Random Quotes from Fatawa Razaviah of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمۃ اللہ علیہ
غذائے روح وہ ہے جس کی طرف شریعتِ محمدیہ بلاتی ہے اور جس کی طرف شریعتِ مطہرہ بلاتی ہے اس پر وعدہء جنت ہے اور جنت ان چیزوں پر موعود ہے جو نفس کو مکروہ ہیں اور غذائے نفس وہ ہے جس سے شریعتِ محمدیہ منع فرماتی ہے اور جس سے شریعتِ کریمہ منع فرماتی ہے اس پر وعیدِ نار ہے اور نار کی وعید ان چیزوں پر ہے جو نفس کو مرغوب ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشہوات (صحیح البخاری، مسلم جنت ان چیزوں سے گھیر دی گئی ہے جو نفس کو ناگوار ہیں اور دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ دی گئی ہے جو نفس کو ناپسند ہیں
Source: Fatawa Razaviah Volume 24
About Alahazrat Network
Read & Search Holy Quran Online
Explore with our advanced Ayah-based search engine. Featuring the authentic Kanzul Iman (Urdu/English) and Tafseer Khazain ul Irfan. Database format for effortless learning—jump to any Surah or Ayah with Translation On/Off toggles.
🔊 Listen Audio Naats
🔔 Recently Uploaded
Stay updated with the latest books and scholarly articles added to our network.
Browse New UploadsFatawa Razaviah Volume 30 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 29 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 28 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 27 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 26 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 25 in Typed Format
From the Books of Alahazrat Imam Ahmad Raza
الهدایۃ المباركة في خلق الملائكۃ
فرشتوں کی پیدائش کے بارے میں مبارک راہنمائی فرشتوں کی پیدائش کا بیان Al-Hidāyatu’l Mubārakah…
فتاوی الحرمین بر جف ندوۃ المین
الأمن والعلى لناعتي المصطفى بدافع البلاء
کلمہء دافع البلاء کے ساتھ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان کرنے والوں…
شرح المطالب في مبحث أبي طالب
Sharĥ al-Maţālib fī Mabĥathi Abī Ţālib Sharh ul Matalib fi Mabas e Abi Talib مطالب…
أعالى الإفادة في تعزیۃالهند وبيان الشهادة
A’áālī al-Ifādah fī Táziyati’l Hindi wa Bayāni’sh Shahādah Aeali al Ifadah fi Tazaiyat il Hind…
منية اللبيب أن التشريع بيد الحبيب
عقل مند کا مقصد کہ بے شک احکام شرع حبیب اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ…
الجلي الحسن في حرمة ولد أخي اللبن
حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں؟
الهبة الأحمدية في الولاية الشرعية والعرفية
الهدایۃ المباركة في خلق الملائكۃ
سرور العيد السعيد في حل الدعاء بعد صلوة العيد
Fatawa Razaviah Volume 5 in Typed Format
The Grand Encyclopedia: Fatawa Ridawiyyah
Fatawa Ridawiyyah Volume 1
العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ جلد 1 Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah volume…
Fatawa Ridawiyyah Volume 4
العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah Alahazrat Mujaddid Imam…
Fatawa Razaviah Volume 25 in Typed Format
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں:
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
(۸)حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسول الکریم تقریبا چودہ۱۴ سال کے مختصر عرصہ میں پچیسویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی چوبیس جلدوں کی تفصیل سنین اشاعتکتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلح کتاب المضاربۃکتاب الامانات کتاب العاریۃکتاب الھبہ کتاب الاجارۃکتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہ کتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہمدہمیازدہمدواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشار و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی
پچیسویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلدیازدہم مطبوعہ المجدد احمدرضا اکیڈمی کراچی کے شروع سے آخرتك ۱۸۳سوالوں کے جوابات اورمجموعی طورپر ۶۵۸ صفحات پرمشتمل ہے۔اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیاہے۔اس سے قبل گیارہویںبارہویںتیرہویںسولہویںسترہویںاٹھارہویںانیسویں اوربیسویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں۔
پیش نظرجلد بنیادی طورپر مندرجہ ذیل عنوانات کے مباحث جلیلہ پرمشتمل ہے :
o کتاب المدانیات
o کتاب الاشربہ
o کتاب الرھن
o باب القسم
o کتاب الوصایا
تاہم متعدد دیگرعنوانات سے متعلق کثیرمسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں لہذا مذکورہ بالا بنیادی عنوانات کے تحت مندرج مسائل و رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہےنیز اس جلد میں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگرکہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا درج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ ابواب کی فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔انتہائی وقیع اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
حقہ اورتمباکونوشی کاحکم شرعی
(۲)الفقہ التسجیلی فی عحین النارجیلی (۱۳۱۸ھ)
تاڑی سے خمرشدہ آٹے کاشرعی حکم
(۳)الشرعیۃ البھیۃ فی تھدید الوصیۃ (۱۳۱۷ھ)
وصیت کی جامع ومانع تعریف اوراس کی اقسام کابیان
نوٹ: رسالہ "المنی والدررلمن عمد من آردر"فتاوی رضویہ قدیم جلدہشتم(کتاب الاجارہ)اورجلدیازدہم(کتاب المدانیات) دونوں میں شامل تھا۔ہمارے خیال میں مقدم الذکر مقام ہی اس کے لئے انسب ہےچنانچہ ہم نے اس کو فتاوی رضویہ جدید جلد۱۹(کتاب الاجارہ)میں شامل اشاعت کردیاہے لہذا اس جلد میں کتاب المدانیات سے اس کو خارج کردیاہے۔
رجب المرجب ۱۴۲۴ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
ستمبر۲۰۰۳ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
(مداینات کابیان)
مسئلہ ۱: ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسٹیٹ مرسلہ ملا حاجی یعقوب علی خاں ۲۱ذیقعدہ ۱۳۱ اھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین عظام شرع نبیاس مسئلہ میںکہ ہندوکفار سے کسی اہل اسلام نے قرضی لیاتھااور قضاء عنداﷲ وہ قرضخواہ واصل جہنم ہوا اور اس کاکوئی ورثہ باقی نہیں تو اس کے قرضہ کے اداکی کیاصورت ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جوشخص مرجائے اورکوئی وارث نہ چھوڑے نہ کسی کے نام وصیت کی ہوتو اس کے مال کامستحق بیت المال ہے اوربیت المال کے ایسے مال کے مستحق مذہب جمہورپر فقراء مساکین عاجزین ہیں کہ ان کے کھانے پینےدواداروکفن دفن میں صرف کیاجائے۔ درمختارمیں ہے:
ورابعھا الضوائع مثلامالا یکون لہ اناس وارثونا ۔ اوران میں چہارم ضوائع(گری پڑی اشیاء)ہیں مثلا وہ شئی جس کالوگوں میں سے کوئی وارث نہ ہو۔(ت)
الضوائع اللقطات مثل مالا ای مثل ترکۃ لاوارث لھا اصلااولھا وارث لایردعلیہفمصرفہ المشھور اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم فیعطی منہ نفقتھم وادویتھم وکفنھم وعقل جنایتھم کما فی الزیلعی وغیرہ وحاصلہ ان مصرفہ العاجزون الفقراء اھ ملتقطا۔ ضوائع یعنی لقطے(گری پڑی اشیاء)پس ماتن کا قول"مثل مالا" یعنی اس ترکہ کی مثل جس کا سرے سے کوئی وارث نہ ہو یا ایساوارث ہو جس پر(بچاہواترکہ)ردنہیں کیاجاتا۔چنانچہ اس کا مشہور مصرف وہ لقیط ہے جو محتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کے لئے کوئی ولی نہ ہوںاس میں سے ان کو خرچہدوائیں کفن کے اخراجات اورجنایات کی دیتیں دی جائیں گی جیساکہ زیلعی وغیرہ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کا مصرف عاجز فقراء ہیں اھ التقاطا۔(ت)
اوریہ حکم جیسامال مسلم کے لئے ہے یونہی مال کافر کے لئے بھیعالمگیری میں ہے:
من مات من اھل الذمۃ ولاوارث لہ فمالہ لبیت المال کذا فی الاختیار شرح المختار۔ ذمیوں میں سے کوئی مرگیا اور اس کاکوئی وارث نہیں تو اس کامال بیت المال میں رکھاجائے گا۔اختیارشرح مختارمیں یونہی ہے۔(ت)
پس ایسی صورت میں وہ مال فقراء کو دے دے نہ اس نیت سے کہ اس صدقہ کاثواب اس کافرکوپہنچے کہ کافراصلا اہل ثواب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ خبیث مرگیا اورموت مزیل ملك ہے تو اب وہ اس کامالك نہ رہا بلکہ حق بیت المال ہوا توفقراء کو بذریعہ استحقاق مذکوردیاجاتاہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲: ازبنارس محلہ پزکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۵رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالی الی یوم الدیناس میں کہ زیداکبرآباد سے چل کر شب کوتین بجے دہلی کے اسٹیشن پراترا اوروہاں سے تین آنے کرایہ کو ایك
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۴€
الجواب:
اسٹیشن پرجانے والی گاڑیاں اگرکوئی مانع قوی نہ ہوتو ہرگاڑی کہ آمدورفت پرضرورآتی جاتی ہیں۔اگرزیداسٹیشن پرتلاش کرتا ملنا آسان تھا اب بھی خودیابذریعہ کسی متدین معتمد کے تلاش کرائے اگرملے دے دئیے جائیںورنہ جب یاس ونا امیدی ہو جائے اس کی طرف سے تصدق کردے اگرپھربھی وہ ملے اور اس تصدق پرراضی نہ ہوتو اسے اپنے پاس سے دے
کما ھو شان اللقطۃ وسائر الضوائع۔ جیساکہ لقطہ اوردیگر گری پڑی اشیاء کاحال ہوتاہے۔(ت)
تنویرالابصارودرمختار میں ہے:
(علیہ دیون ومظالم جھل اربابھا ولیس)من علیہ ذالک(من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ وان استغرقت جمیع مالہ)ھذا مذھب اصحابنا لانعلم بینھم خلافا کمن فی یدہ عروض لم یعلم مستحقیھا اعتبارا للدیون بالاعیان(و)متی فعل ذلک(سقط عنہ المطالبۃ من اصحاب الدیون(فی العقبی) مجتبی اس پرقرض اورمظالم ہیں جن کے مالکوں کاپتہ نہیں اور وہ مقروض ان مالکوں کی معرفت سے نا امیدہوچکاہے تو اس پر ان قرضوں کے برابر اپنے مال سے صدقہ کرنا ضروری ہے اگرچہ اس کا سارامال اس میں ختم ہوجائےہمارے ائمہ کا یہی مذہب ہے۔ہمارے علم میں ان کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں۔جیسے کسی شخص کے پاس ایساسامان ہو جس کے مستحقین معلوم نہیں قرضوں کواجناس پرقیاس کرتے ہوئےاور جب اس نے ایساکردیا یعنی صدقہ کردیاتو آخرت میں اصحاب دیون کی طرف سے اس پر سے مطالبہ ساقط ہوگیا۔(ت)
(فان جاء مالکھا)بعد التصدق(خیر بین اجازۃ فعلہ ولوبعدھلاکھا)ولہ ثوابھا(اوتضمینہ) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اگرصدقہ کردینے کے بعد مالك آگیا تواس کو اختیار دیاجائے گا کہ چاہے صدقہ کرنے والے کے فعل کو جائزقراردے اگرچہ اجازت لقطہ کی ہلاکت کے بعد ہو اس کاثواب مالك کوملے گا اور اگرچاہے تو اس کوضامن ٹھہرائے۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳: ازبنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور ۵شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدصاحب علاقہ وجائداد اپنا ایك موضع جس میں گودام بیل اس کے متعلق مکانات وبنگہ واصطبل وگاڑی خانہ وغیرہ تھے وقدرے اپنے دوسرے موضع سے بعوض چھ ہزارروپے کے بدست عمرو بیع میعادی مدت دس سال کی کرتاہے اورخالد عم زادہ زید جس کا کاروبارسب زید سے علیحدہ عمرو مشتری سے یہ شرط کرتاہے کہ بیع میعادی کرلو سارا انتظام اس موضع کا ہم بطور ٹھیکہ دار کے کریں گے فقط تم کو نفع دوسوپچاس روپے سالانہ دیاکریں گے اورمابقی بعدادائے مال گزاری سرکار ودیگر مصارف ہم لیں گے ہم اس کے ذمہ کارہیں اور کسی امر سے تم کو تعلق نہ رہے گا ووقت انقضائے میعاد فورا تمہارا روپیہ ادا کردیاجائے گا اوراندرمیعاد تم اپنا روپیہ چاہوگے تو قبل چندماہ ہم کو اطلاع دیناکہ ہم یعنی زید روپیہ واپس کردیں گے اوراگراندرمیعادہم کوروپیہ مہیاہوجائے گا توہم دے کراپنی جائداد واپس لیں گے اورکسی نوع کی مداخلت تم کو حاصل نہ رہے گی یہ قول خالد ٹھیکہ دار کاہے اگرعمروشرط مذکورکے ساتھ معاملہ کرلے تو جائز ہوگایانہیں درصوت عدم جواز کے کس طور سے معاملہ مذکورتوجائزہوسکتاہے
الجواب:
یہ صورت بیع وفاکی ہے اوربیع وفامذہب محقق ومنقح میں عین رہن ہے۔
فی ردالمحتار قدمنا انفا عن جواھر الفتاوی انہ الصحیح قال فی الخیریۃ والذی علیہ الاکثر ردالمحتار میں ہے ابھی ابھی ہم جواہر الفتاوی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ یہ صحیح ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے اکثر علماء کامؤقف یہ ہے کہ
اور رہن میں کسی طرح کے نفع کی شرط بلاشبہہ حرام اورخالص سودہے بلکہ ان دیارمیں مرتہن کامرہون سے انتفاع بلاشرط بھی حقیقۃ بحکم عرف انتفاع بالشرط ربائے محض ہے۔
قال الشامیقال ط قلت والغالب من احوال الناس انھم انمایریدون عندالدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مایعین المنع۔ شامی نے کہاکہ ط نے فرمایا میں کہتاہوں غالب حال لوگوں کایہ ہے کہ وہ رہن سے نفع کاارادہ رکھتے ہیں اگریہ توقع نہ ہوتو قرض ہی نہ دیں اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کے حکم میں ہوتاہے۔یہ بات عدم جواز کومتعین کرتی ہے۔(ت)
بالجملہ جبکہ دیہات اس بیع بے معنی کے سبب ملك زید سے نہ نکلے توعمرو کو ان کی توفیر سے کسی جز کااستحقاق نہیںنہ وہ ملك غیرکواجارہ پردے سکتاہےنہ رہن واجارہ ہرگز جمع ہوسکتے ہیںنہ یہ صورت اجارہ دیہات کہ ان بلاد میں جاری جس کاحاصل اجارہ توفیر ومحاصل ہوتاہے نہ اجارہ زمین کہ وہ تواجارہ مزارعین زمین ہےکسی طرح صورت جواز نہیں رکھتی ہے کماحققناہ بتوفیق اﷲ تعالی
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۱۱€
رجل لہ علی رجل عشرۃ دراھم فاراد ان یجعلہا ثلثۃ عشر الی اجل قالوا یشتری من المدیون شیئا بتلك العشرۃ ویقبض المبیعثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشرالی سنۃ فیقع التجوز عن الحرام ومثل ھذا مروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ امر بذلك رجل طلب من رجل دراھم لیقرضہ بدہ دوازدہ فوضع المستقرض متاعا بین یدی المقرض فیقول للمقرض بعت منك ھذا المتاع بمائۃ درھم فیشتری المقرض ویدفع الیہ الدراھم ویاخذ المتاع ثم یقول المستقرض بعنی ھذا المتاع بمائۃ و عشرین فیبیعہ لیحصل للمستقرض مائۃ درھم و یعود الیہ متاعہ ویجب للمقرض علیہ مائۃ و عشرون درھما الخ۔ ایك شخص کے دوسرے پر دس درہم قرض ہیں اور وہ چاہتاہے کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ تیرہ درھم ہوجائیں تو علماء نے کہاکہ وہ مقروض سے انہی دس درھموں میں کوئی شے خریدے اور اس کو اپنے قبضہ میں لے کر پھرتیرہ درھم کے عوض ایك سال کے ادھار پرمدیون کے ہاتھ فروخت کردےتو اس طرح حرام سے اجتناب واقع ہوجائے گا اسی کی مثل نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا:ایك شخص نے دوسرے سے دس درھم قرض مانگا اس شرط پرکہ وہ بارہ درھم واپس کرے گا تو قرض خواہ اپنی کوئی چیز قرض دہندہ کے سامنے رکھ کرکہے کہ میں نے یہ چیز سودرھم کے عوض تمہارے ہاتھ فروخت کی۔قرض دہندہ اس کوخریدکر سو درھم اداکردے اور وہ چیز اپنے قبضہ میں لے لے۔پھرقرض خواہ کہے کہ یہ چیزتومیرے ہاتھ ایك سوبیس درھم میں فروخت کردے تاکہ قرضخواہ کو سو درھم بھی مل جائیں اور اس کاسامان بھی اس کے پاس لوٹ آئے اور قرض دہندہ کے لئے اس پرایك سوبیس
پھراگر زیدمیعاد کے اندر زراصل یعنی چھ ہزارروپے اداکرے گا توبحساب دوسوپچاس روپے سالانہ اس وقت تك جتنالازم ہواہوگا اسی قدر اداکرناہوگا مثلا پانچ برس میں روپے اداکردئیے توصرف ساڑھے بارہ سوزیادہ ہوں گے اور دوبرس میں توفقط پانچ سو اورچھ مہینے میں تو صرف سوا سو وعلی ھذالقیاستنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
قضی المدیون الدین المؤجل قبل الحلول اومات فحل بموتہ فاخذ من ترکتہ لایأخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الابقدر مامضی من الایام وھو جواب المتاخرین قنیہ وبہ افتی المرحوم ابوالسعود افندی مفتی الروم وعللہ بالرفق للجانبین۔ مدیون نے دین مؤجل کومیعاد سے پہلے اداکردیا یا مدیون مر گیا جس کی بناپر دین حالی ہوگیا(مؤجل نہ رہا)چنانچہ میت مدیون کے ترکہ سے لے لیاگیا تواب قرضخواہ وہ نفع نہ لے جو اس کے اورمدیون کے درمیان طے پایاتھا مگربقدر ایام گزشتہ کے اوریہ ہی جواب متاخرین کاہے(قنیہ)اورمفتی روم ابو السعود آفندی نے یہی فتوی دیا اوردونوں جانبوں کی رعایت کو اس کی علت قراردیاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ یأخذ من الخ صورتہ اشتری شیئا بعشرۃ نقد اوباعہ لآخر بعشرین الی اجل ھو عشرۃ اشھر فاذاقضاہ بعد تمام خمسۃ اومات بعدھا یأخذ خمسۃ و یترك خمسۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کاقول لایخذ من الخ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چیز دس درھم نقد کی خریدی اوردوسرے کے ہاتھ بیس درھم کے عوض دس مہینے کے ادھار پرفروخت کی۔پھرمدیون نے اگر پانچ ماہ بعد وہ مرگیا تو صاحب دین پانچ درھم نفع لے اورپانچ درہم چھوڑدے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴: ازگوالیار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلا ہندہ کا شوہر زیدفوت ہوا اس نے مال ازقسم
ردالمحتار مسائل شتی قبیل کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۲€
الجواب:
تقریر وبیان سائل سے ظاہرہواکہ جائداد اگرچہ پہلے سے قبضہ ہندہ میں ہے مگر زید نے اپنی حیات میں یہ مال وجائداد ہندہ کو اس کے مہرمیں نہ دیاتھا بلکہ خود ہندہ نے بعدفوت شوہر ترکہ شوہر اپنے دین مہر میں لے لیا پس صورت مستفسرہ میں جبکہ حسب اظہار سائل تعدادزرمہرقیمت ترکہ سے زائدہے تووارثوں کے لئے ترکہ میں اصلا ملك ثابت نہ ہوئی۔ اشباہ والنظائرمیں ہے:
الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔ جوقرض تمام ترکہ کومحیط ہو وہ ملك وارث سے مانع ہوتاہے۔ (ت)
ترکہ میں جس قدر زرنقد تھا ہندہ کا اسے اپنے مہرمیں لے لینا صحیح وواجبی ہوااور اتنے روپے مہرمیں سے اداہوگئے۔ عالمگیری میں ہے:
ان ترك المیت صامتا مثل مھرھا کان لھا ان تاخذ مھرھا من الصامت لانھا ظفرت بجنس حقھا۔ اگرمیت نے اپنی بیوی کے مہر کے برابرنقدی چھوڑی تو وہ اس میں سے اپنا مہروصول کرسکتی ہے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس وصول کرنے پرقادرہوگئی ہو۔(ت)
باقی مال نہ تووارث بے ادائے بقیہ مہراپنی میراث میں لے سکتے ہیں نہ ہندہ بے رضامندی دیگرورثہ اپنے مہر میں لے سکتی ہے بلکہ اسے بیچ کرہندہ کاباقی مہراوراسی طرح اوردین بھی اگرذمہ زید ہو اداکیاجائے گا اورکوئی وارث کچھ نہ پائے گا خواہ دیگرورثہ اپنے پاس سے مہروغیرہ دین اداکرکے جائداد
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۵۳€
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا ۔ وارث کو حق پہنچتاہے کہ وہ میت کاقرض اداکرکے ترکہ کو بیع سے بچالے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ لوگوں کا وہ بیان معافی مہربہ ثبوت شرعی ثابت نہ ہو یعنی اگردومرد یا ایك مرد دوعورت مسلمان نمازی پرہیزگار جونہ کسی گناہ کبیرمیں مبتلاہوں نہ کسی گناہ صغیرہ میں اصرار رکھتے ہوں نہ کوئی فعل سفلہ میں آوارہ وضعی کاکرتے ہوں اوران کی عقل ویادقابل اعتماد ہو اورا س معاملہ میں ان کابیان گمان وتہمت طرفداری سے پاك ہو(کہ ان سب شرائط کی تفصیل کتب فقہ میں مذکورہے)ایسے گواہ شہادت شرعیہ دیں کہ ان کے سامنے ہندہ نے مہرمعاف کردیا تومعافی ثابت ہوجائے گی اورہندہ دعوی مہرنہ کرسکے گی اوراگرگواہوں میں ان سات شرطوں میں سے ایك بھی کم ہے توان کابیان نامقبول اوردعوی ہندہ نامسموع ونامعقولپھربرتقدیر ثبوت معافی مہرہندہ میں دیگرورثہ کا کوئی دعوی نہیں یہ محض جہالت ہے معافی کے یہ معنی کہ وہ باوجود ذمہ زید پر تھاساقط ہوگیانہ یہ کہ کوئی مال زیدکوملا جس میں وارث حصہ دارنہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵: ۲۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے یافتنی مبلغ نوے روپے ذمہ بکرکے واجب الادا ہیں جس کا اقرار بکرنے زیدسے کیاکہ مبلغ نوے روپے عرصہ نوسال میں بحساب دس روپے سالانہ اداکیاکروں گا روپیہ آخرسال فصل پردیا کروں گا اگرکسی سال کاروپیہ وعدہ مندرجہ اقرارنامہ پر ادانہ کروں توکل روپیہ یکمشت فورا اداکروں گا اورزیدکو اختیارہے کہ بشرط وعدہ خلافی ایك قسط کےکل روپے یکشمت مجھ سے لے لے۔تواب یہ امر دریافت طلب ہے کہ درصورت وعدہ خلافی ایك قسط کے کل روپیہ یکمشت واجب الادا ہوا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مسئلہ میں بلاشبہہ کل روپیہ یکمشت واجب الاداہوگیا۔فتاوی خلاصہفتاوی بزازیہ وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
لوقال کلما حل نجم ولم تؤد اگرکہاکہ وقت مقررہ پرقسط ادانہ کی گئی تو مال
مسئلہ ۶: ازاجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی صاحب ۱۱/محرم الحرام ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام ومفتیان پابندشرع خیرالانام اس مسئلہ میں کہ ہری سنگھ چودھری کاقرضہ واجب الادا رحیم الدین پرہے اوردونوں فوت ہوگئے اورکوئی وارث شرعی نہیں رکھتے کہ قرض ادا کیاجائے کیونکہ قرضہ غیرمسلم پرہے توبدلا ایك دوسرے کی نیکی پرموقوف ہے اعنی سوائے ایمان کے نیکی اس کے قرض خواہ کودینا لائق اعتبار اوراگرمعرکہ اعمال نیك ہے تومدعا علیہ کی نیکی مدعی کو دینا لابد اورمدعا علیہ بری اورکافر مستحق نیکی نہیں کہ اہل اسلام ہوکہ اس کی بدی سوائے شرك وکفراورنہیں اورشرك وکفراہل اسلام پرعائدنہیں ہوتا اس صورت میں تصفیہ اہل اسلام اوراہل نار کس طور سے ہوگابیان فرمادیں بحوالہ کتب۔
الجواب:
اگروہ کافرحربی ہے تو اس کے مال کے سبب مسلمان پرحق العبد لازم نہیں جس کاتصفیہ درکار فان اموالھم مباحۃ غیر معصومۃ(کیونکہ حربی کافروں کامال مباح ہے معصوم نہیں۔ت)ہاں بطورغدر وعہد شکنی لیاہوگناہ وحق اﷲ ہے جس پر مواخذہ یاعفواﷲعزوجل کی مشیت میں ہے)
الاتری ان من دخل دارھم مستأمنا فاخذ غدرا فاحرز بدارنا ملك ملکا خبیثا فالخبث للغدر و الملك للاستیلاء علی مال مباح فالاحراز انما ھو شرط التملك لانتفاء العصمۃ ارأیت ان اغار مسلمون علی دارالحرب فغنموا اموالا فماتوا قبل ان کیاتونہیں دیکھتا کہ جومسلمان امن لے کر حربیوں کے ملك میں گیا اوران کامال دھوکہ سے اپنے ملك میں سمیٹ لایاتو ملك خبیث کے ساتھ مالك ہوا۔خبث تودھوکہ کی وجہ سے اورملك اس لئے کہ مال مباح پرقابض ہواہے۔لہذا اس مال کو قبضہ میں لے کرمحفوظ کرنامالك ہونے کے لئے شرط ہے عصمت کے منتفی ہونے کی وجہ سے۔بھلادیکھو تواگرمسلمان دارالحرب پرحملہ آورہوکرمال غنیمت
اور وہ کافرذمی ہے تواگریہ قرض اس نے سچی نیت سے لیا اور اس کے ادا کاقصدرکھتاتھا اورقدرت نہ پائی کہ مرگیا تومسلمان پر اس کے باعث عذاب نہ ہوگا کہ قرض لینا گناہ نہیں اوراداپر قادرنہ ہونا اس کافعل نہیں۔اور اﷲ عزوجل بے کسی گناہ کے عذاب نہیں فرماتا۔رہا اس کا حق اسے اﷲ تعالی جس طرح چاہے راضی فرمادے گا اگرچہ اس پرکسی عذاب یاہول کی تخفیف سے ہرکافر پرکفر ومعاصی سب کے سبب عذاب ہے۔قال تعالی:
"ما سلککم فی سقر ﴿۴۲﴾ قالوا لم نک من المصلین ﴿۴۳﴾" الایۃ۔ مسلمان کافروں سے کہیں گے تمہیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا تو وہ کہیں گے ہم نمازنہیں پڑھتے تھے(ت)
جزاءکفرتخلید فی النار والعذاب ہے اس میں تخفیف امکان شرعی نہیں رکھتی
فان التخفیف فی التابید ابطال لہ رأسا وفیہ تبدیل القول وھو محال۔ ہمیشگی میں تخفیف اس کا ابطال ہے اور اس میں قول باری تعالی کی تبدیلی لازم آتی ہے جوکہ محال ہے۔(ت)
باقی بالائی عذابوں ہولوں میں حسب ارادہ الہیہ تخفیف سے کوئی مانع نہیںاوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ اموال الناس یرید اداءھا ادی اﷲ عنہ۔رواہ احمد والبخاری وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جولوگوں کامال بہ ارادہ ادالے اﷲ تعالی اس کی طرف سے ادا فرمادے(اس کو امام احمدبخاری اورابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب من اخذاموال الناس الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲€۱
من ادان دیناینوی قضاءہ اداہ اﷲ عنہ یوم القیمۃ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن میمونۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسند صحیح۔ جوکوئی دین اپنے ذمہ کرے اوراس کی ادا کی نیت رکھتاہے اﷲ عزوجل روزقیامت اس کی طرف سے ادافرمادے(اس کی طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسندصحیح روایت کیا۔ت)
اوراگربدنیتی اورناجائز طریقے سے لیاتوضرورگناہ وحق العبدہے ذمی کامال معصوم ہے اور وہ ان حقوق میں مثل مسلمانوں کے سمجھاجاتاہے اس صورت میں علماء فرماتے ہیں کہ اس کابدلہ عذاب ہی ہےوالعیاذباﷲ تعالی۔ولہذا فرماتے ہیں کہ ذمی کاحق مسلمان کے حق سے سخت ترہے۔فتاوی خانیہ آخرکتاب الغصب میں ہے:
مسلم غصب من ذمی مالااوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیمۃ لانہ اخذ مالامعصوما والذمی لایرجی منہ العفو ویرجی ذلك من المسلم فکانت خصومۃ الذمی اشد وعندالخصومۃ لایعطی ثواب طاعۃ المسلم الکافر لانہ لیس من اھل الثواب ولاوجہ ان یوضع علی المسلم وبال کفرالکافر فیبقی فی خصومتہ۔ کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچوری کیاتوروزقیامت اس کو سزادی جائے گی کیونکہ اس نے مال معصوم لیا حالانکہ ذمی سے معافی کی امیدبھی نہیں کیونکہ وہ تومسلمان سے متوقع ہےلہذا خصومت ذمی زیادہ شدیدہے۔خصومت کے وقت مسلمان کی عبادت کا ثواب کافرکو نہیں دیاجائے گا کیونکہ وہ ثواب کا اہل نہیں اورنہ ہی کفرکافرکاوبال مسلمان پرڈال دینے کی کوئی وجہ ہے لہذا اس کی خصومت برقرار رہے گی۔(ت)
جواہرالاخلاطی کتاب الاستحسان میں ہے:
لم غصب المسلم من ذمی اوسرق منہ یعاقب المسلم ویخاصمہ اگرمسلمان نے ذمی سے کچھ غصب کیایا اس کی چوری کی تومسلمان کوسزادی جائے گی اورذمی
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الغصب فصل فی براءۃ الغاصب الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۴۹۳€
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ بیان آفات الرجل میں ہے:
الفقھاء قالوا ان العذاب یوم القیمۃ علی الانسان فی حق الحیوان متعین لانہ لایمکن المسامحۃ ولا القصاص بالحسنات والسیئات وکذا الذمی اذاطلمہ المسلم فان العذاب فیہ متعین ان لم یستحل منہ فی الدنیا قال الوالد رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ علی شرح الدرر مسلم غصب اوسرق مال ذمی یؤخذ بہ فی الاخرۃ وظلامۃ الکافر وخصومتہ اشد لانہ اما ان یحملہ ذنبہ بقدرحقہ اویاخذ من حسناتہ والکافر لایاخذ من الحسنات ولا ذنب للدابۃ ولا تؤھل لاخذ الحسنات فیتعین العقاب اھ باختصار۔ فقہاء نے فرمایاہے حیوان پر ظلم کی وجہ سے قیامت کے روز انسان پرعذاب کاواقع ہونامتعین ہے کیونکہ اس میں معافی اورنیکیوں اوربرائیوں سے بدلہ ممکن نہیں۔ایساہی ذمی جس پرمسلمان نے ظلم کیاہوتو اس مسلمان پرعذاب متعین ہے جبکہ دنیامیں اس سے معاف نہ کرالیاہو۔حضرت والد رحمہ اﷲ تعالی نے شرح الدررپر اپنی شرح میں فرمایا کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیا یاچرایا تو اس پرآخرت میں مؤاخذہ ہوگاحالانکہ ذمی کا ظلم وخصومت سخت ترین ہے کیونکہ یاتو وہ اپنے گناہ اپنے حق کے مطابق مسلمان پرڈالے یا اس کی نیکیاں لے حالانکہ کافرنہ تو مسلمان کی نیکیاں لے سکتا ہے اورنہ اس کے گناہ مسلمان پرڈالے جاسکتے ہیں چارپائے کاکوئی گناہ نہیں ہوتا اور نیکیوں کاوہ اہل ہی نہیں لہذا عذاب متعین ہوا اھ اختصار(ت)
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ الخ المکتبۃ النوریۃ ∞رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۰۷€
اذا غصب مسلم من ذمی مالا اوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیمۃ لان الذمی لایرجی منہ العفو فکانت خصومۃ الذمی اشد ۔ جب کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچرایا تو اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن عذاب دیاجائے گا کیونکہ ذمی سے عفو کی توقع نہیں لہذا ذمی کی خصومت زیادہ سخت ہے۔
مگریہ اسی حالت میں ہے جبکہ بدلہ لیناہی مشیت رب العزۃ عزجلالہ ہوورنہ ممکن ہے کہ وہ کافرکے دل میں ڈالے کہ معاف کردے یاکسی تخفیف کے بدلے اس سے معاف کرادے
فانہ اذاجاز التخفیف عنہ بظلمات لہ قبل الناس کما فی الجواھر فلیجزایضا جزاء العفو تخلیصا للمسلم وقد قال الطحطاوی ثم الشامی عند قول الدر من الحظر قبیل مسائل المسابقۃظلم الذمی اشد من ظلم المسلم مانصہ لانہ یشدد الطلب علی ظالمہ لیکون معہ فی عذابہ ولامانع من طرح سیئات غیرالکفر علی ظالمہ فیعذب بھا بدلہ ذکرہ بعضھم اھ فکذا لامانع من ان یقال لہ ان یفوت من المسلم طرحنا منك کذا وکذا من سیئاتك فیعفو۔ اس لئے کہ جب لوگوں کی ذمی پر زیاتیوں کی وجہ سے اس کے عذاب میں تخفیف جائز ہے جیساکہ جواہرمیں ہے تویہ بھی جائزہے کہ اﷲ تعالی مسلمانوں کی خلاصی کے لئے ذمی کو معاف کرنے کا کچھ بدلہ دے کراس کی خلاصی کرادے۔ طحطاوی نے کہا پھرشامی نے در کے خطرمیں مسائل سابقہ سے تھوڑا پہلے اس قول کہ"ظلم ذمی ظلم مسلمان سے اشد ہے" پرکہا یہ اس لئے ہے کہ ذمی اپنے اوپر ظلم کرنے والے پرسخت مطالبہ کرے گا تاکہ وہ ظالم بھی اس کے ساتھ عذاب میں شریك ہو اور کفرکے سوائے ذمی کے گناہ ظالم پرڈالنے میں کوئی مانع نہیں چنانچہ وہ ان کے بدلے عذاب میں مبتلاہوگااس کو بعض علماء نے ذکرکیا ہے اھ اسی طرح اس سے بھی کوئی مانع نہیں کہ ذمی کوکہاجائے اگرتو مسلمان کومعاف کر دے توتیرے یہ یہ
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۷،€حاشیۃ الطحطاوی علٰی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۲۰۱€
بالجملہ یہ معنی ہرگزنہیں کہ ظلم ذمی پر عذاب واجب وقطعی وضروری الوقوع ہے کہ یہ مذہب اہلسنت کے صریح خلاف ہے۔ہمارے نزدیك کفرکے سوا کسی گناہ کاعذاب ضروری الوقوع نہیں۔
قال تعالی " ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " کما نبھت علیہ فی ھامش الحدیقۃ ھھنا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوروہ شرك کے سوا جس کے گناہ چاہے معاف فرمادے۔جیساکہ اس بات پر میں نے حدیقہ کے حاشیہ میں تنبیہ کی ہے۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۷: ازبنارس محلہ جمال ٹولہ مرسلہ ماسٹربدرالدین ۴ رجب ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مختلف لوگوں سے قرض لے کر اپنے نکاح کی تقریب میں خرچ کیا اورایك ڈگری کوبھی جوعدالت دیوانی سے اس پرجاری ہوئی تھی بے باق کیا بعدہاس نے اپنا حق وحصہ موروثی جائداد کادوسوکاقرارے کر اس زوجہ کے دین مہرمیں جوساڑھے پانسو کاتھا بیع کرکے رجسٹری کرادیا بیعنامہ میں زیدنے یہ بھی تحریرکیاہے کہ اگرمیری جائداد اورقرارپائے تو بقیہ مہراس سے اداکیاجائےزیدفوت ہوگیا اوراس کی کوئی دوسری جائدادنہیں ہے اس وقت تقسیم جائدادموروثی کے واسطے اوران انواع واقسام کے نزاع کے واسطے جودرمیان فریقین ہیں جوپنچ مقررہوئے ہیں قرضہ دہندوں نے پنچ کے یہاں درخواست کی ہے کہ متوفی کی جائداد سے دلایاجائےزیدنے بیوی اورایك پسرنابالغ چھوڑا ہے۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگرزیدنے اپنی کل جائداد بحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی زوجہ کے مہرمیں بیع کردی اورباقی قرضخواہوں کوکچھ نہ دیا تو اگرچہ زید پربحال بدنیتی گناہ ہومگر قرضخواہوں کو اس جائداد سے کہ اب ملك زوجہ زیدہے اصلا مطالبہ کااختیار نہیں ان کا مطالبہ آخرت پر رہاہاں اگر اس کے سوا اورجائداد یامال زیدکا ثابت ہو تو اس میں توقرضخواہ حصہ رسد حقدارہوں گے اور زید کا بیعنامہ میں لکھناکہ اس سے بھی بقیہ مہراداکیاجائے مسموع نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزیدنے بکرکوروپیہ بوعدہ ادائے مال کسی قسم کے دیابکرنے بموجب وعدہ روپیہ کے عوض میں تھوڑا مال روپیہ سے اداکیا اورکچھ روپیہ زیدکا ذمہ بکر کے باقی رہابعدازاں بکر فرار ہوگیا یا فوت ہوگیا یانادار ہوگیا اب زیدکوبکر کے عوض کا روپیہ خالد سے بلا رضامندی خالد کے بوجہ کسی قسم کے دباؤ کے وصول کرنا جائزہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگرنہ خالدنے بکرکی ضمانت مال مذکورکرلی تھی نہ اس کامطالبہ اپنے اوپر تھانہ خالد کو بکرکامال وراثۃ پہنچاتو اس کوبکر کے مطالبہ میں ماخوذکرنا محض طلم وغصب ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری "۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کابوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹: مسئولہ جناب مرزاعبدالقادربیگ صاحب بریلی محلہ نواباں ماہ ربیع الآخر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدایك یاچنداشخاص کے زرنقد کاقرضدار ہے جو اس کی آمدنی ہوتی ہے وہ اس کو بفراغت خرچ کرڈالتاہے اورزیادہ دستیاب ہونے پر عمارت بنوانے وتجارت کرنے پرتیار ہوجاتاہے تقاضہ اوروعدہ ہونے پر بھی ادائیگی کی فکرنہیں کرتاہے قرضہ بڑھانے کے خیال میں رہتاہےاس عمل پر چندمثالیں ان بزرگان بے نفس کی کہ جواتفاقیہ جزوی قرضدار رہے ہوں یاکسی مجبوری سے قرضہ کی حالت میں اس دارفانی سے رحلت فرماہوئے ہوں زیداپنی صفائی پیش کرتاہے اورکہتاہے کہ وعدہ کرلینامیراکام تھا اورپوراکرنا اﷲ تعالی کاکام ہے۔پس قرضہ کوبزرگان دین پر اور وعدہ پرقرضہ کی ادائیگی کی فکرنہ کرنے کو اﷲ تعالی پرمنسوب کرناکیساہے اوراگر اسی ٹال مٹول میں قرضخواہ وقرضدار دونوں فوت ہوگئے تویوم جزا اور روزحساب کیا اورکیونکراس کامعاملہ طے ہوگا عنداﷲ جواب تفصیل عطافرمایاجائے۔
الجواب:
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لی الواجد یحل عرضہ ہاتھ پہنچتے ہوئے کا ادائے دین سے سرتابی کرنا
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب لصاحب الحق مقال الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳€
اشباہ والنظائرمیں ہے:
خلف الوعد حرام ۔ وعدہ جھوٹاکرنا حرام ہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایۃ المنافق ثلث اذا احدث کذب واذا وعد اخلف واذا أتمن خان اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان الاحادیث فی المعنی کثیرۃ۔ منافق کی تین نشانیاں ہیںجب بات کرے جھوٹ کہےاور جب وعدہ کرے خلاف کرےاور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔(یاجیسا کہ آپ نے فرمایا اور اس معنی میں احادیث کثیر ہیں۔ت)
صورت مستفسرہ میں زیدفاسق وفاجرمرتکب کبائرظالمکذابمستحق عذاب ہے۔اس سے زیادہ اورکیا القاب اپنے لئے چاہتا ہےاگراس حالت میں مرگیا اوردین لوگوں کا اس پرباقی رہا اس کی نیکیاں ان کے مطالبہ میں دی جائیں گی اور کیونکردی جائیں گی تقریبا تین پیسہ دین کے عوض سات سو نمازیں باجماعت کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار والعیاذباﷲ العزیز الغفار (جیساکہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔اﷲ عزیز غفار کی پناہ۔ت)جب اس کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں گے ویلقی فی النار اور آگ میں پھینك دیاجائے گایہ حکم عدل ہےاور اﷲ تعالی حقوق العباد معاف نہیں کرتا جب تك بندے خود معاف نہ کریںاورسلف صالحین کے احوال طیبہ کو اپنے ان مظالم کی سندقراردینا اورزیادہ وقاحت اوردین متین پرجرأت ہےاس پرفرض ہے کہ اپنے حال پر رحم کرے اوردیون سے پاك ہوموت کودورنہ جانے آگ کا عذاب سہانہ جائے گا۔اﷲ تعالی توفیق دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۰۹€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب علامۃ المنافق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
الجواب:
اس صورت میں بکران روپوں کے مجرالینے کامستحق نہیںنہ زید پران کامجرادینا لازم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱: ۲۹ربیع الاول شریف یوم دوشنبہ ۱۳۳۳ھ ازکلکتہ ۴۵ کولوٹولہ اسٹریٹ
ایك خاص کمپنی جس کے مالك ومختار سب کے سب نصرانی المذہب ہیں ان کا اعلان ہے کہ جوشخص ۳۰برس کی عمرسے پینتالیس سال کی عمرتك یعنی کامل پندرہ سال تك ہرسال چھہترروپے آٹھ آنے کمپنی کودیاکرے توپندرہ برس کی مدت گزرنے کے بعد اس کوکمپنی ایك ہزارر وپے دے گیمعاہدہ ہونے کے بعد مدت معینہ ختم ہونے سے پہلے مثلا دومہینے یادوسال چارسال کے بعد وہ شخص مرگیا تویہی کمپنی اس کے وارثوں کوپورے ایك ہزارروپیہ دے گیرقم معینہ مذکورہ سالانہ کی تعداد کامل پندرہ سال کی مجموعہ گیارہ سوسینتالیس۱۱۴۷ روپیہ آٹھ آنے ہوتی ہے ایسی صورت میں روپیہ جمع کرنااورکمپنی سے مذکورہ شرط کے ساتھ روپیہ وصول کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
یہ صورت قمارکی ہے اورمیعاد عمروہ رکھی ہے جس میں غالب حیات ہے۔حدیث میں فرمایا:
اعمار امتی مابین الستین الی السبعین ۔ میری امت کی عمریں ساٹھ اورسترسال کے درمیان ہوں گی۔(ت)
اوربحال حیات ظاہرہے کہ ایك سوپینتالیس روپے آٹھ آنہ کانقصان ہے کافرکے ساتھ ایسامعاملہ
مسئلہ ۱۲: مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ اسلامیہ سانگو ور ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۶صفر۱۳۳۵ھ
ایك مسلمان نے اپنامکان ظاہرکرکے ایك مسلمان کے ہاتھ فروخت کردیاگیا اورجب تحقیق کی گئی تووہ مکان ایك ہندو جومرگیا اس کانکلافروشندہ نے دھوکہ سے بوجہ رہن ملك خود ظاہرکرکے بیع کردیا اورمتوفی کی صلب سے کوئی اولادنہیں ہے تومشتری کایہ عمل شریعت میں قابل مواخذہ تو نہیں ہے اوروہ اس مکان کو ملك اپنی تصورکرے گا یانہیں یاروپیہ اپناواپس لے سکتاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فتوی اس پر ہے کہ اس زمانہ میں جنس غیرسے بھی دین وصول کرسکتے ہیں جبکہ وہ ہندو اس کامدیون تھا اورمرگیا تویہ اس مکان کو اپنے دین میں لاسکتا ہے اگر اس کی قیمت دین کے برابر یادین سے کم ہے جب توظاہرہے اس نے جومکان کواپناظاہرکرکے بیع کیابیع صحیح ہوئی مشتری مالك ہوگیاہاں اگرقیمت مکان دین سے زائد ہےتوبقدرقیمت اس کی ملك ہوسکتاہے اپنا دین اس سے وصول کرے اورجو زائدبچے فقراء پرتصدق۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳: ازنگریاسادات ڈاکخانہ میرگنج ضلع بریلی محمدتقی صاحب ۷ شوال ۱۳۳۵ھ
زیدکے سوروپے تمسکی سودکے عمروکے ذمہ واجب الادا تھے عمرونے قضاکی اس کے ورثانے زمین مکفول کوایك عرصہ تك زید کے قبضہ میں چھوڑکر روپیہ اداکردیا لیکن تمسك بوجہ عزیز داری ویگانگت کے زید سے حاصل نہ کیا ورثائے عمرونے اس جائداد کوبدست دیگراشخاص بیع کردیا زیدنے اس بیع میں کچھ مزاحمت بوجہ اس کے کہ اس کامطالبہ وصول ہوچکا تھا نہیں کی مسماۃ ہندہ پھوپھی عمرونے بھی سو روپے زیدسے تمسکی قرض لئے تھے۔
بکر شوہرمسماۃ ہندہ نے ازراہ طمع نفسانی کہ بشمول چندکسان بہ تقرر حصص باہمی نوشتہ عمرو موسومہ زیدکوبراہ چالاکی وفریب دہی خالہ زیدسے حاصل کرکے نالش موسومہ عمرو منجانب زیددائرکی اور بعدحصول ڈگری تمام زرڈگری حاصل کرناچاہا جس سے زیدبلاوجہ بے ایمان ودغاباز مشہور ہوکر زبان زدخلائق ہواجب زید نے اپنے کوبلاوجہ متہم ہوتے دیکھاتوکل مطالبہ زر ڈگری خودوصول کرلیا اور فرضی اشخاص نالش مثل بکروغیرہ کوکچھ نہیں دیازیدنے مسماۃ ہندہ پراپنے روپے کی نالش کی بکر شوہر
الجواب:
وہ کارروائی بکروغیرہ نے وصول شدہ روپے دوبارہ زیدسے حاصل کرنے کی کی حرام قطعی تھی اور اس کے بعدورثاء عمرونے کہ وہ روپیہ خودوصول کریں حرام وخبیث ہوا وہ سب کے سب مستحق نارہوئے۔
قال ﷲ تعالی"یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! آپس میں ایك دوسرے کامال ناحق نہ کھاؤ۔(ت)
اب یہ کارروائی جوبکرنے اپنی زوجہ کی طرف سے کی یہ بھی حرام درحرام ہے دائن کادین مارلینا حرام اوراس حرام وخبیث روپے میں جوزید سے حاصل کئے حصہ مانگناحرام اس نجس کارروائی سے عمرو کایہ روپیہ جوہندہ پر ہے اگرمارابھی گیاتو ہندہ حشرتك اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الیدما اخذت حتی تردھا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی حتی کہ اداکردے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴: ازلکھیم پورکھیری مرسلہ عباداﷲ خیاط ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میری ماں نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارے والدنے ایك بقال مشرك سے مبلغ بیس روپے بوعدہ چوبیس روپے قرض لیا تھا جس کو عرصہ تخمینا تیس برس کاہوگااس کے چندروزبعد کہ وہ اس قرض کوادانہیں کرپائے تھے ان کا انتقال ہوگیابقال مذکور سے والدہ نے کہاکہ میں محنت کرکے اداکروں گی کیونکہ کوئی سرمایہ اس وقت موجود
جامع الترمذی ابواب البیوع باب انّ العاریۃ مودّاۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۵۲€
الجواب:
جبکہ یہ قرض تھا آپ کے والد پراصلا بیس روپے واجب الاداتھے
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬" اﷲتعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! وعدے پورے کرو۔ (ت)
اور جبکہ پہلے کبھی اس سے سودوغیرہ کوئی رقم ناجائزنہ لی تھی تواس کے کل یابعض اس سے مجرا بھی نہیں ہوسکتے اس کایہ کہنا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان سے کیالوں آپ کے والد کومطالبہ سے بری کرنانہیں تھا ضامن اگراداکردیتا تو اس ضامن مسلم کا دین رہتا وہ اس سے آسان تھا یہاں وہ بھی معلوم نہیں لیکن جبکہ بنیا اوراس کابیٹابھی مرگیا اوراس کے وارث کاپتہ نہیں یہ مال فقراء کے لئے ہوا آپ کسی مسلمان فقیر کوکہ مالك نصاب نہ ہو بیس روپے دے دیجئے نہ اس نیت سے کہ اس کافرکو ثواب پہنچے کہ یہ حرام بلکہ کفرہے بلکہ اپنے والد پر سے مطالبہ اتارنے کی نیت کیجئے یہ فقیر غیر شخص ہوناضروری نہیں بلکہ اگر آپ کی والدہ چھپن روپے کے مال کی مالك نہ ہوں تو انہیں کو اس نیت دے دیجئے کہ بیس روپے اس بنیئے کے جو والد پرقرض تھے اور وارث کوئی نہ رہا وہ قرض اداکرتا ہوں بعونہ تعالی وہ بری الذمہ ہوجائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
بملاحظہ گرامی حضرت مولانا صاحب دامت برکاتہمبعدہدیہ سلام مسنون مدعا انگارہوںیہ خط میرے ملنے والے نہ اس غرض سے بھیجاہے کہ میں اس کے استفتاء کاجواب جوخط کے آخرمیں ہے جناب کے دارالافتاء سے منگادوں بنظرسہولت میں بجنسہ وہ خط روانہ خدمت عالی کرکے مستدعی ہوں کہ جواب باصواب باحوالہ کتاب مرحمت ہومیں بفضلہ تعالی خیریت سے ہوں اور امیدہے کہ حضرت کامزاج بھی قرین صحت ہوگا۔
استفتاء
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے دوشخص بکر وخالد سے روپیہ قرض لیاعدم ادائیگی پربکر قصاب نے زیدپرنالش کی۔زیدنے سب روپیہ صرف بکر کواداکردیا خالد کہتاہے کہ روپیہ زید سے دلوایاجائے کچہری کاحکم ہے کہ ڈگری زید پر ہوا اور روپیہ خالد کو بکرسے دلایاجائے۔
الجواب:
حضرت والا دامت برکاتہم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہسوال بہت مجمل ہے دوشخصوں سے قرض لیناتین طرح ہوتاہے سو روپے بکرنے الگ دئیے خالد نے الگسوبکرلایا سوخالدوہ ملاکر دونوں نے زیدکو دئیےدوسوروپے خالد وبکرکے شرکت عقد کے تھے وہ انہوں نے اس دئیےاگریہ نالش یکجائی ہے توپہلی صورت نہ ہونابتائے گی وہ جب بھی محتمل رہیں گی اورحکم جدالینا ہے اور ہرشق پرحکم بتادینا خلاف مصلحتلہذا سائل کوتعیین صورت وتفصیل واقعہ کے ساتھ سوال کرناچاہئے کہ بعونہ تعالی جواب دیاجائے۔
مسئلہ ۱۶: ازمقام چالیس گاؤں خاندیس مرسلہ ابراھیم خاں سوداگرچرم یکم ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرے اوپر مہرکادعوی میرے سالے مظہرعلی خاں نے کیا ہے اورمیری بیوی دو برس کے قریب ہواکہ فوت ہوچکی ہے اوردعوی مدعی میں تحریرکیا ہے کہ میری بہن نے مہرجومبلغ پانچ سوروپے کاتھا فروخت کیا ہے اورمقدمہ زیر تجویز کچہری ہے آیافروخت کرنا مہرکاجائزہے یانہیں اورمظہرعلی خاں جومیراسالہ ہے اس کودعوی کرنے کاحق حاصل ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
مہر اوردیون کے مثل ایك دین ہے اوردین کی بیع غیرمدیون کے ہاتھ باطل ہے لہذا اس بناپر مدعی کودعوی کا اصلا حق نہیں ہاں اگر اس اپنی بہن کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہوتو اپنے حصہ کادعوی کرے وہ جدابات ہے۔اشباہ والنظائرمیں ہے:
بیع الدین لایجوز ولوباعہ من المدیون او وھبہ جاز۔ دین کی بیع ناجائزہے اگرمدیون پربیچایاہبہ کردیا توجائزہے۔ (ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ وغیرہا میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: ازعلی گڑھ محلہ بنی اسرائیل مرسلہ مولوی احسان علی صاحب مدرس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنی بیوی ہندہ متوفیہ یازندہ کامہرایك ساتھ ادانہ کرسکے تواس کوحاکم شرع بذریعہ قسط اداکرنے کے لئے حکم کرسکتا ہے یانہیں
الجواب:
زندہ کے واجب الادامہرکی قسط بندی اس کی مرضی سے ہوسکتی ہے اور مردہ کے مہرکی قسط بندی اس کے وارثوں کی مرضی پر ہے حاکم اس پر جبرنہیں کرسکتا فان الحق لھا اولھم لاللقاضی(کیونکہ حق بیوی یاوارثوں کاہے نہ کہ قاضی کا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
(اشربہ کابیان)
مسئلہ ۱۸: ماہ صیام عظام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تھوڑی سی افیون مرض کی غرض سے کھاناجائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
بضرورت دوا قلیل المقدار افیون کہ اس قدرسے نشہ وسروریاعقل وحواس میں تغیر وفتور اصلا نہ پیداہو استعمال کرناجائزہے اورشوق کی راہ سے بطور مشغلہ کھاناجس طرح عام کھانے والے اپنے پیچھے لت لگالیتے ہیں مطلقا جائزنہیں اگرچہ نشہ نہ کرے اگرچہ بوجہ اپنی قلت کے اس قابل ہی نہ ہو۔ردالمحتارمیں ہے:
البنج والافیون استعمال الکثیر المسکرمنہ حرام مطلقا واما القلیل فان کان للھوحرم وان للتداوی فلا اھ ملتقطا۔ بھنگ اورافیون کاکثیراستعمال جونشہ لائے مطلقا حرام ہے اوراس میں قلیل اگرلہو کے لئے ہے تو حرام اوراگرعلاج معالجہ کے لئے ہے توحرام نہیں اھ التقاط(ت)
" واللہ یعلم المفسد من المصلح" (اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ت)اور اس خبیث چیز کی بدخو ہے کہ چند روز میں گھرکرلیتی ہے اورپھرچھڑائے نہیں چھوٹتی اوربتدریج پاؤں پھیلاتی ہے یہاں تك کہ تھوڑی مدت میں آدمی کوخاصا افیونی کرلیتی ہے والعیاذباﷲ تعالیاطباء لکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے باطن کی جھلیوں میں سوراخ ہوجاتے ہیں اس کے سوا دوسری کسی بلاسے نہیں بھرتے ناچارعادت ڈالنی پڑتی ہے کمانقلہ العلامۃ الشامی عن تذکرۃ داؤد الانطاکی(جیساکہ علامہ شامی نے داؤد انطاکی کے تذکرہ سے اس کونقل کیاہے۔ت)حتی الامکان بچے اوراگرایسی ہی ضرورت شدیدہ ہوتوخالی کھانے سے یہ بہترمعلوم ہوتاہے کہ مرض کے مناسب کسی نسخہ میں اتنا جز شریك کرلیں کہ ایك دن کی قدرشربت میں بہت قلیل مقدار آئے جس پرنشہ وغیرہ کاگمان نہ ہو اس تقدیرپراس کی صورت بھی اہل لہو کی مستعمل صورت سے جداہوجائے گی اورموضع تہمت پرموقوف بھی نہ ہوگاحدیث نقل کرتے ہیں:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم۔ جواﷲ تعالی اوریوم آخرت پرایمان رکھتاہے وہ ہرگز تہمت والی جگہوں پروقوف نہیں رکھتا(ت)
حدیث میں ہے:ایاك ومایسؤ الاذن (اس چیزسے بچ جوکانوں کوگنہگارکرے۔ت)
حدیث میں ہے:ایاك ومایعتذر (اس کام سے بچ جس سے معذرت کرنی پڑی۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہاتم واحکم۔
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۵€
مراقی الفلاح علٰی ہامش حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ ∞نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۲۴۹،€حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب مایفسدالصوم ویوجب القضاء ∞نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۳۷۱€
مسندامام احمدبن حنبل حدیث ابی الغادیۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۷۶€
المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکربیروت ∞۴ /۳۲۶€
حقۃ المرجان لمھم حکم الدخان ۱۳۰۷ھ
(مرجان کی صندوقچی حقہ کے ضروری حکم کے بیان میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۹: ازبنگالہ طالب حق
چہ می فرمایند(کیافرماتے ہیں)علمائے دینحقہ پینا یاتمباکو کھاناکیساہے حرام یامکروہ
الحدیث السابع والعشرون:اخبرنی سیدی الوالد قال کان رجل من اصحابنا لایمز التنباك ولکنہ کان قداھیاء القذرۃ لاضیافہ فرای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی النوم اوالیقظۃ لاادری ای ذلك کانمقبلا الیہ ثم اعرض وخرج من ذلك المکان قال فشد فشددت الیہ و قلت یارسول اﷲ(صلی اﷲ تعالی علیك وسلم)ماذنبی فقال فی بیتك القذرۃ ونحن نکرھھا۔
الحدیث الثامن والعشرون:اخبرنی سیدی الوالد کان رجلان من الصالحین احدھما عالم عابد والاخر عابد لیس بعالم فرایا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فی ساعۃ واحدۃ کانہ اذن للعابد ان یدخل فی مجلسہ ولم یاذن للعالم فسال العابد میں نے"الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین"میں دیکھاجس کو بعینہ لکھ رہاہوں۔
ستائیسویں حدیث:میرے والدصاحب نے مجھے بتایاکہ ہمارے دوستوں میں سے ایك مردخود توتمباکو نوشی نہیں کرتاتھا لیکن مہمانوں کے لئے اس نے حقہ تیارکر رکھاتھا معلوم نہیں خواب میں یابیداری میں اس نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی دراں حالیکہ آپ اس کی طرف متوجہ تھے پھرآپ نے اس سے اعراض فرمایااس شخص نے کہاکہ آپ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)تیزی سے اس مکان سے نکل گئےمیں تیزی سے آپ کی طرف گیا اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! میراگناہ کیا ہے توآپ نے فرمایا:تیرے گھرمیں گندگی(حقہ)ہے جو ہمیں ناپسندہے۔
اٹھائیسویں حدیث:میرے والد صاحب نے مجھے خبردی کہ دونیك مرد تھے جن میں سے ایك عالم وعابد اوردوسرا عابد تھا مگرعالم نہیں تھا ان دونوں نے خواب میں بیك وقت نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی توآپ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے عابد کو اپنی مجلس میں داخل ہونے کی اجازت عنایت فرمائی جبکہ عالم کواجازت نہ بخشیچنانچہ عابد نے
الجواب:
حق یہ ہے کہ معمولی حقہ جس طرح تمام دنیا کے عامہ بلاد کے عوام وخواص یہاں تك کہ علمائے عظام حرمین محترمین زادھمااﷲ شرفا وتکریما میں رائج ہے شرعا مباح وجائزہے جس کی ممانعت پرشرع مطہر س اصلا دلیل نہیں تواسے ممنوع وناجائزکہنا
۱یا احوال قلیان سے بے خبری پرمبنی
کما عرض للکثیر من المتکلمین علیہ فی بدوظھورہ قبل اختبارہ و وضوح امرہ فقیل مسکر و قیل مضر و جیساکہ اس پرگفتگو کرنے والے بہت سے حضرات کو اس کے پرکھنے اوراس کی حقیقت کے واضح ہونے سے پہلے شبہ لاحق ہواچنانچہ کسی نے کہا یہ نشہ آور ہےکسی نے کہانقصان دہ
۲ یابعض احوال عارضہ بعض فساق متناولین کی نظرپرمبنی
کقول من قال انہ ممایجتمع علیہ الفساق کاجتماعھم علی المحرمات وقول اخر انہ یصد عن ذکراﷲ وعن الصلوۃ۔ اس شخص کے قول کی طرح جس نےکہاکہ اس پر فاسق لوگ جمع ہوتے ہیں جیسے وہ محرمات پرجمع ہوتے ہیںاوردوسری بات یہ کہی گئی کہ یہ اﷲتعالی کے ذکر اورنماز سے رکاوٹ بنتاہے(ت)
۳ یابعض عوارض مخصوصہ بعض بلادوبعض اوقات کے لحاظ سے ناشی جن کاحکم ان کے غیر اعصار وامصارکو ہرگزشامل نہیں
کمن احتج بالنھی السلطانی علی کلام فیہ للعلامۃ النابلسی۔ جیسے وہ شخص نے نہی سلطانی کے ساتھ استدلال کیاحالانکہ علامہ نابلسی کااس میں کلام ہے۔(ت)
۴یا محض مفتریات کاذبہ ومخترعات ذاہبہ پرمتفرع
کتھور من تفوہ ان کل دخان حرام وجعلہ حدیثا عن سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام و کجرأۃ من قال اجمعوا علی جیسے اس شخص کی جسارت جس نے کہاکہ ہردھواں حرام ہے اوراس پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث گھڑی اورجیسے اس شخص کی جرأت جس نے کہا اس کی حرمت پ اجماع ہے
عــــــہ:والافلا دواء ولاغذاء بل ولاشیئ فی عالم الخلق من ھذا القبیل متمحضا للنفع خالصا عن الضرر حتی الشھدالذی نطق القران العزیز بان فیہ شفاء للناس والبان البقرا المنصوص فی الاحادیث انھا شفاء ۱۲منہ۔ ورنہ توکوئی دواغذا بلکہ کوئی چیزبھی ایسی نہیں جومحض نافع ہو اورضرر سے بالکل خالی ہو حتی کہ شہد جس کے متعلق قرآن ناطق ہے کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے اور گائے کادودھ جس پرحدیث کی نص ہے کہ یہ شفاء ہے ۱۲منہ(ت)
فقیرنے اس باب میں زیادہ بے باکی متقشفہ افغانستان سے پائی کہ چندکتب فقہ پڑھ کرتقشف وتصلف کوحد سے بڑھاتے اورعامہ امت مرحومہ کوناحق فاسق وفاجربتاتے ہیں اور جب اپنے دعوی باطل پردلیل نہیں پاتے ناچارحدیثیں گھڑتے بناتے ہیںمیں نے ان کی بعض تصانیف میں ایك حدیث دیکھی کہ:
من شرب الدخان فکانما شرب دم الانبیاء۔ جس نے حقہ پیاگویا پیغمبروں کاخون پیا۔
اوردوسری حدیث یوں تراشی:
من شرب الدخان فکانما زنی بامہ فی الکعبۃ۔ جس نے حقہ پیاگویا اس نے کعبہ معظمہ میں اپنی ماں سے زناکیا۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون(بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)جہل بھی کیابد بلا ہے خصوصا مرکب کہ لادواہے۔مسکین نے ایك مباح شرعی کے حرام کرنے کو دیدہ ودانستہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بہتان اٹھایا اورحدیث متواتر من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار کا اصلا دھیان نہ لایارسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جومجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ باندھے اپناٹھکانہ جہنم بنالے۔
اللھم تب علینا وعلیہ ان کان حیا واغفرلنا ولہ ان کان میتا ۔ اے اﷲ! ہماری توبہ قبول فرما اور اس کی بھی اگر وہ زندہ ہے اورہماری مغفرت فرما اوراس کی بھی مغفرت فرما اگروہ مرچکاہے۔(ت)
۵یاقواعد شرع میں بیغوری اور نظروفکرکی بیطوری سے پیدا
کزعم من زعم انہ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ ومنہ زعم ان فیہ استعمال الۃ العذاب یعنی النار وذلك حرام وھذا من البطلان جیسے اس شخص کاگمان جس نے کہا یہ بدعت ہے اور ہربدعت ضلالت ہے اور اسی سے یہ گمان کہ اس میں آلہ عذاب یعنی آگ کا استعمال ہوتاہے اور وہ حرام ہے۔حالانکہ اس کابطلان واضح ترین ہے۔
صحیح مسلم باب تغلیظ الکذب علٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷€
فاقول:لایجدی نفعا والالم یجز الاغتسال بماء حار قال تعالی "یصب من فوق رءوسہم الحمیم ﴿۱۹﴾ وما ذا یزعم الزاعم فی دخول الحمامافیکون علی ھذا حرامامنھیا عنہ لذاتہ بل من الکبائر اما مطلقا علی ما اختارھذاالفاضل من کون تعاطی المکروہ تحریما من الکبائر وبعد الاعتیاد علی ماعلیہ الاعتماد من کونہ فی نفسہ من الصغائر و ذالك لان الحمام کما افاد العلامۃ المناوی فی التیسیر اشبہ شیئ بجھنمالنار من تحت والظلام من فوق
یہ ہی کہا محدث دہلوی(مولاناشاہ عبدالعزیز)علیہ الرحمہ نے جوان کی طرف منسوب کہ اس میں اس پانی کااستعمال ہے جس کے ساتھ نوح علیہ الصلوۃوالسلام کی قوم کو عذاب دیاگیا قلت(میں نے کہا)پنکھے کے ساتھ ہوا لینے میں اس آلہ کا استعمال ہے جس کے ساتھ قوم عاد کوعذاب دیاگیا۔رہامعاصر لکھنوی(مولاناعبدالحی)کا اصلاح کے لئے یہ قیدبڑھانا کہ وہ اہل عذاب کی ہیئت پر ہے۔
فاقول:(تومیں کہتاہوں یہ)کچھ مفیدنہیں ورنہ لازم آئے گا کہ گرم پانی کے ساتھ غسل کرناجائزنہ ہواﷲ تعالی فرماتا ہے کہ ان(جہنمیوں)کے سروں پرکھولتاہوا پانی ڈالاجائے گا۔ توایساگمان کرنے والا حمام میں داخل ہونے سے متعلق کیاکہے گاکیایہ حراممنہی عنہ لذاتہ بلکہ کبائرمیں سے ہے یاتومطلقا جیساکہ فاضل مذکور کامختارہے کہ مکروہ تحریمی کا ارتکاب کبائرمیں سے ہے یاعادت بنالینے سے جیساکہ معتمد ہے کہ فی نفسہ یہ صغائر سے ہےیہ اس لئے کہ حمام امام مناوی کی تیسیرمیں ذکر کردہ افادہ کے مطابق جہنم کے مشابہ ترین ہےاس کے نیچے آگے اوراوپردھواں ہےاس میں بے چینی
عــــــہ۱:المراد بہ مولانا الشاہ عبدالعزیز المحدث الدھلوی۔
عــــــہ ۲:المرد بہ المولوی عبدالحی اللکنوی اس سے مراد مولانا الشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ہیں۔(ت)
اس سے مراد مولوی عبدالحی لکھنوی ہیں۔(ت)
ولہذا علمائے محققین واجلہ معتمدین مذاہب اربعہ نے بعد تنقیح کاروامعان افکاراس کی اباحت کاحکم فرمایا و ھو الحق الحقیق بالقبول (اوریہی حق ہے جوقبول کرنے کے لائق ہے۔ت)علامہ سیدی احمدحموی غمزالعیون والبصائر میں فرماتے ہیں:
یعلم منہ حل شرب الدخان۔ اس سے معلوم ہواکہ حقہ پینا حلال ہے۔(ت)
اس قاعدہ سے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے حقہ پینے کی حلت معلوم ہوئی۔علامہ عبدالغنی
غمزعیون البصائر مع اشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸€
من البدع العادیۃ استعمال التتن و القھوۃ الشائع ذکرھما فی ھذا الزمان بین الاسافل والاعیان والصواب انہ لاوجہ لحرمتھما ولالکراھتھما فی الاستعمال الخ۔ بدعات عادیہ سے ہے حقہ اورکافی کاپینا جن کاچرچا آج کل عوام وخواص میں شائع ہے اورحق یہ ہے کہ ان کی حرمت کی کوئی وجہ ہے نہ کراہت کی۔
علامہ محقق علاء الدین دمشقی درمختار میں عبارت اشباہ نقل کرکے فرماتے ہیں:قلت فیفھم منہ حکم التتن شامی میں ہے:وھو الاباحۃ علی المختار یعنی اس سے تمباکو کاحکم مفہوم ہوتاہے اور وہ اباحت ہے مذہب مختارمیں۔ پھرفرمایا:
وقدکرھہ شیخنا العمادی فی ھدیتہ الحاقا لہ بالثوم والبصل بالاولی۔ ہمارے استاد عبدالرحمن بن محمد عمادالدین دمشقی نے اپنی کتاب ہدیہ میں اسے لہسن وپیاز سے ملحق ٹھہراکرمکروہ رکھا۔
علامہ سیدی ابوالسعودپھرعلامہ سیدی احمدطحطاوی نے حاشیہ درمختارمیں فرمایا:
لایخفی ان الکراھۃ تنزیھیۃ بدلیل الالحاق بالثوم والبصل والمکروہ تنزیھا یجامع الجواز۔ پوشیدہ نہیں کہ یہ کراہت تنزیہی ہے جیسے لہسن اورپیاز کی اورمکروہ تنزیہی جائزہوتاہے۔
علامہ حامد آفندی عمادی بن علی آفندی مفتی دمشق الشام فتاوی مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں علامہ محی الدین احمدبن محی الدین حیدر کردی جزری رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل فرماتے ہیں:
الدرالمختار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱€
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۶€
الدرالمختار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاشربہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۲۲۷€
علامہ خاتمۃ المحققین سیدی امین الملۃ والدین محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمحتار حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
للعلامۃ الشیخ علی الاجھوری المالکی رسالۃ فی حلہ نقل فیھا انہ افتی بحلہ من یعتمد علیہ من ائمۃ المذاھب الاربعۃ۔ علامہ شیخ علی اجہوری مالکی رحمہ اﷲ تعالی نے حقہ کی حلت میں ایك رسالہ لکھا جس میں نقل فرمایا کہ چاروں مذاہب کے ائمہ معتمدین نے اس کی حلت پرفتوی دیا۔
پھرفرماتے ہیں:
قلت والف فی حلہ ایضا سیدنا العارف عبدالغنی النابلسی رسالۃ سماھا الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان وتعرض لہ فی کثیر من تالیفہ الحسان واقامۃ الطامۃ الکبری حلت قلیان میں ہمارے سردار عارف باﷲ حضرت عبدالغنی نابلسی رحمہ اﷲ تعالی نے بھی ایك رسالہ تالیف فرمایاجس کا "الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان"نام رکھا اور اپنی بہت تالیفات نفیسہ میں اس سے تعرض کیا اورحقہ کی حرمت یاکراہت ماننے والے پر
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۵€
فی الافتاء بحلہ دفع الحرج عن المسلمین۔ اس کے حلال ہونے کافتوی دینے میں مسلمانوں سے دفع حرج ہے(ت)
اور اسے علامہ حامد عمادی پھر منقح علامہ محمدشامی آفندی نے برقراررکھا:
اقول:ولسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامران عموم البلوی من موجبات التخفیف شرعا وماضاق امر الااتسع فاذا وقع ذلك فی مسئلۃ مختلف فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر ولایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذلك فی باب الاباحۃ والحرمۃ ولذا تراہ من مسوغات الافتاء بقول غیرالامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کما فی مسئلۃ المخابرۃ وغیرھا مع تنصیصھم بانہ لایعدل عن قولہ الی قول غیرہ الا لضرورۃ بل ھو اقول:(میں کہتاہوں کہ)ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگرکسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تووہ حلال ہوجاتاہے بلکہ مقصدیہ ہے کہ عموما بلوی شرعی طورپر اسباب تخفیف میں سے ہےکوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیداہوجب یہ معاملہ ایك اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کوتنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کوترجیح ہوگی۔خادم فقہ پرپوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت ونجاست میں جاری ہے۔ایسے ہی حرمت واباحت میں بھی جاری ہے یہی وجہ ہے کہ تو اس ضابطہ کو امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے غیرکے قول پر فتوی دینے کے مجوزات میں دیکھتا ہے جیساکہ مسئلہ مخابرہ وغیرہ میں حالانکہ ائمہ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ بلاضرورۃ امام اعظم علیہ الرحمۃ کے قول سے عدول نہیں کیاجائے گا بلکہ یہ ضابطہ
الحدیقۃ الندیۃ الباب الثالث الفصل الثانی ∞مکتبہ نوررضویہ فیصل آباد ۲ /۷۲۰€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فیمایدخل فی البیع تبعًا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۹€
ہاں بنظربعض وجوہ سے تنزیہی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ محقق علائی وعلامہ ابوالسعود وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے الحاقابالثوم و البصل افادہ فرمایا۔
علی مراء فیہ لبعض الفضلاء مع کلام فی ذلك المراء۔ اس میں بعض فضلاء کو شك ہے باوجودیکہ اس شك میں کلام ہے۔(ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
الحاقہ بما ذکر ھو الانصاف۔ اس کامذکور کے ساتھ الحاق کرناہی انصاف ہے۔(ت)
ردالمحتار کتاب الحدود باب الوطئ الذی یوجب الحد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۱۱۵€
ترویح الجنان بتشریح حکم الدخان للکھنوی
ردالمحتار کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۶€
کما جزم بہ الفاضل اللکنوی فی فتاواہ وتردد فیہ فی رسالۃ واضطرب فیہ کلام المحدث الدھلوی(ھو مولانا الشاہ عبدالعزیز المحدث الدھلوی)فیما نسب الیہ فاوھم اولا انہ یوجب کراھۃ التحریم و عاد اخرا فقال التنزیہ۔ جیسا کہ فاضل لکھنوی نے اپنے فتاوی میں اس پر جز فرمایا اورایك رسالہ میں تردد فرمایا۔اور اس مسئلہ میں(حضرت مولاناالشاہ عبدالعزیز)محدث دہلوی کی طرف منسوب کلام مضطرب ہےپہلے انہوں نے وہم کیاکہ یہ مکروہ تحریمی ہے پھر رجوع کرکے فرمایا کہ مکروہ تنزیہی ہے۔(ت)
سراسرخلاف تحقیق ہے ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)پھرکراہت تنزیہ کاحاصل صرف اس قدر کہ ترك اولی ہے نہ کہ فعل ناجائزھو۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ کراہت جامع جواز واباحت ہے جانب ترك میں اس کا وہ رتبہ ہے جوجہت فعل میں مستحب کاکہ مستحب کیجئے توبہترنہ کیجئے توگناہ نہیںمکروہ تنزیہی نہ کیجئے توبہترکیجئے توگناہ نہیںپس مکروہ تنزیہی کوداخل دائرہ اباحت مان کرگناہ صغیرہ اوراعتیاد کوکبیرہ قراردینا کما صدرعن الفاضل اللکنوی وتبعہ السید المشھدی ثم الکردی(جیساکہ فاضل لکھنوی سے صادر ہواپھر اس کی اتباع سیدمشہدی پھرکردی نے کی۔ت)سخت لغزش وخطائے فاسد ہے یارب مگروہ گناہ کون ساجوشرعا مباح ہو اور وہ مباح کیساجوشرعا گناہ ہو۔فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اس خطائے شدید کے رد میں ایك مستقل تحریر مسمی بہ جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیہ تحریر کی وباﷲ التوفیقثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)یوہیں ما نحن فیہ میں تین وجہ سے کراہت تنزیہہ ٹھہراکر کراہت تحریم کی طرف مرتقی کردینا کما وقع فیما نسب الی المحدث الدھلوی(جیسا کہ محدث دہلوی کی طرف منسوب تحریر یں واقع ہوا۔ت)محض نامقبولقطع نظر اس سے کہ ان وجوہ سے اکثر محل نظرشرع سے اصلا اس پردلیل نہیں کہ جوچیز تین وجہ سے مکروہ تنزیہی ہو مکروہ تحریمی ہے ومن ادعی فعلیہ البیان(جودعوی کرے بیان دلیل اسی پرواجب ہے۔ت)خود محدث دہلوی کے تلمیذرشیدمولانا رشیدالدین خاں دہلوی مرحوم اپنے رسالہ عربیہ میں صاف لکھتے ہیں کہ علمائے محققین حقہ میں کراہت تنزیہی مانتے ہیں حیث قال(جہاں فرمایا۔ت):
اما المحققون القائلون بکراھتہ تنزیھا فھم ایضا تشبثوا بالروایات القہیۃ مثل ماقال صاحب الدر المختار الخ۔ جومحققین کراہت تنزیہی کے قائل ہیں انہوں نے بھی فقہی روایات سے استدلال کیاہے جیساکہ صاحب درمختار نے کہا الخ
تحریرانیق وتقریر رشیق وصحیح المبانی ومستحکم المعانی وموافق روایات ومطابق درایات۔ عمدہ تحریرخوبصورت تقریرصحیح عبارت والیمستحکم معانی والیروایات کے موافق اوردرایات کے مطابق(ت)بتایا
اورشاہ رفیع الدین صاحب نے:
استحسنت غایۃ الاحسان مانثر بنایہ من جواھر لآلیۃ فی مبانیہ ومعانیہ ۔ انتہائی مستحسن ہیں موتیوں کے جواہر جواس کے بانی نے اس کی عبارت اورمعانی میں بکھیرے ہیں۔(ت)فرمایا
توظاہرا دوسری تحریر کی نسبت غلط ہے یا اس میں تحریفیں واقع ہوئیں اور اس پردلیل یہ بھی ہے کہ اس تحریر کے اکثرجوابات مخدوش ومضمحل اورخلاف تحقیق باتوں پر مشتمل ہیں اورنسبت بہمہ جہت صحیح ہی مانئے تو رسالہ تلمیذ کی مدح وتقریظمناقض ومعارض ہوگی وہ تحریرپائیہ اعتبار سے یوں بھی گرگئی۔اور اس سے بھی قطع نظرکیجئے تومقصود اتباع حق ہے نہ تقلید اہل عصر و اتباع زیدوعمروواﷲ الھادی و ولی الایادی۔
الحاصل معمولی حقہ کے حق میں تحقیق حق وتحقیق یہی ہے کہ وہ جائزومباح اورغایت درجہ صرف مکروہ تنزیہی ہے یعنی جونہیں پیتے اچھا کرتے ہیں اورجوپیتے ہیں برانہیں کرتے۔
فان الاساءۃ فوق کراھۃ التنزیہ کما حققہ العلامۃ الشامی ۔ کیونکہ اساءۃ مکروہ تنزیہی سے اوپرہے جیساکہ علامہ شامی نے اس کی تحقیق فرمائی(ت)
البتہ وہ حقہ جوبعض جہال بعض بلادہند ماہ مبارك رمضان شریف میں وقت افطار پیتے اوردم لگاتے اورحواس ودماغ میں فتور لاتے اوردیدہ ودل کی عجیب حالت بناتے ہیں بیشك ممنوع وناجائز وگناہ ہے اوروہ بھی معاذاﷲ ماہ مبارك میں۔اﷲ عزوجل ہدایت بخشے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرمفتر چیزسے نہی فرمائی اور اس حالت کے حالت تفتیر ہونے میں کچھ کلام نہیں۔
اور ایك صورت ممانعت کی اوقات خاصہ کے لئے اورپیداہوگی رائحہ کریہہ کے ساتھ مسجد میں جاناجائز نہیں
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربن مصلانا فان الملئکۃ تتأذی ممایتأذی منہ بنوادم ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشادگرامی کے مطابق کہ جو اس درخت خبیثہ(یعنی تھوم)کوکھائے وہ ہماری مسجدوں میں نہ آئے کہ جس بات سے آدمیوں کواذیت ہوتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت کرتے ہیں۔(ت)
تواگرحقہ سے منہ کی بو متغیر ہوبےکلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیںاسی قدر سے خود حقہ پرحکم ممانعت نہیں جیسے کچالہسن پیازکھانا کہ بلاشبہہ حلال ہے اور اسے کھاکر جب تك بو زائل نہ ہو مسجد میں جانا ممنوع مگرجوحقہ ایساکثیف و بے اہتمام ہوکہ معاذاﷲ تغیرباقی پیداکرے کہ وقت جماعت تك کلی سے بھی بکلی زائل نہ ہو توقرب جماعت میں اس کاپینا شرعاناجائزکہ اب وہ ترك جماعت وترك سجدہ یابدبو کے ساتھ دخول مسجد کاموجب ہوگا اوریہ دونوں ممنوع وناجائزہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرممنوع کی طرف مؤدی ہو ممنوع وناروا ہے
وقدحققنا المسألۃ مع نظائرھا فی کتاب الوقف من فتاونا بما یتعین الرجوع الیہ ولایجوز التغافل عنہ۔ اس مسئلہ کی تحقیق اس کے نظائر سمیت کتاب الوقف میں ہم نے اپنے فتاوی میں اس طورپرکردی ہے کہ اس کی طرف رجوع متعین ہے اور اس سے غفلت ناجائز ہے۔(ت)
المعجم الصغیر باب الالف من اسمہ احمد دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۲۲€
لما فیہ من مناقضۃ ماقصد الشرع من الایتلاف والتحبب الی الازواج۔ کیونکہ اس میں میاں بیوی کے درمیان اس باہمی انس ومحبت کی ممانعت ہے جوشرعا مقصود ومطلوب ہے۔(ت)
بلکہ عورت عادیہ نہ ہو اوراس کی بوسے ایذا پائے توشوہر کے لئے بھی اس کی کراہت اشد ہوجائے گی کہ عورت کے حق میں شوہرکو ایذادینا یا اسے اپنے بعض بدن مثل زبان ودہن سے تمتع دشوارکردینااگرچہ سخت ناپسند شرع ہے مگرمرد کوبھی حکم "] وعاشروہن بالمعروف " (ان سے اچھا برتاؤکرو۔ت)کی ہدایتاوران کی ایذا سے ممانعتاور ان کی دلداری ودلجوئی کی طرف دعوت ہے اوراکثر کثافت وبے احتیاطی اس حد کو پہنچی کہ رائحہ کریہہ لازم دہن ہوجائےکلی وغیرہ سے نہ جائے برابروالے کو ایذاپہنچائےتوایسے تمباکوکا استعمال بیشك ناجائز وممنوع ہے کہ اب وہ خواہی نخواہی ترك جماعت ومسجدکاموجب ہوگا اوریہ حرام ہے معہذا ایسے تغیر کے ساتھ خودنمازپڑھناتلاوت قرآن کرناسوئے ادب وگستاخی ہے والعیاذباﷲ تعالی ھذا ھوحق التحقیقواﷲ سبحنہ ولی التوفیق۔
اما ماذکر السائل من حدیثی الدرالثمین فاقول: لامتمسك فیھما سائل نے درثمین کے حوالے سے جودوحدیثیں ذکرکی ہیں تو میں کہتاہوں کہ ان میں ممانعت کے
صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۸۳€
__________________________
مسئلہ ۲۰: ازکلکۃ دھرم تلا نمبر۱ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۵جمادی الآخر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکۃ میں نمکین بسکٹوں میں منشی تاڑی بغرض خمیر ملائی جاتی ہے شیریں میں نہیں مگرمیدہ گوندھنے کے ظرف دونوں کے ایك ہی ہیں اوروہ تخۃ جس پربسکٹ بنائے جاتے ہیں وہ بھی ایک ہی ہوتاہے نمکین بسکٹ کے سیربھر آٹے میں پاوبھرتاڑی ملائی جاتی ہے نمکین کا کھاناجائز ہے یانہیں اورشیریں کاکیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائے۔ت)۔
الجواب:
جوبہتی چیزنشہ رکھتی ہو مذہب صحیح میں اس کاقطرہ قطرہ نہ صرف حرام بلکہ نجس بھی ہے ھذا ھو قول محمد وھو الصحیح وعلیہ الفتوی(یہ ہی امام محمدعلیہ الرحمہ کاقول ہےیہی صحیح ہے اور اسی پرفتوی ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں نمکین بسکٹ مطلقا حرام ونجس ہیںاورشیریں میں تین صورتیںاگرثابت ہوکہ ان کے میدہ یاخمیر میں بھی اس نجاست کے اجزاء ضرور مخلوط ہوتے ہیں تویہ بھی حرام وناپاکاوراگرتحقیق ہوکہ یہ محفوظ رہتے ہیں مثلا انہیں التزام ہے کہ جب نمکین کے بعد شیریں بناتے ہیں تو دست وظروف کوبقدرکافی دھوڈالتے ہیں اس کے بعد شیریں کامیدہ گوندھتے بناتے ہیں اگرچہ اس دھونے سے ان کی نیت تطہیر نہ ہو بلکہ صرف اس خیال سے کہ ان میں نمکینی نہ آجائے یا اورکسی وجہ سے یہ دھونا ایساواقع ہوتاہے کہ نجاست کے اجزاء دست وظروف سے زائل ہوجاتے ہیں توشیریں مطلقا حلال وطیباوراگرمشکوك ومحتمل ہو مثلا ایك دن میں جس قدریکے بعد دیگرے بنتے ہیں ان میں تو
فان الاصل ھو الحل والطھارۃ فلایعارضہ الاحتمال ولیس للیقین بالشك زوال۔ بیشك اصل حل وطہارت ہے چنانچہ احتمال اس کامعارضہ نہیں کرسکتا اورنہ ہی یقین شك کے ساتھ زائل ہوسکتاہے۔(ت)
ان کاحکم ہندوؤں کی بنائی ہوئی مٹھائیدودھدہیملائی وغیرہا اشیاء کاہوگا کہ کھاناحلال اقوربچنابہترفتوی جواز اورتقوی احترازیہ سب اس تقدیرپرہے کہ نمکین میں انہیں مسکرتاڑی ڈالنے کا التزام ہوخواہ یوں کہ بازار میں مسکرہی ملتی ہے وہ وہیں سے لیتے ہیں یایوں کہ جس غرض سے ڈالتے ہیں وہ مسکرہی سے حاصل ہوتی ہے غیرمسکرکام نہیں دیتیاواگریہ دونوں امرنہ ہوں بلکہ وہ کبھی مسکرکبھی غیرمسکر ہرقسم کی تاڑی ڈالاکرتے ہیں کوئی خاص التزام نہیں تواب نمکین بسکٹوں پرمطلقا حرمت کاحکم نہیں بلکہ ان کا حال وہ ہوگا جو صورت ثالثہ میں شیرین کاتھا کہ جس خاص کاحال معلوم حکم معلوم ورنہ کھانا روابچنا اولی۔تاڑی چندساعت دھوپ کی حرارت پاکرجوش لاتی ہے اورمسکرہوجاتی ہے یاجس گھڑی میں لی گئی اس میں پہلی تاڑی کا اثرہوتو اپنی شدت لطافت کے سبب یوں بھی سکرلے آتی ہے ورنہ اگرکوراگھڑا وقت مغرب باندھیں اور وقت طلو ع اتار کر اسی وقت استعمال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا یہ اگر ثابت ہوتو اس وقت تك وہ حلال وطاہرہوتی ہے جب جوش لائی ناپاك وحرام ہوئیپھرکہاجاتاہے کہ س کے بعد بھی اس کی یہ حالت دیرپانہیں رہتی بلکہ کچھ مدت کے بعد ترش ہوکرسرکہ ہوجاتی ہے جس طرح تذکرہ طبیب داؤد انطاکی میں نارجیل کی نسبت ہے:
قدیفسد طلعہ اوجریدہ ویلقم کوزا فیسیل منہ لبنویسمی السیندی یبقی یوما علی الحلاوۃ و الدسومۃ ولہ کبھی اس کاگابھا یاٹہنی فاسد ہوجاتے ہیں اور کوزے کادھانہ بند ہوجاتاہے تو اس سے دودھ بہنے لگتاہے جس کوسیندھی کہاجاتا ہے اس کی حلاوت اورچکنائی ایك دن باقی رہتی ہے اس کے
مگرمیرمحمدمومن کے لفظ تحفہ میں یہ ہیں:
حلاوت او تایك روزباقی ست بعدازیك روزمانندسرکہ ترش می شود ۔ اس کی حلاوت ایك دن باقی رہتی ہے پھروہ ترش سرکہ بن جاتاہے۔(ت)
لیکن سرکہ ہوجانے اورمثل سرکہ ترش ہوجانے میں فرق ہےغرض اگرثابت ہوکہ تاڑی ایك وقت تك مسکرنہیں ہوتی یا ایك وقت کے بعد مسکرنہیں رہتی اورانہیں خاص مسکرہی کے ڈالنے کا التزام نہیں بلکہ دونوں طرح کے استعمال کرتے ہیں جب تو حکم یہ ہےاوراگرثابت ہواکہ اس مدت مقررہ کے بعد اس کے اجزا خواہی نخواہی سرکہ ہوجاتے ہیں اگرچہ آٹے میں مل کر تنور میں پك چکے ہوں تواس مدت کے گزرنے پربسکٹ مطلقا حلال ہوجائیں گے
لان الحرمۃ کانت لمجاور وقد تبدل عینہ قال فی الدرالمختار لوعجن خبز بخمر صب خل فیہ حی یذھب اثرہ فیطھر فی ردالمحتار لانقلاب مافیہ من اجزاء الخمر خلا۔ کیونکہ حرمت مجاور کی وجہ سے ہے اور اس کا عین بدل گیاہے اور درمختارمیں ہے اگر شراب میں آٹا گوندھ کر روٹی پکائی گئی حتی کہ شراب کااثر جاتارہا تووہ پاك ہوجائے گی۔ردالمحتارمیں ہے اس لئے کہ اس کی حقیقت بدل کرسرکہ بن گئی ہے۔(ت)
اوراگریہ امورناثابت ہوں توحکم وہی ہے کہ اول مذکور ہواواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱: ازگلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سیدمحمدیوسف علی صاحب ۱۰شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوشخص شراب پیئے وہ کیساہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
تحفۃ المؤمنین علٰی ھامش مخزن الادویۃ تحت لفظ نارجیل ∞نولکشورکانپور ص۵۵€۳
الدرالمختار کتاب الطہارت باب الانجاس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۶€
ردالمحتار کتاب الطہارت باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۳€
اللھم احفظنا والمسلمین برحمتك یاارحم الراحمین(اے اﷲ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کومحفوظ رکھ اپنی رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے۔ت)شراب حرام اور پیشاب کی طرح ناپاك اور اس کاپیناسخت گناہ کبیرہ اورپینے والافاسق فاجرناپاك بیباك مردود وملعون مستحق عذاب شدید وعقاب الیم ہےوالعیاذباﷲ رب العالمیناﷲ ورسول جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پرسخت سخت وعیدیں ہولناك تہدیدیں فرمائیںہ یہاں صرف بعض پر اکتفاکرتے ہیں:
حدیث(۱): رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایشرب الخمر حین یشربھا وھو مؤمن رواہ الشیخان غیرھما عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان ٹھیك نہیں رہتا(اس کو شیخین وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حدیث(۲):(رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد مبارك ہے:)
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الخمر عشرۃ عاصرھا ومعتصرھا وشاربھا وحاملھا و المحمولۃ الیہ و ساقیھا وبائعھا واکل ثمنھا والمشتری لھا والمشتراۃ لہ رواہ الترمذی وابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ورجالہ ثقات۔ یعنی جو شخص شراب کے لئے شیرہ نکالے اورجونکلوائے اور جو پئیے اورجو اٹھاکرلائے اور جس کے پاس لائی جائے اور جو پلائے اورجوبیچے اورجو اس کے دام کھائے اورجو خریدے اور جس کے لئے خریدی جائے ان سب پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی(اس کوترمذی اورابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیااوراس کے رجال ثقہ ہیں۔ت)
حدیث(۳):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سنن ابن ماجہ ابواب الاشربہ باب لعنت الخمر الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۵۰،€جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمرالخ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۵۵€
حدیث(۴):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ مدمن الخمر وقاطع الرحم ومصدق بالسحر ومن مات مدمن الخمر سقاہ اﷲ جل وعلامن نھرالغوطۃقیل ومانھر العوطہقال نھریجری من فروج المومسات یؤذی اھل النار ریح فروجھن۔رواہ احمد وابن حبان فی صحیحہ وابو یعلی عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے:شرابی اوراپنے قریب رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنے والا اورجادوکی تصدیق کرنے والا۔ اورجوشرابی بے توبہ مرجائے اﷲ تعالی اسے وہ خون اورپیپ پلائے گاجودوزخ میں فاحشہ عورتوں کی بری جگہ سے اس قدربہے گا کہ ایك نہرہوجائے گا دوزخیوں کوان کی فرج کی بدبوعذاب پرعذاب ہوگی وہ سخت بدبوگندی پیپ جوبدکار عورتوں کی فرج سے بہے گی اس شرابی کو پینی پڑے گی۔
(والعیاذباﷲ تعالی)(اس کو امام احمدابن حبان نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے روایت کیا اور اس کی تصحیح کی۔اورابویعلی نے اس کوسیدنا ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)مسلمان ذرا آنکھیں بندکر کے غوکرے کہ شراب چھوڑنا قبول ہے یا اس پیپ کے گھونٹ نگلناوالعیاذباﷲ رب العلمین۔
حدیث(۵):رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مدمن الخمران مات لقی اﷲ شرابی اگربے توبہ مرے توا ﷲ تعالی کے حضور
مسندامام احمدبن حنبل عن ابی موسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۳۹۹،€المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ ذکرثلثۃ لایدخلون الجنۃ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۴۶،€مواردالظماٰن باب مدمن الخمر ∞حدیث ۱۳۸۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۳۵€
حدیث(۶):رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن احد یشربھا فیقبل اﷲ لہ صلوۃ اربعین لیلۃ ولایموت وفی مثانتہ منھا شیئ الاحرمت بھا علیہ الجنۃ فان مات فی اربعین لیلۃ مات میتۃ جاھلیۃ۔
والعیاذباﷲ تعالی۔ جوشخص شراب کی ایك بوند پیئے چالیس روز تك اس کی کوئی نمازقبول نہ ہوارجومرجائے اور اس کے پیٹ میں شراب کا ایك ذرہ بھی ہوتو جنت اس پرحرام کردی جائے گی اورجوشراب پینے سے چالیس دن کے اندرمرے گا وہ زمانہ کفر کی موت مرے گا۔(ت)
حدیث(۷):کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقسم ربی بعزتہ لایشرب عبد من عبیدی جرعۃ من خمرالاسقیتہ مکانھا من حمیم جھنم معذبا او مغفورا لہولایسقیھا صبیا صغیرا الاسقیتہ مکانھا من حمیم جھنم معذبا اومغفوراولایدعھا عبد من عبیدی من مخافتی الاسقیتھا ایاہ من حظیرۃ میرے رب نے اپنی عزت کی قسم یادفرمائی کہ میراجوبندہ ایك گھونٹ شراب کاپیئے گا میں اسے اس کے بدلے جہنم کاوہ کھولتاہواپانی پلاؤں گا اس کی بخشش تکاورجوکسی چھوٹے کو پلائے گا جب بھی اس کی سزامیں وہ پانی پلاؤں گا اس کی بخشش تکاورمیراجوبندہ میرے خوف سے شراب چھوڑے گا اسے اپنے پاك دربار میں پلاؤں گا(اس کو
المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ ان اعظم الکبائر شرب الخ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۴۷€
مسئلہ ۲۲: ازبریلی سائل منشی احمد علی محرر چوکی چونگی قلعہ بریلی ۱۱صفر۱۳۱۴ھ
علمائے دین نے حقہ کوحرام مطلق قراردیا ہے یا مکروہ کیا وہ شخص زیارت حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مشرف نہ ہوگا جو حقہ پیتا ہے اگرچہ درودشریف بکثرت پڑھتاہو اورکیا اس کا تحفہ حضورقبول نہ فرمائیں گے
الجواب:
دم لگانا جس سے ہوش وحواس میں فرق آتاہے حرام ہے اورسادہ حقہ ہرگز حرام نہیںنہ اس کا پیناکسی طرح کاگناہ ہےہاں اگربو رکھتاہے توخلاف اولی ہے جیسے کچی پیازکھانااوریہ جاہلانہ خیالات کہ حقہ پینے والا زیارت اقدس حضورپرنوررحمۃ للعلمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معاذاﷲ محروم ہے یاحضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معاذاﷲ اس کاتحفہ درودشریف قبول نہ فرمائیں گےیہ سب دروغ بے فروغ اورحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافترا ہےبہت بندگان خدا حقہ پینے والے خواب میں زیارت جمال جہاں آرائے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بارہامشرف ہوئے اورحضور رؤف ورحیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غایت کرم ومہربانی کے کلمات ارشاد فرمائے۔
" قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی اذا لامسکتم خشیۃ الانفاق وکان الانسن قتورا ﴿۱۰۰﴾ " اے محبوب! فرمادیں اگرتم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالك ہوتے توانہیں بھی روك رکھتے اس ڈرسے کہ خرچ نہ ہوجائیںاور آدمی بڑاکنجوس ہے۔(ت)
اگربادشاہ بردرپیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن
(اگربادشاہ بوڑھی عورت کے دروازے پرآئے تو اے سردار! تومونچھیں مت اکھاڑ۔ت)
ہاں ورد درود مبارك کے وقت حقہ نہ پیئے اورپی چکاہو توکلی مسواك سے منہ صاف کرکے ورد شروع
القرآن الکریم ∞۱۷ /۱۰۰€
مسئلہ ۲۳: ازبراہم پور ۲۱ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افیون کھانی کیسی ہے افیونی فاسق ومستحق عذاب ہے یانہیں اورجولوگ اس کی ہمراہی کریں اس کی مددکریں وہ کیسے ہیں افیونی کوکھاناکھلانا جائزہے یانہیں اورکھانے کے علاوہ دام دئیے جائیں یا نہیں جبکہ اس کی عادت سے معلوم ہے کہ وہ انداموں کوافیون میں صرف کرے گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
افیونی ضرورفاسق ومستحق عذاب ہےصحیح حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر۔رواہ الامام احمد وابوداؤد عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسند صحیح۔ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرچیزکہ نشہ لائے اور ہرچیزکہ عقل میں فتورڈالے حرام فرمائی(اس کو امام احمد اور ابوداؤد نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے بسندصحیح روایت فرمایاہے۔ت)
اورمخالفت شرع میں کسی کی مددکرنی ہمراہی لینی خود مخالفت شرع کرنی ہے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" و لا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ" اورتمہیں ان پرترس نہ آئے اﷲ تعالی کے دین میں۔(ت)
افیونی اگربھوکامحتاج ہو تو اس کے بھوکے ہونے کی نیت سے کھانا دینے حرج نہیں بلکہ ثواب ہے کہ بھوکے کتے کاپیٹ بھرناباعث اجر ہے آدمی توآدمی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فی کل کبد حراء رطبۃ اجر۔ ہرترجگہ والی شیئ میں ثواب ہے۔(ت)
القرآن الکریم ∞۲۴ /۲€
صحیح البخاری ابواب مظالم والقصاص باب الآبار علی الطریق الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۳،€مسنداحمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۲۲۲€
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اورگناہ اورزیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴: ازشہرکہنہ مرسلہ سیدعبدالواحد متھراوی ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شراب کاحرام ہونا اس کے نشہ کی وجہ سے ہے یا ادویہ کے سڑکرتیارہونے کی وجہ سے
الجواب:
شراب کاشراب ہونا جو ش آنے اورنشے لانے کی حالت پرموقوف ہےدوائیں اگرسڑائی جائیں اور ان میں نشہ لانے کاجوش نہ پیدا ہو تو وہ شراب نہ ہوں گی جیسے بعض مصفی عرقوں میں ادویہ کی تعفین کی جاتی ہے اوربغیرسڑائے صرف آنچ دینے یادھوپ دکھانے یاگرم ہوامیں ٹھہرنے سے وہ جوش آجائے جیسے آب ونقوع انگور وخرما تربوز شکرآمیختہ اورتاڑی وغیرہ میں تو وہ شراب ہوجائے گیپھرشراب ہوجائے تو اس کی حرمت اس قدرپینے پرموقوف نہ رہے گی جونشہ لائے بلکہ وہ نجاست غلیظہ اور مطلقا حرام ہے اگرچہ ایك بوندکما حققہ الائمۃ فی عامۃ الاسفار(جیساکہ عام کتابوں میں ائمہ کرام نے اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
________________
الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی ۱۳۱۸ھ
(فیصلہ کن دانائی تاڑی سے خمیرشدہ آٹے کے بارے میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۵: ازرنگون گلی نمبر۲۵ دواخانہ حکیم عبدالعزیز صاحب مرسلہ جناب مرزاعبدالقادربیگ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلے تھوڑے آٹے میں مسکرتاڑی کے نیچے کی تاڑی جسے روٹی گادکہتے ہیں ملاکر خمیرکیاگیا پھریہ آٹاخمیرشدہ پندرہ بیس سیر آٹے میں ملاکرخمیرکیا اوراس کی روٹی پکائی اس روٹی کی نسبت کیاحکم ہے اوراگر فرض کیاجائے کہ اس گادمیں قوت سکریہ باقی نہ رہی تھی تواس خمیری روٹی کاکیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
رنگون میں بخلاف مانڈلہ پاؤ روٹی وتنوری روٹی دونوں کاعام طورپرخمیر تاڑی سے کیاجاتاہے اورہزارہا مسلمان اسی روٹی کوکھاتے ہیںیہاں اورکلکتے میں عام ہےیہاں دوعالم کہتے ہیں کہ اس روٹی کی نسبت حکم حرمت کانہیں ہے مگراحتیاط کرنا اولی ہے۔میں نے جناب مولانا جلال الدین صاحب دہلوی مقیم مانڈلہ سے بذریعہ خط دریافت کرایا جواب آیاکہ جناب موصوف نے حکم حرمت کا دیاآج کل مولوی عبدالحمیدصاحب واعظ پانی پتی یہاں تشریف رکھتے ہیں انہوں نے بھی کھانا ترك کردیا
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ الذی حرم علینا فی الدنیا الخمور ووعدنا فی الجنۃ الشراب الطھور والصلوۃ والسلام علی من حمانا المنکرات و حرم علینا برحمتہ المسکرات وعلی الہ وصحبہ الشاربین من کاس التکریم لالغوفیھا ولاتاثیم افاض اﷲ علینا من فیضھم فنصیب فللارض من کأس الکرام نصیب۔ اﷲ کے نام سے شروع جوبہت مہربان اوررحم فرمانے والا ہےتمام تعریفیں اس معبود کے لئے ہیں جس نے دنیا میں ہم پرشرابیں حرام کی ہیں اورجنت میں ہمیں شراب طہور عطافرمانے کاوعدہ کیاہے اوردرودوسلام ہو اس ذات پر جس نے ہمیں منکرات سے روکا اوراپنی رحمت سے نشہ آور اشیاء کوہم پرحرام فرمایااورآپ کے آل واصحاب پر جوعز کے پیالے سے پینے والے ہیں جس میں بیہودگی اورگنہگاری نہیں اﷲ تعالی ان کے فیض سے ہمیں بھی عطافرمائے کہ ہم بھی اس کو پالیںاورسخیوں کے جام سے زمین کے لئے حصہ ہوتا ہے۔ (ت)
قول منصورومختار میں تاڑی وغیرہرمسکرپانی کاقطر ہ قطرہ مثل شراب حرام ونارواہے اورنہ صرف حرام بلکہ پیشاب کی طرح مطلقا نجاست غلیظہ ہے۔یہی مذہب معتمد اوراسی پرفتوی ہے۔تنویرالابصارمیں ہے:
حرمھا محمد مطلقا وبہ یفتی۔ امام محمد علیہ الرحمہ نے اس کومطلقا حرام قراردیا اور اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ذکرہ الزیلعی وغیرہ واختارہ شارح الوھبانیۃ۔ اس کو زیلعی وغیرہ نے ذکرکیا اور شارح وہبانیہ نے اس کو اختیارفرمایا۔(ت)
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الاشربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۰€
قولہ وغیرہ کصاحب الملتقی والمواھب والکفایۃ والنھایۃ والمعراج وشرح المجمع وشرح دررالبحار والقہستانی والعینی حیث قالوا الفتوی فی زماننا بقول محمد لغلبۃ الفساد الخ۔ اس کے قول وغیرہ سے مرادیہ حضرات ہیں جیسے صاحب ملتقی صاحب مواہبصاحب کفایہصاحب نہایہصاحب معراج صاحب شرح المجمعصاحب شرح دررالبحارقہستانی اورعینی کیونکہ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں غلبہ فساد کے سبب فتوی امام محمدکے قول پرہے الخ(ت)
غنیہ ذوی الاحکام میں ہے:
قال فی البرھان والحقھا محمد کلھا بالخمر فی المشھور عنہ کالشافعی ومالکی وبہ یقتی ۔ برہان میں کہاکہ امام محمد نے ان تمام کومشہورقول میں شراب کے ساتھ ملحق کیاہے جیساکہ امام شافعی وامام مالك کہتے ہیںاور اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔(ت)
طحطاوی علی الدرمیں ہے:
قال الحموی واعلم ان الاصح المختار فی زماننا ان کل ما اسکر من الاشربۃ المذکورۃ بعمومھا کثیرہ وقلیلہ حرام وھو قول محمد لحدیث کل مسکر حرام۔ حموی نے کہاجان لوکہ ہمارے زمانے میں اصح ومختاریہ ہے کہ مذکورہ نشہ آور شرابوں میں سے علی العموم ہرایك کاقلیل وکثیرحرام ہے اوریہ ہی امام محمدکاقول ہےاس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ہرنشہ آورحرام ہے۔(ت)
وجیزکردری میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی قلیلہ وکثیرہ حرام قالوا و بقول محمد نأخذ ومذھب محمد انہ حرام نجس الخ۔ امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا:اس کاقلیل وکثیرحرام ہےعلماء نے کہاہم امام محمدکے قول سے اخذکرتے ہیں اورامام محمد کا مذہب یہ ہے کہ یہ نجس ہے الخ(ت)
غنیہ ذوی الاحکام علی الدررالحکام کتاب الاشربہ ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۸€۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاشربہ المکتبۃ العربیہ∞،کانسی روڈ،کوئٹہ ۴ /۲۲۵€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الاشربہ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲۷۔۱۲۶€
عند محمد حرام شربہ قال الفقیہ وبہ ناخذ۔ امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیك اس کاپینا حرام ہےفقیہ نے کہاہم اسی کولیتے ہیں۔(ت)
فتاوی ہندیہ میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
ذکرمحمد رحمہ اﷲ تعالی فی الکتب کل ماھو حرام شربہ اذا اصاب الثوب منہ اکثر من قدرالدرھم یمنع جوازالصلوۃ قالوا وھکذا روی ھشام عن ابی یوسف حکی عن الفضلی انہ قال علی قول ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی یجب ان یکون نجسا نجاسۃ خفیفۃ والفتوی علی انہ نجس نجاسۃ غلیطۃ اھ اعلم ان المحقق صاحب البحر کان بحث فی البحر ترجیح التغلیظ بناء علی اصل مھدہ سابقا و نازعہ اخوہ المدقق فی النھر محتجا بما فی المنیۃ صلی وفی ثوبہ دون الکثیر الفاحش من السکر اوالمنصف تجزیہ فی الاصح اھ وذکرفی الدرخلاف الاخوین و لم یزد وقال العلامۃ امام محمدعلیہ الرحمہ نے کتاب میں فرمایا کہ جس شیئ کاپینا حرام ہے اگروہ مقدار درھم سے زائدکپڑے کولگ جائے تو اس کپڑے میں نماز ممنوع ہوگی۔علماء نے کہاکہ ہشام نے امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے یونہی روایت کیاہے۔فضلی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کے قول پرضروری ہے کہ وہ کپڑا نجاست خفیفہ کے ساتھ نجس ہواورفتوی اس پر ہے کہ وہ نجاست غلیظ کے ساتھ نجس ہے اھجان لوکہ امام محقق صاحب البحرنے بحرمیں اس پربحث کرتے ہوئے نجاست غلیظہ کو ترجیح دی اور اس کی بنیادایسے قاعدہ پر رکھی جس کو انہوں نے اولا مقرر فرمایااور ان کے بھائی مدقق نے نہرمیں ان کی مخالفت کی استدلال کرتے ہوئے اس مسئلہ سے جومنیہ میں مذکور ہے کہ کسی شخص نے اس حال میں نمازپڑھی کہ اس کے کپڑوں میں شراب یا انگورکاشیرہ لگاہواتھا جوکہ کثیرفاحش نہ تھا تو مذہب اصح میں اس کی نمازہوگئی اھ درمیں دونوں بھائیوں کا
فتاوٰی ھندیۃ کتاب الاشربہ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۱€۲
النہرالفائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۷€
ردالمحتار بحوالہ الحلبی کتاب الطہارۃ باب الانجاس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۱۳€
اس مذہب پرجبکہ مسکرتاڑی کے اجزاء روٹی میں شریك ہوں تو وہ روٹی ضرورحرام وناپاك ہے اوراس کابیچنا بھی حرام و ناروااوراس کے دام بھی مال حراماورپہلے تھوڑے آٹے میں تاڑی ملاکرخمیرکرنا پھریہ خمیرآردکثیرمیں نفع نہ دے گا اگر آٹے میں پانی ڈال کرگوندھ جانے سے پہلے خمیرملایا جب تو ظاہرہے کہ اس ناپاك خمیرسے وہ ساراپانی ناپاك اوراس سے سب آٹانجس ہوگیااوراگرگوندھ کرتیارہوجانے کے بعد بھی خمیردیاتوبھی یہ طریقہ ہرگزنہیں کہ آٹے میں ایك کنارے کویاصرف بیچ میں خمیررکھ دیا اورسب آٹا اس کی ہواسے خمیرہوگیا بلکہ ضرور وہ خمیر آٹے میں خوب ملاتے خلط کرتے ہیں کہ اس کے اجزا تمام آرد میں مل جاتے ہیں یوں بھی حکم حرمت ہی رہا کسی حلال چیز میں حرام چیزکااگرچہ پاك ہوایساخلط ہوجانا اسے حرام کر دیتاہے اوریہ توحرام وناپاك دونوں تھادرمختارمیں ہے:
لوتفتت فیہ نحو ضفدع جازالوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ۔ اگرچہ پانی میں مینڈك جیساجانورریزہ ریزہ ہوجائے گا تواس پانی کے ساتھ وضوتوجائزہے مگر اس کو پیناجائزنہیں اس لئے کہ مینڈك کاگوشت حرام ہے۔(ت)
قال شیخنا وبہ صرح فی التجنیس فقال یحرم شربہ ۔ ہمارے شیخ ن فرمایا اوراسی کے ساتھ تجنیس میں بھی تصریح کی گئی ہےفرمایا اس کوپیناحرام ہے(ت)
اورگاد میں نشہ نہ ہونابھی نفع نہ دے گا جبکہ عدم سکراس وجہ سے ہوکہ اس میں ثقل زیادہ ہےاجزائے رقیقہ کہ مورث تفریج وتبخیر سکری ہوتے ہیں اتنے نہیں کہ ان کااثرظاہرہواوپرمعلوم ہولیاکہ ہرمسکرپانی کاقطرہ قطرہ ذرہ ذرہ شراب کی طرح حرام اورپیشاب کی طرح نجس ہے اور گادان اجزاسے خالی نہیں ہوسکتی اوربالفرض خالی ہو تو ناپاك توضرورہے کہ آخراسی پیشاب کاتلچھٹ ہے۔ہدایہ میں ہے:
یکرہ شراب دردی الخمر والامتشاط بہ لان فیہ اجزاء الخمر والانتفاع بالمحرم حرامولایحد شاربہ ان لم یسکر لان الغالب علیہ الثفل فصارکما اذا غلب علیہ الماء بالامتزاج اھ۔ شرا ب کا تلچھٹ پینا اور اس کے ساتھ بالوں کوکنگھا کرنامکروہ ہے کیونکہ اس میں شراب کے اجزاء ہیں اورحرام سے انتفاع بھی حرام ہےتلچھٹ پینے والے پر حد جاری نہیں کی جائے گی اگروہ نشہ نہ دےکیونکہ اس میں غالب میل کچیل ہوتی ہے تو وہ ایساہی ہوگیاجس میں پانی کی ملاوٹ غالب ہوجائے اھ (ت)
مگرامام الاطباء داؤد انطاکی نے تذکرہ میں تصریح کی کہ سیندھی یعنی وہ پانی کہ تاڑی کی طرح ناریل کے درخت سے لیاجاتاہے صرف یکشبانہ روزمسکررہتا ہے اس کے بعد سخت تندوتیز سرکہ ہوجاتا ہے۔
حیث ذکر فی ذکر النارجیل قد یفسد طلعہ اوجریدہ ویلقم کوزافیسیل منہ لبن ویسمی السیندی یبقی یوما علی الحلاوۃ والدسومۃ ولہ افعال اشد من الخمر وھو خیر منھا ثم یکون خلابالغا قاطعا ۔ کیونکہ انہوں نے نارجیل کے ذکرمیں فرمایاکہ اس کاگابھا اورٹہنی کبھی فاسد ہوجاتی ہے اورکوزاکا دھانا بندہوجاتاہے اس سے دودھ بہنے لگتاہے جس کو سیندھی کہتے ہیں وہ ایك دن تك اپنی حلاوت اورچکنائی پربرقرار رہتاہے اوراس کے افعال شراب سے سخت ترہیں اور وہ اس سے بہترہے پھروہ تندوتیزسرکہ بن جاتاہے۔(ت)
الہدایۃ کتاب الاشربہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۹۷۔۴۹۶€
تذکرہ اولوالالباب لداؤد انطاکی حرف النون ذکرنارجیل مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۳۲۷€
لوعجن خبز بخمر صب فیہ خل حتی یذھب اثر فیطھرہ۔ اگرشراب میں آٹا گوندھ کررو ٹی پکائی گئی اور اس میں سرکہ ڈالاگیا جس سے شراب کااثرجاتارہا توپاك ہوجائے گی۔(ت)
رد المحتارمیں ہے:
لانقلاب مافیہ من اجزاء الخمر خلا۔ کیونکہ اس میں جوخمر کے اجزأتھے وہ سرکہ کی طرف منقلب ہو گئے ہیں(ت)
اوراس کاثبوت قابل قبول نہ ہو تو وہی حکم نجاست وحرمت رہے گا
لان موجبھا معلوم ودلیل المزیل معدوم والیقین لایزول بالشک۔ کیونکہ اس کاموجب معلوم اور دلیل مزیل معدوم ہے اوریقین کبھی شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔(ت)
یہ سب بربنائے مذہب مفتی بہ تھا اوراصل مذہب کہ شیخین مذہب رضی اﷲ تعالی عنہما کاقول ہے
اعنی طھارۃ المثلث العنبی والمطبوخ التمری و الزبیبی وسائر الاشربۃ من غیرالکرم میری مرادپاك ہونا اس انگوری شراب کا جس کا دوثلث خشك ہوگیاہوکھجور اورزبیب کاجس کوپکایاگیاہو اورانگور اورکھجورکے
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۳€
حاشایہ بھی قول ساقط وباطل نہیں بلکہ بہت باقوت ہے خوداصل مذہب یہی ہے اوریہی جمہورصحابہ کرام حتی کہ حضرات اصحاب بدررضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی ہےیہی قول امام اعظم ہےعامہ متون مذہب مثل مختصرقدوری وہدایہ و وقایہ و نقایہ وکنز وغرر واصلاح وغیرہا میں اسی پرجز واقتصارکیااکابرائمہ ترجیح وتصحیح مثل امام اجل ابوجعفرطحاوی وامام اجل ابوالحسن کرخی واما مشیخ الاسلام ابوبکر خواہرزادہ وامام اجل قاضی خاں وامام اجل صاحب ہدایہ رحمہم اﷲ تعالی نے اسی کوراجح ومختار رکھا بلکہ خودامام محمد نے کتاب الآثار میں اسی پر فتوی دیا اسی کو بہ ناخذ(ہم اسی کولیتے ہیں۔ت)فرمایاعلمائے مذہب نے بہت کتب معتمدہ میں اس کی تصحیح فرمائی یہاں تك کہ آکدالفاظ ترجیح علیہ الفتوی سے بھی تذییل آئی۔خزانۃ المفتین میں ہے:
فی الھدایۃ والنھایۃ وفتاوی قاضی خان وظھیرالدین والخلاصۃ وفتاوی الکبری وفتاوی اھل سمرقند والحمیدی الاصح ماعلیہ ابوحنیفۃ وابویوسف رحمھما اﷲ تعالی ۔ ہدایہنہایہفتاوی قاضیخانفتاوی ظہیرالدینخلاصہفتاوی کبریفتاوی اہل سمرقند اورحمیدی میں ہےکہ اصح وہ ہے جس پرامام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رحمہمااﷲ تعالی ہیں۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
وھو الصحیح لان الخمر موعودۃ فی العقبی فینبغی ان یحل من جنسہ فی الدنیا انموذجا ترغیبا کما فی المضمرات ولئلا یلزم تفسیق الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم ۔ اوریہی صحیح ہے کیونکہ شراب آخرت میں موعود ہے لہذا ترغیب کے لئے اس کی جنس میں سے دنیا میں حلال ہونا چاہئے جیسامضمرات میں تاکہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو فاسق قراردینالازم نہ آئے۔(ت)
ہندیہ میں فتاوی کبری سے ہے :
العصیراذاشمس حتی ذھب ثلثاہ یحل شربہ عند ابی حنیفۃ و انگورکاجوس جب دھوپ میں دوثلث خشك ہوجائے توامام ابو حنیفہ اورامام ابویوسف علیہما الرحمۃ کے
جامع الرموز کتاب الاشربہ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران۳ /۳۳۳€
درمنتفی میں ہے:
وصحح غیرواحد قولھما۔ متعدد علماء نے شیخین کے قول کوصحیح قراردیاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لبن الرماك اذا اشتدلم یحل وصحح فی الھدایۃ حلہ۔ گھوڑی کادودھ جب جوش کھاکرگاڑھا ہوجائے توحلال نہیں ہدایہ میں اس کے حلال ہونے کو صحیح قراردیاگیاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
بہ یفتی ای بتحریم کل الاشربۃ وکذا بوقوع الطلاق قال فی النھر وفی الفتح وبہ یفتی لان السکر من کل شراب حرام وعندھما لایقع بناء علی انہ حلال وصححہ فی الخانیۃ ۔ اسی کے ساتھ ہی فتوی دیاجائے گا یعنی تمام شرابوں کی حرمت کااوراسی طرح طلاق کے واقع ہونے کا۔نہرمیں کہاہے کہ فتح میں ہے اسی کے ساتھ فتوی دیاجائے گا کیونکہ نشہ ہر شراب سے حرام ہوتاہےاور شیخین کے نزدیك طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ حلال ہے۔خانیہ میں اسی کو صحیح قراردیاہے(ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے:
فی فتاوی قاضی خان المتخذ من غیرالعنب والتمر مثل السکر والعسل والفانیذ والحنطۃ والشعیر و الذرۃ ومااشبہ ذلك اذاغلا واشتد وقذف بالزبد و طبخ فتاوی قاضیخان میں ہے کہ انگور اورکھجور کے غیر یعنی شکر شہدمصریگندمجوجوار اور ان جیسی دیگراشیاء سے بنائی ہوئی شرابیں جب جوش کھاکرگاڑھی ہوجائیں اور ان پرجھاگ آجائے
الدرالمنتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۷۲€
الدرالمختار کتاب الاشربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۰€
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۳€
فتح اﷲ المعین میں ہے:
من ادلۃ حلہ ماقال فی الاختیارعن ابن ابی لیلی قال اشھد علی البدریین من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم یشربون النبیذ فی الجرار الخضر وقد نقل ذلك عن اکثر الصحابۃ ومشاھیر ھم قولاوفعلا حتی قال ابوحنیفۃ انہ مما یجب اعتقاد حلہ لئلا یؤدی الی تفسیق الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم ۔ اس کے حلال ہونے کے دلائل میں سے ایك دلیل وہ ہے جو اختیارمیں ابن ابی لیلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بدری صحابہ کرام کے بارے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ سبزصراحیوں میں نبیذ پیتے تھے اوریہ بات اکثرمشاہیرصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے قولا اورفعلا منقول ہے یہاں تك کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنا واجب ہے تاکہ صحابہ کرام کوفسق کی طرف منسوب کرنا لازم نہ آئے۔(ت)
فتح المعین کتاب الاشربہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۴۲۳€
لابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی ماروی ان رجلا اتی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بمثلث قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ما اشبہ ھذا بطلاء الابل کیف تصنعونہ قال الرجل یطبخ العصیر حتی یذھب ثلثاہ ویبقی ثلثہ فصب عمر رضی اﷲ تعالی عنہ علیہ الماء وشرب ثم ناول عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ ثم قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا رابکم شرابکم فاکسروہ بالماء وعن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا ذھب ثلثا العصیر ذھب حرامہ وریح جنونہ و روی عن ابراھیم النخعی رحمہ اﷲ تعالی مایرویہ الناس کل م سکر حرام خطاء لم یثبتانما الثابت کل سکرحرام وکذا مایرویہ الناس ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام لیس بثابت و ابراھیم النخعی رحمہ اﷲ تعالی کان حبرا فی الحدیث ۔ امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کی دلیل وہ روایت ہے کہ ایك شخص سیدحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں ثلث لے کرآیاآپ نے فرمایا یہ اونٹوں کے طلاء کے ساتھ بہت مشابہت رکھتاہے تم اس کوکیسے بناتے ہو اس نے کہاہم انگور کے رس کو پکاتے ہیں یہاں تك کہ اس کادوثلث خشك ہوجاتاہے اورایك ثلث باقی رہ جاتاہے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس پرپانی ڈال کر پی لیاپھر حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ کودے دیاپھر حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب تمہیں تمہاری شراب شك میں ڈالے توپانی سے اس کی تیزی کوتوڑدو۔ اور حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب انگور کے شیرہ کادوثلث پکانے سے خشك ہوجائے تو اس کی حرمت اور نشہ جاتا رہتاہےاور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ لوگ جویہ روایت کرتے ہیں کہ ہرمسکر(نشہ آور)حرام ہےیہ غلط ہے اورثابت نہیں ہےالبتہ ثابت یہ ہے کہ ہرسکر(نشہ)حرام ہےاسی طرح لوگوں کایہ روایت کرنا کہ جومسکرہے اس کاقلیل وکثیرحرام ہے ثابت نہیں حالانکہ ابراہیم نخعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ حدیث متبحر عالم ہیں۔ (ت)
اسی میں ہے:
خلاصہ میں ہے:
عن محمد بن مقاتل الرازی انہ قال لواعطیت الدنیا بحذافیرھا ماشربت المسکر یعنی نبیذ التمر والزبیب ولو اعطیت الدنیا بحذافیرھا ما افتیت بانہ حرام ۔ محمدبن مقاتل رازی نے کہااگر مجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی مسکریعنی کھجوراورزبیب کانبیذنہیں پیوں گااوراگرمجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی اس کے حرام ہونے کافتوی نہیں دوں گا۔(ت)
غایۃ البیان علامہ اتقانی میں ہے:
واحتج ابوحنیفۃ وابویوسف فی قولہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاشربۃ ∞مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۰۵€
اسی میں ہے:
قال شیخ الاسلام خواھرزادہ رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ ذکرابن قتیبۃ فی کتاب الاشربۃ باسنادہ عن زیدبن علی بن الحسین علی رضی اﷲ تعالی عنھم انہ شرب ھو واصحابہ نبیذا شدیدا فی ولیمۃ فقیل لہ یا ابن رسول اﷲ حدثنا شیخ الاسلام خواہرزادہ نے اپنی شرح میں فرمایا کہ ابن قتیبہ نے کتاب الاشربہ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت زید بن علی بن حسین بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم کے بارے میں ذکرکیاکہ انہوں نے اوران کے ساتھیوں نے ایك ولیمہ میں گاڑھی نبیذ پی تو ان سے کہاگیا اے ابن رسول! ہمیں نبیذسے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ
محررمذہب سیدنا امام محمدرضی اﷲ تعالی عنہ کتاب المؤطا میں فرماتے ہیں:
اخبرنا مالك اخبرنا داؤد بن الحصین عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ عن محمود بن لبید الانصاری عن عمر بن الخطاب حین قدم الشام شکی الیہ اھل الشام وباء الارض اوثقلھا قالوا لا یصلح لنا الا ھذا الشراب قال اشربوا لعسل قالوا لایصلحنا العسل قال لہ رجل من اھل الارض ھل لك ان حضرت امام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنی سند کے ساتھ ہمیں خبردی کہ امیرالمومنین حضرت عمربن الخطاب رضی اﷲتعالی عنہ جب شام تشریف لائے تواہل شام نے اپنی سر زمین پر وباء اورگرانی کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس شراب کے علاوہ کوئی علاج موافق نہیں آتا۔آپ نے فرمایا شہد پیوانہوں نے کہا ہمیں شہدموافق نہیں آتا۔اسی علاقے کے
نیزکتاب الآثارمیں فرماتے ہیں:
عــــــہ ۱:ھو ابواسحق سلیمان الکوفی من ثقات التابعین ورجال الستۃ ۱۲منہ۔
عــــــہ ۲:السید المرتضی الاشبہ انہ محمد بن زیاد احد شیوخ شعبۃ روی عن ابی ھریرۃ حدیث الرجل جبار ذکرہ المنذری فی مختصر السنن وھو من اقران ابن سیرین قلت ھو ابن زیاد الجمحی ابوالحارث المدنی نزیل بعد البصرۃ ثقۃ ثبت من رجال الستۃ روی الدارقطنی فی السنن من طریق ادم بن ابی ایاس عن شعبۃ عن محمد بن زیاد عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال الرجل جبار ھذا ما ابداہ السید ظنا والمنصوص علیہ انہ عبداﷲ قال الامام البدر محمود فی البنایۃ بعد ذکر الحدیث ابن زیاد ھو عبداﷲ ابن زیاد اھ۔
یہ ابواسحاق سلیمان بن ابی سلیمان کوفی جوثقہ تابعین اورصحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں۱۲منہ(ت)
سیدمرتضی نے کہاحق سے اشبہ ہے کہ یہ محمدبن زیادشعبہ کے شیوخ میں سے ایك ہیں انہوں نے"الرجل جبار"والی حدیث کوحضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے یہ بات امام منذری نے مختصرالسنن میں ذکرکی اوریہ امام ابن سیرین کے ہم زمان ہیں۔میں کہتاہوں یہ ابن زیاد جمحی ابوالحارث مدنی ہیں جوبعد میں بصرہ میں مقیم ہوگئے ثقہ ہیں صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں دارقطنی نے سنن میں آدم بن ایاس کے طریق سے عن شعبہ عن محمدبن زیادعن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا"الرجل جبار"سیدمرتضی نے اپنے گمان کی بیان پر یہ بیان کیاہے جبکہ منصوص یہ ہے کہ وہ عبداﷲ ہیںامام بدرالدین محمود نے بنایہ میں ابن زیادکی اس حدیث کے بعد کہا ابن زیاد سے مراد عبداﷲ بن زیادہے اھ۔ (باقی اگلے صفحہ پر)
سنن الدارقطنی کتاب الحدود والدیات ∞۲۱۵€ نشرالسنۃ ∞ملتان ۳ /۱۵۴€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴ /۳۳۸€
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قلت یعنی ابامریم الاسدی الکوفی من ثقات التابعین ورجال البخاری فی التھذیب ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال فی تھذیبہ قال العجلی کوفی ثقۃ وقال الدارقطنی ثقۃ ۔ میں کہتاہوں ابن زیاد یعنی ابومریم اسدی کوفی جوثقہ تابعین اور بخاری کے راویوں میں شمارہیںتہذیب میں ہے کہ ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں ذکرکیاہے اورتہذیب والے نے فرمایا کہ عجلی نے کہاکہ وہ کوفی ثقہ میں شمارہیںدارقطنی نے کہا وہ ثقہ ہیں۔(ت)
تہذیب التہذیب ترجمہ عبداﷲ بن زیاد الکوفی ۳۷۹ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۵ /۲۲۱€
کتاب الآثار لامام محمد باب النبیذ الشدید ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۳و۱۸۴€
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
حدثنا فھد ثنا ابونعیم قال ثنا مسعربن کدام عن ابی عون الثقفی عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر حضرت عبداﷲ بن شدادبن الہاد سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ خمرپرتو بعینہ حرمت واقع ہوئی اور اس کے ماسوا دیگر شرابوں کی نشہ آور مقدار
کتاب الآثار لامام محمد باب الشرب فی الاوعیۃ والظروف ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۸۵€
اسی میں ہے:
حدثنا فھد(فذکر بسندہ)عن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انہ فہد نے اپنی سندکے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سفرمیں تھے کہ
سنن الدارقطنی کتاب الاشربہ ∞حدیث ۷۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ الجزء الرابع ∞ص۲۶۰€
التعلیق المغنی علٰی سنن الدارقطنی بحوالہ العقیلی ∞حدیث ۷۵€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرۃ الجزء الرابع ∞ص۲۶۰€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۷۰۱۵€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۲۴€
عــــــہ: عکرالنبیذ العتیق اذا اضیف الی الجدید عجل اشتدادہ وھذا معنی ماروی النسائی فی سننہ عن سعید بن المسیت انہ کان یکرہ کل شیئ ینبذ علی عسکر وایضا عنہ انہ قال فی النبیذ خمرہ دردیہ اھ ای جعلہ عکرہ مسکرا فکأن امیرالمؤمنین انکر علیھم تقلیل العسکر حتی بقی الی الان حلوا ولم یشتد واﷲ تعالی اعلم قالہ الفقیر المجیب غفراﷲ تعالی منہ ۱۲منہ عــــــہ:"عکرالنبیذ"پرانا نبیذ جوتازہ نبیذکے ساتھ ملانے سے جلد تیزی حاصل کرتاہے۔نسائی کی اپنی سنن میں سعیدبن مسیب سے روایت ہے کہ وہ پرانے نبیذ میں ملائے ہوئے ہرنبیذ کوناپسندکرتے تھے نیز ان سے نبیذ کے متعلق یہ روایت کہ اس کو پرانے نبیذ نے نشہ آور بنادیاکامعنی یہی ہےگویا امرالمومنین رضی اﷲ عنہ نے قلیل پرانے نبیذ میں ملاوٹ کر ناپسندفرمایاکہ اس وجہ سے ابھی تك وہ میٹھا ہے اورشدیدنہ ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔یہ مجیب غفراﷲ تعالی کابیان ہے۱۲منہ۔
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبار التی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۲
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۶۰€
المصنف ابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۲۶۲€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۳۹€
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکراخباالتی اعتل بہامن اباح الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۷۰۲۱€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۲۶€
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب فی الاوعیۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۶۴€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربہ ∞حدیث ۱۶۹۳۰€ المجلس العلمی ∞۹ /۰۲۔۲۰۱€
اخبرنا سوید قال اخبرنا عبداﷲ عن السری بن یحیی ثنی ابوحفص امام لنا و کان من اسنان الحسن عن ابی رافع ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی قال اذا خشیتم من نبیذ شدتہ فاکسروہ بالماء قال عبداﷲ بن قبل ان یشتد اخبرنا زکریا بن یحیی (بسندہ)عن سعید بن المسیب یقول تلقت ثقیف عمربشراب فدعا بہ فلما قربہ الی فیہ کرھہ فدعا بہ فکسرہ بالماء فقال ھکذا فافعلوا قلت ورواہ عبدالرزاق والبیھقی۔
(مزیدحدیثیں): سنن نسائی شریف میں ہے:
امام نسائی نے اپنی سند کے ساتھ ابو رافع سے روایت کیاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جب تمہیں نبیذکی تیزی کاڈر ہو توپانی سے اس کی تیزی کوتوڑدیاکرو۔عبداﷲ نے فرمایا کہ تیزی آنے سے پہلے ایساکرو۔امام نسائی نے اپنی سندکے ساتھ سعیدبن مسیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا کہ قبیلہ بنی ثقیف نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں مشروب پیش کیاآپ نے اس کو طلب فرمایا جب اپنے منہ کے قریب کیاتو وہ اچھا نہ لگاپھراس کومنگوایا اور پانی کے ساتھ اس کی تیزی کوکم کرکے فرمایا:ایساہی کرو۔میں کہتا ہوں اس کو عبدالرزاق اوربیہقی نے روایت کیا۔(ت)
اسی میں ہے:
عن ابن سیرین قال بعہ عصیرا ممن یتخذہ طلاء و لایتخذہ خمرا عن سوید بن غفلۃ قال کتب عمر بن الخطاب الی بعض عمالہ ان ارزق المسلمین من الطلاء ذھب ثلثاہ وبقی ثلثۃ و رواہ عبدالرزاق وابو نعیم ابن سیرین نے کہاکہ انگورکاشیرہ اس کے ہاتھ بیچو جواس سے طلاء بناتا ہے اس کے ہاتھ مت بیچو جوخمربناتا ہے۔سیدبن غفلہ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے بعض عاملوں کولکھا مسلمانوں کو ایساطلاء پینے دیجئے جس کادوثلث جل کرخشك ہوجائے اور ایك تہائی رہ جائے۔ اس کوعبدالرزاق اورابونعیم
سنن النسائی کتاب الاشربہ الکراھۃ فی بیع العصیر ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۳€۴
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۳۴€
سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء الخ ∞نورمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
مسند سیدناالانام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
ابوحنیفہ عن ابی عون عــــــہ عن امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے ابوعون سے انہوں نے
عــــــہ: فی النسخۃ التی شرح علیھا العلامۃ العلی القاری ابوحنیفۃ عن ملاعلی قاری نے جس نسخہ پرشرح لکھی ہے اس میں ابوحنیفہ عن ابی عون محمد الثقفی الحجازی ہے (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابی عون محمد الثقفی الحجازی عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال القاری الظاھرانہ محمد بن ابی بکر بن عوف الثقفی الحجازی روی عن انس بن مالك وعنہ جماعۃ اھ اقول: الحدیث انما یعرف بابی عون محمد بن عبیداﷲ الثقفی الکوفی وھو الصواب والاأدری لفظ الحجازی افادہ الشارح او وقع من بعض النساخ ۱۲منہ۔ اس پرملاعلی قاری نے فرمایا ظاہریہ ہے کہ وہ محمدبن ابی بکربن عوف الثقفی الحجازی جوانس بن مالك سے روایت کرتے ہیں اوران سے جماعت نے روایت کی ہےاھمیں کہتاہوں یہ حدیث ابی عون محمد بن عبیداﷲ الثقفی الکوفی سے معروف ہے اور یہی درست ہے اورمجھے معلوم نہیں کہ حجازی کالفظ شارح نے ذکرکیا ہے یایہ کسی نقل کرنے سے واقع ہواہے ۱۲منہ(ت)
شرح مسندالامام الاعظم لملاعلی القاری فائدہ حرمۃ خمروکل مسکرات ∞مکتبہ توحید وسنۃ پشاور ص۲۵۶€
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۸۹€
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتب الاسلامیہ ∞سمندری فیصل آباد ۲ /۱۹۱۔۱۹۰€
عــــــہ: ھکذا اعزاہ لعبد الرزاق الامام البدر فی البنایۃ والامام خاتم الحفاظ فی الجامع الکبیر ووقع فی تعلیقات مؤطا الامام محمد لبعض المعاصرین عزوہ لابن ابی شیبۃ وکانہ شبہ علیہ احد المصنفین بالاخر۱۲منہ۔ عــــــہ:اور امام بدرالدین عینی نے بنایہ میں اور امام عسقلانی نے جامع الکبیر میں اس کوعبدالرزاق کی طرف منسوب کیاجبکہ مؤطا امام محمد کی تعلیقات میں ایك معاصر(علامہ عبدالحی لکھنوی)نے اس کو ابن ابی شیبہ کی طرف منسوب کیاہوسکتاہے علامہ لکھنوی کومصنف عبدالرزاق اورمصنف ابن ابی شیبہ میں اشتباہ ہوگیا ہو ۱۲منہ(ت)
المصنف لعبدالرزاق کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۱۷۱۲۰€ المجلس العلمی ∞۹ /۲۵۵€
عقودالجواہرمیں ہے:
فی مصنف ابن ابی شیبۃ حدثنا علی بن مسھر عن سعید بن ابی عروبۃ عن قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان ابا عبیدۃ ومعاذ بن جبل واباطلحۃ رضی اﷲ تعالی عنھم کانوا یشربون من الطلاء ما ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ قلت ورواہ ایضا ابومسلم الکجی وسعید بن منصور فی سننہ کما فی العمدۃ قال ابوبکر حدثنا وکیع عن الاعمش عن میمون(ھو ابن مھران)عن ام الدرداء قالت کنت اطبخ لابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ الطلاء ماذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ ۔حدثنا ابن فضیل عن مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ہمیں علی بن مسہر نے سعیدبن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اورانہوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی حضرت انس نے فرمایا کہ ابوعبیدہمعاذبن جبل اورابوطلحہ رضی اﷲ تعالی عنہم ایسا طلاء پیتے جس کادوثلث جل کرایك ثلث باقی رہتا۔میں کہتا ہوں کہ اس کوابومسلم الکجی اور سعیدبن منصور نے بھی اپنی سنن میں روایت کیاجیساکہ عمدہ میں ہے۔ابوبکر نے کہا ہمیں وکیع نے اعمش سے انہوں نے ام درداء سے حدیث بیان کی ام درداء نے کہاکہ میں ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے طلاء پکاتی جس کادوتہائی جل کرایك تہائی باقی رہ جاتا۔ہمیں ابن فضیل نے
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ ∞سمندری ۲ /۱۹۲€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۰۳۹€ ادارۃ القرآن ∞۸ /۱۷۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربہ ∞حدیث ۴۰۳۹€ ادارۃ القرآن ∞۸ /۱۷۱€
سنن دارقطنی میں ہے:
حدثنا محمد بن احمد بن ھارون نا احمد بن عمربن بشر ناجدی ابراھیم بن قرۃ نا القاسم بن بھرام ثنا عمر وبن دینار عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال مر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ہمیں محمدبن احمد بن ہارون نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدینہ میں ایك قوم پرگزرے انہوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم! ہمارے پاس بنائی ہوئی ایك
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۴۰۴۶€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۱۷۲€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۴۰۵۸€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۸ /۱۷۵€
اسی میں ہے:
عن وکیع عن شریك عن فراس عن الشعبی ان رجلا شرب من اداوۃ علی بصفین فسکر فضربہ الحد۔ وکیع سے شریك سے فراس سے شعبی سے روایت ہے کہ ایك شخص نے صفین میں حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کے برتن سے شراب پی تو اسے نشہ ہوگیا آپ نے اس پرحد لگائی۔ (ت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
حدثنا عبدالرحیم بن سلیمن عن مجالد عن الشعبی عن علی نحوہ وقال فضربہ ثمانین ۔ ہمیں عبدالرحیم بن سلیمان نے مجالد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے علی سے ایسے ہی حدیث بیان کی اورکہا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے اسی کوڑے لگائے۔(ت)
سنن الدارقطنی کتاب الاشربۃ ∞حدیث ۸۰€ دارالمحاسن لطباعۃ القاھرہ الجزئالرابع ∞ص۲۶۱€
المصنّف ابن ابی شیبہ کتاب الحدود النبیذ من رأی فیہ حدًا ∞حدیث ۸۴۵۵€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۹ /۵۴۵€
حدثنا ابوالعلاء الکوفی بمصر ثنامحمد بن الصباح الدولابی نانصربن المجدر قال کنت شاھدا حین ادخل شریك ومعہ ابوامیۃ الذی رفع الی المھدی ان شریکا حدثہ عن الاعمش عن سالم عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال استقیموا لقریش ما استقاموا لکم فاذا ازاغوا عن الحق فضعوا سیوفکم علی عواتقکم فقال المھدی لشریك حدثت بھذا قال لاقال ابوامیۃ علی المشی الی بیت اﷲ تعالی وکل مالی فی المساکین صدقۃ ان لم یکن حدثنی فقال شریك علی مثل الذی علیہ ان کنت حدثتہ قال فکان المھدی رضی فقال ابو امیۃ یا امیرالمومنین عندك ادھی العرب انما یعنی علیہ مثل الذی علیہ من الثیاب قل لہ فلیحلف مثل الذی حلفت فقال صدقت احلف کما حلف فقال شریك قد حدثتہ ہمیں ابوالعلاء کوفی نے مصرمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی محمدبن صباح دولابی نے انہوں نے کہاکہ ہمیں نصربن مجدر نے خبردی کہ میں اس وقت حاضرتھا جب شریك کوداخل کیاگیا اس کے ساتھ ابوامیہ تھا جس نے مہدی کے پاس مقدمہ دائر کیاتھا کہ شریك نے اسے اعمش سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاقریش کے لئے سیدھے رہو جب تك وہ تمہارے لئے سیدھے رہیں جب وہ حق سے ٹیڑھے ہوجائیں توتم اپنی تلواریں اپنے کندھوں پررکھ لو۔مہدی نے شریك سے کہا تو نے یہ حدیث بیان کی اس نے کہانہیںابوامیہ نے کہامجھ پربیت اﷲ شریف کی طرف جانالازم ہے اورمیراسارا مال مسکینوں پرصدقہ ہے اگر اس نے مجھے یہ حدیث بیان نہ کی ہو شریك نے کہا مجھ پر اسی کی مثل ہے جو اس پر ہے اگرمیں نے اس کویہ حدیث بیان کی ہو۔راوی نے کہاگویاکہ مہدی شریك کی بات پر راضی ہوگیا۔ابوامیہ نے کہا اے امیر المومنین! آپ کے پاس عرب کاسب سے بڑاچالاك شخص موجودہے اس نے جوکہاہے کہ مجھ پر اس کی مثل ہے جواس پر ہے اس قول سے اس کی مراد کپڑے ہیں آپ اسے حکم دیں کہ وہ میری طرح قسم کھائے۔مہدی نے کہا تو نے سچ کہا اورمہدی
صحیح بخاری شریف میں ہے:
رای عمروابوعبیدۃ ومعاذبن جبل شرب الطلاء عل الثلث وشرب البراء وابوجحیفۃ رضی اﷲ تعالی عنھماعلی النصف اھ۔
تقدمت اسانید الثلثۃ الاول ووصل الاخیرین ابن ابی شیبۃ کما فی العمدۃ۔
اضافہ افاضۃ:نزیدك عدۃ أبحاث تفیدك بعون اﷲ تعالی:
الاول تقدم تسعۃ احادیث من المرفوع وروی العقیلی من طریق عبدالرحمن بن بشر الغطفانی عن ابی اسحق عن الحارث عن علی کرم اﷲ وجھۃ حضرت عمرابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہم ایسی طلاء کوحلال سمجھتے جس کادوتہائی جل کر ایك تہائی رہ جائے جبکہ حضرت براء اورابوجحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہما وہ طلاء پیتے جس کانصف جل کرخشك ہوگیاالخ۔
پہلی تینوں حدیثوں کی سندیں گزرچکیں اورآخری دونوں کو ابن ابی شیبہ نے موصول فرمایا جیساکہ عمدہ میں ہے۔
اضافہ افاضہ:ہم تیرے لئے چندبحثوں کااضافہ کرتے ہیں جو اﷲ تعالی کی توفیق سے تجھے فائدہ دیں گی:
پہلی بحث: نومرفوع حدیثیں گزرچکی ہیںاور عقیلی نے بطریق عبدالرحمن بن بشر غطفانی ابواسحق سے انہوں نے حارث سے انہوں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہسے روایت کی کہ میں نے
صحیح البخاری کتاب الاشربۃ باب الباذق ومن نہی عن کل مسکر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۸€
الضعفاء الکبیر ترجمہ محمدبن فرات الکوفی ∞۱۶۸۱€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۴ /۲۴۔۱۲۳€
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ عبدالملك بن نافع ∞۴۲۳۸€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۶۲۱€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ ∞مکۃ المکرمۃ ۴ /۳۴۴€
تقریب التہذیب حرف الباء ∞ترجمہ ۷۷۰۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۳۰۹€
العلل المتناہیۃ کتاب الاشربۃ تحت ∞حدیث ۱۱۲۴€ دارنشرالکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۲ /۱۸۷€
میزان الاعتدال ترجمہ الیسع بن اسمٰعیل ∞۹۷۸۴€ دارالمعرفۃ بیرت ∞۴ /۴۴۵€
نصب الرایہ کتاب الاشربہ تحت الحدیث التاسع المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۶€
میزان الاعتدال ترجمہ عبدالرحمن بن بشر الغطفانی ∞۴۸۲۱€ دارالمعرفۃ بیرت ∞۲/ ۵۵۰€
تہذیب التہذیب ترجمہ محمد بن الفرات ∞۶۴۸€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۹ /۳۹۷€
تقریب التہذیب حرف المیم ترجمہ مسلم بن خالد ∞۶۶۴۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۱۷۸€
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۴ /۳۳۵ تا ۳€۷
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۴ /۳۳€۴
میزان الاعتدال ترجمہ شریك بن عبداﷲ الکوفی ∞۳۶۹۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۷۱€
صحیح البخاری کتاب المغازی باب بعث ابوموسٰی ومعاذالی الیمن الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۲۲€
سنن النسائی کتاب الاشربہ تحریم کل شراب اسکر ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۲۵€
میزان الاعتدال ترجمہ محمدبن خزیمہ ∞۷۴۸۶€ دارالمعرفۃبیروت ∞۳ /۵۳۷€
تقریب التہذیب ترجمہ عثمان بن الہیثم ∞۴۵۴۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۶۶۶€
فتح القدیر
الثانی:الآثار فی الباب عن امیرالمؤمنین قدتواترت ولم تقدر الخصوم علی ردھا فعدلوا الی التاویل وادعاء الرجوع اما التاویل فاسند النسائی عن ابن المبارك ماتقدم من قولہ من قبل ان یشتد واسند عن عتبۃ بن فرقد قال کان النبیذ الذی یشربہ عمر بن الخطاب قد خلل ۔اقول: من نظر الآثار التی اتت عن امیرالمومنین کالشمس تیقن ان لامساغ لھذین التاویلین فیھا اصلا وان لم تکن فیھا جلائل تصریحات الاشتداد لکان حسبك مافی المؤطا من قول عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ احللتھا واﷲ فای مساغ کان لھذا لوکان لم یشتد او اس میں کوئی عیب نہیں ا س کے تمام رجال بلندمرتبہ ثقہ ہیں۔حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ صحیح ترین اور عظیم ترین احادیث میں سے ہے جو بطور سلسلۃ الذھب مروی ہے جیساکہ تودیکھتاہے اوراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔
دوسری بحث:اس باب میں امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ سے تواتر کے ساتھ آثار منقول ہیں۔مخالفین ان کے رد پر قادرنہیںلہذا انہوں نے تاویل کی طرف عدول کیا اور رجوع کا دعوی کیارہی تاویل تو وہ یوں کہ امام نسائی نے ابن مبارك سے امیرالمومنین کے اس قول مذکورکے بارے میں بیان کیاکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ سخت ہوجائے۔اورعتبہ بن فرقد سے بیان کیاکہ جونبیذ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ پیتے تھے وہ سرکہ بنالی گئی ہوتی۔ اقول:(میں کہتاہوں)جس نے ان آثار میں نظر کی جو امیر المومنین سے سورج کی طرح واضح طورپرمنقول ہیں وہ یقین کرلے گا کہ ان دونوں تاویلوں کی ان میں گنجائش نہیں اگرچہ اس میں نبیذ کی شدت کے بارے میں عظیم تصریحات نہ بھی ہوتیںتومجھے عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا مؤطا میں منقول وہ قول کفایت کرتاکہ انہوں نے امیرالمومنین سے کہاکہ بخدا کیا اپ نے اس کو
مؤطاالامام مالك کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر ∞مہرمحمدخانہ کراچی ص۶۹۵€
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الاشربہ جامع تحریم الخمر ∞تحت حدیث ۱۶۴۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۴€
الثالث:حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراباخرجہ النسائی فقال اخبرنا ابوبکر بن علی اخبرنا القواریری ثنا عبدالوارث قال سمعت ابن شبرمۃ یذکرہ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال حرمت الخمر قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب وھو کما تری رضی اﷲ تعالی عنہ کامذہب یہ تھاکہ قلیل حلال ہے اورحد کثیر میں جاری فرمائی۔کیاتونے امیرالمومنین کاوہ جواب نہیں سنا جوآپ نے اس شخص کودیا جس نے یہ عذر پیش کیاتھا کہ میں نے آپ کے مشکیزے سے شرا ب پی ہے جواب یہ تھاکہ ہم نے تجھے نشہ کی وجہ سے کوڑے لگائے ہیں تو اس میں قلیل کی حرمت پردلیل کہاں سے آئیکاش میرا علم حاضرہو آپ نے رجوع کب فرمایاحالانکہ آپ نے اسے نیزے کے اس زخم کے موقع پرنوش فرمایاجس زخم میں آپ فردوس اعلی کی طرف منتقل ہوگئے جیساکہ حدیث عمروبن میمون کے حوالہ سے گزرچکا۔
تیسری بحث:حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کہ خمر بعینہ حرام کی گئی اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔امام نسائی نے اس کی تخریج کیچنانچہ فرمایا ہمیں ابوبکر بن علی نے خبردی انہوں نے کہاہمیں قواریری نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ میں نے ابن شبرمہ کوعبداﷲ بن شداد بن الہاد سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ذکرکرتے ہوئے سناابن عباس نے کہاکہ خمرکا قلیل وکثیر حرام کردیاگیا اور ہرشراب سے نشہ حرام ہےاور وہ جیساکہ تو دیکھتا ہے
الترغیب والترھیب
میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عبداﷲ ابن شبرمۃ ∞۱۰۹۲۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۶۰۳€
میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عماربن معاویہ ∞۶۰۰۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۱۷۰€
میزان الاعتدال ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۳۶۹۷€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۷۰€
عــــــہ۱: متعلق باقول رحمہ اﷲ ھولاء المحدثین لوانا قدمنا۔ عــــــہ۲ ای شریک۔
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷ €دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳۶€
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳€۷
تہذیب التہذیب ترجمہ شریك بن عبداﷲ ∞۵۷۷€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۴ /۳۳۷€
رہاعکرمہتوطبری نے تہذیب الآثار میں کہاکہ ہمیں محمدبن موسی نے انہیں عبداﷲ بن عیسی نے انہیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما حدیث بیان کیابن عباس نے کہاکہ اﷲ تعالی نے خمرکو بعینہ اورہر شراب سے نشہ کوحرام فرمایا۔رہا ابن شداد تو اس سے ابو عونعماردہنی اورابوشبرمہ نے ان وجوہ پر روایت کیاجو تو جان چکا۔عیاش عامری نے ابوبکر ابوخثیمہ سے روایت کی انہوں نے کہاکہ ہمیں محمدبن صباح البزار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں شریك نے عیاش عامری سے خبردی اورانہوں نے عبداﷲ بن شداد سے اور اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ خمربعینہ حرام کی گئی اور ہرشراب سے نشہ حرام ہے۔اورعیاش عامری وہ عیاش بن عمر ہے۔قلت(میں کہتاہوں)وہ ثقہ ہے اورامام مسلم اور سلیمان شیبانی کے رجال میں سے ہے اوراسی سے شعبہ نے بھی ابن ابی خثیمہ کے نزدیك روایت کیا
حواشی مسندالامام الاعظم بحوالہ ابی بکربن ابی خثیمہ فی تاریخہ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۰۳€
حلیۃ الاولیاء ترجمہ مسعربن کدام ∞۳۸۹€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۷/ ۲۲۴€
الرابع:حدیث الطحاوی عن علقمۃ سالت ابن مسعود عن قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی السکر قال الشربۃ الاخیرۃ رواہ الدارقطنی فی سننہ عن عمار بن مطرثنا جریر بن عبدالحمید عن الحجاج عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداﷲ فی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال عبداﷲ ھی الشربۃ التی ہی کی طرف سے توفیق ہے اوراس توفیق سے ہی ثابت قدمی ہے اوراﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے۔بیشك ابوعون نے ابوشبرمہ کی مخالفت نہیں کی البتہ شعبہ نے مسعر سے روایت کرتے ہوئے باقی تمام حضرات کی مخالفت کی جوانہوں نے مسعرسے کی اورمسعر نے ابوعون سےاس نے ابن شداد سےاوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی اورامام ابن الہمام پرتعجب ہے کہ انہوں نے اس کلام پر نسائی کی پیروی کیسے کرلی! اوریہ گمان کیاکہ لفظ مسکرغلط ہے اور نہیں ہے توفیق مگر اﷲ تعالی سے جوخبر رکھنے والا باریك بین ہےاورسب تعریفیں اس اﷲ کے لئے ہیں جوسب جہانوں کا پروردگار ہے۔
چوتھی بحث:طحاوی کی سند علقمہ سے کہ میں نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نشہ سے متعلق قول کے بارے میں سوال کیاتوانہوں نے کہاوہ آخری گھونٹ ہے۔اس کودارقطنی نے اپنی سنن میں عماربن مطرسے روایت کیاعمارنے کہاہمیں جریر بن عبد الحمید نے حجاج سےاس نے حماد سےاس نے ابراہیم سے اس نے علقمہ سےاوراس نے عبداﷲ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کے بارے میں حدیث بیان کی کہ ہرنشہ آورحرام ہےعبداﷲ نے کہاکہ وہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ وغیرھا باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۶۱€
میزان الاعتدال ترجمہ حجاج بن ارطاۃ ∞۱۷۲۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۶۰€
تہذیب التہذیب ترجمہ حجاج بن ارطاۃ ∞۳۶۵€ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞۲ /۱۹۷€
سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳€
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی فی المعرفۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیۃ ∞۴ /۳۰۶€
نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیہ ∞۴ /۳۰۶€
کنزالعمال عن ابی ھریرہ ∞حدیث ۸۳۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱ /۱۶۶€
الخامس:قال النسائی حدثنا عبیداﷲ بن سعید عن ابی اسامۃ قال سمعت ابن المبارك یقول ما وجدت الرخصۃ فی المسکر عن احد صحیحا الاعن ابراھیم ۔اقول:رحم اﷲ الامام الجلیل و تیسرے گلاس کی طرف عود حلال نہیں رہا۔رہی دوسری اثرتو اس میں خمروطلاء کے تلچھٹ کی وجہ سے جوحرمت ہے اوروہ بطوراشتراك کئی معنوں پر بولی جاتی ہے جنہیں علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں بیان فرمایا ہے ان میں انگور کے جس شیرہ کا دوتہائی سے کم جل کرخشك ہوجائے اس کو باذقجس کانصف خشك ہوجائے اس کومنصف اور جس کادو تہائی خشك ہوجائے اس کومثلث اورجس کا ایك تہائی خشك ہوجائے اس کوباذق کہاجاتاہے۔اورفرمایا کہ انگور کے جس شیرہ کو پکایاجائے اس کومطلقا طلاء کہتے ہیں الخ مثلث کے سواتمام خمر کی طرح حرام اوران کا قلیل وکثیرنجاست غلیظہ کے ساتھ نجس ہے۔ہمارے نزدیك اورجمہور کے نزدیك بخلاف امام شافعی اوزاعیبعض ظاہریہ اورمعتزلہ کے۔اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔
پانچویں بحث:امام نسائی نے کہاہمیں عبیداﷲ بن سعید نے ابو اسامہ سے حدیث بیان کی کہ میں نے ابن مبارك کویہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے نشہ آورنبیذکے بارے میں سوائے ابراہیم کے کسی سے رخصت صحیح نہیں پائی۔
اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی امام جلیل پر
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکر الاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ ∞نورمحمدکارخانہ کراچی ۲ /۳۳۵€
مؤطا امام مالك کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر ∞میرمحمدکتب خانہ کراچی ص۶۹۵€
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الاشربۃ جامع تحریم الخمر ∞حدیث ۱۶۴۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۴€
دوسری حدیث یہ ہے کہ ہمیں روح بن الفرج نےان کوعمرو بن خالدنےان کو زہیرنے ابواسحق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عمروبن میمون سے روایت کی۔ان دونوں حدیثوں کے تمام رجال جلیل القدرثقہ ہیں۔ابوبکرہ وہ بکاربن قتیبہ ہے۔ابوداؤد طیالسی ثقہحافظمسلم وسنن اربعہ کے رجال میں سے ہیں اور اصحاب صحاح ستہ میں سے ہیں۔خ نے سورۃ المدثر کی میں ان سے بطورکنایہ روایت کی ہے جہاں اس نے سند مرفوع میں کہاکہ مجھے حدیچ بیان کی محمدبن بشارنےاس نے کہاہمیں حدیث بیان کی عبدالرحمن بن مہدی اور اس نے غیرنےانہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی حرب بن شداد نے الخ اس کے غیرسے مرادابوداؤد ہیں جیسا کہ ابونعیم نے اپنی مستخرج میں بیان کیا۔زہیرثقہثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔روح بن الفرج امام طحاوی کے شیخ ہیں وہ قطان مصری ثقہ
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵€۹
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ المدثر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳۲€
حدیث ابوحنیفہ جوانہوں نے حماد سے اورحمادنے ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ایك اعرابی کولایاگیا ہمارے اصول کے مطابق صحیح ہے اس لئے کہ جمہور کامؤقف یہ ہے کہ مراسیل خصوصا ابراہیم کی مراسیل مقبول ہیں۔امام احمد نے فرمایا سعیدبن مسیب کی مراسیل صحیح ترین مراسیل ہین اورابراہیم نخعی کی مراسیل میں کوئی حرج نہیں۔یہ تدریب میں مذکورہے۔ابن عدی نے یحیی بن معین سے تخریج کی کہ ابراہیم کی مراسیل صحیح ہیں سوائے تاجرالبحرین اورقہقہہ کی حدیث کے۔نصب الرایہ میں کہا حدیث قہقہہ تومعروف ہے۔۔رہی حدیث تاجرالبحرین تو اس کوابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں یوں روایت کیاہے کہ ہمیں وکیع نے اوران کواعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی
جامع المسانید الباب الثلاثون فی الحدود المکتبۃ الاسلامیہ سمندری ∞۲ /۱۱۲€
تدریب الراوی النوع التاسع المرسل وبیان اطلاقہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸€
نصب الرایہ کتاب الطہارت فضل فی نواقض الوضوء المکتبۃ الاسلامیہ ۱ ∞/۵۲€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
تقریب التہذیب ترجمہ عمربن حفص ∞۴۸۹۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۷۱۴€
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
عــــــہ:وقع فی نسخۃ طبع اللیثی وانما ھوالتیمی کما فی الاصابۃ والتقریب ۱۲منہ عــــــہ:مطبوعہ نسخہ میں اللیثی ہے جبکہ یہ تیمی ہے جیساکہ اصابہ اور تقریب میں ہے ۱۲منہ(ت)
شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۳
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ محمدبن عبدالاعلٰی ∞۶۰۸۰€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۰۲€
تقریب التہذیب ∞ترجمہ نبابۃ کوفی ۷۱۱۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۲۴۰€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوزشربۃ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴€
تہذیب التہذیب ترجمہ سعدبن اوس ∞۸۷۱€ دائرۃالمعارف النظامیہ ∞حیدرآباددکن ۳ /۴۶€۷
سنن النسائی کتاب الاشربۃ الکراھۃ فی بیع العصیر ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ ھارون بن ابراہیم ∞۷۲۴۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۲۵۷€
میزان الاعتدال ترجمہ فراس بن یحیٰی ∞۶۶۹۵€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۴۳€
عــــــہ: ای طریق سوید بن عبداﷲ ۱۲منہ
تقریب التہذیب ترجمہ زکریا بن یحیٰی ∞۲۰۳۳€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۳۱۴€
تقریب التہذیب ترجمہ میمون بن مہران ∞۷۰۷۵€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۲۳۷€
سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳€۴
تقریب التہذیب ترجمہ یعلٰی بن عطاء ∞۷۸۷۴ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۴۱€
(رسالہ الفقہ التسجیلی ختم ہوا)
میزان الاعتدال ترجمہ بشیربن المہاجر ∞۱۲۴۳€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۳۰۔۳۲€۹
تقریب التہذیب ترجمہ عبدالملك بن الطفیل ∞۴۲۰۳€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۶۱۶€
جناب مولوی صاحب معظم ومکرم دام ظلکم! یہ چندامور حضورسے دریافت کئے جاتے ہیں:
(۱)اول یہ کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پیشتر اورجونبی گزرے ہیں ان کے وقت میں شراب حلال تھی یاحرام
(۲)دوسرے یہ کہ ایك شخص نے بیان کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہنے آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت میں شراب پی اورحالت نشہ میں نماز میں سورۃ غلط پڑھی
(۳)اورتیسرے یہ بیان کیاکہ حضرت امیرحمزہ صاحب نے حالت نشہ میں ایك اونٹنی بلاذبیحہ کا دل اورجگرکھایا۔
الجواب:
(۱)اگلی شریعتوں میں بلکہ خود شریعت اسلام کی ابتداء میں شراب کی تحریم نہ تھی ہاں نشہ ہمیشہ ہرشریعت میں حرام رہاہے۔
(۲و۳)امیرالمومنین سیدنا مولاناعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی نسبت امرمذکور کابیان کرنے والا اگر اس شان اقدس مرتضوی پرطعن چاہتاہے توخارجی ناصبی مردودجہنمی ہے ورنہ بلاضرورت شرعیہ عوام کوپریشان کرنے والا سفیہاحمقبد عقلبے ادب ہے۔یہی حال سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت کا ہے بلکہ اس میں قائل نے جھوٹ ملایاہے اسے توبہ لازم ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ :
کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اطاعت والدین وبرادران واجب ہے یا فرض اوردرصورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلا زناکرناچوری کرناڈاڑھی منڈانا یاکتروانا ترك اطاعت واجب ہے یا اب بھی اطاعت کرنا چاہئے اوراگربعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یاچھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ ڈاڑھی منڈانا یازناکرنا یاچوری کرنا چھوڑدواوراس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ توضرور کروں گا۔اس حالت میں اطاعت کرے یا نہیں اوراگروہ شخص توبہ سے انکارکرے توکافرہوا یا نہیں
الجواب:
اطاعت والدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ امور جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتاہاں اگروہ کسی ناجائز بات
مسئلہ۳۰:بیجاپور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ فقیرمحمدبن حافظ سلیمان میاں محلہ بھوڑواڑہ ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانے میں جوشراب مہوہ سے بناتے ہیں اور عرق کی طرح کھینچے جاتے ہیں اور اس کانام شراب ہے اور تمام ملك میں مستعمل ہے پس ایك حکیم صاحب فقہ اوراہل علم ہے ان کی رائے ہے کہ تیزاب کی طرح نکالاجاتاہے اگرچہ بسبب مسکر کے حرام تو ہے لیکن دوا میں استعمال کرنایادواکے واسطے پیناجائز ہے اورآٹھ قسم فقہ میں جوہے اس میں سے کسی قسم میں یہ شراب نہیں ہاں سکر کرے جب حرام ہے دوامیں پینا تھوڑاپیناکسی بیماری میں حرام نہیں اورحد اس پر نہیں۔یہ کہنا حکیم صاحب کاصحیح ہے یاغلط اور اس پر ایك درمختار کامسئلہ افیون بھی پیش کرتے ہیں۔
الافیون حرام الا لصاحب التداوی وغیرہ۔ افیون(افیم)حرام ہے سوائے اس شخص کے جو بطورعلاج استعمال کرے(ت)
کی طرح اس کوبھی سمجھنا یاخمر کے موافق یہ شراب کیسے ہے اورحکم اس کا کیاہے بینواتوجروا اجرکم اﷲ اجروافیا۔
الجواب:
صحیح یہ ہے کہ مائعات مسکرہ یعنی جتنی چیزیں رقیق وسیال ہوکرنشہ لاتی ہیں خواہ وہ مہوہ سے بنائی جائیں یاگڑیاناج یالکری یاکسی بلاسے وہ سب شراب ہیں ان کاہرقطرہ حرام بھی اورپیشاب کی طرح نجس وناپاك بھی اوران سے نشہ میں شراب کی طرح حد بھی ہے اورصحیح یہ ہے کہ دوا میں بھی ان کااستعمال حرام ہی ہے بخلاف ان چیزوں کے جوبغیرسیال ہونے کے نشہ رکھتی ہیں جیسے افیونمشك وزعفران وغیرہ
حرمھا محمد مطلقا قلیلھا وکثیرھا وبہ یفتی وھو نجس ایضا ولوسکرمنھاالمختار فی زماننا انہ یحدوبہ یفی اما عند قصد التلھی فحرام اجماعا اھ ملتقطا۔ امام محمد نے اس کو مطلقا حرام قراردیاہے چاہے قلیل ہو یا کثیراوراسی پرفتوی ہےاوروہ نجس بھی ہےاگراس سے نشہ آئے توہمارے زمانے میں مختار یہ ہے کہ اس پرحد جاری کی جائے گی اسی پرفتوی ہے اورلہوولعب کے ارادے سے پینا بالاجماع حرام ہے اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقا الا فی المعائعات لمعنی خاص بھا واما الجامدات فلا یحرم منھا الاالکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ الخ۔ خلاصہ یہ ہے کہ کثیر نشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست لازم نہیں آتی سوائے مائعات کے اس معنی کی وجہ سے جو ان کے ساتھ خاص ہے۔لیکن جامد اشیاء میں سے صرف زیادہ مقدار جوکہ نشہ آور ہے وہی حرام ہے۔اور اس کے حرام ہونے سے اس کانجس ہونالازم نہیں آتا الخ(ت)
درمختارمیں ہے:
المحرم شرعا لایجوز الاتنفاع بہ للتداوی ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جوچیزشرعا حرام ہے اس سے علاج معالجہ کے لئے نفع حاصل کرنا جائزنہیں۔(ت)واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: ۴/صفرمظفر۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںحرمت بنگ مثل حرمت شراب کے ہے
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹۳€
درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۰€
قال محمد رحمۃ اﷲ علیہ ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام وھو نجس ایضا قالوا وبقول محمدناخذ انتھی۔ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا جس کاکثیر نشہ دے اس کاقلیل بھی حرام ہے اور وہ نجس بھی ہے۔علماء کرام نے کہا کہ ہم امام محمد کے قول سے اخذ کرتے ہیں انتہی(ت)
الجواب:
خمر کی حرمت قطعیہ بلکہ ضروریات دین سے ہے اس کے ایك قطرہ کی حرمت کامنکر قطعا کافر ہے باقی مسکرات میں یہ حکم نہیں۔ ہاں بنگ وغیرہ کسی چیز سے نشہ کی حرمت کامنکرگمراہ ومخالف اجماع ہے شراب کی حرمت بعینہا ہے اوربنگ کی حرمت بعلت اسکار ہے نشہ بازی بنگ یاافیون کسی بلاد سے ہومطلقا کبیرہ ہےشراب کسی طرح کی ہو صرف حرام ہی نہیں بلکہ اس کی ایك ایك بوند نجس ناپاك ہے ھوالصحیح وعلیہ الفتوی(وہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ت)اوربنگ وافیون وغیرہما اشیاء جن کی خشکی میں بھی نشہ ہے ان کامسکرہونا ان کے بائع وسیال پانی کی مثل بہنے والی ہونے پر موقوف نہیں وہ نجس نہیں ان کا نشہ حرام ہے یہیں سے ظاہرہواکہ بنگ کے رنگ سے یابنگ کپڑے میں
جامع الترمذی ابواب الاشربۃ باب ماجاء مااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الاشربۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۷€
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکرکروجب تم ہدایت پرہوتو گوئی گمراہ تمہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقا الا فی المائعات لمعنی خاص بھا اما الجامدات فلا یحرم منھا الا الکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ خلاصہ یہ ہے کہ کثیرنشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست مطلقا لازم نہیں آتی سوائے مائعات یعنی بہنے والی اشیاء کےاس معنی کی وجہ سے جوان کے ساتھ خاص ہے رہیں جامدات یعنی ٹھوس اشیاء تو ان میں سے صرف کثیر نشہ آور مقدارہی حرام ہے اوراس کی حرمت سے اس کی نجاست لازم نہیں آتی۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲: المرسل عبدالحکیم ازملك بنگالہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارہ میں کہ بعض جاہل بلکہ عالم یہ کہتے ہیں کہ
ردالمحتار کتاب الاشربۃ داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۵ /۲۹۳€
الجواب:
حقے کے پانی کو ناپاك بتانا محض جہالت اورشریعت مطہرہ پرافتراہےاورحقہ جس طرح بعض جاہل افطاررمضان کے وقت پیتے ہیں جس سے کہ حواس میں خلل آتاہے ضرورناجائزاورگناہ ہےاور تکیے وغیرہ کاحقہ جومدتوں تازہ نہ ہوتاہواور کریہہ بدبودے مکروہ ہےاورعام حقہ جیساکہ اہل تہذیب پیتے ہیں جس میں بدبو نہیں ہوتی وہ محض مباح ہےوقدفصلناہ فی فتاوانا(اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: ازمارہرہ بنام شیخ امیراحمد ۱۲جمادی الاولی ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادویہ انگریزی استعمال ہوں یانہ ہوں اوراگرہوں تووہ کون سی ہے جس کوبلاتکلف استعمال کرلیںاورعام فتوی ان کامطلوب ہے کل ادویات کی نسبت قابل استعمال اورناقابل استعمالآیا کل ادویہ ممنوع ہیں یاوہ صرف جن میں اثر شراب ہے خواہ پینے کی ہو خواہ مالش کی ہوجواب جلد آئے تاکہ استعمال اورعطریات کابھی معلوم ہوجائے کہ کل عطرمنع ہیں جس میں آمیزش شراب کی ہوبظاہر آمیزش شراب معلوم ہوتی ہومگراس میں خلط ہو اورایسے عطریات کی مالش کیئے جائیں یاسونگھے جائیں اس کی تفصیل بھی ہوجائے۔
الجواب:
انگریزی رقیق دوائیں جوٹنچرکہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ ہوتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہےان کاکھانا حراملگانا حرامبدن یاکپڑے یادونوں کی مجموع پرملاکر اگرروپیہ بھرجگہ سے زیادہ میں ایسی شیئ لگی ہوئی نمازنہ ہوگی ہاں خشك دواجس میں کسی نجاست کی خلط کاحال معلوم نہ ہو لگاناجائزہے اوراگرکسی حرام شیئ کا اختلاط معلوم نہ ہو تو کھانے کی بھی اجازت ہےاورافضل احتیاط ہے۔انگریزی عطروں کاحال فقیر کومعلوم نہیں سوا اس کے کہ بہت بدبو کریہہ الرائحہ ہوتی ہیں رقیق اشیاء میں ان کی قوت رکھنے کے لئے ڈاکٹری نسخوں میں اسپرٹ ہی کامطلقا استعمال ہے لہذا ان سے احتراز ہی چاہئےاوراگرثابت ہوجائے کہ ان میں اسپرٹ ہے تو ان کانہ صرف لگانا بلکہ سونگھنا بھی ناجائزہے کہ شراب کے مول لینے والے اٹھانے والے پربھی لعنت فرماتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروزقیامت حقہ پینے والے سے حضور سرورکائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام روئے مبارك پھیر لیں گے اوردرودشریف اس کاپڑھنا قبول نہ ہوگا،یہ بیان غلط ہے یاصحیح؟ €&بیّنواتوجروا€∞۔
الجواب:
یہ سب دروغ کاذب ہے اورشریعت مطہرہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراء،حقہ تومباح ہے،اگربفرض غلط حرام بھی ہوتا تواتنا گناہ نہ ہوتا جس قدررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کرنا کبیرہ شدیدہ ہے جس کے بعد بس کفرہی کادرجہ ہے €&ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،واﷲ تعالٰی اعلم۔€∞
مسئلہ ۳۵،۳۶: مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب ازبہرام پورضلع مرشدآباد بنگال ۲۱صفر۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتے ہیں کہ تاڑی کے خمیر سے ڈبل روٹی پکائی جاتی ہے مسلمانوں کے لئے کھاناکیساہے؟
(۲)اس ملك میں اکثر کھجوروں کارس نکالتے ہیں اس رس کاگڑ بناتے ہیں اکثرکھیربھی پکاتے ہیں اگرتازہ رس جوکہ شیریں ہوتاہے اورلوگ پیتے بھی ہیں دودھ یاکہ خمیرملاکرتاڑی بناتے ہیں تاڑی کے پینے سے نشہ ہوتاہے مسلمانوں کے لئے یہ کیساہے،ازروئے شرع جواب فرمائیے۔اﷲ تعالٰی اجرعطافرمائے گا۔
الجواب:
(۱)اگرثابت ہوتو اس سے احتراز چاہئے۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
(۲)جب تك اس میں نشہ نہیں حلال ہے اور اس کی کھیر اورگڑ بھی جائزہیں اورنشہ لانے کے بعد حرام بھی ہیں اورپیشاب کی طرح نجس بھی۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۳۷: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی وانمباڑ
اسپرٹ کااستعمال خوردنی اشیاء میں یارنگ وغیرہ میں جائزہے یانہیں؟ بہت سے لوگ اس کو شراب کہتے ہیں۔
الجواب:
اسپرٹ واقعی شراب بلکہ سب شرابوں سے تیزوتند ہے حتّٰی کہ اپنی تیزی کے سبب سم ہوگی
مسئلہ ۳۸: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی دانمباڑ
پاؤروٹی جوہندوستان میں اکثر جگہ تاڑی کے لگاؤ سے پکاتے ہیں اس کااستعمال جائزہے یانہیں اورجونہ معلمو ہوکہ یہ روٹی تاڑی سے بنی ہے اس کاکھاناکیساہے اورجوتاڑی شامل ہواس کوجان کرجوکھائے اس پرتوبہ لازم ہے یانہیں اور وہ شخص حرام شیئ کاحلال سمجھنے والا ہوایانہیں
الجواب:
مسئلہ تحریم حلال کوتویہاں کوئی تعلق نہیں جب تك نشہ کوحلال نہ جانے
لانھا فی الحرمۃ القطعیۃ ولیست فی تلك المشروبات الا فی الخمر المسکر حرام قطعا اجماعا۔ اس لئے کہ یہ حرمت قطعیہ میں ہے حالانکہ ان مشروبات میں حرمت قطعیہ نہیں سوائے نشہ آورخمر کے کہ وہ بالاجماع حرام قطعی ہے(ت)
اورجب یہ معلوم نہ ہوکہ یہاں روٹی میں تاڑی پڑتی ہے یانہیں تو اس کاکھانا بھی حرام نہیں لان الاصل الاباحۃ ولایثبت حکم بالشک(کیونکہ اصل اباحت ہے اورشك کے ساتھ کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ت)ہاں اہل تقوی کوبچنابہتر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فمن اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ۔ جوشبہات سے بچا اس نے اپنے دین اورعزت کوبچالیا۔(ت)
اورنہ بچیں تومواخذہ نہیں۔اشباہ ودرمختارمیں ہے:
لیس زماننا زمان اتقاء الشبھات ۔ ہمارازمانہ شبہات سے بچنے کازمانہ نہیں(ت)
الاشباہ واالنظائر الفن الثانی کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۰€۸
مسئلہ ۳۹: ازڈاك خانہ مہرگنج محلہ چرلکھی ضلع ہریسال ملك بنگالہ مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یك جماعت ظاہرشدہ اندتمباکو راحرام گویند وحقہ نوشید راحرام زادہ گویندقول امام وصاحبان را اتباع نکنند۔ ایك جماعت ظاہرہوئی جس کے لوگ تمباکوکو حرام اورحقہ پینے والے کو حرامزادہ کہتے ہیں۔وہ لوگ امام صاحب اور صاحبین کی اتباع نہیں کرتے(ت)
الجواب:
تمباکو خوردن وکشیدنوشمیدن ہمہ رواست کما حققنا ہ فی حقۃ المرجانوقد قال فی غمز العیون منہ یعلم حل شرب الدخان وآنکہ حرام زادہ گفت تعدی برشرع کردو ظلم برمسلمانان عجب ست کہ بمقتضائے حدیث حرامزادہ نباشد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایبغی علی الناس الا ولد بغی اومن فیہ عرق منہ وہرکہ اتباع ائمہ نکندبری ازاتباع نتواں بود متبع شیطان ست تمباکو کھاناپینااور سونگھنا سب جائزہے جیساکہ ہم نے رسالہ "حقۃ المرجان"میں اس کی تحقیق کی ہے۔غمزالعیون میں فرمایا کہ اس سے تمباکونوشی کاحلال ہونامعلوم ہوا۔اور جس نے حرامزادہ کہا اس نے شریعت پرزیادتی اورمسلمانوں پر ظلم کیا۔عجب نہیں کہ وہ خود حدیث کے تقاضے کے مطابق حرامزادہ ہو۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو زناکاروہی قراردیتاہے جو ولدزناہویااس میں زنا کی کوئی راگ ہو اور جوائمہ کرام
شعب الایمان ∞حدیث ۶۶۷۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵ /۲۸۶،€کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی ∞حدیث ۳۰۴۵۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۱۹€
مسئلہ ۴۰ تا ۴۲: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپورنعمت بوڑھا ۹محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کھجورکارس جو اس کے درخت کو چھیل کر ہنٹنی کے پاس سے نکالتے ہیں اس کاپینا کیساہے
(۲)تاڑکاپھل جس میں رس ہوتاہے اس رس کونکال کرتاڑی پیتے ہیں اورنشہ کی وجہ سے بدمست ہوجاتے ہیں لیکن پھل کھانے سے نہیں۔بدمست ہوجانا پھل کھانا کیساہے
(۳)تاڑی جونشہ کی چیزہے اس کاسرکہ بناکرکھانا کیساہے
الجواب:
(۱)جب تك نشہ نہ لائے جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)پھل کھاناجائزہے اورتاڑی پیناحرام۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)جب حقیقۃ سرکہ ہوجائے جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۳: اخترحسین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۳صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ سوائے شراب کے بھنگافیونتاڑیچرس کوئی شخص اتنی مقدار میں پیئے کہ اس سے نشہ نہ آئے وہ شخص حرام کامرتکب ہوا یا نہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
نشہ بذاتہ حرام ہےنشہ کی چیزیں پیناجس سے نشہ بازوں کی مشابہت ہو اگرچہ نشہ تك نہ پہنچے یہ بھی گناہ ہے یہاں تك کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ خالص پانی دورشراب کی طرح پینا بھی حرام ہے ہاں اگردواکے لئے کسی مرکب میں افیون یابھنگ یا چرس کا اتنا جزڈالاجائے جس کا عقل پراصلا اثرنہ ہوحرج نہیں بلکہ افیون میں اس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ معدے میں سوراخ کردیتی ہے جوافیون کے سواکسی بلاسے نہیں بھرتے توخواہی نخواہی بڑھانی پڑتی ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۴: شہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ عبدالرحیم تاریخ ۲۱ ماہ شعبان ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك سائل کوچہ وبازار میں
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ملعون من سأل بوجہ اﷲ وملعون من سئل بوجہ اﷲ ثم منع سائلہ مالم یسأل ھجرارواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ ملعون ہے جواﷲ کاواسطہ دے کرکچھ مانگے اورملعون ہے جس سے خداکاواسطہ دے کرمانگاجائے اس سائل کو نہ دے جبکہ اس نے کوئی بیجاسوال نہ کیاہو(اس کوطبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سأل باﷲ فاعطی کتب لہ سبعون حسنۃرواہ البیھقی فی شعب الایمان عن جس سے خداکاواسطہ دے کرکچھ مانگاجائے اور وہ دے دے تو اس کے لئے سترنیکیاں لکھی جائیں(اس کوبیہقی نے شعب الایمان
کنزالعمال بحوالہ ھب عن ابن عمر ∞حدیث ۱۶۰۷۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۳۶۳€
اورمروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سألکم باﷲ فاعطوہ وان شئتم فدعوہ۔رواہ الامام الحکیم الترمذی فی النوادر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جو تم سے خدا کاواسطہ دے کرمانگے اسے دو اور اگرنہ دینا چاہو تواس کابھی اختیار ہے(اس کو امام حکیم ترمذی نے نوادر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لایسأل بوجہ اﷲ الا الجنۃ۔رواہ ابوداؤد والضیاء عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ اﷲ کے واسطے سے سوائے جنت کے کچھ نہ مانگاجائے(اس کو امام ابوداؤد اورضیاء نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
علمائے کرام نے بعد توفیق وتطبیق احادیث یہ حکم منقح فرمایاکہ اﷲ عزوجل کاواسطہ دے کرسوا اخروی دینی شیئ کے کچھ نہ مانگا جائے اور مانگنے والااگرخدا کاواسطہ دے کرمانگے اوردینے والے کا اس شیئ کے دینے میں کوئی حرج دینی یادنیوی نہ ہوتو مستحب وموکد دیناہے ورنہ نہ دے بلکہ امام عبداﷲ بن مبارك رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جوخدا کاواسطہ دے کرمانگے مجھے یہ خوش آتاہے کہ اسے کچھ نہ دیاجائے یعنی تاکہ یہ عادت چھوڑدےاس تفصیل سے سب سوالات کاجواب واضح ہوگیا۔جوخداکا واسطہ دے کربیٹی مانگے اور اس سے مناکحت کسی دینی یادنیوی مصلحت کے خلاف ہے یا دوسرا اس سے بہترہے توہرگزنہ مانا جائے کہ دخترکے لئے صلاح واصلح کالحاظ اس بیباك سے اہم واعظم ہے اور روپیہ پیسہ دینے میں اپنی وسعت وحالت اور سائل کی کیفیت وحاجت پرنظردرکار ہے اگریہ سائل قوی تندرست گدائی کاپیشہ ورجوگیوں کی طرح ہے توہرگز ایك پیسہ نہ دے کہ اسے سوال حرام اوراسے دیناحرام پراعانت کرناہے دینے والا گناہگارہوگااوراگرصاحب حاجت ہے اور
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب کراھیۃ المسألۃ بوجہ اﷲ تعالٰی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۵€
ثلثۃ لایستخف بحقھم الاالمنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ رواہ ابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ تین شخص ہیں جن کے حق کوہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلا منافق ازانجملہ ایك بوڑھا مسلماندوسرا عالم کہ مسلمان کو نیك بتائےتیسرا بادشاہ مسلمان عادل۔(اس کوابوالشیخ نے توبیخ میں حضرت جابر سے اورطبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
پہلے بھی ایك سوال میں یہ تنبیہ وتوبیخ کے کلمات اس سائل نے لکھے تھے اس پرچشم پوشی کی گئی اب یہ دوسری بار ہے لہذا اطلاع دی گئی سائل کواگران الفاظ کے لکھنے کی ضرورت ہے ہی توشروع سوال میں کیافرماتے ہیں علمائے دینمطلق نہ لکھاکرے جس سے توہین علماء پیداہو بلکہ خاص اس فقیرکانام لکھ کر اخیرمیں جیسے الفاظ چاہے لکھے واﷲ الھادی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(رہن کابیان)
مسئلہ ۴۵: ۲۲صفر ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیئ مرہونہ کو اپنے استعمال میں لانا یا اس میں سکونت کرنا کسی طور سے جائز ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
کسی طرح جائزنہیںحدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔اخرجہ الحارث عن سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجھہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ یعنی قرض کے ذریعہ سے جومنفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔(اس کی تخریج حارث نے سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے کی اور حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے اس کونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی خود شرح درمختارمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں
مسئلہ ۴۶: ۲۲/صفر۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان مثلا سوروپیہ کو زیدنے عمرو کے پاس رہن رکھاعمرو نے اس خیال سے کہ مجھ کومکان مرہونہ میں سکونت ناجائزہے بکرہندو کے ہاتھ بعوض اسی قدر پرزررہن کے رہن کردیا اوراپنااتناہی روپیہ بلا کسی نفع کے بکر سے لے لیااب اس مکان میں عمرو کوبکر سے کرایہ پر لے کرسکونت اختیارکرنا جائزہے یانہیں اورمعاملہ مذکورہ شرعا درست ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
شرع مطہر نے عقدرہن صرف اس لئے مشروع فرمایاہے کہ قرض دہندہ کواپنے روپیہ کا اطمینان ہوجائے اوروصول نہ ہونے کا اندیشہ جاتارہے اس کی مالیت سے ایك حق مرتہن کا متعلق ہوجاتاہے اورعین شیئ میں سواحفظ وحبس کے کوئی استحقاق نہیں ہوتا مرہون کے رہن یا اجارہ کااسے اختیارنہیں کہ وہ شے اس کی مملوك نہیں صرف اس کے پاس محبوس ہے۔
فی الدرالمختار لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا لاباستخدامہ ولاسکنی ولالبس ولااجارۃ ولااعارۃ الخ وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن شرح الطحاوی لیس للمرتھن ان یرھن الرھن۔ درمختارمیں ہے مرتہن کومرہون کے روك رکھنے کااختیارہے اس سے کسی قسم کانفع اٹھانے کی اجازت نہیںنہ اس سے خدمت لینے کینہ سکونت کینہ پہننے کینہ اجرت پردینے کی اورنہ عاریت پردینے کی الخردالمحتارمیں ہے تاتارخانیہ سے بحوالہ شرح الطحاوی منقول ہے کہ مرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون کورہن پردے دے۔(ت)
یہاں تك کہ اگربے اذن راہن ان تصرفات کاارتکاب کرے گا گنہگارہوگا اورغاصب ٹھہرے گا۔
کما نص علیہ فی غایتہ ولذالوھلك ھلك بالقیمۃ بالغۃ مابلغت لابالدینفی الدرالمختار ضمن بایداعہ واعارتہ واجارتہ واستخدامہ وتعدیہ کل قیمتہ اھ وفی الھندیۃ عین الرھن امانۃ فی ید جیساکہ غایۃ البیان میں اس پرنص کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ اگرمرہون ہلاك ہوجائے تو وہ قیمت کے بدلے میں ہلاك ہو جائے گا چاہے جتنی بھی قیمت ہوجائے نہ کہ قرض کے بدلے میں درمختارمیں ہے کہ مرتہن مرہون کی کل قیمت کا ضامن ہوگا جبکہ وہ مرہون کو ودیعت رکھےعاریت پردے اجارہ پردےاس سے خدمت لے یاتعدی کرے الخ ہندیہ میں ہے
ردالمحتار کتاب الرھن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۹€
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
اوراگرباذن راہن واقع ہوں تو یہ تصرفات اگرچہ جائزونافذہوں گے مگروہ رہن زائل ہوجائے گا اورمرتہن مذکورمرتہن نہ رہے گا
فی الدرالمختار الاجارۃ والرھن من اجنبی اذا باشرھا احدھما باذن الاخر یخرج عن الرھن ثم لایعود الابعقد مبتدأ لانھا عقود لازمۃ بخلاف العاریۃ اھ ملخصا۔ درمختارمیں ہے اجنبی شخص سے مرہون کااجارہ یاعقدرہن جبکہ راہن اورمرہون میں سے کوئی ایك دوسری کی اجازت سے اس کامباشر ہوتو وہ رہن سے خارج ہوجاتاہے پھرسوائے نئے عقد کے رہن کی طرف عود نہیں کرتا اس لئے کہ مذکورہ بالاعقود لازم ہیں بخلاف عاریت کے الخ ملخصا(ت)
بہرحال یہ حیلہ عمرو کوکچھ مفیدنہیں کہ اگرزید کااذن نہ تھا تویہ عقود مال غیر میں تصرف بےجا وگناہ ہے نہ اس مکان میں رہنا جائزاوراگرباذن زیدواقع ہوئے یابعد وقوع اس نے جائز کردئیے تواجارہ صحیح اورمکان میں سکونت حلال بعداجازت اورجو کرایہ ہو اس کامالك زیدمگرمکان رہن سے نکل گیا۔
فی شرح الطحاوی ثم التتارخانیۃ ثم الشامیۃ ان رھن باذن الراھن صح الثانی وبطل الاول اھوفی الھندیۃ ان آجر المرتھن شرح طحاوی پھرتاتارخانیہ پھرشامیہ میں ہے اگرمرتہن نے راہن کی اجازت سے مرہون شیئ کو کسی کے پاس رہن رکھا تودوسرا رہن صحیح اورپہلا باطل ہوگیا الخ ہندیہ میں ہے کہ
الدرالمختار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴€
ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیۃ عن شرح الطحاوی کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۲۹€
شقوق اس مسئلہ میں بکثرت ہیں
لان رھن المرتھن اما ان یکون باذن الراھن اولا و علی الثانی اما ان یجیز اویرد اولا ولافھذہ اربعۃ وعلی کل منھا مثلہا فی الاجارۃ فتکون ستۃ عشر و ان جعل الاولان من التشقیقین واحدا لاتحاد الحکم فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ کما فی الخیریۃ فتبقی تسعۃ۔ کیونکہ مرتہن کامرہون کو رہن رکھنا یاتوراہن کی اجازت سے ہوگا یاایسانہیں ہوگابصورت ثانی راہن اجازت دے دے گا یارد کردے گا یانہ اجازت دے گا اور نہ ہی رد کرے گا تو اس طرح چارصورتیں ہوجائیں گی پھر ان میں سے ہرایك میں یوں ہی چار صورتیں اجارہ کی بنیں گیچنانچہ مجموعی احتمالات سولہ ہوجائیں گے اوراگردونوں تشقیقوں کی پہلی صورت کو اتحاد حکم کی وجہ سے ایك بنادیاجائے کیونکہ اجازت لاحقہ وکالت سابقہ کی طرح ہوتی ہے جیساکہ خیریہ میں ہےتوباقی نوصورتیں بچیں گی(ت)
لیکن حاصل حکم اسی قدرہے کہ یاتو رہن معدوم یایہ اجارہ بےجا اورسکونت ناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۷: ۲۲/صفر۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرتہن سے مکان مرہون کرایہ پرلینا مالك مرہون یاغیرمالك کومباح ہے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
مرتہن سے راہن کاشیئ مرہون کوکرایہ پرلینااصلا وجہ صحت نہیں رکھتاکہ مالك کااپنی ملك کو
الفتاوی الخیریۃ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۶€
فی الہندیۃ آجرھا من الراھن لاتصح الاجارۃ۔ ہندیہ میں ہے مرتہن نے مرہون شیئ راہن کو اجرت پردی تواجارہ صحیح نہیں ہوگا۔(ت)
اوراجنبی کوبھی مرتہن سے اجارہ پرلینامباح نہیں کہ وہ غیرمالك ہے اورکرایہ پردینے کااصلا اختیارنہیں رکھتاتو جس طرح مرتہن اس فعل سے گناہ گارہوگا کہ اس نے ملك غیر میں تصرف بیجا کیااس لئے کرایہ اسے حلال نہ ہوگابلکہ شرع حکم دے گی کہ خیرات کردے یاراہن کودے دے اوریہ اولی ہے کما حققناہ فی تحریر مستقل(جیساکہ ہم نے مستقل تحریرمیں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)اسی طرح یہ مستاجر بھی جبکہ جانتاہوکہ مکان اس کی ملك نہیں بلکہ اس کے پاس بطوررہن ہے اس سے کرایہ پرلے کرمبتلائے گناہ ہوگا کہ یہ غیر کے مکان میں بے اس کے اجازت کے رہا اورمرتہن کوگناہ پرمعاون ہوا
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ومن القواعد المقررۃ ان ماحرم اخذہ حرم اعطائہ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:"اورگناہ اورزیادتی پرباہم مددنہ کرو" اورمسلمہ قواعدمیں سے ہے کہ جس چیزکالیناحرام اس کادینا بھی حرام ہوتاہے۔(ت)
ہاں اگریہ اجار ہ باذن راہن واقع ہویاراہن بعد وقوعاجازت دے دے توبیشك عقد جائزونافذ اوررہنا حلال ومباح ہوجائے گا مگر اس تقدیرپر درحقیقت راہن سے اجارہ لیناہوانہ مرتہن سے ولہذا بعد اجازت جوکرایہ آئے گا اس کامالك راہن ہوگا اوراس صورت میں مکان مرہون رہن سے نکل جائے گا کما فی الھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۸: ازجالندھر محلہ راستہ بھگواڑہ دروازہ مرسلہ میاں شمس الدین شعبان ۱۳۱۰ھ
گروی زمین ومکانات سے نفع اٹھانا جائزہے یانہیں
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۸۹€
حدیث میں ہے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۔رواہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمومنین المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوقرض کوئی نفع کھینچ کرلائے وہ سود ہے۔اس کوحارث نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
اوراگراس بنا سے جدا ویسی ہی باہمی سلوك کے طورپر کوئی نفع وانتفاع ہوتووہ مدیون کی مرضی پرہے اس کے خالص رضاواذن سے ہوتو روا ورنہ حراماب یہ بات کہ یہ انتفاع بربنائے قرض ہے یابطورسلوك اس کے لئے معیار شرط وقراردادہے یعنی اگر قرض اس شرط پردیاکہ نفع لیں گے تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوااوراگرقرض میں اس کاکچھ لحاظ نہ تھا پھر آپس کی رضا مندی سے کوئی منفعت بطوراحسان ومروت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوك ہے نہ بربنائے قرض تومدار کارشرط پر ٹھہرا یعنی نفع مشروط سود اورنفع غیرمشروط سودنہیں بلکہ باذن مالك مباحپھرشرط کی دوصورتیں ہیں:نصا یعنی بالتصریح قرارداد انتفاع ہوجائےاورعرفا کہ زبان سے کچھ نہ کہیں مگربحکم رسم ورواج قرارداد معلوم اوردادوستد خودہی ماخوذومفہوم ہو ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام وسودہے
فان المعہود کالمشروط لفظا۔ اس لئے کہ بے شك جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ ایساہی ہوتاہے جیسے لفظوں میں مشروط ہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
قالوا اذا لم تکن المنفعۃ مشروطۃ ولامتعارفۃ مشائخ نے کہاجومنفعت مشروط نہ ہو اورنہ ہی متعارف ہوتو اس میں کوئی
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فیما یدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹€
فتح القدیرمیں ہے:
فی الفتاوی الصغری وغیرھا ان کان النفع مشروطا فی القرض فھو حرام والقرض بھذا الشرط فاسد و الاجازالاتری انہ لو قضاہ احسن مما علیہ لایکرہ اذا لم یکن مشروطا وقالوا وانما یحل ذلك عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاھرفان کان یعرف ان ذلك یفعل لذلك فلا اھ ملخصا۔ فتاوی صغری وغیرہ میں ہے کہ اگرقرض میں نفع کی شرط لگائی گئی تونفع حراماورقرض اس شرط کے ساتھ فاسد ہوگا اور اگرشرط نہیں لگائی گئی توجائزہے۔کیاتونہیں دیکھتا کہ جس پر قرض ہے اگروہ قرض سے زیادہ بہترواپس کرے تو یہ مکروہ نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔مشائخ نے کہا عدم شرط کی صورت میں یہ حلال تب ہوگا جب زیادہ واپس کرنے کا عرف ظاہرنہ ہواوراگریہ معروف ہے توپھرایسا کرنا جائز نہیں اھ اختصار۔(ت)
منح الغفار میں جواہرالفتاوی سے ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھوربا والافلا باس بہ۔ جب شرط لگادی گئی تویہ ایساقرض ہوگیاجس میں نفع ہے لہذا وہ سودہوا اور اگرمشروط نہیں توکوئی حرج نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ما فی الجواھر یصلح للتوفیق وھو وجیہوذکر وا نظیرہ فیما لو اھدی المستقرض للمقرض جوکچھ جواہر میں ہے وہ موافقت کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ وجیہ ہے۔اس کی نظیرمشائخ نے ذکرکی کہ جب مقروض قرض دہندہ کو
فتح القدیر کتاب الحوالہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۵۶€
ردالمحتار بحوالہ جواھر الفتاوٰی کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
جب یہ اصل کلی معلوم ہولی حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ اگرمکان وغیرہ شیئ مرہون سے مرتہن کابذریعہ سکونت وغیرہ نفع لینا مشروط ہوچکاہے جیساکہ دخلی رہن ناموں میں اس کی صاف تصریح ہوئی ہے جب تو اس کاصریح سودحرام ہوناظاہرورنہ غالب عرف وعادت رسم ورواج زمانہ صراحۃ حاکم ابنائے زمان اسی نفع کی غرض سے قرض دیتے ہیں اورلینے دینے والے سب بغیرذکر اسے قراریافتہ سمجھتے ہیںاگرمرتہن جانے کہ مجھے انتفاع نہ ملے گا ہرگز عقدنہ کرے اورراہن بوجہ قرض دبا ہوا نہ ہوتوکبھی مجبورا اجازت انتفاع نہ دے ولہذا مرتہن اس نفع وسود کواپناحق واجب جانتے ہیں اورراہن کواس پرمجبورکرتے ہیںتویہ انتفاع اگرچہ لفظا مشروط نہ ہو عرفا بیشك مشروط ومعہود ہے توحکم مطلق حرمت وممانعت ہے۔علامہ احمد طحطاوی پھر علامہ محمدشافعی قدس سرہما ایساہی حواشی درمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ رہن کے وقت وہ مرہون سے نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیںاگرنفع متوقع نہ ہوتو قرض پر درھم ہی نہ دیں گےاوروہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف کاحکم مشروط کے حکم کی مثل ہوتاہے اوریہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
ہاں اگرمرتہن بے لحاظ انتفاع قرض دے اورصرف بغرض وثوق وصول جوتشریع رہن سے مقصود شارع ہے رہن لے اور عاقدین وقت عقد صراحۃ شرط کرلیں مرتہن کسی طرح نفع اٹھانے کامجازنہ ہوگا
وذلك لان ماصار معروفا لایصیر مرفوعا بالسکوت یہ اس لئے ہے کہ جوچیز معروف ہوچکی ہو وہ چپ رہنے سے مرفوع نہیں ہوجاتی
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
پھرراہن اپنی خوشی سے مرتہن کوانتفاع کی اجازت دے اور مرتہن صرف بربنائے اجازت نہ کہ اپنا استحقاق جان کر نفع اٹھائے اور حال یہ ہو کہ اگر راہن اس وقت روک دے تو فورا رك جائے یعنی بعد اس شرط عدم انتفاع کے مالك نے برضائے خودمکان رہن میں رہنے کااذن دیا یہ آکر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے منع کیا تومعا بازرہے اوراصلا چون وچرانہ کرے توایسا انتفاع جب تك رضائے راہن رہے حلال ہوگامگرحاشا ہندوستان میں اس صورت کی صورت کہاںاﷲ عزوجل مسلمانوں کی اصلاح فرمائےآمین! واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۹: ۴/رجب ۱۳۱۲ھ:
زیدنے عمرو سے مبلغ دوہزارروپے بلاسود قرض لئے ایك موضع اپنابطوررہن کے عمرو کے قبضہ میں دے دیاتو فیراس موضع کی تقریبا تین سوروپیہ ہے اس صورت میں بعوض حق المحنت تحصیل وصول زر وادائے سامان حاکم وقت ودیگرکاروبار متعلقہ موضع مذکورکے مبلغ دس روپیہ ماہوار کے حساب سے ایك سوبیس روپیہ سالانہ عمرو کو دیناچاہتاہےپس لینا اجرت مذکورکا عمروکوزید سے بحالت مسطورہ شرعا جائزہے یانہیں اورزید کے کاموں کاانجام دینااور توفیروصول کرکے پہنچانا باخذاجرت وحق المحنت درست ہے یانہیں
الجواب:
رہن واجارہ باہم دوعقد متنافی ہیں کہ شرعا جمع نہیں ہوسکتے جو ان میں بوصف نفاذ دوسرے پرواردہوگا اسے باطل کردے گا کما نص علیہ الکبار فی معتمدات الاسفار(جیساکہ اس پرمعتمد کتابوں میں علماء کبارنے نص فرمائی ہے۔ت) تو رہن دیہات کایہ طریقہ کہ زمین مزارعین پرکے اجارہ پررہے اورگاؤں مرتہن کے پاس رہن ہو محض باطل وبے معنی ہے بلکہ یہ رہن اجازت مستاجران زمین پرموقوف رہے گا اوراگروہ باطل کردیں گے رہن باطل ہوجائے گا اجازت دیں گے تو ان کااجارہ باطل ہوکر ان کی طرف سے استعفاء قرارپائے گا پھربعد استعفاءجب رہن صحیح ہواتو اب زمین زراعت پرنہیں اٹھ سکتی اگرراہن بے اجازت مرتہن زمین
مسئلہ ۵۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس بارے میں کہ ایك مکان پرپختہ زیدکا اوربعد فوت زیدکے وہ مکان بیچ قبض ودخل دونوں لڑکوں زیدکے رہاایك طفل کلاں کا نام عمرواورطفل خورد کانام بکر بباعث تنگدستی کے بکرحصہ اپنا غیر شخص کے ہاتھ مبلغ چہارصد روپیہ کو فروخت کرتاتھا عمرونے ظلم تعدی کرکے مبلغ تین سوروپیہ کوخریدلیا اس میں سے مبلغ ایك سوروپیہ نقدبکرکودئیے اوربالعوض مبلغ صدروپیہ کے مکان سکونت اپنے کا عمرونے پاس بکر کے رہن دخلی کردیا بعدہ وہ مکان بکرایہ سہ روپیہ ماہواری کرایہ پر بکرنے دے دیا وہ کرایہ لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صحت بیع اگربکرنے مکان مرہون باجازت عمروکرایہ پردیا تورہن باطل ہوگیا اورزرکرایہ عمروکو ملے گا بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اورجوعمرو کی اجازت نہ تھی توزرکرایہ بکرکا ہے مگراس کے لئے وہ مال طیب نہیں زرخبیث کو اپنے صرف میں نہ لائے مانع اجابت دعا ہوتاہے کما فی الحدیث(جیساکہ حدیث میں ہے۔ت)بلکہ تصدق کردے یا مالك کو دے دے کما فی غمزالعیون للحموی عن البزازیۃ ونحوہ فی الھندیۃ عن فتاوی قاضی خان(جیساکہ حموی کی غمز العیون میں بحوالہ بزازیہ منقول
مسئلہ ۵۱:ازریاست رام پور
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ ہندہ اززید نابالغ کہ دراں زمان ہشت سالہ بودقرضے گرفت ومکان خود بمیعاد دوماہ نزد اوگروداشت و ہندہ بدستور دراں مکان ساکن بود پس ازاں زید آں مکان رابذریعہ مرتہنی بعمر وپسر ہندہ بحساب یازدہ روپیہ چہار آنہ ماہوار بکرایہ داددرکرایہ گرفتن لفظ عمروہم چنیں بودہ کہ مکان فلانی اززید بچندیں اجرت ماہانہ بکرایہ گرفتم واقرار میکنم کہ تاانفکاك رہن اجرت ماہ بماہ دہم ویك اقرارنامہ نوشت کہ میان دوماہ میعاد مندرجہ رہن نامہ موضع مینی عوض مکان نزدمرتہن رہن خواہم کرد روپیہ کرایہ یکساں بمرتہن دہم لیکن عمرو دران مکان یکروزھم سکونت نور زیدبمکان مملوك خود کہ ہمدراں محلہ واقع است ساکن ماند نہ آں مکان فارغ بودکہ ہندہ خود دروسکونت میداشت کہ ازیں بیاز دہ ماہ فك رہن و تبدیلش بموضع مینی رونمود زیدتاچارونیم سال ازمطالبہ اجرت کیاارشاد ہے آپ کااے علماء کراماﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے آٹھ سالہ نابالغ زید سے قرض لیااوراپنا مکان دوماہ کی مدت کے لئے اس کے پاس رہن رکھ دیااس کے باوجود ہندہ حسب سابق اس مکان میں مقیم رہیپھرزید نے وہ مکان بحیثیت مرتہن لے کرہندہ کے بیٹے عمرو کو گیارہ روپے چارآنے کے ماہانہ کرائے پر دے دیا کرائے پر مکان لیتے ہوئے عمرو نے یہ الفاظ کہے کہ میں نے فلاں مکان زید سے اتنے ماہانہ کرائے پرلیااور میں اقرار کرتا ہوں کہ رہن کے چھڑانے تك ہرماہ کرایہ اداکرتارہوں گا اورایك اقرار نامہ لکھا کہ رہن نامہ میں مندرج دوماہ کی مدت میں موضع مینی مرتہن(زید)کے پاس مکان کے بدلے رہن رکھ دوں گااورکرائے کے روپے باقاعدگی سے ادا کرتا رہوں گالیکن عمرو نے ایك دن بھی اس مکان میں رہائش اختیارنہیں کی بلکہ اپنے مکان ہی میں رہا جواسی محلے میں ہے۔ وہ مکان فارغ نہیں تھا کیونکہ خود ہندہ اس مکان میں رہائش پذیرتھیگیارہ ماہ میں رہن کی واگزاری اور موضع مینی کے ساتھ اس کی تبدیلی رونماہوئی زید ساڑھے چار
الجواب:
رہن مذکورہ ہرگزصحیح نیست واگرنباشد دروجز تقرر اجل تاایں قدرہم افساد رابسنداست فی الاشباہ الاجل فی الرھن یفسدہ ہم چنیں آں اجارہ نیزوجہ صحت ندارد کہ تقریر سوال سپیدمی گوید کہ مدت درپردہ جہالت ماندنفس ایجاب وقبول ازذکر اجل رہن مذکور ہرگزصحیح نہیں ہےاگراس میں مدت کے معین کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تو یہ بھی رہن کے فاسد کرنے کے لئے کافی تھاالاشباہ میں ہےرہن میں مدت کامقرر کرنااسے فاسد کردیتاہےاسی طرح اس اجارہ(کرائے پردینے)کے صحیح ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہےسوال کی عبارت سے
غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۵۰€
الفتاوی الہندیہ کتاب الاجارہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۴۱۴€
مسئلہ ۵۲: ازقصبہ پاڑہم ضلع میں پوری پرگنہ مصطفی آباد مسئولہ محمدصادق علی خاں صاحب ۲۵ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ مسماۃ زینب نے پانچ بسوہ زمینداری ایك موضع کی بقرارداد مبلغ(سالہ ۱۳۹)مالیانہ حق مالکانہ کے مسمی خالد سے واسطے معاش اپنے کے تا مدت گیارہ سال رہن دخلی کی اورمرتہن یعنی خالد مذکور قابض شیئ مرہون ہوابعد چند سال مسماۃ زینب راہنہ فوت ہوئی توبعدازیں بحث مقدمہ اثبات وراثت مسماۃ مریم مدعیہ وارثہ راہنہ جس میں سوت راہنہ اوردوسرا مرتہن جائداد مرہونہ مدعاعلیہما مجیب تھے ازروئے شرع محمد علیہ الصلوات والتسلیم
الجواب:
بلاشبہہ ہے۔تقریرسوال وبیان سائل سے واضح کہ یہاں شخص ثالث نہ فریق مقدمہ تھا نہ راہنہ یا اس کے وارث اپنے غصب کے مقرتوبالائی طورپرغاصب سمجھ لینا ان کے حق فك کو کیا زائل کرسکے جبکہ علماء تصریح فرماتے ہوں کہ راہن اگراقرار بھی کردے کہ شیئ مرہون دوسرے کی ملك ہے تاہم اسے یہی حکم دیں گے کہ فك رہن کراکر مالك کوواپس دےدرمختار باب التصرف فی الرہن میں ہے:
لورھن شیئا ثم اقر بالرھن لغیرہ لایصدق فی حق المرتھن ویؤمربقضاء الدین وردہ الی المقرلہ۔ اگرکوئی شیئ رہن رکھی پھرراہن نے اقرارکیاکہ مرہون شیئ کسی اورکی ملك ہے تومرتہن کے حق میں راہن کی تصدیق نہیں کی جائے گی اورراہن کوحکم دیاجائے گا قرض کی ادائیگی کا اورمرہون شیئمقرلہ کی طرف لوٹانے کا۔(ت)
معہذا جب ملك غیربے اذن غیرکوئی شخص راہن کودے توراہن غاصب اورمرتہن مثل غاصب الغاصب ہوتاہے۔ہدایہ باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل میں ہے:
ان مات العبد المرھون فی یدالمرتھن ثم استحقہ رجل اگرمرہون غلام مرتہن کے قبضے میں مرگیا پھر کوئی اورشخص اس کامستحق نکل آیا تو اس کو
غایۃ البیان علامہ اتقانی باب مذکورمیں ہے:
ای متعد فی حق المستحق اما الراھن فبتسلیم الرھن الی المرتھن واما المرتھن فبالقبض فصار الراھن کالغاصب والمرتھن کغاصب الغاصب۔ یعنی مستحق کے حق میں تعدی کرنے والا ہے۔راہن اس لئے کہ اس نے مرہون شے مرتہن کے سپردکی اورمرتہن اس لئے کہ اس نے مرہون پرقبضہ کیالہذا راہن غاصب کی مثل اورمرتہن غاصب سے غصب کرنے والے کی مثل ہوگیا۔ (ت)
راہن جب کہ مالك سے غاصب اورمرتہن کامدیون ہواتوآخر اسے یہی حکم ہوگا کہ مرتہن کا دین دے اورمالك کو اس کی شیئ واپس کرے اورجب مرتہن اپنا دین پالیتاہے تواسے کوئی حق حبس نہیں رہتا اور جس سے وہ چیز لی تھی یعنی راہن اگرچہ وہ حقیقۃ غاصب ہی ہو اسے سپرد کردینے سے بری الذمہ ہوجاتاہے۔عالمگیری کتاب الغصب باب ثانی عشرمیں ہے:
غاصب الغاصب یرد الی الغاصب الاول لیخرج عن العھدۃ۔ غاصب سے غصب کرنے والا غاصب اول کی طرف مغصوب کولوٹادے تاکہ ذمہ داری سے نکل جائے۔(ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں بعد ادائے دین وارثان راہنہ کوشیئ مرہون واپس دینے میں مرتہن یا اس کے قائمقام کوئی عذر نہیں ہوسکتا اب اگرحقیقتا اس میں شخص ثالث کا
غایۃ البیان کتاب الرھن باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل
الفتاوی الہندیۃ کتاب الغصب الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۴۸€
مسئلہ ۵۳: مسئولہ حاجی غلام حضرت ۵رجب المرجب ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زیدکچھ زیورسونے کاعمرو کے پاس لے کر گیاکہ مجھے روپے کی ضرورت ہے زیور رکھ لو اورروپیہ دے دو میں روپیہ دے کرزیور اپنا لے لوں گا عمرونے کہااس وقت میرے پاس روپیہ نہیں زیدنے کہاتم کسی اور سے یہ کام کرادوعمرو وہ زیوربکرکے پاس لے گیااورزید کامقولہ بکرسے کہابکرنے جواب دیابیس روپے تولہ کے حساب سے اس زیورکے دام دیتاہوں اورایك ماہ تك وعدہ پرواپسی کرتاہوں یك ماہ تك اگرروپیہ نہ دیا تومیں واپس نہ کروں گا عمرونے یہ شرط منظورکرکے روپیہ لے لیا۔زیدکاروپیہ عمروکے پاس قبل وعدہ کے جمع تھا زیدنے اپنے زیور کاتقاضاعمرو سے کیا اورکرتا رہاعمرو اپنے کاروبار میں مصروف تھا بکرسے تقاضا مابین وعدہ نہ کرسکا یہاں تك کہ وعدہ سے عرصہ زیادہ ہوگیا اب عمرو نے بکرسے زیدکا وہ زیورطلب کیا اور روپیہ دیناچاہا توبکرنے زیورواپس کرنے سے انکار کیااور کہامیں نے بعد گزرنے وعدے کے زیور فروخت کردیالیکن بدون اطلاع اوربلااجازت زید وعمرو کے فروخت کیااوروہ زیور اس قدرروپیہ سے جو زید کودیاگیاتھا سوائی قیمت سے بھی زائد کا تھا پس صورت مسئولہ میں شرع شریف کاکیاحکم ہے آیا وہ بکرکو وہ زیور واپس کرنالازم ہے یانہیں اور اس کے نفع کامالك اورنقصان کامتحمل زیدیا عمرویابکر بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ صورت بیع الوفا کی ہے اوربیع الوفا مذہب معتمدین محض رہن ہے اورمرتہن جب بلااذن راہن شیئ مرہون کو بیع کردے تووہ بیع اجازت راہن پر موقوف رہتی ہے بشرطیکہ شیئ مبیع ہنوز موجودہواوراگرمشتری کے پاس ہلاك ہوجائے توراہن کواختیار ہوتاہے کہ مرتہن یامشتری جس سے چاہے اپنی چیزکاتاوان لے لے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل باع رجلا اخر دارا بثمن معلوم الی اجل معلوم بیعا معادا ایك شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس نے دوسرے شخص کے ہاتھ معین ثمنوں کے عوض مدت معلومہ تك کے لئے گھربیچا ایسی بیع کے
جواہرالفتاوی پھرحاشیہ جامع الفصولین پھرردالمحتار میں ہے:
حکمہ حکم الرھن وھو الصحیح ۔ اس کاحکم وہی ہے جورہن کاحکم ہے اوروہی صحیح ہے۔(ت)
اسی طرح جواہرالاخلاص میں ہے کما رأیتہ فیھا(جیساکہ میں نے اس میں دیکھاہے۔ت)شرح الطحاوی پھرجامع الرموزپھر حاشیہ شامی میں ہے:
توقف علی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز و الافلاولہ ان یبطلہ ویعیدہ رھناولوھلك فی ید المشتری قبل الاجازۃ لم تجزالاجازۃ بعدہ و مرتہن اگرمرہون کوبیچ دے تویہ بیع راہن کی اجازت پر موقوف ہوگی۔اگرراہن نے اجازت دے دی توجائزورنہ نہیں۔راہن کواختیارہے کہ بیع کوباطل کرکے اسے رہن کی طرف لوٹادے
ردالمحتاربحوالہ جواھرالفتاوٰی کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۶€
درمختاروردالمحتار میں ہے:
ضمن بتعدیہ(کالبیع بلااذن قھستانی)کل قیمتہ(ای بالغۃ مابلغت لانہ صار غاصبااتقانی)فیسقط الدین بقدرہ اھ مختصرا۔ مرتہن اپنی تعدی کی وجہ سے(جیساکہ بلااجازت بیع قہستانی)کل قیمت کاضامن ہوگا(یعنی وہ قیمت جس قدربھی ہواتقانی)لہذا اس کے برابر قرض ساقط ہوجائےاھ اختصار (ت)
پس صورت مستفسرہ میں بکر پرلازم ہے کہ زیورہنوزنہیں بیچا توفورا اپنا دیاہواروپیہ لے کرکل زیورواپس کردے اوراس مہمل و باطل قراردادکی آڑنہ لے اوراگربکرنے واقع میں بیع کردیا اورزیورہنوز مشتری کے پاس موجودہے توزید کواختیارہے چاہے اس میں بیع کوجائزکردے اورزرثمن تمال وکمال خود لے یارد کردے اگررد کردے تومشتری پرفرض ہے کہ روپے واپس کرے اوراگرزیور تلف ہوگیایااب اس کاپتانہیں چلتاقابو سے باہرہے توزید اس کاپوراتاوان بکر سے لے سکتاہے مثلا اگربکرنے ستر روپے اسے دئیے اورزید کابازار کے بھاؤ سے سوروپے کانکلاتو بکرکے سترروپے ساقط برابر ہوگئے زیادہ کے تیس روپے زید کو دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۴: ازشہرکہنہ مرسلہ عبدالصمدصاحب ۸ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کوشیئ مرہون سے نفع اٹھانا بہ اجازت راہن جائزہے یانہیں
الجواب:
مرہون سے انتفاع حرام محض ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدرالمختار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷،€ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۳€
بہ اجازت راہن نفع اٹھانے کے یہ معنی تھے کہ قرض کے دباؤ سے نہ ہو اور اس کی اجازت ہی کاپابند رہے جب وہ خوشی سے کہہ دے انتفاع کرے اور جس وقت منع کردے فوراباز رہے مثلا اس نے اپنی خوشی سے کہہ دیا کہ مکان میں رہو یہ آکررہا اسی وقت اس نے کہہ دیا مجھے منظورنہیں توفورا نکل جائے کچھ عذرحیلہ درمیان میں نہ لائے ایسایہاں ہرگزنہیں ہوتابلکہ قطعا دباؤپررہتے ہیں اورراہن دباؤہی کے باعث اجازت دیتاہے اوروہ رجسٹری کے کاغذوں میں لکھی جاتی ہے کہ اس کے سبب انتفاع بالجبرکرسکیں اوراگرلاکھ کہے کہ نکل جاؤ ہرگزنہ نکلیں گے اوریہی جواب دیں گے کہ پہلے ہماراقرض دے دو تو جائیں تویہ صورت اجازت سے اصلا متعلق نہیں بالاجماع حرام ورباہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۵۵: ازجائس رائے بریلی محلہ زیرمسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲ صاحب ۲/ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرہون شیئ سے فائدہ اٹھانا مثلا زمین رہن رکھا اس کوجوتتاہے اور اس میں زراعت بوتا ہے اور اس کے مینڈھ وغیرہ بندھواتاہے اس کے نیچے اس کامنافع کھاتاہے اور اس کوقیاس کرتاہے بکری اورگھوڑے کے اوپر جائزہے اس کے منافع کھانایانہیںفقط
الجواب:
مرتہن کو مرہون سے نفع اٹھانا حرام اورنراسودہے
کما افادہ العلامۃ الطحاوی و العلامۃ الشامی فی حاشیتی الدروحققناہ فی فتاویناواﷲ تعالی اعلم۔ جیساکہ علامہ طحاوی اورعلامہ شامی نے درمختارکے حاشیوں میں افادہ فرمایاہے ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۶: ازریاست رامپور متصل کوتوالی مکان مرحوم مجددی مرسلہ مولوی احمدحسین صاحب ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
چند شخص نے ایك ملك مشترك اپنے چندشخصوں کے پاس بالاشتراك رہن کی زررہن
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زرمنافع مرہون مرتہنوں کے حق میں ضرورحرام اورسودہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربااخرجہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اس کی تخریج کی(ت)
عقودالدریہ میں محیط سے ہے:
لیس للمرتھن ولاللراھن ان یزرع الارض ولا یؤاجرھا لانہ لیس لھما الانتفاع بالرھن ۔ راہن اورمرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون زمین میں کاشت کریں کیونکہ انہیں رہن سے نفع اٹھانا جائزنہیں۔(ت)
اشباہ میں ہے:
یکرہ للمرتھن الانتفاع بالرھن باذن الراھن۔ راہن کی اجازت سے مرتہن کو رہن سے انتفاع مکروہ ہے۔(ت)
العقود الدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵€۸
الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۳€
یکرہ للمرتھن ان ینتفع بالرھن وان اذن لہ الراھن۔ مرتہن کورہن سے انتفاع مکروہ ہے اگرچہ راہن اجازت دے دے۔(ت)
درمختار میں ہے:
قال المصنف وعلیہ یحمل ماعن محمد بن اسلم انہ لایحل للمرتھن ذلك ولو بالاذن لانہ ربا۔ مصنف نے کہا اوراسی پرمحمول ہے وہ جو محمدبن اسلم سے مروی ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھاناجائز نہیں اگرچہ راہن کے اذن سے ہوکیونکہ وہ سود ہے۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
فی الجامع لمجد الائمۃ عن عبداﷲ بن محمد بن اسلم انہ لایحل لہ ان ینتفع بشیئ منہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن فی الربالانہ یستوفی دینہ فتکون المنفعۃ ربا۔ مجدالائمہ کی جامع میں عبداﷲ بن محمد بن اسلم سے منقول ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھانا جائزنہیں اگرچہ راہن نے اس کی اجازت دی ہوکیونکہ یہ سود کی اجازت ہے اس لئے کہ مرتہن اپنا قرض پوراوصول کرتاہے تومنفعت سودہوگی۔(ت)
تحقیق یہ ہے کہ انتفاع مرتہن جب مشروط ہوجائے توباہم اس کی قرارداد عمل پرآئے توبالاجماع حرام ہے اورجوامرعرف ظاہر سے معلوم ومعہود ہو وہ بلاذکربھی مثل مشروط ہے اورشك نہیں کہ اب انتفاع مرتہنان کی بلاضرور دائروسائر وعالمگیرہے تو رہن میں اگر اس کاذکربھی نہ آتا عرفا مشروط قرارپاتا اورحرام ہوتاراہنوں کی اجازت قطعا اسی عرف پرمبنی اور اسی قرض کے دباؤ سے ناشیئ ہے یہ نہ ہو توہرگزوہ اجازت نہ دیں کہ ہماری جائداد کامنافع زیدوعمرولیں اورہم نہ پاسکیںمرتہنوں کاقرض دینابھی اسی منافع پرہے اوروہ ضرور
الدرالمختار بحوالہ التہذیب کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€۷
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۳€
طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع واﷲ تعالی اعلم۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ورنہ قرض پردرہم نہ دیں گے اور یہ شرط کی طرح ہوگیاکیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کو متعین کرتاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
راہنوں کا منافع مرتہنوں کوہبہ کردینامحض لغوبے معنی ہے منافع کہ ہبہ کئے گئے اس وقت موجود نہ تھے اورمعدوم کاہبہ باطل ہے اورباطل کے لئے کوئی اثرنہیں۔فتاوی خیریہ میں ہے:
وبھذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاھر۔ اور اسی سے معلوم ہوگیاکہ دونوں قریوں سے اب جو آمدنی حاصل ہوگی اس کا ہبہ بدرجہ اولی صحیح نہیں کیونکہ ہبہ کرنے والے نے ابھی خود اس پرقبضہ نہیں کیاتو کسی کو اس کامالك کیسے بناسکتاہے اوریہ ظاہرہے۔(ت)
الفتاوی الخیریۃ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۱€
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تین سال کاہواکہ ایك دکان زیدنے(ماصہ عہ ۱۲۵) روپیہ پر رہن دخلی بمیعاد پانچ سال حسب فتوی ایك مولوی صاحب کے لیاتھا(یعنی اس عرصہ میں جوکچھ اس کی مرمت میں صرف ہواوہ میرااورکچھ آمدنی اس مدت میں ہوگی وہ میری ہوگی جب روپیہ واپس کروگے دکان چھوڑدوں گا)اورتین سال تك اسی طرح کرتارہا یعنی اس کی مرمت وغیرہ اپنے پاس سے کرکے منافع کولیتارہااب وہی مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہےاب آپ حضرات سے التجا ہے کہ مولومی صاحب کے ان قولوں میں کو ن صحیح ہے اگر وہ واقعی حرام ہے تو اس مدت تین سال میں جوکچھ روپیہ مولوی صاحب نے کھلایااس کاگناہ کن پرہوگا اور وہ روپیہ کس طرح پاك ہوسکتاہے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مولوی صاحب ماخوذوگنہگارہیں کہ انہوں نے حرام غذا کو حلال بتایا اورایك مسلمان کو حرام کھانے میں مبتلاکیااوریہ مسئلہ کوئی ایساخفی نہ تھا کہ عالم پرمخفی رہتارہازید اس کی دوحالتیں ہیںوہ مولوی صاحب جس کے فتوی پر اس نے عمل کیاکوئی ایساہی نام کامولوی تھا جب توزیدبھی ماخوذوگنہگارہےعوام کویہ حکم ہے کہ علمائے معتمدین مفتیان مستندین کے فتوی پر عمل کریں نہ یہ کہ ہر کس وناکس سے پوچھ کراوراگروہ عالم معتمد تھا توجب تك اس فعل کے حرام ہونے پر زیدکو اطلاع نہ ہوئی اس کے لئے امیدآسانی ہے کہ اس نے ایك عالم معتمد کے فتوی پرعمل کیا وہ اسی قدرکرسکتاتھا۔
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا"۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کسی جان پربوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۸: ازشہربریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ جناب سیدحاجی ابوالحسن صاحب پارچہ فروش ۲۵/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
زیدوعمرو نے ایك جائداد باہمی خریدی اورنفع نقصان اس کابرابر ٹھہرایا اسی جائداد کاایك جز ایك اورشخص کے پاس رہن تھا مبلغ (سہ لہ۸۸)روپے پرتو اس کوکہاگیاکہ توہماری
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہواکہ زید نے سوروپے دے کر فك رہن کرایا اورکاغذ میں مرتہن سے ڈھائی سو روپے پانالکھ لیا اس صورت میں اس کا سواسوروپے مانگنا محض ناجائزہے صرف پچاس(مہ۵۰)روپے لے سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۹: ازریاست رامپور محلہ گنج مرسلہ شیخ محمدنور ۳/صفرمظفر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زیدنے ۲۴/اگست ۱۸۹۸ء کوایك دستاویز بہ مضمون بیع نامہ بعوض مبلغ پانصدروپیہ بابت یکمنزلہ دکان مملوکہ خود بنام عمروتحریرکی ہے جس میں شرط مندرجہ ذیل تحریرہے:
مضمون شرط
اگرمیں بائع اندرمدت دس سال کے کل زرثمن یکمشت مشتری کواداکروں تو مبیعہ مذکورہ واپس لے لوں ورنہ بعد انقضائے میعادمذکور کے اسی زرثمن میں یہی بیع قطعی تصور ہوگی لہذا بیعنامہ بالوفا لکھ دیاگیا کہ سندہو۔
عمروفوت ہوگیا زیدنے دکان مذکور پراپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ دکان کاخود وصول کیا ورثائے عمرونے اول زید پرعدالت میں دعوی دلا پانے دخلی کاباستحقاق رہن کیاعدالت سے ڈگری باستحقاق رہن دلاپانے دخلی کی ہوگئی مگرتاہنوز ورثائے عمرو نے دخلی حاصل نہیں کیا ہے اب ورثائے عمروبنام زید دعوی کرتے ہیں کہ جس قدرکرایہ زید نے ایام قبضہ رہنے میں کرایہ دار سے وصول کیاہے وہ ہم کو زید سے دلایاجائےزیدیہ عذر کرتاہے کہ ورثائے عمروشرعا مجھ سے رقم زرکرایہ جومیں نے اپنی مملوکہ دکان سے وصول کیاہے مجھ سے دلاپانے کے مستحق نہیں ہیں شرعا کیاہوناچاہئے جواب بحوالہ کتب فقہ تحریر فرمائیے۔
الجواب:
بیع بالوفاء خالص رہن ہے رہن سے زیادہ کچھ اثرنہیں رکھتی۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ جامع الفصولین عن جواھر الفتاوی ھذا البیع باطل وھو رھن وحکمہ حکم الرھن وھو الصحیح۔ درمختارمیں حاشیہ جامع الفصولین سے بحوالہ جواہرالفتاوی منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے اور وہ رہن ہے اس کا حکم رہن کے حکم کی طرح ہے اور وہی صحیح ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قدفشاھذا البیع بین الناس و فیہ مفسدۃ عظیمۃ وفتواك انہ رھن وانا ایضا علی ذلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا و نظھرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوانا وقد ظھر ذلك بین الناس فمن خالفنا فیہ فلیبرز نفسہ و لیقم دلیلہ۔ اوراکثرمشائخ اس مؤقف پرہیں کہ بے شك وہ رہن ہے اورکسی حکم میں رہن سے مختلف نہیں ہے۔سیدامام نے کہا کہ میں نے امام الحسن ماتریدی سے کہایہ بیع لوگوں میں پھیل چکی ہے اوراس میں فساد عظیم ہے۔آپ کا فتوی یہ ہے جس کے ساتھ میں بھی متفق ہوں کہ یہ رہن ہےدرست بات یہ ہے کہ ہم ائمہ کرام اجماع کرلیں اور اس پرمتفق ہو جائیںاس فتوی کولوگوں میں ظاہرکریںتوانہوں نے فرمایا کہ آج کل ہمارافتوی معتبرہے اوروہ لوگوں میں ظاہرہے۔لہذا جوہماری مخالفت کرے اس کوچاہئے کہ وہ خود ظاہرکرے اور اپنی دلیل قائم کرے۔(ت)
اورشرع مطہر میں رہن واجارہ دوعقدمتنافی ہیں کہ کسی حال جمع نہیں ہوسکتے جو چیز
الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۶€
فقال اﷲ تعالی "" (تورہن ہوقبضہ میں لیاہوا۔ت)اورشیئ واحد وقت واحد میں دو مختلف جہت سے دو قبضوں میں نہیں ہوسکتی۔فتاوی خیریہ میں ہے:
اذا کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر و کان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجروان کان مقبوضا فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر احق بہ من المرتھنوان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجز صاحب القبض السابق العقد المتأخر لانفساخ السابق بالاجارۃ منہ للعقد اللاحق۔ اگرمکان پربطور رہن قبضہ ہو نہ کہ بطوراجارہ تورہن معتبر ہوگا اورمرتہن اس کی مالیت کا بنسبت مستاجر کے زیادہ حقدار ہوگااوراگر قبضہ بطور اجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تومستاجر اس کا زیادہ حقدارہوگا بنسبت مرتہن کےاوراگر اس کے ساتھ دونوں کاقبضہ متصل ہوگیا تودونوں میں سے اس کااعتبارہوگا جو تاریخ میں مقدم ہے جب تك سابق قبضے والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے کیونکہ اس کی طرف سے بعد والے عقد کی اجازت سے پہلے والاعقد فسخ ہوجائے گا۔(ت)
الفتاوی الخیریۃ کتاب الرھن دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۹۳۔۱۹۲€
لایجوز الرھن الامقبوضا وشرط صحۃ القبض ان یأذن الراھن فان قبض بغیر اذن الراھن لم یجز قبضہ اھ مختصرا۔ رہن جائزنہیں جب تك اس پرقبضہ نہ کیاجائےاوراس کے قبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے۔اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتوجائزنہیں ہوا اھاختصارا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
ان ادعی المرتھن الرھن مع القبض یقبل برھانہ علیھما وان ادعی الرھن فقط لایقبل لان مجرد العقد لیس بلازم۔ اگرمرتہن نے رہن کا قبضے سمیت دعوی کیاتو اس کے گواہ رہن اورقبضے پرقبول کرلئے جائیں گے۔اوراگرفقط رہن کا دعوی کیاتو قبول نہیں کیاجائے گا کیونکہ محض عقد سے رہن لازم نہیں ہوتا۔(ت)
اور جب خودعمروکاکوئی حق اس دکان میں ثابت نہیں تو ورثاء عمرو کاکیاحق ثابت ہوسکتاہےسائل کاکہنا کہ زیدنے دکان مذکور پر اپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ خود وصول کیا اسی غلط فہمی پرمبنی ہے جوعوام میں پھیلی ہوئی ہے کہ شیئ مواجرکے رہن کوبھی با وصف بقائے اجارہ اپنے زعم میں رہن صحیح وتام سمجھتے ہیں ورنہ حقیقۃ قبضہ مستاجرکا ہے اورملك زیدکی ہے اورعمرو کی ہنوز نہ مرتہنی پوری ہوئی نہ اس کاکوئی قبضہبالجملہ شك نہیں کہ زر کرایہ کامالك خاص زید ہے عمرو وارثان عمرو
العقود الدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵۹€
عقودالدریہ میں ہے:
امرأۃ باعت دارھا من رجل بیع وفاء منزلا منزلۃ الرھن ثم ان الرجل اجرھا باذنھا من بعلھا باجرۃ معلومۃ قبضھا الرجل ویزعم ان الاجرۃ لہ تکون الاجرۃ للراھنۃ وبطل الرھن۔ کسی عورت نے اپناگھر کسی مرد کے ہاتھ بیع وفاءکے طور پر فروخت کیا درانحالیکہ اس کو بمنزلہ رہن کے کیاپھرمشتری مردنے وہی مکان اس عورت کے شوہر کوایك معین اجرت کے عوض اجارہ پردے دیا اوراجرت پریہ گمان کرتے ہوئے قبضہ کیا کہ یہ اجرت اس کے لئے ہے تو یہ اجرت راہنہ کے لئے ہوگی اوررہن باطل ہوجائے گا۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
واجرہ احدھما بغیر اذنہ ثم اجاز صاحبہ صحت الاجارۃ وبطل الرھن وتکون الاجرۃ للراھن۔ راہن اورمرہون میں سے کسی ایك نے دوسرے کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھردوسرے نے اس کو جائزقراردے دیا تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اور اجرت راہن کے لئے ہوگی۔(ت)
یہاں کہ رہن سرے سے خود ہی بے قبضہ وناتمام ہے اورکرایہ دینے والا خود زید مالك دکان ہے توعمرویاوارثان عمروکازرکرایہ میں کوئی حق ہونامحض بے معنی ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰: ازکانپور محلہ پٹکاپور مطبع نظامی مرسلہ مولوی ا بوسعیدصاحب سوم صفر۱۳۲۶ھ
زیدنے اپنی جائداد رہن کرکے کچھ روپیہ عمروسے قرض لیاشرائط رہن یہ تھے:میعاداس رہن کی صرف ایك مہینہ ہے اگربعد میعاد فورا فك نہ کرالوں تویہی دستاویز
الفتاوی کتاب الرھن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵€
(۱)صورت مذکورہ میں شرعا جائداد مرہونہ بعد گزرنے ایك ماہ کے رہن رہی یابیع ہوگئی
(۲)جوکرایہ جائدادمرہونہ کاکرایہ داروں اورنیززیدراہن سے عمرومرتہن کووصول ہوتارہا وہ ملك راہن تھا یاملك مرتہن شرعا اصل زررہن میں محسوب ہوتاگیایانہیں
(۳)عمرو مرتہن کو اب اسی قدر اصل روپیہ رہن کالیناحلال ہے جوبعد مجرائے کرایہ وصول شدہ کے باقی ہو یاکل زررہن بدون وضع کرایہ وصول شدہ کے لیناحلال ہے۔
(۴)جس وقت زیدراہن اس قدرروپیہ جوبعد وضع کرایہ وصول شدہ کے عمرومرتہن کااصل زر رہن باقی ہواداکرے توعمرو مرتہن پرجائداد مرہونہ چھوڑدینا واجب ہے یانہیں
الجواب:
وہ بیع بھی باطل محض اوروہ رہن بھی محض بے معنیاورمرتہن کے لئے وہ زرکرایہ کہ خود راہن یااورکرایہ داروں سے لیتارہا حرام محضاورجبکہ دین بھی روپے تھے اورکرایہ کہ لیاگیا وہ بھی روپے ہیں بسبب اتحاد جنس مقاصد ہوگیا یعنی جس قدر زر کرایہ عمرو کووصول ہوا دین میں مجراہوگا اصل زر ہن میں اس مجرائی کے بعد جو باقی ہے اسی قدر کا مطالبہ عمروکو حلال ہے زیادہ حرام ہے اورجائداد ہنوزکامل مرہون ہوئی ہی نہیں چھوڑنا نہ چھوڑنا کچھ معنی نہیں رکھتازید کو اختیارہے کہ بے ادائے بقیہ زر دین اپناقبضہ جائداد پررکھے عمروصرف اپنے بقیہ دین کا مطالبہ کرسکے گا جائداد کے قبضہ پر جبرکااسے کوئی اختیارنہیںبیع تویوں باطل محض ہے کہ ایك شرط پر معلق کی گئی اوربیع قابل تعلیق نہیں۔اشباہ میں ہے:
اورہن یوں بے معنی ہے کہ وہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
قال اﷲ تعالی ""۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تورہن ہو قبضہ میں لیاہوا۔(ت)
قدوری میں ہے:
الرھن یتم بالقبض۔ رہن کی تکمیل قبضہ سے ہوتی ہے۔(ت)
اورجب رہن ہنوزتام نہیں ہوا تومرتہن کوتحصیل قبضہ پرجبرنہیں پہنچتانہ بے اذن راہن قبضہ کرسکتاہے۔عالمگیری میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی فی کتاب الرھن لایجوز الرھن الا مقبوضا کذا فی المحیط و شرط صحۃ القبض ان یاذن الراھن فان قبض بغیراذن الراھن لم یجز قبضہ۔ (مختصرا) امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے کتاب الرھن میں فرمایا قبضہ کے بغیررہن جائزنہیںمحیط میں یوں ہےاورقبضہ صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتو اس کا قبضہ جائزنہ ہوامختصرا۔(ت)
راہن کواختیارہے کہ بے ادائے دین اپناقبضہ رکھے۔عنایہ میں ہے:
ان قبضہ المرتھن علی ھذا الوجہ تم العقد ولزم وان لم یقبضہ فان الراھن بالخیار بین التسلیم اگرمرتہن نے مرہون پررہن کی بناپرقبضہ کرلیاتو عقد تام اور لازم ہوگاورنہ راہن کو سونپنے اورنہ سونپنے کااختیار
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۳€
القدوری کتاب الرھن ∞مطبع مجیدی کانپور ص۱۰۰€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۳€
یہاں کہ تمام اشیائے مرہونہ یاقبضہ مستاجران میں تھیں یاقبضہ خود مالك مکان میں اوربعد رہن بھی مالك ومستاجران ہی کا قبضہ رہا تومرتہن کاقبضہ متحقق نہ ہوا اور رہن بے اثروبے معنی رہا جوکچھ زرکرایہ عمرونے وصول کیا محض ناحق تھا اور اصل دین میں مجراہوکرصرف باقی زراصل کا اس کو مطالبہ جائزرہا۔عقودالدریہ میں ہے:
رھن زید دارہ عند عمروبدین ثم اجر عمرو الدار من زید مدۃ معلومۃ باجرۃ معلومۃ قبضھا من زید فالاجرۃ باطلۃ فلیرجع زید بمادفع ان لم یکن من جنس الدین وان کان من جنسہ تقع المقاصۃ۔ زیدنے اپناگھر قرض کے عوض عمروکے پاس رہن رکھا پھرعمرونے وہی گھر معین مدت کے لئے معین اجرت کے بدلے میں زیدکوبطوراجارہ دے دیا اورزید سے اجرت وصول کری تو وہ اجرت باطل ہے۔زیدکوچاہئے کہ جوکچھ اس نے دیا وہ اس سے واپس لے اگروہ دین کی جنس سے نہیں ہے۔ اور اگروہ دین کی جنس سے ہے تو وہ قرض میں مجراہوگا۔(ت)
اوربالفرض اگریہ خیال قابل تقسیم ہوسکے کہ زید کاکرایہ داروں اورعمرو کاسامنا کرادینا اور ان سب کی اس پرتراضی گویااس کی مفید ہوئی کہ آج سے عقد اجارہ کہ زیدومستاجران میں تھا بتراضی فریقین منتہی ہوکرعمرو ومستاجرین میں باذن زید عقد اجارہ منعقد ہوا اور اسی قدرکو قبضہ مرتہن فرض کرلیاجائے تواب بھی ہماں آتش درکاسہ(وہ سب کچھ کاسہ میں رہا۔ت)کا مضمون ہوگا مرتہن جب باذن راہن شیئ مرہون کسی شخص ثالث کوبطوراجارہ دے رہن فورا باطل ہوجاتاہے اوراجرت کامالك خاص راہن قرارپاتاہے تومرتہن نے جوکچھ لیا غصب تھا دین سے مجراہوکر صرف باقی زراصل کااسے مطالبہ پہنچے گا اورجائداد اس کی رہن سے نکل گئی باقی لے کر چھوڑنا کیامعنی۔ہندیہ میں ہے:
لوآجر واحد منھما(ای من الراھن والمرتھن)باذن اگران دونوں(راہن ومرتہن)میں سے کسی ایك نے دوسرے کی اجازت سے مرہون شیئ
العقودالدریۃ کتاب الرھن ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۲۵۴€
مسئلہ ۶۱: ازمقام قصبہ بلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سیدمحمد تجمل حسین صاحب ڈاکٹر
مخدوم ومکرم بندہ حضرت مولوی احمدرضاخاں صاحب بعد سلام علیك کے التماس ہے کہ میں نے ایك مکان رہن یاقبضہ لیا تین سو روپے پراوریہ مکان اوردکان ایك ہندوکا ہے اوراسی شخص نے پھرمجھ سے یہ مکان دکان تین روپے مہینے پرکرائے پرلے لیا ہے میعاد دوسال کی ہے مگرشرط یہ بھی دستاویز مذکورمیں ہے کہ اگراندردوسال کے مکان دکان نہ چھڑاسکے تورہن نامہ بجائے بیعنامہ کے سمجھاجائے مجھ کو یہ علم نہ تھا کہ یہ فعل ناجائزہے اوربراہ بندہ نوازی اس مسئلہ سے مطلع فرمائیے کہ جوکرایہ نامہ میں نے لکھا ہے وہ روپے لوں یا نہ لوں جائزہے لینا یانہیںاوروہ روپیہ کسی غریب یاکسی حاجتمند کودیاجاسکتاہے یعنی کسی کام میں یہ روپیہ کرایہ کاصرف ہوسکتاہے یانہیں اگریہ روپیہ کسی کام میں آسکتاہے توخیراوراگرکسی کام میں نہیں آسکتا تواتنے روپے کو کیاکیاجائے یاجس کے یہ روپیہ ملے اسی کو واپس کیاجائے جواب صاف مرحمت ہو۔ایك شخص مجھ سے کہتاہے کہ اگریہ روپیہ ناجائزہے اورآپ اپنے صرف میں نہیں لاسکتے ہیں تومیں قرضدارہوں جس کی ادامیرے امکان سے باہرہے مجھ کو دے دیجئے کہ میں قرضہ اداکروں۔
الجواب:
سیدصاحب سلمہ فی الواقع رہن دخلی بھی سودہے اورشیئ مرہون کاراہن کوکرایہ پر دینااوراس سے کرایہ لینابھی سودہے اور سود لینا حرام مگر جب کہ وہ شخص ہندوہے اگراس نے کسی مسلمان سے سودلیاہوتواس سے یہ رقم نہ بہ نیت سود بلکہ اس نیت سے کہ اس نے
مسئلہ ۶۲۶۳: ازدھاروپور مرسلہ جناب فوجدارخاں صاحب ۱۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ
علمائے دین واتباع شرع متین کیافرماتے ہیں ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی اہل ہنود کی حقیت اگرچہ رہن دخلی رکھی جائے اوراس کی مالگزاری سرکاری سال بہ سال بموجب بندوبست سرکاری سرکارکواداکی جائے تواس کامنافع جوکچھ اراضی میں ہوگا وہ سود میں شمارکیاجائے گا یانہیں یاکیاحکم ہے
(۲)اگرکسی اسامی دخیل کارکی اراضی موروثی چندسال معین کے لئے رہن رکھی جائے اوراس اراضی مرہونہ کالگان زمین دار کو رہن دارسال بسال اداکرے تو اس اراضی کے کاشت کرنے سے جوکچھ منافع ہوگا اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)ہندو کی حقیت رہن دخلی لینا اوراس سے منافع حاصل کرنا کوئی حرج نہیں مگرشرط یہ ہے کہ اپنے قرض پرنفع لینے یاسود کی نیت نہ کرے بلکہ یہ کہ ہندوکی رضامندی سے اس کے مال پرقبضہ جائزہے اوراس مباح سے نفع حاصل کیاجاتاہے
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بے شك عملوں کادارومدار نیتوں پرہوتاہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)دخیل کار زمین موروثی کاشرعا مالك نہیں ہوتا اس پرقبضہ کے بعد اصل مالك یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دارکوتامدت رہن اداکرتا رہے
لانہ رھن ملك غیرہ فالمالك ان لم یقع منہ اجازۃ الرھن واذن لھذا فی الزرع بالاجر المعھود فھذہ اجارۃنافذۃ وقدکان الرھن موقوفا علی اجازتہ وکل موقوف طرأ علیہ بات بطل وان فرض انہ اجاز الرھن ولودلالۃ فالرھن الی اجل فاسدوالفاسد واجب الفسخ ویستبد بہ کل منھما فلما آجر من ھذا بطل الرھن لان الرھن والاجارۃ متنافیان لایجتمعان کما صرحوا بہواﷲ تعالی اعلم۔
قال فی ردالمحتار فی مسئلۃ من اعارلیرھن افتی فی الحامدیۃ فیما لوقید العاریۃ بمدۃ معلومۃ اس لئے کہ یہ ملك غیرکارہن ہےچنانچہ مالك نے اگررہن کی اجازت نہ دی اورمرہون زمین میں معین اجرت کے بدلے کاشت کی اجازت دے دی تویہ اجارہ نافذ ہوگا۔ اور تحقیق رہن اس کی اجازت پرموقوف تھا اورہر موقوف جب اس پرقطعیت طاری ہوتو وہ باطل ہوجاتاہے اوراگرفرض کرلیاجائے کہ اس نے رہن کی اجازت دی اگرچہ بطور دلالت ہوتو یہ ایك مدت تك رہن ہواجوکہ فاسد ہےاورفاسد کافسخ واجب ہوتا ہے۔عاقدین میں سے ہرایك اس کو فسخ کرنے میں مستقل ہوتاہے کہ جب مالك نے اس کواجارہ پردے دیا تورہن باطل ہوگیا کیونکہ رہن اوراجارہ آپس میں متنافی ہیں جوجمع نہیں ہوسکتے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی۔ اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
رد المحتارمیں اس شخص کے بارے میں کہاجس نے کوئی شئے بطورعاریت دی تاکہ اسے رہن رکھے۔حامدیہ میں فتوی دیا ہے کہ اگر عاریت کومعین مدت کے ساتھ مقید کیا ہے
مسئلہ ۶۴: ازملك کاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسی خان محمد ۸جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
(نوٹ)ادھارخریدا اوراطمینان کے لئے پاس زیور رہن رکھاجائزہے یانہیں
الجواب:
جائزہے۔پھراگرزیورمرتہن کے پاس تلف ہوجائے تو اگرجنس کے بدلے رہن تھا مثلا نوٹ روپوں کوخریدا اورچاندی کا زیور رہن رکھایااشرفیوں کو مول لیااورسونے کازیور گروی کیا جب تو اس کاوزن معتبرہوگااوراگرخلاف جنس کے بدلے رہن تھا مگر نوٹ روپوں کوخریدا اورسونے کا زیور رہن رکھا یااشرفیوں کومول لیااورچاندی کازیور گروکیاتوزیور کی قیمت معتبرہوگی
صح رھن الحجرین والمکیل والموزون فان رھن بخلاف جنسہ ھلك بقیمتہ وھو ظاھر وان بحنسہ ھلك ھلك بمثلہ وزنا اوکیلا لاقیمۃ ولاعبرۃ بالجودۃ عند المقابلۃ بالجنس ثم ان تساویا فظاھر وان الدین ازید فالزائد فی ذمۃ الراھن وان الرھن ازید فالزائد امانۃدرر وصدرالشریعۃ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ اورصحیح ہے رہن رکھناسونےچاندی اور کیلی ووزنی چیزوں کا۔ اگراس نے مذکورہ چیزوں کو ان کی جنس کے خلاف کے عوض رہن رکھااور مرھون ہلاك ہوگیاوہ قیمت کے ساتھ ہلاك ہوا اوریہ ظاہرہے۔اوراگرمذکورہ چیزیں انکی جنس کے مقابل رہن رکھیں اور مرھون ہلاك ہوگیاتو وہ اپنی مثل قرض کے مقابل ہلاك ہوگا باعتبار وزن یاکیل کے نہ کہ باعتبار قیمت کے۔ اورجنس کے ساتھ مقابلہ کے وقت مرھون کے کھرے ہونے کاکوئی اعتبارنہیں۔پھراگرقرض اورمرہون برابرہیں توظاہر ہےاوراگرقرض زائد ہے تو وہ زائد راھن کے ذمے ہوگا۔اور اگرمرھون زائدہے تو وہ زائد امانت ہوگادرر وصدر الشریعۃ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۵: حیدرآباد دکن محلہ قاضی پورہ دفتر قادری تفسیر مرسلہ جناب مولوی سیدعبدالجبار صاحب سلمہ ۱۰شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکرسے زیدنے مکان رہن لیا اوراب زید اس مکان کے کرایہ سے یاخودرہ کرمنتفع ہوناچاہتاہے آیا درست و جائزہے یانہیں زیدکابیان ہے کہ کچھ خفیف ترمیم یاآہك پاشی میں اپنی ذات سے کرلیتاہوں اس صور ت میں کیاانتفاع جائزہوسکتاہے بینواتوجروا۔
مرتہن کو رہن سے کسی طرح کاانتفاع جائزنہیںنہ رہ کر نہ کرایہ پرسب حرام اورسودہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربورواہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔اس کو حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کیا۔(ت)
یہاں جوانتفاع ہوت اہے معروف ومعہود ہے اور معروف مشروط اورمشروط بالاجماع حرام اوروہ یقینا روپے کے دباؤ سے ہوتاہے تویہاں اذن راہن کی صورت متحقق نہیں اگرچہ حیلہ باطلہ کے طورپراس کانام کرلیا ہے کہ انتفاع بالاذن کے یہ معنی ہیں کہ نہ اس کی شرط ہو نہ اس پراصرار بلاشرط اگرراہن بطورخود مثلا کسی وقت سکونت کی اجازت دے توصرف اس کے اذن کی بنا پر رہناچاہئے اوراس میں اپنے کو ہروقت اس کے اذن کامحتاج جانے یہاں تك کہ وہ اس وقت کہہ دے کہ باہرنکل جاؤ تو وہ فورا بلا عذر چلاجائے یا اس نے اجازت دی اورنہ اسباب لایا ایك قدم دروازے کے اندر اورایك باہر ہے کہ راہن نے کہہ دیامجھے منظور نہیں توفورا قدم باہرنکال لے یہ صورت اذن راہن کی ہے مگرحاشا اس کاوجود کہاں بلکہ بالیقین بزوررہتے ہیں اورتا ادائے دین راہن ہرگزنہیں منع کرسکتا ہے اور منع کرے تو ہرگزنہیں مانتے۔لاجرم حکم مطلقاتحریم ہے۔طحطاوی علی الدر المختارپھر رد المحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انہم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع انتھی۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن دیتے وقت نفع حاصل کرنے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ وہ قرض کے لئے درھم ہی نہ دیں گے۔اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔انتہی(ت)
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
مسئلہ ۶۶: ازبھڑوچ مسئولہ محمدعبدالرشید خاں صاحب ۱۹محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس عمرونے باغ وزمین گرورکھا چندعرصہ میں عمرومع آل اولاد مرگیا اب اس کے باغ وزمین کاواپس لینے والاکوئی نہ رہا وہ باغ وزمین زیدہی کے پاس ہےاب اگرزید اس باغ و زمین کی آمدنی کے روپے سے خیرات وحج کرے توازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں
الجواب:
اگروہ باغ وزمین اس کے روپے سے جو اس نے راہن کردیاتھا زیادہ قیمت کی ہوں جیساکہ اکثراشیاء مرہونہ میں یہی ہوتاہے تو یہ اس سب کامالك نہیں ہوسکتا بقدراپنے روپے کے لے سکتاہے باقی فقرائے مسلمین کاحصہ ہے جبکہ فی الواقع مالك کاکوئی وارث نہ رہا ہو جس قدراس کاحصہ ہے اس سے حج کرسکتاہے اورتصدق سب کاممکن ہے اپنے حصہ کا باختیار خوداورحصہ فقراء اس طرح کہ وہ انہیں کامال ہے اوراگر اس کی مالیت اس کے روپے سے کم یابرابر ہو تو اس سب کو اپنے دین میں سے لے سکتاہے
علی مانقل الفتوی علیہ فی ردالمحتار ان فی زماننا اخذ حقہ من خلاف جنسہ۔ جیساکہ اس پرفتوی منقول ہے۔ردالمحتارمیں ہے کہ ہمارے زمانے میں اس کو خلاف جنس سے اپناحق وصول کرنے کا اختیارہے۔(ت)
اس وقت اس سے حج وتصدق کاجواز خود ظاہرہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جناب فضیلت مآب فیض اکتساب دام اقبالکمبعد سلام علیکم آنکہ مژدہ صحتوری مزاج کامدام دعاگو درجواب باصواب کاآپ کے اسلامی معاملات شہرہ ویکتائے آفاق ہے منتظر مثل ماہی بے آب ہوں۔
یہ مسئلہ بذریعہ سوال مندرجہ ذیل صدرکے بجواب مندرجہ تحت کہ جس کے نقل منسلك ہذا ہے آنجناب نے عرصہ گزرا کہ حل فرمایاتھا تو۴بسوہ ۳ سوانسہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ مال غصب اس وقت معلق تھا کہ بعدہ جس کادعوی ورثائے شخص کو ثالث نے باستحقاق مستحقہ مجوزہ عدالت بابت دخلیابی بانفکاك الرہن وزیرعدالت کہ جو ۱۳مئی ۱۸۹۱ء کو بعارض تمادی قانون انگریزی ڈسمس ہواتواب جوورثاء راہنہ کو جو ۱۶سوانسہ ۱۳کچوانسہ اورایك ثلث کچوانسہ اورمنجملہ پانچ بسوہ رہن کردہ مذکورہ کی پاچکے ہیں اس ۴بسوہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ ملکیت مال معلق کو فك الرہن کرادیں تواب بھی ہوسکتاہے یاکہ بوجہ اس کے ورثائے شخص ثالث مستحقہ کادعوی ڈسمس ہونے سے قائم مقام مرتہن شرعا مالك اصل ہوگیا اورورثہ راہنہ غاصبہ کوانفکاك الرہن کاکوئی حق باقی نہ رہا اوراگرشرعا استحقاق ہے تو اب بصورت استحقاق ورثہ راہنہ فك الرہن کرادیں تو اصل مالك یہ بھی رہے گی یاکہ ورثائے شخص ثالث کو استحقاق پھربھی ورثہ راہنہ پرپہنچانے کا رہے گا یاکہ کوئی حق ورثائے ثالث کا اب بوجہ اس کے اس کا دعوی ڈسمس ہوچکاہے نہیں رہا امید کہ جیسی صورت شرعا ہوبجواب مفصل صاف بحوالہ کتب بواسطے خداورسول جوابا ارقام فرماکر معززممتازفرمائیںوالسلام
الجواب:
اٹھارہواں سال ہے کہ ذی القعدہ ۱۳۱۳ھ میں یہ مسئلہ یہاں سے لکھاگیاوہی جواب اس کا اب بھ ہے جو جب تھا حق انفکاك وارثان راہنہ کو ہے ادائے دین مرتہن راہنہ ہی کے ترکہ سے ہوگا جزء معلق کی نسبت اگرثابت یاوارثان راہنہ کومعلوم ہے کہ وہ شخص ثالث کا ہے تو ان پرفرض ہے کہ بعد انفکاك وارثان ثالث کوپہنچادیں شرع مطہر میں تمادی سے حق نہیں جاتا جوہرہ نیرہ کتاب الطلاق باب اللعانپھراشباہ والنظائر فن ثانی کتاب القضاء والشہادت والدعاوی میں ہے:
اوراگرنہ ان کو معلوم نہ کوئی ثبوت تو وہ جز بھی ملك راہنہ سمجھاجائے گا جو اس پرقابض تھی اورجس نے بدعوی مالکانہ اس کو رہن کیا لان القبض دلیل الملک(کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل ہے۔ت)اس صورت میں وہ خودوارثان راہنہ کا ہے بہرحال وارثان مرتہن کاکسی طرح نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸: ازلکھنؤ نئی سڑك جوتابازار نخاس مرسلہ حاجی قدرت اﷲ خاں تاجر جفت پاپوش ۵جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
استفتاء مزید(یعنی نسبت مسئلہ آمدہ ازکانپور ۳صفر۱۳۲۶ھ)
واقعات مندرجہ استفتاء سابق میں لکھاہے(بعدا س زمین کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ عمرومرتہن کو دیا کریں)اس کی نسبت عمرومرتہن نے ظاہرکیاہے کہ صحیح واقعہ اس طرح ہے کہ بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایك ماہ کے بعد راہن نے کرایہ داروں سے کہاکہ کرایہ عمرومرتہن کودیاکریںاگریہ صحیح واقعہ استفتاء میں تحریرہوتا توفتوی یہ ہوتاکہ شرعا بیع صحیح ہوگئی اورکرایہ وصول شدہ ملك مرتہن ہے۔لہذا حضرات علمائے کرام مدظلہم العالی کی خدمت والا میں بکمال ادب گزارش کہ عبارت استفتاء منسبلکہ(بعد اس رہن کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیاکریں) عبارت صحیح یہ ہے کہ(بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایك ماہ کے بعد کرایہ داروں سے راہن نے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیا کریں)پس اس تصحیح واقعہ وتبدیل عبارت کے بعد احکام مندرجہ فتوی میں کیاتبدیلی ہوگیاور کیا اس صورت میں جائداد بیع ہو جائے گی اورکرایہ وصول شدہ ملك مرتہن ہوگابملاحظہ حالات مندرجہ استفتاء سابق وتصحیح واقعہ مندرجہ استفسار مزیدہذا وفتوی منسلکہ جواب بحوالہ کتب عطاہو۔
اس تبدیلی سے ایك تغیرضرورہوا سوال سابق میں اگرعبارت یوں صاف مصرح ہوتی تو جواب میں بہت تخفیف رہتیعبارت اولی سے ظاہریہ تھاکہ رہن کے بعد ہی راہن نے کرایہ داروں سے ایساکہہ دیااورجب کہ یہ شرط رہن نامہ نہ تھا کہ اس میں حصول بیع وملك مرتہن انقضاء میعاد ایك ماہ وعدم فك رہن پرمشروط تھا پیش ازمیعاد رہن کے اس کہہ دینے سے ناواقف کو وہم ہوسکتاتھا کہ راہن نے کرایہ داروں سے اپنااجارہ فسخ کرکے مرتہن سے اجارہ کرادیا اورگویا اس طرح رہن پرمرتہن کاقبضہ ہوگیا جس کے دفع کوفتوائے سابقہ میں وہ تقدیرلکھی گئی نیزیہ وہم ہوسکتاتھا کہ جب کہ اجازت قبل میعاد بربنائے شرط نہیں تو یہ راہن کامرتہن کومحض احسانا بلاشرط اپنی طرف سے منافع مرہون کی اجازت دیناہواتووہ کرایہ حق مرتہن میں حلال ہونا چاہئے۔تنویرالابصارمیں ہے:
لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا الاباذن۔ مرتہن کومرہون کے روك رکھنے کااختیار ہے نہ کہ اس سے کسی قسم کانفع حاصل کرنے کاسوائے اس کے کہ راہن اس کو اجازت دے دے۔(ت)
جواہرالفتاوی پھرمنح الغفار پھرردالمحتارمیں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ وھو ربا والالا باس۔ اگرمرہون سے نفع اٹھانے کی شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہو گیا جس میں منفعت ہے اور وہ سودہے۔اوراگرشرط نہیں لگائی گئی توکوئی حرج نہیں۔(ت)
اور اس جواب کی حاجت ہوتی جسے ہم نے اپنے فتاوی میں منقح کیا جس کاخلاصہ یہ کہ محض بروجہ تبرع واحسان اجازت انتفاع یہاں لفظ بے معنی واسم بے مسمی ہے یقینا قرض ہی کے دباؤ سے اجازت ہوتی ہے مرتہن اسے اپناحق سمجھتے ہیں اور معروف مثل مشروط ہے تو وہ
ردالمحتار بحوالہ الجواھر کتاب الرہن داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
والغالب من احوال الناس انھم یریدون عندالدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔ لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن رکھتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ قرض پر درہم ہی نہ دیں گےاوریہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہوتاہے اور وہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
نیز یہ وہم ہوسکتاتھا کہ شرعا بوجہ تعلیق وعدم قبضہ نہ یہاں بیع ہوئی نہ رہن تمام اوریہ اجازت پیش ازمیعاد اس قرارداد پرمبنی نہیں کہ کہاجائے جب وہ عقد باطل ہوا یہ اجازت بھی باطل ہوگئی اذا بطل المتضمن بطل المتضمن(جب متضمن باطل ہوگیا تو متضمن بھی باطل ہوگیا۔ت)بلکہ یہ ایك اجازت مستقلہ ہے تواپناعمل کرے گی لصدورھا عن اھلھا فی محلھا(اس لئے کہ یہ اپنے اہل سے اپنے محل میں صادرہوئی۔ت)اورجواب کی حاجت ہوتی ہے کہ رہن نہ سہی قرض تو ہے اوراسی کی وجہ سے یہ اجازت ہے ورنہ راہ چلنے کے لئے کہہ دیتاکہ میری تمام مکانات دکانات کاکرایہ آج سے فلاں کودیاکرو اورخود اپنے مکان سکونت کاکرایہ دینا اس پردلیل قاطع ہے تواجازت اگرچہ مستقلہ ہے اجازت حرام وربا ہے اور ربا ہندہ کی اجازت سے حلال نہیں ہو سکتاہے۔ حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو قرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔اس کو حارث بن ابی اسامہ نے بروایت امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیاہے۔(ت)
امام عبداﷲ ابن محمد ابن اسلم سمرقندی نے فرمایا:
اذن لہ فی الربا لانہ یستوفی راہن کامرتہن کومرہون سے نفع اٹھانے کی
کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
اس پراعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ فضل ربانہیں بلکہ فضل مستحق بالعقد اوریہ جبکہ پیش ازمیعاد ووقت قرارداد ہے مستحق بالعقد نہیں اورپھر اسی تنبیہ کی ضرورت ہوتی کہ:
المعھود عرفا کالمشروط لفظا۔ جوعرف میں معہود ہو وہ لفظوں میں مشروط کی مثل ہے۔(ت)
غرض اس عبارت سابقہ میں متعدد اوہام اوراس کے دفع کی مؤنت تھی اب کہ سوال میں آپ کی تصریح ہوگئی کہ حسب قرارداد وبعد مرورمیعاد اسی شرط کی بنا پر راہن نے یہ اجازت دی سب مؤنتیں اٹھ گئیں اورخود ہی ظاہرہوگیاکہ یہ اجازت اسی شرط باطل پرمبنی تھی اورباطل پرجوکچھ مبنی ہو باطل ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ما کان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل ان کان مائۃ شرطا فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق۔رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ عنہا۔ ان لوگوں کاکیاحال ہے جوایسی شرطیں لگاتے ہیں جوکتاب اﷲ میں نہیں ہیںجو شرط بھی کتاب اﷲ میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ سوشرطیں ہوں پس اﷲ کافیصلہ زیادہ حق والا ہے اور اﷲ کی شرط زیادہ مضبوط ہے۔اس کو شیخین نے ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
تو اس تبدیل سے احکام فتوائے سابقہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی بلکہ اوران کی تائید وتوکید ہوگئی۔واﷲ تعالی اعلم۔
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷،€صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان الولاء لمن اعتق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴€
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ قبل اس کے دوعریضے خدمت اقدس میں روانہ کئے ہیں مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی افسرمدرس مدرسہ ندوہ کی رائے یہ معلوم ہوئی کہ وہ منافع جائداد مرہونہ ملك مرتہن بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عالمگیری میں ایك جزئیہ موجودہے الاأن یأذن الراھن(مگریہ کہ راہن اجازت دے دے۔ت)براہ دستگیری عاجز ان اس کے متعلق جوتحقیق صحیح حضوروالا کی رائے میں ہو اس سے آگاہ فرماکے سرفرازی بخشی جائے بعید بندہ نوازی سے نہ ہوگازیادہ حدادب۔عریضہ قدرت اﷲ خاں ازلکھنؤنئی سڑك جوتابازار۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآج چوتھا روزہے جواب فتوی حاضرکرچکاہوںغالبا اس کے وصول سے پہلے آپ نے یہ کارڈ لکھا۔اس فتوی میں اس وہم کے تین رد موجودہیں:
(۱)یہاں رہن ہی نہیں محض قرض ہے اورقرض پرنفع سوداورسودکسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔
(۲)اگررہن بھی مانیے تواجازت راہن جسے شرع اجازت مانتی ہے یہاں عنقا ہے ہرگز محض اس کی اجازت بروجہ احسان و تبرع کے طورپر نفع نہیں لیتے بلکہ دین کے دباؤ سے جس پر اس مرتہن کاراہن کودربارہ کرایہ نوٹس دیناشاہدہے احسان وغیرہ پر نوٹس نہیں ہوتا لاجرم اسے اپناحق سمجھا اوربالجبرحاصل کرناچاہاپھراجازت سے ہوناکیسا۔
(۳)ان سب سے قطع نظرہوتو جب سائل نے تصریح کردی کہ یہ اجازت بعد انقضائے میعاد بربنائے قراردادتھی توقطعا نفع کی شرط ہوگئی اوردین پرجونفع شرط کرلیاجائے بالاجماع رباوحرام قطعی ہے اسے بہ اجازت راہن لینانہیں کہہ سکتے بلکہ معاہدہ فاسدہ محرمہ۔
ولاحول ولاقوۃ الابالرب العلی العظیم وھو تعالی اعلم۔ بلندی وعظمت والے رب کی توفیق کے بغیر نہ توبچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ازروئے شرع مبین اندریں مسئلہ کہ زیدبکرکامقروض ہے بکرنے زید پرعدالت میں دعوی دائرکرکے عدالت سے اپنے وصول کرلینے قرضہ کی ڈگری حاصل کی ہے زیدکوایك جائداد متروکہ عمرواپنے مورث اعلی سے منجملہ ۱۶سہام کے ۶سہام شرعا پہنچیجائدادمتروکہ عمرواس کی حیات سے منجانب عمروایك شخص کے پاس رہن دخلی ہے اورکوئی جائداد زیدکی سوائے سہام مذکورہ نہیں ہے جس سے وصول ڈگری ہوسکے اندریں صورت بکرحق وحصہ مرہونہ زیدبہ تحفظ حق مرتہنی بکرعدالت سے نیلام کراکر زرڈگری اپناوصول کرنے کامختارہے یانہیں اگرشے مرہونہ مذکورہ شرعا بغیرانفکاك نیلام نہیں ہوسکتی اورکیاصورت ہوسکتی ہے کہ بکراپنازرڈگری زید سے وصول کرسکے بکرمجبورا کل زررہن یافتنی مرتہن قابض عدالت میں داخل کرکے اور انفکاك کرکے حق وحصہ زیدجائداد مذکورہ سے نیلام کرادے اوربصورت مذکورہ بکر زر رہن اداکردہ خود کو دے کربکر حصہ داران شرکاء زید سے شرعا وصول کرنے کامختارہوگا یانہیںفقط
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہواکہ وہ جائداد گاؤں ہے اوراس کی زمین زمانہ عمروسے مزارعوں کواٹھی ہوئی ہے وہ اس پربدستور قابض رہے ان سے زمین نکالی نہ گئی اوراسی حالت پروہ گاؤں ایك شخص کے پاس دخلی رکھ دیااورواقعی یہاں پر یہی معمول ہے یوں ہی کرتے ہیں اجارہ مقدم ہوتاہے رہن مؤخر بلاتخلیہ مزارعین ہرگزنہ زمین سے دست بردارہوتے ہیں نہ اپنا عقد فسخ کرتے ہیں بلکہ اسی مقبوض فی اجارہ کو محض زبانی وکاغذی باتوں سے معا مقبوض فی الرہن تصورکرلیاجاتاہے حالانکہ شیئ واحد پر وقت واحد میں دوقبضہ مختلف واردنہیں ہوسکتے توحقیقۃ رہن بے قبضہ وبے اثررہتاہے اگرچہ براہ نادانی اسے زمین پرقبضہ ہونا سمجھیں اور رہن دخلی کہیںاعتبارحقائق کاہے نہ مزعومات عوام کالہذا اس صورت میں اصل حکم شرعی یہ ہےرہن سرے سے جائزہی نہیںنہ مرتہن کوجائداد میں کوئی حق کہ اورقرضخواہوں پرمقدم ہوحاکم زیدکوحکم دے کہ اپنے سہام بیچ کرڈگری اداکرے اگر وہ نہ مانے حاکم نیلام کردے اور حق مرتہنی کوئی نہیں جس کاتحفظ کیاجائے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
الواجب فی ذلك شرعا النظر فی اس میں شرعی طورپرواجب یہ ہے کہ دونوں
اوراس کے سوا یہاں ایك اورنکتہ ہے رہن تو شرع میں نہیں ہوتا مگردخلیقال تعالی "" (اﷲ تعالی نے فرمایا:تورہن قبضہ میں کیاہوا۔ت)
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۳€
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا ۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے(ت)
جواھرالفتاوی میں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھو ربا۔ جب شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہوگیا جس میں منفعت ہے اور وہ سود ہے(ت)
اورازآنجا کہ مزارعوں سے عقد کرنے والا راہن ہی ہوا
لانہ العاقد والمنافع انما تتقوم بالعقد۔ کیونکہ عقد کرنے والا راہن ہے اورمنافع عقد کے ساتھ قائم ہوتے ہیں(ت)
تنویرمیں ہے:
ماھو بدل عن المنفعۃ کالکسب و الاجرۃ یکون للراھن۔ جومنفعت کابدل ہے جیسے کسب واجرت وہ راہن کا ہے۔(ت)
توراہن نے مرتہن نے اتنی توفیرپائی کہ اس کے تمام وکمال دین کے برابریازائدتھی اوردین وتوفیرایك جنس ہوں مثلا روپے قرض دئے تھے اورمزارعوں پربھی لگان میں روپیہ ہی دیاہے نہ بٹائی تومرتہن نے اپنادین وصول پالیا اور وہ چاہے یانہ چاہے مقاصہ ہوگیا یعنی یہ توفیر کہ اس نے لی غصبا تو اس قدرراہن کادین مرتہن پرلازم ہوا اورجبکہ یہ اس مقدار کوپہنچ گیا تھا جتنا اس کا دین راہن پرتھا دونوں کامعاوضہ ہوااتنی توفیر کا تاوان مرتہن پر سے جاتارہا اورمرتہن کادین راہن پرسے اترگیا اورجائداد رہن سے نکل گئی اب اسے اس پرکوئی حق ومطالبہ باقی نہیں ہے ڈگری داربلامزاحمت اپناحصہ زید سے وصول کرےاشباہ والنظائر
ردالمحتار بحوالہ الجواہر الفتاوٰی کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۰€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷€
اخرالدینین قضاء للاول۔ دوقرضوں میں سے بعد والاپہلے کی ادائیگی ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
للزوج علیھا دین وطلبت النفقۃ لاتقع المقاصۃ بدین النفقۃ بلارضاء الزوج بخلاف سائر الدیون لان دین النفقۃ اضعف فصار کاختلاف الجنس فشابہ مااذاکان احدالحقین جیداوالاخرردیالاتقع التقاص بلاتراض۔ خاوندکابیوی پرقرض ہے اوربیوی نے نفقہ کامطالبہ کیاتوخاوند کی رضامندی کے بغیر قرض میں سے نفقہ کامجرانہیں ہوگا بخلاف دوسرے قرضوں کے کیونکہ نفقہ کاقرض ضعیف ہوتاہے تو وہ اختلاف جنس کی طرح ہوکر اس صورت کے مشابہ ہوگیا جس میں دو حقوں میں سے ایك جید اوردوسرا ردی ہوتا ہےجس میں باہمی رضامندی کے بغیر دونوں کو ایك دوسرے کابدلہ قرارنہیں دیاجاتا۔(ت)
اوراگرلگان روپے سے ہوا اور موت راہن تك مرتہن کی توفیر بقدراپنے دین کے نہ ملی اگرچہ ایك ہی روپیہ کم ہو تو اس صورت میں اگرچہ جائداد راہن سے نہ نکلی اور اسے حق حبس حاصل ہےدرمختارمیں ہے:
لایکلف من قضی بعض دینہ تسلیم بعض رھنہ حتی یقبض البقیۃ۔ جس مرتہن کابعض قرض ادا کردیاگیاہو اس کو بعض رہن راہن کے حوالے کرنے کا مکلف نہیں ٹھہرایاجائے گا جب تك وہ اپناباقی قرض وصول نہ کرلے۔(ت)
ولہذا وہ صورت کہ صرف بقدرسہم زیدادائے دین کرکے اتنے حصے کو فك کرالیں بے رضائے مرتہن ناممکن ہے اوربعد موت راہن جوتوفیرمرتہن لیتارہا اس سے مقاصہ نہ ہوگا کہ اب عاقد
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۴۹€
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
لما قدمنا ان المنافع فی الاجارۃ وتتقوم الابالعقد فلایملکھا الا العاقد کائنا من کان۔ ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ منافع کاقیام عقد کے ساتھ ہی ہوتاہے لہذا سوائے عاقد کے چاہے وہ کوئی ہو مکان کامالك نہیں ہوتا۔(ت)
اگرچہ بوجہ ربا ملك خبیث وحرام ہے اوراس پر فرض ہے کہ یہ توفیر مالکان جائداد کو دے اوریہی بہترہے یاتصدق کردے کما حققناہ فی فتاوینا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگرازانجا کہ ملك حرام ہے اور اولی یہی ہے کہ مالکوں کو دے تومرتہن کے لئے خیریہی ہے کہ بعد موت راہن بھی اگرتوفیر بقدردین وصول ہوگئی جائداد سے دست بردار ہو۔ یونہی توفیر اگرروپیہ نہ تھی بلکہ بٹائی ہے تو اس کا غلہ بھی اگرموت راہن تك یا اس کے بعد آج تك اتناوصول ہوگیاکہ بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت دین کے برابر ہو جب بھی اس کے لئے بہتریہی ہے کہ اپنادین وصول سمجھے اورجائداد چھوڑدے بلکہ جتناروپیہ یاغلہ دین سے زائد آیا ہو مالکان جائداد کو واپس دے۔عقود الدریہ میں ہے:
یرد ما قبض علی المالك وھو الاولی ثم سئل أیلزم المسمی للمالك ام للعاقد فقال للعاقد ولایطیب لہ بل یردہ علی المالک۔ مرتہن نے جوکچھ قبضہ میں لیا ہے وہ مالك کو لوٹادے وہی اولی ہے۔پھرپوچھا گیاکہ مقررشدہ بدل مالك کے لئے لازم ہوگا یا عاقد کے لئے فرمایا عاقد کے لئے مگر وہ اس کے لئے اچھا انہیں بلکہ وہ مالك کو لوٹادے۔(ت)
وجیزکردری وغمزالعیون میں ہے:
اجر المرتھن الرھن من اجنبی بلااجازۃ الراھن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا کالغاصب اویردھا علی المالک۔ مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیر مرہون کو اجارہ پردے دیا تو آمدن مرتہن کے لئے ہوگی تو وہ غاصب کی طرح اس کو صدقہ کرے یا مالك کو لوٹادے۔(ت)
غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر کتاب الرہن ادارۃ القرآن ∞کراچی۲/ ۱۳۔۱۱۲€
والثانی افضل لخروجہ من الخلاف۔ اختلاف سے نکلنے کے لئے دوسری صورت افضل ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ یہاں رہن تسلیم کرلیں ورنہ ہم ثابت کرچکے کہ سرے سے رہن جائزہی نہیں بہرحال ان صورتوں میں مرتہن کوکوئی مزاحمت پہنچتی ہی نہیں اوراگرابنائے زمانہ اسے نہ مانیں نہ مجوزین سے اس تجویز کی امیدہوکہ مدت سے نہ صرف کفاربلکہ دنیابھر کے عامہ حکام نے اپنے تراشیدہ قوانین باطلہ کے آگے شرع مطہر کے احکام حقہ عادلہ کو منسوخ سمجھ رکھا ہے توبکر فقط اتنادین کہ حصہ زید پر ہے اداکرکے اتنااستخلاص کرالےاوراگریہ ناممکن ہو جب تك کل دین ادا نہ کیاجائے تومرتہن کاسارا مطالبہ اداکرکے جمیع جائداد رہن سے چھڑا کراپنا دین حصہ زید سے وصول کرے اور جوکچھ اس میں سے مرتہن کودینا پڑے وہ تمام وکمال ورثاء عمرو سے وصول کرے کہ جو شخص دوسرے کادین بے اس کے کہے بطورخود اداکرے وہ اس وقت متبرع ٹھہرتاہے کہ اس کی ادا میں مضطرنہ ہو اورجسے بے اس کے چارہ کارنہ ہو وہ متبرع نہیں اور اسے اصل مدیون سے وصول کرنے کا اختیاردیاجاتاہے اوراپنے حق تك بے اس کے نہ پہنچ سکنے کی بھی صورت اضطرار ہے جیساکہ یہاں ہے۔در مختارمیں ہے:
اشتری اثنان شیئا وغاب واحد منھما فللحاضر دفع کل ثمنہ ویجبر البائع علی قبول الکل ودفع الکل للحاضر ولہ قبضہ وحبسہ عن شریکہ اذا حضر حتی ینقد شریکہ الثمن۔ دوشخصوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر ان میں سے ایك غائب ہوگیاتو جو حاضرہے اس کے لئے جائزہے کہ وہ کل ثمن اداکرے اوربائع کو کل ثمن وصول کرنے اور کل مبیع حاضر مشتری کےحوالے کرنے پر مجبورکیا جائے گا ۔اورحاضر مشتری کو حق حاصل ہے کہ وہ مبیع کو اپنے قبضہ میں لے کردوسرے شریك سے روك رکھے یہاں تك کہ وہ شریك سے اس کے ثمن وصول کرلے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الدرالمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۱€
درمختارمیں ہے:
رھن الاب من مال طفلہ شیئا بدین علی نفسہ جاز ولوادرك الابن و مات الاب لیس للابن اخذہ قبل قضاء الدین ویرجع الابن فی مال الاب ان کان رھنہ لنفسہ لانہ مضطر کمعیرالرھن۔ باپ نے اپنے ذاتی قرض کے عوض اپنے بیٹے کی کوئی چیزرہن رکھ دی تو جائزہے اگربیٹا بالغ ہوگیا اورباپ مرگیا ہے توقرض کی ادائیگی سے پہلے بیٹا مرہون کولینے کاحقدار نہیں۔وہ بیٹاباپ کے مال میں رجوع کرے گا اگرباپ نے وہ چیز اپنی ذات کے لئے رہن رکھی ہوکیونکہ بیٹا اس میں مجبورہے جیسے رہن کو عاریت پردینے والا۔(ت)
ردالمحتارمسئلہ معیرمیں ہے:
لانہ یرید بذلك تخلیص ملکہ فھو مضطرالیہ ۔ کیونکہ اس عمل سے اس کامقصد اپنی ملکیت کی خلاصی کراناہے چنانچہ وہ اس میں مجبورہے۔(ت)
اورشرعا اگرچہ یہ مرتہن مرتہن نہ ہو یا اس کا دین بتمامہ توفیر سے اداہوگیا جس کے سبب
الدرالمختار کتاب الرھن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴€
ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۳۱€
وکذا النوائب ولو بغیر حق کجبایات زماننا فانھا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقھا حتی لواخذت من الاکار فلہ الرجوع علی مالك الارض وعلیہ الفتوی ۔ یونہی شاہی ٹیکسوں کی کفالت صحیح ہے اگرچہ وہ ناحق ہوں جیسے ہمارے زمانے میں مظالم سلطانیہ کیونکہ وہ مطالبہ میں قرضوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدترہیں یہاں تك کہ اگر مزارع سے وہ مظالم وصول کئے گئے تووہ زمین کے مالك کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اسی پرفتوی ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی اخراجارات القنیۃ برمزظھیرالدین المرغینانی وغیرہ المستأجر اذا اخذ منہ الجبایۃ الراتبۃ علی الدور والحوانیت یرجع علی الاجر وکذا لاکار فی الارض وعلیہ الفتوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قنیہ کی کتاب الاجارات کے آخرمیں ہے ظہیرالدین مرغینانی وغیرہ نے ظاہرکیاہے کہ اگرکرایہ دار سے مروج ٹیکس جوکہ گھر اوردکانوں پرعائد ہے وصول کیاگیا تو وہ آجر کی طرف رجوع کرے گا۔اورفتوی اسی پرہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳: مسئولہ ظہورالدین صاحب ۲۶صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)اگرایك مسلمان کچھ زیور دوسرے مسلمان کے پاس لے کرگیا اوراس سے کچھ روپیہ قرض لیا اور زیوراپنا اس کے پاس روپیہ کی ضمانت میں رکھ دیا جس مسلمان کے پاس زیوررکھاگیاہے وہ زیورکاحق حفاظت یا کرایہ حاصل کرسکتاہے یانہیںاوراگرلے تو جائزہوگایانہیں
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۸۲€
(۲)اگرایك مسلمان دوسرے مسلمان کے پاس کچھ روپیہ لینے گیا اوراس روپیہ کی ضمانت میں ایك دستاویز لکھا جس میں کوئی جائداد منقولہ یاغیرمنقولہ اس روپیہ کی ضمانت میں تحریر کی اب جس مسلمان نے کہ روپیہ دوسرے مسلمان کو دیا اوراس جائداد کی حفاظت کرنے کاروپیہ مانگتاہے لہذا اس کو لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
مکرر یہ ہے کہ یہ سناہے کہ حضونے رہن دخلی کی کوئی ایسی صورت نکالی ہے جو جائزہے امیدہے کہ اس سے بھی مطلع فرمایا جاؤں گا۔
(۳)مکرر یہ کہ شرعی طورپر ایسی کون کون سی صورتیں پیداہوسکتی ہیں کہ جن سے مسلمان آپس میں ایك دوسرے سے یا غیرقوم سے روپیہ کالین دین کرسکیں اورفائدہ اٹھاسکیںامیدکہ ایك یا دوصورتیں تحریرفرمادی جائیں جو حسب تصریح فقہائے کرام ثابت یا حدیث نبوی میں واقع ہوں۔اﷲ تعالی اس کا اجردے گافقط۔
الجواب:
(۱)زیورکہ روپیہ کی ضمانت میں دیاگیااس کے معنی بعینہ رھن رکھنے کے ہیں اوررہن کی حفاظت ذمہ مرتہن ہے کہ وہ اسی کے حق میں محبوس ہے اس پراجرت لینے کے کوئی معنی نہیں اگرلے گا خالص سودہوگایہ نفع جائزنہیں ہوسکتا بلکہ قطعی حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)جائداد ضمانت میں دینایہاں دوطریقے پررائج ہےایك یہ کہ جائداد مالك ہی کے پاس رہتی ہے اور وہ دائن کولکھ دیتا ہے کہ یہ میں نے تیرے دین میں مکفول کی ہے اسے کفالت یا استغراق کہتے ہیں یہ شرعا محض باطل ومہمل ہےنہ اس میں کسی حق حفاظت کاوہم ہوسکتاہے کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی نہیں جاتی۔دوسری صورت رہن دخلی کی ہے وہ خود ہی حرام و سودہے۔تیسری صورت جوشرعی ہے اور یہاں جاری نہیں وہ یہ کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی جائے اورمرتہن صرف اس پرقبضہ رکھے کسی طرح کانفع اس سے حاصل نہ کرےیہ صورت جائز اوریہی رہن شرعی ہے اور اس کی حفاظت کا وہی حکم ہے جو جواب اول میں گزراکہ اس پر کچھ لینا محض سوداورحرام قطعی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)رہن دخلی کے جواز کی یہاں کوئی شکل نہیںنہ میں نے نکالی ہے نہ کوئی نکال سکتاہے اس کے
مسئلہ ۷۴ و ۷۵: مرسلہ محمدسبحان ازموضع پوراکوٹھی ڈاکخانہ شمشیرنگر ضلع گیا ۱۶صفرالمظفر۱۳۳۵ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں مسلمانوں کی رائے ہے کہ شاہراہ بیچ بستی کے جوعام لوگ کوفائدہ پہنچ سکے ایك کنواں پختہ تیارکریں اورقیمت چرم قربانی کا اس میں خرچ کریں کیونکہ اس بستی میں ایك شخص کو کسی کو لیاقت نہیں جو ایك آدمی کنواں بندھواسکے پانی پینے کی ازحدتکلیف ہے ایسی حالت میں قیمت چرم قربانی کنویں میں خرچ کرنا جائزہے یانہیں جواب سے سرفرازفرمایاجائے۔
(۲)ہم نے ایك بیگھہ کھیت گرویں مبلغ پچاس روپے اس شرط پردے کر لیاکہ تاادائے روپیہ ہم نے اس کھیت کو آباد کیااوراس کی مالگزاری لگان وغیرہ ہرسال اداکرتے گئے اور پیداوار اس کی اپنے مصرف میں لائے اس طورکاکھیت لیناجائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)قربانی کی کھال ہرنیك ثواب کے کام میں صرف ہوسکتی ہے حدیث میں ہے:
کلواوادخرواواتجروا۔ کھاؤذخیرہ کرو اور کارثواب میں خرچ کرو۔(ت)
ہاں جس نے دام حاصل کرنے کے لئے بیچی ہوئی ہو اس پرلازم ہے کہ وہ دام فقیروں ہی کو دے۔حدیث میں ہے:
من باع جلد اضحیۃ جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی
(۲)کاشت کارکھیت کامالك نہیں ہوتانہ اسے بے اجازت زمین دار رہن کرنے کا اختیاراوریہاں اگرزمیندار بھی اجازت دے گا تو نہ اس طرح کہ کھیت معطل ہے اوراس کی لگان نہ ملے بلکہ یونہی کہ کھیت تم جوتو اورلگان اداکرویہ اجارہ ہوگا نہ کہ رہناس صورت میں اس نے جوروپیہ اس کاشتکار کودیا وہ اس کے ذمہ رہا اورکھیت کامستاجراس کی جگہ یہ ہوگیا اسے کھیت سے کوئی تعلق نہ رہازمیندار کواختیارہے اس کے پاس رکھے خواہ اسے واپس دےیہ جوکچھ جوتے بوئے اس کا ہے لگان زمین دارکا ہے اوراس کاقرض کاشتکار پرہےصورت شرعی تو اس میں یہ ہےاوراگریہ سمجھتے ہیں کہ کھیت اسی کاشتکار سابق کے اجارہ میں ہے ہمارے پاس رہن ہے اورزمیندار نے بھی اسے مستاجر نہ بنایابلکہ اس کو رکھا اور اس نے اس کاقائمقام ٹھہراکر لگان لیا تویہ صورت باطل ہے مرتہن کو رہن سے نفع لیناجائزنہیں توامرناجائزکاقصدکیا اورناجائز کاقصدبھی گناہ ہے اگرچہ واقع کے خلاف ہوکہ یہ نہ رہن شرعی ہے نہ رہن واجارہ جمع ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۶: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگودریاست کوٹہ راجپوتانہ ۱۰/ربیع الاول شریف۱۳۳۵ھ
ایك کاشتکار کی زمین ملکیت سرکاری اس کاکھاتہ بند ہے اوروہ لگان اس کافی بیگہ دوروپیہ ماہوار بابت کاشت کاردیتارہتاہے یہی زمین اس نے رفع ہونے کی غرض سے مبلغ ایك صدروپے یا اس سے زیادہ کم میں کسی مسلمان کے رہن بالقبض کردی اب مرتہن نے اس کوکاشت کیا اوروہی سرکاری زمین کاجو سابق کاشتکار دیاکرتاتھا سرکارنے اس سے وصول کرلیایا اس نے کسی قدر منافع پردے کرشخص کوکاشت کرادی توجومنافع زمین سرکاری سے مرتہن نے بحالت ادائیگی کھاتہ معہودہ سرکاری حاصل کیا وہ زر رہن میں محبوس کرے گا یاکیا
الجواب:
رہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتے یہ زمین کہ اجارہ میں ہے رہن نہ ہوئی اورظاھرا یہاں یہ بھی نہیں ہوتاہے کہ گورنمنٹ اس کی جگہ اس کومستاجر زمین سمجھے بلکہ مستاجروہی رہتاہے
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا ۔ جوقرض نفع لائے وہ سودہے۔(ت)
لگان جومرتہن نے گورنمنٹ کواداکی خود کاشت کی اوراس کے بدلے دی نہ راہن کی طرف سےتو اس کاجس طرح راہن سے مطالبہ کوئی وجہ نہیں رکھتاہاں اگر راہن کہے کہ میرے ذمہ جولگان ہے وہ اداکیا کراب وہ اس بناپراداکرتاہے تو اس کامطالبہ راہن سے کرسکتاتھا اسی طرح جب کہ اس نے زمین میں کاشت کی توجوپیداوار ہے اس کایہی مالك ہے اگرچہ یہ انتفاع اس کو ناجائز تھا اس کے سبب زررہن سے کچھ ساقط نہ ہوگا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۷و۷۸: ازموہن پور مسئولہ سالاربخش خیاط ۱۲/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کھیت رہن ۶بیگہ مبلغ ایك سوروپیہ میں رکھاگیا اورلگان اس کا ۶روپیہ ہے اورکاشت خود کرتے ہیں توجائزہے یانہیں
(۲)زمین داری ۱۲بسبانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اورلگان سرکاری ۳۵روپیہ ہیں وہ جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)صورت مسئولہ میں اگرموروثی کھیت دخلیکار آسامی سے بالعوض ایك سوروپے کے رہن رکھاہے تو اس میں خود کاشت کرنا اس وقت تك جائزنہیں کہ اصل مالك یعنی زمین دار سے اجازت حاصل کریں دخلیکار آسامی موروثی ہونے سے شرعا مالك نہیں ہوتاصورت جواز یہ ہے کہ اس پرقبضہ کے بعد اصل مالك یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دار کوتامدت رہن اداکرتارہے اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے دخلیل کار کوقرض دیاہے اوراس کی ملك رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے
(۲)مواضعات کادخلی رہن جیسا کہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہےحدیث میں ارشاد فرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا۔ جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کو جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۷۹: اودے پورمیواڑ مرسلہ احمدخاں وکیل دربار مارواڑ متعینہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
جناب عالی! عرض ہے کہ زمین داری ۱۲بسوانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اور لگان سرکاری ۳۵روپیہ میںوہ جائزہے یانہیں
مواضعات کادخلی رہن جیساکہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہےحدیث میں ارشادفرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔ جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کوجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مبلغ ایك ہزارروپیہ پرچند قطعہ دکانات ومکانات اپنے جو بقبضہ کرایہ داران زید کی طرف سے تھیں بذریعہ رہن نامہ مصدقہ بکرکے پاس رہن کیں بعدازاں اس زررہن پر مبلغ پانچسوروپیہ اوراضافہ کرکے دوسری دستاویز بحوالہ دستاویز سابقہ تصدیق کرادی دستاویز مذکور میں اقرار تسلیم قبضہ بکر نے تحریر کرالیا اوریہ بھی دستاویز میں تحریر کرالیاکہ جومنافع بذریعہ سکونت وغیرہ کرایہ داروں سے مرتہن وصول کرے وہ حق مرتہن ہے چنانچہ مبلغ چارہزارنوسوپینتالیس روپے بکرنے بذریعہ زیدکرایہ داران سے وصول پائے اورحسب مضمون دستاویز ودکانات کوکرایہ پرقائم رکھ کر اس کرایہ کی منفعت بکرنے حاصل کی اس کے بعد پھر بکرنے عدالت میں نالش زررہن بغرض نیلام جائداد مرہونہ دائرکی۔
زید مدعاعلیہ کویہ عذرات ہیں:
(۱)قبضہ مرتہن مرہونہ پرنہیں ہوا اس وجہ سے کہ مرہونہ پہلے سے بقبضہ کرایہ داران تھی جس کامرتہن کو خوداقرار ہے اوررہن میں قبضہ واقعیہ وتسلیم خاص کی ضرورت ہے تصریحات فقہیہ سے ظاہرہوتا ہے کہ تسلیم وقبضہ کی تحریرکافی نہیں ہے۔ در مختارمیں فاذا سلمہ وقبضہ المرتھن (جب راہنمرہون سونپ دے اورمرتہن اس پرقبضہ کرلے۔ت)یوں نہیں ہے کہ فاذا کتب تسلیمہ وقبض المرتھن (جب اس کی سپردگی کی تحریرہوگئی اورمرتہن نے قبضہ کرلیا۔ت)
(۲)دستاویز میں یہ الفاظ ہیں کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے یہ اذن راہن برائے اجارہ ہے چنانچہ منافع کرایہ مرتہن نے بذریعہ اجازت راہن کے حاصل کئے اور یہ صورت ہے اجارہ دینے کی مرتہن کاباذن راہن کے اوریہ امر
کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
(۳)رہن میں زیادتی فی الدین حضرت امام الائمہ سیدابوحنیفہ الکوفی وحضرت امام محمد رحہمااﷲ تعالی کے نزدیك جائزنہیں حالانکہ پہلے ایك ہزارروپے میں رہن ہونااس کے بعد پانسوروپے اورلے کر ایك ہزارپانسو میں رہن ہونا خودبکرکوتسلیم ہے۔اورامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کا اس زیادتی فی الدین کوجائزکہناحجت نہیں ہے کہ فتوی اختلاف کی صورت میں امام صاحب کے قول پرہوتاہے چہ جائیکہ ان کے ساتھ امام محمد بھی ہیں۔درمختارمیں ہے:
والاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق۔ اصح یہ ہے کہ سراجیہ وغیرہ میں ہے کہ فتوی مطلقا امام اعظم کے قول پرہے۔(ت)
(۴)بکرمرتہن نے جوزرکرایہ تعدادی چارہزارنوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کرایہ داروں سے بذریعہ زید وصول کیا ہے وہ حق راہن یعنی زیدہے چنانچہ
وان باذنہ فللمالك کما فی درمختار وتکون الاجرۃ للراھن کما فی قاضی خاں اگر اس کی اجازت سے ہے تواجرت مالك کے لئے ہے جیساکہ درمختارمیں ہے کہ اجرت راہن کے لئے ہوگی جیساکہ فتاوی قاضی خاں میں ہے۔(ت)
اس پربین دلیلیں ہیں(بکرمدعی یہ کہتاہے)
(۱)اقرارقبضہ جبکہ دستاویز میں تحریرہے تو ضرورت کسی دیگرثبوت کی نہیں کیونکہ مکانات مرہونہ کو راہن نے جب اپنے حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا جس پردستاویز شاہد ہے تو مرتہن کاقبضہ پوراہوگیا۔
(۲)دستاویز کے یہ الفاظ کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے اور اس پربذریعہ راہن مرتہن کاعملدر آمد بہ صورت اجارہ باذن راہن ہے اوراجارہ باذن راہن مبطل ہی نہیں ہوتا بلکہ
الدرالمختار کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۸€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الرہن فصل فیمایجوز رھنہ ومالایجوزالخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۹۵€
(۳)زیادتی فی الدین امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك جائزہے اورمعاملات میں اکثر فتوی انہیں کے قول پر ہوتا ہے۔دریافت طلب امریہ ہے کہ شرعا عذرات مندرجہ بالابکرکے صحیح ہیں یا اقوال زیدکے صحیح ہیں ہرسوال کاجواب بالتفصیل نمبروار بحوالہ کتب فقہ عنایت ہوبینوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور روزحساب اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عذرات زید صحیح ومسموع اورشبہات بکر باطل ومدفوع ہیں۔
(۱)رہن اوریہ اجارہ تو دو عقد ہیں جن کا حکم قبضہ کادست نگررہن بے قبضہ باطل اوراجارہ بے قبضہ نفاذ سے عاطل۔بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
القبض شرط جواز الرھن لقولہ سبحنہ وتعالی "" وصف سبحنہ وتعالی الرھن بکونہ مقبوضا فیقتضی ان یکون القبض فیہ شرطا ولانہ عقد تبرع للحال فلایفیدالحکم بنفسہ کسائر التبرعات۔ جواز رہن کے لئے قبضہ شرط ہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ"تورہن ہو قبضہ میں دیاہوا"اﷲ سبحانہ وتعالی نے رہن کو اس وصف کے ساتھ موصوف فرمایاکہ وہ مقبوض ہو۔یہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ رہن پرقبضہ شرط ہواوراس لئے بھی رہن حال کے لئے عقدتبرع ہے توباقی تبرعات کی طرح باعتباراپنی ذات کے حکم کافائدہ نہیں دیتا۔(ت)
اسی میں شرائط نفاذ اجارہ میں ہے:
الحکم فی الاجارۃ المطلقۃ لایثبت بنفس العقد عندنا لان العقد فی حق الحکم ینعقد علی حسب حدوث المنفعۃ فکان العقد فی حق الحکم مضافا اجارہ مطلقہ میں ہمارے نزدیك نفس عقد سے حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حکم کے حق میں عقد اجارہ منفعت کے پیدا ہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔چنانچہ حکم کے حق میں عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوتاہے
رہن قبضہ مرتہن چاہتا ہے کہ اس کامقتضی حبس ہے اورحبس بے قبض ناممکن اوراجارہ قبضہ مستاجر چاہتاہے کہ اس سے مقصود انتفاع ہے اورانتفاع بے قبض نامتصور اورشیئ واحد کاوقت واحد میں دومختلف قبضوں میں ہونا محالولہذا اگرراہن بہ اجازت مرتہن یامرتہن باجازت راہن شے مرہون شخص ثالث کے اجارہ میں دے یاراہن خودمرتہن کو اجارہ دےتینوں صورتوں میں رہن باطل ہوجاتا ہے۔بدائع میں ہے:
لیس لہ ان یؤاجرہ من اجنبی بغیر اذن المرتھن لان قیام ملك الحبس لہ یمنع الاجارۃ ولان الاجارۃ بعقد الانتفاع وھو لایملك الانتفاع بہ بنفسہ فکیف یملکہ غیرہ ولوفعل وقف علی اجازتہ فان ردہ بطل وان اجازجازت الاجارۃ وبطل عقدالرھن لان الاجارۃ اذا جازت وانھا عقد لازم لایبقی الرھن راہن کے لئے جائزنہیں کہ مرتہن کی اجازت کے بغیرمرہون شیئ کسی اجنبی کواجارہ پردے دے کیونکہ مرتہن کاملك حبس اجارہ سے مانع ہے اوراس لئے بھی کہ اجارہ کی بنیاد انتفاع پرہے جبکہ راہن خودمرہون سے انتفاع کامالك نہیں تو کسی غیرکو اس کامالك کیسے بناسکتا ہےاوراگرراہن نے ایساکردیا تو یہ مرتہن کی اجازت پرموقوف ہوگا اگرمرتہن نے اسے رد کردیا توباطل ہوجائے گا اوراگراس نے اجازت دے دی تو اجارہ جائزجبکہ عقدرہن باطل ہوجائے گا کیونکہ اجارہ جب جائز ہوگا اور وہ عقدلازم ہے۔
اسی میں ہے:
یخرج المرھون عن کونہ مرھونا ویبطل عقد الرھن بالاجارۃ بان آجرہ الراھن من اجنبی باذن المرتھن او المرتھن مرہون شیئ مرہون ہونے سے نکل جائے گی اورعقد رہن اجارہ کے ساتھ باطل ہوجائے گااس صورت میں کہ راہن نے وہ شیئ مرتہن کی اجازت سے یامرتہن نے راہن کی اجازت
بدائع الصنائع کتاب الراہن فصل وامّا حکم الرھن الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی ۶/ ۱۴۷€
یہاں کہ فریقین کواقرارہے کہ دکان ومکان رہن سے پہلے سے منجانب زیدکرائے پرہیں اور جب سے اب تك برابرقبضہ کرایہ داران میں ہیں کبھی ان سے خالی نہ کرائی گئیںتوتخلیہ کہ شرط رہن تھا کبھی نہ ہوا اوررہن سرے سے ناجائزوناتمام رہاعــــــہ۔
عوام عموما اورآج کل کے قانون دان خصوصا نرے زبانی یاکاغذ کے تلفظ کو قبضہ کہتے اورسمجھتے ہیں نہ وہ تخلیہ کے معنی سے آگاہ ہیں نہ اس کی
عــــــہ:مشی فی الہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا علی ان القبض شرط اللزوم فلایتم الرھن الا بہقال فی العنایۃ وھو اختیار شیخ الاسلام وھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الا مقبوضا ومثلہ فی کافی الحاکم الشہید ومختصر الطحاوی والکرخی اھ قال الکرخی انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و الحسن بن زیاد وصححہ فی الذخیرۃ قھستانی و المجتبی درمختاروالمحیط ھندیۃ وبہ جزم ہدایہملتقی اورتنویروغیرہ میں یہ روش اختیارکی ہے کہ رہن میں مرہون پرقبضہ کرناعقد کے لازم ہونے کے لئے شرط ہے۔چنانچہ اس کےبغیرعقد تام نہیں ہوتا۔عنایہ میں کہا اور وہی شیخ الاسلام کامختارہے اور وہ عام مشائخ کی روایت کے مخالف ہے۔امام محمدنے فرمایا کہ مرہون پرقبضہ ہوئے بغیر رہن جائزنہیں ہوتا اور اسی کی مثل حاکم شہید کی کافی اورامام طحاوی کی مختصر اورامام کرخی کی مختصر میں ہے الخ کرخی نے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہامام ابویوسفامام محمد اورحسن بن زیاد کاقول ہےاس کوذخیرہ میں صحیح قراردیا (قہستانی)اور مجتبی میں اس کو صحیح قراردیا(درمختار)اورمحیط میں اس کو صحیح قرار دیا (ہندیہ) (باقی اگلے صفحہ پر)
الہدایہ کتاب الرھن ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۱۳€
العنایۃ علٰی ھامش فتح القدیر کتاب الرھن ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۶€
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ )
فی البدائع کما تری وکذا ذکرہ فی الرھن من العقود الدریۃ انہ الصحیحاقول:والہدایۃمع مشیہ علی انہ شرط اللزوم کلامہ فی الدلائل فی مسئلۃ لایجوز رھن المشاع وغیرھا یدل علی انہ شرط الانعقاد فتدبرہ و راجع العنایۃ ونتائج الافکار وکذا التنویر مع اتباعہ للہدایۃ قال لایصح رھن المشاع قال فی الدر الصحیح انہ فاسد اھ تامل وراجع ما علقنا علی ردالمحتار ویستفاد من العنایۃ ان معنی شرط الجواز عند قائلیہ ان الرھن باطل ان لم یقبض فاخترناہ لما علمت لہ من القوۃ ۱۲منہ غفرلہ۔ اوراسی پربدائع میں جزم کیاجیساکہ تودیکھ رہا ہےاوریونہی عقود الدریہ کی کتاب الرھن میں ذکرکیا کہ بے شك وہ صحیح ہے۔میں کہتاہوں ہدایہ کی اس روش کے باوجود کہ قبضہ شرط لزوم ہے رھن مشاع وغیرہ کے عدم جواز پردلائل کے ضمن میں صاحب ہدایہ کاکلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبضہ شرط انعقاد ہے۔پس اس میں غورکراورعنایہ اورنتائج الافکار کی طرف رجوع کر۔یونہی تنویرمیں ہدایہ کی اتباع کرتے ہوئے کہاکہ مشاع کارہن صحیح نہیں۔درمیں کہاصحیح یہ ہے کہ وہ فاسد ہے الخ غور کراور ردالمحتار پرہماری تعلیق کی طرف رجوع کر۔عنایہ سے مستفاد ہے کہ شرط جواز کامعنی اس کے قائلین کے نزدیك یہ ہے کہ اگرمرہون پر قبضہ نہیں ہوا تو رہن باطل ہے۔چنانچہ ہم نے اسی کواختیار کیا ہے جیسا کہ تو اس کی قوت کوجان چکاہے ۱۲منہ غفرلہ(ت)
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۸€
دستاویز میں کہ بکرکوقابض کردینا مسطوریقینا اس سے یہی محاورہ جہال منظورتوبکرکااس سے استدلال ہباء منثوراوراگرفرض کیجئے کہ اسے شرط قبضہ ہی پرمحمول رکھیں تو اب دو۲ وجہ سے مردودہے:
اولا: جب یقینا معلوم کہ کرایہ داروں سے تخلیہ کرکے قبضہ کسی وقت نہ دلایا پہلے سے اب تك کرایہ داروں کاقبضہ مستمرہے اوراوپربیان ہوچکاکہ شے واحد پروقت واحد میں دومختلف قبضے محالتو یہ اقرار بالمحال ہوااوراقرار بالمحال باطل ونامسموع ہے مثلا بھائی اقرار کرے اوررجسٹری کرادے کہ متروکہ پدری اس میں اور اس کی بہن میں بذریعہ میراث پدر نصف نصف ہے یہ اقرارمردودہے بہن اس سے استدلال نہیں کرسکتی کہ وہ شرعا محال ہے لہذاثلث سے زیادہ نہ پائے گی۔یوں ہی یہاں باوصف استمرار قبضہ مستاجر ان قبضہ مرتہن شرعا محال ہےلہذا اقرار واجب الابطال ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
الاقرار بشیئ محال باطل کما لواقرلہ بارش یدہ التی قطعھا خمسمائۃ درھم ویداہ صحیحتان لم یلزمہ شیئ کما فی محال شیئ کااقرار باطل ہے جیسے کسی کے لئے پانچسوروپے دیت کااقرارکیااس کے ہاتھ کے بدلے میں جو مقرنے کاٹاہے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ سلامت ہیں تومقر پرکچھ بھی لازم
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۵€
ثانیا: بالفرض زیدقبضہ بکرکامقر ہے مگربکر خوداپنے قبضہ سے منکرہے کہ تسلیم کرتاہے کہ اب تك قبضہ مستاجران مستمر ہے اورمقرلہ جب اقرار کی تکذیب کرے اقرارباطل ہوجاتاہے۔ اشباہ میں ہے:
المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ الخ واستثنی سبعۃ اشیاء لیس ھذا منھا۔ مقرلہ جب مقرکو جھٹلادے تو اس کااقرار باطل ہوجائے گا الخ صاحب اشباہ نے سات چیزوں کا استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ بکر کاکہنا کہ حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا صریح غلط ہے۔
(۲)بلاشبہہ جب باتفاق فریقین یقینا ثابت کہ دکان ومکان پہلے سے کرایہ پرہیں اوریہ کہ راہن ومرتہن دونوں اس اجارے اور اس کی بقا پرراضیمرتہن اب تك اس کرایہ سے متمتع ہوتارہا توبعد رہن اگریہ اجارہ ازجانب راہن ہے تومرتہن کا اذن ہے اور ازجانب مرتہن فرض کیجئے تو راہن کا اذن ہےاورہم بدائع ملك العلماء سے لکھ آئے کہ دونوں صورتوں میں رہن باطل ہے نیزفتاوی امام قاضی خان وفتاوی عالمگیریہ وغیرھامیں ہے:
ان آجر المرتھن من اجنبی بامر الراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھنوان آجرہ الراھن من اجنبی مرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی اجنبی کو اجارہ پردے دی وہ رہن سے نکل جائے گی اوراجرت راہن کے لئے ہوگیاوراگرراہن مرتہن کے حکم سے اجنبی کو اجرت
بکرکاکہنا ہے کہ اجارہ باذن راہن مبطل رہن نہیں ہوتا۔اگریہ مقصود کہ کسی شخص ثالث فضولی کاباذن راہن اجارہ میں دینا مبطل رہن نہیں جب تك مرتہن بھی اس پرراضی نہ ہوتو صحیح ہے مگر معاملہ دائرہ سے بے علاقہیہاں کسی فضولی نے اجارہ نہ دیا اوربالفرض ہو بھی تو راہن ومرتہن دونوں کی رضا موجودبہرحال رہن باطل ہوگیا۔خانیہ وہندیہ میں ہے:
ان آجرھا اجنبی بغیر اذن الراھن والمرتھن ثم اجازا جمیعا کان الاجرللراھن ویخرج من الرھن۔ اگراجنبی شخص نے راہن ومرتہن کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھر دونوں نے اکٹھی اجازت دے دی تو اجرت راہن کے لئے ہوگی اور وہ شے رہن سے نکل جائے گی۔(ت)
اوراگریہ مقصود کہ مرتہن کاباذن راہن اجارہ دینا مبطل رہن نہیں تو صریح کذب اورتمام کتب کے خلاف ہے اوریہ عذر کہ یہاں اجارہ نیا مرتہن کا ثابت نہیں کہ اس نے نئے دکاندار کونہ بٹھایا محض باطل وبے اثرہے
اولا: مرتہن کا اجارہ دینا ثابت نہ سہی راہن کا اجارہ دینا اوراس پرمرتہن کی رضاتوثابت ہے یہ کیا بطلان رہن کو بس نہیں۔
ثانیا: عقد اجارہ وقتا فوقتا نیاہوتا ہے کہ منفعت بتدریج پیداہوتی ہے اسی تدریج سے اجارہ تجدید پاتا ہے۔بدائع میں ہے:
الطاری فی باب الاجارۃ مقارن لان المعقود علیہ المنفعۃ وانھا تحدث شیئا فشیئا فکان کل جزء یحدث اجارہ کے باب میں مقارنت طاری ہوتی ہے کیونکہ اس میں معقود علیہ منفعت ہوتی ہے اور وہ وقتا فوقتا بتدریج پیداہوتی رہتی ہےچنانچہ منفعت کی ہرجزجوپیداہوتی ہے وہ
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الثامن فی تصرف الراھن الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵€
ہدایہ میں ہے:
الاجارۃ تنعقد ساعۃ فساعۃ حسب حدوث المنفعۃ۔ اجارہ وقتا فوقتا منفعت کے پیداہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
(جواز العقد لیس باعتبار أن المعدوم جعل موجودا حکما وکیف یقال ذلك والموجود من المنفعۃ لایقبل العقد لانہ عرض لایبقی زمانین فلایتصور فیہ التسلیم بحکم العقد والقدرۃ علی التسلیم شرط لجواز العقد وما لایتصور فیہ التسلیم لایکون محلا للعقد بل باعتبار ان العین التی ھی سب وجود المنفعۃ اقیمت مقام المنفعۃ فی حق صحۃ الایجاب و القبول وفی حق وجوب التسلیم اذ العین ھی التی یمکن تسلیمھا دون العرض فانعقد فی حقھا فی الحال فوجب علیہ تسلیمھا اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبارسے نہیں کہ معدوم کو حکمی طور پر موجود بنادیاگیاہےاور یہ کیسے کہاجاسکتاہے حالانکہ جو منفعت موجود ہو وہ عقد کوقبول نہیں کرتی اس لئے کہ وہ عرض ہے جودوزمانوں میں باقی نہیں رہتیلہذا اس میں عقد کے حکم سے سپردگی متصورنہیں جبکہ سپردگی پرقادر ہونا عقد کے لئے شرط جواز ہےاور جس میں سپردگی متصورنہیں وہ عقد کا محل نہیں ہوسکتابلکہ اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبار سے ہے کہ عین شیئ جو کہ وجود منفعت کا سبب ہے اس کو ایجاب و قبول کی صحت اورسپردگی کے وجوب کے حق میں منفعت کے قائمقام کردیاگیاہے اس لئے کہ اس عین ہی کی سپردگی ممکن ہے نہ کہ عرض کیلہذا اس عین کے حق میں فی الحال عقد منعقد ہوجائے گا اورآجر پر اس کی سپردگی واجب ہوگی
الہدایۃ کتاب الاجارۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۱€
الاجارۃ تبطل الرھن۔ اجارہ رہن کو باطل کردیتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اخبراﷲ سبحانہ وتعالی المرھون مقبوض فیقتضی کونہ مقبوضا مادام مرھونا۔ اﷲ سبحانہ وتعالی نے خبردی ہے کہ مرہون مقبوض ہو۔یہ خبر اس کے مقبوض ہونے کا تقاضاکرتی ہے جب تك وہ مرھون ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الرھن فی اللغۃ عبارۃعن الحبس قال اﷲ تعالی عزوجل" کل امری بما کسب رہین ﴿۲۱﴾"ای حبیس فیقتضی ان یکون المرھون محبوسا مادام مرھونا و لولم یثبت ملك الحبس علی الدوام لم یکن محبوسا علی الدوام فلم یکن مرھونا۔ رہن لغت میں حبس کانام ہےاﷲ تبارك وتعالی نے فرمایا: ہرشخص اپنے کئے میں مرہون یعنی محبوس ہےاس کاتقاضایہ ہے کہ مرہون جب تك مرہون ہے محبوس ہو اور اگرملك حبس دائمی طورپر ثابت نہ ہوئی تو وہ دائمی طورپر محبوس نہ ہواچنانچہ وہ مرہون نہ ہوا۔(ت)
اسی سے گزرا:
بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل وامام الشرائط الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴€۲
بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل واما حکم الرھن ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۵€
(۳)بے شك زیادت فی الدین ناجائزہےیہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ہےاوراسی پرمتون و شروحاوریہی من حیث الذیل اقویکما یظھر بمراجعۃ البدائع والتبیین وغیرھا(جیساکہ بدائع اورتبیین وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہرہوتا ہے۔ت)اوربیشك فتوی ہمیشہ قول امام پرہے مگربضرورتاس بارے میں ہمارا مبسوط رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام طبع ہوچکاہےبکرکاقول کہ معاملات میں اکثر فتوی قول امام ابویوسف پرہوتا ہے غلط ہے یہ صرف مسائل متعلقہ وقف وقضا میں کہاجاتاہے اوروہ بھی کوئی ضابطہ نہیں کہ بے تصحیح صریح اس سے خلاف قول امام وخلاف متون وشروح تصحیح کرلیں مگریہ بحث یہاں کوئی نتیجہ خیزنہیںنہ اس کی اصلا حاجتجبکہ ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ یہ رہن خودہی باطل محض ہےپھربحث زیادت کی کیاگنجائش!
(۴)چارہزار نوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کہ بکرکے کرایہ داروں سے وصول کئے وہ ضرور حق زیدہیں بکرکا ان میں کوئی حبہ نہیں کہ یہ اجارہ راہن باذن مرتہن ہے یاعلی التنزل اجارہ مرتہن باذن راہن مگرہم کتب معتمدہ بدائع امام ملك العلماء وفتاوی امام قاضی خان وفتاوی عالمگیریہ سے ثابت کرآئے کہ دونوں صورتوں میں اجرملك راہن ہے فقط فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں کرایہ داروں سے کرایہ وصول کرنے کا حق بھی راہن ہی کو ہےاوردوسری صورت میں مرتہن کو کہ وہی عاقد ہے وہی وصول کرے اورراہن کو دے دے خود اس میں سے کچھ نہیں لے سکتالہذا بکرپرلازم ہے کہ اپنا قرض پندرہ سومجراکرکے تین ہزارچارسوپینتالیس روپے آٹھ آنے زیدکو ادا کرےدستاویز میں زیدکالکھنا کہ جو منافع مرتہن وصول کرے حق مرتہن ہے باطل وبے اثرہے کہ تغییرحکم شرع ہےاوراگریہ تاویل کی جائے کہ اگرچہ واقع میں عندالشرع وہ حق زید ہے مگرزید کایہ لکھنا اپنی طرف سے بکر کو ان منافع کا ہبہ ہے جب بھی باطل ہے کہ منافع بوقت تحریرمعدوم تھے اورمعدوم کاہبہ باطل۔بدائع میں ہے:
مسئلہ ۸۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب مفتی عبدالقادرصاحب مفتی کچہری دیوانی ریاست ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
مرہونہ پربعد عقدرہن مرتہن کاقبضہ شرعی ہوگیااس کے بعد بطورعاریت یااجارہ یا غصب مرہونہ راہن کے قبضہ میں پہنچ گیا تو علمائے محققین سے سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں عقد رہن باطل ہوجائے گا یاوہ علی حالہ باقی رہے گا اورکیامرتہن کو بربنائے رہن مذکوراسترداد مرہونہ کااستحقاق شرعا حاصل ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صور مذکورہ میں عقدرہن باطل نہ ہوگا اورمرتہن کو استرداد مرہون کاحق رہے گاعاریت وغصب میں توظاہرکہ منافی رہن نہیں عقد اجارہ البتہ منافی رہن ہے ولہذا اگر
مسئلہ ۸۵: ازہوڑہ محلہ کوکربھوکا مکان مداربخش گنیر مرسلہ جان محمدصاحب ۲۸/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھیت رہن لیناجائزہے یانہیں
الجواب:
کھیت کہ زمین دار کی ملك ہو وہ بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتا اوراگر اس کی اجازت سے ہو یایہ رہن رکھنے والا خود اس زمین کامالك ہے تورہن صحیح ہوجائے گا مگر اس میں کھیتی کرنی ناجائزہوگی۔حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۔ جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۶: ازقصبہ نگرام ضلع لکھنؤ مرسلہ خضرمحمد ۱۱/صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس ملك میں عملداری غیرمسلم کی ہو اور ہرطرح سے انہیں استیلاہو اورمسلمان باشندے مغلوب ہوں وہاں اگر کوئی غیرمسلم جائداد کسی مسلمان کے یہاں رکھے اوربخوشی خاطرجائداد کے منافع کو اس مسلمان کے لئے حلال کردے توبقول حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یہ منافع مسلمان کے لئے سود تونہ ہوں گے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں سود نہیںہاں یہ سود کی نیت سے لے تو اپنی نیت پرگنہگار ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زمین کو عمر کے پاس رہن رکھا مدت پانچ سال کی عمر اس زمین کو خرچ دے کرتصرف کرسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
کاشتکار بے اجازت زمیندار زمین کورہن نہیں رکھ سکتا اوربااجازت زمیندار ہوتو وہ اجارے پر نہ رہے گی اجارہ رکھیں گے کہ خراج دے اورکاشت کرےتو رہن نہ رہے گا نہ زید کو زمین سے تعلق رہے گا عمرکاشتکار مستقل ہوجائے گاروپیہ زیدپر قرض رہا وہ اداکرے اور اس کے بعد زمین واپس لینے کا اسے اختیارنہ ہوگاہاں اگر عمرخود چھوڑدے چھوڑدے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸: ۲۰/ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی کے پاس کوئی چیزرہن رکھے اوروہ مرتہن اس چیزپر برابرسودلیتا رہےاور فرض کرو کہ اس نے دوسوروپیہ کاسود لیااب وہ شخص جس کی وہ چیزہے رہن چھٹانا چاہتا ہے تو وہ مرتہن یہ کہتاہے کہ دوسوروپیہ میں سے میں تم کو پانچ روپیہ واپس دیتاہوں اس شرط پرکہ تم شریعت کی روسے جوسود کہ تم نے دیا ہے معاف کرو لیکن مالك چیزاس خوف سے کہ یہ پانچ روپیہ بھی ہاتھ سے جاتے ہیں معاف کرنے پر راضی ہوجائے تویہ معافی جائزہوگی یاناجائزاگرناجائز ہے تو اس کی کیاصورت ہوگی اور ایسی صورت میں مرتہن کو اپنے سود کاکتناحصہ دیناچاہئے
الجواب:
مرتہن پرفرض ہے کہ جتنا سودلیاہے سب راہن کوواپس دے اور یہ اولی ہے یا فقرائے مسلمین پرتصدق کرے اس میں سے اپنے صرف میں ایك حبہ لانا اسے حرام ہے اوراگر صرف کرچکاہے اس کامعاوضہ راہن یافقیروں کودینافرض ہےراہن کے معاف کئے سے معاف نہ ہوگا کہ یہ اس کا آتاہوانہیں جو اس کے چھوڑے سے چھوٹ جائے
الاتری انہ لایجب علی الآخذ ردہ الیہ انما حکموا علیہ کیاتونہیں دیکھتاکہ لینے والے پرواجب نہیں کہ وہ راہن کو واپس کرے۔مشائخ نے
بلکہ وہ اﷲ واحدقہار کے غضب کاخبیث مال ہے کسی حال میں مرتہن کے لئے حلال نہیں ہوسکتااگرتوبہ بھی کرے گا تومقبول نہیں جب تك وہ سارالیاہواراہن یافقراء کونہ دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹ تا ۹۱: مرسلہ نیازالدین احمد ۱۶جمادی الاخری ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان صورتوں میں کہ:
(۱)شیئ مرہون میں تصرف جائزہے یانہیں
(۲)ہمارے اطراف میں ایك قطعہ زمین اس طورپرلیتے ہیں کہ مثلا صاحب زمین کو سوروپے اس عہدوپیمان وقول پردیتے ہیں کہ صاحب زمین روپیہ اداکرسکے تو زمین مرتہن کے قبضہ سے چھوٹ کرراہن کے قبضہ میں آجاتی ہے اس میں بات اتنی ہے کہ مرتہن زمین کاخراج اداکرتے ہیں اورپیداوارزمین کوخودلیتے ہیں اورجس وقت وہ دئیے ہوئے روپے لے گا وہ سو روپے پورپورا لے گا۔
(۳)یہ صورت بعینہ دوسری ہے مگر ذرابیش وکم یہ ہے کہ دلیل اس طورپرلکھتے ہیں کہ اگر راہن مدت معہودہ میں روپیہ ادانہ کرے توزمین فروخت کرکے مرتہن کے قبضہ میں ہمیشہ کے لئے آجاتی ہے۔
الجواب:
مرتہن کومرہون سے انتفاع حرام ہے۔حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔(ت)
زمین رہن رکھنے والا اگرخود مالك زمین ہے جیسے زمین دار معافیدار اگرچہ خراج گورنمنٹی بطورمالگزاری یاابواب اس پرہوجب تو یہ وہی صورت مرہون سے انتفاع کی ہے اور حرام ہےاوراگررہن رکھنے والا کاشتکار ہے اورخراج وہ لگان ہے کہ زمین دار کو دیا جاتاہے تو اسے بے اجازت زمیندارنہ رہن رکھنے کااختیارنہ اسے رہن لینے کا۔اب کہ رہن رکھ دی اورمرتہن نے زمیندار کو لگان دی اوراس نے قبول کیایہ عقد اجارہ زمیندار و
مسئلہ ۹۲: ۱۶/رجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زمین علی وجہ الرہن خریدنا جائزہے یانہ
الجوا ب:
علی وجہ الرہن خریدنا بعینہ رہن لیناہے اس پرتمام احکام رہن کے ہوں گےخریدار کو اس سے نفع اٹھانا حرامدین اگرچہ بعد میعاد ملے زمین واپس نہ دیناحرامواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳: ازشہر محلہ روہیلی ٹولہ متصل مسجدجہان خاں مسئولہ طالب علم بنگالی ۱۳شوال ۱۳۳۸ھ
زیدنے بکر سے ایك بیگہ زمین مبلغ ایك صدروپیہ دے کرلے لی اس شرط پر کہ جب تك روپیہ ادانہیں کریں گے زمین ان کے قبضہ میں رہے گی اورنفع بھی اٹھائیں گے اوراصل روپے میں سے مبلغ عہ ہرسال میں کم ہوتاجائے یہ شرعا جائزہے یانہیں
الجواب:
یہ صورت رہن واجارہ جمع کرنے کی ہے اور وہ جمع نہیں ہوسکتے رہن یوں باطل ہواکہ دوروپے سال اجرت منافع زمین رہن ٹھہرےاجارہ یوں فاسد ہواکہ مدت مجہول رہی کہ جب تك روپیہ اداہولہذایہ شرعا جائزنہیں گناہ ہےاس کافورا فسخ کرنا دونوں پرواجب ہے زمین فورا واپس کردے یا اس اجارہ فاسدہ کو فسخ کرکے ازسرنوصحیح اجارہ متعین مدت کرلے جس میں یہ شرط نہ ہو کہ تاادائے قرض زمین پرقبضہ رہے گارہااس کاقرض ہے اسے اختیارہے کہ اب وصول کرے یاجب چاہےقرض کے لئے
مسئلہ ۹۴: اظہارالحق ساکن چندوسی محلہ کاغذی مکان شیخ عبدالحق صاحب ۱۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زیدایك مکان کا مرتہن ہے اگر وہ اس مکان کو راہن سے عاریۃ لے کر اس میں سکونت اختیارکرے یا اس کو کرائے پر اٹھائے تو یہ فعل اس کاجائزہے یانہیں بحوالہ کتب تحریرفرمائیے۔
الجواب:
بہ اجازت راہن عاریۃ رہے کہ جس وقت راہن منع کرے فورا سکونت چھوڑدے مقفل کرکے صرف قبضہ رہن رکھے جائزہے اورکرایہ پرچلانا بے اجازت راہن ہوتوحرام ہے اورباجازت ہوتورہن جاتارہا کرایہ کامالك راہن ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵: ازمیران پورکٹرہ ضلع شاہ جہان پور مسئولہ محمدصدیق بیگ صاحب ۲۵/محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی اہل ہنود سے زمین دخلی رکھ کرپانچ برس کے واسطے اس میں زراعت خودکرے یاان کوبونے پرکسی دوسرے کودے دے کیسا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
ہنود سے اس عقد کے کرنے میں کوئی حرج نہیں لجواز العقود الفاسدۃ مع من لیس ذمیا ولامستامنا(کیونکہ فاسد عقود ایسے کافروں کے ساتھ جائزہیں جوذمی اورمستامن نہ ہوں۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ و ۹۷: ازالہ آباد مسئولہ سیدسبحن الحسن صاحب ۷ربیع الآخر۱۳۳۹ھ
(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك فٹن گاڑی مبلغ ۲۰۰روپیہ میں دخلی رہن رکھی راہن نے ہرقسم کی مالکانہ اجازت بخوشی دی راہن نے اس کوکرایہ مبلغ ۷روپیہ ماہوار پردے دیایہ کرایہ جائزہے یانہیں
(۲) دوسری یہ کہ زیدنے ایك گھوڑا اپنا اس میں لے کر ڈالا اورکرایہ پر اس شخص کو جس سے دخلی رہن رکھی ہے مبلغ سوروپیہ ماہواردے دی۔بینواتوجروا۔
(۱) یہ حرام ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہوربا ۔جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)
(۲) یہ بھی حرام ہےمالك کو اس کی شے کرایہ پردینا اوربھی بے معنی ہےہاں اگررہن سے بازآئے اوراس کی گاڑی اسے واپس دے اوراپنا گھوڑا سات روپے مہینے کرایہ پردے توجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ مہی پور موضع کلقند مدرسہ ملك بنگال مسئولہ فصل علی صاحب ۴/رمضان ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے شرع متین ومفتیان دین مبین اندریں مسئلہ کہ شخصی چندبیگہ اراضی خود نزد کسے رہن داشتہ بعوضش یك صد روپیہ قرض گرفت ومرتہن بایں شرط کہ تامدت ایفائے زرمقروض اززمین مرہونہ بادائے خراج زمینداران بکاشتکاری خودخواہد داشتقرض دادپس ایں چنیں قرض دادن جائزست یانہبینواتوجروا۔ کیافرماتے ہیں علمائے شرع متین ومفتیان دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی چندبیگھہ زمین کسی شخص کے پاس رہن رکھی اوراس کے بدلے ایك سوروپیہ قرض لیامرتہن نے اس شرط پرقرض دیاکہ مقروض سے قرض کی وصولی تك مرہون زمین کاخراج زمینداروں کودینے کے عوض اس زمین میں کاشتکاری کرے گا توکیاایساقرض دیناجائزہے یانہیں بیان کرواجرپاؤگے(ت)
الجواب:
قرض دادن رواست وآں شرط فاسد وبیجاست وآں رہن باطل وبے معنی ست دردرمختار ست کل ماکان مبادلۃ مال بمال یفسد بالشرط الفاسد کالبیع ومالافلا قرض دینا جائزہے اوروہ شرط فاسد وبے جا ہے اوررہن باطل وبے معنی ہےدرمختارمیں ہے:جس عقد میں مال کا مبادلہ مال سے ہو وہ شرط فاسد کے ساتھ فاسد ہوجاتاہے جیسا کہ بیعاورجوعقدایسانہ ہو
مسئلہ ۹۹: ازرنگون سکی منٹولی سربرٹ مکان ۲۱کمرہ ۱۳مسئولہ محمدابراہیم خطیب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زیدنے اپنی جائداد عمروکے پاس رہن رکھی عمرونے زیدکی موجودگی میں مدت رہن ختم ہونے سے پیشترہی کوٹ سے اجازت لے کر بے اطلاع اس کی جائداد مرہونہ کو بیع کردیااب زید اس بیع کوفسخ کرے گایانہیں اور ثمن بیع اداکرکے اپنی جائداد واپس لے سکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
زیدبے شك اس بیع کو فسخ کرسکتاہے اورزرثمن اداکرنا اس کے ذمہ نہیںزرثمن کامطالبہ مشتری اس مرتہن سے کرے گا زید کے ذمہ صرف زررہن ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
توقف علی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز و الافلاولہ ان مرتہن کی بیع راہن کی اجازت پرموقوف ہوگی اگر اس نے اجازت دی توجائزورنہ جائزنہیں ہوگی راہن کواختیارہے کہ وہ بیع کو
مسئلہ ۱۰۰: ازآول ضلع رہتك مسئولہ محمدجمال مہتمم مدرسہ رونق الاسلام ۴/شوال ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع رہن جائزہے یانہیں زیدکہتا ہے کہ جائزہے اور اس کے لئے کتاب درمختار مطبع منشی نولکشور ص۵۵۴ کی عبارت پیش کرتاہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ مرہون شیئ کانفع باجازت راہن جائزہے۔کیازیدکی دلیل صحیح ہے مگرقول ثانی درمختار کہ متقی کے لئے جائزنہیں یہ بھی سودہے۔زیدکہتاہے کہ اتقانہایت مشکل ہے اوریہ متقی کے لئے ہے مگرعمروکاجواب ہے کہ ہرمسلمان متقی ہے توکیاعمروکاجواب صحیح ہے اور کیاہرمسلمان متقی ہے اورتقوی اورفتوی میں کچھ فرق ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
تحقیق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ مرتہن کورہن سے انتفاع جس طرح رائج ہے قطعا مطلقا اجماعا حرام ہے اول تو وہ شرط سے ہوتاہے رہن نامہ میں لکھاجاتاہے اورپھراذن بھی حقیقتا اذن نہیں عــــــہ ۔
مسئلہ ۱۰۱: مدرسہ منظراسلام مرسلہ محمداحمدطالب علم بنگالی مورخہ ۲۴رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے بکر سے ہزارروپیہ لیااور اپنامکان بکرکے پاس دخلی رہن چھوڑا یعنی جب تك زید وہ روپیہ نہ دے سکے اتنے روز بکرکواختیارخاص ہے چاہے وہ خود اس مکان میں رہے بسے یادوسرے شخص کے پاس کرایہ پردے کرروپیہ لےآیااس صورت میں بکرکے لئے ملکیت ثابت ہے اوربکرکامکان سے کرایہ وصول کرنا مطابق شرع شریف سودہے یانہیں
الجواب:
خودرہنا بھی حرام اورکرایہ لینابھی سود۔اگرکرایہ پردیاتوازآنجاکہ اجازت زید سے تھا کرایہ کامالك زیدہوا اوراب مکان رہن سے نکل گیا۔واﷲ تعالی اعلم
عــــــہ: یہ فتوی ناتمام ہے۔عبدالمبین نعمانی۔
(قسم کابیان)
مسئلہ ۱۰۲: ازمحلہ بہاری پوربریلی مرسلہ ریاض الدین احمد ۲۹رجب ۱۳۳۸ھ
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاک کی قسم کھانا یا اس کااٹھا لیناگناہ ہے یانہیں آپ کوتکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایک شخص سے کہاگیا کہ اگرتوسچاہے توقرآن شریف کواٹھالے۔اس کا اس نے یہ جواب دیا کہ میں سچائی میں ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اٹھاسکتاکیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہرحالت میں گناہ ہےدوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہےمہربانی فرماکر مطلع فرمائیے کہ ان دونوں باتوں میں کونسی بات سچی ہے
الجواب:
جھوٹی بات پرقرآن مجید کی قسم کھانا یااٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہےاورسچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتاہے مگریہ قسم بہت سخت کرناہے بلاضرورت خاصہ نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
__________________
(وصیتوں کابیان)
مسئلہ۱۰۳: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سیدناسیدابوالحسین احمدنوری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین قدس اﷲ تعالی اسرارھم العزیزہ سے ایك بزرگ نے اپنے آباء کرام کے سجادہ نشین اورجائداد وقضیہ در گاہ وخانقاہ وقف کردہ امراء اسلام کے متولی تھے بنام اپنے صاحبزادہ حامد اور اپنے نبیرہ احمدبن محمد کے لئے وصیت فرمائی یہ دونوں بعد میرے متولی تمام جائداد ومصارف درگاہ خانقاہ اورجملہ امور متعلقہ ریاست درگاہی وخانقاہی میں شریك مساوی رہیں اورمیری جائداد مملوکہ سے احمدبن محمدنبیرہ میراثلث حصہ بموجب وصیت شرعیہ پائے اور اس وصیت کو ایك کاغذپرتحریرفرمایا اورجناب ممدوح نے اپنی صاحبزادی کو اس قدرحصہ کہ بعد وفات انہیں پہنچناتصورکیاجاتاخواہ اس سے کم اپنی حیات میں اس شرط پر دے کر قبض ودخل کرادیا کہ اب ان کے لئے میراث میں حق نہ ہوا اوریہ تخارج برضامندی ان کی واقع ہوااورصاحبزادی صاحبہ کی طرف سے حکام کے یہاں تصدیق اس مضمون کی گزرگئی کہ میں نے اپنا حصہ پالیا اب مجھے بعدانتقال حضرت مورث کچھ دعوی ترکہ میں نہ رہا جناب ممدوح نے یہ مضمون بھی اسی وصیت نامہ میں ذکرفرمایا آیا اس صورت میں وہ وصیت کہ حضرت موصوف نے دربارہ تولیت فرمائی اوروصیت ثلث مال مملوك نسبت احمدبن محمدشرعا جائزاورنافذ ہے یانہیں اوریہ تخارج کہ حضرت ممدوح اورصاحبزادی صاحبہ میں و اقع ہوا شرعا معتبرہے یانہیں
الجواب:
دربارہ تولیت اوقاف مذکورہ حامداوراحمدکے نام بزرگ ممدوح کی وصیت کہ دونوں شریك مساوی ہوں صحیح ونافذ ہے اورتولیت محل جریان ارث نہیں جس میں حق وارث کالحاظ ہوکہ ثلث سے زائد میں وصیت بے اذن ورثاء نفاذنہ پائے۔
فی الوجیزان مات القیم و قداوصی الی احد فوصی القیم بمنزلۃ القیم ۔وفی وقف العلمگیریۃ عن الحاوی وجیزمیں ہے اگرمتولی مرجائے اوروہ کسی کے لئے وصیت کرے تو اس متولی کا وصی متولی کے حکم میں ہوتاہے۔
عالمگیریہ کے باب الوقف میں حاوی
پس دونوں صاحب شرعا متولی اوقاف مذکورہ ہوئے اورایسے ہوئے کہ ایك بے دوسرے کے تصرفات قوامت میں مستقل نہیں ہوسکتا۔
فقد صرحوا فی الوقف والوصایا ان القوامۃ والوصایاۃ اذاکانت الی اثنین لم یجز ان ینفرد احدھما عن الاخر۔ تحقیق مشائخ نے وقف ووصایا کے بارے میں تصریح کی کہ تولیت اوروصیت جب دوشخصوں کے لئے ہوتوان میں سے کسی ایك کا دوسرے سے منفردہوناجائزنہیں۔(ت)
اوراحمدبن محمدکے نام جائداد مملوك میں ثلث کی وصیت توبدیہی الصحت والنفاذہے۔
فلقد قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ تعالی تصدق علیکم بثلث اموالکم فی اخراعمارکم او کما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ تحقیق نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اشاد فرمایابیشك اﷲ تعالی نے تمہاری عمروں کے آخرمیں تمہارے تہائی مال کے ساتھ تم پر صدقہ فرمایا یاجیساآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔(ت)
نہ احمد بن محمدباوجود حامدوارث نہ وصیت قدرثلث سے متجاوزکہ کل یامقدار زائدمیں اجازت ورثاء کی احتیاج ہوتی۔
فی تنویرالابصارویجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجزالوارث ذلک الخ۔ تنویرالابصار میں ہے کہ اجنبی کے لئے ایك تہائی کی وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کوجائزنہ رکھیں الخ۔(ت)
مجمع الزوائد باب الوصیۃ بالثلث دارالکتاب العلمیۃ بیروت ∞۴/ ۲۱۲€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷€
کماقال العلامۃ زین قال الشیخ عبدالقادر فی الطبقات فی باب الھمزۃ فی احمدقال الجرجانی فی الخزانۃقال ابوالعباس الناطفی رأیت بخط بعض مشائخنارحمھم اﷲفی رجل جعل لاحدبنیہ دارا بنصیبہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جازوافتی بہ الفقیہ ابوجعفر محمد بن الیمانی احد اصحاب محمد بن شجاع البلخی وحکی ذلك اصحاب احمد بن ابی الحارث وابوعمروالطبری انتھی۔ قال الفقیرالمجیب غفراﷲ تعالی لہ مستند ذلك الی خط بعض المشائخ وھذا وان لم یرد علیہ ان الخط لایعمل بہ الا فی بعض صور مستثناۃ کما فی عامۃ الکتب وذلك لان خط المفتی من الصور المستثناہ فقد قال العلامۃ الحموی فی شرح احکام جیساکہ علامہ زین نے کہا شیخ عبدالقادرنے طبقات کے باب الہمزہ میں احمدکے ذکرمیں کہاجرجانی نے خزانہ میں کہا ابو العباس ناطفی نے کہاکہ میں نے بعض مشائخ رحمۃ اﷲ علیہم کے خط سے اس شخص کے بارے میں دیکھا جس نے اپناکوئی مکان اپنے ایك بیٹے کو حصہ کے طورپردے دیا اس شرط پرکہ وہ باپ کی موت کے بعد وارث نہیں بنے گا تویہ جائزہےاسی کے ساتھ فتوی دیا فقیہ ابوجعفر محمد بن یمانی نے جومحمد بن شجاع بلخی کے اصحاب میں سے ہیں۔اوراسی کی حکایت کی احمد بن ابوالحارث اورابوعمروطبری کے اصحاب نےانتہی۔ فقیر مجیب غفراﷲتعالی لہ کہتاہے کہ اس کوبعض مشائخ کے خط کی طرف منسوب کرنے پر اگریہ اعتراض واردنہیں ہوتاکہ خط بعض استثنائی صورتوں کے سواقابل عمل نہیں ہوتا جیساکہ عام کتابوں میں ہے کیونکہ مفتی کاخط انہی استثنائی صورتوں میں سے ہے۔تحقیق علامہ حموی
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۲€
پس اس روایت اورائمہ کی تقریر وافتاء وحکایت کی بناپر یہ تخارج بھی صحیح اورجائزواقع ہوااور صاحبزادی صاحبہ کو بعدانتقال مورث کوئی دعوی نہیں پہنچتا اوراگریہ روایت بوجہ قلت شہرت یا عدم ظہورعلت پایہ اعتبارسے ساقط مانی جائے توضرور یہ تخارج باطل قرارپائے گا مگر اس کے کاغذوصیت میں مذکور ہونے سے وصایائے مذکورکیوں باطل ہونے لگیں ھذا باطل صریح(یہ واضح طورپرباطل ہے۔ت) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر ایك شیئ کی وارث اوراجنبی کے لئے بالمناصفۃ وصیت کی وہ وصیت وارث کے حق میں باطل اوراجنبی کے نصف میں صحیح اورنافذ رہے گی۔
ففی تنویرالابصارولاجنبی ووارثہ اوقاتلہ لہ نصف الوصیۃ وبطل وصیتہ للوارث والقاتل انتھی ومثلہ فی عامۃ الکتب۔ تنویرالابصارمیں ہے کہ اجنبی اوروارث یا اجنبی اورقاتل کے لئے وصیت کی تواجنبی کووصیت کانصف ملے گا جبکہ وارث اورقاتل کے بارے میں اس کی وصیت باطل ہوگی انتہیاور اسی کی مثل عام کتابوں میں ہے۔(ت)
سبحان اﷲ! جب عقد واحد ولفظ واحد میں شیئ واحد کہ دوشخصوں کے نام وصیت کی اورایك کے لئے شرع نے اجازت نہ دی صرف اسی کے حق میں باطل ہوئی اور اس بطلان نے نصف باقی تك سرایت نہ کیتوجہاں عقد متعدد لفظ متعدد معقود علیہ متعدد اورایك عقد ان میں سے باطل ہو ان دونوں کے ایك کاغذ میں ذکر کردینے سے کیونکراس کابطلان اس تك ساری ونافذ ہوجائے گاایسی بے اصل وجہ سے وصایائے مذکور کاابطال کوئی عاقل تجویز نہیں کرسکتا اوریہیں سے ظاہرہوگیاسوال اخیر کا جواب کہ اوقاف صحیحہ شرعیہ میں جب بوجہ جہالت شرط واقف معمول قدیم پرمستقر اعتبار رہے توجو وصیت اس کے مطابق ہوگی جائزاورجومخالف ہوگی باطلاورباطل کابطلان جائزتك سرایت نہ کرے گا کما اوضحناہ مع انہ کان واضحا (جیساکہ ہم نے اس کی وضاحت کردی باوجودیکہ یہ واضح تھا۔ت) اورانہیں وجوہ سے وہ فقرہ کہ وصیت نامہ میں جناب بی بی صاحبہ کی نسبت تحریرہوا صحت وصایائے سابقہ میں خلل اندازنہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی تحریربی بی صاحبہ کو برتقدیر حیات بعد مورث ترکہ سے حاجب نہ تھی گویہ تحریر ان کی رضا سے واقع ہوئی
ہاں اگر وہ زندہ رہتیں توان کادعوی حامد پرتھا جس نے بعد اخراج وصیت کل متروکہ پرقبضہ کیاکہ حق ورثہ صرف انہیں دوثلث میں تھا ثلث وصیت ان کے حق سے جداہے تواحمدبن محمد جس نے بحکم وصیت ثلث پایا برتقدیر حیات بی بی صاحبہ اوربرتقدیر بطلان تخارج صاحبزادی صاحبہ دونوں کے دعوے سے بایں معنی بری ہے کہ ان کے ظہور حصص سے اس کے ثلث میں کمی نہیں آسکتی بلکہ بحکم وصیت کل جائداد سے ثلث کامل اسے دیں گے اوردوثلث باقی ماندہ ورثہ بحصص شرعیہ تقسیم کرلیں گے
وذلك لان الوصیۃ مقدمۃ علی الارث ومعلوم انہ لا یزاحم شیئ شیئا الا اذا کانا فی مرتبۃ واحدۃ ولو سلمت مزاحمۃ المتاخر للمقدم لم یبق المتقدم مقدما والمتاخر متاخرا ھذا خلففثبت ان الموصی لہ ملك الثلث من دون المزاحم الاتری ان الوصیۃ لاتزاحم الدیون لتقدم الدیون علیھا فکذلك المیراث لایزاحم الوصیۃ بعین ذلك الوجہ وھذا ظاھر جدا۔ اوریہ اس لئے کہ وصیت میراث پرمقدم ہےاور یہ بات معلوم ہے کہ کوئی شیئ کی مزاحمت نہیں کرسکتی جب تك وہ دونوں ایك ہی مرتبہ میں نہ ہوں۔اگرمتاخر کی مقدم کے لئے مزاحمت تسلیم کرلی جائے تومقدم مقدم نہ رہے گا اورمتأخر متأخر نہ رہے گا۔یہ خلاف مفروض ہے۔لہذا ثابت ہوگیا کہ جس کے حق میں وصیت کی گئی وہ بغیرکسی مزاحم کے تہائی مال کامالك ہوگیا۔کیاتم نہیں دیکھتے کہ وصیت قرضوں کی مزاحمت نہیں کرتی کیونکہ قرضے اس پرمقدم ہیں۔یوں ہی بعینہ اسی وجہ سے میراث وصیت کی مزاحمت نہیں کرتی اوریہ خوب ظاہر ہے۔(ت)
اب باقی رہامسئلہ صلحنامہ پرکلام جب وصیت بزرگ موصوف دربارہ تولیت بھی صحیح قرارپائی اورحامداوراحمددونوں نصف نصف جائداد کے قسیم ٹھہرے تونظرفقہی اسے مقتضی ہے اگراحمد کے لئے تفویض عام اور نقل تولیت کامطلقا اختیارشرط واقف خواہ تعامل قدیم سے ثابت نہ ہو تو یہ صلحنامہ وجہ صحت نہیں رکھتا اوراحمد اگرلاکھ بارثلث خواہ ربع خواہ سدس پر مصالحہ کرے شرع ہرگزقبول
اذا عزل نفسہ عند القاضی فانہ ینصب غیرہ ولا ینعزل بعزل نفسہ مالم یبلغ القاضی وبمثلہ فی اسفار اخر۔ جب متولی قاضی کے پاس خود کو معزول کرے تو قاضی اس کی جگہ کسی اور کومقررکردے گا اور جب تك متولی قاضی تك اطلاع نہ پہنچائے وہ خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوگااوراسی کی مثل دوسری کتابوں می مذکورہے۔(ت)
اگربغرض باطل وتقدیر غلط وصیت نامہ کومہمل وکان لم یکنٹھہرایاجائے تاہم یہ اجازت شرع حامد اوراحمد بن محمد سے جومتولی قرارپائے گا اسے ترك تولیت بعض برمصالحہ صرف بشرائط مذکورہ جائزٹھہرے گا والالابالجملہ وصیت نامہ صحیح ہو کماھو الحق یاباطل کما فرضبہرطور صحت صلحنامہ وترك تولیت بعض اسی تفویض عام اوراختیار تام کے ثبوت پرمتوقف
لما تقرر من ان النظار اذا لم یکونوا مرضی بمرض الموت فھم کمثل الوکلاء لیس لھم ان یعزلوا انفسھم الابخیرۃ من الواقف اوالقاضی اوثبوت التفویض العام الیھم کماصرح بہ فی الدرالمختارو ردالمحتار وغیرھما من الاسفار وھذا کلہ واضح عند من لہ اجالۃ نظر فی کلمات القوم۔ بسبب اس کے جوثابت ہوچکاہے کہ متولی جب تك مرض الموت میں مبتلا نہ ہوں وہ وکیلوں کی طرح ہیں انہیں یہ اختیار نہیں کہ وہ خود کو معزول کرلیں جب تك واقف یاقاضی کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کااختیارنہ ہو یا جب تك انہیں تولیت کی تفویض عام نہ ہو۔جیساکہ درمختار اورردالمحتار وغیرہ ضخیم کتب میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔اوریہ تمام ہراس شخص پرروشن وواضح ہے جس کی نظرقوم کے کلام کے نتائج پرہے۔(ت)
والفتاوی الخیریۃ افصح بیانا واوضح تبیانا لذلکحیث قال بعد نقل المسئلۃ عن التتارخانیۃ والبزازیۃ وعزوہ الی کثیر من الکتب حتی قال فی الخانیۃ والظھیریۃ وغیرھما والعبارۃ للخانیۃ ولو ان الواقف جعل رجلا متولیا و شرط انہ ان مات ھذا المتولی لیس لہ ان یوصی الی غیرہ جازھذا الشرط انتھیوالفقیہ یفھم من ھذہ العبارۃ الابلغیۃ فی اثبات الولایۃ لوصی الناظر المذکور اذ التنصیص علی جواز الشرط لدفع توھم یطرأ علیہ بعدم الجواز کما یدریہ من اکثر من معاشرۃ نفائس ابکار عباراتھم اذ مثل ذلك یقال فی مثل ھذہ المسائل التی کثر نقلھا ودورانھا بینھمحتی کانھا مقررۃ فی علم کل فقیہ فیستغنی عن ذکرھا بذکر مایتفرع علیھا ویتشعب منھا و ھذہ المسئلۃ کذلك فتاوی خیریہ اس مسئلہ میں زیادہ فصیح بیان اور واضح تفصیل والا ہےجہاں اس نے تاتارخانیہ اوربزازیہ سے مسئلہ نقل کرنے کے بعد کہا اور اس کو علماء نے بہت سی کتابوں کی طرف منسوب کیاہے یہاں تك کہ خانیہ اورظہیریہ وغیرہ میں جبکہ عبارت خانیہ کی ہے اگرواقف نے کسی شخص کو متولی بناتے ہوئے شرط لگائی کہ یہ متولی مرتے وقت غیرکے لئے ولایت کی وصیت نہیں کرسکتا تویہ شرط جائزہےا نتہی۔اورفقیہ اس عبارت سے متولی مذکورکے وصی کے لئے اثبات ولایت میں مبالغہ سمجھتاہے اس لئے کہ جواز شرط پرنص کرنا اس وہم کے ازالہ کے لئے ہے جو اس کے عدم جواز پرطاری ہوتاہے جیساکہ عمدہ ونفیس عبارات علماء سے زیادہ ممارست رکھنے والاشخص اس کوجانتاہےاوریونہی کہاجاتاہے اس قسم کے مسائل میں جوع لماء کے درمیان بکثرت منقول اوردائرہیںیہاں تك کہ ہرفقیہ کے علم میں وہ اس طرح پختہ ہوگئے ہیں ان کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ ان اصول کوذکر کردیا جائے جن سے یہ مسائل متفرع ومستنبط ہوتے ہیںاوریہ مسئلہ بھی ایساہی ہے
∞تقریر علماء سے واضح کہ اگرشروط واقف اس کے ذکرسے عاری ہوں تاہم یہ اختیارقیم کوحاصل،پھر عدم تعامل کیامضر ہوسکتاہے،€
&لان التعامل لایعتمد علیہ الا لکونہ مظن شرط الواقف کما صرح بہ فی الذخیرۃ والخیریۃ ورد المحتار وغیرھا من الاسفار۔€ ∞اس لئے کہ تعامل پر اعتمادنہیں کیاجاتا مگراس کے لئے کہ وہاں شرط واقف پائے جانے کاگمان ہوتاہے جیساکہ ذخیرہ، خیریہ اورردالمحتار وغیرہ کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)€
∞بلکہ کلمات علماء موضح کہ یہ اختیار دلالۃً مشروط ہے گوصراحۃً مذکورنہ ہوپھرتعامل وعدم تعامل کی کیاحاجت ہے۔€
&قال العلّامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ علی الدر المختار،وجہ الاستحسان ان الاول لما اوصی الیہ فقد علم ان الوصی لایعیش ابداولم یحب ان تکون امورۃ ضائعۃ فصار کانہ اذن لہ بان یوصی الٰی غیرہ بطریق الدلالۃ وان لم یاذن لہ بالافصاح ولوکان اذن لہ بالافصاح جاز لہ ان یوصی الٰی غیرہ فکذٰلك اذا اذن لہ بالدلالۃ الخ قلت ومعلوم ان المتولی کالوصی کما فی جامع الفصولین والاشباہ وکذا بالعکس کما فی العقود الدریۃ والوقف والوصیۃ اخوان یستقیان من مورد واحد وینزع مسائل احدھما € ∞علامہ سیدطحطاوی نے درمختارکے حاشیہ میں فرمایا استحسان کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلے وصی نے دوسرے کووصیت کی تو اسے یقین ہوگیاکہ وصی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا اوراس نے اس بات کو پسندنہ کیا کہ وقف کے معاملات ضائع ہوجائیں توگویا اس کی طرف سے بطور دلالت غیر کووصی بنانے کی اجازت ہوگئی اگرچہ اس نے صراحۃً اس کی اجازت نہیں دی۔ اگروہ صراحۃً اجازت دیتاہے تو اس کے لئے غیرکو وصی بنانا جائزہوتا،پس یہی حکم بطوردلالت اجازت کی صورت میں بھی ہوگا الخ میں کہتاہوں یہ بات معلوم ہے کہ متولی وصی کی مثل ہے جیساکہ جامع الفصولین اوراشباہ میں ہے۔اسی طرح اس کاعکس ہے جیساکہ عقودالدریہ میں ہے اوراسی طرح وقف اوروصیت ایك دوسرے کے مُشابہ ہیں ایك ہی گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں اور ایك کے مسائل €
اورنظر دقیق حاکم کہ اس نفس وصیت کو مخالف تعامل سمجھنا ہی محض باطل کہ منافات فعل اور کف میں ہے نہ فعل وترك بمعنی عدم وقوع فعل میںکما ھو المقرر فی اصولنا معشر اھل السنۃ و الجماعۃ(جیساکہ ہمارے یعنی اہل سنت وجماعت کے اصول میں مقررہے۔ت) یہاں تك کہ ہمارے ائمہ کالعلامۃ المحقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الھمام والفاضل الشیخ زین بن نجیم المصری وغیرھما(جیسا کہ علامہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمدبن ہمام اور عظیم فاضل شیخ زین بن نجیم مصری اوران دونوں کے علاوہ دیگرعلماء۔ت) تصریح فرماتے ہیں کہ ترك بمعنی مذکور زیرقدرت عبدداخل نہیں۔
وھذا نص الاشباہ فی المبحث الاول فی حد النیۃ من القاعدۃ الثانیۃ بعد ذکر معناھا اللغوی وفی الشرع کما فی التلویح قصدالطاعۃ والتقرب الی اﷲ تعالی فی ایجاد الفعل انتھی ولایرد علیہ النیۃ فی التروك لانہ کما قدمناہ لایتقرب بھا الااذاصار الترك کفا وھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لاالترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر انتھی۔ یہ نص ہے اشباہ کی جومبحث اول میں نیت کی تعریف کی تعریف کے بارے میں ہےقاعدہ ثانیہ میں نیت کالغوی معنی بیان کرنے کے بعد مذکور ہےاوراصطلاح شرع میں جیساکہ تلویح میں ہے نیت کہتے ہیں ایجاد فعل میں طاعت اور اﷲ تعالی کاتقرب حاصل کرنے کاقصد کرنااور اس تعریف پر ترك فعل کی نیت کے ساتھ اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اس کے ساتھ تقرب حاصل نہیں کیاجاسکتا مگراس وقت جب ترك بمعنی کف یعنی رکناہو اوروہ فعل ہے اورنہی میں بندے کو اسی کے ساتھ مکلف بنایا جاتاہے نہ کہ ترك بمعنی عدم اس لئے کہ وہ بندے کی قدرت میں داخل نہیں جیساکہ تحریرمیں ہے انتہی۔(ت)
اورجب ایساہو تو اس میں اتباع غیرمقدوراورجہاں اتباع ناممکن مخالفت کاکیامحل
ہاں اگرشرط واقف میں تصریح منع ہے کہ متولیوں کواختیاروصیت نہیں توبیشك اب وصیت روا نہ رہے گی
لان الصریح یفوق الدلالۃ کما مر عن الخانیۃ و الظھیریۃ وغیرھما قلت یعنی اذا کان الوقف صحیحا شرعیا بحسب مراعاۃ شروطہواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم و صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد وآلہ وصحبہ وبارك وسلم۔ اس لئے کہ صریح دلالت سے برترہے جیساکہ خانیہظہیریہ وغیرہ سے گزرچکا۔میں کہتاہوں مراد اس سے یہ ہے کہ جب وقف شرعی طورپر صحیح ہو اس کی شرطوں کی رعایت کرنے کے اعتبار سےاﷲ پاك اوربلندوبرترخوب جانتاہے اس کاعلم اتم اوراس کاحکم مستحکم ہے۔اﷲ تعالی درودنازل فرمائے ہمارے سرداراورآقا محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور آپ کی آل اوراصحاب پراوربرکت وسلام نازل فرمائے(ت)
مسئلہ ۱۰۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج ایك سال کے بعد مرض الموت رہتاہے یانہیں اوربعض کتب میں جوعدم خوف موت کی قید ہے اس کے کیامعنی ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جمہورائمہ کے نزدیك فالج ودق وسل وغیرہا امراض مزمنہ جب ایك سال تك تطاول کریں مرض الموت نہیں رہتے اورایسے مریض کے تمام تصرفات شرعا مثل صحیح کے ہیں مختصرا امام مجتہد علامہ ابوجعفر طحاوی اورفتاوی امام قاضی خاں اور فتوی امام ابو العباس شماس اورامام عبداﷲ جرجانی اورامام شمس الائمہ حلوانی اور
حیث قالقال فی المعراجوسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذلك علی ان یقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول: والظاھرانہ مقید بغیر الامراض المزمنۃ التی طالت ولم یخف منہ الموت کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش ومنعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلا یخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تامل انتھی ملخصا۔ جہاں فرمایا کہ معراج میں کہا ہے صاحب منظومہ سے مرض الموت کی حدکے بارے میں سوال کیاگیاتواس نے کہاہمارا اعتماد اس مسئلہ میں اس بات پرہے کہ مریض اپنی حاجات کے لئے گھرسے باہرنہ جاسکے الخ میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم دیرتك رہنے والی بیماریوں کے غیرکے ساتھ مقیدہے جو لمبی ہوجاتی ہیں اوران میں موت کا خوف نہیں ہوتا جیسے فالج وغیرہاگرچہ وہ مریض کوصاحب فراش بنادیں اوراسے حاجات کے لئے نکلنے سے روك دیں۔یہ بات اس کے مخالف نہیں جس پراصحاب متون اورشارحین چلے۔غورکرو انتہی تلخیص(ت)
اوروہ جو بعض کتب میں عدم خوف موت کی قید ہے بہت علماء مثل صاحب مفتاح وعلامہ احمد حموی شارح اشباہ وعلامہ ابراہیم حلبی وعلامہ امین الملۃ والدین شامی وغیرھم رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ کوئی قیداحترازی نہیں بلکہ بعد تطاول ان امراض کے حال کی شرح ہے یعنی جب سال گزرجاتاہے تو ان امراض سے وہ خوف نہیں رہتا جسے شرع مرض الموت میں اعتبارکرتی ہے۔
قال فی الفتاحان تطاول ذلك فلم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ مفتاح میں کہاکہ اگروہ بیماری لمبی ہوجائے تو اس سے موت کاخوف نہیں رہتا۔یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کے لئے
علامہ شامی فرماتے ہیں:
لیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذلك المرض عند طولہ۔ اس کاقول تو اس سے موت کاخوف نہ ہو یہ تقیید نہیں بلکہ بیماری کے لمبا ہوجانے کے وقت اس کے حال کابیان ہے۔(ت)
اوراسی طرح فتاوی عالمگیری میں تخصیص کی کہ فالج وغیرہ امراض جو اول اول شروع ہوتے ہیں تو اس وقت خوف ہلاك ہوتاہے
حیث قال والمقعدوالمفلوج والاشل والمسلول اذاتطاول ذلك فصار بحال لایخاف منہ الموت فہو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذامات من ذلك فی تلك الایام وقدصار صاحب فراش فہو مریض یخاف بہ الھلاک انتھی ملخصا قولہ فصار بحال یخاف منہ الموت الفاء للتفریع یعنی ان التطاول یتضرع علی عدم الخوف بل اذا قیدفی الاخر باول مااصابہ۔ جہاں فرمایا کہ اقعادفالجلنج اورتپ دق کے مریضوں کی بیماری جب لمبی ہوجائے اور وہ اس حال میں ہوجائیں کہ موت کاخوف نہ رہے تو وہ صحت مند کے حکم میں ہیں یہاں تك کہ ان کاتمام مال کوہبہ کردیناصحیح ہے لیکن جب شروع میں یہ بیماریاں لاحق ہوں تو وہ اسی بیماری کی وجہ سے انہی دنوں میں مرجائے تحقیق وہ صاحب فراش ہوا ایسی بیماری میں مبتلا ہوکہ جس سے موت کاخوف ہوتاہے انتہی تلخیصاس کا قول کہ"وہ مریض اس حال میں ہوجائے کہ خوف موت نہ رہےاس میں فصار پرفاء تفریع کے لئے ہے یعنی بیماری کے لمبے ہونے پرعدم خوف متفرع ہوتا ہے(ت)
اوراگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیسے بعض کاقول ہے تاہم نفس خوف موت بالاجماع کافی نہیں کیونکہ اس قدر
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ الحموی کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲۰€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الرابع فصل فی اعتبارحالۃ الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰۹€
فی ردالمحتار عن الکفایۃ ثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔ ردالمحتار میں کفایہ کے حوالے سے منقول ہےپھر خوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف۔(ت)
اوراس خوف کی امام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی وغیرہ علماء نے یوں تفسیر کی کہ جب ان امراض سے یہ نوبت پہنچے کہ اپنی حوائج کے لئے گھر سے باہرنہ نکل سکے تواس وقت خوف موت کہاجائے گا۔
فی تنویرالابصار من غالب حالہ الھلاك بمرض او غیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالح خارج البیت۔ تنویرالابصار میں ہے کہ غالب حال اس کاہلاکت ہوبیماری سے یا اس کے غیرسے اس طورپر کہ بیماری نے اس کو اسی قدر کمزورکردیاہو جس سے گھر کے باہر وہ اپنے معاملات و ضروریات قائم رکھنے سے عاجز ہوگیاہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد ۔ یہی زیادہ صحیح ہے جیسے فقیہ مسجد کی طرف آنے سے عاجزہو جائے۔(ت)
اوراس قید کے لگانے کے بعد بھی امام شامی فرماتے ہیں:
فان قلت ان مرض الموت ھو الذی یتصل بہ الموت فما فائدۃ تعریفہ بما ذکرقلت فائدتہ ان قد تطول سنۃ فاکثر کما یأتی فلایسمی مرض الموت وان اتصل اگرتوکہے کہ مرض الموت تو وہ ہے جس کے ساتھ موت مقترن ہو۔پھرموت کی یہ تعریف جوذکرکی گئی اس کاکیافائدہ ہے۔میں کہتاہوں کہ بیماری کبھی سال یا اس سے زائد عرصہ تك لمبی ہوجاتی ہے جیساکہ آرہاہے تواس بیماری کومرض الموت نہیں
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳€۵
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۵€
اوراس خوف کی دوتمثیلیں درمختارمیں یہ لکھیں کہ جہازپر سوارتھا جہازٹوٹ گیا ایك تختہ پربہتارہ گیا یا شیرنے حملہ کیا اور اسے اپنے منہ میں لے لیا توجب تك اس کے منہ میں ہے وہ وقت اس خوف کا ہے۔
حیث قال اوبقی علی لوح من السفینۃ اوافتراسہ سبع وبقی فی فیہ۔ جہاں فرمایا کہ وہ کشتی کے ایك تختہ پرپڑارہ گیا یا کسی درندے نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اورابھی تك اسی حال میں باقی ہے۔(ت)
بالجملہ مجرد خوف بالاجماع کافی نہیں بلکہ اس قسم کاخوف ہوناچاہئے جیسے گھڑی ساعت کانقشہ کہتے ہیں وہ مرض مرض الموت گناجائے گا اوریہ بات اسی وقت ہے جب صاحب فراش ہوجائے یاگھر سے باہرنکلنے کی طاقت نہ رہی مثلا عالم ہو تو مسجد تك نہ جا سکےاسی طرح ردالمحتارمیں اسمعیلیہ سے نقل کرتے ہیں۔
من بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت وتعتبر تبرعاتہ من کل مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لایتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ۔ جس شخص کوکچھ بیماری ہے جس کی شکایت وہ کرتا ہے اوربسااوقات وہ بازار کی طرف نکلتاہے اوراپنے امورسرانجام دیتاہےاس سے وہ مرض الموت کامریض نہیں ہوتاچنانچہ اس کے تمام مال میں اس کے تبرعات معتبرہوں گےجب وہ کسی وارث سے بیع کرے یا اس کوکچھ ہبہ کرے تو یہ باقی وارثوں کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگا(ت)
اورفتاوی خیریہ میں ہے:
حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لا یمنع الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغین مطلقا صحیح نافذ باجماع علمائنا جب وہ وصف مذکور سے متصف ہے اوراس کا مرض اسے اپنی ضرورت کی ادئیگی سے نہیں روکتا تواس کااپنی اولادمیں سے کسی ایك کے لئے ہبہ کرنا اورباقیوں کیلئے بیع کرنامطلقا بالاجماع صحیح اور
الدرالمختار کتاب الطلاق باب طلاق المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۶€
ردالمحتار کتاب الاقرار باب اقرار المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۶۱€
مسئلہ ۱۰۵ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کوعارضہ فالج ہوااور وہ عروض عارضہ کے ساڑھے تین برس بعد یاہبہ یاکوئی تصرف وارث یا غیروارث کسی کے نام کرے تو وہ تصرف شرعا جائزرہے گا یانہیں اورمرض شرعا مرض الموت قرارپائے گا یاغیربینواتوجروا۔
الجواب:
ہمارے ائمہ کرام نے فالج ودق وسل وغیرہا امراض مزمنہ کے مرض الموت ہونے کے لئے سال بھر کی حد مقرر فرمائی ہے اگر اس کے اندر موت ہو تووہ مرض الموت قرارپاتے ہیں اور جب ایك سال سے تجاوزہوجائے تواس مریض کاحکم شرعا بعینہ مثل صحیح وتندرست کے ٹھہرتاہے اورجوکچھ تصرفات بیع خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث خواہ غیروارث کسی کے نام کرے مثل تصرفات صحیح کے صحیح ونافذ قرارپاتاہے۔
فی الفتاوی للامام قاضی خاناذا تصرف بعد سنۃ فہو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھی وفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوی التمرتاشیفسراصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال صحتہ وفی الطحاوی فی مختصرہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ امام قاضی خان کے فتاوی میں ہے جب مریض نے ایك سال بعد تصرف کیاتو وہ صحیح کی مثل ہے اور اس کے تصرفات جائز ہیںانتہی۔فتاوی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوی تمرتاشی مذکور ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی ہےاگر وہ اس بیماری پر ایك سال قائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات ایسے ہی ہوں گے جیسے تصرفات وہ حالت صحت میں کرتاتھا۔طحاوی اس کی مختصر اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کی تصنیف العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفۃ رجل الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۴۰€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطلاق الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۴۶۳€
مسئلہ ۱۰۶ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرایك شخص کو فالج ہوکہ ہاتھ پاؤں بالکل رہ جائیں اورزبان تکلم پر قادرنہ ہوپھرعلاج سے دست وپامطلقا صحیح ہوجائیں اورزبان بھی تعبیرمطلب سے عاجز نہ ہو اپنی حوائج کے لئے اندر باہر آئے جائے چلے پھرے سفرکرے صرف زبان پربقیہ مرض کے سبب گونہ ثقل تکلم باقی ہو اور حدوث مرض کو ساڑھے تین برس گزرچکے ہوں ایسی حالت میں وہ کوئی تصرف بیع یا ہبہ یاکچھ اوروارث خواہ غیروارث کے نام کرے تو وہ تصرف شرعا صحیح ونافذ قرارپائے گایانہیں اور ایك سال گزرنے کے بعد فالج مرض الموت رہتاہے یانہیں اوربعض نے جو قید عدم خوف موت کی لگائی ہے اس کے کیامعنی ہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ شخص بالاجماع شرعا صحیح وتندرست ہے اور اس کے تمام تصرفات کیسے ہی ہوں اورکسی کے ساتھ ہوں مثل تصرفات صحیح مطلق صحیح نافذکہ اول عامہ کتب میں سال گزرنے کے بعد فالج ودق وسل وغیرہ کومرض موت قرارہی نہ دیا اورسائل کہتاہے کہ یہاں ساڑھے تین برس گزرچکے تھے
فی الفتاوی الامام قاضیخان اذا تصرف بعد سنۃ فھو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھیوفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوی التمرتاشی فسر اصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال فتاوی امام قاضی خان میں ہے کہ مریض جب سال بعد تصرف کرے تو وہ صحت مند کی طرح ہے اوراس کے تصرفات جائزہیںانتہی۔فتاوی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوی تمرتاشی ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی ہے۔جب مریض ایك سال تك بیماری پرقائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات اس کی حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفۃ الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۴۰€
العقودالدریۃ کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶€۶
العقودالدریۃ کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶۶€
وفی الدررللعلامۃ خسروھذہ امراض مزمنۃ فمن عرض لہ واحد منھا وتصرف بشیئ من التبرعات ثم ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایك سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزید ہےیہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصا جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اور بعض ضروریات کواداکرتاہے۔جب حاکم شرعی کے پاس یہ ثابت ہوگیاتو کچھ معاملہ اس مریض کااپنی بیوی کے ساتھ صادر ہوا وہ صحیح ہوگیا۔اگرصحت ومرض کے گواہوں میں تعارض ہوتوبیوی کی طرف سے صحت پرپیش کئے گئے گواہوں کوترجیح ہوگی کیونکہ بیوی مدعیہ اورورثاء منکرہیںجبکہ گواہ مدعی کے ہوتے ہیں نہ کہ منکر کے۔ہمارے متعدد علماء نے اس کی تصریح کی ہےجبکہ اس کی بیماری طوالت اختیارکرگئی اوروہ سال سے بڑھ گئی تو بیوی کے ساتھ اس کے تمام تصرفات نافذ ہوگئے۔اس پرتمام اہل مذہب اور ائمہ مذہب کا اتفاق ہے۔ مکلف کی عبارت قابل عمل بنانااور کو لغو قرار دے کرمکلف کو حیوانات اوراس کے کلام کوجانوروں کی آواز کے ساتھ ملحق کرنے سے اولی ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔اورعلامہ خسرو کی دررمیں ہے یہ لمبی بیماریاں ہیں ان میں سے اگرکوئی کسی کو لاحق ہوجائے اوروہ طوالت مرض میں تبرعات میں
یہاں تك کہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اطلاق متون وشروح پرنظرکرکے تصریح فرمادی کہ فالج وغیرہ کوبعد تطاول وازمان مرض موت نہ کہناچاہئے اگرچہ صاحب فراش ہو اورچلنے پھرنے سے معذورکردیں
حیث قال فی المعراج وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذلك علی ان لایقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول:و الظاھرانہ مقید بغیرالامراض المزمنۃ التی طالت و لم یخف منھا کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش و منعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلایخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تأمل انتھی ملخصا۔ جہاں معراج میں کہاکہ صاحب منظومہ سے سوال کیاگیاکہ مرض الموت کی حدکیاہےتوانہوں نے فرمایااس مسئلہ میں ہمارا اعتماد اس پرہے کہ مریض اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہرجانے پرقادرنہ ہو الخمیں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم امراض طویلہ کے غیرکے ساتھ مقیدہے جن کی طوالت اس حد تك ہوجاتی ہے کہ موت کاخوف جاتارہتاہے جیسے فالج وغیرہ اگرچہ یہ مریض کو صاحب فراش بنادیں اوراس کو اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہر جانے سے روك دیںلہذا یہ اس کے خلاف نہ ہوا جس پراصحاب متون وشروح قائم ہیںیہاں غورکروانتہی(تلخیص)۔(ت)
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
والظاھران قولہ کالفالج الخ تصویر للمرض اذالحال ولم یخف منہ الموت ولیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذلك المرض عند طولہ ثم رأیت الحموی فی شرحہ قال ان تطاول ذلك فلم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ ونقلہ عن المفتاح انتھی۔ ظاہریہ ہے کہ اس کاقول کالفالج(مثل فالج کے) مرض کی صورت کابیان ہے اس لئے کہ طوالت مرض کے سبب مریض کاحال یہ ہوجاتاہے کہ اس پرموت کاخوف نہیں رہتا اور اس کا قول کہ اس کو موت کاخوف نہیں رہتاتقیید نہیں بلکہ اس مرض کے لمباہوجانے کے وقت اس کے حال کا بیان ہے۔پھرمیں نے حموی کودیکھا انہوں نے اس کی شرح میں یوں کہاکہ اگربیماری لمبی ہوجائے توموت کاخوف نہیں رہتایہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے۔یہ مفتاح سے منقول ہےانتہی۔(ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ ولم یخف منہ الموت ھذہ الجملۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ حموی عن المفتاح۔ اس کاقول کہ"اس سے موت کاخوف نہیں رہتا"یہ جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہےاس کوحموی نے مفتاح سے نقل کیاہے۔(ت)
آخرنہ دیکھاکہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے سال گزرنے کے بعد فالج وغیرہ کو لم یخف منہ الموت(اس کوموت کاخوف نہیں رہتا۔ت)کی مثال میں داخل فرمایا اگرچہ اس حد کو پہنچ گئے ہوں کہ چلنے پھرنے سے معذور اورصاحب فراش کردیں کما سبق نقلہ انفا فافھم وتدبر(جیساکہ اس کامنقول ہونابھی گزراہے۔غوروتدبرکرو۔ت) اور اس کی وجہ وہی ہے جوہم ابھی دررعلامہ خسرو سے نقل کرآئےعالمگیریہ میں تصریح ہے کہ شروع مرض فالج میں خوف ہلاك ہوتاہے اوربعد تطاول کے
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۲۰€
حیث قال والمقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ذلك فصار بحال لایخاف منہ فھو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذا مات عن ذلك فی تلك ایام وقدصار صاحب الفراش فھو مریض یخاف بہ الھلاک ۔انتھی ملخصا۔ جہاں فرمایا اقعادفالج اور سل کے مریضوں کامرض جب لمبا ہو جائے اوروہ اس حال میں پہنچ جائے اس سے موت کاخوف نہ رہے تو وہ صحتمند کی طرح ہوجاتاہے یہاں تك کہ کل مال میں اس کا ہبہ صحیح ہوتاہے لیکن شروع میں جب امراض ہوتے ہیں اگرانہی ایام میں مریض ہوگیا درانحالیکہ وہ صاحب فراش تھا تو وہ ایسامریض ہوتاہے جس کو موت کاخوف عارض ہوتاہے انتہی تلخیص(ت)
ثانیا:اگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیساکہ فاضل قہستانی کاگمان ہے تاہم مجردخوف اندیشہ سے مرض الموت نہ ہوجائے گا کیونکہ اس قدر سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول خالی کبھی نہیں ہوتے اگرچہ دس برس گزرجائیں بلکہ خوف غالب واندیشہ شدیددرکارہے۔
فی ردالمحتار عن الکفایۃثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔ ردالمحتار میں بحوالہ کفایہ ہے۔پھرخوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف(ت)
اوراس خوف کوفاضل قہستانی نے یوں تفسیرکیاکہ اگرروزبروزحال اس کابدتراورمرض ترقی پذیرہوتاجائے تواسے مرض کہیں گے۔
حیث قال وان لم یکن واحد منھما بان لم یطل مدتہ بان مات قبل سنۃ او خیف موتہ بان یزداد یوما فیوما انتھی۔ جہاں فرمایا اگران مریضوں میں سے کوئی اس حال میں نہ ہوکہ اس کی موت مؤخرہوگئی ہوبایں طورکہ وہ سال گزرنے سے پہلے مرگیا وہ یا اس کو موت کاخوف لاحق ہو بایں طور دن بدن بیماری بڑھ رہی ہو۔انتہی(ت)
بالجملہ اگراطلاق وتوجیہ جماہیرعلماء کی طرف لحاظ کریں جب توساڑھے تین برس گزرناہی صحت ونفاذ تصرفات کے لئے بس ہے اوراگررائے فاضل قہستانی پرعمل کیاجائے توصورت مستفسرہ
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
جامع الرموز کتاب الوصایا ∞مکتبۃ الاسلامیۃ گنبدقاموس ایران ۴/ ۶۸۲€
فی ردالمحتار عن الاسمعیلیۃمن بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت و تعتبر تبرعاتہ من مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لا یتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ وفی العقود الدریۃ سئل فی مفلوج تطاول بہ فلجہ قدرثلث سنین فوھب فی ھذہ الحالۃ جمیع مالہ من زیدوارثہ وسلمہ ذلك ثم مات بعد عدۃ اشھر عنہ لاغیر فھل الھبۃ صحیحۃ الجواب نعم والمفلوج الذی لایزداد مرضہ کل یوم فھو کالصحیح کما فی الخانیۃ وفی الفتاوی الخیریۃ حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لایمنعہ الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغبن مطلقا صحیح نافذصرحوا بہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج ۱لخ۔ ردالمحتارمیں اسمعیلیہ سے منقول ہے جو شخص کسی بیماری میں مبتلاہو اوربازار کی طرف جاتاہے اوراپنی حوائج کوپوراکرتاہے تو وہ مرض الموت کامریض نہیں ہے۔اس کے مال میں تبرعات معتبرہیں۔جب وہ اپنے کسی وارث سے بیع کرے یا ہبہ کرے وہ باقی وارثوں کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا۔عقود دریہ میں ہے ایسے مفلوج کے بارے میں سوال کیاگیا جس کا مرض فالج تین سال تك لمباہوگیا۔اس نے اسی حالت میں اپناتمام مال اپنے ایك وارث زیدکوہبہ کرکے اس کے حوالے کردیا۔پھراس کے چندماہ بعد وہ مرگیا توکیااس کایہ ہبہ صحیح ہوگا۔جواب یہ ہے کہ ہاںاوروہ مفلوج جس کامرض ہر روز بڑھ نہ رہا ہو وہ صحتمند کی مثل ہے جیساکہ خانیہ میں ہے۔ فتاوی خیریہ میں ہے جب وہ وصف مذکورپرہے اور اس کا مرض ضروریات پوراکرنے کے لئے گھرسے نکلنے سے مانع نہیں تو اس کااپنی اولاد میں سے ایك کے لئے ہبہ کرنااور باقیوں کے لئے غبن کے ساتھ بیع کرنامطلقا صحیح اور نافذ ہے۔علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح کی ہے جیسے تپ دقسل اورفالج الخ۔(ت)
العقودالدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۳۰€۷
الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۲۸€
مسئلہ ۱۰۷: ۶۸۷
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں ایك مکان اورایك دکان کہ قریب سولہ سوروپیہ کی قیمت تھی چھ سوروپیہ کواپنے شوہر ودخترکے ہاتھ بیع کی بعدپندرہ روز کے مرگئیاس صورت میں یہ بیع جائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع صحیح نہیں کہ مرض موت میں کم قیمت کوباتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم اﷲ ناجائزہے اوروارث کے ہاتھ تو برابرقیمت کوبھی بے اجازت دیگرورثہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك جائزنہیں۔
فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انتھی ملخصا۔ تلویح میں ہے اگر کسی وارث کے ہاتھ ترکہ کی کوئی معین شیئ اس کی برابرقیمت کے ساتھ بیچی توامام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیك جائزنہیں انتہیتلخیص۔(ت)
مسئلہ ۱۰۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں کل مہر اپناشوہر کوبخش دیا صرف اس میں سے پانسو روپیہ پانچ دینار کی نسبت کہاکہ اس قدرمیں معاف نہیں کرتی اس کے مالك بعد میرے والدین ہیںپس ازاں ہندہ نے زوج ووالدین وچارخواہرچھوڑکر انتقال کیا اب مادروپدرہندہ معافی مہراورشوہران پانسوروپیہ پانچ دینار کے والدین کو دینے میں کلام کرتاہے اس صورت میں ترکہ ہندہ کس حساب سے تقسیم ہوگا اوراس قدر مہرمعاف اورمابقی کی وصیت کہ والدین کوکی تھی صحیح ہوئی یانہیں بینواتوجروا۔
صورت مسئولہ میں ہبہ مہرشوہر کوکہ ہندہ سے اس کی مرض موت میں واقع ہواتھا اورورثہ باقین اس کی اجازت نہیں دیتے باطل ہوگیا اسی طرح ان پانسوروپیہ پانچ دینار کی وصیت کہ والدین کے لئے کی تھی اسی وجہ سے صحیح نہ رہی کما ھو مصرح فی کتب الفقہ(جیساکہ فقہ کی کتابوں میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) پس کل مہرہندہ ذمہ شوہرلازم اوراس کے ترکہ میں سب وارث مشترك برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مقدم کالدین والوصیۃ الصحیحۃ(جیسے قرض اورصحیح وصیت) کل مہرہندہ اورجوکچھ ا س کاترکہ ہو چھ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوج اورایك مادراوردوپدرکوملیں گے اور خواہروں کوکچھ نہ پہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص قریب موت کے ایك وارث کومنجملہ اورورثہ کے زبانی وصیت کرجائے کہ فلاں وارث کومال میراملے اورفلاں وارث کونہ ملےیہ وصیت درست ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگروصیت مذکورہ کوورثہ میت سے کوئی عاقل بالغ روانہیں رکھتا تو وہ وصیت اس وارث موصی لہ کے حصہ میں باطل محض ہوگئی اوران وارثوں میں کوئی مجنوں یانابالغ اجازت کوروارکھتاہے تو نامعتبرہے اورجوسب وارث جائزرکھتے ہیں اور وہ سب عاقل بالغ ہیں تو وصیت مذکورہ حق موصی لہ میں تمام وکمال وجائزونافذ ہوجائے گی پس بعدادائے دیون مقدمہ علی الوصایا اگر ذمہ میت ہوںکل یابعض جس قدر کی نسبت وصیت کی ہے اس وارث موصی لہ کودیاجائے گا اور جوان میں بعض جائزرکھتے اوربعض ناجائزتوجوجائزرکھتے ہیں بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں بقدران کے حصص کے وصیت نافذہوجائے گی اور بقدرحصوں اجازت نہ دینے والوں اوراطفال ومجانین کے اگرچہ وہ جائزبھی رکھیں باطل وکان لم یکن(گویاکہ ہوئی ہی نہیں۔ت) تصورکی جائے گی اورمیت کایہ کہناکہ فلاں وارث کومیرامال نہ ملے محض لغووعبث ہے توریث ورثہ بحکم شرع ہے کہ کسی کے ابطال سے اس کابطلان ممکن نہیں۔حتی کہ خود وارث کو اختیارنہیں کہ حق ارث سے دستبردارہو کما صرح بہ العلماء قاطبۃواﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم(جیساکہ تمام علماء اس کی تصریح فرماچکے ہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کاعلم اتم اورمستحکم ہے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ وصیت بکروعمرودونوں موصی لہما کے حق میں صحیح ہوگئی۔
فی الدر عن ابن الکمال والولوالجیۃ لواوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃ الخ۔ درمیں کمال اور ولوالجیہ کے حوالہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے اور کوئی دوسرا وارث موجودنہیں تو وصیت صحیح ہے الخ(ت)
پس اگرنصف اس زرامانت کاکل متروکہ زید کے بعدادا باقی رہا ہو ثلث سے زائدنہیں یازائد ہے مگرعمرو اس زیادت کوحق بکر میں جائزرکھتاہے تو وہ زرامانت عمروبکر میں بالمناصفہ تقسیم ہوجائے گا ورنہ اس روپیہ سے بقدرثلث متروکہ مذکورہ کے بکرکودیاجائے۔باقی ماندہ سب عمروکا ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: ۲۵/ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے جائداد اورچنداولاد نابالغ اورایك پسرجوان لائق نیك اطوارچھوڑا جس نے بعد پدر اپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کومثل اپنے بچوں کے پرورش کیا اور ان کے مال کی نگہداشت اوران کی غوروپرداخت میں بجان ودل مصروف رہا مگرزیدنے اپنے بچوں یاان کے مال کی نسبت کسی کووصیت نہ کی تھی اس صورت میں ہمارے بلاد میں ابن کبیران نابالغوں کے اموال میں دیانت وامانت کے ساتھ تصرفات جائزہ وشرعیہ کااختیار
الجواب:
اقول:متوکلا علی العلیم الخبیر الکریم الاکرم مستجیرا بذیل کرمہ عن زیغ البصر وزلۃ القدم۔ میں علیم وخبیر اور سب سے بڑھ کررحم فرمانے والے پرتوکل کرتے ہوئے اورآنکھ کی کجی اورقدم کی لغزش سے اس کے دامن کرم کی پناہ مانگتے ہوئے کہتاہوں۔(ت)
ہمارے بلاد میں جبکہ یتیموں پرنہ باپ کاوصی ہونہ حقیقی دادا نہ دادا کاوصی توان کاحقیقی جوان بھائی اگرلائق وامین ہو مثل وصی سمجھاجائے گااورامانت ودیانت اوربچوں پررحمت وشفقت کے ساتھ جن تصرفات کاشرعا وصی کواختیارہوتاہے اسے بھی ہوگا اگرچہ صراحتا باپ نے اس کو وصی نہ بنایاہو کہ یہاں عرفا ودلالۃ وصایت ثابت ہے ہمارے بلاد میں عادت فاشیہ جاری ہے کے باپ کے بعد جوان بیٹے اموال وجائداد میں تصرف کرتے اوراپنے نابالغ بہن بھائیوں کی پرورش وخبرگیری میں مصروف رہتے ہیں لوگ اگرنابالغ بچوں کے ساتھ کوئی جوان بیٹا بھی رکھتے ہیں تو بے غم ہوتے ہیں کہ ہمارے بعد ان کا خبرگیراں موجود ہے اورصرف نابالغ ہی بچے ہوں تو محزون وپریشان ہوتے ہیں کہ سرپرستی کون کرے گا یہ عادت دائرہ سائرہ دلالۃ اذن تعہدوتصرف ہے والثابت عرفا کالثابت شرطا(جوعرف کے اعتبار سے ثابت ہو وہ ایسے ہی جیسے شرع کے اعتبارسے ثابت ہو۔ت)فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت من البیع و الشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی فان القاضی ینصبہ وصیا فاخذ ھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالی گلی والوں میں سے کوئی شخص میت کے مال میں تصرف کرتا ہے جبکہ اس میت کاکوئی وارث اوروصی نہیںمگریہ شخص جانتاہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے تو قاضی اس شخص کو میت کاوصی مقررکردے گاچنانچہ اس شخص نے میت کامال لے لیا اورمعاملہ قاضی کے پاس نہ لے گیا اور مال کو خراب کردیاابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ اس
اوربلاشبہہ قطعا معلوم کہ جولوگ مال واولاد صغار وکباررکھتے ہیں عام حالت دیکھ کر خوب سمجھتے ہیں کہ یوں ہی ہمارے بعد بھی ولدکبیر تعہد جائداد وپرورش اولاد میں ہماراقائم مقام ہوگا بلکہ اس امر کی آرزوتمنا رکھتے ہیں اوریقینا اس پرراضی ہوتے ہیں اگران سے کہاجائے تمہارے بعد تمہاری جائداد اورچھوٹے چھوٹے بچے ان کے شقیق وشفیق یعنی تمہارے بیٹے سے چھین کرایك اجنبی کوسپردکردئیے جائیں جسے نہ مال کا درد ہو نہ بچوں پرترس توہرگزہرگز اس امر کو قبول نہ کریں گے توعرفاودلالۃ اذن وتفویض متحقق اور بیشك اگرنظرفقہی سے کام لیجئے تواس وصایت معروفہ کومعتبر رکھنے کی شدیدضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اس کے ابطال میں مقاصد شرع کابالکل خلاف بلکہ عکس مرادوقلب مقصود۔
وذلك لان عامۃ الناس فی بلادنا یموتون من دون تصریح بایصاء ویخلفون اموالا وعقارا واولاد صغارا لاجدلھم وربما تکون فیھم بنات قاصرات فلولم تعتبرالوصایا المعھودۃ التی یعلم کل احد اور یہ اس لئے ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ صراحتا وصیت کئے بغیر فوت ہوجاتے ہیں جو اپنے پیچھے مال جائداداورچھوٹی ناسمجھ اولاد چھوڑجاتے ہیں انکادادا نہ ہو جن میں بسا اوقات ناتواں بچیاں بھی ہوتی ہیں۔اگریہ معروف وصیت معتبرنہ ہو جس کے بارے میں ہرکوئی جانتاہے جب
بلکہ غمزالعیون والبصائرمیں ہے:
روی ان جماعۃ من اصحاب محمد بن الحسن رضی اﷲ تعالی عنہ حجوا فمات واحد فاخذواماکان معہ فباعوہ فلما وصلوا الی محمد سألھم فذکروا لہ ذلك فقال لولم تفعلوا ذلك لم تکونوا فقھاء وقرأ واﷲ یعلم المفسد من المصلح اھ اقول:فاذا ساغ تصرف احد من الرفقۃ مروی ہے کہ امام محمدبن حسن علیہ الرحمہ کے اصحاب نے حج کیا اور ان میں سے ایك ساتھی مرگیا توانہوں نے اس کامال و متاع جو اس کے پاس تھافروخت کردیا۔جب وہ امام محمدعلیہ الرحمہ کے پاس پہنچے توامام صاحب نے ان سے پوچھا انہوں نے یہ واقعہ آپ کوبتایاجس پرامام محمدنے فرمایا اگرتم ایسانہ کرتے توتم فقہاء نہ ہوتے اور امام محمدعلیہ الرحمہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی"اوراﷲ تعالی فسادکرنے والے کوسنوارنے والے سے"اھ۔
فتاوی کبری پھرفتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا تصرف واحد من اھل السکۃ فی مال الیتیم من البیع والشراء ولاوصی للمیت وھو یعلم ان الامر لورفع الی القاضی حتی ینصب وصیا وانہ یاخذ المال گلی والوں میں سے کسی نے یتیم کے مال میں بیع وشراء وغیرہ تصرف کیاجبکہ میت کاکوئی وصی نہیں اوروہ محلہ دار شخص جانتا ہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تووہ متولی مقرر کر دے گاتو وہ اس کامال لے اورخرچ
عــــــہ:لکن فی وصایا الانقروی ص۴۱۸ مانصہ وعن محمد فیمن مات عن ابنین صغیروکبیر وترك الفافانفق الکبیر علی الصغیر خسمائۃ وھو لیس بوصی قال ھو متطوع فی ذلك وان کان ترك طعاما اوثوبا فاطعمہ والبسہ الکبیر لایضمن الکبیر استحسانا من وصایا البزازیۃ قبیل نوع فی تصرف المریض اھ قلت الجواب ان ھذا ھو حکم الاصل وکلامنا فی الضرورۃ کما تری فافھم۱۲منہ۔ لیکن انقروی کے وصایا ص۴۱۸ میں ہے جس کی عبارت یہ ہے:امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ ایك شخص دوبیٹے ایك بڑا اورایك چھوٹا چھوڑکرفوت ہوا اورہزارترکہ چھوڑاتوبڑے نے چھوٹے پرپانچ سو خرچ کردیا حالانکہ وہ وصی نہ تھاتوامام محمد نے فرمایایہ پانسوبڑے کی طرف سے تطوع شمارہوگا اوراگرمرنے والے نے غلہ اورکپڑے ترکہ چھوڑا اوربڑے نے چھوٹے کو وہ غلہ طعام میں اورکپڑے لباس میں دئیے توبڑاضامن نہ ہوگا یہ حکم استحسان ہےبحوالہ مریض کے تصرف کی نوع سے تھوڑا پہلے (بزازیہ کی بحث وصایا)
الجواب: میں کہتاہوں کہ یہ اصل حکم ہے جبکہ ہمارا کلام ضرورت میں ہے جیساکہ دیکھ رہے ہوسمجھو ۱۲منہ(ت)
فصول عمادی پھرجامع الرموز پھردرمختارمیں ہے:
لغیرالوصی التصرف لخوف متغلب وعلیہ الفتوی ۔ غلبہ خوف کے وقت غیروصی کے لئے تصرف جائزہے اوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
درمنتقی پھرردالمحتارمیں ہے:
انما لم یحصر التصرف فی الوصی اشارۃ الی جواز تصرف غیرہ کما اذاخاف من القاضی علی مالہ ای مال الصغیر فانہ یجوز لواحد من اھل السکۃ ان یتصرف فیہ ضرورۃ استحسانا وعلیہ الفتوی اھ اقول:فاذا جاز التصرف لو احد من الجیران لمکان الضرورۃ مع وجود القاضی من دون اذن مورث و لاقاضی اصلا فلان یجوز للشقیق الشفیق عند عدم القاضی الشرعی مع تحقق اذن المورث دلالۃ لکان احری واجدر واجدی واولی۔ تصرف کووصی میں منحصرنہ کرنے میں اشارہ ہے کہ وصی کے غیرکاتصرف بھی جائزہے جیسے قاضی کی طرف سے نابالغ یتیم کے مال پر خوف ہوتو گلی والوں میں سے کسی کو اس کے مال میں بوجہ ضرورت تصرف کرنا بطوراستحسان جائزہے۔ اوراسی پرفتوی ہےاھ میں کہتاہوں جب بوجہ ضرورت مورث اورقاضی کی اجازت کے بغیر ایك پڑوسی کوتصرف کی اجازت ہے باوجودیکہ قاضی موجودہے توشفیق بھائی کے لئے قاضی کی عدم موجودگی میں تصرف کاجائزہونااولی وانسب ہےجبکہ مورث کی طرف سے بطوردلالت اجازت بھی متحقق ہے۔(ت)
غرض فقیربحول القدیر جزم کرتاہے کہ ایسی صورت میں ابن کبیر کی صحت تصرف وثبوت وصیانت بحکم دلالت میں کوئی محل شبہ نہیں۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح اوراﷲ تعالی جانتاہے بگاڑنے والے کوسنوارنے
درمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۸€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۶€
مسئلہ ۱۱۲: ۲۷ربیع الاول ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایك زوجہ اورایك پسربالغ اورایك دختربالغہ اوردولڑکیاں نابالغہ چھوڑکرفوت ہوانابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں جب وہ بالغ ہوئیں تو بکرنے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اورجوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے خود اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یاشادی کاخرچ بکر کے پاس نہ ہو صرف دوبہنوں کاخرچ پرورش وشادی اپنے مال متروکہ مشترکہ سے کیااس صورت میں یہ خرچ بکرکو ان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرامل سکتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہاں تین چیزیں ہیں:
(۱)خرچ پرورش
(۲)شادی کے مصارف بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اورخرچ کرتے ہیں جیسے برات کاکھاناخدمتیوں کاانعامسمدھیانہ کے جوڑےدولھا کی سلامیسواریوں کاکرایہبرات کے پان چھالیہ وغیرہ ذلک۔
(۳)دلہن کاجہیز۔
بتوفیق اﷲ ہرایك کا حکم علیحدہ سنئے۔
خرچ پرورش:بیشك بحکم دیانت بحالت عدم وصی وارثان کبیر کو وارثان صغیر کی پرورش کرنا اور ان کے کھانےپہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں ان کے لئے خریدنا اوران امورمیں ان کامال بے اسراف وتبذیر ان پراٹھانا شرعا جائزہے جبکہ وہ بچے ان کے پاس ہوں اگرچہ یہ ان پروصایت وولایت مالیہ
جازشراء مالابد للصغیر منہ(کالنفقۃ والکسوۃ و استئجار الظئرمنح)وبیعہ ای بیع مالابد للصغیر منہ لاخ وعم و ام وملتقط ھو فی حجرھم ای فی کنفھم والالا ۔ نابالغ کے لئے نفقہ اورلباس وضروری اشیاء خریدنادودھ پلانے والی کو اجرت پرحاصل کرنامنح(ت)اسی طرح نابالغ کی خاطر ضروری اشیاء فروخت کرنابھائیچچاماں اور اس کو اٹھانے والے کے لئے جائزہے بشرطیکہ وہ نابالغ ان کی زیر پرورش اورزیرنگرانی ہو ورنہ نہیں۔(ت)
علامہ شامی قول درمختار:
لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ ولاولایتہ الا فی مسائل ۔ غیرکے مال میں اس کی اجازت وولایت کے بغیر تصرف کرنا سوائے چندمسائل کے ناجائزہے(ت)
کی شرح میں بضمن مسائل استثناء ارشاد فرماتے ہیں:
کذا لوانفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی کلدیانۃ اھ ملخصا۔اقول:ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شہادۃ الاوصیاء عن الطحاوی عن الفصول حیث قال ورثۃ صغاروکبار وفی الترکۃ دین وعقار فھلك بعض المال وانفق الکبار البعض علی انفسھم وعلی الصغار فما ھلك فھو جیساکہ بعض اہل محلہ کاایسی مسجد کے محاصل میں سے اس کی چٹائیوں وغیرہ پرخرچ کرنا جس مسجد کا کوئی متولی نہیں یابڑے وارثوں کاایسے چھوٹے وارثوں پرخرچ کرنا جس کاکوئی وصی نہیں ان سب پر ازروئے دیانت کوئی ضمان نہیں اھ تلخیص۔ میں کہتاہوں یہ بات امام کے اس قول کے مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے جوانہوں نے فصول کے حوالے سے شہادت اوصیاء میں فرمایا کہ کسی کے ورثاء چھوٹے بھی ہیں اوربڑے بھی جبکہ ترکہ میں دین اورجائداد ہے۔پھرکچھ مال ہلاك ہوگیا اور کچھ بڑوں نے چھوٹوں پرخرچ کیا۔جوہلاك ہواوہ توسب پرہے
الدرالمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۷€
پس جوکچھ بکرنے ان لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگرنفقہ مثل کادعوی کرے توبیشك دیانۃ مجراپائے گا۔
فانہ کان ماذونالہ فی ذلك من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذبہ الظاھر الاتری الی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی اوقاض لفقد انھما ھھنا رأسا وانت تعلم ان المفتی انما یفتی بالدیانۃ بل قد اثبتنا عرش التحقیق بتوفیق کیونکہ وہ اس مسئلہ میں شریعت کی طرف سے ماذون تھا۔لہذا وہ ضامن نہیں بلکہ امین ہوگا۔اس کا قول قبول ہوگا جب تك وہ ایسا دعوی نہ کرے جس کو ظاہر جھٹلاتاہے۔کیاتم نہیں دیکھتے جو ہم نے بحوالہ فصول ذکرکیاہے۔اس میں مثلی نفقہ کی حد تك شمار کرنے کا فیصلہ دیاگیا جبکہ مالك اذن یعنی وصی یاقاضی کی طرف سے اذن موجودہوحالانکہ شرع مطہر مالك اذن ہونے کازیادہ حقدارہے توہمارے اس زیربحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایاگیاہے اگرچہ وصی یاقاضی کی طرف سے نہیں پایاگیاکیونکہ وہ دونوں یہاں بالکل مفقود ہیں اور تو جانتاہے کہ مفتی دیانت کے ساتھ فتوی دیتاہے بلکہ ہم نے مولی سبحنہ وتعالی کی توفیق
اورنفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت میں ایسے بچوں پراتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدرہوتاہے اتنا مجراپائے گا۔عالمگیری میں ہے:
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط۔ مثلی نفقہ وہ ہے جو فضول خرچی اورضرورت سے کمی کرنے کے درمیان ہو۔محیط میں یونہی ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ماینفق علی مثلھم فی تلك المدۃ جوخرچ کیاجاتاہے ان کی مثل پر اس مدت میں(ت)
ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۶۰€
لانا وان قلنا بوصایۃ بکردلالۃ کما اشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ۔ اس لئے اگرچہ ہم بطوردلالت بکر کے وصی ہونے کا قول کر چکے ہیں جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے مگر وہ ولایت بالغوں کے بلوغ سے منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتارمیں عنایہ سے ہے:
انھم(یعنی الورثۃ الکبار)اذا کانوا حضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذاکان علی المیت دین الخ۔ جب بڑے ورثاء حاضرہوں تو وصی کوترکہ میں تصرف کابالکل اختیارنہیں مگرجب میت پر قرض ہو الخ۔(ت)
توان مصارف میں جوکچھ بکرنے صرف کیابہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جسے کسی سے مجرانہ پائے گا سب صرف اسی کے حصے پرپڑے گا خواہ ضمنا خواہ قصاصادوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃ اذن دیایہ بری رہیں گے اگرچہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا وہ خاموش رہے ہوں اذلاینسب الی ساکت قول(چپ رہنے والے کی طرف قول کو منسوب نہیں کیا جاتا۔ت)اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا اگرکسی نے غیرکو اپنا مال تلف کرتے دیکھا اورچپ رہاتویہ تلف کرنے کا
خصوصا اگران میں کوئی اس وقت نابالغہ ہوکہ نابالغ کااذن بھی معتبرنہیں
فانہ لیس من اھل التبرع ولالاحد ان یتبرع من مالہ۔ اس لئے کہ وہ اہل تبرع میں سے نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ اختیارہے کہ وہ اس کے مال میں تبرع کرے۔(ت)
بزازیہ وبحرالرائق وردالمحتار وتنویرالابصار وسراج وہاج وغیرہ میں ہے:
الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال اوتملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا اھ اقول: ھذا افادون فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھما وکیل عن صاحبہ و ماذون التصرف فی المال من جانبہ فکیف بالشریك شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصوا علیہ۔ ہبہ اورقرض اور جس صورت میں مال کو تلف کرنا یابغیر عوض کے مالك بناناپایاجائے یہ جائزنہیں جب تك صراحتا اس کی اجازت نہ دی گئی ہواھمیں کہتاہوں یہ ممانعت شرکت عنان ومفاوضہ میں ہے باوجودیکہ ان میں ہر ایك دوسرے کا وکیل ہوتاہے اورہرایك کو دوسرے کی طرف سے تصرف کی اجازت ہوتی ہے توپھرکیساحکم ہوگا شرکت عین کے شریك کا کیونکہ وہ تودوسرے بھائی کے حق میں محض اجنبی ہوتاہے اور اس کو دوسرے کے حصہ میں تصرف کی اجازت نہیں ہوتی جیساکہ علماء نے اس پرنص کی ہے(ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے:
التجھیزلایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذلك ان کا ن من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ ملخصا۔ لوگوں کا اجتماع اوران کے کھانے کااہتمام تجہیزمیں داخل نہیں ایساکرنے والا اگروارثوں میں سے ہو تویہ خرچ کرناخود اس کے اپنے حصے سے شمارکیاجائے گا اور وہ اس خرچ میں متبرع ہوگااورایساہی ہوگا اگروہ اجنبی ہوالخ ملخصا(ت)
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۴۵€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۶۷€
فضلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الاستبداد فی القیمیات۔ چہ جائیکہ مثلی اشیاء پراقتصارہونااورقیمتی چیزوں میں تبدیلی کو ترجیح دینے سے بچنا۔(ت)
نہ اجناس مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکنیہاں تك کہ قاضی کو بھی اس کا اختیارنہیں کما نصوا علیہ فی الکتب جمیعا (جیساکہ اس پر تمام کتابوں میں علماء نے نص کی ہے۔ت)توغایت درجہ اس قدررہا کہ بکرنے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دلہن کے حصے میں مجرالیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقدشرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہرلمامرصلح وتخارج یوں نہیں کہ کل ترکہ یا اس کی قسم سے حصہ دلہن کا ساقط نہ کیاگیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا کہ اب فلاں قسم ترکہ میں میرا کوئی دعوی نہ رہا اگرچہ میراحصہ مقدارجہیز سے زائد نکلے نہ ایسا امربے تصریح رضامندی فقط ایك طرف کے خیال پرعقد ٹھہرسکتاہے فان العقد ربط ولا بد فی الربط من شیئین معھذا(اس لئے کہ عقد توربط کانام ہے اورربط کے لئے دوچیزوں کاہونا ضروری ہے۔ت)عندالحساب جہیزکی لاگت میں اختلاف پڑناممکن بلکہ مظنون توقطع نزاع جس کے لئے صلح وتخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا
ومامن شیئ خلا عن مقصودہ الابطل و جھالۃ المصلح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الی منازعۃ والامنعت۔ نہیں ہے کوئی جومقصود سے خالی ہو مگریہ کہ وہ باطل ہے اور جس شیئ پرصلح ہورہی ہو اس کی جہالت صرف اس وقت جواز صلح سے مانع نہیں ہوتی جب اس سے کوئی جھگڑا پیدانہ ہو ورنہ مانع ہوتی ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ ۔ صلح شرع میں ایسے عقد کوکہتے ہیں جوجھگڑے کورفع کرے اورخصومت کو ختم کرے۔(ت)
رہی بیع وہ اگربتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکرکہتا میں نے یہ جہیزبعوض ان اشیائے متروکہ کے جوبمقدار مالیت جہیز تیرے حصہ میں آئیں بیع کیا اوردلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیزکی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اورکیاکیا اشیاء حصہ عروس میں آئیں گی یہاں تك کہ اس قدربھی نہ ہوابلکہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکرنے ایك امرسمجھ کرجہیزسپردکیایہ بھی خبرنہیں کہ اس وقت قلب عروس میں کیانیت تھی اسے کیونکر کوئی عقد شرعی قراردے سکتے ہیں۔
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظھر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضاء النفسی۔ اوریہ بات معلوم ہے کہ کوئی عقد محض نیت سے تام نہیں ہوتابلکہ اس کے لئے کسی ایسی چیز کا ہوناناگزیرہے جس سے دلی ارادہ ظاہرہو اور وہ دلی طورپر رضامندی کی دلیل ہو۔(ت)
فتح القدیرمیں ہے:
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول اوفعل اھ نعم المظھر قدیکون نصا وھو اللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالۃ کالمساومۃ و اخذ الثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لا حاجۃ الی البیان للعرف العام کالخبز مثلا حیث یکون لہ اس کارکن ایسافعل ہے جودونوں ملکوں کے باہمی تبادلہ پر رضامندی کی دلیل ہوچاہے قول سے یافعل سےاھہاں اس کوظاہر کرنے والی چیزکبھی نص ہوتی ہے جیسے وہ لفظ جوایجاب وقبول کے لئے مقررہیں اورکبھی دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤتاؤ طے کرنااور دستی لین دین کی بیع میں ثمن بیان کرنے کے بعد اس کولے لینااورجہاں عرف عام کی وجہ سے بیان کی حاجت نہ ہو مثلاروٹی کی قیمت جب معلوم ہو اس میں
فتح القدیر کتاب البیوع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵€
فتاوی عالمگیری میں ہے:
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ وفی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احدھما کان لنص محمد رضی اﷲ تعالی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع ھکذا حکی فتوی شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك بیع تعاطی میں شرط دونوں طرفوں سے دیناہےکفایہ میں یونہی ہے اوراسی پراکثر مشائخ ہیںبزازیہ میں ہے کہ یہی مختارہےایساہی بحرالرائق میں ہے۔اورصحیح یہ ہے کہ اگرایك قبضہ کرے توکافی ہے کیونکہ امام محمدعلیہ الرحمہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی دومیں سے ایك بدل پر قبضہ کرلینے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ثمن اور مبیع دونوں کوشامل ہے جیساکہ النہرالفائق میں ہے اور یہ قائل شرط قراردیتاہے اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے ثمن کے بیان کرنے اورمبیع کے سونپنے کو۔
پس واضح ہواکہ جہیزدینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تویہ دینااصلا کوئی اثرتبدل ملك پیدانہ کرے گابلکہ وہ مال جس کی ملك تھا بدستور اسی کی ملك پررہے گا اب معرفت مالك درکار ہے جوچیزیں عین متروکہ تھیں مثلا زیوربرتنکپڑے وغیرہ کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہ جہیزمیں دئے گئے وہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترك تھیں اب بھی مشترك رہیں گی اورجواشیاء بکرنے خریدکردیں وہ سب مطلقا ملك بکرکی تھیں اوراب یہی خاص اسی کے ملك پرہوں گی اگرچہ مال مشترك سے خریدی ہوں
لما علم من ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ۔ کیونکہ معلوم ہے کہ بیع جب نفاذ پائے تومشتری پرنافذ ہوجاتی ہے(ت)
غایت یہ کہ مال مشترك سے خریدنے میں بکرباقی ورثہ کے حصص کاذمہ دارہوگا کما نقلنا فی مواضع من فتاوینا عن رد المحتار(جیساکہ ہم ردالمحتارکے حوالے سے اپنے فتاوی میں متعدد مقامات پرنقل کرچکے ہیں۔ت)پھر اس قسم یعنی مملوکات بکرپردلہن کاقبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک(کیونکہ یہ مالك کے مسلط کرنے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ت)پس جس چیزکودلہن نے استہلاك نہ کیا بغیراس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاك ہوگئی اس کاتاوان دلہن پرنہ آئے گا اورجو اس کے فعل و تعدی سے تلف ہوئی اس کی قیمت بکرکے لئے دلہن کے ذمہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذا تعدی(کیونکہ امین جب زیادتی کرے تووہ ضامن ہوتا ہے۔ت)اورجوباقی ہو وہ بعینہ بکرکوواپس دے اورقسم اول یعنی عین متروکہ سے جوکچھ جہیزمیں دیاگیا اس پردلہن کاہاتھ دست ضمان ہوگایعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاك ہوجائے مطلقا تاوان آئے گا
و ذلك لان بکراقد تعدی علی حصص الشرکاء بتجھیز الاخت من مال مشترك وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقل وکل یدمترتبۃ علی یدضمان۔ کیونکہ بکرنے شرکاء کے حصوں میں تعدی کی اس لئے کہ اس نے مال مشترك سے بہن کاجہیزبناکر اس کے حوالے کردیا کہ وہ اس کو پہنےاستعمال کرے اور تصرف میں مستقل ہو جائے۔ ہرقبضہ جودست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتا ہے۔ (ت)
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء الخ۔ جوقبضہ دست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتا ہے لہذا چارپائے کے مالك کو اختیارہے کہ جس کو چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت)
اوروہ بکریادلہن جس سے ضمان لیں اسے دوسرے پر دعوی نہیں پہنچتا
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ واما العروس فلانھا قبضت لنفسھا لالبکر۔ بکرپرتو اس لئے کہ وہ غاصب ہے اوردلہن نے اس کے مسلط کرنے سے اس پرقبضہ کیاہے۔رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ اس نے اپنے لئے قبضہ کیاہے بکرکے لئے نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں بزازیہ سے ہے:
وھب الغاصب المغصوب اوتصدق او اعاروھلك فی ایدھم وضمنواللمالك لایرجعون بما ضمنواللمالك علی الغاصب لانھم کانواعاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنوا علی الغاصب لانھم عملوا لہ الخ۔ غاصب نے مغصوب چیزکسی کوہبہ کردی یاصدقہ کردی یا عاریت پردے دیوہ چیز ان لوگوں کے ہاتھ میں ہلاك ہوگئی اور وہ اصل مالك کے ضامن ہوگئے تو اب یہ لوگ غاصب پر رجوع نہیں کرسکتے اس تاوان کے بارے میں جو انہوں نے مالك کودیا کیونکہ وہ مغصوب پرقبضہ میں اپنے لئے عمل کرنے والے ہیں بخلاف مرتہنمستاجر اوراس شخص کے جس کے پاس غاصب نے مغصوب چیزودیعت رکھی۔یہ لوگ اگر بصورت ہلاکت مالك کو تاوان اداکریں تواس کے لئے غاصب پررجوع کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا(ت)
اورجوکچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الہیہ پرتقسیم ہوجائیں یہ سب احکام اس صورت
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۶€
لانہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین و الفتاوی الخیریۃ وغیر ماکتاب وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرۃاقول:ولیس فی تجھیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابایدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاباء والامھات فی بلادنا وکیف ویکون الظاھر قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاھر ح انھم یریدون الاحتساب علیھن من انصبائھن۔ کیونکہ وہ دینے والاہے لہذا وہ دینے کی جہت کوزیادہ بہتر جانتاہے جیساکہ اشباہجامع الفصولین اورفتاوی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہےاورعلماء نے اس پرمتعددمسائل میں نص فرمائی ہے۔میں کہتاہوں بھائی جب بہنوں کے لئے جہیز بنائیں جبکہ وہ بہنیں مالدارہوں اوربھائیوں کے زیرقبضہ ترکہ میں شریك ہوں تو ایساکوئی عرف ہمارے شہروں میں جاری وساری نہیں جو اس کو ہبہ قراردے بخلاف ماں باپ کے۔تو واجب کے باقی رہتے ہوئے اس کاقصد تبرع ہوناکیسے ظاہرہوگا بلکہ ظاہریہاں یہ ہے کہ بھائی اس کو بہنوں کے حصوں میں سے شمار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔(ت)
اسی طرح اگربکرنے دل میں نیت ہبہ کی مگردلہن نے ہبہ جان کرقبضہ نہ کیا بلکہ مثلا اپنے حصہ کا معاوضہ یاحصے میں مجرائی سمجھ لیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایاگیا
فان القبول فرع العلم وھی اذالم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔ اس لئے کہ قبول فرع ہے علم کی۔جب اس خاتون نے اس کو ہبہ سمجھاہی نہیں تو اس کاہبہ کوقبول کرناکیسے متصورہوگا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وکذا بقولہ اذنت الناس جمیعا فی ثمر نخلیمن اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناسمن اخذ شیئا یونہی اس کایہ کہناکہ میں نے اپنے درختوں کے پھل کے بارے میں تمام لوگوں کواجازت دے دی ہے تولوگوں کو خبر پہنچ گئی جس نے جوکچھ لے لیاہے وہ اسی کاہے ایساہی
الفتاوٰی الہندیہ کتاب الہبہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۳۸۲€
تواس حالت میں بھی وہ اشیاء بدستورملك اصل مالك پرآئیں گی خواہ بکرہو یاسب شرکاءاوراحکام سابقہ عودکریں گےہاں اگر بکرکاارادہ ہبہ قولا یافعلا یادلالۃ کسی طرح ظاہرہوا جس کے سبب دلہن نے اسے ہبہ ہی سمجھ کرقبضہ کیاتوالبتہ ایجاب وقبول دونوں متحقق ہوگئے۔
فان القبض بوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفی۔ کیونکہ بطورہبہ قبضہ کرنا قبول ہے اگرچہ ناقص ہے جیساکہ قابل تقسیم چیزکوبلاتقسیم ہبہ کرنے کی صورت میں ہوتاہے کیونکہ بطور دلالت رضامندی میں وہ سب برابرہیںجیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
ولوالوجیہ میں ہے:
القبض فی باب الھبۃ جارمجری الرکن فصار کالقبول ۔ ہبہ کے باپ میں قبضہ کرنا رکن کے قائمقام ہے لہذا یہ قبول کی مثل ہوگیا۔(ت)
پس جو اشیاء بکرنے خریدکر جہیزمیں دیں اگرچہ مال مشترك سے خریدی ہوں دلہن ان کی مالک
فان البدل وان الیھا وصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملك لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علی حدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔ کیونکہ بدل اگرچہ اس دلہن تك پہنچ گیا لیکن شراء کا نفاذبکر پرہواچنانچہ اس کے لئے ملك ثابت ہوگئی اورضمان تام ہوگیا پھر اس کادلہن کودینا الگ ہبہ ہے جوبکرکے اپنے مال سے ہوا لہذا اس سے دلہن کے حصہ کاتاوان ساقط نہیں ہوگا(ت)
اورجوکچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں توہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذنہ ہوا۔اذ لا اذن منھم ولاولایۃ علیھم(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اجازت ہے اورنہ ہی ان پرولایت ثابت ہے۔ت)توان کے حصے توہرحال دلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اورضمان کاوہی حکم کہ انہیں اختیار ہے چاہیں بکرپرڈالیں یا دلہن پر جس پرڈالیں دوسرے سے مجرانہ پائے گا کما قدمنا عن البزازیۃ(جیساکہ بزازیہ کے حوالے سے ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت)رہا بکرکااپناحصہ جہیزمیں جومال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ملتاتھاجب توبکرکے حصے میں بھی ہبہ صحیح نہ ہوا لانھا ھبۃ مشاع فیما یقسم(کیونکہ یہ قابل تقسیم چیزمیں بلاتقسیم ہبہ ہے۔ت)اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پر رہے گا اورجوکچھ دلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاك ہوگا اس میں حصہ بکرکاتاوان خاص دلہن پرپڑے گا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولاتفید الملك فی ظاھرالروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لا یملکہ فیکون مضمونا علیہ الخ ملخصا وتمامہ فیھا وفی ردالمحتار۔ ایسی غیرمنقسم چیزکاہبہ صحیح نہیں جوتقسیم کااحتمال رکھتی ہو اور ظاہرالروایہ کے مطابق وہ مفید ملك نہ ہوگا۔امام زیلعی نے کہا اگرغیرمنقسم حالت میں اس کوسونپ دیاتوملك ثابت نہ ہوگا چنانچہ اس پرضمان آئے گا الخ تلخیص۔اس کی مکمل بحث فتاوی خیریہ اورردالمحتار میں ہے۔(ت)
اسی طرح اگر مال ناقابل تقسیم ہو مگردلہن نہ جانے کہ اس میں بکرکاحصہ کس قدرہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اوربعد ہلاك وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پرآئے گا۔بحرالرائق میں ہے:
محیط امام سرخسی میں ہے:
واذا علم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی نقلھما فی الفتاوی الھندیۃ۔ جب موہوب لہ کوواھب کے حصہ کاعلم ہوتو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك اس کوجائز ہوناچاہئے۔ان دونوں کوفتاوی ہندیہ میں نقل کیاہے۔(ت)
جامع الفصولین میں فتاوی امام فضلی سے ہے:
اذا ھلك افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذ الفاسدۃ مضمونۃ علی مامر۔ اگروہ ہلاك ہوجائے تو میں ذی رحم محرم کوہبہ فاسدہ کرنے والے کی طرف رجوع کافتوی دوں گا کیونکہ ہبہ فاسدہ کی صورت میں ضمان آتا ہے جیساکہ گزرگیا(ت)
اور اگر دلہن کومعلوم تھا تواس قدرمیں ہبہ صحیح ونافذ وتام ولازم ہوگیا اوران اشیاء میں دلہن اپنے اوربکردونوں کے حصص کی مالك ہوگئی باقی ورثہ کے حصے بدستور دست عروس میں حکم ضمان پر ہیں جن کاحکم بارہاگزرا اوراول سے آخر تك سب صورتوں میں جو مشترك چیزیں دلہن کے ہاتھ میں تلف ہوئیں ان میں دلہن اپنے حصے کاتاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اسکامال اسی کے ہاتھ میں ہلاك ہوا اوربکرنے اس کے حصے پرکوئی تعدی نہ کی۔
فانہ انما سلم الملك لید من ملك کیونکہ اس نے توایسے کے ہاتھ میں دے دیا جو
الفتاوی الہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الہبہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸€
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ الخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۷€
مسئلہ ۱۱۳: ازشہرکہنہ ۷ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مجیداﷲ خاں ولد کالے خاں ساکن شہرکہنہ نے اپنی جائداد موروثی دین مہرمیں زوجہ کو دی یعنی مسماۃ امیربیگم کوبعدہ مجیداﷲ خاں مذکور کاانتقال ہوگیا بعدازاں جائدادمرقومہ بالاکا داخل مسماۃ امیربیگم کے نام بذریعہ گواہان کے ہوا یہ شخص گواہ تھے عنایت اﷲ خاں صاحب ولدکالے خاں صاحبدیگرگواہ شفیع علی خان صاحب ولد کالے خان صاحبمجیداﷲ خاں مرقومہ بالاکی ایك لڑکی تھی امیربیگموالدہ دخترنے اس کی شادی کردی چند عرصہ کے بعد نصف جائداد جوبذریعہ مہرکے شوہر اپنے سے پہنچی تھی دخترمذکورہ کودے دی اوراس کا داخل خارج بھی کردیا بگواہی عنایت اﷲ خاں صاحب وشفیع علی خاں صاحب اور پٹی بانٹ اس وجہ سے نہیں ہوسکا کہ اس زمین میں جگہ جگہ غار تھے دوسرے یہ کہ والدہ اوردختر میں اتفاق بھی بہت تھا حتی کہ تاحیات دخترسے جدانہیں ہوئیبعدہ مسماۃ امیربیگم کی حیات میں دخترجس کے نام نصف جائداد کی تھی فوت ہوگئی مگرمسماۃ امیربیگم نے وہ جائداد واپس نہیں لی اس پرقابض اوردخیل داماد رہا اور ہے اورجس وقت امیربیگم کی علالت تھی اس وقت میں دامادمذکور سے وصیت کی کہ برخوردار من میری
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ ہبہ کہ امیربیگم نے بنام اپنی دخترکے کیابوجہ مشاع وغیرمنقسم ہونے زمین کے محض باطل ہوگیا۔تتمۃ الفتاوی پھرمشتمل الاحکام پھرفتاوی خیریہ میں ہے:
ھبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح ۔ غیرمنقسم کاہبہ باطل ہے اوریہی صحیح ہے(ت)
اورداخل خارج کہ ایك عقد باطل پرمبنی ہوا خود باطل وبے اثراسی طرح اس کاموہوب مذکورکی نسبت اپنے داماد سے کہنا میں نے تجھ کوبخوشی بخشی کہ وہ بھی ہبہ ہے اوربوجہ شیوع باطل۔
فی الشامی عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضی خاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما۔ شامی میں بحوالہ طحطاویبحوالہ مکیبحوالہ امام قاضی خان وغیرہ ہے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہے اگرچہ حکما وصیت ہے۔(ت)
پس وہ زمین تمام وکمال ملك وترکہ امیربیگم ہے جس میں وارثان دختریاخواہران شوہر کا اصلا کچھ حق نہیں صرف امیربیگم کے دونوں چچازاد بھائی برتقدیر عدم موانع ارث وانعدام وارث دیگراس کے مستحق ہیں کہ بعدادائے دین ووصیت آپس میں نصف نصف کرلیں داماد مورثہ نے جوکچھ اس پر اس کی بیماری وتیمارداری میں اٹھایا وہ امیربیگم پراس کاقرض ہے کہ ترکہ امیربیگم سے لے سکتاہے فانہ لما انفق بامرھا وقد افصحت بالرجوع لم یکن متبرعا(کیونکہ جب
ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۳۵€
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ ای الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث وفی القیمۃ وقع الشراء لہ(لانہ متعد فی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی )۔ اگروصی نے میت کے مثلی کفن میں زیادتی کی باعتبار تعداد کے توزائد کاضامن ہوگا(مگرجب اس کو اس کی وصیت کی گئی ہو اور وہ مال کے ایك تہائی سے پوری ہوسکتی ہو)اوراگرباعتبار قیمت کے زیادتی کی تویہ خریداری وصی کے لئے واقع ہوگی(کیونکہ اس نے قیمت کی زیادتی میں تعدی کی اور وہ زیادتی ممتازنہیں لہذا وہ میت کے لئے کفن کی خریداری میں متبرع ہوگا۔رحمتی)(ت)
اسی طرح جوکچھ کفن دفن کے سوافاتحہدرودوسومچہلمعورتوں کے جمع ہونےان کے پان چھالیہ کھانے پینے وغیرہ معمولی باتوں میں صرف ہوا اس کابھی ایك حبہ مجرانہ ملے گا لوجوہ کثیرۃ وحسبک(متعدد وجوہات کی وجہ سے اورتجھے اتناہی کافی ہے کہ۔ت)قول امیربیگم "بعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو"وصیۃ مھملۃ باطلۃ لانفاذ لھا اصلا(وصیت مہمل وباطل ہے جس کابالکل نفاذ نہیں۔ت)
علامہ سائحانی مسئلہ تنویرالابصار وغیرہ اوصی بان یتخذ الطعام بعد موتہ للناس ثلثۃ ایام فالوصیۃ باطلۃ (کسی نے وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد تین دن لوگوں کے لئے کھانا تیار کیاجائے تو یہ وصیت باطل ہے۔ت)کی تعلیل میں لکھتے ہیں:
انھا وصیۃ للناس وھم لایحصون کما لوقال اوصیت للمسلمین ولیس فی اللفظ مایدل علی الحاجۃ فوقعت تملیکا من مجھول کیونکہ یہ وصیت لوگوں کے لئے ہے جن کاشمار نہیں ہوسکتا جیساکہ اگروہ کہے کہ میں نے مسلمانوں کے لئے وصیت کی ہے درانحالیکہ لفظوں میں ایسی کوئی چیزنہیں جوحاجت پر دلالت کرے تویہ مجہول
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۲€
پھرجس قدر دین اس کاذمہ امیربیگم ثابت ہوا اسی کے لائق زمین کاٹکڑا بیچ کر اپنادین وصول کرسکتاہے یاوارثان امیربیگم اپنے پاس سے اس کا دین ادا کرکے خالص کرلیں۔ردالمحتارکے باب الوصی میں ہے:
اذاکان علی المیت دین اواوصی بوصیۃ ولم تقض الورثۃ الدیون ولم ینفذوا الوصیۃ من مالھم فانہ یبیع الترکۃ کلھا ان کان الدین محیطا وبمقدار الدین ان لم یحط ولہ بیع مازاد علی الدین ایضا عندابی حنیفۃ خلافالھما قال فی ادب الاوصیاء و بقولھما یفتی کذا فی الحافظیۃ والقنیۃ وسائر الکتب اھ ملخصاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جب میت پرقرض ہو یا اس نے کوئی وصیت کی ہو اورورثاء نے اس کاقرض اپنے مال سے ادانہ کیا اورنہ ہی اس کی وصیت کونافذ کیاتو وصی تمام ترکہ کوبیچ سکتاہے اگرقرض اس کو محیط ہو اورقرض ترکہ کومحیط نہ ہو توقرض کے برابر ترکہ میں سے بیچ سکتاہے۔امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك قرض سے زائد ترکہ کوبھی بیچ سکتاہے بخلاف صاحبین کے۔ادب الاوصیاء میں کہاکہ فتوی صاحبین کے قول پردیاجائے گا۔ ایسا ہی حافظیہقنیہ اوردیگرکتابوں میں ہےاوراسی کی مثل بزازیہ میں ہےاھ تلخیص(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴: ازوطن مرسلہ نواب مولوی سلطان علی خان صاحب ۲رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
چہ می فرمایند علماء رحمہم اﷲ تعالی دروصیت مطلقہ موصی لہم مردوزن باشند تقسیم برایشاں مساوی شودیاللذکرضعف الانثی۔ کیافرماتے ہیں علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم وصیت مطلقہ کے بارے میں جومردوں اورعورتوں کیلئے کی گئیتو کیاان سب پربرابرتقسیم ہوگی یامذکر کے لئے مؤنث سے دگناہوگا
کیافرماتے ہیں علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالی علیہم وصیت مطلقہ کے بارے میں جومردوں اورعورتوں کیلئے کی گئیتو کیاان سب پربرابرتقسیم ہوگی یامذکر کے لئے مؤنث سے دگناہوگا
الجواب:
چوں صراحۃ واشارۃ بہیچ گونہ تفصیل وتفضیل جب صراحۃ اوراشارۃ کسی قسم کی تفصیل موجودنہیں
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۴€
مسئلہ ۱۱۵: ازمیرٹھ بازارلال کرتی مرسلہ جناب مولوی محمدعبدالسمیع صاحب ۴/رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق ومدقق جناب مولانا محمداحمدرضا خاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہبعد اتحاف ہدیہ سلام مرفوع برائے خورشیدانجلائے باداس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے کہ ایك عورت نے وصیت کی تھی کہ ایك شخص کو کہ یہ سوپچاس روپیہ میراہے اس کایہ بندوبست کیجیوکہ جب کوئی موسم کامیوہ چلا کرے میری فاتحہ اس پر دلاکرتقسیم کردیاکرووصی نے ایساہی کیالیکن ایسابھی کیاکہ اس مال مذکورسے کوئی کتاب دینی غریب طالب علم کو دلوادیاوریہ بھی کیاکہ دہم وچہلم کی تواریخ معینہ میں مساکین کوکھانا کھلادیا فاتحہ دلاکراورایك دوخرچ ایسے کئے کہ اس عورت کے مرنے کی خبرسن کرجودوایك جگہ سے آدمی آئے تھے اوراس عورت کاکوئی ولی نہ تھا جو ان کی مہمانی کرتاان کی مہمانی میں بھی روپیہ مذکورہ سے کچھ صرف ہوااب یہ سب اخراجات بقیاس قاعدہ نذرکا اس میں تعین زمان و مکان ومال وانفاق کی قید پرنظررکھناواجب نہیں ہے جائزہوئی یانہیں۔وصی نے ان سب کومصرف خیرسمجھ کو صرف کردیاکہ مقصود فاتحہ میوہ جات سے ایصال ثواب ہے ایصال ثواب ہوگیا اب
الجواب:
رائے سامی قرین صواب ہے اس لفظ میں کہ تقسیم کردیا کیجونہ کسی قوم محصورین کے لئے وصیت ہے نہ لفظ منبیئ حاجت توظاہر بطلان وصیت
کما ھو مقتضی الضابطۃ المعروفۃ فی الوصایاقال فی الدرالمختار والاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی وھو معلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت وتمامہ فی الاختیار۔ جیساکہ وصیتوں کے بارے میں معروف ضابطہ کاتقاضا ہے درمختارمیں فرمایاضابطہ یہ ہے کہ وصیت جب ایسے اسم کے ساتھ واقع ہوجوحاجت کی خبردے جیساکہ فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئےتویہ وصیت صحیح ہوگی اگرچہ جن کے بارے میں وصیت کی گئی وہ غیر منحصر ہوںجیساکہ گزرچکاکیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئیاوریہ معلوم ہے اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبرنہ دیتاہو تو اس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی اگر وہ منحصرہیں تووصیت صحیح ہوگی اوراس وصیت کوتملیك قراردیاجائے گا اور اگروہ منحصر نہیں تو وصیت باطل ہوگیاس کی پوری تفصیل اختیارمیں ہے۔(ت)
مگراس کاکہنا"میری فاتحہ دلاکر"یہ بتارہاہے کہ تقسیم مساکین پرمقصود تولفظ میں اشعار بحاحت وقربت موجود گویا یوں کہاکہ ہرموسم میں اس کامیوہ خریدکرلوجہ اﷲ مساکین پرتقسیم کردیاکرو یہ قطعا وصیت صحیحہ جائزہے۔
کذا ھذا فی الھندیۃ عن الخانیۃ مریض قال بالفارسیۃ صددرھم از من بخشش کنید قال الشیخ الامام ابو بکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲ تعالی ھی یوں ہی ہندیہ میں بحوالہ خانیہ منقول ہے کہ ایك مریض نے فارسی زبان میں کہا"میری طرف سے سودرہم بخشش کر دو"۔ شیخ امام ابوبکرمحمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہایہ وصیت باطل ہے
اورمذہب صحیح اورمفتی بہ میں موصی جس چیز کی مساکین کے لئے وصیت کرے وصی کواختیارہے کہ وہ نہ دے اس کی قیمت تصدق کردے وبالعکس یعنی روپے خیرات کرنے کی وصیت ہوتو چیزخریدکر صدقہ کرسکتاہے۔
فیھا عنھا رجل اوصی بان یتصدق عنہ بالف درھم فتصدقوا عنہ بالحنطۃ او علی العکس قال ابن مقاتل یجوز ذلك وقال الفقیہ ابواللیث وبہ ناخذ ولو اوصی بان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبد ولو قال اشتر عشرۃ اثواب وتصدق بھا فاشتری الوصی عشرۃ اثواب لہ ان یبیعھا ویتصدق بثمنھا اھ ملخصا۔ ہندیہ میں خانیہ ہی کے حوالے سے ہے ایك شخص نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے ہزاردرہم صدقہ کئے جائیں توانہوں نے اس کی طرف سے گندم صدقہ کردی یامعاملہ اس کے بر عکس ہوا۔ابن مقاتل نے کہایہ جائزہے۔فقیہ ابواللیث نے کہا ہم اسی سے اخذکرتے ہیں۔اوراگروصیت کی کہ اس کا یہ غلام بیچ دیاجائے اوراس کی قیمت صدقہ کردی جائے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔اوراگرکہادس کپڑے خریدو اوران کوصدقہ کردو۔پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ ان کپڑوں کو بیچ دے اوران کی قیمت صدقہ کردے الخ تلخیص(ت)
یونہی اس کے کلام سے اس صدقہ کاچندموسم بدفعات اداکرنانکلتاہے اس کااتباع بھی ضرورنہیں وصی کواختیارہے کہ ایك وقت میں سب روپیہ تصدق کردے
فیھا عنھا لوقال اوصیت ہندیہ میں خانیہ سے ہی منقول ہےاگرکہا
الفتاوی الہندیہ کتاب الوصایا الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۴€
پس وصی نے جوکتاب اس مال سے خریدکرکے مسکین کودی یامساکین کوکھاناکھلایا سب جائزوبجاواقع ہوایونہی اب جوروپیہ باقی ہے جائزکہ مدرسہ کے طلبہ مساکین کو نقدیاکپڑا یاکھانا یا کتابیں خریدکردے دے خواہ امداد طلبہ مساکین کو جوتنخواہ مقررہو اس میں صرف کردے غرض جس قدر وجوہ تصدق ہیں سب کااختیار رکھتاہے رہاوہ کھانا کہ اہل تعزیت کوکھلایا اگروہ محل تصدق تھے اور انہیں بطور تصدق کھلایاجائزہوااوراگراغنیاء تھے ناجائزاوراس قدر روپے کاتاوان ذمہ وصی لازممگریہ کہ اسے دھوکا ہوا اور اپنے نزدیك محل صدقہ جان کرتصدق کیاہو
فیھا عن التاتارخانیۃ سئل عن رجل اوصی بثلث مالہ للفقراء فاعطی الوصی الاغنیاء وھو لایعلم قال محمد رحمہ اﷲ تعالی لایجزیہ والوصی للفقراء ضامن فی قولھم جمیعا۔ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہےاس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے فقیروں کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی اوروصی نے لاعلمی میں اغنیاء کو دے دیاامام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ یہ کفایت نہ کرے گا۔اورتمام ائمہ کے قول کے مطابق وصی فقیروں کے لئے ضامن ہوگا۔(ت)
اسی طرح اگر کھانا بطورتملیك نہ تھا بلکہ جس طرح دعوت میں برسبیل اباحت کھلایاجاتاہے کہ
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن مسائل شتی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳€۴
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن مسائل شتی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۵€
فانہ انما کان مامورا بالتصدق ولاتصدق الا بالتملیك ولاتملیك فی الاباحۃ وکل ذلك ظاھر عــــــہ عند من لہ المام بالفقۃواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ اس کو توفقط صدقہ کرنے کاحکم دیاگیاتھا اورصدقہ تملیك کے بغیرنہیں ہوتا۔اوراباحت میں کوئی تملیك نہیں۔ یہ سب کچھ اس شخص کے لئے ظاہرہے جس کو فقہ کے ساتھ کچھ بھی تعلق ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بحالت شدت مرض میں کہ امیدحیات قطع ہوچکی تھی اور طاقت حس وحرکت بالکل نہ تھی مگرہوش وحواس باقی تھے ایك دستاویز ہبہ نامہ اپنی دخترکے نام اس طورپرلکھی کہ اس میں ایك دکان خاص اپنی مملوکہ اورایك مکان کہ واقع میں مملوك دخترہی تھاشامل اوراسی حالت میں ایك حویلی اپنی ماں کو بقدر سہام شرعی اس کے لائق ہوگی ہبہ لکھ دی اورزرثمن معاف کردیا اوراپنے خرچ دفن کے لئے تیس روپیہ اپنی بیٹی کے سپرد کر دئیے اوروصیت کردی کہ یہ روپے میری تجہیزوتکفین میں خرچ کرنا اگرزیادہ ضرورت ہوتو میرے زیور سے کوئی چیزبیع کر ڈالنا اورایك دکان جومیرے مال سے باقی ہے اس میں سے ڈائی سوروپے جومجھ پرقرض ہیں اداکرنا اورکچھ مسجد وغیرہ میں خرچ کرنا اورمیرے بھائیوں کودینا اس وقت کسی شخص نے کہا تمہارے بھائی مسکین ہیں اورحاجتمندہیں ان کاحق پوراداکرنا خرچ مسجدوغیرہ سے اولی ہے توکہا جوشریعت سے ہو اوربہتر ہو بعدہ ہندہ نے ایك دختر اورتین برادرحقیقی اورماں چھوڑکرانتقال کیا اس صورت میں اشیائے منقولہ وغیرمنقولہ کس طرح تقسیم ہوں گی اورہرایك کوکتناکتناپہنچے گا اوروہ دستاویز جائزیاناجائزاور بھائیوں کاحق پورا دیاجائے گا یانہ اورخرچ تجہیزوتکفین میں کیاداخل ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ ہندہ نے اسی حالت میں دوایك روزبعد وفات پائی توصورت مستفسرہ میں وہ
عــــــہ:ھھنا سقط ولعلہ عند صح۱۲ اختررضاخاں ازہری غفرلہ
فی الدرالمختار قیل مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجرید بزازیۃ و المختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش قھستانی عن ھبۃ الذخیرۃ ۔ درمختارمیں ہے کہاگیاہے کہ مرض الموت یہ ہے کہ مریض اپنی حاجتوں کے لئے گھرسے نہ نکل سکےاسی پراعتماد کیاہے تجرید میں(بزازیہ)اورمختاریہ ہے کہ اس کے سبب سے غالب موت ہو اگرچہ وہ صاحب فراش نہ ہو اور یہ بات قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ سے نقل کی۔(ت)
اگرچہ ہوش وحواس بالکل صحیح ہوں کہ اختلال کچھ مرض الموت کے لئے شرط نہیں
والالم تکن تبرعاتہ نافذۃ فی الثلث موقوفۃ فی الزائد مثلا بل بطلت عن اخرھا کمالایخفی۔ ورنہ یوں نہ ہوگا کہ اس کے تبرعات ایك تہائی میں نافذہوں اور اس سے زائدمیں موقوف ہوںبلکہ یہ وصیت سرے سے ہی باطل ہوگی جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
پس ہندہ نے جومال اپنااپنی دخترکو ہبہ کیابشرطیکہ اپنی زندگی میں دخترکا قبضہ کاملہ کرادیا ہو اورجوکچھ اپنی ماں کے ہاتھ بیچا اور وہ زر ثمن کہ ماں کو معاف کیا اوردکان باقیماندہ سے بعد ادائے قرض جوبھائیوں کوکچھ دیناکہاچاروں تصرف اجازت باقی ورثہ پر موقوف ہیں ہبہ بنام دختر میں مادروبرادران کی اجازت درکارہے اوربیع وہبہ ثمن بنام مادرمیں دختروبرادران اوربھائیوں کو کچھ دینے کے باب میں مادرودخترکی اجازت چاہئے جس تصرف کوباقی سب ورثہ جائزرکھیں گے بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں پورانافذہوجائے گا جیسے باقی ورثہ سے کوئی اجازت نہ دے بالکل باطل ہوجائے گا اورجسے بعض اجازت دیں بعض نہ دیں تو صرف اجازت دہندہ عاقل بالغ کے حصہ میں نفاذ پائے گا باقی کے حصہ میں باطل وبے اثرہوگا توجس چیزمیں باقی سب ورثہ کی اجازت معتبرشرعیہ ہوگئی وہ تمام وکمال اسی کو ملے گی جس کے نام ہندہ نے کردی دوسری کے ورثہ اس میں سے اصلا حصہ نہ پائیں گے اورکسی کی اجازت نہ ہوئی تو وہ کل ترکہ میں شامل کی جائے گی اوربعض کی ہوئی اوربعض کی نہ ہوئی تواجازت نہ دینے والے اس میں سے حصہ پائیں گے اوردینے والوں کاحصہ اسے جس کے نام وہ چیزکی گئی تھی
فی الدرالمختار اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ و وقفہ و ضمانہ کل ذلك حکمہ کحکم وصیۃ اھ درمختارمیں ہے مریض کاآزادکرنابیع میں سہولت برتناہبہ کرناوقف کرنا اوراس کاضامن ہونا ان میں سے ہرایك کاحکم وصیت کے حکم کی طرح ہےاھ
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی ۲/ ۳۱۹€
الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی ۲/ ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی ∞۴/ ۱۳۹€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۴€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۹€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۸€
ان سب مسائل مذکورہ کے بعد جو متروکہ ہندہ ٹھہرے بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین واجزائے وصیت برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین اٹھارہ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم مادراورنودختر اوردودوہربرادر کوملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مری اس نے اپنی حیات میں وصیت کی کہ میراجوکچھ ہے وہ سب راہ خدا یعنی تعمیرمسجد وغیرہ میں خرچ کیاجائے۔اب ازروئے شرع کے جو حکم ہو وہ کیاجائے اوراس کے وارثوں میں ایك زوج اوردودختر اورماں باپ اورایك برادر اورایك ہمشیرہ اس نے چھوڑی اورزیور ساختہ زوج کا وہ زوج کے پاس ہے کس کا حق قرارپائے گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ ان وارثوں میں دونوں لڑکیاں نابالغہ ہیں اورزیور کہ زوج نے بنایا صرف پہننے کو
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۶۷€
مسئلہ ۱۱۸: ۱۰جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی محبوب علی نے اپنی حالت صحت ونفاذ تصرفات میں اپنی جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام بعوض اس کے دین مہرکے منتقل کردی بعدہ محبوب علی کاانتقال ہوااب ہندہ نے ایسی حالت میں کہ اسے مرض فالج ہوچکاتھا جسے ایك سال سے زائد گزرا اوراب کوئی حالت اس کی ترقی روزانہ اوراس سے غلبہ خوف ہلاك کی نہ تھی بلکہ مزمن ہوچکاتھا وہ جائداد اپنے شوہر کے بھانجے کو اس کے حسن خدمت کے صلہ میں ہبہ کی اورشرعی اورنیز قانونی تکمیل کردیہندہ ہنوززندہ ہےاب زید کہ محبوب علی کے چچاکی اولاد میں اور اس کاعصبہ ہے اس ہبہ پر فرض ہوتا اور جائداد میں اپنا حصہ بتاتاہے اس صورت میں اس کایہ دعوی مسموع اورہبہ مذکورہ باطل ومرفوع ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہبہ مذکورہ تام وکامل اوردعوی زیدنامسموع وباطلمحبوب علی نے جو جائداد اپنی صحت میں اپنی زوجہ کو بعوض دین مہردے دی محبوب علی وورثہ محبوب علی کو اس سے کچھ تعلق نہ رہاہندہ اس کی مالك مستقل ہوگئی مالك کو اختیار ہے کہ اپنی صحت میں اپنا مال جسے چاہے دے دے کسی کو اس پراعتراض نہیں پہنچتازیداگرچہ بذریعہ وراثت محبوب علی مدعی ہے تووراثت محبوب علی کومال ہندہ سے کیاعلاقہاوراگر وہ ہندہ کابھی وارث شرعی اوراس بناپر مدعی ہے تاہم حیات مورث میں دعوی وراثت کیامعنیہاں اگرکوئی شخص مرض موت میں اپنا مال کسی کو ہبہ کرے تو
تصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعد الموت ۔ مریض کے تصرفات نافذ ہوتے ہیں البتہ موت کے بعدوہ ختم ہوجاتے ہیں(ت)
ہدایہ میں ہے:
لامعتبر باجازتھم فی حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عندالموت ۔ موصی کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبرنہیں کیونکہ یہ ثبوت حق سے قبل ہوئی اس لئے کہ وارثوں کاحق تو موت کے وقت ثابت ہوتاہے(ت)
عالمگیری میں ہے:
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ ۔ وارث ہونے یانہ ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوتاہے نہ کہ وصیت کے وقت(ت)
درمختارمیں ہے:
ھبۃ مقعد وفالج ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف مقعدمفلوج اورسل کے مریض کا ہبہ کاکل مال میں نافذ ہوتاہے جبکہ بیماری سال تك لمبی ہوگئی اور
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۹۰€
ردالمحتارمیں ہے:
المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف کفایۃ ۔ خوف سے مراد خوف کاغالب ہونا ہے نہ کہ نفس خوفکفایۃ (ت)
اسی میں ہے:
المانع من التصرف مرض الموت وھو مایکون سببا للموت غالبا وانما یکون کذلك اذاکان بحیث یزداد حالا فحالا الی ان یکون اخرہ الموت ۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ تصرف سے مانع مرض الموت ہے اور وہ غالبا موت کاسبب ہوتی ہے۔اور بیشك ایسااس لئے ہوتاہے کہ بیماری دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تك کہ اس کی انتہاء موت پرہوتی ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۹: ۲۲/رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ مرسلہ جمیل احمد صاحب پیلی بھیت محلہ پکریا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد سے بقیدحیات اپنے عمرو کے واسطے اوربعد انتقال عمرو کی زوجہ کے واسطے مبلغ دوروپیہ مشاہرہ مقررکیاتھا بقضائے الہی زیداورعمرو نے انتقال کیا اورزوجہ عمرومتوفی موجود ہے اس حالت میں زوجہ مذکورہ اس مشاہرہ مقررہ کی جوزید نے یعنی بقیدحیات مقررکیاتھا شرعا ورثاء زیدسے مستحق پانے کی ہے یانہیں
الجواب:
سائل مظہرکہ بعد انتقال سے مراد بعد انتقال عمروہے تویہ وصیت نہ ہوئی فان الوصیت انما تکون مضافۃ الی مابعد الموت(کیونکہ وصیت تو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ت)بلکہ صرف اپنی زندگی تك ایك تبرع کاوعدہ تھا ولا جبر علی تبرع ولاعلی وفاء وعد(تبرع اور وعدہ پوراکرنے پرجبرنہیں ہوتا۔ت)اورسائل مظہر کہ زیدنے اپنی حیات تك وعدہ وفابھی کیا انتقال عمرو
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲€۳
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
مسئلہ ۱۲۰: مسئولہ نواب محمدمیاں خاں صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك موضع کی نسبت وصیت کی کہ میرے باپ کے اورمیرے وقت سے جو جو جس جس کامقرر ہے وہ اس کی توفیر سے ادا ہوتارہےخالد نے موضع مذکور کاٹھیکہ لیا اورتین برس تك حقوق مستحقین کو نگاہ رکھا اب اس نے بالکل بند کرلیا شرعا خالد کازندہ زید کو ایسااختیار حاصل ہے یانہیں اوروصیت مذکورۃ الصدرشرعا درست ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وصیت جبکہ ثلث کل متروکہ موصی بعدادائے دین سے زائد نہ ہوتو واجب النفاذ ہے وارث بھی اسے بند نہیں کرسکتے نہ کہ کارندہ یاٹھیکیدار توکل موضع مذکور اگرثلث متروکہ زید سے زائد نہیں تو یہ وصیت بتمامہا ہمیشہ نافذ رہے گی۔
فی التنویر تجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجز الوارث ذلک اھ۔واﷲ تعالی اعلم تنویر میں ہے اجنبی کے لئے ایك تہائی میں وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کی اجازت نہ دے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۱: ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۸صفر۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچھ روپے اوربعض چیزیں اپنی بہن کو دے کر یہ کہاکہ اسے اپنے پاس رکھو یا تووقتا فوقتا ہم لے لیاکریں گے یااگرہمارا انتقال ہوگیا تو تم اس کوہمارے نام پرصدقہ کردینا ہم کو تم سے امیدہے کہ تم ہمارے بعد صدقہ کردوگی بخلاف باپ کے کہ ان سے امیدنہیں اس کے بعد وہ شخص کچھ دن پیچھے مرگیا اب وارث اس کی بی بی اوراس کاباپ ہے توآیا بہن حسب وصیت بھائی کے ان روپوں اورچیزوں کوبلااطلاع ورثہ صدقہ کردے یاورثہ کے حوالے کر دے خواہ وہ صدقہ کریں یا نہ کریں مگرامیدصدقہ کی نہیں پائی جاتی۔بینواتوجروا۔
اگر وہ مال کل متروکہ شخص مذکور بعد ادائے مہرودیگر دیون کے ثلث سے زائدنہیں تووصیت بلااجازت ورثہ نافذہ ہے بہن کہ وصیہ ہے بلااطلاع ورثہ صدقہ کرسکتی ہے اوراگرزائد ہے تو صرف قدرثلث تصدق کرسکتی ہے زیادہ میں حاجت اجازت ورثہ ہے اگراجازت نہ دیں قدر زائدانہیں واپس دے اوراگرمہریا اورکوئی دین تمام ترکہ کومحیط ہے تووصیت اصلا نافذنہیں سب مال دین میں دیاجائے گا مثلا مورث نے تین سوروپے کامال وصیہ کے پاس رکھوایا اورسات سوروپے کااورمتروکہ ہے اور اس پرمہروغیرہ کوئی دین نہیں توظاہرہے کہ تین سوروپیہ ہزارروپے کے ثلث سے کم ہیں یا اس صورت میں مثلا سوروپے کامہروغیرہ دین ہے توہزارمیں سے دین کے سو نکل کر نوسورہے یہ تین سوروپے ان کے ثلث سے زائدنہیں ان دونوں صورتوں میں پورا تین سو کامال بہن تصدق کردے اور اگرمہروغیرہ دیون کی مقدارچارسوروپے ہے توبعدادائے دیون چھ سوبچیں گے تین سومیں اس کے ثلث سے سوروپے زائد ہیں لہذا دوسوتصدق کرے اورسوکاتصدق اجازت ورثہ پرموقوف ہے اوراگرہزار روپے یا اس سے زائدمقدار مہرودیون ہے توکچھ تصدق نہ کرے سب ان کی ادامیں صرف کیاجائے۔
والاحکام کلھا واضحۃ جلیلۃ معلومۃ متداولۃ فی عامۃ الکتب الفقھیۃ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اوراحکام تمام کے تمام واضحروشنمعلوم اورفقہ کی عام کتابوں میں موجودہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲: ۲۲/صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے پاس(ماصہ) روپے بکرکے جمع ہیں اوربکر مرگیا اور اس کی وارث ایك بی بی ہے کہ اس نے اب دوسرانکاح کرلیاہے اورایك بھائی حقیقی اوردوبھائی چچازادہیں توہرایك کو اس میں سے کس قدرحصہ ملنا چاہئے اورسوائے اس کے ارادہ بکرکاحج کا تھا اورحج اس پرفرض بھی تھا لیکن مرتے وقت کوئی وصیت اس روپے کی بابت نہیں کی تھی سو اس صورت میں زید اگرچاہے تو اس کی طرف سے حج بھی کراسکتاہے یانہیں فقط مکرریہ کہ مرتے وقت بکرکے حواس بھی درست نہیں تھے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کو اس روپے میں کسی تصرف کا اختیارنہیں کہ وہ امانت دارتھا اب اس امانت کے مالك وارثان بکرہوئے زیدپرواجب ہے کہ سب روپے انہیں واپس دے۔
روپے اور جوکچھ ترکہ بکر ہوبرتقدیر عدم موانعات ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دین ومہرووصیت چارسہم پرمنقسم ہوکرایك سہم اس کی زوجہ اورتین حقیقی بھائی کوپہنچیں گے چچازادبھائیوں کا کچھ حق نہیںنکاح ثانی کرلینا عورت کے مہر یا میراث کوساقط نہیں کرتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۳ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے وقت فوت گواہوں کے روبروکہاکہ میراکچھ قرض میری بہنوں پرآتاہے وہ میں نے بعوض ان کے حصے کے اپنے ترکہ میں معاف کیا اب وارث میری صرف دودختر ہیںبعدہ چاروں وارث اپنے چھوڑکر فوت ہوااس صورت میں ترکہ اس کا کس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
تخارج وغیرہ کوئی عقد نسبت ترکہ کہ حیات مورث میں ہو صحیح نہیں تو یہ قول زید کا کأن لم یکن(نہ ہونے کے برابرہے۔ ت) اب اگرخواہریں اس کی اس بات پرراضی ہوجائیں کہ بدلہ عــــــہ قرضہ کے ترکہ سے دست بردارہوں تو سب ترکہ زید بالمناصفہ اس کے دختروں کوپہنچے گا اورخواہروں کوکچھ نہ ملے گا اوراگرنہ راضی ہوں توکل ترکہ مع اس قرضہ کے جوخواہروں پرہے برتقد صدق مستفتی وعدم موانع ارث و تقدیم امورکا داء الدین واجراء الوصیہ وانحصار ورثہ فی المذکورین چھ سہام پرمنقسم ہو کر دو دوسہم دختروں اورایك ایك خواہروں کو ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگریتامی کے اولیاء واوصیاء ان کے مال سے قدرے شیرینی وغیرہ کوئی چیزہدیۃ کسی کوبھیجیں تو اسے لینا جائزیاناجائز اوراگربغرض تالیف قلوب ومحابت یابجہت قرابت رحمی اس شرط پر لے کہ اتنا ہی یا اس سے زیادہ معاوضہ کروں گا توکیاحکم ہے بینواتوجروا۔
عــــــہ:لعل الصواب قرضہ کے بدلہ ۱۲ ازہری غفرلہ۔
وہ ولی جسے مال یتیم میں تصرف جائزہو تین ہیںباپ کاوصیدادا اوردادا کاوصی۔ان کے سوا اوراقارب اگرچہ مادروبرادر وعم و خواہرہوں انہیں راسا تصرف فی المال کااختیارنہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ احداربعۃ الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ اھ ملخصا۔ درمختارمیں ہے اس کا ولی چارمیں سے کوئی ایك ہوگا باپ پھر اس کاوصی۔دادا پھراس کا وصی اھ تلخیص۔(ت)
اب رہے اولیائے ثلثہ انہیں بھی یہ مجال نہیں کہ مال یتیم کسی کوبخش دیں یاہدیۃ دیں یاکسی طرح کا تبرع اس سے عمل میں لائیںنہ مہدی الیہ یاموہوب لہ کو اس کالیناجائزاگرچہ ہزار قرابت رحمی رکھتایا تالیف ومحابت کاقصدکرتاہو۔
قال تبارك وتعالی" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " (اﷲ تبارك وتعالی نے فرمایا)جولوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں یونہی ہے کہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور جلدپیٹھیں گے دہکتی آگ میں(ت)
اورشرط عوض بھی کچھ نافع نہیں کہ ہبہ بشرط العوض اگرچہ انجام میں بیع ہوجاتی ہے مگرابتداء ہبہ ہے اور وہ یہاں محض ناجائزیہاں تك کہ ہمارے امام کے نزدیك باپ کو بھی اختیارنہیں کہ اپنے نابالغ بچہ کامال بشرط عوض کسی کو دے۔
فی الدرالمختار من الھبۃ عن الخانیۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولوبعوض لانھا تبرع وفیہ ایضا لایخفی ان ماھو تبرع ابتداء ضارفلا یصح باذن ولی الصغیرکقرض اھ۔ درمختار کے باب الہبہ میں خانیہ سے منقو ل ہے کہ باپ کو یہ جائزنہیں کہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے کچھ ہبہ کرے اگرچہ اس پرکچھ بھی لے کیونکہ یہ تبرع ہے۔اسی میں یہ بھی ہے پوشیدہ نہ رہے کہ جو ابتداء کے اعتبارسے تبرع ہو وہ مضرہے چنانچہ ولی صغیر کی اجازت سے صحیح نہیں ہوسکتا جیسے قرض اھ(ت)
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۰€
الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶€۰
الدرالمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
فی الدر المختار الھبۃ بشرط العوض المعین فھی ھبۃ ابتداء وبیع انتھاء وھذا اذاقال وھبتك علی ان تعوضنی کذا اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتھاء وقید العوض بکونہ معینا لانہ لوکان مجھول بطل اشتراطہ فیکون ھبۃ ابتداء وانتہاء اھ ملخصا وفی تنویرالابصار صح بیعہ وشرائہ من اجنبی بما یتغابن الناس اھ فی ردالمحتار قولہ من اجنبی ای عن المیت وعن الموصی فلو باع ممن لا تقبل شھادتہ اومن وارث المیت لایجوز ۔ درمختارمیں ہے جوہبہ عوض معین کی شرط کے ساتھ مشروط ہو وہ ابتداء کے اعتبارسے ہبہ اور انتہاء کے اعتبارسے بیع ہےیہ اس صورت میں ہے جب واہب یوں کہے میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ فلاں چیز مجھے عوض میں دے لیکن اگر یوں کہے کہ میں نے تجھے فلاں چیز کے مقابلے میں ہبہ کیاکہ یہ ابتداء و انتہاء دونوں کے اعتبارسے بیع ہے اورعوض کے ساتھ معین ہونے کی قید اس لئے لگائی کہ اگروہ مجہول ہو توشرط لگانا باطل ہوگیا چنانچہ یہ ابتداء وانتہاء دونوں کے اعتبارسے ہبہ ہوگااھ تلخیص۔تنویرالابصارمیں ہے اس کی بیع وشراء اجنبی کے ہاتھ اتنے غبن کے ساتھ صحیح ہے جتنالوگوں میں چلتاہےاھ رد المحتارمیں ماتن کے قول "من اجنبی"کے تحت مذکورہے یعنی وہ میت اوروصی سے اجنبی ہو۔اگرایسے کے ہاتھ بیچا جس کی شہادت وصی کے حق میں مقبول نہیں یامیت کے وارث کے ہاتھ بیچاتوجائزنہیں(ت)
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۷€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۵۳€
الجواب:
وہ عقد کہ محمدیوسف سے اس کے مرض موت میں صادرہواا گرہبہ نہیں توبدون اجازت اوروارثوں کے صحیح نہیں کہ ہبہ مرض موت کا مثل وصیت کے ہے اوروصیت وارث کے لئے وقت وجوددیگرورثہ کے بلااجازت اوروں کے نافذنہیں
فی فتاوی قاضیخان لان ھبۃ المریض وصیۃ والوصیۃ للوارث باطل ۔ فتاوی قاضی خان میں ہے مریض کاہبہ کرنا وصیت ہے اور وارث کے لئے وصیت باطل ہے۔(ت)
اوراگربیع ہے تویاکم قیمت کو ہے پس وراثت سے بغیراجازت اورورثہ کے اتفاقا یاقیمت مساوی کو ہے تومذہب امام اعظم میں خلافا للصاحبین جائزنہیں بہرتقدیر جب یہ عقد ناجائزٹھہرا تو اول مہر زوجہ اولی اوراسی طرح ثانیہ کااگرثابت ہوتوترکہ سے علی السویہ اگربرابرہوں ورنہ رسدی اداکیاجائے گا مابقی برتقدیر عدم موانع ارث وانحصارورثہ فی المذکورین وتقدیم باقی امورمقدمہ علی المیراث کاجراء الوصیۃ واداء الدین چوبیس۲۴ سہام پرمنقسم ہوکر تین سہام زوجہ ثانیہ کوا ور چودہ پسر اورسات دخترکو پہنچیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۶:(سوال دستیاب نہ ہوا)
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگرمحب اﷲ کا اپنی بھانجی کے لئے یہ الفاظ کہنا اوروصیت کرناثابت ہوتو درصورت عدم اجازت ورثہ بر تقدیر صدق استفتاء وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین بعد
مسئلہ ۱۲۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد سے ایك حقیت کی بنام اپنی نواسی سلمی بنت لیلی اور حقیت اورپانچ روپیہ ماہوار ملاکرنے کیاپنے پانچ بھتیجوں کے نام وصیت کیاورایك بیٹی لیلی اورپھرپانچ بھتیجے حقیقی اور ایك بھتیجی علاتی اوربھاوج اوربھتیجیاں اورایك بھائی کہ پہلے سے مفقودالخبرہے وارث چھوڑکرانتقال کیااس صورت میں ترکہ اس کا شرعا کس طرح منقسم ہوگا اوربرادر مفقودکے لئے اگرکچھ حصہ امانت رکھاجائے گا تو وہ حصہ اس کی بی بی بیٹی کے قبضہ میں دے دیں گے یا کیابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اول ہندہ پرجودین ہواداکیاجائے بعدہ جوباقی بچے اس کے تین حصے مساوی کئے جائیں کہ ایك حصہ میں دونوں جائداد موصی بہا جن کی وصیت بنام سلمی دخترلیلی وبنام برادرزادگان ہوئی ہے داخل ہوں اوراس حصہ کانام مثلا"ثلث وصیت"رکھیں دوثلث باقیماندہ سے بالفعل ایك ثلث لیلی کو دے دیاجائے اس کانام"ثلث وراثت"فرض کیجئے تیسراحصہ کہ باقی رہا اسے"ثلث موقوف"سے نامزد ٹھہرائیےاب ثلث وصیت ہے کہ حسب اظہارزبانی سائل ان وصایا کے لئے کافی بلکہ زائد ہے جس قدر جائداد کی وصیت بنام سلمی بنت لیلی کی ہے بالفعل اس کانصف سلمی کودیاجائے باقی کل جائداد تاظہور حیات مفقود کسی ایسے امین دیانتدار کے ہاتھ میں امانت رہے جس طرح کسی طرح اس میں تصرف بے جا اور ایك پیسہ ناحق لینے کاگمان نہ ہو۔
قال العلامۃ البدر العینی رحمۃ اﷲ علیہ فی البنایۃ و یوضع علی یدعدل الی ان یظھر المستحق ۔ علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا بنایہ میں ہے کہ مستحق کے ظاہرہونے تك اس کو کسی عادل کے قبضہ میں رکھ دیاجائے گا۔(ت)
اب اس امین کے ہاتھ میں ثلث موقوف توتمام وکمال ہے اورثلث وصیت سے نصف وصیت سلمی نکال کرباقیماندہ اس کی امانت میں ہے اس باقیماندہ کی جائداد تین نوع پرہے:
۲دوسری جائداد وصیت شدہ بنام برادرزادگاناسے حصہ نمبردوم ٹھہرائیے۔
۳تیسرے پارہ حال تعیین وصیت ہےاسے حصہ نمبرسوم قراردیجئے۔
توامانت امین میں چارقسم کی جائداد ہوئیتینوں حصے یہ اورایك ثلث موقوف بالاشتراکاب یہ امین فصل بفصل ان چاروں قسم کی جائداد کاحساب دخل وخرج جداجدا تفصیل وارلکھتارہے اورہرحصہ کا خرچ ومالگزاری اسی کی آمدنی سے نکالے جوپس انداز ہو اسے تفریق سے جمع کرتارہے یہاں تك کہ مفقود کا حال ظاہر ہویاشرع اس کے حق میں کچھ حکم فرمائے اورظہور حال مفقود کی نسبت دو۲صورتیں ہیں:
۱ ایك یہ کہ اس کی زندگی بعد موت ہندہ کے ثابت ہو اگرچہ اس کے بعد ایك آن جی کرانتقال کرگیایااب تك زندہ ہو۔
۲دوسرا یہ کہ ہندہ سے ایك آن پہلے سے اس کی وفات تحقیق ہو اس قدرزمانہ تك اس کاکچھ حال مرنے جینے کانہ کھلے کہ اس کے شہروطن میں اس کے ہمعمروں سے کوئی زندہ نہ رہے اس وقت ایك شخص کو پنچ قراردے کر مقدمہ اس کے حضور پیش کریں اور وہ بوجہ مرور مدت مذکور اس کی موت کاحکم کردے(پچھلی صورت میں)توکچھ وقت نہیں ثلث وصیت کا حصہ نمبراول اورآج تك جو اس حصہ کے واصلات ہوں سب سلمی کودے کر اس کی وصیت پوری کردی جائےاوربھتیجے اس صورت میں بحکم وصیت کچھ نہ پائیں گے کہ جب مفقود کاانتقال ہندہ سے پہلے ٹھہرا تویہ وارث ہوئے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ باطلپس بعدادائے دین واخراج وصیت سلمی جس قدرمتروکہ ہندہ باقی رہے مع ثلث وراثت وثلث موقوف وواصلات حصہ ۲وحصہ۳ وواصلات ثلث موقوف سب برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین دس سہم پرمنقسم ہوکرپانچ سہم لیلی اورایك ایك ہربرادرزادہ حقیقی کودیاجائے(اور پہلی صورت پر)یعنی جبکہ بعد ہندہ مفقود کازندہ رہنا ثابت ہو اس تقدیر پرثلث موقوف مع اس کے واصلات کے مفقود یا اس کے ورثہ کو دے دیاجائے اورثلث وراثت تولیلی نے پہلے ہی پالیاتھا باقی رہا ثلث وصیت اس میں سے حصہ نمبردوم مع واصلات اوربھتیجوں کودے دیاجائے اورحصہ۱ و۳ بدستورامین کے ہاتھ میں رہیں اوران کی واصلات جمع شدہ سے روزموت ہندہ سے آج تك حساب پانچ روپیہ ماہواری کالگاکر جوروپیہ حساب سے نکلے بھتیجوں کو دیا جائے اور زرواصلات سے جوباقی بچے دست امین میں رہے اورہمیشہ ان دونوں حصص کی توفیر سے پانچ روپیہ ماہوار بھتیجوں کو دیاکرے اگرکمی پڑے توواصلات باقیماندہ سے پوراکرے اور بچ رہے تواپنے پاس امانت رکھے
والوجہ فی ذلك ان الترکۃ اذا انتظرت مفقود الایعطی منھا احدمن المستحقین ورثۃ کانوا اوموصی لھم الا اقل نصیبہ المتیقن بہ علی کل من حالتی حیاۃ المفقود ومماتہ وامر العصبات اعنی بھم ابناء اخیھا دائربین ان یکون المفقود حیا فیحجبھم و لیستحقوا منہ مااوصی لھم بہ وان یکون میتا فیرثوا فلاتنفذ لھم الوصیۃ من دون اجازۃ الورثۃ الباقین فوصیتھم ووراثتھم کلاھما مشکوك فیھما بالمرۃ فلا یعطوا بالفعل شیئا ولاتسمع دعوی الملك الا بتفسیر اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکہ جب مفقود کامنتظرہو تواس میں سے وارثوں اورجن کے لئے وصیت کی گئی ہے کوکچھ نہیں د یاجائے گا مگروہ جومیت کی دوحالتوں یعنی حالت حیات اورحالت ممات میں سے جس حالت میں کمترملتاہے کیونکہ یہ یقینی ہے۔اورعصبات یعنی بھتیجوں کامعاملہ دوحالتوں کے درمیان دائرہے۔ایك یہ کہ مفقود زندہ ہو اور ان کے لئے حاجب بنے۔اس صورت میں ان کو وہ شیئ ملے گی جس کی ان کے حق میں وصیت کی گئی ہے اوردوسری یہ کہ مفقود مردہ ہو تو اس صورت میں وہ وارث بنیں گے اوردیگر وارثوں کی اجازت کے بغیران کے لئے وصیت نافذ نہ ہوگی چنانچہ ان کی وصیت و میراث دونوں یکبارگی مشکوك ہیں لہذا انہیں بالفعل کچھ نہیں دیاجائے گا۔اوران کادعوی ملك مسموع نہ ہوگا جب تك وہ سبب ملك کی
مسئلہ ۱۲۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے انتقال کیا اوردودختر اورایك ہمشیرہ حقیقی چھوڑیاورنیزبحالت صحت وثبات عقل یہ وصیت کی کہ میری جو دخترکلاں میرے سامنے مرگئی ہے اوراس سے ایك پسر اورایك دخترباقی ہے میری جائداد سے جو حصہ شرعی کہ میری بڑی بیٹی کو پہنچے اس جائداد کے مالك اس مرحومہ کے بچے ہیں اگر اس وصیت میں فرق ہوگا تو بروزحشردامن گیر ہوں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرالفاظ وصیت یہی تھے تو وہ باطل وبے اثرہے کہ وصیت اس حصہ شرعی کی نسبت ہے جوترکہ موصی سے دخترکلاں کوپہنچے اورصورت واقعہ میں دخترکلاں کوشرعا کچھ نہیں پہنچتا تووصیت اصلا کسی شیئ سے متعلق نہ ہوئی اور موصی لہا کاکوئی استحقاق نہ ہوا۔
اوصی بعین اوبنوع من مالہ کثلث غنمہ فھلك قبل موتہ بطلت الوصیۃ ولایتعلق حق الموصی لہ بشیئ کما فی العالمگیریۃ وغیرھا لعدم مایتعلق بہ فکیف اذا لم یوجد اصلا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اپنے مال میں سے کسی عین یانوع کی وصیت کی جیسے بکریوں کے ایك تہائی کے بارے میں وصیت کیپھروہ عین یانوع موصی کی موت سے پہلے ہلاك ہوگئی تووصیت باطل ہو جائے گی اوراس کے ساتھ وصیت کاحق متعلق نہ ہوگا جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے کیونکہ وہ شیئ معدوم ہوگئی جس کے ساتھ وصیت متعلق ہوتی پھر کیسے باطل نہ ہوگی اس صورت میں جبکہ سرے سے وہ شیئ پائی ہی نہیں گئی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۹: سوال دستیاب نہ ہوا۔
الجواب:
وصیت زوجہ کے لئے بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں البتہ اگردین مہرواجب الاداہے تو وہ تقسیم ترکہ سے مقدم ہوگا پس برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر چالیس سہام پر منقسم ہوکر
مسئلہ ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنو نے اپنی جائداد اپنی زوجہ اگھانی کے ہاتھ بعوض دین مہرکے بیع کیپھراگھانی ورثہ حسب تفصیل ذیل چھوڑ کرفوت ہوئیاب سنونے اپنی موت کے دوایك روزپیشتر بحالت علالت ایسی کیفیت میں کہ صاحب فراش ہوگیاتھا اورطاقت نشست وبرخاست نہ رہی تھی اپنی بیٹی معصومہ کے ہاتھ بیع کی اور مر گیا اورباقی ورثہ بیع ثانی کی اجازت نہیں دیتےاس صورت میں وہ انتقال سنوکاکہ اس نے اپنی زوجہ کے ہاتھ کیا شرعا صحیح ونافذ ہے یانہیں اوراس انتقال ثانی کاکیاحکم ہے اورترکہ اگھانی کااس کے ورثہ پرکس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
سنونے کہ اپنی جائداد بعوض دین مہراپنی زوجہ کے ہاتھ بیع کی اس کی صحت میں شبہہ نہیںبعد اس انتقال کے اس جائداد کی مالك اگھانی قرارپائے گی اور وہ اسی کاترکہ ٹھہرے گاپھراس کی وفات کے بعد سنونے جواپناحصہ اپنی بیٹی کے ہاتھ مرض موت میں بیع کیا اورباقی وارث اسے روانہیں رکھتے تو وہ بیع باطل محض ہوگئی اور وہ حصہ بھی حسب فرائض کل ورثہ پرمنقسم ہوجائے گا۔
فی الخانیۃ ومن الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم یجز الورثۃ بطل البیع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خانیہ میں ہے اگرمریض نے مرض الموت میں اپنے کسی وارث کے ہاتھ اپنے مال میں سے کوئی عین شیئ فروخت کی توبیع موقوف رہے گی۔اگروہ صحت مند ہوگیا تو بیع جائزہو جائے گی۔اوراگراسی بیماری میں مرگیا اورباقی وارثوں نے اجازت نہ دی تو بیع باطل ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
الجواب:
پسرکے لئے وصیت بشرطیکہ پسرموجودنہ ہو جائزہے کہ یہ تقدیر واندازہ ہے نہ وصیت بمال الغیر اذلاحق لابن مات قبل ابیہ فی ترکۃ ابیہ(اس لئے کہ باپ سے پہلے مرجانے والے بیٹے کاباپ کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ت)ہدایہ میں ہے:
اذا اوصی بنصیب ابنہ فالوصیۃ باطلۃ ولواوصی بمثل نصیب ابنہ جاز لان الاول وصیۃ بمال الغیر لان نصیب الابن مایصیبہ بعدالموت والثانی وصیۃ بمثل نصیب الابن ومثل الشیئ غیرہ وان کان یتقدربہ فیجوز اھ قلت وقیدہ الشراح بمااذاکان الابن موجودا قالوا وان لم یکن اگراپنے بیٹے کے حصے کی وصیت کی تو وصیت باطل ہے۔اور اگربیٹے کے حصے کے مثل کی وصیت کی توجائزہےکیونکہ پہلی صورت میں مال غیر کی وصیت ہے کیونکہ بیٹے کاحصہ وہ ہے جو اس کوباپ کی موت کے بعد حاصل ہوگا اور دوسری صورت میں بیٹے کے حصہ کی مثل وصیت ہے اورشیئ کی مثل شیئ کاغیرہوتی ہے اگرچہ شیئ کے ساتھ اس کااندازہ کیاجاتا ہے چنانچہ یہ جائزہوگی اھ میں کہتاہوں شارحین نے اس کے ساتھ قید لگائی یہ کہ جب بیٹاموجودہو۔انہوں نے کہاکہ
پس بلاشبہہ یہ تصرف صحیح اوربوجہ قبول محمد باقرنافذہوکر سہام موصی لہا بعد محمدباقرکے اس کے ورثہ شرعی کی طرف منتقل ہو گئے امام النساء ان سے اپنے حصہ کی مالك ہوئی اب کہ بوجہ کبرسن وپیرانہ سال اس کے عقل میں قصور اورحواس میں فتور اس درجہ ہوگیاکہ نجاست وطہارت میں تمیزنہیں کرتی اورقلت فہم و اختلاط کلام وفساد تدبیر اسے لازمتو وہ معتوہہ ہے اورکل تصرفات قولیہ سے محجورہ۔
قال الفاضل المحقق محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین الدمشقی الحصکفی فی الدرالمختار فی تفسیر الحجر ھو منع من نفاذ تصرف قولی وسببہ صغر و جنون یعم القوی والضعیف کما فی المعتوہ اھ ملتقطاقال شیخہ العلام خیرالملۃ والدین الرملی فی فتاواہ ان کان قلیل الفھم مختلطا فاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم فھو المعتوہ و مثلہ فی العالمگیریۃ وغیرہ۔ فاضل محقق محمدبن علی بن محمد علاء الدین دمشقی حصکفی نے حجر کی تفسیرکرتے ہوئے درمختارمیں فرمایاکہ وہ تصرف قولی کو نفاذ سے روکنا ہے اوراس کاسبب نابالغ ہونا اورمجنون ہونا ہےعام ازیں کہ جنون قوی ہو یاضعیف جیساکہ معتوہ میں ہوتاہے الخ التقاطان کے شیخ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ اگروہ تھوڑی سمجھ والا گفتگو میں خلط ملط کرنے والا اورفاسد تدبیروالا ہے لیکن وہ کسی کو مارتانہیں اور نہ ہی گالیاں دیتاہے تو وہ معتوہ ہے اوراسی کی مثل عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
پس ایسی حالت میں اگراس نے کسی کے آمادہ کرنے خواہ اپنی خواہش سے وصیت کی توہرگز نافذ نہ قرارپائے گی اورتوریث ترکہ امام النساء حسب بیان مجیب اول ہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲€۳
الدرالمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹€۸
الفتاوی الہندیۃ کتاب الحجر الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۴€
کیافرماتے ہیں علمائے دین نسبت مسائل ذیل کےزید کی منکوحہ اولی متوفی سے ایك پسر بکربالغ اور منکوحہ ثانی موجودہ سے دوپسرعمروسعد نابالغ بعد وفات زیدباقی ہیںزیدپرجوقرض تھا بکرنے اداکیا اور نیزواسطے خرچ شادی وخوردونوش نابالغان کے اپنے نام یابشمول نام مادرقرض لے کر صرف کیا اس قرض سے کچھ اداہوا کچھ باقی ہےاب عمروسعد بھی بالغ ہیں اوردرباب تقسیم جائداد وادائے قرضہ سابق وحال تنازع ہےلہذا علمائے شریعت مطلع فرمائیں کہ مکانات موروثی کس طرح تقسیم ہوں اور قرضہ سابق وحال حسب سہام کل شرکاء پرچاہئے یاقرضہ سابق وحال میں کچھ تفریق ہے اورجومکان بکرنے اپنے روپے سے خریدا اس میں دوسرے برادران کوحصہ پہنچتاہے یانہیں اورمنکوحہ اولی جوزیدکے حیات میں فوت ہوگئی اس نے اپنی وفات کے وقت زیدکو مہرمعاف کردیاتھا اورمنکوحہ ثانیہ نے کہ اب زندہ ہے وقت وفات زید مہر معاف کردیا اورہماری برادری میں مہروں کایہی دستورہے یہ بھی واضح ہو کہ بعد وفات زید کھانا جملہ شرکاء کایکجارہا۔جب نابالغ بالغ ہوئے علیحدہ ہوگیا۔بینوا توجروا۔
الجواب:
قرض مورث کہ بکرپسربالغ نے اداکیا تمام وکمال ترکہ مورث سے مجراپائے گا جبکہ وقت ادا تصریح نہ کردی ہوکہ مجرانہ لوں گا۔
فی فتاوی قاضیخان والعالمگیریۃ وغیرھما بعض الورثۃ اذا قضی دین المیت کان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ انتھی مختصرا۔وفی جامع الفصولین والاشباہ وغیرھما لواستغرقہا دین لا یملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لواداہ من مال نفسہ مطلقا فتاوی قاضی خان اورعالمگیریہ وغیرہ میں ہے کسی وارث نے میت کاقرض اداکیاتو اسے میت کے مال اورترکہ کی طرف رجوع کاحق حاصل ہے انتہی۔جامع الفصولین اوراشباہ وغیرہ میں ہے اگردین ترکہ کومحیط ہے تووارث میراث کے ساتھ اس ترکہ کامالك نہیں بنے گامگریہ کہ قرض خواہ میت کو بری کر دے یامیت کے وارث نے ادائیگی کے وقت بشرط تبرع قرض اداکیاہولیکن اگراس نے مطلقا اپنے مال سے قرض اداکیا ہو
جوروپیہ بکر یازوجہ زیدنے قرض لے کرشادی نابالغان میں صرف کیا اس کامطالبہ صرف اس قرض لینے والے پرہے نابالغوں کے ساتھ اس کااحسان سمجھاجائے گا اسی طرح جوکچھ قرض لے کرخوردونوش نابالغان میں اٹھایا وہ بھی ان سے مجرانہ ملے گا جبکہ یہ قرض لینے والا مورث کی جانب سے ان نابالغوں کا وصی نہ تھا یعنی زیداسے کہہ نہ مرا تھا کہ جائداد یانابالغ اولادتیری سپردگی میں دیتاہوں یاان کی غورپرداخت تیرے متعلق ہے یااس کے مثل اورالفاظ جودلیل وصایت ہوں۔
فی ردالمحتار عن الحاوی المختار للفتوی مافی وصایا المحیط بروایۃ ابن سماعۃ عن محمد مات عن ابنین صغیروکبیروالف درھم فانفق علی الصغیر خمسمائۃ نفقۃ مثلہ فھو متطوع اذا لم یکن وصیا الخ وفی لقطۃ الدرالمختار ھو متبرع لقصورولایتہ اھ وثمہ فی ردالمحتار عن البحر لان الامر متردد بین الحسبۃ والرجوع بلایکون دینا بالشک اھ۔ ردالمحتار میں حاوی سے منقول ہے۔فتاوی کے لئے مختار وہ ہے جومحیط کے کتاب الوصایا میں بروایت ابن سماعہ امام محمد سے منقول ہے کہ کوئی شخص دو بیٹے ایك نابالغ اورایك بالغ چھوڑکرفوت ہوا اورہزاردرھم ترکہ میں چھوڑے پھربڑے نے چھوٹے پرمثلی نفقہ کے ساتھ پانچسو درھم خرچ کئے تووہ اپنی طرف سے بطور احسان خرچ کرنے والا ہوگاجبکہ وہ وصی نہ ہو الخ درمختار کے باب لقطہ میں ہے وہ احسان کرنے والاہے بسبب اس کی ولایت کے قاصرہونےکے الخ یہاں ردالمحتار میں بحرسے منقول ہے کہ یہ معاملہ اجروثواب اوررجوع کے درمیان دائرہے۔چنانچہ یہ
ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۸€
الدرالمختار کتاب اللقطۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۶€
ردالمحتار کتاب اللقطۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۲۲€
جومکان بکرنے اپنے روپے سے اپنے نام خریدااس میں سے دوسرے کاکچھ حق نہیںمہرکہ زوجہ اولی نے اپنے مرتے وقت شوہرکوبخشااس کی معافی بکروغیرہ دیگروارثان زوجہ اولی کی اجازت پر موقوف ہے اگر انہوں نے جائزنہ رکھا تومعاف نہ ہوا اوراس کامطالبہ ترکہ زید سے ہوسکتا ہے۔
فی العالمگیریۃ مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ۔ عالمگیریہ میں ہے ایك مریض عورت نے اپنامہر خاوند کوہبہ کردیا پس اگروہ مرض الموت کے ساتھ مریض ہے تووہ ہبہ دیگروارثوں کی اجازت کے بغیرصحیح نہیں ہوسکا۔(ت)
ہاں زوجہ ثانیہ نے کہ وقت وفات زیداپنا مہر معاف کیاوہ معاف ہوگیا پس صورت مستفسرہ میں ترکہ زید سے قرضہ بکر(جوبابت ادائے قرضہ سابقہ اس کے لئے ترکہ پرلازم ہوا)اور زوجہ اولی کے مہر سے بعد اسقاط چہارم کہ خود حصہ زید ہواکل یابعض(جس قدر بوجہ عدم اجازت وارثان زوجہ ذمہ زیدلازم رہا)اوراسی طرح اوردیون جوزیدپر ہوں اداکرکے ثلث باقی سے اس کی وصیتیں اگر کی ہوں)نافذ کرکے جو بچے برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین چوبیس سہام پرتقسیم کریں تیس سہم زوجہ ثانیہ اور سات سات ہرپسرکودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: ازبیجناتھ پاڑہ رائے پور ممالك متوسطہ مرسلہ شیخ اکبرحسین صاحب متولی مسجد و دبیرمجلس انجمن نعمانیہ ۶جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فیض النساء بیگم سوتیلی ماں نے خدیجہ بی بی کانکاح حسام الدین داروغہ جنگل کے ساتھ کیاوالدین خدیجہ مرچکے تھےفیض النساء بیگم بعض اموال اپنے خدیجہ بی بی کے پاس عاریت بتاتی ہےحسام الدین کہتاہے کہ خدیجہ بی بی بہت دنوں بیماررہی اس کی بیماری میں میراذاتی روپیہ بہت ساخرچ ہوا متوفیہ کالڑکامتوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا ماں کی جائداد کالڑکا مالك ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کاوارث ہوا متوفیہ کی سوتیلی ماں کاکوئی حق نہیںلہذا مفتیان شرع متین سے سوال ہے کہ حسب فہرست صرفہ حسام الدین نے وقت بیماری وغیرہ میں جوصرفہ کیا وہ حسام الدین پانے کا حقدارہے یانہیںبینواتوجروا۔
اگرخدیجہ بی کے کوئی اوروارث نہ تھانہ اس پراس بیان شوہرکے سواکسی اورکا ایسادین ہے جو اس سے ملاکر مقدارترکہ سے بڑھ جائےنہ اس کے پسر متوفی پرکسی کااتنادین آتاہے کہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوہر وغیرہ اداکرکے باقی سے جوحصہ پسرکوپہنچے اس کی مقدار سے زائدہو جب تویہ شوہر کادعوی محض بے معنی ہے کہ خدیجہ بی کے پاس کا اگرکچھ مال حسب بیان فیض النساء بیگم ملك فیض النساء بیگم ہوناثابت ہوتو اس میں سے خرچ دوائے خدیجہ بی پانے کے کوئی معنی نہیں وہ توفیض النساء بیگم کوواپس دیا جائے گا اور جب خدیجہ کاسوائے پسروشوہر اوراس پسرکے سوائے پدرکوئی وارث نہ رہا توجومال خدیجہ کاٹھہرے اس کاوارث صرف حسام الدین ہےدوسرے کسی دائن کااگرخدیجہ بی پرکچھ آتاہو تو جس حالت میں ترکہ اس کے دین کو گھٹاسکے نہ نہ کرنا بڑھاسکے اسی طرح جبکہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوھر وغیرہ اداکرکے بھی جوبچتاہے اس میں سے حصہ پسر دین پسرکوکافی ہے توشوہر کاترکہ پردین کادعوی نہ اپنے استحقاق کوبڑھاسکے نہ نہ کرنا گھٹاسکےبہرحال دعوی وعدم دعوی ہرصورت میں اس کا استحقاق ایك ہی مقدارپررہتاہے خواہ اس پر دین ثابت کرکے قرض میں لے لے یا بے ثابت کئے میراث میں لےایسافضول دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا ہاں اگرخدیجہ بی کے بعد اس کاکوئی وارث بھی رہا(کہ نظر بتقریر سوال وہ اس کی نانی ہی ہوسکتی ہے تو دعوی شوہرنافع ہے تاکہ میراث سے پہلے یہ بذریعہ دین بعض یاکل متروکہ لےیونہی اگردوسرے دائن کا دین ایساہے کہ اس کے دعوی سے مل کرمقدار ترکہ سے زائد ہوجائے گا تونافع ہے کہ ترکہ دونوں دین پر حصہ رسد بٹ جائےاسی طرح اگرپسر متوفی پرویسادین ہوتونافع ہے کہ اول شوہرکادین ترکہ خدیجہ بی سے اداکیاجائے گااگرکچھ نہ بچے گا دائن پسر کچھ نہ پائے گا اوربچے گاتوباقی سے جس قدر حصہ پسرہے وہ اس میں سے لینے کامستحق ہوگااوربے دعوی زائد میں سے پاتا وھذا کلہ ظاھر بادنی حساب(یہ تمام ادنی حساب کے ساتھ ظاہرہے۔ت)ان صورتوں میں دعوی شوہرالبتہ قابل سماعت ہےاب حکم مسئلہ یہ کہ اگر حسام الدین نے بطور خودا پنی زوجہ کے دو ادارو میں اپنامال صرف کیاتو دعوی باطل ہے اور واپسی کامستحق نہیں۔
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ غیر مضطر الیہ فلایرجع علیہ اذ لم یکن نافذ لتصرف فیما لدیہ کما ابانت عنہ فروع جمۃ جب کوئی غیرکے معاملے میں اس کی اجازت کے بغیرخرچ کرے اور وہ اس خرچ کرنے میں مجبورنہ ہوتو اسے رجوع کا حق نہیں اس لئے کہ جوکچھ اس کے پاس ہے اس میں اس کا تصرف
بلکہ اگرخدیجہ بی نے درخواست بھی کی کہ میراعلاج کرو اور اس کے سوا کوئی شرط رجوع وواپسی درمیان نہ آئی نہ وہاں عرف عام سے ثابت ہوکہ ایسی صورت میں شوہر جوکچھ معالجہ زوجہ میں اٹھائے اس سے واپس پائے توبھی حسام الدین کو دعوی نہیں پہنچتا لعدم مایوجبھا من نص اوعرف(کسی نص یاعرف کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جو اس کو واجب کرے۔ت)ہمارے بلاد کاتوعرف یہ ہے کہ شوہر جواپنی بی بی کے علاج میں صرف کرتاہے وہ یاعورت کسی کے خیال میں واپسی کاوہم بھی نہیں گزرتا ہاں اگرخدیجہ بی سے صراحۃ واپسی کی شرط ہوگئی تھی یاوہاں کے عرف عام کی روسے استحقاق واپسی ثابت ہے تو ضرور اختیار واپسی ہوگا فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا(کیونکہ جو باعتبار عرف کے معہود ہو ایسے ہی ہے جیسے باعتبار لفظ کے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔ت)درمختارمیں ہے:
لارجوع ولوبامرہ الا اذا قال عوض عنی علی انی ضامنلعدم وجوب التعویض بخلاف قضاء الدین (و)الاصل ان(کل مایطالب بہ الانسان بالحبس والملازمۃ یکون الامر بادائہ مثبتا للرجوع من غیر اشتراط الضمان ومالافلا)الا اذا شرط الضمان ظھیریۃ الخ قلت وانت تعلم ان الدواء ممالایجب اصلا فضلا عن ان یکون لہ مطالب من جھۃ العبد فضلا عن ان یکون طلبہ بحبس اوملازمۃ فلارجوع فیہ من دون شرط شیئ من ھذہ الاصول۔ اس میں رجوع نہیں اگرچہ اس کے امرسے خرچ کرے مگریہ کہ جب کہے تومیری طرف سے بدلہ دے اس شرط پرکہ میں ضامن ہوں کیونکہ تعویض واجب نہیں بخلاف قرض کی ادائیگی کے۔اورضابطہ یہ ہے کہ جس چیزکاانسان سے حبس و ملازمہ کے ساتھ مطالبہ کیاجاتاہے اس کی ادائیگی کاامر رجوع کوثابت کرنے والاہے ضمان کی شرط لگائے بغیراوراگر ایسانہ ہو تورجوع ثابت نہ ہوگا جب تك ضمان کی شرط نہ لگائے ظہیریہ الخ۔میں کہتاہوں توجانتاہے کہ دوا ان چیزوں میں سے جوبالکل واجب نہیں چہ جائیکہ بندے کی طرف سے اس کاکوئی مطالبہ کرنے والا ہو اورچہ جائیکہ اس کامطالبہ حبس و ملازمہ کے ساتھ ہولہذا اس میں کسی اصول کی شرط کئے بغیر رجوع کا حق نہ ہوگا(ت)
ماجری بہ العرف فی الرجوع علی الامر یرجع اھ اقول:ھذہ مسئلۃ اضطربت فیھا اقوال العلماء اصلا وفرعا فاصلوا اصولا لاتنضبط وفرعوا فروعا لاتلتئم واراد العلامۃ الشامی تحریرھا فی العقود فلم یتھیألہ الا الاقتصار علی بعض فروع نقلت مع طرح جمیع الاصول التی اصلت وللعبد الضعیف ھھنا کلام ذکرتہ فیما علقت علیھا وھذا الذی اخترتہ ھنا واضح جلی لاخفاء بہ ان شاء اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس چیز کا آمرپررجوع کرنے میں عرف جاری ہو وہاں رجوع کرے گااھ۔میں کہتاہوں اس مسئلہ میں علماء کرام کے اقوال اصول وفروع کے اعتبارسے مضطرب ہیں۔انہوں نے کچھ ایسے اصول بنائے جو منضبط نہیں اور کچھ ایسے فروع ذکرکئے جو مجتمع ومربوط نہیں۔علامہ شامی علیہ الرحمہ نے عقود میں ان کی تحریرکرنے کاارادہ فرمایا تو انکو میسرنہ ہوا سوائے بعض فروع پر اقتصارکرنے کے جونقل کئے گئےباوجودیکہ انہوں نے وہ اصول چھوڑدئیے جووضع کئے گئے ہیں۔اور اس عبدضعیف کایہاں کچھ کلام ہے جس کو میں نے شامی پر اپنی تعلیقات میں ذکرکیا ہے۔اور وہ جس کومیں نے یہاں اختیارکیاوہ بالکل واضح وروشن ہے اس میں ان شاء اﷲ تعالی کوئی پوشیدگی نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۴: ازریاست مرسلہ ۲۸/محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ۱۲۷۸ہجری میں انتقال کیا اوراپنے چاروں بیٹے محمدزکریامحمدیحییمحمد عیسیمحمدموسی بالغ ونابالغ اوربیٹی بالغہ اورحافظ محمدعظیم صاحب خسر ۳۸سال۲۰سال۱۲سال کے سامنے یہ وصیت کی اس وصیت کو سب ورثاء نے تسلیم کیا اور اس پر عملدرآمد کیا اب یحیی و عیسی اپنا بقیہ ورثہ تقسیم کراتے ہیں اوربڑابھائی مصرف خورد ونوش وپارچہ وخرچ شادی یحیی وعیسی جواس نے اپنے پاس سے زید کے انتقال کے بعد سے ان پرکیا ہے طلب کرتا ہے یحیی و عیسی یہ عذرکرتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے ہم پرصرف کیا تبرعا واحسانا تھا یہ ہم سے مجرانہ ہوناچاہئے نیزبروقت وصیت ہم نابالغ تھے اورقطع نظر اس ۱۳۰۳ھ میں جوتحریرفریابین برادران ہوئی جس میں محمدیحیی نے
نقل وصیت نامہ
والدماجد حکیم غلام نجم الدین مرحوم نے اپنے انتقال سے تخمینا اٹھائیس روز پہلے روبروئے جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب وبرادران عزیز محمدیحییمحمدعیسی ومحمدموسی کہ مجھ کوجو وصیت فرمائی میں اس وقت مضمون وصیت روبروئے جناب ماموں صاحب موصوف وبرادران عزیز مذکور کے بیان کرتاہوں اگرمیرے بیان میں کچھ خلاف ہے تواصلا ح فرمادیں اوراگرمیرابیان صحیح ہے تو اس کاغذ کو تصدیق کریںفقط۔میرے والد نے مجھے محمدزکریا سے یہ فرمایا کہ میں نے تمہاری اورتمہاری ہمشیر کی شادی کردی تم دو کے فرض سے میں اداہوا۔محمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی کی شادی باقی ہیں دہلی کی محلسرا اور دیوان خانہ فروخت کرکے ان کی شادی کردینا اورتمہاری والدہ کاجوزیورہے وہ ان تینوں کے چڑھاوے میں چڑھادینا۔باقی مکانات دہلی کے اورظروف اورپارچہ وغیرہ جوہے اس کو بموجب شرع شریف کے تم پانچوں بہن بھائی تقسیم کرلینا فقط۔
مبلغ دوصدروپیہ دوشخصوں کو دے کر ایك کومیرے واسطے اوردوسرے کو اپنی والدہ کے واسطے حج پربھیجناباقی مکانات اورچاہ واراضی وباغ وتنخواہ جوالور میں ہے اس کاتومختارہے اگرمحمدیحیی و عیسی وموسی تیری تابعداری کریں توتم فرزندوں کی طرح ان کی پرورش کرتے رہنا اگرتیری تابعداری نہ کریں تو اپناسرکھائیں فقط۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ہجری
یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیادرست ہے۔ العبدمحمدموسی العبد محمدیحیی العبدمحمدعیسی العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم
العبدمحمدعظیم گواہ نوشتہ محمدعبدالرحمن علی
جوکچھ مجھ محمدزکریانے بموجب وصیت والد ماجد کے تعمیل کی اورکرتارہوں گا وہ مراتب اس صفحے پر درج ہیں اور آپ صاحب اس سے رضامند ہیں تو اس پراپنے اپنے دستخط کریں۔فقط مرقوم ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطا بق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ
والدہ ماجدہ کازیور برادران عزیزمحمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی کو میں نے تقسیم کردیا اورظروف وپارچہ مجھ محمدزکریا ومحمدیحیی ومحمدعیسی ومحمدموسی وہمشیرہ عز یزہ نے حسب وصیت والد مغفور باہم تقسیم کرلیا اورمحلسرااوردیوان خانہ کوتومیں نے فروخت نہیں کیابلکہ اپنے پاس سے عزیزمحمدیحیی ومحمدعیسی کی تومیں نے شادی کردی اورمحمدموسی کاحج ہوگیا اورباقی مکانات واقعہ دہلی بھی حسب وصیت تقسیم کئے جائیں ان شاء اﷲ تعالی اورباقی مکانات وتہوار وچاہ واراضی وباغ وتنخواہ الورکی جوبلاشرکت غیرے حسب وصیت والد ماجد میرے قبضے میں ہےمگرحویلی میں جس طرح ہم سب بھائی رہتے ہیںاسی طرح میں اور میری اولاد اوروہ اوران کی اولاد بدستور ہیں اورکھانے پینے کوجوخدامجھ کو دے جس طرح آج تك محمدعیسی ومحمدموسی کھاتے پیتے رہے ہیں اسی طرح کھلاتاپلاتارہوں گااورمحمدیحیی کودوروپیہ اورمحمدعیسی کو(۸ /)اورمحمدموسی کو ۱۲/ ماہواردیتارہوں گا مبلغ دوصدروپیہ جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب کی معرفت دوشخصوں کودے کر حج کوبھیج دئیے فقط مرقوم صدربقلم امراؤعلی
یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیا درست ہے۔العبدمحمدعیسی العبدمحمدیحیی عفی عنہ العبدمحمد موسی عفی عنہ العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم العبدمحمدعظیم گواہ شد محمدعبدالرحمن نقل تحریر
سابق میں ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ کوجووصیت نامہ والد مرحوم کاروبروئے جناب ماموں صاحب حاجی حافظ محمد عظیم مرحوم کے تحریرہواتھا اس وقت عزیزمحمدیحیی کودوروپیہ ماہوار دینا تجویزہواتھا چنانچہ آج تك دیاگیااب پھر عزیز مذکورنے کہاکہ میراگزارہ اس میں نہیں ہوتا کچھ زیادہ مقررہوجائےاس واسطے مجھ زکریانے اراضی بارانی وچاہ جال والا وچاہ تاج خاں والا کی آمدنی بوقوف عزیزمحمدیحیی دوسوساٹھ روپیہ مشخص کراکرعزیزمذکورکاحصہ للعہ ۷/ ماہوار کاقرار پایا مگر عزیز مذکور نے چارروپیہ چارآنے ماہوار اس میں سے لینے منظورکئے بشرط اس کے کہ مجھ سے چاہت کی مرمت وغیرہ کا مصارف نہ لیاجائے۔مجھ محمدزکریاکویہ بھی منظورہے کہ میں۴/للعہ ماہوار جب تك اراضی عطیہ سرکار ہمارے قبضہ میں ہے
بقلم احقرالعبادامراؤ علی مرقومہ ہشتم جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ مطا بق ۱۳فروری۱۸۸۶ء
العبد محمدزکریا العبدبندہ محمدیحیی عفی عنہ العبدمحمدعیسی عفی عنہ العبد محمدموسی عفی عنہ گواہ شد محمدفضل حق عفی عنہ
الجواب:
اول:تنخواہ پربھائیوں کادعوی باطل بیجاہے کہ وہ اجرت ہے اوراجرت میں غیراجیر کا حق نہیںعقد اجارہ جو ان کے باپ سے تھا موت پدرپرختم ہوگیا۔
فان الاجارۃ لامعنی لبقائھا بعد ھلاك الاجیر۔ کیونکہ اجیرکے فوت ہوجانے کے بعد اجارہ کے باقی رہنے کاکوئی معنی نہیں ہے(ت)
اب کہ برادر سے عقدجدیدہوا اس میں کیاحقتوایك ہوسکتاہے بلکہ اگراس تنخواہ کو بطور منصب ہی فرض کیجئے توبتصریح علماء منصب وپنشن بھی موروث نہیں بعد فوت منصبداررئیس جس کا نام مقررکردے وہی مستحق ہے باقی ورثہ کاکچھ حق نہیں۔فتح القدیر وردالمحتارمیں ہے:
العطاء صلۃ فلایورث ویسقط بالموت ۔ عطیہ ایك صلہ ہے وراثت نہیں ہے اورموت سے پہلے یہ صلہ ختم ہوجاتاہے(ت)
دوم:محمدزکریا نے جوکچھ محمدیحیی ومحمدعیسی کی شادیوں میں اپنے پاس سے صرف کیا اگریہ صرف بعد بلوغ محمدموسی تھا جبکہ وہ بھی اجازت وصیت شامل ہولیا توتمام کمال ترکہ سے مجراپائے گا کہ زکریا وصی تھا اوریہ مورث کی وصیت جسے بقیہ ورثہ نے نافذ رکھا اوربوجہ بلوغ ان سب کی تنفیذ شرعا معتبرتھی تووصیت
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر اس صورت میں کہ باقی وارث اسے جائزقراردیں(ت)
اوروصیت میں جبکہ اس کی تنفیذ کسی شیئ کوبیچنے کے ساتھ مذکور ہوتووصی پراس کااتباع لازم نہیں اسے رواہے کہ وہ شیئ نہ بیچے اوردوسرے مال سے وصیت نافذ کرے۔ آدب الاوصیاء میں ہے:
فی المحیط والظھیریۃ والخلاصۃ اوصی بان یکفنہ من ثمن ھذا العین قال ابوالقاسم للوصی ان یکفنہ من ثمن عین اخر ولایبیع تلك العین و تلك العین تکون للورثۃ وان وجد لما اوصی ببیعہ مشتریا ولا یضمن الوصی۔ محیطظہیریہ اورخلاصہ میں ہے کسی نے وصیت کی کہ فلاں معین چیزکے ثمن سے اس کوکفن دیاجائے ابوالقاسم نے فرمایا وصی کو اختیارہے کہ کسی دوسرے چیزکے ثمن سے کفن دے اوراس معین چیز کوفروخت نہ کرے اوریہ معین چیز سب ورثاء کی مشترکہ قرارپائے گی اگرچہ جس چیز کو فروخت کرنے کی وصیت تھی اس کاکوئی خریدار بھی موجود ہوایسی صورت میں وصی ضامن نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
فی الخاصی اوصی بان یتصدق منہ کذا وکذا وقرا من الحنطۃ وعین لثمن تلك الحنطۃ نوعا من اموالہ کثمن دارہ فجعل الوصی من غیر ذلك المال قال خاصی میں ہے کسی نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے اتنی اتنی مقدارگندم کی صدقہ کی جائے اوراس گندم کی قیمت کے لئے اس نے اپنے اموال میں سے کوئی نوع متعین کردی جیسے اپنے گھرکی قیمتوصی نے کسی اورمال سے صدقہ
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی تنفیذالوصیۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۔۳۱۲€
اورقطع نظر اس سے کہ وصی جب اپنے مال سے وصیت نافذ کرے تو قول مفتی بہ پراسے مطلقا حق رجوع وواپسی ہے یہاں کہ وصیت عباد کے لئے تھی اوروصی وارث ہے باتفاق علماء اسے حق رجوع حاصل ہواخانیہ وہندیہ وغیرہما میں ہے:
وصی انفذ الوصیۃ من مال نفسہ قالوا ان کان ھذا الوصی وارثا یرجع فی ترکۃ المیت والا فلایرجع وفیہ ان کانت الوصیۃ للعباد یرجع لان لھا مطالبا من جھۃ العباد وکان کقضاء الدین وان کانت الوصیۃ ﷲ تعالی لایرجع وقیل لہ ان یرجع فی الترکۃ علی کل حال و علیہ الفتوی۔ وصی نے اپنے مال میں سے وصیت نافذ کردیعلماء نے کہا اگریہ وصی وارث ہے توترکہ میت میں رجوع کرے گا ورنہ نہیںاوراسی میں ہے اگروہ وصیت بندوں کے لئے ہے تو رجوع کرے گا اس لئے کہ اس وصیت کے لئے بندوں کی جہت سے کوئی مطالبہ کرنے والاہے تویہ دین کی ادائیگی کی طرح ہوگئیاوراگروصیت اﷲ تعالی کے لئے ہے تورجوع نہیں کرے گا۔اورایك قول یہ ہے کہ وہ ہرحال میں ترکہ میت میں رجوع کرے گا۔فتوی اسی پرہے۔(ت)
اوراگرقبل بلوغ محمدموسی ہوا توحصہ محمدموسی اس صرف سے بری رہے گا کہ نابالغ کی اجازت کوئی چیزنہیںنہ اس کی طرف سے کوئی ولی یاوصی خواہ کوئی شخص اسے تصرف کی اجازت دے سکتاہے
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۴€
لکونہ وقع ولامجیز وکل تصرف کذا فھو باطل کما فی الدر وغیرہ والاجازۃ انما تلحق الموقوف لاالباطل کمابینہ فی الفتح وغیرہ۔ بسبب اس کے کہ یہ واقع ہوا دراں حالیکہ کوئی اس کی اجازت دینے والانہیں۔اور ہروہ تصرف جوایساہو وہ باطل ہوتاہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اوراجازت فقط موقوف کو لاحق ہوتی ہے نہ کہ باطل کوجیساکہ اس کوفتح وغیرہ نے بیان کیاہے۔(ت)
سوم:خوردونوش برادران میں جوکچھ محمدزکریا نے اپنے پاس سے صرف کیا اس میں سے محمدموسی نابالغ کے مصارف زمانہ نابالغی کے مجراپائے گا
فی الخانیۃ والھندیۃ بعد العبارۃ المذکورۃ وکذا الوصی اذا اشتری کسوۃ للصغار اواشتری ماینفق علیھم من مال نفسہ فانہ لایکون متطوعا ۔ خانیہ اورہندیہ میں مذکورہ بالاعبارت کے بعد ہے اوریونہی وصی نے جب اپنے مال سے نابالغ کے لئے لباس خریدار یاوہ شیئ خریدی جو اس پرخرچ کرے گا تووہ احسان کرنے والانہ ہوگا(ت)
اوربالغوں پرجو صرف کیا اگر بطورخودبے ان کے امرکے تھا نہ شرط رجوع کرلی تھی جیساکہ عبارت سوال سے ظاہرہے تومحمد زکریا کاتبرع واحسان تھا جس کامعاوضہ ان سے نہیں لے سکتا
لعدم الولایۃ علیہ بالبلوغ ولم یکن مضطرا فیما فعل ولاامروہ ولاشرط الرجوع ففیم یرجع وھذا ظاھر جدا عند من خدم نفائس کلامھم۔ کیونکہ بلوغ کی وجہ سے وصی کو اس پرولایت نہیں رہی نہ وہ اس فعل میں مجبورہےنہ انہوں نے وصی کوحکم دیا اورنہ رجوع کی شرط کی گئی تووہ کس چیز میں رجوع کرے گایہ خوب ظاہرہے اس شخص کے نزدیك جس نے فقہاء کے عمدہ کلام کی خدمت کی۔(ت)
خانیہ میں ہے:
لوقال انفق من مالکعلی عیالی اوفی بناء داری یرجع بما انفق اگرکہاتو اپنے مال میں سے میری اہل وعیال یا میرے گھر کی تعمیرپرخرچ کر تواس نے جوکچھ
فتاوی قاضی خاں کتاب الکفالہ فصل فی الکفالۃ بالمال ∞نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷€
فصول عمادیہ وفتاوی حامدیہ میں ہے:
من قضی دین غیرہ بغیر امرہ لایکون لہ حق الرجوع علیہ۔ جس نے دوسرے کاقرض اس کے حکم کے بغیر اداکردیا اس کو رجوع کاحق نہیں(ت)
انہیں میں ہے:
المتبرع لایرجع علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ ۔ احسان کرنے والاغیرپررجوع نہیں کرتا جیساکہ کوئی کسی کا قرض اس کے حکم کے بغیر اداکردے(ت)
چہارم:زیورزوجہ میں موصی کی وصیت اسی قدراثرڈال سکتی تھی جس قدر اس زیورسے موصی کاحصہ شوہری ہوتاباقی حصص کہ ملك اولاد تھے ان کی نسبت اس کی وصیت محض بے معنی ہے اذلاتصرف لابن آدم فیما لایملک(اس لئے کہ ابن آدم کوایسی چیزمیں تصرف کاحق نہیں جس کاوہ مالك نہ ہو۔ت)تویحیی وعیسی وموسی کو وہ کل زیوردے دینااگرچہ باجازت جملہ ورثہ ہو خود انہیں ورثہ کے حصص میں اصلا مؤثرنہ ہوگا کہ غایت درجہ ان کی یہ اجازت اجازت تملیك بلامعاوضہ ہوگی کہ عین ہبہ ہے اورہبہ مشاع باطل اورباطل کی اجازت مہمل۔ہدایہ میں ہے:
من اوصی من مال رجل لاخر بالف بعینہ فاجاز صاحب المال بعد موت الموصی فان دفعہ فھو جائز ولہ ان یمنع لان ھذا تبرع بمال الغیر فیتوقف علی اجازتہ واذااجاز یکون تبرعا منہ ایضا فلہ جس نے کسی شخص کے لئے غیرکے مال سے ایك ہزارمعین درہموں کی وصیت کردی اورموصی کی موت کے بعد اس غیر یعنی مالك مال نے اس کی اجازت دے دی پھراگر اس نے وہ مال اس کے سپردکردیا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے تو جائزہے اورمالك کواختیارہے کہ وہ مال کو روك لے
فتاوی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۶€۹
العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰€۳
العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳€
غایۃ البیان میں ہے:
لان العقد الموقوف اذالحقہ الاجازۃ صار مضافا الی المجیز فاذا اضیف الیہ صار ذلك ھبۃ منہ والھبۃ لاتتم الابالتسلیم۔ کیونکہ موقوف عقد کو جب اجازت لاحق ہوتی ہے تو وہ اجازت دینے والے کی طرف منسوب ہوجاتاہےجب اس کی طرف منسوب ہوگیاتو یہ اسی کی طرف سے ہبہ ہوا اورہبہ سپردگی کے بغیرتام نہیں ہوتا(ت)
تومحمدزکریاکاخود اپناحصہ اس کی ملك سے نکلا نہ خدیجہ بیگم کاحصہ اس کی ملك سےاگرزیورباقی ہے تو حصہ شوہری موصی چھوڑکر سب ورثہ اپنے اپنے حصے اس سے لے سکتے ہیںاوراگریحیی وعیسی وموسی نے ہلاك کردیا توباقیوں کے حصص کے تاوان دین رہا موصی کاحصہ شوہری کہ وہی محل نفاذوصیت تھا نظرکی جائے کہ چڑھاوا جودولھا کی طرف سے دلہن کوجاتاہے وہاں عرف شائع میں دلہن کی ملك سمجھاجاتاہے یاملك پردولہا ہی کے رہتاہے اوردلہن کوپہننے کے لئے دیاجاتاہےاگردلہن کی ملك سمجھاجاتاہے تو اس حصے میں بھی وصیت باطل ہوئی کہ اب یہ وصیت حقیقۃ دلہنوں کے لئے تھی اوردلہنیں وقت موت موصی تك معدوم تھیں کہ دلہن ہونابعد نکاح صادق ہوتاہے اورنکاح موت موصی سے ایك مدت کے بعد ہوئے اورمعدوم کے لئے وصیت باطل ہے کہ وہ تملیك اورمعدوم صالح تملیك نہیںولہذا حمل کے لئے وصیت میں شرط ہے کہ اس کاباپ زندہ ہے توچھ مہینے کے اندرپیداہواورمرگیا یاطلاق بائن دے دی اورعورت عدت میں ہے تو دوبرس کے اندر پیداہواکہ اس وقت اس کاوجود ہویدا ہوا۔ تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ھی تملیك مضاف الی مابعد الموت بطریق التبرع و شرائطھا کون الموصی اھلا للتملیك والموصی لہ حیا وقتھا تحقیقا وہ تملیك ہے جوبطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اوراسی کی شرائط میں سے ہے کہ موصی تملیك کی اہلیت رکھتاہو اور جس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ بوقت
غایۃ البیان
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وقتھا اقول:فی التاتارخانیۃ الموصی لہ اذاکان معینا من اھل الاستحقاق یعتبر صحۃ الایجاب یوم اوصی ومتی کان غیر معین یعتبر صحۃ الایجاب یوم موت الموصی فلواوصی بالثلث لبنی فلان ولم یسمھم ولم یشرالیھم فھی للموجودین عندموت الموصی وان سماھم اواشار الیھم فالوصیۃ لھم حتی لوماتوا بطلت الوصیۃ لان الموصی لہ معین فتعتبر صحۃ الایجاب یوم الوصیۃ قولہ لاقل من ستۃ اشھراذلو ماتن کاقول"بوقت وصیت"میں کہتاہوں تاتارخانیہ میں ہے جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اگر وہ مستحقین میں سے متعین ہے توصحت ایجاب کا اعتباروصیت کے دن سے کیا جائے گا اورجب وہ غیرمتعین ہے توصحت ایجاب کااعتبار موصی کی موت کے دن سے کیاجائے گااگرفلاں کے بیٹوں کے لئے ایك تہائی کی وصیت کی اوران کانام نہیں لیا نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیا تویہ وصیت صرف ان کے لئے ہوگی جو موصی کی موت کے وقت موجودہوں گے۔اوراگران کانام لیا یا ان کی طرف اشارہ کیاتو وصیت خاص انہی کے لئے ہوگی۔ اگر وہ مرگئے تو وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ جس کے لئے وصیت کی گئی وہ متعین ہے۔لہذا صحت ایجاب کااعتبار وصیت والے دن سے ہوگا۔ماتن نے کہاکہ چھ ماہ سے کم مدت میں حمل پیداہو۔یہ اس لئے
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵ و۱۶€
ہندیہ میں ہے:
شرطھا کون الموصی اھلا للتملیك و الموصی لہ اھلا للتملک۔ وصیت کے لئے شرط یہ ہے کہ موصی تملیك کااہل ہو اورجس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ مالك بننے کااہل ہو۔(ت)
ولہذا صحت وصیت کے لئے شرط ہے کہ یا تواہل حاجت کے لئے واقع ہوجیسے بنی فلاں کے یتیموں یابیواؤں کے لئے کہ اس تقدیر پروصیت حضرت حق عزوجل کے لئے واقع ہوگی اور وہ معلوم ہے ورنہ وہ لوگ معدودقابل شمارہوں جیسے زیدکے بیٹے کہ انہیں تملیك صحیح ہوسکے اوردونوں صورتیں نہ ہوں مثلا سیدوں یاشیخوں کے لئے تو وصیت باطل ہے درمختارمیں ہے:
الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی و ھومعلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت۔ اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبردے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی اگروہ قابل شمارنہ ہوں جیساکہ گزرچکاہے کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئی ہے اور وہ معلوم ہے اوراگرایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوجوحاجت کی خبردیتاہے تواس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی ہے اگروہ قابل شمار ہیں تب تو وصیت صحیح ہوگی اوراس کوتملیك قراردیاجائے گاورنہ وصیت باطل ہوگی۔(ت)
ولہذ اگروارثان فلاں کے لئے وصیت کی اورفلاں ابھی زندہ ہے توصحت وصیت کے لئے
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۹€۰
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰€
فی الدرالمختارشرط صحتہا فی الوصیۃ لورثۃ فلان ومافی معناھا کعقب فلان موت الموصی لورثتہ اولعقبہ قبل موت الموصی لان الورثۃ والعقب انما یکون بعد الموت فلومات الموصی قبل موت الموصی لورثتہ اوعقبہ بطلت الوصیۃ لورثتہ اوعقبہ لان الاسم لایتناولھم الا بعدالموت اھ مختصراوفی رد المحتار قولہ لان الاسم لایتناولھمفکانت وصیۃ لمعدوم۔ درمختارمیں ہے فلاں کے وارثوں یا اس کے ہم معنی یعنی فلاں کے پسماندگان کے لئے وصیت کی تو اس وصیت کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ جس کے وارثوں اورپسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ موصی سے پہلے مرے کیونکہ اس کے مرنے کے بعد ہی وہ لوگ اس کے وارث یا پسماندگان بنیں گے اوراگرموصی اس سے پہلے مرگیا اورجس کے وارثوں اور پسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ ابھی زندہ ہے تو اس کے وارثوں یا پسماندگان کے لئے وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ ان پرلفظ ورثاء اورپس ماندگان کااطلاق تو اس کے مرنے کے بعد ہوگااھ اختصار۔ردالمحتارمیں ہے اس کاقول کیونکہ لفظ ورثاء اورپس ماندگان کا ان پراطلاق نہیں ہوتالہذا یہ معدوم کے لئے وصیت ہوئی۔(ت)
اوراگربحکم عرف چڑھاوا دولہا کی ملك ہوتاہے۔(یہ جواب ناتمام دستیاب ہوا)
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴۰€
الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیۃ ۱۳۱۷ھ
(کشادہ راستہ وصیت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۳۵: ازرنگون مکان نمبر۸۵ و۸۶ گلی نمبر۳۱ مرسلہ شیخ عبدالعزیز سرکار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی رحمۃ واسعۃ فی الدنیا والآخرۃ اس میں کیافرماتے ہیں کہ زیدکے دو وطن تھے ایك قدیم اور دوسرا جدیداوردوہی بیویاںایك وطن قدیم میں شادی کرائی ہوئیدوسری وطن جدیداعنی شہررنگون میں بطریق شادی مطابق شرع محمدی نکاح میں لائی ہوئیزیدنے بفضلہ تعالی رنگوں میں بہت کچھ کمایاپھریہیں کی کمائی سے وطن قدیم اوررنگون دونوں جگہ میں جائداد معتدبہ پیداکی لیکن وطن قدیم تخمینا پانچ ہزار روپیہ سالانہ آمدنی کی کل جائداد کوبحیلہ اپنے وطن قدیم کی ایك مسجد پر وقف کرنے کے جوکہ دس بارہ روپیہ ماہواری کے خرچ کی حاجت نہیں رکھتی وطن قدیم کی بی بی کی اولاد پر روك دیا اور وقف نامہ میں لکھ دیا کہ متولی اس وقف کے یہی لوگ رہیں جوکچھ مصارف مسجد سے بچے اپنے کام میں لائیں۔رنگون کی بیوی کے بطن کی اولاد کو اس میں سے ایك حبہ نہیں دیا اوررنگونی جائداد میں سے وطن قدیم والی اولاد کو حصہ بھی دیا اوراس جائداد کے نفع سے کئی ہزارروپیہ لوگوں کودینے کی اورپچاس روپیہ ماہواری اس مسجد وطن قدیم پرخرچ کرنے کی وصیت بھی کہ چنانچہ یہ امرنقل وصیت نامہ مرسل مع استفتاء سے بخوبی واضح ہوگاپس چونکہ زیدکی یہ وصیت رنگونی ورثہ کی مضرت یعنی حق تلفی اور وطن قدیم کے ورثہ کی منفعت کے لئے ہےلہذاچند باتیں عرض کرتاہوں:
۲دوم: زید کی یہ وصیت بکیفیت وعبارت کذائیتین(اعنی مجموعہ ترکہ کے نفع سے نہ اس کے کسی جزومعین کے نفع سے اور بایں عبارت کہ اس قدرروپیہ میری تجہیزوتکفین کے لئے رکھیں اوراتناروپیہ میرے ملك کے لئے غرباء کے لئے رکھیں)شرعا صحیح ہے یانہیں
۳سوم: زیدکے قول(اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکواس طرح فرمان وصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومینوسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایك ہزارروپیہ برائے میری تجہیزوتکفین کے جمع رکھیں الی قولہ اورماہ بماہ مبلغ ۵۰ روپیہ موضع سالولامیرا پاڑہ کی مسجدکے اخراجات کے لئے دیاکریں)کاخلاصہ مضمون یہ ہے یانہیں کہ لکڑی کی تجارت کے نفع اورمکانات واراضی کے کرایہ سے سوامبالغ ٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے باقیماندہ مبالغ سے اتنایوں کریں اوراتنایوں کریں اعنی زیدکایہ قول متضمن استثنائے مبالغ معلومہ کوہے یانہیں
۴چہارم: وصیت ازقبیل معاملات ہے یانہیں
۵پنجم:برتقدیر زیدکے قول مذکور کے متضمن استثنائے مبالغ معلومہ اوروصیت کے ازقبیل معاملات ہونے کے جیسے کہ بقول معتبر:
لایجوزان یبیع ثمرۃ ولیستثنی منھا ارطالا معلومۃ۔ یہ جائزنہیں کہ وہ پھل فروخت کرے اوراس میں سے کچھ معین رطل مستثنی کرلے۔(ت)
بیع ثمرہ باستثنائے ارطال معلومہبوجہ احتمال عدم وجودماسوائے ارطال مستثناۃ کے جائزنہیں ایسے ہی اس کے قیام پربجامع تملیك وصیت دراہم باستثنائے دراہم معلومہ بوجہ مذکورناجائزہوگی یانہیں اوریہ امر ظاہرہے کہ بسااوقات ایساہوتا ہے کہ سواٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے مکانات واراضی وتجارت سے وصول نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔
۶ششم: زیدکی یہ وصیت متضمن مضرت ہے اوربعض شارحین مشکوۃ شریف حدیث مرفوع ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
اورصاحب درمختارکے قول لانھا حینئذ وصیۃ بالمکروہ (اس لئے کہ اب یہ وصیت ہے مکروہ کے ساتھ۔ت)جوکہ صاحب تنویرالابصار کے قول اوصی بان یطین قبرہ اویضرب علیہ قبۃ فھی باطلۃ (اگرکسی کووصیت کی کہ وہ اس کی قبرکی لپائی کرے یا اس پرگنبد بنائے تویہ وصیت باطل ہے۔ت)کے تحت ہے)وصیت مع الکراہت کابطلان ثابت ہے علامہ شامی صاحب در کے قول مذکرکے تحت لکھتے ہیں:
مقتضاہ انہ یشترط لصحۃ الوصیۃ عدم الکراھۃ و قدم اول الوصایا انھااربعۃ اقسام وانھا مکروھۃ لاھل فسوق و مقتضی ماھنابطلانھا اللھم الا ان یفرق الخ۔ اس کاتقاضایہ ہے کہ وصیت کے صحیح ہونے کے لئے عدم کراہت شرط ہے جبکہ کتاب الوصایا کے شروع میں کہاگیاہے کہ وصیت کی چارقسمیں ہیں اوریہ کہ فاسقوں کے لئے وصیت مکروہ ہے اورجوکچھ یہاں ہے اس کاتقاضااس وصیت کے بطلان کاہےاے اﷲ! مگریہ کہ فرق کیاجائے الخ(ت)
پس اس وصیت کے بطلان کی یہ تقریر صحیح ہے یانہیںبرتقدیر ثانی علامی شامی نے جوتقریر
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۴۱€
۷ہفتم:موصی کے وطن قدیم والی اولادنے صرف اپنے فائدہ کی وصیتوں پرعمل کیا اور اس کی ان وصیتوں پرعمل نہیں کیا:
(۱)اورمیری وصیت ان کو(یعنی وصیان مذکور)کرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہمگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ اورمطالبات و یافتنی آئندہ کی بابت کرایہ مکانات یا اراضی بنام میرے وصول کریں۔
(۲)اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکو اس طرح فرمان اوروصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبارکارخانہ لکڑی جاری رکھیںپس موصی کی وصایا میں سے بعض پرعمل نہ کرنے اوربعض پر کرنے سے کل وصایا میں کچھ خلل آئے گایا نہیں
۸ہشتم: موصی کی وصیت(اورمیں نیزمیرے وصیان مذکورکواختیاردیتاہوں کہ میرے جمیع نابالغ ورثہ کے امین اورحامی ہو رہیں الی قولہ مطابق شرع محمدی تقسیم کردیں)کی روسے وصیوں پروثہ صغار کے کل سہام کو بعینہ رکھنا لازم ہوگاان میں بلاوجہ کسی وجہ سے تصرف بیع وغیرہ کرنے کے مجازہوں گے ان سب باتوں کاجواب مفصل ومدلل رحمت فرمائیں اوراجراﷲ سے پائیں عرض ضرورہے۔
رنگون کے چندعلماء کووصیت کے بارے میں حکم بنایا گیاتھا انہوں نے اس کی صحت کاحکم دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ وصیت بالمنافع ہے اوروصیت بالمنافع جائزلہذا یہ بھی جائزہے۔اب بہ اجازت انہیں علماء کے آپ حضرت سے اس کی اپیل کی گئی ہے خوب غورفرماکر جواب باصواب سے ممنون فرمائیں۔
نقل ترجمہ وصیت نامہ اززبان انگریزی
میکہ شیخ حاجی محمدبھولو سرکارلائق ساکن نمبر۳۱ گلی شہر رنگون مالکی مکانات وکارخانہ ہائے ظاہرکرتاہوں کہ جوکچھ تحریرات سابق اس کے منجانب میری ہو سب کی سب کوخرید ومنسوخ کرکے یہ میری وصیت صحیح کے کرتاہوں اوربحالت صحت ذات نفس اور ثبات عقل اظہارکرتاہوں کہ بایں وصیت نامہ میں اپنے داماد میاں رحیم بخش اورفرزندان خودشیخ میاں عبدالعزیز لائق اورشیخ میاں عبدالغنی لائق الحال ساکنان شہر رنگون مذکورالفوق کو اورشیخ میاں عبدالواحد لائق الحال ساکن موضع سالمولا میراپاڑہ ضلع بردوان اورملامقصد صاحب تاجرلکڑی الحال شہررنگون کواپنی وصیان واسق عــــــہ بنایاہوں اورمیری یہ وصیت ان کوکرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہملگی
عــــــہ:کذا فی الاصل ۲ا ازہری غفرلہ۔
رنگون مؤرخہ ۱۵/ماہ مئی ۱۸۹۴ء دستخط حاجی محمدبھولوسرکاربزبان بنگلہ
ایں وصیت نامہ دستخط شدہ واعلان نمودہ واظہارکردہ شدہ بحضرات شاہدین مرقوم الذیل:
منشی مرادبخششیخ محمداسحق لعل محمدوشیخ سخاوت حسین
نقل مطا بق اصل نمودہ شد معین الدین غفرلہ
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)
جواب سوال اول: وصیت نافذہ شرعیہ اگرچہ فی نفسہ واجبہ نہ ہو اپنے حد نفاذ تك کہ ثلث مال باقی بعداداء الدین سے محدودہے واجب التسلیم ہے جس طرح وقف کہ واقف پر اس کی انشاء واجب نہیں اوربعد انشاء لازم وواجب العمل ہے بلکہ نفس وقف در کنار شرائط واقف مثل نص شارع
" من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکالنے کے بعد۔(ت)
یہی آیت ثبوت ایجاب میں بس ہے کہ ورثہ کو ان کاحق پہنچانا ضرورۃ فرض ہے اور وہ بنص قرآن تقدیم وصیت پرمحول
ومالایتأتی الواجب الابہ وجب ان یحکم بایجابہ۔ جس کے بغیر واجب حاصل نہ ہو تو اس کے ایجاب کاحکم واجب ہے۔(ت)
بالجملہ اس کی تسلیم اور اس میں ترك مزاحمت ورثہ پرقطعا واجب ہے اگرچہ تنفیذواداذمہ وصی ہو یہی حال جملہ تبرعات مالیہ کا ہے کہ مالك پرواجب نہیں اوربعدوقوع وتمامی دوسراان میں مزاحمت نہیں کرسکتالاجرم علماء نے ایجاب کونفس حقیقت وصیت میں داخل مانا اس کی تعریف ہی یوں کی:
"الوصیۃ مااوجیھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ الذی مات فیہ"کما فی نتائج الافکار عن النہایۃ عن الایضاح۔ وصیت وہ ہے جس کاایجاب موصی پنے مال میں کرے موت کے بعدیا اس بیماری میں جس میں وہ مرا۔جیساکہ نتائج الافکار میں نہایہ سے بحوالہ ایضاح منقول ہے۔(ت)
یایوں ہے:
ایجاب بعد الموت کما فی الوقایۃ والنقایۃ قلت وسیأتیك غایۃ التحقیق فانتظر۔ وہ ایجاب ہے موت کے بعدجیساکہ وقایہ اور نقایہ میں ہے۔ میں کہتاہوں اس کی انتہائی تحقیق عنقریب آرہی ہے۔ انتظار کر۔(ت)
جواب سوال دوم:صحت وصیت کوکسی خاص جزء معین کی تعیین ضروری نہیں خواہ وصیت
نتائج الافکار(وھو تکملۃ فتح القدیر)بحوالہ النہایۃ کتاب الوصایا ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹ /۳۴۱€
النقایۃ مختصر الوقایۃ کتاب الوصایا ∞نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۹۳€
کما تواترت بہ المسائل وسیأتیك ان الجھالۃ لا تمنع الوصیۃ حتی لواوصی بجزء مجہول منمالہ و لم یبین مقدار نفسہ فضلا عن تعیین مایقع فیہ صح و یکون البیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ما شئتم و ھذا کلہ واضح عند من لہ ادنی المام بالعلم۔ جیساکہ اس کے ساتھ مسائل تواتر سے واردہیں عنقریب تیرے سامنے آرہاہے کہ جہالت وصیت سے مانع نہیں یہاں تك کہ اگرکسی نے اپنے مالی میں سے مجہول جزئ کی وصیت کی خود اس کی مقدارہی بیان نہیں کی چہ جائیکہ اس کی تعین کرتا جس میں وصیت واقع ہے تویہ وصیت صحیح ہے اوراس کابیان وارثوں کے ذمہ ہوگا۔انہیں کہاجائے گا کہ جوتم چاہو اس کو دے دو۔یہ تمام واضح ہے ہراس شخص کے لئے جس کوعلم کے ساتھ معمولی سا تعلق ہے۔(ت)
یوں ہی پانسوروپیہ غربائے وطن پرخیرات کی وصیت بھی بدیہی الصحۃ محاورہ ہندہ میں غرباء فقراء کوکہتے ہیں اورفقراء شہرفلاں کے لئے وصیت جائزاگرچہ مذہب مفتی بہ میں انہیں فقراء کی تخصیص لازم نہیں ہرجگہ کے فقیروں کودے سکتے ہیں ہاں افضل انہیں کودیناہے
فی الدرالمختارفی المجتبیاوصی بثلث مالہ للکعبۃ جاز ویتصرف لفقراء الکعبۃ لاغیر وکذا للمسجد و للقدس وفی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم۔ درمختارمیں بحوالہ مجتبی ہے کسی نے کعبہ شریف کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی تو یہ وصیت جائز ہے اورمال صرف کعبہ شریف کے فقیروں پرخرچ کیاجائے گا کسی اورپر نہیں۔یہی حکم مسجداور بیت المقدس کے لئے وصیت کاہے اورفقراء کوفہ کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیرپر خرچ کرنابھی جائزہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃالافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جازوھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی و قال محمد خلاصہ میں کہاہے کہ افضل فقراء کوفہ پرہی خرچ کرناہے اگران کے غیرکو دے دیاتب بھی جائزہےیہ امام ابویوسف کا قول ہے۔اوراسی پرفتوی دیاجاتاہے۔امام محمد رحمہ اﷲ
اوراگر وہاں غریب اپنے معنی اصلی یعنی مسافر ہی کے لئے بولاجاتا ہے تومسافروں کے لئے بھی وصیت صحیح ہے کہ یہ لفظ بھی حاجتمندی سے خبردیتاہے۔
قال اﷲ تعالی" انما الصدقت للفقراء والمسکین الی قولہ تعالی وابن السبیل "۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:صدقات فقیروں کے لئے اورمسکینوں کے لئے ہیںاﷲ تعالی کے قول ابن السبیل یعنی مسافرتك ۔(ت)
اوروصیت جب غیر محصورلوگوں کے لئے ہے تو اس کامناط صحت یہی دلالت حاجت ہے۔
فی الدرالمختار الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالی وھو معلوم و ان کان لاینبئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والابطلت۔ درمختارمیں ہے وصیت میں اصل یہ ہے کہ جب وہ ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبر دیتاہے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگیاگرچہ اس قبیلے کے یتیم قابل شمارنہ ہوںجیساکہ گزرچکاکیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالی کے لئے واقع ہوئی اور وہ معلوم ہےاوراگر وصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوتو پھرجن کے لئے وصیت کی گئی اگروہ قابل شمارہیں تو وصیت صحیح ہے اوراس کوتملیك قراردیا جائے گا اوراگروہ قابل شمارنہیں تووصیت باطل ہے۔(ت)
ہاں مستحق یہاں بھی فقرائے مسافرین ہوں گے نہ اغنیاء۔
فی وجیز الامام الکردری نوع من الفصل الثانی من کتاب الوصایا اوصی لاھل السجون اوالیتامی او الارامل اوابناء السبیل اوالغارمین اوالزمنی یعطی فقراء ھم لاغنیائھم اھ۔ قیدیوں یا یتیموں یابیواؤں یامسافروں یامفروضوں یااپاہجوں کے لئے وصیت کی توان کے فقراء کودیاجائے گا نہ کہ ان کے مالداروں کوالخاوراسی کی مثل کافی
القرآن الکریم ∞۹ /۶۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰€
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۸€
رہی تجہیزوتکفین کے لئے وصیت وہ صرف حدمسنون وکفن متوسط تك مقبول ہے اس سے زیادہ میں باطل ونامعمولمثلا سوروپیہ میں تجہیزبقدرسنت وکفن میانہ ہوسکتی تھی اوراس کے لئے ہزار روپے کی وصیت کی تو ۹۰۰ روپیہ میں وصیت باطل ہے۔فتاوی انقریہ میں ہے:
لواوصی الرجل بان یکفن ھو بعشرۃ الاف فانہ یکفن بکفن الوسط من غیر سرف ولاتقتیرقاضی خان فیما تجوز وصیتہ من کتاب الوصایاوفی المنیۃ الوصیۃ بالاسراف فی الکفن باطلۃ۔ اگرکسی شخص نے وصیت کی کہ اسے دس ہزاردرھم کاکفن پہنایاجائے گا جس میں نہ توفضول خرچی ہوگی اورنہ کمی کی جائے گی۔یہ بات قاضی خاں کی کتاب الوصایا فیماتجوز وصیتہ میں مذکورہےاورمنیہ میں ہے کہ کفن میں اسراف کی وصیت باطل ہے۔(ت)
جواب سووال سوم:زیدکایہ قول ان کاموں کے شمارمیں ہے جو اس نے اپنے اوصیاء کوسپردکئے جس طرح ایك کام یہ بتایاکہ جملگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ وآئندہ وصول کریں۔یونہی ایك کام یہ تفویض کیاکہ کارخانہ جاری رکھیں اورمنافع سے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اسے استثناء قراردینے سے مستثنی ومستثنی منہ میں ایك جملہ اجنبیہ مستقلہ بے گانہ فاصل ہونالازم آئے گاکہ اس کے متصل یہ لفظ ہیں"ہزار روپے برائے تجہیزوتکفین جمع رکھیں"اس سے ہرگز وہ روپیہ مراد نہیں ہوسکتا جوبعد موت موصیکارخانہ جاری رہ کراس کے منافع سے آئندہ وصول ہونا متوقع سمجھاجائے کہ حاجت تجہیزوتکفین بعد موت فوری ہے نہ کہ بعد بقاء کارخانہ منافع مشکوکہ آئندہ پرمحمول وھذا ظاھر جدا(اور یہ خوب ظاہرہے۔ت)معہذا اس عبارت میں کہ"ہزار روپے تجہیزکورکھیں اور پانسو غرباء کوخیرات کے لئے اورفلاں کو دوہزاردینااور فلاں کو دوسواورفلانہ وفلانہ کو سو سوروپے دیں"اس تخصیص پرکوئی دلیل نہیں کہ یہ روپے منافع آئندہ سے دئیے جائیںوما لا دلیل علہی لامصیر الیہ(اورجس پر دلیل نہ ہو اس کی طرف رجوع نہیں ہوتا۔ت)لاجرم جملہ اولی وہی ایك کام کی سپردگی ہے اورجمل مابعد میں وصیت تکفین سے یہاں تك کوئی جملہ وصیت بالمنافع نہیں بلکہ وصیت بدراہم مرسلہ ہیں جس کا اصلی حکم یہ ہوتا ہے کہ اگر
فی ردالمحتار عن المنح عن السراجاذا اوصی بدراھم مرسلۃ ثم مات تعطی للموصی لہ لوحاضرۃ و الاتباع الترکۃ و یعطی منھا تلك الدراھم۔ ردالمحتارمیں منح سے بحوالہ سراج منقول ہے کہ جب کسی نے مطلق درھموں کی وصیت کی پھرمرگیا تو وہ درھم اس شخص کو دئیے جائیں گے جس کے لئے وصیت کی گئی ہے اگر درھم حاضرہیں ورنہ ترکہ بیچ کر اس میں سے وہ درہم دئیے جائیں گے۔(ت)
مگریہاں وصیت ثلث درکنار جمیع مال کے دوچند سے بھی متجاوز ہے کہ تنہا مسجدکے لئے ماہوار کی وصیت کل مال کی وصیت تو وہی ہوگئیباقی تین ہزارروپے کی وصایائے مذکورہ معینہ علاوہ رہیں
فی الہندیۃ اوصی بان ینفق علی فلان خمسۃ کل شھر ماعاش وعلی فلان وفلان عشرۃ کل شھر ماعاشا و اجازت الورثۃ یقسم المال بین الموصی لہ بخمسۃ و الموصی لھما بعشرۃ نصفین فیوقف نصف المال علی صاحب الخمسۃ والنصف علی صاحبی العشرۃ لان الموصی لہ بالخمسۃ موصی لہ بجمیع المال وصیۃ واحدۃ و الموصی لھما بجمیع المال وصیۃ واحدۃ فکانہ اوصی لھذا بجمیع المال ولھما بجمیع المال فیقسم المال بینھم نصفین عندالکل وان لم تجز الورثۃ یقسم الثلث نصفین عندالکل کذا فی المحیط اھ مختصرا۔ ہندیہ میں ہے کسی شخص نے وصیت کی کہ فلاں شخص پر جب تك وہ زندہ رہے پانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اورفلاں اور فلاں شخص پرجب تك وہ دونوں زندہ رہیں دس درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اوروارثوں نے اس کی اجازت دے دی تومال اس شخص کے درمیان جس کے لئے پانچ درہم کی وصیت کی گئی اوران دونوں کے درمیان جن کے لئے دس درہموں کی وصیت کی گئی نصف نصف تقسیم کیاجائے گاچنانچہ نصف مال پانچ درہم والے کے لئے اور نصف دس درہم والوں کے موقوف رکھاجائے گااس لئے کہ جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی اس کے لئے تمام مال کے ساتھ ایك وصیت کی گئی اورجن دوکے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی ان کے لئے بھی تمام مال کے ساتھ ایك وصیت کی گئی گویا کہ موصی نے اس کے لئے تمام
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۹€
صرف تین ہزاراس لئے کہ تجہیزوتکفین توحاجات اصلیہ سے ہے اوردین مہربھی مقدم تو ان کے وصایا کے مرتبے میں یہی تین ہزاررہے۔
فی العقود الدریۃسئلت عن رجل اوصی بالف یخرج منھا تجھیزہ وکتفینہ والباقی منھا لعمل میراث و اوصی بخمسمائۃ لزیدوبمثلھا لعمارۃ مسجد کذا و بمثلہ لعمارۃ مسجد کذا ایضا ولہ مملوك قیمتہ خمسمائۃ ایضا اعتقہ منجزافی مرض موتہ واوصی لہ بالف و خمسمائۃ وخمسین وبلغ ثلث ترکتہ ثلثۃ الاف وثمان مائۃ وبلغت نفقۃ تجھیزہ ثلثمائۃ فکیف تقسم فاجبت کلفۃ التجھیز الشرعی من اصل المال فکانہ استثناھا من الالف فیکون الباقی من الالف لعمل المیراث سبعمائۃ وتصیر جملۃ الوصیۃ اربعۃ الاف و مائتین وخمسین وقد ضاق الثلث العقودالدریہ میں ہے مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس نے ہزاردرھم کی وصیت کی کہ اس میں سے اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے اورباقی نیك کاموں پرخرچ کیاجائے اوراسی نے زیدکے لئے پانچسودرہم اورفلاں مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ سودرہم اورمزید فلاں مسجد کی تعمیرکے لئے بھی پانچ سودرہم کی وصیت کی۔اوراس کاایك غلام تھا اس کی قیمت بھی پانچسودرہم تھی جس کو اس نے اپنی مرض موت میں بطور تنجیزآزاد کردیا اوراس کے لئے ایك ہزارپانچ سو پچاس درہم کی وصیت کیاوراس کے ترکہ کاتہائی حصہ تین ہزارآٹھ سوتك پہنچااوراس کی تجہیزوتکفین کاخرچ تین سو تك پہنچا تواب اس کی وصیت کیسے تقسیم کی جائے گی میں نے اس کاجواب دیا شرعی تجہیزوتکفین کاخرچ اصل مال سے ہوگا گویا اس نے ہزارمیں سے اس کومستثنی کیاہے تو اس طرح نیك کاموں پرخرچ کرنے کے لئے ہزار میں سے سات سودرہم باقی بچےاور اس کی وصیت کا مجموعہ چارہزار دوسوپچاس ہواجوترکہ کے تہائی حصہ میں سے نہیں نکل سکتا۔چنانچہ وصیت صرف مال
پھرسب میں پچھلی وصیت ہے کہ وصیان مذکور ہرماہ محتاجوں کواس قدرخیرات دیاکریں جونظرمیں مناسب آئے دوبارہ کل مال کی وصیت ہے کہ اس کی تعیین مقدارمیں اگرچہ اوصیاء کواختیار دیاہے اوریہ اختیارصحیح اورایسی وصیت جائز ہے۔
کما اذا اوصی بجزء اوسھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم کما فی الدر المختار وعامۃ الاسفار وفی ردالمحتار عن التبیین لانہ مجھول یتناول القلیل والکثیر والوصیۃ لاتمتنع بالجھالۃ و الورثۃ قائمون مقام الموصی فکان الیھم بیانہ اھ قلت فالوصی المفوض الیہ بنص الموصی اولی بذلك کمالایخفی۔ جیسے کسی شخص نے اپنے مال میں سے ایك جزیا ایك سہم کی وصیت کی تواس کابیان وارثوں کے ذمے ہوگا انہیں کہاجائے گاکہ جوکچھ رقم تم چاہو اس کودے دوجیساکہ درمختاراورعام کتابوں میں ہے۔ردالمحتارمیں تبیین کے حوالے سے منقول ہے کیونکہ وہ مجہول ہے قلیل وکثیر دونوں کوشامل ہے اور وصیت بسبب جہالت کے ممنوع نہیں ہوتی اوروارث موصی کے قائم مقام ہوتے ہیں لہذا اس کابیان انہیں کوسونپاجائے گا الخ میں کہتاہوں کہ وہ وصی اس کازیادہ حقدارہے جس کے سپرد معاملہ موصی کی نص سے ہواہے جیساکہ پوشیدہ نہیں (ت)
مگریہ کوئی مقدار تجویزکریں آخرکچھ نہ کچھ ماہوارکی وصیت ہوگی اوروہ بلاتفرقہ کثیروقلیل مطلقا جمیع مال کی وصیت ہے
کما علمت انفا عن العلمگیریۃ وفیھا ایضا عن المبسوط لواوصی بان ینفق علیہ خمسۃ دراھم کل شھرمن مالہ فانہ یحبس جمیع الثلث لینفق علیہ منہ کل جیساکہ عالمگیریہ کے حوالہ سے ابھی ابھی توجان چکا ہےاسی میں بحوالہ مبسوط ہے کہ اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے فلاں پرپانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں تواس کے ترکہ کا ایك تہائی حصہ پورا روك لیاجائے گاتاکہ اس میں سے موصی
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۴€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۹€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع فی الوصیۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۸€
توحاصل یہ ٹھہراکہ زیدنے اپنے کل مال کی وصیت اس مسجد کے لئے کی اورنیزکل کی وصیت فقرأ کوماہوار کے لئے اوران کے علاوہ پانسوروپے مطلقا فقراء یاخاص فقراء مسافرین کواوردینے کہے اور ڈھائی ہزار ان اشخاص معلومین کووصیۃ دئیے جملہ اموال وصایا دوبار جمیع مال اورتین ہزار روپے ہوئے پر ظاہر کہ کل مال بھی ان وصایا کے نصف کی بھی گنجائش نہیں رکھتا تواب اس کے دریافت کی حاجت ہوگی کہ ان میں کون کون وصیت کس کس حد پر نفاذپائے گی کتنا کتنا ہروصیت میں دیاجائے گا کون سی وصیت بوجہ ازحجیت تقدیم پائے گی کونسی مرجوح ٹھہرکرتاخیرکردی جائے گی اس کاحساب صحیح بتانے کے لئے یہ جانناضرورکہ کل مال بعد تجہیز وتکفین مسنون وادائے دیون کی مقدار کس قدرہے میت نے ترکہ میں زرنقد کتناچھوڑا جائداد منقولہ وغیر منقولہ متروکہ خالصہ یعنی بعد تجہیزوتکفین وقضائے دیون کی قیمت بازار کے بھاؤ سے کیاہے وارثوں میں بالغ کتنے ہیں ان میں کون کون کس کس وصیت کو کس حدتك جائزرکھتاکون کون اجازت نہیں دیتاہے ان امور سے سوال میں کچھ مذکورنہیں نہ سائل نے اس بحث سے استفسارکیالہذا ہم بھی مطوی وملتوی رکھیں اگر دریافت منظورہو امورمسطورہ بتفصیل تام بتاکر سوال کیاجاسکتاہے۔
جواب سوال چہارم: تقسیم عبادات ومعاملات میں عبادات سے مطلقا حقوق اﷲ مراد ہوتے ہیں خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے ارکان اربعہ یاقربات محضہ جیسے عتق ووقف حتی کہ نکاح بھی خواہ عبادت یاقربت مع معنی عقوبت جیسے کفارات اورمعاملات حقوق العباد ہیں مثل بیع واجارہ وہبہ واعارہ وغیرہ اوریہاں نظرمقصود اصل کی طرف ہے اصل مقصود تقرب الی اﷲ ہے تو عبادت ہے یامصالح عباد تومعاملہ
فاجتماعھما کما فی النکاح لایقدح فی التقسیم وقدتکفل ببیان کل ذلك فی ردالمحتار صدر ان دونوں کااجتماع جیساکہ نکاح میں ہے تقسیم میں مانع نہیںتحقیق اس تمام کے بیان کی ردالمحتار میں کتاب البیوع کے آغاز پرکفالت
پھروصیت دوقسم ہےایك تملیك مثلا زید یاعمرویاابنائے فلاں وغیرہم معین ومحصور اشخاص کے لئے یہ صورت اغنیاء وفقراء سب کے لئے ہوسکتی ہےصورت اولی معاملات سے ہے مثل ہبہ اورثانیہ عبادات سے مثل صدقہدوسری قربت بلاتملیك مثل وصیت بوقف وعتق ودیگر اعمال پھروصیت برائے ارباب حاجت غیرمحصورین بوجہ عدم انحصار تملیك نہیں ہوسکتی یہ صرف قربت وازقبیل عبادات ہے۔
یرشدك الی ھذا ماقدمنا عن الدر من الاصل فی الوصیۃ الخ وفی الھندیۃ عن المحیط عن فتاوی الامام ابی اللیث فیما لواوصی بثلث مالہ لاعمال البر ان کل مالیس فیہ تملیك فھو من اعمال البرحتی یجوز صرفہ الی عمارۃ المسجد وسراجہ دون تزیینہ الخ ومسائل الباب اکثر من ان تحصی۔ اقول: وبہ ظھران ماذکر فی عامۃ الکتب فی حد الوصیۃ انھا تملیك مضاف الی مابعد الموت علی وجہ التبرع فھو تحدید لہ باعتبار احدنوعیہ والحد الجامع ما قدمنا عن النتائج عن النھایۃ عن اس کی طرف تیری رہنمائی کرتی ہے وہ بات جو درکے حوالے سے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی وصیت میں اصل یہ ہے الخ اورہندیہ میں بحوالہ فتاوی امام ابواللیث محیط سے منقول ہے اس صورت کے بارے میں کہ اگرکسی نے نیك کاموں کے لئے اپنے مال کے تہائی کی وصیت کی یہ کہ جس میں تملیك نہ ہو وہ نیك کاموں میں سے ہے یہاں تك کہ اسے مسجد کی تعمیر اورچراغ کے لئے خرچ کرنا جائزہے نہ کہ اس کی زیب و زینت کے لئے الخ اس باب کے مسائل شمار سے زائدہیں۔میں کہتا ہوں اوراس سے ظاہرہوگیا وہ جوعام کتابوں میں وصیت کی حد یعنی تعریف کے بارے میں مذکور ہے کہ بے شك وصیت ایسی تملیك ہے جوموت کے مابعد کی طرف بطور تبرع منسوب ہوتی ہےیہ وصیت کی تعریف اس کی دو نوعوں میں سے ایك کے اعتبارسے ہوئی اورجامع تعریف وہ ہے جسے ہم نتائج سے
بالجملہ مطلق وصیت نہ عبادات سے ہے نہ معاملات سے بلکہ دونوں میں داخل دونوں کوشامل۔
اولا جواب سوال سوم میں معلوم ہولیا کہ یہاں سرے سے استثناء ہی نہیں۔ثانیا ہو بھی توقول صحیح ومعتمد ظاہرالروایۃ یہی ہے کہ ارطال معلومہ کااستثناء بیع میں بھی روا۔ہدایہ میں بعد عبارت مذکورہ سوال ہے:
لان الباقی بعدالاستناء مجھول قال رضی اﷲ تعالی عنہ قالوا ھذا روایۃ الحسن وھو قول الطحطاوی اما علی ظاھرالروایۃ ینبغی ان یجوز لان الاصل ان ما یجوزا یرادالعقد علیہ بانفرادہ یجوز استثناہ من العقد وبیع فقیرمن صبرۃ جائزفکذا استثنائہ بخلاف استثناء الحمل واطراف الحیوان لانہ لا یجوز بیعہ فکذا استثناءہ اھ باختصار۔ کیونکہ استثناء کے بعد باقی مجہول ہے۔مصنف رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہاعلماء نے کہاہے کہ یہ روایت امام حسن کی ہے اور وہی طحاوی کاقول ہے۔لیکن ظاہرالروایۃ پر اس کوجائز ہونا چاہئے اس لئے کہ ضابطہ یہ ہے جس شیئ پربطور انفراد عقدکا واردہونا جائزہو عقد سے اس کااستثناء بھی جائزہوتاہے۔ڈھیر میں سے ایك بوری کی بیع جائزہے تواسی طرح اس کااستثناء بھی جائزہوگا بخلاف حمل اورجانورکے اجزاء کےکیونکہ ان کی بیع جائزنہیںاسی طرح ان کااستثناء بھی جائزنہیں اھ (اختصار) (ت)
تنویرالابصارمیں ہے:
ماجاز ایراد العقد علیہ بانفرادہ صح استثناؤہ منہ فصح استثناء ارطال معلومۃ من بیع ثمر نخلۃ۔ جس پربطورانفراد عقدکاواردکرنا جائزہے اسکا استثناء بھی عقد سے جائزہے۔چنانچہ درخت کے پھل کی بیع سے معین رطلوں کااستثناء صحیح ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹€
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ(علی ظاھر)متعلق بقولہ فصح ومقابل ظاھرالروایۃ الحسن عن الامام انہ لایجوز واختارہ والطحاوی والقدوری لان الباقی بعدالاستثناء مجہول۔ ماتن کاقول"علی ظاھر"اس کے قول"فصح"سے متعلق ہے اور ظاہر الروایت کے مقابلے میں حسن کاقول ہے جوامام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے منقول ہے کہ یہ استثناء جائزنہیں ہے۔ اسی کواختیارکیاہے امام طحاوی اورقدوری نےکیونکہ استثناء کے بعد جوبچتاہے وہ مجہول ہے۔(ت)
ثالثا بیع میں عدم جوازہی معتمدسہی تواس کادائرہ بہت تنگ ہے اوروصیت کاباب نہایت وسیع۔ابھی سن چکے کہ بیع حمل ناجائزہے اوروصیت بالحمل قطعا روا۔
فی الدرصحت للحمل وبہ کقولہ اوصیت بحمل جاریتی اودابتی ھذہ لفلان۔ درمیں ہے کہ حمل کے لئے وصیت اورحمل کے ساتھ وصیت صحیح ہے جیسے موصی کایوں کہناکہ میں نے اپنی اس لونڈی یا اس جانور کے حمل کی فلاں شخص کے لئے وصیت کی۔(ت)
بیع شروط فاسدہ سے فاسد ہوتی ہے اوروصیت پران کاکچھ اثرنہیںولہذا بیع کنیز سے استثناء حمل روانہیں اوروصیت سے صحیح۔
فی الہدایۃ اشتری جاریۃ الاحملھا فالبیع فاسد لانہ بمنزلۃ اطرف الحیوان لاتصالہ بہ خلقۃ وبیع الاصل یتناولھا فالاستثناء ہدایہ میں ہے کسی شخص نے لونڈی خریدی مگراس کا حمل نہ خریدا توبیع فاسدہے کیونکہ حمل حیوان کے اعضاء کی مثل ہے اس لئے کہ حمل خلقی طورپرحیوان کے ساتھ متصل ہے اور اصل کی بیع اس کو
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۱€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۸€
جہالت بیع میں مفسد ہے اور وصیت کومضرنہیں کماقدمنا عن الشامی عن الزیلعی(جیساکہ ہم شامی سے بحوالہ زیلعی پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت)اوربیع میں استثنائے ارطال معلومہ سے روایت فساد کی علت یہی جہالت تھی کما سمعت عن الھدایۃ وردالمحتار ومثلہ فی الفتح وغیرہ(جیساکہ توہدایہ اورردالمحتارسے سن چکاہے اوراسی کی مثل فتح وغیرہ میں ہے۔ت) تو وصیت کااس پرقیاس کھلامع الفارق ہے۔
رابعا علت منع یہی سہی کہ شاید اتنے ہی رطل پیداہوں تویہ بھی وصیت میں اصلا خلل اندازنہیں
کما اسلفنا عن الھندیۃ عن المحیط من قولہ وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین۔ جیساکہ ہم ہندیہ سے بحوالہ محیط اس کایہ قول ذکرکرچکے ہیں کہ بسا اوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔(ت)
خامسا: وقت محاصل وغلہ قری وبساتین وغیرہا کی صحت وصیت میں شبہ نہیں کتب فقہ میں اس کے لئے باب جداگانہ موضوع اور شك نہیں کہ ان اشیاء پرجومحصول جانب سلطنت سے معین ہوتاہے وہ عرفا معلوم الادا ومعہودالاستثناء ہے والمعھود عرفا کالمشروط لفظا(جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ اس کی مثل ہوتاہے جو لفظ کے اعتبارسے مشروط ہو۔ت) توجو استثناء بے ذکرکئے خودہی مذکورہے اس کی تصریح کیامفسد ہوسکتی ہے وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۸€
الاتری ان البیوع الفاسدۃ محرمۃ وتفید الملك فاذا جامع الملك الحرمۃ فمابالك بالکراھۃ۔ کیاتونہیں دیکھتاکہ بیوع فاسدہ حرام ہیں اورملك کافائدہ دیتی ہیں۔جب ملك حرمت کے ساتھ جمع ہوگیا توکراہت کے ساتھ جمع ہونے میں تیراکیاخیال ہے۔(ت)
اورمنافی قربت بھی صرف اس صورت میں ہے کہ شیئ فی نفسہ مکروہ ہو اوریہ جبھی ہوگا کہ وہ اصلا نوع قربت سے نہ ہو
فان الندب والکراھۃ متنافیان لایسوغ اجتماعھما من جھۃ واحدۃ۔ کیونکہ ندب اورکراہت آپس میں متنافی ہیں لہذا ایك ہی جہت سے ان کا اجتماع جائزنہیں(ت)
بخلاف کراہت عارضی کہ زنہارمنافی قربت نہیں ہزارجگہ ہوتاہے کہ شیئ فی نفسہ قربت ہو اوراسے خارج سے کراہت عارض جیسے آستین چڑھائے ہوئے نمازپڑھناعلماء نے کراہت ومعصیت سے بطلان وصیت پرصرف دوصورت خاصہ میں استثناء کیا ہے جہاں تملیك نہیں اورفعل فی نفسہ مکروہ ہےحاصل استدلال یہ کہ یہاں تملیك نہ ہونا تو ظاہراوراس ظہور ہی کے باع یہ مقدمہ مطوی فرما جاتے ہیںرہی قربت وہ یوں نہیں ہوسکتی کہ فعل خودمکروہ ہے اورایسا مکروہ قربت نہیں ہوسکتا تو دونوں نوع وصیت منتفی ہوئیں اوربطلان لازم آیا
فان انتفاء الاقسام باسرھا قاض بانتفاء المقسم راسا۔ تمام اقسام کامنتفی ہونا مقسم کے منتفی ہونے کاتقاضا کرتا ہے۔(ت)
بخلاف دوصورت باقی اعنی صورت تملیك وصورت قربت ذاتی وکراہت عارضی کہ ان میں ہرگزکراہت سے بطلان پرحجت نہیں پاتے بلکہ صراحۃ صحت وصیت ارشاد فرماتے ہیں تینوں صورتوں کے شواہدلیجئے:
صورت اولی:کی دو۲مثالیں یہی ضرب قبہ وتطیین قبرہیں یعنی جب بہ نیت تزیین ہوکہ اپنی قبرکو مزین کرانا فی نفسہ نوع قربت سے نہیں بخلاف اس صورت کے کہ بقائے نشان مقصود ہوکہ یہ فعل شارع صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سے معہود۔
اس سے نفع وانتفاع میت زائرین حاصل یہ مقصدمحمود ہے اور ہرمقصد محمودقربات میں معدود۔درمختارمیں زیرعبارت مذکورہ سوال ہے:
قدمنا فی الکراھیۃ انہ لایکرہ تطیین القبور فی المختار الخ زادفیھا وفی الجنائزعن السراجیۃ لاباس بالکتابۃ ان احتج الیھا حتی لایذھب الاثر و لایمتھن ۔ ہم باب الکراہیۃ میں ذکرکرچکے ہیں کہ قول مختارمیں قبروں کی لپائی مکروہ نہیں الخ اسی کے باب الجنائز میں بحوالہ سراجیہ یہ اضافہ کیاکہ قبرپرلکھنے کی اگرضرورت ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں تاکہ س کانشان نہ مٹے اوراس کی توہین نہ کی جائے۔(ت)
خانیہ میں ہے:
اوصی بعمارۃ قبرہ للتزیین فھی باطلۃ۔ زینت کے لئے قبر پرعمارت کی وصیت کی تو یہ وصیت باطل ہے۔(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳€۰
الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۔۱۲۵،€الفتاوی السراجیۃ کتاب الجنائز باب الدفن ∞مطبع نولکشورلکھنؤ ۲€۴
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مایکون وصیۃ ∞مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۳۶€
بزازیہ میں ہے:
عمارۃ القبران لتحصین یجوز وان لتزیین فالوصیۃ ایضا باطلۃ ویصرف الکل الی الفقراء۔ قبر کی عمارت اگرحفاظت کے لئے ہے تو وصیت جائزہے اور اگرزیبائش کے لئے ہے تو ناجائزوباطل ہے۔لہذا وہ سب مال فقراء پرخرچ کیاجائے گا۔(ت)
مثال سوم:وصیت کی کہ اسے ٹاٹ کاکفن دیں اورگلے میں طوق پاؤں میں بیڑیاں ڈال کردفن کریں یہ امرنامشروع کی وصیت ہے مقبول نہ ہوگی اوربطورمشروع دفن کریں گے۔
فتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۹€
مثال چہارم:وصیت کی کہ مجھے میرے گھرمیں دفن کریں باطل ہے کہ یہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص اورامت کے حق میں نامشروع ہےخلاصہ وبزازیہ وتاتارخانیہ وہندیہ وغیرہ میں ہے:
واللفظ للثالثۃ اوصی بان یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الا ان یوصی ان یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین ۔ لفظ تیسری کتاب یعنی تاتارخانیہ کے ہیں۔اگر کسی نے وصیت کی اس کو اپنے گھرمیں دفن کیاجائے تو وہ وصیت باطل ہوگی سوائے اس کے وہ یوں کرے کہ اس کے گھر کو مسلمانوں کے لئے قبرستان بنادیاجائے۔(ت)
صورت ثانیہ: یعنی وصیت تملیك باوصف کراہت صحیح ہے اس کی ایك سند وہی ہے جو سوال میں بحوالہئ شامی مسطورکہ فساق کے لئے وصیت مکروہ ہے اورباوجودکراہت صحیح سنددوم۔ وجیزامام کردری میں ہے:
الثانی معصیۃ مطلقا کالوصیۃ للنائحۃ والمغنی ان لم یکن یحصون لایصح وان لقوم باعیانھم صح ۔ دوسری مطلقا گناہ ہے جیسے نوحہ کرنے والی عورت اورگویے کے لئے وصیت۔اگروہ قابل شمار نہ ہوئے توصحیح نہیں اور معین قوم کے لئے توصحیح ہے۔(ت)
تبیین الحقائق پھرردالمحتارمیں ہے:
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹€۵
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۶€
یہ کیسے نصوص صریحہ ہیں کہ وصایائے تملیك اگرچہ معصیت ہوں صحیحہ ہیں۔سند سوم کافرحربی کے لئے وصیت باوصف ممانعت صحیح ونافذ ہے۔
مطلقا علی ما اختارہ الائمۃ الجلۃ طاھر بن عبد الرشید البخاری و الامام السغناقی اول شراح الھدایۃ والامام النسفی صاحب الکنز والوافی و الامام حافظ الدین البزازی اوبشرط الاستیمان علی مامشی علیہ فی الغرر الدرر والتنویر والدر و اجعلہ فی الخانیۃ اجماعا وفی المقام تحقیق انیق اتینابہ فیما علقنا علی ردالمحتار لولاغرابۃ المقام لاسعفنابہ۔ بغیر کسی طرط کے جیساکہ بزرگ ائمہ کرام یعنی طاہرین عبد الرشیدبخاریہدایہ کے شارح اول امام سغناقیکنزو وافی کے مصنف امام نسفی اورامام حافظ الدین برازی نے اختیارکیا یامستامن ہونے کی شرط کے ساتھ جیساکہ غرردررتنویر اوردرمیں اس کو اپنایاہے۔اس مقام پر نہایت عمدہ تحقیق ہے جس کو ہم نے رد المحتار پراپنی تعلیق میں ذکرکیاہے۔ اگر مقام کی اجنبیت نہ ہوتی تو ہم اس کو یہاں ذکرکرتے۔(ت)
خلاصہ ونہایہ وکافی ووجیزمیں ہے:
واللفظ للاولالوصیۃ لاھل الحرب باطلۃوفی السیر الکبیر مایدل علی الجواز والتوفیق بینھما انہ لاینبغی ان یفعل ولوفعل یثبت الملک۔ اورلفظ پہلی کتاب کے ہیں کہ اہل حرب کے لئے وصیت باطل ہے اورسیرکبیرکی عبارت جواز پردلالت کرتی ہے۔ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اہل حرب کے لئے وصیت نہ کرنی چاہئے لیکن اگرکردے توملك ثابت ہوجائے گا۔(ت)
صورت ثالثہ:یعنی وصیت قربت صحیح ہے اگرچہ نظر بخارج کراہت ہواس کے دلائل وہ تمام مسائل ہیں جن میں قربت کے لئے ثلث سے زائد وصیت کوصحیح مانا اورورثہ اجازت دیں توپوری مقدار
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا جنس آخرفی الفاظ الوصیۃ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۳۰
فیضاران الوصیۃ ای یوصلان الضرر الی الوار بسبب الوصیۃ للاجنبی باکثر من الثلث الخ۔ وہ دونوں وصیت میں ضرر پہنچائیں یعنی اجنبی کے حق میں تہائی سے زائد کی وصیت کرکے وارث کونقصان پہنچائیں الخ(ت)
جلالین میں زیرآیت ہے:
(اواثما)بان تعمد ذلك بالزیادۃ علی الثلث او تخصیص غنی مثلا۔ (یاگناہ کیا)بایں صورت کہ تہائی سے زائد کا قصد کیایاغنی کو وصیت کے ساتھ مختص کیا(ت)
مگر ازانجاکہ فعل فی نفسہ قربت اورمنع بوجہ عارضی یعنی تعلق حق ورثہ ہے باطل نہ ہوئی ورنہ اجازت ورثہ سے بھی نافذنہ ہوسکتی۔
فان الباطل لاوجود لہ والمعدوم لاینفذ بالتنفیذ۔ کیونکہ باطل کاکوئی وجودنہیں ہوتااورمعدوم کسی کے نافذ کرنے سے نافذنہیں ہوتا(ت)
میں ایں وآن سے استدلال کرتاہوں قرآن عظیم دلیل اکبرہے کہ وصیت باوصف ظلم ومعصیت صحیح ومعتبرہے۔
قال اﷲ عزوجل " فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینہم فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیم﴿۱۸۲﴾ "۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا)جوکسی کی وصیت میں ظلم یاگناہ پراطلاع پائے پس ورثہ اورموصی لہم میں صلح کرادے تواس پر گناہ نہیں بے شك اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
وصیت بحال کراہت اگرباطل ہوتی توباطل پر صلح کے کیامعنی تھے اوروہ موصی لہم کیوں قرارپاتے۔معالم میں ہے:
قال الاخرون انہ اراد بہ انہ دوسروں نے کہا اس سے مرادیہ ہے کہ جب
تفسیرجلالین تحت آیت ∞۲ /۱۸۲€ اصح المطابع الدھلی النصف الاول ∞ص۲۶€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۲€
ثم اقول وباﷲ التوفیق(پھرمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)سراس میں یہ ہے کہ شرع مطہرکسی حرکت لغو وبے معنی کومشروع ومقررنہیں فرماتی تمام عقود وافعال ومعاملات کی صحت فائدے پراعتماد رکھتی ہے فائدہ خواہ دوسرے کاہو اگرچہ محض دنیوی خواہ اپنااگرچہ صرف اخروی اور جوعبث محض ہے ہرگزصحیح نہیں ولہذا ایك روپیہ اسی کے مثل وہمسردوسرے روپے کے بدلے بیچنا یامکان کے مساوی شرکائے مشاع کا اپناحصہ دوسرے کے حصے سے بدلنا یاکسی کی سکونت کو سکونت کے عوض اجارہ میں دیناصحیح نہ ہوا۔درمختارمیں ہے:
خرج بمفید مالایفید فلایصح بیع درھم بدرھم استویا وزنا وصفۃ ولامقایضۃ احدالشریکین حصۃ دارہ بحصۃ الاخر(صیرفیہ)ولااجارۃ السکنی بالسکنی اشباہ ۔ مفید کی قید سے غیرمفید نکل گئی چنانچہ وزن وصفت میں برابر ایك درہم کی دوسرے درہم کے بدلے بیع صحیح نہیں اورنہ ہی ایك مکان کے دوبرابر شریکوں میں سے ایك کا دوسرے سے اپنے حصے کاتبادلہ صحیح ہے(صیرفیہ)اور سکونت کے بدلے سکونت کواجارہ پردیناصحیح نہیں(اشباہ)۔(ت)
خصوصا وہ عقود جوبرخلاف قیاس بنظرحاجات ناس مشروع ہوئے وہ توحاجت پرہی اعتماد کیاچاہیںولہذا نا قابل سواری بچھڑے کاسواری کے لئے اجارہ جائزنہ ہواکہ قیاس جوازاصل اجارہ کانافی اورداعی جوازیعنی حاجتبوجہ عدم قابلیت یہاں منتفی۔
فی الفتح من باب العنین لم یجز استئجارالحجش للحمل فتح کے باب العنین میں ہے سواری کی صلاحیت نہ رکھنے والے بچھیرے کوسواری اورباربرداری
الدرالمختار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲€
وصیت بھی انہیں عقودمجوزہ للحاجہ سے ہے۔
فی الہدایۃ القیاس یابی جوازھا لانہ تملیك مضاف الی حال زوال مالکیتہ ولو اضیف الی حال قیامھا بان قیل ملکتك غدا کان باطلا فھذا اولی الا اناستحسناہ لحاجۃ الناس الیھا الخ۔ ہدایہ میں ہے قیاس تواس کے جوازسے مانع ہے کیونکہ وصیت ایسی تملیك ہے جوموصی کی مالکیت کے حال زوال کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اگراس کی نسبت اس حالت کی طرف کی جائے جب مالکیت قائم ہوتی ہے یعنی یوں کہاجائے میں نے تجھے آئندہ کل اسی کامالك کردیاتو یہ باطل ہوگی۔چنانچہ بطلان مالکیت والی حالت میں اس کا بطلان بدرجہ اولی ہوگا مگرہم نے بطوراستحسان اس کو جائزقراردیاکیونکہ لوگوں کواس کی حاجت ہے الخ(ت)
توبے فائدہ محض اس کی تشریع معقول نہیں حالت تملیك وافعال قربت میں حصول فائدہ ظاہر اورمعصیت عارضہ غایت یہ کہ مثل بیع وقت اذان جمعہ یانماز عصروقت زردی فرض کردے منافی صحت نہیں ہوسکتی بخلاف اس صورت کے کہ نہ تملیك نہ سرے سے قربتایسی ہی جگہ کہاجائے گاکہ وصیت امرمکروہ ونامشروع کی ہےلہذا صحیح نہیں کہ موجب صحت یعنی حاجت معدوم ہے معہذا ہم اوپرواضح کرآئے کہ وصیت ایجاب ہے اورایجاب لحق وغیرہ ہو جیسے تملیك میں یا لحق نفسہ جیسے قربات میں جہاں کوئی نفع نہیں ایجاب کیوں ہونے لگا۔
فی الہندیۃ عن المحیط لواوصی بان یباع عبدہ ولم یسم المشتری لایجوز الا ان یقول وتصدقوا بثمنہ اویقول بیعوہ نسیۃ ویحط الی الثلث عن المشتری الخ وفیھا عن المبسوط اوصی بعبدہ ان یباع ولم یزد علی ہندیہ میں محیط سے منقول ہے اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کاغلام بیچ دیاجائے اورخریدارکومتعین نہیں کیا توجائزنہیں مگر یہ کہ یوں کہے کہ اس کی قیمت کو صدقہ کردو یاکہے کہ اس کو ادھار پربیچ دو اورمشتری سے تہائی تك قیمت کم کردے الخ اور اسی میں بحوالہ مبسوط ہے کسی نے اپنے غلام کے
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۰€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۶€
بحمداﷲ اس تحقیق انیق نے کوئی دقیقہ تدقیق فروگزاشت نہ کیا۔علامہ شامی کاکلام مذکوربھی بطرف خفی اسی تقریر منیرکی طرف مشیر۔
حیث قال اللھم الا ان یفرق بان الوصیۃ اما صلۃ اوقربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت بخلاف الوصیۃ لفاسق فانھا صلۃ لھا مطالب من العباد فصحت وان لم تکن قربۃ کالوصیۃ لغنی لانھا مباحۃ ولیست قربۃ الخ۔ جہاں شامی نے کہا اے اﷲ! مگریہ کہ یوں فرق کیاجائے کہ بیشك وصیت یاتوصلہ ہوتی ہے یاقربت حالانکہ یہ ان دونوں میں سے نہیں ہے چنانچہ باطل ہوجائے گی بخلاف اس وصیت کے جوفاسق کے لئے ہو اس لیے کہ وہ صلہ ہے اوربندوں میں سے کوئی اس کامطالبہ کرنے والاموجودہے چنانچہ وہ صحیح ہوگی اگرچہ وہ قربت نہیں جیسے غنی کے لئے وصیتکیونکہ وہ مباح ہے اور قربت نہیں ہے الخ(ت)۔
اب مانحن فیہ کودیکھئے تواس میں وصایائے تملیك ہیں یاوصایائے قربت کوئی وصیت ایسی نہیں جوفی نفسہ ان دونوں سے خالی ہو تو وجہ مذکورسے اس کے بطلان پراستدلال باطل وعاطل ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(ایسے ہی تحقیق چاہئے اوراﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے۔ت)
جواب سوال ہفتم:اوصیاء کابعض وصایا بجانہ لانا وصیت میں کیاخلل ڈال سکتاہے تنفیذوصیت حق موصی لہ یاصرف حق موصی ہے اوروہ ان کے گناہ سے بری۔
قال اﷲ تعالی" فمن بدلہ بعدما سمعہ فانما اثمہ علی الذین اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:توجووصیت کوسن سناکربدل دے اس کاگناہ انہیں بدلنے
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۴۱€
جواب سوال ہشتم:ہاں بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون وانفاذ وصایا جوسہام ورثہ نا بالغین کوپہنچیں گے وصی بلاوجہ شرعی ان کی بیع وتبدیل اورکسی فعل مخالف حفظ کامجازنہیں کہ وصی محافظ ہے نہ متلف ولہذا ان کی جائداد منقولہ کوبیچ سکتاہے کہ س کی بیع ازقبیل حفظ ہے جبکہ یتیم کا اس میں ضرر نہ ہو اورغیرمنقولہ کوہرگزنہیں بیچ سکتامگرچندصوراستثناء میں۔
فی الہندیۃللوصی ان یبیع کل شیئ الترکۃ من المتاع و العروض والعقاراذا کانت الورثۃ صغارا اما بیع ما سوی العقار فلان ماسوی العقار یحتاج الی الحفظ و عسی ان یکون حفظ الثمن ایسر وبیع العقار ایضا فی جواب الکتابقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ ماقال فی الکتاب قول السلف کذا فی فتاوی قاضی خانوجواب المتاخرین انہ انما یجوز بیع عقار الصغیر اذاکان علی المیت دین ولاوفاء لہ الامن ثمن العقار اویکون للصغیر حاجۃ الی ثمن العقار او یرغب المشتری فی شراءہ بضعف القیمۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الکافی اھوفی الدر ہندیہ میں ہے وصی کو اختیارہے کہ وہ ترکہ کی ہرشیئ کو فروخت کرے چاہے وہ اسباب وسامان کے قبیلہ سے ہویاغیر منقول جائداد جبکہ ورثاء نابالغ ہوں۔غیرمنقولہ جائداد کے ما سوا کی بیع تواس لئے جائزہے کہ اس کی حفاظت کی خاطر اس کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ ثمنوں کی حفاظت زیادہ آسان ہو اورکتاب کے حکم کے مطابق غیرمنقول جائداد کی بیع بھی جائز ہے۔شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نے کہاکہ کتاب میں جو کہاہے وہ اسلاف کاقول ہےیونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ اورمتأخرین نے اس کا حکم یہ بیان کیاہے کہ نابالغ کی غیر منقول جائدادکو فروخت کرنا صرف اس صورت میں جائزہے جب میت پر اس قدرقرض ہوکہ وہ اس جائداد کی قیمت کے بغیر پورانہیں ہوتا یانابالغ کواس جائداد کی قیمت کی محتاجی ہویا خریداراس جائدادکودگنی قیمت پرخریدنے کی رغبت رکھتاہے فتوی اسی پرہے جیساکہ کافی میں ہے الخدرمیں ہے:
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۴۴€
_________________
رسالہ
الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیۃ(۱۳۱۷ھ)
ختم ہوا
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۳€
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مہاجرہ ہندی مدنی نے کہ اس کی جائداد ہندوستان میں واقع ہے اس طرح وصیت کی تھی کہ میری جائداد کامنافع ایك ثلث یہاں مدینہ منورہ علی صاحبہا افضل التسلیم والتحیۃ بھیج دیاجایاکرےاورصورت یہ ہے کہ ہندوستان میں اس کے بعض اقارب قریبہ بلکہ ذی رحم محرم حاجتمند ومفلس موجود ہیں کہ اس درجہ قریب رشتہ دارمدینہ منورہ میں موصیہ کے نہیں ہیںپس اس صورت میں اگر اس کی وصیت کاروپیہ یہاں ہندوستان میں اس کے اقربائے قریبہ حاجتمند ومفلس کودیاجائے تو وصیت اداہوگی یانہیں اورکیاافضل ہے مدینہ منورہ بھیجنایا یہاں قریب ذی رحم حاجتمند ومفلس کودینا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جہاں کے فقراء کودیں گے وصیت اداہوجائے گی کچھ خاص مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری نہیں ہرجگہ کے فقراء کودیناجائز ہے۔خلاصہ پھرشرنبلالیہ پھردرمختارمیں ہے:
لواوصی لفقراء بلخ فاعطی غیرھم جاز عند ابی یوسف وعلیہ الفتوی۔ اگر کسی نے وصیت کی بلخ کے فقیروں کے لئے۔اور وصی نے ان کے غیر کودے دیا توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك جائزہےاوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
شرح القدوری للزاہدی میں ہے:
فی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم ۔ کوفہ کے فقیروں کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیر کودیناجائزہے(ت)
قاضی خان پھرہندیہ میں ہے:
رجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء قال الشیخ الامام ابونصر رحمہ اﷲ کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے کچھ حاجی فقراء پرصدقہ کیاجائے توکیا ان کے غیرپرصدقہ کرناجائز ہے شیخ امام ابونصرعلیہ الرحمہ نے کہاکہ جائزہے کیونکہ امام ابویوسف
الدرالمختار بحوالہ المجتبٰی کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲€
ہاں افضل یہی ہے کہ مدینہ منورہ بھیجیں اتباعا للوصیۃ وخروجا عن الخلاف(وصیت کی اتباع کے لئے اوراختلاف سے نکلنے کے لئے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃالافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جاز وھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی وقال محمد لایجوز اھ قلت والاول موافق لقولھم فی النذر بالغاء تعیین الزمان والمکان والدرھم والفقیر۔ واﷲ تعالی اعلم عــــــہ ۔ خلاصہ میں کہا افضل یہی ہے کہ انہی پرخرچ کیاجائے اور اگران کے غیرکو دے دیاتو جائزہےیہی امام ابویوسف علیہ الرحمہ کاقول ہے اوراسی کے ساتھ فتوی دیاجاتاہے۔امام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ جائزنہیں الخ۔میں کہتاہوں پہلا قول مشائخ کے اس قول کے موافق ہے جونذرمیں زمان مکاندرھم اورفقیر کی تعیین کولغوقراردینے سے متعلق ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۷: ۱۱/جمادی الاولی ۱۳۱۹ ھ ازانجمن اسلامیہ بریلی
چندسوال متعلقہ انتظام یتیم خانہ مسلمانان پیش کئے جاتے ہیں بموجب شرع شریف جواب مرحمت ہوں خدااس کااجرعطا فرمائے
پہلاسوال:بعض لوگ میت وغیرہ کے استعمال کپڑے ایسے بھیج دیتے ہیں جوایتام کے جسم پر درست نہیں آتے یاان کے استعمال کے لائق نہیں ہوتےپس نادرست کوبعد قطع برید درست کراکے ایتام کے استعمال میں لانا اورناقابل استعمال کوفروخت کرکے یتیموں کی پرورش میں صرف کرناکیساہے
دوسراسوال:بعض لوگ کلام مجید جدید وغیرمستعمل متعدد اوربعض میت کے تلاوت کایتیم خانے
عــــــہ:الجواب اس عورت کی وصیت پر عمل واجب ہےاور وہ ثلث مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری ہے گوہندوستان کے فقراء اس جگہ کے فقرأ سے زیادہ ضرورت مند ہوں۔بندہ رشیداحمدگنگوہی عفی عنہ
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۶€
تیسراسوال:یتیم خانہ میں بعض لوگ میت کے استعمال کاپلنگ نواڑوغیرہ کاجویتیموں کی معمولی چارپائیوں سے بہت زیادہ قیمتی اورعمدہ ہوتاہے بدون کسی بیان کے بھیج دیتے ہیں اگر وہ بعض ایتام کے کام میں لایاجائے تو دوسروں کی دلشکنی ہوتی ہے لہذا اس کو فروخت کرکے قیمت دیگرمصارف ایتام میں دی جائے یاقیمت سے معمولی چارپائیاں یتیموں کے واسطے بنوادی جائیں توکیساہے
چوتھاسوال:جوچندہ کہ یتیموں کے مصارف کے لئے آتاہے اسی سے یتیم لڑکوں کی رسم ختنہ اور یتیمات کی رسم نکاح کی جاتی ہے پس نکاح میں جو براتی دولہا کی طرف سے آتے ہیں ان کوکھاناکھلانا زرمذکورہ سے کیساہے
الجواب:
مصحف شریفکپڑےپلنگ وغیرہ جوکچھ لوگ یتیموں کوبھیجتے ہیں ظاہرہے کہ اس سے مقصود تصدق ہوتاہے اورتصدق تملیك ہے۔
وھبۃ المشاع فیمالایقسم صحیحۃ وقبض من یعولھم یکفی عن قبضھم کمانصواعلیہ وجماعۃ المسلمین حیث لاولایۃ ولاقضاۃ من الاسلام کالقضاۃ فی النظر للایتام وامثال ذلك من المھام کما صرحوا بہ فی غیر مامقام۔ ناقابل تقسیم شیئ کاغیرمنقسم طورپرہبہ صحیح ہےاوریتیموں کے کفیلوں کاقبضہ ان کی طرف سے کافی ہے جیساکہ اس پر مشائخ نے نص فرمائیجہاں یتیموں کے ولی اورقاضی اسلام موجودنہ ہوں تووہاں یتیموں کی دیکھ بھال اوراس قسم کے دیگر اہم امورکے لئے مسلمانوں کی جماعت قاضیوں کے قائم مقام ہوتی ہے جیساکہ مشائخ نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی۔(ت)
توجماعت مسلمین کوکہ اس کام پرمعین ہیں رواہے کہ کپڑے قطع برید کرکے مصارف یتامی میں لائیں یاناقبل استعمال ملبوس اور پلنگ اورحاجت سے زائد مصاحف شریفہ ہدیہ وبیع کرکے زرثمن کاریتامی میں خرچ کریں مگرمال یتیماں دوسرے کو عاریۃ نہیں دے سکتے اگرچہ تلاوت کے لئے قرآن مجید فانہ تبرع ولاولایۃ فی التبرع(کیونکہ یہ تبرع ہے اورتبرع میں ولایت نہیں ہوتی۔ت)
فی ردالمحتار عن القنیۃ لایضمن ماانفق فی المصاھرات بین الیتیم والیتیمۃ وغیرھما فی خلع الخاطب اوالخطیبۃ وفی الفضیافات المعتادۃ والھدایا المعھودۃ وفی اتخاذ ضیافۃ لختنۃ للاقارب والجیران مالم یسرف فیہ اھ مختصرا۔واﷲ اعلم۔ ردالمحتارمیں بحوالہ قنیہ منقول ہے یتیم لڑکے اوریتیم لڑکی وغیرہ کی شادی کے موقع پر دولہا اوردلہن کے جوڑوںعادت کے مطابق دعوتوںعرف کے مطابق تحائف اورختنہ کے موقع پرعزیز واقارب اورپڑوسیوں کی دعوت میں جوکچھ خرچ کیاجائے اس پرتاوان لازم نہیں آتا جب تك اس میں فضول خرچی نہ کی جائے اھ مختصرا۔(ت)
مسئلہ ۱۳۸: ۲۷/جمادی الاولی ۱۳۲۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنامکان ودکان اپنی زوجہ کے نام بیع کردیاتھا زوجہ نے انتقال کیا۔زید کے تین بچے نابالغ اپنی ماں کے وارث ہیں۔اب زیدکے پاس کچھ نہیں کہ اس سے اپنا اوران نابالغوں کاکھانا پینا چلے۔زیدنیك چلن ہے مال برباد کرنے والانہیں وہ نیك نیتی سے چاہتاہے کہ اپنااوراپنے نابالغ بچوں کاحصہ بیچ کرتجارت کرے جس سے ان سب کارزق پیداہو۔اس صورت میں زید ان حصوں کے بیچنے کااختیاررکھتاہے یانہیںبینواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں اگرزیدنیك چلن ہے اولاد کامال برباد کرنے کااس پراندیشہ نہیں اوربیع مناسب اورمعقول قیمت کو ہوتو اسے ان حصوں کے بیچنے کااختیارہےعقودالدریہ میں فصول عمادی سے ہے:
الحاصل ان بیع الاب عقار الصغیر بمثل القیمۃ یجوز اذاکان محمودا اومستورا اواذاکان مفسدا خلاصہ یہ کہ باپ کانابالغ کی غیر منقولہ جائداد کومثلی قیمت کے ساتھ فروخت کرنا جائزہے جبکہ وہ نیك چلن یاپوشیدہ حال والاہواوراگر
مسئلہ ۱۳۹( ا): ۳۰جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدکفایت اﷲ کی دوزوجہزوجہ اولی نجم النساء کے بطن سے حافظ عبدالحقاحسان الحق دوپسراورعجائب النسائلطیف النساءحبیب النساءجمیل النساء چاردختر سب بالغاورزجہ ثانیہ حمید النساء عرف ننھی کے بطن سے فضل حقضیاء الحقریاض الحق تین پسر اوراحمدی بیگم ایك دخترسب نابالغاورننھی کی ایك دختر بالغہ کریم النساء ہے جسے دیر ورثہ نطفہ حاجی کفایت اﷲ سے نہیں بناتے بلکہ ربیبہ کہتے ہیں حمیدالنساء حیات شوہر میں انتقال کرگئی حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض الموت میں بشمول نجم النساء ایك وصیت نامہ سات امرپرمشتمل لکھا۔اول ظاہرکیاہے کہ جائداد مندرجہ وصیت نامہ ہردوکاتبان کی ہے ابتداء کام نقدی وجائداد وکاتبہ نمبر۲ سے شروع ہوااور اضافہ وترقی ہوتی رہی اور وہ جز حصہ ہشتمی زوجیت و دین مہرکاتبہ کاجائداد مصرحہ تحت میں شامل ہے جائدادونقدی ایسی مخلوطہ ہے جس کو علیحدہ دکھانا بلاضرورت ہے خاص کرجب ہردوکاتبان کا منشا دلی یہ ہے کہ جائداد مصرحہ تحت تمام اولاد مصرحہ ذیل پرحسب شرع شریف بلااستثناء کسی جز کے تقسیم ہوجائے اورکسی اولاد کے ساتھ کوئی خاص رعایت نہ دکھائی جائے توایسی حالت میں جائداد تمام اولاد پرحسب شرع شریف تقسیم مطابق وصیت نامہ ہذاہوگی۔کاتب نمبر۱ نے تیاری تحریری وصیت نامہ ہذاکی کی تھی کاتبہ نمبر۲ نے بھی کاتب نمبر۱ سے خواہش کی کہ کاتب نمبر۱ کی جائداد عین کاتبہ نمبر۲ کی جائداد کی ہے تمام اولاد پربذریعہ وصیت نامہ ہذامنتقل ہوہردوکاتبان نے اپنی خوشی سے وصیت نامہ ہذاتمام اولاد مندرجہ تحت کے نام تحریر کیاکہ جائداد بحیثیت موجودہ بعد ہمارے ہم لوگوں کے قبضہ میں رہے اورہماری اولاد کوپوری واقفیت ہوجائے کہ کون جزجائداد کا ان کی ملکیت میں رہے گا۔
دوم:حاجی کفایت اﷲ نے کچھ دیہات ودکان ومکان اپنی تندرستی میں احسان الحق وفضل الحق وکریمن کے نام کردئیے تھے اس وصیت میں وہ بھی شامل کئے اورلکھاوصیت نامہ کی یہ بھی ضرورت ہوئی کہ اکثر جائداد فرضی بعض اولاد کے نام تھی اس کی بابت احتمال تھا کہ کوئی تحریر نہ ہو تو وہ اولاد تنہااپنی
سوم:تحریرکیاجاتاہے کہ کاتب نمبر۱ کی زوجہ ثانی حمیدالنساء کامہرایك سوپندرہ روپے کا تھا وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیا۔
چہارم:نابالغان مذکورین پر ولایت کایہ انتظام لکھاولی جائداد حافظ عبدالحق واحسان الحق نابالغان کے رہیں گے ولی ذات نابالغان اﷲ جلائی والدہ کاتب وصاحب النساء ہمشیرہ کاتب رہیں گی ان کی سرپرستی ونگرانی وحفاظت میں ان کے ساتھ نابالغ رہیں گے ولی جائداد آمدنی نابالغان سے(۸۰لہ)روپیہ ماہوارسپردہردوولی ذات بنام پرورش نابالغان کرے گا عقدوتعلیم حسب رائے ہردو ولی ذات ہوگی۔
پنجم:کچھ جائداد حاجی کفایت اﷲ نے مصارف خیر کے لئے بحال تندرستی پہلے وقف کی تھی اس کی تفصیل بھی اسی وصیت نامہ میں بغرض یادگار درج کی اورایك بنگلہ نمبری ۱۶۷ قیمتی دس ہزارروپے جدید وقف اس وصیت نامہ میں کیاہے ہے مقدارثلث متروکہ سے بدرجہاکم ہے اوریہ سب اوقاف تمام ورثہ کوتسلیم ہیں۔
ششم:تمام اولاد مذکورین گیارہ اشخاس کے نام جداجدا بتفصیل جائداد غیرمنقولہ لکھی ان میں کریم النساء کا نام بھی ہرجگہ بزمرئہ اولادلکھااوراس کے لئے بھی دیگر دختروں کے برابرحصہ جداگانہ مشخص کیااگرچہ مکان اورایك دکان کہ اول سے اس کے نام تھی وہ بھی شامل حصہ کی جس طرح ایك موضع کہ احسان الحق اورایك موضع ایك مکان کہ فضل حق کے نام اول سے تھے ان کے حصص میں داخل کئے اورلکھاکہ ہم لوگوں نے اپنی تمام اولادکویکجاکرکے وصیت نامہ ہذالکھا اورجوجائداد اولاد کے نام درج ہے ان کی رضا سے تحریرہوئی کوئی کمی بیشی جائداد میں نہیں نیزلکھاجس جائداد کے محاذمیں جس وارث اولادکانام ہے وہ اس جائداد کامالك ہوگا۔عنوان فہرست تقسیم میں لکھا جوجائداد غیرمنقولہ اولادکے قبضے میں آئے گی وہ ہراولاد کے نام کے مقابل درج کی جاتی ہے جس کو تمام اولادبالغ وولی نابالغان نے بقدر حصہ شرعی حساب لگاکر قبول ومنظورکیا ہے۔
ہفتم:حاجی کفایت اﷲ نے اپنی والدہ اﷲ جلائی کوجائداد سے کچھ نہ دیا مگرآخرمیں اتنالکھاہے کہ کاتب نمبر۱ عرصہ سے(لعہ عہ/)ماہواری اپنی والدہ اوران کی دخترصاحب النساء کے اخراجات کے واسطے دیتارہاہے میری خواہش تمام اولاد ذکور واناث سے ہے کہ مثل میرے مبلغان مذکورہ اپنی جائداد کی آمدنی سے ذکور دو ہرحصہ اناث اکہراجملہ(ہہ/)کے رقم والدہ وصاحب النساء کو تاان کی حیات
سیدعبدالستار صراف کانپور جیون لال
(سا/) (ماصہ عہ /) (مہ معہ)
(۱)کیاوصیت نامہ مذکورہ کلایاجزء قابل نفاذہے
(۲)اگروصیت نامہ باطل قرارپائے توجائداد حسب بیان نجم النساء مملوکہ نجم النساء ٹھہرے گی حالانکہ اس کے نام کوئی جزی جائدادنہ تھی یاتمام وکمال ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہوکر تقسیم ہوگی۔
(۳)کیانسبت نادرستی حواس حاجی کفایت اﷲ اﷲ جلائی کادعوی قابل سماعت ہے
(۴)جائداد میں کہ حالت تندرستی حاجی کفایت اﷲ سے احسان الحق وفضل حق وکریمین کے نام تھیں وہ انہیں کی ٹھہرے گی یا حسب بیان وصیت نامہ ان کے نام فرضی قرارپاکر شامل تقسیم ہوں گی
(۵)کیاحمیدالنساء کامہر(مہعہ)ہونا اوریہ کہ وہ حیات حمیدالنساء میں اداکردیاگیا حسب تصریح وصیت نامہ ماناجائے گا۔
(۶)کیاکریم النساء دختر کفایت اﷲ قرارپائے گی یاحسب بیان نجم النساء وغیرہ ربیبہ۔
(۷)کیانجم النساء کی درخواست مذکورہ قابل سماعت ہے ثالثی میں اس کی نسبت کوئی تنقیح قائم کی جائے
(۸)کیانابالغوں پرولایت ذات ومال حسب بیان وصیت نامہ رہے گی یاکس طرح
(۹)کیااﷲ جلائی کادعویئ نسبت ششم حصہ شرعی صحیح ہے یاماہوار کے سوا اس کااستحقاق نہیں
(۱۰)زیورطلائی ونقرئی مندرجہ نمبر۳۱ فہرست اقرارنامہ جسے لکھاہے کہ بنگال بینك کانپور میں مورث نے امانت رکھاہے مگر بموجب مشہور حالت کے وہ زیورمتروکہ حمیدالنساء ہے کس کا قرارپائے گا اورتقسیم مال میں شامل ہوگا یابحق نابالغان اولاد حمید النساء محفوظ رہے گا۔
کاغذات نقول وصیت نامہ وعرضی دعوی وبیان تحریری نجم النساء واقرار نامہ ودرخواست نجم النساء بغرض ملاحظہ حاضرہیں۔
مسئلہ ۱۳۹(ب): ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقدمہ مذکورہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ میں چندجلسے ثالثان کے قائم ہوئے لیکن بجائے اس کے کوئی امرمتنازعہ کاتصفیہ عمل میں آئے تنازعوں کی بحثوں نے روزبروز ترقی پکڑلی جس کے دیکھنے سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ یہ مقدمہ پنچایت سے طے نہ ہوگا اور عدالت کے جھگڑوں میں یہ سب جائداد برباد اورتلف ہوجائے گی اورفریقین تباہ ہو خاص کرنابالغین بے زبان اوربے قصور باوجودبروئے ترکہ صاحب جائدادہونے کے خرچہ معینہ ان کانہیں ملتا خرچہ کی وجہ سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں نہ کوئی تعلیم کا ان کی انتظام ہے اگراب بھی کوئی انتظام ان کی جائداد کے تحفظ کانہ ہوا اوریہ جھگڑے طے نہ ہوئے تویہ مظلوم خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ان وجوہات پرغورکرکے بعض فریق مقدمہ نے سبقت کی اس امرمیں کہ فیمابین کہ مصالحت سے بعض سے چھٹاکریابعض کودلاکر امورمتنازعہ کاقلع قمع کرکے آئندہ جھگڑوں کاباب مسدود کرنے کا قصدکیاچونکہ بالغبن مختارہیں اپنے اپنے حقوق چھوڑنے کے اورکمی وبیشی یعنی دینے کی چونکہ ایسی صورت میں کمی بیشی آنے سے جس کی بعض حصص میں کمی واقع ہوتی رہی اس کااثرنابالغوں پرہی پڑتارہا جس اثرہرشریك مقدمہ کے حق میں موجب وبال ہےاور عنداﷲ ماخوذی ہےلیکن انجام کار کی مصلحتوں پرغورکرنے سے ظاہر حال دلالت کرتاہے کہ اگرمجوزین بلالحاظ اپنے منافع ذاتی اوراغراض نفسانی کے محض بغرض دفع فساد ورفع نزاع باہمی مسلمانوں کے اور نیزبے جاضائع ہونے مسلمانوں کے مال کے بالخصوص تحفظ جائداد نابالغان کے تصفیہ باہمی میں کوشش کریں اورآئندہ جھگڑے پیداہونے والوں کوبچانے کی غرض سے جوجونقصان بظاہرحال نابالغوں کے حصہ جائداد میں واقع ہوتے ہیں حسب ذیل ہیں:
(۲)مہرمسماۃ نجم النساء زوجہ مورث کاباوجود اقرارنامہ اور وصیت نامہ درج نہ ہونے کے دلایاگیا۔
(۳)خرچہ نالشات ہردوفریق کااز روئے بیان حلفی ہرفریق کہ جس قدربیان کریں جملہ جائداد سے اول منہا ہومابقی جائداد ازروئے حصص شرعی تقسیم کی جائیگی اورتقررقیمت اورحصص اس قاعدہ سے قرارپایاہے جیساکہ اس سے کچھ زمانہ قبل سب شرکاء کے آپس کی رضامندی سے ایك فہرست تیارکی تھی اور اس وقت بسبب نہ طے پانے بعض نزاع کے ملتوی ہوگیا تھا نفاذ اس کا۔
(۴)جوجائداد ازقسم دھات ودکان ومکان بنام محض ورثاء مسمیان احسان الحق وکریم النساء بالغان وفضل حق نابالغ مورث نے اپنی حالت صحت میں نامزدکردیا تھا اوران کی تحریرات بھی باضابطہ ان کے ناموں سے ہو چکی تھی مگروصیت نامہ اورنیز اقرار نامہ ثالثی میں ان کے مالکوں نے اورفضل حق نابالغ کی طرف سے بولایت شیخ عبدالعزیز کے جن کی ولایت بعض ورثاء کی جانب سے قراردی گئی ہے بشمول جملہ جائداد کی جملہ ورثاء پر تقسیم کردیناقبول ومنظورکیا ہے۔
(۵)زرمجتمع شملہ بینك جونمبری ۴۴ اقرارنامہ کے تحت میں بلاتعداد لکھے بھی اورحساب بینك مذکورکے آنے سے تعدادی بارہ ہزارپانسوبارہ روپیہ حافظ عبدالحق کالانا دو روز قبل وفات مورث کے معلوم ہوا لیکن حافظ عبدالحق اس مجرادینے سے انکارکرتے ہیں اس بناء پر ك بوقت دستخط کرنے اقرار نامہ ثالثی کے اس میں سے بعض وارث احسان الحق وغیرہ کوکوئی جز دلانے کے بعد مابقی کامطالبہ نہ کرنا بعض ورثاء نے بوعدہ زبانی یاکسی خاص تحریری رقعہ کے ذریعہ سے قبول ومنظور کرلیا ہے ایا اس رقعہ کاباربحق نابالغان بھی پڑے بخیال مصلحت مرقومہ بالاکے توکیاحکم رکھتا ہے۔
(۶)بمد ۳۱ اقرارنامہ کے زیرطلائی ونقرئی بنگال بینك میں امانت رکھانا لکھا ہے اوربموجب بیانات مشہورہ کے نابالغان کی والدہ متوفی حمیدن کازیور واسطے نابالغوں کے بینك میں رکھایا تھا اس کی
(۷)علاوہ مدات مرقومہ صدرکے اورکسی قسم کابھی نزاع کا تصفیہ بغرض دفع نزاع کیاجائے جس میں نابالغان کاکسی قسم کانقصان متصورہو اورنیز ہرشش دفعات مذکورہ بالاکے بموجب کرنا بغرض دفع نزاع اورتحفظ اموال کے قاعدہ شرعیہ کے خلاف ہوگایاموافق اورنیز اس میں سعی کرنے والے ماجورہوں گے یاگنہگاربیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
نابالغوں خصوصا یتیموں کامال آگ ہے انہیں نقصان دینے ولاسخت کبیرہ شدیدی کامرتکب ہے ان کامال یا ان کے مال میں سے ایك ذرہ دیدہ ودانستہ خودغصب کرنے والا اگرچہ کسی فیصہ کے زورسے ہویادوسرے کودے دینے یادلادینے والایاان کی ادنی حق تلفی پراضی ہونے والاسب شدید عذاب جہنم کے مستحق ہیں۔حق سبحانہوتعالی قرآن عظیم میں فرماتاہے:
" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " بے شك جولوگ یتیموں کامال ناحق کھائیں وہ اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اورعنقریب بھڑکتے دوزخ میں غرق ہوں گے۔
کاغذات مقدمہ ملاحظہ ہوئے امورذیل معلوم رہیں:
اولا:جوجائدادیں احسان الحق وکریم النساء کے نام صحت مورث میں ہوچکی تھیں وہ اب ضرور ان کی نہ رہیں بلکہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہیں کہ وصیت نامہ میں ان کانام فرضی ہونالکھااورانہوں نے تسلیم کیااوراقرارنامہ میں صراحۃ ان کاترکہ حاجی کفایت اﷲ ہونامان لیا۔فضل حق اگربالغ ہوتا اور اسی طرح قبول کرنا اس کابھی یہی حال ہوتا مگروہ نابالغ ہے اورکوئی ولی کوی وصی کوئی حاکم نابالغ کے مال میں اس کانام فرضی ہونامان لینے کا اختیارنہیں رکھتا وصیت نامہ میں حاجی کفایت اﷲ کالکھوانا اصلا قابل التفات نہیںکیاکوئی شخص کوئی جائداد ہبہ یابیع کرکے مدعی ہوکہ یہ انتقال فرضی تھا توصرف اس کے کہنے سے مان لیا جائے گا ہرگزنہیں۔اوریہ شبہہ کہ روپیہ حاجی کفایت اﷲ کاتھا اس نے خریدکر اپنے پسرنابالغ کے نام جائداد کی جب تك چاہا دی اب نہیں دیتا محض مہمل وبے معنی ہے اگر اس کاثبوت مان بھی لیاکہ روپیہ درحقیقت حاجی متوفی کاتھا نابالغ کو اس کی ماں یا اورکسی سے
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب۔ باپ کے مال سے خریداری سے لازم نہیں آتاکہ مبیع باپ کے لئے ہو۔(ت)
باپ جوچیز اپنے نابالغ بچے کے نام خریدے وہ اس کے لئے ہبہ ہوتی ہے اورباپ ہی کے قبضہ سے نابالغ کی ملك ہوجاتی ہے۔
ردالمحتارجلد۴ص۷۷۴:
الاب اشتری لھا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذلك فی صحۃ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ اھ منح۔ باپ نے اپنی بچی کے لئے اس کی صغرسنی میں یا اس کے بالغ ہونے کے بعد کچھ خریدار اوراس کے سپردکردیا اوریہ کام اس نے اپنی صحت کے زمانے میں کیا تو دیگروارثوں کا اس پرکوئی حق نہیں وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا اھ منح(ت)
عقودالدریہ ج۲ص۲۸۰ و ۲۸۱:
ذکر فی الذخیرۃ والتجنیسامرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لا تملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ والام تملك ذلك ویقع قبضا عنہ احکام الصغار من البیوع۔ ذخیرہ اورتجنیس میں مذکورہے کسی عورت نے نابالغ بیٹے کے لئے اپنے مال سے جائداد خریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کےلئے خریداری کی مالك نہیں اورجائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور وہ اس کی مالك ہے اورجائداد پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگااحکام الصغارمن البیوع۔(ت)
تو موضع ومکان جومتوفی نے فضل حق نابالغ کے نام خریدا اگرچہ روپیہ متوفی ہی کاتھا فضل حق کی
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۶€
العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۳۷€
لووھب لذی رحم محرم منہ نسبا ولوذمیا او مستامنالایرجع۔ اگرکسی نے اپنے نسبی ذی رحم کوہبہ کیااگرچہ وہ ذمی یامستامن ہوتواب رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
درمختارجلد۴ص۷۹۲:
لوکانا ای العبدومولاہ ذارحم محرم من الواھب فلا رجوع اتفاقا ۔ اگروہ دونوں یعنی غلام اور اس کامالك واہب کے ذی رحم محرم ہوں توبالاتفاق رجوع نہیں ہوسکتا۔
پس فرض ہے کہ جو موضع ومکان فضل حق کے نام تھے وہ خاص اس کے سمجھے جائیں اوراس تقسیم سے جدا رہیں اوروہ باقی تمام متروکہ کہ کفایت اﷲ میں برابرکاحصہ دیاجائے۔
ثانیا: نجم النساء اقرارنامہ میں صراحۃ مان چکی ہے کہ ان تین رقوم مصرحہ اقرارنامہ کے سوا اورکوئی دادنی ذمہ حاجی کفایت اﷲ نہیں تو اس کادعوی مہرساقط ہوگیابالغین اختیاررکھتے ہیں کہ باوصف سقوط دعوی بھی اس کابار اپنے سرلیں مگرکسی نابالغ پراس کابارڈالنااپنے سرعذاب الہی کاوبال لیناہے۔
ثالثا: اس سوال میں سائل نے مہرحمیدالنساء والدہ نابالغان کاذکرنہ کیا۔سوال اول میں اس کاتذکرہ تھا اورملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرہوا کہ حاجی کفایت اﷲ نے اس کا مہر(ماصہ عہ)کاظاہر کیااوریہ کہ وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیامگرکبھی مدیون کاقول خفت مقداردین یا اس کے اداکردینے کے بارے میں مقبول نہیں ہوسکتا اگر گواہان عادل شرعی سے حمیدالنساء کامہراداہوجانا ثابت ہے فبہا ورنہ لازم کہ مہرمثل تك حمیدالنساء کامہر قائم اوراس میں سے چہارم حصہ شوہر اورایك حصہ کریم النساء بالغہ (جبکہ وصیت نامہ کوتسلیم کرچکی ہو)ساقط کرکے باقی اولاد نابالغان حمیدالنساء کے حصے ان نابالغوں کودئیے جائیں۔
الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ ووقفہ وضمانہ کل ذلك حکمہ کحکم وصیۃ۔ مرض الموت کے مریض کاآزاد کرناکم قیمت پربیچناہبہ کرنا وقف اورضمان سب کاحکم وصیت کے حکم کی مثل ہے۔(ت)
ایضاص۶۴۴:
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے دیگروارثوں کی اجازت کے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
عالمگیری جلدچہارم ص۱۴۱:
مریض وھب غلاما لامرأتہ فقبضتہ مریض نے اپنی بیوی کوغلام ہبہ کردیا بیوی نے اس پر
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
درمختارجلد۴ص۷۱۲:
اقرفی مرض موتہ لوارثہ یؤمر فی الحال بتسلیمہ الی الوارث فاذا مات یردہبزازیۃوفی القنیۃتصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعدالموت۔ مریض نے اپنی مرض الموت میں کسی وارث کے لئے کچھ اقرارکیا تو اسی وقت وہ شیئ وارث کے سپردکرنے کاحکم دیا جائے گا۔پھرجب مریض ہوگیا تووارث وہ شیئ واپس لوٹائے گا (بزازیہ)اور قنیہ میں ہے کہ مریض کے تصرفات نافذہوتے ہیں البتہ اس کے مرنے کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں۔(ت)
کفن دفن بقدرمسنون میں جوروپیہ صرف کیا وہ ضرورمجراہوگا باقی فاتحہ درودخیرات سوم وغیرہ کے مصارف صرف اس صرف کرنے والے پرپڑیں گے اجازت نہ دینے والے ورثہ پرنہ آئیں گے خصوصا یتیم بچے کہ ان کے حصے مطلقا محفوظ ہیں نہ ان کی طرف سے کوئی اجازت دے سکتا ہے۔طحطاوی حاشیہ درمختار جلدچہارم:
التجھیزلایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع و الموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیہ و یکون متبرعا وکذا لوکان اجنبیا۔ تجہیزمیں فاتحہدرودوخیراتلوگوں کوجمع کرنا اورکھانے کااہتمام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ ضروری امور میں سے نہیں ہیں لہذا یہ اموبجالانے والااگروارثوں میں سے ہے تواس کے حصہ سے مجراہوگا اوراس میں احسان کرنے والا ہوگا۔ایساہی حکم اجنبی کابھی ہے۔(ت)
توصرف بقیہ چھ ہزارسے حصہ نابالغان دیناکافی نہیں بلکہ کفن دفن بقدرسنت میں جودس بیس روپے صرف ہوں مجراکرکے باقی پورے بارہ ہزارپانسوبارہ ہیں کامل حصص نابالغان دیاجانا لازم ہے
الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
خامسا: زیورامانت بنگال بنك کامعاملہ شہادت عادلہ پر ہے اگرثابت ہوکہ وہ ملك حمیدالنساء تھا تواس میں نابالغوں کے حصے بحق نابالغان محفوظ رکھے جائیں گے اوراگرملك حاجی کفایت اﷲ ثابت ہوتوسب ورثہ پرتقسیم ہوگا۔
سادسا: خرچہ نالشات بقدرضروری ومعمولہ جوکچھ نابالغوں کی طرف سے ان کے کسی ولی یاوصی شرعی نے بلااسراف اٹھایا وہ ضرورنابالغوں پرپڑے گا اس سے زائد ایك پیسہ ان پرڈالنا حرام ہے نابالغین مختارہیں کہ آپس میں اپنے حقوق کا جس طرح چاہیں فیصلہ کرلیں۔
سابعا: تشخیص قیمت جائداد وتعیین حصص وغیرہ کسی امرمیں کوئی نقصان نابالغوں کی طرف رکھنا محض حرام قطعی ہے اوراﷲ واحدقہار ان کی طرف سے حساب لینے والاہے اصل احکام شرعیہ یہ ہیں باینہمہ اگرولی نابالغان اوران کے حقیقی خیرخواہ اہل ایمان یقینی قطعی طورپربلاشك وشبہہ وبلامکروحیلہ جانیں کہ یہ تصفیہ ہی نابالغوں کے حق میں خیرہے اوراس میں جو نقصان ان بیکس مظلوموں کوپہنچتاہے وہ اس نقصان عظیم سے ہلکا ہے جوبحال عدم تصفیہ یقینا انہیں پہنچنے والاہے توشریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ:
من ابتلی بلیتین اختار اھونھما۔ جوشخص دوبلاؤں میں مبتلاہو ان میں سے ہلکی کواختیارکرے۔
ایسی صورت محض مجبوری وضرورت میں جونابالغوں کی اصلاح چاہے گا اور وہ ایساہوگا جیسا آکلہ پیدا ہونے پرہاتھ یاپاؤں کاٹ دیناکہ یہ معاملہ بالغ ونابالغ سب کے ساتھ رواہے کہ فسادعظیم کافساد قلیل سے دفع ہے۔
" واللہ یعلم المفسد من المصلح" اﷲ خوب جانتاہے کہ کون مفسدہے اورکون اصلاح چاہتاہے۔
القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
ذکرفی الخانیۃ والخلاصۃ والعمادیۃ والحافظیۃانہ لایجوز ان یصالح الوصی باقل من الحق ان کان الخصم مقرابہ ومقضیا علیہ اوللموصی بینۃ عادلۃ علیہ والاجاز لانہ فی الاول متلف لبعض الحق فلا یجوز وفی الثانی محصل للبعض بقدر الامکان وفیہ من النظر مالایخفی فیجوز۔ خانیہخلاصہعمادیہ اور حافظیہ میں مذکور ہے وصی کے لئے جائزنہیں کہ وہ حق سے کمتر پرصلح کرے جبکہ خصم اقراری ہو اوراس پرفیصلہ ہوچکاہو یاموصی کے پاس عادل گواہ موجود ہوں ورنہ جائزہے کیونکہ پہلی صورت میں وصی بعض حق کو برباد کرنے والا ہے لہذا جائزنہیںاوردوسری صورت میں وہ مقدوربھربعض کوحاصل کرنے والا ہے اوراس میں نگرانی موجودہےجیساکہ پوشیدہ نہیںلہذاجائزہے۔(ت)
اسی میں ہے ص۲۰۹:
فیہ تحصیل بعض الحق للیتیم فی حال توی کلہ فلا شك فی خیریتہ۔ اس یتیم کے بعض حق کوحاصل کرناہے جبکہ تمام ہلاك ہو رہاہے تواس کے خیرہونے میں کوئی شك نہیں(ت)
اسی میں ہے ص۲۸۷:
ذکر فی النوازل والخانیۃسلطان نزل دارالوصی فقیل لہ ان لم تعط السلطان شیئا استولی علی الدار و العقار فاعطی لہ شیئا من العقار قال ابوالقاسم یجوز مصانعتہ ۔ نوازل اورخانیہ میں مذکورہے کوئی بادشاہ وصی کے گھرمیں وارد زہوا اوروصی کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کوکچھ نہ دیا تووہ مکان اورجائدادپرقبضہ کرلے گا چنانچہ وصی نے اس کوکچھ جائداددی۔ابوالقاسم نے فرمایا وصی کایوں نرمی کرناجائز ہے۔(ت)
احکام الصغار جلددوم ص۷۳و۷۴:
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الصلح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰€۹
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الضمان ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۷€
یہ اسی حالت میں ہے جبکہ نہ ماننے میں اس سے عظیم ترنقصان پہنچنے کایقین ہوفقط موہوم ضررکے لئے موجود مان لینا حلال نہیں۔پھربھی فرض قطعی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو عرق ریزی کی جائے کہ یہ ظلم ان بیکسوں پرسے دفع ہویاجتناکم ہوسکے کم ہو۔پھربھی یہ جواز صرف ادھر سے رہے گا وہ ظالمین جو اس طرح دباکریتیموں کاحق لیں گے ان کے لئے وہ خالص آتش جہنم ہے وہ سخت عذاب الہی کے لئے مستعد رہیں۔والعیاذباﷲ تعالیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جواب سوال ششم:کریم النساء کاجبکہ کسی اورشخص کی دختر ہونامعروف ومشہور وثابت نہیں اور وہ اپنے آپ کودخترحاجی کفایت اﷲ کہتی ہے اوراس کی عمر اس کی قابلیت رکھتی ہے تو ایسی حالت میں قطع نظر تمام تحریرات وخطوط کفایت اﷲ کے صرف یہ وصیت نامہ جسے یہ لوگ جوکریم النساء کے نسب پرمعترض ہیں تسلیم کررہے ہیں دلیل کافی وحجت وافی تھاجس کے بعد معترضین کا اعتراض ہرگز مسموع نہ ہوتا اوروہ ضرور دخترحاجی کفایت اﷲ قرارپائی کہ وصیت نامہ میں جابجا اولاداپنی اولاد ہماری اولاد لکھ کرانہیں کے نام کی فہرست میں کریم النساء کوبھی مثل دیگر دختران داخل کیا اور سب کوحصہ شرعی بلاکم وبیش پہنچنا لکھنا۔درمختارمیں ہے:
وان اقر لغلام مجھول النسب فی مولدہ فی بلدھو فیھا وھما فی السن بحیث یولد مثلہ لمثلہ انہ ابنہ و صدقہ الغلام لوممیزا والا لم یحتج لتصدیقہ کما مر حینئذ ثبت نسبہ ولوالمقر مریضا واذا ثبت شارك الغلام الورثۃ۔ اگرکسی نابالغ لڑکے کے بارے میں جس کانسب معلوم نہیں اس کے وطن میں یا اس شہر میں جس میں وہ وارد ہے یہ اقرار کیاکہ یہ میرابیٹا ہے درانحالیکہ دونوں کی عمر ایسی ہے کہ اس جیسا اس کابیٹا ہوسکتا ہے اورلڑکے نے اس کی تصدیق کردی جبکہ لڑکا باتمیزہو ورنہ اس کی تصدیق کی ضرورت نہیں جیسا کہ گزرچکاہےچنانچہ صورت مذکورہ میں اس کانسب ثابت ہوجائے گا اگراقرارکرنے والا مریض ہو جب نسب ثابت ہو گیا تو وہ لڑکا باقی وارثوں کاشریك ہوگا۔(ت)
الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۷€
جواب سوال ہشتم:وصیت نامہ جہاں تك نابالغوں یاان وارثوں کے حقوق پرجو اسے جائزنہیں رکھتے اثررسان ہے مردودوباطل ہے جوبالغ وارث اسے مان رہے ہیں صرف ان کے باہمی حقوق پراس کا اثر مقبول ہوسکتاہے۔درمختارمیں ہے:
لم تجزاجازۃ صغیرومجنون ولو اجاز البعض ورد البعض جازعلی المجیز بقدر حصتہ۔ نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیں۔اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے انکار کیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کی مقدار میں جائزہے۔(ت)
وصیت نامہ میں ماں کوحصہ مادری اصلا نہ دیااوروہ اس پرراضی نہیں نابالغ کاموضع ومکان اسم فرضی ٹھہراکر تقسیم میں شامل کرلیا اوریوں اسی کے مال سے اس کاحصہ پوراکیا اوریہ محض ظلم ہے نابالغوں کے مال کامہر ایك خفیف مقدار بتاکر وہ بھی اداہوجانا لکھایہ ہرگزبے بینہ عادلہ مقبول نہیںلہذا تقسیم وصیت نامہ واجب الرد ہے بلکہ فضل حق کاموضع ومکان خالصا اسی کو دے۔حمیدالنساء کامہراداہوجانا گواہان عادل شرعی سے ثابت نہ ہو تو مہرمثل تك اداکرے پھرجوکچھ متروکہ حاجی کفایت اﷲ منقول وغیرمنقول ہے سب سے اس کی ماں کوچھٹا اورنجم النساء کوآٹھواں دیکر باقی سب بیٹوں اورمع کریم النساء سب دختروں پر " للذکر مثل حظ الانثیین " (مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابرہے۔ت)ازسرنو تقسیم کریں نابالغوں کے حصے بلا تقسیم یك جا رہیں بالغوں کے حصے کا انہیں اختیارہے جس طرح چاہیں باہم تصفیہ کرلیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۰: ازپٹنہ محلہ لودی کڑہ مرسلہ جناب قاضی عبدالوحیدصاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت میں جو چیزہبہ کی جائے اس پراحکام ہبہ کے ہوں گے یاوصیت کے
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
ہبہ اگرچہ مرض الموت میں ہو حقیقۃ ہبہ ہے تمام شرائط ہبہ درکارہوں گی بلاقبضہ تمام نہ ہوگا مشاع ناجائزہوگا واہب اگرقبل قبضہ کاملہ موہوب لہ انتقال کرجائے ہبہ باطل ہوجائے گا غرض وہ بہمہ ووہ ہبہ ہے اوراسی کے احکام رکھتاہے مرض الموت میں ہونے کاصرف اتنا اثر ہے کہ وارث کے لئے مطلقا اوراجنبی کے واسطے ثلث باقی بعدادائے دیون سے زیادہ میں بے اجازت دیگرورثہ نافذ نہ ہوگا اجازت وارث عاقل بالغ نافذالتصرف کی بعد وفات مورث درکارہے اس کی حیات میں اجازت دینی نہ دینی بیکارہے۔پس اگرمورث مثلااپنے پسرکواپنے مرض الموت میں کوئی شیئ ہبہ کرے اورقبضہ بھی پوراکرادے اوراس کے انتقال کے بعددیگرورثہ اسے نہ مانیں وہ یکسرباطل ہوجائے گا اوربعض مانیں اوربعض نہ مانیں تو اس نہ ماننے والے کے حصے کے لائق باطل قرارپائے گا۔نویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
ھبتہ ووقفہ وضمانہ کوصیۃ فیعتبر من الثلث۔ مریض کاہبہوقف اورضمان اس کی وصیت کی مثل ہےلہذا ایك تہائی میں سے معتبرہوں گے۔(ت)
ردالمحتارعلی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ وھبتہ ای اذا اتصل بھاالقبض قبل موتہاما اذامات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کماصرح بہ قاضیخاں وغیرہ اھ طحطاوی عن المکیقولہ حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لا حقیقۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت وھذہ ماتن کاقول"وراس کاہبہ"اس سے مرادیہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے قبضہ اس کے ساتھ مقترن ہوجائے لیکن اگروہ مرگیا اوراس پرقبضہ نہ ہوا تووصیت باطل ہوجائے گی اس لئے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہی ہے اگرچہ باعتبارحکم کے وصیت ہےجیساکہ قاضیخاں وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی اھ طحطاوی میں بحوالہ مکی منقول ہے کہ ماتن کاقول"اس کا حکم وصیت کے حکم کی مثل ہے"یعنی
درمختارمیں ہے:
لا لوارثۃ الاباجازۃ ورثتہ وھم کبار عقلاء فلم تجز اجازۃ صغیر ومجنون ولواجاز البعض وردالبعض جاز علی المجیز بقدر حصتہ۔ وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے اس کے کہ دیگر ورثاء اس کی اجازت دیں دراں حالیکہ وہ ورثاء عاقل وبالغ ہوں چنانچہ نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیںاگربعض نے اجازت دی اوربعض نے رد کردیا تو اجازت دینے والے پربقدراس کے حصہ کے جائزہوگی۔(ت)
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
انما یصح قبولھا بعد موتہ لان اوان ثبوت حکمہا بعد الموت فبطل قبولھا وردھا قبلہ واﷲ تعالی اعلم۔ وصیت کوقبول کرناموصی کی موت کے بعد ہی صحیح ہوتاہے کیونکہ وصیت کے حکم کے ثبوت کا وقت موصی کی موت کے بعدہے لہذااس کی موت سے پہلے وصیت کوقبول کرنااوررد کرنا باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر واہب مرض الموت میں اپنی جزیاکل املاك کوکسی ایك وارث کی بلارضامندی دیگرورثاء کے ہبہ کردے تویہ صحیح ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ ہبہ حقیقۃہبہ اورحکما وصیت ہےاگر واہب نے اپنی وصیت میں موہوب لہ کوقابض نہ کردیایاشیئ قابل تقسیم مشاع و مشترك تھی اوربلاتقسیم قبضہ کرادیا اورمرگیا جب توہبہ محض باطل ہوگیاکہ اجازت ورثہ سے بھی نافذ نہیں ہوسکتا۔درمختار موانع الرجوع میں ہے:
الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€۹
الدرالمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
اوراگرحیات واہب میں باذن واہب قبضہ کاملہ یاشیئ غیرقابل تقسیم پرمشاعا قبضہ ہولیا تو اب اس ہبہ کانفاذ موت واہب کے بعد اجازت صحیحہ باقی ورثہ پر موقوف ہے صحت اجازت کے لئے اجازت دہندہ کاعاقل بالغ ہونا ضرورہے اگر باقی وارث سب عاقل بالغ ہیں اورسب نے بعد موت مورث اس ہبہ کوجائز رکھاتمام وکمال نافذہوجائے گا اوراگربعض نے اجازت دی اور بعض نے نہ مانایا بعض اجازت دہندہ نابالغ یا مجنون تھے توصرف اسی عاقل بالغ مجیز کے حصے کے قدرنفاذ پائے گا باقی نافذنہ ہوگا اورہبہ شیوع کہ بعض ورثہ کی عدم اجازت سے پیداہوا باقی میں نفاذہبہ کومنع نہ کرے گا کہ شیوع وہ مبطل ہبہ ہے جوابتدا سے ہونہ شیوع طاری کہ بعد کولاحق ہو۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
قال(ای محمدرضی اﷲ تعالی عنہ)فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذامات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم بان ھبۃ المریض ھبۃ عقد او لیست بوصیۃ واعتبارھا من الثلث ماکانت لانھا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض و قدتبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھوالثلث واذاکان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطھا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اصل میں کہاکہ مریض کاہبہ اورصدقہ جائزنہیں مگراس وقت جبکہ ا س پر قبضہ کرلیاگیا ہو پس اگر اس پرقبضہ ہوگیاتوایك تہائی میں جائزہوگااوراگر واہب سپردگی سے پہلے مرجائے تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔یہ جانناضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقد کے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے۔اوراس کا ایك تہائی سے اعتبارکرنا اس وجہ سے نہیں کہ وہ باعتبارمعنی کے وصیت ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور مریض نے ہبہ کےساتھ تبرع کیا ہے تو اس کاتبرع صرف اسی حد تك لازم ہوگا جوشرع نے اس کے لئے مقررکی ہے
اسی میں ہے:
لاتجوز الوصیۃ للوارث عندنا الا ان یجیزھا الورثۃ ولاتعتبراجازتھم فی حیات الموصی حتی کان لھم الرجوع بعد ذلك کذا فی فتاوی قاضی خان و لایمنع الشیوع صحۃ الاجازۃولو اجاز البعض وردالبعض یجوزعلی المجیز بقدر حصتہ وبطل فی حق غیرہ کذا فی الکافیوالاجازۃ انما یجوز اذا اجازہ وھو عاقل بالغ صحیح کذا فی خزانۃ المفتین۔ اھ مختصرا۔ ہمارے نزدیك وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے اس کے کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں اوران کی اجازت موصی کی زندگی میں معتبرنہیں ہوگی یہاں تك کہ وہ اجازت کے بعد رجوع کرسکتے ہیں۔یونہی فتاوی قاضیخان میں ہے۔ اورغیرمنقسم ہونا اجازت کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہوتا اگربعض وارثوں نے اجازت دے دی اوربعض نے رد کردیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے مطابق جائزہوگی اور اس کے غیرکے حق میں باطل ہوگیکافی میں یونہی ہے۔ اجازت اسی وقت ہوگی جب اجازت دینے والا عاقل بالغ صحت مند ہوخزانۃ المفتین میں یونہی ہے اھ (اختصار)۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
المانع عن تمام القبض شیوع مقارن للعقد لا طاری ۔ قبضہ کی تمامیت سے مانع وہ شیوع ہے جو عقد کے ساتھ مقترن ہونہ کہ وہ جو اس پر طاری ہو۔(ت)
الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۰و۹۱€
الدرالمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
قولہ لاطارئ اقول منہ مالووھب دارا فی مرضہ ولیس لہ سواھا ثم مات و لم یجز الورثۃ الھبۃ بقیت الھبۃ فی ثلثھا وتبطل فی الثلثین کما صرح بہ فی الخانیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کاقول"کہ اس پرطاری نہ ہو"میں کہتاہوں اگر کسی نے مرض الموت میں اپنامکان ہبہ کردیا اورسوائے اس مکان کے اس کی ملکیت میں کچھ نہیںپھروہ مرگیا اوروارثوں نے ہبہ کی اجازت نہ دی توہبہ اس کے ایك تہائی میں باقی رہے گا جبکہ دوتہائی میں باطل ہوجائے گاجیساکہ خانیہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت کی کیا تعریف ہے اورکس کس مرض پر اس کااطلاق ہوتاہے اورکب تك اس کی مدت مقرر ہے کہ قبل اس کے مرض الموت نہ کہاجاسکے۔
الجواب:
شرعا کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لئے دو۲باتیں درکارہیں کہ وہ دونوں جمع ہوں تو مرض الموت ہے اور ان میں ایك بھی کم ہو تو نہیں۔
(۱)اس مرض میں خوف ہلاك واندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہواگراصلا خوف موت نہیں یا ہے توضعیف ومغلوب ہے تومرض موت نہیں اگرچہ اتفاقا موت واقع ہوجائے۔
(۲)اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے موت کاسبب کوئی اورہوجائے مثلا زیدکوہیضہ یاطاعون ہو اورابھی اسے انحطاط کافی نہ ہواتھا خوف ہلاك غالب تھا کہ سانپ نے کاٹا مرگیا یاکسی نے قتل کردیا تو ز اس مرض میں جوتصرفات کئے وہ مرض الموت میں تھے اگرچہ موت اس مرض سے نہ ہوئی اوراگر انحطاط کافی ہوگیاتھا کہ غلبہ خوف ہلاك جاتارہا اوراب اتفاقا اسی مرض خواہ دوسرے سبب سے مرگیا تووہ تصرفات مرض کے نہ تھے اگرچہ حال اشتداد ہی میں کئے ہوں کہ انحطاط مرض وزوال خوف نے اسے مرض الموت نہ رکھا یوں ہی اگربحال انحطاط وعدم خوف تصرفات کئے اوران کے بعد پھر اشتداد ہوکرخوف غالب اورہلاك واقع ہواتو یہ تصرفات
فی نورالعینقال ابواللیث کونہ صاحب فراش لیس بشرط لکونہ مریضا مرض الموت بل العبرۃ للغلبۃ والغالب من ھذا المرض فھو مرض الموت وان کان یخرج من البیت وبہ کان یفتی الصدر الشھید ثم نقل عن صاحب المحیط انہ ذکر محمد رضی ا ﷲ تعالی عنہ فی الاصل مسائل تدل ان الشرط خوف الھلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش اھ۔ نورالعین میں ہے:ابواللیث نے کہاکہ مریض کاصاحب فراش ہونا اس کے مرض الموت کے مریض ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اعتبارغلبہ کا ہےاوراس کابیماری سے غالب گمان موت کا ہوتو وہ مرض الموت ہوگی اگرچہ وہ گھر سے نکلتاہواوراسی کے ساتھ صدر الشہید فتوی دیتے تھے۔پھرصاحب محیط سے منقول ہے کہ بیشك امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اصل میں کچھ ایسے مسائل ذکر فرمائے ہیں جواس بات پردلالت کرتے ہیں اس بیماری میں ہلاکت کے خوف کاغالب ہوناشرط ہے نہ کہ مریض کاصاحب فراش ہونا اھ(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
ان صارصاحب فرش بعد التطاول فھو کمرض حادث حتی تعتبر تصرفاتہ من الثلث اھ۔ اگر وہ بیماری کے لمباہونے کے بعد صاحب فراش ہوا تو وہ نوپید بیماری ی مثل ہے یہاں تك کہ تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے اھ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حاصلہ انہ ان صار قدیما بان تطاول سنۃ ولم یحصل فیہ ازدیاد فھو صحیح امالومات حالۃ الا زدیاد الواقع قبل التطاول اوبعدہ فھو مریض ۔ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اگربیماری پرانی ہوگئی بایں صورت کہ سال کومحیط ہوگئی اور اس میں بیماری کی شدت حاصل نہیں ہوئی تو وہ صحت مند ہوگا۔لیکن اگر وہ بیماری کی شدت کی حالت میں مرگیا چاہے وہ شدت بیماری کی طوالت سے پہلے واقع ہوئی یا اس کے بعد تو وہ مریض قرارپائے گا۔(ت)
ردالمحتار بحوالہ الزیلعی کتاب الوصایا داراحیاء التراث العری بیروت ∞۵ /۴۲€۳
ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العری بیروت ∞۲ /۵۲۱€
مات فیہ بذلك السبب اوبغیرہ کان یقتل المریض اویموت لجھۃ اخری ۔ وہ اس بیماری میں مرا اسی بیماری کے سبب سے یا کسی اورسبب سے مثلا اس مریض کوقتل کردیا وہ کسی اور وجہ سے مرجائے(ت)
مسئلہ ۱۴۳: ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ ۱۰/صفر۱۳۲۳ھ ازمکان سیدفرزندعلی مرحوم
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ مسمی زیدنے بعد فوت ہونے کے ایك منکوحہ اوردولڑکے اور دو دخترچھوڑےمسمی بکرپسر زید نے بعد فوت ہونے زید کے کل اخراجات خانگی اورپرورش نابالغان کا اپنے ذمہ لیاحتی کہ بکر نے بذریعہ معاش نوکری کی پرورش حتی الوسعت کیبعدہاس کی ایك لڑکی جو حد سن بلوغ تك پہنچی اس کانکاح بقانون شرع متین کے کردیا اورمسمی بکربوجہ نکاح کرنے دختر زید کے مقروض ہوگیا تاہنوز قرضہ ادانہیں ہوا اب ایك لڑکا زید کاجونابالغ تھا سن بلوغ پہنچ کر آمادہ اس بات پر ہے کہ جو چیز زیدکی ہے اس کامالك میں ہوں اوربکر سے کہاکہ تو نے اپناحصہ فروخت کرکے اس پرصرف نہیں کیا اب تیراکچھ نہ رہا زیدنے فوت ہون کے بعد اپنی ملکیت میں ایك منزل حویلی پختہ اورتین درخت املی اورایك درخت جامن کا اورایك نیب کااوراملی برد عــــــہ۱نے علاوہ حویلی پختہ کے اورایك قطعہ باغ تخمینا دوبیگھہ کاچھوڑامسمی بکرپسر زید چند مدت بیکار رہا اوردودرخت املی اورایك درخت جامن برائے خوردونوش نابالغان کے فروخت کرکے خوب سرے عــــــہ۲ کی اورقطعہ باغ کو فروخت کرکے نکاح دختر زیدفوت شدہ کے صرف کیا اب ایك درخت املی ایك درخت نیب کا اوراملی برد عــــــہ۳ نے اورایك منزل حویلی پختہ کل املی بردنے اورحویلی کے تخمینا عــــــہ۴ دوبیگھہ ہوا اب شیئ موجودہ میں زید کا بموجب حصص رشد شرعی کے کس طرح حصہ ہوناچاہئے۔تعداد اولادزید چاراولاددولڑکے دودختربیوہ منکوحہ ایکایك دختر نکاح شدہ شامل ہے فقط۔
الجواب:
بیان مسائل سے واضح ہواکہ دودرخت املی کااورایك جامن کابیچ کردونوں بھائیوں اور
عــــــہ۱ و عــــــہ۲ و عــــــہ۳ و عــــــہ۴: کذا فی الاصل ۱۲ ازہری غفرلہ
ھذا ھوالثابت دلالۃ والثابت دلالۃ کالثا بت لفظا وقد حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاونا بما لا مزید علیہ۔ یہ وہ ہے جوبطور دلالت ثابت ہے اورجوبطور دلالت ثابت ہو اس کی مثل ہے جوصراحۃ لفظ کے ساتھ ثابت ہو۔اس کی تحقیق اﷲ تعالی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں۔(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت فی البیع والشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی ینصبہ وصیافاخذھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالی انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل۔ اگراہل محلہ میں سے کسی شخص نے میت کے مال میں بیع و شراء وغیرہ کا تصرف کیاجبکہ اس میت کا نہ تو کوئی وارث ہے اورنہ ہی وصیلیکن وہ شخص جانتاہے کہ اگر معاملہ قاضی کے پاس لے جائے تو قاضی اس کو وصی مقررکردے گااس شخص نے میت کامال لے لیا اورقاضی کے پاس معاملہ نہ لے گیا اوراس مال کوبرباد کردیا۔امام ابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ وہ اس شخص کے تصرف کوجائزقراردیتے تھے(ت)
عــــــہ:یعنی جہیز۱۲ ازہری غفرلہ
افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائز للضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی۔ قاضی الدبوسی نے فتوی دیاکہ اس کاتصرف ضرورت کے لئے جائزہے۔امام قاضی خان نے کہایہ استحسان ہے اوراسی کے ساتھ فتوی دیاجائے گا۔(ت)
پس بیعیں کہ بکرنے کیں جائزہوئیںدرختوں کاروپیہ جن جن کے صرف میں آیا انہیں پر پڑے گاکتخذا لڑکی اس سے جدارہے گی اورباغ کاروپیہ تنہا اسی لڑکی پرپڑے گااگریہ اس کے تمام حصے کے برابرتھا تواس نے اپناتمام پورا عــــــہ حصہ پایا اوراگرکم تھا توجتناباقی اتناپائے گی اوراگرزیادہ تھا توجس قدر زائد گیاوہ بکرکے اپنے حصے پرپڑے گا یاماں کی اجازت تھی تووہ بھی اس کے تاوان میں شریك ہوکر باقی ورثہ بری رہیں گے کل جائداد زیدجس قدراس نے وقت انتقال چھوڑی تھی بعدادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا اڑتالیس حصے ہوکر چھ سہم بیوہ زیدکے ہوں اورچودہ چودہ ہرہرپسراور سات سات ہردختر کے اوران میں سے وہ اشیاء جوبك کے کتخذا کے صرف میں الگ اس کے حصے مجراہوں اورجو اوروں کے صرف میں آئیں ان کے حصے سے مجراہوں جوباقی رہیں ان میں جس جس کا جس قدرباقی رہااس حساب سے تقسیم ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۴:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)یہ کہ مسماۃ ہندہ لاولدفوت ہوئی اورشوہر و والد و والدہ وہمشیرہ اورچاربھائی حسب ذیل وارث چھوڑے:
شوہر والد والدہ ہمشیرہ بھائی بھائی بھائی بھائی
خالد زید کبری صغری بکر حامد محمود مسعود
(۲)یہ کہ ہندہ مرحومہ نے دو۲روزقبل ازفوت اپنی حالت مرض الموت میں اپنے والد زید سے وصیت کی کہ میں نے کچھ روپیہ بہ نیت حج چھوڑا تھا مگرمجھ کوموقع بسبب نہ دستیاب ہونے محرم ہمراہ سفرکے میسرنہیں ہوا اوردوسروں کے ذریعہ سے حج کرانے میں بسبب کمیابی امانت دار کے
عــــــہ: کذا فی الاصل وھومکررکماتری۱۲ ازہری غفرلہ
(۳)یہ کہ بروزقضاقبل ازدفن اس کے والد زیدنے چنددیگراشخاص معززین کی موجودگی میں شوہر خالدوبعض ورثاء ذکورکوبلاکر اس وصیت کا اظہارکرکے یہ ظاہرکیاکہ میری رائے میں قبل صدقات نافلہ کے تحقیق کرکے اس کے ذمہ نمازوں کی فوت اگرکچھ ثابت ہوتو ہمراہ فدیہ صوم کے فدیہ نمازوں کابھی اداکیاجائےچنانچہ اسی بناء پر اس کی سسرال کی بوڑھی مستورات سے دریافت کیا توانہوں نے جواب دیاکہ ہمارے یہاں غیربلوغت کی حالت میں بیاہ کرآئی ھی اورنمازیں اداکرتی تھی مگرہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ حسب رواج جیساکہ نئی عروسوں کوحیادامنگیر ہوتی ہے ایسی حالت میں شاید کوئی نمازیں قضاہوئی ہوں اس بناء پربعض حاضرین جلسہ نے تین ماہ اوربعض نے چھ ماہ کی قضانمازوں کے فدیہ اداکرنے کاتخمینہ کیا ازاں بعد وارثان موجودہ مرقومہ بالا سے دریافت کیاگیا کہ تم اپناحق وراثت لیتے ہو اس کے جواب میں شوہر خالدنے بے ساختہ کہاکہ مجھ کو نہیں چاہئے ہے اس کے ذمہ کے حقوق اورفدیہ وغیرہ اداکرو اور اس کے صدقات میں صرف کرواگراس میں کسی قدرکمی دس پانچ روپیہ کی باقی رہے تواورمجھ سے لے لو چونکہ وقت میں گنجائش نہ تھی اس کی تکفین کی عجلت تھی بایں وجہ دوسرے وقت پر اس تعمیل کوملتوی رکھاگیا قبل ازدفن صرف نو روزے کافدیہ داکردیاگیا۔
(۴)یہ کہ ایسی حالت میں کیااحتیاطی نمازوں کافدیہ اداکیاجائے گا اوراگرفدیہ احتیاطی نمازوں کا اداکیاجائے گاتوکس قدرزمانہ کی نمازوں کا اداکیاجائے گا یامالیت مرقوم الصدر نقدات میں زیورات شامل کرنے سے جومقدار سفرحج کوکافی ہوسکتاہے ادائے حج اس کے ذمہ فرض متصورہوگا توکیاقضائے حج دوسرے شخص کوبھیج کرواجب ہوگی اورکیا دیگرصدقات نافلہ
(۵)یہ کہ زید مرحومہ کاوالد ان صورتوں مرقومہ بالامیں کس طرح اپنے ذمہ کے حقوق وصیت کواداکرکے گلوخلاصی حاصل کرےبیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہندہ کے صرف تین وارث شرعی ہیں:شوہرماںباپباپ کے ہوتے بہن بھائیوں کاکوئی استحقاق نہیںترکہ میں حق شوہر نصف ہےاس کے اخراج کے بعد جمیع نصف باقی کی نسبت اس کی وصیت ہے کہ حسب رائے پدرتعمیر چاہ وغیرہ خیرات میں صرف کیاجائے باپ اس وصیت کونافذکرچکا اورزبانی اظہارسائل سے معلوم ہواکہ ماں ہنوز ساکت ہے نہ اس نے انکارکیانہ اجازت دیپس اگرماں بھی اجازت دے دے تونصف متروکہ شوہرکودیں اورنصف حسب رائے پدر امورمذکورہ میں صرف ہوتعمیر چاہ جس کا اس نے خاص نام لیاکی جائے اورباقی صدقات وخیرات میں صرف کیاجائے ان صدقات میں پدرکو رواہے کہ ہندہ کی نمازوں کے فدیہ کی نیت کرلے کہ یہ نیت نہ مانع صدقہ ہے نہ مخالف وصیت۔یہ اندازہ کہ اس کے ذمہ کتنی نمازوں کا فدیہ ہوگا یہاں نہیں ہوسکتا اس کے اعزہ ہی اس کاحال جانتے ہوں گے۔جب اس پر کسی نمازکی قضا لازم رہتی معلوم نہیں اوروہ ہمیشہ سے پابندنماز تھی توفدیہ نمازلازم نہیں اورشبہہ کے لئے احتیاط کرے توبعد تعمیر چاہ جوکچھ دے سب میں فدیہ نمازکی نیت سے کوئی مانع نہیں اگرواقع میں کوئی نماز قضا تھی امید ہے کہ اس کافدیہ ہوجائے ورنہ صدقہ بہرحال ہےمگرحج میں اسے صرف نہ کرے کہ وہ صراحۃ حج کرانے سے انکارکرچکی کہ مجھے کسی پراطمینان نہیں۔اورلفظ خیرات ہمارے عرف میں حج بدل پرصادق نہیںاوراگرماں بھی اجازت نہ دے توکل ترکہ کہ اٹھارہ حصے کرکے نوحصے شوہرکو دئیے جائیں اورایك حصہ ماں کوباقی آٹھ حصے وصیت مذکورہ میں صرف کردیں۔
وذلك لان الوصیۃ وان کانت تقدم علی الارث لکنھا انما لاحقت ھھنا النصف الباقی بعد اخراج نصیب الزوج ففی ھذا تنفذ بقدر ثلث کل المال لعدم الدین من دون حاجۃ الی اجازۃ الوالدین فاذا خرج النصف و الثلث بقی السدس فثلثہ اوریہ اس لئے ہے کہ وصیت اگرچہ میراث سے مقدم ہوتی ہے مگریہاں وہ شوہر کاحصہ نکلانے کے بعد باقی بچنے والے نصف کولاحق ہوئی چنانچہ اسی نصف باقی میں کل مال کے ثلث کے برابر وصیت نافذکی جائے گی کیونکہ قرض میت پر نہیں ہے اوروالدین سے اجازت کی ضرورت نہیںجب کل مال میں سے نصف اورایك تہائی نکل گیا باقی کل مال کا چھٹا حصہ
یہ نصف کہ شوہرکو پہنچا اس کی نسبت اگرچہ وہ کہہ چکاہے کہ مجھ کونہیں چاہئے اس کے ذمہ کے حقوق وفدیہ وصدقات میں صرف کرو مگر ارث ساقط کئے ساقط نہیں ہوتی لانہ جبری کما فی الاشباہ وغیرہ(اس لئے کہ میراث جبری ہے(اختیاری نہیں) جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ت)اوراس نصف کی نسبت وصیت نہ تھی کہ اس کا یہ قول وصیت کی اجازت قرارپائے اوراس کو اختیار نہ رہےلاجرم وہ مختار ہے اگرحصہ لیناچاہے تولے سکتاہے اوراگرہندہ کے لئے صرف کردیناچاہئے تویہ بھی کرسکتاہے اور اس پروہ پابندی نہیں جووصیت ہندہ میں تھیاور اس قدر میں شك نہیں کہ اجازت دے کر اپنے قول سے پھرجانے میں اگرچہ حکما اس پرجبرنہیں لانہ متبرع ولاجبر علی متبرع(کیونکہ وہ متبرع ہے اورمتبرع پرجبرنہیں ہوتا۔ت)مگرقول سے پھر جانا شرعا بھی مذموم ہے تو وہ اگرثابت قدمی چاہے تومناسب یہ ہے کہ اس نصف سے ہندہ کی جانب سے حج بدل کرادے کہ یہ فرض اس پررہ گیاہے حق صحبت اسی کوچاہتاہے کہ اس دین شدید سے اس کی گلوخلاصی کرادے اوراگراس کانصف حج کے لئے کافی نہ ہوتاہو اورماں نے ہنوز اجازت وصیت نہ دی اوردیناچاہتی ہے تومناسب یہ ہے کہ وہ بھی وصیت کی اجازت نہ دے بلکہ اپنا حصہ کہ کل مال کا اٹھارہواں ہے اسی نصف شوہر میں شامل کردے پھربھی کچھ کمی رہے تو حسب وعدہ شوہر اپنے پاس سے دس پانچ اورملادے باقی باپ پوراکردے غرض جس طرح ممکن ہو اس کی طرف سے حج بدل میں سعی جمیل بجالائیں کہ یہ اس پرسے سختی کاٹالنا ہوگااورجوکسی مسلمان پرسے سختی دورکرے گا اﷲ تعالی روزقیامت اس پرسے سختیاں دورفرمائے گا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرج عن مسلم کربۃ فرج اﷲ عنہ کربات یوم القیمۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جس نے کسی مسلمان سے ایك سختی کودورکیا قیامت کے دن اﷲ تعالی اس سے کئی سختیوں کودورفرمائے گا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
الجواب:
جواب سوال اول میں معلوم ہولیاکہ بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حق نہیں اورباپ اپنی اجازت سے نہیں پھرسکتا کہ وہ وصیت کی اجازت تھی اور وارث جب بعد موت مورث وصیت کوجائزکردے اس سے پھر رجوع کرنے اوراپناحق وراثت مانگنے کا اختیارنہیں رکھتا شوہر رجوع کرسکتاہے کہ اس کے حق کے متعلق وصیت نہ تھی وہ اجازت اس کی اپنی خوشی سے تھی جس پرقائم رہے تومحبوب ومندوب ہے ورنہ جبر نہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان ہے دنیائے ناپائیدار سے رحلت کی اورپندرہ اشرفی قیمتی دوسوپچیس روپے کی صندوقچی میں سے بعد مردن کے برآمدہوئیں اوراس کے برادرحقیقی نے اپنے پاس رکھیں کہ متوفی کے سالے کی بی بی نے ظاہرکیاکہ متوفی نے اس روپیہ کے بارہ میں مجھ سے وصیت کی ہے کہ دفع مذکورہ میرے فوت کے بعد حسب تفصیل ذیل خرچ کردینا کہ مبلغ دس روپیہ ہرنوچندی جمعرات کو دس جمعرات تك بقدر سوروپیہ کے فاتحہ میں میری صرف کردینا بالقصہ مبلغ ایك سوپچیس کہ کسی مرد مسلمانوں کودے کرواسطے حج بدل کے بھیج دینا یہ رقم برآمد شدہ مجھ کو دے دو چنانچہ حوالے بی بی موصوفہ کے وہ روپیہ کردئیے گئے اب سوائے بی بی موصوفہ کے وصیت کاکوئی گواہ مرد یاعورت نہیں ہے دوسری ایك بات قابل ظاہرکرنے کی اورہے ایك وصیت نامہ جوکہ متوفی نے اپنی حیات میں مع ساڑھے روپیہ کے بنام اراکین برادری کے تحریرکیاہے اس میں بھی کچھ ذکربی بی صاحبہ کی وصیت کا نہیں ہے اب وہ رقم مذکورہ بی بی صاحبہ موصوفہ کوحوالہ ورثہ کردیناجائز ہے یانہیں اور ورثاء اس رقم کولے سکتے ہیں یانہیں کیاحکم شرع شریف کاہےخلاصہ دعوی ورثہ متوفی بی بی صاحبہ موصوفہ غیرکفوناخواندہ ہیں جدی نہیں ہیںتنہاعورت کابیان قابل یقین ہے یانہیںبی بی صاحبہ بیوہ ہیں ورثاء سے کوئی تعلق نہیںوصیت نامہ میں کوئی ذکروصیت بی بی صاحبہ کانہیں ہے۔
تنہا عورت کابیان حجت نہیں ورثاء بالغین کواختیارہے اگرچاہیں اس کی بات پر اعتبارکرکے خواہ اس احتیاط سے کہ شاید میت نے یہ وصیت بھی کہ اسے جائزوجاری کردیں اورچاہیں نہ مانیں اور مان سکتے ہوں توماننا بہتر ہے اس لئے کہ وہ عورت کوئی اپنے نفع کی بات نہیں کہتی۔عورت کو اگرخوب تحقیق صحیح یاد ہے کہ اس نے وصیت مذکورہ کی ہے اور وہ مورث کے ثلث ترکہ بعدادائے دین سے کم ہو تو اسے ضرور ہے کہ وہ وصیت میں حسب وصیت اسے لگادے وارثوں کوباختیار خودہرگز واپس نہ دے مگر وارثوں کواختیارہے کہ اگراس وصیت کاسوابیان عورت کے کوئی ثبوت نہیں توتسلیم نہ کریں اورجبرا وہ روپیہ کہ اب خود ان کی ملك ہوگیا عورت سے لے لیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۷: غلام علی ساکن بریلی علاقہ ترائی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص فوت ہوگیا اوراس کے وارثوں میں ایك حقیقی بھانجی ہے جس کو مرتے وقت اس نے ۱۸گاؤمادہ اورتین جاموس مادہ دینے کی وصیت کی ان کےسوا اس کےباقی مال متروکہ کاجودعوی کرتے ہیں اوراپنے آپ کو وارث قرار دیتے ہیں وہ یہ لوگ ہیں:ماموں زاد بھائیچچازادبھائیچچازادبہن۔ان لوگوں میں کون کون وارث جائز اورمستحق ترکہ پانے کا اور کس کس کاکتنا کتناحصہ ہے اور کس طرح تقسیم ہوناچاہئے ازروئے علم فرائض کے بینواتوجروا۔
الجواب:
اس صورت میں صرف اس کے چارچچازادبھائی وارث ہیں باقی کوئی وارث نہیں ہے یہ اٹھائیس گائیںپانچ بھینسیں اگر بعد ادائے دین اس کے تہائی ترکہ کی مقدار تك یا اس سے کم ہوں تویہ دونوں وصیتیں تمام وکمال پوری کردی جائیں مثلا ان ۳۳ جانوروں کی قیمت اگر تین سوروپیہ کی ہو اور متوفی پرکچھ دین آتاہو تو اسے اداکرکے جو باقی بچا وہ نوسوروپیہ یازیادہ کاہے مع ان چاروں کے جب تو یہ سب جانور جس طرح اس نے وصیت کی ہے اس کے بھانجی اورپھوپھی زاددونوں کی وصیت سے حصہ رسد کم کرلیں باقی وصیت بے اجازت چچازادبھائیوں کے نافذ نہ ہوگی یہ عام حکم ہے اور خاص طورپر اس کاحساب چاہیں تواتنی باتیں بتانے پر ہوسکتا ہے:
(۱)زیدکاکل مالجانورزمینمکانزرنقدگھرکا اسباب وغیرہ کتنی مالیت کاہے۔
(۲)زیدپرکوئی قرض یا کسی کادین یاعورت کامہرآتاتھایا نہیںاگرآتاتھا توکس قدر۔
(۴)چاروں چچازادبھائی اس وصیت کوپوراکرنے پر راضی ہیں یاسب ناراض ہیں یاکون کون راضی ہے کون کون ناراض۔
(۵)جوراضی ہیں وہ دونوں شخصوں کے لئے وصیت کامل پرراضی ہیں یافقط ایك کے لئےاگرفقط ایك کے لئے راضی ہیں تو بھانجی کے واسطے یاپھوپھی زادبھائی کے لئےان باتوں کا ٹھیك ٹھیك معلوم ہونے پرصحیح حساب بتایاجاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۸: ازپراناشہرمحلہ فراشی ٹولہ مسئولہ جناب کفایت اﷲ صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید سے بکرنے ایك دفعہ چھ سوچھیانوے روپیہ دستگردان قرض لئے زیدنے بارہا تقاضا کیابکرنے اقراردینے کاکیا زیدنے اپنے انتقال سے پیشتر ایك وصیت نامہ لکھا وصیت نامہ میں وہ روپیہ اپنی زوجہ کے دین مہر میں لکھاکہ بکرسے روپیہ وصول ہوکر میری زوجہ کودے دوجب بکربھی فوت ہوگیا وصیت نامہ مصدقہ حکام مدینہ طیبہ موجودہے یہ مہرکاروپیہ شرعا بکرکے وارثوں کے ذمہ ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
بکرنے اگرکچھ ترکہ چھوڑا تو یہ روپیہ اوراگرذمہ بکرکچھ اورقرض ودین ہوتو وہ بھی اس ترکہ پرلازم ہے اوراس میں سے کل (بحال تنگی متروکہئ وزیادت دیون)حصہ رسد اداکیاجاناواجب ہےاگربکرنے کچھ ترکہ نہ چھوڑا تو وارثان بکرپرکچھ مطالبہ نہیں۔یوں ہی اگر ترکہ چھوڑا تو جتنا وصول ہوسکے وصول ہوباقی کا مطالبہ بکرپرآخرت کے لئے رہاوارثوں پرمواخذہ نہیں۔پھریہ جو وصیت زیدنے اپنی زوجہ کے لئے کہ اگر گواہوں سے ثابت ہوکہ اس کامہراتنا یا اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ اس سے زائدورت کامہرمثل ہویایہ بھی نہیں توبقیہ ورثہ زید عاقل بالگ اس زیادت پرراضی ہوں تویہ رقم پوری زوجہ زیدکواس کے مہرمیں دی جائے گی اوراگر نہ گواہوں سے ثابت کہ مہراس قدریا اس سے زائدبندھاہے اوریہ رقم عورت کے مہرمثل سے زائد ہے اوربقیہ ورثہ زیداس پر راضی نہیں توعورت کوصرف مہرمثل تك دیاجائے گا زیادہ حسب فرائض زوجہ زید ودیگر وارثان زیدپرتقسیم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
قبلہ ایمانیاں وکعبہ روحانیاں وجان ایماں بخش ایں بیجان مقبول بارگاہ صمدیت مولانا ومرشدنا اعلحضرت ادام اﷲ تعالی برکاتہم وافضالہمبعدبجاآوری مراسم سرافگندگی وآداب دست بستہ کے گزارش خدمت کفش برادران حضورمیں یہ ہے کہ جوترکہ متوفیہ کنیزك حضورمیں اس کے دو نابالغ لڑکے حضورکے غلام زادہ اورایك پدراور ایك شوہر ہیں اورمتاع ترك مختلف طورپرہے زیوروپارچہائے پوشیدنی وبرتن واثاث البیت اس کی تقسیم میں نہایت تفکرہے ا س میں سے قریب چارسوروپے کے زیورفروخت ہوگیاجس کاروپیہ موجودہے اورپانسوروپے کے قدراوراسباب وزیورباقی ہے جس کافروخت ہونانہیں معلوم اور ہو توعرصہ میں ہیں اورکم قیمت پراب چونکہ نابالغ شریك ہیں اس کی فروخت میں بھی خوف ہے پھر ا س کی حفاظت اپنی طبیعت قطعی اس بار کونہیں اٹھاتی دنیاکے مال ومتاع اورفرزندان حتی کہ مادر وپدرسے بھی دلچسپی نہیں اگراطاعت والدین اورتعلیم فرزندان فرض نہ ہوتی توکسی طرح یہ بارپسندنہ ہوتاحضور ہی کے قدموں پریہ زندگانی مستعار بسرکی جاتی اور اس امرکی حضور سے التجاہے کہ ایسانصیب ہویہ امریقینی ہے کہ حضورکسی وقت اپنے سگ دور افتادہ کو توجہ باطنی سے فراموش نہ فرماتے ہوں گے اگرحضور کاتصرف باطنی معاذاﷲ ایك دم کوجداہوجائے تویہ اندوہگیں طالب طلب حضور ازحضورمسلمان نہ رہے اور جان سے بیکارہوجائے اس مال میں سے اپناحصہ لینے کاقصد بیت اﷲ شریف کے قصد سے ہے اورکوئی سبیل بظاہرنہیں معلوم ہوتی ورنہ لڑکوں اورپدرکے نام با آسانی تقسیم ہوجاتا اگرایسے ممکن ہوکہ بقیہ اسباب تخمینے سے تقسیم کرلیاجائے اور روپیہ حساب سے پدرکاحصہ پدرکو دے دیاجائے اورلڑکوں کاحصہ مع زرنقد کے خریدلیاجائے اور یہ ان کے حصے کے روپے بطورقرض میرے پاس رہیں جب وہ بالغ ہوں تو اداکردیئے جائیں اس وقت مجھ کو ان کے تصرف کااختیارحاصل ہوجائے تو اس میں بہت آسانی ہوجائے کیونکہ بہت چیزیں ایسی ہیں کہ فروخت بھی نہیں ہوسکتیں مثل پارچہائے پوشیدنی زنانہ اوران کابیچنا بھی معیوب معلوم ہوتاہے جبکہ یہ احقر غلامان اس پرشریعت کی روسے قابض ہوجائے گا تو اختیار خداکی راہ میں دے دینے کاہوجائے گا ورنہ وہ رکھے رکھے بیکارہوجائیں گے یااپنے میں مشغول کریں گے جس سے طبیعت عاری ہے جیسا ارشاد ہوتعمیل کی جائےاورکیایہ بھی ممکن ہے کہ اس کے باپ اس میں سے کچھ لے لیں اوربقیہ کومعاف کردیں یابلا تقسیم کچھ نقد لے کرمیرے ہاتھ فروخت کردیں جیساکہ حضورنے فرمایاتھا کہ اپنی خوشی سے اس کے
الجواب:
۷۸۶
۹۲
بملاحظہ محب خدا غلام بارگاہ مصطفی جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جوان صالح سعید مفلح خاں صاحب محمددلاورحسین خاں صاحب قادری برکاتی حفظہ اﷲ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
حق سبحانہوتعالی آپ کو اپنی اوراپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت کاملہ میں ابد الآباد تك سرشار رکھے اوراپنی مرضیات کی توفیق دے۔والدین کی خدمت بچوں کی تربیت یہ بھی عین کاردین ورضائے رب العالمین ہے۔ریاضت ومجاہدہ نام کاہے کاہے اسی کاکہ رضائے الہی میں اپنی خواہش کے خلاف کرنا۔خدمت والدین وتربیت اولادرضائے رب العزت ہے اور اب کہ آپ کی طبیعت ان تعلقات سے بھاگتی ہے رضائے الہی کے لئے اس کاخلاف کیجئے یہی ریاضت ہوگیتعلقات سے نفرت وہ محمودہوتی ہے جس میں حقوق شرعیہ تلف نہ ہوں ورنہ وہ بے تعلقی نفس کادھوکہ ہوتاہے کہ اپنی تن آسانی کے لئے شرعی تکالیف سے بچناچاہتاہے اوراسے دنیا سے جدائی کے پیرایہ میں آدمی پرظاہرکرتاہے۔فقیردعاکرتاہے کہ اﷲ تعالی آپ کو اپنا کرلے اورہمیشہ اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق بخشے اور آپ کے طفیل میں اس نالائق ننگ خلائق کی بھی اصلاح قلب واعمال و تحسین احوال وافعال وتحصیل مرادات وآمال فرمائے اعدائے دین پرمظفر ومنصور رکھے خاتمہ ایمان وسنت پر کرےآمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحابہ وابنہ واحزابہ اجمعین آمین والحمدﷲ رب العلمین۔
مشترك مال تقسیم کرکے نابالغوں کاحصہ جداکرنے کا ان کے باپ کومطلقا اختیارہوتاہے اور ایسی تقسیم تووصی کوبھی رواہے کہ وارثان بالغین حاضرین کاحصہ جداکرکے ان کو دے دے اور نابالغوں کے حصے بلاتقسیم الگ کرلے تو آپ کو بدرجہ اولی جائزہے کہ بچوں کے ناناکے ساتھ تقسیم کرکے بچوں کاحصہ جداکرلیجئے نیزباپ کوجبکہ فاسق وفاسد نہ ہوجائزہے کہ ا ن کے ایسے اموال بازار کے بھاؤپر خودخریدلے بازارکے بھاؤ میں چیز کی اصل لاگت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ اس حالت میں موجودہ پر
وکان الوصی قسم بین الورثۃ وعزل نصیب کل انسان فھذا علی خمسۃ اوجہ الاول ان تکون الورثۃ صغاراکلھم لیس فیھم کبیر وفی ھذا لوجہ لاتجوز قسمتہ اصلا وھذا بخلاف الاب اذا قسم مال اولادہ الصغار ولیس فیھم کبارفانہ یجوز(ثم قال)الرابع اذاکانوا صغار اوکبارافعزل نصیب الکبار وھم حضورفدفعہ الیھم وعزل نصیب الصغار جملۃ ولم یفرز نصیب کل واحد من الصغار جاز ۔ اگروصی نے وارثوں میں میراث تقسیم کی اورہروارث کاحصہ الگ کردیا توا س میں پانچ صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ تمام وارث نابالغ ہوں ان میں سے کوئی بھی بالغ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کی تقسیم بالکل جائزنہیں بخلاف باپ کے کہ اگر وہ اپنی نابالغ اولاد کامال تقسیم کردے جن میں کوئی بالغ نہ ہوتوجائزہے(پھرفرمایا)چوتھی صورت یہ ہے کہ وارثوں میں بالغ بھی ہوں اورنابالغ بھی ہوںپھراس نے بالغوں کاحصہ الگ کرکے ان کو دے دیا جبکہ تمام بالغ ورثا حاضر ہیں اورنابالغوں میں سے ہرایك کا حصہ الگ الگ نہ کیا توجائزہے۔(ت)
تنویرالابصارمیں ہے:
بیع الاب مال صغیر من نفسہ جائز بمثل القیمۃ وبما یتغابن فیہ ۔ باپ اگرنابالغ کے مال کی بیع اپنی ذات سے کرے تومثلی قیمت کے ساتھ اورمعمولی غبن کے ساتھ جائزہے۔(ت)
والوالجیہ وجامع الفصولین وادب الاوصیاء میں ہے:
للاب شراء مال طفلہ بیسیر الغبن لابفاحشۃ ۔ باپ کے لئے جائزہے کہ وہ اپنے نابالغ بیٹے کامال تھوڑے سے غبن کے ساتھ خریدلے نہ کہ زیادہ غبن کے ساتھ۔(ت)
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳€۷
آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲€
فی ھبۃ فتاوی القاضی ظھیرالدین لوکان الاب فی فلاۃ ولہ مال فاحتاج الی طعام ولدہ باکلہ بقیمتہ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاب احق بمال ولدہ اذا احتاج الیہ بالمعروف و المعروف ان یتناولہ مجانا فقیرا و بالقیمۃ غنیا۔ فتاوی قاضی ظہیرالدین کے باب الھبۃ میں ہے اگر باپ بیانان میں ہو اوراس کاکائی مال بھی ہےپھر وہ اپنی اولاد کے طعام کی طرف محتاج ہوا تو وہ قیمت کے ساتھ اس کوکھا سکتاہے کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ باپ اگراولاد کے مال کا محتاج ہو تو وہ معروف طریقے سے اس کو لینے کازیادہ حقدارہے اورمعروف طریقہ یہ ہے کہ اگرباپ فقیرہے تو وہ اس کو مفت میں لے لے اوراگرغنی ہے توقیمت کے ساتھ لے لے۔(ت)
اسی میں ہے:
وفی العدۃاجمعوا علی انہ لیس للوصی قضاء دینہ من مال الصبی وفی الصغری وللاب ذلك لانہ بمنزلۃ بیع مال الصبی من نفسہ ویمبلکہ الاب بمثل القیمۃ بخلاف الوصی حیث یلزم فی بیعہ الخیریۃ۔ عدہ میں ہے مائخ کااس بات پراجماع ہے کہ وصی نابالغ بچے کے مال سے اپنا قرض اداکرنے کااختیار نہیں رکھتا۔اورصغری میں ہے کہ باپ کوایساکرنے کااختیارہے اس لئے کہ یہ نابالغ کے مال کو اپنی ذات پربیچنے کے قائم مقام ہے اورباپ مثلی قیمت کے ساتھ ایساکرنے کا اختیاررکھتاہے بخلاف وصی کے کیونکہ باپ کے اس کو بیچنے سے خیرہونا لازم ہے۔(ت)
اسی طرح فتاوی امام قاضی خاں میں ہے نیزادب الاوصیاء فصل القرض میں ہے:
لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن وعند محمد لایضمن کالاب ۔ اگوصی نے نابالغ کے مال سے قرض لیاتو وہ ضامن ہوگا اور امام محمد کے نزدیك ضامن نہیں ہوگا جیساکہ باپ ضامن نہیں ہوتا(ت)
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الضمان∞ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹€۰
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴€
لیس للوصی اقراض مال الصبی ولااستقراضہ وعن محمد لہ الاستقراض کالاب اھ اقول:وظاھر قولہ کالاب الاتفاق علی ان للاب الاستقراض غیر ان محمدا ربما استشھد بخلافیۃ علی اخری تنبیھا علی منازع الاقوال۔ وصی کے لئے مال صغیر کو قرض پردینا اور اس کو قرض پرلیناجائز نہیں۔اورامام محمد کے نزدیك اس کو قرض پرلیناجائزہے جیساکہ باپ کے لئے جائزہے اھ میں کہتاہوں کہ اس کاقول"کالاب" (مثل باپ کے)ظاہرا اس پردلالت کرتاہے کہ باپ کے لئے مال صغیر کوقرض پرلینے کے جوازپر اتفاق ہے سوائے اس کے کہ امام محمدعلیہ الرحمہ دوسری صورت کے اختلاف ہونے پراستشہاد کرتے ہیں اقوال کے مختلف ہونے پرتنبیہ کرنے کے لئے۔(ت)
ادب الاوصیاء میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:
وفی قضاء الجامعاخذ الاب مال صغیر قرضا جاز وفی الخلاصۃانہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی ۔ جامع کے باب القضاء میں ہے باپ کامال صغیر کوبطور قرض لیناجائز ہے۔خلاصہ میں ہے کہ اصل کے باب الرہن میں امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا:بیشك باپ وصی کی طرح ضامن ہوگا(ت)
اسی کی فصل الاباق میں شرح مختصرالطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے:
للاب ان یدفعہ(ای مال الصغیر)الی غیرہ مضاربۃ اوبضاعۃ وان یضارب ویبضع بنفسہوان یودع مالہ عند انسان وان یعیر لاحد استحسانا لاقیاسا و وان یرھن مالہ بدین نفسہ فلوھلك الرھن یضمن باپ کو اختیار ہے کہ وہ مال صغیر کسی غیرکوبطور مضاربت و بضاعت دے دےاورخود بھی اس کوبطور مضاربت و بضاعت لے سکتا ہے اوریہ بھی اسے اختیارہے کہ وہ مال صغیر کسی کے پاس ودیعت رکھے یاکسی کوبطور عاریت دے دے یہ بطوراستحسان ہے نہ کہ بطورقیاس۔اور یہ کہ وہ مال صغیر کو اپنے قرض کے بدلے میں رہن
آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین بحوالہ خلاصہ فصل فی القرض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴€
اسی میں ہے:
فی الخلاصۃ ورھن القوانسی ومختارات النوازل لوباع الوصی مال الصبی اوالاب من غریم نفسہ تقع المقاصۃ بینھما ویضمن الصبی الثمن عند الطرفین و لایقع عند ابی یوسف وکذا الحکم فی بیع الاب ۔ خلاصہرہن القوانس ااورمختارات النوزل میں ہے اگر وصی یا باپ نے مال صغیر کو اپنے قرض خواہ کے ہاتھ بیچ دیا توثمن اس قرض کا بدل واقع ہوگااور وہ وصی یاباپ صغیر کے لئے ثمن کے ضامن ہوں گے۔یہ طرفین کے نزدیك ہے۔امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك وہ بدل واقع نہیں ہوگایہی حکم باپ کی بیع کی صورت میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی فتاوی الدیناری الوصی اذا باع مال الیتیم باجل جاز ومثلہ الاب وفی الخلاصۃ والمنیۃللوصی البیع بالنسیئۃ ان لم یخف تلفہ بالحجود والانکار ولا المنع عند حصول الاجل وانقجائہ ولم یکن الاجل بعیدافاحشا ذکرہ فی کل من الولوالجیۃ والخانیۃ اھ۔ اقول: وبما مر فتاوی دیناری میں ہے کہ وصی اگرمال یتیم کو ایك مدت تك ادھار پربیچ دے توجائز ہے اورباپ بھی اسی کی مثل ہے۔ خلاصہ اور منیہ میں ہے وصی کوادھار پربیع کرناجائزہے اگریہ خوف نہ ہو کہ مال بسبب انکار کے ضائع ہوجائے گا اورنہ یہ ڈر ہوکہ مدت گزرجانے کے باوجود مشتری ثمن نہیں دے گا اور نہ ہی وہ مدت بہت زیادہ لمبی ہوگی۔یہ تمام ولوالجیہ اورخانیہ سے منقول ہے اھ۔میں کہتاہوں
آداب الاوصیاء علٰی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴€۳
آداب الاوصیاء علٰی ھامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۴€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الفرائض ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳۔۱۷۲€
نیزادب الاوصیاء فصل اباق میں ہے :
فی المنتقی یجوز للوصی شراء مال الیتیم لنفسہ وبیعہ مال نفسہ من الیتیم فاذا رفع ذلك الی القاضی ان رأی خیراابرمہ والزمہ والافسخہ ونقضہ قال ومثلہ بیع الاب وشرائہ حیث یکون للقاضی فسخہ ان لم یکن خیراللیتیم یعنی الابن لکن عدم الخیریۃ فی الاب کونہ ناقصا عن ثمن المثل نقصانا لایتغابن فیہ الناس ۔واﷲ تعالی اعلم منتقی میں ہے وصی کے لئے جائزہے کہ وہ مال یتیم کواپنے لئے خریدے یا اپنامال یتیم پربیچے پھر جب یہ معاملہ قاضی کے پاس پہنچے تو اگروہ اس میں بھلائی دیکھے تو اس کوپکااور لازم کر دے ورنہ اس کوفسخ کردے اور اسی کی مثل باپ کی خریدو فروخت ہےاگر وہ یتیم بیٹے کے حق میں خیرنہ ہوتو قاضی ا س کو فسخ کرنے کا اختیار رکھتاہے لیکن باپ کی صورت میں خیرکانہ ہوتاتب ہوگاکہ جب وہ خریدوفروخت ثمن مثلی سے اس قدرکم ہو جس قدرکمی کاغبن لوگوں میں رائج نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس امرمیں کہ زیدنے ایك مکان بحالت مرض الموت بی بی کے کہنے سے بی بی کے نام بعوض دوسو روپے مہرکے منتقل کردیاتھا حالانکہ قبل اس کے بی بی نے مہرمعاف کردیاتھا اوربی بی نے اس غرض سے مکان منتقل کرایاتھا کہ قرضہ سے بچ جائے_____________________زید اس تحریر کے تیسرے روزمرگیا اورایك لڑکا ایك لڑکی اور بی بی چھوڑے اول بی بی نے سواسوروپے میں رہن رکھا اوراب فروخت کرتی ہے اورلڑکا لڑکی بدستور قابض ودخیل ہیںایسی صورت میں کہ کس قدرحصہ پاسکتے ہیں اوریہ انتقال زیدکاکیاحکم رکھتاہےبینواتوجروا۔
الجواب:
انتقال کی یہ غرض اگرثا بت ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انتقال فرضی ہواور جب زیداقرارکررہا ہے کہ اس پرزوجہ کامہرباقی ہے اور اس کے عوض میں یہ جائداد دیتا ہے تواس کے وارثوں کادعوی کہ عورت پہلے اپنا مہرمعاف کرچکی ہے تھی مسموع نہیں۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
رجل اقر لامرأتہ بمھر الف درھم فی مرض موتہ و مات ثم اقامت الورثۃ البینۃ ان المرأۃ وھبت مھرھا من زوجہا فی حیاۃ الزوج لاتقبل والمھر لازم باقرارہ وکذا فی الخلاصۃ۔ کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے ایك ہزار درہم مہرکا اقرارکیااور وہ مرگیا پھر اس بات پرگواہ قائم ہوگئے کہ عورت نے شوہر کی زندگی میں اپنا مہرشوہر کوہبہ کردیاتھا تو یہ گواہ قبول نہیں کئے جائیں گے اورشوہر کے اقرار کی وجہ سے مہرلازم ہوگا۔خلاصہ میں یونہی ہے۔(ت)
مگرجبکہ مہرروپے تھے ان کے عوض مکان دینا بیع ہے اورزید کومرض الموت تھا اورعورت اس کی وارث ہے اوروارث کے ہاتھ مریض کاکوئی چیزبیچنا اگرچہ برابرقیمت کوہو بے اجازت دیگرورثہ کے باطل ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ مریض نے مرض الموت میں اپنے وارث کاہاتھ
پس اگردیگرورثہ اس انتقال کوجائز نہیں رکھتے تو یہ بیع باطل ہوگئی مکان بدستور متروکہ زید ہوا البتہ دوسوروپے مہرکے دینے رہے بعدادائے مہرودیگردیون مکان ودیگر متروکہ زیدحسب شرائط فرائض چوبیس سہام ہوکرتین سہم زوجہ چودہ پسرسات دخترکوملیںتنہاعورت کواس کی بیع کااختیارنہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: مرسلہ حافظ محمدایازازقصبہ نجیب آباد ۲۸جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
بکرنے اپنے ترکہ میں دولڑکے زیدعمرواورایك مکان مسکونی چھوڑا۔چندمدت کے بعد بڑے بھائی زیدکا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اورایك لڑکارہ گیااس متوفی کی جانب سے ایك شخص شریك اورمختارکل کاروبارتھا۔بکرکے دوسرے لڑکے عمرونے نصف حصہ مکان اپنے بھائی متوفی زید کامنجانب پسرنابالغ متوفی معرفت مختار متوفی پچاس روپے کو بیع خرید کوبیعنامہ مختارسے لکھا لیا کہ جس پرمختارنے پسرمتوفی کے دستخط اپنے ہاتھ سے کردئیے اورایك دستخط اپنے خود کردئیے لیکن رجسٹری نہیں ہوئی اور گواہان حاشیہ بھی سب فوت ہوچکے بعد تحریر وغیرہ کے ایك مکان یا زمین جوزیردیوار مکان مبیع مذکور کے تھی اسی پچاس روپے سے جواوپردے چکے تھے پسرمتوفی وبیوہ متوفی مذکورکوبکرکے چھوٹے لڑکے عمرو نے خریددی اوراس کابیعنامہ پسرمتوفی یعنی اپنے برادر زادہ کے نام تحریر کرادیا جس کی عمر ۳۴ برس کی تھی پس اس وقت بیوہ متوفی زیداپنے پسر نابالغ کولے کر اس مکان میں چلی گئی جوان کو خریددیاتھااب وہ مکان متروك بکر بالکل سارا اس کے چھوٹے لڑکے عمروکے پاس رہا مکان متروك بکرکچھ پختہ وکچھ خام تھا عمرونے اپنی لاگت سے اس خام کوبھی پختہ کرلیا قریب ماصہ روپے کے اس میں صرف ہوئے اورعرصہ ۳۲ برس سے برابر اس عمروکی اس میں سکونت ودخل ہے اب عرصہ دوتین برس کے عمرو کے برادرزادہ نے اس مکان ترکہ بکر میں اپنے باپ متوفی زیدکانصف حصہ طلب کیاہے اوراس برادرزادہ کی عمراس وقت قریب ۳۸برس کی ہے جب سے بالغ ہوا تھا جب سے کوئی جھگڑا نہیں کیاتھا اب
(۱)جوبیعنامہ مختارنے نابالغ کی طرف سے کردیاوہ بیع درست ہوئی یانہیں
(۲)اگربیع درست نہ ہوئی تونصف حصہ چچاونصف حصہ برادرزادہ کاہوگایانہیں
(۳)جوچچانے بعدخریدلینے مکان متروکہ کے(ماصہ)کی تعمیراپنی لاگت سے کی وہ اس کو ملناچاہئے یانہیں
(۴)۳۲ برس سے جوچچاصاحب نے اس مکان متروك میں خالصا سکونت کی ان کاکرایہ نصف کاحقدار برادرزادہ ہے انہیں
(۵)جوبرادزادہ بیان کرتاہےکہ میں نے چچاکوپچاس روپیہ واپس دے دئیے ہیں اگرچچا حلف اٹھالیں تو میں مکان سے دست بردارہوتاہوں ورنہ میں حلف اٹھاتاہوں اس صورت میں کس کاحلف معتبرہے اورکس کو حلف دلایاجائے
(۶)اگربیعنامہ مذکورہ ۱جائزتسلیم ہو اوربرادرزادہ نے پچاس روپے کاحلف کیاہو تو اس کو پچاس روپے ہی دلائے جائیں گے یاکیا ہوگا کیونکہ جب مکان کی بیع جائزہوچکی ہو
(۷)اگرمکان کی بیع ناجائز ہے توبعد حلف برادرزادہ کے نصف حصہ مکان برادر زادہ کاقرارپائے گایانہیں اوربابت لاگت اور کرایہ مکان کیاعمل درآمدہوگا
مسائل متذکرہ بالا میں نہایت جھگڑے اورفساد واقع ہیں لہذا موافق شرع شریف ارشاد فرمادیجئے اجرعظیم وثواب دارین ہوگا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)مکان ۳۴برس سے عمرو کے قبض وتصرف میں ہے اورپسر زید کوبالغ ہوئے بھی بیس برس سے زیادہ زمانہ گزرا اوروہ اتنی مدت مدید تك ساکت رہا یہ اگرچہ اسے مستلزم ہوتاکہ اب پسرزید کا دعوی نہ سناجاتا مگرجبکہ عمروتسلیم کرتاہے کہ واقعی یہ نصف مکان پسر زید کی ملك کا اقرار اوراس سے اپنی طرف انتقال ملك کادعوی ہوا اورکوئی دعوی بے دلیل مقبول نہیں اورہرمقراپنے اقرارپر
دعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع محتاج الی بینۃ ینوربھما دعواہ ولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترك المدعوی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذ باقرارہولوکان فی یدہ احقابا کثیرۃ لاتعد وھذا مالایتوقف فیہ ۔ مورث سے ملك حاصل کرنے کادعوی مورث کی ملکیت کا اقرار اوراس سے ملکیت کے مقرکی طرف منتقل ہونے کادعوی ہےچنانچہ مدعاعلیہ گواہ لانے کامحتاج ہوگا اورمدعاعلیہ مدعی بن جائے گا اورہرمدعی ایسی گواہی کامحتاج ہوتاہے جس کے ساتھ اس کادعوی روشن ہو۔اقرار مذکورکے ہوتے ہوئے مدت مذکورہ تك اس کاقبضہ اسے کچھ نفع نہیں دے گا۔یہ ترك دعوی کے باب سے نہیں بلکہ اقرار کے سبب مؤاخذہ کے باب سے ہے۔جس شخص نے غیرکے لئے کسی شیئ کا اقرار کیا اس کے اقرار کے سبب سے وہ شیئ اس سے لے لی جائے گی اگرچہ وہ بے شمار اس کے قبضے میں رہی ہو اوریہ ایسامسئلہ ہے جس پرتوقف نہیں کیاجاتا۔(ت)
ذریعہ انتقال جوعمرو نے بتایا کہ مختارپدرسے بیعنامہ کرالیامحض باطل وبے اثرہے اول توزید کی زندگی میں اس کامختارہونازید کے بعد اس کی اواد پروصی ہونا نہیں زید کے مرتے ہی وکالت ختم ہوگئی۔تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ینعزل الوکیل بموت احدھما۔ دونوں میں سے کسی ایك کی موت کے سبب سے وکیل معزول ہوجاتاہے(ت)
اوراگرثابت بھی ہوکہ یہ مختاروصی بھی تھا تواگریہ پچاس روپے اس نصف مکان کی واقعی قیمت کے
الدرالمختار شرح تنویرالابصار باب عزل الوکیل ∞مطبع مجتبائی دہلی۲ /۱۱۳€
وجاز بیعہ عقار صغیر بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ او لکونہ نملاتہ لاتزید علی مؤنتہ اوخوف خرابہ او نقصانہ اوکونہ فی ید متغلبدررواشباہ ۔ملخصا وصی کے لئے جائزہے کہ وہ نابالغ کی غیرمنقولہ جائداد کو دگنی قیمت پریاصغیر کے نفقہ کے لئے یامیت کے قرض کی ادائیگی کے لئے یا اس کی ایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچ دے جس وصیت کانفاذ اس جائداد کوبیچے بغیر نہیں ہوسکتا نیزاس جائداد کی پیداوار اس پرخرچ سے زائد ہو یا اس جائداد کے ویران ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابرکے ہاتھ لگ جانے کا ڈرہوتوبھی اس کوبیچ سکتاہےدررواشباہ(ملخصا)(ت)
ظاہرہے کہ یہاں ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا ان بلادمیں نہ ہرگز یہ امید ہے کہ نصف مکان جس میں پختہ عمارت بھی ہے صرف پچیس روپے یا اس سے بھی کم ہوتونظر بظاہرہوا کہ عمرو نے اپنانفع خیال کیااپنے لئے مکان خالص کرلیناچاہا اورجوقیمت اپنی خواہش کے موافق چاہی اس پرایك اجنبی سے جسے یتیم کاکیادرد ہوتا فیصلہ کرالیا اوراس کے عوض دوسرامکان یتیم کوخریددیا غرض صورمذکورہ میں مختار کو اس بیع کاکچھ اختیارنہ تھا تویہ بیع فضولی ہوئی اوروقت عقد اس کاکوئی اجازت دینے والانہ تھا کہ ان چند عذروں کے سواجب خودوصی کواختیار بیع نہیں تو غیروصی بدرجہ اولی کہ فضولی جوایساعقد کرے جس کانافذ کرنا اس وقت کسی کامنصب نہ ہو وہ عقد محض باطل ہوتاہے۔درمختارباب الفصولی میں ہے:
کل تصرف صدرمنہ ولہ مجیز ہرتصرف جوفصولی سے صادرہو دراں حالیکہ
ردالمحتارمیں جامع الفصولین سے ہے:
لوطلق او وھب مالہ اوتصدق بہ اوباع مالہ محاباۃ فاحشۃ اوشری شیئا باکثر من قیمتہ فاحشا اوعقد عقدا ممالوفعلہ ولیہ فی صباہ لم یجز علیہ فھذہ کلھا باطلۃ وان اجازھا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لامجیز لہا وقت العقد ۔ نابالغ نے اگرطلاق دی یااپنامال ہبہ کیایا اسے صدقہ کیایا اپنامال بہت زیادہ کم قیمت پرفروخت کیایاکوئی شیئ اس کی اصل قیمت سے بہت زیادہ قیمت کے بدلے خریدی یاکوئی ایسا عقد کیاکہ اگراس کاولی اس کی صغرسنی میں وہ عقد کرتا تو جائز نہ ہوتا۔یہ تمام عقود باطل ہیں۔اوراگرنابالغ ہونے کے بعد ان کی اجازت دے دی تو وہ جائزنہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ وقت عقد ان کی اجازت دینے والا کوئی نہیں تھا۔(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
یتیم باع جدہ عقارہ بغیر مسوغ صرح فی التتارخانیۃ عن المنتقی انہ باطل۔ یتیم کے دادانے یتیم کی غیرمنقولہ جائداد بلاجواز بیچ دی تاتارخانیہ میں منتقی سے اس بات پرتصریح منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے(ت)
اورجب وہ بیع باطل ہوئی توپچاس روپے جوقیمت کے قراردئیے تھے وہ بھی ملك عمرو سے نہ نکلے کیلایجتمع البدلان فی ملك واحد(تاکہ ملك واحد میں دونوں بدل جمع نہ ہوں۔ت)اگرعمرو نے یہ روپے پسر زید کونہ دئیے تھے جب توظاہرکہ اس کی ملك اس کے پاس تھی اوراگردے دئیے تھے اورپھر دوسرا مکان خریدنے کے لئے اس سے لے کر بائع مکان دوم کودئے تھے تو جس وقت پسر زید سے واپس لئے عمرو کے روپے عمروکوپہنچ گئے اورپسر زید پران کامطالبہ نہ رہا۔درمختارمیں ہے:
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۶€
الفتاوی الخیریہ کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۱۷€
پھرجبکہ عمرونے بھتیجے کو دوسرامکان خریددیا اور اس کی قیمت اس روپے سے اداکی جو عمرو ہی کی ملك تھا تو یہ مکان عمرو کی طرف سے اس کوہبہ ہواقیمت کامطالبہ پسرزید سے نہ ہوگا۔ احکام الصغار پھرعقوددریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملك الشراء للولدوتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ۔ ایك عورت نے اپنے مال سے اپنی نابالغ اولاد کے لئے جائدادخریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کے لئے خریداری کی مالك نہیں اور وہ جائداد اولاد کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی۔(ت)
پسرزید جوپچاس روپے عمروکو واپس کرنے کادعوی کرتاہے جب تك شہادت شرعیہ سے ثبوت نہ ہو مقبول نہیںہاں اگرگواہان عادل سے ثابت ہوجائے یاپسر زیدحاکم کے یہاں گواہ نہ دے اور عمروسے حلف مانگے اس پرعمرو حلف سے انکارکردے تویہ پچاس روپے عمروپر ثابت ہوجائیں گے اور ازانجاکہ پسرزیدنے اس گمان سے دئیے کہ یہ حق عمرہیں ان کی واپسی شرعا مجھ پرلازم ہے حالانکہ واقع میں ایسانہ تھا تو یہ روپے بھی عمرو پسرزید کو واپس دے گا۔ خیریہ پھرحامدیہ میں ہے:
فی شرح النظم الوھبانی لشیخ الاسلام عبدالبران من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ شیخ الاسلام عبدالبر کی تصنیف شرح النظم الوہبانی میں ہے اگر کوئی کسی کو ایسی شیئ دے جس کا دینا اس پرواجب نہیں تووہ اس شیئ کو واپس لے سکتاہے مگراس وقت نہیں لے سکتا جب
العقودالدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۳۳۷€
ان روپوں کے دعوی میں حلف چچا پر ہے پسرزیدکاحلف معتبرنہیںاوراگرچچا حلف کرے تویہ روپے اس پرلازم نہ آئیں گے مکان پراس کااثرنہ ہوگا پسرزیدکاکہناکہ چچاحلف کرلیں تو میں مکان سے دستبردار ہوتاہوں مہمل وباطل ہے کہ دستبرداری ان اشیاء سے نہیں جن کوکسی شرط پر معلق کرسکیں۔ردالمحتارمیں ہے:
علل فی الخلاصۃ لعدم صحۃ تعلیق الرجعۃ بالشرط بانہ انما یحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ ولایحلف بالرجعۃ اھ بمعنی انہ لایقال ان فعلت کذا فعلی ان اراجع زوجتی کما یقال فعلہ حج او عمرۃ اوغیرھما مما یحلف بہ ۔ رجوع کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی عدم صحت کے بارے میں خلاصہ میں یہ تعلیل بیان کی کہ شرط کے ساتھ معلق کرنے کااحتمال وہ چیز رکھتی ہے جس پرحلف جائزہو جبکہ رجوع کاحلف جائزنہیں اھ معنی یہ ہے کہ یوں نہیں کہا جائے گا اگرمیں نے ایساکیاتو مجھ پرلازم ہے کہ میں اپنی بیوی سے رجوع کروں جیساکہ یوں کہاجاسکتاہے کہ اگرمیں ایسا کروں تومجھ پرحج یاعمرہ وغیرہ لازم ہوگا یعنی ایسی چیزکا ذکرکیا جس کے ساتھ حلف جائزہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وعزل الوکیل(ای لایصح تعلیقہ)بان قال عزلتك علی ان تہدی الی شیئا اوان قدم فلان لانہ لیس مما یحلف بہ فلایجوز اوروکیل کومعزول کرنے کی تعلیق صحیح نہیںاس کی صورت یہ ہے کہ یوں کہے کہ اگرتو مجھے کوئی شیئ ہدیہ دے یا اگرفلاں شخص آئے تو میں نے تجھے معزول کیا اس لئے کہ یہ چیزیں ایسی نہیں
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد ویصح تعلیقہ بہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۵€
پھر جب نصف مکان پسرزید کاٹھہرا اوراس میں عمرو نے اپنے روپے سے عمارت جدید بنائی مکان تقسیم کیاجائے جتنی عمارت عمرو حصہ پسر زید میں ہے عمرو پر لازم ہے کہ اپنی عمارت اس کے حصے سے اکھیڑ کر خالی کردے اور اگر اس میں زمین پسر زید کو نقصان کثیرپہنچے توپسرزیدکواختیارہوگا کہ وہ عمارت خود لے لے اوراس کی اتنی قیمت عمروکودے دے جواکھیڑے ہوئے عملہ کی ہوتی ہے اوراس میں سے اس کے اکھیڑنے کی اجرت مجراکرلے مثلا یہ عمارت حالت موجودہ پرنرخ رائج سے ساٹھ روپے کی ہوتی ہے اوراکھیڑلی جائے تو ٹوٹا ہواعملہ تیس روپے کا رہ جائے اور دو روپے اس کے اکھڑوانے کی مزدوری میں صرف ہوئے توپسرزید اٹھائیس روپے عمرو کودے اورعمارت اپنی ملك کرلے۔ تنویرالابصارمیں ہے:
من بنی اوغرس فی ارض غیرہ بغیر اذنہ امر بالقلع والرد وللمالك ان یضمن لہ قیمۃبناء اوشجر امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ۔ کسی شخص نے دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیربنادی یادرخت لگادئےے تواس کو درخت اکھیڑنے اور زمین واپس کرنے کاحکم دیاجائے گااور زمین کے مالك کواختیار ہے کہ وہ اس عمارت یادرخت جس کو اکھاڑنے کاحکم دیاگیاہے کی قیمت کا ضمان دے دے اگراکھاڑنے سے زمین کونقصان ہوتاہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
وھی اقل من قیتمہ مقلوعا مقدار اجرۃ القلع فان کانت قیمۃ الارض مائۃ و قیمۃ الشجر المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع درھم بقیت تسعۃ دراھم فالارض مع ھذا الشجر اور اس قیمت میں اکھاڑی ہوئی عمارت یادرخت کی قیمت سے اکھاڑنے کی اجرت کے برابرکمی کی جائے گی چنانچہ اگرزمین کی قیمت سودرھم ہواوراکھڑے ہوئے درخت کی قیمت دس درہم ہوجبکہ اکھاڑنے کی اجرت ایك درہم ہو تو اس
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۷€
اورجبکہ نصف مکان بدستور پسر زید کی ملك ٹھہرااوروہ اس وقت یتیم تھا توجس دن کہ کل مکان پرعمرو نے قبضہ کیااس وقت سے پسرزید کے بالغ ہونے تك جتنی مدت گزری زیادہ سے زیادہ گیارہ برس اورکم سے کم آٹھ برس ہوگی اس مدت میں ملك زید کاکرایہ مثل عمرو کے ذمہ واجب الاداہے جب تك عمرونے عمارت جدیدنہ بنائی تھی اس حیثیت موجودہ پرنرخ عام سے جو اس مکان کاکرایہ ہوتا ہے کانصف دیناآئے گا اور جس نے عمارت قدیم منہدم کردی تھی توجوکچھ اس میں قابل تاوان تھا اس کاتاوان عمروپرآئے گا اوراس کے بعد سے جوخالی زمین کاکرایہ مثل ہو زمان بلوغ تك وہ واجب آئے گا کہ یہ مال یتیم تھا اورمال یتیم پر قبضہ کرنے سے بلاعقداجارہ اجرت مطلق لازم آتی ہے اگرچہ تصرف کرنے والا یتیم کاشریك ہو خواہ بدعوی خریداری وغیرہ تصرف کرے۔درمختارمیں ہے:
منافع الغصب استوفاھا اوعطلھا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال الیتیم فعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریك وبہ افتی ابن نجیم اومعدا للاستغلال الا فی المعد اذا سکن بتاویل ملك کبیت سکنہ احد الشرکاء اوعقد کبیت الرھن سکنہ المرتھن غصب کے منافع پرضمان نہیں چاہے غاصب نے ان منافع کو حاصل کیاہویاانہیں معطل رکھاہوسوائے تین صورتوں کے کہ ان میں غصب کے منافع پرمثلی اجرت واجب ہوتی ہے وہ یہ ہیں کہ مغصوب وقف ہو یامغصوب یتیم کا مال ہوتو معتمد مذہب کی بنیاد پرشریك پراجرت واجب ہوگی اوراسی کے ساتھ فتوی دیا ابن نجیم نےیا وہ مغصوب کرایہ حاصل کرنے کے لئے تیارکیاگیاہو مگرغاصب اس میں ملك کی تاویل کے ساتھ
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ الا فی المعدافاد ان الاستثناء من قولہ اومعدا فقط وان الوقف ومال الیتیم یجب فیہ الاجر علی کل حال ولذا قدم الشارح انہ لو شری دارا وسکنہا فظہرت وقفا اولصغیر لزمہ الاجر صیانۃ لھما و قدمنا انہ المختار مع انہ سکنھا بتاویل ملك او عقد فاحفظہ فقد یخفی علی کثیر۔ ماتن کے قول"الافی المعد"(مگریہ اس کو بنایاگیاہو)نے اس بات کافائدہ دیاہے کہ استثناء فقط ماتن کے قول"معدا" سے ہےاوریہ کہ بے شك وقف اورمال یتیم کسی صورت میں ہوبہرحال اجرت واجب ہوگیاسی واسطے شارح پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کسی نے کوئی گھرخریدا اس میں سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ وقف ہے یا کسی نابالغ کاہے تو اس پراجرت لازم ہوگی ان دونوں کی حفاظت کے لئے۔اورہم نے پہلے بیان کیاکہ بیشك یہی مختارہے حالانکہ وہ مالك یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس گھرمیں سکونت پذیرہوا۔اس کویاد کر لے۔تحقیق یہ بہت سے افراد پرمخفی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لزمہ اجرالمثل قال الحموی ھو مبنی علی تصحیح المحیط و ھوالذی ینبغی اعتمادہ وقال الشیخ شرف الدین اسے مثلی اجرت لازم ہے۔حموی نے کہاکہ وہ محیط کی تصحیح پرہے اور وہ وہی ہے جس پر اعتمادچاہئے۔شیخ شرف الدین نے کہا وہی
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۳۲€
اسی کے آخرکتاب الشرکہ میں ہے:
ولوکان وقفا ومال یتیم یلزمہ اجرۃ شریکہ علی ما اختارہ المختارون وھو المعتمد۔ اگر وہ وقف یامال یتیم ہے تو اس کے شریك کی اجرت لازم ہے جیساکہ اس کواختیارکیاہے اختیارکرنے والوں نے۔اور وہی معتمدہے(ت)
یہ سب اس کانتیجہ ہے کہ یتیم کے مال میں بے احتیاطی برتی۔ہاں اگر گواہا عادل سے ثابت ہوجائے کہ مختار زید نے عمرو کے ہاتھ پسرزید کاحصہ بیع کیااور وہ مختارزیدکاوصی تھا اوراس وقت یہ نصف مکان مع اس وقت کی عمارت کے پچیس روپے یا اس سے بھی کم قیمت کاتھا تو البتہ عمرو اس دعوی سے بری ہوجائے گاپھر اس صورت بعیدازقیاس میں کہ بیع مذکورجائزٹھہرے پچاس روپے واپس دینے پر جس کادعوی پسرزیدکرتاہے اس سے حلف نہ لیاجائے گا بلکہ وہی حکم ہے کہ پسر زید اس واپسی کے گواہ دے اورنہ دے سکے توعمروکاحلف چاہے تو عمرو سے حلف لیں اگرحلف کرلے پسر زیدکادعوی واپسی باطل ہواور عمرو حلف سے انکارکردے توپچاس روپے پسرزید کودے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۲۱۵۳: مسئولہ بنگالی ۲۶/رجب ۱۳۲۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك یتیم نے کنویں میں سے پانی اپنے واسطے یادوسرے شخص کے واسطے بھرااور اس پانی کو یتیم نے بجبریا اپنی خوشی سے پھرکنویں میں ڈال دیا ان دونوں صورتوں میں اس کنویں کاپانی قابل استعمال رہا یانہیں بینوا توجروا۔
(۲)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نابالغ نے کنویں سے پانی اپنے یاکسی
ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۵۷€
الجواب:
(۱)نابالغ جس پانی کا مالك ہو خواہ یوں کہ اس نے اپنے یاکسی کے لئے کنویں سے بھرااورکنویں کی حد سے باہر نکال لیااس کے پاس برتن میں اپنی ملك پانی اس کنویں سے جداتھا اوروہ خود اس نے بخوشی یابجبرکنویں میں ڈال دیا یاکسی اورنے اس کی اجازت سے خواہ بے اجازت کنویں میں الٹ دیا غرض کسی طرح نابالغ کی ملك پانی کنویں میں مل گیا تو اب جب تك اس میں وہ پانی رہے گااس بچہ کے سواکوئی کسی طرح اس کاپانی استعمال نہیں کرسکتااس میں بچہ کی ملك ملی ہوئی ہے اس کے ہبہ یامباح کر دینے کاکسی کواختیارنہیںنہ اس کی بیع ممکن کہ بیع میں تسلیم پرقدرت شرط ہے ا وراس پرقبضہ دلاناممکن نہیں۔اشباہ میں ہے:
ملأ الصبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لم یحل لاحد ان یشرب منہ۔ نابالغ بچے نے حوض سے کوزہ بھرا پھراسی میں انڈیل دیا تو کسی کے لئے حلال نہیں کہ اس سے پانی پیئے۔(ت)
اس کاچارہ کاریہ ہے کہ جتنا پانی اس نے کنویں میں ڈالا اتنایا اس سے زائد بھرکر اس نابالغ کودے دیاجائے یا وہ خود بھرلے اس کے بعد باقی پانی مباح ہوجائے گا کماحققناہ علی ھامش الغنیۃ(جیساکہ غنیہ کے حاشیے میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کنویں کی من سے جب پانی باہرنکلتاہے بھرنے والے کی ملك ہوجاتاہےنابالغ کی ملك میں کسی کوتصرف کااختیارنہیں ہاں ماں باپ کہ فقیرہوں بقدرحاجت تصرف کرسکتے ہیںیہ کلیہ جوچیزنابالغ کی ملك ہو خواہ خریدکی ہوئی یاکسی طرح کی لائی ہوئی اس میں فقیر والدین کے سواکوئی تصرف نہیں کرسکتا اوراس کی ملك نہ ہو تو مالك کی اجازت سے تصرف ہوسکتا ہے۔
فی غمزالعیون عن شرح المجمع غمزالعیون میں بحوالہ ذخیرہ شرح المجمع سے
مسئلہ ۱۵۴: ازشہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ قاضی محمدعیوض صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد نے بحالت مرض سوروپے زیدکے پاس امانۃ جمع کئے اوروصیت کی کہ تندرست ہوگئی تویہ روپیہ لے کرحج کوجاؤں گی اوراگرمرگئی توتم کواختیار ہے کہ کسی کارخیر میں صرف کردینا اس میں سے میرے کسی رشتہ دارکو ایك حبہ نہ دیاجائےدوبارہ اس ماہ کے بعد سو روپے اور زید کے پاس جمع کئے اوروصیت کی کہ یہ رقم دوبارہ جمع شدہ بعد میرے مرنے کے تجہیز وتکفین اور ایك سال تك میری فاتحہ درودمیں خرچ ہوں اوررقم سابق جس کی وصیت کرچکی ہوں اس کارخیرمیں اٹھائی جائے اب وصیت سے ایك ماہ بعد مسماۃ کاانتقال ہوگیا(للعہ )اس کی تجہیزوتکفین فاتحہ میں صرف ہوئے جس کو ابھی سال نہ ہوا(ماہہ)باقی ہیں اورپہلی رقم بجنسہ موجودہے کل(ما )باقی ہیں ہندہ کی ایك ہمشیرہ حقیقی دوسری بھتیجی جس کاباپ بیس سال سے مفقودالخبرہے اورایك ہندہ کے شوہر ثانی کی لڑکی ہے وہ ہندہ کی دخترنہیں اب کس طرح تقسیم ہو بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ کی بہن کے بیان سے واضح ہواکہ ہندہ نے ان روپوں کے سوا اتنی چیزیں اورچھوڑیں چوڑیاں (صہ/)توڑا(ص/)بالی پتے (صہ/)کڑے()پانچ برتن وزنی تخمینا سوسیران میں چوڑیاں اپنی موت سے آٹھ دن پہلے سے اپنے جیٹھ کی نواسی کودے دیں اورتوڑے اوربالی پتوں کی بھی اسی کے لئے وصیت کیکڑوں اوربرتنوں میں کوئی وصیت نہ کیاس کی تجہیزوتکفین میں بیس روپے اٹھے اورچوالیس روپے کے کھانے پکواکر صرف مساکین کودئیےہندہ کابھائی جس وقت مفقود ہوا اس کی عمر چالیس سال تھی اورہندہ پرکوئی اعتراض نہیں برتقدیر صدق جملہ بیانات مذکوربیس روپے کہ
الوجہ فی ذلك ان تجمع الوصایا کلھا وینظر الیھا والی الثلث والی نقصانہ من الوصایا فان کان النقصان مثل نصف الوصایا ینقص من کل وصیۃ نصفھا وان کان النقصان مثل ثلثھا ینقص من کل وصیۃ ثلثھا نحو ما اذا بلغت الوصایا الف درھم لاحدھم مائۃ و للاخر مائتان وللاخر ثلثمائۃ وللاخر مائتان و للاخر ثلثمائۃ وللاخر اربعمائۃ وثلث مالہ خمسمائۃ فالنقصان من خمسمائۃ الی مبلغ الوصایا مثل نصفھا خمسمائۃ فینقص من کل وصیۃ نصفھا لصاحب المائۃ خمسون ولصاحب المئتین مائۃ وعلی وصیتوں کے مجموعے سے کتناکم ہے اگروہ کمی وصیتوں کے نصف کے برابرہے تو ہروصیت سے اس کا نصف کم کردیا جائے گا اور اگر کمی وصیتوں کے مجموعے کی تہائی کے برابر ہے تو پر وصیت میں سے اس وصیت کاتیسرا حصہ کم کردیاجائے گا جیسے کسی شخص نے مجموعی طورپرہزاردرہموں کی وصیت کی یعنی ایك شخص کے لئے سودرہمدوسرے کے لئے دوسو درہمایك اور شخص کے لیے تین سو درہم اورمزید ایك شخص کے لئے چارسودرھم کی وصیت کی جبکہ اس کے مال کاتہائی حصہ پانچ سودرہم ہےتواس طرح وصیتوں کے مجموعے سے کمی نصف کے برابرہوئی یعنی پانچ سودرہم کم ہیں چنانچہ ہر وصیت میں سے نصف کم کردیاجائے گایعنی سوکی وصیت والے کوپچاس اوردوسو والے کو دودرھم دیں گے اوراسی پر دیگرکوقیاس
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یایوں کریں کہ ہروصیت کوجونسبت مجموعہ وصایا سے ہے ہرایك کے لئے اتناہی حصہ ثلث سے دیں جووصیت مجموع وصایا کی نصف ہو اس کے لئے ثلث کا نصف دیںاورجو ربع ہو اس کے لئے ربعوقس علیہدونوں طریقوں کاحاصل ایك ہے اگرثلث کاحصہ دریافت کرنا ہوکہ اس میں سے فلاں وصیت کوکیاملے گا تویہ طریقہ کہ فقیرنے ذکرکیاعمل میں لائیںاوراگروصیت کسی عین مثلا گہنے یابرتن یامکان وغیرہ کی ہے معلوم کرناچاہیں کہ اس عین کا کتناحصہ دیاجائے گا تووہ پہلاطریقہ برتیں مثلا پہلے طریقہ پرجونسبت(لع صہ ۵/)کو(ماصہ لعہ)یادوسوآٹھ کوپانچ سوپچاسی بلکہ سولہ کوپینتالیس سے ہے اسی نسبت پر ہر وصیت دی جائے گی یعنی ہروصیت سے ۴۵ /۱۶ نافذکریں گےچوڑیاں اورتوڑا اوربالی پتے ہرایك سے اتناہی حصہ جیٹھ کی نواسی کاہے اورہرایك سے ۴۵ /۲۹ وارثوں کااگران تینوں چیزوں کی قیمت(صہ ۶۵)ہے تو ان میں سے وصیت کاحصہ پانچ روپیہ پانچ آنے چار پائی ہوگی اوردوسرے طریقہ پرجبکہ ان کی قیمت(صہ عہ)ہے اورمجموع وصایا ۱۹۵ تویہ وصیت اس مجموع کاتیرہواں حصہ ہوئی توثلث یعنی(لعہ ۵ /۴)پائی کاتیرہواں حصہ اس کا نصیب ہوگا جس کے وہی(صہ ۵ /۴)پائی ہوئے۔______________________ یوں ہی دونوں حسابوں پرکارخیر کے لئے سوروپوں کی وصیت تھی اس کاحصہ پینتیس روپے پونے نوآنے ایك صحیح دوتہائی پائی(صہ۰۸/۔۱۔۳ /۲)پائی آئے گا اورفاتحہ کی وصیت اسی ۸۰ روپے میں رہی تھی اس کاحصہ اٹھائیس روپے سات آنے ایك صحیح ایك تہائی پائی(مہ عہ/ ۱۔۳/ ۱)پائی۔فاتحہ میں اس کے حصہ سے زائد اٹھادئیے مگرفاتحہ بھی جبکہ صرف مساکین پرصرف کی گئی کارخیرہے اورمجموعہ ان دونوں وصیتوں کے حصول کا جو کارخیر و فاتحہ کے لئے تھیں چونسٹھ روپے ہوئے ان میں سے چوالیس اٹھ گئے اور اس نے سال بھرمیں اٹھانے کوکہاتھا وہ سال سے پہلے ہی اٹھادئیے اس میں بھی کچھ حرج نہ ہوا بلکہ جلدی ہی بہترتھی
تواب فقط بیس روپے کارخیرمیں اورخرچ کردیں اوراتناحصہ چوڑیوںتوڑےبالی پتوں کا یعنی ہرایك میں سے ۴۵ /۱۶ اس وصیت کاحصہ ہواباقی ان تین گہنوں میں ہرایك کا ۴۵/ ۲۹ اورکڑے اور برتن پورے اورایك سوسولہ روپے۔یہ سب حق ورثہ رہےبھتیجی یاشوہرثانی کی لڑکی تواصلا وارث نہیں صرف بہن وارث ہے اور وہ مفقودالخبربھائیلہذا وہ جسے ہندہ نے امین ووصی کیاتھا بیس روپے کارخیرمیں خرچ کردےبہن اورجیٹھ کی نواسی تقسیم چاہیں توان تینوں گہنوں کے ۴۵/ ۱۶ جیٹھ کی نواسی کو دے دے اورہرایك کی دوتہائی بھائی کے لئے اٹھارکھے یہاں تك کہ اس مفقود کی عمر سے ستربرس گزرجائیںاگریہ صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمرمیں مفقودہواتھا اورمفقود ہوئے بیس برس گزرے تودس برس اور انتظارکریں اگر اس دس برس میں وہ زندہ ظاہرہوتویہ دوتہائی اسے دے دیںاوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ کے بعد مرگیا تو یہ دوتہائی اس کی بیٹی وغیرہ اس کے ورثہ کو دے دیں جومفقود کی موت کے وقت اس کے وارث تھےاگریہی بہن بیٹی اس کے وارث تھے توان دوتہائی کانصف مفقود کی بیٹی کو دیں اورنصف بہن کواوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ دے پہلے مرگیا یا اسکی عمر سے ستر برس گزرجائیں اوراس کی موت حیات کا کچھ حال نہ معلوم ہو تویہ دوتہائی بھی ہندہ کی بہن ہی کودے دیں۔ادب الاوصیاء میں ہے:
ذکر فی الذخیرۃ والخانیۃ والخلاصۃ والحافظیۃان قسمۃ الاب ووصیہ ولوبمراتب جائزۃ علی ذخیرہخانیہخلاصہ اورحافظیہ میں مذکورہے کہ باپ اور وصی کی تقسیم نابالغ پرہرشیئ میں جائزے اگرچہ کئی مرحلوں میں ہوجب تك کہ
اسی میں خانیہ سے ہے:
ان کانوا(ای الورثۃ)کبارا کلھم وبعضھم غائب فقاسم الوصی مع الحاضرین برضاھم وامسك انصباء الغائبین جازت قسمتہ۔ اگروہ وارث بالغ ہوں تمام یابعض غائب ہوں اوروصی حاضرین کی رضامندی سے ان میں میراث تقسیم کردے اور جو غائب ہیں ان کے حصے روك لے تویہ تقسیم جائزہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے:
فی جامع الصغیراذا قاسم(ای الوصی)للموصی لہ بالثلثفان کانت الورثۃ صغاراکلھم او غائبین فقاسمہ واعطاہ الثلث واملك الثلثین للورثۃ جاز مقاسمتہ و ان کان جامع الصغیرمیں ہے کہ جب وصی اس شخص کے لئے ثلث مال کامقاسمہ کرلے جس کے لئے وصیت کی گئی پھراگر تمام ورثاء نابالغ ہیں یاتمام غائب ہیں تو اس نے مقاسمہ کرکے تہائی مالوصیت والے کو دے دیا اوردوتہائی وارثوں کے لئے روك لیا تو اس کامقاسمہ جائز ہے
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی القسمۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۵۳€
مسئلہ ۱۵۵: ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ غوریانہ خورد مرسلہ عبدالحمید صاحب معرفت حافظ علی بخش صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور ۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مرحومہ نے اپنے دم واپسیں اپنے زیورات کے بارہ میں یہ وصیت کی کہ اس کو فروخت کرکے میرے نام کاایك چاہ بنوادیاجائے کہ جس میں مجھ کو ثواب ملے لیکن یہاں جامع مسجدمیں جب کثرت نمازیوں کی ہوتی ہے توصحن مسجدمیں بھی دوایك صفیں نمازیوں کی ہوجایاکرتی ہیں ایام گرما میں بوجہ تمازت آفتاب زمین بھی نہایت گرم رہتی ہے اوراوپر کی دھوپ اوربھی ان نمازیوں کے لئے جوصحن میں ہوتے ہیں
الجواب: وصیت میں ایسی تبدیلی جائزنہیں
لان حفرۃ البئر قربۃ مقصودۃ فلاتغیر کما حققناہ فی ما علی ردالمحتار علقناہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ کنواں کھودنا قربت مقصودہ ہے لہذا اسے غیر سے بدلانہ جائے گا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار پراپنی تعلیق میں کردی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۶: ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالرب صاحب ساکن درئیس برہ ۱۶شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کل جائداد اپنے بیٹے عمروکے نام ہبہ کردی اورقبضہ تام کرادیا بعد کو عمرو کا انتقال ہوگیا اورعمرو نے دولڑکے کے نابالغ اور ایك لڑکی نابالغہ اورایك زوجہ اوروالدین چھوڑےان میں سے ہرایك کو موافق فرائض کے حصص پہنچے اور کاغذات مال میں عملدآمدہوگیااس کے بعد لڑکی کابھی انتقال ہوگیا اس نے ایك دادا اور دادی اورایك دختر اورشوہر چھوڑے ان کو اس کی جائداد سے حصص شرعی پہنچے اورکاغذات مال میں تکمیل ہوگئی لیکن چونکہ اس گھر میں ذکورمیں سے عاقل وبالغ کوئی سوائے زیدکے نہ رہا لہذا زیدہی سب کی طرف سے کل حصص کاکارکن ومنتظم رہا بالغان کی طرف سے باجازت اورنابالغان کی طرف سے بولایات اورکسی کاحساب وروپیہ اپنی حیات بھرعلیحدہ نہ کیا اورنہ کسی کی آمدنی اس کے قبضہ میں دی بلکہ اپنی اور سب کی آمدنی مخلوط اپنے ہی پاس رکھی اورجہاں چاہا محض اپنی رائے سے اس مشترك کی آمدنی سے صرف کرتارہا یعنی سب شرکاء کے ضروری اخراجات علاوہ خیرات ومیراث مثل بناء مسجدوچاہ وپل اورجائداد خریدکروقف کرنا اورروپیہ غرباء عرف وعجم کوتقسیم کرنا اورحج کے واسطے ضرورت سے زائد ہمراہ لے جانا اوراپنے دوست واحباب ورعایا کو قرض اتنادینا جس کی امیدوصول نہیں اور ان امورمیں سے کچھ نہ کسی شریك بالغ یانابالغ کی اجازت سے تھا اورنہ ان میں کوئی راضی تھا بلکہ نابالغوں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مال مشترك سے جس قدر روپیہ زید نے خیرات ومبرات مذکورہ میں
لایقرض الاب ولاوصیہ مال الیتیم۔ باپ اوروصی یتیم کے مال کو قرض پرنہیں دے سکتے۔(ت)
یوں ہی جبکہ بالغوں کی بھی رضاواجازت نہ تھی تو ان کابھی تاوان زیدپرعائد اگرچہ انہوں نے زید کو صرف کرتے دیکھا اور اس کے رعب سے کچھ نہ کہہ سکے۔اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ۔ اگرکوئی شخص کسی کواپنامال بربادکرتے دیکھ کر چپ رہا تویہ اس کی طرف سے برباد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔(ت)
ظاہرہے کہ زرنقد یاجوترکہ زیدنے چھوڑا اس سے ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے اور یہ تاوان بھی زیدپردین ہیں توجب تك ادانہ ہولیں ورثائے زید کو ترکہ نہ پہنچے گاجائداد کہ زیدنے اپنے نام خریدی اسی کی ملك ہوئی اگرچہ اس کی قیمت زرمشترك سے ادا کی اس سے شرکاء کاجائداد خریدکردہ میں حصہ نہیں ہوجاتا ہاں زرثمن کہ مال مشترك سے دیاہے ہرشریك کا اس میں جتنا حصہ تھا اتنے کاتاوان زیدپر آیاکہ یہ بھی اگلے تاوانوں میں شامل ہوگا۔ردالمحتارمیں ہے:
مااشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک۔ شرکاء میں سے اگرکسی نے کوئی چیز اپنی ذات کے لئے خریدی تووہ اسی کی ہوگی اوروہ ثمن میں سے دیگرشرکاء کے حصوں کا ضامن ہوگا جبکہ اس نے ادائیگی مال مشترك سے کی ہو۔ (ت)
توظاہرہواکہ تینوں بیعنامے صحیح ہوئے ہرایك میں زید نے اپنی ہی ملك نبیران کے نام بیع کی اورنبیرے ان سب مبیعوں کے مالك ہوگئے۔
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۸۵€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳ /۳۳۸€
تویہ جائدادیں اس تاوان کی زیرپانہیں ہوسکتیںرہے ان کے زرثمن پچھلے دونوں بیعنامے جن میں زرثمن کافرضی وصول لکھ دیا ان کامطالبہ نبیروں پرسے ساقط نہ ہوا اگرچہ اس سے مقصود یہی ہوکہ زرثمن مشتریوں کو معاف ہوجائے کہ شرع میں دربارہ عقودومعاملات معانی الفاظ پر نظرہےنہ مقاصد واغراض پرورنہ حیل شرعیہ یکسرباطل ہوجائیں وقد حققناہ فی کاسرالسفیہ الواھم(اور اس کی تحقیق ہم نے رسالہ کاسرالسفیہ الواھم میں کردی ہے۔ت)یہاں لفظ اقراروصول ہے اوروہ نہ ہبہ ہے نہ ابرابلکہ ایك غلط خبرتو مجرد
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ∞۳ /۲۱€
وینعقد ایضا بلفظ واحد کما فی بیع القاضی والوصی والاب من طفلہ و شرائہ منہ فانہ لوفور شفقتہ جعلت عبارتہ کعبارتین۔ اس کا انعقاد ایك ہی لفظ کے ساتھ بھی ہوجاتاہے جیساکہ قاضی اور وصی کی بیع۔اورباپ کی بیع وشراء اپنے نابالغ بیٹے کے لئےاس لئے کہ کمال شفقت کی وجہ سے اس کی عبارت دوعبارتوں کی طرح بنادی گئی ہے۔(ت)
ادب الاوصیاء میں ہے:
فی شرح الطحاوی الجد الصحیح کالاب فی ذلك یعنی عند عدمہ۔ شرح طحاوی میں ہے کہ اس مسئلہ میں جد صحیح بھی باپ کی طرح ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی میں۔(ت)
اورشك نہیں کہ بیعناموں میں پہلے شیئ کی بیع کرنا لکھاجاتاہے اس کے بعد ثمن ہبہ کرنا تویہ ہبہ حق نابالغ میں بعد تمامی بیع واقع ہوا اورصحیح ہوگیاتو اس بیعنامہ کے نصف ثمن کو جونبیرہ نابالغ کے لئے ہبہ ہوا اس نابالغ کے آتے ہوئے تاوانوں میں مجرانہ کریں گے کہ ہبہ تملیك بلاعوض ہے اور مجراہونا معاوضہ توخلاف تصریح زید اسے معاوضہ نہیں کہہ سکتے۔عالمگری میں ہے:
من علیہ الدین وھب مالا جس شخص پرقرض ہواگر وہ کچھ مال قرض کے
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲€
مگرنصف ثمن کہ دوسرے نبیرئہ نابالغ کوہبہ کیایہ ہبہ باطل ہواکہ حسب تصریح مسائل یہاں کوئی بیع پہلے نہ ہوئی تھی یہی بیعنامہ ایجاب بیع تھااوراس میں ہبہ ثمن لکھاگیا اورحق بالغ میں نفس ایجاب سے بیع تمام نہ ہوئی اورثمن واجب نہیں ہوتا جب تك بیع کے دونوں رکن ایجاب وقبول متحقق نہ ہولیں تویہ ہبہ اس وقت ہواکہ ابھی ثمن اس نبیرہ بالغ پرواجب ہی نہ ہوا تھا اور ہبہ قبل وجوب باطل ہے۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوقال بعتك ھذا الشیئ بعشرۃ دراھم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جازالبیع ولایبرء المشتری عن الثمن لان الثمن لایجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان برأ قبل السبب فلایصح۔ اگرکسی شخص نے کہایہ شیئ میں نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض فروخت کردی اوردس درہم تجھے ہبہ کردئیے پھر مشتری نے قبول کرلیا توبیع جائزہوگئی اورمشتری ثمنوں سے بری نہ ہوگاکیونکہ ثمن قبول بیع کے بعد واجب ہوتے ہیں تو جب اس نے قبول سے پہلے ثمنوں سے مشتری کوبری قرار دے دیاتویہ بری کرنا سبب سے پہلے ہوالہذا صحیح نہیں ہوگا۔ (ت)
مشترك روپے اوراثاث البیت سے اس زوجہ اورنبیران کے ذاتی حصے الگ کرلئے جائیں گے جو اس میں شریك تھے اورجب کوئی ذریعہ تمیز نہ ہو تو زید اوریہ تینوں اس زر واثاث میں بحصہ مساوی شریك مانے جائیں گے
کما ھو حکم شرکۃ الملك المنصوص علیہ فی الخیریۃ و رد المحتار وغیرھما۔ جیساکہ شرکت ملك کاحکم ہے جس پرفتاوی خیریہ اوردالمحتار وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔(ت)
(توحاصل یہ ٹھہراکہ)زوجہ اوردونوں نبیرے کہ اس جائداد میں شریك تھے جن کاکارکن زید تھا
فتاوی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی احکام البیع ∞نولکشورلکھنؤ ۲ /۳۴۹€
مسئلہ ۱۵۷: ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ مجیدگنج مرسلہ محمدحسین ولد مولی بخش ۲۰شوال ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے بھائی اوربہنوں کی جائداد بطریقہ جائزہ خرید کراپنی زوجہ کے نام لکھا دی اب اس شخص کے دوبیٹے ہیں(ایك بیٹی بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا اوراب اس کی جانب سے کوئی دعویدارنہیں مگر اس کا شوہر ہے آیا وہ شرعا حقدارہے یانہیں)شخص مذکور نے اپنے انتقال سے پیشتر اپنے حصہ کی جائداد اورنیز نئی خرید کردہ جائداد جو بی بی کے نام لکھ دی تھی اپنے دونوں بیٹوں میں کسی طرح تقسیم نہ کی اب اس شخص کی بی بی نے ایك کاغذ بنواکر باقی جائداد بھی بعوض مہراپنے نام کرالی اورمشہور کردیاکہ یہ کاغذمیرے خاوند ے سامنے کالکھاہواہے مگریہ بات محلہ میں مشہورہے کہ یہ کاغذ جعلسازی سے تیارکیاگیاہے اوربات بھی یہی ہے اس شخص کے بڑے بیٹے نے اپنے والد کے حین حیات اس وجہ سے تنگ آکر کہ ساس بہو میں اکثر لڑائی رہتی ہے اپنا مکان تبدیل کرلیاتھا اب والد کے انتقال پرجب وہ بالکل مختارہوگئیں تو محلہ کی مستورات اورچھوٹے بیٹے کی لگائی بجھائی سے ان کی رنجش اوربڑھ گئی اورمرنے سے ۱۔۲ /۱ ماہ پیشتر تمام جائداد اسی چھوٹے بیٹے کے نام ہبہ کرادیہبہ سے چندروز پیشتر بڑے بیٹے نے تمام اہل برادری کو اپنی والدہ کے سامنے جمع کیا اوراپنی خطا ہوئی ہو اور جب نہ ہوئی ہو جب معاف کرائی اورانہوں نے معاف کیپھربھی پندرہ بیس روز بعد انہوں نے تمام جائداد کا ہبہ نامہ چھوٹے بیٹے کے نام کر دیا میں نے دیوانی میں اپنے بھائی پر اپنے حصے کی نالش کی ہے آیامیں اس جائداد میں حقدارہوں یانہیں
مجرد تحریراگرچہ رجسٹری شدہ ہوکوئی چیز نہیں جب تك گواہان شرعی سے ثابت نہ ہوپس اگردوگواہ عادل موجودہوں کہ شخص مذکورنے پنی صحت میں وہ جائداد بعوض مہربنام زوجہ کردی تودیگرورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا عورت نے کہ اپنے چھوٹے بیٹے کوہبہ کردی اگرقبضہ تامہ اپنی حیات میں دلادیا تو چھوٹا بیٹا اس کامالك مستقل ہوگیا ہاں اگر قبضہ کاملہ نہ دلایا اورعورت کاانتقال ہوگیاتوہبہ باطل ہوگیا اوراب وہ جائداد متروکہ زن قرارپاکراس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے بڑابیٹا بھی اپنا حصہ شرعی پائے گا اوراگرگواہان شرعی سے مہرمیں دینے کاثبوت نہیں تواب یہ دیکھاجائے گاکہ مہرکچھ باقی تھا یاسب معاف یااداہوگیاتھااگرکچھ باقی نہ تھا یاجتنا باقی تھا وہ اس جائداد کی قیمت سے جوشوہر کے نام تھی کم تھا توعورت کوکوئی استحقاق نہ تھا کہ وہ سب جائداد بعوض مہراپنے نام کرلیتی اوراب جواس نے اس جائداد کوچھوٹے بیٹے کانام ہبہ کیا محض باطل ہوا اگرچہ قبضہ دلادیاہو
لانھا ھبۃ مشاع وھی باطلۃ حتی لاتملك بالقبض فی الصحیح۔ اس لئے کہ وہ غیر مقسوم کاہبہ ہے اوروہ باطل ہے یہاں تك اس میں قبضہ سے بھی ملك ثابت نہیں ہوتایہ صحیح قول کے مطابق ہے(ت)
اس تقدیر پربعدادائے مہروغیرہ دیون ونفاذ وصایا جووارثان شخص مذکور ہوں ان پرحسب فرائض تقسیم ہوگیدختر اگرباپ کے بعد زندہ رہی ہوتو وہ بھی حصہ پائے گی اوراگرپہلے مرگئی تو اس کاکچھ حق نہیں اس کے شوہرکادعوی باطل ہے ہاں اگرمہر کل یا جتنا باقی تھا اس جائداد کی قیمت کے برابر یازائدتھا توایك فتوی اقطع کی بناء پرعورت اسے اپنے مہرمیں لے سکتی تھی اوراب کہ وہ ما بلکہ ہوگئی اس کاحکم وہ پہلی صورت کاہوگیاکہ چھوٹے بیٹے کے نام س کاہبہ صحیح ہوگیا اگرقبضہ دلادیا اورباقی وارثوں کاکچھ حق نہ رہا اورقبضہ کاملہ نہ ہوا توجائداد متروکہ زن ٹھہرکروارثان زن پر تقسیم ہوگی جن میں بڑابیٹابھی ہے اوراس صورت میں پسر کلاں خواہ کسی وارث کو اس پردعوی بیکار ہے مگریہ کہ مہراپنے پاس سے اداکردے توحسب اصل مذہب جائداد سے اپناحصہ لے سکتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئہ ۱۵۸: ازکچہری چیف کورٹ ریاست بہالپور مرسلہ محمددین صاحب جج ۲۳رمضان المبارك ۱۳۳۲ھ
(۱)آج یہ مسل پیش ہوئے فتاوئے مصدرہ میں جوسوال زیربحث اکثرطے ہوچکے ہیں
(الف)ابھی تك اطمینان کی ضرورت ہے موصی اگر دوشخصوں کے حق میں وصیت کرے جن میں سے کچھ مال وارث کے نام اور دوسرا کچھ مال ایك شخص اجنبی کے نام جیساکہ اس مقدمہ کی صورت ہے توکیا ایسی وصیتیں جائزاورقابل نفاذہیںاگرسوال اول کاجواب جواز وصایا متعددہ ہوتوپھر یہ دیکھنا ہے کہ پہلے کون سی وصیت کونافذکرنا چاہئےآیا اس وصیت کوجوایك وارث کے حق میں کی گئی یا اس وصیت کوجوایك اجنبی شخص کے حق میں کی گئی ہےاجنبی شخص کے حق میں چونکہ وصیت زائدعلی ثلث المال ہے اس لئے وارث کے اعتراض پراس وصیت کانفاذ ثلث المال تك محدود کرناپڑے گایاکس طرحایسی صورت میں اگر بحق الوارث ناقابل نفاذقراردی جائے یا اس کانفاذ نفاذوصیت بحق وارث سے مقدم قراردیاجائے توثلث المال میں جمیع مال موصی کاثلثنفاذ وصیت کے لئے شمارکیاجائے گا یازیورات کو جن کی نسبت متوفی نے شاہ محمدکے نام کوئی وصیت نہیں کی علیحدہ رکھ کر باقی ماندہ کے ثلث پروصیت نافذ ہوگیدونوں صورتوں میں جوجائزقراردی جائے اس کی سند ہونی چاہئے بعد نفاذ وصایا اورادائے فرض ورثاء کے جومال باقی ترکہ متوفی کابچ رہے اس کی تقسیم میں علماء میں بحث اوراختلاف ہے اس کا اقتباس یہ ہے:
(۱)باقیماندہ مال اس اصول پر کہ نفاذوصیت لزائد علی ثلث المال(ایك تہائی سے زائد مال کی۔ت)کااب کوئی مزاحم نہیں رہااب موصی لہ بزائد علی ثلث المال کوملناچاہئے۔
(۲)باقیماندہ مال کااب چونکہ کوئی حقدارنہیں رہا اورزوجہ موجودہے اس لئے ردعلی الزوجین کے فتوی کے مطابق زوجہ کودیاجائے۔
(۳)باقیماندہ کی تقسیم بعدادائے فرائض ودیون وفرائض وصایا کی جوترتیب ہوسکتی ہے وہ حسب ذیل مستحق بالترتیب ہوں گے:
۱ذوی الفرائض۲عصبات۳ردذوی الارحام۴مقرلہ۵موصی لہ بمازاد علی الثلث۶ردعلی الزوجین۷بیت المال۔
اسی ترتیب کی روسے بمازادعلی الثلث کودیاجائے۔
___________________________________فقرہ بالاکی صورت نمبر۲۳ میں علماء کا
یہ سوالات ہیں جوابھی تك تصفیہ طلب ہیںنقول فتاوی علماء نے منسلکہ مسل معہ نقل استفتاء و نقل وصیت نامہ خدمت میں مولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مرسل ہوں اورالتماس کی جائے کہ ان تمام فتاوی کوملاحظہ فرمائیںاوران سوالات حل طلب کے متعلق اپنی رائے کامعہ استناد جواب تحریر فرماکربہت جلد مرحمت فرمائیںمبلغ(صہ/)بذریعہ منی آرڈر مولوی صاحب کی خدمت میں بھجوادیئے جائیںاوریہ بھی التماس ہوکہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوی معلوم ہوتواطلاع بخشیںملاحظہ فتاوی سے اختلاف علماء کے تمام جزئیات اورصورتیں واضح ہوں گیہرایك فتوی پرعلیحدہ علیحدہ نمبردئیے گئے ہیں مقدمہ چونکہ عرصہ سے دائرہے اس لئے نتیجہ کے بھجوانے کے لئے استدعاکی جاتی ہے کہ بہت جلدی عدالت ہذا میں بھجوایاجائےتحریر۱۷/اگست۱۳۱۳ھ
(مسماۃ عالمون بنام شاہ محمددعوی جائداد بروئے وراثت)
نقل وصیت نامہ ادا
میکہ واحد بخش ولددین محمدذات شیخ نومسلم پیشہ نان بائی عمرتخمینا(صہ للعہ)سال حال مقیم خانپور ریاست بہاولپورکاہوں بجمعی حواس خمسہ وہوش عقل بلااجبار واکراہ احدیکہ اقرارکرتاہوں اورلکھ دیتاہوں اس بات پرکہ مظہربعارضہ بیماری تپ دق کے بیمار ہے اور یہ بیماری ایك ایسی بیماری ہے کہ اس سے نجات قسمت اورخدادادزندگی پرشفایابی حاصل ہوتی ہے اوراب مجھ کوایسے نازك وقت پراپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام بھی کرناضرورہے تاکہ پسماندگان میرے میں کوئی تکرارمداربرپانہ ہو پس اب میں اس طرح پراپنا انتظام کرتاہوں کہ چونکہ میراکوئی فرزندنرینہ یامدینہ نہیں ہے صرف ایك عورت نوجوان ہے جس پریہ بھروساکم ہے کہ بعد موتیدگی میرے کے وہ میرے حق میں رہے اوریہ ضرور ہے کہ میری جائداد بعد میرے تباہ و خراب ہوجائے اس کایہ انتظام ہے کہ زیورات ذیل کنٹھمالہ طلائی ۸یاپانچ لڑی قیمتی(یاعہ ۲۰)کڑیاں نقرہ ایك جوڑا قیمتی یك صدروپیہچندن ہارایك قیمتی مبلغ(صہ)تولہ طلائیاورایك عدد قیمتی(عہ /)
المرقوم ۲۲صفر۱۳۳۱ھ مطابق ۲۳فروری ۱۹۱۱ء
استفتاء
مسمی واحدبخش مرگیاہے صرف ایك بیوہ مسماۃ عالمون چھوڑگیاہے دیگرکوئی اس کاوارث نہیں مرنے سے قریب ایك یادوماہ یا پندرہ یوم وہ چہارپائی بند ہوگیا اس کوتپ دق کی بیماری تھی اسی بیماری میں وہ فوت ہواہوش اس کو آخرتك رہیمرنے سے ایك ہفتہ پہلے اس کے معالج نے یہ کہہ دیاتھا کہ وہ اب نہ بچے گا اوراس
(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراگرہوئی تواس سے جوازی وصیت پرکیا اثرپڑتاہے
(۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تك جائز رہ سکتی ہے یعنی جائدادمتوفی میں مدعیہ کوکیا حصہ ملناچاہئے
(۳)جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں کیاان میں سے مدعاعلیہ کوکوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یایہ کہ ان زیورات کوچھوڑ کرباقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سوال ۲ ان کے پائے جائیں۔
(۴)جواخراجات تجہیز وتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصے پرچارج ہوں گے یعنی یا یہ کہ مدعاعلیہ کے حصہ پران کابارہوگا
(۵)مکان میں جوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کو حق رہائش دیاگیاہے کیاوہ شرعا جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کوبروئے سوال۲ ایك حصہ مکان تملیك قطعی دے دیاجائے۔
(۷)جوحصہ جائداد متوفی میں ہردوفریق کاسوال ۲قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ میں جداجدا دیاجاسکتاہے یاکہ بالکل جائداد منقولہ غیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہے۔۱۷جنوری
سوال ۲:زید اس طرح وصیت کرکے مرگیاہے کہ بعد مرنے میرے کے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کامالك عمرو ہے میری تجہیزوتکفین بھی کرے گا اورﷲ میری ارواح کوبھی دے گا بعد وفات زیدکے عمرونے وصیت مذکورہ کوقبول کرکے ایفاء امورات میں لگ گیامتوفی کاوارث بجزایك زوجہ اورکوئی نہیں ہے اب زوجہ متوفی کہتی ہے کہ یہ تمام مال متروکہ شوہرخود صرف میراہی حق ہے میں دوسرے شخص کو دینانہیں چاہتیپس شرع شریف میں یہ وصیت جائزہے یاکسی طرح اورزوجہ کا حق مال متروکہ میں کیاہے اوروصیت کاحصہ کیاہے بینواتوجروا۔
نقل جواب ۱
مندرجہ سوال حالات میں مسمی واحد بخش کی متروکہ جائدادمیں سے پہلے اس کی تجہیزوتکفین شرعی کاجس میں رواجی صدقات و خیرات شامل نہیں ہیں خرچ اداکرنے کے بعد اس کی بیوہ مسماۃ عالم خاتون کاحق مہر جس قدرعدالت کی رائے میں ثابت ہوادا کریں گے اس حق مہراداکرنے کے بعد جس قدرجائداد منقولہ یاغیرمنقولہ باقی بچے اس کے تین حصے کرکےدوحصہ مسمات عالم خاتون بیوہ واحدبخش کو اورایك حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔اس مختصرجواب کے بعد عدالت کے سولات کانمبروار جواب دیا جاتاہے:
(۱)یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اورشرعا جائزہے۔
(۲)عالم خاتون مدعیہ کے اعتراض کرنے پرجائداد متروکہ کے جبکہ اس میں سے واحد بخش کی شرعی تجہیز وتکفین کا خرچ اورعالم خاتون کے حق مہرکی رقم نکالی جاچکی باقی کے تیسرے حصہ میں جائزہوگی اس سے زائد میں جائزنہیں ہوگی اس لئے اس باقیماندہ جائداد میں سے دوحصے عالم خاتون کو اورایك حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔
(۳)زیورات قیمتی(سماعہ عہ)کی بابت اگریہ ثابت ہوجائے کہ یہ زیورات عالم خاتون کے حق مہر کے عوض میں دئیے گئے ہیں توپھر ان میں شاہ محمدخاں کاکچھ بھی حق نہیں ہے لیکن اگر ان تمام زیورت کے
(۴)تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہیں پڑے گا۔
(۵)مسماۃ عالم خاتون کورہائش کا حق شرعا حاصل نہیں ہے اس بات میں واحدبخش کی وصیت لغو اوربے اثر رہے گی۔
(۶)ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ ان کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہے اوردوحصے مسمات عالم خاتون کاحق ہے لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کو دے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جوان ظروف میں ہے وہ واحد بخش کی جائداد غیرمنقولہ سے پوراکردیاجائے۔
(۷)فریقین یعنی عالم خاتون اورشاہ محمدخاں کا اصل حق توموجودہ جائداد متروکہ واحد بخش ہی میں ہے لیکن اگرکوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت لینے پر رضامند ہوجائے توعدالت کو لازم ہوگا کہ اس فریق کوقیمت دے دے لیکن کسی فریق کوخواہ وہ عالم خاتون ہویا شاہ محمدخاں اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا شرعا عدالت کے اختیارسے باہر ہے۔
نوٹ:متوفی کی اولادنہ ہونے کی صورت میں بعداداکرنے خرچ تجہیزوتکفین اوراداکرنے حق مہریاایسی ہی اورقرضوں کے جس قدرباقی بچے اس باقیماندہ ترکہ کے تیسرے حصہ میں سے وصیت اداکرنے کے بعد جوباقی بچے اس میں سے چہارم حصہ بیوہ کاحق ہوتاہے۔لیکن اگر متوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دار موجودنہ ہو جیساکہ موجودہ سوال کی صورت میں ہے توبعدادائے خرچہ تجہیزوتکفین اورادائے حق مہر ودیگرقرضوں اورادائے حصہ وصیت کے جس قدر باقی بچے وہ سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ کتاب درمختاروردالمحتاروغیرہ میں صاف لکھاہواہے ھذاواﷲ اعلم بالصواب۔
نقل جواب۲
(نقل فتوی مولوی صاحب برانڈامولویان)
ھوالملھم بالحق والصواب(یہ حق اوردرستگی کے ساتھ الہام کیاگیا۔ت)
شرعا یہ وصیت صحیح اورنافذ ہے کیونکہ وصیت کنندہ عاقل بالغ ہے اورزوجہ کاحق مال متروکہ متوفی سے سدس ہے اورباقی عمرو موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں بھی صرف کرے مثلا تعمیرمسجد کی کرادے یا پل تیارکرادے یاطلبائے علم دین اسلام کو دےروایات کتب معتبرہ اس پردال صریح الدلالۃ
شواھد:
فی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ ومات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجز فلھا السدس و الباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فیبقی الثلثان فلھاربعھما وھو سدس الکل درمختار قولہ فلھا ربعھما لان الارث بعد الوصیۃ ففرضھا ربع الثلثین الباقین شامی ۔کذلك لومات الرجل عن امرأتہ و اوصی بمالہ کلہ لاجنبی واوصی بمالہ کلہ لاجنبی ولم تجز المرأۃ فللمرأۃ السدس وخمسۃ اسداسہ للموصی لہ لان الثلث صار مستحقا بالوصیۃ بقیت الشرکۃ فی ثلثی المال دلائل:
فتاوی نوازل میں ہے ایك شخص نے اپنے تمام مال کی کسی مرد کے لئے وصیت کی اورمرگیا درانحالیکہ سوائے ایك بیوی کے اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑاپھراگربیوی نے اجازت نہ دی تواس بیوی کوکل مال کاچھٹاحصہ اورباقی اس شخص کوملے گا جس کے لئے وصیت کی گئی اس لئے کہ وصیت والے مرد کو ایك تہائی توبلا اجازت ملے گا باقی دوتہائی بچاتو بس بیوی کودو تہائی میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور وہ کل مال کاچھٹاحصہ بنتا ہے(درمختار)۔ماتن کاقول کہ"بیوی کودوتہائی کاچوتھا حصہ ملے گا"وہ اس لئے ہے کہ میراث وصیت کے بعد ہوتی ہے چنانچہ بیوی کافرضی حصہ باقی بچنے والے دوتہائی میں سے چوتھا ہوگا(شامی)۔اسی طرح اگرکوئی شخص ایك بیوی چھوڑکر مرااورتمام مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کرگیا اورعورت نے وصیت کی اجازت نہیں دی تواس صورت میں عورت کو کل مال کاچھٹا(۶ /۱)ملے گااورباقی پانچ حصے(۶ /۵)وصیت والے شخص کو ملیں گے۔اس لئے کہ وہ شخص وصیت کے سبب سے ایك تہائی کامستحق ہوگیا اوردوتہائی
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۰€
الدرالمختار کتاب الوصایا الباب الثالث ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲€
ردالمحتار کتاب الوصایا الباب الثالث داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۶€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۷€
بحقیقۃ الحال وصدق المقال(ہمہ)مستفتی نے بعد تکمیل استفتاء ہذا کے بیان کیاکہ متوفی نے چند زیورات معدودہ شخصہ معہودہ کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیاتھا یعنی کہہ گیاتھا کہ بعد وفات میری کے ان زیورات مذکورات کی مالك میری زوجہ ہےپس اس کاجواب شرعا یہ ہے کہ جس چیز کی نسبت متوفی نے اپنی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ چیز سالم متوفی کی زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت کے اپنے خاوند سے لے سکتی ہے
والشاھد فیہ لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃ ابن کمال درمختار ھذا ما عندی ولعل عند غیری ابلغ من ھذا۔ اس پردلیل یہ ہے کہ اگرمرد نے اپنی بیوی کے لئے یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے وصیت کی درانحالیکہ وہاں کوئی اوروارث نہیں تو وصیت صحیح ہےابن کمال(درمختار)یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے ہوسکتاہے میرے غیرکے پاس اس سے بڑھ کر موجودہو۔(ت)
استفتاء:ماقولکم رحمکم اﷲ(تمہاراکیاارشادہے اﷲ تعالی تم پررحم فرمائے۔ت)اندریں صورت ایك شخص مسمی واحد بخش جوعرصہ سے مریض تھا اپنے مرض الموت میں مرنے سے دودن پہلے بدیں مضمون وصیت کی کہ چونکہ میں بیمار ہوں اورحیات ناپائیدار پراعتبارنہیں ازاں بعد میں وصیت کرتاہوں کہ فلاں فلاں زیورات قیمتی(سماعہ عہ)میرے مرنے کے بعد میری زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوبعوض حق المہردئیے جائیں اورماسوائے اس کے کل جائدادمیری کامالك مسمی شاہ محمدخاں ہوگا
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹€
نقل جواب ۳ وباﷲ التوفیق
شرعا بوقت موجودگی ورثہ میت بجمیع مال نافذنہیں ہوسکتیثلث سے جاری ہوگی ثلث یعنی مال متروکہ سے تیسرے حصہ سے زیادہ وصیت کرناناجائزہے جن جن زیورات کے بارہ میں مسمی واحدبخش متوفی بعوض حق المہر مسماۃ عالم خاتون زوجہ خود کے دینے کی وصیت کرگیا ہے وہ اس کافرض تھا اوراس کااداکرنا اس کوفرض تھا
ویبدأ من ترکۃ المیت بتجھیزہ ثم دینہ۔کنز الدقائق۔ ترکہ میت میں سے ابتداء اس کی تجہیزوتکفین سے کی جائے گی پھر اس کاقرض اداکیاجائے گا(کنزالدقائق)۔(ت)
اس کے ماسوا باقیماندہ اشیاء منقولہ وغیرمنقولہ متروکہ واحدبخش متوفی موصی میں سے ثلث یعنی تیسراحصہ شاہ محمدموصی لہ کوشرعا دیاجائے گا
ولاتصح بمازاد علی الثلث ۱۲کنزالدقائق۔
ولاتجوزبمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ ۱۲ھدایہ
وتجوز بالثلث للاجنبی عند عدم المانع وان لم یجز الوارث ذلك لاالزیادۃ تہائی مال سے زائد پروصیت صحیح نہیں(کنزالدقائق)(ت)
تہائی مال سے زائد پر وصیت جائزنہیں کیونکہ وہ وارثوں کاحق ہے ۱۲(ہدایہ)(ت)
اجنبی کے لئے تہائی مال کی وصیت جائزہے جبکہ کوئی مانع موجودنہ ہو اگرچہ وارث اس کی اجازت نہ دے۔تہائی سے زائد کی وصیت
کنزالدقائق کتاب الوصایا ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۱€۴
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۱€
اورباقی اس کی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کودیاجائے گا کیونکہ ربع اس کوبالفریضہ ملتاہے
فللزوجات حالتان الربع بلاولد والثمن مع الولد۱۲ الدرالمختار۔
والربع للزوجات اذا لم یکن ولد و ولدابن ۱۲جوھرہ نیرہ۔ بیویوں کی دوحالتیں ہیںاگرمرنے والے شوہرکی اولادنہ ہوتوبیویوں کوکل مال کاچوتھا حصہ اوراولادہوتوآٹھواں حصہ ملتاہے۱۲درمختار(ت)
اوربیویوں کوچوتھاحصہ ملے گا اگرمرنے والے شوہر کی اولادنہ ہوتو۱۲جوہرہ نیرہ(ت)
اورباقی بھی مساۃ عالم خاتون کوبالرد ملتا ہے یعنی بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے اس پریعنی زوجہ پر رد کیاجائے گا
قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاءالدرالمختار ۔
قولہ وفی الاشباہ قال فی القنیۃ و یفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال و فی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علی و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما میں کہتاہوں کہ اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پرمیراث کورد کیاجائے گا۔اس کاذکر ہم کتاب الولاء میں کرآئے درمختار۔ (ت)
اوراس کاقول کہ"اشباہ میں ہے"قنیہ میں فرمایاہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گااورزیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك فرضی حصہ کی وصولی کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ اسی پرلوٹادیاجائے گا۔اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف میراث کو
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۵€۵
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الفرائض ∞مکتبہ امدایہ ملتان ۲ /۴۰€۹
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
عبارت کتب معتبرہ مرقومۃ الفوق سے ظاہرہے کہ جمیع مال سے ایك ثلث مسمی شاہ محمدخاں موصی لہ لے گا اوردوثلث مسماۃ عالم خاتون زوجہ متوفی کوملیں گے۔واﷲ اعلم بالصواب عندہ ام الکتاب۔۲۰/رجب المرجب ۱۳۲۹ھ۔(مفتی مولوی محمدمجید صاحب لاہوری نے تحریرفرمایا)مگرائمہ متاخرین یہ فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلی قسم کے حصے داران پربحصہ رسدی رد ہوسکتا ہے اسی طرح دوسری قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو جوکچھ بچا ہواترکہ ہو وہ احدالزوجین کودے دیں گے یعنی موصی لہ بکل المال کونہ دیں گے انتہی خلاصہ دو ورق کایہ دوسطریں ہیں ۔
نقل جواب ۴
(تردید منجانب علمائے ریاست بہاولپور)
ہمارے ہاں بھی مسلم اورماعلیہ العمل یہی قول متاخرون کا ہے جو الیوم رد علی الزجین(آج کل زوجین پر رد۔ت)پرفتوی ہے اور سیدنا امیرالمومنین عثمان ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث اور ان سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کاماعلیہ اورشامی میں اس سے جواب نقلا عن روح الشروح کمال الوضوح(روح الشروح سے کامل وضاحت کے ساتھ نقل کرتے ہوئے۔ت)کے مبین ہے تاہم مع قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کو بالرأس والعین منظورہے مگرتاسف اس کم توجہی مفتی صاحب پرہے کہ ردعلی الزوجین کامحل الوقوع اورموقعہ ملحوظ نہ کرنااوربلاتامل اس کے موصی بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل اورنقل ہے اورسراسر تحکم وتعسف اوردعوی بلادلیل ہے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مرادایہ بیان فرمائی ہے
کما حققناہ الشامی رحمہ اﷲ تحت قولہ فی الاشباہ نقل عن معراج الدرایۃ۔ جیساکہ اس کی تحقیق علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے مصنف کے قول فی الاشباہ کے تحت معراج الدرایہ سے نقل فرمائی ہے۔(ت)
نہ یہ کہ ردعلی الزوجین کومستحقین پرتقدیم ہے بلکہ رد علی ذوی الفروض النسبیہ وذوی الارحام موصی لہ بکل المال (نسبی ذوالفرض پرردذوی الارحام اور وہ جس کے حق میں تمام مال کی وصیت کی گئی۔ت)جواہل استحقاق ہے یہ سارے فریق ردعلی الزوجین سے مقدم ہیں اب جزئ صریح اس امرکی کہ:
الموصی لہ بجمیع المال مقدم علی الرد علی الزوجین۔ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی وہ زوجین پررد سے مقدم ہے۔(ت)
ہدیہ ناظرین ہے
وفی السراجی ثم الموصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال ان لم یکن احدالمذکورین فالمال کلہ للموصی لہ لان منعہ عن زیادۃ الثلث کان للمضرۃ بالورثۃ وقدانتفی بھا سراجی میں ہے پھروہ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی پھربیت المالاگران میں سے کوئی موجودنہ ہوجن کا ذکر کیاگیاہے توسارا مال اس شخص کودیں گے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئیاس لئے کہ اس کے لئے تہائی مال سے زائد کی ممانعت وارثوں کے
السراجی فی المیراث خطبۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۵و۶€
وفی المستصفی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدمہ المستحق لعدم بیت المال ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ والفتوی الیوم بالرد علیھما اذا لم یکن للباقی مستحق لان الظلمۃ لایصرفون مال بیت المال الی مصرفہ مستصفی۔ ضرر کی وجہ سے تھی اور وہ یہاں منتفی ہے۔اور اگر زوجین میں سے کوئی ہے توباقی اس کو دیں گے۔اوراگران دونوں کے علاوہ کوئی وارث ہے توپھرجس کے حق میں کل مال کی وصیت ہے اس کوایك تہائی دیں گے ۱۲شیخ الاسلام ضیاء السراج السراجی۔مستصفی میں ہے آج کل فتوی زوجین پر لوٹانے کے ساتھ ہے جبکہ کوئی اورمستحق موجودنہ ہو بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ۔اورفتوی آج کل زوجین پرلٹانے کاہے جبکہ باقی کاکوئی اورمستحق موجودنہ ہو اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کے مال کو اس کے مصرف میں خرچ نہیں کرتے(مستصفی)(ت)
جونقل مستصفی کامفتی صاحب نے شامی سے تحت قولہ وفی الاشباہ لکھاہے معلوم ہوتاہے کہ تمام قول کو اول سے آخرتك نہیں دیکھااگردیکھتے اورغورکرتے توعند عدم المستحق کی قیدضرور ساتھ لگاتے جو اس قول میں درج ہے اورہرجگہ رد ہے صرف ناتمام جزئ نقل کرکے خوش ہورہے ہیں نقل میں ماقبل اورمابعد کے لحاظ چاہئے تاکہ نقل صحیح اورتمام ہونہ کہ ناقص اورغلطہاں اگر دیدہ ودانستہ دیکھ کرنہیں لکھا توسفسطہ اورمکابرہ ہے۔
ولیستوضح لك معنی المستحق ویاتیك تحقیقہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالی۔ اورتیرے لئے مستحق کے معنی کی وضاحت کرتے اوراس کی تحقیق آرہی ہے عنقریب ان شاء اﷲ تعالی۔(ت)
اب توجہ فرمائیے کہ یہ فریق ایك دوسرے کے عدیل اورردیف ہیں سوائے بیت المال کے
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
ثم رد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم بعدھم مولی الموالاۃ کما مر فی کتاب الولاء ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ لم یثبت فلوثبت حقیقۃ و زاحم الورثۃ ثم بعدھم الموصی لہ بمازاد علی الثلث و لوبالکل ثم یوضع فی بیت المال ۱۲درمختار۔
قولہ ثم ذوی الارحام ای یبدأ بھم عند عدم ذوی الفروض النسبیۃ والعصبات فیاخذون کل المال اوما بقی عن احدالزوجین لعدم الرد علیھما ۱۲ شامی ۔
قولہ ولہ الباقی ای ان لم یوجد احد ممن تقدم فلہ کل المال الا ان وجد احد الزوجین پھرنسبی ذوی الفروض پران کے حقوق کے مطابق ردکرنا پھر ذوی الارحام پھران کے بعد مولی المولاۃ۔جیساکہ کتاب الولاء میں گزرا۔اوراس کو زوجین میں سے ایك کا فرضی حصہ نکالنے کے بعد جوباقی بچے گا وہ ملے گا۔پھروہ خص جس کے لئے کسی غیرپرنسب کااقرار کیاگیاہو اورنسب ثا بت نہ ہوااور اگرحقیقۃ اس کانسب ثابت ہوگیا تو وہ وارثوں میں شریك ہوجائے گا۔پھران کے بعد وہ شخص جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہو اگرچہ کل مال کی ہو پھربیت المال میں رکھا جائے گا۔(درمختار)۔(ت)
ماتن کاقول"پھرذوی الارحام"اس کامطلب یہ ہے کہ ذوی الارحام سے ابتداء ہوگی جبکہ نسبی ذوی الفروض اورعصبات نہ ہوں تو وہ ذوی الارحام کل مال لیں گے یا وہ مال لیں گے جو زوجین میں سے ایك کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد باقی رہ جائے کیونکہ زوجین پردنہیں ہوتا ۱۲ شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"اس کے لئے باقی ہے"یعنی اگر ماقبل میں مذکور افراد میں سے کوئی موجود نہ ہوتو کل مال اسی کاہے مگرجب زوجین میں سے
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۷€
قولہ ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ فیعطی کل المال الا اذاکان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۱۲ شامی۔
قولہ لم یثبت ای یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنی ولذا صح رجوعہ عنہ ولاینتقل الی فرع المقرلہ و لااصلہ ۱۲ شامی ۔
(قولہ ثم بعدھم)ای اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فیکمل لہ وصیتہ لان منعہ عما زاد علی الثلث کان لاجل الورثۃ فان لم یوجد احدمنھم فلہ عندنا ماعین لہ کملا سید ولا یخفی ان المراد انہ کوئی موجود ہو تو اس کے فرضی حصہ کے بعد باقی بچے گا وہ اس کوملے گا ۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"پھروہ جس کے لئے غیرپرنسب کااقرار کیا گیاہے"یعنی اس کوکل مال دیاجائے گا مگرجب زوجین میں سے کوئی ایك موجود ہوتو اس کے فرض حصہ کے بعد جوباقی بچاہو اس کو ملے گا۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول کہ"نسب ثابت نہیں ہوا"یعنی یہ اقرار باعتبار معنی کے وصیت ہے اسی لئے اس سے رجوع کرناصحیح ہے اوریہ اقرار نہ تومقرلہ کی فرع کی طرف منتقل ہوگا اورنہ ہی اس کی اصل کی طرف ۱۲شامی(ت)
ماتن کاقول"پھران کے بعد"یعنی مقدم الذکر تمام مفقود ہوں تو ابتداء اس شخص سے کی جائے گی جس کے لئے تمام مال کی وصیت کی گئی ہے اور اس کے لئے وصیت کی تکمیل ہوگی کیونکہ تہائی مال سے زائد کی وصیت وارثوں کی وجہ سے ممنوع تھیجب ورثاء میں سے کوئی ایك بھی موجدنہیں تو ہمارے نزدیك وہ تمام وصیت والے کودیں گے جس کاتعین موصی نے اس کے لئے کیاہے(سید)اور
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۸€
اس عبارت لایخفی(پوشیدہ نہیں۔ت)سے مخفی نہیں ہے بلکہ صاف ظاہرہے کہ موصی لہ بکل المال مستحق ہے اور وہ رد علی الزوجین پرمقدم ہے ھذا ماوعدناہ من قبل والحمدﷲ علی الوفاء(یہ وہ ہے جس کاوعدہ ہم نے ماقبل میں کیاتھا اس کے پورا کرنے پرتمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں۔ت)اور قولہ لم یثبت(اس کاقول کہ ثابت نہیں۔ت)کی تحقیق علامہ شامی رحمہ اﷲ سے کھل گیاکہ جب اقرارمذکور کومعنی وصیت قراردیاگیا اورمقرلہ مذکور جمیع مال کامستحق بنابعداخراج اصل فرض احدالزوجین سے تویہ شان وصیت کا ہے پس اس میں کوئی شك نہ رہا کہ وصیت بجمیع المال کوتقدیم ہے ردعلی الزوجین پر۔ الان حصص الحق(اب حق واضح ہوگیا۔ت)
قولہ ثم یوضع فی بیت المال ای ان لم یوجد موصی لہ بالزائد یوضع کل الترکۃ فی بیت المال اوالباقی ان وجد موصی لہ بمادون الکل۱۲شامی ماتن کاقول"پھربیت المال میں رکھاجائے گا"یعنی جب ایسا شخص نہ پایا جائے جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہے تو اس صورت میں کل مال اورتہائی سے زائد اورکل سے کم وصیت والے شخص کے ہوتے ہوئے باقی مال بیت المال میں رکھاجائے گا۱۲شامی(ت)
باقی رہایہ امرکہ آیاردعلی الزوجین اورادخال الترکۃ فی بیت المال میں سے کون مقدم ہے سو متقدمین کے نزدیك بیت المال مقدم ہے کیونکہ اس نیك عصرمیں بیت المال صلاحیت میں تھے اور مصرفون مستحقوں میں خرچ ہوتے تھے اورمتاخرون کے نزدیك بسبب فساد بیت المال کے
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۸€
وفی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۱۲شامی۔ قنیہ میں ہے ہمارے زمانے میـں بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گا۱۲شامی(ت)
صاف ظاہرہےکہ ردعلی الزوجین مقابل اورمربوط بیت المال سے ہے نہ کہ وصیت بکل المال سے وھدایۃ الانصاف من اﷲ الھادی (اورانصاف کی ہدایت ہدایت دینے والے اﷲ تعالی کی طرف ہے۔ت)بڑے تعجب کی بات ہے کہ اتنے درازعرصہ تك علمائے لاہور نے اپنے دعوی الرد علی الزوجین مقدم علی الوصیۃ لجمیع المال(زوجن پرد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی۔ت)کی ضعیف جزئی بھی ثابت نہ کیصرف نکمی تطویل سے اوراق لکھ لکھ کرتضییع اوقات عزیزہ کی فرمائیصرف ردعلیہما کے مسئلہ معروفہ کولکھ بھیجاجن کا انکار بھی کسی کونہ تھا سو وہ مسئلہ ایسابے موقعہ فرمایاجس کی تردید سے کتاب مملوومشحون ہیں علمایان ریاست نے اپنے دعوی الوصیۃ بکل المال مقدم علی الزوجین(تمام مال کی وصیت مقدم ہے زوجین پرردکرنے سے۔ت)پرپہلے ابتدائے مسئلہ میں اور اب اس تردید کے ضمن میں کیا صاف صاف واضح جزئیات اظہر من الشمس ہدیہ ناظرین کئے ہیںانصاف فرمایاجائے۔
تذییل: ہم کومعلوم ہوتاہے کہ جن مفتی صاحبان لاہور نے پہلے استفتاء بھیجاتھا اب ہماری تردید پہلے کو ملاحظہ فرماکر وہ صاحبان موصوفہ توبنظرالانصاف خیرالادصاف لب بسکوت ہو رہے ہیں اب اس دوسری مرتبہ مولوی مفتی محمد مجیدصاحب کو اشتعال آیاتوانہوں نے قلم اٹھایا اب یقین ہے کہ اس جواب کوملاحظہ فرماکر وہ بھی تسلیم فرمائیں گے اورتحسین کاتحفہ ہم داعیان بالخیر کی طرف ارزانی فرمائیں گے خداوندکریم کرے کہ ان کاشعلہ اس پانی سے مطفی ہوا اوربجھ جائے
ورجاء القبول والثواب من اﷲ تعالی وھو اعلم واحکم بالصواب۔ قبول وثواب کی امیدتعالی سے ہے درستگی کوخوب جاننے والا اورمضبوط وبہترحکم ولاہے(ت)
محررہ بتاریخ ۱۶/اگست ۱۲ء
سوالات عدالت
(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئیاوراگرہوئی تواس سے جوازی پرکیا اثرپڑتا ہے
(۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت مدعیہ اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تك جائز رہ سکتی ہے یعنی جائداد مدعیہ کوکیاحصہ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو کیاحصہ ملناچاہئے
(۳)جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں اس میں سے مدعاعلیہ کو کوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یاکہ ان زیورات کوحصہ بناکر باقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سول۲اس کے پائے جائیں۔
(۴)اخراجات تجہیزوتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں وہ مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصہ میں چارج ہوں گے یاکہ مدعا علیہ کے حصہ پران کابار ہوگا
(۵)مکان میں جوخوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کوحق رہائش دیاگیا وہ شرعا جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کی بروئے سوال ۲ ایك حصۃ مکان بتملیك قطعی دیدیاجائے
(۶)حق متوفی میں رہنے کی شرط پرمدعیہ کوکسی ظروف وغیرہ کابھی دیاجانادرج وصیت ہے کیایہ جائز ہے اوربلحاظ سوال ۳ اثرپذیرہوسکتاہے
(۷)جوحصہ جائدادمتوفی میں ہردو فریق کابروئے سوال ۲ قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ ۲ وغیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہیں۔
جواب شر ع شریف
شرعا یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اور اس سے جوازی وصیت پریہ اثرپیدا ہواکہ حق الارث
الان نکتب الروایات الفقھیۃ عن المعتبرات الحنفیۃ وفی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ و مات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجزفلھا السدس والباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فبقی الثلثان فلھا ربعھما وھو سدس الکل درمختار اب ہم احناف کی معتبرکتابوں سے فقہی روایات تحریر کرتے ہیں۔فتاوی نوازل میں ہے کوئی شخص کل مال کی وصیت کسی مردکے لئے کرکے مرگیا اورسوائے بیوی کے کوئی وارث نہیں چھوڑااگربیوی نے اس وصیت کی اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کاچھٹا حصہ ملے گا اورباقی موصی لہ کوملے گا کیونکہ وہ ثلث کابغیر اجازت حقدار ہے باقی دوثلث بچے جن میں سے بیوی چوتھائی کی حقدار ہے جبکہ یہ چوتھائی کل کاچھٹاحصہ ہےدر مختار۔
اورصاحبان انجمن مستشارالعلماء لاہورنے نے اس صورت موجودہ میں ۳ /۱ حصہ یعنی سوم حصہ مدعاعلیہ کابتایا جوموصی لہ تھا اور۳ /۲ حصہ یعنی دوثلث حصہ مدعیہ کابتایا یہ اثربے غوری اورکمال بے توجہی
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
کما مر وقال المحقق احمدبن یحیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالردعلیہما اذالم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام۱ھ وفی المستصفی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عندعدم المستحق لعدم بیت المال اذالظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ ۱ھ اقول ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذلك ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأملردالمحتار فی قولہ وفی الاشباہ الخ جیساکہ گزرچکاہے محقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہا کہ اکثرمشائخ نے زوجین پررد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ دیگراقارب معدوم ہوںکیونکہ ہمارے زمانے میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے وہ بیت المال کوصحیح مصرف میں خرچ نہیں کرتے ۱ھ اقول:(میں کہتاہوں)ہم نے یہ بھی نہیں سناکہ ہمارے زمانے میں کسی نے ایسافتوی دیاہے شاید اس کے مخالف متون ہونے کی وجہ سے۔تواس میں تأمل چاہئے۔یہ بات ردالمحتارکے کتاب الفرائضبیان الردباب العول میں ماتن کے قول"وفی الاشباہ الخ"کے تحت
نقل جواب ۶
یہ فقہ کامسلم الثبوت ہے کہ مصارف تجہیزوتکفین شرعی اورادائے قرض کے بعد جس قدرجائداد منقولہ غیرمنقولہ باقی بچے اس کے تیسرے حصہ میں وصیت جاری اورنافذہوسکتی ہے اوراگرمتوفی نے تیسرے حصے سے زیادہ کی وصیت کی تھی تواس زائد علی الثلث پرنافذہونا وارثوں کی اجازت پر موقوف رہتاہے یعنی اگروہ نفاذ کی اجازت دیں تونافذہوگی ورنہ نافذنہ ہوگی کتاب ہدایہ میں ہے:
ولاتجوز بمازاد علی الثلث الا تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں مگر
الدالمختار کتاب الوصایا ∞۲ /۳۱۹€
چونکہ مسئلہ زیرکتب زیربحث میں متوفی واحدبخش کی بیوہ موجودہے جو اس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳ /۱ حصہ سے زیادہ ہے بغیراجازت عالم خاتون بیوہ متوفی کے نافذ نہیں ہوسکتیادائے وصیت کے بعد جس قدرجائداد بچے اس میں سے ۴ /۱ حصہ یعنی چہارم حصہ کی جواصلی ترکہ کا ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ ہوتاہےعالم خاتون بیوہ واحدبخش کاحق ہے۔ کتاب سراجی میں ہے:
یبدأ بتکفیہ وتجھیزہ بلاتبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔ ابتداء میت کی تجہیز وتکفین سے کی جائے گی نہ تواس میں فضول خرچی اورنہ ہی ضرورت سے کمی کی جائے گیپھرجوباقی بچا اس تمام سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گےپھرقرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کی تہائی سے میت کی وصیتیں نافذ کی جائیں گیپھرجوباقی بچا اسے کتاب وسنت اور اجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا۔(ت)
نیزکتاب مذکورمیں ہے:
للزوجات حالتان الربع للواحدۃ فاعدۃ عند عدم الولد اوولد الابن وان سفل ۔ بیویوں کی دوحالتیں ہیںاگرمرحوم خاوند کی اولادیا اس بیٹے کی اولاد نیچے تك کوئی نہ ہو تو ان کوکل مال کاچوتھائی حصہ ملتا ہے چاے ایك بیوی ہویامتعدد۔(ت)
جب ترکہ میں سے ۳ /۱ حصہ یعنی تیسرے حصہ من حیث الوصیۃ اور ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ عالم خاتون
السراجی مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ۳ و €۴
السراجی فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۱€
یہ مسلم الثبوت مسئلہ ہے کہ اگرحصہ داروں کوجس میں کوئی عصبہ نہ ہو ان کے مقرری حصہ دینے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو وہ بھی حصہ داران پربحصہ رسدی ردکردیاجائے لیکن حصہ دار دوقسم کے ہوتے ہیںایك وہ حصہ دارجومتوفی کے برادری کے ہیں مثلا متوفی کی دختراس کی ماںاس کی ہمشیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ حصہ دارہیں کہ جن سے صرف نکاح کاتعلق ہے یعنی وہ متوفی کاشوہر ہے اگرمتوفی عورت ہو یاوہ متوفی کی بیوہ ہواگرمتوفی مردہوائمہ متقدمین کایہ مذہب ہے کہ وہ بچاہواترکہ پہلے ہی قسم کے حصہ داران پررد کیاجائے گا اوردوسرے قسم کے حصہ داران پریعنی شوہریابیوہ پر اس کارد نہیں ہوگا اوردرصورتیکہ صرف دوسرے ہی قسم کے حصہ دارہوں ہوگے اور بچاہواترکہ بہ ترتیب ان کو دے دیاجائے گا جورد کے درجہ کے بعد والے ہیں مثلا ذوی الارحام کو اور ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولی الموالات اور مولی المولات بھی نہ ہو ں تو مقرلہ النسب پر غیرکومقر لہ النسب پر غیر بھی نہ ہوں توموصی لہ بالزائد علی الثلث کوموصی لہ بالزائد علی الثلث بھی نہ ہو یا اسے دے کربھی کچھ بچ رہے توبیت المال کودیں گےعلمائے علاقہ بہاولپور نے بزارمیں جونقل فرمائے ہیں وہ اس مذہب متقدمین کے موافق ہیں مگرائمہ متاخرین فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلے قسم کے حصہ داران پربحصہ رسدی ردہوسکتاہے اسی طرح دوسرے قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اوراگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتوجوکچھ بچاہواترکہ ہو وہ احد الزوجین یعنی شوہر کودرصورتیکہ متوفی عورت ہویاعورت کودرصورتیکہ متوفی مرد ہودے دیں گے۔یہی قول حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہےاور اسی قول متاخرین پرفتوی دیاگیاہےپس اس مفتی بہ قول کے موافق واحدبخش متوفی کے ترکہ میں ہے جو ۴ /۳ یعنی آدھی جائداد عالم خاتون کوبحیثیت رد کے ملے گی اور ۶ /۱ اس کو بحیثیت میراث کے پہلے ہی مل چکی ہے توظاہرہے کہ عالم خاتون کو اس کے شوہر کے ترکہ میں سے ۶ /۴ یا ۳ /۲ مل جائے گی اورشاہ محمدموصی لہ صرف وصیت کی حیثیت سے ۳ /۱ حقداررہے گااب ہم وہ روایتیں نقل کئے دیتے ہیں جن سے متاخرین کے ردعلی الزوجین کا قائل ہوناہواورپھراس کا مفتی بہ ہوناثابت ہو۔کتاب درمختارمیں ہے:
فان فضل عنھا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد اگرمیت کاترکہ فروض سے بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ موجودنہ ہوتووہ بچاہوامال پھر
کتاب ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وفی الاشباہ الخ قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفسادبیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتاخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمدبن یحیی بن سعد التفتازانی افتی مصنف کاقول"الاشباہ میں ہے"قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پر ردکافتوی دیاجاتاہے۔زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں ایك کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پر ردکردیاجائے گا۔یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف رد کردیاجائے گا۔مستصفی میں کہاکہ آج کے دورمیں زوجین پرردکافتوی ہے اوریہ ہی ہمارے متاخرین علماء کاقول ہے حدادی نے کہا آج کے دورمیں زوجین پر ردکا فتوی ہے۔محقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہاکہ بہت سے مشائخ نے
مندرجہ بالا روایتوں سے ردعلی الزوجین کامذہب متاخرین نیزاسی کامفتی بہ ہونا بوضاحت ثابت ہوگیا اوراب معلوم ہوگیاکہ علماء علاقہ بہاولپور کی منقولہ روایتیں متقدمین کے مذہب کے موافق ہیں مگر مفتی بہ متاخرین کاقول ہے اراکین مستشار العلماء کو معلوم تھا کہ عام اورمشہور قول عدم الردعلی الزوجین کے موافق عالم خاتون کو صرف ۶ /۱ حصہ مل سکتاہے لیکن کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ایك عام اور مشہورقول کے واسطے قول بالرد علی الزوجین کوجس پرفتوی بھی دیاگیا ہے چھوڑدیں اورخاص کرجبکہ وہ بالکل معقول بھی ہوکیونکہ بعض صورتوں میں جبکہ تمام حصے داروں کے مقرری حصے دینے سے متوفی کاترکہ قاصرہو جس کو علم الفرائض کی اصطلاح میں عول کہتے ہیں تو سب حصے داروں کے حصوں میں سے رسدی طورپر کم کرلیتے ہیں اوراس میں زوجین کومستثنی کرتے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب متوفی کے ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو اس بچے ہوئے کے دینے سے زوجین کومستثنی کردیں اوران کوکچھ بھی نہ دیں خاص کر جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ داربھی موجودنہ ہوغرض قول بالردعلی الزوجین کوجومعقول بھی ہے اورمفتی بہ بھی ہے جیساکہ مندرجہ بالا روایتوں سے ثابت ہوتاہے چھوڑدینا اورقول بعدم الردعلی الزوجین پرعمل کرنا خصوصا جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہو روایت اوردرایت دونوں کے برخلاف ہے۔
نوٹ:وصیت نامہ پرغور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ واحدبخش متوفی نے شاہ محمدخاں کے حق میں کچھ بھی وصیت نہیں کی ہے بلکہ اس کوصرف اپناکارپرداز اوروصی مقررکیاہے چنانچہ وہ اسی وصیت نامہ میں لکھتاہے کہ بعد فروخت یاکہ رہن زر رہن یازربیع میرے تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا اب اگروصیت بحق شاہ محمدہوگی توواحدبخش کایہ کہناکہ بعد فروخت یا رہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا بے معنی ہوجاتاہے کیونکہ اگرشاہ محمدخاں موصی ہوتا تووہ وصیت کاخود مالك ہوتا اورجوچاہتا وہ کرتا اس لئے شاہ محمد خاں کوبحیثیت وصیت کے تیسراحصہ جائدادکاملے گا وہ اس لئے ملے گا ہ وہ بحق واحدبخش کردے یانہاس لئے کہ وہ خود اس کامالك بن جائے ھذا واﷲ اعلم بالصواب۔
حامدا ومصلیا نے کاغذ مندرجہ مسل مقدمہ استفتاء عدالت وصیت نامہ فتوی علمائے لاہورفتوی علمائے ریاست دیکھے جواب استفتاء چندمقدمات کی تمہید پرموقوف ہے جومسلم فقہ میں مبین ومبرہن ہے۔
تمہیدمیت کے ترکہ میں سے سب سے مقدم جمیع مال سے خرچ تجہیزوتکفین ہے اس کے بعد مابقی میں سے ادائے دیون اس کے بعد مابقی میں سے تنفیذوصیت بالثلث اس کے بعد مابقی کی تقسیم علی فرائض اﷲوصیت زائد علی الثلث اس وقت نا جائزہے جبکہ متضمن ابطال حق ورثہ ہواوراگرورثہ مال متروکہ کے متعلق نہ ہومثلا کوئی وارث موجودنہ ہویاوار موجودہو اور ابطال حق نہ ہویاورثہ اپنے اضرار اورابطال حق کو قبول کرلیں تو وہ وصیت زائد علی الثلث جائزونافذہوگی۔
قال فی الجوھرۃ لان الامتناع لحقھم فیجوز باجازتھم وقال العلامۃ ابوالسعود فلولم یکن وارث ولوحکما صحت الوصیۃ بالکل لان المانع من الصحۃ تعلق حق الوارث وقال فی فتح القدیر فالوصیۃ بالزیادۃ علی الثلث تتضمن ابطال حقھم وذلك لایجوز من غیر اجازتھم۔ جوہرہ میں کہا اس لئے کہ ممانعت وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے لہذا ان کی اجازت سے جائزہوجائے گی۔علامہ ابوالسعود نے کہااگرکوئی وارث موجودنہ ہو۔اگرچہ حکمی طورپرتوکل مال کے ساتھ وصیت صحیح ہوگی کیونکہ صحیح ہونے سے رکاوٹ توحق وارث کا اس سے متعلق ہونا ہے۔فتح القدیر میں کہاتہائی سے زائد کی وصیت وارثوں کے حقوق کے ابطال کو متضمن ہے اور وہ ان کی اجازت کے بغیرجائزہیں ہے۔(ت)
اگر زائد علی الثلث اجنبی کووصیت کی اورصرف احدالزوجین وارث موجودہے اوراس نے اس وصیت کوقبول نہ کیا تو اس کااثر صرف اسی قدر ہوگاکہ اول ثلث بطوروصیت نکال کرباقیماندہ
فتح المعین کتاب الوصایا ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۵۲€۸
نتائج الافکار(تکملہ فتح القدیر) کتاب الوصایا المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ ∞سکھر ۹ /۳۴۶€
قال فی ردالمحتار والاتصح کما لو اوصی احدالزوجین للاخر ولاوارث غیرہ۔ ردالمحتارمیں کہاورنہ صحیح ہے جیساکہ خاوندبیوی میں سے کوئی ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ وارث موجودنہ ہو۔(ت)
ردعلی الزوجین کاحق بیت المال سے اضعف ہے لفساد بیت المال۔اشباہ میں ہے:
انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال ۔ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔(ت)
ردالمحتامیں ہے:
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال ۔ قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پرردکافتوی دیاجائے گا۔(ت)
پس اگربیت منتظم ہے تومستحقین سے باقیماندہ مال بیت المال میں داخل کیاجائے گا اور اگربیت المال نہیں ہے یاہے اورمنتظم نہیں ہے اوراندیشہ ہے کہ وکیل بیت المال سے اس مال کوبیت المال میں داخل نہ کرے اوراپنے اوراپنے خدام کے صرف میں لائے تواس صورت میں ضرورۃ زوجین پر حسب فتوی متاخرین ردکیاجائے گا اوربعدتمہید مقدمہ مذکورہ اس استفتاء کاصحیح جواب
الدرالمختاربحوالہ الاشباہ کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶€۱
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰۲€
قال العلامۃ السعود فی فتح المعین ولواوصت بکل ما لھا لزوجھا کان الکل لہنصفہ بطریق الارث ونصفہ بطریق الوصیۃ قھستانی عن قاضیخان وکذا یستحق الزوج الکل اذا علامہ ابوالسعود نے فتح المعین میں فرمایا اگرعورت نے اپنے شوہر کے لئے کل مال کی وصیت کی تو تمام مال شوہرکا ہوگا نصف بطورمیراث اورنصف بطوروصیت۔قہستانی میں بحوالہ قاضیخان منقول ہے یونہی خاوندکل مال کامستحق ہوگاجبکہ
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
بعدازاں سوالات عدالت کانمبروار جواب بتفصیل ہے یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی ہے اور موافق اس تفصیل کے جو مجمل جواب میں گزرچکی ہے شرعا صحیح ونافذہے وصیت بحق شاہ محمد زائد علی الثلث ہے عالم خاتون زوجہ نے اگر اس کوقبول نہیں کیا تواس کانفاذ حسب ذیل تقسیم ہوکرہوگا۔زیورات اگرمتوفی نے مہرمیں دئیے ہوں تو زیورات پروصیت کابارہوگا بلکہ تمام زیورات اس کوملیں گے۔ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳ /۲سہاممدعاعلیہ کو ۳ /۱ سہام اوردیگرجائداد ومکانات وظروف وغیرہ میں سے مدعیہ ۱۲ /۲ اورمدعاعلیہ کو۱۲ /۱۰ سہام ملیں گے کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھرربع باقی ماندہ۸ /۲ یعنی سدس کل ۱۲ /۲ مدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ یعنی نصف ۱۲ /۶ مدعاعلیہ کوملے گا جوزیورات قیمتی(سماعہ عہ)بروئے وصیت مدعیہ کودئیے گئے ہیں اگروہ مہر میں دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت کچھ حق نہیں ہے اوراگرمحض بطوروصیت دئیے گئے ہیں توان میں مدعاعلیہ کابروئے وصی بالثلث حق ثلث ہوگا اوراس صورت میں تمام زیورات میں ۳ /۱ سہام مدعاعلیہ کواور ۳ /۲ مدعیہ کو ملیں گے۔لیکن اس شق ثانی پر نفاذوصیت سے بیشتر مدعیہ کامہرکل مال سے اداکیاجائے گا اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین متوفی کی اپنے مال سے بلا اطلاق وبلااجازت مدعیہ کی ہے چونکہ یہ صرف تبرع ہے لہذا اس خرچ کابارصرف مدعاعلیہ کے مال پر ہے اورمدعیہ پر اس کامطلق بارنہ ہوگا اوراگر باجازت مدعیہ اپنے مال سے تجہیز وتکفین کی ہے یامتوفی کے ترکہ میں سے تو اس کابارمتوفی کے تمام ترکہ پر ہوگا جوہر دومدعاعلیہ اورمدعیہ کے متعلق ہوگا۔حق سکنی مکانات اورحق استعمال ظروف وغیرہ کے جو موصی نے عالم خاتون زوجہ کو وصیت کی ہے اس وصیت کے بار سے ثلث مال جوبطور وصیت شاہ محمدکواول ملے گا بری رہے گا البتہ علاوہ ثلث مال کے جو شاہ محمدکوبعداخراج ثلث ملے گا اس میں مدعیہ کو تانکاح ثانی حسب وصیت حاصل رہے گاکیونکہ زوجہ کی وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی ہاں زائد علی الثلث کے مساوی ہے لہذازائد علی الثلث یعنی ۱۲/۶ میں اس کانفاذ اس طرح ہوگا کہ رقبہ کی وصیت شاہ محمد کے لئے اور منفعت کی وصیت مدعیہ کے لئے قراردی جائے گی جوحصہ مدعیہ کااور مدعاعلیہ کا جائدادمنقولہ یاغیرمنقولہ میں ہے اس کے متعلق ہرایك فریق کواختیارہے کہ وہ فریق ثانی سے بشرطیکہ
الحاصل:تعین حصص مدعیہ ومدعی کے متعلق جواب علمائے ریاست صحیح ہے اورمستشارالعلماء لاہور صحیح نہیں ہے زیورات کے متعلق شرعی بایں تفصیل ہے کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کو مرض الموت سے پہلے تملیکا دے دئیے ہیں اور وصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں ان پرکوئی بارحتی کہ تجہیزوتکفین اوروصیت کا بھی نہیں ہوگا اوراگرمرض موت میں وصیت کی ہے تواگربعوض دین مہرہوتو البتہ اس صورت میں تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنی نہ ہوں گے بشرطیکہ مدعاعلیہ نے بلااجازت مدعیہ اپنے مال سے خرچ نہ کیاہو لیکن وصیت بالثلث کے بارسے مستثنی ہوں گے یعنی بعدخرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گےاوراگربعوض دین مہرنہ ہوتوبعد تجہیزوتکفین اول دین مہراداکیاجائے گابعدازاں بحکم وصیت بالثلث زیورات میں سے بھی ۳ /۱ یعنی ۳ /۲ ثلث مدعا علیہ کوملے گا باقیماندہ ۳ /۲ حصہ زیورات مدعیہ کو ملیں گےپس حکم عدم جواز وصیت صحیح نہیں اورنیزحکم بعدم جواز وصیت بالمنفعت بھی صحیح نہیں بلکہ اس کانفاذ علاوہ ثلث کے ہوگاصورت موجودہ میں علماء انجمن مستشارالعلماء کادعوی بطلان وصیت اورجواز ردعلی الزوجین کے متعلق صحیح نہیں ہے کیونکہ رد علی الزوجین کاتعلق اس صورت کے ساتھ جس جگہ حقوق متقدمہ سے باقیماندہ کوبیت المال کے لیے قرار دیا ہے اور جس صورت میں حقوق تمام ترکہ کو مستغرق ہوں اور بیت المال تك نوبت نہ پہنچے جیساکہ وہاں بیت المال کے لئے کچھ نہیں باقی رہا توردعلی الزوجین کاحکم ہرگزنہیں ہوسکتاکیونکہ بحکم مقدمہ خامسہ ردعلی الزوجین کے جوازکاحکم ہرگزنہیں ہوسکتا بیت المال کے فساد کے ساتھ مشروط ہے اگربیت المال منتظم موجودہوتوردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا لہذ حکم ردعلی الزوجین حکم تفویض بیت المال سے بھی مؤخرہوا صورت موجودہ میںاور فرض زوجہ تمام باقیماندہ ترکہ کومستغرق ہیں باقی ماندہ ترکہ کاکوئی فرد ان حقوق متقدمہ کے بعد باقی نہیں رہتا پس نہ تفویض بیت المال کاحکم ہوسکتاہے نہ ردعلی الزوجین کا۔پس یہ بحث اس جگہ نہایت تعجب انگیز ہےچنانچہ اس کی تشریح اورتردید اپنی تحریر مندرجہ مسل کافی طورپرکردی ہے اپنی دوسری تحریر میں ایك نوٹ لکھتے ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ واحد بخش نے شاہ محمد کوحفاظت جائداد کی وصیت کی ہےنہ تملیك کیلہذا وہ وصی ہے نہ موصی لہ چونکہ اس کی تردید علمائے ریاست نے کافی طورپر فرمائی ہے لہذا ہم کو اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے فقط واﷲ اعلم وعلمہ
نقل جواب ۸
میں نے حضرات علمائے کرام کے فتاوی معہ کاغذات متعلقہ مسل مقدمہ کو غورسے پڑھا اوربارباربغرض تنقیح امرمتنازعیہ فیہ حوالہ جات کتب فقہ میں تدبرکیاچنانچہ حسب ذیل فیصلہ پر آگاہ ہوابتوفیقہ تعالی اس میں توکلام نہیں کہ ردعلی الزوجین میں فقہائے متاخرین کااختلاف ہے یعنی فقہائے متقدمین قطعا ردعلی الزوجین کے قائل نہیں ہیں اورفقہائے متاخرین ردمذکور کے قائل ہیں نیزاس میں کلام نہیں کہ فتوی متاخرین کے قول پرہے چنانچہ صاحب ردالمحتارفرماتے ہیں:
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا الفساد بیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ وکذا البنت و الابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالرد علیہما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام الی اخرہ۔ قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گازیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك کے فرضی حصہ کو وصول کرنے کے بعد جوکچھ بچ جائے وہ اسی پررد کردیاجائے گا یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف لوٹایاجائے گا۔ مستصفی میں کہا آج کے زمانے میں فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہےمحقق احمدبن یحیی بن سعد تفتازانی نے کہا بہت سے مشائخ نے فتوی دیا ہے کہ زوجین پررد کیاجائے گا جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ ان دونوں میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے ہیں الخ۔(ت)
اب بحث طلب بات رہ جاتی ہے کہ فقہائے متاخرین جن کے قول پرفتوی ہے ذوی الارحام مول الموالاتمقرلہ بالنسب علی الغیرموصی لہ بجمیع المال ان چاروں کے نہ ہونے کی صورت میں ردمذکورکے قائل ہیںصاحب درمختار کی عبارت مندرجہ ذیل سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجہ میں اورانہیں کے ساتھ ردعلی احدالزوجین کے
والرد ضدہ(ای ضد العول)کما مر وحینئذ فان فضل عنہا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد الفاضل علیھم بقدر سھامھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایرد علیھما وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت جزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاء۔ ردضد ہے عول کیجیساکہ گزراتواب جب فروض سے کچھ بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ وہاں موجودنہ ہوتو وہ بچاہوام ال بالاتفاق ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا سوائے زوجین کےحضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ زوجین پربھی رد کیاجائے گاایساہی مصنف وغیرہ نے کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں جزم کیا ہے کہ یہ راوی کاوہم ہے توتم اسی کی طرف رجوع کرو۔میں کہتاہوں اشباہ میں ہے ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔اس کاذکرپہلے ہم کتاب الاولیاء میں کرآئے ہیں۔(ت)
اگرفقہائے متاخرین کے نزدیك ردعلی الزوجین کادرجہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوتاتو حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ اور مصنف صاحب اشباہ کے اختلاف کویہاں یعنی ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے ساتھ ملاکر بیان کی کیاضرورت تھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پرجودلیل کتاب روح الشروح سے منقول ہے اس سے یہی صاف ظاہرہے کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ ردعلی الزوجین اور ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ایك ہی درجہ پررکھتے ہیں کیونکہ اس میں رد کو عول پرقیاس کیاگیاہے اورظاہرہے کہ عول میں ذوی الفروض النسبیہ اوراحدالزوجین برابرہیں توپھر ردمیں بھی ان کوبرابرہوناچاہئے متاخرین کی طرف سے ردعلی الزوجین کی دلیل میں فساد بیت المال بیان کیاجاتاہے اس سے یہ شبہہ ہوتاہے کہ جب ترکہ کے بیت المال میں جانے کا موقعہ ہوتو اس کے فاسد ہوجانے کے باعث ردعلی الزوجین ہوناچاہئے اورجب بیت المال میں جانے کاموقعہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہے تو رد علی الزوجین بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوناچاہئے لیکن درمختار کی عبارت مسطورہ بالاسے معلوم ہوتاہے کہ اس میں رد علی ذوی الفروض النسبیہ کی دلیل سے ہی فسادبیت المال ہی کوپیش کیاہے توچاہئے کہ ردعلی ذوی الفروض النسبیہ بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد
اقول:ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذلك ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأمل لکن لایخفی ان المتون موضوعۃ لنقل ماھو المذھب وھژذہ المسئلۃ مما افتی بھا المتاخرون علی خلاف اصل المذھب۔ میں کہتاہوں ہم نے اپنے زمانے میں سنابھی نہیں کہ کسی نے ایسافتوی دیاہوشاید متون سے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے۔پس تأمل چاہئےلیکن پوشیدہ نہیں کہ متون نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیںاور یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن میں متاخرین نے اصل مذہب کے خلاف فتوی دیاہے۔(ت)
بہرکیف اگرکسی صاحب کوکوئی ایسی صریح روایت مل جائے کہ فقہائے متاخرین موصی لہ بجمیع المال کے نہ ہونے کی صورت میں ردعلی الزوجین کے قائل ہیں توخاکسار اوردیگراراکین مستشار العلماء کواپنی رائے بدل دینے میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا لیکن حضرات مفتیان نے ابھی تك اس امرکوپایہ ثبوت تك نہیں پہنچایا وہ روایات وجزئیات جن سے معلوم ہوتاہے کہ موصی لہ بجمیع المال کے ہوتے ہوئے ردعلی الزوجین نہیں ہوگا وہ بتمامہا فقہائے متقدمین کے قول پرمبنی نہیں ہے اوراس قول کے موافق اگرموصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتو بھی ردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتوردعلی الزوجین ہوگاورنہ نہیںاورمیرے خیال میں یہ کسی کابھی مذہب نہیںبہرصورت جزئیات مندرجہ فتاوی متعلقہ مسئلہ ہذا جن سے موصی لہ بجمیع المال کوردعلی الزوجین پرمقدم رکھاگیاہے وہ مذہب متقدمین پرمبنی ہیں نہ متاخرین پرجومتاخرین پرجومفتی بہ مذہب ہے اوراگریہ امرقطعا ثابت ہوجائے کہ وہ مذہب متاخرین پرمبنی نہیں تو حضرات علماء ریاست کافتوی صحیح ہے مگربنظرامعان صاف معلوم ہوتاہے
الجواب:
(جواب امام احمدرضاخاں علیہ الرحمۃ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ رب العلمین وبہ ثم برسولہ نستعین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہے جوکل جہانوں کاپروردگار ہے اوراسی سے پھراس کے رسول سے ہم مددچاہتے ہیں اﷲ تعالی اپنے رسول پردورودسلام اوربرکتیں فرمائے اورآپ کی تمام آل واصحاب پر۔(ت)
الحمدﷲ یہاں فتوی پرفیس نہیں لی جاتی " ان اجری الا علی رب العلمین ﴿۱۰۹﴾" (میرا اجرتواسی پرہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ ت)منی آرڈر واپس کردیاسوالات اوران کے متعلق آٹھ فتوے ملاحظہ ہوئےمفتیوں کے نام نہ لکھناعجیب نہ تھا ایك فتوی میں دوسرے کاجوذکرتھا وہ لکھ کرمحوکردیاگیایابیاض چھوڑی ہے یہاں اس سے کوئی بحث نہیں بعونہ عزوجل تحقیق سے کام ہے مگراتنی گزارش مناسب ہے بحمدہ تعالی یہاں مسائل میں نہ کسی دوست کی رعایت ہےہمارے رب عزوعلانے نہ فرمایا:
" یایہا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" اے ایمان والو! انصاف پرخوب قائم ہوجاؤ اﷲ کے لئے گواہی دیتے ہوئے چاہے اس میں تمہارا اپنانقصان ہو۔(ت)
القرآن الکریم ∞۴ /۱۳۵€
" ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقوی ۫" اورتم کو کسی قوم کی عداوت اس پرنہ ابھارے کہ انصاف نہ کروانصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔(ت)
مولی سبحانہ وتعالی کی عنایت پھرمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اعانت سے امیدواثق ہے کہ لایخافون لومۃ لائم سے بہرئہ وافی عطافرمایاہےوﷲ الحمداسی بنا پر بہت افسوس کے ساتھ گزارش کہ آٹھوں فتووں میں اصلا ایك بھی صحیح نہیں اکثرسراپاغلط ہیں اوربعض مشتمل براغلاط۔اب ہم بتوفیق اﷲ تعالی اولا: کچھ مسائل کاافادہ کریں اورہرافادہ پرجوفوائد متفرع ہوئے اس کے ساتھ لکھیں جن سے وضوح احکام کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوکہ ان فتووں نے کہاں کہاں کیاغلطیاں کیں اوران کے علاوہ کیاکیا ضروری باتیں ان کی نظر سے رہ گئیں۔مفتی صاحبوں نے انصاف فرمایاتو یہ امرباعث ناراضی نہ ہوگابلکہ وجہ شکرکہ مقصود بیان حق واظہاراحکام ہے کہ کسی کے طعن والزاماوریہ امرقدیم سے معمول علمائے اسلام۔
ثانیا:پانچوں سوالات حال کے جواب دیں۔
ثالثا: ساتوں سوالات سابق کے جواب لکھیں جوان مفتیوں سے کئے گئے اورجواب غلط وناقص ہےیہ اس لئے کہ محکمہ قضاء نے جن امورکی نسبت تحریرفرمادیاہے کہ فتاوی مصدرہ میں جوسوال زیربحث آکرطے ہوچکے ہیں ان کے ذکرکی ضرورت نہیں ان میں بھی اظہارحق ہوکہ قابل اطمینان بات صاف نہ ہوئی تھی اس کاحق ہمیں خود ہی تھا اور اس تحریر دارالقضا کے بعد بدرجہ اولی کہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوی معلوم ہوتو اطلاع بخشیں۔
رابعا:حکم اخیرلکھیں کہ اس مقدمہ میں دارالقضاء کوکیاکرناچاہئے۔وماتوفیقی الاباﷲ علیہ توکلت والیہ انیب(اورمیری توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔میں نے اسی پربھروساکیااوراسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔ت)
(افادے اورتعریفیں)
افادہ اولی
شاہ محمدخاں مکانات واثاث البیت کاضرور موصی لہ ہے آغاز وصیت نامہ میں ہے وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں کے رہیں گے اورمالك بھی یہی رہے گا اگرصرف"زیرحفاظت"کہتا شاہ محمدخاں وصی ہوتا مگراس فقرہ نے کہ مالك بھی رہے گا ظاہر کردیاکہ مقصودوصیت ہے نہ کہ وصایت۔پھرکہامالك وقابض شاہ محمدخاں مذکور ہےپھرکہا غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اس"وغیرہ"کی یوں تشریح کی ہے علاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔پھرکہاکل اشیاء مندرجہ بالا کامالك شاہ محمدخاں ہے۔غرض جابجا تملیك کی تصریح کی اورپرظاہرکہ یہ تملیك بلامعاوضہ بروجہ تبرع واحسان ہے اورآخرمیں کہا یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گے جب تك میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیںبعد میں بموجب بالا تقسیم ہوں گےصاف واضح کردیاکہ یہ تملیك مضاف الیہ مابعد الموت ہے توقطعا وصیت ہوئی۔ امام اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں:
الوصیۃ فی الشریعۃ تملیك مضاف الی مابعد الموت بطریق التبرع ۔ وصیت شریعت میں ایسی تملیك کوکہتے ہیں جو بطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت)
ہاں وصیت نامہ میں مالك وقابض شاہ محمدخاں مذکورہے کے بعد یہ لکھاہے کہ اس کواختیار ہے کہ اس کوفروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اور میری ارواح پر بخش دے گا اسے منافی تملیك سمجھنا صریح غلط ہے وہ خود اس کے متصل ہی کہتاہے یعنی غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانا ت وغیرہ کا ہے خود اسی کلام کی تفسیرتملیك سے کررہاہے تو اسے تملیك سے جداکرنا توجیہ القول بمالایرضی بہ قائلہ(قول کی ایسی توجیہ کرناجس پر قائل
انت وکیلی بعد موتی یکون وصیا انت وصیی فی حیاتی یکون وکیلا لان کلامنھما اقامۃ للغیر مقام نفسہ فینعقد کل منھما بعبارۃ الآخر۔ تومیرے مرنے کے بعد میراوکیل ہے تووہ وصی بن جائے گا۔ اورتومیری زندگی میں میراوصی ہے تواس سے وہ وکیل بن جائے گا کیونکہ ان دونوں میں ہرایك کسی غیر کواپنا قائمقام بناناہے لہذا ان میں سے ہرایك دوسرے کی عبارت کے ساتھ منعقدہوجائے گا۔(ت)
مال اگراپنی ملك پررکھ کر اس سے کسی تصرف کے لئے کہتاتوضرور اسے اپنی جگہ قائم کرنا ہوتااورجب مال اس کی ملك کرچکاتو اب موصی کااس میں کیا مقام رہا جس پر اسے قائم کرتاہے ولوجہ اجلی وصایت باب ولایت واطلاقات سے ہے یعنی دوسرے کو اختیار دینااسے نافذالتصرف بناناولوالوجیہ پھرادب الاوصیاء میں ہے:
ایصاء المیت نقل الولایۃ الی الوصی۔ میت کاوصیت کرنا اپنی ولایت کو وصی کی طرف منتقل کرناہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ان فی الوکالۃ والاذن للعبد اطلاقا عماکانا ممنوعین عنہ من التصرف فی مال المؤکل والمولی۔ اس لئے کہ وکالت اوراپنے غلام کواذن دینے میں اس چیز کی اجازت دیناہے جس سے پہلے اس کے لئے ممانعت تھی یعنی مؤکل اورمولا کے مال میں تصرف کرنا۔(ت)
آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی الایصاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۶€
ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴ /۲۳۔۲۲۲€
وبوجہ اخصر یہ تملیك ہے اورکوئی اطلاق تملیك نہیں تویہ اطلاق نہیں اورہروصایت اطلاق ہے تویہ وصایت نہیں وھوالمطلوب قیاس ثانی کاصغری پہلے کانتیجہ ہے اورکبری کاثبوت ردالمحتار سے گزرا اورقیاس اول کاصغری بدیہی ہے اورکبری کاثبوت اس عبارت درمختار سے ہے۔
کل ماکان من التملیکات اوالتقییدات یبطل تعلیقہ بالشروط والاصح لکن فی اسقاطات والتزامات یحلف بھما یصح مطلقا وفی اطلاقات وولایات وتحریضات بالملائم بزازیۃ۔ جوکچھ تملیکات وتقییدات میں سے ہے وہ اس کی تعلیق شرط کے ساتھ باطل ہے ورنہ صحیح ہےلیکن اسقاطات والتزامات جن پرقسم کھائی جاتی ہے ان میں شرط کے ساتھ تعلیق مطلقا صحیح ہے جبکہ اطلاقاتولایات اور ترغیبات میں بشرط مناسب جائزہےبزازیہ۔(ت)
تنبیہ:قاعدہ فقہیہ یہ ہے کہ اگر مملك بالکسر کہ تملیك بلاعوض کے ساتھ مملك بالفتح کی کسی مصلحت میں خرچ یااستعمال کرناذکر کرے تو اسے مشورہ ٹھہراتے ہیں مملك پر اس کی پابندی ضرورنہیں ہوتی کہ جب وہ مالك ہوگیا اسے اختیارہے جہاں چاہے اٹھائے مثلا یہ کپڑا میں نے تجھے دیا کہ تو اسے پہنے یا یہ مکان تجھے ہبہ کیاکہ تو اس میں سکونت کرے۔تنویرالابصارمیں ہے:
تصح بایجاب کوھبت ونحلت واطعمتك ھذا الطعام وداری لك ھبۃ تسکنھا۔ یہ ایجاب سے صحیح ہوجاتاہے جیسے کہا کہ میں نے ہبہ کیامیں نے بخوشی بخشامیں نے یہ طعام تجھے دے دیا اورمیرا گھر تیرے لئے ہبہ ہے کہ تو اس میں رہائش رکھے۔(ت)
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹۔۱۵۸€
لان قولہ تسکنھا مشورۃ فقد اشار علیہ فی ملکہ بان یسکنہ فان شاء قبل مشورۃ وان شاء لم یقبل۔ کیونکہ اس کاقول کہ"تو اس میں رہائش رکھے"ایك مشورہ ہے جو واہب نے موہوب لہ کی ملکیت میں دیا اگرچاہے تومشورہ قبول کرلے ورنہ نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
کقولہ ھذا الطعام لك تاکلہ اوھذا الثوب لك تلبسہ بحر ۔ جیسے واہب کاقول کہ یہ کھانا تیرے لئے ہے کہ تو اس کوکھائے یایہ کپڑے تیرے لئے ہے کہ تو اس کوپہنےبحر۔(ت)
اوراگرخود اپنی یا اس چیزیاصالح استحقاق شخص ثالث کی کوئی مصلحت ذکرکرے تواسے شرط فاسد قراردے کرتملیك کوصحیح اور شرط کوباطل کرتے ہیں۔مثلا یہ غلام میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھر میری یازید کی خدمت کرےیا اس شرط پرکہ تواسے آزاد کردے۔درمختارمیں ہے:
حکمھا انھا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فھبۃ عبد علی ان یعتق تصح و تبطل الشرط۔ ہبہ کاحکم یہ ہے کہ وہ شرط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتاچنانچہ غلام کاہبہ اس شرط پرکہ موہوب لہ اس کو آزاد کردے صحیح ہے اورشرط باطل ہوجائے گی۔(ت)
نہ یہ کہ زید اپنی مصلحت ذکرکرے توسرے سے تملیك ہی اڑادیں اوراسی ذکرمصلحت کو اس کے بطلان کاقرینہ ٹھہرادیں۔یوں ہوتاتویہ کہناکہ میں نے زیدکو اس غلام کامالك کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھربعد مجھے واپس کردے ہبہ نہ ہوتا عاریت قرارپاتا حالانکہ یہ باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
ردالمحتار کتاب الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۹€
الدرالمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۸€
افادہ ثانیہ
جس طرح الفاظ مذکورہ سے شاہ محمدخاں کو وصی سمجھنا باطل ہے یوں ہی ان مکانوں کی وصیت تجہیزوتکفین وایصال ثواب کے لئے ٹھہرانا حلیہ صواب سے عاری وعاطل ہے وہ تومکانات کوشاہ محمدخاں کی ملك کرچکااوراختیار بیع رہن کاملك پرمتفرع ہونا بدیہی۔وہ یہ نہیں کہتاکہ شاہ محمد پر لازم ہے کہ ان کو بیع یا رہن کرکے روپیہ میری تجہیز وتکفین وفاتحہ میں اٹھا دے بلکہ یہ کہتا ہے کہ شاہ محمد ان کامالك ہے اسے بیع ورہن کااختیارہے ہاں اگربیع یارہن کرے تو اس صورت میں کہتاہے کہ روپیہ میری ارواح پربخش دے گا۔اس جملہ کو اگراس کے ظاہر پررکھیں توخبرہے جس کاحاصل شاہ محمدخاں اورموصی کی دوستی کابیان ہے کہ مجھے اس سے یہ امیدہے ولہذا میں اسی کو اپنے مال کامالك کرناچاہتاہوں جس طرح آخرمیں کہاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کا مالك شاہ محمدخاں ہے جس نے میری خدمت ازحدکی ہے بعدانتقال میری تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت اخیر کوپوراانجام دے گا اوراگرخبر بمعنی امرلیں توحاصل یہ ہوگاکہ شاہ محمدخاں اگربیع یارہن کرے توروپیہ میری ارواح پربخشدےیہ ایصال ثواب کی وصیت نہیں ہوسکتا بعد اس کے کہ مکانات ملك موصی لہ کرچکاپرائی ملك میں اسے وصیت کاکیااختیار رہا وصیت ایجاب ہے اورملك غیر میں اس کے کہے سے کوئی بات واجب نہیں ہوسکتی مالك کو اختیارہے کہ مانے یانہ مانے ایضاح پھرنہایہ شرح ہدایہ پھرنتائج الافکارمیں ہے:
الوصیۃ مااوجبھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ وصیت وہ ہے کہ موصی اپنے مال میں اس کا ایجاب کرے اس کی موت کے بعد یا ایسی
تفریعات
(۱)فتوی ۶ کا ادعاکہ وصیت نامہ پرغورسے معلوم ہوتاہے کہ متوفی نے شاہ محمدکے حق میں کچھ بھی وصیت نہ کی بلکہ صرف اپنا وصی مقررکیاہےمحض باطل ہے۔
(۲)فتوی ۶ کا اس ادعاپرجملہ مذکورہ میری ارواح بخش دے گاسے استدلال کہ وصیت بحق شاہ محمد متوفی ہوتی تویہ کہنابے معنی ہو جاتاخود بے معنی اورصحیح وباطل کاقلب کردیناہے جیساکہ تنبیہ میں واضح ہوا۔اس نے مطلقا کہاہے کہ مالك محمدشاہ خاں مذکور ہے اور اس کے بعد وہ الفاظ کہ بعد فروخت یا رہن الخ جملہ مستقلہ ہیں کہ اس جملہ کی قیدوشرط نہیں ہوسکتے۔بحرالرائق متفرقات البیوع جلد۶ میں ہے:
فی بیوع الذخیرۃ اشتری حطبا فی قریۃ شراء صحیحا وقال موصولا بالشراء من غیرشرط فی الشراء احملہ الی منزلیلایفسد العقد لان ھذا لیس بشرط فی البیع بل ھو کلام مبتدأ بعد تمام البیع فلایوجب فسادہ اھ فعلی ھذا لواستاجرقریۃ اوارضا للزراعۃ ثم قال بعدتمامھا ان الحرث علی المستأجر لاتفسد لانہ لم یکن شرطا فیھا وانما یکون شرطا لوقال علی ان الحرث علیہ فلیحفظ ھذا فانہ یخرج علی کثیر من المسائل۔ بیوع ذخیرہ میں ہے کسی نے ایك قریہ میں ایندھن خریدا صحیح خریداری کے ساتھ پھر اس سے متصل بلاشرط کہااس کو میرے گھرتك لے چلو تو عقد فاسدنہ ہوگا کیونکہ یہ بیع میں شرط نہیں بلکہ بیع مکمل ہوجانے کے بعدنیاکلام ہے جوموجب فسادنہیں اھ اسی پرمبنی ہے یہ مسئلہ کہ کسی نے زراعت کے لئے دیہات یازمین کرایہ پرلی پھربیع کے مکمل ہونے کے بعد کہا کہ کاشت کرنا کرایہ دار کے ذمہ ہوگاتو اجارہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ یہ اجارہ میں شرط نہیں وہ توتب ہوتی کہ یوں کہتا اس شرط پرکہ کاشتکاری کرایہ دارکے ذمہ ہوگیاس کومحفوظ کر لیناچاہئے کیونکہ اس سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوسکتی ہے۔(ت)
اوراگربفرض غلط اس کے معنی یہ قراردے لیجئے کہ شاہ محمد کی تملیك کو اس شرط سے مشروط
بحرالرائق کتاب البیوع باب المتفرقات ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۸۸€
ثانیا: ہم پوچھتے ہیں اس صورت میں بعد موت موصی کے مکانات ملك موصی سے خارج ہوگئے ملك موصی لہ میں داخل ہوئے یانہیںاگرکہتے ہو ہاں تومقصود حاصل کہ مالك پر اس کی ملك میں جبرکیامعنیاوراگرکہتے ہونہیں تو کیوںحالانکہ موصی نے وصیت کی اورموصی لہ قبول کرچکااوروصیت بعد قبول ناقل ملك ہے۔ اشباہ میں ہے:
الموصی لہ یملك الموصی بہ بالقبول ۔ جس کے لئے وصیت کی گئی وہ وصیت والی چیز کوقبول کرنے سے اس کامالك ہوجاتاہے۔(ت)
اوریہ کہنامحض نادانی ہوگاکہ وصیت تومشروط تھی جب تك شرط نہ پائے جائے گییہ شرط فی الوصیۃ بالشرط اورتعلیق الوصیۃ بالشرط میں فرق نہ کرنے سے ناشیئ ہوگا یہاں اگرہے تواول ہے نہ ثانی کہ سرے سے مبطل وصیت ہے کہ وصیت تملیك ہے اورتملیکات تعلیق بالخطرقبول نہیں کرتیںدرمختارمیں ہے:
کل ماکان من التملیکات اوالتقییدات یبطل تعلیقہ بالشرط۔ جوکچھ تملیکات یاتقییدات میں سے ہے اس کوشرط کے ساتھ معلق کرناباطل ہے(ت)
معہذا وہ کیاشرط تھی کہ نہ پائی گئی آیا روپیہ صرف فاتحہ کرنانہ ہواتویہ توبحال بیع ورہن شرط تھا بیع ورہن خود ہی نہ پائے گئے رہابیع ورہن کرناتویہ شرط ہی نہ کئے گئے تھے شرط لازم کی جاتی ہے اوربیع ورہن کااس نے اختیار بتایاہے نہ کہ ایجاب۔
(۳)فتوی۶ کاقول کہ اسلئے شاہ محمدخاں کوبحیثیت وصیت تیسرا حصہ جائدادکاملے گا اس لئے کہ بحق واحدبخش خیرات کردے نہ اس لئے کہ وہ خود اس کامالك بن جائےبنائے فاسد علی الفاسدہےبلکہ بلاشبہہ وہ وصیت بحق شاہ محمد ہے اس لئے کہ وہ خود اس کامالك کرچکا
الدرالمختار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
(۴)بفرض باطل ایساہوتابھی تویہ الفاظ کہ میری ارواح کوبخش دے گا موصی نے صرف مکانات کی نسبت لکھے ہیں باقی وصیت کی نسبت نہیں فتوی۶ کاتومطلقا سب جائدادپریہی حکم لگادینااور پوراثلث خیرات کے ٹھہرادیناصریح ظلم یاعدم فہم ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت مانگتے ہیں۔ت)
(۵)یہی خطا فتوی۲ کو آڑے آئی لکھازوجہ کاحق متروکہ متوفی سے سدس ہے باقی موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں صرف کرے جب باقی موصی لہ کاہوچکاپھروجوہ خیرمیں صرف کرنے کا اس پرایجاب کیامعنیاگروہ کرے گاتبرع ہوگا اورتبرع پرجبرنہیں " ما علی المحسنین من سبیل " (احسان کرنے والوں پرکوئی راہ نہیں۔ت)
(۶)بلکہ فتوی۲ کی غلطی فتوی۶ سے بڑھ کرہے اس نے توشاہ محمد کے لئے وصیت مانی ہی نہ تھی تو اسے گنجائش ملی کہ خیرات کے لئے وصیت ٹھہرادے اگرچہ یہ سرتاپاغلط تھا اس نے اس سے عجیب ترراہ اختیارکی کہ تمام باقی بعد فرض الزوجہ کی وصیت شاہ محمدکے لئے مانی پھر اسی پرخیرات کاحکم لگادیا یعنی شیئ واحد کی وصیت عمروکے لئے بھی ہے اوربعینہ اس شیئ کی وصیت اﷲ عزوجل کے لئے بھی ہے حالانکہ یہ بداہۃ محال ہے۔
(۷)فتوی ۲ نے اس مطلب پرعبارات یہ نقل کیں:
(۱)اوصی بثلث مالہ ﷲ تعالی ۔
(۲)لواوصی بالثلث وجوہ الخیر ۔
(۳)لاتصح من ممیزالافی تجھیزہ ۔ اﷲ تعالی کے لئے اس نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی(ت)
اگراس نے نیکی کے کاموں کے لئے تہائی کی وصیت کی(ت)
باتمیزصغیرکی وصیت صحیح نہیں مگرصرف اس کی تجہیز میں۔ (ت)
اورنہ دیکھاکہ جب میں باقی کی وصیت عمرو کے لئے مان چکا توان عبارات کاکیامحل رہا۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔
ردالمحتار کتاب الوصایا ∞۲/ ۳۲۲€
الفتاوی الہندیۃ الباب الثانی ∞۶/ ۹۷€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞۲/ ۳۱۹€
عالم خاتون بھی ضرور موصی لہا ہے مکانات واثاث البیت کے باب میں اس کے لئے وصیت المنفعۃ ہوناتوبدیہی اورنظربرسیاق و سباق وصیت نامہاس زیورکی بھی اس کے لئے وصیت ہے ابتداء وصیت نامہ میں ہے مجھ کو اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام ضروری ہے کہ پس ماندگان میں تکرارنہ ہو اس کاانتظام یہ ہے کہ زیورات ذیل زوجہ کو ملے گاالخ پھرمکانات واثاث البیت کے وصیت بنام شاہ محمدخاں کی جس کاحاصل یہ تقسیم ہوئی کہ وہ زیورعالم خاتون کے اورمکانات واثاث البیت شاہ محمدخاں کے۔آخرمیں لکھایہ جملہ شرائط بعدمیرے قابل تعمیل ہوں گے جب تك میں حیات ہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے صاف واضح ہوگیاکہ دونوں کے لئے تملیك بعدالموت کررہا ہے تو اس کازیورمذکورکی نسبت کہنامیری زوجہ کے ہیں ایسا ہی ہے جیسامکانات کوکہامالك شاہ محمدخاں ہے اوروارث کے لئے وصیت بلاشبہہ جائزہے جبکہ اورکوئی وارث نہ ہوردالمحتاربیان شرائط وصیت میں ہے:
وکونہ غیروارث ای ان کان ثمۃ وارث اخر والاتصح کمالواوصی احدالزوجین للاخرولاوارث غیرہ۔ اوراس کاغیروارث ہونایعنی جب وہاں کوئی اوروارث ہوورنہ صحیح ہےجیساکہ زوجین میں ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ کوئی اوروارث نہ ہو(ت)
درمختارمیں ہے:
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ اولم یکن لہ وارث سواہ کما فی الخانیۃ حتی لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اخر تصح الوصیۃابن کمال ۔ وارث کے لئے وصیت جائزنہیں مگراس وقت دیگرورثاء اجازت دے دیں یاکوئی اوروارث موجودہی نہ ہوجیساکہ خانیہ میں ہےیہاں تك اگرخاوند نے بیوی کے لئے بیوی نے خاوند کے لئے وصیت کی اوروہاں کوئی دوسرا وارث موجود نہیں تووصیت صحیح ہوگیابن کمال۔(ت)
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
(۸)فتوی ۵ کاقول مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث کے واسطے وصیت جائزہے۔ مسئلہ وارث واحدکے حکم سے غفلت ہے۔
(۹)طرفہ یہ کہ خود فتوی۵ نے سند میں عبارت درمختار لالوارثہ الخ(وارث کے لئے جائزنہیں۔ت)نقل کی جس کے آخرمیں موجود یعنی عندوجودوارث اخر (دوسرے وارث کی موجودگی میں۔ت)
(۱۰)زیوربعد موت عوض مہر میں دئیے جانے کولکھنابھی وصیت ہوا لکونہ ایجابا بعد الموت(موت کے بعد ایجاب ہونے کی بناپر)توفتوی۵ کاکہناکہ بلکہ یہ زیورات حق مہرکے عوض سمجھے جائیں اوراسے منافی وصیت جانناعجیب ہے۔
(۱۱)استفتاء مرتبہ ڈسٹرکٹ ججی خانپور کے سوال میں آتاہے کہ جوزیورات مدعیہ کوملے ہیں ان کی نسبت وہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہر میں شوہردے گیاان سے بھی ہرگز مفہوم نہ ہواکہ یہ دیاجاناصحت میں تملیك فی الحال تھا جب وہ لکھ گیاکہ میرے بعد یہ زیور میری زوجہ کے ہیں تو ضرور وصیت ہی ہوئی اگرچہ بعوض مہردینامرادہو اوراس صورت میں عورت کاکہناکہ مجھ کوحق مہر میں شوہردے گیا بلاشبہہ صادق ہے توفتوی۵ کاقول کہ بلکہ زیورات مہرکے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے محض نامفید مقصودہے۔
(۱۲)ہم واضح کرچکے ہیں کہ وصیت نامہ کاصریح مفاد تملیك بعدالموت ہے وہ نص کرچکاکہ جب تك میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیں بعد میں تقسیم ہوں گے توفتوی۵ کاقول کہ خودعبارت وصیت نامہ کامحمل قوی یہ ہےعجیب ہے۔
افادہ رابعہ
وصیت جس طرح رقبہ شیئ کی صحیح ہے یوں ہی تنہامنفعت کییونہی یہ بھی کہ ایك کے لئے رقبہ کی وصیت کرے دوسرے کے لئے منفعت کی پہلی صورت میں متروکہ ملك وارثہ ہوگا اوراس کی
تجوزالوصیۃ بخدمۃ عبدہ وسکنی دارہ سنین معلومۃ وتجوزبذلك ابدافان خرجت رقبۃ العبد من الثلث یسلم الیہ لیخدمہ وان کان لامال لہ غیرہ خدم الورثۃ یومین والموصی لہ یوما بخلاف الوصیۃ بسکنی الداراذاکانت لاتخرج من الثلث حیث تقسم عین الدار اثلاثا للانتفاع لانہ یمکن القسمۃ بالاجزاء وھواعدل للتسویۃ بینھما زمانا وذاتا ولو اقتسموا الدارمھایاۃ تجوز ایضا لان الحق لھم ولیس للورثۃ ان یبیعوا مافی ایدیھم من ثلثی الدار لان حق الموصی لہ ثابت فی سکنی جمیع الدار ولہ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم اذا خرب مافی اپنے غلام کی خدمت اورگھرکی سکونت کی وصیت معین سالوں کے لئے جائزہے اوردائمی وصیت بھی جائزہےپھراگر غلام کی گردن یعنی اس کی قیمت موصی کے تہائی مال سے نکل سکتی ہے توغلام موصی لہ کوسونپ دیاجائے گاتاکہ اس کی خدمت کرےاوراگرموصی کاسوائے اس غلام کے کوئی اورمال نہیں تووہ غلام دودن وارثوں کی اوایك دن موصی لہ کی خدمت کرے گابخلاف گھر کی سکونت سے متعلق وصیت کے کہ اگرگھر تہائی مال سے نہیں نکل سکتا تواس سے نفع اٹھانے کے لئے تہائیوں کے اعتبارسے خود گھرکوتقسیم کرلیاجائے گا کیونکہ گھر کے اجزاء کی تقسیم ممکن ہے اوریہ تقسیم زمان وذات کے اعتبار سے زیادہ عدل پرمبنی ہےاوراگر انہوں نے باریوں کے اعتبار سے تقسیم کرلیاتب بھی جائزہے کیونکہ یہ انکااپناحق ہے وارثوں کویہ اختیارنہیں کہ وہ اپنے زیرقبضہ دوتہائی گھر کو فروخت کریں کیونکہ موصی لہ کے لئے تمام گھر میں سکونت کا حق ثابت ہےجب موصی لہ کے زیرقبضہ تہائی حصہ خراب ہو جائے تواس کے وارثوں
اسی میں ہے:
ولواوصی لہ بخدمۃ عبدہ ولاخر برقبتہ وھو یخرج من الثلث فالرقبۃ لصاحب الرقبۃ والخدمۃ علیھا لصاحب الخدمۃ لانہ اوجب لکل منھا شیئا معلوما ثم لما صحت الوصیۃ لصاحب الخدمۃ فلولم یوص فی الرقبۃ بشیئ لصارت الرقبۃ میراثا للورثۃ مع کون الخدمۃ للموصی لہ فکذا اذا اوصی بالرقبۃ لانسان اخراذ الوصیۃ اخت المیراث من حیث ان الملك یثبت فیھما بعدالموت ۔(ملخصا) اگرایك شخص کے لئے غلام کی خدمت اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی وصیت کی درآنحالیکہ وہ تہائی مال سے نکل سکتا ہے تورقبہ صاحب رقبہ کے لئے جبکہ اس پرخدمت صاحب خدمت کے لئے ہوگی کیونکہ موصی نے ہرایك کے لئے وصیت میں کچھ معین شیئ ثابت کردیپھرجب صاحب خدمت کے لئے وصیت صحیح ہوجائے اوررقبہ میں وہ کسی کے لئے وصیت نہ کرے تو رقبہ وارثوں کی میراث ہوگا باوجودیکہ خدمت موصی لہ کے لئے ہوگی۔اوریہی حکم ہوگااگر اس نے رقبہ کی وصیت کسی دوسرے انسان کے لئے کردی کیونکہ وصیت میراث کی بہن ہے اس حیثیت سے کہ ان دونوں میں ملك موت کے بعد ثابت ہوتی ہے۔ملخصا(ت)
اسی طرح اورکتب جلیلہ میں ہے اوریہیں سے ظاہرہواکہ اگردویادس مکانوں کے سکنی کی زیدکے لئے وصیت کی تواگرچہ وہ ان میں سے ایك ہی میں سکونت کرے گا جس کااسے اختیارہوگا کہ ان میں سے جس مکان میں چاہے رہے مگروہ سب مکان اس کے حق کے لئے مدت حق تك محبوس رہیں گے ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کوان کی بیع کا اختیارنہ ہوگاکہ اس کاحق ہرمکان میں
الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۸۲€
وانظر الی قول الہدایۃ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم وثم لم تثبت لہ الوصیۃ الا فی الثلث فکیف وقد اوصی لہ بکل۔ ہدایہ کے قول پرنظر کروکہ موصی لہ کووارثوں کے زیرقبضہ گھرمیں مزاحمت کاحق ہے اورپھر نہیں ثابت ہوئی اس کے لئے وصیت مگرتہائی مال میں توکیساحال ہوگا جبکہ اس نے کل مال کی وصیت کردی ہے۔(ت)
اوراس کے لئے ہرگزشرط نہیں کہ وہ اپنی ملك میں کوئی شے ایسی نہ رکھتا ہو جس سے یہ منفعت حاصل کرسکے جو اپناذاتی مکان رکھتاہو اس کے لئے وصیت یاسکنی کی ممانعت نہیں نہ یہ امرمانع نفاذوصیت ہووھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
تفریعات
(۱۳)یہیں سے ظاہرکہ فتوی ۷ کہ اس احتمال کی کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کومرض الموت سے پہلے تملیکا دے دئیے ہیں اوروصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں یہاں کوئی گنجائش نہیں۔
(۱۴)تملیك مضاف الی مابعد الموت اگرچہ حالت صحت میں ہو وصیت ہے کہ فتوی ۷ کایہاں مطلق تملیك کہنااورشق مقابل کواگرمرض الموت میں وصیت کی ہے مرض سے مقیدکرناضیق بیان ہےہدایہ میں فرمایا:
کل مااوجبہ بعد الموت فھو من الثلث وان اوجبہ فی حال صحتہ اعتبارا بحال الاضافۃ دون حال العقد۔ ہر وہ تملیك جس کاایجاب موت کے بعد کیاہو تووہ تہائی مال میں نافذہوگی اگرچہ اس کاایجاب حالت صحت میں کیاہو حالت اضافت کااعتبارکرتے ہوئے نہ کہ حال عقد کا۔(ت)
(۱۵)فتوی ۵کاقول بعد وفات متوفی کے مدعیہ کاکوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کا
الہدایۃ کتاب الوصایا باب العتق فی مرض الموت ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۶۹€
(۱۶)یوں ہی مستفتی نے وصیت مذکورہ دربارہ ظروف کودریافت کیاتھاکہ زوجہ کے لئے جائزاور اپناحصہ پانے کے بعد بھی نافذ ہے یانہیں فتوی ۵ نے وصیت نامہ وسوال سائل ومسئلہ وصیت بالمنفعۃ سب سے ذہول فرماکرلکھ دیاکہ اس میں کوئی اثر نہیں۔
(۱۷)اس سے عجیب ترفتوی ۱کاقول ہے کہ عالم خاتون کورہائش کاحق حاصل نہیں اس باب میں واحدبخش کی وصیت لغووبے اثر رہے گیفتوی ۵ نے تووصیت سے ذہول کیاحیات کے نفقہ وسکنی کے مثل کسی حق بعدالوفاۃ سے استفسارسمجھا مگرفتوی اولی نے صراحۃ وصیت مان کر محض بلاوجہ شرعی اسے لغووبے اثرکردیایہ عجیب منطق ہےکیاشرعا وصیت بالسکنی باطل ہے یاخاص زوجہ تنہاوارثہ کے لئے باطل ہے اورجب کچھ نہیں تو اسے لغوکہناہی لغونہیں صریح باطل ہے۔
(۱۸)سوال ۶کوفتوی ۱ بھی مثل فتوی ۵ نہ سمجھاکہ استفسار اس وصیت کے جواز سے ہے جس کا جواب اثبات میں دیناواجب تھایا یہاں بھی اپنی اسی منطق کی بناپروصیت کولغوٹھہرالیاہے۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ت)
افادہ خامسہ جلیلہ مشتمل برفوائد جزیلہ
فائدہاصل یہ ہے کہ ترکہ میں تجہیزوتکفین کے بعد سب سے مقدم دین ہے پھراجنبی کے لئے ثلث تك وصیت پھروارث کی میراث پھروارث منفردکے لئے وصیت اوراجنبی کے لئے ثلث سے زائدکی وصیت ہے یہ دونوں مرتبہ واحدہ میں ہیں ثلثہ پیشیں کی تقدیم اورباہم ترتیب معروف ومشہور ہے اورمیراث کاوصیۃ للوارث اورمافوق الثلث وصیۃ للاجنبی پرتقدم ہے اگروہ وارث کل مال بذریعہ ارث پاسکتاہے توثلث وصیت کے بعد کل میراث ہی ٹھہرے گا اس کی وصیت اپنے نفاذ کامحل ہی پائے گی یونہی اجنبی کی وصیت قدرزائد علی الثلث میں معطل رہ جائے گی یعنی جبکہ وارث اجازت نہ دے ورنہ وصیت ثلث کے مثل ارث مجیزپر تقدم پائے گی اوراگربذریعہ میراث صرف بعض کامستحق ہے اور وہ نہیں مگرزوجین کہ ربع یانصف سے زائدکے مستحق نہیں تو ثلث وصایاکے بعد
اقول:ولعل السرفی تقدیم ارث الوارث علی الوصیۃ لہ ان الارث جبری فبمجرد مامات المورث اوفی اخرجزء من اجزاء حیاتہ علی القولین فیہ لمشائخ بلخ والعراق انتقل الملك فی قدر المیراث الی الوارث غیرمتوقف علی شیئ بخلاف الوصیۃ فانھا تتوقف علی قبولہ فنفاذھایعقب القبول وقبولہ یعقب الموت والارث یقارن الموت اویتقدمہ فتاخرت ضرورۃ اما الوصیۃ للاجنبی فالمال باق فیھا الی الثلث علی ملك الموصی نظرالہ من الشارع کما نصوا میں کہتاہوں شایدوارث کی میراث کو اس کے حق میں وصیت سے مقدم کرنے میں رازیہ ہے کہ میراث جبری ہےمحض مورث کی موت یا اس کی زندگی کے آخری جزء میں جیساکہ مشائخ بلخ وعراق کے قول ہیں بقدرمیراث ملك وارث کی طرف منتقل ہوجاتی ہے بخلاف وصیت کے کہ وہ قبول پرموقوف رہتی ہے چنانچہ وصیت کا نفاذ قبول اورقبول موت کے بعد ہوتاہے جبکہ میراث موت کے ساتھ مقترن یا اس سے مقدم ہوتی ہے تووصیت میراث سے بداہۃ مؤخر ہوئیرہی اجنبی کے لئے وصیت تو اس میں مال ایك تہائی تك شارع کی طرف موصی کی ملك پرباقی رہتاہے جیساکہ اس پرمشائخ نے
درمختارکتاب الاقرارمیں ہے:
لولم یکن وارث اخر واوصی لزوجتہ اوھی لہ صحت الوصیۃ واما غیرھما فیرث الکل فرضا او ردافلایحتاج لوصیۃ شرنبلالیۃ۔ اگرکوئی اوروارث موجودنہ ہوخاوندبیوی کے لئے یابیوی خاوندکے لئے وصیت کرے تو یہ وصیت صحیح ہوگیلیکن جوان دونوں کاغیرہے وہ بطورفرض یابطور ردکل مال کاوارث ہو جائے گالہذا وہ وصیت کامحتاج نہیںشرنبلالیہ(ت)
اسی کے وصایا میں ہے:
وانما قیدوابالزوجین لان غیرھما لایحتاج الی الوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم۔ زوجین کی قیدمشائخ نے اس لئے لگائی کہ ان کاغیروصیت کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ وہ بطور ردیابطوررشتہ داری کل مال کا وارث بن جاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ترك امرأۃ واوصی لھابالنصف ولاجنبی بالنصف یعطی للاجنبی اولاالثلث وللمرأۃ ربع الباقی ارثا کسی شخص نے بیوی چھوڑدی اوراس کے لئے اپنے نصف مال کی وصیت کی جبکہ نصف مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کی توپہلے اجنبی کو
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹€
فتاوی خانیہ وفتاوی ہندیہ میں ہے:
اذامات الرجل وترك امرأۃ ولیس لہ وارث غیرھا و اوصی للاجنبی بجمیع مالہ ولامرأتہ بجمیع مالہ یاخذ الاجنبی ثلث المال بلامنازعۃ وللمرأۃ ربع ما بقی وھو السدس بحکم المیراث ویبقی نصف المال یکون بینھما وبین الاجنبی نصفین۔ اگرکوئی مردمرااور ایك بیوی چھوڑی جس کے علاوہ کوئی اور وارث موجودنہیںاور اس نے ایك اجنبی شخص کے لئے کل مال کی وصیت کی اوربیوی کے لئے بھی کل مال کی وصیت کی تواجنبی شخص تہائی مال بغیرکسی منازعت کے لے گا پھرباقی میں سے چوتھا حصہ بیوی کوبطورمیراث جوکل کاچھٹاحصہ بنتا ہےباقی کل نصف بچ گیا جوبیوی اوراجنبی پربرابر برابرتقسیم ہوگا۔(ت)
امام اجل نسفی کافی شرح وافی کتاب الوصایا باب المتفرقات میں زوجہ موصی لہا کی نسبت فرماتے ہیں:
ماکان مستحقالھا بحکم الارث لاتستحقہ بحکم الوصیۃ۔ جس حصہ کی مستحق وہ بطورمیراث ہے اس کی مستحق بطور وصیت نہیں ہوگی۔(ت)
اس کے ایك ورق بعد زوج موصی لہ کی نسبت فرمایا:
حق الزوج کان فی النصف ایضا بالوصیۃ ولکن بطل فی السدس لانہ اخذ الثلث بحکم الارث شائعا فخرج السدس عن محل خاوند کاحق نصف میں بھی بطوروصیت تھالیکن وہ چھٹے حصے میں باطل ہوگیاکیونکہ وہ ایك تہائی بطورمیراث مشترکہ مال میں سے لے چکاہے لہذا وہ چھٹاحصہ وصیت کے محل سے نکل گیاتو
الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۶/ ۱۱€۷
الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات
نیزاسی میں عبارت اولی کے بعد فرمایا:
ان اوصی لکل واحد من الزوجۃ ولاجنبی بکل مالہ لہ سبعۃ و لھا خمسۃ لان الوصیۃ للاجنبی یقدم علی الارث فیعطی لہ الثلث من ستۃ ولہا ربع مابقی بحکم الارث بقی ثلاثۃ بینھما نصفان عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فحق الاجنبی کان فی کل المال وقد استوفی سھمین فلایضرب بذلك ولایضرب ایضا بما اخذت بحکم الارث وذلك سھم فانما یضرب بثلاثۃ والمرأۃ لاتضرب بالثلث الذی اخذ الاجنبی اولالان الوصیۃ للاجنبی بقدر الثلث وصیۃ قویۃ فتبطل وصیتھا بذلك القدر فلاتضرب المرأۃ بذلك ولابالسھم الذی اخذت ارثا وانما یضرب بثلاثۃ فاستویا اگربیوی اوراجنبی میں سے ہرایك کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کی تواجنبی کے لئے سات اوربیوی کے لئے پانچ حصے ہوں گے کیونکہ اجنبی کے لئے وصیت میراث سے مقدم ہوتی ہےچنانچہ اس کوچھ میں سے ایك تہائی دیاجائے گا پھر بیوی کوباقی کاچوتھائی بطورمیراث ملے گا باقی تین بچے جوان دونوں کے درمیان امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیك نصف نصف ہوں گے کیونکہ اجنبی کاحق کل مال میں تھا جبکہ وہ دوحصے وصول کرچکاہے تواب ان کو وہ شامل نہیں کرے گا اور اس کوبھی شامل نہیں کیاجائے گاجوبیوی بطورمیراث لے چکی جوکہ ایك حصہ ہے چنانچہ وہ فقط تین حصوں میں شریك ہوگا اورعورت اس تہائی میں شریك نہ ہوگی جواجنبی پہلے لے چکا ہے کیونکہ وصیت تہائی مال تك اجنبی شخص کے لئے مضبوط وصیت ہے لہذا عورت کی وصیت اتنی مقدار میں باطل ہو جائے گی چنانچہ عورت نہ تو اس حصہ میں شراکت کرے گی اورنہ اس حصہ میں جس کوبطورمیراث حاصل کر چکی۔شراکت
فائدہ۲:جب ایك شخص کے لئے وصیت رقبہ اوراس کے بعد متصلا خواہ برسوں کے فصل سے وصیت منفعت کی جائے توموصی لہ اول صرف مالك رقبہ ہوتاہے اوراسی قدرمیں اس کے لئے وصیت مستفادہوتی ہے منفعت میں اس کاکوئی حق نہیں ہوتا مثلا مکان کی وصیت زیدکے لئے اور اس کے دس برس بعد سکونت مکان مذکورکی وصیت عمروکے لئے کردی توزیدصرف رقبہ مکان پائے گا سکونت تاحیات عمرویاجب تك کے لئے موصی نے کہاصرف حق عمرو رہے گی اوریہ ٹھہرے گا کہ زیدکے لئے خالی رقبہ مکان کی وصیت تھی۔ہدایہ میں فرمایا:
اسم الرقبۃ لایتناول الخدمۃ وانما یستخدمہ الموصی لہ بحکم ان المنفعۃ حصلت علی مبلکہ فاذا اوجب الخدمۃ لغیرہ لایبقی للموصی لہ فیہ حق۔ رقبہ کااسم خدمت کوشامل نہیں۔موصی لہ تو اس سے خدمت اس وجہ سے لیتاہے کہ منفعت اس کی ملکیت پر حاصل ہےپس جب خدمت اس نے کسی اور کے لئے ثابت کردی تو اب موصی لہ کے لئے اس میں کوئی حق نہ رہا۔(ت)
اسی طرح کافی میں فرمایا اوراتنااوربڑھایا:
وکذا اسم الدار لایتناول السکنی واسم النخیل الا یتناول الثمرۃ۔ اسی دارکااسم سکونت کواوردرختوں کااسم پھل کو شامل نہیں ہوتا۔(ت)
عنایہ میں فرمایا:
وصیۃ الرقیۃ والخدمۃ فان الموصول والمفصول فیھما فی الحکم سواء۔ خدمت ورقبہ کی وصیت چاہے اکٹھے ہویا الگ الگ ہووہ حکم میں برابرہے(ت)
الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ۴/ ۶۸€۳
الکافی شرح الوافی
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا باب السکنی الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۹/ ۴۱۳€
ان اوصی بھذہ الامۃ لفلان وبحملھا لاخراوبھذہ الدار لفلان وببنائھا لاخراوبھذا الخاتم لفلان و بفصہ لاخر فان وصل فلکل واحد مااوصی(الی قولہ) لان ذلك بمنزلۃ دلیل التخصیص والاستثناء فیتبین بہ انہ اوجب لصاحب الخاتم الحلقۃ خاصۃ دون الفص الاتری انہ لواوصی بالجاریۃ واستثنی حملا صح الاستثناء۔ اگریوں وصیت کی لونڈی فلاں کے لئے اوراس کاحمل فلان کے لئے یہ مکان فلاں کے لئے اور اس کی عمارت فلاں کے لئے یایہ انگوٹھی فلاں کے لئے اوراس کانگینہ فلاں کے لئے ہے اگریہ وصیتیں متصلا کیں توہرایك کووہی ملے گا جس کی وصیت اس کے لئے کی ہے(اپنے اس قول تک)اس لئے کہ تخصیص و استثناء کی دلیل ہے۔اس سے ظاہرہوگیاکہ موصی نے انگوٹھی والے کے لئے حلقہ خاص کیاہے بغیرنگینے کے۔کیاتم نہیں دیکھتے کہ اگرلونڈی کی وصیت کی اورحمل کومستثنی کردیاتو استثناء صحیح ہے۔(ت)
اوراگروصیت رقبہ وصیت منفعت کے بعدکلام مفصول میں کی اوراس میں منفعت کا نام نہ بھی لیاجب بھی مالك رقبہ زیدہوگا اورمنفعت عمروزیدمیں نصف نصف ہوجائے گی۔بدائع امام ملك العلماء مسعودپھرعالمگیریہ میں ہے:
لوابتدأبالتبع فی ھذہ المسائل ثم بالاصل بان اوصی بخدمۃ اگران مسائل میں ابتداء تابع سے کی پھراصل کی وصیت کی مثلاپہلے خدمت کی وصیت کسی
تواگروصیت رقبہ اصلا مفیدتملیك منفعت نہ ہوتی توبحال فصل تنصیف منفعت کی وجہ نہ تھی ہاں وصیت رقبہ کے بعد دوسرے کے لئے وصیت منفعتاول کے لئے استحقاق منفعت کے لئے مانع ہوکر اس کے لئے تملیك مجرد رقبہ رہ جاتی ہےاور جب مانع نہ ہوگا دونوں ثا بت ہوں گییہ وضعا اوروہ التزاماکافی میں عبارت مذکورہ آنفا کے بعد فرمایا:
وانما تستحق ھذہ الاشیاء بملك الاصل اذالم یوجد المانع وھنا وجود المانع وھو الوصیۃ للثانی۔ ان تمام اشیاء میں ملك اصل کا استحقاق تب ہوگا جب کوئی مانع نہ ہو اوریہاں مانع موجودہے اوروہ ہے دوسرے کے لئے وصیت۔(ت)
فائدہ۴:وصیت منفعت بمنزلہ وصیت رقبہ ہے جس شیئ کی منفعت کسی کے لئے وصیۃ قراردی گویا اسے خود وہ شیئ اس کی حیات یاایك زمانہ معین تك وصیۃ دی اوراگرایك شیئ کارقبہ زیداورمنفعت عمروکے لئے رکھی توگویا اس شیئ کی دونوں کے لئے وصیت کی زیدکے لئے مطلق اورعمرو کے لئے وقت محدود انتفاع تك ولہذا صاحب منفعت حساب ثلث وضرب حصص میں صاحب رقبہ کا ہمسرہوتاہے اورتنگی ثلث کے وقت اس کامزاحم ہوکراس کی وصیت کو
الکافی شرح الوافی
الوصیۃ بالخدمۃ مالم یستوف الموصی لہ کمال حقہ بمنزلۃ الوصیۃ بالرقبۃ۔ جب تك خدمت کاموصی لہ اپناحق پوراوصول نہیں کرلیتااس وقت تك وہ بمنزلہ رقبہ کی وصیت کی ہے۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لوکان لہ ثلثۃ اعبد فاوصی برقبۃ احدھم لرجل و قیمتہ ثلثمائۃ و بخدمۃ الثانی لاخر وقیمتہ خمسمائۃ و قیمۃ الثالث الف جازلکل واحد ثلثۃ ارباع وصیتہ یعطی لصاحب الرقبۃ ثلثۃ ارباعھا ویخدم لصاحب الخدمۃ ثلثۃ ایام وللورثۃ یوما لان الوصایا جاوزت الثلث لان ثلث المال ستمائۃ والوصایا کانت ثمانمائۃ وکان ثلث المال ثلثۃ ارباع الوصایا کذا فی محیط السرخسیواذا مات صاحب الخدمۃ استکمل صاحب الرقبۃ عبدہ کلہ اگرکسی شخص کے تین غلام ہیںاس نے ایك غلام کے رقبہ کی ایك شخص کے لئے وصیت کی جس کی قیمت تین سودرھم ہےاور دوسرے غلام کی خدمت کی وصیت کسی اورشخص کے لئے کی جس کی قیمت پانچ سودرہم ہے جبکہ تیسرے غلام کی قیمت ایك ہزاردرھم ہے تودونوں میں سے ہرایك کے لئے تین چوتھائی(۴/۳)وصیت جائزہوگی چنانچہ پہلے موصی لہ کو اس کی وصیت کے غلام کاتین چوتھائی ملے گا اورصاحب خدمت کی وصیت کاغلام تین روز اس کی اورایك روزوارثوں کی خدمت کرے گا کیونکہ وصیتیں تہائی مال سے بڑھ گئیںتہائی مال توفقط چھ سودرھم ہے جبکہ وصیتیں آٹھ سودرہم ہوچکی ہیں تو اس طرح کل مال کاتہائی حصہ وصیتوں کاتین چوتھائی (۴/۳)ہوگیا۔محیط میں یوں ہی ہے۔اگرصاحب خدمت مر گیاتو صاحب رقبہ اپناوصیت کاغلام پورالے لے گا۔اسی طرح اگر وہ غلام مرجائے جو
فائدہ ۵:یہیں سے ظاہرہواکہ جس کے لئے وصیت رقبہ ہواسے وصیت منفعت کی حاجت نہیں کہ وہ بحکم ملك مختارانتفاع ہوگا اس کے ساتھ مطلقا یاکسی وقت خاص میں اختیار انتفاع کا ذکراسی لازم کااظہار ہوگانہ کہ اس کے لئے وصیت بالمنفعۃ جوبوجہ عدم حاجت لغووبے اثرہے جس طرح تنہاوارث غیرزوجین کے لئے وصیت کما تقدم عند الدر المختار وعن غنیۃ ذوی الاحکام (جیساکہ درمختار اورغنیہ ذوی الاحکام کے حوالے سے گزرچکاہے۔ت)
فائدہ ۶:وصیت میں مقصد موصی پرنظرلازم ہے۔ہدایہ وکافی میں دربارہ موصی لہ بخدمۃ العبد ہے:
لیس للموصی لہ ان یخرج العبد من الکوفۃ الا ان یکون الموصی لہ واھلہ فی غیر الکوفۃ فیخرجہ الی اھلہ للخدمۃ ھنالك اذاکان یخرج من الثلث لان الوصیۃ انما تنفذ علی مایعرف من مقصود الموصی فاذا کانوا فی مصرہ فمقصودہ ان یمکنہ من خدمتہ فیہ بدون ان یلزمہ مشقۃ السفر واذا کانوا فی غیرہ فمقصودہ ان یحمل العبد الی اھلہ لیخدمھم۔ موصی لہ کویہ اختیارنہیں کہ وہ غلام کوکوفہ سے نکالے ہاں اگرموصی لہ اوراس کے اہل خانہ غیرکوفہ میں رہتے ہیں تو غلام کونکال کرلے جاسکتاہے کیونکہ وصیت اس مقصود پر نافذہوتی ہے جوموصی سے معلوم ہو۔اگرموصی لہ اور اس کے اہل خانہ موصی کے شہرمیں رہتے ہیں تواب موصی لہ کا مقصود یہ ہے کہ وہ سفر کی مشقت کے لزوم کے بغیر اس کی خدمت کرسکے اوراگر وہ اس شہر کے غیرمیں رہتے ہیں تواب مقصود یہ ہوگا کہ موصی لہ اس غلام کووہاں اپنے اہل خانہ کے پاس لے جائے تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکے۔(ت)
الھدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی والخدمۃ الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۸۲۔۶۸۱€
ان ادعت المرأۃ مقدار مھر مثلھا یدفع الیھا اذا کان النکاح ظاھرا معروفا ویکون النکاح شاھدالہا۔ اگرعورت نے مہرمثل کادعوی کیاتو اس کودیاجائے گا جبکہ نکاح ظاہرومعروف ہواورنکاح ہی اس کاشاہد ہوگا۔(ت)
اسی کے باب الوصی پھرہندیہ میں ہے:
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلھا یدفع ذلك الیھا۔ اگرنکاح معروف ہوتوعورت کاقول مہرمثل کی حدتك مقبول ہوگا اوروہ اس کو دیاجائے گا۔(ت)
فائدہ۸:مہربھی مثل سائردیون ہے اوردین کاتعلق مالیت سے ہے نہ عین سے ولہذا ورثہ کواختیار ہوتا ہے کہ دائن کادین اپنے پاس سے دے کرترکہ اپنے لئے بچالیں اگرچہ دین مستغرق ہوجس کے سبب ورثہ کے لئے ترکہ میں اصلا ملك ثابت نہیں ہوتی۔
جامع الفصولین واشباہ میں ہے:
واستغرقھا دین لایملکھا بالارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ الخ اگرقرض پورے ترکہ کومحیط ہو تومیراث کے طورپرکوئی اس کامالك نہیں بنے گا سوائے اس قرض خواہ میت کوبری کردے یاکوئی وارث اس کواداکردے الخ(ت)
اشباہ میں اس کے بعد فرمایا:
وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین لو مستغرقا۔ وارث کواختیارہے کہ قرض اداکرکے ترکہ کو واگزارکرالے جبکہ قرض پورے ترکہ پرحاوی ہو۔(ت)
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا باب الوصی فصل فی تصرفات الوصی الخ ∞۴/ ۸۵۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
لواوصی لرجل بسیف قیمتہ مثل سدس مالہ ولاخر بسدس مالہ ومالہ سوی السیف خمسمائۃ فللثانی سدسھا وللاول خمسہ اگرکوئی کسی کے لئے اپنی تلوارکی وصیت کرے جس کی قیمت اس کے کل مال کے چھٹے حصے کے برابرہے اوردوسرے شخص کے لئے اپنے کل مال کے چھٹے حصے کی وصیت کی جبکہ تلوار کے علاوہ موصی کامال پانچسودرہم ہے۔اس
فائدہ۱۰:وصیت اجنبی کہ ثلث تك نافذہے اس کے حساب ثلث کے لئے کل متروکہ بعدالدین ملحوظ ہوگا وہ چیزیں بھی جن کی اس کے لئے وصیت ہے اور وہ بھی جن کی اس کے لئے وصیت نہیں مگر اس کاحق ان اشیاء سے ہرگز متجاوزنہ ہوگا جن کی وصیت اس کے لئے ہے جیساابھی مسئلہ مذکورہ میں گزرا بالجملہ وصیت کاثلث تك نفاذوصیت معینہ کووصیت شائعہ نہ کردے گا اس کااثر صرف اس قدرہوگا کہ باقی بعددین جس قدرمال ہے جس کی وصیت کی ہے اور جس کی نہیں سب کاثلث لے کردیکھیں گے کہ جن اعیان مخصوصہ کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کی مالیت اس ثلث کی مقدار سے کم ہے یابرابریازائددوصورت اولی میں وہ تمام اعیان موصی لہ کودے دئیے جائیں گے اورصورت ثالثہ میں ان میں سے صرف اتنا حصہ پائے گا جوثلث کل باقی بعد اداء الدین کی مقدار تك ہے نہ یہ کہ جس چیز کی اس کے لئے وصیت نہ کی اس کابھی ثلث محض بلااستحقاق اس کو دے دیاجائے یہ سخت جہالت فاحشہ ہے کتب مذہب کے صدہانصوص اس کے اوپرناطقاور یہی مسئلہ کہ ابھی ردالمحتارسے گزرا کافی اورادنی خادم فقہ پر یہ امرخود بدیہیات واضحہ سے ہے کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
فائدہ۱۱:اقرارکے بعد کسی تفتیش کی حاجت نہیںنہ حقوق العبادمیں بلادعوی قاضی کواختیارحکمنہ اسے ایسی بات کی تکذیب پہنچتی ہے جس میں کوئی معارض ہوکہ وہ قطع خصومت کے لئے مقررہواہے نہ کہ انشاء خصومت کے واسطے۔ہدایہ میں فرمایا: الاقرار موجب بنفسہ (اقرار خودموجب ومثبت ہے۔ت)تنویرمیں ہے:
القضاء فصل الخصومات وقطع قضاء توجھگڑوں کافیصلہ کرنااورتنازعات کو
الہدایۃ کتاب الدعوی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۰۱€
درمختارمیں ہے:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضروالا کان افتاء۔ ایك خصم کے دوسرے حاضرخصم پرصحیح دعوی کے بعد ورنہ یہ افتاء ہوگا(ت)
ردالمحتارمیں فواکہ بدایہ سے ہے:
اتفق ائمۃ الحنفیۃ والشافعیۃ علی انہ تشترط لصحۃ الحکم واعتبارہ فی حقوق العباد الدعوی الصحیحۃ۔ اس پرائمہ حنفیہ شافعیہ کااتفاق ہے قضاء کے صحیح ہونے اور حقوق العباد میں اس کے معتبرہونے کے لئے صحیح دعوی ہونا شرط ہے(ت)
فائدہ۱۲:زوجہ کے لئے یہاں دووصیتیں ہیں۔
وصیت منفعت کہ مکانوں میں رہے ظروف استعمال کرے یہ وصیت انہیں اعیان میں ہے جن کی وصیت شاہ محمداجنبی کے لئے ہے توثلث کل مال بعداداء الدین کے جتنا حصہ مکانات واسباب کاآئے اس میں نافذنہ ہوگی کہ وصیت اجنبی وصیت وارث سے مقدم ہے کما فی الفائدۃ الاولی(جیساکہ پہلے فائدہ میں ہے۔ت)اوریہاں اگریہ وہم گزرتاکہ وصیت رقبہ کرکے اس کے لئے وصیت منفعت کردینے سے اول کے لئے صرف رقبہ کی وصیت رہ جاتی ہے منفعت میں اس کاکچھ حق نہیں رہتا کما فی الفائدۃ الثانیۃ(جیساکہ دوسرے فائدہ میں ہے۔ت)وصیت اجنبی کہ مقدم ہے اپنے محل نفاذ میں مقدم ہوگی نہ کہ اس شے میں جس کی اس کے لئے وصیت ہی نہیں یعنی منفعت کہ اس میں اجنبی کے لئے وصیت معدوم ہے معدوم کی تقدیم کیا معنیتو اس کاجواب ہماری تقریر سابق سے واضحوصیت منفعت بھی بمنزلہ وصیت رقبہ ہے ثابت ہوتو اس کی مزاحم ہوتی ہے کما فی الفائدۃ الرابعۃ(جیساکہ چوتھے فائدہ میں ہے۔ت)اورمنفعت میں اس کاحق نہ رہنا اسی بناپرہوتاہے کہ یہ مانع آتی ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ(جیساکہ تیسرے فائدہ میں ہے۔ت)اوروصیت وارث جب وصیت اجنبی سے مؤخرہے تواس کے مقابل مضمحل ہوگی اوراس کے رقبہ میں کالعدمنہ کہ اس کی مانع ومزاحمپھربقدرثلث نفاذوصیت اجنبی کے بعد مرتبہ ارث کا
الدرالمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۲۹۸€
لما تقدم عن الہدایۃ والکافی انہ انما لم یکن للموصی لہ بالعین حق فی المنفعۃ مع مبلکہ للرقبۃ للایصاء بہا لغیرہ وتجرید الرقبۃ فی الوصیۃ لہ فلم یثبت لہ فوق مااثبت الموصی اماھنا فقد اثبت لہ الانتفاع فی الوقت الخاص فکان معزولاعما اوصی بہ لغیرہ وکان کأن یقول اوصیت لھا بالمنفعۃ الاوقت کذا ولواقتصر علی ھذا لم یکن للزوجۃ الانتفاع فی الوقت المستثنی وکان ذلك للاجنبی الموصی لہ بحکم الملك فاذا صرح بکونہ لہ فیہ فبالاولی۔ اس دلیل کے ساتھ جو ہدایہ وکافی کے حوالہ سے گزرچکاکہ عین کے موصی لہ کے لئے رقبہ میں ملکیت کے باوجودمنفعت میں کوئی حق نہیںاس لئے وصیت میں اس کے لئے رقبہ کی تخصیص اورمنفعت کی وصیت کسی اورکے لئے کی گئی ہے لہذاموصی کے مقصود سے زائد اس کے لئے کچھ ثابت نہ ہوگا لیکن یہاں تو اس کے لئے خاص وقت میں انتفاع کااثبات ہے توجس چیزکی وصیت اس کے غیرکے لئے ہے اس میں وہ معزول ہوگا۔گویاموصی یوں کہے میں نے عورت کے لئے نفع اٹھانے کی جووصیت کی سوائے فلاں وقت کےاگراسی پر اقتصارکرتاتوبھی بیوی کومستثنی وقت میں انتفاع کاحق نہ ہوتا اوریہ اجنبی شخص کے لئے بطورملك ثابت ہوتا جب اس نے اس کی تصریح کردی توبدرجہ اولی یہ حکم ہوگا۔(ت)
اورپرظاہرکہ اس کے بعد زوجہ کے لئے وصیت استعمال سے یہ مقصود موصی نہیں کہ محفل امامین رضی اﷲ تعالی عنہما کے وقت استعمال شاہ محمد کومنع کردے یااس وقت کی ضروری اشیاء سے
وصیت زیورجس کی نسبت اگرچہ وصیت نامہ میں کوئی تصریح معاوضہ نہیں مگر زوجہ کہتی ہے کہ میرے مہر میں دئیے ہیں اوراس کایہ کہنادعوی نہیں بلکہ اقرارہے مہرمثل تك اس کاقول بلابینہ معتبرتھا کما فی الفائدۃ السابعۃ(جیساکہ ساتویں فائدہ میں ہے۔ت)اوروصیت نامہ میں زیورکی خالص وصیت اس کے نام لکھی ہے یہاں نہ کوئی دوسرا وارث ہے کہ زوجہ کامعارض ہو اس سے کہے کہ تیراحق دین میں ہے نہ عین میں کمافی الفائدۃ الثامنۃ(جیساکہ آٹھویں فائدہ میں ہے۔ت)یاکہے تیرے لئے وصیت بے میری اجازت کے باطل ہے۔نہ زیورکے کسی جز کو شاہ محمدکے لئے وصیت ہے نہ اس کی وصیت کہ ثلث کل مال کی مقدار تك حق تقدم رکھتی ہے اسے اس زیورکے کسی ذرہ کی مستحق بناسکتی ہے کما فی الفائدۃ التاسعۃ(جیساکہ نویں فائدہ میں ہے۔ ت)اگرچہ وصیت محضہ للزوجہ ہوجب بھی اجنبی کے لئے صرف حساب ثلث میں ملحوظ ہوگانہ کہ اس کاکوئی حبہ اسے ملے کما فی الفائدۃ العاشرۃ(جیساکہ دسویں فائدہ میں ہے۔ت)نہ کل زیور زوجہ کے لئے بعوض مہرماننا شاہ محمد کے حساب ثلث پرکوئی اثر ڈال سکتاہے۔اگرزیور مہرمثل سے کم یابرابر ہے جب تو ظاہر کہ مہرمثل کی مقدار تك زوجہ کا قول مسلم اور وہ شاہ محمد کی وصیت پر مقدم اور اگر بالفرض مہر مثل سے زائد ہو جب بھی یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ سب زیور بعوض مہرحق زوجہ ماننے میں شاہ محمد کا حصہ ثلث مکانات واسباب میں کم ہوجائے گا فرض کیجئے کہ زیور ۳۲۲ روپے کا ہے اورمہرمثل ۲۰۲ کااورمکانات واسباب جن کی وصیت شاہ محمدکے لئے ہے ۱۲۰۰ کے تواگرکل زیوربحق مہرزوجہ کے لئے ماناجائے تووہ ثلث جس میں وصیت اجنبی ہوگی صرف مکانات واسباب کاثلث رہاجبکہ اس کے سوا اورکوئی متروکہ نہ ہو شاہ محمد ان میں سے صرف ۴۰۰کے قدربحکم وصیت مقدمہ پائے گا اوراگرفقط مہرمثل تك زوجہ کومہرمیں دیں توبعدادائے مہرمتروکہ ۱۳۲۰ بچے گا ۱۲۰۰ کے مکانات اسباب اور۱۲۰ کاباقی زیور جس کاثلث ۴۴۰ تومکانات واسباب سے ۴۰ روپے کے قدرشاہ محمدکے حق مقدم میں بڑھ جائیں گے یہ وہم اس وقت ہوسکتاہے کہ بحال کمی مہرمثل کل زیور زوجہ کومرتبہ مہرمثل تك تقدم ہے اورزیادہ ان مہرمثل بعوض مہرمثل ہونا محاباۃ ہے اور وہ زوجہ کے لئے وصیت ہے اورزوجہ کے لئے وصیت خود اس کی میراث سے بھی مؤخرہے
(۱۹)فتوی ۱ کاقول بعد اس کے عالم خاتون کامہرجس قدر عدالت کی رائے میں ثابت ہواداکریں گے نافہمی ہے۔
(۲۰)فتوی۱ کاکہناہے اگرثابت ہوجائے کہ یہ زیورمہر کے عوض دئیے گئے اقرارمیں تفتیش ہے۔
(۲۱)فتوی۱ کی اس پرتفریع کہ توان میں شاہ محمد خاں کاکچھ حق نہیں مفہوم غلط ہے شاہ محمد خاں کازیورمیں کسی طرح کچھ حق نہیں اگرچہ مہرکے عوض دیاجاناثابت نہ بھی ہو۔
(۲۲)فتوی۱ نے اس مفہوم باطل ہی پرقناعت نہ کی بلکہ آگے اس ظلم صریح کی تصریح کردی کہ لیکن اگران زیورات کامہرمیں دیاجانا ثابت نہ ہو توزیورات کے تیسرے حصہ میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردوحصے عالم خاتون کےانا ﷲ وانا الیہ راجعون (بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)شاہ محمدخاں وارث نہیں زیورکی اس کے لئے وصیت نہیںوصیت نہ ہونا درکنارموصی نے صراحۃ زیورکو اس کی وصیت سے جداکردیاکہ بعد ذکرزیور کہا ماسوااس کے میری جائداد الخ مگریہ فتوی کہتاہے کہ موصی کودینے نہ دینے سے کیاہوتاہے ہم جودیتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (بلندی وعظمت والے اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ لڑائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
(۲۳)فتوی۷ نے اورکمال کیازوجہ کاوہ قول اقرار مان کرپھراگرمگرکودخل دیاکہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہوا ہے توزیورچھوڑ کرایك ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا۔
(۲۴)فتوی۷ نے اوربھی قدم عشق پیشتربہترکی ٹھہرائی یعنی زوجہ کاقول اقراربھی ٹھہرایا اور شاہ محمد کی تسلیم بھی مانی پھربھی فریقین کی متفق علیہ بات بات طے شدہ نہ جانی کہ سب سے اول تجہیزوتکفین کاخرچ اداکیاجائے بعدازاں اگرمتوفی نے مدعیہ کو دین مہر میں زیورات کی وصیت کی ہے(چنانچہ اس کااعتراف ہے اورمدعاعلیہ نے بھی زیورات اس کوتسلیم کرکے قبول کر لیا ہے)توزیورات اس کودین مہرمیں دئیے جائیں گے۔
(۲۵)فتوی۷ ان دونوں کی تصریحوں خوداپنے اقراروں اعترافوں کے ساتھ ایك فرض غلط کی راہ نکالی ہے اگربالفرض دین مہر میں نہیں دئیے بلکہ محض وصیت کی توباقی تمام مال میں سے مہرزوجہ
(۲۶)فتوی۷ نے اس تفریع میں ڈگری بلادعوی بھی فتوی اول کی طرح دی اورآگے چل کرکہا مدعیہ کا مہر کل مال سے ادا کیا جائے گا زوجہ تو کہہ رہی ہے کہ مجھے یہ زیو ر مہر میں دیا فتوی کہتا ہے نہیں نہیں تمام مال میں سے تجھے مہرملے گا اگرچہ کل مال کو مستغرق ہو اور موصی لہ کے لئے کچھ نہ بچے۔
(۲۷)فتوی۷ کومنظورنہیں کہ یہاں کسی غلطی میں فتول اول سے پیچھے رہے بلاوصیت استحقاق اجنبی میں بھی اس کاساتھ دیاکہ زیورات اگرمہرمیں دئیے تو زیورات پروصیت کابارنہ ہوگا ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳/ ۲ مدعاعلیہ کو۳/ ۱۔
(۲۸)بلکہ فتوی۷ کایہاں بھی قدم پیشترہے اس نے صاف ماناکہ زیوروں کی وصیت شاہ محمدخاں کے لئے نہیں پھربھی اسے تہائی کاحصہ دار کردیا۔زیورکایہ حکم لکھ کرآگے کہااوردیگرجائدادمکانات ظروف وغیرہ سے مدعیہ ۱۲/ ۲ مدعاعلیہ ۱۲/ ۱۰ کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھر ربع باقیماندہ یعنی سدس کلمدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ مدعاعلیہ کو اگریہ فتوی زیورکی بھی اس کے لئے وصیت مانتا تویہی حکم اس پربھی کرتاکہ نہ کہ شاہ محمد کوزیورکا۳/ ۱ اورباقی اموال کے۶/ ۵۔
(۲۹)فتوی۷ نے اس باطل صریح پراستدلال کی بھی جرأت کی یوں بھی اسے فتوی ۱ پرفوقیت رہی کہ اس کے آگے زیوروں کوکہا اگرمحض بطور وصیت دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت بالثلث حق ثلث ہوگاپھرکہا اگربعوض دین مہرنہ ہو تو بحکم وصیت بالثلث زیورات میں بھی ۳/ ۱مدعاعلیہ کو ملے گا۳/ ۲زیورات مدعیہ کو۔اس کامنشاوہی غلط شدیدوبعیدہے کہ ثلث کل مال کے لحاظ سے وصیت کی تنفیذوصیت معینہ کووصیت شائعہ کردی ہے جس کاردبلیغ فائدہ نہم ودہم میں گزرا۔سبحن اﷲ۔
حساب کے لئے ثلث ہرشیئ کالحاظ کیا ہواکہ ثلث ہرشیئ میں اس کی ملك ہی پیداہوگئی اگرچہ اس شیئ کااسے اصلا استحقاق نہیں نہ اس کے لئے وصیتبلکہ اس کی وصیت سے جداہونے کی صاف تصریحولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(بلندی و عظمت والے اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیرنہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
(۳۰)فتوی۱ نے یہاں ایك اورغلطی کی اگرزیور بعوض مہر دیاجانا ثابت نہ ہونے کی حالت میں اس کے نزدیك ان کاثلث شاہ محمد کوملناتھا تومطلقا یہ کہتاکہ اگرزیور مہرکے عوض دئیے گئے توا ن میں شاہ محمدخاں کاکچھ حق نہیں غلط برغلط ہے اگرزیور مقدارمہر سے زائدہوئے توقدرزیادت میں زوجہ کے لئے وصیت بالمحاباۃ ہوئی اور وہ اجنبی کے حق ثلث کو باطل نہیں کرتی بلکہ خود اس کے حضور مضمحل ہوجاتی ہے۔
(۳۲)فتوی۷ نے یہاں بھی قدم پیشترکی آن نہ چھوڑی یہ ٹھہری کہ بعوض مہرکے وصیت ہونا تمام وکمال زیوروں کودین کے مرتبہ میں کردے گا کہ ان کااداکرنا وصیت للاجنبی سے مقدم ہوگا اوربعوض مہر دئیے جانے کاثبوت نہیں مگربیان زوجہ تواب اس ادعا سے اپنانفع اورموصی لہ کاضررچاہتی ہے کہ وہ وصیت جووصیت نامہ میں بلامعاوضہ لکھی ہے جووصیت اجنبی سے مؤخر رہتی بمعاوضہ بتاکر وصیت اجنبی سے مقدم کئے لیتی ہے تو اب اس کاقول توصرف اقراربلکہ صاف دعوی ہوااوراگرمدعی محض اپنے زبانی دعوی پرڈگری نہیں پاسکتا تویہ کہناکہ اگردین مہرتمام زیورسے حسب اقرارزوجہ اداہواہے تو زیور چھوڑ کر باقیماندہ ایك ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا عجب درعجیب ہے۔
(۳۳)اگرفتوی۷ وہ بھاری غلطی کہ ایك صورت میں کہ بلاوصیت وبلااستحقاق شاہ محمد کوزیوروں میں تہائی کاحصہ دار کردیانہ بھی کرتا جب بھی اس کامطلقا یہ کہناکہ اگروصیت بعوض مہر ہوتوزیورات وصیت بالثلث کے بار سے مستثنی ہوں گے یعنی بعد خرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گے صحیح نہ تھا کہ اگرزیور مہرسے زائد ہیں توقدرزیادت میں وصیت بالثلث کے بارسے مستثنی نہیں ہوسکتے ثلث میں وہ بھی محسوب ہوتے اگرچہ ان میں سے شاہ محمدخاں کو کچھ نہ دیاجاتا انہیں مطلق مستثنی شاہ محمد کی تسلیم نے کردیانہ کہ وصیت بعوض مہرہونے نے۔
(۳۴)یونہی فتوی۵کاقول کہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اورخودعبارت وصیت نامہ کی محمل قوی ہے اورمہردین ہے اس لئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے وہی طرفہ منطق ہے محمل وصیت نامہ کاحال تو اوپرگزرا اوربالفرض اس کی عبارت محتمل ہو تومحض قوت احتمال غایت درجہ ظاہرہے اورظاہر حجت استحقاق نہیں ہوسکتاہدایہ وغیرہ تمام کتب معﷲ میں تصریح ہے کہ:
اب نہ رہا مگرخود مدعیہ کاقول اسے اپنے حق میں حجت مان لینا نرالا قانون ہے زیور اگرمہرسے زائدہیں تو وہ سب کیونکر دین سمجھ کر وصیت وارث دونوں سے مقدم کردئیے جائیں۔
(۳۵)فتوی۳ نے اوربھی دون کی لی کہ جن زیورات کے بارے میں متوفی بعوض مہرزوجہ کے دینے کی وصیت کرگیاہے وہ اس کاقرض تھا اس کااداکرنا اس کوفرض تھاقرض وفرض کاقافیہ ملالیا اگرچہ مہرشرعا قرض نہیں ہوتاقرض ودین میں عموم وخصوص ہےخیریہ بات کہ بعوض مہردینے کی وصیت کرگیاہے وصیت نامہ میں توکہیں نہیںعورت کابیان ہے اورہوبھی توبحال کمی مہرمحاباۃ ہے نہ قرض ہے نہ فرض۔
(۳۶)فتوی۷ نے یہاں ایك اورغلطی کی کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہو توپھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویابالمنفعۃوہ حصہ اوریہ سب کلی دونوں غلط ہیں اجنبی کی وصیت بالثلث بھی اس کی مانع اوراس سے مقدم ہے۔
(۳۷)فتوی۷ کوخود اپناکہا یادنہ رہاآگے چل کرکہاحق سکنی مکانات وحق استعمال ظروف وغیرہ کی جوزوجہ کووصیت کی ہے اس کے بار سے ثلث مال جو شاہ محمد کواول ملے گا بری رہے گاکیونکہ زوجہ کے لئے وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی۔اب یہ وصیت للزوجہ کابے مزاحمت حق ورثہ اورمزاحم قوی ومرجح کدھر سے نکل آیایہ صاف تناقض ہے۔
(۳۸)یونہی فتوی۲ کاقول کہ جس چیزکی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ سالم زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت لے سکتی ہے اس سے ذہول ہے کہ وارث کے لئے وصیت میراث سے مؤخرہے توبعد اجرائے میراث جوباقی بچے اتنی چیزبذریعہ وصیت لے سکے گی نہ کہ سالم۔نسأل اﷲ السلامۃ۔
افادہ سادسہ
وصیت ضرورمقیدبشرط ہوسکتی ہے اوروہ زبان موصی پرہے ایك شخص کے لئے متعدد وصایا میں اگر ایك وصیت کوکسی شرط سے مقیدکردے دوسری کونہ کرے یاایك کو ایك شرط سے مقیدکرے
وھھنا فی تقیید الوصیۃ بعدم التزوج دقیقۃ انیقۃ نبھنا علیھا فیما علقنا ردالمحتار من متفرقات البیوع۔ اوریہاں وصیت کوشادی نہ کرنے کی قید سے مقیدکرنے میں انتہائی نفیس باریك نکتہ ہے جس پرہم نے ردالمحتار باب متفرقات البیوع پراپنی تعلیق میں خبردارکیاہے۔(ت)
رہاشاہ محمدخاں کاادعاکہ مدعیہ(معاذاﷲ)حرام کاری کرتی ہے اس لئے بروئے وصیت مکانات میں نشست کی بھی حقدار نہ رہی اول تو ایسی ناپاك بات ہے جس کی نسبت رب عزوجل کا ارشاد ہے:
" یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷﴾ اﷲ تمہیں نصیحت فرماتاہے کہ پھر ایسانہ کہنااگر ایمان رکھتے ہو۔
اور جس کی نسبت ہم کو ہدایت فرماتا ہے کہ اسے سنتے ہی فورا کہیں: " سبحنک ہذا بہتن عظیم ﴿۱۶﴾" پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔اور جس کی نسبت حکم فرماتاہے کہ اگر وہ چارگواہ نہ لائیں
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۶€
" فاجلدوہم ثمنین جلدۃ و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا " ان کو اسی کوڑے مارو اورکبھی ان کی گواہی نہ مانو۔
کیاشاہ محمدخاں اپنے اس اتہام پرایسے چارگواہ پیش کرسکتاہے اورجب نہیں لاسکتا تووہی عنداﷲ جھوٹاہے اوراسی کوڑوں کامستحق ہےاوراگربفرض باطل وہ سچابھی ہوتاجب بھی اس کاکہناکہ اب وہ نشست کی بھی حقدارنہ رہی غلط تھا موصی نے حق سکونت کوعورت کی پارسائی سے مشروط نہ کیا بلکہ اس شرط سے کہ وہ نکاح ثانی نہ خود کرے نہ دوسرے کی وکالت ووساطت سےوہ خود اپنی شرط کامفہوم بتاتاہے کہ اگر وہ کسی دوسری جگہ اپنا عقدنکاح کرائے یاجدید خاوندکرے تو اس کے ساتھ اس کاکوئی تعلق اور واسطہ نہ ہوگا عورت کہ نکاح ثانی نہ کرے روزقیامت اپنے شوہرکوملے گی جبکہ دونوں نے ایمان پروفات پائی ہو۔
اللھم ارزقنا الوفاۃ علی الایمان بجاہ حبیبك الکریم یارحمن علیہ وعلی الہ افضل واکمل التسلیمات ما بقیت الجنان۔ اے اﷲ اے مہربان! ہمیں اپنے حبیب کریم کے صدقے ایمان پروفات نصیب فرمااپنے حبیب کریم اور ان کی آل پر افضل واکمل درود سلام نازل فرماتارہ جب تك جنتیں باقی ہیں۔(ت)
اوراگر دوسرا شوہر کرے تو اس کے نکاح میں مرجائے اس دوسرے کوبشرط ایمان ملے گاکما فی حدیث۔اوراگر اس سے بھی بیوہ ہوگئی غرض کسی شوہرکے نکاح میں نہ مری تو اسے روزقیامت اختیاردیاجائے گا کہ ان شوہروں میں جسے چاہے پسندکرلے وہ اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ زیادہ نیك سلوك سے معاشرت کرتاتھا
کما فی حدیث اخروالتطبیق بینھما جیساکہ دوسری حدیث میں ہے ان دونوں حدیثوں
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
بہرحال نکاح ثانی سے عورت یاتوشوہر اول کے لئے رہتی ہی نہیں یا اس کے لئے اس کارہنا مشکوك ہوجاتاہے بخلاف بدکاری کہ وہ اسے حق شوہر سے باہرنہیں کرتی حق کاابطال حق اقوی سے ہوتاہے نہ کہ ناحق وباطل طغوی سے جیسے بحال حیات اس کے باعث نہ نکاح میں فرق آئے نہ شوہرکو اس سے جدائی لازم ہو۔درمختارمیں ہے:
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۔ بدکار عورت کوطلاق دیناخاوند پرواجب نہیں۔(ت)
(۳۹)فتوی۷ کاوصیت سکنی ووصیت ظروف وغیرہا دونوں کوقیدعدم نکاح ثانی سے مقیدکرنا کہ حق سکنی وحق استعمال ظروف وغیرہ مدعیہ کو تانکاح ثانی حاصل رہے گاصحیح نہیں۔
افادہ سابعہ
وصیت نامہ کے کسی لفظ کامفادنہیں کہ شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال ہوزیوروں کوجدا کرکے بھیاس کے لفظ یہ ہیں ماسوا اس کے میری جائدادغیرمنقولہ ازقسم مکانات ہیں وہ پیداکردہ مظہرکے ہیں وہ زیرحفاظت شاہ محمدخاں رہیں گے اورمالك بھی یہی رہے گا۔یہاں سے صرف مکانات کی وصیت ہوئی آگے کہاعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وچارپائی وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔اس سے اثاث البیت کی وصیت ہوئی خاتمہ پر اس نے انہیں اشیائے معینہ میں وصیت کاانحصار کردیاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کامالك شاہ محمدخاں ہے تومندرجہ بالا مکانات واثاث البیت کے سوااگرکچھ ترکہ ہو وہ زیروصیت نہ آیا اوراستفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ زوجہ دعوی کرتی ہے کہ مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات ازترکہ شوہرش موجودہیں توجب تك اس دعوی کابطلان ثابت نہ ہو شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال کیونکر ٹھہرسکتاہے۔ہاں موصی نے ذکرمکانات واختیارفروخت ورہن مکانات کے بعد یہ لفظ بھی لکھاکہ غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے۔یہ وغیرہ اسی اختیار بیع ورہن پرمحمول ہے کہ اس نے اس کے متصل ہی بلافصل یہ لفظ لکھے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری الخ
اذ الوصیۃ ایجاب یحدثہ الموصی فلاوجوب بلا ایجاب فلاثبوت لوجوب بلاثبوت ایجاب و الوجوب فی القضاء مرھون بالثبوت فاذلاثبوت لاوجوب وھو المطلوب۔ کیونکہ وصیت ایك ایساایجاب ہے جس کو موصی صادر کرتاہےتوایجاب کے بغیر وجوب نہیں ہوتاچانچہ ایجاب کے ثبوت کے بغیر وجوب کاثبوت نہیں ہوتا اورقضاء میں وجوب محتاج ہے ثبوت کا۔جب ثبوت نہیں تووجوب نہیںوہی مطلوب ہے۔(ت)
تفریعات
(۴۰)فتوی۱ کاقولمہرکے بعد جس قدرجائداد بچے تین حصے کرکے ایك حصہ شاہ محمد خاں کودیں۔
(۴۱)فتوی۵ کاقو ل شرعا جائدادمتوفی میں سے مدعیہ کو ۶/۱ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو ۶/۵ پھر اس کاقول ماسوی زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے پھر اس کی تصریح کہ صورت متنازعہ میں زوجہ کے ساتھ دوسراحقدار بھی موجودہے جوموصی لہ بجمیع المال ہے۔
(۴۲)فتوی۶ کاقولجب ترکہ میں سے ۶/۱ من حیث الوصیۃ اور۶/۱ عالم خاتون کومن حیث الارث دے دیاگیاتوآدھا ترکہ باقی رہتاہے۔
(۴۳)یونہی فتوی۷ کاقول کہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہواہے توزیور چھوڑکر باقیماندہ خواہ مکانات ہیں یا ظروف وغیرہ ۱۲/۲ اس کودیاجائے گا۱۲/۶ شاہ محمد کونیز اس کی تصریح کہ تین وصیتیں کی ہیں جو اس کے تمام مال کو مستغرق ہیں نیز اس کی صاف ترتصریح کہ تیسری وصیت باقیماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کوکی ہےیہ سب بے ثبوت محض وبلاافادہ وصیت نامہ صرف اپنی طرف سے شاہ محمد کوموصی لہ بجمیع المال یابجمیع ماسوی علی المہرٹھہرالیناہے اوراگردعوی زوجہ ثابت ہوجائے کہ ان کے سوا اورزیور بھی متروکہ موصی شاہ محمدکے پاس موجود ہیں توصریح حق تلفی
(۴۴)فتوی ۵نے اس طلب پرعبارت درمختاروجوہرہ پیش کیں اول میں صراحۃ تھا۔
اوصی لرجل بکل مالہ فلھا السدس والباقی للموصی لہ ۔ خاوند نے کسی مرد کے لئے پورے مال کی وصیت کی توبیوی کو کل مال چھٹا حصہ(۶/۱)اورباقی موصی لہ کو ملے گا۔(ت)
دوم(جوہرہ)میں تھا:
اوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا السدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس۔ اگرخاوند نے اجنبی مرد کے لئے اپنے تمام مال کی وصیت کی تو اس کی بیوی کو کل مال کاچھٹا حصہ(۶/۱)ملے گا اورموصی لہ کوچھ میں سے پانچ(۶/۵)حصے ملیں گے۔(ت)
حکم وہ نقل کرناجواجنبی کے لئے وصیت بجمیع المال کی حالت میں ہو اوراسے وہاں منطبق کردینا جہاں اس کاہرگزثبوت نہیں۔
(۴۵)یونہی فتوی۷ نے بھی اس پریہی عبارت جوہرہ نقل کی یعنی حداوسط کااشتراك ثابت نہیں اور تعدیہ ہوگیا۔
(۴۶)فتوی۲ نے بھی یہی حکم لکھاکہ زوجہ کاحق سدس ہے باقی موصی لہ کامگر اس پراس حکم میں اعتراض نہیں کہ سوال جواس کے یہاں پیش ہوااس میں سائل ہی نے ایك غلط عبارت موصی کی طرف سے لکھ دی تھی کہ بعد میرے میری جائداد منقولہ غیرمنقولہ کامالك عمرو ہے اس کامفاد ضرور وصیت بجمیع المال ہے اگرچہ وصیت نامہ میں اس کاکہیں نشان نہیں تو مجیب سے جیساسوال ہواویساجواب دیا مگراب فتوی ۲ کایہ اطلاقی حکم کہ جس چیز کی زوجہ کے واسطے وصیت کی وہ سالم زوجہ کی ہے بذریعہ وصیت لے سکتی ہے صریح غلط ہے اس کے سامنے سائل کایہ بیان ہواہے کہ چندزیورات کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیا یعنی کہہ گیاکہ بعد میرے ان زیورات کی مالك میری زوجہ ہے اس بیان پروہ جواب باطل ہے زوجہ کے لئے وصیت وارث کے لئے ہے
الجوہرۃ النیرہ کتاب الوصایا ∞مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۰€
افادہ ثامنہ
یونہی استفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ شاہ محمدخاں دعوی کرتاہے کہ وصیت کومدعیہ نے بوقت وصیت اورنیزبعدوفات شوہر خودقبول کیاتھایہ دعوی بہت واجب اللحاظ ہے اگر اس کاثبوت ہوجائے توپھرزوجہ مکانات واثاث البیت سے بحق میراث کچھ نہ پائے گی اوربعد قبول اس کا اعتراض ہرگزنہ مسموع ہوگا اوراس کادعوی بوجہ تناقض مدفوع ہوگا ہدایہ میں فرمایا:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ ولامعتبر باجازتھم حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عند الموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف مابعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق فلیس لھم ان یرجعوا عنہ لان الساقط متلاش۔ تہائی سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیںاسکی زندگی میں اجازت معتبرنہیں کہ وہ ثبوت حق سے قبول ہوئی کیونکہ حق توموصی کی موت کے وقت ثابت ہوگا لہذا انہیں موصی کی موت کے بعد ردکرنے کا اختیارہے بخلاف موت کے بعد کی اجازت کیونکہ وہ ثبوت حق کے بعدہوئی لہذا اس سے رجوع نہیں کرسکتے اس لئے کہ جوساقط ہوجائے وہ لاشیئ ہوجاتاہے۔ (ت)
البتہ منفعت کی وصیت کہ ثلث کے بعد میں نافذہوگی نافذرہے گی اوریہ خود اسی دعوی موصی لہ سے ظاہرکہ وصیت کومدعیہ نے بعد وفات شوہرقبول کیاوصیت میں وصیت منفعت کی تصریح ہے تو اس کاقبول اس کاقبول ہے نہ کہ اس سے عدولقبول کا حاصل یہ کہ موصی جوکرگیامنظورہے اوروہ یہ کرگیا کہ مکانات واثاث البیت کامالك شاہ محمدکواورمنفعت کااختیار زوجہ کو۔
وھذا ظاھر جدانعم ماابطلہ الشرع وھو وصیتھا الی حق الثلث اوریہ خوب ظاہرہےہاں جس کو شرع نے باطل کیاہے تو تہائی کے حق تك اس کی وصیت
تفریعات
اس امرمہم کے لحاظ سے سب فتووں نے ذہول کیاجن جن کے سامنے استفتائے ججی خانپور پیش ہوا۔
(۴۷)فتوی ۱کاقول مہرکے بعد جس قدر بچے دوحصے عالم خاتون کودیں۔
(۴۸)فتوی۵ کاقول مدعیہ نے وصیت پراعتراض کیااس پرمدعیہ کو۶/۱ملناچاہئے۔
(۴۹)فتوی۶ باقی سے ۴/۱ عالم خاتون کاحق ہے سب محل تفصیل میں یکطرفی حکم ہے۔
(۵۰)فتوی۵ نے اعتراض مدعیہ کے ساتھ استناد کیااورلحاظ نہ کیاکہ اگربعد موت شوہر قبول کرچکی تو اب اعتراض کااسے کیاحق رہا۔
(۵۱)یونہی فتوی ۱ نے کہاکہ مدعیہ کے اعتراض پرتیسرے حصہ کے زائد میں جائزنہ ہوگیکیا اگر اعتراض بعدالقبول ہویہ دونوں فتوے تووصیت بالمنفعت کے بھی قائل نہیں انہیں تویہ کہنالازم تھاکہ اگرزوجہ قبول کرچکی تودامن جھاڑکراٹھ کھڑی ہو اس کے لئے میراث ووصیت کچھ نہیں کہ مطلقا اسے پورے دوثلث دے دیں۔
(۵۲)فتوی۵ نے خودہی درمختار سے عبارت نقل کی:
ان لم تجز فلہا السدس۔ اگربیوی نے اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔(ت)
اورحکم میں یہ قید بھلادی۔
(۵۳)فتوی۶ نے آپ ہی کہاتھا کہ اگروہ اجازت دے دیں نافذہوگیپھرکس طرح مطلقا حکم مذکورلگادیا۔
(۵۴)فتوی۷ نے خودہی کہاکہ اگرورثہ اپنے اضرار کوقبول کرلیں تووہ وصیت زائدعلی الثلث جائزونافذہوگی پھرمطلقا یہ حکم کس لئے کہ دوسہام جوربع مابقی ہے عالم خاتون کو۔
(۵۵)ہاں فتوی۷ نے یہ علاج کیاکہ وصیت باقی تمام مال کی شاہ محمدکوکی ہے جس کومدعیہ نے
افادہ تاسعہ
اگرزوجہ کاقبول ثابت نہ ہو تووصیت کابے اجازت وارث ثلث سے زائد میں نافذنہ ہونا ان ورثہ کے ساتھ ہے جن کے حقوق میراث کے بعد کچھ نہ بچے زوجین کہ کسی حال میں ان کاحق ارث ربع یا نصف سے زائد نہیںوصیت میں ثلث پرزیادت جہاں تك ان کے حق کے معارض نہیں یعنی زوجہ کے ساتھ ثلث کے علاوہ نصف مال اورزوج کے ساتھ ثلث کے علاوہ دوسرے ثلث میں اس کانفاذ ان کی اجازت ورضاپر موقوف نہیںہاں ارث پرحق تقدم صرف ثلث تك ہے جس کابیان اوپرگزرا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ ثلث سے زیادہ موصی لہ بالزائد کوبے ان کی اجازت کے ملتے ہی نہیں یہ محض باطل ہےنوازل امام فقیہ ابواللیث پھرفتاوی حامدیہجوہرہ نیرہ پھرعقودالدریہ وغیرہا میں ہے:
الوصیۃ بمازاد علی الثلث غیرجائزۃ اذاکان ھناك وارث یجوز ان یستحق جمیع المال اما اذاکان لا یستحق جمیع المیراث کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی الثلث ۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت ناجائزہے جبکہ کوئی ایساوارث موجودہو جوتمام مال کامستحق بن سکتاہے لیکن اگر وہ وارث تمام مال کامستحق نہ بن سکتاہو جیسے خاوند اوربیویدوتہائی سے زائد کی وصیت کرناجائزہوگا۔(ت)
تفریعات
(۵۶)فتوی ۱ کاوصیت شاہ محمد کے لئے کہناکہ مدعیہ کے اعتراض کرنے پرتیسرے حصہ میں جائزہوگی زائدمیں جائزنہ ہوگی اس لئے دوحصے عالم خاتون کودیں گے۔
(۵۷)یونہی فتوی ۳ کاقول کہ بوقت موجودگی ورثہ وصیت ثلث سے جاری ہوگی ثلث سے زیادہ ناجائزہے۔
(۵۸)اسی طرح فتوی۶ کاادعاہے کہ مسئلہ زیربحث میں متوفی کی بیوہ موجودہے جواس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳/۱ سے زیادہ ہے بدون اجازت عالم خاتون کے نافذنہیں
(۵۹)فتوی۳ نے اورترقی کی کہ صریح مخالفت عبارت اپنی سندٹھہرائی عبارت ہدایہ:
لاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت اس لئے جائزنہیں کہ وہ وارثوں کاحق ہے۔(ت)
صاف ارشاد فرمارہی تھی کہ یہ عدم جواز معارضہ حق وراثت کے سبب ہے زوجہ کاحق وراثت ربع سے زیادہ کہاں ہے کہ باقی نصف مال میں معاوضہ کرے۔
(۶۰)یہی خوش فہمی فتوی۶ نے دکھائی عبارت ہدایہ یہ سنائی:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ لان الامتناع لحقھم۔ تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے ورثاء اجازت دے دیں کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے۔(ت)
اورجملہ تعلیل کونہ دیکھاکہ صراحۃ اس کے خلاف ہےمگریہ اخلاط ان فتاوائے سہ گانہ کی اس شدید غلط فہمی پرمبنی ہیں جس کا کشف افادہ آخرمیں آتاہے ان شاء اﷲ تعالی۔
افادہ عاشرہ
کسی تقسیم میں نہ حاکم کو یہ جبرپہنچتاہے نہ ایك حصہ دار کو رواہے کہ بے رضائے دیگربجائے عینقیمت لے مگربمجبوری محض جہاں بے اس کے مساوات ناممکن ہونہ زنہار حاکم کویہ اختیارکہ بے رضائے فریقین مختلف الجنس اشیاء میں ایك کاحصہ کہ اس جنس میں ہو دوسرے کودے دے اوراس کے بدلے دوسری جنس دوسرے کے حصے سے اسے دلائے۔درمختارمیں ہے:
اعلم ان الدراھم لاتدخل فی یہ جان لے کہ درھمزمین اورگھر کی تقسیم میں داخل
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
الہدایۃ کتاب الوصایا ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱€
ہدایہ میں ہے:
لاتدخل فی القسمۃ الدراھم والدنانیر الا بتراضیھم لانہ لاشرکۃ فی الدراھم والقسمۃ من حقوق الاشتراك لانہ یفوت بہ التعدیل فی القسمۃ واذا کان ارض و بناء فعن ابی یوسف انہ یقسم علی اعتبار القیمۃ لانہ لایمکن اعتبار المعادلۃ الا بالتقویم۔ شرکاء کی باہمی رضامندی کے بغیردراھم ودنانیر تقسیم میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ دراہم میں کوئی شراکت نہیں اور تقسیم حقوق اشتراك میں سے ہےاس لئے بھی کہ اس سے تقسم برابری فوت ہوجاتی ہے۔اورجب زمین مع عمارت ہو توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك قیمت کے اعتبارسے تقسیم ہوگی کیونکہ اس کے بغیر برابری کااعتبارممکن نہیں۔ (ت)
اورروایت مذکورہ امام محمد کے بیان میں فرمایا:
اذا بقی فضل ولایمکن تحقیق التسویۃ بان لاتفی الوصیۃ بقیمۃ البناء حینئذ یردللفضل دراھم لان الضرورۃ فی ھذا القدر جب عمارت میں کچھ زیادتی باقی رہی اورزمین کی قیمت لگاکر بھی وصیت میں مساوات ممکن نہیں تواب وہ زیادتی بامر مجبوری دراھم سے لوٹائی جائے گی کیونکہ مجبوری فقط اتنی ہی مقدار
الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۴€
اسی میں ہے:
لایقسم الجنسین بعضہما فی بعض لانہ لااختلاط بین الجنسین فلایقع القسمۃ تمییزابل تقع معاوضۃ وسبیلھا التراضی دون جبرالقاضی۔ دوجنسوں کی تقسیم میں بعض کو دوسری بعض میں داخل نہیں کیاجائے گا کیونکہ دوجنسوں میں اختلاط نہیں ہوتا تواس طرح تقسیم تمییز کے لئے نہیں بلکہ معاوضہ کے لئے واقع ہو گی اور اس کی صورت صرف باہمی رضامندی ہے نہ کہ جبر قاضی۔(ت)
تفریعات
(۶۱)فتوی۱ کاقول کہ اگر کوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت پررضامند ہوجائے توعدالت کولازم ہوگا کہ اس فریق کو قیمت دے دے لیکن کسی فریق کو اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا عدالت کے اختیارسے باہرہے ناقص وقاصر ہے ایك فریق کے رضامند ہونے سے عدالت کولازم درکنار جائزبھی نہیں کہ اسے قیمت دلادے جب تك دوسرافریق بھی قیمت دینے پرراضی نہ ہواسے قیمت لینے پرمجبورکرنا اختیارسے باہرہے تواسے قیمت دینے پرمجبورکرناکب اختیارمیں داخل ہے۔
(۶۲)فتوی۵ نے اس سے بھی زیادہ بے تکان کہاکہ مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے توہرچیز۶/۱ حصہ بجنسہ لے سکتی ہے اگرباختیار خودقیمت اپنے حصے کی فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔
(۶۳)طرفہ ترفتوی۱کایہ قول ہے کہ ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ تیسرے حصہ میں شاہ محمد کاحق اوردو حصے مسماۃ کاحق ہیں لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کودے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جو ان ظروف میں ہے وہ جائداد غیرمنقولہ سے پورا
الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۲€
افادہ حادیہ عشر
اجنبی کہ نہ وارث ہو نہ وصی اگرمیت کی تجہیزوتکفین بطورخود کرے تو اسے ترکہ میں رجوع کااختیارنہیں وہ اس کاتبرع ٹھہرے گا جب تك وارث کے اذن واجازت سے نہ ہوااوروارث کی اجازت بھی کافی نہیں جب تك اس کاامرنہ ہوا اورتحقیقا اس کاامربھی کافی نہیں جب تك واپسی کی شرط نہ کرلی ہو مثلا زیدنے وارث سے کہامیں اس کی تجہیزوتکفین کئے دیتاہوں جوخرچ ہوگا ترکہ سے لے لوں گا وارث نے سکوت کیازیدنے اس کہنے پرلوگوں کوگواہ کرلیا اوراپنے مال سے تجہیزوتکفین کی ایك حبہ واپس نہ پائے گا کہ یہ بلااذن وارث تھی یازیدنے وارث سے کہامیت میرادوست یا میرامعظم تھا میں چاہتاہوں کہ اس کی تجہیزوتکفین میں خود کروں اس نے کہااچھایاوارث ہی نے اس سے کہاکہ اگرتم اس کی تجہیزوتکفین کاثواب لیناچاہوتو تمہیں اجازت ہے اس نے کہامنظوردونوں صورتوں میں وارث کی اجازت ہوئی اوراختیار رجوع نہیں کہ بے امروارث ہےیاوارث نے کہا میت تمہارا دوست تھا یاتمہارا پیریااستاد تھا تم پربھی اس کاحق ہے اس کی تجہیزوتکفین تمہیں اپنے مال سے کرواس نے کہا بسرو چشماس میں وارث کابھی امرہوا اوررجوع نہیں کہ اس کی شرط نہ کی گئیہاں وارث نے کہاتم اس کی تجہیزوتکفین کردوجوخرچ ہوگا ترکہ سے تمہیں دے دیاجائے گاتواب بلاشبہہ اختیاررجوع ہے۔عیون پھرتاتاخانیہ پھرنہج النجاۃ پھر تنقیح الحامدیہ میں ہے:
اذا کفن الوارث المیت من مال نفسہ یرجع و الاجنبی لایرجع ۔ اگروارث نے میت کواپنے مال سے کفن پہنایا تورجوع کر سکتاہے ا وراجنبی ایساکرے تو رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث اولم یشھد ولوکفن الوصی من مال نفسہ لیرجع کان لہ الرجوع۔ اگرغیروارث نے میت کووارث کے حکم کے بغیر اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارنہیں ہوگا چاہے وارث کوگواہ بنایاہویانہیں اوراگروصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارہوگا۔(ت)
مجمع الفتاوی پھرنورالعین پھرتنقیح مغنی المستفتی میں ہے:
امراحد الورثۃ انسانا بان یکفن المیت فکفن ان امرہ لیرجع علیہ یرجع کما فی انفق فی بناء داری وھو اختیار شمس الاسلام وذکرالسرخسی ان لہ ان یرجع بمنزلۃ امرالقاضی اھ قلت والتعلیل دلیل التعویل ثم التقدیم دلیل التقدیم ثم الاختیار من الفاظ الفتوی۔ اگروارثوں میں سے ایك نے کسی شخص کوکہاکہ وہ میت کو کفن پہنادے اوراس نے پہنادیا اب اگروارث نے اس کو رجوع کاکہا تورجوع کرسکے گاجیساکہ کوئی کسی کو کہے تو میرے گھرکی عمارت میں خرچ کروہی شمس الاسلام کا اختیار ہےاورامام سرخسی نے ذکرفرمایاکہ اس کوبمنزلہ امرقاضی رجوع کااختیارہے اھ میں کہتاہوں کہ تعلیل دلیل تعویل ہےپھر تقدیم دلیل تقدیم ہے پھر اختیارفتوی کے الفاظ میں سے۔(ت)
یہاں شرط رجوع درکنار امرزوجہ برکنار اجازت زوجہ کابھی ثبوت نہیں بلکہ ظاہریہی ہے کہ شاہ محمد نے بطور خود یہ تجہیزوتکفین کی موصی نے اسی کے گھرمیں وفات پائی اس کا اس کایارانہ تھا اوراس نے اس پراحسان کیاکہ اپنے دونوں مکان اورجملہ اسباب خانہ داری اپنی زوجہ سے چھڑاکر اس کووصیت کرگیا اوراس نے وصیت نامہ میں دوجگہ اس سے اپنی تجہیزوتکفین درخواست تھی اورسوال فتوائے دوم جس کی طرز ادابتارہی ہے کہ وہ شاہ محمدکامرتب کرایاہواہے
العقودالدریۃ بحوالہ مجمع الفتاوٰی کتاب الکفالہ ∞ارگ بازارقندھار افغانستان ۱/ ۰۳۔۳۰۲€
اما المتعلق بعین کالمرھون والمبیع المحبوس بالثمن ودارمستأجرۃ قدم اجرتھا وعین جعلھا مھرا والمقبوض بالبیع الفاسد فانہ اذامات الراھن اوالمشتری اوالاجر اوالزوج اوالبائع فی ھذہ الصور علی الولاء قدم حق المرتھن اوالبائع اوالمستاجر او المرأۃ اوالمشتری علی تجھیزالمیت فانما ذلك لتعلقھا بالمال قبل صیرورتہ ترکۃ کما فی الدر المختار وردالمحتار ۔ لیکن وہ حق جوعین سے متعلق ہے جیسے رہن رکھی ہوئی چیز وہ مبیع جوثمن کے بدلے روکاگیاہےوہ اجارہ کامکان جس کا کرایہ پیشگی اداکیاگیاہےوہ عین شیئ جس کومہر بنایاگیاہے اور وہ شیئ جس شیئ پربیع فاسد کے ذریعے قبضہ کیاگیا۔ان صورتوں میں اگرراہنمشتریآجرخاوندیابائع اسی حال پر مرگیا تومذکورہ حقوق یعنی مرتہنبائعمستاجربیوی یا مشتری کاحق تجہیزمیت پرمقدم ہوگا یہ اس لئے ہے کہ یہ حقوق مال کے ترکہ ہونے سے پہلے ہی اس سے متعلق ہوگئے ہیںجیسا کہ درمختاراورردالمحتارمیں ہے۔(ت)
مگریہ تقدیم تجہیزوتکفین کوہے نہ اس دین کوکہ بسبب تجہیزوتکفین عائد ہو وہ اگرہے تو مثل سائردیون ایك دین ہے نہ کہ اور جملہ دیون پر مقدم اولا: تمام علماء نے یبدأ بتجھیزہ(اس کی تجہیزسے ابتداء کی جائے گی۔ت)فرمایا ہے کہیں یبدأ بدین تجھیزہ(اس کی تجہیزکے قرض سے ابتداء کی جائے گی۔ت)بھی آیاہے۔
ثانیا: علماء نے اسے لباس حیات پرقیاس فرمایاہے کہ زندگی میں تن کے کپڑے دائن کو
انما کان قضاء الدین مؤخرا عن الکفن لانہ لباسہ بعد وفاتہ فیعتبربلباسہ فی حیاتہ الاتری انہ یقدم علی دینہ اذلایباع ماعلی المدیون من ثیابہ مع قدرتہ علی الکسب ۔(ملخصا) بیشك قرض کی ادائیگی کفن سے مؤخر اس لئے ہے کہ کفن مرنے کے بعد میت کالباس ہےلہذا اس کو اس کی زندگی کے لباس پرقیاس کیاجائے گا کیانہیں دیکھتے ہوکہ زندگی میں لباس قرض پر مقدم ہوتاہےاس لئے کسب کی قدرت رکھنے والے مدیون کے کپڑے فروخت نہیں کئے جاتے۔(ملخصا)(ت)
اورپرظاہرکہ زیدکے مدیون نے اگرعمرو سے قرض لے کرکپڑے بنائے توعمروکوزید پرکوئی ترجیح نہ ہوگی دونوں دین یکساں ہوں گے دین پرتقدم لباس کوتھی نہ کہ دین لباس کو شرع میں اس کی کہیں اصل نہیں توواجب کودین تکفین بھی دیگر دیون پر اصلا مقدم نہ ہوبلکہ کفن دہندہ اسوہ غرباء ہو۔درمنتفی پھر ردالمحتارمیں ہے:
الاصل ان کل حق یقدم فی الحیاۃ یقدم فی الوفاۃ اھ ویضم منہ علی العرف الفقھی ان مالایقدم فی الحیاۃ لایقدم فی الوفاۃ۔ اصل یہ ہے کہ جوحق زندگی میں مقدم ہوتاہے وہ موت میں بھی مقدم ہوتاہے اھ اورعرف فقہ میں اس کے ساتھ یہ ضابطہ ملایاجاتاہے کہ جوزندگی میں مقدم نہ ہو وہ وفات میں بھی مقدم نہیں ہوتا۔(ت)
ثالثا: علماء اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ میت کوبرہنہ رکھناجائزنہیں کہ تعظیم مسلمان مردہ و زندہ کی یکساں ہے۔تبیین الحقائق میں فرمایا:
المرء یقدم نفسہ فی حیاتہ فیمایحتاج الیہ من النفقۃ والسکنی والکسوۃ علی اصحاب الدیون فکذا انسان اپنی ذات کوزندگی میں اپنی ضروری حاجات یعنی نفقہ سکونت اورلباس میں قرضخواہوں پرمقدم رکھتاہے اسی طرح وفات
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت∞۵/ ۴۸۴€
اورپرظاہرکہ یہ علت نفس تجہیزمیں ہے نہ دین تجہیزمیں۔
رابعا: علماء فرماتے ہیں یہاں دوچیزیں ہیں:حق للمیت اور وہ تجہیزہےاور حق علی المیت اور وہ دین ہےاوراول ثانی پرمقدم ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم میں فرماتے ہیں:
اعلم ان الحقوق المتعلقۃ بالترکۃ ھنا خمسۃ بالاستقراء لان الحق اما للمیت اوعلیہ اولاوالاول التجہیزوالثانی الدین الخ۔ توجان لے کہ بیشك میت کے ترکہ سے متعلق حقوق بطور استقراء پانچ ہیں اس لئے کہ حق یاتو میت کے لئے ہوگا یا اس پر ہوگا یاایسانہیں ہوگا بصورت اول تجہیزہے اوربصورت ثانی قرض الخ(ت)
ظاہرہے کہ دین تجہیزمثل سائردیون حق علی المیت ہے نہ کہ حق للمیتتومرتبہ دیون ہی میں ہوگا نہ مرتبہ تجہیزمیں۔
خامسا: جس طرح یہ دین حاجت سترکے لئے تھا اور بہت دیون بھی آدمی اپنے کھانے پینے پہننے رہنے وغیرہاحاجات اصلیہ کے اپنی حیات میں لیتاہےتوشیئ اپنے مثل پرکیسے مقدم ہوسکتی ہےیوں ہی مہرمثل بھی وہ دین کہ حاجت اصلیہ کے سبب لازم آتاہے۔ ھدایہ باب اقرارالمریض میں ہے:
النکاح من الحوائج الاصلیۃ وھو بمھرالمثل ۔ نکاح حاجات اصلیہ میں سے ہے اور وہ مہرمثل کے ساتھ ہوتاہے۔(ت)
الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین)∞سہیل اکیڈمی لاہور۲/ ۱۹€۳
الہدایۃ کتاب الاقرار باب اقرارالمریض ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۴۰€
ونصوا علی ان الوصی اوالوارث اذا کفن من مال نفسہ کفن المثل یرجع فی الترکۃ ویظھر لی انہ یکون المکفن حینئذاسوۃ للغرباء لاتقدیم لحقہ علی حقوقھم وان کان دینہ لاجل التکفین فان تقدیم التجھیز کان لحاجۃ المیت اعتبارا بحالۃ الحیاۃ وقد اندفعت حاجتہ ولم یبق الااداء الدین فیکون کمثل سائر الدیون الاتری ان المدیون ان کان محتاجا الی اللباس یقدم علی اداء الدیون وان البسہ رجل من مال نفسہ شارطا علیہ الرجوع کان کاحد الدائنینوایضا ربما یستدین الرجل فی حیاتہ لاکلہ وشربہ و مالابدمنہفالذی ادانہ لھذا کیف یتأخر عن الذی ادانہ لمثل الحاجۃ بعد الموتواﷲ تعالی اعلم۔ اھ۔ مشائخ نے اس پرنص فرمائی کہ وصی یاوارث جب اپنے مال میں سے میت کومثلی کفن پہنادے تووہ ترکہ میں رجوع کرے گا۔میرے لئے یہ بات ظاہرہوئی ہے کہ اس صورت میں وہ کفن دینے والاباقی غرباء کے مساوی ہوگا دوسروں کے حق پر اس کاحق مقدم نہ ہوگا اگرچہ اس کایہ قرض تکفین کی وجہ سے ہے کیونکہ تجہیزکومقدم کرنا میت کی حاجت کے لئے اس کی زندگی کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔اورتحقیق وہ حاجت پوری ہوچکی اورنہ باقی رہا مگرقرض کااداکرنا تو وہ مثل باقی قرضوں کے ہوگیا۔کیاتونہیں دیکھتا کہ مقروض جب لباس کا محتاج ہوتو وہ قرض کی ادائیگی پرلباس کو مقدم رکھتاہے۔ اور اگرکوئی شخص اپنے مال سے اس کو لباس پہنادے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس پررجوع کرلے گا تو وہ دیگر قرضخواہوں میں سے ایك ہوجائے گا نیزبسااوقات کوئی شخص اپنی زندگی میں کھانے پینے اوردیگر ضروری اشیاء کے لئے قرض لیتاہے تو جس شخص نے ان ضروریات کے لئے قرض دیاوہ اس شخص سے کیسے متأخرہوگا جس نے موت کے بعد ایسی ہی حاجت کے لئے اس کو قرض دیااوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
ومن ادعی فعلیہ البیان ولایستطیع الی ان یؤب القارظان۔ جودعوی کرے دلیل بیان کرنا اس کے ذمے ہے اوروہ دلیل نہیں لاسکے گا یہاں تك کہ سلم کے پتے چننے والے واپس آئیں(ت)
تفریعات
(۶۴۶۵)فتوی۱ کاقول تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہ پڑے گا۔
(۶۶۶۷)فتوی ۵ کاقول خرچ دفن کرنے کا چھ سات روپے تك آخر دس روپے تك اس کا بار فریقین پرہے۔
(۶۸۶۹)فتوی۷ کاقول جمیع متروکہ میں سے سب سے اول تجہیزکاخرچ نکال لیاجائے گا نیزاس کاقول وصیت اگربعوض دین مہر ہوتو تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنی نہ ہوں گے الخ سب دودووجہ سے غلط ہیں اولا بلاثبوت موجوب رجوع بلکہ بعدظہور مانع رجوعحکم رجوع دیناثانیا اسے مرتبہ تجہیزوتکفین میں رکھنا۔
(۷۰)فتوی۷ کاقول اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین اپنے مال سے بلااطلاع وبلااجازت مدعیہ کی ہے اس کابار صرف مدعاعلیہ کے مال پرہوگااورباجازت مدعیہ اپنے مال سے کی ہے یامتوفی کے ترکہ سے تو اس کابار متوفی کے تمام ترکہ پرہوگابھی صحیح نہیں فقط اجازت مدعیہ رجوع کے لئے کافی نہیں طرفہ یہ کہ شق اول میں بلااطلاع کالفظ بڑھادیا جو اس کاموہم کہ صرف باطلاع وارث ہونا ہی رجوع کوبس ہے۔
افادہ ثانیہ عشرجامع فوائد غرر
فائدہ۱۳:ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالی عنہم کااصل مذہب یہ ہے کہ اصحاب فرائض میں کہ۱ زوجین پرردنہیں ان کے فرض سے جو بچے اورکوئی ۲عصبہ نسبی و۳سببی نہ ہو توباقیماندہ ۴ذوی الارحام کودیں گےوہ ۵نہ ہوں تومولی الموالاۃ کو۶وہ نہ ہوتومقرلہ بالنسب علی الغیرکو۷وہ نہ ہوتو موصی لہ بالزائد
اس کے لئے ائمہ متاخرین نے ۹نواں مرتبہ ردعلی الزوجین نکالاا ورزوجین بھی نہ ہوں تو۱۰بنات معتق کووہ بھی نہ ہوں تومعتق کے ۱۱ذوی الارحام کووہ بھی نہ ہوں تومیت کے اولادرضاعی کوکوئی عاقل نہ کہے گاکہ ان مراتب اربعہ کے احداث سے علماء متاخرین اس ترتیب مجمع علیہ مراتب سابقہ کوتوڑنا چاہتے ہیں حاشا اس پرتوہمارے تمام علماء کاقطعی اجماع بلانزاع ہے بلکہ از انجا کہ مرتبہ اخیرہ اب مرتبہ اخیرہ نہ رہا اس کے بعد اورمراتب بڑھاتے ہیں تویہ چاروں مراتب جدیدہ بالیقین بیت المال منتظم سے مؤخرہیںاوربیت المال منتظم موصی لہ بالزائد سے مؤخرہے توقطعا یقینا یہ چاروں مراتب موصی لہ بالزائد سے بدرجہا مؤخر ہیںعلماء نے جس طرح ردعلی الزوجین کامرتبہ نکالایہ تینوں مراتب بنات معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی بھی نکالےنہایہ پھرتبیین الحقائق پھراشباہ والنظائرپھر منح الغفارپھردرمختارکتاب الولاء میں ہے:
واللفظ لہ لومات المعتق ولم یترك الاابنۃ معتقہ فلاشیئ لھا ویوضع مالہ فی بیت المال ھذا ظاھر الروایۃ وذکر الزیلعی معزیاللنھایۃ ان اورلفظ درمختارکے ہیں کہ اگرمعتق مرگیا اورسوائے معتق کی بیٹی کے اس کے پسماندگان میں کوئی نہیں تو اس کوکچھ نہیں ملے گااورمعتق کامال بیت المال میں رکھ دیاجائے گایہ ظاہر الروایۃ ہےاورزیلعی نے نہایہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے
ردالمحتارمیں ہے:
ومثلہ فی الذخیرۃ قال وھکذا کان یفتی الامام ابو بکر البرزنجری والقاضی الامام صدر الاسلام لانھا اقرب الی المیت من بیت المال فکان الصرف الیھا اولی اذلوکانت ذکرا تستحق المالقولہ ترث فی زماننا عبارۃ الزیلعی یدفع المال الیھا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت حقولہ وکذا مافضل الخ عزاہ فی الذخیرۃ الی فرائض الامام عبد الواحد الشھیدقولہ للابن اوالبنت رضاعا عزاہ فی الذخیرۃ الی محمد رحمہ اﷲ تعالی ۔ اسی کی مثل ذخیرہ میں فرمایاا ورایسے ہی فتوی دیتے تھے امام ابوبکر البرزنجری اورقاضی امام صدرالاسلام۔کیونکہ معتق کی بیٹی بیت المال کی بنسبت میت کے زیادہ قریب ہے۔چنانچہ مال کو اس کی طرف پھیرنااولی ہےکیونکہ اگروہ مذکرہوتی تو مال کی مستحق ہوتی۔ماتن کاقول"وہ ہمارے زمانے میں وارث بنے گی"۔زیلعی کی عبارت ہے اس کو مال بطورمیراث نہیں دیاجائے گا بلکہ اس لئے دیاجائے گا کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے ح۔ماتن کاقول"اوریونہی جوبچ جائے الخ"اس کو ذخیرہ میں فرائض امام عبدالواحد شہید کی طرف منسوب کیاہے۔ماتن کاقول"رضاعی بیٹا یابیٹی"اس کو ذخیرہ میں امام محمدعلیہ الرحمہ کی طرف منسوب کیاہے۔ (ت)
ردالمحتار کتاب الولاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۷۶€
بنت المعتق فلاشیئ لھا فی ظاھرالروایۃ وافتی بعضھم بدفعہ لھا لکن لابطریق الارث بل لکونھا اقرب الناس الیہ بل ولذی ارحامہ بل وللولد رضاعا کما یرد علی الزوجین فی زماننا کما فی القنیۃ والزیلعی عن النھایۃ والاشباہ اقرہ فی المنح وسکب الانھر۔ ظاہرالروایہ میں معتق کی بیٹی کے لئے کچھ نہیںاوربعض مشائخ نے اس کو دینے کافتوی دیاہے لیکن بطور میراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے زیادہ قریب ہے بلکہ معتق کے ذوی الارحام بلکہ اس کی رضاعی اولاد کو دینے کابھی فتوی دیاہے جیساکہ ہمارے زمانے میں زوجین پر رد کیاجاتاہے۔جیساکہ قنیہزیلعی بحوالہ نہایہاورالاشباہ میں ہے اسی کو برقراررکھاہے منح اور سکب الانہرنے۔(ت)
کیاکوئی عاقل وہم کرسکتاہے کہ یہ مراتب موصی لہ بالزائد پرمقدم ہیں زیداگر اپنے کل مال کی وصیت عمرو کے لئے کرجائے اورکوئی وارث نہ رکھتا ہوایك لڑکی ہو جس نے اس کی زوجہ کادودھ کہ اس سے تھا پیاہے توزید کی وصیت نافذ نہ کریں گے اورثلث سے زائد اس دودھ کی لڑکی کودے دیں گے یہ بلاشبہہ باطل ومردود وخلاف اجماع ہے یہ سب مراتب جدیدہ اس امرمیں یکساں ہیں کہ سب مرتبہ اخیرہ کے بعد رکھے گئے ہیں۔
فائدہ۱۴:اقول:زیادت علی الثلث میں موصی لہ کاحق صرف وارث سے مؤخرہے اور غیروارث پرمقدمولہذا بیت المال پر مقدم ہے کہ بیت المال ہمارے نزدیك وارث نہیں۔علامہ سیدشریف شرح سراجیہ پھرعلامہ شیخی زادہ مجمع الانہر پھرعلامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں:
اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فتکمل لہ وصیتہ لان منعہ عمازاد علی الثلث کان لاجل جب وہ معدوم ہوجائیں جن کاپہلے ذکرہوا تو پھر اس سے ابتداء کی جائے گی جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی۔ چنانچہ اس کی وصیت پوری کردی جائے گی اس لئے کہ
اوران مراتب اربعہ جدیدہ کودیاجانا بطورارث نہیں تو واجب کہ موصی لہ بالزائد ردعلی الزوجین وباقی مراتب ثلثہ پرمقدم ہو۔
امام فخرالدین زیلعی تبیین میں فرماتے ہیں:
لومات المعتق ولم یترك الا ابنۃ المعتق فلاشیئ لبنت المعتق فی ظاھر الروایۃ اصحابنا ویوضع مالہ فی بیت المال وبعض مشائخنا کانوا یفتون بدفع المال الیہا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت فکانت اولی من بیت المال الاتری انھا لوکانت ذکراکانت تستحقہ ولیس فی زماننا بیت المال ولو دفع الی السلطان اوالی القاضی لایصرفہ الی المستحق ظاھرا وعلی ھذا مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ لانہ اقرب اگرمعتق مرگیا اورمعتق کی بیٹی کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑا تو ظاہرالروایہ میں ہمارے اصحاب کے نزدیك معتق کی بیٹی کو کوئی شے نہیں ملے گی اورسارا مال بیت المال میں رکھ دیا جائے گاہمارے بعض مشائخ معتق کی بیٹی کومال دینے کافتوی دیتے تھے مگربطورمیراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے لہذا وہ بیت المال کی بنسبت اولی ہے۔کیاتم دیکھتے نہیں کہ اگر وہ مذکر ہوتی تومال کی مستحق ہوتی۔اورہمارے زمانے میں بیت المال نہیں ہے اوراگروہ مال بادشاہ یاقاضی کودیاجائے توبظاہر مستحق پرخرچ نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی
یہ کلام فہیم کے لئے نص صریح ہے کہ ردعلی الزوجین وراثۃ نہیں بلکہ اسی طرح ہے جیسے مفاسد بیت المال فاسد سے بچنے کورضاعی اولاد کودیاجاتاہے نیز اس پردلیل انہیں امام جلیل کا ارشادہے کہ اصحاب ردپرردبجہت عصوبت ہے۔
حیث قال الاخذ بطریق الرد لیس بفرض وانما ھو بطریق العصوبۃ۔ جہاں فرمایا بطورردلینا یہ فرض کے طورپرنہیں بلکہ عصبہ کے طورپرہے۔(ت)
اورظاہرہے کہ زوجیت عصوبت نہیںنیزانہیں کاارشادہے:
الرد علی ذوی السھام اولی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت۔ ذوی الفرض پررد کرنا ذوی الارحام سے اولی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرب رکھتے ہیں سوائے زوجین کے اس لئے کہ ان دونوں کی میت سے کوئی قرابت نہیں۔(ت)
نیزامام اجل نسفی کاشرح وافی میں ارشاد:
الردباعتبارالرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم۔ ردقرابت کے اعتبارسے ہے یہاں تك کہ زوجین پرقرابت کے نہ ہونے کی وجہ سے ردنہیں کیاجاتا۔(ت)
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۷€
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
الکافی شرح الوافی
ان الرد انما یستحق بالرحم والزوجان لیسا بذوی رحم فلذا استثناھماوقیل یرد علیھما لفساد بیت المال و قدمنا فی عصبۃ العتق ان ذلك لابطریق الارث۔ (ملخصا) بیشك رد کا استحقاق قرابت کی وجہ سے ہے زوجین چونکہ قرابت نہیں رکھتے اس لئے وہ دونوں مستثنی ہیں۔اورکہاگیاہے کہ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پر رد کیا جائے گاا ورہم معتق کے عصبہ میں بیان کرچکے ہیں کہ وہ بطور میراث نہیں۔ملخصا(ت)
توزوجین کہ باہم اجنبی ہوں اور کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوں ان پرردبجہت ارث نہیں ہوسکتا اور اسے ارث ٹھہرانا کتاب اﷲ پرزیادت ہےتو وہ نہیں مگر اسی وجہ مذکور اولاد رضاعی پراورموصی لہ کامانع نہ تھا مگر حق ارث تو ردعلی الزوجین اس کامانع نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے مؤخر رہناواجبوھو المقصود والحمدﷲ الودود۔
فائدہ۱۵:اقول:ردعلی الزوجین اگرمرتبہ میں فرض کیاجائے تو ردکی چارصوتوں سے جن پرمتقدمین متاخرین سب کی کتب اجماع کئے ہوئے ہیں دومنسوخ ہوجائیں کہ اب ذوی الفروض میں من لایردعلیہ کوئی نہ رہا مرد مرے اورایك زوجہ ایك دختر چھوڑے توجمیع کتب متقدمین ومتاخرین حنفیہ میں مسئلہ آٹھ سے کرتے ہیں ایك زوجہ کاکہ صرف اس کافرض ہے اورسات دختر کے چارفرضا اورتین رداہم بہت شکرگزارہوں گے اگرکسی متاخرسے متأخر حنفی معتمد مثلا علامہ طحطاوی یاعلامہ شامی وغیرہما کسی کے کلام میں دکھادیں کہ صورت مذکورہ میں زوجہ ودخترکونصف نصف دلایاہواگرکہئے زوجین پررد ہے تومگر ذوی الفروض النسبیہ پررد سے مؤخرہے یعنی وہ ہوں توانہیں پررد ہوگا نہ ان پرتو اسی کی سند کسی معتمد اگلے پچھلے کے کلام سے دکھائیے جب مذہب منسوب باامیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ لیاگیا اورعول پرقیاس کیاگیا اوراسی زعم پرعدم رد کے خلاف روایت ودرایت بتایاگیا تووجہ تفرقہ کیا۔
فائدہ۱۶:اقول:نہ سہی اگرردعلی الزوجین کومتاخرین نے مرتبہ ردمیں رکھاہے توآخر کسی متاخر نے ذوی الارحام پرمقدم کیاہوگا کہ باجماع حنفیہ رد ان پرمقدم ہے اسی کی تصریح
اجمعوا علی ان ذوی الارحام لایحجبون بالزوج والزوجۃ ای یرثون معھما فیعطی الزوج والزوجۃ نصیبہ ثم یقسم الباقی بین ذوی الارحام کما لو انفرد وامثالہ زوج وبنت بنت وخالۃ وبنت عم فللزوج النصف والباقی لبنت البنت۔ مشائخ کااس پراجماع ہے کہ ذوی الارحام خاوند اوربیوی کی وجہ سے محروم نہیں ہوتے یعنی ان دونوں کی موجودگی میں وارث بنتے ہیں چنانچہ خاوند یابیوی کوفرضی حصہ دے کرباقی ذوی الارحام میں تقسیم کردیاجائے گا جیساکہ ان کے منفرد ہونے کی صورت میں کیاجاتااس کی مثال یہ ہے کہ کوئی عورت فوت ہوئی اوراس نے یہ ورثاء چھوڑے خاوندنواسیخالہ اور چچاکی بیٹی تو اس صورت میں نصف خاوندکوملے گا باقی نواسی کو ملے گا۔(ت)
اس مسئلہ بدیہیہ میں تشکیك کرنے والے اگراپنے ہی کارنامے یاد کریں توغالبا ایسابے معنی فتوی کبھی نہ دیا ہوگا بلکہ ہمیشہ فرض احدالزوجین دلاکر باقی نواسے وغیرہ کوپہنچایاہوگا۔
فائدہ۱۷:اقول:اگلی کارروائیاں یاددلانے کی کیاحاجتاورممکن کہ بہتوں کوکبھی مسئلہ ذوی الارحام کااتفاق ہی نہ ہواہواب حال کے یہی فتاوی نہ دیکھے جوکہ مقدمہ میں پیش نظر ہیںفتوی اولی میں ہے اگرمتوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دارموجودنہ ہو تو بعدادائے حصہ وصیت جس قدر بچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔فتوی سوم میں ہے بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے زوجہ پرردکیاجائے گا۔فتوی ششم میں ہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتو بچاہوا ترکہ احدالزوجین کو دے دیں گے۔ فتوی سوم ششم وہشتم نے اس پرعبارت بھی نقل کی ہے:
الرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما۔ زوجین پررد اس صورت میں ہوگا جب ان کے ماسوا اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہو۔(ت)
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
فائدہ۱۸:تمام کتب شاہد ہیں کہ اس فتوی متاخرین کی علت فساد بیت المال ہے کہ عبارات سابقہ سے واضح اورخود ان خلافی فتووں نے نادانستہ اسے باربار نقل کیا۔فتوی سوم وششم و ہفتم سب میں بحوالہ ردالمحتارقنیہ سے ہے:
یفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۔ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررد کافتوی دیاجائے گا۔(ت)
نیزان میں بحوالہ شامی محقق علامہ تفتازانی سے ہے:
افتی کثیر من المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام۔ بہت سارے مشائخ نے زوجین پررد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ پیشوابگڑچکے ہیں۔(ت)
نیزان سب میں بحوالہ درمختاراشباہ سے ہے:
یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال ۔ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررد کیاجائے گا۔(ت)
اﷲ عزوجل عافیت بخشے ہرتھوڑی عقل والابھی ان عبارات کوبنگاہ اولین دیکھتے ہی فورا سمجھ لیتاکہ زوجین پررد اس عارض کے سبب ضرورۃ ماناہے اگریہ عارض نہ ہو یعنی بیت المال منتظم ہو توباقیماندہ اسی میں رکھاجائے گا اورزوجین پررد نہ کیاجائے گا تورد علی الزوجین موصی لہ بالزائد سے دومرتبہ مؤخر ہوانہ کہ زبردستی اس پرمقدم کردیاجائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(بلندی اورعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرنہ کسی کوگناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ نیکی کرنے کی قوتہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
فائدہ۱۹:اقول:شافعیہ رحمہم اﷲ تعالی کے نزدیك بیت المال وارث ہے ولہذا وہ بحالت عدم عصبہ اصحاب فرائض نسبیہ پربھی رد نہیں کرتے بعد کے مراتب ذوی الارحام ومولی الموالاۃ
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۲€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
مافضل عن فرض ذوی الفروض ولامستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم الاعلی الزوجین عندنا وھوقول عامۃ الصحابۃ رضوان اﷲ تعالی علیھموقال زید الفاضل لبیت المال ولایردعلیھم و بہ قال مالك والشافعی رحمھم اﷲ تعالی وقیل مسألۃ الرد مبنیۃ علی مسألۃ ذوی الارحام اذالرد باعتبار الرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم و عند مالك والشافعی رحمھما اﷲ تعالی لم یستحق ذووالارحام شیئا ومصب المال بیت المال فکذا الفاضل عن فرض ذوی الفروض مصبہ بیت المال اھ اقول:وعندی الاظھر عکسہ ای تبنی مسألۃ ذوی الارحام علی مسألۃ الرد فان قرابۃ ذوی السھام اقوی فلما تعارض عندھما بیت المال و ذوی الفروض سے جوکچھ بچ جائے اوراس کاکوئی مستحق نہ ہو تو ہمارے نزدیك زوجین کے علاوہ ذوی الفروض پران کے حقوق کے برابر ردکیاجائے گا یہی قول عام صحابہ کرام کا ہے رضی اﷲ تعالی عنہم۔حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جوبچ گیا وہ بیت المال کاہے ذوی الفروض پر ردنہیں کیاجائے گااوریہی فرمایا امام شافعی اورامام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہما نے۔اورکہاگیاہے کہ ردکامسئلہ ذوی الارحام کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ردقرابت ورشتہ داری کے اعتبار سے ہوتا ہے یہاں تك کہ رشتہ داری نہ ہونے کی وجہ سے زوجین پررد نہیں کیاجاتا امام مالك اورامام شافعی رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك ذوی الارحام کسی شیئ کے مستحق نہیں اورمال رکھنے کی جگہ بیت المال ہےیونہی جوذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچ گیا اس کورکھنے کی جگہ بھی بیت المال ہے اھ۔میں کہتا ہوں میرے نزدیك زیادہ ظاہر اس کاعکس ہے یعنی ذوی الارحام کامسئلہ رد کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ذوی الفروض کی قرابت زیادہ قوی ہے توجب وہ امام
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی شافعی میں ہے:
اسباب التوریث القرابۃ والنکاح والولاء والاسلام اھ فالقرابۃ لذی سھم والعصبۃ النسبیین والنکاح لذی السہم السببی والولاء للعصبۃ السببیۃ و الاسلام لاھل بیت المال۔ وارث بننے کے اسباب قرابتنکاحولاء اوراسلام ہیں پس قرابت تونسبی ذوی الفروض اورنسبی عصبہ کے لئے ہے اور نکاح سببی ذوی الفروض کے لئے ہے اورولاء سببی عصبہ کے لئے ہے اوراسلام بیت المال والوں کے لئے ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قلنا لایرد علی اصحاب الفروض ولایورث ذو والارحام۔ ہم کہتے ہیں کہ ذوی الفروض پرردنہیں کیاجائے گا اورنہ ذوی الارحام کووارث بنایاجائے گا۔(ت)
مگرفساد بیت المال کے وقت وہ بھی ردعلی اصحاب الفروض النسبیہ اوران کے بعد توریث ذوی الارحام کے قائل ہوئے ہیں اور اس کی علت وہی فساد بیت المال بتاتے ہیںسیدعلی السراجی میں ہے:
عندالشافعیۃ ان بیت المال ان کان منتظما یقدم علی ذوی الارحام والرد وان لم ینتظم ردا ولاعلی ذوی الفروض النسبیۃ بنسبۃ فرائضھم ثم یصرف شافعیہ کے نزدیك بیت المال اگرمنتظم ہوتو وہ ذوی الارحام اور رد پرمقدم ہوتاہے اوراگروہ منتظم نہ ہوتو پھر اولا نسبی ذوی الفروض پران کے فرضی حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا پھر ذوی الارحام کی طرف پھیراجائے گا ان کے
انوارلاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃا لجمالیہ ∞مصر ۲/ ۳€
تبیین میں ہے:
ان کثیرامن اصحاب الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ منھم ابن سریج خالفوہ وذھبوا الی توریث ذوی الارحام وھو اختیار فقہائھم للفتوی فی زماننا لفساد بیت المال وصرفہ فی غیرالمصارف۔ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے بہت سارے اصحاب جن میں ابن سریج بھی ہیں نے اس کی مخالفت کی اوروہ ذوی الارحام کو وارث بنانے کی طرف گئے ہیں اوریہی ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے ان کے فقہاء کامختارہے۔بیت المال کے فاسدہونے کی وجہ سے اورمصارف کے غیرمیں اس کے خرچ ہونے کی وجہ سے۔(ت)
انوارشافعیہ میں ہے:
ان لم ینتظم ای بیت المال فالصحیح المرجح المفتی بہ ان یرد الفاضل منھم علیھم ویورث ذو والارحام ان فقدوا۔ اگربیت المال منتظم نہ ہو تو صحیح راجح مفتی بہ قول یہ ہے کہ ذوی الفروض سے بچاہوا انہیں پر رد کیاجائے گا اوراگر وہ مفقود ہوں تو ذوی الارحام کو وارث بنایاجائے گا۔(ت)
توفساد بیت المال کے وقت مسئلہ ردمیں ہمارا ان کااتفاق ہوگیا ہم توردمانتے ہی تھے اوراب بوجہ فساد وہ بھی ماننے لگے یہ معنی ہیں عبارت درمختار:
ان فضل عن الفروض ولاعصبۃ یردالفاضل علیھم اجماعا لفساد اگرذوی الفروض سے کچھ بچ جائے اورکوئی عصبہ موجودنہ ہوتوبچاہوا بالاجماع ذوی الفروض
تبیین الحقائق کتاب الفرائض ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
الانوار لاعمال الابرار کتاب الفرائض ∞مطبعۃ الجمالیۃ مصر ۲/ ۲€
توفساد بیت المال علت اتفاق ہے نہ کہ ہمارے نزدیك ذی سہم نسبی پررد کی علت جسے ادنی طالب علم بھی نہ کہے گاپھرعلت ہے توصرف اتفاق شافعیہ کی ورنہ مالکیہ سے منقول کہ بحال فساد بھی ردنہیں کرتے۔لاجرم ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لفساد بیت المال علۃ لقولہ اجماعا ولایظھر لان المشھور من مذھب مالك انہ لبیت المال و ان لم یکن منتظما۔ مصنف کاقول"بوجہ فساد بیت المال"علت ہے اس کے قول اجماعا کی اوریہ ظاہر نہیں کیونکہ امام مالك کے مذہب سے مشہورہے کہ ذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچاہوا مال بیت المال کاہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ اجماعا لفساد بیت المال ھذہ العلۃ غیرظاھرۃ بالنظرللقول بالرد عندنا فان الرد عندنا مقدم علی بیت المال وان کان منتظما وان کان علۃ لقولہ اجماعا لایظھر ایضا لان القول بالرد حینئذ قول بعض الشافعیۃ والمشھور من مذھب المالکیۃ انہ لبیت المال وان لم یکن منتظما۔ ماتن کاقول"بالاجماع بوجہ فساد بیت المال"یہ علت ہمارے نزدیك رد کے قول کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہرنہیں کیونکہ ہمارے نزدیك ردبیت المال پرمقدم ہے اگرچہ بیت المال منتظم ہو اوراگریہ ماتن کے قول اجماعا کی علت ہو تو بھی ظاہرنہیں کیونکہ اس صورت میں ردکاقول بعض شافعیہ کاقول ہےاورمالکیہ کے مذہب سے مشہوریہ ہے کہ وہ بیت المال کے لئے ہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت∞ ۵/ ۵۰۲€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃالعربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۹۴€
لناقولہ تبارك وتعالی واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اﷲ وھو المیراث فیکون اولی من بیت المال ومن الزوجین الافیما ثبت لھما بالنص وکان ینبغی ان یکون ذلك لجمیع ذوی الارحام لاستوائھم فی ھذا الاسم الا ان اصحاب الفرائض قدموا علی غیرھم من ذوی الارحام لقوۃ قرابتھم الاتری انھم یقدمون فی الارث فکانوا احق بہ ومن حیث السنۃ ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دخل علی سعد یعودہ فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم ان لی مالا ولایرثنی الاابنتی الحدیث ولم ینکر علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حصرالمیراث علی ابنتہ ہماری دلیل اﷲ تبارك وتعالی کایہ ارشادہے"اوررشتہ والے اﷲ کی کتاب میں ایك دوسرے سے زیادہ قریب ہیں الآیۃ"۔ اوروہ میراث ہے چنانچہ ان پرردبیت المال سے اولی ہوگا اور زوجین سے بھی اولی ہوگا سوائے اس کے جو زوجین کے لئے نص سے ثابت ہے اورچاہئے کہ بچے ہوئے کارد تمام رشتہ داروں کے لئے برابرہو کیونکہ اس نام میں سب برابر ہیں مگر اصحاب فرائض باقی رشتہ داروں پراپنی قرابت کی قوت کی وجہ سے مقدم ہیں۔کیاتونہیں دیکھتا کہ وہ میراث میں مقدم ہیں تو وہ رد کے بھی زیادہ حقدارہوں گے اوریہ حکم سنت سے بھی ثابت ہے۔مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سعد رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے توانہوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم میرا کچھ مال ہے اورسوائے میری ایك بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں (الحدیث)انہوں نے اپنی بیٹی پرمیراث کومنحصرکیااورنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پرانکار نہیں فرمایا۔اگر
اقول:پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے اوردوسری حدیث عبدالرزاق نے مصنف اورسعیدابن منصور نے سنن اورابن جریر نے تہذیب الآثار میں اور بریدہ بن الخصیب الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے اوراس کے لفظ یہ ہیں:
فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لك اجرك وردھا علیك المیراث۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے تیرا اجرثابت ہے اور وہ لونڈی میراث نے تیری طرف لوٹا دی۔(ت)
یہ لفظلفظ مذکور تبیین سے ادل علی المقصود ہیں کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ سیدشریف نے آیت کریمہ سے استدلال کرکے حدیث اول سے اورزیادہ نفیس وجہ سے استدلال کیااوربعض اوراحادیث جلیلہ زائدکیںفرماتے ہیں:
وایضا لما دخل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی سعد بن ابی وقاص یعودہ جب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ کی
کنزالعمال برمزعب،ص وابن جریر فی التہذیب ∞حدیث ۳۰۷۰۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/ ۸۳€
ثانیا: سراجیہ وتبیین وعامہ کتب حنفیہ میں ہے:
ھو قول عامۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم وبہ اخذ اصحابنا۔ عام صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کاوہی قول ہے اورہمارے اصحاب نے اسی سے اخذ کیاہے۔(ت)
اقول:امام سفین ثوری کتاب الفرائض اورعبدالرزاق مصنف اورسعیدبن منصور سنن میں عامرشعبی سے راوی:
قال کان علی کرم اﷲ تعالی وجھہ یرد علی کل ذی سھم سھمہ الا الزوج والمرأۃ۔ حضرت علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا ہرذی فرض پر اس کاحصہ رد کیاجائے گا سوائے شوہراوربیوی کے۔(ت)
سعیدبن منصور وبیہقی انہیں سے راوی:
ان علیارضی اﷲ تعالی عنہ قال فی ابن الملاعنہ ترك اخاہ وامہ لامہ الثلث ولاخیہ السدس ومابقی فھو رد علیھما بحساب ماورثا۔ بیشك حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ نے لعان والی عورت کے ایسے بیٹے کے بارے میں فرمایاجو ایك بھائی اور ماں چھوڑکرمرگیاکہ اس کی ماں کاحصہ کل مال سے تہائی ہے جبکہ بھائی کاحصہ چھٹاہے اورجوباقی بچا وہ ان دونوں پران کے میراث والے حصہ کے حساب کے مطابق رد ہوگا۔(ت)
امام اجل طحاوی سویدبن غفلہ سے راوی:
ان رجلا مات وترك ابنۃ ایك مرد فوت ہوا جس کے پسماندگان میں ایك بیٹی
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۷€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض ∞حدیث ۹۱۱۲۸€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/ ۲۸۶€
السنن الکبری کتاب الفرائض باب میراث ولدالملاعنۃ دارصادربیروت∞۶/ ۲۵۸€
بیہقی نے اسے مختصرا روایت کیا:
کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یعطی الابنۃ النصف و المرأۃ الثمن ویرد مابقی علی الابنۃ۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ مرنے والے کی بیٹی کوکل مال کانصف اوربیوی کوکل مال کاآٹھواں حصہ دیتے تھے اورباقی کو بیٹی پرردفرمادیتے تھے۔(ت)
سعیدبن منصورنے امام شعبی سے روایت کی:
انہ قیل لہ ان اباعبیدۃ ورث اختا المال کلہ فقال الشعبی من ھو خیر من ابی عبیدۃ قد فعل ذلك کان عبداﷲ بن مسعود یفعل ذلک۔ حضرت ابوعبیدہ کے بارے میں امام شعبی کوکہاگیاکہ انہوں نے بہن کوکل مال کاوارث بنایاہے توامام شعبی نے فرمایاکہ جوابوعبیدہ سے بہترہے اس نے ایساکیاہے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ایساکرتے تھے۔(ت)
سنن بیہقی میں ہے:
عن جریر عن المغیرۃ عن اصحابہ فی قول زید بن ثابت وعلی بن ابی طالب جریر نے مغیرہ سے انہوں نے آپ کے اصحاب سے حضرت زیدبن ثابتحضرت علی بن ابی طالب
السنن الکبرٰی کتاب الفرائض باب المیراث بالولاء دارصادربیروت ∞۶/ ۲۴۲€
کنزالعمال برمزص ∞حدیث ۳۰۵۶۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/ ۴۶€
عبدالرزاق نے حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
انہ قضی فی ام واخ من املاخیہ السدس ومابقی لامہ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے ماں اور اخیافی بھائی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بھائی کو چھٹاحصہ اور باقی سب ماں کوملے گا۔(ت)
کیاامیرالمومنین مولی علی وسیدنا عبداﷲ بن مسعود وعامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے عہد کرامت عہد میں بھی بیت المال فاسد تھا۔
ثالثا: احادیث صحاح وحسان سے گزرا کہ خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اصحاب فرائض پررد فرمایا معاذاﷲ کیا زمانہ اقدس میں بھی انتظام بیت المال نہ تھا ایسے مسئلہ جلیلہ کوکہ عہدرسالت وزمانہ صحابہ سے ثابت ومستمرہے آخرزمانہ کے فساد پرمبنی کرناکس درجہ نادانیاوردانستہ ہوتوکیسی سخت بے ادبی ہے۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فائدہ۲۱:امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے رد علی الزوجین ثابت نہیں وقائع عین موردہرگونہ احتمال ہوتے ہیں شوہر جبکہ چچا کابیٹا اورتنہاوارث ہوکل مال پائے گا نصف فرضا نصف عصوبۃ اسے رد سے کیاعلاقہ۔درمختارمیں ہے:
قال عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ یرد علیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا زوجین پر بھی رد کیاجائے گا۔مصنف وغیرہ نے ایساہی کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں اس پرجزم کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے۔(ت)
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض باب الخالۃ العمۃ الخ ∞حدیث ۱۹۱۱۷€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/ ۲۸۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
بل الذی صح عنہ الرد علی الزوج فقط وتاویلہ ان کان ابن عم فاعطاہ الباقی بالعصوبۃ۔ بلکہ ان سے جومرتبہ صحت کوپہنچاہے وہ فقط خاوند پرردہے جس کی تاویل یہ ہے کہ وہ خاونداپنی بیوی کاچچازادتھاچنانچہ آپ نے باقی اس کو بطورعصبہ عطافرمایا۔(ت)
بلکہ امام ابراہیم نخعی سے منقول کہ صحابہ کرام میں کوئی بھی ردعلی الزوجین کاقائل نہ تھا طحطاوی میں عجم زادہ علی الشریفیہ سے ہے:
نقل عن ابراھیم النخعی انہ لم یکن احد من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول انہ یردعلی الزوجین اھ اماقولہ خبرالمثبت اولی فاقول: الشان اولا فی الثبوت روایۃ واین الثبوت وثانیا درایۃ لما علمت من تاویلہ۔ ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ اصحاب رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں سے کوئی ایك بھی نہیں کہتاتھا کہ زوجین پررد کیاجائے گا اھ لیکن اس کاقول کہ خبرمثبت اولی ہے۔تو میں کہتا ہوں کہ اولا ثبوت میں روایت ہےاورکہاں ہے ثبوت۔ثانیا درایت ہے جس کی تاویل توجان چکاہے۔(ت)
اوربالفرض امیرالمومنین سے منقول ہے تویہ کہ زوجین پربھی رد فرماتے ہیں یہ اصلا کہیں نہیں کہ اورکوئی رشتہ دارمتوفی نہ ہوتو اس وقت ردعلی الزوجین کرتے ہیں امیرالمومنین کی طرف اس کی نسبت باطل وفریہ محض ہے۔
فائدہ۲۲:عول پرقیاس سے ہمارے علمائے کرام جواب شافی دے چکے۔ تبیین الحقائق میں ہے:
ادخال النقص علی الزوجین بالعول مما یوافق الدلیل النافی لارثھما لان ارثھما ثبت بالنص علی خلاف القیاس واخذ الزیادۃ مما یخالف زوجین پرعول کی وجہ سے کمی کاآنا اس دلیل کے موافق ہے جو زوجین کی میراث کے منافی ہے۔کیونکہ ان کاوارث بنناخلاف قیاس نص سے ثابت ہے اورزوجین کازائدکولینا اس
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴/ ۳۹۴€
اسی میں ہے:
الرد علی ذوی السھام اولی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت وارثھما نظیرالدین فان صاحب الدین لایرد علیہ مافضل بعد قضاء الدین فکذا لایرد علیھما مافضل من فرضھما اھ اقول:ای واذاضاق المال عن الدیون دخل النقص علی کل دائن بحساب دینہ فکذا الزوجان ینقصان ولایزادان۔ ذوی الفروض پرردذوی الارحام سے اولی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرابت رکھتے ہیں سوائے زوجین کےکیونکہ ا ن کی میت کے ساتھ کوئی قرابت نہیں ہوتی۔اوران کاوارث بننا قرض کی طرح ہےتو جس طرح قرض کی ادائیگی سے بچا ہوا مال صاحب قرض پرردنہیں کیاجاتا اسی طرح زوجین کے فرضی حصوں سے بچاہوامال ان پردنہیں کیاجائے گا اھ میں کہتاہوں جب ترکہ کامال قرضوں سے کم ہوجائے تو ہرصاحب قرض پر اس کے قرض کے حساب سے کمی واقع ہوتی ہے اسی طرح زوجین کے حصے کم تو ہوجاتے ہیں مگرزائدنہیں ہوتے۔(ت)
روح الشروح پھرطحطاوی پھرشامی میں ہے:
میراث الزوجین علی خلاف القیاس لان وصلتھما بالنکاح وقد انقطعت بالموت وماثبت علی خلاف القیاس نصا یقتصر علی مورد النص ولانص فی الزیادہ علی فرضھما زوجین کی میراث خلاف قیاس ہے کیونکہ ان دونوں کااتصال نکاح کی وجہ سے ہے جوموت کے سبب سے ختم ہوچکا ہے۔ اورجوکچھ خلاف قیاس نص سے ثابت ہو وہ موردنص میں منحصر رہتاہے اورزوجین کے فرضی حصوں سے زائد
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/ ۲۴۲€
فائدہ۲۳:اقول:ردعلی الزوجین کاماننا دوطرح ہےایك یہ کہ اسے حق اصلی مستقل ردعلی اصحاب السہام النسبیہ ماناجائے دوسرے یہ کہ اس کاکوئی حق خاص نہیں مال ضائع بلامستحق ہے اورایسے مال کاٹھکانابیت المال مگروہ اب فاسد ونامنتظم ہے لہذا بیجامصارف میں صرف ہونے سے یہی بہترہے کہ زوجین کودے دیاجائے کہ میت سے بہ نسبت نرے بیگانوں کے اقرب ہیں اول کی علت عول پرقیاس ہے کہ جب وقت تنگی انہیں ان کے حق سے کم ملتاہے تو وقت بیشی انہیں بھی اورذوی الفروض کی طرح زائدملناچاہئے کہ الغنم بالغرم نقصان اٹھائیں تونفع بھی پائیںاوردوم کی علت فساد بیت المال ہےیہ دونوں علتیں باہم متضاد ہیں جن کا اجتماع محال ہےپہلی کامقتضی ان کااستحقاق ہے اوردوسری کامقتضی عدم استحقاق کہ اصل موضع بیت المال مانا اور اس کے فساد کے سبب ایك طرف پھیرا اوربیت المال اسی مال کامحل ہے جس کاکوئی خاص مستحق نہ ہو تو ان دونوں کوجمع کرنا جمع بین الضدین ہےہمارے علماء نے کہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس روایت کوثابت نہ مانایاقول عام صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کو اس پر مرجح جانا اورقیاس علی العول کوبے محل بتایاردعلی الزوجین نہ ماناانہیں ان کا مستحق نہ جانا بیت المال تك جمیع مراتب کو اس پرمرجح رکھا ہاں جب بیت المال میں فسادآیا بضرورت اخیردرجہ انہیں اورایك درجہ بنت معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی کودلایا اگرہمارے علماء روایت مذکورہ کوامیرالمومنین سے ثابت مان کر اس مسئلہ میں برخلاف عامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم ان کی تقلید فرماتے یہ قیاس علی العول کوصحیح وماخوذٹھہراتے توفساد بیت المال سے ہرگزتعلیل نہ کرتے نہ ذوالارحام سے لے کرموصی لہ بالزائد تك تمام مراتب نازلہ الرد کو اس پرتقدیم دیتے کہ اب وہ بالاستقلال مثل فرض باقی کے بھی مستحق ٹھہراتے تومثل فرض اس حق میں بھی تمام نازلات عن الرد
وھذا کلہ واضح جدا عند من الم بالفقہ الماما ونظر بالانصاف ماقدمنا اوالقی السمع وھو شھید۔ یہ سب کچھ اس شخص کے نزدیك خوب واضح ہے جس کو فقہ سے کچھ تعلق ہے اوروہ ماقبل میں مذکورہمارے بیان کو انصاف کی نظرسے دیکھے یاکان لگائے اس حال میں کہ متوجہ ہو۔(ت)
فائدہ۲۴:اقول:درمختار میں اول اپنے ائمہ کامذہب بیان فرمایاکہ زوجین پرردنہیں پھر یہ کہ امیرالمومنین سے ردمنقول ہوا پھر یہ کہ امیرالمومنین سے اس کے ثبوت میں کلام ہےپھر یہ کہ فساد بیت المال کے باعث ہمارے زمانہ میں ان پررد کردیں گےاس سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے درجہ میں اوران کے ساتھ ردعلی الزوجین کے ہر گزقائل نہیں کہ وہ درجہ استحقاق کاہے اوریہ درجہ اس مال کاہے کہ ضائع وبلامستحق ہو کما علمت ماقدمنا(جیساکہ توجان چکاہے اس بیان سے جس کوہم پہلے ذکرکرچکے۔ت)مستحق ونامستحق کوایك درجہ میں ٹھہرادینا کیساباطل فاحش ہے نیز عبارت در مختار سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی الزوجین کوسب میں اخیر مرتبے یعنی بیت المال منتظم سے بھی پیچھے رکھتے ہیں کہ بحال فساد انہیں دیتے ہیںروشن ہواکہ فساد نہ ہوتوانہیں نہ دیاجائے گا بلکہ بیت المال ہی میں رکھاجائے گا عبارت درمختار میں یہ دوقاہردلیلیں نہ ہوتیں جب بھی ہمارے علماء کااجماع ہے کہ القران فی الذکر لایستلزم القران فی الحکم (ذکرمیں اقتران کو حکم میں اقتران لازم نہیں۔ت)تمام کتب میں اسے تعلیلات فاسدہ سے ٹھہرایا ہے نہ کہ ان روشن براہین کے ہوتے ہوئے یہاں ذکر کرنے سے یہ گمان فاسدلیجانا کہ علماء ردعلی الزوجین کو ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجے میں اور اسی کے ساتھ مانتے ہیں ورنہ یہاں بیان نہ آتا یہ اولا سخت جہل شدید ہے کہ ادنی طالبعلم سے بھی بعیدہے۔ثانیا اب معنی عبارت درمختار یہ ہوں گے کہ ازانجاکہ بیت المال فاسد ہوگیا لہذا علماء نے ردعلی الزوجین اصلی مرتبہ ردمیں رکھ دیااورذوی الارحام ومن تحتہم سب پرمقدم کردیا یعنی فاسد توہوگا بیت المال اورمارے جائیں گے ذوی الارحام ومولی الموالاۃ ومقرلہ وموصی لہ بالجمیع سب کے سبگناہ ہوگا ایك سے اورپکڑے جائیں گے پانچیہ کون سی شریعت ہےبفضلہ تعالی درمختارتوایسے جنون سے منزہ ہے زیادہ کیاگزارش ہو۔
فائدہ ۲۵:اقول:بفضلہ تعالی یہ مسئلہ ہم نے ایسے طورسے بیان کیاجس میں کسی
الذخیرۃ ان الفاضل من سھام الزوجین لایوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الی المیت من جہۃ السبب من غیرھما وکذا الابن والبنت من الرضاع انتھی روح الشروح وفی حاشیۃ المولی عجم زادہ عن الخانیۃ ذکرالامام عبدالواحد الشھید فی فرائضہ ان الفاضل عن سہام الزوج والزوجۃ لا یوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الناس الی المیت من جھۃ السبب فکان الدفع الیھما اولی من غیرھما انتھی وقولہ لایوضع فی بیت المال کقول الذخیرۃ السابق یدل علی ان الدفع الیھما متعین لا ان الدافع مخیربین الدفع الیھما والی بیت المال کما توھمہ اخرا لعبارۃ بل ربما یکون المراد انھما اولی من نحو الجیران لما جری بینھما من الزوجیۃ ۔(ملخصا) ذخیرہ میں ہے زوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والا مال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ زوجین کودے دیاجائے گا کیونہ وہ بنسبت غیرکےسبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں۔یہی حکم رضاعی بیٹے اور رضاعی بیٹی کا ہے انتہی روح الشروح۔مولی عجم زادہ کے حاشیہ میں خانیہ سے منقول ہےامام عبدالواحد شہیدنے اپنے فرائض میں ذکرکیاکہ خاوند اوربیوی کے فرضی حصوں سے بچاہوامال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ ان ہی کو دے دیاجائے گا کیونکہ وہ سبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں بنسبت غیرکےلہذا ان کودینا غیرکودینے سے اولی ہے انتہی۔امام عبدالواحد کاقول مثل ذخیرہ کے قول کے کہ "بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا"اس بات کی دلیل ہے کہ زوجین کودینامتعین ہے۔ایسانہیں کہ انہیں دینے یابیت المال میں رکھنے کااختیارہے جیساکہ عبارت کے آخرسے وہم ہوتا ہے بلکہ بسااوقات مراد یہ ہوتی ہے کہ زوجین پڑوسیوں کی بنسبت اولی ہیں کیونکہ ان میں زوجیت کاتعلق جاری ہوا ہے۔(ت)
فائدہ۲۶:اس سے بھی سیری نہ ہو تومستصفی پھرمعراج الدرایہ پھرعلامہ شامی کاارشاد:
الفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدم المستحق لعدم بیت المال اذ الظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ۔ آج کے زمانہ میں فتوی اس پرہے کہ زوجین پرردکیاجائے گاکیونکہ بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے مستحق معدوم ہے اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کو اس کے مصرف پر خرچ نہیں کرتے۔(ت)
صریح جزئیہ ہے زوجین پر رد اس وقت بتاتے ہیں جب کوئی مستحق نہ ہو اورشك نہیں کہ موصی لہ بالزائد مستحقین سے ہے اگراس میں بھی شك ہوتو یہی علامہ شامی موصی لہ بالزائد کی نسبت فرماتے ہیں:
ان المراد انہ یاخذ الزائد بطریق مرادیہ ہے کہ وہ بطور استحقاق زائدمال
توصاف روشن ہواکہ موصی لہ بالزائد کے ہوتے ردعلی الزوجین نہ ہوگا۔فتوی۴ نے کہ یہ عبارت درمختار:
ثم مولی الموالاۃ ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین۔ پھرمولی الموالاۃ اوروہ زوجین کے فرضی حصے سے بچ جانے والا مال لے گا۔(ت)
اوریہ عبارات شامی پیش کیں کہ ذوی الارحام کوفرمایا:
یاخذون کل المال اومابقی عن احد الزوجین لعدم الرد علیھما۔ وہ کل مال لیں گے یازوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والامال لیں گے کیونکہ ان پرردنہیں ہوتا۔(ت)
مولی الموالاۃ کوفرمایا:
ان وجداحد الزوجین فلہ الباقی عن فرضہ۔ اگرزوجین میں سے کوئی ایك موجودہوتو اس کے فرض حصہ سے جوباقی بچاوہ مولی الموالاۃ کوملے گا۔(ت)
مقرلہ کو فرمایا:
اذا کان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۔ اگرزوجین میں سے کوئی ایك موجودہے تواس کو فرضی حصہ دے کرجوبچ گیا وہ مقرلہ کودیاجائے گا۔(ت)
یہ البتہ کافی نہ تھیں اورمخالف کوان پرصریح گنجائش تھی کہ یہ قول ائمہ متقدمین پرہے جوزوجین پرردنہیں مانتے الاتری الی قولہ لعدم الرد علیھما(کیاتو اس کے قول کونہیں دیکھتا کہ زوجین پرردنہیں۔ت)اسی طرح مقرلہ کی نسبت یہ ارشاد علامہ شامی پیش کیا:
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۳€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۸۷€
اوراس سے استنباط کیاکہ وصیت بالزائد ردعلی الزوجین پرمقدم ہے اس کابھی اولا وہی جواب تھاواقول:ثانیا یہ اقراراگرچہ قضاء معنی وصیت میں ہوا اس لئے کہ اس کانسب ثابت نہ ہو اورنہ درجہ نسب میں جاکر مزاحم ورثہ ہوتا کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ت)مگروصیت اجنبی محض سے ضرور اقوی ہے کہ دیانۃ احتمال صدق مقر رکھتا ہے ولہذا اسے ایك نوع قرابت گنتے ہیں۔سیدعلی السراجیہ ومجمع الانہرودرمختار وفتح المعین وغیرہا میں ہے:
وانما اخر ذلك عن المقر لہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔ تہائی سے زائدمال کے موصی لہ کومقرلہ سے مؤخر اس لئے کیاکہ مقرلہ کوایك قسم کی قرابت حاصل ہے بخلاف موصی لہ کے۔(ت)
لاجرم وباجماع حنفیہ موصی لہ بالزائد سے اقوی اوراس پرمرجح وبالاہے توردعلی الزوجین پراس کی تقدم تقدیم وصیت بالزائد کومستلزم نہیں لیکن کلام مذکور مستصفی کسی طرح اس تاویل کو قبول نہیں کرتا کہ یہ مذہب متقدمین کے موافق ہے یہاں توخاص مسلك متاخرین ہی بیان فرمارہے ہیں توقطعا واضح ہواکہ متاخرین اگرچہ ردعلی الزوجین کے قائل ہوئے مگرجبکہ موصی لہ بالزائد بھی نہ ہو ورنہ عدم ردعلی الزوجین پرحنفیہ کرام کااجماع ہے اسانید پیش کردئیے فتوی۴ میں صرف ایك یہی سند مستصفی مصفی ومستصفی ہے۔
فائدہ۲۷:اقول:اگراس سے بھی تسکین نہ ہوتو حاشیہ درمختار میں علامہ سیدطحطاوی کا ارشاد لیجئےعبارت مذکورہ درمختار یردعلیھم اجماعا لفساد بیت المال (بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے بالاجماع ان پررد کیاجائے گا۔ت)پرفرماتے ہیں:
محل ھذا التعلیل القول بالرد علی الزوجین وبنات المعتق وارحامہ فانہ اذا لم یکن من مراتب المستحقین اس تعلیل کامحل زوجینمعتق کی بیٹیوں اوراس کے ذوی الارحام پرردکاقول ہے کیونکہ جب مستحقین کے مراتب میں سے کوئی نہ رہا سوائے بیت المال
الشریفیۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہورص۱€۱
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱€
کیسی صریح تصریح ہے کہ اصحاب فرائض بلکہ تجہیزوتکفین سے بیت المال تك جتنے مراتب بیان کئے گئے ان میں سے بیت المال کے سوا کوئی مرتبہ موجودنہ ہوتو اس وقت متاخرین کے نزدیك زوجین پررد کرتے ہیں موصی لہ بالزائد کابھی ان مراتب میں ہونا ایسی بات نہیں جس میں کوئی آنکھوں والاشبہہ کرسکےتوصاف روشن ہواکہ موصی لہ بالزائد بھی اگرنہ ہوگا توسب سے اخیردرجے زوجین پررد کریں گےاب اتناباقی رہ گیاکہ کتاب میں صاف نام لے کر لکھاہوتا کہ شاہ محمد کی وصیت زائدہ عالم خاتون پر رد سے مقدم ہے ایساجزئیہ البتہ نہیں مل سکتا نسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
تفریعات
(۷۱تا۷۴)فتوی۱۳۶۸ کاموصی لہ بالزائد کے ہوتے زوجہ پرردکرنا اجماع جمیع ائمہ کاخرق اورمحض ایجادبندہ ہے
" ما انزل اللہ بہا من سلطن "" (اﷲ تعالی نے اس پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ت) اتنے امرمیں یہ چاروں فتوے مشترك ہیں۔
(۷۵تا۷۸)موصی لہ بالزائد کامرتبہ ہرغیروارث سے مقدم ہے اورزوجین ماورائے ربع ونصف میں وارث نہیں کما فی الفائدۃ الرابعۃ عشر(جیساکہ چودھویں فائدہ میں ہے۔ت)ان چاروں نے عکس کیا۔
(۷۹تا۸۲)چاروں نے تصریحات کتب معتمدہ کاصریح خلاف کیا کما فی الفوائد الثلثۃ الاخیرۃ(جیساکہ آخری تین فوائدمیں ہے۔ت)
(۸۳تا۸۶)چاروں نے ردعلی الزوجین کوسب وارثوں سے مؤخر اورموصی لہ بالزائد پرمقدم کیا کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر (جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت)یہ ترتیب نوساختہ متقدمین متاخرین تمام عالم میں کسی کے مسلك پرمنطبق نہیں۔
القرآن الکریم ∞۱۲/ ۴۰€
(۹۰تا۹۲)فتوی۱ کاقول مذکوربعدادائے حصہ وصیت جس قدربچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔اقول:حصہ وصیت سے مراد وصیت بالغۃ مابلغت ہے یاصرف ثلث مال تکاول عین مراد اورخود اپنے فتوی کا راد ہے واقعی ثلث یانصف یاا س سے بھی زائد جتنی وصیت موصی لہ کی ہے وہ ثلث تك ترجیحا نافذ ہوگی پھرزوجہ اپنا فرض پائے گی پھرباقی وصیت تمام وکمال نافذکریں گے اس کے بعد بھی اگرکچھ بچے اورکوئی مستحق نہ ہو تو یہ باقیماندہ زوجہ پررد کریں گے یہاں کہ شاہ محمد کے لئے وصیت قدرثلث سے بہت زائد تھی صرف مقدار ثلث پر محدود کرکے دوتہائی زوجہ کو دلادینا باطل محض ہوا اوربرتقدیر ثانی اگر مراد وہ صورت ہے کہ وصیت ہی ثلث سے زائد نہ ہوجب بھی صحیح اورخود اپنے فتوی کاردنجیح ہے واقعی تہائی سے زیادہ وصیت ہی نہ کی ہوتوجتنی وصیت ہے موصی لہ کوپھراحدالزوجین کاحصہ مقررہ اس کودے کرباقی کاجب کوئی مستحق نہیں احدالزوجین پررد کردیں گے مگریہاں تو وصیت ثلث سے زائدتھی وہ زوجہ پرکیونکر ردہوئیاوراگرمرادعام ہے کہ اگرچہ وصیت ثلث سے زائد یاجمیع مال کی ہوصرف ثلث وصیت دیں گے باقی سب زوجہ کوپہنچائیں گے ربع فرضا وباقی ردا اوربے شك یہی مراد مفتی ہے تویہ قطعا باطل محض اوردرمختار وردالمحتار اوروغیرہ تینوں پرافتراہے کسی کتاب معتمدمیں ہر گز صاف نہیں لکھاکہ وصیت زائد علی الثلث اور زوجہ ہوتووصیت صرف ثلث تك نافذکرکے باقی سب زوجہ کو دیں گے۔
(۹۳تا۱۰۱)فتوی۳ وفتوی۶ وفتوی۸ ہرایك نے تین عبارتیں نقل کیں جوصریح اس کا رد تھیں اورنادانستہ انہیں اپنی سندبنایا کما فی الفائدۃ الثانیۃ عشر(جیساکہ بارہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۲۱۰۳)فتوی۶۸ نے ردعلی الزوجین کومرتبہ رد مان کر رد کی چارصورت مجمع علیہا سے جن میں خلاف کی بواصلا کسی کتاب متقدم یامتأخر میں نہیں دوصورتیں صاف کردیں کما فی الفائدۃ الخامسۃ عشر(جیساکہ پندرھویں فائدہ میں ہے۔ ت)فتوی۸ میں تو اس کی تصریح ہے اورفتوی۶ نے قیاس علی العول پربڑا زوردیااوراس سے مرتبہ رد میں رکھنا صاف لازم
(۱۰۴۱۰۵)فتوی۶۸ پرلازم کہ زوج وزوجہ کے ساتھ تمام ذوی الارحام کوہمیشہ محروم کریں اوریہ اجماع حنفیہ کے خلاف ہے کما فی الفائدۃ السادسۃ عشر(جیساکہ سولہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۶۱۰۷)بااینہمہ فتوی۶۸ کاماننا کہ متوفی کے اقارب سے کوئی بھی موجودہوتو زوجین پررد نہ کریں گے صریح تناقض ہے کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر(جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۸)فتوی۶ کابرخلاف مذہب وبرخلاف عامہ صحابہ کرام روایت منسوبہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالی عنہم سے استناد مخدوش ہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین(جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۹۱۱۰)فتوی۶ کابرخلاف مذہب قیاس علی العول پراعتماد محض مردودائمہ مذہب کے روشن جوابوں سے آنکھیں بند کرکے خودحکم مذہب کوبے وجہ اوراس پرعمل کو روایت ودرایت دونوں کے برخلاف کہناسخت ودریدہ دہنی وجسارت مطرود۔کما فی الفائدۃ الثانیۃ والعشرین(جیساکہ بائیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۱)فتوی۶ کاقول کہ اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو بچاہوا ترکہ احدالزوجین کودیں گے یہی قول حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہے امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ پرافتراء کی حد کو پہنچاہے امیرالمومنین سے اس قید کے ساتھ ہرگز یہ کہیں منقول نہیں۔کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین(جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۲)فتوی۸ کاقول کہ درمختار سے معلوم ہوتاہے کہ اس میں ردعلی الفروض النسبیہ کی دلیل میں بھی فسادبیت المال ہی کوپیش کیا ہے محض نافہمی ہے۔کما فی الفائدۃ التاسعۃ عشر(جیساکہ انیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۳)فتوی۸ کازعم مذکور کہ ذوالفروض النسبیہ پرردکی علت ہمارے مذہب میں بھی فسادبیت المال ہے محض باطل وخیال محال ہے کما فی الفائدۃ العشرین والثالثۃ والعشرین(جیساکہ بیسویں اورتئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۴۱۱۵)فتوی۸کاقول کہ درمختارکی عبارت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردہی کے
(۱۱۶)فتوی۸ کاقول مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہو تو ردعلی الزوجین ہوگا ورنہ نہیں اورمیرے خیال میں یہ کسی کامذہب نہیں اپنی سخت ناواقفی کااظہار اورکمال نادانی کااقرارہے جو اس کے خیال میں کسی کامذہب نہیں قطعا وہی مسلك متاخرین ہے اورجواس کے خیال میں مختارمتأخرین ہے قطعا کسی حنفی کامسلك نہیں کما ظھر وزھر اظھروازھر من الشمس والقمر(جیساکہ ظاہروروشن ہوااورسورج وچاندسے بڑھ کر ظاہراورروشن ہواہے۔ت)
(۱۱۷تا۱۲۱)فتوی۴ نے جو پانچ عبارات درمختار وردالمحتار پیش کیں سب بے محل وناکافی تھیں کما فی الفائدۃ السادسۃ و العشرین(جیساکہ چھبیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۲)فتوی۴ کی عبارت اخیرہ سے استنباط ہرگزنہیں کمافیھا۔
(۱۲۳)فتوی۴ کاقول سیدناامیرالمومنین ذی النورین کی حدیث اوران سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کا ماعلیہ اورشامی میں جواب مبین ہے تاہم قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کوبالراس والعین منظورہے مگر رد علی الزوجین کا موقع ملحوظ نہ کرنا اورموصی لہ بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل ونقل ہے جب اسے مذہب امیرالمومنین مان لیا اوراسے اورعول پرقیاس کوبالراس والعین منظورکرلیا تواب ردعلی الزوجین آپ ہی مرتبہ رد میں آگیا اوراسے مان کراسے موصی لہ بالزائد سے مؤخرٹھہرانا ہی خلاف عقل ونقل ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ والعشرین(جیساکہ تئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۴)فتوی۴ کاقول ہمارے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مرارا یہ بیان فرمائی ہے لفساد بیت المال وہ قول اورقیاس عول تسلیم کرکے اس کے جواب میں یہ تعلیل پیش کرناخلط مبحث وجمع بین الضدین ہے کمافیھا۔
تنبیہ:اگرچہ فتوی۴ نے بھی جا بجاموصی لہ بجمیع المال سے بحث کی اوراسی کانام لیا جس سے ظاہر کہ شاہ محمدکاموصی لہ بالجمیع ہونا اسے بھی مسلم حالانکہ اس کاثبوت نہیں کما تقدم(جیسے کہ پیچھے گزرا۔ت)مگرازانجاکہ فتوی۴ مقدمہ دائرہ کابیان احکام نہیں
الحمدﷲ تحقیق اپنے ذروہ علیا کوپہنچی اورتمام مسائل متعلقہ کاانکشاف منتہی کو۔اب بتوفیقہ تعالی جواب سوالات کی طرف توجہ کریں اورصرف بیان حکم پرقناعت اکثرحکم کی دلیل وسند افادات میں واضح ہوچکیوﷲ الحمد۔
جواب استفتائے چیف کورٹ بہاولپور
(ا)اجنبی کے نام وصیت ثلث متروکہ بعداداء دین تك مطلقا نافذہے اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں اورزائدعلی الثلث میں بے اجازت ورثہ نافذ نہیں اگروارث احدالزوجین کے سواہو اوراگرصرف احدالزوجین وارث ہوتو ثلث تك وصیت اجنبی تقدیما نافذہوگی پھرباقی کاربع یانصف زوجہ یازوج کودے کر مابقی میں بقیہ وصیت اجنبی نافذکریں گے اگرچہ زوجہ یازوج اجازت نہ دےرہی وصیت وارث وہ بے اجازت ورثہ مطلقا نافذنہیں اوراگرتنہا وہی وارث ہوتواس کے لئے وصیت صحیح ہےپھراگراس کے ساتھ کسی اجنبی کے لئے وصیت بھی نہیں تووارث اگرغیرزوج وزوجہ ہے توکل مال بحکم میراث لے لے گا اسے وصیت کی حاجت نہیںاور اگرزوج یازوجہ ہے توپہلے اپنافرض لے کرباقی میں اس کی وصیت عمل کرے گی اب بھی کچھ بچاتو اسی کوبحکم رد ملے گا۔اوراگرکسی اجنبی کے لئے بھی وصیت ہے تواگراس نے وصیت وارث کو قبول کرلیا حق تقدم کہ وصیت اجنبی کو ملتا ساقط ہوگیا ورنہ اجنبی کی وصیت ثلث مال تك اول نافذکرکے باقی سے وارث کومیراث دیں گے اگروہ وارث غیر احد الزوجین ہے کل باقی ارثا لے لے گا اورخود اس کے لئے جووصیت تھی نفاذکامحل نہ پائے گیاوراگراحدالزوجین ہے تو اس باقی سے اس کا فرض ربع یانصف دے کراس کے بعد جوبچے اس میں اس کی وصیت اوراگراجنبی کی وصیت ہنوزناتمام رہی تھی تو اس کے ساتھ بھی دونوں حسب حصص نافذ ہوں گے ان سے کچھ نہ بچاتوظاہرورنہ جوباقی رہا احدالزوجین کوبحکم رددے دیں گے۔
(ب)اس کاجواب سوال اول میں آگیا۔
(ج)اس کے بھی فقرہ اول کاجواب ہوگیااوردوم کاجواب کہ بعدادائے دین جس قدر
(د)وصیت اجنبی بمازادعلی الثلث ردعلی الزوجین پرشرعا باجماع ائمہ حنفیہ مقدم ہے اقوال اقتباس شدہ میں جوخلل وزلل ہیں اوپرواضح ہوچکے۔
(ہ)اس کامفصل جواب شافی ووافی افادہ ثانیہ عشرہ میں گزرا اورنصوص صریح سے ثابت کردیا کہ متاخرین کے نزدیك بھی ردعلی الزوجین کامرتبہ وصیت زائدہ سے دودرجے مؤخرہے واﷲ تعالی اعلم۔
جواب استفتائے ججی خانپور
(۱)ہاں یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراس سے جواز وصیت پرکوئی اثرخلاف نہیں پڑتا۔
(۲)اگرثابت ہوکہ مدعیہ بعد وفات شوہروصیت شاہ محمد کوقبول کرچکی تھی جیساکہ شاہ محمدکادعوی ہے توبے اعتراض مدعیہ محض نامسموع اورشاہ محمد کے لئے وصیت اپنی اخیر حد تك جائزونافذ ورنہ اعتراض کااتنااثرہوگا کہ ثلث کل مال بعداداء الدین کی حد تك صرف مکانات واثاث البیت میں وصیت شاہ محمد نافذکرکے باقی کل مال مکان واسباب وغیرہ سب کاربع زوجہ کودیں گے پھرصرف باقی مکانات واثاث البیت شاہ محمد کوبحکم وصیت ملیں گے باقی جوکچھ بچا سب زوجہ کاہوگا وصیۃ خواہ ردا۔
(۳)ان زیوروں سے مدعاعلیہ کوکسی حال کوئی ذرہ نہیں مل سکتا وہ تمام وکمال عالم خاتون کے ہیں انہیں چھوڑکر باقی تمام مال کے لحاظ سے جواب نمبر۲ کاحکم جاری کریں گے مگرمکانات واثاث البیت کے سواکوئی اور زیورمتروکہ بھی شاہ محمد کے پاس ہے جیساکہ دعوی زوجہ ہے تو اس میں سے شاہ محمد کوحصہ نہ دیں گے اس کاحصہ صرف مکانات واثاث البیت میں ہوگا۔
(۴)اخراجات تجہیزوتکفین کابارترکہ خواہ عالم خاتون کے حصے پرہونے کایہاں کچھ ثبوت نہیں بلکہ صورت روداد سے ظاہرکہ وہ صرف ایك تبرع تھا کہ شاہ محمدنے اپنے محسن کے ساتھ اس کی درخواست پرکیا۔
(۶)ہاں ظروف میں بھی وصیت استعمال زوجہ کے لئے جائزہوئی اگرچہ بروئے جواب نمبر۲ کچھ حصہ ظروف کی وہ مالك مستقل ہوجائے اورحق متوفی میں رہنے کی شرط اس وصیت میں نہ تھی یہ وصیت تاحیات زوجہ نافذرہے گی اگرچہ وہ نکاح ثانی کرلے اوراس کانفاذ اسی طورپر ہوگا کہ بحال قبول وصیت دوثلث کل ظروف ورنہ بعداخراج وصیت تاحدثلث مال واخراج حصہ ربع باقی میں نافذہوگی اوربہرحال خاص موقع محفل امامین شہیدین کہ جس قدرظروف کہ شاہ محمدکوضرورت ہواتنے اس وقت خا ص میں اس وصیت زوجہ سے مستثنی ہوں گے۔
(۷)جوحصہ مال میں جس کاہے اس کے عین سے ا س کودیاجائے گا قیمت لینادینا صرف رضامندی ہردوفریق پرمنحصرہے اس میں حاکم کوکسی چیزکااختیارنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حکم اخیر
(۱)(سماعہ عہ)کہ وہ زیورتمام وکمال عالم خاتون کے ہیں شاہ محمدخاں کااس میں کچھ حق نہیں اور ازانجاکہ وہ ان میں ملك عالم خاتون تسلیم کرکے عالم خاتون کوتسلیم کرچکا اب وہ نفاذ وصیت شاہ محمد خاں کے لئے ثلث مال میں محسوب بھی نہ ہوں گے۔
(۲)وہی زیور حسب اقرار زوجہ مہرزوجہ میں ہیں اس سے زائد کسی تفتیش کی حاکم کوحاجت نہ بلادعوی قضاکی اجازت۔
(۳)خرچ تجہیزوتکفین شاہ محمدخاں نے تبرعا کیالہذا ترکہ اس بار سے بھی بری ہوا اب نہ رہی مگر عالم خاتون کے میراث اورمکانات اثاث البیت میں مدعی ومدعاعلیہ دونوں کی وصیت مدعیہ کا دعوی کہ شاہ محمد کے پاس ترکہ کے اورزیوربھی ہیں شاہ محمد کادعوی کہ مدعیہ بعدوفات شوہراس کی وصیت کوقبول کرچکی ہےاب چار۴ صورتیں ہیں:
دوم:دونوں بے ثبوت رہیں۔
سوم:عالم خاتون کادعوی ثابت ہو اورشاہ محمدخاں کاپایہ ثبوت کونہ پہنچے۔
چہارم:اس کاعکس۔
صورت اولی میں جملہ مکانات واثاث البیت کامالك شاہ محمدخاں ہے اوران کے دوثلث سے انتفاع کاحق عالم خاتون کوہے مکانات سے تانکاح ثانی اوراثاث البیت سے مطلقا اگرچہ نکاح ثانی کرلے صرف ظروف بقدرضرورت محفل امامین رضی اﷲ تعالی عنہما اس وقت خاص میں مستثنی ہیں بہرحال اثاث البیت سے کوئی چیز مطلقا جب تك عالم خاتون زندہ ہے اوردوثلث مکانات سے جب تك وہ نکاح نہیں کرتی شاہ محمدخاں بیچ نہیں سکتارہا وہ دوسرازیور کہ شاہ محمدکے پاس ہے اس کی تنہا مالك عالم خاتون ہے ربع فرضا باقی ردا۔
صورت ثانیہ میں مکانات واثاث البیت کاایك سدس عالم خاتون کا پانچ سدس شاہ محمدخاں کے ہیں اورنصف مکانات واثاث البیت سے حسب تفصیل مذکور صورت اولی عالم خاتون کوحق انتفاع ہے اوراسی تفصیل سے اس نصف کے بیع کا شاہ محمدخاں کواختیارنہیں۔
صورت ثالثہ میں مکانات واثاث البیت اوروہ زیور دوم سب کی قیمت لگاکر اس کے ثلث کے حد تك شاہ محمدکو مکانات واثاث البیت سے دیاجائے باقی مکانات واثاث البیت اورکل زیور دوم ان سب کاربع عالم خاتون وراثۃ پائے اس کے بعد مکانات واثاث البیت میں حصہ رہا اس کے رقبہ کامالك شاہ محمدخاں اوربتفصیل سابق اس کی منفعت کی مالك عالم خاتون اورتین ربع باقیماندہ زیوردوم عالم خاتون کوبحکم رد۔
صورت رابعہ کاحکم مثل صورت اولی ہے سوائے حکم زیوردوم کہ وہ اس صورت میں موجودنہیں۔
تنبیہ:ظاہرمرادیہ کہ متوفی کے ذمہ اورکوئی دین نہیں اس بناپریہ تمام تفاصیل ہیں اوراگر اوربھی دین ہوتواب یہ تحقیق بھی لازم ہوگی کہ وہ پہلے زیور کہ(سماعہ عہ)کابتایاگیا عالم خاتون کے
وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمدوالہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم امین والحمدﷲ رب العلمین۔ توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔اوراﷲ تعالی ہمارے سردارومالك محمدمصطفی اورآپ کے تمام آل واصحاب پردرود سلام اور برکت نازل فرمائےآمین۔اورتمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵۹: ازشہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمراحمدسوداگر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
ہندہ کے نہ ماں باپ بھائی بہن نہ اورکوئی رشتہ دارہے جوسوائے زیدکے وارث ہوہندہ کے پاس ذاتی اس کااسباب پندرہ بیس روپیہ کاتھا اوردوتین سوروپیہ کااسباب زیدکادیاہواہے جوزیدکے پاس ہےزید سے ہندہ نے اپنے مال کی بابت کچھ نہ کہا زیدنے ہندہ سے کہاکہ تم منت مانوکہ اچھے ہونے پرمیں کنواں بنواؤں گی اگرتم مرجاؤگی تومیں کنواں اورمرمت مسجد کرادوں گا تمہارے مال میں سے ایك حبہ نہ لوں گا میں جودے چکاوہ تمہاراہے میں وہ ان شاء اﷲ خیرات کردوں گا بلکہ اپنے پاس سے اورجومجھ کومیسرہوگا لگادوں گاہندہ نے اورشخصوں سے کہاکاش میں مرجاؤں تومیراکل مال بیچ کر مسجدیاکنواں بنادیناکہ مجھ کو ہمیشہ ثواب ملتارہےزید سے اس وجہ سے نہ کہا کہ زیدخود کہاکرتاتھا کہ میں تمہارا مال خیرات کردوں گاپس اس صورت میں زید وہ مال بیچ کر کنواں اوریامرمت مسجدکراسکتا ہے یانہیں کیونکہ سوائے زید کے اس کاکوئی وارث نہیں ہےکنواں بنوادینے کا زیادہ ثواب ہے یامرمت مسجدکا مردہ کوکس سے زیادہ ثواب ملے گا اور کس سے اسے زیادہ نفع ہوگا کیاحکم شریعت ہے
الجواب:
جومال ہندہ کا تھا وہ توتھا ہی جو زیدنے بنواکردیااس کی بھی ہندہ مالك ہوگئیبعد وفات ہندہ اس کے نصف کازیدوراثۃ مالك ہوا اگر اس کی وصیت کوقائم رکھتاہے اوریہی
مسئلہ ۱۶۰: ازکاٹھیاواڑ دھوراجی محلہ سپاہی گران مرسلہ حاجی عیسی خان محمدصاحب ۲۹ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
یہ وصیت نامہ قابل عمل ہے یانہیں اگرقابل عمل نہیں ہے تویہ لوگ جن کوفیصلہ کرنے کے واسطے کرگیاہے کیاکرناچاہئے اگر اس وصیت نامہ پرعمل نہ کرادیں تومقدمہ کورٹ کوجائے گا اگرحقدار کمی بیشی پرباہم راضی ہوجائیں تو عمل کرایاجائے موصی کومرے ہوئے چھ سات برس کاعرصہ ہوگیا اس درمیان میں خوردونوش اورایك لڑکی کی شادی اسی مال سے ہوئی۔اس کی کیاصورت ہے اور وہ لڑکی بالغہ ہے شریعت کے مطابق تقسیم پرحصہ زوجہ کوکم ملتاہے اور وصیت کے مطابق ٹھیك ملتا ہے وہ وصیت پرراضی ہے اس صورت میں اس کوزیادہ دے کر باقی حصہ سب شریعت کے مطابق ہوں تو بہ جائزہے جن کوموصی وصیت کرگیا اورحکم مقررکرگیا ہے عدم جواز کی صورت میں ان کوکیاکرناچاہئےکنارہ کشی یاحکم کرنا علاتی بھائی کے مال سے حصہ ترکہ مثل حقیقی کے ہے یاکم وبیش
الجواب:
ملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرکہ حاجی محمدنورمحمدصاحب نے اپنی زوجہ آئی حور اوردودختر آمنہ و حلیمہ اوربرادرزادے چھوڑکر انتقال کیااوراپنے مال میں ایك طویل وصیت کی جس کاخلاصہ یہ ہے کہ چارچارہزارچارچارسوروپے دونوں دختروں کودئیے جائیں فرزندعائشہ کے نام جو رقم کمپنی میں جمع ہے اس کی لڑکی حلیمہ کو دی جائے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ کودی جائے جب اس کاانتقال ہوجائے اس کے بعد ہزارہزارروپے لڑکیوں کواوردئیے جائیں اوربقیہ ملکیت بھتیجوں پربرابرتقسیم کردی جائے اور میری روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے ہزارروپیہ مدرسہ کو دیاجائے بعد انتقال زوجہ یہ تین ہزاروضع کرکے باقی کل بھتیجوں کو دینے کے لئے مختاروں کو حکم کرتاہوں چھ شخصوں بلکہ سات یعنی زوجہ کو بھی اپناوصی کیاکہ لکھاکہ مختاروں یعنی اوصیائے مذکورین کوآئی حور کی زندگی میں اس کی صلاح کے موافق عمل کرنا چاہئے نیزلکھامیری زوجہ کے مشورہ سے
اب یہاں تین قسم کی وصیتیں ہیں:
اول:حلیمہ بنت عائشہ کے نام اس کا حکم یہ ہے کہ عائشہ حاجی محمد کی بیٹی کہ اس کے سامنے انتقال کرگئی جیساکہ عبارت وصیت نامہ سے مفہوم ہوتا ہے جورقم کمپنی میں اس کے نام سے جمع ہے اگر وہ رقم عائشہ کی ذاتی تھی جب تو بعد وفات عائشہ حاجی محمداس میں سے صرف اپنے حصہ پدری کامالك ہوا اگر عائشہ نے وارث یہی دختر حلیمہ اورباپ چھوڑے تو بعد عائشہ نصف رقم حاجی محمد کی ہوئی اور اگرعائشہ کے اوروارث بھی رہے مثل شوہروغیرہ توحساب فرائض سے جوحصہ حاجی محمدکانکلے بہرحال یہ وصیت کہ حاجی محمد نے حلیمہ بنت عائشہ کے لئے کی وہ صرف اس حصہ پر نافذہوگی جو اس روپے میں حاجی محمدکاہوا اوراگروہ رقم عائشہ کی ذاتی نہ تھی بلکہ حاجی محمدنے اپنے مال سے اس کے نام جمع کی تھی تو اس میں دوصورتیں ہیں اس وقت اگرعائشہ نابالغہ تھی تو کل رقم عائشہ کی ہوگئی
فان الجمع باسمہا تملیك ھذا عرفا وھبۃ الاب للصغیر تتم بمجرد الایجاب۔ بیشك اس کے نام سے جمع کرنا عرف کے اعتبارسے تملیك ہےاورنابالغ کے لئے اس کے باپ کاہبہ فقط ایجاب سے تام ہوجاتاہے۔(ت)
یونہی اگربالغہ تھی اورجمع کرنے سے پہلے حاجی محمد نے عائشہ کو وہ رقم دے کر قبضہ کراکر اس کے بعد جمع کی جب بھی کل رقم عائشہ کی ہوئی ان صورتوں کابھی وہی حکم ہوگاجوعائشہ کے ذاتی مال ہونے میں تھا اوراگرعائشہ اس وقت بالغہ تھی اوراسے بے قبضہ دلائے یہ رقم اس کے نام جمع کردی اورتاوفات عائشہ باذن پدر اس کے قبضہ میں نہ آئی توہبہ باطل ہوگیا
لان موت احدالعاقدین قبل التسلیم یبطلھا کما فی الدر وغیرہ۔ کیونکہ سپردگی سے پہلے عاقدین میں سے کسی ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہےجیساکہ دروغیرہ میں ہے(ت)
اس صورت میں وہ کل رقم ملك حاجی محمد ہے اور وہ سب حلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ہے۔
ماتصح اضافتہ الی الزمان المستقبل الایصاء و الوصیۃ۔ جس کی نسبت آئندہ زمانے کی طرف صحیح ہوتی ہے وہ ایصاء ووصیت ہے۔(ت)
تو اس کانفاذبعد انتقال زوجہ ہی ہوگا۔یہ دونوں وصیتیں یعنی جورقم بنام عائشہ جمع ہے کل یا اس میں سے جوحصہ حاجی محمدہو اور ہزارروپے مدرسہ کے یہ مجموع اگرحاجی محمدکے ثلث مال سے زائدنہیں تمام وکمال بے اجازت ورثہ نافذہوں گے ورنہ تا حدثلثاوراگر ان کامجموعہ ثلث مال سے بھی بڑھتاہوتوثلث مال حاجی محمدان دونوں وصیتوں پرحصہ رسدتقسیم ہوگا۔
سوم:باقی وصیتیں دونوں دختروں اورزوجہ کے نام ابتداء اوربعد موت زوجہ دونوں دختروں اوربھتیجوں کے لئےیہ سب وصیتیں وارث کے لئے ہیں اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ اصلا مقبول نہیں۔
کما فی الکتب قاطبۃ وفی الحدیث ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ جیساکہ تمام کتابوں میں ہے۔حدیث میں ہے کہ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدار کو اس کا حق عطافرمادیاخبردار وارث کے حق میں وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
پس اگرورثہ اس وصیت پرراضی نہ ہوں توثلث متروکہ میں حلیمہ بنت عائشہ اورمدرسہ کی وصیتیں حسب تفصیل بالانافذکرکے جو مقدارحلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ٹھہرے اسے دے دیں اورجوحصہ مدرسہ کاثابت ہو یعنی مجموع ہردووصیت مدرسہ و حلیمہ بنت عائشہ ثلث مال سے زائد نہ ہونے کی حالت میں پورے ہزارروپے ورنہ بحساب حصہ رسد جتنا روپیہ مدرسہ کا ٹھہرے اس کے لئے محفوظ رکھیں کہ اس کانفاذ بعد انتقال زوجہ ہوگا بقیہ جائداد منقولہ وغیرمنقولہ
سنن ابی داؤ کتاب الوصایا∞۲/ ۴۰€ وجامع الترمذی ابواب الوصایا ∞۲/ ۳۳،€سنن ابن ماجہ ابواب ∞الوصایاص۱۹۹€ وسنن النسائی کتاب الوصایا ∞۲/ ۱۲۹€
سنن الدارقطنی کتاب الفرائض ∞حدیث ۴۰۸۱€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۳۷€
اذ لیس لہ علیھم ولایۃ الحکم لاسیما بعد الموت فکیف یولی علیھم غیرہ للحکم۔ کیونکہ موصی کوخود ان پرحکم کی ولایت حاصل نہیں خصوصا موت کے بعدتو وہ کسی دوسرے کو ان پرحکم کاولی کیسے بنا سکتاہے۔(ت)
لہذا اگر ورثہ راضی نہ ہوں مختاروں کو کنارہ کشی لازم ہے اپنی طرف سے کچھ حکم نہیں کرسکتے ہاں ورثہ سب عاقل بالغ ہوں اورآپس میں جیسی کمی بیشی پرچاہیں راضی ہوجائیں تو وہ اس کااختیار رکھتے ہیں اس کے مطابق عمل کرایاجائے لان الحق لھم ولاحجر علیھم من الشرع(کیونکہ حق ان کاہے اوران پرشرع کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ت)
مسئلہ ۱۶۱: ازشہربریلی مرسلہ اہلیہ کلاں حکیم اکرام الدین صاحب مرحوم معرفت عبداﷲ ملازم محلہ کٹرہ بروزشنبہ بتاریخ ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
حضرت مولوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی بعدسلام مسنون کے یہ عرض ہے کہ جناب والا سے مجھے ایك سوال کاجواب حاصل کرنا مقصود ہے یہ کہ ایك شخص نے دوسرے شخص کو کسی ضرورت کے پوراکرنے کوبطریق قرض کچھ زیوردیااوریہ کہاکہ یہ زیور رہن کرکے اپناکام انجام دے لوبعد کو واگزاشت کراکے دے دیناکچھ عرصہ کے بعد یعنی واگزاشت زیور سے قبل دائن یعنی مالك زیور کاانتقال ہوگیا مدیون کوایك ثالث شخص کی زبانی یہ دریافت ہواہے کہ دائن قبل انتقال کے یہ وصیت کی ہےکہ اگر میرا انتقال ہوجائے توزیورواگزاشت کرنے کے بعد یہ زیورمجھ دائن کے بیٹے کونہ دیاجائے بلکہ میرے پوتے کودیا جائے۔اطلاعا یہ بھی عرض ہے کہ دائن کی وصیت بیان کرنے والے ایك معمولی شخص ہیں کچھ مقدس یا ابراربرگزیدہ شخص نہیں پھربھی ممکن ہے کہ دائن نے بعالم بدحواسی وہ وصیت کردی ہو مریض کے مرض کی شدت میں یامرنے سے کچھ وقت پہلے
الجواب:
جس نے زیور عاریت لیاتھا اسے چاہئے مالك زیور کے سب وارثوں کو جمع کرکے ان کے سپردکردےاوراگرصرف ایك بیٹاہی اس کا وارث ہے تو اسی کو دے دے وہ وصیت اس شخص سے تعلق نہیں رکھتینہ یہ اسے بطورخود نافذکرنے کاکچھ اختیار رکھتاہے خصوصا اس حالت میں کہ وہ ابھی پایہ ثبوت کوبھی نہیں پہنچیایك شخص اور وہ بھی ثقہ نہیںوہ وصیت اگر مالك نے واقع میں کی ہے تو جسے کی ہے توایساکرناوہ وصی ہوااس کے ذمہ اس کی فکرہے ورثہ اگر صرف اس بیان پر وصیت تسلیم کرلیں اور سب عاقل بالغ ہوں ثلث مال میں نافذکریں اوراگرنہ مانیں تو اسے گواہان شرعی سے ثبوت دیناہوگا بے ثبوت نافذنہ کی جائے گی یہ وصیت اگرخودہی عاریۃ لینے والے کوکی ہے تو اس کے لئے یہی حکم ہے۔وھوتعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۲: ازضلع نینی تال موضع درؤ اشفاق حسین خاں روزشنبہ بتاریخ ۲۶رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ مورث عثمان خان مرحوم نے ایك رقم بخیال مصرف خیر ایك عزیزامین صاحب کے امانت رکھ دی تھی جس کو بارہ برس گزرگئے ہنوزآدھی رقم موجودہے اسی زمانہ میں عثمان خاں مرحوم کے مرنے کے بعد ہی ایك لڑکے اوردوبیٹی مرنے سے کام خراب ہوگیااب ایك نورچشم اندھی اوردوپوتی اورایك بہوزندہ موجودہیں پردہ نشین اندھی لا وارث بیٹی وبہوخواہش ظاہرکرتی ہیں کہ ہمارے باپ کی خیراتی رقم امانت شدہ سے ہمارے اورہمارے دوسرے بچوں نابالغ کے خیرات میں ہے مزورمش عــــــہ معلوم ہوجائے تودوسروں کی خیرات
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
الجواب:
عثمان خاں نے اگروہ رقم امین صاحب کے پاس خیرات کرنے کے لئے امانت رکھی اوراس کے ساتھ کوئی لفظ وصیت کانہ تھا کہ بعد میرے جومال بچے وہ بھی یونہی خیرات ہویاہواکرے جب توعثمان خاں کے مرتے ہی وہ مدباطل ہوگئی اورباقیماندہ جس قدر رقم تھی وارثان عثمان خاں کی ملك ہوگئی اب امین کوجائزنہیں کہ کوئی پیسہ بے ان کی اجازت صحیحہ کے خیرات کرے اورلازم ہے کہ باقی تمام رقم وارثان عثمان کوواپس دے اوراگرالفاظ وصیت تھے توان لفظوں کی تفصیل اور یہ کہ باقیماندہ رقم املاك عثماں خاں بعدادائے دین کے قدرثلث سے زائدہے یانہیںزائد ہے توکس قدراوربعدعثمان خاں امین نے اس میں سے کچھ خرچ کیا یانہیںکیاتوکس قدراور باجازت یابلااجازتان سب باتوں کی تفصیل اوریہ بھی کہ عثمان خاں پر کوئی دین تھایانہیںاور تھا تو کس قدر۔ان سب باتوں کی تفصیل معلوم ہونے پر جواب دیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۳: ازنینی تال موضع وڈاکخانہ کچہا یك شنبہ ۲۶رجب ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اٹھارہ سوروپیہ عمرکے پاس جمع کرکے اپنے حقیقی بھتیجے اورحقیقی داماد سے کہا کہ جس وقت دوہزارروپیہ ہوجائیں گے تو اس وقت رقم مذکورہ سے کوئی جائداد خریدکرکے وقف کردوں گااس پربرادرزادہ نے بخیال دوراندیشی سے کہاکہ اس رقم موجودہ سے آج ہی کسی مدرسہ اسلامیہ کی امدادفرمائیے تاکہ آپ کے روبرو یہ رقم خرچ ہو جائےتب زیدنے جواب دیاکہ رقم ہنوزپوری نہیں ہےپھرزیدنے بیٹے سے کہاکہ چھوٹا لڑکا میراجو
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
الجواب:
یہ سوال متعددبار آیا اورہربار مختلف اورخود اس بارکہ سب سے مشورہ سے لکھاجانا بیان کیا اس ایك ہی پرچہ میں اختلاف ہے۔ اوپرلفظ یہ ہیں کہ خرچ کردوں گا اورآخرمیں کہ خرچ کرنا سائل نے وقت استفسار بیان کیاکہ یہ صرف عمرو مدعی وصیت کابیان ہے اور وہ بھی اتناہی بیان کرتا ہے کہ یہ کہاتھا کہ خرچ کردینااس سے زائد لفظ اضافت معتبرہ فی الایصال عـــــہ۲ نہ تھا صورت واقع اگریہ ہے تووہ وصیت نہ ہوئی وہ تمام وکمال روپیہ بعدمرگ زیدوارثان زیدکی ملك ہواان میں سے جس عاقل بالغ نے عمروکے ان تصرفات کواپنی طرف سے جائزرکھا ہوفبہا اوراگرعمرو کے بیان سے دھوکہ کھاکروصیت سمجھ کراجازت دی ہوتو وہ اجازت بھی معتبرہ نہیں کہ غلط گمان کی بناء پر ہے ولاعبرۃ بالظن
عــــــہ۱: اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
عــــــہ۲:کذا فی الاصل ولعل الصواب فی الایصاء۔ازہری غفرلہ
اورجوعاقل وبالغ نہ تھا اس کی اجازت توکسی طرح معتبرنہیںصرف اس پہلی صورت کے سوا یعنی جس عاقل بالغ نے نہ بربنائے وصیت بلکہ ازطرف خود اجازت دی ہو اس کے حصہ کے سوا باقی تمام ورثاء کے حصص اس روپے سے کہ عمرونے مساجد وغیرہ میں صرف کیا ان کاتاوان دینا عمروپر فرض ہے اوربقیہ جوتین سوپچیس رہ گیاہے لازم ہے کہ وارثان کو دے ورنہ حق العباد میں گرفتاررہے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴: مسئولہ شیخ محمدانعام الہی صاحب سوداگر لیمپ صدربازار میرٹھ ۵صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنی بیماری میں اپناجملہ زرنقد وزیورواسباب وغیرہ جوذاتی تھا اور بوقت شادی دیاگیاتھا وہ اورجوشوہر زیدکے یہاں سے شادی میں چڑھایاگیاتھا جس کو زیدنے دین مہرمیں نہیں دیا اورنہ ہبہ کیاوہ کل کا کل اپنے برادرحقیقی وغیرہ کو وصیت کرکے فوت ہوگئیاب عندالشرع شوہر اپنے مال کا جوبطریق رسم ورواج کے چڑھایاگیاتھا جس کو اس نے ہبہ نہیں کیاتھا مالك ہے یانہیں اور زوجہ کے مال میں سے شوہر کاحصہ ہے یا نہیں اورمسماۃ متوفیہ لاولد کی وصیت کل مال میں اپنے شوہرکے جاری ہوسکتی ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
چڑھاوے کاحکم اس قوم کی رسم ورواج پرموقوف ہے اگر ان میں عرف یہ ہے کہ عاریۃ چڑھاتے ہیں اور زوجہ کی ملك نہیں کرتے تو وہ چڑھاوے کی مالك نہیں اور اس میں اس کی وصیت باطل ہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃ تملیك کردی ہوکہ میں نے تجھے اس کامالك کردیایاتجھے ہبہ کردیا اوراگروہاں عرف یہ ہوکہ بطورتملیك ہی چڑھاتے ہیں توزوجہ بعد قبضہ مالك ہوگئی اوراس میں اسی کااختیارہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃ نفی تملیك کرکے چڑھایاہوکہ میں تجھے اس کامالك نہیں کرتا ملك میری ہی رہے گالاولد زوجہ کے ترکہ میں شوہرکانصف ہے مگردین ووصیت کے بعد وصیت تہائی مال میں بے اجازت ورثہ نافذ ہوگی مگر عورت کاباپ یادادا اس کے بعد رہا توبھائی کے حق میں وصیت جائزہے ورنہ بے اجازت ورثہ اصلا جائزنہیں کہ وہ خود وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ زید حج کوجاتے وقت حاجی علی جان والوں کے پاس سے سات سوروپیہ کی ہنڈوی لکھوالے گا اوران کی بہی میں یہ الفاظ لکھواگیاکہ اگرمیں یہ روپیہ ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا تومسماۃ ثمرالنساء بیگم کوجومیری حقیقی بھاوج ہے برمکان مولوی محمدسعیدکوچہ پنڈت دہلی میں روپیہ مل جائے اورزبانی بھی مولوی محمد سعیدصاحب سے اوردوتین شخصوں سے کہہ گیاکہ میں نے فلاں صاحب کے یہاں سے سات سوروپے کی ہنڈوی لکھوالی ہے اوربہی میں مذکورہ بالابیان لکھوادیاہے اس کے بعد وہ جب حج کوگیاتواثنائے راہ میں زیدموت ہوگیاچونکہ متوفی کنوارا ولاولدتھا اورحقیقی بھتیجابھی نہیں چھوڑاتھا اس لئے زیدکے متروکہ مال کے اس کے چچازادبھتیجے عصبہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرکے قابض ومالك ہوگئےجائدادمتروکہ حسب ذیل ہے:
(۱)مکان مالیتی تقریبا دوہزارروپیہ
(۲)دوہزارروپے نقدجوبنك میں جمع تھے۔
(۳)پانچسوروپے جو ڈاك خانہ میں جمع تھے۔
میزان کل چارہزارپانچ سوروپے۔
مبلغ سات سوروپے جوزیدکی بھاوج نے حاجی علی جان والوں کے یہاں سے بہی کی تحریر کے مطابق وصول کئے تھے ان کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ہماراہی حق ہے اب سوال صرف یہ ہے کہ آیا عندالشرع وہ عصبات مذکورہ ان سات سوروپے کے مستحق ہیں یابہی کی تحریراورزبانی دوتین شہادتوں کے سبب مسماۃ مذکور ثمرالنساء بیگم اس کی مالك حقدارہے کیونکہ ہنڈوی کی رقم مذکورہ رقومات کی نسبت ایك تہائی سے کم ہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
زیدکاوہ لکھوانا کہنا نہ مرض الموت میں تھانہ اس میں اپنے بعدکاذکر ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا معنی موت میں متعین نہیں لہذا کسی طرح وصیت کی حد میں نہیں آسکتا فلاں کومل جائے ہبہ وودیعت دونوں کومحتمل اورودیعت اقل تو وہی متعینمعہذا اوراگرہبہ صریح ہوتا جب بھی قبضہ ثمرالنساء بعد موت واہب ہواتوموت قبل قبضہ سے ہبہ باطل ہوگیا
فی الدرالمختار من موانع الرجوع درمختار موانع الرجوع میں ہے کہ میم سے مراد
بہرحال اس سات سومیں ثمرالنساء بیگم کاکوئی حق نہیں واجب ہے کہ ورثہ کوواپس دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: مسئولہ مادی حسین صاحب بریلی محلہ ذخیرہ ۱۴شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بعزم حج بیت اﷲ شریف اپنی حقیت ملك کو فروخت کیا اوراپناسکونتی مکان زید(اپنے ہمشیرزادہ)کی لڑکیوں کے نام نصف نصف باضابطہ لکھ دیا اورقبل روانگی اپنی حقیت کی قیمت میں سے مبلغ پچاس روپیہ اس نیت سے کہ زیدمذکورکی کنواری دخترکے نکاح میں کام آئیں گے زوجہ عمرو کے پاس بطورامانت چھوڑے اوریہ کہاکہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زید کی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے اس کی خبر زیدکونہ کرنا اگرکسی نوع سے اس روپیہ کی خبر اس کوہوبھی جائے تواس کوہرگزنہ دیاجائے وعلاوہ ازیں چھ عدد بالیاں طلائی زید مذکورکی بڑی دخترکے پاس ہندہ نے چھوڑیں جس کاعلم پورے طورپرنہیں کہ کس غرض سے چھوڑیںآیا اس کوہبہ کردیں یاکیاکریںکوئی کہتاہے کہ زید کی دونوں لڑکیوں کی ہیںکوئی کہتاہے کہ ہندہ اپنی موت حیات اورفاتحہ درودکے واسطے چھوڑگئی ہےزیدکی بڑی لڑکی کہتی ہے کہ مجھے دے ڈالی ہیں میں مالك ہوںغرض اس کے بعد ہندہ ہمراہ زید مذکورمعہ اس کی کنواری دخترکے مکہ معظمہ زادھا اﷲ شرفاوتعظیما چلی گئی بعدحج مدینہ طیبہ جاکرہندہ نے قضا کی اورزیدمع اپنی کنواری دخترکےواپس وطن آیا ہندہ نے اپنی وفات کے بعد دو چچیرے بھائی چھوڑے جن میں سے ایك بھائی کاانتقال ہوگیا اوراس نے دوپسر اورایك دختر منکوحہ اپنے وارث چھوڑےزیدمذکور کی دخترکاعقد اس کے نانادادی کے صرف سے ہوگیا کیونکہ عجلت کی وجہ سے زوجہ عمروسے ہندہ متوفی کے امانتی روپیہ کابروقت نکاح زیدکی لڑکی کے بندوبست نہ ہوسکا جواس دم کام آتا اب زوجہ عمروسے ہندہ متوفیہ کے روپیہ کی ہرطرف سے مانگ ہے زیدکہتاہے کہ ہندہ کاروپیہ مجھے دینااس معنی کرکہ ہندہ نے اس کوطفولیت سے پالا
الجواب:
فقط نیت سے کچھ نہیں اوریہ الفاظ کہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زیدکی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے یہ بھی حد وصیت میں نہیں آتے صرف اسی قصدونیت کااظہارکرتے ہیں بالیاں کہ وہ زیدکی بڑی لڑکی کے پاس چھوڑگئی صرف اس کے کہنے سے کہ مجھے دے ڈالی ہیں اس کی نہیں ہوسکتیں جب تك گواہان شرعی سے ثبوت نہ ہوگا لہذا وہ پچاس روپیہ اوربالیاں سب متروکہ ہندہ ہیں حسب شرائط فرائض اس کے چچازادبھائی موجود اوردوسرے بھائی کی اولاد وزوجہ کوہرایك کو بقدراس کے حصے کے دئیے جائیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۷: مسئولہ حاجی محمدنوراﷲ ازمحلہ قاضی ٹولہ بریلی ۲۴شوال ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ مرض الموت میں ابراء دین یاہبہ مال یازوجہ کو مرض الموت میں انتقال کے چند روز قبل معاف کردینامہرکادرست ونافذہے یانہیں دیوبندی وتھانوی وغیرہم کہتے ہیں کہ اس کابھی نفاذثلث سے ہوگا۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
مرض الموت میں ابراء یاہبہ مال کاہو یادین کاوصیت ہے۔اوروصیت وارث کےلئے بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے اور شوہروارث ہے۔درمختارباب اقرارالمریض میں ہے:
ابراؤہ(ای المریض)مدیونہ وھو مدیون غیرجائز ای لایجوز ان کان اجنبیا وان وارثا فلایجوز مطلقا سواء کان المریض مدیونا اولا۔ مریض کااپنے مقروض کوقرض سے بری کرنا جبکہ خودمریض مقروض ہوناجائزہے یعنی اگرمقروض اجنبی ہو اوراگروہ مقروض اس مریض کاوارث ہوتومطلقا ناجائزہے چاہے مریض مقروض ہویانہ ہو۔(ت)
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ علی عکس اقرار المریض للوارث۔ واﷲ تعالی اعلم کسی کے وارث یاغیروارث ہونے کااعتبارمورث کی موت کے وقت ہوگا نہ کہ وصیت کے وقت۔یہ حکم وارث کے لئے مریض کے اقرار کے برعکس ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۸: ازاسلام نگرضلع بدایون مرسلہ محمدنوشہ علی صاحب سب اسسٹنٹ سرجن شفاخانہ ۸ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ہندہ نے اپنی جائداد فروخت کرکے زرثمن اپنی بھانجی کے پاس بطورامانت رکھا اوربارہا اس نے یہ وصیت اپنے دیگررشتہ داروں سے کی کہ میری خوردونوش اورمصارف تجہیزوتکفین کے بعد جس قدرروپیہ باقی رہے اس کو حسب منشاتجویز علمائے دین کسی خیراتی مصرف میں لگادیاجائے اگرمیری وصیت پرعمل نہیں کیاگیا توحشرمیں اس کے خلاف کرنے والوں کے دامنگیر ہوں گی ہندہ مذکورہ کایہی روپیہ ذریعہ اوقات بسری تھا چنانچہ اسی وجہ سے وہ کسی خیراتی کام میں نہ لگاسکی ہندہ کی حالت حیات میں اس کے کچھ رشتہ دار اورورثاء میں سے کسی سے اس کوکچھ امدانہ ملی اب ہندہ فوت ہوئی اس کے ورثاء میں سے دوبھائی اورایك بیوہ بہن اورایك بیوہ بھاوج موجودہیں بھائی دونوں مرفع حال ہیں بہن بیوہ کی خبرگیری اس کاداماد کرتاہے بیوہ بھاوج کاایك سوتیلا لڑکاہے جوبہت کم مددکرتاہے۔دریافت طلب یہ امرہے کہ بحالت مذکورہ بالاوصیت پرکہاں تك عمل ہوگا یاکل ترکہ میں یا جزوترکہ خیرات کردیاجائے گااوراس کاصرف کرنے کامجازکون ہوگاآیاامین یا ورثاء اورصحیح مصرف اس کاکیاہے اگر ورثاء میں سے کسی کوحق پہنچاتو ان کے حصص شرعی کیاہوں گے
الجواب:
اس کے مال میں سے اگراس پرکچھ قرض ہواداکرکے باقی کی تہائی میں یہ وصیت نافذہوگی باقی دوتہائی بہن بھائی کاحق ہےدو حصے بھائیوں کے اورایك بہن کااورثلث وہاں کے علماء
مسئلہ ۱۶۹: ازدرگاہ مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز ڈاکخانہ سندیلہ ضلع ہردوئی مرسلہ سیدفراست حسین صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ فخرالنساء نے وفات پائی اورورثہ ذیل چھوڑے:
مسماۃ فخرالنساء ناکتخذامرد
خال خالہ جدہ یعنی نانی عم الاب ابن عم الاب اخت حقیقیہ
سید واجد علی صدیقۃ النساء والدہ سیدواجدعلی سیدمحمدذکی سیدفراست حسین قمرالنساء
لہذا صورت مسئولہ میں کون شخص وارث حقدارہے اوراس کاحصہ کتناہے اورکون محجوب الارث ہے نیز یہ امرواضح رہے کہ مسماۃ فخرالنساء کے قبضے میں وہ جائدادہے کہ اس کواس کے والد ریاست حسین نے پہلے اپنی زوجہ رؤف النساء یعنی مادرفخرالنساء کو دین مہرمیں دے دیپھرمسماۃ رؤف النساء نے اپنے مرض موت میں بذریعہ وصیت نامہ کے سیدواجدعلی کوولی بناکر اپنے ہر دودخترمسماہ فخرالنساء وقمرالنساء کودے دی سیدواجد علی ماموں مسماۃ قمرالنساء نے کچہری بندوبست میں بدرخواست وبرضامندی اپنی بنام دختران فخرالنساء وقمرالنساء کے داخل خارج کرادیا۔
الجواب:
اگررؤف النساء کے یہی تین وارث تھے دودختر اورایك بھائیاوررؤف النساء نے دختروں کے نام وصیت کی تووہ کل جائداد اس بناء پر کہ برادرنے اس وصیت کوجائزونافذکیا دونوں دختروں کی ملك ہوگئی سیدواجدعلی کااس میں کچھ حق نہ رہا۔حدیث میں ہے:
لاوصیۃ للوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ خبردار وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
اب کہ فخرالنساء نے انتقال کیا نصف یہ جائداد کہ اس کاحصہ ہے اوراس کے علاوہ اورجومتروکہ فخرالنساء ہوحسب شرائط فرائض چھ سہام منقسم ہوکرایك سہم نانی اورتین سہم قمرالنساء اور
مسئلہ ۱۷۰: ازرائے پورگول بازارسی بی مرسلہ محمداسمعیل بیگ ۱۰جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی بیوی ہندہ سے زیدکے ایك لڑکا بکرتھابکرکی دوبیبیاں شکورن وغفورن تھیںشکورن سے دولڑکے اورغفورن سے ایك لڑکا بکرکے تھابکراپنے والد زیدکی زندگی ہی میں انتقال کرگیالڑکے تینوں نا بالغ تھےاسی عرصہ میں زیدکاانتقال بھی ہوگیاشکورن نے اپنے دونوں لڑکوں کاحصہ جوبکرکے والد زیدکے ترکہ سے انہیں پہنچتاتھا چونکہ دونوں لڑکے نابالغ تھے اس لئے بہ حیثیت ولی جائزغفورن نے اپنی ملکوں کوفروخت کردیاپس دریافت طلب یہ امرہے کہ آیا یہ بیع جائزہے یاکیا اورشکورن اپنے دونوں نابالغ لڑکوں کی طرف سے ازروئے شرع شریف ولی قرارپاسکتی ہے یانہیں
الجواب:
ماں کواصلا اختیارنہیں ہے کہ وہ نابالغوں کاحصہ بیع کرےنہ مال کی ولایت ماں کو ہوتی ہے
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم قاض کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ نابالغ کے مال میں اس کاولی اس کاباپ ہےپھرباپ کاوصی پھرنابالغ کاداداپھردادا کا وصیپھرقاضی۔جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
مسئلہ۱۷۱: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی عبدالغنی صاحب بنگال ۱۹صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرباپ اپنی نابالغ لڑکی کامہرقبل شادی کے زوج یاوالی زوج سے اداکرے اوراس مہر کولڑکی کی شادی میں صرف کرے خواہ اپنے پاس سے صرف کرسکتاہے یانہیں اس خیال سے کہ جب لڑکی بالغ ہوگی تولڑکی سے معاف کرالوں گایااداکردوں گا توجائزہوگا یانہیں اوراگرلڑکی بالغ ہو اورلڑکی کے اذن سے صرف کرے توکیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
بالغہ کی اجازت سے صرف کرسکتاہے اورنابالغ کی شادی میں بقدر معروف خرچ کرسکتاہے اوراپنے صرف میں بطور قرض اٹھالینے کے جواز میں اختلاف ہے احتیاط بچناہے اگرصرف کرلے گا عوض دے گایالڑکی بالغہ ہوکرمعاف کردے تویہ بھی صحیح ہے۔ادب الاوصیاء میں ہے:
فی العمدۃ لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن وعند محمد لایضمن کالابوفی قضاء الجامع اخذ الاب مال صغیرہ قرضا جازوفی الخلاصۃ انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصیوفی الخانیۃ لیس للوصی قضاء دینہ بمال الیتیم وللاب ان یقضی بہ وذکر شمس الائمۃ السرخسی عدم الجواز للاب ایضا واﷲ تعالی اعلم۔ عمدہ میں ہے اگروصی نے نابالغ بچے کے مال سے قرض لیا تو اس کاتاوان دے گا۔اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے نزدیك وصی باپ کی طرح تاوان نہیں دے گا۔قضاء الجامع میں ہے باپ کا بطورقرض اپنے نابالغ بیٹے کامال لیناجائزہے۔خلاصہ میں ہے کہ مبسوط کی کتاب الرہن میں مذکورہے بے شك باپ وصی کی طرح تاوان دے گا۔اورخانیہ میں ہے کہ وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کے مال سے اپنا قرض اداکرے اورباپ کوایسا کرنے کااختیار ہے۔شمس الائمہ سرخسی نے باپ کے لئے بھی عدم جواز کوذکرکیاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۲: ازسہمونہ ڈاکخانہ شیش گڈھی ضلع بریلی مسئولہ عنایت اﷲ صاحب ۱۶بیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بیوہ لاولد نے کچھ روپیہ ایك شخص کے پاس جمع کیا اورکہاکہ اس روپیہ کو تجارت میں لگاؤ اوراس کامنافع نصف مجھ کودینااورنصف تم اپنے حق محنت میں لینا اوربعد میرے مرنے کے اس روپیہ میں سے میری تجہیزوتکفین کرنا باقی جوبچے وہ خیرخیرات فاتحہ وغیرہ میں صرف کردینا۔اس کے دوبرس بعد اب مسماۃ ہندہ کاانتقال ہوا چونکہ ورثہ میں اولاد توہے نہیں شوہر کاانتقال پہلے ہوچکاصرف ایك بھائی حقیقی متوفی کا اور
الجواب:
کفن دفن بقدر سنت کے بعد جوبچااس کاتہائی خیرات کیاجائے اورزیادہ کی اجازت بھائی سے لی جائے اگرنہ دے یااجازت دینے کے قابل نہ ہومثلا نابالغ ہوتودوتہائی بھائی کو دیاجائے بھانجی بھانجوں کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: ازآگرہ محلہ قرولپاڑہ مکان ۱۷۹۵ ۱۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں منجملہ اپنے زرنقد واثاث البیت کے کچھ زرنقد اپنے حقیقی بھائی خالد کے نام جمع کیا جس محکمہ میں وہ ملازم تھا اورجیساکہ اس محکمہ کاقاعدہ تھاکہ تمہارے فوت ہوجانے کے بعد یہ روپیہ کس کو دیاجائے ہرسال اس محکمہ کے قواعد کے مطابق ہمیشہ تصدیق کرتارہا جس کے نام یہ روپیہ میں نے جمع کردیاہے اسی کویہ روپیہ ملے تخمینا دس سال بعد زیدکاانتقال ہوگیا۔زیدنے ایك زوجہ سعیدہ اوردونابالغ لڑکے رشیدوعزیز چھوڑے نیزچاربھائی حقیقی مع خالد چھوڑے رشیدچند روز بعد مرگیا جواثاث البیت اورزرنقد بقدر(سما۶۰۰)کے وزیوروغیرہ پرزوجہ تنہاقابض ہوگئی وہ روپیہ جو زیدنے خالد کے نام جمع کیاتھا اس کا مالك وہ حقیقی بھائی خالدہے یازوجہ یالڑکا
الجواب:
زیدکے کل متروکہ سے اول دین مہراوردیگردیون اگراس کے ذمہ ہوں اداکئے جائیں اگر کچھ باقی نہ رہے تو نہ خالد کچھ پائے گانہ کوئی وارثاوراگربعدادائے مہرودیون کچھ باقی بچے تو اس کی تہائی میں یہ وصیت جواس نے خالد کے نام کی ہے بلارضائے دیگرورثہ نافذہوگیاوراسی طرح اور وصیت اگر اس نے کسی کے نام کی وہ بھی اسی ثلث میں شریك ہوگابعدادائے دیون جوباقی بچے اس کے ثلث سے یہ روپیہ جوبنام خالد اس نے جمع کیاہے زائدنہیں توتمام وکمال زرجمع شدہ خالد کودیاجائے گاجبکہ اوروصیت اس کے معارض نہ ہو ورنہ حصہ رسدبانٹ دیں گےاوراگریہ روپیہ اس کوکافی نہیں توادائے مہرودیون کے بعد جتنی تہائی ہو اتنی میں وصیتیں نافذہوں گی زیادہ پر ورثہ راضی نہ ہوں تو وہ نہ دلائی جائے گی۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی جائداد کے کرایہ کی آمدنی میں یہ وصیت کی کہ کچھ رقم معین مکہ شریف و مدینہ شریف وبغداد شریف کے سادات کو دی جائے اورباقی رقم میں چند ایام مقررہ میں طعام پکاکر مساکین کوکھلایاجائے اور کچھ رقم معین دومسجدوں میں دی جائے مگربعد فوت زید کے اس جائداد کے متولیان یہ کرتے ہیں کہ بجائے سادات کے امیروں کی سفارش سے اس رقم کوواسطے شادی کردینے ان لڑکیوں کے جن کے والدین غریب ہیں دیتے ہیں وردیگررقم معین کودو مسجدوں میں دیتے ہیں اورباقی رقم معین میں چند ایام مقررہ میں طعام پکارکر تھوڑا مساکین میں اورتھوڑا ذی ثروت لوگوں کو کھلاتے ہیں۔زید کی وصیت کے بموجب کیاجائے وہ درست ہے یاجومتولیان کرتے ہیں وہ درست ہے جوکارخیر ہوموافق حکم شریعت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
جورقم اس نے دونوں مسجدوں کے لئے معین کی ہے وہ انہیں کودی جائے گیجو رقم اس نے مساکین کے کھانے کے لئے معین کی ہے اس میں سے اہل ثروت کودینادرست نہیںاورجو رقم سادات حرمین طیبین وبغدادمقدس کے لئے معین کی ہے اگر انہیں بلادطیبہ کے سادات مساکین کوبھیجی جائے توبہترہے ورنہ یہاں کے مساکین پربھی صرف ہوسکتی ہے قیدبلاد کااتباع ضروری نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۷۵: ازقصبہ ادرن ضلع قلابہ علاقہ کولین احاطہ بمبئی مرسلہ ابراہیم صاحب موتی ۱۲رمضان۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں تین ہزارچھ سوتیس روپے کی وصیت حسب ذیل طریقہ پرکی:
(۱)اپنی زوجہ کی فاتحہ خوانی پرسالانہ تین سوروپے خرچ کرنا۔
(۲)خودکی فاتحہ پر سالانہ تین سوروپیہ۔
(۳)قرآن شریف کے پڑھنے والوں کوایك سوتیس روپے سالانہ دیاجانا۔
(۴)ماہ محرم میں مولودشریف پڑھوانا اوربارہویں محرم کوکھاناکھلانے پرخرچ کرناسالانہ پانچسوروپیہ۔
(۶)رمضان میں روٹی پاؤ وغیرہ مسجد میں بھیجنے پر خرچ کرنا سالانہ ایك سو پچیس روپے۔
(۷)حاجیوں کوبرائے بیت اﷲ شریف دینافی حاجی پانچ حاجیوں کوجس پرسالانہ خرچ ایك سوپچاس۔
(۸)ما سالانہ مکہ مکرمہ بھیجنا۔
(۹)مامہ عہ روپے سالانہ مدینہ طیبہ۔
(۱۰)بغدادمقدس کوسالانہ قا۔
(۱۱)حضرت پیربابا ملنگ صاحب کی درگاہ پرجوپہاڑہے پچاس روپیہ سالانہ۔
(۱۲)مہایم شریف سالانہ مہ۔
(۱۳)میلاد شریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیاز اورکھانا کھلانے پرخرچ کرنا سالانہ ایك ہزارروپیہ۔
اوپرلکھی ہوئی رقمیں جس جس مہینے میں خرچ کرنے کی ہیں یہ اس میں خرچ ہوسکتی ہیں یابعد بھی جائزہیں یاناجائز اورجورقم میلادالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کھانے کی ہے اگر اس میں سے کچھ رقم بچالی جائے اورکسی اچھے کاموں میں صرف کی جائے مثلا مساکین ویتیم وبیوہ اورعلمائے دین وغیرہا کوتوجائزہے یانہیں اوردوسری جوچھوٹی چھوٹی رقمیں ہیں مثلا قرآن عظیم پڑھنے والوں کی اس میں اگربڑی رقموں سے لے کرخرچ کردیں توجائزہے یاکیاوصیت کرنے والے نے جس وقت وصیت کی اس وقت حالات اورتھی اورموجودہ حالت اورہے یعنی اس وقت قحط سالی اورہرایك شیئ گراںاگرموجودہ حالت کومدنظررکھ کرغرباء وغیرہا کوبجائے کھاناکھلانے کے اگرنقد روپیہ دیاجائے توجائزہے یاکیا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اصل حکم یہ ہے کہ سالانہ تین ہزارچھ سوتیس روپے امورخیر وسبیل اﷲ میں صرف ہوجانا لازم ہے وہ خاص صورتیں کہ زیدنے مقررکیں ان کی تعیین لازم نہیں ان مہینوں میں ہو یا ان کے غیرمیں کھاناکھلاناہو یامساکین کونقد دیناکچھ رقم بچاکر ہویاکلانہیں مقامات کوبھیجیں یایہاں۔ہم نے جدالممتارتعلیقات ردالمحتارکتاب الصوم میں اس بیان کو مبسوط لکھاہے وہیں سے چندحوالوں کاالتقاط کافی ہے۔
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷: ازعلی گڈھ محلہ بنی اسرائیل مرسلہ مولوی احسان علی صاحب مدرس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
(۱)زیدکابیان ہے کہ میری بیوی ہندہ نے مرض الموت میں چارروزقبل مہرمعاف کردیاہےاورگواہ میں چارشخص یعنی ایك اپنی حقیقی ماں اورایك حقیقی بہن اور ایك اجنبی مرد اور ایك اجنبی عورت پیش کرتاہوں مہرمعاف ہوایانہیںاورگواہی ایسے معاملہ میں کیسے لوگوں معتبرہے
(۲)زیدباحلف بیان کرتاہے کہ میری بیوی نے مہرمعاف کردیاہےعندالشرع اس کاقول صحیح ہے یانہیں
الجواب:
(۱)گواہی ہرمعاملہ میں ثقہ معتمدلوگوں کی معتبرہےماں باپ کی گواہی اولاد کے حق میں معتبرنہیں۔مرض موت میں ہبہ حکم وصیت میں ہے اورزوج وارث ہے اور وارث کے لئے وصیت بے اجازت باقی ورثہ باطل ہے۔
لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
تو اگرشہادت کافیہ سے ثابت ہوجائے جب بھی بے اجازت دیگرورثہ جائزنہیںواﷲ تعالی اعلم۔
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔واﷲ تعالی اعلم گواہ مدعی پراورقسم منکرپرہوتی ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۸: نعمت علی خاں بوڑرھا ازپنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پورضلع مظفرپور ۹محرم الحرام۱۳۳۹ھ
اگرباپ نے بیٹے سے وصیت کی کہ اتناروپیہ یااتنی زمین یاکوئی سامان فلاں کودینابیٹے نے نصف یاتہائی یاچوتھائی وصیت اداکیا توبیٹاقیامت کے دن جوابدہ ہوگا یانہیںاگربیٹے نے موصی لہسے کچھ دے کربقیہ معاف کرالیاتویہ جائزہے یانہیں
الجواب:
اگروہ وصیت بعدادائے دین مال متروکہ کی تہائی سے زائدنہ تھی توکل کااداکرنا اس پر لازم ہے اورزائد ہے توتہائی تك کاادا کرناضروری ہے اس سے اگرکچھ کمی کرے گا ماخوذہوگا اورمعافی دین کی ہوتی ہے۔
مسئلہ ۱۷۹: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ مسیت خاں یکم صفرالمظفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ لاولد عرصہ دراز سے بعارضہ چنددرچندبوجہ تپ کہنہ کے مبتلارہ کرفوت ہوئی اس نے اپنے وارث ایك شوہراورایك بھائی اورایك بہن حقیقی اورایك برادر زادہ اورایك بھتیجی جن کاباپ بموجودگی متوفیہ کے فوت ہوگیا ہے وارث چھوڑےشوہرنے متروکہ متوفیہ طلب کیاتومتوفیہ کی بہن اوربھائی کہتے ہیں کہ متوفیہ کی یہ وصیت ہے کہ تم مال واسباب ازقسم زیوروزرنقد یعنی جملہ اشیاء البیت کوخود تقسیم کرلیناشوہرکونہ دینایہ ظاہرکرنامشارالیہم کاشوہرمتوفیہ کو وراثت سے محروم کرتاہے اگرنہیں کرتاہے توکس قدرشوہراپناحصہ بموجب شرع شریف کے پانے کامستحق ہے اورزیور اثاث البیت متروکہ متوفیہ کاجوہے وہ فراہم کردہ شوہرکاہے اورجومتروکہ متوفیہ کے والد سے پہنچاتھا وہ متوفیہ نے اپنے بھائی کے ہاتھ بیع کردیا اوریہ وصیت کردی کہ اس روپیہ سے میری تجہیزوتکفین کرنا۔
برادرحقیقی ہمشیرحقیقیبھتیجا جس کاباپ بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔بھتیجی جن کاباپ
الجواب:
سائل نے بیان کیاہے کہ متوفیہ نے اپنی موت سے چارمہینے پیشتربھائی کے ہاتھ بیع کی وہ اس وقت بھی بعارضہ دق مبتلا تھی اور حالت خطرناك تھیاگریہ بیان صحیح ہے تووہ بیع معتبرنہیں
لان البیع من وارث فی مرض الموت لایصح عند الامام وان کان بمثل القیمۃ۔ اس لئے کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ بیع امام اعظم کے نزدیك جائزنہیں اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہو۔(ت)
زیور واثاث البیت جوشوہرنے بنادیاتھا اگرعورت کومالك نہ کردیاتھا تواس کامالك شوہرہی ہے اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اوراگرمالك کرکے قبضہ دے دیاتھا عورت کاہے جس طرح وہ جہیزکہ باپ کے گھر سے لائیان اشیاء کی نسبت بہن اوربھائی کے لئے عورت کی جووصیت بتائی جاتی ہے بے اجازت شوہر باطل ہے
لحدیث صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدارکو اس کاحق عطافرمادیا ہےخبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
ان احکام کے لحاظ سے جوترکہ متوفاۃ کاٹھہرے مع مہراگرذمہ شوہرہو حسب شرائط فرائض چھ۶ حصے ہوکر تین حصے شوہر اوردوسہم برادراورایك بہن کوملے گا بھتیجے بھتیجی کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۰: ازبریلی صدربازار مسئولہ عبدالغفورخاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت نے ایك بزرگ کے ہاتھ پراپنے پیشہ سے توبہ کی اورسلسلہ بیعت میں داخل ہوئی اورمرنے تك اس پرقائم رہی اور
الجواب:
سائل سے معلوم ہواکہ اس کاکوئی وارث نہیں صرف اس کی ایك ماں سنی جاتی ہے کہ کافرہ ہے اس صورت میں جومال شرعا اس کامتروکہ ہو وہ تمام وکمال اس کاہے جس کے لئے اس نے وصیت کی یہ مال وہ ہوگا جو اس نے وجہ حلال سے حاصل کیایااگرچہ زرحرام سے خریدا مگر اس پر عقدونقد جمع نہ ہوئے یعنی یہ نہ ہواکہ زرحرام دکھاکرکہاہو اس کے بدلے دے دینا اورپھرثمن میں وہی دیا اورجومال عین حرام اس کے پاس ہے کہ خود زنایاغناکی اجرت میں اسے ملاوہ اس کی ملك نہیں اس میں وصیت جاری نہ ہوگی وہ فقراء پرتقسیم کیاجائے اورجس کی خریداری میں عقد ونقد زرحرام پرجمع ہوگئے ہوں وہ بھی خبیث ہے لینانہ چاہئے فقراء کودیں۔و اﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۱: ازسگرام پورہ سورت مسئولہ نورمحمدغلام رسول ۲۹صفر۱۳۳۹ھ
نورمحمد مذکورنے اپنی حیات میں مکان رہن رکھ کرکئی مدت بعد مرحوم لڑکے مذکوراورحاملہ عورت کوچھوڑکرگزرگیا بعدہ لڑکی پیداہوئی مذکورعورت نے اس مکان کواپنے خاوندکے اجناس میں اسباب کوبیچ کرمکان چھڑایا بعدمذکور عورت نے اس مکان کوبیچ ڈالالڑکے اورلڑکی کی پرورش اس کے ماموں نے کیبعد میں عورت بھی اورلڑکابھی گزرگیا فقط صغیر لڑکی مذکور مریم بی حال عاقلہ بالغہ ہوئی ہے اوراپنے والد کی میراث طلب کرتی ہےسوال اتناہے کہ ماں کوبچوں کی پرورش کاحق تھا نہ کہ صغیرہ کاورثہ بیچ ڈالنے کا یہ خلاصہ کی شرع موجب ضرورت ہے۔
الجواب:
اگر عورت کامہرترکہ کومحیط تھا اوراس نے وہ مکان اپنے مہرمیں لے لیاکہ اورکوئی سبیل اس کے اداکی نہ تھی تووہ بیع جائزہے ورنہ ورثہ کادعوی اس پرپہنچتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: ازعلی گڑھ مسئولہ جناب آل احمدخلف سیدصفدرعلی صاحب پیشکارچونگی ۲۴جمادی الاولی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے مجمع میں یہ کہاکہ تم گواہ رہو میں نے
الجواب:
اگراس مردحاضرنے اسی وقت قبول کرلیاتھا تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا بشرطیکہ یہ مردحاضر اس عورت کاکفوہو نسب مذہب چال چلنپیشے کسی بات میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کانکاح عورت کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہویاعورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہوان صورتوں میں جبکہ عورت نے خبرپاکر اس نکاح کوقبو کرلیا نافذوتام ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج اوطلاق ولہ مجیزحال وقوعہ انعقد موقوفا۔ فضولی سے جوتصرف صادرہو جیسے کسی کی شادی کرنایاطلاق دینااور اس کے وقوع کے وقت کوئی اس کی اجازت دینے والا موجودہوتو اس کاانعقاد موقوف ہوجاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ای علی اجازۃ من یملك ذلك العقد۔ یعنی اس شخص کی اجازت پرموقوف ہوتاہے جواس عقد کامالك ہے۔(ت)
ہاں اگر جس سے نکاح ہواکفو بمعنی مذکورنہ تھا اورعورت کاکوئی ولی زندہ تھا اوراس نے پیش ازنکاح شخص مذکورکوغیرکفوجان کرصراحۃ ا س نکاح کی اجازت نہ دی تھی تویہ نکاح سرے سے باطل ہواعورت کی اجازت سے جائزنہیں ہوسکتا درمختارمیں ہے:
یفتی فی غیرالکفوبعدم جوازہ اصلا ۔واﷲ تعالی اعلم غیرکفو میں اس کے بالکل عدم جواز کافتوی دیاجاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
ردالمحتار کتا ب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۵€
الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱۰/ ۱۹۱€
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نامی قمرالدین عرصہ ۴۰یوم سے وفات ہوگیا ہے اب ذیل ورثاء موجود ہیں اس کاترکہ کس طرح تقسیم ہوناچاہئے۔بینواتوجروا مذہب حنفیہ
قمرالدین
زوجہ اخ اخ اخت اخت اخ الاب
(۱)زوجہ میت کی اس کی تمام پسماندہ جائداد پرقبضہ کربیٹھی ہے۔
(۲)میت نے کس قسم کی کوئی جائداد کے متعلق وصیت نہیں کی ہے۔
(۳)اخ۲ مرحوم بھائی کے مکان میں ہی رہائش پذیراوراس کے تمام کاروبار میں اس کامعاون ومددگار رہاہےحضرت سلامت اس مسئلہ کولاہور کے کسی مفتی نے ہاتھ نہیں لگایا۔لہذا بزم حنفیہ لاہورکے معرفت حضرت قبلہ مدظلہ العالی کے دارالافتائے اہلسنت وجماعت میں بھیجاجاتاہےصورت متنازعہ محظورہے لہذا جواب باصواب سے جلدی ممنون فرمایاجائے۔
الجواب:زوجہ کامہرجتنا واجب الاداہے اگرکل متروکہ شوہرکے برابریااس سے زائد ہے تو اس کا کل متروکہ پرقبضہ کرنا ایك دعوی صحیح کی بناء پرہے جب دین جائداد مستغرق ہوتوجب تك ادا نہ کرلے اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔
قال تعالی " من بعد وصیۃ توصون بہا اودین "۔ اﷲ تعالی نے فرمایا اس وصیت کے بعد جو تم کرجاتے ہو یاقرض کی ادائیگی کے بعد۔(ت)
ہاں وارثوں کویہ حق ہے کہ اگرجائداد دینے پرراضی نہ ہوں مہراپنے پاس سے استحسانا اداکردیں اس وقت عورت کولازم ہوگا کہ جائداد چھوڑدے اورصرف اپناحصہ شرعی لے اوراگر اس کے لئے کوئی مہرواجب الادانہ رہا یاجتنا ہے وہ قدرمتروکہ سے کم ہے توکل جائداد پراس کاقبضہ کرناظلم ہے کہ دین غیرمستغرق مانع ملك ورثہ نہیں۔جامع الفصولین واشباہ ونظائر
لواستغرقھا دین لایملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امالواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع اوالرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین فلایملکھا۔ اگرقرض میت کے ترکہ کومحیط ہوتوکوئی اس ترکہ کابطور میراث مالك نہیں بنتامگریہ کہ جب قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یامیت کاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کے ساتھ اس قرض کواداکردےہاں اگر کوئی اپنے مال سے اس قرض کو اداکردے بغیرتبرع یا رجوع کی شرط کےتو اس کے لئے میت پرقرض ثابت ہوجائے گا تواس طرح ترکہ قرض میں مشغول ہوجائے گا۔چانچہ وارث اس کامالك نہیں بنے گا۔(ت)
نیزاشباہ میں ہے:
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا۔ وارث کواختیارہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کوچھڑالے اگرچہ قرض ترکہ کومحیط ہو(ت)
خلاصہ میں ہے:
المرأۃ تاخذ مھرھا من الترکۃ من غیررضی الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وان کانت الترکۃ شیأ یحتاج الی البیع فتبیع ماکان یصلح وتستوفی صداقھا ان کانت الوصیۃ من جہۃ زوجھا اولم تکن ۔ عورت اپنامہروارثوں کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں سے لے سکتی ہے اگرترکہ درہموں یا دیناروں کی صورت میں ہو۔ اور اگرترکہ ایسی شیئ ہے جس کوبیچنے کی ضرورت ہے تو وہ اس چیز کو بیچ لے جس میں بیع کی صلاحیت ہے اوراپنامہر پوراوصول کر لےشوہرکی طرف سے اس کی وصیت ہویانہ ہو۔(ت)
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۴۱€
قال الحموی فی شرح الکنز نقلا عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الاشقر عن شرح القدوری للاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق و الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان۔ حموی نے کنزکی شرح میں علامہ مقدسی سے نقل کیاانہوں نے اپنے دادا اشقرسے اخصب کی شرح قدوری کے حوالے سے ذکرکیاکہ خلاف جنس سے اپناحق لینے کاعدم جواز متقدمین کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ حقوق میں شریعت کی اطاعت کرتے تھے۔اورآج کے دورمیں فتوی اس پرہے کہ جس مال سے بھی حق وصول کرنے پرقادر ہو اس کالیناجائزہے۔(ت)
بہرحال جس صورت میں یہ ترکہ ورثہ کو پہنچے حسب شرائط فرائض ۸ سہام کئے جائیں دوزوجہ کواوردودوہربھائی اورایك ایك ہربہن کو اوراخ للاب یااخ لاب یعنی چچاہویاسوتیلابھائی وہ کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
______________
نوٹ
جلد۲۵ کتاب المداینات سے شروع ہوکر کتاب الوصایا
کے عنوان پرختم ہوئیجلد۲۶ ان شاء اﷲ کتاب الفرائض سے شروع ہوگی۔
____________________________________
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروزقیامت حقہ پینے والے سے حضور سرورکائنات علیہ الصلوۃ والسلام روئے مبارك پھیر لیں گے اوردرودشریف اس کاپڑھنا قبول نہ ہوگایہ بیان غلط ہے یاصحیح بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ سب دروغ کاذب ہے اورشریعت مطہرہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافتراءحقہ تومباح ہےاگربفرض غلط حرام بھی ہوتا تواتنا گناہ نہ ہوتا جس قدررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کرنا کبیرہ شدیدہ ہے جس کے بعد بس کفرہی کادرجہ ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۳۶: مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب ازبہرام پورضلع مرشدآباد بنگال ۲۱صفر۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتے ہیں کہ تاڑی کے خمیر سے ڈبل روٹی پکائی جاتی ہے مسلمانوں کے لئے کھاناکیساہے
(۲)اس ملك میں اکثر کھجوروں کارس نکالتے ہیں اس رس کاگڑ بناتے ہیں اکثرکھیربھی پکاتے ہیں اگرتازہ رس جوکہ شیریں ہوتاہے اورلوگ پیتے بھی ہیں دودھ یاکہ خمیرملاکرتاڑی بناتے ہیں تاڑی کے پینے سے نشہ ہوتاہے مسلمانوں کے لئے یہ کیساہےازروئے شرع جواب فرمائیے۔اﷲ تعالی اجرعطافرمائے گا۔
الجواب:
(۱)اگرثابت ہوتو اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)جب تك اس میں نشہ نہیں حلال ہے اور اس کی کھیر اورگڑ بھی جائزہیں اورنشہ لانے کے بعد حرام بھی ہیں اورپیشاب کی طرح نجس بھی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷: مرسلہ عبدالرحیم ضلع ہوگلی وانمباڑ
اسپرٹ کااستعمال خوردنی اشیاء میں یارنگ وغیرہ میں جائزہے یانہیں بہت سے لوگ اس کو شراب کہتے ہیں۔
الجواب:
اسپرٹ واقعی شراب بلکہ سب شرابوں سے تیزوتند ہے حتی کہ اپنی تیزی کے سبب سم ہوگی
Books by Other Sunni Scholars
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علمائے حرمین شریفین
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء حرمین شریفین مصنف: صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری…
مجددِ اسلام ۔ قدس سرہ
علامہ محمد صابر القادری نسیم بستوی کی یہ شاہکار تصنیف “احوال و آثار اعلی حضرت…
امام احمد رضا کے مکتوبات پر ایک نظر
علامہ ظفر الدین بہاری Imam Ahmad Raza Kay Maktoobat par Aik Nazar Allama Zafar ud…
Global Academic Research & Thesis
مولانا حسن رضا بریلوی کی ادبی خدمات
امام احمد رضا اور عشق مصطفےٰ
امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری۔ ایک تحقیقی مطالعہ
Biographies & Analytical Studies on Alahazrat
مقبل کذب و کید
مفتیء اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں نوری علیہ الرحمہ جمعہ کی…
امام احمد رضا کی انشاء پردازی کی خصوصیات فتاویٰ رضویہ کے آئینے میں
Imam Ahmad Raza Ki Insha Pardaza Ki Khusosiyat Fatawa Razviah Kay Aainay…
مکتوباتِ امام ربانی پر امام احمد رضا کے تبصرے
مولانا محمد اسلم رضا قادری اشفاقی Maktoobat Imam Rabani par Imam Ahmad…
Scholarly Articles & Insights
اسلام میں مجدد کا مقام
مجدد کا مقام اور اہمیت (از: ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری) یہ مضمون اسلام…
الدولۃ المکیہ میں ریاضیاتی دلائل
محمد ابرار حسین AlDaulatul Makkiyyah Main Riyaziyati Dalael Muhammad Abrar Hussain Mathematical arguments in AlDaulatul…
اعلیٰ حضرت اور علمِ ریاضی
اعلیٰ حضرت اور علمِ ریاضی ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ Malik…
اعلیٰٰ حضرت اور فنِ تاریخ گوئی
سید خضر نوشاہی Alahazrat Aur Fanne Tareekh Goi Syed Khizar Noshahi Alahazrat Imam Ahmad Raza…
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی مکتوب نگاری
محمد بدر الدین Alahazrat Imam Ahmad Raza ki Maktoob ZIgari Muhammad Badr ud Deen Imam…
ایک عظیم مسلمان سائنسدان، امام احمد رضا خان
علامہ ریاست علی قادری Aik Azeem Musalman Sciensdan, Imam Ahmad Raza Allama Riasat Ali Qadri…
Books on Quran & Uloom ul Quran
Sciences of the Quran & Principles of Interpretation
Tafseer e Nabavi Volume 4 Punjabi Manzoom By Allama Nabi Bakhsh Halwai Naqshbandi
Tafseer e Nabavi Volume 10 Punjabi Manzoom By Allama Nabi Bakhsh Halwai Naqshbandi
فوائد تفسیریہ و علومِ قرآنیہ فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں جلد اول
Books on Hadith & Ilm-e-Hadith
Preserving the Prophetic Legacy through Rigorous Science
نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد سوم
صحیح البخاری شریف اردو ترجمہ جلد سوم
سنن ابنِ ماجہ اردو ترجمہ جلد دوم
Connect with Alahazrat Network
Find Knowledge by Subjects / Topics
