلخیصہ للسیوطی والمجمع مسحھم مربھم
فاقول : اس اعتراض کی بنیاد پر تو رکنیت مسح جس کو خود بحر نے بھی حق مانا ہے مسترد ہوجائے گی۔ مسح بھی رکن تیمم قرار نہ پاسکے گا۔
لکنی اقول : وبربی استعین (لیکن میں کہتا ہوں اور اپنے رب ہی سے مدد چاہتا ہوں) ایک شیئ کو دوسری شیئ سے مسح کرنے کا معنی یہ ہے کہ ایک کو دوسری پر گزار دیا جائے اور اسے اس سے مس کیا جائے۔ طبرانی نے معجم صغیر میں بروایت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہنے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا ہے : “ زمین سے مسح کرو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ نیک سلوک کرنیوالی ہے “ ۔ تیسیر میں فرمایا : اس طرح کہ زمین پر بغیر کسی حائل کے نماز ادا کرتے ہوئے اس سے اپنی جلد کو مس کرو اور کہا گیا کہ اس حدیث میں مسح زمین سے مراد تیمم ہے“۔ اھ نہایہ درنثیر اور مجمع البحار میں ہے : “ اس سے مراد تیمم ہے۔ اور کہا گیا کہ بغیر کسی حائل کے سجدہ کرتے ہوئے پیشانیوں سے زمین کی مٹی کو استعمال کرنا اور جلد کو اس سے مس کرنا مراد ہے او ریہ امر مندوب ہے واجب نہیں “ ۔ اھ
اقول : سیاق کلام اور تعلیل سے یہی آخری معنی ظاہر ہوتا ہے اس لئے یہی مراد لینا بہتر ہے جیسا کہ تیسیر میں کیا ہے۔ نہایہ ابن اثیر اور تلخیص نہایہ للسیوطی اور مجمع البحار میں ہے : “ مسحھم کا معنی ہے
التیسیر جامع صغیر حرف التاء مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیۃ ۱ / ۴۵۶ ، مجمع بحار الانوار تحت لفظ مسح منشی نولکشور لکھنؤ ۳ / ۲۹۶
النہایۃ لابن اثیر باب المیم والسین المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۴ / ۳۲۷
وفی الاخیر حدیث یمسح مناکبنا ای یضع یدہ علیھا لیسویھا اھ ای عند اقامۃ الصفوف وفی القاموس تماسحا تبایعا فتصافقا اھ
وفی التاج ماسحہ صافحہ والتقوا فتماسحوا تصافحوا اھ وقال المجد ھو یتمسح بہ ای یتبرك بہ لفضلہ فقال التاج کأنہ یتقرب الی الله تعالی بالدنومنہ ویتمسح بثوبہ ای یمرثوبہ علی الابدان فیتقرب بہ الی الله تعالی قیل وبہ سمی المسیح عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام قالہ الازھری اھ
ان کے پاس سے ایسی سبك روی سے گزر گیا کہ ان کے پاس ٹھہرا نہیں “ ۔ مجمع البحار میں ہے : “ حدیث میں ہے یمسح مناکبنا یعنی (صفیں سیدھی کرتے وقت) سرکار ہمارے کاندھوں کو برابر کرنے کیلئے ان پر اپنا ہاتھ رکھتے “ ۔ قاموس میں ہے : “ تماسحا تبایعا فتصافقا اھ (تماسحا کا معنی یہ ہے کہ باھم خریدوفروخت کرکے ایك نے دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا) تاج العروس میں ہے : “ ماسحہ کا معنی ہے اس سے مصافحہ کیا التقوا فتماسحوا یعنی باہم ملے تو ایك دوسرے سے مصافحہ کیا “ اھ۔ قاموس میں مجدالدین نے لکھا : “ ھویتمسح بہ ای یتبرك بہ لفضلہ “ (وہ اس سے مسح کرتا ہے یعنی اس کی فضیلت کی وجہ سے اس سے برکت حاصل کرتا ہے “ ۔ اس پر تاج العروس میں کہا : “ گویا وہ اس کے قرب کے ذریعہ خدا کی نزدیکی حاصل کررہا ہے۔ اور یتمسح بثوبہ کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کے کپڑے کو اپنے بدن پر گزار کر اس سے خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس وجہ سے حضرت عیسی علی نبینا وعليه الصلوۃ والسلام کو مسیح کہا گیا۔ یہ ازہری نے کہا ہے “ ۔ اھ
مجمع البحار لفظ مسح نولکشور لکھنؤ ۳ / ۲۹۸
القاموس باب الحاء فصل المیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۸
تاج العروس فصل المیم من باب الحاء احیاء التراث العربی مصر ۲ / ۲۲۶
القاموس المحیط باب الحاء فصل المیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۸
تاج العروس فصل المیم من باب الحاء احیاء التراث العربی مصر ۲ / ۲۲۶
اقول : ان تصریحات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ مجدالدین نے قاموس میں مسح کے معنی میں سیال چیز پر ہاتھ گزارنا جو لکھا ہے اس میں (شیئ کے ساتھ سیال کی قید نہ ہونا چاہئے کیونکہ) سیلان اس مفہوم کیلئے لازم شیئ نہیں۔ اسی لئے مفردات میں امام راغب نے اس قید کا اضافہ نہ کیا۔ قرآن مجید میں باری تعالی کاارشاد ہے : فامسحوا بوجوهكم و ایدیكم منه- (اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کو مسح کرو) اس میں ہاتھ مفہوم مسح کی قید نہیں کیوں کہ حدیث میں زمین پر بغیر حائل کے پیشانی رکھنے کیلئے بھی لفظ مسح وارد ہے جیسا کہ گزرا تمسحوا بالارض۔ اسی طرح ہاتھ پھیرنا یعنی عضو پر اسے حرکت دینا اور گزارنا یہ بھی مفہوم مسح کی قید نہیں کیونکہ حدیث میں وارد ہے یمسح مناکبنا۔ جبکہ یہاں کاندھوں پر صرف ہاتھ رکھنا ہوتا تھا (جیسا کہ مجمع البحار کے حوالے سے بیان ہوا) اس کا دوسرا ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ائمہ کرام نے تصریح فرمائی کہ اگر تیمم کی نیت سے دونوں
عــہ وفی النھایۃ والدر النثیر ومجع البحار تحت حدیث حماد المعتدۃ فی الجاھلیۃ تاخذ طائرا فتمسح بہ فرجھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
نہایہ درنثیر اور مجمع البحار میں حدیث حماد کے تحت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں معتدہ عورت پرندہ پکڑتی تو اسے اپنی شرمگاہ پر لگاتی ۱۲ منہ غفرلہ غفرلہ (ت)
القرآن ۵ / ۶
اذا علمت ھذافاعلم(۱) ان ھھنا صورتین تعود اربعا وذلك لانك حین ترید التیمم اما ان تجد الصعید متصلا باعضائك اومنفصلا عنھا علی الثانی لك وجھان احدھما ان تمسہ کفیك فتمسح بھما عضویك وذلك ھو المعھود المعروف والوارد فی الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ والاخر عط امرارك عضویك علی الصعید أما مسحا من فوقہ کما فی الفرع الھادی عشر للاشل وفی الثالث للصحیح وھی واقعۃ سیدنا عمار بن یاسر رضی الله تعالی ولم ینکر علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بمعنی انہ لم ینف طھورہ بہ وان ارشد الی ماکان یکفی الغاء للزائد علی الحاجۃ واما ادخالا فی
_________ کف دست کو زمین پر مارا بلکہ اس نیت سے دونوں کو زمین پر صرف رکھ دیا تو دونوں پاك ہوگئیں بعد میں دونوں ہتھیلیوں کا مسح نہیں کرے گا۔ اس سلسلہ میں کچھ نصوص ان شاء الله تعالی عنقریب آئیں گے حالانکہ مولائے کریم سبحانہ وتعالی نے “ مسح “ کا حکم دیا ہے اگر زمین سے دونوں ہتھیلیوں کو مس کرنا ہی ان دونوں کا مسح نہ ہوتا تو بعد میں الگ سے ان کا مسح ضروری ہوتا۔ اور پہلی بار دونوں کا زمین پر مس کرنا ان دونوں کے مسح سے بے نیاز نہ کرتا۔
یہ سب واضح ہوجانے کے بعد یہ جاننا چاہئے کہ یہاں دو۲ صورتیں ہیں جو چار ہوجاتی ہیں۔ اس لئے کہ جب تیمم کا ارادہ ہو متیمم اس وقت صعید کو یا تو اپنے اعضائے تیمم سے متصل(۱) پائے گا یا منفصل(۲)۔ برتقدیر ثانی دو۲ صورتیں ہیں (۱) صعید سے ہتھیلیاں مس کرکے ہتھیلیوں کو اعضا پر پھیرلے۔ یہی صورت معہود ومعروف اور قولی وفعلی احادیث میں مذکور ہے۔ (۲) ا۔ اعضائے تیمم کو صعید پر گزارے۔ خواہ اس طرح کہ صعید کے اوپر اعضاء کو پھیرے جیسے جزئیہ ۱۱ میں اعضاء شل ہوجانے والے شخص کیلئے بیان ہوا اور جزئیہ ۳ میں تندرست کیلئے ذکر ہوا۔ یہی سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ تعالی عنہماکا واقعہ بھی ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انکار نہ فرمایا یعنی ان کی طہارت کی نفی نہ فرمائی اگرچہ قدر حاجت سے زائد کو لغو بنانے کیلئے قدر کافی کی ہدایت ورہنمائی فرمائی خواہ اس طرح کہ اعضائے تیمم کو صعید کے اندر
واقول : وھذا الوجہ الاخیر الذی زدتہ وان لم یذکروہ معلوم اجزاؤہ قطعا لوجود امتثال قولہ عزوجل فتیمموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ ھذا کلہ فی الثانی اما الاول اعنی وجد انہ متصلا ففیہ صورتان:
الاولی : ان تجدہ علی عضویك فقط لاورائھما کغبارساکن وقع علیہما بالقاء ریح کما فی الفرع الاول اوبفعل منك کھدم اوکنس اوکیل اوذر اوضرب بہ اونفض ثوب کما فی الفرع الثانی والسادس والتاسع والعاشر کل ذلك اذا اردت التیمم بما بقی منہ علی عضویك بعد سکونہ اولم یثر غبارا فی الذربل نزل علی العضو فسکن۔
داخل کردے۔ مثلا کوئی شخص بہ نیت تیمم اپنے چہرے اور ہاتھوں کو ریت میں داخل کرے اس پر جزئیہ ۴ ہے۔ ب۔ یا صعید کو اعضاء پر گزارے۔ مثلا پتھر کا کوئی ٹکڑا لے کر بہ نیت تیمم چہرے اور ہاتھوں پر پورے طور سے پھیرلے۔ مختصر یہ کہ ایسا فعل ہو کہ خود اسی فعل سے صعید اور اعضائے تیمم باہم مس ہوجائیں۔
اقول : یہ آخری صورت جس کا میں نے اضافہ کیا اگرچہ اسے علماء نے ذکر نہیں کیا مگر اس کا جواز تیمم کیلئے کافی ہونا قطعی طور پر معلوم ہے اس لئے کہ ارشاد باری عزوجل : “ تو پاك صعید کا قصد کرکے اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو “ کی بجا آوری پائی جاتی ہے۔ یہ کلام برتقدیر ثانی تھا۔ اب پہلی تقدیر لیجئے یعنی صعید کو اعضاء سے متصل پانا۔ اس میں دو صورتیں ہیں : (۱) تیمم کرنے والا صرف چہرے اور ہاتھوں پر صعید پائے اور کسی عضو پر نہ پائے مثلا دونوں عضووں پر غبار ہوا کے اڑا کر ڈال دینے سے پڑا ہو۔ جیسا کہ جزئیہ ۱ میں ہے یا خود متیمم کے کسی فعل سے ان اعضاء پر گرد آئی ہو جیسے دیوار گرنا جھاڑودینا غلہ ناپنا یا مٹی چھڑکنا یا اس پر ہاتھ مارنا یا غبار آلود کپڑا جھاڑنا ایسا کوئی فعل جس کے باعث گرد آکر اعضائے تیمم پر بیٹھ گئی جیسا کہ جزئیہ ۲ ۶ ۹ ۱۰ میں ہے۔ ان ساری صورتوں میں یہ ہو کہ جب گرد اعضاء پر بیٹھ گئی اس کے بعد اعضائے تیمم پر بیٹھی ہوئی گرد سے تیمم کا ارادہ کیا یا چھڑکنے کی صورت میں غبار نہ اڑایا بلکہ جو مٹی چھڑکی وہ عضو پر گر کر بیٹھ گئی۔
ففی ھاتین وان وجد الاتصال بین الصعید والعضوین لکن لیس بفعلك للتیمم بل اما لا فعل لك فیہ کما فی القاء الریح وارتفاع الغبار بانھدام الجدار اوکان فعلك فی تحریکہ ثم وصولہ الی عضویك بطبعہ کمافی الھدم والکنس والکیل والذر وضرب الید ونفض الثوب اووصل بفعلك لاللتیمم کمافی صورۃ الاختباء والشرط وجود فعل ناو یقع بنفسہ امساس العضوین بالصعید۔
ففی الصورۃ الثانیۃ حیث ان للصعید ثخنا حول اعضائك یکفیك
(۲) متیمم اپنے اعضاء کے گرد صعید کی کافی دبازت پائے مثلا ریت میں چھپا ہوا ہو یا آندھی چلنے یا دیوار گرانے وغیرہ سے خواہ غبار انگیز چھڑکاؤ ہی کی وجہ سے غبار کی وافر مقدار ہوگئی ہے جس کے باعث اپنے اعضاء کے گرد نہ ختم ہونے والا بلند اڑتا ہوا غبار پارہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ٹھہرنے سے پہلے اس سے تیمم کرلے۔ جیسا کہ جزئیہ۵ میں ہے۔ اسی سے متعلق جزئیہ۷ ۸ بھی ہے۔
ان دونوں صورتوں میں اگرچہ صعید اور اعضاء کے درمیان اتصال پایا گیا لیکن یہ اتصال تیمم کیلئے متیمم سے ہونے والے فعل کے ذریعہ نہ ہوا بلکہ اس میں یا تو متیمم کا سرے سے کوئی فعل ہی نہیں جیسے اس صورت میں کہ آندھی نے اعضاء پر غبار ڈال دیا یا دیوار گرنے سے غبار اٹھا یا متیمم کا فعل تو ہوا لیکن یہ فعل صرف اتنا تھا کہ غبار کو حرکت دی برانگیختہ کیا پھر اعضاء تك غبار کا پہنچنا خود غبار کی فطرت وطبیعت کے تحت پایا گیا جیسے اس صورت میں کہ متیمم نے دیوار گرائی جھاڑو دیا غلہ ناپا مٹی چھڑکی غبار پر ہاتھ مارا کپڑا جھاڑا یا غبار متیمم کے فعل ہی سے پہنچا لیکن یہ فعل تیمم کیلئے نہ تھا جیسے اس صورت میں کہ متیمم ریت میں چھپا ہوا تھا۔ اور شرط یہ ہے کہ بہ نیت تیمم ایسا فعل پایا جائے کہ خود اسی فعل سے اعضاء کو صعید سے مس کرنا متحقق ہو۔
دوسری صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید کی دبازت موجود ہے اس لئے بہ نیت تیمم
لکن فی الصورۃ الاولی لا تجد صعیدا وراء عضویك فمھما حرکتھما لم یحصل امساس بشیئ جدید فلا یکفی ولابد من ان تمر یدك علیہ ناویا فیقع امساس لم یکن وھذا ما فی الفتح والبحر والظھیریۃ والھندیۃ فی الفرع الاول والخلاصۃ والدرر والبزازیۃ وابن کمال وکتاب الصلاۃ فی الفرع الثانی والخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والایضاح والجوھرۃ فی الفرع السادس والمحیط والھندیۃ فی الفرعین التاسع والعاشر فذھب القلق*واسفر الفلق*ولله الحمد وظھر(۱) بھذا التقریر المنیر*فوائد مھمۃ نفعھا غزیر*
منھا۱ انہ لاخلف بین اکتفاء الخلاصۃ والبحر بالتحریك واشتراط الدرر والجلۃ الغرر المسح کما توھم الفاضل(۱) الخادمی اس کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے لینا ہی کافی ہے کیونکہ پہلے جس سے اتصال تھا اس کے علاوہ فعل (فعل تحریک) کی وجہ سے صعید سے اتصال اور مس کرنا پالیا جاتا ہے تو فعل مقصود کا حصول ہوجاتا ہے۔ یہی صورت جزئیہ ۵ کے تحت خلاصہ اور بحر میں ہے۔
لیکن پہلی صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید موجود نہیں ہے اس لئے اگر وہ چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے تو کسی نئی چیز سے مس کرنا حاصل نہ ہوگا اس لئے یہاں تحریك اعضاء تیمم کیلئے کفایت نہیں کرسکتی۔ ضروری ہے کہ بہ نیت تیمم صعید پر ہاتھ پھیرے کہ اعضاء کو صعید سے مس کرنے کا عمل حاصل ہو جو پہلے حاصل نہ تھا۔ یہی صورت جزئیہ ۱ کے تحت فتح القدیر بحرالرائق ظہیریہ اور ہندیہ میں ہے اور جزئیہ۲ کے تحت خلاصہ درر بزازیہ ابن کمال اور کتاب الصلاۃ میں ہے جزئیہ۶ کے تحت خانیہ خلاصہ خزانہ ایضاح اور جوہرہ میں ہے۔ اور جزئیہ ۹ ۱۰ کے تحت محیط اور ہندیہ میں ہے۔ اس تفصیل وتحقیق سے اضطراب دور ہوگیا اور صبح کا جمال روشن ہوگیا ولله الحمد۔ اور اس تقریر منیر سے چند اہم فوائد بھی ظاہر ہوئے جو بہت نفع بخش ہیں کچھ فوائد کا بیان درج ذیل ہے :
ف۱ : خلاصہ اور بحر نے صرف تحریك اعضاء کے ذکر پر اکتفاء کیا مگر درر اور دیگر کتب معتمدہ نے مسح کی شرط لگائی دونوں میں کوئی اختلاف وتعارض نہیں جیسا کہ فاضل خادمی کو وہم ہوا۔ اس لئے۔
ومنھا۲ ان لیس المسح فی مسألۃ الدرر فی الفرع الثانی بمعنی یشمل التحریك کمازعم(۱) ایضا فان التحریك لایکفی فیہ بل لابدمن امرار الید۔
ومنھا۳ ان لا تھافت بین کلام الخلاصۃ فی الفرع الخامس وکلامہ فی الثانی والسادس لعین مامر فی الدرر۔
ومنھا۴ مثلہ للبحر فی الخامس والاول۔
ومنھا۵ ان الذرفی الفرع السادس مالا یثیر نقعا وترید التیمم بعد ماوقع وسکن فلذا شرطوا المسح وفی الفرع السابع مایثیر وترید التیمم وھو مرتفع فاکتفی البزازی بتحریك المحل لما علمت ان التحریك لاینفع بعد السکون۔
ومنھا۶ ان القیام فی مھب الریح
اول اس صورت میں ہے جب اعضاء کے گرد اٹھتا ہوا غبا رموجود ہو اور ثانی اس صورت میں ہے جب غبار منقطع ہوچکا ہو۔
ف۲ : جزئیہ۲ کے تحت ذکر شدہ مسئلہ درر میں مسح کا ایسا کوئی معنی مراد نہیں جو تحریك اعضاء کو بھی شامل ہو جیسا کہ فاضل موصوف نے خیال کیا۔ اس میں تحریك تو کافی ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اعضاء پر ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔
ف۳ : جزئیہ ۵ کے تحت ذکر شدہ عبارت خلاصہ اور جزئیہ ۲ ۶ کے تحت مذکورہ عبارت خلاصہ کے درمیان کوئی تعارض نہیں۔ وجہ وہی ہے جو عبارت درر کی توضیح میں ابھی بیان ہوئی۔
ف۴ : یہی حال جزئیہ ۵ اور جزئیہ ۱ کے تحت بحر کی مذکور عبارتوں کا ہے۔
ف۵ : جزئیہ۶ کے تحت اعضاء پر مٹی چھڑکنے کا جو ذکر ہے اس سے ایسا چھڑکنا مراد ہے جس سے غبار نہ اڑتا ہو اور مٹی اعضاء پر گر کر بیٹھ گئی اس کے بعد تیمم کا ارادہ کیا۔ اسی لئے اس میں مسح کی شرط ہے۔ اور جزئیہ۷ کے تحت ایسا چھڑکنا مراد ہے جس سے غبار اٹھتا ہو اور غبار بلند ہونے کی حالت میں ہی تیمم کا ارادہ ہو اسی لئے بزازی نے اعضائے تیمم کو اس غبار میں حرکت دے لینے پر ہی اکتفا کیا۔ یہ اس لئے کہ معلوم ہے غبار بیٹھ جانے کے بعد تحریك اعضاء سے کوئی فائدہ نہیں۔
ف۶ : آندھی کے رخ پر کھڑا ہونا اگر اس صورت
ومنھا۷ ان ادخال(۱) المحل فی موضع الصعید ترابا کان او رملا اوغبارا اذا کان بنیۃ التیمم کفی لحصول الامساس بفعلك ناویا وھو فرع الخلاصۃ الرابع وان کان لابالنیۃ واردت التیمم لزمك التحریك وھو فرع البزازیۃ الثامن فالادخال فی الخلاصۃ مع النیۃ ولذا لم یزد شیئا وفی البزازیۃ بدونھا ولذا زاد التحریک۔
وبالجملۃ اذا ھبت ریح فاثارت غبارا فذھبت الیہ ودخلتہ ناویا کان من الفرع الرابع اوغیرناو والغبار مرتفع کان من الثامن اواردت
میں ہو کہ آندھی چلی جس سے اس قدر غبار اٹھا کہ اس نے ہر طرف سے آدمی کو گھیر لیا اب اس نے غبار بلند رہنے ہی کی حالت میں تیمم کا ارادہ کیا تو اس وقت اعضائے تیمم کو اس بلند غبار میں حرکت دے لینا ہی کافی ہے۔ جزئیہ۸ کے تحت یہی بزازیہ کی مراد ہے۔ اور اگر غبار بیٹھ جانے کے بعد تیمم کا ارادہ کیا تو اعضاء پر بیٹھے ہوئے غبار پر ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔ جزئیہ۲ کے تحت خلاصہ کی یہی مراد ہے۔
ف۷ : اعضائے تیمم کو صعید کی جگہ داخل کرنا۔ صعید خواہ مٹی ہو یا ریت یا غبار۔ جب بہ نیت تیمم ہو تو یہی کافی ہے کیونکہ نیت کے ساتھ اعضاء کو صعید سے مس کرنے کا عمل حاصل ہوگیا۔ خلاصہ میں ذکر شدہ جزئیہ ۴ یہی ہے۔ اور اگر اعضائے تیمم کو داخل کرنا نیت کے بغیر ہوا پھر تیمم کا ارادہ کیا تو اعضا کو حرکت دینا ضروری ہے۔ یہ بزازیہ میں مذکورہ جزئیہ ۸ ہے۔ تو خلاصہ میں جو داخل کرنا مذکور ہے وہ بہ نیت تیمم داخل کرنا ہے اسی لئے اس پر کسی اور عمل کا اضافہ نہ بتایا۔ اور بزازیہ میں جو داخل کرنا بیان ہوا وہ بلانیت تیمم داخل کرنا ہے۔ اسی لئے اس میں قید تحریك کا اضافہ کیا۔
حاصل کلام یہ کہ جب آندھی چلے جس سے غبار اٹھے اس اڑتے ہوئے غبار کے پاس جاکر تیمم کی نیت سے اس میں داخل ہوجائے تو یہ صورت جزئیہ۴ کے تحت آئیگی۔ اور بغیر نیت داخل ہوگیا اور غبار ابھی بلند ہے تو جزئیہ۸ کی صورت ہوگی۔
وبوجہ اخصر اما ان تذھب الی الغبار فتدخل فیہ اعضائك ناویا اوغیر ناو اویأتیك علی الاول ثم التیمم وعلی الاخرین کفی التحریك ان کان مرتفعا ولزم امرار الیدان وقع وسکن۔
ومنھا۸ ان التحریك والادخال کل ذلك مسح کماعلمت فلا(۱)اخذ علی المحقق کمازعم البحر۔
ومنھا۹ ان مراد الخلاصۃ في
اور غبار بیٹھ جانے کے بعد اعضاء پر پڑے ہوئے غبار سے تیمم کا ارادہ کیا تو جزئیہ۲ کی صورت ہوگی۔ اور اگر آندھی کے رخ پر کھڑا ہوگیا پھر غبار آخر محیط ہوگیا تو اس قدر مطلقا کافی نہیں اگرچہ یہ ٹھہرنا تیمم ہی کی نیت سے ہوا ہو۔ اس لئے کہ پہنچنے کا عمل غبار کی جانب سے ہوا متیمم سے نہ ہوا۔ اب اگر غبارا بھی بلند ہے اس میں اپنے اعضا کو بہ نیت تیمم حرکت دے لی تو جزئیہ۸ کی صورت ہوگئی۔ اور غبار جسم پر پڑ گیا اور بیٹھ گیا پھر تیمم کا ارادہ کیا تو یہ صورت جزئیہ۲ کے تحت آئے گی۔
اور زیادہ مختصر طور پر یوں کہا جائے گا کہ تین صورتیں ہیں :
(۱) متیمم غبار کے پاس جاکر تیمم کی نیت سے اس میں اپنے اعضائے تیمم داخل کرے۔
(۲) بلانیت اعضاء کو داخل کرے۔
(۳) غبار خود متیمم تك پہنچے۔
پہلی صورت میں اتنے ہی عمل سے تیمم مکمل ہوگیا۔ آخری دو۲ صورتوں میں اگر غباراب بھی بلند ہے تو اعضاء کو حرکت دے لینا کافی ہے۔ اور اگر غبار اعضا پر پڑ گیا اور بیٹھ گیا تو ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔
ف۸ : مختلف صورتوں کی تفصیل کے ذیل میں معلوم ہوا کہ غبار میں اعضاء کو حرکت دینا بھی مسح ہے اور اس میں داخل کرنا بھی مسح ہے۔ تو بحر نے محقق علی الاطلاق پر جو اعتراض کیا وہ ساقط ہے۔
ف۹ : خلاصہ نے جو کہا کہ “ شرط یہ ہے کہ خود
ومنھا۱۰ ان المسح ھورکن التیمم لاغیربہ یتقوم ولا تصورلہ بدونہ کماقال المحقق انہ الحق ھکذا ینبغی ان تفھم کلمات العلماء کرام*والحمدلله ولی الانعام*ذی الجلال والاکرام*وافضل الصلاۃ واکمل السلام*علی سید الانام*والہ وصحبہ علی مراللیالی والایام*امین۔
السابع : لاوجہ یظھر(۲) لکفایۃ النیۃ بعد الضرب کیف(۳) وان التراب فی اصلہ ملوث وانما جعل مطھرا بالنیۃ تفضلا من المولی سبحنہ وتعالی قال الامام الجلیل ابو البرکات فی الکافی قال زفر النیۃ لیست بشرط فیہ کالوضوء لانہ خلفہ فلایخالفہ ولنا ان التراب ملوث بذاتہ وانما صار مطھرا اذا نوی
متیمم سے فعل کا وجود ہو “ اس فعل سے ان کی مراد بعینہ مسح ہے ایسا کوئی فعل مراد نہیں جو مسح اور غیر مسح کو عام ہو جیسا کہ بحر کا خیال ہے۔
ف۱۰ : مسح ہی رکن تیمم ہے کچھ اور نہیں۔ اسی سے تیمم کی حقیقت وجود میں آتی ہے اور اس کے بغیر تیمم متصور بھی نہیں ہوسکتا جیسا کہ حضرت محقق نے فرمایا کہ “ یہ حق ہے “ ۔ اسی طرح علمائے کرام کے کلمات کو سمجھنا چاہئے۔ اور ساری خوبیاں خدا کیلئے جو احسان کا مالك اور عزت وبزرگی والا ہے۔ اور بہتر درود کامل تر سلام ہو سیدانام اور ان کی آل واصحاب پر جب تك روزوشب کی گردش جاری رہے۔ آمین!
بحث۷ : (ضربوں کے رکن تیمم ہونے اور نہ ہونے کا ایك ثمرہ اختلاف یہ بتایا گیا کہ بعد ضرب اگر نیت تیمم کی تو یہ نیت عدم رکنیت والے قول پر کافی ہوگی یہاں اولا مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ کسی قول پر بھی مذکورہ نیت کے کافی ہونے کی کوئی وجہ نہیں آخرا اس نیت کے کافی ہونے اور کافی نہ ہونے سے متعلق جو دو قول ملتے ہیں ان میں تطبیق کی ایك صورت بھی ذکر کی ہے ۱۲ م۔ الف) جنس زمین پر ہاتھ مارنے
کے بعد تیمم کی نیت کی جائے تو اس نیت کے کافی ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اور یہ بھلا کیونکر کافی ہوگی جبکہ مٹی دراصل آلودہ کرنے والی چیز ہے اور مولی سبحنہ وتعالی کے فضل وکرم سے نیت ہی کی وجہ سے اسے مطہر (پاك کرنیوالی) قرار دیا گیا ہے۔ امام جلیل ابو البرکات نسفی کافی میں
وقد نصوا ان(۲) الضرب المعتبر فی التیمم یطھر الکفین فلا تمسحان بعدہ ومعلوم ان لاتطھیر الابالنیۃ ولو(۳) کان الضرب بدون النیۃ کافیا فی التیمم وجب تقیید المسألۃ بہ وھم انما یرسلونہ ارسالا ففی شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان ثم الحلیۃ وجامع الرموز وفی جامع المضمرات ثم الھندیۃ ثم ط ثم ش ھل یمسح الکف الصحیح انہ لایمسح وضرب الکف یکفی اھ
رقمطراز ہیں : امام زفر کا قول ہے کہ وضو کی طرح تیمم میں بھی نیت شرط نہیں۔ اس لئے کہ تیمم وضو کا خلیفہ ونائب ہے تو اس کے برخلاف نہ ہوگا۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مٹی بذات خود آلودہ کرنے والی چیز ہے اور مطہر صرف اس وقت ہے جب قربت مخصوصہ کی نیت ہو اور پانی تو مطہر ہی پیدا کیا گیا ہے۔ وہ جب نجس جگہ استعمال ہوگا تو اسے پاك کردیگا اگرچہ وہ جگہ حکما نجس ہو۔ اور نائب کبھی اصل سے الگ اور اس کے برخلاف ہوتا ہے جب کہ دونوں کی حالت مختلف ہو۔ دیکھیے وضو چار اعضا میں ہوتا ہے اور تیمم میں ایسا نہیں۔ اسی طرح اصل یعنی وضو میں تکرار مسنون ہے اور نائب یعنی تیمم میں تکرار نہیں۔ اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ تیمم میں معتبر ضرب یعنی دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنا ہتھیلیوں کو پاك کردیتا ہے اس لئے اس ضرب کے بعد ہتھیلیوں کا مسح نہیں کیا جائیگا۔ اور یہ معلوم ہے کہ تطہیر بغیر نیت کے نہیں ہوسکتی اگر بلانیت ضرب تیمم میں کافی ہوتی تو مسئلہ کو اس سے مقید کرنا ضروری ہوتا حالانکہ علماء اسے مطلق ذکر فرماتے ہیں۔ امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر پھر حلیہ و جامع الرموز میں اور جامع المضمرات پھر ہندیہ پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے کیا ہتھیلی پر بھی مسح کریگا صحیح یہ ہے کہ اس پر مسح نہ کرے گا اور ہتھیلیوں کو زمین پر مارنا ہی کافی ہے اھ۔
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی التیمم پشاور ۱ / ۲۶
حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ امام محمد نے یہ ذکر نہ فرمایا کہ زمین پر ہتھیلیوں کی پشت سے مارے گا یا پیٹ سے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ باطن کف سے مارے گا۔ انہوں نے کتاب میں یوں فرمایا ہے
عــہ وفی الدرر سننہ ثمانیۃ الضرب باطن کفیہ الخ وفی ش عن الذخیرۃ الاصح(۲) انہ یضرب باطنھما وظاھرھما علی الارض اھ ای فالسنۃ الضرب بھما معا ولذا قال فی ما زاد من السنن یزاد الضرب بظاھر الکفین ایضا کماعلمت تصحیحہ اھ
اقول : وکیفما کان لیس الضرب باطنھا الاسنۃ فماوقع فی نور الایضاح ومراقی الفلاح السادس من الشروط ان یکون بضربتین باطن الکفین اھ غیر مسلم وقد قال فی النھر غیر خاف ان الجواز حاصل بایھما کان نعم الضرب بالباطن سنۃ اھ کما فی المنحۃ عنہ والعجب(۳) ان لم ینبہ علیہ ناظروہ کالسیدین الازھری والطحطاوی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
درمختار میں ہے : تیمم کی سنتیں آٹھ ہیں باطن کف سے زمین پر مارنا الخ۔ شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے : اصح یہ ہے کہ ہتھیلیوں کے باطن اور ظاہر دونوں ہی کو زمین پر مارے اھ۔ تو سنت یہ ہے کہ ظاہر وباطن دونوں سے زمین پر مارے۔ اسی لئے علامہ شامی نے درمختار کے بیان پر جن سنتوں کا اضافہ کیا ہے اس میں یہ بھی فرمایا ہے : دونوں ہتھیلیوں کے ظاہر سے بھی زمین پر مارنا سنن تیمم میں اسے زیادہ کرلیا جائے۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ یہی صحیح ہے۔
اقول : جیسے بھی ہو مگر باطن کف سے زمین پر مارنا سنت ہی ہے (شرط نہیں) تو نورالایضاح اور مراقی الفلاح میں جو درج ہے کہ “ چھٹی شرط یہ ہے کہ تیمم دونوں ہتھیلیوں کے باطن سے دو ضربوں سے ہو “ اھ یہ قابل تقسیم نہیں۔ النہرالفائق میں ہے : یہ بات ظاہر ہے کہ باطن کف سے زمین پر مارے یا ظاہر کف سے مارے تیمم دونوں ہی صورت میں ہوجائے گا ہاں باطن کف سے مارنا سنت ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں نہر سے نقل ہے۔ مگر تعجب ہے نورالایضاح پر سید ازہری اور سید طحطاوی جیسے نظر فرمانیوالے حضرات نے اس کی اس خطا پر تنبیہ نہ کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ردالمحتار مع درمختار باب التیمم ۱ / ۱۵۴-۵۵
ردالمحتار مع درمختار باب التیمم ۱ / ۱۵۴-۵۵
مراقی الفلاح مع الطحطاوی باب التیمم ص ۶۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ۱ / ۱۴۶
اقول : والظاھر(۲) ان قولھم لا یمسح علی ظاھرہ للنھی لابمعنی انہ لاحاجۃ الیہ کماقد یتوھم من قول التبیین لایجب فی الصحیح مسح باطن الکف لان ضربھما علی الارض یکفی اھ وتبعہ البحر فی ھذا التعبیر وذلك لانہ اذاحصل مسحھما مرۃ بالضرب کماافاد فی الخانیۃ بقولہ لانہ مسح مرۃ حین ضرب یدیہ علی الارض اھ
والتکرار لایسن فی التیمم کما قدمنا انفا عن الکافی فتکون اعادتہ عبثا فیکرہ کما قال فی البحران(۳) التیمم علی التیمم
کہ اگر ظاہر کف (پشت کف دست) پر مسح ترك کردیا تو جائز نہیں۔ اور ظاہر کف پر مسح ترك کرنے والا اس وقت قرار پائے گا جب زمین پر باطن کف سے مارا ہو اھ۔ اس عبارت سے امام محمد نے یہ افادہ فرمایا کہ اگر ظاہر کف سے زمین پر مارا ہو تو یہی مارنا ظاہر کف کا مسح بھی ہوگیا۔
اقول : ظاہر یہ ہے کہ علماء کا قول “ لایمسح علی ظاھرہ “ (ظاہر کف پر مسح نہیں کرے گا) نہی کیلئے ہے یہ معنی نہیں کہ پشت دست پر مسح کی حاجت نہیں (مگر کرلیا تو کوئی کراہت بھی نہیں) جیسا کہ تبیین کی اس عبارت سے وہم ہوتا ہے : “ صحیح مذہب میں باطن کف کا مسح واجب نہیں اس لئے کہ زمین پر اس کا مارنا ہی کافی ہے “ ۔ اھ۔ اس تعبیر میں بحر نے بھی تبیین کی پیروی کی ہے لایمسح نہی کیلئے اس لئے ہے کہ ضرب کے ذریعہ جب ایك بار ہتھیلیوں کا مسح کرلیا “ ۔ جیسا کہ خانیہ میں فرمایا ہے کہ “ اس لئے کہ اس نے جب زمین پر ہاتھوں کو مارا تو ایك بار مسح کرلیا “ ۔ اھ۔ اور تیمم میں تکرار مسنون نہیں جیسا کہ ابھی ہم کافی کے حوالے سے بیان کرآئے۔ تو دوبارہ ان کا مسح کرنا عبث ہوگا اس لئے مکروہ ہوگا جیسا کہ البحرالرائق میں فرمایا ہے کہ “ تیمم پر تیمم کوئی
تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱ / ۳۸
فتاوٰی قاضی خان باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۵
بل قال القھستانی لا(۱) یکرر المسح فانہ مکروہ بالاجماع کما فی الکشف اھ ولاجل ھذا ذکر عامتھم فی کیفیۃ التیمم مسح ظاھر الذراعین من رؤس الاصابع الی المرافق وباطنھما من المرافق الی الرسغ کمافی البدائع والجوھرۃ والعنایۃ فی محیط السرخسی والھندیۃ وفی التحفۃ والمحیط الرضوی وزاد الفقھاء فالحلیۃ فرد المحتار۔ وایدہ فی الحلیۃ بما فی روایۃ للبخاری واخری لمسلم فی حدیث عمار رضی الله تعالی عنہ من مسحہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بعد الضرب ظھر کفیہ فیترجح علی مافی الکافی ینبغی(۲) ان یضع بطن کفہ الیسری علی ظھر کفہ الیمنی ویمسح بثلاثۃ اصابع اصغرھا ظاھر یدہ الیمنی الی المرافق ثم یمسح باطنہ بالابھام والمسبحۃ الی رؤس الاصابع
قربت نہیں۔ ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اس عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ تیمم پر تیمم مکروہ نہیں مگر اسے مکروہ ہونا چاہئے اس لئے کہ یہ عبث ہے اھ۔ بلکہ قہستانی نے لکھا ہے کہ “ مسح کی تکرار نہ کی جائیگی اس لئے کہ یہ بالاجماع مکروہ ہے جیسا کہ کشف میں ذکر ہے “ اھ۔ اسی لئے عامہ علماء نے تیمم کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ کلائیوں کے اوپری حصہ کا انگلیوں کے سرے کہنیوں تك مسح کرے اور اندرونی حصے کا کہنیوں سے گٹے تك مسح کرے۔ جیسا کہ بدائع جوہرہ عنایہ میں اور محیط سرخسی پھر ہندیہ میں اور تحفہ محیط رضوی زاد الفقہاء پھر حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے۔ اور حلیہ میں اس کی تائید میں حدیث عمار رضی اللہ تعالی عنہسے متعلق بخاری کی ایك روایت اور مسلم کی ایك دوسری روایت پیش کی ہے جس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زمین پر ہتھیلیاں مارنے کے بعد پشت کف دست پر مسح فرمایا۔ تو اسے اس پر ترجیح ہوگی جو کافی میں ہے کہ : “ یہ چاہئے کہ اپنی بائیں ہتھیلی کا پیٹ داہنی ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور تین چھوٹی انگلیوں سے اپنے داہنے ہاتھ کی پشت کا کہنیوں تك مسح کرے۔ پھر پیٹ کی جانب کا انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے “ انگلیوں کے سروں “
جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ کریمیہ قزان ۱ / ۶۸
تك مسح کرے۔ پھر بائیں ہاتھ کا اسی طرح مسح کرے “ اھ اسی کے مثل قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے پھر اس پر اس سے استدراك کیا ہے جو جامع امام قاضیخان میں ہے جکہ “ صحیح قول کے مطابق ہتھیلی (باطن کف) کا مسح نہیں ہوگا “ ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے نقل کیا ہے۔
اور البحرالرائق میں محیط رضوی کے حوالے سے اس طرح تحریر ہے تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مار کرجھاڑلے پھر ان سے چہرے کا اس طرح مسح کرے کہ اس کا ذرا سا حصہ بھی چھوٹنے نہ پائے۔ پھر دوسری بار زمین پر ہاتھ مار کر جھاڑلے ان سے اپنی ہتھیلیوں اور دونوں کلائیوں کا کہنیوں تك مسح کرے۔ اور ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ دوسری بار دونوں ہاتھوں کو مارے
عــہ۱ والمحیط ھذا ھو الرضوی کما یظھر بمراجعۃ الحلیۃ ویرید بھذا ان الذی نقل فی البحر عن المحیط الرضوی وفی الھندیۃ عن المحیط للسرخسی خلاف مانقلہ القھستانی فلیکن ان کان فی المحیط البرھانی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ الذی فی المحیطین مثلہ فی التحفۃ والبدائع و زاد الفقہاء ونصوا جمیعا انہ احوط کما عزالھم فی الحلیۃ و
یہ محیط محیط رضوی ہی ہے جیسا کہ حلیہ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بحر میں جو محیط رضوی کے حوالہ سے اور ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالہ سے منقول ہے یہ اس کے خلاف ہے جو قہستانی نے (محیط سے) نقل کیا ہے۔ اگر قہستانی کی نقل کردہ عبارت “ محیط برہانی “ کی ہو تو ہوسکتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
دونوں محیط میں جو طریقہ مسح ہے وہی تحفہ بدائع اور زادالفقہاء میں بھی ہے۔ اور تمام حضرات نے صراحت کی ہے کہ یہ “ احوطـ “ ہے۔ جیسا کہ حلیہ (باقی برصفحہ ایندہ)
جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ کریمیہ قزان ۱ / ۶۸
اور بائیں ہاتھ کی چار انگلیو سے دائیں ہاتھ کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
البحر والھندیۃ۔
اقول : اولا سنحقق(۱) ان التراب لایوصف بالاستعمال ففیم الاحتیاط وان فرض اوارید بہ الصعید الحکمی علی مانحققہ فھذا الماء الذی یوصف بہ اجماعا لایصیر مستعملا فی عضو واحد فی الوضوء وفی شیئ من البدن فی الغسل لان الکل فیہ کعضو واحد فما بال التراب یصیر مستعمل فی عضو واحد۔
وثانیا : ان(۲) فرض فلامفر منہ لان الکف لایستوعب الذراع لولابل ولاحول المرفق عرضا ولذا کتبت علی قول ش نقلا عن البدائع ھذا الاقرب الی الاحتیاط لما فیہ من الاحتراز عن استعمال التراب المستعمل بالمقدار الممکن مانصہ۔
اقول : انا وبقولہ بالقدر الممکن مع ماصرح بہ فی الاحادیث والروایات ان التیمم ضربتان انہ لولم یفعل
بحر اور ہندیہ میں ان کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
اقول اولا عنقریب ہم تحقیق کرینگے کہ مٹی مستعمل ہونے سے موصوف نہیں ہوتی پھر احتیاط کس بات میں ہے اور اگر فرض کیا جائے یا اس سے صعید حکمی مراد لیا جائے جیسا کہ ہم اس کی تحقیق کرنے والے ہیں تو اس صورت میں یہ کلام ہے کہ پانی جو مستعمل ہونے سے بالاجماع موصوف ہوتا ہے وہ بھی وضو میں ایك ہی عضو کے اندر اور غسل میں بدن کے کسی بھی حصے میں مستعمل نہیں ہوجاتا اس لئے کہ غسل سب عضو واحد کی طرح ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ مٹی ایك ہی عضو میں مستعمل ہوجائے
ثانیا : اگر صعید حکمی فرض کریں تو بھی اس سے مفر نہیں اس لئے کہ ہتھیلی طول میں پوری کلائی کا استیعاب نہیں کرسکتی بلکہ عرض میں بھی کہنی کے گرد کا استیعاب واحاطہ نہیں کرتی۔ اسی لئے بدائع سے نقل کرتے ہوئے شامی نے جو یہ عبارت درج کی ہے کہ : “ یہی احتیاط سے قریب تر ہے کیونکہ اس میں “ بقدر ممکن “ مستعمل مٹی کے استعمال سے بچنا حاصل ہوتا ہے “ ۔ اس پر میں نے یہ لکھا تھا :
اقول : احادیث اور روایات میں تیمم دو ضرب ہونے کی تصریح کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی عبارت “ بقدر ممکن “ سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ اگر خاص اس (باقی برصفحہ ایندہ)
پشت کا انگلیوں کے سروں سے کہنی تك مسح کرے پھر اپنی بائیں ہتھیلی سے دائیں ہاتھ کے پیٹ کا گٹے تك مسح کرے۔ اور بائیں انگوٹھے کا پیٹ دائیں انگوٹھے کی پشت پر پھیرے۔ پھر بائیں ہاتھ کا اسی طرح مسح کرے۔ اور یہی زیادہ بااحتیاط طریقہ ہے۔ اھ “
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ذلك وانما استوعب المسح کیفما اتفق اجزاء ہ وذلك لان کل احد یعلم ان دور یدہ قریب المرفق اعظم بکثیر من طول مقدار الکف مع الاصابع فلایمکن ان یحصل الاستیعاب بما ذکروا بل لابد من بقاء مواضع فلولم یجز ذلك لزمت ضربات مکان ھو ضربتین وھو باطل ولذا عبروہ بینبغی لایجیب فالحمدلله الذی جعل ھذا الامر واسعا اھ ماکتبت علیہ والان اقول اذا لم یحصل بہ المقصود لم یکن الا تکلفا فما احسن ما فی البدائع من بعضھم انہ یمسح من دون تلك المراعات والا یتکلفا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
طریقہ پر مسح نہ کیا اور جیسے بھی اتفاق ہوا مسح سے پورے عضو کا احاطہ کرلیا تو تیمم ہوجائیگا۔ یہ اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ کہنی کے قریب اس کے ہاتھ کا دور (گھیرا) انگلیوں سمیت ہتھیلی کی مقدار سے بہت زیادہ ہے تو ان حضرات کے بتائے ہوئے طریقہ پر بھی اس حصہ کا احاطہ ممکن نہیں بلالکہ کچھ جگہیں ضرور مسح سے رہ جائیں گی تو اگر یہ (احاطہ مسح کیلئے چھوٹی ہوئی جگہوں پر مستعمل مٹی کو استعمال کرنا) جائز نہ ہو تو بجائے دو۲ ضربوں کے بہت ساری ضربیں لازم ہوں گی۔ اور یہ باطل ہے۔ اسی لئے مذکورہ طریقہ کو “ مناسب “ فرمایا “ واجب “ نہ کہا۔ تو خدا کا شکر ہے کہ اس نے کام میں وسعت رکھی ہے۔ شامی پر میری لکھی ہوئی عبارت ختم ہوئی۔ اور اب میں یہ کہتا ہوں کہ اس طریقہ مسح سے بھی جب مقصود (مستعمل مٹی کے استعمال سے احتراز) حاصل نہیں تو یہ بس تکلف ہی ہے اس لئے بعض حضرات سے بدائع میں جو منقول ہے کہ “ اس رعایت کے بغیر مسح کرلے اور تکلف میں نہ پڑ ے “ وہ بہت عمدہ اور کیا خوب ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
اقول : فاذن مافی الذخیرۃ نقلا عن محمد فی الاصل ثم یضرب اخری وینفضھما ویمسح بھما کفیہ وذراعیہ الی المرفقین اھ المراد فیہ بکفیہ ظاھرھما کماقال فی الحلیۃ فی عبارۃ شرح الجامع الصغیر ھل یمسح الکف الصحیح لاان المراد بالکف باطنھا لاظاھرھا اھ
فان قلت فیھا ایضا عن الذخیرۃ قال مشائخنا الاحسن فی مسح الذراعین ان یمسح بثلاثۃ اصابع یدہ الیسری ظاھر یدہ الیمنی الی المرفقین ویمسح المرفق ثم یمسح باطنھا بالابھام والمسبحۃ الی رؤس الاصابع وھکذا یفعل بالید الیسری ولوتیمم بجمیع الاصابع والکف من غیران یراعی
یہی طریقہ ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالے سے لکھا ہوا ہے۔ الحاصل صحیح راجح مشہور جمہور کا بیان کیا ہوا قول یہی ہے کہ ہتھیلیوں کے پیٹ کا مسح نہیں کیا جائیگا۔
اقول : اس تحقیق سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امام محمد سے اصل کے حوالے سے ذخیرہ میں جو یہ عبارت نقل کی ہے کہ “ پھر دوسری بار ہاتھ مارے اور دونوں کو جھاڑلے اور ان سے اپنی ہتھیلیوں کا اور کہنیوں سمیت کلائیوں کا مسح کرے “ اھ۔ اس میں ہتھیلیوں سے مراد ان کی پشت ہے جیسے حلیہ میں شرح جامع صغیر کی عبارت “ کیا ہتھیلی کا مسح کریگا صحیح یہ ہے کہ “ نہیں “ سے متعلق لکھا ہے کہ “ (یہاں) ہتھیلی سے مراد اس کا باطن ہے ظاہر نہیں “ اھ۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اسی (حلیہ) میں ذخیرہ سے یہ بھی نقل ہے کہ “ ہمارے مشائخ نے فرمایا ہے کہ کلائیوں کے مسح میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے بائیں ہاتھ کی تین انگلیوں سے اپنے دائیں ہاتھ کے ظاہر کا کہنیوں تك مسح کرے اور کہنی کا مسح کرے پھر اس ہاتھ کے اندرونی جانب کا انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے “ انگلیوں کے سروں “ تك مسح کرے۔ اور اسی طرح بائیں ہاتھ کا بھی مسح کرے۔ اور اگر
حلیہ
اقول : لاتنکر الخلاف فقد افید بالتصحیح لکن اذا ثبت الصحیح لایعدل عنہ وقد ذکرہ قاضی خان فی بیان صفۃ التیمم انہ یضع بطن کفہ الیسری علی ظھر کفہ الیمنی ویمد من رؤس الاصابع الی المرفق ثم یدیر الی بطن الساعد ویمد الی الکف وھل یمسح الکف قال بعضھم لالانہ مسح مرۃ حین ضرب یدیہ علی الارض ثم یضع بطن کفہ الیمنی علی ظھر کفہ الیسری ویفعل مافعل بالیمنی اھ خانیہ فھذہ الصفۃ لیست الابیان ماھو الاولی فی التیمم وقد اخرج منہ مسح بطن الکفین فلم یکن اولی فکان عبثا فکان مکروھا والله تعالی اعلم۔
ثم مذھب صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ انہ لایحتاج الی شیئ یلتزق
انگلیاں اور ہتھیلی سب ملا کر ہتھیلی اور انگلیوں کی رعایت کیے بغیر تیمم کرلیا تو بھی جائز ہے “ ۔ اھ۔
اقول : (تو جواب یہ ہوگا) ہمیں اختلاف سے انکار نہیں ترك مسح خفین کو قول صحیح بتانے سے ہی یہ مستفاد ہوجاتا ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف ضرور ہے لیکن جب قول صحیح ثابت ہو تو اس سے عدول وانحراف کی گنجائش نہیں۔ اسے قاضیخان نے طریقہ تیمم کے بیان میں ذکر بھی فرمایا ہے کہ “ وہ اپنی بائیں ہتھیلی کا پیٹ داہنی ہتھیلی کی پشت پر رکھے گا اور انگلیوں کے سروں سے کہنی تك کھینچے گا پھر کلائی کے پیٹ کی جانب گھمائے گا اور ہتھیلی تك لے جائے گا کیا ہتھیلی کا بھی مسح کریگا بعض حضرات نے فرمایا : نہیں۔ کیوں کہ جب زمین پر اپنے ہاتھوں کو مارا اس وقت ایك بار اس کا مسح کرلیا۔ پھر اپنی داہنی ہتھیلی کا پیٹ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھے گا اور وہی کرے گا جو دائیں میں کیا “ ۔ اھ خانیہ۔ یہ طریقہ کیا ہے اس کا بیان ہے جو تیمم میں بہتر واولی ہے اور ہتھیلیوں کے پیٹ کا مسح اس سے خارج کردیا تو یہ اولی نہ ہوا پس یہ عبث تو مکروہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ پھر صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب یہ ہے کہ اس کی حاجت نہیں کہ ہاتھ سے
فتاوٰی قاضی خان باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۵
وفی الکافی(۱) ینفض یدیہ مرۃ وعن ابی یوسف مرتین ولاخلاف فی الحقیقۃ لانہ ان تناثر ماالتصق بکفہ من التراب بنفضۃ یکتفی بھا والانفض نفضتین لان الواجب المسح بکف موضوع علی الارض لااستعمال التراب فانہ مثلہ اھ ومثلہ عنہ فی البرجندی ومعناہ فی الحلیۃ وغیرھا ولا یتقید بنفضتین ایضا بل ینفض الی ان یتناثر فقد قال فی الھدایۃ ینفض یدیہ بقدرما یتناثر التراب کیلا یصیر مثلۃ اھ
فمن کان جالسا علی فرش من رخام فقام معتمدا بکفیہ علیہ
کچھ مٹی چپك جائے بلکہ سنت یہ ہے کہ پھونك کر اور جھاڑ کر اسے دور کردیا جائے۔ اسے تعریف دوم کے تحت بدائع کے حوالے سے ہم نقل بھی کرچکے ہیں۔ بدائع میں یہ بھی ہے کہ “ حکم شرع یہ آیا ہے کہ جو ہتھیلی مٹی سے مس ہوچکی ہے اسے دونوں عضووں پر پھیرا جائے یہ حکم نہیں کہ اس سے دونوں کو آلودہ کیا جائے “ ۔ اھ
اور کافی میں ہے “ اپنے دونوں ہاتھوں کو ایك بار جھاڑلے گا۔ اور امام ابویوسف سے روایت ہے کہ دوبار۔ اور درحقیقت کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ اگر ایك ہی بار جھاڑنے سے ہتھیلی پر چپکی ہوئی مٹی جھڑ جائے تو اسی پر اکتفاء کرے ورنہ دوبار جھاڑے کیونکہ واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرے یہ واجب نہیں کہ مٹی کو استعمال کرے یہ تو مثلہ ہے “ ۔ اھ اسی کے مثل کافی کے حوالہ سے برجندی میں نقل ہے اور حلیہ وغیرہا میں اس کے ہم معنی عبارت تحریر ہے۔ اور دوہی بار جھاڑنے کی بھی کوئی پابندی نہیں بلکہ یہاں تك جھاڑے کہ مٹی جھڑ جائے۔ کیونکہ ہدایہ میں یہ فرمایا ہے : “ اپنے ہاتھوں کو اس قدر جھاڑے گا کہ مٹی جھڑ جائے تاکہ مثلہ نہ ہو اھ تو جو شخص کسی سنگ مرمر کے فرش پر بیٹھا ہوا تھا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس پر ٹیك دیتے ہوا
کافی
الہدایۃ باب التیمم المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۳۴
نعم ان(۲) التصق بکفیہ تراب کاف للتیمم ونوی الان جاز لصدق قصدہ الی صعید طیب للتطھیر وکم لہ فی الفروع المارۃ من نظیر فان حملنا علیہ قول التجویز کان توفیقا وبالله التوفیق والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
کھڑا ہوا پھر کچھ دیر بعد تیمم کرنا چاہا تو کھڑے ہوتے وقت اس کی ہتھیلیوں اور سنگ مرمر کے درمیان جو مس پایا اسی پر اکتفا کرلیا تو اس نے طہارت کے لئے پاك صعید کا قصد کب کیا جب صعید اس کی ہتھیلیوں سے متصل تھی اس وقت قصد نہ کیا۔ اور جب قصد کیا اس وقت صعید نہیں۔ بس خالی ہتھیلیوں پر قصد کا عمل پایا گیا۔ تو ظاہر یہ ہے کہ اس مسئلہ میں صواب ودرستی سید امام ابوشجاع کے ساتھ ہے۔ اور ان کی تصحیحات کی قوت اور کثرت بھی معلوم ہے خواہ ہم یہ کہیں کہ دونوں ضربیں رکن تیمم ہیں یا نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ہتھیلیوں اور مٹی کے درمیان پایا جانے والا عمل مس اسی وقت مطہر ہوتا ہے جب مقصد ونیت کے ساتھ ہو۔
ہاں اگر اس کی ہتھیلیوں سے اتنی مٹی لگی ہوئی موجود ہو جو تیمم کیلئے کافی ہے اور اب نیت کرلی تو جائز ہے کیونکہ اب یہ بات صادق آگئی کہ اس نے تطہیر کیلئے پاکیزہ صعید کا قصد کیا۔ گزشتہ جزئیات میں اس کی بہت سی نظیریں بھی آچکی ہیں۔ زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد پائی جانیوالی نیت سے تیمم جائز قرار دینے والے قول کو اگر اس معنی پر محمول کرلیا جائے تو دونوں قولوں میں تطبیق بھی ہوجائے گی (جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ہاتھوں پر بقدر کافی پاك صعید موجود ہو اور عدم جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ایسا نہ ہو۔ م۔ ا) والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
وما استدلوا(۳)بہ للسید الامام انہ علی الرکنیۃ یقع الحدث فی خلال التیمم۔
فاقول : حاصل علی کل حال لما قدمنا انفا من ان الکفین قد طھرتا بالضرب حتی لایمسحھما علی الصحیح فالحدث الواقع بعد الضرب لایقع الا وقد اتی بعض التیمم وان لم تکن الضربۃ رکنا اماحدیث من ملأ کفیہ
بحث۸ : عــہ اختلاف کے ثمرہ دیگر کا معاملہ اس سے زیادہ روشن ہے۔ اس لئے کہ ہتھیلی کو طہارت کیلئے جب مس کیا جاتا ہے تو مٹی باذن الہی ان ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی جاتی ہے۔ یہاں تك کہ خود مٹی درمیان سے نکل جاتی ہے۔ اگر کچھ باقی رہ بھی گئی تو ہاتھوں کو جھاڑ کر دور کردی جاتی ہے۔ اور یہ محال ہے کہ کوئی نجس مطہر ہو۔ تو جب اس نے زمین پر ہاتھ مارے پھر مسح سے پہلے اسے حدث عارض ہوگیا تو اب اس کی ہتھیلیاں تو بے طہارت ہوگئیں جپھر وہ خود غیر طاہر ہوکر مطہر کیسے رہ جائیں گیاب وہ بات رہی جس سے سید امام ابوشجاع کی حمایت میں استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے رکنیت ضرب کے قول پر یہ لازم آرہا ہے کہ حدث درمیان تیمم میں واقع ہوا۔
فاقول : یہ تو بہرحال لازم ہے کیونکہ ابھی ہم بتا چکے کہ ضرب سے ہتھیلیاں پاك ہوگئیں اب قول صحیح کی بنیاد پر ان پر دوبارہ مسح نہ کیا جائے گا۔ تو ضرب کے بعد پایا جانے والا حدث اسی حالت میں واقع ہورہا ہے جب کہ کچھ تیمم ہوچکا ہے اگرچہ ضرب رکن تیمم نہ ہو (عدم رکنیت ضرب کے قول پر حدث بھی ضرب مذکور سے اگلا مسح درست
عــہ بحث سابق سے معلوم ہوا کہ ضرب کفایت نیت کی بات کسی قول پر بھی راست نہیں آتی اور اسے ضرب کی رکنیت اور عدم رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ شمار کرانا کسی طرح درست نہیں۔ اب حضرت مصنف نے تعریف ہشتم کے بعد ذکر شدہ پہلے ثمرہ اختلاف پر کلام کیا ہے وہ ثمرہ یہ بیان کیا گیا تھا کہ بعد ضرب اگر متیمم کو حدث عارض ہوا تو قول رکنیت پر یہ ضرب تیمم کے لئے کافی نہ ہوگی اور قول دیگر پر کافی ہوگی ۱۲ م۔ الف)
فاقول : یجب عــہ ان یکون فی اول مااغترف قبل ان یغسل شیئا من الاعضاء
ہونے کے ثبوت میں) یہ جو کہا گیا تھا کہ کسی نے اپنی ہتھیلیوں میں پانی لیا پھر اسے حدث ہوا تو بھی وہ اس پانی کو وضو کیلئے استعمال کرسکتا ہے (ایسے ہی ضرب کے بعد حدث ہوا تو بھی وہ اس سے تیمم کرسکتا ہے)
فاقول : ضروری ہے کہ یہ اس وقت ہو جب اس نے پہلی بار چلو میں پانی لیا اور ابھی کوئی عضو
عـــہ وکتبت ھھنا فیما علقت علی ردالمحتار اقول المراد من ملأ کفیہ ماء اول الوضوء لیغسل بہ یدیہ الی رسغیہ لانہ لم یزد ھذا الحدث الاملاقاۃ الماء کفا ذات حدث وقد کان ھذا حاصلا قبل ھذا الحدث لکونہ محدثا من قبل فکما جاز للمحدث ان یملأ کفیہ ماء یغسل بہ یدیہ ولا یکون بہ مستعملا للماء المستعمل لان الاستعمال بعد الانفصال فکذا اذا احدث بعد الاغتراف امامن غسل یدیہ ثم اغترف للوجہ فاحدث لم یجز لہ ان یغسل بہ وجھہ
میں نے اس مقام پر حاشیہ ردالمحتار (جدالممتار) میں لکھا ہے اقول مراد یہ ہے کہ جس نے شروع وضو میں گٹوں تك ہاتھوں کو دھونے کیلئے اپنی ہتھیلیوں میں پانی بھرا اس لئے کہ اس حدث سے صرف یہی بات زیادہ ہوئی کہ حدث والی ہتھیلی سے پانی کا اتصال ہوا اتنی بات تو اس سے پہلے وہ محدث وبے وضو تھا تو جیسے محدث کو اپنی ہتھیلیوں میں ہاتھوں کو دھونے کیلئے پانی بھر لینا جائز ہے اور اس سے وہ مائے مستعمل کو استعمال کرنے والا نہیں قرار پاتا کیوں کہ پانی پر مستعمل ہونے کا حکم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عضو سے جدا ہوجائے۔ تو یہی بات اس صورت میں بھی ہوگی جب وہ چلو لینے کے بعد حدث کرے۔ لیکن وہ شخص جس نے اپنے ہاتھوں کو دھو لیا پھر چہرے کیلئے چلو میں پانی لیا اور اب اسے حدث ہوگیا تو اس کیلئے اس پانی سے(باقی برصفحہ ایندہ)
نہ دھویا ہو ورنہ یہ حدث درمیان وضو میں ہوگا۔ اور شروع ہی میں جو پانی لیا اور حدث ہوگیا تو اس پانی کو اپنے ہاتھوں کے دھونے کے عمل میں صرف کرنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ یہ دونوں ہاتھ تو چلو لینے کے وقت بھی محدث وبے طہارت تھے اب ان سے پانی کا اتصال ہوا اور اسے استعمال کرنا جائز رہا کیوں کہ ابھی پانی ہاتھ سے جدا نہ ہوا (اور پانی جب تك عضو سے جدا نہ ہو وہ مستعمل اور غیر مطہر قرار نہیں پاتا) چلو لینے کے بعد حدث پایا گیا تو یہ حدث ہاتھوں کی حالت میں سابقہ حالت سے زیادہ کوئی اضافہ تو نہیں کررہا ہے (پہلے بھی پانی محدث ہاتھوں میں ہی تھا اور اب بھی محدث پانی ہاتھوں میں ہی ہے) اور مطہر پانی ہی ہے اس کے دونوں ہاتھ مطہر نہیں ہیں بخلاف تیمم والی صورت کے کیوں کہ یہاں تو اس کی دونوں ہتھیلیاں ہی ضرب کے بعد مطہر مانی گئی ہیں نہ کہ وہ مٹی جس کی اب کوئی ضرورت نہ رہی بلالکہ اگر ہاتھ پر لگی بھی ہو تو وہ جھاڑ دی جائے گی۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کمااشار الیہ بقولہ صار کما لواحدث فی الوضوء بعد غسل بعض الاعضاء وذلك لان الماء ینفصل عن ید محدثۃ فيصیر مستعملا فلایبقی طھورا فافہم اھ ماکتبت علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
چہرہ دھونا جائز نہیں۔ جیسا کہ اس کی طرف اپنے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ایسا ہوا جیسے بعض اعضا دھونے کے بعد درمیان وضو اسے حدث ہوا یہ اس لئے کہ یہ پانی (جب ہاتھ سے چہرے پر ڈالے گا اسی وقت وہ) محدث ہاتھ سے جدا ہوگا تو مستعمل ہوجائے گا پھر مطہر نہ رہ جائے گا (کہ اس سے چہرہ دھوسکے) فافہم۔ اسے سمجھو۔ ردالمحتار پر میرا لکھا ہوا حاشیہ ختم ہوا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فانی متعجب کیف تواردہ
ثم اقول : چلو لینے کے بعد عمل طہارت سے پہلے حدث ہونے اور عمل طہارت کے درمیان حدث ہونے میں یہاں جو فرق کیا گیا ہے وہ بندہ ضعیف پر واضح نہ ہوا دونوں میں آخر کیا فرق ہے سوائے اس کے یہ حدث (جو کچھ وضو ہوجانے کے بعد عارض ہوا) ماسبق وضو کو باطل کردیتا ہے اور وہ (جو چلو لینے کے بعد شروع ہی میں عارض ہوا) اس سے پہلے کچھ عمل وضو وجود میں آیا ہی نہیں کہ اسے باطل کرے۔ اور کلام اس میں نہیں کلام تو اس پانی کے استعمال کے جواز میں ہے اور اس مسئلہ میں میرے علم کی حد تك اس کا کوئی دخل نہیں کہ کچھ وضو پہلے ہوچکا ہے یا ابھی کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کہ جس نے چہرہ دھولیا پھر ہاتھ دھونے کیلئے چلو میں پانی لیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کے چہرے کی طہارت تو ختم ہوگئی رہ گئے ہاتھ تو ان دونوں میں تو اب تك حدث موجود ہی تھا وہ اس جدید حدث کے ملنے سے زیادہ نہ ہوا نہ ہی پانی مستعمل ہوا کیونکہ ابھی ہاتھ سے جدا نہیں ہوا پھر اس سے کلائیاں دھولینا کیوں جائز نہیں وہ اس وقت اسی کی طرح ہے جس نے شروع شروع چلو لیا اس لئے وہ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا ہے تو پانی کا اتصال دونوں ہی صورتوں میں محدث ہتھیلی سے پایا جارہا ہے۔ تو اگر وہاں اس کا استعمال جائز ہے تو یہاں بھی جائز ہونا چاہئے اور اگر وہاں جائز نہیں تو یہاں بھی جائز نہیں ہونا چاہئے۔ اس تفریق کی وضاحت اور اس میں تامل کی ضرورت ہے۔
کیونکہ مجھے حیرت ہے کہ یہ امام اسبیجابی اور
عنایہ فتح القدیر جوہرۃ جواہر الفتاوی حلیہ غنیہ البحرالرائق کے مصنفین اور شرنبلالی وغیرہم جیسے اجلہ سب کا اس پر توارد کیسے ہوگیا اور سبھی حضرات نے کیسے اس پر سکوت فرمایا شاید اس میں کوئی ایسی رمز ہو جہاں تك میرے فہم کی رسائی نہ ہوسکی۔ میں تو باب وضو میں اپنے ایك فتوے کے اندر یہ بیان کرچکا ہوں کہ اس کی بنیاد ہمارے مذہب کی دو ضعیف روایتوں میں سے کسی ایك پر ہے اسے ذہن میں لائیں اور غور کریں عـــہ۔ والله تعالی اعلم۔ مگر یہاں تو کوئی صورت جواز نہیں اس لئے کہ حدث کے بعد جب ضرب واقع ہوئی تو اس نے حدث اٹھادیا اور ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی پھر جب اس پر حدث طاری ہوا اس نے طہارت
عـــہ مصنف قدس سرہ اس فتوے میں فرماتے ہیں : اقول وبالله التوفیق۔ انہوں نے استشہاد میں جو یہ مسئلہ بیان کیا کہ “ جس نے ہتھیلیوں میں آب وضو لیا پھر اسے حدث ہوا پھر اسے بعض وضو میں استعمال کیا تو یہ جائز ہے “ ۔ یہ دو غیر ماخوذ روایتوں میں سے کسی ایك کی بنیاد پر چل سکتا ہے۔ ایك امام ابویوسف کا قول ہے کہ مستعمل ہونے کیلئے محدث کا پانی بہانا اور نیت کرنا شرط ہے۔ اور مذکورہ صورت میں دونوں مفقود ہیں۔ دوسری روایت وہ جس پر مشائخ بلخ ہیں کہ جدا ہونے کے بعد بدن یا کپڑے یا زمین یا کسی اور چیز پر پانی کا ٹھہر جانا شرط ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب ہتھیلی کا پانی وہ کسی عضو میں استعمال کرے تو ہتھیلی سے جدا ہونا اگرچہ پالیا گیا مگر وہ پانی ابھی ٹھہرا نہیں اس لئے مستعمل نہ ہوگا____ لیکن صحیح معتمد قول کی بنیاد پر یہ ہے کہ حدث والے بدن سے پانی کا محض مس ہوجانا اور اس سے جدا ہوجانا مستعمل ہونے کا حکم کرنے کیلئے کافی ہے اگرچہ وہاں نہ حدث والے سے بہانا پایا گیا ہو نہ نیت ہو نہ جدا ہونے کے بعد استقرار ہوا ہو۔ تو اس میں کوئی شك نہیں کہ اس کی ہتھیلی سے پانی جدا ہونے سے مستعمل ہوجائے گا پھر کسی عضو کے وضو میں اس کا استعمال صحیح نہ ہوگا۔ یہی مجھے سمجھ میں آیا اور یہ بہت واضح ہے اور اسی سے اس قول کا رد مکمل ہوجاتا ہے والله تعالی اعلم (فتاوی رضویہ جلد ۱ باب الوضوء فتوی نمبر ۵)۱۲منہ محمد احمد مصباحی
ثم اقول : لوکان الامر علی ھذا لزم ان من کان مست یداہ جدارا اوارضا اواخذ بیدیہ جرۃ اوشیئا من خزف ومضت علیہ سنون واحتاج الان الی التیمم لایحتاج لاحد عضویہ الی قصد صعید ولامسہ اصلا بل ینوی ویمسح وجھہ مثلا بکفیہ لانہ قدکان کفاہ مستا الصعید فی وقت من عمرہ ولایشترط قران النیۃ ولاینافیہ الحدث بعدہ قبل المسح وان کان الف مرۃ لااعلم احدا یقبل ھذا ویجعلہ تیمما صحیحا شرعیا۔
وبالجملۃ فالصواب فی کلام الفرعین مع السید الامام ان شاء الله تعالی ولا(۱) بناء لھما علی رکنیۃ الضرب فلیسامن ثمرۃ الخلاف فی شیئ فیما اعلم و ربی اعلم۔
زائل کردی تو تطہیر کی صفت بھی ختم کردی والله تعالی اعلم۔
ثم اقول : اگر معاملہ ایسا ہو ( کہ ضرب کے بعد حدث ہوا پھر بھی اس ضرب سے تیمم جائز ہو) تو لازم آئے گا کہ جس کے ہاتھ کسی دیوار یا زمین سے مس ہوئے یا اپنے ہاتھوں سے کوئی گھڑا یا ٹھیکری کی کوئی بھی چیز پکڑلی پھر اس فعل پر سالہاسال گزر گئے اور اب اسے تیمم کی حاجت ہوئی تو دونوں عضووں میں سے کسی کیلئے بھی نہ صعید (جنس زمین) کے قصد کرنے کی ضرورت ہونہ مس کرنے کی کوئی حاجت۔ بلکہ اب نیت کرلے اور ہتھیلیاں چہرے پر پھیرلے یہی کافی ہوجائے اس لئے کہ یہ ہتھیلیاں عمر کے کسی حصے میں جنس زمین سے مس ہوچکی تھیں نیت کا مس کے ساتھ ہونا شرط ہی نہیں نہ ہی مس کے بعد مسح سے پہلے حدث ہونا اس کے منافی اگرچہ ہزار بار حدث ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی نہ اسے مان سکتا ہے نہ ہی اسے صحیح شرعی تیمم قرار دے سکتا ہے۔
الحاصل دونوں مسئلوں (ضرب کے بعد تیمم کی نیت ہو تو اس ضرب سے تیمم نہ ہو پائے گا ضرب کے بعد حدث ہوجائے تو اس سے بھی تیمم نہ ہوگا) میں حق وصواب سید امام ابوشجاع کے ساتھ ہے اور ان مسئلوں کی بنیاد اس پر نہیں کہ ضرب رکن تیمم ہے۔ تو میرے علم کی حد تك انہیں ثمرہ اختلاف ہونے سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور میرا رب خوب جاننے والا ہے۔
وھذا ھو عندی محمل ماتقدم عن الخانیۃ وخزانۃ المفتین لقولھما فمسح بذلك التراب وجھہ ولم یقولا مسح بتلك الکف المحدثۃ۔
ولیراجع عبارۃ المضمرات فلعلھا کعبارۃ الخانیۃ والخزانۃ ولك ان تقرأ قولہ لم یعد الضرب بفتح العین وشد الدال من العد دون الاعادۃ فيکون تصحیحا
لما علیہ السید الامام والا فاذا قیدنا ھا بکون التراب علی کفیہ کان توفیقا و
ہاں جب اس نے زمین پر ہاتھ مارا اس کے ہاتھ میں اتنی مٹی لگ گئی جو تیمم کیلئے کافی ہو پھر اسے حدث ہو پھر بہ نیت تیمم اس مٹی سے اپنے چہرے کا مسح کرلیا تو یہ کافی ہوگا اس لئے کہ ہتھیلی کی طہارت اور تطہیر اگرچہ ختم ہوگئی اور اسی وجہ سے صعید حکمی جاتی رہی مگر صعید حقیقی اس کے ہاتھ میں موجود ہے تو یہ اصل مٹی سے تیمم کرنا ہوگا ضرب کی وجہ سے صفت تطہیر حاصل کرنے والی ہتھیلی سے نہیں۔
خانیہ اور خزانۃ المفتین کی مذکورۃ الصدر عبارت میرے نزدیك اسی صورت پر محمول ہے اس لئے کہ ان کے الفاظ یہ ہیں : (جب تیمم کا ارادہ ہوا زمین پر ایك بار ہاتھ مارا پھر اسے حدث ہوگیا) تو “ اسی مٹی سے “ چہرے کا مسح کرلیا (پھر کہنیوں سمیت ہاتھوں کیلئے دوسری بار ہاتھ مارا) یہ جائز ہے تیمم ہوگیا اھ یہ نہ فرمایا کہ “ اسی بے ہتھیلی سے “ مسح کرلیا۔
مضمرات کی اصل عبارت بھی دیکھنا چاہئے شاید وہ بھی عبارت خانیہ وخزانہ ہی کی طرح ہو (جامع الرموز نے مضمرات کے اصل الفاظ نقل نہ کئے بلکہ یوں لکھا ہے کہ “ لواحدث قبل المسح لم یعد الضرب علی الاصح کما فی المضمرات “ جس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اگر ہاتھ مارنے کے بعد مسح سے پہلے اسے حدث ہوا تو برقول صحیح ضرب کا اعادہ نہ کرے یعنی اسی ضرب سے مسح کرلے جیسا کہ مضمرات میں ہے) اس عبارت میں بھی “ لم یعد “ کو عین کے فتحہ اور دال کی تشدید کے ساتھ بجائے اعادہ کے عدد سے لے کر
التاسع : مابحث العلامۃ الحدادی فیما(۱) اذا امر غیرہ لییممہ فضرب المامور یدیہ فاحدث الامر انہ ینبغی بطلانہ علی قول ابی شجاع فعندی(۲) فیہ وقفۃ فان الامر اذا امر ونوی فضرب المامور کفیہ علی الصعید اکسبھما صفۃ التطھیر وصارا صعیدا حکمیا حتی صلحتا لتطھیر الامر بمسحھما وحدث الامر لایخل بشیئ من ذلك لا تزول بہ طہارۃ کفی المامور لینتفی تطھیرھما۔
وقد کان الامر محدثا قبل
لم یعد الضرب پڑھا جاسکتا ہے۔ اب یہ معنی ہوجائیگا کہ اگر قبل مسح حدث ہوگیا تو یہ ضرب برقول اصح شمار نہ کی جائے گی۔ اس صورت میں اس سے اسی قول کی تصحیح حاصل ہوگی جو سید امام ابوشجاع کا ہے اگر یہ نہ پڑھیں تو جب ہم اسے اس صورت سے مقید کردیں (اعادہ ضرب کی حاجت اس وقت نہیں جب) ہتھیلیوں پر لگی ہوئی مٹی بقدر کافی موجود ہو تو دونوں قولوں میں تطبیق وتوفیق ہوجائے گی۔ اور خدا ہی سے توفیق ملتی ہے۔
بحث۹ : دوسرے کو حکم دیا کہ مجھے تیمم کرادے مامور نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے کہ حکم دینے والے کو حدث عارض ہوا۔ اس پر بحث کرتے ہوئے علامہ حدادی نے فرمایا کہ ابوشجاع کے قول پر مامور کی ضرب مذکور کو (جس کے بعد قبل مسح آمر کو حدث جدید عارض ہوا) باطل ہوجانا چاہئے۔ مجھے اس بارے میں کچھ توقف ہے۔ اس لئے کہ آمر نے جب حکم دیا اور نیت کرلی پھر مامور نے اپنی ہتھیلیاں جنس زمین پر ماریں تو اس ضرب نے ان ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی اور وہ صعید حکمی بن کر اپنے مسح سے آمر کو پاك کرنے کے قابل ہو گئیں۔ اور آمر کا حدث اس میں سے کسی بات میں کچھ خلل نہیں لاتا۔ اس کے حدث سے مامور کی ہتھیلیوں کی طہارت تو زائل ہوتی نہیں کہ ان کا وصف تطہیر ختم ہوسکے۔
اور آمر تو محدث تھا ہی ضرب سے پہلے بھی
العاشر : ما(۱) استظھر منہ البحر انہ لایبطل بحدث المأمور فعندی ابعد منہ اذ لو سلمنا انہ یبطل بحدث الامر مع انہ لایوجب تنجیس کفی المأمور وجب بطلانہ بحدث المأمور بالاولی لانہ ینجسھما فيسلبھما الطھارۃ فيسلبھما التطھیر ولونہ الۃ لاینفیہ فانہ الۃ التطھیر فلابدمن طھارتہ اذمالیس بطاھر کیف یفید غیرہ التطھیر فالظاھر عندی عکس ماقالاہ
اور ضرب کے بعد بھی جب تك کہ مسح نہیں ہوجاتا۔ تو آمر کا حدث یعنی اس کا محدث ہونا اور مامور کی ہتھیلیوں میں صفت تطہیر کا ثبوت دونوں چیزیں بیك وقت جمع ہوئیں اور یہ اجتماع مسح ہوجانے تك قائم ودائم رہا۔ اور اگر مامور کی ہتھیلیوں میں صفت تطہیر کیلئے طہارت آمر کی شرط لگائی جائے تو دور لازم آئے گا۔ اور اس مسئلہ کا وجود ہی محال ہوجائے گا۔ تو جب اس کا محدث ہونا اس کے منافی نہیں تو یہ حدث جدید کیسے اس کے منافی ہوجائے گا جب کہ وہ مامور کی حالت میں اس سے زیادہ کوئی اضافہ نہیں کرتا جو بروقت اس میں موجود ہے (فی الحال بھی وہ محدث ہی ہے حدث جدید سے بھی محدث ہی رہا تو ضرب پر حدث جدید کا کیا اثر)
بحث ۱۰ : علامہ حدادی کی بحث لے کر صاحب بحر نے یہ کہا تھا کہ : “ اس کا ظاہر یہ ہے کہ وہ ضرب مامور کے حدث سے باطل نہ ہوگی اس لئے کہ وہ تو صرف ذریعہ اور آلہ ہے “ ۔ یہ بات میرے نزدیك پہلی سے بھی زیادہ بعید ہے۔ اس لئے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ آمر کا حدث مامور کی ہتھیلیوں کو نجس بنانے کا موجب نہ ہونے کے باوجود مامور کی ضرب کو باطل کردیتا ہے تو مامور کا حدث اس ضرب کو بدرجہ اولی باطل کردے گا کیونکہ اس کا اپنا حدث تو اس کی ہتھیلیوں کو نجس کرکے ان سے طہارت سلب کرلے گا تو وصف تطہیر بھی سلب کرلے گا۔ اور مامور کا ذریعہ وآلہ ہونا اس کے منافی نہیں کیونکہ وہ تطہیر کا آلہ ہے
الحادی عشر : الابحاث الی ھنا لم تزد اصل الامر الاغمۃ لانہ ثبت ان الفروع العشرۃ متفق علیھا بین ائمتنا ولاضرب فیھا بالمعنی المعروف وھم
مجمعون علی رکنیتہ۔ فاقول : وبالله التوفیق قد اوجدناك ان الصعید ضربان حقیقی وحکمی وان التیمم المعھود المعروف المأمور فی الاحادیث القولیۃ والفعیلۃ ھو امساس الکفین بالصعید الحقیقی وسائر العضوین بھذا الصعید الحکمی وغیر المعھود ھو امساس جمیع اجزاء العضوین بالصعید الحقیقی فانقسم التیمم ایضا الی قسمین المعھود بالحقیقی فی الکفین والحکمی فی غیرھما وغیرہ بالحقیقی فی الکل۔
ثم رکن الشیئ وان کان شرعیا وجودلہ فی الاعیان ایضا
توخود اس کا طاہر ہونا ضروری ہے اس لئے کہ جو خود ہی طاہر نہیں وہ دوسرے کو تطہیر کیسے عطا کرسکے گا تو ان دونوں حضرات (حدادی وبحر) نے جو فرمایا میرے نزدیك اس کے برعکس ہے۔ ضرب مذکور مامور کے حدث سے باطل ہوجائیگی اورآمر کے حدث سے باطل نہ ہوگی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
بحث۱۱ : یہاں تك کی بحثوں سے اصل معاملہ کی پیچیدگی میں اور اضافہ ہی ہوا اس لئے کہ ثابت یہ ہوا کہ مذکورہ دس جزئیات ہمارے ائمہ کے درمیان متفق علیہ ہیں اور ان میں ضرب بمعنی معروف کا وجود نہیں حالانکہ ان ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ ضرب تیمم کا رکن ہے (پھر رکن کے بغیر شیئ کا تحقق کیونکر ہوگیا)
فاقول : وبالله التوفيق۔ ہم بتا چکے ہیں کہ صعید کی دو۲ قسمیں ہیں : حقیقی اور حکمی اور معروف ومعہود تیمم جو قولی وفعلی احادیث میں مروی ہے وہ یہ ہے کہ ہتھیلیوں کو صعید حقیقی سے مس کیا جائے اور بقیہ ہاتھوں اور چہرے کو اس صعید حکمی (ہتھیلیوں) سے مس کیا جائے اور غیر معہود تیمم یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے تمام اجزاء کو صعید حقیقی (جنس زمین) سے مس کیا جائے تو تیمم دو۲ قسمیں ہوگئیں : ایك معہود تیمم صعید حقیقی سے ہتھیلیوں کا اور حکمی سے بقیہ کا مسح کرنا۔ دوسرا غیر معہود تیمم صعید حقیقی سے سبھی کا مسح کرنا۔ پھر کسی بھی شیئ کا رکن اگرچہ وہ شرعی ہی ہو اس کے بغیر خارج میں بھی شیئ
اقول : وعلی ھذا یبتنی قول شیخ الاسلام العلامۃ الغزی رحمہ الله تعالی فی کا وجود نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ شے کا قوام اور اس کی حقیقت اسی رکن ہی سے بنتی ہے جیسے نماز کیلئے رکوع وسجود اور نکاح کیلئے ایجاب وقبول ہاں مگر یہ کہ رکن زائد ہو جیسے قرأت مگر شرط شرعی کا معاملہ مختلف ہے اس کے نہ ہونے سے شیئ کے وجود عینی خارجی کا نہ ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے انتفا سے صرف وجود شرعی کا انتفا ضروری ہے دیکھ لیجئے کہ ارکان نماز قیام قعود رکوع سجود قرأت میں سے کوئی بھی اپنے وجود خارجی میں شرائط نماز طہارت استقبال قبلہ تحریمہ وغیرہا پر موقوف نہیں (ان شرائط کے بغیر بھی وہ ارکان خارجی میں موجود ہوسکتے ہیں) اگرچہ فقدان شرائط کے سبب ایسی نماز کا “ شرعا “ اعتبار نہیں۔ ہاں کچھ شرعی شرطیں ایسی بھی ہیں جو رکن سے مشابہت رکھتی ہیں کہ شے اپنے وجود خارجی میں ان کی بھی محتاج ہوتی ہے اور کچھ مثل شرط رکن سے مشابہ تر بھی ہیں گویا وہ رکن اور مذکورہ شرطوں کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتی ہیں تو کوئی عجب نہیں کہ ان کو رکن ہی کے نام سے ذکر کر دیا جائے (اور بجائے شرط کے رکن کہہ دیا جائے) ایسی شرط کی مثال : جیسے نماز کیلئے جگہ نکاح کیلئے عورت تیمم کیلئے صعید۔
اقول : اسی اطلا ق پر (شدت مشابہت واحتیاج کی بنا پر شرط کو رکن کہہ دینے پر) متن تنویر الابصار میں شیخ الاسلام علامہ غزی رحمۃ اللہ تعالی علیہاور اسکی
واقرہ السید العلامۃ ط معللا ایاہ بقولہ وذلك لانہ الازالۃ ولاتتحقق الابمزبل وھو الشخص ومزال وھو الخارج ومزال عنہ وھو المخرج والۃ ازالۃ وھو الحجر ونحوہ اھ ولم یلتفت الی مااعترض بہ العلامۃ السید ح ان حقیقۃ الاستنجاء الذی ھو ازالۃ نجس عن سبیل لاتتقوم ولابواحد من ھذہ الاربعۃ ۔ وتبعہ السید العلامۃ ش واطالا(۱) بما حاشا العلامتین المصنف والشارح ان یکونا
شرح درمختار میں مدقق علائی رحمۃ اللہ تعالی علیہکی درج ذیل عبارت مبنی ہے : “ (استنجأ کے چار ارکان ہیں)-(استنجأ کرنے والا) شخص --- وہ چیز (جس سے استنجاء کیا جائے) جیسے پانی اور پتھر وہ نجس جو سبیلین میں کسی ایك سے (خارج(۳) ہو (اور مخرج)(۴) پیچھے کا مقام یا آگے کا مقام اھ “ سید علامہ طحطاوی نے ذیل کے الفاظ سے اس قول کی علت بتاتے ہوئے اسے برقرار رکھا : “ یہ اس لئے کہ استنجاء ازالہ نجاست کا نام ہے اور اس کے تحقق کیلئے ضروری ہے کہ کوئی زائل کرنے والا ہو وہ شخص(۱) ہے اور کوئی زائل کیا جانیوالا ہو وہ خارج(۲) ہے اور کوئی جگہ ہو جہاں سے زائل کیا جائے وہ مخرج(۳) ہے اور کوئی ازالہ کا آلہ وذریعہ ہو وہ پتھر(۴) وغیرہ ہے “ اھ سید طحطاوی نے علامہ سید حلبی کے اس اعتراض کی طرف التفات نہ کیا کہ “ استنجا جو کسی ایك راستے سے نجس چیز کودور کرنے کا نام ہے اس کی حقیقت ان چاروں سے یا ان میں کسی ایك سے بھی نہیں بنتی “ ۔ (پھر انہیں رکن کیسے کہہ دیا گیا)سید علامہ شامی نے بھی اس اعتراض میں سید حلبی کی پیروی کی اور دونوں حضرات نے وہ سب ذکر کرکے کلام طویل کیا جس سے مصنف وشارح
طحطاوی علی الدرر فصل الاستنجاء بیروت ۱ / ۱۶۴
ردالمحتار فصل الاستنجاء مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۶
ففی الخانیۃ والخلاصۃ اماصورۃ التیمم ماذکر فی الاصل قال یضع یدیہ علی الصعید وفی بعض الروایات یضرب یدیہ علی الصعید فاللفظ الاول ان یکون علی وجہ اللین والثانی ان یکون الوجہ مع وجہ الشدۃ وھذا اولی لیدخل التراب فی اثناء الاصابع ھذا لفظ الخانیۃ واختصرہ فی الخلاصۃ بقولہ قال فی الاصل یضع یدیہ علی الصعید وفی بعض الروایات یضرب یعنی الوضع علی وجہ الشدۃ وھذا اولی اھ۔
علیہما الرحمۃ کا غافل رہنا بعید ہے خود ان حضرات (حلبی وشامی) نے تیمم کی جو حقیقت بیان کی ہے وہ ابتدائے کلام میں خود ان ہی کے منہ سے سن کر اخذ کی ہے۔ یہ بھی مخفی نہ رہے کہ ضرب سے مراد مس کرنا ہے ضرب (مارنے) کا لفظ جس شدت پر دلالت کررہا ہے خاص وہ مراد نہیں اگرچہ وہ بعض صورتوں میں اولی ہے۔
اور بعض روایتوں میں ہے : اپنے ہاتھوں کو جنس زمین پر مارے تو پہلی عبارت کی صورت یہ ہے کہ نرمی کے طور پر ہو دوسری کی صورت یہ کہ زمین پر سختی کے ساتھ ہاتھ رکھتا ہو۔ اور یہ اولی ہے تاکہ مٹی انگلیوں کے درمیان داخل ہوجائے “ ۔ یہ خانیہ کے الفاظ ہیں۔ اسے خلاصہ میں اس طرح مختصر کیا ہے : “ اصل میں فرمایا : اپنے ہاتھوں کو صعید پر رکھے اور بعض روایات میں ہے : مارے اس سے سختی کے ساتھ رکھنا مراد ہے اور یہ اولی ہے اھ۔
عــہ ای من فم الشارح حیث قال الاستنجاء ازالۃ نجس عن سبیل فلایسن من ریح وحصاۃ ونوم وفصد اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی حضرت شارح کی زبانی انہوں نے فرمایا ہے : استنجاء کسی ایك راستے سے نجس چیز دور کرنا ہے۔ تو ریح کنکری نیند اور فصد کی وجہ سے استنجاء مسنون نہیں اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
خلاصۃ الفتاوٰی کیفيۃ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۴
درمختار فصل فی الاستنجاء ۱ / ۵۶
اقول : فیقتصر علی ماینفصل منہ تراب اونقع دون نحو حجر املس ولذا قلت فی بعض الصور نعم ان نظر الی ورودہ فی الاثار کما علل بہ فی المستصفی وثنی بہ فی الحلیۃ فلایبعد اولویتہ مطلقا لاتباع اللفظ الوارد۔
وبالجملۃ فلیس اللازم الا الامساس ومن البین ان التیمم المعھود لاتحقق لہ فی الخارج الابہ لانہ مسح الکفین بالصعید الحقیقی وبقیۃ العضوین بالکف الموضوع علی الصعید کماتقدم عن الکافی والبرجندی ان الواجب المسح بکف موضوع علی
خانیہ اور خلاصہ میں ہے : “ تیمم کی صورت وہ ہے جو اصل (مبسوط) میں ذکر کی ہے۔ فرمایا : اپنے ہاتھوں کو صعید (جنس زمین) پر رکھے
اقول : اور یہ تعبیر (خلاصہ کی عبارت) اولی ہے تاکہ وہ وہم نہ پیدا ہو جو پہلی عبارت کی توضیح میں خانیہ کے الفاظ سے پیدا ہو رہا تھا کہ رکھنے کا لفظ صرف نرمی والی صورت سے ہی مخصوص ہے جب کہ رکھنے سے مراد عام ہے (نرمی کے ساتھ ہو یا سختی کے ساتھ) خانیہ میں ضرب کے اولی ہونے کی جو علت بتائی ہے وہی غایۃ البیان عنایہ حلیہ البحرالرائق وغیرہا متعدد کتابوں میں بیان کی گئی ہے۔
اقول : یہ علت (ضرب سے مٹی کا انگلیوں کے درمیان داخل ہوجانا) اسی چیز پر ضرب سے خاص ہے جس سے مٹی یا غبار جدا ہوسکے چکنے پتھر جیسی چیز پر ضرب میں یہ علت نہ پائی جائے گی۔ اسی لئے میں نے اسے “ بعض صورتوں میں اولی “ کہا ہاں اگر اس پر نظر کی جائے کہ لفظ ضرب آثار میں وارد ہے (اسی لئے اس پر عمل اولی ہے) جیسا کہ مستصفی میں یہی علت بتائی ہے اور حلیہ میں اسے دوسرے نمبر پر ذکر کیا ہے تو بعید نہیں کہ اس بنیاد پر ضرب مطلقا اولی ہو کیونکہ اس میں لفظ حدیث کا اتباع ہوگا۔
الحاصل لازم وضروری صرف مس کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بغیر خارج میں تیمم معہود کا تحقق بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ تیمم معہود یہ ہے کہ ہتھیلیوں کا صعید حقیقی سے اور بقیہ ہاتھوں اور چہرے کا صعید پر رکھی ہوئی ہتھیلی سے مسح ہو۔ جیسا کہ کافی اور برجندی کے حوالے سے گزر چکا کہ “ واجب یہ ہے کہ مسح اس ہتھیلی سے ہو جو زمین پر رکھی
وھذا مع شدۃ وضوحہ ربما یزیدہ ایضاحا ان من قام عن نومہ فجعل یمسح النوم عن وجھہ وامر کفیہ علی ذراعیہ رفعا للکسل اوتوضأ فمسح الماء عن وجھہ وذراعیہ لیس لاحدان یتوھم ان قدتحق ارکان التیمم فی الخارج فثبت عــہ ان الضربتین من الشرائط
جاچکی ہے “ ۔ اور بدائع کے حوالے سے گزرا کہ “ شرط یہ ہے کہ روئے زمین پر مارے ہوئے ہاتھ سے چہرے اور ہاتھوں کو مس کیا جائے “ اھ تو جب ضرب ہی نہ ہو تو دونوں (صعید حقیقی سے مسح اور صعید حکمی سے مسح) میں سے کسی کا تحقق نہ ہوگا تو اس شرط کے بغیر تیمم معہود کے ارکان کا وجود ہی نہ ہوگا۔ بہت واضح ہونے کے باوجود اس کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص نیند سے اٹھ کر اثر دور کرتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کلائیوں پر بھی سستی دور کرنے کیلئے ہتھیلیاں پھیر لیں یا کسی کو وضو کرنا ہوا تو اپنے چہرے اور کلائیوں پر پانی سے مسح کیا ان صورتوں میں کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ خارج میں تیمم کے ارکان متحقق ہوگئے تو ثابت ہوا کہ دونوں ضربیں ایسی شرطوں میں سے ہیں کہ
عــہ اقول : وکان یمکن ان یرجع الی ھذا قول السید ط لماذکر الدر الصعید من شرائط التیمم قال ھو جزء الحقیقۃ لانھا مسح الوجہ والیدین علی الصعید لکنہ رحمہ الله تعالی زاد بعدہ ولیس بشرط فجعلہ
اقول : درمختار کی عبارت “ صعید شرائط تیمم سے ہے “ پر سید طحطاوی نے فرمایا صعید حقیقت تیمم کا جز ہے اس لئے کہ وہ صعید پر ہاتھ اور چہرے پھیرنے کا نام ہے۔ سید طحطاوی کی اس عبارت کو بھی اسی طرف پھیرا جاسکتا تھا کہ شرط کو جز وحقیقت (رکن) کہہ دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بعد ہی یہ کہہ کر کہ “ وہ (صعید) شرط نہیں “ اپنی عبارت کو (باقی برصفحہ ایندہ)
بدائع الصنائع فصل مایتیم بہ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۴
اما التیمم الغیر المعھود فلا یتوقف علیھما بل یتحقق بادخال المحل فی موضع الغبار وبتحریکہ فيہ وبامرار الید علی النقع الواقع علی المحل وبامرار الصعید علیہ کمامر تقریر کل ذلک۔ فظھر ولله الحمد ان مراد ائمتنا بالضرب امساس الکف بالصعید وبالرکن الشرط الذی لاتصور المشروط بدونہ وبالتیمم التیمم المعھود وھو کلام حق لاغبار علیہ۔
اما الفروع العشرۃ فکلھا فی التیمم الغیر المعھود فعدم الضرب فیھا لاینافی رکنیتہ للتیمم المعھود وبھذا التحقیق الانیق الحقیق بالقبول* تلتئم کلمات الائمۃ الفحول*وتندفع الشبھات عن الفروع و
ان کے بغیر خارج میں بھی تیمم معہود کا تحقق نہیں ہوسکتا اس لئے انہیں رکن کا نام دینا مناسب ہوا۔
لیکن تیمم غیر معہود ان دو ضربوں پر موقوف نہیں وہ یوں بھی متحقق ہوجاتا ہے کہ اعضائے تیمم کو غبار کی جگہ داخل کردے یا اس میں ان اعضاء کو جنبش دے لے یا اعضاء پر پڑے ہوئے غبار پر ہاتھ پھیرلے یا جنس زمین سے کوئی چیز اٹھا کر ان اعضا پر پھیرلے۔ جیسا کہ ان سب کی تقریر گزرچکی۔ تو بحمدلله ظاہر ہوا کہ ضرب سے ہمارے ائمہ کی مراد صعید سے ہتھیلی کو مس کرنا اور رکن سے مراد ایسی شرط جس کے بغیر مشروط کا تصور نہیں ہوتا اور تیمم سے مراد تیمم معہود اور یہ بالکل بے غبار اور برحق کلام ہے۔
رہ گئے وہ دسوں۱۰ جزئیات تو وہ سب تیمم غیر معہود سے متعلق ہیں ان میں ضرب کا نہ ہونا تیمم معہود میں رکنیت ضرب کے منافی نہیں۔ اس دلکش لائق قبول تحقیق سے ائمہ فحول کے کلمات میں مطابقت وموافقت ہوجاتی ہے اور فروع و (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مفسرا بغیر قابل للتاویل وعلی(۱) ھذا یلزم ان یکون الوجہ والیدان ایضا اجزاء حقیقۃ التیمم والبصر جزء حقیقۃ العمی وھو کماتری۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
مفسر ناقابل تاویل بنادیا اور اس پر یہ لازم آئے گا کہ چہرا اور دونوں ہاتھ بھی حقیقت تیمم کا جز ہوں اور بصر حقیقت عمی کا جز ہو اس کی خامی وکمزوری ہر ناظر پر عیاں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الثانی عشر : ظھرلك من ھذہ المباحث ان احسن ھذہ الحدود الستۃ ازواجھا دون اوتارھا وان السادس مختص بالتیمم المعھود والثانی والرابع یعمان کل تیمم بیدان الرابع مقتصر علی حقیقتہ فقدادی حق الحد والثانی زادہ ایضاحا بزیادۃ قصد التطہیر۔
اصول سے شبہات کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ ا ور عادلان برگزیدہ کے مابین “ ہزار سال سے جاری رہنے والے اختلاف “ کاخاتمہ ہوجاتا ہے تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے اور حسن توفیق پر خدا کا شکر ہے اور الله تعالی کا درود ہو ہمارے سردار اور آقا پر اور ان کی آل اصحاب فرزند جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ۔ اور ساری خوبیاں الله کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
بحث۱۲ : ان مباحث سے ظاہر ہوا کہ مذکور عــہ چھ تعریفوں میں بہتر وہ ہیں جو جفت نمبر پر آئی ہیں وہ نہیں جو طاق ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چھٹی تعریف تیمم معہود سے خاص ہے اور دوسری چوتھی ہر تیمم کو عام ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ چوتھی تعریف میں حقیقت تیمم کے بیان پر اکتفا کیا ہے تو اس نے تحدید کا حق ادا کیا اور دوسری نے “ قصد تطہیر “ کا اضافہ کرکے مزید وضاحت کردی ہے۔
عــہ مذکورہ چھ۶ تعریفیں یوں ہیں :
(۱) تطہیر کیلئے پاك صعید کا قصد۔
(۲) دو مخصوص عضووں پر تطہیر کے قصد سے مخصوص شرطوں کے ساتھ صعید کا استعمال یا زمین کے کسی جز کا بقصد تطہیر اعضائے مخصوصہ پر استعمال۔
(۳) مطہر صعید کا قصد اور ادائے قربت کے لئے مخصوص طور پر اس کا استعمال۔
(۴) پاك صعید سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح۔
(۵) وہ طہارت جو پاك صعید کو دو مخصوص عضووں میں بقصد مخصوص استعمال کرنے سے حاصل ہو۔
(۶) دو۲ ضربیں ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب کہنیوں تك ہاتھوں کیلئے۔ ۱۲ محمد احمد مصباحی
اقول : یہاں تین بحثیں ہیں : اول ظاہر یہ ہے کہ تطہیر سے نجاست حکمیہ کا ازالہ مراد ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میت کو تیمم کرایا جاتا ہے جب پانی نہ ملے یا میت عورتوں کے درمیان کوئی مرد یا مردوں کے درمیان کوئی عورت یا کوئی مراہق خنثی ہو مطلقا۔ اسے کوئی محرم تیمم کرائے گا وہ نہ ہو تو اجنبی کسی کپڑے کے ذریعے تیمم کرائے گا۔ یہ سب درمختار میں ہے اور تفصیلی ذکر آگے آئیگا اور عامہ مشائخ نے یہ فرمایا ہے کہ موت سے میت نجاست حقیقیہ کے ساتھ نجس ہوجاتی ہے اور یہ ظاہر تر ہے بدائع-- یہی صحیح ہے کافی---- یہی زیادہ قرین قیاس ہے فتح القدیر۔
عــہ لان الادمی حیوان دموی فیتنجس بالموت کسائر الحیوان فتح اقول : ویرد علیہ ان لوکان کذالم یمکن تطہیرہ بالغسل الاتری الجیفۃ لوغسلت الف مرۃ لم تطھر وانما یطھر منھا الجلد بالدباغ
اس لئے کہ آدمی خون رکھنے والا جاندار ہے تو یہ بھی ایسے دوسرے جانداروں کی طرح موت سے نجس ہوجائیگا فتح القدیر۔ اقول : اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ اگر ایسا ہوتا تو غسل سے اس کی تطہیر ممکن نہ ہوتی۔ دیکھ لیجئے کہ مردار کو اگر ہزار بار بھی غسل دیا جائے تو پاك نہ ہوگا ہاں دباغت سے صرف
بدائع الصنائع فصل فی وجوب غسل المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹۹
کافی
فتح القدیر فصل فی الغسل نُوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۷۰
ایضًا
اقول : مراد غیر انبیاء ہیں اس لئے کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وجلد الانسان لایحتملہ ولعل قولی ھذا اولی من قول القائلین بالحدث اذقالوا نجاسۃ الحدث تزول بالغسل لانجاسۃ الموت لقیام موجبھا بعدہ فغسل المسلم لیس لنجاسۃ تحل بالموت بل للحدث لان الموت سبب الاسترخاء و زوال العقل ولما کان یرد علیہ ان ھذا سبب الوضوء دون الغسل قالوا بل ھو سبب الغسل وکان ھو القیاس فی الحی وانما اقتصر فیہ علی الوضوء دفعا للحرج لتکرر سبب الحدث منہ بخلاف المیت اھ اذیرد علیہ مافی الفتح ان قیام الموت مشترك الالزام فان سبب الحدث ایضا قائم بعد الغسل اھ۔
اس کی جلد پاك ہوجاتی ہے اور انسان کی جلد میں اس کا احتمال نہیں۔ امید ہے کہ میری مذکورہ عبارت حدث میت کے قائل حضرات کی اس عبارت سے بہتر ہوگی جس میں انہوں نے یہ کہا کہ “ حدث ہی کی نجاست ہے جو غسل سے دور ہوتی ہے نہ کہ موت کی نجاست اس لئے کہ اس نجاست کا سبب (موت) تو بعد غسل بھی قائم وباقی رہتا ہے۔ تو مسلم کا غسل کسی ایسی نجاست کی وجہ سے نہیں جو موت سے اس میں حلول کرجاتی ہے بلکہ حدث کی وجہ سے ہے اس لئے کہ موت اعضاء کے ڈھیلے پڑنے اور عقل کے زائل ہونے کا سبب ہے “ اس پر جو اعتراض وارد ہوتا تھا کہ یہ تو وضو کا سبب ہے غسل کا نہیں تو اس کے جواب میں ان حضرات نے کہا : “ بلکہ یہ غسل ہی کا سبب ہے اور زندہ شخص میں بھی قیاس کا تقاضا یہی تھا کہ اس سے غسل لازم ہو مگر دفع حرج کیلئے اس میں صرف وضو پر اکتفا کا حکم ہوا کیونکہ اس سے یہ سبب باربار پایا جاتا ہے بخلاف میت کے کہ اس میں ایسا نہیں “ ۔ اھ۔ اس عبارت پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو فتح القدیر میں ہے کہ “ سبب کے قائم وباقی رہنے کا الزام تو دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے کیونکہ حدث کا سبب بھی تو غسل کے بعد قائم وباقی رہتا ہے “ اھ۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
فتح القدیر فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۷۰
حضرات انبیاء صلوت الله تعالی وسلامہ علیہم۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
واقول : بل لیس(۱) مشترکا فان الموت تبقی النجاسات متشربۃ فی البدن ولاتزول بالغسل والاسترخاء یوجب خروج ریح وبزوال العقل لایتنبہ لہ کالنوم فکان سببا بالعرض وھما قدعرضا للمیت وھو حی فتوجہ الیہ الخطاب وثبتت النجاسۃ الحکمیۃ فاذا غسل زالت ولاتعود لانھا حکمیۃ وقد انھی الموت توجہ الخطاب والتکلیف۔
اما اعتذارھم بان الغسل جعل مطھرا لہ تکریما کما فی الفتح فاقول : التکریم ان(۲) لایجعل جیفۃ لاان یحکم بانہ جیفۃ خبیثۃ ثم یحکم بطھارتہ بالغسل مع
واقول : (میری عبارت کے برخلاف قائلین حدث کی عبارت پر یہ اعتراض ہے اگرچہ میرے نزدیك اس کا جواب بھی ہے کہ) یہ الزام دونوں قول (نجاست وحدث) میں مشترك نہیں اس لئے کہ موت بدن میں نجاستوں کو پیوست رہنے دیتی ہے اور وہ غسل سے دور نہیں ہوتیں۔ اور اعضاء ڈھیلے پڑنا ہوا خارج ہونے کا سبب ہوتا ہے اور آدمی عقل زائل ہونے کی وجہ سے اس پر متنبہ نہیں ہوتا جیسے نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ تو یہ بالعرض سبب ہوا اور دونوں امر (اعضاء ڈھیلے پڑنا اور زوال عقل) میت کو حالت حیات ہی میں عارض ہوئے تو اس کی جانب خطاب متوجہ ہوا اور نجاست حکمیہ ثابت ہوئی جب اسے غسل دے دیاگیا تو زائل ہوگئی اور دوبارہ لوٹنے والی نہیں اس لئے کہ یہ حکمیہ ہے اور موت کی وجہ سے اس کی جانب خطاب کا متوجہ ہونا اور اس کا مکلف ہونا ختم ہوگیا۔
اب رہا ان (قائلین نجاست) کا یہ عذر کہ “ تکریما اس کے لئے غسل کو مطہر قرار دیا گیا ہے “ جیسا کہ فتح القدیر میں ہے فاقول : تکریم تو یہ ہے کہ اسے مردار نہ قرار دیا جائے۔ یہ نہیں کہ اس کے مردار خبیث ہونے کا حکم دیا جائے پھر منافی
(بقیہ صفحہ ائندہ پر)
حیات وممات ہر حالت میں طیب وطاہر ہیں بلکہ ان کیلئے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قیام المنافی وقدقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان المومن لاینجس رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ واحمد والخمسۃ الا الترمذی عن حذیفۃ والنسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی رضی الله تعالی عنہ وزاد الحاکم من حدیث ابی ھریرۃ حیا ومیتا قال فی الفتح ان صح وجب ترجیح انہ للحدث اھ۔
اقول : ولولم یصح لکنی اطلاق الصحاح علی انہ قدصح ولله الحمد قال فی الحلیۃ قد اخرج الحاکم عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتنجسوا موتاکم فان المؤمن فلاینجس حیا ولامیتا قال صحیح علی شرط البخاری ومسلم وقال الحافظ ضیاء الدین
قائم رہنے کے باوجود غسل سے اس کے پاك ہوجانے کا حکم دے دیا جائے حالانکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ یقینا مومن نجس نہیں ہوتا “ ۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور حضرت حذیفہ سے امام احمد اور ترمذی کے علاوہ پانچوں حضرات نے روایت کیا ہے اور حضرت ابن مسعود سے نسائی نے اور حضرت ابوموسی سے رضی اللہ تعالی عنہمطبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حاکم کے الفاظ یہ ہیں کہ (مومن) “ حیات وموت کسی بھی حالت میں “ (نجس نہیں ہوتا) فتح القدیر میں ہے : “ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس قول کی ترجیح لازم ہے کہ غسل حدث کی وجہ سے ہے “ اھ۔
اقول : (الفاظ مذکورہ کے اضافہ کے ساتھ حاکم کی جو روایت ہے) اگر صحیح نہ بھی ہوتی تو صحاح ستہ کی روایت کا مطلق ہونا ہی کافی ہوتا (مومن نجس نہیں ہوتا مطلق فرمانے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا) مگر بحمدالله روایت حاکم کی صحت ثابت ہے۔ حلیہ میں فرمایا : “ حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ اپنے مردوں کو
(باقی برصفحہ ایندہ)
فتح القدیر فصل فی الغسل ۲ / ۷۰
موت محض آنی تصدیق وعدہ الہیہ کے لئے ہے پھر وہ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی کتابہ اسنادہ عندی علی شرط الصحیح فترجح الاول اھ۔
اقول : وبہ اندفع لانہ لمن تامل تاویل(۱) الغنیۃ ان المراد لاینجس بالجنابۃ لسیاق حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
اماقول ش المراد نفی النجاسۃ الدائمۃ والالزم ان لواصابہ نجاسۃ خارجیۃ لاینجس اھ۔
اقول : وقد ظھرلك دفعہ(۲) بما قررنا فبون بین بین ان تصیبہ نجاسۃ من خارج فتزال وان یجعل جیفۃ خبیثۃ نجسا کل جزء جزء منہ ظاھرا وباطنا وھذا ھو حقیقۃ النجس بخلاف من اصاب جلدہ نجاسۃ من خارج فلایصح علیہ حقیقۃ انہ نجس انما النجس مااصابہ النجاسۃ من بشرتہ
نجس نہ قرار دو اس لئے کہ مومن حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا “ ۔ اور کہا کہ یہ صحیح برشرط بخاری ومسلم ہے۔ اور حافظ ضیاء الدین نے اپنی کتاب میں فرمایا : اس کی سند میرے نزدیك برشرط صحیح ہے تو اول کو ترجیح حاصل ہوگئی اھ۔
اقول : تامل کرنے والے کیلئے اسی سے غنیہ کی یہ تاویل بھی دفع ہوجاتی ہے کہ : “ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکے سیاق کی روشنی میں اس ارشاد کی مراد یہ ہے کہ مومن جنابت کی وجہ سے نجس نہیں ہوجاتا “ ۔ رہا علامہ شامی کا یہ قول کہ “ اس سے دائمی نجاست کی نفی مراد ہے ورنہ لازم آئے گا کہ اسے کوئی خارجی نجاست لگ جائے تو بھی نجس نہ ہو “ ۔ اھ
اقول : ہماری تقریر سابق سے اس کا جواب بھی ناظر پر ظاہر ہے۔ بڑا نمایاں فرق ہے اس میں کہ اسے خارج سے کوئی نجاست لگ جائے پھر دور کردی جائے اور اس میں کہ اسے مردار خبیث اور ظاہرا باطنا اس کے ہر ہر جز کو نجس قرار دیا جائے۔ یہی نجس کی حقیقت ہے۔ اس کے برخلاف جس کی جلد پر خارج سے کوئی نجاست لگ گئی ہو اس پر حقیقی طور سے یہ بات راست نہیں آتی کہ وہ نجس ہے نجس تو صرف اس کی ظاہری جلد کا وہ حصہ ہے جس پر نجاست لگی ہے۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
رد المحتار باب صلوۃ الجنائز دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۷۳
ہمیشہ حیات حقیقی ودنیاوی روحانی وجسمانی کے ساتھ زندہ ہیں جیسا کہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے اسی لئے کوئی ان کا وارث نہیں ہوتا اور ان کی عورتوں کا کسی سے نکاح کرنا ممتنع ہے صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم بخلاف شہداء کے جن کے بارے میں کتاب مجید نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اس سے نہی فرمائی ہے کہ انہیں مردہ کہا جائے (مگر ان کی میراث تقسیم ہوگی ان کی ازواج کا دوسرا نکاح ہوسکتا ہے) تو عامہ مشائخ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فثبت(۲) ولله الحمد ان الحدیث ینفی تنجس المسلم بالموت فوجب کما قال المحققان ترجیح ان غسلہ للحدث وقد قال فی البحر انہ الاصح اما(۳) فرعا فساد صلاۃ حاملہ قبل الغسل والماء(۴) القلیل بوقوعہ فمبنیان علی قول العامۃ کما جوزہ ش اقول ونعمل بھما اخذا بالاحتیاط اما الکافر فجیفۃ خبیثۃ قطعا فالحکمان فیہ قطعیان والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تو بحمدالله یہ ثابت ہوگیا کہ حدیث پاك سے موت کی وجہ سے مسلمان کے نجس ہونے کی نفی ہوتی ہے تو دونوں محققوں کے فرمان کے بموجب اس کی ترجیح ضروری ہے کہ غسل میت حدث کی وجہ سے ہے۔ اور بحر میں فرمایا ہے کہ “ یہی اصح ہے اب رہے یہ دو۲ جزئیے کہ اگر کوئی غسل دئے بغیر مردہ کو نماز میں لیے ہوئے ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے (اور مردہ آب قلیل میں پڑ جائے تو وہ پانی فاسد ہوجاتا ہے “ ۔ تو یہ دونوں مسئلے عامہ مشائخ کے قول کی بنیاد پر ہیں جیسا کہ علامہ شامی نے بطور تجویز واحتمال اسے کہا ہے (یعنی یہ کہ ہوسکتا ہے کہ یہ قول عامہ کی بنیاد پر ہو اور حقیقۃ یہ انہی کے قول پر مبنی ہے) اقول : اور احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے ہمارا عمل مذکورہ دونوں مسئلوں پر ہوگا۔ لیکن کافر قطعا مردار خبیث ہے تو اس کے بارے میں دونوں حکم قطعی ہیں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : و ربما یترجح بہ قول من قال ان الموت حدث وافاد فی طھارۃ البحر الرائق انہ الاصح فان التیمم لم یعرف الامطھرا عن نجاسۃ
حکمیۃ قال تعالی او جآء احد منكم من الغآىط او لمستم النسآء فلم تجدوا مآء فتیمموا الایۃ الا ان یقال ان المولی عــہ سبحنہ وتعالی جعل ھذا المسح بالصعید مزیلا للخبث عن جمیع بدن المیت عند امتناع الغسل تفضلا منہ وتکرما تعبدا غیر معقول المعنی کما جعل المسح بالحجر مزیلا لہ فی الاستنجاء والله تعالی اعلم۔
کے قول پر یہ تیمم میت اسے خبث سے پاك کرنے والا ہوگا۔
اقول : اس سے ان حضرات کے قول کی ترجیح سمجھ میں آتی ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ موت حدث ہے اور البحرالرائق کے باب طہارت میں افادہ فرمایا ہے کہ یہی اصح ہے اس لئے کہ تیمم نجاست حکمیہ سے مطہر ہونے کی حیثیت سے ہی جانا پہچانا گیا ہے ارشاد باری تعالی ہے : “ تم میں کا کوئی پاخانہ سے آئے یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو اور پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو “ ۔ مگر یہ کہا جائے کہ مولی سبحنہ وتعالی نے غسل نہ ہوسکنے کی صورت میں جنس زمین سے اس مسح کو پورے بدن میت سے خبث دور کرنے والا قرار دیا ہے محض ازراہ فضل وکرم ایسا حکم تکلیفی جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں جیسے استنجاء میں پتھر سے مسح کو خبث دور کرنے والا قرار دیا ہے والله تعالی اعلم۔
عــــہ : ولابد للقائلین بالحقیقیۃ ایضا الالتجاء الی مثل ھذا فقد نصوا ان المیت تکفی فیہ غسلۃ واحدۃ وانما التثلیث سنۃ ولوکانت حقیقیۃ لوجب التثلیث فاجابوا بان ھذا من تکریم الله سبحنہ وتعالی عبدہ المسلم المیت جعل تطھیرہ بمرۃ واحدۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
نجاست حقیقیہ ماننے والوں کیلئے بھی اس طرح کی بات سے مفر نہیں کیوں کہ انہوں نے بھی یہ تصریح کی ہے میت کے بدن کو ایك بار دھونا ہی کفایت کرتا ہے اور تین بار دھونا فقط سنت ہے۔ اگر نجاست حقیقیہ ہوتی تو تین بار دھونا واجب ہوتا۔ اس کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ الله سبحانہ وتعالی کی جانب سے اپنے بندہ مسلم کی میت کی تکریم ہے کہ ایك بار سے ہی اس کی تطہیر کا حکم فرمادیا ۱۲ منہ (ت)
وقد یقال علی مابینا فی الطرس المعدل ان(۱) النجاسۃ الحکمیۃ تعم المعاصی والمکروھات ولذا کان الوضوء علی الوضوء منویا موجبا لاستعمال الماء مع عدم حدث یسلب الماء طھوریتہ ونص(۲) علماء الباطن منھم سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرہ فی المیزان ان للاطفال ایضا معاصی بحسبھم وان لم تعد معاصی فی ظاھر الشریعۃ وبھا یصیبھم مایصیبھم کما لا(۳) تعضد شجرۃ ولا تسقط ورقۃ ولایذبح حیوان الالغفلتہ عن التسبیح فعلی ھذا تحقق النجاسۃ الحکمیۃ فیھم ایضا
دوم : عاقل بچہ کو وضو ونماز کا حکم دیا جائیگا تو اگر وہ بیمار یا سفر میں ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور اس کا تیمم تیمم شرعی سے باہر نہیں جیسے اس کا وضو اور نماز۔ حالانکہ اس کے پاس حدث نہیں جیسا کہ الطرس المعدل میں ہم نے اسے بیان کیا ہے تو اس میں تطہیر کی صورت مقصود ہوتی ہے اگرچہ حقیقۃ تطہیر نہ ہو کیوں کہ نجاست حکمیہ نہیں۔ تو ایسا ہوگا جیسے خانیہ میں فرمایا ہے : “ عاقل بچہ جب تطہیر کے ارادہ سے وضو کرے تو پانی مستعمل ہوجانا چاہئے اس لئے کہ اس نے ایك معتبر قربت کا ارادہ کیا “ اھ تامل (غور کرو)
یہ بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے “ الطرس المعدل “ میں بیان کیا ہے کہ نجاست حکمیہ معاصی اور مکروہات دونوں ہی کو عام ہے اس لئے نیت کے ساتھ وضو پر وضو پانی کے مستعمل ہونے کا سبب ہے جبکہ ایسا کوئی حدث نہیں جو پانی سے مطہر ہونے کی صفت سلب کررہا ہو۔ اور علمائے باطن نے۔ جن میں سے سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ الکبری میں رقمطراز ہیں۔ تصریح فرمائی ہے کہ بچوں کیلئے بھی ان کی حالت کے لحاظ سے معاصی ہوتے ہیں اگرچہ ظاہر شریعت میں وہ معاصی کے دائرہ میں شمار نہیں اور ان ہی معاصی کی وجہ سے انہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ پہنچتی ہے جیسے یہ ہے کہ کوئی بھی درخت کاٹا جاتا ہے یا کوئی پتہ گرتا ہے یا کوئی جانور ذبح کیا جاتا ہے تو اس وجہ سے کہ وہ تسبیح الہی سے غافل
الثالث : قدمنا ان الاستعمال ھو المسح وقولك مسح العضوین علی قصد التطھیر یتبادر منہ ان الماسح ھو القاصد ولیس ھذا علی اطلاقہ فان من یمم غیرہ بامرہ یعتبر فیہ نیۃ الامر دون المامور کما تقدم عن البحر نعم من یتمم بنفسہ اویمم(۱) میتا اعتبر فیہ نیۃ الماسح والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ہوا۔ تو اس قول کی بنیاد پر بچوں میں بھی نجاست حکمیہ کا ثبوت حقیقۃ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
سوم : ہم بتاچکے ہیں کہ استعمال صعید سے مراد مسح ہے۔ اور “ بقصد تطہیر دونوں عضووں کا مسح “ کہنے سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ مسح کرنے والا قصد کرنے والا بھی ہوگا۔ حالانکہ یہ حکم مطلق نہیں اس لئے کہ جو کسی دوسرے کو اس کے حکم سے تیمم کرائے اس میں آمر کی نیت کا اعتبار ہوگا مامور کی نیت کا نہیں جیسا کہ البحرالرائق کے حوالے سے گزرا۔ ہاں جو خود تیمم کرے یا کسی میت کو تیمم کرائے تو اس میں مسح کرنے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
تعریف ہفتم رضوی۔ اقول : وبالله التوفیق ان مباحث جلیلہ میں جو کچھ ہم نے منقح کیا اس پر تیمم کی تعریف اصح واوضح واصرح بعونہ تعالی یہ ہوئی کہ فرض طہارت کیلئے کافی پانی سے عجز کی حالت میں مسلمان عاقل کا اپنے بدن سے نجاست حکمیہ حقیقۃ یا صورۃ یا میت مسلم کے بدن سے نجاست موت حقیقیہ یا دوسرے قول پر حکمیہ دور کرنے کیلئے اپنے یا اس میت کے منہ اور ہاتھوں سے اتنے حصہ پر جس کا دھونا وضو میں ہے جنس زمین سے کسی کامل الطہارۃ چیز کو خود یا اپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو حکم دے کر اس کے واسطہ سے یوں استعمال کرنا کہ یا تو خود اس فعل سے ان دونوں عضووں کے ہر جز کو اس جنس ارض سے مس واقع ہو یا اپنے خواہ اپنے مامور کے وہ کف کہ اس کی نیت مذکور کے ساتھ جنس ارض سے اتصال دئے گئے ہوں ان کے اکثر کا جدا جدا اتصالوں سے منہ اور کہنیوں کے اوپر ہر ہاتھ سے اس طرح مس ہونا کہ کوئی حصہ ایسا نہ رہے جسے خود جنس ارض یا اس کف سے اتصال نہ ہو۔
توضیحات : ہمارے ان بیانات وقیود کے بہت فوائد مباحث سابقہ سے روشن ہیں مگر ہمارے عوام بھائی کہ عربی نہ سمجھیں ان کیلئے اجمالا اعادہ اور کثیر وغزیر جدید فوائد کا کہ پہلے مذکور نہ ہوئے افادہ کریں۔
____________________
فاقول : وبالله التوفیق اول پانی سے عجز کی ۱۷۵ صورتیں ہیں : (۱) پانی وہاں سے میل بھر دور ہو اگرچہ خود۱ اپنے شہر ہی میں ہو یا سفر میں اسی طرف جدھر جارہا ہے درمختار میں ہے : لبعدہ ولومقیما فی المصر میلا (کیونکہ وہ پانی سے ایك میل دور ہے اگرچہ شہر ہی میں مقیم ہے۔ ت) فتح القدیر میں ہے قولہ المیل ھو المختار احتراز عما قیل میلان اومیلان ان کان الماء امامہ والا فمیل (مصنف کا قول “ میل “ یہی مختار ہے۔ یہ ان دونوں قولوں سے احتراز ہے : (i) دو میل (ii) دو میل اگر پانی اس کے آگے سمت میں ہو ورنہ ایك میل۔ ت)
تنبیہ : رحمۃ اللعالمین بالمومنین رؤف رحیم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شریعت مطہرہ کی رحمت دیکھیے ہمارے صرف میل بھر چلنے کی مشقت پر ایسا لحاظ فرمایا کہ اس کیلئے وضو بلکہ بحال جنابت غسل کی ضرورت نہ رکھی تیمم جائز فرمادیا اگرچہ آدمی خود اپنے شہر میں ہو بلکہ سفر میں جس طرف جانا ہے اسی طرف میل بھر ہو جب بھی یہاں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ یہ میل خود ہی طے کرے گا ہاں۲ جس طرف جاتا ہے ادھر ہی پانی ہے اور جانے میں وقت کراہت نہ آجائے گا تو مستحب یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر پانی ہی سے طہارت کرکے نماز پڑھے متون میں ہے ندب لراجیہ اخر الوقت تنویر۔ المستحب در۔ ھو الاصح ش (اس کیلئے تاخیر مندوب ہے جو آخر وقت میں پانی ملنے کی امید رکھتا ہو۔ تنویر الابصار یعنی۔ آخر وقت مستحب میں درمختار یہی اصح ہے۔ شامی۔ ت)(۲) جنگل میں کنواں ہے رسی یا ڈول بھرنے کا آلہ نہیں نہ عمامے وغیرہ سے نکال سکے نہ کوئی ایسا ہو کہ پانی اتر کر لادے (۳)یا لانے والا اجرت مثل سے زائد مانگتا ہے کما فی البحر عن التوشیح (جیسا کہ البحرالرائق میں توشیح کے حوالے سے ہے۔ ت) (۴) اقول : یا یہ مفلس ہے کہ اجرت دے ہی نہیں سکتا (۵) یا یہاں دینے کو نہیں اس کا مال دوسری جگہ ہے اور اجیر ادھار پر راضی نہیں اور اگر راضی ہوجائے تو تیمم جائز نہ ہوگا زدتھما اخذا مما یأتی فی ثمن الماء (پانی کے دام سے متعلق جو مسئلہ آرہا ہے اس سے اخذ کرتے ہوئے میں نے ان دو۲ صورتوں کا اضافہ کیا۔ ت) (۶) کپڑا تو ایسا ہے جسے رسی کی جگہ کرکے پانی نکال سکتا ہے یا بار بار ڈبو کر نچوڑنے سے پانی قابل طہارت لے سکتا ہے مگر ایسا کرنے سے کپڑا
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۸
ردالمحتار مع الرد باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۲
بحرالرائق باب التیمم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۳
فائدہ۱ درم شرعی یہاں کے روپے سے ۲۵ / ۷ ہے یعنی ساڑھے چار آنے سے ۲۵ / ۶ پائی کم۔
(۷) تالاب کا پانی اوپر سے بوجہ برف جم گیا ہے اور اس کے پاس کوئی آلہ نہیں کہ اسے توڑ کر نیچے سے پانی نکال سکے یا برف کو پگھلا سکے بحر عن المبتغی (بحر نے مبتغی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ ت)
اقول : اگر بلا آلہ ہوا سے پگھلا سکے جب بھی تیمم روانہ ہوگا مگر یہ کہ اتنی دیر میں پگھلے کہ وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
وھل ھو علی قول زفر المفتی بہ من جواز التیمم لخوف فوت وقتیۃ فیعمل بہ ثم یعید متطھرا بالماء عملا باصل المذھب ام علی قول الکل۔
اقول : الظاھر الثانی لانہ عادم للماء حقیقۃ بخلاف مسألۃ زفر فیسوغ التیمم فان کان یجدہ بعد الوقت بالذوبان الا تری ان راجیہ آخر الوقت لایجب علیہ التاخیر فکیف من
کیا یہ حکم امام زفر کے مفتی بہ قول پر ہے کہ اگر نماز وقتیہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ لہذا اس پر عمل کرلے پھر اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے پانی سے وضو کرکے نماز کا اعادہ کرے یا یہ سب کے قول پر ہے
اقول : ظاہر یہ ہے کہ سب کے قول پر ہے۔ اس لئے کہ حقیقۃ وہ پانی پانے والا نہیں بخلاف مسئلہ امام زفر کے تو تیمم اس کیلئے جائز ہے اگرچہ وقت کے بعد پگھلنے سے وہ پانی پالے گا دیکھئے کہ جسے آخر وقت میں پانی ملنے کی
البحرالرائق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۳
امید ہو اس پر تاخیر واجب نہیں پھر اس کا کیا حکم ہوگا جسے وقت میں پانی ملنے کی بالکل امید نہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۸) پانی کے پاس شیر بھیڑیا وغیرہ درندہ یا سانپ یا آگ ہے کہ پانی لے نہیں سکتا (۹) رہزن ہے کہ لوٹ لے گا (۱۰) دشمن ہے جس سے حملہ کا صحیح اندیشہ ہے (۱۱) فاسق ہے کہ عورت یا امرد کو اس سے اندیشہ بدکاری ہے (۱۲) قرضخواہ ہے اور یہ مفلس وہ مطالبہ میں حبس کرلے گا الکل فی البحر والدر (یہ سب البحرالرائق اور درمختار میں ہے۔ ت)
اقول : یہ ایك شرعی مسئلہ ہے کہ ان بلاد میں جاری نہیں یہاں قرضخواہ نالش کے سوا خود حبس کا اختیار نہیں رکھتا تو یہ یہاں یوں عذر نہیں بلالکہ اس طرح کہ اس نے گرفتاری جاری کرائی ہے اگر وہاں جاتا یا باہر نکلتا ہے گرفتار ہوجائے گا (۱۳) جو وارنٹ کے سبب پانی کے پاس نہیں جاسکتا (۱۴) جو پولیس سے روپوش ہے وقد ذکروا (۱) فی الجمعۃ ان الاختفاء من السلطان الظالم مسقط فتح وھندیۃ (علماء نے جمعہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ظالم بادشاہ کے خوف سے روپوشی کے سبب جمعہ ساقط ہوجاتا ہے۔ فتح ہندیہ۔ ت)
(۱۵) اقول : یہ دونوں صورتیں کہ فقیر نے زائد کیں ظاہر ہیں اور مسئلہ مدیون سے بدلالۃ النص ثابت تیسری صورت اور ہے کہ عزت دینی والا عالم دین جسے اعزاز دین وعلم دین کیلئے کچہریوں سے احتراز ہے مخالف نے ایذار سانی کیلئے اسے شہادت میں لکھا دیا یا اور کسی طرح طلب کرایا سمن جاری ہے اس کے خوف سے باہر نہیں جاسکتا ظاہرا یہ بھی ان شاءاللہ العزیز عذر صحیح ہے کہ آخر یہ مضرت ایك پیسے کے نقصان سے جس کیلئے شرع نے تیمم جائز فرمایا جس کا ذکر عنقریب آتا ہے کہیں زیادہ ہے فلیحرر ولیتأمل والله تعالی اعلم (اس کی توضیح اور اس میں تأمل کی ضرورت ہے والله تعالی اعلم۔ ت)یہ تین تین صورتیں بڑھیں گی کہ اجرت پر لادینے والا اجرت مثل سے زائد مانگتا ہے یا یہ اجرت دینے پر قادر نہیں یا اس وقت پاس نہیں
(۱۶ تا ۳۲) اقول : ۱۰ سے ۱۵ تك ہر صورت میں یہ بھی شرط ہے کہ کوئی پانی لادینے والا غلام خادم بیٹا وغیرہ نہ ملے اور ہر ایك میں بدستور اور وہ ادھار پر راضی نہیں۔ (۳۴) مال پاس ہے اپنا خواہ امانت اور پانی پر ساتھ لے جانے کا نہیں نہ یہاں کوئی محافظ اگر پانی لینے
فتح القدیر باب صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۳۲
(۳۵) پانی ملتا ہے مگر دو چند قیمت کو یعنی اس جگہ بازار کے بھاؤ سے اتنے پانی کی جو قیمت ہے بیچنے والا اس سے دو چند مانگتا ہے بحر عن البدائع والنھایۃ والنوادر وقدمہ فی الخانیۃ فکان ھو الاظھر الاشھر (بحر بحوالہ بدائع ونہایہ ونوادر اور خانیہ میں اسے مقدم رکھا تو یہی اظہر واشہر ہے۔ ت)
(۳۶) قیمت(۱) مثل ہی کو ملتا ہے مگر یہ مفلس ہے یعنی حاجت سے زائد اتنا مال نہیں رکھتا کمافی الدر (جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) (۳۷) مال تو رکھتا ہے مگر یہاں نہیں اور بیچنے والا ادھاردینے پر راضی نہیں ہاں(۲) راضی ہو تو خریدنا واجب اور اگر کوئی (۳) اتنے دام اسے قرض دینا چاہے تو لینا لازم نہیں تیمم کرسکتا ہے لان الاجل لازم ولامطالبۃ قبل حلولہ بخلاف القرض ش عن البحر (اس لئے کہ ادھار کی صورت میں مقررہ میعاد لازم ہوگی اور اس سے پہلے مطالبہ نہیں ہوسکتا اور قرض کا حکم اس کے برخلاف ہے۔ شامی بحوالہ بحر۔ ت)
تنبیہ : شریعت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت دیکھیے ہمارے ایك ایك پیسے پر لحاظ فرمایا گیا نہانے کی حاجت ہے اور وہاں قابل غسل پانی کی قیمت ایك پیسہ ہو اور جس کے پاس ہے دو۲ پیسے مانگتا ہے پیسہ زیادہ نہ دو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لو ایسی رحمت والی شریعت کے کسی حکم کو کرا سمجھنا یا شامت نفس سے بجا نہ لانا کیسی ناشکری وبے حیائی ہے مولی عزوجل صدقہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی رحمت کا اس فقیر عاجز اور سب اہل سنت کو کامل اتباع شریعت کی توفیق بخشے اور اپنی رحمت محضہ سے قبول فرمائے آمین وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین (۳۸) مریض ہے پانی سے طہارت کرے تو مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا اور یہ بات ظاہر علامت۴ یا تجربہ سے ثابت ہو ش عن الغنیۃ (شامی بحوالہ غنیہ)یا
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۳
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۶۲
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۴
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۴
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۱
اقول : فیہ مافیہ من الحرج وماشرع التیمم الا لدفعہ(اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس میں حرج ہے حالانکہ تیمم دفع حرج ہی کیلئے مشروع ہوا۔ ت)(۳۹) یوں ہی اگر فی الحال مرض نہیں مگر تجربہ وغیرہ دلائل معتبرہ شرعیہ مذکورہ سے ثابت ہے کہ اس وقت پانی سے طہارت کی تو بیمار ہوجائے گا ش عن القھستانی (شامی از قہستانی۔ ت) (۴۰) سردی شدید ہے اور حمام نہیں یا اجرت دینے کو نہیں نہ پانی گرم کرسکتا ہے نہ ایسے کپڑے میں کہ نہا کر ان سے گرمی حاصل کرسکے نہ تاپنے کو الاؤمل سکتا ہے اور اس سردی میں نہانے سے مرض کا صحیح خوف ہے تو تیمم کرسکتا ہے اگرچہ شہر میں ہو درمختار۔ سردی کے باعث وضو نہیں چھوڑ سکتا وھو الصحیح کما فی الخانیہ والخلاصۃ بل ھو بالاجماع مصفی (یہی صحیح ہے۔ خانیہ خلاصہ بلکہ یہ بالاجماع ہے۔ مصفی۔ ت) ہاں اگر اس سردی میں وضو سے بھی صحیح خوف حدوث مرض ہو جب بھی تیمم کرے ش عن الامداد (شامی بحوالہ امداد الفتاح۔ ت) خالی وہم کا اعتبار نہانے میں بھی نہیں وضو تو وضو (۴۱) مریض کو پانی سے طہارت تو مضر نہیں مگر جنبش مضر ہے (۴۲) ضرر تو کچھ نہیں مگر وضو نہیں کرسکتا اور دوسرا کرانے والا نہیں اور اگر ہے تو مثلا غلام یا نوکر یا اولاد جن پر اس کی اطاعت وخدمت لازم ہے تو بالاتفاق تیمم نہیں کرسکتا اور اگر اس پر خدمت لازم تو نہیں مگر اس کے کہنے سے وضو کرادے گا جیسے دوست یا زوج یا زوجہ تو معتمدیہ کہ اب بھی تیمم جائز نہیں
(۴۳)دوسرا ہے مگر وہ اجرت مانگتا ہے اور یہ قادر نہیں (۴۴) قادر بھی ہے مگر وہ اجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے الکل فی البحر والدر (یہ سب بحررائق اور درمختار میں ہے۔ ت) (۴۵) اقول : یہاں بھی وہ صورت آئیگی کہ وہ اجرت مثل ہی مانگتا ہے اور یہ دے بھی سکتا ہے مگر یہاں نہیں اور وہ ادھار پر راضی نہیں (۴۶ تا ۴۸) سفر میں پانی پاس موجود ہے اور
ردالمحتار مع الدرالمختار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۱
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۲ و ۱۷۱
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۲ و ۱۷۱
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
بحرالرائق باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۱
(۵۳) پانی دوسرے کی ملك ہے اور اس کیلئے اجازت نہیں اس کا بیان نمبر ۳۲ وغیرہ میں ہے (۵۴) نہانے کی حاجت ہے اور وہاں کچھ لوگ ہیں کہ نہ وہ ہٹتے ہیں نہ اسے آڑ ملتی ہے نہ کچھ باندھ کر نہانے کو ہے تیمم کرے اگرچہ مرد صرف مردوں ہی میں ہو یا عورت صرف عورتوں میں علی مااستظھر فی الحلیۃ والغنیۃ خلافا لما فی القنیۃ والدر (یہ اس بنیاد پر ہے جسے حلیہ اور غنیہ میں ظاہر کہہ کے بیان کیا اس کے برخلاف جو قنیہ اور درمختار میں ہے۔ ت)
اقول : ومازدت من القیود ظاھر (اور میں نے جن قیدوں کا اضافہ کیا ہے وہ ظاہر ہیں۔ ت) پھر بعد کو نماز کا اعادہ کرے یا نہ کرے اس کا ذکر نمبر ۶۷ میں آتا ہے وبالله التوفیق۔ (۵۵) اقول : یونہی اگر عورت کو وضو کرنا ہے اور وہاں کوئی نامحرم مرد موجود ہے جس سے چھپا کر ہاتھوں کا دھونا اور سر کا مسح نہیں کرسکتی تیمم کرے (۵۶) محبوس کو پانی نہیں ملتا (۵۷) کفار معاذ الله پکڑ کرلے گئے اور غسل یا وضو نہیں کرنے دیتے (۵۸) ظالم ڈراتا ہے کہ پانی سے طہارت کی تو مار ڈالوں گا یا کوئی عضو کاٹ دوں گا اور ایسا ہی خوف جس سے اکراہ ثابت ہو۔ الکل فی الذخیرۃ وشرح الوقایۃ والفتح والدرر وغیرھا (یہ سب ذخیرہ شرح وقایہ فتح القدیر درر وغیرہا میں ہے۔ ت)
اقول : ومازدت من القطع وسائر مایصح بہ الاکراہ ظاھر (میں نے عضو کاٹنے اور ہر اس چیز کا جس سے اکراہ ثابت ہو اضافہ کیا یہ ظاہر ہے۔ ت) (۵۹) پانی میل بھر سے کم دور ہے مگر نوکر یا مزدور کو آقا یا مستاجر جانے کی اجازت نہیں دیتا بحر عن المبتغی (بحر بحوالہ مبتغی) (۶۰) اقول : ریل میں ہے
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۸
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۲
قال فی البحر عن ابی یوسف اذا کان بحیث لو ذھب الیہ وتوضأ تذھب القافلۃ وتغیب عن بصرہ فھو بعید ویجوزلہ التیمم واستحسن المشائخ ھذہ الروایۃ کذا فی التجنیس وغیرہ اھ۔
اقول : والمختار فی تقدیر البعد وان کان المیل لکن ھذا عذر صحیح معتبر لاشك ولذا استحسنہ المشائخ فیجب اعتبارہ مستقلا لا من حیث تقدیر البعد بہ۔
بحر میں فرمایا : امام ابویوسف سے روایت ہے کہ “ جب یہ حالت ہو کہ پانی تك جاکر وضو کرے تو قافلہ چلا جائے گا اور اس کی نظر سے غائب ہوجائے گا تو وہ پانی سے دور ہے اور اس کیلئے تیمم جائز ہے “ ۔ مشائخ نے یہ روایت بنظر استحسان دیکھی اسے پسند کیا ایسا ہی تجنیس وغیرہ میں ہے اھ۔ (ت)
اقول : دوری کی تحدید میں مختار اگرچہ میل ہی ہے لیکن اس میں شك نہیں کہ یہ ایك صحیح او رمعتبر عذر ہے اسی لئے مشائخ نے اسے پسند کیا تو مستقل طور پر اس کا اعتبار ضروری ہے اسی لحاظ سے نہیں کہ یہی دوری کی حد مان لی گئی ہے۔ (ت)
(۶۳ تا ۶۶) اقول : عورت۱ کے پاس پانی نہیں نہ باہر نکلنے کو چادر نہ بیٹا وغیرہ لادینے والا یا۲ اجیر اجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے یا۳ یہ مفلس ہے یا۴ مال غائب اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرے اور اعادہ نہیں لان المنع من جھۃ الشرع (اس لئے کہ رکاوٹ شریعت کی جانب سے ہے۔ ت)
(۶۷) اقول شریف زادی پردہ نشین کہ باہر نکلنے کی قطعا عادی نہیں اگر گھر میں پانی نہ رہے نہ باہر سے
عادت چھڑانے میں حرج ہے خصوصا وہ نیك عادت کہ کمال حیا پر مبنی ہو اور حیا جتنی زائد ہو اسی قدر بہتر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : الحیاء خیر کلہ حیا سراسر بہتر ہے رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد والنسائی عن عمران بن حصین رضی الله تعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا(اسے بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے خدا ان سے اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو۔ ت) اوپر گزرا کہ شریعت مطہرہ نے ہمارے ایك پیسے کا لحاظ فرمایا کہ پانی بیچنے والا پیسے کی جگہ دو مانگتا ہو نہ دو اور تیمم کرلو ان شریف زادیوں کو اگر کوئی دس روپے بلکہ باعتبار حیثیت ہزار روپے دے اور کہے کنویں سے پانی بھر لاؤ ان سے ہرگز نہ ہوسکے گا
عــہ اقول : اس کی نظیر یہ ہے کہ پانی پینے کی سبیل سے وضو کی اجازت نہیں اگر صرف وہی پانی ہو تیمم کرے اور اگر کوئی شخص ظلم وغصب کا عادی ہو تو اسے بھی تیمم کا حکم ہوگا یہ نہ فرمایا جائے گا کہ تو تو غاصب ہے اسے غصبا لے کر وضو کر ۱۲ منہ (م)
الصحیح للمسلم باب عدد شعب الایمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۸
ولااقول : انہ حکم الله عزوجل بل ارجوان یکون حکمہ تعالی فلینظر فیہ العلماء الذین عـــہ لھم اعین یبصرون بھا ولھم قلوب یفقھون بھا والله یھدی السبیل وھو حسبی ونعم الوکیل۔
اما قولی انھا اذا وجدت الماء لا تعید فلان المانع الحیاء والحیاء من المولی سبحنہ وتعالی فالمانع من جھۃ صاحب الحق عزجلا لہ کما استظھر الفاضلان الرحمتی ثم الشامی فی مسألۃ نمرۃ ومثلھا قائلین ان العذر لم یأت من قبل المخلوق فان المانع لھا الشرع والحیاء وھما من الله تعالی کما قالوا (۱) لوتیمم لخوف العدو فان توعدہ علی الوضوء اوالغسل یعید لان العذر ا تی من غیر صاحب الحق ولو
اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہی الله عزوجل کا حکم ہے بلکہ مجھے امید ہے کہ یہ رب تعالی کا حکم ہو۔ تو اس میں وہ علما نظر فرمائیں جن کے پاس بصیرت والی نگاہیں اور فقاہت والے دل ہیں۔ اور خدا ہی صحیح راستے کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے اور وہی مجھے کافی اور کیا ہی عمدہ کارساز ہے۔ (ت)
لیکن یہ جو میں نے کہا کہ “ پانی پانے پر اسے اعادہ کی بھی حاجت نہیں “ ۔ تو اس لئے کہ اس کیلئے پانی سے مانع چیز حیا ہے۔ اور حیا مولی سبحنہ مثل ۵۵ میں اظہار کیا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : “ عذر مخلوق کی جانب سے نہ آیا اس لئے کہ اس عورت کے لئے مانع شریعت اور حیا ہے وتعالی کی جانب سے ہے۔ تو مانع خود صاحب حق عزجلالہ کی طرف سے ہے جیسا کہ فاضل رحمتی پھر شامی نے مسئلہ ۵۴ میں اور اسی کے دونوں ہی الله تعالی کی جانب سے ہیں۔ جیسا کہ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر دشمن کے خوف سے تیمم کیا تو اگر یہ صورت ہے کہ دشمن نے وضو یا غسل کرنے پر کوئی دھمکی دی ہے تو اعادہ کرے گا اس لئے کہ عذر صاحب حق (مولی تعالی) کی جانب سے نہیں۔
عـــہ احتراز عن بعض ابناء الزمان الذین تسموا بالعلم ومالھم من العلم الا الاسم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ ایسے بعض ابنائے زمانہ سے احتراز ہے جنہوں نے اپنے ساتھ علم وعلماء کا نام چسپاں کرلیا ہے اور حقیقت میں ان کے پاس علم نہیں صرف علم کا نام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ظاھر المذھب فی الممنوع من ازالۃ الحدث بصنع العباد اھ ورأیتنی کتبت علی قول الرحمتی المذکور مانصہ۔
اقول : وباللہ(۱) التوفیق محل(۲) المسألۃ انما ھو حیث کان ممنوعا عن التحول الی موضع ستر والا لم یجز لہ الکشف ولا التیمم قطعا فھذا المنع اما ان یکون من قبل القوم کأن حبسوہ اوقالوا لہ لوتحولت قتلناك اوسلبناك فان المال شقیق النفس
اور اگر دشمن کے ڈرائے بغیر یہ خوفزدہ ہوا (اورتیمم کرلیا) تو اعادہ نہیں۔ اس لئے کہ خدائے تعالی نے ہی اس کے دل میں خوف ڈال دیا تو یہ عذر صاحب حق کی جانب سے ہی آیا لہذا اس پر اعادہ لازم نہیں “ ۔ اھ (ت)
اور معلوم ہے کہ ہمارے زیر تحریر مسئلہ میں معاملہ اس سے زیادہ ظاہر اور واضح ہے۔ اس لئے یہاں بندوں کی جانب سے کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ اور اس مسئلہ میں تو محقق حلبی نے حلیہ میں یہ لکھا ہے کہ “ جو شخص بندوں کے فعل کی وجہ سے ازالہ حدث نہ کرسکے اس کے متعلق ظاہر مذہب میں یہی حکم ہے کہ اعادہ کرے “ تو ظاہر مذہب میں تفریع کرتے ہوئے یہاں بھی زیادہ مناسب اعادہ ہی ہے “ اھ میں نے دیکھا کہ رحمتی کے قول مذکور پر خود میں نے کبھی درج ذیل عبارت تحریر کی تھی :
اقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے) یہ مسئلہ اسی صورت میں ہے جب کسی پردہ کی جگہ چلے جانے سے رکاوٹ ہو ورنہ اس کیلئے نہ ستر کھولنا جائز ہوگا نہ ہی تیمم کرنا جائز ہوگا۔ اب یہ رکاوٹ یا۱ تو لوگوں کی جانب سے ہے۔ مثلا اسے قید کردیا ہے یا اس سے کہا ہے کہ یہاں سے ہٹے تو ہم تجھے قتل کردیں گے یا تیرا مال چھین لیں گے۔ مال بھی جان کا بھائی ہے۔ یا لوگوں کی جانب سے
ردالمحتار ابحاث الغسل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۵
رکاوٹ نہیں ہے۔ مثلا بیمار ہے یا سمندر کی گہرائی میں کشتی پر سوار ہے۔ پہلی صورت میں رکاوٹ بلاشبہ بندوں کی جانب سے ہے تو تیمم کرے گا پھر اعادہ کرے گا۔ اور دوسری صورت میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہے پیٹھ پھیر لیں یا نگاہ بند کرلیں اگر وہ ایسا کرلیں تو ٹھیك ورنہ وہ رکاوٹ کا سبب بن گئے اگرچہ اصل مانع ان کی طرف سے نہیں۔ جیسے خوف کا معاملہ ہے کہ دراصل یہ الله تعالی کی جانب سے ہے اس کے باوجود جب خوف اس سبب سے پیدا ہوا کہ کسی بندے نے دھمکی دی ہے تو وہ بندے کی جانب سے شمار ہوتا ہے اور اعادہ کا حکم دیا جاتا ہے اس تفصیل کی روشنی میں اشبہ (زیادہ مناسب) وہی ہے جو محقق حلبی نے فرمایا۔ ساتھ ہی اس میں احتیاط کا پہلو بھی ہے کیونکہ اعادہ کرلے تو یقینی طور پر سبکدوش اور عہدہ برآ ہوجائے گا اس لیے انہی کے قول پر اعتماد ہونا چاہئے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
(۶۸ تا ۷۰) اقول : یوں ہی اگر پانی لادینے والا اجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اجرت مثل سے زیادہ کا طالب علی وزان مامر فی ۳۵ ۳۶ ۳۷ عن البحر والدر (اسی طور پر جیسا کہ نمبر ۳۵ ۳۶ ۳۷ میں بحررائق اور درمختار کے حوالہ سے بیان ہوا ہے۔ ت)
(۷۱) اقول : کنواں رسی ڈول سب کچھ موجود ہے مگر یہ ایسا مریض یا اتنا ضعیف ہے کہ بھرنے پر قادر نہیں اور نوکر غلام بیٹا کوئی پاس نہیں نہ کوئی ایسا کہ اس کے کہے سے بھر دے نہ اور تدبیروں سے کہ نمبر۲ میں گزریں
فقد تحقق عجزہ وھو ملاك الاباحۃ وکانہ دخل فیما ذکروا من فقد الالۃ فان فیہ الفقد حکما وان لم یکن حساکما قال تعالی ولم تجدوا ماء فعم الفقد الحسی والحکمی۔
اس لئے کہ اس کا عاجز ہونا متحقق ہوگیا اور جو ازتیمم کی بنیاد یہی ہے۔ علماء نے پانی کھینچنے کا آلہ نہ پانے کا جو ذکر کیا ہے گویا یہ صورت بھی اس میں داخل ہے کیونکہ اس میں بھی حکما ذریعہ کا فقدان ہے اگرچہ حسا فقدان نہیں جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے : “ اور تم پانی نہ پاؤ “ یہ حسی وحکمی دونوں فقدان کو شامل ہے۔ (ت)
(۷۲ تا ۷۴) اقول یوں ہی اگر دوسرا پانی بھر دینے والا اجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اجرت مثل سے زائد مانگتا ہے۔
(۷۵ تا ۷۸) اقول انہی صورتوں کی مثل ہے کہ یہ مریض وضعیف بھی نہ ہو مگر(۱) کنویں کا چرسہ اکیلے سے نہ کھینچ سکے گا اور دوسرا چھوٹا ڈول یا پانی لینے کا اور طریقہ نہیں نہ اس کے پاس اتنے آدمی کہ مل کر کھینچ دیں یا کھنچوانے (۲) کی اجرت نہیں رکھتا یا کھنچنے(۳) والے اجرت مثل سے زیادہ مانگتے ہیں یا ادھار(۴) پر راضی نہیں اور یہ صورت اکیلے شخص پر محصور نہیں دو۲ یا زائد بھی ہوں مگر اس چرسہ کے کھینچنے کو زیادہ آدمی درکار ہیں جب بھی یہی احکام ہوں گے خصوصا جبکہ یہ عورتیں ہوں کواقعۃ بنتی شعیب علیہ وعلیھما الصلاۃ والسلام (جیسے حضرت شعیب کی دونوں بیٹیوں کا واقعہ ہے۔ ان پر اور ان دونوں پر درود وسلام۔ ت)
(۷۹) اقول : پانی پر گزرا سامان سب حاضر ہے مگر یہ گھوڑے پر سوار ہے اور گھوڑا بدرکاب کہ اترکر چڑھنے میں بہت دقت کا سامنا ہوگاتیمم کرکے گھوڑے پر پڑھ لے جبکہ جنس ارض سے کوئی شے پاس ہو اگرچہ چلم ہو یا زین وغیرہ پر اتنا غبار ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے۔
(۸۰ تا ۸۳) اقول : یونہی اگرچہ سواری شائستہ ہو مگر یہ مریض یا ایسا ضعیف ہے کہ بے مددگار چڑھ نہ سکے گا اور(۱) مددگار انہیں تفصیلوں پر نہیں یا(۲) اجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا(۳) وہ ادھار پر راضی نہیں یا(۴) اجرت مثل سے زیادہ چاہتا ہے۔
(۸۴) اقول : یو ں ہی اگر سوار عورت ہے اور چڑھانے کو محرم یا شوہر درکار اور وہ ساتھ نہیں منیہ میں ہے :
الشئخ(۱) اذارکب دابۃ ولم یقدر علی
“ بوڑھا شخص کسی جانور پر سوار ہوا اور اترنے پر قدرت
اقول : اما الاولویۃ فی تأتی جواب الخانیۃ ان حمل علی الجواز مطلقا وان ساعدھا من معھا علی الرکوب والنزول فظاھرۃ ولکن
نہیں یا عورت سوار ہوئی جس کے ساتھ کوئی محرم نہیں تو دونوں کے لئے یہ حکم ہے کہ سواری پر نماز پڑھ لیں “ اھ حلیہ میں فرمایا : “ لکہ خانیہ کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے ساتھ محرم ہو جب بھی اس کے لئے اجازت ہے اس لئے کہ خانیہ میں یہ ہے کہ جب مرد اپنی عورت کو سوار کرکے گاؤں سے شہر لے جائے تو عورت راستے میں سواری پر نماز پڑھ لے جب چڑھنے اترنے پر قادر نہ ہو “ انتہی۔ یہ حکم امام اعظم ابوحنیفہ کے قاعدہ پر تو ظاہر ہے اس لئے کہ وہ انسان کیلئے دوسرے کے ذریعہ حاصل ہونے والی قدرت کو خود اس کی اپنی قدرت کی طرح قرار نہیں دیتے۔ لیکن صاحبین کے قول پر اس صورت میں اس کا جواز نہیں ہونا چاہئے جب شوہر چڑھنے اترنے میں اس کی مدد کرسکتا ہو اور اپنی مدد پیش بھی کرسکتا ہو پھر خانیہ میں جو حکم مذکور ہے یہ ہماری تنقید کے ساتھ اس صورت میں بھی بدرجہ اولی جاری ہوگا جب بجائے شوہر کے کوئی محرم یا اجنبی ہو جیسا کہ ظاہر ہے اھ “ ۔ (ت)
اقول : خانیہ میں مذکورہ حکم کے جاری ہونے کا اگر یہ معنی ہے کہ مطلقا جواز ہو اگرچہ عورت کا ہم راہی اترنے چڑھنے میں اس کا معاون ہو تو یہاں اس کا اولی ہونا ظاہر ہے۔ لیکن (یہاں صاحب حلیہ کی تنقید بھی بدرجہ اولی جاری ہونے
تعلیق المجلی مع المنیۃ فرائض الصلوٰۃ مکتبہ قادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور (ملتقطًا )
پر ہمیں کلام ہے) اولا محرم سے متعلق تنقید مذکور بطریق اولی کیوں کر جاری ہوسکتی ہے اس تنقید کے معاملہ میں تو شوہر ہی اولی ہے ثانیا اجنبی کے سلسلہ میں تو تنقید مذکور جاری بھی نہیں ہوسکتی اس کا اولی ہونا تو درکنار اس لئے کہ اس کے چڑھانے اتارنے میں بہت خرابیاں دشواریاں ہیں متن (منیۃ المصلی) کے مسئلہ میں اس کی صراحت ہے کہ جب عورت کے ساتھ اجنبی ہو تو اس کیلئے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے یہ اس کی صریح عبارت اور منطوق ہے۔ اور جب عورت کے ساتھ محرم ہو تو سواری پر نماز پڑھنا جائز نہیں یہ اس کا معنی مخالف اور مفہوم ہے تو فہم وثبات سے کام لو۔ (ت)
(۸۵) اقول : یوں ہی اگر اترنے چڑھنے سے بیماری بڑھے۔ یہ مسائل علمائے کرام نے دربارہ نماز ذکر فرمائے کہ یوں اترنے سے عجز ہو تو سواری پر پڑھے تو دربارہ طہارت بدرجہ اولی درمختار میں زیر قول متن الصلاۃ علی الدابۃ تجوز فی حالۃ العذرلا فی غیرھا (سواری پر نماز ادا کرنا بحالت عذر جائز ہے بلاعذر نہیں۔ ت) فرمایا ومن(۴) العذر دابۃ لاترکب الابعناء اوبمعین (یہ بھی عذر ہی ہے کہ جانور پر مشقت یا کسی مددگار کے بغیر سوار نہ ہوسکے۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
لوکانت الدابۃ جموحا لونزل لایمکنہ الرکوب الابمعین اوکان شئخا کبیرا لونزل لایمکنہ ان یرکب ولایجد من یعینہ تجوز الصلاۃ علی الدابۃ اھ وقدمنا عن المجتبی ان
اگر جانور سرکش ہوکہ اتر جائے تو بغیر مددگار کے اس پر چڑھنا ممکن نہ ہو یا سوار بہت بوڑھا ہوکہ اتر جائے تو چڑھ نہ سکے نہ ہی اسے کوئی مددگار ملے تو سواری پر نماز ادا کرنا جائز ہے اھ اور ہم مجتبی کے حوالہ سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان کے
نزدیك اصح یہ ہے کہ اترنا لازم ہے اگر ایسا کوئی اجنبی مل جائے جو اس کی بات مان لے۔ تو اس بنیاد پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس شخص کیلئے اترنا لازم ہے جسے کوئی ایسا مددگار مل جائے جو اس کی بات مان لے اور ایسا بیمار نہ ہو کہ اترنے سے مرض بڑھ جائے اور منیہ میں ہے کہ : “ عورت کے ساتھ جب محرم نہ ہو تو اس کیلئے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اترنے پر قدرت نہ ہو اھ۔ (ت)
(۸۶) اقول : اگر زخم ہے کہ اترنے سے جاری ہوجائے گا اور نماز طہارت سے نہ مل سکے گی نہ اترے اورتیمم سے پڑھے یہ مسئلہ بھی علماء نے نماز میں افادہ فرمایا ہے کہ اگر کھڑے ہونے سے زخم جاری ہوتا ہو بیٹھ کر پڑھے درمختار۲ میں ہے قدیتحتم القعود کمن یسیل جرحہ اذاقام اویسلس بولہ (اس کیلئے بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب ہے جس کا زخم قیام سے بہنے لگتا ہو یا جسے کھڑے ہونے سے پیشاب آنے لگتا ہو۔ ت)
(۸۷) ہر عبادت فرض یا واجب یا سنت کہ پانی سے طہارت کرے تو فوت ہوجائے گی اور اس کا عوض کچھ نہ ہوگا اس کیلئے تیمم کرسکتا ہے مگر یہ تیمم۳ صرف اسی عبادت کیلئے طہارت ہوگا نہ اور کیلئے کہ اسی کی ضرورت سے اجازت ہوئی تھی تو اس تیمم سے کوئی اور عبادت کہ بے طہارت جائز نہ ہوجائز نہ ہوگی اس۴ فوت بلاعوض کی بہت صورتیں ہیں مثلا نماز۱ جنازہ قائم ہے یا قائم ہونے کو ہے اس کے وضو کا انتظار نہ ہوگا جب تك وضو کرے چاروں تکبیریں ہوچکیں گی اگرچہ سلام پھیرنا باقی رہے کہ نماز۵ جنازہ تکبیروں پر ختم ہوجاتی ہے ان کے بعد ملنے کا محل نہیں اگرچہ ابھی سلام نہ ہوا ہو کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) یا۲ عیدین کا وقت نکل جائےگا یا ان کا امام معین سلام پھیر دے گا ۔
اقول : جبکہ دوسرے امام معین کے پیچھے نہ ملیں کماقالوا فی الفاسق لایقتدی بہ فی الجمعۃ ایضا اذا تعددت فی المصرلانہ بسبیل من التحول کما فی الفتح وغیرہ (جیسے علما
الدرالمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۰
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۳
فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
اقول : اور اگر کسوف باقی رہے اور جماعت ہوچکے گی توتیمم کی اجازت نہیں کہ اگرچہ کسوف۲ میں بھی ہر شخص امامت نہیں کرسکتا خاص امام جمعہ ہی اس کا امام ہوسکتا ہے کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اس۳ میں جماعت ضروری نہیں تنہا بھی ہوسکتی ہے نہ مثل۴ جنازہ تکرار ممنوع ہے
لتصریحھم بجواز ان یصلیھا کل بحیالہ فی بیتہ کما فی شرح الطحاوی ومشی علیہ فی الدر او فی مساجد ھم علی مافی الظھیریۃ وعزاہ فی المحیط الی شمس الائمۃ ش عن مفتی دمشق اسمعیل نعم الجماعۃ مستحبۃ اذاحضر امام الجمعۃ کمافی الدر۔
اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز کسوف ہر شخص اپنے گھر میں انفرادی طور پر ادا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ شرح طحاوی میں ہے اس راہ پر صاحب درمختار بھی گئے ہیں یا لوگ اپنی اپنی مسجدوں میں بھی ادا کرسکتے ہیں جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اور محیط میں اسے شمس الائمہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ شامی از مفتی دمشق شئخ اسمعیل۔ ہاں جب امام جمعہ موجود ہو تو جماعت مستحب ہے۔ جیسا کہ درمختار میں ہے۔ (ت)
الدرالمختار صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۷
الدرالمختار مع الشامی صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۲۳
الدرالمختار مع الشامی صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۲۳
الدرالمختار صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۷
اقول : بل اولھما ھی ھذہ التی اثرھا عن شئخہ وذکر اخری وردھا وھی حقیقۃ بالرد (بلکہ ان دونوں سے بہتر یہی صورت ہے جو شامی نے اپنے شئخ سے نقل فرمائی اور دوسری صورت ذکر کرکے اسے رد کردیا اور وہ رد ہی کے لائق ہے۔ ت) یا۱۳ بے وضو خصوصا جنب ہے اور کسی نے سلام کیا یا۱۴ کوئی سامنے آیا اور خود اسے سلام کرنا ہے اور سلام نام الہی عزوجل ہے بے طہارت لینا نہ چاہا اور وضو کرے تو سلام فوت ہوتا ہے کہ جواب۳ میں اتنی دیر کی اجازت نہیں اور سلام۴ بھی ابتدائے لقا پر ہے نہ بعد دیر لہذا اجازت ہے کہ تیمم کرکے جواب دے یا سلام کرے مسئلہ جواب خود فعل اقدس حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت کہ
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۸
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۸
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۸
تنبیہ : علامہ سید طحطاوی پھر ان کے اتباع سے علامہ سید شامی نے دو۲ چیزیں اور زائد کیں وضو کرتا ہے تو چاند گہن ہوچکے گا یا ضحوہ کبری ہوجائے گی نماز چاشت جاتی رہے گی تو ان دونوں کوتیمم سے ادا کرلے درمختار میں تھا :
قال فی الدر جاز لکسوف فقال ط مرادہ مایعم الخسوف اھ ونقلہ ش واقرہ وقال فی حاشیتہ علی المراقی اخذ منہ الحلبی جواز التیمم للکسوف ای والخسوف اھ وقال ھوثم ش الظاھر ان المستحب کذلك لفوتہ
تیمم سورج گرہن کی نماز کیلئے جائز ہے۔ اس پر طحطاوی نے کہا اس سے ان کی مراد وہ ہے جو چاند گہن کو بھی شامل ہے اھ۔ اسے شامی نے نقل فرما کر برقرار رکھا۔ اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا ہے کہ اسی سے حلبی نے سورج گہن کیلئے۔ یعنی چاند گہن کیلئے بھی تیمم کا جواز اخذ کیا ہے اھ۔ اور انہوں نے پھر علامہ شامی نے فرمایا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ مستحب کا
حلیہ
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۰
طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ بیروت ۱ / ۱۲۹
طحطاوی علی مراقی الفلاح باب التیمم مطبعہ ازہریہ مصر ص۶۸
بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ بھی وقت کے فوت ہونے سے فوت ہوجاتا ہے مثلا چاشت کا وقت اتنا تنگ ہوجائے کہ نماز چاشت اور وضو دونوں کی گنجائش نہ رہے تو اس نماز کیلئے تیمم کرلے گا اھ۔ (ت)
اقول : اس تقدیر پر نماز۱۷ تہجد کیلئے بھی تیمم جائز ہوگا جبکہ وضو کرنے میں دو۲ رکعت کا وقت نہ ملے اور فجر طلوع کر آئے کہ ہماری تحقیق۱ میں وہ مستحب ہے کمابیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت) اگر زعم بعض کے طور پر سنت مؤکدہ مانئے جب تو مثل رواتب جواز ہوگا ہی مگر وہ ضعیف ہے یوں ہی فجر کی سنتیں جب تنہا قضا ہوں زوال تك ان کی قضا مستحب ہے اور ایك تخریج پر امام محمد کے نزدیك سنت۔ خیر یہاں کلام اس میں ہے کہ مستحب نمازیں بھی حسب گمان فاضلین طحطاوی وشامی اس جوازتیمم میں مثل رواتب ہیں۔
اقول : مگریہ سخت۲ تأمل ہے کتب۳ مذہب میں صرف دو۲ نمازوں کا ذکر ہے جنازہ وعیدین اور اسی قدر ائمہ مذہب سے منقول حتی کہ خود علامہ ابن امیر حاج حلبی نے حلیہ میں تصریح فرمائی کہ ہمارے نزدیك تندرست کو بے خوف مرض پانی ہوتے ہوئے انہیں دو۲ نمازوں کے لئے تیمم جائز ہے۔
وھذا نصہ اعلم انہ یجوز التیمم للصحیح فی المصر عندنا فی ثلاث مسائل احدھما اذا کان جنبا وخاف المرض بسبب الاغتسال بالماء البارد الثانیۃ حضرت جنازۃ وخاف ان اشتغل بالوضوء تفوتہ الصلوۃ علیھا الثالثۃ اذا خاف فوات صلاۃ العید ج اھ
ان کی عبارت یہ ہے : ہمارے نزدیك تندرست کیلئے شہر میں تیمم کا جواز تین مسائل میں ہے۔ (۱) جب حالت جنابت میں ہو اور ٹھنڈے پانی سے غسل کی وجہ سے بیماری کا اندیشہ رکھتا ہو (ت)(۲) جنازہ حاضر ہو اور وضو کرنے کی صورت میں نمازجنازہ فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ (۳) نماز عید فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اھ (ت)
اور۴ عدد نافی زیادت ہے کمافی الھدایۃ وغیرھا (جیسا کہ ہدایہ وغیرہا میں ہے۔ ت) بلکہ امام ملك العلماء نے بدائع میں صراحۃ انہیں دو نمازوں میں حصر اور اس کے ماسوا کے لئے عدم جوازتیمم
حلیہ
حیث قال وھذا الشرط الذی ذکرنا الجواز التیمم وھو عدم الماء فیما وراء صلاۃ الجنازۃ وصلاۃ العیدین فاما فی ھاتین الصلاتین فلیس بشرط بل الشرط فیھما خوف الفوت لواشتغل بالوضوء ۔
وہ فرماتے ہیں : جوازتیمم کیلئے ہم نے پانی نہ ہونے کی جو شرط ذکر کی یہ نماز جنازہ اور عیدین کے ماسوا میں ہے۔ ان دونوں میں یہ شرط نہیں ب بلکہ یہ شرط ہے کہ وضو میں مشغول ہونے سے فوت نماز کا اندیشہ ہو۔ (ت)
بعینہ اسی طرح امام تمرتاشی وامام علی اسبیجابی نے صراحۃ انہیں دو۲ میں حصر فرمایا بحر میں زیر قول ماتن ولبعدہ میلا جبکہ وہ ایك میل دور ہو۔ ت) ہے۔
قال فی شرح الطحاوی لایجوز التیمم فی المصر الا لخوف فوت جنازۃ اوصلاۃ عید او للجنب الخائف من البرد وکذا ذکر التمرتاشی ۔
شرح طحاوی میں فرمایا : شہر میں تیمم کا جواز صرف نماز جنازہ یا نماز عید کے فوت ہونے کے اندیشہ سے ہے یا ایسے جنبی کیلئے جسے ٹھنڈك سے اندیشہ ہو۔ ایسے ہی تمرتاشی نے بھی ذکر کیا ہے۔ (ت)
اسی طرح خزانۃ المفتین میں نوازل سے ہے لایجوز التیمم فی المصر الا فی ثلثۃ مواضع الخ (شہر کے اندر تین مقامات کے سواتیمم جائز نہیں الخ۔ ت)تو اصل حکم منصوص تو یہ ہے ہاں حلیہ نے اپنی بحث میں نظربہ علت کہ خوف فوت لا الی بدل ہے نماز کسوف وسنن رواتب کا الحاق کیا ان کی تبعیت بحر ونہر ودر نے بھی کی اور یوں ہی سنن کو رواتب سے مقید کیا یہ قید۱ نافلہ محضہ کو خارج کررہی ہے پھر حلیہ میں۲ رواتب کے الحاق پر بھی اس سے استظہار کیا کہ نماز عید کیلئے تیمم ائمہ مذہب سے منقول ہے اور وہ مختار امام شمس الائمہ سرخسی وغیرہ میں سنت ہی ہے جس سے ظاہر کہ سنن رواتب کے الحاق میں بھی اشتباہ تھا کہ جنازہ فرض عیدین واجب ہیں اس اشتباہ کا یوں ازالہ کیا
حیث قال فتحصل کما فی شرح الزاھدی للقدوری ان الصلوۃ ثلاثۃ انواع نوع لائخشی فوتھا اصلا لعدم توقیتھا کالنوافل فلایجوزلہ التیمم عند وجود الماء لعدم
فرمایا : “ حاصل یہ ہوا جیسا کہ زاہدی کی شرح قدوری میں ہے کہ نماز تین قسم کی ہے ایك قسم وہ جس کے فوت ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں کیوں کہ
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
خزانۃ المفتین
اس کا کوئی مقررہ وقت نہیں جیسے نوافل۔ اس کیلئے پانی کی موجودگی میں تیمم جائز نہیں اس لئے کہ کوئی عذر نہیں دوسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وقت مقرر ہے لیکن فوت ہونے کے بعد اس کی قضا ہوسکتی ہے جیسے نماز جمعہ اور پنجگانہ فرائض۔ اس کیلئے بھی تیمم جائز نہیں کیونکہ کامل تر طہارت کے ساتھ بدل کے ذریعہ اس کا تدارك ہوسکتا ہے۔ تیسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے اور کوئی بدل نہیں جیسے نماز جنازہ اور عید اس کیلئے تیمم جائز ہے بخلاف امام شافعی کے بندہ ضعیف -- خدا اس کی مغفرت فرمائے کہتا ہے : اس قائل پر لازم آتا ہے کہ نماز کسوف اور سنن رواتب کیلئے بھی تیمم کا جواز مانے کیونکہ یہ بھی ایسی فوت ہونے والی نمازیں ہیں کہ ان کا کوئی بدل نہیں خصوصا اس قول پر کہ نماز عید سنت ہے جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے “ ۔ اھ (ت)
اور پر ظاہر کہ نفل مطلق سنت راتبہ کے حکم میں نہیں شرع ان کا مطالبہ فرماتی ہے اور اس کا نہیں تو یہ ان سے کیونکر ملحق کیا جائے مطالبہ شرع۱ ہی وہ چیز ہے جو اس صورت میں جوازتیمم کی راہ دیتا ہے ظاہر ہے کہ پانی موجود اور استعمال پر قدرت ہو توتیمم باطل اگر کرے تو نماز بے طہارت ہو اور نماز بے طہارت حرام قطعی ہے ہاں جب صاحب حق عز جلالہ خاص اس عبادت کا اس وقت خاص میں اس سے مطالبہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی حکم ہے کہ یہ وقت نکل گیا تو اس مطالبہ سے برأت کی کوئی صورت نہیں اس کا بدل بھی نہ ہوسکے گا اور وقت میں تنگی ہے کہ وضو نہیں کرسکتا لاجرم اس ادائے مطالبہ کیلئے پانی پر قادر نہ ہونا ثابت ہوا اورتیمم کی راہ ملی جس نماز کا شرع مطالبہ ہی نہیں فرماتی اس میں کون سی عہدہ برائی کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز
فتح القدیر وغنیہ میں ہے :
منعہ (ای التیمم لصلاۃ الجنازۃ) الشافعی لانہ تیمم مع عدم شرطہ قلنا مخاطب بالصلاۃ عاجز عن الوضوء لھا فیجوزا ماالاولی فلان تعلق فرض الکفایۃ علی العموم غیر انہ یسقط بفعل البعض واما الثانیۃ فبفرض المسألۃ ۔
امام شافعی نماز جنازہ کے لئے تیمم کا جواز نہیں مانتے۔ اس لئے کہ یہ ایساتیمم ہوگا جس کی شرط مفقود ہے ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ (شرط موجود ہے اس لئے کہ) اس شخص سے بھی ادائے نماز کا خطاب ہے جو اس کیلئے وضو سے عاجز ہے توتیمم کا جواز ہوگا۔ پہلی بات اس لئے ہے کہ فرض کفایہ کا تعلق بطور عموم سبھی سے ہے اتنا ہے کہ بعض کے ادا کرلینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ دوسری بات کی تفصیل مسئلہ کی مفروضہ صورت سے ظاہر ہے۔ (ت)
نماز چاشت ونماز تہجد کا مطالبہ کب ہے یوں ہی چاند گہن کی نماز صرف مستحب ہے بخلاف نماز کسوف۲ کہ اس مرتبہ کی سنت ہے جسے امام دبوسی نے واجب کہا اور اسی کو امام ملك العلماء نے بدائع میں ترجیح دی اور دلائل سنیت سے جواب دیا ہاں مختار جمہور سنیت ہے اقول : بلکہ وہ کتاب مبسوط میں محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا نص ہے کماسیأتی مناتحقیقہ فانقطع النزاع (جیسا کہ اس کی تحقیق ہمارے قلم سے عنقریب آرہی ہے تو اس نص سے اختلاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ت) بدائع میں فرمایا :
صلاۃ الکسوف واجبۃ ام سنۃ ذکر محمد رحمہ الله تعالی فی الاصل ما یدل علی عدم الوجوب فانہ قال ولا تصلی نافلۃ فی جماعۃ الا قیام رمضان وصلاۃ الکسوف وروی الحسن بن زیاد
نماز کسوف واجب ہے یا سنت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اصل (مبسوط) میں جو تحریر فرمایا ہے اس سے عدم وجوب کا پتا چلتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : “ قیام رمضان اور نماز کسوف کے علاوہ کوئی نماز نفل باجماعت نہ ادا کی جائے گی “ ۔ اور حسن بن زیاد
یجری بین الواجبات کمافی قولہ تعالی فكفارته اطعام عشرة مسكین من اوسط ما تطعمون اهلیكم او كسوتهم او تحریر
نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ انہوں نے سورج گہن کے بارے میں فرمایا ہے کہ “ لوگ اگر چاہیں تو دو۲ رکعت پڑھیں چاہیں تو چار پڑھیں اور چاہیں تو زیادہ پڑھیں “ اور تخییر نوافل ہی میں ہوتی ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ نماز کسوف واجب ہے اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے (اس کے بعد حدیث کسوف ذکر کی ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد ہے) نماز اداکرو یہاں تك کہ سورج روشن ہوجائے۔ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہکی روایت میں یہ الفاظ ہیں : “ تو جب تم اسے دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو “ ۔ اور مطلق امر وجوب کیلئے ہوتا ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اسے نفل کے نام سے ذکر کرنا وجوب کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ نفل کا معنی “ زائد “ ہے اور ہر واجب مقررہ فرائض سے زائد ہی ہے۔ دیکھ لیجئے کہ انہوں نے نماز کسوف کو قیام رمضان کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ نماز تراویح ہے جو سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ واجب کا معنی رکھتی ہے اور حسن بن زیاد کی روایت سے بھی وجوب کی نفی نہیں ہوتی اس لئے کہ تخییر واجبات میں بھی ہوتی ہے جیسے باری تعالی کے اس ارشاد میں ہے : “ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو اس میں سے متوسط قسم کا کھانا یا دس مسکینوں کو کپڑا دینا یا ایك بردہ
وما ارادبہ دفعہ فی العنایۃ بقولہ بعد ایراد الحدیث فان قیل ھذا امر والامر للوجوب فکان ینبغی ان تکون واجبۃ قلنا قدذھب الی ذلك بعض اصحابنا واختارہ صاحب الاسرار والعامۃ ذھبت الی کونھا سنۃ لانھا لیست من شعائر الاسلام فانھا توجد بعارض لکن صلاھا النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فکانت سنۃ والامر للندب اھ۔
فاقول : حاصلہ ان ھذا لیس بشعار وکل واجب شعار فھذا لیس بواجب والکبری(۱) ممنوعۃ فرب واجب لیس من الشعائر ککفارۃ الیمین والظھار والصیام وکذا(۲) الصغری ممنوعۃ ودلیلھا ان ھذا لعارض وما کان لعارض لم یکن شعارا فیہ ایضا الکبری ممنوعۃ وای دلیل علیھا وقد قال فی الاسرار
آزاد کرنا “ ۔ ملك العلماء قدس سرہ کا کلام ختم ہوا۔
عنایۃ میں اس کا جواب حدیث ذکر کرنے کے بعد اس طور پر دینا چاہا ہے : “ اگر کہا جائے کہ یہ امر ہے اور امر وجوب کیلئے ہوتا ہے تو نماز کسوف کو واجب ہونا چاہئے۔ تو ہم کہیں گے ہاں اس طرف ہمارے بعض اصحاب گئے ہیں اسی کو صاحب اسرار نے بھی اختیار کیا ہے۔ مگر عامہ علماء کا مذہب یہ ہے کہ نماز کسوف سنت ہے اس لئے کہ یہ شعار اسلام نہیں کیونکہ اس کا وجود عارضی طور پر ہوتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نماز کسوف پڑھی ہے اس لئے سنت ہوئی اور امر ندب کیلئے ہے “ ۔ اھ (ت)
فاقول : اس جواب کا حاصل یہ ہوا کہ نماز کسوف شعار نہیں اور ہر واجب شعار ہوتا ہے اس لئے نماز کسوف واجب نہیں اس دلیل کا کبری ممنوع ہے اس لئے کہ بہت سے ایسے بھی واجب ہیں جو شعار نہیں جیسے کفارہ قسم کفارہ ظہار کفارہ صیام اسی طرح صغری بھی ممنوع ہے صغری کی دلیل یہ دی تھی کہ یہ نماز عارض کی بنا پر ہوتی ہے اور جو عارض کی بنا پر ہو وہ شعار نہیں اس قیاس کا بھی کبری ممنوع ہے۔ آخر اس کبری کی دلیل کیا ہے جب کہ اسرار میں یہ فرمایا ہے
عنایۃ مع الفتح باب صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۶
وقال فی البدائع امافی کسوف الشمس فقد ذکر القاضی فی شرحہ مختصر الطحاوی انہ یصلی(۱) فی الموضع الذی یصلی فیہ العید اوالمسجد الجامع لانھا من شعائر الاسلام فتؤدی فی المکان المعد لاظھار الشعائر اھ وقد اجاب فی الفتح عن استدلال الاسرار علی وجوبھا بشعاریتھا بان المعنی المذکور لایستلزم الوجوب اذلامانع من استنان شعار مقصود ابتداء فضلا عن شعار یتعلق بعارض اھ۔ وھذا کما ینفی الاستدلال علی الوجوب بالشعاریۃ کذلك یرد الاستدلال علی نفی الشعاریۃ
جیسا کہ فتح القدیر میں نقل کیا ہے : “ یہ ایسی نماز ہے جو علانیہ طور پر اور بطریق شہرت واعلان ادا کی جاتی ہے تو فزع اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ دین کا شعار ہے “ اھ۔ (ت)
اور بدائع میں فرمایا ہے : نماز کسوف کے بارے میں قاضی نے مختصر طحاوی کی شرح میں ذکر کیا ہے کہ یہ عید گاہ یا جامع مسجد میں ادا کی جائے گی اس لئے کہ یہ ایك شعار اسلام ہے تو اس کی ادائیگی ایسی ہی جگہ ہوگی جو شعائر دین کے اعلان واظہار کیلئے تیار کر رکھی گئی ہے “ اھ۔ (ت)
اسرار میں نماز کسوف کے وجوب پر اس امر سے استدلال کیا کہ وہ شعائر اسلام ہے تو فتح القدیر میں اس کا یہ جواب دیا کہ : “ معنی مذکور (یعنی کسوف کا شعار اسلام ہونا) وجوب کو مستلزم نہیں اس لئے کہ جو شعار ابتدا ہی سے مقصود ہو اس کے بھی مسنون ہونے سے کوئی مانع نہیں پھر جو شعار محض کسی عارض سے متعلق ہو اس کے مسنون ہونے سے کون سی چیز مانع ہوسکتی ہے “ اھ (ت)نماز کسوف کے وجوب پر اس کے شعار اسلام ہونے سے جو استدلال کیا گیا ہے اس جواب سے اس کی تردید ہوتی ہے اسی طرح اس جواب سے اس
بدائع الصنائع کیفیۃ صلٰوۃ الکسوف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۲
فتح القدیر باب صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۱
وبالجملۃ(۱) ذھب الاسرار الی ان کل شعار واجب والعنایۃ الی ان کل واجب شعار والصحیح ان بینھما عموما من وجہ یجتمعان فی العیدین ویفترقان فی الاذان والکفارات ثم رأیت سعدی افندی اعترض العنایۃ باعتراضی الثانی اخذا عن الفتح اذ قال اقول ماالمانع في تعلق ماھو من الشعائر بعارض تأمل اھ۔
لکنی اقول : وبالله التوفیق لم(۲) یتم الجواب عن کلام محررالمذھب فی الاصل اذلوکان مرادہ ھذا لم
استدلال کی بھی تردید ہوتی ہے جس میں ہے یہ کہا گیا ہے کہ نماز کسوف امر عارض کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے شعار نہیں ہوسکتی۔
مختصر یہ کہ صاحب اسرار کا یہ خیال ہے کہ ہر شعار واجب ہوتا ہے اور صاحب عنایہ کا یہ نظریہ ہے کہ ہر واجب شعار ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ واجب اور شعار میں عموم من وجہ کی نسبت ہے کوئی امر واجب اور شعار دونوں ہوتا ہے جیسے نماز عیدین اور کوئی چیز شعار تو ہوتی ہے مگر واجب نہیں ہوتی جیسے اذان۔ اور کوئی امر واجب ہوتا ہے مگر شعار نہیں ہوتا جیسے کفارات (مصنف کے مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ) عیدین میں واجب وشعار دونوں کا اجتماع ہے۔ اذان اور کفارات میں دونوں کا افتراق ہے پھر میں نے دیکھا کہ میں نے عنایہ پر جو دوسرا اعتراض کیا ہے وہی سعدی آفندی نے بھی فتح القدیر سے اخذ کرتے ہوئے اپنے ان الفاظ میں کیا ہے : “ میں کہتا ہوں جو چیز شعائر اسلام سے ہو کسی عارض سے اس کا تعلق ہونے سے کون سی چیز مانع ہے تأمل سے کام لو “ ۔ اھ (ت)
لکنی اقول : وبالله التوفیق مبسوط میں محرر مذہب کے ارشاد (قیام رمضان اور نماز کسوف کے سوا کوئی نفلی نماز جماعت سے نہ ادا کی جائیگی کا جواب تام نہیں ہوا اس لئے کہ اگر ان کی مراد وہ
اما الاستدلال(۱) بصیغۃ الامر فاقول منقوض بصلاۃ الخسوف بل وصلوات(۲) الریح الشدیدۃ والصواعق والزلزلۃ والمطر والثلج الدائمین والظلمۃ بالنھار والضوء الھائل باللیل وامثال ذلك الاھوال اعاذنا المولی سبحنہ وتعالی واھل السنۃ جمیعا منھا دنیا واخری امین فانھا مستحبۃ اجماعا والامر یشملھا جمیعا۔
وقد(۳) قال ملك العلماء نفسہ اما صلاۃ خسوف القمر فحسنۃ لما روینا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذارأیتم من ھذہ الافزاع شیأ فافزعوا الی الصلاۃ اھ ثم قال وکذا تستحب الصلاۃ فی کل فزع کالریح الشدیدۃ والزلزلۃ والظلمۃ والمطر الدائم لکونھا من الافزاع والاھوال اھ
ہوتی تو دو میں حصر درست نہ ہوتا اس لئے کہ ان دونوں کے علاوہ عیدین بھی جماعت سے ادا ہوتی ہیں۔
اب رہا صیغہ امر سے وجوب پر استدلال فاقول : خسوف (چاند گہن) کی نماز بلکہ آندھی صاعقے زلزلے دائمی ابرباری وبرف باری دن میں تاریکی رات میں خوفناك تا بانی اور اس طرح کی دوسری ہولناك چیزیں مولی سبحانہ وتعالی ہمیں اور تمام اہل سنت کو ان سے دنیا اور آخرت میں پناہ میں رکھے۔ آمین سب سے متعلق نمازوں سے اس استدلال پر نقض وارد ہوتا ہے کیونکہ یہ سب بالاجماع مستحب ہیں۔ اور امر سب کو شامل ہے۔ خود ملك العلماء فرماتے ہیں : نماز خسوف حسن (پسندیدہ وعمدہ) ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت ہے : “ جب تم ان خوف وپریشانی والی چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز کی پناہ لو “ ۔ پھر فرمایا : “ اسی طرح ہر فزع گھبراہٹ اور پریشانی کی چیز میں نماز مستحب ہے جیسے آندھی زلزلہ تاریکی دائمی بارش کیونکہ یہ سب ہول وفزع والی چیزیں ہیں اھ “ (ت)
تو ظاہر ہوا کہ نوافل کا سنن اور خسوف کا کسوف پر قیاس مع الفارق ہے۔
وبالله التوفیق الا ان یقال
وبالله التوفیق مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں
بدائع الصنائع کیفیۃ الکسوف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۲
تعالی کما افادہ فی الفتح فی مسألۃ انہ یصلی بتیممہ ماشاء من الفرائض والنوافل وعند الشافعی رحمہ الله تعالی یتیمم لکل فرض لانہ طہارۃ ضروریۃ ۔
اقول : ویکدرہ ان ھذا حیث صح التیمم بوجود شرطہ من فقد الماء فانھا طھارۃ مطلقۃ عندنا ولوجوز لمجرد الاستکثار لجاز لمطلق النوافل ولوغیر موقتۃ للعلم القطعی بان ماتصلیہ بالتیمم اکثر مما تصلیہ بعد التوضیئ اوالاغتسال الا(۱) تری ان الذی رخص لہ الصلاۃ علی الدابۃ بالایماء علی غیر القبلۃ لم یرخص لہ فی التیمم اذا قدر علی الماء والرکوب
ضرورت یہ ہے کہ کرم باری عزوجل کے فیضان کے ارادہ سے نیکیوں کی راہیں زیادہ کی جائیں دیکھیے کہ باری تعالی نے سواری پر اشارہ سے اور غیر قبلہ کی جانب نفل پڑھنے کو جائز فرمایا جبکہ اس میں نماز کی شرطیں بھی فوت ہوتی ہیں اور ارکان بھی اور ضرورت یہی ہے کہ بندہ کو باری تعالی کے فضل کی کثرت طلب کرنے میں زیادتی کی حاجت ہے جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے اس مسئلہ کے تحت کہ بندہ اپنے تیمم سے جس قدر فرائض ونوافل چاہے ادا کرے اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك یہ ہے کہ ہر فرض کیلئے تیمم کرے اس لئے کہ تیمم طہارت ضرور یہ ہے۔
اقول : اس استدلال کی صفائی پر کدورت اس جہت سے آتی ہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں تیمم صحیح ودرست ہوچکا اس طرح کہ تیمم کی شرط پانی کا فقدان پائی جاچکی (تو وہ جس قدر فرائض ونوافل چاہے پڑھ سکتا ہے) اس لئے کہ تیمم ہمارے نزدیك طھارت مطلقہ ہے۔ اور اگر محض کثرت فضل طلب کرنے کیلئے اسے جائز قرار دیا جاتا تو مطلق نوافل کیلئے اس کا جواز ہوتا اگرچہ نوافل ایسے ہوں جو کسی خاص وقت کے پابند نہیں اس لئے کہ یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ وضو یا غسل کرنے کے بعد جس قدر نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں تیمم کرکے اس سے زیادہ نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ دیکھئے جس کیلئے
سواری پر اشارہ سے اور غیر قبلہ کی سمت نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی اس کیلئے پانی اور چڑھنے اترنے پر قدرت ہوتے ہوئے تیمم کی رخصت نہ دی گئی جب کہ پانی سے طہارت حاصل کرنے میں اس کے توقف کی مدت اور اس کے نوافل کی کمی اس مقیم سے زیادہ ہوگی جو اپنے گھر میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی موجود ہے۔ (ت)
بالجملہ فقیر کے نزدیك مستحبات محضہ مثل نماز خسوف وتہجد وچاشت میں یہ حکم خلاف دلیل ہے اس کیلئے ائمہ سے نقل درکار تھی اور وہ منتفی بلکہ نقل جانب نفی نفل ہے کما تقدم وبالله التوفیق والله سبحنہ وتعالی اعلم (جیسا کہ اس کا بیان گزر چکا الله تعالی کی توفیق سے اور الله تعالی زیادہ جانتا ہے۔ ت)
(۸۸) ہر نماز موقت کہ بعد فوت جس کی قضا ہے جیسے نماز پنجگانہ وجمعہ و وترجب طہارت آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے۔
اقول : اس میں یہ تفصیل۱ ہونی چاہئے کہ مثلا صبح۱ اتنے تنگ وقت اٹھا کہ وضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلام نماز سے پہلے سورج چمك آئے یا۲ امام جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلام جمعہ سے پہلے وقت عصر آجائے یا۳ مقتدی جماعت جمعہ میں قبل سلام شریك نہ ہوپائے اور دوسری جگہ بھی امام مقرر جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے یا۴ محدث وضو خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا۵ عصر یا۶ مغرب یا۷ عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے یا۸ فرض عشا پڑھ کر سویا اٹھا تو نہانے کی حاجت ہے یا وضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل باوضو کرکے دوبارہ بعد وقت پڑھے بالجملہ فجر وجمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امام مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیر تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اعتبار چاہئے کہ فجر وجمعہ وعیدین سلام سے پہلے خروج وقت سے باطل ہوجاتی ہیں بخلاف باقی صلوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے۔
ثم اقول : اگر۲ صورت یہ ہے کہ صبح میں پانی سے طہارت کرے تو صرف دو۲ رکعتیں وقت میں پائے اورتیمم سے چاروں توتیمم کی بلندی آفتاب پڑھے یوں ہی باقی نمازوں میں اگر وقت اتنا ملتا ہے کہ پانی کی طہارت سے فرض وقت ہوجائیں گے ظہر کی سنت قبلیہ یا بعد یہ یا دونوں یا مغرب میں سنتیں یا عشا میں سنت ووتر نہ ملیں گے اورتیمم سے سب مل سکتے ہیں تو فرضوں ہی کا پلہ راجح رہے گا طہارت آب سے فرض اور اس کے ساتھ اور جو کچھ مل سکے ادا کرلے سنتیں رہ گئیں تو
______________________
الظفر لقول زفر ۱۳۳۵ھ
وقت کی تنگی کے باعث جوازتیمم کے بارے میں امام زفر کے قول کی تقویت کا بیان (ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ثم اعلم(۱) ان جواز التیمم لخوف فوت الوقت قول الامام زفر رحمہ الله تعالی علی خلاف مذھب ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وقد وافقوہ فی روایۃ وشیدتہ فروع واختارہ کبراء وقوی دلیلہ محققون وبیان ذلك فی جمل۔ الجملۃ الاولی موافقۃ ائمتنا الثلثۃ فی روایۃ قال الشامی ھو قول زفر وفی القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخنا بحر اھ۔ ثم قال قد علمت من کلام القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخنا
واضح ہو کہ امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے مذہب کے برخلاف وقت فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کو جائز کہتے ہیں۔ ائمہ ثلاثہ سے ایك روایت مذہب امام زفر کے موافق بھی آئی ہے متعدد جزئیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے اسے اختیار بھی کیا ہے اور کئی محققین نے ان کی دلیل کو تقویت بھی دی ہے۔ اس کا تفصیلی بیان جملہ کے عنوان سے چند جملوں میں رقم کیا جاتا ہے :
جملہ اولی ائمہ ثلاثہ کی موافقت
ہمارے تینوں ائمہ کی ایك روایت مذہب امام زفر کے موافق آئی ہے اس سے متعلق علامہ شامی لکھتے ہیں :
“ یہ امام زفر کا قول ہے اور قنیہ میں ہے کہ ہمارے مشائخ سے بھی ایك روایت میں یہی منقول ہے۔ بحر “ ۔ اھ پھر شامی فرماتے ہیں : اس سے پہلے قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ
اقول : (۱) رحمہ الله تعالی قد ابعد النجعۃ واتی بغیر صریح فان لفظ البحر عند قولہ لالفوت جمعۃ قدقدمنا عن القنیۃ ان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا اھ والذی قدم عند قولہ لبعدہ میلا بعد ذکر فرع الکلۃ الاتی لائخفی ان ھذا مناسب لقول زفر لالقول ائمتنا فانھم لایعتبرون خوف الفوت وانما العبرۃ للبعد کماقدمناہ کذا فی شرح منیۃ المصلی لکن ظفرت بان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا ذکرھا فی القنیۃ فی مسائل من ابتلی بلیتین اھ
ہمارے تینوں مشائخ رضی اللہ تعالی عنہمکی ایك روایت ہے “ ۔ اھ۔ (ت)
اقول : خدا اپنی رحمت سے علامہ کو نوازے تلاش مطلوب میں بہت دور نکل گئے اور نقل وہ پیش کی جو صریح نہیں۔ اس لئے کہ لالفوت الجمعۃ (فوت جمعہ کے اندیشہ سے جوازتیمم نہیں) کے تحت بحر کے الفاظ یہ ہیں : “ ہم قنیہ کے حوالے سے پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازتیمم ہمارے مشائخ کی ایك روایت ہے “ ۔ اھ اور اس سے پہلے جو ذکر کیا ہے وہ ان کی درج ذیل عبارت ہے جو لبعدہ میلا کے تحت کلۃ (مچھر دانی یا اسی قسم کا خیمہ) سے متعلق آنے والے جزئیہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھی ہے : “ پوشیدہ نہ رہے کہ یہ مسئلہ قول امام زفر سے مناسبت رکھتا ہے ہمارے ائمہ کے قول سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ ان کے نزدیك فوت وقت کے اندیشہ کا اعتبار نہیں۔ صرف دوری کا اعتبار ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔ منیۃ المصلی کی شرح میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازتیمم ہمارے مشائخ سے بھی ایك روایت میں آیا ہے۔ اسے قنیہ میں دو مصیبتوں میں مبتلا ہونے والے سے متعلق مسائل کے تحت بیان کیا ہے “ ۔ اھ (ت)
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
یہ صریح اس لئے نہیں کہ معروف یہ ہے کہ مشائخ کا لفظ ان حضرات کیلئے استعمال ہوتا ہے جو ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے بعد آئے ہیں ہاں ان کے اس استدراك (لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا الخ) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ “ ہمارے مشائخ “ کے لفظ سے وہ ائمہ ثلاثہ کو مراد لے رہے ہیں۔ سند کے لحاظ سے زیادہ واضح اور اعتماد کے لحاظ سے زیادہ جلیل القدر عبارت وہ ہے جو حلیہ اور غنیہ میں مجتبی سے اور اس میں امام شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے : “ مسافر کو جب پاك جگہ نہ ملے اس طرح کہ زمین پر نجاستیں پڑی ہوئی تھیں اور زمین بارش سے بھیگ کر نجاستوں سے آلودہ ہوگئی تو اگر وہ یہ کرسکتا ہو کہ تیز چل کر ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وقت نکلنے سے پہلے اسے نماز پڑھنے کیلئے کوئی پاك جگہ مل جائے گی تو ایسا ہی کرے ورنہ اشارے سے نماز ادا کرلے اور اس کا اعادہ اس کے ذمہ نہیں “ پھر حلوانی فرماتے ہیں : جواز اشارہ کیلئے یہاں خروج وقت کا اعتبار فرمایا ہے اور وہاں جوازتیمم کیلئے اس کا اعتبار نہیں کیا۔ اور امام زفر نے دونوں جگہ برابری رکھی۔ اور ہمارے مشائخ نے تیمم کے بارے میں فرمایا ہے کہ وقت کا بھی اعتبار ہوگا اور اس (مسئلہ مسافر) میں روایت کا ہونا اس (مسئلہ تیمم) میں بھی روایت ہونا ہے کیونکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اور مسئلہ تیمم میں روایت کا ہونا اس (مسئلہ مسافر) میں بھی روایت ہونا ہے۔ حلوانی فرماتے ہیں : تو دونوں ہی مسئلوں میں دو۲ دو۲ روایتیں ہوں گی “ ۔ اھ (ت)
الجملۃ الثانیۃ فروع التشیید واختیار الکبراء قال فی الحلیۃ فی بیان قول زفر قد نقل الزاھدی فی شرحہ ھذا الحکم عن اللیث بن سعد وقد ذکر ابن خلکان انہ رأی فی بعض المجامیع ان اللیث(۱) کان حنفی المذھب واعتمد ھذا صاحب الجواھر المضیئۃ فی طبقات الحنفیۃ فذکرہ فیھا منھم اھ
اقول : ان کی عبارت اعتبرھنا ولم یعتبر ثم (یہاں اعتبار فرمایا اور وہاں اعتبار نہ کیا) میں ضمیر امام محمد کیلئے ہے۔ اور مسئلہ مسافر ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس مسئلہ میں ان سے روایت ہوناتیمم کے بارے میں بھی ان سے یہ روایت ہونا ہے کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے بھی جائز ہے اور مسئلہ تیمم کہ حفظ وقت کے پیش نظرتیمم جائز نہیں یہ بھی ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس میں روایت ہونا مسئلہ مسافر میں بھی روایت ہونا کہ وہ اس جگہ سے چل کر نکل جائے اور وہاں نماز نہ پڑھے اگرچہ وقت جاتارہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوا کہ دونوں ہی مسئلوں میں ان کے دو۲ قول ہیں یہ بات الگ ہے کہ مسئلہ مسافر حکم اجازت سے مشہور ہوگیا اور مسئلہ تیمم حکم ممانعت سے شہرت پاگیا ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اللہ تعالی عنہمکی موافقت سے امام زفر کے قول کی تقویت پر دستیاب ہونے والی یہ سب سے زیادہ قوی سند ہے۔
جملہ ثانیہ تائیدی جزئیات
اور بزرگوں کے قول امام زفر اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ حلیہ میں قول امام زفر کے بیان میں ہے : “ زاہدی نے اپنی شرح میں یہ حکم امام لیث بن سعد سے نقل کیا ہے۔ ابن خلکان نے ذکر کیا ہے کہ بعض تالیفات میں انہوں نے یہ دیکھا کہ امام لیث حنفی المذہب تھے صاحب الجواہر المضئیۃ فی طبقات الحنفیہ نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی کتاب میں امام لیث کا بھی ذکر کیا اھ
اقول : وفی جامع الرموز التقیید بالمیل یدل علی ان فی الاقل لم یتیمم وان خاف خروج الوقت کما فی الارشاد لکن فی النوازل انہ یتیمم حینئذ اھ بل فی الخلاصۃ لولم یعلم ان بینہ وبین الماء میلا اواقل اواکثر ولکن خرج لیحتطب ولم یجد الماء ان کان بحال لوذھب الی الماء خرج الوقت تیمم فی اخر الوقت ھکذا فی النوازل اھ۔ وفی الحلیۃ اطلق الفقیہ ابواللیث فی خزانۃ الفقہ جواز التیمم اذا کان بینہ وبین الماء مسافۃ لایقطعھا فی وقت الصلاۃ اھ وفیھا عن المجتبی والقنیۃ وفی الھندیۃ عن الزاھدی والکفایۃ کلھا عن جمع العلوم لہ التیمم فی کلۃ لخوف البق او مطر اوحرشدید اھ
شامی فرماتے ہیں : پھر میں نے دیکھا کہ یہ قول ابو نصربن سلام سے بھی منقول ہے جو بلاشبہ کبار ائمہ حنفیہ میں ہیں “ ۔ اھ (ت)
اقول : جامع الرموز میں ہے : “ میل کی قید یہ بتاتی ہے کہ اس سے کم دوری ہو توتیمم کی اجازت نہیں اگرچہ وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو جیسا کہ ارشاد میں ہے لیکن نوازل میں ہے کہ ایسے وقت میں تیمم کرلے “ ۔ اھ۔ بلکہ خلاصہ میں ہے کہ : “ اگر یہ پتا نہ ہو کہ اس کے اور پانی کے مابین ایك میل کا فاصلہ ہے کہ یا کم وبیش ہے لیکن (جنگل سے) لکڑی لانے کیلئے نکلا اور اسے پانی نہ ملا اگر ایسی حالت ہو کہ پانی تك جائے تو وقت نکل جائے گا تو وہ آخر وقت میں تیمم کرلے۔ ایسا ہی نوازل میں ہے “ اھ (ت)اور حلیہ میں ہے : “ فقیہ ابو اللیث نے خزانۃ الفقہ میں اس صورت میں تیمم کو مطلقا جائز کہا ہے جب اس کے اور پانی کے مابین اتنی مسافت ہو جسے وقت نماز کے اندر طے نہیں کرسکتا “ ۔ اھ اور حلیہ میں بحوالہ مجتبی وقنیہ اور ہندیہ میں بحوالہ زاہدی وکفایہ اور ان سب میں بحوالہ جمع العلوم یہ ہے : “ مچھر یا بارش یا سخت گرمی کا اندیشہ ہو تو کلہ (مچھر دانی جیسے چھوٹے
جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ الاسلامیہ ایران ۱ / ۶۵
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۱
حلیہ
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸
خیمہ) میں تیمم کرسکتا ہے “ ۔ اھ۔
حلیہ اور بحر میں مبتغی (غین سے) کے حوالہ سے ہے : “ جو کسی مچھر دانی جیسے محفوظ چھوٹے خیمہ میں ہو تو مچھر یا بارش یا سخت گرمی کے اندیشہ سے اس کیلئے تیمم جائز ہے اگر وقت نکل جانے کا خطرہ ہو “ ۔ اھ اور حلیہ میں بحوالہ قنیہ نجم الائمہ بخاری سے نقل ہے : “ اگر رات کو چھت پر ہو اور گھر کے اندر پانی ہے لیکن گھر کے اندر داخل ہوتا ہے تو تاریکی کا خطرہ درپیش ہے ایسی صورت میں اگر وقت نکلنے کا اندیشہ نہ ہو توتیمم نہ کرے فرمایا : اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اگر وقت نکلنے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے اھ بحررائق میں قنیہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل ہیں : “ اگر وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے “ اھ۔ بحر نے اسے نجم الائمہ کی طرف منسوب نہ کیا بلکہ اسے مشائخ مذہب رضی اللہ تعالی عنہمکی روایت پر تفریع قرار دیا۔ حلیہ میں عبارات بالا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے : “ بظاہر یہ سب امام زفر کے مذہب پر تفریع ہے اس لئے کہ ان کے نزدیك دوری کا اعتبار نہیں بلالکہ وقت باقی رہنے اور نکل جانے کا اعتبار ہے “ فرمایا شاید ان مشائخ کے یہ اقوال اس بنیاد پر ہیں کہ انہوں نے امام زفر کا قول اختیار کیا ہے کیونکہ اس مسئلہ سے متعلق امام زفر کی دلیل قوی ہے اھ۔
حلیہ
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹
حلیہ
الجملۃ الثالثۃ تقویۃ دلیلہ ویستدل لہ بوجوہ :
اولھا : ماقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر لہ ان التیمم لم یشرع الا لتحصیل الصلاۃ فی وقتھا فلم یلزمہ قولھم ان الفوات الی خلف کلا فوات اھ
واجیب عنہ اولا کما ابدی البحران جوازہ للمسافر بالنص لا لخوف الفوت بل لاجل ان لاتتضاعف علیہ الفوائت ویحرج
بلکہ علامہ شامی نے تو یہ ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں فتوی امام زفر کے قول پر ہے اور یہ ان بیس۲۰ مقامات میں سے ایك ہے جن میں امام زفر کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے کتاب الطلاق باب النفقہ میں ذکر کیا ہے اور بڑی خوش اسلوبی سے نظم کیا ہے۔ نظم میں یہ ہے (حمد وصلوۃ کے بعد) امام زفر کے قول پر فتوی نہ دیا جائےگا مگر صرف بیس(۲۰) صورتوں میں جن کی تقسیم روشن ہے ان میں ایك یہ بھی ہے کہ اس کیلئے جسے وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتیمم جائز ہے لیکن احتیاطا پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے “ ۔
جملہ ثالثہ۔ دلیل امام زفر کی تقویت
اس پر چند طرح استدلال کیا جاتا ہے :
دلیل اول : محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا ہے : امام زفر کی دلیل یہ ہے کہ تیمم اسی لئے تو مشروع ہوا ہے کہ نماز کی ادائیگی وقت کے اندر کی جاسکے۔ لہذا اس جواب سے ان پر الزام نہیں آتا کہ “ نماز کا نائب کی جانب فوت ہونا فوت نہ ہونے کی طرح ہے۔
جواب ۔ اولا : جیسا کہ بحر نے اظہار کیا : “ مسافر کیلئے “ نص سے “ تیمم کا جواز فوت وقت کے اندیشہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس کے ذمہ فوت شدہ نمازیں زیادہ نہ ہوں اور قضاء میں
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۲۳
اقول : لافائدۃ(۱) لقولہ جوازہ بالنص فان النص لیس تعبدیا کما یفیدہ اخر کلامہ ولوکان کذا لم یجیزوہ لصلاۃ الجنازۃ والعید فان النص انما وردفی المریض والمسافر۔
اما التعلیل فاقول اما(۲) تجیزونہ لبعد الماء میلا ولوفی جھۃ مسیرہ فانی فیہ تضاعف الفوائت وایضا خوف(۳) التضاعف ان کان ففی الاسفار
البعیدۃ ولیس السفرفی الکریمۃ سفر القصر بل یشمل من خرج من المصرو لولاحتطاب اواحتشاش اوطلب دابۃ کما افادہ فی الخانیۃ والمنیۃ وقال فی الھدایۃ والعنایۃ جواز التیمم لمن کان خارج المصر وان لم یکن مسافرا اذا کان بینہ وبین الماء میل اھ
وقد نقلتم عن الخانیۃ
اسے زحمت نہ ہو “ ۔ اھ
اقول : “ نص سے “ جواز کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ نص تعبدی نہیں (بلکہ قیاسی اور معلل ہے) جیسا کہ ان کی آخری عبارت سے خود ہی مستفاد ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نماز جنازہ اور نماز عید کیلئے بھی تیمم جائز نہ کہتے کیونکہ نص تو صرف مریض اور مسافر کے بارے میں آئی ہے۔ اب انہوں نے جو علت جواز بیان کی ہے اس پر کلام کیا جاتا ہے
فاقول : کیا آپ حضرات اس کے قائل نہیں ہیں کہ پانی ایك میل کی دوری پر ہو توتیمم جائز ہے اگرچہ پانی اس کی سمت سیری میں ہو۔ اس میں فوت شدہ نمازوں کی زیادتی کہاں ہے یہ بات بھی ہے کہ اگر زیادتی فوائت کا اندیشہ ہے تو دور دراز سفروں میں ہے مگر آیت کریمہ میں جو سفر مذکور ہے اس سے خاص سفر قصر مراد نہیں بلکہ یہ حکم ہر اس شخص کو شامل ہے جو شہر سے باہر ہو اگرچہ لکڑی کاٹنے یا گھاس لانے یا سوار کا جانور ڈھونڈنے ہی کیلئے نکلا ہو جیسا کہ خانیہ اور منیہ میں افادہ فرمایا ہے۔ اور ہدایہ وعنایہ میں ہے : “ تیمم کا جواز ہر اس شخص کیلئے ہے جو شہر کے باہر ہو اگرچہ مسافر نہ ہو بشرطیکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو “ ۔ اھ خود آپ ہی نے خانیہ سے یہ عبارت نقل کی ہے
العنایۃ مع الفتح باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۷
وثانیا : التقصیر جاء من قبلہ فلایوجب الترخیص علیہ اھ فتح۔
اقول : تقریرہ سلمنا ان التیمم لحفظ الوقت لکن انما یستحقہ من لیس ضیق الوقت من قبلہ کمن خاف عدوا اومرضا فانہ ان ینتظر یذھب الوقت من دون تفریط منہ فرخص لہ الشرع فی التیمم کیلا یفوتہ الوقت اما ھذا فقد قصر واخر بنفسہ حتی ضاق الوقت عن الطھارۃ والصلاۃ فلایستحق الترفیہ بالترخیص۔
اوردہ فی الفتح بانہ انما یتم اذا کہ : “ بیرون شہرتیمم اور سواری پر ادائے نماز کے معاملہ میں قلیل وکثیر سفر سب برابر ہیں۔ قلیل وکثیر کے درمیان فرق صرف تین مسائل میں ہے : (i) نماز میں قصر کرنا (ii) روزہ قضا کرنا (iii) موزوں پر مسح (کی مدت کم وبیش ہونا) “ اھ۔ جب یہ ثابت ہے تو یہ بھی ثابت ہے کہ تیمم کی مشروعیت تحفظ وقت ہی کیلئے ہوئی ہے۔
ثانیا : تقصیر وکوتاہی خود اس کی جانب سے ہوئی تو یہ اس کیلئے موجب رخصت نہ ہوسکے گی اھ۔ فتح القدیر۔
اقول : اس جواب کی تقریر اس طرح ہوگی ہمیں تسلیم ہے کہ تیمم وقت کے تحفظ کی خاطر ہے لیکن جو ایسا ہو کہ وقت کی تنگی خود اس کی طرف سے نہ پیدا ہوئی وہی اس کی رخصت کا مستحق ہوگا مثلا وہ شخص جسے کسی دشمن یا مرض کا خطرہ ہو کہ وہ اگر انتظار کرتا ہے تو وقت نکل جائے گا اور خود اس کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں تو اس کیلئے شریعت نے تیمم کی رخصت دی ہے تاکہ و قت فوت نہ ہو لیکن اس شخص نے تو کوتاہی کی ہے اور خود ہی نماز یہاں تك مؤخر کردی کہ وقت میں طہارت اور نماز کی گنجائش نہ رہی تو ایسا شخص رخصت کی آسائش پانے کا حقدار نہیں۔ فتح القدیر میں اس جواب کو ان الفاظ سے رد کردیا ہے کہ : “ یہ جواب اسی وقت تام ہوگا جب
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۳
اقول : ای مع ان الحکم عام عند الفریقین وکیف یقال جاء التقصیر من قبلہ فیمن نام فما استیقظ الا وقد ضاق الوقت عن الطھارۃ بالماء واداء الفرض وھذا نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم قائلا لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ رواہ مسلم عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ وکذا من نسی صلاۃ ولم یتذکر الا عند ضیق الوقت وقدرفع عن امتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الخطاء والنسیان فلا تقصیر من ناس۔
بل اقول : (۱) مثنیا الرخص(۲) الالھیۃ مباحۃ عندنا للمطیع والعاصی فمن سافر لمعصیۃ حل لہ الفطر اس نے بغیر کسی عذر کے نماز مؤخر کردی ہو۔
اقول : مقصد یہ ہے کہ حکم تو (بلاعذر تاخیر کرنے والے اور عذر کی وجہ سے تاخیر کرنے والے) دونوں ہی کے لئے فریقین کے نزدیك عام ہے (جس کے یہاں جواز ہے تو دونوں کیلئے جس کے یہاں عدم جواز ہے تو دونوں کیلئے) اب وہ شخص جو سوگیا بیدار ہوا تو ایسے ہی وقت کہ پانی سے طہارت اور ادائے فرض کی گنجائش نہیں اس کے بارے میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ خود اسی کی جانب سے کوتاہی ہوئی جب کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرمارہے ہیں : “ نیند (کی صورت) میں کوتاہی نہیں کوتاہی تو بیداری (کی صورت) میں ہے “ ۔ یہ حدیث امام مسلم نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی۔ ایسے ہی وہ شخص جسے نماز کا خیال نہ رہا یاد آئی تو وقت تنگ ہوچکا ہے۔ خطا ونسیان تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی امت سے اٹھا لیا گیا ہے تو نسیان والے کی جانب سے بھی کوتاہی نہیں۔
بلکہ اقول : مثنیا (دوسرے نمبر پر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ خدا کی دی ہوئی رخصتیں ہمارے نزدیك مطیع وعاصی دونوں ہی کیلئے عام ہیں۔ جو کسی معصیت کیلئے سفر کررہا ہے اس کیلئے بھی روزہ
سنن ابی داؤد باب فیمن نام عن صلٰوۃ مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۶۴
سنن ابن ماجہ طلاق المکرہ و النا سی مطبع مجتبائی لاہور ص ۱۴۸
اقول : ھذا لامدخل(۱) لہ فی البحث من قبل احد من الفریقین فلیس لاحدھما ان یبدئ بہ او یعید اما ائمتنا فلانھم لایقولون بالتیمم واما زفر فلانہ لایقول بالاعادۃ بل کان حقہ ان یقرر ھکذا
نہ رکھنا جائز ہے بلکہ اس کے ذمہ نماز قصر کرنا واجب ہے ۔ اور جسے زنا کی وجہ سے ۔ والعیاذ بالله تعالی ۔ جنابت ہوئی اور پانی نہ پاسکا اس کیلئے بھی تیمم جائز بلکہ فرض ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ امام ابن الہام کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں ان کی عبارت نقل کرکے اس کی تائید کی ہے اور “ تاخیر بلاعذر “ سے متعلق بعینہ یہی بحث کی ہے جو میں نے کی وللہ الحمد ان کے الفاظ یہ ہیں : “ لیکن مذہب یہ ہے کہ رخصتوں کے معاملہ میں مطیع وعاصی یکساں ہیں “ ۔ اھ بلکہ انہوں نے ایك اور افادہ فرمایا ہے لکھتے ہیں : اگر یہ کہا جائے کہ اس حد تك تاخیر ایسا عذر ہے جو غیر صاحب حق کی جانب سے رونما ہوا۔ تو اس کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وضو کرکے اعادہ کرے جیسے وہ شخص جو بندوں کی جانب سے پیدا ہونے والے کسی عذر کی وجہ سے وضو پر قادر نہ ہو۔ اھ (ت)
میں کہتا ہوں فریقین میں سے کسی جانب سے بحث میں اس کلام کا کوئی دخل نہیں اس لئے یہ کسی کا قول نہیں کہ پہلے تیمم کرلے پھر پانی سے اعادہ کرے۔ ہمارے ائمہ کے نزدیك اس لئے کہ وہ یہاں جوازتیمم کے قائل ہی نہیں اور امام زفر کے نزدیك اس لئے کہ وہ اعادہ کے قائل نہیں۔ اس مقصد کی
حلیہ
وثانیھا : ھذہ صلوۃ الخوف ماشرعت الالحفظ الوقت۔ واجاب عنہ فی البحر بان صلاۃ الخوف للخوف دون خوف الفوت اھ۔
اقول : سبحن(۱) الله ماکان الخوف لیوجب الاتیان بھا فی الوقت مع ارتکاب المنافی بل کانوا بسبیل من تأخیرھا الی ان یطمئنوا کما قلتم فی بحرکم فی عدۃ فروع :
منھا۱ ازدحم جمع علی بئر لایمکن الاستقاء منھا الا بالمناوبۃ لضیق الموقف اولاتحاد الۃ الاستقاء ونحو ذلك وعلم انھا لاتصیر الیہ الابعد خروج الوقت و یصبر عندنا لیتوضأ بعد الوقت وعند زفر
تقریر اس طرح ہونی چاہئے تاکہ فتح کی عبارت سے متعلق یہ تیسرا کلام ہوجائے کہ آپ نے جو فرمایا کہ کوتاہی خود اس کی جانب سے ہوئی تو اس پر زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ حکم یہ دیں کہ و ہ تیمم کرلے پھر اعادہ کرے جیسا کہ یہ ہر اس عذر کا حکم ہے جو بندوں کی جانب سے رونما ہوا ہو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے آپ تیمم سے بالکل ہی روك دیں۔ (ت)
دلیل دوم : یہ نماز خوف ہے جس کی مشروعیت تحفظ وقت کیلئے ہی ہوئی ہے۔ اس کا جواب بحر میں یہ دیا ہے کہ : “ نماز خوف تو خوف کی وجہ سے ہے فوت وقت کے اندیشہ سے نہیں ہے “ ۔ اھ اقول : سبحان اللہ۔ خوف کی حیثیت اتنی بڑھی ہوئی نہیں کہ منافی نماز کے ارتکاب کے ساتھ وقت کے اندر نماز کی ادائیگی لازم کردے بلکہ ان کیلئے امن واطمینان ہونے تك تاخیر کی گنجائش تھی جیسا کہ بحر کے اندر متعدد جزئیات میں خود آپ ہی اس کے قائل ہیں۔ چند جزئیات درج ذیل ہیں :
جزئیہ۱ : کسی کنویں پر ایك ہجوم جمع ہے اور باری باری پانی نکالنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں اس لئے کہ کھڑے ہونے کی جگہ تنگ ہے یا ڈول رسی ایك ہی ہے یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ جب تك اس کی باری آئے گی وقت نکل جائےگا تو ہمارے نزدیك حکم یہ ہے کہ
ومنھا۲ جمع(۱) من العراۃ لیس معھم الا ثوب یتناولونہ وعلم ان النوبۃ لاتصل الیہ الا بعد الوقت فانہ یصبر ولایصلی عاریا ۔ ومنھا۳اجتمعوا(۲) فی سفینۃ اوبیت ضیق ولیس ھناك موضع یسع ان یصلی قانما لایصلی قاعدا بل یصبر ویصلی قائما بعد الوقت ۔ ومنھا۴ معہ(۳) ثوب نجس وماء لغسلہ ولکن لوغسل خرج الوقت لزم غسلہ وان خرج ۔ ومنھا۵ کذا(۴) لوکان مریضا عاجزا عن القیام (۶) واستعمال(۵) الماء فی الوقت ویغلب علی ظنہ القدرۃ بعدہ اھ ای یؤخر ولایصلی فی
الوقت۔ ومنھا۷ وعدہ صاحبہ ان
انتظار کرے تاکہ وقت کے بعد وضو کرسکے اور امام زفر کے نزدیك یہ حکم ہے کہ تیمم کرلے۔ جزئیہ۲ : چند آدمی برہنہ ہیں جن کے پاس(ستر عورت کے قابل)ایك ہی کپڑا ہے جسے باری باری باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں ان میں سے کسی کو معلوم ہے کہ جب تك اس کی باری آئے گی وقت نکل جائے گا تو وہ انتظار کرے اور برہنہ نماز نہ پڑھے۔ جزئیہ۳ : کسی کشتی یا تنگ کوٹھڑی میں لوگ جمع ہیں جہاں اتنی جگہ نہیں کہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے تو وہ بیٹھ کر نہ پڑھے بلکہ انتظار کرے اور وقت گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر نماز ادا کرے۔ جزئیہ۴ : کسی کے پاس ایك ناپاك کپڑا ہے اور اس کے دھونے کیلئے پانی بھی موجود ہے لیکن اگر کپڑا دھونے میں لگتا ہے تو نماز کا وقت نکل جائےگا اس پر لازم ہے کہ کپڑا دھوئے (اور پاك کپڑے سے ہی نماز ادا کرے)اگرچہ وقت نکل جائے۔ جزئیہ ۵-۶ : کوئی ایسا مریض ہے جو بروقت کھڑا ہونے پر قادر نہیں یا ایسا بیمار ہے کہ ابھی وقت نماز میں پانی نہیں استعمال کرسکتااور ظن غالب ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد (کھڑے ہونے یا پانی استعمال کرنے پر) قدرت ہوجائیگی تو وہ حصول قدرت تك نماز مؤخر کرے اور وقت کے اندر (بلاقیام یاتیمم سے) نماز نہ پڑھے۔ جزئیہ۷ : کسی سے اس کے ساتھی نے
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰
ومنھا۸ کذا(۱) اذا وعد الکاسی العاری ان یعطیہ الثوب اذافرغ من صلاتہ لم تجزہ الصلاۃ عریانا لما قلنا نقلتم ھذین عن البدائع والبواقی عن التوشیح ولکن المولی سبحنہ وتعالی لم یرض لھم بتفویتھا عن وقتھا وشرع لھم صلاۃ الخوف فما کان الا لحفظ الوقت۔
ثم اقول : الفرعان(۲) الاخیران عن محمد والیہ عزاھما فی البدائع عــــــہ الحکم فیھما عند امامنا رضی الله تعالی جبرتن دینے کا وعدہ کیا۔ اس پر امام محمد نے یہ تفریع کی ہے کہ انتظار کرے اگرچہ جوقت نکل جائے اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ وہ وعدہ وفا کرے گا تو ظاہرا وہ استعمال پر قادر ہے۔
جزئیہ۸ : اسی طرح کپڑے والے نے برہنہ سے وعدہ کیا کہ میں نماز سے فارغ ہوکر تجھے کپڑا دے دوں گا تو اسے برہنہ نماز پڑھنا جائز نہیں۔ وجہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ جزئیہ (۷ ۸)آپ نے بدائع سے نقل کیا باقی توشیح سے ۔ (ان جزئیات کی روشنی میں خوف والوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے تھا کہ وہ زوال خوف کا انتظار کریں اگرچہ وقت نکل جائے)لیکن مولی سبحانہ وتعالی نے ان کیلئے نماز فوت کرناپسند نہ کیا اور نماز خوف مشروع فرمائی تو یہ نماز تحفظ وقت ہی کیلئے تو ہوئی۔ (ت)
دلیل ۳-۴ ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں) آخری دونوں جزئیے امام محمد سے منقول ہیں اور بدائع میں ان ہی کی طرف انہیں منسوب کیا ہے ہمارے امام اعظم
عــــہ : قال فی الخانیۃ مع رفیقہ دلو مملوك رفیقہ قال انتظر حتی استقی الماء ثم ادفعہ الیك فالمستحب لہ ان ینتظر الی اخر الوقت فان تیمم ولم ینتظر جاز وکذا
خانیہ میں ہے : “ کسی مسافر کے ہم سفر کے پاس اسی ہم سفر کا مملوکہ ڈول ہے اس نے مسافر سے کہا تم انتظار کرو میں پانی نکال لوں تو تمہیں ڈول دوں گا۔ تو مسافر کیلئے آخر وقت تك انتظار کرلینا مستحب ہے۔ اگر اس نے بلا انتظار تیمم کرلیا تو جائز ہے۔ اسی طرح(باقی برصفحہ ایندہ)
البحرالرائق آخر قول لالفوت الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹
اقول : وھذا ایضا من مؤیدات زفر اذلو لاحفظ الوقت لأمر بالتاخیر لاسیما رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك دونوں مسئلوں میں حکم یہ ہے کہ وہ وقت کے اندرتیمم سے یا برہنہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ ان کے نزدیك پانی کے علاوہ چیزوں پر اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آرہا ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اس سے بھی امام زفر کے مذہب کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ اگر تحفظ وقت ملحوظ نہ ہوتا (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لوکان عریانا ومع رفیقہ ثوب فقال لہ انتظر حتی اصلی ثم ادفعہ الیك یستحب لہ ان ینتظر الی اخر الوقت فان لم ینتظر وصلی عریانا جاز فی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ولوکان مع رفیقہ ماء یکفی لھما فقال انتظر حتی افرغ من الصلاۃ ثم ادفعہ الیك لزمہ ان ینتظر وان خاف خروج الوقت ولوتیمم ولم ینتظر لایجوز فالاصل عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان فی المملوك لاتثبت القدرۃ بالبذل والاباحۃ وفی الماء تثبت القدرۃ بالاباحۃ اھ ۔ اقول : والجملۃ الثانیۃ محل الاستثناء من الاولی لان الکلام فی ماء مملوك والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اگر برہنہ ہے اور اس کے رفیق کے پاس ایك کپڑا ہے اس نے کہا انتظار کرو میں نماز پڑھ کر تمہیں دوں گا تو اس کیلئے آخر وقت تك انتظار کرلینا مستحب ہے۔ اگر انتظار نہ کیا اور برہنہ نماز پڑھ لی تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر یہ جائز ہے۔ اور اگر رفیق سفر کے پاس اتنا پانی تھا جو دونوں کو کافی ہوتا اس نے کہا انتظار کرو میں نماز سے فارغ ہوجاؤں تو تمہیں پانی دوں گا اس صورت میں اس پر انتظار کرنا لازم ہے اگرچہ وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو۔ اگر بلا انتطارتیمم کرلیا تو جائز نہیں۔ اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك اصل ضابطہ یہ ہے کہ بذل واباحت سے مملوك میں قدرت ثابت نہیں ہوتی اور پانی میں اباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے “ ۔ اھ اقول : دوسرا جملہ پہلے جملہ سے استثناء کے طور پر ہے اس لئے کہ گفتگو مملوك پانی ہی کی ہے(تو معنی یہ ہوا کہ مملوك چیزوں میں اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی مگر مملوك پانی میں اباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے ۱۲ محمد احمد) والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اما الفرع الخامس والسادس
فاقول : لااری(۱) ان یکون المذھب فیہ الامر بتفویت الصلاۃ کیف وان الطاعۃ بحسب الاستطاعۃ۔ قال ربنا تبارك وتعالی
فاتقوا الله ما استطعتم ولا ینظر فیھا الا الی الحالۃ الراھنۃ الاتری ان(۲) راجی الماء اخر الوقت لیس علیہ التأخیر بل لہ ان یصلی الان متیمما۔ وقد قال فی الدر(۳)( امرہ الطبیب بالاستلقاء لبزغ الماء من عینہ صلی بالایماء لان حرمۃ الاعضاء کحرمۃ النفس اھ۔ ومعلوم(۳) ان الطبیب لایأمرہ بالسکون الامدۃ قلیلۃ وربما لاتزید علی یوم ولیلۃ فامروا ان یؤمی لا ان یؤخر فھذہ الفروع الاربعۃ الجواب الصواب فیھا علی مذھب امامنا رضی الله تعالی عنہ انہ یصلی کماقدر
تو تاخیر کا حکم ہوتا خصوصا اس صورت میں جبکہ کسی نے وعدہ کرلیا ہے تو یہ ان کی تیسری اور چوتھی دلیل ہوئی۔
اب جزئیہ ۵ ۶ کو دیکھئے۔
فاقول : میں نہیں سمجھتا کہ اس صورت عجز میں نماز فوت کرنے کا حکم ہمارے مذہب میں ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ طاعت بقدر استطاعت ہی لازم ہوتی ہے۔ ہمارے رب تبارك وتعالی کا ارشاد ہے : “ تو الله سے تم ڈرو جہاں تك تمہیں استطاعت ہو “ ۔ اور استطاعت کے معاملہ میں موجودہ حالت پر ہی نظر کی جائے گی۔ دیکھئے اگر کسی کو آخر وقت میں پانی ملنے کی امید ہے تو اس پر یہ لازم نہیں کہ نماز مؤخر کرے بلکہ وہ اسی وقت تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔ درمختار میں ہے : آنکھ کا آپریشن کرنے اورپانی نکالنے کی وجہ سے طبیب نے بیمار کو حکم دیا کہ چت لیٹا رہے تو وہ اشارہ سے نماز پڑھے اس لئے کہ حرمت اعضاء بھی حرمت جان کی طرح ہے “ اھ یہ معلوم ہے کہ طبیب زیادہ زمانہ تك حرکت کی ممانعت نہیں رکھتا بلکہ عموما قلیل مدت تك جو ایك شبانہ روز سے زیادہ نہیں ہوتی پرسکون رہنے کا حکم دیتا ہے اس کے باوجود فقہاء نے اسے اشارہ سے نماز پڑھ لینے کا حکم دیا یہ نہ فرمایا کہ (اجازت حرکت و
الدرالمختار باب المریض مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۴
اما الفروع الاربعۃ الاول فاقول : کذا الحکم فیھا بیدانہ یعید اما الحکم فلما قدمت عن الحلیۃ والغنیۃ عن شمس الائمۃ انہ لافرق فی تلك الفروع وان الروایۃ فی احدھا روایۃ فی سائرھا وقدکان ھناك اعنی فرع شمس الائمۃ التلبس بالنجاسۃ ولو فی القدمین اوالخفین مع ترك الرکوع والسجود ولیس فی ھذا الفرع الرابع الا التلبس بنجس واما الاعادۃ فلما علمت من مراعاۃ اصل المذھب مع مافی الفروع الثلثۃ الاول من صورۃ المنع من جھۃ العباد والله تعالی اعلم بسبیل الرشاد۔
وخامسھا : تجیزونہ خوف فوت صلاۃ الجنازۃ وصلاۃ العید فکذا خوف فوت الوقت۔
واجاب البحربان فضیلۃ الوقت والاداء وصف للمؤدی تابع لہ غیر مقصود لذاتہ بخلاف صلاۃ الجنازۃ والعید فانھا اصل فیکون فواتھا فوات قیام تک) نماز مؤخر کرے۔ تو ان چاروں جزئیات (۵ تا ۸) میں ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مذہب پر حکم صحیح یہ ہوگا کہ جس طرح بھی اسے قدرت ہے ویسے ہی وہ وقت کے اندر نماز ادا کرے اور بعد وقت اس کا اعادہ بھی نہیں۔ (ت)
اب رہے پہلے چار جزئیات فاقول : ان میں بھی یہی حکم ہوگا فرق یہ ہے کہ ان صورتوں میں بعد وقت اعادہ بھی کرنا ہوگا۔ وقت کے اندر ادائے نماز کا حکم ہم نے اس قاعدہ اور جزئیہ سے اخذ کیا جو حلیہ وغنیہ کے حوالہ سے شمس الائمہ سے ہم نے گزشتہ صفحات میں نقل کیا کہ ان جزئیات میں فرق نہیں اور ایك میں روایت دوسرے میں بھی روایت ہے۔ اور وہاں یعنی شمس الائمہ کے بیان کردہ جزئیہ میں یہ تھا کہ نجاست سے اتصال لازم آتا تھا اگرچہ صرف قدموں یا موزوں ہی میں اور رکوع وسجود ترك ہوتا تھا۔ اور اس چوتھے جزئیہ میں بھی یہی نجس (کپڑے) سے اتصال لازم آرہا ہے اور اعادہ کا حکم اس لئے کہ اصل مذہب کی رعایت ہوجائے ساتھ ہی پہلے تین جزئیوں میں یہ بات بھی ہے کہ بندوں کی جانب سے رکاوٹ کی صورت پائی جارہی ہے والله تعالی اعلم (ت)
دلیل پنجم : آپ نماز جنازہ اور نماز عید فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کی اجازت دیتے ہیں تو وقت کے فوت ہوجانے کا اندیشہ بھی تو ایسا ہی ہے۔ بحر میں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ( “ پنجگانہ نمازوں میں مقصود بالذات خود نماز ہے اور اس کیلئے قضا نہ ہونے) ادا ہونے اور وقت کے اندر ہونے کی فضیلت مؤدی کی ایك صفت ہے جو اس کے
اقول : اولا(۱) کون شیئ وصفا فی شیئ لایوجب کونہ غیر مقصود بالذات کوصف الایمان فی رقبۃ کفارۃ القتل بل قد(۲) یکون الوصف ھو
المقصود کالاسلام فی مصرف الزکوۃ۔
وثانیا : نحن (۲) نعلم قطعا ان المولی سبحنہ وتعالی کما امرنا بالصلاۃ امرنا بایقاعھا فی وقتھا وحرم اخراجھا عنہ لا لعذر فالکل مقصود عینا
سبحنہ ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) وقال عزوجل حفظوا على الصلوت و الصلوة الوسطى- وقال تعالی فویل للمصلین(۴) الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵) وھم الذین یؤخرونھا حتی ئخرج وقتھا سماھم مصلین وجعل لھم الویل لاخراجھم ایاھا عن وقتھا فکان الوقت
تابع ہے مقصود بالذات نہیں ہے۔ مگر نماز جنازہ وعید خود اصل ہیں تو ان کا فوت ہونا ایك اصل مقصود کا فوت ہونا ہے “ اھ یہ صاحب بحر کی تمام تر کاوش ہے خدا ان پر اور ان کے طفیل ہم پر رحم فرمائے منحۃ الخالق میں علامہ شامی نے بھی ان سب کو برقرار رکھا ہے۔ (ت)
اقول۔ اولا : ایك شیئ کا دوسری شیئ کی صفت ہونا اس کے غیر مقصود بالذات ہونے کو لازم نہیں کرتا جیسے کفارہ قتل میں دئے جانے والے غلام یا باندی میں صفت ایمان غیر مقصود بالذات نہیں بلکہ بعض اوقات خود وصف ہی مقصود ہوتا ہے جیسے مصرف زکوۃ میں صفت اسلام۔
ثانیا : ہمیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ مولی سبحنہ وتعالی نے جس طرح ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز کو اس کے مقررہ وقت کے اندر ادا کریں اور بغیر کسی عذر کے اس وقت سے باہر لانا حرام فرمایا ہے تو سبھی مقصود بالذات ہے ارشاد ہے : “ بے شك نماز ایمان والوں پر وقت باندھا ہوا فریضہ ہے “ ۔ اور ارشاد ہے : “ نمازوں اور بیچ والی نماز کی حفاظت کرو “ اور فرمایا : “ تو ویل (خرابی) ہے ان نمازیوں کیلئے جو اپنی نمازسے غافل ہیں “ ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نماز اس حد تك مؤخرکرتے ہیں کہ اس کا وقت نکل جاتا ہے انہیں نمازی کہا ساتھ ہی ان کیلئے ویل بھی قرار دیا اس لئے
القرآن ۴ / ۱۰۳
القرآن ۲ / ۲۳۸
القرآن ۴ / ۱۰۷
وثالثا : لئن(۱) سلم محافظۃ الوقت فرض عین والجنازۃ فرض کفایۃ وصلاۃ العید لیست فریضۃ اصلا والفرض ولو مقصودا لغیرہ اھم واعظم مما دونہ ولو مقصودا لذاتہ الا(۲) تری ان لوضاق الوقت عن الواجبات وجب اسقاطھا والاقتصار علی الفرض لایقاعہ فی الوقت واذ ا لامر ھکذا فاذا جاز التیمم لخوف فوت الادنی کیف لایجوز للاعلی لاسیما وقد سقط فرض الجنازۃ بصلاۃ غیرہ۔
ورابعا : قد(۳) قلتم بالتیمم لخوف فوت السنن وما ھن اصول انما شرعت مکملات للاصول وعلی(۴) التسلیم فاین التحفظ علی فریضۃ الوقت من التحفظ علی سنۃ۔
وخامسا : (۵) قد سلمتم ان الفائت لا الی خلف یجوزلہ التیمم ولاشك ان الطلب الالھی منتھض علی ایقاع الفریضۃ فی وقتھا کانتھاضہ علی نفس ایقاعھا وھذا لاخلف لہ وان کانت الصلاۃ لھا خلف فھذا مقصود الدلیل ولایمسہ الجواب۔
کہ وہ نماز وقت سے باہر ادا کرتے ہیں۔ تو خود وقت بھی مقصود بالذات ہوا۔ (ت)
ثالثا : اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے تو بھی یہ کہا جائے گا کہ وقت کا تحفظ فرض عین ہے اور جنازہ فرض کفایہ ہے اور نماز عید تو سرے سے فرض ہی نہیں (بلکہ واجب ہے) اور فرض اگرچہ مقصود بغیرہ ہو اپنے نیچے والے سے خواہ وہ مقصود بالذات ہو زیادہ عظمت واہمیت رکھتا ہے۔ دیکھئے اگر وقت اس قدر تنگ ہے کہ صرف فرائض ادا کرسکتا ہے واجبات کی گنجائش نہیں تو واجبات کو ساقط کردینا اور فرض پر اکتفا کرنا لازم ہے تاکہ ادائیگی وقت کے اندر ہوجائے یہ معاملہ ہے تو جب فوت ادنی کے اندیشہ سے تیمم جائز ہو تو اعلی کی وجہ سے کیوں جائز نہ ہوگا جب کہ فرض جنازہ تو دوسرے کے پڑھ لینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
رابعا : آپ نے تو سنتیں فوت ہونے کے اندیشہ سے بھی تیمم جائز کہا ہے حالانکہ سنتیں اصل نہیں بلکہ یہ اصل کے متمم کی حیثیت سے مشروع ہوئی ہیں اور اگر یہی مان لیا جائے کہ سنتیں خود مقصود اور اصل ہیں تو بھی کہاں وقت جیسے اہم فریضہ کا تحفظ اور کہاں سنت کا تحفظ (دونوں میں بڑا فرق ہے)۔ (ت)
خامسا : آپ کو یہ تسلیم ہے کہ اگر فوت ہونے والی چیز ایسی ہو کہ اس کا کوئی نائب وبدل نہیں تو اس کیلئے تیمم جائز ہے۔ اب اس میں کوئی شك نہیں کہ خدا کا مطالبہ نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کرنے کا بھی اسی طرح ہے جیسے خود نماز پڑھنے کا ہے اور وقت کے اندر ادا کرنا ایسا امر ہے جس کا کوئی بدل نہیں اگرچہ نفس نماز کا بدل ہے۔ دلیل پنجم کا مقصود یہی تھا جس سے جواب کو کوئی مس نہیں۔ (ت)
وسابعھا : کما اقول : اباحوہ(۲)لخوف عدو ولص وسبع وحیۃ ونار ومعلوم ان کثیرا من ھذہ لایلبث الاقلیلا فالنار تنطفی اوتمر فی ساعۃ اوساعتین ولم یقولوا یصبر وان خرج الوقت۔
فان اجبت کما خطرببالی ان التیمم لیس لحفظ الوقت وانما ھو لدفع الضرر والحرج حیث کان وفی البرد والنار وامثالھا ضرر وفی بعدہ میلا حرج فتحقق المناط لانہ اذا(۳) ادرك الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھا ولاینظر الا
دلیل ششم : جیسا کہ میں کہتا ہوں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا اس پر اجماع ہے کہ جنب جسے بیرون شہر سردی سے خطرہ ہے وہ تیمم کرے جیسا کہ ہدایہ اور عامہ کتب میں ہے۔ اور حلیہ بدائع بحر تمرتاشی کے حوالہ سے پہلے ذکربھی ہوچکا یہ معلوم ہے کہ زیادہ تر صبح کو خوف ہوتا ہے جبکہ کسی سردی کی رات میں صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے۔ پھر سورج بلند ہونے کے بعد خوف نہیں رہ جاتا۔ مگر ائمہ نے اسے یہ حکم نہ دیا کہ آفتاب بلند ہونے تك نماز مؤخر کرے بلکہ اس کیلئے تیمم جائز قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ تحفظ وقت ہی کیلئے ہے۔ (ت)
دلیل ہفتم : جیسا کہ میں کہتاہوں دشمن چور درندے سانپ اور آگ کے خوف سے تیمم جائز قرار دیا گیا ہے جبکہ معلوم ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جو تھوڑی ہی دیر رہتی ہیں۔ آگ بھی گھنٹے دو گھنٹے میں بجھ جاتی ہے یا گزر جاتی ہے۔ مگر یہ حکم نہ ہوا کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے۔ (ت)اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے جیسا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ تیمم تحفظ وقت کیلئے نہیں بلکہ ضرر وحرج دفع کرنے کیلئے ہے جہاں بھی ہو۔ ٹھنڈك اور آگ جیسی چیزوں میں ضرر ہے اور ایك میل دور ہونے میں حرج ہے تو جو امر مدار جواز ہے وہ پالیا گیا۔ اس لئے کہ جب نماز کا وقت آگیا اور اس نے
اقول : ھل ئختص الحرج والضرر بمایصیب بدنہ ومالہ ام یعم مایستضر بہ فی دینہ علی الاول لم ابحتم لخوف فوت جنازۃ وعید وعلی الثانی ان کان علیہ ضرر فی دینہ لفوت فرض کفایۃ مع انھا قد اقیمت و واجب بل و سنۃ لا الی بدل اذ لا براء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ الا بالتیمم فضرر اعظم واشد منہ فی فوت الفریضۃ عن وقتھا ولابراء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ العظمی اعنی الاتیان بھا فی وقتھا الا بالتیمم فیجب ان یباح۔ ھذا ماعندی فاستنار بحمدالله تعالی ماجنح الیہ المحقق واتباعہ من قوۃ دلیل زفر بل دلیل ائمتنا جمیعا فی الروایۃ الاخری
نماز پڑھنا چاہی تو اس سے اسے روکا نہ جائے گااور اس کی موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔ اس حالت میں وضو یا غسل سے واقعۃ اس کیلئے ضرر یا حرج ہے توتیمم اس کیلئے جائز قرار دیا گیا۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) کیا حرج یا ضرر اسی چیز سے خاص ہے جو اس کے بدن اور مال سے تعلق رکھتی ہو یا اسے بھی عام ہے جس سے اس کے دین میں نقصان وضرر ہو پہلی تقدیر پر یہ کلام ہے کہ پھر آپ نے فوت جنازہ وعید کے اندیشہ سے تیمم کیوں جائز کہا اور دوسری تقدیر پر یہ کہ اگر اس کے دین کا نقصان اس میں ہے کہ ایك فرض کفایہ فوت ہورہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں سے اس کی ادائیگی عمل میں آچکی اور اس میں کہ ایك واجب فوت ہورہا ہے بلکہ صرف ایك سنت بھی جس کا کوئی بدل نہیں۔ (اس لئے آپ نے تیمم کو جائز کہا)کیوں کہ بغیرتیمم کے وہ اس شرعی مطالبہ سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا تو اس سے زیادہ عظیم اور اس سے زیادہ شدید نقصان تو اس میں ہے کہ ایك فرض عین اپنے وقت سے فوت ہورہا ہے اور بغیرتیمم کے اس عظیم تر شرعی مطالبہ وقت کے اندر ادائیگی سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ تو لازم ہے کہ اس کیلئے بھی تیمم جائز ہو۔ (ت)
ھذا ماعندی (میرے علم وفکر کی رو سے یہی ہے) اس تفصیل سے بحمدالله تعالی وہ روشن ہوگیا جس کی طرف محقق علی الاطلاق اور ان کے متبعین کا رجحان ہے کہ امام زفرکی دلیل بلکہ روایت دیگر کے لحاظ سے ہمارے سبھی ائمہ کی دلیل
وقد نقل کلامہ ھذا فی الدر واقرہ ھو والسادۃ الاربعۃ محشوہ ح ط ش وابو السعود وقال الشامی ھذا قول متوسط بین القولین وفیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فلذا اقرہ الشارح فینبغی العمل بہ احتیاطا ولاسیما وکلام ابن الھمام یمیل الی ترجیح قول زفر بل قد علمت انہ روایۃ عن مشائخنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم(۱) ونظیر ھذا مسألۃ الضیف الذی خاف ریبۃ فانھم قالوا یصلی ثم یعید اھ۔
وانما اطنبنا الکلام ھھنا لما رأینا بعض العلماء تعجب منہ حین افتیت بہ فی مجلس جمعنا وبالله التوفیق والوصول الی ذری التحقیق
قوی ہے اور جیسا بھی ہو کم از کم اتنا ضرور ہے کہ فریضہ وقت کے تحفظ کیلئے اس قول کو لیا جائے پھر اعادہ کا حکم دیا جائے تاکہ مذہب کی روایت مشہورہ پر بھی عمل ہوجائے شمس الائمہ کے حوالہ سے جو ہم نے پہلے بیان کیا اسے ذکر کرنے کے بعد غنیہ میں لکھا ہے : “ اس کے پیش نظر احتیاط یہی ہے کہ وقت کے اندرتیمم سے نماز پڑھ لے پھر وضو کرکے اعادہ کرے تاکہ دونوں ذمہ داریوں سے یقینی طور پر سبکدوش ہوجائے “ ۔
ان کا یہ کلام درمختار میں نقل کرکے برقرار رکھا اور درمختار کے چاروں محشی سید حلبی سید طحطاوی سید شامی اور سید ابو السعود نے بھی برقرار رکھا۔ اور علامہ شامی نے فرمایا : “ یہ دونوں قولوں کے مابین ایك درمیانی قول ہے اور اس میں یقینی طور پر ذمہ داری سے سبکدوشی ہے۔ اسی لئے شارح نے اسے برقرار رکھا۔ تو احتیاطا اسی پر عمل ہونا چاہئے خصوصا جبکہ امام ابن الہام کا کلام امام زفر کے قول کی ترجیح کی جانب مائل نظر آتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ یہ تو ہمارے تینوں مشائخ سے ایك روایت ہے رضی الله تعالی عنہم۔ اس کی نظیر اس مہمان کا مسئلہ ہے جسے تہمت کا اندیشہ ہو۔ اس کے بارے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھ لے پھر اعادہ کرے “ اھ
اس مقام پر ہم نے تفصیلی بحث اس لئے
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۰
کی ہے کہ میں نے دیکھا کہ جب ایك محفل میں اس پر میں نے فتوی دیا تو ایك عالم کو بڑا تعجب ہوا اور خدا ہی کی جانب سے توفیق اور بلندی تحقیق تك رسائی ہوتی ہے اور ساری خوبیاں الله تعالی کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے اور الله تعالی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر۔ آمین۔ (ت)
رسالہ ضمنیہ الظفر لقول زفر تمام ہوا۔
(۸۹) کنویں پر ہجوم ہے جگہ تنگ ہے یا ڈول ایك ہی ہے لوگ نوبت بنوبت پانی بھرتے وضو کرتے ہیں اور یہ دور ہے کہ اس تك باری اس وقت پہنچے گی جب نماز کا وقت جاتا رہے گا آخر وقت کے قریب تك انتظار کرے جب دیکھے کہ وقت نکل جائےگا تیمم کرکے پڑھ لے پھر اعادہ کرے۔
(۹۰) کسی نے پانی بھرنے کیلئے ڈول یا رسی دینے کا وعدہ کیا ہے انتظار کرکے تیمم سے پڑھ لے۔ یہ دونوں مسئلے ابھی گزرے۔
اقول : اور اب اعادہ کی بھی حاجت نہیں کہ یہاں حکم تیمم خود مذہب صاحب مذہب ہے رضی اللہ تعالی عنہہاں بہ لحاظ مذہب صاحبین اعادہ اولی ہے درمختار میں تھا :
یجب طلب الدلو والرشاء وکذا الانتطار لوقال لہ حتی استقی وان خرج الوقت ۔
ڈول اور رسی طلب کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انتظار کرنا بھی واجب ہے اگر کسی نے اس سے کہا ہو کہ میں پانی بھرلوں تو تمہیں دوں گا اگرچہ انتظار میں وقت نکل جائے۔
اس پر ردالمحتار میں ہے :
ای یجب انتطارہ للدلو اذا قال ۔ ۔ ۔ الخ لکن ھذا قولھما وعندہ لایجب بل یستحب ان ینتظر الی اخر الوقت فان خاف فوت الوقت تیمم وصلی وعلی (۱) ھذا لوکان مع رفیقہ ثوب وھو عریان فقال انتظر حتی اصلی وادفعہ
یعنی اسے ڈول کا انتظار کرنا واجب ہے جب اس سے مذکورہ وعدہ کیا ہو الخ لیکن یہ صاحبین کا قول ہے امام اعظم کے نزدیك واجب نہیں بلکہ مستحب ہے کہ آخر وقت تك انتظار کرلے اگر وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو توتیمم کرکے نماز پڑھ لے یہی اختلاف اس صورت میں بھی ہے
اقول : بل(۳) فی الماء فوق ذلك فانہ اوجب فیہ الانتظار وان خرج
جب یہ برہنہ ہے اور اس کے رفیق کے پاس ایك کپڑا ہے اس نے کہا انتظار کرو میں نماز ادار کرکے تمہیں یہ کپڑا دوں گا۔ اور اس پر ان ائمہ کا اجماع ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ تمہارے حج کیلئے میں نے اپنا مال مباح کردیا تو اس پر حج واجب نہیں اور اس پر بھی اجماع ہے کہ پانی دینے کا وعدہ کیا ہو تو انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے اور اصل منشاء اختلاف یہ ہے کہ پانی کے ماسوا چیزوں پر اباحت سے قدرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں امام اعظم کے نزدیك نہیں ہوتی اور صاحبین کے نزدیك ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی فیض فتح تاتارخانیہ وغیرہا (میں کہتا ہوں : یعنی جیسے خانیہ خلاصہ وغیرہما) میں ہے منیۃ المصلی میں امام اعظم کے قول پر جزم کیا ہے۔ اور ان کے ظاہر کلام سے اسی کی ترجیح معلوم ہوتی ہے (اقول : اگر یہ حضرات ترجیح سے سکوت اختیار کرتے تو بھی اسی کو ترجیح حاصل ہوتی۔ اس لئے کہ کلام امام امام کلام ہے جیسا کہ اجلی الاعلام میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے) اور حلیہ میں ہے : “ امام اعظم کے مذہب کی بنیاد پر وجہ فرق یہ ہے کہ پانی میں اصل اباحت ہے اور ممانعت عارضی ہوتی ہے تو اس میں اباحت سے ثابت ہونے والی قدرت سے ہی وجوب ہوجاتا ہے اور اس کے ماسوا کا یہ حال نہیں۔ تو اس میں بغیر ملك کے وجوب کا ثبوت نہ ہوگا جیسے حج میں اھ “ ۔ اس پر متنبہ رہنا چاہئے شامی میں جو ہے ختم ہوا۔ (ت)
اقول : بلکہ پانی میں اس سے بھی زیادہ ہے اس لئے کہ اس میں محض وعدہ کی بناء پر
انتظار واجب کیا ہے اگرچہ وقت نکل جائے اور وعدہ اباحت نہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۹۱) کسی نے پانی دینے کا وعدہ کیا ہے یہاں بھی جب وقت جاتا دیکھے تیمم سے پڑھ لے پھر پانی مل جائے تو وضو سے دوبارہ پڑھے۔
لان فیہ المشی علی قول زفر علی خلاف قول الائمۃ الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم کما علمت انفا۔
اس لئے کہ اس میں قول ائمہ ثلاثہ کے برخلاف امام زفر کے قول پر عمل ہے رضی اللہ تعالی عنہمجیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ (ت)
اقول : ظاہرا اس(۱) صورت میں اگر وہ اس کے نماز پڑھتے میں پانی لے آیاتیمم نہ جائےگا نماز پوری کرے جبکہ جانے کہ وضو کرنے سے نماز وقت پر نہ ملے گی۔
لانہ کان واجد الماء قبل ھذا ظاھرا کمامر عن محمد رحمہ الله تعالی وانما ساغ لہ التیمم لضیق الوقت عن استعمالہ ولم یتبدل ھذا السبب فلاینتقض التیمم بخلاف صورۃ افادھا فی الدر اذقال لوتیمم(۲) لعدم الماء ثم مرض مرضا یبیح التیمم (ای وقد وجد الماء بعدہ کما بینہ ش)لم یصل بذلك التیمم لان اختلاف(۳) اسباب الرخصۃ یمنع الاحتساب بالرخصۃ الاولی وتصیر الاولی کان لم تکن جامع الفصولین فلیحفظ اھ۔ وفیہ کلام اوردہ ش وقد اجبنا
اس لئے کہ ظاہرا اس سے پہلے بھی پانی اسے دستیاب تھا جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے اس کا بیان گزرا اور اس کیلئے تیمم صرف اس لئے جائز ہوا کہ وقت میں پانی استعمال کرنے کی گنجائش نہ تھی اور اس سبب میں اب بھی کوئی تبدیلی نہ آئی توتیمم نہ ٹوٹے گا ہاں اس کے برخلاف تیمم ٹوٹنے کی ایك صورت ہے جس کا درمختار میں اس طرح افادہ کیا ہے : “ اگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کیا۔ اس کے بعد اسے ایسی بیماری ہوگئی جس سے تیمم جائز ہوجاتا ہے(پھر پانی مل گیا جیسا کہ شامی نے بیان کیا ہے) تو سابقہ تیمم سے نمازنہ پڑھے۔ اس لئے کہ اسباب رخصت میں تبدیلی پہلی رخصت کو شمار کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور پہلی رخصت کالعدم ہوجاتی ہے جامع الفصولین اسے ذہن نشین رکھنا چاہئے اھ “ ۔ (ت)
اس پر کچھ کلام ہے جو علامہ شامی نے ذکر کیا ہے
وکتب وجہ البحث فی منھیتہ انہ اذا تیمم اولالبعدہ عن الماء فھو فاقد لہ حقیقۃ وخوف العدو فقد معنی فالحقیقی قدزال واعقبہ المعنوی فلافرق بینہ وبین المرض اذا وجد بعد الفقد الحقیقی اھ۔ وکتبت علیہ مانصہ
پھر ہم نے حاشیہ شامی میں اس کا جواب بھی دیا ہے تکمیل فائدہ کیلئے یہاں اسے نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : “ اقول : لیکن اس پر بدائع کے اس مسئلہ سے اعتراض ہوتا ہے : اگرتیمم کرنے والا ایسے پانی کے پاس سے گزرا جہاں وہ کسی دشمن یا درندہ کے خوف کی وجہ سے اتر نہیں سکتا تو اس کاتیمم نہ ٹوٹے گا۔ ایسا ہی محمد بن مقاتل رازی نے ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے اصحاب کے مذہب پر قیاس کا تقاضا یہی ہے اس لئے کہ معنی پانی اسے دستیاب نہیں تو یہ معلوم سے ملحق ہے۔ اسی کے مثل منیہ میں بھی ہے۔ وجہ اشکال یہ ہے کہ ظاہر ہے کہ پہلے جس سبب سے اس کیلئے تیمم روا ہوا تھا وہ اور ہے اور دشمن کا خوف ایك دوسرا سبب ہے۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ مفروضہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ پہلے اس کاتیمم اس لئے تھا کہ اسے پانی نہ ملا ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پہلا سبب اب بھی باقی ہے مگر اس میں بحث ہے۔ اس لئے تأمل کی ضرورت ہے اھ۔ (ت)
وجہ بحث اپنے حاشیہ میں یہ بیان فرمائی کہ جب اس نے پہلے پانی سے دور ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو حقیقۃ پانی کا فقدان تھا اور دشمن کا خوف ہونے کی صورت میں معنی پانی کا فقدان ہے۔ تو حقیقی فقدان ختم ہوگیا اور اس کی جگہ معنوی فقدان آگیا۔ تو اس صورت میں اور فقدان حقیقی کے بعد پانی ملنے کے وقت مرض ہونے کی صورت میں کوئی فرق نہیں اھ۔ (ت)
اس بحث پر میں نے درج ذیل جواب تحریرکیا :
منہیۃ علی الرو باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۴
اقول : الله تعالی آپ پر رحم فرمائے اور آپ کے طفیل ہم پر بھی رحم فرمائے عدم کی تین قسمیں ہیں : (۱) کسی شئے کا فی نفسہ معدوم ہونا (۲) کسی جگہ معدوم ہونا (۳) مکلف کے حق میں معدوم ہونا پہلے معنی پر پانی کا فقدان اسی وقت ہوگا جب وہ دنیا سے معدوم ہوجائے اور یہ روز قیامت سے پہلے نہ ہوگا۔ پانی کسی جگہ میں اور مکلف کے حق میں معدوم ہوتا ہے۔ یہ اس طرح کہ مکلف جہاں پر ہے وہاں پانی نہ ہو ساتھ ہی پانی تك رسائی میں حرج لاحق ہوتا ہو پانی کا عدم شرعی جو باب تیمم میں ذکر ہوتا ہے اس کا یہی معنی ہے۔ لیکن جب پانی اس کے ہاتھ میں ہو یا پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے کوئی حرج اور دشواری نہ ہو تو پانی اس کے حق میں معدوم نہیں۔ ہدایہ میں ہے : مقدار کے بارے میں “ میل “ ہی مختار ہے۔ اس لئے کہ شہر میں داخل ہونے سے اس کو حرج ہوگا۔ اور پانی حقیقۃ معدوم ہے۔ (ت)عنایہ میں فرمایا : اس کی تقریر یہ ہے کہ نص میں یہ وارد ہے کہ پانی معدوم ہو اور اس وقت مکلف جس جگہ ہے وہاں پانی حقیقۃ معدوم ہے۔ لیکن ہم
عــہ فقد اشار بھذا الی العدم الثانی وبقولہ یلحقہ الحرج الی العدم الثالث وانما احتاج الی اثبات الثانی لان الثالث یتوقف علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس عبارت سے عدم ثانی کی طرف اشارہ کیا۔ اور “ اسے حرج ہوگا “ سے عدم ثالث کی طرف اشارہ کیا اور انہیں عدم ثانی ثابت کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ عدم ثالث اس پر موقوف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ولاشك ان الماء اذا کان علیہ عدو اولص اوسبع فالمعنی باق بعینہ اذلیس الماء فی مکان المکلف فھو معدوم حیث ھو حقیقۃ وفی وصولہ الیہ حرج فتحقق الامران اللذان علیھما یدور العدم الشرعی المذکورھنا ولا(۱) نظر فیہ الی کونہ بعیدا عن النظر اوبمرأی منہ اوبعیدا بعدا معینا اواقرب منہ وانما المناط لحوق الحرج فی الوصول الیہ بل ھو الفاصل ھھنا بین القرب والبعد کما سمعت انفا فثبت العدم الشرعی ولم یتبدل السبب وان(۲)تبدل سبب السبب اعنی سبب الحرج فی الوصول الیہ کما اذا کان عندہ عدوہ ئخاف منہ علی نفسہ ولم یبرح حتی وردہ نص ئخاف منہ علی مالہ وذھب العدو
یقینی طور پر یہ جانتے ہیں کہ پانی پر قدرت ہوتے ہوئے پانی کا معدوم ہوناتیمم جائز نہیں کرتا۔ ورنہ سمندر کے ساحل پر بسنے والا شخص جس کے گھر میں پانی معدوم ہے اس کیلئے تیمم جائز ہوتا۔ اس لئے ہم نے حرج لاحق ہونے کو دوری ونزدیکی کے درمیان حد فاصل قرار دیا۔ کیونکہ طاعت بلحاظ طاقت ہی لازم ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : “ اور تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اھ۔ اس میں شك نہیں کہ جب پانی پر دشمن یا چوریا درندہ ہو تو فقدان کا معنی بعینہ باقی ہے اس لئے کہ مکلف کی جگہ پر تو پانی موجود نہیں اس لئے جہاں وہ ہے وہاں پانی حقیقۃ معدوم ہے اور پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے حرج بھی ہے تو دونوں باتیں جن پر یہاں ذکر شدہ عدم شرعی کا مدار ہے وہ پالی گئیں اور اس معاملہ میں اس کا لحاظ نہیں ہے کہ پانی نگاہ سے دور ہو یا دیکھنے کی جگہ میں ہو یا معین دوری پر ہو یا اس سے قریب تر ہو۔ مدار صرف یہ ہے کہ پانی تك پہنچنے میں حرج لاحق ہوتا ہو۔ بلکہ یہی قرب وبعد کے درمیان یہاں حد فاصل ہے جیسا کہ ابھی سن چکے تو عدم شرعی ثابت ہوگیا۔ اور سبب میں تبدیلی نہ آئی اگرچہ سبب کے سبب یعنی پانی تك رسائی میں حرج کے سبب میں تبدیلی آگئی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پانی پر پہلے کوئی دشمن تھا جس سے اسے اپنی جان کا خطرہ تھا وہ اس جگہ سے ہٹا نہیں کہ کوئی چور آگیا جس سے اس کو اپنے مال کیلئے خطرہ ہے اور
اما قول ابن مقاتل انہ غیر واجد للماء معنی فکان ملحقا بالعدم فاقول : ارادبہ العدم عـــہ الحسی دون الشرعی بالمعنی المذکور ولاشك ان الماء موجود ھھنا بحضرتہ وان لم یکن فی قبضتہ وھو واجد لہ حسا غیر واجد لہ بمعنی القدرۃ علیہ وعدم الحرج فی وصولہ الیہ
دشمن چلا گیا اس صورت میں کسی کو یہ وہم نہیں ہوسکتا کہ سبب بدل گیا بخلاف اس صورت کے جس میں یہ ہے کہ پانی اس کے پاس موجود ہوتے ہوئے اسے مرض عارض ہوگیا یہاں پانی مذکورہ معنی میں شرعی طور پر معدوم نہیں بلکہ یا تو خود اسی جگہ پانی موجود ہے مثلا خود اس کے ہاتھ میں ہے یا پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے کوئی دشواری وحرج نہیں مثلا پانی اس کے گھر میں موجود ہے۔ حرج صرف اس کے استعمال میں ہے تو یہاں پر سبب بدل گیا۔ (ت)
لیکن ابن مقاتل کا یہ قول کہ “ معنی “ اسے پانی دستیاب نہیں تو وہ معدوم سے ملحق ہے فاقول : اس سے ان کی مراد عدم حسی ہے۔ عدم شرعی بمعنی مذکور مراد نہیں۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ یہاں تو پانی اس کے پاس موجود ہے اگرچہ اس کے قبضہ میں نہیں تو حسی طور پر پانی اسے دستیاب ہے اور دستیاب نہیں ہے اس معنی میں کہ اس پر اسے قدرت ہو اور اس تك رسائی میں
عـــہ اقول : ومن الدلیل علیہ قول البدائع اما العدم من حیث المعنی لامن حیث الصورۃ فھو ان یعجز من استعمال الماء مع قرب الماء منہ نحوما اذا کان بینہ وبین الماء عدو اولصوص اوسبع اوحیۃ الخ فجعلہ موجوداصورۃ والوجود الصوری ھو الحسی۔ (م)
اقول : اس کی ایك دلیل بدائع کی یہ عبارت ہے “ لیکن عدم بلحاظ معنی نہ بلحاظ صورت یہ ہے کہ پانی قریب ہوتے ہوئے اس کے استعمال سے عاجز ہو۔ جیسے اس کے اور پانی کے درمیان دشمن ہو یا چور ہوں یا درندہ یا سانپ ہو “ الخ۔ اس عبارت سے مذکورہ حالت میں انہوں نے پانی کو صورۃ موجود قرار دیا اور وجود صوری اور وجود حسی دونوں ایك ہی ہیں۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کوئی حرج نہ ہو۔ اس لئے وہ عدم حسی سے ملحق ہے اور معدوم بہ عدم شرعی بمعنی مذکور ہے اسی طرح علمائے کرام کے کلمات کو سمجھنا چاہئے۔ اور ساری تعریف خدا کیلئے جو صاحب فضل واحسان ہے۔ اور ہمارے نبی اور ان کی آل پر درود وسلام۔ (ت)
(۹۲) پانی کو ٹھری میں رکھا ہے اندھیرا سخت ہے جاتے ہوئے خوف ہے اور دیا سلائی وغیرہ پاس نہیں اور اجالے کا انتظار کرتا ہے تو وقت جاتا ہے (اقول یوں کہ نماز نماز عشا ہے یا مثلا وقت صبح اور اندھیرا ابرکثیف کا ہے) توتیمم کرکے پڑھ لے اور پھر اعادہ کرے وقد تقدم نقلہ عن الحلیۃ والبحر (اس کی نقل حلیہ اور بحر کے حوالہ سے گزرچکی۔ ت)
اقول : ولم اذکر ماقالوہ من کونہ علی سطح لان المراد بہ ان لایکون حیث الماء وکذا قولھم لیلا بل عممت مثل وقت الصبح لان المناط الخوف فی الظلمۃ وزدت الاعادۃ لماعلمت مرارا۔
اقول : ان حضرات نے “ چھت پر ہونے “ کا ذکر کیا تھا۔ مگر میں نے اس قید کے ساتھ ذکر نہ کیا کیونکہ چھت پر ہونے کی تعبیر سے ان کی مراد یہ ہے کہ ایسی جگہ نہ ہو جہاں پانی موجود ہے اسی طرح انہوں نے “ رات “ کی قید کے ساتھ یہ مسئلہ بیان کیا تھا میں نے یہ لفظ ذکر نہ کیا بلکہ مثلا وقت صبح کہہ کر اسے عام کردیا اس لئے کہ اصل مدار یہ ہے کہ تاریکی کے اندر اسے خوف محسوس ہورہا ہو (خواہ یہ تاریکی کسی بھی وقت ہو) اور اعادہ کا حکم میں نے زیادہ کیا جس کی وجہ بارہا بیان ہوچکی۔ (ت)
(۹۳) اقول : یوں ہی اگر اندھیری رات یا صبح کو بدلی ایسی کالی شدید محیط یا سیاہ آندھی چل چکی اور اس کی تاریکی پھیلی ہے اگرچہ کوئی وقت ہو اور ان سب صورتوں میں ظلمت اتنی ہے کہ کنویں تك راہ نظر نہیں آتی اور یہ روشنی پر قادر نہیں اور انتظار میں وقت جاتا ہے تیمم کرکے پڑھ لے اور اعادہ کرے۔ ایسی۱ سیاہی کو علماء نے جماعت میں عذر گنا ہے۔
کما فی التبیین والھندیۃ ویأتی عن الدر وھم انما قالوا ظلمۃ شدیدۃ فقال ش
جیسا کہ تبیین الحقائق اور ہندیہ میں ہے۔ اور درمختار کے حوالہ سے آگے ذکر آئیگا۔ اور ان حضرات نے “ سخت تاریکی “
اقول : وھو ظاھر فان مجرد(۱) لحوق مشقۃ ما لوکان عذرا مسقطا لسقت تکالیف الشریعۃ عن اخرھا قال فی الفتح لو(۲) قدر علی القیام لکن ئخاف بسببہ ابطاء برء ا وکان یجد الماء شدیدا جاز لہ ترکہ فان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز اھ ومثلہ فی الکافی وغیرہ فی الخانیۃ من(۳) لایقدر علی الوضوء الابمشقۃ لایباح لہ التیمم اھ قال ش والظاھر انہ لایکلف الی ایقاد نحو سراج وان امکنہ ذلك اھ
اقول : وکأنہ اخذہ من قولھم فی تطہیر الانجاس لایضر(۴) بقاء اثر کلون وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الی ماء حار اوصابون ونحوہ اھ در۔ حار ای مسخن۔ ونحوہ کحرض واشنان اھ ش۔
سے تعبیر کی۔ جس پر علامہ شامی نے فرمایا : “ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد اس کا ایسی حالت میں ہونا ہے کہ مسجد تك پہنچنے کا راستہ اسے نظر نہ آتا ہو جس کی وجہ سے وہ نابینا کی طرح قرار پاتا ہو “ ۔ اھ (ت)
اقول : یہ بات واضح ہے اس لئے کہ مطلقا ذرا سی بھی مشقت کا لاحق ہونا اگر ساقط کرنے والا عذر ہوتا تو تمام تکالیف شرعیہ بالکل ہی ساقط ہوجائیں۔ فتح القدیر میں ہے : “ اگر کھڑے ہونے پر قدرت رکھتا ہو لیکن اس کی وجہ سے دیر میں اچھے ہونے کا اندیشہ ہو یا سخت تکلیف محسوس کرتا ہو تو اس کیلئے قیام ترك کرنا جائز ہے۔ اور اگر تھوڑی سی مشقت لاحق ہوتی ہو تو ترك جائز نہیں “ ۔ اھ۔ اسی کے مثل کافی وغیرہ میں بھی ہے۔ اور خانیہ میں ہے : “ جو شخص مشقت ہی سے سہی وضو کرسکتا ہے اس کیلئے تیمم جائز نہیں “ اھ علامہ شامی نے
فرمایا : “ ظاہر یہ ہے کہ وہ چراغ وغیرہ جلانے کا مکلف نہیں اگرچہ یہ اس کیلئے ممکن ہو “ اھ اقول : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ مسئلہ نجاستوں کی تطہیر سے متعلق فقہاء کے اس قول سے اخذ کیا ہے : “ اگر رنگ بو جیسا کچھ اثر باقی رہ جائے جو زائل نہیں ہوتا تو یہ مضر نہیں لہذا وہ اسے دور کرنے
فتح القدیر باب صلٰوۃ المریض نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۴۵۷
فتاوی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۸
ردالمحتار باب الامامۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۱
الدرالمختار مع الشامی باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۱
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۱
اما الاولی فاقول : الظاھر(۱) فیھا عندی البناء علی التیسر فمن(۲) عندہ فانوس متقد ویقدر علی الخروج بہ الی المسجد اوکان متقدا والان اطفأہ وفیہ دھن وعندہ کبریت فأی مشقۃ تلحقہ فی ایقادہ والخروج بہ نعم من(۳) لیس عندہ اولہ واحد وفی البیت العیال*ان خرج بہ تعسرت علیھم الاعمال*اوھالت ظلمۃ اللیل الاطفال* اومرأۃ وحدھا مالھا مونس فی الحال*فھذا لایؤمربان یحصل الان فانوسا بشراء اوسؤال*وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم بشرا(۴) المشائین فی الظلم الی المساجد بالنور التام یوم القیمۃ اخرجہ ابوداؤد والترمذی بسند صحیح عن بریدۃ وابن ماجۃ
کیلئے گرم پانی یا صابون یا ایسی ہی کوئی اور چیز استعمال کرنے کا مکلف نہیں “ ۔ اھ درمختار “ گرم پانی یعنی جو (اس مقصد سے) گرم کیا گیا ہو صابون جیسی کوئی اور چیز جیسے حرض اور اشنان (صابن کی طرح صفائی لانے کیلئے استعمال ہونے والی گھاسیں ہیں) اھ۔ شامی۔ (ت)
یہاں دو۲ مسئلے ہیں : ایك مسئلہ جماعت دوسرا مسئلہ تیمم جو زیر بحث ہے (دونوں کی قدرے توضیح وتفصیل کی جائے تو مسئلہ کا حکم واضح ہوسکتا ہے)(۱) مسئلہ جماعت۔ اقول اس میں میرے نزدیك ظاہر یہ ہے کہ آسانی سے میسر آنے پر حکم کی بنارکھی جائے جس کے پاس جلتا ہوا چراغ یا لالٹین موجود ہے اور اسے لے کر مسجد جاسکتا ہے یا چراغ پہلے جل رہا تھا اس وقت بجھا دیا ہے مگر اس میں تیل موجود ہے اور اس کے پاس دیا سلائی بھی ہے تو اسے جلانے اور لے کر مسجد جانے میں کون سی مشقت ہے ہاں جس کے پاس چراغ نہیں یا ہے مگر ایك ہی ہے اور گھر میں بال بچے ہیں کہ اگر لے کر چلا گیا تو ان کے کاموں میں دشواری ہوتی ہے یا رات کی تاریکی سے بچے خوف ودہشت میں مبتلا ہوتے ہیں یا اکیلی عورت ہے جو فی الحال کوئی مونس نہ ہونے کی وجہ سے تاریکی میں خوف زدہ ہوتی ہے تو ایسے شخص کو اس حالت میں کوئی چراغ خرید کر مانگ کر حاصل کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا۔ (ت)
جب کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان بھی ہے کہ “ تاریکیوں میں مسجدوں تك کثرت سے پیادہ جانے والوں کو روز قیامت بھرپور روشنی ملنے کی بشارت دے دو “ یہ حدیث ابوداؤد نے روایت کی۔ اور ترمذی
واتی(۱) النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم رجل اعمی فقال یارسول الله لیس لی قائد یقودنی الی المسجد فسأل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یرخص لہ فیصلی فی بیتہ فرخص لہ فلما ولی دعاہ فقال ھل تسمع النداء بالصلاۃ قال نعم قال فاجب رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
اقول : حکم اولا بالرخصۃ وھی الحکم العام ثم ارشدہ الی العزیمۃ ولابی داؤد والنسائی عن عبدالله بن ام مکتوم رضی الله تعالی عنھما انہ قال یارسول الله ان المدینۃ کثیرۃ الھوام والسباع فھل تجدلی من رخصۃ قال ھل تسمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح قال نعم قال فحیھلا ۔ اقول : لم یجبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالنفی بل بدأبسؤال لیرشدہ الی العزیمۃ فاذا(۲) کانت نفس الشارع
نے بسند صحیح حضرت بریدہ سے اور ابن ماجہ وحاکم نے حضرت انس اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کی۔ “ اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس ایك نابینا شخص حاضر ہوئے عرض کیا : یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! مجھے کوئی مسجد لے جانیوالا نہیں۔ پھر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے درخواست کی کہ انہیں گھر میں نماز ادا کرلینے کی رخصت مرحمت فرمادیں۔ حضور نے انہیں رخصت دے دی۔ جب وہ واپس چلے تو انہیں بلاکر فرمایا : کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو عرض کیا : ہاں : فرمایا : “ تو حاضری دو “ ۔ یہ حدیث امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی۔ (ت)
اقول : حضور نے پہلے انہیں رخصت کا حکم دیا جو حکم عام ہے۔ پھر انہیں عزیمت کی جانب ہدایت فرمائی۔ حضرت عبدالله بن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہماسے ابو داؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! مدینہ میں زہریلے جانور اور درندے بہت ہیں تو کیا میرے لئے کوئی رخصت ہے فرمایا : تم حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح (آؤ نماز کی طرف آؤ فلاح کی طرف) سنتے ہو عرض کی : ہاں۔ فرمایا : تب حاضری دو۔ (ت)
اقول : حضور نے رخصت کے سوال پر نفی میں جواب دیا بلکہ ازسرنو ایك سوال کردیا تاکہ عزیمت کی جانب انہیں ارشاد و رہنمائی فرماسکیں۔ جب
سنن ابی داؤد التشدید فی ترك الجماعۃ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۸۱
واما الثانیۃ فاقول : یبنی الامر فیھا علی الامکان لما علمنا ان قلیل المشقۃ لایکون عذرا فیہ مالم تشتد و تبلغ حد الحرج والضرر ولذا لم یبیحوا للمحدث التیمم لاجل البرد کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والمصفی والفتح والنھر وغیرھا(۱) وقد اوجبوا فیہ علی الجنب دخول الحمام باجرۃ اوتسخین الماء ان قدر فی الھندیۃ یجوز التیمم اذا خاف الجنب اذااغتسل ان یقتلہ البرد اویمرضہ والخلاف فیما اذا لم یجد ما یدخل بہ الحمام فان وجدلم یجز اجماعا وفیما اذا لم یقدر علی تسخین الماء فان قدرلم یجز ھکذا فی السراج الوھاج اھ فاتضح ماذکرتہ فی تصویر المسألۃ۔
حضرت شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے قلب پاك جماعت میں لوگوں کی حاضری کا اس حد تك مشتاق ہے تو یہ حکم کیسے دیا جاسکتا ہے کہ رات کی تاریکی میں جماعت ساقط ہے اگرچہ چراغ وغیرہ جلانا اور لے کر جانا بآسانی اور بغیر کسی زحمت کے میسر ہو۔ اور مسئلہ نجاست میں ہمیں صرف یہ حکم تھا کہ پانی سے پاك کردیں یہ کام ہوگیا اور جس اثر کا دور ہونا دشوار ہو وہ معاف ہے اور جو معاف ہے اسے دور کرنے کا مکلف نہیں۔ (ت)
(۲) مسئلہ تیمم۔ اقول : اس میں بنائے حکم امکان پر ہے اس لئے کہ معلوم ہے اس میں معمولی مشقت عذر نہیں جب تك شدید اور حرج وضرر کی حد تك نہ پہنچ جائے۔ اسی لئے حدث والے کیلئے ٹھنڈك کی وجہ سے تیمم مباح نہ ہوا جیسا کہ خانیہ خلاصہ مصفی فتح القدیر النہرالفائق وغیرہا میں ہے۔ اور جنابت والے پر اجرت دے کر حمام میں نہانا یا اگر قدرت ہو تو پانی گرم کرنا واجب ہوا۔ ہندیہ میں ہے : “ جنابت والے کو جب یہ خوف ہو کہ غسل کرے گا تو ٹھنڈك سے ہلاك ہوجائیگا یا بیمار پڑ جائے گا توتیمم جائز ہے۔ اور حمام میں جاکر نہلانے کی اجرت اس کے پاس نہ ہو تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر اجرت اس کے پاس ہو تو بالاجماع اس کے لئے تیمم جائز نہیں۔ اس صورت میں بھی اختلاف ہے جب
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸
(۹۴ تا ۹۶) اقول : بدستور اگر روشنی کا سامان بقیمت ملتا ہے اور اس کے پاس حاجت سے زائد قدر وقیمت موجود ہے یا بیچنے والا ادھار پر راضی اور قیمت مثل پر زیادت فاحشہ نہیں خریدنا واجب ورنہ تیمم کرے۔
(۹۷) اقول : مسئلہ نمبر ۹۲ سے دو۲ فائدے اور حاصل ہوئے ایك یہ کہ اگر مسافر جنگل میں اترا اور اندھیری رات ہے اور کنویں تك جانے میں خوف ہے تیمم کرے کہ جب گھر میں تیمم کی اجازت دی تو جنگل میں بدرجہ اولی۔
(۹۸ تا ۱۰۲) اقول دوم : یہ کہ نمبر ۸ تا ۱۲ میں کہ پانی پر درندے۹۸ سانپ آگ یا رہزن۹۹ یا دشمن۱۰۰ یا فاسق۱۰۱ یا ۱۰۲ قرضخواہ کا ہونا مذکور ہوا اگر ان اشیاء کا فی الحال وہاں ہونا معلوم نہیں مگر صحیح اندیشہ ہے جب بھی اجازت تیمم ہے کہ ظلمت شب میں کوٹھری میں جاتے ہوئے اسی مظنہ سے خوف ہے نہ شے معلوم التحقق سے۔
(۱۰۳ تا ۱۱۱) دشمن وفاسق وقرضخواہ کی ہر صورت میں بدستور وہ تین تین صورتیں ہوں گی کہ اجرت پر لادینے والا زیادہ مانگتا ہے یا ادھار پر راضی نہیں یا یہ دے ہی نہیں سکتا توتیمم کرے۔
(۱۱۲ تا ۱۱۵) اقول : یونہی اگر رات کو جنگل میں ہے اور گود میں بچہ اور اسے پانی تك لے جانے میں بھیڑئیے کا اندیشہ اور کوئی ایسا نہیں کہ پانی لادے یا جس کے بچہ کو چھوڑ جائے یا ہے اور زیادہ اجرت کا طالب یا یہ دے نہیں سکتا یا مال اور جگہ ہے اور وہ ادھار پر راضی نہیں ان صورتوں میں بھی تیمم کرے مرد ہو خواہ عورت۔
(۱۱۶ و ۱۱۷) سخت تڑاقے عـــہ کی دھوپ پڑ رہی ہے یا شدت کی ٹھٹھر ہے پالا گررہا ہے ان عذروں کے سبب پانی لینے کو جانا واقعی سخت دشوار اور ناقابل برداشت تکلیف کا باعث ہے اور انتظار میں وقت جاتاہے تیمم سے پڑھ کر وضو سے اعادہ کرلے کما سیأتی۔
(۱۱۸ تا ۱۱۲) اقول : یونہی اگر ہولناك آندھی چل رہی ہے خصوصا رات میں یا معاذالله زلزلہ ہے یا عیاذا بالله بجلی تڑپ تڑپ کر گررہی ہے یا کثرت سے اولے پڑ رہے ہیں یا کیچڑ اندھن بشدت ہے کہ یہ سب۱ جماعت تو جماعت خود فرض جمعہ میں عذر ہیں تو اسی طرح تیمم کیلئے بھی اور حکم اعادہ بدستور۔ درمختار باب الامامۃ میں ہے :
لاتجب علی من حال بینہ وبینھا مطرو
اس شخص پر جماعت واجب نہیں جس کی حاضری جماعت
عـــہ البرد یذکر فی النمرۃ بعدھا والحرفی ۱۲۳ عن عدۃ کتب ۱۲ منہ غفرلہ (م)
برودت کا ذکر اس کے بعد والے نمبر میں آئے گا اور حرارت کا ذکر نمبر ۱۲۳ میں متعدد کتابوں سے آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں سخت بارش کیچڑ ٹھنڈك اور تاریکی حائل ہو یا رات کے وقت آندھی حائل ہو دن کو نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وانما کان عذرا لیلا فقط لعظم مشقتہ فیہ دون النھار اھ۔
اقول : وانت تعلم ان علی شدۃ الاذیۃ المدار فان ثبت نھارا ثبت الرخصۃ اولم تثبت لیلالم تثبت۔
یہ صرف رات کو عذر ہوا کیونکہ اس وقت اس کیلئے بڑی مشقت ودشواری ہے دن میں یہ بات نہیں اھ (ت)
اقول : معلوم ہے کہ مدار تکلیف واذیت کی شدت پر ہے اگر یہ دن میں متحقق ہو تو دن میں بھی رخصت ہوگی اور اگر رات میں متحقق نہ ہو تو رات کو بھی رخصت نہ ہوگی۔ (ت)
اسی کے باب الجمعہ میں ہے :
شرط لافتراضھا عدم مطر شدید و وحل وثلج ونحوھما ۔
فرضیت جمعہ کے لئے شرط ہے کہ سخت بارش کیچڑ برف اور ایسی ہی کوئی چیز حائل نہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای کبرد شدید کما قدمناہ فی باب الامامۃ اھ۔
اقول : بل قدمہ ھو کمارأیت الان وشمل قولہ نحوھما مازدت من زلزلۃ وصاعقۃ والعیاذ بالله تعالی بل بالاولی کمالایخفی۔
یعنی جیسے سخت ٹھنڈک جیسا کہ اسے ہم باب الامامۃ میں بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
اقول : نہیں بلکہ خود صاحب درمختار نے اسے پہلے بیان کیا ہے جیسا کہ ان کی عبارت ابھی نقل ہوئی۔ اور ان کا قول نحوھما (ایسی ہی کوئی چیز) زلزلہ اور صاعقہ والعیاذ بالله تعالی جن کا میں نے اضافہ کیا انہیں بھی شامل ہے بلکہ یہ تو بدرجہ اولی شامل ہوں گے جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۱۱
الدرالمختار مع الشامی باب الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۱ و ۶۰۳
ردالمحتار باب الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۳
کما قدمتہ فی ففی الحلیۃ والبحر عن المبتغی بالغین المعجمۃ من کان فی کلۃ جاز تیممہ لخوف البق اومطر اوحرشدیدا الخ۔
قلت و رأیتہ فی بعض الکتب بزیادۃ اوبرد وکان ترکھم من باب الاکتفاء کما قال فی جامع الرموز عند قولہ لبعدہ میلا اومرض اوبرد تخصیص البرد
من قبیل الاکتفاء فان الحر الشدید مبیح التیمم اھ وعزاہ للزاھدی۔
جیسا کہ میں نے “ الظفر لقول زفر “ ۸۸ میں یہ نقل کیا ہے تو حلیہ اور بحر میں مبتغی بغین معجمہ کے حوالہ سے ہے جو کلہ (مچھر دانی کی طرح مچھر وغیرہ سے بچانے والے چھوٹے سے خیمہ) میں ہو اس کیلئے پسو یا بارش یا سخت گرمی کے اندیشہ سے تیمم جائز ہے اگر وقت نکلنے کا خوف ہو۔ (ت)
قلت اور یہ مسئلہ میں نے بعض کتب میں “ اوبرد “ (یا ٹھنڈک) کے اضافہ کے ساتھ دیکھا ہے گویا علماء کا اسے ذکر نہ کرنا چند کے ذکر پر اکتفاء کے طور پر ہے جیسا کہ جامع الرموز میں “ لبعدہ میلا اومرض اوبرد “ (ایك میل دوری یا بیماری یا سردی کی وجہ سے) کے تحت لکھا ہے خاص سردی کا ذکر اکتفاء کے قبیل سے ہے اس لئے کہ سخت گرمی سے بھی تیمم جائز ہوجاتا ہے اھ۔ اور اسے زاہدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ (ت)
اقول : مگر یہ بظاہر بہت عجب ہے کہ پانی کا وجودتیمم کا موجب ہو شدت کے مینہ میں وضو وغسل سب کچھ ہوسکتا ہے خود مینہ سے یا پرنالے سے یا کسی برتن میں پانی لے کر۔
وانا اقول : وبالله التوفیق (اور میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) اس کی ایك ظاہر صورت یہ ہے کہ وضو کرنا ہے اور سر پر دیر تك پانی گرنا مثلا بوجہ ضعف دماغ مضر ہے اور چھتری یا چادر وغیرہ نہیں جس سے سر کو پانی سے بچا سکے نہ چھجے کا کوئی پرنالہ چل رہا ہے کہ چھجے کے نیچے کھڑا ہوکر اس سے وضو کرے یا ہوا سے پانی کی دھاریں اسی طرف آرہی ہیں کہ چھجا حاجب نہ ہوگا نہ خادم غلام لڑکا کوئی ایسا ہے کہ پانی لے کر اسے دے دے نہ کوئی برتن کہ اسے کسی پرنالے کے نیچے رکھ دے یا پرنالہ ہی نہیں اور مینہ میں رکھے تو پانی قابل وضو اتنی دیر میں جمع ہوکہ وقت نکل جائے غرض وضو کی کوئی صورت نہیں سوا اس کے کہ مینہ میں کھڑا ہوکر اعضائے وضو دھوئے اور اتنی دیر تك پانی سر پر لے اور یہ اسے مضر ہے تو یہاں مینہ کا وجود ہی وضو سے مانع ہوا ورنہ وضو مضر نہ تھا۔
جامع الرموز فصل فی التیمم المکتبۃ الاسلامیہ ایران ۱ / ۶۶
(۱۲۵ تا ۱۳۰) اقول : ان دونوں صورتوں میں حسب دستور تین تین صورتیں اور نکلیں گی کہ پانی لے دینے والا اجرت چاہتا ہے یا برتن یا تہبند کرایہ پر ملتا ہے اور یہ مفلس ہے یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اجرت مثل سے بہت زائد مانگتا ہے۔
(۱۳۱ تا ۱۳۵) پہاڑ سے لگاتار پانی جھر رہا ہے مگر خفیف نہ دھار بندھ کر اور ریت میں جذب ہوتا جاتا ہے اس۱ کے پاس کوئی ایسا کپڑا نہیں نہ مول ملتا ہے جسے گزرگاہ آب پر پھیلا کر اسے اعضاء پر نچوڑ کر یا کسی برتن میں جمع کرکے وضو کرے یا۲ خریدنے کو دام نہیں یا۳ دوسری جگہ ہیں اور وہ ادھار نہیں دیتا یا۴ قیمت سے بہت زیادہ مانگتا ہے یا۵ کپڑا موجود ہے مگر اسے یوں بھگونے نچوڑنے میں ایك درم یا زیادہ کا نقصان ہے پانچوں صورتوں میں
تیمم کرے۔
(۱۳۶) انہی عبارات میں گزرا کہ اگر مچھروں کے خوف سے مسہری کے اندر پردے چھوڑے ہوئے ہے اور وقت جاتا ہے تیمم سے پڑھ لے یعنی پھر اعادہ کرے اقول : مچھر۱ پسو سے ایسی اذیت جس کے خوف کے باعث ترك وضو وغسل کی اجازت ہو بعید ہے ہاں ڈانس کی ایذا شدید ہے۔
(۱۳۷) اقول : یونہی اگر پانی کے پاس مہال چھڑی ہوئی ہے اور انتظار میں خوف فوت وقت ہے۔
وھو داخل فی معنی مانصوا علیہ من خوف سبع وحیۃ وان لم یدخل فی لفظہ وکذا صاحبہ السابق۔
درندے اور سانپ کا خوف جس کی فقہاء نے تصریح کی ہے یہ اس کے معنی کے تحت داخل ہے اگرچہ اس کے لفظ میں داخل نہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے والی صورت۔ (ت)
(۱۳۸ تا ۱۴۱) اقول : جو پانی تك نہ جاسکتا ہو مثلا لنجھا یا اپاہج یا پاؤں کٹا ہوا یا مفلوج یا مریض یا نقیہ یا نہایت بوڑھا کہ چل نہیں سکتے یا اندھا جسے اٹکل نہیں یا رات کو شبکور یا کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور اس۱ کے پاس اگر نوکر یا غلام یا بیٹا پوتا کوئی ایسا نہیں جس پر اس کی خدمت لازم ہو نہ ایسا کہ اس کے
وقیدت الاعمی بمن لایھتدی تبعالما حقق العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی۔
اقول : وردت النقیہ وھو غیر المریض والاعشی ومن بہ وجہ خاصرۃ اوغیرھا لایستطیع معہ المشی بل ھو داخل فی عدھم المقعد علی احد تفسیریہ انہ الذی لاحراك بہ من داء فی جسدہ کان الداء اقعدہ وقیل المقعد المتشنج الاعضاء ش عن المغرب۔
اندھے کیلئے میں نے یہ قید لگائی “ جسے اٹکل نہیں “ یعنی خود راہ نہیں طے کر پاتا۔ یہ قید علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکی تحقیق کے اتباع میں ہے۔ (ت)
اقول : میں نے ان سب کا اضافہ کیا : نقیہ۱ (نقاہت انتہائی کمزوری والا) یہ مریض سے الگ ہے۔ شبکور۲ (رتوندی) یا ۳ کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور بلکہ مقعد (اپاہج) کی ایك تفسیر کے پیش نظر علماء کے شمار مقعد میں یہ بھی داخل ہے وہ تفسیر یہ ہے کہ مقعد وہ ہے جس میں جسم کی کسی بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہو گویا بیماری نے اسے بٹھا دیا ہے۔ اور کہا گیا کہ اپاہج وہ ہے جس کے اعضاء میں تشنج (کھچاؤ) پایا جاتا ہو۔ شامی بحوالہ مغرب (ت)
اور اگر پانی تك جا تو ہوسکتا ہے مگر ضعف یا مرض یا ہاتھوں میں درد وغیرہ کے باعث بھر نہیں سکتا تو یہ نمبر ۷۱ ہے۔
(۱۴۲) جنب کو جنب ہونا یاد نہ رہا مسجد میں چلا گیا اب یاد آیا یا معتکف مسجد میں سوتا تھا کہ اسے جائز ہے یا غیر معتکف(۲) اگرچہ اسے منع ہے اور نہانے کی حاجت ہوئی یہ لوگ نہ مسجد میں چل سکتے ہیں نہ ٹھہر سکتے ہیں نہ مسجد میں غسل ہوسکتا ہے ناچار یہ صورت عجز ہوئی فوراتیمم کریں اگرچہ مسجد کی زمین یا دیوار سے اور معا باہر چلے جائیں اگر جاسکتے ہوں اور اگر باہر جانے میں بدن یا مال پر صحیح اندیشہ ہے توتیمم کے ساتھ بیٹھے رہیں بیٹھنے کی صورت میں تیمم ضرور واجب ہے وخلافہ غیر بین ولامبین (اس کے برخلاف جو کہا گیا وہ نہ خود واضح ہے نہ اس پر کوئی بیان ودلیل۔ ت) اور نکلنے کی صورت میں بہت اکابر اس تیمم کو صرف مستحب جانتے ہیں اور فورا بلاتیمم نکل جانا بھی جائز جانتے ہیں اور احوط تیمم ہے۔
اولا : اس تیمم کے کرنے میں جہاں تك حد امکان ہو تعجیل تام کا حکم ہے تو جو صورت جلد سے جلدتیمم ہوجانے کی ہو اس کا بجالانا واجب اور ادنی تاخیر ناجائز کہ بضرورت اتنی ہی دیر اسے توقف کی اجازت ہوئی ہے جس میں تیمم کرسکے ایك لحظہ بھی تیمم کرنے میں تاخیر روا نہیں کہ اتنی دیر بلاضرورت بحال جنابت مسجد میں ٹھہرنا ہوگا اور یہ حرام ہے لہذا اگر اس کے ہاتھ کے پاس مثلا کوئی مٹی کا برتن رکھا ہے اور دیوار قدم بھر دور ہے تو واجب کہ اسی برتن سے فوراتیمم کرلے اور اگر دیوار قریب اور برتن دور ہے یا ہے ہی نہیں تو اگر مسجد میں جہاں یہ بیٹھا ہے فرش نہیں تو زمین مسجدو دیوار میں نسبت دیکھی جائے گی اگر دیوار سے متصل ہے کہ صرف ہاتھ بڑھانا ہوگا تو اختیار ہے دیوار سے تیمم کرے یا زمین سے اور اگر دیوار تك بھی سرکنا ہوگا تو خاص زمین مسجد سے تیمم کرے دیوار تك نہ جائے اور اگر مسجد میں فرش ہے تو دیوار تك پہنچنا یا اس فرش کا ہٹانا جو جلد ہوسکے وہ کرے۔
ثانیا : یہ تیمم مسجد سے نکل جانے کیلئے تھا کہ بحال۲ جنابت جس طرح مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے یوں ہی ہمارے نزدیك اس میں چلنا بھی حرام ہے اب کہ تیمم کرچکا فورا نکل جائے اور اگر مسجد میں چند دروازے ہیں تو وہ دروازہ اختیار کرے جو قریب تر ہو۳ اس نکلنے میں خواہ مسجد سے باہر جاکر اس تیمم سے کسی آیت کی تلاوت نہیں کرسکتا کہ یہ تیمم باوصف قدرت آب محض خروج عن المسجد کیے لئے تھا ہاں اگر باہر جانے میں جان یا مال یا آبرو کا صحیح اندیشہ ہو تو اسی تیمم سے مسجد میں ٹھہرا رہے مگر نماز(۴) وتلاوت نہیں کرسکتا ان کیلئے دوبارہ ان کی نیت سے تیمم کرنا ہوگا۔
ثالثا : نکلنے کیلئے تیمم کا حکم وجوبا خواہ استجابا اس صورت میں ہونا چاہئے جبکہ عین کنارہ مسجد پر نہ ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہوجائے گا جیسے دروازے یا حجرے یا زمین پیش حجرہ کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہوا یا جنابت(۵) یاد نہ رہی اور مسجد میں ایك ہی قدم رکھا تھا ان صورتوں میں فورا ایك قدم رکھ کر باہر ہوجائے کہ اس خروج میں مرور فی المسجد نہ ہوگا اور جب تك تیمم پورا نہ ہو بحال جنابت مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔ ھذا ماعندی والله تعالی اعلم۔
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
کان الرجل فی المسجد فغلبہ النوم واحتلم تکلموا فیہ قال بعضھم لایباح لہ الخروج قبل التیمم وقال بعضھم یباح اھ
آدمی مسجد میں تھا کہ اسے نیند آگئی اور احتلام ہوگیا اس کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے بعض نے کہاتیمم سے پہلے اس کیلئے نکلنا جائز نہیں۔ اور بعض نے کہا
یکون لیلا اھ کلامہ وھو برمتہ
جائز ہے اھ۔
اختیار شرح مختار پھر شلبیہ میں ہے : “ مسجد میں سوگیا پھر اسے جنابت لاحق ہوئی کہا گیا جب تك تیمم نہ کرے اس کیلئے نکلنا جائز نہیں۔ اور کہا گیا کہ جائز ہے “ اھ۔ البحرالرائق کے باب تیمم میں محیط کے حوالہ سے ہے : “ کسی کو مسجد میں جنابت لاحق ہوئی تو کہا گیا کہ بغیرتیمم اس کیلئے نکلنا جائز نہیں جیسے جنبی کیلئے بغیرتیمم مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نکلنا بغیرتیمم کے بھی جائز ہے اس لئے کہ نکلنے میں مسجد کو نجاست سے خالی اور منزہ کرنا ہوگا جب کہ داخل ہونے میں اسے نجاست سے آلودہ کرنا ہوگا اس لئے حکم خروج کا دخول پر قیاس درست نہیں اھ (ت)
بحر نے حوالہ دیا کہ اس کا پورا بیان باب الحیض میں ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے منیۃ المصلی میں ہے : اگر مسجد میں احتلام ہوا تو نکلنے کیلئے تیمم کرے اگر کوئی خوف نہ ہو اور خوف کی صورت ہو توتیمم کرکے بیٹھا رہے اس سے نہ نماز پڑھے نہ تلاوت کرے اھ اور ذخیرہ میں تصریح ہے کہ یہ تیمم مستحب ہے اور محیط کے حوالہ سے باب التیمم میں ہم جو ذکر کرچکے ہیں اس کا ظاہر یہ ہے کہ واجب ہے۔ پھر ظاہر یہ ہے کہ خوف سے مراد بدن یا مال کو کوئی ضرر پہنچنے کا خوف ہے مثلا رات کا
عـــہ یعنی الرضوی کمایظھر بمراجعۃ الحلیۃ منہ غفرلہ (م)
یعنی محیط رضوی جیسا کہ حلیہ دیکھنے سے پتا چلتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
البحرالرائق باب التیمم عند قولہ ولوجنبًا اوحائضًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
البحرالرائق باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۶
اقول : وھو(۱) کما تری لاشبھۃ فیہ فلاادری لم بدل الصریح بالظاھر وان تبعہ فیہ اخوہ المدقق فی النھر ثم ابو السعود علی مسکین ثم ط علی الدر ھذا۔ وقال فی الحلیہ تحت قول المتن المذکور ھذا قول بعض المشائخ والتیمم عند ھذا القائل مستحب فی الفصلین کماصرح بہ فی الذخیرۃ اھ ثم ذکر مافی المحیط والخانیۃ وانہ صریح فی ان الخلاف فی الاباحۃ قال ثم الظاھر انھا (ای الاباحۃ) الاشبہ کما ھو غیر خاف عن المتأمل ان شاء الله تعالی فان قلت بل یتعین لما فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال اقیمت الصلاۃ وعدلت الصفوف فخرج الینا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فلما قام فی مصلاہ ذکر انہ
وقت ہو “ اھ بحر کی عبارت ختم ہوئی۔ سوائے لفظ “ ظاہر “ کے یہ سارا کلام حلیہ سے ماخوذ ہے اس لئے کہ اس میں محیط کی عبارت نقل کی ہے اور یہ بھی حوالہ دیا ہے کہ اسی کے مثل خانیہ میں ہے پھر لکھا ہے کہ “ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اختلاف جواز میں ہے “ اھ (ت)
اقول : اور واقعۃ اس میں کوئی شبہ نہیں جیسا کہ عبارتوں سے عیاں ہے۔ پھر نہ معلوم کیوں صاحب بحر نے لفظ صریح کی جگہ لفظ ظاہر استعمال کیا اگرچہ اس میں ان کے برادر مدقق نے النہرالفائق میں پھر ابو السعود نے حاشیہ ملا مسکین میں پھر طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں ان کی پیروی کی ہے۔ (ت)
حلیہ میں متن کی مذکورہ عبارت کے تحت ہے : “ یہ مشائخ میں سے بعض کا قول ہے اور اس قائل کے نزدیك تیمم دونوں ہی صورتوں میں مستحب ہے جیسا کہ ذخیرہ میں اس کی تصریح ہے “ اھ پھر محیط اور خانیہ کی بات بیان کی ہے اور یہ کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اختلاف جواز میں ہے۔ لکھا ہے : “ پھر ظاہر یہ ہے کہ وہ (یعنی اباحت) ہی زیادہ مناسب ہے جیسا کہ غور کرنے والے پر مخفی نہ ہوگا ان شاء الله تعالی۔ اگر یہ کہو کہ جواز واباحت ہی متعین ہے اس لئے کہ صحیحین میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ فرماتے ہیں : “ نماز کی اقامت ہوئی اور صفیں برابر کی گئیں پھر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتشریف لائے جب جائے نماز پر کھڑے
اقول : سبحن(۱) الله کیف یباح للجنب المکث فی المسجد بلاتیمم وھو حرام اجماعا والخائف ان عجز عن الخروج والاغتسال فھو بسبیل من التیمم والتیمم طھارۃ صحیحۃ عند العجز عن الماء فاباحۃ اللبث فی المسجد جنبا مع القدرۃ علی الطھارۃ مما تنبو عنہ القواعد الشرعیۃ وان جزم بہ فی التاترخانیۃ ایضا فعنھا فی الھندیۃ اذاخاف الجنب اوالحائض سبعا اولصا اوبردا فلاباس بالمقام فیہ والاولی ان یتیمم تعظیما للمسجد اھ بل وفی
ہوگئے تو حضور کو یاد آیا کہ وہ جنابت کی حالت میں ہیں فرمایا : تم لوگ اپنی جگہ رہو۔ پھر واپس تشریف لے گئے غسل فرمایا پھر تشریف لائے اور سر سے پانی ٹپك رہا تھا پھر تکبیر کہی اور ہم نے حضور کے ساتھ نماز ادا کی “ ۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسجد سے نکلنے کیلئے تیمم نہ فرمایا ورنہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہاسے بیان کرتے۔ اور جب اس کام کیلئے تیمم نہ فرمایا تو حضور کا بلاتیمم نکلنا جائز ومباح ہوا اور ہم بھی یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے بحالت جنابت مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا مباح تھا “ اھ۔ یہ سب محقق حلبی رحمۃ الله تعالی کے کلام کی تلخیص ہے۔ (ت)
اقول : سبحان اللہ۔ صاحب جنابت کیلئے بلاتیمم مسجد میں ٹھہرنا کیوں کر جائز ہوگا جبکہ یہ بالاجماع حرام ہے۔ خوف والا اگر نکلنے اور غسل کرنے سے عاجز ہو تو اس کیلئے تیمم کی اجازت ہے۔ اور پانی سے عجز کے وقت تیمم طہارت صحیحہ ہے تو طہارت پر قدرت کے باوجود مسجد میں بحالت جنابت ٹھہرنے کو جائز قرار دینا ایسی بات ہے جس سے شرعی اصول وقواعد ہم آہنگ نہیں اگرچہ اس پر تاتارخانیہ میں بھی جزم کیا ہے۔ اس کے حوالہ سے ہندیہ میں ہے : “ جنبی یا حائض کو جب کسی درندہ یا چور یا ٹھنڈك کا خطرہ ہو تو مسجد کے اندر ٹھہرنے میں حرج نہیں اور تعظیم مسجد کے
فتاوٰی ہندیہ الفصل الرابع فی احکام الحیض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸
اقول : صریح(۱) نص الخانیۃ والمحیط والاختیار لایباح لہ الخروج فھذا لیس بتوفیق بل تلفیق وقال فی باب الحیض تحت قولہ یمنع حل الدخول مسجد افاد منع الدخول ولوللمرور وقدم(۲) فی الغسل
پیش نظرتیمم کرلینا بہتر اور اولی ہے “ اھ۔
بلکہ خانیہ میں موجبات الغسل کے تحت پھر خزانۃ المفتین میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ : “ جسے مسجد میں احتلام ہو اسے فورا باہر نکل جانا چاہئے۔ اگر رات کا وقت ہو اور نکلنے میں خطرہ ہو توتیمم کرلینا مستحب ہے “ اھ۔ (ت)
ہاں بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جانا تو ایك وجہ رکھتا ہے جس کی طرف محیط رضوی میں اشارہ کیا ہے۔ اسی لئے متعدد حضرات اسی قول پر چلے ہیں کہ ٹھہرنے کی صورت میں تیمم واجب ہے اور نکلنے کی صورت میں مستحب ہے۔ اگرچہ خزانۃ المفتین کی گزشتہ عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ نکلنے کی صورت میں ترك تیمم مستحب ہے۔ درمختار میں احکام جنب کے تحت ہے : “ مسجد میں احتلام ہوا اگر تیزی سے نکلنا ہو توتیمم مستحب ہے اور اگر کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو واجب ہے “ ۔ اھ شامی میں کہا کہ : “ نہر فائق میں یہ افادہ فرمایا ہے تاکہ جن عبارتوں سے مطلقا وجوب مستفاد ہوتا ہے اور جن سے مطلقا استحباب مستفاد ہوتا ہے دونوں میں تطبیق ہوجائے (ت)
اقول : خانیہ محیط اور اختیار کے صریح الفاظ یہ ہیں کہ اس کے لئے نکلنا مباح نہیں تو یہ تطبیق نہ ہوئی بلکہ تلفیق ہوئی۔ اور علامہ شامی نے باب الحیض میں “ یمنع حل دخول مسجد “ (حیض دخول مسجد کے جواز سے مانع ہے) کے تحت تحریر فرمایا ہے :
تقییدہ بعدم الضرورۃ بان کان بابہ الی المسجد ولایمکنہ تحویلہ ولا السکنی فی غیرہ
“ ان الفاظ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر صرف گزرنے کے طور پر مسجد میں دخول ہو تو یہ بھی ممنوع ہے۔ اور غسل کے بیان میں گزرنے کی ممانعت صرف اس حالت سے مقید کی ہے جب مسجد
الدرالمختار مع الشامی موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۶
ردالمحتار موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۶
وقال السید ط علی مراقی الفلاح لواجنب فیہ تیمم و خرج من ساعتہ ان لم یقدر علی استعمال الماء وکذا لودخلہ وھو جنب ناسیا ثم ذکر و ان خرج مسرعا من غیر تیمم ولبث فیہ ولایجوز لبثہ بدونہ الا انہ لایصلی ولایقرؤ کما فی السراج اھ
سے گزرنے کی ضرورت نہ ہو۔ ضرورت کی صورت یہ ہے کہ مثلا اس کا دروازہ مسجد میں ہے اور نہ دروازہ دوسری طرف پھیر سکتا ہے نہ کسی دوسرے گھر میں رہ سکتا ہے۔ وہاں پر ہم نے عنایہ میں مبسوط کے حوالہ سے ذکر شدہ عبارت (جو آگے آنے والی ہے) سے اخذ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ ایسی صورت میں مسجد سے گزرنے کے لئے تیمم واجب ہے۔ اسی طرح اگر نکلنے کے خوف سے مسجد ہی میں ٹھہرتا ہے تو بھی تیمم واجب ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ مسجد میں اسے احتلام ہوا اور تیزی سے نکل سکتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے تیمم مستحب ہے اس لئے کہ داخل ہونے اور نکلنے میں نمایاں فرق ہے “ ۔ اھ (ت)
سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا ہے : “ اگر اسے مسجد میں جنابت لاحق ہوئی توتیمم کرے اور فورا باہر نکل جائے اگر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو ایسے ہی اگر جنابت کی حالت میں بھول کر مسجد میں چلا گیا پھر یاد آیا تو یہی حکم ہے۔ اور اگر بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جائے تو جائز ہے۔ اور اگر نکلنے پر قادر نہ ہو توتیمم کرکے مسجد میں ٹھہرے اس کے بغیر ٹھہرنا جائز نہیں مگر اس تیمم سے نہ نماز پڑھ سکتا ہے نہ تلاوت کرسکتا ہے جیسا کہ سراج میں ہے “ ۔ اھ (ت)
ردالمحتار باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الحیض والنفاس الخ مطبعۃ ازہریہ مصر ص۸۳
اقول : پانی کے استعمال پر قدرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں پانی اور غسل کیلئے بنی ہوئی کوئی جگہ ہو۔ یا اس کے پاس کوئی ایسا برتن ہو جس میں اس طرح غسل کرسکتا ہو کہ مسجد میں اس کا غسالہ ذرا بھی گرنے نہ پائے۔ یا اس کے پاس پانی روك لینے والے دبیز کپڑے ہوں تو ان پر غسل کرے پھر پانی مسجد سے باہر پھینك دے بحمدالله اسی صورت پر ایك بار مجھے عمل کا اتفاق ہوا۔ موسم سرما میں اپنی مسجد میں معتکف تھا اور سخت بارش ہورہی تھی میں نے وضو کرنا چاہا تو اپنے لحاف پر اس طرح وضو کیا کہ مسجد میں ایك قطرہ بھی نہ پڑ سکا۔ وللہ الحمد۔ اس وقت یہ طریقہ بحمد الله خدا کی جانب سے بطور الہام دل میں آیا پھر کئی سال بعد میں نے البحرالرائق میں دیکھا کہ امام اجل صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکی “ تجنیس “ کے حوالہ سے اس کی ہدایت موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں : “ اگر کسی کو جمعہ کے دن خطبہ کے وقت حدث لاحق ہوگیا تو اگر نکلنے کا راستہ ملے نکل جائے اور وضو کرے۔ اور اگر نکلنا ممکن نہ ہو تو اس وقت بیٹھا رہے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ جائے پھر اگر مسجد کے اندر پانی مل جائے تو سامنے اپنا کپڑا اس طرح رکھ لے کہ پانی اسی پر پڑے اور اس طرح وضو کرے کہ مسجد نجس نہ ہو اور پانی ایك خاص اندازے سے علی(التقدیر) استعمال کرے پھر مسجد سے نکلنے کے بعد اپنا وہ کپڑا دھولے “ ۔ صاحب بحر نے فرمایا : “ یہ بڑی اچھی صورت ہے “ ۔ اھ (ت)
قال فی الدر(۱) ومن منھیاتہ التوضی فی المسجد الافی اناء اوفی موضع اعد لذلك اھ قال ط فعلہ فیہ مکروہ تحریما لوجوب صیانتہ عمایقذرہ وانکان طاھرا اھ بل نقل فی البحر من الاعتکاف عن البدائع ان غسل المعتکف راسہ فی المسجد لاباس بہ اذالم یلوثہ بالماء المستعمل فانکان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب ولوتوضأ فی المسجد فی اناء فھو علی ھذا التفصیل اھ
ثم قال اعنی البحر بخلاف(۲) غیر المعتکف فانہ یکرہ لہ التوضوء فی المسجد ولوفی اناء الا ان یکون
اقول : صاحب ہدایہ کی عبارت میں مسجد کے نجس ہونے کی بات اور کپڑا دھونے کا حکم مائے مستعمل کی نجاست کی بنیاد پر ہے۔ اور ان کے قول “ علی التقدیر “ (ایك خاص اندازے سے) کا مطلب یہ ہے کہ پانی کم استعمال کرے تاکہ پانی کپڑے سے نفوذ کرکے مسجد میں نہ گرنے پائے۔ ہاں اگر کپڑا زیادہ روئی والا ہو جیسا کہ میرا واقعہ تھا تو وضو میں اسباغ کرے جیسے میں نے پورے طور سے وضو کیا۔ وللہ الحمد۔ (ت)
درمختار میں ہے : “ مسجد میں وضو کرنا بھی اس کے ممنوعات سے ہے مگر کسی برتن میں یا ایسی جگہ وضو کرسکتا ہے جو وضو کیلئے بنی ہوئی ہو “ اھ۔ طحطاوی فرماتے ہیں : “ مسجد میں وضو کرنا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مسجد کو ہر آلودہ کرنے والی اور خلاف نظافت چیز سے بچانا ضروری ہے اگرچہ وہ کوئی پاك ہی چیز ہو “ ۔ اھ بلکہ بحر کے باب الاعتکاف میں بدائع سے نقل کیا ہے کہ : “ اگر معتکف مسجد میں سر دھوئے تو حرج نہیں جبکہ مائے مستعمل سے مسجد آلودہ نہ ہونے دے اگر مسجد آلودہ ہونے کی صورت ہو تو ممنوع ہے کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے اور اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کرے تو اس میں بھی یہی تفصیل ہے “ ۔ اھ ۔ پھر صاحب بحر
طحطاوی علی الدر مکروہات الوضوء مطبوعہ بیروت ۱ / ۷۶
البحرالرائق باب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۰۳
اقول : والیہ یشیر قولہ فی مکروھات الصلاۃ یکرہ الوضوء والمضمضۃ فی المسجد الا ان یکون موضع فیہ اتخذ للوضوء ولایصلی فیہ اھ فلم یستثن الا ھذا۔ ومثلہ فی غمز العیون عن شرح الجامع الصغیر للتمرتاشی لکن البحر قدم فی بحث الماء المستعمل عن الخانیۃ ان توضأ فی اناء فی المسجد جاز عندھم اھ وعلیہ مشی فی اشباھہ فقال تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعد لذلك لایصلی فیہ اوفی اناء اھ واعتمد السید الحموی مقالتہ فی الاعتکاف فقال ھذا الحکم وان کان فی الخانیۃ لکن لیس علی العموم کما یفھم من کلامہ بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد قال فی البدائع الی اخر ماقدمنا عن اعتکاف البحر ۔ وقال العلامۃ الرملی فی حاشیتہ الظاھر ترجیح مافی فتاوی نے لکھا ہے : “ غیر معتکف کیلئے یہ اجازت نہیں اس لئے کہ اس کیلئے مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے خواہ کسی برتن میں کرے لیکن اگر مسجد میں وضو کیلئے بھی بنی ہوئی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی (تو غیر معتکف بھی وہاں وضو کرسکتا ہے) اھ (ت)اقول : اسی کی طرف مکروہات نماز کے بیان میں ان کی درج ذیل عبارت کا بھی اشارہ ہے : “ مسجد میں وضو کرنا اور کلی کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ اندرون مسجد کوئی ایسی جگہ ہو جو وضو کیلئے بنی ہو اور وہاں نماز نہ پڑھی جاتی ہے“۔ اھ اشارہ اس طرح ہے کہ صرف اسی صورت کا انہوں نے استثناء کیا۔ اسی کے مثل غمزالعیون میں تمرتاشی کی شرح جامع صغیر کے حوالہ سے لکھا ہوا ہے۔ لیکن صاحب بحر خانیہ کے حوالہ سے مائے مستعمل کی بحث میں یہ لکھ چکے ہیں کہ : “ اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کیا تو ان حضرات کے نزدیك جائز ہے“ ۔ اھ اسی قول پر وہ اپنی کتاب اشباہ میں بھی چلے ہیں۔ اس میں لکھا ہے : “ مسجد میں کلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ وہاں کوئی ایسی جگہ ہو جو اسی کام کیلئے بنی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا کسی برتن میں وضو ہو “ اھ۔ باب الاعتکاف میں ان کا جو قول ہے اسی پر سید حموی نے اعتماد کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : “ یہ حکم اگرچہ خانیہ میں ہے مگر عام نہیں
البحرالرائق فصل لما فرغ من بیان الکراھۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴
البحرالرائق آخر بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۶
الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۳۰
غمز عیون البصائر القول فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۳۰
اقول : بل(۱) الاولی التوفیق فان کان الاناء بحیث یخشی ان لاتقع الغسالۃ کلھا فیہ بل یترشش بعض منھا خارجہ کسرہ ولعلہ الغالب فلذا اطلق المنع فی باب الاعتکاف وان امن ذلك لم یکرہ وھو مراد الخانیۃ والله تعالی ھذا وقال ط فی المسألۃ الدائرۃ ھو والسید ابو السعود الازھری ظاھر ما فی المحیط وجوب ھذا التیمم وفصل فی السراج بین ان یخرج سریعا فیجوز ترکہ او یمکث فیہ للخوف فلایجوز ترکہ وعلیہ یحمل مافی المحیط اھ اھ دل قولھما اھ علی ان الجملۃ الاخیرۃ علیہ یحمل مافی المحیط من کلام السراج الوھاج۔
اقول : (۲) وفیہ نظر ظاھر فان جیسا کہ ان کے کلام سے سمجھ میں آتا ہے۔ بلکہ صرف معتکف کیلئے ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔ بدائع میں ہے (اس کے بعد وہ پوری عبارت درج کی ہے جو اعتکاف بحر کے حوالہ سے ابھی ہم لکھ چکے)اور صاحب خیر یہ علامہ رملی نے اپنے حاشیہ میں لکھا ہے کہ : “ ظاہر اسی کی ترجیح ہے جو فتاوی قاضی خان میں ہے اھ “ ۔ یہ عبارت علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کی ہے۔ (ت)
اقول : بلکہ (بجائے ترجیح کے) تطبیق بہتر ہے۔ اگر برتن ایسا ہو جس میں یہ اندیشہ ہو کہ سارا غسالہ اس کے اندر نہ پڑے گا بلکہ کچھ چھینٹے اس سے باہر بھی جائیں گے تو اندرون مسجد ایسے برتن میں وضو مکروہ ہے۔ شاید یہی صورت زیادہ تر پائی جاتی ہے اسی لئے باب الاعتکاف میں مطلقا منع کیا ہے اور اگر چھینٹے باہر جانے کا اندیشہ نہ ہو تو مکروہ نہیں۔ یہی خانیہ کی مراد ہے والله تعالی اعلم یہ ذہن نشین رہے زیر بحث مسئلہ (مسجد سے نکلنے کیلئے تیمم جنب) میں سید طحطاوی اور سید ابو السعود ازہری لکھتے ہیں کہ : “ عبارت محیط کا ظاہر بتاتا ہے کہ یہ تیمم واجب ہے اور سراج میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تیزی سے نکل جائے تو ترك تیمم جائز ہے اور کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرا رہے تو ترك جائز نہیں اور اس پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے اھ اھ “ طحطاوی وازہری کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آخری جملہ (اسی پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے) سراج وہاج کا قول ہے۔ (ت)
اقول : یہ کھلے طور پر محل نظر ہے اس لئے کہ
طحطاوی علی الدر باب الحیض مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۴۹
احل لكم لیلة الصیام الرفث الى نسآىكم- واللیل الی طلوع الفجر فالحل ممتد الیہ ومن لازمہ وقوع النزع بعد الفجر فلم یعد جماعا وان کان فیہ الکون فی الفرج مالم یستتم خروجا لانہ لاسبیل لہ الی الاقلاع الا ھذا
عبارت محیط میں ٹھہرنے والی صورت کا ذکر نہیں بلکہ صرف صورت خروج کا صریح بیان اس میں ہے یہ ذہن نشین رہے۔ اور اب میں کہتا ہوں (اقول) اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ جنابت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی صورتوں میں جو حضرات فرق کرتے ہیں ان کی تائید روزہ کے ایك مسئلہ سے ہوتی ہے۔ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جس نے بھول کر جماع کیا یا رات کو جماع کر رہا تھا کہ فجر طلوع ہوگئی اگر پہلی صورت میں یاد آتے ہی اور دوسری صورت میں فجر نمودار ہوتے ہی ہٹ گیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں اگر ہٹنے کے بعد منی خارج ہو اس لئے کہ یہ احتلام کی طرح ہوگا اور اگر فورا نہ ہٹا بلکہ ذرا دیر ہی ٹھہرا رہا تو روزہ کی قضا کرے جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ داخل کرنا جماع ہے اور ٹھہرنا بھی جماع ہے لیکن نکالنا اور ہٹنا جماع کرنا نہیں بلکہ جماع سے باز آنا ہے ورنہ روزہ ضرور فاسد ہوجاتا (اسی طرح جنب کا مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا تو ممنوع ہے اور بغیرتیمم جائز نہیں مگر مسجد سے نکلنا یہ ممنوع نہیں بلاتیمم بھی جائز ہے)۔ (ت)مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماع سے رکنے والی مذکورہ صورت آیت کریمہ احل لكم لیلة الصیام الرفث الى نسآىكم- (تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے قربت جائز کی گئی) سے مستثنی ہے۔ اس لئے کہ رات طلوع فجر تك ہے تو قربت کا جواز طلوع فجر تك دراز ہوگا جس کیلئے لازم ہے کہ رکنا اور نکالنا بعد فجر واقع ہو تو اس
بخلاف من فی المسجد فلہ سبیل الی التیمم تأمل فانہ موضعہ۔
صورت میں جب تك کہ بعد فجر ہٹنا مکمل نہیں ہوتا شرمگاہ سے مشغولیت کا معنی متحقق رہتا ہے پھر بھی اسے جماع نہ شمار کیا گیا اس لئے
القرآن ۲ / ۱۸۷
فاذن اقول : قدم فی الخانیۃ والمحیط والاختیار القول بالوجوب وفقیہ النفس لایقدم الا الاظھر الاشھر کماصرح بنفسہ فی صدر فتاواہ
کہ اس کیلئے ایسی حالت میں ہٹنے اور باز آنے کی اور کوئی صورت نہیں لیکن جو جنب مسجد سے نکلنا چاہتا ہے اس کیلئے جنابت کے ساتھ ہی نکلنا ضروری نہیں بلکہ اس کیلئے ایك صورت یہ ہے کہ تیمم کرکے نکلے تأمل فانہ موضعہ (یہاں تأمل اور غور کرنے کا موقع ہے)۔ (ت)
اقول : اس اعتراض پر اگر یہ کہا جائے تو بعید نہ ہوگا کہ جنب کیلئے مسجد میں ٹھہرنا اور مسجد سے گزرنا دنوں ہی منع ہے اور اگر وہ بلاتیمم نکلتا ہے تو گزرنے کی صورت پائی جاتی ہے اورتیمم کرنے کیلئے رکتا ہے تو ٹھہرنے کی صورت پائی جاتی ہے اس لئے کہ جب تك اس کاتیمم مکمل نہیں ہوتا وہ ناپاك اور جنب ہی ہے۔ اب دیکھیے اس کا یہ ٹھہرنا اگر بدن کی تطہیر کیلئے ہے تو اس گا گزرنا مسجد کی تنزیہ کیلئے ہے تو وہ دو۲ مصیبتوں میں گھرا ہے (ٹھہرنا اور گزرنا) جو آسان اور ہلکی ہو اسے اختیار کرے اور دو۲ نجاتیں اس کے سامنے ہیں (تطہیر بدن اور تنزیہ مسجد) جو جلد مل سکے اسی کو حاصل کرلے وہ نظر کرے کہ کون جلد ہوسکتا ہے تیمم کرنا یا باہر نکلنا جو جلدی ہو اسے اختیار کرے اور اگر دونوں برابر ہوں تو کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے یہ وہ فیصلہ ہے جو میرے ذہن میں آیا مگر مجھ جیسے شخص کا یہ مقام نہیں کہ کسی حکم میں اس کا کوئی قول ہو۔ میرے ذمہ تو اسی کا اتباع ہے جسے فقہائے کرام نے ترجیح دی اور جس کی تصحیح کی (ت)اس کے پیش نظر میں کہتا ہوں (اقول) خانیہ محیط اور اختیار میں وجوب تیمم کا قول مقدم رکھا ہے اور امام فقیہ النفس اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو جیسا کہ فتاوی خانیہ کے شروع میں خود ہی
اس کی تصریح فرمائی ہے تو معتمد قول یہی ہوگا جیسا کہ طحطاوی وشامی نے فرمایا اسی طرح دیگر حضرات نے بھی اسے مقدم رکھا ہے اور تقدیم دلیل ترجیح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم حاظر ومبیح (ناجائز قرار دینے اور جائز قرار دینے والے) کے درمیان ہیں تو حاظر کو اختیار کرنے میں ہی زیادہ احتیاط ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جو جائز کہتے ہیں وہ بھی تیمم سے منع نہیں کرتے بلکہ اسے مستحب کہتے ہیں اور جو ناجائز کہتے ہیں وہ تیمم کو واجب قرار دیتے ہیں توتیمم کرنے کی صورت متفق علیہ ہے (کسی کو اس کے جواز سے اختلاف نہیں) اور ترك تیمم کی صورت مختلف فیہ ہے (کیونکہ تیمم کو واجب کہنے والوں کے نزدیك ترك تیمم جائز نہیں) تو اسی صورت کو اختیار کرنا بہتر اولی ہے جو متفق علیہ ہے۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم (ت)
(۱۴۳) نہانے کی حاجت ہے پانی مسجد کے اندر ہے جیسے وسط مسجد میں حوض یا وہ کنواں جس تك مسجد ہی میں ہوکر راہ ہے اور اس کے سوا پانی اور کہیں نہیں پاتا نہ کوئی مسجد میں سے لادینے والا ہے تیمم کرکے جائے اور پانی لے آئے۔ محیط رضوی پھر البحرالرائق میں ہے :
جنب مر علی مسجد فیہ ماء یتیمم للدخول ولایباح لہ الابالتیمم ۔
کسی جنابت والے کو کسی ایسی مسجد سے گزرنا ہے جس میں پانی ہے تو دخول مسجد کے لئے وہ تیمم کرے اور اسے بغیرتیمم داخل ہونا جائز نہیں اھ (ت)
مبسوط پھر عنایہ پھر شامی میں ہے :
مسافر مر بمسجد فیہ عین ماء وھو جنب ولایجد غیرہ یتیمم لدخول المسجد عندنا ۔
کوئی مسافر بحالت جنابت کسی ایسی مسجد کے پاس سے گزرا جس میں پانی کا چشمہ ہے اور دوسرا پانی اس کی دسترس میں نہیں تو ہمارے نزدیك دخول مسجد کیلئے اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
ردالمحتار ، باب الحیض ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۲۱۴
جنب وجد الماء فی المسجد ولیس معہ احد تیمم ودخل قال فی الحلیۃ اذا کان لایجد ماء غیرہ یقدر علی استعمالہ شرعا الخ۔
اقول : فقد جمع بین الشرطین وھما مراد ان قطعا وان اھملھما فی المحیط واقتصر فی المبسوط والمنیۃ علی واحد واحد۔
کوئی جنب ہے جس کے لئے مسجد ہی میں پانی دستیاب ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا نہیں تو وہ تیمم کرکے مسجد میں جائے۔ حلیہ میں فرمایا : بشرطیکہ کوئی دوسرا ایسا پانی اس کی دسترس میں نہ ہو جس کے استعمال پر شرعا اسے قدرت ہو الخ۔ (ت)
اقول : حلیہ میں دونوں شرطیں جمع کردی ہیں اور دونوں ہی قطعا مراد ہیں اگرچہ محیط میں دونوں ذکر نہ کیں۔ اور مبسوط ومنیہ میں صرف ایك ایك پر اکتفاء کیا۔ (ت)
(۱۴۴ تا ۱۴۶) اقول : بد ستور یہاں بھی وہی صورتیں ہوں گی کہ اگر پانی لادینے والا اجرت مثل مانگتا ہے اور یہ ابھی دے سکتا ہے يا وہ ادھار پر راضی ہے تیمم جائز نہیں ورنہ جائز
ثم رأیت بحمدالله تعالی اشار الی بعضھا فی الحلیۃ مع افادات عـــہ زائدۃ فراجعھا تحت قول المنیۃ المذکور۔
پھر میں نے دیکھا کہ بحمدالله تعالی ان میں سے بعض کی طرف حلیہ میں مزید کچھ افادات کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ منیہ کی مذکورہ عبارت کے تحت یہ سب حلیہ میں دیکھا جائے۔ (ت)
عــــہ قال رحمہ الله تعالی ھل یجب سوال ذلك لاحد اویستحب فیہ تأمل ویمکن ان یفرع علی مسئلۃ طلب الماء رفیقہ اذا کان معہ ماء
صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہرقم طراز ہیں : اس دوسرے شخص سے پانی مانگنا واجب ہے یا مستحب ہے۔ یہ مقام تأمل ہے۔ اس کی تفریع اس مسئلہ پر کی جاسکتی ہے جب رفیق سفر کے پاس پانی ہو۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
حلیہ
فیقال تفریعا علی احد اقوال فیھا یجب ان غلب علی ظنہ اجابتہ ولو باجرۃ المثل والالا وعلی قول اخر لایجب عند ابی حنیفۃ ویجب عندھما وعلی قول اخر یجب مطلقا بلا اختلاف وحیث یجب لایصح تیممہ للدخول الابعد المنع اھ
اقول : وقد عد فی مسألۃ الرفیق اربعۃ اقوال اولھا اول ماھنا وثانیھا ان کان فی موضع لایعز الماء یجب الطلب والایستحب والباقیان الباقیان وقد ترك ھھنا ثانیھا لرجوعہ الی الاول حیث لایختلف الامر ھھنا باختلاف الموضع وانما یدار علی غلبۃ الظن باجابتہ وعدمھا۔
اقول : بل الا صوب(۱) اوالصوب ترکہ کذلك ثمہ فان المدار ثمہ ایضا ھو الظن وانما ذکر موضع
اس مسئلہ سے متعلق اقوال میں سے ایك قول پر تفریع کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ظن غالب ہو کہ طلب کرنے پر دے دے گا خواہ اجرت مثل پر سہی تو طلب کرنا واجب ہے ورنہ نہیں اور دوسرے قول پر یہ کہ امام اعظم کے نزدیك واجب نہیں اور صاحبین کے نزدیك واجب ہے اور ایك قول پر یہ مطلقا بلا اختلاف واجب ہے اور جس صورت میں وجوب ہے دخول مسجد کیلئے تیمم جائز نہیں مگر اس کے بعد ہے کہ وہ دوسرا اسے پانی نہ دے اھ۔
اقول : رفیق سفر کے مسئلہ میں چار اقوال گنائے ہیں : اول وہ ہے جو یہاں پہلے ذکر کیا۔ دوم یہ کہ اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی ملنا دشوار ہے تو طلب واجب ہے ورنہ مستحب ہے۔ سوم وچہارم بقیہ وہ دونوں قول ہیں جو یہاں ذکر کیے اور یہاں قول دوم ترك کردیا اس لئے کہ وہ اول ہی کی طرف راجع ہے کیونکہ جگہ کے مختلف ہونے سے یہاں حکم مختلف نہ ہوگا بلکہ مدار اس پر ہے کہ دینے کا ظن غالب ہے یا نہیں
اقول : بلکہ صحیح تر یا صحیح یہ ہے کہ وہاں بھی قول دوم ترك کردیا جائے اس لئے کہ وہاں بھی مدار ظن ہی پر ہے دستیابی دشوار ہونے نہ ہونے کے (باقی برصفحہ ائندہ)
العزۃ وعدمھا لکونہ مظنۃ المنع وعدمہ۔
ثم اقول : قدعلم من احاط بکلامنا فی الفروع مشینا علی القول الاول فی غیر مافرع وھو الصحیح المعتمد بل التحقیق عندی بتوفیق الله تعالی انہ ھو مرجع الاقوال طرا کما بینتہ فی رسالتی “ قوانین العلماء فی متیمم علم مع زید ماء “ غیران ظن الاجابۃ ھھنا اکثر من ظن عطاء ماء الطھر ثمہ ویبعد کل البعدان یقف جنب علی حد المسجد ویخبر بحاجتہ مسلما ویقول لہ ناولنی الماء فیابی فاذن فی تأتی التفریع ھھنا علی الاقوال الثلثۃ نظر لظھور الفارق بل یجب المشی علی الثالث وھو الایجاب مطلقا وفاقا لان المنع فی مثلہ نادر والنادر لایلاحظ فی الاحکام ھذا ماعلمنی الملك العلام والحمدالله ولی الانعام ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مقام کا ذکر اسی بنیاد پر ہے کہ اس سے نہ دینے اور دینے کا ظن قائم ہوتا ہے۔
ثم اقول : جس کی نظر جزئیات میں ہمارے کلام پر محیط ہوگی اسے معلوم ہوگا کہ متعدد جزئیات میں ہم قول اول پر چلے ہیں اور وہی صحیح ومعتمد ہے بلکہ توفیق الہی میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ سارے اقوال کا مآل اسی کی جانب ہے جیسا کہ میں نے اسے اپنے رسالہ “ قوانین العلماء فی متیمم علم مع زید ماء میں بیان کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں قبول سوال کا گمان وہاں آب طہارت دینے کے گمان سے زیادہ ہے۔ یہ بہت بعید بات ہے کہ کنارہ مسجد پر کوئی جنابت والا کھڑا ہو اور کسی مسلمان سے اپنی حاجت بتاتے ہوئے کہے کہ مجھے پانی دے دو پھر بھی وہ انکار کردے۔ اس لحاظ سے بقیہ تین اقوال پر تفریع جاری ہونے میں نظر ہے اس لئے کہ وجہ فرق موجود ہے بلکہ تیسرے قول پر چلنا لازم ہے اور وہ یہ ہے کہ بالاتفاق مطلقا سوال واجب کیا جائے اس لئے کہ ایسے موقع پر منع نادر ہے اور احکام میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ وہ ہے جو بادشاہ علام کی جانب سے مجھے علم دیا گیا۔ اور ساری تعریف احسان فرمانے والے خدا ہی کیلئے ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اس کی عبارت یہ ہے : اور اگر اس میں (یعنی مسجد میں اقول اور یہ قید نہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیں) کوئی چھوٹا حوض ہو اور اس سے پانی نکال نہیں سکتا تو اس میں غسل نہ کرے اورتیمم کرے کیونکہ غسل کرنے سے پانی فاسد ہوجائے گا اور یہ بھی پاك ہوکر نہ نکلے گا تو نہانا بے سود ہی ہوگا “ ۔ اھ (ت)
اقول : مگر یہ غیر صحیح پر مبنی ہے صحیح ومعتمد یہ ہے کہ اس کا غسل اتر جائے گا اور پانی مستعمل ہوجائے گا
لعدم الاستعمال قبل الانفصال وھی مسألۃ البئر جحط وقد قال فی البحر المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور اھ۔
اس لئے کہ پانی بدن سے جدا ہونے سے پہلے مستعمل نہیں ہوتا۔ اور یہ “ مسألۃ البئر جحط “ سے متعلق ہے بحر میں لکھا ہے کہ “ اس مسئلہ میں مذہب مختار یہ ہے کہ آدمی طاہر ہے اور پانی طاہر غیر مطہر “ ۔ اھ۔ (ت)
تو اگر وہ ۱ پانی وقف ہے یا مالك کی اجازت نہیں اس میں نہانا ممنوع ہوگا کہ پانی کو خراب کردے گا یہ نمبر ۵۱ و ۵۳ میں داخل ہے اور اگر مالك کی اجازت یا پانی خود اس کی ملك یا قدرتی مباح ہے تو نہانا لازم اورتیمم روانہیں۔
(۱۴۷) پانی ہے مگر مقید جس کا روشن بیان ہمارے رسالہ النور والنورق میں ہے تیمم کرے اسی۱ کی فروع سے ہے وہ مسئلہ کہ علماء نے آب زمزم شریف بچانے کیلئے افادہ فرمایا اپنے تبرك یا کسی کو ہدیہ دینے کے لئے زمزم لیے جاتا ہے اقول : اتنا کہ طہارت کو خود یا دوسرے پانی سے مل کر کافی ہو وضو یا غسل کی ضرورت ہوئی بغیر اس کے اور کافی پانی موجود نہیں فرض ہوگا کہ زمزم شریف ہی طہارت میں خرچ کرے اب اگر اسے بچانا چاہے اس میں گلاب کیوڑا بید مشك برابر کا ملادے خلاصہ بزازیۃ غنیۃ توشیح بحر یا زعفران اتنا کہ اسے رنگنے کے قابل کردے خلاصۃ حلیۃ یا شکر کہ شربت ہوجائے ردالمحتار۔
البحرالرائق باب التیمم مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
البحرالرائق باب التیمم مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۴
خلاصۃ الفتاوٰی الماء الموضوع فی الفلوات الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
(۱۴۸) اس کا دوسرا حیلہ یہ فرمایا ہے کہ زمزم کسی رفیق کو ہبہ کرکے اس کے قبضہ میں دے دے پھر اس سے اپنے پاس بطور امانت لے لے یا اسی کے پاس رہنے دے اورتیمم کرے کہ پانی اپنی ملك میں نہ رہا جب وطن پہنچے یا اس کی راہ جدا ہو اس سے اپنے نام مثلا ہبہ کرالے یا کچھ دے کر خریدلے۔ خلاصہ میں ہے :
رجل فی البادیۃ معہ ماء زمزم وقد رصص راس القمقمۃ لایجوزلہ التیمم والحلیۃ ان یھبھا لغیرہ ثم یودعھا منہ اویجعل فیہ ماء الورد او ماء الزعفران حتی یصیر مقیدا ۔
جنگل میں کوئی شخص ہے جس کے پاس آب زمزم ہے جس کے برتن کا منہ خوب بند کر رکھا ہے اس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ اور حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت لے لے یا اس میں گلاب یا زعفران ملا دے کہ وہ (آب مطلق نہ رہ جائے بلکہ) آب مقید ہوجائے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
یبتلی الحاج بحمل ماء زمزم للھدیۃ (زاد فی المنیۃ اوللاستشفاء) ویرصص رأس القمقمۃ فمالم یخف العطش ونحوہ لایجوزلہ التیمم قال المصنف والحیلۃ فیہ ان یھبہ من غیرہ ثم یستودعہ منہ اھ زاد فی الحلیۃ اوترکہ مع الموھوب
حاجی کو جب اس میں ابتلا ہوتا ہے کہ آب زمزم ہدیہ کیلئے لیے ہوئے ہے (منیہ میں زیادہ کیا : “ یا شفاء حاصل کرنے کیلئے “ ) اور برتن کو مہر بند کردیا ہے تو جب تك پیاس وغیرہ کا خطرہ نہ ہو اس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ مصنف نے فرمایا : “ اس میں حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت اپنے پاس لے لے “ ۔ اھ۔ حلیہ میں یہ اضافہ کیا : “ یا اسی کے پاس رہنے دے جسے ہبہ کیا “ ۔ اھ۔
حلیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ : “ اسے بہت سے
فتح القدیر فرع من باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۹
واعترضہ فی الخانیۃ وعن المحیط فی المنیۃ وتبعھم البزازی فی الوجیز وقال الحلبی فی الغنیۃ ھو الفقہ بعینہ وھذا لفظ الامام فقیہ النفس قال رحمہ الله تعالی ھذا لیس بصحیح عندی فانہ لو رأی مع غیرہ ماء یبیعہ بمثل الثمن اوبغبن یسیر یلزمہ الشراء ولایجوز لہ ان یتیمم فاذا تمکن من الرجوع فی الھبۃ کیف یجوز لہ التیمم اھ وعن ھذا جعل الحیلۃ الاخری فی الغنیۃ وتبعہ فی الدر ان یھبہ علی وجہ ینقطع بہ الرجوع اھ ای بان تکون الھبۃ بشرط العوض اھ ش۔
واعترضہ العلامۃ ط قائلا عدم التقیيد اولی (ای ترك تقیيد الھبۃ بشرط الرجوع) لانہ اذاکان یھبہ علی ھذا الوجہ لا تعود علیہ فائدتہ
متأخرین نے اس حیلہ پر کوئی جرح کے بغیر ذکر کیا ہے جیسے صاحب ہدایہ نے تجنیس میں اور صاحب مبتغی بغین معجمہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اھ
خانیہ میں اور منیہ میں محیط کے حوالہ سے اس پر اعتراض کیا ہے اور وجیز میں بزازی نے ان حضرات کی پیروی کی ہے۔ حلبی نے غنیہ میں فرمایا ہے : “ یہی فقاہت ہے اور امام فقیہ النفس رحمۃ اللہ تعالی علیہکے الفاظ یہ ہیں : “ یہ میرے نزدیك درست نہیں اس لئے کہ اگر وہ کسی کے پاس پانی پائے جسے وہ ثمن مثل پر یا معمولی زیادتی کے ساتھ اسے فروخت کررہا ہے تو اس پر خریدنا لازم ہے اورتیمم جائز نہیں تو جب وہ ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے تو تیمم اس کیلئے کیونکر جائز ہوگا “ اھ۔
اسی لئے غنیہ میں اور اس کی تبعیت کرتے ہوئے درمختار میں دوسرا حیلہ یہ بتایا ہے کہ اس طرح ہبہ کرے کہ رجوع نہ کرسکے اھ۔ یعنی اس طرح کہ ہبہ بشرط عوض ہو اھ شامی۔
اس پر علامہ طحطاوی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ “ ہبہ بشرط رجوع کی قید نہ لگانا “ اولی ہے اس لئے کہ جب اسے اس طور پر ہبہ کردے گا تو اس کا فائدہ اسے حاصل نہ ہوسکے گا۔ تو بہتر یہ ہے کہ خود ہی
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
اقول : (۱) ربما لایجد فی السفر من یثق بہ ولذا قالوا یھبہ من غیرہ ولم یقیدوہ بموثوق بہ ولوکان(۲) المراد ھذا لکان یکفی ان یبیعہ ثم اذا وصلا اوتفرق طریقھما یشتری منہ وقد کان البیع اشھر منھا یعرفہ کل احد بخلاف الھبۃ بشرط العوض التی ھی برزخ بینھما ھبۃ ابتداء وبیع انتھاہ ولم یذکر البیع احد اما اشکال الخانیۃ فقد اجاب عنہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الرجوع تملك بسبب مکروہ وھو مطلوب العدم شرعا فیجوز ان یعتبر الماء معدوما فی حقہ لذلك وان قدر علیہ حقیقۃ کماء الحب بخلاف البیع اھ
اس سے فائدہ اٹھائے “ اھ یعنی جب اس طرح ہبہ کردیا کہ رجوع نہیں کرسکتا تو وہ اس کے قبضہ واختیار سے نکل گیا پھر حیلہ کس بات کا حیلہ تو اسی لئے تھا کہ اسے ہدیہ کرنے یا اس سے شفاء حاصل کرنے کا فائدہ اٹھا سکے۔ علامہ شامی نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا : “ مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو ہبہ کرے جس پر اعتماد ہو کہ وہ بعد میں اسے واپس کردے گا “ اھ۔ (ت)
اقول : سفر میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ قابل اعتماد آدمی نہیں ملتا۔ اسی لئے فقہاء نے دوسرے کو ہبہ کرنے کی بات تو کہی ہے مگر اس کے قابل اعتماد ہونے کی قید نہیں لگائی۔ اگر یہ مراد ہوتی تو یہی کافی تھا کہ اسے فروخت کردے پھر جب دونوں وطن پہنچ جائیں یا جب دونوں کا راستہ الگ الگ ہو تو یہ اس سے خریدلے۔ اور بیع تو زیادہ مشہور چیز ہے جسے ہر شخص جانتا ہے بخلاف ہبہ بشرط عوض کے جو بیع وہبہ کے درمیان برزخ ہے کہ ابتداء ہبہ ہے اور انتہاء بیع ہے اور بیع کو کسی نے ذکر نہ کیا۔ رہا خانیہ کا اعتراض تو فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ “ رجوع کرنا ایك مکروہ سبب کے ساتھ مالك بننا ہے اور اس فعل کا عدم شرعا مطلوب ہے تو اس کے باعث پانی اس کے حق میں معدوم قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ حقیقۃ اس پر قادر ہو جیسے سبیل کا پانی بخلاف بیع کے “ اھ۔ (ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹
اقول : یعنی جب جنگل میں پینے کیلئے رکھا ہوا پانی پائے تو پانی پر حسا اور لغت میں حقیقۃ قدرت ہونے کے باوجود اس کیلئے اس سے وضو کرنا جائز نہیں بلالکہ تیمم کرے گا اس کیلئے شرعا وہ پانی سے عاجز ہے ایسے ہی ہبہ سے رجوع والا معاملہ ہے اور خریدنے کی صورت اس کے برخلاف ہے کیونکہ اس پر وہ شرعا بھی قادر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پانی سے عجز کی دوسری صورتوں کی طرح ممانعت شرعیہ بھی پانی کے استعمال سے عجز کا ایك سبب ہے اور وہ یہاں پر موجود ہے توتیمم جائز ہوا یہ کلام محقق کی تقریر ہے اسے بحر میں برقرار رکھا اور حلیہ میں پسند کیا۔ ا ور مقدسی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ “ کہا جاسکتا ہے کہ رجوع اس وقت ممنوع ہوتا ہے جب ہبہ کا معاملہ حقیقی طور پر منعقد ہو لیکن اگر حیلہ کے طور پر ہو تو ممنوع نہیں اس لئے کہ جسے ہبہ کیا گیا اسے رجوع سے یہاں کوئی اذیت نہ ہوگی تأمل اھ۔
یہاں علامہ شامی کا کلام دو طرح کا ہے۔ منحۃ الخالق میں مقدسی کے اعتراض کی اس طرح تائید کی ہے : “ علاوہ اس کے کہ عنقریب وافی کے حوالہ سے یہ مسئلہ آرہا ہے کہ جب رفیق سفر کے پاس پانی ہو اور یہ گمان ہو کہ مانگنے پر دے دے گا توتیمم جائز نہیں اور اگر اس کا یہ عندیہ ہو کہ نہیں دے گا تو
اقول : لا وجہ(۱) للتعقب فان الھبۃ حقیقیۃ قطعا صدرت من اھلھا فی محلھا والحیلۃ لا تنفی الحقیقۃ بل توجبھا اذ لولاھا لبطلت وکونہ یتوصل(۲) بہ الی مقصد اخر لاینافی قصد العقد بل یؤکدہ اذبہ یتوصل فکیف لایقصدہ وانما العقد بالایجاب
تیمم کرلے۔ اور اگر دینے سے متعلق اسے شك تھا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس سے طلب کیا اور اس نے دے دیا تو اعادہ کرے۔ اور یہاں اگرچہ اپنے ہبہ سے رجوع نہ کرے لیکن اس پر یہ واجب ہے کہ پانی اس سے مانگے کیونکہ دینے کا ظن موجود ہے ہاں مگر یہ صورت کہ دونوں باہم عہد کرلیں کہ اگر ہبہ کے بعد اس سے طلب کرے تو نہ دے تاکہ حیلہ مکمل ہوجائے تأمل کرو “ ۔ اھ اور ردالمحتار میں حلیہ کے استحسان کی ان الفاظ میں تائید فرمائی ہے : “ علاوہ ازیں ہبہ سے رجوع موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کے فیصلہ پر موقوف ہے۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے ہبہ اسی لئے کیا ہے پھر واپس لے گا اور جسے ہبہ کیا ہے وہ واہب کے مطالبہ کے وقت پانی دینے سے انکار نہ کریگا۔ اور یہ امرتیمم سے مانع ہے اس کا جواب یہ ہے کہ دینے والا ہبہ کے ذریعے یا خرید کر واپس لے گا ہبہ سے رجوع کرکے واپس نہ لے گا۔ تو امر مکروہ لازم نہ آئے گا۔ اور جسے دیا گیا ہے جب اسے حیلہ کا علم ہے تو وضو کیلئے دینے سے وہ انکار کردے گا غور کرو “ ۔ اھ (ت)
اقول : علامہ مقدسی کے اعتراض کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ ہبہ حقیقۃ ہبہ ہے جو اہل سے محل میں صادر ہوا اور حیلہ حقیقت کو ختم نہیں کرتا بلکہ ثابت ولازم کرتا ہے اس لئے کہ اگر حقیقت کا ثبوت ہی نہ ہوتا تو حیلہ ہی باطل ہوتا۔ اور اسے کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانا قصد عقد کے منافی نہیں بلکہ
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
اس سے تو قصد اور مؤکد ہوتا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے اسے دوسرا مقصد حاصل کرنا ہے تو عقد کا قصد کیوں کر نہ ہوگا عقد تو ایجاب وقبول سے ہوتا ہے دلوں میں پوشیدہ مقاصد کا اعتبار نہیں ورنہ تمام تر شرعی حیلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے جب کہ یہ کتاب عزیز اور احادیث صحاح کی رو سے کھلا ہوا ہے جیسا کہ میں نے “ کفل الفقیہ الفاھم “ میں اسے واضح کیا ہے۔ اور جب عقد کا ثبوت ہوگاتو اس کے احکام کا بھی ثبوت ہوگا۔ اور عقد ہبہ کا ایك حکم یہ بھی ہے کہ اس سے رجوع کرنا مکروہ تحریمی ہے تو رجوع ممنوع کیسے نہ ہوگا اور رجوع سے ممانعت اس بنیاد پر نہیں کہ اس سے موہوب لہ کو اذیت ہوگی کہ اگر اسے اذیت نہ ہو تو رجوع جائز ہوجائے۔ بلکہ اسے اذیت نہ ہو جب بھی رجوع جائز نہیں۔ دیکھ لیجئے کہ رجوع کے دو۲ طریقے ہیں موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کا فیصلہ اور رضامندی کی صورت میں اسے کوئی اذیت نہیں (مگر ممانعت دونوں ہی صورتوں میں ہے) بلکہ رجوع سے ممانعت اس لئے ہے کہ بحمدہ تعالی ہمارے لئے بری مثل نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں اس کا صاف بیان ہے (ہبہ سے رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنا قے کیا ہوا کھانا پھر کھاتا ہے۔ مفہوما ۱۲ م۔ الف) رہا علامہ شامی کا “ علاوہ “ تو اس کا جواب انہوں نے خود ہی دے دیا ہے اور منحۃ الخالق میں جسے انہوں نے ضعیف سمجھا تھا ردالمحتار میں اسی پر جزم فرمایا ہے۔ (ت)
عـــہ کمن(۳) نکح الی شھر اوسنۃ اومائتی عام بطل وان نکح مطلقا وفی نیتہ ان یطلقھا بعد شھر اویوم اوساعۃ جاز کما فی الدر وغیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) جیسے اگر کسی نے ایك ماہ یا ایك سال یا دوسو۲۰۰ سال تك کیلئے نکاح کیا تو باطل ہے اور اگر قید وقت کے بغیر نکاح کیا اور دل میں یہ نیت ہے کہ ایك ماہ یا ایك دن یا ایك ساعت کے بعد طلاق دے دے گا تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس کا فائدہ یہی تو تھا کہ آئندہ رجوع پر قدرت رہے گی اور رجوع ممنوع ہے (تو فائدہ مفقود ہے) اقول ہبہ سے رجوع نہیں کرے گا بلکہ موہوب لہ سے آب زمزم خرید کر یا اس سے ہبہ کراکے حاصل کرے گا جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا۔ اور فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ بیع یا ہبہ سے انکار نہ کرسکے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو واہب رجوع کرسکتا ہے تو انکار بے سود ہوگا۔ بخلاف اس صورت کے جس میں حق رجوع ختم ہوجائے اس صورت میں موہوب لہ انکار کردے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ واہب کو واپس لینے کا اختیار نہ رہا۔ تو اس مسئلہ میں حق وصواب عامہ ائمہ رحمہم اللہ تعالیکے ساتھ ہے ان شاء الله تعالی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۱۴۹) پانی ایسی حالت پر ہے کہ اس کے مطلق ومقید ہونے میں اشتباہ ہے جیسے نبیذتمر وغیرہ جس میں تحقیق نہ ہو کہ پانی اس میوے سے مغلوب ہوکر نبیذ ہوگیا یا ابھی نہیں اس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو اورتیمم بھی کہ شاید نہ ہو ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے نبیذتمر میں جو تین حکم مروی ہیں اس سے وضو کرے وضو نہ کرے تیمم ہی کرے۔ وضو وتیمم دونوں کرے وہ انہیں تین حالتوں پر مبنی ہیں جہاں پانی ہنوز مغلوب نہ ہوا وہاں اس سے وضو کا حکم فرمایا جہاں مغلوب ہوگیاتیمم کا حکم دیا جہاں مغلوب ہونا نہ ہونا مشتبہ ہے دونوں کا جمع کرنا ارشاد فرمایا کماذکرناہ علی ھامش رسالتنا النور والنورق (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ النور والنورق “ کے حاشیہ میں ذکر کیا ہے۔ ت)
(۱۵۰) گدھے کا جھوٹا پانی موجود ہے اور نہیں اس سے وضو بھی کرے اورتیمم بھی۔ ان دونوں نمبروں میں اختیار ہے چاہے وضو پہلے کرے خواہ تیمم اور بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرے اور۱ ان دونوں میں وضو بلانیت جائز نہ ہوگاتیمم کی طرح اس وضو میں بھی نیت شرط ہے۔ تنبیہ : یہی حکم خچر کے جھوٹے کا ہے اگر گدھی پر گھوڑا پڑنے سے پیدا ہوا ہو ہمارے۲ ملك میں عام خچر وہ ہیں کہ گھوڑی پر گدھا ڈال کر لیے جاتے ہیں ان خچروں کا جھوٹا مشکوك نہیں طاہر ہے ان کا حکم گھوڑے کی مثل ہے کہ جانوروں۳ میں اعتبار ماں کا ہے درمختار میں ہے :
(سؤرحمار) اھلی (وبغل) امہ حمارۃ
“ اہلی (گدھے کا جھوٹا اور خچر کا) جس کی ماں گدھی ہو۔
اگر ماں گھوڑی یا گائے ہو تو ایسے خچر کا جھوٹا پاك ہے (اس کے مطہر ہونے میں شك ہے) یہاں تك کہ اگر آب قلیل میں پڑ جائے تو اجزاء کا اعتبار ہوگا (تو اس سے وضو کیا جائے گا) یا غسل کیا جائے گا (اورتیمم بھی کیا جائے گا اگر دوسرا پانی نہ ہو۔ اور) اصح مذہب میں (تیمم وضو میں سے جسے چاہے مقدم کرے) اھ۔ لیکن اس کے بعد درمختار میں یہ عبارت ہے : “ (اور) تصحیح یافتہ مفتی بہ (مذہب کی بنیاد پرتیمم کو نبیذتمر پر مقدم کرے) اس لئے کہ مجتہد جب کسی قو ل سے رجوع کرلے تو اسے لینا جائز نہیں اھ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پانی نبیذ بن گیا ہو اور یہاں تقدیم کا معنی اختیار ہے یعنی واجبی طور پرتیمم ہی اختیار کرے اور نبیذ سے وضو نہ کرے جیسا کہ علامہ شامی نے یہ افادہ فرمایا ہے اور اسے ہم نے اپنے مذکورہ رسالہ میں بھی ذکر کیا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی النھر عن الفتح اختلف فی النیۃ بسؤر الحمار والاحوط ان ینوی اھ ای الاحوط القول بوجوبھا فقد قدمنا فی بحث النیۃ عن البحر عن شرح المجمع والنقایۃ معزیا الی الکفایۃ انھا شرط فیہ وفی نبیذ التمر ۔
“ النہرالفائق میں فتح القدیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ گدھے کے جھوٹے سے وضو میں نیت سے متعلق اختلاف ہے اور احوط یہ ہے کہ نیت کرے “ ۔ اھ یعنی احوط وجوب نیت ماننا ہے کیونکہ ہم نیت کی بحث میں یہ بیان کر آئے ہیں کہ گدھے کے جھوٹے سے اور نبیذتمر سے وضو میں نیت شرط ہے اسے ہم نے البحرالرائق سے نقل کیا ہے اور بحر میں شرح مجمع اور نقایہ سے نقل ہے اور ان دونوں میں کفایہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ (ت)
(۱۵۱) وضو میں اکثر اعضائے وضو یا غسل میں اکثر حصہ بدن میں زخم یا تر خارش ہے تیمم کرے اور کم میں تو صحیح
ردالمحتار فصل فی البئر مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۵
اور اگر صحیح ومجروح دونوں حصے برابر ہوں تو اختلاف تصحیح ہے خانیہ ومحیط میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ صحیح کو دھوئے جریح کو مسح کرے بحر وتنویر میں ہے یہی احوط ہے درمختار میں ہے یہی اصح ہے اور خلاصہ وتبیین وفتح وفیض واختیار ومواہب الرحمن میں ہے صحیح یہ کہ تیمم کرے۔
کما فی ردالمحتار قال و رأیت فی السراج مانصہ وفی العیون عن محمد اذاکان علی الیدین قروح لایقدر علی غسلھما وبوجھہ مثل ذلك تیمم وان کان فی یدیہ خاصۃ غسل ولایتیمم وھذا یدل علی انہ یتیمم مع جراحۃ النصف اھ
اقول : وبہ تترجح کفۃ القول الثانی وبہ رد الشامی علی الدر ان حکمہ فی المساواۃ بالغسل والمسح خلاف المروی عن محمد فان قلت لعل الشارح المدقق رحمہ الله تعالی نظر الی ان الکلام ھھنا فی الغسل فان کان مایضرہ الغسل اکثر عددا مما لایضرہ تیمم اعتبارا بالاکثر ولاشك ان الوجہ والیدین اکثر المغسول من اعضاء الوضوء فلاما فی السراج من الاستدلال بہ یتم ولا ما فی ردالمحتار علی الشارح یرد۔
جیسا کہ ردالمحتار میں ہے فرماتے ہیں : “ میں نے سراج میں یہ عبارت دیکھی : عیون میں امام محمد سے نقل ہے : جب دونوں ہاتھوں پر ایسے زخم ہوں کہ ہاتھوں کو دھو نہ سکتا ہو اور چہرے میں بھی ایسے ہی ہوں توتیمم کرے۔ اور اگر صرف ہاتھوں میں ہوں تو دھوئے اورتیمم نہ کرے “ ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف محل وضو زخمی ہونے کی صورت میں تیمم کرے گا “ ۔ اھ (ت)
اقول : اس سے قول ثانی کا پلہ بھاری ہوجاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر علامہ شامی نے درمختار کا رد کیا ہے کہ صحیح اور زخمی اعضا برابر ہونے کی صورت میں دھونے اور مسح دونوں ہی کا حکم دینا اس کے خلاف ہے جو امام محمد سے مروی ہے۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ شاید شارح مدقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس پر نظر کی ہو کہ یہاں کلام دھونے سے متعلق ہے تو جن اعضاء کو دھونا مضر ہے یہ اگر گنتی میں ان اعضاء سے زیادہ ہوں جنہیں دھونا مضر نہیں ہے تو اکثر کا لحاظ کرتے ہوئے تیمم کرے گا اور اس میں شك نہیں کہ جتنے اعضائے وضو کو دھونا ہے ان میں دونوں ہاتھ اور چہرہ مل کر باقی سے زیادہ
ردالمحتار آخر باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
ہیں تو امام محمد کی روایت سے سراج میں جو استدلال کیا گیا ہے وہ تام نہیں اور اس سے ردالمحتار میں شارح پر جو رد کیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ (ت)
اقول : اگر یہ بات ہو تو شارح کا یہ لکھنا کہ “ اگر دونوں برابر ہوں “ بیکار ہوگا اس لئے کہ (دھوئے جانے والے اعضاء تین ہیں اور) تین کا نصف نہیں --ان اعضاء کے ساتھ سر کے شامل ہونے کی تصریح فتح القدیر حلیہ اور البحرالرائق میں موجود ہے الفاظ یہ ہیں : “ کثرت کی حد میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے اعضاء کی تعداد کا اعتبار کیا ہے اور بعض حضرات نے خود ہرہر عضو کے اندر زیادتی وکثرت کا اعتبار کیا ہے تو اگر اس کے سر چہرے اور ہاتھوں میں زخم ہے اور پیر میں زخم نہیں توتیمم کرے گا خواہ زخم والے اعضاء کا اکثر حصہ زخمی ہو یا صحیح ہو اور دوسرے حضرات نے فرمایا کہ اگر وضو کے اعضائے مذکورہ میں سے ہر عضو کا اکثر حصہ زخمی ہو تو یہی وہ کثیر ہے جس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز ہے اور اگر یہ صورت نہ ہو توتیمم جائز نہیں “ ۔ فتح القدیر میں اسی طرح بغیر کسی ترجیح کے مذکور ہے اور حقائق میں یہ لکھا ہے کہ : “ مختار یہ ہے کہ عدد اعضا کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار ہے “ ۔ اھ۔ فتح القدیر کے مثل حلیہ میں بھی ہے مگر اس میں مزید یہ ہے کہ بطور بحث کے ان کا میلان اس جانب ہوا ہے کہ مساحت ومقدار کے لحاظ سے بھی اعضائے وضو میں کثرت کا اعتبار ہوگا (یہاں دو۲ قول تھے (۱) چاروں اعضائے وضو میں گنتی کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار (۲) ہر عضو وضو کے زخمی وغیر زخمی حصوں کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار۔
اور تیسرا خیال ہوا کہ گنتی کا بھی اعتبار ہو اور اعضا میں زخمی وغیر زخمی حصوں کی مقدار اور مساحت کا بھی اعتبار ہو ۱۲ م۔ الف) تو ان کی بحث کا میلان دونوں کے برخلاف ایك تیسری جانب ہے۔ (ت)
اقول : حلیہ کی بحث دیکھنے سے پہلے ہی میرا میلان بھی اسی جانب نظر آرہا تھا مگر مجھے کیا اختیار خصوصا جب کہ حقائق میں مختار کی تصریح موجود ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۱۵۲) یہاں ایك مسئلہ اس مسئلہ اعتبار اکثر اعضا سے مستثنی ہے وہ یہ کہ دونوں ہتھیلیاں ایسی زخمی ہیں کہ ان پر پانی پڑنا ضرر دے گا یا بوجہ زخم لوٹا وغیرہ اٹھ نہیں سکتا نہ پانی کسی ایسے برتن یا حوض وغیرہ میں ہے کہ اس میں اپنا منہ اور پاؤں ڈال کر وضو کرسکے تیمم کرے گا۔ درمختار میں ہے : یتیمم لوالجرح بیدیہ (اگر اس کے دونوں ہاتھوں میں زخم ہو توتیمم کرے۔ ت)
عــــہ اقول : وکان میلی الیہ لاستبعاد فی اعتبار العدد فمن کانت لہ بثرۃ صغیرۃ فی اقصی جبھتہ واخری مثلھا علی مرفق یتیمم للجراحۃ فی عضوین وھما نصف الاربعۃ وان کانت یداہ مجروحتین من الرسغین الی فوق المرفقین لایجوزلہ التیمم لان الجریح عضو واحد فبثرتان تمنعان الوضوء ومئات منھا لاتمنع ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
اقول : اس جانب میرا میلان گنتی اور عدد کے اعتبار کو بعید سمجھنے کی وجہ سے تھا وہ اس طرح کہ اگر کسی کی پیشانی کے کنارہ پر ایك چھوٹی سی پھنسی ہو اور ایسی ہی دوسری پھنسی کہنی پر ہو تو وہ تیمم کرے کیونکہ زخم دو عضووں میں ہے جو چار کا نصف ہیں اور اگر اس کے دونوں ہاتھ گٹوں سے کہنیوں کے اوپر تك زخمی ہوں تو اس کیلئے تیمم جائز نہ ہو کیونکہ زخمی صرف ایك عضو ہے تو ایك صورت میں دو پھنسیاں تو وضو سے مانع ہوجاتی ہیں اور دوسری صورت میں ویسی ہی سیکڑوں ہوکر بھی مانع نہیں ہوتیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
ای ولم یمکنہ ادخال وجھہ و رجلیہ فی الماء فلو امکنہ فعل بلا تیمم کما لایخفی فلاینافی ماقدمناہ عن العیون
یعنی ساتھ ہی یہ بات بھی ہو کہ وہ چہرا اور دونوں پاؤں پانی میں نہ ڈال سکتا ہو اگر یہ کرسکتا ہو تو اسے تیمم چھوڑ کر یہی کرنا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ تو یہ اس کے منافی نہیں جو عیون کے حوالہ سے ہم پہلے بیان کر آئے۔ اھ (ت)
البحرالرائق میں ہے :
فھذا یفیدان قولھم اذاکان الاکثر صحیحا یغسل الصحیح محمول علی ما اذا لم یکن بالیدین جراحۃ کما لایخفی ۔
تو اس سے اس بات کا افادہ ہوتا ہے کہ فقہا نے یہ جو فرمایا ہے کہ اکثر صحیح ہو تو صحیح کو دھونا ہے یہ اس صورت پر محمول ہے جب اس کے دونوں ہاتھوں پر زخم نہ ہو۔ جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
(۱۵۳ تا ۱۵۵) اس مسئلہ جراحت ہر دوکف کو درمختار میں عام رکھا کہ اگرچہ کوئی وضو کرانے والا ملے جب بھی تیمم کی اجازت ہے۔
حیث قال بعد مامر وان وجد من یوضیہ خلافا لھما ۔
کیونکہ گزشتہ عبارت کے بعد ان کے الفاظ یہ ہیں :
اگرچہ اسے کوئی وضو کرانے والا مل جائے (یہ امام صاحب کے یہاں ہے) بخلاف صاحبین کے۔ (ت)
مگر معتمد یہ ہے کہ اس حالت میں تیمم نہیں البحرالرائق میں ہے :
فی القنیۃ والمبتغی بیدہ قروح یضرہ الماء دون سائر جسدہ یتیمم اذا لم یجد من یغسل وجھہ وقیل یتیمم مطلقا اھ اقول وقولہ وجھہ من باب
قنیہ اور مبتغی میں ہے : اس کے ہاتھ پر ایسا زخم ہو کہ پانی اسے ضرر رساں ہو باقی جسم میں زخم نہ ہو تو وہ بھی تیمم کرے گا بشرطیکہ اسے کوئی چہرہ دھونے والا نہ ملے اور کہا گیا کہ مطلقاتیمم کرے گا اھ
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۳
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۳
اقول : صرف چہرہ کا نام لیا (چہرہ دھونے والا نہ ملے) پر اکتفا کے باب سے ہے مراد یہ ہے کہ ایسا کوئی شخص نہ ملے جو چہرہ اور پیروں کو دھودے اور سر پر مسح کردے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وھو الموافق لمامر فی المریض العاجز من انہ لو وجد من یعینہ لایتیمم فی ظاھر الروایۃ فتنبہ ذلك ۔
اور یہ اس حکم کے مطابق ہے جو عاجز مریض سے متعلق گزرا کہ اسے اگر کوئی مدد دینے والا ملے تو ظاہر روایت میں وہ تیمم نہیں کرسکتا تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے۔ (ت)
اقول : تو اب یہاں بدستور وہ تینوں صورتیں نکلیں گی کہ وضو کرادینے والا اجرت زیادہ مانگتا ہے یا یہ مفلس ہے یا مال غائب اور وہ ادھار پر راضی نہیں۔
تنبیہ : امام اجل فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کتاب غریب الروایۃ میں ایك صورت تیمم کی یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اگر وضو میں سب اعضا بے تکلف دھو سکتا ہے مگر کسی مرض کے باعث سر کا مسح ضرر کرتا ہے توتیمم کرے یوں ہی اگر غسل میں سارے بدن پر پانی بہا سکتا ہو مگر سر دھونا درکنار مسح بھی نہ کرسکے تو غسل کی جگہ بھی تیمم کرے مگر صحیح ومعتمد ومشہور ومنصوریہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت نہیں بلکہ وضو میں تینوں اعضا اور غسل میں سر کے سوا سارا بدن دھوئے اور۱ سر پر کوئی پٹی باندھ کر اس پر مسح کرے اور اس سے بھی نقصان ہو تو بالکل چھوڑ دے اس قدر معاف رہے گا۔ تنویر الابصار آخرتیمم میں ہے :
من بہ وجع رأس لایستطیع معہ مسحہ یسقط فرض مسحہ ۔
جس کا سر میں کوئی ایسا مرض ہو جس کے باعث سر کا مسح نہ کرسکے تو مسح سر کا فریضہ ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایستطیع مسحہ محدثا ولاغسلہ جنبا ففی الفیض عن غریب الروایۃ
حالت حدث میں مسح نہ کرسکے اور حالت جنابت میں سر نہ دھو سکے تو فیض میں غریب الروایۃ سے یہ ہے
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۹۰
کہ تیمم کرے اور قارئ ہدایہ کا فتوی یہ ہے کہ اس سے فرض مسح ساقط ہے۔ اور اگر سر پرپٹی ہو تو اس کے مسح سے متعلق دو۲ قول ہیں اسی طرح (غسل میں) سر کا دھونا بھی ساقط ہے ایسی صورت میں دھونے کی بجائے سر پر مسح کرے اگرچہ کسی پٹی پر جب کہ یہ مضر نہ ہو اگر یہ بھی مضر ہو تو (دھونا اور مسح دونوں) بالکل ہی ساقط ہے اور حکما وہ اس کی طرح قرار دیا جائے گا جس کا یہ عضو ہی نہ ہو جیسا کہ حقیقۃ عضو نہ رکھنے والے سے متعلق حکم ہے(کہ اس سے دھونا اور مسح کرنا سبھی ساقط ہے)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ قولان ذکر فی النھر عن البدائع مایفیدہ ترجیح الوجوب وقال وھو الذی ینبغی التعویل علیہ اھ بل قال فی البحر والصواب الوجوب ۔
درمختار کی عبارت قولان (دو قول ہیں) کو النہرالفائق میں بدائع کے حوالے سے ذکر کیا ہے جس سے وجوب مسح کی ترجیح مستفاد ہوتی ہے اور لکھا ہے کہ اسی پر اعتماد ہوناچاہئے اھ۔ بلکہ البحرالرائق میں یہ ہے کہ صحیح وجوب ہی ہے۔ (ت)
البحرالرائق میں ہے :
ذکر الجلابی فی کتاب الصلاۃ لہ ان من بہ وجع فی رأسہ لایستطیع معہ مسحہ یسقط فرض المسح فی حقہ ۔ وھذہ مسألۃ مھمۃ اجبت ذکرھا لغرابتھاوعدم وجودھا ففی غالب الکتب وقد افتی بھا الشیخ سراج الدین
جلابی نے اپنی کتاب الصلوۃ میں ذکر کیاہے کہ “ جس کے سر میں ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے سر کا مسح نہ کرسکے تو اس کے حق میں فرض ساقط ہے“ اھ۔ اور یہ ایك اہم مسئلہ ہے جس کی ندرت وغرابت اور عامہ کتب میں مذکور نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اسے بیان کردینا بہتر سمجھا اور محقق کمال الدین
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۹۱
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۴
ابن الہمام کے استاذ شیخ سراج الدین قارئ ہدایہ نے یہی فتوی دیا ہے۔ اس سے وہ وہم بھی دفع ہوجاتا ہے جو اس نقل پر اطلاع سے پہلے کیا گیا تھا کہ اس کیلئے حکم یہ ہوگا کہ پانی استعمال کرنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے وہ تیمم کرے نقل مل جانے کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حکما وہ عضو نہ رکھنے والا قرار دیا جائے تو اس عضو سے متعلق عمل ساقط ہوجائیگا جیسے حقیقۃ وہ عضو نہ رکھنے والے کے بارے میں حکم ہے اس صورت کے برخلاف جب کہ اس کے بعض دھوئے جانے والے اعضاء میں زخم ہو کہ اس کا حکم یہ ہے کہ صحیح کو دھوئے اور زخمی پر مسح کرے اس لئے کہ اس پر مسح کرنا اس کے نیچے والے عضو کو دھونے ہی کی طرح ہے۔ اور اس لئے کہ تیمم مسح ہے تو وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا بلکہ دھونے کا بدل ہوگا اور(وضو میں) سر پر مسح ہی ہوتا ہے اس لئے سر کاتیمم نہیں “ ۔ اھ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ ماکان قدتوھم) الذی توھم ذلك العلامۃ عبدالبر بن الشحنۃ فانہ ذکر عبارۃ الجلابی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ونظمھا بقولہ :
ویسقط مسح الرأس عمن برأسہ
من الداء ماء ان بلہ یتضرر
صاحب بحر کا قول “ وہ جو وہم کیا گیا تھا “ یہ وہم علامہ عبدالبر ابن شحنہ کو ہوا تھا۔ انہوں نے جلابی کی عبارت اپنی شرح وہبانیہ میں ذکر کی اور اسے یوں نظم کیا :
جس کے سر میں کوئی ایسا مرض ہو کہ سر کو ترکرنے سے ضرر ہوتا ہو تو ایسے شخص سے سر کا مسح ساقط ہے۔
قولہ ولیس بعدالنقل الخ یوھم ان التیمم غیر منقول مع انہ منقول ایضاففی الفیض للکرکی عن غریب الروایۃمن برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ یتیمم(۱)والمرأۃ لوضرھا غسل رأسھا فی الجنابۃ اوالحیض تمسح علی شعرھا ثلاث مسحات بمیاہ مختلفۃ وتغسل باقی جسدھا اھ قال فی الفیض وھو عجیب اھ مافی المنحۃ۔
اقول : ظھر(۲)لی بحمدالله تعالی من معناہ مایرفع العجب وذلك ان العجب انماھوفی مسئلۃ الغسل ان یجوزلہ التیمم اذاضرہ غسل رأسہ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اس نقل پر اطلاع سے پہلے میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ایسا شخص تیمم کریگا اس لئے کہ وہ پانی کے استعمال سے عاجز ہے۔ اور نقل مل جانے کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے۔ شاید اس (مسح سر ساقط ہونے)کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حکما وہ عضو نہ رکھنے والا قرار دیا جائیگا تو اس عضو سے متعلق مقررہ عمل مسح ساقط ہوجائے گا جیسا کہ حقیقۃ عضو نہ رکھنے والے کا حکم ہوتا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ان کا قول “ نقل کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے “ یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ تیمم کا حکم غیر منقول ہے حالانکہ وہ بھی منقول ہے۔ کرکی کی کتاب “ فیض “ میں غریب الروایۃ سے نقل کیا ہے کہ “ جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکر آتا ہو اور اسے وضو میں مسح یا جنابت میں غسل ضرر دیتا ہو توو ہ تیمم کرے اور اگر عورت کو جنابت یا حیض میں سر دھونے سے ضرر ہو تو وہ تین بار مختلف پانیوں سے اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے اھ “ ۔ فیض میں کہا : “ یہ حکم عجیب ہے “ اھ منحۃ الخالق کی عبارتیں ختم ہوئیں۔ (ت)
اقول : مجھ پر غریب الروایۃ کی عبارت کا ایك ایسا معنی منکشف ہوا والحمدللہ تعالی جس وجہ سے تعجب دور ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ تعجب غسل کے مسئلہ میں ہے کہ سر دھونے سے ضرر
ہوتا ہے تو اس کیلئے تیمم کیسے جائز ہوگیا یہ حکم قطعا باطل ہے۔ اس پر تو مسح سر کی طرف رجوع لازم ہے اس لئے کہ جب کسی دھوئے جانے والے عضو کا دھونا متعذر اور دشوار ہوجائے تو اس پر مسح کرلینا اسے دھونے ہی کی طرح ہے جیسا کہ ابھی بحر کے حوالے سے گزرا اسی کے مثل بدائع میں بھی ہے اسی لئے اس مسح کو دھونے کے ساتھ جمع کرناجائز ہے اس کے برخلاف موزوں کے مسح میں یہ جائز نہیں کہ ایك پاؤں دھولے اور دوسرے پاؤں کے موزے پر مسح کرلے۔ (لیکن بحالت عذر)مگر ایك پاؤں پر لکڑی یا کپڑے کی پٹی بندھی ہو تو اس پر مسح کرے گا اور دوسرا پاؤں دھوئے گا۔ جیساکہ اس پر تبیین وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور جس کا اکثر بدن صحیح ہو اس کا مسئلہ مشہور وصریح اور غیر محتاج تصریح ہے کہ وہ صحیح حصہ بدن دھوئےگا اور زخمی حصہ پر مسح کریگا۔ تو حیرت یہی ہے کہ یہاں (غسل میں مسح سر اور باقی بدن کو دھونے کا حکم دینے کی بجائے) تیمم کا حکم کیسے دے دیا ہے(یہ تعجب ایك وہم سے پیدا ہوا) اور اس وہم کو اس سے تقویت پہنچی کہ درمختار میں غریب الروایۃ کی عبارت مفہوما نقل کی۔ جب میں نے فیض میں نقل شدہ عبارت غریب الروایۃ دیکھی اور اس میں یہ ملا کہ : “ یضرہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ “ یہ عبارت نہیں کہ “ مسح رأسہ
اما مسألۃ الوضوء فغیر عجیب بل لہ وجہ وجیہ قریب فاقول : معلوم(۲) ان الحدث لایتجزی فکذا رفعہ فلواغتسل وبقیت شعرۃ لم یسل الماء علیھا فلاغسل لہ وھو جنب کماکان وقد نصوا ان النجاسۃ الحکمیۃ(۳)اشد من الحقیقیۃ اذقد عفی من ھذہ قدردرھم اواقل من الربع ولاعفو عــہ فی الحکمیۃ قدر ذرۃ اصلا ۔
فمن
محدثا وغسلہ جنبا “ جیسا کہ درمختار میں ہے تو یہ عبارت دیکھتے ہی بحمدالله تعالی میرے دل میں خیال ہوا کہ لفظ “ غسل “ یہاں غین کے ضمہ سے ہوگا فتحہ سے نہ ہوگا۔ تو اس عبارت کا یہ معنی نہیں کہ “ وضو میں مسح کرنا اور جنابت میں “ دھونا “ ضرر دیتا ہو “ بلکہ معنی یہ ہے کہ جنابت میں غسل اور بدن پر پانی بہانا ضرر دیتا ہو اگرچہ سر کو چھوڑ کر پانی بہائے ضرر اس لئے ہو کہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہوں جیسا کہ فن طب اسے بتاتا ہے۔ اور غریب الروایۃ کی عبارت غین کے فتحہ کے ساتھ (دھونے کے معنی میں)کیوں کر ہوسکتی ہے جبکہ اس کے متصل ہی یہ تصریح موجود ہے کہ اگر عورت کو سردھونے سے ضرر ہو تو اس پر مسح کرے (پھر یہاں بجائے سر کے سب کچھ چھوڑ کر صرف تیمم کا حکم کیسے ہوسکتا ہے) تو معنی وہی ہے جو میں نے بیان کیا اور یہ بالکل صاف بے غبار ہے۔ وللہ الحمد۔ (ت)اب رہا وضو کا مسئلہ تو وہ بھی تعجب خیز نہیں بلکہ اس کی ایك عمدہ قریبی وجہ ہے فاقول : یہ معلوم ہے کہ حدث منقسم نہیں ہوتا تو اسی طرح ازالہ حدث بھی منقسم نہ ہوگا۔ اگر کوئی غسل کرے اور ایك بال چھوٹ جائے جس پر پانی نہ بہایا ہو تو اس کا غسل نہ ہوا وہ اب بھی جنب ہے اور علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نجاست حکمیہ نجاست حقیقیہ سے زیادہ سخت ہے اس لئے کہ حقیقیہ سے تو بقدر درہم یا چوتھائی سے کم معاف ہے اور حکمیہ میں
عــہ اقول ای فی السعۃ اما مواضع الضرو رۃ فنعم کشعر تعقد ونیم ذباب وجرم حناء ومداد الی غیر ذلك مما فصلنا فی الجود الحلو ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی بحالت وسعت کچھ معاف نہیں۔ ہاں ضرورت کی جگہوں میں کچھ عفو ہے جیسے بال جو خود گرہ کھا کر رہ گیا ہو اور مکھی کی بیٹ مہندی روشنائی وغیرہ کا جرم جس کی تفصیل ہم نے رسالہ “ الجود الحلوفی ارکان الوضو “ میں کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اما قول البحر ان التیمم مسح فلا یکون بدلا عن مسح والراس ممسوح۔
فاقول اولا : (۱) لایتمشی فی الغسل فان الرأس فیہ مغسول وثانیا : ھو(۲) عجیب من مثلہ فانہ لم تأمر الروایۃ بالتیمم بدلا عن مسح الرأس بل بدلاعن الوضوء والغسل عند العجز عن اکمالھما ولاشك ان التیمم
ایك ذرہ کے برابر بھی معاف نہیں۔
تو جو شخص غسل میں اپنا سر دھو نہیں سکتا تو اس پر مسح کرلے گا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو پٹی باندھ کر اس پر مسح کرے گا اور اس سے تطہیر کا عمل مکمل ہوجائے گا اس لئے کہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ مسح دھونے کے قائم مقام ہے صحیح زخمی کا مسئلہ بھی یہی ہے لیکن جب غسل یا وضو میں یہ بھی (پٹی پر مسح) نہ ہوسکے تو سر سے متعلق عمل بالکل ہی متروك رہ جائےگا جس کی وجہ سے یہ (بقیہ اعضاء کو دھونے کا) عمل جزو طہارت تو ہوگا طہارت نہ ہوگا حالانکہ یہ عمل منقسم نہیں ہوتا تو کہا جائے گا کہ سرے سے طہارت حاصل ہی نہ ہوئی اس طرح پانی والی طہارت سے اس کا عجز ظاہر ہوگیا توتیمم کی طرف رجوع لازم ہوا۔ (ت)لیکن صاحب بحر کا یہ قول کہ “ تیمم مسح ہے اس لئے وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا اور سر پر مسح ہی ہوتا ہے “ ۔ تو اس پر کلام ہے۔ فاقول : (پس میں کہتا ہوں) اولا یہ بات غسل میں نہیں چل سکتی کیوں کہ اس میں سر دھویا جاتا ہے۔ ثانیا : ان جیسے کے قلم سے ایسی عبارت حیرت خیز ہے اس لئے کہ روایت مذکورہ میں مسح سر کے بد لے تیمم کا حکم نہیں بلکہ وضو وغسل کی تکمیل سے عجز کے وقت ان دونوں کے بدلے تیمم کا حکم ہے اور بلاشبہ تیمم
عــہ والجواب مااشرنا الیہ ان ھذا موضع ضرورۃ وفیہ العفو ثابت فی الحکمیۃ ایضا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اور جواب وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ یہ ضرورت کی جگہ ہے اور مقام ضرورت میں معافی نجاست حکمیہ میں بھی ثابت ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وقال فی اخر مسح الخفین الحاصل لزوم غسل المحل ولوبماء جارفان ضر مسحہ فان ضر مسحھا فان ضر سقط اصلا اھ
اقول : بل(۲) ان ضر مسحہ فان ضر غسلھا فان ضرمسحھا ثم قال (انکسر ظفرہ فجعل علیہ دواء اووضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ)
ان دونوں کا بدل ہے جب کہ وضو میں مسح بھی پایا جاتا ہے تو اگر اس سبب کی بنیاد پر ہوتی تو لازم تھا کہ محدث کیلئے تیمم کا جواز ہی نہ ہو۔ ظاہر یہ ہوا کہ غریب الروایۃ میں جو مذکور ہے وہ غریب نہیں ہاں زیادہ مشہور وہی ہے جو جلابی نے ذکر کیا اورا سی پر درمختار میں متعدد جگہ جزم کیا اس کی آخرتیمم کی عبارت گزر چکی اور آخر وضو میں سنتوں کے بیان سے ذرا پہلے یہ عبارت ہے : “ اعضا میں پھٹن ہے تو اگر قدرت ہو دھوئے ورنہ مسح کرے یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑ دے اور اگر ہاتھ میں ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو توتیمم کرے “ ۔ اھ ہاتھ میں پھٹن کا مسئلہ مع قیدوں کے کچھ پہلے گزرچکا۔ اور مسح خفین کے آخر میں ان کی یہ عبارت ہے : “ حاصل یہ ہے کہ محل طہارت کو دھونا لازم ہے اگرچہ آب رواں سے ہو اگر اس سے ضرر ہوتا ہو تو اس عضو پر مسح کرے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹی پر مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو بالکل ساقط ہے “ ۔ اھ اقول : بلکہ اگر عضو پر مسح سے ضرر ہو تو پٹی پر پانی بہائے اور دھوئے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹی پر مسح کرے۔ پھر لکھتے ہیں : “ ناخن ٹوٹ گیا اس پر دوا ڈالی یا پاؤں کے بدلیت درست نہ شگافوں پر دوا رکھی تو اس پر پانی
الدرالمختارمع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۵
الدرالمختار مع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۳
اقول : بل(۲) غسلہ فان ضر مسحہ فان ضر ترکہ قالوا وان کان فی اعضائہ شقوق امر علیھا الماء ان قدر والامسح علیھا ان قدر والا ترکھا وغسل ماتحتھا اھ
اقول : ان کان المراد بمسألۃ الشقوق مااذا وضع الدواء علیھا ومعنی امر علیھا امر علی دواء علیھا کماکان فی عبارۃ الدر فذاك والا فتقدیر مسح علیھا ان قدر والا اجری علی دواء اوعصابۃ علیھا ان استطاع والا مسحہ ان امکن والا ترك ثم بحمدالله تعالی رأیت النص عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم فی ظاھر الروایۃ انہ یجوز ترك المسح اذا اضر فانقطع الخلاف۔ قال الامام ملك العلماء فی البدائع قدذکر محمد فی کتاب الصلاۃ
بہائے اگر بہاسکے ورنہ مسح کرے ورنہ یہ بھی ترك کردے “ ۔ تبیین الحقائق فتح القدیر البحرالرائق ہندیہ وغیرہ میں ہے : “ اگر ناخن ٹوٹ گیا اس پر دوا یا گوند لگایا اس میں پتے کی جلد یا مرہم ڈال لیا تو اگر اس کیلئے اسے نکالنے میں ضرر ہو تو اس پر مسح کرے اور اگر مسح سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے “ اھ
اقول : بلکہ اس کو دھوئے اگر اس سے نقصان ہو تو مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے۔ علماء نے فرمایا ہے : “ اگر اس کے اعضاء میں شگاف ہوگئے ہوں تو اگر قدرت ہو ان پر پانی بہائے ورنہ ہوسکے تو ان پر مسح کرے ورنہ چھوڑ دے اور ان کے نیچے کی جگہیں دھولے “ ۔ اھ (ت)
اقول : شگافوں کے مسئلہ سے اگر یہ مراد ہے کہ ان پر دوا چھوڑ رکھی ہو اور ان پر پانی گزارنے کا یہ معنی ہے کہ ان شگافوں پر جو دوا ہے اس پر پانی بہائے جیسا کہ درمختار کی عبارت میں ہے تو یہ درست ہے ورنہ تقدیر معنی یہ ہوگی کہ ان شگافوں پر مسح کرے اگر اس کی قدرت ہو ورنہ جو دوا یا پٹی لگا رکھی ہے اس پر پانی بہائے اگر ہوسکے ورنہ مسح کرے اگر ممکن ہو ورنہ یہ بھی چھوڑ دے پھر بحمدالله تعالی مجھے اپنے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمسے ظاہر الروایۃ کی صریح عبارت مل گئی کہ مسح بھی ترك کردینا جائز ہے جب اس میں ضرر ہو اس سے اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ امام ملك العلماء بدائع میں
تبیین الحقائق مسح الخفین مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۵۳
وفی الحلیۃ فی باب الوضوء والغسل من الاصل اذا اغتسل من الجنابۃ ومسح بالماء علی الجبائر التی علی یدہ اولم یمسح لانہ یخاف علی نفسہ ان مسحہ یجزئہ قال فی الحلیۃ ذکرہ مطلقا من غیران یضیفہ الی احد اھ ای فافاد انہ قول الکل فثبت ان سقوط بعض الوظیفۃ لاجل الضرورۃ غیر غریب والله تعالی اعلم۔
فرماتے ہیں : “ امام محمد نے کتاب الصلوۃ میں امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ذکر فرمائی ہے کہ جب پٹیوں پر مسح ترك کردے اور یہ مسح ضرر رساں رہا ہو تو یہ اس کے لئے کفایت کرجائے گا (جائز ہوگا) اور امام ابویوسف وامام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہمافرماتے ہیں : جب مسح سے ضرر نہ ہو تو (مسح چھوڑنا) جائز نہیں۔ تو امام ابوحنیفہ کا حکم الگ صورت میں ہے اور صاحبین کا حکم دوسری صورت میں۔ اس لئے کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب پٹیوں پر مسح سے ضرر ہوتا ہو تو اس سے مسح ساقط ہے اس لئے کہ عذر کی وجہ سے تو دھونا بھی ساقط ہوجاتا ہے تو مسح بدرجہ اولی ساقط ہوگا “ ۔ اھ (ت)
اور حلیہ باب الوضوء والغسل میں اصل (مبسوط) کے حوالے سے ہے : “ جب غسل جنابت کرے اور اپنے ہاتھ پر بندھی ہوئی پٹیوں پر پانی سے مسح کرلے یا بصورت مسح اپنی ذات پر خطرے کی وجہ سے مسح بھی نہ کرے تو جائز ہے “ ۔ حلیہ میں فرمایا ہے : “ مبسوط میں یہ مسئلہ کسی کی طرف انتساب کے بغیر مطلقا مذکور ہے “ اھ یعنی اس طرح یہ افادہ فرمایا ہے کہ یہ سبھی حضرات کا قول ہے تو ثابت ہوا کہ ضرورت کی وجہ سے مقررہ عمل کا جز ساقط ہوجانا کوئی حیرت انگیز اور غریب امر نہیں والله تعالی اعلم (ت)
حلیہ
(۱۵۶) نمبر۸۸ میں درمختار سے گزرا کہ اگر آنکھ قدح کرائی اور طبیب نے چت لیٹے رہنے کو کہا ہے نماز اشاروں سے پڑھے اقول : تو اگر غسل کی حاجت ہوتیمم خود ظاہر ہے اور یہ نمبر۴۱ ہے یوں ہی وضو میں جبکہ کوئی کرادینے والا نہ ہو یا وہ اجرت زیادہ مانگے یا یہ قادر نہ ہوا اور یہ نمبر ۴۲ تا ۴۵ ہے مگر ایك صورت دقیق یہاں اور نکلے گی کہ وضو کرانے والا موجود ہے لیکن پلنگ ناپاك اور بچھونا پاك ہے وضو کرنے سے بچھونا کہ اس کے اعضاء کے نیچے ہے ناپاك ہوجائے گا تو اب بھی تیمم کرے والله تعالی اعلم۔
(۱۵۷) پانی ہے مگر طہارت مطلوبہ کیلئے کافی نہیں تیمم کرے مثلا نہانا ہے اور صرف وضو کے قابل پانی ہے تو فقط تیمم کرے کہ وضو کرنے یعنی اعضائے وضو دھونے سے غسل نہ اترے گا اورتیمم سارے بدن کو پاك کردیگا تو وضو کرنا اس پانی کا ضائع کرنا ہے یہاں کفایت سے مراد قدر فرض کو کافی ہے مثلا اتنا پانی ہے کہ غسل میں ایك بار کلی ایك بار ناك میں پانی ڈالنے ایك بار سارے بدن پر بہانے یا وضو میں ایك ایك بار کیلئے کافی ہے تیمم نہیں ہوسکتا اسی واسطے ہم نے فرض طہارت کیلئے کافی پانی کہا۔ امام ملك العلماء فرماتے ہیں :
الجنب اذاوجد من الماء قدر مایتوضوء بہ لاغیر اجزأہ التیمم عندنا لان المأمور بہ الغسل المبیح للصلاۃ والذی لایبیح وجودہ عدم کمالوکان الماء نجسا ولان الغسل اذا لم یفد الجواز کان الاشتغال بہ سفھا مع(۱) ان فیہ تضییع الماء وانہ حرام ۔
جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکتا ہو تو ہمارے نزدیك اس کیلئے تیمم کرلینا کافی ہے اس لئے کہ اسے حکم تو اس غسل کا ہے جس سے نماز ہوجائے اور جس پانی کا وجود نماز کا جواز نہیں لاسکتا وہ عدم کے درجہ میں ہے جیسے اس صورت میں جب کہ پانی ہو مگر نجس ہو دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب غسل سے جواز نماز کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو اس میں مشغولیت بیوقوفی ہے ساتھ ہی پانی کی بربادی بھی جو حرام ہے “ ۔ اھ (ت)
درمختار میں ہے :
ناقضہ قدرۃ ماء کاف لطھرہ ولومرۃ مرۃ
تیمم توڑنے والی چیز ایسے پانی پر قدرت ہے جو طہارت کیلئے کفایت کرسکے اگرچہ ایك ایك بار۔ (ت)
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶ تا ۱۸۷
لوغسل بہ کل عضو مرتین اوثلاثا فنقص عن احدی رجلیہ انتقض تیممہ ھو المختار عــہ لانہ لواقتصر علی المرۃ کفاہ ۔
اگر اس پانی سے ہر عضو دو یا تین بار دھویا کہ ایك پاؤں دھونے کیلئے پانی گھٹ گیا تو اس کاتیمم ٹوٹ گیا۔ یہی مختار ہے۔ اس لئے کہ اگر ایك بار دھونے پر اکتفا کرتا تو پانی کفایت کرجاتا۔ (ت)
(۱۵۸) جو آبادی سے دور ہے مسافر خواہ غیر مسافر مثل شکاری وغیرہ اس نے پانی سے میل دو میل فاصلہ پر خیمہ لگایا اور پانی اس کے خیمہ کے دوسرے حصے میں جس میں یہ خود نہیں کسی نے رکھا یا اس نے رکھوایا یا خود اسی نے رکھا تھا یا یہ مثلا اونٹ پر سوار ہے اگرچہ کسی کام ہی کیلئے شہر سے میل دو میل دور ہوگیا ہو اور پانی کی پکھال اپنی ہی لٹکائی ہوئی دم کی طرف ہے یا یہ اونٹ کو پیچھے سے ہانك رہا ہے اور پکھال آگے کی جانب ہے یا نکیل پکڑے آگے چل رہا ہے اب چاہے پانی اونٹ کی گردن کی طرف ہو خواہ دم کی جانب۔ یونہی اگر یہ گاڑی میں سوار ہے اور پانی ماچی میں ہے یا گاڑی ہانك رہا ہے اور پانی گاڑی کے کھٹولے میں ہے غرض پانی ایسی جگہ نہیں کہ اس کے پیش نظر ہو یا جس کا بھولنا عادت سے بعید ہو ان سب صورتوں میں جب نماز کا وقت
عــہ علماء نے حکم لگایا کہ ایك ایك بار کو پانی کافی تھا لہذاتیمم ٹوٹ گیا اور فقیر نے بطور شرط کہا کہ اگر ایك ایك بار دھونے کو کافی ہوتا توتیمم ٹوٹ گیا اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے دو دو بار دھونے اور ایك پاؤں باقی رہ جانے کی صورت ذکر فرمائی اس صورت میں یقینا اگر ایك ایك بار دھوتا پانی کافی ہوتا بلکہ بچ رہتا اور فقیر نے استیعاب صور کیلئے یہ مطلق صورت رکھی کہ وضو تمام ہونے سے پہلے ختم ہوگیا اس میں وہ صورت بھی نکلے گی کہ ایك ایك بار دھونے کو بھی پانی کفایت نہ کرتا مثلا دوبار منہ دھویا اور دوبار داہنا ہاتھ اور پانی نہ رہا تو یہ پانی ایك ایك بار میں بھی کفایت نہ کرتا کہ ایك ہاتھ کا تو دوبار دونوں ہاتھوں کو کافی ہوجاتا اور منہ کا ایك بار دونوں پاؤں کو کفایت نہ کرتا لہذا اس تقید کی حاجت ہوئی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(صلی) من لیس فی العمران بالتیمم (ونسی الماء فی رحلہ) وھو مماینسی عادۃ (لااعادۃ علیہ) ولو(۱) ظن فناء الماء اعاد اتفاقا کمالونسیہ فی عنقہ اوظھرہ اوفی مقدمہ راکبا اومؤخرہ سائقا ۔
ایسا شخص جو آبادی میں نہیں اس نے تیمم سے نماز پڑھ لی اور پانی اپنے خیمہ میں بھول گیا اور یہ ایسی جگہ ہے کہ عادۃ آدمی بھول جاتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں اور اگر یہ گمان تھا کہ پانی ختم ہوگیا ہے تو بالاتفاق نماز کا اعادہ ہے جیسے اس صورت میں کہ پانی اس کی گردن یا پشت پر (سے لٹکی ہوئی مشك میں) ہو یا سوار ہونے کی حالت میں اس کے آگے حصے میں ہو یا ہانکتے وقت سواری کے پچھلے حصے میں ہو اور بھول جائے تو اعادہ ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ من لیس فی العمران ای سواء کان مسافرا اومقیما منح ونوح افندی عن شرح الجامع لفخر الاسلام اما من فی العمران فتجب علیہ الاعادۃ لان العمران یغلب فیہ وجود الماء فکان علیہ طلبہ فیہ وکذا فیما قرب منہ کماقدمناہ والظاھر ان الاخبیۃ بمنزلۃ العمران لان اقامۃ الاعراب
ان کا قول “ جو آبادی میں نہیں “ یعنی خواہ مسافر ہو یا مقیم منح ونوح آفندی بحوالہ شرح جامع از فخرالاسلام _ لیکن جو آبادی میں ہے تو اس پر اعادہ واجب ہے اس لئے کہ آبادی میں اکثر پانی موجود رہتا ہے تو اسے تلاش کرلینا لازم تھا اسی طرح آبادی سے قریب مقام کا بھی حکم ہے جیسا کہ اسے ہم نے پہلے بیان کیا اور ظاہر یہ ہے کہ خیمے بھی آبادی ہی کے درجہ میں ہیں اس لئے کہ ان
اقول : لیس(۱) من شرط المقیم القرب من العمران اولیس من خرج للاحتطاب اوالاحتشاش اوالاصطیادو بعد عن المصر میلا فھو مقیم مباح لہ التیمم کمانص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد تقدم ولم یریدوا بہ حضریا فی مصرہ اوقرویا فی قریتہ اوکردیا فی خبائہ حتی یشکل علیہ ثم قال رحمہ الله تعالی الرحل للبعیر کالسرج للدابۃ ویقال لمنزل الانسان ومأواہ رحل ایضا ومنہ نسی الماء فی رحلہ مغرب لکن قولھم لوکان الماء فی مؤخرۃ الرحل یفید ان المرادالاول بحر اقول الظاہر ان مراد ما یوضع فیہ الماء عادۃ لانہ مفرد مضاف فیعم کل رحل سواء کان منزلا اورحل بعیر وتخصیصہ باحدھما مما لابرھان علیہ نھر اھ۔
میں اعرابی بغیر پانی کے نہیں رہتے تو ان خیموں میں بھی پانی اکثر موجود ہی رہتا ہے۔ اس کے پیش نظر فقہا کی اس عبارت میں “ کہ خواہ مسافر ہو یا مقیم “ اشکال ہے تو اسی میں تأمل کرنا چاہئے اھ۔ (ت)
اقول : مقیم ہونے کیلئے شرط نہیں کہ آبادی سے قریب ہی ہو جو لکڑی کاٹنے یا گھاس لینے یا شکار کرنے کیلئے نکلا اور شہر سے ایك میل دور ہوگیا وہ مقیم ہی ہے اور اس کیلئے تیمم جائز ہے جیسا کہ اس پر خانیہ وغیرہ میں تصریح موجود ہے اور عبارت پہلے گزر چکی __ مقیم سے خاص اپنے شہر میں موجود شہری یا اپنے گاؤں میں موجود دیہی یا اپنے خیمہ میں موجود کرد “ مراد نہیں کہ اس پر اشکال ہو۔ پھر علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : رحل (کجاورہ) اونٹ کیلئے ہوتا ہے جیسے سرج (زین) سواری کے گھوڑے وغیرہ کیلئے اور آدمی کی منزل اور ٹھکانے کو بھی رحل کہا جاتا ہے اسی سے ہے “ نسی الماء فی رحلہ “ (اپنی منزل میں پانی بھول گیا__ مغرب__ لیکن ان کی یہ عبارت “ اگر پانی رحل کے پچھلے حصے میں ہو “ بتاتی ہے کہ رحل سے مراد پہلا معنی (اونٹ کا کجاوہ) ہے __بحر __اور میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد وہ ہے جس میں عادۃ پانی رکھا جاتا ہو اس لئے کہ مفردمضاف ہے تو ہر “ رحل “ کو عام ہوگا خواہ منزل ہو یا اونٹ کا کجاوہ۔ اور کسی ایك سے خاص کرنے پر کوئی دلیل نہیں __نہر۔ اھ (ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳
وفی القاموس الرحل مرکب للبعیر کالراحول ومسکنك الخ وفصلہ بقولہ کالراحول یؤکدہ فان مسکن الانسان لایقال لہ راحول وکذلك فی قول المغرب لفظۃ ایضا ومثلہ فی مختار الصحاح الرحل مسکن الرجل ومایستصحبہ من الاثاث والرحل ایضا رحل البعیر اھ
وفی النھایۃ حدیث حولت رحلی البارحۃ حیث رکبھا من جھۃ ظھرھا کنی عنہ بتحویل رحلہ اما ان یرید بہ المنزل واما ان یرید الرحل الذی ترکب علیہ الابل وھو الکور اھ وفی مجمع البحار امانقلا من الرحل بمعنی المنزل اومن الرحل بمعنی الکور وھو للبعیر کالسرج للفرش ومثلہ فی الدر النثیر
اقول : اولا لفظ “ رحل “ مذکورہ دونوں معنوں میں مشترك معنوی نہیں کہ دونوں کو عام ہو لکہ مشترك لفظی ہے اس لئے اہل لغت نے اس کی دونوں تفسیریں کی ہیں کوئی ایك ایسی تفسیر نہیں کی ہے جو دونوں کو شامل ہو۔ جیسا کہ مغرب کے حوالہ سے سنا المصباح المنیر میں ہے : “ رحل : اونٹ پر سوار ہونے کی جگہ۔ رحل الشخص : حضر میں آدمی کا ٹھکانا اھ “ ۔
قاموس میں ہے : رحل : اونٹ پر سواری کی جگہ جیسے راحول اور بمعنی مسکن بھی ہے “ ۔ پہلے معنی کے ساتھ “ جیسے راحول “ کا اضافہ اس بات کی تائید کرتا ہے (کہ لفظ رحل کے الگ الگ یہ دونوں معنی ہیں جن میں یہ مشترك لفظی ہے) اس لئے کہ انسان کے مسکن کو “ راحول “ نہیں کہا جاتا۔ اور اسی طرح مغرب میں ایضا (بھی) کے لفظ سے بھی تائید ہوتی ہے۔ اسی کے مثل مختار الصحاح میں ہے کہ : “ رحل : آدمی کا مسکن اور وہ ساز وسامان جو ساتھ لئے ہو اور رحل اونٹ کے کجاوے کو بھی کہتے ہیں “ ۔ اھ۔ نہایہ میں ہے : “ حدیث : حولت رحلی البارحۃ “ گزشتہ رات میں اپنا رحل
القاموس المحیط باب اللام فصل الراء مطبع مصطفی البابی مصر ۳ / ۳۹۴
مختار الصحاح باب الراء مطبع مصطفی البابی مصر ص۶۵۸
النہایۃ لابن اثیر لفظ رحل مکتبہ اسلامیہ بیروت ۲ / ۲۰۹
مجمع بحار الانوار باب الراء مع الحاء مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۴۷۳
وثانیا : لو(۱) سلم لیس ھذا محل التعمیم واستغراق الافراد بل الوجہ الاستناد الی الاطلاق فافھم قال رحمہ الله تعالی قولہ وھو مما ینسی عادۃ الجملۃ حالیۃ ومحترزہ قولہ کمالو نسیہ فی عنقہ الخ قولہ لااعادۃ علیہ ای اذا تذکر بعدمافرغ من صلاتہ فلو تذکر فیھا یقطع ویعید اجماعا سراج واطلق یشمل مالوتذکر فی الوقت اوبعدہ کمافی الھدایۃ وغیرھا خلافا لماتوھمہ فی المنیۃ ومالوکان الواضع
تبدیل کردیا جب اس پر پشت کی طرف سے سوار ہوئے۔ اس سے رحل بدلنے کا کنایہ ہے یا تو اس سے منزل مراد ہو یا کجاوہ جس پر اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں اھ۔ مجمع البحار میں ہے : یاتو رحل بمعنی منزل منقول ہے یا رحل بمعنی کجاوہ سے منقول ہے اور یہ اونٹ کیلئے ہوتا ہے جیسے زین گھوڑے کیلئے اھ۔ اس کے مثل امام جلال الدین سیوطی کی “ الدر النثیر “ میں ہے۔ اور امام راغب نے مفردات میں صرف پہلی تفسیر ذکر کی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے : “ رحل وہ ہے جو اونٹ پر سواری کیلئے رکھا جاتا ہے پھر کبھی اونٹ کو بھی رحل کہتے ہیں اور کبھی اسے بھی جس پر منزل میں بیٹھتے ہیں “ اھ۔ انہوں نے صرف پہلا معنی اس لئے ذکر کیا ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے اس سے یہ افادہ ہوا کہ اس معنی کیلئے مستقلا اس کی وضع ہوئی ہے تو دوسرا معنی بھی ایسا ہی ہوگا۔ اور عامہ ائمہ لغت کا کلام یہی ہے۔ (ت)
ثانیا : اگر مان بھی لیا جائے تو یہ تعمیم اور استغراق افراد کا موقع نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ مطلق رکھا جائے فافہم۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : ان کا قول “ وھو مماینسی عادۃ “ (اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں عادۃ آدمی بھول جاتا ہے) جملہ حالیہ ہے اور اس میں اس سے احتراز ہے جو آگے کما لو نسیہ فی عنقہ الخ کے تحت بیان کیا قولہ لا اعادۃ علیہ(اس پر اعادہ نہیں) یعنی جب نماز سے فارغت کے بعد یادآئے ۔ اگر نماز ہی میں یاد آجائے تو بالاجماع نماز توڑ کر اعادہ کرے گا __سراج __اور نماز سے فراغت
للماء فی الرحل ھو اوغیرہ بعلمہ بامرہ اوبغیر امرہ خلافا لابی یوسف امالوکان غیرہ بلاعلمہ فلااعادۃ اتفاقا حلیۃ اھ
اقول : یوھم(۱) ان فی المنیۃ حکم الاعادۃ فی احد
کے بعد یاد آنے کو مطلق ذکر کیا تاکہ وقت کے اندر یا وقت کے بعد کسی بھی وقت یادآئے دونوں کے شامل رہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اس کے برخلاف جو منیہ میں وہم کیا اور یہ اس کو بھی شامل ہو جب منزل میں پانی رکھنے والا وہ خود ہو یا دوسرے نے اس کے علم میں رکھا ہو اس کے حکم سے یا اس کے حکم کے بغیر __
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳
وکذا اذا کان قائدا مطلقا بحر ۔
بخلاف امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے __اور اگر دوسرے نے اس کی لاعلمی میں رکھا ہو تو بالاتفاق اس پر اعادہ نہیں۔ حلیہ اھ۔ (ت)
اقول : عبارت بالا سے منیہ کے متعلق وہم پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایك صورت میں اعادہ کا حکم بیان کیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں منیہ کا وہم یہ ہے کہ اس میں امام ابویوسف کا اختلاف صرف اندرون وقت یاد آنے والی صورت سے خاص کردیا ہے (جب کہ ان کا اختلاف اس صورت میں بھی ہے اور اس صورت میں بھی ہے جب پانی خود رکھا ہو یا اس کے علم واطلاع میں دوسرے نے رکھا ہو اور یہ بھول گیا ہو ۱۲ م الف) منیہ کی عبارت یہ ہے : “ اگر اس کے ساتھ خیمہ میں پانی ہو جسے یہ بھول گیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے وقت کے اندر یاد آگیا تو امام ابوحنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیتعالی علیہما کے نزدیك اعادہ نہیں اور اگر وقت گزرنے کے بعد یاد آیا تو تینوں حضرات ائمہ کے نزدیك اعادہ نہیں “ اھ۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : قولہ “ فی عنقہ “ یعنی خود اپنی گردن میں (اومقدمہ) یعنی کجاوے کے اگلے حصہ میں اس لفظ کے ذریعہ اس
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳
(۱۵۹) مسافررات کو کنویں یا جھیل کے پاس اترا چاہ ونہر جھاڑی کے اندر ہیں یا کنواں ڈھکا ہوا ہے اگرچہ خاص اسی پر اس نے خیمہ تانا ہو غرض نہ اسے جنگل میں پانی ہونے کا علم ہے نہ پانی ظاہر نہ وہاں کوئی واقف کار جس سے پوچھ سکے اس حالت میں اس نے تیمم سے نماز پڑھ لی تو یہ بھی صورت عجز ہے اقول یہاں بھی اعادہ نہ کرے گا اگرچہ سلام کے بعد ہی پانی وہاں ہونا معلوم ہوجائے کہ یہاں صورت سابقہ سے بھی عذر واضح تر ہے وہاں علم تھا نسیان سے جاتا رہا اور یہاں سرے سے علم نہیں۔ منیہ میں ہے :
اذا تیمم وصلی والماء قریب منہ وھو لایعلم اجزأہ ۔
پانی اس سے قریب ہے اور جانتا نہیں ایسی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
ظاھر ھذا وماقدمناہ عن شرح الجامع الصغیر لقاضی خان ومحیط الامام رضی الدین ان ھذا الحکم علی الوفاق وقد افصح بہ فی التجنیس حیث قال صلی بالتیمم وفی جنبہ بئر ماء لم یعلم بھا جاز علی قولھم ومافی جامع الفتاوی ضرب الخیمۃ علی بئر مندرس وتیمم وصلی ثم علم فالاحسن اعادتھا انتھی لایخالفہ وھو ظاھر ثم فی المحیط قیدہ بما اذالم یکن بحضرتہ من یسألہ عن الماء معللا بان الجھل یعجزہ عن استعمال الماء کالبعد ولم
یہ عبارت اور جو ہم نے امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین کی محیط کے حوالہ سے پہلے ذکر کی دونوں کا ظاہر یہی ہے کہ یہ حکم بالاتفاق ہے۔ اور تجنیس میں اس کی صراحت بھی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : “ اس کی بغل میں پانی کا کنواں ہے جس کا اسے علم نہیں اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی تو ان سب کے قول پر جائز ہے “ ۔ اور جامع الفتاوی کی درج ذیل عبارت اس کے مخالف نہیں جیسا کہ واضح ہے : “ کسی بے نشان کنویں پر خیمہ لگایا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر کنویں کا علم ہوا تو نماز کا اعادہ بہتر ہے انتہی “ ۔ پھر محیط میں اس مسئلہ کو اس شرط سے مقید کیا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا
اقول : وقول المحیط ثم سألہ غیر قید بل کذلك الحکم لواخبرہ بدء کمالایخفی وکذلك قولہ اخبرہ خرج وفاقا فکذلك الحکم ان علم بعد بنفسہ فان المناط تفریطہ فی السؤال وقد حصل ثم ذکر فی الحلیۃ عن المجتبی ماظاھرہ ان ابایوسف رحمہ الله تعالی یخالف فی ھذہ ایضا کمسألۃ النسیان وعن الخانیۃ ماظاھرہ مثلہ مع افادۃ ان عن ابی یوسف فی کلتا مسألۃ النسیان والجھل روایتین وعن المبتغی ماظاھرہ خلافہ علی روایۃ ھھنا اذا کان علی شاطئ النھرلا البئر حیث قال ولوصلی بہ وبجنبہ بئر ماء لم یعلم بھا جازت صلاتہ وان کان ذلك علی شاطئ النھر عن ابی یوسف فیہ روایتان اھ
ثم وجہ ھذا الخلف
شخص نہ ہو جس سے پانی کے متعلق دریافت کرسکے۔ وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ لاعلمی پانی کے استعمال سے عجز کا باعث ہے جیسے پانی کی دوری اور اس لاعلمی میں اس کی کوئی تقصیر اور کوتاہی نہیں۔ آگے فرمایا ہے : اگر اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جس سے یہ دریافت کرسکتا تھا مگر دریافت نہ کیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پوچھا تو اس نے قریب ہی پانی ہونے کی خبر دی تو ایسی صورت میں نماز نہ ہوئی اس لئے کہ وہ دریافت کرکے پانی کے استعمال پر قادر تھا۔ جب دریافت نہ کیا تو کوتاہی اس کی جانب سے ہوئی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی آبادی میں اترا اور پانی تلاش نہ کیا تو اس کاتیمم جائز نہیں اھ۔ اور عنقریب ہم بدائع کی عبارت ذکر کریں گے جو اس شرط میں محیط کے موافق ہے “ ۔ اھ (یہاں تك کی عبارتیں حلیہ سے منقول ہیں) (ت) اقول : محیط میں جو فرمایا ہے کہ “ پھر اس سے پوچھا “ یہ قید نہیں بلکہ اگر اس نے نہ پوچھا اور اس نے از خود بتادیا تو بھی یہی حکم ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ اسی طرح ان کا یہ قول “ اس نے قریب میں پانی ہونے کی خبر دی “ اتفاقی طور پر ہے اس لئے کہ اگر اس نے خبر نہ دی بلکہ بعد میں اس نے ازخود جان لیا تو بھی یہی حکم ہے کیونکہ تیمم جائز نہ ہونے کا مدار اس پر ہے کہ اس نے دریافت کرنے میں کوتاہی کی اور یہ امر حاصل ہے (اس طرح کہ بتانے والے کے ہوتے ہوئے اس نے دریافت نہ کیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی) پھر حلیہ میں مجتبی کے حوالہ سے ایك کلام ذکر کیا ہے جس کا ظاہر یہ ہے کہ مسئلہ نسیان کی طرح اس مسئلہ میں بھی امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اختلاف ہے __اور خانیہ کی عبارت بھی
حلیۃالمحلی
اقول : یمکن(۱) ان یرید امرتہ ندبا فیکون مثل ما فی جامع الفتاوی ولایخالف الجم الغفیر ثم راجعت الخلاصۃ فوجدت تمامہ فیھا وھو مروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی اھ
فبترك ھذا نشأظن المخالفۃ بینھا وبین مافی الکتاب ولعلہ ساقط من
ذکر کی ہے جس کا ظاہر اسی کے مثل ہے ساتھ ہی اس سے یہ افادہ بھی ہوتا ہے کہ نسیان اور لاعلمی دونوں ہی مسئلوں میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے دو۲ روایتیں ہیں __اور مبتغی کے حوالہ سے وہ ذکر کیا ہے جس کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں ایك روایت کی بنیاد پر ان کا اختلاف اس صورت میں ہے جب وہ کسی دریا کے کنارے ہو۔ کنویں کے پاس ہونے کی صورت میں ان کا اختلاف نہیں۔ عبارت یہ ہے : “ اگر اس کے پاس پانی کا کنواں ہے جس کا اسے علم نہیں اور تیمم سے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ہوگئی اور اگر دریا کے کنارے ایسا ہوا تو اس بارے میں امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں اھ “ پھر اس اختلاف کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ جس نے اتفاق کی حکایت کی ہے اس نے موافقت والی روایت اختیار کی یامخالفت والی روایت پر اسے اطلاع نہ ہوئی اسی طرح برعکس (یعنی حکایت اختلاف والے نے صرف روایت مخالفت اختیار کی یا روایت موافقت پر اسے اطلاع نہ ہوئی ۱۲ م الف) پھر فرمایا : خلاصہ میں ہے : “ اگر کسی ایسے کنویں کے اوپر خیمہ لگایا جس کا منہ بند ہے اور اسے اس کا پتہ نہ چلا تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے پانی کا علم ہوا تو میں اسے اعادہ کا حکم دوں گا انتہی تو صاحب خلاصہ نے حکایت اختلاف کے بغیر بظاہر اس کے برخلاف افادہ فرمایا جو کتاب میں ہے۔ (حلیہ کی عبارت ختم ہوئی) اھ (ت)اقول : ہوسکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ “ استحبابا میں اسے یہ حکم دوں گا “ اس طرح یہ کلام بھی جامع الفتاوی کے مثل ہوگا اور جم غفیر کے مخالف نہ ہوگا پھر میں نے “ خلاصہ “ کو دیکھا تو اس میں پوری بات ملی وہ یہ کہ “ یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے “ اھاتنا چھوڑ دینے سے یہ گمان پیدا ہوا کہ
حلیہ
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
خلاصہ اور کتاب کے بیان میں باہم اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے صاحب حلیہ کے نسخہ میں اتنی عبارت ساقط ہو۔ اسی کی وجہ سے علامہ محقق بحر کا پائے قلم لغزش میں پڑگیا تو وہ البحرالرائق میں اسی حکم پر چلے گئے اور اس طرح بیان کیا جس سے وہم ہوتا ہے کہ یہ سب کا قول ہے یا یہی مذہب میں مختار ہے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ اور ہندیہ میں بھی محیط کے حوالہ سے لکھا ہے : “ جب ایسے کنویں پر خیمہ لگایا جس کا منہ بند ہے اور کنویں میں پانی ہے۔ اور یہ جانتا نہیں یا وہ دریا کے کنارے ہے اور اسے پتہ نہیں توتیمم کرکے نماز پڑھ لی یہ طرفین (امام اعظم وامام محمد) کے نزدیك جائز ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ رحمہم اللہ تعالیتعالی اھ۔ اس تصریح سے التباس دور ہوگیا۔ اور ساری خوبیاں الله ہی کیلئے ہیں اور حفاظت اسی سے ملتی ہے۔ (ت)
(۱۶۰) سفر میں باپ بیٹے ہمراہ ہیں پانی دونوں کی ملك مشترك یا تنہا بیٹے کی ملك اور ایك ہی کیلئے کافی ہے اور باپ اس سے طہارت کرنا چاہتا ہے بیٹے کو جائز نہیں کہ اس سے مزاحمت کرے کہ باپ وقت حاجت ملك اولاد کا مالك بن سکتا ہے لہذا بیٹے پر لازم کہ تیمم کرے فتاوی امام قاضیخان میں ہے :
لوکان الماء بین الاب والابن فالاب اولی بہ لان لہ حق تملك مال الابن ۔
اگر پانی باپ اور بیٹے کے درمیان مشترك ہو تو باپ زیادہ حقدار ہے کیوں کہ اسے مال فرزند کا مالك بننے کا حق حاصل ہے۔ (ت)
اسی طرح اس سے خزانۃ المفتین وہندیہ واشباہ فن ثالث قول فی الدین میں ہے۔
اقول : ولایختص بالشرکۃ بل لوکان کلہ ملك ولدہ فالحکم کذلک
اقول : یہ حکم ملك میں شرکت کی صورت سے ہی خاص نہیں۔ اگر سارا پانی بیٹے کی ملك ہو تو بھی
فتاوٰی قاضیخان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
حکم ہے جب کہ باپ طہارت کا قصد کرلے باپ کے قصد طہارت کا اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ اسے یہ بھی اختیار ہے کہ پانی بیٹے کیلئے چھوڑ دے اور خودتیمم کرلے ایسی صورت میں بیٹا عاجز نہ ہوگا۔ بلکہ اگر پانی بیٹے کی ملك ہے تو جب تك باپ اپنے قصد طہارت کا اظہار نہ کرے بیٹے کا عجز ثابت نہ ہوگا یہاں تك کہ پانی ملنے سے پہلے بیٹا اگرتیمم سے تھا تو بعد ملك اس کاتیمم ٹوٹ گیا اب اگر وہ پانی لیتا ہے تو بیٹے کو دوبارہ تیمم کرنا ہوگا۔ (ت)
(۱۶۱)اقول : باپ بیٹے کو جنگل میں مباح پانی ملا کہ ایك ہی کو کافی ہے اگر باپ وہاں پہلے پہنچ گیا اس کا قبضہ ہوگیا جب تو ظاہر ہے کہ بیٹاتیمم کرے کہ اب وہ ملك غیر ہے کہ مباح استیلا سے ملك ہوجاتا ہے یہ نمبر ۵۳ ہوا۔ اور اگر بیٹا پہلے پہنچا قابض ہوا تو یہی نمبر ۱۵۵ ہے اور اگر دونوں ایك ساتھ پہنچے اگر باپ نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ پانی میں لوں گا تو بیٹے کو مزاحمت جائز نہیں پانی پر صرف باپ کی قدرت ثابت ہوگی یہاں تك کہ اگر پہلے سے بیٹے کاتیمم تھا نہ ٹوٹے گا اور نہ تھا تو اب تیمم کرے گا اور اگر پہلے سے ایسا نہ کہا تھا تو دونوں قادر ہوگئے اگر پہلے سے تیمم کئے تھے جاتے رہے اب اگر باپ اس پانی کو لینا چاہے بیٹا دوبارہ تیمم کرے ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی (یہ سب بطور تفقہ میرے اوپر ظاہر ہوا اور امید ہے کہ ان شاء الله تعالی درست ہوگا۔ ت)
تنبیہ : خانیہ۲ وخلاصہ واشباہ ودرمختار وغیرہا میں ہے کہ جنگل میں جنب وحائض ومحدث ومیت ہیں مباح پانی قابل غسل ملاکہ ایك ہی کو کافی ہے تو جنب اولی ہے وہ نہائے اور حائض ومحدث تیمم کریں اور میت کوتیمم کرایا جائے
وھذا نظم الدر الجنب اولی بمباح من حائض اومحدث ومیت ولولاحدھم(۳) فھو اولی ولومشترکا ینبغی صرفہ للمیت ۔
اور درمختار کی عبارت یہ ہے : “ جنب آب مباح میں حائض محدث اور میت سے اولی ہے اور اگر پانی ان میں کسی کی ملك ہوتو وہی مستحق ہے اور اگر ملك میں سب کی شرکت ہے تو چاہئے کہ سب اپنا حصہ میت کو دے دیں۔ (ت)
فان(۲) وجد ان مباح یکفی لاحدھم علی سبیل البدلیۃ ینقض تیممھم جمیعا لان کل واحد منھم صارقادرا کما فی خزانۃ المفتین عن الکبری وفی الخلاصۃ خمسۃ من المتیممین وجدوا من الماء المباح قدر مایتوضوء بہ احدھم انتقض تیمم الکل ولو(۳) جاء رجل بکوزمن ماء وقال لیتوضأ بہ ایکم شاء انتقض تیمم الکل وان کان الماء یکفی لاحدھم ولوقال ھذا الماء لمن یرید فکذلك اھ۔
اس لئے کہ اگر آب مباح اس مقدار میں ملا کہ بطور بدلیت ان میں سے ہر ایك کیلئے کافی ہوگا تو سبھی کاتیمم ٹوٹ گیا اس لئے کہ ان میں ہر ایك قادر ہوگیا جیسا کہ خزانۃ المفتین میں بحوالہ کبری لکھا ہوا ہے۔ خلاصہ میں ہے : “ ایسے پانچ آدمیوں کو جوتیمم سے ہیں آب مباح اس مقدار میں ملا کہ ان میں کسی ایك کیلئے کافی ہوگا تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اور اگر کوئی اپنے پانی کا برتن لے آیا اور کہا تم میں سے جو چاہے وضو کرلے تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اگرچہ پانی صرف ایك شخص کیلئے کفایت کرسکتا تھا اور اگر کہا : “ یہ پانی اس کیلئے ہے جو چاہے تو بھی یہی حکم ہے “ ۔ اھ (ت)
باپ۴ جب اسے لینا چاہتا ہے بیٹا شرعا ممنوع ہوگیا اور منع شرعی بھی موجب عجز ہے۔
کماتقدم عن الفتح فی ماء الحب والماء الموھوب وکذا الماء (۵) المملوك ملکا فاسدا اذا اذن بہ الشرکاء لاحدھم لاینتقض تیممہ قال فی البحر لایخفی انہ وان کان مملوکا لایحل التصرف فیہ فکان وجودہ کعدمہ اھ ونازع فیہ النھر بماھو من مثلہ عجیب۔
جیسا کہ سبیل کے پانی اور ہبہ شدہ پانی کے بیان میں فتح القدیر کے حوالہ سے گزرا اسی طرح جو پانی ملك فاسد کے طور پر ملکیت میں آیا ہے اس سے متعلق شرکاء جب کسی ایك کو اجازت دے دیں تو اس کاتیمم نہ ٹوٹے گا۔ البحرالرائق میں ہے : “ مخفی نہ رہے کہ یہ اگرچہ مملوك ہے مگر اس میں تصرف روا نہیں تو اس کا ہونا نہ ہونے کی طرح ہے “ ۔ اھ اس مسئلہ پر صاحب بحر سے ان کے برادر صاحب نہر نے اختلاف کرتے ہوئے ایسی بات لکھی ہے جو ان جیسی شخصیت کے قلم سے تعجب خیز ہے۔ (ت)
خلاصۃ الفتاوٰی خمسۃ من المتیمین مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۷
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۴
اقول : ھذا عجب بل جمہور المشایخ علی اولویۃ المیت وان کان الاصح الاول ففی البحر عن الظھیریۃ قال عامۃ المشایخ المیت اولی وقیل الجنب اولی وھو الاصح اھ ونازعہ ط بانہ حیث کان المشترك ینبغی صرفہ للمیت (ای کماتقدم عن الدر) فالمباح اولی اھ۔ ای اذا امروا ندبا بصرف ملکھم للمیت فما لاملك لھم فیہ اولی واجاب ش بانہ ینبغی لکل منھم صرف نصیبہ للمیت حیث کان کل واحد لایکفیہ نصیبہ ولایمکن الجنب ولاغیرہ ان یستقل بالکل لانہ مشغول بحصۃ المیت وکون الجنابۃ اغلظ لایبیح استعمال حصہ المیت فلم یکن الجنب اولی بخلاف ما اذا کان الماء مباحا فانہ حیث امکن بہ رفع اقول : یہ عجیب بات ہے جمہور مشایخ میت کو زیادہ حقدار کہتے ہیں اگرچہ اصح اول ہے البحرالرائق میں ظہیریہ کے حوالے سے ہے : “ عامہ مشایخ کا قول ہے کہ میت زیادہ حقدار ہے اور کہا گیا کہ جنب اولی ہے اور یہی اصح ہے “ ۔ اھ۔ سید طحطاوی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : “ جب مشترك پانی میت کیلئے صرف کرنا چاہئے (یعنی جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گزرا) تو آب مباح بدرجہ اولی اسی کا حق ہوگا “ ۔ اھ یعنی بطور استحباب جب یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملکیت کا حصہ میت کو دے دیں تو جس میں ان کی ملکیت نہیں اس کیلئے بدرجہ اولی یہ حکم ہوگا علامہ شامی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ “ ہر ایك کو اپنا حصہ میت کو اس وقت دے دینا چاہئے جب کہ ہر ایك کی یہ حالت ہے کہ اس کا اپنا حصہ اس کیلئے کفایت نہیں کرسکتا اور جنب وغیر جنب کوئی بھی سارا
الجنابۃ کان اولی اھ ای ان المشترك لایمکن لاحدھم الاستقلال بہ لمکان حصۃ المیت فان
پانی اپنے تصرف میں نہیں لاسکتا اس لئے کہ اس میں میت کا حصہ بھی شامل ہے اور حدیث جنابت کا زیادہ سخت ہونا اس کی اجازت
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی ۱ / ۱۴۳
طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۳۳
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
اقول : یحتاج(۱) الی تتمیم فان مجرد جواز استقلال کل بہ انما نفی ماذکر من داعی اولویۃ الصرف للمیت وھو لاینفی ان یکون لہ داع اخر فضلا(۲) عن ثبوت اولویۃ الجنب۔
وانا اقول : المباح انما یملك بالاستیلاء والمیت لیس من اھلہ فلاحق لہ فیہ بخلاف الباقین والجنب ارجحھم لمایأتی فکان اولی وسنذکر
نہیں دیتا کہ جنب میت کا حصہ بھی استعمال کرے اس لئے جنب اولی نہ ہوا مگر آب مباح کی صورت اس کے برخلاف ہے کیونکہ جب اس سے جنابت دور کی جاسکتی ہے تو جنب ہی اولی ہے “ اھ یعنی آب مشترك کو ان میں کوئی بھی پورے طور سے اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا اس لئے کہ اس میں میت کا بھی حصہ موجود ہے لیکن اگر یہ سب اپنا حصہ میت کو دے دیں تو اس کا غسل ہوجائے گا ورنہ اسے بھی تیمم کرایا جائیگا اور یہ سب بھی تیمم ہی کرسکیں گے تو دے دینا اولی ہوا آب مباح کا حکم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ ہر ایك اسے پورے طور سے استعمال کرسکتا ہے اور اس سے رفع جنابت ممکن سے تو جنب کا استعمال کرنا اولی ہوا۔ (ت)
اقول : ابھی یہ جواب ایك تتمہ کا محتاج ہے اس لئے کہ محض اس بات سے کہ ہر ایك کو آب مباح پورے طور سے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ استعمال میت کے اولی ہونے کا جو سبب پہلے بیان ہوا وہ یہاں نہیں ہے مگر اتنے سے کسی دوسرے سبب اور داعی کی نفی ہوتی (ہوسکتا ہے کہ یہاں اس کی اولویت کا وہ سبب تو نہ ہو مگر کوئی اور سبب موجود ہو۔ م الف) پھر جنب کے میت سے بھی اولی ہونے کا ثبوت تو ابھی دور کی بات ہے۔ (ت)
وانا اقول : (اب تکمیل جواب کیلئے میں کہتا ہوں) مباح قبضہ کرنے سے ہی ملك میں آتا ہے۔ اور میت اس کا اہل نہیں تو اس میں اس کا حق بھی نہیں۔ باقی (جنب حائض محدث)
اقول : بل(۱) یتأتی بان یتیمم الجنب وتغتسل ھی ولایتوھم العکس بمعنی امامۃ المرأۃ ھذا وسکت ش وجہ تقدیم الجنب علی المیت وقال فقیہ النفس فی الخانیۃ لان غسلہ فریضۃ وغسل المیت سنۃ اھ قال فی الاشباہ مرادہ ان وجوبہ بھا بخلاف غسل الجنب فانہ فی القران اھ وتعقبہ السید الحموی بانہ انما یتوھم ھذا التاویل لولم یکن ھناك قول بالسنیۃ امامع وجودہ فلا اھ وقال قبلہ قال
کا حال اس کے برخلاف ہے اور ان میں جنب کو ترجیح حاصل ہے تو وہی اولی ہے۔ وجہ ترجیح کا بیان آگے آرہا ہے اور اس کی تکمیل بھی ہم ان شاء الله ابھی ذکر کریں گے۔ قول اصح کی وجہ بتاتے ہوئے علامہ شامی نے یہ لکھا : “ اس لئے کہ جنابت حدث سے زیادہ سخت ہے اور عورت قابل امامت نہیں “ اھ۔ اور حاشیہ سید طحطاوی میں یہ ہے کہ : “ جنب حائض سے اولی ہے اس لئے کہ وہ تیمم کرکے اس کی اقتدا کر سکتی ہے۔ متیمم غسل کرنے والے کی اقتدا کرے یہ برعکس کرنے سے افضل ہے اور برعکس صورت یہاں ہو بھی نہیں سکتی “ ۔ اھ (ت)
اقول : بلکہ ہوسکتی ہے اس طرح کہ جنب تیمم کرے اور حائض غسل کرے (تو غسل کرنے والی کاتیمم کرنے والے کی اقتدا کرنا پایا جائےگا اور یہ صورت ممکن وجائز ہے ۱۲ م الف)اور امامت عورت کے معنی میں عکس کا وہم کرنے کی گنجائش نہیں (اس لئے کہ حائض غسل کرے یاتیمم جنب بہرحال اس کی اقتدا نہیں کرسکتا خواہ یہ تیمم کرے یا غسل۔ کوئی صورت ایسی نہیں جس میں جنب وہ حائض کی امامت میں صرف افضل وغیر افضل کا فرق ہو ۱۲ م الف) یہ ذہن نشین رہے میت پر جنب کو مقدم کرنے کی وجہ
طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۳۳
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
الاشباہ والنظائر تذنیب فیما عند الاجتماع الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۱۶
غمز عیون البصائر تذنیب فیما عند الاجتماع الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۱۷
اقول : مثلہ(۱) لایعد قولا ولایحمل علیہ مثل کلام الخانیۃ وقال ط
کیا ہے اس سے علامہ شامی نے سکوت اختیار کیا اور خانیہ میں امام فقیہ النفس نے یہ لکھا : “ اس لئے کہ جنب کا غسل فرض ہے اور میت کا غسل سنت ہے “ ۔ اھ۔ اس پر اشباہ میں فرمایا : “ مراد یہ ہے کہ غسل میت کی فرضیت سنت سے ثابت ہے۔ اس کے برخلاف غسل جنب کی فرضیت قرآن میں مذکور ہے “ اھ۔ اشباہ کی اس عبارت پر سید حموی نے یہ تنقید کی : “ یہ تاویل اس وقت کامل ودرست ہوتی جب یہاں (غسل میت کے) مسنون ہونے کا کوئی قول نہ ہوتا۔ لیکن یہ قول ہوتے ہوئے تاویل مذکور تام نہیں “ اھ (ہوسکتا ہے کہ امام قاضیخان کا کلام غسل میت کی مسنونیت والے قول پر ہی مبنی ہو ایسی صورت میں ان کے غسل میت کو سنت کہنے کا یہ معنی بتانا کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے درست نہ ہوگا ۱۲ م الف)مصنف اشباہ نے البحرالرائق میں لکھا ہے : “ (فتح القدیر میں) غسل میت کی فرضیت پر نقل اجماع کے پیش نظر ملا مسکین کی یہ نقل کی “ کہا گیا غسل میت سنت مؤکدہ ہے “ محل نظر ہے ہاں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر معتمد قول ہو تو وہ انعقاد اجماع میں خلل انداز نہ ہوگا “ ۔ اھ (ت)
اقول : تو ایسا قول قابل شمار نہیں نہ ہی ایسے قول پر امام فقیہ النفس جیسی شخصیت کا
عـــہ۱ ذکرہ قبیل المیاہ عند قول المتن وجب للمیت ومن اسلم جنبا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۲ وحکاہ القھستانی ایضا فی الجنائز فقال یفرض غسلہ کفایۃ وقیل یجب وقیل یسن سنۃ مؤکدۃ اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اسے باب المیاہ سے ذرا پہلے متن کی عبارت “ وجب للمیت ومن اسلم جنبا “ (میت کیلئے اور حالت جنابت میں اسلام لانے والے کیلئے غسل واجب ہے) کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
قہستانی نے بھی باب الجنائز میں اس کی حکایت کی ہے اس کی عبارت یہ ہے : غسل میت فرض کفایہ ہے اور کہا گیا کہ واجب ہے اور ایك قول یہ ہے کہ سنت مؤکدہ ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : ویجوز بنائہ اولا علی القول بان فرض(۱) العین اقوی من فرض الکفایۃ۔
وثانیا : علی ان لا(۲) ایثار فی القرب وذلك لانھم استولوا دون المیت وترجح الجنب من بین الاحیاء لمامر فصرفہ لنفسہ اولی من صرفہ للمیت فافھم۔
کلام محمول ہی کیا جاسکتا ہے (یہ اشباہ کی عبارت پر حموی کی تنقید کا جواب ہے ۱۲ م الف) سید طحطاوی نے فرمایا : “ میت سے جنب کے اولی ہونے کی وجہ شاید یہ ہو کہ جنب غسل کرلے گا تو اس سے نماز وقرأت کی ادائیگی کرے گا جس کا وہ مکلف ہے تو اسے میت سے زیادہ غسل کی ضرورت ہے اور اسے اولی کہنے سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ جنب کیلئے تیمم جائز ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : __اولا غسل جنب کو اولی قرار دینے کی بنا اس قول پر ہو سکتی ہے کہ فرض عین فرض کفایہ سے زیادہ قوی ہے۔
ثانیا : اس پر کہ قربتوں کے معاملہ میں ایثار نہیں۔ یہ اس طرح کہ آب مباح پر جنب حائض اور محدث نے ہی قبضہ کیا میت نے نہیں۔ اور جنب کو زندوں پر اس سبب سے ترجیح ہوئی جو ذکر ہوا (کہ جنابت حدث سے زیادہ سخت ہے اور حائض غسل کرے تو امام نہیں ہوسکتی افضل یہ ہے کہ امام غسل والا ہو اور مقتدی متیمم ۱۲ م الف)اب جنب کا اس پانی کو اپنے غسل میں صرف کرنا غسل میت میں صرف کرنے سے اولی ہے فافھم (تو اسے سمجھو)۔ (ت)
(۱۶۲) اقول : اس صورت میں بیٹے پر نماز کا اعادہ بھی نہیں لان المنع من جھۃ الشرع (اس لئے کہ ممانعت شریعت کی جانب سے ہے۔ ت) لیکن اگر وہ شخص نے پانی زبردستی لے لیا تو دو۲ صورتیں ہیں :
ایك یہ کہ وہ پانی اس کی ملك تھا اور ظالم نے غصبا دبالیا اور یہ اس سے چھین نہیں سکتا توتیمم سے پڑھے پھر وضو سے پھیرے لان المنع من جھۃ العباد (اس لئے کہ رکاوٹ بندوں کی
(۱۶۳) اقول : مسافر کے پانی کا پیپا صندوق میں بند ہے کہ جن راستوں میں پانی کی قلت ہو وہاں وہ عزیز ترین اشیا سے ہے قفل کی کنجی گم ہوگئی تو اس حکم کی بنا پر کہ نمبر۶ میں گزرا اگر قفل توڑنے میں ایك درم کا نقصان ہوتا ہوتیمم کرے اور اعادہ نہیں ورنہ قفل توڑے اور وضو کرے فلیحرر ولیراجع والله تعالی اعلم (اس میں مزید وضاحت ومراجعت کی ضرورت ہے۔ ت)
(۱۶۴) جنگل میں خنثی مشکل کا انتقال ہوا جواتنا صغیر السن بچہ نہ تھا جس کیلئے ستر کا حکم ہی نہ ہو اسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت ناچارتیمم کرایا جائے اقول : بلکہ اگر وہاں۱ کوئی سات آٹھ برس کی لڑکی یا دس گیارہ برس کا لڑکا ہو کہ نہلا سکے تو اسے بتاکر نہلوانا لازم ہاں یہ بھی نہ ہو تو اسے کوئی محرم تیمم کرائے مرد ہو خواہ عورت اور محرم نہ ملے تو اجنبی عورت اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کرتیمم کرائے اور اسے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں اور کوئی عورت بھی نہ ہو تو اجنبی مرد کپڑے کے ساتھ تیمم کرائے اور اپنی آنکھیں بھی بند کرے کہ خنثی کے سر کے بال یا کلائی کے کسی حصہ پر نگاہ نہ پڑے۔ بدائع وفتاوی امام قاضی خان وفتح القدیر وبحرالرائق وسراج وہاج ودرمختار وہندیہ وغیرہا میں ہے یہ عمر جس میں ستر میت ضروری نہیں وہ عمر ہے جس میں بچہ حد شہوت تك نہ پہنچا ہو۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ لڑکا بارہ سال سے کم اور لڑکی نو برس سے کم۔ اقول : اس تقدیر پر خنثی کیلئے نوبرس لیے جائیں گے لاحتمال انوثتھا (اس احتمال کی بنیاد پر کہ وہ لڑکی ہو۔ ت) مگر محرر۲ المذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کتاب مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے یہ حد مقرر فرمائی کہ جب تك بچہ باتیں نہ کرے۔ فتح میں ہے :
الصغیر والصغیرۃ اذالم یبلغا حد الشھوۃ یغسلھما الرجال والنساء وقدرہ فی الاصل بان یکون قبل ان یتکلم ۔
کمسن لڑکا اور لڑکی جب حد شہوت کو نہ پہنچے تو انہیں مرد عورت کوئی بھی غسل دے سکتا ہے اور امام محمد نے مبسوط میں اس کی حد یہ بتائی ہے کہ بچہ ابھی بات نہ کرتا ہو۔ (ت)
الاتری الی قول البدائع لومات الصبی لایشتھی لاباس ان تغسلہ النساء وکذلك الصبیۃ التی لاتشتھی اذاماتت لاباس ان یغسلھا الرجال لان حکم العورۃ غیر ثابت فی حق الصغیر والصغیرۃ اھ وکیف ترضی الشریعۃ المطھرۃ ان یمشی غلام دون اثنتی عشرۃ سنۃ وبنت دون تسع بشھر فی الاسواق عریانین وقد قال فی الدرعن السراج الوھاج لاعورۃ للصغیر جدا ثم مادام لم یشتہ فقبل ودبر ثم تغلظ الی عشر سنین کبالغ اھ لوغہ حد الشھوۃ حد یوجب فیہ النظر الی عورتہ تذکر تلك الامور لاان یشتھی ھو بنفسہ او تقع علی نفسھا الشھوۃ وقال ش تحت قولہ للصغیر جدا وکذا الصغیرۃ قال ح وفسرہ شیخنا بابن اربع فمادونھا ولم ادرلمن عزاہ اھ اقول قدیؤخد مما فی الجنائز الشرنبلالیۃ الخ فذکر ماقدمنا عن
دیکھئے بدائع کی عبارت یہ ہے : “ بچہ جو شہوت والا نہ ہو اگر مرجائے تو عورتوں کے اسے غسل دینے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح بچی جو شہوت والی نہ ہو مرجائے تو مردوں کے اسے غسل دینے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ کمسن لڑکے اور لڑکی کے حق میں ستر کا حکم ثابت نہیں “ ۔ اھ۔ اور شریعت مطہرہ یہ کیوں کر گوارا کرسکتی ہے کہ بارہ سال سے کم عمر والا لڑکا اور نوسال سے کم کی لڑکی بازاروں میں برہنہ چلتے رہیں درمختار میں سراج وہاج کے حوالے سے ہے : “ بہت کم سن لڑکے کیلئے ستر نہیں۔ پھر جب تك شہوت والا نہ ہو اس کیلئے پیشاب پاخانے کے مقام ستر نہیں۔ پھر دس سال کی عمر تك اس کے ستر کے معاملہ میں بالغ کی طرح شدت آجائے گی “ اھ تو میرے نزدیك حق یہ ہے کہ اس مقام پر (کم عمر مرد بچے کو غسل دینے کے مسئلہ میں) عام کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تفسیر وہی ہے جو امام محمد کی مبسوط میں ہے اور یہاں اس کے حد شہوت کو پہنچنے کا معنی یہ ہے کہ اس حد کو پہنچ جائے کہ اس کا ستر دیکھنے سے ان باتوں کی یاد آئے یہ معنی نہیں کہ لڑکا خود شہوت والا ہوجائے یا خود لڑکی کے دل میں شہوت پیدا ہو۔ علامہ شامی نے
الدرالمختار مع الشامی باب شروط الصّلوٰۃ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۰
ردالمحتار باب شروط الصّلوٰۃ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۰
اقول : فی الاخذ نظر ظاھر فان التکلم یحصل غالبا قبل اربع بکثیر۔
درمختار کی عبارت “ للصغیر جدا “ (بہت کمسن لڑکے کیلئے ستر نہیں) کے تحت فرمایا : “ یہی حکم لڑکی کا بھی ہے۔ حلبی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اس کی تفسیر یہ بتائی ہے کہ چار سال یا اس سے کم عمر ہو۔ یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس کے حوالے سے فرمایا “ ۔ اھ علامہ شامی فرماتے ہیں “ میں کہتا ہوں یہ اس سے اخذ ہوتا ہے جو شرنبلالیہ کے باب الجنائز میں ہے “ الخ۔ اس کے بعد وہ عبارت ذکر کی ہے جو ہم نے فتح القدیر سے بحوالہ مبسوط نقل کی۔ (ت)اقول : عبارت مذکورہ سے چار سال کی تحدید اخذ کرنے میں عیاں طور پر کلام کی گنجائش ہے اس لئے کہ عموما بچہ چار سال سے پہلے ہی بولنے لگتا ہے۔ (ت)
ہاں نہلانے والے بچے میں اس عمر کا اعتبار موجہ ہے کہ نہایت کم عمر نہلا نہیں سکتا۔
(۱۶۵) اگر میت عورت یا مشتہاۃ لڑکی ہو جو اتنی صغیر السن نہیں اور وہاں کوئی عورت نہیں تو دس گیارہ برس کا لڑکا اگر نہلا سکے اگرچہ دوسرے کے بتانے سے یا کوئی کافرہ عورت ملے اور بتانے کے موافق نہلاسکے تو اس سے نہلوائیں ورنہ کوئی محرم تیمم کرائے۔ اقول یا اگر میت کنیز تھی شوہر یا کوئی اجنبی ویسے ہی تیمم کرادے اور کنیز نہ تھی اور کوئی محرم نہیں تو شوہر اسی طرح ہاتھوں پرکپڑا چڑھا کر بے آنکھیں بند کیے تیمم کرائے اور شوہر بھی نہ ہو تو اجنبی مگر آنکھیں بند کرے۔
(۱۶۶) اگر میت مرد یا ہوشیار لڑکا ہے کہ اتنا صغیر السن نہیں ہے اور وہاں کوئی مرد نہیں تو اگر میت کی زوجہ ہے کہ ہنوز حکم زوجیت میں باقی اور اسے مس عـــہ کرسکتی ہو وہ نہلائے وہ نہ ہو تو سات آٹھ برس کی
عــہ اقتصر فی الدر علی اشتراط بقاء الزوجیۃ اقول ولا یکفی فان المنکوحۃ فاسد اوالموطوء ۃ بشبھۃ ھی او اختھا لاشك فی بقاء زوجیتھن ولذا یغسلنہ ان انقضت عدتھن بعد موتہ قبل غسلہ ولایجوز لھن مادمن فی تلك العدۃ فلذا زدت یحل لھا مسہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
درمختار میں صرف بقائے زوجیت کی شرط پر اکتفا کیا۔ اقول اور یہ کافی نہیں اس لئے کہ وہ زوجہ جس سے کسی دوسرے نے نکاح فاسد کیا ہو اور یا کہ اس سے یا اس کی بہن سے وطی شبہ کی گئی ہو (تینوں صورتیں کتاب میں چند سطور آگے وضاحت سے مذکور ہیں ۱۲م الف) ان کی زوجیت باقی رہنے میں کوئی شك نہیں اسی لئے اگر شوہر کے مرنے کے بعد اسے غسل دینے سے پہلے ان کی عدت ختم ہوگئی تو یہ اسے غسل دے سکتی ہیں اور جب تك “ اس عدت “ میں رہیں اسے غسل نہیں دے سکتیں۔ اسی لئے میں نے “ اسے مس کرسکتی ہو “ کا اضافہ کیا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
والمسائل مفصلۃ فی البدائع والخانیۃ والفتح والبحر والدر وغیرھا وقد انتقیت من خلافیات احسنھا۔
یہ مسائل بدائع خانیہ فتح القدیر البحرالرائق درمختار وغیرہا میں تفصیل سے مذکور ہیں اور اختلافی مسائل میں سے احسن کا انتخاب کیا ہے (ت)
اقول : خنثی میں تفصیل اور اس کے اور عورت کے طہارت کرانے والوں میں ترتیب اور عورت کنیز وحرہ میں فرق یہ سب زیادات فقیر سے ہے اور اس کی وجہ بحمدہ تعالی ظاہر ومنیرکہ :
(۱) سب میں پہلے غسل ہے کہ وہی اصل ہے مگر عورت میں کسی کافرہ سے نہلوانا کہا نہ خنثی میں کہ عورت بھی اسے نہیں دیکھ سکتی کہ احتمال ذکورت ہے بخلاف غسل زن۔
(۲) عورت میں خاص لڑکا کہا کہ اس کیلئے انثی کی نابالغی کیا ضرور بالغہ عورت ہوتی تو غسل ہی دیتی اور خنثی میں لڑکا لڑکی دونوں کہے کہ بالغ
حدشہوت اسے غسل نہیں دے سکتا اور اس حد نہ پہنچنے کے بعد پسرودختر یکساں۔
(۳) خنثی کے تیمم میں محرم کو مقدم رکھا مرد ہو یا عورت کہ بہرحال اسے خنثی کے اعضائے تیمم دیکھنے
(۴)تیمم کنیز کو جدا کیا اور یہاں محرم شوہر اجنبی میں ترتیب نہ رکھی کہ اس کے اعضائے تیمم کا دیکھنا چھونا سب کو روا درمختار(۱) میں ہے :
(حکم امۃ غیرہ) کمحرمہ وماحل(۲) نظرہ حل لمسہ الا من اجنبیۃ قال ش ای غیر الامۃ وفی التاترخانیۃ(۳) عن جامع الجوامع لاباس ان تمس الامۃ الرجل وان تدھنہ وتغمزہ مالم تشتھہ الامابین السرۃ والرکبۃ ۔ دوسرے کی کنیز کا حکم اپنی محرم عورت کی طرح ہے۔ اور جس حصہ بدن کو دیکھنا جائز ہے اس کو چھونا بھی جائز ہے مگر اجنبی عورت کے جس حصہ بدن (منہ کی صرف ٹکلی) کو دیکھنا جائز ہے اسے بھی چھونا جائز نہیں۔ علامہ شامی نے فرمایا : اجنبی عورت سے مراد وہ ہے جو کنیز نہ ہو۔ اور تاتارخانیہ میں جامع الجوامع کے حوالے سے ہے : “ اگر کنیز مرد کو چھوئے یا اس کے سر میں تیل ڈالے یا بدن دبائے تو اس میں حرج نہیں جب کہ شہوت سے خالی ہو مگر ناف اور گھٹنے کے مابین حصہ بدن کا چھونا اس کیلئے بھی جائز نہیں “ ۔ (ت)
(۵) تیمم حرہ میں یہ ترتیب لی کہ پہلے محرم مرد پھر شوہر پھر اجنبی اور اس کی وہی وجہ کہ محرم کو دیکھنا چھونا دونوں روا اور شوہر کو صرف دیکھنا اور اجنبی کو کچھ نہیں درمختار میں ہے :
یمنع زوجھا من غسلھا ومسھا لامن النظر الیھا علی الاصح ۔
شوہر کیلئے اپنی مرنے والی زوجہ کو غسل دینا اور چھونا منع ہے اور قول اصح کی بنیاد پر اسے دیکھنا منع ہے۔ (ت)
ہاں تیمم مرد میں کنیز وحرہ کی تفصیل بدائع میں ہے :
المیممۃ اذاکانت ذات رحم محرم منہ تیممہ بغیر خرقۃ والابخرقۃ تلفھا علی
تیمم کرانے والی عورت محرم ہو تو بغیر کپڑے کے تیمم کرائے گی ورنہ اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کرتیمم
ردالمحتار فصل فی النظر والمس مطبع مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۶۰
الدرالمختار مع الشامی صلوٰۃ الجنائز مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۳۳
کرائے گی اس لئے کہ یہ جب اس کی زندگی میں اسے نہیں چھوسکتی تھی تو اس کے مرنے کے بعد بھی نہیں چھو سکتی اور اس کی کنیز یا دوسرے کی کنیز بغیر کپڑے کے تیمم کرائے گی اس لئے کہ باندی کیلئے اعضاء تیمم کو مس کرنا مباح ہے۔ مرنے والے کی ام ولد کا حکم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ وہ مولی کے مرتے ہی آزاد ہوکر اجنبی آزاد عورتوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۱۶۷ تا ۱۷۵) اقول : مولی سبحنہ وتعالی نے مسلم میت کے غسل کفن دفن اس کے حق بنائے اور زندہ مسلمانوں پر فرض فرمائے ان میں جہاں مال کی حاجت ہو اس کے مال سے لیا جائے کہ یہ اس کی حاجات ضروریہ سے ہے ولہذا۳ تقسیم ترکہ درکنار ادائے دیون پر بھی مقدم ہے جس طرح۴ زندگی میں پہننے کا ضروری کپڑا دین میں نہ لیا جائیگا اگر اس۵ نے مال نہ چھوڑا تو زندگی میں جس پر اس کا نفقہ واجب تھا وہ دے (اور عورت۶ کا کفن مطلقا شوہر پر ہے اگرچہ اس نے ترکہ چھوڑا ہو) اگر وہاں۷ کوئی ایسا نہ ہو تو مسلمانوں کے بیت المال سے لیا جائے اگر بیت المال نہ ہو جیسے ان بلاد میں تو مسلمانوں پر واجب ہے جن جن کو اطلاع ہو۔ یہ مسائل کفن میں بالترتیب مصرح ہیں اور غسل ودفن اس کے مثل بلکہ اہم اب ان تینوں نمبروں میں لڑکا یا لڑکی یا کافرہ جن جن سے نہلوانے کا حکم ہے اگر اجرت مثل مانگیں دینی لازم میت کا مال نہ ہو تو موجودین اپنے پاس سے دیں تو یہاں بھی بدستور ہر نمبر میں تین تین صورتیں اور پیدا ہوں گی کہ اگر وہ اجرت مثل سے بہت زیادہ مانگے یا کوئی دینے کے قابل نہیں یا ان کا مال دوسری جگہ ہے اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرائیں والله سبحنہ وتعالی اعلم الحمدالله یہ پانی سے عجز کے پونے دو سو صورتیں اس رسالہ کے خواص سے ہیں کہ اس کے غیر میں نہ ملیں گی اگرچہ جو کچھ ہے علمائے کرام ہی کا فیض ہے
ع اے بادصبا اینہمہ آوردہ تست
(اے بادصبا! یہ سب تیرا ہی لایا ہوا ہے۔ ت)
رحمۃ الله علیھم اجمعین * وعلینا بھم ابد الآبدین *یاارحم الراحمین *امین والحمدلله رب العلمین *وافضل
ان تمام حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی ہمیشہ ہمیشہ خدا کی رحمت ہو۔ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے قبول فرما۔
اور ساری خوبیاں الله کیلئے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اور بہتر درودوسلام ہو رسولوں کے سردار اور ان کی آل واصحاب اور ان کے فرزند اور ان کے گروہ سب پر۔ (ت)
دوم : عــہ طہارت کے لئے کافی۔
سوم : فرض طہارت ان قیدوں کے فائدے نمبر۱۵۷ میں معلوم ہولیے۔
چہارم : ہم نے پانی کو مطلق سے مقید نہ کیا کہ طہارت کیلئے کافی کہنا ہی اس کے افادے کو کافی تھا
بخلاف عبارۃ الدر(من عجز عن استعمال الماء) المطلق الکافی لطھارتہ لصلاۃ تفوت الی خلف (تیمم) اھ فانہ قدم ذکر المطلق فلم یلغ نعم لوترکہ کمافعلت لکفی اماقولہ لصلاۃ تفوت الی خلف فاحترز بہ عن التیمم لنوم اورد سلام ونحوہ اولفائت لاالی خلف کصلاۃ جنازۃ وعید فانہ لایشترط لہ العجز اھ ش۔
اقول : اولا ھل(۱) تدل عبارۃ برخلاف درمختار کی درج ذیل عبارت کے : “ و ہ تیمم کرے جو عاجز ہو ایسا پانی استعمال کرنے سے جو مطلق ہو اس کی طہارت کیلئے کافی ہو ایسی نماز کیلئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل ہو (بلفظ دیگر کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے آب مطلق کافی کے استعمال سے عاجز شخص تیمم کرے) “ اھ۔ انہوں نے اس عبارت میں لفظ مطلق پہلے ذکر کیا تو اس کے بعد کافی کہنا لغو نہ ہوا ہاں اگر لفظ مطلق ترك کردیتے جیسا میں نے کیا تو کافی ہوتا۔ لیکن ان کی عبارت “ لصلاۃ تفوت الی خلف “ (کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے) تو اس میں اس تیمم سے احتراز ہے جو سونے یا سلام کا جواب دینے یا ایسے ہی کسی کام کیلئے ہو یا ایسی فوت ہونے والی چیز کیلئے ہو جس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے نماز جنازہ اور عیدین کہ اس کیلئے آب کافی سے عجز شرط نہیں۔ اھ شامی ملخصا۔ (ت)
اقول : اولا کیا مصنف کی عبارت
عــہ یہ اس اول کا دوم ہے جو صفحہ ۴۱۱ پر گزرا ۱۲ (م)
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۱
عجز کے “ شرط ہونے “ کو بتارہی ہے یا نہیںاگر نہیں تو پھر یہ احترازات کیسے اور اگر عجز کو شرط بتارہی ہے تو اس کا نتیجہ مقصود کے بالکل برخلاف نکلے گا کیوں کہ اس سے یہ مستفاد ہوگا کہ تیمم کیلئے شرط یہ ہے کہ “ ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل ہو (آب کافی کے استعمال سے) عاجز ہو “ ۔ تو بغیر عجز کے تیمم جائز ہی نہ ہوگا۔ اور غیر نماز (مثلا جواب سلام) میں عجز نہیں اور نہ ہی ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل نہیں(جیسے جنازہ وعیدین توحاصل یہ نکلا کہ جواب سلام اور نماز جنازہ وغیرہ کیلئے تیمم جائز نہیں۔ جبکہ عجز کو شرط بنانے کا مقصد یہ بتاناتھا کہ جواب سلام اور نماز جنازہ وغیرہ کیلئے بلاعجز بھی تیمم جائز ہے ۱۲ م الف)(ت)
الحاصل ان اضافوں کا مفاد یہ ہے کہ اس عجز مخصوص سے تیمم کو خاص کیا جائے۔ شرط عجز کو اس خصوصیت سے مختص کرنا مقصود نہیں۔ ہاں اگر یوں کہتے : “ وھذا فی صلاۃ تفوت الی خلف “ (اور یہ اس نماز میں ہے جو کسی بدل کی جانب فوت ہو) تو عجز مذکور کو شرط قرار دینے کا افادہ ہوتا۔ (اور خلاف مقصود نہ ہوتاکیوں کہ اس کا حاصل یہ ہوتاکہ آب کافی کے استعمال سے عاجزی کی شرط اس نماز میں ہے جس کا کوئی بدل ہو تو جواب سلام وغیرہ جو نماز نہیں اور نماز جنازہ وغیرہ جن کا کوئی بدل نہیں ان میں آب کافی سے عاجزی شرط نہیں۔ الحاصل ھذا فی صلاۃ الخ ہوتاتو عجزکو شرط اور ان الفاظ کو قید احترازی قرار دینا جو ان کا مقصد ہے یہ ان کے طور پر حاصل ہوجاتا۔ ۱۲ م الف) (ت)
وثانیا : لاتیمم(۱)مع(۲)وجدان الماء الالفائت لاالی خلف کرد سلام والصلاتین کماتقدم اماالنوم ونحوہ فلاکما حققہ الشامی مخالفا لمافی البحر والدر والعجز معنی متحقق فیہ کماقدمنا فلاحاجۃ الی الاحتراز۔
ثانیا : پانی دستیاب ہونے کے باوجودتیمم صرف ایسی چیز کے لئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے جواب سلام اور نماز جنازہ وعیدین جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے سونے یا ایسے اور کسی کام کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔ جیسا کہ البحرالرائق اور درمختار کی مخالفت کرتے ہوئے علامہ شامی نے اس کی تحقیق کی ہے۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں بلابدل فوت ہونے والی چیز میں بھی معنی (آب کافی
پنجم اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) : صورتیں تین۳ ہیں :
(i) علم بعدم آب
(ii) علم بوجود
(iii) عدم علم
علم عدم کہ پانی میل بھر یا زائد دور ہونا معلوم ہو اس میں تو عجز ظاہر ہے۔
اور علم وجود میں عجز یوں ہوگا کہ حسابا یا طبعا یا شرعااس تك وصول یا اس کے استعمال پر قادر نہیں جیسے محبوس یا مریض یا وہ پانی پانے والا جو پینے کیلئے وقف ہے۔
رہا عدم۱ علم نمبر۱۵۸ و ۱۵۹ سے واضح ہوا کہ شرع مطہر نے اسے بھی عجز میں رکھا اگرچہ بعد نماز پانی وہیں موجود ہونابھی معلوم ہوجائے اور جب شریعت نے یہاں وجود و عدم آب پر مدار نہ رکھا بلکہ اس کے عدم علم پر تو واجب ہے کہ وہ جگہ مظنہ آب نہ ہو جیسے آبادی یا اس کا قرب نہ اسے وہاں وجود آب مظنون ہو مثلا سبزہ لہلہا رہا ہے یا پرندے یا چرندے موجود ہیں یا ثقہ شخص کہہ رہا ہے کہ یہاں قرب میں پانی ہے کہ غلبہ ظن بھی انحائے علم سے ہے خصوصا فقہیات میں کہ ملتحق بہ یقین ہے تو بحال ظن عدم علم نہ ہوا اور یہاں اسی پر مدار عجز تھا تو نہ عجز متحقق ہوا نہ تیمم روا نہ اس سے نماز صحیح اگرچہ بعد کو عدم آب ہی ظاہر ہو کہ وجود و عدم واقعی یہاں ساقط النظر تھا۔ درمختار میں ہے :
یجب ای یفترض طلبہ ولوبرسولہ قدر مالایضر بنفسہ ورفقتہ بالانتظار ان ظن ظنا قویا قربہ دون میل بامارۃ اواخبار عدل والایغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل(۲) یندب ان رجا والا لا اھ ملخصا
پانی تلاش کرنا فرض ہے اگرچہ اپنے قاصد ہی کے ذریعہ اس حد تك کہ انتظار سے خود اسے یا اس کے ہم سفروں کو ضرر نہ ہو۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کسی علامت یا کسی عادل کے بتانے سے قریب میں ایك میل سے کم دوری پر پانی ہونے کا اسے قوی گمان ہو اور اگر قریب میں پانی ہونے کا غالب گمان نہ ہو تو تلاش واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اگر ملنے کی کچھ امید ہو ورنہ مستحب بھی نہیں اھ ملخصا۔ (ت)
بامارۃ ای علامۃ کرؤیۃ خضرۃ اوطیر اھ و زاد فی الحلیۃ الوحش ۔
بامارۃ یعنی کسی علامت سے مثلا سبزہ یا پرند دیکھنے سے اھ اور حلیہ میں “ وحشی جانوروں “ کا لفظ بھی ہے۔ (ت)
حلیہ میں محیط سے ہے :
الذی نزل بالعمران ولم یطلب الماء لم یجز تیممہ ۔
جو آبادی میں اترا اور پانی تلاش نہ کیا اس کاتیمم درست نہیں۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
ان تیمم قبل طلب الماء وصلی فی العمرانات لایجوز وفی الفلوات یجوز ۔
اگر آبادیوں میں پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز نہیں اور بیابانوں میں جائز ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
لان العلم بقرب الماء قطعا اوظاھرا ینزلہ منزلۃ کون الماء موجودا بحضرتہ فلایجوز تیممہ فی شئ من ھذہ الاحوال کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ ۔
اس لئے کہ قطعی یا ظاہری طور پر قریب میں پانی کے ہونے کا علم اپنے پاس پانی موجود ہونے کے درجہ میں ہے تو ان میں سے کسی بھی حالت میں اس کاتیمم جائز نہیں جیسے خود اس کے پاس پانی موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
ولوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا وصلی ثم طلبہ فلم یجدہ وجبت علیہ الاعادۃ عندھما
اگر پانی تلاش کئے بغیرتیمم کرلیا جبکہ تلاش کرنا واجب تھا۔ اور نماز بھی پڑھ لی۔ پھر پانی تلاش کیا پانی نہ ملا تو بھی امام اعظم وامام محمد کے نزدیک
حلیہ
خلاصۃ الفتاوٰی فصل خامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۱
حلیہ
اقول : لیس معناہ انھما لایقولان باشتراط الطلب بل ھو مجمع علیہ فی مظنۃ الماء وانما المعنی ان الرحل مظنۃ الماء عند ابی یوسف فیجب الطلب فیمتنع بدونہ التیمم وعندھما لافلا کما افادہ المحقق فی الفتح۔
بخلاف امام ابویوسف کے۔ اس پر اعادہ فرض ہے سراج وہاج میں اسی طرح ہے مستصفی میں ہے کہ قریب میں پانی کا گمان ہونے کی صورت میں تلاش لازم ہونے کا مسئلہ سابقہ مسئلہ (جسے اپنے خیمہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی تو طرفین کے نزدیک بخلاف امام ابویوسف کے اعادہ نہیں) کے بعد ذکر کرنے میں ایك خاص نکتہ ہے اس لئے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ پانی تلاش کرنا شرط ہے یا نہیں “ اھ (ت)
اقول : اس کا یہ مطلب نہیں کہ طرفین تلاش کرنے کو شرط نہیں کہتے بلکہ جہاں پانی ملنے کا گمان ہو وہاں تلاش کے شرط ہونے پر اتفاق ہے __بلکہ اصل بات یہ ہے کہ امام ابویوسف کے نزدیك خیمہ وجود آب کے گمان کی جگہ ہے اس لئے ان کے نزدیك تلاش کرنا فرض ہے تو تلاش کیے بغیرتیمم ناجائز ہے اور طرفین کے نزدیك خیمہ مظنہ آب نہیں اس لئے تلاش فرض نہیں__ جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے۔ (ت)
نیز بحر میں ہے :
الله تعالی جعل شرط الجوا عدم الوجود من غیر طلب فمن زاد شرط الطلب فقد زاد علی النص بخلاف العمرانات لان العدم وان ثبت حقیقۃ لم یثبت ظاھرا لان العمرانات
الله تعالی نے پانی کے عدم وجود کو جوازتیمم کی شرط قرار دیا ہے اور تلاش کی شرط نہیں رکھی ہے تو تلاش کی شرط زیادہ کرنے والا نص پر زیادتی کرنے والا ہے مگر آبادیوں میں یہ بات نہیں اس لئے کہ وہاں اگرچہ حقیقۃ عدم وجود ہو مگر یہ ظاہرا ثابت نہیں اس لئے
کہ آبادی خود ہی وجود آب کی کھلی ہوئی دلیل ہے کیونکہ آبادی پانی سے ہی قائم ہوتی ہے تو عدم آب ایك طرح سے ثابت ہے اور ایك طرح سے ثابت نہیں اور جوازتیمم کیلئے عدم مطلق شرط ہے جو بغیر تلاش کیے آبادیوں میں ثابت نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح قریب میں پانی کے غلبہ ظن کی صورت میں بھی وہ بات نہیں کیوں کہ جوجوب عمل کے حق میں غلبہ ظن یقین کا کام کرتا ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
شرطہ النیۃ وکذا طلب الماء ان غلب علی ظنہ ان ھناك ماء اوکان فی العمرانات اھ
اقول : وبھذہ النصوص ظھر ان الحکم سواء فیما اذا ظن فی فلاۃ بامارۃ اوکان فی مظنۃ کالعمرانات اوقربھا انہ لایصح تیممہ بدون الطلب وان ظھر بعد عدم الماء افادہ اطلاق المحیط والخلاصۃ وقد صرح بہ فی السراج فان وجوب الطلب شامل للفصلین وذلك لان الطلب فی المظنۃ شرط جوازہ کما نص علیہ فی المنیۃ والمستصفی
وقد اوضحہ
تیمم کی شرط نیت ہے اور اسی طرح پانی کا تلاش کرنا بھی شرط ہے اگر اسے غالب گمان ہوکہ وہاں پانی ہوگا یا وہ آبادیوں میں ہو “ ۔ اھ(ت)
اقول : انہی نصوص سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ کسی جنگل میں کوئی علامت دیکھ کر گمان کر رہا ہو یا آبادی وقرب آبادی جیسی گمان آب کی جگہ میں ہو دونوں صورتوں میں یہ حکم یکساں ہے کہ پانی تلاش کئے بغیرتیمم درست نہیں اگرچہ بعد میں یہی ظاہر ہو کہ وہاں پانی کا وجود نہیں اس کا افادہ اس سے ہوا کہ محیط اور خلاصہ نے بغیر تلاش آب تیمم کو مطلقا ناجائز کہا اور سراج وہاج میں تو اس کو صراحۃ بیان کردیا کیونکہ اس کی عبارت “
لوتیمم من غیر طلب وکان
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۷
الطلب واجبا “ (اگر بلاتلاش تیمم کرلیا جبکہ تلاش کرنا واجب تھا)میں “ وجوب تلاش “ دونوں ہی صورتوں کو شامل ہے۔ اور عدم جوازتیمم کا حکم اس لئے ہے کہ جہاں وجوب آب کا گمان ہو وہاں پہلے پانی تلاش کرلیناتیمم جائز ہونے کی شرط ہے۔ جیسا کہ منیہ اور مستصفی میں اس کی صراحت ہے۔
اور البحرالرائق میں تو اسے انتہائی وضاحت سے بیان کیا ہے تو جب شرط مفقود ہوئی مشروط بھی مفقود ہوا (شرط_ تلاش آب _نہ پائی گئی تو مشروط جوازتیمم بھی نہ پایا گیا) تو نماز بھی باطل ہوئی اور بعد میں وہاں پانی کا عدم وجود ظاہر ہونے سے مفقود (تیمم) موجود نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باطل(نماز)صحیح قرار پاسکتاہے۔ اس تمہید کے بعد اب حلیہ کی درج ذیل عبارت دیکھیے جو حلیہ کے حوالہ سے اوپر نقل کی ہوئی عبارت کے بعد آئی ہے : “ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر آبادی میں یا آبادی کے قریب ہے اور پانی تلاش کیے بغیرتیمم کرکے نماز پڑھ لی اور بعد میں بھی حقیقت حال (وہاں پانی ہونے نہ ہونے کی تفتیش نہ کی) تو جائز نہیں اور خلاصہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ اس کے الفاظ یہ ہیں (اس کے بعد صاحب حلیہ نے خلاصہ کی وہ عبارت نقل کی ہے جو ہم اوپر درج کر آئے ہیں) لیکن بدائع میں یہ لکھا ہوا ہے کہ “ اور اسی طرح جب آبادی کے قریب ہو تو بھی پانی تلاش کرنا واجب ہے۔ یہاں تك کہ اگرتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس کی نماز جائز نہ ہوئی۔ اس لئے کہ ظاہرا اور عموما آبادی پانی سے خالی نہیں ہوتی اور احکام کے معاملہ میں ظاہر ملحق
بہ یقین ہے (عبارت بدائع ختم) شاید یہ (نماز کے عدم جواز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے کی قید) قید اتفاقی ہے (ورنہ اگر بعد میں ظاہر ہو کہ پانی نہیں جب بھی قبل تلاش جوتیمم کیا اس تیمم سے پڑھی ہوئی نماز باطل ہی ہے) اس کی دلیل وہ تعلیل ہے جو صاحب بدائع نے خود ذکر کی یا اس قید کے ذریعہ اس صورت سے احتراز مقصود ہے جب بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش کی اور آبادی میں پانی نہ پایا۔ کیوں کہ اس صورت میں ظاہر یہ ہے کہ اس کی نماز ہوگئی اس لئے کہ (بلحاظ غالب) وہاں جو ظاہر تھا (پانی کا وجود) اس کا نہ ہونا (عدم وجود آب) ظاہر ہوگیا اور خلاصہ میں جو بیان کیا گیا ہے وہ اس صورت پر محمول ہوگا جب بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش ہی نہ کی ہو جیسا کہ اس کی ظاہر عبارت سے پتہ چلتا ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : عبارت بدائع سے متعلق صاحب حلیہ نے جو پہلی تجویز رکھی وہی صحیح ہے یعنی یہ کہ “ ثم ظھر الماء “ (عدم جواز نماز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے) کی قید اتفاقی ہے اور اس کی دلیل کیلئے ان کی ذکر کی ہوئی تعلیل ہی کافی ہے جیسا کہ صاحب حلیہ نے خود کہا لیکن حلیہ کی دوسری تجویز یعنی یہ اظہار کہ جب بعد نماز پانی تلاش کرے اور نہ پائے تو نماز جائز ہوجائے یہ ایسی بحث ہے جو نقل وعقل سے متصادم ہے۔ عقلی دلیل تو وہ ہے جس کی فقیر نے تقریر کی کہ شریعت نے یہاں مدار امر عدم علم آب پر رکھا ہے اور واقع میں اس کے وجود و عدم پر نظر نہیں کی ہے تو جب پانی کا گمان ہو یا گمان کی جگہ ہو تو عدم علم نہ رہا اس لئے تیمم نہ ہوا خواہ بعد میں پانی کا وجود ظاہر ہو یا عدم ظاہر ہو۔ دیکھئے جسے اپنے خیمہ یا کجاوہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا یا جس نے لاعلمی میں کسی کنویں پر خیمہ لگایا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے یاد آیا یا وہاں پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس پر نماز کا اعادہ
فان قلت : حاصل ما قررت ھھنا ان لوظن القدرۃ علی الماء لایصح تیممہ وان ظھر بعد وانہ عاجز ولوظن العجز صح وان ظھر بعد انہ قادر فالمبنی ظنہ لامایظھر بعدہ وھو خلاف مانصوا علیہ فی مسألۃ من(۳) وجد مع غیرہ ماء فانہ ان لم یسألہ وتیمم وصلی ثم سأل فان اعطی بطلت صلاتہ وان کان یظن قبلہ المنع وان ابی صحت وان کان یظن قبلہ الاعطاء فکان المبنی مایظھر بعد لا ماظن وقد ذکرنا نصوصہ وبلغنا الغایۃ تحقیقہ فی رسالتنا قوانین العلماء بعون الله تعالی۔
نہیں تو جیسے ظہور آب نے اس کے صحیح تیمم کو غیر صحیح نہ کیا اسی طرح ظہور عدم آب بھی اس کے فاسدتیمم کو غیر فاسد نہ کرسکے گا۔ اور نقلی دلیل سراج وہاج کی وہ تصریح ہے جو پہلے گزر چکی اور اسی کی مثل جوہرہ نیرہ میں بھی ہے۔ اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ مستفاد بتاتے ہوئے صاحب حلیہ نے جو یہ قید لگائی کہ “ بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش نہ کی “ یہ صحیح نہیں۔ بلکہ حکم مطلق ہے (بعد میں تلاش کرے یا نہ کرے اور پھر پانی ملے یا نہ ملے بہرحال سابقہ تیمم ونماز درست نہیں ۱۲م الف) اور اس قید کو عبارت خلاصہ کا ظاہر بتانا ناقابل تسلیم ہے بلکہ اس میں صراحۃ حکم مذکورکو مطلق ہی رکھا ہے(جس سے بہرصورت عدم جواز ہی ثابت ہوتا ہے ۱۲م الف)(ت)
اگر یہ اعتراض ہو کہ یہاں آپ کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے پانی پر قدرت کا گمان ہو توتیمم درست نہ ہوگا اگرچہ بعد میں پانی سے عاجز ہونا ہی ظاہر ہو۔ اور اگر پانی سے عجز کا گمان ہو تو توتیمم درست ہے اگرچہ بعد میں پانی پر قادر ہونا ہی ظاہر ہو۔ تو بنائے کار اس کے گمان پر ہے اس پر نہیں جو بعد میں ظاہر ہو اور دوسرے کے پاس پانی موجود پانے کے مسئلہ میں فقہا نے جو صراحت کی ہے یہ اس کے برخلاف ہے۔ اس لئے کہ اگر اس نے نہ مانگا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر طلب کیا اب اگر وہ دے دے تو نماز باطل ہوگئی اگرچہ پہلے اس کا گمان یہ رہا ہو کہ نہ دے گا اور اگر انکار کردے تو نماز صحیح ہوگئی اگرچہ پہلے اس کا گمان یہ رہا ہو کہ پانی دے دے گا۔ تو بنائے حکم اس پر ہوئی جو بعد میں ظاہر ہو اس پر نہیں جو پہلے گمان ہو اس سلسلہ کے نصوص اور مسئلہ کی انتہائی تحقیق بعون الله تعالی ہم اپنے رسالہ “ قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء “ (۱۳۳۵ھ) میں رقم کرچکے ہیں۔ (ت)
اقول : ویمکن ان یوجہ بان الماء ثمہ معلوم الوجود وھو قادر علی تحصیل العلم بحقیقۃ العجز والقدرۃ بان یسألہ فیعطی اویابی فلایسوغ(۳) لہ العمل بالظن عند القدرۃ علی العمل بالعلم ان الظن لا یغنی من الحق شیــٴـا- اما ھھنا فالماء مجھول الوجود ولیس بیدہ تحصیل العلم بہ الابحرج والحرج مدفوع وماشرع التیمم
اقول : (اس کا جواب یہ ہے) کہ اس میں اختلاف نہیں کہ وہاں بنائے حکم حقیقت عجز پر ہے لیکن یہاں بنائے حکم عدم علم پر ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ امام صدرالشریعۃ پھر حلیہ میں محقق حلبی لکھتے ہیں : “ اس صورت میں جب کہ پانی دینے کا گمان ہو اگر نماز پوری کرلی پھر طلب کیا تو اب اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی اس لئے کہ ظاہرہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا۔ اور تحری قبلہ کا مسئلہ اس کے برخلاف ہے کیوں کہ جب کوئی بتانے والا نہ ہو تو اس وقت سمت تحری اصالۃ قبلہ ہے اور یہاں مدار حکم حقیقت قدرت وعجز پر ہے غلبہ ظن کو ان دونوں کے قائم مقام آسانی کیلئے رکھا گیا ہے تو جب اس (غلبہ ظن) کے خلاف ظاہر ہوجائے تو غلبہ ظن ان دونوں کے قائم مقام نہیں رہ جاتا “ اھ (ت)
اقول : اس کی یہ توجیہ بھی کی جاسکتی ہے کہ وہاں (جب کہ دوسرے کے پاس پانی ہے) پانی کا موجود ہونا معلوم ہے۔ اور اس پانی سے متعلق اپنے عجز و قدرت کی حقیقت کا علم بھی حاصل کرسکتا ہے اس طرح کہ اس سے مانگ کر دیکھ لے کہ دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں جبکہ وہ علم ویقین پر عمل کرسکتا ہے ظن پر عمل کرنا جائز نہیں۔
ان الظن لا یغنی من الحق شیــٴـا- (گمان حقیقت کی جگہ کوئی کام نہیں دے سکتا)
القرآن ۱۰ / ۳۶
اقول : وقد ظھر بحمدالله تعالی بتقریرنا ھذا ان شرط طلب الماء اذا ظن قربہ حتی لایصح تیممہ قبل الطلب مندرج فی شرط العجز لانہ مادام یظن قربہ لم یعدم علمہ فلایثبت عجزہ الااذا(۱) طلب الی حد لا یضربہ ولابرفقتہ ویقع الیاس من وجدان الماء لانہ حینئذ یخیب ظنہ الذی کان قام مقام العلم فیعدم العلم فیثبت العجز فماوقع(۲) فی ردالمحتار من ان ھذا الشرط زادہ فی المنیۃ وسیذکرہ المصنف بقولہ ویطلبہ غلوۃ ان ظن قربہ اھ غیر سدید بل قد ذکرہ المصنف فی قولہ من عجز عن استعمال الماء الخ الا تری الی قول البحر قدرۃ بدون العلم لان القادر علی الفعل ھو الذی لواراد
لیکن یہاں تو پانی کا وجود نامعلوم ہے مشقت وحرج کے بغیر اس کا علم ویقین حاصل کرنا اس کے بس میں نہیں۔ اور حرج مدفوع ہے۔ خودتیمم کی مشروعیت ہی دفع حرج کیلئے ہوئی ہے۔ اور علم ویقین کے فقدان کی حالت میں باب عملیات میں ظن غالب یقین کے قائم مقام ہے بتوفیق الله تعالی اس کلام کا تکملہ ہم نے رسالہ مذکورہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
اقول : بحمدہ تعالی ہماری اس تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ قریب میں پانی کا گمان ہونے کے وقت پانی تلاش کرنے کی جو شرط رکھی گئی ہے کہ بغیر تلاش کیے تیمم جائز نہیں یہ شرط بھی عجز میں مندرج اور داخل ہے اس لئے کہ جب تك قریب میں پانی ہونےکا گمان موجود ہے علم آب معدوم نہیں تو عجز ثابت نہیں ہاں مگر جب اس حد تك پانی تلاش کر لےکہ اسے اور اس کے ہم سفروں کو ضرر نہ ہو اور پانی ملنے سے مایوسی ہوجائے۔ اس لئے کہ اس حالت میں اس کا ظن جو علم کے قائم مقام تھا ناکام ہوجاتا ہے۔ ظن کے ختم ہوجانے سے علم بھی معدوم ہوجاتا ہے تو عجز ثابت ہوجاتا ہے جب یہ بات طے ہوگئی (کہ شرط عجز میں تلاش آب والی شرط بھی مندرج اور داخل) تو ردالمحتار کا یہ قول درست نہیں “ کہ منیہ نے اس شرط کا اضافہ کیا ہے اور عنقریب مصنف اسے یوں ذکر فرمائیں گے کہ “ ایك غلوہ
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۰
(ہر طرف سے تین سو قدم) کی مقدار پانی تلاش کرے اگر قریب میں پانی ہونے کا گمان ہو “ اھ ملخصا۔ بلکہ مصنف نے من عجز عن استعمال الماء الخ (جو پانی کے استعمال سے عاجز ہو الخ)کے تحت اسے ذکر کردیا (کیوں کہ عدم علم بھی عجز ہی میں داخل ہے) یہ دیکھئے البحرالرائق کی عبارت : “ علم کے بغیر قدرت کا وجود نہیں اس لئے کہ کسی کام پر قادر وہی شخص ہوگا جو اسے کرنا چاہے تو کرسکے “ ۔ اھ (اور پانی کا علم ہی نہیں تو اسے کام میں لانے کا ارادہ وعمل بھی نہیں ہوسکتا پھر قدرت کہاں ۱۲م الف) اور مصنف نے ایك غلوہ تك تلاش کرنے کی جو بات کہی ہے یہ شرط تیمم کے بیان کیلئے نہیں بلکہ یہ بتانے کیلئے ہے کہ کتنی دور تك تلاش کرنا ہے اور اس سے متعلق تفریعات بیان کرنا بھی مقصود ہے جیسے اسی کے متصل مصنف نے تفریعات ہی کے پیش نظر شرط نیت کو دوبارہ ذکر کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے خودتیمم کی تعریف میں اس کا ذکر کرچکے ہیں۔ (ت)
ششم : مسلمان کی تخصیص اس لئے کہ کافرتیمم کا اہل نہیں اس کاتیمم باطل ہے اگر کافر۱ نے وضو کیا پھر اسلام لایا اسی سے نماز پڑھ سکتا ہے جبکہ اسکے بعد کوئی حدث نہ ہوا ہو لیکن اگر وہاں۲ پانی نہ تھاتیمم کرکے مسلمان ہوا تو اس تیمم سے نماز نہیں پڑھ سکتا نماز کیلئے دوبارہ تیمم کرنا ہوگا وجہ یہ کہ وضو کیلئے پانی کا اعضائے وضو پر گزر جانا کافی ہے اگرچہ بلاقصد ہو کافر کے وضو میں یہ بات حاصل ہوگئی لیکن تیمم میں نیت شرط ہے اور نیت الله عزوجل کیلئے اور کافر اسے جانتا ہی نہیں اس کیلئے نیت کیا کرے گا کفر کہتے ہی اسے ہیں کہ الله سبحنہ کو نہ جانے۔
تنبیہ جلیل : یہ بات ناواقف کی نگاہ میں بعید ہے اور اس کا بیان نہایت مفید ہے لہذا فقیہ غفرلہ المولی القدیر نے اسے چند مختصر جملوں میں بیان کیا ہے جن سے روشن ہو کہ تمام کفار۳ اگرچہ کلمہ گو نماز گزار ہوں الله عزوجل کو ہرگز نہیں جانتے اور ان میں کوئی ایسا نہیں جو اسے برے برے عیب بڑے بڑے دھبے نہ لگاتا ہو اس بیان پر اطلاع لازم ہے تاکہ مسلمان ان سے پرہیز کریں اور اپنے رب کی محبت وحمایت میں ان سے نفرت وگریز کریں “ باب العقائد والکلام “ (۱۳۳۵ھ) اس کا تاریخی نام یا “ گمراہی کے جھوٹے خدا “ (۱۳۳۵ھ) تاریخی لقب یہ ایك نہایت مختصر مگر ان شاء الله تعالی کمال مفید رسالہ ہے اگر کوئی سنی عالم رسائل فقیر
ہفتم : ہم نے بالغ کی قید نہ لگائی کہ تیمم نابالغ کا بھی صحیح ہے۔
ہشتم : عاقل کی قید ذکر کی کہ مجنون یا ناسمجھ بچہ اگرتیمم کی نقل کرے وہ معتبر نہیں کہ تیمم کی شرط نیت ہے۔
نہم : میت میں صرف اسلام شرط کیا کہ بالغ ہو یا نہیں عاقل ہویا نہیں ہر طرح تیمم کرایا جائے گا جبکہ پانی سے عجز ہو۔
دہم : نجاست کو حکمیہ سے مقید کیا کہ زندہ کاتیمم نجاست حکمیہ ہی کو دور کرتا ہے حقیقیہ کا مٹی سے ازالہ صرف استنجا میں ہے۔
یازدہم : حکمیہ کو حقیقیہ و صوریہ سے عام کیا کہ نابالغ میں نجاست حکمیہ کا حقیقۃ وجود محل نظر ہے۔
دوازدہم : دربارہ میت حقیقیہ و حکمیہ کی تشقیق بر بنائے اختلاف ائمہ ہے کہ موت سے بدن کو نجاست حقیقیہ عارض ہوتی ہے یا حکمیہ برتقدیر اول۱ قبل غسل اس کے پاس قرآن عظیم کی تلاوت منع ہوگی جبکہ اس کا بدن سر سے پاؤں تك کپڑے سے چھپا نہ ہو جیسے جہاں ۲ کوئی نجاست پڑی ہو تلاوت مکروہ ہے اور تقدیر ثانی پر تلاوت میں حرج نہ ہوگا جیسے۳ کوئی قرآن مجید پڑھے اور اس کے پاس کوئی جنب یا حیض ونفاس سے نکلی ہوئی بے نہائی عورت بیٹھی ہو۔ اور اوپر گزرا کہ فقیر کی تحقیق میں قول دوم ہی زیادہ راجح ہے ان شاء الله تعالی۔
سیزدہم : دور کرنے کیلئے یہ لفظ جانب نیت مشیر ہوا کہ بے نیت تیمم صحیح نہیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ نیت۴ اپنے بدن سے نجاست حکمیہ یا بدن میت سے نجاست موت دور کرنے کی ہو اور اسی کے معنی میں ہے نیت تطہیر عــہ اگرچہ استحبابا اور اسی کو مؤدی ہے اس فعل سے کوئی عبادت مباح کرنے کی نیت مقصودہ ہو جیسے نماز اور جنب کیلئے قرأت قرآن یا غیر مقصودہ جیسے مصحف شریف کا چھونا جنب کیلئے مسجد میں جانا۔ ہاں عبادت
عــــہ : اشارہ ہے ان عبادات کیلئے نیت تطہیر کی طرف جن میں طہارت شرط نہیں جیسے سلام وجواب سلام واذان واقامت وزیارت قبور وعیادت مریض وغیرہا کہ پانی نہ ہونے(۵) کی حالت میں ان کیلئے بھی تیمم صحیح وجائز ہے کما سیأتی وہ اسی نیت سے ہوگا کہ قربت الہی بحال طہارت کروں یہ تطہیر استحبابی ہوئی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : وبہ(۵) ظھر ان قول العلامۃ ش عند قول التنویر لاقامۃ قربۃ ای لاجل عبادۃ مقصودۃ لاتصح بدون الطھارۃ اھ۔ غیر سدید فانہ فی مقام الاطلاق تقیید ۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اس سے ظاہر ہوگیا کہ تنویر الابصار کی عبارت “ لاقامۃ قربۃ “ (ادائے قربت کیلئے) کے تحت علامہ شامی کا یہ لکھنا کہ “ یعنی ایسی عبادت مقصودہ کیلئے جو بغیر طہارت کے درست نہ ہو “ ۔ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ وہ حکم جو مطلق ہی رہنا چاہئے ان کے اس اضافہ سے مقید ہوجاتا ہے۔ (ت)
بالجملہ بہ نیت عبادت تیمم کرنے سے نماز جائز ہونے کی تو یہ دو۲ شرطیں ہیں اور خود اس نیت سے تیمم صحیح ہونے کیلئے ان دونوں میں سے کچھ شرط نہیں مسائل بالا میں گزرا کہ مسجد کے اندر ہی پانی ہے جنب اسے لینے کو جائے تیمم کرے سلام وجواب سلام فوت ہونے کے خیال سے پانی ہوتے ہوئے تیمم کرے حالانکہ وہ عبادت مقصودہ نہیں اور یہ بے طہارت جائز۔ ہاں۶ فی نفسہ جائز ہونے کو یہ مشروط ہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں یا تو وہی نیت عامہ تطہیر ورفع حدث ہو یا مطلقا کسی عبادت کی نیت خواہ مقصودہو عــہ یا نہیں اس کیلئے طہارت
عـــہ عبادت۶ دو۲ قسم ہے مقصودہ کہ خود مستقل قربت ہو دوسری قربت کیلئے محض وسیلہ ہونے کو مقرر نہ ہوئی ہو دوسری غیر مقصودہ کہ صرف وسیلہ ہے اور ان میں ہر قسم سے بعض مشروطہ بطہارت ہیں کہ بے طہارت جائز نہیں خواہ طہارت صغری یعنی وضو بھی شرط ہو یا صرف کبری یعنی غسل اور بعض غیر مشروطہ تو عبادات چار۴ قسم ہوگئیں(باقی برصفحہ ائندہ)
ان دو۲ صورتوں کے سوا اگر کسی دوسری نیت سے تیمم کیا مثلا پانی۲ نہ ہونے کی حالت میں بے وضو نے مسجد میں ذکر کیلئے بیٹھنے بلکہ مسجد۳ میں سونے کیلئے کہ سرے سے عبادت ہی نہیں یا۴ پانی ہوتے ہوئے سجدہ تلاوت یا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
(۱) مقصودہ مشروطہ جیسے نماز ونماز جنازہ وسجدہ تلاوت وسجدہ شکر کہ سب مقصود بالذات ہیں اور سب کیلئے طہارت کاملہ شرط یعنی نہ حدث اکبر ہو نہ اصغر۔ نیز یاد پر تلاوت قرآن مجید کہ مقصود بالذات ہے اور اس کیلئے صرف حدث اکبر سے طہارت شرط ہے بے وضو جائز ہے۔
(۲) مقصودہ غیر مشروطہ کہ ہو تو مقصود بالذات مگر اس کیلئے طہارت ضرور نہ ہو مطلقا خواہ صغری جیسے اسلام لانا سلام کرنا سلام کا جواب دینا سب مقصود بالذات ہیں اور ان کیلئے اصلا طہارت شرط نہیں نیز یاد پر تلاوت قرآن مجید کہ اس کیلئے طہارت صغری یعنی باوضو ہونا ضرور نہیں۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ یاد پر تلاوت جنب کے اعتبار سے قسم اول میں ہے اور بے وضو کے اعتبار سے قسم دوم میں۔
(۳) غیر مقصودہ مشروطہ کہ ہو تو دوسری عبادت کا وسیلہ مگر بے طہارت جائز نہ ہو خواہ صرف طہارت کبری شرط ہو یا کاملہ جیسے مصحف شریف کا چھونا کہ بے وضو بھی حرام ہے اور مسجد میں جانا کہ صرف حدث اکبر میں حرام اور حدث اصغر میں جائز ہے۔
(۴) غیر مقصودہ غیر مشروطہ کہ وسیلہ ہو اور طہارت شرط نہیں جیسے اذان واقامت کہ وسائل نماز ہیں اور جنب سے بھی صحیح اگرچہ اس کی اقامت زیادہ مکروہ ہے اور مسجد میں جانا کہ بے وضو جائز ہے۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ دخول مسجد جنب کے لحاظ سے قسم سوم میں ہے اور محدث کی نظر سے قسم چہارم میں۔ پانی نہ ہونے کی حالت میں چاروں قسموں کیلئے تیمم صحیح ہے اور نماز صرف اسی سے ہوسکے گی جو اس عام نیت تطہیر ورفع حدث سے کیا گیا یا خاص قسم اول کی نیت سے۔ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کماحققہ ش مخالفا وقع فی البحر وتبعہ فی الدر واستدلالہ بمالا دلیل لھما فیہ کمابینہ ھو وان تبعھما فیہ ح وط رحمۃ الله تعالی علیھم اجمعین وعلینا بھم امین۔
جیسا کہ علامہ شامی نے اس کی تحقیق کی ہے اس کے برخلاف جو البحرالرائق میں ہے اور درمختار نے بھی اس کی پیروی کی اور ان دونوں حضرات نے اپنے موقف کیلئے ایسی بات سے استدلال کیا جس میں ان کے موقف کی کوئی دلیل نہیں جیسا کہ علامہ شامی نے بیان کیا اگرچہ اس استدلال میں حلبی وطحطاوی نے بھی بحر ودر کی پیروی کرلی ہے ان سبھی حضرات پر خدائے تعالی کی رحمت ہو اور ان کے طفیل ہم پر بھی__ قبول فرما__ (ت)
اقول : یہاں سے عــہ ظاہر ہوا کہ یہ چیزیں ہماری تعریف پر نقض نہیں ہوسکتیں کہ کوئی کہے دیکھو ان کیلئے تیمم صحیح ہے اور پانی سے عجز نہیں۔ نہیں نہیں تیمم وہیں صحیح ہوگا جہاں پانی سے عجز ہے اگرچہ اسی طرح کہ پانی سے طہارت کرنے میں مطالبہ شرعیہ بلابدل فوت ہوا جاتا ہے یہ بھی صورت عجز ہے کماتقدم (جیسا کہ گزر چکا۔ ت)
بدائع ملك العلماء قدس سرہ میں ہے :
لوتیمم ونوی مطلق الطھارۃ اونوی استباحۃ الصلاۃ فلہ ان یفعل کل مالایجوز بدون الطھارۃ وکذا لوتیمم لسجدۃ التلاوۃ اوالقراءۃ
القراناگرتیمم کیا اور مطلق طہارت کی نیت تھی یا نماز کا جواز حاصل کرنے کی نیت تھی تو اس تیمم سے ہر اس عمل کی ادائیگی کرسکتا ہے جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ اسی طرح اگر سجدہ تلاوت کیلئے یا
عــہ ای من انکار التعمیم الذی مشی علیہ فی البحر والدر وحصر التیمم مع وجود الماء فی مطلوب مؤکد یفوت لا الی خلف ۱۲منہ غفرلہ (م)
یعنی تیمم کو عام رکھنے کا جو موقف صاحب بحر و درمختار نے اختیار کیا ہے اس کا انکار کرنے سے اورتیمم کو پانی موجود ہونے کی حالت میں ایسے مؤکد مطلوب پر منحصر کرنے سے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو ظاہر ہوا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تلاوت قرآن کیلئے تیمم کیا اس وجہ سے کہ حالت جنابت میں تھا تو وہ اس تیمم سے ساری نمازیں پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ ان میں ہر ایك عمل عبادت مقصودہ ہے لیکن جب مسجد میں داخل ہونے یا مصحف چھونے کے لئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں جس عمل کے لئے یہ تیمم کیا ہے اس کیلئے تو وہ طہارت ہوگا مگر کسی اور عمل کیلئے طہارت نہ بن سکے گا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر شرطہا عــہ ان ینوی عبادۃ مقصودۃ۔ الخ اوالطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃاو رفع الحدث اوالجنابۃ فلا تکفی نیۃ التیمم علی المذھب ولا تشترط نیۃ التمییز بین الحدث والجنابۃ خلافا للجصاص اھ۔ وتکفی نیۃ الوضوء الخ۔
البحرالرائق میں ہے اس کی شرط یہ ہے کہ عبادت مقصودہ کی نیت ہو الخ۔ یا طہارت یا جواز نماز یا رفع حدث یا رفع جنابت کی نیت ہو۔ تو بر بنائے مذہب محض تیمم کی نیت کافی نہیں۔ اور حدث وجنابت کے درمیان تمیز وتفریق کی نیت شرط نہیں جصاص اس کے خلاف ہیں اھ اور وضو کی نیت بھی کافی ہے الخ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شرط للتیمم فی حق جواز الصلاۃ
جواز نماز کے حق میں تیمم کیلئے ایسی
عــــــہ : ای شرط النیۃ المشروطۃ فی التیمم المبیح للصلاۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
یعنی نماز کو جائز کرنے والے تیمم میں مشروطہ نیت کی شرط ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۱
عبادت مقصودہ کی نیت کرنا شرط ہے جو بغیر طہارت
عـــــہ : بعدہ فی الدر ولو صلاۃ جنازۃ اوسجدۃ تلاوۃ لاشکر فی الاصح اھ۔ قال ش ھذا بناء علی قول الامام انھا مکروھۃ اما علی قولھما المفتی بہ انھا مستحبۃ فینبغی صحتہ وصحۃ الصلاۃ بہ افادہ ح اھ وکذا اقرہ ط فاجتمع علیہ السادۃ الثلثۃ۔
اقول : قولہ ینبغی یدل انہ بحث منہ وقد رأیتہ منقولا فی الھندیۃ عن الذخیرۃ وفی البحر عن التوشیح ولفظ الاولین لوتیمم لسجدۃ الشکر علی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف لایصلی المکتوبۃ بذلك التیمم وعند محمد یصلی بناء علی ان السجدۃ قربۃ عند محمد خلافا لھما اھ۔ ولفظ الاخیرین لوتیمم لسجدۃ الشکر لایصلی بہ المکتوبۃ وعند محمد یصلیھا بناء علی انھا
اس کے بعد درمختار میں ہے : یہ عبادت اگرچہ نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت ہی ہو مگر اصح قول کی بنیاد پر سجدہ شکر نہیں اھ۔ علامہ شامی نے کہا سجدہ شکر کی نفی امام اعظم کے اس قول کی بنیاد پر ہے کہ سجدہ شکر مکروہ ہے لیکن صاحبین اس کے مستحب ہونے کے قائل ہیں اور ان کا قول مفتی بہ ہے تو اس قول کی بنیاد پر اس کیلئے تیمم صحیح ہونا چاہئے اور اس سے نماز بھی صحیح ہونی چاہئے۔ حلبی نے یہ افادہ فرمایا اھ۔ اسی طرح طحطاوی نے بھی اسے برقرار رکھا تو یہ تینوں حضرات (سید حلبی سید طحطاوی سید شامی) اس پر متفق ٹھہرے۔
اقول : حلبی کی عبارت “ صحیح ہونا چاہئے “ یہ بتاتی ہے کہ یہ خود ان کی بحث ہے اور میں نے دیکھا کہ اسے ہندیہ میں ذخیرہ سے اور بحر میں توشیح سے نقل کیا ہے۔ ہندیہ وذخیرہ کے الفاظ یہ ہیں : “ اگر سجدہ شکر کیلئے تیمم کیا تو امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف کے قول پر اس تیمم سے نماز فرض کی ادائیگی نہیں کرسکتا اور امام محمد کے نزدیك اس سے نماز فرض پڑھ سکتا ہے اس بنیاد پر کہ امام محمدکے نزدیک__ بخلاف شیخین __سجدہ شکر قربت ہے اھ۔ اور بحر و توشیح کے الفاظ یہ ہیں : “ اگر سجدہ شکر کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز فرض (باقی برصفحہ ائندہ)
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۱
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من التیمم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶
جائز نہیں۔ اس قید سے سلام وجواب اسلام (کی نیت سے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قربۃ عندہ وعندھما لیست بقربۃ اھ۔
اقول : والمکتوبۃ غیر قید کما لایخفی ثم فیھما خلاف ما ذکروا من نسبۃ الاستحباب الی الصاحبین لکن مثلہ فی الغنیۃ عن المصفی فاذن عن ابی یوسف روایتان۔
اقول : والعجب من الشارح کیف یجعل النفی اصح مع قولہ سجدۃ الشکر مستحبۃ بہ یفتی اھ۔ ولاشك ان الفتوی علی ھذا فتوی علی جواز الصلاۃ بتیمم فعل لھا قال الغنیۃ عن المصفی قالا ھو قربۃ یثاب علیہ وعلیہ یدل ظاھر النظم وثمرۃ الاختلاف تظھر فی انتقاض الطھارۃ
کی ادائیگی نہیں کرسکتا اور امام محمد کے نزدیك اس سے فرض نماز پڑھ سکتا ہے یہ اس بنیاد پر کہ سجدہ شکر امام محمد کے نزدیك قربت ہے اور شیخین کے نزدیك قربت نہیں اھ۔
اقول : “ نماز فرض “ کا لفظ قید نہیں (نماز نفل یا دوسری عبادت کی ادائیگی کا بھی یہی حکم ہوگا) جیسا کہ مخفی نہیں پھر__ (غور طلب بات یہ ہے کہ) دونوں ہی عبارتوں میں اس کے برخلاف ہے جو علما نے ذکر کیا ہے کہ سجدہ شکر کا مستحب ہونا صاحبین کا قول ہے لیکن غنیہ میں بھی مصفی کے حوالہ سے اسی کے مثل لکھا ہوا ہے جب ایسا ہے تو اس مسئلہ میں امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں۔
اقول : شارح (صاحب درمختار) پر تعجب ہے کہ سجدہ شکر کی نفی کو انہوں نے اصح کیسے قرار دیا جب کہ خود ان کی عبارت موجود ہے کہ “ سجدہ شکر مستحب ہے اسی پر فتوی دیا جاتا ہے اھ۔ اور اس میں شك نہیں کہ سجدہ شکر کے استحباب پر فتوی اس پر بھی فتوی ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے جوتیمم کیا گیا ہو اس سے نماز جائز ہے۔ غنیہ میں مصفی کے حوالہ سے ہے : “ صاحبین نے فرمایا : سجدہ شکر قربت ہے جس پر ثواب (باقی برصفحہ ائندہ)
ہونے والاتیمم) خارج ہوگیا اور وضو کی نیت سے جنابت والے کاتیمم صحیح ہے۔ اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی حق جواز الصلاۃ امافی حق صحتہ لنفسہ فتکفی نیۃ ماقصدہ لاجلہ ای عبادۃ کانت عند فقد الماء وعند وجودہ
اس کا قول جواز نماز کے حق میں __ لیکن خود صحت تیمم کے حق میں تو اسی عمل کی نیت کافی ہے جس کے لئے تیمم کا قصد کیا خواہ وہ کوئی عبادت ہو یہ اس صورت میں ہے جب پانی نہ ہو اور پانی موجود
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اذا نام فی سجود الشکر وفیما اذا تیمم لسجدۃ الشکر ھل تجوز الصلاۃ بہ اھ۔ ای فجواب محمد فی الاولی لاوفی الثانیۃ نعم وجواب الامام بالعکس۔
اقول : وعلی ماحققنا فی رسالتنا نبہ القوم من اعتبار الھیأۃ مطلقا لاخلف فی الاولی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ہوگا۔ اور نظم کے ظاہر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور ثمرہ اختلاف ان دو مسئلوں میں ظاہر ہوگا :
(۱) سجدہ شکر میں سوجائے تو طہارت ٹوٹے گی یا نہیں
(۲) سجدہ شکر کی ادائیگی کیلئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز ہوگی یا نہیں اھ “ یعنی پہلے مسئلہ میں امام محمد کا جواب یہ ہوگا کہ نہیں ٹوٹے گی اور دوسرے میں یہ جواب ہوگا کہ نماز جائز ہوگی اور امام صاحب کا جواب برعکس ہوگا۔
اقول : ہم نے اپنے رسالہ “ نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم “ (۱۳۲۵ھ) میں تحقیق کی کہ مطلقا ہیأت کا اعتبار ہے اس کی بنیاد پر پہلے مسئلہ میں کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوگا (یعنی یہ سجدہ قربت ہو یا نہ ہو اس ہیئت پر سونے سے طہارت نہیں ٹوٹتی تو دونوں ہی قول پر ایك جواب ہوگا ۱۲ م الف) والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ہونے کی صورت میں صحت تیمم کیلئے ایسی عبادت کی نیت شرط ہے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
قالوا لوتیمم لدخول مسجد اوقراء ۃ ولومن مصحف اومسہ کتابتہ تعلیمہ زیارۃ قبورعیادۃ مریض دفن میت اذان اقامۃ اسلام سلام ردہ لم تجز الصلوۃ بہ فتاوی الرملی وظاھرہ انہ یجوز فعل ذلك ۔
علما نے فرمایا ہے : مسجد میں داخل ہونا قرآن پڑھنا اگر چہ مصحف سے پڑھے قرآن چھونا لکھنا سکھانا زیارت قبور عیادت مریض دفن میت اذان اقامت اسلام سلام جواب سلام اگر ان امور کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں فتاوی رملی __اس کا ظاہر یہ ہے کہ خود ان امور کی ادائیگی جائز ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
التیمم لھذہ المذکورات التی لاتشترط لھا الطھارۃ صحیح فی نفسہ یجوزفعلہ عند فقد الماء والا فلا نعم ما عــہ یخاف فوتہ بلابدل من ھذہ المذکورات یجوز مع وجود
یہ مذکورہ افعال جن میں طہارت کی شرط نہیں ہے ان کے لئے تیمم فی نفسہ درست ہے جو پانی نہ ملنے کے وقت جائز ہے مگر پانی ہوتے ہوئے جائز نہیں ہاں ان امور میں سے وہ جس کے بارے میں کسی بدل کے
عــہ کسلام و ردہ اقول : قد یکون منہ الدفن اعنی تعجیل الماموربہ اذاخیف علی المیت فی المکث وقد یکون منہ عیادۃ المریض اذا اشتد الامر علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
جیسے سلام وجواب سلام __ اقول : اس میں دفن بھی کسی وقت آسکتا ہے یعنی تعجیل دفن جس کا اس وقت حکم دیا گیا ہے جب ٹھہرنے کی صورت میں میت کے لئے خطرہ ہو اور مریض کی عیادت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے جب بیمار کا حال سنگین ہو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۹
بغیر فوت ہونے کا اندیشہ ہو اس کے لئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ (ت)
درمختار میں منیہ وشرح منیہ سے ہے :
تیممہ لدخول مسجد ومس مصحف مع وجود الماء لیس بشیئ بل ھو عدم لانہ لیس بعبادۃ یخاف فوتھا ۔
پانی ہوتے ہوئے مسجد میں داخل ہونے اور مصحف چھونے کے لیے تیمم کرنا کوئی چیز نہیں بلکہ یہ تیمم نہیں اس لئے کہ یہ (دخول مسجد وغیرہ) کوئی ایسی عبادت نہیں جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
عللہ فی شرح المنیۃ بماذکرہ الشارح عــہ وبان التیمم انما یجوز ویعتبر فی الشرع عند عدم الماء حقیقۃ اوحکما ولم یوجد
شرح منیہ میں اس کی علت وہی بتائی ہوئی جو شارح نے ذکر کی اور یہ کہ شریعت میں تیمم کا جواز واعتبار اس وقت ہے جب پانی حقیقۃ یا حکما معدوم ہو اور دونوں باتوں
عــہ اقول : انما علل بھذا اما عدم خوف الفوت فعلل بہ دعواہ انہ لم یوجد واحد منھما وذلك لان الماء موجود حقیقۃ والقدرۃ علی استعمالہ حاصلۃ فانما یکون معدوما حکما لخوف الفوت وھھنا لاخوف وبہ ظھرانہ لایصح جعلھماتعلیلین مستقلین فی الواقع ایضا ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : شرح منیہ میں صرف یہی ایك علت بتائی ہے۔ اور اندیشہ فوت نہ ہونے کا ذکر اپنے اس دعوی کی دلیل میں کیا ہے کہ “ دونوں باتوں میں سے ایك بھی نہ پائی گئی “ ۔ یہ اس لئے کہ پانی حقیقۃ موجود ہے اور اس کے استعمال کی قدرت بھی ہے۔ پانی فوت عمل کے اندیشہ ہی کے وقت حکما معدوم قرار پاتا ہے اور یہاں خوف نہیں (تو حکما بھی معدوم نہیں) اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ فی الواقع بھی ان دونوں کو دو مستقل تعلیلیں قرار دینا صحیح نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۹
اقول : فی الاستدلال بالمنیۃ علی منع التیمم مع وجود الماء لغیر المشروطۃ بالطھارۃ نظر عــہ
میں سے ایك بھی نہ پائی گئی اس لئے تیمم جائز نہیں اھ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ وہ عمل جس میں طہارت کی شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کا کوئی اعتبار نہیں مگر جب ایسا عمل ہو جس کے بارے میں اندیشہ ہوگا کہ فوت ہوجائے گا اور اس کا کوئی بدل بھی نہیں (تو اس کے لئے تیمم جائز ہے)۔ اس لئے اگر بے وضو شخص نے پانی پر قادر ہونے کے باوجود سونے کیلئے یا مسجد میں داخل ہونے کیلئے تیمم کیا تو وہ لغو ہے۔ اس کے برخلاف جواب سلام کیلئے تیمم جائز ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے کا خطرہ ہے اس لئے کہ سلام کا جواب فورا دینے کا حکم ہے۔ اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اسے کیا __یہ وہ بات ہے جس پر اعتماد ہونا چاہئے اھ (ت)
اقول : جس عبادت میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کے عدم جواز پر منیہ کی عبارت سے استدلال میرے نزدیك
عــہ اوردھا فی الدر ردا علی مافی البحر من جواز التیمم لکل ما لا تشترط لہ الطھارۃ مع وجود الماء فان عبارۃ المنیۃ شاملۃ لدخول المسجد لصاحب الحدث الاصغر واجاب ح کما فی ش وتبعہ ط بتخصیص الدخول بالجنب قال
منیہ کی عبارت درمختار میں نقل کی ہے جس سے شارح اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو صاحب بحر نے لکھا ہے کہ ہر وہ عمل جس میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ منیہ کی عبارت سے تردید اس طرح ہوتی ہے کہ یہ عبارت (جس میں تیمم نہ ہونے کا ذکر ہے) بے وضو شخص کے مسجد میں داخل ہونے کو بھی شامل ہے سید حلبی نے(باقی برصفحہ ائندہ)
محل نظر ہے۔ اسی طرح اس کے جواز پر مبتغی کی عبارت سے البحرالرائق کے اور بزازیہ کی عبارت سے درمختار
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ش ولایخفی انہ خلاف المتبادر ولذا عللہ فی شرح المنیۃ بماذکرہ الشارح الخ۔
اقول : دلالۃ التعلیل مسلم اما(۱) المتبادر فلقائل ان یقول لابل الظاھر ارادۃ مایحتاج الی الطھور ولذا قال فی الحلیۃ وکذا لوتیمم لغیر ھذین الامرین من الامور التی لاتستباح الابالطھارۃ مع وجود الماء والقدرۃ قال وقد کان الاولی ترك التعرض لھذا لظھورہ وعدم الخلاف فیہ اھ۔ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ بل حاول العلامۃ ش ان یستدل بھا علی خلافہ وھو المنع فقال عبارۃ البزازیۃ لوتیمم عند عدم الماء لقراء ۃ قران عن ظھر قلب او من المصحف اولمسہ اولدخول المسجد اوخروجہ اولدفن اوزیارۃ قبراوالاذان اوالاقامۃ لایجوزان یصلی بہ عند العامۃ
جیسا کہ شامی میں ہے۔ اور سید طحطاوی نے بھی حلبی کا اتباع کیا ہے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دخول مسجد خاص جنب (بے غسل) سے متعلق ہے اس پر علامہ شامی نے کہا کہ یہ متبادر مفہوم کے خلاف ہے اور اسی لئے شرح منیہ میں اس حکم کی علت وہ بتائی ہے جو شارح نے ذکر کی الخ۔ (ت)
اقول : تعلیل کی دلالت تو تسلیم ہے رہی تبادر کی بات تو اس پر کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں بلکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ عمل مراد ہو جس کیلئے طہارت کی احتیاجی ہے۔ اسی لئے حلیہ میں یہ لکھا ہے “ اور یہی حکم ہے اگر پانی اور قدرت ہوتے ہوئے ان دو کاموں کے علاوہ ایسے امور کیلئے تیمم کیا جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تعرض نہ کرنا ہی بہتر تھا اس لئے کہ یہ ظاہر ہے اور اس میں اختلاف بھی نہیں اھ۔ اسے سمجھو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بلکہ علامہ شامی نے اس عبارت سے درمختار کے برخلاف منع پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : “ بزازیہ کی عبارت یہ ہے : اگر پانی نہ ہونے کے وقت یاد سے یا مصحف سے قرآن پڑھنے یا مصحف چھونے یا مسجد میں داخل ہونے یا نکلنے یا دفن کرنے یا زیارت قبر یا اذان یا اقامت کیلئے تیمم کیا تو عامہ علماء کے نزدیك اس تیمم سے نماز کی ادائیگی(باقی برصفحہ ایندہ)
حلیہ
کے استدلال پر بھی کلام ہے جیسا کہ علامہ شامی نے اسے بیان کیا ہے اور دلیل کا اقتضا یہ ہے کہ ممنوع ہو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولوعند وجود الماء لاخلاف فی عدم الجواز اھ۔ فقولہ لاخلاف فی عدم الجواز ای عدمہ جواز الصلاۃ بہ ظاھر فی عدم صحتہ فی نفسہ عند وجود الماء فی ھذہ المواضع لان من جملتھا التیمم لمس الصحف ولاشبھۃ فی انہ عند وجود الماء لایصح اصلا اھ۔ کلام ش۔
اقول : انما مفادہ الاجماع علی عدم جواز الصلاۃ بہ وھو حاصل قطعا فان التیمم الذی فعل مع القدرۃ علی الماء کیف تسوغ بہ الصلاۃ ولانظر فیہ الی کونہ جائزا فی نفسہ اولا الاتری ان التیمم لتعلیمہ جائز قطعا مع وجود الماء ولاتجوز بہ الصلاۃ وکون بعض ماذکر لایصح لہ التیمم کمس المصحف لایقضی ان الکل کذلك فالقران فی الذکر لیس عندنا قرانا فی الحکم
جائز نہیں اور اگر پانی ہوتے ہوئے ان امور کیلئے تیمم کیا تو عدم جواز میں کوئی اختلاف نہیں “ اھ۔ تو یہ عبارت کہ “ عدم جواز یعنی اس تیمم سے نماز کے عدم جواز میں کوئی اختلاف نہیں “ ۔ اس بارے میں ظاہر ہے کہ پانی ہوتے ہوئے ان مقامات میں یہ تیمم خود بھی درست نہیں کیوں کہ ان ہی میں وہ تیمم بھی ذکر ہوا ہے جو مصحف چھونے کیلئے ہو اور پانی ہوتے ہوئے اس کے نا درست ہونے میں قطعا کوئی شبہ نہیں اھ۔ شامی کا کلام ختم ہوا۔
اقول : مذکورہ کلام بزازیہ کا مفاد صرف یہ ہے کہ اس تیمم سے نماز جائز نہیں اور اتنی بات قطعا حاصل ہے اس لئے کہ پانی پر قدرت ہوتے ہوئے جوتیمم کیا گیا اس سے نماز کیونکر جائز ہوسکتی ہے لیکن کلام مذکور میں اس تیمم کے بجائے خود جائز یا ناجائز ہونے پر کوئی نظر نہیں دیکھئے تعلیم قرآن کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم قطعا جائز ہے اور اس تیمم سے نماز جائز نہیں مذکورہ امور میں سے بعض مثلا مس مصحف کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کا عدم جواز اس کا مقتضی نہیں کہ سبھی کا حال ایسا ہی ہو۔ کیونکہ ہمارے نزدیك ذکر میں مقارنت (ساتھ ہونا) حکم (باقی اگلے صفحہ پر)
اسی میں قول مذکور در “ اگرچہ اس سے نماز جائز نہیں “ پر ہے یعنی یہ صرف اس عمل کے لئے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وبالجملۃ لانقل صریحا بایدی الطرفین وقضیۃ الدلیل المنع فان الله عزوجل یقول فلم تجدوا مآء
وھذا واجد فلاحظ لہ فی التیمم بخلاف من یفوتہ مطلوب مؤکد لا الی بدل فانہ فاقد حکما وان کان واجدا حقیقۃ وحسا واختیار البدل مع تیسرالاصل ممالا یساعدہ عقل ولانقل۔
فان قلت الاصل والبدل فی الوجوب ونحن انما اردنا تطوعا حیث لاوجوب ورأینا الشرع اتی بطھورین فاجتزأنا بادونھما التراب لان التطوع دون الایجاب۔
اقول : التراب فی ذاتہ ملوث لامطھر کمافی البدائع والکافی وغیرھما وانما عرف مطھرا شرعا اذا لم تجدوا ماء فیبقی فیما عداہ علی اصلہ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میں مقارنت نہیں (یہ ہوسکتا ہے کہ ایك ساتھ چند چیزیں ذکر ہوں لیکن ان کے حکم میں باہم فرق ہو) مختصر یہ کہ کوئی صریح نقل طرفین کے ہاتھوں میں نہیں اور دلیل کا اقتضا یہ ہے کہ منع ہو اس لئے کہ الله عزوجل نے فرمایا ہے : فلم تجدوا مآء
(اور تم پانی نہ پاؤ)۔ اور یہ شخص “ پانے والا “ ہے توتیمم میں اس کا کوئی حصہ نہیں بخلاف اس شخص کے جس سے کوئی ایسا مؤکد مطلوب فوت ہورہا ہے جو بدل نہیں رکھتا کیونکہ حکما یہ شخص پانی “ نہ پانے والا “ ہے اگرچہ حقیقۃ و حسا پانی والا ہے۔ اور اصل میسر ہوتے ہوئے بھی بدل اختیار کرنے کی نہ عقل ہم نوائی کرتی ہے نہ نقل۔ اگر یہ سوال ہو کہ اصل اور بدل وجوب میں ملحوظ ہیں اور ہم نے تو ایك نفل کا ارادہ کیا ہے جہاں وجوب نہیں اور شریعت نے ہمیں دونوں مطہر دیے ہیں (پانی بھی مٹی بھی) تو ہم نے کمتر مٹی پر اکتفا کرلیا کیونکہ نفل بھی واجب سے کمتر ہی ہے۔
تو جواب یہ ہوگا کہ مٹی اپنی ذات کے لحاظ سے مطہر نہیں بلکہ ملوث یعنی آلودہ کرنے والی ہے جیسا کہ بدائع اور کافی وغیرہ میں ہے اور شریعت میں مطہر کی حیثیت سے اس کا تعارف صرف اس وقت کیلئے ہوا ہے جب پانی نہ ملے “ اذالم تجدوا ماء “ تو دیگر اوقات وحالات میں یہ اپنی اصل پر باقی رہے گی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : ای عند فقد الماء کما قدمنا تنصیصہ بہ وھو عــہ مستفادھھنا من نفس الکلام لمن تدبر و من سابقہ ولا حقہ لمن نظر۔
طہارت بن سکے گا جس کی نیت کی گئی تھی جیسا کہ حلیہ میں ہے۔ اس لئے کہ تیمم کی دو۲ جہتیں ہیں ایك یہ کہ فی نفسہ درست ہو دوسری یہ کہ اس سے نماز بھی درست ہو ۔ دوسری جہت اس پر موقوف ہے کہ پانی سے عاجز ہو اور اس پر کہ ایسی عبادت مقصودہ کی نیت ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ لیکن پہلی جہت تو کسی بھی عبادت کی نیت سے حاصل ہوجاتی ہے خواہ ایسی۱ عبادت مقصودہ ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں یا ایسی۲ عبادت غیر مقصودہ ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں یا بغیر۳ طہارت بھی جائز ہے یا عبادت مقصودہ ہو اور بغیر طہارت جائز ہو توتیمم ان تمام صورتوں میں فی نفسہ درست ہے جیسا کہ حلیہ نے اسے واضح طور پر بیان کیا اھ (ت)
اقول : یعنی پانی نہ ہونے کے وقت جیسا کہ ہم پہلے اس کی صراحت پیش کرچکے ہیں اور تدبر کرنے والے کیلئے یہاں پر خود اس عبارت سے بھی یہ مستفاد ہے اور نظر والے کیلئے سابق لاحق سے بھی۔ (ت)
عــہ وذلك لانہ ذکر للجھۃ الثانیۃ شرطین فقد الماء ونیۃ عبادۃ مقصودۃ مشروطۃ بالطھارۃ وفی الجھۃ الاولی بدل الشرط الثانی بمطلق العبادۃ وسکت عن الاول فھو ملحوظ فیھا ایضا کیف ولولا ھذا لکان ھذا التعمیم عین تعمیم البحر والدر الذی قد انکرہ انکارا وکررہ سابقا ولاحقا مرارا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس لئے کہ انہوں نے دوسری جہت کیلئے دو۲ شرطیں ذکر کی ہیں : (۱) پانی کا نہ ہونا (۲) اور ایسی عبادت مقصودہ کی نیت جس میں طہارت کی شرط ہے۔ اور پہلی جہت میں شرط ثانی کے بدلے مطلق عبادت کو ذکر کیا ہے اور شرط اول سے سکوت اختیار کیا ہے تو وہ بھی اس میں ملحوظ ہے۔ ملحوظ کیوں نہ ہو جبکہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تعمیم بعینہ بحر ودرمختار کی تعمیم ہوجائے گی جس سے وہ صاف انکار کرچکے ہیں اور پہلے اور بعد میں بار بار اس کی تکرار بھی کی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱) اشتراط نیت
(۲) اشتراط انقطاع منافی
(۳) بیان نیت
اقول : تیمم۲ دس۱۰ نیتوں سے صحیح ہے :
نیت۱ رفع حدث اصغر یا اکبر۲ یا مطلق حدث۳ نیت وضو۴ یا غسل۵ یا مطلق طہارت ۶ نیت استباحت نماز۷ نیت عبادت مقصودہ ۸مشروط بہ طہارت نیت عبادت ۹دیگر غیر مقصودہ یا غیر مشروطہ یا غیر مقصودہ وغیر مشروطہ نیت۱۰ اس تاکیدی مطلوب شرع کی کہ اگر پانی سے طہارت کریں تو بلابدل فوت ہوجائے۔ دسویں صورت پانی ہوتے ہوئے بھی ممکن ہے اور پہلی نو۹ اسی وقت روا ہیں کہ پانی پر قدرت نہ ہو۔ پہلی آٹھ۸ کی نیت سے ہر نماز بھی بے تکلف ادا ہوسکتی ہے اگرچہ کسی اور عبادت کی غرض سے کیا ہو اور نویں سے کوئی نماز ادا نہ ہوگی اور دسویں سے خاص وہی نماز ادا ہوگی جس کی ضرورت سے کیا ہے نہ دوسری اگرچہ وہ بھی اسی قسم فائت بے بدل بلکہ اسی کی نوع سے ہو مثلا نماز جنازہ۳ قائم ہوئی وضو کرے تو چاروں تکبیریں ہوچکیں گی اسے تیمم سے پڑھا اتنے میں اور جنازہ آگیا اگر وضو کرسکتا ہے اس دوسرے کیلئے وضو لازم ہے اگر وضو کا وقفہ تھا اور نہ کیا اب وضو کا وقفہ نہ رہا تو اس کیلئے دوسراتیمم کرے پہلا جاتا رہا۔ ہاں اگر۴ دوسرے جنازے کی نماز ایسی بلافصل برپا ہوئی کہ بیچ میں وضو نہ کرسکتا تو اسی پہلے تیمم سے پڑھ سکتا ہے درمختار میں ہے :
لوجیئ باخری ان امکنہ التوضی بینھما ثم زال تمکنہ اعاد التیمم والا لا بہ یفتی ۔
اگر دوسرا جنازہ لایا گیا تو ان دونوں کے مابین اگر (اتنا وقت ملا جس میں) وضو کرنے کی گنجائش تھی پھر ختم ہوگئی تو دوبارہ تیمم کرے ورنہ نہیں۔ اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔ اھ (ت)
ہمارا لفظ مذکورہ بحمدہ تعالی ان د سوں نیتوں کو شامل ہے پہلی تین تو عین منطوق ہیں یونہی ان کے بعد کی
وقد سلك فی البحر الرائق نحو من ذلك فقال شرطھا ان یکون المنوی عبادۃ مقصودۃ لاتصح الابالطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃ اورفع الحدث اوالجنابۃ وماوقع فی التجنیس من ان النیۃ المشروطۃ فی التیمم ھی نیۃ التطھیر وھو الصحیح فلاینافیہ لتضمنھا نیۃ التطھیر وانما اکتفی بنیۃ التطھیر لان الطھارۃ شرعت للصلاۃ وشرطت لاباحتھا فکانت نیتھا نیۃ اباحۃ الصلاۃ اھ۔
اقول : (۱) صدر کلام یقتضی ان الاصل نیۃ التطھیر وجازت نیۃ استباحۃ الصلاۃ لتضمنھا ماھو المقصود وعجزہ یقضی بالعکس ان نیۃ التطھیر تنبئ عن الاصل فاکتفی بھا ولفظ المحقق فی الفتح بعد نقل کلام التجنیس ومازاد
اور البحرالرائق میں بھی کچھ اسی طرح کی راہ اختیار کی ہے لکھتے ہیں : اس کی(تیمم نمازکی ) شرط یہ ہے کہ جس امر کی نیت کی گئی وہ ایسی عبادت مقصودہ ہو جو بغیر طہارت درست نہیں یا جواز نماز یا رفع حدث یا رفع جنابت کی نیت ہو۔ اور یہ جو تجنیس میں لکھا ہوا ہے کہ “ تیمم میں جس نیت کی شرط ہے وہ نیت تطہیر ہے اور یہی صحیح ہے “ تو یہ عبارت ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز نماز کی نیت کے ضمن میں تطہیر کی نیت بھی پالی جائے گی اور تجنیس میں صرف نیت تطہیر پر اس لئے اکتفا فرمایا ہے کہ طہارت نماز کیلئے مشروع ہوئی ہے اور جواز نماز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے تو طہارت کی نیت جواز نماز کی بھی نیت ہے “ اھ (ت)
اقول : بحر کے شروع کلام کا اقتضا یہ ہے کہ اصل نیت تطہیر ہے۔ اور اباحت نماز کی نیت اس لئے جائز ہے کہ اس کے ضمن میں وہ نیت تطہیر بھی پالی جاتی ہے جو اصل مقصود ہے۔ اور ان کے کلام کا آخری حصہ اس کے برعکس یہ فیصلہ دے رہا ہے کہ تطہیر کی نیت چونکہ اصل
(جواز نماز کی نیت) کا پتا دیتی ہے اس لئے اس پر اکتفا کیا۔ حضرت محقق نے فتح القدیر میں تجنیس کی عبارات نقل کرنے کے بعد یہ تحریر فرمایا ہے : “ دوسرے حضرات نے جواز نماز کی نیت کا جو اضافہ کیا ہے وہ اس عبارت کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز کی نیت نیت تطہر پر بھی مشتمل ہوگی “ اھ۔ (یعنی جب جواز نماز کی نیت ہوگی تو اس کے ضمن میں نیت تطہیر جو اصل ہے یہ بھی پالی جائے گی ۱۲ م الف) اور حلیہ میں ارادہ نماز کو اصل قرار دیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں : “ لفظ تیمم کا معنی قصد ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ شرعی الفاظ جن معانی کا اظہار کرتے ہیں انہی کا اعتبار ہو پھر مطلق قصد بالاجماع مراد نہیں اور آیت کا سیاق یہ بتاتا ہے کہ آب مطلق نہ ہونے کے وقت نماز کی ادائیگی کے لئے قصد صعید کا حکم ہے۔ تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا۔ اس لئے مامور شرعی یعنی تیمم بغیر اس کے نہ پایا جائے گا کہ نماز کے لئے اسے عمل میں لانے کی نیت ہویا ایسے کام کے لئے جو نماز کے قائم مقام ہویعنی کسی ایسی عبادت مقصودہ کیلئے جو بغیر طہارت جائز نہ ہو یقینا اسی لئے قدوری نے ذکر فرمایا ہے کہ “ صحیح مذہب یہ ہے کہ جب طہارت یا جواز نماز کی نیت کرے تو کافی ہوگی اس لئے کہ دونوں نیتوں میں سے ہر ایك ارادہ نماز کی نیت کے قائم مقام ہے کیوں کہ طہارت اسی کیلئے مشروع ہوئی اور اس کے جواز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے رفع حدث اور رفع جنابت کی نیت بھی اسی کے مثل ہے “ ۔ اھ (ت)
حلیہ
اقول : صاحب حلیہ کا کلام “ تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا الخ “ ۔ عیاں طور پر محل نظر ہے۔ اس لئے کہ بدائع کے حوالہ سے ہم پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ تیمم کا حکم خلاف قیاس وارد ہے۔ خود حلیہ میں بھی شروع فصل میں لکھا ہے کہ “ التعبد ورد بمسحھما علی الاعضاء المخصوصۃ یعنی بر خلاف قیاس بطور عبادت اعضائے مخصوصہ پر ان دونوں کے مسح کا حکم وارد ہوا ہے “ اب یہ وارد ہونے والا حکم اگر ارادہ نماز سے مقید ہوتا تو کسی غیر نماز جیسے مسجد میں داخل ہونا جنابت والے کا قرآن پڑھنا بے وضو شخص کا مصحف چھونا کسی کام کیلئے تیمم جائز ہی نہ ہوتا اور یہ اجماع کے خلاف ہے اور یہ افعال ہر جہت سے معنی نماز میں داخل نہیں ہیں کہ بطور دلالت انہیں نماز سے لاحق کردیا جائے۔ خصوصا جب کہ صاحب حلیہ نماز کے قائم مقام فعل کو ایسی عبادت مقصودہ میں محصور قرار دے رہے ہیں جو بغیر طہارت صحیح نہیں ہوتی بلکہ میرے نزدیك صحیح یہ ہے کہ الله سبحانہ وتعالی نے ہماری تطہیر کیلئے آسمان سے پاك پانی اتارا۔ اور وضو وغسل میں اسے استعمال کرنے کا ہمیں حکم دیا۔ خاص ادائے نماز کیلئے نہیں بلکہ ہر اس کام کیلئے جس میں طہارت مطلوب ہو خواہ وہ بجائے خود مقصود ہو یا نہ ہو۔ پھر فرمایا : “ فلم تجدوا مآء “ ای کافیا لطھرکم (فتیمموا) لتطھیرکم (صعیدا طیبا) یعنی تم اپنی طہارت کیلئے کافی پانی نہ پاؤ اپنے کو پاك کرنے کیلئے
پاکیزہ روئے زمین کا قصد کرو۔ تو اصل وہی نیت
تطہیر ہے جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا۔ اور اسی نیت پر ہر ایك کام کا مدار ہے۔ اسی لئے امام برہان الدین مرغینانی نے تجنیس میں اسی پر اکتفا کیا۔ اور یہاں جو تطہیر مقصود ہے وہ یہی نجاست حکمیہ کا دور کرنا ہے۔ اسی کو میں نے اپنی تعریف میں لیا ہے۔ تو خدا کا شکر ہے کہ میرے دل میں اسی کا القا فرمایا اور میرے قلم پر وہی جاری کیا جو محققین ائمہ کرام کے نزدیك امر محقق ہے۔ اور ساری خوبیاں احسان وانعام کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
بقی ان یقال این التطھیر وازالۃ النجاسۃ فی الصورتین الاخیر تین اذلوطھر وزالت لجازلہ کل شیئ۔
اقول : بل ولکن(۱) فی حق مانوی ولولا ذلك کیف عــہ حلت لہ تلك الصلاۃ ودخول المسجد جنبا بذلك التیمم ولاغرو فی اعتبارھا زائلۃ فی حق بعض الاشیاء دون بعض فماھی الا حکمیۃ تثبت باعتبار الشرع وتنتفی بعدمہ ونری الحقیقۃ تزول فی حق انسان دون اخر ولاجل دون غیرہ کما تقدم فی صدر الرسالۃ وقدمرھھنا عن البدائع انہ
یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ آخری دو (نویں دسویں) صورتوں میں تطہیر اور ازالہ نجاست کہاں اس لئے کہ اگر وہ پاك ہوجاتا اور نجاست دور ہوجاتی تو اس کیلئے سب کچھ جائز ہوجاتا۔
جواب (اقول) : کیوں نہیں۔ تطہیر اور ازالہ نجاست ہے مگر اسی عمل کے حق میں جس کی نیت کی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کیلئے اس تیمم سے نماز کیسے جائز ہوجاتی اور بحالت جنابت مسجد میں داخل ہونا کیسے جائز ہوجاتا اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کچھ چیزوں کے حق میں یہ اعتبار نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ نجاست نجاست حکمیہ ہی تو ہے جس کا ثبوت وانتفاء شریعت کے اعتبار اور عدم اعتبار سے ہی ہوتا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ نجاست حقیقیہ کا بھی یہ حال ہے کہ کسی انسان کے حق میں زائل ہوجاتی ہے اور
عــہ کلام فی المشروطات بالطھارۃ ومن قولہ اقول وقد تقدم کلام فی غیرھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہاں سے ان امور کے بارے میں کلام ہے جن میں طہارت کی شرط ہے۔ اور آنے والے “ اقول الخ “ سے ان کے علاوہ امور سے متعلق کلام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : وقد تقدم قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین تیمم لرد السلام لم یمنعنی ان ارد علیك السلام الا انی لم اکن علی طھر فارشد ان التیمم لرد السلام یجعل التیمم طاھرا فی حقہ مع ان السلام لایحتاج الی الطھارۃ فاذا اعتبر مطھرا فیما لیست الطھارۃ ضروریۃ لہ لعدم الماء حکما ففی عدمہ حقیقۃ اولی فمالاحل لہ الابالطھارۃ اجدر واحری وماابد المحقق فی الفتح من احتمال کونہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مایصح معہ التیمم ثم یرد السلام اذا صار طاھرا اھ ردہ فی البحر بان المذھب ان التیمم للسلام صحیح وان التجویز المذکور خلاف الظاھر
کسی کے حق میں نہیں۔ یونہی کسی امر کے لئے زائل قرار پاتی ہے کسی کے لئے نہیں۔ جیسا کہ شروع رسالہ میں گزر چکا۔ اور یہاں بدائع کے حوالہ سے گزرا کہ یہ تیمم اسی کام کیلئے طہارت بنے گا جس کیلئے اسے عمل میں لایا دوسرے کیلئے نہیں اھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں ہے۔ اور شامی میں ہے : “ صرف اس عمل کیلئے طہارت بنے گا جس کی نیت کی ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد مبارك بیان ہوچکا ہے کہ جواب سلام کے لئے جب تیمم کیا تو فرمایا تھا : “ لم یمنعنی ان ارد علیك السلام “ (مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے صرف یہ بات مانع تھی کہ میں باطہارت نہ تھا) اس فرمان سے یہ ہدایت حاصل ہوئی کہ جواب سلام کی غرض سے ہونے والاتیمم تیمم کرنے والے کو جواب سلام کے حق میں طاہر بنادیتا ہے حالانکہ سلام کیلئے طہارت کی ضرورت نہیں تو جب یہ تیمم اس عمل میں جس کیلئے طہارت ضروری نہیں پانی کے عدم حکمی کی وجہ سے مطہر مانا گیا ہے تو عدم حقیقی کی صورت میں تو بدرجہ اولی مطہر ہوگا اور وہ عمل جو بغیر طہارت جائز ہی نہیں ہوتا اس کیلئے تو اور زیادہ مناسب وبہتر طریقہ پر مطہر ثابت ہوگا۔ حضرت محقق نے فتح القدیر میں یہ احتمال ظاہر فرمایا ہے کہ
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۸
سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۴۷
فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۴
اقول : ویلزم علی ھذا انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان عادما للماء حال التیمم کماحملہ علیہ الامام النووی فی شرح مسلم وھو فی غایۃ البعد اشد البعد لان الواقعۃ کانت بالمدینۃ الکریمۃ فصدر الحدیث مررجل فی سکۃ من السکك فسلم علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فلم یرد علیہ حتی اذاکاد الرجل ان یتواری فی السکۃ ضرب بیدیہ علی الحائط الحدیث
بل فی الصحیحین اقبل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من نحوبئر فلقیہ رجل فسلم علیہ فلم یرد علیہ حتی اقبل علی جدار فمسح وجھہ ویدیہ ثم رد علیہ السلام اھ وبئر جمل موضع بالمدینۃ الکریمۃ علی صاحبھا والہ افضل صلاۃ وسلام۔
“ ہوسکتا ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کسی ایسے امر کی نیت کی ہو جس کے ساتھ تیمم درست ہوتا ہے پھر جب طاہر ہوگئے تو سلام کا جواب دیا ہو “ اھ لیکن البحرالرائق میں اس احتمال کو ان الفاظ میں رد کردیا ہے کہ “ مذہب یہ ہے کہ سلام کے لئے تیمم درست اور صحیح ہے۔ اور احتمال مذکور خلاف ظاہر ہے جیسا کہ عیاں ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : اس احتمال کی بنیاد پر یہ بھی لازم آئے گا کہ بحالت تیمم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی دسترس میں پانی نہ تھا جیسا کہ شرح مسلم میں اسی پر امام نووی نے محمول کیا ہے حالانکہ یہ بعید ہی نہیں انتہائی بعید ہے اس لئے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے۔ ابتدائے حدیث کے الفاظ یہ ہیں : “ گلیوں میں سے ایك گلی میں ایك آدمی گزرا جس نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سلام کیا تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جواب نہ دیا یہاں تك کہ جب وہ گلی سے اوجھل ہونے کے قریب تھا تو سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دیوار پر دونوں ہاتھ مارے “ الحدیث۔ بلکہ صحیحین میں تو یہ صراحت ہے کہ “ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبئر جمل کی سمت سے تشریف لارہے تھے ایك شخص سے ملاقات ہوگئی اس نے سلام کیا حضور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جواب نہ دیا یہاں تك کہ ایك دیوار کے پاس آکر چہرے اور ہاتھوں پرتیمم کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا “ اھ۔ اور بئر جمل خود مدینہ منورہ میں ایك مقام ہے۔ صاحب مدینہ اور ان کی آل پر بہتر درود وسلام۔ (ت)
شرح مسلم للنووی مع المسلم باب التیمم قدیمی کتب خانیہ کراچی ۱ / ۱۶۱
سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۴۷
صحیح للمسلم باب التیمم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۱
__________________
المطر السعید علی نبت جنس الصعید ۱۳۳۵ھ
جنس صعید کی نبات پرباران مسعود (ت)
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
سیدنا امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك ہر اس چیز سے کہ جنس ارض سے ہو تیمم رواہے جبکہ غیرجنس سے مغلوب نہ ہو اور اس کے غیر سے ہمارے جمیع ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك روانہیں لہذا جنس ارض کی تحدید وتعدید درکار۔ اس میں چار۴ مقام ہیں :
مقام اول تحدید۔
اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی اعماق التنقیح والتحقیق (میں کہتاہوں اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے اور اسی کی مدد سے تنقیح وتحقیق کی گہرائیوں تك رسائی ہے۔ ت) علمائے کرام نے بیان جنس ارض میں ان آثار سے کہ اجسام میں نار سے پیداہوتے ہیں پانچ لفظ ذکرفرمائے ہیں :
(۱) احتراق (۲) ترمد
(۳) لین (۴) ذوبان
(۵) انطباع
اولا ان کے معانی اور ان کی باہم نسبتوں کابیان پھر کلمات علما میں جن مختلف صورتوں پران کاورود ہوا اس کاذکر پھربیانات پرجواشکال ہیں ان کا ایراد پھر بتوفقیہ تعالی بقدرضرورت تنقیح بالغ وتحقیق بازغ وتبیین مقاصد ودفع ایرادات وتکمیل تحدید وابانت افادات کریں وبالله التوفیق۔
احتراق : جلنا امثال مطعومات میں اس کا اطلاق اس صورت پرآتاہے کہ شے اثر نار سے کلا یابعضا فاسدوخارج عن المقاصد ہوجائے کھاناپکنے کواحتراق نہ کہیں گے بلکہ طبخ ونضج وادراك۔ ان کے غیرمیں کبھی آگ سے مجرد تأثرقوی کواحتراق کہتے ہیں اگرچہ اس سے اجزاومقاصد شے برقرار رہیں جیسے زمین سوختہ کہ اثر نار سے بشدت ہوکرسیاہ ہوگئی درمختار میں ارض محترقہ کامسئلہ ذکرفرمایا کہ اس سے تیمم جائز ہے۔ طحطاوی و شامی نے کہا :
اذا حرق ترابہا من غیرمخالط لہ حتی صارت سوداء جازلان المتغیر لون التراب لاذاتہ ۔
جب زمین کی مٹی کسی اورملنے والی چیز کے بغیر اس حد تك جلادی گئی ہوکہ سیاہ بن گئی ہو تو اس سے تیمم ہوسکتاہے اس لئے کہ اس سے محض مٹی کے رنگ میں تغیر آیاہے حقیقت اورذات میں تبدیلی نہیں(ت)
بلکہ ایسی اشیاء میں کبھی مقصود کے لئے مہیا ہوجانے کو جسے مطعومات میں پك جاناکہتے تھے احتراق بولتے ہیں اسی باب سے ہے احراق احجار وتکلیس یعنی ان کاچونابنانا۔
ترمد : راکھ ہوجانا
اقول : احتراق(۱) کی چار۴صورتیں ہیں : انتفا انطفا انتقاص کہ دو۲قسم ہوجائے گا۔
انتفا یہ کہ شے جل کر بالکل فناہوجائے جیسے رال گندھک نوشادر۔
انطفا یہ کہ بعد عمل ناراس کے سب اجزاء برقرار رہیں یہ احتراق ارض ہے اگروہاں خارج سے پانی کی کوئی نم تھی کہ خشك ہوگئی تووہ کوئی جزء زمین نہ تھی۔
انتقاص یہ کہ نار اس کے اجزاء رطبہ یابسہ میں تفریق کردے اور جسم کاحصہ باقی رہے۔ اس صورت میں اگررطوبات بہت قلیل تھیں عمل نار سے حجم جسم میں فرق نہ آیانہ پہلے سے بہت ضعیف ہوگیا تویہ تکلیس احجارہے ورنہ ترمد۔ اس میں اگررطوبات کثیرہ سب فناہونے سے پہلے آگ بجھ گئی کہ آئندہ بوجہ بقائے رطوبت دوبارہ جلنے کی صلاحیت رہی توفحم انکشت کولاہے ورنہ رماد خاستر راکھ۔ اس میں غالبا اجزاء بکھرجاتے ہیں یاچھوئے سے بکھر جائیں گے کہ آگ بالکل تفریفق اتصال کرچکی والعیاذ بالله تعالی منہا (الله تعالی کی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ ت) محاورہ عامہ میں اکثر اسی کو رماد کہتے ہیں۔
اقول : اس میں کلا یا بعضا عــہ۱ بقائے جسم شرط ہے بھڑك ہوکرفناہوجانانرم ہونانہیں نیز یہ بھی لازم کہ اگرچہ گرہ قدرے سست ضرور ہوئی کہ پہلی سی باہم گرفت وصلابت نہ رہی مگر عــہ۲ جسم کہ منجمد تھا اپنے انجماد پررہے نہ یہ کہ عــہ۳ پانی ہوکربہہ جائے بہہ جانے کونرم پڑنا نہ کہیں گے۔
ذوبان : پگھل جانا۔
اقول : یہ وہ صورت ہے کہ اجزائے عــہ۴موجودہ کی گرہ قریب انحلال ہے نہ توپوری کھل گئی کہ اثرنار سے ان میں کے رطبہ یابسہ کو چھوڑکراڑجائیں نہ وہ گرفت رہی کہ جسم کی مٹھی اگرچہ نرم پڑگئی ہوبندھی رہے جوصورت تکلیس احجار میں تھی لہذا یہ اجزائے رطبہ فراق چاہ کراڑناچاہتے ہیں کہ آگ کی گرمی اسی کی مقتضی اور گرہ بہت سست ہوگئی لیکن اجزائے یابسہ انہیں نہیں چھوڑتے کہ ہنز تماسك باقی ہے اس کشمکش میں روانی توہوئی مگرمع بقائے اتصال زمین ہی پررہی اس نے صورت سیلان پیداکی۔
انطباع : یہ لفظ اگرچہ عربی ہے مگرزبان عرب پرنہیں نہ ان سے کبھی منقول ہوا ولہذا قاموس محیط حتی کہ تاج العروس کے مستدرکات تك اس کاپتانہیں ہاں فقہائے کرام نے اس کااستعمال فرمایا جس کا پہلا سراغ امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہتك چلتاہے شيخ الاسلام غزینی اس کے معنی فرمائے پارہ پارہ ونرم ہونا۔ طحطاوی علی الدرالمختار و ردالمختارمیں ہے : قولہ ولا بمنطبع ھومایقطع
عــہ۱ : یہ تعمیم اس لئے کہ فنائے بعض اجزا جس طرح تکلیس وترمد میں ہے لین باقی کے منافی نہیں۔ (م)
عــہ۲ : یعنی وہی جس قدربعد احتراق باقی ہے کل خواہ بعض ۱۲منہ (م)
عــہ۳ : اس کے بعد بحمدالله تعالی ہم نے شرح مقاصدمیں دیکھا کے عدم سیلان کولین میں شرط فرمایا۔
حیث قال اللین کیفیۃ تقتضی قبول الغمزالی الباطن ویکون للشیئ بھا قوام غیرسیال ۱۲منہ غفرلہ (م)
ان کے الفاظ یہ ہیں : لین (نرمی) ایسی کیفیت ہے جواندر کی جانب دباؤ قبول کرلینے کی مقتضی ہوتی ہے اور اس کیفیت کی وجہ سے شے کاایك غیرسیال قوام ہوتاہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
عــہ۴ : احتراز ہے ان اجزاسے کہ جل کرارگئے کہ ان کی گرہ ضرور کھل گئی ۱۲مہ غفرلہ(م)
اقول : اس سے تویہ ظاہر کہ لین معنی انطباع میں داخل اور اس کاجز ہے لیکن ان سے پہلے علامہ مولی خسرو عــہ نے انطباع کوخود لین سے تفسیر فرمایا جس سے روشن کہ دونوں ایك چیزہیں
غرر ودرر میں ہے (وھولاینطبع) ای لایلین (یعنی نرم نہ ہو۔ ت)
علامہ ابن امیرالحاج حلبی نے جنس ارض میں نفی اطباع ولین دوجگہ لکھ کرغیرجنس میں فقط لین کانام لیا۔ حلیہ میں ہے :
قال مشایخنا جنس الارض مالایحترق بالنار فیصیر رمادا ومالایلین ولاینطبع ویدخل فیما لایلین ولاینطبع ولایحترق الیاقوت ومااحترق بالنار او لان بہا فلیس من جنس الارض ۔
ہمارے مشائخ نے فرمایا جنس ارض وہ ہے جو آگ سے جل کر راکھ نہ ہوجائے اور جونرم نہ ہو اور منبع نہ ہو۔ یاقوت بھی انہی چیزوں میں داخل ہے جو نہ نرم ہوتی ہیں نہ منطبع ہوتی ہیں نہ جلتی ہیں۔ اور جو آگ سے جل جائے یا اس سے نرم ہوجائے وہ جنس ارض سے نہیں۔ (ت)
یہ اس عینیت وجزئیت اور ان کے علاوہ لزوم کوبھی محتمل یعنی لین لازم انطباع ہوکہ جب کہہ دیا کہ جو آگ پرنرم پڑے جنس ارض نہیں اس سے خود ہی معلوم ہوا کہ جو منطبع ہو جنس ارض نہیں کہ تینوں تقدیروں پرہرمنطبع میں لین ضرور ہوگا اور اس سے نفی جنسیت کرچکے مگرصدرکلام میں لین پرانطباع کاعطف ہے اور اسی طرح شرح نقایہ برجندی میں زادالفقہاء سے ہے : یلین وینطبع (نرم اور منطبع ہو۔ ت) یہ عینیت کی تضعیف کرتاہے کہ عطف تفسیری میں معطوف زیادہ مشہور ومعروف چاہئے نہ کہ یہ بالعکس لین میں کیاخفا تھی کہ اسے تفسیر کیا اور کاہے سے انطباع سے جس کے معنی میں یہ کچھ خفاہے۔ باقی کتب کثیرہ مثل تحفۃ الفقہا و بدائع ملك العلماء و کافی و مستصفی و جوہرہ نیرہ و غنیہ و بحرو مسکین و ایضاح و ہندیہ میں اس کاعکس ہے۔ ینطبع ویلین (منطبع اور نرم ہو۔ ت) یہاں برتقدیر عینیت عطف تفسیری بے تکلف بنتاہے اور برتقدیر جزئیت ولزوم بعد انطباع ذکرلین لغو
عــہ : انہیں کااتباع اخی چلپی نے کیا کماسیأتی (جیسا آگے آئے گا۔ ت) ۱۲منہ غفرلہ (م)
دررالحکام شرح غررالاحکام باب التیمم مطبعۃ فی دارالسعادۃ احمدکامل الکائنۃ ۱ / ۳۱
حلیہ
شرح نقایۃ برجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
فتاوٰی ہندیۃ فصل اول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶
واقول : تحقیق یہ ہے کہ انطباع طبع سے ماخوذ ہے طبع بمعنی عمل وصنعت ہے۔ قاموس و تاج العروس میں ہے :
(و) الطبع ابتداء صنعۃ الشیئ یقال طبع الطباع (السیف) اوالسنان صاغہ (و) السکاك (الدرھم) سکہ (و) طبع (الجرۃ من الطین عملہا )
طبع __ کسی چیز کے بنانے کی ابتداء __ کہاجاتاہے طبع الطباع السیف اوالسنان (ڈھالنے والے نے تلوار یانیزہ ڈھالا یعنی بنایا) اور السکاك الدرھم یعنی سکہ ساز نے درہم بنایا۔ اور طبع الجرۃ من الطین یعنی مٹی سے گھڑابنایا۔ (ت)
توانطباع بمعنی قبول صنعت ہے یعنی شے کاقابل صنعت ہوجانا کہ وہ جس طرح گھڑناچاہے گھڑسکے جس سانچے میں ڈھالناچاہے ڈھل سکے اور یہ نہ ہوگا مگربعد لین ونرمی تولین نہ اس کاعین ہے نہ جز بلکہ اس کی علت اور گھڑنے کی صورت میں اسے لازم ہے جیسے سونے چاندی لوہے کاآگ سے نرم ہوکرہرقسم کی گھڑائی کے قابل ہوجانا اور ڈھالنے کی صورت میں ذوبان اس کی علت اور اسے لازم ہے جیسے سونے چاندی کوچرخ دے کر روپیہ اشرفی اینٹ بنانا مغرب۸ میں ہے :
قول شمس الائمۃ السرخسی مایذوب و ینطبع ای یقبل الطبع وھذا جائز قیاسا وان لم نسمعہ ۔
شمس الائمہ سرخسی کی عبارت ہے : مایذوب وینطبع یعنی جوپگھلے اور ڈھلائی قبول کرے۔ قیاسا یہ جائز ہے اگرچہ ہم نے اسے نہ سنا۔ (ت)
اقول : عند التحقیق کلام شیخ الاسلام تمرتاشی کابھی یہی مفاد۔ پرظاہرکہ بالفعل پارہ پارہ ہوجانا مراد نہیں بلکہ اس کی قابلالیت اور وہ دوطورپرہوتی ہے ایك یہ کہ چیز سخت ہو کہ ضرب سے بکھرجائے جیسے کھنگریہ انطباع (پارہ پارہ کیاجائے۔ ت) اور یہ نہ ہوگا مگربصورت لین ولہذا ویلین (اورنرم پڑے۔ ت) اضافہ فرمایا کہ قابلیت صنعت بوجہ لین پر دلالت کرے والله الموفق (اور الله توفیق دینے والا ہے۔ ت) شاید یہی نکتہ ہے
تاج العروس فصل الطاء من باب العین احیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۴۳۸
المغرب
تنبیہ : ہماری تقریر سے واضح ہوا کہ مٹی بھی منطبع ہوتی ہے ابھی قاموس سے گزرا طبع الجرۃ من الطین (مٹی سے گھڑابنایا۔ ت) مگریہاں مراد وہ ہے جس کی صلاحیت آگ سے نرم ہوکرپیداہوئی ہو ولہذا فتح القدیر میں فرمایا : اذا حرق لاینطبع (جب جلایاجائے تومنطبع نہ ہو۔ ت) مراقی الفلاح میں ہے : ینطبع بالاحراق (جلانے سے منطبع ہو۔ ت)عامہ علمانے کہ یہاں منطبع مطلق چھوڑاہے اس سے یہی منطبع بالنارمراد ہے جس طرح لین وذوبان کوبھی اکثر نے مطلق رکھا اور مراد وہی ہے کہ نار سے ہو ورنہ پانی میں مٹی بھی گلتی پگھلتی ہے۔
بیان نسب : احتراق وترمد میں نسب اوپرگزری کہ ترمد اس سے خاص اور اسی کی چارصورتوں سے ایك صورت ہے۔ رہے باقی تین اقول : (میں کہتاہوں۔ ت) ان میں لین وذوبان ان معانی پرکہ ہم نے تقریر کئے خودمتباید ہیں مگریہاں کلام ان کی صلاحیت میں ہے کہ جو اس کے صالح ہو جنس ارض سے نہیں بسب صلاحیت لین دونوں سے عام ہے جو ذائب ہوگا پہلے نرم ہی ہوکرذائب ہوگا یونہی سخت چیز میں گھڑنے کی صلاحیت نرمی ہی سے آئے گی اور جوآگ سے نرم ہوسکے یہ ضرورنہیں کہ بہہ بھی سکے یاگھڑنے ڈھالنے کے بھی قابل ہوسکے جیسے چونے کاپتھر وغیرہ احجارمکلسہ اور ذوبان وانطباع میں عموم وخصوص من وجہ ہے سوناچاندی ذائب بھی ہیں اور منطبع بھی اورجماہواگھی ذائب ہے منطبع نہیں اور شکر کاقوام منطبع ہے ذائب نہیں چھوٹے بتاسے اور مختلف پیمانوں کے بڑے اور رنگ برنگ صورتوں تصویروں کے کھلونے بنتے ہیں آنچ سے ہی قوام ان انطباعوں کے قابل ہوتاہے مگرآگ سے بہے گا نہیں جل جائے گا۔ ہاں جوچیز آگ پرصابرہونہ فناہو نہ راکھ جیسے فلزات بظاہروہاں انطباع وذوبان پرہوگی حتی کہ فولاد میں اگرچہ بتدابیر کمافی شرحی عــہ المواقف والمقاصد
عــہ : فان قیل الحدید لایذوب وان کان یلین قلنا یمکن اذابتہ بالحیلۃ اھ شرح المواقف۔ الذوبان فی غیرالحدید ظاھرا مافی الحدید فیکون بالحیلۃ۱ھ شرح المقاصد ۱۲منہ غفرلہ(م)
اگریہ کہاجائے کہ لوہاپگھلتانہیں اگرچہ نرم ہوجاتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لوہابھی فی الجملہ کسی تدبیر سے پگھلایاجاسکتاہے۱ھ شرح مواقف۔ لوہے کے علاوہ میں توپگھلنا ظاہرہے رہالوہاتواس میں بھی تدبیرسے ہوسکتاہے ۱ھ شرح المقاصد۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
فتح القدیر ، باب التیمّم ، نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲
مراقی الفلاح مع الطحطاوی باب التیمم مطبعۃ ازہریۃ مصر ص۶۹
شرح المواقف القسم الرابع ۷ / ۱۷۳
شرح المقاصد المبحث الاول ۱ / ۳۷۳
بیان تنوع کلمات علماء واشکالات: اوصاف خمسہ مذکورہ کے عدم سے جنس ارض یاوجود سے اس کے غیر کی پہچان بتانے میں کلمات علماچودہ۱۴ وجوہ پر آئے : (۱) بعض نے صرف انطباع لیا کہ جس میں یہ نہیں وہ جنس ارض ہے۔
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے : ذکرالجلابی ان جنس الارض کل جزء من لاینبع ۔ جلابی نے ذکرکیا ہے کہ جنس ارض ہروہ جز ء ہے جومنطبع نہ ہو۔ (ت)
اقول : یہ ظاہر البطلان(۱) ہے کہ لکڑی کپڑے ناج ہزاروں چیزوں پرصادق۔
فان قلت قد اخرجہا بقولہ کل جزء منہ ای من الارض ذکرالکنایۃ تسامحااوباعتبار المذکور۔
اقول : اولا ضاع قولہ لا ینطبع فلیس جزء منہا لینطبع بالنار۔
وثانیا : یعود حاصلہ ان جنس الارض کل جزمنہا وھذا کتعریف شیئ بنفسہ فانما الشان فی معرفۃ ان ای شیئ من اجزائھا۔
اگریہ اعتراض ہو کہ انہوں نے بکل جزء منہ ج(یعنی ہرجزء زمین) کہہ کر ان سب چیزوں کوخارج کردیاہے اور منہا کی بجائے منہ مذکر کی ضمیر تسامحا یامذکورکااعتبار کرکے لائے ہیں۔
اقول : اولا : یہ ہو توان کا قول “ لاینطبع “ (منطبع نہ ہو) بے کار ہوجائے گا اس لئے کہ زمین کاکوئی جزء ایسانہیں جوآگ سے مطبع ہو۔ جنس زمین زمین کاہرجزہے اور یہ گویا کہ شیئ کی تعریف خود اسی شے سے کرناہے اس لئے کہ یہاں تویہی جاننا مقصود ہے کہ کون سی شے زمین کاجزہے۔ (ت)
(۲)صرف ترمد کہ جوچیز جل کرراکھ نہ ہوجنس ارض ہے نافع شرح قدوری میں ہے : جنس الارض مااذا احترق لایصیر مادا (جنس زمین وہ ہے جو جل کرراکھ نہ ہو۔ ت)
نافع شرح قدوری
(۳) انطباع وترمد کہ جو منطبع یاخاکستر ہو جنس ارض سے نہیں فتح القدیرمیں ہے :
قیل ما کان بحیث اذاحرق بالنار لاینطبع ولایترمد فھو من اجزاء الارض ۱ھ ۔
اقول : ولایرید الترییف فقد اقرہ وفرع علیہ۔
کہاگیا جوایسا ہوکہ آگے سے جلایا جائے تونہ منبع ہونہ راکھ ہوتووہ زمین کاجز ہے۔ ۱ھ
اقول : (قیل “ کہاگیا “ سے اس معنی کو ذکرکرکے) اس کی خرابی وکمزوری بتانامقصود نہیں کیوں کہ انہوں نے اس قول کوبرقراررکھا ہے اور اس پرتفریع بھی کی ہے۔ (ت)
جامع المضمرات پھر جامع الرموز میں ہے :
جنس الارض مما لایحترق فیصیر رمادا اوینطبع ۔
جنس زمین وہ ہے جو جل کرراکھ یامنطبع نہ ہو۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
الضابطۃ ان کل شیئ یصیر رمادااوینطبع بالاحراق لایجوز بہ التیمم ولاجاز ۔
ضابطہ یہ ہے کہ ہروہ چیز جو جلانے سے راکھ ہوجائے یامنطبع ہوجائے اس سے تیمم جائزنہیں اور ایسی نہ ہوتو جائز ہے۔ (ت)
تنویرالابصارمیں ہے :
بمطھر من جنس الارض فلایجوز بمنطبع ومترمد ومعاون ۔
جنس زمین کی کسی پاك کرنے والی چیز سے (تیمم ہوگا) تومنطبع ہونے والی اور راکھ ہونے والی چیز اور معدنوں سے جائزنہیں۔ (ت)
جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان (ایران) ا / ۶۹
مراقی الفلاح باب التیمم مطبعہ ازہریہ مصر ص ۶۸
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵ تا ۱۷۶
قیل کل ما یحترق بالنار فیصررمادا اوینطبع اویلین فلیس من جنس الارض ۔
کہاگیا ہروہ چیز جو آگ سے جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع یانرم ہو وہ جنس زمین سے نہیں۔ (ت)
اقول : جب مجرد۱ لین کافی تواضافہ انطباع بے کار کہ انطباع بے لین نامتصور۔ لاجرم اس کامفاد عبارت چہارم سے زائد نہیں۔
(۶) علامہ ابن امیرالحاج حلبی نے جانب جنس میں مثل عنایہ ترمدولین وانطباع لیے کہ جس میں یہ نہ ہوں وہ جنس ارض سے ہے اور جانب غیرمیں احتراق ولین کہ جس میں ان سے کوئی ہوغیرجنس ہے۔ وقدتقدمت عبارت حلیتہ (ان کی کتاب “ حلیہ “ کی عبارت گزرچکی۔ ت)
اقول : جملہ ثانیہ بلکہ ایك جگہ اولی کے بیان میں بھی ذکراحتراق پراقتصار کایہ عذر واضح ہے کہ مطلق اسی مقید ترمد پرمحمول مگرثانیہ میں ترك ذکرانطباع معین کررہاہے کہ مجرد لین بھی جنس ارض سے اخراج کوبس ہے تویہاں بھی مثل عنایہ ذکر انطباع ضائع اور عبارت عبارت چہارم کی طرف راجع۔
عــہ : وقال بعدہ کالذھب والفضۃ والحدیدد وغیرھا مما ینطبع ویلین بالنار اھ وذلك ماقدمنا عنہا عندبیان معنی الانطباع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس کے بعد فرمایا : جیسے سونا چاندی لوہا وغیرہ ایسی چیز جوآگ سے منطبع اور نرم ہو۱ھ یہ وہی ہے جوغنیہ کے حوالہ سے ہم نے انطباع کامعنی بیان کرتے ہوئے پہلے ذکرکیا۱۲ منہ غفرلہ(ت)
العنایۃ مع فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۷۶
مایحترق بالنار ویصیر رمادااویلین و ینطبع فلیس من جنس الارض وما عداھما من جنسھا ۔
ہروہ چیز جوآگ سے جل جائے اور راکھ ہوجائے یانرم اور منطبع ہوجائے وہ جنس زمین سے نہیں اور ان دونوں کے ماسوا جنس زمین سے ہیں۔ (ت)
اور اکثرنے انطباع ولین۔ بدائع امام ملك العلمامیں ہے :
کل مایحترق فیصیر رمادا او ینطبع ویلین فلیس من جنس الارض وماکان بخلاف ذلك فہومن جنسہا ۔
ہروہ چیز جو جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع اور نرم ہوجائے وہ جنس زمین سے نہیں اور جو اس کے برخلاف ہو وہ جنس زمین سے ہے۔ (ت)
یونہی ہندیہ میں بالفاظہ لے کرمقرر رکھا بعینہ یہی الفاظ البحرالرائق میں امام ابوالبرکات نسفی کی مستصفی سے ہیں غیران فی اخرھا وماعداذلك فہو من جنس الارض ۔ (فرق یہ ہے کہ اس کے آخر میں “ وماعداذلك فہومن جنس الارض “ ہے۔ معنی وہی ہے۔ ت) ایضاح علامہ وزیر میں تحفۃ الفقہا امام اجل علاء الدین سمرقندی سے ہے :
لقانون الفارق بین جنس الارض وغیرھا ان کل مایحترق فیصیر رمادا او ینطبع ویلین فلیس من جنس الارض ۔
جنس زمین اور اس کے علاوہ میں فرق وامتیاز کاقاعدہ یہ ہے کہ جو بھی جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع اور نرم ہوجائے تووہ جنس زمین سے نہیں۔ (ت)
جوہرہ نیرہ میں ہے :
ھو مااذا طبع لاینطبع ولایلین واذا احرق لایصیر رمادا ۔
جنس زمین وہ ہے کہ ڈھالاجائے تونہ ڈھلے اور نہ نرم ہو اورجب جلایاجائے توراکھ نہ ہو۔ (ت)
بدائع الصنائع فصل مایتیمم بہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۳
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
الجوہرۃ النیّرہ باب التیمم مکتبہ امدادہ ملتان ۱ / ۲۵
فاقول : اول صراحۃ باطل ہم روشن آئے کہ لین وانطباع متحدنہیں معہذا بحال تقدیم لین یہ عطف تفسیری معکوس ہوگا بہرحال اب یہ عبارات بھی جانب چہارم عود کریں گی۔
دوم پرلین لغورہا کہ انطباع بے لین متصور نہیں بلکہ بحال تقدیم انطباع اس باطل کاایہام ہا کہ کبھی نطباع بے لین بھی ہوتا ہے لہذا اجتماع لین سے مشروط کیا اور بعدف تنقیح حاصل صرف اتنا ہوا کہ ترمد ہویاانطباع اورعبارات کے لیے عبارت سوم کی طرف ارجاع۔
سوم پرذکرانطباع فضول رہا کہ مجردلین کافی اور وہ انطباع کولازم یہ پھرعبارت چہارم کی طرف عود کرگیا۔
(۹) علامہ شیخی نادہ رومی نے ان تین میں لین کی جگہ ذوبان لیا اور وہی ایك شق ترمد اور دوسری شق ذوبان وانطباع۔
قدم منھما الانطباع وفی کل شمس عــہالائمۃ السرخسی یذوب وینطبع کمامرعن المغرب۔
اقول : ولایختلفان ھھنا انہوں نے ان دونوں سے انطباع کوپہلے رکھا ہے اور شمس الائمہ سرخسی کے کلام میں “ یذوب وینطبع “ (پگھلے اور منطبع ہو) ہے جیسا کہ مغرب کے حوالہ سے گزرا۔ (ت)
اقول : یہ دونوں یہاں مختلف ہیں کیونکہ
عــہ : ومثلہ فی الخانیۃ وفی خزانۃ المفتین عن الظھیریۃ لایجوز التیمم بکل مایذوب وینطبع اھ ۱۲منہ غفرلہ (م)
اس کے مثل خانیہ میں ہے اور خزانہ المفتین میں ظہیریہ کے حوالے سے یہ الفاظ ہیں کہ تیمم ہراس چیز سے جائز نہیں جوپگھلے اور منطبع ہو ۱۲منہ غفرلہ (ت)
خزانۃ المفتین فصل فی التیمم قلمی نسخہ ۱ / ۱۲
دونوں میں عموم من وجہ ہے۔ (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
کل شیئ یحترق ویصیر رمادا لیس من جنس الارض وکذلك کل شیئ ینطبع ویذوب ۔
ہروہ چیز جوجل جائے اور راکھ ہوجائے وہ جنس زمین سے نہیں اور ایسے ہی ہروہ چیز جو منطبع ہو اور پگھلے۔ (ت)
اقول : ۔ یہاں بھی بدستور تین احتمال اور تینوں پراشکال۔ اول : ذوبان وانطباع ایك ہوں توحاصل ترمد وذوبان ہوگا۔
اقول : مگر اتحاد باطل کماعلمت (جیسا کہ معلوم ہوا۔ ت)
دوم : دونوں کااجتماع شرط ہوتو حاصل یہ کہ غیرجنس ارض وہ ہے جوراکھ ہوسکے یاانطباع وذوبان دونوں کی صالح ہو۔
سوم : ضعیف واجید اعنی جس میں ترمد یاذوبان یاانطباع ہوجنس ارض نہیں۔
اقول : ان دونوں پرنصوص توآگے آتے ہیں ان شاء الله تعالی اور ثالث کاضعف وبعد یوں روشن کہ غیر جنس ارض کے لیے دو قانون بنائے ایك میں ترمد رکھا دوسرے میں انطباع وذوبان کوبحرف واو جمع کیا تومتبادریہی ہے کہ یہ دونوں قانون واحد میں ہیں۔
(۱۰) امام فخرالملۃ والدین زیلعی نے بالکل مثل نہم فرمایا صرف غیرجنس کاایك اور قانون بڑھایا کہ جسے زمین کھالے یعنی ایك مدت پرکہ ہرشے کہ مناسب مختلف ہوتی ہے اس میں اثرکرتے ہوئے خاك کردے۔ تبیین الحقائق میں ہے :
الفاصل بینھما کل شیئ یحترق بالنار ویصیر رماد الیس من جنس الارض وکذا کل شیئ ینطبع ویذوب بالنار وکل شیئ تاکلہ الارض لیس من جنسہا ۱ھ واثرہ الفاضل اخی چلپی بلفظۃ قیل مقر اوقال فی اخرہ ھذازبدۃ کلام الزیلعی اھ فقد(۱) یوھم من لم یراجع التبیین انہ
دونوں کے درمیان فرق وامتیازیوں ہوتاہے کہ ہروہ چیز جو آگ سے جل جائے اور راکھ ہوجائے وہ جنس زمین سے نہیں ایسے ہی ہروہ چیز جوآگ سے منطبع ہو اور پگھل جائے اور ہروہ چیز جسے زمین کھاجائے وہ جنس زمین سے نہیں۱ھ۔
یہ عبارت لفظ “ قیل “ سے فاضل اخی چلپی نقل کرکے بر قراررکھی اور اس کے آخر میں لکھا کہ یہ کلام زیلعی کاخلاصہ ہے ۱ھ اس سے تبیین زیلعی کی طرف مراجعت کرنے والے
تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۹
ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
کویہ وہم ہوتاہے کہ اس میں بھی یہ کلام لفظ قیل کے ساتھ ہوگا حالانکہ ایسا نہیں۔ (ت)
اقول : یہ قانون تازہ بجائے خود صحیح ہے مگر معرفت جنس وغیرجنس کوکافی نہیں کہ اس کا عکس کلی نہیں کہ جو غیرجنس ارض ہو اسے زمین کھالے زمین سونے چاندی کو بھی نہیں کھاتی بہرحال اس ہمارے مبحث پراثرنہیں اس کے حاصلات اور ان پراشکالات بعینہا مانند نہم ہیں۔
(۱۱) فاضل چلپی نے بالکل دہم کااتباع کیا مگرلین بجائے انطباع لیا کہ وکل شیئ یلین ویذوب بھا الخ اور ہروہ چیز جوآگ سے نرم ہو اور پگھل جائے الخ۔ ت) اور اسی کو حاصل کلام تبیین ٹھہرایا کما مر(جیسا کہ گذرا۔ ت)
اقول : یہ ہرگز۱ اس کاحاصل نہیں لین وانطباع میں فرق عظیم ہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ ت) ان کو یہ شبہ اتباع درر سے لگا اگرچہ دونوں فاضل ہمعصراعیان قرن تاسع سے ہیں مگر ان کی کتاب دررسے اٹھارہ برس بعد ہے تصنیف۲ درر ۸۸۳ھ میں ختم ہوئی اور ذخیرۃ العقبی ۹۰۱ھ میں ہے اور اس کے خاتمہ میں سطریں کی سطریں خاتمہ دررسے ماخوذ ہیں۔ ہاں لین وانطباع کی تبدیل نے اسے کلام تبیین سے یوں بھی جدا کردیا کہ اس میں تین احتمال تھے اس میں احتمال اتحاد کی گنجائش نہیں کہ لین وذوبان میں فرق بدیہی ہے۔
رہے وہ اول جمع اقول : توذکر لین لغوکہ لازم ذوبان ہے اور حاصل حاصل اول عبارت نہم ہوگا دوم تردید۔ اقول : توذکرذوبان لغو کہ مجردلین کافی ہے اور اب حاصل عبارت چہارم کی طرف عود کرے گا۔
(۱۲) امام جلیل ابوالبرکات نسفی نے ایك شق احتراق لی اور دوسری انطباع ولین کافی میں ہے :
بطاھر من جنس الارض لابما ینطبع ویلین اویحترق ۔
جنس زمین کی کسی پاك چیز سے۔ ایسی چیز سے نہیں جومنطبع اور نرم ہوجائے یاجل جائے۔ (ت)
اقول : بدستورتین احتمال ہیں اور تینوں پراشکال۔ اتحاد خود باطل ہے اور اس پرحاصل لین واحتراق اور جمع یعنی احتراق ہویا انطباع ولین کااجتماع اس میں لین لغو اور حاصل احتراق یاانطباع اور تردید پرانطباع بے کار اور حاصل مثل احتمال اول۔
کافی
جنس الارض ما لایحترق ولاینطبع وجلمالیس من جنس الارض ما یحترق او ینطبع و یلین ۔
جنس زمین وہ ہے جو نہ جلے اور نہ منطبع ہو اور جو جنس زمین سے نہیں یہ وہ ہے جوجل جائے یامنطبع اورنرم ہوجائے۔ (ت)
اقول : یہ حقیقت امرپرصریح متناقض ہے جملہ اولی کامفاد کہ مجردلین منافی ارضیت نہیں اور ثانیہ کی تصریح کہ منافی ہے لاجرم یہاں عطف تفسیری متعین جوخود باطل اور احتمال اول عبارت ۱۲ کی طرف مائل۔
(۱۴) اقول : یہ سب باوصف اس قدر اختلافات کے ایك امر پر متفق تھے کہ یہ اوصاف جنس وغیر جنس میں فارق ہیں علامہ مولی خسرو نے غرر ودرر متن وشرح دونوں میں وہ روش اختیار فرماء کہ انہیں فارق ہی نہ مانابلکہ جواز تیمم کے لئے ان کو جنس ارض کی قید جانا یعنی جنس ارض میں خاص اس شے سے تیمم جائز ہے جوآگ سے جل کر نہ نرم پڑے نہ راکھ ہو یہ حاصل متن ہے شرح میں فرمایا جوچیز جنس ارض سے نہیں یاانطباع خواہ ترمد رکھتی ہے اس سے تیمم روا نہیں تومتن وشرح نے صاف بتایا کہ خود جنس ارض دونوں قسم کی ہوتی ہے ایك وہ کہ آگ سے نرم یاراکھ ہوتی ہے دوسری نہیں۔ متن کی عبارت یہ ہے :
علی طاھر من جنس الارض وھو لاینطبع ولایترمد بالاحتراق ۔
جنس زمین کی پاك چیز پرجب کہ وہ جلنے سے نہ منطبع ہو اور نہ راکھ ہو۔ (ت)
شرح میں فرمایا :
وذلك لان الصعید اسم لوجہ الارض باجماع اھل اللغۃ فلایتناول مالیس من جنسھا اوینطبع اویترمد ۔
اوریہ اس لئے کہ صعید باجماع اہل لغت روئے زمین کانام ہے تو یہ لفظ اس چیز کوشامل نہ ہوگا جوجنس زمین سے نہیں یامنطبع یاراکھ ہونے والی ہے۔ (ت)
پرظاہر۱ کہ یہ طریقہ تمام سلف وخلف مشایخ وعلماسے جداہے۔
وحاول العلامۃ الشرنبلالی ردہ الی
علامہ شرنبلالی نے اسے موافقت کی جانب پھیرنے
دررالحکام شرح غرر الاحکام باب التیمم مطبوعہ کاملیہ بیروت ۱ / ۳۱
دررالحکام شرح غرر الاحکام باب التیمم مطبوعہ کاملیہ بیروت ۱ / ۳۱
اقول : وما(۱) ذا یفعل بالمتن فانہ لم یقل وھو مالابل قید جنس الارض بجملۃ حالیۃ والاحوال شروط ثم قولہ لانہ عطف خاص وان کان حقا علی مالحققہ ان شاء الله لکنہ مخالف لمسلکہم ومسلك نفسہ المار عنہ فی العبارۃ الثالثۃ۔
کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا ہے “ شرح کی عبارت میں او(یا) کے لفظ سے عطف تسامح ہے۔ یہ عطف واو سے ہوناچاہئے کیوں کہ یہ عام پرخاص کاعطف ہے ۱ھ(ت)۔ اقول : متن کوکیاکریں گے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ وھو مالاینطبع الخ۔ (اور وہ (جنس زمین) وہ ہے جومنطبع نہ ہو الخ) بلکہ اس میں جنس زمین کوجملہ حالیہ سے مقید کیاہے اور حال شرط کی حیثیت رکھتاہے۔ پھر ان کایہ کہنا کہ یہ خاص کاعطف ہے اگرچہ بجائے خود حق ہے جیسا کہ ہم ان شاء الله تعالی اس کی تحقیق کریں گے لیکن یہ مصنفین بالاکے موقف اور خود علامہ شرنبلالی کے موقف کے خلاف ہے جوان کے حوالہ سے عبارت سوم کے تحت بیان ہوا۔ (ت)
یہ عبارت اگرچہ جنس وغیرمیں فاضل بتانے سے جدارہی پھر بھی اتناحاصل دیا کہ لین وترمد مانع تیمم ہیں تو اس جملہ میں وہ عبارت چہارم کی شریك ہوئی۔
بالجملہ ہمارے بیان سے واضح ہوا کہ یہ چودہ ۱۴ عبارتیں اس وجہ سے کہ ۷ ۸ ۹ ۱۰ ۱۲ میں تین تین احتمال تھے اور ۱۱ میں دو۲ پچیس۲۵ عبارات ہوکران کاحاصل نوقولوں کی طرف رجوع کرگیا۔
(۱) غیرجنس ارض ہونے کامدار صرف انطباع
(۲) فقط ترمد
(۳) ترمد یاانطباع
(۴) ترمد یالین عــہ
(۵) ترمد یاذوبان
(۶) ترمد یااجتماع ذوبان وانطباع
(۷) ترمد یاذوبان یاانطباع
عــہ : غیردرر میں یہ بروجہ مناط لیاجائے گا اور دررمیں طرف ایك طرف سے کلیہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
(۹) احتراق یاانطباع
خاص خاص عبارات پر جو ان کے متعلق اشکالات تھے مذکور ہوئے اب اصل مبحث کے اشکال ذکرکریں وبالله التوفیق غیرجنس ارض ہونے کامناط سات قول اخیر میں کہ دو۲دو۲ یاتین۳ وصف پرمشتمل ہیں ان اوصاف میں سے کس وصف کاوجود ہے اور جنس ارج ہونے کامناط ہرقول کے ان سب اوصاف کاانتفا ہے یعنی ان میں سے ایك بھی ہو توجنس ارض نہیں اور اس سے تیمم ناجائز اور اصلا کوئی نہ ہوتو جنس ارض ہے اور تیمم جائز۔ اب اگرجنس ارض سے کوئی شے ایسی پائی جائے جس میں کسی قول کے اوصاف ملحوظ سے کوئی وصف پایاجاتاہو وہ اس قول کے مناط ارضیت کی جامعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاء جن کو اس مناط کاشامل ہوناچاہئے تھا اس سے خارج ہوگئیں اور اگرغیرجنس سے کوئی چیز ایسی ثابت ہوجس میں ایك قول کے اوصاف معتبرہ سے اصلا کوئی نہیں وہ اس قول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کااس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کا اس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقوض وہیں گزرے اور وہ دونوں قابل لحاظ بھی نہیں باقی یہاں ذکرکریں والله الموفق نقوض جمع میں کسی جنس ارض میں ایك وصف کاتحقق کافی ہے لہذا ہرقول پرجداکلام کرنے سے اوصاف کی تلخیص کرکے ہروصف پرکلام کافی ہوگا کہ وہ وصف جتنے اقوال وعبارات میں ہو اس کے نقض سب پروارد ہوں۔
انطباع پر نقوض اقول اولا کبریت کہ جب آگ سے ذائب کرکے کسی سانچے میں ڈال دیں یقینا سردہوکر اسی صورت پررہتی ہے خالص گندھك کے پیالے کٹوریاں گلاس بنتے ہیں ہمارے شہرمیں ایك صاحب بکثرت بناتے تھے جسے شبہ ہو وہ اب آزما دیکھے تو اس میں یقینا جس صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہواکہ قبول صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہوا کہ قبول صورت پر اسی نے مہیا کیا اگرچہ بقائے صورت بعد برودت ہے جیسے چھوٹے بڑے بتاسوں شکر کے کھلونوں سونے چاندی کی اینٹوں وغیرہا میں تولازم کہ گندھك جنس ارض سے نہ ہو اور اس سے تیمم ناروا ہو حالانکہ کتب معتمدہ میں اس کا جنس ارض سے ہونا اور اس سے تیمم کاجواز مصرح ہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)
ثانیا : زرنیخ یہ بھی بلاشبہ آگ سے بہتی اور سرد ہوکرپھر متحجر ہوجاتی ہے تویقینا قابل انطباع ہے جس کاخود ہم نے تجربہ کیاغایت یہ کہ بہ نسبت کبریت کے زیادہ قوی آنچ چاہتی ہے۔
وھذا معنی قول ابن زکریا الرازی فی کتاب علل المعدن ثم ابن البیطار۔
کتاب علل المعادن میں ابن زکریا رازی پھر جامع میں ابن بیطار کی درج ذیل عبارت کایہی معنی ہے :
“ زرنیخ بھی اسی طرح بنتی ہے جیسے کبریت۔ فرق یہ ہے کہ زرنیخ میں سردثقیل تربخارات زیادہ ہوتے ہیں اور کبریت میں دخانی بخار زیادہ ہوتاہے اسی لئے زرنیخ اس طرح نہیں جلتی جیسے کبریت جلتی ہے اور آگ پرکبریت سے زیادہ ثقیل ثابت ہوتی اور دیرتك ٹھہرتی ہے “ ۔ (ت)
حالانکہ اس کاجنس ارض وصالح تیمم ہونا تو اس اعلی تواتر سے روشن جس میں اصلا محل ارتیاب نہیں کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)ترمد پرنقوض اقول اولا خزانۃ الفتاوی و حلیہ و جامع الرموز و درمختار میں تصریح ہے کہ پتھر کی راکھ سے تیمم جائز ہے۔
ونظم الدر لایجوز بتمرد الارماد الحجر فیجوز ۔
درمختار کی عبارت یہ ہے : “ راکھ بننے والی چیز سے تیمم جائز نہیں مگرپتھر کی راکھ مستثنی ہے اس سے جائز ہے “ ۔ (ت)
معلوم ہوا کہ پتھربھی راکھ ہوسکتاہے توجنس ارض کب رہا اور اس سے تیمم کیونکررواہوا۔
ثانیا : ترکستان میں ایك پتھرہوتاہے کہ لکڑی کی جگہ جلتاہے اس کی راکھ سے تیمم رواہے۔ حلیہ میں ہے :
فی خزانۃ الفتاوی قال العبد الضعیف ان کان الرماد من الحطب لایجوز و اکان من الحجر یجوز لانہ من الارض وقدرأیت فی بعض بلاد ترکستان کان حطبھم الحجر ۔
خزانۃ الفتاوی میں ہے : “ بندہ ضعیف کہتاہے راکھ اگرلکری کی ہوتوتیمم جائز نہیں اور اگرپتھر کی ہوتوجائز ہے کیونکہ وہ جنس زمین سے ہے اووور میں نے ترکستان کے بعض شہروں میں دیکھا کہ ان کے یہاں پتھر ہی کاایندھن ہوتاہے “ ۔ (ت)
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
حلیہ
ثالثا ورابعا : علامہ برجندی نے نورہ ومردارسنگ سے دونقض اور واردکیے کہ یہ جل کرراکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ جنس ارض سے ہیں۔ شرح نقایہ میں بعد نقل عبارت مارہ زاد الفقہا ہے :
ھذا یدل علی ان التیمم بالنورۃ و المردار سنج لایجوز فانہما یحترق بالنار ویصیران رماداوقد صرح قاضی خان انہ یجوز التیمم بھما الا ان یقال ان محترقہما لایسمی رمادا فی العرف ۔
اس سے پتاچلتاہے کہ نورہ اور مرداسنگ سے تیمم ناجائز ہے کیونکہ یہ دونوں آگ سے جل راکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ قاضی خان نے تصریح فرمائی ہے کہ ان دونوں سے تیمم جائز ہے مگر یہ کہاجاسکتاہے کہ عرف میں جلے ہوئے نورہ ومردارسنگ کوراکھ کے نام سے یاد نہیں کیاجاتا۔ (ت)
لین پرنقوض اقول اولا چونے کاپتھر اور جتنے احجار تکلیس کیے جاتے ہیں یقینا اپنی حالت اصلی سے صلابت میں کم ہوجاتے ہیں تکلیس کرتے ہی اس لئے ہیں کہ جو سخت جرم پس نہیں سکتا پسنے کے قابل ہوجائے۔
ثانیا : کبریت (اور) ثالثا زرنیخ ضرور آگ پرنرم ہوتی ہیں حالانکہ کتب میں بلاخلاف ان سے تیمم جائز لکھاہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)
ذوبان پرنقوض اقول : یہی کبریت اور زرنیخ دونوں اس پربھی نقض ہیں ان کی نرمی بہ جانے پر منتہی ہوتی ہے جیسا کہ مشاہدہ شاہد--- علاتفتازانی نے مقاصد و شرح مقاصد میں معدنیات کی پانچ قسمیں کیں۔ دوم ذائب مشتعل اور فرمایا : ذلك لکبریت والزرنیخ ۔ (وہ کبریت اور زرنیخ کی طرح ہے۔ ت)
احتراق پرنقوض اقول اولا وثانیا یہی گندھک ہڑتال ایسی جلتی ہیں کہ شعلہ دیتی ہیں۔
ثالثا : چ کہ اس کاپتھر جلانے ہی سے بنتی ہے۔
رابعا : مان و بدخشان میں ایك پتھر حجرالفتیلہ ہے کوٹنے سے روئی کی طرح نرم ہوجاتاہے اس کی بتی بناکر چراغ میں روشن کرتے ہیں تیل ڈالتے رہیں توایك بتی دوتین مہینے تك کفایت کرتی ہے ذکرہ فی المخزن وذکرہ فی تاج العروس فی مستدرکہ بعد باذش ان
شرح المقاصد ، المبحث الاول المعدنی ، دارالمعارف النعمانیہ لاہور ، ۱ / ۳۷۴
خامسا : شام میں ایك پتھر حجرالبحیرہ ہے آگ میں ڈالے سے لپٹ دیتاہے ۔ ذکرہ فی المحزن و التحفۃ (اسے مخزن اور تحفہ میں ذکرکیا۔ ت) سادسا : سنگ خزامی جزیرہ صقلبہ میں ایك پتھر ہے کہ آگ سے بھڑکتا اورپانی کاچھینٹا دینے سے اور زیادہ مشتعل ہوتاہے اور تیل سے بجھتاہے قالافیھما (مخزن و تحفہ میں ہی اسے بھی بتایاہے۔ ت)سابعا : ریل کاکوئلہ کہ پتھر ہے اور لکڑی ساجلتاہے۔ ثامنا : جلی ہوئی زمین کامسئلہ خود کتب معتمدہ مثل مختارات النوازل و قاضیخان و فتح و حلیہ و بحر و غیاثیہ و جواہرالاخلاطی و مراقی الفلاح و درمختار و ہندیہ وغیرہا میں مذکور کہ س سے تیمم رواہے کماسیأتی ان شاء الله تعالی (جیسا کہ اس کابیان آگے آئے گا ان شاء الله تعالی۔ ت)
تنبیہ : کبریت سے نقض پر علامہ سید ابوالسعود ازہری کو تنبہ ہوا اور عبارت مارئہ ملامسکین کی شرح میں فرمایا :
الظاھر ان ھذا اغلبی لاکلی فلایشکل بان البعض یحترق لاکبریت ۱ھ
اقول : (۱) بل الایراد لامردلہ عن ظاھر العبارۃ والعذر لایجدی لانھم بصدد اعطاء معرف لما یجوزبہ التیمم ومالافاذا کان شیئا یختلف ویتخلف
ظاہریہ ہے کہ حکم اکثری ہے کلی نہیں۔ اس لیے یہ اشکال نہ ہوگا کہ جنس زمین سے ایسی چیزیں بھی ہیں جوجلی جاتی ہیں جیسے کبریت ۱ھ (ت)
اقول : ظاہرعبارت پراعتراض واشکال توضرور وارد ہوگا اور عذر مذکورکرآمدنہ ہوگا اس لیے کہ جس چیز سے تیمم جائز ہے اور جس سے ناجائز ہے اس کی وہ حضرات ایك جامع ومانع تعریف کرناچاہتے ہیں توجب کوئی چیز اس ضابطہ سے مختلف یا
مخزن الادویہ فصل الحاء مع الجیم مطبوعہ نولکشور کانپور ص ۲۳۱
مخزن الادویہ فصل الحاء مع الجیم مطبوعہ نولکشور کانپور ص ۲۳۱
فتح المعین بحث جنس الارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱
اس سے جداومتخلف ہوگی توبجائے تعریف کے تخلیط وتغلیط لازم آئے گی۔ (ت)
نقوض منع۔ اقول : اگلے نقوض میں عبارت غرر و درر بھی شریك تھی کہ اس کا بھی اتناحاصل تھا کہ جس میں تردد یالین ہو اس سے تیمم جائز نہیں بلکہ اگرچہ جنس ارض سے ہو حالانکہ زرنیخ وکبریت وجص ورماد حجرونورہ ومردار سنج معدنی وارض محترقہ ومطلق حجر سے جواز تیمم عامہ معتمدات میں مصرح ہے کما سیأتی ان شاء الله تعالی کالحجر والزرنیخ (جنس زمین سےجیسے پتھر اور زرنیخ۔ ت)مگرنقوض منع اس پروارد نہیں کہ دوسری
جانب سے کلیہ نہ اس کامنطوق ہے نہ مفہوم۔
اب نقوض سنیے فاقول : منع پر نقض کثیر و و افرہیں یہاں بعض ذکر ہیں :
(۱) سانبھر (۲) پارا یہ سب اقوال پروارد ہیں کہ نہ آگ سے جلیں نہ گلیں نہ پگھلیں نہ نرم پڑیں نہ راکھ ہوں (۳) اولا (۴) پالا (۵) کل کابرف (۶) رال (۷) کافور (۸) زاج تین قول اول پر کہ نہ راکھ ہوں نہ آگ سے منطبع (۹) کیچڑ جس میں پانی غالب ہو(۱۰) پانی (۱۱) عرق (۱۲) عطر (۱۳) ماء الجبن (۱۴) دودھ (۱۵) بہتاگھی (۱۶) تیل (۱۷) گازوغیرہا اشیا کہ نہ آگ سے نرم ہوں نہ راکھ ہوں نہ ان میں سات قول پیشین پر (۱۸) جماہواگھی (۱۹) شکر کاقوام۔ قول ششم پرکہ نہ راکھ ہوں نہ ان میں ذوبان واطباع کااجتماع کماتقدم فی بیان النسب (جیسا کہ نسبتوں کے بیان میں گزرچکا۔ ت)
(۲۰) علامہ برجندی نے عبارت ہفتم پرخود راکھ سے نقض کیا شرح نقایہ میں عبارت زادالفقہاء نقل کرکے لکھا :
ھذا یدل علی ان التیمم بنفس الرماد یجوز وقد ذکرفی الخلاصۃ اجمعوا انہ لایجوز لکن ذکرفی النصاب قال ابوالقاسم یجوز وابونصر لاوبہ نأخذ ۔
اس سے پتاچلتاہے کہ خود راکھ سے تیمم جائز ہے حالانکہ خلاصہ میں ہے کہ اس پرعلماءکااجماع ہے کہ راکھ سے تیمم ناجائزہے۔ لیکن نصابمیں لکھا ہے کہ ابوالقاسم کہتے ہیں : جائز ہے۔ اور ابونصر کہتے ہیں ناجائز ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں۔ (ت)
اقول : بلکہ وہ سب اقوال پرنقض ہے کہ راکھ نہ آگ سے نرم پڑے نہ جلے نہ دوبارہ راکھ ہو۔
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
والله المستعان لکشف الران*والصلوۃ والسلام الاتمان*علی سید الانس والجان*والہ وصحبہ*وابنہ وحزبہ*فی کل حین وان*امین۔
اور الله تعالی ہی سے اس دشواری والتباس کے ازالہ کے لیے مدد طلی ہے اور کامل درود وسلام ہو انس وجن کے سردار اور ان کی آل اصحاب فرزند اور ان کی جماعت پرہرلمحہ ہرآن۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
استعانت توفیق بطلب تحقیق
اقول بعونہ عزوجل عبارات علماء کے اسالیب مختلفہ پراشکالات اور تعریفات کی جامعیت پرنقوض سب کاحل ان تین حرفوں میں ہے :
(۱) احتراق سے ترمد مقصود اور ایسے اطلاقوں کے اطلاق فقہا سے اکثرمعہود والہذاحلیہ نے ترمد لے کردوجگہ صرف احتراق کہا۔
(۲) رماد کے تین اطلاق ہیں :
ایك عامتر کہ صوراحتراق میں انتفاد وانطفا کے سوا سب کوشامل یعنی بقیہ جسم بعد زوال بعض باحتراق۔ باایں معنی احجار مکلسہ بھی اس میں داخل تذکرہ داؤد وانطاکی میں ہے :
(رماد) ھو مایبقی من الجسد بعد حرقہ ومنہ ماخص باسم فیذکر کالنورۃ والاسسفیداج وماخص باسم الرماد وھوالمذکورھنا ۔
رماد۔ کسی جسم کاوہ جز ہے جو اس کے جلنے کے بعد رہ جاتاہے اس میں سے بعض وہ چیزیں ہیں جن کا کوئی خاص نام پڑگیا ہو انہیں تواسی نام کے تحت ذکرکیاجائے گا جیسے نورہ اور اسفیداج اور بعض چیزیں وہ ہیں جن کو رماد ہی کانام دیا جاتاہے وہی یہاں مذکورہیں۔ (ت)
جامع عبدالله بن احمد مالقی اندلسی ابن البیطار میں جالینوس سے ہے :
الناس یعنون بہ الشیئ الذی یبقی من احتراق الخشب (الی ان قال) والنورۃ ایجا نوع من الرماد ۔
لوگوں کے نزدیك اس لفظ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جولکڑی كے جلنے كے بعد رہ جاتی ہے (یہاں تك کہ کہا) اور نورہ بھی رماد ہی کی ایك قسم ہے۔ (ت)
جامع ابن بیطار
تیسرا : خاص ترخاکسترکہ جسم کثیر الرطوبات اتناجلایاجائے کہ رطوبات سب فناہوجائیں اور جسم ریزہ ریزہ ہو یاہاتھ لگائے ہوجائے کہ رطوبت باعث اتصال وتماسك ہے یعنی اجزامیں باہم گرفت ہونا اور یبوست باعث تفتت وتشتت یعنی ریزہ ریزہ ومنتشر ہوناجیسے گندھا ہوا آٹا اور خشك۔ تاج العروس میں ہے :
الرماد دقاق الفحم من حراقۃ النار وما ھبامن الجمر فطار دقاقا اھ وفی القاموس الفحم الجمر الطا فی ۱ھ
اقول : اصاب فی جعل الرماد دقاقا وفی (۲) اضافتھا الی الفحم نظر فالفحم المدقوق لایسمی رمادا وانما ھو ما ذکرنا من اجزاء الجسم الیابسۃ المتفتتۃ بعد الاحراق التام۔
(رماد) آگ سے جلی ہوئی چیز کے کوئلے کے ریزے اورانگارے میں سے وہ جوغبار ہوکرریزہ ریزہ اڑے ۱ھ۔ اور قاموس میں ہے الفحم۔ بجھاہوا انگار(یعنی کوئلہ) ۱ھ۔ (ت)اقول : تاج العروس میں “ رماد “ ریزوں کو بنانا تودرست ہے مگرکوئلہ کی طرف اس کی اضافت محل نطرہے کیونکہ پسے ہوئے کوئلہ کورماد (راکھ) نہیں کہاجاتا۔ رماد وہی ہے جو ہم نے بتایا یعنی جسم کے وہ اجزا جو مکمل طور سے جلانے کے بعد خشك اور ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ (ت)
عرف عامہ میں رماد کازیادہ اطلاق اسی صورت اخیرہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ غالبا اس سے لکڑی کی راکھ مراد لیتے ہیں کما تقدم عن ابن البیطار عن جالینوس (جیسا کہ ابن بیطار سے
تاج العروس فصل الراء من باب الدال احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۷ ۳۵
القاموس المحیط باب المیم فصل الفاء مطبع مصطفی البابی مصر ۴ / ۱۶۰
(۳) لین ذوبان انطباع سب سے مراد وہ حالت ہے کہ آگ سے جسم منطرق میں پیداہوتی ہے منطرق وہ جسم کہ مطرقہ یعنی ہتھوڑے کی ضرب سے متفرق نہ ہوبلکہ بتدریج عمق میں دبتا اور عرض وطول میں پھیلتا جائے جیسے سونا چاندی تانباوغیرہا اجساد سبعہ۔ ظاہرہے کہ یہ آگ سے نرم ہوتے ہیں یہ لین ہوا اور ضرب مطرقہ سے متعفتت نہیں ہوتے بلکہ جیسی گھرٹ منظور ہوقبول کرتے ہیں یہ انطباع ہو اور زیادہ آنچ دی جائے توپگھل جاتے ہیں یہ ذوبان ہوا۔ رہایہ کہ لین وذوبان وانطباع تواوراجسام میں بھی ہوتے ہیں پھرخاص اجساد منطرقہ کی کیاخصوصیت اور اس تخصیص پر کیا حجت۔
اقول : اس کافوری جواب تویہ ہے کہ یہ تینوں محض اوصاف ہیں صلابت وجمود وامتناع کے مقابل ان سے ذات اجزائے جسم پرکوئی اثرنہیں بخلاف احتاق بمعنی فساد بعض کہ اکثروہی متبادرکہ اس میں نفس اجزاپراثرہے اور ترمد میں تو اور اظہر۔ علمائے کرام نے دو شقیں فرمائی ہیں :
ایك میں احتراق وترمد رکھا یہ وہ ہے جس میں خود بعض اجزا کاجل جانا فناہوجاناہے۔
دوسری میں لین ذوبان انطباع۔ تویہ وہ ہیں جن کاذات اجزا پر اثرنہیں یعنی تمام اجزا برقراررہیں اور جسم نرم ہوجائے گھڑنا قبول کرے یابہہ جائے یہ نہیں ہوتا مگرانہیں اجساد منطرقہ میں۔ غیرمنطرق میں جب آگ اتنا اثرکرے کہ اسے نرم کردے قابل عمل کردے گلا پگھلادے توضرور اس کی بعض رطوبتیں جلائے گی سب اجزا برقرار نہ رہیں گے بخلاف منطرقات کہ ان کی رطوبتیں بہہ جانے پر چرخ کھانے سے بھی کم نہیں ہوتیں۔ سہل سابالائی جواب تویہ ہے اور بتوفیقہ تعالی تحقیق انیق وتدقیق دقیق منظور ہو جو نہ صرف ان اوصاف ثلثہ بلکہ خمسہ میں ان معانی کا مرادہونا واضح کردے تووہ بعونہ تعالی استماع چند نکات سے ہے جوبفضلہ عزوجل قلب فقیر پرفائض ہوئے۔
نکتہ اولی ۱۔ اقول وبربی استعین (میں کہتاہوں اور اپنے رب ہی سے مدد کاطالب ہوں۔ ت) منطبع ہونے کو شے کاصرف صالح قبول صورت ہوناکافی نہیں ورنہ ہررطب حتی کہ پانی بھی منطبع ہوکہ سہولت تشکل لازمہ رطوبت ہے بلکہ اس کے ساتھ حفظ صورت بھی درکار۔ قبول کو رطوبت چاہےئ اور حفظ کواجزا کاتماسک کہ جس صورت پرکردیاجائے قائم رہے یہ دونوں منشااگر شے میں خود موجود ہیں جب تووہ آپ ہی صالح انطباع ہے اور اگرایك ہے دوسرانہیں تووہ دوسرا جس سے پیداہو اس کاانطباع اس کی طرف منسوب ہوگا کہ اس نے اسے منبع کیامثلا شيئ متماسك الاجزا میں صلابت مانع قبول صورت ہے پانی نے اس قابل کیا جیسے چاك کی مٹی تووہ منطبع بالماء ہے یاآگ سے جیسے تپایا ہوا لوہا تومنطبع بالنار یانرم شے
ہاں شے کے منطبع بالنار کہلانے کو یہ ضرور نہیں کہ ہمیشہ اسی سے منطبع ہوبلکہ صرف اتناکافی کہ فی نفسہ ان میں ہو جو منطبع بالنار ہوسکتے ہیں اگرچہ کبھی منطبع بالغیر بھی ہوتوچرخ کھاکر سونے چاندی کاسانچے میں منطبع بالبرد ہونا انہیں اجساد منطبعہ بالنار سے خارج نہیں کرتا۔
تنبیہ : اب صلاحیت ذوبان وانطباع بالنار میں نسبت عموم من وجہ ایسے جرم کے ثبوت پرموقوف کہ آگ سے نرم ہوکر قابل شکل ہو اور ساتھ ہی فی نفسہ ہردی ہوئی صورت کاحفظ کرسکے اور آگ کتنا ہی عمل کرے اسے بہانہ سکے یہ حیز خفامیں ہے والله تعالی اعلم جب یہ نہ ہو ظاہرا ذوبان انطباع سے عام مطلقا ہے والعلم عند ذی الجلال بحقیقۃ کل حال (اور ہرحالت کی حقیقت کاعلم بزرگی وجلال والے ہی کوہے۔ ت)
نکتہ ثانیہ۲ : اقول : جسم کے اجزائے رطبہ ویابسہ سے مرکب ہو اس کا
قسم اول میں تین ۳ صورتیں ہیں :
(۱) جسم کے اجزائے یابسہ لطیف ہیں کہ آگ انہیں بھی رطبہ کے ساتھ اڑادے گی اس صورت میں تو جسم فنا ہوجائے گا جیسے رال گندھک نوشادر اسے انتفا یانفاد کہیے یہ بھك اڑجانے والے مادوں میں اکثرہوتاہے۔
(۲) اس میں اجزائے رطبہ بہ نسبت اجزائے ارض بہت کم ہیں جیسے۱ پتھر کہ اجزائے ارضیہ رقیقہ ہی سے بنتاہے اور انہیں کاحصہ کثیروغالب ہے لزج یعنی چپك دار رطوبتوں سے انہیں اتصال ہوا اور عمل حرارت سے یبوست آئی باربار یوں ہوکرلزوجت کے باعث اجزامیں کتنا ز آکرسخت جسم پیداہو جس کانام حجر ہے ازانجا کہ ترکیب شدید الاستحکام نہیں آگ تاحد تاثیراجزائے رطبہ کو جدا کرے گی اور وہ اکتناز کہ بوجہ (موجب تھا کم ہوکر جسم میں قدرے تخلخل آئے گا باقی تحجر بدستور رہے گا یہ صورت تکلیس احجار کی ہے۔
(۳) اجزائے رطبہ بھی بکثرت تھے آگ انہیں فنا کرکے ایك بڑاحصہ جسم کامعدوم کرے گی جو رہ گیا وہ رماد اور اس طرح جلنے کانام ترمد ہے ظاہر۲ ہے کہ ان تینوں صورتوں میں انطباع بالنار نہ ہوسکے گا اول میں توبدیہی کہ جس فناہی ہوگیا اور سوم میں بوجہ تفتت وتشتت حفظ صورت کی قوت باقی نہیں دوم میں وہ لین نہیں کہ قبول صورت کرے بوجہ صلابت عمل قلیل قبول نہ کرے گا اورضرب شدید سے متفتت ہوجائے گا۔ ہاں لین ان سب صورتوں میں ہوگا کہ گرہ نرم ہی ہوکرکھلتی ہے اور بعض صورتوں میں ذوبان بھی ہوگا جیسے گندھك پہلے نرم پڑتی پھر بہتی پھر فنا ہوجاتی ہے۔
قسم دوم میں دو صورتیں ہیں جن میں پہلی دو۲ ہوکر تین ہوجائیں گی۔
(۱) گرہ اس قدر شدید محکم ہو کہ آگ اسے سست بھی نہ کرسکے۔ یہاں اگرجسم پررطوبت غالب ہو آگ پر قائم ہی نہ رہے گا کہ متنافیین جمع نہیں ہوتے یہ سیماب ہے۔
اقول : اس کے قائم علی النار نہ ہونے کاسبب یہ ہے کہ آگ کافعل تصعید ہے یعنی رطوبات کو جانب آسمان پھینکنا ان رطوبتوں پربھی اس نے اپناکام کیا اور یبوستیں جدانہ ہوسکیں لہذا ساراجسم بقدر عمل حرارت یونہی گرہ بستہ اڑا اور اپنی حالت پربرقرار رہا بخلاف صورت اول قسم اول کہ وہاں بھی اگرچہ اجزائے یابسہ بوجہ لطافت ہمراہ رطبہ خود بھی اڑے مگر گرہ کشادہ منتشر لہذا جسم ہباء منثورہوگیا۔ اور اگررطوبت غالب نہیں تو جسم آگ سے صرف گرم ہوگا ترکیب اجزا پر کچھ اثرنہ پڑے گا جیسے لعل یاقوت ہیرا یاطلق بھی جسے ابرك کہتے ہیں
(۲)۱ آگ گرہ سست کرسکے مگرجسم میں دہنیت اس درجہ قوی ہوکہ کھلنے نہ دے جیسے سوناچاندی کہ آگ سے پانی ہوسکتے ہیں مگران کی رطوبت ویبوست جدانہیں ہوسکتی۔ ان میں نار کااثر اول لین ہوگا کہ نرم پڑ کر مطرقہ یعنی ہتھوڑے کی ضرب سے متاثر بھی ہوں گے اور اپنی شدت دہنیت کے باعث مجتمع بھی رہیں گے متفتت ومتفرق نہ ہوسکیں گے لاجرم عمق میں دبتے ہوئے عرض وطول میں بتدریج پھیلیں گے اسی کانام انطراق ہے یعنی زیرمطرقہ صابر ہونا اور صرف۲ یہی ایك صورت انطباع بالنار کی ہے حفظ صورت کامادہ خود ان کی ذات میں تھا صلابت مانع قبول صورت تھی آگ نے نرم کرکے اس کے قابل کردیا اور کار انطباع تمام ہوگیا۔ ان ۳ پرنار کااثر انتہائی ذوبان ہوگا کہ گرہ زیادہ سست ہوکراجزائے رطبہ اڑنا چاہیں اور بوجہ امتناع تفرق اجزائے یابسہ انہیں اڑنے نہ دیں گے لہذا صورت سیلان پیدا ہوگی جیسا کہ بیان ذوبان میں گزرا بلکہ اگراجزائے لطیفہ وکثیفہ قریب تعادل ہیں تو ان کی تکافی قوت اس حرکت سیلان کومستقیمہ بھی نہ ہونے دے گی بشکل مستدیرہ ظاہرہوگی اسی کانام دوران یاچرخ کھانا ہے جس طرح ذہب فضہ میں مشہور ہے۔
نکتہ ثالثہ۴ اقول : لین وذوبان کہ قسم دوم میں ہیں نار کے آثار اصلیہ ہیں اور انطباع ودوران ان کے توابع اور لین وذوبان کہ قسم اول میں ہیں آثار اصلیہ نہیں بلکہ تابع ہیں۔ تحقیق اس کی یہ ہے کہ نارکا اثر اصلی تصعید ہے یعنی جسم کو اوپر پھینکنا۔ قسم اول میں آگ اس پرقادر ہوئی خواہ سارے جرم کو لے گئی کہ نفاد ہے یارطوبت قلیلہ کو کہ تکلیس یاکثیرہ کو کہ ترمد تویہ آثار اصلیہ ہوئے اگرچہ ان کے ضمن میں لین و ذوبان پیدا ہوجائیں۔ قسم دوم میں بحال غلبہ رطوبت آگ تصعید کلی پرقادر ہوئے یہ خود اثراصلی ہے ورنہ صرف تسخین یعنی گرم کرسکی تویہاں اسی قدر اثراصلی ہوگا کہ آگ اس سے زیادہ نہیں کرسکتی ان دونوں صورتوں کو لین وذوبان سے علاقہ نہیں۔ رہیں قسم دوم کی اخیر دو صورتیں ان میں آگ کااثرہی یہی لین وذوبان ہیں کہ آگ یہاں اسی قدر پرقادر تویہ خود ہی آثار اصلیہ ہیں او ر انطباع وانطراق تابع لین کہ اس پرموقوف ہے
عــــــہ : دوبارہ ذوبان اس کاشاہد وہ بھی ہے کہ انطاکی نے تذکرہ میں زیر لفظ معدن تقسیم معدنیات میں کہا :
ان حفظت المادۃ بحیث یذوب فالمنطرقات الخ فقد جعل الذوبان من باب حفظ المادۃ وماھو الابقاء الاجزاء جمیعا رطبہا ویابسہا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اگرمادہ محفوظ رہے اس طرح کہ پگھل جائے تومنطرقات الخ اس عبارت میں پگھلنے کو حفظ مادہ کے باب سے قرار دیا اور یہ اس وقت ہوگا جب سارے خشك و تراجزاء باقی رہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(الحرارۃ فیہا قوۃ مصعدۃ) ای محرکۃ الی فق لانہا تحدث فی محلہا الخفۃ المقتضیۃ لذلك (فاذا اثرت (۱) فی جسم مرکب من اجزاء مختلفۃ باللطافۃ والکثافۃ ینفعل اللطیف منہ اسرع فیتابدر الی الصعود الالطف فالالطف دون الکثیف فیلزم منہ تفریق المختلفات ثم الاجزائ(۲)) بعد تفرقھا (تجمع بالطبع) الی ما یجانسہا لان طبائعہا تقتضی الاحرکۃ الی امکنتہا الطبعیۃ ولانضمام الی اصولہا الکلیۃ (فان الجنسیۃ علۃ الضم) کما اشتہر فی الالسنۃ (ھذا اذالم یکن الالتئام بین بسائط ذلك المرکب شدیدا) اما اذا اشتد الالتحام وقوی الترکیب فالنار لاتفرقہا فان کانت الاجزاء اللطیفۃ والکثیفۃ متقاربہ) فی الکمیۃ (کما فی الذھب افادتہ الحرارۃ سیلانا) وذوبانا (وکلما حاول الخفیف صعودا منعہ الثقیل فحدث وتجاذب وفیحدث دوران و ان غلب اللطیف جدا فیصعد
(حرارت کے اندر صعودپیداکرنے والی قوت پیداہوتی ہے) یعنی ایسی قوت جواوپر کی جانب حرکت پیداکرتی ہے اس لیے کہ آگ اپنے محل میں خفت وسبکساری پیداکردیتی ہے جواوپر جانے کی مقتضی ہوتی ہے (تو جب یہ کسی ایسے جسم میں اثرانداز ہو جو لطافت وکثافت میں اختلاف رکھنے والے اجزا سے مرکب ہو تو اس جسم کا لطیف جززیادہ جلد اثر پذیر ہوکر صعود کی جانب بڑھے گا پہلے لطیف توپھر جو لطیف ترہومگرکثیف میں یہ اثرپذیری نہ ہوگی جس کی وجہ سے ان مختلف اجزا کی تفریق اور جدائی لازم آئے گی۔ پھر یہ اجزا باہمی جداکے بعد (طبعا یکجاہوں گے) لطیف اپنے ہم جنس کے ساتھ۔ اس لیے کہ ان کی طبیعتیں ان کے مکان طبعی کی سمت حرکت اور ان کے اصول کلیہ سے انضمام اور ملاپ کی مقتضی ہوں گی(اس لیے کہ زبان زد ہے (یہ اس وقت ہوسکے گا جب اس مرکب کے بسیط اجزامیں شدید اتصال وپیوستگی نہ ہو۔ اگر سخت اتصال ہو اور ترکیب مضبوط ہو تو آگ ان اجزاکوجدا نہ کرسکے گی۔ تو اگرلطیف وکثیف اجزا مقدار میں قریب قریب ہوں جیسے سونے میں ہوتاہے تو حرارت اس میں بہاؤ اورپگھلاؤ پیداکردے گی
عــہ : قاضی بیضاوی نے بھی طوالع الانوارمیں اسی کااتباع کیا مگر نوع (۳)چہارم طلق والی کومطلق ذکرنہ کیا ۱۲منہ غفرلہ(م)
اور جب بھی ہلکا جزصعود چاہے گا بھاری جز اسے روك دے گا جس سے تجاذب اور باہمی کشاکش پیداہوگی تودوران(چرخ ہونے اور گول ہونے) کی صفت رونما ہوگی۔ اور اگرلطیف جز زیادہ غالب ہوگا توصعود وپاجائے گا اور کثیف کوبھی اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ لے جائے گا جیسے نوشادر میں ہوتا) اس لیے کہ اس میں جب آگ اثرکرتی ہے تو پوراہی اوپر چلا جاتاہے (یالطیف غالب نہ ہوگا) بلکہ کثف غالب ہوگا لیکن بہت زیادہ غالب نہ ہوگا(توحرارت اس میں نرمی پیدا کر دے گی جیسا کہ لوہے میں ہوتاہے۔ اوراگرکثیف بہت غالب ہوتو حرارت سے متاثر ہی نہ ہوگا) نہ پگھلے گانہ نرم ہوگا(جیسے طلق یعنی ابرک) کہ اسے نرم کرنے کے لیے کچھ خاص تدبیریں کرنی پڑتی ہیں جو اکسیربنانے والے عمل میں لاتے ہیں کہ ایسی چیز کی مدد لیتے ہیں جو اسے زیادہ شعلہ زن کردے جیسے کبریت اور زرنیخ کی مدد لیتے ہیں۔ اسی لیے کہاجاتاہے : جو طلق(ابرک) کی گرہ کھول لے وہ مخلوق سے بے نیازہوجاتاہے۔ (ت)
شرح مقاصد عــہ میں ہے :
الخاصۃ الاولیۃ للحرارۃ احداث
حرارت کی پہلی خاصیت یہ ہے کہ وہ خفت
عــہ : بعینہ اسی طرح شرح تجریدمیں ہے انہوں نے حرف بحرف علامہ کااتباع کیا مگراطلق کے ساتھ ایك مثال نورہ اور بڑھائی۔
حیث قال وانکان غالبا جدا کما فی الطلق و النورۃ حدث مجرد سخونۃ واحتیج فی تلیینہ الی الاستعانۃ باعمال الخ
انہوں نے کہااوراگر بہت غالب جیسے طلق اور نورۃ میں تو صرف گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں کی ضرورت ہوگی الخ (ت)
اقول : (۱) یہ اضافہ غلط ہے نورہ میں ضرور لین آجاتاہے کہ تکلیس کی غرض ہی یہ ہے کمامر ۱۲منہ غفرلہ (م)
اور اوپرلے جانے والامیدان پیداکرتی ہے پھراثرقبول کرنے والے اجسام کے اختلاف کے لحاظ سے جمع تفریق تبخیر وغیرہ مختلف آثار اس پرمترتب ہوتے ہیں۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ حرارت سے متاثر ہونے والاجسم اگربسیط ہوتوپہلے اس کی کیفیت میں تغیر ہوگا پھر یہ اسے جوہر کی تبدیلی تك پہنچائے گا۔ او اگرمرکب ہوتواگر اس کے بسیط اجزا کاباہمی اتصال شدید نہ ہو۔ اور یہ بھی مخفی نہیں کہ جوجتنا زیادہ لطیف ہوتاہے اتناہی زیادہ وہ صعود قبول کرتاہے۔ تومختلف اجزاکی تفریق اور جدائی لازم آئے گی اور اس کے پیچھے ہرایك کابلحاظ اقتضائے طبیعت اپنے ہم شکل کے ساتھ انضمام بھی ہوگا۔ جمع متشاکلات اور ہم شکلوں کی یکجائی کایہی معنی ہے۔ اوراگراتصال شدید ہوتواگرلطیف وکثیف قریب بہ اعتدال ہوں توقوی حرارت سے حرکت دور یہ (گردش وچرخ والی حرکت) پیداہوگی اس لیے کہ جب بھی لطیف اوپرچڑھنے کی طرف مائل ہوگاکثیف اسے پستی کی طرف کھینچے گا۔ ورنہ اگرغالب لطیف ہوتوبالکلیہ صعودپاجائے گا اور اوپر چلاجائے گا جیسے نوشادر۔ اور اگرغالب کثیف ہو تواگربہت غالب نہ ہوتو بہاؤ پیداہوگا جیسے رصاص میں ہوتاہے یانرمی پیداہوگی جیسے لوہے میں رونما ہوتی ہے۔ اوراگربہت غالب ہو جیسے طلق (ابرک) میں۔ تومحض گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں سے مددلینے کی ضرورت ہوگی۔ (ت)
(۱) معتدل جس میں اجزائے لطیفہ وکثیفہ تقریبا برابرہوں۔
(۲) لطیف بالغلبہ جس میں اجزائے لطیفہ بہت غالب ہوں۔
(۳) کثیف متقارب جس میں اجزائے کثیفہ غالب ہوں مگر نہ بشدت۔
(۴) کثیف متفاحش جس میں کثیفہ بشدت غالب ہوں یہان تك متفق ہیں مگرموافقت نے معتدل کاحکم سیلان رکھا اور دوران کواسی کاتابع کیا اور کثیف متقارب کاحکم صرف لین رکھا اور شرح مقاصد نے معتدل کاحکم فقط دوران لیا اور کثیف متقارب میں کہیں سیلان کہیں لین کیا۔
اقول : صحیح۱ یہ ہے کہ دوران نہیں مگرایك حالت سیلان جیسا کہ مواقف نے کیا اور سیلان۲ نوع اول سے ہرگزخاص نہیں سوم میں بھی یقینا ہے جیسا شرح مقاصد نے کہا اور لین اگربمعنی صلاحیت نرمی لیاجائے تودونوں کوعام اور اگربایں معنی ہوکہ صرف ناربلاحیلہ اس سے زیادہ عمل نہ کرے توبے شك صرف نوع سوم سے خاص جیسادونوں نے کیا۳ بلکہ اس کے بھی بعض افراد سے جیسا شرح مقاصدنے کہا اور پانچ عــہ اختلاف بیان فقیر کو ان بیانات اکابرسے ہوئے :
(۱) فقیرنے قسم اول یعنی ضعیف الترکیب میں تین۳ حکم رکھے نفاد تکلس ترمد۔ انہوں نے صرف ایك حکم لیا تفریق۔ یہ کوئی اختلاف نہیں کہ تینوں حکم اسی تفریق کی شکلیں ہیں۔
(۲)فقیرنے نفاد قسم اول میں رکھا اور بیشك اس میں۴ ہے جس پرکبریت شاہد اور کبریت کاضعیف الترکیب ہوناخودانہیں کتب سے ظاہر۔ شرح مواقف میں مباحث مشرقیہ امام رازی سے ہے :
الاجسام المعدنیۃ اماقویۃ الترکیب وح اماانیکون منطرق اما لغایۃ رطوبتہ کالزیبق اولغایۃ یبوستہ کالیاقوت ونظائرہ واما ضعیفۃ الترکیب فاما ان تنحل بالرطوبۃ وھو الذی یکون ملحی الجوھر کالزاج
معدنی اجسام یاتوقوی الترکیب ہوتے ہیں۔ اور اس وقت یاتومنطرق ہوتے ہیں۔ یہ اجسام سبعہ ہیں۔ یامنطرق نہیں ہوت۔ غایت رطوبت کی وجہ سے جیسے پارہ یاغایت یبوست کی وجہ سے جیسے یاقوت اور اس کے نظائر۔ یاضعیف الترکیب ہوتے ہیں پھریوتورطوبت کی
عــہ : پانچ گنائے ہیں ان میں پہلا حقیقۃ اختلاف نہیں چار رہے ان میں چوتھا دوہوکرپھرپانچ ہوگئے ۱۲منہ غفرلہ(م)
وجہ سے گھل جاتے ہیں۔ یہ وہ جو نمك والا جوہر رکھتے ہیں جیسے زاج نوشادر اور شب۔ یا گھلتے نہیں۔ یہ وہ ہیں جودہنی (روغن والی) ترکیب رکھتے ہیں جیسے کبریت اور زرنیخ۔ (ت)
شرح مقاصدمیں ہے :
الذائب المشتعل ھو الجسم الذی فیہ رطوبت دھنیۃ مع یبوسۃ غیرمستحکم المزاج ولذلك تقوی النارعلی تفریق رطبہ عن یابسہ وھوالاشتعال وذلك کالکبریت والزرنیخ ۔
شعلہ زن پگھلنے والاوہ جسم ہوتاہے جس میں یبوست کے ساتھ دہنی رطوبت ہومستحکم المزاج نہ ہو اسی لئے آگ اس کے رطب کویابس سے جداکرنے کی قوت رکھتی ہے اور یہی اشتعال ہے اس کی مثال کبریت اور زرنیخ ہے۔ (ت)
انہوں نے قسم دوم میں صعود بالکلیہ رکھا اور وہ فی نفسہ حق تھا وہ وہی ہے کہ بیان فقیرمیں عدم قرار علی النار سے تعبیر اور سیماب سے ممثل ہوا مگر ان اکابر عــہ نے نوشادر سے ممثل کیا جس سے ظاہر کہ صورت نفاد بھی اسی میں لیتے ہیں کہ نوشادر میں یہی واقع ہے۔
اقول : اولا۱ : استحکام ترکیب کے منافی کہ جب گرہ نہ کھلے گی جسم نفاد نہ پائے گا۔
ثانیا : نوشادر۲ ہرگزقوی الترکیب نہیں پھراسے اس قسم میں شمار فرمانا صریح سہو ہے اس کاضعیف الترکیب ہونا ابھی شرح مواقف سے بحوالہ امام رازی گزرا۔ اہل فن تصریح کرتے ہیں کہ وہ چار۳ معدنیات غیرکامل الصورۃ سے ہے کہ زاجات واملاح ونوشادرات وشبوب ہیں۔ تذکرہ داؤدمیں زیرشب ہے :
قال اھل التحقیق لمولدات التی لم تکمل صورھا من المعدنیات اربعۃ اشیاء شبوب واملاح ونوشادرات وزاجات ۔
اہل تحقیق کاقول ہے کہ وہ مولدات جن کی صورتیں کامل نہ ہوئیں معدنیات میں سے چارچیزیں ہیں : شب ملح نوشادر زاج۔ (ت)
عــہ : اصفہانی نے شرح طوالع الانوار میں لفظ کی مثال دی یہ بھی اسی نفاد کی طرف گئی ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
شرح المقاصد المبحث الاول المعدنی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۳۷۴
تذکرہ داؤد انطاکی (حرف الشین) شب کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۹
(i) شدید الاستحکام متفاحش رطب یہ سیماب ہے اور ان کی انواع اربعہ سے نوع دوم لطیف بالغلبہ۔
(ii) متفاحش یابس جیسے یاقوت وغیرہ یہ ان کی انواع سے نوع چہارم ہے۔
(iii) شدیدالاستحکام متقارب یہ ان کی نوع اول وسوم ہیں اور یونہی ۱ چاہئے تھا کہ اقسام بحسب احکام ہیں مواقف نے سیلان معتدل سے خاص جانا اور لین کثیف متقارب سے اور شرح مقاصدنے دوران معتدل سے خاص جانا اور سیلان ولین کثیف متقارب سے لہذا انہیں دوجداقسمیں کرنی ہوئیں اور۲ حق یہ کہ یہ تخصیصات نہیں لہذا فقیر نے ان کو ایك ہی نوع کیا ہاں اگر ثابت ہوکہ بعض چیزیں صرف نرم ہوتی ہیں بہتی نہیں توالبتہ لین وذوبان کے لیے دو۲نوعیں کرنی ہوں گی مگروہ ثابت نہیں۔
(۴) فقیرنے اول کاحکم عدم قرارعلی النار رکھا انہوں نے صعود کل کہا دوم کا ان کی طرح سکونت سوم میں لین وذوبان ودوران جمع کیے یہ مقاصد کے یوں موافق ہوا کہ اس کی وہ دونوں نوعیں اسی میں آگئیں اور یوں مخالف کہ دوران کو سیلان ہی کی فرح ٹھہرایا نہ کہ حکم مستقل اور مواقف کے یوں موافق ہوا کہ دوران وسیلان جداحکم نہ ٹھہرائے اور یوں مخالف کہ انہوں نے اس میں صرف لین رکھا۔
(۵) دونوں کتابوں نے اجزائے خفیفہ وثقیلہ کے تجاذب کوعلت دوران رکھا اور فقیرنے اسی کو نفس سیلان کی علت رکھا تھا اور ان کے مطالعہ کے بعدکہ دوران بڑھایا اس کی علت میں اس پرتکافی قوتین کواضافہ کیامتامل ۳ پر روشن کہ یہی اظہر وازہرہے اور باقی احکام میں صحت بحمدالله تعالی احکام فقیرکی طرف اوپربیان ہوچکی۔
ولله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ* والصلاۃ والسلام علی المولی الکریم والہ وصحبہ وذوبہ*
اور خدا ہی کے لیے حمد ہے کثیر پاکیزہ برکت والی حمد اور درودوسلام ہرکرم والے آقا ااور ان کی آل اصحاب اور ان کے سارے لوگوں پر۔ (ت)
بحمدہ تعالی ہمارے اس بیان سے ظاہرہواکہ انطباع بالنار اور لین وذوبان کہ آثار نار میں شمار ہوتے ہیں خود ہی صرف منطرقات میں ہوتے ہیں نہ یہ کہ ہوئے اور میں بھی ہیں اور ہم نے منطرقات کی تخصیص کرلی۔
نکتہ رابعہ : (ان آثار میں کیاکیا طبیعت زمین کے مخالف ہے) بحمدہ عزوجل ہمارے بیان سے روشن ہواکہ ان اجسا م میں باعتبار آثارنار جسم کی چھ۶ حالتیں ہیں تین۳ضعیف الترکیب میں نفاد نکلس ترمد۔ تین قوی الترکیب میں امتناع لین وذوبان۔
اقول : ان میں امتناع توظاہر ہے کہ طبیعت ارضیہ کے کچھ منافی نہیں بلکہ اس کامشہورخاصہ ہے یونہی نکلس بھی کہ اس جسم میں ہوتاہے جس میں اجزائے ارضیہ بکثرت اور رطوبات بہت کم ہیں اور (۴) اعتبار
التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض یعتبرفیہ الغلبۃ ۔ ۱ھ ونظم الدر لو الغلبۃ لتراب جازوالالاخانیۃ ومنہ علم حکم التساوی ۔
مٹی میں جب ایسی چیز مل جائے تو جنس ارض سے نہ ہو تو اس میں غلبہ کااعتبار ہوگا۱ھ۔ اور درمختارکی عبارت یہ ہے : اگرغلبہ مٹی کاہوتوتیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اسی سے اس صورت کابھی حکم معلوم ہوگیا جس میں دونوں برابربرابر ہوں۔ (ت)
اسی طرح نفادبھی منافی نہیں کہ یہاں نفاد یاانتفا بایں معنی نہیں کہ شے صفحہ ہستی سے معدوم ہوجائے بلکہ استحالہ جیسے پانی بھاپ ہوکراڑجاتاہے فناہوگیا یعنی برتن خالی کرگیا اب اس میں کچھ نہ رہا یاپانی پانی نہ رہا بخارات ہوگیا اور ۱ معلوم ہے کہ استحالہ چاروں عنصروں پرواردہوتاہے خواہ بلاواسطہ جیسے مجاور کی طرف کہ اجزائے ارضیہ پانی ہوجائیں پانی ہوا ہوا آگ یابالعکس یاایك واسطہ سے جیسے ارضیہ ہوا مائیہ آگ اور بالعکس پہلے میں پانی کی وساطت دوسرے میں ہواکی یادو۲واسطہ سے جیسے ارضیہ آگ اور بالعکس بوساطت آب وہوا توصورتیں بارہ ۱۲ ہیں کما فی شروح المقاصد والمواقف والتجوید للتفتازانی والسید والقرشجی(جیسا کہ علامہ تفتازانی کی شرح مقاصد سید شریف کی شرح مواقف اور قرشجی کی شرح تجرید میں ہے۔ ت) ہرعنصر کے لیے تین جن میں ارض بھی داخل بلکہ اجزائے۲ ارضہ بلاواسطہ بھی آگ ہوجاتے ہیں
وھو قضیۃ ما فی المواقف وغیرھا ینقلب کل الی الاخربعضہا بلاواسطۃ وھو کل عنصریشارك اخر فی کیفیۃ ویخالفہ فی کیفیۃ ۱ھ ملخصا فان الارض مع النارکذلك۔
یہی مواقف وغیرہ کی عبارت ذیل کامقتضی ہے : “ ہرعنصر دوسرے سے بدل جاتاہے بعض کی تبدیلی بلاواسطہ ہوتی ہے اور یہ ہروہ عنصر ہوتاہے جوایك کیفیت میں دوسرے عنصر کاشریك ہو اور دوسری کیفیت میں اس کے مخالف ہو۔ “ اھ اور نار کے ساتھ ساتھ ارض کاحال یہی ہے۔ ت)
(یبوست میں دونوں شریك ہیں اور حرارت وبرودت میں باہم مختلف ۱۲م۔ الف)
درالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۷
شرح المواقف المقصد الحادی عشرمن القسم الثالث مطبعۃ السعادۃ مصر ۷ / ۵۶۔ ۱۵۵
اور یہ مشاہدہ ہے چند سال ہوئے ضلع علی گڑھ میں ایك صاعقہ گرنا مسموع ہوا والعیاذبالله تعالی جس میں سخت کڑك تھی سرد ہونے پر دیکھا تولوہاتھا جب آگ بلاواسطہ خاك ہوجاتی ہے خاك بلاواسطہ آگ کیوں نہ ہوگی لاجرم حسین میبذی نے کہا :
صرحوا ان النار القویۃ تحیل الاجزاء الارضیۃ نارا ۔
لوگوں نے تصریح کی ہے کہ طاقتورآگ زمینی اجزاء کوآگ سے تبدیل کردیتی ہے۔ (ت)
یوں بلاواسطہ آٹھ استحالے ہوئے زمین برودت جاکرآگ یبوست جاکر پانی پانی رطوبت جاکر زمین برودت جاکرہوا ہوا حرارت جاکر پانی رطوبت جاکر آگ آگ یبوست جاکر ہوا حرارت جاکر زمین۔ فلاسفہ۱ بیچ کے چھ مانتے ہیں اول وآخر کے دو۲نہ ماننا تحکم ہے تویہ ارض کے لئے چوتھی صورت ہوئی کہ ابتداء آگ ہوجائے ہاں نہ رطوبات کثیرہ جزء ارض ہوتی ہیں جن پرترمد موقوف نہ دہنیت ماسکہ جس پرلین وذوبان توچھ۶ میں یہی تین منافی ارضیت ہوئے۔
وبعبارۃ اخری ان میں آثار نارپانچ ہیں کہ یا۱ کل جسم صاعد ہوجائے گا جوہردو۲قسم کی پہلی صورت کو شامل یا۳ بعض قلیل یا۴بعض کثیریااصلانہیں اور متحجر رہے گا کہ ضرب مطرقہ سے بکھرجائے یا۵ منطبع کہ اس کی ضرب سے متفرق نہ ہو اور بڑھے پھیلے اول منافی ارضیت نہیں کہ اجزاء ارضیہ آگ ہوکر سب صاعد ہوجائیں گے نہ دوم کہ بعض قلیل پراشتتمال ارضیت سے خارج نہیں کرتا نہ چہارم کہ یہ خوشان ارض ہے۔ ہاں سوم وپنجم کہ زندہ انطباع ہیں منافی ارض ہیں ولہذا علمائے کرام نے یہی اوصاف لیے جن کے ثبوت سے جنس ارض کاانتفاہو اورانتفاسے ثبوت ہو فلله درھم ماادق نظرھم (توخداہی کے لیے ان کی خوبی ہے۔ ان کی نظر کیا ہی دقیق ہے۔ ت) اوریہیں سے ظاہرہوا کہ ترمد جومنافی ارضیت ہے یہی بمعنی اوسط ہے نہ بمعنی اول شامل تکلیس کہ جنس ارض میں بھی حاصل یونہی احتراق کہ منافی ارضیت ہے یہی بمعنی ترمد ہے ورنہ بمعنی سخونت وتکلس ونفاد خود ارض میں موجود۔
المیبذی (فصل بسائط العنصریہ) انقلاب العناصر مطبع انوارمحمدی لکھنؤ ص۲۲۴
یوں ہی تحقیق ہونی چاہئے اور حسن توفیق پرحمد خدا ہی کی ہے اور بہتر درود کامل ترسلام ہونرمی والے نبی اور ان کی آل واصحاب پرجودین کے ستون اور تصدیق کے ارکان ہیں۔ (ت)
حل اشکالات وتطبیق عبارات : اشکالوں کااٹھانا اورعبارتون کامتفق کردکھانا۔
بحمدہ تعالی ہمارے ان بیانات سے الفاظ خمسہ کے معانی مقصودہ اور ان کی نسبتیں ظاہرہوگئیں کہ احتراق۱ عین ترمد ہے اور ترمد۲ بمعنی اوسط اور ۳لین وانطباع وذوبان سب کاحاصل انطراق صلاحیت۴ لین وانطباع متلازم فی الوجود ہیں اور ان کے مشتق متساوی فی الصدق اور ۵صلوح ذوبان بھی ظاہرا ان دونوں کالازم وملزوم اور ان کااس سے مطلقا عموم بھی ایك احتمال غیرمعلوم۔ اب بارہ۱۲ عبارات اعنی باستثنائے دو۲پیشین اول موردایراد اور دوم باطل ہے سب کاحاصل دو۲وصفوں کااعتبار ہوا ترمد وانطراق پانچوں وصف انہیں دو۲ کی طرف راجع ہوگئے اور بفضلہ تعالی اتنے فائدے ظاہرہوئے :
(۱) انطباع کی لین سے تفسیر کہ درر نے کی صحیح اور تفسیر بالمساوی ہے۔
(۲)تقطیع ولین سے اس کی تفسیر کہ منح نے کی اس کے خلاف نہیں صرف اصل مفہوم انطباع یعنی قابلیت عمل کااس میں اظہار فرمادیا ونعم فعل (اور کیاہی اچھاکیا۔ ت)
(۳) یلین وینطبع خواہ ینطبع ویلین ہرایك میں ایضاح کے لئے جمع متساوین ہے ان میں نہ اتحاد مصداق باطل نہ جمع ہیں ایہام غلط نہ کوئی لغویت نہ تفسیر بالاخفی۔
(۴) اظہرتساوی انطباع وذوبان ہے توبدستور یذوب وینطبع خواہ ینطبع ویذوب ایك ہی بات ہے اور اجتماع مثل جمع ولین وانطباع البتہ اگرعموم انطباع ثابت ہوتو عبارات نہم ودہم ویازدہم نیزعبارات شمس الائمہ وظہیریہ وخانیہ وخزانۃ المفتین میں جمع ذوبان وانطباع یاذوبان ولین ضرور موہم غلط ہوگا کہ اب جنسیت ارض وجود ذوبان پرموقوف رہے گی حالانکہ مجروانطباع سے حاصل لاجرم واوبمعنی او لینا ہوگا اور ذکر ذوبان ضائع۔ ان اکابر سے اس کا صدور ہمارے اس استظہار کی صحت پر دلیل ہے کہ ذوبان بھی ملازم انطباع ہے۔
(۵) عبارت ششم میں ایك طرف اضافہ انطباع دوسری طرف ترك کاحاصل ایك ہی ایضاحا بڑھایا اور ایجازا کم کیا۔
(۷) ینطبع ویلین میں نفع ایضاح مراد ہے کہ لفظ انطباع قلیل السماع اور یلین وینطبع میں ازاعت وہم ہے کہ توہم لیں بمعنی عام کااندفاع۔
(۸) یوں ہی ذوبان وانطباع کی تقدیم وتاخیر میں۔
(۹) عبارت یازدہم میں خوبی یہ ہے کہ قسم دوم میں نار کے دونوں اثراصلی لے لیے اگرچہ ذکرلین کافی تھا۔
(۱۰) سوم وچہارم وچہاردہم میں نفع ایجاز ہے کہ ملزومات ثلثہ انطراق سے صرف ایك لیا کہ دلالت علی المقصود پربس تھا باقیوں کامسلك ایضاح کے لیے اطناب۔
(۱۱) عبارت عنایہ میں برخلاف کل اومساحت ہے یاالف زیادت ناسخ یااوتکییر فی التعبیر کے لیے یعنی ینطع کہو یایلین حاصل ایك ہے۔
(۱۲) غرر میں بعد وھو لفظ مابڑھنا چاہیے اور درر میں پہلا اوگھٹنا کہ وہ جنس کی تفسیر ہوجائے اور یہ غیرجنس کابیان والله تعالی اعلم۔
نقوض جمع کادفع(۱۳) کبریت وزرنیخ منطرق نہیں تومنطبع کہاں۔
(۱۴) یہاں ترمد بمعنی اوسط ہے اور ررماد حجر بمعنی اول لاجرم قول درمختار الا رماد حجر (مگر پتھر کی راکھ۔ ت پر علامہ طحطاوی نے فرمایا : کالجص عــہ (جیسے گچ۔ ت)۔ علامہ شامی نے فرمایا : کالجص
عــہ اقول : فیہ ان الجص ھو الحجر نفسہ لارمادہ وانما رمادہ الکلس و یردہ ایضا علی جمع الشامی بینھما و الجواب انہ قد یطلق الجص علی الکلس تجوزا کما فی الحلیۃ عن النصاب الحجر طبخ حتی صار جصا لتیمم جاز وعلیہ الفتوی ۱ھ فالکلس فی ش عطف تفسیر ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
اقول : (میں کہتاہوں) اس پر یہ اعتراض ہے کہ جص خود پتھرہی ہے پتھر کی راکھ نہیں راکھ تو کلس (چونا) ہے۔ مثال میں علامہ شامی کے جص اور کلس دونوں جمع کرنے پربھی یہ اعتراض ہوگا۔ اور جواب یہ ہے کہ کلس (چونا) کوکبھی مجازا جص(گچ) کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ حلیہ میں نصاب کے حوالہ سے ہے۔ پتھر اتناپکایا گیا کہ جص (یعنی چونا) ہوگیا پھر اس سے تیمم کیاتو جائز ہے اور اسی پرفتوی ہے ۱ھ۔ توشامی میں لفظ کلس عطف تفسیری ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
الطحطاوی علی الدرالمختار ۱ / ۱۲۸
(۱۵) یہاں مرادلین انطراق ہے اور وہ نہ جص ومکلس میں نہ کبریت وزرنیخ میں۔
(۱۶) یو ں ہی کبریت وزرنیخ میں ذوبان انحلال ہے نہ ذوبان تعقد وانطراق کہ یہاں مراد۔
(۱۷) ان میں اور جص وحجر فتیلہ وسنگ بحیرہ وحجر خزامی اور ریل کے کوئلے اور ارض محترقہ میں احتراق ہو ترمد نہیں جو یہاں مراد۔
نقوض منع کادفع۔ اقول : بحمد الله وہ بہت سہل ہے ہرتعریف میں جنس ملحوظ ہوتی ہے علمائے کرام نے بوجہ وضوح ونیز تصریحات باب یہاں اس کاذکر مطوی فرمایا جیسا کہ اکثر ان کی عادات کریمہ سے معہود لہذانظرمیں نقوض نظرآتے ہیں اور حقیقۃ کچھ نہیں وہ جنس جسم ثقیل یابس الاصل بے مائیت یاقلیل المائیۃ ہے اس سے :
(۱) پانی عرق ماء الجبن شیر بہتاگھی تیل گاز اور ان کے امثال کاخروج ظاہر۔
(۲) یونہی شکر کاقوام جماہواگھی وہ کیچڑ جس پرپانی غالب ہے اولا پالاکل کابرف۔
(۳) یونہی پارے کامغلوب المائیۃ ہوناظاہرگویاوہ پانی ہے کہ پورا جمابھی نہیں۔
(۴) سانبھرپانی سے بنتی ہے۔
(۵) یوں ہی ہرقسم زاج انوارالاسرار میں ابن سیناسے ہے :
الزاجات جواھرتقبل الحل وقد کانت سیالۃ فانعقدت ۔
زاجات ایسے جواہر جوحل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں پہلے سیال تھے پھرگرہ پکڑلی۔ (ت)
(۶) اگرزاج بمعنی شب یعنی پھٹکڑی لوتووہ بھی مائیت منعقدہ ہے۔
(۷) رال اور کافور دونوں گوند ہیں اور گوند درخت کی رطوبت کہ جم جاتی ہے۔
(۸) رماد معنی دوم وسوم پر اس جسم کے جلے ہوئے اجزاہیں جواجزائے کثیرہ رطبہ پرمشتمل تھا توبحمدہ تعالی سب جنس سے خارج لہذا جنس ارج سے خارج توجنس ارض کی تعریف میں اصح وواضح وجامع ومانع عبار پانزدہم عبارت رضویہ ہے وہ ثقیل عــہ یابس الاصل کہ نہ کثیر المائیۃ ہو نہ آگ سے منطرق۔ عدم ترمد خود
عــہ : ثقیل سے نارخارج ہوئی کہ طالب محیط ہے ورنہ باقی اوصاف اس پرصادق تھے یابس الاصل سے پانی خارج ہوا اور دونوں سے ہوا کہ نہ طالب مرکز ہے نہ خشك۔ باقی فوائد مباحث سابقہ سے ظاہر ہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
انوارالااسرار
ھکذا ینبغی التحقیق* والله سبحنہ ولی التوفیق*وصلی الله تعالی علی السید الکریم الرحیم الرفیق*والہ وصحبہ ھداۃ الطریق*امین۔
اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور الله سبحانہ وتعالی ہی توفیق کامالك ہے اور خدائے تعالی رحمت نازل فرمائے رحم وکرم اور نرمی والے آقا اور ان کی آل واصحاب پرجوراہ حق کے ہادی ہیں۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ نبیہ : یہ ہے وہ کہ بتوفیق لطیف عبد ضعیف پرظاہرہوا جس نے کلمات ملتئم کردئے اور احکام منتظم اور نقوض منعدم۔ مگریہاں ایك شبہ قویہ ہے متعدد اکابر نے منطبع کی مثال میں زجاج لکھا بدائع پھر ہندیہ اور تحفہ پھر ایضاح میں ہے :
مایحترق کالحطب اوینطبع ویلین کالحدید والزجاج ۔
جوجلے جیسے لکڑی یامنطبع اور نرم ہو جیسے لوہا اور شیشہ۔ (ت)
اسی کے مانند شرح مسکین میں ہے کافی میں ہے :
لابماینطبع ویلین اویحترق کالنقدین والرصاص والزجاج ونحو الحنطۃ و الملح والرماد ۔
اس سے نہیں جومنطبع اور نرم ہو یا جلے جیسے سونا چاندی سیسہ اور یشہ اور جیسے گیہون نمك اور راکھ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
مالایحترق کالحطب ولایلین ولاینطبع کالزجاج ۔
جولکڑی کی طرح جلنے والا نہ ہو اور شیشے کی طرح نرم ہونے والا اور منطبع ہونے والا نہ ہو۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لابمنطبع کفضۃ وزجاج ۔
چاندی اور شیشے جیسی کسی منطبع چیز سے نہیں۔ (ت)
کافی
حلیہ
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
ذکرالاخص بعد الاعم واقع فی افصح الکلام علی انھم صرحوا انہ اذاقوبل الخاص بالعام یراد بہ ماعداالخاص لکن فی المغنی ان عطف الخاص علی العام مما تفردت بہ الواو وحتی لکن الفقھاء یتسامعون بجوازہ بثم وباو کما فی حدیث ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا او امرأۃ ینکحہا ۔
اعم کے بعد اخص کاذکرافصح کلام میں وارد ہے۔ علاوہ ازیں ارباب فن نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ جب عام کے مقاب لہ میں خاص لایاجائے تواس عام سے خاص کے ماسوا مراد ہوتے ہیں لیکن مغنی میں یہ ہے کہ عام پرخاص کومعطوف کرنے کے لئے “ واو اورحتی “ متفرد ہیں لیکن “ او “ کے ذریعہ اسے معطوف کرنے میں فقہاء تسامح برتتے ہیں۔ میں کہتاہوں۔ اور بعض حضرات نے “ ثم اور او “ کے ذریعہ اس عطف کے جواز کی صراحت ہے جیسے حدیث ومن کانت ھجرتہ الخ میں ہے : اور جس کی ہجرت کسی دنیا کی طرف ہو جسے حاصل کرے یاکسی عورت کی طرف جس سے نکاح کرے۔ (ت)
اقول اولا : ان تکلفات سے عبارات توملتئم ہوگئیں ورنہ صریح رد موجودتھا کہ ساتوں عبارات پیشین میں لین کہہ کر زجاج سے مثال دی ہے اور انطباع زجاج لین سے نہیں بلکہ ذوبان سے ہے مگر احکام غلط
فی الاصل قال ابوحنیفۃ ومحمد رضی الله تعالی عنہما یجوز التیمم بجمیع ماکان من جنس الارض ومن اجزائھا نحو التراب والرمل والنورۃ والزرنیخ والجص و الحجر والمدروالاثمدوالکحل والطین الاحمر والاصفر والمغرۃ والحائط والمردارسنج ونحوہ ۔
مبسوط میں ہے امام ابوحنیفہ و امام محمد رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا : تیمم ہراس چیز سے جائز ہے جو زمین کی جنس اور زمین کے اجزا سے ہو جیسے مٹی ریت چونا ہڑتال گچ پتھر ڈھیلا اثمد سرمہ گل سرخج گل زرد گیرو دیوار مردارسنگ وغیرہ۔ (ت)
امام فخرزیلعی نے فرمایا :
یتیمم بطاھرمن جنس الارض کالتراب والحجر والکحل والزرنیخ والنورۃ و الجص والرمل والمغرۃ والکبریت والیاقوت والزبرجد والزمرد والبلخش والفیروزج والمرجان ۔
تیمم کرے جنس زمین کی کسی پاك چیز سے جیسے مٹی پتھر سرمہ ہڑتال چونا گچ ریت گیرو گندھک یاقوت زبرجد
زمرد بلخش فیروزہ مرجان۔ (ت)
تبیین الحقائق باب التیمم مطبوعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۸
دخل الحجر والجص والنورۃ والکحل والزرنیخ والمفرۃ والکبریت الخ۔
پتھر گچ چونا سرمہ ہڑتال گیرو گندھك الخ داخل ہے۔ (ت)
ثانیا : سب سے طرفہ یہ کہ مفاد مثال زجاج خود مثال زجاج سے منقوض یہ نقض ہم نے نقوض انطباع میں ذکرنہ کیا کہ اسی مقام کے لیے اس کاذخیرہ رکھنا مناسب تھا تحفہ و بدائع سے درمختار و ہندیہ تك آٹھوں کتابوں نے زجاج مطلق رکھا ہے کہ معدنی ومصنوع دونوں کو شامل او راس کا معدنی ضرور حجر ہے۔ جامع عبدالله بن احمد اندلسی مالقی ابن بیطار میں ہے :
(زجاج) قال ارسطاطا لیس منہ متحجر ومنہ رمال والزجاج الوان کثیرۃ فمنہ الابیض الشدید البیاض الذی لاینکرمن البلوروھو خیراجناس الزجاج ومنہ الاحمر والاصفر والاخضر والاسمانجونی وغیرذلك وھو حجر من الاحجار کالمائق الاحمق من الناس لانہ یمیل الی کل صبغ یصبغ بہ والی کل لون یلون بہ ۔
(زجاج) ارسطو نے کہا اس میں متحجر بھی ہوتاہے اوراس میں ریت والا بھی ہوتاہے۔ اور زجاج کے بہت سے رنگ ہوتے ہیں کوئی بہت سفیدی والا ہوتاہے جوبلور سے بیگانہ نہیں معلوم ہوتا اور یہ زجاج کی سب سے بہتر جنس ہوتی ہے۔ اور سرخ زرد سبز آسمانی وغیرہ بھی ہوتاہے اور یہ پتھروں میں سے ایك پتھرہوتاہے جیسے انسانوں میں انتہائی بھولابے وقوف شخص ہوتاہے کیونکہ وہ ہررنگ لون کی طرف جس سے اسے رنگاجائے مائل ہوجاتاہے۔ (ت)
انوارالاسرار الآيات البینات کتاب المعدن میں ہے :
اما حجر الزجاج فانواع کثیرۃ فی معادن کثیرۃ فمنہ متحجر ومنہ مترمل ۔
لیکن سنگ زجاج توبہت سے معدنوں میں اس کی بہت سی قسمیں ہیں اس میں پتھر والابھی ہوتاہے اور ریت والا بھی ہوتاہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
حجر الزجاج اذااصابتہ النار ثم خرج
سنگ زجاج کوجب آگ کی آنچ لگے پھردخان
جامع ابن بیطار
انوارالاسرار
ہوئے بغیر ہوا میں نکل آئے توٹوٹ جاتاہے اور کارآمد نہیں رہتا۔ (ت)
تحفہ تنکابنی میں ہے :
ارسطو بلور را ازجنس معدنی اودانستہ وآئینہ سنگ ازجملہ معدنی وغیربلورست ۔
ارسطو نے بلور کو اس کی معدنی جنس سے سمجھا ہے اور پتھرکاآئینہ معدنیات میں سے اور بلور کے علاوہ ہے۔ (ت)
مخزن میں ہے :
(زجاج) دو۲نوع ست معدنی ومصنوع ومعدن آن اکثر جاست انچہ درتبریز توابع شیراز وغیرانست سنگے ست تیرہ رنگ ریزہ الخ۔
زجاج کی دو۲قسمیں ہیں : معدنی اور مصنوعی۔ اور اس کامعدن اکثرجگہ ہے جوشیراز کے توابع میں سے تبریز وغیرہ میں ہوتاہے وہ ایك تاریك رنگ کا ریزہ ریزہ پتھرہوتاہے الخ۔ (ت)
اور حجر بتصریح متواتر عامہ کتب میں علی الاطلاق بلاتخصیص جنس ارض سے ہے چھبیس۲۶ کتابیں کہ زرنیخ میں مذکورہوئیں وہ سب اور ان کے علاوہ وقایہ۲۷ و اصلاح۲۸ و نورالایضاح۲۹ متون و درمختار۳۰ و شلبیہ۳۱ و مجتبی۳۲ شروح و بزازیہ۳۳ فتاوی وغیرہا زائد ہیں توزجاج سے تیمم جائز ہو اور وہ جنس ارض سے ہے حالانکہ اس معنی پرقید انطباع اسے خارج کررہی ہے کہ وہ خود ان کے اقرار سے منطبع ہے توجمع منقوض ہے۔
اگرکہیے زجاج میں ان علماء کا اطلاق مقید یعنی زجاج مصنوع پرمحمول ہے جوریتے اور کسی اور چیزغیرجنس ارض سے ملاکربنایاجاتاہے محققین شراح کابیان اس پرشاہد تبیین میں محیط سے ہے :
ان خالطہ شیئ اخر لیس من جنس الارض لایجوز کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اخر لیس من جنس الارض ۔
اگراس میں کسی ایسی چیز کی آمیزش ہو جوجنس ارض سے نہیں توجائز نہیں۔ جیسے وہ شیشہ جوریت اور کسی ایسی چیز سے بنایاگیاہو جوجنس زمین سے نہیں۔ (ت)
تحفۃ المومنین علی حاشیۃ مخزن الادویہ فضل الزاء مع الجیم مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۳۱۶
مخزن الادویہ فصل الزاء مع الجیم مطبوعہ منشی نولکشورلکھنؤ ص۳۲۰
تبیین الحقائق باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۹
خرجت الاشجار والزجاج المتخذ من الرمل وغیرہ ۔
درخت اس سے خارج ہوگئے اور وہ شیشہ بھی جو ریت اور دوسری چیز سے بنایاگیا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لایجوز بالاشجار والزجاج المتخذ من الرمل وغیر ۔
درختوں سے جائز نہیں اور اس شیشے سے بھی جائز نہیں جوریت اور دوسری چیز سے بنایاگیا ہو۔ (ت)
مجمع الانہرمیں ہے :
لایجوز بالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اخر ۔
اس شیشے سے جائز نہیں جوریت اور کسی دوسری چیز سے بنا ہو۔ (ت)
اسی طرح ابوالسعودازہری میں ہے۔ عبارت درمختار کفضۃ وزجاج (جیسے چاندی اور شیشہ۔ ت) پرردالمحتار میں لکھا : ای المتخذ من رمل وغیرہ بحر(یعنی وہ شیشہ جو ریت اور دوسری چیز ملاکربنایاگیاہو۔ بحر۔ ت)توجسے منطبع کہا وہ جنس ارض سے نہیں اور جوجنس ارض سے ہے اسے منطبع نہ کہا۔ اقول : یہ اس وقت ہے کہ خود سنگ شیشہ معدنی اس معنی پر منطبع نہ ہو حالانکہ وہ بھی یقینا مثل مصنوع آگ سے گلتا پگھلتا ہو اسے ٹھنڈا ہوتا سانچے میں ڈھلتا ہے پھر مفرکدھرجامع میں ارسطوسے متصل عبارت مذکورہ ہے :
وھو سریع التحلل مع حرالنار سریع الرجوع مع الھواء البارد الی تحجرہ ۔
اور وہ آگ کی حرارت کے ساتھ تیزی سے تحلیل ہوجاتاہے اور ٹھنڈی ہوا کے ساتھ بہت جلد سنگی حالت کی جانب عود کرآتاہے۔ (ت)
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۱۴۷
مجمع الانہر باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۸
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۷۶
جامع ابن بیطار
وھو من الین الاحجار علی النار وسریع الجفاف بعد التزویب ۔
اور وہ آگ پرسارے پتھروں سے زیادہ نرم ثابت ہوتاہے اور پگھلانے کے بعد بہت جلد خشك بھی ہوتاہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
یستحیل مع حرالنار ویجمدسریعا مع برودۃ الھواء ۔
آگ کی حرارت کے ساتھ بدل جاتاہے اور ہوا کی برودت کے ساتھ بہت جلد جم جاتاہے۔ (ت)
اب یہ مثال غایت اشکال میں ہوگئی کہ خود اپنے نفس کی مبطل ہے تواس سے تقریر فقیرپر شبہ کیامعنی خود اسی پرشبہ شدیدہ کیاجائے وہ اگرخودمتناقض نہ ہوتی تو ان احکام مصرحہ عامہ متون وشروح وفتاوی منصوصہ خود محررالمذہب وامام اعظم صاحب مذہب کے مقابل مضمحل ہونی واجب تھی نہ کہ جب آپ ہی اپنا نقض ہے ہاں مسلك اس کی تاویل ہے اگرممکن ہواگرچہ بعید کہ تاویل بعید بھی تخطبہ محض سے خیروبہترہے۔
فاقول : وبالله التوفیق(تومیں کہتاہوں اور توفیق خداہی کی جانب سے ملتی ہے۔ ت) جملہ۱ معدنیات کاتکون گندھك اور پارے کے ازدواج سے ہے کبریت نر ہے کہ گرم ہے اور پارہ مادہ۔ انہیں کے اختلاف مقادیر واصناف واوصاف واحوال سے مختلف معدنی چیزیں پیداہوتی ہیں جن میں سے بعض کو ہمارے ائمہ کرام جنس ارض سے رکھتے ہیں جیسے یاقوت زمرد زبرجد وغیرہا جواہر اور بعض کو نہیں جیسے ذہب وفضہ وحدیدوغیرہا معادن حالانکہ مادہ تکون سب کاایك ہے تذکرہ انطاکی میں ہے :
(معدن) مادتہ الزئبق والبریت جیدین متساوین کالاکسیر اوزادالکبریت مع القوۃ الصابغۃ کما فی الذھب اوضدہ مع عدمھا کما فی الفضۃ (الی ان قال) فان حفظت المادۃ بحیث یذوبا فالمنطرقات والافالفلزات علی وزان الأول کالیاقوت اوالثانی کبعض الزمرد
(معدن) اس کامادہ پارہ اور گندھك ہے۔ دونوں عمدہ برابربرابر ہوں۔ جیسے اکسیر۔ یاکبریت زیادہ ہو ساتھ ہی رنگنے والی قوت بھی ہو جیسے سونا میں یا اس کی ضد(پارہ) زیادہ ہو اور رنگنے والی قوت بھی نہ ہو جیسے چاندی میں (یہاں تك کہ یہ کہا) تواگرمادہ محفوظ ہو اس طرح کہ پگھل جائے تومنطرقات ورنہ فلزات بطوراول جیسے یاقوت یا
انوارالاسرار
بطوردوم جیسے بعض زمردالی آخرہ۔ یاکچھ صورتوں کومحفوظ نہ رکھے یاتحلیل کے مخالف نہ ثابت ہوتوشبوب واملاح۔ (ت)
اسی میں ہے : عــــہ
(یاقوت) ھو اشرف انواع الجامدات وکلھا تطلبہ فی التکوین کالذھب فی المنطرقات بیمنع العارض واصلہ الزئبق ویسمی الماء والکبریت ویسمی الشعاع ملخصا
(یاقوت) یہ جامدات کی قسموں میں سب سے عمدہ ہے او ر تکوین میں سارے جامدات کامطلوب ہے جیسے منطرقات میں سونا۔ توکسی عارض کی وجہ سے مانع بھی ہوتاہے۔ اس کی اصل پارہ ہے جسے پانی بھی کہاجاتاہے۔ اور کبریت جسے شعاع بھی کہاجاتاہے۔ (ت)
مذہب مشہور ومنصور ومعتمد جمہورپرتوان کی معیار وہی ضابطہ ترمد وانطباع ہے وبس۔ اور بعض اکابر نے اسے یوں لیا کہ جوکچھ اجزائے ارض سے ہے جب تك زمین میں ہے اس سے مطلقا تیمم رواہے حتی کہ سونا چاندی جب تك اپنی کان میں ہوکہ اس وقت تك یہ جنس ارض سے ہے جب زمین سے نکال کرگلایا پگھلایا اجزائے ارضیہ سے صاف کیا اب غیرشے ہوئے اور اس سے تیمم ناروا۔ تبیین الحقائق میں ہے :
وفی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان یجوز بالکیزان والحباب ویجوز بالذھب والفضۃ والحدید والنحاس ومااشبھھا مادامت علی الارض ولم یصنع منہا شیئ وبعد السبك لایجوز ۔
قاضیخان کی شرح جامع صغیر میں ہے : کوزوں اور گھڑوں سے تیمم جائز ہے اور سونے چاندی لوہے تانبے اور ایسی دوسری دھاتوں سے بھی جائز ہے جب تك یہ زمین پر ہوں اور ان سے کوئی چیز بنائی نہ گئی ہو اور ڈھالنے کے بعد ان سے تیمم جائز نہیں۔ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
اما الذھب والفضۃ فلایجوز بھما اذاکانا مسبوکین وان کانا غیرمسبوکین مختلطین بالتراب یجوز ۔
سوناچاندی جب ڈھلے ہوئے ہوں توان سے تیمم جائزنہیں اور گلائے پگھلائے نہ گئے ہوں بلکہ مٹی سے ملے ہوئے ہوں توجائز ہے۔ (ت)
عــہ : یرید موازاۃ سائر الاصناف۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
دیگراصناف کامقاب بلہ مقصود ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
تذکرہ داؤد انطاکی حرف الیاء لفظ یاقوت کے تحت مذکورہے مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۰
تبیین الحقائق باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۹
شرح الوقایہ مایجوزبہ التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۸
قبل السبك یصح التیمم ماداما فی المعدن وکذاالحدید والنحاس لانھما من جنس الارض ۔
ڈھالنے سے پہلے تیمم درست ہے جب تك یہ دونوں اپنی کان میں ہوں۔ یہی حکم لوہے اور تانبے کاہ۔ اس لئے کہ یہ جنس زمین سے ہیں۔ (ت)
علامہ ط نے فرمایا :
ذکرہ السید واطلاق المصنف کغیرہ یفید المنع مطلقا لوجود الضابط ۔
اسے سیدازہری نے ذکرکیا۔ اور دوسرے حضرات کی طرح مصنف کے بھی مطلق بیان کرنے سے مطلقا ممانعت مستفاد ہوتی ہے کیونکہ ضابطہ موجود ہے۔ (ت)
فتاوی ظہیریہ پھرخزانہ المفتین میں ہے :
مالیس من جوھر الارض اوکان من جوھر الارج الاانہ خلص عن جوھرہ بالاذابہ والاحراق فانہ لایجوز بہ التیمم فالذھب والفضۃ والنحاس والحدید ومااشبہ ذلك یجوز بہ التیمم مادام فی الارض ولم یصنع منہ شیئ فاذا صنع منہ شیئ لم یجزبہ التیمم اذالم یکن علیہ غبار ۔ جوزمین کاجوہرنہ ہو یازمین ہی کاجوہرہومگر وہ پگھلانے جلانے کے ذریعہ اپنے جوہرواصل سے جداہوگیاہو تواس سے تیمم جائزنہیں۔ تو سونا چاندی تانبا لوہا اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے جب تك یہ زمین میں رہیں اور ان سے کچھ نہ بنایاگیاہو تیمم جائز ہے جب ان سے کوئی چیزبنادی جائے تواس سے تیمم جائزنہیں جبکہ اس پرغبارنہ ہو۔ (ت)
توحاصل یہ ہوا کہ آگ سے لین واحترق دوہیں ایك متقدم کہ معدنی معدن سے نکالتے وقت اجزائے ارضیہ سے اپنی جدائی میں ان کامحتاج ہو ا ن کے نزدیك یہ مطلقا اسے جنس ارض سے خارج کردیتے ہیں اگرچہ نہ لین مورث انطباع وانطراق ہو نہ احتراق تاحد ترمد دوسرامتأخر کہ اجزائے ارضیہ سے جداوصاف ہونے کے
طحطاوی علی مراقی الفلاح مایجوزبہ التیمم مطبعہ ازہریہ ص۶۹
خزانۃ المفتین
والبلور جنس من الزجاج غیرانہ یصاب فی معدنہ مجتمع الجسم ویصاب الزجاج مفترق الجسم فیجمع کما ذکرنا بحجر المغنیا ۱ھ یشیر الی قولہ منہ ماھو رمل فاذا اوقد علیہ النار والقی معہ حجر المغنیسا جمع جسمہ۔
بلورزجاج ہی کی ایك قسم ہے فرق یہ ہے کہ ب لور کاجسم معدن میں مجتمع ملتاہے اور زجاج کاجسم متفرق ملتاہے پھرجیسا کہ ہم نے بتایاسنگ مغنیسا کے ذریعہ جمع کیاجاتاہے۱ھ۔ یہ اشارہ اس عبار ت کی جانب ہے : اس میں سے ایك وہ ہے جوریت ہوتاہے جب اس پر آگ جلائی جاتی ہے او ر اس کے ساتھ سنگ مغنیسا بھی ڈالاجاتاہے تواس کاجسم مجتمع ہوجاتاہے۔ (ت)
اسی طرح انوارالاسرارمیں ہے مخزن سے گزراسنگے ست ریزہ (ریزہ ریزہ پتھرہوتاہے۔ ت)۔ ولہذا ان علمانے لین و
عــہ : اقول قسمیں چار۴ہوئیں :
(۱) نہ اپنے تصفیہ میں احراق وتلیین کامحتاج ہو نہ بعد کومنطرق جیسے یاقوت۔ (۲) تصفیہ میں محتاج نہ ہو اور بعد کو (۳) اس کاعکس کہ تصفیہ میں محتاج ہو اور بعد کو نامنطرق جیسے شیشہ۔ (۴) پہلے بھی محتاج ہو اور بعد کو بھی منطرق جیسے سونا___________________ان کے نزدیك سواقسم اول کے سب جنس ارض سے خارج ہیں دوم میں صرف بربنائے معیار سوم میں صرف بربنائے لین متقدم چہارم میں اگرچہ دونوں جمع ہیں مگرلین متقدم۔ اسے جنس ارض سے خارج کرچکا۔ معیار کی حاجت نہیں لہذا ہم نے اجزائے معیار کوقسم دوم ہی مین رکھا ورنہ وہ اس سے خاص نہیں۔ یہ ان کے طور پرہے اور معتمد صرف لحاظ معیار تواول وسوم دونوں جنس ارض ہیں اور دوم وچہارم نہیں والله تعالی اعلم۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)
مخزن الادویہ فصل الزاء مع الجیم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۳۲۰
لو تیمم علی الذھب والفضۃ والشبہ او النحاس اوالرصاص اوالدقیق او الزجاج اوالحنطۃ او الشعیر مما لیس من جوھر الارض اومن جوھرھا الاانہ خلص من جوھرھا بالاذابۃ والاحراق لایجوز التیمم بالاتفاق ۱ھ فقولہ لیس من جوھر الارض للدقیق والحنطۃ والشعیر وقولہ اومن جوھر ھو الخ للبواقی۔
اگرسونا چاندی پیتل تانبا سیسہ آٹا شیشہ گیہوں جو کسی ایسی چیز سے تیمم کیا جوجوہر زمین سے نہیں یازمین ہی کے جوہرسے ہے مگرپگھلانے یاجلانے کے ذریعہ زمین کے جوہر سے نکلی ہے تو اس سے تیمم بالاتفاق جائز نہیں ۱ھ۔ ان کی عبارت “ جوہرزمین سے نہیں “ آٹا گیہوں اور جو سے متعلق ہے اور ان کا قول “ یازمین کے جوہرسے ہے مگر الخ “ باقی چیزوں سے متعلق ہے۔ (ت)
یوں ان عبارات کی توجیہ ہوجائے گی اور معنی انطباع پرکہ ہم نے تحقیق کئے غبار نہ آئے گا نہ زرنیخ وکبریت یہ سب عبارات متحد ہوگئیں باقی کثیر و وافر عبارات جن میں مثال زجاج نہیں اس نفیس ووجیہ توجیہ سے موجہ ہیں جوسابق گزری جس سے وہ مذہب جمہورمشہور ومنصور پرماشی ہیں مگرعبارت عنایہ کہ اس کا او اسی توجیہ لاحق پر بنے گا ان دو۲ توجیہوں سے تمام عبارات موجہ ہوگئیں۔
الاقوال(۱) الدر منطبع کزجاج فلم اجدلہ طبا ونسبتہ وحدہ الی السہوا سھل من نسبۃ سائر الکبراء الیہ ھذا ما عندی فان کان عند غیری احسن من ھذا فلیبدہ بامعان* فان المقصود اتباع الحق حیث کانا *والله المستعان*وعلیہ
مگردرمختارکی عبارت “ منطبع کزجاج “ کاکوئی علاج میں نہ پاسکا۔ اور تنہا اسے سہو کی جانب منسوب کرلینا سارے بزرگوں کوسہو پرقرار دینے سے آسان ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے خیال میں آیا۔ اگرکسی کے پاس اس سے بہتر ہوتو بنگاہ غور اس کا اظہار کرے کیونکہ مقصود حق کااتباع ہے حق جہاں بھی ملے اور
خداہی سے مدد طلبی ہے اور اسی پرتوکل ہے اور تام وکامل درودوسلام انس وجن کے سردار اور سرکار کی آل واصحاب پرہرلمحہ وہرآن۔ اور ساری خوبیاں سارے جہان کے مالك خداہی کے لیے ہیں۔ (ت)
مقام دوم (ان ایك سو اکاسی۱۸۱ چیزون کابیان جن سے تیمم جائز ہے) ان بعض اشیاء کاشمار جن سے ہمارے عــہ۱ امام جاعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مذہب میں تیمم جائز ہے انہیں دو۲قسم کریں :
منصوصات جن کی تشریح کتابوں میں اس وقت پیش نظر ہے۔
مزیدات کہ فقیر نے اضافہ کیں وکان حقا علی افرازھا کیلا یساق المعقول مساق المنقول (انہیں الگ کرنا میری ذمہ داری جتھی تاکہ معقول کاذکر منقول کی جگہ نہ ہو۔ ت)
منصوصات : نقل عبارات میں طول تکرار ہے لہذا صرف شمار اسمائے بعض کتب پرقناعت کریں مگر خلافیات یاخفیات ہ ان مین تکثیر اسمامناسب۔
(۱) خاك کہ اصل الاصول ہے اصل المحرر المذھب ومتون عامۃ (یعنی خاك سے جواز تیمم محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکی مبسوط اور فقہ کے عام متون میں مذکور ہ۔ ت)
پھراگرمنبت یعنی قابل نبات ہو تو اس سے جوازتیمم پراجماع امت اقول : تومستحب یہ ہے کہ اس کے ملتے اور کسی چیز سے تیمم نہ کرے فان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع (کیونکہ سرحد خلاف سے نکل آنا بالاجماع مستحب ہے۔ ت)
(۲) ہمارے نزدیك خاك شور بھی جس میں کوئی چیز اگنے کی صلاحیت نہ ہو خلاصۃ خزانۃ عــہ۲ بزازیۃ
عــہ۱ : خصہ بالذکر لان لمحمد خلافا فی کل مالا یلتزق بالید ولابی یوسف فی جمیع غیرالتراب۱۲منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : المراد بھا خزانۃ المفتین فی ھذہ الفصول حیث اطلق۔ ۱۲منہ غفرلہ (م) صرف ان کاذکر اس لئے ہے کہ امام محمد کا ہراس چیز کے بارے میں اختلاف ہے جوہاتھ سے چپکنے والی نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کامٹی کے علاوہ ساری چیزوں میں اختلاف ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
ان فصلوں میں جہاں بھی خزانہ کاحوالہ آئے اس سے مراد خزانۃ المفتین ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۳) ریتا اصل ومتون عامۃ خلافا لابی یوسف فی قولہ الاخر (امام ابویوسف کے قول دوم کے برخلاف۔ ت)
(۴) پتھر مرعن ۳۳ کتابا(۳۳کتابوں کے حوالہ سے اس کابیان گزرچکا۔ ت) اگرچہ صاف دھلا بے غبار ہو خانیۃ خلاصۃ مراقی در وکثیر۔
(۵) باریك پسا ہویاسالم نوازل خانیۃ بزازیۃ خزانۃ المفتین درھندیۃ وغیرھا وقیدہ فی الشلبیۃ عن المجتبی بالمدقوق
(نوازل خانیہ بزازیہ خزانۃ المفتین در ہندیہ وغیرہا۔ اور مجتبی کے حوالہ سے شلبیہ میں اس کے ساتھ “ پسے ہوئے “ کی قیدلگائی۔ ت)
اقول : مشی علی قول محمدمن لزوم ان یلتزق بالید شیئ ومذہب الامام الاطلاق۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ امام محمدکے قول پرگئے ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپك جانا ضروری ہے اور امام اعظم کے مذہب میں یہ قید نہیں۔ (ت)
(۶) غبار متون وعامہ۔ اقول : جبکہ نہ ناپاك خاك سے اٹھا ہو اگرچہ نجاست کااثر زائل ہوجانے سے نماز کے لئے پاك ہوگئی ہو نہ کسی ترچیز ناپاك پرگرا ہو نہ ناپاك خشك چیز پرگرکر اسے تری پہنچی ہو اگرچہ پھر وہ تری خشك بھی ہوجائے وقد تقدم بعضہ (اس میں سے کچھ کابیان گزرچکا۔ ت)
(۷) ناپاك خشك چیز پرگرا ہواغبارجبکہ اسے تری نہ پہنچے تقدم فی الدروس السالفۃ عن الحلیۃ والنھایۃ والھندیۃ ومثلہ فی الفتح (گزشتہ اسباق میں حلیہ
نہایہ ہندیہ کے حوالہ سے اس کا بیان گزرا اسی کے مثل فتح القدیرمیں بھی ہے۔ ت)
(۸) ترزمین پرجس پرچھڑکاؤ ھوا کما یأتی (جیسا کہ آرہاہے۔ ت)
(۹) مقبرے کی زمین جبکہ اس کی نجاست مظنون نہ ہو
لویتمم بتراب المقبرۃ ان غلب علی ظنہ نجاسۃ لایجوز وا لا یجوز کما فی السراج ط علی المراقی۔
اگرقبرستان کی مٹی سے تیمم کیا اگر اس کاغالب گمان ہوکہ یہ مٹی نجس ہے توتیمم جائزنہیں ورنہ جائز ہے جیسا کہ سراج میں ہے۔ طحطاوی علی المراقی الفلاح۔ (ت)
(۱۰) گردبادبگولا اس سے تیمم کے دو۲ طریقے اوپرگزرے خلاصۃ بزازیۃ۔
(۱۱) جلی ہوئی زمین قدمرو یأتی (اس کابیان گزرچکا اور آگے بھی آئے گا۔ ت)
(۱۲) نمك زار زمین جس میں سے نمك نکلتا ہو اگرچہ خفیف تربھی ہو جبکہ وہ نمك مٹی سے بنا ہو ویأتی
(۱۳) پیلی مٹی اصل نوازل خلاصۃ خزانۃ ھندیۃ۔
(۱۴) سرخ مٹی ھی والبدائع و الخانيۃ۔
(۱۵) گیرو ھی الاالبدائع تبیین فتح بحر نھر (بدائع کے سوایہ سبھی یعنی اصل خلاصہ خزانہ ہندیہ ہندیہ خانیہ مزیدبرآں تبیین فتح بحر نہر۔ (ت) اقول : وہ سرخ مٹی کاغیرہے۔
فقد عددھما مفر زین قال فی الخانیۃ یجوز التیمم بالمغرۃ والکحل والطین لاحمر ۔ اھ۔
وفی الخلاصۃ یجوز بالطین الاحمر والاصفر والمغرۃ ۱ھ ومثلہ فی غیرھما اما قول القاموس المغرۃ طین احمر فاقول : لم یقل الطین الاحمر وھم (۱) اذاعرفوا نکروا واذانکرواعرفوا۔
اس لئے کہ فقہا نے گیرو اور سرخ مٹی کو الگ الگ شمار کیاہے۔ خانیہ میں فرمایا : گیرو سرمہ اور سرخ مٹی سے تیمم جائز ہے ۱ھ۔ اور خلاصہ میں فرمایا : سرخ مٹی زردمٹی اور گیرو سے تیمم جائز ہے ۱ھ۔ اسی کے مثل ان دونوں کے علاوہ میں بھی ہے۔ رہی قاموس کی یہ عبارت کہ “ گیرو ایك سرخ مٹی ہے “ تومیں یہ کہتاہوں کہ اس میں یہ نہیں ہے کہ گیرو سرخ مٹی۔ اور اہل لغت کاطریقہ یہ ہے کہ بیان معنی کے لئے جب وہ معرفہ بولیں توغیرمعین مراد لیتے ہیں اور جب نکرہ لائیں تو کسی معین چیز کو مراد لیتے ہیں۔ (ت)
(۱۶) کالی مٹی (اور)
(۱۷) سپید مٹی بدائع ھندیۃ۔
(۱۸) سبزمٹی نوازل خزانۃ تتار خانیۃ ھندیۃ۔
(۱۹) طفل مصری عــہ طحطاویۃ جس سے مصرمیں کپڑے رنگتے ہیں تاج العروس۔
عــہ : علامہ طحطاوی نے ایك مسئلہ کے ضمن میں کہ آتاہے طفل بالفتح کوبتایا کہ جنس ارض سے ہے تذکرہ داؤد و مخزن میں طفل کوطین قیمولیا نیز تذکرہ میں طین قیمولیا کو طفل اور دونوںکوطلیطلی سے تفسیرکیااور مخزن میں طین قیمولیا کوکہا بہندی کھری مٹی نامندواطفال برتحتہائے مشق میمالند (ہندی میں کھریا مٹی کہتے ہیں اور اسے بچے مشق کی تختیوں پرلگاتے ہیں۔ ت)(باقی اگلے صفحہ پر)
خلاصۃ الفتاوٰی مایجوزبہ التیمم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۳۵
قاموس المحیط فصل المیم باب الرائ مطبع مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۴۰
(۲۱) گل ارمنی ۲۲ گل مختوم عــہ ۱ غنیۃ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اقول : مگرکتاب دیسقوریدوس و انوارالاسرار میں قیمولیا کے صرف دو۲ رنگ لکھے سفید وبنفشی اور ابن حسان نے ایك سیاہ رنگ کی لکھی اور کہا وہ علاج میں کچھ کام نہیں آتی کما فی ابن البیطار (جیسا کہ ابن بیطارمیں ہے۔ ت) اور طفل کارنگ تاج العروس میں زرد بتایا کہ الطفل بالفتح ھذاالطین الاصفر المعروف بمصروتصبغ بہ الثیاب (طفل بالفتح : یہی مٹی جو مصرمیں معروف ہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں۔ ت) ابن بیطار نے علی بن محمدسے طفل کاسبزرنگ نقل کیا کہ طین شیراز لونہ مشبع الخضرۃ اکثر من خضرۃ الطفل ۱ھ والله تعالی اعلم (طین شیراز اس کارنگ طفل کی سبزی سے زیادہ گہراسبز ہوتاہے ۱ھ والله تعالی اعلم۔ ت) علامہ طحطاوی وصاحب تاج العروس دونوں سادات ساکنان مصر قریب العصر ہیں توان کی مراد وہی ہوگی جو شرح قاموس میں ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
عــہ : بحرمغرب۱ میں ایك جزیرہ ملیون ہے وہاں ایك معبد ہے جس کی مجاور عورت ہوتی ہے بیرون شہر ایك ٹیلاہے جس کی مٹی متبرك خیال کی جاتی ہے وہ عورت تعظیم کے ساتھ اس کی مٹی لاتی اور گوندھ کرٹکیاں بناکر ان پرمہر لگاتی ہے دیسقوریدوس وغیرہ نے زعم کیا کہ اس میں بکری کاخون ملتاہے جالینوس کہتاہے میں اس کی تحقیق کے لئے انطاکیہ سے دوہزار میل سفر کرکے اس جزیرہ میں پہنچا میرے سامنے اس عورت نے وہاں سے ایك گاڑی مٹی لی اور ٹکیاں بنائیں خون كاکچھ لگاؤنہ تھا میں نے وہاں کے مؤدب لوگوں علماء کی صحبت یافتوں سے پوچھا کیا پہلے کسی زمانے میں اس میں خون ملایاجاتا تھا جس نے میرا یہ سوال سنا مجھ پرہنسنے لگا۔ ذکرہ ابن البیطار (اسے ابن بطارنے ذکرکیا۔ ت)
اقول : والعجب(۲) ان الانطاکی فی التذکرۃ نسب زعم خلط الدم الی جالینوس والتنکابنی فی التحفۃ الیہ والی دیسقوریدوس مع ان جالینوس ھوالذی عنی ھذالعناء الشدید حتی کشف عن بطلانہ ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : (میں کہتاہوں) اور حیرت ہے کہ انطاکی نے تذکرہ میں اس مٹی سے خون ملانے کا خیال جالینوس کی طرف منسوب کیا اور تنکابنی نے تحفہ میں یہ خیال جالینوس اور دیسقوریدوس دونوں کی طرف منسوب کیا حالانکہ جالینوس ہی وہ شخص ہے جس نے اس قدرشدید مشقت جھیل کراس خیال کے بے حقیقت ہونے کاانکشاف کیا۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
(۲۴) ڈھیلوں کی دیوار محیط خانیۃ منیۃ۔
(۲۵) کچی اینٹ کی دیوار غنیۃ۔
(۲۶) مٹی سے لسی ہوئی درمختار۔
(۲۷) کچی اینٹ فتح حلیہ بحر شلبیہ زاھدی۔
(۲۸) گارا(اور)
(۲۹) کیچڑ جس میں مٹی غالب ہو اور پانی مغلوب۔ اس کی تفصیل مقام چہارم میں آئے گی ان شاء الله تعالی
(۳۰) جلی ہوئی خاك مختارات النوازل نصاب حلیہ۔
(۳۱) مٹی کے آنجوری مٹکے محیط خانیۃ منیۃ خزانۃ کونڈے رکابیاں وغیرہا ہرظرف گلی جس پر روغن نہ ہو فتح شلبیۃ ازھری درمختار نہ غیرجنس کی رنگت خزانۃ الفتاوی حلیۃ بحرط۔
(۳۲) وہ ظروف گلی رنگین جن پرجنس ارض ہی مثلا گیرو یاملتانی وغیرہ کی رنگت ہو)
یجوز باوان من طین غیر مدھونۃ دراو مدھونۃ بصبغ من جنس الارض کالطفل والمغرۃ ط ۔
مٹی کے ایسے برتنوں سے تیمم جائز ہے جن پرپالش نہ کی گئی ہو۔ درمختار۔ یا پالش ہوتوجنس ارض ہی کی کسی چیز جیسے طفل اور گیرو کے رنگ سے ہو۔ طحاوی۔ (ت)
(۳۳) سبزچپکتی چکنی صاف مٹی کے پیالے تشتریاں
یجوز بالغضارۃ منیۃ وھو الطین اللازب الحر الاخضر حلیۃ وغنیۃ عن القاموس والمزاد مایعمل منہ کالسکارج غنیۃ و فی المغرب الغضارۃ القصۃ الکبیر حلیۃ۔
“ غضارہ “ سے تیمم جائز ہے منیہ غضارہ چپکتی عمدہ سبز مٹی ہوتی ہے حلیہ وغنیہ بحوالہ قاموس۔ اس سے مراد وہ برتن ہے جو اس مٹی سے بنتاہے جیسے رکابیاں غنیہ۔ اور مغرب میں لکھاہے : غضارہ : بڑا پیالہ۔ حلیہ (ت )
طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ بیروت ۱ / ۱۲۸
منیۃ المصلی ، فصل فی التیمم ، مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۵۷
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
حلیہ
ہوئے ذکرکیا ہے۔ ت) اقول : وھو محل(۱) الجزم (میں کہتاہوں حالانکہ یہ جزم کاموقع ہے۔ ت)
(۳۴) قلعی دارظرف گلی کا وہ رخ جس طرف قلعی نہیں خانیۃ خلاصہ غنیہ۔
اقول : وکانت عبارۃ المنیۃ لایجوز بغضارۃ مطلی بالانك بطن الغضارۃ و ظھرھا سواء ۱ھ قد توھم المنع مطلقا اذا طلی بہ وجھھا فاولھا فی الغنیۃ بما فی الخانیۃ ای سواء فی المنع بالمطلی والجواز بغیرہ اما عبارۃ البزازیۃ اذا طلی وجھھا بالصیغ لایجوزبہ التیمم وان لم یطل جاز ۱ھ فالکنایۃ لوجھھا۔
اقول : منیہ کی درج ذیل عبارت “ سبزمٹی کے ایسے پیالے سے تیمم جائزنہیں جس پررانگ کی قلعی ہو پیالے کااندرونی اور بیرونی رخ دونوں برابرہیں “ یہ وہم پیدا کررہی تھی کہ جب صرف سامنے کارخ قلعی کیا ہواہو توبھی مطلقا ممانعت ہے اس لئے غنیہ میں اس کی تاویل اس سے کی جو خانیہ میں مذکور ہے یعنی قلعی شدہ سے ممانعت میں اور غیرقلعی شدہ سے جواز میں دونوں رخ برابر ہیں۔ لیکن بزازیہ کی یہ عبارت : “ جب سامنے کے رخ پررنگ سے پالش کردی گئی ہو تو اس سے تیمم جائز نہیں اور اگراس پرپالش نہ کی گئی ہوتو جائز ہے “ ۱ھ۔ تواس میں “ اس پر “ کااشارہ سامنے کے رخ سے متعلق ہے۔ (ت)
(۳۵) ٹھیکری ھو الصحیح (یہی صحیح ہے۔ ت) مختارات النوازل حلیہ اقول سالم ہو یا (۳۶) پسی ہوئی وقیدہ فی الخزانۃ عن النوازل وفی الجوھرۃ عن الخجندی بالمدقوق (خزانہ میں بحوالہ نوازل اور جوہرہ میں بحوالہ خجندی اس کے ساتھ “ پسی ہوئی “ ہونے کی قیدلگائی۔ ت)
اقول : ومثلہ مثل مامر من الحجر المدقوق و لفظ النوازل ثم الخزانۃ یجوز بالاجر المدقوق و الخزف المدقوق والسبخۃ والحجر
اقول : اور اس کی مثال پسے ہوئے پتھر کی ہے جس کابیان گزرا۔ اور نوازل پھر خزانہ کے الفاظ یہ ہیں : “ تیمم جائز ہے پسی ہوئی اینٹ پسی ہوئی ٹھیکری زمین شور اور ایسے پتھر سے جس پرغبارہو یا ایسے پتھر سے
فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ الخامس فی التیمم نورانی کتب خانہ پشاور۔ ۴ / ۱۷
اقول : ھذا(۱) مشی فی سطر واحد علی قولین مختلفین وای(۲) فرق بین الخزف والاجر فیقید الجواز بھما بالدق و بین الحجر فلافان قلت بل المعنی ولو مدقوقا اقول انما یترقی الی مافیہ خفاء اوخلف فان (۳) حق الوصلیۃ ان یکون الحکم فیما قبلھا اظھر منہ فیما بعدھا ولا (۴) اقول : ان یکون ماقبلھا اھق بالحکم مما بعدھا کما قالوا فانہ غیرمطرد فلوارید ھذالقیل ولو غیرمدقوق لان خلاف محمدفیہ۔
جس پرغبار نہ ہو اس طرح کہ دھلا ہوا ہو یاصاف چکنا ہو پسا ہوا ہویاپساہوانہ ہو۱ھ۔ (ت)
اقول : یہ ایك ہی سطر میں دومختلف قولوں پرچلنا ہے۔ اینٹ اور ٹھیکری سے جوازتیمم کے لئے پسی ہوئی ہونے کی قید لگائی ہے اور پتھر سے جواز کے لئے یہ قید نہیں توآخر وجہ فرق کیاہے اگرکہئے کہ معنی یہ ہے کہ اگرچہ پسی ہوئی ہوتو (اقول) میں یہ کہوں گا کہ ترقی اس معنی کی جانب کی جاتی ہے جس میں کوئی پوشیدگی یاکوئی اختلاف ہو۔ اس لئے کہ کلمہ وصلیہ کاحکم یہ ہے کہ اس کے ماقبل کاحکم مابعد کے حکم سے زیادہ ظاہرہو اور میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا ما قبل مابعد سے زیادہ مستحق حکم ہو۔ جیسا کہ بعض حضرات نے کہا۔ اس لئے کہ یہ قاعدہ ہرجگہ جاری نہیں ہوپاتا۔ الغرض اگرترقی مقصود ہوتوکہا جاتاہے کہ اگرچہ پسی ہوئی نہ ہو اس لئے کہ امام محمد کااختلاف اسی میں ہے۔ (ت)
(۳۷) پکی اینٹ ویاتی (آگے بھی اس کاذکر آئے گا۔ ت)
اقول : وتقییدہ بالمدقوق کما مر عن الخزانۃ عن النوازل ومثلہ فی الجوھرۃ عن الخجندی مرما فیہ وقد قال فی الکافی ولو غیرمدقوق ۔
اقول : پسی ہوئی ہونے اس کو مقید کرنا جیسا کہ خزانہ میں بحوالہ نوازل اور اسی کے مثل جوہرہ میں بحوالہ خجندی ہے۔ اس کی خامی کابیان گزرچکا اور کافی کے الفاظ یہ ہیں : “ اگرچہ پسی ہوئی نہ ہو “ ۔ (ت)
(۳۸) روڑا
(۳۹) کتل
(۴۰) کنکریٹ
کافی
(۴۲) سرخی۔ باریك کٹی ہوئی پکی اینٹ۔ وھو عــہ مامر انفا عن النوازل وغیرھا (یہ وہی ہے جس کا بیان ابھی نوازل وغیرہا کے حوالہ سے گزرا۔ ت)
(۴۳) کنکری۔ پتھر کے ریزے کہ زمین پرہوتے ہیں عربی حصاۃ۔ نوازل محیط خانیہ خزانہ خجندی جوھرہ اگرچہ باریك ریزے ریگ میں ملے ہوئے لم یخرج ای من الصعید مایصعد علی وجہہا من دقاق الحصی حلیہ (زمین کے اوپر جو چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں وہ صعید سے خارج نہیں۔ حلیہ۔ ت)
(۴۴) درزی کی بٹیا جس سے وہ کپڑے کوکوٹ کر سلائی دباتاہے لوتیمم بفھر الخیاط عندھما یجوز وعن ابی یوسف روایتان خلاصۃ (اگرسنگ خیاط سے تیمم کیا تو امام اعظم وامام محمدکے نزدیك جائز ہے اور امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں۔ خلاصہ۔ ت)
اقول : یوھم ان لاخلف عن محمد مع ان الجوازھی الروایۃ النادرۃ عنہ و المشھورۃ کما فی الحلیۃ وغیرھا شرط التصاق جزء منہ بالید وقال فی وجیزالکردرعی فھر الخیاط وھو حجر
اقول : اس عبارت سے یہ وہم پیداہوتاہے کہ اس مسئلہ میں امام محمد سے کوئی روایت اختلاف نہیں حالانکہ قول جواز یہ امام محمد سے ایك نادر روایت ہے اور روایت مشہورہ۔ جیسا کہ حلیہ وغیرہا میں ہے۔ یہ ہے کہ اس کے کسی جز کا ہاتھ سے چپکنا شرط ہے۔ اور وجیزکردری میں فرمایاہے
عــہ : وذلك لان التقیید بہ للمشی علی قول محمدمن لزوم التزاق شیئ بالیدولایتأتی الافیما جعل کالدقیق۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
وہ اس لئے کہ اس کی تقیید امام محمد کے قول پرمشی کی وجہ سے ہے کہ ہاتھ میں کچھ چپك جانا ضروری ہے اور یہ اسی میں ہوسکے گا جسے آٹے کی طرح پیس دیاگیا ہو۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
حلیہ
&خلاصۃ الفتاوٰی مایجوزبہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ€ ۱ / ۳۶
اقول : والضمیر فی عندھما للشیخین رضی الله تعالی عنہما کما یفھم من سباقہ ویشھد لہ البناء المذکور فقد مشی علی روایۃ الجواز عن ابی یوسف ونسب المشھورۃ عن محمد الیہ خلافا لما فی الخلاصۃ۔
کہ “ سنگ خیاط یہ ایك پتھر ہوتاہے جس سے کپڑے کو پیٹا جاتاہے اگررنگاہوانہ ہو اس سے دونوں حضرات کے نزدیك تیمم جائز ہے اس بنیاد پر کہ چپکنا شرط نہیں ۱ھ(ت)
اقول : دونوں حضرات سے مراد (عندھما کی ضمیرمیں) شیخینرضی اللہ تعالی عنہماہیں جیسا کہ ماسبق سے سمجھ میں آتا ہے اور جو بنیاد ذکر کی ہے وہ بھی اس پرشاہد ہے وہ امام ابویوسف کی روایت جواز پر چلے ہیں اور امام محمد کی روایت مشہورہ ان کی طرف منسوب کی ہے اس کے برخلاف جو خلاصہ میں ہے۔ (ت)
(۴۵) گچ۔ چونے کاپتھر جسے پھونك کرچونابناتے ہیں کماسیأتی اصل قدوری ھدایۃ ملتقی وکثیر (جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ اصل قدوری ہدایہ ملتقی اور کثیر۔ ت)
(۴۶) گچ کی ہوئی دیوار درمختار۔
(۴۷) کلسن چونا ردالمحتار جاز وعلیہ الفتوی نصاب حلیہ (جائز ہے اور اسی پرفتوی ہے۔ نصاب حلیہ۔ ت) اقول یعنی وہ کہ سنگ گچ یاسنگ مرمر کوئی پتھر پھونك کر بناہو۔
(۴۸)۔ پتھر کی راکھ اقول یعنی چونا کہ گزرگیا۔
(۴۹)۔ یاکھنگر کہ اس کاغیر اس سے سخت ترہے۔
(۵۰) یاکوئی پتھر پھونك کرپیس لیاجائے۔
(۵۱) یانرم پتھر پیس کر پھونکاجائے یہ سب صورتیں پتھر کی راکھ ہیں اور سب سے تیمم جائز والمسألۃ مرت عن الحلیۃ وخزانۃ الفتاوی وجامع الرموز والدر وش وط علی الدر والمراقی (اور یہ مسئلہ حلیہ خزانۃ الفتاوی جامع الرموز درمختار شامی طحطاوی علی الدر اور مراقی الفلاح کے حوالہ سے گزرچکا۔ ت)
اقول : وربما تطلق علی نفس الکلس کما فی التذکرۃ وغیرھا وھذا اولی الجدۃ الافادۃ ومرعن البرجندی مافہمہ عن زادافقہاء ان التیمم بالنورۃ لایجوز لانہ مما یترمد اقول : ھی (۱) من رماد حجرلاانھا ترمد وقد علمت الجواب۔
اقول : نورہ کبھی خود کلس کوبھی کہاجاتاہے جیسا کہ تذکرہ وغیرہا میں ہے۔ او ریہ زیادہ مناسب ہے تاکہ اس لفظ سے ایك جدید فائدہ حاصل ہو۔ اور برجندی کے حوالہ سے گزرا کہ انہوں نے زادالفقہا سے یہ سمجھا کہ نورہ سے تیمم جائز نہیں اس لئے کہ یہ رماد ہوجاتاہے اقول یہ پتھر کے رماد کاہواہی ہے ایسا نہیں کہ یہ رماد بن جاتاہے اور جواب پہلے بتادیا جا چکاہے۔ (ت)
(۵۳) یاقوت زمرد زبرجد فیروزہ۔ تبیین فتح حلیہ بحر نھر ھندیہ ازہری ط۔ زعم بعض الناس ان الزمرد والزبرجد واحد (اور بعض لوگوں کاخیال یہ ہے کہ زمرد ار زبرجد ایك ہی ہے۔ ت)
اقول : ویردہ(۲) عدھم کلا علی حدۃ وقد قال فی التذکرۃ عند ذکر انواع الزمرد قیل ان منہ نوعا یسمی الصابونی یضرب الی البیاض وفولس یقول انہ من الزبرجد ۱ھ نعم فی الجامع عن ارسطو
اقول : اس خیال کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ فقہاء نے ہرایك کوالگ الگ شمار کیاہے۔ تذکرہ میں انواع زمرد کے ذکر میں کہا ہے : کہاگیا ہے کہ اس کی ایك نوع کوصابونی کہاجاتاہے جوسپیدی مائل ہوتاہے اور فولس کاکہنا ہے کہ یہ زبرجد ہی سے ہے ۱ھ۔ ہاں جامع میں ارسطو کے حوالہ سے ہے
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
تذکرہ داؤدانطاکی حرف الزاء زمرد کے تحت مذکور ہے۔ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۰
کہ زمرد اور زبرجددوپتھر ہیں جن کے دونام ہیں اور ان دونوں کی جنس ایك ہے ۱ھ جنس میں
عــہ : وعلیہ یحمل مافی التذکرۃ بلفظ وعن المعلم انہ والزمرد سواء اھ نقلہ عنہ ای عن ارسطو فی التحفۃ والمخزن ان معدنھا واحد۔
اقول : ولایدل علی اتحاد ھما فرب شیئ یتکون فی معدن شیئ اخر الاتری انھما یتولدان فی معدن الذھب کما قال ارسطوا ما مافی التذکرہ قال ھرمس لافرق بینھما الاتلون الزبرجد ۱ھ فیحتمل التاویل اوھو قیل اما قول القاموس الزمرد الزبر جد معرب۱ھ فقد قال فی التاج قال التیفاشی فی کتاب الاحجار قال الفراء ان الزبر جد تعریب الزمرد ولیس کذلك بل الزبرجد نوع اخرمن الحجارۃ وقال ابن ساعد
اور اسی پروہ محمول ہوگا جوتذکرہ کے اندر ان الفاظ میں ہے : اور معلم سے منقول ہے کہ یہ اور زمرد دونوں برا برہیں۱ھ۔ اور اسے تحفہ اور محزن میں اس سے ---- یعنی ارسطو سے---- یہ نقل کیاہے کہ “ ان دنوں کامعدن ایك ہے “ ۔
اقول : یہ بات زبرجد وزمرد دونوں کے ایك ہونے پردلالت نہیں کرتی اس لئے کہ بہت ایسی چیزیں ہیں جو کسی دوسری چیز کے معدن میں بنتی ہیں۔ ان ہی دونوں کودیکھ لیجئے کہ یہ سونے کے معدن میں پیداہوتے ہیں جیسا کہ ارسطو نے کہا۔ رہا وہ جو تذکرہ میں ہے کہ “ ہرمس نے کہا : ان دونوں میں سوا اس کے کوئی فرق نہیں کہ زبرجد متلون ہوتاہے ۱ھ “ تو اس عبارت میں تاویل کی گنجائش ہے یایہ ایك ضعیف قول ہے۔ اب قاموس کی عبارت دیکھئے کہ “ زمرد : زبرجد اس کا معرب ہے۱ھ “ اس پر تاج العروس میں لکھاہے : تیقاشی نے کتاب الاحجار میں رقم کیاہے کہ فراء نے کہا زبرجد زمرد کی تعریب ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں بلکہ زبرجد پتھر کی ایك دوسری نوع ہے۔ اور ابن ساعد (باقی برصفحہ ایندہ)
تذکرۃ اولی الالباب زبرجد کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
تذکرۃ اولی الالباب زبرجد کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
اتحاد نوع یاصنف میں اختلاف سے مانع نہیں جیسے لعل ویاقوت رمانی اور نیلم وبسراق۔ (ت)
(۵۷) بلخش یتیمم البلخش قالہ الثمانیۃ المذکورون (بلخش سے تیمم ہوسکتاہے۔ مذکورہ آٹھوں کتابوں میں اسے بیان کیاگیاہے۔ ت)
اقول : کتب لغت حتی کہ قاموس محیط میں اس لفظ کاپتانہیں نہ تاج العروس نے اس سے استدراك کیا نہ جامع ابن بیطار و تذکرہ انطاکی و تحفہ و مخزن میں اس کاذکر عجب۱ کہ کتاب مغرب میں بھی اس سے غفلت کی حالانکہ وہ فقہ حنفی کالغت ہے اور یہ لفظ کتب فقہ حنفیہ میں موجود پھر میں نے تاج العروس میں زیرلفظ بدخشان دیکھا کہ اس کی کان بدخشان میں بتائی
اذ قال فی المستدرك بعد باذش بدخشان ویقال بذخش بلدہ فی اعلی طخارستان والعامۃ یسمونھا بلخشان فی جبالھا معادن البلخش واللازورد وحجر الفتیلۃ ۔
اس میں استدراك کے تحت لفظ باذش کے بعد یہ لکھا ہے : بدخشاں اور بذخش بھی کہاجاتاہے۔ یہ طخارستان کے بالائی حصہ میں ایك شہر ہے اور عام لوگ اسے بلخشاں کہتے ہیں اس کے پہاڑون میں بلخش لازورد اورحجر الفتیلہ کی کانیں ہیں۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الانصاری قیل معدنہ قرب معدن الزمرد قال شیخنا وھذا نص فی المغایرۃ قال و فرق جماعۃ اخرون بان الزمرد اشد خضرۃ من الزبرجد ۱ھ والله تعالی اعلم بخلقہ یخلق مایشاء ویختار ۱۲منہ غفرلہ (م)
انصاری کہتے ہیں : کہاگیا کہ اس کامعدن زمرد کے معدن کے قریب ہوتاہے۔ ہمارے شیخ نے فرمایا : یہ اس بارے میں نص ہے کہ دونوں دو۲پتھر ہیں۔ انہوں نے کہا : کچھ دوسرے حضرات نے دونوں میں یہ فرق بتایا ہے کہ زمرد زبرجد سے زیادہ سبزہوتاہے ۱ھ۔ اور الله ہی اپنی مخلوق کوخوب جانتاہے جوچاہتاہے تخلیق فرماتاہے او اختیار کرتاہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
البلخش حجربناحیۃ المشرق فی معادن الذھب لونہ لون الیاقوت الاحمر وھو اشف من الیاقوت ۔
بلخش اطراف مشرق میں سونے کی کانوں میں ایك پتھر ہوتاہے جوسرخ یاقوت کے رنگ کا اور یاقوت سے زیادہ شفاف ہوتا ہے۔ (ت)
اس میں اتنی بات کہ سرخ رنگ ہے اور یاقوت سے زیادہ شفاف لعل پرصادق ہے مگر سونے کی کان مین پیداہونا ظاہرا اس کے خلاف ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۵۸) عقیق الثمانیۃ الاالتبیین خانیۃ خلاصۃ خزانۃ غنیۃ مراقی (آٹھوں کتابیں سوائے تبیین کے خانیہ خلاصہ خزانہ غنیہ مراقی۔ ت)
(۵۹) مرجان یعنی مونگا علی مافی عامۃ الکتب ویأتی (جیسا کہ عامہ کتب میں ہے اور آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔ ت)
(۶۰) سرمہ اصل قدوری ہدایۃ ملتقی والعامۃ۔ اقول : مگرپسے ہوئے سے بے ضرورت صنع ہے اگرچہرے پردھبہ دے لانہ من المثلۃ کما یأتی فی الطین (اس لئے کہ یہ مثلہ میں شمار ہے جیسا کہ مٹی کے بارے میں آرہاہے۔ ت)
(۶۱) اثمد یعنی اصفہانی سرمہ سیاہ وسرخ ہوتاہے حدیث میں ا س کی تعریف فرمائی۔ اصل نوازل خانیہ خلاصہ خزانہ۔
(۶۲) کبریت گندھك مر عن ثمانیۃ کتب (آٹھ کتابوں کے حوالہ سے ذکر ہوا۔ ت)
(۶۳) زرنیخ ہڑتال مر عن ستۃ وعشرین کتابا (چھبیس۲۶ کتابوں کے حوالہ سے گزرچکاہے۔ ت)
زرد توکثیرالوجود ہے نیز (۶۴) سرخ حلیہ غنیہ۔
(۶۵) سپید۔ حلیہ۔
(۶۶) سیاہ۔ غنیہ۔
(۶۷) مردارسنگ معدنی ویأتی (اورآگے بھی ذکرآئے گا۔ ت)
(۶۸) توتیا۔ نوازل خزانہ اقول : یعنی معدنی پتھر اگرملے نہ جست کہ سونے چاندی تانبے کی طرح
عـــــہ : فرہنگ خاتمہ مخزن میں ہے :
روئے توتیا شبہ است ومشہور بروح توتیاست چہ آں توتیائے غیرمصنوع ومعدنی ست چہ آں توتیائے غیرمصنوع ومعدنی ست۔ روئے توتیاجست کوکہتے ہیں اور روح توتیا کے نام سے مشہور ہے۔ اس لئے کہ یہ غیر مصنوع اور معدنی توتیاہے۔ ت)
تحفہ میں اتنا اور ہے :
بخلاف سائر اقسام توتیا کہ روئیدہ معدن نيستند۔
(بخلاف اور ساری اقسام توتیا کے کہ وہ معدن کی پیداشدہ نہیں۔ ت)
اقول : یہ صحیح نہیں بلالکہ صفر کوکہ تانبے کی ایك قسم ہے فارسی میں رو کہتے ہیں۔ تحفہ میں ہے : روئے اسم فارسی طالیقون ست (رو طالیقون کافارسی نام ہے۔ ت) اسی میں ہے :
طالیقون بفارسی مس رست گویند وصفرعربی۔
طالیقون کوفارسی میں مس رست کہتے ہیں اور عربی میں صفر۔ (ت)
اس سے امتیاز کے لئے جست کوروئے توتیاکہتے ہیں کہ توتیائے مصنوع جست اور رانگ سے بھی بنتاہے۔ مخزن میں ہے :
ہم چنیں از قلعی وشبہ یعنی روئے توتیا شنیدہ شد کہ بعمل آورند۔
اسی طرح سنایاگیا کہ قلعی اور شبہ یعنی روئے توتیا سے بھی بناتے ہیں۔ (ت)
اسی میں ہے :
شبہ بفارسی روئے توتیا وبہندی جست۔
شبہ فارسی میں روئے توتیا اور ہندی میں جست۔ (ت)
جست ایك کثیرالوجود چیز ہے او رتوتیائے جمعدنی معدوم یانادرالوجود۔ جامع ابن بیطار میں ہے :
فی کثیر من الاحایین قد یحتاج الی التوتیا ولا توجد۔
بسااوقات توتیا کی ضرورت پڑتی ہے اور ملتی نہیں۔ (ت)
پھر وہ توتیائے معدنی کیسے ہوسکتاہے ب
پھر وہ تو تیائے معدنی کیسے ہوسکتا ہےبلکہ مخزن میں توسرے معدنی توتیاماناہی نہیں کہ انچہ بتحقیق پیوست آنست کہ غیرمصنوع نمی باشد (جوکچھ تحقیق میں آیا وہ یہ ہے کہ غیرمصنوع نہیں ہوتا۔ ت) ۱۲منہ غفرلہ (م)
(۷۰) لاہوری نمك جسے سیندھا اور ملح اندرانی کہتے ہیں ویأتیان ان شاء الله تعالی (دونوں کاذکر ان شاء الله تعالی پھر آئے گا۔ ت)(۷۱) وہ نمك کہ مٹی سے بناہو۔
اقول : دلت علیہ مسألۃ السبخۃ وجواز التيمم بھا اذاکان ملحھا من تراب کما سیأتی اذلولم یجزبہ وھو علی وجھھا لم یجزبھا کمطلی بانك ومصبوغ بغیر الجنس۔
اقول : اس کی دلیل زمین شور اور اس سے جوازتیمم کامسئلہ ہے جب کہ اس کانمك مٹی سے پیداہواہو جیسا کہ آگے آرہاہے۔ اس لئے کہ اگر اس نمك سے تیمم جائز نہ ہوتا جبکہ یہ اس زمین کی سطح پرپڑارہتاہے تو اس زمین سے تیمم جائز نہ ہوگا جیسے رانگ سے قلعی کئے ہوئے اور غیرجنس زمین سے رنگے ہوئے مٹی کے برتن سے تیمم جائزنہیں۔ (ت)
(۷۲) خاك جس میں اس سے کم راکھ ملی ہو۔ جوھرۃ فتح بحروتقدم عن ثمانیۃ اخر فی النکات (جوہرہ فتح بحر اور مزید آٹھ کتابوں کے حوالہ سے نکات کے تحت اس کابیان گزرچکا۔ ت)
(۷۳) یونہی اگرآٹا مل گیا اور خاك زائد ہے جوھرہ۔
(۷۴) سوناکپڑا آدمی جانور جس چیز پرمٹی یاایساغبار ہو کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کانشان بن جائے۔ فتح بحر در وکثیر وفی التبیین یجوز بالنقع سواء کان الغبار علی ثوبہ او علی ظھر حیوان (اور تبیین میں ہے کہ غبار سے تیمم جائز ہے چاہے وہ اس کے کپڑے پرہو یاکسی جانور کی پشت پرہو۔ ت)
مزیدات (ایك سوسات۱۰۷ چیزیں کہ مصنف نے زائد کیں)
(۷۵) خاك شفا
(۷۶) مسجد کی دیوار
(۷۷) مسجد کاکچا خواہ پکا فرش
(۷۸) زمین جس پرشبنم پڑی ہے۔
(۷۹) سخت زمین جس پرمینہ برس کرپانی نگل گیا وھما فی معنی ما یأتی من ارض رش علیہا الماء وبقی نداہ (یہ دونوں اس زمین کے معنی میں ہیں جس پرپانی کاچھڑکاؤ ہوا اور تری باقی رہ گئی اس کاذکر آگے آرہاہے۔ ت)
(۸۱) کھریامٹی
(۸۲) ملتانی مٹی اور وہ پیلی مٹی کی غیر ہے جس کے بورے پیسے پیسے بکتے ہیں ان میں وہی فرق ہے جوگیرو اور سرخ مٹی میں۔
(۸۳) گل سرشوے سردھونے کی مٹی سفیدی مائل بزروی خوشبوہوتی ہے گل شیرازی وطین فارسی کہلاتی ہے۔
(۸۴) گل خوردنی خالص سوندھی مٹی خوشبو خوش ذائقہ جسے طین خراسانی کہتے ہیں۔ بعض حاملہ عورتیں اور پست طبیعت لوگ اسے کھاتے ہیں۔ طبا مضر اور شرعاحرام۱ ہے مگرتیمم جائز جبکہ دوائیں ملاکر اسے مغلوب نہ کردیا ہو خالص سے ہماری یہی مراد ہے۔
(۸۵) پنڈول
(۸۶) پھوڑی مٹی کہ چکنی کے مقابل ہے لس نہیں رکھتی جلد بکھرجاتی ہے۔
(۸۷) کاٹھیاوار میں سنکر کی مٹی کہ سونے کی مثلی ہوتی ہے۔
(۸۸) چولہے کی بھٹ
(۸۹) تنور کاپیٹ
(۹۰) دیوار کی لونی
(۹۱) ندی کنارے کاگیلاریتا
(۹۲) بالو۔ بھاڑ کاریتا
(۹۳) سراب کہ دور سے پانی نظرآتا ہے۔
(۹۴) ریگ روان کہ پانی کی طرح بہتاہے۔
(۹۵) دیگچیوں کاتلا جس پرپاك لیوا چڑھا ہے اگرچہ آنچ کھاچکا۔
(۹۶) درختوں کاتنہ جس پر اہلے نے مٹی چڑھا دی خشك ہونے پرتیمم کیاجائے۔
(۹۷) سانپ کی بانبی۔
(۹۸) کنکر مٹی ہے کہ محجر ہوجاتی ہے۔ معدنی چیزوں کی طرح زمین کے اندر سے نکلتاہے۔
(۹۹) کھرنجا
(۱۰۰) پکی سڑك جبکہ ۲ نئے بنے ہوں ان پرلید گوبر پیشاب وغیرہ نجاست نہ پڑی یاپڑی اور زور کامینہ برسا کہ پاك کرگیا یادھوکر پاك کرلیے گئے۔
(۱۰۲) سچی چینی کے برتن جبکہ ان پر غیرجنس کاروغن نہ ہو۔
(۱۰۳) گندھك کے برتن پیالے وغیرہ۔
(۱۰۴) مٹی کے کھلونے جن پرغیرجنس کی رنگت نہ ہو۔
(۱۰۵) غلیل کے غلے اگرچہ ان میں روئی وغیرہ کاخلط ہو جبکہ مٹی غالب ہو۔
(۱۰۶) پتھر کی بجری کہ قدرتی پتھردال کے برابر ہے۔
(۱۰۷) سیمنٹ ایك پتھرہے پھنکاہوا۔
(۱۰۸) ہرونجی دیواروں پرسرخ رنگ میں کام آتی ہے۔
(۱۰۹) سیل کھری اس س دیوار پر سفید چمکدار چکنی قلعی ہوتی ہے اگرچہ تھوڑا دودھ بھی ملاتے ہیں۔ مگروہ قلیل ہے اور اعتبارغالب کا کما تقدم (جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ ت)
(۱۱۰) گٹی کہ عمارت کے کام کاچوناہے۔
(۱۱۱) کالا چونا یہ بھی کار عمارت میں آتاہے او رکوئلہ مغلوب۔
(۱۱۲) گٹا پکی اینٹ توڑ کر کالاچونا اور گٹی ملاتے ہیں۔
(۱۱۳) صندلہ گٹی اور سرخی ملاکر۔
(۱۱۴) قلعی کاسفیدہ جس سے دیوار پرسفیدی ہوتی ہے معدنی پتھر ہے عربی اسفیداج الجصاصین۔
(۱۱۵) کہگل کی دیوار لان التبن قلیل مستھلك (اس لئے کہ اس میں بھس تھوڑا اور فناہوتاہے۔ ت)
(۱۱۶) یونہی جس درودیوار یاچھت پرصندلہ یاسیمنٹ ۱۱۷ پھراہو۔
(۱۱۸) جس درودیوار پر بالوترہو۔
(۱۱۹) جن پربادامی۱۲۰ لاکھی ۱۲۱ سرخ۱۲۲ سبز۱۲۳ زرد۱۲۴ دھانی۱۲۵ آسمانی۱۲۶ کتھی۱۲۷ زنگاری۱۲۸ خاکی۱۲۹ فاختی۱۳۰ پیازی۱۳۱ فیروزی رنگتیں ہوں کہ اگرچہ سرخ میں شنجرف سبز میں مصنوع توتیاآم کی چھال بکائن کے پتے زرد میں کبھی ملتانی کے سواٹیسو کے پھول دھانی میں کبھی سبزگل کے سوا وہی توتیا چھال آسمانی میں کوئلہ مصنوع لاجورد کتھی میں بول کی چھال زنگاری میں سبزتوتیا خاکی میں کوئلہ فاختی میں لاجورد وپیازی میں پیوڑی فیروزی میں توتیا وغیرہ وغیرہ اشیائے غیر کی آمیزش ہے مگربہرصورت اصل گٹی ہے اسی کاحصہ کثیروغالب اور ان کاخلط اس میں رنگت لانے کے لئے ہوتاہے۔
(۱۳۲) پکی قبر کہ وہاں ظن نجاست نہیں۔
(۱۳۴) سنگ موسی
(۱۳۵) سنگ سپید
(۱۳۶) سنگ سرخ
(۱۳۷) چوکا گہراسبز
(۱۳۸) سنگ ستارہ سرخی مائل بہت چمکدار ذرے ذرے نمایاں۔
(۱۳۹) گؤونتی سپید نیلگوں جھلکدار اس کے نگینے بھی بنتے ہیں۔
(۱۴۰) حجرالیہود و(۱۴۱) مقناطیس (۱۴۲)سنگ سماق جس کے کھرل مشہورہیں۔
(۱۴۳)سان (۱۴۴)سلی (۱۴۵)کرنڈ (۱۴۶)کسولی (۱۴۷)چقماق (۱۴۸)ریل کا کوئلہ کہ پتھر ہے۔ (۱۴۹) سلیٹ (۱۵۰)ترکستان کا وہ
پتھر کہ لکڑی ساجلتاہے۔
(۱۵۱) شام شریف کاوہ پتھر کہ آگ میں ڈالے سے لپٹ دیتاہے۔
(۱۵۲) صقلبہ کاوہ پتھر کہ گرم پانی سے مشتعل ہوتا اور تیل سے بجھتاہے۔
(۱۵۳) حجرالفتیلہ جس کی بتی بناکر جلاتے ہیں ان چاروں پتھروں کابیان اوپرگزراہے۔
(۱۵۴) بلورمعدنی پتھر ہے ولاینافیہ مامر من ظن ارسطو انہ من انواع الزجاج المعدنی (اور ارسطو کاخیال جوبیان ہوا کہ “ وہ معدنی زجاج کے اقسام سے ہے “ اس کے منافی نہیں۔ ت)
(۱۵۵) سنگ جراحت اور وہ ۱۵۶ لاجورد ۱۵۷ زہرمہرہ ۱۵۸ مہرہ مارکہ معدنی ہوں۔
(۱۵۹) دریائی توتیا کہ پتھر ہے امین الدولہ نوشتہ کہ توتیا بحری نیز باشدوآں سنگہائے سفید مستدیر شبیہ بسنگریزہ است مخزن (امین الدولہ نے لکھا ہے کہ توتیا بحری بھی ہوتاہے یہ سفید گول سنگریزہ کے مشابہ پتھر ہوتے ہیں۔ مخزن۔ ت)
(۱۶۰) الماس یعنی ہیرا ۱۶۱ لعل ۱۶۲ نیلم
(۱۶۳) پکھراج
(۱۶۴) یشب
(۱۶۶) سنگ شجری درخت کی اسی جھلك نظرآتی ہے۔ زیور میں جڑاجاتاہے۔
(۱۶۷) سنگ سنہرا مشابہ پکھراج مگرااس سے ہلکا۔ یہ بھی جڑائی میں کام آتاہے۔
(۱۶۸) بسد کہ مستقل پتھر ہے یابیخ مرجان۔ بہرحال قابل تیمم ہے۔
(۱۶۹) دہنج یعنی دہنہ فرندی جسے لوگ دہن فرنگ بولتے ہیں۔
(۱۷۰) عین الہر یعنی لہسنیا۔
(۱۷۱) جزع یعنی مہرہ یمانی۔
(۱۷۲) دانہ سلیمانی۔
(۱۷۳) سبز (۱۷۴)خاکی (۱۷۵)سنہری ہرتال۔
زرنیخ سات قسم ہوتی ہے چارقسمیں حلیہ وغنیہ سے گزریں تکمیل عــہ۲کے لئے ہم نے انہیں اضافہ کیا ورنہ اس طرح
عــہ۱ : اس میں آٹھ پتھر ہیں : یاقوت پنایعنی زمرد نیلم پکھراج لہسنیا مونگا ہیرا گئو سیندك اور نواں موتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : شاید حلیہ و غنیہ نے ہڑتال کی سبز قسم اس لئے ترك فرمائی کہ کمیاب ہے۔ تذکرہ میں ہے :
(زرنیخ) خمسۃ اصناف اصفر وھواشرفہا واحمریلیہ فی الشرف وابیج یسمی زرنیخ والنورۃ ودواء الشعر وھذا اوطی الانوع واخضر اقلہا وجودا ونفعا واسود اشدھا حدۃ واکثرھا کبریتیۃ اھ۔
اقول : وماقال فی الاخضر فہو عکس المعہودفان المعہود ان عزیز النفع عزز الوجود والله تعالی اعلم۔
ہڑتال کی پانچ قسمیں ہیں : (۱) زرد۔ یہ ساری قسموں سے بہتر ہوتی ہے۔ (۲) سرخ۔ عمدگی میں اسی کے قریب ہوتی ہے۔ (۳) سفید۔ اسے زرنیخ نورہ اور بال کی دوابھی کہاجاتاہے اور یہ سب سے زیادہ پامال قسم ہے۔ (۴) سبز۔ یہ سب سے کم یاب اور کم نفع ہے۔ (۵) سیاہ۔ یہ حدت میں سب سے شدید اور کبیریتیت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۱ھ(ت)
اقول : سبز قسم کے بارے میں جوبتایا یہ معہود کے برخلاف ہے اس لئے کہ معہودیہ ہے کہ جوچیز زیادہ نفع بخش ہوتی ہے وہ کم یاب ہوتی ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مشہور یہی پانچ قسمیں ہیں اور خاکی او رسنہری ابن البیطار نے کتاب الاحجارسے نقل کیں۔ (م)
(۱۷۶) توسل (۱۷۷) بٹا
(۱۷۸) چکی کے پاٹ (۱۷۹) تولنے کے باٹ کہ پتھر کے ہوں۔
(۱۸۰) کھرل کیوں نہ معدود ہوں۔
اقول : مگریہاں ایك دقیقہ ہے جس کاذکر کتب میں نظر سے نہ گزرا بعض ۱ پتھر پیدائشی یا ان میں دانت پیدا کرنے سے ایك سمت میں ایسے کھدڑے ناہموار ہوتے ہیں کہ ان پرکفدست کی ضرب سے ہتھیلی کی پوری سطح پتھر سے مس نہ کرے گی اس صورت میں اگر اکثر کف کو مس نہ ہو ا تیمم صحیح نہ ہوگا لہذا قبال وادبار جن کاذکر حواشی میں گزرا یعنی ہاتھ جنس ارض پرملنا آگے لے جانا پیچھے لانا کہ سنت تھا یہان فرض ہوگا کہ تمام کف یاکم ازکم اکثر کو پتھر سے مس ہوجائے یہی حکم کنکریاں ناہموار زمین وغیرہ میں ملحوظ رہنالازم۔
ثم اقول : وہ حکم کہ ان شاء الله الکریم آگے آتا ہے کہ چہرہ وہردودست کو اکثر کف سے مسح کرنا ضرور ہے یہاں ۲ اگرجنس ارض پرخود اکثرکف ہی کامسح ہوا تولازم ہوگا کہ یہ اکثر تمام وکمال یا اس کااتنا حصہ جس پراکثر صادق آئے چہرہ ہردودست سے مس کرے ورنہ اگرکف سے مسح کیا اور وہ اس حصے سے مل کر اکثر کف ہے جس نے جنس ارض سے مس نہ کیاتھا توتیمم نہ ہوگا۔
ثم اقول : وہ جوگزرا۳ کہ کف دست کے لیے جنس ارض پرضرب ہی بس ہے انہیں دوبارہ مسح نہ کرے اس حالت میں ہے کہ پورے کف دست کاجنس ارض سے مس ہوگیا ہو ورنہ اگراکثر کامس ہوا اور اسی اکثر سے چہرہ دہردودست کو مسح کیا تویہ مسح ان کے لیے کافی سہی خود کفدست کے جو بعض حصے باقی رہ گئے استیعاب نہ ہوا تیمم نہ ہوا لہذا اس صورت میں لازم ہے کہ ہتھیلیوں پربھی ہاتھ پیرے۔
وھذا کلہ وان لم ارہ صحیح واضح ان شاء الله تعالی فاحفظ تحفظ والله تعالی اعلم۔
یہ سب اگرچہ میری نظر سے نہ گزرا مگران شاء الله تعالی صحیح وواضح ہے تو اسے یاد رکھو محفوظ رہو گے اور خدائے تعالی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
(۱۸۱) ابرك عــہ بھی حسب ۴ تصریح اہل فن پتھر ہے توضرور کہ اس سے بھی تیمم جائز ہو۔ انوارالاسرارمیں ہے :
عــہ : یہ لفظ اردو میں یونہی کاف سے ہے فقیر کی رائے میں ممکن کہ اصل ابرق قاف سے ہو براقت سے ماخوذ یعنی نہایت جچمکدار جس طرح فارسی میں ابلق کو ابلك کہتے ہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)
(طلق) حجر براق یتحلل اذادق الی طاقات صغار دقاق ۔
طلق (برک) ایك بہت چمکدار پتھرہوتاہے جب اسے کوٹاجاتاہے توچھوٹی چھوٹی باریك تہوں میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ (ت)
اسی میں دیسقوریدوس سے ہے :
الطلق حجریکون بقبرس شبیہ بالشب الیمانی یتشظی وتتفسخ شظایاہ فسخا و یلقی ذلك الفسخ فی النار ویلتھب ویخرج وھو متقدالاانہ لایتحرق ۔
طلق قبرس میں شب یمانی کے مشابہ ایك پتھرہوتاہے جو تہوں میں چاك ہوجاتاہے اور اس کی تہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں اس ٹکڑے کو آگ میں ڈالاجاتاہے اور بھڑك اٹھتاہے اور روشن ہوکرنکلتاہے مگر وہ جلتانہیں ہے۔ (ت)
تذکرہ انطاکی میں ہے :
ھوزئبق خالطہ اجزاء ارضیۃ وتغلب علیہ الیبس فتلبد طبقات انعقدت بالبرد ۔
وہ پارہ ہے جس سے زمینی اجزاء مل گئے ہیں اور اس پر خشکی غالب کرکے ایسی تہوں میں جمادیا ہے جوٹھنڈك کی وجہ سے بندھ گئی ہیں۔ (ت)
مخزن میں ہے :
ماہیت آں جسمے معدنی ست متکون از زیبق خالص وکبریت قلیلے غالب براں ارضیت ویبس۔ گفتہ اند دوصفت مے باشد یکے صفائحی ورق ورق میگردد دوم مانند سنگ جص ۔
اس کی ماہیت ایك معدنی جسم ہے۔ خالص پارہ اور تھوڑی کبریت سے بنتاہے اس پرارضیت اور خشکی غالب ہوتی ہے۔ کہاگیا ہے کہ وہ دوقسم کاہوتاہے ایك صفائحی جوورق ورق ہوجاتاہے دوسری قسم گچ کے پتھر کی طرح ہوتی ہے۔ (ت)
جامع ابن بیطار
جامع ابن بیطار
تذکرہ داؤد انطاکی حرف الطاء مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۳
مخزن الادویہ فصل الطاء مع اللام مطبوعہ نولکشورکانپور ص ۴۰۹
الطلق جنسان جنس یکون متصفحا یتکون من حجارۃ الجص ویکون فی جزیرۃ قبرس ۔
ابرك کی دو۲قسمیں ہیں ایك قسم وہ کہ چوڑی چوڑی ہوتی ہے جوگچ کے پتھروں سے بنتی ہے اور جزیرہ قبرس میں پیداہوتاہے۔ (ت)
اسی میں غافقی سے ہے :
ھذا الجنس ھو الجبسین وھو الطلق الاندلسی ۔
اسی قسم کانام جبسین ہے اور یہی اندلسی ابرك ہے۔ (ت)
اسی میں اسحق بن عمران سے ہے :
الجبسین ھو الجص والجص ھو الجبسین وھو حجر رخوبراق ابیض واحمر وممترج بینھما وھو من الابدان الحجریۃ الارضیہ ۔
جبسین گچ ہی ہے اور گچ یہی جبسین ہے اور یہ نرم خوب چمکدار سفید سرخ اور دونوں کی آمیزش رکھنے والا ایك پتھر ہوتاہے اور یہ سنگی زمینی اجسام سے ہے۔ (ت)
بلکہ انطاکی نے کہاگچ حقیقۃ کچی ابرك ہے تذکرہ میں ہے :
(جبسین) ھو الجص وھو فی الحقیقۃ طلق لم ینضج وقیل انہ زئبق غلبتہ الاجزاء الترابیۃ فتحجر ۔
جبسین وہی گچ ہے اور یہ حقیقت میں وہ ابرك ہے جو ابھی پکی نہ ہو اور کہاگیا یہ پارہ ہے جس پرزمینی اجزا کا غلبہ ہوا توپتھر بن گیا۔ (ت)
اور گچ سے جوازتیمم عامہ کتب متون وشروح وفتاوی میں منصوص اور خود محرر مذہب نے اس پرنص فرمایا تو ابرك سے بھی جوازلازم۔ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مقام سوم : وہ بعض اشیاءجن سے ہمار ے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك تیمم صحیح نہیں۔ ظاہر ہے کہ اشیائے معدودہ کہ جنس ارض ہیں ان کے سوا دنیا کی تمام چیزین ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقابل تیمم ہیں تو ان کاشمار نامقدور مگرہم یہاں بدستور ان کاذکر کریں جن پرکتب میں نص اس وقت پیش نظر۔ عام ازیں کہ ان میں کوئی محل خفا ہو یانہ ہو جیسے علما نے نص فرمایا ہے کہ گھاس لکڑی مہندی برف سے تیمم باطل ہے اس پر بعض عوام کہیں گے علما نے ایسی چیزیں کیوں گنائیں ان سے تیمم نہ ہوسکنا ہرشخص جانتاہے یہ ان کی غلط فہمی ہے ہر شخص اگرجانتا بھی ہے تویوں ہی کہ علما ئے کرام افادہ فرماگئے ورنہ کیا اپنے گھر سے جان لیتا اقول بلکہ
جامع ابن بیطار
جامع ابن بیطار
تذکرہ داؤد انطاکی ، حرف الجیم ، دار الكتب العلمیہ ، بیروت ۱ / ۱۰۳
(فرائضہ اربعۃ) رابعھا (الصعید الطاھر وھو کل ماصعد علی وجہ الارض) ای من جنسھا من ثلج اوخضخاص اومعدن غیر نقدوجوھر الا ان لایجد غیرھما ۔
تیمم کے فرائض چار ہیں۔ چوتھا فرض پاك صعید۔ اور یہ ہروہ چیز ہے جوروئے زمین پرچڑھی ہوئی ہے۔ یعنی جنس زمین سے ہو جیسے برف یاخضخاص یانقد (سونے چاندی) اور موتی کے علاوہ کوئی دھات مگر یہ کہ ان دونوں کے سواکچھ نہ ملے۔ (ت)
حاشیہ یوسف سفطی مالکی میں ہے :
قولہ من ثلج ومثلہ الماء الجامد والجلید وکذا یتیمم علی الملح ولوکان مصنوعا من حلفاء اومن اراك والمعتمد انہ یجوز التیمم علی الخشب وعلی الزرع وعلی الحشیش بشروط ثلثۃ اذا لم یجد غیر ذلك وضاق الوقت ولم یمکن قلعہ فمن کان علی شجرۃ او مرکب ولم یمکن قلعہ فمن کان علی شجرۃ او مرکب ولم یجد ماء ولا ترابا یتیمم علی الخشب ھذا ھو المعتمد ۔
ان کی عبارت “ من ثلج “ ۔ برف اس کے مثل جماہوا پانی اور پالابھی ہے۔ اسی طرح نمك پربھی تیمم کرسکتا ہے اگرچہ حلفاء یااراك سے بناہوا ہو اور معتمد یہ ہے کہ لکڑی پر کھیتی پر اور گھاس پر تین شرطوں سے تیمم جائز ہے : (۱) جب دوسری چیز نہ ملے۔ (۲) اور وقت تنگ ہو۔ (۳) اور اسے اکھاڑنا ممکن نہ ہو تو جوشخص کسی درخت یاسواری پرہو اور اسے نہ پانی ملے نہ مٹی تو وہ لکڑی پرتیمم کرلے گا۔ یہی معتمد ہے۔ (ت)
پھرمزیدات لکھیں اور ان میں غالبا محل خفا وشبہ وافادہ تازہ کالحاظ رکھیں۔ وبالله التوفیق۔
منصوصات : (۱) جماہواپانی۔ جیسے کل کابرف اگرچہ سل کی سل ہو۔ تبیین فتح بحر مجمع الانھر ہندیہ۔ (۲) کپڑا (۳) نمدا۔ خانیہ۔ (۴) درخت تحفہ بدائع ایضاح ھندیہ فتح حلیہ بحر۔ (۵) گھاس اربعۃ اول والحلیۃ (پہلی چاروں کتابیں (تحفہ بدائع ایضاح ہندیہ) اور حلیہ۔ ت)(۶) لکڑی بدائع حلیہ ھندیہ(۷) کھورا سراجیہ (۸) نباتات(۹) میوے غنیہ
حاشیہ یوسف سفطی
دونوں کابیان آئے گا۔ ت)
(۲۰) لوہا خانیہ ظھیریہ خزانہ کافی منیہ تحفہ بدائع زاد الفقہا جلابی برجندی خزانۃ الفتاوی جامع الرموز حلیہ ایضاح ھندیہ۔
(۲۱) رانگ (۲۲) سیسا عــہ الخمسۃ الاول خلاصہ سراجیہ اخلاطی مسکین (پہلی پانچوں (خانیہ ظہیریہ خزانہ کافی منیہ) خلاصہ سراجیہ اخلاطی مسکین۔ ت)
عــہ : ذکروا الرصاص (۱) وقال فی الانوار الرصاص ھو الاسرب وفی التذکرۃ الاسرب ھو المراد اذا اطلق ھذالاسم والقلعی یخص باسم القصدیر ۱ھ وھو مدلول کلام جالینوس المنقول فی رصاص من الجامع وعکس فی التحفۃ والمخزن فقالا
ازمطلق اومراد قلعی ست ورصاص ابیض نامند وبفارسی ار زیز ۱ھ۔ زادالمخزن وبہندیرانگا واز مقید باسود اسرب کہ بہندی فقہا نے “ رصاص “ ذکر کیا ہے۔ انوار میں لکھا ہے : رصاص یہ اسرب ہے۔ اور تذکرہ میں ہے : تو اسرب ہی مراد ہوگا جب یہ نام بولاجائے اور قصدیر کے نام کے ساتھ قلعی مخصوص ہے ۱ھ۔ اور یہی جالینوس کے کلام کابھی مدلول ہے جوجامع میں “ رصاص “ کے تحت منقول ہے۔ اور تحفہ و مخزن میں اس کے برعکس بتایا۔ دونوں میں یوں لکھا ہے : مطلق سے مراد قلعی ہے اور اسے رصاص ابیض کہتے ہیں اور فارسی میں ارزیز کہتے ہیں ۱ھ۔ مخزن میں مزید یہ بھی ہے : اور ہندی میں رانگاکہتے ہیں اور اسود سے مقید ہوتو (بقیہ برصفحہ ایندہ)
تحفۃ المؤمنین علی ہامش مخزن الادویۃ تحت لفظ رصاص نولکشور کانپور ص ۳۰۳
(۲۴) صفر کہ عــہ۱ معدنی زرد تانبا پیتل کے مشابہ ہے آنچ سے سیاہ نہیں پڑتا السبعۃ الاول تحفہ ایضاح معادن فتح بحر تنویر اس سے یہی سات جسم منطبع بالنار مراد ہیں جن کو اجساد (۱) سبعہ یامنطرقات ہفت فلزات سات دھات کہتےہیں۔
ان میں چھ۶ یہی کہ گزرے صفرتانبے ہی میں داخل ہے اور ساتوں شبہہ معدنی جسے خار صینی اور روح توتیا یاروئے توتیاکہتے ہیں یعنی عــہ۲ (۲۵)جست (۲۶)موتی خانیہ خلاصہ ظھیریہ خزانہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سیسانامند ۱ھ وجعلہ الغافقی شاملا لھما فقال کما فی الجامع ھو ضربان الاسود وھو الاسرب والانك ولاخر الرصاص القلعی وھو القصدیر ۱ھ و بہذا جزم فی القاموس واقرہ فی التاج العروس فلذا حملنا علیہ کلام العلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۱ : فی التذکرۃ (صفر) النحاس ۱ھ و فی القاموس من النحاس ۱ھ وفی التاج وقیل ماصفر منہ ورجحہ شیخنا لمناسبۃ التسمیۃ ۱ھ وماقلتہ
مذکور فی التحفۃ و المخزن فی طالیقون۔ اقول وھو الاقرب وکلام القاموس لاینافیہ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : فی المخزن تحت طالیقون
اجساد سبعہ طلانقرہ مس آہن سرب قلعی
اسرب مراد ہوتاہے جسے ہندی میں سیسا کہتے ہیں ۱ھ۔ اور غافقی نے لفظ رصاص میں دونوں (رانگا اور سیسا) کوشامل قراردیا۔ لکھا ہے جیسا کہ جامع میں ہے اس کی دو قسمیں ہیں : سیاہ یہ اسرب اور آنك (رانگ اور سیسا) ہے دوسری قسم رصاص قلعی یہ قصدیر ہے ۱ھ۔ اسی پرقاموس میں جزم کیا اور تاج العروس میں بھی اسے برقرار رکھا۔ اسی لیے ہم نے علما کے کلام کو اسی پرمحمول کیا ۱۲ منہ۔ غفرلہ (ت)
تذکرہ میں ہے صفر : نحاس (تانبا) ۱ھ۔ قاموس میں ہے : من النحاس ۱ھ (تانبے کی ایك قسم ہے)۔ تاج العروس میں ہے : اور کہاگیا صفر تانبے کی وہ قسم ہے جوزرد ہو۔ اسی کو ہمارے شیخ نے مناسبت قسمیہ کے باعث ترجیح دی ہے۱ھ۔ اور میں نے جولکھا وہ تحفہ اور مخزن میں طالیقون کے تحت مذکور ہے۔ اقول اور یہی اقرب ہے اور قاموس کی عبارت اس کے منافی نہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)مخزن میں طالیقون کے تحت ہے۔ ساتوں اجسام سونا چاندی تانبا لوہا سیسا رانگ (بقیہ برصفحہ ایندہ)
تاج العروس ۴ / ۳۹۷
تذکرۃ اولی الالباب ۱ / ۲۲۴
القاموس ۲ / ۷۳
تاج العروس ۳ / ۳۳۷
اقول : وما فی الشلبیۃ عن الدرایۃ لایجوز باللؤلؤ المدقوق فلیس بتقیید بل تنصیص بالاخفی لان ماکان من اجزاء الارض یجیزہ محمد ان کان مدقوقا
اقول : شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے لکھا ہے : لایجوز باللؤلؤالمدقوق (پسے ہوئے موتی سے تیمم جائزنہیں) اس عبارت میں “ پسے ہوئے “ کالفظ تقیید کے طور پر نہیں (جس سے یہ سمجھاجائے کہ پسا ہو انہ ہو تو اس سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
روح توتیا۱ھ و فی فھرست روئے توتیا شبہ و مشہور بروح توتیا۱ھ وقال فی شبہ بفارسی روئے توتیا وبہندی جست۔ آب دران سردمیگردد واوانی خالص آن شکنندہ می باشد ۱ھ۔ وفی التحفۃ خاصیت اوست کہ ہرگاہ آب رادرظرف دہن تنگے ازان کردہ درظرف دہن بازے قدرے شورہ ریختہ ظرف آب را دران حرکت معتدل دہند آب رابغایت سردمے کند ومعمول اہل ہنداست ۱ھ۔
وفی التذکرۃ (شبۃ) بالتانیث تطلق علی المعدن والمعروف الان بروح التوتیاویسمی الخارصینی ۱ھ اقول وقولہ بالتانیث خطأ ففی القاموس من باب الہاء الشبہ والشبھان محرکتین الحاس لاصفر ویکسر ۱۲منہ غفرلہ (م)
روح توتیا۱ھ اور اس کی فہرست میں ہے روئے توتیا شبہ ہے اور روح توتیا سے مشہور ہے۱ھ۔ اور شبہ کے تحت لکھا ہے : فارسی میں روئے توتیا اور ہندی میں جست۔ پانی اس میں سرد ہوجاتاہے اور خالص جست کابرتن ٹوٹنے والاہوتاہے۱ھ۔
اور تحفہ میں ہے : اس کی خاصیت یہ ہے کہ جست کا ایك برتن تنگ منہ والا لے کر اس میں پانی رکھیں اور ایك کشادہ منہ والا برتن لے کر اس میں تھوڑا شورہ ڈالیں پھرپانی والا برتن اس میں رکھ کر معتدل حرکت دین پانی انتہائی سرد ہوجائے گا یہ طریقہ اہل ہند کے یہاں رائج ہے۱ھ۔
تذکرہ میں شبۃ بالتانیث اس مشہوردھات کو کہتے ہیں جواب روح توتیا سے مشہور ہے اور اسے خارصینی بھی کہاجاتاہے ۱ھ۔ اقول صاحب تذکرہ کااسے تائے تانیث کے ساتھ بتانا خطا ہے اس لیے کہ قاموس کے باب الہاء میں یہ درج ہے : شبہ وشبھان۔ دونوں لفظ (ش و ب پر) حرکت کے ساتھ۔ زردتانبااور اس پرکسرہ بھی استعمال ہوتاہے۱ھ۔ ۱۲منہ غفرلہ۔ (ت)
تیمم ہوسکتاہے) بلکہ یہ اخفی کی تنصیص وتوضیح کے لئے ہے۔ اس لیے کہ جنس زمین کی چیز پسی ہوئی ہو تو امام محمداس سے تیمم جائز کہتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس لیے (موتی کے ساتھ “ پسے ہوئے “ کالفظ بڑھاكر) یہ افادہ فرمایا کہ موتی کو پیسنابھی کار آمد نہیں بناسکتا۔ کیونکہ اس کے بعد فرمایا ہے اس لیے کہ وہ حیوان سے پیداہوتاہے اور اجزائے زمین سے نہیں ہے۔ (ت)
(۲۸) مرجان فتح منح در خادمی۔ یعنی چھوٹے موتی کہ ان کوبھی مرجان کہتے ہیں مقدسی ش۔ (۲۹) سانبھر (۳۰) ہرنمك کہ پانی سے بناہو ویأتی (آگے بھی بیان آئے گا۔ )(۳۱) مشك (۳۲) عنبر (۳۳) کافور ظھیریہ خزانہ ہندیہ خزانۃ الفتاوی حلیہ(۳۴) زعفران (۳۵) سك کہ ایك قسم خوشبو ہے الاولان (پہلی دونوں۔ ظہیریہ خزانہ۔ ت)(۳۶) زاج۔ کسیس(۱) پھٹکڑی عــہ کے سوا اور جنس ہے کسیس کہ زرد ہے اور (۳۷) ہیراکسیس سبزاور سیاہ۳۸ کسیس کے اسی کے اقسام ہیں۔
(۳۹) مردار سنگ مصنوع الاخیران وجامع الرموز(آخری دونوں۔ خزانۃ الفتاوی حلیہ(ت) وجامع الرموز)(۴۰) پارا درایہ شلبیہ۔ (۴۱) مصنوع شیشہ کہ ریتے میں دوسری چیزملاکر بناتے ہیں جیسے سجی محیط تبیین فتح بحر مجمع الانھرش۔ تقدم کلھا (ان سب کاذکر پہلے آچکا ہے۔ ت)(۴۲) راکھ یعنی لکڑی وغیرہ غیرجنس ارض کی جس کی تحقیق گزری۔ (۴۳) نمك زار زمین جس کانمك پانی سے بناہو۔ وستأتی الثلثۃ ان شاء عزوجل (ان تینوں کاذکر آگے بھی آئے گا اگر خدائے عزیز وجلیل نے چاہا۔ ت)(۴۴) نمك زار جس کانمك مٹی سے ہو مگر اس کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے ذکر الاسبیجابی فی شرحہ
عــہ : اور جس۲ نے پھٹکڑی کوزاج سمجھا جیسا کہ تحفہ ومخزن میں خود اپنے بیانوں کے خلاف لکھایوں ہی زکریارازی کا کلام اس میں مضطرب ہے اس نے غلطی کی جس کی تفصیل انوارالاسرارمیں ہے۔ (م)
(اسبیجابی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے : نمك زار سے تیمم جائز ہے۔ منیہ۔ اس بنیاد پرکہ اکثریہی ہوتاہے کہ زمین سے پھوٹنے والی تری سے مٹی ڈوب نہیں جاتی۔ غنیہ۔ ت)
(۴۵) ظروف گلی کا وہ رخ جس پر رانگ وغیرہ غیرجنس کی قلعی ہے۔ (۴۶) جس پرغیرجنس کی رنگت ہے۔ (۴۷) روغنی ظروف وقد تقدمت (ان سب کاذکر گزرچکا ہے۔ ت)(۴۸) وہ ٹھیکری جس میں دوائیں ڈال کرپکائی ہوں وسیأتی ان شاء الله مفصلا (اس کابیان ان شاء الله تعالی آگے تفصیل سے آئے گا۔ ت)(۴۹) مٹی جس میں راکھ اور (۵۰) جس میں آٹا برابر یازائد ملے ہوں جوھرہ نیرہ۔ (۵۱)کیچڑ جس پرپانی غالب ہو۔ (۵۲) ناپاك زمین اگرچہ خشك ہونے سے اثر نجاست زائل ہو کرنماز کے لیے پاك مانی گئی ہو۔ (۵۳) غبار کہ ناپاك زمین سے اٹھا۔ (۵۴) غبار کہ ترچیز ناپاك پر گرا اگرچہ پھر خشك ہوگیا۔ (۵۵) غبار کہ خشك چیز ناپاك پرگرا اور اس کوتری پہنچی۔ (۵۶) درزی کی بٹیا رنگین۔ (۵۷) قبرستان کی مٹی جہاں نجاست کا ظن ہو وقد تقدم کلہا فی المقابلات (ان سب کابیان مقابلات میں گزرچکا ہے۔ ت)
مزیدات (۵۸) زمین یاپہاڑ جس پر دوب اگی ہے۔ (۵۹) جس پربرف جماہواہو۔ (۶۰) جس کا برف پگھل کربہہ رہا ہے۔ (۶۱) جس پر مینہ برس رہا ہے۔ (۶۲) جس پر مینہ برس کر کھل گیا مگرپانی جاری ہے۔ (۶۳) پکافرش یادیوار جس پرکاہی جمی ہے۔ (۶۴) باورچی خانہ کی دیوار کی لجھی پھری ہے۔ (۶۵) وہ زمین جس پر کسم کی لجھی پھری ہے۔ (۶۶) مٹی کاچراغ جس پر کانٹھ چڑھی ہے۔
غنیہ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۷۸
صمغ کالسندروس___ الغافقی رطوبۃ تقطر من ورق الدوم نقلہما ابن البیطار الظاھرانہ صمغ الجوز اوصمغ شجرۃ غیرہ انوارالاسرار۔
سندروس کی طرح ایك گوند ہے۔ غافقی گوکھل کے پتوں سے ٹپکنے والی ایك رطوبت ہے۔ ان دونوں کو ابن بیطار نے نقل کیا۔ ظاہر یہ ہے کہ وہ اخروٹ کاگوند ہے یااس کے علاوہ کسی اور درخت کاگوند ہے۔ انوارالاسرار۔ (ت)
عــہ : صنعتہ(۱)طین خالص جزء فحم مسحوق شعر مقصوص ملح مکلس خطمی خبث الحدید کلس
قشرالبیض من کل نصف جزء الخ من التذکرۃ قال وقد تنقص ھذہ الاجزاء وقد تغیر اوزانہا ولایزید علی ماذکرنا فلیتحفظ بہ ۱ھ۱۲منہ غفرلہ(م) اس کانسخہ یہ ہے : خالص مٹی پساہوا کوئلہ تراشا ہوا با چونادار نمک خطمی لوہے کامیل سفید چونا انڈے کا چھلکا سب سے نصف حصہ الخ__ ازتذکرہ__اس میں لکھا ہے کہ یہ اجزا کبھی کم بھی کردئے جاتے ہیں اور کبھی ان کے وزنوں میں تبدیلی بھی کردی جاتی ہے مگرجتنے ہم نے ذکرکیے ان سے زیادہ نہیں ہوتے تو اسے محفوظ رکھنا چاہیے۱ھ۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
یہ تین سوگیارہ۳۱۱ چیزوں کابیان ہے ۱۸۱ سے تیمم جائز جن میں ۷۴ منصوص اور ۱۰۷زیادات فقیر او ۱۳۰ سے ناجائز جن میں ۵۸ منصوص اور ۷۲زیادات فقیر ایساجامع بیان اس تحریر کے غیرمیں نہ ملے گا بلکہ زیادات درکنار اتنے منصوصات کااستخراج بھی سہل نہ ہوسکے گا۔
ولله الحمد اولا واخرا*وبہ التوفیق باطنا وظاھرا*وصلی الله تعالی وسلم علی حبیبہ والہ وصحبہ متوافرامتکاثرا*امین*
اور ساری خوبیاں اولا وآخرا خدا ہی کے لیے ہیں اور اسی سے باطنا وظاہرا توفیق ارزانی بھی ہے۔ خدائے تعالی کاکثیر ووافر درودوسلام ہو اس کے حبیب ان کی آل اور ان کے اصحاب پر۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
مقام چہارم : (بعض اختلافی چیزوں کی بحث) ذکر بعض اخلاقیات مع ترجیحات وتوفیقات تتمیما للافادات (تاکہ افادات کی تکمیل ہوجائے۔ ت)
ارض ندیہ یعنی ترزمین۔ بدائع۱ ۔ خانیہ۲ ۔ خلاصہ۳ بزازیہ۴ خزانۃ۵ المفتین ولوالجیہ۶ درایہ۷ شلبیہ۷ جوہرہ۹ منیہ۱۰ ہندیہ۱۱ میں اس سے جواز کی تصریح ہے وذکرہ ابن الشلبی عن الکا کی عن الولوالجی عن الامام رضی الله تعالی عنہ (اسے ابن شلجی نے کاکی سے انہوں نے ولوالجی سے انہوں نے امام رضی اللہ تعالی عنہسے بیان کیاہے۔ ت)
اقول : وانما خصہ بالذکر لتصویرہ بما اذالم یتعلق بیدہ شیئ فیأتی فیہ خلاف الامام الثالث ایضا کالثانی رضی الله تعالی عنہم جمیعا ووقع فی شرح النقایۃ للبرجندی
اقول : اورخاص طور سے اسی کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس کی صورت یہ فرض کی ہے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہ چپکے۔ اس صورت میں امام ثانی (ابویوسف) کی طرح امام ثالث (محمد) کابھی اختلاف ہوگا رضی اللہ تعالی عنہمجمیعا۔ اور برجندی نے شرح نقایہ میں یہ لکھ دیا ہے کہ
اقول اولا(۱) : بنی علی الضعیف من عدم الجواز بالطین ویأتی۔
وثانیا : لاوجہ (۲) بخلاف محمد مطلقا فقد قال ملك العلماء فی البدائع لوتیمم بہ اجزأہ عند ابی حنیفۃ و محمد لان الطین من اجزاء الارض ومافیہ من الماء مستھلك عــہ وھو یلتزق بالیدفان خاف ذھاب الوقت تیمم و صلی عندھما وعلی قیاس قول ابی یوسف یصلی بغیر تیمم بالایماء ثم یعید اذا قدر علی الماء اوالتراب کالمحبوس (۳) فی المخرج اذالم یجد ماء ولاتراب نظیفا اھ۔ نعم عنہ روایۃ اخری قال فی الحلیۃ بعد نقل مافی البدائع ماذکرہ عن محمد من جواز التیمم بالطین
“ بغیر کیچڑ والی تر زمین سے تیمم جائز ہے۔ یہ حکم امام ابوحنیفہ کے نزدیك ہے اور صاحبین کے نزدیك ناجائز ہے “ اھ۔ (ت) اقول اولا : یہ قول ضعیف۔ کیچڑ سے عدم جواز تیمم پر۔ مبنی ہے۔ ثانیا : اس مسئلہ میں امام محمد کااختلاف مطلقا ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ملك العلماء نے بدائع میں یہ تحریر فرمایا ہے : “ اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیك کافی ہوگا اس لیے کہ کیچڑ اجزائے زمین میں سے ہے۔ اور اس میں جوپانی ہے مٹی میں فنا شدہ ہے اور وہ ہاتھ سے چپکتی ہے۔ تواگر وقت نکلنے کااندیشہ ہوطرفین کے نزدیك کیچڑ سے تیمم کرکے نماز اداکرلے اور امام ابویوسف کے قیاس پریہ حکم ہوگا کہ بغیر تیمم کے اشارہ سے نماز کی صورت اداکرلے پھر جب پانی یامٹی پرقدرت پائے تواعادہ کرلے۔ جیسے اس شخص کاحکم ہے جوبیت الخلاء میں قید کر یاگیاہو اور اسے نہ پانی دستیاب ہونہ صاف مٹی “ ۔ ۱ھ۔ ہاں امام محمد سے ایك اور روایت بھی آئی ہے۔ حلیہ میں بدائع کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے “ کیچڑ سے جواز تیمم کاحکم جو امام محمد سے نقل کیاہے وہ ان سے
عــہ : ای الطین اضافہ تتمیما للشریطۃ علی قول محمد ۱۲ منہ غفرلہ
(م) یعنی کیچڑ __ ہاتھ سے چپکنے کی بات امام محمد کے قول پر شرط کی تکمیل کے لیے بڑھائی ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بدائع الصنائع بیان مایجوزبہ التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۴
اقول : عبارۃ الخلاصۃ عن نص الامام محمد نفسہ فی المبسوط ھکذا و فی الاصل قال ابوحنیفۃ ومحمد یجوز التیمم بجمیع ماکان من جنس الارض ومن اجزائھا نحو التراب والرمل والنورۃ (وعداشیاء الی ان قال) وقال ابویوسف لایجوز الابالتراب ثم عندنا لافرق فی الحجر علیہ غبار اولم یکن مغسولا اوغیر مغسول مدقوقا اوغیر مدقوق وقال محمد ان کان الحجر مدقوقا اوعلیہ غبارجاز التیمم والافلا۔ وان تیمم بارض قدرش علیہا الماء وبقی علیہا ندوۃ جاز ولوکان فی طین طاھر لایتیمم بل یلطخ بعض ثیابہ اوجسدہ ویترکہ حتی یجف ثم یتیمم بہ ومع ھذا الوتیمم بالطین فھو علی الخلاف وقال الکرخی یجوز التیمم بالطین ولوتیمم بالحجر الاملس اوالمغسول یجوز عندابی حنیفۃ وعند ابی یوسف نقل شدہ ایك روایت ہے جیسا کہ خلاصہ کی ظاہرعبارت سے معلوم ہوتاہے اور نہایہ میں تو اس بات کی صراحت موجود ہے کہ امام محمد سے ایك روایت یہ آئی ہے کہ کیچڑ سے تیمم جائز نہیں۔ ۱ھ۔ (ت)
اقول : خلاصہ میں خود امام محمد کی کتاب مبسوط کے حوالہ سے یہ عبارت پیش کی ہے۔ “ اصل میں ہے : ابوحنیفہ و محمد کہتے ہیں تیمم ہراس چیز سے جائز ہے جو زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہوجیسے مٹی ریت چونا (اور بھی کچھ چیزیں شمار کرائیں یہاں تك کہ فرمایا) اور ا بویوسف کہتے ہیں : مٹی کے علاوہ کسی چیزسے جائز نہیں۔ پھر ہمارے نزدیك پتھر میں اس کی کوئی تفریق نہیں کہ اس پرگرد ہے یانہیں دھلاہواہے یانہیں پساہواہے یانہیں اور امام محمد کہتے ہیں : اگرپتھر پساہواہو یا اس پرگرد ہو توتیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اگر کسی ایسی زمین سے تیمم کیا جس پر پانی چھڑکاگیاتھا اور اس پر ابھی تری باقی ہے تو یہ تیمم جائز ہے اور اگرپاك کیچڑ میں ہو تو “ تیمم نہ کرے “ بلکہ اپنے کسی کپڑے یاجسم کو اس سے آلودہ کرکے خشك ہونے تك چھوڑدے پھر اس سے تیمم کرے۔ اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کر ہی لیا تو اس میں اختلاف ہے۔ اور امام کرخی فرماتے ہیں : کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔ اور اگرصاف چکنے یادھلے ہوئے پتھر سے تیمم کرلیا توامام ابوحنیفہ کے نزدیك جائز ہے اور امام ابویوسف کے
فقد ذکرنص محمد فی ظاھر الروایۃ جواز التیمم بکل ماکان من جنس الارض واجزائھا وانہ مع الامام فیہ وان الخلاف لابی یوسف ثم اشار بمسألۃ الحجر المدقوق ان محمد ایشترط الالتزاق بالید ثم احال التیمم بالطین علی الخلاف المذکور فنص علی الجوازعند الطرفین لانہ من جنس الارض واجزائھا قطعا ولاشك انہ یلتزق بالید فکان کلامہ
نزدیك جائز نہیں اور امام محمد سے دو۲روایتیں ہیں۔ ایك روایت میں ہے کہ اگر اس پرغبار ہوتو جائز ہے اور دوسری روات میں یہ ہے کہ مطلقا جائز ہے۔ اور پکی اینٹ سے امام ابوحنیفہ کے نزدیك تیمم جائز ہے۔ امام محمد سے دو۲روایتیں ہیں۔ اور امام ابویوسف کاقول متردد ہے۔ نئے خزف (مٹی کے پکے ہوئے برتن وغیرہ) میں بھی اختلاف ہے مگر جب اس میں کوئی دوا استعمال کی گئی ہو تو اس وقت اس سے تیمم جائز نہیں۔ اگرکسی ایسی زمین سے تیمم کیا جس میں پانی کی تری ابلتی ہے تو اس میں بھی وہی اختلاف ہے جوخزف سے متعلق ذکرہوا۔ اور کیچڑ سے تیمم میں بھی یہی اختلاف ہے۔ “ اھ۔ (ت)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ خلاصہ میں امام محمد کی ظاہرالروایۃ کی عبارت ذکرفرمائی ہے کہ ہراس چیز سے تیمم جائز ہے جو زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہو اور یہ کہ اس مسئلہ میں امام محمد امام اعظم کے ساتھ ہیں اختلاف امام ابویوسف کاہے۔ پھر پسے ہوئے پتھر کامسئلہ بیان کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ امام محمد کے نزدیك ہاتھ سے لگنا چپکنا شرط ہے۔ پھر کیچڑ سے تیمم کے بارے میں اسی ذکرشدہ اختلاف کا حوالہ دے کریہ صراحت فراہم کردی کہ طرفین کے نزدیك جائز ہے اس لیے کہ یہ یقینا زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہے اور ہاتھ سے اس کے چپکنے لگنے میں بھی کوئی شك نہیں۔ توان کاکلام ٹھیك ویسے ہی ہوا
ثم افاد بمسألتی الحجر المغسول والاجران محمدا فی روایۃ عنہ یوافق الامام فی عدم اشتراط التزاق شیئ بالید ثم احال مسألۃ الخزف علی الاختلاف والظاھران المراد بہ الاختلاف المذکور فی الاجرلذکرہ عقیبہ ولاشتراك العلۃ فیھما انہ لاینفصل منھما شیئ یلتزق بالیدفا فادان عن محمد فی الخزف روایتین فی روایۃ یجوز مطلقا وفاقا للامام الاعظم وفی اخری لا الا اذا کان مدقوقا اوعلیہ غبارکما ذکرفی الحجر وھی الروایۃ المشھورۃ عنہ ثم انہ احال مسألتی الارض النزۃ والطین علی الاختلاف المذکور فی الخزف فقد یؤخذ منہ ان عنہ فیہما ایضا روایتین ھذا معنی قول الحلیۃ کما ھو ظاھر الخلاصۃ۔
اقول : لکن الروایتین انما ھما الجواز مطلقا والجواز بشرط الالتزاق(۱) اما عدم الجواز بالطین مطلقا فی روایۃ عن محمد کما ذکر عن النھایۃ فلیس ظاھر
الخلاصۃ ولامتوھما منھا ثم لا(۲) شك
جیسے ملك العلماء کاکلام ہے۔
پھر دھلے ہوئے پتھر او رپکی اینٹ کے مسئلوں سے یہ افادہ فرمایا کہ امام محمد اپنی ایك روایت میں امام اعظم کے موافق ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپکنا شر ط نہیں۔ پھر خزف کے مسئلہ میں بھی اختلاف کاحوالہ دیا اور ظاہریہی ہے کہ اس سے مراد وہی اختلاف ہے جوپکی اینٹ کے بارے میں ذکر ہوا کیونکہ اسی کے بعد اسے ذکرکیا ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں میں یہ علت مشترك ہے کہ دونوں ہی سے کوئی ایسی چیز الگ نہیں ہوتی جو ہاتھ سے چپك جائے۔ اس سے یہ بھی مستفاد ہوا کہ خزف میں بھی امام محمدسے دو۲ روایتیں ہیں ایك روایت میں مطلقا جائز ہے جیسا کہ امام اعظم کا مذہب ہے اور دوسری روایت میں جائزنہیں مگر اسی وقت جب کہ خزف پسا ہوا ہو یا اس پرغبار ہو جیسا کہ پتھر سے متعلق ذکرکیا اور یہی ان کی مشہور روایت ہے۔ پھرانہوں نے تری والی زمین کے مسئلوں میں بھی اسی اختلاف کاحوالہ دیا جوخزف میں ذکرہو ا اس سے یہ اخذ ہوتاہے کہ امام محمد سے ان دونوں کے بارے میں بھی دو۲ روایتیں ہیں __حلیہ کی عبارت “ کما ھوظاھر الخلاصۃ “ (جیسا کہ خلاصہ کے ظاہر سے معلوم ہوتاہے) کایہ مطلب ہوا (جوعبارت خلاصہ کی تفصیل کرکے ہم نے واضح کیا)۔ (ت)
اقول : لیکن یہ دو روایتیں کیاہیں یہی کہ مطلقا جواز ہے یاچپکنے کی شرط کے ساتھ جواز ہے مگریہ کہ امام محمدسے کسی روایت میں کیچڑ سے مطلقا عدم جواز منقول ہے جیسا کہ حلیہ نے نہایہ کے حوالہ سے ذکر کیا یہ بات نہ توخلاصہ کے ظاہر سے مستفاد ہوتی ہے نہ ہی اس کااس سے وہم ہوتاہے۔ پھر یہ امریقینی ہے
اقول : نفس البلل لایمنع التیمم کما علمت من تظافر المعتمدات علیہ فکیف مایقرب منہ فیجب کہ کیچڑ سے ہاتھ میں کچھ ضرور چپکتاہے جیسا کہ ملك العلماء نے افادہ فرمایا تودونوں ہی روایتیں (کیچڑ سے تیمم کے) جواز پرمتفق ثابت ہوئیں۔ اور خلاصہ کے حوالہ سے بدائع پراستدراك کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ اس لیے کہ عبارت خلاصہ کی اور روایت کاکوئی پتا نہیں دیتی۔ اسی طرح نہایہ کے حوالہ سے بھی استدراك کاموقع نہیں اس لیے کاظاہر روایۃ کے ہوتے ہوئے نوادرقابل التفات نہیں۔ صاحب حلیہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے تھے کہ “ ملك العماء نے امام محمد سے جونقل کیا وہ امام محمد کامذہب ہے اور ان سے اس کے خلاف بھی ایك روایت آئی ہے جیساکہ نہایہ میں ہے “ جب یہ بات معلوم ہوگئی اور عرش تحقیق اس پر مستقر ہوا کہ امام محمدسے نقل شدہ ظاہرروایات کیچڑ سے جوازتیمم پرمتفق ہیں توبرجندی کایہ لکھنا کہ “ صاحبین کے نزدیك ناجائز ہے “ مناسب نہیں (یعنی امام ابویوسف کی طرح اسے امام محمدکابھی مذہب قراردے دینا درست نہیں۱۲م الف) یہ ذہن نشین رہے۔ پھرحلیہ میں یہ لکھا ہے : “ ایسی زمین سے تیمم جائز ہے جس پرپانی چھڑکاگیاتھا اور نمی رہ گئی ہے۔ فتاوی خانیہ وغیرہا میں ایسا ہی ہے۔ اور خزانۃ الفتاوی میں ہے کہ : نمناك مٹی سے تیمم کیا تو وہ اگرخشك ہونے سے زیادہ قریب ہوتوجائز ہے اور اگرترہونے سے زیادہ قریب ہوتوناجائز ہے۱ھ۔ (ت)
اقول : خود تری تیمم سے مانع نہیں جیسا کہ اس پرکتب معتمدہ کے باہمی اتفاق سے ناظر پرعیاں ہوچکا ہے توجومٹی تری سے قریب ہو وہ کیونکر تیمم سے مانع ہوگی
لہذا ضروری ہے کہ عبارت بالا میں لفظ جواز کو حلت کے معنی پر محمول کیاجائے۔ یعنی مٹی اگرتری سے زیادہ قریب ہواس طرح کہ چہرے کوآلودہ کردے تو(تیمم میں اس کااستعمال) حلال نہیں کیوں کہ اس میں مثلہ(صورت بگاڑنا) لازم آئے گا۔ جیسا کہ اس کابیان آرہاہے۔ (ت)
طین یعنی کیچڑ : ۱۔ بدائع ۲۔ خلاصہ ۳۔ بزازیہ ۴۔ ایضاح کرمانی ۵۔ معراج الدرایہ ۶۔ شلبیہ ۷۔ سراجیہ ۸۔ والواجیہ ۹۔ مبتغی ۱۰۔ بحر ۱۱۔ نہر ۱۲۔ ہندیہ میں جواز تیمم کی تصریح ہے۔
وقدمرت عبارات البدائع والخلاصۃ ومثل الخلاصۃ فی البزازیۃ وعن البدائع نقل فی الھندیۃ ولفظ ابن الشلبی عن الکاکی عن الکرمانی ماذکر فی الاصل انہ یلطخ الثوب بالطین ویتیمم بعد الجفاف اذاکان فی طین ردغۃ ھوقولہ اما عند ابی حنیفۃ یجوز التیمم بالطین الرطب اذالم یعلق منہ شیئ ۱ھ۔
اقول : ای وان لم یعلق منہ شیئ کما سیأتی فی عبارۃ الامام الاجل الکرخی فیکون تصریحا بالخفی لاجل خلاف محمد لیدل علی الظاھر بالاولی والجواز بمعنی الحل فیتلق بما اذالم یعلق حذرا عن المثلۃ وفی السراجیۃ لوتیمم بالطین یجوز۱ھ۔ وزعم البرجندی ان فی
بدائع اور خلاصہ کی عبارتیں گزرچکیں خلاصہ ہی کے مثل بزازیہ میں بھی ہے اور بدائع سے ہندیہ میں نقل کیاہے۔ اور ابن الشلبی کے الفاط کاکی پھرکرمانی سے روایت کرتے ہوئے وہی ہیں جواصل (مبسوط) میں ذکرہوئے کہ آدمی کپڑے پرکیچڑ لگالے اور خشك ہوجانے کے بعد اس سے تیمم کرے جب سخت کیچڑوالی زمین میں ہو۔ یہ امام محمد کاقول ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیك ترکیچڑ سے تیمم جائز ہے جب اس میں سے کچھ بدن پر نہ چپکے۱ھ۔ (ت)
اقول : مراد یہ ہے کہ اگرچہ اس میں سے کچھ بدن پرنہ چپکے جیسا کہ عن قریب امام اجل کرخی کی عبارت میں آرہا ہے تویہ امام محمد کے خلاف کی وجہ سے خفی بات کی صراحت کردیتاہے تاکہ ظاہربات پربدرجہ اولی دلالت ہو__ یاجواز بمعنی حلت ہے تونہ چپکنے والی صورت سے اس کاتعلق مثلہ سے بچنے کے لیے ہوگا۔ سراجیہ میں ہے : “ اگرکیچڑ سے تیمم کیاتوجائز
فتاوی سراجیۃ باب التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنو ص ۷
اقول : قدمنا نص الخلاصۃ ولیس فیہ لایجوز بل لایتیمم وقد قال متصلابہ ومع ھذالوتیمم بالطین فھو علی الخلاف ای یجوز عند الطرفین خلافا لابی یوسف وقال فی اواخرالکلام وعلی ھذالخلاف التیمم بالطین فمن العجب نسبۃ عدم الجواز الیہ۔
ہے اھ۔ اور جندی نے یہ کہہ دیا کہ خلاصہ میں ہے : کیچڑ سے تیمم “ جائزنہیں “ بلکہ اسے اپنے کسی کپڑے میں لگالے گا الخ۔ (ت)
اقول : خلاصہ کی عبارت ہم پیش کرآئے ہیں اس میں لایجوز (ناجائز) نہیں بلکہ لایتیمم (تیمم نہ کرے)ہے۔ اور اس سے متصلا ہی یہ بھی لکھا ہے کہ “ اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرہی لیا تو اس میں اختلاف ہے “ یعنی برخلاف امام ابویوسف کے __ طرفین کے نزدیك جائز ہے __ اور اواخر کلام میں یہ بھی لکھا ہے اور اسی اختلاف پرکیچڑ سے تیمم بھی ہے __ توخلاصہ کی طرف عدم جواز کی بات منسوب کرنا بڑاعجیب ہے۔ (ت)
یوں ہی خانیہ۱۳ وخلاصہ میں امام کرخی۱۴ اورخانیہ میں امام شمس الائمہ ۱۵ حلوانی سے اس کاجواب نقل کیا مگر امام خجندی عدم جواز کے قائل ہیں جوہرہ نیرہ میں ہے :
لولم یجد الا الطین یلطخ بہ طرف ثوبہ اوغیرہ حتی یجف ثم یتیمم بہ وان لم یمکنہ قال فی ان لم یمکنہ قال فی الججندی عــہ لایصلی مالم یجد الماء
اگرکیچڑ کے علاوہ کچھ نہ ملے تواسے اپنے کپڑے کے کنارے یاکسی اور چیز پرکیچڑ لگالے تاکہ وہ خشك ہوجائے پھر اس سے تیمم کرے اور اگریہ اس کے لیے ممکن نہ ہوتوخجندی میں کہاہے : جب تك پانی یاخشك مٹی
عــہ : مشایخنا قالواھذاقول ابی یوسف رحمہ الله تعالی فان عندہ لایجوز التیمم الابالتراب والرمل اما عند ابی حنیفۃ فالتیمم بالطین جائز لانہ من اجزاء الارض اھ منحۃ الخالق عن الرملی عن الولوالجیۃ۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)
ہمارے مشایخ نے فرمایا یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکاقول ہے کیونکہ ان کے نزدیك مٹی یاریت کے علاوہ کسی چیز سے تیمم جائز نہیں لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك توکیچڑ سے تیمم جائز ہے اس لیے کہ وہ زمین ہی کے اجزاسے ہے۱ھ منحۃ الخالق از رملی از ولوالجیہ ۱۲منہ غفرلہ۔ (ت)
خلاصۃ الفتاوٰی مایجوزبہ التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۳۶
منحۃ الخالق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸
نہ ملے نماز نہ پڑھے۔ اور کرخی میں ہے : ترکیچڑسے تیمم جائز ہے اگرچہ اس کے ہاتھوں میں نہ چپکے اور صحیح یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام زفر کے نزدیك کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔ (ت)
بلکہ محیط سے منقول ہوا کہ بالاتفاق ناجائز ہے رحمانیہ میں ہے :
فی المحیط لایجوز التیمم بالطین عندالکل لان التراب لایصیرطینا مالم یصرمغلوبا لماء ۔
محیط میں ہے : سب کے نزدیك کیچڑ سے تیمم ناجائز ہے اس لیے کہ مٹی اسی وقت کیچڑ ہوتی ہے جب پانی سے مغلوب ہوجائے۔ (ت)
اور تحقیق وتوفیق وہ ہے جو۔ محیط۱ سرخسی محیط۲ رضوی حلیہ۳ بحر۴الرائق درمختار۵ عالمگیریہ۶ فتح الله ۷المعین وغیرہا میں افادہ فرمائی کہ جس کیچڑ میں پانی غالب ہے اس سے تیمم جائز نہیں اور مٹی غالب ہے توجائز۔ حلیہ میں ہے :
قال رضی الدین فی محیطہ الصحیح ان الطین جنس الارض الا اذاصار مغلوبا بالماء فلایجوز ۔
رضی الدین نے اپنی محیط میں فرمایا : صحیح یہ ہے کہ کیچڑ زمین ہی کی جنس ہے مگرجب پانی سے مغلوب ہوجائے توناجائز ہے۔ (ت)
ہندیہ میں ہے :
وان صار طین مغلوبا بالماء فلایجوز بہ التیمم ھکذا فی محیط السرخسی ۔
اور اگرکیچڑپانی سے مغلوب ہوتو اس سے تیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی محیط سرخسی میں ہے۔ (ت)
علائی و ازہری میں ہے :
وطین غیرمغلوب بماء ۔
(اور(تیمم جائزہے) ایسی کیچڑ سے جوپانی سے مغلوب نہ ہو۔ ت)
بحرمیں ہے :
عند ابی حنیفۃ یتیمم بالطین وھو الصحیحح
امام ابوحنیفہ کے نزدیك کیچڑ سے تیمم جائز ہے اور یہی صحیح ہے
رحمانیہ
حلیہ
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶۷
فتح اللہ المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱
لیکن جب کیچڑ سے مغلوب ہوتو اس سے تیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی محیط میں ہے۔ (ت)
البتہ بلاضرورت اس سے تیمم ناجائز یعنی مکروہ وممنوع وگناہ ہے کہ ۱ منہ کیچڑ سے ساننا صورت بگاڑنا ہے اور صورت بگاڑنا مثلہ اور مثلہ حرام ہے یہاں تك کہ ۲ جہاد میں جوحربی کافروں کوبھی مثلہ کرنا صحیح حدیث میں منع فرمایا جن کے قتل کاحکم فرمایا اس کے بھی مثلہ کی اجازت نہ دی۔ افسوس۳ ان مسلمانوں پر کہ باہم کھیل میں ایك دوسرے کے منہ پر کیچڑ تھوپتے ہیں یاہنسی سے کسی کے سوتے میں اس کے منہ پر سیاہی لگاتے ہیں یہ سب حرام ہے اور اس سے پرہیز فرض خلاصہ و خانیہ و بدائع وغیرہا میں کہ کیچڑسے تیمم کی ممانعت فرمائی اور اس کی ۴ یہ ترکیب بتائی کہ اپنے بدن یا کپڑے کے حصے خواہ کسی اور چیز پرکیچڑ کالیس کرلے جب وہ خشك ہوجائے اس سے تیمم کرے اور یہ نفیس ترکیب خود محررالمذہب سیدنا امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہنے کتاب الاصل میں ارشاد فرمائی اس کا منشایہی تقبیح صورت سے بچانا ہے نہ یہ کہ کیچڑ سے تیمم درست ہی نہیں۔
اقول : (۵) وبہ ظھر مافی ظاھر کلام الایضاح حیث جعل الارشاد الی ھذا الصنیع قول محمد خاصۃ قابلہ بقولہ اما عند ابی حنیفۃ فیجوز الخ انہ صنیع سنیع طلوب عندالامام ایضا قطعا ولیس ارشاد محمد الیہ لابطالہ التیمم بالطین۔ واقرب تاویل لہ ما اقول یرید ان ایجاب ھذا الصنیع مطلقا سواء علق بیدہ شیئ اولا قول محمد خاصۃ لانہ ان علق لطخ و ان
اقول : اسی سے وہ خامی بھی دور ہوجاتی ہے جوامام کرمانی کی عبارت ایضاح کے ظاہر میں ہے اس طرح کہ اس طرز کی رہنمائی کو انہوں نے خاص امام محمدکا قول بنادیا اور اس کے مقالہ میں اپنی یہ عبارت لائے کہ “ لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیك ترکیچڑ سے تیم جائز ہے الخ۔ اور حق یہ ہے کہ یہ ایك عمدہ طریقہ ہے جوبلاشبہ امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیك بھی مطلوب ہے اور اس طرز کی جانب امام محمد کی رہنمائی اس لیے نہیں کہ وہ کیچڑ سے تیمم باطل قرار دیتے ہیں۔ (ت)
کلام “ ایضاح “ کی قریب ترتاویل وہ ہے جو میں کہتاہوں (اقول) ان کی مراد یہ ہے کہ اس ترکیب کو مطلقا واجب قراردینا خواہ ہاتھ میں کچھ لگے یانہ لگے خاص امام محمد کاقول ہے اس لیے کہ اگرکیچڑہاتھ میں چپکتی ہے توآلودگی ہوگی اور
نہیں لگتی تو انکے نزدیك تیمم ہی درست نہیں۔ لیکن امام اعظم اسے ہاتھ میں کچھ نہ لگنے کی صورت میں واجب نہیں کہتے۔ (ت)
ولہذا تصریح۱ فرماتے ہیں کہ یہ ترکیب اس وقت ہے کہ ابھی نماز کے وقت میں اتنی وسعت ہو اور اگردیکھے کہ ایسا کرے گا تو اس کے خشك ہونے تك نماز کاوقت جاتارہے گا تولازم ہے کہ یونہی کیچڑ سے تیمم کرکے نماز پڑھ لے وقت نہ جانےدے اقول : مگر اب۱ لازم ہوگا کہ دونوں ہتھیلیاں باہم خوب ملے رگڑے کہ جہاں تك ممکن ہو کیچڑ چھوٹ جائے اور جو حصہ رہے خشکی پر آجائے کہ جب غبار وزمین خشك پرہاتھ مار کر جھاڑنا اور اثر خاك سے صاف کردینا سنت ہو تو یہاں وجوب چاہئے نیز تصریح فرماتے ہیں کہ اگرکسی نے ایسا نہ کیا اور کیچڑ سے تیمم کرلیا براکیا مگرتیمم ہوگیا خلاصہ سے گزرا :
مع ھذا الوتیمم بالطین فھو علی الخلاف اھ ای صح عندالامام والثالث خلافا للثانی رضی الله تعالی عنہم۔
اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں اختلاف ہے۱ھ۔ یعنی امام اعظم و امام محمد کے نزدیك جائزہے امام ابویوسف کے نزدیك اس کے برخلاف ہے الله تعالی ان سبھی حضرات سے راضی ہو۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
لابالطین بل یلطخ جسدہ بہ فاذا جف تیمم ومع ھذا الوتیمم بہ فعلہ ھذالخلاف ۔
کیچڑ سے تیمم جائز نہیں بلکہ اپنے جس کے کسی ایك حصے پرکیچڑلگائے خشك ہونے پر اس سے تیمم کرلے اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں یہی اختلاف ہے۔ (ت)
ولو الجیہ پھر رملی علی البحر پھر منحۃ الخالق میں ہے :
عند ابی حنیفۃ ان خاف ذھاب الوقت تیمم بالطین لان التیمم بالطین عندہ جائز لانہ من اجزاء الارض
امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہ حکم ہے کہ اگروقت نکلنے کااندیشہ ہو توکیچڑ سے تیمم کرلے کیونکہ ان کے نزدیك کیچڑ سے تیمم جائز ہے اس لیے کہ وہ اجزائے زمین
فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الہندیۃ الخامس فی التیمم مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷
سے ہے لیکن وقت نکلنے کااندیشہ سے پہلے اس سے تیمم نہ کرے تاکہ چہرہ اس سے آلودہ ہوکر مثلہ کے معنی میں نہ جائے۔ (ت)
بدائع و ہندیہ میں ہے :
لوکان فی طین وردغۃ لایجد ماء ولاصعیدا ولیس فی ثوبہ وسرجہ غبار یلطخ ثوبہ اوبعض جسدہ بالطین فاذا جف تيمم بہ ولاینبغی ان یتیمم مالم یخف ذھاب الوقت لان فیہ تلطخ الوجہ من غیر ضرورۃ فیصیر بمعنی المثلۃ وان یتیمم بہ اجزأہ عند ابی حنیفۃ و محمد رضی الله تعالی عنھما الی اخر ماقدمنا ۔
کیچڑ اور دلدل میں ہو نہ پانی دستیاب ہے نہ مٹی نہ کپڑے یازین پرغبار ہی ہے تواپنے کپڑے یاجسم کے کسی حصے پرکیچڑ لگالے جب خشك ہوجائے تو اس سے تیمم کرے اور جب تك وقت نکلنے کااندیشہ نہ ہو اس سے تیمم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں بلاضرورت چہرہ آلودہ ہوکر مثلہ (صورت بگاڑنے) کے معنی میں ہوجاتاہے اور اگر اس سے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ و امام محمد رضی اللہ تعالی عنہماکے نزدیك کافی ہوگا۔ آخر عبارت تك جو ہم پہلے نقل کرآئے۔ (ت)
فتاوی امام قاضیخان میں ہے :
ذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالی انہ لاینبغی ان یتیمم بالطین لان فیہ تلطیخ الوجہ ولوفعل جاز ۔
شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر فرمایا ہے کہ کیچڑ سےتیمم نہیں کرنا چاہئے اس لیے کہ اس میں چہرہ کی آلودگی ہوتی ہے اور اگرکرہی لیاجائے تو جائز ہے۔ (ت)
اقول : انہی ۱ عبارات سے ظاہوہوا کہ بحال گنجائش وقت اس ترکیب پرعمل صرف مستحب نہیں بلکہ واجب ہے کہ جب وہ معنی مثلہ میں ہے اور مثلہ حرام قطعی توجو اس کے معنی میں ہے لااقل مکروہ تحریمی۔
وبہ۲ ظھر ضعف ماوقع فی الحلیۃ حیث
اسی سے اس کاضعیف ہونا عیاں ہوجاتاہے۔
فتاوٰی عالمگیری باب التیمم مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷
فتاوٰی قاضیخان فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹
اقول : ان کان (۱)لہذا میل الی عدم الوجوب فقول الخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ ولوالجیۃ والمبتغی بل وشمس الائمۃ ایضا علی روایۃ المنیۃ لایتیمم بالطین ظاھر فی الوجوب فان استویا وجب الرجوع الی الدلیل وھو قاض بالوجوب کما علمت لاجرم ان صرح فی المنیۃ وغیرھا بلفظۃ لایجوز کما ستسمع وقال العلامۃ الخیر الرملی کما فی المنحۃ لما کان فی معنی المثلۃ وجب تاخیر فعلہ الی ذلك الوقت لئلا یباشر ماھو فی معنی المثلۃ لغیر ضرورۃ اھ
اقول : لکن یعکر علیہ ان لووجب الاوجب عدم التیمم بہ الابعد الجفاف وان خرج الوقت جوحلیہ میں لکھ دیاہے کہ : اس بنیاد پر عمل مذکور مسافر کے لیے لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور بدائع کی عبارت یہ ہے (اس کے بعد بدائع کی وہ عبارت ذکر کی جوابھی ہم نے اس سے نقل کی) معلوم ہوتاہے کہ وہ بدائع کے الفاظ لاینبغی ان یتیمم (تیمم نہیں کرناچاہئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) سے شہادت پیش کرناچاہتے شمس الائمہ کے الفاظ بھی اسی کے مثل ہیں۔ (ت)
اقول : اگران الفاظ کاکچھ رجحان عدم وجوب کی طرف ہے توخانیہ خلاصہ والوالجیہ متبغی بت منیہ شمس الائمہ کے الفاظ لایتیمم بالطین (کیچڑ سے تیمم نہ کرے) وجوب کے بارے میں واضح ہیں۔ اگر دونوں کاپلہ برابر ہو تو دلیل کی طرف رجوع ضروری ہوگا۔ اور دلیل وجوب ہی کافیصلہ کرتی ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ لامحالہ منیہ وغیرہ میں لفظ “ ناجائز “ کی صراحت آئی ہے جیسا کہ آگے آپ سنیں گے۔ اور علامہ خیرالدین رملی نے جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے یہ فرمایا : “ جب یہ مثلہ کے معنی میں ہے تو یہ عمل اس وقت تك مؤخر کرنا واجب ہو تاکہ بلاضرورت ایسے کام کامرتکب نہ ہو جومثلہ کے معنی میں ہے “ ۔ (ت)
اقول : لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگریہ عمل واجب ہوتاتوجب تك خشك نہ ہو اس سے عدم تیمم واجب کرتے اگرچہ وقت نکل جائے
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸
واقول : فی الجواب بتوفیق الوھاب حفظ الوقت فریضۃ واتیان الفریضۃ اھم من ترك المکروہ تحریما فلایجعل عجزا عن التراب جاذلابدل لہ بخلاف الماء فان لہ خلفا وھو التراب والله تعالی اعلم بالصواب۔
جیسا کہ امام ابویوسف کاقول ہے اس لیے کہ شرعی ممانعت سے بھی پانی کے استعمال سے عجزثابت ہوتاہے جیسا کہ ہم پہلے سبیل کے پانی ہبہ کے مسئلہ اور چندآدمیوں کے درمیان ملك فاسد سے مشترك پانی کے مسئلہ میں بیان کرآئے ہیں تو اس مٹی کے استعمال سے بھی عجز ثابت ہونا چاہئے۔ (ت)
اقول : خدائے وہاب کی توفیق سے اعتراض مذکور کہ جواب میں میں کہتاہوں کہ وقت کاتحفظ فرض ہے اور فرض کی بجاآوری مکروہ تحریمی کے ترك سے اہم ہے تو اسے مٹی سے عجز نہ قرار دیاجائے گا اس لیے کہ اس کاکوئی بدل نہیں پانی کامعاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ اس کا ایك نائب وبدل مٹی موجود ہے اور خدائے تعالی درست وصواب کوخوب جاننے والاہے۔ (ت)
بالجملہ بحمدالله تعالی واضح ہے اور کیچڑ سے منع کایہی منشا کہ ہم نے تقریر کیا اور اسی سے عبارات میں توفیق وبالله التوفیق۔
اقول : لکنھا مزلۃ زلت فیھا اقلام اعلام من قبل حمل الجواز علی معنی الصحت دون الحل فاغربھا ماقدمت عن البرجندی حیث عزا الی الخلاصۃ ماعزولم یبال بماصرح بہ فی نفس السطر وبعد بعدۃ اسطر ومنھا ماقدمنا عن الایضاح ان لم یؤول بما فتح علی الفتاح ومنھا قال فی المنیۃ لایجوز التیمم بالطین قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالی لایتیمم
اقول : لیکن یہ ایك پھسلن ہے جہاں متعدد علمائے اعلام کے قلم لفظ جواز کوبجائے حلت کے صحت کے معنی پر محمول کرلینے کی وجہ سے لغزش کھاچکے ہیں۔ (۱) سب سے زیادہ عجیب وغریب وہ ہے جو برجندی سے میں نے نقل کیاکہ انہوں نے خلاصہ کی طرف منسوب کرڈالا وہ سب جو منسوب کیا اور اس کاخیال نہ کیا جو صاحب خلاصہ نے خود اسی سطر میں اور پھر چند سطر بعد بھی صراحت فرمائی ہے۔ (۲) وہ بھی ہم نے امام کرمانی کی ایضاح سے نقل کیا اگر اس کی وہ تاویل نہ کی جائے جوفقیر پر خدائے فتاح نے
اقول : من(۱) سمع ھذالایتبادر ذھنہ الا الی ان لایجوز بمعنی لایحل ویجوز بمعنی یصح والظاھر ھو المتبادر غیر ان الشارح العلامۃ لایسلم عدم الحل ایضا کما تقدم فلم یستقم لہ ھذا المعنی الواضح ومنھا قال فی البحر وقیدالجواز بالطین الولوالجی فی فتاواہ وصاحب المبتغی بان
منکشف فرمائی۔ (۳) منیہ میں کہا : “ کیچڑ سے تیمم جائز نہں۔ شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : کیچڑ سے “ تیمم نہ کرے “ اور اگرکرلیاتوجائز ہے “ ۔ ۱ھ۔ یہ ہمارے نسخہ متن میں ہے۔ اسی نسخہ پر شرح غنیہ بھی ہے اور ایك دوسرے نسخہ میں جس پر شرح حلیہ ہے یوں لکھا ہے “ شمس الائمہ نے فرمایا : کیچڑ “ سے تیمم جائز نہیں “ اور اگرکرلیا تو جائز ہے “ اھ۔ حلیہ میں لکھا : “ اس سے جوا زکے قائل کرخی ہیں اور اسی پر شمس الائمہ حلوانی بھی گئے ہیں مگر انہوں نے یہ فرمایا کہ اس سے تیمم نہیں کرناچاہئےاس لیے کہ اس میں چہرہ کی آلودگی ہوتی ہے اور اگرکرلیاتوجائز ہے۔ ان سے ان ہی الفاظ کے ساتھ قاضی خان نے اپنے فتاوی میں نقل کیا ہے ان الفاظ میں نہیں جو ان سے مصنف نے حکایت کی اس لیے کہ اس کاظاہر توتناقض لئے ہوئے ہے۔ “ ۱ھ(ت)
اقول : جوبھی یہ سنے گا اس کاذہن اسی بات کی طرف جائے گا کہ لایجوز (جائز نہیں) لایحل (حلال نہیں) کے معنی میں ہے اور یجوز (جائز ہے ) یصح (درست ہے) کے معنی میں ہے اور ظاہریہی متبادرہوتاہے۔ مگر شارح علامہ عدم حلت بھی نہیں مانتے جیسا کہ گزرچکا اس لیے یہ واضح معنی ان کے لیے راست نہ آسکا۔ (۴)بحر میں فرمایا : “ والوالجی نے اپنے فتاوی میں اور صاحب مبتغی نے بھی کیچڑ سے جواز
غنیۃ امستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
حِلیہ
اقول : فانظر الی التعلیل ھل یرشد الی عدم الجواز بمعنی الحل ام بمعنی الصحۃ فاندفع(۱) والله الحمد مارد بہ علیہ اخوہ المدقق فی النھر والعلامۃ الرملی فی حاشیۃ البحر وتبعھماش فی المنحۃ فاھمین انہ یقول قیدبہ الولوالجی صحۃ التیمم بالطین فلو تیمم بہ قبل ذھاب الوقت لم یصح و لعل ھذا شیئ لم یخطر بال المحقق البھر ولاارادہ*ولا فی عبارتہ ماعینہ او افادہ*
نعم فی عبارتہ مایوھم (۲) ظاھرہ انہ حمل حکم تلطیخ الثوب علی عدم الجواز بہ قبل الجفاف حیث قابلہ بقول الامام بالجواز اذقال اذالم یجد الاالطین یلطخہ بثوبہ فاذا جف تیمم بہ
کو اس بات سے مقید کیاہے کہ وقت نکلنے کااندیشہ ہو۔ اس سے قبل جائز نہیں تاکہ چہرہ آلودہ ہوکربلاضرورت مثلہ کے معنی میں نہ ہوجائے۔ اور یہ اچھی قید ہے جسے یاد رکھنا چاہئے “ ۔
اقول : بیان علت پرغورکیجئے کیا اس سے اس بات کی راہ ملتی ہے کہ جواز بمعنی حلت کاعدم مراد ہے یابمعنی صحت کا۔ توبحمدالله وہ اعتراض دفع ہوگیا جس سے صاحب بحر پران کے برادر مدقق نے نہر میں اور علامہ رملی نے حاشیہ بحر میں رد کیا اور علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان دونوں حضرات کی پیروی کی۔ يہ سب ان حضرات نے یہ سمجھتے ہوئے کیا کہ صاحب بحریہ فرمارہے ہیں کہ کیچڑ سے تیمم درست ہونے کے لیے والولوالجی نے یہ قید لگائی ہے تو اگر اس سے وقت نکلنے (کے اندیشہ) سے پہلے تیمم کرلیا تو ووہ درست ہی نہ ہوا۔ اور شاید یہ معنی ایسا ہے جو محقق بحر کے خیال میں بھی نہ آیا ہو نہ ہی انہوں نے یہ مراد لیا نہ ہی ان کی عبارت میں کوئی ایسا لفظ ہے جس سے اس کی تعیین ہو یا جس سے یہ مستفاد ہو۔ (ت)
ہاں ان کی عبارت میں ایك امر ایساہے جس کے ظاہر سے یہ وہم پیداہوتاہے کہ انہوں نے کپڑے میں کیچڑ لگانے کاحکم اس پرمحمول کیا ہے کہ سوکھنے سے پہلے کیچڑ سے تیمم جائز ہی نہیں اس طرح کہ اس کے مقابہ میں امام کاقول جواز پیش کیاہے۔ عبارت یوں ہے : “ جب کیچڑ کے سواکچھ نہ ملے تو اسے کپڑے میں
لگالے جب خشك ہوجائے تو اس سے تیمم کرے اور کہاگیا کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك کیچڑ سے تیمم کرلے گا۔ اور یہی صحیح ہے کیونکہ ان کے نزدیك واجب یہی ہے کہ زمین پرہاتھ رکھے اس کے کسی جزکو استعمال کرنا واجب نہیں اور کیچڑ جنس زمین ہی سے ہے۔ مگرجب پانی سے مغلوب ہوتو اس سے تیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی محیط میں ہے “ اھ او ر یہ پہلے شخص نہیں جن کاوہم غیرارادی طور پر اس طرف چلاگیا پھر امام اعظم کے قول کی علت بتاتے ہوئے جوانہوں نے ذکر کیا اس سے یہ وہم ہوتاہے کہ کیچڑ سے ہاتھ میں کچھ لگتانہیں یا اس میں اکثر یہی ہوتاہے۔ یہ اس راہ کے برعکس ہے جس پرصاحب بدائع گامزن ہوئے اورصواب ملك العماء کے ساتھ ہے۔ اور خدائے برترخوب جانتاہے۔ (ت)
زمین ۳ وخاك سوختہ۔ ان میں عبارات دو۲طورپرآئیں اول بلاقید جائز ہے مختارات النوازل۱ حلیہ۲ ط۳ یہی اصح ہے فتح۴ ظہیریہ۵ ھندیۃ۶ مبتغی۷ حلیہ۸ اسی پرفتوی ہے جواھر۹ الاخلاطی غیاثیۃ۱۰ نصاب۱۱ حلیۃ۔
دوم : اگر راکھ پرخاك غالب ہوجائز ہے ورنہ نہیں خانیہ۱ بحر۲ در۳ خادمی۴ مراقی۵۔ بل جمع بینھما فقال یجوز بالارج المحترقۃ والطین المحرق الذی لیس بہ سرقین قبلہ والارض المحترقۃ ان لم یغلب علیہا الرماد (بلکہ انہوں نے دونوں کوجمع کرکے یوں کہا : جلی ہوئی زمین اور اس جلائی ہوئی مٹی سے تیمم جائز ہے جس میں پہلے گوبرنہ تھا اور جلی ہوئی زمین سے اگر اس پراکھ غالب نہ ہو۔ ت)
اقول : تحقیق یہ ہے کہ مسئلہ فی نفسہا مطلق بالقید ہے کہ زمین وخاك جل کرراکھ نہیں ہوسکتیں ہاں زمین پرکھتی یاگھاس وغیرہ اور اشیاء تھیں او ر وہ جلائی گئیں اور ان کی راکھ خاك سے ملی تویہاں وہ قید غلبہ ملحوظ ہوگی۔ طحطاوی و شامی میں ہے :
مراقی الفلاح باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ص ۶۸
یعنی زمین پراگے ہوئے گھاس پودے جل گئے اور زمین کی مٹی سے راکھ خلط ہوگئی ایسی صورت میں جوغالب ہے اس کااعتبار ہوگا۔ (ت)
طحطاوی علی المراقی میں قول مکرر مراقی پرہے :
الاولی الاکتفاء بھذہ عن قولہ سابقا وبالارض المحترقۃ الاان یحمل ماسبق علی ان الارض احرق ترابھا من غیرمخالط ۔
اپنی پہلی عبارت “ اور جلی ہوئی زمین “ کی بجائے اسی پر اکتفاکرنابہترتھا۔ مگریہ کہ ماسبق کو اس پرمحمول کریں کہ زمین کی مٹی کسی اور چیز کی آمیزش کے بغیر جلائی گئی۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
فی قاضیخان اذا احترقت الارض بالنار ان اختلطت بالرماد یعتبرفیہ الغالب ان کانت الغلبہ للتراب جازبہ التیمم والافلاوفی فتح القدیر یجوزفی الاصح لم یفصل والظاھر التفصیل ۱ھ۔
اقول : انما (۱) صحح الجواز بارض محترقۃ ولاتفصيل فیہا کما علمت انمایجیئ التفصیل من قبل المخالط ولاذکر لہ ھنا فاذاجاء علی ذکرہ صرح باعتبار الغلبۃ نقلا عن الخانیۃ ھذا۔
قاضیخان میں ہے : جب زمین آگ سے جل جائے تواگروہ راکھ سے مخلوط ہو تو اس میں اعتبار اس کا ہوگا جوغالب ہے۔ اگرمٹی غالب ہے تو اس سے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور فتح القدیر میں ہے : “ مذہب اصح میں جائز ہے “ انہوں نے تفصیل نہ کی اور ظاہریہ ہے کہ تفصیل ہونی چاہئے ۱ھ(ت)
اقول : انہوں نے جلی ہوئی زمین ہی سے توجواز کوصحیح بتایا ہے یقینا اس میں کوئی تفصیل نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ تفصیل تومخالط کی جہت سے ہوتی ہے اور اس کایہاں کوئی ذکرہی نہیں۔ جب اس کے ذکرپرآئے توبہ نقل خانیہ اعتبار غلبہ کی صراحت فرمائی۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
مراقی الفلاح باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ص ۶۸
البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸
اور شرنبلالی نے جلائی گئی مٹی کے بارے میں جو ذکرکیا فاقول اس سے متعلق میراخیال یہ ہے کہ اس سے اس صورت کااستثنا ہوناچاہئے جب گوبرکم رہاہو اور دیرتك جلایاگیاہو یہاں تك کہ گوبر ختم ہوگیا اور مٹی پاك ہوگئی۔ اس لیے کہ جلانابھی یقینا پاك کرنے والی چیزوں میں ہے اور آگ کامعاملہ دھوپ اور ہواکی طرح نہیں بلکہ يہ جس پرگزرتی ہے کچھ بچاتی چھوڑتی نہیں۔ خداہی سے سوال ہے کہ ہمیں اس سے اور ہرشر سے عافیت عطافرمائے۔ (ت)
رماد۴ یعنی خاکستر۔ عامہ کتب مثل خانیہ۱ ظہیریہ۲ وسراجیہ۳ وخزانۃ۴ المفتین ومحیط۵ وکافی۶ وصدر۷ الشریعۃ
عــہ۱ : ان فنی فذالك وان ابقی رمادا فالمعتمد طہارتہ لانقلاب العین والفرض انہ قلیل مغلوب بالتراب ۱۲منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : تنویر رش بماء نجس (اوبال فیہ صبی حلیہ ۱ھ ش) لاباس بالخبز فیہ درمختار بعد ذھاب البلۃ النجسۃ بالنارخانیۃ ۱ھ ش کطین نجس فجعل منہ کوزبعد جعلہ علی النارتنویر ؤ ۱۲منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ : یرید ماتقدم فی صدرالرسالۃ عن ملك العلماء ان احراق الشمس ونسف الریاح اثرھا فی تقلیل النجاسۃ دون استئصالہا ۱۲منہ غفرلہ (م)
اگرختم ہوگیا تب توصرف مٹی رہی۔ اور اگر راکھ ہوکر رہ گیا تو معتمد یہ ہے کہ وہ پاك ہے اس لیے کہ گوبر مٹی سے بدل گیا۔ فرض یہ کیاگیا ہے کہ گوبر کم اور مٹی سے مغلوب ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
کسی تنور میں نجس پانی چھڑکاگیا(یااس میں کسی بچے نے پیشاب کردیا۔ حلیہ۱ھ ش) تو اس کے اندر روٹی پکانے میں کوئی حرج نہیں۔ درمختار۔ اس کے بعد کہ آگ سے ناپاك تری ختم ہوچکی ہو۔ خانیہ۱ھ ش۔ جیسے وہ مٹی جوناپاك ہوگئی پھر اس سے آگ پرپکار کوزہ تیارکیاگیا۔ تنویر۔ (ت)
اس سے اس کی طرف اشارہ مقصود ہے جوشروع رسالہ میں ملك العلماء کے حوالہ سے گزرا کہ نجاست دھوپ کے جلانے اور ہواکے اڑانے سے کم ہوجاتی ہے ختم نہیں ہوجاتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
اقول : النصاب(۱) والخلاصۃ لامام واح ولفظہ فیھا بالاجر یجوز عند ابی حنیفۃ وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردد واجمعوا انہ لوتیمم بالرماد لایجوز اھ فالکنایۃ للائمۃ الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم فلاینفی خلاف بعض المشایخ وما استنبط البرجندی عن زاد الفقہاء قدمنا مافیہ۔
اقول : نصاب اور خلاصہ ایك ہی امام کی تصنیف ہیں اور خلاصہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں : “ پکی اینٹ سے امام ابوحنیفہ کے نزدیك تیمم جائز ہے اورامام محمد سے دو۲ روایتیں آئی ہیں۔ اور امام ابویوسف کاقول متردد ہے اور اس پر ان حضرات کااتفاق ہے کہ اگرراکھ سے تیمم کیاتوناجائز ہے “ ۱ھ۔ اس عبارت میں “ ان حضرات “ سے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکی طرف اشارہ ہے جس سے بعض مشائخ کے درمیان اختلاف کی نفی نہیں ہوتی۔ اور برجندی نے زادالفقہا سے جو استنباط کیا اس کی خامی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں(ت)۔
اور اس سے مراد لکڑی یا اس کے مثل اور اشیاغیرجنس ارض کی راکھ ہے پتھرکی راکھ سے جواز اور یہ کہ اس سے چونا مراد اوپر گزرا بدائع میں ہے : با لاجماع لانہ من اجزاء الخشبۃ (بالاجماع __اس لئےکہ وہ لکڑی کے اجزا سے ہے۔ ت) فتاوی امام قاضی خان میں ہے : لانہ من اجزاء الشجر لامن اجزاء الارض ۱ھ (اس لیے کہ وہ درخت کاجز ہے زمین کاجز نہیں۔ ت)
اقول : واحسن منھما مافی شرحہ للجامع الصغیر لایجوز بالرماد فی الصحیح من الجواب لانہ لیس من اجزاء
اقول : ان دونوں عبارتوں سے بہتروہ ہے جو ان کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ “ صحیح جواب یہ ہے کہ راکھ سے تیمم جائز نہیں اس لیے کہ وہ اجزائے زمین
خلاصۃ الفتاوی فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶
بدائع الصنائع فصل فی بیان مایجوزبہ التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۴
قاضیخان فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۹
فان قلت ماالترمد(۱) الاذھاب الاجزاء الرطبۃ وبقاء الیابسۃ ومعلوم ان الناریۃ لاتبقی فماھی الاجزاء ارضیۃ فلم لایجوز التیمم بھا۔
اقول : کانہ الی ھذا نظر الامام الصفار والصوب ان البسائط لاتبقی علی حقائقھا فی امثال المرکبات فکما ان مائیۃ تقطر من الشجر لیست من اجزاء الماء حتی لم یجزاالتوضی بہا فکذلك الرماد لیست من اجزاء الارض بل اجزاء ذلك الشیئ بعد جانقلاب الاعیان فلم یجز التیمم بہ والیہ یشیر مامرانفا عن الامامین ملك العلماء وفقیہ النفس رحمہھما الله تعالی۔
سے نہیں “ ۱ھ۔ اس لیے کہ یہ عبارت ہر اس چیزکی راکھ کو شامل ہے جو جنس زمین سے نہیں۔
اگریہ اعتراض ہو کہ راکھ ہونا یہی توہے کہ تراجزاء ختم ہو جائیں اور خشك اجزاء رہ جائیں اور معلوم ہے کہ ناری اجزاء بھی باقی نہیں رہ جاتے توصرف زمینی اجزاء ہے۔ پھر ان سے تیمم کیوں جائز نہیں
میں کہوں گا(اقول) معلوم ہوتاہے کہ اسی امر کی طرف امام صفار نے نظرفرمائی ہے اور صحیح یہ ہے کہ امثال مرکبات میں بسائط اپنی حقیقتوں پرباقی نہیں رہتے جیسے وہ مائیۃ جودرکت سے ٹپکتی ہے پانی کے اجزاء سے نہیں یہاں تك کہ اس سے وضو جائز نہیں تو اسی طرح راکھ بھی زمین کے اجزاء سے نہیں امام فقیہ النفس کے حوالہ سے گزرا رحمہم اللہ تعالیتعالی۔ (ت)بلکہ اسی شے کے اجزا انقلاب اعیان کے بعد بھی ہیں تو اس سے تیمم جائز نہیں اسی کی طرف اس کابھی اشارہ ہے جو ابھی امام ملك العلماء اور
بآجر۵ یعنی پکی اینٹ۔ عامہ کتب مثل خانیہ۱ وخلاصہ۲ وخزانۃ۳ المفتین ومنیہ۴ وسراجیہ۵ وکافی۶ ونہر۷ وغیرہا میں اس سے مطلقاجواز کی تصریح ہے تبیین۸ الحقائق میں ہے یہی ظاہر الروایۃ ہے مختارات۹ النوازل وحلیہ۱۰ وفتح۱۱ وبحر۱۲ جوہندیہ۱۳ میں ہے یہی صحیح ہے فتح اللہ۱۴ المعین میں ہے یہی اصح ہے۔
تنبیہ : یہاں تك توکوئی اختلاف عــہ قابل لحاظ نہیں کہ جب یہی ظاہرالروایۃاور یہی صحیح ہے
عــہ : روایت خلاف یہ ہے :
فی محیط الشیخ رضی الدین لایجوز
محیط شیخ رضی الدین میں ہے کہ ایك روایت کے مطابق(باقی اگلے صفحہ پر)
سبخہ۶ یعنی زمین نمك زار۔ اس میں عبارت چار۴طور پرہیں :
(۱) اطلاق جواز خانیہ۱ نوازل۲ خزانہ۳ فتح۴ شرح۵ مختصر الطحاوی منیہ۶ نہر۷ ط۸۔
(۲) اگرآب نمك میں غرق ہوجائز نہیں غنیۃ وقد تقدم وقال ایضا تحت قول المنیۃ السبخۃ بمنزلۃ الملح مانصہ فان غلب علیھا النز لا یجوز التیمم بہا کالملح المائی وان غلب التراب جاز کالملح الجبلی ۱ھ
(غنیہ۔ اس کاکلام گزرچکا۔ اور منیہ کی عبارت “ السبخۃ بمنزلۃ الملح “ (زمین نمك زار نمك کے درجہ میں ہے) کے تحت غنیہ میں یہ بھی تحریر ہے : “ تواگر اس میں پھوٹنے والی تری کو غلبہ ہو تو اس سے تیمم جائز نہیں جیسے پانی والے نمك سے جائز نہیں اور اگرمٹی کاغلبہ ہوتوجائز ہے جیسے پہاڑی نمك سے جائز ہے “ ۔ ۱ھ۔ (ت)
اقول : اراد التشبیہ فی نفس الجواز
اقول : ان کامقصد صرف جوازوعدم جواز
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بالاجرفی روایۃ لانہ بالطبخ تغیر عن حالہ وصار بحال لایوجد مثلہ من جنسہ خلقۃ فی الارض وفی ظاھر الروایۃ یجوز لانہ طین متحجر فیکون کالحجر الاصلی ۱ھ حلیۃ ۱۲منہ غفرلہ (م)
پکی اینٹ سے تیمم جائز نہیں۔ کیونکہ پکانے کی وجہ سے اپنے حال سے بدل گئی ہے اور ایسے حال پر ہوگئی ہے کہ اس کی جنس سے تخلیق کے اعتبار سے اس کی مثل زمین میں نہیں پائی جاتی۔ اور ظاہر الروایۃ کے مطابق اس سے تیمم جائز ہے کیونکہ یہ کیچڑ والا پتھر ہے لہذا اس کاحکم اصلی پتھر کی طرح ہوگا۔ (ت)
میں تشبیہ دینا ہے ورنہ پہاڑی نمك توخود جنس زمین سے ہے یہ نہیں کہ اس میں مٹی غالب ہے اور آبی نمك پانی کے اجزا سے ہے ایسا نہیں کہ آب غالب اور مٹی سے ملاہوا ہے۔ (ت)
ثم اقول (پھر میں کہتاہوں۔ ت) یہ ضرور مطلقا ملحوظ ہے اور اطلاق کتب بربنائے غالب احوال کما اشار الیہ فی الغنیۃ (جیسا کہ غنیہ میں اس کی طرف اشارہ کیاہے۔ ت)
(۳) وہ نمك اگرمٹی سے ہے جائز ہے او ر اگرپانی سے بناہے ناجائز ہے ۱خلاصۃ ۲بحر ۳ھندیہ ۴محیط رضوی ۵خزانۃ الفتاوی ۶حلیہ۔
(۴) تصریح تعمیم اگرچہ نمك پانی سے ہو جب بھی جائز جب تك پانی غالب نہ ہو یہ حلیہ کی بحث ہے :
حیث قال علی قول الاسبیجابی یجوز التیمم بالسبخۃ ھذا باطلاقہ یفید الجوازبھا سواء کانت مائیۃ اومنعقدۃ من الارض وھو بقول ابی حنیفۃ ومحمد اشبہ لانہ غایہ المائیۃ انھا ارض ذات نز وانھا طین وقد صرح فی الخلاصۃ انھما علی الخلاف وکذا صرح غیرہ فی الطین اللھم اذاکان الماء غالبا کما سنذکرہ ویحل عدم الجواز بالمائیۃ علی ھذا ۱ھ۔
اسبیجابی کی عبارت “ نمك زار سے تیمم جائز ہے “ پر صاحب حلیہ یہ لکھتے ہیں : اس کلام کے اطلاق سے یہ مستفاد ہوتاہے کہ نمك زار سے مطلقا تیمم جائز ہے خواہ آبی ہو یازمین سے بناہوا اور یہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے قول کے زیاد ہ مناسب ہے اس لیے کہ آبی زیادہ سے زیادہ یہ کہ تری والی زمین ہے اور وہ مٹی ہی ہے۔ اور خلاصہ میں تصریح فرمائی ہے کہ دونوں ہی میں اختلاف ہے۔ اسی طرح دوسرے حضرات نے۔ خاکی کے بارے میں صراحت کی ہے۔ شاید یہ اس صورت میں ہو جب پانی کاغلبہ ہو جیسا کہ ہم عنقریب ذکر کریں گے اور آبی سے عدم جواز بھی اسی پرمحمول ہوگا۔ ۱ھ۔ (ت)
اقول : بلکہ نمک۱ آبی وترابی میں فرق ظاہر ہے اور قول فیصل یہ ہے کہ روئے زمین پراگرخشك یاخفیف نم کانمك پھیلا ہے تواگرنمك ترابی ہے جائز اور آبی ہے توناجائزہے فان علی وجہ الارض غیرجنسہا کانیۃ مدھونۃ اومصبوغۃ بغیر جنس الارض (اس لیے کہ روئے زمین پر
اقول : اور اس کااطلاق اس لیے کہ غالبا زمین شور میں نمك ترابی ہی ہوتاہے اور اگرنمك کاپانی پھیلا ہے مطلقا ناجائز لغلبۃ المائیۃ (کیونکہ پانی غالب ہے۔ ت) اور یہی قول دوم ہے والله تعالی اعلم۔
نمک۷۔ اگرآبی ہوناجائز فتح۱ منیہ۲ خلاصہ۳ جوہرہ۴ محیط۵ درر۶ بزازیہ۷ سراجیہ۸ ظہیریہ۹ خزانہ۱۰ اس پراتفاق ہے تبیین۱۱ بحر۱۲ عبدالحلیم۱۳ شرنبلالی۱۴ خادمی۱۵ اور اگرجبلی ہو اقول یعنی اجزائے ارض سے بناہو خواہ پہاڑ سے نکلے یازمین شور سے دو۲روایتیں ہیں تبیین اور دونوں طرف تصحیحین بحر امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا : اصح یہ کہ ناجائز ہے ذکرہ فی المستغنی (اسے مستغنی میں ذکرکیاہے۔ ت) خلاصہ۔ اسی طرح امام فقیہ النفس نے شرح جامع صغیرمیں فرمایا :
من الناس من قال یجوز بالملح الجبلی والاصحج انہ لایجوز اھ حلیہ۔
کچھ لوگ اس کے قائل ہیں کہ پہاڑی نمك سے جائز ہے اوراصح یہ ہے کہ ناجائز ہے۔ اھ حلیہ۔ (ت)
امام۳ شمس الائمہ سرخسی کی طرف بھی منسوب ہوا کہ میرے نزدیك صحیح عدم جواز ہے۔
ففی المنیہ طبع الہند ان کان جبلیا یجوز وقال شمس الائمۃ السرخسی الصحیح عندی انہ لایجوز کذا ذکرہ فی المحیط ۱ھ وفی الغنیۃ طبع قسطنطینیۃ جعل لفظ السرخسی من الشرح وفی الحلیۃ (م) قال شمس الائمۃ (ش) وفی بعض النسخ بزیادۃ السرخسی ونقل ھذا فی الخلاصۃ عن الحلوانی فلعلہ عنہما ۱ھ۔
منیہ مطبوعہ ہند میں ہے : “ اگر پہاڑی ہوجائز ہے اور شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : میرے نزدیك صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں ایسا ہی انہوں نے محیط میں ذکر کیا “ ۱ھ۔ اور غنیہ مطبوعہ قسطنطنیہ میں لفظ “ سرخسی “ شرح میں رکھا ہے اور حلیہ میں ہے : “ (متن) شمس الائمہ نے فرمایا (شرح) اور بعض نسخوں لفظ “ سرخسی “ کے اضافہ کے ساتھ ہے اور خلاصہ میں اسے حلوانی سے نقل کیا ہے توشاید یہ دونوں ہی (شمس الائمہ۔ سرخسی و حلوانی۔ ) سے مروی ہوا “ ۔ ۱ھ(ت)
منیۃ المصلی باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶
غنیہ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۷۸
حلیہ
اقول : (میں کہتاہوں) سراجیہ میں لکھا ہے : “ شیخ امام سرخسی اور حسام الدین نے فرمایا : “ پہاڑی ہوتوجائز ہے اور اگر آبی ہوتوجائز نہیں۔ “ ۱ھ تو ظاہر یہ ہے کہ اس نسخہ میں حلوانی کی جگہ سرخسی سہوا آگیا ہے یایہ کہ سرخسی سے دو۲ روایتیں ہوں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
اس قول کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ پگھلتا ہے۔ تبیین۔
ونقلہ فی الشلبیۃ عن الدرایۃ عن قاضیخان ای فی شرحہ للجامع الصغیر اوکتاب اخر لافی فتاواہ کما قدیتوھم من قولہ وفی قاضیخان الخ وفصلہ فی الغنیۃ بقولہ کان وجہہ انہ لما استحال التحق بالمائی لتبدل طبعہ حتی انہ یذوب فی الماء وینحل بالبرد ویشتدد بالحر کالمائی فخرج من کونہ من اجزاء الارض ۱ھ۔
اقول : (۱) لکن ھذا خلاف مااجمع علیہ کلماتھم فی تحدید جنس الارض۔
اور اسے شلبیہ میں درایہ سے اس میں قاضیخان سے یعنی ان کی شرح جامع صغیر یا کسی اور کتاب سے نقل کیاہے۔ یہ ان کے فتاوی میں نہیں جیسا کہ ان کی عبارت “ وفی قاضیخان الخ “ سے وہم ہوتاہے۔ اور غنیہ میں اس کی تفصیل ان الفاظ میں کی ہے : “ گویا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جب وہ بدل گیاتوآبی سے لاھق ہوگیا کیونکہ اس کی طبیعت آبی کی طبیعت میں تبدیل ہوگئی یہاں تك کہ وہ بھی پانی میں پگھلتا سردی سے گھلتا اور گرمی سے سخت ہوتاہے جیسے آبی کاحال ہے س لیے وہ جزوزمین ہونے سے خارج ہوگیا۔ “ ۱ھ(ت)
اقول : (میں کہتاہوں) لیکن جنس زمین کی تحدید میں جس بات پرکلمات علماء کااجماع ہے یہ تفصیل اس کے برخلاف ہے۔ (ت)ظاہر۴ کافی اسی قول کااختیار ہے اذا طلق فقال لابنحو الحنطۃ والملح (اس لیے کہ انہوں نے نمك کو مطلق رکھتے ہوئے یوں کہا : “ گیہوں اور نمك جیسی چیزوں سے نہیں “ ۔ ت) ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۸
زجاج۸ یعنی شیشہ۔ عامہ کتب مثلا امام۱سمرقندی وبدائع۲ امام کاشانی وظہیریہ۳ و خلاصہ۴ وخزانہ۵ سراجیہ۶ وکافی۷ وحلیہ۸ وایضاح۹ ودرمختار۱۰ ومسکین۱۱ وہندیہ۱۲ میں اس سے مطلقا عدم جواز لکھا مگر محیط۱ وتبیین۲ الحقائق وفتح ۳القدیر وبحرالرائق۴ ومجمع۵ الانہر وازہری۶ وشامی۷ میں عدم جواز کومصنوع سے مقید فرمایا جوریتے مین دوسری کوئی چیز غیرجنز ارض مثلاسجی وغیر ملاکر بنایاجاتاہے۔
اقول : یہی تحقیق ہے کہ زجاج ضرور معدنی بھی ہوتاہے اور معدنی ضرور قسم حجروجنس ارض سے ہے کما قدمنا بیانہ (جیسا کہ ہم نے اسے پہلے بیان کیا۔ ت) اکثروں کااطلاق بربنائے غالب ہے کہ عام طور پر یہی مصنوع شیشہ ملتاہے اور معدنی کمیاب۔
واغرب العلامۃ ط فقال فی حواشیہ علی الدر والزجاج المتخذ من الرمل و قال تحت قول الدروزجاج ولواتخذ من رمل واوضحہ فی حواشیہ علی مراقی الفلاح فقال یعتبر کونہا من جنسہا وقت التیمم فلایجوز علی الزجاج وان کان اصلہ من رمل ھ وکانہ ظن الواو فی قول الفتح والبحر الزجاج
اور علامہ طحطاوی نے عجب بات کی۔ انہوں نے درمختار پراپنے حواشی میں لکھا : “ اور شیشہ جوریت سے بناہو۔ “ اور درمختارکے لفظ “ وزجاج “ کے تحت لکھا اگرچہ ریت سے بناہو۔ اور اسے مراقی الفلاح کے حواشی میں واضح کرکے یوں کہا : “ تیمم کے وقت اس کے جنس زمین سے ہونے کااعتبار ہے توشیشہ پرتیمم نہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی اصل ریت سے ہو “ ۱ھ ایسامعلوم ہوتاہے کہ فتح القدیر اور البحرالرائق کی عبارت “ الزجاج المتخذ
طحطاوی علی المراقی باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ص ۶۸
ولفظ التبیین عن المحیط خالطہ شیئ اخر لیس من جنس الارض کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اخر لیس من جنس الارض ۱ھ ونحوہ فی المجمع والازھری۔
من الرمل وغیرہ “ (شیشہ جوریت اور اس کے علاوہ سے بنا ہو) میں لفظ “ واو “ کواو(یا) کے معنی میں سمجھا۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ واو “ جمع “ کے معنی میں ہے
محیط کاحوالہ دیتے ہوئے تبین کے الفاظ یہ ہیں : اگر اس میں کوئی دوسری ایسی چیزمل گئی جوجنس زمین سے نہیں جیسے وہ شیشہ جوریت اور کسی ایسی چیز سے بنایاگیا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔ اور اسی کے ہم معنی مجمع او ازھری میں بھی ہے۔ (ت)
مردار۹سنگ۔ نوازل۱ ومحیط۲ وخانیہ۳ وخلاصہ۴ وخزانہ۵ ومنیہ۶ وسراجیہ۷ بلکہ خود محررالمذہب نے کتاب۸ الاصل میں اس سے جواز تیمم کی تصریح (فرمائی اور خزانۃ الفتاوی سے حلیہ و جامع الرموزمیں ممانعت منقول اور تحقیق یہ ہے کہ معدنی سے جائز اورمصنوع سے ناجائز۔ محیط سرخسی پھر ہندیہ میں ہے :
وبالمردا سنج المعدنی دون المتخذ من شیئ اخر ۔
اورمعدنی مردارسنگ سے (جائزہے) کسی اور چیز سے بناہواس سے ہیں۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
مراد المجوز المعدنی والمانع مالیس بمعدنی وقد افصح البدائع والتحفۃ بالجواز موصوفا بکونہ معدنیا زاد التحفۃ دون المتخذ من شیئ اخر ۔
جائز بتانے والے کی مراد معدنی ہے اور ممنوع کہنے والے کی مراد غیرمعدنی ہے۔ بدائع اور تحفہ میں جواز کو معدنی ہونے سے موصوف کرکے بتایا اور تحفہ نے یہ بھی اضافہ کیا اس سے نہیں کسی اور چیز سے بناہو۔ (ت)
مرجان۱۰۔ تبیین۱ الحقائق ومعراج۲ الدرایہ وغایۃ۳ البیان وتوشیح۴ وعنایہ۵ ومحیط۶ و خزانۃ۷ الفتاوی وبحر۸ونہر۹وہندیہ۱۰ وغیرہا عامہ کتب میں اس سے جواز کی تصریح ہے مگر فتح۱ میں ممانعت واقع ہوئی درمختار۲ وخادمی۳ نے ان کااتباع کیاشیخ۴ الاسلام غزی نے بھی اسی طرف میل فرمایا اور ان کے شیخ محقق نے بحر میں فرمایا وہ سہو ہے نہر نے فرمایا سبق قلم ہے اور جواز ہے۔
فتاوٰی ہندیہ فصل فیمایجوزبہ التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷
حلیہ
اقول : بل حقیقیا کما لایخفی وکون المبنی ممالو اتفقوا علیہ لاتفقوا علی الحکم لایرفع الاختلاف فی المعنی بل یوجبہ عند الاختلاف فی المبنی وعبارۃ المنح علی مافی ش اقول الظاھر انہ لیس بسہولانہ انما منع جواز التیمم بہ لما قام عندہ من انہ ینعقد من الماء کاللؤلؤ فان کان الامر کذلك فلاخلاف فی منع الجواز والقائل بالجواز انما قال بہ لما قام عندہ من انہ من جملۃ اجزاء الارض فان کان کذلك فلاکلام فی الجواز والذی دل علیہ کلام اھل الخبرہ بالجواھر ان لہ شبہین شبہا بالنبات وشبہا بالمعادن وبہ افصح ابن الجوزی فقال انہ متوسط بین عالمی النبات والجماع فیشبہ الجماد بتحجرہ ویشبہ النبات بکونہ اشجارا
جیسا کہ ازہری اور شامی میں ہے اور علامہ عبدالحلیم رومی نے عجب بات کی۔ انہوں نے منح الغفار سے اخذ کرکے کہا یادونوں ہی حضرات کاتوارد ہوا۔ لکھتے ہیں : “ میں کہتاہوں یہ سہو نہیں۔ بلکہ ظاہریہ ہے کہ ان کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تو اس وقت نزاع لفظی رہ جائے گا۔ جیسا کہ عیاں ہے “ ۱ھ۔ (ت)
اقول : بلکہ نزاع حقیقی ہوگا جیسا کہ آشکارا ہے۔ اگر بنائے اختلاف ایسا امر ہو کہ اس پراتفاق ہوتاتوحکم پربھی اتفاق ہوتا اس سے معنوی طور پر اختلاف ختم نہیں ہوجاتابلکہ اگرمبنی مختلف ہے تواختلاف لازم ہے۔ منح الغفار کی عبارت جیسا کہ شامی میں ہے اس طرح ہے : میں کہتاہوں ظاہر یہ ہے کہ سہو نہیں اس لیے کہ انہوں نے جوازتیمم سے اس لیے منع کیا کہ ان کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تواگرحقیقت امریہی ہوتو منع جواز میں کوئی اختلاف نہیں اور قائل جواز نے جائز اس لیے کہا کہ اس کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ اجزائے زمین سے ہے تو اگر وہ ایسا ہی ہو تو جواز میں کوئی کلام نہیں۔ جوہرشناسوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس میں دومشابہتیں پائی جاتی ہیں ایك مشابہت نبات سے ہوتی ہے اور ایك مشابہت معدنیات سے ہوتی ہے۔ ابن الجوزی نے اسے
صاف طورپر بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ عالم نبات وعالم جماد کے درمیان متوسط ہے۔ اپنے تحجر اور پتھر کی طرح ٹھوس ہونے میں جماد کے مشابہ ہے اور اس بات میں نبات کے مشابہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں اس کے رگوں اور پھوٹی ہوئی کھڑی ہری ہری ڈالیوں والے اگنے والے درخت ہوتے ہیں۔ ۱ھ۔ (ت)
علامہ شامی لکھتے ہیں : میں کہتاہوں اس کاحاصل اس جانب میلان ہے جو فتح القدیر میں لکھا ہے اس لیے کہ اس کااجزائے زمین سے ہونا متحقق نہ ہوا اور اس کے محشی رملی کامیلان اس طرف ہے جوعامہ کتب میں جوازتحریرہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں درخت ہونااجزائے زمین سے ہونے کے منافی نہیں اس لیے کہ جن درختوں سے تیمم جائزنہیں یہ وہ ہیں جوآگ سے راکھ ہوجاتے ہیں اور مرجان (مونگا) دوسرے پتھروں کی طرح ایك پتھر ہے جوسمندر میں درختوں کی طرح نکلتاہے اسی لیے عامہ کتب میں جواز پرجز کیا تو اس کی طرف رجوع متعین ہے۔ (ت)
اقول : اصحاب۱ احجار نے اس ۲ کے حجرہونے کی تصریح کی اور اسے حجرشجری کہا نہ کہ شجرحجری جامع ابن بیطار میں ارسطوسے ہے :
البسذ والمرجان حجر واحد غیران المرجان اصل والبسذ فرع ینبت والمرجان متخلخل مثقب والبسذ ینبسط کما تنبسط اغصان الشجرۃ ویتفرع
بسذ اور مرجان ایك ہی پتھر کوکہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مرجان اصل ہے اور بسذفرع۔ یہ اگتاہے۔ اور مرجان میں تخلخل اور سوراخ ہوتاہے اور بسذدرخت کی ڈالیوں کی طرح پھیلتاہے اور ڈالیوں کی طرح
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
اس میں شاخیں بھی نکلتی ہیں۔ (ت)
مخزن میں ہے :
مرجان جسمے حجری شبیہ بساق وشاخ درخت ست ۔
مرجان ایك حجری جسم ہے جودرخت کی ساق وشاخ کے مشابہ ہوتاہے۔ (ت)
تحفہ میں ہے :
بسد اسم مرجان ست وآں سنگے ست باقوت نباتیہ کہ ازقعردریامے روید ۔
بسدمرجان کانام ہے اور وہ ایك نباتی قوت رکھنے والاپتھر ہے جودریا کی گہرائی سے اگتاہے۔ (ت)
انوارالاسرار میں ہے :
حجرالمرجان ینبت فی البحر ۔
سنگ مرجان سمندر میں اگتاہے۔ (ت)
اور نبات۱ سے اس کی مشابہت اور اس کے سبب علامہ ابن الجوزی کااسے عالم جماد وعالم نبات میں متوسط فرمانا اور اسی کومؤدی ہے وہ قول کہ انوارلاسرارمیں نقل کیا :
قیل ھو اول المتولدات النباتیۃ واخر المتولدات الحجر ۔
کہاگیا وہ اول نباتی مولدات میں سے اور آخر حجری مولدات میں سے ہے۔ (ت)
اسے حجرسے خارج اور شجر میں داخل نہیں کرناجس۲ طرح کھجور کوکہنا کہ وہ عالم نبات وعالم حیوانات میں متوسط ہے نرومادہ ہوتی ہے اور مادہ جانب نرمیل کرتی ہوئی دیکھی جاتی ہے تلقیح سے بارورہوتی ہے اسے نبات سے خارج اور حیوانات میں داخل نہیں کرتا ولہذا تذکرہ انطاکی میں یہ لکھ کر :
بسذ بالمعجمۃ ھوالمرجان اواصلہ والمرجان فرع و العکس وھو جامع بین النباتیۃ والحجریۃ لانہ یتکون بحر
بسذ۔ بذال معجمہ۔ یہ مرجان یااس کی اصل ہے اور مرجان فرع ہے یابرعکس۔ وہ نباتیت اور حجریت کے مابین ہے اس لیے کہ وہ افریقہ اور
مخزن الادویہ فصل المیم مع الراء مطبوعہ منشی نولکشورکانپور ص ۵۹۱
تحفۃ المومنین الباء مع السین علی حاشیۃ مخزن الادویۃ صل۱۴۲
انوارالاسرار
انوارالاسرار
فرنگ کے قریب بحرروم میں پیداہوتاہے جہاں مدوجزرواقع ہوتا ہے تودھوپ جزء میں پارہ اور گندھك کھینچ لیتی ہے اور حرارت سے دونوں میں ملاپ ہوجاتاہے اور مدمیں وہ برودت کی وجہ سے پتھر بن جاتاہے پھرجب جزرآتاہے تورطوبت سے اضطراب وحرکت کی وجہ سے شاخدار ہوکربلند ہوجاتاہے۔ (ت)
آخر میں یہی لکھا کہ :
وھو اصبر الاحجار علی الاستعمال ۔
اور وہ استعمال میں سارے پتھروں سے زیادہ پائدار ہے۔ (ت)
لاجرم اس سے جواز تیمم میں شك نہیں اور قول فتح کی نفیس توجیہ وہ کہ علامہ مقدسی نے ارشاد فرمائی کہ ان کی مراد مرجان سے چھوٹے موتی ہیں کہ انہیں بھی مرجان کہتے ہیں کما فی القاموس (جیسا کہ قاموس میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
ذہب۱۱ وفضہ (سونااور چاندی) یعنی معادن سبعہ کہ سات۷ ہیں کہ ان کے بارے میں عبارتیں بھی سات طورپرآئی ہیں :
(۱) مطلقا ممانعت یہی عامہ کتب میں ہے ۱تحفہ و۲بدائع و۳ظہیریہ و۴خانیہ و۵خزانۃ الفتاوی و۶سراجیہ و۷خزانہ و۸کافی و۹ایضاح و۱۰ زادالفقہاو۱۱جلابی و۱۲برجندی و۱۳منیہ و۱۴مسکین و۱۵ہندیہ و۱۶ محیط و۱۷جواہر اخلاطی وغیرہا میں ذہب اور زادالفقہا و تحفہ و ایضاح کے سواباقی ۱۴ میں فضہ اور سراجیہ و مسکین ومحیط و جواہر کے سوا باقی ۱۳نیز ۱۴حلیہ میں حدید اور ۱خانیہ و۲خلاصہ و۳ظہیریہ و۴سراجیہ و۵خزانہ و۶کافی و۷منیہ و۸مسکین وجواہراخلاطی میں رصاص اور ۱تحفہ و۲بدائع و۳ظہیریہ و۴خانیہ و۵خلاصہ و۶خزانہ و۷ایضاح و۸غنیہ و۹ہندیہ میں صفر اور ماورائے تحفہ و ایضاح باقی سات اور ۸حلیہ میں نحاس کی نسبت اس کی تصریح ہے۔
(۲) بلاذکر قید مطلقا جواز جامع الرموز میں ہے :
لابالحجرین والحدیدکمافی الخزانۃ وغیرہ
سونے چاندی اور لوہے سے نہیں جیسا کہ خزانہ وغیرہ
تذکرہ داؤد انطاکی حرف الباء لفظ بسذکے تحت مذکورہے مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۵
میں ہے لیکن زاہدی وغیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیك ان تینوں سے اور رصاص ونحاس (سیسا وتانبا) سے تیمم کرسکتاہے۔ (ت)
اقول : یہ نقل ۱ بہت غریب اور بشدت بعید اور بہ تقدیر ثبوت ثالث پرمحمول۔
(۳) جب تك اپنی معدن میں ہیں ان سے تیمم جائز ہے کہ اس وقت وہ جنس ارض سے ہیں کما مر عن ۱الطحطاوی ۲عن الازھری عن ۳ العینی(جیسا کہ طحطاوی کے حوالہ سے گزرا انہوں نے ازہری سے نقل کیاانہوں نے عینی سے۔ ت) جب گلائے جلائے پگھلائے جائیں اب جائز نہیں کماتقدم عن ۴ الظہیریۃ و۵ الخلاصۃ و۶ الخزانہ و۷شرح قاضیخان و ۹صدرالشریعۃ(جیسا کہ ظہیریہ خلاصہ شرح قاضیخان تبیین اور صدرالشریعۃ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ ت) طحطاوی علی الدرالمختار مین تبیین کی عبارت مارہ نقل کرکے فرمایا :
ھذا یفید جوازالتیمم علیہا فی محالھا ولومن غیرغبار علیہا ثم ذکر الفاصل بین جنس الارض وغیرہ وذکر ان ماینطع ویذوب لیس من جنسہا وھو یفید عدم الجواز ۱ھ اقول (۲) ھی فی محالھا مختلطۃ بالتراب غیرمتمیزۃ عنہ فالفرض خلاف الواقع۔
اس سے مستفاد ہوتاہے کہ جب تك اپنے محل میں رہیں ان پرتیمم جائز ہے اگرچہ ان پرغبار نہ ہو۔ پھر جنس زمین اور غیرجنس زمین میں حدفاصل بیان کی اور یہ بتایا کہ جوڈھلے اور پگھلے وہ جنس زمین سے نہیں اور اس سے عدم جواز مستفاد ہوتاہے ۱ھ اقول یہ جب اپنے محل میں ہوتو مٹی سے مخلوط ہوتے ہیں اس سے الگ نہیں ہوتے توجوفرض کیاہے وہ خلاف واقع ہے۔ (ت)
(۴) مٹی سے مخلوط ہوں توجائز ورنہ نہیں درر میں ہے :
علی ظاھر من جنس الارض کذھب و فضۃ مختلطین بالتراب اوحنطۃ وشعیر علیہما غبار ۔
جنس زمین کی کسی پاك چیز پرجیسے سونا اور چاندی جومٹی سے مخلوط ہوں یاگیہوں اور جو جن پر گرد پڑی ہوئی ہو۔ (ت)
طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم مطبع گنبد ایران ۱ / ۱۲۸
دُررغرر لملاّخسرو باب التیمم دارالسعادۃ مصر ۱ / ۳۱
لوتیمم بالذھب والفضۃ ان مسبوکا لایجوز وان لم یکن مسبوکا وکان مختلطا بالتراب والغلبۃ للتراب جاز۱ھ قال البحر فعلم بھذا ان مااطلقہ فی فتح القدیر محمول علی ھذا التفصیل ۱ھ ومثلہ عبدالحلیم اقول : (۱) لم یتواردا موضعا واحدا ولاحاجۃ الی الحمل کما ستعرف ان شاء الله تعالی۔
سونے چاندی سے تیمم کیا اگرگلایا ہواہوتو جائز نہیں۔ اگرگلاہوانہ ہو اور مٹی سے مخلوط ہو اور مٹی غالب ہوتو جائز ہے ۱ھ۔ بحر میں کہا : اس سے معلوم ہوا کہ فتح القدیر میں جومطلقا بیان کیاہے وہ اسی تفصیل پرمحمول ہے اھ۔ اسی کے مثل عبدالحلیم نے فرمایا۔ اقول (محیط و بحر) دونوں کاتوارد ایك محل پرنہیں اور دوسری عبارت کوپہلی پرمحمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ ان شاء الله تعالی عنقریب معلوم ہوگا۔ (ت)
(۶) گلائے ہوں یابے گلائے اگرمٹی سے مخلوط ہوں اور مٹی غالب توجائز ورنہ نہیں۔ درمختار میں ہے :
لواختلط تراب بغیرہ کذھب وفضۃ ولو مسبوکین فلو الغلبۃ لتراب جازوالالا خانیۃ ومنہ علم حکم التساوی ۱ھ ومثلہ الخادمی واعترضہ ط و ش بتصریحھم ان المسبوك لایجوزبہ التیمم قال ط ولم یتکلم علی مااذا سبك احدھما مع التراب وھوغیر متأتی ۱ھ وقال ش ھذا انما یظھر اذاکان یمکن سبکھما بترابھما الغالب علیھما والظاھر انہ غیرممکن ۱ھ اقول : رحمکما الله ورحمنا بکما ارأیتما(۲) اذا سبکا وبردا واختلطت برادتھما بالتراب
اگر مٹی دوسری چیز مثلا سوناچاندی سے مل جائے اگرچہ یہ گلائے ہوئے ہوں تواگرمٹی غالب ہے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ خانیہ۔ اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا۱ھ۔ اسی کے مثل خادمی نے لکھا۔ اس پرطحطاوی اور شامی نے یہ اعتراض کیا کہ علما نے صراحت فرمائی ہے کہ گلے ہوئے سے تیمم جائز نہیں۔ طحطاوی نے فرمایا : مٹی کے ساتھ ان دونوں کوگلایاہی نہیں جاسکتا۱ھ۔ اور شامی نے فرمایا : یہ بات اسی وقت واضح ہوکر سمجھ میں آسکتی ہے جب ان دونوں کو اس مٹی کے ساتھ جو ان پرغالب ہے گلانا ممکن ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایساممکن نہیں۱ھ اقول آپ دونوں حضرات
درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم دارالمعرفت بیروت ۱ / ۱۲۸
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۷
پر خدا رحمت فرمائے اور آپ کی برکت سے ہم پربھی رحم فرمائے۔ بتائیے اگرانہیں گلادیاجائے اور ان کابرادہ مٹی سے مخلوط ہوجائے توکیاغلبہ کااعتبار نہ ہوگا۔ (ت)
(۷) مجمع الانہر میں سوم وششم کوجمع کیا کہ جب تك اپنے معدن میں ہوں یامٹی سے مخلوط ومغلوب توجائز ہے ورنہ نہیں۔
حیث قال لایجوز بالمعادن الاان یکون فی محلہا ومختلطا بالتراب والتراب غالب ۔
“ انہوں نے یوں فرمایا : معادن سے تیمم جائز نہیں مگرجب کہ یہ اپنے محل میں ہوں یامٹی سے مخلوط ہوں اور مٹی غالب ہو “ (توجائزہے)۔ (ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں قول سوم کی یہ توجیہ فرمائی کہ وہ جب تك معدن میں ہیں ان پرمٹی ہوتی ہے۔ اس مٹی سے تیمم جائز ہے نہ کہ ان سے۔
حیث قال خرجت المعادن الا ان تکون فی محالہا فیجوز اللتراب الذی علیھا لابنفسھا ۱ھ۔
اقول : وبہ اندفع ماظن العلامۃ ط من التنافی بین قولی التبیین۔
وہ فرماتے ہیں : معادن اس سے خارج ہوگئے مگر جب کہ وہ اپنے محل میں ہوں توتیمم جائز ہوگا خود ان سے نہیں بلکہ اس مٹی کی وجہ سے جو ان پرچڑھی ہوئی ہے۔ (ت) اقول : اسی سے وہ منافات بھی دفع ہوگئی جو علامہ طحطاوی نے تبیین کی دونوں عبارتوں کے درمیان گمان کی۔ (ت)
درمختار نے اس میں ایك اور قید بڑھائی کہ مٹی اتنی ہو کہ ہاتھ پھیرے سے نشان بنے
حیث قال لابمعادن فی محالھا فیجوز عــہ
معدنیات جو اپنے محل میں ہوں ان معدنیات سے نہیں تو
عــہ : قال ط قولہ فیجوز لاوجہ للتفریع ۱ھ اقول :
(۱) لیس تفریعا بل تعلیل للنفی المستفاد
طحطاوی نے درمختار کی عبارت “ فیجوز “ (توجائز ہے) پریہ اعتراض کیا ہے کہ تفریع کی کوئی وجہ نہیں۱ھ۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ تفریع نہیں بلکہ ان کے (باقی برصفحہ ایندہ)
فتح القدیر باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۶
طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم دار المعرفہ بیروت ۱ / ۱۲۸
اس مٹی کی وجہ سے تیمم جائز ہے جو ان پرپڑی ہوئی ہے۔
اسبیجابی نے اس میں یہ قیدبڑھائی کہ مٹی اتنی ہو کہ اس پرہاتھ پھیرنے سے مٹی کانشان ظاہرہو اوراگر نشان نہ ظاہر ہوتوجائز نہیں۔ اسی طرح ہروہ چیز جس پرتیمم جائز نہیں جیسے گیہوں اور تواسے ذہن نشین رکھناچاہئے۔ (ت)
حلیہ میں سوم وچہارم کوغلبہ تراب سے مقید فرمایا۔
حیث قال ثم ماوقع لبعضھم من ان ھذہ المعادن ان کانت مسبوکہ لایجوز وان کانت غیرمسبوکۃ مختلطۃ بالتراب یجوز ولبعضھم من انھا مادامت فی معادنھا فی الارض لم یصنع منہا شیئ جاز فاذا صنع منہا شیئ لایجوز اذالم یکن علیھا غبار فالظاھران مرادھم کما فی المحیط للامام رضی الدین و ان لم یکن مسبوکا وکان مختلطا بالتراب والغلبۃ للتراب جاز انتھی فان ھذا
اس کی عبارت اس طرح ہے : پھر یہ جوبعض حضرات کی عبارات میں آیا کہ یہ معدنیات اگرگلائے جاچکے ہوں تو تیمم جائز نہیں اور اگر بغیرگلائے ہوئے مٹی سے طے ہوئے ہوں توجائز ہے۔ اور بعض حضرات کی عبارات میں آیا کہ یہ جب تك زمین کے اندر اپنی کانوں میں ہوں ان سے کچھ بنایا نہ گیا ہوتوجائز ہے پھر جب ان سے کچھ صنعت ہوگئی تو اس سے جائز نہیں جبکہ اس پرغبار نہ ہو۔ توظاہر یہ ہے کہ ان کی مراد۔ جیسا کہ امام رضی الدین کی محیط میں ہے۔ یہ ہے کہ اگر گلائے ہوئے نہ ہوں اور مٹی سے مخلوط ہوں اور مٹی غالب
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من قولہ فی محالہا ای لایجوز التیمم بمعادن ولوکانت فی محالہا فان التیمم بھا اذ ذاك انما یجوزلتراب علیھا لابہا ۱۲منہ غفرلہ(م)
قول “ فی محالھا “ (جواپنے محل میں ہوں) سے جو نفی مستفاد ہوتی ہے اس کی تعلیل ہے۔ یعنی تیمم معدنیات سے جائزنہیں اگرچہ وہ اپنے محل میں ہوں اس لیے کہ اس وقت ان سے تیمم اس مٹی کی وجہ سے جائز ہوتاہے جو ان پرپڑی ہوتی ہے خود ان سے نہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ۔ (ت)
اقول : ابویوسف لایجیز الابالتراب الخالص حتی لم یجز بالغبار لمما زجۃ الھواء ولابالارض الندیۃ لمما زجۃ قلیل من الماء فکیف یجیز بما خالطہ ذھب وفضۃ فالصواب مع الولوالجی۔
ہوتوجائز ہے انتہی۔ اس لیے ظاہرا یہ قیدضروری ہے جیسا کہ دوسری چیز کے بارے میں ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے۔ اور مٹی سے راکھ مل جانے کے مسئلہ میں عنقریب اسے مصنف بھی بیان کریں گے۔ پھر یہ بھی مخفی نہ رہے کہ درحقیقت یہ مٹی سے تیمم ہے ان معدنیات سے نہیں تو اس پریہ متفرع ہوگا کہ یہ توسب کے نزدیك جائز ہے۔ لیکن فتاوی والوالجی میں ہے کہ مٹی سے مخلوط ہے اگرمٹی غالب ہے تو امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیك جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك جائزنہیں۔ حلیہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
اقول : امام ابویوسف خالص مٹی کے سوا کسی چیز سے تیمم جائزنہیں کہتے۔ یہاں تك کہ انہوں نے غبار اور ترزمین سے بھی تیمم جائز نہ کہا اس لیے کہ غبار میں ہوا کی آمیزش ہوتی ہے اور ترزمین میں کچھ پانی کی آمیزش ہوتی ہے پھر وہ اس مٹی سے تیمم کیسے جائز کہہ سکتے ہیں جس میں سوناچاندی ملے ہوئے ہوں توصواب ودرستی والوالجی کے ساتھ ہے۔ (ت)
ردالمختار میں قول درمختار فیجوز لتراب علیھا (تواس مٹی کی وجہ سے جائز ہے جو ان پرپڑی ہوئی ہے۔ ت) کو اسی غلبہ تراب سے مقید کیا اور قول سوم کے اطلاق کوغالب پرمحمول کہ جب تك وہ معادن میں ہیں غالبا مٹی ہی غالب ہوتی ہے اور اب اس قید ظہوراثر پرکہ درمختار نے زائد کی تھی اعتراض فرمایا کہ بحال غلبہ تراب اس کی کیاحت
حیث قال قولہ فیجوز ای اذا کانت الغلبہ للتراب کما فی الحلیۃ عن المحیط ولعل من اطلق
اس کے الفاظ اس طرح ہیں : قولہ فیجوز توجائز ہے یعنی جب مٹی غالب ہوتو جائز ہے جیسا کہ حلیہ میں محیط کے حوالہ سے ہے۔ اور جس نے اسے مطلقا بیان کیاہے شاید اس نے
اس پربنیاد رکھی کہ جب تك یہ معادن اپنے محل میں ہوتے ہیں مٹی سے مغلوب ہوتے ہیں اور جب گلانے کے لیے لئے جاتے ہیں تویہ حالت نہیں ہوتی اس لیے کہ عادت یہ ہے کہ اس وقت ان سے مٹی نکال لی جاتی ہے۔ قولہ وقیدہ الاسبیجابی (اسبیجابی نے ہاتھ پھیرنے سے مٹی کانشان بننے کی قید بڑھائی ہے) ایسا ہی نہر میں ہے اس کلام کاظاہریہ ہے کہ معدنیات سے تیمم کی طرف ضمیر راجع ہے لیکن جب وہ مٹی سے مغلوب ہوں تو اس قید کی ضرورت نہیں۔ (ت)
اقول : ظاہرا ذہن علامہ شارح میں بہ تبعیت نہریہ تھا کہ سوناچاندی اپنے معادن میں بڑے بڑے قطعے مٹی چڑھے ہوئے ملتے ہیں اور اسی طرف ۱ کلام فتح مشیر کہ فیجوز لتراب علیھا (تو اس مٹی کی وجہ سے جائز ہے جوان پرپڑی ہوئی ہے۔ ت)اور مسموع یہ ہے کہ وہ اپنے معدن میں ریزہ ریزہ ہی ہوتے ہیں وہاں سے نکال کرمٹی سے صاف کرکے ان کے پتراینٹ وغیرہ بناتے ہیں۔
کماذکرہ ابن سینا وغیرہ قال ابن البیطاء فی الزئبق ابن سینا منہ منقی من معدنہ ومنہ ماھو مستخرج من حجارۃ معدنہ بالنار کاستخراج الذھب والفضۃ وحجارۃ معدنہ کالزنجفر ویظن دیسقور یدوس وجالینوس انہ مصنوع کالمرتك لانہ مستخرج بالنار فیجب ان یکون الذھب ایضا مصنوعا ۔
جیسا کہ ابن سینا وغیرہ نے ذکرکیا ہے۔ ابن بیطار نے زیبق کے بارے میں لکھا ہے : “ ابن سینا نے کہا : اس میں کوئی وہ ہوتاہے جو اپنی کان سے صاف ستھرا نکلتاہے اور کوئی وہ ہوتاہے جواپنی کان کے پتھروں سے آگ کے ذریعہ نکالاجاتاہے جیسے سوناچاندی کو نکالاجاتاہے اور اس کی کان کے پتھر شنگرف کی طرح ہوتے ہیں اور دیسقوریدوس اور جالینوس کاخیال ہے کہ وہ مردارسنگ کی طرح مصنوعی ہوتاہے کیونکہ آگ کے ذریعہ نکالاجاتاہے اس بنیاد پر تویہ بھی لازم آئے گا کہ سونا بھی مصنوعی ہو۔ “ (ت)
اس تقدیر پربلاشبہ غلبہ تراب ضرور اور ۲ ظہوراثر کی قید مہجور اورقول علامہ شامی منصور ۳ وللحلیۃ فی محل
جامع ابن بیطار
اقول : بلکہ (۱) اگربڑے بڑے قطعے بھی ہوں اوران پرمٹی چڑھی ہوئی ہو جب بھی اس قید کی حاجت نہیں نہ غلبہ کی ضرورت صرف اتناچاہئے کہ ہاتھ تراب سے مس کرنے نہ ان چیزوں سے ظہور۲ اثر کی قید کہ امام اسبیجابی نے ذکر فرمائی صورت غبار میں ہے سخت مٹی کی تہ اگرکسی چیز پرچڑھی ہوکہ ہاتھ پھیرے سے نشان نہ بنے توبلاشبہ اس پرتیمم جائز ہے جیسے پتھر پربالجملہ یہ اختلافات ہیں جو اس مسئلہ میں آئے۔
وانا اقول : وبالله التوفیق (اور میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی ہی کی جانب سے ہے۔ ت) قول ۳ فیصل یہ ہے کہ ذہب وفضہ وغیرہمامعادن سبعہ یقینا جنس ارض سے نہیں اور ان پرتیمم نہیں ہوسکتا کما فی الفتح والحلیۃ والبحر والدر وغیرھا(جیسا کہ فتح القدیر حلیہ البحرالرائق اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ ت) اور یہ ہے وہ کہ عامہ کتب میں ہے ۴ ولاحاجۃ الی التفصیل کما زعم البحر اور بحر نے (فتح القدیر کے مطلق کوتفصیل پرمحمول ہونے کا) جو گمان کیا اس تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ت) خلط تراب کامسئلہ کچھ ان کی خصوصیت نہیں رکھتا ہراس چیز کوعام ہے جس سے تیمم ناجائز ہو اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ان کے ریزے مٹی میں مخلوط ہوں خواہ گلانے سے پہلے جیسے معدن میں یاگلانے کے بعد برادہ کرکے بہرحال غلبہ تراب ضرور ہے اگراگربڑے بڑے قطعے یاپتریا ان کے بنے ہوئے برتن یازیور ہوں تو اگر ان پرمٹی کالیس چڑھاہے تیمم جائز اور اگرغبار پڑا ہے تواتناضرور ہے کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کا نشان بنے یہ ہے تحقیق حقیق بالقبول اور اسی پرعامہ اقوال محمول وبالله التوفیق۔
مسئلہ۱۲ خلط۔ جنس ارض میں جب اس کاغیر مل جائے تو اس سے تیمم جائز ہے یانہیں اس میں عبارات چار۴طورپرآئیں۔
(۱) کہ جادہ واضحہ مالوفہ اور شرع مطہر کاقاعدئہ معروفہ ہے کہ غلبہ ارض پرمدار ہے اگرجنس ارض غالب ہے جائز ورنہ نہیں فائدہ پنجم میں خانیہ وظہیریہ و خزانہ وحلیہ و جامع الرموز و مراقی الفلاح و درمختار و ہندیہ سے اس کی عبارات گزریں اسی طرح منیہ وغیرہا میں ہے یعنی اگرجنس ارض مغلوب یا دونوں مساوی ہوں دونوں حال میں ناجائز۔
کما تقدم عن الدر ونقل العلامۃ الازھری عن نوح افندی ان الغلبۃللتراب یجوز وان للرمادلاقال
جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گزرا اور علامہ ازہری نے نوح آفندی سے یہ نقل کیا : “ اگرمٹی غالب ہے تو جائز ہے اور اگر راکھ غالب ہے تونہیں۔ اور
اقول : اقتفی(۱) اثرالدرولم یفرق فان نظم الدرلو الغلبۃ للتراب جاز والالاومنہ علم حکم التساوی ۱ھ ووقع فی الدر ایضا تبعا للبحر عن المحیط یجوز بطین غیرمغلوب بماء ۱ھ فزعم العلامۃ ط ان الظاھر من کلامہ ان المساوی فی حکم غیر المغلوب بالماء والذی یأتی فی قولہ و الحکم للغالب انہ لایجوز بالمساوی ۱ھ۔
اقول : نصوا(۴) ان قولك لاافضل منہ ینفی المساواۃ ایضا لانھا فی غایۃ الندرۃ وانما المعہود التفاضل فاذا انفی الافضل منہ ثبت انہ الافضل مما عداہ (۳) کذا ھھنا ثم (۴)کان علیہ رحمہ الله تعالی ان یقول الظاھر من کلامہ ان المساوی کالغالب فان کونہ غیرمغلوب معلوم نعم رأیت فی الجوھرۃ اذا خالطہ مالیس من جنس الارض و کان المخالط اکثر منہ لایجوز
اسی سے مساوی کاحکم بھی معلوم ہوگیا۔ “ ۱ھ(ت)
اقول : انہوں نے درمختار کے نشان قدم کی پیروی کی مگر امتیاز نہ کرسکے اس لیے کہ درمختار کی عبارت اس طرح ہے : “ اگرمٹی غالب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا “ ۱ھ۔ درمختار میں بہ تبعیت بحر بحوالہ محیط یہ عبارت بھی آئی ہے : “ مٹی جوپانی سے مغلوب نہ ہو اس سے تیمم جائزہے “ ۱ھ۔ اس پر علامہ طحطاوی نے یہ خیال کیاکہ : “ ان کےکلام سے ظاہریہ ہےکہ مساوی اسی کے حکم میں ہے جوپانی سےمغلوب نہ ہو۔ اور ان کی عبارت “ والحکم للغالب “ (حکم غالب کاہے) کے تحت یہ آرہاہے کہ مساوی سے جائزنہیں “ ۱ھ۔ ت)
اقول : علمانے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ “ لاافضل منہ “ (اس سے کوئی افضل نہیں) سے مساوات کی بھی نفی ہو جاتی ہے اس لئے کہ وہ انتہائی نادر ہے معہود یہی ہے کہ باہم کچھ تفاوت ضرور ہوتاہے۔ توجب “ اس سے افضل “ کی نفی ہوگئی تویہ ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے علاوہ سب سے افضل ہے ایسا ہی یہاں ہے۔ پھر علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکویوں کہناتھا کہ : ان کے کلام سے ظاہریہ ہے کہ “ مساوی غالب ہی کی طرح ہے “ اس لیے کہ اس کاغیر مغلوب ہونایقینی ہے۔ ہاں
الدرالمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم مطبع دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۲۸
جوہرہ میں یہ عبارت نظرآئی : “ جب مٹی سے غیرجنس زمین مل جائے اور ملنے والی چیز اس سے زیادہ ہو (کان اکثر منہ) تواس سے تیمم جائزنہیں۔ “ ۱ھ(ت)
(اس عبارت سے خیال ہوتاہے کہ ملنے والی چیز اگرمساوی ہوتوتیمم جائزہے۔ ۱۲م۔ الف)
اقول : وھو(۱) ان اول بماذکرت و الا فمحجوج بالخانیۃ وبالقاعدۃ المطردۃ اذا اجتمع الحاظر والمبیح فللحاظر الترجیح۔
اقول : اگراس کی بھی وہی تاویل کرلی جائے جومیں نے بیان کی ہے توٹھیك ورنہ اس کے خلاف خانیہ کی عبارت حجت ہے اور یہ عام قاعدہ بھی کہ جب محرم ومبیح (ناجائزکرنے والی اور جائز کرنے والی دلیلیں) جمع ہوں تو ترجیح محرم کو ہوگی۔ (ت)
اور ظاہرا یہاں لحاظ غلبہ باعتبار اجزاہی ہے بخلاف آب کہ اس میں اعتبار غلبہ یاباعتبارطبع وباعتبار اسم بھی تھا جس کی تفصیل وتحقیق ہمارے رسالہ النور والنورق ہے۔ حلیہ میں ہے :
ثم لاشك ان الغلبۃ ھنا معتبرۃ بالاجزاء بلاخلاف بخلاف المخالطۃ لماء فان فیہ خلافا ۔
پھر اس میں شك نہیں کہ یہاں بغیر کسی اختلاف کے اجزا کے لحاظ سے غلبہ کااعتبار ہے جب کہ پانی سے مخالطت میں ایسا نہیں کیوں کہ اس میں اختلاف ہے۔ (ت)
(۲) مطلقا ناجائز اگرچہ جنس ارض غالب ہو فتح الله المعین میں ہے :
ظاھر کلام الزیلعی یقتضی عدم جواز التیمم بماھو من جنس الارض مطلقا سواء کانت الغلبۃ لما ھو من جنس الارض ام لا ونصہ قال فی المحیط اذاکان الخزف من طین خالص یجوز وان کان من طین خالطہ شیئ اخر لیس من جنس الارض لایجوز کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اخر لیس من جنس الارض انتھی ۔
ظاہرکلام زیلعی کاتقاضایہ ہے کہ اس صورت میں جنس زمین سے مطلقا تیمم جائز نہیں جبکہ اس سے کوئی دوسری ایسی چیز مل جائے جوجنس زمین سے نہ ہو خواہ جنس زمین غالب ہو یانہ ہو۔ ان کی عبارت یہ ہے : محیط میں فرمایا جب ٹھیکری خالص مٹی کی ہو توجائز ہے اور اگرایسی مٹی کی ہو جس میں کوئی دوسری ایسی چیز ملی ہوئی ہو جو جنس زمین سے نہیں توناجائز ہے۔ جیسے وہ شیشہ جوریت اور کوئی ایسی چیز ملاکر بنایاگیا ہوجوجنس زمین سے نہیں۔ انتہی۔ (ت)
حلیہ
فتح اللہ المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱
فان قلت لم لایحمل کلام السید ایضا علی ھذا اقول کلافانہ یستدرك بہ علی مسألۃ الطین وھذا نصہ یجوز بطین غیرمغلوب بماء لکن ظاھر کلام الزیلعی لخ۔
اگریہ اعتراض ہو کہ سید ازہری کے کلام کوبھی کیوں نہ اسی پرمحمول کیاجائے۔ اقول (میں کہوں گا) ایسا ہرگز نہ ہوپائے گا اس لیے کہ وہ اس سے مٹی کے مسئلہ پراستدراك کررہے ہیں ان کی عبارت یہ ہے : “ تیمم ایسی مٹی سے جائز ہے جوپانی سے مغلوب نہ ہو لیکن ظاہر کلام زیلعی الخ “ ۔ (ت)
(۳) بحالت خامی جوخلط ہو اس میں اسی غلبہ کااعتبار ہے جو قول اول میں گزرا اور ملاکر پکائیں جلائیں تومطلقا تیمم جائز ہے کہ غیرجنس کے اجزاجل کر خالی جنس ارض رہ جائے گی یہ بحث محقق علی الاطلاق کی ہے واستحسنہ فی الحلیۃ واقرہ فی البحر (اور حلیہ میں اسے عمدہ قرار دیا اور بحر میں اسے برقرار رکھا۔ ت)فتح القدیر میں ہے :
من اجزاء الارض الاجر المشوی علی الصحیح الا ان خلط بہ مالیس من الارض کذا اطلق فیمارأیت مع ان المسطورفی فتاوی قاضیخان التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض تعتبر فیہ الغلبۃ وھذا یقتضی ان یفصل فی المخالط للبن بخلاف المشوی لاحتراق مافیہ مما لیس من اجزاء الارض ۔
قول صحیح پراجزائے زمین ہی سے پکی ہوئی اینٹ بھی ہے مگر یہ کہ اس سے وہ چیزملی ہوئی ہو جو جنس زمین سے نہیں میں نے جہاں تك دیکھا اس میں حکم اسی طرح مطلق ہے حالانکہ فتاوی قاضیخان میں یہ تحریر ہے کہ مٹی میں جب کوئی ایسی چیز مل جائے جواجزائے زمین سے نہ ہو تو اس میں غلبہ کااعتبار ہے او ر اس کاتقاضایہ ہے کہ کچی اینٹ سے ملنے والی (غیرجنس زمین) میں ہی یہ تفصیل کی جائے پکی میں نہیں کیونکہ اس میں جوغیرجنس کے اجزا ہوتے ہیں وہ جل جاتے ہیں۔ (ت)
فتح القدیر باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲
م لوتیمم بخزف ان کان متخذا من التراب الخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ جاز ش سواء کان علیہ غبار اولم یکن فان جعل فیہ شیئ من الادویۃ فان کان علیہ غبار جاز م وان لم یکن علیہ غبار ش لایجوز کذا فی الخانیۃ وفی الخلاصۃ والخذف الجدید علی الاختلاف یعنی عند ابی حنیفۃ یجوز وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردد ثم قال الااذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ فحینئذ لایجوز ۱ھ۔
ویشکل اطلاق ھذا بالحکم الاتی عن قریب فی اختلاط الرماد بالتراب اذاکان التراب غالبا وبما ھو المسطور فی الفتاوی الخانیۃ والظہیریۃ وغیرھما ان التراب اذاخالطہ مما لیس من اجزاء الارض غیرالرماد انہ ایضا تعتبرفیہ الغلبۃ فان ھذا یقتضی جریان ھذا التفصیل فی المخالط لللبن النیئ بخلاف المشوی لاحترق کما نبہ علیہ شیخنا المحقق رحمہ الله تعالی فضلا عن اطلاق عدم الجواز اذا خالطہ شیئ من ذلك من غیرتفصیل۔
متن : اگرٹھیکری سے تیمم کیا تو وہ اگر خالص مٹی سے بنی ہو اور اس میںکوئی دواء نہ ڈالی گئی ہو توجائز ہے۔ شرح : خواہ اس پرکچھ غبار ہو یانہ ہو پھر اگراس میں کوئی دواملائی گئی ہو و اگر اس پرکچھ غبار ہو توجائز ہے۔ متن : اور اگر اس پرکوئی غبار نہ ہو۔ شرح : توجائز نہیں۔ ایسا ہی خانیہ میں ہے۔ اور خلاصہ میں یوں ہے : او ر نئی ٹھیکری میں اختلاف ہے یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیك جائز ہے اور امام محمد سے دو ۲روایتیں ہیں اور امام ابی یوسف کاقول متردد ہے۔ پھر فرمایا : مگرجب اس میں کوئی دوا استعمال ہو تو اس وقت جائز نہیں۱ھ۔
اس عدم جواز کے اطلاق میں اشکال اس حکم سے ہوتاہے جوعنقریب مٹی سے راکھ کے مخلوط ہونے کے بارے میں آرہاہے جب کہ متی غالب ہو۔ او اس سے بھی جو فتاوی خانیہ و ظہیریہ وغیرہما میں مرقوم ہے کہ جب مٹی میں راکھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز مخلوط ہوجائے جواجزائے زمین سے نہیں تو اس میں بھی غلبہ کااعتبارہے۔ کیونکہ اس کا تقاضایہ ہے کہ یہ تفصیل اس چیز مین جاری ہو جوکچی اینٹ سے ملی ہوئی ہو پکی اینٹ میں نہیں کیونکہ اس میں غیر اجزائے زمین آگ سے جل جاتے ہیں جیسا کہ اس پرہمارے شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تنبیہ فرمائی ہے۔ اس سے کوئی اور چیز ملنے کی صورت میں بلاتفصیل عدم جواز کااطلاق تودرکنار ہے۔ (ت)
(۴) خام میں خلط اسی تفصیل غلبہ پر ہے اور ملاکر پکانے میں مطلقا ممانعت اجزائے ارضیہ غالب ہوں خواہ مغلوب یہی ظاہر کلام مذکور ۱محیط و۲زیلعی و۳منیہ اور یہی اس عبارت ۴خلاصہ سے مستفاد جو ابھی حلیہ سے گزری اور یہی مفاد ۵تجنیس و۶خانیہ و۷بزازیہ ہے وجیزکردری میں ہے :
الخزف علی الخلاف الااذا جعل فیہ شیئ من الادویۃ ۔
خزف میں اختلاف ہے مگرجب کہ اس میں کوئی دواہ ڈال دی گئی ہو۔ (ت)
بحرمیں ہے :
وکذا بالخزف الخالص الااذاکان مخلوطا بمالیس منجنس الارض اوکان علیہ صبغ لیس من جنس الارض کذا اطلق فی التجنیس والمحیط وغیرھما مع ان المسطور فی قاضیخان الی اخرمامرعن الفتح ۔
اور ایسے ہی خالص خزف (ٹھیکری ) سے۔ مگرجب وہ کسی ایسی چیز سے مخلوط ہو جنس زمین سے نہیں یا اس پرجنس زمین کے علاوہ کسی چیز کارنگ ڑھایاگیاہوتجنیس اور محیط وغیرہما میں ایسے ہی مطلق بیان کیاہے باوجودیکہ قاضیخان میں یہ مرقوم ہے : اس کے بعد آخر تك وہ ہے جوفتح القدیر کے حوالہ سے گزرا۔ (ت)
خود فتح میں فرمایا کہ ہم نے جتنی کتابیں ملاحظہ فرمائیں سب میں بحال خلط حکم منع یونہی مطلق ہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرچکا۔ ت) البتہ ایك جوہرہ نے اس مسئلہ خزف میں شرط غلبہ ذکر کی کما سبق فی صدر ھذا المسألۃ (جیسا کہ اس مسئلہ کے شروع میں گزرا۔ ت)
البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸
حیث قال الخزف اذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ حینئذ لایجوز بالتیمم بہ بالاجماع ۔
ان کاکلام یہ ہے کہ “ خزف میں جب کوئی دوا استعمال کی جائے تو اس وقت اس سے تیمم بالاجماع جائز نہیں۔ “ (ت)
اقول : فتح و حلیہ وبحر یہاں فتاوی امام قاضیخان سے استناد فرماتے ہیں کہ اعتبار غالب کاہے مگرخود امام فقیہ النفس نے اسی مسئلہ خزف میں بحال خلط منع مطلق رکھا کہ فرمایا :
لو تیمم بالخزف ان کان علیہ غبار جاز ان لم یکن علیہ غبار فان کان متخذا من التراب الخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ جازو ان جعل فیہ شیئ من الادویۃ ولم یکن علمہ غبار لایجوز۔
اگرخزف سے تیمم کیا تو اگر اس پرغبارہو جائز ہے اور اگر اس پرغبارنہ ہو تو یہ صورت ہے کہ اگر وہ خالص مٹی کی بنی ہو اور اس میں کوئی دوانہ پڑی ہو توجائز ہے او اگر اس میں کوئی دوا پڑی ہو اور اس پر کوئی غبار نہ ہو تو ناجائز ہے۔ (ت)
وہاں اگر وہ اطلاق تھا کہ :
التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض یعتبر فیہ الغلبۃ ۔
مٹی میں جب غیراجزائے زمین سے کچھ مخلوط ہوجائے تو اس میں غلبہ کااعتبار ہے۔ (ت)
تویہاں یہ اطلاق ہے کہ :
وان جعل فیہ شیئ من الادویۃ لایجوز ۔
اور اگر اس میں کوئی دواپڑی ہو توناجائز ہے۔ (ت)
یہ اگرحالت غلبہ پرمحمول ہوسکتاہے وہ حالت غیرطبخ پر
واستشھد لہ فی الحلیۃ بما فی مختارات النوازل یجوز التیمم بالخزف ھو الصحیح وبما فی خزانۃ الفتاوی یجوز
حلیہ میں اس پر ان دو۲عبارتوں سے استشہاد کیاہے (۱) مختارات النوازل : “ خزف سے تیمم جائز ہے۔ یہی صحیح ہے “ ۔ (۲) خزانۃ الفتاوی : “ خزف سے
فتاوٰی قاضی خان فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹
فتاوٰی قاضی خان فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹
اقول : اما(۲) الاول فابعد شیئ عن الشہادۃ لہ فانہ انما ذکر حکم الخزف فی نفسہ وھوکذلك ولم یتعرض لشیئ من العوارض من فکیف یدل علی الجواز بالمخلوط واما الثانی فقریب(۲) منہ فان الخزف کثیرا ما یصبغ والخلط نادر وذکر الغالب وترك النادر غیربعید وقدر أیتنی کتبت علی ھامش الحلیۃ ھھنا مانصہ اطلاق الجواز بالخزف اوتقییدہ بما اذالم یکن صبغ مخالف لاینافی اطلاق المنع اذاکان طبخہ مع شیئ مخالف فانہ نادر خارج لایلاحظ الیہ فی افادۃ حکم نفس الخزف بخلاف الصبغ فانہ کثیر ۱ھ ماکتبت علیہ ھذا۔
وقال فی الغنیہ موجھا اطلاق المنع بخلط الطبخ (ولوتیمم بالخزف ان کان متخذا من التراب بالخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ) کالفحم والشعر وغیرھما ممایجعل فی الطین الذی تتخذ منہ البنادق (جاز) التیمم بہ (وان لم یکن علیہ غبار) وان کان
تیمم جائز ہے مگر جب اس پرکوئی ایسارنگ چڑھا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔ (ت)
اقول : اول تو ان کے مطلوب کی شہادت سے انتہائی بعید ہے اس لیے کہ اس میں صرف یہی بیان ہے کہ خود خزف کاکیا حکم ہے تو نفس خزف کاتووہی حکم ہے مگر اس عبارت میں اس کے عوارض کاکوئی ذکرہی نہیں پھر اس سے خزف مخلوط کاجواز کیسے دریافت ہوسکتاہے عبارت دوم بھی اول سے قریب ہی ہے اس لیے کہ خزف کی رنگائی توبہت ہوتی ہے مگر اس میں دوسری چیز کی ملاوٹ نادرہے۔ اکثرکو ذکرمیں لانا اور نادر کوترك کردینا کوئی بعید امرنہیں۔ یہاں حلیہ کے حاشیہ پرمجھے اپنی لکھی ہوئی درج ذیل عبارت نظرآئی : “ خزف سے جواز کومطلقا بیان کرنا یاجواز کو اس بات سے مقید کرنا کہ کوئی مخالف رنگ نہ ہو یہ اس کے منافی نہیں کہ اس سے تیمم مطلقا منع ہو جب اسے کسی مخالف چیز کے ساتھ پکادیاگیاہو اس لیے کہ یہ صورت الگ ہے جو بہت کم واقع ہوتی ہے اور نفس خزف کاحکم بتانے میں نظرانداز کی جاسکتی ہے اس کے برخلاف رنگائی والی صورت بکثرت پائی جاتی ہے۱ھ “ (حاشیہ پرلکھی ہوئی میری تحریر ختم ہوئی) یہ ذہن نشین رہے۔
غنیہ میں ملاکر پکانے کی صورت میں مطلقا ممانعت کی توجیہ کرتے ہوئے یوں لکھا ہے “ (اور اگرخزف سے تیمم کیا تو اگروہ خالص مٹی سے بنی ہو اور اس میں کوئی
اقول اولا : رأیتنی(۱) کتبت علیہ الذی تقدم فی المطلی ھو قولہ (لایجوز التیمم بالغضارۃ المطلی بالانک) لوقوعہ علی غیر جنس الارض ۱ھ فہذا یقتضی ان معنی قولہ ان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا ای مستعلیا فوقہ ولیس کذلك فان ھھنا مزجا والتاویل بان المراد ظہور الاثروالاحالۃ علی ماتقدم من جہۃ انہ لم یبق من جنس الارض علی الاطلاق * شدید البعد عن المذاق*کما لایخفی علی الحذاق*
وثانیا : الظھور(۲) سواء ارید
دوا نہ پڑی ہو) جیسے کوئلہ بال اور دوسری چیزیں جو اس مٹی میں ڈالی جاتی ہیں جس سے بندوق کی گولیاں بنتی ہیں تو اس سے تیمم (جائز ہے اگرچہ اس پرغبارنہ ہو) اور اگر اس میں اوپر کوئی دواپڑی ہو توجائز نہیں مگر اسی صورت میں جب اس پرغبار ہو۔ اس کی جہ وہی ہے جو رانگ سے قلعی کیے ہوئے برتن کے بارے میں گزرچکی۔ یہاں غلبہ کااعتبار ہوناچاہئے تھا لیکن اس کااعتبار نہ کیاگیا اس لیے کہ پکانے کے ساتھ دواملانے کی وجہ سے وہ پورے طور سے جنس زمین ہونے سے خارج ہوگئی “ ۔ ۱ھ(ت)
اقول : اولا میں نے دیکھا کہ اس پر میں نے وہ عبارت لکھی ہے جو قلعی کیے ہوئے برتن کے بارے میں گزری یعنی ان کا یہ کلام : “ (اس برتن سے تیمم جائز نہیں جس پررانگ کی قلعی کی گئی ہو) اس لیے کہ یہ تیمم غیرجنس زمین پرہوگا “ ۔ ۱ھ۔ یہ کلام اس کامقتضی ہے کہ ان کی عبارت “ ان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا “ کامعنی یہ ہو کہ اگر اس کے اوپر کوئی دواچڑھی ہوئی ہو حالانکہ یہ صورت نہیں اس لیے کہ یہاں تو مٹی میں دوا کی آمیزش اور ملاوٹ ہوتی ہے اب اگر “ ظاھرا “ کی تاویل میں یہ کہاجائے کہ مطلب یہ ہے کہ دوا کااثر ظاہرہوا اور ماسبق کاحوالہ اس لحاظ سے دیاہے کہ یہ بھی مطلقا جنس زمین سے نہ رہی تو یہ تاویل مذاق سلیم سے بہت بعید ہے جیسا کہ ماہرین پرمخفی نہیں۔ (ت)
ثانیا : ظہورممانعت کی شر ط نہیں خواہ اس سے
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹
وثالثا : اشترط(۱) الظہوری بای وجہ کان تقیید لاطلاقھم فان ارتکب ھذا فلم لایقید بشرط الغلبۃ المعلوم من قواعد الشرع والعقل۔
فان قلت ھو احتراز عن نزریسیر یختلط من غیرقصد قلما یخلو الشیئ عنہ عادۃ فی اعتبارہ حرج بخلاف دواء یخلط قصدا فانہ یکون علی مقدار صالح ولابد لہ من اثرظاھر۔
اقول : بھذا یرجع الی اعتبارہ الغلبۃ اذ ھو الفصل بین القلیل والکثیر والاوساط مالہا من انضباط الاتری الی قول الہدایۃ فی المیاہ لنا ان الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبہ بالاجزاء ۱ھ۔
عین مراد ہویااثر۔ دیکھیے کہ شیشہ جوریت اور شخار سے بنتاہے۔ او ر اس وقت لوگوں کے پاس زیادہ تر یہی پایاجاتاہے۔ اس میں شخار کانہ عین ہوتاہے نہ اثر مگر اس سے تیمم کاعدم جواز معلوم اور طے شدہ ہے۔
ثالثا : ظہور کی شرط جس طرح بھی لگائی جائے اس سے اطلاق علماء کی تقیید لازم آتی ہے اگرقید لگانی ہی ہے توکیوں نہ شرط غلبہ کی قید لگائی جائے جس کااثر شرعی عقلی قواعد سے ہونا معلوم ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ “ ظاھرا “ کہہ کہ اس قلیل معمولی مقدار سے احتراز مقصود ہے جوبلاارادہ مل جاتی ہے جس سے شے عادۃ کم ہی خالی ہوتی ہے تو اس کااعتبار کرنے میں حرج ہے۔ اس کے برخلاف ایسی دوا جوقصدا ملائی جائے اس کی ایك قابل لحاظ مقدار ہوتی ہے اور اس کانمایاں اثرضروری ہے۔ (ت)
اقول : تو اس کا مآل غلبہ کااعتبار ہے کیونکہ قلیل وکثیر کے درمیان حد امتیاز وہی ہے درمیانی حالتوں کاتوکوئی انضباط ہی نہیں۔ پانی سے متعلق صاحب ہدایہ کی عبارت دیکھئے فرماتے ہیں : ہماری دلیل یہ ہے کہ معمولی آمیزش کاکوئی اعتبار نہیں اس لیے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں جیسے اجزائے زمین میں تو غالب کااعتبار ہوگا اور غلبہ اجزاء سے ہوتاہے۔ “ ۱ھ(ت)
وخامسا : ما(۲)الفرق بین مااذ قرض شعرودق فحم ومزجا بطین غالب مزجابالغاوصنعت منہ بنادق و جففت بالشمس وبین ما اذاصنعت واحرقت فای شیئ زادتھا النار حتی جازبھا التیمم فی الاولی دون الاخری بل لم تزدھا النار الانقصالاحتراق حصۃ من المخالط فھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی۔
رابعا : دوا کے ساتھ ملاکر پکانے سے وہ مطلقا جنس زمین سے خارج ہوتی ہے اس پرکیا دلیل ہے پکانے کا اثرپانی پر زیادہ ہوتاہے کیونکہ اس سے خوب امتزاج ہوجاتاہے جیسا کافی اور تبیین وغیرہما میں ہے اس لیے کہ آگ سے شیئ میں تخلخل پیداہوجاتاہے توپانی اس میں نفوذ کرجاتاہے ار اس کے لطیف اجزاء پانی میں سرایت کرجاتے ہیں۔ اور مٹی کامعاملہ ایسا نہیں اور جب یہاں پکانے کاکوئی خاص اثرنہیں تو بس امتزاج ہی رہ گیا اور امتزاج کی صورت میں قطعی طور پرغلبہ کااعتبار ہے جیسا کہ گزرچکا اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ (ت)
خامسا : دو۲صورتیں ہیں ایك یہ کہ بال کاٹاگیا کوئلہ پیسا گیا اور دونوں کوغالب مٹی سے خوب ملادیا گیااور اس سے گولیاں بناکردھوپ میں سکھادی گئیں دوسری صورت یہ کہ گولیاں بناکر آگ میں جلائی گئیں توآگ نے ان گولیوں میں کیازیادہ کردیا کہ پہلی صورت میں توتیمم جائز ہوا اوردوسری میں جائز نہ ہوا دونوں میں آخرفرق کیاہے بلکہ دوسری صورت میں آگ نے کچھ بڑھایا نہیں بلکہ کم ہی کیا اس لیے کہ مٹی سے ملنے والی چیز کاایك حصہ جلادیا یہ میرے نزدیك ہے اور حق کاعلم میرے رب ہی کے یہاں ہے۔ (ت)
بالجملہ مسئلہ خلط بالطبخ مثل مسئلہ جمع بین الاختین بملك الیمین ہے احلتھما ایۃ وحرمتھما اخری (ان دونوں کوایك آیت نے حلال کیا اور دوسری نے حرام کیا۔ ت)ادھراطلاقات ائمہ کہ خلط میں غلبہ کا اعتبار ہے مخالط مغلوب میں حکم جوازبتارہے ہیں ادھر ویسے ہی اطلاقات ائمہ کہ جس میں کچھ دوائی پکائی جائے صالح تیمم نہیں جانب مع جارہے ہیں دونوں اطلاقوں میں سے ایك ضرور مقید ہے۔ دوم کوصرف علامہ
اقول : علماءنے واقع پرحکم فرمایا اور واقع یہی ہے کہ جنس ارض اس میں غالب نہیں۔ تحفہ میں ہے :
مصنوع او راسنگریزہ سفید وقلی ست کہ بالمناصفہ گدازند ۔
مصنوعی شیشہ سفیدسنگریزے اور شخارسے بنتاہے اس طرح کہ دونوں نصف نصف لے کر پگھلاتے ہیں۔ (ت)
تذکرہ انطاکی میں ہے :
والمصنوع منہ من القلی جزء والرمل الابیض الخالص نصف جزء ویسبکان حدالامتزاج ۔
مصنوعی شیشہ کے اندر شخار کاایك حصہ ہوتاہے اور سفید خالص ریت کانصف حصہ۔ دونوں کو اس حد تك گلایا جاتا ہے کہ ایك دوسرے سے خوب مل جائیں۔ (ت)
اوراول کو امام محقق الاطلاق و صاحب جوہرہ و محقق حلبی صاحب حلیہ و محقق زین صاحب بحر نے اطلاق پررکھا او روہی جادہ واضحہ وقاعدہ عقلیہ ونقلیہ ہے لہذا وہی مرجح ہوناچاہئے اور احتیاط احسن غرض خلط میں خلاصہ حکم یہ نکلا کہ اگر بلاطبخ ہے توجب تك جنس ارض غالب ہے تیمم جائز ہے۔ اور اگرطبخ کے ساتھ خلط ہوتو اگراجزائے مخالف غالب یامساوی تھے اور بعد طبخ بھی ایسے ہی رہے توتیمم مطلقا ناجائز اور اگرجلنے سے کل فناہوگئے مطلقا جائز۔ اور اگربعض مغلوب باقی رہے تواگرخلط قصدی نہ تھا بعض اجزائے قلیلہ خود ملے رہ گئے تھے تیمم جائز۔ اور اگر قصدا ملانے گئے تھے تواظہر و ارجح جواز اور اولی احتراز یہ ہے بحمدالله تعالی جنس ارض کی وہ تحقیق بالغ وتنقیح بازغ کہ اس کادسواں حصہ کہیں نہ ملے گا بفضلہ تعالی ان مباحث جلیلہ پر مشتمل جن کی نعمت کو رحمت بے سبب نے اسی تحریر کے لیے ودیعت رکھاتھا۔
ولله الحمد اولا واخر* وباطنا وظاھرا*وصلی الله تعالی وسلم وبارك کثیرا متواترا*وافرامتظافرا * علی عالم حکمہ*وقاسم
اور خدا ہی کے لیے ساری حمد ہے اول وآخر ظاہروباطن اور خدائے تعالی کی کثیر متواترہ وافروغالب رحمت وبرکت ہو اس کی حکمتوں کے عالم نعمتوں کے قاسم
تذکرہ داؤدانطاکی حرف الزاء مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
مخلوق میں افضل اور آفتاب افق پر اور ان کی آل اصحاب فرزند اور ان کی جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ جس قدر ہرآن اور ہر وقت خلق خدا ہو اور خدائے رب العالمین ہی کے لیے ساری حمد ہے۔ (ت)
(رسالہ ضمنیہ المطر السعید تمام ہوا)
پانزدہم عــہ کامل طہارۃ کے یہ معنی کہ اس جنس ارض کوکبھی نجاست نہ پہنچی ہو یا پہنچی تو پاك ہوگئی ہو یعنی اصلا اس کاکوئی حصہ نہ رہا ہو جیسے پانی سے دھل کریاآگ سے جل کر اجزائے نجاست سب نکل یاجل جائیں دھوپ یا ہوا سے خشك ہوکرجبکہ نجاست کاکوئی اثر رنگ وبو نہ رہے تووہ شئی نماز کے لیے پاك ہوجاتی ہے مگر اس سے تیمم جائزنہیں ہوتا کہ دھوپ یاہوا استیصال نجاست نہیں کرتی کچھ اجزائے خفیفہ باقی رہ جاتے ہیں جونماز میں معاف ہیں اور تیمم میں معاف نہیں کما مر تحقیقہ فی صدرالکلام بتوفیق الملك العلام (جیسا کہ اس کی تحقیق آغاز کلام میں ملك علام کی توفیق سے گزرچکی۔ ت)
ثم اقول : اس زمین ۱ یاجنس زمین کوکبھی نجاست نہ پہنچنے کے یہ معنی کہ اس کے علم میں نہ ہو نہ بعد کو علم آئے۔
لاناانما کلفنا بمالانعلم نجاستہ لابما نعلم عدم نجاستہ اذلاسبیل لنا الیہ فانما التکلیف بجسب الواسع۔
اس لیے کہ ہم اسی کے مکلف ہیں جن کی نجاست ہمارے علم میں نہ ہو اس کے مکلف نہیں جس کی عدم نجاست ہمیں معلوم ہو اس لیے کہ ہمارے پاس اس کی کوئی راہ نہیں۔ تکلیف بقدر وسعت ہی ہے۔ (ت)
ہاں اگر اسے اس شے کی نجاست کاعلم نہ تھا نہ وہ کسی مظنہ۲ نجاست میں تھی کہ یہاں ظن بھی ملتحق بہ یقین ہے بیت الخلا کی زمین سے تیمم جائزنہ ہوگا اگرچہ اسے اس حصہ خاص کاجس پر تیمم کرناچاہتاہے نجس ہونا معلوم نہ ہو یوں جس چیز کی نجاست اس کے علم ۳ وظن میں نہ تھی بعدکو کسی مسلمان ثقہ عادل کی خبر سے معلوم ہوا کہ یہ شے یاجگہ نجس تھی یاکسی مستودیافاسق نے خبردی اور اس کادل اس کے صدق پرجماتو وہ تیمم باطل تھا اگر اس سے نمازپڑھی تھی اعادہ کرے ہاں کافر کی خبرکااعتبار نہیں اور غیرعادل کی بات دل پرنہ جمے تو اس کالحاظ بھی ضرور نہیں اور اگر اسے ۴ نجاست
عــہ یہ اس چہاردہم کاپانزدہم ہے جوصفحہ ۵۷۷ پرگزرا۔ (م)
شانزدہم : خودیااپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو اس میں تین مسئلے ہیں(۱) یہ کہ ۱ جس طرح اپنے ہاتھوں آپ تیمم جائز ہے یوں ہی یہ بھی دوا ہے کہ بشرائط آئندہ دوسرے سے اپنے عضاء پر تیمم کرالے۔
اقول : مگر ۲ یہ بلاضرورت مکروہ ہوگا جس طرح وضو میں دوسرے سے استعانت بلکہ اس سے زائد کہ اس کے نفس جواز وصحت ہی میں بعض کوخلاف ہے کما ستسمع (جیسا کہ عنقریب سنو گے۔ ت)
(۲) دوسرا۳ اس کے حکم سے اسے تیمم کرائے حکم سے مراد اسے دربارہ تیمم اپنا وکیل ونائب کرنا ہے عام ازیں کہ صراحۃ ہویا دلالۃ اگر کسی طرح اس کی جانب سے نائب بنانے پردلالت نہ پائی گئی اور اس نے بطور خود ہاتھ زمین پر مارکر اس کے منہ اور ہاتھوں پرپھیردیئے توتیمم نہ ہوگا۔
(۳) ضرور۴ ہے کہ یہ حکم دینے والا اس کی ضرب کے وقت خود نیت کرے اس کی نیت کافی نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے :
فان نوی التیمم وامربہ غیرہ فیممہ ۔
تواگر تیمم کی نیت کی اور دوسرے کوحکم دیا کہ اس نے اسے تیمم کرادیا۔ (ت)
بحرالرائق سے گزرا :
لوامرغیرہ بان ییممہ جاز بشرط ان ینوی الامر (الی ان قال) لما ان المامور الۃ وضربہ ضرب للامر فالعبرۃ للامر ۔
اگردوسرے سے اپنا تیمم کروایا توجائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرے (یہاں تك کہ فرمایا) اس لیے کہ مامور ذریعہ ہے اور اس کی ضرب آمر کی ضرب ہے تواعتبار آمرکاہے۔ (ت)
اسی میں معراج الدرایہ سے ہے :
لوامرغیرہ ان ییممہ ونوی ھو جازو قال ابن القاضی لایجزئہ ۱ھ والناوی ھو الامر کما لایخفی۔
اگردوسرے کوتیمم کرانے کاحکم دیا اور خود نیت کی تو جائز ہے اور ابن القاضی نے کہا کہ کافی نہ ہوگا ۱ھ اور نیت آمر کوکرنی ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
البحرالرائق باب التیمم مطبع یچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
البحرالرائق باب التیمم مطبع یچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
اب یہاں چار۴صورتیں ہیں کہ اخیر کی صورت دو۲ہوکرپانچ ہوجائیں گی : ایك یہ کہ زید نے عمروسے کہا : مجھے تیمم کرادے اس نے قبول کیا۔ دوسرے یہ کہ عمرو نے زید سے کہا : میں تجھے تیمم کرادوں یا کہا می تجھے تیمم کرائے دیتاہون۔ زید نے کہا اچھا۔ ان دونوں صورتوں میں توظاہرکہ تیمم بامرزید ہوا۔ تیسرے یہ کہ عمرو نے کہا اور زید نے سکوت کیا اور اس کی ضرب کے وقت نیت کرلی ظاہرا اس صورت میں بھی جواز چاہئے کہ اس نے اپنی تصریح قولی سے فعل ضرب زید کی طرف مضاف کیا اور زید نے اپنے سکوت سے اسے قبول کہ ایسی جگہ سکوت دلیل رضا ہے تو ان پہلی دوصورتوں میں زید کی طرف سے حکم صراحۃ تھا اور اس میں دلالۃ غمزالعیون میں ہے :
الوکالۃ کما تثبت بالقول تثبت بالسکوت ولذا قال فی الظھیریۃ لو قال(۲) ابن العم للکبیرۃ انی ارید ان ازوجك نفسی فسکتت فتزوجہاجا زذکرہ المصنف رحمہ الله تعالی فی باب الاولیاء والاکفاء فی شرح الکنز ۔
وکالت جیسے قول سے ثابت ہوتی ہے سکوت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے ظہیریہ میں فرمایا : اگر چچازاد بھائی نے بالغہ سے کہا میں چاہتاہوں کہ تیرا نکاح اپنی ذات سے کردوں اس پروہ خاموش رہی پھر اس نے اس بالغہ سے نکاح کرلیا توجائز ہے اسے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے شرح کنز میں باب الاولیاء والاکفاء میں بیان کیاہے۔ (ت)
چوتھے یہ نہ زید نے کچھ کہا نہ عمرو نے۔ عمرو نے بطور خود جنس ارض پرہاتھ مارے اگرچہ اس کے دل میں یہی ارادہ ہو کہ زید کو تیمم کراؤں گا بظاہر اس میں دو۲صورتیں نکلیں گی ایك یہ کہ ضرب سےعمرو کے ہاتھوں پرکافی مٹی قابل تیمم لگ گئی تھی اور جس وقت اس نے ہاتھ اس کے عضو پرپھیرنے چاہے اس نے نیت تطہیر کرلی عام ازیں کہ ضرب عمرو کے وقت اس نے نیت نہ کی ہو یارجما بالغیب کرلی ہو اس صورت میں جواز ظاہر ہے کہ اب یہ تیمم
دوسرے یہ کہ عمرو کے ہاتھوں پرمٹی نہ لگی یالگی تھی اس نے جھاڑ دی جیسا کہ مسنون ہے ظاہرا اس صورت میں جواز نہ چاہئے کہ اس وقت عمرو کے خالی ہاتھ ہیں تو تیمم تیمم معہود ہے اور تیمم معہود میں وقت ضرب نیت لازم اور یہ نیت یہاں نامتصور کہ اس کی وہ ضرب زید کی طرف مضاف نہ تھی نہ صرف دل کے ارادے سے ایك کافعل دوسرے کی طرف مضاف ہو جیسے عمرو(۲) زید کے ارادہ سے کوئی چیز خریدے عمروہی اس کامالك ہوگا صرف ارادہ سے زید کی نہیں ٹھہرسکتی کما فی الدروغیرہ ان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے کہ خریداری جب خریدار پرنفاذ کے طور پرپائی جائے نافذ ہوگی۔ ت) بخلاف اس کے کہ نہ زید نے عمرو سے کہا نہ عمرو نے زید سے کچھ تذکرہ کیا اور بطور خود زید کانساح ہندہ سے کردیا اور زید کو خبرپہنچی اس نے صراحۃ یادلالۃ جائز رکھا نافذ ہوگیا کہ یہ امرعمرو کی طرف سے کسی طرح مضاف ہوسکتاہی نہ تھا کہ عقد تصریحا جانب زید مضاف تھا اور ضرب کف میں کوئی اضافت نہیں ھذا ماظھر*فلیراجع ولیحرر*والعلم بالحق عند العلی الاکبر * (ظاہر میں یہی ہے۔ اس کی مراجعت اورصفائی کرلی جائے اور حق کاعلم رب بلالندوبرتر کے یہاں ہے۔ ت)
اس صورت اخیرہ یعنی پنجم میں اگرچہ زید کی نیت تھی بھی حکم صراحۃ دلالۃ کسی طرح نہ ہونے سے جواز نہ ہوا اور اگرزید نے صراحۃ کہا مجھے تیمم کرادے اور نیت نہ کی یاکوئی بیکار۴ نیت مثل نیت نفس تیمم کی جب بھی جواز نہ ہوگا توظاہر ہوا کہ حکم ونیت دونوں کااجتماع چاہئے والله تعالی اعلم۔
ہفدہم : یاخود اس فعل سے یا اپنے خواہ اپنے امور کے وہ کف الخ یہ تیمم تیمم کی اس تقسیم کی طرف اشارہ ہے جس کی تحقیق اوپر گزری کہ ایك تیمم معہودہ ہے یعنی کف دست جنس ارض پرمارکر منہ اور ہاتھوں پر پھیرنا دوسراغیرمعہود کہ اور کوئی فعل ایسا کرنا جس کے سبب بلاواسطہ ان اعضاء کو جنس ارض سے
ہیجدہم : ان کے اکثر کامنہ اور ہاتھوں سے مس ہونا یہ تیمم معہود کی ایك شرط کی طرف اشارہ ہے کہ کف دست جو جنس ارض سے مس کیے گئے ان کے کل یااکثر سے منہ اور دونوں ہاتھوں کامسح ہوا اگر صرف(۱) ایك یادو۲ انگلیوں سے مسح کرے گا تیمم نہ ہوگا جیسے (۲) سر اور موزون کامسح کہ ان میں بھی اکثر کف شرط ہے بلکہ ان سے بھی زیادہ کہ اگروہاں ایك انگلی باربار ترکرکے سریاموزوں کے مختلف مواضع پرلگائی کہ اکثر کی مقدار کو پہنچ گئی مسح ہوگیا اور یہاں اگر ایك یادو انگلیوں کوباربار ضرب کرکے چہرہ یاہاتھ کے مختلف مواضع پرپھیر کہ استیعاب کرلیا تیمم نہ ہوگا کہ خود اکثردست شرعا معین ہے ظاہر ہے کہ یہ شرط تیمم معہود ہی میں ہے غیرمعہود میں سرے سے مسح بالکف ہی کی ضرورت نہیں۔
وقد اھتدی لہ العلامۃ الشامی لکن ذکرہ متوقفا متأ ملامستدرکابہ علی الدر والبحر والوسع(۳) لہ مااظھر الفیض اللطیف علی العبد الضعیف من تقسیم التیمم لم یکن شیئ من ھذہ قال فی الدر وشرطہ المسح وکونہ بثلاث اصابع فاکثر۔ فقال رحمہ الله تعالی ھو معنی قولہ فی البحر بالید اوباکثرھا فلومسح باصبعین لایجوز ولوکررحتی استوعب بخلاف مسح الراس فانہ اذا مسحہا باصبع اوباصبعین بماء جدید لکل ھتی صارقدر ربع الراس صح ۱ھ امداد وبحرقلت لکن فی التاترخانیۃ ولوتمعك بالتراب بنیۃ التیمم فاصاب التراب وجہہ ویدیہ اجزأہ لان المقصود قد حصل ۱ھ فعلم ان اشتراط اکثر الاصابع محلہ حیث مسح بیدہ تأمل ۱ھ۔
علامہ شامی کو اس طرف راہ یابی ہوئی مگر انہوں نے اسے توقف وتامل کے ساتھ درمختار اور البحرالرائق پر استدراك کرتے ہوئے ذکرکیا۔ وہ تقسیم تیمم جوفیض لطیف سے بندہ ضعیف پرظاہر ہوئی اگر علامہ شامی کے خیال میں آجاتی تویہ سب کچھ نہ ہوتا۔ درمختار میں ہے : “ اور اس کی شرط مسح اور مسح کاتین یازیادہ انگلیوں سے ہوناہے۔ “ اس پر علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : یہی عبارت بحر بالید اوباکثرھا (ہاتھ سے یا ہاتھ کے اکثرحصہ سے) کامعنی ہے تو اگردوانگلیوں سے مسح کیا جائز نہ ہوگا۔ اگرچہ تکرار کرکے استیعاب کرلیا ہو۔ مسح سرکاحکم اس کے برخلاف ہے کیونکہ اگرایك یادوانگلیوں سے ہربار کے لیے نیاپانی لے کرمسح کیا یہاں تك کہ چوتھائی سرکے برابر مسح ہوگیا توصحیح ہے ۱ھ امداد و بحر۔ میں کہتا ہوں : لیکن تاتارخانیہ میں ہے : اگرتیمم کی نیت سے مٹی پرلوٹ پوٹ کیا جس سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پرمٹی پہنچ گئی تویہ کافی ہے اس لیے کہ مقصود حاصل ہوگیا ۱ھ اس سے معلوم ہوا کہ اکثر انگلیوں کی شرط لگانے کاموقع اس وقت ہے جب ہاتھ سے مسح ہو۔ اس میں تأمل کرناچاہئے۔ ۱ھ۔ (ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۹
ثم اقول : (میں پھرکہتاہوں) تیمم معہود میں ہاتھ یا اس کے اکثر حصہ کی شرط لگانا اور ایك یادوانگلی سے استیعاب کاناکافی ہونا ہاتھ کی تعیین پرنص ہے اور اس پربھی کہ وہ مقصود ہے جس کے بغیر استیعاب ناکافی ہے۔ تواگرمثلا کسی لکڑی یاکپڑے یاکاغذ کو جنس زمین سے مس کرکے چہرے اور کلائیوں پرگزارلیا تومیرے خیال میں یہ جائز نہ ہوگا مگر اسی صورت میں جب ان چیزوں پر اتنی مٹی چپك گئی ہو جس سے محل تیمم کااستیعاب ہوجائے تویہ تیمم غیرمعہود ہوجائے گا وہ اس لیے کہ شرع مطہر نے پانی نہ ہونے کے وقت مٹی کومطہرقراردیا ہے تواگرحقیقی مٹی نہ ہوتوحکمی ہونا ضروری ہے۔ اور شرعا تراب حکمی کی حیثیت سے معلوم ومعروف صرف وہی ہاتھ ہے جسے صعید حقیقی سے مس کیاگیاہو۔ جوکسی اور کابھی مدعی ہو اس کے ذمہ دلیل ہے اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ معاملہ تعبدی ہے جس میں قیاس کی دست رست نہیں۔ اس تفصیل کے تحت حلیہ کی درج ذیل عبارت میرے لیے ناقابل فہم ہے : “ شرط صرف یہ ہے کہ زمین یاجنس زمین پرہاتھوں سے یاکسی اور چیز سے مس ہو اور اسے دونوں عضووں پرگزارا جائے اس میں سے کچھ مس کرنے والے سے چپکے یانہ چپکے ۱ھ “ ۔ کسی اور نے بھی ایسی عبارت لکھی ہے اس وقت یہ بھی مجھے یاد نہیں آتا۔ ہاں یہ جائز ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو کسی ایسے حائل سے مس کیاجائے
جوان کے تابع ہو جیسے کوئی کپڑاجو ان پرلپیٹ لیاہو جیساکہ عورت اور خنثی مرد کے تیمم میں بیان ہوا۔ یہی صورت اس وقت بھی ہوگی جب مرد کو آزاد اجنبیہ تیمم کرائے وہ اس لیے کہ تابع کامس متبوع ہی کامس ہے جیسے مصحف شریف کی جلد اور اس کے ایسے غلاف کامس جو اس سے الگ نہ ہو۔ اسی طرح جب ہتھیلیوں پرکوئی لیپ چڑھاہواہو اور سوکھ گیا ہوتو ان ہتھیلیوں سے ضرب جائز ہے اگراس لیپ کاچھڑانا ضروردیتاہو تویہی ضرب جہاں تك مجھے علم ہے ہتھیلیوں کابھی مسح قرارپائے گی۔ اور خدا خو ب جاننے والا ہے۔ اگرصاحب حلیہ کی مراد یہی ہے توٹھیك ہے پھر بھی اس میں شدید ایہام ہے اور اگریہ مراد نہیں تو اس میں بڑا اشکال ہے۔ اور الله تعالی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
نوزدہم : جداجدا اتصالوں سے یہ اس لیے کہاگیا کہ تیمم معہود میں کف کو ایك بارجواتصال جنس ارض سے دیاگیا وہ ایك ہی عضو کے مسح کوکافی ہوتاہے ایك اتصال سے وہ عضوووں کامسح جائز نہیں مثلا ایك ۳ بار دونوں ہتھیلیوں سے ضرب کرکے چہرہ کامسح کرلیا تو اب ان میں کسی ہتھیلی سے کسی ہاتھ کامسح جائز نہیں ہاتھوں کے لیے ضرب جدید چاہیےئ اور اگر دونوں ہتھیلیوں ضرب کرکے ایك ہتھیلی سارے منہ پرپھیرے اور دوسری ایك ہاتھ پر تویہ جائز ہے مگر دوسرے ہاتھ کے لیے پھر ضرب جدید کی حاجت ہئے۔ سراج وہاج و جوہرہ نیرہ و ہندیہ میں ہے :
ولو مسح باحدی یدیہ وجہہ وبالاخری احدی یدیہ عــہ اجزأہ فی الوجہ والید الاذلی ویعید الضرب للید الاخری ۔
اگراپنے ایك ہاتھ سے چہرے کامسح کیا اور دوسرے سے ایك ہاتھ کا توچہرے اور پہلے ہاتھ کے لیے یہ کافی ہوگا اور دوسرے ہاتھ کے لیے پھر ضرب لگائے گا۔ (ت)
عــہ : ووقع فی نسخۃ الجوھرۃ وبالاخری یدیہ اقول لعلہ سقط فیہا من قلم الکاتب لفظۃ احدی فانہ غیرممکن ولوامکن لکان الحکم ماذکر ۱۲منہ(م)
جوہرہ نیرہ کے نسخہ میں “ وبالاخری یدیہ “ لکھا ہے (اور دوسرے سے اپنے دونوں ہاتھوں کامسح کیا) اقول : شاید اس میں کاتب کے قلم سے لفظ “ احدی “ چھوٹ گیا ہے اس لیے کہ وہ صورت ممکن نہیں اور اگرممکن بھی ہوتوحکم وہی ہوگا جوبیان ہوا۔ ۱۲منہ (ت)
وھذا ھو محمل مافی جامع الرموز عن العمان لویمم غیرہ یضرب ثلثا للوجہ والیمنی والیسری واقرہ فی الدر ۱ھ قال ش العمان کتاب غریب عــہ والمشہور فی الکتب المتداولۃ الاطلاق وھو الموافق للحدیث الشریف التیمم ضربتان الاان یکون المراداذامسح یدالمریض بکلتایدیہ فحینئذ لاشبھۃ فی انہ یحتاج الی ضربۃ ثالثۃ یمسح بھا یدہ الاخری ۱ھ۔
یہی اس کابھی محمل ہے جو جامع الرموز میں عمان سے منقول : “ اگردوسرے کوتیمم کرایاتوچہرے داہنے ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے لیے کل تین ضربیں لگائے گا۔ اسے درمختار میں برقراررکھا ۱ھ علامہ شامی نے فرمایا : “ عمان “ کوئی غیرمعروف کتاب ہے۔ متداول کتابوں میں مشہور یہی ہے کہ دو۲ضربوں کاحکم مطلقا ہے۔ یہی حدیث شریف التیمم ضربتان (تیمم دو۲ضربیں ہیں) کے مطابق بھی ہے۔ لیکن اگر یہ مراد ہو کہ مریض کے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کیا تو ایسی صورت میں بلاشبہ اسے تیسری ضرب کی ضرورت ہوگی جس سے اس کے دوسرے ہاتھ کامسح کرے گا۱ھ “ ۔ (ت)
بستم : منہ اور کہنیوں کے اوپر ہرہاتھ ہم نے اور کہا پھر نہ کہا اس لیے کہ وضو کی طرح تیمم ۴ میں بھی ترتیب شرط نہیں کما فی البحر (جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔ ت) چاہے پہلے منہ کامسح کرے یاپہلے داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ کایاسب اعضاء کاایك ساتھ جیسے بگولے وغیرہ سے تیمم میں گزرا۳ ہاں تیمم معہود میں ترتیب سنت ہے جس طرح وضو میں کہ پہلے دونوں ہتھیلیوں سے چہرے کامسح ہو پھر بائیں ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کاپھر سیدھی سے بائیں کا۔
عــہ : لم ارلہ ذکرا فی کشف الظنون ۱۲منہ (م)
کشف الظنون میں اس کاکوئی ذکر نہ ملا۔ ۱۲منہ (ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
(۲) پہلی ضرب میں دونوں ہتھیلیوں سے چہرہ کااور دوسری ضرب میں پہلے بائیں ہاتھ پھر داہنے کا۔
(۳) پہلی ضرب میں د ہنی ہتھیلی سے منہ کا مسح کرے پھر بائیں سے داہنے ہاتھ کاپھر د ہنی ہتھیلی سے دوسری ضرب کرکے بائیں ہاتھ کا۔
(۴) اس کاعکس کہ پہلے بائیں ہتھیلی سے منہ کا پھر دہنی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے دوسری ضرب کرکے دہنے کا۔
(۵) پہلی ضرب میں بائیں ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے منہ کاپھر د ہنی کی دوسری ضرب سے بائیں ہاتھ کا۔
(۶ تا۸) اول بائین ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے بائیں کا پھر د ہنی خواہ بائین خواہ دونوں کی ضرب سے منہ کا۔
(۹) ضرب اول میں د ہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے منہ کا پھر بائیں کی دوسری ضرب سے دہنے ہاتھ کا۔
(۱۰ تا۱۲) پہلے د ہنی ہتھیلی سےبائین ہاتھ پھر بائیں سےدہنے ہاتھ کاپھر د ہنی خواہ بائیں خواہ دونوں کی ضرب سےمنہ کا۔
تیمم ان سب طریقوں پرصحیح ہوگا اور سنت سے منقول صرف اول۔
بست ویکم : کوئی حصہ ایسا نہ رہے یہ شرط استیعاب کابیان ہے کہ جتنے منہ اور جتنے ہاتھوں کادھوناوضو میں فرض ہے اس تمام حصہ پرتیمم غیرمعہود میں جنس ارض اور معہود میں ہاتھ کاپہنچنا فرض ہی یہی صحیح ہے اور یہی ظاہر الروایۃ اور اسی پراعتماد تواگرایك ۲ بال کی نوك بھی ہاتھ یاجنس ارض پہنچنے سے باقی رہ گئی تیمم نہ ہوگا تو لازم ۳ ہے کہ انگوٹھی چھلے کنگن پہنچیاں چوڑیاں کف دست اور کلائی کاہرگہنا اتارلیاجائے یااسے ہٹاہٹاکرمسح یاایصال جنس کیاجائے کما فی البحر والدر وغیرھما عامۃ الاسفار (جیساکہ البحرالرائق درمختار اور ان کے علاوہ عامہ کتب میں ہے۔ ت)
اقول : تویہاں وضو سے زیادہ اہتمام لازم خصوصا تیمم معہود میں کہ ڈھلکتاہواپانی اڑتا ہواغبار خود بھی رسائی کی چیز ہےاور ہاتھ توجہاں پہنچایاجائے وہیں پہنچے گا۔
ثم اقول : مواضع حرج کہ ہم نے الجود الحلو میں ذکرکیے یہاں بھی واجب الاستثنا ہیں
عفاالله تعالی عنا مطلقا بالاطلاق فینا وفی ذنوبنا* وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی ھادی قلوبنا* وماحی عیوبنا*وکاشف کروبنا*والہ و صحبہ*وابنہ وحزبہ*اجمعین بہ ابد الابدین* عدد خلق الله فی کل ان وحین*والحمد لله رب العلمین*
الله تعالی ہمیں مطلقا عفوسے نوازے مطلقا ہم میں اور ہمارے گناہوں میں۔ اور خدا ئے تعالی رحمت وبرکت وسلام نازل فرمائے ہمارے دلوں کے ہادی ہمارے عیوب کے مٹانے والے ہماری مشکلات کے دور کرنے والے آقا پر اور ان کی آل ان کے اصحاب ان کے فرزند ان کے گروہ سب پر ہمیشہ ہمیشہ جس قدر ہرآن وہروقت خلق خدا کی تعداد ہو اور ساری تعریف خدائے رب العلمیں کے لیے ہے۔ (ت)
بحمدالله تعالی یہاں تك تعریف رضوی کی شرح مبسوط تھی کہ نہ ایسی تعریف کہیں ملے نہ کوئی ایسی شرح پائے اور اسی کے ختم سے سوال اول کاجواب ختم ہوا جو بفضلہ تعالی ایسی تحقیقات جلیلہ جزیلہ بدیعہ رفیعہ پرمشتمل ہے جن کی نظیر نظرنہ آئے۔
ذلك من فضل الله علینا و على الناس و لكن اكثر الناس لا یشكرون(۳۸) رب اوزعنی ان اشكر نعمتك التی انعمت علی و على والدی و ان اعمل صالحا ترضىه و اصلح لی فی ذریتی ﱂانی تبت الیك و انی من المسلمین(۱۵)
والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
وہ ہے خدا کافضل ہم پر اور لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکرہیں کرتے۔ اے میرے رب مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کاشکراداکروں جوتونے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پرکیا اور یہ کہ میں ایسے نیك عمل کروں جس سے توراضی ہو اور میرے لیے میری نسل میں نیکی دے بیشك میں تیری بارگاہ میں رجوع لایا اور میں مسلمانوں سے ہوں اور خدائے پاك وبرتر خوب جانتاہے اور اس کاعلم کامل ومحکم ہے۔ اس کامجدبرترہے۔ (ت)
____________________
القرآن ۱۵ / ۴۶
الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید ۱۳۳۵ھ
جنس زمین کے مستعمل نہ ہونے میں بہت عمدہ بیان (ت)
سوال۱۱۳ دوم :
جس طرح طہارت سے پانی مستعمل ہوجاتا ہے کہ دوبارہ وضو کے قابل نہیں رہتا تیمم سے مٹی بھی یوں ہی مستعمل ہوجاتی ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب
اقول : وبالله التوفیق ہم اوپربیان کرآئے کہ تراب یعنی جنس ارض دو۲قسم ہے حقیقی جس کابیان رسالہ المطرالسعید میں گزرا اور حکمی کہ وہ ہاتھ ہیں کہ بہ نیت تطہیر جنس ارض سے مس کیے گئے یہ تراب حکمی ضرور بالاجماع مستعمل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہرعضو پرجدااتصال سے مسح شرط ہے جس کابیان ابھی افادہ نوزدہم میں گزرا اور اسی کے ثمرات سے ہیں تیمم کی وہ ترکیبیں جومشائخ نے مستحسن رکھیں جن میں ہتھیلی کے حصوں کو ذراع کے مختلف حصوں پرتقسیم فرمایاکہ ہرحصہ کانئے حصہ سے مس ہوتاکہ حتی الامکان تراب مستعمل کے استعمال سے احتراز ہو کما تقدم ذکرہ فی سابع ابحاثناعلی الوجہ السادس من وجوہ حدالتیمم(جیسا کہ اسکاذکر تعریفات تیمم میں سے چھٹی تعریف پرہماری ساتوں بحث کے تحت گزرا۔ ت) یہاں یقینا تراب مستعمل سے یہی تراب حکمی مراد ہے کہ یہ صورتیں تیمم معہود کی ہیں اور تیمم معہود میں تراب حکمی ہی درکار تراب حقیقی کی اصلا حاجت نہیں بلکہ لگی ہو تو اس کے چھڑادینے جھاڑدینے کاحکم ہے ایك دفعہ میں نہ چھوٹے توجتنی بار میں صاف ہوجائے پھر انہوں نے یہ ترکیبیں عام افادہ میں فرمائی ہیں اگرچہ تیمم دھلے پتھرپرہو۔ رہی تراب حقیقی وہ اصلا مستعمل نہیں ہوتی۔ جوہرہ نیرہ میں ہے :
التیمم لایکسب التراب الاستعمال ۔
تیمم مٹی میں مستعمل ہونے کی صفت نہیں پیداکرتا۔ (ت)
طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : التراب لایوصف بالاستعمال(مٹی مستعمل ہونے سے موصوف
دلیل اول نصوص صریحہ یہاں مٹیاں دو۲ہیں : ایك تو وہ جس پرہاتھ مارے وہ توبلاشبہہ مستعمل نہیں ہوتی جس پراجماع کہناکچھ مستبعد نہیں۔
لولاان عبرعنہ فی غنیۃ ذوی الاحکام عن البرھان بالاصح المشیر الی قوت فی الخلاف مع انہ فی غایۃ الغرابۃ روایۃ والسقوط درایۃ فیما اعلم والله تعالی اعلم۔
اگر غنیہ ذوی الاحکام میں بحوالہ برہان اس کی تعبیر لفظ “ اصح “ سے نہ ہوتی کہ اس لفظ سے اختلاف میں کچھ قوت ہونے کااشارہ ہوتاہے باوجودیکہ جہاں تك مجھے علم ہے یہ خلاف روایۃ انتہائی غریب اور درایۃ بالکل ساقط ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
فتاوی امام قاضیخانذا تیمم (۲) الرجل عن موضع تیمم عنہ غیرہ جاز ۔
جب آدمی نے ایسی جگہ سے تیمم کیا جہاں سے کسی اور نے تیمم کیا تھا تویہ جائز ہے۔ (ت)
شلبیہ علی الزیلعی :
قال الزاھدی لوتیمم جماعۃ بحجر واحد اولبنۃ وارض جازکبقیۃ الوضوء ۔
زاہدی نے کہا : اگرایك جماعت نے ایك پتھر یاکچی اینٹ یازمین سے تیمم کیاتوجائز ہے جیسے بقیہ آب وضو(کہ اس سے پھر کوئی دوسرا وضو کرسکتاہے)۔ (ت)
محیط سرخسی و ہندیہ :
لوتیمم اثنان من مکان واحد جاز ۔
اگردو۲نے ایك جگہ سے تیمم کیا جائزہے۔ (ت)
تاتارخانیہ و عالمگیری :
اذا تیمم مرارا من موضع واحد جاز ۔
اگرایك ہی جگہ بارہا تیمم کیاتوجائز ہے۔ (ت)
شلبیہ علی تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۸
فتاوی عالمگیری باب التیمم مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱
الفتاوی التاتارخانیہ نوع فیما یجوز بہ التیمم ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۴۲
جاز تیمم جماعۃ من محل واحد ۔
ایك ہی جگہ سے یك جماعت کاتیمم جائز ہے۔ (ت)
جوہرہ نیرہ :
لوتیمم رجل من موضع تیمم اخر بعدہ منہ جاز ۔
اگرکسی جگہ سے ایك آدمی نے تیمم کیا اور اس کے بعد دوسرے نے اسی جگہ سے تیمم کیا توجائز ہے۔ (ت)
منیہ و حلیہ :
اذا تیمم الرجل من موضع فتیمم اخر من ذلك الموضع ایضاجاز کما فی غیرماکتاب منj الکتب المعتبرۃ فی المذھب۔
جب آدمی نے ایك جگہ سے تیمم کیا پھر دوسرے نے بھی اسی جگہ سے تیمم کیا توجائز ہے جیسا کہ مذہب کی کتب معتبرہ سے متعدد کتابوں میں موجود ہے۔ (ت)
بالجملہ مسئلہ ظاہرہے اور عبارات وافر۔
غیران الغنیۃ ابدت فیہ تشکیکا ان ھذا علی قول من لم یجعل الضربۃ من التیمم ظاھر واما علی قول من جعلھا منہ ففیہ اشکال اھ۔
اقول : لافرق علی القولین* ولااشکال فی البین*
اما(۱)اولا فلمااعلمناك فی البحث السابع المذکوران الضرب المنوی یطھرالکفین ھو الصحیح فلا تمسحان بعد فثبت اسقاط الفرض بنفس الضرب و
بجزاس کے کہ غنیہ میں اس پر ایك تشکیك کااظہار کیاہے کہ “ یہ ان لوگوں کے قول پرتوظاہر ہے جنہوں نے ضرب کوتیمم سے نہ قراردیالیکن جنہوں نے ضرب کو تیمم سے قرار دیا ہے ان کے قول پر اس میں اشکال ہے اھ(ت)۔
اقول : دونوں قول کی بنیاد پرکوئی فرق نہیں نہ ہی کوئی اشکال ہے۔ اولا : اس لیے کہ ہم مذکورہ ساتویں بحث میں بتاچکے کہ ضرب منوی سے دونوں ہتھیلیاں پاك ہوجاتی ہیں۔ یہی صحیح ہے۔ پھر بعدمیں ان پرمسح نہ ہوگا تونفس ضرب سے اسقاط فرض ثابت ہوگیا اگرچہ
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ، ۱ / ۲۷
منیۃ المصلی باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶
غنیہ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۰
واما ثانیا : فلان(۱)المحدث اذاادخل(۲)رأسہ الاناء لایصیر الماء مستعملا کمافی الخانیۃ وکذا(۳) الخف والجبیرۃ کما فی البحر والصحیح ان المسألۃ وفاقیۃکمابینا فی الطرس المعدل والنمیقۃ الانقی من اخرھما وما التیمم الامسحا فلایفید الاستعمال*وبہ زال الاشکال*والله تعالی اعلم بحقیقۃ الحال*
ابھی حدث مرتفع نہ ہوااس لیے کہ وہ ناقابل تقسیم ہے جیسے اس صورت میں جب محدث نے پانی سے اپنے بعض اعضاء پانی سے دھولئے ہوں اور اس بارے میں کوئی دومتخالف قول نہیں تواگر اس سے استعمال ثابت ہوتودونوں ہی قول پراشکال لازم آئے گا۔
ثانیا : اس لیے کہ محدث جب اپنا سربرتن میں ڈال دے توپانی مستعمل نہیں ہوتا جیساکہ خانیہ میں ہے یہی حکم موزہ اور پٹی کابھی ہے جیسا کہ بحر میں ہے۔ ۔ ۔ اور صحیح یہ ہے کہ یہ مسئلہ متفق علیہ ہے جیساکہ ہم نے الطرس المعدل اور النمیقۃ الانقی کے آخر میں بیان کیاہے۔ اور تیمم مسح ہی تو ہے تومستعمل نہ بنائے گا اور اسی سے اشکال دور ہوگیا اور خدائے برتر حقیقت حال کوخوب جاننے والا ہے(ت)
دوسری وہ مٹی کہ بعض صورتوں میں ہاتھوں کولگتی ہے یہ اگرجھاڑدی گئی جیساکہ مسنون ہے جب تو اس کے مستعمل ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ ہتھیلیاں نفس ضرب سے پاك ہوگئیں یہ مٹی پاك ہتھیلیوں کولگی تو ان سے مل کر مستعمل ہوسکتی ہے نہ ان سے چھوٹ کر اور اگر نہ جھاڑی گئی اور چہرہ وہردودست کولگی تو اس وقت بھی مستعمل نہ ہوگی کہ مذہب صحیح میں استعمال کے لئے انفصال شرط ہے کمافی الطرس المعدل (جیساکہ الطرس المعدل میں گزرا۔ ت)تواگرمستعمل ہوتی توچہرہ وذراعین سے چھوٹ کر اور کتب مذھب میں نص صریح ہے کہ وہ اسوقت بھی مستعمل نہ ہوگی یہاں تك کہ اگرتیمم کرنے والوں کے چہرہ ودست سے جھڑی ہوئی مٹیاں جمع کرلی جائیں کہ قابل ضرب ہوجائیں اور کوئی ان سے تیمم کرے جب بھی جائز ہے۔ ۱درایہ شرح ہدایہ امام قوام الدین کاکی پھر ۲شلبیہ علی شرح الکنز للزیلعی نیز ۳بنایہ امام عینی میں ہے :
یجوزالتیمم بالتراب المستعمل عندناوفی قول للشافعی وفی ظاھرمذھبہ لایجوز والمستعمل ماتناثر من العضو اھ۔
مستعمل مٹی سے تیمم ہمارے نزدیك جائزہے اور امام شافعی کابھی ایك قول یہی ہے اور ان کے ظاہر مذہب میں جائز نہیں اور مستعمل وہ مٹی ہے جو عضو سے جھڑے۔ (ت)
التراب لایوصف بالاستعمال ولوالذی علق بیدیہ حتی لوتجمع ماعلق بایدی المتیممین یجوز علیہ التیمم ۔
مٹی مستعمل ہونے سے موصوف نہیں ہوتی اگرچہ وہی مٹی ہوجوہاتھوں میں لگی ہوئی ہے یہاں تك کہ اگر چند تیمم کرنے والوں کے ہاتھوں پرلگی ہوئی مٹی اکٹھی ہوجائے تواس پر تیمم جائز ہے۔ (ت)
توثابت ہوا کہ جنس ارض کسی طرح مستعمل نہیں ہوتی۔
نص۵ اجل امام اجل شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تصریح فرمائی کہ تیمم میں جو منہ اور ہاتھوں پرمسح کیاجاتاہے یہاں کوئی چیز ایسی نہیں کہ مستعمل ہوجائے۔ ۶فتح القدیرمیں ہے :
واختیار شمس الائمۃ ان المنع فی مد الاصبع والاثنتین غیر معلل باستعمال البلۃ بدلیل انہ لومسح باصبع اواصبعین فی التیمم لایجوز مع عدم شیئ یصیر مستعملا خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد اھ وقد ذکرنا وجہ ھذاالخصوص اخر رسالتنا الطرس المعدل۔
اورشمس الائمہ نے یہ اختیار کیاہے کہ ایك دو انگلیوں کے پھیلانے کی ممانعت اس وجہ سے نہیں کہ تری استعمال ہوگی اس دلیل سے کہ اگر تیمم میں ایك دو انگلی سے مسح کرے توبھی ناجائز ہے جبکہ یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جو مستعمل ہوخصوصا جب چکنے ٹھوس پتھر پرتیمم ہواھ۔ اس خصوص کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ الطرس المعدل کے آخر میں بیان کی ہے۔ (ت)
دلیل دوم : نصوص صریحہ بوجہ آخر ۷فتح القدیرمیں ہے :
ھل یأخذالتراب حکم الاستعمال فی الخلاصۃ وغیرھالوتیمم جنب اوحائض من مکان فوضع اخر یدہ علی ذلك المکان فتیمم اجزأہ والمستعمل ھو التراب الذی استعمل فی الوجہ والذراعین اھ وھو یفید
کیامٹی پربھی مستعمل ہونے کاحکم لگتاہے۔ ۔ ۔ ۔ خلاصہ وغیرہا میں ہے کہ “ اگر جنب یاحائض نے کسی جگہ سے تیمم کیاپھر دوسرے نے اسی جگہ ہاتھ رکھ کر تیمم کیا تو کافی ہوگا اور مستعمل وہ مٹی ہے جوچہرے اور کلائیوں میں استعمال ہوئی اھ۔ اس عبارت سے مٹی کے مستعمل ہونے کا
فتح القدیر مسح الرأس مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۰
تصورملتاہے اور یہ کہ اس کامستعمل ہونابس یہی ہے کہ جس ضرب سے چہرے کامسح کیاہے اسی سے کلائیوں کامسح کرےاھ۔ (ت)
۸بحرالرائق میں ہے :
فی المحیط والبدائع لوتیمم اثنان من مکان واحد جازلانہ لم یصر مستعملا لان التیمم انما یتأدی بما التزق بیدہ لابما فضل کالماء الفاضل فی الاناء بعدوضوء الاول اھ وھویفید تصور استعمالہ وقصرہ علی صورۃ واحدۃ وھی ان یمسح الذراعین بالضربۃ التی مسح بھا وجہہ لیس غیر ۔
محیط اور بدائع میں ہے : اگر دو۲نے ایك ہی جگہ سے تیمم کیاتوجائز ہے اس لیے کہ وہ جگہ مستعمل نہ ہوئی کیونکہ تیمم تو اسی سے اداہوجاتاہے جوکچھ ہاتھ میں لگ گیا ہے اس سے نہیں جوبچ رہا جیسے وہ پانی جوپہلے شخص کے وضو کے بعد برتن میں بچ گیاہواھ اس عبارت سے اس کے مستعمل ہونے کاتصورملتاہے اور اس کاکہ وہ ایك ہی صورت میں محدود ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ کلائیوں کامسح اسی ضرب سے کرے جس سے چہرے کامسح کیا ہے دوسری ضرب سے نہیں۔ (ت)
۹طحطاوی عــہ علی مراقی الفلاح میں ہے :
قال فی الفتح ھذا یفید تصور استعمالہ وھو مقصور علی صورۃ واحدۃ وھو ان یمسح الذراعین بالضربۃ التی مسح بھا وجہہ لاغیر ۔
فتح القدیرمیں فرمایا : اس سے اس کے مستعمل ہونے کا تصورملتاہے اور یہ کہ وہ ایك ہی صورت میں محدود ہے وہ یہ کہ کلائیوں کا اسی ضرب سے مسح کرے جس سے چہرے کامسح کیا ہے نہ کہ دوسری ضرب سے۔ (ت)
عــہ نقلناعبارتہ لفائدتین اظھار تقریرہ ودفع ایراد العلامۃ ش عنہ کما سیأتی ۱۲منہ غفرلہ (م)
ہم نے ان کی عبارت دو۲فائدوں کے تحت نقل کی : (۱) ان کی تقریر کااظہار (۲)اور اس پر علامہ شامی کے اعتراض کادفعیہ۔ جیسا کہ عنقریب آرہاہے ۱۲منہ غفرلہ(ت)
البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
طحطاوی علی مراقی الفلاح باب التیمم مطبع الازہریہ بولاق مصر ص۶۹
دلیل سوم : نصوص عامہ ائمہ وعلمائے قدیم وحدیث ومتون وشروح وفتاوی اقول : بحرسے پہلے تمام ائمہ وعلمانے جملہ کتب مذہب میں تیمم کے لیے صعید طاہر کی قید لگائی جس سے ثابت وروشن کہ تیمم کے لیے جنس ارض کی صرف طہارت درکار تولازم کہ ہرصعید طاہرمطلقا مطہرہے کہ اگرایسا نہ ہو تا اور جنس ارض بھی پانی کی طرح کبھی طاہر غیر مطہربھی ہوتی تو واجب تھاکہ مطہر کی شرط لگاتے صرف طاہر پر اکتفاصحیح نہ ہوتا مگر وہ اسی پراطباق فرمائے ہوئے ہیں توصراحۃ بتارہے ہیں کہ مٹی مستعمل نہیں ہوتی ۱قدوری ۲تحفۃ الفقہاء ۳ہدایہ ۴وقایہ ۵نقایہ ۶مختار ۷وافی ۸کنز ۹غرر ۱۰اصلاح ۱۱ملتقی ۱۲نورالایضاح میں کہ سب متون معتمدہ مذہب ہیں یہی لفظ طاہر یاطہارت کہا اورشراح نے اسے مقرر رکھا۔ مختصر میں ہے : یتیمم بصعیدطاھر ۔ (پاك صعیدسے تیمم کرے۔ ت)وقایہ و نقایہ و وافی و غرر و اصلاح میں ہے : علی کل طاھر من جنس الارض (جنس زمین سے ہرپاك پر۔ ت)کنزوغیرہ میں ہے : بطاھر من جنس الارض (جنس زمین کے کسی پاك پر۔ ت)
ملتقی الابحر میں ہے : شرطہ طہارۃ الصعید (اس کی شرط یہ ہے کہ صعید پاك ہو۔ ت)
۱۳بدائع میں ہے : ومنھا ان یکون التراب طاھرا (اور ان میں سے یہ ہے کہ مٹی پاك ہو۔ ت)
۱۴ہدایہ میں ہے : لان الطیب اریدبہ الطاھر فی النص (اس لیے کہ نص میں واردشدہ طیب سے مراد پاك ہے۔ ت)
۱۵تبیین میں ہے : صعید اطیبا ای طاھرا (طیب صعید پاک۔ ت)اس میں نیز ۱۶عنایہ و۱۷فتح و
شرح مختصرالوقایہ باب التیمم مطبع المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۸
کنزالدقائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷
ملتقی الابحر مع مجمع الانہر باب التیمم مطبع احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۹
بدائع الصنائع واماشرائط الرکن باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۳
الہدایہ باب التیمم المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۳۶
تبیین الحقائق باب التیمم المطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۸
بدائع میں ہے : معنی الطھارہ صارمرادا بالاجماع حتی لایجوزالتیمم بالصعید النجس (معنی طہارت بالاجماع مراد ہے یہانتك کہ نجس صعید سے تیمم جائز نہیں۔ ت)۱۹مجمع الانہر میں ہے : الطیب ھناك بمعنی الطاھر بدلالۃ قولہ تعالی و لكن یرید لیطهركم (طیب یہاں پاك کے معنی میں ہے جس پریہ ارشاد باری تعالی دلالت کررہا ہے : “ اور لیکن وہ چاہتاہے کہ تمہیں پاك کردے “ ۔ ت)۲۰نہایہ و عنایہ و عامہ شروح ہدایہ میں ہے : التیمم القصد الی الصعید الطاھر للتطھیر (تیمم کامعنی تطہیر کے لیے پاك صعید کاقصدکرناہے۔ ت)۲۱جواہر اخلاطی میں ہے : قصد مخصوص الی طاھر من جنس الارض (جنس زمین کے کسی پاك کی جانب مخصوص قصد۔ ت) محقق علی الاطلاق و ۲۲بحرالرائق و۲۳غنیہ ذوی الاحکام کی عبارتیں تعریف چہارم میں گزریں کہ الحق انہ اسم لمسح الوجہ والیدین عن الصعید الطاھر (حق یہ ہے کہ وہ پاك صعید سے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کانام ہے۔ ت)
۲۴علامہ ابن کمال پاشا و مجمع الانہر کی عبارت تعریف پنجم میں گزری : ھوطھارۃ حاصلۃ باستعمال الصعید الطاھر (وہ ایسی طہات ہے جوپاك صعید کے استعمال سے حاصل ہو۔ ت)بالجملہ یہ عبارت قدیما وحدیثا مجمع علیہا چلی آئی سب میں پہلے فاضل ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں لفظ مطھر لکھا حیث قال :
وعذرك شرط ضربتان ونیۃ والاسلام والمسح الصعید المطھر
انہوں نے یوں کہا : اور تیراعذرشرط ہے اور دوضربیں نیت اسلام مسح اور پاك کرنے والی صعید۔ (ت)
بدائع الصنائع ، وامابیان مایتیمم بہ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۳
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب التیمم مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۹
العنایۃ مع فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۶
جواہراخلاطی(قلمی نسخہ) فصل فی التیمم ، ۱ / ۱۱
غنیّہ ذوی الاحکام فی بغیۃ دررالحکام باب التیمم مطبعہ کامل الکائنہ فی دارالسعادہ مصر ۱ / ۲۸
مجمع الانہر ، باب التیمم ، مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۷
منظومہ ابن وہبان
بل وقع المیل الی نحوہ للعلامۃالشرنبلالی فی شرح الوھبانیۃ اذقال تحت البیت المذکور اشتمل البیت علی شرائط التیمم وھی ست السادسۃ الصعید الطھور وھوالذی لم تصبہ نجاسۃ والارض اذااصابتھا نجاسۃ وذھب اثرھا لم یجزالتیمم منھا ارجح الاقوال وتصح الصلاۃ علیھا۔
بلکہ ایسے ہی معنی کی طرف شرح وہبانیہ میں علامہ شرنبلالی کابھی میلان ہوگیاہے۔ انہوں نے مذکورہ شعر کے تحت فرمایا ہے : “ یہ شعر تیمم کی شرطوں پرمشتمل ہے اور یہ چھ۶ہیں۔ چھٹی شرط صعید طہور اور یہ وہ ہے جسے کوئی نجاست نہ لگی ہو زمین پر جب کوئی نجاست لگ جائے اور اس کااثرجاتارہے توراجح ترین قول میں اس سے تیمم جائزنہیں اور نماز اس پردرست ہے۔ (ت)
پھر ان حضرات نے بھی اس کی وجہ یہ نہ بتائی کہ تراب مستعمل سے احتراز ہے بلکہ اس زمین سے احتراز جسے نجاست پہنچی اور خشك ہوکربے اثر ہوگئی وقد تقدمت عبارۃ البحر والدر والباقون انما تبعوھا (البحرالرائق اور درمختار کی عبارتیں گزرچکیں باقی حضرات نے انہی کی پیروی کی ہے۔ ت) محققین نے یہ احتراز خودنفس لفظ طاھر سے ثابت فرمایا امام ملك العلماء کاکلام اور اس کی تحقیق تام اور یہ کہ یہی عامہ شراح ہدایہ کامسلك عام اور یہی باقرارصاحب بحرجمہوراکابرکامفاد کلام اور بحر کی اس میں بحث ناتمام اور اس کے جوابات موضع مرام یہ سب کچھ عــہ۲ اوپرگزرے ایضاح الاصلاح میں ہے :
عــہ۱ یعنی کتاب حسن التعم ۱۲۔
عــہ۲ یعنی صدر کتاب حسن التعمم میں ۱۲۔
ایسی جگہ تیمم جائز نہیں جس میں نجاست رہی ہواور اس کااثرزائل ہوگیاہوباوجودیکہ اس میں نمازجائزہے۔ اس لیے کہ وہ جگہ نجاست کے اجزا سے خالی نہ ہوگی اور نجاست اگرچہ کم ہو مگر طیب وپاکی کے منافی ہے۔ (ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
المرادبالطاھرالکامل لتخرج ارض اصابتھا نجاسۃ ۔
طاہر سے مراد طاہر کامل ہے تاکہ وہ زمین خارج ہوجائے جسے نجاست لگی ہو۔ (ت)
نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :
(بطاھر) طیب وھوالذی لم تمسہ نجاسۃ ولوزالت بذھاب اثرھا ۔
پاك وپاکیزہ سے اور یہ وہ ہے جس پرکوئی نجاست نہ لگی ہو اگرچہ ایسی نجاست جواثر کے ختم ہونے سے زائل ہوگئی ہو۔ (ت)
تنبیہ جلیل : اقول : وبالله التوفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)یہ دلائل ظاہرہ باہرہ کہ ہم نے تقریر کئے انہیں کے ضمن میں وہ شبہات حل ہوگئے کہ دو۲مسئلوں کی تقریردلیل میں کلمات معللین سے گزرتے۔
پہلا مسئلہ : تیمم کی ترکیب احسن کہ یوں یوں کرے تاکہ حتی الامکان استعمال مستعمل سے بچے جس کابیان دلیل اول میں گزرا کہ یہ تراب حکمی کاذکر ہے وہ بیشك مستعمل ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں اس کی دوسری تاویل چاہی کہ استعمال سے مراد استعمال صوری ہے۔
ولم یستقم لہ لانھم ذکروا بعدہ مایعین الاستعمال الحقیقی قال فی البحر بعد ذکر صفۃ التیمم ھو الاحوط لان فیہ احترازا عن استعمال المستعمل بالقدر
یہ تاویل راست نہ آئی اس لیے کہ ان حضرات نے اس کے بعد وہ ذکر کیا ہے جس سے استعمال حقیقی کی تعیین ہوجاتی ہے۔ بحر میں تیمم کاطریقہ بتانے کے بعد لکھا ہے : “ وہی احوط ہے اس لیے
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
مراقی الفلاح باب التیمم مطبع الازہریۃ المصریہ مصر ص۶۸
قال فی المنحۃ قولہ یصیر مستعملا بالمسح فیہ نظر لانہ ان استعمل باول الوضع یلزم ان لایجزئ فی باقی العضو والایستعمل باول الوضع کالماء لایلزم ما ذکرہ وھوکذلك یؤیدہ ماقالہ العارف فی شرح ھدیۃ ابن العماد عن جامع الفتاوی وقیل یمسح بجمیع الکف و الاصابع لان التراب لایصیر مستعملا فی محلہ کالماءاھ ولذا عبر بعضھم فی ھذہ الکیفیۃ بقولہ والاحسن اشارۃ عــہ الی تجویز خلافہ اھ۔
کہ اس میں بقدرممکن مستعمل کے استعمال سے احتراز ہے اس لیے کہ ہاتھ پرجومٹی ہے وہ مسح سے مستعمل ہوجاتی ہے یہاں تك کہ اگر اپنے دونوں ہاتھ ایك بار مارکران سے چہرے اور کلائیوں کامسح کرلیا توجائز نہیں “ اھ۔ اسی کے مثل حلیہ اور مجمع الانہر وغیرہما میں ہے اور یہ پورا کلام بدائع سے ماخوذ ہے۔ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے ان کاکلام “ مسح سے مستعمل ہوجاتی ہے “ محل نظر ہے اس لیے کہ اگر پہلی بار رکھنے ہی سے مستعمل ہوتولازم آئے گا کہ باقی عضو میں کافی نہ ہو اور اگراول وضع سے مستعمل نہ ہو جیسے پانی تووہ لازم نہ آئے گا جو انہوں نے ذکرکیا۔ اور یہ ایسا ہی ہے۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو صاحب معرفت نے ہدیہ ابن العماد کی شرح میں جامع الفتاوی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہاگیا پوری ہتھیلی اور انگلیوں سے مسح کرے گااس لیے کہ مٹی اپنے محل میں مستعمل نہیں ہوتی جیسے پانی اھ۔ اسی لیے بعض حضرات نے اس طریقہ کو “ احسن وبہتر “ سے تعبیر کیاہے تاکہ اس کے خلاف کے جواز کی طرف اشارہ ہواھ۔ (ت)
عــہ اقول : تجویز(۱) الخلاف مصرح بہ فی الذخیرۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ وغیرھا فلاحاجۃ الی التمسك فیہ باشارۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : صورت خلاف کے جواز کی ذخیرہ بزازیہ حلیہ غنیہ وغیرہا میں صراحت موجود ہے تو اس بارہ میں اشارہ سے تمسك کی کوئی ضرورت نہیں۔ ۱۲منہ (ت)۔
منحۃ الخالق مع البحر مطبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۴۶
اقول : (۲) بل ھو مستعمل صورۃ وحقیقۃ الاتری الی تعریف التیمم فی البدائع وکثیر من الکتب انہ استعمال الصعید فی عضوین مخصوصین وفی
التبیین والجوھرۃ استعمال جزء من الارض وفی التنویر استعمالہ بصفۃ مخصوصۃ وفی الایضاح طھارۃ حاصلۃ باستعمال الصعیدوقد قال العلامۃ ش الاستعمال ھو المسح المخصوص کما تقدم کل ذلك فی التعریفات فلاشك ان التراب یستعمل فی العضوین کالماء فی الاعضاء انما الکلام فی انہ ھل یسلب بذلك وصف الطھوریۃ ام لاالم تسمع الی قول الدرایۃ والبنایۃ یجوزالتیمم بالتراب المستعمل عندنا فقد
اقول : یہ بحمدالله تعالی وہی ہے جس طرف ہم مائل ہوئے اور جس کی تحقیق ہم نے پہلے اس حد تك کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں اور ہم نے یہ بھی بتایا کہ یہ حضرات اعلام جواحتراز چاہتے ہیں وہ میسرنہیں اور مقدور بھی نہیں بلکہ اس طریقہ کے احسن ہونے کابھی کوئی موقع نہیں اس لیے کہ وہ مٹی اگر مستعمل ہوگی توآگے کفایت ہی نہ کرے گی اور مستعمل نہ ہوئی تو تکلف کوئی اچھی چیزنہیں کہ یہ بے فائدہ امرمیں مشغولی ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا : مگریہ کہاجائے کہ مراد یہ ہے کہ وہ صورۃ مستعمل ہے حقیقۃ نہیں اھ۔ (ت)
اقول : بلکہ وہ صورۃ بھی مستعمل ہے حقیقۃ بھی۔ بدائع اور دوسری بہت سی کتابوں میں تیمم کی تعریف پر نظرکیجئے “ وہ دومخصوص عضووں میں استعمال صعید کانام ہے “ ۔ تبیین اور جوہرہ میں ہے : زمین کے کسی جز کااستعمال۔ ۔ ۔ تنویرمیں ہے : اس کاایك مخصوص طورپر استعمال۔ ۔ ۔ ایضاح میں ہے : وہ طہارت جوصعید کے استعمال سے حاصل ہو۔ ۔ ۔ خود علامہ شامی فرما چکے ہیں : “ استعمال یہی مسح مخصوص ہے “ ۔ جیسا کہ یہ ساری باتیں تعریفات میں گزرچکی ہیں۔ تو اس میں شك نہیں کہ دونوں عضووں میں مٹی استعمال ہوتی ہے جیسے پانی اعضاء میں استعمال ہوتاہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلام صرف اس میں ہے کہ کیا اس استعمال سے طہوریت کی صفت سلب ہوتی ہے یانہیں۔ ۔ ۔ ۔ درایہ و بنایہ کے الفاظ سن چکے کہ “ ہمارے نزدیك مستعمل مٹی سے تیمم جائزہے “ ۔
البنایۃ شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۴
قال ولکن الفرق ظاھر بین ھذا وبین قولہ حتی لوضرب یدیہ مرۃ الخ تأمل اھ۔
اقول : (۱) رحمکم الله ورحمنابکم انماعرض لکم ھذالعدم الفرق بین الترابین الحقیقی والحکمی الحکمی یصیر مسلوب الطھوریۃ حقیقۃ وھوالمرادھھنا قطعا فلا تاویل ولاخلف غیرانہ لایجدیھم لانہ مادام فی عضوواحد لایصیر مستعملا بالاجماع*والاوجب لکل عضو ضربات وھومنتف بلانزاع* بل(۲)علی کراھتہ اجماع*وبالجملۃ لم اعلم لھذا الاحتیاط* وجھا یحصل بہ للقلب نشاط*
فانقلت یلزمھم مثل ذلك فی مااستحسنوا فی صفۃ مسح الرأس والاذنین انہوں نے مستعمل بھی کہا اور اسے طہور بھی باقی رکھا۔ ہاں پانی میں مستعمل سے کنایۃ وہ مراد ہوتاہے جس کی طہوریت سلب ہوچکی ہو اس لیے کہ مستعمل پانی کا یہی حکم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگریہ مراد ہوتوحاصل یہ ہوگا کہ یہ مٹی صورۃ مسلوب الطہوریۃ ہوتی ہے حقیقۃ نہیں۔ اور اس کاکوئی فائدہ نظرنہیں آتا۔ (ت)علامہ شامی فرماتے ہیں : “ لیکن فرق ظاہر ہے اس میں اور ان کے اس قول میں کہ “ یہاں تك کہ اگراپنے دونوں ہاتھوں کوایك بارمارااور ان سے چہرے اور کلائیوں کامسح کرلیاتوجائز نہیں “ ۔ تأمل کرواھ(ت)
اقول : الله آپ پررحمت فرمائے اور آپ کی برکت سے ہم پربھی رحمت فرمائے۔ یہ سب تراب حقیقی وتراب حکمی کے درمیان فرق نہ کرنے کی وجہ سے آپ کو درپیش ہوا۔ تراب حکمی سے طہوریت حقیقۃ سلب ہوجاتی ہے اور وہی یہاں قطعا مراد ہے تو نہ کسی تاویل کی ضرورت ہے نہ کوئی خلف لازم آرہا ہے۔ علاوہ اس کے کہ یہ ان کے لیے سودمند نہیں کیونکہ مٹی جب تك ایك عضومیں رہے بالاجماع مستعمل نہیں ہوتی ورنہ ہرعضو کے لیے متعدد ضربیں واجب ہوں اور بلااختلاف ایساہرگز نہیں بلکہ اس کی کراہت پراجماع ہے۔ بالجملہ میرے علم میں اس احتیاط کی کوئی ایسی وجہ نہیں جس سے قلب کونشاط حاصل ہو۔ (ت)
اگریہ اعتراض ہو کہ اسی طرح کاکلام اس پربھی لازم آئے گا جوسر دونوں کان اور
گردن پرمسح کے طریقہ میں علمانے عمدہ قراردیاہے جیسا کہ اسے خلاصہ عنایہ منیہ میں اور حلیہ میں زاہدی سے وہ بحرمحیط سے اور نہر وغیرہا کتابوں میں ذکرکیا ہے۔ اور حلیہ میں لکھا ہے اس طریقہ پرمتاخرین میں سے متعدد حضرات کابغیر کسی تنقید کے توارد ہواہےاھ۔ خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں : “ سرکااستیعاب سنت ہے اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ اپنی ہتھیلیاں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ترکرے اور ہرہتھیلی کی تین انگلیوں کاپیٹ سر کے اگلے حصہ پررکھے اور شہادت کی انگلیوں اور انگوٹھوں کو الگ کیے رہے اور ہتھیلیوں کوبھی جدا رکھے اور انگلیوں کوسرکے پچھلے حصہ تك کھینچ لائے پھر دونوں کروٹوں کاہتھیلیوں سے مسح کرے اور کانوں کے اوپری حصہ کاانگوٹھوں کے پیٹ سے اور کانوں کے اندرونی حصہ کاشہادت کی انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرے تاکہ اس کامسح ایسی تری سے ہو جومستعمل نہ ہوئی “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر عنایہ منیہ اور نہر نے یہ اضافہ کیا : “ اور گردن کا ہاتھوں کے اوپری حصہ سے مسح کرے “ ۔ خلاصہ و منیہ کے علاوہ نے یہ بھی لکھا : “ اسی طرح حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنہا نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کامسح بیان کیا “ اھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حلیہ میں فرمایا : الله تعالی اسے خوب جاننے والا ہے۔ ہاں مذکورہ طریقہ جس امر پر مشتمل ہے یعنی یہ کہ اپنے کانوں کے اوپری حصہ کاانگوٹھوں
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الرابع فی المسح مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
العنایۃ مع فتح القدیر سنن الوضو مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۹
اقول : کلافان ثمہ بلۃ تنفد بالمدفارادوا استحفاظھاکیلا یحتاج الی ماء جدید قال(۱) فی الفتح اماماروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اخذ لاذنیہ ماء جدیدافیجب حملہ علی انہ لفناء البلۃ قبل الاستیعاب واذا انعدمت البلۃ لم یکن بدمن الاخذ کمالوانعدمت فی بعض عضو واحد اھ اماھھنا فلیس الاوصف حکمی اکسبتہ الضربۃ الید لتطھیر عضو واحد فلایزول مادامت الیدعلی احدالاعضاء الثلثۃ اعنی الوجہ والذراعین ثم رأیت العلامۃ سعدی افندی قال علی قول العنایۃ حتی یصیر ماسحابلل لم یصرمستعملا مانصہ اقول حقیقۃ وان لم یصر مستعملا حکما فی عضو واحد فلا یخالف ماسیأتی بعد اسطر اھ
کے پیٹ سے اور کانوں کے اندرونی حصہ کاشہادت کی انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرے یہی ان دونوں کے مسح میں مسنون ہے جیسا کہ عمروبن شعیب کی حدیث میں گزرا اور ابن ماجہ نے بھی بسند صحیح اسے حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اسی کے معنی میں روایت کیااھ۔ (ت)
اقول : (میں کہتاہوں۔ ت)ہرگزنہیں۔ وہاں کچھ تری ہے جوپھیلانے سے ختم ہوجاتی ہے تو وہاں مقصد یہ ہے کہ وہ تری محفوظ رہے تاکہ نئے پانی کی ضرورت نہ ہو۔ فتح القدیر میں ہے : “ یہ جومروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کانوں کے لئے نیاپانی لیاتو اسے اس پرمحمول کرناضروری ہے کہ استیعاب سے پہلے تری ختم ہوجانے کی وجہ سے ایسا ہوا۔ جب تری ختم ہوجائے تونیاپانی لیناضروری ہے جیسے ایك ہی عضو کے کسی حصے میں تری ختم ہوجائے تویہی حکم ہے “ اھ لیکن یہاں توصرف ایك حکمی وصف ہے جو ایك عضو کی تطہیر کے لیے ضرب نے ہاتھ کو عطاکیاتو جب تك ہاتھ تینوں اعضا۔ ۔ ۔ ۔ چہرے اور کلائیوں میں سے کسی ایك پر رہے گا یہ وصف بھی رہے گا۔ پھرعنایہ کی عبارت (یہاں تك کہ اس کامسح ایسی تری سے ہو جو مستعمل نہ ہوئی) پرعلامہ سعدی افندی کی یہ تحریر میں نے دیکھی : میں کہتاہوں جومستعمل نہ ہوئی یعنی حقیقۃ استعمال نہ آئی
فتح القدیر سنن الوضوء مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵
حاشیہ چلپی مع فتح القدیر مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۹
اقول : ھذا عین مافھمتہ ولله الحمد وقدانقطع بہ نزاع طال فردہ الامام العلامۃ الزیلعی و وافقہ المحقق علی الاطلاق وتبعھماابن امیرالحاج بانہ لایفیدلانہ لابدمن الواضع والمدفان کان مستعملا بالوضع الاول فکذا بالثانی فلایفید تاخیرہ اھ بل قال الامام فقیہ النفس الاستیعاب فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ(۱) ذلك ان یضع اصابع
اگرچہ ایك عضومیں حکما مستعمل نہ ہو تو یہ اس کے برخلاف نہیں جوچند سطر بعد آرہاہے “ اھ۔ یعنی وہ جس سے ایك عضو میں پانی کے مستعمل نہ ہونے کاافادہ ہوتا ہے۔ (ت)
اقول : بعینہ یہی میں نے بھی سمجھا۔ ولله الحمد۔ اس سے ایك طویل نزاع کاخاتمہ ہوگیا جسے امام علامہ زیلعی نے رد کیا اور محقق علی الاطلاق نے ان کی موافقت کی اور ابن امیرالحاج نے ان دونوں حضرات کی پیروی فرمائی کہ اس طریقہ سے کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ رکھنا اور پھیلانا ضروری ہے تواگر پہلی باررکھنے سے ہی تری مستعمل ہوگئی تودوسری بار سے بھی ایسا ہی ہوگا پھر اسے مؤخر کرنابے فائدہ ہےاھ۔ بلکہ امام فقیہ النفس نے فرمایا : “ سر کے مسح میں استیعاب سنت ہے اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں
عــہ وھوقول العنایۃ روی الحسن فی المجرد عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ انہ اذامسح ثلثا بماء واحدکان مسنونافان قیل قدصارالبلل مستعملا بالمرۃ الاولی فکیف یسن امرارہ ثانیاوثالثا اجیب بانہ یأخذحکم الاستعمال لاقامۃ فرض اخر لا لاقامۃ السنۃ لانھا تبع للفرض الاتری ان الاستیعاب یسن بماء واحد اھ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عنایہ کی عبارت یہ ہے : حسن نے مجرد میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ جب ایك ہی پانی سے تین بار مسح کرے تو مسنون ہی ہوگا اگراعتراض ہوکہ تری توپہلی بار میں مستعمل ہوگئی پھر دوسری تیسری بار اسے گزارنا کیسے مسنون ہوگا تو اس کاجواب یہ دیاگیا ہے کہ کوئی دوسرافرض ادا کرنے کے لیے وہ مستعمل کاحکم رکھتی ہے سنت کی ادائیگی کے لیے نہیں۔ دیکھئے کہ استیعاب ایك ہی پانی سے مسنون ہےاھ۱۲منہ غفرلہ(ت)
العنایۃ مع فتح القدیر سنن الوضوء مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰
ہاتھوں کی انگلیاں سرکے اگلے حصہ پر اور دونوں ہتھیلیاں کروٹوں پر رکھے اوردونوں کوگدی تك کھینچ لے جائے توجائز ہے اور بعض حضرات نے ایك اور طریقہ کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچاؤ ہو مگر وہ زحمت ومشقت کے بغیر ممکن نہیں توپہلا طریقہ بھی جائز ہے اور ادائے سنت کی ضرورت کے باعث پانی مستعمل نہ ہوگا “ اھ۔ اس لیے کہ ان سب کی بنیاد اس پر ہے کہ استعمال کوحکمی کے معنی میں لے لیا ہے حالانکہ مراد حقیقی ہے۔ یعنی اس کامسح ایسی تازہ تری سے ہو جو مسح سے نہ ختم ہوئی نہ استعمال سے کم ہوئی۔ اور حق کاعلم رب ذوالجلال کے یہاں ہے۔ (ت)
دوسرامسئلہ : کہ ایك ہی جگہ پر دونوں ضربیں ہونا یا ایك جگہ سے ایك شخص کاچندبار خواہ یکے بعد دیگرے ایك جماعت کاتیمم کرنا سب رواہے اس کی تعلیل میں فرمایا کہ یہ مٹی توایسی ہے جیسے ایك ۲ شخص کے وضو کے بعد لوٹے میں بچا ہوا پانی کہ دوبارہ خواہ دوسرے کو اس سے وضوجائز ہے استعمال تو اس کاہواجوہاتھ میں آئی۔ یہ تقریر علامہ برجندی وفاضل عبدالحلیم رومی نے بطور تنزل ذکر فرمائی کہ مٹی مستعمل نہیں ہوتی اوربالفرض ہو بھی تووہ ہوگی جواعضاکولگ کرجھڑی نہ یہ جس پرضرب کی شرح نقایہ میں ہے :
(علی کل طاھر)متعلق بضربتین لایقال فح یدل الکلام علی ان الضربتین تکونان علی موضع واحد مع ان التراب یصیر مستعملا بالضربۃ الاولی لانانقول لوسلم ذلك فالتراب المستعمل ھوالذی ینتثر من الوجہ والیدین لاالذی وضع
(ہرپاك پر) اس کاتعلق “ ضربتین “ سے ہے۔ یہ اعتراض نہ کیاجائے کہ تب تو کلام اس پردال ہوگا کہ دونوں ضربیں ایك ہی جگہ ہوں باوجودیکہ پہلی ضرب سے مٹی مستعمل ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اگر اسے تسلیم بھی کرلیاجائے تو مستعمل مٹی وہ ہوگی جو چہرے اور ہاتھوں سے جھڑے۔
وہ نہیں جس پرہاتھ رکھاگیا۔ صاحب خلاصہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے “ ۔ (ت)
بعینہ اسی طرح حاشیہ درر میں ہے :
ولفظہ فی الجواب قلت کون التراب مستعملا غیرمسلم ولئن سلم فالتراب المستعمل الخ۔
جواب میں ان کے الفاظ یہ ہیں : میں کہوں گا۔ مٹی کامستعمل ہونا تسلیم نہیں۔ اور اگرتسلیم بھی کرلیاجائے تومستعمل مٹی الخ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ یہ کچھ محل اشتباہ نہیں ہاں خلاصہ و محیط و بدائع کی عبارتیں کہ فتح و بحر سے دلیل دوم میں گزریں بلااظہار تنزل ہیں۔
(۱) خلاصہ ہی کی عبارت جامع الرموز میں لی اور بجائے ضرب شخص دیگرضرب دیگرسے تصویر کی کہ :
لوضرب علی طاھر للوجہ ثم علیہ للید اجزأہ لان المستعمل ھوالتراب المستعمل فی الوجہ والیدکما فی الخلاصۃ ۔
اگرکسی طاہر پر چہرے کے لیے پھر اسی پرہاتھ کے لیے ضرب لگائی تو کافی ہے اس لیے کہ مستعمل وہ مٹی ہے جوچہرے اور ہاتھ میں استعمال ہوئی۔ جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (ت)
اسی کے مثل بزازیہ و مراقی الفلاح میں ہے اول نے فرمایا :
التیمم بموضع تیمم بہ اخریجوز لانہ لم یرفع مستعمل الاول ۔
ایسی جگہ سے تیمم جائز ہے جہاں سے کوئی اور تیمم کرچکا ہو اس لیے کہ اس نے پہلے کی استعمال کی ہوئی مٹی نہ اٹھائی۔ (ت)
اور ثانی نے :
لعدم صیرورتہ مستعملالان التیمم بمافی الید ۔
اس لیے کہ وہ مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے ہوا جوہاتھ میں لگی۔ (ت)
الدرر علی الغرر باب التیمم مطبع درسعادۃ مصر ص۲۶
جامع الرموز باب التیمم مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۶۹
فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ الخامس فی التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷
مراقی الفلاح ، باب التیمم ، مطبعہ الازہریۃ المصریہ مصر ص۶۹
لم یصر مستعملا اذ التیمم انما یتأدی بما التزق بیدہ لابما فضل عــہ ۔
مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے اداہوتاہے جوہاتھ میں لگی ہوئی ہو اس سے نہیں جوبچی ہوئی ہے۔ (ت)
(۳) اور بدائع کے مثل حلیہ اور اسی طرح شلبیہ میں ولوالجیہ سے ہے کہ :
التراب المستعمل ماالتزق بید المتیمم الاول لامابقی علی الارض ۔
مستعمل مٹی وہ ہے جو پہلے تیمم کرنے والے کے ہاتھ میں لگی ہو وہ نہیں جو زمین پربچ رہی۔ (ت)
اخیرکے لفظ میں :
جازلان التراب لایصیر مستعملا لان المستعمل ماالتزق بیدیہ وھو کفضل
جائز ہے اس لیے کہ مٹی مستعمل نہیں ہوئی کیونکہ مستعمل تووہ ہے جوہاتھوں میں لگی ہو اور یہ اس
عــہ تمامہ فیہ واذاکان علی حجر املس فیجوز بالاولی اھ وکتبت علیہ اقول : انما(۱) یزید الاملس بان لیس فیہ مایلتزق بالید ولایوجب ذلك اولویتہ بالجواز فان المضروب علیہ الید اذن سواء فی الحکم ارضاکان اوحجراوانفصال شیئ منھا لامنہ لایوجب تفاوتھما فی ھذاوان تفاوتا فی ان شیئا من اجزائھا مستعمل وھوالملتزق بالید لامن اجزائہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
اس میں پوری عبارت یہ ہے : اور جب چکنے پتھر پرہو توبدرجہ اولی جائز ہے اھ اس پر میں نے یہ لکھا اقول : چکنے پتھر میں یہ بات بڑھی ہوئی ہے کہ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جوہاتھ میں چپکے۔ یہ بات اس کے بدرجہ اولی جواز کی موجب نہیں۔ اس لیے کہ جس پرہاتھ ماراجائے اس وقت دونوں ہی کاحکم یکساں ہے زمین ہو یاپتھر۔ زمین سے کچھ جداہونا اور پتھر سے کچھ جدانہ ہونااس حکم میں ان دونوں کا تفاوت لازم نہیں آتا اگرچہ دونوں کااس امر میں تفاوت ہے کہ زمین کے اجزا سے کچھ استعمال میں آتاہے اوریہ وہ ہے جو ہاتھ سے چپك گیااور پتھر کے اجزا سے کچھ استعمال میں نہیں آتا۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
حلیہ
پانی کی طرح ہے جوبرتن میں بچ رہا۔ (ت)
(۴) علامہ ابراہیم حلبی نے دیکھا کہ مٹی کاہاتھوں میں لگنایاچہرہ ودست پرمسح کیاجانا موجب استعمال نہیں ہوسکتا جیسے پانی کہ جب تك بعد استعمال عضو سے انفصال نہ ہو مستعمل نہ ہوگا لہذا قید انفصال زائدکی کہ :
جاز لانہ لم یصرمستعملا انما المستعمل ما ینفصل عن العضو بعد المسح قیاسا علی الماء ۔
جائز ہے اس لیے کہ مٹی مستعمل نہ ہوئی۔ مستعمل تو وہ ہے جو مسح کے بعد عضو سے جداہو یہ پانی پرقیاس کرتے ہوئے ہے۔ (ت)
شامی میں اسے نقل کرکے مقررکھا۔
اقول : یہی ہے وہ جسے فاضلین برجندی و رومی نے تنزل میں لیا اور یہی ہے وہ جسے امام قوام الدین کاکی و امام بدرالدین عینی نے صراحۃ فرمایا کہ مذہب حنفی میں اس سے تیمم جائز ہے امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکوخلاف ہے بالجملہ ان عبارات کاتنوع یوں آیا :
والتأمل لایخفی علیہ الفرق اذاامعن النظر ان شاء الله تعالی۔
اورتأمل کرنے والا نگاہ غور کرے تو اس پر فرق مخفی نہ رہے گا اگرالله نے چاہا۔ (ت)
رہا کشف شبہہ وہ بحمدالله تعالی امام محقق علی الاطلاق و خاتمۃ المحققین علامہ زین بن نجیم رحمہم اللہ تعالینے بروجہ احسن فرمادیا انہی عبارات کو نقل کرکے اولا فرمایا ان سے سمجھاجاتاہے کہ مٹی کا مستعمل ہونا بھی ایك صورت رکھتاہے جس سے روشن کہ اس کامستعمل ہونا غایت خفا میں ہے پھر اس صورت کی تعیین فرمائی کہ جس ضرب سے ایك عضو پرمسح کیا اس سے دوسرے پرنہیں کرسکتا اورصاف فرمادیا لاغیر۔ لیس غیر (نہ کہ دوسری ضرب سے۔ ت) بس صرف یہی ایك صورت ہے اوراصلا کوئی شکل نہیں جس میں مٹی پرحکم استعمال طاری ہو یہ بداہۃ اسی تراب حکمی کا حکم ہے کہ حقیقی یہاں قطعا ساقط النظر بلکہ مسنون الازالہ ہے توثابت ہوا کہ مستعمل فی الوجہ والید (چہرہ وہاتھ میں استعمال شدہ مٹی۔ ت) یا مستعمل الاول (پہلے کی استعمال شدہ مٹی۔ ت)یا مافی الید (ہاتھ میں استعمال شدہ۔ ت) درکنار کہ تراب حکمی کے صاف محتمل ہیں ماالتزق بیدہ(جو اس کے ہاتھ سے چپك جائے۔ ت) سے بھی یہی مراد ہے یعنی وہ وصف تطہیر کہ کفین نے مساس ارض بالنیۃ سے حاصل کیا۔
اقول اولا : یہ خود عبارت محیط و بحر و نہر وغیرہم سے روشن کہ انہوں نے حصر فرمایا کہ تیمم اسی سے
ردالمحتار ، باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶۱۸۶
ثانیا : ایك صاف بات ہے مستعمل نہ ہوگامگر مطہر کہ جب یہ دوسرے سے رفع نجاست حکمیہ کرتاہے وہ اس سے منتقل ہوکر اس میں آجاتی ہے لہذا دوبارہ تطہیر کے قابل نہیں رہتا اور جومطہر ہے وقت تطہیر اس کا وجود لازم کہ مطہر مفید طہارت ہے نہ کہ معد اور تیمم معہود میں وقت مسح وجہ وذراعین تراب حقیقی کاوجود لازم نہیں توثابت ہواکہ تیمم معہود میں تراب حقیقی مطہر نہیں اور جب مطہر نہیں تومستعمل بھی نہیں ہوسکتی وھوالمطلوب(اور یہی مطلوب ہے۔ ت) اگرکہئے تیمم غیرمعہود میں تو تراب حقیقی ہی مطہر ہے چاہئے وہاں مستعمل ہوجائے۔
اقول : ہم نے یہ کہاتھا کہ ہرمستعمل ہوجانے والے کا مطہر ہونا ضرور نہ یہ کہ ہرمطہر کامستعمل ہونالازم یہ کلمات علما جن سے شبہ گزرتاہے تیمم معہود ہی میں تھے اس میں ہم نے مبرہن کردیا کہ تراب حقیقی ہرگز مرادنہیں بالجملہ ان کلمات کا۔
اولا : نفیس وصحیح وصریح و رجیح محمل تویہی ہے کہ مراد تراب حکمی ہے۔
ثانیا : ممکن کہ کلام تنزل پرمبنی ہو جس طرح فاضلین برجندی و رومی نے واضح کیا۔
ثالثا : ممکن کہ استعمال سے مراد استعمال حقیقی ہو جیسا علامہ سعدی افندی نے عبارات اولی میں افادہ فرمایا یعنی ضرب سے جنس ارض مستعمل نہ ہونے پراستدلال مقصود ہے وہ نفی لازم سے ادافرمایا گیا کہ استعمال حکمی کو استعمال حقیقی لازم توفرماتے ہیں کہ یہ کیونکر مستعمل ہوحالانکہ حقیقۃ مستعمل نہیں حقیقۃ استعمال تواسی مٹی کاہے جوہاتھوں میں لگی۔
رابعا : کم ازکم یہ عبارات مورد احتمالات ہیں اور وہ نصوص کہ ہم نے ذکر کیے صریح توانہیں پرتعویل لازم۔
خامسا : یہ دلیل ۱ کی تقریر میں ہیں جومذہب منقول نہیں اور وہ نصوص خاص مسائل کے احکام ہیں خصوصا وہ بھی اس طرح کہ مذہب حنفی میں مٹی حکم استعمال نہیں پاتی اس میں خلاف امام شافعی کو ہے توبحمدہ تعالی آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ جنس ارض تیمم سے اصلا مستعمل نہیں ہوتی نہ وہ جس پرضرب کی نہ وہ کہ اعضا پر مسح کی گئی۔
ھکذا ینبغی التحقیق والله سبحنہ ولی التوفیق وبہ ظھران الصواب مع العلامۃ ط فی نفی الاستعمال عن التراب علی الاطلاق والرد(۲)
علیہ من العلامۃ ش حیث قال انما المستعمل ماینفصل عن العضو بعد المسح شرح المنیۃ
اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے پاك ہی مالك توفیق ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس تحقیق سے یہ بھی عیاں ہوگیا کہ مٹی سے مطلقا استعمال کی نفی میں علامہ طحطاوی درستی پر ہیں۔ اس پر علامہ شامی نے یہ لکھا ہے “ کہ مستعمل وہ مٹی ہے جو مسح کے بعد عضو سے جدا ہو شرح منیہ۔
اسی کے ہم معنی وہ بھی ہے جونہر سے ہم نے پہلے ذکرکیا اور یہی حلیہ میں بھی مذکور ہے فافہم۔ توسمجھنا چاہئے “ اھ۔ اس کلام سے حسب عادت انہوں نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسا کہ اپنے خطبہ میں تنبیہ کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید طحطاوی کے رد کی طرف اشارہ کیاہے مگر یہ تردید صحیح نہیں بلکہ لازم ہے کہ حلیہ غنیہ اور نہر کی عبارتوں کی وہ تاویل کی جائے جوبیان سید طحطاوی کے موافق ہو اس لیے کہ مذہب میں وہی منصوص ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جانتاہے۔ اور الله تعالی رحمت فرمائے ہمارے آقاومولی محمد اور ان کی آل اصحاب فرزند اور گروہ پر اور برکت وسلامتی بھی۔ ۔ ۔ ۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خداہی کے لیے ہیں۔ (ت)
(رسالہ ضمنیہ الجد السدید ختم ہوا)
۱۱۴سوال سوم :
مسجد کی دیوار سے تیمم جائز ہے یانہیں کچھ ورق بنام فتاوی رشیدیہ یعنی جوابات رشید احمدگنگوہی چھپے ہیں جن کی فہرست کاشروع کتاب الکفرسے ہے اس کے صفحہ ۶۷ پراس سوال کے جواب میں لکھا : تیمم دیوار مسجد سے کرنے کو بعض کتب فقہ میں مکروہ لکھا ہے فقط آیا یہ جواب صحیح ہے یاغلط اور کون سی کتاب فقہ میں اسے مکروہ لکھا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
تحریر مذکور صواب سے بیگانہ فقاہت سے برکرانہ محض بے بنیاد کورانہ ہے مذہب حنفی میں اس کی کچھ اصل نہیں نہ کسی کتاب معتمد سے اس کی کراہت مستبین نہ ایسی نقل مجہول کسی طرح قابل قبول نہ ایسا ناقل التفات کے قابل نہ اس پرشرع سے کوئی دلیل اور قول بے دلیل مردودوذلیل بلکہ کتب معتمدہ سے اس کابطلان روشن جن سے گرنہ بیندبہ بروزپردہ برافگن تیمم میں دو۲ضربیں ہوتی ہیں اس بیان میں ہم دو۲ہی ضرب پراکتفاکریں۔
اولا : ہم ثابت کرآئے کہ تیمم سے جنس ارض اصلا مستعمل نہیں ہوتی بخلاف آب اور آب مستعمل اگر چہ مذہب صحیح میں طاہر ہے مگر قذر ہے یعنی گھن کی چیز اور ۵ مسجد کو ایسی اشیا سے بچانا واجب جیسے لعاب دہن وآب بینی۔
ثانیا : اگر بفرض غلط تسلیم کریں کہ مٹی زمین او رہاتھوں پرمسح ہوکر چھوٹتے ہی مستعمل ہوجاتی ہے تو آج کل عامہ مساجد کی دیواریں پختہ وگچ کردہ ہیں اور اگرکوئی کچی بھی ہے توکہگل کی ہوئی یاصاف لسی ہوئی ان میں یہ مٹی کہاں تو ان کی دیواروں پرتیمم کیوں مکروہ
ثالثا : دیواریں عام طورپر ایسی بنائی جاتی ہیں جن پرہاتھ رکھنے سے ان کے اجزا نہیں چھوٹتے اور۶ باہر سے آیا ہواغبار کہ ہوانے لاکرڈالا ہواجزائے مسجد سے نہیں توغالب صور میں جو مٹی ہاتھ کو لگے گی مسجد کی نہ ہوگی ورنہ مسجد سے گردوغبار صاف کرنا منع ہو کہ اجزائے مسجد کااس سے چھڑانا اور دورکرنا ہے۔
رابعا : ۷ علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ زمین مسجد پرجومٹی پھیلی ہوئی ہے کیچڑ کے سنے پاؤں اس سے پونچھنا مکروہ ہے کہ یہ زمین مسجد ہی سے پونچھناہوگا پھیلا ہواغبار حائل نہ سمجھاجائے گا اور اگر گرد۸ جھاڑ کر مسجد کے کسی گوشے میں جمع کردی ہے توا س سے پونچھنے میں حرج نہیں۔ فتاوی امام قاضیخان وتجنیس امام صاحب ہدایہ و محیط سرخسی و بحر الرائق و فتاوی ہندیہ وغیرہا کتب کثیرہ ومعتمدہ میں ہے :
واللفظ للخانیۃ یکرہ مسح الرجل من طین وردغۃ باسطوانۃ المسجد اوبحائطہ وان مسح بتراب فی المسجد ان کان ذلك التراب مجموعا فی ناحیۃ غیرمنبسط لاباس بہ وان کان منبسطا
اور الفاظ خانیہ کے ہیں : “ مٹی اور کیچڑ سے آلودہ پاؤں کو مسجد کے ستون یاکسی دیوار سے پونچھنا مکروہ ہے۔ اگرمسجد کے اندر کسی مٹی سے پونچھنا تواگروہ مٹی کسی گوشہ میں جمع کردی گئی ہے پھیلی ہوئی نہیں توکوئی حرج نہیں۔ اور اگرفرش پرپھیلی ہوئی ہے تومکروہ ہے اس لئے
کہ وہ زمین مسجد ہی کے درجہ میں ہے۔ (ت)
جب یہ جمع کی ہوئی مٹی کہ خودزمین مسجد پر ہے جواصل مسجد ہے جس کاتعلق مسجد سے ابھی بالکلیہ منقطع بھی نہ ہوا اس سے کیچڑ کے پاؤں پونچھنا کہ فی الحال تقذیر ہے مکروہ نہ ہوا تویہ مٹی کہ دیوار مسجد پرتھی جوفرع مسجد اور حکم مسجد میں ہے اورہاتھوں میں لگ کردیوارمسجد سے بھی یکسر منقطع ہوگئی منہ اورہاتھوں پرپھیرنا کہ فی الحال موجب استعمال بھی نہیں کیونکر مکروہ ہوسکتاہے۔
دوم : دیوار مسجد وقف ہے اور وقف اسی کام میں لایاجاسکتاہے جس غرض کے لیے وقف کیاگیا۔ دوسرے کام میں لانا منع ہے خصوصا مسجد کہ اس کامعاملہ عامہ اوقاف سے بھی تنگ ترہے اور تیمم دوسراکام ہے کہ دیوار مسجد اس غرض کے لیے نہیں بنائی جاتی۔ شاید گنگوہی خیال میں تووہی پانی پرقیاس باطل ہوگا کہ مسجد میں وضو کے ساتھ اسے ذکرکیا اور ایسے اذہان سافلہ وعقول ناقصہ سے کچھ مستبعد نہیں کہ یہ شبہہ بھی گزرے جواول سے افسد ہے تیمم جوکچھ تصرف ہے اپنے چہرہ ودست پرہے دیوار سے صرف چھونے ہاتھ لگانے کاتعلق ہوگایہ دیوار۱ میں کوئی تصرف نہ کہلائے گا ورنہ مکروہ نہیں بلکہ حرام ہوتااور نہ صرف دیوار مسجد بلکہ دیوارہروقف بلکہ دیوار یتیم بلکہ ہرنابالغ بلکہ بے اذن مالك ہردیوارمملوك سے تیمم کرنا بلکہ اس پرہاتھ لگانایاانگلی سے چھونا یادیوار مسجد سے پیٹھ لگانا سب حرام ہوتا اور اس کاقائل نہ ہوگا مگرسخت جاہل ہاتھ لگانے سے دیوار کاکچھ خرچ نہیں ہوتاچراغ میں تیل بتی کاخرچ ہے پھر بھی مسجد۲ کے چراغ سے کہ مسجد کے لیے روشن ہے خط پڑھنا یاکتاب دیکھنا یاسبق پڑھنا پڑھانابلاشبہہ روا ہے فتاوی خانیہ و فتاوی ہندیہ میں ہے :
ان ارادانسان ان یدرس کتابابسراج المسجد ان کان سراج المسجدموضوعا فی المسجد للصلاۃ قیل لاباس بہ و ان کان موضوعا فی المسجد لاللصلاۃ بان فرغ القوم من صلاتھم وذھبوا الی بیوتہم وبقی السراج فی المسجد قالوا لاباس بان یدرس بہ الی ثلث اللیل و فی مازاد علی الثلث
اگرکوئی آدمی مسجد کے چراغ سے کسی کتاب کاسبق پڑھنا چاہے تواگرمسجد کاچراغ مسجد کے اندر نماز کے لیے رکھاگیا ہے توکہاگیا کہ اس میں حرج نہیں اور اگرمسجد کے اندر نماز کے لیے نہیں رکھاہے اس طرح کہ لوگ اپنی نماز سے فارغ ہوکر گھروں کوچلے گئے اور چراغ مسجد میں رہ گیا توعلمانے فرمایا ہے کہ تہائی رات تك اس سے درس دینے میں حرج نہیں اور تہائی سے زیادہ
میں اسے حق تدریس نہ ہوگا۔ (ت)
ضرب دوم : کتب معتمدہ میں زعم گنگوہی کاخلاف۔
اولا : یہی۱ پاؤں پونچھنے کامسئلہ کہ تین ۳ وجہ سے بحکم دلالۃ النص دیوارمسجد سے جوازتیمم پردلیل صاف کما مر تقریرہ (جیسا کہ اس کی تقریر گزرچکی۔ ت)
ثانیا : نمبر۱۴۲ ۲ میں گزرا کہ مسجد میں احتلام واقع ہواور نکلناچاہے توبہت اکابر نے بے تیمم کیے فورا نکل جانے کی اجازت دی اور تیم کرکے نکلنا صرف مستحب رکھا ۱ذخیرہ و۲حلیہ و۳ہندیہ و۴تاتارخانیہ و۵خانیہ موجبات الغسل و۶خزانۃ المفتین و۷نہرالفائق و۸سراج وہاج و۹درمختار و۱۰ردالمحتار و۱۱طحطاوی علی مراقی الفلاح و۱۲ابوالسعود و۱۳طحطاوی علی الدرالمختار میں اسی پرجزم واعتماد فرمایاظاہر ہے کہ یہ تیمم غالبا نہ ہوگا مگر دیورا یازمین مسجد سے اگر ان سے تیمم مکروہ ہوتاتوایك امرجائز سے بچنے کے لیے ہرگز اس کی اجازت بھی نہ ہوتی نہ کہ مستحب قرارپاتا یہ استحباب علماکراہت گنگوہی کاصریح دافع ہے۔
ولله الحمد والله تعالی اعلم* وصلی الله تعالی وبارك وسلم*علی الحبیب الاکرم*والشفیع الاعظم*ھادی الامم*الی الطریق الامم*والہ وصحبہ ذوی الجود والکرم*والحمدلله رب العلمین علی ماھدی وعلم*وعلمہ عز شانہ اتم*وحکمہ جل مجدہ احکم*
اور خداہی کے لیے حمد ہے اور خدائے برترہی خوب جانتا ہے ۔ اورالله تعالی رحمت وبرکت وسلامتی نازل فرمائے کریم تر حبیب عظیم تر شفیع راہ راست کی طرف امتوں کے ہادی پر اور جودوکرم والی ان کی آل واصحاب پر اور سارے جہانوں کے مالك خداہی کے لیے حمد ہے اس پر جو اس نے ہدایت وتعلیم فرمائی اور اس شان غالب والے کاعلم تام اور اس مجدبزرگی والے کاحکم محکم ہے۔ (ت)
____________________
(نوٹ : باب العقائد کویہاں سے نکال لیاگیا ہے اسے عقائد والی جلد میں لایاجائے گا)
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن برعلی المروف برکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
Fatawa Ridawiyyah Volume 7
العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah Written by: Alahazrat…
Fatawa Ridawiyyah Volume 22 فتاویٰ رضویہ جلد
العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ جلد 22 Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah volume…
Books by Other Sunni Scholars
مکتوبات امام احمد رضا خان بریلوی
مولانا محمود احمد قادری۔ کانپور امام احمد رضا کے گیارہ مکتوبات Maktoobat-e- Imam Ahmad Raza…
سنن نسائی اردو ترجمہ جلد سوم
سنن نسائی مترجم جلد سوم امام عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن بحر نسائی…
امام احمد رضا، ان کے ہم مسلک اور انگریز
امام احمد رضا، ان کے ہم مسلک اور انگریز Imam Ahmad Raza, In Kay Hum…
Global Academic Research & Thesis
Hassan Raza Bareilvi Fann Aur Shakhsiat
مولانا حسن رضا بریلوی کی ادبی خدمات
List of PhD. level research works on Imam Ahmad Raza M.Phil & M.Ed. research articles
Biographies & Analytical Studies on Alahazrat
امام احمد رضا کی عربی شاعری
Imam Ahmad Raza ki Arabi Shairi Arabic Poetry of Imam Ahmad Raza…
ملفوظاتِ رضا کا تجزیاتی مطالعہ
ملفوظات رضا کا تجزیاتی مطالعہ مصنف: مولانا عبد الرزاق یہ تحریر…
اردو نثر نگاری اور امام احمد رضا
Urdu Nasr Nigari aur Imam Ahmad Raza Urdu Prose and Imam Ahmad…
Scholarly Articles & Insights
اعلیٰ حضرت بحیثیت مسلم رہنما
اعلیٰ حضرت بحیثیت مسلم رہنما Alahazrat Bahaisiyat e Muslim Rahnuma از: حضرت علامہ مولانا محمد…
علامہ برجندی اور امام احمد رضا ایک جائزہ
مفتی محمد رفیق الاسلام نوری Allama Barjandi Aur Imam Ahmad Raza- Aik Jaiza Mufti Muhammad…
دو قومی نظریہ اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی
دو قومی نظریہ اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی عالی جناب خان محمد علی خان صاحب…
اعلیٰ حضرت اور علمِ ریاضی
اعلیٰ حضرت اور علمِ ریاضی ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ Malik…
امام احمد رضا اور ملکی سیاست
اس تحریر میں ملکی سیاست میں دیندار طبقے کی مداخلت اور خاص طور پر تحریکِ…
امام احمد رضا مکتوبات کے آئینے میں
شعیب رضا Imam Ahmad Raza Maktoobat Kay Aainay Main Shoaib Raza Imam Ahmad Raza in…
Books on Quran & Uloom ul Quran
Sciences of the Quran & Principles of Interpretation
قرآن کریم: کنزالایمان (اردو ترجمہ) بمعہ خزائن العرفان (حاشیہ)
النبى كا صحيح معنٰى و مفہوم
Tafseer e Nabavi Volume 9 Punjabi Manzoom By Allama Nabi Bakhsh Halwai Naqshbandi
Books on Hadith & Ilm-e-Hadith
Preserving the Prophetic Legacy through Rigorous Science
سنن ابنِ ماجہ اردو ترجمہ جلد دوم
نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول
سنن ابنِ ماجہ اردو ترجمہ جلد اول
Connect with Alahazrat Network
Find Knowledge by Subjects / Topics
