جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔ وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر یانبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث یاشریعت کامسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کابیان جائزنہیں،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من قال فی القراٰن بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی۴؎ وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔جو بے علم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے (اس کو امام ترمذی نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اسے صحیح قراردیا۔ت)(۴؎ جامع الترمذی ابواب تفسیر القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹)
اور احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت وموضوع کی تمیزنہ ہوگی، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من یقل علیّ مالم اقل فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ البخاری۱؎ فی صحیحہ عن سلمۃ بن اکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے (امام بخاری نے اپنی صحیح میں سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا۔ت)(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: افتوابغیر علم فضلوا واضلوا ۔ رواہ الائمۃ احمد ۲؎ والشیخان والترمذی وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
بے علم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا(ائمہ کرام مثلاً امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)(۲؎ صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/)۔(جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی ذھاب العلم کتاب خانہ رشیدیہ ۲/ ۹۰)
دوسری حدیث میں آیا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض۔ رواہ ابن عساکر۳؎ عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔
جو بے علم فتوٰی دے اسے آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں(ابن عساکر نے امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے اسے روایت کیا۔ت)(۳؎ الفقیہ والمتفقہ ماجاء من الوعید الخ ۱۰۴۳ دارابن جوزیہ جدہ وریاض ۲/ ۳۲۷ )
یوہیں جاہل کا پِیر بننالوگوں کو مریدکرنا چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا چھوٹامنہ بڑی بات ہے پِیر ہادی ہوتاہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ ع
کہ بے علم نتواں خداراشناخت(کیونکہ جاہل اﷲ تعالٰی کونہیں پہچان سکتا۔ت)
فتاویٰ رضویہ جلد 23






